جہاد و قتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(محمد مشتاق احمد کی تصنیف ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت: اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
جہاد آج کے دور میں نہ صرف مغرب او رمسلمانوں کے درمیان تعلقات بلکہ گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول کے حوالے سے بھی غالباًٍ سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے جس پر مختلف حلقوں میں اور مختلف سطحوں پر بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بحث اگرچہ نئی نہیں ہے اور صدیوں سے اس کے متنوع پہلووں پر مثبت اور منفی طور پر گفتگو ہو رہی ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سے اقوام عالم نے مل کر اقوام متحدہ کے نام سے ایک بین الاقوامی فورم تشکیل دیا ہے اور سوسائٹی کے متعدد دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ جنگ وقتال کے معاملات کو بھی ایک بین الاقوامی نظام کے دائرے میں لانے کی طرف پیش رفت کی ہے، تب سے دنیا میں اسلام کے غلبہ، اسلامی ممالک میں شریعت اسلامیہ کے احکام وقوانین کے نفاذ، غیر مسلم ممالک واقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اور جہاد اسلامی کے اہداف اور حدود کار کے بارے میں بحث ومباحثہ نے بھی شدت اختیار کر لی ہے اور اس کے دائرے میں مزید تنوع اور وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے۔
ایک طرف ایک منظم عالمی نظام ہے جسے دنیا کے اکثر ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس بین الاقوامی چھتری کے نیچے بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدات اور معاملات کاایک مربوط سسٹم موجود ومتحرک ہے جسے مسلم دنیا کی کم وبیش سب حکومتیں تسلیم کرتی ہیں، جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کے وہ دینی، فکری اور علمی حلقے ہیں جو دنیا پر اسلام کے غلبہ اور مسلم معاشروں میں اسلامی شریعت کے نفاذ وترویج کے لیے کوشاں ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ اس کے لیے ہر نوع کی قربانی پیش کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آج کی عالمی صورت حال کیا ہے؟ زمینی حقائق کا منظر کیا ہے؟ ان کی جنگ کس کس سے ہے؟ اور اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو چیلنج کرتے ہوئے یا کسی حد تک اس کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے پاس اپنے اہداف ومقاصد حاصل کرنے کے عملی امکانات کیا ہیں؟ ان سب سوالات سے بے نیاز ہو کر وہ اپنی ایمانی قوت اور میسر وسائل کے سہارے اسلام کی بالادستی اور نظام شریعت کے نفاذ کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔
آج کے زمینی حقائق اور معروضی سوالات میں ایک بہت بڑا بلکہ شاید سب سے بڑ ا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ جہاد کی بات ہو یا نفاذ شریعت کا تقاضا ہو، مسلمانوں کے خلاف سب سے اہم حوالہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے تقاضوں کا پیش کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف سب سے بڑی چارج شیٹ یہی ہے کہ وہ ان تینوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، بین الاقوامی نظام ومعاہدات میں شریک ہونے کے باوجود علمی طور پر ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس سے انحراف کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔
ان حالات میں اس بات کی ایک عرصہ سے شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ مروجہ بین الاقوامی نظام وقوانین کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا جائے، اسلامی احکام وقوانین کے ساتھ ان کا تقابلی جائزہ لیا جائے، جہاں جہاں دونوں کا اتفاق ہے، ان جگہوں کی نشان دہی کی جائے، جن امور پرٹکراؤ اور تضاد ہے، ان کا بھی تعین کیا جائے، پھر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ شرعی اصولوں کی روشنی میں انھیں قبول یا رد کرنے اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی تجویز کی جائے اور یہ بحث جذباتیت یا عمل اور رد عمل کی نفسیات سے ہٹ کر خالصتاً علمی اور فقہی بنیادوں پر ہو۔
میں خود اس مضمون کا قدیمی طالب علم ہوں، اس کے کسی بھی پہلو پا جو چیز مجھے اردو یا عربی میں میسر آتی ہے، اس کا مطالعہ کرتا ہوں، جہاں موقع ملے تحریری یا تقریری طور پر اس پر اظہار خیال بھی کرتا ہوں اور اب تک سینکڑوں مضامین اس حوالے سے سپرد قلم کر چکا ہوں، لیکن میری کچھ کمزوریاں ہیں جو ہر وقت میرے سامنے رہتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ میں انگریزی سے نابلد ہوں جو بین الاقوامی قوانین کے اصل مآخذ تک رسائی کے لیے ضروری ہے، میرا ذہن صرف اصولوں کے استنباط وتعین اور کسی حد تک ان کی تطبیق کے دائروں تک محدود رہتا ہے جبکہ جزئیات وتفصیلات تک رسائی اس کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور مطالعہ کا وہ تسلسل، تنوع اور وسعت مصروفیت او رمزاج دونوں حوالوں سے میرے بس کی بات نہیں جو اس کام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے ایک مدت سے یہ خواہش رہی ہے اور اس کے لیے دعاگو رہا ہوں کہ کوئی ایسا صاحب علم سامنے آئے جو اسلامی شریعت او رمروجہ بین الاقوامی نظام وقوانین پر یکساں دسترس رکھتا ہو، مغز کھپائی کر نے والا ہو، مطالعہ وتحقیق کے ذوق سے پوری طرح بہرہ ور ہو اور محنت ومشقت کے تقاضے بھی پورے کر سکے۔
محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب کے مضامین جب سے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونا شروع ہوئے ہیں، میری نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں ا ور میں اس موقع کی تلاش میں تھا کہ ان سے اس مقصد کے لیے گزارش کر سکوں کہ میرے وجدان کے مطابق شاید قدرت نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کر لیا ہے، ا س لیے وہ تنہا یا دوستوں کی ٹیم کی صورت میں اس کام کا بیڑا اٹھائیں اور امت مسلمہ کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہم فقیروں کا دل بھی خوش کر دیں۔
’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے ان کے مضامین تو نظر سے گزرتے رہے ہیں، لیکن گزشتہ روز عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے محترم پروفیسر مشتاق احمد کی زیر نظر کتاب کے مسودہ کے بارے میں بتایا اور میں نے اس کے مقدمہ کے ساتھ ساتھ مضامین کی فہرست پر ایک نظر ڈالی تو محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً عرض کر رہا ہوں کہ دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا اور زبان ’ذلک ما کنا نبغ‘ کا ورد کرنے لگی۔
میں بحمد اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام اور نفاذ شریعت کے شعوری کارکنوں میں سے ہوں مگر دیکھ رہا ہوں کہ اس مقدس مشن کے کارکنوں کو جدوجہد اور تگ وتاز کے دوران موجودہ بین الاقوامی نظام وقوانین کے بنائے ہوئے بریکروں سے قدم قدم پر واسطہ پڑتا ہے بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے سے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اچانک بریکر سامنے آنے پر گاڑی اس زور سے اچھلتی ہے کہ انجن کے ساتھ ساتھ سواریوں کا انجر پنجر بھی ہل کر رہ جاتا ہے۔ محترم پروفیسر مشتاق احمد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری ایک دیرینہ خواہش اور امت مسلمہ کی ایک انتہائی اہم ضرورت کی تکمیل کی طرف قدم بڑھایا ہے اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انھیں اس کاوش پر جزاے خیر سے نوازتے ہوئے اسے دینی جدوجہد کے راہ نماؤں اور کارکنوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں اور قبولیت وثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
دور اول کے جنگی معرکوں میں خواتین کا کردار
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
ہمارا موجودہ زمانہ افراط وتفریط کا ہے۔ جہاں تک خواتین اور جنگی معارک میں ان کی شرکت کا تعلق ہے، عام طور پر لوگ افراط وتفریط میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو عورتوں کی مکمل آزادی اور مردوں کے ساتھ ان کی ہمسری کے دعوے دار ہیں اور یہ جملہ کہ ’’عورتیں مردوں کے شابہ بشانہ کام کر سکتی ہیں‘‘ ہماری روزمرہ کی زندگی اور صحافت میں عام ہو چکاہے اور عملی حقیقت بھی یہی ہے کہ عورتیں ہر میدان میں مردوں کے ساتھ کام کرتی نظر آتی ہیں، خواہ وہ سرکاری دفاتر ہوں، خواہ تجارتی کمپنیاں اور بینک یا ہسپتال اور اسی قسم کے دوسرے بیسیوں ادارے۔ فوج میں بھی اب خواتین کو خاصی نمائندگی دی جاتی ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو صدیوں کی تہذیبی اور مقامی روایات کے سبب عورتوں کو بالکل پردے اور چاردیواری میں دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے افغانستان، سعودی عرب میں یا ہمارے ملک کے مختلف طبقات کے نزدیک۔
اسلام کی اولیں تاریخ میں خواتین کے کردار سے بے خبری کے سبب یہ بات عام ہوگئی ہے کہ عورتوں کا اسلامی جہاد میں کوئی کردار نہیں، اس لیے آج کے زمانے میں ان کی فوجی خدمات غیر ضروری بلکہ خلاف اسلام ہیں۔ لیکن اگر ہم اسلامی تاریخ بنظر غائر پڑھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اسلام میں عورتوں کی اس آزادی اور خودسری کا تصور ہرگز نہیں جو مغربی تہذیب کے اثر سے ہمارے معاشرے میں عام ہے، نہ اسلام نے عورتوں کو مردوں کے شا نہ بشانہ بے پردگی اور بے مہار آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی قیود جو افغانستان یا سعودی عرب میں ہیں، یہ ایک طرح کی تفریط ہے لیکن عورتوں کی وہ آزادی جو ہم اپنے ملک، مصر، شام اور عراق وغیرہ میں دیکھتے ہیں، اس کی بھی اسلام میں گنجایش نہیں۔ عورتوں کو معاشرے میں مختلف کام کرنے کی اسلام نے یقیناًآزادی دی ہے، لیکن حدود وقیود کے ساتھ جس کا ایک نمونہ موجودہ ایران میں نظر آتا ہے۔ عہدنبوی میں بھی کچھ خواتین تجارت کرتی تھیں اور ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بازار کی نگرانی پر مامور تھی۔ لیکن فی الوقت ہمارا موضوع جہاداور خواتین ہیں، بالفاظ دیگر فوجی خدمات کا کردار۔ ہماری تاریخ کایہ وہ پہلو ہے جس سے بہت سے پڑھے لکھے بلکہ اکثر اسلام پسند لوگ بھی بے خبر ہیں۔
کتب حدیث، سیرت نبوی اور تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بعض معرکوں میں خواتین شریک ہوا کرتی تھیں۔ غزوۂ احد کے موقع پر خود آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ بعض دوسری صحابیات (ام سلیم، ام سلیط) کے ساتھ زخمیوں کو پانی پلانے اور ان کو شہر منتقل کرنے میں مشغول تھیں اور ایک مشہور صحابیہ حضرت ام عمارۃؓ ، نسیبہ بنت کعب تو تلوار لیے باقاعدہ کافروں سے جنگ کر رہی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کادفاع کر رہی تھیں۔ وہ ناپاک کافر ابن قمۂ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کرنے کے لیے بڑھا تھا، اس پر حضرت ام عمارہ نے تلوار کا وار کیا، لیکن چونکہ وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا، اس لیے اس وار کا اس پر اثر نہ ہوا اور بھاگتے ہوئے اس نے حضرت ام عمارہؓ پر وار کیا۔ اس سے ان کو کاری زخم لگا جس کو انہوں نے برداشت کیا۔ ان کے ساتھ ان کے بیٹے بھی اس جنگ میں لڑ رہے تھے۔ حضرت ام عمارۃ نے اس موقعے پر کئی کافروں کو قتل کیا۔ ان کی بہادری کے جوہر دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: من تطیق ما تطیقین ام عمارۃ (کس میں اتنی طاقت ہے جو ام عمارہ میں ہے؟) ام عمارہ پھر جنگ خیبر میں بھی شریک تھیں اور جنگ یمامہ میں تو انہوں نے وہی بہادری کے جوہر دکھائے جو جنگ احد میں دکھائے تھے۔ وہ مسیلمہ کذاب کو اس جنگ میں اپنے بیٹے عبداللہ کی شہادت کے بعد ذاتی طور پر قتل کرنے کے درپے تھیں، لیکن جب وہ اس کے قریب پہنچیں تو دور سے وحشی قاتلِ حمزہ کا، جو مسلمان ہو چکے تھے، بھالا مسیلمہ کذاب کے لگا جس نے اس کی جان لے لی۔ ام عمارہ کے علاوہ ام عطیہ اور ام سلیم وغیرہ کی جنگ احد اور خیبر میں شرکت کا ذکر ہمیں سیرت وتاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے، بلکہ امام بخاری نے تو ’کتاب الجہاد‘ میں ایک خاص باب عورتوں کے جہاد یا فوجی خدمات کے متعلق باندھا ہے۔ یہ باب ۶۵ ہے او ر اس کا عنوان ہے ’ غزوالنساء وقتالھن مع الرجال‘ (عورتوں کی غزوات میں شرکت اور مردوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنا)۔
اس کے علاوہ انہوں نے متعدد دوسرے ابواب میں خواتین کا جہادی معارک میں زخمیوں کا علاج کرنے، پانی پلانے اور شہیدوں کو مدینہ منتقل کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔ مذکورہ باب ۶۵ سے لے کر باب ۶۸ تک چند احادیث فوجی کارروائیوں میں خواتین کی شرکت سے ہی متعلق ہیں۔ باب ۶۸ ’رد النساء الجرحی والقتلی‘ (خواتین کا زخمیوں اور شہیدوں کاعلاج کرنا اور منتقل کرنا) میں وہی ایک صحابیہ ربیع بنت معوذ کایہ قول نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا کرتی تھیں ، لوگوں کو پانی پلاتی اور ان کی خدمت کرتی، اور زخمیوں اور شہیدوں کو مدینہ منتقل کرتی تھیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے صحیح بخاری کی شرح میں اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے اس بات کاجواز ثابت ہوتا ہے کہ غیر عورت، غیر مرد کا ضرورت کے موقعے پر علاج کر سکتی ہے۔ ہمارے پیش نظر موضوع سے قطع نظر اس حدیث اور حافظ ابن حجر کی اس تشریح سے اس بات کا جواز ملتا ہے کہ خواتین مردوں کا علاج کر سکتی ہیں۔
یہ تو عہد نبوی سے متعلق غزوات یا جہادی معرکوں میں خواتین کے اکا دکا اشتراک کی مثالیں ہیں، کیونکہ اس زمانے کی لڑائیوں میں افواج کی بڑی تعداد نہیں ہوتی تھی، لیکن عہد نبوی کے فوراً بعد حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں جو جہادی معرکے عراق وشام میں پیش آئے، ان میں عورتوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور باقاعدہ جنگ میں شریک ہوئیں، خاص طور پر جنگ یرموک جو شام وفلسطین کے رومی حکمرانوں کے خلاف ایک انتہائی فیصلہ کن جنگ تھی اور اس کا اولیں اسلامی تاریخ کی جنگوں میں بہت بڑا مقام ہے، کیونکہ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح یابی کے بعدملک شام وفلسطین اور اردن میں رومی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ ہماری قدیم ترین تاریخ یعنی ’تاریخ طبری‘ میں جنگ یرموک کاذکر تفصیل سے ہے، لیکن افسوس کہ یہ تاریخ جو سنین کے اعتبار سے مرتب کی گئی ہے، اس میں جنگ یرموک میں شریک ہونے والے مجاہدین کا علیحدہ تذکرہ نہیں۔ معرکے کی تفصیلات میں ادھر ادھر ہمیں ان کے نام معلوم ہو جاتے ہیں۔ ا نہی میں ایک انتہائی اہم مجاہدصحابی ضرار بن الازور ہیں جنہوں نے اس معرکے میں زبردست داد شجاعت دی تھی، لیکن افسوس ہے ہماری تواریخ میں معرکہ یرموک کے مشہور ترین دو قائدین حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور خالد بن ولیدکے ساتھ دوسرے قائدین شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان اور عمروبن العاص تو معروف ہیں لیکن ان صف اول کے قائدین کے علاوہ دوسرے درجے کے قائدین جیسے ضرار بن الازور اور را فع بن عمیرہ اتنے معروف نہیں۔ شرحبیل بن حسنہ اور ضرار بن الازور کی قبور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح قبر کے قریب ہی اردن کے پایہ تخت عمان سے ذرا فاصلے پر موجود ہیں اور ہمیں ۱۹۹۲ء میں ان کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ یہاں اس بات کا ذکر فائدے سے خالی نہیں ہو گا کہ حضرت شرحبیل کا نام کچھ عوام الناس نے غلط طور پر پڑھا اور اسی غلط تلفظ سے اپنے بچوں کے نام ’شرجیل‘ رکھنے لگے جوہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں، لیکن یہ ایک مہمل لفظ ہے۔ صحیح لفظ شُرَحْبِیْل ہے۔
انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تاریخ اسلام کے اس فیصلہ کن اور اہم معرکے میں بہت سی مسلمان خواتین یعنی صحابیات بھی شریک تھیں، ان کا ذکر ہمیں کتب تواریخ میںیکجا نہیں ملتا۔ یہ صرف دوسری صدی ہجری کے مشہور مورخ واقدی ( محمد بن عمر) سے منسوب ’فتوح الشام‘ کاامتیاز ہے کہ اس میں ان مجاہد خواتین اور ان کی جنگی خدمات کا کافی تفصیل کے ساتھ ذکر آیا ہے اور خاص طو رپر حضرت ضرار بن الازور کی بہن خولہ بنت ا لازور کو تو انہوں نے اس جنگ کاہیرو بنا دیا ہے۔ یہ غالباً ’فتوح الشام‘ ہی کا اثر ہے کہ ہمارے بعض پڑھے لکھے اور اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شعرا میں بھی ان خولہ کا نام بہت مشہور ہے۔ اگر چہ اسلامی ثقافت میں ایک دوسری خولہ یعنی خولہ بنت ثعلبہ کتب تفسیر وحدیث میں زیادہ مشہورہیں، کیونکہ ان کے اللہ سے فریاد کرنے پر اٹھائیسویں پارے میں سورۃ مجادلہ نازل ہوئی تھی۔ ’فتوح الشام‘ کا جو نسخہ لبنا ن کا چھپا ہوا متداول ہے اور ہمارے سامنے ہے، اس میں تو جنگ یرموک میں عورتوں کی شرکت سے متعلق علیحدہ سے ایک باب ہے۔ یہی نہیں بلکہ حضرت خولہ بنت الازور کی فوجی کارروائیوں سے متعلق علیحدہ سے ایک فصل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ فصل کایہ عنوان ناشر کی طرف سے ہو لیکن ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ فتوح الشام کے جو دسیوں ایڈیشن انیسویں صدی میں شائع ہوئے ہیں، ان کے بارے میں محققین کی رائے یہ ہے کہ وہ واقدی کی اصل کتاب نہیں۔ قدیم کتب جیسے ’فہرست الندیم‘ (یہی نام د رست ہے جو مولف نے اپنے قلمی نسخے پہ لکھا تھا، ابن الندیم غلط مشہور ہو گیا) اور یاقوت کی ’معجم الادباء‘ اور معاصرین میں سے خیرا لدین زرکلی کی ’الاعلا م‘ اور رضا کحالہ کی ’معجم المولفین‘ وغیرہ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ واقدی نے ’فتوح الشام‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، اس کے دسیوں قلمی نسخوں کا ذکر عصر حاضر کے ترکی علامہ فواد سیز گین نے اپنی کتاب ’تاریخ التراث العربی‘ میں کیا ہے۔ اس کتاب کے منظوم ومنثور ترکی تراجم بھی ہو چکے ہیں، لیکن جیسا کہ ہم نے ابھی عرض کیا، محققین اس کی واقدی سے نسبت کے بارے میں بڑے شکوک رکھتے ہیں ۔ خود ہمارا خیال بھی یہی ہے کہ اپنی موجودہ صورت میں یہ کتاب واقدی (وفات: ۲۰۷ھ) کی تصنیف نہیں معلوم ہوتی اور اس ذیل میں ہمیں خیرالدین زرکلی، صاحب ’الاعلام‘ کی یہ بات کہ اس پوری کتاب کی نسبت واقدی سے صحیح نہیں، زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر کتاب کا کچھ مواد واقدی کا لکھا ہوا ہے اور کچھ بعد کے لوگوں کا اضافہ ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جوسرے سے اس کتاب کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے خیال میںیہ ایک انتہا پسندانہ رائے ہے۔ ہمارے ناقص خیال میںیہ کتاب اپنی موجودہ شکل میں صلیبی جنگوں کے بعد یا ا س دوران میں یعنی چھٹی یا ساتویں ہجری میں لکھی گئی ہے۔ اس کا انداز بیان و ہ ہے جو دوسری صدی کے اس مصنف کا ہے اور نہ ہی وہ اسلوب نگارش ہے جو مصنف کی دوسری مستند ومتداول کتاب ’المغازی‘ میں ہے۔ (تحقیق ۱۹۶۶ء Marsden Jones)۔ ہمارے خیال میں کتاب کابنیادی مواد تو واقدی کی اصل کتاب سے لیا گیا ہے، لیکن اس کی تفصیلات میں جذبہ جہاد کو ابھارنے کے لیے وہ رنگ آمیزی کی گئی ہے جو صلیبی عہد کی دوسری کتابوں میں نظر آتی ہے۔ کتاب کے آخری صفحہ ۲۱۵ وصفحہ ۲۱۸پر واقدی سے دوتین سو سال بعد کے مصنفین مورخ مسعودی، ابن خلکان اور طبرانی کے ذکر سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ پوری کتاب واقدی کے قلم سے نہیں۔ بہرحال اگرچہ وہ تمام مجاہد خواتین جن کا ذکر اس کتاب میں ہے، ان کے حالات صحابہ وصحابیات سے متعلق قدیم وجدید عربی اور اردوکتابوں میں نہیں ملتے، جن میں ’سیر صحابیات‘ اور طالب ہاشمی کی مفصل ’تذکار صحابیات‘ قابل ذکر ہیں۔ لیکن بہرحال جیسے ہم آگے چل کر دیکھیں گے، بعض صحابی مجاہدات کاذکر ان کتابوں میں بھی ملتا ہے اور سیدسلیمان ندویؒ نے پچاس ساٹھ سال قبل اپنے مقالہ ’’مسلمان عورتوں کی بہادری‘‘ میں بھی بہت سی ان خواتین کا ذکرکیا ہے۔
واقدی نے جنگ یرموک کے ذکر میں پچیس ان خواتین کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس جنگ میں عملی حصہ لیا اور اپنی تلواروں کے جوہر دکھائے۔ ان میں سر فہرست خولہ بنت الازور (جنہوں نے ایک موقعے پر پانچ کافروں کو قتل کیا) اور عفراء بنت غفارؓ (جنہوں نے چار کافروں کو قتل کیا) ہیں اور ام حکیم اور ام ابان کی بہادری کے قصے بھی فتوح الشام میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان خواتین کے علاوہ واقدی کے بقول قبیلہ لخم، جذام اور قبیلہ خولان کی بہت سی خواتین بھی جنگ یرموک کے معارک میں شریک تھیں۔ ان مجاہد خواتین کی ایک ڈیوٹی یہ بھی تھی کہ میدان جنگ میں فوج کے پیچھے ہاتھوں میں خیموں کے ڈنڈے لے لیں اور اپنے سامنے پتھر جمع کر لیں اور اگر مجاہدین شکست کھا کر واپس بھاگنے لگیں تو وہ ان مسلمانوں پر پتھر برسا کر اور ان کے گھوڑوں پر ڈنڈے چلا کر ان کو غیرت دلائیں اور واپس جنگ کے لیے بھیجیں۔ ان کا ایک کام یہ بھی تھا کہ جو بچے ان کے ساتھ تھے، ان کو ہاتھوں میں اٹھا کر شکست خوردہ بھاگنے والے مجاہدین کو غیرت دلائیں کہ تم اپنی بیوی بچوں کے لیے لڑو۔ مجاہدین کی ہمت بڑھانے کے لیے کچھ خواتین جنگی ترانے بھی گایا کرتی تھیں۔ فتوح الشام کے مصنف نے حضرت خولہ بنت الازور کے ترانے کے چند شعر نقل کیے ہیں جو وہ عود پر جنگی لہجے میں گا رہی تھی:
یا ہاربا عن نسوۃ ثقات
لھا جمال ولھا ثبات
تسلموھن الی الھنات
تملک نواصینا مع البنات
اعلاج سوق فسق عتاۃ
ینلن منا اعظم الشتات
مذکورہ بالا خواتین کے علاوہ چند دیگر خواتین کا ذکر ’فتوح الشام‘ کے مصنف نے امتیازی حیثیت سے کیا جن کے نام صحابہ وصحابیات سے متعلق مشہور ومتداول کتاب ’اصابہ‘ میں، ہیں۔ وہ یہ ہیں:
۱۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر، جوگھوڑے پر سوار اپنے شوہر حضرت زبیر بن العوامؓ کے ساتھ جنگ یرموک میں شریک تھیں۔
۲۔ ام ابانؓ زوجہ حضرت ابان بن سعید بن العاص، جنہو ں نے اس معرکے میں اپنے شوہر کی شہادت کے بعد ان کے قاتل سے بدلہ لیا اور اسے جہنم رسید کیا۔
۳۔ ام حکیم بنت الحارث زوجہ عکرمہ بن ابی جہلؓ، جنہوں نے اپنے شوہر کے انتقام میں سات کافر قتل کیے۔
۴۔ اسماء بنت یزید بن سکن، جنہوں نے اپنے خیمے کے بانس سے ۹ رومیوں کو قتل کیا۔ (اصابہ، جلد ۴)
یہ سب خواتین ہیں جن کی جنگ یرموک میں شرکت کا ذکر ہمیں کتب رجال یا طبقات صحابہ میں ملتا ہے، جیسے طبقات ابن سعد، الاصابہ، اور سیر اعلام النبلاء، یا اردو کی وہ کتابیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ لیکن ان کے علاوہ بعض دوسری مجاہدات کے نام فتوح الشام میں دیے گئے ہیں اور افسوس کہ ان کا ذکر کتب طبقات صحابہ میں نہیں۔ ان میں عزہ بنت عامر بن عاصم الفہری، رملہ بنت طلیحہ زبیری، رعلہ ، امامہ ، زینب ، لبنیٰ بنت حازم، سلمیٰ بنت زارع، مزروعہ بنت عملوق ،کعوب بنت مالک بن عاصم، سعیدہ بنت عاصم الخولانی، سلمیٰ بنت ہاشم ، نعم بنت فیاض (قناص؟) اورسلمیٰ بنت لوی ہیں۔ افسوس کہ ان موخرالذکر صحابیات کے حالات کتب طبقا ت میں نہیں ملتے۔
اگر چہ ہم کتاب فتوح الشام کی واقدی کی طرف نسبت پر تحفظات رکھنے کے بارے میں حق بجانب ہیں، لیکن اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ صاحب کتاب نے اپنی طرف سے خواتین کے یہ فرضی نام لکھ دیے ہیں۔ مسلمانوں کا بہت سا اولیں ذخیرہ کتب جس کا ذکر الندیم کی کتاب الفہرست یا، یاقوت کی معجم الادباء میں ہے، ضائع ہو گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان مجاہدات کے نام ان ضائع شدہ کتابوں میں ہوں۔ اس لیے ہمیں ان مجاہدات کے ناموں میں شک وشبہ کرنے کی گنجائش نہیں۔ جنگ یرموک میں ان صحابیات کی شرکت ہماری خواتین کے لیے عملی مثال ہے۔ عصر حاضر کی مسلمان خواتین جو صلیبی دشمنوں کے مقابلے میں اپنے مسلمان بھائیوں یاشوہروں کے ساتھ اپنا کردار ادا کر نا چاہتی ہیں، جنگ یرموک کی روشنی میں ان کو اس بات کی مکمل اجازت ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ فضیلت واخلاق او ر اسلامی حدود کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
کتاب ’فتوح الشام‘ کی واقدی سے نسبت کے بارے میں جو شکوک ہیں، ان سے قطع نظر اس بات کا انکا رممکن نہیں کہ اس کتاب نے مسلمانوں بلکہ مسلمان خواتین کے دلوں میں جذبہ جہاد اور سرفروشی کو زندہ رکھنے میں بڑ ا کردار ادا کیا ہے۔ برصغیر کے عظیم ترین مجاہد شہید رائے بریلوی کے خاندان کے ایک فرد سید عبدالرزاق کمالی نے اس کتاب کا منظوم ترجمہ ’’صمصام الاسلام‘‘ کے نام سے انیسویں صدی کے اواخر میں کیا تھا اور یہ منظوم ترجمہ، جو ۲۴ہزار اشعار پر مشتمل ہے، ان کے خاندان میں باقاعدہ بلند آواز سے پڑھا جا تا تھا اور اس میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں۔ اس کتاب کا منظوم ترجمہ ترکی کی ز بان میں بھی کیا گیا ہے اور فارسی زبان میں بھی۔ جنگ یرموک سے متعلق تاریخ طبری، تاریخ ابن الاثیر اور البدایہ والنہایہ وغیرہ کے مستند بیانات ہمیں تاریخی حقائق تومہیا کرتے ہیں، لیکن یہ کتابیں ہمارے اندر جذبہ جہاد اور اپنے دین ووطن کی خاطر سرفروشی کی شمع روشن نہیں کرتیں۔ یہ کام بھرپور انداز میں کتاب ’فتوح الشام‘ نے انجام دیا ہے۔ لہٰذا اگر ہمیں اپنے دلوں میں موجودہ زمانے کے دشمنوں کے خلاف جذبہ جہاد کو زندہ رکھنا اور اس کو تیز کرنا مقصود ہو تو ’فتوح الشام‘ کا مطالعہ ہمارے لیے ناگزیر ہے۔
’’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟‘‘
پروفیسر عبد الرؤف
(زاہد صدیق مغل صاحب کے ایک تنقیدی مضمون کا جائزہ)
ماہنامہ ’’ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے اگست، ستمبر اور اکتوبر ۲۰۰۸ء کے شماروں میں تین قسطوں پر مشتمل جناب محمد زاہد صدیق مغل (استاد نیشنل یونیورسٹی فاسٹ، کراچی) کا مضمون بعنوان ’’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں اس وقت کے اسلامی ماہرین معاشیات پر اس الزام کے ساتھ کھل کر تنقید کی گئی ہے کہ و ہ اسلام اور سرمایہ داری میں اصولاً کوئی فرق نہیں کرتے، کیونکہ جن تحریرات کو اسلام کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، ان کااصل مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اس کے نتیجے میں زیادہ لذت پرستی، نفع خوری اور ترقی ممکن ہو سکے گی۔ اسلامی ماہرین معاشیات پر تنقید کے سلسلے میں ان کا اصل ہدف مولانا محمد تقی عثمانی صاحب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ اس ضمن میں مولانا تقی عثمانی صاحب کی کاوشیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں.... پاکستان میں اسلامی بینکاری وغیرہ پر سب سے عمدہ تحقیق مولانا تقی عثمانی صاحب نے فرمائی ہے۔ لہٰذا ہمارے پیش نظر آپ کی کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت‘‘ ہے۔ مولاناکی قدآور شخصیت اورعلمائے کرام کے سامنے خطبات کی صورت میں پیش کیے جانے کی بنا پر اس کتاب کی علمی اہمیت وثقاہت (Authenticity) دیگر کتب سے بہت بڑھ کر ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو مدارس میں ایک بنیادی نصابی کتاب کے طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔‘‘ (شمارہ اگست، ص ۱۸)
مولانا تقی عثمانی صاحب کو قدآور شخصیت کہنے اور ان کے علمی مقام ومرتبہ کو تسلیم کر لینے کے باوجود صدیق مغل صاحب کی تنقید میں بہت زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔ ان کے انداز تحریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے ایک بلند علمی مرتبہ ومقام پر فائز شخص کسی معمولی علم رکھنے والے شخص پر سخت تنقید کر رہا ہو۔ وہ اپنے مضمون کو غور وفکر کے لیے پیش کرنے کے بجائے ابتدا ہی سے اس وضاحتی نوٹ سے کرتے ہیں: ’’ راقم الحروف کے خیال میں اسلامی معاشیات و بینکاری سے منسلک تمام حضرات خلوص دل کے ساتھ اسے خدمت اسلام سمجھتے ہیں اور ان کی غلطی اجتہادی خطا پر محمول ہے‘‘۔ گو یاپر وفیسر مغل صاحب کا اجتہاد ہے کہ ان سے اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔ پھر مولانا تقی عثمانی صاحب کا ایک اقتباس درج کرنے کے بعد مطلب اخذ کرتے ہیں:
’’ گویا مولانا مانتے ہیں کہ اصل انسانی مسئلہ تزکیہ نفس نہیں کہ جس کے بعد اس کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ کار ہے جسے استعمال کر کے وہ ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ خواہشیں پوری کر سکے۔‘‘ (شمارہ ستمبر، ص۳۲) ’’ آپ کے خیال میں اسلام لبر ل سرمایہ دارانہ معیشت کا حامی ہے۔‘‘ ( ستمبر، ص۳۹) طلب رسدکے قوانین کو فطری مان کر ’’مولانا بے خبری میں ایڈیم سمتھ کے یہ مفروضے بھی مان بیٹھے ہیں کہ ...‘‘.(ستمبر ص ۳۴) سمتھ کے اقتباس درج کرنے کے بعدلکھتے ہیں: ’’مزے کی بات ہے کہ مولانا کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں ... حیرت ہے کہ نفس پرستی کی اس روحانیت کو مان لینے کے بعد مولانا کے پاس ’’اصلاحی خطبات‘‘ بیان فرمانے اور چھپوانے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔‘‘ (ستمبر، ص۳۵) ’’انہی معنوں میں مولانا سوشل ڈیمو کریٹ نظریات کے حامی بن جاتے ہیں۔‘‘ (ستمبر، ص۳۵) ’’مولانا کا کاروبار کو نفع خوری کے ساتھ جوڑنا نہ صرف یہ کہ اسلامی تعلیمات بلکہ انسانی تاریخ کے بھی خلاف ہے۔‘‘ (ستمبر، ص ۴۰)
صدیق مغل صاحب کے ان اقتباسات سے تنقید کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صدیق مغل صاحب نے مولانا تقی عثمانی صاحب پر جو شدید تنقید کی ہے، اس کاجائزہ لینے سے پہلے مولانا کی اس کتاب کا مختصر سا تعارف جس کو بنیاد بنا کر ان پر تنقید کی گئی ہے۔
دار العلوم کراچی کے تعاون سے ادارہ ’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ میں کچھ تربیتی کورس علمائے کرام اور خاص طور پر فتویٰ سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے منعقد کیے گئے تاکہ انہیں معیشت کے موجودہ تصورات اور عصر حاضر میں کاروبار کی مختلف صورتوں کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں۔ یہ کورس ایک تجریاتی نوعیت کا تھا۔ اس کورس میں شریک مفتی محمد مجاہد صاحب نے پورے درس کو ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے تحریری شکل میں محفوظ کیا۔ مولاناکی کتاب’’ اسلام اور جدید معیشت وتجارت‘‘ بنیادی طورپر اس تحریر سے تیار کی گئی ہے، البتہ مولانا نے اس پر نظر ثانی کرکے مناسب ترمیم واضافہ کیا ہے۔
مولانا لکھتے ہیں کہ: ’’ یہ کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے بلکہ سلسلہ وار تقاریر کا مجموعہ ہے۔ مولانا مفتی محمد مجاہد نے یہ تقاریر لفظ بہ لفظ مرتب نہیں کیں بلکہ تقاریر کا خلاصہ اور مغز اپنے الفاظ میں مرتب کیا ہے۔ لہٰذا انداز بیان میں اختصار ملحوظ رہا ہے اور فاضل مرتب نے طویل بحثو ں کو مختصر الفاظ اور تعبیرات میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے، اس لیے عام قاری شاید بعض جگہ گنجلک محسوس کرے، لیکن امیدہے کہ اہل علم اسے قدرے توجہ سے پڑھیں گے تو ان شاء اللہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہو گی۔ ان تقاریر کے براہ راست مخاطب علمائے کرام تھے، اس لیے خاص طور پر فقہی بحثوں میں فقہی اصطلاحات بکثرت استعمال ہوئی ہیں اور مضامین کا انتخاب بھی انہی کی ضرورت کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ گفتگو اس موضوع پر حرف آخر نہیں ہے۔ اسے ہر مسئلے میں احقر کی طرف سے حتمی فیصلہ بھی سمجھنا نہیں چاہیے‘‘۔
اس تمہید کے بعد صدیق مغل صاحب کی مولانا پر تنقید کاجائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تین قسطوں میں تیس سے زائد صفحات پر شائع ہونے والے اس مضمون کا بنیادی موضوع اسلامی معیشت ہے اور اس میں اسلامی ماہرین معاشیات کی اجتہادی خطا کہہ کر گویا اجتہاد بھی کیا گیا ہے۔ لیکن بہت زیادہ تعجب ہے کہ تیس سے زائد صفحات کے پورے مضمون میں تنقید کرتے ہوئے یا اپنے خیال کی تائید اور وضاحت کے لیے قرآن کی کسی ایک آیت، کسی ایک حدیث یا کسی عالم وفقیہ کے ارشادات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف ایک جگہ اپنی بنائی گئی ایک فرضی مثال کے سلسلے میں ایک صحابی کے مزاح کے ذکر کے لیے بخاری شریف کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا اصل موضوع سے براہ راست کوئی تعلق نہیں بنتا۔ امام غزالی ؒ کے چند مختصر اقتباسات جن میں حب دنیا کی مذمت اور زہد کی ترغیب دی گئی ہے، درج کیے گئے ہیں۔ پورے مضمون میں سرمایہ دارانہ نظام کے کلی انہدام اور خاتمہ کومقصد قرار دے کر سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ایک بات کے خلاف قرآن وحدیث کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی عقلی توجیہات، فرضی مثالوں اور پھر اپنے ذاتی استنباط سے دلائل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( اس بات کا جائزہ بعد میں لیا جائے گا) ۔
مولانا تقی عثمانی صاحب پر تنقید کرنے کے لیے ان کی کتاب سے مختلف مقامات سے ٹکڑے ٹکڑے لے کر حوالے نقل کرنے اور پھر ان سے نتائج اخذ کرنے کا طریقہ ناقابل فہم ہے۔ مثلاً کتاب پر تنقید کی ابتدا اس طرح کرتے ہیں کہ پہلے ان کا یہ حوالہ، جو اکنامکس اور معاشیات کے معنی اور مطلب بتانے کے ضمن میں ہے، نقل کرتے ہیں: ’’ انسانی وسائل محدود ہیں اور اس کے مقابلے میں ضروریات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لا محدود ضروریات اور خواہشات کو محدود وسائل کے ذریعے کس طرح پور اکیا جائے؟ اقتصاد اور اکنامکس کے یہی معنی ہیں کہ ان وسائل کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہو سکیں۔‘‘ (شمارہ ستمبر، ص ۳۲) اس حوالے کو نقل کر کے لکھتے ہیں: ’’گویا مولانا مانتے ہیں کہ Scarcity (لامحدود خواہشات اور محدود وسائل میں فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والی قلت) ایک فطری انسانی کیفیت کا نام ہے اور اصل انسانی مسئلہ ’’تزکیہ نفس‘‘ نہیں کہ جس کے بعد اس کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ کارہے جسے استعمال کرکے وہ ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ خواہشیں پوری کر سکے۔‘‘ (ستمبر، ص ۳۲)
ذرا غور تو کیجیے کہ مغل صاحب نے مولانا کے اقتباس کو کس طرح کیا معنی پہنا دیے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے ابھی بحث کا آغاز کیا ہے، اکنامکس یا معاشیات کی تعریف کی ہے، معیشت کیا ہوتی ہے، اس کے بنیادی مسائل کیا ہوتے ہیں، ابھی وہ بتانے شروع کیے ہیں۔ پھر وہ سرمایہ دارانہ نظام کا ذکر کرتے ہیں، اس کے اصول بتاتے ہیں۔ پھر اشتراکیت کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں اور اشتراکیت پرتنقید وتبصرہ کرتے ہیں۔ پھر سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید وتبصرہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد صفحہ ۳۸ پر جا کر و ہ معیشت کے اسلامی احکام بتانا شروع کرتے ہیں اور یہیں سے مولانا کا بیان کردہ اسلامی نظریہ شروع ہو تا ہے، لیکن مغل صاحب اکنامکس کی تعریف وتشریح، جو کی جاتی ہے، میں سے ہی اقتباس نکال کر اس کومولانا تقی عثمانی صاحب کا نظریہ قرار دیتے ہیں۔ سمجھ سے بالا ہے کہ مغل صاحب نے یہ کہاں سے کس طرح سمجھ لیا کہ ’’تزکیہ نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ خواہشات کا پورا کرنا‘‘ مولانا کا نظریہ ہے۔ اور پورے مضمون میں جگہ جگہ اس کا ذکر کرتے ہیں کہ مولانا ’’لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کرنا انسانی فطرت کاجائز اظہار‘‘ مانتے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ مغل صاحب نے ذمہ داری سے اپنی باتیں تحریر نہیں کیں۔ مولاناکی سیدھی اورسادہ سی بات کو پیچ در پیچ بنا کر اپنے معنی پہنا دیے ہیں۔ مولانا تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر نفس انسانی اپنی ذات میں اور اپنی فطرت میں تو خواہشات کو پورا کرنے اور برے کاموں کا تقاضا کرنے والا ہے۔ (اللہ کے نبی حضرت یوسف بھی فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی خصوصی توفیق ودستگیری نہ ہوتی تو میرا نفس بھی دوسرے نفوس بشریہ کی طرح ہوتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: معارف القرآن از مفتی محمد شفیع اور تفسیرعثمانی از علامہ شبیر احمد عثمانی، سورۃ یوسف آیت ’وما ابری نفسی ‘کے تحت) مولانا تقی عثمانی صاحب انسانی نفس کی عمومی کیفیت بتا کر بات شروع کر رہے ہیں اور صدیق مغل صاحب انسانی نفس کی اسی عمومی کیفیت کو مولانا کا نظریہ بتا رہے ہیں۔ پھر انسان کی خواہشات پر مولانا تقی عثمانی صاحب خدائی پابندیوں (قرآن وسنت) اور دیگر شرعی پابندیوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ سب سے پہلے تو اسلام نے معاشی سرگرمیوں پر حلال وحرام کی کچھ ایسی ابدی پابندیاں عائد کی ہیں جو ہر زمانے میں اور ہرجگہ نافذا لعمل ہیں مثلاً سود، قمار، سٹہ، اکتناز، احتکار یعنی ذخیرہ اندوزی اور دوسری تمام بیوع باطلہ کو کلی طور پر ناجائز قرار دے دیا کیونکہ یہ چیزیں عموماً اجارہ داریوں کاذریعہ بنتی ہیں اور ان سے معیشت میں ناہمواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان تمام چیزوں کی پیداوار اور خرید وفروخت کو حرام قرار دے دیا جن سے معاشرہ کسی بد اخلاقی کا شکار ہو اور جس میں لوگوں کے سفلی جذبات بھڑکا کرناجائز طریقے سے آمدنی حاصل کرنے کا راستہ پیدا کیا جائے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ خدائی پابندیاں قرآن وسنت کے ذریعے عائد کی گئی ہے، انہیں اسلام نے انسان کی ذاتی عقل پر نہیں چھوڑا..... تاکہ انسان اپنی عقلی تاویلات کے سہارے ان سے چھٹکارا حاصل کر کے معیشت اور معاشرے کو ناہمواریوں میں مبتلا نہ کر سکے۔ انہی کے ساتھ اسلامی شریعت نے حکومت وقت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی عمومی مصلحت کے تحت کسی ایسی چیز یا ایسے فعل پر بھی پابندی عائد کر سکتی ہے جو بذات خود حرام نہیں، بلکہ مباحات کے دائرے میں آتی ہے لیکن اس سے کوئی اجتماعی خرابی لاز م آتی ہے۔‘‘ (اسلام اور جدید معیشت وتجارت، ص ۴۰، ۴۱)
پھر اخلاقی پابندیوں کا ذکر کرتے ہیں: ’’دین کی تعلیمات میں یہ بات قدم قدم پر واضح کی گئی ہے کہ معاشی سرگرمیاں اور ان سے حاصل ہونے والے مادی فوائد انسان کی زندگی کا منتہا ئے مقصود نہیں ہے۔ قرآن وسنت کاتمام تر زور اس بات پر ہے کہ یہ دنیاوی زندگی ایک محدود اور چند روزہ زندگی ہے.... انسان کی اصل کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں چار پیسے زیادہ کما لے۔‘‘ (ایضاً ص ۴۲، ۴۳)
ان اقتباسات پر ذرا غور کیجیے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب معاشی سرگرمیوں پر قرآن وسنت کی عائد کردہ پابندیاں بتا رہے ہیں، حتیٰ کہ مباح فعل یا چیز پر بھی پابندی کی صورت ذکر کر رہے ہیں اور آخرت کی زندگی کو سامنے رکھ کر اخلاقی پابندیوں کی فکر اور احساس کی بات کر رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود صدیق مغل صاحب مولانا کا نظریہ یہ بتا رہے ہیں کہ ’’اصل انسانی مسئلہ تزکیہ نفس نہیں کہ جس کے بعد اس کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہو جائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ کار ہے جسے استعمال کر کے وہ ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ خواہشیں پوری کر سکے۔‘‘ بات جب اسلامی معاشیات کی ہو رہی ہے تو کیا ان پا بندیوں کے علاوہ بھی خواہشات کو کم کرنے کی کچھ پابندیاں ہیں؟ اگر ہیں تو صدیق مغل صاحب کو قرآن وسنت کے حوالے سے ذکر کرنی چاہییں تھیں۔ کیا خواہشات کو کم کرنے اور نفس کا تزکیہ کرنے کے لیے قرآن وسنت اورشریعت کے بتائے گئے اصولوں اور احکامات کی پابندی کے علاوہ بھی کوئی طریقہ موجود ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جتنی پابندیاں لگائی ہیں، کیا خواہشات کے پورا کرنے پر وہ اس سے بھی زیادہ لگانا چاہتے ہیں؟ (صدیق مغل صاحب کی فکر کیا ہے، بعد میں ذکر ہوگا)۔
اس بات کی وضاحت علامہ ا بن خلدون نے کیا عمدہ طریقے سے کی ہے۔ وہ انسان کوبعض افعال سے روکنے کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ خوب یاد رکھیے! دنیا ایک قسم کی سواری ہے جس پر سوار ہو کر لوگ آخرت کی طرف جاتے ہیں۔ ظاہر ہے جو سواری سے محروم رہے گا، وہ منزل تک پہنچ نہ سکے گا۔ انسانی افعال کے سلسلے میں اگر شریعت کسی چیز سے روکتی ہے یا اس کی برائی کرتی ہے یا اس کے چھوڑنے کا مشورہ دیتی ہے تو اس کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کو بالکل ہی چھوڑ دیا جائے یا اس کی جڑ ہی اکھاڑ کر پھینک دی جائے۔ شریعت کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ان افعال کو مقدور بھر صحیح اور جائز اغراض میں پھیر دینا چاہیے تاکہ ان کا مصرف صحیح اور جائز ہو اور تمام مقاصد دائرہ حق میں آ جائیں..... اس لیے خواہشات کی اس لیے برائی نہیں کی گئی کہ خواہشات کو بالکل ہی ختم کر دیا جائے کیونکہ جس کی شہوت باطل ہوتی ہے، وہ انسانی حقوق ادا کرنے پر قادر نہیں رہتا۔ شہوت کامطلق نہ ہونا انسان میں عیب ہے۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس کا رخ جائز طریقوں میں پھیر دیا جائے۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون، حصہ اول، اردو ترجمہ، نفیس اکیڈمی، کراچی، ص ۳۳۱)
اسلامی معاشیات پر مضمون تحریر کرتے ہوئے سب سے زیادہ زور امام غزالی ؒ کے ان اقتباسات پر دیا گیا ہے جن میں حب دنیا کی مذمت اور زہد کی ترغیب دی گئی ہے۔ صدیق مغل صاحب امام صاحب کی باتیں نقل کرتے ہیں: ’’ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے..... وہ شخص جو مال جمع کرنے کو اپنا مقصد بتاتاہے، ملعون ہے..... وہ شخص جو بازار اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جاتاہے، حقیقی مقصد (نجات) کو نہیں پا سکتا۔‘‘ (شمارہ ستمبر، ص۴۰) چونکہ صدیق مغل صاحب کا اصل مقصد سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہے( تفصیل بعد میں آئے گی) اس لیے وہ امام غزالی ؒ کی تعلیمات سے صرف چند وہ اقتباسات لیتے ہیں جو مال ودنیا کی ہر طرح مذمت کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان کے سامنے ہر وقت آخرت کی زندگی ہونی چاہیے اور اس کا ذکر مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی کیا ہے( جیسا کہ پہلے گزر چکا) لیکن بات تو ہو رہی اسلامی معیشت کی جس میں معیشت کے مطابق کمانا اور خرچ کرنا ہے۔ اس موقع پر یہ بات کی جائے گی کہ ’’جو شخص بازار میں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جاتا ہے، حقیقی مقصد کو نہیں پا سکتا‘‘ اور اسی طرح صرف دنیا سے محبت نہ کرنے اور زہد کی باتیں کی جائیں تو بازار تو بند ہو گا ہی، اپنی ضرورتیں کہاں سے اور کیسے پوری کی جائیں گی؟ معیشت ہی نہیں رہے گی تو اسلامی بنانے کا مسئلہ ویسے ہی ختم ہو جائے گا، جب کہ صحابہ کرامؓ تو بازاروں میں تجارت کیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ خلیفہ ہونے کے بعد بھی حسب معمول کندھوں پر کپڑوں کے تھان رکھ کر بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ (سیرالصحابہ :۱/ ۷۷) حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا ہجرت کے بعد مدینہ پہنچنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن الربیع انصاریؓ سے بھائی چارہ کرا دیا۔ وہ انصار میں سب سے زیادہ مالدار اور فیاض طبع تھے۔ کہنے لگے میں اپنا نصف مال ومنال تمہیں بانٹ دیتا ہوں۔ عبد الرحمن بن عوف نے جواب دیا، خدا تمہارے مال ومنال اور اہل وعیال میں برکت دے، مجھے صرف بازار دکھا دو۔ لوگوں نے بنی قینقاع کے بازار میں پہنچا دیا۔ وہاں سے واپس آئے تو کچھ گھی اور پنیر وغیرہ نفع میں بچا لائے۔ دوسرے روز باقاعدہ تجارت شروع کر دی۔ (سیرالصحابہ، ۲/ ۹۴، ۹۵)
صدیق مغل صاحب نے امام غزالی ؒ کے جو چند حوالے نقل کیے ہیں، وہ سب کے سب دنیا سے بے رغبتی اور زہد اختیار کرنے سے متعلق ہیں اور انہی حوالوں کی بنیاد پر وہ اسلامی معاشیات کا نقشہ تیار کرانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ زور دے کر کہتے ہیں ’’ان تعلیمات کو بار بار پڑھئے اور اپنے دل پر ہاتھ کر فیصلہ کیجیے کہ اسلامی معاشیات اس میں کہاں فٹ ہوتی ہے۔‘‘ (ستمبر، ص۴۰) لہٰذایہاں امام غزالیؒ کی کچھ تعلیمات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کو پڑھ کر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’ یہ کہ اپنی صنعت وتجارت میں رہنے سے یہ قصد کرے کہ ایک فرض کفایہ ادا کرتا ہوں، کیونکہ اگر صنعتیں یا تجارتیں بالکل چھوڑ دی جائیں تو معاش کے کارخانے جاتے رہیں اور اکثر لوگ تباہ ہو جائیں کہ سب کا انتظام سب کی معاونت سے ہو رہا ہے اورا س میں ایک ایک فریق ایک ایک کاذمے دار ہے۔ اور اگر سب کے سب ایک ہی صنعت کرنے لگیں تو اور صنعتیں چھوٹ جائیں اور سب لوگ ہلاک ہو جائیں۔‘‘ (احیاء العلوم اردو، جلد ، ص ۱۴۸) ظاہر ہے، سب کی ضروریات پورا کرنے کے لیے آج کے دور کی صنعتیں کارخانے ہی ہیں۔ گویاامام صاحب ؒ کارخانے لگانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اور فرماتے ہیں: ’’ واضح ہو کہ رب الارباب اور مسبب الاسباب نے دارین کی تقسیم اس طرح فرمائی ہے کہ آخرت کو جزا اور سزا کا مقام ٹھہرایا ہے اور دنیا کومحنت اور اضطراب کے ساتھ مستعد ہو کر کمانے کا مکان قرار دیا ہے... اور جب تک طلب معاش میں آداب شرعیہ کا پابند نہ ہوگا، اس کے حق میں دنیا وسیلہ آخرت کبھی نہ ہو گی۔‘‘ ( ایضاً ص، ۱۰۸) کسب معاش کی فضیلت اور اس کی ترغیب کے سلسلے میں فرماتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وجعلنا النہار معاشا( اور بنا دیا دن کو روزگار) اس کو احسان جتانے کی جگہ ذکر فرمایا: ’وجعلنا لکم فیھا معایش قلیلا ماتشکرون‘‘۔ اس آیت میں معیشت کو نعمت فرمایا اوراس پر شکر کی طلب کی... حضرت عیسیٰ نے ایک شخص کودیکھ کر اس سے پوچھا کہ توکیا کام کرتا ہے؟ اس نے عرض کیاکہ خداتعالیٰ کی عبادت کر تا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تیرے نان ونفقہ کی کفالت کون کرتا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میرا بھائی کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا بھائی تجھ سے زیادہ عابد ہے۔‘‘ (ایضاً، ص۱۰۸، ۱۰۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خشکی اور تری کی تجارت کیاکرتے تھے، بس ان کا اقتدا کافی ہے۔‘‘ (ایضاً، ص ۱۱۱)
دنیا سے کیا مراد ہے، حب دنیا کسے کہتے ہیں ،مال رکھ سکتے ہیں یا نہیں، کس کے لیے رکھنا مفید ہے، کس کے لیے مضر ہے، اس طرح کی بہت سی باتیں امام غزالیؒ کی تعلیمات میں سینکڑوں صفحات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ صرف احیاء العلوم کو ہی دیکھ لیا جائے تو اخلاص وریا، تکبر وخودپسندی، ریاضت، غضب وحسد، بخل، حصول رزق، فقروزہد، حلال وحرام غرض کہ بیسیوں عنوانات کے تحت یہ باتیں کہیں بہت تفصیل سے اور کہیں مختصر بیان کی گئی ہیں۔ صبر وشکر کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں:’’یہ وہ باتیں ہیں کہ لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔ بہت سے آدمی نیک بخت اس طرح کے ہیں کہ اچھے مال سے گو بہت سا فائدہ ہو اٹھاتے ہیں یعنی اللہ کے راستے میں اور خیرات میں اس کو خرچ کرتے ہیں تو ایسا مال اگر اس توفیق کے ساتھ آدمی کے پاس ہو تو اس کے حق میں نعمت ہے۔ اور بہت سے آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ تھوڑے مال سے ضرر پاتے ہیں یعنی ہمیشہ اس کو کم جانتے ہیں اور خدا سے شکوہ اور طلب زیادہ کی کیا کرتے ہیں تو اس طرح کا مال اس عدم توفیق کے ساتھ اس کے حق میں مصیبت ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، جلد، ۴، ۱۶۸،۱۶۹) لیجیے یہاں مال کا زیادہ ہونا مفید اور نیت اور دلی کیفیت کی وجہ سے مال کا کم ہونا نقصان دہ اور مصیبت بتایا جا رہا ہے۔
پھر فرماتے ہیں: ’’ مثلاً مال پر ہی غور سے دیکھو۔ کتنا بڑا فائدہ اس کا ہے کہ کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے بے فکر رہتا ہے، ورنہ محتاج آدمی مال اگر تحصیل علم یا کسب کمال کرنا چاہے اور اس کے پاس قو ت بشری کی صورت کچھ نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بدون ہتھیار کے لڑائی کی کوشش کرے.... مفلسی میں کوئی کام آدمی سے نہیں بن پڑتا، ہر وقت تلاش معاش اور فکر لباس اور دوسرے ترددات میں مبتلا رہتا ہے۔‘‘ (ایضاً ص،۱۷۶، ۱۷۵) اور عزت وجاہ کے حصول کو شریعت میں کس قدر عمومی طور پر ناپسند کیا جاتا ہے اور تصوف میں تو خاص طور پر حب جاہ کی مذمت کی جاتی ہے، لیکن دیگر اعلیٰ خصوصیات کے علاوہ تصوف کے امام ٖغزالی ؒ مال کے فوائد ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور عزت وجاہ کے باعث آدمی اپنے نفس پر سے ذلت اور ظلم دفع کرتاہے اور اس کی حاجت سب اہل اسلام کو ہے۔ اس واسطے کہ کوئی اہل ایمان ایسا نہیں ہوتا جس کا کوئی دشمن موذی نہ ہو یا ظالم کہ اس کو عمل نہ کرنے دے اورتشویش وپریشانی میں ڈال دے، حالانکہ د ل ایمان دار کار اس مال ہے۔ جب وہی تشویش وتردد میں رہے گا تو پھر کیا کر سکتا ہے، مگر یہ تشویش عزت وجاہ سے دفع ہو جاتی ہے۔‘‘ (ایضاً، ص ۱۷۷)
یہی بات مولانااشرف علی تھانوی عنوان ’’عزت ومال مطلوب ہیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اس تقریر سے معلوم ہو گیا کہ عزت ومال دونوں مطلوب اور ممدوح ہیں، مہروب عنہ اور مذموم نہیں ہیں۔ اور جومال و جاہ کی مذمت کرتے ہیں، ان کا عنوان تعبیری مختصر ہوتا ہے، مقصود مذمت کرنا حب مال اور حب جاہ کا ہے اور حب بھی وہ جو حق تعالیٰ کی محبت سے بڑھی ہوئی ہو کہ ان کی ہوس میں اللہ تعالیٰ کے حکم بھی پس پشت ڈال دے۔ چنانچہ ارشاد ہے، قل ان کان آباء کم وابناء کم ، الیٰ آخر، سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ مذموم اور منہی عنہ نہ مال ہے نہ جاہ اور حب ما ل نہ حب جاہ بلکہ مال اور جاہ کی وہ حب مضرہے جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے اور اس کے مقابلے میں دین کی بھی پروا نہ رہے۔‘‘ (اشرف الجواب، ص ۳۳۰، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان)
میں سوچ رہا تھا کہ صدیق مغل صاحب کی امام غزالی ؒ کی تفصیلی بحثوں میں سے چند اقتباسات سے حب دنیا اور زہد کی چھیڑی ہوئی اس بحث کو، جو کہ طویل ہوتی جا رہی ہے، کیسے سمیٹا جائے۔ حضرت تھانوی کے ان چند جملوں نے میری پریشانی دور کر دی۔ ان چند جملوں میں کتنی زیادہ جامعیت پائی جاتی ہے! ایسی ہی باتوں کی وجہ سے وہ حکیم الامت مشہور ہیں۔
زاہد صدیق مغل صاحب کے مضمون میں بڑی بنیادی غلطی یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے جس فکر اور نظریے کے تحت مولانا تقی عثمانی صاحب پر تنقید کی ہے، وہ اسلامی تعلیمات پر مبنی معلوم نہیں ہوتی۔ ان کی فکر اور نظریہ صرف سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید اوراس کا خاتمہ ہے۔ اس کے لیے جو بھی دلائل میسر آ جائیں، ان سے کام لیا جائے۔ آئیے ان کی فکر کاایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔
صدیق مغل صاحب لکھتے ہیں: ’’ پس یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اس وقت تک کوئی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار نہیں کی جا سکتی جب تک تجزیے کا نقطہ ماسکہ جزوی تفصیلات نہیں بلکہ نظام نہ بن جائے۔‘‘ (شمارہ ستمبر، ص۳۹) گویا ایسی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار کی جائے جس سے سرمایہ دارانہ نظام، جزوی تفصیلات نہیں، مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ پھر ان کا کہنا ہے: ’’ اسلامی ماہرین معاشیات پرامید ہیں، ’اسلام کا فروغ ہوگا‘۔ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کی مثال اس سے بہترین شاید ہی دی جا سکے، کیونکہ اس لائحہ عمل کا مقصد سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کا انہدام (Destruction) نہیں بلکہ اس کی اسلامی تطہیر (Reconstruction) اور سرمایہ داری کی اسلامی توجیہ (Islamic Version of capitalism) تیار کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی اپنانے والے مفکرین کبھی اس سوال کو جواب نہیں دیتے کہ اس نام نہاد (Shariah compliance) کے نتیجے میں جوانفرادیت ومعاشرت عام ہو رہی ہے، وہ اسلامی ہے یاسرمایہ دارانہ؟ ‘‘( شمارہ اگست ص۲۶) پھر اپنا مقصد اور ہدف اس طرح بتاتے ہیں: ’’ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام سے نکلے ہوئے اداروں پر ایک کل کی نظر سے فتویٰ لگائیں۔‘‘ (شمارہ اکتوبر ص۳۳) سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ کو مقصد قراردینے کے بعد وہ ایک دوسری بات کرتے ہیں: ’’ اسلامی معاشیات کی ایک بڑی خامی ساخت ( structure) اور مقصدیت (spirit) کے تعلق باہمی کونظر انداز کرنا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے یہ نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جو طریقہ اختیار کیا جاتاہے، اس کی ساخت (structure) کا حصول مقصد اور اس کے دوام کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ساخت وڈھانچے کے اندر جو روح ( Spirit or subsance) موجود ہوتی ہے، اسے اس ساخت سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (شمارہ ستمبر ص۲۶) سرمایہ دارانہ نظام کے اداروں میں کارپوریشن اور کمپنی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’کمپنی انسان کی سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی خواہش کا عملی اظہار ہے۔ اس ڈھانچے (structure) کا اور کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی یہ کسی اور مقصدیت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔کسی معاشرے میں کمپنی کا وجود اور اس کا فروغ اس بات کی ضمانت ہے کہ افراد بڑھوتری سرمایہ کواپنا مقصد حیات بناتے چلے جائیں۔‘‘ (ایضاً ص۲۹) ان اقتباسات سے صدیق مغل صاحب کی فکر ونظریہ واضح طور پر یہ بنتا ہے:
۱۔ سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل خاتمہ مقصد ہے۔ (۲) سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق ہر ہر ادارہ ( کمپنی، کارپوریشن وغیرہ) کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ (ساخت کا حصول مقصد سے گہرا تعلق ہوتا ہے)۔ (۳) سرمایہ دارانہ نظام کے ان اداروں کو اسلام اور شریعت کے مطابق نہیں بنا یا جا سکتا، بلکہ اس طرح کرنے سے سرمایہ دارانہ نظام کو اور زیادہ فروغ حاصل ہو گا، لہٰذاسرمایہ دارانہ نظام سے نکلے ہوئے اداروں پر ایک کل کی نظر سے فتویٰ لگائیں۔ (کارل مارکس کی بنیادی فکر بھی سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے)۔
کون کہتاہے کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اچھا ہے اورا سے اختیار کرنا چاہیے۔ اس نظام میں تو سرمائے کا ارتکاز ہے، ظلم ہے، استحصال ہے، خود غرضی اور نفس پرستی ہے، خواہشات کو معبود بنا کر زندگی کا اسی میں کھپانا اور برباد کرناہے، اسی کی وجہ سے اخلاقی برائیاں اور بگاڑ ہے، عریانی وفحاشی ہے، لیکن اس سب کے باوجود اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اگر معیشت کے بارے میں کوئی اصول اور طریقہ اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ قرآن وحدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کی ساخت میں بھی کہیں موجود ہے تو اس اسلامی اصول کو صرف اس لیے رد کر دیاجائے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام میں بھی موجود ہے؟ اسلام کے معاشی نظام میں ایک اہم اصول نجی ملکیت ہے۔ اسی نجی ملکیت کی بنیادپر زکوٰۃ، حج، صدقات واجبہ، صدقات نافلہ، وراثت اور دیگر کئی احکامات ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں بھی نجی ملکیت کا اصول بلکہ بنیادی اصو ل ہے۔ تو چونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں نجی ملکیت ہے، لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کے کل میں ہونے کی وجہ سے نجی ملکیت کے اصول کو اسلام میں سے نکال دینا چاہیے۔ یہاں یہی کہاجائے گا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں نجی ملکیت ہے، لیکن اس کی مزید تفصیلات اس کی اپنی ہیں اور اس کے نتائج واثرات اس کے اپنے ہیں اور اسلام میں نجی ملکیت ہے تو اس کے بہت سارے تفصیلی احکامات اپنے ہیں اور اس کے ثمرات وبرکات اپنے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کا اس کے تمام اداروں کے ساتھ انہدام اور خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ ان اداروں کو اسلامی بنانے کی کوشش کو نہ صرف غیر اسلامی کہتے ہیں، بلکہ لذت پرستی، نفع خوری، اور سرمایہ داری کے فروغ کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور تیسری طرف وہ واضح طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ’’یہ بات درست ہے کہ سن ۲۰۰۸ء میں آئیڈیل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ممکن نہیں‘‘۔ (شمارہ اکتوبر، ص ۳۱) تو ایسی صورت میں مضمون کا مقصد کیا ہے؟
صدیق مغل صاحب اپنی ایک نئی فکر اور نیا نظریہ پیش کرتے ہیں جو قرآن وحدیث کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل کی بنیاد پر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو ایک کل کی حیثیت سے ختم کرنے کو مقصد قرار دے کر صرف ساخت( structure) کو اسلامی بنانے کو وہ غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اسلامی معاشیات کے مطابق زید کے ’دائرۂ شریعت کے پابند لذت پرستی اور نفع خوری‘ کے اس رویے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشرے میں سب کے لیے زیادہ لذت پرستی ممکن ہو سکے گی اور صحیح معنی میں سرمایے میں اضافے اور ترقی کا عمل تیز ہو سکے گا۔‘‘ (شمارہ اگست، ص۲۴) پھر ان کا کہنا ہے: ’’خوب یاد رہے کہ دائرۂ شریعت کی پابند معاشیات وبینکاری کا فروغ مقاصد الشریعہ وتزکیے وغیر ہ کانہیں بلکہ لذت پرستی، حرص وحسد، دنیا پرستی، بڑھوتری سرمایے کے فروغ کا ہم معنی ہے۔‘‘ (شمارہ اگست، ص۲۹) اس کے ساتھ ہی وہ مزید وضاحت کرتے ہیں: ’’یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ کیا حرام نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ شریعت کامدعا کیا ہے، شریعت کا مقصد کس قسم کی انفرادیت ومعاشرت کا فروغ ہے۔ معاشرتی وریاستی پالیسیاں ’مطلوب‘ کے معیار سے طے پاتی ہیں نہ کہ عدم حرمت سے۔‘‘ (شمارہ اکتوبر، ص ۲۹)
صدیق مغل صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیںیہ کہ ریاستی پالیسیاں مطلوب یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو اور اس سے متعلقہ اداروں کو کل کی حیثیت سے ختم کرنا‘ کے معیار سے طے پاتی ہیں۔ کیا دائرۂ شریعت کا پابند رہ کر اور حلال و حرام، جائز وناجائز، مباح اور غیر مباح کو معیار بنا کر معیشت کے اداروں کو قائم کرنا اور چلانا اسلامی نہیں کہلاتا؟ کیا معیشت کو اسلامی بنانے کے لیے دائرۂ شریعت کافی نہیں ہے؟ کیا اس نظریے میں کارل مارکس کی فکر اور نظریہ موجود نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ایک کل کی حیثیت سے ختم کرنے کو معیار مطلوب قرار دے کر ریاستی ومعاشرتی پالیسیاں طے کی جائیں؟ پھر صدیق مغل صاحب کس حدتک پہنچ گئے ہیں کہ معیشت میں دائرۂ شریعت کی پابندی کے باوجود اسے نفع خوری، لذت پرستی، حرص وحسد اور دنیا پرستی کہہ رہے ہیں۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کوکافی نہیں سمجھتے اور اس میں اپنی عقل سے اضافہ کرناچاہتے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ہی فکروسوچ کے تدارک کے لیے مولانا تقی عثمانی صاحب نے ان اصولی باتوں میں پہلے ہی تحریر کر دیا تھا اور اس وجہ سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کی باتوں میں کتنی جامعیت پائی جاتی ہے۔ وہ معیشت کے اسلامی احکام بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ’’یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ خدائی پابندیاں قرآن وسنت کے ذریعہ عائد کی گئی ہیں۔ انہیں اسلام نے انسان کی ذاتی عقل پرنہیں چھوڑا کہ اگر اس کی عقل مناسب سمجھے تو یہ پابندی عائد کر دے اور اگر مناسب نہ سمجھے تو عائدنہ کرے...... یہ خدائی پابندیاں جوقرآن وسنت نے عائد کی ہیں، بہر صورت واجب العمل ہیں، خواہ انسا ن کوان کی عقلی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔‘‘ (اسلام اور جدید معیشت وتجارت، ص ۴۰)
’شریعت کامدعا کیا ہے‘ کہہ کر صدیق مغل صاحب اپنے قائم کردہ نظریہ ’’سرمایہ دارانہ نظام کا مکمل خاتمہ‘‘ کو شریعت کا معیار مطلوب قرار دے کر اسلامی معیشت کی ساخت (structure) تیار کرنا چاہتے ہیں۔ شریعت کا مقصد ومدعا اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی بندگی اوراس کی اطاعت کی جائے۔ اللہ سے تعلق قائم کیا جائے۔ اس کے ہر حکم کومانا جائے جس کا مظاہرہ عبادات وطاعات کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ا ن عبادات وطاعات کے ثمرات وبرکات بہت زیادہ ہیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ظہورپذیر ہوتے ہیں۔ علما وحکما نے عبادات وطاعات کی حکمتیں اور فوائد بیان کیے ہیں، لیکن ان حکمتوں اور فوائد کا حصول مقصودنہیں ہے۔ مصالح دنیوی اور فوائد کے حصول کو مقصد قرار دے کر احکامات بنائے اور ترتیب نہیں دیے جاتے۔ مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں: ’’ احکام شریعت کو مصالح دنیوی کی بنا قرار دینا خطرناک مسلک ہے۔ اس طرز تقریر میں زہر بھرا ہوا ہے۔ جو اس کو جان لے گا وہ سمجھ لے گا کہ یہ لوگ ایسے اسرار بیان کرکے اسلام کے ساتھ دوستی نہیں کرتے بلکہ دشمنی کرتے ہیں اور یہ لوگ حامی اسلام نہیں بلکہ اسلام کے نادان دوست ہیں۔‘‘ (اشرف الجواب، ص ۲۸۱)
اس مضمون کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت تھانوی ؒ فرماتے ہیں: ’’ غرض ان حضرات (انگلستان کے) نے مجھے لکھا کہ قربانی خودشریعت کا مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود غرباکی امداد ہے اور ابتدائی اسلام میں لوگوں کے پاس نقد کم تھا، مویشی زیادہ تھے، اس لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ جانور ذبح کر کے غربا کو گوشت دے دو اور اس زمانہ میں نقد بھی بہت زیادہ موجود ہے، غلہ بھی موجود ہے۔ پس آج کل بجائے قربانی کے نقد روپے سے غربا کی امداد کرنی چاہیے۔ حالانکہ یہ حکمت مقصود نہیں۔ مقصد توتعمیل حکم ہے۔ اگر یہ حکمت مقصود ہوتی تواس کی کیا وجہ کہ غربا کوزندہ جانور دینے سے واجب ادا نہیں ہوتا... اس کے کیا معنی کہ جانورذبح کر کے غربا کو گوشت دیا جائے تو واجب ادا ہوا.... اس سے صاف معلوم ہوا کہ امداد غربا مقصود بالذات نہیں بلکہ مقصود اور ہے، مگر آپ نے دیکھ لیا کہ اس قسم کے اسرار بیان کرنے کا نتیجہ کہاں تک پہنچتا ہے کہ ہر شخص مخترع حکمتوں پر احکام کامدار سمجھنے لگا۔‘‘ (ایضاً ص ۲۸۳)
حضرت تھانوی ایک خطرناک غلطی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس غلطی میں غربا کی امداد کو اصل مقصد قرار دے کر قربانی کے اصل حکم کو بدلنے کی تجویز تھی۔ بالکل یہی غلطی صدیق مغل صاحب کر رہے ہیں۔ وہ اپنی مخترع حکمت( سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اصل مقصد ہے) کو مدار بنا کر اسلامی معیشت کے احکامات (ساخت) تیار کرنا چاہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریشن اور کمپنی کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں(پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام سے نکلے ہوئے اداروں پر ایک کل (totality) کی نظر سے فتویٰ لگائیں۔) اپنی مخترع حکمتوں پر احکام کامدار سمجھنے کے معاملے پر شاہ اسماعیل شہید ؒ نے کیا خوب بات ارشاد فرمائی ہے جس کو سید سلیمان ندوی ؒ نے نقل کیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاکم نہیں۔ اسی کے لیے پیداکرنا اور حکم دینا، اور عقل وغیرہ کسی مخلوق کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی حکم کو ثابت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے وجوب یا استحباب کے ساتھ جس کا حکم دیا، وہ درحقیقت حسن (اچھا) ہے، عام اس سے کہ وہ لذاتہ حسن ہے یا اپنے کسی وصف یا اپنے کسی متعلق کی بنا پر۔ اسی طرح جس سے منع فرمایا، وہ قبیح ہے۔ تو افعال کاحسن وقبح کے ساتھ اتصاف، امر ونہی سے پہلے ہی عالم حقیقت میں ہو چکا تھا۔ اسی کی رعایت کر کے اللہ تعالیٰ نے امرونہی فرمایا۔ عقل ان کے حسن وقبح کو معلوم کر لیتی ہے تو اس موقع پر اس حسن وقبح کو عقلی کہتے ہیں، لیکن شرع کے ورود سے پہلے کوئی حکم نہ تھا تو یہ مذکورہ حسن وقبح بند وں کے حق میں صرف شرع الٰہی پرمبنی ہیں۔‘‘ سید سلیمان ندوی ؒ تحریر کرتے ہیں: ’’فن کے بڑے بڑے مسئلوں میں ایک ایک دو دو فقروں میں طے فرما دیا ہے..... جو کچھ اللہ تعالیٰ نے امرو نہی فرمایا ہے، وہ تمام تر حکمت اور بندوں کی مصلحت پرمبنی ہے۔ عقل کبھی اس حکمت ومصلحت کو پا لیتی ہے تو اس کوعقلی بھی کہہ سکتے ہیں، ورنہ عقلی کہنے کایہ منشا نہیں کہ عقل اس قانون کی واضع اور آمر ہے۔‘‘ (سیرۃ النبی ج۷، ص ۱۹۹)
صدیق مغل صاحب جس طرح سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام چاہتے ہیں، اسی طرح وہ جمہوریت کا بھی مکمل خاتمہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ا پنی وہی فکر استعمال کرتے ہیں، چنانچہ تحریر کرتے ہیں: ’’ یعنی وہ لبرل سرمایہ داری کو دائرۂ شریعت کا پابند بنانے کی بات کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سیاسی مسلم مفکرین جمہوریت کو دائرۂ شریعت کا پابند بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘‘ (شمارہ اگست، ص ۲۴) پھر لکھتے ہیں:’’ حیرت کی بات ہے کہ کئی مسلم مفکرین اس فکری انتشار کا شکار ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریت کے تو خلاف ہیں لیکن اسلامی معاشیات کے سحر میں گرفتار ہیں حالانکہ دونوں کے پیچھے دائرۂ شریعت کی پابندی کا فلسفہ ہی کار فرماہے۔‘‘ (شمارہ اکتوبر، ص ۳۳) مزید بیان کرتے ہیں: ’’ فی الحقیقت اسلامی معاشیات اور اسلامی جمہوریت نے مل کر وہ سرا ب پیدا کیا ہے جس کے بعد اسلامی تحریکات کی توجہ انقلابی جہدوجہد کے بجائے محض پر امن اور حقوق کی سیاست پر منتج ہو کر رہ گئی ہے۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۳)
جمہوریت سے کیا مراد ہے اور اسلام کا نظریہ کیا ہے؟ یہ ایک مستقل موضوع ہے جسے چھیڑنے سے مضمون طویل ہو سکتا ہے، البتہ جاری گفتگو کی مناسبت سے ایک مختصر سی بات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ۱۹۷۳ء کا دستور بنا اور نافذ ہوا۔ اس دستور کے بارے میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور دستور کی تدوین میں شریک مولانا مفتی محمود کاکہنا تھا کہ ’’ ۱۹۷۳ء کادستور ۸۰ فیصد اسلامی آئین ہے، اگرمیں وزیراعظم بنتا ہوں تویہ ۱۰۰ فی صد اسلامی آئین بن جاتاہے۔‘‘ (اس جانب اشارہ ہے کہ آئین کے نفاذکا انحصار نافذ کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے) (مولانا عبدالغفور حیدری کا انٹرویو، روزنامہ اسلام، ۲۶؍اکتوبر ۲۰۰۸ء) اور جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی، جو بعد میں تمام دینی جماعتوں کے سربراہ بھی رہے ہیں، نے ڈسٹرکٹ بار بہاولپور سے خطاب کے دوران کہا تھا: ’’ پاکستان کا آئین مفصل، جامع اور اسلامی ہے۔ اس آئین سے دوسرے ممالک بھی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔‘‘ (روزنامہ جنگ، ۲۲ ؍اپریل ۱۹۹۶ء) اور مفتی اعظم محمدرفیع عثمانی کا کہناہے: ’’ جہاں تک مجھے معلوم ہے، اس وقت جن مسلم ممالک میں دستور مدون شکل میں موجود ہے، ان کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین دینی اعتبارسے سب سے زیادہ امید افزا اور خوشگوار امتیاز رکھتا ہے۔‘‘ اسی طرح جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما میاں طفیل محمد صاحب بھی اسے اسلامی آئین کہہ چکے ہیں، اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی صاحب کہتے ہیں: ’’پاکستان کا آئین قرار دار مقاصد کواپنی بنیاد قرار دیتاہے، قرآن وسنت کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے، اسلام کو ریاست کا مذہب تسلیم کرتا ہے، قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی سے پارلیمنٹ کو روکتا ہے، اور قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے نفاذ کا وعدہ کرتا ہے۔ جب تک یہ دستوری پوزیشن موجود ہے، پاکستان بہرحال ایک اسلامی ریاست ہے۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ، نومبر ؍دسمبر ۲۰۰۸)
غو ر طلب امریہ ہے کہ اگر سیکولر ریاست برطانیہ، جہاں مذہب کوریاستی امور سے مکمل طور پر بے دخل کرکے پارلیمنٹ کی حاکمیت کے بنیادی اصول ونظریہ کو تسلیم کیا گیا ہے، سے نکلنے والے جمہوری اداروں (صدیق مغل صاحب کے الفاظ میں ساخت) کو اسلامی بنایا جا سکتا ہے تو کیا سرمایہ دارانہ نظام سے نکلنے والے اداروں (ساخت) کواسلامی بنانا ممکن نہیں ہے؟ اس وقت بھی تمام دینی جماعتیں اور ان میں شامل تمام علما اسی آئین (بعض جزوی ترامیم کے ساتھ) کونافذ رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس میں جواہم اسلا می شقیں ہیں، ان میں سے کسی بھی شق کے ختم کر دینے کی کوشش پر فکر مند ہو جاتے ہیں۔ (آئین کے نفاذ سے اس کے نتائج وثمرات کیوں مرتب نہیں ہو سکے، یہ ایک علیحدہ مستقل بحث ہے۔) گویا تمام دینی اکابر کا اس پر اتفاق ہے کہ ملک کا آئین اور اس میں موجود جمہوریت اسلامی ہے، لیکن صدیق مغل صاحب کا فکر ونظریہ کیا ہے؟ اس کے مطابق ہم جمہوری نظام سے نکلے ہوئے ادارو ں پر ایک کل کی نظر سے فتویٰ لگائیں، گویا وزیراعظم، کابینہ، پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ و کابینہ، غرض ان سب اداروں کو غیر اسلامی ہونے کی وجہ سے (سرمایہ دارانہ نظام کی طرح جمہوریت کاخاتمہ مقصد اور اس سے نکلنے والے ادارے غیر اسلامی) ختم کر دیے جائیں۔ ایسی منفرد رائے پر مزید کچھ کہنے کی گنجایش محسو س نہیں ہوتی۔
مقام عبرت (۱)
مولانا مفتی عبد الواحد
(’’حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ پر تنقید و تبصرہ۔)
جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ ہمارے ملک کی ایک نامور علمی شخصیت ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کے صاحبزادے محمد عمار خاں ناصر صاحب نے ’’حدود تعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو پاکستان کے ایک مشہور متجدد (Modernist) جاوید احمد غامدی کے ادارے المورد نے شائع کی ہے۔ المورد کا اس کو شائع کرنا ہی حقیقت کی بہت کچھ غمازی کر دیتا ہے لیکن اندر کا مضمون تو دلی رنج و الم کا موجب ہے۔
ہم نے محمد عمار صاحب کی کتاب کے کچھ ہی حصہ پر تبصرہ کیا ہے لیکن یہ ان کے انداز فکر کی نوعیت اور اس کی غلطیوں کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ شاید محمد عمار صاحب اس کو ہماری اپنے بارے میں خوش فہمی پر محمول کریں لیکن ہم پھر بھی ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے نظریات کی خامیوں پر غور کریں گے اور بالآخر ان کو ترک کر کے سلف صالحین اور اہل حق کی راہ علم و عمل پر دوبارہ لگ جائیں گے ع
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
امید ہے کہ محمد عمار صاحب اپنے حق میں ہماری اس خیر خواہی کو قبول کریں گے اور ہمارے دلی رنج و الم کو جس کے وہ موجب بنے ہیں مسرت سے تبدیل کریں گے۔
مقدمہ
اس کتاب کے دیباچہ میں جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب نے دو باتیں تحریر فرمائی ہیں:
۱۔ اس دیباچہ میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے یہ ٹھیک لکھا ہے کہ ’’اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے لئے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنہ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہرحال پابندی کی جائے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹)
اس کے ساتھ مولانا نے یہ بھی لکھا ہے:
’’آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے مگر انہیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت قدامت پرستی اور تجدد پسندی کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳)
ہمیں مولانا مدظلہ کی اس پوری بات سے اتفاق ہے لیکن ایک عاجزانہ شکوہ بھی ہے کہ یہ دیکھنے کے باوجود کہ محمد عمار خان نے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعہ کے علمی مسلمات کے دائرے کو کئی جگہوں سے نہ صرف تجاوز کیا ہے بلکہ ان کو ہی مشکوک بنانے کے در پے ہیں لیکن پھر بھی گمراہی پر تنبیہ کرنے کے بجائے یہ فرماتے ہیں:
’’عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے اسی علمی کاوش کا سلسلہ آگے بڑھایا ہے اور زیادہ وسیع تناظر میں حدود و تعزیرات اور ان سے متعلقہ امور و مسائل پر بحث کی ہے۔۔۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو سے اتفاق کیا جائے۔ البتہ اس علمی کاوش کا یہ حق ضرور بنتا ہے کہ اہل علم اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، بحث و مباحثہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے مثبت و منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کریں اور جہاں کوئی غلطی محسوس کریں، اسے انسانی فطرت کا تقاضا تصور کرتے ہوئے علمی مواخذہ کا حق استعمال کریں تاکہ صحیح نتیجے تک پہنچنے میں ان کی معاونت بھی شامل ہو جائے۔ ‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳)
ہمارا خیال ہے کہ مولانا مدظلہ بحیثیت ایک ماہر عالم کے بھی اور بحیثیت والد کے بھی ہم سے زیادہ بہتر پوزیشن میں تھے کہ اپنے عزیز کو اجماعی تعامل اور اہلسنت علمی مسلمات کے دائرے سے تجاوز کرنے سے روکتے۔ محمد عمار صاحب اہلسنت کے علمی مسلمات کے دائرے میں رہتے اور موجودہ تقاضوں کے ساتھ ان کی تطبیق میں جو اشکال پیش آتے وہ ان کو رفع کرنے کی کوشش کرتے تو یہ البتہ مثبت کام ہوتا اور دوسرے بھی ان سے تعاون کرتے۔
محمد عمار صاحب کی اس بات سے مخالفت
لیکن جب محمد عمار خان صاحب علمی مسلمات ہی کے توڑنے کے در پے ہو گئے تو دیگر اہل علم اپنی توانائیاں محمد عمار خان کی دستبرد سے ان مسلمات کو بچانے میں لگائیں گے۔ اس طرح سے توانائیاں در حقیقت منفی طور پر استعمال ہوں گی۔
دیکھئے امت کا اس پر اجماع رہا ہے کہ قتل خطا میں حکم سو اونٹ کی دیت ہے جو شرعی و ابدی ہے اور عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے اور شادی شدہ زانی کی حد رجم ہے۔ غرض ان پر امت کا اجماعی تعامل بھی ہے اور یہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علمی مسلمات بھی ہیں۔ لیکن محمد عمار خان صاحب ان کا یا تو انکار کرتے ہیں یا ان میں تشکیک پیدا کرتے ہیں۔ پھر یہ گمراہی نہیں تو اور کیا ہے اور یہ بات انہوں نے ان لوگوں سے اخذ کی ہیں جو خود گمراہ ہیں اور اجماع کی مخالفت کرنے والوں میں نمایاں ہیں مثلاً امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی۔ ہمیں تو ایسے بے اصول لوگوں کو اہل علم میں سے شمار کرنے ہی میں تامل ہے لیکن محمد عمار خان صاحب ان کو اور ان ہی جیسے عمر احمد عثمانی کو نہ صرف معاصر اہل علم کے لقب سے ذکر کرتے ہیں بلکہ تحقیق کے نام پر ان ہی کی ترجمانی کو گویا انہوں نے اپنا مشن بنا لیا ہے۔ اور یہ تو چند مثالیں ہیں ورنہ تو خیال ہے کہ کتاب میں اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہوں گی۔
۲۔ مولانا مدظلہ نے یہ بھی ٹھیک لکھا ہے کہ
’’اس پس منظر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ شریعت اور اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے مختلف اطراف میں جو کام ہو رہا ہے اس کے بارے میں کچھ اصولی گزارشات ضروری سمجھتا ہوں:
۱۔ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول ا کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
۲۔ سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آ رہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کر دینا بھی عملاً سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔
۳۔ ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ثانوی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ اس کی مطابقت کی صورت میں ہی اسے احکام و قوانین کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر بہت خوبصورت بات ہے لیکن اس صورت میں اصل اتھارٹی سنت نہیں بلکہ مطابقت تسلیم کرنے یا نہ کرنے والے کا ذہن قرار پاتا ہے کہ وہ جس سنت کو قرآن کریم کے مطابق سمجھ لے وہ قانون کی بنیاد بن سکتی ہے اور جس سنت کو اس کا ذہن قرآن کریم کے مطابق قرار نہ دے، وہ احکام و قوانین کی بنیاد نہیں بن سکتی۔‘‘(حدود و تعزیرات ص ۱۰، ۱۱)
محمد عمار صاحب کی اس بات سے مخالفت
لیکن ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں محمد عمار خان صاحب نے اس معیار کو بھی جابجا توڑا ہے جیسا کہ ہم عمار صاحب کی کچھ باتوں پر گرفت کے ضمن میں واضح کریں گے۔ علاوہ ازیں محمد عمار صاحب نے جن معاصر اہل علم کے حوالوں سے جابجا اپنی کتاب کو زینت بخشی ہے مثلاً امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی وغیرہ تو ان کے اصول و عمل سے کون واقف نہیں کہ سنت کا مطلب وہ اپنی مرضی کا بتاتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں سنت میں شمار کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں اس سے خارج کرتے ہیں اور اپنی تحقیق کے آگے اجماع امت کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ہماری کتابیں تحفہ غامدی اور تحفہ اصلاحی ہماری بات پر واضح دلیل ہیں۔
پھر محمد عمار صاحب نے اپنی کتاب کی تمہید میں بعض باتیں ایسی کہی ہیں جو اسلاف پر سے اعتماد کو اٹھاتی ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
’’اس تناظر میں اسلامی قانون کی تعبیر نو کا دائرہ کار اور بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ وہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو لے کر دین کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے اور اس بات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ قرآن و سنت کی ہدایات و تصریحات سے یا ان کی متعین کردہ ترجیحات کی روشنی میں ان کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا جانا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ اسلامی قانون کی اطلاقی تعبیر کی جو روایت پہلے سے چلی آ رہی ہے اس کا جائزہ لینا بھی تعبیر نو کے اس عمل کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔۔۔۔ گویا تعبیر نو کا سوال در حقیقت اسلامی قانون کو جدید مغربی فکر کے سانچے میں ڈھالنے کا نہیں بلکہ جدید قانونی فکر کے اٹھائے ہوئے سوالات کو قرآن و سنت کے نصوص پر از سر نو غور کرنے کے لئے ایک ذریعے اور حوالے کے طور پر استعمال کرنے کا سوال ہے اور ہمارے نزدیک اس عمل میں اہل سنت کے اصولی علمی مسلمات اور فقہی منہج اور مزاج کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۷، ۱۸)
ہم کہتے ہیں : تعبیر نو سے محمد عمار صاحب کی مراد محض یہ نہیں ہے کہ سابق حکم و دلیل کو جدید الفاظ اور اسلوب میں بیان کر دیا جائے کیونکہ اس کے لئے بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہے قرآن و سنت کی نصوص میں جو اور احتمال نکلتے ہیں یا نکل سکتے ہیں یا ہیر پھیر کرکے نکالے جا سکتے ہیں ان میں سے کسی کو لے لیا جائے اگرچہ اس عمل سے امت کا اجماع ٹوٹتا رہے لیکن عمار صاحب کو اتنا اطمینان ہے کہ نسبت قرآن و سنت کی طرف رہے گی۔ محمد عمار صاحب کی عبارت کا حاصل یہی ہے جو ان کے عمل سے بھی ثابت ہے باقی تو ان کے الفاظ کی بازیگری ہے۔
ہم نے جو یہ بات ذکر کی یہ محض اٹکل نہیں ہے بلکہ محمد عمار صاحب نے اجماع امت کو اور ائمہ مجتہدین کے اجتہاد کو مشکوک بنانے میں جو صفحات سیاہ کئے ہیں ان کو ملاحظہ فرما لیجئے۔
محمد عمار صاحب اجماع امت کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں
محمد عمارصاحب لکھتے ہیں:
’’ہماری رائے میں نصوص کی تعبیر و تشریح میں اختلاف اور تنوع کی گنجائش جس قدر اسلام کے صدر اول میں تھی، آج بھی ہے اور سابقہ ادوار میں مخصوص علمی تناظر میں مخصوص نتائج کو حاصل ہونے والا قبول و رواج اس گنجائش کو محدود کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس نکتے کا وزن اس تناظر میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے کہ مدون علمی ذخیرہ گزشتہ چودہ سو سال میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم تو کیا، صدر اول کے علماء و فقہا کے علمی رجحانات اور آرا کا بھی پوری طرح احاطہ نہیں کرتا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ علم و فکر سے اشتغال رکھنے اور علمی مسائل پر غور کرنے والے اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو نہ تو خود اپنے نتائج فکر کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کا اہتمام کرتی ہے اور نہ سب اہل علم کو ایسے تلامذہ ور فقا میسر آتے ہیں جو ان کے غور و فکر کے حاصلات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام کریں۔ چنانچہ صحابہ میں سے علم وتفقہ کے اعتبار سے خلفائے راشدین، سیدہ عائشہ، معاذ بن جبل، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، سیدنا معاویہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم نہایت ممتاز ہیں اور یہ حضرات عملی مسائل کے حوالے سے راے دینے کے علاوہ قرآن مجید کو بھی خاص طور پر اپنے تفکر و تدبر کا موضوع بنائے رکھتے تھے، تاہم تفسیری ذخیرے میں ہمیں ابن عباس اور ابن مسعود کے علاوہ دیگر صحابہ کے اقوال و آرا کا ذکر شاذ ہی ملتا ہے۔
صحابہ کے دور کے جو فتاویٰ اور واقعات ہم تک پہنچے ہیں، ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو اس وقت کے معروف علمی مراکز میں پیش آئے یا جن کی اطلاع مخصوص اسباب کے تحت وہاں تک پہنچ گئی اور آثار و روایات کی صورت میں ان کی حفاظت کا بندوبست ممکن ہو سکا۔ ان کے علاوہ مملکت کے دور دراز اطراف مثلاً یمن، بحرین اور مصر وغیرہ میں کئے جانے والے فیصلوں کی تدوین سرکاری سطح پر بھی نہیں کی گئی اور مکہ، مدینہ، کوفہ اور دمشق کی نمایاں تر علمی حیثیت کے تناظر میں اہل علم نجی طور پر بھی نسبتاً کم اہمیت کے حامل ان علاقوں کے علمی آثار کی حفاظت و تدوین کی طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ بعد میں مستقل اور باقاعدہ فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے تو صحابہ و تابعین کی آرا و اجتہادات کا جو کچھ ذخیرہ محفوظ رہ گیا تھا، اس کو مزید چھلنی سے گزارا گیا۔ اس طرح مدون فقہی ذخیرہ سلف کے علم و تحقیق کو پوری طرح اپنے اندر سمونے اور اس کی وسعتوں اور تنوعات کی عکاسی کرنے کے بجائے عملاً ایک مخصوص دور کے ترجیح و انتخاب کا نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مذاہب اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) کی نسبت سید نا عمر کی فقہ کے ساتھ وہی ہے جو مجتہد منتسب کو مجتہد مطلق کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ چاروں فقہی مذاہب در حقیقت سید نا عمر ہی کی آرا اور اجتہادات کی تفصیل پر مبنی ہیں۔ (ازالۃ الخفاء ۲/۸۵)۔ شاہ صاحب کے اس تجزیے میں بڑا وزن ہے، تاہم یہ دیکھیے کہ خود سیدنا عمر کی بعض نہایت اہم آرا ان چاروں فقہی مذاہب میں کوئی جگہ نہیں پا سکیں ۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر بعض آثار کے مطابق غیر مسلم کو زکوۃ دینے کے جواز کے قائل تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۰۴۰۶ ابو یوسف کتاب الخراج ۱۳۶) ان کے نزدیک مرتد ہونے والے شخص کو ہر حال میں قتل کر دینا ضروری نہیں تھا اور وہ اس کے لئے قید وغیرہ کی متبادل سزا کا امکان تسلیم کرتے تھے۔ (مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۸۶۹۶۔ بیہقی، السنن الکبری، رقم ۱۶۶۶۵) ان کی رائے یہ تھی کہ اگر کسی یہودی یا نصرانی کی بیوی مسلمان ہو جائے اور خاوند اپنے مذہب پر قائم رہے تو دونوں میں تفریق ہر حال میں ضروری نہیں اور سابقہ نکاح کے برقرار رکھے جانے کی گنجائش موجود ہے۔(مصنف عبدالرزاق، رقم ۱۰۰۸۱،۱۰۰۸۳) یہ اور ان کے علاوہ بہت سی آرا ایسی ہیں جنہیں مذاہب اربعہ میں کوئی نمائندگی میسر نہیں آ سکی۔
اس ضمن میں ایک حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عام علمی روایت میں اہل سنت کے دو جلیل القدر فقیہوں، امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی آرا و اجتہادات کو جو باقاعدہ مدون صورت میں موجود ہیں اور ان کی نسبت سے دو مستقل فقہی مکتب فکر امت میں پائے جاتے ہیں، قریب قریب کلی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ان سے استفادے کا دائرہ محض اس وجہ سے محدود ہو گیا ہے کہ ان ائمہ کی فقہوں کی پیروی اختیار کرنے والے مکاتب فکر بعض کلامی اور سیاسی نظریات کے حوالے سے اہل سنت کے عمومی رجحانات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ امام ابو حنیفہ یا امام مالک کی آرا کو ابتدائی قبولیت اسی طرح کے کسی گروہ کے ہاں حاصل ہوئی ہوتی تو آج ان کی فقہی بصیرت سے روشنی حاصل کرنے کا دروازہ بھی ہمارے لئے بند ہوتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ائمہ اہل بیت کے فقہی رجحانات کی نمائندگی جس خصوصیت کے ساتھ امام جعفر صادق اور امام زید بن علی کی فقہوں میں ہوئی ہے، عام فقہی مکاتب فکر میں جن کے اخذ و استفادہ کا دائرہ دوسرے فقہاے صحابہ و تابعین تک وسیع ہے، نہیں ہو سکی اور اس تناظر میں اس ذخیرے سے صرف نظر کرنے کا رویہ زیادہ ناقابل فہم اور ناقابل دفاع قرار پاتا ہے۔
سابقہ علمی روایات کے ظاہری نتائج اور حاصلات کو حتمی قرار دینے کا رویہ بالخصوص فقہ اور قانون کے میدان میں اس وجہ سے بھی قبول نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ذخیرہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے فقہاے صحابہ و تابعین کی آرا اور فتاویٰ کی توضیح و تفصیل اور ان پر تفریع سے عبارت ہے اور ظاہر ہے کہ ان آرا اور فتاویٰ کا ایک مخصوص عملی پس منظر تھا جس سے مجرد کر کے ان کی درست تفہیم ممکن نہیں، جب کہ صدر اول کے ان اہل علم کی آرا کے حوالے سے جو مواد جس صورت میں ہم تک نقل ہوا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا کہ صحابہ اور تابعین نے کون سی متعین رائے کسی استدلال کی بنیاد پر اختیار کی تھی، بالعموم ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ مختلف نصوص یا احکام کے حوالے سے ان کی جو آرا بیان ہوئی ہیں، وہ آیا درپیش عملی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ’اطلاقی تعبیر‘ کے طور پر پیش کی گئی تھیں یا ان میں اطلاقی صورت حال سے مجرد ہو کر نصوص کی کوئی ایسی تعبیر سامنے لانا پیش نظر تھا جو ان کی رائے میں جملہ اطلاقی امکانات کو محیط تھی۔
یہی صورت حال مدون فقہی مکاتب فکر کی ہے۔ چنانچہ امام شافعی کے علاوہ، جن کی آرا بڑی حد تک خود ان کے اپنے بیان کردہ استدلال کے ساتھ میسر ہیں۔ باقی تینوں ائمہ کے طرز استدلال کے حولاے سے چند عمومی رجحانات کی نشان دہی کے علاوہ جزوی مسائل میں ان کی آرا کے ماخذ اور مقدمات استدلال کی تعیین کے ضمن میں تیقن سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مخصوص احکام کی تعبیر و توجیہ اور ان کے ماخذ استدلال کے حوالے سے ان ائمہ کی رائے اور منشا متعین کرنے کے باب میں ان مکاتب فکر میں اخلاف، تنوع اور وسعت کی ایک پوری دنیا آباد ہے، لیکن علماء کے روایتی حلقے میں اس ساری صورت حال سے صرف نظر کرتے ہوئے مدون فقہی ذخیرے میں بیان ہونے والے ’نتائج‘ کو اجتہاد کے عمل میں اصل اور اساس کی حیثیت دے دی جاتی ہے، جب کہ ان نتائج کے پس منظر میں موجود استدلالی زاویۂ نگاہ کے مختلف امکانات و مضمرات اور ان عملی عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو ان کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے ہیں۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۲۰-۲۳)
ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب نے امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی آراء و اجتہادات کو جو شیعوں کے ذریعہ سے پہنچے ہیں ان سے صرف نظر کرنے کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ اس پر ان سے یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے حوالوں سے ہی بتائیں کہ سند کے اعتبار سے شیعوں کی کتابوں میں منقول ان کے اقوال کس حد تک قابل اعتماد ہیں۔
محمد عمار صاحب مجتہدین کے اجتہاد کو مشکوک بناتے ہیں
لکھتے ہیں:
’’اس ساری طول بیانی کا مقصد اس نکتے کو واضح کرنا ہے کہ مدون فقہی و تفسیری ذخیرہ ان آرا کی نمائندگی تو یقیناًکرتا ہے جنہیں ہماری علمی تاریخ کے ایک مخصوص دور میں امت کے نہایت جلیل القدر اہل علم نے اختیار کیا اور جنہیں مختلف سیاسی و سماجی عوامل کے تحت ایک عمومی شیوع حاصل ہو گیا، تاہم یہ ذخیرہ کسی طرح بھی قرآن و سنت کے نصوص کی تعبیر کے جملہ علمی امکانات کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس پس منظر میں ہم پوری دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے امکانات کو مدون ذخیرے کی تنگ نائے میں محدود کر دینا کسی طرح درست نہیں ہے اور قدیم و جدید زمانوں میں مختلف فکری و عملی اثرات کے تحت وجود میں آنے والی تعبیرات کی قدرو قیمت کو خود نصوص کی روشنی میں پرکھنا اور اس طرح قانون سازی کا ماخذ زمان و مکان میں محدود اطلاقی و عملی روایت کو نہیں، بلکہ براہ راست نصوص کو قرار دینا تجدید و اجتہاد کا ایک لازمی تقاضا ہے۔
ہمارے نزدیک دور جدید میں اسلام کی علمی روایت کے احیا کے لیے قرآن و سنت پر براہ راست غور و تدبر کی ضرورت اور تفسیری، کلامی اور فقہی استنباطات و تعبیرات کا از سر نو جائزہ لینے کے امکان کو تسلیم کرنا بنیادی شرط (Pre-requisite) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ چیز بذات خود ہماری علمی روایات کا حصہ ہے، کیونکہ وہ کوئی جامد اور بے لچک روایت نہیں، بلکہ صدیوں کے علمی و فکری ارتقا کا نتیجہ اور توسع اور تنوع کا مظہر ہے۔ ہم اس علمی روایت کا اصل ترجمان ابن حزم، رازی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، انور شاہ کشمیری اور حمید الدین فراہی رحمہم اللہ جیسے اکابر کو سمجھتے ہیں جو اصولی علمی منہج کے دائرے میں رہتے ہوئے سابقہ آرا و تعبیرات پر سوالات و اشکالات بھی اٹھاتے ہیں اور جہاں اطمینان نہ ہو، نصوص کے براہ راست مطالعہ کی بنیاد پر متبادل تعبیرات بھی پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مخصوص نتائج فکر اور آرا و تعبیرات کو نہیں بلکہ اس مزاج اور شرعی نصوص اور احکام کی تعبیر کے اس اصولی منہج کو معیار سمجھتے ہیں جو اہل سنت کے ان ائمہ اور اکابر نے اختیار کیا ہے۔ بعض مخصوص اور متعین تعبیرات کو معیار قرار دینا کسی فرقے یا گروہ کے امتیاز کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے لیکن یہ طریقہ اہل سنت کی مجموعی علمی روایت کو اپنی گرفت میں لینے سے پہلے بھی ہمیشہ قاصر رہا ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ قاصر ہی رہے گا۔ ‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۲۳، ۲۴)
تنبیہ:
بدلتے حالات میں اور نئے مسائل کے سامنے آنے میں ہم بھی اجتہاد اور غور و فکر کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن ائمہ مجتہدین کے متعین کردہ اصول و قواعد کی روشنی میں۔ اور اس کے اہل بھی وہ لوگ ہیں جو فقہ و اصول فقہ میں تبحر کے حامل ہوں اور صحیح فکر رکھنے والے ہوں۔ محمد عمار صاحب یہ منصب جاوید احمد غامدی، عمر احمد عثمانی اور امین احسن اصلاحی اور خود اپنے آپ کو بھی دینے کو تیار ہیں اور صرف اتنا ہی منصب نہیں بلکہ جیسا کہ ان کی مذکورہ بالا عبارتیں بتاتی ہیں، وہ ان کہ اجتہاد مطلق کے درجے میں بھی بٹھانے پر تیار ہیں۔
محمد عمار صاحب اور دیت کی بحث
محمد عمار خان صاحب دیت کی بحث کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید میں قتل عمد میں قصاص کی معافی کی صورت میں، جب کہ قتل خطا میں مطلقاً مقتول کے ورثا کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی مقدار سو اونٹ مقرر فرمائی۔ روایات سے ثابت ہے کہ دیت کی یہی مقدار اہل عرب میں پہلے سے ایک دستور کی حیثیت سے رائج چلی آ رہی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اسی کو برقرار رکھا۔ کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ ﷺ کی اس تقریر و تصویب کو شرعی حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم بعض معاصر اہل علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ فیصلہ تشریعی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ آپ نے عرب معاشرے میں دیت کی پہلے سے رائج مقدار کو بطور قانون نافذ فرما دیا تھا اور زمانہ اور حالات کے تغیر کے تناظر میں دیت کے اصل مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے مختلف قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔‘‘ (ص ۸۹)
اس تعارف کے بعد آپ محمد عمار صاحب کا دیت پر پورا مضمون پڑھ جایئے، آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے بزعم خویش ان بعض معاصر اہل علم کی رائے کو جو کہ خود ان کی تصریح کے مطابق جاوید احمد غامدی، احمد عمر عثمانی اور امین احسن اصلاحی ہیں فقہا کی رائے بلکہ ان کے اجماع پر بھی ترجیح دینے کو اپنا اصل مقصد بنایا ہے۔ اور حق یہ ہے کہ محمد عمار صاحب نے ان انتہائی بے اصولے لوگوں کی وکالت کا حق ادا کر دیا ہے۔
عمار صاحب اپنی کارروائی شروع کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر لکھتے ہیں:
’’جہاں نبی ﷺ کے قول و فعل اور تصویب سے ثابت بہت سے احکام ابدی تشریع کی حیثیت رکھتے ہیں وہاں ان کی ایسی قسم بھی موجود ہے جو اصلا قضا اور سیاسہ کے دائرے میں آتی ہیں اور جن میں زمان و مکان کے تغیر سے تبدیلی ممکن ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۰)
پھر عمار صاحب دوسرے مقدمہ کے طور پر یوں لکھتے ہیں:
’’اہل علم کے مابین بعض مخصوص احکام کے حوالے سے یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ان کو پہلی قسم کے دائرے میں رکھا جائے یا دوسری قسم کے۔ ظاہر ہے کہ فریقین اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں نصوص اور عقل و قیاس پر مبنی قرائن و شواہد پیش کرتے ہیں۔‘‘
تنبیہ:
فریقین میں سے ایک فریق تو عمار صاحب کے بقول کلاسیکی فقہاء کا ہے اور دوسرا فریق امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی اور احمد عمر عثمانی پر مشتمل ہے۔ عمار صاحب اسی دوسرے فریق کے وکیل خاص بنے ہیں اور ان ہی کے حق میں سارے مسئلے کو پھیرنے کے درپے ہیں۔ اسی لیے اگرچہ وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ فقہاء کا دیت کی مقدار کے شرعی ہونے پر اتفاق ہے:
’’فقہاء کا عمومی زاویہ نگاہ یہ ہے کہ سورہ نساء کی آیت ۹۲ میں قتل خطا کے احکام بیان کرتے ہوئے دیۃ مسلمۃ الی اہلہ (قاتل پر دیت لازم ہو گی جو مقتول کے اہل خانہ کو ادا کی جائے گی) کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ مجمل ہیں اور اپنی مقدار کی تعیین کے لئے تبیین کے محتاج ہیں جو نبی ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعے سے فرما دی ہے۔
جصاص نے اس آیت میں دیۃ کو مجمل اور محتاج بیان ماننے کے بجائے یہ رائے اختیار کی ہے کہ دیت کا لفظ اپنے مفہوم اور مقدار کے اعتبار سے قرآن کے مخاطبین کے لئے پہلے سے واضح اور معروف تھا اور جب قرآن مجید نے قتل خطا کی صورت میں دیت ادا کرنے کا حکم دیا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اہل عرب کے ہاں دیت کی جو بھی مقدار معروف ہے اس کی پیروی کی جائے۔
پہلی رائے کی رو سے نبی ﷺ نے اصول فقہ کی اصطلاح میں ابتداء تشریع کرتے ہوئے دیت کی مقدار مقرر فرمائی، جب کہ دوسری رائے کے مطابق آپ نے اہل عرب کے پہلے سے رائج معروف کی تصویب فرما کر اسے شرعی حیثیت دے دی۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۰)
لیکن محمد عمار صاحب فقہاء کے اس اتفاق و اجماع کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اول تو ایسے بن گئے جیسے کہ وہ اجماع ہی نہ ہو حالانکہ ابن المنذر (م۳۱۸ ھ) اپنی کتاب الاجماع میں صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ
اجمعوا علی ان دیۃ الرجل ماءۃ من الابل۔ (ص ۱۳۷)
(فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ مرد کی دیت سو اونٹ ہے)
اور پھر جو کچھ ہاتھ آیا، اس کے ساتھ فقہاء کے قول کے زور کو توڑنے میں لگ گئے مثلاً:
i- حج میں بحالت عذر قبل از وقت سر منڈوانے کا حکم
ii- احرام کی حالت میں کسی جانور کو شکار کرنے کا حکم
اور اس کے بعد عمار صاحب یہ سمجھاتے ہیں:
’’ان مثالوں سے اس اصولی سوال کی جانب توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر شرعی نصوص میں اس طرح کے اسلوب میں مجمل لفظ کا کوئی متعین مصداق متکلم کے پیش نظر ہو تو اس کی وضاحت ہر جگہ عقلاً شارع کی ذمہ داری ہے۔۔۔ لیکن عملاً بعض معاملات میں شارع کی طرف سے وضاحت میسر ہے اور بعض میں نہیں۔ اس کا مطلب:
i- کیا یہ سمجھا جائے کہ جہاں جہاں اس کی صراحت موجود ہے وہاں تو تعیین ہی شارع کا منشاء ہے جب کہ عقل و قیاس یا عرف کی طرف رجوع شارع کی طرف سے کوئی صراحت موجود نہ ہونے کی صورت میں ہی کیا جائے گا۔
ii- یا اس کے برعکس یہ تصور کیا جائے کہ قرآن مجید میں کسی تحدید اور تعیین کے بغیر وارد ہونے والے حکم میں شارع کا اصل منشا عدم تعیین ہی ہے، جبکہ اس حکم پر عمل کے لئے نبی ﷺ کا اختیار یا تجویز کر دہ کوئی مخصوص طریقہ مختلف امکانی صورتوں میں سے ایک صورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر امکانات کے لئے بھی گنجائش موجود ہے۔‘‘ (ص ۹۳)
محمد عمار صاحب کی یہ عبارت انتہائی خطرناک غلطیوں پر مشتمل ہے۔
پہلی غلطی:
اس میں انہوں نے سنت کی تشریعی حیثیت کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ ان کے کہے کا حاصل یہ ہے کہ قران مجمل کی تعیین کر دے تو وہ تو شارع کی اپنی مطلوبہ مقدار ہے، بصورت دیگر تعیین اگر حدیث میں ملے تو وہ عرف کی وجہ سے ایک امکانی صورت ہے جو زمان و مکان کی تبدیلی سے دیگر ممکنہ صورتوں میں بدل سکتی ہے حالانکہ خود محمد عمار صاحب نے اپنی کتاب کے ص ۹۸پر یہ حدیث ذکر کی ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ص سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا
من قتل خطأ فدیتہ من الابل
جو شخص خطا سے قتل ہو جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ (نسائی، رقم ۴۷۱۹)
اور اس حدیث میں ’من‘ عموم کا کلمہ ہے جو زمان و مکان کی قید سے خالی ہے لہٰذا یہ حکم ہر زمان و مکان کے لئے ہو گا۔
دوسری غلطی:
محمد عمار صاحب نے منکرین حدیث کی سی بات کہی ہے۔ منکرین حدیث جو مرکز ملت کا فلسفہ بتاتے ہیں ان کی بات کا حاصل بھی تو یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے کے حالات کے اعتبار سے تحدید و تعیین کی ایک امکانی صورت کو اختیار کیا اور آئندہ زمانوں میں ہر مرکز ملت اپنے حالات کو سامنے رکھ کر کسی دوسری امکانی صورت کو اختیار کر سکتا ہے۔ محمد عمار صاحب کی یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ قرآن پاک یہ اعلان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اجتہاد بھی رسول کی حیثیت سے تھے اور وحی کا درجہ رکھتے تھے۔
مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَا کُمْ عَنْہُ فَاَنْتَھُوْا۔ (سورہ حشر: ۷)
جو دے تم کو رسول لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔
دیکھئے اس آیت میں خطاب صرف صحابہ سے مراد نہیں ہے بلکہ پوری امت مسلمہ سے ہے اور کہا کہ رسول جو کچھ تم کو حکم دیں اس کو لو۔ معلوم ہوا کہ رسول اپنے اجتہاد سے بھی جو حکم دیتے ہیں وہ رسول کی حیثیت سے دیتے ہیں اور پوری امت مسلمہ کے لئے اس کو اختیار کرنا لازمی ہے۔
تیسری غلطی:
یہ بھی علمی مسلمات میں سے ہے کہ مقاد یر میں عقل و قیاس کی کارفرمائی نہیں چلتی لیکن محمد عمار صاحب اس ضابطہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور یہاں منکرین حدیث سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس کو بھی ممکن مانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی تحدید و تعیین کے برخلاف آپ ا کی زندگی ہی میں ایک شخص اپنی علیحدہ تحدید و تعیین کر سکتا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر محمد عمار صاحب کی یہ عبارت پڑھئے:
’’آیت حج میں بحالت عذر قبل از وقت سر منڈوا لینے کی صورت میں روزے، صدقہ یا قربانی کا کفارہ عائد کیا گیا ہے: فَفِدْیَہٌ مِنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍ لیکن روزوں کی تعداد یا صدقے کی مقدار بیان نہیں کی گئی۔ نبی ﷺ نے کعب بن عجرہ کو یہ صورت حال در پیش ہونے پر تین روزے رکھنے یا تین صاع غلہ چھ مسکینوں میں بانٹ دینے یا ایک بکری قربان کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جمہور فقہاء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور شرعی طور پر اس کی پابندی لازم ہے۔ تاہم سعید بن جبیر، علقمہ، حسن بصری، نافع اور عکرمہ جیسے کبار تابعین سے اس صورت میں دس روزے رکھنے یا دس مسکینوں کو فی کس دو مکوک صدقہ دینے کا فتویٰ مروی ہے۔ یہ فتوی ظاہر ہے کہ رائے اور قیاس پر مبنی ہے اور اگر کعب بن عجرہ کی روایت، جس میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں تین روزے رکھنے یا چھ مسکینوں میں تین صاع غلہ تقسیم کرنے کا حکم دیا ان حضرات کے پیش نظر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو تشریع پر محمول نہیں کرتے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۹۱)
ہم کہتے ہیں: ان حضرات کا یہ اصول کہیں نہیں ملتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تحدید و تعیین کو تشریع پر محمول نہ کئے جانے کے جواز کے قائل ہیں بلکہ فقہاء سے عام طور سے یہ ملتا ہے کہ اگر ہمارے قیاس کے خلاف حدیث مل جائے تو ہماری بات دیوار پر دے مارو۔غرض محمد عمار صاحب کی یہ انتہائی خطرناک باتیں ہیں لیکن وہ ہیں کہ اپنی اختیار کردہ راہ پر اندھا دھند چلتے چلے جا رہے ہیں اور ان کو نتائج و عواقب کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔
جصاص رحمہ اللہ پر اعتراض اور اس کا جواب
رہی جصاص رحمہ اللہ کی بات تو محمد عمار صاحب اس کو یوں توڑتے ہیں:
’’جصاص کی یہ بات کہ دیۃ کا لفظ اپنے مفہوم اور مصداق کے اعتبار سے اس مخصوص مقدار پر دلالت کرتا ہے جو قرآن مجید کے مخاطبین کے نزدیک معروف تھی، عربیت کی رو سے قابل اشکال ہے۔ یہ بات اس کے لغوی مفہوم، یعنی وہ مال جو خوں بہا کے طور پر ادا کیا جائے، کی حد تک درست ہے لیکن اگر اس کی اس مخصوص مقدار کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا جو مخاطب کے نزدیک معروف تھی تو عربیت کی رو سے لفظ دیۃ کو معرف باللام ہونا چاہئے تھا کیونکہ اسم نکرہ کسی لفظ کے سادہ لغوی مفہوم سے بڑھ کر اس کے کسی مخصوص و متعین مصداق پر دلالت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ چنانچہ قرآن مجید کا یہاں لفظ دیۃ کو نکرہ لانا در حقیقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس کی کسی مخصوص مقدار کی تعیین یا اس کی طرف اشارہ سرے سے اس کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔‘‘ (ص ۹۳، ۹۴)
ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کا جصاص رحمہ اللہ پر اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ:
۱۔ نکرہ کبھی تعظیم کے لئے ہوتا ہے اس لیے دیۃ سے مراد ہے وہ بڑی اور عظیم رقم جو خون بہا کے طور پر دی جائے اور چونکہ وہ رقم معاشرے میں متعین اور مروج تھی اس لیے جصاص رحمہ اللہ نے اس کو متعین مقدار سے تعبیر کیا۔
۲۔ عرب معاشرے میں دیت کی صرف ایک مقدار متعین نہیں تھی بلکہ مردوں کی علیحدہ مقدار تھی اور عورتوں کی علیحدہ مقدار تھی۔ دیت کی مقدار معلوم ہونے کے باوجود چونکہ اس میں تعدد تھا اس لیے دیۃ کو نکرہ لائے۔
محمد عمار صاحب اور عورت کی دیت
عورت کی دیت کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:
’’فقہاء کم و بیش اس بات پر متفق ہیں کہ عورت قصاص کے معاملے میں تو مرد کے مساوی ہے لیکن اس کی دیت مرد کی دیت کے برابر نہیں۔ اس باب میں فقہا کے موقف کی بنیاد اصلاً صحابہ اور تابعین سے منقول فیصلوں پر ہے۔‘‘ (ص ۹۸)
اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ فقہا کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے اور واقعتہً ایسا ہی ہے اور ابن المنذر بھی اپنی کتاب الاجماع میں لکھتے ہیں:
واجمعوا ان دیۃ المرأۃ نصف دیۃ الرجل۔
فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہے۔
لیکن محمد عمار صاحب یہاں بھی اجماع امت اور اہلسنت کے علمی مسلمہ کے دائرے کو کراس کرنے کے لئے خود اس علمی مسلمہ اور اجماع میں شک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
’’تاہم خود صحابہ اور تابعین کے اس موقف کا ماخذ کیا ہے؟ یہ ایک نازک سوال ہے، اس لیے کہ جہاں تک قرآن مجید اور صحیح احادیث کا تعلق ہے تو ان میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کا کوئی ذکر نہیں۔ قرآن مجید میں تو دیت کی مقدار سرے سے زیر بحث ہی نہیں آئی جب کہ نبی ﷺ سے منقول مستند ارشادات یا فیصلوں میں کہیں بھی مرد اور عورت کی دیت کے مابین تفریق نہیں کی گئی بلکہ ہر جگہ کسی فرق کے بغیر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہی بیان کی گئی ہے۔‘‘ (ص۹۸)
’’اس باب میں نبی ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی روایات سب کی سب ضعیف ہیں‘‘۔ (ص ۱۰۰)
ہم کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث ضعیف بھی ہوں لیکن سوچنے کی بات ہے کہ صحابہؓ سے عورت کے لئے صرف نصف دیت ہی کا فیصلہ کیوں ثابت ہے اور ان میں کوئی اختلاف کیوں نہیں ہوا۔ کیا اس وقت کے عربوں میں عورت کی دیت نصف ہونے کا رواج تھا یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سنا تھا یا سب کا قیاس اسی نتیجہ تک پہنچا ؟
محمد عمار صاحب کے سامنے بھی یہ سوال ہے۔ وہ اس کا جو جواب دیتے ہیں پہلے وہ ملاحظہ فرمایئے اور اس کی خطرناکیوں کا اندازہ کیجئے۔ محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:
’’بہرحال نبی ﷺ کے مستند ارشادات میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کی کوئی بنیاد موجود نہ ہونے کی صورت میں غور طلب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے ہاں اس تصور کی اساس کیا ہے ؟ اگر اس کی جڑیں اہل عرب کے مخصوص معاشرتی تصورات میں پیوست ہیں تو پھر یہ بحث ایک دوسری اہم تر اور زیادہ گہری بحث سے متعلق ہو جاتی ہے۔ دیت کو مقتول کے قتل سے لاحق ہونے والے معاشی نقصان کا بدل مانا جائے یا قاتل کے لیے جرمانہ اور تاوان، دونوں صورتوں میں عورت کی دیت آد ھی مقرر کرنے کے پس منظر میں اس کی جان کی قیمت کے مرد سے کم تر ہونے کا تصور کار فرما ہے۔ اگر قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی ﷺ نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی تو اس پر مبنی ایک قانون کو چاہے وہ اہل عرب کے معروف اور دستور ہی کی صورت کیوں نہ اختیار کر چکا ہو، صحابہ اور تابعین کے ہاں کیوں پذیرائی حاصل ہوئی؟ کیا اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر و قیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے۔ کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور موثر نہ ہو سکیں اور صحابہ و تابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو ؟ معروضی تصورات اور حالات کی رعایت کا اصول بجائے خود درست، حکیمانہ اور نصوص سے ماخوذ ہے، لیکن اس صورت میں فقہی اجتہادات میں ایک ’مسلمہ‘ کی حیثیت سے مانے جانے والے اس تصور پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے کہ منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین و احکام کی وہ عملی صورت بھی جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی، مذہبی زاویۂ نگاہ سے ایک آئیڈیل اور معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۰۴، ۱۰۵)
ہم کہتے ہیں: اب مندرجہ بالا عبارت کی خطرناکیوں کو شمار کیجئے۔
پہلی خطرناکی:
محمد عمار صاحب نے اس بات کو توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھا کہ صحابہؓ نے نبی ﷺ سے عورت کی دیت کے بارے میں کچھ سنا ہو گا حالانکہ اصول فقہ اور اصول حدیث کا یہ قاعدہ و ضابطہ ہے کہ مقادیر محل اجتہاد نہیں ہیں اور یہ محض سماع پر مبنی ہیں اور ایسے میں موقوف حدیث بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔
دوسری خطرناکی:
i- نبی ﷺ سے صحابہ کے سننے کو عمار صاحب نے اس وجہ سے بھی ناقابل التفات سمجھا ہے کہ آپ ا کی طرف عورت کی دیت سے متعلق منسوب حدیثیں سب ضعیف ہیں۔ عمار صاحب کے ذہن میں یہ ہو گا کہ صحابہ نے نبی ﷺ سے جب کچھ سنا ہی نہیں تو یہ حدیثیں صحابہ اور تابعین کے دور کے بعد گھڑی گئی ہوں گی۔ محمد عمار صاحب تصریح تو یہ کرتے ہیں کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں لیکن ان کی بات کو لازم یہ ہے کہ یہ حدیثیں محض ضعیف نہیں بلکہ موضوع اور بناوٹی ہیں۔ حالانکہ ایک دوسرے زاویہ سے دیکھیں تو یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ صحابہ و تابعین کا عمل ان ضعیف حدیثوں کو تقویت دیتا ہے۔ محمد عمار صاحب کے ممدوح احمد عمر عثمانی کے والد گرامی مولانا ظفر احمد تھانویؒ لکھتے ہیں۔
قد یحکم للحدیث بالصحۃ اذا تلقاہ الناس بالقبول و ان لم یکن لہ اسناد صحیح (مقدمہ اعلاء السنن ص ۳۹ ج ۱)
والقبول یکون تارۃ بالقول و تارۃ بالعمل علیہ و لذا قال المحقق ابن الھمام فی الفتح و مما یصحح الحدیث ایضا عمل العلماء علی و فقہ۔ وقال الترمذی عقیب روایتہ حدیث طلاق الامۃ ثنتان حدیث غریب والعمل علیہ عند اہل العلم من اصحاب رسول اللہ ﷺ وغیر ھم۔ (اعلاء السنن و حاشیہ ص ۴۰ ج ۱)
ترجمہ: حدیث کو جب اہل علم نے قبول کیا ہو تو باوجودیکہ اس کی سند صحیح نہ ہو اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ اور قبول کرنا کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی عملی ہوتا ہے۔ اسی لیے محقق ابن ہمام ؒ نے فتح القدیر میں لکھا کہ علماء کا حدیث کے موافق عمل بھی حدیث کو صحیح بنا دیتا ہے۔ اور حدیث طلاق الامۃ ثنتان کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور اہل علم صحابہ وغیرہ کا اس پر عمل ہے۔
ii- محمد عمار صاحب نے صحابہ و تابعین کے قیاس کرنے کو بھی قابل توجہ نہیں سمجھا کیونکہ ان کے بقول قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی ﷺ نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی۔
تیسری خطرناکی:
محمد عمار صاحب نے اس احتمال کو اختیار کیا ہے کہ صحابہؓ نے اہل عرب کے دستور کی موافقت میں قانون سازی کی لیکن ساتھ ہی صحابہ اور تابعین پر دو بڑے الزام عائد کئے ہیں۔ ذرا دل کو تھام کر ان کو ایک بار پھر پڑھئے:
i۔ ’’اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر و قیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے۔۔۔ کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور مؤثر نہ ہو سکیں اور صحابہ و تابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو۔‘‘
محمد عمار صاحب نے غور نہیں کیا کہ اس الزام اور اعتراض کی زد کس پر پڑ رہی ہے۔ یہ زد پڑ رہی ہے رسول اللہ ﷺ پر اور صحابہؓ پر کہ صحابہ اپنے میں سے جاہلی معاشرت کے اس تصور کو دور نہ کر سکے اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو بھی کوشش کی ہو گی، وہ سب غیر مؤثر اور بے نتیجہ رہی۔
ii- منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین و احکام کی وہ عملی صورت جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی مذہبی زاویۂ نگاہ سے اس کے آئیڈیل اور معیار ہونے کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔
تنبیہ:
کوئی یہ کہے کہ محمد عمار صاحب نے یہ دو باتیں استفہام کے طور پر لکھی ہیں لہٰذا یہ یہ ان کے نظریات نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ محض استفہام تو ان کی مراد نہیں ہے کیونکہ پھر ان کو کہنا چاہئے تھا کہ وہ ان کا جواب نہیں جان پائے۔ استفہام انکاری بھی مرادنہیں ہے کیونکہ پھر وہ ان باتوں کا جواب لکھتے۔ لہٰذا استفہام تقریری کی صورت متعین ہے یعنی یہ کہ جو باتیں استفہام کے طرز پر لکھی ہیں وہی ثابت ہیں۔
محمد عمار صاحب کا ایک اور دعویٰ
محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:
’’واقعہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق اس کے بغیر ممکن نہیں کہ خود انسانی حیثیت میں عورت کے وجود کو مرد سے فروتر اور اس کی جان کو مرد کے مقابلے میں کم قیمت قرار دیا جائے۔ ابن قیم جیسے بالغ نظر عالم بھی اس فرق کی یہی عقلی توجیہ کرنے پر مجبور ہوئے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص۱۰۴)
ہم کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق مذکورہ بالا توجیہ کے بغیر بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ عورت میں ایک حیثیت ہے جب کہ مرد میں دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت جو مرد و عورت دونوں میں یکساں طور پر مشترک ہے وہ انسانی جان کی ہے۔ اس کے اعتبار سے مرد اور عورت دیت میں بھی برابر ہیں اور قتل کی صورت میں قصاص میں بھی برابر ہیں۔ دوسری حیثیت جو صرف مرد کو حاصل ہے عورت کو نہیں وہ اس کی معاشی ذمہ داری کی ہے۔ شریعت نے عورت کو اپنا خرچہ خود کمانے کا بھی مکلف نہیں بنایا ہے جب کہ مرد پر عام حالات میں عورتوں اور نابالغ بچوں کے خرچے رکھے ہیں۔ اس حیثیت کی وجہ سے مرد کی دیت کو دگنا کیا گیا ہے۔
(جاری)
غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ (۱)
سید منظور الحسن
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ‘‘شائع ہوا تھا جو اب ان کی تصنیف ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ سنت کے تصور ،اس کے تعین، اس کے مصداق اور اس کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اس موضوع پر ایک اور تنقیدی مضمون ’’الشریعہ‘‘ ہی کے جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں بھی شائع ہوا ہے۔ یہ رسالے کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی تصنیف ہے۔ ’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے زیر عنوان اس مضمون میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ سنت کے بارے میں غامدی صاحب کا تصور جمہور امت، بالخصوص خیرالقرون کے اجماعی تعامل کے منافی ہے اور عملاً سنت کے حجت ہونے سے انکار کے مترادف ہے۔ ان مضامین کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ دونوں مضامین سنت کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر سے نا واقفیت اور اس کے سوء فہم پر مبنی ہیں۔اس تحریر میں ہم حافظ زبیر صاحب کے جملہ اعتراضات کے حوالے سے بحث کریں گے۔ ان کا مضمون تفصیلی بھی ہے اور کم و بیش ان تمام اعتراضات کا احاطہ کرتا ہے جو مولانا زاہد الراشدی نے اٹھائے ہیں۔ مزید براں یہ اسی سلسلۂ مباحث کا حصہ ہے جس پر ان کے ساتھ بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ہم اپنے فہم کی حد تک غامدی صاحب کے تصور سنت کو بیان کریں گے،اس موضوع پر اہل علم کی آرا کی تنقیح کریں گے اور عقل و نقل کی روشنی میں فاضل ناقدین کی تنقیدات کا جائزہ لیں گے۔ مباحث کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
۱۔ غامدی صاحب کا تصور سنت
۲۔ غامدی صاحب کے تصور سنت پر اعتراضات کا جائزہ
۳۔ سنت کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر اعتراضات کا جائزہ
۴۔ سنت کی اصطلاح کے حوالے سے غامدی صاحب اور ائمۂ سلف کے موقف کا فرق
غامدی صاحب کا تصور سنت
سنت کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا تصور یہ ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اسے دین کی حیثیت سے امت میں جاری فرمایاہے ۔اس کا پس منظر ان کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دین کے بنیادی حقائق اس کی فطرت میں ودیعت کر کے دنیا میں بھیجا۔پھر اس کی ہدایت کی ضرورتوں کے پیش نظر انبیا کا سلسلہ جاری فرمایا ۔ یہ انبیا وقتاً فوقتاً مبعوث ہوتے رہے اور بنی آدم تک ان کے پروردگار کادین پہنچاتے رہے۔یہ دین ہمیشہ دو اجزا پر مشتمل رہا : ایک حکمت، یعنی دین کی مابعدالطبیعاتی اور اخلاقی اساسات اور دوسرے شریعت، یعنی اس کے مراسم اور حدود و قیود ۔ حکمت ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی ، لہٰذا وہ ہمیشہ ایک رہی۔ لیکن شریعت کا معاملہ قدرے مختلف رہا۔ وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، لہٰذا انسانی تمدن میں ارتقا اور تغیر کے باعث بہت کچھ مختلف بھی رہی۔مختلف اقوام میں انبیا کی بعثت کے ساتھ شریعت میں ارتقا و تغیر کا سلسلہ جاری رہا ،یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اس کے احکام بہت حد تک متعین ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں اسحق اور اسماعیل علیہما السلام کو اسی دین کی پیروی کی وصیت کی اور سیدنا یعقوب علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل کو اسی پر عمل پیرا رہنے کی ہدایت کی:
وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ... وَوَصّٰی بِہَآ اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ. (البقرہ۲: ۱۳۰، ۱۳۲)
’’اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے اعراض کر سکے، مگر وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے...۔ اور ابراہیم نے اسی (ملت) کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور (اسی کی وصیت) یعقوب نے (اپنے بیٹوں کو) کی۔‘‘
دین ابراہیمی کے احکام ذریت ابراہیم کی دونوں شاخوں، بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل میں نسلاً بعد نسلٍ ایک دینی روایت کے طور پرجاری رہے۔ بنی اسماعیل میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ کو بھی دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ سورۂ نحل میں ارشاد فرمایا ہے:
ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(۱۶ :۱۲۳)
’’پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا تو عبادات، معاشرت، خور و نوش اور رسوم و آداب سے متعلق دین ابراہیمی کے یہ احکام پہلے سے رائج تھے اور بنی اسماعیل ان سے ایک معلوم و متعین روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھے۔بنی اسماعیل بڑی حد تک ان پر عمل پیرا بھی تھے ۔ دین ابراہیمی کے یہی معلوم و متعارف اور رائج احکام ہیں جنھیں اصطلاح میں ’سنت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کے بعد اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔
یہ جناب جاوید احمد غامدی کا سنت کے بارے میں تصور ہے۔ یہ تصور ان کی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمے ’’اصول و مبادی‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تمہید میں انھوں نے دین کے ماخذ کی بحث کرتے ہوئے سنت کے بارے میں اپنا اصولی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :
۱۔ قرآن مجید
۲ ۔سنت
... سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ ‘‘ (میزان ۱۳۔۱۴)
اسی مقدمے میں ایک مقام پر انھوں نے سنت کے اس تصور کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ ’’مبادی تد بر قرآن‘‘ کے تحت فہم قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیر عنوان یہ واضح کیا ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے، تاریخی طور پر وہ اس کی پہلی نہیں، بلکہ آخری کتاب ہے ۔ دین فطرت، ملت ابراہیمی کی روایت اورنبیوں کے صحائف تاریخی لحاظ سے اس سے مقدم ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’... دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اُس کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اُس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔ پھر اُس کے ابوالآبا آدم علیہ السلام کی وساطت سے اُسے بتا دیا گیا کہ اولاً، اُس کا ایک خالق ہے جس نے اُسے وجود بخشا ہے،وہی اُس کا مالک ہے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر تنہا وہی ہے جسے اُس کا معبود ہونا چاہیے ۔ثانیاً ،وہ اِس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اور اِس کے لیے خیر وشر کے راستے نہایت واضح شعور کے ساتھ اُسے سمجھا دیے گئے ہیں ۔پھر اُسے ارادہ و اختیار ہی نہیں ، زمین کا اقتدار بھی دیا گیا ہے۔ اُس کا یہ امتحان دنیا میں اُس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہے گا ۔وہ اگر اِس میں کامیاب رہا تو اِس کے صلے میں خدا کی ابدی بادشاہی اُسے حاصل ہو جائے گی جہاں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ثالثاً، اُس کی ضرورتوں کے پیش نظر اُس کا خالق وقتاً فوقتاً اپنی ہدایت اُسے بھیجتا رہے گا ،پھر اُس نے اگر اِس ہدایت کی پیروی کی تو ہر قسم کی گمراہیوں سے محفوظ رہے گا اور اِس سے گریز کا رویہ اختیار کیا تو قیامت میں ابدی شقاوت اُس کا مقدر ٹھیرے گی ۔
چنانچہ پروردگار نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور انسانوں ہی میں سے کچھ ہستیوں کو منتخب کر کے اُن کے ذریعے سے اپنی یہ ہدایت بنی آدم کو پہنچائی۔ اِس میں حکمت بھی تھی اور شریعت بھی۔حکمت، ظاہر ہے کہ ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی ،لیکن شریعت کا معاملہ یہ نہ تھا ۔وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اُس کے احکام بہت حد تک ایک واضح سنت کی صورت اختیار کر گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کی ایک باقاعدہ حکومت قائم ہو جانے کا مرحلہ آیا تو تورات نازل ہوئی اور اجتماعی زندگی سے متعلق شریعت کے احکام بھی اترے۔ اِس عرصے میں حکمت کے بعض پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوئے تو زبور اور انجیل کے ذریعے سے اُنھیں نمایاں کیا گیا۔ پھر اِن کتابوں کے متن جب اپنی اصل زبان میں باقی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا اور اُنھیں یہ قرآن دیا ۔...
یہ دین کی تاریخ ہے ۔چنانچہ قرآن کی دعوت اِس کے پیش نظر جن مقدمات سے شروع ہوتی ہے ،وہ یہ ہیں :
۱۔ فطرت کے حقائق
۲۔ دین ابراہیمی کی روایت
۳۔ نبیوں کے صحائف۔‘‘ (میزان ۴۳۔۴۵)
جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ عربوں کے ہاں دین ابراہیمی کی روایت پوری طرح مسلم تھی ۔ لوگ بعض تحریفات کے ساتھ کم و بیش وہ تمام امور انجام دیتے تھے جنھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جاری کیا تھا اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تصویب سے امت میں سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ چنانچہ ان کے نزدیک نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ،نماز جنازہ، جمعہ، قربانی، اعتکاف اور ختنہ جیسی سنتیں دین ابراہیمی کے طور پر قریش میں معلوم و معروف تھیں۔لکھتے ہیں:
’’...نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ، یہ سب اِسی ملت کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب پوری طرح واقف ،بلکہ بڑی حد تک اُن پر عامل تھے ۔ سیدنا ابوذر کے ایمان لانے کی جو روایت مسلم میں بیان ہوئی ہے ، اُس میں وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وہ نماز کے پابند ہو چکے تھے۔ جمعہ کی اقامت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ نماز جنازہ وہ پڑھتے تھے ۔ روزہ اُسی طرح رکھتے تھے، جس طرح اب ہم رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ اُن کے ہاں بالکل اُسی طرح ایک متعین حق تھی، جس طرح اب متعین ہے۔ حج و عمرہ سے متعلق ہر صاحب علم اِس حقیقت کو جانتا ہے کہ قریش نے چند بدعتیں اُن میں بے شک داخل کر دی تھیں، لیکن اُن کے مناسک فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادات اِس وقت ادا کی جاتی ہیں ،بلکہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اِن بدعتوں پر متنبہ بھی تھے ۔ چنانچہ بخاری و مسلم، دونوں میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے جو حج کیا، وہ قریش کی اِن بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اُسی طریقے پر کیا ، جس طریقے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے۔
یہی معاملہ قربانی، اعتکاف، ختنہ اور بعض دوسرے رسوم و آداب کا ہے۔یہ سب چیزیں پہلے سے رائج، معلوم و متعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں ۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِن کی تفصیل کرتا ۔ لغت عرب میں جو الفاظ اِن کے لیے مستعمل تھے ، اُن کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے اُنھیں نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یا حج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں۔‘‘ (میزان۴۵۔۴۶)
غامدی صاحب کے تصور سنت پر اعتراضات کا جائزہ
فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں غامدی صاحب کے تصور سنت پر بنیادی طور پر یہ تنقید کی ہے کہ غامدی صاحب کا سنت کو ملت ابراہیمی کی روایت کا حصہ قرار دینا اور اس بنا پر اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے بیان کرنا عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔فاضل ناقد نے اس تنقید کوچار مختلف پہلووں سے پیش کیا ہے۔ ذیل میں ان کا خلاصہ اور ان کے بارے میں ہمارا تبصرہ پیش ہے۔
’ملت‘ کا مفہوم
فاضل ناقد نے پہلا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کا سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۱۲۳ کے الفاظ ’اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ میں لفظ ’مِلَّۃَ‘ کا ترجمہ ’سنت‘ کرنا درست نہیں ہے۔ یہ ترجمہ قرآن مجید کے عرف اور عربی زبان کے مسلمات کے خلاف ہے۔ اس آیت میں ملت کا لفظ توحیداور شرک سے اجتناب اور اطاعت الٰہی کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے سنت کا مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ غامدی صاحب کا اس آیت کوسنت کی دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔لکھتے ہیں:
’’غامدی صاحب نے اپنی بیان کردہ تعریف سنت کے ثبوت کے لیے سورۃ النحل کی درج ذیل آیت کو بطور دلیل بیان کیا ہے :
ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. (النحل۱۶ :۱۲۳)
’’پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ حضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں جو بالکل یک سو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘
غامدی صاحب بحث ’’سنت‘‘ کی کر رہے ہیں اور دلیل ایک ایسی آیت کو بنا رہے ہیں جس میں لفظ ’ملت‘ استعمال ہوا ہے، حالانکہ یہاں پر’ملت ابراہیم ‘ سے مراد بالکل بھی سنت ابراہیمی (وہ ستائیس چیزیں جو کہ غامدی صاحب نے بیان کی ہیں) نہیں ہے۔ ’سنت‘ کا لفظ جزئیات پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا سنت ہے، جبکہ ملت کے لفظ کا اطلاق جزئیات پر نہیں ہوتا، مثلاً یہ کہنا غلط ہو گا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ملت ہے، کیونکہ ’سنت‘ کے لفظ کی نسبت جزئیات کی طرف ہو جاتی ہے جبکہ ’ملت‘ کی نسبت جزئی امور کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اجتماعی یا مجموعی امور کی طرف ہوتی ہے۔ ...ملت کا لفظ قرآن میں معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس آیت میں ’ملت ابراہیم ‘ سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی وہ مجموعی ہیئت ہے جو کہ دین اسلام کی بنیادی اور تمام انبیا کے ہاں متفق علیہ تعلیمات پر عمل کرنے، خصوصاً ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرنے اور اللہ کا انتہائی درجے میں فرماں بردار ہو جانے کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ ...لفظ ملت کا ترجمہ ’دین ‘ تو کیا جاسکتا ہے... اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کا اصل معنی بھی اطاعت اور فرمانبرداری ہی ہے، لیکن ملت کا ترجمہ’سنت ‘ کسی طرح نہیں بنتا۔...لفظ ملت کا ترجمہ’ سنت‘ سے کرنا عربی زبان سے لاعلمی اور قرآنی اصطلاحات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔‘‘ (فکر غامدی ۵۲۔۵۳،۵۷)
فاضل ناقد کا یہ اعتراض سنت کے بارے میں ’’میزان‘‘ کے مندرجات کے سوء فہم پر مبنی ہے۔ غامدی صاحب نے ’’اصول و مبادی‘‘ میں جن دو مقامات پر یہ آیت نقل کی ہے، وہاں لفظ ملت کا ترجمہ سنت ہر گز نہیں کیا ہے۔ انھوں نے ’مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ‘ کا ترجمہ ’’ملت ابراہیم‘‘ ہی کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. (النحل۱۶ :۱۲۳)
’’پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔‘‘ (میزان۱۴)
جہاں تک ملت کے مفہوم کا تعلق ہے تو ان دونوں مقامات سے واضح ہے کہ ملت ابراہیم سے ان کی مراد دین ابراہیم ہے۔ چنانچہ ان مباحث میں انھوں نے جا بجا’’سنت ابراہیمی‘‘ کے نہیں، بلکہ ’’دین ابراہیمی‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ سنت ان کے نزدیک دین ابراہیمی یا ملت ابراہیمی ہی کا ایک جز ہے۔ یہ در حقیقت دین ابراہیم کے ان احکام پر مشتمل ہے جو بنی اسماعیل میں پہلے سے رائج اور معلوم و متعین تھے اور نسل در نسل چلتی ہوئی ایک روایت کی حیثیت سے متعارف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کی اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں مسلمانوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔وہ لکھتے ہیں:
’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔‘‘(میزان۱۴)
’’...دین ابراہیمی کی روایت کا یہ حصہ جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن کے نزدیک خدا کا دین ہے اور وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیتا ہے تو گویا اِس کو بھی پورا کا پورا اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔‘‘ (میزان۴۶)
فاضل ناقد کی یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ غامدی صاحب نے سنت کے معنی و مصداق کے لیے مذکورہ آیت کواصل بناے استدلال کے طور پر پیش کیا ہے۔ اصول و مبادی کے مندرجات سے پوری طرح واضح ہے کہ ان کے نزدیک یہ آیت فقط اس بات کا حوالہ ہے کہ قرآن کے علاوہ دین ابراہیمی کی روایت کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں جاری فرمایا ہے۔
جہاں تک فاضل ناقد کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ ملت کے جامع لفظ سے بطور تائید ہی سہی، سنت کا جزوی مفہوم اخذ کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے تو اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ زبان و بیان کے مسلمات کی رو سے یہ بھی جائز ہے کہ متکلم کوئی وسیع الاطلاق لفظ یا اصطلاح استعمال کر کے اس کے کسی ایک جز یا ایک اطلاق کومراد لے رہا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ مخاطب کسی وسیع الاطلاق لفظ کے جملہ اطلاقات میں سے جو اس کے مفہوم کو پوری طرح شامل ہوں، کسی ایک اطلاق کو بیان کرنے پر اکتفا کرے۔ گویا کل کو بول کر جز بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور بولے گئے کل سے اس کے کسی جز پر استدلال بھی کیا جا سکتا ہے۔ تفہیم مدعا کے لیے سورۂ بینہ کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ. (۹۸:۵)
’’ان (اہل کتاب کو) یہی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، پوری یک سوئی کے ساتھ، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی دین قیم (سیدھی ملت کا دین) ہے۔‘‘
اس آیت کو پڑھ کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس کی روسے ’ دین قیم‘کا اطلاق فقط تین چیزوں، یعنی اللہ کی عبادت، نماز کے اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر ہوتا ہے اور عقائد و اعمال کی دیگر چیزیں، مثلاً توحید، رسالت، آخرت، روزہ، حج، اور قربانی وغیرہ دین قیم کے اطلاق میں شامل نہیں ہیں تو اس کی بات کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جائے گا۔
فاضل ناقد کے مذکورہ اعتراض کا ایک جز یہ بھی ہے کہ ملت ابراہیم کے الفاظ سے دین ابراہیمی کی روایت مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس سے مراد بالخصوص دین کی اساسی تعلیمات، یعنی توحید، شرک اور اطاعت الٰہی ہیں۔ ہمارے نزدیک فاضل ناقد کے اس موقف کی نفی لفظ کے لغوی مفہوم اور آیت کے سیاق و سباق ہی سے ہو جاتی ہے۔لغت کے مطابق، جیسا کہ فاضل ناقد نے خود تسلیم کیا ہے، لفظ ’ملت‘ ایک جامع لفظ ہے جو اصولی تصورات کے علاوہ عملی احکام کو بھی شامل ہے:
’’لسان العرب‘‘ میں ہے:
والملۃ: الشریعۃ والدین....الملۃ: الدین کملۃ الاسلام والنصرانیۃ والیہودیۃ، وقیل: ہی معظم الدین، وجملۃ ما یجئ بہ الرسل.... قال ابو اسحٰق: الملۃ فی اللغۃ سنتہم و طریقہم.( ۱۱/۶۳۱۔۶۳۲)
’’شریعت اور دین کا نام ملت ہے۔ ... ملت، ملت اسلام، ملت نصرانیہ اور ملت یہودیہ کی طرح ایک دین کا نام ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنیادی اور جملہ اجزاے دین کو ملت کہتے ہیں جس کو رسول لے کر آتے ہیں۔... ابواسحاق کہتے ہیں کہ لغت میں ان کی سنت اور طریقے کو ملت کہتے ہیں۔‘‘
سورۂ نحل کی مذکورہ آیات میں سیاق وسباق کی رو سے عملی پہلو مراد ہیں۔اس مقام پر اصل میں ان مشرکانہ بدعات کی تردید کی گئی ہے جوبعض جانوروں کی حرمت کے حوالے سے مشرکین عرب میں رائج تھیں اور جن کے بارے میں ان کادعویٰ تھا کہ انھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی نے جاری فرمایا تھا۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنے طور پر ایک پوری شریعت وضع کر رکھی تھی۔ مثال کے طور پر وہ منتوں اور نذروں کے لیے خاص کیے گئے جانوروں پر اللہ کانام لینا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا۔ وہ اپنی کھیتیوں اور جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے مقرر کرتے اور ایک حصہ دیوی دیوتاؤں کے لیے خاص کر دیتے تھے۔نذروں اور منتوں کے لیے مخصوص جانوروں میں سے مادائیں جو بچہ جنتیں، اس کا گوشت عورتوں کے لیے ناجائز اور مردوں کے لیے جائز تھا، لیکن اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو یا بعد میں مر جائے تو پھر اس کا گوشت عورتوں کے لیے بھی جائز ہو جاتا تھا۔قرآن مجید نے ان مشرکانہ بدعات اور ان کی سیدنا ابراہیم سے نسبت کی نہایت سختی سے تردید کی ۔ یہ اس آیت کا پس منظر ہے۔ اس پس منظرمیں اگر آیت کا مطالعہ اس کے سیاق و سباق کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ’ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ‘ کا حکم اصل میں عملی احکام ہی کے تناظر میں آیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ. اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہٖ... وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ... وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ... اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِیْفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. شَاکِرًا لِّاَنْعُمِہِ، اِجْتَبٰہُ وَہَدٰہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ... ثُمَّ اَوْحَیْْنَآ اِلَیْْکَ اَنِِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ. (النحل۱۶:۱۱۴۔۱۲۴)
’’تو اللہ نے تمھیں جو چیزیں جائز و پاکیزہ دے رکھی ہیں، ان میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی پرستش کرتے ہو۔ اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے۔... اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ۔.. .، اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ ... بے شک، ابراہیم ایک الگ امت تھے، اللہ کے فرماں بردار اور اس کی طرف یک سو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ وہ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے ان کو برگزیدہ کیا اور ان کی رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی۔... پھر ہم نے تمھاری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ سبت انھی لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنھوں نے اس کے باب میں اختلاف کیا، اور بے شک، تمھارا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ ‘‘
’اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ کی تفسیر میں جلیل القدر اہل علم نے ملت سے فقط اصولی تصورات مراد نہیں لیے، بلکہ عملی پہلووں کو نمایاں طور پر شامل سمجھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر کی ہے۔
ابن قیم نے ملت کو توحید کے مفہوم میں لینے کی صریح طور پر تردید کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد دین ہے اور اس کے مفہوم میں عقائد کے ساتھ اعمال بھی شامل ہیں:
’’تم اگر یہ کہتے ہو کہ ملت سے مراد توحید ہے (تو یہ درست نہیں ہے)۔ ملت سے مراد دین ہے اور دین اقوال، افعال اور اعتقاد کے مجموعے کا نام ہے۔ جس طرح ایمان ملت کے مفہوم میں داخل ہے، اسی طرح اعمال بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ پس فطرت کا نام ملت ہے اور وہ دین ہے۔ یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال اور عادات فطرت کو چھوڑ کر صرف کلمہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمائیں۔‘‘ (تحفۃ المولود۱۰۶)
امام رازی نے ملت سے شریعت مراد لیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ملت ابراہیم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے:
’’(پھر اگر یہ کہا جائے کہ) آیت کا ظاہر تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور ابراہیم علیہ السلام کی شریعت یکساں ہے اور اس بنا پر تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مستقل شریعت کے حامل نہ ہوئے، جبکہ تم ایسا نہیں کہتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ملت ابراہیم داخل ہے کچھ اچھے زوائد اور بہتر فوائد کے ساتھ۔‘‘ (تفسیر کبیر ۱/۵۷)
امام ابن حزم نے اسے شریعت کے معنوں میں لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کو لے کر آئے جس پر سیدنا ابراہیم عمل پیرا تھے:
’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت بعینہٖ وہی شریعت ہے جوہماری ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ابراہیم علیہ السلام تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کے ساتھ تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے جس کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام بالخصوص اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے نہ کہ اپنے ہم عصر تمام لوگوں کی طرف۔ ہم پر ملت ابراہیم کی پیروی لازم ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے ساتھ ہماری طرف بھیجے گئے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ابراہیم علیہ السلام اس کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔ ‘‘ (ابن حزم، الاحکام ۲/۱۶۵۔۱۶۶)
بیضاوی نے ملت ابراہیم سے ملت اسلام کو مراد لیا ہے:
’’’فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ‘، یعنی ملت اسلام (کی پیروی کرو)جو اصل میں ملت ابراہیم ہے یا اس کی مثل ہے۔‘‘ (تفسیر البیضاوی ۱/ ۱۴۸)
شاہ ولی اللہ نے حج جیسی عملی عبادت کو’ فَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ‘ہی کے حکم کے تحت شامل کیا ہے:
’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت حنیفیہ ہی کے احیا اور قیام کے لیے ہوئی ہے اور اسی کا بول بالا کرنے کے لیے آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن مجید میں ہے: ’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ‘ اس لیے یہ ضروری تھا کہ جو مناسک وہ بجا لائے ہیں اور ان کی لائی ہوئی شریعت کے شعائر ہیں، ان کو من و عن قائم رکھا جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عربوں کو موقف میں دیکھا تو ان سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو، کیونکہ یہ مناسک تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ۲/۹۸)
’’تفسیر مظہری‘‘ میں شریعت کو ملت کے مفہوم میں شامل کر کے بیان کیا گیا ہے:
’’ ’ملۃ‘ کا لفظ دین کی طرح ہے اور یہ اس چیز کے لیے اسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے انبیا کی زبان سے شریعت کے طور پر جاری کیا ہو تاکہ وہ قرب کے مدارج اور دنیا و آخرت کی صلاح تک پہنچ سکیں۔‘‘ (تفسیر مظہری ۲/ ۹۴)
’’’وَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ‘۔اس میں حضرت ابراہیم کو خاص کیا ہے باوجود اس کے کہ تمام انبیا کا دین ایک ہی ہے، جبکہ حضرت ابراہیم نے اپنی جان، اپنے اعضا اور قویٰ ظاہری اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے لیے صرف کیے ، اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول ہو کر اور اس کے علاوہ سب سے اعراض کرتے ہوئے ، اس لیے کہ تمام امتوں کا ہر دین کے معاملے میں ان کے نبی برحق اور محمود ہونے پر اتفاق ہو جائے اور دین اسلام اعمال کی فروع میں ان کی شریعت کے موافق ہو ، جیسا کہ کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا، اس کا طواف کرنا، مناسک حج، ختنہ اور حسن ضیافت اور اس کے علاوہ وہ کلمات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمایا تو انھوں نے ان کو پورا کر دیاوغیرہ۔‘‘ (۲/۴۶۱)
’’تفسیر عثمانی‘‘ میں حلال و حرام کو ملت کے مفہوم میں شامل تصور کیا گیا ہے:
’’...مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔‘‘( ۳۶۴)
مفتی محمد شفیع کی تفسیر سے واضح ہے کہ وہ شریعت اور احکام کو ملت کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں:
’’حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئی۔‘‘ (معارف القرآن ۵/ ۴۰۵)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے ملت ابراہیم کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی تعبیر اختیار کی ہے:
’’... محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے اور تمھیں معلوم ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔ مثلاً یہودی اونٹ نہیں کھاتے، مگر ملت ابراہیمی میں وہ حلال تھا۔ یہودیوں کے ہاں شتر مرغ، بط، خرگوش وغیرہ حرام ہیں، مگر ملت ابراہیمی میں یہ سب چیزیں حلال تھیں۔‘‘ (تفہیم القرآن۲/۵۸۰)
اس تفصیل سے یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ ملت ابراہیمی سے مراد دین ابراہیمی ہے اور اس کے مشمولات میں فقط اصولی تصورات نہیں، بلکہ احکام و اعمال بھی شامل ہیں۔
(جاری)
روایت اور درایت
راجہ انور
زمانہ بدل گیا۔ دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی، مگر درسی ملائیت نے اپنی روش نہ بدلی۔ وہ ہمیشہ منجمد اذہان کی تولید گاہ اور فکری رجعت کی آماج گاہ بنی رہی۔ مدارس نے جدید سائنسی علوم کو کفر کا شاخسانہ گردانتے ہوئے ہر نئی ایجاد کو شیطانی بازیچہ قرار دیا۔ لاؤڈ اسپیکر پر بھی الحادکا فتویٰ چسپاں ہوا اور ہوائی جہاز کو بھی ابلیسی پرواز سے عبارت کیا گیا ۔ اس رویے کی وجہ درس نظای کا نصاب تھا جس کی ’’جدیدیت‘‘ کا اندازہ فقط ایک اسی بات سے لگا لیجیے کہ ا س کے نصاب میں شامل جدید ترین کتاب بھی ساڑھے تین سو برس پرانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس آج تک نہ تو شبلی اور حالی کا پرتو پیدا کر سکے اور نہ اقبال یا فیض کا نعم البدل۔نہ منٹو ایسا خاکہ نویس اور نہ کوئی مزاح نگار۔ خیر یہ کچھ تو انھوں نے کیا پیدا کرنا تھا، وہ مولانا امین احسن اصلاحی اور علامہ جاوید غامدی بھی پیدا نہ کر سکے۔ ان کی علمیت اہل دانش پر تبرا کرنے اور بصیرت تاریخ کے پیچھے گھسیٹتے رہنے تک محدود رہی۔ تحریر وتقریر میں جامد الفاظ اور ساکت اصطلاحات کی فراوانی جبکہ مطالب عنقا اور معانی نابود۔
آج سے کوئی آٹھ دس برس پیشتر اخباری کالموں میں مولانا زاہد الراشدی سے میری فکری مڈبھیڑ ہو گئی۔ ’’جہاد‘‘ اور ’’سیاسی اسلام‘‘ کے موضوع پر ہم نے ایک دوسرے کے خلاف کئی کالم لکھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مولانا نے میری گردن فتوے کی دھار سے گزارنے کی بجائے انتہائی بردباری سے کام لیا اور یہ تحریری مکالمہ جاری رہا۔ مولانا کے دلائل کا منبع علم الکلام تھا اور میرے فکری تار وپود کی نمو فلسفے کی وادیوں میں ہوئی تھی۔ وہ روایت کے پیروکار اور ہم درایت کے اسیر۔ وہ امام غزالی کے مقلد اور ہم ابن رشد کے خوشہ چین۔ قارئین نے اس علمی مجادلے کو پسند کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے لوگ طبعاً مجادلہ خوش بھی ہیں اور مجادلہ پسند بھی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ہماری ’’کالمانہ جنگ‘‘ بالآخر سرسید پر منتج ہوئی۔ حسب توقع مولانا نے خالصتاً دیوبندی سُر اور لَے میں سرسید کے مذہبی عقائد کو تو جی بھر کر رگڑا لگایا، تاہم انھوں نے سرسید کی علمی خدمات کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ یہ نظری انگیخت بالآخر مولانا اور میرے درمیان شناسائی کا عنوان ٹھہری۔
مولانا ایک بار مجھ سے ملنے اسلام آباد تشریف لائے تو انھوں نے مجھے اپنے والد (مولانا صفدر خان) کی چند تصنیفات بھی عنایت کیں۔ مولانا کے اجداد سوات کے باسی تھے، مگر وہ اب کئی پشتوں سے گوجرانوالہ میں مقیم چلے آ رہے ہیں۔ واپسی پر مولانا نے مجھے اپنا ماہانہ مجلہ ’’الشریعہ‘‘ بھیجنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ اب تک باقاعدگی سے جاری ہے۔ میں ایک آزاد فکر اور آزاد منش انسان ہوں۔ میں ہر طرح کا لٹریچر اور ہر مکتبہ فکر کی کتابیں یکساں دلچسپی سے پڑھنے کا عادی ہوں، لیکن سچ پوچھیے تو میں آہستہ آہستہ ’’الشریعہ‘‘ کا مستقل قاری بن گیا۔ اس کی وجہ اس مجلے کا متوازن مزاج بھی تھا اور اس کا جواں سال ایڈیٹر محمد عمار ناصر خان بھی۔ اس مجلے میں مجھے پروفیسر شاہدہ قاضی کے عالمانہ مگر تلخ حقائق پر مبنی تحقیقی مضامین بھی پڑھنے کو ملے اوران پر پروفیسر انعام ورک کی تنقید بھی۔ محمد عمار ناصر کے مضامین حقائق سے قریب تر بھی محسوس ہوئے اور کلاسیکل ملائیت کی روش سے دور تر بھی۔ چنانچہ میں نے ایک بار اس نوجوان کا حدود اربعہ جاننے کے لیے مولانا کو فون کیا۔ انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ’’عمار میرا بیٹا ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’مولانا! اس گوہر نایاب کو مدرسوں کے نظام میں نہ جکڑیے کہ وہ نمک کی کان میں نمک بن کر رہ جائے گا۔‘‘ مگر شاید مدارس کے نظام میں بھی ’’امامت‘‘ نسل در نسل ہی چلتی ہے۔ ہمارے سماج کا اصل ’’کمال‘‘ یہی ہے کہ اس میں ہر شعبہ نسل در نسل ہی رواں دواں ہے۔ حاکم کی اولاد حاکم اور محکوموں کے بیٹے محکوم!
گزشتہ دنوں مجھے ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے عنوان سے محمد عمار ناصر خان کی کتاب ملی۔ اگرچہ ا س نازک مضمون پر اپنی کوئی رائے پیش کرنا مشکل ترین کام تھا، تاہم نوجوان محقق نے ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے سماجی، تاریخی اور عقلی پہلووں پر بھی سیرحاصل منطقی بحث کی۔ نیز اس دور کے عرب سماج کی ان روایات اور شرائط کو بھی واضح کیا جو ان سزاؤں کی متقاضی بھی تھیں اور ان سے مانوس بھی۔ دیت کی مانند کچھ سزائیں پہلے سے مروج تھیں جنھیں اسی حالت میں رہنے دیا گیا۔
محمد عمار ناصر کی اس کاوش کا مقام اپنی جگہ مسلم سہی، مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام فقط ہاتھ پاؤں کاٹنے ہی کا نام ہے؟ کیا صرف تعزیرات ہی راز حیات اور مقصد کائنات ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو پھر سب سے پہلے شرائط اور ایسے حالات کی تخلیق لازم ہے جو سماج میں امن اور انصاف کے ضامن ہوں۔ ریاست عوام کی پیٹھ پر درے برسانے اور ان کا خون نچوڑنے کی بجائے انھیں تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔ ریاستی ادارے رشوت اور سفارش کی بیساکھیوں پر چلنے کی بجائے محکمانہ قواعد وضوابط کے مطابق کام کریں۔ سڑکوں پر بھیک مانگتے اور معذوروں کی مالی امداد کا اہتمام ہو اور صحت مند پیشہ ور بھکاریوں کو روزگار مہیا کیا جائے۔ پاکستان ایسا ملک جہاں کوئی شعبہ حیات سالم حالت میں میسر نہ ہو، جس میں سانس لینے کی ہوا بھی دھویں اور گرد وغبار سے مرکب ہو، اس سماج پر حدود وتعزیرات کا نفاذ افغانستان کے سابق حکمران ملا عمر کی مہم جویانہ تقلید کے مترادف ہوگا۔ حضرت عمر نے قحط کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی سزامنسوخ کر دی تھی، کیونکہ بھوک سے بلکتے لوگوں کے معروضی حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ریاست پہلے انھیں نان ونفقہ بہم پہنچانے کا فریضہ ادا کرے اور پھر ان پر حدود وقیود عائد کرے۔ محمد عمار ناصر خان ایسے اہل علم سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ انھی روایات کی روشنی میں کوئی اجتہادی راہ عمل بھی تلاش کریں گے اور درایت کی جستجو بھی۔
(بشکریہ روزنامہ خبریں)
دہشت گردی: چند مضامین کا تنقیدی جائزہ
ڈاکٹر محمد فاروق خان
ہمیشہ کی طرح ماہنامہ الشریعہ کے نومبر دسمبر کے شمارے میں بڑے اہم مضامین شائع ہوئے ہیں۔ بالخصوص جناب محمد مشتاق احمد اسسٹنٹ پروفیسر اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد اور حافظ محمد زبیر ریسرچ ایسوسی ایٹ قرآن اکیڈمی لاہور کے مضامین انتہائی قیمتی اور غوروفکر کے مستحق ہیں۔ لیکن ان دونوں مضامین پر صرف تبصرہ کرنے سے پہلے میں محترم رئیس التحریر مولانا زاہدالراشدی کے انٹرویو پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں جو صفحہ نمبر۵پر شائع ہوا ہے۔ مولاناخودکش حملوں کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’خودکش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعمال کیا تھا اور ۱۹۶۵ء کی جنگ نے پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاظ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہوتو جائز ہے، لیکن پُرامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا‘‘ مولانا کے اس نقطہ نظر سے مجھے بصد ادب واحترام اختلاف ہے۔ حسن بن صباح کسی مظلوم گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اسی طرح دوسرے جنگ عظیم میں جاپان بھی کوئی مظلوم قوم نہیں تھی۔ جاپانیوں نے اپنے پائلٹوں کے ذریعے دشمن کے بحری جہازوں پر جو خودکش حملے کئے تھے، اُس کا اصل نقصان بدرجہ آخر جاپانیوں ہی کو پہنچا۔ وہ اس طرح کہ اُن کے پاس پائلٹوں کی قلت ہوگئی اور یوں وہ اس اعتبار سے کمزور ہوکر رہ گئے۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی کبھی خودکش حملہ کیا ہو۔ جہاں تک ۱۹۶۵ء کی جنگ کا تعلق ہے، چونڈہ کے محاذ پر اُس وقت موجود جنگی کمانڈر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کبھی کسی سپاہی کو خودکش حملے کا آرڈر دیا ہو۔ میرے نزدیک جس طرح حالت جنگ میں معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا ممنوع ہے، اسی طرح خودکش حملے بھی ممنوع ہیں۔ قرآن وحدیث نے اس ضمن میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا۔ اگر کسی بھی معاملے میں خودکش حملوں کے جواز کا فتویٰ دیا جائے تو پھر یہ معاملہ کہیں پر بھی نہیں رُکے گا، بلکہ ہر گروہ اپنے آپ کو حالت جنگ میں تصور کرکے اپنے مخالف کے خلاف اس بدترین ہتھیار کا استعمال کرے گا۔ پاکستان کے اندر خودکش حملوں کے جاری رہنے میں ایک عامل علما کی طرف سے اسی طرح کا استثنا دینا ہے۔
مولانا نے مزید فرمایا کہ اُنہیں عسکریت پسندوں کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے۔ مولانا کی یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قانون بہت حد تک اسلام کے مطابق ہے۔ اصل مسئلہ جلد اور سستے انصاف کا ہے جو بہر حال اسلام کا نہیں بلکہ طریق کار کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عسکریت پسند شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ آج تک کسی عسکریت پسند تنظیم نے عورتوں کے حق وراثت کے متعلق عملاً کچھ نہیں کہا یا کیا۔ یہ سب تنظیمیں عورتوں کی تعلیم کی سخت مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں دین کے اُس حصے کو بھی لوگوں پر جبراً نافذ کرنا ضروری ہے جس حصے کو حضورؐ سے لے کر آج تک جبراً کسی نے نافذ نہیں کیا۔ کیا عسکریت پسندوں کے اس فہم شریعت سے مولانا کو اتفاق ہے؟
مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکہ اسرائیل اور بھارت اس میں ملوث ہوکر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نیز بہت سے جرائم پیشہ لوگ بھی اپنی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں‘‘۔ میرے خیال میں یہ دونوں باتیں صحیح نہیں ہے۔ دراصل یہ بات عسکریت پسندوں کے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے کی جارہی ہے۔ قبائلی علاقوں میں عرب، اُزبک، چیچن اور دوسری قومیتوں کے حامل مسلح جنگجو تو یقیناًموجود ہیں لیکن بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک کی عملی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس ضمن میں دیے جانے والے شواہد سطحی ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے مسلح جنگجو بھی موجود ہے جن کا بعد ازمرگ معائنہ کیا گیا تو وہ غیر مختون تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بھارت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس ضمن میں اصل حقیقت یہ ہے کہ وزیرستان میں آج سے بیس برس قبل ختنے کا رواج نہیں تھا۔ آج بھی وہاں صرف پچاس فیصد بچوں کے ختنے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ سب وہی لوگ ہیں نہ کہ بھارتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھارتی سپاہی یہاں کی زبان پر مکمل عبور حاصل کرلے، اور پھر اپنا گھربار چھوڑ کر، صرف اور صرف بھارتی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو خودکشی یا جنگ میں مرنے کے لیے پیش کردے۔ یہ بھی واضح ہے کہ عسکریت پسند باقاعدہ اپنی زبان سے سکولوں اور ہسپتالوں کو جلانے اور لوگوں کے قتل کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں، چنانچہ ان جرائم کو کیسے اور کے سرتھوپا جائے؟ البتہ یہ بات یقیناًصحیح ہے کہ جب ہم اپنے ہاتھوں حالات کو آخری حد تک بگاڑ دیتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی اس گرم تندور میں اپنی روٹی پکانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
مولانا نے یہ بھی کہا کہ ’’قبائلی علاقوں کا مسئلہ فوجی آپریشن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے‘‘۔ مذاکرات کی اہمیت سے بھلا کس کو انکار ہے، لیکن اگر مولانا کا مطلب یہ ہے، جس طرح کہ کچھ مذہبی سیاسی لیڈر مطالبہ کررہے ہیں، کہ ان علاقوں سے فوری طور پر فوج کو نکالا جائے، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چند ہفتوں کے اندر اندر سوات سمیت سارے قبائلی بیلٹ پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہوجائے گا اوریوں ایک نیا ملک وجود میں آجائے گا۔ کیا مولانا کی نظر اس ناگزیر نتیجے پر ہے؟
اس کے بعد مجھے آداب القتال سے متعلق جناب مشتاق احمد صاحب کے مضمون کا جائزہ لینا ہے۔ اس مضمون پر جناب مشتاق صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ یہ نہایت عرق ریزی اور دقت نظر سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں صفحہ ۱۴۵، ۴۶پر امام سرخسی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ملک کے کچھ مسلح گروہ کسی دوسرے ملک میں کارروائی کریں لیکن اُنہیں حکومت نے باقاعدہ اجازت نہ دی ہو تو قانوناً پوزیشن یہ ہے کہ جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اُس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسے مسلح گروہوں کی کارروائی جائز ہے‘‘ پروفیسر مشتاق صاحب سرخسی کے اس تجزئے سے اتفاق کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کی روشنی میں جہادی تنظیموں کی صحیح حیثیت باآسانی متعین ہوجاتی ہے۔ گویا اُن کے نزدیک پاکستانی سرزمین کو استعمال کرکے اگر کوئی گروہ دوسرے ممالک میں مسلح کاروائیاں کرتا ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ اسے حکومت کی خاموش تائید حاصل ہے۔
اس راقم کے نزدیک یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے امام سرخسی نے جس وقت یہ بات تحریر کی تھی اُس وقت بین الاقوامی قانون آج کی طرح مدون نہیں ہوا تھا۔ آج کے زمانے میں یہ بات ضروری ہے کہ ایک ملک اپنے شہریوں کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں کی جانے والی مسلح کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری لے یا اُس سے انکار کرے۔ اگر کوئی ملک علا نیہ کہتا ہے کہ وہ دوسرے ملک کے ساتھ برسرِ جنگ نہیں ہے اور وہ اپنے کسی بھی مسلح گروہ کو دوسرے ملک میں فوجی کارروائی کے لیے نہ تو بھیج رہا ہے اور اس کی اجازت دے رہا ہے، اور دوسری طرف یہی ملک عملاً یہ کام کررہا ہوتا ہے تو یہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ دھوکہ دہی ہے۔ اسی ریاست کی طرف سے کسی دوسری ریاست میں صرف اُس وقت کوئی مسلح گروہ بھیجنے کا جواز موجود ہے جب دونوں ممالک کے درمیان امن کا معاہدہ نہ ہو، اور یہ ملک اپنے مسلح افراد کی پوری ذمہ داری قبول کرے۔ اگر اس کے برعکس کوئی مسلمان ریاست اعلان کرے کہ وہ نہ تو کسی مسلح گروہ کی سرپرستی کررہا ہے، نہ اُس کو سرحد پار کرنے کی اجازت دے رہا ہے اور نہ ہی اُن کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو اس صورت میں اسلامی تعلیمات کی رو سے اس حکومت کے پاس کسی دوسری حکومت کے خلاف اس طرح کی کارروائی کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کسی شہری کے پاس بھی کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی کارروائی کا جواز موجود نہیں ہے۔
پروفیسر مشتاق صاحب نے صفحہ ۴۶، ۴۷ پر اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ ’’اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہوجائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے اسی جگہ نظم حکومت قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چُن کر اُس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہوجائے گا‘‘۔
میرے نزدیک اس نقطہ نظر پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہاں بھی اگر چند ایک چیزیں موجود ہوں تو جنگ جاری رکھی جاسکتی ہے، ورنہ نہیں۔ وہ شرائط یہ ہیں کہ ساری مزاحمتی قوت ایک لیڈر کے تحت منظم ہو، ایک ایسا خطہ زمین موجود ہو جس میں مزاحمتی قوت امن وامان قائم کرسکے اور قانون کا نفاذ کرسکے، رائے عامہ اُس کی پشت پر ہو اور لڑائی جیتنے کی پوری طاقت موجود ہو۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو مسلح مزاحمت صحیح نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب شرائط قرآن وسنت میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ مسلسل تجربے نے سب جنگی ماہرین کو بھی اسی نتیجے تک پہنچنے پر مجبور کردیا ہے۔
اپنے مضمون میں آگے صفحہ ۵۶پر پروفیسر مشتاق رقم طراز ہیں کہ اگر چار شرائط پوری کردی جائے تو اسلامی شریعت کی روسے خودکش حملہ جائز ہے۔ اگرچہ یہ چار شرائط ایسی ہیں کہ آج کا کوئی بھی خود کش حملہ ان پر پورا نہیں اترتا۔ گویا ان چار شرائط کو مان کر بھی خودکش حملہ عملاً ناممکن ہوجاتا ہے، تاہم میری عاجزانہ رائے میں اصل الاصول یہ ہے کہ خودکش کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ قرآن وحدیث نے اس معاملے میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا اور عقلِ عام سے بھی اس ضمن میں کوئی استثنا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ گویا یہ طریقہ جنگ، اگر اسے کوئی طریقہ جنگ کہا جائے تو، مکمل طور پر ممنوع ہے۔
اب مجھے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون پر تبصرہ کرنا ہے۔ اس مضمون کے صفحہ نمبر ۸۲پر اُن کا موقف ہے کہ ’’وزیرستان کا جہاد ایک دفاعی جہاد تھا جو کہ حکومت پاکستان نے قبائیلوں پر مسلط کیا تھا‘‘۔ میرے نزدیک یہ موقف نظرثانی کا محتاج ہے۔ ریاست پاکستان کی آئینی، سرکاری اور بیان کردہ پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کے اندر کسی کو بھی مسلح تنظیم کھڑی کرنے کی اجازت نہیں، پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، کسی غیر ملکی باشندے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانونی طور پر اجازت نامہ لیے بغیر پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو اور پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرے۔ یہ ریاست پاکستان کا وہ عہد نامہ ہے جو اُس نے بین الاقوامی طور پر کیا ہے۔ اب اگر ریاست پاکستان خود اپنے عہد نامے کی خلاف ورزی کرتی ہے تو یہ غلط ہے، اور اگر کوئی فرد یا کوئی گروہ اس غلطی میں حکومت پاکستان کا ساتھی بنتا ہے تو یہ بھی شریعت کی رو سے غلط ہے۔ دینی اعتبار سے وزیرستان کے باشندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ریاست پاکستان کی بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی بسر کریں۔ آئین کی رو سے پاکستانی افواج کو ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے قبائلی علاقوں میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ فوج نے کبھی بھی وہاں کے رسم ورواج میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ چنانچہ یہ کہنا کہ وزیرستان کے لوگوں کو حکومت پاکستان کے خلاف دفاعی جہاد کا حق تھا (اور ہے، کیونکہ یہ لڑائی تو جاری ہے)، صحیح موقف نہیں ہے۔
حافظ صاحب نے تحریک طالبان کے اس بیان کے حوالے سے کہ ’’ہم پاکستان میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائیاں نہیں کریں گے‘‘، اُن کی بہت تعریف وتوصیف کی ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ محض ایک بیان تھا جس پر ایک دن کے لیے بھی عمل نہیں ہوا۔ سکولوں کو نذر آتش کرنا، سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنا اور باقی کاروائیاں بدستور جاری ہیں۔ پر واضح بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان کے اندر رہنے والے کسی بھی انسان یا گروہ کو کسی بھی بہانے کو جواز بناکر کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا کسی مسلح کارروائی کی کوئی اجازت نہیں۔
آگے صفحہ نمبر ۸۳پر حافظ صاحب نے یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ’’ اس طالبان تحریک کو امریکہ نے کھڑا کیا ہے‘‘۔ میرے نزدیک امریکہ نے عراق اور افغانستان میں بڑے مظالم کیے ہیں لیکن اس کا مطلب بھی نہیں کہ ہم اپنی ہر غلطی کو بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن ہوجائیں اور بلاوجہ امریکہ کو مطعون کرنے لگیں۔ میرے نزدیک تحریک طالبان پاکستان کا موقف اور طریقہ کار سراسر غلط ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام افراد انتہائی مخلص، پُرعزم اور اپنے مقصد کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگوں کے ذہن وشعور سے اُٹھی ہوئی ایک اندرونی (Indigenous)تنظیم ہے۔ ذہن سازی کا یہ عمل جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا تھا اور اس کو ابھی تک مسلسل پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ذہن سازی کا یہ عمل ہمارے ملک ہی کے بعض مذہبی اور سیاسی گروہ اورہمارے کچھ دوسرے ’مہربان‘ انجام دے رہے ہیں۔
آگے صفحہ ۸۵پر حافظ صاحب رقم طراز ہیں کہ ’’سیکورٹی فورسز کے جن اہلکاروں نے وزیرستان میں قبائیلیوں پر حملہ کیا ہے تو قبائیلیوں کے لیے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانا اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنا جائز ہے‘‘۔ یہ صورت حال کی انتہائی غلط تصویر ہے۔ حملہ تو کسی دوسرے ملک پر کیاجاتا ہے ۔ قبائلی علاقے تو اس ملک کا ایک حصہ ہیں جہاں افواج کو نقل وحرکت کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ افواج پاکستان نے کبھی بھی کسی عام قبائلی کے گھربار پر قبضہ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اُن جگہوں کی تلاشی لینی چاہی جہاں پر رپورٹس کے مطابق غیر ملکی جنگجو بستے تھے اور یا ایسے مسلح گروہ موجود تھے جو عام لوگوں پر اپنی حکومت مسلط کررہے تھے اور یا پھر سرحد پارکرکے کاروائیاں کررہے تھے۔ آخر اس میں کون سا عمل غلط ہے؟ میں پوچھتا ہوں آج اگر سیکورٹی فورسز لاہور یا پنڈی کے اندر کسی جگہ کا محاصرہ کرلیں اور لوگوں سے کہیں کہ ہم آپ کے گھروں کی تلاشی لینا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں کو کیا مشورہ دیں گے؟ کیا آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے کہ سیکورٹی فورسز سے لڑیں؟ کیا یہ مشورہ صحیح ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اس کے برعکس آپ اُن کو یہ مشورہ دیں گے کہ پُرامن طور پر تلاشی دیں، اگر سیکورٹی فورسز کوئی زیادتی کریں تو اُس پر عملی طور پر صبر کریں اور پُرامن احتجاج اور فریاد کا راستہ اختیار کریں۔ جو مشورہ ہمارے لیے صحیح ہے، وہی وزیرستان کے لوگوں کے لیے بھی صحیح ہے۔
آگے صفحہ ۹۱ پر حافظ صاحب نے تحریر کیا ہے کہ’’ہم عراق میں ہونے والے قتال کے خلاف نہیں‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق جنگ کے متعلق بھی ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ عراق پر امریکی حملہ صریحاً ایک جرم تھا۔ وہاں کی صورت حال کو پرامن طورپر بھی کنڑول کیا جاسکتا تھا۔ وہاں کی اب تک موجود سب قتل وغارت گری میں امریکہ پوری طرح ذمہ دار ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عراق کی ساٹھ فیصد شیعہ آبادی کا غالب ترین حصہ عراق کی موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ بیس فیصد کُرد آبادی پوری طرح موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ تلخ تجربات کے بعد اب اہل سنت کی ایک معقول تعداد بھی موجودہ حکومت کے ساتھ ہوگئی ہے۔ عراق کے اندر نوے فیصد خودکش حملے امریکی افواج کے خلاف نہیں بلکہ اہل تشیع کے خلاف ہوئے۔
آگے صفحہ ۹۲ پر حافظ صاحب کا نقطہ نظر ہے کہ ’’ہمارے نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے‘‘۔ آگے وہ بتاتے ہیں کہ یہ جہاد اصلاً پاکستانی افواج کی ذمہ داری ہے۔ میرے نزدیک اُن کی دوسری بات صحیح ہے اور پہلی بات میں کچھ تفصیل کی گنجائش ہے۔ اگر کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح اقدام کرنا پڑے تو یقیناًوہ اصلاًافواج پاکستان ہی کا فرض ہے، تاہم موجودہ حالات میں مقبوضہ کشمیر کو بزور بازو آزاد کرنا ریاست پاکستان پر فرض نہیں ہے۔ اُس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سورہ انفال آیت ۶۶کے مطابق مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد صرف اُسی وقت فرض بنتا ہے جب دشمن ریاست کی طاقت دُگنے سے زیادہ نہ ہو اور عملاً جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں نکل سکتا ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت کے پاس ہم سے کم ازکم تین گنا زیادہ طاقت ہے۔ اگر کبھی دونوں ریاستوں کے درمیان میں بھرپور جنگ چھڑ جائے تو پاکستان کے پاس صرف چالیس دن کی لڑائی کا سامان موجود ہے، جب کہ بھارت کے پاس ایک سو دن کی لڑائی کا سامان موجود ہے۔ گویا خواہی نخواہی چالیس دن بعد ہمیں پہلے کی طرح ایک دفعہ پھر جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس لڑائی سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اور پاکستان کی معیشت مکمل طور پر بیٹھ جائے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہوریت سے فائدہ اٹھاکر مسلمان اپنے لیے بے شمار حقوق لے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کشمیری مسلمان ایک جھنڈے تلے پوری طرح متحدہوجائیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی سربراہی میں ہوا، اور جمہوری جدوجہد میں پرامن طور پر حصہ لیں تو وہ چند ہی برس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان سے بہتر مسلمان ریاست بنا دیں گے۔ اُس صورت میں مقبوضہ کشمیر کو اتنی داخلی خودمختاری بھی مل جائے گی جس کا ہمارے صوبے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ تیسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگست ۱۹۸۸ء سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے اندرکچھ سیاسی قیدی تو ضرور موجود تھے لیکن بلحاظ مجموعی امن وسکون تھا۔ جب وہاں عسکری جدوجہد شروع ہوئی تو اُس کے نتیجے میں بھارتی افواج کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہوا اور اُن کے مظالم بھی بڑھتے گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تحریک آزادی صرف اُس وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب عوام ایک تنظیم اور ایک لیڈر تلے متحد ہوں۔ ایسے اتحاد کے نتیجے میں عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کو قدرت کی طرف سے بڑی برکت عطا کی جاتی ہے۔ اور اگر یہ شرط پوری نہ ہوتو پھر کسی بھی قوم کو کسی بھی صورت میں آزادی نہیں مل سکتی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے اندر تیس سے زیادہ سیاسی تنظیمیں کام کررہی ہیں جن کے ہاں اصل جھگڑا قیادت کا ہے۔ یہی حال وہاں کی عسکری تنظیموں کا ہے۔ چنانچہ اس صورت میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
آگے صفحہ ۹۹ پر حافظ صاحب لکھتے ہیں ’’ہم اس کے قائل ہیں کہ ریاست کے بغیر بھی قتال ہوسکتا ہے بشرط یہ کہ اس سے دشمن کو کوئی بڑا نقصان پہنچ رہا ہو‘‘۔ میرے نزدیک حافظ صاحب کا یہ نقطہ نظر صحیح نہیں۔ کسی خطہ ارضی میں اجتماعی نظم قائم کیے بغیر قتال کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا قتال شروع کیا گیا تو یہ اپنے اندرونی حرکیات(Dyanamics)کے تحت خودبخود ایک سے زیادہ امیروں کے ماتحت ہوجائے گا اور اس کے نتیجے میں وہی فساد رونما ہوگا جس سے حافظ صاحب احتراز کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ریاست کے بغیر قتال کا حق تو اللہ نے اپنے کسی پیغمبر کو بھی نہیں دیا چہ جائیکہ کسی عام مسلمان کے لیے اس حق کو تسلیم کیا جائے۔ اسی لیے بہت سے پیغمبروں کی پوری زندگی میں قتال کا مرحلہ کبھی نہیں آیا۔ ایسی صورت میں صبروحکمت سے کام لینے کا حکم دیا گیاہے اور یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔صبر کی تلقین قرآن مجید میں ایک سو سے زیادہ مرتبہ آئی ہے۔
آگے صفحات ۱۰۲، ۱۰۳ میں حافظ صاحب نے قتال کی غرض وغایت بیان کی ہے۔ انہوں نے سورہ بقرہ اور سورہ انفال کے حوالے سے یہ بات بالکل ٹھیک لکھی ہے کہ فتنے سے مُراد وہ ظلم ہے جو اہل ایمان کے لیے آزمائش بن جائے ۔ تاہم اُن کی یہ بات کہ ’’ریاست حکومت کے انتظامی اُمور میں مشرکین کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے اور قتال اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تمام کافر ومشرک اُس دنیاوی نظام میں اللہ کے مطیع وفرمانبردار نہیں بن جاتے یعنی جب تک اللہ کے دین کا غلبہ تمام ادیان باطلہ پر نہیں ہوجاتا اُس وقت قتال جاری رہے گا ‘‘ صحیح نہیں۔اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے حافظ صاحب نے سورہ توبہ کی آیات ۲۹ اور ۳۳کا حوالہ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی یہ بات بہت زیادہ نظرثانی کی محتاج ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو اس کا عملاً مطلب یہ ہے کہ اسلام دُہرے معیار پر یقین رکھتا ہے۔ اپنے لیے تو وہ آزادی مانگتا ہے اور دوسروں کو آزادی اور اختیار کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ جب تک دنیا میں کوئی ایک بھی غیر مسلم ریاست موجود ہے، ہم عملاً حالت جنگ میں رہیں گے اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پوری دنیا پر ہماری حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ اس کا یہ بھی مطلب نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک بنیادی انسانی حقوق، قومی حق خودارادیت، جمہوریت اور پُرامن بقائے باہمی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مسلمان ان سب اصولوں کو محض وقتی طور پر باامر مجبوری صرف اس وجہ سے مانتے ہیں کہ ابھی اُن کے پاس غیر مسلم حکومتوں کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ طاقت نہیں ہے۔ گویا اصل الاصول یہی ہے کہ جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔
اگر واقعتا یہی ہمارے دین کا نقطہ نظر ہے تو پھر اگر دنیا کے تمام غیر مسلم اسلام کے وجود ہی کو اپنے لیے ایک حقیقی خطرہ تصور کریں اور مسلمانوں کو اپنی ہر حکومت کے لیے ایک امکانی اور واضح (Potential)دشمن سمجھیں تو کیا اُن کی یہ سوچ صحیح نہیں ہوگی؟ چنانچہ اگر وہ یہ کہیں کہ مسلمانوں کا تو اصل مقصد ہی یہی ہے کہ اگر ان کو طاقت مل گئی تو یہ ہماری حکومتوں کو نیست ونابود کردیں گے، چنانچہ اس سے پہلے کہ مسلمان مطلوبہ طاقت حاصل کریں ہمیں چاہیے کہ ہم ان کو دباکر رکھیں، محکوم بناکر رکھیں اور ان کو ترقی نہ کرنے دیں۔ اگر غیر مسلموں نے علی الاعلان یہ لائحہ عمل اختیار کرلیا تو ہم کس اخلاقی اصول کی بنیاد پر اُن کی دلیل کا جواب دے سکیں گے؟ گویا حافظ صاحب کا یہ نقطہ نظر اسلام کی اخلاقی پوزیشن کی حدو درجہ کمزور کردیتا ہے۔ اس سے اسلام ایک دعوتی دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک جارح دین کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد مسلمانوں کو کہیں بھی اپنی محکومیت کے خلاف اقوام عالم کے سامنے دُہائی دینے اور فریاد کا حق نہیں پہنچتا، اس لیے کہ اُن کا اپنا ایجنڈا بھی تو ساری دنیا کو محکوم بنانے کا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حافظ صاحب کے اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیا جائے تو قرآن مجید میں بین الاقوامی معاہدات پر پابندی کے جو احکام سورہ انفال آیت ۷۲میں دیے گئے ہیں، یا یہ ہدایت جو سورہ نساء آیت ۹۰ اور سورہ انفال آیات۶۱، ۶۲ میں بیان کی گئی ہے کہ دشمن کی صلح کی پیشکش قبول کی جائے، کے پھر کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ اسی طرح جو ہدایت سورہ ممتحنہ آیت ۸اور سورہ نساء آیت ۹۰میں دی گئی ہے کہ پُرامن اور غیر جانبدار گروہوں اور قوموں کے خلاف فوج کشی جائز نہیں، بھی بالکل غیر متعلق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سورہ مائدہ آیت ۸کے بھی کوئی معنی نہیں رہتے جن میں تمام اقوام سے انصاف برتنے کی بات کی گئی ہے اور دشمن قوم کے معاملے میں بھی انصاف ہی کی تلقین کی گئی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ سورہ توبہ میں اُس عذاب کے بارے میں حکم دیا گیا ہے جو ہر رسول کے دشمنوں پر اتمام حجت کے بعد ان کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے جیسا کہ قومِ نوح، قوم فرعون، ثمود اور اسی طرح کے بہت سی اقوام کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ اس سورہ میں سرزمین عرب کے باقی ماندہ مشرکین کے لیے یہ اعلان کردیا گیا کہ ان کو مزید چار مہینے تک مہلت ہے۔ اس مہلت کے دوران میں اُن کو اجازت تھی کہ وہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد اپنی آزادانہ رائے سے یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں اور یا پھر یہ علاقہ چھوڑ جائیں اس لیے کہ اس علاقے کو قیامت تک کے لیے توحید کا مرکز بننا ہے۔ اسی سورہ میں سرزمین عرب کے یہود ونصاریٰ کے لیے یہ سزا رکھی گئی کہ وہ ایک شہری کی حیثیت سے یہاں رہ سکتے ہیں مگر ریاست کے انتظام میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آگے چل کر اسی سورہ میں اُس وقت کے منافقین کے لیے بھی سزا کا اعلان کیا گیا۔ گویا یہ دراصل حضورؐ کی طرف سے بحیثیت رسول اتمام حجت کے بعد کی سزا ہے جس کا تعلق خالصتاً حضورؐ سے تھا۔ اب یہ تمام واقعہ ہمارے لیے قیامت تک رسالت محمدیؐ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جہاں تک عام مسلمان ریاستوں کا تعلق ہے، اُن کے لیے وہی سب قوانین ہیں جو قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر بیان کیے گئے ہیں اور جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ اُس میں بنیادی قانون یہ ہے کہ اگر کوئی جمہوری غیر مسلم ریاست کسی دوسری مسلمان ریاست کے خلاف معاندانہ کارروائی نہیں کرتی تو اُسے بھی دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق ہے جیسا حق کسی مسلمان ریاست کو ہے۔
پروفیسر مشتاق احمد اور حافظ محمد زبیر کے مضامین میں بہت قیمتی نکات موجود ہیں جن سے راقم الحروف کو اتفاق ہے۔ ان دونوں مضامین پر راقم اُن کی تحسین کرتا ہے۔ درج بالا تبصرہ خالصتاً خیرخواہی کے جذبے سے کیا گیا تاکہ ان ایشوز کی مزید تنقیح ہوسکے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
گرامی قدر جناب محمد عمار خان ناصر۔ زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی شان دار تالیف ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ نظر نواز ہوئی۔ اس عنایت پر سراپا سپاس ہوں۔ رسیدگی پر فوری ہدیہ تشکر اس لیے نہیں ارسال کر سکا کہ کتاب کے حوالے سے چند سطور تحریر کرنے کا ارادہ تھا، لیکن ہنوز اس خواہش کی تکمیل نہیں کر سکا، اس لیے سوچا کہ تاخیر سے ہی سہی، کتاب ارسال کرنے پر شکریہ ادا کر دیا جائے۔ بہت مدت بعد کسی فقہی موضوع پر انتہائی سلیقے سے لکھی گئی کوئی کتاب پڑھنے کو میسر آئی ہے۔ کوشش کروں گا کہ اپنی پسندیدگی کے پہلووں کو تفصیل سے قلم بند کر سکوں۔
کتاب پر مولانا زاہد الراشدی کا پیش لفظ اور اس کے بعد آپ کے ایک خاندانی بزرگ کا تہنیت نامہ (مطبوعہ الشریعہ) پڑھ کر خوشی دوبالا ہوئی اور بے ساختہ یہ شعر ذہن میں آیا
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں تھی
آپ کے توسط سے ان دونوں حضرات گرامی کی خدمت میں عرض ہے
جو میں کہہ دوں تو سمجھا جائے مجھ کو دار کے قابل
جو تو کہہ دے تو تیری بزم کا دستور ہو جائے
تاہم میرا مشاہدہ ہے کہ علماء حق کا فرمودہ ہر کلمہ ’’کلمہ حق‘‘ ہوتا ہے اور اس پر ایمان نہ لانے سے ’’کراچی سے پشاور تک‘‘ فتووں کی توپوں کے دہانے کھل جاتے ہیں۔
اگر کتاب کے سب سے اہم مستدل ’’عقل عام‘‘ کی کہیں وضاحت ہوتی تو شاید بہت سی گتھیاں سلجھ جاتیں، کیونکہ عقل عام کی بنا پر کئی ممالک میں شراب نوشی، لاٹری اور ہم جنسی ازدواج کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے اور سزائے موت کو عقل عام کی بنا پر کبھی ختم کیا جاتا ہے اور کبھی رائج کر دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں بھی غیر منصوص مسائل میں عقل عام سے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے، مگر عقل عام کی حدود اربعہ کا تعین کیسے ہو؟ جب کہ مختلف طبقات اور ادوار میں مختلف ثقافتی، معاشی اور سماجی پس منظر کے حامل افراد کی عقل عام با یک دگر مختلف نظر آتی ہے۔
(ڈاکٹر) محمد طفیل ہاشمی ۔ اسلام آباد
(۲)
مکرم ومحترم جناب مولانا مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ کے حوالے سے آپ کی تنقیدی تحریر موصول ہوئی۔ میں ممنون ہوں کہ آپ نے خیر خواہی اور اصلاح کے جذبے سے علمی اسلوب میں میرے نقطہ نظر پر تنقید کی ہے۔ ان شاء اللہ اسے ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں شائع کر دیا جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو ازراہ کرم اس کی سافٹ کاپی مجھے ای میل کروا دیں۔ شکریہ!
جہاں تک آپ کے تبصرے سے اتفاق یا عدم اتفاق کا تعلق ہے تو میرے ناقص فہم کے مطابق آپ کی موجودہ تحریر بحث میں کسی ایسے نکتے کا اضافہ نہیں کرتی جس کی روشنی میں، مجھے اپنے نقطہ نظر پر فوری نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہو۔ ان میں سے دیت کے حوالے سے میرے موقف پر آپ نے ’’سنت کی تشریعی حیثیت کو بالکل نظر انداز‘‘ کرنے، ’’منکرین حدیث کی سی بات کرنے‘‘ اور ’’مقادیر میں عقل وقیاس‘‘ کو دخل دینے کی پھبتیاں کسی ہیں جو میرے موقف کی نہایت ناروا ترجمانی ہے، اس لیے کہ زیر بحث نکتہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں۔ زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی جو مقدار مقرر فرمائی، وہ تشریع کے دائرے کی چیز ہے یا قضا اور سیاسہ کے دائرے کی۔ میں نے قرآن مجید کے نصوص کی روشنی میں یہ اخذ کیا ہے کہ شارع دیت سے متعلق قوانین کی عملی صورت کو کوئی مخصوص شکل نہیں دینا چاہتا، بلکہ اس نے اس معاملے کو ’معروف‘ پر منحصر قرار دیا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اہل عرب کے معروف کو اختیار فرمایا تو وہ اسی اصول کا ایک اطلاق تھا اور جس طرح معروف سے متعلق دیگر تمام معاملات میں تغیر وتبدل کی گنجایش مانی جاتی ہے، اسی طرح اس معاملے میں بھی یہ گنجایش موجود ہے۔ یہی صورت مرد اور عورت کی دیت میں فرق کی ہے۔ اگر قرآن یا سنت میں یہ قرار دیا گیا ہو کہ ایسا کوئی فرق شرعی طور پر لازم ہے تو اس سے سرتابی کی مجال نہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو صحابہ کی آرا اور فتاویٰ کو بھی اہل عرب کے عرف پر مبنی سمجھنا چاہیے، نہ کہ ایک ابدی شرعی حکم کی حیثیت دے دینی چاہیے۔
اس راے پر تنقید کا درست طریقہ یہ تھا کہ آپ یہ واضح فرماتے کہ قرآن کے نصوص ’دیۃ مسلمۃ‘ اور ’اتباع بالمعروف‘ سے اس معاملے کا معروف پر منحصر ہونا ثابت نہیں ہوتا اور یا کم از کم یہ بتاتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے دیت کی مقدار اور عاقلہ وغیرہ کے معاملات میں اہل عرب کے جس معروف کو اختیار کیا، اس کے ابدی شرعی حکم ہونے کے الگ سے یہ اور یہ دلائل ہیں۔ ’دیۃ مسلمۃ‘ کے تحت جصاص کے استدلال کے دفاع میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میر ے لیے ناقابل فہم ہے، اس لیے کہ بالفرض نکرہ یہاں تعظیم کے لیے ہو (جس کا نہ کوئی قرینہ ہے نہ ضرورت)، تب بھی اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ متکلم اس سے دیت کی کسی معہود مقدار کی طرف اشارہ کر کے اس کی پابندی کی ہدایت کر رہا ہے؟ نکرہ تعظیمی سے یہ استدلال آخر عربیت کے کس اصول کے تحت درست ہے؟
زنا کی سزا کے ضمن میں بھی یہی صورت حال ہے۔ آپ کی بیان کردہ توجیہ کی بنیاد نساء کی آیت ۱۵ کو شادی شدہ خواتین سے جبکہ آیت ۱۶ کو غیر شادی شدہ عورت سے متعلق قرار دینے نیز قرآن مجید میں رجم کی آیت کو منسوخ التلاوۃ دون الحکم ماننے پر مبنی ہے۔ میں نے ان دونوں نکتوں کے حوالے سے جو اشکالات اپنی کتاب میں اٹھائے ہیں، ان کا کوئی تشفی بخش جواب آپ کی توجیہ سے نہیں ملتا۔
بہرحال اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر کرتے ہوئے، میں دوبارہ آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایک طالب علم کی آرا کو علمی تنقید کا موضوع بنانے کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لیے اپنا قیمتی وقت فارغ کیا۔ میں امید رکھتا ہے کہ آپ کی طرف سے خیر خواہانہ تنقید اور راہنمائی کا سلسلہ آئندہ بھی قائم رہے گا۔ واجرکم علی اللہ
محمد عمار خان ناصر
(۳)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوں گے
نومبر ۲۰۰۸ کے ’’نقیب ختم نبوت‘‘ میں عرصہ دراز کے بعد ایک اچھی پیش رفت نظر سے گزری کہ قائد احرار حضرت مولانا سید عطاء المہیمن بخاری دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں مختلف مکاتب فکر پر مشتمل ’’متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی‘‘ قائم کی گئی۔ اس سے دلی خوشی ہوئی۔ خدا کرے اس پر یکسوئی ومستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل کام ہو۔......
قادیانیوں کو سب سے زیادہ فائدہ مسلمانوں کے تشتت وافتراق سے پہنچ رہا ہے کہ قادیانی مسئلہ پر کام کرنے کے لیے ہر ایک نے اپنی اپنی دکان کھول رکھی ہے۔ یہاں (برطانیہ میں) بھی مختلف لوگوں نے اس مسئلہ کو پیشہ بنا لیا ہے کہ بڑوں کی قربانیوں کے طفیل اس عنوان پر اناپ شناپ گفتگو کر کے پیسہ بٹورنا آسان ہے۔ یہاں ہر مکتب فکر آج کل اپنی کانفرنس الگ الگ کر رہا ہے۔ گزشتہ ۳۴ سال سے منظر بندہ کے سامنے ہے۔ یہاں اصلاً ختم نبوت کانفرنس تو ہم دیوبندیوں نے شروع کی تھی۔ اس میں تمام مسالک فکر شریک ہو جاتے تھے۔ اگر ہم وسعت ظرفی سے کام کرتے رہتے کہ چند بریلوی، سلفی، جماعت اسلامی کے مقررین کو دعوت دے کر تقریر کا موقع فراہم کرتے تو شاید اس عنوان پر ان لوگوں کی الگ الگ کانفرنسیں نہ ہوتیں، مگر ہم نے ختم نبوت کو بھی خالص دیوبندی موضوع بنا کر کام کیا۔ اسی طرح ہم لوگوں نے پاکستان میں بھی مجلس ختم نبوت کی صدارت پر ہمیشہ کے لیے اپنا استحقاق بنا لیا۔ کیا بگڑ جاتا اگر رسمی طورپر صدر مختلف مکاتب فکر سے بنا لیا جاتا اور کام ہم کرتے رہتے۔ .....
سپاہ صحابہ کے نام پر مولانا جھنگویؒ نے سنی بیداری کی جو تحریک شروع کی تھی، اگر وہ فکری ونظریاتی بیداری تک محدود رہتی تو بہت مفید کام ہو جاتا، مگر جذبات کی رو میں بہہ کر مار دھاڑ کی طرف مڑ گئی یا موڑ دی گئی۔ نتیجتاً ہمارے چوٹی کے اکابر علماے کرام جو بہت کچھ علمی ودینی کام کر رہے تھے، اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اب اس تحریک کا حسرت ناک انجام ہمارے سامنے ہے۔ عصر حاضر کی ہر ایسی تحریک کا، جو عصری شعور وبصیرت سے عاری ہو، یہی انجام ہوگا کہ وہ ایسے راستے پر چل پڑے گی جو بند گلی میں جا کر ختم ہوتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں آزادی کے فوراً بعد مولانا ابو الکلام آزاد نے علما کو یہی پیغام دیا تھا کہ دین کے ہر کام وتحریک کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا تو نتیجہ تباہی ہوگا۔
شعبان المعظم میں پاکستان کے تین درجن کے قریب دیوبندی اکابر علما کا فتویٰ نظر سے گزرا کہ تمام غیر سودی واسلامی بینک حرام اور اسلام کی دعوت وتعلیم کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال حرام۔ اب تک ان بزرگوں کے نہ دلائل سامنے آئے نہ متبادل راستہ۔ .... چند ماہ پہلے ہمارے ختم نبوت کے مشہور عالم وبزرگ کا ایک طویل مضمون نظر سے گزرا تھا۔ آپ کے الفاظ یہ تھے: ’’ٹی وی وسی ڈیز کے مادر پدر آزاد پروگرام، لچر واہیات ڈرامے، ننگی فلمیں، حیا سوز مناظر اتنا نقصان نہیں پہنچا رہے جتنا یہ نام نہاد دینی پروگرام ..... اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ ٹی وی چینلوں کے نام نہاد دینی پروگرام نئی نسل کے لیے ننگی اور بلیو پرنٹ فلموں سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔ .... لہٰذا ٹی وی پر آکر ٹی وی کی خباثتوں کا سد باب کرنا ایسا ہی غلط ہے جیسے پیشاب کی غلاظت کو پیشاب سے دھونا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
آپ آج کل ختم نبوت تحریک کے اکابر علما میں ہیں۔ ایک طرف مرزائیوں کی دعوت پوری دنیا میں بشمول مکہ ومدینہ روزانہ ۲۰ گھنٹہ جاری ہے۔ کیا اس ذہن کے ساتھ مرزائیوں کا مقابلہ ممکن ہے؟ بدقسمتی سے تقویٰ کے ایسے تماشے پورے عالم اسلام اور پوری دنیا میں صرف ہمارے ہاں ہی رہ گئے ہیں۔ کیا مٹھی بھر ابناء اللہ واحباء ہ کے علاوہ پوری دنیا کے مسلمان اور ان کے علما گمراہ اور جہنمی ہیں؟ تقویٰ کی بات بہت اچھی چیز ہے مگر اسے فتویٰ بنا کر عوام پرمسلط کرنا؟ کلام اس میں ہے۔ میرا خیال ہے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان شاید ایسے مفتی صاحبان اور مولویوں کو ربذہ کے جنگل میں جلا وطن فرما دیتے۔ معاف کیجیے، قلم سے اپنے بزرگوں کی شان میں سخت باتیں نکل گئیں۔ ان بزرگوں کو تقویٰ مبارک ہو، مگر جو چیز تقویٰ کے خلاف ہو، وہ ناپسندیدہ، مکروہ کہی جائے گی نہ کہ حرام، اور اس ابتلا کے دور میں اسے فتویٰ بنا کر عوام پر لادنا تو بہت بڑا فتنہ ہوگا۔
(مولانا) محمد عیسیٰ منصوری۔ لندن
(۴)
نومبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ لاہور کے ایک پروفیسر صاحب کا خط ان کی خواہش کے بغیر شائع کر دیا گیا ہے۔ (’’یہ خط اشاعت کی غرض سے نہیں، توجہ کی غرض سے ہے۔ باقی آپ صاحب اختیار ہیں۔‘‘) آپ نے بھی کچھ کہے بغیر پروفیسر موصوف کا خط شائع کر کے گیند کو قارئین کے کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قاری کے طور پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مگر قارئین کی یاد دہانی کے لیے، خط کی بعض سطور کا دوبارہ نقل کرنا مناسب ہے:
’’جماعت اسلامی، مولانا مودودی، ترجمان القرآن، قاضی حسین احمد، پروفیسر خورشید احمد پر طعنہ زنی اور گاہے گاہے بہتان طرازی کا ایک ہوکا پڑھنے کو ملتا ہے۔ یہ خدمت کوئی ایڈووکیٹ صاحب انجام دیتے ہیں۔‘‘
خط سے واضح ہے کہ موصوف کا ترجمان القرآن اور اس کے متعلقین سے تعلقِ خاص ہے، مگر اتنا گہرا بھی نہیں کہ وہ اپنی ملازمت کو خطرے میں ڈال کر جماعت کے ساتھ باقاعدہ وابستگی اختیار کر لیتے۔ بہرحال جماعت اور متعلقین جماعت پر طعن و بہتان کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اگر پروفیسر صاحب موصوف پانچ حملوں میں سے قابل اعتراض جملے یا اجزا کی نشاندہی کر دیتے تو قارئین الشریعہ بیدار لوگ ہیں، وہ اس کا نوٹس لیتے۔ آخر الشریعہ اور ترجمان کے قارئین میں کچھ تو فرق ہے۔ وہاں تو کیفیت یہ ہے کہ سو صفحے کے پرچے میں دو صفحے قارئین کے لیے مخصوص ہیں۔ ایک خط کے لیے اوسطاً تین سطریں آتی ہیں۔ ان میں بحث کی بجائے صرف توصیف ہی کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ مثلاً پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب ترجمان میں ایک مضمون لکھیں اور اس کی توصیف میں ان کی اہلیہ پروفیسر نگہت منصور صاحبہ دو سطریں لکھ کر ارسال کریں تو یہ خط شائع ہو جائے گا۔
ایک قاری کے طور پر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کالجوں کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ پروفیسروں میں یہ کیفیت اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ اپنے مضمون اور طلبہ میں کسی بڑی مہارت اور خدمت انجام دینے کے بجائے اپنے دائرۂ کار سے باہر دوسرے شعبوں کی جانب نکل آتے ہیں تو پھر ان کا انداز عمل اسی معیار پر رہتا ہے۔ پروفیسر صاحب موصوف کی صلاحیتوں اور خدمات کے اعتراف کے باوجود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ گورنمنٹ کے ملازم ہوتے ہوئے اس طرح کے نظریاتی اور سیاسی کاموں میں وقت دے کر اپنے ملازمت کار کے ساتھ کس قدر انصاف کر رہے ہیں۔ پھر جماعت کے رکن بنے بغیر جماعت کی اندرونی کیفیت کا اتنا ادراک کیسے کر سکتے ہیں کہ ایک شخص کے اخراج تک پر رائے زنی کر سکیں؟ ان کی سرکاری حیثیت اور غیر سرکاری قلم کاری کو بیک وقت نباہنے کے لیے جس درجے کی مصلحت آرائی لازم ہو گی، وہ ان کو حق گوئی کی ابتدائی سطح پر بھی رہنے دے گی؟ اخوان المسلمون کے بارے میں اندرونی اور تکلیف دہ کہانیوں کا بیان تو ترجمان میں پورے اہتمام سے جگہ پا سکتا ہے، مگر مجلس عمل کی توصیف میں سیاہ کیے گئے آٹھ صفحات سے متعلق چند سوال چھاپنے اور پھر ان کے جواب کی توفیق ایسے پروفیسر صاحبان کے زیر سایہ مرتب ہونے والے موقر ماہنامے میں کیسے جگہ پا سکتے ہیں! تصورات کی دنیا میں رہنے والے پروفیسر صاحبان میدان کی کشا کش اور اس کے رموز اور مشکلات کیسے جان سکتے ہیں۔ جماعت کو ایک مشن جاننے والے کسی رکن کی رکنیت کے اخراج کا قلق کسی پروفیسر کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہ پروفیسر حضرات تو سرکاری صنعت سے بنا ہوا سونے کا چمچہ لے کر شعور کی گولیاں کھیلنا سیکھے ہیں۔ ان کی اپنی کیفیت تو یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کا ایک سے دوسرے مقام پر تبادلہ ہو جائے تو پھر ان پر کیا گزرتی ہے، حالانکہ تبادلہ نوکری سے فراغت نہیں ہوتا۔ جب کہ ایک مشنری کارکن کی بد عنوان امرا کے ہاتھوں اخراج سزائے موت سے کسی طرح بھی کم تر نہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ پروفیسر صاحب موصوف تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔ گوجرانوالہ کی حد تک جماعت سے خارج کیے جانے والوں کی ساری کیفیت سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ خود موصوف کے خسر بھی اس مرحلہ سے گزرے۔ یہاں جماعت بدعنوان امرا کی شرکت محدود بن کر رہی ہے۔ راستی، فعالیت ایسے امرا کے ہاتھوں جرم بنی رہی۔ صاحب امر پر بدعنوانی کے شبہہ تک کا اظہار گناہ کبیرہ خیال کیا گیا۔ اس کا خمیازہ اخراج کی صورت میں نہ نکلے، یہ ہو نہیں سکتا۔ اخراج کے لیے ایک ہی وجہ ہمیشہ سامنے آتی رہی اور وہ نظم کی خلاف ورزی کا مہمل الزام ہے۔ جہاں تک میرے اخراج کا تعلق ہے، مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں، بلکہ فخر ہے۔ پچھتائیں وہ ارکان جماعت جو جماعت میں مداہنت سے کام لے کر اپنی رکنیت بچائے ہوئے ہیں، یا وہ جو رکن بننے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ اخراج نہ ہو جائے۔
پروفیسر صاحب جماعت کے رکن بنیں، پھر ہم دیکھیں گے کہ وہ کس حد تک حق گوئی کا فرض ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ محترم پروفیسر خورشید احمد سے منسوب ’شذرات‘ کی آڑ میں مشرف جیسے نا مشرف حکمرانوں پر آئے دن چڑھائی تو سرکاری پروفیسری کے باوجود چل سکتی ہے۔ یہاں بھی ضمیر کے خلاف لکھنے کا فرض ادا کرنے کا اعتراف پروفیسر صاحب موصوف کبھی کبھی نجی محفل میں کر ہی لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ضمیر کے خلاف لکھنے کا لائسنس مستقلاً حاصل کرنے کا اعزاز ان کے لیے کافی ہے؟ ایسے لوگ سید مودودی کی حریت فکر کے وارث ٹھہریں تو حریت فکر کا سوچتے ہی خود کشی پر آمادگی کتنی آسان ہو گی۔
ترجمان القرآن سے متعلق پروفیسر صاحبان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ شاید وہ اپنے آپ کو دیگر پرچوں کے بھی نگران مدیر سمجھنے لگتے ہیں۔ قارئین ’الشریعہ‘ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ پرچہ کھلے بحث و مباحثے کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے صفحات گواہ ہیں کہ اس میں رئیس التحریر جناب مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ اپنے حلقے کے مولانا تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن تک پر سخت سے سخت تنقید شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح تبلیغی جماعت پر نقد بھی ایک بار نہیں کئی بار ہوئی ہے۔ سروس بیک گراؤنڈ کے لوگ آزاد منش لوگوں کی خون جگر سے لکھی ہوئی تحریروں کی تہہ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں! ان کا قلم، قلب و ضمیر کی دستک کا آئینہ دار کیسے ہو سکتا ہے؟ جمود و مصلحت کی زنجیریں ان کو لکھنے کے لیے آزاد کیسے کر سکتی ہیں؟
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ۔ گوجرانوالہ
’’جو چرخ علم پہ مثل مہ منور ہے‘‘
سید سلمان گیلانی
جو چرخ علم پہ مثل مہ منور ہے
بلا مبالغہ وہ سرفراز صفدر ہے
شریعت اور طریقت میں حق کا مظہر ہے
پہاڑ علم کا، عرفان کا سمندر ہے
یقیں ہے مجھ کو کہ میری کریں گے سب تائید
جو کہہ دوں آج کا وہ کاشمیری انورؒ ہے
محدث اور مفسر، فقیہ اور دانا
سراپا علم و عمل، زہد کا وہ پیکر ہے
گواہ اس کی ہیں تحریریں اس کی تقریریں
وہ بے مثال سخن دان ہے، سخن ور ہے
ہوں اس کے وصف بیاں کس طر ح سے گیلانی
بس اتنا کافی ہے کہہ دوں وہ میرا رہبر ہے