مئی و جون ۲۰۰۹ء

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائلمحمد مشتاق احمد 
علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاجادارہ 
دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریسمحمد عمار خان ناصر 
تدریس حدیث کے چند اہم تقاضےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضےمولانا مفتی محمد زاہد 
علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائعمولانا مفتی برکت اللہ 
طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہقاضی محمد رویس خان ایوبی 
دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظامادارہ 
’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضاتمحمد عمار خان ناصر 
دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہمولانا فضل محمد 
عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میںحافظ محمد زبیر 
’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثراتمحمد انور عباسی 
مکاتیبادارہ 

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’’الشریعہ‘‘ کا مقدمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد وتبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے یا ’’ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کامقدمہ‘‘ کے طورپر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں۔ 
اس تبصرے کی روشنی میں تین نکات ہمارے سامنے ہیں:
۱۔ ’’الشریعہ‘‘ نے علمی مسائل پر آزادانہ بحث ومباحثہ کے عنوان سے فکری انتشار پھیلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے۔
۲۔ ’’ الشریعہ‘‘ اکابر واسلاف کے طرز اور موقف سے انحراف کی طرز اپنائے ہوئے ہے۔
۳۔ ’’ الشریعہ‘‘ کے مدیر حافظ محمد عمار خان ناصر نے، جوراقم الحروف کا فرزند ہے، اس فورم کو جناب جاوید احمد غامدی کے افکار کے فروغ کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور اس کے والد کے طور پر راقم الحروف بھی اس کا معاون اور پشت پناہ ہے۔ 
جہاں تک علمی مسائل میں آزادانہ بحث ومباحثہ کا تعلق ہے، یہ بات درست ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ نے گزشتہ بیس سال کے دوران اس کا ماحول پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے او ر اب بھی یہ ہمارے اہداف میں شامل ہے، اس لیے کہ آج کے حالات میں آزادانہ بحث ومباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکزنے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور باصلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہل علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں ہے بلکہ فطرت کے بھی منا فی ہے۔ اس لیے آج کے دورمیں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہنمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکرکی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث ومباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا حل خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے، البتہ اس بحث ومباحثہ میں علمی اصول اور مسلمات کا لحاظ اور گفتگو کو ان کے دائرے میں محدود رکھنا بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ 
مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا عبد الماجد دریابادی کے نام اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:
’’تدوین فقہ پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۰۰ صفحات سے زیادہ جامعہ عثمانیہ کے ریسرچ جرنل میں شائع بھی ہو چکا تھا۔ اگرچہ اس کی حیثیت بالکل مقدمہ کتاب کی تھی، تاہم لوگوں نے پسند کیا تھا۔ ..... یوں تو اس کتاب کے سلسلے میں خدا ہی جانتا ہے کن کن باتوں کے لکھنے کا ارادہ تھا، لیکن ہندی ’’مجددیت‘‘ کی تین خاص باتوں میں سے ارادہ تھا کہ اس خاص مسئلہ کے مالہ وماعلیہ پر اس کتاب میں بحث کی جائے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الف ثانی کے مجدد ہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارقام فرمایا ہے:
در دیار ہندوستان کہ ایں ابتلا بیش تر است، دریں مسئلہ کہ عموم بلویٰ دارد اولیٰ آنست کہ فتویٰ باسہل وایسر امور بدہند۔ اگر موافق مذہب خود نبود بقول ہر مجتہد کہ باشد۔ (مکتوب ۲۲)
’’اس خطہ ہندوستان میں جہاں ابتلا کی یہ صورت زیادہ پیش آئی ہے تو عموم بلویٰ (عام مصیبت) کی حیثیت اس مسئلہ نے اختیار کر لی ہے۔ یعنی بہتر اور زیادہ پسندیدہ بات ہے کہ فتویٰ اس پہلو کے مطابق دیا جائے جو آسان اور زیادہ سہل ہو، خواہ فتویٰ دینے والے مفتی کے مسلک کے مطابق یہ فتویٰ نہ ہو۔ کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق فتویٰ کا ہونا ایسی صورت میں کافی ہے۔‘‘
عام مولویوں کے لیے ظاہر ہے کہ فتوے میں اتنی مطلق العنانی ذرا مشکل ہی سے قابل برداشت خصوصاً اس زمانہ میں ہو سکتی تھی جس زمانے میں مجدد رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے تھے کہ ندوہ اس وقت تک ہندوستان میں قائم نہیں ہوا تھا، اس لیے بجائے فقہ یا آثار واخبار کے اس موقع پر حضرت مجدد نے قرآنی آیات ہی کو استدلال میں پیش کیا ہے۔ لکھا ہے :
قال اللہ تعالیٰ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر وقال تعالیٰ یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا۔
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمہارے ساتھ اللہ آسانی چاہتا ہے اور دشواری پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ دوسری جگہ ہے کہ اللہ تمہارے بار کو ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور ناتواں پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
آگے ہند کے اسی مجدد نے لکھا ہے کہ:
بر خلق تنگ گرفتن ایشاں را رنجانیدن حرام است۔
’’عام مخلوق کو سختی کے ساتھ پکڑنا اور ان کو دلوں کو (اپنی تنگی گرفت سے) دُکھانا حرام ہے۔‘‘
یہ مکتوب گرامی اس قسم کے گراں مایہ تجدیدی زریں دانش آموزیوں سے معمور ہے۔ اس زمانہ میں ہم عام مولوی لوگ معیاری اسلام کو ہاتھ میں لے کر غریب مسلمانوں کی زندگی کا جو جائزہ لیتے رہتے ہیں اور آئے دن ان کے مومن قلوب کو دُکھاتے رہتے ہیں، دل چاہتا تھا کہ حضرت مجدد کے مشوروں کو اس سلسلہ میں ان کے آگے رکھتا۔ نیز معمولی عام کتابوں میں تلفیق کے نام سے مسلمانوں میں خوف ودہشت کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے، یعنی مجتہدین ائمہ ہدیٰ میں سے کسی ایک امام کے اجتہادی نتائج کے ساتھ ہم آہنگی کا فیصلہ تاریخ کے مختلف وجوہ واسباب کے تحت مختلف ممالک کے مسلمانوں کو کرنا پڑا تو سمجھایا جاتا ہے کہ آیندہ اپنے اپنے ما نے ہوئے امام کے خلاف عمل کی اجازت ان کی آیندہ نسلوں کو نہیں دی جائے گی۔ ایسے آدمی کو فعل مذموم اور ’’عمل تلفیق‘‘ کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ واقع کے لحاظ سے مسئلہ کی صحیح صورت حال چونکہ یہ نہیں ہے، ارادہ تھا کہ کافی بسط وتفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی جائے، مگر بحث کے میدان ہی سے جو نکال دیا گیا، وہ کیا کرے۔‘‘ (صدق جدید ،۲۲ جولائی ۱۹۵۶ء)
اس سلسلے میں حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے فقہی ذوق کا حوالہ دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو ’’فتاویٰ مفتی محمود ‘‘ کے دیباچہ میں مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید ؒ نے حضرت مولانا محمد عبیداللہ دامت برکاتہم (مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ حضرت مولاناعبیداللہ مدظلہ حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے ساتھ ایک ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مفتی صاحبؒ نے اس ملاقات میں مجھ سے ایسی بہت سی باتیں کہیں جن سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔ مجھے اس بالمشافہہ گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ مفتی صاحب اپنے دل میں ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ کے لیے بڑی تڑپ رکھتے ہیں اور فرقہ واریت سے انھیں طبعی نفرت ہے۔ چونکہ اس وقت وہ نوجوان تھے، اس لیے ایک نوجوان عالم کی زبانی اتنی سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو میرے لیے خوشی کا باعث بنی۔ نوجوان عموماً جذباتی ہوتے ہیں، ان کی سوچ بھی جذباتی ہوتی ہے، ان کے فیصلے بھی جذباتی ہوتے ہیں۔ مجھے اطمینا ن ہوا کہ ہمارے ہم عصرعلما میں وہ ایک پختہ فکر، صائب الراے اور زیرک انسان ہیں۔ ان کی یہی صفت میرے دل کو بھائی۔ اس کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ان ملاقاتوں میں علمی، سیاسی اور ملی مسائل کے علاوہ بین الاقوامی مسائل بھی زیر بحث آئے اور ان کی فقہی راے کو میں نے ہمیشہ قوی پایا۔ 
بعض مسائل میں وہ اپنی انفرادی رائے بھی رکھتے تھے۔ مثال کے طورپر فقہی مسائل پر عمل کے سلسلہ میں ان کی رائے یہ تھی کہ مخصوص حالات میں ایک حنفی کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی خاص مسئلے میں ائمہ اربعہ میں سے کسی کی پیروی کرے۔ ایساآدمی ان کے نزدیک حنفیت سے خارج نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ امام محمدؒ اورامام ابویوسف ؒ نے متعدد مسائل میں امام صاحب ؒ سے اختلاف کیا ہے۔ ان کی اپنی ترجیحات ہیں، لیکن ان پر حنفیت سے خروج کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ اپنے اختلافات اور ترجیحات کے باوجود حنفی تھے۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں امام صاحبؒ کا قول موجود نہ ہو یا موجود ہو تو مگر سمجھ نہ آئے یا سمجھ بھی آئے لیکن حالات کی خاص نوعیت کے تحت اس پر عمل ممکن نہ ہو تو کسی دوسرے امام کی پیروی درست ہو گی۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا یہ تھاکہ اگر ایسی شکل وصورت پیش آجائے تو صاحبین ؒ کے قول پر عمل کیا جائے۔ اگر صاحبینؒ کے قول میں بھی یہی صورت پیش آئے توامام محمدؒ کے قول کو ترجیح دی جائے۔ اس کے بعد ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کے اقرب قول پر عمل کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک کسی خاص مسئلہ میں خروج عن الحنفیت تو جائز ہے لیکن مذاہب اربعہ سے خروج جائز نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر میں مولانامفتی محمود ؒ منفردتھے۔ تاہم وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ ایساکرنا ان علما کا کام ہے جن کی مذاہب اربعہ پر وسیع نظر ہے، جو کسی مسئلہ کے ترجیحی پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر عمل کرے، کیونکہ ایسی اجازت دینے سے اس کے عقیدے میں خلل آسکتا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے ادھر ادھر بھٹکنے کے عادی بن سکتے ہیں، جب کہ ایسی صورت صرف اس وقت پیش آسکتی ہے جب ملکی قوانین کی تدوین کی صورت میں علما کسی مشکل سے دو چار ہو جائیں تو وہ اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں، کیوں کہ اصل چیز امام کا قول نہیں، اصل چیز وہ نص ہے جس کی روشنی میں یہ قول متشکل ہوا ہے، یعنی منصوص چیزیں جو ائمہ اربعہ کی علمی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوئیں۔ ائمہ اربعہ نے بے پناہ تحقیق وجستجو کے بعد قرآن وحدیث سے مسائل مستنبط کیے ہیں، اس لیے یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ کسی مسئلہ پر اگر احناف کے ہاں کوئی دلیل یا سند نہیں ہے تو دوسرے مذاہب سے اسے لینا درست ہوگا، بشرطیکہ وہ وہاں بہتر صورت میں موجود ہو۔ ‘‘
حضرت مولانامفتی محمودؒ کے فقہی ذوق اور علمی اسلوب کے بارے میں حضرت مولانا عبیداللہ دامت برکاتہم کا یہ ارشاد گرامی تفصیل کے ساتھ میں نے اس لیے نقل کیا ہے کہ میرا طالب علمانہ ذوق بھی بعینہ اسی طرح کا ہے، البتہ حضرت مولانا عبیداللہ مدظلہ نے اسے حضرت مولانامفتی محمودؒ کا انفرادی ذوق بتایا ہے، جب کہ میرے خیال میں اور بزرگ بھی اس ذوق میں ان کے ساتھ شریک ہیں، جیساکہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی کتاب ’’اسلامی بینکاری۔ تاریخ وپس منظر اور غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت گنگوہیؒ سے معاملات کے اندر اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ معاملات میں لوگو ں کی آسانی کے لیے ائمہ اربعہ میں جہاں بھی توسع ہو، اسے لے لیا جائے۔ ’’حضرت گنگوہی سے صریح اجازت لی‘‘ میں نے یہ الفاظ حضرت والد صاحب (مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمدشفیعؒ ) سے بعینہ سنے ہیں اور ایک جگہ حضرت والدصاحبؒ نے لکھے بھی ہیں۔‘‘
اس لیے اسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی انفرادی رائے یاذوق سے تعبیر کرنا شاید درست نہ ہو، تاہم ان بزرگوں کے ارشادات کی روشنی میں میری طالب علما نہ ترجیحات کچھ اس طرح کی ہیں کہ:
  • کسی عام کو شخص کو یہ حق نہیں ہے، حتیٰ کہ کسی عالم کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اس قسم کے کسی توسع سے فائدہ اٹھانے کا از خود فیصلہ کرے، بلکہ اس کے لیے کسی ذمہ دار مفتی سے رجوع ضروری ہے اور اس کے فتوے کے ذریعے ہی یہ سہولت استعمال کی جا سکتی ہے۔ خود میرا ذاتی معمول یہ ہے کہ درجنوں مسائل میں اپنے مطالعہ اور تحقیق کی بنیاد پر منفرد رائے رکھتا ہوں اور اس کے لیے دلائل پر مجھے اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے، مگر اس وقت تک عمل نہیں کرتا جب تک کوئی ذمہ دارمفتی اس کی اجازت نہ دے دے۔ 
  • مفتی کا یہ حق ہے کہ وہ کسی مسئلے میں لوگوں کو سہولت اور آسانی فراہم کرنے یا کسی الجھے ہوئے مسئلے کا حل نکانے کے لیے اس توسع سے فائدہ اٹھائے اور اسے استعمال میں لائے، مگر چونکہ ہم نے ملک بھر میں مفتیوں کا ’’اتوار بازار‘‘ ہر طرف سجا رکھا ہے، اس لیے مفتی صاحبان میں یہ درجہ بندی کرنا ہو گی کہ کس سطح کے مفتی صاحب کویہ حق ہے اور کس درجہ کے مفتی صاحب کو یہ حق استعمال کرنے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہے۔ 
  • میری طالب علمانہ رائے میں حاجات عامہ، ملکی قوانین کی تدوین اور اجتماعی معاشرتی الجھنوں کا حل تلاش کرنے کا میدان فتویٰ کے میدان سے مختلف ہے، اس لیے ایسے معاملات میں فتویٰ کے اصول اور ترجیحات کو بنیاد بنانے کی بجائے تحقیق اور استدلال کا قدرے وسیع دائرہ متعین کرنا ہوگا اور اس کے لیے اہل سنت والجماعت کے علمی اصول اور مسلمات کو دائرہ قرار دینا زیادہ مناسب ہو گا۔ 
میرا میدان فتویٰ کا نہیں ہے اور نہ کبھی فتویٰ دیا ہے۔ کوئی اجتماعی مسئلہ ہو اور ذمہ دار مفتی صاحبا ن نے فتویٰ صادر کیا ہو تو دوستوں کے اصرار پر اس پر دستخط کر دیتا ہوں، ورنہ فتویٰ طلب کرنے والوں کو کسی دارالافتا سے رجوع کے لیے کہہ دیا کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں ایک لطیفہ نما واقعہ کا ذکر کرنا شاید نامناسب نہ ہو کہ چند ماہ قبل میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھاکہ دو نوجوان لڑکیاں، جو کسی کالج کی سٹوڈنٹ تھیں، آگئیں اور مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا۔ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر فتویٰ لینا چاہتی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں فتویٰ نہیں دیاکرتا۔ کسی مفتی صاحب کے پاس تشریف لے جائیں۔ ایک لڑکی نے تعجب سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ مولانا زاہدالراشدی ہیں؟ میں نے کہا کہ وہی ہوں، لیکن فتویٰ نہیں دیا کرتا۔ اس نے کہا کہ آپ کا تو بڑانام سن رکھا ہے۔ میں نے کہا: سن رکھا ہو گا، مگر میں مفتی نہیں ہوں۔ پھر ان بچیوں نے اپنے گھرکے کسی معاملہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمارے گھر میں کچھ اثرات محسو س ہوتے ہیں، ان کا کوئی علاج بتا دیں۔ میں نے کہا کہ بیٹا، میں یہ کام بھی نہیں کرتا، کسی عامل سے رجوع کریں۔ اس پر ایک لڑکی نے تقریباً پھٹ پڑنے کے انداز میں مجھ سے کہا کہ ’’آپ یہاں کرتے کیا ہیں؟‘‘ یہ کہہ کر دونوں لڑکیاں وہاں سے چلی گئیں۔ 
عرض کرنے کا مقصدیہ ہے کہ میرا میدان فتویٰ کا نہیں ہے، لیکن ملکی قوانین کی تدوین میں رائے دینا، اجتماعی ملی مسائل ومشکلات پر بحث کرکے ان کے حل کا راستہ نکالنا اور بین الاقوامی قانون وثقافت کے ساتھ اسلامی احکام وقوانین کے ٹکراؤ کا جائزہ لے کر قابل عمل راستہ تلاش کرنا میرا ذوق ہے اور ’’الشریعہ‘‘ کا ہدف اور دائرہ کار بھی یہی ہے۔ اس لیے ہماری یہ ہمیشہ درخواست ہوتی ہے کہ ہمارے کام کو فتویٰ کے دائرہ کارکے حوالے سے نہیں بلکہ ملی مسائل میں بحث و مباحثہ کے نقطہ نظرسے دیکھا جائے۔ مفتی صاحب کوئی فتویٰ دیتے ہیں تو وہ فیصلہ دے رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم کسی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں تواس کی حیثیت فیصلہ کی نہیں ہوتی، رائے کی ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مقدمہ پر بحث کے دوران وکیل ہر طرح کی بات کرتے ہیں، مسئلے کے ہر پہلو کو واضح کرتے ہیں، بال کی کھال اتارتے ہیں اور تجزیہ وتنقیح کا کوئی پہلو نظر انداز نہیں کرتے، مگر ان کی کوئی بات فیصلہ کا درجہ نہیں رکھتی۔ فیصلہ جج نے کرنا ہوتا ہے اور ہمارے بحث ومباحثہ میں جج کا درجہ امت کے اجتماعی علمی دائرے کو حاصل ہے۔ جو بات اجتماعی قبول کے دائرے میں آ جائے گی، وہ فیصلہ ہو گی اور جس کی وہاں تک رسائی نہیں ہوگی، وہ وکیل کی انفرادی نکتہ رسی قرار پا کر فائلوں میں دبی رہ جائے گی۔ 
اب میں اس مسئلے کے دوسرے پہلو کی طرف آتا ہوں کہ ایسے مسائل پر عمومی بحث ومباحثہ نہ ہونے کے نقصانات کیا ہوتے ہیں اور ہم اس آزادانہ بحث ومباحثہ کو ضروری کیوں سمجھتے ہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں میں سے سردست ایک پر نظر ڈال لیں کہ کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔ مثال کے طورپر ہم نے غلامی کا شعبہ بالکل ترک کر رکھا ہے، حالانکہ غلاموں اور لونڈیوں کے احکام قرآن کریم میں اور احادیث نبویہ میں اور فقہ اسلامی میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں، لیکن ان میں سے کسی پر آج عمل نہیں ہو رہا، بلکہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران ہم نے دنیا کے کسی بھی حصہ میں ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے جو جنگ بھی لڑی ہے، اس میں کسی کو نہ غلام بنایا ہے نہ لونڈی بنایا ہے جس کی وجہ سے ان سے متعلق فقہی احکام وقوانین عملاً متروک ہو کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کی علمی بنیاد کیا ہے اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آپ گزشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان کے دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماے کرام سے استفسار کر لیں۔ ان میں سے شاید ایک فیصد بھی ایسے حضرات نہ نکلیں جو اس کی کوئی علمی توجیہ کر سکیںیا یہ بتا سکیں کہ قرآن وحدیث اور فقہ میں غلامی کے بارے میں واضح احکام موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل کیو ں نہیں ہو رہا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اور دین کی دعوت وتعلیم سے تعلق رکھنے والے حضرات کو یہ بات ضروری طور پر معلوم ہونی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ہے، ان احکام پر عمل نہ کرنے کا شرعی جواز کیا ہے، اور کیا یہ عارضی صورت حال ہے یا مستقل طور پر اس کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ 
اسی طرح قادیانیوں کے بارے میں ہم نے اجتماعی طور پر فقہی احکام کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انہیں غیرمسلم اقلیت کے طورپر ملک میں رہنے کا حق دیا جائے گا اور ان کے جان ومال کے تحفظ کی حکومت ذمہ دار ہو گی۔ یہ فیصلہ جو تمام مکاتب فکر کے علماے کرام نے متفقہ طورپر کیا ہے اور ملک میں نافذالعمل ہے، ہمارے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ہے۔ میں اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کے حق میں ہوں اوراس کو قانونی اور دستوری درجہ دلوانے کے لیے عملی جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی علمی توجیہ کیا ہے اور ایسا کرنا شرعی طورپر کیا حیثیت رکھتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر علمی مباحثہ ضروری ہے اور نہ صرف علما وطلبہ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقات کے سامنے بھی اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کا شرعی جواز کیا ہے؟ 
اس کے ساتھ ہی اس پر بھی غور فرما لیں کہ پاکستان بننے کے بعد ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے ہم نے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ووٹ کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کو بنیاد بنایا ہے اور اب تک ہمارا اجتماعی موقف یہی ہے کہ حکومت ووٹ کی بنیاد پر بنے گی، البتہ وہ قرآن وسنت کے احکام کی پابندہوگی۔ یہ فیصلہ کرنے والوں میں ہمارے اکابر شامل تھے اور تمام مکاتب فکر کے اکابر بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا تھا، مگر اس کی علمی توجیہ ہمارے علماے کرا م اور دینی کارکنوں کے سامنے نہیں ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کنفیوژ ن موجود ہے اور جمہوریت کو مطلقاً کفر قراردینے والوں میں نہ صرف سوات کے مولانا صوفی محمد پیش پیش ہیں بلکہ دینی کارکنوں کی اکثریت بھی یہی ذہن رکھتی ہے، اوریہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل پریشانی کا باعث بن رہاہے کہ اگر جمہوریت مطلقاً کفر ہے توشیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمدشفیعؒ ، حضرت مولانا احمدعلی لاہوریؒ ، حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ ، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ اور حضرت مولانامفتی محمدحسن ؒ سمیت ان اکابر کی کیا حیثیت ہے جنہوں نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ووٹ کو بنیاد قرار دیا تھا اور ۱۹۷۴ء کا دستور تشکیل دینے والے تمام مکاتب فکر کے ان سرکردہ علماے کرام کی کیا پوزیشن ہے جنہوں نے ووٹ کی بنیاد پر حکومت کے قیام کو تسلیم کیا ہے؟
ہمیں اپنے بزرگ مفتیان کرام کے ارشادات سے اتفاق ہے کہ عام مسلمان کو دین کے دائرہ کا پابند رکھنے اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے تحفظات کا برقرار رکھنا ضروری ہے اور ہم افتا کے دائرے میں ان کے اس موقف اور اسلوب کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن حاجات عامہ، د ستور وقانون کی تدوین اور اجتماعی معاشرتی مسائل کے حل کے لیے جس توسع کی ضرورت ہے اوراس کی شرعاً گنجایش بھی ہے، اس کے بارے میں ا نہیں اس قدر سختی روا نہیں رکھنی چاہیے بلکہ بحث ومباحثہ کی حد تک کھلے ماحول کو برداشت کرنا چاہیے اور اس کو فتویٰ کی ترجیحات پر پرکھنے کی بجائے اجتماعی ملی ضروریات کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ ہم نے اس وجہ سے ’’الشریعہ‘‘ کو کھلے بحث ومباحثہ کے لیے وقف کر رکھا ہے اور متعدد بار اس کا اعلان بھی کیا ہے، جیسا کہ اکتوبر ۲۰۰۷ء کے شمارے میں یہ اعلان ان الفاظ میں شائع ہوا تھا کہ:
’’جدید افکار ونظریات اور آرا وتعبیرات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات واحکام کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات، شکوک وشبہات اور علمی وفکری اعتراضات کے بارے میں ہمارے دینی حلقوں کا عمومی رویہ نظر انداز کرنے اور مسترد کر دینے کا ہے جس سے ’الشریعہ‘ کو اختلاف ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں کے ارباب فکر ودانش اس طرف توجہ دیں، مباحثہ میں شریک ہوں، اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کریں، جس موقف سے وہ اختلاف کر رہے ہیں، اس کی کمزوری کو علمی انداز سے واضح کریں اور قوت استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی برتری کو واضح کریں، کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کر کے اس کے حق میں چند دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں کہ رائے عامہ کے سامنے آپ کا موقف واضح ہو گیا ہے اور آپ کی بات کو قبول کر لیا جائے گا۔ آج کا دور تقابلی مطالعہ کا دور ہے، تجزیہ واستدلال کا دور ہے اور معروضی حقائق کی تفصیلات وجزئیات تک رسائی کا دور ہے۔ آپ کو یہ سارے پہلو سامنے رکھ کر اپنی بات کہنا ہوگی اور اگر آپ کی بات ان میں سے کسی بھی حوالے سے کمزور ہوگی تو وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔ 
اسی مقصد کے تحت الشریعہ کے صفحات پر ’’مباحثہ ومکالمہ‘‘ کا یہ آزادانہ فورم قائم کیا گیا ہے جس کے تحت شائع ہونے والی تحریروں سے ’الشریعہ‘ کا اتفاق ضروری نہیں ہے اور اس میں کسی بھی علمی موضوع پر لکھی جانے والی کوئی بھی تحریر شائع کی جا سکتی ہے جو علمی اسلوب اور افہام وتفہیم کے لہجے میں مناظرانہ انداز اور طعن وتشنیع کے اسلوب سے ہٹ کر لکھی گئی ہو۔ اس ضمن میں روایتی مناظرانہ مسائل کے بجائے اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل ومشکلات کے حوالے سے جدید عنوانات پر لکھی گئی تحریروں کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘
بار بار شائع کیے جانے والے اس واضح اعلان کے بعد کسی دوست کو ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسی اور اس کے مقاصدکے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اگر اب بھی کسی کے ذہن میں غلط فہمی موجود ہے تو اسے دور ہو جانا چاہیے۔ 
اب میں آتا ہوں جناب جاوید احمد غامدی اور عزیزم حافظ محمدعمارخان ناصر کے مسئلے کی طرف۔ جہاں تک غامدی صاحب کا تعلق ہے، ان کے فکر وموقف پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والوں میں خود میں بھی شامل ہوں اور میرے درجنوں مضامین ’الشریعہ‘ اور قومی اخبارات میں اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں، البتہ میرا نقد واعتراض کا انداز مناظرین ومجادلین کے طرز استدلال سے مختلف ہے۔ میری کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی کہ طعن وتشنیع اور تحکم کی بجائے افہام وتفہیم سے کام لیا جائے اور جس سے اختلاف کیا جا رہا ہے، اسے مسترد کرنے کی بجائے واپس لانے کی کوشش کی جائے۔ میں ہر حال میں آپریشن کر دینے کا قائل نہیں ہوں بلکہ واپسی کے لیے محفوظ راستہ دینے کو ترجیح دیتا ہوں اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہوں۔ یہ صرف غامدی صاحب کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ جو دانشور بھی کسی وجہ سے جمہور کے جادۂ اعتدال سے ہٹ کر بات کر رہے ہیں، ان سب کے بارے میں میری خواہش اور کوشش یہی ہے۔ ایک تاریخی واقعہ اس حوالے سے میرے ذہن میں اٹکا ہوا ہے اور شاید یہی میرے اس اسلوب اور طرزعمل کاباعث بھی یہی ہے کہ معتزلہ کابانی واصل بن عطا حضرت حسن بصریؒ کے حلقہ سے تعلق رکھتا تھا ۔ معقولات کی دنیا کا آدمی تھا اور عقلی نوعیت کے سوالات کرتا رہتا تھا۔ حضرت حسن بصری اپنی تمام تر علمی عظمت اور تقویٰ اور بزرگی کے باوجود اس دنیا کے آدمی نہیں تھے، اس لیے اس نے جب حضرت حسن بصریؒ کے حلقہ سے علیحدگی اختیار کی تو انہوں نے اطمینان کا اظہار فرمایا کہ ’ اعتز ل عنا‘، وہ ہم سے الگ ہو گیا ہے اور حضرت حسن بصریؒ کے اسی تاریخ جملہ سے واصل بن عطا اور اس کے پیروکاروں کا نام ’’معتزلہ‘‘ پڑ گیا۔ میں سمجھتاہوں کہ اگر واصل بن عطاکاواسطہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی مجلس سے ہوتا تو اسباب کی دنیامیں شاید نتیجہ یہ نہ نکلتا، اس لیے کہ امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں سوال وجواب ہوتے تھے، بحث ومباحثہ ہوتا تھا، اختلاف رائے ہوتا تھا، دلائل دیے جاتے تھے اور منطق واستدلال کے ساتھ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، حتیٰ کہ اگرکسی شریک محفل کو مجلس کے اجتماعی فیصلہ پر ا طمینان نہ ہوتا تو اسے اختلافی نوٹ لکھوانے کا حق بھی ہوتا تھا۔ آج یہ اسلوب ہمارے ہاں مفقود ہو گیا ہے اور خود ہم احناف اس اسلوب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
رہ گئی بات حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کی تو وہ میرا بڑا بیٹا ہے، اس نے درس نظامی کی تعلیم مدرسہ انوارالعلوم اور مدرسہ نصرۃالعلوم میں حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث اپنے دادا محترم شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم سے کیا ہے۔ اس کے بعد کم وبیش دس سال تک مدرسہ نصرۃالعلو م میں درس نظامی کے شعبہ میں تدریس کی ہے اور موقوف علیہ کے درجہ تک کی کتابیں پڑھائی ہیں اور اس کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہے۔ خالصتاً کتابی ذوق کا شخص ہے اور لکھنے پڑھنے کے سوا اسے کسی اور کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب سے ان کا شاگردی کا تعلق ہے، ان کے ادارے کے ساتھ اس کی جزوی وابستگی ہے اور ان کے بعض افکار سے وہ متاثر بھی ہے۔ اس کی تحریریں ’’الشریعہ‘‘ اور دیگر رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں جمہور کے موقف سے ہٹ کر بھی بات ہوتی ہے، مگر میں نے ہر موقع پر اس کی انفرادی رائے سے اختلاف کیاہے۔ مثلاً حدودوتعزیرات کے بارے میں اس کی کتاب کوسب سے زیادہ ہدف اعتراض وتنقید بنایا گیا ہے۔ اس کا پیش لفظ میں نے لکھا ہے اور اس میں بھی اس اختلاف کا اظہار کیا ہے جو کتاب کے ساتھ ہی شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کرلیجیے:
’’آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم وجدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے، مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘
اسی دبیاچہ میں راقم الحروف نے یہ بھی لکھا ہے کہ :
’’راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ:
  • امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی، بہرحال پابندی کی جائے۔
  • امت مسلمہ کی غالب اکثریت کی فقہی وابستگیوں کا احترام کرتے ہوئے ہر ملک میں وہاں کی اکثریت کے فقہی رجحانات کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے، البتہ قانون سازی کو صرف اسی دائرے میں محدود رکھنے کے بجاے دوسری فقہوں سے استفادہ یا بوقت ضرورت قرآن و سنت سے براہ راست استنباط کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔ مثلاً انڈونیشیا میں شوافع کی اکثریت ہے تو اس اکثریت کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ ان کے ملک میں قانون سازی کی بنیاد فقہ شافعی پر ہو، کیونکہ یہ ایک اصولی اورمعقول بات ہونے کے علاوہ وہاں کی اکثریتی آبادی کا جمہوری حق بھی ہے۔
  • جدید عالمی ثقافتی ماحول اور گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والے مسائل اور بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو نہ تو حق اور انصاف کا معیار تصور کیا جائے کہ ہم ہر تقاضے کے سامنے سپرانداز ہوتے چلے جائیں اور اس کے لیے اسلامی اصولوں اور احکام سے دست برداری یا ان کی مغرب کے لیے قابل قبول توجیہ وتعبیر ہی ہماری علمی کاوشوں کا ہدف بن کر رہ جائے اور نہ ہی ہم انھیں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نفاذ اسلام کے لیے اپنی پیش رفت کا راستہ خود ہی روکے کھڑے رہیں، بلکہ جن مطالبات اور تقاضوں کو ہم قرآن وسنت کی تعلیمات، اہل سنت کے علمی مسلمات اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کر سکتے ہیں، انھیں کھلے دل سے قبول کریں اور جو امور قرآن و سنت کی نصوص صریحہ اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں، ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں۔‘‘
اسی طرح عزیزم عمار سلمہ نے حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کے جواب میں جو تحریر لکھی ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا ہے کہ:
’’عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کی تصنیف ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے بارے میں اپنا اصولی موقف اسی کتاب کے مقدمے میں پیش کر چکا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب مدظلہ نے اس پر علمی نقد فرما کر اس بحث کو آگے بڑھایا ہے، کیونکہ میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ ایسے مسائل میں علمی بحث ومباحثہ ہی صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے موزوں راستہ ہے۔ عزیزم عمار سلمہ نے محترم ڈاکٹر صاحب کے ارشادات کے جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے جو قارئین کے سامنے ہے۔ میں چاہوں گا کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے اور کوئی اور صاحب علم بھی زیر بحث موضوع پر اظہار خیال فرمائیں۔ اس مباحثہ کے مختلف نکات پر گفتگو کی گنجایش اور ضرورت موجود ہے اور بحث آگے بڑھی تو بعض پہلووں پر ان شاء اللہ تعالیٰ میں بھی معروضات پیش کروں گا، البتہ ایک اصولی نکتے پر سردست کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور ان سے استدلال واستنباط کے حوالے سے مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے کہ اس کا دروازہ بالکل بند ہوچکا ہے اور اب علما ومحققین کا کام صرف ماضی کی تعبیرات وتشریحات اور استنباطات واجتہادات میں سے ضرورت کے مطابق انتخاب کرنا اور ترجیحات قائم کرنا ہے۔ قرآن وسنت سے استدلال واستنباط ماضی کی طرح حال اور مستقبل کے اہل علم کا بھی حق ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا، لیکن اس کے ساتھ مجھے اس بات سے بھی شدید اختلاف ہے کہ نئے استدلال واستنباط اور تعبیر وتشریح کے لیے ماضی کی تعبیرات سے لاتعلقی بلکہ کسی موقع پر ان سے براء ت اور ان کی نفی بھی ضروری ہے۔ علمی ارتقا اس کا نام نہیں ہے کہ چودہ سو سال کے علمی تسلسل کونظر انداز کر کے اور اسے ’’محض روایت‘‘ قرار دے کر قرآن وسنت سے براہ راست استدلال واستنباط کے زیرو پوائنٹ کی طرف الٹی زقند لگا دی جائے، بلکہ کسی بھی علم میں ارتقا ماضی کے تسلسل کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اس لیے زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نئے استدلال واستنباط کا حق تسلیم کرنے کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسا کوئی بھی استدلال واستنباط قابل قبول نہیں ہو سکتا جس سے ماضی کے اجتہادات اور جمہور اہل علم کے رجحانات کی کلیتاً نفی ہوتی ہو۔
میں اس سلسلے میں امت کے اساطین علم میں سے دو بزرگوں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ ایک امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں جنھوں نے واضح طور پر فرما دیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد سر آنکھوں پر، صحابہ کرام کے فیصلے بھی ہمارے لیے واجب العمل ہیں اور اگر کسی مسئلے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہے تو ہم ان کے اقوال میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے اور ان کے اقوال کے دائرے سے باہر نہیں نکلیں گے، البتہ ان کے بعد ہمارے زمانے میں بات آئے گی تو ’نحن رجال وہم رجال‘ ، پھر ہم کسی کے پابند نہیں ہیں۔ جس طرح دوسرے حضرات اجتہاد کرتے ہیں، ہم بھی اجتہاد کریں گے۔
’’صحابہ کرام کے اقوال کے دائرے میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا‘‘ ایک ایسا اصول ہے جو نہ صرف حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادات کی ایک اہم اساس ہے، بلکہ ’’اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ میں ’’الجماعۃ‘‘ کا لفظ بھی اسی کی غمازی کرتا ہے، ا س لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر زمانہ میں نئی تعبیر وتشریح اور استدلال واستنباط کی گنجایش ہے اور ایسا ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے ماضی کے اجتہادات اور علمی تسلسل بالخصوص حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماعی فیصلوں اور رجحانات کی نفی نہ ہو، بلکہ نیا استدلال واستنباط ماضی کے علمی تسلسل میں اضافہ اور اس کے ارتقا کا باعث بنے۔
دوسرے بزرگ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ ہیں جنھوں نے حجۃ اللہ البالغہ کے مقدمہ میں بعض حوالوں سے قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور استدلال واستنباط کی ضرورت بیان کی ہے اور اس اعتراض کو پوری قوت کے ساتھ رد کر دیا ہے کہ کسی نئی علمی بحث کی ضرورت نہیں ہے، اور چونکہ اسلاف نے یہ باتیں نہیں کہیں ( ’لان السلف لم یدونوہ‘) اس لیے اب کسی کو اس کا حق حاصل نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے اس فکر کو مسترد کرتے ہوئے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق نئے استدلال واستنباط کی اہمیت وضرورت کو واضح کیا ہے اور پوری حجۃ اللہ البالغہ میں انھوں نے اول سے آخر تک یہی کام کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے یہ اعلان بھی ضروری سمجھا ہے اور میرے نزدیک ایسے علمی مباحث میں حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کا یہ ارشاد ہی قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے کہ:
وہا انا برئ من کل مقالۃ صدر ت مخالفۃ لآیۃ من کتاب اللہ او سنۃ قائمۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او اجماع القرون المشہور لہا بالخیر او ما اختارہ جمہور المجتہدین ومعظم سواد المسلمین فان وقع شئ من ذلک فانہ خطا رحم اللہ تعالیٰ من ایقظنا من سنتنا او نبہنا من غفلتنا اما ہولاء الباحثوں بالتخریج والاستنباط من کلام الاوائل المنتحلون مذہب المناظرۃ والمجادلۃ فلا یجب علینا ان نوافقہم فی کل ما یتفوہون بہ ونحن رجال وہم رجال والامر بیننا وبینہم سجال
’’اور ہاں، میں ہر اس بات سے بری ہوں جو مجھ سے قرآن کریم کی کسی آیت یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت قائمہ کے خلاف صادر ہو گئی ہو یا خیر القرون کے اجماع، جمہور مجتہدین کے فیصلوں اور امت مسلمہ کے اجماعی رجحان کے منافی ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہو گئی ہے تو یہ خطا ہے۔ جو صاحب ہمیں اس اونگھ سے بیدار کریں گے اور غفلت پر خبردار کریں گے، اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔ البتہ یہ لوگ جو پہلے بزرگوں کے کلام سے استنباط وتخریج میں بحث کرتے ہیں اور مناظرہ ومجادلہ کے ذوق واسلوب کی طرف منسوب ہیں، ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کی ہر اس بات میں ان کی موافقت کریں جو ان کے منہ سے نکل جائے، کیونکہ وہ بھی مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں اور یہ معاملہ ہمارے اور ان کے درمیان کنویں کے ڈول کی طرح گھومتا ہے۔‘‘
اس لیے میں یہ گزارش ضروری سمجھتا ہوں کہ افراط وتفریط دونوں سے بچنے اور اعتدال وتوازن سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ نہ ضروریات سے انکار کیا جا سکتا ہے او رنہ ہی تحفظات کو نظر انداز کر دینا دانش مندی ہے۔ صحیح بات وہی ہوگی جو ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح رخ پر چلنے اور اس پر استقامت کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔‘‘
میں نہیں سمجھتا کہ ان واضح تصریحات کے بعد بھی کسی دوست کے لیے اس حوالے سے میرے یا ’الشریعہ‘ کے موقف کے بارے میں تذبذب کا شکار رہنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے، بالخصوص اس صورت حال میں کہ حدودوتعزیرات کے بارے میں جمہور امت اور اہل علم کے اجتماعی موقف کی ترجمانی کے لیے خود میرے درجنوں مضامین ’’الشریعہ‘‘ میں وقتاً فوقتاً شائع ہو چکے ہیں اور ان کا مجموعہ ایک کتابی شکل میں بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ دوست تردد کا شکار ہیں تو ان کی تسلی کے لیے عرض کر رہا ہوں کہ ’’الشریعہ‘‘ اور راقم الحروف کا موقف اور علمی دائرۂ کار وہی ہے جس کا سطور بالا میں تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہو چکا ہے۔ اس موقف اور علمی دائرے سے ہٹ کر ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والی کوئی بھی تحریر، خواہ وہ عزیزم حافظ محمدعمارخان ناصر سلمہ کی ہو یاکسی اور دوست کی، وہ مباحثہ کا حصہ تو ہو سکتی ہے لیکن ’’الشریعہ‘‘ کا موقف نہیں اور نہ ہی وہ راقم الحروف کا موقف ہے۔ ہم نے بحمداللہ تعالیٰ ہمیشہ اعتدال وتوازن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہمیں نہ اس ’تجدد‘ سے اتفاق ہے جس میں امت کے اجماعی تعامل اور اہل سنت کے علمی مسلمات کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو، اور نہ ہی اس ’تشدد‘ کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ ہے جو جزئیات وفروع پر جمود کی یہ کیفیت پیدا کر دے کہ وقت کے ناگزیرتقاضوں اور ملی ضروریات سے ہی آنکھیں بند کرلی جائیں۔ 
ہم نے اپنا موقف اور مقدمہ پوری وضاحت کے ساتھ ارباب علم ودانش کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس پر کوئی صاحب علم دوست سنجیدگی کے ساتھ قلم اٹھائیں اور علمی انداز میں ہماری رہنمائی فرمائیں تو ہم شکر وسپاس کے ساتھ ان کا خیرمقدم کریں گے اور ان سے استفادہ کریں گے۔ امید ہے کہ ارباب علم ودانش ہماری اس گزارش پر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یارب العالمین۔ 

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ چند اہم دستوری اور قانونی مسائل

محمد مشتاق احمد

مالاکنڈ ڈویژن میں ایک دفعہ پھر شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کے بعد سے اس ریگولیشن کے مختلف پہلوؤں اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات پر اہل علم کی بحث جاری ہے۔ بعض لوگوں نے اسے نفاذ شریعت کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے تو بعض دیگر لوگ اسے ’’طالبانائزیشن‘‘ اور انتہا پسندی کے مقابلے میں جمہوری اور لبرل قوتوں کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔ اس مقالے میں ہماری کوشش یہ ہے کہ جذباتیت اور تعصب سے بالاتر ہوکر خالص معروضی قانونی نقطۂ نظر سے اس ریگولیشن کا جائزہ پیش کیا جائے اور اس سے متعلق چند اہم دستوری اور قانونی مسائل پر بحث کی جائے ۔ 

مسودے میں موجود چند فاش غلطیاں 

اس قانون کی مختلف شقوں پر بحث سے پہلے اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس مسودے کی تحریر میں زیادہ محنت سے کام نہیں لیا گیا۔ مسودہ پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوتا ہے کہ اس کی تیاری خاصی عجلت میں کی گئی ہے اور اس پر کسی نے توجہ سے نظر ثانی بھی نہیں کی۔ یہ بات نہایت عجیب اس وجہ سے بھی محسوس ہوتی ہے کہ صدر مملکت نے اس مسودہ کی منظوری میں کافی پس و پیش سے کام لیا ہے اور یہ کہ اس مسودے کو پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا گیا تھا ۔ 
ریگولیشن کے آخر میں پہلے جدول میں ان قوانین کی فہرست دی گئی ہے جن کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کیا گیا ہے۔ کیا یہ نہایت عجیب بات نہیں ہے کہ اس فہرست میں مجموعۂ تعزیرات پاکستان مجریہ ۱۸۶۰ء اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ ء موجود نہیں ہے؟ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ریگولیشن کے تیسرے جدول میں انتظامی مجسٹریٹس کے اختیارات کی تفصیل میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہیں وہ اختیارات بھی حاصل ہوں گے جو مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری میں امن و امان کے قیام کے ضمن میں دیے گئے ہیں۔ مزید حیرت اس پر ہوتی ہے کہ ریگولیشن کے پیرا ۱۹، ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کا ترمیمی آرڈی نینس مجریہ ۲۰۰۱ء منسوخ کردیا گیا ہے۔ گویا اصل متن کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا، البتہ اس کی چند شقوں میں ترمیم کرنے والا آرڈی نینس تو منسوخ کردیا گیا ہے! پھر کیا یہ بھی عجیب بات نہیں ہے کہ شریعت کی بالادستی کے نام پر نافذ کیے جانے والے اس ریگولیشن میں نافذ العمل قوانین کی فہرست میں قصاص و دیت ایکٹ بھی موجود نہیں ہے؟ 
قاضیوں کی تعیناتی کے ضمن میں ذکر کیا گیا ہے کہ ترجیح ان ججوں کو دی جائے گی جنہوں نے کسی مستند ادارے سے شریعت کا کورس کیا ہو، اور پھر مستند ادارے کی تعریف میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے مراد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی ہے۔ شاید مسودہ لکھنے والوں کو معلوم نہیں تھا کہ اسلامی یونیورسٹی کی شریعہ اکادمی اور شریعہ فیکلٹی دو مختلف شعبے ہیں۔ اول الذکر ایک تحقیقی اور تربیتی نوعیت کا ادارہ ہے جو اسلامی قانون کے مختلف موضوعات پر تحقیقی کاوشیں شائع کرنے کا اہتمام کرتا ہے اور ساتھ ہی ججوں، وکلا اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے وابستہ افراد کے لیے مختصر دورانیے کے کورسز کا انعقاد کرتی ہے، جبکہ ثانی الذکر یعنی شریعہ فیکلٹی تعلیمی ادارہ ہے جہاں سے طلبہ باقاعدہ تعلیم کے ذریعے ایل ایل بی، ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بطور جج تعیناتی کے لیے کم از کم تعلیمی اہلیت ایل ایل بی کی ڈگری ہے جو شریعہ اکادمی نہیں بلکہ شریعہ فیکلٹی دیتی ہے۔ اگر ریگولیشن کے متن کو جوں کا توں مانا جائے تو پھر وہ لوگ بھی بطور قاضی تعینات ہونے کے اہل ہوں گے جنہوں نے شریعہ اکادمی سے ’’اسلامی قانون خط و کتابت کورس ‘‘ کیا ہو! 
ایک نہایت واشگاف ( بلکہ سمجھ میں نہ آنے والی ) غلطی ’’دارل دار القضاء‘‘ کی ترکیب ہے۔ مجھے اردو، فارسی اور عربی صرف و نحو کے علوم میں اپنی کم مائیگی کا احساس ہے، لیکن اس کے باوجود میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ یہ ترکیب بالکل ہی بے معنی ہے۔ ’’ دارل دار القضاء‘‘ سے مراد وہ ادارہ ہے جہاں ’’دار القضاء‘‘ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ ( تفصیل آگے آرہی ہے ۔ ) مجھے نہیں معلوم کہ کس صاحب علم نے یہ ترکیب ایجاد کی ہے اور مجھے نہایت حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں اس ترکیب کے مسلسل استعمال کے باوجود کسی کو یہ ترکیب کھٹکتی نہیں ہے۔ 
ان چند غلطیوں کی نشاندہی کے بعد اب اس قانون کی چند اہم شقوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے : 

شریعت بطور بالادست قانون 

شرعی نظام عدل ریگولیشن کی سب سے اہم خصوصیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک شریعت کو بالادست قانون تسلیم کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ ریگولیشن کے پیرا ۴ میں تصریح کی گئی ہے کہ ریگولیشن کے نفاذ کے بعد مالاکنڈ ڈویژن میں جو بھی قانون، ضابطہ یا رواج قرآن مجید یاسنت نبوی میں موجود احکامِ اسلام سے یا ایسے قانون سے متصادم ہو، جسے ریگولیشن کے ذریعے اس علاقے میں نافذ کیا گیا ہو، وہ کالعدم متصور ہوگا۔یہاں یہ وضاحت نہیں کی گئی، لیکن غالباً مراد یہی ہے کہ ایسا قانون تصادم کی حد تک، نہ کہ کلیتاً کالعدم ہوگا۔ پیرا ۶، ذیلی پیرا ۲ میں قاضیوں اور پیرا ۷، ذیلی پیرا ۲ میں انتظامی مجسٹریٹس کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال رائج الوقت قانون اور شریعت کے ثابت شدہ اصولوں (established) کی روشنی میں کریں گے۔ البتہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ شریعت کے ان ’’ثابت شدہ اصولوں‘‘ سے مراد کیا ہے؟ آگے پیرا ۹، ذیلی پیرا ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتی طریق کار اور مقدمات کے تنازعے کے حل کے لیے قاضی اور انتظامی مجسٹریٹس قرآن مجید، سنت نبوی، اجماع اور قیاس سے رہنمائی حاصل کریں گے اور اس ضمن میں وہ قرآن مجید اور سنت نبوی کی تشریح و توضیح کے ثابت شدہ اصولوں کی پیروی کریں گے اور اس مقصد کے لیے ’’مسلمہ‘‘ (Recognized) فقہا کی آرا و تشریحات کو بھی مد نظر رکھیں گے۔ پیرا ۱۴، ذیلی پیرا ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ قاضیوں اور انتظامی مجسٹریٹس کے لیے ضابطۂ اخلاق شرعی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اسی پیرا کے ذیلی پیرا ۲ میں تصریح کی گئی ہے کہ کسی دوسرے رائج الوقت قانون کے علی الرغم اس علاقے میں تمام دیوانی و فوجداری مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں شریعت کے مطابق کریں گی، البتہ غیر مسلموں کے نکاح ، طلاق ، مہر اور وراثت کے امور کے فیصلے ان کے شخصی قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ 
بظاہر یہ سب انتہائی انقلابی اقدامات لگتے ہیں، تاہم ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو پاکستان کے دستوری و قانونی نظام کے لیے بالکل ہی انوکھی یا اجنبی ہو۔ دستور پاکستان کی دفعہ ۲ نے اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا ہے۔ دفعہ ۲ الف کے تحت قرارداد مقاصد، جو پہلے دستور کا دیباچہ تھا، اب دستور کا عملی حصہ ہے جس میں اقرار کیا گیا ہے کہ پوری کائنات پر حقیقی اقتدار اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور پاکستان کے عوام اس کے تفویض کردہ اختیارات مقدس امانت کے طور پر استعمال کریں گے۔ دستور میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام سے متصادم قانون سازی نہیں کی جائے گی اور یہ کہ تمام موجود قوانین ان احکام سے ہم آہنگ کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو سفارشات دینے کے لیے دستور نے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ بھی تشکیل دی ہے۔ ۱۹۸۰ء سے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ یہ کام بھی سر انجام دے رہی ہیں کہ قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام کو تصادم کی حد تک کالعدم قرار دیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو لازمی حیثیت نہیں دی گئی تھی، لیکن وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ کے فیصلے لازمی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان عدالتوں نے بعض غیر اسلامی قوانین کے خاتمے اور بعض نئے اسلامی قوانین کے اجرا کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ان عدالتوں نے شرعی قوانین کی توضیح اور تنفیذ کے سلسلے میں بعض اہم فیصلے سنائے ہیں۔ مجموعی لحاظ سے ان کی کارکردگی مثالی اور معیاری نہ سہی، لیکن انہیں صحیح سمت میں پیش رفت کا نام ضرور دیا جاسکتا ہے۔ 
یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ریگولیشن میں ’’شریعت‘‘ کی جو تعریف دی گئی ہے، اس پر بھی ایک نظر ڈالی جائے۔ پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ ی ‘ میں کہا گیا ہے : ’’ شریعت سے مراد قرآن مجید ، سنت نبوی ، اجماع اور قیاس میں مذکور احکام اسلام ہیں ۔ ‘‘ 
دستور پاکستان نے ’’ قرآن مقدس اور سنت میں مذکور احکام اسلام ‘‘(Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah) کی ترکیب کئی مقامات پر استعمال کی ہے، لیکن ’’اسلام کے احکام‘‘ (Injunctions of Islam) کی کوئی تعریف پیش نہیں کی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی ’’سالانہ رپورٹ سال ۱۹۸۶ء‘‘ میں سینیٹ کے منظور کردہ ’’شریعت بل‘‘ کے متعلق اپنی سفارشات میں اسی ترکیب کو ’’شریعت‘‘ قرار دیا، لیکن اس رپورٹ میں بھی ’’احکام اسلام‘‘ کی تعریف پیش نہیں کی گئی ۔ تاہم تعریف کی توضیح میں بتایا گیا ہے : 
’’ احکام اسلام کی تشریح میں رہنمائی کے لیے درج ذیل مآخذ سے استفادہ کیا جائے گا : 
(۱)سنت خلفاء راشدین (۲)تعامل صحابہ (۳) اجماع امت (۴) مسلمہ فقہائے اسلام کی تشریحات و آرا۔‘‘
وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بنچ نے بھی ابھی تک اس اصطلاح کی وضاحت نہیں کی ہے حالانکہ ان کا کام یہ ہے کہ احکام اسلام سے متصادم قوانین کو کالعدم قرار دیں ۔ اس ابہام کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عملاً احکام اسلام کو قرآن و حدیث کی ’’نصوص‘‘ کے مترادف فرض کر لیا گیا ہے، چنانچہ کونسل اور عدالت بسا اوقات کسی معاملے میں یہ کہہ کر کہ کسی خاص نص میں اس کی ممانعت نہیں کی گئی ہے، اسے جائز قرار دیتی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، قوانین کے جواز اور عدم جواز کے لیے ’’اباحت اصلیہ‘‘ کے قاعدے کو نہایت توسیع کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے۔ اس وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ’’انصار برنی کیس‘‘میں وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ اباحت اصلیہ کے قاعدے کے مطابق خاتون حدود و قصاص سمیت ہر قسم کے مقدمات میں جج بن سکتی ہے، کیونکہ اس کی ممانعت کے لیے قرآن و حدیث میں کوئی صریح دلیل نہیں پائی جاتی ۔ (۱) 
۱۹۹۱ء کے نفاذ شریعت ایکٹ میں ’’شریعت‘‘ کی اسی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں ایم ایم اے حکومت نے صوبہ سرحد میں شرعی قانون ایکٹ پاس کیا جو درحقیقت ۱۹۹۱ء کے نفاذ شریعت ایکٹ کا چربہ تھا، البتہ اس ایکٹ میں شریعت کی تعریف میں یہ اضافہ کیا گیا کہ قرآن و سنت میں مذکور یا ’’ان سے ماخوذ‘‘ احکامِ اسلام کو شریعت قرار دیا گیا۔ مسودہ لکھنے والے غالباً یہ بتانا چاہتے تھے کہ اسلام کے احکام سے صرف نصوص (texts) نہیں مراد بلکہ قواعد عامہ اور مقاصد شریعت بھی اس میں شامل ہیں، لیکن ’’ماخوذ احکام ‘‘ کی اصطلاح بھی مبہم تھی اور ’’اخذ‘‘ کا طریقہ بھی غیر واضح رہا، اس لیے تعریف واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم ہوگئی۔ اب اس ریگولیشن میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ قرآن وسنت کے علاوہ اجماع اور قیاس میں مذکور احکام کو بھی شریعت قرار دیا گیا ہے۔ اس تعریف پر چند سوالات قائم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا اجماع اور قیاس میں احکام اسلام ’’مذکور‘‘ ہوتے ہیں یا یہ قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کے ذرائع ہیں؟ نیز اگر قیاس اور اجماع سے ثابت شدہ احکام شریعت کا حصہ ہیں تو استحسان اور دیگر مآخذ سے ثابت شدہ احکام کیوں شریعت کا حصہ نہیں ہیں؟ ریگولیشن نے بھی ’’احکام اسلام‘‘ کی وضاحت نہیں کی۔ 
احکام اسلام کے متعلق اس ابہام کا ایک لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی طرح مالاکنڈ ڈویژن میں بھی عدالتیں فقہا کی تصریحات کو نظر انداز کرکے براہ راست قرآن و حدیث سے استدلال کی راہ اختیار کر لیں گی۔ اس براہ راست استدلال میں کئی قباحتیں ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس طرح عدالتیں پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کے چکر میں پھنس جائیں گی جو نہ صرف وقت اور توانائی کا ضیاع ہوگا بلکہ اس کوشش میں قانون اندرونی تضادات کا بھی شکار ہوجائے گا۔ نیز اس طرح بسا اوقات اجماع امت کی بھی خلاف ورزی ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’بیگم رشیدہ پٹیل کیس‘‘ میں عدالت نے زنا بالجبر کو حد حرابہ کے تحت لانے کا حکم دیا، لیکن اس بات پر بحث ہی نہیں کی کہ اسے حد حرابہ قرار دینے کے بعد کیا اس پر حرابہ کی سزا دی جائے گی یا اس کی سزا وہی رہے گی جو حد زنا آرڈی نینس میں مقرر کی گئی تھی؟ (۲) 
اگر ایک لمحے کے لیے ’’احکام اسلام ‘‘ کی تعریف کی تعیین کا مسئلہ نظر انداز کیا جائے تو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احکام اسلام، جو کچھ بھی وہ ہوں، کے ساتھ تصادم کا فیصلہ عدالتیں کس بنیاد پر کریں گی؟ قرآن و سنت کے آپس میں تعلق، خبر واحد کی حجیت، نسخ قرآن، عام کی تخصیص، مطلق کی تقیید، مجمل کی تفسیر اور اس طرح کے دیگر اصولی مباحث میں وہ کیا نظریہ اپنائیں گی؟ ریگولیشن نے ’’مسلمہ فقہا‘‘ کے ’’ثابت شدہ اصولوں‘‘ کی پیروی کا تو ذکر کیا ہے لیکن ان دونوں تراکیب کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ نیز اس بات کی بھی کوئی وضاحت ریگولیشن میں نہیں کی گئی کہ کیا عدالتیں فقہا کی آرا میں اخذ و رد کے لیے آزاد ہوں گی؟ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ اصول فقہ کے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ تمام مذاہب فقہ کواصول کے معاملے میں ’’ایک نظریہ‘‘ کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔(۳) عصر حاضر میں مختلف مذاہب سے اخذ و رد کے نتیجے میں جو مضحکہ خیز صورتیں پیدا ہوئی ہیں، ان کی سب سے بڑی وجہ یہی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہاے اسلام نے اصول کے معاملے میں کم از کم تین نظریے اپنائے ہیں۔(۴) ایک نظریے کے تحت جب ایک اصول مان لیا گیا تو دوسرے اصول بھی اسی نظریے کے مطابق مقرر کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مذہب ایک اندرونی طور پر مستحکم قانونی نظام کی صورت میں ابھرا۔ فروع سے بھی آگے بڑھ کر جب اصول میں بھی ’’ تلفیق‘‘ کی راہ اختیار کی جاتی ہے تو نتیجہ قانون کے اندر تضادات (Analytical Inconsistency) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے احکام اسلام کی تعریف متعین کرنے کے علاوہ ضروری یہ ہے کہ قرآن و سنت سے احکام اسلام کے اخذ، اور پھر ان اخذ شدہ احکام کے ساتھ قوانین کے تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنے کے لئے اصول متعین کر لیے جائیں۔ 

رائج الوقت قوانین کا نفاذ 

ریگولیشن نے کئی ملکی قوانین کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل قرار دیا ہے، چنانچہ پیرا ۳ نے تصریح کی ہے کہ ریگولیشن کے پہلے جدول میں مذکور قوانین مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہوں گے۔ البتہ ساتھ ہی تصریح کی ہے کہ ان قوانین اور ریگولیشن میں تصادم کی صورت میں ریگولیشن میں مذکور قواعد پر عمل ہوگا۔ پہلے جدول میں موجود قوانین کی فہرست کا جائزہ لینے سے چند دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہوگا، لیکن نہ تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس ۱۹۶۱ء کو اور نہ ہی ڈیزولوشن آف مسلم میرجز ایکٹ ۱۹۳۹ء کو اس علاقے میں نافذ کیا گیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ ایسی صورت میں فیملی کورٹس کس قانون پر عمل کریں گی؟ 
اسی طرح حدود آرڈی نینسز کو تو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کیا گیا ہے لیکن قانون برائے تحفظ نسواں ۲۰۰۶ء ، جس نے حد زنا آرڈی نینس اور حد قذف آرڈی نینس میں دور رس تبدیلیاں کی ہیں، اسے نافذ نہیں کیا گیا ۔ گویا مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک حدود قوانین اسی صورت میں نافذ ہوں گے جس صورت میں وہ تحفظ نسواں کے قانون کے نفاذ سے پہلے تک پاکستان کے دیگر علاقوں میں تھے۔ اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان حدود قوانین میں ایسے کئی قواعد دیے گئے ہیں جو شریعت سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر حد زنا آرڈی نینس نے جرم زنا کو ’’زنا مستوجب حد‘‘ اور ’’زنا مستوجب تعزیر‘‘ کی دو قسموں میں تقسیم کیا تھا، لیکن شریعت کی رو سے ’’زنا مستوجب تعزیر‘‘ نامی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ (۵) اسی طرح حد قذف آرڈی نینس میں ’’نیک نیتی ‘‘ (good faith) پر مبنی اتہام کو قذف کی تعریف سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جو شریعت کی واضح نصوص کے خلاف ہے۔(۶) اب سوال یہ ہے کہ جب مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کو بالادست قانون کی حیثیت دی گئی ہے تو وہاں کی عدالتیں ان قواعد و ضوابط کے ساتھ کیا کریں گی جو شریعت سے متصادم ہوں؟ کیا ان ماتحت عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کسی شق کو شریعت سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیں؟ 
ریگولیشن کے پہلے جدول میں دیے گئے قوانین کی فہرست میں صارف کے تحفظ کا قانون ۱۹۹۷ء، ماحول کے تحفظ کاقانون ۱۹۹۷ء اور بچوں کے روزگار کے قانون ۱۹۹۱ء کو دیکھ کر تو خوشگوار حیرت ہوئی ہی تھی، لیکن سب سے زیادہ حیرت نوادرات کے قانون ۱۹۷۵ء کو دیکھ کر ہوئی جس کے تحت بہت سی ایسی نوادرات کا تحفظ قانوناً لازم ہے جنہیں طالبان کا فہمِ شریعت شرک اور کفر کی علامات گردان کر نہی عن المنکر کے قاعدے کے تحت مٹانا لازم قرار دیتا ہے۔ البتہ فہرست میں ایسے قوانین بھی دیے گئے ہیں جن سے شاید طالبان کو زیادہ دلچسپی ہو، جیسے بدکاری کے تدارک کا آرڈی نینس (Suppression of Prostitution Ordinance) ۱۹۶۱ء، غیر اخلاقی اشتہارات پر پابندی کا قانون ۱۹۶۳ء، جوے کی روک تھام کا قانون ۱۹۷۷ء، پتنگ بازی پر پابندی کا قانون ۲۰۰۶ء وغیرہ۔ تاہم بعض قوانین اس فہرست میں ایسے بھی ہیں جنہیں انتظامیہ ان کے خلاف بھی استعمال کرسکتی ہے، جیسے لاؤڈ سپیکر اور ساؤنڈ ایمپلی فائر کے کنٹرول اور انضباط کا قانون ۱۹۶۵ء۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ریگولیشن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) آرڈی نینس ۲۰۰۲ء کو بھی مالاکنڈ میں نافذ کردیا ہے۔ 

دار القضاء اور ’’دار ل دار القضاء ‘‘کی تشکیل 

ریگولیشن کے پیرا ۲ ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ب‘ میں قرار دیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۸۳ کی ذیلی دفعہ ۲ کے تحت صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں ’’دار ل دار القضاء‘‘کی تشکیل کی جائے گی جو اپیل اور نظر ثانی کے لیے آخری عدالت ہوگی۔ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۸۳ کی ذیلی دفعہ ۲ کا جائزہ لیا جائے تو وہاں مختلف علاقوں میں سپریم کورٹ کے بنچ کی تشکیل کا ذکر ہے۔ گویا ریگولیشن میں طے پایا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سپریم کورٹ کی بنچ قائم کی جائے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دستور پاکستان کی متعلقہ دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ بنچ کا قیام چیف جسٹس کا اختیار ہے، تاہم یہ کام چیف جسٹس صدر پاکستان کی منظوری سے کریں گے۔ پس محض ریگولیشن کے نفاذ سے ’’دار ل دار القضاء‘‘کی تشکیل نہیں کی جاسکتی۔ ریگولیشن گورنر نے نافذ کیے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کی بنچ کا قیام گورنر یا صدر کاکام نہیں، بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کا کام ہے ۔ 
اسی طرح آگے شق ’ج‘میں قرار دیا گیا ہے کہ دستور پاکستان کی دفعہ ۱۹۸ کی ذیلی دفعہ ۴ کے تحت صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں ’’دار القضاء‘‘ کی تشکیل کی جائے گی۔ دستور کی متعلقہ دفعہ میں ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام کا ذکر ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے علاقائی بنچ کی تشکیل گورنر کابینہ کی تجویز پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے سے کرے گا۔ پس دارل دار القضاء کی طرح دار القضاء کا قیام بھی ریگولیشن کے نفاذ سے از خود وجود میں نہیں آئے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ گورنر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ لے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ۱۹۹۶ء کے مشہور ججز کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا ہے کہ چیف جسٹس کا مشورہ ماننا گورنر پر لازم ہے ۔ 
پس ایک بات تو طے ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں قائم تمام نئی اور پرانی عدالتیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ماتحت اور ان کی نگرانی میں ہی کام کریں گی۔ چنانچہ ریگولیشن کے پیرا ۶ ذیلی پیرا ۳ میں تصریح بھی کی گئی ہے کہ تمام عدالتیں ’’دار القضاء‘‘ (ہائی کورٹ ) کی مرکزی سیٹ کے زیر نگرانی کام کریں گی۔ اسی طرح پیرا ۱۲ میں تصریح کی گئی ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف دار القضاء ( ہائی کورٹ) یا دارل دار القضاء (سپریم کورٹ) میں اپیل اور نظر ثانی کا طریق کار دستور پاکستان کی دفعات کے مطابق ہوگا۔ البتہ ریگولیشن میں دار القضاء ( ہائی کورٹ) کے اختیارات پر چند قدغنیں لگائی گئی ہیں جن کی دستوری حیثیت مشتبہ ہے۔ مثال کے طور پر ریگولیشن کے پیرا ۱۰ ذیلی پیرا ۸ میں قرار دیا گیا ہے کہ جس عدالت میں اپیل دائر کی جائے، وہ پابند ہوگی کہ تیس دنوں کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔ کیا ریگولیشن کے ذریعے ہائی کورٹ کو اس بات کا پابند کیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح اس دفعہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت کسی بھی صورت میں اس بات کی مجاز نہیں ہوگی کہ وہ کیس واپس ماتحت عدالت کو ریمانڈ کرے۔ کیا ریگولیشن کے ذریعے ہائی کورٹ کے اختیارات پر اس طرح کی قدغن لگائی جاسکتی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریگولیشن میں دار القضاء یا دارل دار القضاء کے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں پائی جاتیں۔ تاہم چونکہ اول الذکر ہائی کورٹ کے بنچ کا اور ثانی الذکر سپریم کورٹ کے بنچ کا نام ہے، اس لیے دستوری اور قانونی لحاظ سے ان پر وہ تمام اصول لاگو ہوں گے جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بنچوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ججوں کی تعیناتی اور اس سے متعلقہ دیگر تمام امور کے لیے اصول وہی ہوں گے جو دستور پاکستان میں طے کیے گئے ہیں اور جن کی تشریح و توضیح سپریم کورٹ ججز کیس میں کرچکی ہے۔ 

قاضیوں کی تعیناتی 

بعض لوگوں نے قاضی عدالتوں کے قیام اور قاضیوں کی تعیناتی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بعض دیگر لوگوں نے قاضیوں کی تعیناتی کو ایک بڑا انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے اسے اسلامی عدالتی نظام کے نفاذ سے تعبیر کیا ہے۔ ان دونوں فریقوں نے شاید ریگولیشن کا مسودہ پڑھے بغیر ہی رائے قائم کی ہے۔ اس سلسلے میں ریگولیشن کی شقوں کا مختصر جائزہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ 
ریگولیشن کے پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’الف ‘ میں ’’عدالت ‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : 
"Court" means the court of competent jurisdiction established and designated as such under this Regulation 
[’’عدالت ‘‘ سے مراد اختیار سماعت کی اہلیت رکھنے والی عدالت ہے جسے اس ریگولیشن کے ذریعے قائم کیا گیا اور اس نام سے موسوم کیا گیا ہو ۔] 
پیرا ۵ میں قرار دیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں دار القضاء اور دارل دار القضاء کے علاوہ درج ذیل عدالتیں کام کریں گی : 
( الف ) ضلع قاضی کی عدالت (ب ) اضافی ضلع قاضی کی عدالت 
( ج ) اعلیٰ علاقہ قاضی کی عدالت (د) علاقہ قاضی کی عدالت اور 
(ہ) انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت 
ان میں انتظامی مجسٹریٹس کا معاملہ مختلف ہے جس کو آگے الگ ذکر کیا جائے گا ۔ دیگر چار قسم کی عدالتوں کی تفصیل یہ ہے : 
پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ز‘ میں ’’قاضی ‘‘ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : 
"Qazi" means a duly appointed judicial officer as specified and designated in column (3) of Schedule II. 
[’’قاضی ‘‘ سے مراد باقاعدہ تعینات کیا گیا عدالتی افسر ہے جسے دوسے جدول کے تیسرے کالم میں اس نام سے موسوم کیا گیا ہو ۔] 
پھر پیرا ۶ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ عدالتیں انہی اختیارات کی حامل ہوں گی جو صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں ان عدالتوں کو حاصل ہیں جو ریگولیشن کے دوسرے جدول میں مذکور ہیں ۔ 
ریگولیشن کے دوسرے جدول میں مالاکنڈ ڈویژن کی عدالتوں اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی عدالتوں کا تقابل اس طور پر پیش کیا گیا ہے: 
صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں عدالت کا نام > مالاکنڈ ڈویژن میں عدالت کا نام 
(۱) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  > ضلع قاضی 
(۲) اضافی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج > اضافی ضلع قاضی 
(۳) سینیئر سول جج /دفعہ ۳۰ ضابطۂ فوجداری کے تحت تعینات شدہ جیوڈیشل مجسٹریٹ > اعلیٰ علاقہ قاضی 
(۴) سول جج / جیوڈیشل مجسٹریٹ > علاقہ قاضی 

پس بنیادی طور پر تو یہ صرف ناموں کی تبدیلی کا مسئلہ ہے۔ 
ریگولیشن کے پیرا ۱۱ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ ضلع قاضی، اضافی ضلع قاضی یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو (۱۵۰) سے زائد ہونے پر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ نئی عدالتیں قائم کرے۔ اسی طرح اعلیٰ علاقہ قاضی، علاقہ قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دو سو (۲۰۰) سے بڑھنے پر حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ نئی عدالتیں قائم کرے ۔ 
اس سلسلے میں ریگولیشن کی دفعہ ۶ ذیلی دفعہ ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں میں تعیناتی کے لیے ان ججوں کو ترجیح دی جائے گی جو کسی مستند ادارے سے شریعت کے کورس کے سند یافتہ ہوں۔ پیرا ۲، ذیلی پیرا ۱ کی شق ’ ح ‘ میں قرار دیا گیا ہے کہ ’’مستند ادارے ‘‘ سے مراد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی یا حکومت سے منظور شدہ ایسا ادارہ ہے جو علوم شرعیہ کی تعلیم دیتا ہو ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، یہاں بظاہر متن میں غلطی واقع ہوئی ہے ۔ اگر شریعہ اکادمی سے شریعہ فیکلٹی مراد ہو تو پھر ’’شریعت کے کورس‘‘ سے مراد ایل ایل بی شریعہ و قانون کی ڈگری ہوگی۔ تاہم اگر یہاں غلطی واقع نہیں ہوئی اور شریعہ اکادمی سے اکادمی ہی مراد ہے تو پھر شریعت کے کورس سے مراد وہ مختصر دورانیے کے خصوصی کورسز ( اور خط و کتابت کورسز ) ہوں گے جو شریعہ اکادمی اسلامی قانون میں تربیت کے لیے وقتاً فوقتاً منعقد کرتی رہتی ہے۔ اس مسئلے میں قانون کے صحیح منشا کی توضیح حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شریعہ فیکلٹی کے سند یافتہ طلبہ کو چونکہ ایل ایل بی شریعہ و قانون کی ڈگری دی جاتی ہے، اس لیے بطور جج ان کی تعیناتی قانونی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ البتہ دینی مدارس جو ’’علوم شرعیہ کی تعلیم ‘‘دیتے ہیں، کی اسناد کا ایل ایل بی کے برابر ہونا تو درکنار، ان کا بی اے کے برابر ہونا بھی ابھی تک مشتبہ ہے۔ اس لیے دینی مدارس کی اسناد کے حاملین کی بطور جج یا قاضی تعیناتی قانونی لحاظ سے صحیح نہیں ہوگا۔ 

انتظامی مجسٹریٹس کی عدالتیں 

جرائم کے سدباب اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے ریگولیشن نے انتظامی مجسٹریٹس کی عدالتیں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ پیرا ۷ کی ذیلی دفعہ ۱ میں قرار دیا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ضرورت کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، اضافی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ تعینات کیے جائیں گے۔ ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ مجسٹریٹ تمام کاروائی شریعت اور رائج الوقت قوانین کے مطابق کریں گے۔ ذیلی دفعہ ۳ میں طے کیا گیا ہے کہ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق امن و امان کے قیام، حکومتی فیصلوں کے نفاذ اور جرائم کی روک تھام -’’ سد ذرائع جنایات ‘‘- ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کام ہوگا۔ ذیلی پیرا ۴ میں قرار دیا کیا گیا ہے کہ ریگولیشن کے تیسرے جدول میں مذکور مسائل سے نمٹنے کا اختیار صرف انتظامی مجسٹریٹ کے پاس ہوگا۔ بالفاظ دیگر ان معاملات میں قاضیوں کو مداخلت کا اختیار نہیں ہوگا۔ تیسرے جدول میں مندرجہ ذیل امور ذکر کیے گئے ہیں: 
۱۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کے تحت وہ تمام جرائم جن کی سزا تین سال تک قید ہو، خواہ اس کے ساتھ جرمانے کی سزا ہو یا نہ ہو۔ 
۲۔ کسی دیگر خصوصی یا علاقائی قانون (Special or local law) کے تحت وہ تمام جرائم جن کی سزا تین سال تک قید ہو، خواہ اس کے ساتھ جرمانے کی سزا ہو یا نہ ہو۔
۳۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ضابطۂ فوجداری کے تحت جرائم Public Nuisance کے سد باب کے لیے ضروی اقدامات۔
۴ ۔ کسی لائسنس یا پرمٹ میں مذکور شرائط کی خلاف ورزی پر کارروائی۔ 
اس سے ایک تو یہ بات پھر واضح ہوگئی کہ اس ریگولیشن میں صرف نام کی تبدیلی سے قانون کو اسلامیانے کی کوشش کی گئی ہے، چنانچہ ’’ سد ذرائع جنایات‘‘ سے مراد مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور مجموعۂ ظابطۂ فوجداری کے تحت اٹھائے جانے والے Preventive Measures ہیں ۔ 
دوسری بات یہ قابل توجہ ہے کہ کسی لائسنس ( مثلاً ایف ایم ریڈیو کے لائسنس ) کی شرائط کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار انتظامی مجسٹریٹ کو دیا گیا ہے ، نہ کہ قاضی کو ۔ 
تیسری بات، جو سب سے زیادہ اہم ہے، یہ ہے کہ اس ریگولیشن کے ذریعے پرانی افسر شاہی (Bureaucracy ) کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو نہ صرف دستور پاکستان کی واضح شقوں کی خلاف ورزی ہے، بلکہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ دستور کی دفعہ ۱۷۵ کی ذیلی دفعہ ۳ میں طے کیا گیا تھا کہ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدہ کا کام بتدریج پانچ سالوں میں تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ بعد میں دستور میں ترمیم کے ذریعے اس مدت کو چودہ سال کردیا گیا۔ یہ مدت ۱۹۸۷ء میں پوری ہوئی۔ تاہم افسر شاہی، جس نے عدالتی اختیارات کا مزا چکھ لیا تھا، اس علیحدگی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی رہی اور مختلف سیاسی لیڈر بھی انتظامیہ کے عدالتی اختیارات کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہوچکے تھے۔ وہ بھی اس علیحدگی کے سخت مخالف تھے ۔ تاہم ان سیاستدانوں اور افسر شاہی کے اس ٹولے کے علی الرغم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی بالآخر ۱۹۹۶ء میں عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد سے افسر شاہی نے بارہا کوشش کی ہے کہ کسی طرح عدالتی اختیارات اسے دوبارہ حاصل ہوجائیں۔ اس ریگولیشن کے نفاذ سے کم از کم مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک افسر شاہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس اقدام کو درست قرار دیں گی؟ 
چوتھی بات یہ عرض کرنی ہے کہ جب تین سال تک کی سزا والے جرائم کے لیے اختیار سماعت صرف انتظامی مجسٹریٹس کو ہو، ’’سد ذرائع جنایات‘‘ ( ضابطۂ فوجداری کی دفعات ۱۰۶ تا ۱۵۳ ، بشمول دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے) کا اختیار بھی صرف انتظامی مجسٹریٹس کے پاس ہو، اور اسی طرح لائسنسوں اور پرمٹوں کی خلاف ورزی پر کارروائی کا ختیار بھی صرف انتظامی مجسٹریٹس ہی رکھتے ہوں، تو نام نہاد قاضی صاحبان کے پاس کرنے کے لیے کیا رہ جائے گا؟ اسی طرح ’’غیر قانونی اجتماع ‘‘ (Unlawful Assembly) میں شمولیت پر مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۴۲ کے تحت چھ ماہ تک قید کی سزا ہے، اور اگر اس اجتماع میں شامل ہونے والے کسی فرد کے پاس ہتھیار بھی ہوں تو اس کی سزا دفعہ ۱۴۴ کے تحت دو سال تک قید ہے۔ ریگولیشن کے تحت ان دونوں صورتوں میں عدالتی کاروائی کا تمام تر اختیار صرف اور صرف انتظامی مجسٹریٹس کے پاس ہوگا اور قاضی صاحبان صرف منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ 

صلح کے لیے قواعد 

ریگولیشن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف دیوانی تنازعات، بلکہ فوجداری مقدمات میں بھی صلح کے لیے اصول و ضوابط دیے گئے ہیں ۔ پہلے دیوانی تنازعات کو لے لیجیے ۔ 
ریگولیشن کے پیرا ۱۳ کے مطابق کسی مقدمے میں گواہی ریکارڈ کیے جانے سے قبل اگر مقدمے کے تمام فریق باہمی رضامندی سے تنازعے کو مصلح یا مصلحین کے ذریعے حل کرنا چاہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہوگا۔ اگر وہ مصلح یا مصلحین کے نام پر متفق نہ ہوں تو پھر عدالت ان کے لیے مصلح یا مصلحین کا تعین کرے گی۔ اگر مصلح یا مصلحین اس تنازعے کو حل نہ کرپائیں، یا حل کرنے سے انکار کریں، یا عدالت کی رائے میں صلح کی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے کام لیا جارہا ہو ، تو ہر تین صورتوں میں عدالت صلح کی کاروائی کو روک دے گی اور پھر عدالت ہی اس تنازعے کو شریعت کے مطابق حل کرے گی۔ اس سلسلے میں یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی فریق صلح کی کارروائی روکنے کے لیے عدالت کو درخواست دے، بلکہ عدالت از خود (suo moto) بھی اس معاملے میں اقدام کر سکتی ہے۔ مصلحین کے پاس تنازعے کو حل کرنے کے لیے پندرہ دن ہوں گے، تاہم عدالت بعض حالات میں مزید پندرہ دن دے سکتی ہے۔ پھر بھی اگر تنازعہ حل نہ ہوسکا تو عدالت صلح کی کارروائی کو کالعدم قرار دے دے گی اور پھر تنازعہ عدالت میں ہی حل کیا جائے گا۔ اگر مصلحین اتفاق رائے سے تنازعے کو حل نہ کر پائیں تو پھر اکثریتی رائے اور اقلیتی رائے اپنے دلائل سمیت عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ اسی طرح اگر اتفاق رائے سے فیصلہ ہو تب بھی اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پھر اگر عدالت کی رائے میں اکثریت کا فیصلہ، اقلیت کا فیصلہ یا متفقہ فیصلہ شریعت کے مطابق ہو تو وہ اس پر عمل درآمد کے احکامات جاری کرے گی، اور اگر عدالت کی رائے یہ ہو کہ فیصلہ شریعت کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسے کالعدم قرار دے کر اس تنازعے کو شریعت کے اصولوں کی روشنی میں حل کرے گی۔ کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے قبل عدالت تنازعے کے تمام فریقوں کو اپنے اعتراضات ریکارڈ کرنے کا موقع دے گی جن کا جائزہ لینے کے بعد ہی عدالت کوئی فیصلہ کرے گی۔ 
اصولاً اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ دیوانی تنازعات کو عدالت میں لے جانے کے بجائے مصلحین کے ذریعے حل کیا جائے بشرطیکہ مصلحین کا فیصلہ، شریعت، دستور اور قانون سے متصادم نہ ہو اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ پاکستان میں رائج الوقت قانون کے مطابق بھی ثالث کے ذریعے تنازعے کو حل کرنے کے لیے قانون ثالثی (Arbitration Act) موجود ہے اور بالعموم ثالثی کے طریق کار کو عدالتی طریق کار پر ترجیح دی جاتی ہے، تاہم قانون ثالثی کا ریگولیشن میں مذکور صلح کے طریق کار سے موازنہ کیا جائے تو ایک بار پھر یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ریگولیشن کا مسودہ بنانے والوں کی نظر میں انصاف اور قانون کا نہایت ہی ابتدائی اور سادہ قسم کا تصور ہے اور وہ عملی زندگی کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہیں۔
مثال کے طور پر ریگولیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر تمام فریق صلح کی کاروائی پر راضی نہ ہوں، چند فریق صلح کرنا چاہیں اور چند فریق عدالت میں جانا چاہیں، تو کیا کیا جائے گا؟ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں صلح کی کارروائی ممکن نہیں ہوگی۔ تاہم اگر مقدمے کے پانچ فریق ہوں اور ان میں دو فریقوں کا آپس میں تنازعہ کچھ اس قسم کا ہو جسے باقی تنازعے سے الگ کیا جاسکتا ہو اور اگر وہ تنازعہ حل ہوجائے تو یہ دو فریق ایک فریق کی صورت اختیار کرسکیں گے، تو اس صورت میں ان دو فریقوں کو ان کے خصوصی باہمی تنازعے کو صلح کے ذریعے حل کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ مصلحین کے فیصلے کی شرعی حیثیت متعین کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کہ عدالت جائزہ لے گی کہ آیا مصلحین نے اس امر کا صحیح تعین کیا ہے کہ تنازعے کے فریقوں میں کون حق پر تھا اور کون باطل پر؟ یا یہ کہ عدالت صرف اس بات کا جائزہ لے گی کہ جن شرائط پر صلح ہوگئی ہے، وہ شرعی طور پر صحیح ہیں یا نہیں ؟ اگر عدالت اس تفصیل میں جائے گی کہ کون سا فریق حق پر تھا تو پھر اس میں مزید وقت لگے گا اور پھر مصلح کے پاس جانے کا فائدہ ہی کیا ہوگا؟ نیز ثالث (حَکَم ) کے فیصلے اور مصلح کے فیصلے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ثالث اپنی سمجھ کے مطابق قانونی فیصلہ کرتا ہے اور متعین کرتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر؟ جبکہ مصلح حق اور باطل کے چکر میں پڑے بغیر فریقین کے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس لیے وہ بعض اوقات صاحب حق کو اپنے حق سے دستبردار ہونے کے لیے بھی کہہ دیتا ہے ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قانون ثالثی میں اس بات کی گنجایش رکھی گئی ہے کہ کسی دیوانی مقدمے میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل کسی بھی وقت مقدمے کے فریق تنازعے یا اس کے کسی جزو کو ثالثی کے ذریعے حل کرانے کے لیے عدالت کو درخواست دے سکتے ہیں۔ ریگولیشن میں اس بات کی گنجائش نہیں رکھی گئی حالانکہ یہ اصول عدالت کا وقت بچانے کے لیے نہایت مفید ہے ۔ 
ریگولیشن نے فوجداری مقدمات میں صلح کے لیے بھی یہی اصول دیے ہیں جو دیوانی مقدمات کے لیے ہیں ۔ تاہم پیرا ۱۳، ذیلی پیرا ۱ کے تحت حدود قوانین کے تحت آنے والے مقدمات اور ایسے فوجداری مقدمات جن میں وفاقی یا صوبائی حکومت فریق ہو، صلح کے دائرۂ کار سے خارج کردیے گئے ہیں۔ حدود جرائم کو صلح سے مستثنیٰ قرار دینے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے۔ اسلامی قانون کے اصولوں کے تحت حدود جرائم حق اللہ کی کی خلاف ورزی پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے ان میں معافی یا صلح کی گنجایش نہیں ہوتی۔ قصاص میں اسلامی قانون حق العبد کو غالب قرار دیتا ہے، اس لیے متاثرہ فرد یا اس کے ورثا کو معافی اور صلح کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تعزیر کو اسلامی قانون حق العبد پر اعتدا قرار دیتا ہے، اس لیے اس میں بھی معافی اور صلح کی گنجایش ہوتی ہے۔ تاہم جرائم کی اکثریت کو اسلامی قانون ’’سیاسۃ ‘‘ کے اصول کے تحت لاتا ہے جس میں معافی اور صلح کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے کیونکہ فقہا سیاسۃ کو حق الامام قرار دیتے ہیں۔ (۷) مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں مذکور جرائم کی غالب اکثریت سیاسۃکے تحت آتی ہے۔ حکومت نے اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے بہت سے جرائم کو ناقابل صلح (not compoundable) قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب ان بہت سارے جرائم میں بھی صلح کی جاسکے گی جو قانوناً ناقابل صلح ہیں؟ مثلاً تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۴۶۸ کے تحت جعلی دستاویز تیار کرنا جرم ہے جو ناقابل دست اندازی پولیس (non cognizable)جرم ہے، یعنی جس میں پولیس عدالتی وارنٹ کے بغیر از خود گرفتاری نہیں کرسکتی۔ عدالت کسی متاثرہ شخص کی شکایت (complaint) پر ہی کارروائی شروع کرے گی ۔ تاہم یہ جرم ناقابل صلح ہے ۔ کیا مالاکنڈ ڈویژن میں یہ جرم بھی قابل صلح ہوگا؟ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ ریگولیشن کے پیرا ۱۸ کے مطابق اس ریگولیشن کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ کسی بھی دوسرے قانون پر بالادست حیثیت (overriding effect) دی گئی ہے۔ 
ایک اور سوال حدود قوانین کے متعلق پیدا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے، حدود آرڈی نینسز میں حدود جرائم اور سزاؤں کے علاوہ بہت سے ایسے جرائم ذکر کیے گئے تھے جن کو ’’تعزیر‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ درحقیقت ان تعزیری جرائم میں اکثریت کا تعلق سیاسۃ کی قسم سے تھا ۔ ایسے تقریباً تمام جرائم کو ۲۰۰۶ء میں قانون برائے تحفظ نسواں نے حدود قوانین سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ڈال دیا ہے ۔ تاہم اس تحفظ نسواں کے قانون کو مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ نہیں کیا گیا، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔ اس لیے مالاکنڈ ڈویژن کی حد تک حدود قوانین میں یہ تعزیری جرائم بدستور موجود ہیں۔ ریگولیشن نے حدود قوانین کے تحت آنے والے جرائم کو ناقابل صلح قرار دیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ حدود قوانین میں مذکور یہ تعزیری جرائم بھی ناقابل صلح ہیں۔ کیا اس تضاد کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے؟ 

دیوانی اور فوجداری مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر کا سدباب 

ریگولیشن میں کوشش کی گئی ہے کہ دیوانی اور فوجداری مقدمات کے نمٹانے میں واقع ہونے والی تاخیر کا سد باب کیا جائے۔ پہلے فوجداری مقدمات کا معاملہ دیکھیے ۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل قواعد دیے گئے ہیں : 
(۱) ریگولیشن کے پیرا ۸ کے تحت ایس ایچ او کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ۲۴ گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر کی کاپی اور ۱۴ دنوں کے اندر مکمل چالان قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرے۔ تاہم قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کا یہ اختیار تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ اس مدت میں اضافہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ مدت صلح کی کارروائی کے لیے دی گئی مدت سے زائد ہوگی ۔ صلح کی کارروائی پر بحث اوپر گزر چکی ہے۔ 
(۲) اسی پیرا میں قرار دیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں مکمل چالان پیش نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ایس ایچ او یا تفتیشی افسر کے خلاف قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ مجاز حکام کو انضباطی کارروائی کے لیے شکایت کرے گا اور مجاز حکام اس شکایت پر فوری انضباطی کارروائی کرکے قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کو آگاہ کریں گے۔ 
(۳) ریگولیشن کے پیرا ۱۰ کے تحت قاضی انتظامی مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہوگی کہ فوجداری مقدمے کی کارروائی چار مہینوں میں نمٹائے۔ اگر کسی وجہ سے قاضی اس مدت میں کارروائی پوری نہ کرسکے تو وہ ضلع قاضی یا دار القضاء ( ہائی کورٹ کے بنچ ) کے سربراہ کو رپورٹ کرے گا اور پھر اس کے احکامات کی روشنی میں کاروائی کرے گا۔ اسی طرح انتظامی مجسٹریٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تاخیر کی وجوہات سے آگاہ کرے گا اور پھر اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوگا۔ 
(۴) اگر ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کی تحقیق کی روشنی میں ثابت ہو کہ کاروائی میں تاخیر کی ذمہ داری مقدمے کے کسی فریق پر عائد ہوتی ہے تو وہ اس فریق کو ’’خرچے ‘‘ (cost)کی ادائیگی کا پابند کردے گا اور مقدمے کو نمٹانے کے لیے قاضی کو مزید ایک ماہ کی مدت دے دے گا۔ یہی اصول انتظامی مجسٹریٹ کے معاملے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اپنائے گا۔ 
(۵) اگر ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کا فیصلہ یہ ہو کہ تاخیر کی ذمہ داری قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ پر عائد ہوتی ہے تو قاضی کے معاملے میں وہ اسے ’’ ناخوشی ‘‘ ( displeasure) کا خط لکھے گا اور ایک سال میں تین اس قسم کے خطوط آنے کے بعد ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کو اختیار ہوگا کہ وہ متعلقہ قاضی کے ذاتی ریکارڈ میں اس کا اندراج کرے، البتہ ایسا کرنے سے قبل وہ قاضی کو صفائی پیش کرنے کا موقع دے گا۔ انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کی صورت میں ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ از خود کارروائی نہیں کرے گا، بلکہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کارروائی کے لیے کہے گا جو ضلع قاضی یا دار القضاء کے سربراہ کی سفا رشات کے مطابق کارروائی کرے گا۔ 
(۶) تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ تمام کارروائی کی تین کاپیاں تیار رکھے تاکہ کسی عدالت میں ریکارڈ طلب کیے جانے پر وہ فوری طور پر ریکارڈ وہاں پیش کرسکے۔ 
(۷) ریگولیشن کے پیرا ۱۰ کے ذیلی پیرا ۸ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل تیس دن کے اندر دائر کی جاسکے گی اور اپیل دائر کرنے سے پہلے اس کی کاپی فریق مخالف کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیجی جائے گی۔ اپیلیٹ عدالت اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ اپیل کا فیصلہ تیس دنوں میں کرے۔ نیز اپیلیٹ کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ کسی بھی صورت وہ کیس کو واپس نچلی عدالت کو ریمانڈ کردے ۔ بظاہر یہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک لگتا ہے لیکن ذرا گہرائی میں جاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق کار شروع سے آخر تک خامیوں اور دور رس نتائج کی حامل غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ چند اہم نکات حسب ذیل ہیں : 
اولاً : یہ ضابطہ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ فوجداری مقدمات میں بالعموم ضابطۂ فوجداری کی پابندی کی جاتی ہے جس کے تحت فوجداری مقدمات کے لیے انتہائی تفصیلی طریق کار دیا گیاہے۔ ریگولیشن کے پیرا ۷ اور تیسرے جدول میں تصریح کی گئی ہے کہ ضابطۂ فوجداری میں مندرج preventive measures کا اختیار صرف اور صرف انتظامی مجسٹریٹس کو حاصل ہوگا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس نئے ریگولیشن کے نفاذ کے بعد ضابطۂ فوجداری مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہی نہیں ہے! ریگولیشن کے پیرا ۱۹ کے ذیلی پیرا ۲ میں قرار دیا گیا ہے کہ ضابطۂ فوجداری کے ترمیمی آرڈی نینس مجریہ ۲۰۰۱ء کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ اس ترمیمی آرڈی نینس کے ماسوا باقی ضابطۂ فوجداری مالاکنڈ ڈویژن میں نافذ العمل ہے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ ریگولیشن کے پیرا ۳ میں تصریح کی گئی ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں وہی قوانین نافذ العمل ہوں گے جو پہلے جدول میں مذکور ہیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ پہلے جدول میں ضابطۂ فوجداری سرے سے مذکور ہی نہیں ہے؟ موجودہ ریگولیشن سے پہلے شرعی نظام عدل ریگولیشن مجریہ ۱۹۹۹ء نافذ العمل تھا اور اس کے تحت ضابطہ فوجداری کو مالاکنڈ ڈویژن میں لاگو کیا گیا تھا مگر موجودہ ریگولیشن کے پیرا ۱۹ کے ذیلی پیرا ۱ کے تحت پرانے ریگولیشن کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ 
ثانیاً : مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے لیکن مقدمات عجلت میں نمٹانے کی روش بھی بے انصافی کا باعث بنتی ہے۔ اس مسودے کے لکھنے والوں نے شاید یہ مقولہ سنا تھا کہ Justice delayed is justice denied [انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف کی عدم فراہمی ہے۔] لیکن شاید انہوں نے یہ نہیں سنا کہ Justice hurried is justice burried [انصاف کرنے میں عجلت کا نتیجہ انصاف کا دفنانا ہوتا ہے۔] 
ثالثاً : ضابطۂ فوجداری کے تحت پہلے ہی سے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ چالان پیش کرنے میں تاخیر نہ ہو ۔ اس کے باوجود عملی مشکلات کی بنا پر عدالتوں کو مجبوراً اضافی وقت دینا پڑتا ہے ۔ ریگولیشن میں اس مقصد کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے، اس سے عملاً کوئی بڑا فرق واقع ہونے کی توقع نہیں کیونکہ اس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ عدالت اضافی وقت دے سکتی ہے۔ 
رابعاً : اوپر مذکور ہوا کہ اس ریگولیشن کے ذریعے افسر شاہی عدالتی اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ فوجداری مقدمات کے متعلق ریگولیشن میں مذکور اصولوں سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ افسر شاہی عدالتی اختیارات کے استعمال کے باوجود اعلیٰ عدلیہ کے سامنے جوابدہی سے مبرا ہونا چاہتی ہے۔ چنانچہ ضلع قاضی کے متعلق تو قرار دیا گیا ہے کہ مقدمے میں تاخیر کی وجوہات کے متعلق وہ دار القضاء کے سربراہ کو رپورٹ کرے گا، لیکن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا کہ اگر وہ مقررہ مدت میں کاروائی نہ نمٹا سکا تو کس کو رپورٹ کرے گا؟ 
خامساً: یہ تو ذکر کیا گیا ہے کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کہے گا لیکن قانون کا مسودہ لکھنے والوں کی نظر اس بات کی طرف نہیں گئی کہ جو طریق کار انہوں نے طے کیا ہوا ہے، اس میں ضلع قاضی کو تو سرے سے انتظامی مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کا اختیار ہی نہیں دیا گیا ہے، اور اسی طرح دار القضاء کا سربراہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف کارروائی کا مجاز ہی نہیں ہے۔ ریگولیشن کے تحت انتظامی مجسٹریٹ تاخیر کی وجوہات کی رپورٹ ضلع قاضی کو نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کرے گا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کس کو رپورٹ کرے گا؟ اس کے متعلق تو ریگولیشن خاموش ہے۔ پھر ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ کیسے کسی مجسٹریٹ کے خلاف ناخوشی کا خط لکھے گا؟ 
سادساً : بظاہر تو یہ بڑا کارگر نسخہ لگتا ہے کہ عدالت کو مقررہ وقت میں فیصلہ سنانے کا پابند کیا جائے لیکن اگر عدالت فیصلہ نہ سنا سکی اور تاخیر کی ذمہ داری عدالت ہی پر عائد ہوتی ہو تو زیادہ سے زیادہ اس کے خلاف کیا کارروائی کی جاسکے گی ؟ ناخوشی کا ایک خط ؟ اور پھر سال میں تین ناخوشی کے خطوط پر اعلیٰ عدلیہ ’’چاہے تو‘‘ (may make) جج کے ذاتی ریکارڈ میں اندراج کرے لیکن ایسا کرنے سے پہلے وہ جج کو صفائی کا موقع دے گی۔ کیا مسودہ لکھنے والوں کی توجہ اس طرف گئی ہے کہ اس کارروائی میں کتنا وقت لگے گا؟ یہاں اس بات پر بھی نظر رہے کہ ریگولیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ کتنی مدت میں یہ فیصلہ کرے گا کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ 
سابعاً : ضلع قاضی اور دار القضاء کا سربراہ ایک جانب اپنے زیر سماعت مقدمات کو جلد از جلد ( اور مقررہ وقت میں ) نمٹانے کی کوشش کرے گا اور دوسری طرف ہر ماتحت عدالت کے ہر مقدمے کے فیصلے میں تاخیر کے اسباب معلوم کرکے کبھی کسی فریق کو اور کبھی کسی جج کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ کیا اس پر غور کیا گیا ہے کہ کیا یہ عملاً اس کے لیے ممکن ہوگا ؟ 
ثامناً : اگر تاخیر کا ذمہ دار مقدمے کا کوئی فریق ہو تو قرار دیا گیا ہے کہ ضلع قاضی یا دار القضاء کا سربراہ اس فریق پر خرچہ عائد کرے گا، لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ خرچہ کس چیز کا ہوگا؟ تاخیر کی وجہ سے دوسرے فریق پر عائد ہونے والے اخراجات؟ ضلع قاضی یا دار القضاء تک جانے کے اخراجات؟ عدالتی اخراجات؟ یا ان سب کا مجموعہ؟ اور پھر یہ کہ یہ خرچہ ہوگا جو دوسرے فریق کو ادا کیا جائے گا یا جرمانہ ہوگا جو سرکار کو ادا کیا جائے گا؟ 
تاسعاً : دار القضاء چونکہ ہائی کورٹ کا بنچ ہوگا، اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے دستوری ترمیم کے بغیر محض ریگولیشن کے ذریعے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ تیس دنوں کے اندر اپیل کا فیصلہ کرے؟ 
عاشراً : اسی طرح ہائی کورٹ کے اس اختیار کو، کہ بعض حالات میں وہ کیس ماتحت عدالت کو ریمانڈ کرے، کس طرح محض ریگولیشن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے ؟ 
اب آئیے دیوانی مقدمات کے جلد نمٹانے کے لیے وضع کیے گئے طریق کار کی طرف ۔ 
دیوانی مقدمات کے متعلق چند نکات تو وہی ہیں جو اوپر فوجداری مقدمات کے ضمن میں ذکر کیے گئے، جیسے تاخیر کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ کو رپورٹ اور پھر رپورٹ کے بعد اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے ؟ وغیرہ ۔ دیوانی مقدمات کے لیے جو اضافی اصول دیے گئے ہیں، وہ ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں : 
( ۱) ریگولیشن کے پیرا ۹ کے تحت عدالت میں دعوے پر کارروائی شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مدعی اپنے دعوے اور تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں تمام مدعا علیہان کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیج دے۔ البتہ یہ اصول دائمی حکم امتناعی (Perpetual Injunction) کے دعوے، جس کے ساتھ عارضی حکم امتناعی (Temporary Injunction) کی درخواست ہو، پر لاگو نہیں ہوگا ۔ 
(۲) دعوے کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں منسلک ہوں گی۔ نیز تمام غیر سرکاری گواہوں کے بیانات بیان حلفی کی صورت میں، جو اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ ہوں، دعوے کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔ ان بیانات کو گواہوں کے Examination-in-chief کی حیثیت حاصل ہوگی ۔ 
(۳) مدعا علیہ پر لازم ہوگا کہ سات دنوں کے اندر جواب دعویٰ دائر کردے ورنہ اس کا دفاع کا حق ساقط ہوجائے گا ۔ البتہ عدالت بعض حالات میں زیادہ سے زیادہ سات مزید دنوں کی مدت دے سکتی ہے ۔ اس اضافی مدت پر مزید اضافہ کسی بھی صورت میں نہیں کیا جائے گا ۔ 
(۴) گواہی ریکارڈ کیے جانے کے بعد مقررہ تاریخ پر عدالت فریقین سے کہے گی کہ زبانی یا تحریری طور پر اپنے دلائل دیں ۔ فریقین میں اگر کوئی دلائل نہ دے سکے تب بھی دلائل کے لیے کوئی اور تاریخ دینے کے بجائے عدالت از خود انصاف کے مطابق (On Merits) فیصلہ کرے گی ۔ 
(۵) سماعت ملتوی کرنا اصولاً ناجائز ہوگا ، الا یہ کہ عدالت مطمئن ہو کہ ایسا کرنا ناگزیر ہے ۔ اس صورت میں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دینے والے فریق کو عدالت پابند کرے گی کہ وہ دو ہزار روپے کا خرچہ ادا کردے ۔ 
یہاں بھی واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسودہ بڑی جلدی میں لکھا گیا ہے اور لکھنے والوں کے ذہن میں انصاف کا نہایت ہی سادہ اور ابتدائی تصور تھا ۔ سات دنوں کے اندر جواب دعویٰ دائر نہ کرنے کی صورت میں دفاع کے حق کے ساقط ہونے کو مبنی بر انصاف شاید اس بنا پر متصور کیا گیا کہ اس طرح انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سدباب ہوجائے گا لیکن دفاع کے حق کے ساقط ہونے سے جو بے انصافی ہوگی اس کی طرف شاید ان کا خیال ہی نہیں گیا۔ 
اسی طرح گواہوں کے بیانات حلفی کو اگر examination-in-chief قرار بھی دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ گواہوں پر جرح cross examination کب کی جائے گی؟ اور کیا اس جرح کے بغیر گواہوں کی گواہی کی صحت یا عدم صحت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ؟ اگر جرح کیے بغیر گواہوں کی گواہی جوں کی توں قبول کی جائے گی تو کیا اس طرح بے انصافی کا امکان پیدا نہیں ہوگا ؟ نیز جس مقدمے میں گواہوں کی گواہی کے بجائے کسی دستاویز کی بنیاد پر فیصلہ سنانا ہو ، یا کسی خبیر (expert) کی رائے پر عمل کرنا ہو ، وہاں کیا کیا جائے گا ؟ کیا وہاں بھی عدالت بس تحریری رپورٹ پر عمل کرے گی ؟ کیا اس طرح عدالت کے فیصلے غیر عدالتی اہلکاروں ، کلرکوں اور منشیوں کی رائے سے متاثر نہیں ہوجائیں گے ؟ 
فریقین میں اگر کوئی کسی وجہ سے دلائل نہ دے سکے تو کیا اسے مزید موقع نہیں دینا چاہیے ؟ ایسا لگتا ہے کہ اس قانون کا مسودہ لکھنے والوں کے ذہن میں بے انصافی کا صرف ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے فیصلوں میں تاخیر ۔ اس لیے ان کی توجہ اس طرف نہیں دی گئی کہ بسا اوقات مقررہ تاریخ پر دلائل نہ دے سکنے کی کوئی ناگزیر وجہ بھی ہوسکتی ہے اور کسی فریق کے دلائل سنے بغیر از خود اس کے موقف کو سمجھنے کی ذمہ داری لے کر عدالت بے انصافی کی بھی مرتکب ہوسکتی ہے ۔ 
سماعت کا ملتوی کرنا تو ویسے بھی غیر پسندیدہ امر ہے مگر اس حقیقت کو ریگولیشن میں بھی مان لیا گیا ہے کہ بسا اوقات ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہوتا ہے ۔ تاہم سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دینے والے کو لازماً خرچہ دینے کا پابند قرار دینا انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے ۔ مناسب یہی تھا کہ اس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیاجاتا کہ معروضی حالات میں وہ مناسب سمجھے تو کسی فریق پر کوئی جرمانہ بھی عائد کرے ۔ ایک بار پھر یہ بات واضح رہے کہ قانون کے متن میں یہاں جرمانے کے بجائے خرچے کا لفظ ہے جس پر وہ تمام سوالات اٹھتے ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے۔ 
مقدمات نمٹانے میں تاخیر کے اسباب کے سد باب کے لیے ایک قدم یہ اٹھایا گیاہے کہ زیادہ سے زیادہ جج تعینات کیے جائیں ۔ یہ ایک اچھی تجویز ہے لیکن ریگولیشن میں اس کے لیے جو طریقہ وضع کیا گیا ہے وہ نہایت نامناسب ہے ۔ ریگولیشن کے پیرا ۱۱ کے ذیلی پیرا ۲ میں طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت ضلع قاضی ، اضافی ضلع قاضی یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہوجائے ، یا اعلی علاقہ قاضی ، علاقہ قاضی یا انتظامی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دو سو سے زائد ہوجائے ، تو حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ نئی عدالتیں قائم کرے ۔ تاہم یہ تجویز دینے والوں نے شاید اس سوال پر غور نہیں کیا کہ مقدمات کی تعداد ڈیڑھ سو یا دو سو سے تجاوز کرنے کے بعد نئی عدالتیں قائم کرنے میں کتنا وقت لگے گا ؟ کیا راتوں رات یہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی یا اس کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے ؟ ججوں کی تعیناتی سے پہلے ان کے انتخاب کا مرحلہ کتنا وقت لیتا ہے ؟ کیا اس کے بجائے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ پہلے ہی سے کثیر تعداد میں ججوں کے انتخاب اور ان کی تعیناتی کا کام مکمل کر لیا جائے ؟ اگر بعد میں کریں گے اور اس پر زیادہ وقت لگے گا تو کیا اس دوران میں مزید مقدمات التوا کا شکار نہیں ہوجائیں گے ؟ 

خلاصۂ بحث 

ابتدا میں ذکر کیا گیا کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹ء کے نفاذ کو بعض لوگ شریعت کے نفاذ کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں تو بعض دوسرے لوگ اسے انتہا پسندی اور ’’طالبانائزیشن ‘‘ کی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ اس مقالے میں پیش کیے گئے نکات کی روشنی میں ہماری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں موقف غلط ہیں۔ ہمارے نزدیک اس ریگولیشن سے نہ تو شریعت کے نفاذ میں کچھ مدد لے گی، نہ ہی یہ طالبانائزیشن کی کامیابی ہے، بلکہ درحقیقت اس ریگولیشن کے ذریعے مالاکنڈ ڈویژن کی سرزمین بے آئین میں افسر شاہی نے اپنی حکمرانی قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ افسر شاہی ایک دفعہ پھر نفاذ شریعت کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ شریعت ، دستور اور قانون کی سربلندی پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ متحد ہو کر افسر شاہی کی اس سازش کو ناکام بنائیں ۔ 

حواشی 

۱ ۔ PLD 1983 FSC 73
۲ ۔ PLD 1989 FSC 95
۳ ۔ یہ نظریہ بنیادی طور پر مستشرقین نے پیش کیا، لیکن اسے مسلمان اہل علم نے بھی بالعموم صحیح مان لیا ہے ۔ دیکھئے : 
Joseph Schacht, Introduction to Islamic Law, (Oxford, 1964)
۴ ۔ اس موضوع پر ایک جامع تحقیق کے لیے استاد محترم جناب پروفیسر عمران احسن خان نیازی کی کتاب Theories of Islamic Law (Islamabad: Islamic Research Institute, 1994) ملاحظہ کریں ۔ 
۵ ۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے : راقم الحروف کی کتاب ’’ حدود قوانین : اسلامی نظریاتی کونسل کی عبوری رپورٹ کا تنقیدی جائزہ ‘‘ ( مردان : مدرار العلوم ، اگست ۲۰۰۶ء ) ، ص ۶۰ ۔ ۶۳ ۔ 
۶ ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : محولہ بالا کتاب ، ص ۹۳ ۔ ۹۸ ۔ 
۷ ۔ ایضاً ، ص ۴۰ ۔ ۴۹ ۔ 

علم دین اور اکابر علمائے دیوبند کا فکر و مزاج

ادارہ

(۲ اپریل ۲۰۰۹ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں علما کی ایک پروقار تقریب سے حضرت مولانا مفتی محمد زاہد، حضرت مولانا مفتی محمد طیب اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے اہل علم کی ذمہ داریوں اور اکابر علماے دیوبند کے تصور علم کے مختلف پہلووں پر خطاب کیا۔ اکادمی کے رفقا مولانا محمد سلیمان اور مولانا ساجد مسعود نے انھیں صفحہ قرطاس پرمنتقل کیا ہے۔ ان کے شکریہ کے ساتھ یہ خطابات یہاں افادۂ عام کے لیے شائع کیے جا رہے ہیں۔ مدیر)

حضرت مولانا مفتی محمد زاہد 

(استاذ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد)
الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی آلہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد!
قابل صد احترام علماے کرام! 
اپنے جیسے طالب علموں کے سامنے بولنے کا تو روزمرہ کا معمول ہے۔ کام ہی یہی ہے، طالب علموں کے سامنے بولنا۔ لیکن علما اور اہل علم کی موجودگی میں کوئی بات کرنا ایک آزمایش سے کم نہیں۔ بہرحال چونکہ میرا نام بول دیا گیا ہے، اس لیے چند باتیں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ 
اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے جس کا ہم کثرت سے تذکر ہ کرتے رہتے ہیں: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء، کہ اللہ کی خشیت اختیار کرنا، اللہ سے ڈرنا یہ صرف علما کا کام ہے۔ علم ہوگا تو خشیت ہو گی۔ اگر علم نہیں تو خشیت بھی نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب ’’انما‘‘ کا استعمال ہوتا ہے تو جملہ کا آخری لفظ محصورعلیہ بن رہا ہوتا ہے، یعنی اس کے اندر حصر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جاتاکہ ’’انما یخشی العلماء اللہ‘‘ تو اس کا مطلب اور ہوتا اور ’’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘‘ کا مطلب اورہے۔ اس میں ’’ العلماء‘‘ کا لفظ جملے کے آخرمیں ہے۔ اس کی مثال اہل بلاغت نے کچھ اس طرح دی ہے کہ ایک آدمی کہتا ہے ’’انما یعرف زید النحو‘‘ تو اس میں محصور علیہ نحو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زید کو صرف نحو آتی ہے، اور اس کے سوا کچھ اور نہیں آتا۔ اگر اس میں تھوڑی سی ترتیب بدل دیں اور یوں کہیں کہ ’’انما یعرف النحو زید‘‘ تو مطلب بدل جائے۔ مطلب یہ ہوگا کہ نحو اگر کسی شخص کو آتی ہے تو وہ زید ہے۔ نحو جاننے والا وہی ہے، اور کوئی نہیں ہے۔ تو یہاں اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ’’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی خشیت اختیار کرنا، یہ کام ہی اہل علم کا ہے۔ علم کے ایک لازمی تقاضے کو اللہ جل جلالہ نے یہاں بیان فرمایاہے اور یہ بتلایا ہے کہ اگر اہل علم خشیت اختیار نہیں کر یں گے تو پھر اللہ کے بندوں میں سے کون ہے جو خشیت کو، اللہ سے ڈرنے کو اختیار کرے گا، تعلق مع اللہ کو اختیار کرے گا؟
اللہ جل جلالہ نے ہم سب کو علم کے ساتھ کسی نہ کسی درجے میں نسبت عطا کی ہے۔ علم کی نسبت مل جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہمیں وہ ظرف بنادیا ہے، ہمیں وہ پائپ لائن بنا دیا ہے جس سے گزر کر یہ علم اگلی نسلوں تک پہنچ جائے گا اور ظاہر ہے کہ جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ پائپ کے اندر سے جو پانی گزر رہا ہے، جو چیزیں گزر رہی ہیں، وہ صاف شفاف ہوں، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس پائپ کے اندر سے گزر رہی ہے، وہ پائپ خود بھی صاف ہو۔ جہاں سے پائپ کے اندر پانی داخل ہو رہا ہے، جس ٹنکی سے داخل ہو رہا ہے، وہ ٹنکی بھی بہت صاف ستھری ہے، پانی بھی بہت نفیس ہے، لیکن پائپ کے ا ندر کوئی گڑبڑ ہے، پائپ کے اندر کوئی leakage ہے جس کی وجہ سے باہر کی کوئی چیز اس کے اندر مل رہی ہے، پائپ کے اندر زنگ لگا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے پانی جو آگے سپلائی ہو گا، اس میں بھی اس کے اثرات آئیں گے۔ اللہ جل جلالہ نے ہمیں اپنے بندوں تک دین پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے اور دین انتہائی قیمتی اور نفیس چیز ہے، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات ہماری محنت کے وہ اثرات سامنے نہیں آتے جو ہونے چاہییں اور اسی طرح بعض اوقات ہم دین کے نام پر کام کرتے ہیں، لیکن اس کی وجہ سے اس کے نتیجے میں کوئی فتنہ اور فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ مسائل دین سے حل ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات حل ہونے کی بجائے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کی طرف سے جو چیز آئی ہے، اس میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا، کوئی کمی نہیں ہوسکتی، کوئی خامی نہیں ہو سکتی، اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہو سکتی ۔ ہم سب کو ظرف جو بنایاگیا ہے، ہمیں جو پائپ لائن بنایا گیا ہے، اس میں کہیں نہ کہیں خرابی آگئی ہے اور وہ خرابی نفسانیت کی ہوتی ہے، اپنی خواہشات کی ہوتی ہے، وہ تکبر کی ہوتی ہے، وہ عجب کی ہوتی ہے، وہ غرور کی ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کی چیزیں جنہیں صوفیا کرام کی اصطلاح میں رذائل کہا جاتا ہے، یہ ہمارے اند رہوتی ہیں اور ان رذائل کے ساتھ جب ہم دین کو لے کر چلتے ہیں تو جہاں دین آگے پہنچتا ہے، بعض اوقات ہمارے ان رذائل کے اثرات بھی آگے پہنچتے ہیں، ہماری نفسانیت کے اثرات بھی دوسروں تک منتقل ہوتے ہیں۔ جہاں علم کی روشنی جاتی ہے، وہیں ہمارے اندر کی ظلمت بھی منتقل ہو رہی ہوتی ہے۔ جہاں علم کی مٹھاس اور شیرینی جا رہی ہوتی ہے، وہیں ہمارے ان رذائل کی کڑواہٹ بھی منتقل ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کی بات کرنا چھوڑ دیں، دین کاعلم آگے پہنچانا چھوڑ دیں۔ نہیں، دین تو آگے پہنچانا ہی ہے۔ اگر اس میں کچھ ملاوٹ ہو بھی گئی تو ہو سکتاہے ہم سے دین کو لینے والے ملاوٹ کو الگ کر لیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ اگلی نسل صاف کر لے، لیکن بہرحال ہماری یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ظرف بنا دیا، اتنی قیمتی اور اتنی نفیس چیز اس برتن میں ڈال دی ہے تو اس برتن کو صاف ستھرا اورپاک صاف رکھنے کا اہتمام کریں۔ 
آج جب حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم ضلع گوجرانوالہ تشریف لائے تو انہوں نے کسی کو دعا دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو فقہ الظاہر اور فقہ الباطن کا جامع بنائے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر، صحابہ کرامؓ سے لے کر، تابعین سے لے کر ہمارے قریب کے زمانے کے بزرگوں تک ایک مشترکہ کوشش رہی ہے۔ ایک قدر مشترک سب کے اندر رہی ہے کہ جہاں وہ ظاہری علوم حاصل کرنے کا اہتمام کرتے تھے، وہیں اس بات کی بھی فکر انہیں رہتی تھی کہ اللہ کے ساتھ، جس ہستی کے علم کے ہم وارث ہیں، اس کے ساتھ ہمارا رشتہ و تعلق کیسا ہے۔ اللہ کی خشیت ہم میں کیسی ہے۔ اللہ کی یاد ہمارے اندر کیسی ہے اور ہمارے دل ودماغ نفسانیت اور رذائل سے کتنے پاک ہیں۔ خاص طور پر جو اہل علم میں کثرت سے آنے کا خطرہ ہوتا ہے، وہ حب جاہ کی بیماری ہے، خود پسندی کی بیماری ہے، تکبر کی بیماری ہے۔ اپنی رائے پر اصرار اور جمو د جس کو ’’اعجاب کل ذی رای برایہ‘‘ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعبیر کیا ہے، یہ بیماری ہے۔ تو میں اس میں سب سے پہلے اپنے آپ کو مخاطب کر رہا ہوں کہ میں اس کا سب سے زیادہ محتاج ہوں کہ وقتاً ووقتاً اس بات کا جائزہ لیتا رہوں، اپنا محاسبہ کرتا رہوں کہ وہ بیماری جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشان دہی فرمائی ہے، یہ کہیں میرے اندر موجود تو نہیں ہے۔ میں نے فلاں موقع پر جو بات کہی، فلاں موقع پر جو طرز عمل اختیار کیا، فلاں موقع پر جو انداز اختیار کیا، جس کومیں بظاہر احقاق حق سمجھ رہا ہوں، جس کو میں بظاہر بہت اچھی بات سمجھ رہا ہوں، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ بیماریوں میں سے کوئی بیماری بھی شامل ہو۔ انسان دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، اپنے آپ کو دھوکا دینا بہت مشکل ہے۔ اگر واقعتا آدمی اپنا محاسبہ کرنے پر آجائے تو ’’بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ‘‘۔ اس لیے اپنے بارے میں ہر انسان کو، خاص طور پر جس کو اللہ تعالیٰ نے دین کے ساتھ کوئی نسبت اور وابستگی عطا فرمائی ہے، محاسبہ، جائزہ، اپنے اوپرنظر رکھنے اور اپنی نگرانی پر توجہ دینی چاہیے۔ قرآن کریم کی روشنی میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں جو ہم پڑھتے رہتے ہیں، یہ کام ہمیں کرتے رہنا چاہیے۔ 
بس ا نہی گزارشات پر میں اپنی بات کو ختم کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حضرت مولانا مفتی محمد طیب 

(صدر جامعہ اسلامیہ امدادیہ ،فیصل آباد)
اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آل سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم
حضرات علماے کرام اور معزز حاضرین! اس وقت آپ ایک عظیم مقصد کے لیے یہاں جمع ہیں۔ آپ نے سنا کہ آپ کے شہر میں ایک عظیم فقیہ تشریف لا رہے ہیں اور آپ حضرات ان کی زیارت کے لیے اس وقت جمع ہیں۔ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم آپ کے شہر میں اس وقت موجود ہیں۔ ان شاء اللہ اس نشست میں آپ سے مخاطب ہوں گے۔ اس وقت جب بھائی عمار صاحب نے کہاکہ کچھ بات کہہ دیجیے تو یہ خیال آیا کہ علما کی مجلس میں، علما کے سامنے بات کہی تو نہیں جا سکتی، ہاں کسی بات کا تکرار کیا جا سکتا ہے۔ اور ہمارے اساتذہ نے کہا ہے کہ سبق پڑھنے کے بعد تکرار میں جو ذہین طالب علم ہے، وہی بات کہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ جو کمزور طالب علم ہو، وہ بات کا اعادہ کرے، تاکہ اس کو استاد کا فیض زیادہ مل سکے اوراس کی کمزوری نکلے۔ تو میں بھی ایک آپ کا کمزور سا طالب علم بھائی ہوں۔ 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’ اختلاف امتی رحمۃ‘‘ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے ۔اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس امت میں اختلاف ضرور ہوگا اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس امت میں جو اختلاف ہوگا، وہ اس امت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگا بلکہ امت کی مشکلات کے حل کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک رحمت ہے اور اس میں ضمناً ایک تیسری بات کی طرف بھی اشار ہ ہے، وہ یہ ہے کہ امت میں علم اور تحقیق کا سلسلہ آگے چلے گا، کیوں کہ اختلاف وہیں آیا کرتا ہے جہاں علم اور تحقیق کاسلسلہ چل رہا ہو۔ جہاں سب ایک دوسرے کا اتباع کرنے والے ہوں، تقلید کرنے والے ہوں، وہاں اختلاف کی بھی کوئی شکل نہیں ہوتی، کوئی صورت نہیں ہوتی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل نصاریٰ میں دینی بنیادوں میں ان کے ہاں کوئی اختلافات نہیں ہوتے، اس لیے کہ دین ان کے اندر موجود ہی نہیں ہے اور دین پر عمل ہی موجود نہیں ہے اوردینی مسائل پر تحقیق بھی موجود نہیں ہے، بلکہ یہ نقطہ نظر کہ زندگی کے ہر مرحلے میں دین پر عمل ہونا چاہیے، یہ نقطہ نظر بھی ان کے ہاں نہیں ہے۔ جب زندگی میں دین نہیں ہے تو زندگی کے مسائل پر دینی نقطہ نظر سے ان کے ہاں گفتگو بھی نہیں ہوگی۔ اور جہاں ان میں عمل کرنے کاجذبہ ہوگا اور یہ عقیدہ ہوگا کہ ہم زندگی کے ہر معاملے میں دین سے ہدایات لینے کے پابند ہیں، وہاں دین کے مسائل پڑھے جائیں گے، نئے مسائل بھی پیدا ہوتے رہیں گے، تحقیقات بھی ہوتی رہیں گی اورا ن کا حل بھی نکالا جا تا رہے گا، اور اس حل کو نکالتے ہوئے آپس میں اختلاف بھی ہوگا۔ 
اس اختلاف کی حیثیت کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اختلاف رحمت ہے، لیکن آج جو صورت حال ہمیں نظر آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ رحمت کی بجائے ہمیں وہ زحمت نظر آرہی ہے اور اس اختلافات کی وجہ سے امت میں پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ ایک تو عام لوگ کہا کرتے ہیں کہ جی علما کا آپس میں اختلاف ہے، ہم کدھر جائیں، کس کی بات کو لیں؟ اس کی بات کو لیںیا اس کی بات کو لیں؟ حالانکہ یہ جاہلانہ بات ہے۔ آپ کو جس عالم پر اعتماد ہے اور جس کی تحقیق کو آپ صحیح سمجھتے ہیں، آپ جس کا اتباع کرتے ہیں، اس مسئلہ میں بھی آپ اس کا اتباع کر لیجیے۔ لیکن یہ صورت حال صرف عوام کے سوال تک محدود نہیں ہے۔ صورت ہمارے علما کے اندر بھی ہے کہ ایک مسئلہ میں اگر اختلاف ہو جائے تواس اختلاف کے نتیجے میں گروہ بندی بن جاتی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجے میں وہ مسئلہ ایک گروہ کی شناخت بن جاتا ہے۔ جس مسئلہ میں اختلاف ہوا، گروہ بندی بن گئی اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس مسئلہ میںیہ فلاں گروپ سے تعلق رکھتا ہے، اس مسئلہ میں یہ فلاں گروپ سے تعلق رکھتاہے۔ بات صرف اس حد تک نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی تنقیص بھی ہوتی ہے اور اپنے آپ کو چڑھایا جاتا ہے اور دوسرے کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ توآج امت کے اندر اختلاف جو ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت فرمایا ہے، یہ اختلاف رحمت کی بجائے آج عوام میں بھی مشکلات پیداکررہا ہے، یہی اختلاف آج کے علماے کرام میں بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے اور بہت سارے مسائل ایسے ہیں جو نئے پیدا ہو رہے ہیں اور علما کا اختلاف ہوتا ہے، اس اختلاف کی وجہ سے باہمی منافرت ہوتی ہے۔ علما اور طلبہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں اوران سے اعتقاد کرنے والے جو دینی حلقے میں جڑے ہوئے لوگ ہیں، وہ بھی دوحصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کچھ درد دل رکھنے والے لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس اختلاف کوختم کیا جائے اور آپس میں بات چیت کرائی جائے اور بات چیت کے ذریعے مجلس میں بیٹھ کر کسی طریقے سے بات کو ختم کیا جائے۔ لیکن اس چیز کی کوشش کرتے ہیں تو اختلاف تو باقی رہتا ہے، ہاں اس اختلاف کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ کوشش ایک حدتک ٹھیک بھی ہے اور اختلاف جہاں پرہو، وہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو دیکھاجائے اوراگر اپنی بات میں کوئی کمزوری نظر آئے، دوسرے کی بات میں صداقت نظر آئے تو دوسرے کی بات کو قبول کر لیاجائے۔ اس طریقے سے اختلاف کو ختم کیا جا سکتاہے، لیکن یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جس مسئلہ میں اختلاف ہو، وہاں اختلاف ختم ہی ہو جائے۔ 
تو آج جو علما کا مسائل میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اور تکلیف دہ صورت اختیار کر لیتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اختلاف میں ادب کا علم نہیں۔ یہ فقہامیں جو اختلافات ہیں، یہ اختلافات فقہا سے نہیں بلکہ یہ اختلافات صحابہ سے ہیں اور صحابہؓ سے فقہا میں آئے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ فقہانے امت کو چار حصو ں میں تقسیم کر دیا ۔ میں نے کہا، اللہ کے بندے! ایسا نہیں ہے، ہزاروں حصوں سے نکال کر ان چار حصو ں کی طرف لے آئے۔ صحابہ کرام کے دور میں بھی تو اختلافات مسائل میں زیادہ ہوتے تھے۔ تابعین کے زمانہ میں بھی زیادہ تھے۔ بعد میں یہ فقہیں مرتب ہونا شروع ہوئیں۔ بہت سے فقہا آئے لیکن ان فقہا کی فقہیں امت میں رائج ہوگئیں، اس طریقے سے صحابہ کا اختلاف سمٹ کر چار فقہوں میں آگیا۔ آپ جو علماے کرام ہیں، آثار صحابہ اور آ ثار تابعین کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، و ہ یہ دیکھیں گے کہ وہ ان کو ہر بات میں مختلف آثار نظرآئیں گے۔ صحابہ کے فتاویٰ بھی مختلف نظر آئیں گے اور تابعین کے فتاویٰ بھی مختلف نظر آئیں گے، لیکن صحابہ کے دور میں اختلافی مسائل کی وجہ سے کہیں گروہ بندی ہوئی ہو، یہ آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ مزاج کا اختلاف نظر آئے گا، ذوق کا اختلاف نظر آئے گا کہ کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علیؓ کا ذوق زیادہ تھا، وہ کوفہ میں آیا اور وہ اثرات فقہ حنفی میں آئے اور علماے احناف میں وہ منتقل ہوتے ہیں۔ ایک ذوق حضرت عبداللہ بن عمرؓ کاتھا جومدینہ میں تھا، وہ ذوق وہاں زیادہ پھیلا اورامام مالک ؒ کی فقہ پر اس کے زیادہ اثرات آتے ہیں۔ مکہ میں ایک ذوق تھا۔ جہاں جو صحابہ رہتے تھے، ان کے ذوق کا اختلاف تو تھا، اپنا رنگ تھا، ہر شہر میں جہاں وہ گئے ، ان کا اپنا رنگ تھا، وہ رنگ دوسروں کی طرف منتقل ہوا ہے ، لیکن اس کی وجہ سے گروہ بندی نہیں ہوئی۔ صحابہ، تابعین اور بعد کی چار فقہوں میں اختلاف تو تھا مگر گروہ بندی نہیں ہے۔ ہاںیہ ہوا ہے کہ کسی علاقے میں فقہ حنفی زیادہ پھیلی ہے تو وہاں حنفی زیادہ ہیں اور کسی علاقے میں فقہ شافعی کی تعلیمات زیادہ ہیں تو وہاں لوگ شافعی ہیں، اور ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو امام ابوحنیفہ کے مداح اور ان کے حالات زندگی پر کتابیں لکھنے والے ہیں، لیکن امام شافعی کی فقہ پر عمل کرتے ہیں، اس لیے کہ جس علاقہ میں رہتے تھے، وہاں فقہ شافعی تھی۔ یہ مختلف علاقوں میں مختلف ملیں گی، لیکن یہ گروہ بندی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ بعض علاقوں میں ایک امام کی فقہ تھی، دوسرے علاقے میں دوسرے امام کی فقہ تھی اورا ن فقہا کی نسبت اور اثرات آج تک حرمین شریفین میں جا کر محسوس کریں گے۔ ہمارے ہاں ایک ایک مسئلہ کا اختلاف ہوتا ہے تو گروہ بند ی ہوجاتی ہے اور یہ چار فقہیں ہیں اور حرمین میںیہ جمع کی صورت میں آپ کو مل جائیں گی۔ ان فقہوں کے علما کے آپس میں تعلقات بھی ہوتے ہیں اور بطور شناخت کے حنبلی یا حنفی یا شافعی بھی کہہ دیتے ہیں، لیکن یہ اختلافی گروہ بندی نظر نہیں آتی۔ میں سوچتاہوں کہ یہ تو الگ الگ فقہوں پر کام کرنے والے ہیں، جب کہ ایک ہی شہرمیں رہتے ہیں اور ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھانے والے ہوتے ہیں، لیکن وہاں کوئی تعصب والی با ت نہیں ہوتی۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ فقہا کا اختلاف ادب کے دائرہ میں ہوا ہے، جیسا کہ اختلاف کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ آج تک ان فقہا کی فقہوں پر عمل کرنے والوں کے طرز زندگی میںیہ محسوس کیا جاتا ہے۔ 
ہمارے اکابر نے بھی ایک دوسرے سے مسائل میں اختلاف کیا ہے اور وہاں اختلاف کا طریقہ کار بھی بتایا ہے۔ میں چند مثالیں ذکر کر تاہوں۔ حضرت تھانوی ؒ کے ہاں سے جو فتاویٰ نکلتے تھے، وہ مختلف پرچوں میں شائع ہوجاتے تھے۔ اس کا ایک مقصد یہ ہوتاتھا کہ ان فتاویٰ سے اگر کسی کو اختلاف ہو یا کوئی غلطی محسو س کرے تو وہ مطلع کر دے۔ یعنی خود یہ حضرات چاہتے تھے کہ کوئی آدمی اختلاف کرے اور اگر کوئی غلطی ہوتو وہ اس کونکالے۔ 
ایک اور مثال دیکھیے۔ اس بات پر فقہاکا اتفاق ہے کہ وضو میں پاؤں، ننگے ہونے کی صورت میں دھو ئے جاتے ہیں جبکہ موزے کی صورت میں مسح کیا جاتا ہے، لیکن بعض صورتیں درمیانی سی آجاتی ہیں کہ جرابوں میں فقہاے اربعہ کے ہاں شاید اس کا جواز نہیں ہے، یعنی عام جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں جو ہم پہنتے ہیں۔ لیکن ا ن جرابوں پر چمڑا چڑھا لیا جائے تو وہاں کیا صورت حال ہے، وہاں اب کیا کرنا چاہیے؟ مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ پھر چمڑا چڑھانے کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک خاص صورت یہ ہے کہ نیچے تلوے پر چمڑا چڑھا لیا جائے اور اوپر کے حصے پر نہ چڑھا یاجائے۔ اس کو ’’جورب منعل‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ اس پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فقہاے احناف کی عبارات بھی زیادہ واضح نہیں ہیں۔ اس لیے فقہا کی عبارات کی روشنی میں حضرت مدنی کی یہ رائے تھی کہ فقہ حنفی میں اس پر مسح کرنے کی گنجایش ہے۔ حضر ت مدنی ؒ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس تھے اور آج کی اصطلاح میں شیخ الحدیث کہہ دیتے ہیں، لیکن اسی دارالعلوم دیوبند کے جو صدر مفتی تھے، مفتی محمد شفیعؒ ، ان کی رائے یہ تھی کہ ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ اب یہ کوشش ہوتی ہے کہ اختلاف ختم ہو جائے تو حضر ت مدنی ؒ نے بھی یہ کوشش کی کہ یا تو مفتی محمد شفیع ؒ میری بات کے قائل ہوجائیں یا ان کی بات میری سمجھ میں آجائے۔ حضرت مدنی نے مفتی محمد شفیع ؒ سے کہا کہ میں دارالافتاء میں آپ کے پاس آجاؤں گا اور وہاں کتابیں بھی پڑی ہوں گی تو وہاں پر بیٹھ کر بات کرلیں گے۔ فرصت کے اوقات میں حضرت مدنیؒ تشریف لائے، ایک دن گفتگو ہوتی رہی، حوالے دیتے رہے ، مگر کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا۔ دوسرا دن یہی صورت حال رہی، یہاں تک تیسرا دن بھی یہی صورت حال رہی۔ تین دن کی گفتگو کے بعد فرمایا کہ آپ کے موقف سے مجھے تسلی نہیں ہو رہی اور میرے موقف سے آپ کو شرح صدر نہیں ہو رہا تو اتفاق نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی رائے پر قائم رہیں اور میں اپنی رائے پر، حالانکہ وہ ایک ہی مدرسہ میں تھے اور اس بنیاد پر تقریر بھی کر سکتے تھے دارالحدیث میں بیٹھ کر، اور اس موضوع پر گفتگو بھی چلائی جا سکتی تھی۔ لیکن ایک موقع پر ایسا ہوا کہ حضرت مدنی ؒ کے ہاں مفتی محمد شفیع ؒ تشریف لائے اور وہاں پر اور حضرات بھی تھے تو نماز کا وقت آگیا۔ حضرت مدنیؒ نے بھی وضو کیا اور اسی جراب پر مسح کیا جس کے بارے میں اختلاف تھا۔ حضرت مدنیؒ بڑے تھے اور جہاں حضرت موجود ہوں تو حضرت ہی نے مصلے پر جانا تھا، لیکن اس موقع پر حضرت نے فرمایا کہ مولوی شفیع! آپ کی نماز تو میرے پیچھے ہوگی نہیں کیوں کہ جن جرابوں پرمیں نے مسح کیا ہے، ان پر مسح کرنا آپ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ آپ کے نزدیک میرا وضو پورا نہیں ہے، اس لیے آج میں نماز نہیں پڑھاؤں گا ۔ آپ نماز پڑھائیں تو اس موقع پر مفتی محمد شفیع نے نماز پڑھائی۔ یہ واقعہ مفتی عبدالشکور صاحب نے ایک موقع پر پڑھ کر سنایا، پھر رو کر فرمانے لگے کہ ہمارے اکابر نے اختلاف کیا ہے اور اختلاف کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔ 
یہ تحریک خلافت کے زمانے کی بات ہے۔ تحریک خلافت کے بعض نکات پر حضرت تھانویؒ کو اختلاف تھا۔ بعض لوگوں نے تھانہ بھون کے قریب کانفر نس منعقد کرنی چاہی اور انہی مسائل پر کرنی چاہی تو حضرت شیخ الہند ؒ نے اس کو قبول نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ ان کی رائے دوسری ہے، اس لیے ان کے شہر میں جاکر اس قسم کی کانفرنس کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور وہ میرے شاگرد ہیں، ان کو کانفرنس میں آنے کا بوجھ محسوس ہوگا اوروہ میری وجہ سے آئیں گے۔ آنے اور نہ آنے، دونوں صورتوں میں ان کو مشکلات ہیں، لہٰذا اس قسم کی کانفرنس ان کے علاقے میں نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں استاد اور شاگرد کا اختلاف ہے اور شاگرد اگر استاد کی رعایت کرے تو وہ بات ہوتی، لیکن یہاں استاد اپنے شاگرد کی رعایت کر رہا ہے۔ 
مولانا جلیل احمد صاحب علی گڑھی حضرت تھانوی ؒ کے ایک خادم خاص تھے۔ بہت زیادہ ان کے ساتھ بہت قرب تھا۔ حضرت کی خدمت بھی بہت کی۔ تھانہ بھون میں رہتے تھے، نواب اور جاگیردارتھے۔ کچھ زمینداری کے مسائل آگئے توحضرت تھانوی سے پوچھا۔ حضرت نے فرمایا کہ بھئی، فرصت نہیں ہے۔ آپ یہ سوال لکھ کر دیوبند بھیج دیں۔ دیوبند میں سوال گیا اور مفتی محمد شفیعؒ نے اس کا جواب لکھا۔ جب جواب آیا تو حضرت تھانوی کو اس سے شرح صدر اور اتفاق نہیں ہوا اور فرمانے لگے کہ میری رائے یہ نہیں ہے اور جب جمعرات کو مفتی محمد شفیع صاحب آئیں گے تو میں ان سے گفتگو کر لوں گا۔ جب مفتی صاحب آئے تو حضرت تھانوی نے گفتگو کی، لیکن مفتی صاحب کی رائے وہی رہی جو پہلے لکھ دی تھی اور حضرت تھانوی اس سے متفق نہیں تھے۔ اب پیر اور مرید کا اختلاف برقرار ہے۔ اس کو کیا کہہ رہے ہیں جس کاسوال ہے او ر جس کوعمل کے لیے ضرورت ہے؟ حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ اس کو بتا دیتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے اور ان کی رائے یہ ہے۔ جس کی رائے پر چاہیں، وہ عمل کرلیں۔ وہ خود بھی عالم تھے اور حضرت تھانویؒ کے مرید تھے۔ ان کو بتایا گیا تو انہوں نے فرمایاکہ اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو مجھے شرح صدر مفتی صاحب کی بات پر ہو رہی ہے، اس لیے میں عمل حضرت مفتی صاحب کی رائے پر کروں گا۔ 
اگر اختلاف ادب کے ساتھ ہوتو اس اختلاف کے ذریعے امت کے لیے رحمت کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہ جو فقہا میں اختلاف ہوتا ہے، علما نے فرمایا کہ یہ ا یسا ہے جیسا کہ نصوص میں احادیث متعارض ہوتی ہیں۔ ہمیں متعارض نظر آتی ہیں، حالانکہ ان کا الگ الگ محمل ہوتا ہے اور کچھ خاص موقع پر جاکر سمجھ میں آتا ہے کہ اس حدیث کا یہ محمل ہے۔ خاص زمانہ میں جا کر سمجھ میں آتا ہے۔ ایسے ہی فقہا کے اختلافات میں جوا ن کی رائے ہوتی ہے توایک وقت میں ان کی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہوتی، لیکن بعض علاقوں میں بعض خاص حالات میں جاکر پتہ چلتا ہے کہ نہیں، یہ جو بات اس فقہ نے کہی ہے، یہ ان حالات میں منطبق ہو رہی ہے۔ بہت سے مسائل میں مالکیہ کی رائے پر حنفیہ نے عمل کیا ہے۔ اور بہت سے مسائل ہیں جن میں اس وقت پوری دنیا میں امام ابوحنیفہ کی رائے پر عمل ہو رہا ہے۔ مثلاً عشا کی نماز کے وقت کے بارے میں تمام فقہا کی رائے یہ ہے کہ یہ شفق احمر سے شروع ہوتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی رائے یہ ہے کہ شفق ابیض سے عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اب یہ جو جنتریاں بنتی ہیں، عام فقہا کی رائے پر جنتریاں نہیں بنائی جا سکتیں کیوں کہ شفق احمر کے غروب ہونے کا کوئی معیار نہیں ہے، جبکہ شفق ابیض کے غروب ہونے کا معیار ہے، اور پوری دنیا میں امام ابوحنیفہ کی رائے پر عمل ہو رہاہے۔ جو دنیا میں نقشے بن رہے ہیں، وہ امام ابوحنیفہ کے قول پر بن رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی بہت سارے مسائل میں امام مالک کا قول لیتے ہیں اور امام صاحب کے قول کو چھوڑ دیتے ہیں۔ 
یہ جو آج اختلاف رحمت نہیں رہا تو بات اصل میں یہی ہے کہ اس اختلاف کے ساتھ کچھ چیزیں ہمارے اندر کی بھی شامل ہیں۔ ہمارے علم کے ساتھ ہماری نفسانیت اس میں شامل ہے، تعلی کاجذبہ شامل ہے۔ ہمارے اکابر میںیہ ہوتا تھا کہ ایک فتویٰ دے دیتے تھے تو ڈرتے رہتے تھے اور ا ندیشہ رکھتے تھے کہ میرے فتویٰ میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے اور اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب کوئی میری غلطی نکالے گا۔ لیکن جب تواضع ہوگی، تب یہ صورت حال ہوگی، اورجب تواضع مفقود ہوگی اور تعلی ہوگی تو پھر صورت حال اور ہوگی۔ اسی طریقے سے تعصب بھی اسی سے پید اہوتاہے۔ آدمی جب چاہتا ہے کہ میری راے اوپر ہو اور چاہتا ہے کہ میری راے کی حمایت کرنے والے بھی بہت سارے ہوں تو تعصب پیدا ہوتا ہے۔ فقہا کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک آدمی فتویٰ دیتا ہے، لیکن کوئی بھی اس پر عمل کرنے والا نہ ہو تو اس عالم کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ میری رائے کو قبول کرنے والے بہت سارے ہو جائیں تو یہ بھی تعلی کی وجہ سے ہوتاہے۔ 
تومیں عرض کر رہاتھا کہ اختلاف کا تعلق علم کے ساتھ ہے اور علم جہاں بھی آئے گا تو وہاں اپنی شاخیں نکالے گا، جیسے گھاس اگتا ہے تو وہ بھی اپنی شاخیں نکالتا ہے۔ تو علم اگے گا تو وہا ں شاخیں ضرورنکلیں گی۔ ضروراختلاف ہوگا اور قدم قدم پر اختلا ف ہوگا، لیکن اس اختلا ف کے ساتھ فقہاے صحابہ، تابعین کا ایک تعامل چلتا آ رہا ہے۔ اس وقت یہ موقع نہیں ہے او رآپ علما حضرات یہ جانتے ہیں، صرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ مسائل کی بنیادپر ہمارے ہاں جو گروہ بندی ہوگئی ہے، وہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر یہ کہ حق وباطل کا اختلا ف ہوتو بھی اس اختلاف کو ایک حد میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور بغض کو حد تک رکھنے کا حکم فرمایا کہ محبت کو اس حدتک نہ بڑھاؤ کہ بعد میں نقصان ہو، اور بغض کو اس حد تک نہ بڑھاؤ کہ آپس میں ملاقات کرنی مشکل ہو جائے۔ جہاں ہم حق وباطل کا اختلاف کہتے ہیں، کتنے ہی مسائل ہیں جن میں ہمیں اکٹھا ہونا پڑتا ہے، ایک ہی شہر میں ایک ہی شہر کے اندر۔ اس لیے جن مسائل کو ہم حق وباطل کا فرق سمجھتے ہیں، وہاں پر بھی یہ ضروری نہیں کہ اس اختلاف کو نفرتوں کی انتہا تک پہنچا یا جائے، بلکہ احقاق حق کے درجہ میں رکھنا چاہیے۔ آج علماے دیوبند میں بھی اختلاف ہوتے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ الحمد للہ ہمارے طبقے میں علم وتحقیق جاری ہے۔ اسی لیے تو اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مسائل پر گفتگو کرتے ہیں، اختلافات پیدا کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو آگے گروہ بندی بن جاتی ہے اور اپنے مسئلے کو بڑھانا اور اپنے متبعین کو بڑھانے کے لیے گروہ بندی کرنا، یہ وہ چیز ہے جو اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتی ہے۔ یہ ایک قابل غور بات ہے جو میں نے آپ حضرات کے سامنے رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو رحمت کو بتایا تھا، وہ کہیں کہیں زحمت بھی بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں اختلافات کے بارے میں اپنے رویوں پر تھوڑی سی نظر ڈالنی چاہیے۔ 

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی 

(صدر دار العلوم، کراچی)
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔
حضرات علماے کرام اور معزز حاضرین!
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب ہمارے بہت ہی معزز ومحترم بزرگ ہیں۔ حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحب دامت برکاتہم سے ہماری زمانہ طالب علمی سے پرانی عقیدت ہے۔ جب ہم دورۂ حدیث کی کتابیں پڑھ رہے تھے، اس وقت حضرت کی تحقیقات ہمار ے اساتذہ ہمیں سنایا کرتے تھے۔ مولانا زاہدالراشدی دامت برکاتہم سے بھی ملاقاتیں تو ہوتی رہیں، لیکن سب سے پہلے حضرت کی جن باتوں سے میں متاثر ہوا، انگلینڈ میں برمنگھم میں ختم نبوت کانفرنس تھی، اس میں اس خاص موضوع پر انھوں نے جو بیان فرمایا، میں پہلی مرتبہ متاثر ہوا ۔ اس سے پہلے ملاقاتیں تو بہت ہوئی ہیں، لیکن کسی موضوع پر گفتگو کی نوبت یاد نہیں، لیکن اس کے بعد تسلسل سے الحمد للہ ہماری ملاقاتیں بھی رہی ہیں اور اہم مسائل میں مشورے بھی رہے ہیں اور آپ کی تحریریں بھی ہم استفادے کی نیت سے پڑھتے رہے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! ان کے علم وعمل اور عمر میں برکت عطا فرما اور امت کو ان کی مثبت سوچ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی توفیق عطا فرما۔ 
واقعہ یہ ہے کہ مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب کی شخصیت برسوں سے میرے لیے متعدد وجوہ سے قابل رشک ہے۔ ان کی متعدد صفات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ کسی کے منہ پر تعریف کرنا اچھا نہیں ہوا کرتا، لیکن میں آپ سے خطاب کر رہا ہوں، ان سے نہیں کر رہا۔ ان کی تواضع میرے لیے ہمیشہ قابل رشک رہی ہے۔ اللہ نے ان کو جو علم وفضل عطا فرمایا، اس کے ساتھ تواضع اور انکساری ایسی قابل رشک ہے کہ سچی بات یہ ہے کہ میرا مشورہ آپ حضرات کو یہ ہے کہ اس کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے طبقے میں یہ چیز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر ملاقات میں ان کی تواضع میرے لیے سبق بھی بنتی ہے اور قابل رشک بھی ہوتی ہے۔ میری دعاہے کہ اللہ پاک ان جیسی تواضع مجھے بھی عطا فرمائے۔
پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو امت کے بارے میں اور امت کے مسائل کے بارے میں فکرمندی عطا کی ہے۔ یوں تو فکرمندی اور جذبات ہر مسلمان کے ہوتے ہیں، لیکن اس کا صحیح تجزیہ کرنا اور صحیح ادراک کرنا اور مثبت انداز میں اس کے حل کو سوچنا اور مثبت اندازمیں امت کی راہنمائی کرنا، یہ ہر ایک کاکام نہیں ہوتا اور الحمد للہ، اللہ نے ہمارے مولانا کو یہ سلیقہ عطا فرمایا ہے، تحریر میں بھی اور تقریر میں بھی۔ آپ کی سوچ میں ہمیشہ ایک مثبت انداز رہا ہے اور اس میں کبھی کسی کی دل آزاری بھی نہیں ہوتی، جو انبیاے کرام کا طریقہ رہا ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن۔ یہی ان کا طریقہ کار رہا ہے۔ الحمد للہ یہ تمام باتیں بہت ہی امید افزا بھی ہیں اور اس الشریعہ اکادمی کے لیے ان شاء اللہ فال نیک بھی ہیں۔ پھر ایک بات جس پر مجھے ہمیشہ رشک رہتا ہے، یہ ہے کہ ماشاء اللہ یہ ان تھک محنت کے عادی ہیں اور خود ہی ایک مرتبہ بتلا رہے تھے کہ میں راتوں کی نیند بسوں میں پوری کر لیتا ہوں۔ کسی جگہ گیا ہوا ہوں، دن بھر مصروفیت رہی، رات کو سفر میں گزرا، صبح آ کر سبق پڑھا دیا۔ لوگ تعجب کرتے ہیں کہ کس طرح سبق پڑھا دیا۔ ہوتا یہ ہے کہ میں نیند بس میں اور ریل میں پوری کر لیتا ہوں۔ اس پر بھی مجھے رشک آتا ہے۔ اللہ پاک ایسی نیند مجھے بھی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے کلام سے، ان کی فکر سے، ان کی تحریر وتقریر سے امت کو وہ فائدہ عطا فرمائے جو ان کے دل میں موج زن ہے۔
ابھی مولانا فرما رہے تھے کہ الشریعہ اکادمی میں ہم جو کام کر رہے ہیں، وہ روایتی انداز سے ہٹ کر ہے، ا س لیے لوگوں کو اس کے بارے میں بتلانا اور سمجھانا بھی بعض اوقات ذرا مشکل سا ہوتا ہے، لیکن سچی بات ہے، میں جو محسوس کرتا ہوں کہ مسلمانوں کی جو تعلیمی پالیسی عہد رسالت سے چلی آ رہی ہے، یہ اسی کا ایک تسلسل ہے جو الشریعہ اکادمی نے شروع کیا ہوا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی تعلیمی پالیسی کے جو بنیادی عناصر ہیں، ان میں ایک بنیادی عنصر ’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن اخذہا من حیث وجد‘ ہے۔ حکمت کی ہر بات مومن کی گم شدہ متاع ہے، جہاں ملے،وہاں سے لے لیں۔ من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا۔ آج عالم اسلام کے سامنے جو مسائل ہیں، یہ امت کے مسائل تو نئے ہیں لیکن اس قسم کا چیلنج نیا نہیں ہے۔ سب سے پہلے یہ چیلنج مسلمانوں کو اس وقت پیش آیا تھا جب مسلمان جزیرہ عرب سے نکلے اور قوموں کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آئی اور ان کا واسطہ دنیا میں پھیلے ہوئے مختلف فلسفیانہ نظریات اور یونان کے فلسفہ، ہندوستان کے فلسفہ اور وسرے نظریات سے پڑا۔ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔ معمولی چیلنج نہیں تھا۔ جیسا چیلنج آج ہمیں درپیش ہے، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس سے بھی بڑا چیلنج تھا، کیونکہ اس وقت تک مسلمانوں نے فلسفہ کے اندر قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ اب تو کیفیت یہ ہے کہ ہمیں تقریباً ایک ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے کہ مختلف نظریات کے بارے میں سوچنے، سمجھنے اور ان کے جواب دینے کی ہمیں عادت پڑ گئی ہے، اس رخ پر سوچنے لگے ہیں، لیکن وہ وقت تو ایسا تھا کہ فلسفیانہ نظریات اچانک سامنے آئے۔ اس سے پہلے تو مسلمانوں کے سامنے ایسا کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ تو مسلمانوں نے کیا کیا؟ ہمارے بزرگان واسلاف نے یہ کام کیا کہ ان تمام علوم کو حاصل کیا۔ وہی فلسفے جو اسلامی عقائد وعلوم سے ٹکرا رہے تھے، ان فلسفوں کے اندر مہارت پیدا کی۔ صرف یہ نہیں کہ سمجھ لیا، بلکہ مہارت پیدا کی۔ اس میں مصنف بنے، محقق بنے، نئے نظریات دنیا کے سامنے لائے اور دنیاکو باور کرا دیا کہ جتنا کچھ فلسفہ میں کام یونان کے فلاسفروں نے کیا، انسانی فکر وہیں جا کر ختم نہیں ہو گئی بلکہ آگے بھی فکر کا بہت بڑا میدان ہے۔ انھوں نے نئے نئے نظریات پیش کیے اور جہاں جہاں اس فلسفہ کا اسلامی نظریات سے ٹکراؤ تھا، فلسفیانہ بنیادوں پر اور فلسفیانہ طرز استدلال سے ان کا رد کیا۔ صرف یہی نہیں کہ وہ قرآن کے خلاف ہے، عربیت کے خلاف ہے، بلکہ بتلایا کہ وہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ ارسطو نے اگر کوئی بات کہی ہے توبتلایا کہ وہ عقل کے خلاف ہے۔ فلسفیانہ دلائل پر ہم ثابت کرتے ہیں کہ ارسطو نے نہایت کمزور بات کہی تھی، افلاطون نے غلط کہا تھا اور سقراط نے جو کچھ کہا تھا، عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ دلائل سے اس بات کو ثابت کیا۔ تو یہ بھی امت میں ایک نیا کام تھا اور عام روش سے ہٹ کر تھا۔ اگر آپ تھوڑا سا عام روش سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں تو درحقیقت بنیادی طورپر یہ اسلام اور مسلمانوں کی تعلیمی پالیسی سے ہٹ کر نہیں ہے۔ 
ہمارے بزرگان دیوبند کو آپ دیکھ لیں۔ انھوں نے ان تمام علوم وفنون کی حفاظت کی جو پچھلی صدیوں سے چلے آ رہے تھے۔ فلسفہ میں بھی، فلکیات میں بھی، منطق میں بھی، حکمت اور طب یونانی میں بھی اور دوسرے اسلامی علوم تواپنی جگہ پر تھے ہی۔ ان کے اندر بھی مہارت پیدا کی۔ دار العلوم میں ان تمام علوم کے ماہرین موجود تھے۔ اب ہمارا واسطہ جدید سائنس سے ہے، جدید انکشافات سے ہے، جدید سائنسی تجربات سے ہے۔ آج ہمارے لیے یہ بات بہت آسان ہے۔ اسلامی عقائد اور فلسفہ کا تصادم تو ہوا ہے، رہا ہے، آئندہ بھی رہے گا۔ فلسفیانہ عقائدکا تصادم اسلامی عقائد کے ساتھ ہو سکتا ہے اور ہوتا رہے گا، لیکن خوب سمجھ لیجیے کہ اسلامی عقائد کو سائنسی حقائق سے کبھی تصادم نہیں ہوگا، کیونکہ سائنسی حقائق، تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی عقل سلیم والا انکار نہیں کر سکتا اور اسلامی عقائد نے بھی کہیں ایسے حقائق کا انکارنہیں کیا جو واقعی حقائق ہوں۔ اس لیے یہ چیلنج ہمارے لیے آسان ہے۔ ہمارے بزرگوں کو فلسفیانہ عقائد میں مناظرہ اور مقابلہ کرنا پڑا تھا اور اپنے عقائد کا دفاع کرنا پڑا تھا۔ ہمیں اب فلسفیانہ نظریات سے اتنا زیادہ واسطہ نہیں ہے۔ ہمارا واسطہ دنیا میں جیتے جاگتے مسائل سے ہے، سائنسی حقائق سے ہے۔ ہمارا کام اب صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے اہل زمانہ کو سمجھیں، جیسا کہ ابھی حضرت مولانا نے فرمایا کہ اس اکادمی کا مقصد موجودہ مسائل کو سمجھنا ہے۔ موجودہ چیلنج کیا ہیں؟ قانون کے میدان میں کیا چیلنج ہیں، طب کے میدان میں کیا مسائل ہیں، ان تمام میں امت کے کچھ مسائل ہیں۔ ان مسائل کو سمجھنا ایک عالم دین کا فرض منصبی ہے، یہی نہیں کہ مستحب ہے۔ اپنے زمانے کے مسائل کو سمجھنا اور جن لوگوں سے اسلام اور مسلمانوں کا واسطہ ہے، ان کو سمجھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اور اب واسطہ صرف ایشیا کے لوگوں سے نہیں ہے، دنیا بھر کے لوگوں سے ہے۔ پوری دنیا سمٹ چکی ہے، ایک چھوٹے سے شہر کی طرح ہو گئی ہے اور پانچوں بر اعظم سمٹ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ اس وقت امت مسلمہ کو پوری دنیا کے مسائل کا سامنا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمان موجود ہیں۔ وہاں ان کو طبی مسائل بھی پیش آ رہے ہیں، معاشی مسائل بھی پیش آ رہے ہیں، سیاسی اور قانونی مشکلات بھی پیش آرہی ہیں، ان سب میدانوں کو سمجھنا ہمارا فرض منصبی ہے کیونکہ فقہا کا ایک مشہور قاعدہ ہے اور جب ہم تخصص فی الافتا کی تربیت حاصل کر رہے تھے تو یہ قاعدہ ہم نے اپنے والد ماجد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع سے بار بار سنا۔ فرماتے تھے کہ من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل۔ علما اور فقہا کی اصطلاح میں وہ شخص جاہل ہے جو اپنے زمانے کے حالات سے باخبر نہ ہو۔ ایک عالم دین کا فرضی منصبی ہے کہ وہ اپنے زمانے کی مشکلات اور چیلنجز کو سمجھے اور قرآن وسنت میں ان کا حل تلاش کر کے امت کی راہنمائی کرے۔
الحمد للہ اس اکادمی نے یہ کام شروع کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک اس میں قدم قدم پر ان کی راہنمائی فرمائے، دستگیری فرمائے، جس مقصد کے لیے یہ کام شروع ہوا ہے، اس میں مکمل کامیابی عطا فرمائے۔ ابھی یہ ابتدائی مراحل میں ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ آگے بڑھے اور خوب خوب آگے بڑھے اور درس نظامی کے فارغ التحصیل علما یہاں آ کر باقاعدہ داخلہ لیں اور مختلف موضوعات میں ان کو تخصص کرایا جائے تو ان شاء اللہ یہاں سے ایسے راہنما تیار ہو کر نکلیں گے جو امت کی راہنمائی کر سکیں اور اس کو نور ہدایت پہنچا سکیں۔ میں اس اکادمی کو پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں۔ بہت تفصیل سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن جتنا کچھ پہلے اس کے بارے میں پڑھتا اور سنتا رہا ہوں اور جو کچھ ابھی سنا ہے، اس کی روشنی میں اپنے تاثرات بیان کیے ہیں۔
البتہ ایک بات میں آپ سے عرض کروں گا۔ دیکھیں، جو کچھ آپ کو ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش میں نظر آ رہا ہے، علماے حق کاکہیں بھی کوئی ادارہ آپ کو نظر آ رہا ہے، یہ سارا فیض دار العلوم دیوبند کا ہے۔ خانقاہیں ہیں تو دار العلوم دیوبند کا فیض ہیں، مدارس ہیں تو دار العلوم دیوبند کا فیض ہے، اس قسم کی اکادمیاں ہیں تو یہ بھی دار العلوم دیوبند کا فیض ہے اور یہ فیض اب پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ افریقہ میں، یورپ میں، امریکہ میں، جاپان میں، چین میں اور ایشیا کے تقریباً تمام ممالک میں کہیں کم کہیں زیادہ، دار العلوم دیوبند کا فیض پھیل رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی دو خاصیتیں تھیں۔ ایک علم کی گہرائی اور پختگی، جس میں اہل زمانہ کے بارے میں واقفیت بھی داخل ہے۔ بزرگان دیوبند سے جو کچھ ہمیں ملا ہے، اس میں ایک بات یہ تھی کہ انھوں نے اس حقیقت کو سمجھا تھا کہ ’من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل‘۔ وہ جتنی رہنمائی کر سکتے تھے، ان مشکل حالات میں جہاں انگریز کا تسلط تھا، وہاں رہتے ہوئے وہ امت کی جتنی رہنمائی کر سکتے تھے اور جتنے مسائل کو وہ پرکھ سکتے تھے، جانچ سکتے تھے، ان میں امت کی راہنمائی کی ہے اور آخر دم تک کرتے رہے ہیں۔ اکابر دیوبند کو علم کی گہرائی اور پختگی اس طریقے سے حاصل ہوئی کہ انھوں نے حاصل شدہ علم پر کبھی قناعت نہیں کی۔ آج ہماراحال یہ ہو گیا ہے کہ تھوڑے سے علم پر قانع ہو جاتے ہیں اور بہت سے مال پر قانع نہیں ہوتے، بڑے بڑے عہدوں پر قانع نہیں ہوتے۔ علماے دیوبند کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ کبھی حاصل شدہ علم پر قانع نہیں ہوئے۔ مرتے دم تک ان کی تحقیق اور مطالعہ میں کمی نہیں آتی تھی، ان کی جستجو میں کمی نہیں آتی تھی۔ ا س کے بے شمار واقعات ہیں۔ اپنے بزرگوں کو ہم نے اسی حالت میں دیکھا ہے اور ہمارے بزرگ اپنے بڑوں کے حالات اسی طرح سناتے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بات اوربھی تھی جو میں آپ سے خاص طورپر عرض کروں گا اور وہ بات دار العلوم دیوبند کے علاوہ کسی تعلیمی نظام میں نہیں ملتی۔ وہ باطنی تربیت ہے اور باطن کی اصلاح ہے، دل کی اصلاح ہے۔ والد صاحب بار بار فرمایا کرتے تھے کہ علمی تحقیق میں اللہ نے کمال عطا کیا علماے دیوبند کے اکابر کو، لیکن یہ کمال دیوبند کے ساتھ خاص نہیں تھا۔ جامعۃ الازہر میں بھی اس زمانے میں علم کی گہرائی اور پختگی کم نہیں تھی۔ اب تو وہ بات نہیں رہی، لیکن اس زمانے میں جب ہمارے اکابریہ کام رہے تھے، جامعۃ الازہر میں بھی کمی نہیں تھی، لیکن جس چیز کی کمی جامعۃ الازہر میں تھی اور اسے دار العلوم نے پورا کیا، وہ باطن کی اصلاح تھی۔ شاید آپ کو یہ بات معلوم نہ ہو کہ تخصص فی الافتاء پہلے تھا ہی نہیں، نہ دیوبند میں اور نہ ہندوستان وپاکستان میں۔ یہ سب سے پہلے حضرت والد صاحب نے دار العلوم کراچی میں شروع کیا۔ جب ہم دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے تو ہمیں تخصص کے لیے خود لے کر بیٹھ گئے۔ ہم سات آٹھ ساتھی تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی بھی دن ایسا خالی جاتا ہو جس میں وہ یہ نہ فرماتے ہوں کہ دیکھو، تم نے فقہ ظاہر حاصل کر لیا ہے، لیکن فقہ باطن ابھی باقی ہے۔ تم نے ابھی آدھا دین حاصل کیا ہے، آدھا دین باقی ہے۔ تم ابھی ادھورے عالم ہو، پورے عالم نہیں بنے۔ تمھارے پاس ابھی آدھا دین ہے، تم نے پورا دین نہیں لیا۔ تم ابھی پورے مسلمان نہیں بنے اور نجات نہیں ہے جب تک پورے مسلمان نہیں بنو گے۔ وہ یہ کہ باطن اور دل کی اصلاح ہو۔ تاج دار کونین سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الا ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد کلہ الا وہی القلب۔ 
بزرگان دیوبند نے اس کو پکڑا اور والد صاحب سے ہم اپنے بزرگوں کی باتیں سنتے رہے ہیں کہ دار العلوم دیوبند دن میں درس گاہ ہوتی تھی اور راتوں کو طلبہ کے حجروں سے رونے کی آوازیں آتی تھیں اور خانقاہ بن جاتی تھی۔ کسی نے دار العلوم دیوبند کے بارے میں ہی کہا تھا کہ ’’در مدرسہ خانقاہ دیدم‘‘۔ وہ صرف مدرسہ ہی نہیں تھا، بلکہ ساتھ ساتھ خانقاہ بھی تھے۔ دن کو وہ علما تھے، راتوں کو راہب بن جاتے تھے۔ ہمارے دادا حضرت مولانا یاسینؒ کا مقولہ والد صاحب کثرت سے سنایا کرتے تھے۔ دادا جی دار العلوم دیوبند کے ہم عمر تھے۔ بہت غریب ماں باپ کے بیٹے تھے،مگر دیوبند میں ایک معلم خاندان تھا خلیفہ تحسین علی صاحب، ان کے بیٹے تھے۔ ہمارے دادا کے والد پورے دار العلوم کے استاد سمجھے جاتے تھے۔ تو دادا کی ولادت اس زمانے میں ہوئی جب دار العلوم قائم ہوا تھا۔ انھوں نے وہاں تعلیم حاصل کی۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے ہم سبق تھے اور ان کے ساتھ دورہ کیا تھا اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کے خاص مرید تھے۔ ان کا مقولہ والد صاحب سناتے تھے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے دار العلوم دیوبندکا وہ دور دیکھا ہے جب یہاں کے مہتمم اور شیخ الحدیث سے لے کر چپڑاسی اورچوکی دار تک، سب صاحب نسبت ولی اللہ ہوتے تھے۔ خوب سمجھ لیجیے کہ دار العلوم دیوبند کا فیض جو پوری دنیا میں پھیلا ہے تو صرف علم ظاہر کی وجہ سے نہیں پھیلا۔ علم ظاہر اور بھی بہت جگہوں پر تھا۔ بلکہ وہ باطن کی اصلاح تھی اور اس علم کو اپنی صفت بنا لینا اور اس کے ساتھ متصف ہو جانا یہ بزرگان دیوبند کا خاصہ تھا۔ اور یہ وہی خاصہ تھا جو صحابہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصیب ہوا تھا۔ ہمارے بزرگوں نے اخلاص، للہیت، تواضع اور تقویٰ میں صحابہ کرام کی یادیں تازہ کیں۔ 
تو میری درخواست ہے کہ دو کام کرنے کے ہیں۔ ایک دنیا کے حالات پر نظر رکھنا اور ان کو سمجھنا، یہ سیکھنا کہ دین کی تعبیر کیسے کی جائے، اور جس زبان میں ضرورت ہو، اس زبان میں تعبیر کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسوہ چھوڑا ہے کہ مسلمانوں کی زبانیں محدود نہیں ہوتیں۔ بلاشبہ عربی زبان کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ وہ قرآن کی زبان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے، اہل جنت کی زبان ہے، لیکن اسلام توپوری دنیا کے لیے آیا ہے۔ اسلام کو اور بھی سب زبانوں کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جو ایلچی بڑے بڑے بادشاہوں، قیصر، کسریٰ، مقوقس اور نجاشی وغیرہ کے پاس بھیجے تھے، طبقات ابن سعد میں یہ بات لکھی ہے کہ وہ سب اس علاقے کی زبان جاننے والے تھے جہاں انھیں بھیجا گیا۔ حضرت زید بن ثابت کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طورپر مامور کیا تھا کہ تم یہودیوں کی زبان سیکھو تاکہ تم ترجمانی کا کام کر سکو۔ تو دنیا کی ہر وہ زبان سیکھنے کی ضرورت ہے جس کی ضرورت آپ کو دین کا پیغام پھیلانے کے لیے ہوگی اور اس اسلوب کو سیکھنے کی ضرورت ہے جو ان شاء اللہ آپ کو یہاں ملے گا کہ آج کا اسلوب کیا ہے، ذہنوں کو متاثر کرنے والا اسلوب کیا ہے۔ اس اسلوب کو سیکھنا ہے۔دوسری بات جو دار العلوم دیوبند کی نمایاں خصوصیت ہے، وہ باطن کی اصلاح ہے۔ اس کی طرف ضرور توجہ کریں۔ کسی نہ کسی بزرگ کا دامن ضرور تھام لیں۔ اس کے بغیر عام طورپر اصلاح نہیں ہوتی۔ اسی طرح میری آپ سے درخواست ہے، آپ کو میں خاص طور سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ حضرات سے توقعات ہیں۔ آپ ایسی اکادمی میں آ گئے ہیں جس کامقصد ہی یہ ہے کہ وہ کام کیے جائیں جو نہیں ہو رہے۔ ان کاموں کے لیے آپ کو تیار کرنا ہے۔ ان کاموں میں برکت، تاثیر اور قوت پیدا نہیں ہوگی جب تک دل کی اصلاح نہ ہو۔ اس کے لیے وہ کام کرنا پڑے گا جو بزرگان دار العلوم دیوبند کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق کامل عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس

محمد عمار خان ناصر

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے افتتاحی گفتگو۔)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد
محترم حاضرین! میں سواے اس کے کہ معزز مہمانان اور تشریف لانے والے محترم حاضرین کا شکریہ اداکروں اور مختصراً اس پروگرام اور اس کے پس منظر کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں، آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ اس سے قبل ہم الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام دینی مدارس کے نظام ونصاب اور تدریس کے طریقے اور تعلیم وتربیت کے مناہج کے حوالے سے وقتا فوقتا مختلف نشستیں منعقد کر چکے ہیں۔ آج کا پروگرام بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور اس میں خاص طور پر علم حدیث پر، جو مدارس کے تعلیمی نظام اور اس کے نصاب کا ایک بڑا محور ومرکز ہے، گفتگو کو مرکوز کیا گیا ہے تاکہ خاص طورپر علم حدیث کی تدریس کے حوالے سے جو مسائل اور مشکلات ہیں، جو خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جنھیں ہمارے جید اہل علم اور ہمار ے تجربہ کار اور کہنہ مشق مدرسین محسوس کرتے ہیں، وہ خاص طور پر موضوع بحث بنیں۔ اسی غرض سے یہاں گفتگو کی دعوت علم حدیث اور اس کی تدریس سے وابستہ پرانے اور جید اہل علم کو دی گئی ہے۔ حاضرین میں بھی عام لوگوں کو کم دعوت دی گئی ہے اور زیادہ تروہ لوگ تشریف لائے ہیں جو مدارس میں علم حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں یا کم سے کم اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس میں موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں تفصیلی گفتگو تو ہمارے معزز مہمانان ہی کریں گے، میں صرف دو مختصر گزارشات کے ذریعے سے اس گفتگو میں شرکت کی سعادت حاصل کرنا چاہوں گا۔
قرآن مجید اور حدیث مسلمانوں کے نصاب تعلیم کا ہمیشہ سے محور ومرکز رہے ہیں ۔ دینی تعلیم کا نصاب دراصل انھی کو سمجھنے کے لیے اور انھی کے معانی ومطالب تک پہنچنے کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے۔ ان کے تابع بہت سے علوم جوان کو سمجھنے میں مفید ہیں یا ان سے اخذ کر کے بنائے گئے ہیں، مثلاً علم کلام ہے، علم فقہ ہے اورعلم اصول فقہ ہے، سارے ان سے ماخوذ ہیں اور ایک لحاظ سے ان کو سمجھنے میں مفید اور ممد ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر دور کی ایک خاص ذہنیت ہوتی ہے اور ہر دور کے طالب علم کے سامنے کچھ سوالات اور اس کی کچھ ذہنی ضروریات ہوتی ہیں جو اس خاص دور کے فکری اور عملی پس منظر سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کو حل کرنے کے لیے اور ان پر روشنی ڈالنے کے لیے از سر نو قرآن مجید کی طرف اور حدیث کی طرف رجوع کیا جائے اوراس دور میں پڑھنے والوں کو وہ رہنمائی فراہم کی جائے جو ان کو چاہیے، قرآن وحدیث سے جواہر تلاش کیے جائیں اور نکات اخذ کیے جائیں اور پڑھنے والوں کے سامنے پیش کیے جائیں۔ 
ہمارے دور میں جب ہم حدیث کو خاص طور پر اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ علم حدیث کو پڑھنے اور پڑھانے والوں کے سامنے کون سے سوالات ہیں اور کون سی علمی وفکری الجھنیں ان کے سامنے ہیں جنھیں حدیث اوراس کے متن کو پڑھتے ہوئے اور شارحین کی تشریحات وافادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بطور خاص نمایاں کرنا چاہیے تو سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ دین کے مجموعی نظام میں اور خاص طورپر قرآن مجید کے ساتھ تعلق کے حوالے سے حدیث کا مقام کیا ہے؟ جس طرح قرآن مجید دین کا مستقل ماخذہے، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی بھی دین کا مستقل ماخذ ہیں۔ یہ بات ہمیشہ سے امت مسلمہ میں مانی جاتی رہی ہے۔ البتہ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اپنی تشریعی حیثیت اور فی نفسہ دین کا ایک مستقل ماخذ ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید سے اپنے معنوی تعلق کے لحاظ حدیث اس کی فرع اور شرح ہے۔ اس پہلو پر اس سے پہلے اہل علم عمومی گفتگو کرتے رہے ہیں ا ور اپنے اپنے ذوق کے مطابق قرآن کریم اور حدیث کے مضامین کا باہمی ربط اور تعلق بھی واضح کرتے رہے ہیں، لیکن میرے خیال میں اس دور میں دین کے فہم کے حوالے سے جو ایک عمومی نفسیات پائی جاتی ہے، ایک عمومی فضا پائی جاتی ہے، اس میں اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اور حدیث اپنے طلبہ کو سمجھاتے ہوئے احادیث کو فی الجملہ قرآن کی شرح اور فرع کے طور پر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایک روایت کے تحت قرآن مجید کے ساتھ اس کے تعلق کو واضح کریں۔
موجودہ دور میں مختلف فکری عوامل کے تحت جو ایک عمومی نفسیات بنی ہے اور ایک عمومی ذہن بنا ہے ، وہ اصل اور فرع کے اس تعلق کو پوری طرح سمجھنا چاہتا ہے کہ کیسے قرآن نے ایک بات کہی ہے اور حدیث نے اس پر احکام مرتب کیے ہیں، کیسے قرآن نے ایک اصول بیان کیاہے اور حدیث میں اس پر فروع متفرع ہوئے ہیں، کیسے قرآن نے ایک عمومی رہنما اصول دیا ہے اور اس کی حکمت کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے بے شمار حکیمانہ فقہی اور علمی فروع وجزئیات اس پر مرتب کی ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا پہلوہے کہ حدیث کے طلبہ کو بھی اور حدیث کے معانی ومطالب طلبہ تک پہنچانے والے اساتذہ کو بھی بطور خاص اس کو غور وفکر کا موضوع بنانا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ اصولاً سب اہل علم یہ مانتے ہیں کہ حدیث قرآن کی شرح ہے اور بہت سی اہم جگہوں پر اس کی تفصیلات بھی اہل علم نے بیان کی ہیں۔ میرے خیال میں اس دور کے فکری مزاج کی یہ ضرورت ہے کہ ہم ہر ہر حدیث کو اور ہرہر روایت کے حوالے سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی کن ہدایا ت سے، قرآن مجید کے کن اشارات سے اور کن تلمیحات سے اس بات کو اخذ کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس علوذہنی کے ساتھ اور جس رسائی کے ساتھ قرآن مجید سے مطالب کو اخذ کرکے بیان کر یں ،گے اس کی کوئی دوسرا آدمی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخذ کیے ہوئے معانی کا تعلق سمجھنے کی کوشش کریں گے تو یہ چیز طلبہ کے لیے اور اہل علم کے لیے اپنے فہم کی سطح کوبلند کرنے اور حکمت دین میں گہرائی اور بصیرت پیداکرنے کا ایک بہت موثر ذریعہ ثابت ہوگی۔
دوسری بات یہ ہے کہ حدیث کو جس طرح سے ہم قرآن مجید کے تعلق سے اس کی فرع اور اس کی تشریح کے طورپر سمجھیں گے، اسی طرح سے اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں حدیث جو بعض دوسرے علوم وفنون کی خادم بن گئی ہے، اہل علم کو اور اہل مدارس کو اس رویے کو زیادہ تنقیدی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ حدیث قرآن کی خادم تو ہے، حدیث قرآن کی شارح ہے اور قرآن کے ساتھ حدیث کے تعلق کو سمجھنے اور اسے قرآن کے تحت رکھ کر سمجھنے میں بڑی بصیرت کا سامان ہے، لیکن ہمارے ہاں حدیث عملاً فقہا کے اختلافات اوران کے فقہی استنباطات اورفقہی اجتہادات کی خادم بن کر رہ گئی ہے۔ حدیث پر غور کرتے ہوئے اور حدیث سے معانی اور مطالب اخذ کرتے ہوئے اصلاً زیر بحث ہوتا ہے کہ اس حدیث سے فلاں فقیہ نے کیا استنباط کیا اور پھر اس کے تحت دلائل، جواب، معارضہ و مناقشہ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے کہ اگر دوسروں نے یہ اخذ کیا ہے تو ہم اس کے جواب میں کیا کہیں گے اور ہم نے کوئی نکتہ اخذ کیا ہے تو وہ اس کے جواب میں کیا کہیں گے۔ تو معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ عملاً حدیث بعض دوسرے علوم کی خادم بن گئی ہے۔ اس پرپہلے بھی تنقیدی گفتگو کئی دفعہ ہو چکی ہے۔ آج کی نشست میں، میرا خیال ہے، ذرازیادہ وضاحت سے ہوگی۔ تو اس پہلو کو بھی ہمیں ذراکھلے دل سے، کھلے ذہن سے سوچنا چاہیے کہ حدیث کی شان اس سے بہت بلندہے کہ اس کو انسانوں کے ، چاہے وہ کتنے ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہوں، اخذ کردہ معانی ومطالب اور ان کی تشریحات کے خادم کے طور پر پڑھایا جائے۔ ان تشریحات کو اس کے تحت پڑھنا چاہیے۔ حدیث کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا ایک اپنا پس منظر ہے، ایک اپنا مرتبہ ہے، دین کی تفہیم وتعبیر میں اس کی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے سمجھنا چاہیے۔ اس کے ضمن میں البتہ کوئی حرج نہیں بلکہ یہ ایک علمی ضرورت بھی ہے کہ فقہا کے استنباطات اور استدلالات کو زیربحث لایا جائے۔ 
میں مزید آپ کی سمع خراشی کرنے کے بجائے انہی گزارشات پر اکتفا کروں گا اور چاہوں گا کہ ہمارے معزز مہمان اپنے علم، تجربہ اور مشاہدے کی روشنی میںآپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔ 

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب۔)

الحمد للہ ر ب العالمین ، والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔ امابعد! 
صدرمحترم! معززمہمانان گرامی اور قابل صد احترام شرکاے محفل!
یہ سیمینار جو ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے اہم تقاضے‘‘ کے زیرعنوان منعقد ہو رہا ہے، اس میں اپنے معززمہمان جناب حضرت مولانا مفتی برکت اللہ صاحب کو، جو ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل اور لندن کے معروف علما اور اہل دانش میں سے ہیں، اور حضرت مولانا مفتی محمد زاہد صاحب زیدمجدہم کو جو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے استاذ الحدیث اورہمارے مخدوم ومحترم حضرت مولانا نذیر احمد قدس سرہ کے فرزند ہیں اور حضرت مولانا محمد رمضان علوی کو جو اسلام آباد کے بڑے علما میں سے ہیں، میں ان سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ حضرات کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائے اور جس مقصد کے لیے جمع ہیں، اس میں کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
تدریس حدیث کے حوالے سے آج کے معروضی تناظر کے حوالے سے اپنے آپ کوبھی اور حدیث کے دوسرے اساتذہ کو بھی تین پہلوؤں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔
پہلی بات پرانی بھی ہے اور نئی بھی ہے۔ امام بخاری ؒ نے حضرت علیؓ کا یہ قول تعلیقاًنقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: حدثواالناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ؟ لوگوں کے سامنے حدیث ایسے بیان کرو یا وہ حدیث بیان کرو جو لوگوں کے معروفات ومسلمات کے دائرے میں ہو۔ ایسی بات مت کرو جس سے ان کے ذہن میں نفرت پیدا ہو اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی منزل پر چلے جائیں۔ یعنی معروفات کو سامنے رکھو اور اس کے مطابق حدیث کی بات کرو۔ ایک قول امام مسلم ؒ نے مقدمہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ما انت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ۔ اگر تم لوگوں کے سامنے، کسی گروہ کے سامنے ایسی حدیث بیان کروگے یا ایسے انداز سے بیان کروگے کہ ان کی عقلوں کی جہاں تک رسائی نہیں ہے توتمہارا یہ بیان کرنا ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فتنہ بن جائے گا، آزمایش بن جائے گا۔ اس کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کا ارشاد بھی ملا لیا جائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ وعائین (دو برتن) ہیں۔ ایک برتن تو میں نے تمہارے سامنے پھیلا دیا ہے، اور اگر دوسرے کو بکھیروں تو میری یہ گردن کٹ جائے۔
صحابہ میں حدیث کے تین بنیادی راویوں کے ان ارشاد ات کو سامنے رکھ کر یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ حدیث کو بیان کرنے میں اور اس کے انداز میں اس دور کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھناضروری ہوتا ہے اور حدیث کو لوگوں کے ایمان میں اضافہ کا ذریعہ بننا چاہیے، اس میں تشکیک وشبہات کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ تو عمومی درجہ کی تدریس کی بات ہورہی ہے، عمومی سطح کی بات ہے، لیکن اس میں تدریس کاایک پہلو بھی ہے۔ وہ کیا ہے؟ میں بھی حدیث کا ایک پرانا طالب علم ہوں، پڑھتے پڑھاتے نصف صدی گزر گئی ہے۔ بہت پرانا طالب علم ہوں حدیث کا۔ جب ہم حدیث پڑھا رہے ہوں تو جس طرح پبلک کے ایک اجتماع میں حدیث بیان کرتے ہوئے پبلک کی ذہنی نفسیات اور ذہنی سطح اور اس کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے سامنے جو کلاس بیٹھی ہے، اس کی ذہنی سطح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ کلاس کس لیول ہے، کون سی بات ان کے ذہن میں جائے گی اور کون سی نہیں جائے گی۔ کیوں کہ آج ہمارے سامنے جو طلبہ حدیث پڑھنے بیٹھتے ہیں، ان کا لیول آج سے پچاس پہلے والا نہیں ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے ہوتا یہ تھا کہ سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کی اکثر یت مطالعہ کرکے آتی تھی۔ استاد کو اشارہ کرنا پڑتا تھا۔ استاد روایت سناتا اور اشارہ کرتا تھا۔ ایک ایک دن میں بیس بیس صفحے ویسے ہی نہیں پڑھتے تھے۔ ایک روایت پڑھی گئی ہے جو ساری طلبہ کے ذہن میں ہے۔ استاد نے اشارہ کر دیا کہ یہ بات یوں ہے۔ بات نکل گئی۔ اب میرے خیال میں یہ بات نہیں ہے۔ اب تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ اگر نفس حدیث سمجھ لیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اور اس حدیث کا ترجمۃ الباب سے تعلق کیا ہے، بس وہ اتنی بات سمجھ لیں تو ان کی ہم پر بڑی مہربانی ہے کہ وہ نفس حدیث سمجھ گئے ہیں اور اس کا مضمون سمجھ گئے ہیں کہ کس مضمون کی یہ روایت ہے۔ تو یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارا استعداد کا لیول کم ہوتے ہوتے اس مقام پر آگیا ہے، لیکن ہماری بیشتر تقریریں اسی پچاس سال پہلے کی سطح کی ہیں۔ میں ایک عملی بات محسوس کر رہا ہوں کہ ہماری تقریریں آج سے پچاس سال پہلے کی ہیں، کیوں کہ study وہاں سے کی ہوئی ہے، لیکن سننے والے کا لیول، فریکیونسی نہیں ملتی۔ تو ایک تو میں ا شارہ کرنا چاہوں گا کہ ہم لمبی چوڑی بحثیں کرتے ہیں۔ آج میرے نزدیک حدیث کی تدریس میں یہ ترجیح یہ ہے کہ پہلے نفس حدیث سمجھائیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اور مضمون کیا ہے، اس کے بعد اگر کوئی بات ضروری ہے تو ان کے فہم کے مطابق بیان کردیں، ورنہ تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک تو میں اس طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ لوگوں کی ذہنی سطح، ان کے فہم کا دائرہ اور اس کا لیول ہمیں دیکھنا چاہیے اور کوشش یہ کرنی چاہیے کہ حدیث کے ساتھ ان کا زیادہ سے زیادہ فہم کا تعلق قائم ہو۔ اوپر اوپر کی باتیں ان کے اوپر سے گزر جاتی ہیں اور بات پھر گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔ 
دوسری بات میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ حضرت امام طحاویؒ ہمارے احناف کے بہت بڑے وکیل ہیں اور ان کی کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘ ہمارے مستدلات کابھی اور استدلال کا بھی بہت بڑا ماخذ ہے، لیکن امام طحاوی ؒ نے شرح معانی الآثار لکھی کیوں تھی، اس کہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ کیوں لکھی ہے۔ مضمون اس کا یہی ہے کہ ترتیب سے احناف اور دوسرے فقہا کا موقف اور اختلافی مسائل میں دلائل بیان کرتے ہیں، پھر استدلال وترجیح ثابت کرتے ہیں، لیکن امام طحاوی ؒ اپنی کتاب کی وجہ تصنیف کیا بیان فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب کیوں لکھی ہے؟ وہ فرماتے ہیں: 
سالنی بعض اصحابنا من اہل العلم ان اضع لہ کتابا اذکر فیہ الآثار المذکورۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الاحکام التی یتوہم اہل الالحاد والضعفۃ من اہل الاسلام بعضہا ینقض بعضاً، لقلۃ علمھم بناسخہا من منسوخہا وما یجب العلم منہا لما یشہد لہ من الکتاب الناطق والسنۃ المجتمع علیھا۔
کہتے ہیں کہ کتاب کو میں نے لکھا، کیوں کہ فقہا کے اختلاف کے حوالے سے جو مختلف احادیث لوگوں کے سامنے آتی ہیں توعام آدمی کا یہ تاثر بنتا ہے کہ حدیثوں میں بہت تناقض ہے، بہت تعارض ہے۔ ایک بات میں دس دس حدیثیں متعارض ہیں، اس لیے عام کمزور مسلمان تشویش میں پڑتا ہے اور ملحدین اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک مسئلہ میں دس حدیثیں مختلف آگئیں۔ ایک میں کچھ ہے اور دوسری میں کچھ ہے، تیسری میں کچھ ہے اور چوتھی میں کچھ ہے۔ اس سے عام کمزور آدمی سمجھے گا کہ یہ کیا مسئلہ ہے۔ مسئلہ ایک ہے اور حدیثیں اتنی اور بالکل متعارض ہیں، اور ملحدین اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ یہ حدیثوں میں تعارض ہے۔ حالانکہ تناقض وتعارض نہیں ہے۔ تیئس سالہ زندگی میں پھیلی ہوئی حدیثیں ہیں، کوئی کسی موقع کی ہے، کوئی کسی موقع کی ہے، کسی کا پس منظر اور ہے، کسی کا پس منظر اور ہے، کسی کا محل اور ہے، کوئی پہلے کی ہے اور کوئی بعد کی ہے، کوئی ناسخ ہے کوئی منسوخ ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ عام آدمی کہ چونکہ پتہ نہیں ہے، اس لیے وہم میں پڑ جاتا ہے اور اس سے الحاد والوں کو فائدہ پہنچتا ہے کہ حدیث سے لوگوں کا اعتماد ختم کریں۔ تو امام طحاوی کہتے ہیں کہ میں نے مختلف احادیث کو الگ الگ محل کے ساتھ بیان کر کے ترجیحات قائم کر کے اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش ہے کہ حدیثوں میں تعارض نہیں ہے ۔ امام طحاوی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے یہ تاثر ختم کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے تاکہ تعارض کا تاثر ختم ہو اور یہ بتایا جائے کہ یہ حدیث اس موقع کی ہے اوراس کا محل یہ ہے۔ یہ راجح ہے اور یہ مرجوح ہے اور یہ ناسخ ہے اور یہ منسوخ ہے اور ہر حدیث اپنی جگہ صحیح ہے۔ میں نے یہ بتانے کی کو شش کی اور بڑی کامیابی سے بتائی بھی ہے۔ امام طحاوی ؒ کا یہ کمال ہے کہ بڑی کامیابی سے ایک واقعہ کی متعارض حدیثوں کا الگ الگ محل بیان کر کے انہوں نے یہ بتایا بھی ہے کہ شاید یہ چند حدیثیں منسوخ ہوں، باقی ساری راجح مرجوح ہوں یا اس میں ایک کامحمل یہ ہے ، ایک کا یہ ہے۔
میرے خیال میں اگر تیسری صدی ہجری میں یہ صورت حال تھی تو آج کی پندرہویں صدی میں بھی یہی صورت حال ہے اور اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امام طحاوی ؒ تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی ہجری کے آغاز کے بزرگ ہیں۔ اگر تیسری صدی کے آخر میں یہ صورت حال تھی کہ حدیثوں کا ظاہری تعارض اور ظاہری اختلاف وتناقض لوگوں میں شکوک وشبہات کا باعث بنتا تھا اور ملحدین کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا تھا تو میرے خیال میں آج بھی تدریس میں اس ذوق کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم احادیث کے تعارض کو جھگڑے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس میں تطبیق اور ہم آہنگی کے پہلو کو نمایاں کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے سب سے بڑے امام، امام طحاوی کا موقف ہے۔ 
تیسری بات حضرت شاہ ولی اللہؒ کے حوالے سے کروں گا۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے نزدیک تو حدیث کا بالکل ایک الگ تصور ہے۔ کہتے ہیں کہ حدیث تمام علوم دینیہ کا ماخذ اور سرچشمہ ہے۔ فرما رہے ہیں کہ ماخذ تو تمام چیزوں کا حدیث ہے، حتیٰ کہ قرآ ن کا ماخذ بھی حدیث ہے۔ قرآن کی یہ آیت قرآن کی آیت ہے، ہمارے پاس اس کی دلیل حدیث ہی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ شاہ صاحب فرما رہے ہیں کہ حدیث Raw material ہے کہ اس سے قرآن بھی مستنبط ہوتا ہے اور سنت بھی مستنبط ہوتی ہے اور فقہ بھی مستنبط ہوتی ہے۔ اصل ماخذ اور اساس علم حدیث ہے۔ شاہ صاحب ؒ کہتے ہیں کہ اس سے تمام علوم مستنبط ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب ؒ کے نزدیک حدیث کا درجہ تو یہ ہے کہ قرآن پاک کی تشریح بھی ہے اور قرآن پاک کا ماخذ بھی ہے۔ شاہ صاحب نے ؒ اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں، جو علم اسرار دین پر لکھی ہے، علم اسرار دین کو علم حدیث کا شعبہ بتایا ہے۔ علم حدیث کے چار شعبے کیے ہیں۔ چوتھا شعبہ ان میں اسرار دین اور علم حکمت ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آج کے دور میں اور آئندہ دور میں علما پر واجب کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کے اعجاز کا ایک پہلو یہ تھا کہ قرآن پاک فصاحت وبلاغت میں تمام کلاموں سے برتر ہے۔ یہ کلام الملوک ملوک الکلام، بادشاہ کاکلام ہے اور بادشاہی درجہ کا ہے۔ فصاحت وبلاغت میں اللہ تعالیٰ کا کلام تمام کلاموں میں برتر ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دور وہ تھا جو گزر گیا۔ لوگوں نے دلائل دیے۔ کوئی دلائل کا جواب نہیں دے سکا۔ قرآن پاک کے مقابلہ میں کوئی نہیں آیا۔ لیکن قرآن پاک کے اعجاز کاایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کے بارے میں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ کہ آئندہ زمانے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ قرآن پاک نے سوسائٹی کے لیے جو ضوابط وقوانین پیش کیے ہیں، سوسائٹی کے مصالح کے پیش نظر، سوسائٹی کی ضروریات کے پیش نظر ایسے مکمل ضوابط اور قوانین کوئی نہیں پیش کرسکتا۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ قرآن پاک جیسے قوانین اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے احکام وضوابط وضع کرے جو سوسائٹی کے منافع کے لیے ہوں، فوائد کے لیے ہوں۔ مصلحت کے اعتبار سے، سوسائٹی کی ضروریات کے اعتبار سے جتنا مکمل قانون قرآن پاک کاہے اورجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاہے، دنیا میں کوئی اور نظام اور قانون اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ 
شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ’وجب ان یکون فی الائمۃ من یوضح وجوہ ہذا النوع من الاعجاز والآثار الدالۃ علی ان شریعتہ صلی اللہ علیہ وسلم اکمل الشرائع وان اتیان مثلہ بمثلہا معجزۃ عظیمۃ کثیرۃ مشہورۃ‘۔ یعنی علما پر واجب ہے کہ قرآن پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور قوانین کی حکمت، ان کی فلاسفی، ان کا نفع، ان کی مصلحت، سوسائٹی کے لیے ان کی ضرورت اور سوسائٹی میں اس کے اثرات، یہ واضح کیے جائیں۔ آج کی یہ ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حدیث پڑھنے پڑھانے والے کو شاہ صاحب کایہ سبق بھی اگرچہ تین سوسال کے بعد ہے، یاد کر لینا چاہیے کہ حدیث بیان کرتے ہوئے ہم آج کے زمانے کے مطابق اس پہلو کو ٹچ کریں کہ اس کا یہ فائدہ ہے ؟ اس پر عمل نہ کرنے کا یہ نقصان ہے اور عمل کا یہ فائدہ ہے۔ تو یہ حکمت اور اس کی لم و سر بیان کرنا، یہ بھی تریس حدیث کی ضروریات میں ہے۔ 
ایک بات کہہ کر میں اپنی بات ختم کروں گا کہ حدیث کی تدریس کے تقاضوں میں ایک تقاضا میری طالب علمانہ راے میں یہ بھی ہے کہ آج کی جدید تحقیقات کو سامنے رکھا جائے۔ حدیث کے مدرس کو جدید تحقیقات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور تطبیق دینی چاہیے۔ بیسیوں باتیں آپ کو ملیں گی۔ میں مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ کچھ دن پہلے یہ حدیث اتفاق سے سبق میں آگئی کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ ماں کے پیٹ میں نطفہ چالیس دن ٹھہرتا ہے، پھر علقہ ہوتا ہے، پھر مضغہ ہوتا ہے۔ فرشتہ تو پہلے دن سے ہی مقرر ہو جاتاہے۔ جب سے نطفہ ٹھہرتا ہے، پہلے دن ہی فرشتے کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔ وہ رپورٹ دیتا رہتا ہے کہ اے اللہ چالیس دن گزر گئے، اے اللہ دوسرا چلہ گزر گیا۔ اس کے بعد روح کا تعلق جوڑنے سے پہلے اللہ پاک کچھ چیزوں کو لکھواتے ہیں اور اس کی فائل بنتی ہے کہ رزق کتنا ہے، عمرکتنی ہے، اس کی صحت، سقم کیا ہے ، شقی ہے یا سعید۔کس کیٹگری کا ہے اور کس کھاتے میں جائے گا۔ یہ کچھ سوالات وہاں لکھوائے جاتے ہیں اور یہ روح کاکنکشن دینے سے پہلے فائل بنتی ہے۔ پوری زندگی کا پروگرام لکھوایا جاتاہے اور پھر روح کاتعلق جسم کے ساتھ جوڑنے کا کا آرڈر ہوتا ہے۔ میں نے اس پر کہا کہ بات سنو، آج کی جو سائنس ہے، وہ کہتی ہے انسان کے جین میں اس کا پروگرام فیڈ ہے، ہماری رسائی ہو گئی ہے مگر پڑھ نہیں پا رہے ہیں۔ جس دن پڑھ لیا تو اس دن پتہ چل جائے گا کہ اس کے چالیسویں سال میں کیا ہونا ہے اور دسویں سال میں کیا ہونا ہے اور ہم بہت سا بندوبست پہلے سے کرلیں گے۔ تو کیا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کااعجاز نہیں ہے کہ آپ نے یہ بات چودہ سوسال پہلے فرمادی تھی کہ بھئی سارا پروگرام پہلے بن جاتا ہے، فیڈ ہو جاتا ہے اور فائل بن جاتی ہے۔ یہ چھوٹی سی بات ذہن میں آگئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کی جدید تحقیقات کو سامنے رکھنا اور طلبہ کو ان سے متعارف کرانا، اس سے حدیث پر ایمان بھی بڑھے گا اور تفہیم بھی بڑھے گی۔ 
میں زیادہ لمبی بات نہیں کرتا۔ میں نے تین چار اشارے کیے ہیں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ معزز مہمانان گرامی زیادہ تفصیل سے آپ سے مخاطب ہوں۔

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے

مولانا مفتی محمد زاہد

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا۔)

میں جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب اور الشریعہ اکادمی کی پوری ٹیم کو ’’تدریسِ حدیث اور عصرِ حاضر کے تقاضے‘‘ جیسے اہم عنوان پر اس سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے اس علمی مجلس میں شرکت کر کے اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کا اعزاز بھی بخشا۔
ہمارا یقین ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ہر دور کے انسانوں کی راہ نمائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کسی بھی دورمیں اس صلاحیت کی عملی شکلیں دریافت کرنے کے لیے اسلامی احکام کے دوسرے بنیادی اور قرآن سے زیادہ مفصل سرچشمے ’’حدیث وسنت‘‘ کے درست مطالعے کی ضرورت ناقابلِ انکارہے۔ زمانے کے تقاضوں سے عہدہ برآئی کے سلسلے میں مطالعۂ حدیث کی اہمیت کاشاید سب سے پہلے بھرپور ادراک ہمارے برصغیر ہی کی ایک نام ورعلمی شخصیت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے کیا۔ ان کی نظرِ بصیرت نے یہ بھانپ لیاکہ آنے والے دورکے پڑھے لکھے اورسوچنے سمجھنے والے لوگوں کوتفہیمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ احکامِ دینیہ میں پائے جانے والے اسرار، حکم اور مصالح کو دریافت کر کے نہ صرف جزوی طور پر ہر ہر حکم کی عقلی حکمت اور عملی مصلحت کو واضح کیا جائے بلکہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کاایک نظامیاتی (Systemetic) مطالعہ کیاجائے جس سے یہ نظرآئے کہ پوری شریعت کی ایک روح ہے جوبدن کے مختلف اعضا کی طرح ہر ہرحکمِ شرعی میں موجودہے۔ بظاہراحکامِ شرعیہ کی سب سے منضبط، مدوّن اور مفصّل شکل فقہ کی کتابوں میں ملتی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے مذکورہ ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ’’حجۃ اﷲ البالغہ ‘‘کی شکل میں جو عظیم کام سرانجام دیا، اس کے بارے میں یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ اس کی بنیاد فقہِ اسلامی پر اٹھائی جائے گی، مگر شاہ صاحب نے ایسانہیں کیا، بلکہ حجۃ اﷲالبالغہ کامطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ کتاب، خاص طورپر اس کی ’’القسم الثانی‘‘ حدیث پر مبنی ہے اور شاہ صاحب نے عموماً ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کی ترتیب کو اپنایا ہے اور احکامِ شرعیہ کی جزوی حکمتیں بیان کرنے کے لیے مشکوٰۃ ہی کی احادیث کو بنیاد بنایا ہے جو آج کی طرح اُس زمانے میں بھی برّ صغیر میں حدیث کی اہم نصابی کتاب تھی۔
آج امتِ مسلمہ تہذیبی اور فکری اعتبارسے جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان کی صورتِ حال بہت حد تک دوسری اورتیسری صدی ہجری کے حالات کے مشابہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت مسلمان سیاسی طورپر فاتح، بالاتر اور غالب قوم تھے جبکہ آج معاملہ برعکس ہے۔ وہ دوربھی ایساتھاجس میں دیگر اقوام کے علوم وفنون عربی زبان میں منتقل ہو کر اپنے اثرات مرتب کررہے تھے، اور ان علوم وفنون کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے، یہ امر موضوعِ بحث بنا ہوا تھا۔ دنیا کی مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے دھارے مسلمان معاشروں میں شامل ہو کر زندگی کوایک نئی شکل دے رہے تھے، ایک متنوع معاشرے کی بنیاد رکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ بہت سے عملی اور فکری سوال پیدا کر رہے تھے۔ یہی دو صدیاں فقہ وحدیث کی تدوین کے نقطۂ عروج کی صدیاں ہیں۔ اس کے بعد کی صدیاں ۔سوائے چند استثناء ات کے۔ اسی کام کی خوشہ چینی، اس پر تقعیدو تفریع، اس کی تشریح یا اسے سہل التداول بنانے کا دور ہے۔ ہمارے ہاں فقہ اورحدیث دونوں کے معاملے میں علم اور ذہنی ساخت کے بنیادی سرچشمے اسی مؤخر دور کے ہیں۔ مثال کے طور پر ائمۂ مجتہدین نے اپنے اصولِ اجتہاد کی از خود و ضاحت بہت کم فرمائی، اس مؤخر دور میں یہ ہوا کہ ان ائمہ کے اجتہادات کا مطالعہ کرکے جو اصول ان میں کار فرما نظر آئے، انہیں مرتب ومدوّن کردیا گیا۔ یہی حال حدیث کا ہے۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی جیسی شخصیات سے حدیث کے ردّ وقبول کے جو اصول صراحتاً نقل ہوئے ہیں، انہیں شاید انگلیوں پر گنا جا سکے۔ ’’مصطلح الحدیث ‘‘ کے نام سے جو سرمایہ ہمارے پاس موجود ہے، وہ بنیادی طور پر حاکم، خطیبِ بغدادی اور ابن الصلاح جیسی شخصیات کی عطا اور ان کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہے۔ فقہ وحدیث دونوں کے حوالے سے ان مؤخر ادوار کا کام قابلِ قدر بھی ہے اور قابلِ استفادہ بھی۔ اس سے استغنا کو مجذوب کی بڑ ہی کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ دور بہرحال ابتدائی چند صدیوں کے مقابلے میں ٹھہراؤ اور ’’ٹک ٹکا‘‘ کا تھا۔ یہ چیز اس لحاظ سے مؤخر دور کے کام کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے کہ اس میں اطمینان کے ساتھ پچھلے دور کی فصل سمیٹنے بلکہ اسے صاف کر کے پیک کرنے کا موقع مل گیا، لیکن ہمیں جس دور کا سامنا ہے، وہ دوبارہ ابتدائی صدیوں کے مشابہ بلکہ تبدیلیوں کے انفجار اور explosion کا دور ہے۔ اس میں کافی حد تک ابتدائی صدیوں سے ملتے جلتے چیلنجز کا سامنا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ ان کے پاس قرآن وسنت اور متفرق آثارِ صحابہ وتابعین کی شکل میں صرف خام مال ہی تھا، ہمارے زمانے میں تیار شدہ مال بھی وافر اور پورے تنوع کے ساتھ موجود ہے، نیز اس فرق کے ساتھ کہ اس دور کے اہلِ علم کو زمانِ نبوت کے قرب اور اس کے ماحول سے ایک گونہ واقفیت کا جو فائدہ حاصل تھا، وہ آج کے دور کے لوگوں کو حاصل نہیں۔ آج کے دور میں صرف چند جزوی سوالات ومسائل ہی پیدا نہیں ہوئے بلکہ بعض بنیادی نوعیت کے اصولی سوالات بھی اس دورنے کھڑے کردیے ہیں۔ 
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فقہ وحدیث دونوں کے اندر مؤخر دور کی کاوشوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس دور میں بھی جانا ہوگا جس کے ساتھ ہمارے زمانے کی مشابہت ہے۔ یہ کام خاصا مشکل ہے، اس لیے کہ مؤخر دور کا کام پکی پکائی روٹی کی طرح ہے ، جبکہ ابتدائی قرون کی محنت وکاوش سے استفادے اور اس دور میں جاکر کام کے لیے بڑی عرق ریزی، علمی گہرائی اور خاص قسم کی پختگی اور رسوخ کی ضرورت ہے، اس لیے کسی نظامِ تعلیم کے ذریعے سب کو تو ظاہر ہے، اس معیار پر نہیں لایا جاسکتا، لیکن جب بھی ہم اپنے نظامِ تعلیم یا طرز ہاے تدریس پر بات کریں تو ہمارے پیشِ نظر یہ بات بہرحال رہنی چاہیے کہ کچھ باصلاحیت افراد ہم ایسے ضرور تیار کر لیں جو اپنی علمی زندگی کے پختگی کے مرحلے پر جا کر ضرور اس قابل ہوسکیں کہ ان کا کام محض متوسط اور آخری دور کے ذخیرہ کے فہم، اس کی تشریح اور اس کے انطباق تک محدود نہ ہو بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اور پیچھے جا کر اصولی اور بنیادی نوعیت کے پیدا ہونے والے سوالات کے سلسلے میں جو کرنے کے کام ہیں، وہ کر سکیں۔ یہ کام نازک ضرور ہے، اس میں خدشات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن کوئی بھی ضروری کام ایسا نہیں ہے جو کسی قدر خطرات مول لیے بغیر ہو سکتا ہو۔ باقی اللہ تعالیٰ نے امت کے اجتماعی ضمیر میں انٹی وائرس رکھے ہوئے ہیں جو اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔
حدیث کے موضوع پر گفتگوکرتے ہوئے تمہید میں یہ باتیں اس لیے عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ہمارے ہاں جس طرح فقہ میں بدائع اور سرخسی تو دور کی بات ہے، عالمگیریہ اور شامی سے اوپر جانے کی بعض اوقات ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، اسی طرح بعض لوگ علوم الحدیث سے متعلق بھی حاکم، خطیب اور ابن الصلاح وغیرہ کو ہی اس میدان کی کل دنیا سمجھ بیٹھے ہیں، حتیٰ کہ اس بارے میں وہ حضرات بھی مستثنیٰ نظر نہیں آتے جو عام حالات میں تقلیدی رویوّں کو ناپسند کرتے ہیں، حالانکہ بڑے بڑے محدثین کے تصحیح و تضعیف کے سلسلے میں ایسے اقوال مل جاتے ہیں جو مذکور الصدر حضرات کے مرتب کردہ اصولوں پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ مقصد خدانخواستہ کسی ایسے طرزِ عمل کی دعوت دینا نہیں ہے جو علمی اور فکری انارکی کا راستہ کھول دے۔ دینی علوم کے ہر شعبے میں تجربات کی بنیاد پر جو ڈسپلن قائم ہیں، انہیں اپنے دائرے میں قائم رہنا چاہیے، لیکن ایک دائرہ ایسا بھی ہونا ضروری ہے جہاں مذکور الصدر ضرورت کی تکمیل ہو۔ در اصل ضرورت ایجاد کی ماں ہے، ضرورت کا کام اگر اہل لوگوں کے ہاتھوں انجام نہ پائے تو نااہلوں کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے۔
عصرِحاضر کے تقاضوں کی تکمیل میں حدیث کے کردار کو مؤثر طور پر بروے کار لانے کے لیے جوبھی حکمتِ عملی وضع کی جائے گی، اس میں تدریس کاپہلو نمایاں اہمیت کاحامل ہوگا، اس لیے کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل اورکسی حکمتِ عملی سے مطلوبہ نتائج اخذکرنے کے لیے رجالِ کار کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور رجالِ کار کی تیاری میں تدریس اورطریقہ ہاے تدریس بنیادی عنصرہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں دینی مدارس کے نصاب پرتو کافی بحث ہوتی ہے، تدریس پر بات نسبتاًکم ہوتی ہے۔ آج کی مجلس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تدریس کوبنیادی موضوع بنایا گیا ہے۔ اپنی گفتگوکو مرکوز رکھنے کی خاطر یہاں صرف دینی مدارس وجامعات میں ’’تدریس حدیث‘‘ کی بات کی جائے گی، اس لیے کہ عصری جامعات کے مقابلے میں ان مدارس کی تدریسِ حدیث مواد کی مقدار، تدریس میں گہرائی اور دین کے اصل مصادر سے استفادے کے لیے درکار بنیادی صلاحیت جیسی خصوصیات کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس میں بہتری پیدا کرنے کے نتائج بھی زیادہ مؤثر اور بہتر ہو سکتے ہیں۔ دینی مدارس میں ’’تدریس حدیث‘‘ سے ہماری مراد صرف دورۂ حدیث کی تدریس نہیں ہے، بلکہ بالکل ابتدائی درجات سے لے کرتخصص فی الحدیث تک تمام درجات میں تدریس ہمارے موضوعِ بحث سے متعلق ہے، اس لیے اس گفتگو میں بعض ایسے تحقیقی کاموں کا بھی تذکرہ آجائے گا جن کی اس زمانے میں ضرورت ہے۔
(۱)
علمِ حدیث ایک بڑا وسیع کینوس رکھنے والا علم ہے جس کی کوکھ سے کئی مستقل علوم نے جنم لیا ہے اوراس میں وسعت اورپھیلاؤ کے بے شمار امکانات موجود ہیں، لیکن ہمارے ہاں اندازِتدریس کے بعض پہلو ایسے ہیں جن کی وجہ سے علمِ حدیث کی وسعت، گہرائی اوراس کے امکانات طالب علم پرواضح نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد کی زندگی میں بھی وہ اس مبارک علم میں قابلِ ذکر کام سرانجام نہیں دے پاتا۔ طرزِ تدریس کی ان خامیوں میں پہلی چیزیہ ہے کہ ہمارے ہاں عموماً درسِ حدیث کابیشتر حصہ اور پڑھانے والے کا زیادہ زور یا تو فقہی احادیث پرصرف ہوتاہے یا ان چند کلامی مباحث پر جو ایک توہمارے دورمیں مردہ ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ کئی نئی تازہ بحثوں نے لے لی ہے۔ دوسرے ان میں اختلاف بھی عموماًلفظی ہوتا ہے۔ اس طرح سے حدیث کایہ درس عملاًکچھ علمِ کلام اورکچھ الفقہ المقارن کادرس بن کر رہ جاتا ہے۔ پھراحادیثِ احکام میں بھی توجہ کامحور عبادات وغیرہ کے چند مسائل ہی رہتے ہیں۔ احادیثِ احکام کابڑا حصہ جومعاملات، سماجیات، سیاسیات، قانون، بین الاقوامی تعلقات وغیرہ سے متعلق ہے، وہ توجہ کامستحق نہیں بن پاتا۔ بعض اوقات نسبتاًکم اہمیت رکھنے والے مسئلے پر ضرورت سے کہیں زیادہ وقت صرف کیاجاتاہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات قضاے حاجت کے دوران استقبال واستدبارِ قبلہ کے مسئلے پر استاذکے کئی کئی دن صرف ہو جاتے ہیں، حالانکہ اسی میں سے کچھ وقت بچا کر اسے اس سے اہم کسی مسئلے پر صرف کیا جا سکتا تھا۔ پھر گفتگو کا انداز بھی کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ حنفی، شافعی (مثلاً) دو مدمقابل پارٹیاں برسرِپیکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں طالب علم کے اندر بحث وتحقیق کا صحت مند رجحان پروان چڑھنے اور علمی منہجِ تحقیق کانمونہ سامنے آنے کی بجائے اس کی شخصیت میں مناظرانہ اندازکے ایسے بیج بو دیے جاتے ہیں جو بعض اوقات زندگی بھر اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے، اوراس سے طالب علم کی علمی شخصیت ہمیشہ کے لیے تباہ ہوجاتی ہے یاکم افادیت کی حامل رہ جاتی ہے، حالانکہ جن ائمہ اوربزرگوں کی تائیدیا اتباع میں بظاہر ایسا کیا جاتا ہے، خود ان کا اپنا طرزِ عمل یہ نہیں تھا۔ ان ائمہ کی بات توبہت دورکی ہے، ماضی قریب کی معروف علمی شخصیت شیخ الہندمولانا محمود حسن ؒ کا جوطرزِ عمل ان کے شاگرد مولانا مناظراحسن گیلانی نے اپنی چشم دیدگواہی کی بنیاد پر لکھاہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ یہ بات تو اہلِ علم جانتے ہی ہیں کہ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا یعقوب نانوتوی اورشیخ الہند مولانا محمود حسن وغیرہ کے درسِ حدیث میں اس طرح سے تقریریں نہیں ہوتی تھیں جیسے آج کل ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ سے شروع ہوا۔ شاہ صاحب علم کا بحر زخار تھے، جو موضوع چل پڑتا، اس پر علم کا بند کھل جاتا۔ بعد میں ہم جیسے لوگوں نے یہی کام بتکلف شروع کردیا۔ بہرحال اسی سلسلے میں مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ شیخ الہند کا یہی طرزِ اختصار نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’جب کوئی ایسی حدیث آجاتی جو بظاہر مفہوم کے لحاظ سے قطعی طور پر حنفی مذہب کے خلاف ہوتی اور پڑھنے والا طالب علم خود رک کر دریافت کرتایا دوسرے طلبہ پوچھتے ’’حضرت یہ حدیث تو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے قطعاً خلاف ہے ‘‘ جواب میں مسکراتے ہوئے بے ساختہ شیخ الہندؒ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکلتے، ’’ خلاف تو ہے بھائی! میں کیا کروں؟ہاں آگے چلیے۔ ‘‘ (مولانا مناظر احسن گیلانی : ص ۱۱۸، مکتبہ عمر فاروق کراچی)
بظاہر کہنے کامقصدیہ تھاکہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اجتہادی اختلافی مسائل میں تو ایسا ہوتا ہی ہے کر ہر فریق کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور ہر فریق کی دلیل بظاہر دوسرے فریق کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے ایسے مسائل میں یہ توقع رکھناکہ ہمارے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، کامطلب یہ بنتاہے کہ دلیل صرف ہمارے پاس ہو، دوسرے فریق کے پاس نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اس مسئلے میں اختلاف ہی کیوں ہوتا۔
تدریس کا یہ طرزِ عمل جو حدیث کے لیے مختص وقت اور صلاحیتوں کا بڑاحصہ چوس جاتا ہے، درحقیقت درس گاہ سے باہر کے بعض عوامل کانتیجہ ہے۔ اصل معرکہ کہیں اور بپا ہوتا ہے، لیکن ہرفریق کی درس گاہیں اس معرکے کے لیے اسلحہ ساز فیکٹریاں اور فوجی ٹریننگ کے ادارے بن جاتے ہیں۔ ہوا یوں ہے کہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد متعدد علاقوں میں جاکر کبارِ صحابہ اورفقہاے صحابہ میں سے بڑی شخصیات آباد ہوگئیں جنہوں نے وہاں عملی طورپر بھی لوگوں کودین سکھایا جیساکہ انہوں نے حضورِاقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھااورعلمی طورپربھی بہت سے شاگرد تیارکیے جن سے آگے فیض پھیلا۔ ان فیض یافتگاں میں بڑے بڑے فقہا بھی شامل تھے۔ یوں مصر، شام، عراق اورحجاز وغیرہ میں دین پر عمل کی مختلف شکلیں رائج ہوگئیں اورتعلیم وتعلّم کے مستقل سلسلے قائم ہوگئے۔ بنیادی طورپر یہی چیز آگے چل کراختلافاتِ فقہا کی ایک اہم بنیاد بنی۔ دین پرعمل اورفقہی آرا میں یہ تنوّع حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے دور تک کھل کر سامنے آچکا تھا۔ صدیق اکبرؓکے پوتے قاسم بن محمدؒ نے جب اس تمنا کااظہار کیاکہ کاش یہ اختلاف نہ ہوتاتوعمربن عبدالعزیزؒ نے انہیں ٹوکتے ہوئے فرمایاکہ مجھے سرخ اونٹوں کالالچ دیا جائے، تب بھی میں اس اختلاف کے نہ ہونے کی کبھی تمنا اورآرزونہیں کروں گا،اس لیے کہ اس سے امت کے لیے وسعت پیداہوتی ہے۔ ( ابن عبد البر جامع بیان العلم وفضلہ ۲/۸۰ المکتبۃ العلمیۃ المدینۃ المنورۃ) آج مغربی دنیااپنے ہاں کے تنوع اور Pluralism پر بڑا ناز کرتی ہے، لیکن تنوع کے حسن کوسب سے پہلے ان فقہا نے اسلامی تعلیمات سے سمجھا ہے۔ عمربن عبدالعزیز ؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سرکاری مراسلے کے ذریعے تدوینِ حدیث کاکام شروع کرایاتھا اورمتعدد جلیل القدر محدثین نے ان کے فرمان کے مطابق حدیث کے مجموعے تیاربھی کیے تھے۔ اگرحدیث کے کسی مجموعے کایہ مصرف ہوتاکہ اس کوبنیاد بناکرپہلے سے چلے آرہے فقہی تنوع کوختم کیا جائے توعمربن عبدالعزیزؒ یہ حکم جاری کرتے کہ میرے تیار کرائے ہوئے ان مجموعوں کوحَکم اورفیصل مان کر جوبات اس میں نہ ہو، اسے ردّ کردیاجائے۔ لیکن انہوں نے نہ صرف ایسانہیں کیابلکہ اس کے برعکس اپنی خلافت کے زیرِ نگیں تمام بلاد وامصار میں یہ مراسلہ لکھوایا کہ ہرعلاقے کے فقہا جس چیز پر مجتمع ہوں، اس علاقے میں اسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ (سنن الدارمی حدیث نمبر : ۶۴۱ باب اختلاف الفقہاء)
تدوینِ حدیث ہی کے سلسلے میں ایک بڑا نام امام مالکؒ کا ہے۔ ان کی ’’الموطا‘‘ کو بجا طور پر صحاحِ ستہ کی ماں کہا جاتا ہے۔ ان کے سامنے بھی خلیفۂ وقت کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی کہ موطا کوبطورِقانون خلافت کے زیرِنگیں تمام علاقوں میں نافذ کرکے لوگوں اس پرعمل کاپابند کر دیاجائے،لیکن امام مالکؒ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایاکہ لوگوں تک پہلے بہت سی باتیں پہنچ چکی ہیں، صحابہ کے اقوال میں سے جو باتیں ان تک پہلے پہنچ چکی ہیں، ان کی پیروی وہ اختیار کرچکے ہیں۔ اب جن چیزوں کووہ اپنا چکے ،ہیں ان سے انہیں روکنا بڑاگراں امرہوگا، اس لیے لوگوں کواپنی حالت پرہی رہنے دیجیے اور ہرخطے کے لوگوں نے اپنے لیے جس راہِ عمل کواختیار کرلیاہے، اسے یونہی رہنے دیجیے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز اور امام مالک کے اس طرزِ عمل میں دعوتی کام کرنے والوں کے لیے ایک بڑا سبق یہ مضمر ہے کہ جس علاقے میں لوگوں کی دین کے حوالے سے کسی شخصیت یا شخصیات سے وابستگی پیدا ہو چکی ہو، اس پر زد لگانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ دعوتی کام کرنے والوں سے بسا اوقات یہ غلطی ہو جاتی ہے کہ کسی خطے میں جاتے ہی وہاں پہلے سے موجود دینی وابستگی پرہتھوڑا چلا دیتے ہیں جس سے ایک خلا پیدا ہو جاتاہے جو بعض اوقات بہت خطرناک ثابت ہوتاہے۔ 
کہنے کامقصدیہ ہے کہ علمِ حدیث جیسے مبارک اورتوسع وتنوع رکھنے والے علم کاآخری دور میں یہ بڑاعجیب وغریب مصرف نکالاگیاہے کہ اسے فقہی کشتی کاایک میدان بنالیاگیا اورایک دوسرے کاسرکچلنے کے لیے اس سے ہتھوڑے کاکام لیاجانے لگا ہے۔ یہ بات میں کسی خاص مکتبِ فکر کے بارے میں نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً تمام مکاتبِ فکر میں اس طرح کے رویّے موجود ہیں، اور یہ وبا پاکستان یا برّ صغیر کے ساتھ بھی خاص نہیں ہے، بلکہ عرب دنیا کی کئی یونیورسٹیوں خصوصاً بعض برادر ملکوں کی مذہبی چھاپ رکھنے والی یونیورسٹیوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اگرحدیث کی کتابت وتدوین کا یا کسی حدیثی مجموعے یامجموعوں کا یہی مصرف ہوتاتو سب سے پہلے یہ کام اس شعبے کے مجددعمربن عبدالعزیزؒ کرتے، محدثین کے سرتاج امام مالک کرتے، جن کے موطا کو ایک وقت تک اصح الکتب کہاگیا، امام بخاری کرتے جن کی کتاب کو اصح الکتب بعدکتاب اللہ کالقب دیاگیا، صحاحِ ستہ کے دیگرمؤلفین کرتے جن کے مجموعوں کوامت میں سب سے زیادہ تداول حاصل ہوا۔ لیکن علمی دنیاجانتی ہے کہ فقہی استنباطات واستدلالات کے لیے ان مجموعوں سے استفادہ توضرورکیاگیالیکن فقہی اختلافات کے مکمل تصفیے اورآخری وحتمی فیصلے کے لیے انہیں استعمال نہیں کیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے ایک سے بڑھ کر ایک مجموعے سامنے آتے رہے اورفنی مقبولیت حاصل کرتے رہے، لیکن فقہی اورعملی دنیا جوں کی توں رہی، اس میں کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوا۔ آج ہم اگریہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ اسلام زمانے کے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے، ہر دن کاسورج جوبے شمار نئے سوالات لے کر نکلتا اور نہ معلوم کتنے سوالات چھوڑکر غروب ہوتا ہے، ان کے قابلِ عمل جوابات اگرہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکے سامنے پیش کرناچاہتے ہیں جس کی دنیا واقعی پیاسی ہے اورہمہ پہلوعالمی بحرانوں نے اس عظیم کام کے لیے لوہاگرم کر دیا ہے اوردنیا کی سوالیہ نظروں کے سامنے اسلام کا معتدل اورمتوازن متبادل پیش کرنے کا بہترین موقع ہے، امت مسلمہ کے کندھوں پرپڑی ہوئی اس انسانی ذمہ داری سے ہم عہدہ برآہوناچاہتے ہیں توقرآن کے ساتھ ساتھ ہمیں حدیث کاوسیع ترین تناظر میں مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس مقصدکے لیے ہمیں اپنے اس طرزِعمل پر نظرثانی کرنا ہوگی جس کے تحت حدیث کے علم کو ایک توہم نے چند ابواب تک محدود کر دیا ہے، دوسرے اس کو ایسے مصرف میں استعمال کرنے لگے ہیں جو قرونِ اولیٰ کے محدثین کوکبھی نہیں سوجھا تھا۔ یہاں سے ہم اپنی توانائیوں کوبچانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس بچت کی، حدیث کے حوالے سے زیادہ نفع بخش جگہوں پرسرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔
میرایہ مقصدنہیں ہے کہ درسِ حدیث میں فقہا کے اقوال اوران کے مستدلات زیرِِ بحث نہیں آنے چاہییں،بلکہ مقصدصرف یہ ہے کہ فقہی اختلاف کی جو حیثیت سلف میں متعارف تھی، وہ ذہنوں میں واضح رہے اوران فقہی مباحث کا مقصد ہار جیت نہ ہو بلکہ مقصد محض فقہا کے مدارک کو جاننا اور یہ معلوم کرنا ہو کہ ایک ہی موضوع پر وارد مختلف احادیث کو کن کن فقہا نے کس طرح سمجھا اوران سے کیسے استدلال واستنباط کیا۔ اندازِفکروبیان کی اس تبدیلی سے یہی بحثیں طلبہ کے لیے ایساتطبیقی اور تمرینی مواد بن سکتی ہیں جس کے ذریعے ان میں نئے مسائل کا حل حدیث سے نکالنے کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔
(۲)
قرآن کریم کی طرح حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک حدیث بظاہر جس باب یاموضوع سے متعلق نظرآرہی ہوتی ہے، وہ درحقیقت صرف اسی کے بارے میں راہ نمائی نہیں کررہی ہوتی بلکہ اس کے علاوہ بھی زندگی کے کئی شعبوں اورپہلوؤں کے حکم کے بارے میں اس سے اصولی یافرعی روشنی حاصل ہورہی ہوتی ہے۔ اس کی ایک اہم مثال وہ حدیثِ مبارک ہے جس میں آتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عمیرنامی ایک بچے کاپالتوپرندہ مرجانے پراس سے فرمایا تھا: یا أبا عمیر ما فعل النغیر۔ بظاہرایک عام سی بات ہے جوحضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی دلداری کے لیے ارشادفرمائی تھی، لیکن اپنے کئی بزرگوں سے سنا (فوری طور پر حوالہ نہیں مل سکا، اگر کوئی صاحب حوالے سے مطلع فرما دیں توکرم ہوگا) کہ امام شافعیؒ نے ایک ہی رات میں لیٹے لیٹے اس حدیث سے بڑی تعدادمیں مسائل کااستنباط فرمایا۔ چوتھی صدی ہجری کے ایک بزرگ ابن القاص الطبری نے اس حدیث سے مستنبط ہونے والے مسائل پرباقاعدہ ایک رسالہ لکھا جس کاکافی حصہ ابنِ حجر نے فتح الباری میں اپنی طرف سے اضافات کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ ابن القاص الطبری نے اس رسالے کی وجہِ تالیف ہی یہ بتائی ہے کہ بعض لوگ محدثین پراعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی ایسی باتیں نقل کردیتے ہیں جن کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ( فتح الباری : کتاب الأدب : باب الکنیۃ للصبی)۔ انہوں نے اس حدیث کوایک مثال بناکریہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بظاہر معمولی نظرآنی والے بات بھی رشدوہدایت کاسرچشمہ ہوتی ہے۔
حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کامظہر وہ مشہور واقعہ بھی ہے جسے خطیب بغدادی نے اپنی کتاب ’’الفقیہ والمتفقہ‘‘ میں اور ابن عبدالبرنے ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں اپنی اپنی سند سے نقل کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اورامام اعمش کی موجودگی میں کوئی فقہی سوال زیربحث آتاتوامام ابو حنیفہ اس کاحکم بیان فرماتے۔ امام اعمش دلیل پوچھتے توامام ابوحنیفہ فرماتے کہ اس کی دلیل فلاں حدیث ہے جوآپ نے ہمارے سامنے اپنے فلاں شیخ کی سند کے ساتھ روایت کی تھی اورفلاں حدیث ہے جو آپ نے فلاں شیخ سے روایت کی تھی۔ (یادرہے کہ اعمش حدیث میں امام ابو حنیفہ کے شیخ ہیں)گویاوہ حدیث بظاہر جس موضوع سے متعلق نظرآرہی ہوتی، امام ابوحنیفہ اس سے ہٹ کر بھی اس سے مسائل مستنبط فرماتے جن کی طرف خوداعمش کاذہن منتقل نہ ہوا ہوتا۔ اس پر اعمش فرماتے ہیں: یامعشرالفقہاء أنتم الأطباء ونحن الصیادلۃ۔ یعنی ہم محدثین کی حیثیت پنساری اورادویات کے سٹاکسٹ کی ہے اورتم فقہا کی حیثیت طبیب کی ہے جوجانتاہے کہ کون سی دوائی کہاں کہاں اور کیسے استعمال ہوسکتی ہے۔ (خطیبِ بغدادی :الفقیہ والمتفقہ ۲/۱۶۴ دار ابن الجوزی السعودیہ ۱۴۲۱ھ ، ابن عبد البر : جامع بیان العلم وفضلہ ۲/۱۳۱ باب ماذکرمن ذم الاکثار من الحدیث دون التفہم والتفقہ فیہ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۳۹۸ھ)
محدثین کے طبقے میں امام بخاریؒ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے حدیثِ نبوی کے اس اہم پہلو کواپنے منہجِ تالیف کاباقاعدہ ایک حصہ بناکر اپنے قاری کے اندرطبابت کی یہ شان پیداکرنے کی کوشش کی ہے ۔چنانچہ وہ ایک ہی حدیث مختلف جگہوں پرمختلف عنوانات کے تحت روایت کرتے ہیں، بعض مواقع پراستدلال کے لیے صریح اورواضح طورپر متعلقہ حدیث کوچھوڑکر بظاہر بالکل غیرمتعلقہ باب کی حدیث لے آتے ہیں۔ اس طریقے سے وہ حدیث کی زرخیزی، زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں راہ نمائی کے لیے اس کے امکانات (Potential) کو اپنے قاری کے ذہن میں راسخ کرنا اور اسے اس کے استعمال کا عادی بناناچاہتے ہیں۔
ہمارے قریب زمانے کے محدثین میں حضرت مولانابدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ کے اندراللہ تعالیٰ نے امام بخاریؒ والی صلاحیت بطورِ خاص ودیعت فرمائی تھی جس کاسب سے زیادہ مظاہر ہ ان کی کتاب ’’ترجمان السنۃ‘‘میں ہواہے۔ اس میں انہوں نے یہ کام کیاہے کہ ان کے دورمیں جو فکری واعتقادی مسائل لکھے پڑھے حلقوں میں زیر گردش تھے، ان کے جوابات حدیث کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ،اوراس سلسلے میں انہوں نے اپنامواد کتبِ حدیث کے صرف کتاب الایمان وغیرہ سے حاصل نہیں کیا، بلکہ پورے ذخیرۂ حدیث سے چھان چھان کر حاصل کیاہے۔ عنوان وہ اپنے زمانے کے پیداشدہ سوالات سے لیتے ہیں اوراس کے تحت حدیث ایسی جگہ اور ایسے باب سے لاتے ہیں جس کی طرف عام قاری تو کجا، حدیث سے مزاولت رکھنے والوں کا ذہن بھی اس طرف منتقل نہیں ہو پاتا، لیکن جب اس حدیث کواس سوال اور عنوان کے تحت دیکھتے ہیں توبلاتکلف اس سے اس سوال کاجواب مل رہا ہوتا ہے۔
آج کے دورنے جو معاشی، سیاسی، قانونی، بین الاقوامی امورسے لے کر خاندانی اورنجی زندگی تک کے بارے میں عملی اورفکری سوالات پیدا کر دیے ہیں، ان کے جوابات کے لیے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صلاحیت اورزرخیزی سے فائدہ اٹھایا جاناضروری ہے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے تدریسی نظام میں شعوری طورپر اس بات کی کوشش کریں کہ طلبہ کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو۔ اس مقصدکے لیے ہمیں چندکام کرنا ہوں گے:
(۱) ہمارے دینی مدارس میں آخری دودرجے ایسے ہوتے ہیں جن میں حدیث کی تدریس نقطۂ عروج تک پہنچ جاتی ہے۔ طالب علم کے ان تک پہنچنے سے پہلے پہلے عصرِحاضر میں اٹھنے والے سوالات بالخصوص سوشل سائنسزسے متعلق سوالات سے مناسب حدتک آگاہی ہو جانی چاہیے۔ اول تو وفاق المدارس کو اس سلسلے میں سوچناچاہیے اوروہ اگرایسانہیں کرپاتاتوکم ازکم بڑے جامعات اس سلسلے میں اپنے طورپر قدم اٹھا سکتے ہیں، خاص طورپر ان سالوں میں جن کا امتحان وفاق لیتاہے۔ ہر مرحلے کے پہلے سال کاامتحان ابھی تک وفاق نہیں لے رہا۔ اس کے برقرار رہنے کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ اس طرح سے چنداداروں کی سطح پرسہی، اس طرح کے انتظامات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جب تک طالب علم موجودہ دورکے سوالات اوران کے فکری اورتہذیبی پس منظر سے ہی آگاہ نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کے موضوعات سے متعلقہ لب ولہجے سے واقف نہیں ہوگا، اس وقت تک اگلاکام ناممکن تو نہیں، خاصامشکل ضرور ہو جائے گا۔ ایک ریاست میں فرد کی کیا حیثیت ہونی چاہیے، فرد اور ریاست کے حقوق کن بنیادوں پراستوارہونے چاہییں، معاہدۂ عمرانی کیا ہوتا ہے اوراسلام کانقطۂ نظران کے بارے میں کیا ہے، طلب ورسد کی قوتیں کیا ہیں اور معیشت کوکس حدتک ان کے رحم وکرم پر چھوڑا جا سکتا ہے، دولت کی پیدایش اورتقسیم میں ریاست کا کردار کیا ہونا چاہیے، زر کی زمانی قدر (Time value of money) کس حدتک قابل اعتبار ہے، اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن سے اور ان کے پس منظرسے ہمارا طالب علم آگاہ نہیں ہوتا، حالانکہ اس طرح کے کئی سوالات کے صرف عنوانات نئے ہوتے ہیں، وگر نہ قدیم فقہا ومتکلمین کے ہاں وہ بحثیں موجود ہوتی ہیں۔ اگرطالب علم ان چیزوں سے کسی قدر واقف ہو چکا ہو تو حدیث کی روشنی میں ان موضوعات پر اس کے سامنے بات کرنا کافی آسان ہو سکتاہے، بلکہ ذہین طالب علم توبہت سے سوالات کے جوابات توخود ہی حاصل کرلے گا۔
(۲) اساتذۂ کرام درسِ حدیث کے دوران موقع بموقع طلبہ کو بتاتے رہیں کہ کون سی حدیث کس طرح عصرِحاضر سے تعلق رکھنے والے فلاں مسئلے پر روشنی ڈال رہی ہے۔ مثلاًآج بہت سے مسلمان ایسے ممالک میںآباد ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں، انہیں وہاں کے عرف، رواج اور نظام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرناچاہیے؟ کیابالکلیہ وہاں کے نظام کو مستردکرکے اس کے خلاف بغاوت کرکے انارکی پیدا کردینی چاہیے اور پہلے سے چلے آنے والے ڈھانچے کو کہہ دینا چاہیے کہ اگر ہم نہیں تو تم بھی نہیں، کیا اسے بالکل تلپٹ کرکے خلا پیدا کر دینا چاہیے یاکوئی اورراستہ بھی ہوسکتاہے؟مکی دورکی احادیث، اسی طرح سے ان صحابہ کے بارے میں احادیث سے جوکسی دینی مصلحت کے تحت مستضعفین میں سے ہونے کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے، اس پر روشنی پڑسکتی ہے۔ لیلۃ العقبہ اوربیعۃ العقبہ سے متعلق جہاں کہیں احادیث آتی ہیں، وہاں طلبہ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں جوسب سے پہلی ریاست قائم فرمائی ہے، وہ کسی عسکری انقلاب پرمبنی نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد دو معاہدوں پر تھی۔ سب سے پہلا اوراساسی معاہدہ تویہی بیعت عقبہ ہے جس کے ایک فریق تواوس وخزرج کے مختلف خاندانوں کے نمائندہ حضرات تھے اوردوسرا فریق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اس معاہدے کے محرک اول بھی اوس وخزرج ہی تھے۔ طلبہ کی توجہ ہم صحیح بخاری ہی میں مروی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کی طرف بھی مبذول کراسکتے ہیں جس میں وہ بتلاتی ہیں کہ ان کی باہمی جنگوں کے ذریعے درحقیقت اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راہ ہموار کی تھی کہ ان میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور قیادت کا خلا پیدا ہو چکا تھا اور جنگوں سے تنگ آکر مشترکہ قیادت کی ضرورت کا احساس بھی پیدا ہو چکا تھا۔ اس ضرورت کی تکمیل کے امکانات بھی انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آرہے تھے۔ دوسرااہم معاہدہ ’’میثاقِ مدینہ‘‘ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد فرمایا اور اس کے ذریعے دیگرکئی قبائل بھی اس ریاست کاحصہ بن گئے۔ ریاستِ مدینہ کی اساس کے بارے میں یہ بنیادی بات اگرذہن میں بیٹھ جائے تودوسرے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اوریہ بات کئی جگہوں پرکام دے سکتی ہے۔ یہ تومحض ایک مثال ہے، مزید مثالیں عرض کی جائیں تو بات کافی لمبی ہو جائے گی۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں جہاں جس حدیث سے عصرِ حاضر کے کسی مسئلے پرروشنی پڑتی ہو، طلبہ کی اس طرف توجہ مبذول کرائی جائے، اور جہاں ضرورت ہو، وہاں متعلقہ سوال اور بحث کے پس منظر سے بھی انہیںآگاہ کیا جائے۔ اس طرح ان کے اندر مزید فکر واستنباط کی صلاحیت پروان چڑھے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاق کاامتحان دینے والے طلبہ کی خاطر امتحانی نقطۂ نظراس طرزِتدریس میں مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے، اس لیے جب تک وفاق اس پہلوسے مناسب فیصلے نہیں کر پاتا، جہاں تک ممکن ہواس حد تک تویہ کام کرنا چاہیے۔
(۳) ہمارے مدارس میں دورۂ حدیث شریف میں ایک مرحلہ کتبِ حدیث کے سرد اور تلاوت کاہوتا ہے۔ اس طرز کے حق اور مخالفت میں مختلف دلائل دیے جاتے ہیں، یہاں ان سے بحث مقصود نہیں۔ یہاں یہ عرض کرنا مقصودہے کہ اگریہ طریقہ جاری رکھنا ہوتواس کامقصدکتابیں ختم کرنے کی رسمی کارروائی نہ ہو، بلکہ اسے سرسری سہی، اجتماعی مطالعۂ حدیث میں تبدیل کیا جائے۔ طلبہ سے کہاجائے کہ وہ درس کے ا س دورانیے کواہمیت دیں ،متیقظ ہو کر بیٹھیں، کاغذ یا نوٹ بک اور قلم، ترجیحاًکچی پنسل ساتھ لے کر بیٹھیں،مختلف احادیث جومختلف جگہوں میں گزری ہیں، ان میں جو فرق محسوس ہو، اسے نشان زد کریں، جہاں احادیث ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہوں، انہیں نشان زدکریں، جہاں بعض طرق کے بعض الفاظ حدیث کی مختلف تشریحوں میں سے کسی خاص تشریح کی تائید کر رہے ہوں یا نئی تشریح یا توجیہ وغیرہ کی طرف آپ کا ذہن منتقل کر رہے ہوں، انہیں خواہ اشارے ہی کے درجے میں ہو، نوٹ کریں۔ دورانِ تلاوت، حدیث سے جو نیا استنباط، خاص طور پر جو حدیث کے متعلقہ باب سے بظاہر ہٹ کر ہو، اسے نوٹ کریں۔ کسی بھی کتاب کے انفرادی مطالعے اور اس کی سرد وتلاوت میں ایک فرق یہ ہے کہ انفرادی مطالعے میں حواس ظاہرہ میں سے صرف آنکھیں استعمال ہو رہی ہوتی ہیں اور یہاں آنکھوں کے ساتھ کان بھی استعمال ہو رہے ہوتے ہیں، اس لیے کہ ایک طالب علم پڑھ رہا ہوتا ہے اورباقی سن رہے ہوتے ہیں، اور تعلیم کے عمل میں جتنے زیادہ حواس بیک وقت استعمال رہے ہوں، وہ اتنی ہی مؤثر ہوتی ہے۔ اس لیے سردوتلاوت کے اس مرحلے سے بہت سے مفید کام لیے جاسکتے ہیں، بالخصوص ذی استعداد طلبہ کے حوالے سے۔ مثلاًایک مخصوص دورانیے مثلاًایک ہفتے یاایک مہینے کے درمیان ہم ان میں مقابلہ کراسکتے ہیں کہ دورانِ تلاوت کون اس طرح کی چیزوں کو زیادہ نوٹ کر سکتا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی بھی کی جا سکتی ہے۔
(۳)
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بہت بڑا کردار بلکہ شاید سب سے اہم کردار عام لوگوں کی نجی، گھریلو، معاشرتی، روحانی زندگی وغیرہ میں راہ نمائی اوران کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے۔ آج کامسلمان اپنی زندگی کے ہرشعبے میں دین سے جتنادورہوچکاہے بلکہ دین کے بہت سے شعبوں میں بنیادی شعورتک موجود نہیں ہے، اس سب کامداواحدیث کے فیض کوعام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ اس معاملے میں درسِ حدیث وغیرہ کی تاثیر درسِ قرآن سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ محدثینِ کرام نے بجاطورپر کہاہے کہ حدیث نبوی میں اشتغال ایک گونہ صحبت نبوی سے مستفید ہوناہے۔ عامۃ الناس کی اصلاح وارشاد کے لیے حدیث کے حوالے سے جوبات ہوگی، اس پر بھی ان شاء اللہ یہ بات صادق آئے گی۔ تجربہ یہی ہے کہ حدیث کے حوالے سے خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی واقعات کے حوالے سے جو بات کی جائے، اس سے نہ صرف راہ نمائی ملتی ہے بلکہ عمل کاجذبہ اورداعیہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال تبلیغی جماعت اور فضائلِ اعمال سے دی جا سکتی ہے۔ جن جن اعمال کے بارے میں اس کتاب کے ذریعے حدیثیں سنی اور سنائی جاتی ہیں، وہ بہرحال ان میں کافی حدتک راسخ ہوچکے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے تدریسِ حدیث کے باقاعدہ اور مقصودی اہداف میں یہ بات شامل ہونی چاہیے کہ طلبہ کو اس کام کے لیے تیار کیا جائے۔ اس کے لیے یہاں چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
احادیث کاوہ حصہ جو زہد، رقاق، آداب اور عام اخلاقی وعملی زندگی سے تعلق رکھتاہے، تدریس میں اسے بھی خاطرخواہ اہمیت دی جائے، انہیں آسان ابواب سمجھ کر روا روی میں گزارنے کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ ویسے توپوری حدیث بلکہ ہرفن کی تدریس میں تطبیقی پہلو بڑا اہم ہوتاہے تاکہ پڑھنے والوں کو پتا چلے کہ یہ باتیں کہاں کیسے منطبق ہوں گی، لیکن خاص طورپر ان احادیث کا ہماری جیتی جاگتی زندگی کے ساتھ ربط اورجوڑ واضح کر کے دکھایا جائے تاکہ وہ عامۃ الناس کے سامنے اسی اندازسے حدیث نبوی علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والتسلیم کو پیش کر سکیں۔
آج زندگی کو منضبط کرنے اور اسے کامیاب بنانے کے گرایک مستقل فن بن چکاہے جس پر مختلف معیاروں کی بے شمار کتابیں مارکیٹ میں آرہی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر میں نفسیات کے علم سے استفادہ کیا گیا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں اس حوالے سے اتنا مواد موجود ہے کہ اسے بنیاد بنا کر اس طرح کے موضوعات پرکتابوں کی پوری ایک سیریز تیارکی جاسکتی ہے۔ مثال کے طورپرمشکوٰۃ شریف کے ’’باب الحذروالتأنی فی الأمور‘‘ کی حدیثوں کوہم دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح توکل، تسلیم ورضا، حسدوغیرہ سے متعلق احادیث کو بالخصوص صوفیہ کی تشریح کے ساتھ دیکھاجائے توہمارے بہت سے نفسیاتی مسائل اور رویوّں کے بحران کا، جو جگہ جگہ کامیابی کی راہ میں ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بن جاتے ہیں، حل مل سکتاہے۔ غصہ انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسے کنٹرول کرناضروری ہوتا ہے۔ غصے کو کنٹرول کیسے کیاجائے، آج یہ نفسیات کااہم موضوع توہے ہی، اسے انتظامی علوم (Management Sciences)کے نصابات میں بھی جگہ ملنے لگی ہے۔ دنیاکواس موضوع کی اہمیت کاآج احساس ہواہے۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس حوالے سے چودہ صدیاں پہلے خاصا مواد موجود ہے اور اس سلسلے میں بہت ہی قیمتی اورکارگرگُربتائے گئے ہیں۔ گھروں اور اداروں وغیرہ میں باہمی اعتماد کے مسائل کیسے پیدا ہوتے اور وہ کس طرح نقصان پہنچاتے ہیں اوران سے بچنے اورنمٹنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے، حسنِ ظن، سوءِ ظن، نمیمہ (چغل خوری) سنی سنائی بات آگے چلانا، باہمی مشاورت وغیرہ موضوعات کی حدیثوں میں اس کے بارے میں بہت سے شاندار اصول ملتے ہیں۔ گھریلوزندگی بالخصوص زوجین کے تعلقات توحدیث کاایک اہم موضوع ہیں جس پر احادیث کی کافی زیادہ تعداد موجودہے۔ مثال کے طورپر اس حوالے سے ایک قرآنی آیت ہے کہ ’عسی أن تکرہوا شیئا ویجعل اﷲ فیہ خیراکثیرا‘ (النساء : ۱۹ ) ’’ہوسکتاہے تم ان کی کسی بات کوناپسند کرواوراللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسی میں بڑی خیر رکھی ہو۔‘‘ اسی طرح حدیث نبوی میں ہے کہ ’لایفرک مؤمن مؤمنۃ إن کرہ منہا خلقارضی منہا آخر‘ (صحیح مسلم، کتاب الرضاع : باب الوصیۃ بالنساء) ’’کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے نفرت کارویہ اختیارنہ کرے، ہوسکتاہے اس کی کوئی ایک بات اسے ناپسند ہوتودوسری پسندیدہ بات بھی اس میں موجود ہو۔‘‘ انہی دونصوص کولے لیاجائے تونہ معلوم کتنے مسائل حل ہوسکتے اور تعلقات کے کتنے بحران ختم ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ ان میں یہ بتایاگیاہے کہ ایثاروہمدردی کے ساتھ برداشت کرنے کے اعلیٰ اصول کونہ بھی اپنانا ہو اور اپنے مفاد اور غرض ہی کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہو، تب بھی تجزیہ بہرحال حقیقت پسندانہ اور عملیت پسندانہ ہونا چاہیے۔
یہ تومحض چند مثالیں ہیں، وگرنہ کتنی حدیثیں ہیں جن کا ہماری روزمرہ کی زندگی کی الجھی ڈوروں کے ساتھ بڑاگہراتعلق ہے، لیکن یہ احادیث تونہ ہماری تدریسی دنیامیں اجاگر اورہائی لائٹ ہوتی ہیں اور نہ ہی وعظ ونصیحت کی دنیامیں، اس لیے ہماری تدریس حدیث میں اس بات کی کوشش ہونی چاہیے کہ طلبہ کے اندر اس طرح کی احادیث کوسمجھنے ان سے نتائج اخذ کرنے اورانہیں تطبیقی اندازسے بیان کرنے کی صلاحیت پیداہو۔
دین اورانسانیت کی جو بہت اعلیٰ اخلاقی قدریں ہیں، جیسے سچائی، دیانت وامانت، عہد کی پاس داری، دھوکا نہ دینا، اکل اموال الناس بالباطل سے احتراز وغیرہ، ان کے بارے میں قولی احادیث بھی موجود ہیں اورسیرتِ طیبہ میں ایسی مثالیں بھی موجودہیں جن سے پتاچلتاہے کہ ان اقدار کی خاطر بڑی بڑی مصلحتوں کو قربان کیاجاسکتاہے۔ اس کی ایک واضح مثال حدیبیہ کے معاہدے کی پاس داری کاوہ اندازہے جوحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل اور ابوبصیر کے بارے میں اختیار فرمایا۔ آج بدقسمتی ہے یہودیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی ایسے رویّے رواج پارہے ہیں کہ محض معمولی تاویلوں اور حیلوں سے ان بنیادی اصول واقدار میں لچک پیداکرلی جاتی ہے۔ ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جوخیرسے پیشاب کا تو باریک سا چھینٹا بھی بدن یا کپڑوں پر گوارا کرنے کے لیے تیارنہیں ہوتے، لیکن دھوکا، فریب، حق تلفی کے جوازکے لیے معمولی تاویل بھی کافی ہوجاتی ہے۔ جب حدیث کی تدریس میں اعلیٰ اخلاقی قدروں کی اہمیت کے یہ پہلو اجاگر ہوں گے تو انہی طلبہ کے ذریعے، جوکل کے دینی راہ نما ہیں، یہ باتیں عام مسلمانوں تک بھی پہنچیں گی۔
حدیث کے عملی اور اخلاقی پیغام کو لوگوں تک پہنچانے اور اس کی تخم ریزی میں زبان وبیان کامسئلہ بھی بڑااہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اس زبان اور لہجے میں بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جسے عام آدمی سمجھ سکے۔ ہمارے ہاں کم وبیش آٹھ سال کے دوران طالب علم جس زبان سے آشنا ہوتا اور استعمال کا عادی ہوتا ہے، اس سے یاتووہ لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو بہت عرصے سے علما کے ماحول سے وابستہ ہیں یا ایک محدود طبقہ جوخاص قسم کی تقریریں سننے کا عادی ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ لوگوں تک ان کی زبان اورلب ولہجے کے ذریعے ابلاغ بہت مشکل ہوتاہے۔ اس مسئلے کاتعلق محض حدیث کے ساتھ ہی نہیں، پورے دین کے ساتھ ہے اور مستقل موضوعِ بحث ہے۔ ہمارے ہاں تخصص فی الافتا کے طلبہ بعض اوقات فتویٰ دکھانے کے لیے لاتے ہیں تواس کی زبان دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اسے سمجھے گا کون؟ ہمارے مدارس کے تدریسی نظام میں زیرِ درس کتاب کے متعلقہ حصے کاترجمہ کرنا تدریسی عمل کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے، لیکن کہنے کوتو یہ اردو میں یاکسی مقامی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ ایک بالکل نئی اور منفرد زبان ہوتی ہے جو صرف ان مدارس کی چار دیواری میں ہی پائی جاتی ہے۔ ( بقول مولانا زاہد الراشدی کے یہ ان مدارس کی اسپرانتو ہے) ثانیہ سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک حدیث کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، ان میں ترجمہ کرنے کا خاص اہتمام ہوتا ہے، لیکن وہ ترجمہ ایساہوتاہے کہ اگرعام آدمی کے سامنے کیاجائے تومحض ترجمے سے وہ حدیث کامفہوم اور پیغام حاصل نہیں کر پائے گا، اور چونکہ پوری طالب علمی کے زمانے میں وہ اسی زبان میں ترجمہ کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ جب انہیں درسِ حدیث وغیرہ کا موقع ملتاہے تواس میں بھی وہ اسی زبان کے استعمال پر مجبورہوتے ہیں،اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتاکہ وہ کوئی نامانوس زبان بول رہے ہیں۔ اس لیے اساتذۂ حدیث اورمدارس کے ذمہ داران کواس پہلو پربھی خاص توجہ دینی چاہیے اور طلبہ کواس قابل بنانے کااہتمام کرناچاہیے کہ وہ عام مسلمانوں تک حدیث کاپیغام’’بلسانِ قومہ‘‘ کا مصداق بن کر پہنچاسکیں، خواہ وہ اردوزبان ہو،مقامی زبان ہویاکوئی اور۔ اس مقصد کے لیے طلبہ پرمحنت سے پہلے حدیث پڑھانے والے اساتذہ کے لیے باقاعدہ تربیتی کورسزاوروکشاپس کااہتمام ہونا چاہیے۔ جو حضرات سالہاسال سے ایک انداز میں ڈھل چکے ہیں، ان کے لیے توخود کوتبدیل کرنامشکل ہوگا لیکن کسی بھی مرحلے کی حدیث پڑھانے والے نوجوان مدرسین پراس طرح کی محنت کارگرثابت ہو سکتی ہے۔ ان میں سیکھنے اور اخذ کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کی تربیت کے اثرات بھی زیادہ دور رس ہوں گے، ان شاء اللہ ۔
(۴)
ہمارے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے حضرات، حدیث پر مزیدعلمی وتحقیقی کام کرنے کے قابل ہوسکیں، اس مقصدکے لیے چند اقدامات ضروری ہیں، خاص طورپرایسے باصلاحیت اورذہین طلبہ جن سے مستقبل میں اس نوعیت کے کاموں کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ ان میں سب سے پہلاکام تویہ ہے کہ طلبہ کے میول ورجحانات کو جانچنے اوراس کی روشنی میں مستقبل کی منصوبہ بندی اوراپنے لیے کسی راہ کواپنانے کے لیے راہ نمائی کاانتظام ہو۔ کم ازکم ثانویہ خاصہ کے آخرتک طالب علم کواس قابل ہوجاناچاہیے کہ وہ فیصلہ کرسکے کہ اس کو دینی علوم کی کس شاخ کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اورکس نوعیت کے کام اور خدمت کی طرف وہ اپنے اندررجحان یااہلیت زیادہ پاتاہے۔ ہمارے نصابِ تعلیم کے حوالے سے بھی یہ صورتِ حال مستقل طور پر قابلِ نظرِ ثانی ہے کہ شروع سے آخرتک تمام طلبہ کوایک ہی جیسے مضامین اورکتب کی تدریس اورایک ہی اندازکے امتحانات سے گزرناہوتاہے، اس لیے وفاق کے نظام کے پابند مدارس وجامعات، نصاب کے بارے میں تومیول ورجحانات کے جائزے سے کوئی استفادہ نہیں کر سکیں گے، لیکن غیرنصابی علمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے طلبہ کو راہ نمائی اور مدد ضرور فراہم کر سکیں گے۔
دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ بحث وتحقیق کے مناہج واسالیب اور جدید طریقوں سے منتخب طلبہ کوروشناس کرایاجائے اورعملی کام کرایاجائے۔اگر چہ اب متعدجامعات میں دورۂ حدیث شریف کے سال میں جو تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے، اسے مالا یدرک کلہ لایترک کلہ کے تحت حوصلہ افزا تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے خاطرخواہ نتائج عموماً برآمد نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ یہ مشق تمام طلبہ پریکساں کی جاتی ہے،جبکہ بعض جامعات میں دورے میں طلبہ کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ اس وجہ سے وہ طلبہ متعلقہ نگران اساتذہ کی پوری توجہ اور راہ نمائی حاصل نہیں کرپاتے۔ دوسرے بہت سے اساتذہ خوداس میدان کے شناورنہیں ہوتے۔ تیسرے ایک سال میں یہ کام ’’شب بھرمیں پیدا بھی ہوا مجنون بھی ہوا اور مر بھی گیا‘‘ کامصداق ہوتاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ محنت چندمنتخب طلبہ پر کی جائے اوریہ سلسلہ کم ازکم خامسہ سے شروع کیا جائے اور تدریجاً انہیں آگے بڑھایا جائے۔
اس سلسلے میں کرنے کا تیسرا کام کمپیوٹرکے حوالے سے ہے۔ کمپیوٹر نے علمی وتحقیقی کاموں کوبہت آسان کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے آدمی کوبیٹھے بٹھائے ان معلومات تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے جوکسی زمانے میں لم یکونوا بالغیہ إلا بشق الأنفس کا مصداق تھیں۔ دینی علوم کے حوالے سے ایسے پروگرام اور مکتبات آگئے ہیں جن کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کی کتابیں انسان کی میز پر ہوتی ہیں، جیسے مکتبۃ الفقہ وأصولہ، المکتبۃ الألفیہ فی السنۃ النبویۃ، الجامع الکبیر لکتب التراث اور المکتبۃ الشاملۃ وغیرہ۔ اس کے علاوہ عربی زبان میں بیسیوں ایسی ویب سائٹس ہیں جہاں سے بے شمار کتابیں ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی سرچ کی آپشن کے ذریعے مثلاً ’’گوگل‘‘ اور ’’یاہو‘‘ وغیرہ سے بہت سی معلومات تک رسائی ممکن ہوگئی ہے ۔ اگرچہ اہلِ فن، حدیث وفقہ وغیرہ کے بارے میں ان مکتبات پرانحصار کو پسند نہیں کرتے، ایک تو اس لیے کہ ان میں اغلاط ہوتی ہیں اور دوسرے اس لیے کہ طالب علم جب تک کتاب کو اپنے ہاتھ میں نہ پکڑے اوراس کے صفحات الٹ پلٹ نہ کرے، اس وقت اس میں فن کے ساتھ صحیح مناسبت پیدا نہیں ہوتی، لیکن پھربھی کمپیوٹر کی ان سہولتوں کااستعمال بہت بڑے فائدے سے خالی نہیں، بالخصوص کمپیوٹرکے ذریعے تلاش اور بحث کا کام کافی حدتک آسان ہو جاتا ہے (اگرچہ فنی مزاولت اورمناسبت سے استغنا نہیں ہوسکتا )اوراس کی مددسے خود کتب کی طرف مراجعت بھی کافی آسان ہو جاتی ہے۔ دوسرے جوشخص ایک عرصے تک کتابوں میں وقت گزار کر خاص قسم کی مناسبت پیدا کر چکا ہو، اس کے بارے میںیہ دوسر ااشکال بھی باقی نہیں رہتا۔ جہاں تک اغلاط کاتعلق ہے تواول تو ان مکتبات کے جونئے ایڈیشن آرہے ہیں، ان میں پہلے کے مقابلے میں اغلاط کم ہیں، دوسرے ایک حوالے کومتعددمکتبات میں دیکھنے سے کافی حد تک صحت کاوثوق ہو سکتاہے۔بہرحال کمپیوٹرکے ساتھ حدسے زیادہ حسنِ ظن اگرچہ غیرمناسب ہے لیکن وقت اورمحنت بچانے والی اورزیادہ سے زیادہ معلومات وموادتک رسائی دلانے والی اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھانا بھی ناشکری سے کم نہیں۔
اگرچہ کمپیوٹر کامحض استعمال اتنی بڑی سیکھنے کی چیزنہیں اور انگریزی اورعربی زبانوں سے واقفیت ہوتویہ خود اپنے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتا ہے تاہم باقاعدہ سیکھنے سے طالب علم کااس کے استعمال کے لیے حوصلہ بڑھ جاتاہے۔ہمارے کئی دینی مدارس وجامعات میں اب کمپیوٹرکی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن ایک توعموماًوہ بہت سرسری ہوتاہے ،دوسرے بہت سے طلبہ کے ذہنوں میں یہاں بھی کمرشل پہلو غالب ہوتا ہے اوران کے ذہن میں یہ ہوتاہے کہ ٹائپنگ اور گرافکس وغیرہ سیکھ کر وہ چارپیسے بنانے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ پہلو بھی افادیت سے بالکلیہ خالی نہیں ہے، لیکن اصل ضرورت اس امرکی ہے کہ چند باصلاحیت طلبہ کوکمپیوٹر کے علمی وتحقیقی استعمال سے متعارف کرایا اوراس کاعادی بنایا جائے ۔ بالخصوص علمِ حدیث کے حوالے سے اس مشین کی افادیت بہت زیادہ ہے۔ ایک تواس علم کامزاج ہی ایساہے کہ وہ بحث اورپھیلاؤ کامتقاضی ہے اوراس طرح کے کاموں کے لیے کمپیوٹر بہت مفید ہے۔ آپ اس کو کسی حدیث کا ایک آدھ لفظ دیں یاکسی راوی وغیرہ کانام دیں توچند لمحوں میں اس سے متعلق مواد ہزاروں بلکہ لاکھوں صفحات میں سے ڈھونڈ کرآپ کے سامنے کردے گا۔ دوسرے اس لیے کہ دینی علوم میں سے جس علم کے متعلق کمپیوٹرپروگرامزپرکام سب سے زیادہ ہواہے، وہ حدیث اوراس سے متعلقہ علوم ہی ہیں ۔
کسی بھی حدیث پربحث کے لیے یہ چیزبہت اہم ہوتی ہے کہ اس کی تمام روایات اور طرق سامنے ہوں۔ مدارِسند راوی کی تعیین کر کے دیکھا جائے کہ اس کے نیچے کون کون سے راوی کن کن لفظوں کے ساتھ روایت کر رہے ہیں اور اس کی روشنی میں حدیث کے درست لفظ کومتعین کرنے کی کوشش کی جائے۔ عموماً ہوتا یوں ہے کہ پہلے دوتین اورکبھی چارطبقوں تک تو حدیث غریب ہوتی ہے، یعنی اوپر والے طبقوں میں سے ہر طبقے میں اسے روایت کرنے والا ایک ہی ہوتاہے، نیچے کوئی راوی ایساہوتاہے جس کے متعد دتلامذہ وہ حدیث اس سے روایت کر رہے ہوتے ہیں، ان کے نقل کردہ الفاظ اورسیاق میں بعض اوقات فرق بھی ہوتاہے۔ ایسی صورت میں ان تمام راویوں کی روایات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔یہ بھی دیکھنا پڑتاہے کہ کون سا راوی ثقاہت اور یادداشت وغیرہ کے اعتبارسے کیساہے، کس کواپنے شیخ کے پاس زیادہ عرصہ رہنے کا موقع ملا، کون اس شیخ کی روایات زیادہ اہتمام سے نقل کیا کرتا تھا، کون سا راوی روایتِ حدیث میں زبانی یادداشت پرزیادہ اعتماد کرتاتھا اور کون سا تحریر دیکھ کر روایت کرنے کااہتمام کرتاتھا، کس نے متعلقہ شخص سے بڑھاپے کی کمزوری (اختلاط) سے پہلے استفادہ کیا اور کس نے بعد میں، کون سے لفظ روایت کرنے والے تلامذہ کی تعداد زیادہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان امورکودیکھ کر روایت کے لفظ ایک حدتک متعین ہوجاتے ہیں۔اگرچہ امام ترمذی اورامام ابوداؤد وغیرہ نے بعض مواقع پراس طرح کی بحثیں کرکے دکھائی ہیں، لیکن حدیث پرکام کرنے والے کواس کی جابجاضرورت پڑتی ہے۔ کمپیوٹرپروگرام اس معاملے میں باحث کی کافی مددکردیتے ہیں۔ پھرایک روایت کے الفاظ پراس طرح کی بحث وتحقیق کے دوران اسی موضوع کی دیگر احادیث ونصوص کی روشنی میں بھی اسے دیکھنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے سب کام کمپیوٹرکے ذریعے نسبتاًآسان ہو جاتے ہیں، لیکن ایک نوآموز شخص کوبہرحال اس سلسلے میں کسی کی راہ نمائی اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کچھ طلبہ کو کمپیوٹرکے استعمال کااس انداز سے عادی بنایا جائے کہ وہ اسے اس طرح کے کاموں کے لیے استعمال کرسکیں۔
(۵)
قرون اولیٰ میں حدیث کی جمع وتدوین اورفقہی استنباطات کاکام جب اپنے عروج کی طرف بڑھ رہاتھا توحدیث ہی کے بارے میں ایک اور نوعیت کاکام شروع ہواجسے ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: 
(۱) مختلف الحدیث کاعلم،یعنی ایک موضوع پروارد ہونے والی احادیث اگرمتعارض نظرآئیں تو انہیں کیسے حل کیاجائے۔
(۲) مشکل الحدیث کاعلم،اس کے مفہوم میں مختلف الحدیث کے علاوہ وہ احادیث بھی داخل ہوجاتی ہیں جن پرتجربے ، مشاہدے، عقل یا زمانے کے مروّجہ علوم کی روشنی میں اعتراض وارد ہوتاہے یا کسی اور وجہ سے اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہوتی ہے۔ 
(۳) حدیث کی تشریح ووضاحت ، خاص طور پروہ احادیث جن کا براہِ راست فقہی احکام سے تعلق نہیں ہے۔ 
آگے تعبیر کی سہولت کے لیے ان تینوں شاخوں کے لیے ’’حدیث کا معنوی پہلو‘‘ کے لفظ استعمال کیے جائیں گے۔ اگرچہ اس نوعیت کے ابتدائی کام میں بعض ایسی شخصیات کانام آتاہے جوفقہ کے حوالے سے زیادہ معروف ہوئیں، جیسے امام شافعیؒ ، لیکن بہرحال اپنی بنیادی غایت کے لحاظ سے یہ فقہ الحدیث سے مختلف میدان ہے۔ اس موضوع پر دستیاب تحریروں میں سب سے قدیم امام شافعی ؒ (م:۲۰۴ھ)کی اختلاف الحدیث ہے جوان کی ’’الأم‘‘ کے ساتھ چھپی ہے۔ پھرابن قتیبہ (م: ۲۷۶ھ)، طحاوی(م: ۳۲۱ ھ) اور ابن ابی فورک وغیرہ کے ہاتھوں یہ کام آگے بڑھا ۔ مشکل الحدیث پر طحاوی کاکام سب سے مفصل اور ضخیم ہے۔ ان کی کتاب مشکل الآثار آج پوری تودستیاب نہیں ہے، دستیاب حصے کاتحقیق وتخریج کے ساتھ مطبوعہ نسخہ سولہ جلدوں میں ہے۔امام طحاوی کے بعد اس موضوع پراتناضخیم کام شاید کوئی اورنہیں کرپایا۔ امام شافعی کی اختلاف الحدیث میں فقہی رنگ غالب تھا، یہی بات طحاوی کی شرح معانی الآثار میں ہے ،لیکن ابنِ قتیبہ کے کام اور طحاوی کی مشکل الآثار نے اس فن کو فقہ الحدیث سے الگ ایک تشخص دے دیا۔ تشریح وتوضیحِ حدیث کے سلسلے کے اولین لوگوں میں مذکورہ ناموں کے علاوہ ابنِ حبان (م: ۳۵۴ ھ ) اورمعروف شافعی فقیہ ابوعبداللہ الحلیمی (م: ۴۰۳ھ) کا نام خاص طورپر لیاجاسکتاہے۔ مؤخرالذکر کے اقوال کی خوشہ چینی بعد کے تقریباً تمام شارحین حدیث نے کی ہے۔ امام بیہقی کتاب ’’شعب الإیمان ‘‘کی بنیادہی ابوعبد اللہ الحلیمی کی کتاب ہے ۔
کہنے کامقصدیہ ہے کہ جمع وتدوین حدیث کاکام جب کچھ سفر طے کر چکا تو دوسری نوعیت کاکام یعنی حدیث کے معنوی پہلو پر کام بھی شروع ہوگیا۔ درمیان میں کئی صدیاں نقل درنقل یا تہذیب وتلخیص کی بھی گزریں۔ پھرجمود کا دورآیا ، لیکن اب کچھ عرصے سے حدیث اورعلومِ حدیث پرکام کودوبارہ اٹھان مل رہی ہے، بالخصوص عرب دنیا میں کافی کام ہواہے اورہورہاہے۔ اس نشأۃِ ثانیہ میں بھی ترتیب قرونِ اولیٰ والی نظرآرہی ہے۔ اب تک جوکام ہواہے، اس میں جمع وترتیب، حدیث کو سہل التناول بنانا، اسنادی نقطۂ نظرسے بحث وغیرہ شامل ہے۔ کئی کتبِ حدیث جوزاویۂ خمول میں تھیں، جدید انداز کی تحقیق وتعلیق اور فہارس کے ساتھ مارکیٹ میں آگئی ہیں اورآرہی ہیں۔ پہلے سے متداول کئی کتب نئی فہارس کے ساتھ آگئی ہیں ،رجال پر اوررجال کی کتابوں پر خاصا کام ہواہے اورہورہاہے۔ جیساکہ پہلے عرض کیاکمپیوٹرکے حوالے سے عرب دنیا میں ایسے ایسے کام ہوچکے اورہورہے ہیں کہ جن سے طلبہ وباحثین کے ہاتھ اس علم کی وسیع دنیاکی چابی آگئی ہے، لیکن جس نوعیت کاکام امام شافعی، ابنِ جریرطبری(تہذیب الآثارمیں)،ابن قتیبہ، طحاوی اور حلیمی وغیرہ حضرات سے ہوا تھا، اس پر ابھی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ شاید اللہ تعالیٰ کویہی منظورہوکہ پہلی نوعیت کے کام کے ایک خاص مرحلے تک پہنچنے اورمواد تک رسائی آسان ہو جانے کے بعدہی دوسری نوعیت کاکام شروع ہو، اس لیے کہ اس کام کے لیے جس طرح ذہن وفکرمیں عمق اور گہرائی کی ضرورت ہے، وہیں وسعتِ نظر کی بھی، بالخصوص حدیث کے تمام طرق کو ایک خاص انداز سے جمع کرکے دیکھنے کی، جس کا ذکر پہلے کمپیوٹرکی افادیت کے سلسلے میں ہوچکاہے۔
یہ بات میں اس لیے بھی عرض کررہاہوں کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ شاید یہ کام برصغیر سے لیں۔ ایک تواس لیے کہ یہاں بھی خدمتِ حدیث کی ایک روایت موجود ہے۔ فوادعبدالباقی کا ’مفتاح کنوزالسنۃ‘ کے مقدمے میں یہ بیان تومشہور ومعروف ہے کہ اگراس زمانے میں علماے ہند کی علومِ حدیث کی طرف توجہ نہ ہوتی توبلادِمشرق سے ان علوم کاخاتمہ ہوچکاہوتا۔ اسی طرح اپریل ۲۰۰۳ء میں کلیۃ الدراسات الاسلامیۃ والعربیہ دبی کی طرف سے علومِ حدیث پرہونے والی ایک کانفرنس میں ڈاکٹرصالح یوسف معتوق نے اپنے مقالے کے شروع میں جہاں چودہویں صدی ہجری کے دوران علومِ حدیث سے لاتوجہی کاشکوہ کیاہے، وہیں علماے برصغیر کااستثنا کرتے ہوئے کہاہے:
یُستثنی من ذلک بلاد الہند، فقد ظہر فی القرون الثلاثۃ الأخیرۃ فیہا نہضۃٌ نشِطۃ فی مجال علوم السنۃ وشروحہا، وظہر فیہا أعلامٌ کبار صنفوا کتبا جلیلۃ تدل علی علوّ کعبہم ورسوخ قدمہم فیہا۔
دکتورصالح یوسف جس دور کی بات کررہے ہیں، اس میں برصغیر کے اندرکچھ تواس نوعیت کاکام سامنے آیا جس میں سابقہ شارحین ومحدثین سے بہترین انتخاب کرکے اسے عمدہ اندازسے جمع کر دیا جائے۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال کے طورپر مولاناعبدالرحمن مبارک پوری کی شرح ترمذی ’’تحفۃ الأحوذی‘‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ ترمذی کی ایسی مکمل شرح ہے جس سے پوری دنیا میں شاید سب سے زیادہ استفادہ کیا جا رہا ہے۔ حسنِ انتخاب، حسنِ ترتیب اور حسنِ عرض اس کی اہم خصوصیات ہیں جواکثرمقامات پر نظرآتی ہیں۔ دوسری نوعیت کاکا م وہ ہے جو مجتہدانہ انداز کا ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندی، مولانا انورشاہ کشمیری اور مولانا شبیراحمدعثمانی جیسے نام بطورِ مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بیشتر کاکام اگرچہ ذراغیر منضبط ساہے، لیکن اس میں حلّ حدیث، رفعِ تعارض اور رفعِ اشکال واغلاق وغیرہ کے سلسلے میں نئی جہتیں دریافت کی گئی ہیں اوربہت سے مقامات پرجہاں اب تک شارحینِ حدیث پہنچے تھے، بات کو وہاں سے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ برّ صغیر میں عمق اورگہرائی اورحدیث کے معنوی پہلو سے زیادہ دلچسپی کی روایت کی وجہ سے ہونایہی چاہیے کہ معنوی پہلوپر جس کام کی یہاں بات ہورہی ہے، وہ برّ صغیر میں انجام پائے ،لیکن اس کے ساتھ ناامیدی کایہ پہلو بھی سامنے آتاہے کہ ہمارے ہاں اس علم کے ساتھ بے اعتنائی سی ہونے لگی ہے اور اس مبارک علم کے وسیع ترامکانات نظرانداز ہورہے ہیں ۔
عصرِحاضر میں مشکل الحدیث سمیت حدیث کے معنوی پہلوپرکام کوآگے بڑھانے کی ضرورت بھی بڑھ گئی بلکہ چیلنج کی شکل اختیار کی گئی ہے اوراس کام کے لیے آسانیاں اورامکانات بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ضرورت تواس لیے بڑھ گئی ہے کہ نظامِ کائنات سے متعلق احادیث میں جن موضوعات پربات کی گئی ہے، ان میں سے کئی چیزوں کے بارے میں گزشتہ زمانوں میں بیشترطبعی علوم یاتو خاموش تھے یاان کے پیش کردہ نظریات محض تخمینوں پرمبنی تھے ،اس لیے ان نظریات کو بجا طور پر علمی اعتبار سے غیر ثابت شدہ قرار دے دیا جاتاتھا۔ اب ان میں سے کئی امور پرجدید سائنس نے نہ صرف سکوت توڑا ہے بلکہ محض تخمینوں کی بجائے تجربے اوراستقرا پرمبنی نظریات پیش کردیے ہیں۔ اب گویا ان میں سے کئی امور عقلی ثبوت کے اس درجے تک پہنچ چکے ہیں جس سے نقلِ صحیح کا تعارض نہیں ہوسکتا۔ اب احادیث مبارکہ میں دی گئی معلومات اوران سائنسی نظریات کاتقابلی مطالعہ ضروری ہوگیاہے۔ اب ان نظریات کو غیر ثابت شدہ کہہ کر نہ ماننے والی بات چلنے والی نہیں۔ اسی طرح سوشل سائنسز میں اب عقلی اعتبار سے مجرد عقلی مقدمات ملانے کو کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اکثر باتوں کو ان کے نتائج وآثار کے حوالے سے پرکھا جاتاہے ، اور آثار ونتائج پرکھنے کے لیے خالص اندازوں اور تخمینوں کی بجائے شماریاتی طریقوں پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔
معنوی پہلو کے اس کام کے امکانات بڑھنے اورآسانیاں پیداہونے کاسب سے پہلامظہر تویہ ہے کہ اس نوعیت کے کام کی سب سے پہلی سیڑھی ہر ہر حدیث کے تمام طرق وروایات کویکجا کرنا اوراسی موضوع پردیگر روایات کوجمع کرناہے۔ اس کام کے لیے آج کے دورنے بڑی سہولتیں پیداکردی ہیں۔ اس آسانی کادوسرامظہریہ ہے کہ پہلے بہت سی احادیث ایسی تھیں جنہیں حل کرنے کے لیے مروّجہ طبعی علوم سے کوئی مدد نہیں ملتی تھی جبکہ آج سائنس کے مختلف شعبوں میں نئی دریافتوں ،تحقیقات اورایجادات نے بہت سی احادیث کوسمجھنا آسان کردیاہے ،اس لیے کہ کئی جگہوں پر آج کی سائنسی تحقیق کے نتائج وہی باتیں ہیں جوچودہ صدیاں پہلے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی تھیں۔
اس کی ایک معروف مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات ہیں جن میں بخار کو ایک حرارت قرار دے کر اس کا علاج پانی بتایاگیا ہے۔ اس دور کی طب کے لیے یہ بات بڑی عجیب وغریب تھی۔ بعض لوگوں نے تو اس دور کی طب کی بنیاد پرنعوذ باللہ اس حدیث پر اعتراضات بھی کیے۔ محدثین کے ہاں بھی اس حدیث کی تشریح کے حوالے سے کئی سوالات زیرِ بحث آئے، مثلاً یہ کہ پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر پانی کے بارے میں فرما رہے ہیں یا صرف آبِ زم زم کے بارے میں، اس لیے کہ بعض روایات میں زم زم کا ذکر بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاں آپ نے زم زم کا ذکر فرمایا، آیاوہ صرف اس لیے تھا کہ اس وقت آپ مکہ مکرمہ میں بات فرما رہے تھے اور اہلِ مکہ کے لیے سب سے آسانی سے دستیاب ہونے والا پانی یہی تھا۔ برکت کا پہلو اضافی تھا اور آپ کا اصل مقصد عمومی طور پر پانی کا یہ طبی اثر بیان کرناتھا، یا آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہی محض برکت کے پہلو سے ہے، طبی علاج بیان کرنا آپ کا مقصد ہی نہیں تھا، اس لیے آپ کا یہ ارشاد صرف زم زم کے بارے میں ہے، باقی پانیوں پر اس کا اطلاق درست نہیں ہے۔ شارحینِ حدیث کے ہاں دونوں نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ (فتح الباری ، کتاب الطب : باب الحمی من فیح جہنم) اسی طرح ایک صحابیہ اور صدیقِ اکبر کی صاحب زادی اسما سے اس پر عمل کی یہ شکل نقل کی گئی ہے کہ وہ مریض پر پانی کے چھینٹے مارا کرتی تھیں۔ اس بنیاد پر بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ بخار کا پانی سے علاج ایک طبی مسئلہ ہے یا ’’ النشرۃ‘‘ اور عملیات ومنتر قبیل کی کوئی چیزہے۔ بعض حضرات نے اسے ’’ النشرۃ‘‘ کی ایک جائز شکل قرار دیاہے۔ (حوالہ بالا)
دونوں سوالوں کا جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلا کام تو کرنے کا ہے کہ حدیث کے تمام سیاقات اور الفاظ کو سامنے رکھا جائے۔ محدثانہ انداز کے اس عمل کے نتیجے میں بھی یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر پانی کے بارے میں یہ بات فرمارہے ہیں اور ظاہری اسباب کے نظام اور طب کے حوالے سے ہی یہ بات فرما رہے ہیں۔ اس محدثانہ بحث کی تفصیل کا تو یہ موقع نہیں ہے۔ اصل مقصد یہ عرض کرناہے کہ حدیث کی تشریح میں جو مختلف احتمالات تھے، ایک محدثانہ بحث جس احتمال کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے، جدید میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے اور اب طبی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ مریض کا درجۂ حرارت کم کرنے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے۔ اس طرح سے حدیث کے معنوی پہلو پر کام کے سلسلے میں جدید سائنس بھی ہماری مدد کرسکتی ہے۔
اسی کی ایک اور مثال میں یہ عرض کروں گا کہ متعدد صحابہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیاہے کہ بچہ کبھی اپنے باپ پر جاتاہے اور کبھی ماں پر، اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت تک کے مروجہ علم بالخصوص جزیرۂ عرب میں مروجہ علم کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، اس لیے متعدد یہودی علما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوچ کر یہ سوال کیا کہ اس کا جواب کوئی نبی ہی دے سکتاہے۔ آپ نے اس کے جواب میں جو بات ارشاد فرمائی، وہ کچھ اس طرح ہے: ’’إذا سبق ماء الرجل ماء المرأۃ نزع الولد إلیہ وإذا سبق ماء المرأۃ ماء الرجل نزع الولد إلیہا‘‘۔ ان لوگوں کے لیے یہ بات نئی تھی کہ مردوں کے علاوہ عورت کا بھی کوئی ایسا جز ہوتا ہے جو استقرارِحمل میں کردار کرتاہے۔ عام طور پر سمجھا یہی جاتا تھا کہ عورت کا کردار محض یہ ہے کہ اس کا رحم بچے کی نشو ونما اور تخلیق کا محل ہے، استقرارِحمل صرف مرد کے نطفہ سے ہوتاہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تو یہ بات متعارف کروائی کہ عورت کا بھی جزوِ تولید ہوتا ہے اور استقرارِ حمل میں مرد کے مادۂ تولید کی طرح اس کا بھی کردار ہوتاہے۔ (گویا عورت کا کردار جز ہونے کا بھی ہے اور محلِ تخلیق ہونے کا بھی، ماں کا حق باپ سے زیادہ ہونے کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو) دوسری بات اس حدیث میں یہ کہی گئی کہ مرد و عورت میں سے جس کا جزوِ تولید سبقت حاصل کرلے، بچہ اس کی طرف جاتاہے۔ مذکورہ روایت میں اس سلسلے میں سبقت کے لفظ ہیں ، جب کہ اسی طرح کی حدیثوں میں آنحضرت سے ’’علوّ‘‘ کے لفظ بھی مروی ہیں، یعنی جس کا جزوِ تولید غالب آجائے، بچہ اس کی طرف جاتا ہے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے قرطبی سے نقل کیاہے کہ جن روایات میں ’’علوّ‘‘ کا لفظ ہے، وہاں بھی مراد غالب آنا نہیں بلکہ سبقت یعنی پہلے آناہے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دور میں ان دونوں میں سے کسی کے غلبے کا تصور ممکن نہیں تھا۔ یہ بات البتہ سوچی جاسکتی تھی کسی کا مادۂ تولید کسی خاص جگہ پر پہلے پہنچ جائے اور کسی کا بعد میں۔ اسی کو وہ سبقت کا مصداق سمجھ رہے ہیں۔ ابنِ حجر کی گفتگو سے معلوم ہوتاہے کہ غلبے کا تصور صرف یہی ہو سکتا تھا کہ کسی کے مادۂ تولیدکی مقدار زیادہ ہو۔ اگر اس حوالے سے روایات کودیکھیں تو اس مضمون کی حدیثیں سرسری تلاش کے نتیجے میں پانچ صحابہ سے مروی ہیں: أنس ، ثوبان ، عائشہ ، ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم۔ ان میں سے حضرت انس کی روایتیں دو طرح کی ہیں اور دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الگ الگ موقعوں کے ارشادات ہیں۔ ایک میں وہی سبقت کے لفظ ہیں جو اوپر گزرے ، جبکہ دوسری روایت حضرت انس سے قتادہ روایت کررہے ہیں اور قتادہ سے سعید بن أبی عروبہ۔ سعید کو شک ہے کہ ’’سبق‘‘ کے لفظ ہیں یا ’’علا‘‘ کے۔ اس کے علاوہ باقی چاروں صحابہ کی روایات میں ’’ علوّ ‘‘ کے لفظ ہیں۔ اب قرطبی نے جو سبقت کے لفظوں کو اصل قرار دیا اور علو کے لفظوں کو اس کے تابع قرار دیا، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ بخاری کے لفظ ہیں ، لیکن اس کے علاوہ قرطبی کے اس قول کو اختیار کرنے کی یہ وجہ بھی قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اس دور میں ’’ما ء الرجل‘‘ یا ’’ماء المرأۃ‘‘ کے غلبے اور علوّ کا تصور بہت مشکل تھا ، جبکہ مجموعی روایات سے پتا چلتاہے کہ ’’علوّ‘‘ کے الفاظ نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔ آج جدید علم الأجنۃ (Embryology) اور علم المورثات (Heredity) یا جینیات (Genetics)کے علم کی روشنی میں دیکھیں تو ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ ان حدیثوں میں صداقتوں کی ایک دنیا چھپی ہوئی ہے ، اور یہ حدیثیں جس طرح عبداللہ بن سلام جیسے یہودی علما کے لیے آپ کی نبوت کی دلیل تھیں، آج بھی آپ کا معجزہ ہیں۔ دوسری طرف سے یہ نظر آئے گا کہ مرد وعورت میں سے دونوں کے کروموسمز میں موجود جین نئے بچے کی خصوصیات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس عمل میں ان میں پائی جانے والی خصوصیات میں تفاوت ہونے کی صورت میں بعض بروے کار آجاتے اور مؤثر ہوتے ہیں، یہی ان کا ’’ علوّ‘‘ ہے۔ مثلاً ایک کے جینز میں قد لمبا ہونے کی خصوصیت ہے اور دوسرے میں چھوٹا ہونے کی، تو ایک جین ایکٹو (active) اور بروے کار ہو گا اور دسرا موجود تو رہے گا لیکن غیر مؤثر۔ اگلی کسی نسل میں وہ مؤثر ہو جائے گا اور دوسرا غیر مؤثر۔ (اسی کو ایک حدیث مبارک میں ’’لعل عرقا نزعہ‘‘ کے لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے) اس لیے ’’علوّ‘‘ کے الفاظ والی روایات کو دوسری روایات کے تابع کرنے کی ضرورت جوبعض قدیم شارحین نے محسوس کی تھی، اس کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حدیث کے ان لفظوں کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جانا چاہیے، اس لیے کہ اب ثابت ہو چکا ہے کہ بچے میں باپ والی خصوصیات ہوں یا ماں والی، اس میں ’’علوّ‘‘ کا بھی کردار ہے۔ جب حدیث کے الفاظ ہوبہو امرِواقعہ پر منطبق ہورہے ہیں تو ان کی توجیہ یا انہیں اپنے ظاہر سے ہٹانے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ حافظ ابنِ حجر نے یہاں ایک بڑا اہم نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ سوال یہاں دراصل دو ہیں۔ ایک یہ کہ بچے کے اپنے ددھیال یا ننھیال کے مشابہ ہونے کی وجہ کیاہے، دوسرا یہ کہ بچے کے مذکر یا مؤنث ہونے کی وجہ کیاہے۔ ابنِ حجر کی یہ بات اس لیے اہم ہے کہ بعض احادیث کے سیاق سے اول الذکر سوال زیرِبحث معلوم ہوتاہے اور بعض سے مؤخر الذکر۔ ابنِ حجر نے یہ بھی بڑی اہم بات کہی ہے کہ مذکر ومؤنث ہونے کے معاملے سے متعلق ’’سبقت‘‘ کے الفاظ ہیں، اور جہاں مشابہت کا سوال ہے، وہاں ’’علو‘‘ کو اپنے معنی پر ہی رکھا جانا چاہیے۔ اب یہاں سے ہمارے لیے غور کا ایک اور دروازہ کھلتاہے ، وہ یہ کہ ماء الرجل اور ماء المرأۃ سے کیا مراد ہے؟ تو ممکنہ طور پر اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ماء المرأۃ سے عورت کا جزوِ تولید یعنی اس کا بیضہ اور ماء الرجل سے مراد مرد کا جزوِ تولید یعنی جرثومہ ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ ماء المرأۃ کے معنی ہیں بچی کی پیدائش کا باعث بننے والا کروموسوم یعنیY Choromosome اور ماء الرجل کے معنی ہیں لڑکے کا باعث بننے والا کروموسوم یعنی X Choromsome، اور اس معاملے کا تعلق صرف مرد کے کروموسومز سے ہوتاہے ، اس لیے کہ یہ دوقسم کے کروموسوم صرف مرد کے مادۂ تولید میں ہوتے ہیں۔ مرد کے بے شمار کروموسوم بیضہ سے ملنے کے لیے دوڑتے ہیں، ان مختلف کروموسومز میں جو آگے نکل کر بیضہ کے ساتھ ملاپ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، نتیجہ اس کے مطابق ہوتاہے اور یہی اس کی پہل اور سبقت ہے، البتہ بچے کے ماں یا باپ کے مشابہ ہونے یعنی ماں یا باپ والی خصوصیات کا حامل ہونے میں ماء الرجل اور ماء المرأۃ کے پہلے معنی مراد ہیں، یعنی عورت اور مرد کا جزو تولید، اور ’’علوّ ‘‘ سے مراد بعض جین کا موثر اور بروے کار ہو ناہے، لہٰذا حافظ کی یہ بات بڑی وزنی ہے کہ سبقت اور علو دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک مثال یہ بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ بعض احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض ایسے مناظر کو دیکھنا منقول ہے جو صدیوں پہلے ہو چکے ہیں، مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کا خاص قسم کی اونٹنی پر خاص حالت میں تلبیہ پڑھتے ہوئے ایک جگہ سے گزرنا، اسی طرح کا معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دیکھنا۔ بعض لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت یا دوزخ میں دیکھا۔ آپ نے جنت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی، آپ نے امّ سُلیم کو جنت میں دیکھا۔ جو واقعات صدیوں پہلے ہوچکے، انہیں آپ نے کیسے دیکھ لیا؟ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو واقعہ ابھی ہوا ہی نہیں بلکہ اسے مستقبل میں ہوناہے، وہ آپ نے کیسے دیکھ لیا؟ اس کی محدّثین نے مختلف توجیہات کی ہیں۔ صوفیہ نے اس طرح کی احادیث کے حل اور مختلف سوالوں کے جواب کے لیے صور مثالیہ یا اجسادِ مثالیہ کا تصور پیش کیا۔ آج آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی ایجاد نے یہ سب کچھ سمجھنا بہت آسان کردیا ہے۔ قرآن وحدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنے والے تمام واقعات لوحِ محفوظ اور ام الکتاب (The Mother Disk or Unaccesible Disk) میں لکھوا رکھے ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتاتھا کہ لکھنے کا تعلق صرف نص (text ) سے ہوتاہے اور لوحِ محفوظ میں آنے والے واقعات صرف عبارت کی شکل میں لکھے ہوئے ہوں گے، لیکن یہ بات بھی عین ممکن ہے کہ لوحِ محفوظ کا یہ ریکارڈ عبارت کے علاوہ سمعی وبصری یعنی آڈیو ویڈیو شکل میں بھی ہو، چنانچہ آج کل کمپیوٹر کی زبان میں ان سب چیزں کے لیےwrite کرنے کا لفظ بولا جاتاہے۔ انسان تو صرف ہو چکے واقعات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کر سکتاہے، لیکن کیا بعید کہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوحِ محفوظ وغیرہ میں آئندہ ہونے والے واقعات کی بھی مکمل آڈیو ویڈیو وغیرہ محفوظ ہوں۔ اس تک اگرچہ کسی کی رسائی ممکن نہیں، لیکن جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہیں، اسے ان واقعات میں سے بعض کے کچھ کلپس دکھا سکتے ہیں۔ عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا ، إلا من ارتضی من رسول فإنہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا ( الجن :۲۶، ۲۷ ) ہو سکتا ہے کہ صوفیہ کا اجسادِ مثالیہ کا تصور اسی طرح کے کسی معاملے سے تعلق رکھتا ہو، واللہ اعلم بالصواب۔ اس طرح کے موضوعات پر رابطۃ العالم الإسلامی کی ذیلی تنظیم ہیءۃ الإعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ نے عربی اور انگریزی زبانوں میں کافی کام کرایاہے جو کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے اور انٹر نیٹ پر بھی۔ حدیث کے طلبہ اور متخصصین کو اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔
بخار کے علاج، جنین والی احادیث اور عالمِ غیب کے ان مشاہدات والی احادیث کی مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ احادیث کے تمام طرق وروایات کو جمع کرنے اور دیگر علوم سے استفادے کے ذریعے حلِّ حدیث یا حدیث کے معنوی پہلو پرکام کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔یہ بات صرف طبعی علوم کے ساتھ، جنہیں عرفِ عام میں سائنس کہا جاتاہے، مخصوص نہیں ہے، بلکہ دیگر متعدد علوم کا بھی یہی حال ہے۔ مثال کے طورجن احادیث میں پیشین گوئی کے طور پر دیگر اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کے بارے میں بات ہوئی ہے، ان کو سمجھنے کے لیے تاریخ اور جغرافیہ کا اتنا علم ضروری ہے جن سے ان اقوام کے بارے میں ضروری معلومات حاصل ہوسکیں۔ قربِ قیامت کے بارے میں احادیث میں ’’روم‘‘ کا تذکرہ بہت کثرت سے ملتا ہے، جبکہ اس وقت روم نام کی کوئی طاقت دنیا میں موجود نہیں ہے۔ جو رومی سلطنت تھی، اس کے مشرقی اور مغربی حصے دونوں کبھی کے ختم ہو چکے۔ اب قربِ قیامت میں ’’روم‘‘ کی ممکنہ صورت کیا ہو سکتی ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عربوں کے ہاں ’’روم‘‘ کن کو کہا جاتا تھا، یہ جاننے کے لیے رومی تاریخ سے موٹی موٹی واقفیت ضروری ہے۔ اس کے مختلف ادوار کیا تھے، مغربی اور مشرقی حصوں میں تقسیم، عیسائیت اور رومیت کاملاپ اور اس کے اثرات، مغربی رومی سلطنت کا خاتمہ اور شارلمین (Charlemagne 742-814) اور اوتو (Otto 912-973) وغیرہ کے ہاتھوں اس کے احیا کی کوششیں اور ان کے کوششوں کے محرکات، مشرقی رومی سلطنت (بیزنطینی سلطنت) کا خاتمہ وغیرہ، اس طرح کی چیزوں سے واقفیت ان احادیث کے سمجھنے میں کافی مدد گا ر ہو سکتی ہے ۔
(۶)
فہمِ حدیث کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ بعض تعبیرات کے اجمال کا ہوتاہے۔ اس کے پیشِ نظر نہ رہنے کی وجہ سے بعض اوقات فہمِ حدیث میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ ویسے تو اس اصول کی ضرورت ہر زمانے میں رہی ہے، لیکن عصرِحاضر میں حدیث پرکام کرتے ہوئے اس کا پیشِ نظر رہنا بہت ضروری ہے ، جیساکہ آگے ذکر کی جانے والی مثالوں سے واضح ہوگا۔
بات درحقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنے محسوسات اور مشاہدات کا اسیر ہوتا ہے، اسی کے مطابق کسی دور کے محاورات جنم لیتے ہیں، اور انسان کو اس کے مشاہدے سے ماورا کسی چیز کے بارے میں بتانا ہو تو بھی اس کے مشاہدات ومحسوسات اور اس کے محاورے کا ہی سہارا لینا پڑتاہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ متکلم کے پیشِ نظر کوئی ایسی حقیقت ہوتی ہے جو کم از کم تاحال اس کے مخاطب کے سامنے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی محسوس اور مشاہد دنیا سے بہت ماورا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں متکلم کے لیے ابلاغ ایک مسئلہ ہوتاہے۔ یہ مسئلہ ضروری نہیں کہ متکلم کی ابلاغی صلاحیت کی کمزوری سے پیدا ہو، بلکہ عین ممکن ہے کہ متکلم تو اس کے لیے موزوں ترین تعبیرات پر قادر ہو، لیکن وہ تعبیر مخاطبین کے لیے سودمند نہ ہو۔ ایسے موقع پر یا تو مجاز کا سہارا لینا پڑتاہے اور اس حقیقت کے مشابہ ترین چیز کسی کا استعارہ اختیار کرلیا جاتاہے، یا اس میں کسی قدراجمال باقی رہنے دیا جاتاہے جس کا بیان خود واقعہ یا کسی زمانے کی معلومات کی ترقی سے ہو جاتاہے۔ اسی طرح کسی ٹھیٹھ حقیقت کے اظہار اور محاورے میں تعارض کی صورت میں اگراس حقیقت کا بیان بذاتِ خود مقصود نہ ہو یا اصولیین کی اصطلاح میں اس حقیقت کا بیان ’’ما سیق لہ الکلام‘‘ نہ ہو تو ایسی صورت میں محاورے کے پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اصل مقصود کا ابلاغ درست طریقے سے ہو سکے۔ نصوص میں اس کی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں۔
کسی زمانے میں یہ بحث چلتی رہی ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی سمجھ بوجھ کا تعلق دل سے ہے یا دماغ سے۔ مسلمان مفکرین میں بھی یہ مسئلہ زیرِ بحث رہا ہے۔ کئی حضراتِ متکلمین نے اسے دل کا کام قرار دیا ہے، جبکہ جدید کی طرح قدیم اطبا اسے دماغ کا وظیفہ قرار دیتے تھے۔ امام ابو حنیفہ سے بھی یہ بات نقل کی گئی ہے۔ بظاہر امام صاحب نے اس مسئلے میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شریعت کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،ایک طبی مسئلہ ہے اور جس فن کامسئلہ ہو، اس میں اسی کے ماہرین پر اعتماد کرنا چاہیے۔ جہاں تک ان نصوص کا تعلق ہے جن میں سمجھنے اور غور کرنے کی نسبت دل کی طرف کی گئی ہے، ان میں بنیادی طور پر تعبیر کا وہی اصول کار فرماہے جس کا ابھی ذکر ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی بھی نہیں کہے گا کہ نصوص کا مقصود اصلی بطور عضو دل کا وظیفہ بیان کرناہے۔ اصل مقصود غور وفکر کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی دعوت دیناہے ، عضو اس کے لیے جو بھی استعمال ہو۔ محاورے میں چونکہ ایسے موقع پر دل ہی کی طرف نسبت کی جاتی تھی، اس لیے اسی محاورے کو اصل مقصود کے ابلاغ کے لیے استعمال کر لیا گیا ، اور اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ پہلے محاورے کی اصلاح کرکے اصل مقصود سے توجہ ہٹائی جائے۔ میں اس کی یہ مثال دیا کرتاہوں کہ جدید سائنس میں طے شدہ ہے کہ سوچنے سمجھنے کی طرح انسانی جذبات کا محل بھی دماغ ہی ہوتاہے۔ اب سائنس کا ایک استاد جو اپنے طلبہ کو دلیلوں سے سمجھا تا ہے کہ یہ سب کچھ دماغ سے ہوتاہے، اس کے جذبات کو کسی سے ٹھیس پہنچے تو وہ کبھی یہ نہیں کہے گا کہ تمہارے اس طرزِعمل سے میرا دماغ دُکھا ہے، وہ یہی کہے گا میرادل دُکھاہے۔ وہ یہ توکہے گا کہ میرادل ٹوٹا ہے، یہ نہیں کہے کہ دماغ ٹوٹا ہے۔ بیگم کا پکایا ہوا کھانا اگر پسند نہیں ہے تو یہ کہے گا میرا اسے کھانے کو دل نہیں چاہ رہا، یہ نہیں کرے گا کہ پہلے لیکچر دے کر اسے سمجھائے کہ چاہنے کا تعلق دل سے نہیں دماغ سے ہوتاہے، پھر اسے یہ بتائے کہ فلاں چیز کھانے کو میرا دماغ چاہ رہاہے اور فلاں کو نہیں چاہ رہا۔
دجال کی احادیث میں اس کے گدھے کا ذکر ہے کہ وہ غیر معمولی بڑاہوگا، اس کی رفتار بھی غیر معمولی ہوگی، خاص طور پر اس کے کانوں کے بارے میں آتاہے کہ وہ بہت بڑے ہوں گے۔ یہاں پر بھی تعبیر کے اسی مسئلے کا انطباق ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے وہ گدھا ہی ہو لیکن خرقِ عادت طور پر اتنا بڑا ہو، ہو سکتاہے کہ اس وقت تک جینیٹک انجینئرنگ اتنی ترقی کرجائے کہ اتنے بڑے بڑے گدھے پیدا ہونے لگیں ، ہوسکتاہے گدھے سے مراد جہاز ہو ، لیکن ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری حقیقت منکشف بھی ہواور آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ اس زمانے میں اسے ہوائی جہاز کہا جائے گایا کوئی نام ہوگا، تب بھی آپ اگر یہ لفظ بولتے توعصر حاضر تک بلکہ شاید دجال کے زمانے تک وہ لفظ ’’متشابہات‘‘ میں سے رہتا۔
اسی اصول کا اطلاق نظامِ کائنات سے متعلق کئی احادیث پر بھی ہو سکتاہے۔ مثال کے طور پر حدیثوں میں زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ فاصلہ بعض روایات میں تقریباً سترسال کی مسافت اور بیشتر میں پانچ سو سال کی مسافت بیان کیا گیاہے۔ اب اُس دور کے اعتبار سے ایک دن کی مسافت کو لیا جائے تو وہ تقریباً سولہ میل بنتی ہے، اور سال ۳۶۵ دن کا بھی لگالیں تو ایک سال کی مسافت ۸۵۴۰ میل بنتی ہے۔ اس طرح ستر سال کی مسافت ۴۰۸۸۰۰میل اور پانچ سو سال کی مسافت ۲۹۲۰۰۰۰ میل بنتی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ تو سورج کی زمین سے مسافت ہے۔ یہ حساب تو اونٹوں کی رفتار سے تھا۔ اگر گھوڑوں کی رفتارسے بھی حساب لگا لیا جائے تویہ عدد اگرچہ زیادہ ہو جائے گا، لیکن تب بھی جو عدد سامنے آئے گا، وہ آج کے خلائی علم کے لحاظ سے، جس میں فاصلوں کی پیمایش میں نوری سال بھی چھوٹے محسوس ہو رہے ہوں، کوئی بہت بڑا عد نہیں ہوگا،اس لیے کہ ایک نوری سال ہمارے سالوں کے اعتبار سے کھربوں سال کا ہوتاہے اور اکثر ستارے زمین سے کئی کئی نوری سال کے فاصلے پر ہیں، بلکہ کئی تو سینکڑوں، ہزاروں یا اس سے بھی زیادہ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہیں،اور یہ بات بھی مشاہدے میں آچکی ہے کہ یہ سب ستارے آسمان سے نیچے ہیں۔ ان کے راستے میں کوئی آسمان موجود نہیں ہے۔ (اسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج کی عظمت کے ایک پہلو کا اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ اتنے مختصر وقت میں اتنا طویل فاصلہ طے فرمایا کہ ہماری گنتیاں تاحال اس کے شمار سے عاجز ہیں) اس لحاظ سے مذکورہ حسابات سے دیکھا جائے تو پانچ سو سال کی مسافت کوئی بڑی مسافت نظر نہیں آتی، یہ تو آسمانوں سے بہت نیچے پوری ہو جاتی ہے۔ بات در اصل یہاں بھی وہی ہے کہ ان احادیث کا اصل مقصود اس کائنات کی وسعت کو بیان کرناہے۔ اس وقت کے لحاظ یہ تعبیر بھی اس مقصد کے لیے کافی تھی۔ جہاں تک اصل پوری حقیقت کا تعلق ہے تو یہ کہنا پڑے گاکہ ان حدیثوں میں اگرچہ وہ بھی بیان ہوئی ہے اور اصل حقیقت کے اعتبار یہ تعبیرات امرِ واقعہ پر منطبق ہوتی ہیں، لیکن ہمارے اعتبار سے اس طرح کی روایات میں دو طرح کا اجمال ہے جو آج تک بھی برقرار ہے۔ ایک یہ کہ رفتار کس چیزکی؟ اونٹوں کی، گھوڑوں کی، آوازکی، روشنی کی جس سے نوری سال ناپا جاتاہے یا کسی اور چیزکی جس سے آج کا انسان بھی ناواقف ہے؟ دوسرے یہ کہ سال تو کسی چیز کی گردش کانام ہے، زمین کاسال اور ہے دیگر سیاروں کااور، کہکشاؤں کے اور۔ ضروری نہیں کہ یہاں زمین کا سال ہی مرادہو، اتنی وسیع کائنات میں نہ معلوم کون کون سے سال ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پوری کائنات، جس کی وسعتوں سے آج کا انسان بھی ناواقف ہے، اس کی عمومی گردش کے اعتبار سے کوئی مجموعی سال ایسا ہو جو ابھی تک انسان کے علم میں نہ آسکاہو۔ آخرت کا تو ایک سال نہیں، صرف ایک دن دنیا کے پچاس ہزار سالوں کا ہوگا۔ حاصل یہ کہ پانچ سو سال کی مسافت میں سال کون سا مرادہے اور ایک سال میں کس چیزکا مسافت طے کرنامرادہے، اس حوالے سے حدیث میں تاحال اجمال موجودہے اور جیساکہ پہلے عرض کیاگیا، یہ اجمال متکلم کی ابلاغی قدرت کی کمی کی وجہ سے نہیں، مخاطب کی رعایت کی وجہ سے ہے، لیکن اس اجمال کے باوجود اصل مدعااور پیغام واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی یہ کائنات بہت بڑی اور وسیع ہے۔ عین ممکن ہے کسی زمانے میں انسان کا علم ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں یہ اجمال یا اس اجمال کے بعض حصے باقی نہ رہیں۔

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع

مولانا مفتی برکت اللہ

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو۔)

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔ اما بعد!
الحمد للہ آج ہم جس سیمینار کے لیے جمع ہوئے ہیں، اس میں مخلصین اور ماہرین نے آپ کے سامنے کافی تفصیل سے کلام کیا۔ مجھے درس وتدریس کا اتنا طویل تجربہ نہیں جتناکہ مولانا زاہد الرشدی اور مولانامفتی محمد زاہد صاحب کو ہے۔ لیکن ایک پہلو سے حدیث کے ساتھ ممارست حاصل ہے، اس لیے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ کے سامنے حدیث شریف کے بعض دوسرے پہلووں پر بات کروں گا ۔ اب تک جتنی گفتگو ہوئی ہے، وہ درس نظامی میں تدریس کے نظام پر زیادہ مرکوز رہی ہے، حالانکہ جیساکہ اشارہ بھی کیاگیا، حدیث شریف کا تعلق عام معاشرے کے ساتھ بھی ہے، صرف علما اور متخصصین کے ساتھ ہی نہیںیا صرف مدرسہ کی چاردیواری تک محدود نہیں ہے۔ حدیث شریف کا استعمال منبر ومحراب اور جمعہ کے خطبوں میں اوروعظ وتقریر میں جتنا ہوتا ہے، وہ غالباً اس سے زیادہ ہے جو مدارس میں پڑھایا جاتا ہے اور یہی اس کی روح ہونی چاہیے۔ اس لیے میں گفتگو کا دائرہ تھوڑا سا وسیع کروں گا کہ ہمیں حدیث شریف کے درس اور اس کے ابلاغ کا، معاشرے کے مختلف افرادا پر اس کے اثرات کا اور مختلف میدانوں میں، مثلاً تعلیمی میدان میں اس کے استعمال کی ضروریات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس پر ماشاء اللہ عالم عرب میں کافی حکومتوں کے زیر نگرانی اور نجی سطح پر بھی کافی ریسرچ ہو چکی ہے کہ کس طرح تربیتی مقاصد کے لیے حدیث شریف کو استعما ل کیا جائے اور کیسے اس کے انتخاب، اس کی تشریح اور اس کی تحقیق کا کام ہو۔ ماشاء اللہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں بڑا اچھا کام ہو چکا ہے۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں بچوں کی احادیث کے نام پر جو چیزیں چھپی ہیں، ان کو دیکھ کر ذرا تکلیف ہوتی ہے کہ سوحدیثیں اگر بچوں کے لیے منتخب کی گئی ہیں تو اس میں آدھی ایسی ہیں جو بچوں کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ رٹنے کے لیے تو ہیں لیکن ان میں مسائل اور موضوعات وہ ہیں جو بالغ لوگوں کے کام کے ہیں۔ بچوں کی نفسیات اور بچوں کی ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی تک تعلیمی میدان میں کام نہیں ہوا، مثلاً سچ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، امانت ، دیانت یہ سب چیزیں یا بچوں میں جو آپس میں چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ ایک ضرورت ہے عصر حاضر میں کہ حدیث کا استعمال کر کے ہم نے اپنے جو معاشرتی، سماجی، اسلامی مقاصد حاصل کرنے ہیں یا ارشادی وتربیتی جو مقاصد حاصل کرنے ہیں، ان تمام مقاصد کی روشنی میں حدیث کو بیان کرنے کا، اس کی تشریح کرنے کا اوراس کا انتخاب کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے۔ 
اب تک جو بات ہوئی ہے، وہ متخصصین اور علما کے لیے ہے اور فقہی مباحث کا جو غلبہ ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ ہمیں مدارس کے تعلیمی نظام یعنی formal sector کے علاوہ جو غیر فارمل سیکٹر ہے، اس میں بھی جو احادیث کا استعمال ہونا چاہیے، اسے دیکھناہے۔ مثلاً اب تک یہ رہا ہے کہ آپ کوئی بھی وعظ کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، حوالے ندارد۔ بہت سی غلط فہمیاں اور جسے mythology  کہتے ہیں، یعنی غیر مستند قسم کی باتیں ہمارے معاشرے میں رواج پا گئی ہیں یا کچھ اعمال اور وظائف رواج پا گئے ہیں، ان کا ماخذ بھی وہ غیر مستند کتابیں اور رسالے ہیں جو عامۃ الناس میں پھیل گئی ہیں۔ اور اب علما یا جو لوگ واقفین ہیں، وہ اس کی تردید کرنے میں بھی مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اتنا لوگوں میں رواج ہے کہ اس سے روکنا مشکل ہے۔ چنانچہ یہ بدعت اور غیر بدعت کا میدان جنگ بن گیا ہے۔ ضعیف یا موضوع یا افسانہ قسم کی احادیث رواج پا گئی ہیں۔ لوگ اس کو سنت سمجھ کر یا وظیفہ سمجھ کر کرتے ہیں۔ 
اسی طرح میں خاص طور پر اپنی دلچسپی اور تخصص کے میدان یعنی کمپیوٹر کے حوالے سے ذرا تفصیل سے بات کرنا چاہوں گا۔ چھوٹے کمپیوٹر کی پیدایش، جو مائیکرو کمپیوٹر (PC) ہے، اس کی پیدایش ۱۹۸۰ء میں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے یہ میوزیم کی طرح بڑے بڑے کمروں میں کئی ملین پاؤنڈز کے وزن میں ہوتا تھا۔ نہ ہم نے دیکھا تھا اور نہ اس تک رسائی تھی اور نہ وہ قابل عمل تھا۔ وہ میوزیم تھا۔ تو جب مائیکرو کمپیوٹر پید ا ہوا تو میں اس وقت B.Sc کر رہا تھا تو جیسے ہی دیکھا کہ یہ آلہ ایجاد ہو رہا ہے تو ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر اس آلے کو، اس وسیلہ علم کو اگر کہیں مفید طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے تو علم حدیث شریف سب سے مناسب اور اہم علم ہے۔ صرف اس کی تاریخی اہمیت نہیں، اس کے سائز کے لحاظ سے، اس کی complexity کے لحاظ سے۔ جو پیچیدگی علوم الحدیث میں ہے اور جو وسعت احادیث کے متون اور اسناد میں اور مراجع میں ہے، وہ ابھی تک انسانوں کی دسترس سے باہر ہے۔ کوئی ایک فرد جو یہ کہے کہ حدیث کی تمام کتابوں کا نام بھی معلوم ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ حدیث کے جومجموعے ہیں، اگر ہمیں ان کے نام کا پتہ نہیں ہے توپھر جو ہزاروں حدیثیں ہیں، ان کے یاد رہنے کی بات تو ایک فرد کے احاطہ سے باہر ہی ہے۔ لہٰذا یہ جو ٹیکنالوجی کمپیوٹر کی ۸۰ کی دہائی میں شروع ہو رہی تھی، اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہوئے بہت سے لوگوں نے سوچا ۔ ادارے، افراد اور اکیڈمیاں متوجہ ہوئے۔ عربی اور انگلش میں بہت سی کوششیں ہوئیں اور ہوتی رہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ 
میں مختصراً اس پر کچھ روشنی ڈال دوں کہ یہ وسائل کیوں اہم ہیں اور ان کی ضرورت کیسے ہے اور انھیں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب نے اشارہ کیا کہ اب اس بات کا عذر نہیں رہا کہ یہ حدیث مجھے ملی نہیں، کیونکہ یہ ہماری اپنی کاہلی اور سستی کی دلیل ہے کہ ہم نے ڈھونڈا نہیں۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ملی نہیں۔ پہلے حدیث کی معلومات اور تخریج کے لیے کتب خانہ کی موجودگی ضروری تھی۔ پھر کتب خانہ موجود ہوتو وقت نہیں یا وقت ہے، لیکن صلاحیت نہیں ہے کہ کہاں ڈھونڈیں اور کہاں سے نکالی جا سکتی ہے۔ چنانچہ مظاہرالعلوم کے شیخ الحدیث مولانامحمد یونس صاحب کی ایک کتاب ’’الیواقیت الغالیہ‘‘ کے نام سے ابھی آئی ہے جس میں انھوں نے تقریباً ساٹھ ستر سا ل پرانے وہ استفسارات اور ان کے جوابات جمع کیے ہیں جو شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کے پاس حدیث سے متعلق بھیجے جاتے تھے۔ اس پر وہ ہفتوں مہینوں ریسرچ کر کے، کتابوں سے ڈھونڈ کر، حدیثوں کی تخریج کرتے اور بعض حدیثوں پر کلام کرتے۔ اب ’’الیواقیت الغالیہ‘‘ کے نام سے نئی شکل میں چھپا ہے۔ مولانا ایوب صاحب نے لپسٹر سے چھاپا ہے، یہاں بھی شاید کوئی مکتبہ چھاپے۔ بڑی قیمتی تحقیقات ہیں، لیکن آج اگر ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں دیکھیں، انسان کو پتہ ہو تو چند سیکنڈ میں بھی وہ تخریج کر سکتا ہے۔ پہلے دنوں اور ہفتوں اور مہینوں خلجان ہوتا تھا اور حدیث ذہن میں گھومتی رہتی تھی کہ کہیں نظر سے گزر جائے ، بلکہ حضرت مولانا یونس صاحب نے اس میں لکھاہے کہ کبھی بعض حدیثیں سال سال بھر ذہن میں گھومتی رہتی تھیں کہ یہ کہیں نظر سے گزرے۔ کسی نے سوال کر دیا یا کہیں سے ذہن میں بات آ گئی تو سال سال بھر تک ذہن میں اٹکی رہتی تھی کہ اس کا حوالہ کوئی تخریج کوئی اس کا اتا پتہ مل جائے۔ لیکن میں نے ۱۹۸۰ء میںیہ کام شروع کیا تو یہی شیخ الحدیث صاحب تشریف لائے دارالعلوم بری میں اور میرا امتحان لیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھیں کہ اس کمپیوٹر سے کوئی کام ہوتا ہے۔ اس وقت خاصہ مجموعہ تھا۔ انہوں نے مجھے کچھ الفاظ دیے۔ اسی طرح جدہ میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کمپیوٹر کا امتحان لیا کہ ذرا دکھاؤ کہ یہ کمپیوٹر کیسا کام کرتا ہے۔ یہ ۱۹۸۶ء کی بات ہے۔ ۱۹۸۶ء میں، میں اسلام آباد بھی آیا تھا۔ اس وقت جنرل ضیاء الحق مرحوم کو دکھایا تھا اور ٹی وی وغیرہ پر بھی اس زمانہ میں آیا تھا۔ مثلاً ایک حدیث ہے : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ تو انگر یزی میں صر ف لسان ٹائپ کیا تو دس ہزار کے مجموعے سے وہ حدیث آدھے سیکنڈ میں نکل کر سامنے آگئی، حوالہ کے ساتھ، راوی، حدیث کا نمبر، کس کتا ب میں ہے اور پورے متن کے ساتھ۔ تو حدیث کے استناد کو جانچنے (authentication یا verification یا validation) یا اس کی تخریج یا تصحیحاً و تضعیفاً اس کا درجہ معلوم کرنے کے لیے اب اتنا کام میسر ہے کہ سوائے عدم علم، عدم وقت یا عدم فرصت کے اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ کسی حدیث کے بارے میں انسان کو پتہ نہ چل سکے اور وہ پوری طرح علیٰ وجہ البصیرت بات بیان نہ کر سکے۔ 
تو حدیث کے میدان میں بعض عملی مشکلات ایسی تھیں کہ ایک خاص سطح کے عملی تجربے اور اشتغال کے بغیر ان کا حل نکالنا مشکل تھا۔ مثلاً پورے معاشرے میں چند ہی حضرات ایسے کہے جا سکتے ہیں جو صحیح معنوں میں شیخ الحدیث کے لقب کے حقدار ہوں، یعنی احادیث ان کے گویا فنگر ٹپ پر ہوتی ہیں کہ اگر آپ پوچھیں تو وہ فوراً جواب دے سکیں۔ الحمدللہ ابھی بھی ایسے افراد ہیں، ان کی کمی نہیں ہے، لیکن یہ زمانہ mass media کا یا mass education کا زمانہ ہے۔ کہہ لیجیے کہ یہ mass information کا ہے۔ اب معلومات کی دستیابی یا کتب حدیث کی فراہمی کے بارے میں کوئی عذر پیش نہیں کر سکتا۔ جو لوگ کمپیوٹر جانتے ہیں، تو اس میں offline یا online  دونوں ہی سورسز ہیں۔ میں مذاق میں کہا کرتا ہوں کہ اب تو سب سے بڑے محدث اور علامہ تو Google ہیں۔ Google  جو سرچ انجن ہے ، آپ کوئی حدیث کہیے، وہ آپ کو نکال دے گا، صرف اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ کس طرح آپ ٹائپ کر سکتے ہیں۔ عربی آپ ٹائپ کر یں تو اس حدیث کی پچیس تخریجیں آپ کے سامنے ہوں گی۔ اگر کسی انسان سے سوال کریں گے تو بولنے سے پہلے آپ کے سامنے ہوں گی۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ کتابوں سے پہلے مولانا’’Google‘‘ سے پوچھا جائے،یہاں تک کہ ’’Google‘‘ میں تو یہاں تک پتہ چل جائے گا کہ اس حدیث کا کس کس کتاب میں کس کس مصنف نے کہاں حوالہ دیاہے۔ متن میں یا حاشیہ میں۔ پھر اس کے معانی بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے اس سے کیا استدلال کیا ہے۔ یہ توایسی بات ہے کہ جس کے پاس وقت ہو، وہ کر سکتا ہے۔ البتہ Google  میں جب کوئی چیز ٹائپ کی جاتی ہے تو دو ملین جواب آتے ہیں اور وہیں ہماری بات ڈھیلی ہو جاتی ہے کہ اتنی تعداد میں کون دیکھے گا۔ دراصل یہ Google کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ آپ کے سوال کا ملین جواب آئے تو بے کار ہے۔ لیکن اس کی جو search techniques  ہیں، وہ اگر پندرہ منٹ بھی کوئی کسی ماہر سے سیکھنے کے لیے صرف کرے تو ملین کی بجائے بیس یا دو سو جواب آئے گا۔ اس Google میں ایک گائیڈ ہے۔ اس پر لکھا ہے cheat sheet، یعنی Google  کو بے وقوف بنا کر صحیح جواب نکلوانے کا طریقہ۔ کمپنی والوں نے دیا ہوا ہے۔ ایک صفحہ ہے۔ اگر آپ ایک لفظ دیں گے تو دس ملین جواب آئیں گے، اگر دو لفظ دیں گے تو پانچ ملین جواب آئیں گے، تین لفظ دے دیے تو ایک ملین جواب آئیں گے اور اگر کوٹیشن میں ڈال دیے تو بس سو جواب آئیں گے۔ کوٹیشن کا مطلب ہے کہ یہ جملہ تین الفاظ کا پورا دو ۔ اسی طرح اگر آ پ نے اسے کہاکہ مجھے صرف Word document  کی فائل چاہیے تووہ آپ کو صرف کتابیں لا کر دے گا، یعنی ویب پر جو اناپ شناپ ہے، وہ سب نکال دے گا۔ اسی طرح اگر آپ کہیں کہ pdf فائل دے دو، presentation دو، تو جیسے آپ کسی لائبریری میں پوچھتے ہیں کہ مجھے فلاں مطبوعہ کتاب لادو، مخطوطہ مت لانا تو اسی طرح Google سے بھی یہ کہاجا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو سی ڈیز ہیں، چند ریالوں میں مثلا پانچ دس ریال میں دستیاب ہیں۔ پچیس تیس ریال سے زیادہ کوئی مہنگی نہیں ہے۔ حدیث شریف کی کتب تسعہ کا مجموعہ اس میں موجود ہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی وزارۃ مذہبی امور نے ڈال رکھاہے۔ اس کے علاوہ اوربھی سی ڈیز ملتی ہیں۔ پھر الموسوعۃ الذہبیہ یا مکتبۃ الالفیہ میں اور اسی طرح مرکزالتراث کی سی ڈیز میں ہزاروں کتابیں ہیں۔ یہ سب کمرشل پروگرام ہیں۔ ان کے علاوہ فری پروگرام بھی ملتے ہیں۔ المکتبہ الشاملۃ کے نام سے ایک مجموعے میں دو ہزار کے لگ بھگ کتابیں موجود ہیں۔ اسی طرح موسوعۃ المحدث ہے، اس میں تمام امہات الکتب ہیں۔ یہ بہت ہی sharp ہے۔ اگر فقہ یا تفسیر کی کسی کتاب میں حدیث موجود ہے تو اسی وقت سامنے آجاتی ہے۔ ان سی ڈیز سے حاصل ہونے والے مطلوبہ مواد کو آپ الگ فائلوں میں اپنے کمپیوٹر میں رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ ہے تو آپ کسی تازہ بحث میں، کسی رسالہ میں، کسی کتاب میں یا کتابچہ میں جہاں بھی کوئی حدیث استعمال ہوئی ہو، اس کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ مثلاً مجھے حسن بصریؒ کے ایک قول کا حوالہ درکار تھا جو میں نے مجاہد الاسلام قاسمی سے سنا تھا۔ اس میں انہوں نے فقیہ کی تعریف یہ کی تھی کہ اصل فقیہ تووہ ہے جو آپ کے لیے کوئی گنجایش صحیح معلومات کی روشنی میں نکال دے، ورنہ حرام کرنے والا تو ہر مفتی ہے۔ یہ حسن بصریؒ کا بہت مشہور مقولہ ہے۔ پہلے انہوں نے مفتی کی تعریف کی ہے کہ فقیہ وہ ہے جو لوگوں کی عزتوں سے نہ کھیلے، پرہیزگار ہو ،دیانت دار ہو، عالم ہو اور آپ کے لیے یہ کر سکے۔ یہ سن رکھا تھا لیکن انٹرنیٹ اور Google کے ذریعے مجھے صحیح کتاب کا حوالہ مل گیا اور مقولہ بھی مل گیا۔ 
یہ چند مثالیں ہیں جس سے سمجھ میں آتا ہے کہ اب ہمارے لیے وقت کی کمی کا کوئی عذر نہیں رہا اور ایسا بھی نہیں کہ وسائل بہت مہنگے ہوں۔ اگر ہمیں خود کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتاتو اپنے شاگردوں اور مساعد ین کے ذریعے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ طالب علمی کے زمانہ میں حرکت میں برکت ہے۔ اگر سب کو اسائنمنٹ دے دی جائے یا کچھ ٹاسک دے دیاجائے اور وہ آسان بھی ہو تو لوگ خوشی سے کریں گے اور اس میں علمی اطمینان اور سکون ملے گا۔ مثلاً جو ہم سنا کرتے تھے کہ امام بخاریؒ نے سات لاکھ احادیث کے مجموعہ سے سات ہزار کا انتخاب کیا یا لاکھ احادیث کا جو تذکرہ سنتے تھے، اب سمجھ میں آگیا ہے کہ وہ کس طرح ہے۔ مثلاً سی ڈیز کے ایسے مجموعے ہیں جن میں اڑھائی اڑھائی لاکھ احادیث جمع ہیں۔ میرے پاس یہ عربی میں ایک ڈاکومنٹ ہے۔ اس میں ان تمام پروگراموں کا نام درج ہے اور یہ معلومات بھی درج ہیں کہ کس کس پروگرام میں کون کون سی کتابیں ہیں اور کتنی احادیث ہیں اور کتنے راویوں پر کلام ہے، کتنی تخریجات ہیں۔ مثلاً ایک میں لکھاہے کہ اڑھائی لاکھ حدیثیں ہیں اور تقریباً ایک لاکھ احادیث پر کسی نہ کسی محدث کا قول بھی ہے، یعنی ضعفہ فلان وصححہ فلان۔ یہ تصحیح وتضعیف بھی ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ جیسے ہم فقہی اقوال محنت سے پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں، کیوں کہ ہمیں معاشرے میں جواب دینا ہوتا ہے، اسی طرح احادیث کی صحت اور ضعف کے اقوال بھی ہمیں معلوم ہونے چاہییں۔ تو جو لاکھوں حدیثوں کے بارے میں خیال تھا کہ یہ بس خیالی شکل ہے، اب وہ عملی شکل میں سامنے ہے۔ مثلاً آپ مکتبہ شاملہ میں کوئی حدیث ٹائپ کریں تو آپ کوتمام مختلف اطراف سے پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں اور چودہویں صدی تک جتنی کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ آیاہے، وہ سب آپ کے سامنے آجائے گا۔ صر ف یہی نہیں کہ یہ حدیث کس کتاب میں ہے، بلکہ اس حدیث پر کس شارح نے کلام کیاہے یا ائمہ مذاہب میں سے کس نے اس سے کیا استنباط کیا ہے۔ 
میں نے جو کام کیاتھا، وہ تو انگریز ی میں تھا۔ عربی اس زمانہ میں نہیں تھی۔ عربی کمپیوٹر ۸۰ کی دہائی میں آئے۔ ۹۰ تک عربی میں کمپیوٹر آسانی سے available نہیں تھا۔ بہرحال انگریزی میں حدیث کے کتب ستہ کے مجموعے کمپیوٹر پر منتقل کرنے کا کام میں نے ۱۹۸۶ء میں مکمل کر لیاتھا۔ اس کے بعد جب اس میں وسعت ہوئی تو فقہ کی ہدایہ اور دوسری کتابیں نقل کیں۔ پھر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تفسیر کی بعض کتابیں مثلاً تفسیر عثمانی اور اصول تفسیر نقل کیے۔ میں نے تو یہ کام انگریزی میں اپنے ماحول کے لحاظ سے کیا، لیکن اس زمانے میں ریاض میں حدیث کے ایک بڑے استاذ مصطفی عظمی نے بھی تقریباً کئی ملین ریال خرچ کیے اور انہوں نے حدیث کی ریسرچ کو اتنا وسیع کیا کہ مخطوطات کو بھی شامل کر لیا، یعنی جو ڈیٹا بیس بنائی، اس میں صرف حدیث کی مطبوعہ کتابوں کو نہیں لیا بلکہ مخطوطات بھی اس میں ڈال دیے۔ مثلاً صحیح بخاری کے ہزاروں نسخے ہیں تواس میں انہوں نے قدیم سے قدیم نسخے جو ان کو ملے، ان کا عکس ڈال دیا۔آپ چاہیں تو بخاری شریف کا سب سے پرانا نسخہ دیکھ لیں ، ترمذی شریف کا پرانا نسخہ بھی دیکھ لیں۔
حدیث کی authentication معلوم کرنے کا بھی میں نے اہتمام کیا۔ کیمسٹری میں کسی chemical component  کا جو سٹرکچر ہوتا ہے، احادیث نبویہ کی جو سندیں ہیں، وہ اس سے بھی زیادہ complexہیں۔ chemical component  کا سٹرکچرتو چند محدود نمبر ہیں اور اس کے permutations  محدود ہیں، لیکن الحمد للہ میں نے جب حدیث کی سندوں کو کمپیوٹرائز کرنے کا کام کیاتھا تو ہر حدیث کی سند کا ایک الگ کارڈ بنوالیا تھا۔ ہر صحابی کی جتنی سندیں ہیں، ہر ایک کے چارٹ بنوائے۔ یہ نہیں کہ صرف حضرت ابوہریرۃ جن کی ہزاروں حدیثیں ہیں، بلکہ بعض مقلین صحابہ بھی۔ انس بن مالکؓ ان کی بھی اگر حدیث کی سند بنائی جائی تو ایک پوری دیوار اس سے بھر جائے گی۔ نبی کریم سے سیدنا انس، پھر ان سے جتنے تابعین ہیں، پھر تبع تابعین ہیں، آج تک اگر ان کی سندوں کو لیا جائے تو یہ کمرہ ناکافی ہو جائے گا۔ میں یہ کہہ سکتاہوں کہ حدیث کی سند کی جو کیمسٹری ہے، وہ آج کے شیخ الحدیث سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اگر ایک نقشہ بنا دیا جائے تو یہ دیکھ کر انسان مبہوت ہو جائے گا۔ مسلمان کی بات نہیں کر رہا، غیر مسلم بھی دیکھ لے، منکرین اسلام بھی دیکھیں تو مبہوت ہو جائیں گے کہ ایک ایک حدیث کے لیے اتنا مضبوط سٹرکچر موجود ہے اور موثق ہے اور پوری چودہ سوسالہ تاریخ میں recorded ہے۔ اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجایش نہیں ہے۔ 
تو احادیث کی تلاش ا نٹرنیٹ کے ذریعے آسان تو ہو گئی ہے، لیکن ایسا ہے کہ انٹرنیٹ کو گھاس پھوس کا جنگل بھی کہا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ اسے کوڑا کرکٹ کا جنگل کہتے ہیں۔ دونوں ہی تعبیریں صحیح ہو سکتی ہیں۔ لیکن کوڑاکر کٹ سے یا گھاس پھوس کے جنگل سے صحیح جڑی بوٹیوں کاانتخاب کرنا یہ ہمارا صیادلہ یا اطبا کا کام ہے۔ میرے پاس تقریباً دس پندرہ جو انٹر نیٹ پربڑی بڑی سائٹس ہیں، وہ بھی جو اور سافٹ وئیر دستیاب ہیں، ان کی لسٹ موجود ہے۔ 
اس کے بعد میں یہ گزارش بھی کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اب ڈیٹا اور انفارمیشن کو جمع کرنے کے مرحلہ سے آگے بڑھ کر استنباط وتخریج اور تجزیے کے مرحلے پر جانا چاہیے، کیوں کہ آج کے معلوماتی دور میں وسائل علم اور ادوات علم کی موجودگی میں کسی بھی موضوع پر تمام اسانید ومتون کی کیمسٹری کا احاطہ کرنے کے بعد غور وفکر کرنے پر زیادہ وقت لگایا جا سکتاہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کو جمع کرنے میں مصروف رہیں اور اسی میں ہم ہفتوں، سالوں اور مہینوں حیران وسرگرداں رہیں، ہمیں اگلے مراحل کی طرف بھی بڑھنا چاہیے۔ اگرچہ علم لامحدود چیز ہے اور کبھی بھی علم کی تلاش کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جیسے فرمایا ہے کہ’’ ویخلق مالاتعلمون‘‘، ہمارے لیے unknown challenges اور challenges unpredictable تو ہمیشہ ہیں۔ جس طرح ایک حدیث انما الاعمال بالنیات سے ہزاروں مسائل نکالے جا سکتے ہیں اور آئندہ بھی جو مسائل پیش آئیں گے، ان پر بھی اس سے روشنی پڑتی ہے اور پڑتی رہے گی۔ تو ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے ذہن اور صلاحیت کے استعمال کا اب زیادہ وقت ہے۔ ذہن کے ساتھ ساتھ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا، اعداد وشمار پر مبنی اور معاون معلومات کا استعمال بھی استعمال ضروری ہے۔ مثلاً خمر کے بارے میں جو احادیث میں آیاہے اور جسے اب تک ہم ایمان بالغیب کے طور پر مانتے تھے، اب ایمان بالشہود کے طورپر ماننا پڑے گا۔ کیوں کہ اس وقت دنیا کے بہت سے دانشور اور ریسرچ کرنے والے اور طب والے ڈاکٹرز بھی متفق ہیں کہ یہ ام الخبائث ہے اور بہت سے جرائم کی جڑ ہے۔ اس طرح کے شواہد اور معلومات بہت وسیع پیمانے پر میسر ہیں۔ جس موضوع پر بھی ہم چاہیں، چاہے وہ کوئی نفسیاتی پہلو ہو ، چاہے معاشرتی ہو ، چاہے سیاسی ہو، چاہے سائنسی ہو۔ معلومات کی کمی نہیں ہے ۔ تو ان اضافی معلومات سے بھی مدد لینے کی ضرورت ہے جن سے حدیث کے سمجھنے میں یاحدیث کی تشریح میں آسانی ہوتی ہو، جیسا کہ حضرت مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے بخار کے سلسلے میں میڈیکل سائنس کی تحقیقات کا حوالہ دیا۔ اسی طرح ہمیں فقہی جزئیات اور قراء ت خلف الامام جیسے مسائل سے ہٹ کر سماجی، معاشرتی اور سوشالوجیکل مسائل میں بھی جانے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک حدیث کا استعمال ان عام ضروریات میں نہیں ہوا ہے۔ ذہنی مشق کے طورپر حدیث کے تحت ہم جو فقہی مباحث کرتے ہیں، ان میں، جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ہم نے حدیث کو فقہ کا تابع بنا دیا ہے، کیونکہ ہمارامزاج فقہی ہو گیاہے۔ میں اپنے آپ کو بھی اس میں شامل کرتا ہوں۔ میں بھی اسی ترتیب کا پڑھا ہوا ہوں۔ تو حدیث کو آزادکرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے زاویے سے دیکھنے کی بجائے ہم دونوں آنکھوں سے دیکھیں اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں اور جو اس کے دوسرے پہلو ہیں، ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کے لیے وقت نکالیں، بجائے اس کے کہ اپنے مسلک کی کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے چند فقہی اختلافات میں الجھے رہیں۔ چند مسائل پر بطور نمونہ کے بحث کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن سال کا بیشتر حصہ اس پر لگادینا اور بقیہ جتنے مسائل ہیں، ان سب کو نظر انداز کر دینا، یہ علم حدیث اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ 
الحمد للہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجاز سے جو سند حدیث لائے تھے، اس کا اب تک رواج ہے، یہاں تک شام میں، مصرمیں، بحرین اور سعودیہ میں، ہرجگہ شاہ ولی اللہ کی سند یں ہی سب سے عالی سندیں ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب صرف حدیث لائے اور اس پر ریسرچ کی، بلکہ ان کی خدمات کی بدولت ہم نے پچھلے دو ڈھائی سو سال میں برصغیر میں حدیث کو گویا ایک ایسی commodity بنایا جو اب برآمد کی جاتی ہے۔ ہماری سندیں عالی ہیں، بس یہ کہ ہمارے ہاں وسائل اور علمی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے تحقیق کا معیار بہت اعلیٰ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جو تخصص کے شعبے ہیں، ان کو تھوڑاسا imaginative ہو کر موضوعات کا انتخاب کرنا چاہیے اور اسلوب علمی کا انتخاب اس طرح ہو کہ ہمارے معاشرتی، معاشی، سماجی، سیاسی اور اجتماعی مفادات کے لیے بھی حدیث کا استعمال ہو۔ مجھے تو معلوم نہیں کہ یہاں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم میں حدیث کا کتنا استعمال ہے اور کتنا نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم ہی بتا سکتے سکتے ہیں کہ اسلامیات جو یہاں پڑھائی جاتی ہے، ایک مسلم معاشرہ کی تعمیر کے لیے اس میں حدیث کو کما حقہ جگہ دی گئی ہے یانہیں۔ یہ مسئلہ آپ لوگوں کے فکر کرنے کا ہے۔ میں تو صرف توجہ ہی دلا سکتا ہوں۔ 
آخر میں، میں چاہوں گاکہ ایک تجویز جو میرے ذہن میں تھی، وہ آپ کے سامنے بھی پیش کر دوں۔ ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں ہر چیز کی ماشاء اللہ فراوانی ہی فراوانی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج ہم کسی چیز کیکمی کا شکار ہیں۔ نہ افرادی قوت کی قلت کا شکارہیں اورنہ مالی وسائل کی۔ مجموعی طورپر میں امت کی بات کر رہا ہوں اور مجموعی طور پر ہر ایک ملک کو بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے پاس چیلنجز اور مشکلات کی کمی بھی نہیں ہے۔ اس کی بھی فراوانی ہے ۔ تو ضرورت یہ ہے کہ ہم چیلنجز کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کریں اور صلاحیت میں اضافہ کے لیے ہمارے پاس tools  موجود ہیں، لیکن ہمیں ان کو صحیح اور بروقت استعمال کرنا آنا چاہیے جس کے لیے ہم غور وفکر کرنے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔ مثلاً ایک چیز جو شاید ابھی برصغیر میں اس طرح سے نہیں آئی، لیکن خلیج یعنی مکہ مکرمہ ہیءۃ الاعجاز العلمی فی الکتاب والسنۃ ایک مستقل نئی سائنس بن گئی ہے۔ قرآن وحدیث میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو معجزاتی طاقت رکھتی ہیں، ایسے statements یا حقائق اور بیانات ہیں جو scientifically proven ہیں اور اعجازی عنصر رکھتی ہیں۔ اس میں اتنے مسائل ہیں کہ میرا خیال ہے کہ شاید فقہی مسائل سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ آپ اس کو ان کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں رابطہ کے تحت بڑا منظم کا م ہو رہاہے اور ان کا ایک چینل ’’الاعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ‘‘ بھی ہے۔ قرآن پر بھی کام ہو رہا ہے اور حدیث پربھی کام ہو رہا ہے۔ تو میں یہ چاہوں گا کہ آج کی نشست میں ہم نے بہت ساری چیزوں پر غور وفکر کرنا ہے اور ہم نے اس بات کی ضرورت کا اظہار کرنا ہے کہ 
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا 
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے
مطلب یہ ہے کہ شریف کے علوم میں، حدیث شریف کی ریسرچ میں اور حدیث شریف کی خدمت میں ہر چیز کا علاج ہے۔ یہ آج کی بات سے بالکل واضح ہے، لیکن ہم چند مسائل پر اور چند ہی پہلو ؤں پر توجہ مرکوز کر کے انہی پر قناعت کر رہے ہیں۔ تو میں اگر یہ تجویز دوں کہ اب اس وسائل کے زمانے میں جس طرح تعلیمی سپلیمنٹ کے طور پر دنیا میں میوزیم ہیں، سائنس کے میوزیم ہوتے ہیں، ہسٹری کے میوزیم ہوتے ہیں، نیچرل میوزیم ہوتے ہیں، اسی طرح علوم دینیہ کا اسلامی میوزیم کیوں نہیں ہے۔ تعلیمی مددگار کے طور پر، تفریح کے طور پر نہیں۔ الااعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ یا صرف الاعجازالعلمی فی السنۃ کے تحت ایک حدیث کا ٹکڑا لیا جائے اور اس کی تشریح میں وہ معلومات درج کی جائیں جو آج کل کی سائنسی تحقیقات نے مہیا کی ہیں تو بلاتعصب کسی بھی مذہب کا ماننے والا دیکھے گا تو اس حدیث کی حقانیت کا موجود ہ علم کی روشنی میں قائل ہو جائے گا۔ آج کی general scientific knowledge  اور معلومات انسان کے پاس ہیں، لیکن جب وہ ایک میوزیم میں اس کا ربط حدیث شریف سے دیکھے گا تو غیر مسلم بھی اس کا قائل ہو جائے گا کہ ہاں، یہ بات تو صحیح ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تھے مکہ مکرمہ میں تو خانہ کعبہ کے صحن میں آ پ نے فرمایا تھا کہ انکم لتعجلون واللہ لیتمن ہذاالامر، کہ یہ جو میں پیغام لے کر آیا ہوں، یہ تو ساری دنیا میں پھیلے گا اوریہ پورا ہو کر رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دی تھی کہ طواف کرنے کے لیے تنہا عورت یمن سے آئے گی تواسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ یہ اس ماحول میں بات کی گئی کہ کوئی آدمی اپنے محلہ سے باہر جاتا تو اس کو جان کو خطرہ ہوتا تھا۔ اشہر حرم کے علاوہ کوئی بغیر امان اور حفاظت کے سفر نہیں کر سکتا تھا۔ وہاں یہ بات ہو رہی ہے کہ امن وامان اور سفر اتنا عام ہو جائے گا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام تھا کہ امن وامان، صلح اور عدل وانصاف جو آفاقی اقدار (universal values) ہیں اور جنھیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے طور پر مانتے ہیں، یہی اخلاقی اقدار human values  ہو جائیں گی اور ایک ایک کر کے ہو رہی ہیں۔
اسی طرح احادیث شریفہ میں اعجاز علمی ہے۔scientific  اور حکمت کی باتیں ہیں۔ خود قرآن مجید میں حدیث کو حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ’یعلمہم الکتاب والحکمۃ‘ ۔تعلیم الکتاب تو کتاب ہے، اور تعلیم حکمت کیا ہے؟ حدیث۔ اس میں حکمت کی جو باتیں ہیں، اتنی زیادہ ہیں اتنی complex  ہیں اور اتنی پھیلی ہوئی ہیں کہ ہم صرف الفاظ سے انسانوں کو convey نہیں کر سکتے۔ اس کا visual presentation کرنا ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔ لکیریں کھینچ کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلایا۔ یہاں Power Point کے ذریعے اور projector کے ذریعے اس کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔ کیونکہ audio visual سے ہماری توجہ مرکوز رہتی ہے اور یہ سمجھنے سمجھانے میں، اور باتیں یاد رکھنے اور انہیں محفوظ رکھنے میں ایک حد تک انسانوں کو آسانی فراہم کرتے ہیں۔ تو یہ جو میوزیم کی میری تجویز ہے، بس ایک خاکہ ہی ہے ذہن میں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کسی کو، مجھے یا کسی او ر کو۔ حدیث شریف کا میوزیم ایک تو ہے اعجاز کے لحاظ سے، حکمت کے لحاظ سے، اور دوسرا میں کہتا ہوں کہ mechanically  اگر احادیث کاچارٹ بنا لیا جائے کہ کتنے صحابہ ہیں جنھوں نے احادیث نقل کی ہیں تو نہ معلوم کتنے سو کمروں میں، صرف سندوں کے چارٹ ہی ہوں گے، متن تو دور کی با ت ہے۔ سند کا چارٹ دیکھ کر ہی انسان مبہوت ہو جائے گا، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ تو میں آج کی گفتگو اس بات پر ختم کروں گا کہ اب یہ زمانہ علم کا ہے، وسائل کا ہے، کھلے ذہن کا ہے، اور مذہبی تعصب موجود ہے لیکن کم ہے۔ مثلاً آج کل جولوگ مسلمان ہو رہے ہیں مختلف نو مسلم طبقوں سے، ہندوؤں میں بھی ہیں، سکھوں میں بھی ہیں، گوروں اور کالوں میں بھی ہیں، مغرب میں بھی، معلو م ہوتا ہے کہ وہ ہماری خوبیوں کو دیکھ کر نہیں ہو رہے بلکہ وہ اسلام کی حقانیت کو دیکھ کر مسلمان ہو رہے ہیں۔ وہ حقانیت جو انہوں نے خود دریافت کی ہے، ہم نے انہیں نہیں بتایا۔ مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ کیوں اتنے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں تو ہم نے کہا کہ ہمارا خدا نخواستہ کوئی کردار نہیں ہے۔ وہ خود ہی اسلام کی حقانیت کو سمجھ کر آ رہے ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ اگر ہم کم سے کم یہ کرسکیں کہ حقانیت اسلام کو معلومات کی حد تک موجود اور متوافر تو کر دیں، اب ایمان لانا یا نہ لانا اور کسی کا اس کو ماننا اور نہ ماننا، یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ لیکن حدیث کو علمی وعقلی اسلوب میں پیش کرنے کے لحاظ سے کیا ہم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کماحقہ اس کا حق دے رہے ہیں؟
جیسا کہ حدیث ہے کہ ’نضر اللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا فبلغہا فرب مبلغ اوعی من سامع‘۔ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔ جو بیان کرنے والا ہے، جو سننے والا ہے،یعنی اگلی generation جو ہے، وہ بیان کرنے والی generation سے زیادہ سمجھ دار ہو سکتی ہے۔ یہ قیامت تک کے لیے تسلسل کے ساتھ ہے۔ یہ نہیں کہ پہلی صدی کے لیے کہا گیاہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے کہ آج کے محدث اور شیخ الحدیث سے زیادہ سمجھ دار اس کا شاگر د ہو سکتاہے۔ معاف کیجیے گا کہ گستاخی ہوئی، لیکن میں حدیث ہی کی بات کر رہا ہوں۔ حدیث میں ہے کہ فرب مبلغ اوعی من سامع۔ اور اس میں، میں غیر مسلم کو بھی شامل کر سکتا ہوں۔ کبھی کبھی ایک غیر مسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کو ہم سے زیادہ سمجھتاہے۔ ایک سائنٹسٹ ہم سے زیادہ سمجھ سکتا ہے۔ مورس بوکائی کی کتاب اٹھا کر دیکھیں۔ میںیہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ایمان میں کمی ہے۔ ہمارا ایمان بالغیب، بالاجمال ہے اوراللہ تعالیٰ ہمیں اسی ایمان سے نجات دے دے، یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی، لیکن ایمان بالتفصیل اور ایمان شہود العیان کے طورپر بھی ممکن الحصول ہے، اگر ہم اس کے لیے بھی ہمت کریں۔
تو حدیث کو اس کا پورا حق دینا چاہیے اور اس کی کماحقہ خدمت کرنی چاہیے۔ اس کے لیے عملاً جو کچھ بھی اصلاح ضروری ہے مدرسوں میں، منبر میں، محراب میں، اور وسائل کے ذریعے ، ان سب کی تجویز تو آگئی ہے لیکن ختام ا لمسک کے طورپر میں چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق دے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دیں اور دوسرے لوگوں کو بھی جن کے پاس وسائل ہوں کہ وہ ایسا بڑا تعلیمی میوزیم بنا سکے جہاں ہرحدیث کی حقانیت، حدیث کی ریسرچ، حدیث کی شرح اور اس کی اسناد کا visual presentation معجزانہ اسلوب کے ساتھ موجود ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ 

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ

قاضی محمد رویس خان ایوبی

(۱۵ فروری ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے اختتامی خطاب۔)

میں نے ۱۹۶۳ء میں جامعہ اشرفیہ سے دورۂ حدیث پڑھا۔ بڑی پرانی بات ہے۔ میرے اساتذہ میں وہ لوگ شامل ہیں، صرف شامل ہی نہیں بلکہ وہی ہیں کہ جن کو دیکھ کر محاورتاً نہیں، حقیقتاً خدا یاد آ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے چہرۂ انور کی برکت ہے کہ آج تک ہمارے اندر ایمان کی رمق موجود ہے۔ یقیناًوہ بہت اونچے لوگ تھے، مولانا رسول خان ؒ صاحب، مولانا کاندھلویؒ ، اورمولانا عبیداللہ صاحب، اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز فرمائے۔ اس کے بعد سے مسلسل چالیس پینتالیس سال سے میں حدیث کا مطالعہ کر رہا ہوں۔
مفتی برکت اللہ صاحب نے انٹرنیٹ اور تمام سورسز آف نالج کو استعمال کرنے کا کہا۔ امام بخاریؒ ، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداؤد سجستانی، یہ سارے کے سارے ائمہ اور امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل، فقہا، مجتہدین، محدثین سب کے سب اس دور میں اونٹوں، گھوڑوں، گدھوں اور خچروں پر سوار ہو ا کرتے تھے اور بہت عرصے کے بعد جا کر منزل مقصود تک پہنچتے تھے۔ آج کوئی مولوی یہ نہیں چاہتا کہ میں گھوڑے یا گدھے پر سفر کروں۔ وہ جہاز کا ٹکٹ پہلے تلاش کرتا ہے۔ اسی طرح علمی طور پر کسی تیز رفتار ذریعے کو اختیار کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ آج الیکٹرانک دور ہے۔ اس دورمیں کوئی بندہ اگر دین پڑھ جائے گا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اپنی کتنی صلاحیتوں کو دین کے لیے صرف کر سکے گا۔ میرے پاس کراچی سے ٹی وی کے حوالے سے ایک فتویٰ آیاتھا کہ کراچی میں کچھ صاحبان نے مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں ٹی وی کو حرام قرار دیا ہے۔ ذرا بتائیے کہ آپ مجھ سے کوئی یہ کہے کہ مفتی صاحب!آپ آئیے اور مجھ سے کشتی لڑیں تو میں کہوں گا کہ شرم کریں بھائی، یہ میرے بچوں کی جگہ ہے۔ میں کوئی کشتی لڑنے آیا ہوں؟ مجھے اپنی ٹوپی، اپنی شیروانی، اپنی عینک کی عزت کا خیال ہے کہ یہ مہذب لوگوں کا شیوہ نہیں ہے، لیکن میرے آقانے کشتی لڑی اور اس پہلوان کا نام رکانہ تھا۔ اس نے کہا آپ مجھ سے کشتی لڑیں تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ پیغمبر نے بازو اوپر کر لیے اور کہا کہ لڑتا ہوں۔ دین پھیلانے کی خاطر کشتی لڑنا بھی حرام نہیں۔ آج کے جدید دور میں لوگ طرح طرح کے پروگرام ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلا رہے ہیں تو آپ صرف الشریعہ اکادمی یا کسی مسجد کے اند ربیٹھ کر اس پیغام کو عام نہیں کر سکتے۔ لہٰذا جدید ذرائع سے استفادہ کرنا نہ صرف پیغمبر کی سنت ہے، بلکہ تمام مولویوں کی سنت ہے۔ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ ٹی وی میں اشتہار آتے ہیں تو بھائی، اشتہار جبریل نازل نہیں کر تا، لوگ اشتہار دیتے ہیں تو آتے ہیں، آپ نہ دیں تو اشتہار نہیں آئیں گے۔ باقی رہی یہ بات کہ انٹرنیٹ میں گند بھی ہوتاہے تو انٹرنیٹ واقعی ایک سمندر ہے، لیکن اس سے وہیل مچھلیاں، شارک مچھلیاں، گھونگے، زعفران اور مرجان نکالنا ان کا کام ہے جو جانتے ہیں۔ ہوتا تو سب کچھ ہوتا ہے۔ 
مفتی صاحب نے جدید ذرائع کے استعمال سے متعلق تو بات کی ہے لیکن حدیث کے فہم کے حوالے سے بات نہیں کی۔ میں نے حضرت کاندھلوی اور مولانا رسول خان صاحبؒ سے حدیث پڑھی ہے۔ کچھ احادیث ایسی ہیں جو آج تک میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ مثلاً تمیم داری کی حدیث جو مسلم شریف میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سمندر کے سفر پر گئے اور کشتی ٹوٹ گئی تو ہم ایک جزیرے پر جا پہنچے۔ وہاں بالوں سے بھرے ہوئے جسم والی ایک چیز ہمیں ملی جس کے جسم کے اگلے اور پچھلے حصے کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ وہ با ت کرتی تھی لیکن ’’لانفقہ مایقول‘‘، ہمیں سمجھ نہیںآتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ پھر وہی راوی یہ بتاتا ہے کہ اس نے کہا کہ کیا بحیرہ طبریہ خشک ہوگیا؟ ہم نے کہا، ہاں۔ اس نے کہا، قریش کے نبی ظاہر ہو گئے؟ ہم نے کہا، ہاں۔ سوال یہ ہے کہ جب اس کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی تو یہ سوال وجواب کیسے ہوا؟ یہ غور طلب بات ہے۔ پھر یہ قصہ جو خاتون سنا رہی ہیں، ان سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سناؤ تووہ خاتون کہتی ہے، میرانکاح الف سے ہوا، وہ مرا، ب سے ہوا، وہ مرا، ت سے ہوا، وہ مرا، ج سے ہوا، پھرایک دن ’’الصلوۃ جامعۃ‘‘ کی آواز لگائی گئی۔ ہم وہاں پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دجال والاقصہ سنایا کہ تمیم داری وہاں گئے۔ بھئی اس نکاح کا حدیث سے کیا تعلق ہے ؟ پھر وہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ دجال آ گیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ھو فی بحرالشام، لا ھو فی بحر الیمن، لا ہو فی الشرق۔ فرمایا وہ شام میں ہے، نہیں نہیں، وہ یمن میں ہے،نہیں نہیں، وہ تومشرق میں ہے۔ وہ یہاں نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس کی باتیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، یمن میں ہے۔ نہیں ، شام میں ہے۔ نہیں، وہ مشرق میں ہے۔ نہیں ، وہ مغرب میں ہے۔ میں اعتراض نہیں کر رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب محدث اور شیخ الحدیث پڑھائے تو طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پیغمبر کا کیا مقصدہے؟ لیکن اگر وہ یہ پوچھتا ہے تو مدرسے والے اسے دوپہر سے پہلے پہلے نکال دیں گے کہ یہ بے ایمان اور پرویز ی ہے اور یہ مدرسے کی روٹیاں کھا کر مفکر بننا چاہتا ہے۔ یہ اس کا حل نہیں ہے۔ 
غزوہ خیبر کے موقع پر صفیہ بن حیی بن اخطب ایک خاتون تھیں جو دحبہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ یہ وہی صحابی ہیں جبریل سے مشابہت والے۔ آپ نے ان کو دے دی توصحابہ کا ایک گروپ آیا اور آپ سے عرض کیا کہ ’’الا انہا اجمل نساء الیہود‘‘ یہ یہودیوں کی سب سے خوبصورت خاتون ہے، آپ نے کس کو پکڑا دی ہے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کو بلایا اور کہا، کیا تم اس سے میرے لیے دستبردار نہیں ہو سکتے؟ تو دحیہ نے جواب دیا کہ فداک ابی وامی‘ ایک صفیہ کیا، ہزاروں آپ پر قربان۔ حضور نے صفیہ کو ان سے واپس لے لیا اور واپسی کے لیے اپنی سواری پر سوار ہوگئے۔ صحابہ کرامؓ نے سوچا کہ یہ بیوی بنتی ہے یا لونڈی۔ اگر تو اس سے پردہ کرایا تو زوجہ محترمہ ام المومنین ہوگی اور نہ کرایا تو لونڈی شمار کی جائے گی۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو اونٹ پر بٹھانے کے لیے اپنا گھٹنا مبارک دہرا کیا اور اس پر صفیہ نے اپنے پاؤں رکھا۔ یہ غزوہ خیبر کے حوالہ سے فتح الباری میں واقعہ موجود ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پرصفیہ نے پاؤں رکھا تو فتح الباری میں ہے کہ فتمعر وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہر بندہ جو صنفی معاملات کو جانتا ہے، سمجھ سکتا ہے کہ تمعر کا کیا مطلب ہے اور حضور کا چہرہ کیوں سرخ ہو گیا۔ جب آپ کجاوے میں بیٹھ گئے اور کجاوہ اوپر سے بندہے تو صحابہؓ نے سمجھ لیا کہ یہ ام المومنین ہیں، لونڈی نہیں ہیں۔ واقعے کے مطابق کجاوے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو چھیڑا تو انہوں نے کہنی ماری جس پر حضور پیچھے ہٹ گئے۔ جب ایک جگہ جا کر اترے تو حضور نے پوچھا کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہے؟ صفیہ نے جواب دیا، نفرت تو نہیں ہے، لیکن چونکہ یہودی قرب وجوار میں تھے اور میں سردار کی بیٹی ہوں تو مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ غیرت کی وجہ سے حملہ نہ کر دیں اورآپ کو نقصان نہ پہنچائیں، اس لیے میں نے آپ کو روک دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سارا واقعہ کجاوے کے اندر ہوا ہے۔ کجاوے کے اندر کی بات باہر کیسے آئی؟ جس راوی نے اس کو بیان کیا ہے، اس کو کس نے بتایا؟ سوا ل یہ ہے کہ میاں بیوی کی جو آپس کی بات ہے، یہ راوی کو کہاں سے ملی ہے؟ اگر پیغمبر نے اس کو بتایاہے تو یہ بھی پیغمبر کی حدیث کے خلاف ہے کہ میاں بیوی اپنی باتیں باہر بتائیں۔ 
اسی طرح حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرۃ پربے شمار اعتراضات ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ عرصہ تو ابوبکرؓ رہے، عمرؓ رہے، عثمان غنیؓ رہے اور حضرت امیر معاویہؓ کاتب وحی تھے تو سب سے زیادہ روایات ابوہریرہؓ سے کیوں مروی ہیں۔ یہ سارے وہ مسائل ہیں جو طالب علمی کے دور میں ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، مگر وہ استاد سے پوچھ نہیں سکتا، اس لیے ا س با ت کی بھی ضرورت ہے کہ طلبہ کو حوصلہ دیا جائے کہ اگرکوئی شک پڑجائے تو پوچھ لیا کرو، اور اس کے جوابات بھی موجود ہیں۔ 
آج میں قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا جو مجھے سمجھ میں نہیں آئی۔ ’’لیسو ا سواء من اہل الکتاب امۃ قائمۃ‘‘ کہ سارے اہل کتاب برابر نہیں ہیں۔ ان میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں جو ’’آناء الیل وآناء النہار‘‘ تلاوت آیات کرتے ہیں، سجدوں میں مصروف رہتے ہیں، اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ ’’واولئک من الصالحین‘‘ وہ صالحین ہیں، نیک لوگ ہیں۔ اس سے دور حاضر کے یہودیوں نے استدلال کیا ہے۔ اسی طرح ’’ان الذین آمنوا والذین ھادوا والنصاری والصابئین‘‘ والی آیت ہے کہ جو یہودی ہوئے، عیسائی ہوئے، صابی ہوئے، ان میں سے جواللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آخرت پر ایمان لائے، وہ سارے کے سار ے جنتی ہیں۔ یہودیوں کا نارتھ کیرولینا میں ایک سکول ہے۔ میں اس میں خود گیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں آیات سے پتہ چلتاہے کہ رسالت محمدی پر ایمان لائے بغیر بھی بندہ جنت میں جا سکتا ہے۔ اب یہ سوال اگر کوئی طالب دورۂ تفسیر میں رد مذاہب باطلہ کے دس دس فٹ لمبے اشتہار لگانے والوں سے پوچھے گا تو وہ کہیں گے کہ تو تو بے ایمان ہے۔ رد مذاہب سے مراد ہے شیعہ، ردمذاہب سے مرا دہے بریلوی، رد مذاہب سے مراد ہے آٹھ رکعتیں یا بیس رکعتیں، رد مذاہب با طلہ سے مراد زیادہ سے زیادہ آگے چلے گئے تو مرزائی۔ ان آیتوں پر اعتراض تو کہاں سے لے آیا؟ تو کافر ہے۔ تو اس رویے کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام

ادارہ

(۱۹ فروری ۲۰۰۹ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام تنظیم؍ وفاق ہاے مدارس کے سربراہان کے ساتھ ’’تدریب المعلمین‘‘ اور ’’تخصصات دینیہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ نشست کی روداد۔)

۱۹ فروری ۲۰۰۹ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام تنظیم؍ وفاق ہائے مدارس کے سربراہان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ 
نشست کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز خالد رحمن نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے آئی پی ایس کا مختصر تعارف پیش کیا اور بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ نے قیام کے آغاز ہی سے تعلیم، قومی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظام کی اسلامائزیشن کو اپنے علمی اور تحقیقی منصوبوں میں شامل کیا ہوا ہے۔ اس کام کے تسلسل میں ۱۹۸۶ء سے دینی مدارس پر تحقیق اور ادارتی سطح پر ان کی نشوو نما کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس موضوع پر ’’دینی مدارس کا نظام تعلیم‘‘ انسٹی ٹیوٹ کی پہلی کتاب ہے جو ۲۳، ۲۴ نومبر ۱۹۸۶ء کو منعقد ہونے والے سیمینارکی کارروائی پر مشتمل تھی۔ تحقیق کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ کا کام تین نوعیت کا ہے: مجالس مذاکرہ، تربیت اساتذہ اور مطبوعات۔ اب تک منعقد ہونے والے تربیتی پروگرامات اور مجالس مذاکرہ کی تعداد چالیس سے متجاوز ہے جبکہ مقالات و مطبوعات کی تعداد دس ہے۔ 
تدریب المعلمین کے سلسلے میں منعقد ہونے والے پروگرامات میں اب تک کم و بیش ایک ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔ یہ پروگرامات کم از کم ایک روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روز پر مشتمل تھے، اور بالعموم ان میں تمام وفاق ؍ تنظیم کے مدارس کی بیک وقت شرکت کا اہتمام کیا گیا۔ ان پروگرامات کے شرکا کی تجاویز کی روشنی میں کام کو وسیع تر دائرے میں آگے بڑھانے اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تمام وفاق؍ تنظیم کے ذمہ داران کے ساتھ آج کی نشست کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نشست کے پہلے حصہ میں تدریب المعلمین کے آئندہ پروگرام پر گفتگو ہوگی جب کہ دوسرے حصہ میں تخصصات دینیہ کے حوالے سے جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تجویز کی روشنی میں گفتگو ہو گی۔ 
انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام آئندہ پروگرام ترتیب دیتے ہوئے ہم آج کی اس نشست کو اپنے لیے راہنمائی کا ایک اہم موقع سمجھتے ہیں ۔

تدریب المعلمین

مولانا محمد حنیف جالندھری 

(وفاق المدارس العربیہ)
میں پروفیسر خورشیداحمد، جناب خالد رحمن اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے دیگر رفقا کا شکر گزار ہوں۔ جناب خالد رحمن نے انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام اب تک مدارس کے حوالہ سے کیے جانے والے کام کا بڑا اچھا تعارف پیش فرمایا ہے۔ اسی تسلسل میں آج کی نشست کے دونوں موضوعات بڑے اہم ہیں۔ جہاں تک تدریب المعلمین کا تعلق ہے، اس کی ضرورت، افادیت اور اہمیت سے کسی بھی ذی شعور کو انکار نہیں ہوگا۔ درحقیقت ذرائع علم میں کتابیں، ماحول اور مدرسہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ استاد سب سے اولین حیثیت رکھتا ہے،اس لیے کہ باقی تمام چیزیں جاندار نہیں ہیں۔ نہ کتابیں بولتی ہیں، نہ ماحول بولتا ہے اور نہ ہی درسگاہ اور اس کے در و دیوار۔ استاد ہی ایک جاندار آلہ علم اور ذریعہ علم ہے۔ تو استاد چونکہ اصل ہے، اس لیے جتنا وہ ماہر ہو گا، اس سے کسب فیض کرنے والے شاگرد بھی اسی قدر ماہر ہوں گے۔ اس تناظر میں آپ نے تدریب المعلمین کی جو تجویز دی ہے، اس سے اصولی طور پر اتفاق ہے، لیکن تدریب المعلمین کے دو پہلو سامنے رہنا ضروری ہیں۔ ایک پہلو کا تعلق نصاب تعلیم سے اور دوسرے کا تعلق نظام تعلیم یا انداز تدریس سے ہے۔ 
جہاں تک نصاب تعلیم کا تعلق ہے، اس میں ضروری ہے کہ استاد کویہ معلوم ہو کہ فلاں فن، فلاں کتاب اور فلاں علم میں نے کیسے پڑھانا ہے ۔ ظاہر ہے کہ استاد کو یہ تربیت ماہر اساتذہ ہی دے سکتے ہیں جن کا اس میدان میں بہت زیادہ تجربہ ہو، کیوں کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ تدریس کے دوران بعض اوقات غیر ضروری مباحث بیان ہو جاتے ہیں اور ضروری مباحث کسی وجہ سے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ جسے اختصار کے ساتھ بیان ہونا چاہیے، اس میں بہت زیادہ طوالت ہوجاتی ہے یا چند ابواب جو کہ ہر کتاب میں مکرر ہوتے ہیں، ان میں تکرار ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کتاب الطہارۃ پر تدریس کے دوران لمبی لمبی بحث ہو جاتی ہے، لیکن اس کے بعد اخلاقیات، کتاب البیوع یا دیگر پر سرسری انداز سے گزرتے ہوئے پوری طرح توجہ نہیں ہو پاتی ۔ عرض کرنے کا منشا یہ ہے کہ تدریب المعلمین کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق درس نظامی کے نصاب اور اس کے طریقہ تدریس کے ساتھ ہے۔اس کے لیے ضروری ہو گا کہ جو ماہر اساتذہ ہیں، وہ اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیں کہ فلاں فن کے لیے یہ کتابیں ہیں جن سے مدد لی جاسکتی ہے، اور یہ یہ مباحث زیادہ ضروری ہیں، ان کو بیان کریں اور یہ غیر اہم مباحث ہیں، ان کو بیان کرنے سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں تدریب المعلمین کے لیے ایسے ماہر اساتذہ درکار ہوں گے جن کا تجربہ میرے خیال میں کم از کم بیس سال ہونا چاہیے، کیوں کہ اتنا تجربہ رکھنے والے ہی صحیح رہنمائی کر سکتے ہیں۔ 
دوسرا پہلو نفسیاتی ہے کہ آج کے دور میں جو طریقہ تدریس یا طریقہ تعلیم ہے، اس کے اندر طلبہ کی نفسیات، علمی سطح، ذہنی سطح اور ان کے فہم و دانش کو سامنے رکھ کر تعلیم دینے کا اہتمام کرنا۔ خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک بات کو بار بار دہراتے تھے تاکہ اچھی طرح سے سمجھ لی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پڑھاتے ہوئے دائیں، بائیں اور ہر طرف اپنے چہرہ انور کو پھیرتے تھے، اس لیے کہ مواجہہ سے بہت ساری باتیں سمجھ آتی ہیں۔ اسی طرح یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج مار کا زمانہ نہیں ہے۔ اگر آپ طالب علم کو ماریں گے تو وہ کبھی بھی پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ ایک دور تھا جب آپ طلبہ کی پٹائی کرتے تھے تو وہ اس کو بھی سعادت سمجھتے تھے۔ آج تو اپنے بچے کو بھی کچھ کہتے ہوئے انسان محتاط ہوتا ہے۔تو یہ نفسیاتی چیزیں ہیں کہ بچے کو پڑھانا کیسے ہے؟ پیار، محبت اور ترغیب کے کون سے انداز ہیں؟ یہ تدریب المعلمین کا دوسرا حصہ ہے۔
تیسرا حصہ تدریب کا وہ آجا تا ہے کہ استاد اپنے تدریسی عمل میں ملکی اور عالمی حالات کو پیش نظر رکھے۔ اس حوالہ سے ایک بہت بڑی کمی جومیں محسوس کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہمارا پڑھانا تطبیقی نہیں ہوتا یعنی آج جو کچھ ہم پڑھا رہے ہیں، ان کو موجودہ حالات پر منطبق کرنا۔ مثال کے طور پر اگر ہم کتاب البیوع پڑھا رہے ہیں تو بیع کی کچھ تو وہ صورتیں ہیں جو قدیم زمانے میں رائج تھیں۔ آج صورت حال کئی طرح سے مختلف ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ بیع غررہے، آج اس کی کیا صورتیں ہیں؟ بیع حبل الحبلہ ہے، اسی طرح ملابسہ ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بارے میں یہ جاننا کہ موجودہ زمانے میں ان کی کیا صورتیں ہیں؟ یا جیسے ہم کتاب المساقات و المزارعات پڑھاتے ہیں جس میں باغوں کا، کھیتیوں کا اور کاشت کا بیان پڑھاتے ہیں۔ ان کی آج مروجہ صورتیں کیا ہیں؟ ان کا کیا حکم ہے؟ اس زمانے میں صورتیں کچھ اور تھیں جو آج سے مختلف ہیں۔ اس زمانے میں کنویں تھے، ان کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ یہ صورت ہو تو کنواں ناپاک ہوجائے گا، پاک کرنے کا یہ طریقہ ہے، لیکن آج تو طالب علم کو کہیں کنواں نظر نہیں آتا۔ ہمارا جو معاشی نظام ہے، آج اس میں ایک بینکنگ کا شعبہ ہے۔ تجارت صرف مقامی اور قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہو رہی ہے۔ ٹیلی فون، فیکس اور ای میل پر تجارت ہو رہی ہے ۔ تجارت کی ان صورتوں کا کیا حکم ہے؟ موجودہ بینکاری کے نظام پر یہ صورتیں کیسے منطبق ہو تی ہیں ؟ خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے ہاں تدریس تطبیقی نہیں ہے۔ طالب علم جو پڑھ رہا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے علم مل رہا ہے اور یہ برکت کے لیے بھی ہے، لیکن آج کی زندہ دنیا میں، باہر مارکیٹ میں میں اپنے علم کو کیسے منطبق (Apply) کروں گا، یہ اس پر پوری طرح واضح نہیں ہے اور یہ میرے خیال میں زیادہ ضروری ہے ۔
اس ضمن میں ایک بڑا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر تمام وفاق مل کر یہ انتظام کریں، آئی پی ایس کا تعاون بھی حاصل ہو، کہ چند ایک اہل علم اس کام پر اس طرح لگائے جائیں کہ ان کی ضروریات کاباقاعدہ انتظام بھی کیا جائے۔ ان کی ذمہ داری ہو کہ احادیث کی کتب میں سے چند ایک صلبی کتب کا انتخاب کریں اور ان میں شریعت کے جتنے بھی احکام اور مسائل ہیں، ان کو انطباقی انداز میں مرتب کریں تو وہ استاد کے لیے ایک رہنما چیز ہو گی جو کم از کم اس وقت موجود نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کتب کی جو شروح لکھی گئی ہیں، ان میں بعض حضرات نے موجودہ دور کے مسائل کے احکام منطبق کیے ہیں، لیکن اکثر شروح میں آج کی مروجہ صورتیں نظر نہیں آئیں گی۔ یوں دوران تعلیم لگتا یہ ہے کہ جو میں پڑھ رہا ہوں، اس کا تعلق دور ماضی سے ہے، دور حاضر اور مستقبل سے نہیں ہے۔ 
تدریب المعلمین کے حوالہ سے یہ چند تجاویز میرے ذہن میں ہیں۔ یہ کام بہت اہم ہے، البتہ صرف دو یا تین دن کی ورکشاپ میرے خیال میں اتنی زیادہ مفید نہیں ہو گی۔ اس میں صرف آپ اخلاقی پہلو اورطلبہ کے نفسیاتی پہلو بتا سکتے ہیں، اسی طرح کچھ تھوڑے بہت اجمالاً عالمی حالات اور تقاضے بتا سکتے ہیں، لیکن طویل المیعاد پروگرام کے نقطہ نظر سے ضرورت یہ ہو گی کہ تدریب المعلمین میں نصاب تعلیم، نظام تعلیم اور طرق تدریس سے متعلق موضوعات پر ٹھوس کام ہو اور اس کے لیے ضروری مواد بھی تیار ہو۔

مولانا یا سین ظفر 

(وفاق المدارس السلفیہ)
تدریب المعلمین کے سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے تمام ضروری باتوں کااحاطہ کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں دو تین تجاویز میرے ذہن میں بھی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام کے حوالہ سے اکثر میں سوچتا ہوں کہ آپ کے ہاں ہمارے جو اساتذہ آتے ہیں، وہ تدریسی فرائض چھوڑ کر آتے ہیں تو ظاہر ہے وہاں بھی ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہاں ایسے ماہرین ان کو تربیت دیتے ہیں جن کی اکثریت براہ راست مدارس سے متعلق نہیں ہوتی اوروہ اپنے تجربات کی روشنی میں ہی ساری بات کرتے ہیں۔ آئندہ کے لیے میری تجویز یہ ہے کہ اگر ہر وفاق اپنے ہاں سے ایسے اساتذہ، جن کی تدریسی خدمات کو بیس سے پچیس سال ہو چکے ہوں، ان کو تدریس سے کچھ عرصہ کے لیے فارغ وقت دیں اور وہ یہاں آکر تربیت حاصل کر سکیں، جیسا کہ قاری صاحب نے متوجہ کیا کہ وقت تھوڑا زیادہ ہونا چاہیے تا کہ اس سلسلے میں جتنے بھی ضروری موضوعات ہیں، ان کو سمیٹا جا سکے۔
یہ تجویز بھی اچھی ہے کہ وہ بعد میں جا کر اپنے اپنے مسالک یا وفاقوں کے زیر اہتمام مدارس میں یہ فریضہ سر انجام دیں، لیکن یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب ان کے پاس تدریسی فرائض سے کچھ فرصت ہوگی۔ اگر واپسی پر جا کر وہ خود ہی اپنی تدریس میں مصروف ہو گئے تو کیسے یہ کام کر سکیں گے۔ مدارس کا سلسلہ پورے پاکستان میں پھیلا ہو اہے۔ سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں ، البتہ صوبوں یا ڈویژن کے اعتبار سے ان کو اکٹھا کر کے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اگر ایسے اساتذہ کی خدمات لی جائیں، ان کو تربیت دی جائے، وفاق ان کا بوجھ اٹھائیں اور وہ اساتذہ یہ فریضہ مختلف مقامات پر سر انجام دیں تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری رہ سکتا ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہو گا جیسے نصاب سازی اورکتابوں کی تبدیلی ہر سال ہر وفاق کرتا ہے اور اس پر غور و فکرجاری رہتا ہے۔ اسی طرح تدریب کے اندر بھی نئی نئی چیزیں شامل ہوتی رہیں گی۔ اس اعتبار سے یہ کام ضرور ہونا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مدارس میں اساتذہ کا بھی بعض موضوعات میں تخصص ہوتا ہے۔ کسی کا فقہ میں، کسی کا تفسیر اور حدیث، یا ادب اور تاریخ میں۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام پروگراموں میں جولوگ آتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ان سارے ہی موضوعات پر دسترس رکھتے ہوں بلکہ ان کی شناخت اور دائرہ کار کسی ایک موضوع میں ہو گا۔ فطری طور پر اگر اسی موضوع پر فیلڈ میں جا کر وہ بتائے گا تو زیادہ بہتر ہوگا۔اس اعتبار سے وفاق بھی اور آپ (آئی پی ایس) بھی یہ اہتمام کریں کہ ایسے لوگوں کو شامل کریں جن کا مطالعہ وسیع ہے۔ اگر ان کی اچھی تربیت ہو جائے گی تو وہ جا کر کسی بھی موضوع پر عمدہ بات کر سکیں گے۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ بلاشبہ اصول تدریس، اسلوب یا تربیت کے کئی پہلو نکل آتے ہیں،لیکن اس سے بڑھ کر ایک موضوع جس کو ہم مدارس والے بھی محسوس کرتے ہیں، وہ نظم و نسق اور نظام کی پابندی ہے۔ہمارے ہاں اساتذہ بہت اچھی تدریس کر لیں گے، لیکن نظام میں رہ کر اصولوں کی پابندی اکثر ان کے لیے مشکل ہوتی ہے۔ مثلاً کچھ مدارس ایسے ہیں جن میں عمر کی کوئی قید نہیں ، کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ابتدائی کلاسوں کے ساتھ بخاری پڑھنا چاہے تو اسے کیوں روکا جائے۔وہ کسی وقت بھی ایک پیریڈ یا دو پیریڈ پڑھ لے ، عمر کے کسی حصے میں بھی آجائے تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ یہ تصورات بہر حال موجود ہیں۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ نظام اور قواعد و ضوابط جو اداروں کی بہتری کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کے فوائد اور ثمرات سے بھی متعلمین کو آگاہ کیا جائے کہ مدارس کے اندر جہاں اسلوب تدریس پر بات ہو، وہیں نظام کی پابندی کے حوالے سے بھی توجہ دلائی جائے۔

علامہ نیاز حسین نقوی 

(وفاق المدارس الشیعہ)
قاری حنیف جالندھری صاحب اور ڈاکٹر یاسین ظفر صاحب نے اچھی باتیں کی ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ دینی اور دنیوی تعلیم میں کافی فرق ہے، لہٰذا اس کے اسلوب میں بھی فرق ہے۔ دینی تعلیم میں چار مرحلے ہیں جو ہمارے مدارس میں تعلیم کے دوران مد نظر رکھے جاتے ہیں ۔ ایک ابتدائی مرحلہ ہے جس میں میرے خیال میں سارے وفاق شریک ہیں جس کو ہم ادبیات کہتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ہر طالب علم کے لیے نحو ، صرف، منطق اور فلسفہ کا جاننا ضروری ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی وفاق سے کیوں نہ ہو۔ اس مرحلے کے دورانیے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ فن ہر طالبعلم کو پڑھنا پڑتے ہیں۔ اس کے بعد کے مراحل میں فقہ اور اصول، منطق اور فلسفہ میں بھی بڑی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو ظاہر ہے کہ تعلیم کا طریقہ کار سب مراحل کے لیے ایک جیسا نہیں، چنانچہ ایک استاد سب مراحل کو نہیں پڑھا سکتا ۔ 
اس تناظر میں تدریب المعلمین کے عنوان سے پروگرام بناتے ہوئے ان مراحل کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ ابتدائی مراحل کے استاد کو جو طریقہ سکھانا ہے، وہ دوسرے، تیسرے اور چوتھے مرحلے کے استاد کے مقابلہ میں مختلف ہوگا۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام جو پروگرامات ہوتے رہے ہیں، ان میں ہمارے مدارس کے اساتذہ بھی شریک رہے ہیں۔ یہ کہنا تو ٹھیک نہیں کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ ہر کام کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ہوتا ہے لیکن جوایک یا دو اساتذہ آتے ہیں، ان کو ایک ہی طرح کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ یوں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں، وہ ہرمرحلے پر لاگو نہیں ہوتا۔ سب ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ بچوں اور بڑوں کو تعلیم سکھانے کا طریقہ کار مختلف ہے۔ چنانچہ جس آدمی نے چھوٹے بچوں کو پڑھانا ہے، وہ اسی انداز سے بیس سال یا اس سے زائد کے طلبہ کو نہیں پڑھا سکتا۔ یوں یہ ایک پیچیدہ اور مشکل کام ہے، اس میں آپ اور اسی طرح تنظیم ؍وفاق ہاے مدارس کے علما بیٹھ کر مختلف مراحل کے حساب سے طریقہ کار اپنانے کا پروگرام بنائیں۔ اسی طرح وہ استاد جا کر ان بچوں کو تعلیم دے گا جن کی عمر کے لحاظ سے اسے رہنمائی حاصل ہو۔
ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ آج کل کے تناظر میں مشکل کتابوں کی جگہ آسان کتابیں شامل کی جائیں اور جس موضوع پر ایسی آسان کتب نہ ہوں تو لکھنے کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ جو مشکل کتابیں ہم لوگ پڑھاتے ہیں تو اس کامقصد یہ ہوتاہے کہ طالبعلم میں استعداد اور قوت اور قدرت پیدا ہو ، تا کہ وہ صحیح معنوں میں عربی اصطلاحات سمجھ سکیں۔ جب بچہ ایک مشکل کتاب سمجھ لیتا ہے تو باقی کتابیں وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ مشکل کتب کو چونکہ ہر استاد نہیں پڑھا سکتا لہٰذا اس درجہ کے اساتذہ کے لیے خاص تربیت کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم ہر اس فرد کو بھیج دیں جس کا کام تعلیم و تدریس ہے وہ یہ ساری باتیں سیکھ سکیں۔ 
اس سلسلے میں ایساطریقہ کار وضع کیا جائے کہ ہر ہر مرحلہ کے استاد کے لیے الگ تربیتی پروگرام رکھا جائے۔ کتابوں کے حساب سے بھی پانچوں وفاق مشورہ کریں اور کم از کم وہ کتابیں جو مشترک ہیں، اس کے حوالے سے ایسا نصاب منتخب کریں جو ہر وفاق پڑھا سکتا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ صرف، نحو اور منطق جیسے فنون کی الگ الگ کتابیں پڑھا رہے ہوں۔ کم از کم فقہ کے مرحلے سے پہلے سب وفاق ایک نصاب بنا سکتے ہیں۔ اور جب ایک نصاب ہو گا تو تربیت کا کام بھی آسان ہو گا۔ وفاقوں سے اس سلسلے میں بھی گفتگو کی جائے کہ پہلے تین سال جس کو ہم نحو ، صرف اور ادبیات کا مرحلہ کہتے ہیں، اس کے لیے ایک نصاب اور نظام بنایا جا ئے اور جب فقہ اور تفسیر کا مرحلہ شروع ہو تو ہر وفاق اپنے لحاظ سے کتب کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ مربی کی تعلیم زیر تربیت اساتذہ سے زیادہ ہو، ایسا نہ ہو کہ زیر تربیت بہت بڑا علامہ ہو جبکہ مربی کم تعلیم یافتہ ہو۔چونکہ تربیت کے بعد اساتذہ نے جن کتابوں کو پڑھانا ہے، اس کا اگر مربی کو علم ہی نہیں تو وہ ان کی صحیح رہنمائی کیسے کر سکتا ہے۔اس کو بھی ضرور مد نظر رکھیں۔ پہلے سے جو طریقہ کار آپ کے ہاں چل رہا ہے، اس کے فائدے سے تو انکار نہیں البتہ وہ کافی نہیں تھا۔
ایک تجویز یہ ہے کہ اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو تدریب المعلمین کے لیے سب لوگوں کو اسلام آباد بلانے کے بجائے ہر صوبے یا ہر ڈویژن میں یہ پروگرام منعقد ہو،کیوں کہ اسلام آباد میں تو ایک یا دو اساتذہ آسکتے ہیں لیکن اگر لاہور یا دیگر شہروں میں ہو تو سب اساتذہ اس میں شرکت کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور ایسے وقت کا انتخاب ہو کہ استاد کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ متاثر نہ ہوں۔

مولانا ڈکٹر محمد سرفراز نعیمی 

(تنظیم المدارس اہل سنت)
میں محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب اوراس انسٹی ٹیوٹ کے ان تمام ذمہ دار افراد کاشکریہ ادا کرتا ہوں جو ایک جذبے اور مشن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں کتنے افراد ہیں جو دینی مدارس کے بارے میں واقعی اصلاح کے نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ یہ تو سوچا جا رہا ہے کہ مدارس کو کس طرح کنٹرول یا ختم کیا جائے، لیکن ان میں اصلاح اور ان کی بارآوری کے بارے میں شاید ہی کوئی آپ کے علاوہ سوچ رہا ہو۔ انفرادی اعتبار سے شاید کوئی مثال موجود ہو لیکن اجتماعی اور اداراتی اعتبار سے آپ کا یہ عمل بہت قابل تحسین و تعریف ہے۔ 
وفاقوں کے منضبط اور منظم ہونے سے ایک فائدہ باقاعدہ نظام کی تشکیل کی صورت میں ہوا ہے۔ اب ایسا نہیں کہ ایک بچہ دو سال میں دورہ کر کے فارغ ہو جائے، بلکہ ایک سسٹم بن گیا ہے کہ مڈل کے بعد اس نے آٹھ سال لگانے ہی لگانے ہیں۔ مڈل کے بعد اس کو ثانویہ عامہ، خاصہ اور اس کے بعد عالیہ اور عالمیہ کرنا ہو گا۔ دورانیے کے اعتبار سے یہ بڑا منظم سسٹم بن گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ اب امتحانات تحریری ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ میں اظہار اور ما فی الضمیر کا ملکہ پہلے سے بہتر پیدا ہوا ہے۔
دینی نظام تعلیم میں ایک چیز جو اہمیت کی حامل ہے، وہ کتاب ہے۔ کتاب کو پڑھاتے ہیں اور مضمون اس کے تابع ہوتا ہے، جبکہ عام تعلیمی نظام میں مضمون اصل ہوتا ہے اور کتاب رہنمائی کرتی ہے۔ استاد لیکچر دیتا ہے، ضروری نہیں ہے کہ طالبعلم کتاب کو لفظ بہ لفظ یاد کرے۔ جبکہ درس نظامی کی کتاب میں ہر ہر لفظ کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔ مثلاً مصنف نے یہ لفظ یہاں کیوں ذکر کیا، اس کا ماقبل و مابعد سے کیا تعلق ہے ، اس میں کیا معنی پوشیدہ ہیں۔ اس ساری گفتگو اور بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالبعلم کے اندر سوچ بچار کا ملکہ اور تفکر کا انداز پیدا ہو۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ مدارس کے نظام میں دوسرے نظاموں کے مقابلہ میں شروع سے آخر تک تدبر اور تفکر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے، کیونکہ درس نظامی کے پورے نظام کا مقصد قرآن و حدیث کو سمجھنا ہے اور تفقہ اور تدبر کیے بغیروہ سمجھا نہیں جا سکتا۔ قیاس کرنا ہے، دلیل تلاش کرنی ہے، علت مشترکہ تلاش کرنی ہے۔یہ سب تدبر و تفقہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی کے پیش نظر یہ نظام تشکیل دیا گیا ہے جس سے ہم بالکل انکار نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہاں کتابوں کی اپنی ایک اہمیت ہے اور ان کا وجود باقی رہنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ تدریس کے اصول و ضوابط اپنی جگہ قائم رہنے چاہییں، لیکن اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے کہ فی زمانہ اس اصول اور ضابطے پر کیا مثال منطبق آ رہی ہے تا کہ ماضی اور حال کا ایک امتزاج اس کے اندر پیدا ہو سکے۔ مثال کے طور پر صرف (عربی گرامر)کے اندر ضرب یضرب(مارنا) کی مثال دی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ مثال موجود ہے۔ کسی زمانے میں علما نے قرآن کو سمجھنے کے لیے وہ چیزیں لیں جن کا تعلق قرآن کے ساتھ تھا، لیکن فی زمانہ اس مثال کے بجائے کوئی اور مثال بہتر ہوگی کیونکہ اس مثال سے ہر بچے اور استاد کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ مارنا اور مار کھانا زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ مشترکہ کوشش کر کے مثالوں کو اس انداز سے بدلیں جو زمانہ حال کے تقاضوں کو پورا کر سکیں اور اس کے ساتھ ہی طلبہ کے اندر وہ ملکہ پیدا ہو کہ وہ مشرق وسطی میں بولی جانے والی عربی زبان کو آسانی کے ساتھ سمجھ اور بیان کر سکیں۔ اس پس منظر میں مدارس میں ابتدائی تین چار سال کے لیے کتاب زیادہ اہمیت کی حامل ہے البتہ اس کے بعد لیکچر کا طریقہ بھی استعمال ہونا چاہیے، کیوں کہ ایک لیکچر بیک وقت بہت سے پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔
اب تک درس نظامی میں جو کوشش ہوئی ہے، وہ ہے انفرادی ملکہ۔ استاد کی اپنی خصوصیات جن کی مدد سے وہ طلبہ کو پڑھائی کی طرف لاتا ہے۔ یہ بنیادی طورپر افراد پر منحصر ہے۔ ہر معلم کا انداز تدریس اس میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ چیز اپنی جگہ قابل تحسین ہے لیکن زیادہ بہتر ہو گا کہ بنیادی طورپر نفسیاتی پہلو اور عمر کے تقاضوں کو بھی مد نظر رکھ کر کام کیا جائے۔ اس اعتبار سے اصول تو وہی رہیں گے، مثالوں میں تبدیلی آئے گی۔ اس کی ایک مثال نیا بینکنگ سسٹم ہے۔ اس نظام میں نئی نئی اصطلاحات آئی ہیں، اب ضرورت پڑے گی ایسی کتاب کی تالیف کی جس میں آج کی اصطلاحات ہوں۔ یہ واضح ہوکہ PLS، Debit ، Credit کا مطلب کیا ہے ؟ تا کہ ایک استاد جب یہ موضوع پڑھانا چاہے تو بہتر انداز سے پڑھا سکے۔ 
جس طرح اسکولوں میں بی ایڈ، ایم ایڈ وغیرہ علیحدہ علیحدہ ڈگریاں ہیں، جس طرح وہاں مختلف درجات میں تدریس کے لیے سسٹم آف ایجوکیشن بنائے گئے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ، عالیہ اور عالمیہ جو کہ میٹرک سے لے کر ماسٹر تک کے مساوی ہیں، ان کے علیحدہ علیحدہ درجات کے اعتبار سے پروگرام بنانا چاہیے تا کہ اساتذہ کی اہلیت کے مطابق ان کو تربیت دی جا سکے۔ 
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ مدارس کے اندر تقریباً پچاس فیصد افراد عمر کے اعتبار سے پچاس سے متجاوز ہیں۔ اب عمر رسیدہ افراد کوبالعموم ان تربیتی پروگراموں شریک کرنا ممکن نہیں۔ امکان ہے کہ وہ اس میں اپنے لیے کم ہی قبولیت محسوس کریں گے۔ ایسے افراد کے لیے تدریسی مہارتوں کے حوالہ سے ایک کتاب تیار کی جائے تا کہ وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ نوجوان اساتذہ کے لیے البتہ دو صورتیں ہیں ۔ ایک وہ جو تدریس کر رہا ہے اور ایک وہ جو ابھی فارغ ہوا ہے اور تدریس شروع کرنی ہے۔ نئے فارغ ہونے والوں کے لیے نصاب بنایا جائے تا کہ وہ آگے جا کر بہتر انداز سے تدریس شروع کر سکیں، جبکہ تدریس کے عمل میں شریک اساتذہ کو ورکشاپ کے ذریعے تربیت دی جاسکتی ہے۔ 
اب چونکہ جدید اور قدیم نظام تعلیم مختلف ہے، لہٰذا تدریب المعلمین کے لیے دونوں طرح کے افراد کو بٹھا کر نصاب بنانا پڑے گا تا کہ نئے اور پرانے تقاضے اس میں جمع ہو جائیں اور اُن میں تعارض نہ ہو۔ اس کے لیے ایسے ماہرین کا انتخاب کیا جائے جو تدریس کر رہے ہیں اور اپنے اپنے میدان میں اہل فن میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی مشترکہ کوشش سے یہ نظام ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ جب یہ سسٹم بن جائے گا تو اس کا نفاذ کیسے ہو؟ جبری نفاذ تو ممکن نہیں ہے، لیکن اگر باہم مشاورت سے کیا جائے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ ہم نئے آنے والے اساتذہ کو بہتر انداز سے اپنا کام شروع کرنے میں رہنمائی فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ممکن ہے۔ 
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ خطیب صاحب خطبہ ارشاد کر رہے ہیں لیکن بیشتر مقامات پر سامعین کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، لہٰذا وہ بمشکل اس وقت آتے ہیں جب نماز کے وقت میں محض پانچ منٹ باقی رہ جائیں۔ اس کی وجوہات اور اسباب ہمیں تلاش کرنے چاہییں۔ یہ اس لیے ہے کہ ہم حالات حاضرہ اور وقت کے تقاضوں کے حوالے سے ابلاغ اورعلم کا کوئی ایسا فورم مہیا نہیں کر رہے جس کو سننے کے لیے لوگ جمعے کے دن جلدی آئیں۔ ہمیں اس بارے میں بھی سوچنا چاہییے اور معلمین کے تربیتی پروگرام میں شامل کیا جائے کہ جمعہ کے خطبات میں اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھیں۔ 
ایک تجویز ہے کہ جب آپ یہاں ورکشاپ کریں تو جو اساتذہ شریک ہوں، ان کی رہایش کاذمہ دار خود وفاق ہو۔ وفاق اپنے مدارس مقرر کریں کہ رہایش انہوں نے دینی ہے۔ اس سے آپ کا خرچہ کم ہو گا جو دیگر مقامات پر استعمال ہو سکے گا۔اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی جب پروگرام ہو تو وفاق اور تنظیم اپنے اپنے اساتذہ کے اخراجات کا انتظام کریں۔ یہ قابل عمل تجویز ہے۔ 

مولانا ڈاکٹر طاہر محمود 

(الجامعۃ السلفیہ ۔ اسلام آباد)
آئی پی ایس اور اس کے ذمہ داران لائق تبریک ہیں کہ انہوں نے آج کی اس مجلس میں ایک خوبصورت گلدستہ سجایا جس کے ہر پھول کی خوشبو دوسرے کو معطر کر رہی ہے۔ محترم قاری حنیف جالندھری نے ابتدا میں جن دو باتوں کی طرف توجہ دلائی، نظام تعلیم اور طریقہ تدریس، اس کے ساتھ میری متواضع رائے کے مطابق اگر نظام اخلاقیات کو شامل کر لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ مدارس کے ذمہ داران کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو کتاب و سنت کی جو تعلیم دے رہے ہیں، اس کا اثر ان کی اخلاقیات میں بھی بھرپور طورپر نظر آئے۔ اگر ہم معلم کو اس بات پر توجہ دلائیں کہ اخلاقیات میں وہ نمایاں ہوں تو اس کے اثرات طلبہ پر بھی منعکس ہوں گے۔ میں چونکہ عصری اور دینی دونوں طرح کے ماحول میں رہا ہوں، اس لیے اس حوالہ سے فرق کو محسوس کرسکتا ہوں۔ درحقیقت عصری علوم و فنون کے طلبہ اور دینی علوم و فنون کے طلبہ کے تعامل اور انداز گفتگو میں بڑا فرق ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب اخلاقیات کے شعبہ کی کمزوری ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 
انسٹی ٹیوٹ کی جو کوششیں میں نے دیکھی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ ان کو آج کی تجاویز کی روشنی میں بڑھایا جائے ، البتہ اس میں یہ اضافہ کیا جائے کہ جہاں آپ مختلف مدارس کے اساتذہ کو دعوت دیتے ہیں تو وہیں وفاق کے مرکزی ادارے سے کسی مرکزی استاد کو بطور مربی بلائیں کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے اپنے فن سے متعلق اساتذہ کی رہنمائی کریں۔ 
وفاق کے ارباب کی خدمت میں گزارش ہے کہ جب بھی وہ کسی استاد کو متعین کریں تو اس کے لیے شرط ہو کہ اس نے کم از کم تین ماہ کا تدریس کا کورس کیا ہو جس کا اجرا بھی وفاق کی ذمہ داری ہے۔ یہ پروگرام ہر مدرسے میں ہو سکتا ہے کہ نئے آنے والے اساتذہ کے لیے تین ماہ کا کورس رکھا جائے اور تجربہ کار اساتذہ کی ذمہ داری لگائی جائے کہ وہ ان کی رہنمائی کریں، اور تعیین کے بعد نئے آنے والے اساتذہ کو پرانے اساتذہ کے زیر نگرانی رکھا جائے جو دوران تدریس اس کو چیک اور اصلاح کریں۔ اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دوران تدریس طلبہ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیں ۔ استاد کو چاہیے کہ شخصی طور پر یہ معلومات رکھے کہ میرا شاگرد کن صلاحیتوں کا مالک ہے اور ان معلومات کی روشنی میں حسب موقع انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرے۔
آخرمیں تدریب المعلمین کے حوالہ سے ایک مفید کتاب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کتاب ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم‘‘ ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب پر انہیں صدارتی ایوارڈ ملا ہے۔ کتاب کا خاصہ ہے کہ اس میں مصنف نے کتاب و سنت، تاریخ اور تذکرہ اسلاف سے جو نکات بیان کیے ہیں، وہ تدریسی عمل میں راہنمائی کے لیے انتہائی مفید ہیں ۔

ڈاکٹر محمد حنیف

(وزارت تعلیم)
تدریب المعلمین کے حوالے سے گزارش ہے کہ جب بھی ایساکوئی پروگرام ہو تو مشمولات کی فہرست باقاعدہ مرتب ہونی چاہیے تا کہ تکرار نہ ہو اور وہی باتیں بار بار نہ بتائی جائیں جو وہ پہلے سے جانتے ہوں۔ مربیین کے حوالے سے بھی خیال رکھا جائے کہ کم تجربے والا بڑی عمر کے افراد کو نہ سکھائے، کیوں کہ عموما یہ چیز قبول نہیں ہوپاتی۔
کورسز دو قسم کے ہونے چاہییں ۔ ایک طویل المیعاد ، یہ کورس تمام وفاقوں کی مشاورت اور تعاون سے طے کیا جائے جو تین سے چار مہینے کے دورانیے پر محیط ہو جس میں اصول تدریس کے متعلق سکھایا جائے۔ مثال کے طورپر آسان سے مشکل کی طرف، مثالوں کے ذریعے اور معلوم سے نامعلوم کی طرف وغیرہ تربیت اساتذہ کے بڑے بڑے اصول ہیں۔ اصول تدریس کے ساتھ دوسری چیز طریقہ تدریس ہے ۔ اب بہت سے نئے نئے طریقے رائج ہیں۔ ان سے استفادہ کیا جائے۔ اس ضمن میں بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقہ تدریس جیسے اصولوں اور مدرسے کے حالات کو مد نظر رکھ کر اصول وضع کرنے ہوں گے۔ تعلیمی نفسیات کے پہلو کو بھی شامل کرنا ضروری ہے کیوں کہ اس کے بغیر ایک معلم آگے بڑھ نہیں سکتا۔ ساتھ ہی نظم و ضبط کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی جائے تا کہ استاد اگر کسی مرحلہ پر مہتمم یا ناظم بن جائے تو با آسانی انتظامات سنبھال سکے۔
نفس مضمون کے حوالے سے مولانا حنیف جالندھر ی صاحب نے جو اشارہ کیا اس پر بھی توجہ مرکوز کرنی ہو گی کہ تفسیر، حدیث اور فقہ کو کیسے پڑھانا ہے۔ جولوگ تدریس میں مشغول ہیں، ان کے لیے تین چار مہینے کے کورس میں شمولیت ممکن نہیں ہوگی، ان کے لیے مختصر مدت کے کورسز ترتیب دیے جائیں اور مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں ان کو رہنمائی فراہم کی جائے۔ 
اس سلسلے میں جدید اداروں کے ایسے افراد سے مدد لی جا سکتی ہے جو فن میں مہارت کے ساتھ ساتھ دینی جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر مدارس کے ماحول، نظم وضبط اور تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ارباب مدارس کے مشورے سے یہ پروگرام ترتیب دیا جائے تو بہتر نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے وقت کی اہم ترین ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان حضرات کو اکٹھا کیا، اور یہ حضرات بھی قابل فخر ہیں کہ انہوں نے اپنی مصروفیت سے وقت نکالا۔ 

مفتی شکیل احمد 

(جامعہ محمدیہ۔ اسلام آباد)
تربیت کے ضمن میں آئی پی ایس کے تحت ہونے والے پروگرامات کے حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شخصی و ادارتی نشوو نما کے اعتبار سے ایک انتہائی جامع پروگرام ہے، لیکن اس کی افادیت عام نہیں ہے۔ عام نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں بیس ہزار سے زائد مدارس ہیں تو یہاں آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کر واپس جا کراس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو بھی یہ بہت محدود ہوگی۔ اس لیے ایسے پروگرامات کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی افادیت کو بڑھانے کے لیے یہ تجویز میں نے پہلے بھی دی تھی کہ تدریب المعلمین کے حوالے سے کتاب مرتب کی جائے جس میں جدید اور قدیم دونوں تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے۔ اگر آئی پی ایس یہ کام کر لے تو یہ پہلی کوشش ہو گی۔ دوسری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مشورہ کے بعد وفاقوں کی وساطت سے اس کتاب کو نصاب میں شامل کیا جائے اور اسے نئے آنے والے اساتذہ کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہ پروگرام بتدریج سو فیصد لوگوں تک اپنے اثرات پہنچا سکتا ہے۔ یہ تو تدریب المعلمین کے پروگرام کے متعلق ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ مدارس کے نظام میں حقیقی بہتری مہتمم کے بغیر ممکن نہیں ۔ جو مزاج مہتمم کا ہے، وہ اوپر سے نیچے تک ہر شخص میں پایا جاتا ہے۔ اگر مہتمم نیکی اور تقویٰ میں مثالی ہے تو اس ادارے کے ہر فرد میں یہ جھلک نظر آتی ہے۔ اسی طرح اگر مہتمم علمی اعتبار سے ٹھوس صلاحیت اور مضبوط استعداد کا حامل ہے تو وہ دیگر مدرسین کی بھی اس حوالہ سے نگرانی کرتا ہے۔اگر مہتمم خود کمزور ہوگا تو وہ دیگر اساتذہ کی رہنمائی اور نگرانی بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا مہتمم کے انتخاب یا مدرسے کے وفاق کے ساتھ الحاق کے وقت چار چیزوں کا لحاظ رکھا جائے۔ اوّل: مہتمم ذی استعداد ہو۔ دوم: تعلیم کے اندر اس کی ذاتی دلچسپی ہو۔ سوم: نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے مضبوط ہو اور چہارم: دینی اور دنیاوی تعلیم کا جامع ہو۔ ان چار چیزوں کی موجودگی میں وہ ساری باتیں جو ہم یہاں کر رہے ہیں خود بخود مدرسے میں آجائیں گی۔ 
مدارس کے اندر تعلیمی انحطاط کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مہتمم کی ذاتی دلچسپی دو باتوں میں ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ مدرسے کی عمارت بڑی سے بڑی ہو اور دوم یہ کہ طلبہ کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ لیکن ایک بنیادی چیز جس پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا معیار متاثر ہوتا ہے، وہ اساتذہ کی معاشی حالت کو بہتر نہ بنانا ہے۔ اگر اساتذہ مختلف مدارس میں دو دو گھنٹے ٹائم دیں گے تو وہ کہیں پر بھی پوری توجہ نہیں دے سکتے۔ اس لیے وفاق کی سطح پر اس کی نگرانی کی جائے کہ اگر کسی مدرسے کی مالی حالت بہتر ہے تو اساتذہ کا معاوضہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ 
تدریب المعلمین کے سلسلے میں ایک اور عرض یہ ہے کہ مدرسے میں استاد کا انتخاب کرتے وقت اکثر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس میں قابلیت کتنی ہے بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی آمد سے مدرسے کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہو گا۔ وفاقوں کی سطح پر بھی ایسانظام بنایا جائے جس کے تحت اساتذہ کی تعیین کی شرائط طے کی جائیں۔ اسی طرح یہ بھی عام ہے کہ ایک استاد کو کئی کئی مضامین دے دیے جاتے ہیں،جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہر فن کے لیے ایک استاد مختص ہو۔ 
محترم قاری حنیف جالندھری صاحب نے فرمایا تھا کہ تدریب کے لیے ایسے اساتذہ کو منتخب کیا جائے جن کا کم از کم تجربہ بیس سال ہو۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ پچاس سال کا تجربہ رکھنے والے بھی اچھی تدریس نہیں کر سکتے جب تک انہیں اس فن سے ذاتی دلچسپی نہ ہو۔اگرچہ استاد کا تجربہ کم بھی ہو، لیکن وہ ذاتی دلچسپی لیتا ہو تو وہ زیادہ مفید ہو گا۔ اسی طرح نصاب میں کچھ پرانی کتابیں چلتی آرہی ہیں جن میں فن کم اور آج کے تناظر میں غیر متعلقہ باتیں زیادہ ہوتی ہیں، جیسا کہ بلاغۃ کی کتاب مختصر المعانی ہے۔انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی کتابیں اگرچہ تبدیل نہیں ہو سکتیں، لیکن مختلف فنون پر جو کتابیں نئی آرہی ہیں، ان کو رائج کیا جانا چاہیے۔ 

مولانا محمد ہاشم 

(جامعہ نعیمیہ ۔ لاہور)
مجموعی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تدریب المعلمین کے حوالہ سے انسٹی ٹیوٹ کی کاوشیں انتہائی مفید ہیں۔ آئندہ مراحل میں ان کو مفید تر بنانے کے لیے مختلف تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔ آج کی نشست میں بہت سی مفید باتیں سامنے آئی ہیں۔ جناب جالندھری صاحب نے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم و تدریس کے حوالے سے دو اہم باتیں ذکر کیں۔اسی طرح ڈاکٹر طاہر صاحب نے نظام الاخلاق کا اضافہ کیا۔ میں چوتھی چیز، نظام الاوقات کا اضافہ کروں گا۔ اس کی انتہائی زیادہ ضرورت ہے۔ اس حوالے سے بعد میں مزید ذکر کروں گا۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اس وقت دینی مدارس کے اندر علمی ذوق کا فقدان نظر آرہا ہے۔ طلبہ کے اندر علمی ذوق، جستجو اورتحقیق کے لیے جو جدوجہد ہونی چاہیے، وہ بالعموم بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ابتدائی درجات کے اندر پڑھانے والے اساتذہ نئے ہوتے ہیں اور خاطر خواہ تجربہ نہیں رکھتے، لہٰذا نتقال علم کما حقہ نہیں کر پاتے۔ اس وجہ سے طلبہ کی بنیادی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔ بعد میں جب طلبہ بڑے درجات میں جاتے ہیں تو اساتذہ ان کی کمزوری کا سارا دوش ابتدائی درجات کے اساتذہ کو دے دیتے ہیں کہ ان کی بنیادہی ٹھیک نہیں رکھی گئی، اب ہم ان کو کیا پڑھائیں۔ یوں طلبہ آٹھ سال کی تعلیم کے بعد آخر میں دامن جھاڑ کر چلے جاتے ہیں اور ہمیں ان سے جو توقعات ہوتی ہیں وہ پوری نہیں ہوتیں۔ اس اعتبار سے سب سے پہلے ہمیں سوچنا یہ ہے کہ طلبہ میں علمی ذوق کے فقدان کو کیسے ختم کیا جائے، استاد طالبعلم میں علمی ذوق کیسے پیدا کریں اور پھر اس ذوق کی آبیاری کیسے کریں۔ آج کے دور میں اگر کوئی صرف دینی تعلیم حاصل کیے ہوئے ہے تو وہ ناکافی ہے، اسی طرح ا گر کوئی صرف دنیاوی تعلیم یافتہ ہے تو وہ بھی کامل نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں دونوں کا امتزاج کرنا پڑے گا۔ 
علمی طورپر صورت حال یہ ہے کہ جن دینی اداروں میں عصری تعلیم نہیں ہے، ان کے طلبہ احساس کمتری کا شکار ہیں اور جن اداروں میں عصری تعلیم بھی ہے، وہاں کے طلبہ میں علمی پختگی کی کمی ہوتی ہے۔ بہت کم طلبہ ایسے ہیں جو دونوں کو اچھے انداز میں چلا سکتے ہیں۔اور جن اداروں میں دینی اور عصری تعلیم ہے، وہاں بعض ادارے ایسے ہیں جوابتدائی وقت میں انگلش اور ریاضی جیسے لازمی مضامین دیگر دینی کتب کے ساتھ ہی پڑھاتے ہیں اور بعض مدارس میں ابتدائی وقت میں درس نظامی اور ظہر کے بعد کے وقت میں علوم عصریہ پڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال کا ایک نقصان یہ ہے کہ استادتو انتہائی محنت کر کے اپنے طلبہ کو پڑھانے کے لیے آتا ہے، لیکن طلبہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ عصری اور دینی علوم کو ساتھ ساتھ چلا سکیں اور آئندہ کے سبق کی تیاری بھی کریں۔ ضرورت طلبہ میں ایسا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ہے کہ وہ بذات خود بھی پڑھنے کے لیے تیار ہوں ۔ اس حوالے سے وفاق سے وابستہ اداروں کی ایسی رہنمائی کرنی چاہیے کہ وہ عصری اور دینی تعلیم کو کس طرح اچھے انداز سے رائج کر سکتے ہیں اور نظام الاوقات کو بہتر انداز سے کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔
ایک بات اور بھی واضح ہونی چاہیے کہ ہم دینی مدارس کے طلبہ سے کیا توقعات رکھتے ہیں اور کیا طلبہ ہماری توقعات پر پورے اتر رہے ہیں؟ مشاہدہ یہ ہے کہ طلبہ کی بڑی تعداد توقعات پر پوری نہیں اتر رہی۔ دیکھنایہ ہو گا کہ وہ کیا اسباب ہیں جو رکاو.ٹ بنے ہوئے ہیں اور ان اسباب کو دور کرنے کے لیے اساتذہ کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پھر اساتذہ کی مشکلات اور طلبہ کی استعداد کو سامنے رکھ کر ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی کہ دینی اور عصری علوم سے یکساں استفادہ ممکن ہو سکے۔ اس وقت بہت سے دینی مدارس کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ طلبہ کے وقت کو بڑی بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے۔ اگرا ساتذہ میں یہ احساس پید ا کر دیا جائے کہ طلبہ کے وقت کا خیال رکھیں تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر حبیب الرحمن عاصم 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد)
دینی مدارس سے میرا تعلق اس انداز کا ہے کہ ۱۹۸۳ ء سے میں اسلامی یونیورسٹی میں عربی کی تدریس کی ذمہ داری پوری کر رہا ہوں۔ اس یونیورسٹی میں تعلیم کے لیے آنے والے ہزاروں طلبہ میں سے، بالخصوص اصول الدین، شریعہ اینڈ لا اور عربی کے شعبہ جات میں ، ستر فیصد سے زائد طلبہ کا تعلق دینی مدارس سے ہوتا ہے، چنانچہ دینی مدارس میں کیا اور کس طرح ہو رہا ہے، نیز کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟وہ موضوعات ہیں جن پر طلبہ سے ملاقاتوں اور تعلیم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی روشنی میں کسی حد تک آگاہی ہوجاتی ہے۔
آج کی مجلس میں کچھ چیزوں پر عمومی اتفاق نظر آرہا ہے۔ ایک یہ کہ اساتذہ کی تربیت کا اہتما م ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں یہ بات دہرانے کو طبیعت چاہتی ہے کہ استاد تعلیم کا ایک زندہ ذریعہ ہے، باقی سب جمادات ہیں۔ استاد کے ساتھ رابطہ زندگی کے تمام مراحل میں رہتا ہے اور کتابیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہ بات قابل تحسین ہے کہ تمام ہی وفاقوں کے ذمہ داران اس پر متفق ہیں کہ تعلیمی اداروں میں جو اساتذہ پڑھاتے ہیں، ان کی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔پھر اس میں چار پانچ باتیں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں جس کی جانب سب ہی حضرات نے اشارہ کیا ہے۔ یہ کہ اساتذہ کے انتخاب میں مراحل کا لحاظ رکھا جائے۔ جو ابتدائی پروگرام آئی پی ایس اور مدارس کے تعاون سے ہوتے رہے، وہ ایسے تھے جن کا مقصد عمومی طور پر تعلیم کو بہتر بنانے کے اصول اور ضابطے کو باہم مشاورت سے آگے بڑھانا تھا۔ اس اعتبار سے مراحل تعلیم کا انتخاب کرنا اور اساتذہ میں سے جو شرکاے تربیت بننے ہیں، ان کا انتخاب بذات خود ایک اہم کام ہے۔ کیا ہر مرحلے کے کسی بھی استاد کو اس پروگرام میں شریک کر لینا چاہیے یا یہ انتخاب کسی خاص بنیاد پر ہونا چاہیے؟ مثلاً یہ کہ جو آئندہ بھی بطور مربی کام کر سکتا ہو۔ ڈاکٹر محمد حنیف صاحب نے درست توجہ دلائی ہے کہ اس بات کا باقاعدہ تعین ہو کہ اساتذہ کو کس چیز کی تربیت دینی ہے۔ بعض چیزیں تو عمومی تعلیم کے لیے ہوتی ہیں لیکن تخصص کی تعلیم میں مصروف علماے کرام کے لیے جو موضوعات منتخب کیے جائیں، ان کی نوعیت مختلف ہوگی۔ 
اس کے بعد مربیین اور مدربین کا معاملہ ہے۔ اس بات کا اہتمام پہلے بھی کیاگیا ہے تاہم اس میں مزید خوبی پیدا کرنے کی گنجایش ہمیشہ رہتی ہے۔ مربیین کے انتخاب میں دو باتیں اہم ہیں جن کایہاں ذکربھی کیا گیا۔ کچھ اساتذہ ایسے ہوں جو تعلیم کے میدان میں شہرت رکھتے ہوں اوربعض ایسے ہوں جو اپنے مضمون میں خاص قسم کی مہارت رکھتے ہوں۔ اس سے یقیناًپروگرام کی افادیت میں اضافہ ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقوں کی طرف سے ایک جانب شرکاے کورس یہاں آئیں، دوسری جانب ایسے اساتذہ بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں جو تربیت دینے کے عمل میں شریک ہوں۔ 
تالیف کتاب والی تجویز بہت اچھی ہے لیکن اس کو تدریبی پروگرام کے ساتھ ساتھ آگے بڑھانے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ان پروگراموں کے اساتذہ کی تجاویز اور پروگراموں کے لوازمے سے جو کتاب تیار ہوگی، وہ زیادہ مفید ہو گی۔یہ تجویز بھی بہت اچھی ہے کہ پہلے مرکزی طور پر وفاقوں کی طرف سے اساتذہ مربیین اور شرکاے تدریب کے طور پر آئیں اور جب ایک مناسب تعداد تیار ہوجائے تو ہروفاق اپنے طورپر خود اس پروگرام کا اہتمام کرے اور ہر نئے آنے والے استاد کے لیے یہ شرط لگا دی جائے کہ جب تک وہ تدریب المعلمین کے اس کورس سے نہ گزرا ہو، اس وقت تک اس کو تدریس کے اس مرحلے میں داخل نہیں کیا جائے گا تو یہ بہت بہتر ہو گا۔
اخلاقی اعتبار سے مدارس کے طلبہ میں فقدان کی بات کی گئی لیکن دونوں نظام تعلیم سے وابستہ افراد سے جو میرا تعامل ہے، اس کے نتیجے میں میرا تاثر یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ سے کہیں بہتر ہیں ۔ جتنا مضبوط نظام الاخلاق دینی مدارس کا ہے، وہ تمام تر کمیوں کے باوجود دیگر اداروں سے بہت بہتر ہے ۔ اگر کوئی کمی ہے تو اس کے کچھ اسباب ہیں۔ اگر مشاورت کا عمل جاری رہا تو ہم کمزوریوں پر قابو پا سکتے ہیں اور تدریب کے عمل کومزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ 

مولانا محمد اسحق ظفر 

(جامعہ رضویہ ضیاء العلوم۔ راولپنڈی)
آج کی نشست کے حوالے سے تشکر کے کلمات سب بزرگوں نے کہے ہیں۔ میں بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بڑی اچھی کوشش ہے۔ مل بیٹھنے سے بہت ساری باتیں اچھائی کی طرف جاتی ہیں اور کمزوریوں کی نشاندہی ہو جائے تو ازالہ کا امکان ہو جاتا ہے اور اگر نشاندہی نہ ہو تو انسان سمجھتا ہے سب اچھا ہے۔
گفتگو میں جدید وسائل تعلیم و تدریس کا استعمال زیر بحث نہیں آیا۔ اس حوالے سے مدارس میں کمزوری ہے۔ اگر چہ ہمارے بزرگ اساتذہ کرام بہت مہارت اور علم رکھتے ہیں، لیکن طلبہ میں اتنی استعداد نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچ جائیں۔ اس لیے اگرجدید تعلیمی وسائل کے استعمال کے لیے ایسی کوششیں کی جائیں کہ سب اساتذہ اس کو قبول کر لیں تو بہت اچھا ہو گا۔
مدارس کے حوالہ سے انسٹی ٹیوٹ کی یہ کتاب جو ہمیں پہنچی ہے، یہ آپ کے تبصروں اور علما کی آرا پرمشتمل ہے ۔ ماشاء اللہ اچھی کاوش ہے، مگر بعض باتوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ بالخصوص مدارس کے بورڈز کا ذکر ہوتو ایک اشتباہ لفظ وفاق اور تنظیم کے لحاظ سے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔ لفظ تنظیم کا اطلاق اگر الگ سے نہ کیا جائے تو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ پانچ میں سے تین بورڈز کے ناموں میں وفاق کا لفظ شامل ہے جبکہ تنظیم المدارس اور رابطۃ المدارس کے نام مختلف ہیں۔ اس لیے جہاں مجموعی طورپر بورڈز کا ذکر ہو، وہاں وفاق کے ساتھ لفظ تنظیم کا استعمال ضرور کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح دیگر وفاقوں کے ساتھ العربیہ، السلفیہ اور الشیعہ کے لاحقے ما بہ الامتیاز ہیں، اسی طرح تنظیم کا ما بہ الامتیاز اہل سنت ہے۔ اس لیے اس کا لحاظ بھی ضرور کیا جائے۔ نیز اس کتاب میں مدارس کا انتخاب کرتے وقت تنظیم المدارس کا تناسب بہت کم رکھا گیا ہے حالانکہ تعداد کے اعتبا ر سے تنظیم اور وفاق المدارس العربیہ سب سے نمایا ں ہیں۔ آئندہ اگر اس کا ازالہ ہو جائے تو اچھا ہو گا۔ 
اللہ تعالیٰ آپ کے اس کام میں برکت دے اور ہمیں بھی اس کام میں آپ کے ساتھ شریک کار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)
اس سے قبل کہ اس نشست کے اختتامی کلمات کے لیے پروفیسر خورشید احمد صاحب کو دعوت دوں تاکہ ان کی رہنمائی ہمیں مل جائے، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں نے تدریب المعلمین کے حوالہ سے پیش کردہ بنیادی سوال کے سلسلے میں چند ضمنی سوالات ترتیب دیے تھے۔ ان میں ایک یہ تھا کہ کیا ایسے کسی پروگرام کے بارے میں اصولاً اور عملاض اتفاق موجود ہے؟ نیز یہ کہ دورانیے کے بارے میں کچھ رہنمائی مل جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کے جواب میں ہمیں آپ حضرات کی جانب سے بہت ا چھی رہنمائی مل گئی ہے کہ بڑی ضرورت تو ایک طویل المیعاد پروگرام کی ہے، لیکن اگر مختصر دورانیے کے پروگراموں کا سلسلہ ہو تو وہ بھی ضرورت کو ایک دائرے میں کسی نہ کسی حد تک پورا کرتا ہے ۔ شرکا کے انتخاب کی بنیاد کیا ہو؟ یہ سوال بھی میرے پیش نظر تھا، اس حوالے سے بھی آپ کی جانب سے رہنمائی مل گئی ہے اور جیسا کہ پروفیسر حبیب الرحمن صاحب نے ذکر کیا، اگرا س کو سامنے رکھیں توآئندہ کے لیے پروگراموں کو زیادہ بہتر طریقے پر منعقد کرنے میں مدد ملے گی۔ 
موضوعات کی نوعیت سمجھنا بھی میرے پیش نظر تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالہ سے بھی آج کی گفتگو سے بہت مفید رہنمائی ملی ہے۔ جناب حنیف جالندھری نے ابتدا کرتے ہوئے جو باتیں کہیں اس نے گفتگو کو وہ رُخ دیا ، جس پر ہم سب اتفاق محسوس کرتے ہیں۔
نیاز حسین نقوی صاحب توجہ دلا رہے تھے کہ اگر پروگرام اسلام آباد میں کریں تو مدارس کے افراد کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے۔ دوسری جانب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہاں سے لوگوں کو ساتھ لے کر دیگر شہروں میں جائیں تو یہ بھی بہت زیادہ قابل عمل نہ ہوگا۔ اسی لیے ہمارے ذہن میں یہ تجویز آئی تھی کہ تنظیم؍ وفاق کی قیادت کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں کسی آئندہ لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہوں تو اس پروگرام کو کئی سطحوں پر منظم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سطح یہ ہو کہ سال میں ایک دو نشستیں اسلام آباد میں منعقد کریں جس میںآپ کی طرف سے نامزد کردہ لوگ ہوں۔ یہ نامزدگی اس نقطہ نظر سے ہو کہ وہ کچھ وقت بھی نکال سکتے ہوں اور انہیں وفاق کی رہنمائی اور تائید حاصل ہو۔ بعدازاں وہ اپنے اپنے علاقے میں کسی نہ کسی درجے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔ وہ کردار باہم مشورے سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں نسبتاً بڑے دائرے میں مدارس سے متعلق مربیین کا جو حصہ ہونا چاہیے، وہ بھی خود بخود بڑھ جائے گا۔ جیسا کہ ہماری ہر مجلس میں شرکا نے یہ بات کہی کہ آپ نے جہاں اتنے ا چھے پروگرام کیے ہیں، وہاں مدارس سے وابستہ مربیین کی بھی ایک تعداد ہو تو زیادہ مفید ہو گا۔
اسی حوالہ سے یہ نکتہ بھی پیش نظر تھا کہ ہم مشاورت کے نتیجے میں اس فیصلے تک پہنچ جائیں کہ پورے ملک سے چالیس سے پچاس لوگوں کا ایک پینل بنا لیں جو بیک وقت دونوں طرح کے لوگوں پر مشتمل ہو۔ وہ جو مدارس سے وابستہ ہیں اور وہ جو دیگر تدریسی امور میں مہارت رکھتے ہوں اور ہمارے مجموعی پروگرام سے اتفاق رکھتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہوں کہ وہ مناسب طریقے پر رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس پینل میں کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں سے بھی لوگ ہوں جن کو ہم اپنے پروگرامات میں شامل کریں تو دیگر شہروں میں یہ پروگرام منعقد کرانا آسان ہو جائے گا۔
اس ضمن میں ہم تنظیم اور وفاق سے یہ توقع کریں گے کہ آپ اپنی جانب سے نام دیں کہ جن کو مربی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے جو پیمانے آپ نے بتائے، ان کو سامنے رکھ کر۔ دوسری جانب ایسے افراد جواگرچہ مدارس سے وابستہ تو نہیں لیکن تدریسی علوم میں مہارت رکھتے ہیں اور ہم فکر ہوں، انہیں اس پینل میں شریک رکھا جائے۔ اس طرح جو پینل تشکیل پائے گا، وہ پورے ملک کے لیے مفید ہوگا اور قابل عمل پروگرام بن جائے گا۔
تدریسی لوازمے کی تیار ی کا کام بھی پیش نظر تھا کہ تدریب المعلمین کے پروگرام میں درجہ بندی، یکسانیت اور معیار ہو اور ایک سمت متعین ہو، نیز یہ بھی واضح ہو کہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں کیسے داخل ہوا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی مفید تجاویز آئی ہیں۔ اس کی کوئی عملی صورت مزید مشورے سے بنانے کی کوشش کریں گے۔ 
کتاب کے بارے میں مولانا اسحاق ظفر صاحب نے توجہ دلائی ہے۔ میں اس پر شکرگزار ہوں ۔ ہر انسانی کام میں بہتری کی گنجایش موجود ہوتی ہے۔ یقیناًاس میں بھی بہتری کی گنجایش ہے۔ ہم اگلے ایڈیشن میں اس کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ یہ وضاحت کر دوں کہ اس کتاب کی تیاری کے دوران اور اشاعت کے وقت یہ سوچ بچارہم کرتے رہے کہ کہیں اس سے ہمارے ہی دوستوں میں بدگمانیاں اور شکوے شکایات پیدا نہ ہو جائیں۔ ایک حادثہ تو خود جناب یاسین ظفر صاحب کے ساتھ ہوگیا کہ ان سے انٹر ویو بھی ہوا ، سوال نامہ بھی موجود تھا لیکن آخری مرحلے میں اُن کا سوال نامہ گم ہوجانے کی بنا پر جامعہ سلفیہ کے کوائف کتاب میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ تاہم میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کتاب کی تیاری میں مخاطب کے طورپر ہمارے پیش نظر آپ نہیں تھے، کیوں کہ آپ تو مدرسہ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ہمارے پیش نظر وہ لوگ تھے جو مدرسے اور اس کے بارے میں حقائق سے ناواقف اور غلط پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ ان کو سامنے رکھ ہم نے تحقیق کی ایک بنیاد بنائی ، اور اس بنیاد پر مدارس کا انتخاب کیا۔ اس پر کسی کو شکایت ہو سکتی ہے اور بجا ہو گی لیکن رائے قائم کرتے ہوئے اس پیمانے کو سامنے رکھیں کہ ہم لوگوں کے سامنے یہ بات لانا چاہتے تھے کہ مدارس اس وقت کیا کر رہے ہیں۔ یہی اس ریسرچ کی بنیاد پر ہے ۔ آپ اس پہلو سے اس کا تنقیدی جائزہ لیں اور ہماری رہنمائی کریں کہ اس میں کیا کمی ہے۔ درحقیقت آپ اس کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ شریک کار ہیں۔ 

پروفیسر خورشید احمد 

(چیئر مین، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)
سب سے پہلے تو میں آپ حضرات کی بھرپور شرکت اور نہایت ہی مفید اور عملی حیثیت سے اہمیت رکھنے والے مشوروں پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے بہترین اجر کی دعا کرتا ہوں۔ تمام اہم باتیں آ گئی ہیں، خاص طور پر پروفیسر حبیب الرحمن صاحب نے بحث کا خلاصہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا۔ میں صرف دو تین باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔
پہلی بات یہ کہ ہماری دلی خواہش اور تمنا ہے کہ جوپروگرام بن رہا ہے، اسے آپ اور ہم سب مل کر اپنے لیے بنائیں۔ یہ وہ اسپرٹ ہے کہ ہم ایک ٹیم کی حیثیت سے مشاورت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہوئے آگے بڑھیں اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ حضرات نے اسی جذبے سے اب تک بھی شرکت فرمائی ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہی در اصل ہماری آرزو ہے کہ یہ حقیقی طورپر ہمار اایک مشترک پروگرام ہے۔ مجھے بے حد مسرت اس بات پربھی ہے کہ آپ سب ہی نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اساتذہ کی تربیت اور تیاری معنوی اور ابلاغی دونوں اعتبار سے ضروری ہے۔ جس علم اور جس مضمون کا استاد ہو، اس پر دسترس اور ساتھ ہی ابلاغ کے اعتبار سے مہارت کا حصول دونوں ہی کی ضرورت پر اتفاق ہے کہ اسی صورت میں بہتر سے بہتر انداز میں علم کو منتقل کیا جا سکتا ہے ۔ آج کی اس گفتگو کی روشنی میں عملی نقطۂ نظر سے تین چار چیزیں سامنے آئی ہیں۔
پہلی جو اس وقت قابل عمل ہے، وہ مختصر متعین مدت کے پروگرام ہیں جو ان شاء اللہ اسلام آباد میں بھی اور ملک کے دوسرے مقامات پر آپ کی میزبانی سے منعقد کیے جائیں ۔ یہ پائلٹ پروجیکٹ کی حیثیت ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے ذریعے ہم ایک نئے پراسیس کا آغاز کر دیں گے۔ دوسری چیز جو ان شاء اللہ ان کوششوں سے نکلے گی، وہ تدریب کا لوازمہ اور ایک ایسی کتاب ہے جو آئندہ بنیاد بن سکے گی۔ اس پورے معاملے کے تمام پہلووں کا احاطہ کرے گی اور توقع ہے کہ پھر اس کی مدد سے ہر ادارے میں کام آگے بڑھے گا۔
تیسری چیز جس میں شاید ابھی وقت لگے، وہ یہ کہ جس طرح جدید تعلیم میں بی اے، ایم اے، اور پی ایچ ڈی کے ساتھ ٹیچر ٹریننگ کا بھی بی ایڈ اور ایم ایڈ کی صورت میں اہتمام ہوتا ہے، خدا کرے کہ ان تمام تجربات کی روشنی میں اور ان کے نتائج کو دیکھ کر ہم کوئی ایسا نظام بھی ترتیب دے سکیں کہ جس سے تدریب کا یہ پروگرام انسٹی ٹیوشنلائز ہو جائے اوریوں وہ کوئی ڈگری یا سرٹیفیکیٹ بھی دے سکے۔ اس طرح آئندہ اساتذہ کے تقرر اور سروس پروموشن کے لیے ایک ذریعہ بن جائے۔
شاید کچھ وقت لگے گا لیکن اس گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس مرحلہ سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان شاء اللہ باہم مشورے اور ایک دوسرے سے مدد لیتے ہوئے ہم نے اس کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ اس کو بارآور فرمائے اور صحیح نتائج رونما ہوں۔ جس محبت، اعتماد، دل سوزی اور بالغ نظری سے آپ سب حضرات اس میں شریک ہو رہے ہیں، اس کا فائدہ اس امت کوہو۔ اس وقت دینی تعلیم کو جس ا نداز سے ہدف بنایا ہوا ہے، یہ ہمارے لیے ایک موقع بن جائے اور ہم اس نظام کو اس مقام پر لے آئیں کہ امت مسلمہ کی رہنمائی اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے واقعی قابل ہو جائیں۔

تخصصات دینیہ 

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)
مولانامحمد حنیف جالندھری صاحب تشریف لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تفصیلی تجاویز بعد میں دیں گے، البتہ ان کے خیال میں سر دست دوصورتیں ہیں جن پر ابھی غور کیا جا سکتاہے۔ پہلی بات یہ کہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس یا سیمینا ر ایسا ہو جس میں کچھ منتخب لو گ شریک ہوں اور تخصصات دینیہ کے بارے میں مختلف پہلووں کو زیر بحث لائیں تاکہ اس کے نتیجے میں جامع رپورٹ اور تجاویز تیار ہو سکیں۔ دوسر ی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ تما م بورڈز (وفاق، رابطہ اور تنظیم) سے ان کے منتخب کردہ ایک ایک یا دو دو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو ایک جائزہ رپورٹ تیا ر کر ے۔ اس کا اہتمام آئی پی ایس کرے۔ پھر اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ برائے مہربانی اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا محمد حنیف جالندھری کی دونوں تجاویز بھی پیش نظر رکھیں ۔

مولانا ڈاکٹرمحمد سرفرازنعیمی 

( تنظیم المدارس اہل سنت)
ایجنڈے کے دونوں موضوعات یقیناًانتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔آج کل دینی مدارس میں اپنا ایک نظام تعلیم توہے جس میں قرآن ، حدیث اور فقہ کے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں لیکن مختلف النوع عملی، سماجی اور معاشرتی دائروں میں رہنمائی کی ضرورت کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ واقعتا ناکافی ہے۔ دوسرے شعبوں پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کی مثال ایسے نظر آتی ہے کہ آج ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے باوجود طب کے میدان میں الگ الگ شعبوں ( ہارٹ، کڈنی وغیرہ) میں اسپیشلائزیشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماضی کی طرح ایم بی بی ایس کی موجودگی ان ساری ضروریا ت کے لیے عموماً کافی نہیں سمجھی جاتی۔ بعینہ اسی طر ح دینی مدارس میں ماہرین قرآن وسنت کی موجودگی کے باوجود مختلف ذیلی عنوانات میں تحقیق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ آئی پی ایس کی تیار کردہ رپورٹ میں جو لکھا گیا ہے کہ ’’تخصص فی الفقہ زیادہ ہور ہا ہے‘‘ وہ صحیح ہے ۔ حدیث اور تفسیر سمیت دیگر شعبوں میں بھی تخصص کی ضرورت ہے ۔تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ زندگی کے دوسرے میدانوں کی طرح طلب اور رسد کے اصول کے مطابق طلب یہا ں بھی اثر انداز ہے۔ مسائل کے حوالے سے فقہ کے ساتھ ہر شخص کا تعلق ہے ، جبکہ تفسیر اور حدیث میں ضرورت تو ہے لیکن اس کی طلب فقہ کی طلب سے نسبتاً کم ہے ۔
اسی طر ح بعض مدارس میں یہ خواہش موجود ہے کہ طلبہ زیادہ ہونے چاہییں ، لیکن تخصص کے لیے تعداد کے بجائے معیارکو مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ تنظیم سے ملحقہ مدارس میں ہم تخصص کی ایک کلاس میں پندرہ سے بیس طالبعلم لیتے ہیں تاکہ فراغت کے بعد معاشر ے کا ایک مفید شہری ہونے کے ساتھ اس کے اندرمطلوبہ قابلیت اور ملکہ بھی پیدا ہو سکے۔ اس وقت تک تخصص کا نظام مربوط نہیں ہے۔ یہ مختلف مقامات پر الگ الگ ہورہے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ بورڈز تمام مدراس کو اجتماعی لائحہ عمل دے دیں (جزوی فرق کی گنجایش موجود ہو) جو من حیث المجموع ایک آئیڈیل شکل ہو اور سب کے سامنے آ جائے۔ اس کے لیے جامعہ بنوریہ، جامعہ قادریہ، جامعہ نعیمیہ سمیت جن مدارس میں تخصص ہور ہا ہے، ان کا نصاب لے لیا جائے اور اس کی روشنی میں بہتر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ سب کے ہاں جو چیزیں مشترک ہیں، انہیں بر قرار رہنے دیا جائے اور مختلف فیہ چیزو ں کو سامنے رکھ کر افراط وتفریط سے گریز کرتے ہوئے سب سے بہتر چیزکو شامل نصاب کیا جائے۔
آج کی اس مختصرنشست میں ہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے بہتر ہے کہ ہم کمیٹی کی صورت میں تجاویز کے حصول کے طر یقے پر عمل کر کے کسی بہتر نتیجے تک پہنچ سکیں۔ اس کے لیے یہ ہوسکتا ہے کہ آپ تما م متعلقہ مدارس سے نصابات منگواکر ان میں سے بہتر چیزوں کا انتخاب کریں اور ایک علیحدہ اجلاس میں یہ تجاویز شرکا کے سامنے پیش کر یں تا کہ ایک جامع چیز سامنے آ سکے۔ اس وقت تجاویز تو سامنے آ جائیں گی لیکن عملاً ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ اصولی طور پر یہ کام بالکل ٹھیک ہے۔ اس میں اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہے البتہ اس کی تفصیلات ہم بعد میں بھی طے کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ذکر کرنا چاہوں گا کہ تنظیم سے ملحقہ مدارس کے نصاب میں معاشیات کے حوالے سے نظام بینکاری ایک پرچے کی حیثیت سے موجود ہے جس میں طلبہ کومبادیات سکھائی جاتی ہیں،تاہم زیادہ گہرائی میں اس حوالے سے ہمارے ہاں فی الحال بہت زیادہ کچھ نہیں ہو رہا۔
اس مر حلے پر علامہ نیاز حسین نقوی نے اس جانب توجہ دلائی کہ تخصص کی حقیقی رو ح تک پہنچنے کے لیے دو یا تین سال کا عرصہ بالکل ناکافی ہے۔ اس کا دورانیہ ہمارے ہا ں تو چالیس پچاس سال تک سمجھا جاتا ہے۔ اس قدر علم اور تجربے کے بعد ہی کہیں کوئی مفتی یا مفسر تیار ہوتاہے۔ تخصص کے اس مثالی تصور کو آگے بڑھانا چاہیے،کیونکہ دوتین سال حتیٰ کہ پانچ سال میں بھی بس اس قدر استعداد ہو سکتی ہے کہ طالبعلم کتب کی مدد سے تخریج کے بعد معاملات پر مشورہ دے سکے، وہ خود رہنمائی کر نے کے قابل نہیں ہو سکتا ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب نے رائے دی کہ نصاب کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آدمی اس میں عالم فاضل ہو جائے بلکہ نصاب سے ایک راستہ متعین ہوتا ہے جو آئندہ ملکہ پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے، البتہ متخصص کے لیے تو درجات ہوتے ہیں۔ مجتہدفی المذہب، مجتہد فی المسائل، پھر اصحاب ترجیح، اس کے بعد پھر اصحا ب تخریج، تویہ اپنے اپنے درجات ہوتے ہیں ۔تخصص کے بعد یہ توقع ہوتی ہے کہ لوگ اپنے علم کی بنیاد پر آگے مزید علم حاصل کرسکیں گے۔

مولانا یاسین ظفر 

(وفاق المدارس السلفیہ )
ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی تجویز اس اعتبار سے بہتر معلوم ہوتی ہے کہ کچھ وقت ملنے سے زیادہ جامع اندازمیں غور وفکر کا اچھا موقع مل جائے گا۔ درحقیقت مدارس خود اس موضوع کی ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے اسے اپنے ہاں بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا تخصص کا مقصدعصری تعلیم کی مانند ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حصول ہے؟یا اس کا مقصد رسوخ فی العلم یا اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پید ا کرنا ہے؟ یا آئی پی ایس طرز کے ادارے یاانسٹیٹیوٹ سے منسلک ہوکر وقت گزا رنا ہے؟ ہمارے ادارے مر کز التربیہ فیصل آبادمیں یہ کام ہو رہا ہے۔ تین سالہ کورس میں طلبہ میں صلاحیت تو پیدا ہو جاتی ہے تاہم یہ ادارہ ڈگری جاری نہیں کرتا ۔ تخصص کے نصاب میں عمومی طور پر طالبعلم کو گائیڈ لائن دے دی جاتی ہے، تاہم ایک نصاب کی ضرورت موجود ہے ۔
ہم نے جامعہ سلفیہ میں ماہرین کی زیر نگرانی نصاب سازی کے لیے ابتدائی کام کا آغاز کردیا ہے ۔ ہمارے خیال میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ تخصص کے لیے موضوع کے تعین میں معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہی ضروریات کے مطابق موضوعات کا تعین کیا جائے۔ ہمیں تخصص کے لیے دینی مدارس کی ضروریات کے موضوعات تدریس، افتا، دعوت و ارشاد کو بھی مد نظر ضرور رکھنا چاہیے تاہم معاشرے کی عمومی ضروریات کچھ اور ہیں اوربطور خاص اقتصادیات و معاشیات کے جو نئے نئے مسائل پیش آرہے ہیں، ان میں تخصص ہونا چاہیے تا کہ صحیح اسلامی نقطہ نظر سامنے آ سکے۔ اسی طرح سیاسیات اور نظام حکومت کے معاملات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کل کے تخصصات میں اس وسیع دائرے کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے۔ اس اعتبار سے آج کا یہ فورم بہت اچھا ہے اور اس فورم پر یہ بات ضرور زیر بحث آنی چاہیے، البتہ متعلقہ مقامات (جہاں فی الوقت تخصصات جاری ہیں) سے نصاب وغیر ہ منگوالیے جائیں اور تخصص سے متعلقہ ماہرین کو بلوا کر ان سے مشاورت کی جائے۔ہمارے ہاں نصاب کی تشکیل کسی حد تک ہوچکی ہے اور وفاق کے تحت تخصصات کے نظام کو منظم کرنے کی طرف پیش قدمی بھی جاری ہے۔

علامہ نیاز حسین نقوی 

(وفاق المدارس الشیعہ)
کم وقت ہونے کے باوجود تخصصات کے حوالے سے ابتدائی کام کا آغاز ہو جانا خوش آئند ہے، لیکن درحقیقت ان مباحث کے لیے ایک پورا دن بھی ناکافی ہے۔ اس کے لیے کم ازکم دو دن مختص کیے جائیں۔ اس موقع پر اس فن کے متخصصین کو دعوت دی جائے اورشرکا اس کے لیے پہلے سے تیاری کریں۔ ان کی مفصل گفتگو کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے، ورنہ فی البدیہہ تجاویز زیادہ موثر نہیں ہوں گی۔
تخصص کے حوالے سے سبھی جانتے ہیں کہ ایک یا دو سال میں کسی کو مفسر ، محدث یا مفتی نہیں بنایا جا سکتا۔ فقہ کے میدان کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دعویٰ کرناکہ ’’فلاں فقہ میں متخصص ہے‘‘ اس تناظر میں بہت بڑا دعویٰ ہے کہ پندرہ بیس کتابیں ہیں اور ہر ایک میں متعدد موضوعات ہیں۔نکاح، طلاق اور بیوع وغیر ہ میں اتنی طویل مباحث ہیں کہ دو تین سال تو ایک طالبعلم کو صرف متن پڑھانے پر لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں تین سال میں کسی کو متخصص بنا نا مشکل ہے۔ تخصص کا مقصد قرآ ن وسنت کی روشنی میں حکم خدا کو سمجھناہے، اس کے لیے اجتہاد کی صلاحیت ضروری ہے۔ یوں جب تک کوئی شخص اجتہا دکی صلاحیت حاصل نہیں کرتاتو وہ صحیح معنوں میں مسئلہ نہیں بتا سکتا۔ مسئلہ بتانا مجتہدکاکام ہے اور مجتہد بننا دو یا تین سال میں ممکن نہیں ہے اور پھر اس کام کے لیے سارے متعلقہ علوم میں مہارت ضروری ہے، اس لیے صرف ایک ہی علم پر دسترس رکھنے والا شخص یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کام کو صحیح معنوں میں کرنے کے لیے کم از کم آٹھ دس سال کا عرصہ چاہیے۔ ایک متخصص مطلوبہ مقدار میں ضروری علوم پڑھ کر آئے، پھر وہ کسی بھی شعبے میں تخصص حاصل کرے ۔
موجودہ نظام اور حالات میں جب کوئی طالبعلم آٹھ سالہ مروجہ نصاب پڑھ لے، اس کے بعد تخصص کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا، اس لیے ہمارے ہاں محض چند اداروں میں تخصص ہو رہاہے۔ اس کے بعد بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ طالبعلم مفسر بن گیا ہے اور قرآ ن کے بارے میں اس کی رائے قابل تقلید ہے۔ اگر مفتی کا مطلب فتویٰ نقل کرنا ہے تو دو تین سال کی مدت ٹھیک ہے، لیکن اگر مفتی کا مطلب استنباط اور اجتہاد کی صلاحیت حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے چالیس پچاس سال کی مدت بھی شاید ناکافی ہو، لیکن آج کے دور میں بھی کم ازکم پندرہ بیس سال تو ہونے ہی چاہییں۔ دو یا تین سال کی مدت میں تو حقیقتاً قرآن کا ایک جزو پڑھنا بھی مشکل ہے تو مفسر کیسے بنا جا سکتا ہے؟ وقت کی کمی کے پیش نظر اس پر مزید گفتگو نہیں کر سکتا۔ بہر حال یہ کا م انتہائی ضروری ہے اور اسے ضرور ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد حنیف

(وزارت تعلیم )
دو باتوں کی طر ف اشارہ کروں گا۔ ایک یہ کہ فی الحقیقت مدارس کے بورڈز کی ذمہ داری ہے کہ وہ تخصص کے لیے کوئی معیار اور مقیاس مقرر کریں، اور دوسری بات تخصص کے لیے نصاب سے متعلق ہے۔ نقوی صاحب نے چالیس پچاس سالہ مدت کی بات کی ہے ،موجودہ حالات میں یہ عملاً مشکل دکھائی دیتا ہے۔البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ تفسیر حدیث اور فقہ میں جو تخصص اس وقت ہور ہا ہے، اسے آگے بڑھایا جائے ۔پھر تخصص فی التخصص کے تحت ذیلی عنوانات کی صورت میں مزید پیش رفت کی جائے۔ اس میں متخصص جتنا بھی عرصہ لگانا چاہے، اپنی گنجایش کے مطابق لگاسکتا ہے۔ البتہ مدت اور دورانیہ کا تعین اس اعتبار سے ہونا چاہیے کہ اسناد کا معادلہ بھی ہوسکے،کیونکہ معادلے کے لیے دورانیہ کی بنیادی اہمیت ہے۔نیز دور حاضر کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بورڈز باہمی مشاورت سے طریقہ کار طے کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں عمومی تعلیم سے وابستہ دین دار طبقے سے بھی مشاورت کی جا سکتی ہے۔

مفتی شکیل احمد 

(جامعہ محمدیہ۔ اسلام آباد)
وفاق المدارس العربیہ میں مرکزی سطح پرتخصص کے حوالے سے اب تک کوئی انتظام نہیں ہے ۔البتہ وفاق کی تخصصات کمیٹی کے زیر اہتما م مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ذمے یہ کا م لگایا گیا ہے کہ وہ اس نظام کو مربوط کرنے کے لیے کوشش کریں۔ اس سلسلے میں انکی کوششیں جاری ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے اخبار میں اشتہا ر کے ذریعے لوگو ں سے آرا بھی طلب کیں ۔ ان کوششوں کے نتیجے میں یہ کام تقریباً آخری مراحل کے اندر ہے جو جلد ہی کسی منضبط شکل میں سامنے آجائے گا۔ اس وقت سب سے قدیم تخصص فقہ میں ہے جو وفاق سے ملحق بیشتر مدارس میں ہو رہا ہے۔ اسی طر ح بنوری ٹاؤن اور جامعہ فاروقیہ (کراچی) میں تخصص فی الحدیث ہورہا ہے۔ جامعہ فاروقیہ میں تخصص فی الادب والانشاء بھی کچھ عرصے سے جاری ہے۔ تخصص فی التفسیر بہت کم مقامات پر ہے، البتہ دو یا تین ماہ کے دورانیے پرمشتمل دورہ جات کی صورت میں کئی مقامات پر دورہ تفسیر ہوتا ہے۔ اس کو تخصص تو نہیں کہا جاسکتا، البتہ ترجمہ اورتفسیر کے دورہ جات کا نام دیا جاسکتا ہے ۔
تخصص فی الفقہ کا کم سے کم دورانیہ ایک سال ہے جو جامعۃ الرشید اور جامعہ محمدیہ میں ہے۔ زیادہ تر مدارس میںیہ دورانیہ دو سال ہے جبکہ دارلعلوم کراچی اور جامعہ امدادیہ میں تین سال میں تخصص کروایا جاتاہے۔ دو سال کورس ورک کے بعد ایک سال میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔ ان تخصصات میں کورس ورک، فتویٰ نویسی اور مقالہ، تین بنیادی کا م ہوتے ہیں۔جامعہ امدادیہ اور دارالعلوم کراچی کا مقالہ خاصا ضخیم ہوتا ہے۔ نظام کچھ اس طر ح ہے کہ ایک سالہ کورس میں تین ماہ، دوسالہ میں چھ ماہ اور تین سالہ کورس میں ایک سال مقالے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ مقالے کو بنیادی اہمیت حیثیت حاصل ہے، کیونکہ چھوٹے مسائل میں تو ایک دو لائن کا فتویٰ لکھ دیا جاتا ہے، لیکن تفصیل طلب مسائل کے لیے پوری تحقیق کر نا پڑتی ہے اور یہی تحقیق ایک مقالے کی صورت اختیارکر لیتی ہے ۔
تخصص میں پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت کے لیے تدریب المعلمین کا ایک سلسلہ موجود ہے تاکہ قابل اساتذہ تیا ر کیے جائیں جو صحیح انداز میں تعلیم دے سکیں۔ مختصراً یہ کہ سب سے پہلے نصاب اور مقالہ، اس کے ساتھ ساتھ قابل اساتذہ کا تعین اور تیسر ے نمبر پر طلبہ کے معیار پر توجہ ضروری ہے۔ ہمارے ہاں طلبہ میں عبارت فہمی کی صلاحیت (کہ طالبعلم عربی کتب سے استفادہ کرنے کے قابل ہو) کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔ خوشخطی بھی مد نظر ہوتی ہے تاہم یہ کوئی لازمی شرط نہیں ہے، البتہ ترجیحاً شامل ہے۔اس کے علاوہ انگریزی زبان کی مہارت بھی پیش نظر ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی طالبعلم انگریزی نہ جانتاہو تو اسے انگریزی سکھانے کا اہتما م ہوتاہے، کیونکہ آج کے دور میں اس کی ضرور ت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قابل ترجیح سمجھی جاتی ہیں۔ تخصص کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہا ں طلبہ کو یہ تصور دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو مفتی نہ سمجھیں بلکہ تکمیل تخصص کے بعد کسی تجربہ کا ر مفتی کی زیر نگرانی فتویٰ نویسی کا کام کر یں، اس کے بعد آپ دارالافتاء کھولنے کے قابل ہوں گے۔

خالد رحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)
اب تک کی گفتگوسے یہ احساس ہور ہا ہے کہ کچھ نہ کچھ معیار ات طے کر نے نا گزیر ہیں۔ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، وہ ایک حد تک فوری ضرورت کو پورا کرنے کے نقطہ نظر سے ہو رہا ہے، البتہ ضرور ت اس سے کہیں زیاد ہ کچھ کر نے کی ہے۔چنانچہ فوری ضرورت اور مستقل ضروریات کے دونوں سوالات کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے ۔

مولانا امیر عثمان 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی۔ اسلام آباد )
زیادہ مدت کے حوالے سے جو بات علامہ نقوی صاحب نے کی ہے، وہ آئیڈیل ہے جبکہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کی بات کاتعلق شاید عملی (پریکٹیکل) صورت حال کے ساتھ ہے ۔آئیڈیل چیزوں کا حصول بہت بڑی بات ہے تا ہم عملًا جن چیزوں کا حصول وسائل اور دیگر معاونات کی روشنی میں ممکن ہے، میرے نزدیک ان کے لیے کوشش کر نا زیادہ بہتر ہے۔ البتہ آئیڈیل اور پریکٹیکل کے فرق کو کم کر نے سے ہی ہم کسی بہتر نتیجے پر پہنچ پائیں گے ۔ 
تخصصات کے حوالے سے طلب اور رسد کا پہلو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مزیدیہ ہو سکتا ہے کہ تخصص کے لیے علماے کرام اولویات مقرر کریں کہ ہمارے موجودہ تخصصات ہماری اولویات کے مطابق ہیں یا نہیں؟یا یہ کہ طلب ورسد سے قطع نظر ہم نیا رجحان معاشرے میں متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ایک اور تجویز یہ ہوسکتی ہے کہ تخصص کے شوقین طلبہ کے لیے ورکشاپس کا اہتما م کیا جائے تاکہ انہیں بہتر رہنمائی مل سکے اور وہ اپنی ترجیحات کا تعین کر سکیں اور اپنی مرضی کا تخصص، وہ جہاں سے چاہیں کر لیں۔ورکشاپ کی نوعیت باہمی مشاور ت سے طے کی جا سکتی ہے ۔
تدریب کے حوالے سے یہ بات درست ہے کہ مدرسے کے تجربہ کار اساتذہ ضروری ہیں تاکہ دوسر ے نئے اساتذہ براہ راست ان کے تجربات سے استفادہ کرسکیں، تاہم میرا تھوڑا سا اختلاف یہ ہے کہ اگر ہم جدید تعلیم کے ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرسکتے ہیں تو کرنا چاہیے اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے کہ قدیم علو م کا ماہر جدید علوم کی معرفت نہیں رکھتا۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ ناگزیرہے ،کیونکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دونوں طر ح کے علوم پر دسترس رکھتے ہوں ۔یعنی بنیادی طور پر مہارت سیکھنی ہے اور وہ کسی ماہر فن سے ہی سیکھی جا سکتی ہے۔
تخصص کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے لائبریریز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے،لیکن مالی وسائل کی عدم دستیابی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے حل کے لیے میر ی تجویزیہ ہے کہ ڈیجیٹل لائبریریز کو استعمال میں لانے کی کوشش کی جائے اور بلامبالغہ پوری دنیا میں اس وقت تفسیرو حدیث وغیر ہ میں اتنا ڈیجیٹل کام ہو چکا ہے جس کا ہم میں سے بہت سے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔
تخصص کے معیار میں بہتری کے لیے دو اور چیزوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ایک یہ کہ مقالہ کا نظام جو چل رہا ہے، اس کے ساتھ کچھ فیلڈ ور ک طالبعلم کو دیا جائے، کیونکہ معاشرتی کام کے جائزے سے طلبہ کے وژن میں اضافہ ہو گااور تخصص کے کام میں مزید بہتری آئے گی اور مدارس کے طلبہ کے بار ے میں یہ تاثر (کہ یہ لوگ معاشرے کے بارے میں انجان ہوتے ہیں) کم کر نے میں مدد ملے گی، کیونکہ اس انجان پن کی ایک وجہ ان کی معاشر ے سے دوری ہے۔ اسی طر ح تخصص کے موضوعات میں تقابل ادیان کو شامل کر نا ضر وری ہے ۔ یہ چاہے بڑے مدارس کی حد تک ہی ہو، لیکن بہر حال اس کا اہتمام ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہر محمود

(الجامعہ السلفیہ۔ اسلام آبا د )
تجاویز وآرا کی روشنی میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ علما کے درمیا ن تخصصات کے اجرا کے حوالے سے اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔درحقیقت علامہ سرفراز نعیمی صاحب اور علامہ نیاز حسین نقوی صاحب کے افکار میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے ۔ نقوی صاحب کی بات کا تعلق کمال سے ہے جبکہ سرفراز نعیمی صاحب اس کا معروف معنوں میں استعمال بتا رہے ہیں۔ میں ان سفارشات کوعملی شکل دینے کے لیے دو حوالوں سے بات کر وں گا ۔ پہلی بات IPS کے حوالے سے ہے اور دوسر ی ارباب وفاق سے متعلق ہے۔ آئی پی ایس کو چاہیے کہ بورڈز کے ذمہ دارا ن سے بالعموم اور ان مدارس کے ذمہ داران ومتخصصین(جو اس وقت عملاً تخصصات کروارہے ہیں ) سے بالخصوص تجاویز طلب کرے اور ان تجاویز کی روشنی میں دو یا اڑھائی سالہ تخصص کا اجرا کرے۔ اس کے لیے طریقہ کا ر ایسا اختیار کیا جائے جواتحاد ملت کا مظہر ہو۔ اس تخصص کے لیے بورڈ کی طر ف سے نامزد کر دہ ممتاز طلبہ کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے نصاب میں عصر حاضر کے مسائل کو جگہ دی جائے۔ یوں ایک آئیڈیل چیز ہمارے سامنے آجائے گی۔ اس کی عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مختلف سرکاری یا پر ائیویٹ یونیورسٹیز کے ساتھ اس انداز میں اشتراک عمل کیا جائے کہ فکر ی اور علمی رہنمائی ہمار ی ہو اور اکیڈیمک معاملات ان کے ذمے ہوں۔ اس سے ایک تو ان حلقوں میں تخصص کی اہمیت اجاگر ہو گی اور دوسراڈگری کے حصول کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہوجائے گا۔
دوسرا پہلو بورڈز کے حوالے سے ہے کہ وہ تخصص کی سند کے ایم فل یا پی ایچ ڈی لیول تک معادلے کی کوشش کریں تا کہ عملی زندگی اور روزگارکے لحاظ سے بھی اس پر وگرا م میں دلچسپی کا عنصر پیداہو سکے۔ تخصصا ت کے لیے موضوع کی توضیح بورڈ کی طر ف سے ہو، یعنی بورڈ اپنے ساتھ منسلک اداروں کو اپنی طر ف سے منتخب کر دہ موضوعا ت میں سے کسی ایک یا دو موضوعات پر تخصص کر وانے کا پابند بنائے۔ اس سے طلبہ کو اپنی پسند اور ترجیح کا موضوع منتخب کر نے میں آسانی ہو گی اور وہ اسی موضوع سے متعلقہ ادارے سے تخصص کر یں گے۔ اسی سلسلے کی ایک کوشش کاہم نے اپنے ادارے میںآغازکیا ہے کہ تخصص کے شعبہ جات تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، خطابت، ادب والانشاء وغیرہ کے حوالے سے حلقات قائم کیے ہیں ۔ان حلقات کی مختلف ایام میں نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ یوں ایک متخصص استاد کی جانب سے طلبہ کی مختلف حوالوں سے رہنمائی مستقبل میں آنے والے تخصص کے مراحل کے لیے ایک بہترین بنیاد بن سکتی ہے۔

پروفیسر حبیب الرحمن عاصم 

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ۔اسلام آباد)
تخصص کے حوالے سے مفید گفتگو کی گئی ہے اور آئی پی ایس کی طرف جو تجاویز تحریری شکل میں موجود ہیں، گفتگو میں بھی بیشتر انہی کا یہاں اعادہ ہو گیا ہے۔ میرے ذہن میں بھی ابتدائی طو ر پر یہی اغراض سامنے آئیں جو ان تجاویز میں تقریباً موجود ہیں کہ ایک بہترین استاد وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے شعبے میں تخصص کیا ہو، اور اسے اپنے علمی دائرے میں تخصص جاری رکھنا چاہیے۔ اس پر وگر ام کی تشکیل کے پس پر دہ محوری اور بنیادی نقطہ یہ تھا( علامہ زاہد الراشدی صاحب نے بھی اپنی تجاویز میں اسی طرف اشارہ کیا ہے) کہ دینی مدارس اس معاشر ے اوراس میں موجود مختلف اداروں کی رہنمائی کیسے کریں؟ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہنمائی کا سلسلہ تو علماے کرام جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن بڑے بڑے مسائل میں دینی مدارس کی طر ف سے رہنمائی کی کمی مختلف موقعو ں پر اٹھنے والے سوالات کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔معاشرے کی رہنمائی کے محوری نقطے کو اپنے تخصص میں بنیاد بنا لیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ نئے نئے آنے والے سوالات اور مسائل کے حل کے لیے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کر تا ہوا علماے کرام کا مشترکہ بور ڈ ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلے کے بارے میں کوئی مشترک رائے سامنے آسکے۔اسلامی نظریاتی کونسل اس حوالے سے حکومتی چھاپ کی وجہ سے کوئی بہتر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے فیصلوں کے حوالے سے اکثر علما میں اختلاف ہی نظر آیا ہے ۔اس لیے اگر مختلف بورڈز کے علما غیر سرکاری طور پر اس طر ح کا کوئی بورڈ قائم کرسکیں (جو لوگوں کی رہنمائی کرے) تو یہ بہت مفیدہو گا۔میں اس تجویز سے بھی متفق ہوں کہ تخصص کے مختلف اداروں کے ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں اور ان تجاویز پر غور وخوض کرنے کے لیے الگ سے اجلاس بلایا جائے جس میں کسی حتمی بات کا تعین ممکن ہو سکے۔

پروفیسر خورشید احمد 

(چیئرمین آئی پی ایس)
مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ تخصص کی اہمیت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہورہا ہے ا ور جہاں کہیں اس سلسلے کا آغاز ہوا ہے، وہ مفید بھی ہے اور اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ اس سلسلے میں مزید معلومات جمع کی جائیں تاکہ پوری تصویر ہمارے سامنے آسکے۔بنیا دی بات یہ ہے کہ دینی مدارس نے دین،اس کی تعلیم اور اس کے علمی اثاثے کی حفاظت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتلا کے دور میں اس پوری اما نت کی حفاظت اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کا کا م ایک تاریخی خدمت ہے جو مدارس نے سرانجام دی ہے۔ دوسری جانب مدارس نے معاشرے کے عام انسان کی روز مرہ ضروریات کے لیے ایسے افرادتیار کیے جو دینی خدمات بھی انجام دیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو دینی معلومات بھی فراہم کریں۔ مدارس کے موجودہ نظام نے ان دو ضرورتوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ پور ا کیا ہے۔البتہ معاشرے کی ضروریات اس سے کچھ زیادہ ہیں اور بطور خا ص، مسلمان ممالک میں آزادی حاصل ہونے کے بعدیہ سوال فطری طور پرپیدا ہواکہ اب اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے دین سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے نئی زندگی کی تشکیل وتعمیر کیسے ہو سکتی ہے ؟ اس رہنمائی کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ایک طرف تودینی علو م میں گہری نظر رکھتے ہوں اور ساتھ ہی دور جدید کے مسائل ، پیچیدگیوں اور امکانات سے و اقفیت رکھتے ہوں۔ مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے تطبیق کی بات کی تھی کہ فقہی مسائل کی تطبیق کے حوالے سے خلا ابھی موجود ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انسانی تجربات اور ٹیکنالوجی کی بنیا د پر جومزید مسائل پیدا ہوئے ہیں اور نئے نئے سماجی اقتصادی اور سیاسی ادارے بنے ہیں، ان کی بنیاد پر بہت سے پالیسی معاملات نے جنم لیا ہے۔ ضرورت ہے کہ ا ن میں ہم قرآ ن وسنت کی روشنی میں رہنمائی دے سکیں۔اس ضرورت کو پور ا کرنے کے لیے ہما رے دینی نظام میں ایک گنجایش پیدا ہونی چاہیے کہ عمومی تعلیم کے بعد تخصص کازیادہ جامع مربوط اور مؤثرنظام وضع کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
تخصص کی کم ازکم تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ اس تخصص سے فارغ ہونے والا اپنے میدان تخصص سے متعلقہ جملہ اہم باتوں سے واقف اور ان کی حقیقت سے آگاہ ہو تاکہ پھر آگے ان کے استعمال کی راہیں کھولی جا سکیں۔اس لیے آخری درجے کے بعدجن طلبہ میں خود شوق بھی ہو، انہیں ترغیب دی جائے اور ان کے لیے Incentive (محرک) پیدا کیا جائے تاکہ وہ اس مرحلے میں ذوق وشوق سے داخل ہوسکیں۔تخ صص کی یہ صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد ہم نئی تحقیق کریں اور اس تحقیق میں علوم اسلامی کے ساتھ ساتھ عصری علوم و مسائل کو لازماً شامل کریں۔ لیکن ابھی فوری آغاز کے لیے اگر کوئی نظام نہیں ہے تو مل جل کر اس کمی کو پور ا کیا جائے۔اس سلسلے میں مصطفی زر قا اور ابوزہرہ وغیرہ نے جو اجتماعی اجتہاد کی بات کی ہے، وہ لائق توجہ ہے، یہ کہ مختلف علوم میں نگاہ رکھنے والے، حتیٰ کہ جدید وقدیم دونوں علوم کے جاننے والے (بشرطیکہ ان کی نیت درست ہو) ساتھ بیٹھیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ ہندوستان میں مولانا مجاہد الاسلام صاحب نے فقہ اکیڈمی قائم کرکے اس سلسلے میں مفید خدمات انجام دی ہیں ۔ انہوں نے ہر سال ایک موضو ع کو لے کر اس پر جدید وقدیم علوم کے ماہرین کو دعوت دی کہ وہ آرا لکھیں، اس پر بحث کر یں، اس کے بعد پھر انہوں نے اس کام کو شائع کر کے آگے بڑھایا۔ کم وبیش دس جلدوں میں انہوں نے عصری مسائل پر اسی انداز میں کام کیا۔ اسی طرح رابطہ عالم اسلامی اور اوآئی سی کی فقہ اکیڈیمیز اپنے اپنے انداز میں یہ کا م کررہی ہیں اور باقی مسلم دنیا میں بھی کوششیں ہو رہی ہیں ۔یوں پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں جہاں جو بھی کا م ہورہا ہے، اس کی معلوما ت حاصل کی جائیں اور ان اداروں نے جو کا م کیا ہے، اسے بنیاد بنا کر آگے کام کیا جائے ۔ البتہ اس موضوع پر کانفرنس کا وقت ابھی نہیں آیا، لیکن اس چیز کی ضرور ت ہے کہ ہربورڈ سے ایک نمائندہ فرد لیا جائے اور ان منتخب افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے تا کہ پاکستان میں جو صورت حال ہے، وہ ہمارے سامنے آ سکے اور اسی طرح کچھ افراد کے سپر د یہ کا م کیا جائے کہ عالم اسلام میں اس سلسلے میں جہاں جہاں جو کام ہوا ہے، اس پر تحقیق کریں۔
اسلامی معاشیات سے مجھے کچھ واقفیت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دس پندرہ سالوں میں معاشیات کے میدا ن میں تحقیق وتطبیق کا نمایاں کام ہوا ہے، لیکن لوگوں کو اس کی واقفیت نہیں ہے ، مختلف انسائیکلوپیڈیا تیار ہوئے ہیں لیکن وہ عموماً دستیاب نہیں ہیں۔ ان تمام چیزوں کو جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اپنے اساتذہ کے لیے نظام بنانے اورانہیں یہ جذبہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ خود تحقیق پر توجہ دیں، ذاتی ذوق کی مناسبت سے بھی اور اجتماعی ضرور ت کو پور ا کرنے کے لیے بھی۔ اس معاملے میں آپ کی کمیٹی ایک مفید خدمت انجام دے سکتی ہے کہ تعلیم میں آگے کے درجات میں کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ میراذاتی تجربہ یہ ہے کہ اگر اسے آپ باقاعدہ نظام کا حصہ بنائیں گے تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس امر میں کوئی قباحت نہیں کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی طر ز پر ہم اپنے نظام میں بھی گنجایش پیدا کریں۔ اصو ل وضوابط بنائیں اور ان پر عمل کریں اور ساتھ ہی اس قسم کے اجتماعات کیے جائیں جن میں اہل علم جمع ہوں اور کم ازکم فوری اور وقتی رہنمائی دینے کا کا م انجام دے سکیں۔ ساتھ ساتھ تمام اہل علم کو مناسب محرکات فراہم کیے جائیں ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے کرنے کی ضرور ت ہے اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس کا م میں خاصا وقت درکار ہوگا۔

خالدرحمن 

(ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)
آپ سب حضرات کا بہت بہت شکریہ ۔آج کی گفتگو کو ہم باقاعدہ مرتب کرکے آپ تمام حضرات تک پہنچا دیں گے اور جوجو تجاویزیہاں پیش ہوئی ہیں ان پر عمل در آمد، ان کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کے لیے ہونے والی پیش رفت کے سلسلے میں آپ سے مسلسل رابطہ رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

’’وفاق المدارس‘‘ کا تبصرہ ۔ چند معروضات

محمد عمار خان ناصر

ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے حالیہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی پالیسی اور ہماری کی کتاب ’’حدود و تعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ کے حوالے سے جو تبصرہ شائع ہوا ہے، اگرچہ وہ ایک Polemical نوعیت کی تحریر ہے جس میں سنجیدہ استدلال کا عنصر مفقود اور تحکم اور الزام طرازی کا رنگ نمایاں ہے، تاہم اس سے بعض اہم سوالات کے بارے میں عمومی سطح پر غور وفکر کا ایک موقع پیدا ہوا ہے اور چونکہ ہمارے ہاں کسی مسئلے کی طرف توجہ اور اس پر بحث ومباحثہ کی فضا بالعموم اس طرح کی کسی تحریک کے نتیجے ہی وجود میں آتی ہے، اس لیے تبصرہ نگار کا محرک اور مقصد اس تبصرے سے جو بھی ہو، بعض اختلافی امور کو زیر بحث لانے اور ان پر غور وفکر کا داعیہ بیدار کرنے کے حوالے سے ہم اس کو مثبت نظر ہی سے دیکھتے ہیں۔ آئندہ سطور میں ہم اختصار کے ساتھ اس ضمن کے بعض اہم پہلووں کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کریں گے۔

اکابر کا طرز اور ’الشریعہ‘ کی پالیسی 

تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ ’’الشریعہ کی فائلیں دیکھ کر ہمیں انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب اس پلیٹ فارم پر اپنے اکابر کی راہ مستقیم سے الگ ہو رہے ہیں۔ ‘‘ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اکابر کے ’’طرز فکر‘‘ سے مراد اور اس سے وابستگی کا معیار کیا ہے، اور یہ بحث دلچسپی کا باعث ہوتی اگر تبصرہ نگار یہ بتا سکتے کہ ان کے پاس وہ کون سا ریاضیاتی فارمولا کیا ہے جو دو اور دو چار کی طرح یہ بتا سکے گا کہ کون سا فرد یا گروہ اکابر کی راہ پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہو گیا ہے! اس ضمن میں ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک خط میں فاضل مکتوب نگار نے بجا طور پر یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ
  • اکابر کے مزاج ومنہج سے کیا مراد ہے اور اس کی تشریح وتوضیح کی اتھارٹی موجودہ زمانہ میں کن حضرات کو اور کس خصوصی امتیاز کی بنیاد پر حاصل ہے؟
  • اگر اکابر کے طرز ومزاج میں فرق یا اختلاف موجود ہے تو کوئی کسی طرز کو اختیار کرنا انحراف کے زمرے میں آئے گا؟
  • اکابر کے طرز ومزاج پر کاربند رہنے کی حدود کیا ہیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اکابر دیوبند کے طرز اور مزاج کو ریاضیاتی قاعدوں کے انداز میں متعین کرنے کا کام نہ صرف ان اکابر کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ عملاً بھی ایک لاحاصل مشق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکابر دیوبند کے ہاں علمی وفکری رجحانات میں جو تنوع، مزاجوں میں جو اختلاف اور حکمت عملی میں جو تعدد پایا جاتا ہے، اس کی بدولت ان کے طرز فکر اور ان کے ساتھ نسبت کی عملی تعبیر میں بھی تنوع اور رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ یہاں دیکھنے والے کو انگریز کے خلاف جہاد میں مولانا گنگوہی اوران کے موافقین کا سرگرم کردار اور مولانا تھانوی او رمولانا خلیل احمد سہارنپوری کا موقف، تقسیم ہند کے مسئلے پر جمعیت علماے ہند کا مسلک اور اس کے مقابلے میں جمعیت علماے اسلام کی سیاسی جدوجہد، ارباب خانقاہ کی ’’رہبانیت‘‘ اور تنظیم فکر ولی اللہی کی انقلابیت، جمہور کی آرا سے بے لچک وابستگی کا رویہ اور مولانا نانوتوی، مولانا تھانوی، علامہ کشمیری اور مولانا سندھی وغیرہ کی منفرد آرا*، فقہی ومسلکی معاملات میں دارالعلوم کراچی کا توسع واعتدال اور خیر المدارس کی حنفی عصبیت، ٹھیٹھ مسلکی حلقوں کی بے لچک ترجیحات اور مولانا فضل الرحمن کا لبرل انداز سیاست، مولانا غلام اللہ خان کا ’’وہابیت‘‘ کو چھوتا ہوا جذبہ توحید اور جامعہ اشرفیہ کا بریلویانہ تصوف، صحابہ کے اختلافات کی عام تعبیر اور اس سے ہٹ کر ’’خارجیت ویزیدیت‘‘ کا طریقہ، قادیانیوں کے بارے میں جمہور علما کا طرز عمل اور اس کے برعکس مولانا سندھیؒ اور مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کا نقطہ نظر، مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل کی وسیع المشربی اور سپاہ صحابہ کی متشددانہ جذباتیت، ’’المہند‘‘ کی تعبیرات اور بعض حضرات کے اس سے مبینہ ’’انحرافات‘‘، مولانا مودودی کے بارے میں ارباب فتویٰ کے فتوے اور مولانا طارق جمیل کی وسعت قلبی، اسلامی نظام معیشت سے متعلق روایتی علما کے ’’سرمایہ دارانہ‘‘ خیالات اور مولانا محمد طاسینؒ کی ’’سوشلسٹ‘‘ فقہی تعبیرات، اسلامی بینکاری کے حوالے سے اکابر علما کا کتابی فقہ پر مبنی ’’متفقہ فتویٰ‘‘ اور عملی مسائل ومشکلات کی روشنی میں مولانا تقی عثمانی کے اجتہادات، تبلیغی جماعت کا احیاے اسلام کے لیے دعوت واصلاح کو کلید سمجھنے کا زاویہ نگاہ اور جہادی عناصر کے ریڈیکل رجحانات، ’’وفاق المدارس‘‘ کا بحث ومباحثہ کی آزادی پر چیں بہ جبیں ہونا اور ’’الشریعہ‘‘ کا اس طریقے کو علیٰ وجہ البصیرت فروغ دینا یہ سب رویے یکساں دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ سب رجحانات اپنے تمام تر اختلاف اور تضاد کے باوجود وسیع تر مفہوم میں دیوبندی حلقہ فکر ہی کا حصہ ہیں۔ 
دیوبندی فکر اور مزاج کا اصل حسن یہی وسعت اور تنوع ہے۔ یہی اس کی وہ خصوصیت ہے جو معاشرے کے ذہین، جذبہ عمل سے سرشار اور متنوع رجحانات رکھنے والے عناصر کو اپنی طرف کھینچتی اور اس طرح اسے دوسرے محدود اور فرقہ وارانہ اہداف رکھنے والے گروہوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس فکر کو کسی عقائد نامے کی شقوں کے طریقے پر متعین کرنے اور اس کی بنیاد پر اکابر کی ’’راہ مستقیم‘‘ پر قائم رہنے یا اس سے الگ ہونے کا کوئی معیار وضع کرنے کی کوشش کی جائے گی تو نتیجہ اس سے مختلف نہیں ہوگا جو چار اندھوں کے، ہاتھی کی جسمانی ساخت کو متعین کرنے کی کوشش سے نکلا تھا۔ جو عناصر دیوبندی مزاج کو اس کی کلیت میں قبول کرنے کے بجائے اس پر اپنی اپنی ذہنی محدودیتوں کی چھاپ کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں، وہ یقیناًایسی کوششیں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن انھیں سمجھنا چاہیے کہ اس طرح وہ درحقیقت ایک نادان دوست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
* مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات برزخی کی نوعیت وکیفیت اور ختم نبوت زمانی ومکانی کے فرق کے ضمن میں مولانا نانوتوی، عورت کی حکمرانی کے جواز کے بارے میں مولانا تھانوی، سیدنا مسیح کے رفع آسمانی سے پہلے انھیں وفات دیے جانے سے متعلق مولانا بدر عالم میرٹھی، نزول مسیح کے ضمن میں مولانا سندھی، اور بہت سے نصوص اور مسائل کی تعبیر کے ضمن میں علامہ انور شاہ کشمیری کی آرا۔ ایک معروف عالم دین نے ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے بعض تفردات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو والد گرامی نے انھیں لکھا کہ: ’’تفردات‘‘ خود ہمارے معرو ف بزرگوں میں سے کس کے نہیں رہے؟ اگر کوئی صاحب صرف انھی کو جمع کرنے اور ان پر نقد کرنے میں لگ جائیں تو زندگی بھر کسی اور کام کے لیے انھیں فرصت نہیں ملے گی۔ .... ہم اپنے حلقے کو محدود سے محدود تر کرتے چلے جا رہے ہیں اور ایک علمی وفکری جدوجہد کو ہم نے ’’پیر خانوں‘‘ میں بانٹ دیا ہے۔‘‘ (عصر حاضر میں اجتہاد، ص ۳۲۸)
وفاق المدارس کے تبصرہ نگار نے اپنی قیادت کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ’’مولانازاہدالراشدی صاحب وفاق کی ’’مجلس عاملہ‘‘ کے رکن ہیں، لہٰذا وہ حضرات انہیں فکری کج روی سے روکیں، اکابر دیوبند کے طرز فکر پر رہنے کی تلقین کریں اور اس کی پاسداری کا ان کو پابند بنائیں۔‘‘ یہ ایک نہایت مضحکہ خیز بات ہے، اس لیے کہ وفاق المدارس اپنی ذمہ داریوں کی نوعیت کے لحاظ سے بنیادی طور پر ایک انتظامی ادارہ ہے جس کا مینڈیٹ اور دائرۂ اختیار اکابر دیوبند کے ساتھ وابستگی کے فکری معیارات طے کرنا اور مفروضہ علمی وفکری کج رویوں کو روکنے کے لیے watchdog کا کردار ادا کرنا نہیں، بلکہ دیوبندی فکر سے وابستہ سمجھے جانے والے مدارس کے لیے نصاب تعلیم وضع کرنا اور ان کے امتحانی نظام کو کنٹرول کرنا ہے۔ وفاق کے دستور کے مطابق اس کا دائرہ کار ’’خالص تعلیمی‘‘ ہے اور وفاق کی تاریخ میں دیوبندی حلقے کی معروف شخصیات یا مختلف فکری رجحانات کے بارے میں ’’حکم‘‘ بن کر فیصلہ کرنے کی کوئی نظیر موجودنہیں، بلکہ اس طرح کے مختلف اور مخالف رجحانات رکھنے والے عناصر خود وفاق کے نظام سے وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر دیوبندی حلقے میں جس شخصیت کے افکار غالباً سب سے زیادہ متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، وہ مولانا عبید اللہ سندھیؒ ہیں، لیکن یہ معلوم ہے کہ انھیں متجددین اور گمراہوں میں شمار کرنے والے اور انھیں ان کی آرا کا دفاع اور توجیہ کرنے والے دونوں طبقے وفاق کے نظام کا حصہ ہیں۔ حلقہ دیوبند میں ایک پورا مکتب فکر ایسا موجود ہے جو عالم برزخ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کی نوعیت اور کیفیت کے بارے میں علماے دیوبند کی عمومی راے سے اتفاق نہیں رکھتا اور دیوبندی عقائد ونظریات کے بارے میں اکابر علماے دیوبند کی مرتب کردہ ’’المہند علی المفند‘‘ کو دیوبندی فکر کی مستند تعبیر نہیں مانتا۔ اس کے باوجود اس مکتب فکر سے وابستہ مدارس وفاق المدارس کے نظام کا حصہ ہیں، ان کے نمائندگان وفاق کی مجالس کے رکن ہیں اور ہر سال ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو وفاق کی طرف سے سندیں جاری کی جا تی ہیں۔ اسلامی بینکاری کے موجودہ نظام کو اکابر کے شروع کردہ کام پر مبنی اور اس کا تسلسل قرار دے کر اس کا دفاع کرنے والے مولانا محمد تقی عثمانی بھی وفاق کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور اس سارے سسٹم کو سودی حیلوں کا مرقع قرار دے کر اسے ’’حرام‘‘ کہنے اور اس کے خلاف ’’متفقہ فتویٰ‘‘ جاری کرنے والے حضرات بھی اسی وفاق کا جزو لاینفک سمجھے جاتے ہیں۔ جمعیت علماے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کا موقف اور طرز عمل خاتون کی حکمرانی کے حوالے سے معلوم ومعروف ہے۔ ۸۷ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد جب پورے ملک کے علما نے ان کے اس منصب پر فائز ہونے کے خلاف قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں متفقہ فتاویٰ جاری کیے تو مولانا ان فتووں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے نہ صرف ان کی حکومت میں شریک ہوئے بلکہ مخالف علما کے موقف پر یہ تبصرہ بھی کیا کہ اس مسئلے پر ان کی سوئی خواہ مخواہ اٹک گئی ہے۔ محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں بھی مولانا کا طرز عمل یہی رہا۔ اس کے باوصف وفاق کی طرف سے آج تک انھیں ’’سمجھانے‘‘ کی کوشش نہیں کی گئی اور وہ اس وقت سے لے کر آج تک وفاق کے بڑوں میں شمار ہوتے تھے۔ اب اگر تبصرہ نگار وفاق کو ’’شوراے نگہبان‘‘ کی صورت میں متحرک دیکھنا چاہیے یا اس سے ویٹی کن کے کردار کی توقع رکھتے ہیں تو انھیں اس سوال کا جواب دینا چاہیے تھا کہ آخر ان کے سامنے وہ کون سا معیار ہے جس کی روشنی میں ارباب وفاق، اکابر کے طرز سے وابستگی اور انحراف کا فیصلہ کریں گے، اور یہ کہ اگر ان کے ذہن نے ایسا کوئی معیار اختراع کیا ہوا ہے تو کیا وفاق ایک اجتماعی ادارے کی حیثیت سے اس کا متحمل ہے کہ اس کا اطلاق بے لاگ طریقے سے ہر فرد اور گروہ پر کر سکے؟
جامعہ حفصہ کے سانحہ کے موقع پر وفاق کی قیادت نے کوئی عوامی تحریک چلانے کی ذمہ داری قبول کرنے سے اس بنیاد پر انکار کر دیا تھا کہ یہ کام وفاق کے دائرۂ عمل سے باہر کی چیز ہے اور اس کے لیے ملک کی ان دیگر مذہبی وسیاسی تنظیموں کو آگے بڑھنا چاہیے جو اس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ تبصرہ نگار کو، وفاق کو علمی وفکری بحثوں کے محاکمہ کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا مشورہ دیتے ہوئے وفاق کے دائرۂ اختیار پر اور اس سے تجاوز کے مضمرات، اثرات اور نتائج پر اچھی طرح غور کر لینا چاہیے تھا۔

’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘

آب آئیے’’حدود وتعزیرات‘‘ کے حوالے سے ہماری آرا پر ’’وفاق المدارس‘‘ کے تبصرے کی طرف۔ تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ ہم نے جن مسائل کو موضوع بنایا ہے، وہ ’’مسلمہ اجماعی مسائل ہیں، اجتہادی نہیں ہیں۔‘‘ مزید یہ کہ ہماری کتاب میں ’’مغرب واہل استشراق کی طرف سے اسلامی حدودپر کیے گئے اعتراضات کو عملی جامہ پہنانے، انہیں اسلامی احکام کالبادہ اوڑھانے اور پوری فقہ اسلامی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘ تبصرہ نگار نے اس ضمن میں ارتداد کی سزا اور عورت کی نصف دیت جیسے معاملات کا بطو رمثال ذکر کیا ہے۔ 
ہمارے نزدیک یہ تنقید علما اور مذہبی طبقے کی اسی ’’بے خبری‘‘ کا ایک نمونہ ہے جس کا شکوہ والد گرامی نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔‘‘ والد گرامی نے اس ضمن میں دور حاضر کی جنگوں میں اسیران جنگ کے لونڈی غلام نہ بنائے جانے اور جمہوریت کے حوالے سے کیے جانے والے اجتہادات کا ذکر کیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کی مثالیں بے شمار ہیں جن میں دنیا کے حالات میں پیدا ہونے والے عملی تغیرات کے نتیجے میں امت مسلمہ کی اجتماعی بصیرت نے بے شمار مسائل میں اجتہادی زاویہ نگاہ اپنایا اور کلاسیکی فقہی آرا سے مختلف ایسی آرا اختیار کی ہیں جو نئے حالات اور تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ خود پاکستان میں دستوری اور قانونی اسلامائزیشن کے عمل میں، جسے مستند اہل علم کا عمومی اعتماد حاصل ہے، محدود نظری اور فقہی اصولوں کی پابندی کرنے کے بجاے حالات اور ضروریات کے وسیع تر تناظر میں براہ راست ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل میں ائمہ اربعہ کے بجاے دوسرے فقہا کی راے کو قانون سازی کی بنیاد بنایا گیا ہے، بعض امور میں اب تک شاذ اور ناقابل اعتنا سمجھی جانے والی آرا پر مدار رکھا گیا ہے جبکہ متعدد مسائل میں فقہا کے اجماع تک کو نظر انداز کرتے ہوئے درپیش صورت حال کا حل نکالا گیا ہے۔ 
یہ تصور کرنا درست نہیں ہوگا کہ ماضی کی متفقہ یا قبول عام حاصل کر لینے والی فقہی آرا سے اختلاف کرنے کا طریقہ دور حاضر ہی میں اختیار کیا گیا ہے، اس لیے اس کا امکان ہے کہ اس زاویہ نگاہ کے پیچھے مستند علمی اور فقہی اصولوں کے بجاے محض حالات کا دباؤ یا جدیدیت کے اثرات کارفرما ہوں۔ یہ مفروضہ اس لیے درست نہیں کہ نئے حالات اورنئے سوالات کے تناظر میں ماضی کی متفق علیہ علمی وفقہی تعبیرات سے اختلاف کی مثالیں ماضی میں بھی ملتی ہیں اور نہ صرف اہل علم نے اپنی انفرادی آرا میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر کیے جانے والے اجتہادات میں بھی اس کی بے حد واضح نظیریں موجود ہیں۔ یہاں ہم اس ضمن کی اہم مثالوں کا مختصراً ذکر کریں گے:
۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد منقول ہے کہ ’ان ہذا الامر فی قریش‘ یعنی حکمرانی کا منصب قریش میں رہے گا۔ (بخاری، رقم ۶۶۰۶) کلاسیکی علمی روایت کے مطابق یہ حدیث قیامت تک کے لیے ایک شرعی حکم کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ یہ مسئلہ اہل سنت اور خوارج ومعتزلہ کے مابین پیدا ہونے والی کلامی بحثوں میں ایک بڑے نزاع کا عنوان بنا رہا ۔ خوارج وغیرہ غیر قریشی کے خلیفہ بننے کے جواز کے قائل تھے، جبکہ اہل سنت کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی بنیاد پر اس مسئلے پر امت کا عملی ’اجماع‘ منعقد ہو چکا ہے۔ احکام سلطانیہ، شروح حدیث اور علم کلام کی کتابوں میں اسے ایک اجماعی مسئلے ہی کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے، حتیٰ کہ جب عربوں کے اس منصب کے لیے عملی اعتبار سے نا اہل ہونے کے تناظر میں اہل سنت کے بعض اہل علم مثلاً قاضی ابوبکر الباقلانی وغیرہ نے ضرورتاً اس شرط کو ساقط کرنے کی راے پیش کی تو اسے بھی خلاف اجماع قرار دے کر اس پر تنقید کی گئی۔ (دیکھیے مقدمہ ابن خلدون، ۱/۹۹) تاہم جب قریش کی خلافت کا عملاً خاتمہ ہو گیا تو متاخرین کو ازسرنو ان احادیث کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہوئی اور ابن حجر وغیرہ نے روایات کے داخلی قرائن کی روشنی میں یہ راے پیش کی کہ قریش کے لیے بیان کیا جانے والا یہ استحقاق مطلق نہیں بلکہ اہلیت اور عدل وانصاف کے ساتھ مشروط تھا اور ان کا طویل عرصے تک اس منصب پر فائز رہنا اور پھر اس سے محروم کر دیا جانا اس شرط کے عین مطابق ہے۔ (فتح الباری، ۲۰/۱۵۵) بعد میں اسی تعبیر کو علمی سطح پر قبول عام حاصل ہوا اور اسی کی روشنی میں ترکوں کے استحقاق خلافت پر کوئی شرعی سوال اٹھائے بغیر اسے پوری طرح قبول کیا گیا۔ والد گرامی نے اسی تناظر میں پہلے دور کے فقہی اجماع سے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ خلیفہ کے قریشی ہونے پر امت کا اجماع ہو گیا تھا۔ یہ بات درست ہے، لیکن خلافت بنو عباس کے خاتمہ کے بعد ترکوں کے آل عثمان کو ان کے قریشی نہ ہونے کے باوجود بطور خلیفۃ المسلمین قبول کر کے پوری امت نے خلیفہ کے لیے قریشی کی شرط ضروری نہ ہونے پر بھی اجماع کر لیا تھا جو صدیوں قائم رہا اور امت کا بہت بڑا حصہ، جن میں محدثین، فقہا، متکلمین اور ہر طبقہ کے علماے امت شامل ہیں، آل عثمان کے ترک خاندان کے خلفا کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتے رہے ہیں اور ان کے نام کا خطبہ پڑھتے رہے ہیں، حتیٰ کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس بھی ان کی خلافت کا حصہ رہے ہیں اور ان مقامات مقدسہ میں صدیوں تک ترکوں کی خلافت کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اس لیے اگر ایک دور میں خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط پر اجماع تھا بھی تو امت کے دوسرے اجماع کے بعد اس شرط کی وہ حیثیت قائم نہیں رہی۔‘‘ (روزنامہ اوصاف، ۶؍ اپریل ۲۰۰۰)
۲۔ کلاسیکی فقہا، اہل ذمہ کے حقوق واختیارات سے متعلق بعض جزوی اختلافات سے قطع نظر، اصولی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلق کی آئیڈیل صورت عقد ذمہ ہی ہے جس میں ان پر جزیہ کی ادائیگی اور دیگر شرائط کی پابندی لازم ہو اور وہ کفر و اسلام کے اعتقادی تناظر میں اہل اسلام کے محکوم اور ان کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں۔ فقہا کے نزدیک یہ اصول تمام غیر مسلموں پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ جنگ کے نتیجے میں مفتوح ہوئے ہوں یا صلح کے کسی معاہدے کے تحت مسلمانوں کے زیرنگیں آئے ہوں یا دار الحرب کی شہریت سے دستبردار ہو کر دار الاسلام میں قیام پذیر ہونا چاہتے ہوں۔ تاہم برصغیر کی مسلم حکومتوں میں عام طور پر اس فقہی اجماع پر عمل کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں ’جزیہ‘ کے پرانے قانون کو، جو غیر مسلموں کے دوسرے درجے کے شہری ہونے کے لیے ایک علامت کی حیثیت رکھتا تھا، ختم کر کے اس کی جگہ ’’بدل عسکری‘‘ کے نام سے ایک متبادل ٹیکس نافذ کیا گیا جو اقلیتوں کی مساوی شہری حیثیت کے جدید جمہوری تصورات کے مطابق تھا۔ بیسویں صدی میں یورپی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی جو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، ان میں سے کسی میں بھی، چاہے وہ مذہبی ریاستیں ہوں یا سیکولر، غیر مسلموں کو ’اہل ذمہ‘ کی قانونی حیثیت نہیں دی گئی۔ ان میں سعودی عرب، ایران، اور طالبان کی ٹھیٹھ مذہبی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی، جہاں اسلام مملکت کا سرکاری مذہب اور قانون سازی کا اعلیٰ ترین ماخذ ہے، غیر مسلموں کو ’اہل ذمہ‘ قرار نہیں دیا گیا اور نہ اہل علم کی جانب سے اس کا مطالبہ ہی کبھی سامنے آیا ہے۔ 
۳۔ یہی معاملہ غیر مسلموں کی گواہی کی قانونی حیثیت کا ہے۔ فقہا کا اس پر ’اجماع‘ ہے کہ بعض استثنائی صورتوں کے علاوہ عمومی طور پر مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی گواہی قابل قبول نہیں۔ اسی طرح فقہا کا یہ متفقہ موقف ہے کہ اسلامی ریاست میں مسلمانوں کے نزاعات کے تصفیے کے لیے قضا کے منصب پر کوئی غیرمسلم فائز نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی غیر مسلم کی شہادت مسلمان کے خلاف قبول کرنے یا اس کے فیصلے کو ان پر نافذ کرنے سے غیر مسلموں کی بالادستی قبول کرنا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں۔ تاہم جدید جمہوری تصورات کے زیر اثر خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں عدالتی وقانونی ضوابط کے حوالے سے مرتب کیے جانے والے ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ میں نہ صرف گواہ کے مطلوبہ اوصاف میں سے مسلمان ہونے کی شرط حذف کر دی گئی ہے بلکہ قاضی کے مطلوبہ اوصاف کے ضمن میں بھی، کلاسیکی فقہی موقف کے برعکس، اس کے مسلمان ہونے کی شرط کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی بنیاد پر بہت سے مسلم ممالک میں غیر مسلموں کو منصب قضا پر فائز کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی دستوری طور پر صدر اور وزیر اعظم کے لیے تو مسلمان ہونے کی شرط موجود ہے، لیکن کسی دوسرے منصب کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ غیر مسلم ججوں کا اعلیٰ ترین مناصب پر تقرر عملاً بھی قبول کیا گیا ہے اور کم از کم ایک قانونی ایشو کے طور پر یہ مسئلہ کبھی نہیں اٹھایا گیا۔ خود ملک کے جید ترین اہل علم نے قیام پاکستان کے فوراً بعد دستور کی اسلامی تدوین کے لیے جو ۲۲ دستوری نکات تجویز کیے، نہ ان میں قضا کے منصب کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کا ذکرکیا گیا ہے اور نہ ۷۳ء کے دستور میں شامل کی جانے والی اسلامی دفعات اس قسم کی کوئی شرط عائد کرتی ہیں۔ جید علما کے مشورے سے مرتب کیے جانے والے ’حدود آرڈی نینسز‘ اور ’قانون شہادت‘ حدود سے متعلق مقدمات میں تو گواہ اور قاضی کے مسلمان ہونے کی شرط عائد کرتے ہیں، لیکن عام معاملات میں ایسی کسی پابندی کا ذکر نہیں کرتے۔
۴۔ اس کی ایک اور مثال جنگ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کے مسئلے میں ملتی ہے۔ فقہا، عہد نبوی وعہد صحابہ کے تعامل کے تناظر میں اس کا شرعی ضابطہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی مال جنگ میں شریک ہونے والے مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیا جائے۔ فقہی روایت کے تسلسل میں لکھی جانے والی کتابوں میں آج بھی یہی بات لکھی جاتی ہے، لیکن جہاں تک مسلم حکومتوں کے طرز عمل کا تعلق ہے تو حکومت وریاست کے نظم میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں مال غنیمت کو فوجیوں میں تقسیم کرنے کا طریقہ عرصہ دراز سے متروک ہو چکا ہے اور اس کی جگہ سارا مال ریاست کی ملکیت کے طور پر قومی خزانے میں جمع کرنے کا ضابطہ اختیار کیا جا چکا ہے۔ اب اگر کوئی صاحب اس نئے انتظام کو کتابوں میں درج فقہی اجماع کے خلاف دیکھ کر غیر شرعی قرار دینا چاہیں تو یقیناًانھیں یہ راے رکھنے کا حق ہے، لیکن ہمارے علم کے مطابق کسی مستند فقیہ نے ایسا نہیں کہا، اس لیے کہ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، کلاسیکی فقہا کا مال غنیمت کی تقسیم کے طریقے کو شرعی طریقہ قرار دینا اس دور کے قانونی رواج اور تعامل کے پیش نظر تھا نہ کہ شریعت کی کسی ایسی مطلق اور ابدی تعبیر کے تحت جو قیامت تک کے تمدنی حالات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہو۔
۵۔ خواتین کے منصب قضا پر فائز ہونے سے متعلق روایتی فقہی موقف سے اختلاف بھی اس سلسلے کی ایک اہم مثال ہے۔ جمہور فقہا کسی بھی معاملے میں خاتون کے قاضی بننے کے جواز کے قائل نہیں۔ احناف نکاح وطلاق اور دوسرے معاملات میں تو اس کی گنجایش مانتے ہیں کہ اگر عورت کو قاضی مقرر کیا جائے تو اس کے فیصلے نافذ سمجھے جائیں گے، لیکن حدود وقصاص کے مقدمات میں ان کا نقطہ نظر بھی جمہور کی راے کے مطابق یہی ہے کہ عورت قضا کی اہل نہیں اور اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں معروف فقہا میں سے صرف امام ابن جریر طبری کا موقف یہ نقل ہوا ہے کہ وہ ہر قسم کے مقدمات میں عورت کے قاضی بننے کو درست سمجھتے تھے۔ اس طرح اگر طبری کے ’’شذوذ‘‘ سے صرف نظر کر لیا جائے تو فقہا کم وبیش متفقہ طور پر حدود وقصاص میں عورت کو منصب قضا کا اہل نہیں سمجھتے اور اسی پر قانونی تعامل جاری رہا ہے۔ تاہم ہمارے ہاں اس قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور حدود قوانین اس بات کی تصریح تو کی گئی ہے کہ مقدمے کے کسی فریق کے مسلمان ہونے کی صورت میں جج کا مسلمان ہونا ضروری ہوگا، لیکن قاضی کے مرد ہونے کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔ مزید برآں ’’انصار برنی کیس‘‘ میں وفاقی شرعی عدالت نے صراحتاً یہ قرار دیا کہ چونکہ قرآن و حدیث میں اس کے خلاف کوئی صریح دلیل نہیں پائی جاتی، اس لیے خاتون حدود و قصاص سمیت ہر قسم کے مقدمات میں جج بن سکتی ہے۔ گویا اس مسئلے میں ائمہ اربعہ کی راے اور امت کے عام تعامل کے برعکس طبری کے موقف کے مطابق قانون سازی کی گئی ہے۔
۶۔ فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ تنہا ایک عورت کی گواہی صرف ان معاملات میں قابل قبول ہوگی جن میں مردوں کا اطلاع پانا عادتاً ناممکن ہو، مثلاً بچے کی ولادت اور خواتین کے مخصوص مسائل وغیرہ۔ ان کے علاوہ باقی معاملات میں سے نکاح، طلاق اور رجعت وغیرہ مسائل میں جمہور فقہا کے نزدیک عورت کی گواہی قابل قبول ہی نہیں، جبکہ احناف اسے قبول کرتے ہیں۔ قرض اور لین دین کے معاملات میں عورت کی گواہی فقہا کے ہاں متفقہ طور پر قابل قبول ہے، لیکن ا س شرط کے ساتھ کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر سمجھی جائے گی۔ تاہم ہمارے ہاں ’قانون شہادت‘ میں مذکورہ فقہی اتفاق راے کے برعکس یہ قرار دیا گیا ہے کہ دو خواتین کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر شمار کرنے کا اصول صرف مالی لین دین کے معاملات میں لاگو ہوگا اور وہ بھی صرف اس صورت میں جب معاہدے کو تحریری طور پر منضبط کیا گیا ہو، جبکہ اس کے علاوہ ہر قسم کے معاملات میں جج ایک مرد یا ایک عورت کی گواہی یا کسی بھی قرائنی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتا ہے۔ (حدود وقصاص کے مقدمات ، البتہ اس سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں) یہ بات ائمہ اربعہ کے موقف کے بجاے امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کے نقطہ نظر کے زیادہ قریب ہے جو عورت کی گواہی کو مستقل طور پر مرد سے آدھی شمار نہیں کرتے اور یہ راے رکھتے ہیں کہ قاضی کے فیصلے کا مدار گواہوں کی تعداد یا ان کی جنس پر نہیں، بلکہ اس کے داخلی اطمینان پر ہونا چاہیے اور یہ کہ قرائنی شہادت بھی فیصلے کی بنیاد بننے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتی ہے جتنا کہ گواہوں کے بیانات۔
۷۔ فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ قتل خطا کی صورت میں دیت کی مقدار سو اونٹ ہے اور یہ شرعاً متعین ہے جس میں نہ کمی کی جا سکتی ہے نہ بیشی، البتہ اگر قاتل سو سے زیادہ اونٹ دینے پر یا مقتول کے ورثا سو سے کم اونٹ لینے پر رضامند ہوں تو ایسا کرنا درست ہے۔ گویا فقہا کے نزدیک قتل خطا کی صورت میں قاتل کی رضامندی کے بغیر اس پر سو اونٹوں سے زائد دیت عائد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ہمارے ہاں ’قصاص ودیت آرڈیننس‘ میں، جو اب مجموعہ تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code) کا حصہ ہے، جب دیت کے لیے چاندی کے نصاب کو معیار بنایا گیا تو یہ دیکھتے ہوئے کہ دیت کی متعین اور غیر متبدل مقدار بعض حالات میں عدل وانصاف کے منافی اور فریقین کے حالات کے لحاظ سے نامناسب ہوگی، یہ اجتہاد کیا گیا کہ ۳۰۶۳۰ گرام چاندی کو کم سے کم معیار قرار دے کر دیت کی حتمی تعیین کا اختیار عدالت کو دے دیا گیا۔ 
۸۔ جمہور فقہا کا موقف یہ ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے۔ اگرچہ توسعاً اس راے کو فقہا کا اجماعی موقف کہا جا سکتا ہے، لیکن فقہی لٹریچرمیں اختلافی راے کا ذکر بھی ملتا ہے، چنانچہ صدر اول کے دو معروف اصحاب علم یعنی ابوبکر الاصم اور ابن علیہ اس فرق کے قائل نہیں۔ فقہ حنبلی کی مستند کتاب ’کشاف القناع‘ (۲۰/۲۴۵) کے مصنف نے اسی بنیاد پر اس مسئلے میں اجماع کے دعوے پر تردد ظاہر کیا ہے، جبکہ امام رازی نے سورۂ نساء کی آیت ۹۳ کے تحت ابوبکر الاصم اور ابن علیہ کے نقطہ نظر کو جس اسلوب میں بیان کیا ہے، اس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کے حق میں رجحان رکھتے یا کم از کم اسے قابل غور ضرور سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں دیت سے متعلق قوانین میں اجتہادی موقف اختیار کرتے ہوے یہی نقطہ نظر اپنایا گیا ہے اور جمہور فقہا کے نقطہ نظر کے برعکس کسی امتیاز کے بغیر دیت کی کم از کم مقدار ۳۰۶۳۰ گرام چاندی ہی مقرر کی گئی ہے۔
۹۔ یہی اجتہادی زاویہ نگاہ ’قسامت‘ کے معاملے میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ قتل کے ایسے مقدمات میں جہاں قاتل معلوم نہ ہو اور مقتول کو قتل کر کے اس کی لاش کسی جگہ پھینک دی گئی ہو، ’قسامت‘ کے طریقے پر مقتول کے ورثا سے پچاس قسمیں لے کر انھیں دیت دلوانے کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین سے ثابت ہے اور ائمہ اربعہ اور دوسرے فقہا نے اسے ایک شرعی طریقے کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔ فقہا کے مابین اس طریقے کی بعض تفصیلات اور شرائط کے حوالے سے اختلاف موجود ہے۔ مثال کے طو رپر بعض فقہا اسے اس صورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں جب اہل علاقہ اور مقتول کے مابین پہلے سے دشمنی پائی جاتی ہو ، جبکہ بعض اس کے بغیر بھی ورثا کو دیت دلوائے جانے کے قائل ہیں۔ اسی طرح بعض فقہا کے نزدیک اگر مقتول کے ورثا کسی متعین شخص کو نامزد کر کے اس کے قاتل ہونے پر پچاس قسمیں کھا لیں تو وہ قصاص کے حق دار ہوں گے، جبکہ دوسرے فقہا اس صورت میں قصاص کے بجاے صرف دیت کے لزوم کے قائل ہیں۔ ان اختلافات سے قطع نظر، اصولی طور پر اس طریقے سے قتل کے مقدمات کا فیصلہ کرنا روایتی مذہبی فکر کے معیار کے مطابق فقہا کا ’اجماعی‘ مسئلہ ہے۔ تاہم اس وقت یہ اجماع صرف کتابوں میں پایا جاتا ہے، جبکہ عملاً اس کا کوئی وجود نہیں۔ چنانچہ پاکستان میں قصاص ودیت سے متعلق نافذکیے جانے والے قوانین میں اس کو شامل نہیں کیا گیا، بلکہ ہماری معلومات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے قصاص ودیت کے قوانین کے ضمن میں جو ابتدائی مسودہ تیار کیا تھا، اس میں قسامت کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن نفاذ کے مرحلے پر قانون کو حتمی صورت دیتے ہوئے اس شق کو ختم کر دیا گیا۔ 
۱۰۔ ارتدادکی سزا کے ضمن میں کوئی قانون سازی نہ کیا جانا بھی ہمارے نزدیک اسی اجتہادی زاویہ نگاہ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ جمہور فقہا کی راے کے مطابق، جسے عام طور پر ’اجماع‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے، مرتد کو قتل کرنا لازم ہے، تاہم مرتد پر سزاے موت کے نفاذ کو لازم نہ سمجھنے کی راے بھی ابتدا ہی سے موجود رہی ہے، چنانچہ سیدنا عمر اور ابراہیم نخعی سے اس کے لیے عمر قید کی متبادل سزا تجویز کرنا منقول ہے اور ابن حزم کے بیان کے مطابق فقہا کا ایک گروہ بھی یہی راے رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں عملاً اسی موقف سے اتفاق کیا گیا ہے، چنانچہ نظری بحثوں سے صرف نظر کرلیجیے تو نہ اہل علم اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس قانون کے نفاذ کا کبھی مطالبہ کیا گیا ہے، نہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شرعی سزاؤں سے متعلق قانون سازی کے موقع پر ارتداد کی سزا زیر بحث آئی ہے، اور نہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ہی آج تک اس حوالے سے کوئی مسودہ قانون مرتب کیا ہے بلکہ اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں شعبہ فقہ وقانون کے استاذ محمد مشتاق احمد کی روایت کے مطابق، ڈاکٹرمحمود احمد غازی نے انھیں بتایا کہ جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن تھے تو انھوں نے اس بات کی کوشش کی کہ توہین رسالت کی سزا سے متعلق قانون میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین تفریق کرتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ اس جرم کے ارتکاب پر غیر مسلم کو تو تعزیری طو رپر موت کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ مجرم کے مسلمان ہونے کی صورت میں چونکہ یہ جرم ارتداد کے ہم معنی ہے، اس لیے اسے موت کی سزا دی جائے گی۔ اس تجویز سے ڈاکٹر غازی کا منشا یہ تھا کہ اس طرح جزوی طور پر ارتداد کی سزا بھی رو بعمل ہو جائے گی، لیکن کونسل کی سطح پر ان کی یہ تجویز بھی قبول نہیں کی گئی۔
۱۱۔ فقہا کا اس پر اجماع ہے کہ اگر زنا کے کسی مقدمے میں ملزم پر مقررہ معیار شہادت (چار مسلمان مرد گواہ) کے مطابق الزام ثابت نہ ہو سکے تواسے بری کر دیا جائے گا اور زنا کی پاداش میں اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ تاہم ہمارے ہاں حدود آرڈیننسز کے مرتبین نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس شرط کا پورا ہونا عملاً ناممکن ہے اور اس طرح زنا کا مجرم سزا سے بالکل بچ جائے گا، یہ اجتہاد کیا کہ اگر مذکورہ معیار سے کم تر معیار پر زنا کا جرم ثابت ہو جائے تو مجرم کو تعزیری سزا دی جا سکے گی۔ یہ اجتہاد بدیہی طور پر شریعت کے منشا کے بھی خلاف تھا اور فقہا کے اجماع کے بھی، چنانچہ ۲۰۰۶ میں ملک کے مستند اور جید علما کی ایک کمیٹی نے باقاعدہ یہ راے دی کہ ’’زنا مستوجب تعزیر‘‘کی شق خلاف شریعت ہے، اس لیے اسے حدود آرڈیننسز سے نکال دیا جائے، تاہم کمیٹی نے اس سے بھی زیادہ دلچسپ ’’اجتہاد‘‘ کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ زنا کو زنا کہہ کر اس پر تعزیری سزا دینا تو شریعت کے خلاف ہے، لیکن اگر اسے زنا کے بجاے ’’فحاشی‘‘ کا عنوان دے کر اس پر تعزیری سزا مقرر کی جائے تو یہ شریعت کے عین مطابق ہوگا۔ اس اجتہاد کی معقولیت یا نامعقولیت کے سوال سے صرف نظر کرتے ہوئے، ہم صرف اس نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے کہ چار گواہوں سے کم تر معیار پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں زنا کو زنا کہہ کر تعزیری سزا دی جائے یا فحاشی کہہ کر، دونوں صورتوں میں فقہا کے اجماع کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، کیونکہ فقہا اس صورت میں ملزم کو کلیتاً بری کرنے اور گواہوں پر حد قذف جاری کرنے پر اتفاق رکھتے ہیں، چنانچہ اگر ایک عملی مشکل کے حل کے لیے فقہا کے اجماعی موقف سے اختلاف کرتے ہوئے اس نوعیت کے علمی لطائف کو جنم دیا جا سکتا ہے تو کسی معقول اجتہاد کو بھی محض اس بنیاد پر مسترد کر دینے کا کوئی جواز نہیں کہ وہ مفروضہ فقہی اجماع کے خلاف ہے۔
۱۲۔ ایک اہم مسئلہ حدود وقصاص کے مقدمات میں خواتین کی گواہی کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا ہے۔ ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ ایسے مقدمات میں خواتین کی گواہی قابل قبول نہیں اور اسی پر اب تک امت کا قانونی تعامل بھی جاری رہا ہے، تاہم اس کے حق میں پیش کیے جانے والے کمزور علمی استدلال اور اس سے پیدا ہونے والی عملی الجھنوں کے تناظر میں اس پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور اس کی طرف توجہ دلانے والوں میں روایتی مذہبی طبقے کی نمائندگی کرنے والے ایک نہایت مستند صاحب علم، مولانا محمد تقی عثمانی بھی شامل ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے جس میں بعض تابعی فقہا کا موقف یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کے نصاب شہادت کے مطابق حدود میں بھی خواتین کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے، اس لیے اس موضوع پر مزید غور وفکر اور تحقیق کی گنجایش موجود ہے، لہٰذا اہل علم کے کسی اجتماع میں اس مسئلے کا تحقیقی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (حدود قوانین، موجودہ بحث اور آئندہ لائحہ عمل، ص ۲۸)
’’یہ بات درست ہے کہ شریعت کا منشا یہ ہے کہ حدود کی سخت سزائیں کم سے کم جاری ہوں۔ اسی بنا پر حد کے لیے شرائط بہت سخت رکھی گئی ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی شریعت کا منشا نہیں ہے کہ حدود بالکل معطل ہی ہو کر رہ جائیں۔ اس لحاظ سے بھی ’’حدود آرڈی ننس‘‘ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ اس میں کون سی ایسی شرائط ہیں جو منصوص نہیں ہیں اور حدود میں تعطل کا سبب بن رہی ہیں۔‘‘ (ص ۳۰)
اوپر کی سطورمیں ہم نے جن اجتہادات کا ذکر کیا ہے، وہ سب کے سب سابقہ فقہی اجماع یا کم از کم ائمہ اربعہ کی آرا کے خلاف ہیں، لیکن نہ صرف ان قوانین کی ترتیب وتدوین میں شریک اہل علم نے انھیں قبول کیا ہے بلکہ عمومی طور پر بھی مذہبی حلقوں اور دینی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذکورہ قوانین کو نفاذ اسلام کی طرف اہم پیش رفت قرار دے کر ان کی تائید اور دفاع کیا جاتا رہا اور مختلف مواقع پر ارباب حل وعقد سے ان کے تحفظ کی یقین دہانی بھی حاصل کی جاتی رہی ہے۔ ہمارے علم کی حد تک فقہ اسلامی کی تعلیم وتدریس اور اسلامی قوانین کی تعبیر وتشریح سے دلچسپی رکھنے والے روایتی علما نے بھی مذکورہ قوانین کی ان شقوں پر کوئی اعتراض یا انھیں تبدیل کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جس سے ان اجتہادات کو پاکستان کی حد تک ’اجماع سکوتی‘ کا درجہ یقیناًحاصل ہو جاتا ہے۔ 
یہاں اس بحث کا یہ پہلو بھی سامنے رہنا چاہیے کہ پاکستان میں شرعی قانون سازی کے ضمن میں مخصوص فقہی مکاتب فکر یا اجماعی آرا کی پابندی نہ صرف یہ کہ عملاً ملحوظ نہیں رکھی گئی، بلکہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین اور عدالتی فیصلوں میں اصولی طور پر بھی اس کی صراحت کی گئی ہے کہ شریعت کی تعبیر وتشریح کا اصل اور فیصلہ کن معیار مسلمہ علمی اصول وقواعد ہوں گے۔ اس ضمن میں ۸۰ء کی دہائی میں سینٹ اور قومی اسمبلی سے شریعت بل کی منظوری کے مختلف مراحل کا ایک مختصر جائزہ مفید ہوگا۔ جون ۸۵ء میں سینٹ میں نفاذ شریعت کے لیے پیش کیے جانے والے بل کی دفعہ ۲، شق ج میں کہا گیا کہ ’’اجماع امت کو قرآن اور سنت نے حجت قرار دیا ہے، اس لیے جو قانون اجماع امت سے ثابت اور ماخوذ ہو، وہ بھی شریعت کا قانون ہے۔‘‘ تاہم ۸۹ء میں سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے (جس میں پروفیسر خورشید احمد، مولانا قاضی عبد اللطیف، مولانا سمیع الحق اور قاضی حسین احمد بھی شامل تھے) اس بل میں جو ترامیم تجویز کیں، ان کی رو سے شریعت کی تعبیر وتشریح کامعیار یہ مقرر کیا گیا کہ ’’شریعت کی تشریح وتفسیر کرتے وقت قرآن وسنت کی تشریح وتفسیر کے مسلمہ اصول وقواعد کی پابندی کی جائے گی اور راہنمائی کے لیے اسلام کے مسلمہ فقہا کی تشریحات اور آرا کا لحاظ رکھا جائے گا۔‘‘ اس ترمیم میں اجماع کی حجیت کو حذف کر دیا گیا ہے، جبکہ مسلمہ فقہا کی تشریحات اور آرا کو بھی ’’لحاظ رکھنے‘‘ کے درجے میں قبول کیا گیا ہے۔ سینٹ نے اسی ترمیم کے ساتھ بل کو منظور کیا۔ اس کے بعد ۱۹۹۱ء میں قومی اسمبلی نے ’’نفاذ شریعت ایکٹ‘‘ منظور کیا تو اس میں اس گنجایش کو مزید کھول دیا گیا، چنانچہ اس کی دفعہ ۲ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ’’شریعت کی تشریح وتوضیح کرتے وقت قرآن وسنت کی تشریح وتوضیح کے مسلمہ اصولوں کی پیروی کی جائے گی اور اسلام کے مسلمہ فقہا کی تشریح اور آرا پر عمل کیا جائے گا۔ موجودہ اسلامی مکاتب فقہ کی آرا پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یہی موقف اعلیٰ عدالتوں نے بھی اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۹ء میں بلقیس فاطمہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے قراردیا کہ: ’’اگر آیات کا مفہوم واضح ہوتو ان کو موثر کردیا جائے گا، قطع نظر اس بات سے کہ فقہا کی کیا راے ہے۔‘‘ خورشید جان کیس میں کہا گیا کہ: ’’فقہاکی آرا کو بہر حال احترام دیا جائے گا اورانہیں آسانی سے مسترد نہیں کیا جائے گا مگر اختلاف کے حق سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ خوشی محمد کیس میں سپریم کورٹ نے لکھا کہ: ’’عدالت صرف قرآن وسنت کی پابند ہے ۔‘‘ محمد ریاض بنا م وفاقی حکومت میں وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ: ’’فقہا کی آراکی مطالعاتی اہمیت ہوسکتی ہے اور ان سے بھر پور مدد بھی لی جاسکتی ہے مگرعدالتیں کسی مسلک کی پابند نہیں۔ ہم کسی بھی مسلک کی راے سے ضروریات زمانہ کے لحاظ سے راہنمائی لے سکتے ہیں۔‘‘ مجیب الرحمن بنا م وفاقی حکومت میں وفاقی شرعی عدالت نے صاف طور پر یہ قرار دیا کہ ’’عدالت پبلک قانون میں تقلید کے اصول کی پیروی نہیں کر سکتی۔‘‘ (حوالہ جات کے لیے دیکھیے، قرارداد مقاصد کا مقدمہ، از سردار شیر عالم خان/چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ، ص ۱۸۵، ۱۸۶)
روایتی مذہبی طبقے کے ہاں مذکورہ اجتہادات کے علمی مطالعے کا موضوع نہ بن سکنے کی ایک عملی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ فقہ وقانون کے دائرے میں تفہیم، استدلال اور تعبیر وتوجیہ کا عمل بنیادی طور پر عملی اور اطلاقی روایت سے مقدم نہیں بلکہ اس سے موخر ہوتا ہے اور قانونی استدلال اور مآخذ قانون کی تعبیر وتشریح کا کام اطلاقی روایت کو جنم نہیں دیتا، بلکہ اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کی تفہیم کے لیے وجود میں آتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں، عہد صحابہ وتابعین کے اجتہادات اور ائمہ مجتہدین کی آرا پر مشتمل علمی وفقہی ذخیرے کا مطالعہ کیجیے تو آپ کو زیادہ تر عملی فیصلے اور نتائج فکر ہی نظر آئیں گے، جبکہ ان آرا اور فیصلوں کی علمی وفقہی تعبیر وتشریح کا کام بعد کے فقہا نے انجام دیا ہے۔ اس تناظر میں اگر ماضی قریب اور حال کے اجتہادات مذہبی طبقے کے ہاں باقاعدہ علمی مطالعے کا موضوع نہیں بن سکے تو یہ بات ایک حد تک قابل فہم ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قانونی وفقہی روایت کے ارتقا کے اس نئے مرحلے کو سابقہ روایت کا تسلسل سمجھ کر اس کا سنجیدہ مطالعہ کرنے کے بجاے اسے سرے سے ناقابل اعتنا قرار دیا جائے اور تہذیب وتمدن کی گاڑی کو الٹا چلا کر اس مقام پر واپس لے جانے کی کوشش کی جائے جہاں صدیوں پہلے کیے جانے والے فقہی اجتہادات ہی موزوں اور قابل عمل ہوں۔ 
یہ اجتہادات بدلتے ہوے حالات اور ان کے تقاضوں کے گہرے شعور کی غمازی کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے دینی مدارس میں فقہ واجتہاد کی تعلیم وتدریس کا دائرہ ایک مخصوص فقہی مکتب فکر کی صدیوں پرانی لکھی گئی کتابوں تک محدود رکھا گیا ہے، جبکہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران میں دنیا کے تہذیبی وتمدنی حالات میں جو تبدیلی رونما ہوئی اور اس کی روشنی میں عالم اسلام کے طول وعرض اور خاص طور پر پاکستان میں جو نہایت اہم علمی وفقہی اجتہادات کیے گئے ہیں، طلبہ کو شعوری سطح پر ان کا فہم منتقل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس کے نظام تعلیم سے فیض یاب ہونے والا عالم دین آج بھی معاشرہ، شریعت اور قانون کا وہی تصور ذہن میں رکھتا اور اسی کو نفاذ اسلام کی معیاری صورت تصور کرتا ہے جو اس نے صدیوں پہلے لکھی گئی فقہی کتابوں میں پڑھی ہے۔ اسے نہ تہذیب وتمدن کے ارتقا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عملی تغیرات سے کوئی آگاہی ہوتی ہے اور نہ اس بات کا ہی پتہ ہوتا ہے کہ خود نفاذ اسلام کی جدوجہد کی قیادت کرنے والے علما نے عملاً کیا کیا اجتہادات کیے ہیں۔ یہ صورت حال عام طلبہ اور اساتذہ تک محدود نہیں، بلکہ بیشتر پختہ کار اور کہنہ مشق سمجھے جانے والے جید مفتی صاحبان بھی علمی روایت کے ارتقا اور عملی حالات اور تقاضوں سے کلی طور پر صرف نظر کرتے ہوئے حسب مراتب ’’خروج عن المذہب جائز نہیں‘‘، ’’مختلف فقہی آرا سے استفادہ کرتے ہوئے تلفیق نہیں کی جا سکتی‘‘، ’’ائمہ اربعہ کی راے سے باہر نہیں جانا چاہیے‘‘، ’’سلف میں ایک مسئلے میں دو قول ہوں تو تیسرا قول اختیار نہیں کیا جا سکتا‘‘ اور سب سے بڑھ کر ’’سابقہ فقہی اجماع کے خلاف کوئی راے قابل قبول نہیں‘‘ جیسی کتابی بحثوں میں الجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ 
مذکورہ بحث سے اس نقطہ نظر کی غلطی بھی واضح ہو جاتی ہے جو کسی مسئلے کے اجتہادی ہونے یا نہ ہونے کا معیار اس بات کو قرار دیتا ہے کہ سابق فقہا سے اس ضمن میں کوئی اختلاف منقول ہے یانہیں، اور اگر پہلے اہل علم سے کسی مسئلے میں کوئی اختلاف منقول نہ ہو تو اسے ’’طے شدہ‘‘ قرار دے کر دائرۂ اجتہاد سے ماورا تصور کیا جاتا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ قطعیت کا درجہ صرف اساسات دین اور شریعت کے ان نہایت بنیادی احکام کو حاصل ہے جنھیں یہ حیثیت بے حد واضح اور یقینی نقلی وعقلی دلائل کی روشنی میں حاصل ہوئی ہے اور دلائل وقرائن ہی نے ان کے بارے میں دوسرے ممکنہ احتمالات کی نفی کر دی ہے۔ ان کے علاوہ ہر وہ مسئلہ اجتہادی ہے جس میں علمی وعقلی طور پر نصوص کی ایک سے زیادہ تعبیرات کی گنجایش موجود ہو، خواہ ماضی میں اس گنجایش کے کسی ایک پہلو پر بظاہر اتفاق راے پیدا ہو گیا ہو۔ ماضی کے اہل علم بھی اگر کسی مسئلے میں باہم اختلاف کرتے ہیں تو اسی گنجایش کی بنیاد پر کرتے ہیں، اس لیے اصل معیار کی حیثیت اسی علمی گنجایش کو حاصل ہونی چاہیے، نہ کہ سابق فقہا کے اتفاق یا اختلاف کو۔ امام رازی نے اسی نکتے کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:
الرکن الثالث المجتہد فیہ وہو کل حکم شرعی لیس فیہ دلیل قاطع واحترزنا بالشرعی عن العقلیات ومسائل الکلام وبقولنا لیس فیہ دلیل قاطع عن وجوب الصلوات الخمس والزکوات وما اتفقت علیہ الامۃ من جلیات الشرع وقال ابو الحسین البصری رحمہ اللہ المسالۃ الاجتہادیۃ ہی التی اختلف فیہا المجتہدون من الاحکام الشرعیۃ وہذا ضعیف لان جواز اختلاف المجتہدین فیہا مشروط بکون المسالۃ اجتہادیۃ فلو عرفنا کونہا اجتہادیۃ باختلافہم فیہا لزم الدور (المحصول ۶/۲۷)
’’اجتہاد کا تیسرا رکن وہ مسئلہ ہے جو محل اجتہاد بنے گا۔ اس سے مراد ہر وہ حکم شرعی ہے جس کے بارے میں کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو۔ ’شرعی‘ کی قید سے مقصود عقلی امور اور علم کلام کے مسائل سے احتراز کرنا ہے جبکہ ’’کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو‘‘ کی قید سے پانچ نمازیں اور زکوٰۃ اور شریعت کے وہ نہایت واضح اور روشن احکام اجتہاد کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں جن پر امت متفق ہے۔ ابو الحسین بصری نے اجتہادی مسئلے کی تعریف یہ کی ہے کہ یہ وہ حکم شرعی ہے جس میں مجتہدین نے اختلاف کیا ہو، لیکن یہ ایک کمزور بات ہے، کیونکہ کسی مسئلے میں مجتہدین کے اختلاف کا جواز خود اس بات پر منحصر ہے کہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو، چنانچہ اگر ہم اجتہادی مسئلے کی پہچان یہ مقرر کریں کہ اس میں مجتہدین نے اختلاف کیا ہو تو اس سے ’دور‘ (circularity) لازم آئے گا۔‘‘
ہم نے اسی تناظر میں اپنی کتاب میں بعض ایسے اجتہادات کو علمی مطالعے کا موضوع بنایا ہے جو ماضی کی بعض متفقہ سمجھی جانے والی علمی آرا سے مختلف ہیں، لیکن علمی سوالات اور عملی حالات کے تناظر میں اپنے اندر وزن رکھتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے نہ تو سابق اہل علم کی تجہیل وتضلیل کا رویہ اختیار کیا ہے اور نہ امت کی مجموعی علمی روایت پر بے اعتمادی کا اظہار کیا ہے،بلکہ اسی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے اور اسی کے اصولوں اور نظائر کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سابقہ تعبیرات پر وارد ہونے والے اشکالات کے تناظر میں متعلقہ نصوص کی مختلف تعبیر کی علمی گنجایش بھی موجود ہے اور ایسا کرنے میں ہمارے لیے امت کے مستند ترین اہل علم کے طرز عمل میں اسوہ پایا جاتا ہے۔ گویا معترضین سے ہمارا اختلاف امت کی علمی روایت کے ساتھ وابستہ رہنے یا نہ رہنے میں نہیں، بلکہ اس روایت کی درست تفہیم میں ہے۔ ہم علمی روایت کی اس تعبیر کو ناقص، محدود اور سطحی سمجھتے ہیں جو نصوص کی تاویل وتفسیر اور فقہی تعبیرات کے ضمن میں ماضی کی آرا سے کسی علمی اختلاف کی گنجایش کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہ روایت تاریخ میں مردہ نہیں، زندہ ہے اور اس کی ترجمانی کرنے والے اہل علم کی تحقیقات اور تصانیف نایاب نہیں، ہر لائبریری میں دستیاب ہیں۔ 
اس تناظر میں قارئین کی توجہ بحث کے اس رخ کی طرف مبذول کرانا بھی برمحل معلوم ہوتا ہے جو اس موضوع پر ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر جاری مباحثے نے اب تک اختیار کیا ہے۔ محترم مولانا مفتی عبد الواحد صاحب نے ہماری آرا پر تنقید کرتے ہوئے بنیادی نکتہ یہ اٹھایا تھا کہ نصوص کی تاویل وتفسیر میں سلف سے منقول آرا سے ہٹ کر کوئی نئی راے قائم نہیں کی جا سکتی اور یہ کہ ماضی میں منعقد ہو جانے والے کسی اتفاق اور اجماع کے خلاف کوئی موقف اختیار کرنا اہل سنت کے علمی مسلمات کے خلاف ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے ایک کتابچے اور بعض خطوط کی صورت میں اپنی تفصیلی معروضات ان کے سامنے پیش کیں اور اس مکالمے کے نتیجے میں ہمارے اور مولانا محترم کے مابین اصولی طور پر نصوص کی نئی تاویل وتفسیر کی گنجایش اور نئے حالات کے تناظر میں سابقہ فقہی اجماع سے مختلف راے قائم کرنے کے جواز کے حوالے سے اتفاق راے سامنے آ گیا جو ہمارے خیال میں ایک بے حد قیمتی چیز ہے، البتہ مولانا محترم نے سلسلہ بحث کو مزید جاری رکھنے کے بجاے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ اپنے نقطہ نظر کو تفصیلاً واضح کر دینے کے بعد بحث کو آگے بڑھانا پسند نہیں کرتے یا ان کے متنوع علمی مشاغل اور ذمہ داریاں اس کی اجازت نہیں دیتیں تو انھیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن جہاں تک بحث کی مزید علمی تنقیح کا تعلق ہے تو اس کی ضرورت موجود ہے اور چاہیے یہ تھا کہ کوئی صاحب علم یا تو اب تک کی بحث کا محاکمہ کرتے ہوئے یہ بتاتے کہ اس میں سلف کی آر اسے اختلاف کی جو گنجایش مانی گئی ہے، وہی درست نہیں اور یا بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ واضح کرتے کہ اصولی طور پر یہ گنجایش تو موجود ہے، لیکن ہم نے نصوص کی جو تعبیر پیش کی یا جن نکات کو سابقہ فقہی اجماع پر نظر ثانی کے لیے اساس قرار دیا ہے، وہ علمی وعقلی طور پر محل نظر ہیں۔ تاہم ’’وفاق المدارس‘‘ کے مبصر نے بحث ومباحثہ کے علمی اور اخلاقی حدود کے دائرے میں یہ خدمت انجام دینے کے بجاے اکابر کے طرز سے انحراف، تجدد اور گمراہی کے فتوے کا وہ ہتھیار استعمال کرنے کو زیادہ مناسب سمجھا ہے جو ہمارے ہاں آخری اور فیصلہ کن ہتھیار سمجھا جاتا ہے اور جسے استعمال کرنا خاص طور پر اس صورت میں ناگزیر ہو جاتا ہے جب بحث اور استدلال کے علمی تقاضے پورے کرنا ذرا مشکل دکھائی دے رہا ہو اور سطحی عوامی اور گروہی جذبات کو بھڑکانے میں ہی عافیت دکھائی دیتی ہو۔ اسی کوشش میں تبصرہ نگار نے ہماری طرف رجم کی تشریعی حیثیت سے انکار کی بات منسوب کی ہے جو سراسر بد فہمی یا بد دیانتی ہے۔ ہماری بحث کا مرکزی نکتہ رجم کو ایک شرعی سزا ماننا یا نہ ماننا نہیں، بلکہ قرآن اور سنت کے مابین ظاہری تعارض کے حل کے لیے پیش کی جانے والی توجیہات کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ہماری راے میں اب تک پیش کی جانے والی تمام توجیہات علمی طور پر مورد اشکال ہیں اور اس پہلو پر مزید غور وفکر کی ضرورت اور گنجایش موجود ہے۔ اسی طرح تبصرہ نگار نے ہمارے بعض اقتباسات سے صحابہ کرام پر طعن وتشنیع کا مفہوم بھی کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی صاحب حفظ الایمان یا تقویۃ الایمان وغیرہ کی کوئی عبارت اور اس پر معترضین کا اعتراض مبصر موصوف کی خدمت میں لے جائیں اور اس کے دفاع اور توجیہ میں وہ جو کچھ فرمائیں، اس سے ’الشریعہ‘ کے قارئین کو آگاہ کر سکیں تو تبصرہ نگار کے مذکورہ استنباط کا وزن جاننا قارئین کے لیے بہت آسان ہو جائے گا۔
۲۰۰۷ء میں حدود وتعزیرات کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر ہمارا تبصرہ کونسل کی طرف سے شائع ہوا تو بعض حضرات نے اس کے مندرجات کے بارے میں دار العلوم کراچی کے دار الافتاء سے راے طلب کی۔ دار الافتاء کے ایک مفتی صاحب نے کتاب کے مندرجات کا ایک خلاصہ مرتب کیا اور یہ قرار دیا کہ مصنف کا شمار ’’متجددین‘‘ میں ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہم نے دار العلوم کے مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے نام ایک خط میں یہ گزارش کی تھی کہ:
’’اگر دار الافتاء ایسا کرنے [کوئی فتویٰ جاری کرنے] کو اپنی دینی ذمہ داری کا تقاضا سمجھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے ایسا ہی کرنا چاہیے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ روایتی موقف کی مدلل وضاحت اور مخالف آرا پر سنجیدہ علمی تنقید کا سامنے آنا بھی ضروری ہے۔ نظریاتی کونسل نے میرے تبصرے کو وسیع پیمانے پر علمی وفکری حلقوں میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا ہے اور میری معلومات کے مطابق اس تبصرے میں اٹھائے جانے والے نکات میں بظاہر وزن محسوس کیا گیا ہے، اس لیے اگر دار العلوم کی سطح کے علمی ادارے کی طرف سے اس کا جواب محض فتوے کی صورت میں دیا جائے گا تو یہ چیز نہ صرف روایتی موقف کا علمی وزن محسوس کیے جانے میں رکاوٹ ثابت ہوگی بلکہ اس سے دارالعلوم کا علمی اعتماد بھی مجروح ہوگا۔ دار العلوم مسلکی بنیاد پر دیوبندی حلقے کا مرجع ہونے کے ساتھ ساتھ بحیثیت مجموعی پورے روایتی دینی حلقے کا بھی ایک مستند ترجمان سمجھا جاتا ہے اور اس کا علمی اعتماد اور ثقاہت دین اور اہل دین کے لیے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی میرے خیال میں بہرحال حفاظت کی جانی چاہیے۔‘‘
ہمارا مشورہ ’’وفاق المدارس‘‘ جیسے موقر جریدے کے تبصرہ نگار کو بھی یہی ہے۔ انھیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ روایتی فقہی موقف کے دفاع میں کہنے کے لیے علمی طور پر بہت کچھ موجود ہے اور اسے اس سے کہیں زیادہ بہتر سطح پر اور بہتر اسلوب میں پیش کیا جا سکتا ہے جو اب تک کی بحث میں نظر آتا ہے۔ یہ بحث ابھی کئی پہلووں سے تشنہ ہے اور بہت سے نکات ہیں جو علمی طور پر مزید تنقیح اور تفصیل کا تقاضا کرتے ہیں، اس لیے روایتی تعبیرات کو درست سمجھنے والے وسیع النظر اصحاب علم کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر بحث میں حصہ لیں اور اپنے نقطہ نظر کی ترجیح کو علمی استدلال کے ساتھ واضح کریں۔ جب امت مسلمہ کی مجموعی علمی روایت کی صورت میں بحث واستدلال کا بنیادی حوالہ ہمارے مابین مسلم ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ معترضین استدلال کے میدان میں اپنے نقطہ نظر کی ترجیح ثابت کرنے کے بجاے بے معنی فتووں اور الزامات میں زور قلم صرف کرتے رہیں۔

دورحاضر کے مجاہدین پر اعتراضات کا علمی جائزہ

مولانا فضل محمد

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی اٰلہ واصحابہ اجمعین۔
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر صاحب (ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور) کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: ’’پاکستان کی جہادی تحریکیں :ایک تاریخی وتحقیقی جائزہ‘‘۔ یہ مضمون باریک خط کے ساتھ ۳۰ صفحات پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ میں اٹھائیس لائنوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ اگر اس مضمون کو کاغذ کی سخاوت کے ساتھ لکھا جائے تو چالیس بڑے صفحات سیاہ ہو جائیں گے۔ مضمون نگار نے اس مضمون کو شاید اس غرض سے طول دیاہے کہ کوئی جواب لکھنے والے پہلے ہی مرعوب ہو جائے اور نفسیاتی دباؤ کے تحت دب جائے اور اگر لکھنے کی ہمت بھی کرے تو یہ مضمون حق و باطل کا ایسا آمیزہ اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ تکرار اور لفاظی کا ایسا ملغوبہ ہو کہ اس کا مؤاخذہ اور گرفت کرناآسان نہ ہو۔ 
مضمون نگار کا یہ مضمون تضادات پر مشتمل ہے اور اس پر ذاتی آرا اور اجتہادی رنگ بھی نمایاں نظر آرہاہے۔ اس میں فقہی غلطیاں بھی ہیں اور جہاد و مجاہدین کے خلاف توہین آمیز عبارات اور گستاخیاں بھی ہیں۔ فاضل محترم کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن پر کبھی فکریوں کا رنگ چڑھ آتا ہے تو کبھی ڈاکٹر اسرار کا فلسفہ کار فرما ہوتا ہے، کبھی وحیدالدین خان کے نظریات کی جھلک نظرآتی ہے توکبھی پروفیسر غامدی کا پَرتَو پڑتا ہے، کبھی وحدت ادیان کی وسعت نظر آتی ہے تو کبھی عدم تقلید کی آزادی جھلکتی ہے، اور چونکہ یہ مضمون شکست اور پسپائی کے دَورمیں لکھا گیاہے، اس لیے اس میں ایک دوسرے پر الزامات دھرنے کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ایسے دَورمیں آدمی مایوسی کے سوا اور کیا لکھ سکتا ہے، اس لیے ’’قہر درویش بر جان درویش‘‘ کا جذبہ مضمون میں کار فرماہے۔ ایسے مضمون کے بارے میں اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ’’اتّسَعَ الْخَرْقُ مَعَ الرَّاقِعٖ‘‘ یعنی مضمون کی چادر میں جتنے ٹانکے لگاتے جائیں گے، چادرمزید پھٹتی چلی جائے گی۔ ایسے زخم زخم مضمون کے بارے کسی شاعر نے کیاخُوب کہا ہے: ’’تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجاکجانہم ‘‘ یعنی ساراجسم زخمی ہے، رُوئی کہاں کہاں رکھوں؟
مضمون نگار نے جگہ ’’ہمارے نزدیک‘‘، ’’ہماری راے کے مطابق‘‘، ’’ہم سمجھتے ہیں‘‘، ’’ہمارے خیال میں‘‘، ’’ہمارے مؤقف کے مطابق‘‘ اور ’’ہماری نظر میں‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار خود رائی کاکتنا خُوگر ہے اور اس پر اجتہادی رنگ کتنا غالب ہے۔ جب کوئی آدمی خودرائی اور خود پسندی اور خود فہمی کا اس قدر دعویدار ہو تو وہ جادۂ حق پر کیسے قائم رہ سکتاہے۔ میری اس تحریر میں جابجاقارئین کو سخت الفاظ ملیں گے۔ مجھے خود بھی اس پرافسوس ہے، لیکن یہ سب کچھ حافظ زبیر صاحب کی نوازش ہے جنہوں نے نہ کسی کو قابلِ احترام سمجھا اور نہ کسی کا لحاظ رکھا۔

مضمون نگار کی توہین آمیز عبارات 

اب میں فاضل مضمون نگار کی چند عبارات نقل کرتاہوں جس میں انہوں نے فقہی فتاویٰ اورجہاد ومجاہدین بلکہ بعض شرعی نصوص کی توہین کی ہے۔ 
گستاخی نمبر ۱
 صفحہ ۷۶  پر مضمون نگار لکھتے ہیں: ’’کسی نظریے یا نکتہ نظر کی صحت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ اپنے مخاطب کو اس کی دلیل کے طور پر قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر سنا دی جائے۔ قرآن کو اپنے نکتہ نظر کی دلیل کے طور پر تو غلام احمد قادیانی بھی نقل کرتاہے اورغلام احمدپرویز بھی ۔۔۔ طالب جوہری بھی، غامدی بھی قرآن سے دلیل پکڑتے ہیں اور جہادی تحریکوں کے رہنما بھی‘‘۔
تبصرہ
میں حافظ صاحب کے اس غلط قیاس کے بارے میں اتناکہوں گا کہ انہوں نے جہاد کی واضح اور دو ٹوک آیتوں اور غلام احمد قادیانی اورپرویز وغیرہ کی واضح تحریفات کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈال کر قرآن کی آیتوں کی بھی توہین کی ہے اور جہاد مقدس کی بھی توہین کی ہے اور مجاہدین کو کافروں اور ملحدین کی صف میں کھڑا کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ ان صاحب کو فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ کیا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَکُرْہُٗ لَّکُمْ  میں کوئی ابہام یااشتباہ ہے کہ مجاہدین نے اس کو غلط طور پر استعمال کیا؟ اور کیا آپ خود اس آیت کے مخاطب نہیں؟ اگر مخاطب ہیں تو آپ نے اس آیت پر عمل کیوں نہیں کیا؟ اور اس حدیث پرعمل کیوں نہیں کیاکہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ جہاد کا جذبہ رکھا، وہ نفاق کے شعبہ پر مرا؟ کیا اس آیت اور اس حدیث میں کوئی ابہام ہے کہ مجاہدین نے اس سے اہل باطل کی طرح استدلال کیا ہے ؟ خدا کا خوف کرو۔ 
گستاخی نمبر ۲ 
صفحہ ۸۷پرمضمون نگار لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک ائمہ سلف کے ان فتادیٰ کاتعلق ہے جو کہ قتال کی فرضیت کے بارے میں مروی ہیں تووہ ایک خاص ماحول اور حالات کے تحت جاری کیے گئے جوآج موجود نہیں ہیں۔ قرآن وسنت دائمی ہیں، یعنی ان میں قیامت تک کے لیے رہنمائی موجود ہے لیکن ائمہ کے فتاویٰ کی شرعی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ ہر زمانے کے لیے قابل عمل ہوں۔‘‘ (ص ۷۸)
تبصرہ 
میں حافظ زبیرصاحب کی اس زہریلی عبارت اور گستاخانہ مؤقف کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ جن فقہاے کرام نے اور جن ائمہ سلف نے فتاویٰ جاری کیے ہیں، وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جاری کیے ہیں اور اس پر صدیوں سے اکابر علما عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ اب آپ امت مرحومہ کے لیے نئی فقہ متعارف نہ کرائیں بلکہ اسی فقہ کی روشنی میں زندگی گزاریں۔ اس میں آپ کے دین ودنیا دونوں کی بھلائی ہے۔ آپ کے قلم میں انتہائی گستاخی اورانتہائی عجب ہے اور دین سے لااُبالی پن اور قلب ودماغ میں انتہائی تعلّی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کریں۔ نزول قرآن کے وقت جن لوگوں نے جہاد میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی تھی، ان کو قرآن نے منافق کہا ہے۔ یہ ایک خطرناک وادی ہے، اس میں سنبھل کر چلنا پڑے گا۔ حافظ صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام میں جہاد سے متعلق فقہاے کرام کے جو فتاویٰ لکھے گئے ہیں، وہ سب منسوخ ہیں۔ یہی بات تو غلام احمد قادیانی کہتا ہے جس نے لکھا ہے :
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال 
دین کے لیے حرام ہے اب قتل وقتال 
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے 
اب جنگ اور جہاد کافتویٰ فضول ہے 
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے 
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے 
دشمن ہے وہ خداکا جو کرتاہے اب جہاد 
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد 
یہی بات غامدی کہتے ہیں اور وحیدالدین خان کا بھی یہی نظریہ ہے۔ سرسیّد احمد خان صاحب نے بھی یہی کہا ہے کہ شرعی احکامات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لیے عارضی احکامات تھے، ہمارے لیے نہیں۔ فقہاے کرام کے فتاویٰ کایہ حشر کرنا حافظ صاحب کی بڑی جسارت ہے۔ ہر جگہ قیاس کے گھوڑے دوڑانا بڑی غلطی ہے۔ شاعر کہتا ہے :
ہزار نکتہ باریک تر ز مو ایں جا است
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
نہ ہر جائے مرکب تواں تاختن 
کہ جاہا سپر باید انداختن
گستاخی نمبر ۳
’’دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کون سا آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کا خلاف جائز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی جس کاشریعت سے سرے سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
تبصرہ
اس عبارت میں حافظ صاحب نے دارالحرب اور دارالاسلام کا مذاق اُڑا کر انکار کیا ہے۔ پھرعام فقہا کی توہین کی ہے کہ فقہا کی تحقیق کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ شریعت کے خلاف ہے، حالانکہ اس تقسیم پر تمام اُمت کا اتفاق ہے۔ محدثین، مفسرین اور فقہا نے دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کرکے ہر ایک کے لیے الگ الگ احکام بیان کیے ہیں۔ لگتاہے کہ حافظ صاحب غیرمقلدیت یا آزاد منش طبیعت کے مالک ہیں۔ دارالحرب اور دارالاسلام کی تفصیلی بحث حافظ صاحب کی چھٹی غلطی کے تحت آرہی ہے۔
گستاخی نمبر ۴
 صفحہ ۹۱ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں : ’’اگر کوئی مؤمن اپنے مشاہدے، تجزیے اور تجربے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالتاہے کہ جس قتال کا وہ حصہ ہے یا حصہ بننے جا رہا ہے، اس سے کسی جہادی تحریک کے رہنماؤں کے مفادات وابستہ ہیں یاکسی جہادی تحریک کے لیڈر علما اور قتال کو فرض عین کہنے والے مفتی حضرات حبّ جاہ ، حبّ مال اور اپنے وی آئی پی پروٹوکو ل کی خاطر قتال کے لیے نوجوانوں کو تیار کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود اور اپنی اولاد کو اسی قتال کی سعادت سے محروم رکھتے ہیں تو ایسے شخص پر فرض عین ہے کہ قتال کے نام پر ہونے والے اس ظلم سے ممکن حد تک دُور چلا جائے۔‘‘
تبصرہ
یہ لمبی عبارت ہے۔ میں نے اس کے مبتدا کے ساتھ اس کی خبر کو جوڑ کر لکھا ہے۔ اس کے جواب میں اتنا عرض ہے کہ حا فظ زبیر صاحب کا سینہ جہاد کے لیے اتنا تنگ کیوں ہے کہ وہ جہاد کے میدان میں اُترنے والے مجاہدین کی نیّتوں پر شبہ کرنے لگے ہیں، جبکہ مسلمانوں کو اسلام حکم دیتا ہے کہ کسی مسلمان پر بدگمانی نہ کرو، بلکہ نیک گمان رکھو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کا احترام عام مسلمانوں پر اپنی ماؤں کی طرح واجب ہے۔ حافظ صاحب نے اپنے زہریلے اور نفرت انگیز کلام میں علما اور مفتیان کرام کو حُبّ جاہ، حُبّ مال اور پروٹوکول حاصل کرنے کا طعنہ دیا ہے۔ کاش کسی موقع پر حافظ صاحب بھی باوضو ہوکر میدان جہاد میں اُتر کر یہ پرو ٹوکول حاصل کریں۔ کاش حافظ صاحب کا یہ زہرآلود قلم مجاہدین کے بجائے امریکہ اور عالم کفر کے ان ممالک کی طرف متوجہ ہو جائے جنہوں نے اطراف عالم میں مسلمانوں کی عزّت وعظمت اور دین ومذہب کو پامال کیا ہے۔ کیاحافظ صاحب کو اس دنیا میں تنقید اورعیب جوئی کے لیے صرف مجاہدین نظر آئے ہیں؟ اور کیا حافظ صاحب کو مجاہدین کی یہ قربانی نظر نہیں آتی کہ جہادی کمانڈروں کے ہزاروں بھائی اور بیٹے اس میدان میں شہید ہوچکے ہیں؟حافظ صاحب کو یہ بھی گوارا نہیں کہ جو مجاہدین تقدیرالٰہی کے مطابق زندہ ہیں، وہ کیوں زندہ ہیں۔ حافظ صاحب ! کیاآپ حقیقت سے اندھے ہیں؟ آپ کو جلال الدین حقانی صاحب کا پورا کنبہ شہادت کے میدان میں نظر نہیں آتا۔ مگر کیا کیا جائے، نفرت وعداوت بُری بلاہے۔ حافظ صاحب نے جہاد و قتال کو ظلم کے نام سے یاد کیاہے، یہ ملحدین کی زبان ہے جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔ 
گستاخی نمبر ۵
صفحہ ۹۱ کی اسی عبارت کے دوسرے حصے میں حافظ صاحب جہاد سے اپنی نفرت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں: ’’معصوم، لاعلم اور سیدھے سادھے جذباتی نوجوانوں کے لیے ان تحریکوں کے معسکرات ایسے خرکار کیمپ ثابت ہوتے ہیں جو ان کو جبراًفریضہ قتال کی ادائیگی پر مجبور کرتے ہیں‘‘۔ 
تبصرہ 
حافظ زبیرصاحب نے جہاد مقدس کے معسکرات اور ٹریننگ سینٹروں کو خرکار کیمپ کہہ دیا ہے۔ اس طرح کا اظہار تو شاید بش نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ نہ معلوم حافظ صاحب کس کے زہریلے لعاب سے ماؤف الدماغ ہو گئے ہیں۔ جس ٹریننگ کو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں قائم کیا تھا اور مدینہ منورہ کی گلی گلی میں اس کے فضائل ومسائل بیان ہوتے تھے اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہادی ٹریننگ میں حصہ لیا تھا، اسے جیسے مقدس عمل کو جو آدمی خرکار کیمپ کہتاہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ آدمی کفر کی سرحدوں کو چھو رہاہے! کیا نفرت کے اظہار کے لیے حافظ صاحب کے پاس کوئی نرم کلمہ نہیں تھا؟ اور کیا حافظ صاحب نے کبھی افغانستان وعراق اور فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں اس وقت یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں کے قائم کردہ ٹریننگ سینٹروں کو خرکار کیمپ کے نام سے یاد کیا ہے؟ اگر کوئی شخص حافظ صاحب کو یہ کہہ دے کہ جناب جہاد کے میدان سے پیچھے ہٹ کر آپ جس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں، شاید وہ خرکار کیمپ ہے تو حافظ صاحب کیا جواب دیں گے ؟ 
حافظ صاحب نے اس مقام پر لکھا ہے کہ مجاہدین جبری طور نوجوانوں کو جہاد کے لیے لے جاتے ہیں۔ یہ بات قطعاًغلط ہے۔ حافظ صاحب اگر ان نوجوانوں کے زار وقطار رونے کو دیکھ لیتے جن کو جہاد و قتال کے لیے اجازت نہیں ملتی اور پھر شب بیداری میں ان نوجوانوں کی شہادت کے لیے رو رو کر دعائیں سن لیتے تو وہ کبھی اس طرح کا غلط جملہ نہ لکھتے ۔ جناب حافظ صاحب ! اگر آپ کو ہزاروں مجاہدین میں کہیں ایک واقعہ اس طرح کا ملا ہو تو کیا آپ کی عقل و دانش اور قرآن اکیڈمی کے محقق ہونے کا یہی انصاف ہے کہ آپ کے نزدیک سارے مجاہدین ایسے ہیں! مگر کیا کیا جائے۔ نفرت بری بلاہے، اس نفرت کے اظہار کے باوجود حافظ صاحب بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ میں جہاد کا انکار نہیں کرتا، مگر میں مجاہدین کو نہیں مانتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز اچھی چیز ہے، مگر اس کا پڑھنے والا اچھا نہیں ہے، حج اچھاعمل ہے مگر حاجی اچھا نہیں، اسلام اچھا ہے مگر مسلمان اچھا نہیں، ایمان اچھاہے مگر مؤمن اچھا نہیں، جہاد اچھا ہے مگر مجاہد اچھانہیں۔ بھائی! یاد رکھو یہ تمام اعمال، اوصاف اور صفات ہیں۔ جو آدمی ان کے ساتھ متصف ہے اور یہ صفات اس میں آگئیں تو اس کو اسی صفت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب اس کی مدح یا مذمت اسی صفت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو شخص کہے گا کہ مجاہدین برے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں میں جہاد کی صفت ہے، اس صفت والے برے ہیں۔ اگر حافظ صاحب کو کسی آدمی کی بُرائی کرنی ہے تو اس کو اس کے خاندان یاقوم کے نام سے کیوں یاد نہیں کرتے؟ جہاد کرنے والا مجاہد ہے، جہاد کی وجہ سے اس کو مجاہد کہتے ہیں۔ آپ نے اگر جہاد کے میدان میں قدم نہیں رکھا تو آپ کو کو ن مجاہد کہہ سکتاہے؟ یاد رکھو! جہاد میں کیڑے نکالنے والامنافق ہوتاہے۔ اللہ کا خوف کرو! ان پاکیزہ لوگوں کو خرکار کیمپ سے یاد نہ کرو! خداکی قسم، ان کے خون سے خوشبو اُٹھتی ہے!
گستاخی نمبر ۶
 صفحہ ۹۴ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’جہادی کشمیری تحریکوں کے مفتیان کرام نے عرصہ دراز سے یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ جہاد کشمیر فرض عین ہے ۔۔۔ جہاد فرض عین کا فتویٰ دینے والے مفتی صاحب جہادی تحریک کے کسی مدرسے میں بیٹھے سارا سال بخاری پڑھاتے ہیں۔ یہ حضرات یاتو فرض عین کا مطلب نہیں سمجھتے یا ان کا علم، ان کی عقل سے مستغنی ہے۔ اگر یہ مفتی حضرات اپنی اوراپنے امرا کی قتال سے جان بچانے کے لیے کتاب الحیل کا سہارا نہ لیں....‘‘۔ آگے حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’لیکن جہادی تحریکوں کے مفتیان کرام و امرا کے لیے بخاری پڑھانا یا میجر جنرل کے اعزازی عُہدے کی سہولت و پروٹوکول سے فائدہ اُٹھانا ہے۔ ‘‘
تبصرہ
حافظ صاحب کی اس نفرت انگیز عبار ت سے میں نے چند چبھنے والے حقار ت آمیز جملے نقل کر دیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس فصاحت وبلاغت اور سلیقے کے ساتھ حافظ صاحب مسلمانوں میں اپنا زہریلا لعاب پھینک رہے ہیں۔ ’’رٹ لگا رکھی‘‘ کا جملہ علما اور مفتیان کرام کے حق میں کتنی بڑی گستاخی ہے! پھر بخاری پڑھانے اور اس کی تدریس کو کس حقارت کے ساتھ بیان کیا ہے! پھر کتاب الحیل کے لفظ سے فقہاے احناف پر کس قدر ہتک آمیز طنز کیا ہے! آگے میجرجنرل کے جملہ اور پروٹوکول کے الفاظ سے علما اور مجاہدین کی کس طرح تذلیل کر رہے ہیں۔ حالانکہ حافظ صاحب نے جہاد فرض عین کا مفہوم اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ تمام چالاکیوں اور پورے زور قلم کے باوجود حافظ صاحب نہ فرض عین کو پہچان سکے اورنہ فرض کفایہ کو جان سکے۔ حافظ صاحب پر فرض ہے کہ وہ ہدایہ کی شرح فتح القدیر میں فرض عین کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں ! یہ تو جہلا کا پُرانا الزام ہے کہ جہاد اگر فرض عین ہے تو سارے لوگ ایک ساتھ کیوں نہیں نکلتے؟ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ فرض عین کا مطلب یہ ہے کہ ایک طبقہ جائے گا، دوسرا تیارکھڑا ہوگا۔ ان کی واپسی پر یہ جائے گا۔ جس طرح حج فرض عین ہو جاتا ہے، مگر حاجی اس سال نہیں بلکہ آئندہ سال جاتا ہے۔ تو کوئی جاتا ہے، کوئی آتاہے۔ میدان بھی گرم رہتا ہے اورپیچھے معاشرہ بھی قائم رہتاہے۔ 
حافظ صاحب کو یہ بات نہ سمجھنے پر اور پھر علما پر الزام دھرنے پر خدا سے معافی مانگنی چاہیے اور ان مجاہدین سے بھی جن کو انھوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے مورد طعن ٹھہرایا ہے۔ اس بحث میں حافظ صاحب نے بار بار کہا ہے کہ یہ علما فرض عین کا مفہوم نہیں جانتے، حالانکہ حافظ صاحب کو خود عدم علم کے اندھیرے نے گھیر رکھا ہے اور ان کویہ معلوم نہیں ہے کہ قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ نے اہل علم اورعلما کو سورہ توبہ میں ایک حد تک جہاد سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومہم‘‘۔ 
میں کہتاہوں کہ البحر الرائق میں کتاب الجہاد میں یہ فتویٰ موجود ہے کہ امراۃ مسلمۃ سبیت بالمشرق وجب علیٰ اھل المغرب تخلیصھا من الاسر ما لم تدخل دارالحرب (ج ۵ صفحہ ۷۲) ’’اگر مشرق میں کفار نے کسی مسلمان عورت کو قید کر لیا تو اس کے چھڑانے کے لیے مغرب تک مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو جائے گا‘‘۔ میں پوچھتاہوں کہ اس وقت ہزاروں مسلمان خواتین جو کافروں کی قید میں ہیں، کیااب بھی حافظ صاحب پر جہاد فرض عین نہیں ہو ا؟ اگر ہوا ہے تولاہور میں کیوں بیٹھے ہیں؟ اوروں کو الزام دینا آسان ہے، اپنے گریبان میں دیکھنا مشکل ہے۔ کسی نے سچ کہاہے : ہم الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا۔

حافظ صاحب کی چند غلطیاں 

اس مضمون میں حافظ صاحب نے چند غلطیاں کی ہیں۔ میں مختصر طور پر ان کا تذکرہ کروں گا اور مختصر جواب دوں گا، مگر انتہائی اختصار کے باوجود مجموعی مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے کیونکہ حافظ صاحب کا ہر جملہ نفرت کی داستان ہے۔
پہلی غلطی
حافظ زبیر صاحب نے اپنے مضمون کی ابتدا میں صفحہ ۷۶پر لکھا ہے: ’’مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کے شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کے حق میں جذبات قابلِ قدر ہیں، لیکن ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا کہ سیف الحق صاحب کی تحریر کو شائع نہیں کرنا چاہیے تھا، ایک بالکل غیر شرعی، غیر اخلاقی اور غیر علمی رویہ ہے۔‘‘
جواب
حافظ صاحب کی اس تحریر کا پس منظر یہ ہے کہ ماہنا مہ ’’الشریعہ‘‘ کے اپریل ۲۰۰۸ ء کے شمارے میں ایک شخص جناب سیف الحق صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ سیف الحق صاحب نے اس مضمون میں طالبان، افغانستان اور ملا عمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی طرح اس میں القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ جناب فاروق کشمیری صاحب اور قاضی حفیظ صاحب نے ان حضرات کا دفاع کیا تھا اور الشریعہ کے منتظمین حضرات سے خط کے ذریعہ گلہ کیا تھا کہ ایک مذہبی رسالے میں مسلمانوں کے راہنماؤں اور جہادی میدان میں سربکف ہو کر ڈٹ جانے والوں کے خلاف اس طرح مضامین چھاپنا اچھا نہیں ہے۔ اس پر حافظ زبیر صاحب تھیلی سے باہر آگئے اور نہوں نے وہ کچھ لکھا جو آپ کے سامنے ہے۔ مندرجہ بالا عبارت میں حافظ زبیر صاحب نے فاروق کشمیری صاحب کے اس گلہ کو غیر شرعی کہا ہے۔ گلہ یہ تھا کہ ’’الشریعہ ‘‘رسالہ میں یہ مضمون نہ چھاپنا اچھا تھا کہ اس میں جہاد اور مجاہدین پر بلاوجہ تنقید کی گئی تھی۔ اس کو حافظ زبیر صاحب غیر شرعی کہتے ہیں۔ تعجب سے لکھنا پڑتا ہے کہ اس میں شرعی اور غیر شرعی کا ضابطہ کہاں سے آگیا! کیا کسی رسالے میں مضامین کو چھاپنے نہ چھاپنے کے بارے میں رائے ظاہر کرنے کے لیے قرآن وحدیث کی نص کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کراچی میں ایک مسجد کا نمازی جمعہ کے دن صف میں کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ اس مسجدکی کمیٹی کو میں نہیں مانتا، اس لیے کہ یہ غیر شرعی ہے۔ حافظ صاحب نے تو یہاں یہ کمال بھی کیا کہ صرف غیرشرعی نہیں کہا، بلکہ بالکل غیر شرعی کہہ دیا۔ بھائی صاحب! پہلے شرعی اور غیر شرعی کو سمجھا کرو، پھرفتویٰ تھوپا کرو۔ اسی طرح معاملہ ’’غیراخلاقی‘‘ کے الفاظ کا ہے کہ پہلے اخلاق کی تعریف جاننا چاہیے، پھر اخلاقی اورغیر اخلاقی کا فتویٰ لگانا چاہیے۔ کیا اسامہ بن لادن اور ملّا عمر پر رکیک حملے کرنا عین اخلاق اور دیانت و امانت ہے؟ اور حیلے بہانے تراش کرجہاد کے میدان کو کمزور کرنا اخلاق ہے اور اس کا دفاع بد اخلاقی ہے؟ اسی طرح معاملہ ’’غیرعلمی‘‘ کے کلمے کا ہے کہ یہاں علم کے کون سے سمندر کی ضرورت تھی اور علم صرف و نحو اور علم فصاحت و بلاغت اور علم فلسفہ ومنطق کے کس قاعدہ کی ضرورت تھی کہ اس کو ایک دم غیر علمی کے الفاظ سے نوازا گیا!
اس مقام پر حافظ زبیر صاحب نے دنیاے معلومات میں ایک نئے معلوم کا اضافہ کر دیا ہے کہ جہاد و مجاہدین میں اسی طرح فرق ہے جس طرح اسلام اور مسلمان کے عمل میں فرق ہے، لہٰذا وہ جہاد کو بُرا نہیں کہتے بلکہ مجاہدین کو بُرا کہتے ہیں۔ یہ عجیب منطق ہے جس کی آڑ میں ہر نیک کام پر تنقید کا ایک آسان اور وسیع میدان مل گیا کہ اسلام اچھا مذہب ہے، مگر اس کے ماننے والے اچھے نہیں ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اچھے کام ہیں، مگر نمازی، روزے دار اور زکوٰۃدینے والے اور حج کرنے والے مسلمان بُرے ہیں۔ جہاد اچھا کام ہے، مگر جہاد کرنے والے مجاہد اچھے نہیں ہیں۔ تنقید کرنے کا یہ عجیب نسخہ مل گیا۔ گویا وہ آدمی حق بجانب ہے جو یہ کہہ دے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی اچھی کتاب ہے، لیکن قرآن اکیڈمی میں خدمت کرنے والا حافظ زبیر بہت برا آدمی ہے۔ میں پہلے گستاخی نمبر ۵ کے جواب میں لکھ چکاہوں کہ جہاد ایک صفت ہے۔ جوشخص جہاد کرتا ہے، اسی کو مجاہد کہتے ہیں تو مجاہد کی بُرائی بیان کرنا جہاد کی صفت کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ کوجہاد بُرا نہیں لگتا بلکہ مجاہد بُرا لگتا ہے تو اس مجاہد کو اس کے دوسرے پیشے یا اس کے اصل خاندان کی وجہ سے تنقید کا نشانہ کیوں نہیں بناتے اور یہ کیوں نہیں کہتے ہو کہ یہ آدمی تاجر ہے، اس لیے برا ہے اور یہ آدمی اس بُرے خاندان کا فرد ہے، اس لیے براہے۔ 
دوسری غلطی 
رسالہ کے صفحہ ۸۳ پر حافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اصل صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والے طالبان کو حکومت پاکستان اور آئی ایس آئی نے پشت پناہی فراہم کی تھی۔‘‘
جواب
حافظ صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے افغانستان کے طالبان کو امریکہ کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑا کیا تو امریکہ نے کامیاب پالیسی کے تحت پاکستان سے لڑنے کے لیے مقامی طالبان کو پیدا کیا۔ حافظ صاحب نے یہاں بھی ایک خلاف واقعہ بات لکھ دی ہے۔ وہ یہ کہ حکومت پاکستان نے امریکہ کے خلاف طالبان کی پشت پناہی کی، حالانکہ طالبان کی حکومت گرانے میں حکومت پاکستان امریکہ سے دو قدم آگے تھی اور آج تک امریکہ کی خوشنودی کے لیے پاکستان مکمل طور پر طالبان کے خلاف اس جنگ میں شریک ہے۔ کیاپاکستان کے متعدد ائیر پورٹ اب بھی امریکہ کے قبضے میں نہیں جہاں سے وہ طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے اور کیا کراچی بندر گاہ سے براستہ پشاو رتمام جنگی سامان طالبان کو مارنے کے لیے حکومت پاکستان کی اجازت سے افغانستان نہیں جا رہا؟ 
اصل میں حافظ صاحب کے سینے میں جو دل ہے، وہ امریکہ کے لیے کچھ نرم نظر آتا ہے۔ گویا یہاں بھی حافظ صاحب یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے طالبان کے ذریعے امریکہ کو مارنا چاہا، لہٰذا امریکہ نے پاکستان کو مارنے کے لیے مقامی طالبان کو کھڑا کیا اور امریکہ اپنی چال میں کامیاب رہا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’قبائلی علاقوں میں ایک نئی طالبان تحریک کو حکومت پاکستا ن کے خلاف کھڑا کر کے ان کی چال کو انہی کے خلاف الٹ دیا۔‘‘ دیکھیے، یہاں حافظ صاحب کس چالاکی سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ اس نے پہل کی اور امریکہ کے خلاف طالبان کو منظم کیا تو امریکہ نے پاکستا ن کے خلاف طالبان کو کھڑا کردیا۔ گویا امریکہ جو کچھ کررہا ہے، یہ ایک رد عمل ہے جس میں وہ حق بجانب ہے۔ میں کہتا ہوں حافظ صاحب! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ خون کی یہ لکیر کہاں سے چل کر ہمارے ہاں آئی ہے۔ یاد رکھو! خون کی یہ ندی فلسطین کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں سے بہہ کر، بوسنیا سے گزر کر عراق پہنچی، پھر افغانستان پہنچی اور اب پاکستا ن میں بہہ رہی ہے۔ خداکے بندے! آپ کو ظلم کے یہ پہاڑ نظر نہیں آتے اور مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی میں آپ کا دل کبھی نہیں دھڑکتا!خوب سمجھ لو،جہاں امریکہ جائے گا، وہاں ظلم کے پہاڑ مسلمانوں پر ٹوٹیں گے اور وہیں سے خود کش حملہ آور اور بقول آپ کے جذباتی لوگ بھی پیدا ہوں گے۔
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے قدرت کے اشارات 
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے 
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات 
آپ کا یہ کہنا سو فیصد غلط ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے خلاف افغانستان میں طالبان کو کھڑا کیا۔ آپ خود بتائیں کہ یہ کب اور کہاں پر ہوا؟ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ صلیبی استعماری قوتوں کے منصوبے ہیں جس پر وہ لوگ کار بند ہیں۔ ہاں جگہ جگہ ان کے راستوں میں مجاہدین کی کچھ رکاوٹیں ہیں جن پر آپ ناراض ہیں۔ اگرناراض نہیں ہیں توگناہوں کا سارا ملبہ آپ مجاہدین پر ڈالنے کے بجائے ظالم امریکہ پر کیوں نہیں ڈالتے جو سات سمندر پار سے آکر مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے؟ 
اسی طرح حافظ صاحب نے اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ ’’لال مسجد کے جہادکو ہم ایک بڑی غلطی سمجھتے ہیں‘‘۔ حافظ صاحب کے لکھنے کا یہ مطلب ہوا کہ لال مسجد میں جو ظلم ہو ا، وہ ظلم نہیں تھا بلکہ سارا گناہ ان بے گناہ بچیوں کا تھا جو ظلم کا نشانہ بنیں۔ دنیا میں جس مرد وعورت نے اس ظلم کو دیکھا، اس نے غلطی کا ذمہ دار حکومتی تشددکو قرار دیا اور ان بے گناہ افراد کو مظلوم قراردیا، مگر حافظ صاحب ساری غلطی اُن مظلوموں پر ڈالتے ہیں، حالانکہ جس حکومت نے یہ اقدام کیا تھا، وہ خود اقرار کر چکی ہے کہ یہ اُن کی بڑی غلطی تھی۔ حافظ صاحب نے اس کو جہاد کے نام سے یاد کیا جس سے معلوم ہو ا کہ حافظ صاحب کو جہاد اور کسی اصلاحی تحریک کا فرق معلوم نہیں ہے۔
تیسری غلطی
رسالہ کے صفحہ ۸۴ پر حافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’طالبان تحریک سے بہت سے گروہ نظریاتی اختلافات کی بنا پر علیحدہ ہو کر چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہوتے گئے۔‘‘
جواب
حافظ صاحب نے یہاں بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کے طالبان کاکوئی معروف ذمہ دار نہ بکا ہے اورنہ جھکاہے۔ ان میں نفاق ڈالنے کے لیے پوری دنیا نے ایڑی چوٹی کازور لگایا مگر طالبان تحریک کا اجتماعی ڈھانچہ الحمد للہ اب تک برقرارہے ۔ باقی جو دھڑے پاکستان میں حافظ صاحب کو نظر آرہے ہیں، یہ اپنے اپنے انداز سے ظلم کے مقابلے کے لیے میدان عمل میں آگئے ہیں۔ یہ طالبان کے بنیادی ڈھانچہ سے علیحدہ لوگ نہیں بلکہ اسی بنیاد کی مختلف شاخیں ہیں۔ ان میں بہت کمزوریاں ہوں گی مگر میں حافظ صاحب سے پوچھتاہوں کہ کمزوریوں سے کون پاک ہے؟اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر آسمان سے یہ فریضہ عائد ہو گیاہے کہ آپ اپنی تمام توانائیاں انہیں کے خلاف استعمال کریں! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اگر کسی کافرکو کسی مسلمان عورت یا کسی گمنام مرد نے پناہ دے دی تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ اُس کا احترا م کریں۔ افغانستان سے آئے ہوئے عرب مجاہدین کو اگر قبائلی علاقوں میں مسلمانوں کے سرکردہ قبائلیوں نے پناہ دے دی تو اس پر کسی کافر یا کسی مسلمان کو اعتراض کرنے کاحق نہیں ہے۔ پھر آپ نے رسالہ کے صفحہ ۸۴ اور ۸۵ پر ان بے بس پردیسی مسلمانوں پر انتہائی رکیک حملے کیوں کیے اور بش کے بجائے امن کو تباہ کرنے کی ساری ذمہ داری ان مسکینوں پر کیوں ڈالی؟ آپ ظلم کی تلوار کو حق بجانب قرار دیتے ہو اور مظلوم کے دفاع کو فساد اور مسائل پیداکرنا قرار دیتے ہو۔ آپ خود بتادیں کہ آپ کے پاس اس ظالم کا کیا علاج ہے؟
آپ اگر اس کو مانتے ہیں کہ افغانستان پر امریکہ کی سرکردگی میں کفار کے ۳۷ ممالک نے حملہ کرکے ظلم کیاہے تو آپ کو یہ بھی ماننا ہو گا کہ ان مظلوموں کی مدد کے لیے جانا مسلمانوں پر لازم ہے۔ اب جس راستے سے، اور جس وقت بھی کوئی مجاہد جانا چاہتا ہے، اس کو راستے میں اپنی حکومت کے کارندے مارتے ہیں اور گرفتار کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ یہ لوگ مقامی افواج سے الجھ جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی اس کو سوچا ہے کہ امریکہ جب افغانستان پرقبضہ کے لیے نہیں آیا تھا تو پاکستانی علاقوں میں لوگ پاکستانی افواج کو سلام کرتے تھے اور ان کا استقبال کرتے تھے۔ پہاڑوں، چٹانوں اور ٹرکوں پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’پاک فوج کو سلام ‘‘لیکن جب امریکہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان میں اُتر آیا اور ظلم کا بازار گرم ہوا اور بعض دنیا پرست لیڈروں اور حکمرانوں نے امریکہ سے ڈالر وصول کیے اور حکومت پاکستان نے ان مسلمان مجاہدین کو امریکہ کے حکم پر گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا یا قتل کیا تو یہ ٹکراؤشروع ہو گیا۔ اب آپ کا سارا زور اس پرہے کہ ساری غلطی مجاہدین کی ہے۔ آپ درختوں کی شاخوں کو جھاڑنے کے بجائے درخت کی جڑو ں کو کیوں نہیں کریدتے کہ آپ کو فساد کی اصل جڑ نظر آجائے؟ وزیرستان میں آئے ہوئے عرب اگر اس لیے مجرم ہیں کہ وہ غیر ملکی ہیں تو امریکہ اور اس کے اتحادی جو افغانستان اور پاکستان میں اُتر آئے ہیں، کیا وہ ملکی ہیں؟ کیا وہ کسی اتحادی افواج کے نطفے سے پیدا ہوئے ہیں یا کسی شادی کی تقریب میں آئے ہیں؟ اگر اتحادی افواج کو مارنا جائز نہیں ہے تو وہ جن بے گناہ افغانوں کو شادی کی تقریبات میں اور عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو دن رات میزائلوں اور بموں سے نشانہ بناتے ہیں، کیایہ جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو آپ کا قلم کیوں خاموش ہے بلکہ جوڑ توڑ کر کے گناہ کا سارا ملبہ بے گناہ مجاہدین پرڈالتے ہو۔ کیاآپ کو خدا کا خوف نہیں کہ مظلوموں کے زخموں کے علاج کے بجائے ان پر نمک پاشی کر رہے ہو! اگر مسلمانوں نے اپنے علاقے میں ایک مسلمان کو پناہ دی ہے تو اس پر یا امریکہ ناراض ہے یا آپ ناراض ہیں۔ آپ کو سلمان رشدی ملعون اور تسلیمہ نسرین اور ظالم جنرل عبدالمالک نظر نہیں آتے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے ہاں پال رہے ہیں؟ کیاآپ نے کبھی اس پر لکھا ہے یا کبھی احتجاج کیا ہے؟
چوتھی غلطی
صفحہ ۸۵ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ہم پہلے ہی اسلام دشمنوں سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘‘
جواب
 میں پوچھتا ہوں کہ آپ کب لڑنے کی پوزیشن میں تھے یاکب لڑنے کی پوزیشن میں آؤ گے؟ آپ یہی کمزور فلسفہ حکمرانوں اور نوجوانوں کے دل و دماغ میں بٹھاتے جائیں اور پھر گھر میں بیٹھ کر قورمے کھاتے جائیں، لیکن اتنی بات یاد رکھیں کہ اس فلسفہ سے آپ کو دشمن کبھی معاف نہیں کرے گا! آ پ کو چاہیے کہ زور بازو پیدا کر کے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں۔ 
زور بازو آزما، شکوہ نہ کر صیّاد سے 
آج تک کو ئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے 
آپ نے اس مضمون میں مجاہدین کو خطرات سے غافل بلّی قرار دیا ہے، پھر خود گھبرا کر فریاد کر رہے ہو! کیا آپ کے پاس ایٹم بم نہیں ہے؟ کیاآپ کے پاس گیارہ لاکھ فوج نہیں ہے؟ کیا آپ کے پاس ہزاروں میل تک مارکرنے والے میزائل نہیں ہیں؟ کیاآپ کے پاس ایف سولہ طیارے نہیں ہیں؟ کیاآپ کے پاس ایمانی قوت نہیں ہے؟ کیاآپ کو معلوم نہیں کہ یہ کہ یہی جملہ صدر پرویز نے کہاتھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اپنا ملک سب سے مقدم ہے، طالبان کوئی چیز نہیں ہے۔ کیاآپ نے دیکھا نہیں کہ کفار نے آپ کو سارے تعاون کے باوجود معاف نہیں کیا اور اب آپ کے ملک میں بغیر جنگ کے آسانی سے گھس گیا؟ دشمن کو دعوت دینے والے آپ لوگ ہیں جنہوں نے کافروں سے مل کر طالبان کو گرا دیا اور ملکی سرحدات کو غیرمحفوظ بنا دیا۔ آپ کے نظریہ کے مطابق حضرت حسین کا یزید کی افواج سے مقابلہ تو بالکل ناجائز ہو گا، کیونکہ وہ تو بالکل بغیر سازوسامان کے نکلے تھے اور لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے! 
آپ نے اپنے مضمون میں جگہ جگہ لکھا ہے کہ پاکستان کے پاس اسباب اور وسائل موجود ہیں، اس کے پاس طاقت ہے، لہٰذا مجاہدین کو نہ انڈیا سے لڑناچاہیے اور نہ کسی اور دشمن سے لڑنا جائز ہے، بلکہ یہ کام حکومت خود کرے، کیونکہ ان کے پاس اس کی صلاحیت و استطاعت موجود ہے اور فوج اس کام کے لیے تنخواہ بھی لیتی ہے۔ آپ کبھی اس طرح لکھتے ہو ا اور کبھی لکھتے ہو کہ ملک کمزور ہے، ہم کسی سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ آپ کامضمون تضادات سے بھر اپڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حافظ زبیر صاحب ایک شکست خوردہ ذہنیت کے مالک ہیں۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ ستر سال سے اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں ہر قسم کے مظالم ڈھاچکے ہیں مگر وہ فلسطین کو قابو نہ کر سکے ا ور جنگ تا حال جاری ہے؟ یہی حال عراق کا ہے اوریہی حال افغانستان کا ہے، بلکہ اب تو دنیا کہہ رہی ہے کہ امریکہ اوراتحادی قوتیں شکست کھا چکی ہیں۔ خود امریکہ کے اند ر اس کے دانشور امریکہ کی ناکامی کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن حافظ زبیر صاحب کی جرأت کو سلام ہو کہ وہ اب بھی کفار کے سامنے مسلمانوں کی بے بسی اور عاجزی اور ذلت کے مضامین جاری کر رہے ہیں۔ کیاان کو روس کے انجام کا علم نہیں ہے کہ سوویت یونین دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا ہے؟ اس کے مقابلے میں گولیاں کھانے والے اور گولیاں چلانے والے یہی مجاہدین تو تھے، خواہ حالات آج سے مختلف کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللّہ‘‘۔
جب کچھ نہ بن پڑا تو ڈبو دیں گے سفینہ 
ساحل کی قسم منتِ طوفاں نہ کریں گے 
حوادث سے الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے 
مجھے دشواریوں پر اشک برسانا نہیں آتا 
پانچویں غلطی
صفحہ ۸۵ پر حافظ زبیر صاحب نے بخاری ج ۲ ص۷۵۶ سے ایک حدیث کا ترجمہ نقل کیاہے اور مجاہدین کو اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ ’’آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی‘‘۔ 
جواب
حافظ صاحب نے دانستہ اس حدیث کے ترجمہ میں تحریف کی ہے اور اپنے مطلب کے الفاظ مثلاً ’’جذباتی قسم کے احمقوں‘‘ اس میں داخل کیے ہیں۔ اس میں ’’جذباتی قسم‘‘ کے لیے حدیث کے متن میں کوئی لفظ نہیں ہے۔ اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مجاہدین جذباتی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ عبارت کہ ’’وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے‘‘ یہ ترجمہ حافظ صاحب کا خانہ ساز ہے۔ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے بھی حافظ صاحب یہ تاثر دیناچاہتے ہیں کہ مجاہدین بے موقع آیتوں کااستعمال کرتے ہیں۔ ’’پس یہ جہاں بھی تمہیں ملیں، تم ا ن کو قتل کر دو‘‘ یہ تر جمہ تو صحیح ہے، لیکن حافظ صاحب اس سے افواج پاکستان وغیرہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جذباتی مجاہدین کو قتل کرنا بخاری کی حدیث سے ثابت ہے، کیونکہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں۔ اس میں حافظ صاحب نے واضح خیانت کی ہے، کیونکہ اس حدیث کاتعلق خوارج کے ساتھ ہے جن کے ساتھ حضرت علیؓ کی جنگیں ہوئیں اور قصہ ختم ہو گیا۔ آئندہ بھی اگر اس قسم کے لوگ آئیں گے یا موجودہ دور میں بھی اگر ہوں تو وہ مجاہدین نہیں ہوں گے بلکہ خوارج ہوں گے۔ اگر عرب مجاہدین میں اس طرح کا تکفیر ی ٹولہ ہے تو وہ جہاد کی لائن کے لوگ نہیں ہیں، نہ مجاہدین ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان چندبرگشتہ لوگوں کاالزام تمام مجاہدین کے سرتھوپنا جہاد سے حافظ صاحب کی نفرت کا کرشمہ ہے۔ میں حیران ہوں کہ مجاہدین کے ساتھ دشمنی میں وہ کس قدر آگے جا چکے ہیں۔ 
اسی مضمون کے تحت حافظ صاحب نے صفحہ ۸۷ تک بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں لکھی ہیں جس میں انہوں نے مشاجرات صحابہؓ کے بعض واقعات سے مجاہدین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تمام احادیث کو دیکھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کی آپس کی جنگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کی احادیث ارشاد فرمائی ہیں جن کے نتیجے میں تین قسم کی جماعتیں بنیں: بعض احادیث میں تلوار اُٹھا کر حق کا ساتھ دینے کا حکم ہے۔ حضرت علیؓ کاساتھ دینے میں اسی قسم کے صحابہؓ نے حصہ لیا تھا۔ بعض احادیث میں ہے کہ دفاع کرو، اقدام نہ کرو۔ حضرت ابن عمرؓ نے اسی پر عمل کیاتھا۔ بعض احادیث میں ہے کہ شہید ہو جاؤ مگر ہاتھ نہ بڑھاؤ، منہ پر کپڑا ڈال کر موت کو قبول کرو مگر جنگ نہ کرو۔ بعض صحابہؓ نے اس پر عمل کیا تھا۔ اس تقسیم کوچھوڑ کر حافظ صاحب نے تلبیس ابلیس کر کے وہ نقشہ پیش کیا جس سے مسلمانوں پر طعن ہو سکتا تھا۔ 
اسی صفحہ پر حافظ صاحب نے لکھاہے کہ زمانہ اور عرف کے بدلنے سے فتویٰ بھی بدل جاتاہے۔ حافظ صاحب کو معلوم ہوناچاہیے کہ فتویٰ بدلنے کافیصلہ بھی مجتہد علما کریں گے، نہ کہ حافظ صاحب کریں گے۔ اگر حافظ صاحب کو اس منصب پر بٹھایا گیا تو وہ بہت کچھ عُرف کی نذر کر دیں گے۔
چھٹی غلطی 
صفحہ ۸۸ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کون سا آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کاخلاف جائز ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘
جواب
حافظ زبیر صاحب نے یہاں دار الحرب اور دار الاسلام کا انکار کیا ہے اور اس کا مذاق اُڑایا ہے، حالانکہ دارالاسلام اوردارالکفر کی تقسیم قرآن و حدیث کے نصوص اور اشاروں میں موجود ہے۔ مثلاً دارالاسلا م کی طرف ہجرت نہ کرنے والوں کے لیے یہ وعید ہے : ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض ، قالوا الم تکن ارض اللّہ واسعۃ فتھاجروا فیھا۔( النساء : ۹۷) یا مظلوموں کی یہ فریاد ہے : ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا۔یہ دارالاسلام اور دارالحرب کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں ہے : ثم ادعھم الی التحول من دارھم الی دارالمھاجرین (ابو داؤد) قال علیہ السلام : اریت دار ھجرتکم ذات نخل من لابنتین فمن اراد الخروج فلیخرج الیھا۔ (بخاری ،باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و الصحابۃ الی المدینۃ)
مفسرین کی تفاسیر میں اس پر کامل بحث ہے، فقہاے کرام نے اس کے الگ الگ احکام بیان کیے ہیں، تاریخ نے اس کو اہتمام کے ساتھ بیان کیاہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے کون سی نئی شریعت ایجاد کی ہے جس میں دار الاسلام یا دارالکفر کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہ تقسیم مذاق اُڑانے کے قابل ہے ۔ حافظ صاحب نے اس مسلمہ اور طے شدہ حقیقت کا تمسخر اڑا کر در حقیقت قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کا تمسخر اڑایا ہے، حالانکہ فقہاے اربعہ تفصیل کے ساتھ دارالاسلام اور دار الکفر کی تقسیم کرتے ہیں۔ امام محمد ؒ نے سیر کبیر میں جگہ جگہ دار الاسلام اور دارالحرب کا ذکر کیاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تقسیم میں کسی نے زمین کے احوال کو دیکھا ہے اور کسی نے زمانے کے احوال کو دیکھاہے اور کسی انسان کے احوال کو دیکھا ہے۔ جو کچھ بھی ہو، لیکن اس تقسیم کو سب نے قبول کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن قیّم ؒ نے اپنی کتاب ’’احکام اہل الذمۃ‘‘ میں دارالاسلام کی تعریف اس طر ح کی ہے: قال الجمہور ھی الّتی ترا المسلمون وجرت علیھا احکام الاسلام وما لم تجر علیھا احکام الاسلام لم تکن دارالاسلام۔ علامہ کاسانی ؒ نے’’ بدائع الصنائع ‘‘میں امام ابوحنیفہ کا قول نقل کیا ہے جس میں دارالاسلام اور دارالکفر کی واضح تقسیم ہے۔ فرمایا: ان الامان ان کان للمسلمین فیھا علی الاطلاق فھی دارالاسلام وان کان الامان للکفرۃ علی الاطلاق والخوف للمسلمین علی الاطلاق فھی دارالکفر۔امام ابویوسف ؒ فرماتے ہیں: تعتبر الدار دارالاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا وان کان جُلُّ اھلھامن الکفار (المبسوط) امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب بخاری شریف میں دارالاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کے لیے اس طرح باب باندھا ہے: ’’باب اذا وکل المسلم حربیا فی دارالحرب او فی دارالاسلام‘‘۔ علامہ سرخسی ؒ فرماتے ہیں: دارالاسلام ھی الّتی تجری علیھااحکام الاسلام ویأمن من فیھا بامان المسلمین سواء کانوا مسلمین او ذمیین (تکملۃ ابن عابدین)۔ صاحب ہدایہ نے ہدایہ میں باب الغنائم میں آٹھ مرتبہ دارالاسلام کا ذکر کیا ہے اور اسی مختصر باب میں چودہ مرتبہ دارالحرب کا ذکر کیا ہے۔ صاحب البحرالرائق نے ’’کتاب الجہاد‘‘کی ابتدا میں ایک قیمتی فتویٰ نقل کیا ہے جس میں دارالحرب اور دارالاسلام کی وضاحت بھی ہے اورجہاد کے فرض عین ہونے کی تفصیل بھی ہے۔ علامہ ابوزہرہ فرماتے ہیں: دارالاسلام ھی الدولۃ الّتی تحکم بسلطان المسلمین وتکون المنعۃ والقوۃ فیھا للمسلمین وھذہ الدار یجب علی المسلمین القیام بالذود عنھا، والجہاد دونھا فرض کفایۃ اذا لم یدخل العدو الدیار ( العلاقات الدولیۃفی الاسلام )۔ 
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان تصریحات کے سامنے اطاعت گزاری کامظاہرہ کرے، لیکن حافظ زبیرکو دیکھیے کہ کس ڈھٹائی اور سرکشی کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ’’فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی کہ جس کا شریعت سے سرے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ حافظ صاحب کو زیب نہیں دیتا کہ امت کے فقہا پر ایسا فتویٰ لگائیں کہ ان کے فتاویٰ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ فقہا نے قرآن و حدیث کی روشنی میں انتہائی احتیاط کے ساتھ فتوے دیے ہیں، بارہ سوسال سے ان فتاویٰ پر امت نے عمل کیا ہے، آ ج حافظ زبیر بڑا مجتہد بن کر ماڈل ٹاؤن لاہور میں بیٹھ کر شریعت کا نیا ماڈل دکھا کر ان بزرگ علما کو شریعت کامخالف بتاتاہے۔ یوں لگتا ہے کہ حافظ زبیر پر مودودیت کا کوئی زہریلا دور گزرا ہے اور آج اس سے دو قدم آگے نکل کر کچھ اور بنا ہے، نہ معلوم آگے کیابننے جا رہا ہے! اس نو عمر نوجوان کواپنی فکر کرنی چاہیے، سرپرٹوپی رکھنی چاہیے، مونچھوں کو کٹانا چاہیے، ڈاڑھی کو بڑھانا چاہیے، پاجامہ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے۔ یہ ان کے فائدے کے کام ہیں، نہ کہ فقہا کا مذاق اڑانا۔ 
’’دروغ گو را حافظہ نباشد‘‘ کے اصول کے تحت اسی صفحہ پر دو سطروں کے بعد حافظ صاحب دار الاسلام کی تقسیم فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’آج جس دنیا میں مسلمان آباد ہیں، وہ کئی داروں تقسیم ہیں مثلاً دارالحرب، دارالاسلام، دارالکفر، دارالمسلمین، دارالعہد، دارالصبر، دارالامن اور دارالھجرۃ وغیرہ۔‘‘ دیکھیے ابھی ابھی حافظ صاحب دارالاسلام اور دارالحرب کی تقسیم میں فقہاے کرام کا مذاق اڑا رہے تھے، اور ابھی ان کے قلم کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے کئی داروں کا خود ساختہ نقشہ کھینچ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کردیا۔ حافظ صاحب کاکلام تضادات سے بھراپڑاہے ۔ کسی نے سچ کہا ہے:
الجھاہے پاؤں یار کا زلف دراز میں 
لو آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا
ساتویں غلطی
رسالہ الشریعہ کے صفحہ ۸۸ پر حافظ زبیرصاحب نے جہاد فرض عین اور فرض کفایہ کا ایک نیا باب کھول کر فرمایا ہے کہ’’ تیسر امغالطہ جو عام طور پر دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ دفاعی قتال ہر حال میں فرض عین ہے۔‘‘
جواب
حافظ زبیر صاحب نے یہاں بھی شعوری یا لاشعوری طور پر ایک غلطی کا ارتکاب کیاہے۔ اپنی اس لمبی عبارت میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجاہدین لوگوں کو یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ مثلاً افغانستان پر اتحادی افواج نے جو حملہ کیاہے، اگر وہ مدافعت نہیں کر سکتے تو قریب کے لوگوں پرجہاد فرض عین ہو جائے گا۔ حافظ صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نہ مجتہد ہیں، نہ شارع ہیں۔ آپ ایک عام آدمی ہیں۔ زور قلم سے آپ عبارتوں میں جوڑ توڑ کرتے ہیں۔ آپ کسی کے لیے سند نہیں ہیں ۔ جو لوگ مجتہد تھے اور امت کے پیشوا تھے، انہوں نے تو یہی لکھا ہے کہ اگر کفار نے کسی مسلم علاقے پر تجاوز کیا اور قبضہ کرکے قتل کرناشروع کر دیا تو دفاعی طور پر ہر آدمی کوچاہیے کہ وہ کسی سے اجازت لیے بغیر میدان میں کُود جائے، حتیٰ کہ عورت کو اپنے شوہر اور غلام کو اپنے آقا سے بھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر علاقے کے لوگ کافی نہ ہوں تودرجہ بدرجہ دنیاکے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو جائے گا۔ علامہ ابن نُجیم نے البحرالرائق میں یہ فتویٰ لکھا ہے کہ اگر مشرق میں کفار نے کسی ایک مسلمان عورت کو قید کر لیا تو مشرق سے مغرب تک مسلمانوں پرجہاد فرض ہو جائے گا۔ اب ہم بارہ سوسال پرانا فقہاے کرام کا جاری کردہ متفقہ فیصلہ قبول کریں یا آج کے دورمیں لاہورکے ماڈل ٹاؤن میں ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے سے معلومات جمع کرنے والے اس شخص کی بات مانیں جس کے سینے میں شاید ایسادل ہے جو ہر وقت مجاہدین اور جہاد کے خلاف دھڑکتا رہتا ہے اور اس کا سارا زور قلم یہود ونصاریٰ کی ہمدردی کے لیے وقف ہے! 
حافظ صاحب اسی صفحہ میں جہادکے فرض عین ہونے کی ایک نئی صورت اور نئی خانہ ساز اصطلاح ایجاد کر کے لکھتے ہیں کہ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ دفاعی قتال بھی ہر حال میں فرض عین نہیں ہوتا۔ یہ اُس صورت میں فرض عین ہوگا جبکہ گمان غالب ہو کہ مسلمانوں کے اس دفاعی قتال کے نتیجے میں بالآخر فتح ان کو ہوگی یادشمن کو بھاری نقصان پہنچے گا۔‘‘ اس عبارت میں حافظ زبیرصاحب یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب تک بہتر انجام کاعلم کسی کو نہ ہو اور اچھا نتیجہ سامنے نہ ہو، اس وقت تک جہاد کے میدان میں اُترناجائز نہیں ہے۔ یہ فرض عین تو کجا، مستحب بھی نہیں ہے۔ میں ان سے پوچھتاہوں کہ کیاصحابہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اُحد کی جو جنگ لڑی تھی اور مدینہ منورہ کا دفاع کیا تھا، کیاان کو سو فیصدی بہتر انجام کاعلم تھا؟ یادیگر جنگوں میں صحابہ کرام کوپہلے سے معلوم ہو جاتا تھا کہ انجام اور نتیجہ سوفیصدی ہمارے حق میں ہے، اس لیے میدان میں نکل جاؤ، ورنہ نہیں؟ 
حافظ صاحب ! تقدیرالٰہی کے مالک نہ بنو۔ تم خدانہیں، بندہ خداہو۔ اچھے ارادے سے اچھے کام میں اترجایا کرو !نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ وہ آپ جیسے لوگ ہی تھے جوروس کے ساتھ ٹکراؤ کے بھی مخالف تھے اور نتیجہ کی بات کرتے تھے۔ پھر سب نے دیکھاکہ نتیجہ کتنااچھا آ گیا، لیکن آپ کو تواس میں بھی شک ہے اور اپنے مضمون میں لکھتے ہو کہ روس کی شکست امریکہ کی وجہ سے ہوئی۔ عجیب منطق ہے کہ مجاہدین کے کھاتے میں کوئی نیک کام جاتا ہی نہیں۔ شکست ہو تو مجاہدین کے گلے میں اور فتح ہو تو امریکہ کے حصے میں! آپ نے اسی عبارت میں ایک مثال دی ہے کہ گن پوائنٹ پراگر کوئی شخص کسی نہتے آدمی سے مال چھیننا چاہتا ہے تو اسے مزاحمت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس غلط سوچ کے پیش نظر آپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک حدیث کا ترجمہ کر کے اس پر رد کیا ہے اور اس میں آپ نے مجتہدانہ انداز سے تحریف بھی کی ہے ۔ آپ نے مَن قتل دون مالہ فہو شھید کے ساتھ یہ شرط لگادی کہ جب اس میں مقابلہ کی طاقت نہ ہو۔ یہ خانہ سازی تحریف ہے، خدا کا خوف کرو اور سرسید احمد خان، غلام احمد پرویز، پروفیسر غامدی اور جناب مودودی یا ڈاکٹر اسرار احمد کی طرح عقل کے بل بوتے پر احادیث میں تحریف نہ کرو اور نہ کسی حدیث کا انکار کرو ۔ آپ نے اس عبارت میں جو تصور پیش کیاہے، امت مسلمہ کے علما اورفقہا میں سے کسی کا یہ قول نہیں ہے، بلکہ سب نے اس کے خلاف کہا ہے۔ آپ سے عرض ہے کہ عقلِ کل نہ بنو نہ پیشواے کل بنو! آپ نے قلم کی ایک ہی جنبش سے فقہا کابھی صفایا کر دیا، ان کے فتووں کو بھی نظر انداز کیا اور مجاہدین کا بھی مذاق اڑایا۔ آپ کو اس اونچے مقام پرکس نے بٹھایاہے کہ آپ ان مقدس ہستیوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتے ہو؟
آپ نے صفحہ ۸۹ پرلکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں طاقت کاتوازن موجود تھا۔ آپ کا یہ جملہ لکھنا قرآن وحدیث کی تصریحات کے بھی خلاف ہے اور تاریخی واقعات سے بھی متصادم ہے، گویا اجماع امت کے خلاف آپ ایک بات بانک رہے ہو اور ہوش نہیں کہ کیالکھ رہے ہو۔ اتنی غلط بات تو ایک معمولی انسان بھی نہیں لکھ سکتا۔ آپ نے اپنے مضمون میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی تحریکوں کو بھی غلط قرار دیااور اس کو ۵۰سال تک امت کی محرومیت کا ذمہ دار قرار دیا ، حالانکہ انگریز سے برصغیر کو آزاد کرانے میں ان تحریکوں کو بنیادی حیثیت حاصل تھی اور مسلمان آج تک اس شاندار کامیابی پرفخر کرتے ہیں، صرف سرسید احمد خان جیسے انگریز کے وفاداروں نے ان تحریکوں کو غلط قرار دیا تھا اور اب آپ یہ فریضہ ادا کر رہے ہو۔ کسی نے کیاخوب کہاہے :
فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
میرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے 
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا
حافظ صاحب نے صفحہ ۹۰ پریہ بھی لکھاہے کہ اگر جہاد فرض عین ہوجائے تو پھر بھی عوام پرفرض نہیں ہوگا بلکہ حکومت وقت پرفرض ہوگا۔ حافظ صاحب کی یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔ اس کی وجہ بھی حافظ صاحب کی فرض عین سے لاعلمی ہے۔ بے چارے نے نہ فرض عین کو سمجھا، نہ فرض کفایہ کو۔ حافظ صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ فرض عین میں سارے ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں اور ہر آدمی کی ذاتی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ دفاع کرے۔ وہاں نہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور نہ طاقت کے توازن کو دیکھا جاتا ہے۔ 
آٹھویں غلطی
صفحہ نمبر ۹۰ پرحافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’سورہ توبہ میں تو یہ ہے کہ اہلیت اور اسباب و ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے قتال غزوۂ تبوک کے موقع پر بھی فرض نہیں ہوا، جبکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قتال کے لیے نفیر عام تھی۔‘‘
جواب
حافظ زبیر صاحب نے یہاں بھی سنگین غلطی کی ہے کہ غزوۂ تبوک کی فرضیت کا انکار کیا ہے، حالانکہ اسلام میں غزوہ تبوک سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ ہے۔ تیس ہزار صحابہ کرام کا لشکر نہایت بے سروسامانی کے ساتھ سلطنت روما کی طاقتور فوج کے مقابلہ کے لیے نہایت گرمی میں ایک ماہ کی طویل مسافت پر مدینہ منورہ سے روانہ ہو۔ جس طرح آج کل منافقین جہاد پر اعتراضات کرتے ہیں، اس وقت بھی منافقین نے بہت سے اعتراضات کیے اور جھوٹے بہانے کر کے پیچھے رہ گئے۔ صحابہ کرام کی پوری جماعت میں صرف تین مخلص ایسے تھے جو سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کی اس طرح شدید گرفت ہوئی کہ پچاس دن تک ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا، حتیٰ کہ بیویوں سے بھی ان کو جدا رکھا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائیَ۔ غزوہ تبوک میں جہاد کے لیے نفیر عام بھی ہوئی تھی اور نفیر عام سے جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے قطعی اور فرض عین جہاد کے متعلق حافظ صاحب کہتے ہیں کہ یہ جہاد فرض بھی نہیں تھا۔ ارے ظالم!اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے بعد بھی فرض نہ ہوا؟ یہا ں حافظ صاحب نے قر آن پر جھوٹ بولاہے کہ سورۃالتوبہ میں اس طرح لکھا ہے، حا لانکہ سورۃالتوبہ میں نفیر عام کا اعلان ہے۔ 
اس عبارت میں جگہ جگہ حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر جہاد فرض عین بھی ہوجائے تو پھر بھی یہ حکومت پر فرض عین ہوگا، عام مسلمانوں پر فرض نہیں ہو گا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کو نہ فرض عین کا علم ہے اور نہ فرض کفایہ کا۔ یہ علم فقہا، علما اور تاریخی حقائق سے ملتا ہے اور حافظ صاحب کو بد قسمتی سے ا ن حضرات کے فرمودات پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے بے لگام قلم چلا تے جا رہے ہیں:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ 
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی 
فقہا، علما اور شارحین حدیث تو لکھتے ہیں: ان ھجموا علیناسقط الکل، یعنی دشمن کے ہجوم کرنے سے جہاد کی تمام شرائط ساقط ہو جائیں گی، نہ حکومت کی ضرورت ہو گی، نہ طاقت کی ضرورت ہو گی، نہ دعوت کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی سے کسی کے اجازت لینے کی ضرورت رہے گی۔ 
نویں غلطی
صفحہ ۹۰ پرحافظ زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’عام طورپر جہادی تحریکوں کے رہنماؤں کی تقاریر اور علما کی تحریروں میں عوام الناس کو ایک مغالطہ یہ بھی دیا جاتاہے کہ ریاست کے بغیر ہونے والے اس جہاد کے نتیجے میں کل ہی امریکہ کے ٹکڑے ہوجائیں گے یا انڈیا فتح ہو جائے گا یا اسرائیل دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا، اس لیے ہمیں یہ قتال ضرور کرنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ معاصر جہادی تحریکوں کے قتال کے نتیجے میں امت مسلمہ کومجموعی سطح پر کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا ضرر پہنچ رہا ہے۔‘‘
جواب
حافظ صاحب نے ایک شکست خوردہ ذہنیت کے مالک اور جہاد سے نفرت رکھنے والے شخص کی طرح ہر جانب سے جہادی تحریکوں پر نفرت انگیز قلم چلایا ہے، بلکہ مستقبل کی کامیابی پر بھی اعتراضات کیے ہیں، حالانکہ وہ کامیابی ابھی وجود میں بھی نہیں آئی۔ مذکورہ عبارت کے ضمن میں حافظ صاحب نے بھرپور انداز سے جہادی تحریکوں کے جہاد کو ’’بغیر ریاست کے ہونے والا جہاد‘‘ کہہ کر غلط قرار دیاہے۔ حافظ صاحب نے جگہ جگہ حکومت کے بغیر جہاد کرنے پر اعتراض کیا ہے۔ یہی اعتراض برطانیہ کی حکومت نے افغانستان کے مجاہدین پر کیا تھا۔ جب والی افغانستان جنرل عبدالرحمن برطانیہ کی فوجوں کے خلاف افغانستا ن میں لڑ رہے تھے، اس وقت فرنگیوں کے دارالافتاء سے یہ فتویٰ جاری ہو گیا تھا کہ امیر کے بغیر جہاد جائز نہیں ہے، مسلمانوں کے ترکی عثمانی خلیفہ کی طرف سے جہاد کا حکم آنا چاہیے۔ انگریز کی اس چال سے مسلمان تذبذب کا شکار ہو گئے اور عبدالرحمن کی تحریک کو بہت نقصان پہنچا اور پھر خلافت ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد فرنگیوں نے اس چال کو ضرورت کے مطابق ہر موقع پر استعمال کیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں بھی سر سید احمد خان نے اسی طرح کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ پھر امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف منظم طور پر اس فتویٰ کو جاری کیا۔ اس کے بعد طالبان کے خلاف امریکہ نے یہی پروپیگنڈا کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھی جہادی تحریکوں کے خلاف ہندوستان نے یہی حربہ استعمال کیا اور کر رہا ہے۔ پروفیسر غامدی صاحب بھی یہی رونا رو رہے ہیں کہ پرا ئیوٹ جہاد صحیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عرب وعجم کے ملحدین جہاد کے خلاف یہی حربہ استعمال کر رہے ہیں اورحافظ صاحب بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں۔ 
ایک دفعہ بنوری ٹاؤن میں ریڈکراس کا ایک وفد آیا۔ دوران گفتگو میں نے اس سے کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیاہے، نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانا ہے اور قرآن مجید کو اللہ کا کلام تسلیم کیاہے۔ اس قرآن میں دیگر تعلیمات کے ساتھ ساتھ جہاد کا حکم بھی ہے اور ہم نے اس کو بھی تسلیم کیا ہے۔ تو ہم اگر مسلما ن ہیں تو جہاد کا انکار کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں۔ وفد کے سر براہ نے کہا کہ جہاد ہونا چاہیے، لیکن حکومت کی سطح پر ہونا چاہیے، تنظیموں کی سطح پرصحیح نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ حکومت کو تو آپ نے پابند کیا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں لکھاہے کہ ’’مذہبی بنیاد پر جنگ ممنوع ہے‘‘۔ اس پر مسلمان حکومتوں نے دستخط کیے ہیں۔ اور مذہب کے نام پر جو جنگ ہوتی ہے، وہی جہاد ہے اور مذہب صرف مسلمانوں کے پاس ہے، لہٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ مسلمانو ں کے لیے جہاد ممنوع ہے۔ ریڈکراس کا وفد خاموش ہو گیا۔ 
میں حافظ صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے روس کے خلاف جہاد ی تحریکوں کے خلاف اس طرح زہریلا قلم کیوں نہیں چلایا؟ حالانکہ اس وقت جہادی تنظیمیں آج کی نسبت زیادہ تھیں۔ شاید آج کل امریکہ کے خلاف جہاد ہو رہا ہے جس سے حافظ صاحب کو جلن ہو رہی ہے۔ میں حافظ صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتاہو ں کہ حکومتی سطح پرجہاد کا اچھا ہونا مسلم ہے، لیکن اگر یہ صورت میسر نہ ہو تو پھر مجاہدین اپنا امیر بنا کر جہاد کریں گے۔ 
امام بخاری ؒ نے جنگ موتہ کے موقع پر خالدؓ بن ولیدکے امیر بن جانے کے لیے یہ عنوان باندھا ہے: ’’باب من تأمر فی الحرب من غیر امرۃ‘‘ یعنی مرکز سے امیر بنائے جانے کے بغیر مجاہدین کی طرف سے امیر بن جانے کے بیان میں۔ اسی طرح حضرت حسین کو ان کے مجاہدین نے امیر بنایا، حالانکہ مرکزی حکومت بنوامیّہ کی تھی۔ اسی طرح محمد نفس زکیہ کو مجاہدین نے امیر بنایا، حالانکہ مرکزی حکومت بنو عباس کی تھی۔ اس وقت امام ابو حنیفہ ؒ نے بھر پور فتویٰ دیاتھا کہ نفس زکیہ کا جہاد صحیح ہے، بلکہ عیسائیوں کے مقابلے میں جہاد سے زیادہ افضل ہے۔ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ نے اس کی پوری تفصیل اپنی کتاب ’’امام ابو حنیفہ ؒ کا سیاسی مقام‘‘ میں لکھ دی ہے۔ اس کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف حضرت مولاناگنگوہی ؒ اور حضرت مولاناقاسم نانوتوی ؒ اور حضر ت امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے مل کر ایک امیر بنایا اور جہاد کیا۔ اس کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح سید احمد شہید کو مجاہدین نے امیر بنایا۔ ان کے اس مبارک جہاد کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت جو لوگ جہاد سے نفرت کرتے ہیں، وہ اس طرح کی باتیں کر کے عوام الناس کے ذہنوں میں تشویش پیدا کرنا چاہتے ہیں، ورنہ یہ بات واضح ہے کہ حکومتی سطح پردنیامیں کہیں بھی جہاد نہیں ہو سکتا۔ جوحکمران دین کو مٹانے کے درپے ہیں، وہ دین کو بچانے کے لیے جہاد کیوں کریں گے! میں پھر کہتاہوں کہ روس کے خلاف پرا ئیویٹ جہاد کے خلاف حافظ صاحب نے کیوں نہیں لکھا جو آج یہ زہریلالعاب پھینک رہے ہیں؟ 
حافظ صاحب کو یہ بھی پریشانی ہے کہ ان کو بتایا جائے کہ ا س جہاد سے امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان؟ میں کہتاہوں کہ حافظ صاحب خود بتادیں کہ کیا فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیل کاقبضہ جائز ہے اور کیاعراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دو دفعہ حملہ اور قبضہ درست ہے اور کیا افغانستان کے مظلوم عوام کے خلاف B-52 تباہ کن جہازوں سے کیمیائی اسلحہ اور محدود ایٹمی اسلحہ استعمال کرنا اور پھر قبضہ جمانا جائز ہے اور پھر پاکستانی حدود کو پامال کرنا جائز ہے؟ اور کیا بھارت کا سات لاکھ افواج کے ذریعے سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی عزت و آبرو سے کھیلنا جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہیں ہے تو حافظ صاحب خود بتائیں کہ اب فائدہ کس بات میں ہے؟ کیاکفار کے مظالم کے سامنے ہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھنے میں فائدہ ہے جس طرح حافظ صاحب چاہتے ہیں، تاکہ کفار پورے عالم پر بلامزاحمت قبضہ کر کے اسلام اور مسلمانوں کا صفایا کر دیں؟ حافظ صاحب کو یاد رکھناچاہیے کہ یہ تعلیم نہ قرآن کی ہے نہ حدیث کی ہے اورنہ انسانی غیرت و حمیت کی ہے! ایک افغانی نے حافظ صاحب کا مضمون کا دیکھ کر کہا کہ اس آدمی کو نہ ارد گرد کے حالات سے کوئی واسطہ ہے، نہ اپنے بیٹھنے کی جگہ اور حدود اربعہ کی کوئی فکر ہے، نہ اس کو اپنے ملک کی حدود سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ اپنے مستقبل کی فکر ہے! بس دین و دنیا سے بے نیاز ’’بادشاہ‘‘ آدمی ہے، اس کو اسی حالت میں رہنے دینا چاہیے۔ 
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ روس کے ظالم پنجے سے وسط ایشیاکی بارہ ریاستیں آزاد ہوئیں، سطح زمین پر بوسنیا کی مسلمان حکومت وجود میں آگئی اور مسلمانوں کی پچاس حکومتوں کی جگہ اب چھپن حکومتیں بن گئیں، پاکستان روس کے تسلط سے بچ گیا، لاکھوں مسلمانوں کو شہادت کا عالی رتبہ مل گیا، جہاد کا مقدس فرض زندہ ہو گیا اور دنیا میں اس کا تعارف ہو گیا، افغانستان پرطالبان کی اسلامی خلافت قائم ہوئی، دنیاکو عدل و انصاف اور اسلامی طرز حکومت کا نقشہ مل گیا جو کسی وقت کہیں بھی قائم ہو سکتاہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم جہاد کی تعمیل کی اورجہاد زندہ ہو گیا، کیا یہ جہاد کے فائدے نہیں؟ 
۲ جنوری ۲۰۰۹ء کے روزنامہ امت میں اسلامی صفحہ پر بوسنیاکے بارے میں وہاں کے مفتی اعظم مصطفی آفندی کا بیان شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برسوں بعد مساجد اور دینی اداروں میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری سطح پر دینی تعلیم کے لیے ادارے قائم ہو رہے ہیں، مساجد میں بچوں کی تعلیم زیادہ ہوتی ہے، جنگ سے قبل یہاں ڈاڑھی اور حجاب کا رجحان نہیں تھا، مگر اب یہاں ڈاڑھی والے حضرات اور باحجاب خواتین عام نظر آتی ہیں اور بہت سی شاہراہیں جو ماضی میں کمیونسٹ شخصیات کے ناموں سے موسوم کر دی گئی تھیں، انہیں دوبارہ اسلامی ہیروز کے نام موسوم کر دیا گیا ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ انڈین فوج کے قبضہ کے باوجود وہاں فحاشی کے اڈے اور شراب خانے مجاہدین کے حکم پر بند ہیں۔ وہاں کے مسلمان کہتے ہیں کہ جہاد کی برکت سے ہمارے سر فخر سے بلند ہیں۔ حافظ زبیر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جہاد بڑے فتنے کو توڑتا ہے تو چھوٹے فتنے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں اور اس عالم میں فساد صرف اس لیے ہے کہ جہاد عام نہیں ہے۔ جہاد سے عالم کا فساد ختم ہو جاتا ہے اور امن قائم ہو جاتا ہے، اگرچہ وقتی طور پر تجارتوں اور اداروں کو عارضی نقصان ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے: ’’وتجارۃ تخشون کسادھا‘‘ یعنی تجارت کی عارضی کساد بازاری سے اگر تم ڈر کر جہاد چھوڑو گے تو اجتماعی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ 
حافظ صاحب اپنے مضمون کے صفحہ ۹۱ پر یہ رونا رو رہے ہیں کہ عراق سے اگر امریکہ نکل بھی جائے تو وہاں امریکہ نے پیچھے کیاچھوڑا ہے! ملک کھنڈر بن گیا ہے اور اگر بفرض محال امریکہ وہاں سے نکل بھی جائے توکیا گارنٹی ہے کہ وہ پھر حملہ نہیں کرے گا اور اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ امریکہ کے بعد وہاں سنی حکومت ہو گی یا شیعہ حکومت ہوگی! ان عبارتوں سے کس قدر عیاں ہے کہ حافظ صاحب امریکہ کی وفاداری میں زور قلم لگا رہے ہیں اور طرح طرح کے مفروضے بناکر مجاہدین کو کس طرح بدنام کر رہے ہیں! میں پوچھتا ہوں کہ کیاعراق کی اس شورش کے ذمہ دار مجاہدین ہیں یا امریکہ؟ افغانستان کے مظا لم کا ذمہ دار امریکہ ہے یا مجاہدین؟ کشمیر کے مظالم کا ذمہ دار انڈین آرمی ہے یا مجاہدین؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے علاقے کے لوگوں کا حق ہے، ان کو اس سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے اور ان پر مظالم کیوں ڈھائے جا رہے ہیں؟ 
حافظ صاحب نے یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ فدائی حملہ میں اگر دو امریکی مرتے ہیں تو پچاس مسلمان بھی شہید ہوتے ہیں۔ میں اتنا عرض کروں گا کہ فدائی حملہ میں کسی فداکار کسی سے پوچھتا نہیں، نہ کسی سے مشورہ کرتاہے کہ آپ اس فدائی کارروائی کو کسی تنظیم پر ڈا ل دیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک مسلمان کو فدائی کارروائی اور اس انتہائی اقدام پر کس چیز نے مجبور کر دیا ہے؟ آپ نے ان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دیااور جرم کا سارا ملبہ خودکش بمبار پر ڈال دیا حالانکہ فلسطینی عوام اور عراقی، افغانی اور پاکستانی عوام خودکش حملے کو نہیں جانتے تھے، لیکن جب امریکہ کی جانب سے مظالم کے پہاڑ ان مظلوموں پرٹوٹنے لگے، تب خودکش حملے شروع ہو گئے جو در حقیقت دیگر کش حملہ ہوتا ہے۔ 
’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں، جس میں حافظ صاحب کا مضمون چھپا ہے، ’’آداب القتال‘‘ کے عنوان سے جناب مشتاق احمد صاحب کا ایک عمدہ مضمون بھی چھپا ہے جس میں فصل پنجم کے تحت مشتاق احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اگر خود کش حملوں کے جواز و عدم جواز کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ا ن کے جواز کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا کرنا لازم ہو گا:
اولاً یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران کیاجائے نہ کہ حالت امن میں ،
ثانیاً یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو،
ثالثاً یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں،
رابعاً یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو۔ 
اب حافظ صاحب اپنے مضمون پر غور کریں جو فرما رہے ہیں کہ اگر کسی فدائی کارروائی کے نتیجے میں دو امریکی فوجی واصل جہنم ہوتے ہیں تو پچاس مسلمان بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ کیا یہ ں امریکی فوجی مقاتلین نہیں ہیں جو ہزاروں میل دور سے آکر افغانستان پر قابض ہوچکے ہیں؟ کیایہ اتنے محترم و مقدس ہیں کہ ان کو پھولوں کا ہار پہنایا جائے؟ حافظ صاحب نے یہاں بھی ایک فرضی اور غیر واقعی صورت بنا کر پچاس مسلمانوں کی شہادت کی بات کی ہے حالانکہ خودکش بمبار انتہائی محتاط انداز سے صرف کافروں کے خلاف حملہ کرتا ہے۔ اگر کافروں کی حفاظت پرمامور یاان کی مجلس میں مزے لینے والے نام نہاد مسلمان مارے جاتے ہیں تو حدیث کے حکم کے مطابق اس مسلمان کاخون رائیگاں جائے گا۔ ہاں پاکستانی علاقوں میں یا مساجد اور امام باڑوں میں یا پبلک مقامات میں اس طرح خودکش حملوں کو ہم جائز نہیں سمجھتے! 
حافظ صاحب نے یہا ں ایک مسلمان کے خون کو کعبے سے زیادہ محترم ثابت کر کے اس جرم کا سارا ملبہ مجاہدین پرپھینکنے کی کوشش کی ہے۔ کسی مسلمان کا ناجائز خون گرانے کو کس نے جائز قرار دیاہے؟ ہم تو اس کو حرام سمجھتے ہیں، لیکن افسوس سے لکھنا پڑتاہے کہ حافظ صاحب کو اتحادی افواج کی اندھا دھند بمباری نظر نہیں آتی جس کے نتیجے میں پبلک مقامات اور رہایشی علاقوں میں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کاقتل عام ہوتاہے اور نہ حافظ صاحب کو اسرائیل کے مظالم نظر آرہے ہیں جو روزانہ فلسطینیوں کاقتل عام کر رہا ہے اور یہ ظلم مستقل معمول بن گیاہے۔ پاکستانی علاقوں میں امریکہ اور پاکستانی افواج کی اندھا دھند بمباری سے جو بے گناہ عوام قتل ہو رہے ہیں، یہ حافظ صاحب کے علم میں نہیں ہیں اورنہ ان سے ان کو ہمدردی ہے۔ ان کوتوصرف امریکیوں کا غم کھائے جا رہاہے۔ یاد رکھو! جب تک خودکش حملوں کے اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا، مجبوری کے یہ حملے ہوتے رہیں گے، لیکن خود کش حملوں کی ہدایت کسی مجاہدیاعالم یامفتی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اتحادی افواج اور عالمی باطل نظام اور ان کے مظالم نے اس میدان کو گرم کیا ہے۔ 
امام محمد ؒ نے’’ سیر کبیر‘‘ میں کفار پر فدائی حملے کی تفصیل اس طرح بیان کی فرمائی ہے: اگر ایک مجاہدایک ہزار پر فدائی حملہ کر ے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ ا س کو اپنے بچنے اور کافروں کو نقصان پہنچنے کی امید ہو۔ اگر ان دونوں فائدوں کی امید نہ ہو تو پھر اس طرح کی فدائی کارروائی اچھی نہیں ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کے فائدے کے بغیر اپنی جان کو ضائع کرنا ہے۔ اور اگر فدائی کارروائی سے اس مجاہد کی نیت دوسرے مسلمانوں کو یہ جرأت دلانا مقصود ہو کہ جس طرح میں نے کیا، تم بھی اس طرح جرأت کرو تو اس طرح فدائی عمل بھی جائز ہے، کیونکہ اس میں بھی مسلمانوں کا ایک طرح کا فائدہ ہے اور اگر اس مجاہد فداکار کا مقصد یہ ہو کہ اس طرح فدائی کارروائی سے کفار ڈر جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ سارے مسلمان اس طرح بہادر ہوتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ اس میں بھی فائدہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جان کی قربانی ایسے طریقے سے دینا جس میں اسلام کی عظمت ہو اور کفر کی کمزوری ہو، ایک عالی شان کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ (بحوالہ ابن نحاس، مشارع الاشواق، ص ۵۲۰) 
دسویں غلطی
صفحہ ۹۲ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کس پرفرض ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں جہادی تحریکوں کے موقف سے اختلاف ہے۔ ہمارے مؤقف کے مطابق کشمیر کا جہاد پاکستانی حکمرانوں اور افواج پر فرض ہے۔‘‘
جواب
حافظ زبیر صاحب نے اس خود ساختہ قاعدے کو اپنے مضمون میں بار بار ذکر کیا ہے۔ دراصل حافظ صاحب کو یہ فکر نہیں ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی کسی طرح مدد و نصرت ہو جائے، بلکہ ان کو یہ دلچسپی ہے کہ جہاد کا وجود ختم ہو جائے کیونکہ مجاہدین کے لیے جب جہاد حرام ٹھہر جائے گا اور حکمران جہاد کو مانتے نہیں ہیں اور قرآن کا اعلان ہے کہ یہ کافر مسلسل اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے مرتد نہ کردیں تو اب عوام اور مسلمان دونو ں تماشا دیکھتے رہیں گے اور کفار مسلمانوں کو ان کے دین سے مرتد بناتے جائیں گے یاقتل کرتے رہیں گے اور یہی کچھ ہو رہا ہے جو پوری دنیا کے سامنے ہے۔ حافظ صاحب کا فلسفہ، ڈاکٹر اسرار صاحب کا فلسفہ ہے جنھوں نے خلافت اسلامیہ کے قیام کا اعلان بھی کر رکھا ہے، تنظیم اسلامی بھی بنا رکھی ہے مگر ایک دفعہ جہاد کے موضوع پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ انھوں نے بیان کیا اور آخر میں کہہ دیا کہ یاد رکھو، میری تقریر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بندوق اُٹھا کر مسلح جنگ شروع کر دو، بلکہ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ تم ذہنی انقلاب برپا کر دو اور فکری سوچ کی راہنمائی کر کے اسلامی انقلاب لاؤ۔
میں حافظ صاحب سے صرف یہ سوال کروں گا کہ آپ نے کب سے دین اسلام کو عوام اور حکمرانوں کے درمیان تقسیم کر دیا ہے کہ جہاد حکمران کریں اور نماز عوام پڑھیں؟ فقہا نے تویہ فتویٰ دیا ہے کہ جب حکمران جہاد میں سستی کریں یا انکار کریں یا بزدلی کا مظاہرہ کریں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنا امیر مقرر کر کے جہاد شروع کر دیں۔ حافظ صاحب کو سوچنا چاہیے کہ جمعات اور عیدین کے قائم کرنے کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہے، لیکن جب حکمرانوں نے نماز پڑھنا چھوڑ دیا تو ان تمام چیزوں کو مسلمانوں نے علما کی سرپرستی میں شروع کر دیا اور حکمرانوں کی آمد کا انتظار نہیں کیا۔ تو کیاصرف جہاد میں انتظار فرض ہے؟ حالانکہ فقہا نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ جہاد جب فرض عین ہو جائے تو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے نکلیں گے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے کہ ’’فان ھجم العدو علی بلد وجب علی جمیع الناس الدفع تخرج المرأۃ بغیر اذن زوجھا والعبد بغیر اذن المولی لانہ صار فرض عین‘‘ حافظ صاحب بتائیں کہ کیا یہاں عورت اور غلام کوئی حکمران ہیں جن پر جہاد فرض عین ہو گیا؟ یہ تو عوام الناس میں سے بھی پردہ نشین مخلوق ہیں، ان پربھی جہاد فرض ہو جاتا ہے جب حالات بدل جاتے ہیں۔ 
حافظ صاحب نے جگہ جگہ لکھا ہے کہ حکمرانوں کے پاس مقابلہ کی استطاعت بھی ہے، اسباب ووسائل بھی ہیں اورافواج پاکستان تنخواہ بھی لیتی ہیں اور مجاہدین کے پاس اسباب بھی نہیں، استطاعت کا پتہ بھی نہیں چلا جن کے سامنے عراق میں دنیا بھر کے کفار بے بس نظر آرہے ہیں۔ وہ آزادانہ طور پر عراق میں چار قدم سفر نہیں کر سکتے اور افغانستان میں تو چالیس ممالک کی فوجیں اکٹھی ہو گئی ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے کیمپوں اور بکتر بند گاڑیوں سے باہر نہیں آسکتے۔ اس لاؤ لشکر کا آخر کون مقابلہ کر رہاہے جس کے بارے میں ان کے اپنے فوجی جرنیل اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اس جنگ کو مسلح مقابلے کے ذریعے سے نہیں جیت سکتے؟ آپ کو اپنے ملک کے اندراپنی فوج نظر نہیں آرہی جو مٹھی بھر مجاہدین کے سامنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سے لیس ہو کر پھر بھی زمینی مقابلہ سے مکمل طور پر عاجز ہے! اسی لیے وہ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور ایف سولہ جنگی طیاروں سے جنگ جیتنے کی کوشش کر رہی ہے مگر پھر بھی ناکام ہے۔
گیارہویں غلطی
صفحہ ۹۳ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کشمیر میں کون سی عسکری تنظیم اپنا اقتدار قائم کرے گی۔ ‘‘
جواب
دراصل حافظ صاحب نے یہاں لمبی چوڑی باتیں لکھ دی ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر بفرض محال کشمیر انڈیا سے آزاد ہو بھی جاتا ہے تو وہاں آل پارٹیز حریت کانفرنس پرمشتمل سیاسی وسماجی تیس تنظیمیں ہیں، آیا کشمیر پر ان کی حکومت ہوگی یا پاکستان کی حکومت ہو گی؟ حکومت پاکستان اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے کام نہیں کررہی، بلکہ صرف کشمیر کی آزادی کے لیے قربانی دے رہی ہے۔ اگر مجاہدین کا بھی یہی موقف ہے تو پھر ان کا جہاد کہاں گیا؟ اور اگر یہ تمام سیاسی تنظیمیں حکومت سے دست بردار ہو کر کشمیر کو مجاہدین کے حوالے کردیں گی توپھر بھی سوال باقی رہتاہے کہ مجاہدین کی وہاں سترہ تنظیمیں ہیں، آخر کون سی عسکری تنظیم اپنا اقتدار قائم کرے گی۔ 
میں حافظ صاحب سے اتنا عرض کروں گاکہ اگر آپ کو واقعی مستقبل کی فکر ہے تو آپ مستقبل کا انتظار کریں، مستقبل کے آنے سے پہلے شکوک وشبہات پر عمارت قائم کر کے جہاد کو نشانہ بنانے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ آپ کو جب علم غیب نہیں ہے تو آپ غیب کا یقینی فیصلہ کیوں کرتے ہو؟ اور اگر اندازے سے بات کرتے ہو تو جس طرح آپ نے ایک غلط نقشہ پیش کیاہے، آپ اچھا نقشہ کیوں پیش نہیں کرتے ہو؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ اچھانقشہ پیش کرتے اور لکھتے کہ بھائی! کفر کے خلاف جہاد ہے، ان شاء اللہ اس کا اچھانتیجہ نکلے گا، مسلمان آزاد ہو جائیں گے، پھر وہ مستقبل کا فیصلہ آزادانہ طور خود کریں گے اور طالبان کی طرح ایک اسلامی خلافت قائم ہو جائے گی۔ جب آپ کواندازے ہی سے لکھنا تھا تو آپ نے اچھا اندازہ کیوں نہیں لگایا؟ معلوم ہوتاہے کہ آپ کو جہاد اور مجاہدین سے نفرت ہے اور مظلوم مسلمانوں کے لیے آپ کے دل میں ہمدردی نہیں ہے۔ آپ کے قلم کی دنیامیں اور معلومات کے میدان میں جو بات بھی لکھتے ہو، اس سے صرف مجاہدین کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ آپ طرح طرح کے مفروضے بناتے ہو اور پھر غلط نتائج نکال کر مجاہدین کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہو۔ آپ سے اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ آپ کی تنظیم اسلامی پر ڈاکٹر اسرار صاحب نے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں اور کررہے ہیں، آپ مجھے بتائیں کہ آپ کے پاس کامیابی کی یقینی گارنٹی کہاں ہے؟ آپ اس ملک میں تنظیم اسلامی کی نشستن وگفتن اور خوردن و برخاستن کے علاوہ کوئی واضح کامیابی تو بتائیں؟ جب آپ مستقبل میں اچھے نتیجے کی اُمید پریہ ساری محنت کر رہے ہو، حالانکہ نتیجہ نظر نہیں آرہاتو آپ مجاہدین کے لیے ایک غلط نتیجہ کیوں طے کرتے ہو ؟
بارہویں غلطی
حافظ صاحب صفحہ ۹۴ پر لکھتے ہیں کہ پاکستان میں جن لوگوں پر ان تحریکوں کی طرف سے کفر وشرک کے فتوے لگائے جاتے ہیں، انہیں کی آزادی کے لیے قتال کو عامۃالناس پر فرض عین قرار دیا جاتا ہے۔ مشرکین کی آزادی کے لیے مسلمانوں پرقتال کیسے فرض عین ہو گیا؟ 
جواب
اب تک حافظ صاحب یہ لکھ رہے تھے کہ کشمیر کا جہاد فرض عین ہے، میں اس کا انکار نہیں کرتا مگر یہ حکمرانوں اور پاکستانی افواج پرفرض عین ہے۔ اب حافظ صاحب کے اندر سے وہ بات باہر آگئی جس کو وہ چھپا رہے تھے۔ وہ بات یہ تھی کہ کشمیر میں جہاد جائز نہیں ہے، نہ حکمرانوں کے لیے جائز ہے، نہ عوام پر فرض ہے، کیونکہ کشمیر ی عوام مشرک ہیں۔ میں حافظ صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیاپورے مقبوضہ کشمیرکے عوام مشرک ہیں؟ آپ کو اس کا علم کہاں سے ہو گیا؟ ہمیں جو معلومات پہنچی ہیں، ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر کا ایک بڑا حصہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا ہے۔ نیز جہاد بڑے فتنے کوتوڑتا ہے، اس کے بعد چھوٹے فتنے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کی واضح مثا ل افغانستان ہے جہاں بدعات وشرکیات کا بازار گرم تھا، لیکن مجاہدین کی آمدورفت اور جہاد کے مبارک عمل سے وہ لوگ صحیح العقیدہ بن گئے۔ ان شاء اللہ کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کو مجاہدین اور جہاد پرگھما پھرا کر اعتراض کرنے کا شوق رہتاہے، اس لیے یہ بات اڑا دی۔
چند سطر آگے چل حافظ صاحب یہ گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ ہم جہاد کشمیر کو فرض عین سمجھتے ہیں، لیکن ریاست کے حکمرانوں اور افواج پاکستان پر، عامۃ الناس کے لیے ہمارے نزدیک جہاد ی ٹریننگ تولازم ہے لیکن جہاد کشمیر نہیں۔ حافظ صاحب نے وہی علمی غلطی پھر دہرائی کہ جہاد فرض عین ہے مگر حکمرانوں پر، حالانکہ فرض عین کا تعلق ہر فرد بشر کے ساتھ ہوتاہے، خواہ حاکم ہو یا محکوم، خواہ مرد ہو یا عورت، آ زاد ہو یاغلام۔یہاں تک کہ فقہا نے لکھاہے کہ چھوٹے بچے بھی اس میں نکل سکتے ہیں۔ وہ اگرچہ لڑنہیں سکیں گے لیکن مسلمانوں کی جماعت کو بڑھا سکتے ہیں۔ حافظ صاحب نے یہاں خود ساختہ نئی شریعت متعارف کرائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حافظ صاحب نے عوام الناس کے لیے ٹریننگ کو لازم قرار دیاہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب جہاد ان کے لیے جائز نہیں تو جہاد کی ٹریننگ کر کے اس کی سند کو چاٹیں گے یا اس کا دیدار کریں گے؟ حافظ صاحب نے یہاں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ بھی کیاہے کہ’’اے نبی! مسلمانوں کو قتال پر ابھاریں‘‘ یہاں قرآن میں عام مسلمان مراد ہیں، لیکن حافظ صاحب کے ذہن میں یہاں بھی حکمران مراد ہیں جو قرآن کے مفہوم میں تحریف کے مترادف ہے۔ 
حافظ صاحب نے صفحہ ۹۶ پرعلامہ ابن قیمؒ کی ایک عبارت کا ترجمہ کیا ہے کہ انکار منکر کے چار درجات ہیں کہ اس سے یا ظلم ختم ہو جائے یا کم ہو جائے یا اس منکر کی جگہ اسی طرح کا منکر آ جائے یا اس سے بدتر منکر آ جائے۔ اس عبارت سے بھی حافظ صاحب نے مجاہدین اورجہاد کو نشانہ بنایا ہے کہ ان کے جہادکے نتیجے میں ظلم بڑھ رہاہے۔ میں حافظ صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ مسلمانوں کو کیا مقام دینا چاہتے ہو؟ آپ کے خیال میں اگر مسلمان اور مجاہدین بالکل خاموش بیٹھ جائیں تو کیاعالم میں امن آجائے گا؟ اگر ایسا ہو گیا تو قرآن کا ایک بڑاحصہ منسوخ اور معطل ہو کر رہ جائے گا جس میں کہاگیاہے کہ اگر تم خاموش بیٹھ گئے اور دفاع نہ کیاتو کافر تمہیں مرتد بنادیں گے اور زمین فساد سے بھر جائے گی، اور اسی طرح احادیث معطل ہو جائیں گی۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ اگر تم جہاد چھوڑ دوگے اور دنیا کمانے کے پیچھے لگ جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردے گا۔ اب مسلمان قرآن و حدیث پرعمل کریں یا حافظ زبیر صاحب کی خود ساختہ، شکست خوردہ ذہنیت کی پیروی کریں؟ 
حافظ صاحب نے صفحہ ۹۹ پر علماے دیوبند سے لے کر ڈاکٹر اسرار صاحب تک عرب وعجم کے مختلف علما اور دینی سربراہوں اور محبان اللہ ورسول اور لاکھوں مؤمنین وصادقین کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جہاد ی تحریکوں کے طرز جہاد وقتال کو درست نہیں سمجھتے اور اس پرگاہے بگاہے تنقید کرتے رہتے ہیں۔
حافظ صاحب نے اس مقام پربھی جرح مبہم کے طور پر مجاہدین کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ خود حافظ صاحب کا قلب مجاہدین کے لیے تاریک ہے، اس لیے تمام لوگوں کو اپنے دل پر قیاس کرتے ہیں، حالانکہ پوری دنیا کے کفار اور باطل قوتوں کے غلط پروپیگنڈوں کے باوجود مجاہدین کی عزت و عظمت الحمدللہ بلندو بالا ہے۔ اگر دنیاے عرب کے تمام حکمران ایک طرف ہو جائیں اور اسامہ بن لادن دوسری طرف ہو جائیں اور لوگوں سے انصاف پرمبنی آزادانہ رائے لی جائے تو انشاء اللہ اسامہ اور ملا عمر کاپلڑا بھاری رہے گا۔ دنیاے کفر میں جہاں جہاں انتخابات ہوئے ہیں، وہاں لوگوں نے بش اوراس کے طرف داروں سے نفرت کااظہار کرکے ان کوشکست فاش دے دی۔ خود پاکستان میں پرویز مشرف کی حکومتی کشتی کو غرقاب کرنے میں بنیادی محرک پرویز صاحب کی مجاہدین دشمنی ہی تو تھی۔ پھر حافظ صاحب کو یہ غلط بات کہاں سے ملی کہ دنیاے انسانیت مجاہدین کو اچھانہیں سمجھتی۔ میں کہتاہوں یہ حق و باطل کی جنگ ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خیر کی توفیق دیتا ہے، وہ مجاہدین وجہاد سے محبت رکھتاہے اور جس کو اللہ تعالیٰ راندۂ درگاہ بنا دیتا ہے، وہ مجاہدین سے نفرت کرتا ہے۔ 
تیرہویں غلطی
صفحہ ۱۰۰ پرحافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ ذہن میں رہے کہ قتال کی علت کفر یاشرک نہیں ہے، اگرچہ قتال اصلاً مشرکین اور کافروں سے ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو کافروں یا مشرکین سے قتال کا حکم اس لیے نہیں دیاگیا کہ وہ مشرک ہیں یا کافر ہیں۔ اسلام کامقصود دنیا کو کافروں سے پاک کرنا نہیں ہے بلکہ کافروں اور مشرکین سے قتال کے حکم کی بنیادی وجہ بھی ظلم ہی ہے۔‘‘ 
جواب
قرآن و حدیث کی تعلیمات سے علما و فقہا آج تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ کفار سے جنگ کی علت ان کا کفر اور شرک ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے باغی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں کو حکم دیا ہے کہ ان بغاوت کرنے والوں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ یا یہ مسلمان ہو جائیں اور غلبۂ کفر کا خاتمہ ہو جائے یا ان کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ جزیہ دینے پرراضی ہوجائیں یا مر کر ختم ہو جائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جہادی کمانڈروں کو یہی نصیحت فرماتے تھے کہ کفار کو اسلام کی دعوت دو، اگر مان لیں تو پھر ان سے قتال نہ کرو۔ ورنہ جزیہ کی دعوت دو، اگر ذمی بن کر رہیں گے توپھر بھی ان سے قتال نہ کرو۔ ورنہ پھر فیصلہ میدان جنگ میں ہوگا۔ قرآن کریم کا اعلان ہے: وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ ویکون الدین کلہ للّہ۔ فتنہ سے مراد کفروشرک ہے۔ قرآن کی آیت ’والفتنۃ اشد من القتل‘ کی تفسیر میں ابو العالیہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، قتادہ، ضحاک اور حسن بصری فرماتے ہیں: ای الشرک اشد من القتل۔ (ابن کثیر صفحہ ۷۲۲) مفسرین تو فتنہ سے شرک و کفر مراد لیتے ہیں، مگر حافظ صاحب کی تحقیق الگ ہے۔ وہ ظلم کو فتنہ قرار دیتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الہ الا اللّہ وان محمدا رسول اللّہ فاذا قالوھا عصموا منی دماءھم وامولھم الا بحق الاسلام وحسابھم علی اللّہ۔اس حدیث میں قتال کی غایت اور منتہی کو عدم کفر قرار دیا ہے جس کی دوصورتیں ہیں کہ یاکفار اسلام پر آجائیں یا جزیہ قبول کریں اور اسلام کے سایے میں زندگی قبول کریں۔ 
تفسیرقرطبی میں علامہ قرطبی وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ کے تحت لکھتے ہیں : امر بالقتال لکل مشرک فی کل موضع۔یعنی ’’قاتلوھم‘‘ میں ہر مشرک کے قتل کاحکم ہے، خواہ وہ کہیں پربھی ہو، جبکہ ذمی نہ ہو۔ پھر علامہ قرطبی لکھتے ہیں: وھو امر بقتال مطلق لابشرط ان یبدأ الکفار (قرطبی ج ۲ صفحہ ۳۵۳)۔ یعنی یہاں مطلق قتال کاحکم ہے، کفار کی طرف سے ابتدا کرنے کی شرط نہیں ہے۔ اس کے بعد بطور دلیل علامہ قرطبی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالاحدیث نقل فرمائی ہے اور پھر فرمایا ہے : فدلت الاٰیۃ و الحدیث علی ان سبب القتال ھو الکفر لان اللّہ تعالیٰ قال حتیٰ لاتکون فتنۃ ای کفر فجعل الغایۃ عدم الکفر وھذا ظاھرقال ابن عباس و قتادۃ والربیع و السدی وغیرھم الفتنۃ ھناک الشرک وما تابعہ من اذی المؤمنین (قرطبی ج ۲ صفحہ ۳۵۴) یعنی آیت اور حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کفار سے قتال کی وجہ اور سبب ان کاکفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حتیٰ لاتکون فتنۃ فرمایا ہے، یعنی کفر باقی نہ رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے کفار سے جنگ نہ کرنے کی انتہا اور غایت عدم کفر کو قرار دیاہے۔ یہ واضح بات ہے کیونکہ ابن عباس اور قتادہ اور ربیع اورسدی وغیرہ مفسرین نے یہیاں فتنہ سے شرک مراد لیاہے جس کے ضمن میں مسلمانوں کی ایذارسانی پڑی ہے۔ 
علامہ سرخسی ؒ سیر کبیرکی شرح ج ۱ صفحہ ۴۱ پر ایک عبارت کی شرح میں فرماتے ہیں: وانما ینتھی القتال بعقد الذمۃ۔ یعنی اگر کفار اسلام نہیں قبول کرتے لیکن ان کی شوکت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ذمیت اور جزیہ کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو قتال کی انتہا ہو جائے گی، ورنہ قتال جاری رہے گا۔ علماے شوافع وحنابلہ اورجمہور فقہا کا مسلک یہ ہے کہ قتال کی علت اور سبب کا فروں کا کفر اور شرک ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ نے ان کے کفر و شرک کے ساتھ نفیر عام کو بھی اس علت میں شامل کر دیا ہے۔ 
اب قرآن و حدیث کی تصریحات ایک طرف، مفسرین و شارحین کی تفسیر و تشریح ایک طرف، فقہاے کرام و مفتیان عظام کے فتاویٰ ایک طرف اور حافظ زبیر صاحب کی تحقیق دوسری طرف۔ ظاہر ہے کہ حافظ صاحب نے قرآن و حدیث اور فقہا کے خلاف ایک نیا فیصلہ صادر کیاہے کہ قتال کا سبب کفر و شرک نہیں ہے، نہ اسلام کا مقصود یہ ہے کہ دنیا سے کفر ختم ہو جائے، بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ظلم ختم ہو جائے۔ میں ان سے پوچھتاہوں کہ ارے ظالم! جو شخص شرک کرتا ہے، کفر کرتاہے، اللہ تعالیٰ کے دین سے روکتاہے، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں بے جا مداخلت کرتاہے، کیاوہ ظالم نہیں؟ اور کیا ظلم صرف اس کا نام ہے کہ کوئی شخص آپ کی عزت پر حملہ کر دے؟ کیا اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں پر حملہ کرنے والا کافر ومشرک ظالم نہیں؟ اسلام نے غیر مقاتلین کفار کو جو جنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، وہ یا معاہدہ وسفارت کی بنیاد پر ہے یا جنگ سے الگ ہوکر مذہبی پیشوا ہونے کی وجہ سے ہے، نہ یہ کہ وہ ظالم نہیں ہیں، جیسے راہب یا عورتیں یا بچے ہیں، لیکن اگروہ بھی قتال میں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہوں تو ان کو بھی قتل کیا جائے گا۔ فقہا نے لکھا ہے کہ دار الحرب میں جو پادری شادی کرے، اس کو بھی قتل کرناجائز ہے، کیونکہ وہ بچے پیدا کرے گا جو کفار کی فوج کو بڑھا سکتے ہیں۔ 
حافظ صاحب نے یہاں بہت غلط باتیں لکھی ہیں۔ یہ علمی غلطی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور عقلی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیے، لیکن جو شخص فقہا کا مذاق اڑاتا ہو اور اپنی مجتہدانہ رائے پر ناز کرتا ہو، وہ حق کی طرف کب رجوع کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہاں حافظ صاحب پر فکریوں کا فلسفہ سوار ہو گیا ہے۔ فکری لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں ٹکراؤ کا سبب ظلم ہے، کفر وشرک کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان حضرات کو سمجھنا چاہیے کہ کفر وشرک فساد کا سب سے بڑا ملبہ ہے۔ اس کے ضمن میں دوسری خرابیاں ہیں، خواہ وہ فساد ہو یا ظلم ہو یاخیانت ہو۔ تو اصل گندگی کو چھوڑ کر اس کی فروعات کو نشانہ بنانا کون سی عقل مندی ہے؟ حافظ صاحب نے اس مقام میں کئی آیتوں کے ترجمے کیے ہیں، لیکن بے موقع آیتوں کو پیش کرنا تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔ حافظ صاحب نے جب غلط راستہ اختیار کیا اور پریشان ہوگئے توکہنے لگے کہ ظلم سے بھی مراد وہ ظلم ہے جو متعدی ہو، فی نفسہ ظلم بھی قتال کا سبب نہیں۔ پھر کہا کہ کفر اور ظلم لازم و ملزوم ہیں۔ میں کہتا ہوں جب لازم وملزوم ہیں تو آپ نے علت قتال صرف ظلم کو کیوں قرار دیا اور غلط جگہوں میں آیتوں کو کیوں پیش کیا ہے؟ یہاں حافظ صاحب نے دین کا مفہوم بھی غلط بیان کیاہے کہ دین اجتماعی اطاعت کانام ہے، حالانکہ دین اللہ تعالیٰ کے ان وضع کردہ احکام کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی طرف ان کے اچھے اختیار کے ساتھ دیے گئے ہیں۔ 
حافظ صاحب نے صفحہ ۱۰۲ پر اجتماعی طاعت کا نتیجہ اس طرح نکالاہے کہ: ’’ظاہر بات ہے کہ کفار اور مشرکین کے عقیدے پرقائم رہنے یا اس کے مطابق عبادات کرنے سے کسی پرظلم وزیادتی نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان سے اس معاملے میں اطاعت جبراً نہیں کروائی جائے گی۔‘‘ حافظ صاحب کو جہاد کے حکم کے تدریجی مراحل کا پتہ نہیں ہے، اس لیے آیتوں سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ جہاد کے مراحل اور اس کی ترتیب کو علامہ سرخسی ؒ نے سیر کبیرج ۱، صفحہ ۱۸۸ پر اس طرح بیان کیا ہے کہ جہاد و قتال کا حکم ترتیب کے ساتھ آیا ہے۔ سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیغام رسالت پر مامور تھے اور کفار سے تعرض نہ کرنے پرمامور تھے۔ آیت ہے: فاصفح الصفح الجمیل۔ پھر آپ احسن طریقہ سے بحث ومباحثہ پر مامور کیے گئے۔ آیت ہے: ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتی ھی احسن۔ پھر آپ کو قتال کی اجازت مل گئی۔ آیت ہے: اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا۔ پھر آپ کو جوابی دفاعی جنگ کا حکم ملا۔ آیت ہے: فان قاتلوکم فاقتلوھم ۔ پھر آپ کو اشہر حرم کے علاوہ اوقات میں جنگ کاحکم ملا۔ آیت ہے: فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین۔ پھر آپ کو مطلق قتال کا حکم ملا۔ آیت ہے: وقاتلوا فی سبیل اللّہ واعلمو اان اللّہ سمیع علیم۔ یہ پوری ترتیب ہے۔ جو آدمی اس سے واقف نہ ہو، وہ خلط ملط کرے گا۔ حافظ صاحب کی مثال نابینا کی لاٹھی کی طرح ہے، جہاں پڑگئی وہاں لگ گئی۔ ان کے اس مضمون میں بے تحاشا تکرار کے ساتھ بے تحاشا تضاد اور بے تحاشا بے ربطی ہے، مگر ان کے پیش نظر صرف ایک چیز ہے، وہ یہ ہے کہ کسی طرح مجاہدین پر الزام آجائے۔ چنانچہ ظلم کے اس مضمون کا خلاصہ نکالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اور جہاد و قتال سے ظلم ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہو تو ہمارے نزدیک یہ جہاد و قتال جائز نہیں ہے۔ جہاد و قتال ظلم کوختم کرنے کے لیے ہے نہ کہ ظلم بڑھانے کے لیے۔‘‘ (صفحہ ۱۰۲) مطلب یہ کہ مجاہدین ظلم بڑھارہے ہیں۔ میں اتنا عرض کروں گا کہ حافظ صاحب بے سروسامان سربکف مجاہدین کی قربانیوں کو تو ظلم قرار دے رہے ہیں، لیکن ۴۰ کفریہ ممالک کی یلغار اورنہتے مسلمانوں پر روز بمباری کو عدل و انصاف قرار دے رہے ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے خوب کہا ہے :
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
چودھویں غلطی
مضمون کے بالکل آخر میں صفحہ ۱۰۵ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں: ’’قرآن و سنت میں قتال کے بارے میں آنے والی نصوص اور کسی جہادی تحریک کے قتال میں بہر حال زمین و آسمان کافرق ہے۔ یہ نصوص صحابہ کرامؓ کے قتال کی تائید تو کرتی ہیں کہ جن کے بارے میں ان کا نزول ہوا، لیکن کوئی جہادی تحریک ان نصوص کا مصداق بنتی ہے یانہیں، یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے ۔‘‘
جواب
قرآن وحدیث کے احکامات قیامت تک کے لیے ہیں۔ جو لوگ اس کو صحابہ کرامؓ کے دور تک محدود مانتے ہیں، وہ ان نصوص میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، بلکہ اس کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ یہاں حافظ صاحب کا پوشیدہ اشارہ بھی اسی طرف ہے کہ جہاد و مجاہدین کا دور عہد صحابہ تک تھا اور قرآنی نصوص بھی اسی وقت کے لیے تھیں۔ اب جو مجاہدین جہاں بھی کفار کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ نصوص ان کی تائید نہیں کرتیں اور نہ ان کو اپنے جہاد پر ان نصوص کو منطبق کرنے کاحق ہے، کیونکہ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ حافظ صاحب نے بہت غلط بات لکھ دی ہے۔ قرآنی نصوص کاوجود قیامت تک کے لیے ہے اور صحیح احادیث میں ہے کہ جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔ اگر حافظ صاحب کایہ دعویٰ ہے کہ اس وقت دنیامیں کہیں بھی جہاد نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نکلاکہ امت محمدیہ اجتماعی طور پر گناہ کبیرہ پرجمع ہو گئی ہے، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت اجتماعی طور پر کسی گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتی۔ قرآنی نصوص کو صحیح جگہ منطبق کرنے کو مجاہدین زیادہ جانتے ہیں۔ سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں کہ فتویٰ مجاہدین سے لیا کرو، کیونکہ ان کی راہنمائی اللہ تعالیٰ کرتاہے، جیساکہ ارشاد ہے: والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔
حافظ صاحب کا سینہ چونکہ بغض مجاہدین سے بھرا ہوا ہے، اس لیے حالت نزع کے آخر ی سانس میں بھی چبھنے والے یہ غلط جملے داغ دیے۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کے مضمون کا جواب دیناہی نہیں چاہیے تھا، کیونکہ جواب تو اس مضمون کا دیا جاتا ہے جہاں کچھ اچھا بھی لکھا ہو اور کچھ غلطیاں ہوئی ہوں تو آدمی تنبیہ کرے تاکہ کچھ فائدہ ہو۔ یہاں تو اس مضمون کی ہر سطر اور ہر جملے کو نہایت چالاکی اور تلبیس کے ساتھ اس بنیاد پر جوڑا گیاہے جس کے مجموعے سے مجاہدین اور جہاد کے خلاف زہریلا لعاب ٹپکتا رہتا ہے۔ حافظ صاحب جگہ جگہ لکھتے ہیں کہ میں جہاد کا انکار نہیں کرتا۔ ادب کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جہاد میں چھوڑا ہی کیا ہے جس کا اب آپ انکار کریں گے؟ 
حافظ صاحب نے اپنے اس مضمون میں جگہ جگہ مجاہدین کو جہاد کے متبادل راستوں کے اختیار کرنے کے مشورے بھی دیے ہیں، چنانچہ صفحہ ۸۴پر لکھتے ہیں کہ ’’جہادی تحریکوں کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ایسے جوانوں کو اکٹھاکریں جو انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ ان نوجوانوں کو مختلف اسلامی ریاستوں مثلاً سعودیہ، ایران، مصر اور پاکستان وغیرہ میں حکومتی سطح پر ایک مشن کے طور کھپایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ دین دار تاجر طبقوں خصوصاً عرب سرمایہ داروں کو اکٹھاکرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں اسلامی انڈسٹریز بنانی چاہییں تاکہ مسلمان اپنی معاشی ضرورتوں میں خود کفیل ہوں‘‘ ۔
میں کہتا ہوں کہ حافظ صاحب کو اس اچھے کام کے لیے صرف مجاہدین نظر آتے ہیں۔ یہ مشورہ حافظ صاحب ڈاکٹر اسرار صاحب کے کارکنوں کو کیوں نہیں دیتے تاکہ راتوں رات معاشی انقلاب آجائے اور اسلامی خلافت قائم ہوجائے؟ حافظ صاحب کو معلوم ہوناچاہیے کہ اسی کثرت مال نے تو مسلمانوں کو جہاد کے میدان سے دور کر دیا ہے اور وہ ذلت کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ حدیث میں تو صاف موجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میری امت کی روزی میرے نیزے کے نیچے رکھی ہے۔ یاد رکھو! تمکین ارض کاوعدہ جہاد کے کرنے سے ہے، چھوڑنے سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور راہ راست پر لگا کر استقامت عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

عبد المالک طاہر کے اعتراضات کے جواب میں

حافظ محمد زبیر

’’پاکستان کی جہادی تحریکیں۔ ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ کے زیر عنوان ہمارا ایک مضمون ’الشریعہ‘ کے نومبر؍دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون پر عبد المالک طاہر صاحب کا تبصرہ مارچ ۲۰۰۹ء کے شمارے میں دیکھنے میں آیا۔ ذیل میں ہم اس ضمن میں چند معروضات پیش کر رہے ہیں جن پر غور کرنے سے إن شاء اللہ ان کے ذہن میں پائے جانے والے کئی ایک اشکالات رفع ہو جائیں گے۔ امید ہے کہ عبد المالک طاہر صاحب اس بحث کوکس نتیجے تک پہنچانے کے لیے ان معروضات پر غور فرمائیں گے:
۱۔موجودہ حالات میں جہاد (بمعنی قتال) فرض عین ہے یا نہیں؟اگر ہے تو جہادی تحریکوں کے امراء‘ مسؤولین‘ مفتیان کرام ‘ شیوخ الحدیث ‘مدرسین صرف و نحو اور علوم لغت‘ معلمین منطق و بلاغہ تو قتال نہیں کر رہے ہیں؟ ہاں عبد المالک صاحب کے بقول اپنے خطبات‘ تقاریر‘ تعلیم و تربیت کے ذریعے جہاد( قتال) میں تعاون ضرور کر رہے ہیں؟ تو عبد المالک طاہر صاحب کے بقول فرض عین توجہاد ( قتال) میں کسی بھی قسم کا علمی ‘ اخلاقی‘ عملی ‘ مالی‘ لسانی تعاون ہوا نہ کہ خودجہاد( قتال)؟ اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں۔
چلیں! یہ تو مان لیا کہ جہادی تحریک کے شیخ الحدیث صاحب ’صحیح بخاری ‘ میں سے’ کتاب الجہاد‘ پڑھاتے ہوئے اپنے فرض عین کی ادائیگی فرما لیتے ہیں لیکن ایک جہادی تحریک سے تعلق نہ رکھنے والے شیخ الحدیث جب وہی ’کتاب الجہاد‘ پڑھاتے ہوئے موجودہ دور میں جہاد و قتال کے صحیح منہج اورطریقے کو واضح کرتے ہیں اوراحادیث بخاری کی روشنی میں جہادی تحریکوں کے غلط مناہج کی اصلاح کرتے ہیں تو ان کا فرض عین اداکیوں نہیں ہوتا؟کیا فریضہ جہاد کی ادائیگی میں علمی‘ لسانی ‘ دعوتی اورتبلیغی تعاون سے مراد صرف جہادی تحریکوں کی غیر مشروط حمایت ہے یا جہاد کے بارے میں قرآن وسنت میں بیان شدہ شرعی حکم کی صحیح تعبیر و تشریح؟اسی سے متعلقہ ایک یہ سوال بھی ہمارے ذہن میں ضرور پیدا ہوتاہے کہ شیخ الحدیث صاحب کا فریضہ جہاد تو ’کتاب الجہاد‘ پڑھا کر ادا ہو گیا لیکن جہادی تحریکوں کے مدارس میں علوم لغت و ادب و دیگر فنون کے مدرسین کا فریضہ تعاون جہاد (قتال)کیسے ادا ہوتا ہے؟ کیا علم الصرف کے پیریڈز میں جہادی تحریکوں کے مدارس میں صرف ’جاھد یجاھد مجاھدۃ وجھادا‘ کی گردان ہی سارا سال رٹوائی جاتی تا کہ علم الصرف کے مدرسین کا بھی فرض عین ادا ہو جائے؟ یا ایسا نہیں ہے۔اگر نہیں ہے تو اس قدر فرض عین کی ادائیگی تو ہر مدرسے کے طلبہ اور اساتذہ‘ ہر مذہبی تحریک کے کارکنان اور ہر سچا و مخلص مسلمان اور پاکستانی ادا کررہا ہے‘ لیکن اس جوہری فرق کے ساتھ کہ وہ پروفسیر سعید صاحب یا بیت اللہ محسود صاحب سے بیعت نہیں ہیں۔اب اس جوہری فرق کی قرآن و سنت کی روشنی میں کیا اہمیت ہے ‘ ہمیں امید ہے اس پر جناب عبد المالک صاحب ضرور روشنی ڈالیں گے۔ 
۲۔ موجودہ جہادی تحریکوں کے رہنما اللہ کے نبی کی طرح معصوم نہیں ہیں کہ ان کے جہادی منہج و طریقہ کار میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی ۔پس جب ان جہادی تحریکوں کا منہج خطا سے مبرا نہیں ہے تو اس منہج کی اصلاح بھی ان کے ساتھ علمی تعاون کی ایک صورت ہے۔جناب عبد المالک طاہر صاحب ہر اس دعوت ‘ خطاب اور تعلیم و تربیت کو جہاد کے فریضہ کی ادائیگی میں شمار کر رہے ہیں جو معاصر جہادی تحریکوں کی تائید میں ہو اور جوعلمی ‘ اخلاقی ‘ عملی ‘ مالی‘ لسانی اور تحریری کوشش ان کی اصلاح کے لیے ہوں وہ ان کے ہاں جہاد کے فریضہ کی ادائیگی سے خارج ہیں۔کیا جہاد ‘ جہادی تحریکوں کا نام ہے یا یہ ایک شرعی حکم ہے؟بلاشہ جہاد ایک شرعی حکم ہے اور اس شرعی حکم کی تعیین میں معاصرتحریک جہاد و قتال میں علمی تعاون کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ اس کا ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس کا شرعی طریقہ کار اور کامیابی کی حتمی صورتیں متعین کی جائیں جیسا کہ ہم نے اپنے مضمون میں جہاد(یعنی قتال) کے فرض عین ہونے کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ واضح کیا کہ یہ کس پر فرض عین ہے؟ اسی طرح ہم نے یہ نہیں کہا کہ موجود زمانے میں قتال ساقط ہو گیا ہے بلکہ ہم نے ان حالات میں قتال کے صحیح منہج و طریق کار کوواضح کیا ہے۔کیا جہاد(قتال) کی فرضیت اور اس کے صحیح منہج پر مضامین لکھنے سے جہاد( قتال) کا فریضہ ادا نہیں ہوتا؟
۳۔جب جہادی تحریکوں میں جہاد (قتال)کے طریقہ کار‘ منہج اور تطبیق کے حوالے سے اختلافات ہو جائیں تو اس کے باوجود بھی وہ مجاہدین اور غازی کہلواتے ہیں۔مثلاً پاکستان کے طالبان کو کشمیری جہادی تحریکوں کے ساتھ شدید اختلافات ہیں اور یہ اختلافات اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ طالبان تحریک کے دیوبندی اور سلفی مجاہدین کشمیری تحریکوں کے مجاہدین کو ایجنسیوں کے کتے بلے کہتے ہیں۔ طالبان جہادی رہنماؤں کی ایسی ویڈیوز اب عام ملتی ہیں جن میں ایجنسیوں کی سرپرستی میں ہونے والے کشمیری جہادی تحریکوں کے جہاد کا انکار کیا جاتا ہے اور اس سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔حال ہی میں روزنامہ جنگ اورکئی دوسرے معروف اخبارات کے پہلے صفحہ پر تحریک طالبان کے رہنماؤں کا یہ بیان شائع ہو اہے کہ کشمیری جہادی تحریکوں کے امراء حافظ سعید صاحب اورصلاح الدین صاحب وغیرہ طالبان تحریک اور ان کے قتال کی غیر مشروط تائید کریں، ورنہ...۔ جب ایک جہادی تحریک کے رہنما دوسری جہادی تحریک پر قرآن و سنت کے بیانات کی روشنی میں یہ الزام عائد کر سکتے ہیں کہ ان کا جہاد حقیقی یا اسلامی جہاد نہیں ہے بلکہ ایجنسیوں یا طاغوت کا جہاد ہے ۔جبکہ دوسری جہادی تحریک کے مفتیان اور شیوخ الحدیث پہلی جہادی تحریک کے منہج کو خوارج کا طریقہ کاراور حکومت کے خلاف ان کی کارروائیوں کو بغاوت او ر خروج کانام دیں تو جناب عبد المالک طاہر صاحب کے بقول یہ فریضہ جہاد(قتال) میں تعاون شمارہو گا اور جہادی تحریکوں کے ان علماے دین‘ مفتیان کرام‘ امراء‘ مسؤولین اور اراکین شوری کا فرض عین ادا ہو جائے گا۔جبکہ اس کے برعکس ا گر ان دونوں تحریکوں سے باہر ‘ دین کے حقیقی تصور کے حاملین علماء ان دونوں تحریکوں کے مناہج پر نقد کریں تو ان کا فریضہ جہاد ادا نہیں ہوتا؟ فیا للعجب!!! کیا قرآن و سنت میں بیان شدہ فریضہ جہاد میں تعاون صرف اسی صورت ہی ادا ہوتا ہے جبکہ کسی ایسی جماعت کی رکنیت حاصل کی جائے جوآئی۔ ایس۔ آئی سے رجسٹرڈ اوراس کی پروردہ ہویا اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ان جہادی مفتیان کرام سے اتفاق ضروری ہے جو افواج پاکستان‘ رینجرز‘ پولیس ‘ حکومتی عہدیدران او ر سرکاری ملازمین کو طاغوت کا معاون ہونے کی وجہ سے کافر اور واجب القتل قرار دیتے ہیں اور خود کش حملوں کے ذریعے شہید ہونے والے مسلمان اور کلمہ گو عام شہریوں کے قتل ناحق کو ’جنگ میں سب جائز ہے‘یا’جنگ میں تو پھر ایسا ہوتاہے‘ کے فتوے سے حل کرتے نظر آتے ہیں۔کیا فریضہ جہاد(قتال) کے فرض عین ہونے کا جو معنی جناب عبد المالک طاہر صاحب نے بیان کیا ہے‘ اس کے مطابق کیا کسی جہادی تحریک میں شمولیت کے بغیریہ فریضہ ادا نہیں ہو سکتا ؟یقیناہو سکتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جہادی تحریکوں کے رہنماؤں اور کارکنا ن کی دعوت میں فریضہ جہاد(قتال) کی ادائیگی پر زور کم ہوتا ہے اور ساری توانائیاں اپنی اپنی خاص جہادی تحریکوں میں شمولیت اور ان کی رکنیت کے حصول پرکھپائی جاتی ہیں او رصرف اور صرف اسی تحریک میں شمولیت یا اس کی رکنیت کا حصول ہی درحقیقت اس جہادی تحریکوں کے رہنماؤں‘ کارکنان اور مفتیان عظام کے نزدیک جہاد (قتال) کے فریضہ کی ادائیگی کا اصل معیار قرار پاتا ہے۔ 
کیا سوات‘ مالاکنڈ‘ وزیرستان‘ لال مسجد ‘ کشمیر اور افغانستان کے طالبان اور جہادی تحریکوں کے تصورجہاد اور منہج قتال میں اتفاق ہے۔اگرایسا اتفاق ہے تو ایک مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے اتنے دھڑے بنانے کے کیا فائدے ہیں؟اور ایک دوسرے کے خلاف ویڈیوز اور اخباری بیانات شائع کرنے کا مقصد کیاہے؟اگر یہ اتفاق نہیں ہے اور یقیناًنہیں ہے تو ایک عامی کون سا جہاد کرے ؟ ایجنسیوں اور طاغوت کی سرپرستی میں ہونے والا لشکر طیبہ کا جہاد یا بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو جائز قرار دینے والے بعض طالبان کا جہاد؟جبکہ دونوں جہادی گروہ ایک دوسرے کے جہاد کو جہاد بھی نہیں سمجھتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان جہادی تحریکوں کے غازی اور بالفعل لڑائی کرنے والے مجاہدین دین کے ساتھ انتہائی مخلص اور حقیقی ایمان و تقوی کے بلند تر مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں لیکن ایمان و تقوی ‘ علم کا بدل نہیں ہے اور نہ ہی صرف اخلاص سے جہالت ختم ہو سکتی ہے۔دین میں کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز؟کیا جہاد ہے اور کیا بغاوت ؟جہادی تحریکوں کی کون سے اقوال و افعال واجب ہیں اور کون سے حرام؟ اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ اخلاص و تقوی نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کا گہرا فہم و شعور ہے۔
۴۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ ‘ برطانیہ‘ اسرائیل ‘ انڈیا اور ان کے حواریوں کے ظلم و بربریت کے خلاف قتال فرض عین ہے‘ فرض عین ہے ‘ فرض عین ہے‘ اگر یہ صفحات اجازت دیتے تو ہم ستر مرتبہ اس جملے کو دہراتے ۔ہمیں اختلاف قتال کی فرضیت میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ کس پر فرض ہے؟ ہمارے نزدیک یہ قتال اسلامی ریاستوں کے سربراہان ‘ حکمرانوں اور اصحاب اقتدار پرفرض ہے اور عامۃ الناس پر فرض یہ ہے کہ اپنے ملک کے حکمرانوں اور اصحاب اقتدار کو اس قتال پر ہر آئینی ‘ احتجاجی‘ قانونی ‘ لسانی‘ علمی ‘ اخلاقی اور تحریری ذرائع و وسائل‘ اخبارات ‘ رسائل و جرائد ‘ الیکٹرانک میذیا‘ جلسے جلوسوں‘ دھرنوں‘ سیمینارز اور کانفرنسوں کے انعقاد ‘ اجتماعی مباحثوں اور مکالموں اورعوامی دباؤ کے ذریعے مجبور کریں اور اگر پھر بھی حکمران اس فریضے کی ادائیگی سے انکار کریں تو مذکورہ بالا تمام پر امن کوششیں کے ذریعے‘ ان حکمرانوں کی معزولی اور ان کی جگہ اس عہدے کی اہلیت رکھنے والے اصحاب علم و فضل کی تقرری‘ عامۃ الناس کا بنیادی فریضہ ہو گا تاکہ ریاستی سطح پر قتال کا فریضہ سر انجام دیا جا سکے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ’ زکوٰۃ‘ فرض عین ہے لیکن کس پر فرض عین ہے(یعنی صاحب نصاب پر) اور کب فرض عین ہے(یعنی سال گزرنے کے بعد)‘ اور کس جگہ (یعنی کس مال میں ) فرض عین ہے یہ تمام باتیں بحث طلب ہیں۔صرف زکوۃ کو فرض عین مان لینے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر شخص پر زکوۃ ہر حال میں فرض قرار دی جائے۔پس قتال فرض عین ہے‘ لیکن کس پر(یعنی فرد واحد پر‘ جماعت پر یا ریاست پر) فرض ہے اور کب (یعنی کن شرائط و اسباب کی موجودگی میں) فرض ہے یہ بحث اختلافی ہے۔اس بحث کو واضح کرنا اور نکھارناہی جہاد کے ساتھ تعاون تو ہے ہی‘ بلکہ شایدحقیقی جہادبھی یہی ہے۔
ہمارے نزدیک عوام الناس کا جہاد یہ ہے کہ علمائے کرام‘دینی جماعتیں اور ان کے کارکنان اوردینی مدارس کے طلبہ‘ وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں ہونے والے وحشیانہ ڈرون حملوں اورسوات وغیرہ میں پاکستانی افواج کی پرتشدد کاروائیوں کے خلاف ملک گیر سطح پر پرامن جلسے اورجلوسوں کا اہتما م کریں۔عوام الناس کی رائے ہموار کریں۔سٹریٹ پاور بڑھائیں۔اسلامی نظام عدل اجتماعی کے نفاذ تک وکلاء کی طرح مسلسل مظاہرے کریں۔امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے لیے حکومت وقت کے خلاف دھرنے دیں ۔بے غیرت‘ بے دین اور ظالم حکمرانوں کی معزولی کی خاطرپرعزم لانگ مارچ کریں۔پاکستان کی پاک سر زمین پر اللہ کے دین کو غلب کرنے کے لیے ہر پر امن جدود جہد اختیار کریں اور نتائج اللہ کے حوالے کر دیں۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا مذہبی طبقہ اس طرح کی پرامن جدود جہد کے ذریعے اسلام‘ جہاد اور مجاہدین کی جو مدد کر سکتا ہے وہ تووہ کرتا نہیں ہے بس ساری توانائی اس پر ہی خرچ ہوجاتی ہے کہ کون کافر ہے اور کون مسلمان یا قتال فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟مدراس میں بیٹھ کر جہاد کے حق میں فرض عین ہونے کے فتاوی جاری کرنے سے یہ نفسیاتی تسکین تو کسی مفتی صاحب کو حاصل ہو سکتی ہے کہ انہوں نے جہاد کی خاطر بہت گراں قدر خد مات سر انجام دی ہیں لیکن اگر وہی مفتیان حضرات جہاد اور مجاہدین کے حق میں حکومت کے خلاف پر امن مظاہرہ کرتے اورجماعت اسلامی کے کارکنان یا وکلا کی طرح سر پھڑواتے تو خارج میں نتائج بہت مختلف ہوتے۔ہم میں اور جہادی تحریکوں میں فر ق یہ ہے کہ ہم پاکستان میں نفاذ شریعت اور نظام عدل کے قیام کی خاطر پر امن جدوجہد کرتے ہوئے صرف جان دینے کی بات کرتے ہیں ‘ لینے کی نہیں۔ہمارے خیال میں پاکستان میں اسلام کانفاذ پر امن جدو جہد اور جانیں دینے سے ہو گاجبکہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے بعد جہادو قتال کا مر حلہ آئے گا۔اورساری دنیامیں اسلام کا غلبہ ریاستی سطح پر ہونے والے جہاد و قتال سے ہو گا۔ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ انڈیا ہو امریکہ ‘ اسرائیل ہو یا برطانیہ ‘ ان ظالم اقوام کے خلاف کے جہاد و قتال اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان میں پہلے اسلامی نظام کا نفاذ ہو جائے۔پس پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ صحیح منہج پر قائم ہونے والی جہاد و قتال کی عالمی تحریک کا پہلا زینہ ہے اور اس پہلے زینے تک پہنچنے کے لیے کامیاب طریقہ کار وہی ہو گا جو کہ عدم تشدد پر مبنی ہو۔
علماے دیوبند کی تبلیغی جماعت‘ مولانا مودودی کی جماعت اسلامی‘ ڈاکٹر اسرار احمد تنظیم اسلامی اور مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی اس وقت تک اسی منہج پر مختلف مراحل اور مدارج میں کام کر رہی ہیں اور پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے پر امن جدو جہد کے ذریعے راہ ہموار کررہی ہیں۔ہر مسلمان جو اپنے اندر جہاد کا جذبہ اور ولولہ رکھتا ہے ‘ پوری دنیا میں اسلام کے غلبے کے خواب کی تکمیل چاہتا ہے‘ اسے ان تمام جماعتوں کے مقاصد میں بغیر کسی تعصب اور گروہ بندی کے تعاون کرنا چاہیے۔ ان جماعتوں کے کارکنان کو بھی ایک دوسرے کو امداد باہمی پہنچانی چاہیے۔ یہی ہمارے نزدیک جہاد کاوہ حقیقی عمل ہے جسے تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 

’’حدود و تعزیرات‘‘ ۔ چند تنقیدی تاثرات

محمد انور عباسی

محترم محمد عمار خان ناصر صاحب کی قابل قدر کتاب ہمیں بذریعہ ڈاک بروقت موصول ہوئی تھی، مگر بعض مصروفیات آڑے آئیں اور جلد اس کتاب کامطالعہ نہ کیاجا سکا۔ ایک وقفے کے بعد کتاب شروع کی تو ایک ایک سطر بغور پڑھی جس کے نتیجے میں یہاں چند تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہمیں کتاب کے زیادہ تر مندرجات سے نہ صرف اتفاق ہے بلکہ خوشی ہے کہ بڑے سلجھے ہوئے انداز، اسلوب بیان اور منطقی استدلال سے بڑے مشکل اور حساس موضوعات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسی کتاب ایک عرصے کے بعد پڑھنے کو ملی جس میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا اسلوب، زورِ بیان اور متانت نظر آئی۔ کسی خاص Mindset کے بغیر اگر غیر جانبدارانہ ذہن سے مطالعہ کیا جائے تو محترم مصنف کے اخذ کردہ نتائج سے اتفاق کے سوا اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ بالکل ایسے لگتا ہے کہ انگلی پکڑ کر قاری کی رہنمائی کی گئی ہے۔ محترم مصنف بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت میں بالعموم اور طبقہ علما میں بالخصوص ایسے باحوصلہ اور بلند فکر کے حامل افراد سامنے آئیں۔
اصولی بات: ہمیں کتاب کے دیباچے میں مذکور مولانا ابوعمار زاہد الراشدی صاحب کی اس راے سے بالکل اتفاق ہے کہ آج کے نوجوان اہلِ علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پرکھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مولانا محترم کی یہ پیشین گوئی اس کتاب کے حوالے سے تو تقریباً پوری ہو چکی ہے کہ ایسے اہلِ علم بیک وقت قدامت پرستی اور تجدد پسندی کے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ تو غالباً کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا ، لہٰذا اس طرز فکر کی حوصلہ افزائی ہمیشہ جاری رہنی چاہیے۔ بالخصوص طبقہ علما میں اس نوعیت کی کوشش کو، جو یقیناًایک اجتہادی کوشش کہلائی جا سکتی ہے، برداشت کرنا بلکہ ایک لحاظ سے تحسین کرنا بجائے خود قابل تحسین ہے۔ 
فقہی مباحث سے ذرا ہٹ کر اگر ہم ماضی کے علم الکلام پر ایک نظر ڈالیں تو ایک حقیقت جو سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک وقت تھا جب اشاعرہ کے عقائد کو اہلِ سنت والجماعت کے مسلمہ عقائد کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس دور میں امام ماترید ی ؒ کے عقائد کو، جو زیادہ تر احناف کے ہاں مقبول تھے، اہل سنت کے نمائندہ عقائد کی حیثیت حاصل نہ تھی۔ آج ہم جائزہ لیں تو اہلِ سنت کے ہاں اشاعرہ کے عقائد میں ماتریدیہ عقائد کو بھی کافی جگہ دے دی گئی ہے، بلکہ ماتریدیہ کو بھی جانے دیں اور یہ دیکھیں کہ اپنے بعض عقائد کو مثلاً ’’خدا کو جائز ہے کہ انسان کو اس کام کی تکلیف دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے‘‘ کے برعکس معتزلہ کے عقیدے کو درست سمجھا جانے لگا ہے کیونکہ یہ عقیدہ بداہتاً قرآن کے خلاف ہے۔(سورۃ البقرہ ۲۸۶) کہنے کامقصد یہ ہے کہ اگر عقائد میں اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد سے خروج جائز ہے تو یہ کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ بقول مولانا محترم ’’ اہلِ سنت والجماعت کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو‘‘ (ص۱۳) یا بقول محترم مصنف ’’ ہم کسی تقلیدی ذہن کے تحت نہیں بلکہ علیٰ وجہ البصیرت اہلِ سنت کے اساسی منہج اور علمی اصولوں کو درست سمجھتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۹)
سوال محض یہ نہیں کہ علمی اصول اور اساسی منہج درست ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے طے شدہ Mindset کے تحت اگر علمی کام کو آگے بڑھائیں گے تو کیا تقلیدی ذہن شعوری طور پر نہیں تو لاشعوری طور پرہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرتا رہے گا؟ مصنف موصوف کو خود اعتراف کرنا پڑا ہے کہ دو مستقل فقہی مکتب سے استفادے کا دائرہ محض اس وجہ سے محدود ہو گیا کہ ان ائمہ کی فقہوں کی پیروی کرنے والے مکاتب فکر بعض کلامی اور سیاسی نظریات کے حوالے سے اہلِ سنت کے عمومی رجحانات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ (ص ۲۱) غور طلب بات یہ ہے کہ اسلام میں صرف اہلِ سنت کی مجموعی علمی روایت ہی کو گرفت میں لانے سے کیا ایک مخصوص ذہنیت پیدا نہ ہوگی؟ معتزلہ، خوارج یا اثنا عشری حضرات کی علمی میراث کو پہلے ہی کلی طور پر رد کر دینا کیا کوئی علمی طریقہ ہوگا؟ کیوں نہ ہم بحیثیت ’’مسلم‘‘ تمام فقہی یا گروہی مکاتب فکر سے بلند ہو کر صرف وحی کی روشنی میں سب کا بے لاگ تجزیہ کر کے اپنے عہد کی روشنی میں کوئی لائحہ عمل تیار کریں؟ ظاہر ہے ’’قلوبنا غلف‘‘ یا خصوصی Mindset کے تحت کام کیاجائے گا تو یہ بہرحال محدود ذہن ہی کی عکاسی کرے گا اور ہم وسیع علمی میراث سے استفادہ نہ کر سکیں گے اور یوں موجودہ عالمی چیلنج سے شایدہی کماحقہ عہدہ برا ہو سکیں۔ اگر چہ ہمیں ا س کتاب میں کمال ہمت و جرأت اور اجتہادی شان نظر آتی ہے، تاہم کئی مواقع پر، جس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی، یہ مشکل صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ 
دوسری بات جو ہمارے نزدیک اہم ہے، وہ’ سنت‘ کی تعریف ہے۔ اگر ہم ’’قرآن وسنت‘‘ کی بات کریں تو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ’سنت ‘سے دراصل مراد کیا ہے۔ (قرآن کا مفہوم تو واضح ہے) یہ اس لیے اہم ہے کہ آج کل’ سنت‘ کی تعریف اہل علم کے درمیان کوئی متفقہ دکھائی نہیں دیتی۔ (الشریعہ، جنوری ص ۳۶، فروری، کلمہ حق، ص ۳) غالباً یہی وجہ تھی کہ مولانا زہدالراشدی صاحب نے کتاب کے دیباچے میں اس کی وضاحت ضروری سمجھی (ص ۱۰) لیکن مصنف موصوف نے اس کی کوئی تعریف نہیں کی جس کی ضرورت تھی ۔ ’سنت‘ کا مفہوم متعین کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسلاف بھی جب یہ لفظ بولتے تھے تو غلط فہمی کے احتمال کا موجب بن سکتاتھا۔ مثلاً محترم مصنف لکھتے ہیں کہ ’’سعید ابن المسیبؒ کے اس فیصلے کو ’سنت ‘قرار دینے سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے کہ تابعین اور اتباع تابعین کے ہاں نہ صرف ناقص اور غیر مستند معلومات کی بنا پر کسی عمل کو ’سنت ‘ قرار دینے کی مثالیں مل جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات وہ منصوص اور مرفوع احکام کے علاوہ صحابہ و تابعین کے طرز عمل اور وسیع تر مفہوم میں بعض مستبط آرا پر بھی سنت کے لفظ کا اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘ (ص ۔۱۰۲، ۱۰۳) وہ مزید رقمطراز ہیں : ’’ امام ابو یوسف ؒ ، امام اوزاعی ؒ کی ایک رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ شاید (امام) اوزاعیؒ نے شام کے بعض بزرگوں کو، جنہیں نہ اچھی طرح وضو کر نا آتا ہے اور نہ تشہد پڑھنا اور نہ وہ فقہ کے اصولوں سے واقف ہیں، ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہو گا اور کہہ دیا ہو گا کہ ’ سنت ‘ یہی چلی آرہی ہے۔‘‘ (ص ۱۰۳) ہم صرف یہ کہنا چاہیے ہیں کہ اگر سعید ابن المسیبؒ ہو ں یا امام اوزاعیؒ یا تابعین کے ہاں بھی ناقص اور غیر مستند معلومات کی بنا پر’ سنت ‘ کا لفظ مستعمل تھا اور امام شافعی جیسے مجتہد بھی ’سنت‘ بولتے اور بعد ازاں ترک بھی کردیتے تھے تو اس دور کے اہل علم کے ہاں نہ معلوم ’سنت‘ کا اطلاق کن کن چیزوں پرہوتا ہو گا۔ 
مصنف محترم کتاب کا آخری باب ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ شروع ہی اس جملے سے کرتے ہیں: ’’ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو’ قرآن و سنت‘ کے مقرر کردہ حدود اور ان کے منشا کے مطابق ؟؟ کرنا ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’ ۔۔۔ ایک اہم اور بنیادی بحث یہ ہے کہ ’قرآن و سنت‘ میں قانون سازی کے لیے عمومی نوعیت کے رہنما اصولوں کے علاوہ جو متعین احکام اور قوانین بیان ہوئے ہیں، ان کی قدروقیمت کیا ہے ۔‘‘ (ص ۳۲۳) اگر ہمیںیہی معلوم نہیں ہو گا کہ’سنت ‘ ہے کیا تو اس کے مقرر کردہ حدود کا علم کیسے ہو گا؟ ہم کیسے جان سکیں گے کہ کون سے متعین احکام و قوانین ’سنت‘ کے مطابق ہیں؟ عین ممکن ہے کوئی صاحب سعید ابن المسیب ؒ کا مسلک رکھتے ہوں اور ہم ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی سے کسی فعل کو ’سنت‘ سمجھنا شروع کر دیں۔ بالخصوص جب یہ بھی کہا جا رہاہو کہ ’’ جن معاملات سے متعلق قرآن میں کوئی متعین حکم نہیں دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’سنت‘کی حیثیت سے کسی عمل یا طریقے کو جاری نہیں فرمایا۔‘‘ (ص ۳۵۳) 
اب احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے کہ نہ صرف’سنت‘ کی واضح تعریف موجود ہو بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل یا طریقے کا منشا یا نیت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ آپ کے فلاں عمل کو ’سنت‘ کی حیثیت حاصل ہے اور فلاں عمل ’سنت ‘ نہیں ہے۔ آپ کی منشا یا نیت کے تعین کو علماے کرام کے اجتہاد پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح قول موجود ہونا چاہیے کہ آپ فلاں عمل کو’ سنت‘ کی حیثیت سے جاری رکھنا چاہتے ہیں اور فلاں عمل کو محض عادت یا رواج کا درجہ حاصل ہے۔ اگر ایسانہ ہو گا تو عملی طور پر ’سنت ‘کے تعین میں ہی اختلاف ہو گا اور ہر فرد اپنے اپنے ذوق کے مطابق ایک فعل کو’ سنت ‘کہہ رہا ہو گا اور دوسرا بدعت ۔ اس مسئلے کے حل ہونے کے بعد ہی ہم اس پوزیشن میں ہو سکتے ہیں کہ اس سوال پر غور و فکر کر سکیں کہ حالات کے تغیّر سے کون سے احکام میں تبدیلی کی جا سکتی ہے اور کون سے احکام قیامت تک تغیّر و تبّدل سے بالا ہوں گے۔ 

۱۔ شرعی سزاؤں کی ابدیت و آفاقیت

یقیناًاس رائے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ کسی بھی معاشرے کی نفسیات اور تمدنی حالات و ضروریات کے لحاظ سے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں سے مختلف سزائیں تجویز کی جا سکتی ہیں۔ مصنف نے نہایت ہی جاندار دلائل سے اس غلط نقطہ نظر کو مسترد کیا ہے اور بجا طور پر فرمایا ہے کہ قرآن کا زاویہ نگاہ جوہری طور پر زیر بحث زاویہ نگاہ سے مختلف ہے۔ لیکن اس موضوع پر مزید گفتگو اس پہلو سے مفید رہے گی کہ یہ نقطہ نظر آیا صرف قرآنی سزاؤں کے لیے ہی درست ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافذکردہ سزائیں (اور اسی طرح دوسرے احکام) یہی درجہ رکھتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لیے ہادی و راہنما تھے، چنانچہ اپنے اس منصب کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے خیالی نہیں بلکہ عملیت پسندی کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ کی ذمہ داری جہاں یہ تھی کہ رہتی دنیا تک انسانوں کے لیے رہنما اصول دیں، وہاں یہ ذمہ داری زیادہ شدت کے ساتھ یہ تھی کہ اپنے عہد کے لوگوں کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنی اصولوں کو اپنے معاشرے میں عملی طور پر نافذکریں۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ ان ہی مسائل کا حل ڈھونڈیں جو فی الحقیقت موجود ہوں۔ ہمارے خیال میںیہی وجہ تھی کہ مکی زندگی میں زراعت (زمین کی بٹائی) کے بارے میں آپ سے کوئی حکم منقول نہیں۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جب آپ کا واسطہ ایک زرعی معاشرے سے پڑا تو ایک عملیت پسند راہنما کی طرح مسائل کا عملی حل بھی پیش کیا۔ چنانچہ جب مکی زندگی میں مدنی زندگی کے عملی حالات کا کوئی نقشہ پیش کرنا آپ کے پیش نظر نہیں تھا تو یہ کس طرح ممکن ہو سکتاہے کہ آج کل کے پیچیدہ معاشی و معاشرتی حالات کے متعلق تفصیلی احکامات بھی ’سنت‘ میں تلاش کیے جاسکیں؟ اس موضوع کی حساسیت بھی تقاضا کرتی ہے کہ’سنت‘ کی کوئی جامع و مانع تعریف سامنے ہو اور اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہو جائے۔ 

۲۔ قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار

اس عنوان کے تحت ایک خوبصورت بحث پڑھنے کو ملی۔ کتاب ہذا کے صفحہ ۷۲ کے فٹ نوٹ میں اصولی طور پر ایک درست اور معقول بات کہی گئی ہے،لیکن یہ ایک اجتہادی معاملہ ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات و احکامات کی تشریح کرتے ہوئے ایک شخص اس کو قانونی نتیجہ قرار دے اور دوسرا اخلاقی۔ اس طرح کی موضوعی اپروچ کے ساتھ کیا ہم گلوبل چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اس طرح کہیں ہم مزید انتشار کا شکار تو نہیں ہو ں گے؟ کہنے کا مقصد ہے کہ امت میں زیادہ سے زیادہ معروضی پیمانے اگر دستیاب ہو سکیں تو اتفاق و یکجہتی دیکھنے کو ملے گی اور معاشرے میں کم خلفشار ہوگا۔ نیز اسی کے نتیجے میں ہم عالمی سطح پر عملی و علمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ 
اس باب میں مصنف نے کئی پہلوؤں پر بات کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر جگہ اس کا حق ادا کیا ہے، تاہم اولیاے مقتول کے معاف کردینے پر قاتل سے قصاص کو ساقط کر دینے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے مصنف نے فقہاے احناف کا ذکر کیا ہے کہ قصاص کی معافی کی صورت میں مقتول کے وارث کے لیے دیت کا اختیار اس بات سے مشروط ہے کہ خود قاتل بھی دیت دینے پر رضامند ہو۔ اگر وہ اس بات پر راضی نہیں ہو تو اسے مجبور نہیں کیاجا سکتا اور اس صورت میں اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ (ص ۷۳) اس مشروط حکم کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل سامنے نہیں آئی۔ عقلاً یہ بات ذرا مشکل ہی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ قاتل جان بچانے کے لیے دیت دینے کے بجائے جان دینے پر ہی اصرار کرے۔ یہ شرط تو عملی دنیا سے متعلق دکھائی نہیں دیتی۔ آخر دنیا میں کون سا قاتل ہوگا جو جان بچانے کی کوشش ہی نہ کرنا چاہے گا؟ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ امام جصاص ؒ کی یہ رائے درست نہیں کہ ’فمن عفی لہ من اخیہ شئً فاتباع بالمعروف‘ کا حکم اس قید کے ساتھ مقید ہے کہ مقتول کے وارث کی طرف سے معافی کی صورت میں خود قاتل بھی دیت کی ادائیگی پر رضامند ہو، ورنہ اسے دیت کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا اور اس سے قصاص ہی لیا جائے گا۔ ہمیں قرآن کے اس حکم میں اس قید یا شرط کا ذکر دکھائی نہیں دیتا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مصنف نے خود بھی (غالباً) اس رائے کو کمزور سمجھتے ہوئے یہ لکھنا ضروری سمجھا کہ ’’اس رائے سے اتفاق ضروری نہیں‘‘ (ص۷۴) اسی طرح صفحہ ۷۸ کے فٹ نوٹ میں مذکور دلیل اور اس رائے کے بارے میں یہی رائے ظاہر کی گئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ زیرِ بحث موضوع اپنے دلائل کے اعتبار سے کافی جاندار تھا۔ اسے ان کمزور سہاروں کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ ہماری رائے میں یہ مثالیں دے کر ایک معقول و مضبوط موقف کو کمزور کر دیا گیاہے۔ 
اسی طرح (قتل کے) جرم کی سنگینی کے تناظر میں معافی کے امکان کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مصنف موصوف نے علی الاطلاق ایک اصول بیان کر دیا کہ ’’سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی شخص کی جان لینا اسی زمرے میں آتا ہے‘‘ (ص ۸۳)۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اصول میں استثنا لازمی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عدل جس قدر ناپید ہے، شاید ہی کوئی دوسری جنس ناپید ہو۔ ایک ظالم ڈاکو، وڈیرہ، خان یا چودھری اپنے زیردستوں پر جو بے طرح ظلم ڈھاتاہے، ان کا قتل اگر ان حالات میں ہو جائے یعنی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جان لی گئی ہو تو عدالت اس کا معروضی جائزہ لے کر فیصلہ کرے اور معافی کی گنجایش ضرور نکالے کہ عدل کا تقاضا یہی ہے۔ 

۳۔ دیت کی بحث 

عنوان بالا کے تحت بحث میں بہت ہی اہم اور اصولی باتیں آ گئی ہیں۔ کتاب مذکور پر مولانا مفتی عبدالواحد صاحب کی تنقید زیادہ تر اسی بات تک محدود نظر آتی ہے۔ ہمیں اس مباحثے سے چنداں غرض نہیں، طرفین کا معاملہ اہل علم خود ہی جانچ لیں گے۔ ہم اصولی طور پر صرف چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ 
مصنف محترم نے لکھا ہے ’’کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر و تصویب کو ’شرعی‘ حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم بعض معاصر اہل علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ تشریعی نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ آ پ نے عرب معاشرے میں دیت کی پہلے سے رائج مقدار کو بطور قانون نافذ فرما دیا تھا اور زمانہ اور حالات کے تغیّر کے تناظر میں دیت کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے مختلف قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔‘‘ (ص ۸۹) 
اس تحریر سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’ شرعی‘ نہیں ہوتے تھے اور اصلاً ’’قضا‘‘ یا ’’سیاسہ‘‘ کے دائرے میں آتے تھے، ایسے احکام ابدی نہیں ہوتے تھے۔ اور بعض احکام ’ شرعی‘ ہوتے تھے جو ناقابل تغیّرتھے، مثلاً زکوٰۃ وغیرہ۔ زکوٰۃ کو ابدی اور مہر وغیرہ کو غیر ابدی قرار دینا ہمارے نزدیک کسی اصول کے مطابق نہیں بلکہ یہ ایک موضوعی (Subjective) مسئلہ ہے جس کا تعلق ایک فرد کے ذوق، علم، تجربے اور Mindset سے ہے، جو کسی اصول اور ضابطے کے تحت نہیں آسکتا۔ چنانچہ ہم، قطع نظر اس بحث سے کہ وہ کون سے احکام ہیں جو انفرادی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے تھے اور کون سے نہیں، یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’’شرعی‘‘ ہوتے تھے اور بعض’’غیر شرعی‘‘ یعنی قضا اور سیاسہ سے متعلق۔ اس بحث سے پہلے کہ کلاسیکی فقہی موقف کے مطابق دیت یا بعض دوسرے احکام ابدی ہیں یا بعض معاصر اہلِ علم کے مطابق غیر ابدی، ہمارا خیال یہ ہے کہ اہلِ علم اس بحث پر توجہ دیں کہ کیایہ ممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام ’ شرعی‘ ہوتے ہیں اور بعض ’غیر شرعی‘ ؟ ہمارا فہم دین ----اور ہمیں اس پر اصرار نہیں کہ یہ غلطی سے مبرا ہے---- تقاضا کرتا ہے کہ اصولاً ہم انبیا علیہم السلام پر ایمان کا مفہوم یہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں آئے ہی اس غرض کے لیے تھے کہ انسانیت کو شریعت کا علم عطا کریں۔ انبیاء دین اسلام لائے تھے اور اس دین میں ’’دین و دنیا‘‘ میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ کچھ احکام ’’شرعی‘‘ نوعیت کے ہیں اور کچھ ’غیر شرعی‘ یا ’’قضاء‘‘ یا ’’سیاسہ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں مانی جا سکتی کہ آپ کا دیت کی مقدار کا فیصلہ یا تصویب ’ شرعی‘ نہیں تھا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہی اگر ’ غیر شرعی‘ ہو تو آپ کے بعد کے حکمرانوں کو تو غیر شرعی فیصلے کرنے کی مخالفت آخر کس بنیاد پر کی جا سکتی ہے؟ تاہم یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس کو ’شرعی‘ فیصلہ مان کر ابدیت کا درجہ دے دینا بھی درست نہ ہوگا۔ آپ کے وہ فیصلے جو زمان و مکان کے تحت تھے---- اور یقیناًایک عملیت پسند ہادی و راہنما کی حیثیت سے قرآنی اصولوں کو اپنے معاشرے پر نافذکرنا آپ کی ذمہ داری تھی---- آخر کس طرح زمان و مکان سے ماورا ہو سکتے ہیں، اگرچہ ایسے فیصلے’ شرعی‘ ہی تھے کیونکہ آپ کے اجتہاد پر مبنی تھے۔ دوسرے الفاظ میں کسی حکم کی ابدیت اور غیر ابدیت کا تعلق ’ شرعی‘ اور ’ غیر شرعی‘ سے نہیں بلکہ اس بات پر ہو گا کہ زمان و مکان یا حالات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ سادہ سی مثال اذان جمعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی ’ شرعی‘ تھا اور حضرت عثمانؓ کا فعل بھی ’شرعی ‘ تھا، اگرچہ حالات کے فرق کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک اذان جمعہ کا رواج تھا جو حضرت عثمانؓ کے عہد میں دو اذانوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا جو آج تک چلا آرہاہے۔ 

۴۔ قصاص و دیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز

اس عنوان کے تحت بھی نہایت اہم اصول زیر بحث آگئے ہیں۔ اجمالاً کہا جا سکتا ہے کہ مصنف محترم کا موقف مبنی برحق اور اقرب الی الصواب ہے، تاہم اس مسئلے کی تفصیل میں جزئیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جس استدلال میں وزن محسوس کیا ہے، وہ امام ابن حزمؒ کے بیان کردہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین قانونی و معاشرتی امتیاز کے بعض مظاہر ہیں، مثلاً انہیں تنگ جگہ پر چلنے پر مجبور کرنا، ان کی گردنوں پر علامتی مہر لگانا وغیرہ، جو ہمیں اسلام کے عمومی مزاج اور نظام عدل سے اتنا ہم آہنگ معلوم نہیں ہوتے۔ اس ضمن میں جزیہ کی بحث بھی آگئی اور محترم مصنف نے جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے نقطہ نظر کو ترجیح دی یا کم از کم قابل غور تو ضرور سمجھا ہے۔ یہ مسئلہ قدرے زیادہ تفصیل کا محتاج ہے اور غلبہ دین، اتمام حجت اور انبیا اور رسولوں میں فرق کی بحث کو محیط ہے۔ یہ موضوع بذات خود ایک الگ مقالے کا متقاضی ہے جسے ہم ا ن شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر زیر بحث لائیں گے۔

۵۔زنا کی سزا

ہمیں اس ضمن میں محترم مصنف کے استدلال اور اس کے نتیجے سے بالکل اتفاق ہے کہ قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے مجرم کی ازدواجی حیثیت کو موضوع بحث بنایا ہی نہیں، نیز یہ کہ یہ سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے۔ (ص ۱۳۶) تاہم سورۃ نساء کی آیت ۱۵ پر تبصرہ کرتے ہوئے صحیح مسلم کی حدیث رقم ۳۲۰۰ نقل کی ہے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔ اس سلسلے میں ہماری طرف سے دو گزارشات ہیں۔ اولاً یہ کہ اگر فی الواقع یہ حکم آپ کو اللہ کی طرف سے عطا کیاگیا تھا تو کیا وجہ ہے کہ سورہ نور میں ہی کہیں آس پاس اس ’’وحی‘‘ کو جگہ نہ مل سکی؟ ثانیاً ’’یہ کہ اس کتاب میں زنا سے متعلق دور اول کے جتنے واقعات درج ہوئے ہیں، ان میں اس پرعمل نہ ہو سکنا بڑا ہی عجیب لگتاہے، یعنی کسی بھی مقدمے میں بیک وقت شادی شدہ حضرات و خواتین کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کرنے پر کیوں عمل نہ کیا گیا؟ اس لیے اس کے برعکس ہم مصنف محترم کی دوسری رائے ( ص ۱۳۹) کو قابل ترجیح اور درست سمجھتے ہیں کہ ’’ہمارے نزدیک درست بناے استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی سزا کے بیان کو چونکہ خود موضوع بنایا ہے، اس لیے نفس زنا کی سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے خود بیان کی ہے ( یعنی سو کوڑے )‘‘۔ مصنف موصوف قرآن کی سز اے زنا کے بارے میں محصنہ اور غیر محصنہ کی تفریق کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نقطہ نظر پر بہت ہی زبردست اور جامع تنقید فرمائی ہے جس پر شاید ہی کوئی علمی اعتراض کیا جا سکے۔ لیکن اگریہ درست ہے، جو یقیناًدرست ہے، تو مصنف محترم کا یہ قول عجیب سا لگتا ہے جو انہوں نے کتاب کے صفحہ ۵۷ میں حضرت عمرؓ کے پاس لائی جانے والی خاتون کے بارے میں کہا کہ ’’یہ خاتون محصنہ ہونے کی بنا پر رجم کی سزا کی مستحق تھی، لیکن سیدنا عمر نے اس کے حالات کے پیش نظر اسے سو کوڑوں کی سزا دینے پر اکتفا کی‘‘۔ نیز کیایہ بات عجیب تر نہیں کہ یہ عورت جس کے بارے میں بتایا گیاکہ وہ نادار اور محتاج ہے اور جو لوگ اس پر ترس کھا کر اس کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، چنانچہ وہ جسم فروشی کر کے کچھ نہ کچھ پیسے جمع کر لیتی ہے، اس حقیقت کے باوجود اسے سو کوڑوں کی سزا دی گئی مگر اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ محترم مصنف نے بیہقی کی السنن الکبریٰ رقم ۱۶۸۲۷ وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیدنا عمرؓ ہی کے سامنے ایک ایسی عورت کا مقدمہ پیش کیا گیا جس نے بتایا کہ وہ پیاسی تھی اور چرواہے نے مفت پانی نہیں دیا بلکہ زنا کی شرط کے ساتھ پانی دیا۔ اس مقدمے کا فیصلہ حضرت عمرؓ نے یہ کیاکہ اس خاتون کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔ (ص ۵۶) ان دونوں مقدمات کی یکسانی کے باوجود دو مختلف فیصلے ! مصنف محترم کو اس سلسلے میں کوئی دو ٹوک اور ایک بات کہنی چاہیے تھی۔ 
ان چند گزارشات کے باوجود یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ زیر بحث کتاب فی الحقیقت دینی لٹریچر میں ایک انتہائی اہم اور گراں قدر اضافہ ہے جسے قدیم اور جدید اہلِ علم یکساں اہمیت دینے پر مجبور ہوں گے۔ چند مستثنیات بہر حال ہر دور میں موجود رہی ہیں جو جمود اور تقلیدی فکر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رہتی ہیں۔ لہٰذا کتاب میں اگر کوئی غلط بات آ بھی گئی ہو تو امت کا اجتماعی ضمیر اس کو ہضم نہیں کر سکے گا۔ اللہ تعالیٰ مصنف محترم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم مولانا زاہد الراشدی، زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
جیساکہ اطلاع ہے، آپ ان دنوں آپ ہمارے پردیسی دیس میں ہیں۔ خوش آمدید۔ امید ہے مشافہۃً بھی پذیرائی کا موقع ملے گا۔ اس ماہ کا الشریعہ دو ہی دن ہوئے ملا ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ بات وفاق کے ایسے صاف و صریح تبصرہ تک پہنچ گئی۔ بظاہر اس سے پہلے کوئی ذاتی رابطہ بھی اس موضوع پر نہیں کیا گیا۔ بہرحال خدا کرے کہ ’’ماوقع‘‘ میں سے خیر نکلے۔ 
شمارہ کی سب سے پہلی چیز اس کا ’’کلمۂ حق‘‘ تھی۔ آپ کے محترم غامدی صاحب جس تسلسل سے ایک مستقل موضوع الشریعہ کاچلے آتے ہیں، اس سے مجھ ایسے ایک قاری کو بھی جو کچھ زیادہ دلچسپی اس موضوع میں نہ لیتا ہو، ایک تأثر، کم از کم الشریعہ کی نگاہ میں، ان کے کچھ نہ کچھ ہونے کابہر حال ملتا ہے۔ اس دفعہ کا آپ کا کلمۂ حق بھی اسی موضوع کی نذر تھا اور وہ قدرتی طور پر اس تأثر کواور گہرا کرنے والا۔ مگراس میں سنت کے بارے میں موصوف کے اپنے تصور اور اس کی بنا پر سلف کے تصورِ سنت کا تنقیدی تجزیہ دیکھ کر سوچنے لگا کہ کیا یہ واقعی آپ کی اس قدر سنجیدہ توجہ کا مستحق تھا جس قدر سنجیدگی سے آپ نے کچھ جوابی معروضات آں موصوف کی خدمت میں پیش کی ہیں؟ مگر اس سے کچھ زیادہ دخل در معقولات کا ارادہ میں نہیں رکھتا تھا کہ آگے ورق گردانی میں ’’غامدی صاحب کے تصورِ سنت پر اعتراضات کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے مضمون نظر پڑ اتو قدرتی طور سے ایک اچٹتی نگا ہ اس پر بھی ڈالے بغیر نہ رہا جا سکا۔ اوریہاں تو سنت کے ساتھ موصوف کا وہ معاملہ دیکھا کہ بلامبالغہ پرویز صاحب کی یاد تازہ ہو گئی، جو قرآن و حدیث کی تفسیر و تشریح میں آزاد شاعری والا معاملہ رکھتے تھے کہ کسی ضابطہ و قاعدہ سے استناد کی اس میں انھیں ضرورت نہ تھی۔ وہ بجائے خود سند ہو گئے تھے، اور ماننے والے انھیں ملے۔
مذکورہ مضمون میں داڑھی سے متعلق حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم پر موصوف کا ایک اقتباس دوسرے ہی صفحہ پر ملتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک’’ مشرکوں سے مختلف وضع اختیارکرو،داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں گھٹاؤ‘‘ (خالفوا المشرکینَ اوفِروا اللحیٰ واعفوا الشوارب) سے آپؐ کامدعا و مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’(لوگ) بڑھانا اگر چاہتے ہیں تو داڑھی بڑھا لیں مگر مونچھیں ہر حال میں پست کریں۔‘‘ یعنی داڑھی بڑھانے کا حکم نہیں، صرف اباحت واجازت تھی، جبکہ مونچھوں کی تراش کے بارے میں حکم تھا۔ کہنا چاہیے کہ یہ بیانِ اباحت بھی خاص طور پر گویا ان کے لیے تھا جو مونچھیں کچھ نہ کچھ بڑھانے کے شوقین ہی ہوں، کہ اس کاایک بدل ان کے شوق کی ایک گونہ تسکین کو مل جائے۔ پورا اقتباس آپ خود دیکھ لیں، جس میں ارشاد کے ا س مبینہ مفہوم کے ماتحت اس کی حکمت بھی بیان ہوئی ہے۔ میں بڑا حیران ہوں کہ کیا حدیث کے ساتھ اس طرح پیش آنے والوں کو بھی وہ اہمیت آپ جیسے اہلِ علم اور پشتینی خادمانِ حدیث کے یہاں دی جا سکتی ہے جو الشریعہ کے تقریباً ہر شمارہ سے نمایاں رہتی ہے! کم از کم مجھے تو نہیں معلوم کہ زبان کاکون سا قاعدہ الفاظِ حدیث کا یہ ’’شتر گربانہ‘‘ مطلب بھی لے لینے کی اجازت دیتا ہے۔ میں یقیناًبہت کم علم ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا کوئی قاعدہ آپ کے علم میں بھی نہ ہو گا۔ البتہ اپنے اس گمان میں مجھے شبہ اس لیے کرنا چاہیے کہ الشریعہ نے اس بیانِ مدعا پر کوئی تردیدی یا اختلافی نوٹ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی ہے۔
ضمناً ایک اور گزارش بھی۔ فروری کا الشریعہ میں نے لکھنؤ میں پڑھا تھا۔ واپسی ابھی دو ہفتہ قبل ہوئی ہے۔ اس میں بھی ایک چیز چند سطروں کی طالب تھی۔ ’’مقامِ عبرت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تھا جس میں سورۂ نساء کی آیت ۱۵ (والٰتی یأتینَ الفاحشۃ مِن نسآئکم) کی تأویل کے بارے میں صاحبِ مضمون نے غامدی صاحب کے بارے میں عزیزِ گرامی حافظ عمار خاں صاحب کے حوالہ سے نقل کیا تھا کہ ’’جناب جاوید احمد غامدی نے مولانا اصلاحی کی راے کے اس پہلو سے تو اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقتی جذبات کے غلبہ میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طور پر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے۔‘‘ میں قرآنِ پاک کو سمجھنے کی کوشش میں مولانا اصلاحی کی کتاب سے بھی استفادہ کرنے والوں میں ہوں۔ کچھ ہی پہلے اپنے سلسلۂ محفلِ قرآن میں اس آیت سے گزرتے ہوئے مولانا کی تدبرِ قرآن بھی دیکھی تھی اور ان کی جو رائے تھی، وہ بہت بہتر معلوم ہوئی تھی۔ اور وہ کسی بھی طرح یہ نہیں تھی جس کی نسبت ان کی طرف کی گئی ہے، جس سے عہدِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلم معاشرہ کے بارے میں ایک کریہہ تصور کو راہ ملتی ہے۔ میرے پاس انجمن خدام القرآن کا ۱۳۹۶ ؁کا مطبوعہ نسخہ ہے ۔اس میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس میں ’’ ایک عادت اور معمول کے طورپر ‘‘ والی بات کا شائبہ بھی ہو۔ میں مولانا کا حق سمجھتا تھا کہ ان کی براء ت میں یہ سطریں آپ کو لکھ دوں۔ 
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی
(۲)
برادر مکرم مولانا عمار خان ناصر مدظلہ 
السلا م علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی! 
یکے بعد دیگرے آپ کے ارسال کردہ کئی ’’علمی تحائف‘‘ موصول ہوئے۔ ان نوازشات پر آپ کا شکر گزار ہوں۔
آپ کا ارسال کردہ تازہ کتابچہ جو آپ نے مولانا مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کے جواب میں لکھا ہے، اس سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بعض اسلاف کے تفردات کی آڑ میں آپ اجماع سے انکار کر رہے ہیں۔ اجماع کی آپ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے۔ واللہ اعلم با لصواب۔
محترم! آپ فرماتے ہیں کہ سلف صالحین کی کتابوں سے ہٹ کر کوئی راے قائم کرنا درست ہے۔ اس پر آپ نے کئی مثالیں تحریر کیں جو کہ تفردات کے ضمن میں آتی ہیں۔ احقر نے الشریعہ اکیڈمی میں بھی اپنے ایک مختصر بیان میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ سے سوال پوچھا تھا کہ تفردات اور فکری گمراہی میں حد فاصل کیا ہے؟ لیکن حضرت نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ سے بھی اسی سوال کا جواب مطلوب ہے۔ کیا آپ وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے؟
مخدوم گرامی! آپ نے آزادی اور لااکراہ کا جو نعرہ بلند کیا ہے، اس کے بعد آ پ غلط عقائد وافکار واعمال رکھنے والوں کو کیسے روک سکیں گے؟ وہ بھی تو یہی کہیں گے کہ اسلاف کی راے کے خلاف راے قائم کرنا جائز ہے، اس لیے ہم کسی تنقید کو نہیں مانتے۔ ما ہو جوابکم فھو جوابنا۔
محترم! میں بعض معاصرین کی طرح بازاری لہجہ میں گفتگوکا قائل نہیں ہوں، لیکن آپ کو برادرانہ طور پر تنہائی میں بارہا سمجھا چکا ہوں۔ آپ لا جواب ہو جاتے ہیں، مانتے نہیں ہیں۔ احقر کو آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ اپنی علمی جدوجہد اس انداز میں کیوں نہیں کرتے کہ عوام وخواص سب کو فائدہ ہو۔ الٹا آپ نے حضرت راشدی صاحب کو بھی صحیح بخاری کے ترجمہ ومختصر حواشی کے کام سے روک دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اگر دارالسلام والے صحیح بخاری پر کام کر رہے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب قیامت تک کسی اور کو اس پر کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں؟ 
نئی آرا وافکار آپ جیسی باریک بینی سے تلاش کرتے ہیں، وہ قابل داد ہے۔ علم وذہانت آپ کا خاندانی ورثہ ہے۔ لیکن ناراضگی معاف، آپ اس خدا داد نعمت کو صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ آپ غامدی صاحب کے پسندیدہ موضوعات کو ہی زیر بحث لاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے، آپ بہتر جانتے ہیں۔
کتابچہ کے آخری صفحہ پر آپ نے اہم بات لکھی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علمی تفردات امت محمدیہ نے کبھی قبول نہیں کیے۔ الحمدللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’لاتجتمع امتی علی الضلالۃ‘ ( او کما قال علیہ السلام) کا تقاضا بھی یہی ہے۔ لیکن آپ نے اپنا سارا وزن تفردات کے پلڑے میں کیوں ڈال رکھا ہے، جب کہ ان کے قبول عام نہ ہونے کا آپ کو اعتراف بھی ہے؟ بالفاظ دیگر آپ کی سعی عملاً لاحاصل ہے، تاہم حسن نیت کاثواب تو آپ کو مل ہی جائے گا۔ کیا آپ ایک بے فائدہ وبے نتیجہ کام پر نظر ثانی کرنا اور اسے چھوڑنا پسند فرمائیں گے؟
ان گزارشات کی تلخی پر معذرت خواہ ہوں۔
(مولانا) مشتاق احمد 
استاد جامعہ عربیہ چنیوٹ 
(۳)
برادر مکرم مولانا مشتاق احمد صاحب زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ نے اپنے عنایت نامے میں، تلخی کے ساتھ ہی سہی، جس ہمدردی، محبت اور خیر خواہی کا اظہار فرمایا ہے، اس کے لیے شکر گزار ہوں، البتہ شکوہ یہ ہے کہ آپ میری آرا کا جائزہ میرے زاویہ نگاہ سے لے کر ان کی غلطی واضح کرنے کے بجاے ہمیشہ اپنے ذہنی تحفظات اور تعصبات کے تحت ہی ان پر غور فرماتے اور میری بات سمجھنے کے بجاے ہمیشہ اپنی بات ’’سمجھانے‘‘ کی کوشش کرتے ہیں۔ ممکن ہے، آپ اور آپ جیسے دوسرے مخلص دوستوں کے نزدیک خلوص کا تقاضا یہی ہو، لیکن کسی علمی اور فکری بحث میں اگر آپ مخاطب کے سوالات کو ہمدری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو اس کے ساتھ کی جانے والی ساری گفتگو درحقیقت خود کلامی بن جاتی ہے اور بحث کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ ’’ہم اس کے قائل نہیں کہ بے فائدہ بحثوں میں الجھیں۔‘‘
بہرحال آپ نے جو چند نکات اٹھائے ہیں، ان سے متعلق مختصراً اپنی معروضات پیش کر رہا ہوں۔
آپ نے فرمایا ہے کہ ’’تفردات اور فکری گمراہی میں حد فاصل کیا ہے؟‘‘ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی حد فاصل موجود نہیں تو ’’علمی تفرد‘‘ اور ’’فکری گمراہی‘‘ کی الگ الگ اصطلاحات وضع کرنے اور ان کو الگ الگ مواقع پر استعمال کرنے کا تکلف ہی کیوں کیا گیا ہے؟ یہ فرق ایسا واضح ہے کہ مثال کے طور پر میں نے اکابر اہل علم کی جو منفرد آرا نقل کی ہیں، آپ بھی انھیں ’’فکری گمراہی‘‘ قرار نہیں دیں گے اور نہ کبھی انھیں اس طرح تنقید کا موضوع بنائیں گے جس طرح آپ بہت سی ’’فکری گمراہیوں‘‘ کو بناتے ہیں۔ اگر آپ کا ذہن عام راے سے علمی اختلاف اور فکری گمراہی میں فرق کرنے سے اتنا ہی قاصر ہے تو آپ اپنے اس طرز عمل کی کیا توجیہ کریں گے؟ 
آپ فرماتے ہیں کہ آزادئ فکر کا نعرہ بلند کرنے کے بعد ’’آ پ غلط عقائد وافکار واعمال رکھنے والوں کو کیسے روک سکیں گے؟‘‘ یہ سوال اس مفروضے پر مبنی ہے کہ کسی فکری یا عملی گمراہی کی غلطی واضح کرنے کا حتمی اور فیصلہ کن معیار یہ ہے کہ آپ اس کا سلف کے نقطہ نظر کے خلاف ہونا ثابت کر دیں۔ میرے نزدیک یہ طریقہ عوام کی سطح پر تو مفید ہو سکتا ہے، لیکن علمی لحاظ سے ایک بے حد کمزور طریقہ ہے۔ علمی سطح پر کسی نقطہ نظر کی غلطی یا گمراہی کو واضح کرنے کے لیے براہ راست اس استدلال کو موضوع بنانا ہوگا جو قرآن وسنت کے نصوص کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے، اور اکابر اہل علم نے ہمیشہ یہی کیا ہے۔ پھر یہ کہ اگر، آپ کے مفروضے کے مطابق، ہم سرے سے آزادئ فکر کے حق سے ہی دست بردار ہو جائیں، خواہ وہ محکم اور مسلمہ علمی اصولوں ہی کے دائرے میں کیوں نہ ہو، تو اس سے غلط عقائد اور افکار واعمال کا سد باب کیسے ہو جائے گا؟ جس شخص یا گروہ نے کوئی گمراہی کی راہ اختیار کرنی ہے، کیا وہ ایسا کرنے سے پہلے میرے اور آپ کے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کو دیکھے گا اور ہمیں سلف سے اختلاف نہ کرتا دیکھ کر خود بھی کوئی نئی راہ نکالنے سے باز آجائے گا؟ برا نہ مانیں تو آپ کا یہ ذہنی تحفظ مذہبی ذہن کی سادگی بلکہ سادہ لوحی کی غمازی کرتا ہے۔
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب امت نے کبھی اہل علم کے تفردات کو قبول نہیں کیا تو ان کی وکالت یا ترجمانی سعی لاحاصل کا درجہ رکھتی ہے۔ غالباً آپ کو رازی، شاہ ولی اللہ، ابن تیمیہ، علامہ انور شاہ، مولانا نانوتوی اور مولانا تھانوی رحمہم اللہ سے مخاطب ہونے کا موقع ملتا تو آپ انھیں بھی یہی ’’نصیحت‘‘ فرماتے۔ ازراہ کرم آپ ہی بتائیں کہ اس طرز فکر کو کس حد تک ’’علمی رویے‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے؟ کیا کسی صاحب علم کے اپنی راے پیش کرنے یا کسی راے کی تائید کرنے کا مقصد اور محرک یہ ہوتا ہے یا ہونا چاہیے کہ اسے لوگوں میں قبول عام حاصل ہو جائے؟ معاف کیجیے، یہ ذہنیت پیری مریدی کے حلقوں اور فرقہ وارانہ تعصبات رکھنے والے گروہوں کی تو ہو سکتی ہے، لیکن خالص علمی سطح پر قرآن وسنت پر غور کرنے والے اہل علم نے کبھی اس کی آرزو کی ہے اور نہ کوشش۔ آپ کے نزدیک اگر کسی سعی کے باحاصل یا لاحاصل ہونے کا معیار یہی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے بارے میں علم وتحقیق سے شغف رکھنے کا جو حسن ظن رکھتا ہوں، شاید مجھے اس پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔
محمد عمار خان ناصر
(۴)
فضیلۃ الشیخ محترم مولانا زاہد الراشدی 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے حالیہ شمارے کو انٹرنیٹ پر دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ماہنامہ وفاق المدارس کی طرف سے عمار خان ناصر صاحب کی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے حوالے سے ان کی تنقید اور تبصرہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ساتھ ہی آپ کی طرف سے اس عزم کا اظہار بھی کہ آئندہ شمارے میں ان اعتراضات کا مفصل جواب دیا جائے گا۔
استاذ محترم! میں اپنے بچپن سے یہ باتیں سنتا پڑھتا چلا آ رہا ہوں۔ کہیں دار العلوم دیوبند کے یہ فرزندان جو کبھی علم کی شمع فروزاں کیے رکھتے تھے، اب وہ حیاتی اور مماتی کے لاحاصل مناظروں میں اپنی صلاحیتیں کھپاتے دکھائی دیتے تو کبھی سیاسی محاذ پر مولانا عبد اللہ درخواستی گروپ، مولانا فضل الرحمن گروپ اور مولانا سمیع الحق گروپ میں منقسم دکھائی دیے۔ کہیں یہ فرزندان اسلام اپنے معمولی اختلافات کو مناظرانہ رنگ دے کر اخبارات تک میں ایک دوسرے کے اعتراضات کے جواب اور پھر جواب الجواب میں مصروف رہتے۔ دیوبند کے یہ علما جہاں بریلویوں اور اہل تشیع کے باطل افکار کی تردید کر رہے ہوتے تھے ، وہاں یہ آپس میں بھی دست بگریباں نظر آتے تھے۔ ہم تو اس وقت آپ حضرات کا نام سن کر ادب سے ہی دبک جایا کرتے تھے۔ پھر ہم نے تو ہ طے کر لیا کہ اپنے اکابرین اور اساتذہ کو ہر حال میں احترام سے یاد رکھیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اب معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ وفاق المدارس، جو دیوبندیوں کا نمائندہ مجلہ اور دیوبندیوں کے مدارس عربیہ کا امتحانی بورڈ ہے، وہ آپ کے بیٹے کی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے حوالے سے نہایت برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان کے انداز بیان میں شستگی کی جگہ درشتی، شایستگی کی جگہ مناظرانہ جدلیت، قرینے کی جگہ بد سلیقگی نمایاں طور پر دیکھی اورمحسوس کی جا سکتی ہے۔ اختلاف راے کے مختلف مراحل میں دلیل وبرہان کی بے وقعتی تو ہم اپنے بڑوں کے طرز عمل میں اپنے بچپن ہی سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے گفتگو علمی اور تحقیقی معیارات سے ہٹ کر قطعیت کے ساتھ عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے۔
جو چیزیں ماہنامہ وفاق المدارس میں ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں، انھیں پڑھ کر میرا یک طرفہ تاثر، ممکن ہے اس کتاب کے خلاف قائم ہوا ہو، اس لیے اس کتاب کے حصول کے لیے میں نے فوری طور پر رابطہ قائم کیا ہے۔ لیکن میری اختلافی راے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر مناظرانہ کیفیت کا شکار ہو جاؤں، میری سانسیں پھول جائیں، گردن کی رگیں تن جائیں، آنکھیں شعلہ بار ہو جائیں اور منہ میں جھاگ آ جائے۔ ہرگز نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ میں اس کتاب کو پڑھوں گا۔ اگر اس میں پیش کردہ بیانات اور مواد قرآن وسنت کے خلاف ہوئے تو ایک اختلافی نوٹ کے ساتھ مصنف کی توجہ اس کی علمی اور تحقیقی بے قاعدگیوں کی طرف ضرور مبذول کراؤں گا اور سمجھوں گا کہ جیسے اس عقلیت پرستی کے دور میں اور بہت ساری دیگر کتب موجود ہیں، یہ اسی ذخیرۂ کتب میں ایک اور اضافہ ہے۔
آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ آپ نے ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں ماہنامہ ’وفاق المدارس‘ کے جن اعتراضات کے حوالے سے جواب دینے کا ارادہ فرمایا ہے، اسے منسوخ فرما دیجیے۔ ہم ماہنامہ ’وفاق المدارس‘ کی مجلس ادارت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ بھی آپس میں علمی اختلاف راے کو اپنی مناظرانہ طبیعت کی بھینٹ چڑھنے سے بچائیں۔
محمد طارق غوری
(فاضل دار العلوم فیصل آباد
پی ایچ ڈی اسکالر پشاور یونیورسٹی)
(۵)
محترم مدیر الشریعہ 
السلام علیکم 
آج اسلام کی جو تصویر دنیا کو نظر آرہی ہے، اس میں وحشت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسلام خود کش حملہ آوروں کا مذہب بن گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ دہشت گردوں کا مذہب ہے، جب کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم نے تشدد کاراستہ اختیار کر لیا ہے اور پرامن وادیوں کو بارود سے بھر دیاہے۔ میں سزا اور جہاد سے انکار نہیں کرتا۔ دنیا کی دیگر قومیں بھی مذہب کے نام پر جنگ لڑتی رہی ہیں اور ان کے مذہبی قوانین میں بھی سخت سزائیں موجود ہیں، ہر چند کہ اب ان کی حکومتیں مذہب کے زیر اثر نہیں ہیں۔ انہوں نے مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود کر دیا تھا اور زندہ رہنے کے لیے الگ سے قوانین بنا لیے ہیں۔ 
لیکن میں یہاں مختلف بات کہنا چاہتا ہوں۔ اسلام پہلے فلاحی ریاست کا تصور دیتاہے، فرد کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ان کے روز گارکا انتظام اپنے ذمہ لیتا ہے۔ مسلمان حاکم اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی ریاست میں کوئی شخص بھوکا نہ رہ جائے۔ یہ دراصل خوف خدا ہے جسے ہر حاکم کے دل میں ہونا چاہیے۔ سزا دینے سے پہلے اس بات کا اطمینان کیا جاتا ہے کہ یہ شخص گنہگار ہے یا نہیں، لیکن ہم نے تو آغاز ہی سزاؤں سے کیا ہے اور وہ بھی یوں کہ ایک عورت کو مردوں کے ہجوم میں کوڑے مار کر نفاذ اسلام کا اعلان کیا ہے۔ یہاں اصلی یا جعلی کی بحث کیا کر ے گی۔ دنیا بھر میں جو تاثر قائم ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ اگر انارکی نے اسی انداز میں فروغ پایا تو پھر بہت سی خود ساختہ عدالتیں قائم ہو جائیں گی اور ہر گلی محلے میں انصاف ہونے لگے گا۔ ہر جگہ کوڑے مارے جائیں گے اور پھانسی گھاٹ ہر چوراہے پر نظر آئیں گے۔
جہاد کی اب مختلف صورت سامنے آئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر شخص نے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ انفرادی جہاد نے خود کش حملہ آور پیدا کر دیے ہیں۔ یہ جہاد ی مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہر روز لوگ مررہے ہیں اوریہ زمین بے گناہوں کے خون سے سرخ ہو رہی ہے۔ یہ سلسلہ کہاں جاکر ختم ہو گا، کوئی نہیں جانتا۔ ہمارا کام تو صرف اتناہے کہ ہم ہر روز کسی نئے دھماکے کی آواز سنیں اور ایک دن خود کسی دھماکے کی نذر ہو جائیں۔ 
جاوید اختر بھٹی
(۶)
برادرم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم۔ امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔
اپریل کی اشاعت میں ’’مکاتیب‘‘ میں قرآن اکیڈمی کے ایک ریسرچ ایسوسی ایٹ کا مکتوب شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے اپنی اعلیٰ درجے کی کم ظرفی کا نہایت پس انداز میں اظہار کیا ہے۔ میں نے جب کتاب ’’چہرے کا پردہ‘‘ پر تبصرہ آپ کو ارسال کیا تھا تو مصنفین کا نام نہیں لکھا تھا، بلکہ تبصرے میںیہ تک لکھا کہ ’’محمد احسن تہامی نے اس تمام علمی بحث کی ۱۷؍ اقساط کو ایک منظم ترتیب سے بے کم وکاست کتابی شکل میں محفوظ کر کے ارباب بصیرت کے حضور ایک فکری کاوش کے روپ میں پیش کر دیا ہے۔‘‘ (الشریعہ، مارچ ۲۰۰۹، ص ۵۶) غالباً ادارے کی جانب سے کتاب کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے مصنفین کے طور پر پروفیسر خورشید عالم کے ساتھ حافظ محمد زبیر کا نام بھی درج کیا گیا ہے جسے مکتوب نگار نے ’’بددیانتی‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ شاید انھیں بددیانتی کے معنی کی خبرنہیں ہے۔ وہ تو شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی حرکات جیسے الفاظ کسی کتاب میں ان کے مضامین شائع کرنے پر کہے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ کوئی مصنف جب جو کچھ اپنی کج فہم فکر میں آئے، اسے قلم بند کر دینے کے بعد پچھتائے تو اپنی تحریروں کو کتابی صورت دینے والے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کے طعنے کی بجاے اسے اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہیے۔ 
میں سمجھتا ہوں کہ مصنف کا یہ مکتوب میرے اس پیرا گراف کا رد عمل ہے کہ ’’حافظ محمد زبیر کے علمی مرتبے اور تحقیق کے اسلوب کے حوالے سے جو تاثر اس کتاب کے مطالعے سے قائم ہوتا ہے، اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ انھیں تحقیق کے میدان میں ابھی خاصا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ خلط مبحث سے کام لیتے ہوئے کس طرح غیر متعلقہ معاملات اٹھاتے ہوئے علمی دیانت کے منافی طرز اختیار کرتے ہیں۔ ان کی عربی دانی کی قابلیت جس طرح ان کے نادر نمونوں سے سامنے آتی ہے، اس کو کوئی اورمثال ابھی تک ہمارے سامنے نہیں ہے کہ وہ کس طرح جابجا الفاظ کے غلط معنی اور کئی مقامات پر احادیث کے غلط ترجمے کر کے ایک افسوس ناک اورغلط روایت کے امین ہونے کابھرپور ثبوت دے رہے ہیں۔ حکمت قرآن مارچ ۲۰۰۶ میں اشاعت پذیر ان کے مقالے میں اٹھارویں حدیث کا ترجمہ انہوں نے جس طرح سے کیا ہے، اس پر افسوس کاا ظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ اصل معاملہ کیا تھا اور حافظ محمدزبیر نے کیا سے کیا کر کے پیش کیا ہے۔ (ص۱۹۰) اسی طرح نہ الفاظ کی دلالت سے نہ معانی کی دلالت سے، نہ ہی لغت کی شہادت سے ’جلباب‘ کامعنی وہ نکلتاہے جو حافظ محمد زبیر نکالتے ہیں۔ (ص ۲۲۲) فضیل بن عباس والی روایت کا مکمل علمی تجزیہ (ص۲۲۷) پڑھ کر ہمیں حافظ محمد زبیر کی علمی استعداد اور طرز استدلال سے جو آگاہی ہوتی ہے، اس پر فاعتبروا یا اولی الابصار ہی کہا جا سکتا ہے۔ غلط تراجم، بودے استدلال، معانی میں تحریف، اور غیر متعلقہ معاملات اٹھانے کی روایت کے ساتھ ساتھ عربی لغت سے ناواقفی کے باعث اگر حافظ محمد زبیر، پروفیسر خورشید عالم کی طرف سے دیے گئے مشوروں کو قبول کر لیں اور آئندہ بحثوں میں زیادہ سنجیدگی اور محنت سے کام لیں تو اس مباحثے کا حق ادا ہو جائے گا۔ ‘‘ (ص ۵۶)
مجھے ایک مبصر کی حیثیت سے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کے محاسن ومعائب کو بیان کرنے اور اپنے تاثرات کو قارئین کے سامنے پیش کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔ اگر مصنف اپنے لکھے ہوئے مضامین سے منحرف ہو چکے ہیں تو اس میں تبصرہ نگار کا کیا قصور؟ انھیں چاہیے تھا کہ جن نکات کی طرف میں نے بطور مبصر توجہ دلائی ہے، اگر وہ درست نہیں تھے تو اپنے خط میں ان کے بارے میں اپنا زایہ نظر پیش کرتے۔ لیکن ظاہر ہے کہ مذکورہ نکات کا آنے والے دنوں میں بھی اگر کوئی سائل ان سے جواب مانگے گا تو وہ اپنے قلم کی نب سے کف اڑانے کے سوا کیا کہیں گے۔ اس کے سوا ان کی علمی زنبیل میں ہے ہی کیا؟
مکتوب نگار کو شکایت ہے کہ ’’دار التذکیر کے مالکان میرے نام سے میری اجازت کے بغیر ایک ایسا موقف پیش کر رہے ہیں جو کہ اب میرا نہیں ہے۔‘‘ بہرحال اب جبکہ وہ اپنا نظر ثانی شدہ موقف اپنے زیر اہتمام شائع کر رہے ہیں، انھیں پوری احتیاط اور محنت سے کام لینا چاہیے، کیونکہ اس کے بعد وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ’’قرآن اکیڈمی کے مالکان میرے نام سے ایک ایسا موقف پیش کر رہے ہیں جو کہ میرا نہیں ہے۔ جس کسی کو اس حوالے سے میرا موقف جاننا ہو، وہ میری کتاب کی اشاعت کا انتظار کرے۔‘‘
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز