صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
باراک حسین اوباما نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے اور امریکہ کی قومی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ وہ سیاہ فام آبادی جسے آج سے پون صدی پہلے تک امریکہ میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا، اس کا نمائندہ آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے اور محاورہ کی زبان میں امریکہ کے سیاہ و سفید کا مالک کہلاتا ہے۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر امریکی معاشرہ کی اس اہم تبدیلی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس تبدیلی کا اس پہلو سے بہرحال خیر مقدم ہی کیا جانا چاہیے۔
لیکن کیا امریکہ کی قومی سیاست میں یہ انقلابی تبدیلی عالمی صورت حال اور خاص طور پر عالم اسلام کے بارے میں امریکی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ ہمارے خیال میں اس کا مثبت جواب اتنی آسانی سے نہیں دیا جا سکتا جتنی توقعات ہمارے بعض حلقوں نے باراک حسین اوباما سے وابستہ کرلی ہیں، کیونکہ اس تبدیلی سے یہ ضرور ہوا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر امریکہ بلکہ پوری دنیا پر حکومت کرنے والی شخصیت کا رنگ تبدیل ہو گیا ہے، لیکن رنگ کی یہ تبدیلی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کی غماز نہیں ہے، اس لیے کہ امریکی صدر کے دنیا کے طاقت ور ترین حکمران ہونے کے باوجود امریکی پالیسیاں اداروں کے ذریعے طے ہوتی ہیں اور ان اداروں کی پشت پر جو اصل ادارے ’’تھنک ٹینکس‘‘ کے طور پر پالیسیاں وضع کرتے ہیں اور وہ لابیاں جو ان تھنک ٹینکس کی طے کردہ پالیسیوں کو مجاز اداروں سے منظور کرانے کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر متحرک رہتی ہیں، وہ وہی ہیں جو گورے صدروں کے دور میں تھیں بلکہ جو صدر بش کے دور میں تھیں۔
ادارے بھی وہی ہیں، لابیاں بھی وہی ہیں، امریکی مفادات بھی وہی ہیں، امریکی قوم کی نفسیات بھی وہی ہے، میڈیا بھی وہی ہے اور اسے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے خفیہ ہاتھ بھی ہی ہیں، اس لیے امریکہ کی بین الاقوامی پالیسیوں میں کسی جوہری تبدیلی کی توقع کرنا خود کو فریب میں مبتلا کرنے والی بات ہوگی، البتہ عالم اسلام کی دینی تحریکات کو اس انقلابی تبدیلی کے اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ امریکہ کی سیاہ فام آبادی نے برابر کے شہری کا حق حاصل کرنے کے مطالبہ سے لے کر امریکہ کی صدارت تک پہنچنے کے یہ مراحل پون صدی کے دوران جس طرح پرامن، عدم تشدد پر مبنی اور سیاسی واخلاقی جدوجہد کے ذریعے طے کیے ہیں، کیا ہم اس تجربہ سے فائدہ اٹھانے پر غور کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں؟
غامدی صاحب کے تصور سنت کے حوالہ سے بحث و مکالمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
محترم جاوید احمد غامدی کے تصور سنت کے بارے میں’’الشریعہ‘‘ کے صفحات میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے ہمارے فاضل دوست اس میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے عنوان سے’ ’الشریعہ‘‘ کے جو ن ۲۰۰۸ء کے شمارے میں کچھ معروضات پیش کی تھیں اور چند اہم نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان الفاظ میں غامدی صاحب سے اس بحث میں خود شریک ہونے کی درخواست کی تھی کہ:
’’امید رکھتاہوں کہ محترم غامدی صاحب بھی ا پنے موقف کی وضاحت کے لیے اس مکالمہ میں خود شریک ہوں گے اور اپنے قارئین، سامعین اور مخاطبین کی راہنمائی کے لیے اپنا کردار کریں گے۔‘‘
مگر غامدی صاحب کے ایک شاگرد سید منظورالحسن نے ’’ا لشریعہ‘‘ جنوری ۲۰۰۹ ء میں حافظ محمد زبیر کے ایک تفصیلی مضمون کا جواب دیتے ہوئے میری اس درخواست کو یوں نمٹا دیا ہے کہ :
’’اس تحریر میں ہم حافظ زبیر کے جملہ اعتراضات کے حوالے سے بحث کریں گے۔ ان کا مضمون تفصیلی بھی ہے اور کم وبیش ان تمام اعتراضات کا احاطہ کرتا ہے جو مولانا زاہد الراشدی نے اٹھائے ہیں۔‘‘
لیکن محترم سید منظور الحسن کی یہ تحریر میرے لیے قابل قبول نہیں ہے، اس لیے کہ میں نے ان نکات و اعتراضات کی وضاحت کے لیے خود محترم جاوید احمد غامدی صاحب سے گزارش کر رکھی ہے اور شرعی اور اخلاقی طور پریہ ا نہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے موقف کی وضاحت کریں۔ چنانچہ اپنے سابقہ مضمون میں اٹھائے گئے اہم نکات کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر غامدی صاحب سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ خود اس بحث میں شریک ہوں اور اپنے مخاطبین کی صحیح راہنمائی کرنے کے ساتھ ملک کے جمہوراہل علم کو مطمئن کریں۔
غامدی صاحب کے متعدد مضامین اور توضیحات کو سامنے رکھتے ہوئے راقم الحروف نے درج ذیل نکات پیش کیے تھے:
- غامدی صاحب سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجت ہونے کے قائل ہیں اور اس بارے میں وہ جمہور امت کے ساتھ ہیں، مگر سنت کی تعریف اور تعیین میں وہ جمہور امت سے ہٹ کر ایک الگ مفہوم طے کر رہے ہیں۔
- وہ سنت کے صرف عملی پہلوؤں پر یقین رکھتے ہیں اور سنت کے ذریعے علم میں کسی نئے اضافے کے قائل نہیں ہیں۔
- سنت کے عملی پہلوؤں میں بھی وہ اسے صرف دین ابراہیمی کی سابقہ روایات کی تجدید واصلاح اور ان میں جزوی اضافوں تک محدود رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک دین ابراہیمی کی سابقہ روایات سے ہٹ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نیا عمل یا ارشاد سنت نہیں ہے۔
- سنت کے ساتھ ساتھ وہ قرآن کریم کا وظیفہ بھی صرف اس دائرے تک محدود کر ر ہے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود و متعارف چیزوں کا ذکر کرتا ہے۔ گویا پہلے سے موجود ومتعارف چیزوں سے ہٹ کر کوئی نیا حکم دینا یا دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا قرآن مجید کے دائرۂ کار میں بھی شامل نہیں ہے۔
- ان کے نزدیک سنت کسی اصول وضابطہ پر مبنی نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی کام کے سنت یا غیرسنت ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہو، بلکہ سنت صرف لگی بندھی اشیا کی ایک فہرست کانام ہے جس میں کسی بھی حوالے سے کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۔
- اس فہرست سے ہٹ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی ارشاد یا عمل غامدی صاحب کے نزدیک سنت کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور نہ ہی اسے حجت کا درجہ حاصل ہے۔
- سنتوں کی اس فہرست میں شامل تمام امور کا تعلق ایک مسلمان کی ذاتی زندگی اور زیادہ سے زیادہ خاندانی معاملات سے ہے جب کہ سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات واعمال کو سنت کا درجہ حاصل نہیں ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاکم، قاضی، کمانڈر اور ڈپلومیٹ وغیرہ کے طور پر جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ فرمایا ہے، وہ بھی سنت کے مفہوم سے خارج ہے۔
- غامدی صاحب کے نزدیک عقیدہ کے تعین وتعبیر میں سنت وحدیث کا کوئی دخل نہیں ہے۔
- سنت کے اس مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے جو ہم نے غامدی صاحب کی عبارتوں سے سمجھا ہے، یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مفہوم نہ صرف یہ کہ جمہور امت بالخصوص خیرالقرون کے اجماعی تعامل کے منافی ہے بلکہ انتہائی گمراہ کن اور عملاً سنت کے حجت ہونے سے انکار کے مترادف ہے۔
مجھے اس امر پر اصرارنہیں ہے کہ غامدی صاحب کی عبارات سے سنت کا جو مفہوم میں نے سمجھا ہے، وہی غامدی صاحب کی مراد بھی ہے اور اسی لیے میں نے ان سے وضاحت کی درخواست کی ہے، لیکن یہ وضاحت غامدی صاحب کو خود کرنی چاہیے۔ ان سے ہٹ کر کسی اور دوست کی وضاحت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر محترم جاوید غامدی صاحب بذات خود اس بحث میں شریک ہوتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور ان کے پورے احترام کے ساتھ اس بحث کو آگے بڑھائیں گے، لیکن اگر وہ اس کی ضرورت محسو س نہیں کرتے تو پھر ان کے تلامذہ کے ذریعے سالہاسال سے جاری یہ بحث بے فائدہ تکرار اور لاحاصل مشق کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے جسے ہم شاید مزید جاری نہ رکھ سکیں۔
ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات پر ایک نظر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد فاروق خان نے الشریعہ جنوری ۲۰۰۹ ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دہشت گردوں کے حوالہ سے ٹی وی چینل پر ہونے والے ایک مذاکرہ میں راقم الحروف کی گفتگو کے بعض مندرجات پر تبصرہ فرمایا ہے جس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ راقم الحروف نے عرض کیا تھا کہ:
’’خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا اور ۱۹۶۵ کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا۔‘‘
اس پر ڈاکٹر فاروق خان ارشادفرماتے ہیں کہ:
’’مولانا کے اس نقطہ نظر سے مجھے بصد ادب واحترام اختلاف ہے۔ حسن بن صباح کسی مظلوم گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں جاپانی بھی کوئی مظلوم قوم نہیں تھے۔ جاپانیوں نے اپنے پائلٹوں کے ذریعہ دشمنوں کے بحری جہازوں پر جو خودکش حملے کیے تھے، اس کا اصل نقصان درجہ آخر جاپانیوں ہی کو پہنچا، وہ اس طرح کہ ان کے پاس پائلٹوں کی قلت ہوگئی اور وہ یوں اس اعتبار سے کمزور ہوگئے۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ برطانیہ نے بھی کبھی خودکش حملہ کیا ہو۔ جہا ں تک ۱۹۶۵ء کی جنگ کا تعلق ہے، چونڈہ کے محاذپر اس وقت موجود جنگی کمانڈر اس کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی سپاہی کو خودکش حملہ کا آرڈر دیا ہو۔ میرے نزدیک جس طرح حالت جنگ میں معصوم لوگوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا ممنوع ہے، اسی طرح خود کش حملے بھی ممنوع ہیں۔ قرآن وحدیث نے اس ضمن میں کوئی استثنا بیان نہیں کیا۔‘‘
خدا جانے ڈاکٹر صاحب نے حسن بن صباح کودرمیان میں کہاں سے گھسیٹ لیا۔ وہ شاید یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ حسن بن صباح فدائی حملے کرایا کرتا تھا اور چونکہ وہ ایسا کرتا تھا، اس لیے فدائی حملے اچھی چیز نہیں ہیں، لیکن کل کوئی شخص اگر ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھ لے کہ حسن بن صباح کے ہاں تلوار بھی استعمال ہوتی تھی تو کیا اس کے تلوار کو استعمال کرنے سے تلوار بھی ایک ناجائز ہتھیار کا درجہ اختیار کر جائے گی؟
جاپان کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب موصوف نے دو دلچسپ باتیں کی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے خودکش حملوں سے خود نقصان پہنچا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کا جوازا ور عدم جواز سے کیا تعلق ہے؟ اگر اس فلسفہ کو تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں جس قوم یا گروہ کو بھی کسی ہتھیار کے استعمال سے خود کو نقصان پہنچا ہو، اسے ناجائز قرار دے دینا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کو اب یہ بات کیسے سمجھائی جائے کہ جواز یا عدم جواز کا دائرہ اور ہے، جب کہ کسی ہتھیار کے فائدہ دینے یا خود کو ہی نقصان دے جانے کی بحث اس سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا تعلق جواز سے نہیں بلکہ حکمت سے ہوتا ہے۔ دوسری دلچسپ بات ڈاکٹر صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپا نی مظلوم قوم نہیں تھے جب کہ دوسری جنگ عظیم میں ہی امریکہ نے ایٹم بم گرا کر جاپان کے دو شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا جس کا دنیا اب تک ماتم کرتی چلی آرہی ہے۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی نظر میں امریکہ مظلوم ہو جسے ایٹم بم گرانے کی زحمت اٹھانا پڑی تھی۔
برطانیہ کے بارے میں اپنا ایک ذاتی مشاہدہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے مئی ۲۰۰۷ ء کے دوران اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈنز میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرا بھانجا ڈاکٹر سبیل رضوان ملازمت کرتا ہے اور فیملی سمیت رہایش پذیر ہے۔ وہ مجھے پولینڈ کے شہریوں کی اس یادگار کے پاس لے گیا جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کے لیے ا ن کی خدمات کے اعتراف کے طورپر بنائی گئی ہے۔ پولینڈ کے یہ شہری کمیونسٹ انقلاب کے موقع پر اپنا وطن چھوڑ کر برطانیہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ان کے پائلٹوں نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی خدمات برطانوی ایئرفورس کے لیے پیش کیں اور ان کے بار ے میں وہاں یہ روایت عام ہے کہ انہوں نے جرمنوں پر خود کش حملے کیے تھے جن پر انہیں برطانوی اب تک خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
۱۹۶۵ ءکی جنگ کے حوالے سے بھی اپناایک ذاتی مشاہدہ ڈاکٹر صاحب کے گوش گزار کر رہا ہوں۔ مجھے بحمداللہ تعالیٰ اس جنگ میں سول ڈیفنس کے رضاکارا ور روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر تھوڑی بہت خدمت سرانجام دینے کا موقع ملا تھا۔ اس جنگ میں چونڈہ کے محاذپر بھارت کے سینکڑوں ٹینکوں کی یلغار کو روکنے کے لیے پاک فوج کے سپاہیوں کا بموں سمیت ٹینکوں کے سامنے لیٹ جانا اس وقت بچے بچے کی زبان پر تھا اور یہی کہا جاتا تھا کہ ان خودکش حملوں کی وجہ سے ہی سینکڑوں ٹینکوں کی یہ یلغار رک پائی تھی، ورنہ بھارتی فوجوں کے جی ٹی روڈ تک پہنچنے میں اور کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی تھی جسے کاٹنے کے لیے بھارتی فوج نے یہ یلغار کی تھی۔ اس وقت ایک واقعہ اور ہوا جس نے اس بات کو ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں مزید شہرت دی۔ وہ یہ کہ گوجرانوالہ میں بریلوی مکتب فکرکے بزرگ عالم دین مولانا الحاج ابوداؤد صادق نے اپنے خطبہ جمعہ میںیہ فرمادیا کہ سینے پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹنے والوں نے غلط کیا ہے اور ان کو شہید نہیں کہا جا سکتا۔ اس پر مولانا موصوف کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ شہرکے دوسرے علماے کرام نے ان کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ان قربانی دینے والے سپاہیوں کو شہید قرار دیا تھا۔
باقی رہی بات قرآن وحدیث کی تو ڈاکٹر صاحب سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ صحابہ کرام کے دو واقعات تاریخ کے ریکارڈ پرموجود ہیں جن کی تعبیر خودکش حملہ ہی سے کی جا سکتی ہے۔ ایک جنگ یمامہ کا واقعہ ہے کہ جب مسلمان فوجوں نے مسیلمہ کذاب کے قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا اور اندر گھسنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی توحضرت براء بن مالکؓ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا کہ وہ انہیں کسی صورت دیوار پر چڑھا دیں، وہ اندر کود کر دروازہ کھولنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہیں ساتھیوں نے دیوار پر کسی صورت چڑھا دیا۔ ان کے بھائی انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ براء بن مالک نے خود کو دشمنوں پر پھینک دیا اور لڑتے بھڑتے قلعہ کا دروازہ اندر سے کھولنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ اس معرکہ میں ان کے جسم پر ۸۰ سے زیادہ زخموں کے نشانات شمار کیے گئے۔ یہ اس دور کے حوالہ سے خود کش حملہ ہی تھا جس نے جنگ یمامہ میں مسلمانوں کی فتح کی راہ ہموار کی۔ اس واقعہ کی تفصیل ’’الاصابہ‘‘ اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں موجود ہے۔
دوسرا واقعہ امام ترمذی نے کتاب التفسیر میں بیان کیا ہے کہ رومیوں کے خلاف ایک جنگ میں ایک نوجوان جوش وجذبہ میں دشمن کی صفوں میں تن تنہا گھس گیا تو باقی لوگوں نے اس پر قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ کر کہ ’ولاتلقو ا بایدیکم الی التھلکۃ‘ (اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو) اسے خود کش حملے سے تعبیر کیا، مگر حضرت ابوایوب انصاریؓ نے، جو اس موقع پر موجود تھے، اس واقعہ پر یہ آیت پڑھنے والوں کو ٹوک دیا اور فرمایاکہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جو تم نے سمجھا ہے، بلکہ یہ آیت انصار مدینہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے خیبر کی جنگ کے بعد باہم یہ مشورہ کیا تھا کہ اب چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مالی تعاون کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے اللہ کی راہ میں خرچہ میں کمی کرکے اپنے باغات اور تجارت کی اصلاح کی طرف توجہ دیں۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جیسے پہلے خرچ کرتے تھے، اب بھی اسی طرح خرچ کرتے رہو اور دفاعی خرچوں میں کمی کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ جہاد کے لیے اخراجات میں کمی کرنے کی صورت میں تم کمزور ہو جاؤ گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں خود کش حملوں کی یہی عملی صورت ہو سکتی تھی جس کی دومثالیں پیش کی گئی ہیں، اس لیے میدان جنگ میں خود کش حملہ ہماری جنگی روایات کا بھی حصہ ہے اور اسی وجہ سے میں اپنے اس موقف کاپھر اعادہ کر رہا ہوں کہ ’’خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو میدان جنگ میں استعمال ہوتو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا‘‘۔
ڈاکٹر صاحب نے کچھ دیگر نکات بھی اٹھائے ہیں جن پر تبصرہ کا حق ہم سردست محفوظ رکھتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ بحران ۔ اسباب اور حل
مولانا محمد عیسٰی منصوری
۱۵ ستمبر ۲۰۰۸ء کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کا بدترین بحران سامنے آیا جب امریکہ کے دوسرے بڑے بینک لیہمن برادرز (Lehman Brothers) کا خسارہ ناقابل برداشت حدود کو پار کر گیا۔ نیویارک سٹاک ایکسچینج میں ایک شئیر کی قیمت 80 ڈالر سے گر کر 1.65 ڈالر پر آگئی، یعنی اس بینک کے سرمایہ کی مالیت 185 ارب ڈالر سے گر کر صرف 565 ارب ڈالر رہ گئی اور لیہمن برادرز کے 130 ملکوں میں پھیلے ہوئے 16000 ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑگئیں۔ اسی دن امریکہ کی بین الاقوامی شہرت کے حامل انشورنس کمپنی AIG (امریکن انٹرنیشنل گروپ) کریش کر گئی اور اس نے اپنی بقا کے لیے امریکن حکومت سے 85 ارب ڈالر کی رقم کا مطالبہ کر دیا۔ صورت حال اس قدر خطرناک ہوگئی کہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج ایک ہی رات میں 084 پوائنٹس سے گرا اور امریکی شیئر مارکیٹ 60 گھنٹوں میں 8 فی صد گر گئی۔ صرف ستمبر کے مہینے میں بینکوں کے ایک لاکھ انسٹھ ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں وال اسٹریٹ کے تیس ہزار ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یورپین ممالک سے لے کر مشرق بعید تک پورا سرمایہ دارانہ نظام لڑ کھڑا گیا۔ کمیونزم کے بعد کیپٹل ازم کا اقتصادی نظریہ ونظام ناکام ہوکر زمین بوس ہوتا نظر آیا۔ بش حکومت نے اپنے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے لیہمن برادرز اور AIG کو کنٹرول میں لے لیا۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی رات میں ڈیڑھ کھرب کے خسارے کو امریکن حکومت کے منظورکردہ پیکج کے 700 ارب ڈالر بچا نہیں سکتے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس بحران سے دنیا میں چھ، سات کھرب (ٹریلین) ڈالر ڈوب سکتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں انسان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو کر بھکاری بن سکتے ہیں۔ اس سے پہلے ۱۹۲۹ میں امریکہ میں اسی طرح کا اقتصادی بحران آچکا ہے جب سینکڑوں کی تعداد میں ا مریکن بینک دیوالیہ ہوگئے تھے، امریکی سٹاک مارکیٹ پوری طرح تباہ ہو کر بکھر گئی تھی اور ڈالر بے وقعت ہو گیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ نے اس وقت بھی امریکی عوام کی ٹیکس کی رقم سے سرمایہ کاری کر کے سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت کو زمین بوس ہونے سے بچالیا تھا۔ آج ٹھیک ۷۸ سال بعدیہ عمارت پھر دھڑام سے زمین پر آرہی۔
موجودہ اقتصادی بحران کے اسباب
امریکہ کے اس بینکنگ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بینکوں نے سود کی لالچ میں لوگوں کو آسایش وخواہشات کی راہ پر ڈال دیا کہ آؤ، ہم سے قرضہ لے کر اپنی خواہشیں پوری کرواور ہمیں سود دو۔ مثلاً ایک امریکی شخص بینک سے دو لاکھ ڈالر قرضہ لے کر مکان خریدتا ہے۔ دوسال بعد اسے بینک کا لیٹر ملتا ہے کہ اب تمہارے مکان کی قیمت (ویلیو) اڑھائی لاکھ ہوگئی ہے، اس لیے ہم سے مزید 50 ہزار ڈالر قرضہ لے کر نئی کار، نیا ٹی وی، نیا فرنیچر خر ید سکتے ہو، چنانچہ وہ شخص بینک سے مزید ۵۰ ہزار ڈالر قرض اٹھا کر نئی چیزیں خرید لیتا ہے۔ غرض بینکوں نے سود کی حرص و لالچ میں ایسے لوگوں کو قرضہ دیا جن میں قرضہ لوٹانے کی طاقت نہیں تھی۔ اسے موجودہ بینکنگ کی اصطلاح میں N.I.N.J.A LAONSکہتے ہیں۔ یعنی NO INCOME NO JOB, ONLY APPLICATION( نہ آمدنی ،نہ کام ،صرف درخواست کرکے قرضہ اٹھائے لوگ)۔ جب بینکوں سے قرضہ لینے والے لوگوں کی بھاری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگئی جن کے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے نہ آمدنی تھی نہ کام اور بینکوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے اکثر قرضے وصول نہیں ہوں گے توانہوں نے امریکی حکومت کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھا دیے کہ اگرتم نے مزید سرمایہ فراہم نہیں کیا توہمارے پاس مارکیٹ چھوڑ کر بھاگنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ امریکی حکومت خوب جانتی ہے کہ بینکوں یا زیادہ صحیح الفاظ میں بینکاروں (سرمایہ داروں) کی راہ فرار سے ملک میں ایسی ہاہا کار مچے گی کہ چند دن حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا، اس لیے صدر بش نے بینکوں کو بچانے کے لیے 700 ارب ڈالر کا پیکج کانگریس کے سامنے پیش کر دیا۔ پہلے مرحلے میں کانگریس نے اسے نامنظور کردیا۔ نامنظور کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق خود صدر بش کی حکمران ری پبلک پارٹی سے تھا۔ یہی صحیح فیصلہ تھا کہ ۷۰۰ ارب ڈالر کی خطیر رقم سے بینکاروں کی جیبیں بھرنے کی بجائے اس سرمایہ سے نئی صنعتیں اور انڈسٹریاں لگا کر عوام کو روز گار فراہم کیا جاتا (کیوں کہ یہ 700 ارب ڈالر عوام ہی کے پیسے تھے) جوعوام کے ٹیکسوں سے وصول کیے جائیں گے) اس بحران کی دوسری اہم وجہ صدر بش کی احمقانہ جنگی پالیسیاں ہیں جو یہودی اور اسرائیل بنکاروں کاآلہ کار بن کر دنیا بھر میں روا رکھی گئی ہیں۔ صدر بش کے جنگی جنون نے امریکہ کاجنگی خسارہ ماہانہ 70 ارب ڈالر تک پہنچا دیایعنی فی منٹ 112500 ڈالر۔ ان احمقانہ جنگوں نے امریکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ صدر بش نے بینکوں کے لیے جتنی رقم (700ارب ڈالر) کا پیکیج منظور کیا ہے، تقریباً اتنی ہی عوام کے ٹیکسوں کی رقم وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضائع کرچکے ہیں۔ اب پھر صدر بش نے عوام کے ٹیکس کے 700 ارب ڈالر ان سرمایہ داروں (بنکاروں) کی جیبوں میں ڈال دیے۔ اس 700ارب ڈالر کے پیکیج کے منظور ہوتے ہی امریکی بنکاروں نے ایسے جشن منائے کہ ایک ہی رات لاکھوں ڈالر شراب، شباب پر اڑا دیے اور اپنی تنخواہیں مزید بڑھا لیں۔ پہلے ہی ان کی تنخواہیں کئی کئی ملین ڈالر ہیں۔ یہ ہے مختصر کہانی سرمایہ دارانہ نظام کے حالیہ بحران کی۔
مغربی ملکوں کی اقتصادی دہشت گردی
یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے غیر سودی یا اسلامی بینک اس بحران سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ اگرچہ میرے نزدیک موجودہ اسلامی بینک سو فیصد اسلامی نہیں، البتہ اسلام کے مبارک اقتصادی نظام کی طرف ایک کوشش ضرور کہے جا سکتے ہیں۔ اس عالمگیریت کے دور میں جب دنیا سکڑ کر ایک گاؤں بن گئی ہے،عالمی اقتصادی نظام پر مغربی سرمایہ داروں کا غلبہ وتسلط قائم ہے۔ اس منحوس نظام سے پوری طرح آزاد ہوکر مکمل طورپر اسلامی معاشی نظام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پوری اسلامی دنیا ہمت کر کے ایک ساتھ اس مبارک غیر سودی نظام کو اپنانے کا فیصلہ نہ کرے۔ اس بحران سے مغرب کی سرمایہ دارانہ دہشت گردی اور مکاری پھر طشت ازبام ہوگئی۔ وہ اس طرح کہ ایک طرف CAT معاہدہ اور قومی مارکیٹ اکانومی کے مغرب نواز نظام کے ذریعہ مغرب کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہر ملک میں گھس کر اپنا جال بچھانے، نفع کمانے، سرمایہ لوٹنے اور قوموں اور تہذیبوں کو نچوڑ کر کنگال بنانے کی پوری آزادی ہے۔ اب جب کہ مغرب کی غلط پالیسیوں کی بدولت دنیا اقتصادی بحران کی لپیٹ میں آئی تو ہم نے دیکھا امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت ہر ملک صرف اپنے ملک وقوم کو اس بحران سے بچانے کی فکر کر رہا ہے۔ غریب لوگوں اور ملکوں کی جو تباہی مغرب کی غلط پالیسیوں کے سبب ہوئی ،ہے ان کو تباہی سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا بلکہ مغرب نے اس بحران میں سب سے پہلے عربوں اور مشرقی ممالک کے سرمایہ پر ہاتھ صاف کیا جنہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام پر اعتماد کرکے گزشتہ نصف صدی سے اپنی تمام جمع پونجی امریکہ ویورپ کے بینکوں میں رکھ چھوڑی تھی۔ بہرحال دنیا کے اقتصادی ماہرین اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ امریکی صدربش نے 700 ارب ڈالر کا پیکیج منظور کر کے اپنے (سرمایہ دارانہ) نظام کو بچانے کی جو کوشش کی، اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کو ماکے مریض کی مشین کے ذریعے سانسیں جاری رکھی جائیں۔ یہ محض وقتی حیلہ ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ کر بکھرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ کاش ہم مسلمان اس قابل ہوتے کہ دنیا کو بتا سکتے کہ انسانیت کو تباہی سے بچانے کا نسخہ ہمارے پاس ہے۔ اسلامی نظام ( اقتصادی) پہلے بھی تقریباً ایک ہزارسال تک بین الاقوامی طور پر دنیا کے بڑے حصہ (ایشیا، افریقہ، یورپ) پر نہایت کامیابی سے چلا ہے اور اس طویل عرصہ میں سے نہ اس طرح کا کوئی معاشی بحران آیا نہ اس طرح کی کمرتوڑ مہنگائی۔ آئیے، آج کی مجلس میں ہم دونوں اقتصادی نظاموں (اسلامی ومغربی) کا موازنہ و تجزیہ کریں۔
اسلامی اقتصادی نظام کی بنیادیں
جس طرح انسانی حیات کے لیے اس کی رگوں میں خون کی گردش ضروری ہے، اسی طرح نظام کائنات کی حیات مال کی صحیح گردش پر موقو ف ہے جو تجارت اور اقتصادی نظام کے ذریعے وجود میں آتی ہے ،او رجس طرح خون کا جسم کے کسی حصے میں جمع ہوجانا اور دوسرے حصو ں تک نہ پہنچ پانا جسم کی موت ہے، اسی طرح سرمایہ اور دولت کا چندہاتھوں میں جمع ہوکر رہ جانا نظام کائنات کی تباہی ہے۔ اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیاد قرآن کی زبان میں کی لا تکون دولۃ بین الاغنیاء منکم ہے ، تاکہ دولت وسرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز (جمع) نہ ہوجائے۔ اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیادزکوۃ وصدقات، عشر وخراج پر ہے یعنی زراعت، باغات اور زمین کی پیداوار میں غریب عوام کا حق۔ اگر زمین بارش سے سیراب ہو رہی ہوتو دسواں حصہ اور اگر کسان نے خود مشقت کرکے زمین کوپانی دیا تو بیسواں حصہ۔ اسی طرح اسلام نے وراثت کی تقسیم کرکے ایسے جامع اور پرحکمت احکامات دیے کہ اگر ساری دنیا کی دولت بھی کوئی فرد اکٹھی کرلے تو چند پشتوں میں وہ ساری دولت وراثت کے احکامات کے ذریعے معاشرہ میں پھیل جائے گی۔ غرض ہر وہ چیز جس سے مال وسرمایہ چندہاتھوں میں مرتکز ہو جاتا ہے، اسے اسلام نے ممنوع وحرام قرار دیا جیسے سود، ذخیرہ اندوزی، جوا وغیرہ وغیرہ۔ اسلام کے پورے اقتصادی نظام کا مقصد تو اہل ثروت سے مال لے کر بے وسائل اور غربا تک پہنچاناہے۔ اسلام انسانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ یہی ہمدردی، اخوت، تعاون، مواساۃ کا معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن کا اقتصادی نظریہ افزایش دولت produltionکے بجائے تقسیم دولت Distributionکا نظریہ ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامی معاشی نظام کو دوسرے معاشی نظاموں سے ممتاز کرتاہے۔ ، دنیا کے تقریباً تمام ہی معاشی نظام افلاطون کے یوٹو پیائی نظام سے لے کر موجودہ دور کے مارکسی نظام معیشت یامغرب کے سرمایہ دارانہ نظام تک سب کا مقصد زیادہ سے زیادہ حصول دولت اور ارتکاز سرمایہ ہ۔ یہ سب معاشی نظام حصول دولت کے لیے معاشرے کو تباہ کرنے والے اور نقصان پہنچانے والے غلط ذرائع کے اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں دیکھتے۔ جب دنیا میں کوئی قرآن کا پیش کردہ اقتصادی نظام قائم ہوا تو چند سالوں کے اندر ایسی خوش حالی کا دور دورہ ہو اکہ مملکت اسلامی کے کسی شہر میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔غورکیاجائے تو اسلام کی اصل بنیاد دو ہی چیزیں ہیں۔ اولاْ خدائے واحد کی عبادت کا قیام ا ور دوسرا انسانیت کو سود کی لعنت سے نجات دلانا۔ سودا تنی بڑی لعنت وبرائی ہے کہ اسلام نے سود کے مسئلہ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نجران کے عیسائیوں سے معاہدہ کیا تو اس میں صراحت کی گئی تھی کہ سودی کاروبار کی صورت میں یہ معاہدہ کالعدم سمجھا جائے گا۔ یعنی اگر کوئی کسی مسلمان کو قتل کردے یا مسلمانوں کے خلاف سازش کرے، جاسوسی کرے تو سزاے موت صرف اس فردکو ملے گی، من حیث القوم انہیں کچھ نہیں کہاجائے گا۔ مگر سودی لین دین پر پوری قوم کے ساتھ کیاگیا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح خلفاے راشدین کے عہد زریں میں دنیا بھر کی اقوام مذاہب وتہذیبوں سے جو معاہدے ہوئے، ان تمام میں واضح طور یہ شق تھی کہ اگر تم نے سودی لین دین کیا تو ہم سے معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ سواس درجہ کی برائی، شراور لعنت ہے جو کسی حالت میں برداشت نہیں کی جاسکتی۔ سود واحد جرم ہے جس کو قرآن نے اللہ اور رسول کے ساتھ کھلا اعلان جنگ کہا ہے۔ افسوس آج مسلم ممالک کے ہر چور اہے اور ہر سڑک پر اللہ اور رسول کے ساتھ اعلان جنگ قبول ومنظور کرنے کا اظہار سودی بینکوں کی شکل میں کر رکھاہے۔ یہ بات پورے یقین ووثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر آج بھی مسلمان قرآن کے اصولوں پر صرف مالیاتی نظام لے آئیں تو مغرب کی بالادستی وغلبہ سے نجات پاجائیں۔
سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام کی خرابیاں
اسلام کے اقتصادی نظام کے مقابلے میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو بیسیویں صدی کے اوائل سے دنیا بھرمیں غالب ومروج ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادسود، ذخیرہ اندوزی اورجوا(سٹہ) ہے۔ اس نظام کے ثمرات ونتائج یہ ہیں کہ دنیا بھر میں امیر زیادہ امیر اور غریب زیادہ غریب ہوتا جا رہا ہے اور پوری دنیا کا سرمایہ و وسائل چند مٹھی بھر ہاتھوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کا۸۰ فی صد سے زائد سرمایہ ۵۰۰ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملکیت بن چکا ہے۔ تقریباً دنیا کے ہر ملک میں سرمایہ ووسائل چند لوگوں کے ہاتھ میں سمٹ گئے ہیں۔ مثلاً بھارت کی آبادی ایک ارب کے قریب ہے۔ وہاں ۸۰ کروڑ انسانوں کے پاس جتنا سرمایہ ہے، اتنا بھارت کے چار مشہو ر سرمایہ داروں کے پاس ہے۔ پاکستان کے ۱۴کروڑ لوگوں کے پاس جتنا سرمایہ ہے، اس کا بڑا حصہ چند لوگوں کے پاس ہے۔ دنیا میں تیزی سے دوطبقات وجود میںآئے ہیں۔ (۱)انتہائی امیر (۲) انتہائی غریب۔ متوسطہ طبقہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مغرب کی ذہنی غلامی میں پوری دنیا مغرب کے قرون وسطیٰ کے تاریک دورکی طرف بڑھ رہی ہے، جب یورپ میں لارڈ اور جاگیر دار یا ان کے غلام تھے، حتیٰ کہ دنیا بھر کی حکومتیں بشمول امریکہ ویورپ کے مٹھی بھر سرمایہ داروں کی غلام بن چکی ہیں۔ آج جمہوریت کی تعریف یہ نہیں رہی کہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے ، اور عوام کے مفاد کے لیے بلکہ آج جمہوریت کا مطلب ہے سرمایہ داروں کی حکومت، سرمایہ داروں کے ایجنٹوں کے ذریعے، سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے۔ اس غیر فطری اور انسان دشمن اقتصادی نظام نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی ابتدا کیسے ہوئی؟
مغرب کے اس سرمایہ دارانہ نظام کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ جو لوگ سونے چاندی کاکاروبار کرتے تھے یعنی سنار، وہ اپنے سونے کی حفاظت کے لیے مضبوط ومستحکم مکان وتجوریاں بنواتے تھے۔ عام لوگ بھی اپنی بچت کا سونا حفاظت کے لیے ان کے پاس جمع کرتے۔ یہ سنار حفاظت کرنے کی مخصوص رقم لیت، اور لوگوں کو رسیدلکھ دیتے کہ اس شخص کا اتنا سونا ہمارے پاس جمع ہے۔ اب وہ شخص اس رسید سے مکان ،زمین یا کوئی چیز خریدتا یا اپنا قرضہ ادا کرتا۔ اس طرح چالاک سناروں نے اندازہ لگایاکہ لوگ جمع شدہ سونے کا دسواں حصہ خرچ کرتے ہیں اور نو حصے ان کے پاس جمع رکھتے ہیں۔ انھوں نے حرص،لالچ اور بددیانتی سے لوگوں کے امانت رکھے ہوئے سونے کے بدلے نوالگ الگ رسیدیں جاری کرنی شروع کردیں، یعنی نہ سناروں کے پاس سونا موجود نہ لوٹانے کی طاقت، محض لوگوں کے اعتبار پر رسیدوں کا کاروبار چلتا رہا اور یہودی سناروں کا سرمایہ بڑھتا رہا۔ جب یورپ میں موجودہ بینکنگ کانظام شروع ہوا تو چونکہ سارا سرمایہ ان کی تجوریوں میں تھا، اس لیے بینکوں پر خود بخود ان کا قبضہ ہوگیا۔ عوام کے پا س جو تھوڑی بہت بچت تھی، اس پر قبضہ کرنے کے لیے ان چالاک سناروں نے لوگوں کودوسرا جھانسا یہ دیا کہ اگر تم خود کاروبار کروگے تو سرمایہ ڈوب بھی سکتاہے، اس لیے نقصان کے غم میں گھلنے کے بجائے اپنی رقم ہمیں دے دو۔ ہم تمہیں ہرماہ ہر سال ایک مقرر ( FIXED) منافع دیتے جائیں گے۔ اس طرح عام لوگوں کا بچا ہوا روپیہ بھی ان کے قبضے میںآگیا۔ اب یہ سنار، بینکار بن کر پورے یورپ کے آقا ومالک بن بیٹھے۔ ان سنارو ں کی بھاری اکثریت نسلاْ یہودی تھی۔ یہودیوں کی سودخوری کی تاریخ ضرب المثل رہی ہے، جس پر تمام آسمانی کتب شاہد ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے سونے کے بچھڑے کی پوجا اپنے نبی حضرت موسیٰ کی موجودگی ہی میں شروع کر دی تھی۔ ظہور اسلام کے وقت مدینہ اورعرب کے تمام قبائل یہودیوں کے سود کے جال میں جکڑے ہوئے تھے اور تمام تجارت وبازاروں پران کا قبضہ تھا۔ یاد رہے کہ سود خوری،خود غرضی، ظلم،استحصال اور لوٹ کھسوٹ کاذہن پیداکرتی ہے۔ اکثر دیکھاگیاہے کہ سودخود کی حرص ولالچ اورحرام خوری کی عادت کی بدولت قمار بازی (سٹہ) کی لت پڑ رہی ہے۔ آج دنیا کے سٹاک ایکس چینجز کی تقریباً ستر فی صد رولنگ ( سرمایہ کی گردش ) سٹہ یعنی جوئے پر ہو رہی ہے۔ سود کینہ وحسد پیداکرتاہے جس کے نتیجہ میں فساد اور جنگیں چھڑتی ہیں۔ سود خور جنگیں بھڑکا کر عوام اورقیدیوں کو غلام بناتے ہیں ،مثلاً پہلی جنگ عظیم کے وقت برطانیہ پر اور دوسری جنگ عظیم تک امریکہ پرکوئی قرضہ نہیں تھا۔ ان یہودی بینکاروں نے جنگ کی آگ بھڑکا کر مختلف حیلوں سے برطانیہ اور امریکہ بلکہ پورے یورپ کو جنگ میں الجھا کراپنامقروض وتابعدار بنا لیا۔ ان ہی خونخوار بینکاروں نے موجودہ بینکنگ کا بحران پیداکر کے ایک بار پھرعوام کے ٹیکسوں سے 700 ار ب ڈالر ہڑپ کر لیے۔ یہ مکار بینکار پوری بات دنیا کو کبھی نہیں بتاتے۔ مثلاً یہ تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان پر 42 ارب ڈالر قرضہ ہے، برطانیہ وفرانس پر ہزاروں ارب ڈالر اور امریکہ پر تقریباً دس کھرب (ٹریلین) ڈالر مگریہ حقیقت د نیاکے سامنے کبھی نہیں آئی کہ یہ قرض کن درندوں کا ہے۔ ان بنکاروں کی بھیانک شکل کبھی سامنے نہیں لائی جائے گی۔ واشنگٹن ڈی سی میں روڈ کی ایک طرف ورلڈ بینک کا دفتر ہے اور دوسری طرف IMF کا۔ ایک دنیا بھر کے ملکوں کو قرضہ دیتا ہے، دوسرا وصول کرتاہے۔ ان دونوں کے اصل مالکوں کانام زبان پر لانے کی جرات نہ صدر بش میں ہے نہ برطانیہ کے گورڈن براؤن میں۔ ان سب حکمرانوں کی حیثیت یہودی بینکار وں کے زر خرید کنیز وباندی سے زیادہ نہیں، شایداس لیے کہ ایک یہودی سکالر سموئیل ہنٹنگٹن نے کلیش آف سولائزیشن کا نظریہ پیش کیا تاکہ مغربی تہذیب کے خاتمہ کو تہذیبوں کا تصادم بناکرمسلمانوں کے سرمنڈھ دے اور تباہی پھیلانے والے درندوں کو صاف بچالے جائے۔ ہماری بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے جتنے معاشیات واقتصادیات کے ماہرین ہیں، وہ ذہنی طور پر اس قد رغلام ہیں کہ مغرب نے انہیں معاشیات کا جو سبق رٹا دیا، اس سے آگے سوچ نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم ممالک کے وزرائے خزانہ یامشیرخزانہ جب اپنے ملکوں کی اقتصادی منصوبہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنے ملکوں سے زیادہ مغرب کامفاد ہوتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم ہوں یا آج کے حکومتی ذمہ داران، یہ سب لوگ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ایجنٹ ہیں۔ ان کی اصل ڈیوٹی ان اداروں کے بروقت سودکی ادائیگی کے لیے کام کرناہے۔ اربوں میں سود لیتے ہیں اورکھربوں میں سود اداکرتے ہیں۔ یہ سب لوگ اسی کی تنخواہ پاتے ہیں۔ بالآخر ان لوگوں نے دوبارہ پاکستان کو IMFکے جال میں پھنساہی دیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کا انجام مکمل تباہی ہے
آج سود کے منحوس نظام کی بدولت دنیا کی ۹۰فی صد عوام کا جینا دو بھر ہو چکا ہے۔ سود اور مہنگائی لازم وملزوم ہے۔ جب سے اس منحوس نظام نے دنیا پر اپنے خونی پنجے گاڑے ہیں، روز مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی بڑھانے کے جنون کا حال یہ ہے کہ امریکہ ہرسال اپنے کسانوں کو 12ارب ڈالر اس لیے دیتاہے کہ وہ مہنگائی بڑھانے کے لیے زرعی پیدا وار میں کمی کریں۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی فالتو رقم امریکہ کے پاس بھی نہیں ہوتی چنانچہ انہیں خونخوار بینکاروں سے سود پر قرض لے کر رقم کسانوں کو دی جاتی ہے۔ یہ شقاوت وبدبختی کی نہایت عبرت ناک مثال ہے۔ قرآن نے تقریباً چودسوسال پہلے یہ حقیقت انسانوں کے سامنے واشگاف طور پر بیان کی تھی اور پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ سود کا مال کتنا ہی بڑھ جائے، اس کا انجام افلاس وتباہی ہے۔ معاشیات کی پوری اس پر شاہد ہے کہ سودی معیشت جب کساد بازاری کا شکار ہوتی ہے تو انسانیت ایسے ہولناک انجام سے دوچا ر ہوتی ہے کہ ایک لمحہ میں کروڑوں انسانوں کی جمع پونجی ڈوب جاتی ہے۔ آج دنیا کا کوئی ماہر معاشیات ایسا نہیں جس نے معاشر ہ پر سودکے مہلک ومنفی اثرات کو تسلیم نہ کیاہو اور موجودہ دور کے تمام ماہرین معاشیات واقتصادیات خواہ وہ امریکہ ویورپ کے ہوں یا روس وجاپان کے، اس بات پرمتفق ہیں کہ سودی نظام بہت جلد پوری دنیاکو تباہ کردے گا۔ بہت جلد دنیابھر کے تمام سرمایہ ووسائل کے مالک مٹھی بھر بنکار بن جائیں گے تو اس دنیاکے سات ارب انسانوں کے اندرجو رد عمل ہوگا، ایسی بھیانک تباہی آئے گی، کروڑوں اربوں کاخون بہے گا، یہ ماہرین اقتصادیات اس کے تصور ہی سے کانپ اٹھتے ہیں۔
تباہی سے بچنے کا واحد راستہ
موجودہ دور کے تمام ماہرین معاشیات اس نکتہ پر متفق ہیں کہ اقتصادی تباہی سے دنیا کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سود کو ختم کیا جائے۔ سودکی شرح کو گھٹاتے گھٹاتے صفر کی حد پر لایا جائے یا سود کی شرح صرف اتنی رکھی جائے کہ نظام چلانے کے اخراجات نکل سکیں، تقریباً ایک ڈیڑھ فی صد۔ چنانچہ گزشتہ ۸ سال سے یورپی اقتصادی کونسل نے شرح سود ساڑھے تین فی صد برقرار رکھی ہے اوریہاں کے ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ اسے تدریجاً کم کرتے کرتے صفر یاایک فیصد کر دیاجائے مگر یہاں کے خونخوار بنکار جن کی بھاری اکثریت صہونیوں پر مشتمل ہے اورجوسودی نظام کی بدولت پوری دنیا کے آقا بنے ہوئے ہیں ،وہ اس انسانیت دشمن منحوس نظام کوجاری رکھناچاہتے ہیں کیونکہ سود کی بدولت ان کا ایک ایک فرد اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ درجنوں ملکوں سے زیادہ دولت سرمایہ ایک ایک پاس جمع ہوگئی ہے ، جیسے جورج سوروس Jeorge Sorosاور روشیلڈ Rothchild وغیرہ۔ایسا ایک شخص برطانیہ اور فرانس جیسی مضبوط معیشت کو بھی ایک رات میں تباہ کر سکتا ہے۔ جورج سوروس نے ۸۰ کی دہائی میں مشرق بعید (انڈونیشیا، ملائیشیا، ہانگ کانگ) وغیرہ کی معیشت ایک رات میں تباہ کی تھی۔
مغرب کے سیاسی ومعاشی نظاموں کی ناکامی
مغرب آج تک اپنے جس سیاسی نظام (ڈیموکریسی ) اور معاشی نظام(فری مارکیٹ اکانومی) پر فخر کرتا تھا اور ساری دنیا کو اپنی پیروی کی دعوت دیتا تھا ،موجودہ بحران نے اس پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ برطانیہ کے مشہور اخبار ڈیلی گارڈین نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ آج تک کہا جاتاتھاکہ جمہوریت وفری مارکیٹ توام (جڑواں بہنیں) ہیں لیکن اس بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ آزاد معیشت جمہوریت کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ویورپ کی حکومتیں بنکوں کو نیشلائز کر رہی ہیں حتیٰ کہ مغربی میڈیا صدر بش کو کامر یڈبش اور USAکو USSAR یعنی یونائیٹڈ سوشلسٹ سٹیٹ ری پبلک آف امریکہ کہہ رہے ہیں۔ مغرب کو اپنا حشر روس کی طرح نظر آنے لگا ہے۔ کہاوت ہے کہ کند جنس باہم جنس پرواز۔ جب حرام خوری کی لت پڑجائے تو حلال میں مزہ نہیں آتا، اس لیے مغرب قرآن کی پیش کردہ یقینی فلاح وکامیابی اورانسانی بہبود کے معاشی نظام کے بجائے دوبارہ سوشلسٹ معیشت کی گلی سڑی لاش کی طرف متوجہ ہو رہا ہے اور بنکوں کونیشلائز کر رہا ہے۔ یہ تجربہ ایشیا میں پوری طرح ناکام ہو چکاہے۔
موجودہ دور کے تمام ماہرین اقتصادیات صدیوں کی ریسرچ وتحقیقات اور تجربات کے بعد جس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ اقتصادی تباہی کا واحد سبب سودی نظام ہے، قرآن نے اس حقیقت کو ۱۴۰۰سال پہلے انسانیت کے سامنے آشکارا کردیا تھا اور انسانیت کی بہبود کے لیے پیغمبر اسلام نے ایسا معاشی نظام قائم کر دیا تھا جس سے انسانیت تقریباً ہزار سال تک مستفید ہوتی رہی۔ مغرب کے متعدد بینک قرآن کے اس غیر سودی معاشی نظام کو اپنا رہے ہیں اور دن بدن غیر سودی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیااب بھی اس کا وقت نہیں آیا کہ امت مسلمہ اور مسلم ممالک قرآن کے معاشی نظام پرلبیک کہیں اور انسانیت کی رہنمائی کریں؟ حقیقت بالآخر خود کومنوا کر رہتی ہے۔ آج نہیں تو کل دنیاکو قرآن کے پیش کردہ معاشی نظام کی طرف آنا ہی ہوگا، کیوں کہ اس کے سوا تباہی سے بچنے کاکوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔
قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۳)
پروفیسر میاں انعام الرحمن
وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)
’’اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘‘
اس آیت کی تفہیم سے قبل ایک مقدمہ کا سمجھنا ضروری ہے کہ: النساء آیت ۹۲ میں ، مومن کو خطا سے قتل کرنے کا ذکر ہے ، البقرۃ آیت ۱۷۸ کے آغاز میں (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی) کے الفاظ سے مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے قصاص کا حکم دے دیا گیا ہے ، اس سے بھی بڑھ کر (الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی) کے الفاظ سے مزید وضاحت کر دی گئی ہے ، اسی طرح المائدۃ آیت ۴۵ کے آغاز میں ہی( النفس بالنفس) کا عمومی بیان، مومن کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔النساء آیت ۹۲ میں قتلِ خطا کی تصریح (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً) سے یہ تو خودبخود ظاہر ہو جاتا ہے کہ دیگر مقامات پر قتل کا بیان بہ اعتبارِ نوعیت قتلِ خطا سے الگ قسم کا حامل ہے ، اس لیے کم از کم، قتلِ خطا ہرگز نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قتلِ خطا اور اس کے مقابل قتل کی نوع کا باقاعدہ سزاؤں کے ساتھ ذکر ہو چکا ہے تو پھر یہاں(النساء آیت ۹۳ میں )الگ سے مومن کے قتل کا تذکرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا اس آیت کے بغیر شارع کی منشا پوری نہیں ہو رہی؟
معلوم ہوتا ہے کہ شارع نے قتل خطا کے مقابل قتل کی نوع کی درجہ بندی کی ہے ۔ البقرۃ آیت ۱۷۸ اور ا لمائدۃ آیت۴۵ میں اگر مقتول کو مومن تصور کر لیا جائے تو قرینہ بتاتا ہے کہ قتل بشری کم زوری کی وجہ سے ہوا ہے یا کسی نہ کسی حوالے سے مقتول خود بھی قتل کی وجہ بنا ہے ، اسی لیے وہاں مقتول کے مومن ہوتے ہوئے بھی قاتل کے لیے قدرے نرمی دکھائی گئی ہے اور مقتول کے ورثا کو قصاص لینے کے بجائے خون بہا لینے(البقرۃ) یا مکمل معاف کرنے(المائدۃ) کی ترغیب دی گئی ہے۔ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کو مومن یا غیر مومن نہیں کہا گیا ، البتہ مظلوم ضرور کہا گیا ہے اور ورثا کو خون بہا لینے یا معاف کرنے کی کوئی ترغیب دینے کے بجائے اسراف فی القتل سے منع کیا گیا ہے۔ اگر قتلِ خطا کے مقابل ، قتل کی ان انواع کو جانچا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ البقرۃ اور المائدۃ میں بیان کیا گیا قتل ’’جواز کے تحت ‘‘ قتل کے زمرے میں آتا ہے اور بنی اسرائیل میں بیان کیا گیا قتل ، بدیہی طور پر مظلومانہ قتل یا ظالمانہ قتل کا نام پا سکتا ہے ۔ ان تینوں مقامات پر ’’ خطا یا عمد ‘‘ کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کے مظلوم ہونے کی وجہ سے ، اسے قتلِ عمد میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن البقرۃ آیت ۱۷۸ اور المائدۃ ۴۵ میں ایسی تخصیص کافی مشکل ہے کہ قتل کی نوعیت کے حوالے سے وہاں کوئی لفظ نہیں ملتا ۔ البتہ سزاؤں کو مدِ نظر رکھ کر یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ البقرۃ میں بیان کیے گئے قتل میں ، عمد کا شائبہ موجود ہے ، جبکہ المائدۃ میں خطا کا احتما ل پایا جاتا ہے ۔ اس لیے ہر دو مقامات پر اصول کی سطح پر قصاص کو قائم رکھتے ہوئے ، بالترتیب ، معافی کی کچھ گنجایش نکالی گئی ہے ، اور مکمل معاف کیا گیا ہے ۔
بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں قاتل کو سزا دینے کے لیے مقتول کے ولی کی (ایک لحاظ سے ) قانونی پوزیشن (ًفَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے، لیکن النساء آیت ۹۳ میں مقتول مومن کے ولی کی قانونی پوزیشن کی تصریح کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، بلکہ مزید غور سے دیکھا جائے تو ولی ہی کا بیان موجود نہیں، قانونی پوزیشن کی صراحت تو خیر اگلی بات تھی ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اندازِ بیان سے شارع کی منشا کیا ہے؟ ( خیال رہے کہ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ) کے الفاظ اور المائدۃ آیت ۴۵ میں (فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ) کے الفاظ کسی فریق ثانی یا ولی کی موجودگی پر دلالت کر رہے ہیں ) جبکہ النساء آیت ۹۳ میں فریق ثانی وہ مومن ہے جس کو عمداََ قتل کیا جا چکا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقتول مومن کا قائم مقام آخر کون ہو گا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ مقتول مومن کے قائم مقام کو تلاش کرنے سے ہی ، اس آیت میں کسی فریق ثانی یا ولی کی عدم موجودگی کے پیچھے پوشیدہ شارع کی منشا و حکمت سامنے آ سکتی ہے ۔
مقتول مومن کے قائم مقام کی تلاش میں بنی اسرائیل آیت ۳۳ اور النساء آیت ۹۳ کا تقابلی مطالعہ کافی معاونت کر سکتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں (وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً) کے بیان سے ، سورۃ النساء آیت ۹۳ میں (وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً) کے ذکر کی بظاہر کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی ، کہ مقتول مظلوم ، مومن بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کی’’ مظلومیت کی نوعیت ‘‘بیان نہیں کی گئی ۔ چونکہ مقتول مظلوم ، غیر مومن بھی ہو سکتا ہے ، اس لیے قرینہ بتاتا ہے کہ مظلومیت ، نوعیت کے اعتبار سے دنیاوی پہلو کی حامل ہے ،مثلاََ سماج میں طبقاتی کھینچا تانی کے عمل میں کوئی شخص مظلومانہ قتل ہو سکتا ہے یا کارا کاری جیسی کسی قبیح رسم کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔اسی لیے شارع نے ایک طرف (بنی اسرائیل آیت ۳۳کے تناظر میں ) النساء آیت ۹۳ میں ’’ مومن ‘‘ پر فوکس کیا ہے اوردوسری طرف (البقرۃ آیت ۱۷۸ کے تناظر میں ) ’’ عمد ‘‘ پر توجہ مرکوز رکھی ہے کہ کسی بھی قسم کے جواز کے بغیر ، جانتے بوجھتے مومن کو عمداََ قتل کرنا ، اللہ کے غضب اللہ کی لعنت اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کے عذابِ عظیم کو دعوت دینے والی بات ہے ۔ اس تقابلی مطالعہ سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر کسی شخص کا طبقاتی کھینچا تانی وغیرہ کے عمل میں ، مظلومانہ قتل ہو جائے اور وہ شخص مومن بھی ہو تو ، اس کے قاتل کے جرم کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے ، غالباََ اسی سنگینی کو باقاعدہ ظاہر کرنے کے لیے ہی، بنی اسرائیل آیت ۳۳ کے برعکس مقتول (اور اس کے ولی ) کے بجائے زیرِ نظر آیت میں قاتل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے (فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً) جیسی سخت وعید بیان کی گئی ہے ۔اس وعید میں یہ معنویت بھی مستور ہے کہ چونکہ مومن قرآن کے نظامِ اقدار کا متشکل روپ یا تجسیم ہے ،اس لیے اسے عمداََ قتل کرنا ایسے ہی ہے جیسے قرآن کو حق جانتے ہوئے نہ صرف جھٹلا یا جائے بلکہ اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی مذموم کوشش بھی کی جائے ۔لہذا ، اس آیت سے یہ معانی اخذ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مومن کو بلا جوازعمداََ قتل کرنا درحقیقت قرآنی اقدار پر مبنی ہیتِ اجتماعی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس لیے ایسے مقتول مومن کا قائم مقام یا ولی صرف اور صرف ہیتِ اجتماعی یا حاکم ہی ہو سکتا ہے ، کوئی دوسرا نہیں ۔
اب ذرا، النساء آیت ۹۳ کے اس حصے (فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً) میں سے (فَجَزَآؤُہُ) پر غور کیجیے اور دیگر قرآنی مقامات سے اس کا موازنہ کیجیے، مثلاً البقرۃ آیت ۱۷۸ کے اس حصے (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ) میں سے (فَمَنْ عُفِیَ) پرتدبر کیجیے ، اور المائدۃ آیت ۴۵ کے اس حصے (فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ) میں سے (فَمَن تَصَدَّقَ) پرغور و فکر کیجیے ، اور بنی اسرائیل آیت ۳۳ کے اس حصے (وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً) میں سے (فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) کا تجزیہ کیجیے ۔ انتہائی قابلِ غور مقام ہے کہ النساء آیت ۹۳ میں فقط (فَجَزَآؤُہُ) کا بیان ہے ، جبکہ دیگر مقامات پر (فَمَنْ عُفِیَ)، (فَمَن تَصَدَّقَ)، اور (فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) جیسے الفاظ موجود ہیں، ان کا تنقیدی تقابلی مطالعہ نہایت صراحت سے بیان کر رہا ہے کہ (فَجَزَآؤُہُ) میں یک طرفہ کاروائی ہے ، نہ تو قاتل کے لیے کوئی گنجایش (قانونی ، اخلاقی ، سماجی وغیرہ ) ہے اور نہ ہی کسی بھی درجے میں مقتول مومن کے ورثا کی رائے یا جذبات کا احترام ملحوظ ہے ، بلکہ ایک لحاظ سے یہ ’’طے‘‘ کر دیا گیا ہے کہ مومن کو عمداََ قتل کرنے والے قاتل کے لیے ایک ہی فیصلہ ہے اور وہ یہ ہے: جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً۔ اس مقام پر مناسب ہو گا کہ دیگر قرآنی مقامات کی مدد سے ، جہاں جہنم کو جزا کی حیثیت دی گئی ہے’جزا‘ کے مفہوم کے تعین کی کوشش کی جائے :
سَیَحْلِفُونَ بِاللّہِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیْْہِمْ لِتُعْرِضُواْ عَنْہُمْ فَأَعْرِضُواْ عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَاء بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (التوبۃ۹:۹۵)
’’اب تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑ دو وہ تو نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے ‘‘۔
قَالَ اذْہَبْ فَمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَاء مَّوْفُوراً (الاسراء ۱۷ :۶۳)
’’ کہا جا پس جو کوئی پیروی کرے گا تیری ان میں سے ، تو بے شک جہنم ہے جزا تمہاری جزا پوری ‘‘ ۔
وَعَرَضْنَا جَہَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لِّلْکَافِرِیْنَ عَرْضاً ۔ الَّذِیْنَ کَانَتْ أَعْیُنُہُمْ فِیْ غِطَاء عَن ذِکْرِیْ وَکَانُوا لَا یَسْتَطِیْعُونَ سَمْعاً ۔ أَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَن یَتَّخِذُوا عِبَادِیْ مِن دُونِیْ أَوْلِیَاء إِنَّا أَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ نُزُلاً ۔ قُلْ ہَلْ نُنَبِّءُکُمْ بِالْأَخْسَرِیْنَ أَعْمَالاً ۔ الَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعاً ۔أُولَءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَاءِہِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْناً۔ ذَلِکَ جَزَاؤُہُمْ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آیَاتِیْ وَرُسُلِیْ ہُزُواً (سورۃ الکھف ۱۸:۱۰۰-۱۰۶)
’’اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے۔ وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے۔ تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنا لیں گے بے شک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے۔ تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے بڑھ کر خسارہ میں کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رب کی آیتوں اور اس کے ملنے کا انکار کر رہے ہیں ، سو ان کے سارے اعمال غارت ہو گئے ، تو قیامت کے روز ہم ان کا ذرا بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ یہ ہے جزا ہے ان کی ، جہنم ، بسبب اس کے کہ کفر کیا ہے انہوں نے ، اور پکڑا نشانیوں میری کو ، اور رسولوں میرے کو ٹھٹھا بنایا ‘‘۔
وَمَن یَقُلْ مِنْہُمْ إِنِّیْ إِلَہٌ مِّن دُونِہِ فَذَلِکَ نَجْزِیْہِ جَہَنَّمَ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الظَّالِمِیْنَ (الانبیاء۲۱:۲۹ )
’’اور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا الہ ہوں تو اسے ہم جہنم کی جزا دیں گے ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں ظالموں کو‘‘۔
’جہنم کی جز ا‘ کے ان قرآنی اطلاقات سے مزیدصراحت ہو جاتی ہے کہ ’جزا‘ یک طرفہ (ایک لحاظ سے خود کار )کاروائی ہے جس کے پیچھے (جوازاََ) اتمامِ حجت کی ایسی دلالت پائی جاتی ہے جس کے بعد کسی حیل و حجت کی گنجایش باقی نہیں رہتی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ النساء آیت ۹۳ میں ’مومن‘ ایسی ہی دلالت کی علامت ہے ، اس کی وضاحت سورۃ الحجرات کی اس آیت سے یوں ہوتی ہے :
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَإِن تُطِیْعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَا یَلِتْکُم مِّنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْْئاً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (۱۴)
’’ کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے ، آپ کہیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم یوں کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں داخل ہوا ایمان تمہارے قلوب میں، اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا اللہ یقیناًبخشنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘ ۔
مومن کی مذکورہ دلالت واضح ہونے کے بعد ’جزا‘ کی ایک اور معنوی سطح منکشف ہوتی ہے ۔ ذرا غور کیجیے کہ النساء آیت ۹۳ میں ’’قصاص ‘‘ کے بجائے ’جزا‘ کا بیان ہوا ہے ۔ اس بیان سے ظاہری طور پر یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ جزا (فَجَزَآؤُہُ) اور اس کے بعد کا بیان (جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً)، صرف اور صرف اخروی زندگی کی سزا کے لیے آیا ہے دنیاوی سزا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔البقرۃ اور المائدۃ کی قصاص سے متعلق آیات میں ’قصاص‘ کا ذکر کیا گیا ہے ، اور قصاص ، برابری کے معنی میں مستعمل ہے ، حتیٰ کہ سزا دیتے وقت ظاہری صورت میں بھی برابری مقصود ہوتی ہے ، اسی لیے قتل کے سوا اکثر دیگر صورتوں میں قصاص کا اطلاق ممکن نہیں ہوتا ۔ النساء آیت ۹۳ میں بھی اگر مقتول مومن کے قاتل کے لیے قصاص کا لفظ برتا جاتا ، تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اسے بھی قتل کر دیا جائے ، اس طرح قصاص یا برابری واقع ہو جاتی ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس عمل سے جان کے بدلے جان تو لے لی جاتی ، لیکن مقتول کی ’مومنیت‘ دھری کی دھری رہ جاتی ۔(خیال رہے کہ بنی اسرائیل آیت۳۳ میں فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً کا بیان مقتول کی مظلومیت کا التزام رکھے ہوئے ہے کہ اس کے قاتل کے قتل میں اسراف تو نہ کیا جائے ، لیکن قاتل کو معافی بھی ہرگز نہ دی جائے اور لازماََ قتل کیاجائے )، اس لیے شارع نے النساء آیت ۹۳ میں مقتول کے ایمان کا پورا دھیان رکھا ہے ، زیرِ نظر آیت کی ابتدائی سطروں میں بھی ہم نے بطور مقدمہ یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اس آیت میں ’مومن‘ کے بیان کے بغیر شارع کی منشا پوری نہیں ہورہی۔ بہرحال ! اب اگر مقتول کے علاوہ’ مومن‘ پر بھی توجہ مرکوز کی جائے تو قصاص کے بجائے جزا کے انتخاب کی حکمت سمجھ میں آتی ہے ۔ پورے قرآن مجید میں ’جزا ‘ کے اطلاقات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی معنویت قصاص کے مانند صرف ظاہری برابری تک ہی محدود نہیں ، بلکہ کیفیت میں عدمِ مطابقت کے تدارک کے لیے اور وزن و کمیت میں برابری کی خاطر ، ظاہری طور پر مختلف صورت کا اپنایا جانا بھی ، جزا کے معنوی دائرے میں شامل ہے ،مثلاً:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (المائدۃ۵ :۳۸)
’’ اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ، ان کے کیے کی جزا اللہ کی طرف سے عبرت ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے ‘‘
اگر جزا کا مطلب ویسا ہی بدلہ ہے توچور کی سزا چور کے ہاں چوری کی صورت میں ہونی چاہیے تھی، لیکن چونکہ ایسی ظاہری مطابقت ممکن نہیں تھی ، اس لیے عدم مطابقت کے تدارک کے لیے قطع ید کی جزا مقرر کی گئی۔پھر عام طور پر چور کا کٹا ہوا ہاتھ ، سماجی کلنک کی علامت بھی بن جاتا ہے جسے اللہ رب العزت نے (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قطع ید اور (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) جرم کے عین مطابق سزا کے بجائے زیادہ سزا پر دلالت کرتے ہیں؟اس سلسلے میں ’جزا‘ کے دیگر قرآنی اطلاقات ، قطعیت کے ساتھ راہنمائی کرتے ہیں کہ سزا کی ایسی نوعیت سزا میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہے ، لہذا اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ’ ظلم‘ کی علامت بھی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں کسی منفی فعل یا جرم کا عین بدل ہے ، مثلاً:
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّءَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (الانعام۶ :۱۶۰)
’’جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لائے تو اسے جزا نہ ملے گی مگر اس کے برابر ، اور ان پر ظلم نہ ہو گا ‘‘۔
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ خَیْْرٌ مِّنْہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّءَاتِ إِلَّا مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (القصص۲۸ :۸۴)
’’جو نیک کام کرے اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا اور جو برا کام کرے تو انہیں جو برا کام انجام دیتے ہیں ، جزا نہیں ملے گی سوا اس کے جو وہ کرتے تھے ‘‘
الْیَوْمَ تُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ إِنَّ اللَّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (غافر ۴۰:۱۷)
’’ آج ہر جان اپنے کیے کی جزا پائے گی آج کسی پر ظلم نہیں ، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے ‘‘
مَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجْزَی إِلَّا مِثْلَہَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُونَ فِیْہَا بِغَیْْرِ حِسَابٍ (غافر ۴۰ :۴۰)
’’ جو برا کام کرے اسے جزا نہیں دی جائے گی مگر اتنی ہی ، اور جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ہو مومن ، پس وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے حساب رزق پائیں گے ‘‘
وَخَلَقَ اللَّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ (الجاثیۃ ۴۵ :۲۲)
’’ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کی جزا پائے اور ان پر ظلم نہ ہو گا ‘‘
(چور کو قطع ید کی جزا اور اللہ کی طرف سے عبرت ، اگرچہ ظاہری طور پر زیادہ سزا معلوم ہوتے ہیں ، لیکن اگر قرآن مجید میں کسی کا مال حرام طریقے سے کھانے وغیرہ ، اور کسی سماج میں مال کی اہمیت وغیرہ ، کو مدِ نظر رکھا جائے تو قطع ید کی جزا ،وزن و کمیت کے لحاظ سے جزا کی معنوی سطح پر پوری اترتی ہے اور جرم کا عین بدل معلوم ہوتی ہے ) ۔ اس لیے زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ کے مطابق بھی مقتول مومن کے قاتل کو قتل کرنا ہی جزا نہیں کہ ایسی جزا میں مقتول کے ’ایمان‘کا دھیان نہیں رکھا جاتا ، اس لیے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ، جزا کی معنوی سطح کا اطلاق(بہ اعتبار وزن و کمیت ) اسی صورت ممکن ہے جب قاتل کے قتل سے بھی بڑھ کر سزا تجویز کی جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ المائدۃ آیت ۳۸ میں سے (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ) اور النساء آیت ۹۳ میں سے (وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہُِ) کا تنقیدی تقابلی مطالعہ ، شارع کی منشا جاننے کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآنی مغضوبین کی ’ ذلت و محتاجی کی حالت‘ (نَکَالاً مِّنَ اللّہِ ) سے بھی بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے، ملاحظہ کیجیے :
وَإِذْ قُلْتُمْ یَا مُوسَی لَن نَّصْبِرَ عَلَیَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِہَا وَقِثَّآءِہَا وَفُومِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِیْ ہُوَ أَدْنَی بِالَّذِیْ ہُوَ خَیْْرٌ اہْبِطُواْ مِصْراً فَإِنَّ لَکُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآؤُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّہِ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَانُواْ یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللَّہِ وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ ذَلِکَ بِمَا عَصَواْ وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (البقرۃ ۲ :۶۱)
’’اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ ! ہم سے ایک ( ہی ) کھانے پر صبرنہیں ہو سکتا تو اپنے رب سے دعا کیجیے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز ( وغیرہ) جو نباتات زمین سے اگتی ہیں ، ہمارے لیے پیدا کردے ۔ انھوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے بدلے ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو ؟ ( اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو ، وہاں جو مانگتے ہو مل جائے گا ۔ اور ( آخرکار) ذلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( و بے نوائی ) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گئے ۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے انکار کرتے تھے اور ( اس کے ) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے ‘‘
ضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الذِّلَّۃُ أَیْْنَ مَا ثُقِفُواْ إِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنْ اللّہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآؤُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَانُواْ یَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللّہِ وَیَقْتُلُونَ الأَنبِیَاءَ بِغَیْْرِ حَقٍّ ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (آل عمران ۳ :۱۱۲)
’’ان پر جما دی گئی خواری ، جہاں ہوں امان نہ پائیں ، مگر ہاں ایک تو ایسے ذریعہ کے سبب جو اللہ کی طرف سے ہے اور ایک ایسے ذریعہ سے جو انسانوں کی طرف سے ہے ، اور مستحق ہو گئے اللہ کے غضب کے ، اور جما دی گئی ان پر محتاجی ، یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ منکرہو جاتے تھے اللہ کی آیتوں سے ، اور قتل کر دیا کرتے تھے نبیوں کو ناحق ، اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ نافرمانی کی انہوں نے اور حد سے نکل جاتے تھے ‘‘
إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ الْعِجْلَ سَیَنَالُہُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَذِلَّۃٌ فِیْ الْحَیْاۃِ الدُّنْیَا وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُفْتَرِیْنَ (الاعراف ۷ :۱۵۲)
’’یقیناََ جنہوں نے بچھڑا بنایا انہیں پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت اس دنیاوی زندگی میں اور ایسی ہی ہم جزا دیا کرتے ہیں جھوٹ باندھنے والوں کو‘‘۔
لہٰذا، زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ میں ’جزا‘ کے مذکورہ مفہوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، قرآنی مغضوبین کی ذلت و رسوائی پر بھی توجہ کی جائے ، تو استدلال کیا جا سکتا ہے کہ المائدۃ آیت ۳۸ کے مانند ، مومن کے قتل کی جزا کا وزن و کمیت کے لحاظ سے اطلاق ، قاتل کی ذلت و رسوائی کے بغیر ممکن نہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ النساء آیت ۹۳ کے علاوہ ، قرآن مجید میں جن دو مقامات پر مغضوب و ملعون کااکٹھے ذکر کیا گیا ہے وہاں بھی دنیاوی ذلت و رسوائی کا واضح اہتمام موجود ہے :
قُلْ ہَلْ أُنَبِّءُکُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِکَ مَثُوبَۃً عِندَ اللّہِ مَن لَّعَنَہُ اللّہُ وَغَضِبَ عَلَیْْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُوْلَءِکَ شَرٌّ مَّکَاناً وَأَضَلُّ عَن سَوَاء السَّبِیْلِ (المائدۃ ۵ :۶۰)
’’تم فرماؤ کیا میں بتا دوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور غضب فرمایا اور ان میں سے کر دیے بندر اور سور اور طاغوت کے پجاری ، یہ لوگ جگہ کے لحاظ سے بدتر اور سیدھے راستے سے زیادہ ہٹے ہوئے ہیں ‘‘۔
وَیُعَذِّبَ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ الظَّانِّیْنَ بِاللَّہِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَیْْہِمْ دَاءِرَۃُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْْہِمْ وَلَعَنَہُمْ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَسَاء تْ مَصِیْراً (الفتح ۴۸ :۶)
’’اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اورمشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ،جو اللہ کی نسبت برے گمان رکھتے ہیں، ان پر برا وقت پڑنے والا ہے اور اللہ ان پر غضب ناک ہے اور ان پر لعنت کرتا ہے اور اس نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ‘‘
ہماری رائے میں النساء آیت۹۳ میں (فَجَزَآؤُہُ) کے بعد ، جہنم میں خلود ، اللہ کا غضب و لعنت اور عذابِ عظیم کی تیاری کابیان، (کیفیت میں عدم تطابق کے تدارک اور وزن و کمیت میں برابری کی خاطر )مقتول مومن کے قاتل کے قتل سے بڑھ کر کسی ایسی مرکب سزا کی راہ دکھاتا ہے جس میں ذلت و رسوائی کا پہلو بدرجہ اتم موجود ہو ۔ یہاں منطقی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی مرکب سزا کی ظاہری نوعیت کیا ہو گی ؟۔ کیونکہ مرکب سزا تو خیر دور کی بات ہے ، النساء آیت ۹۳ کے ظاہری الفاظ ، کسی بھی قسم کی دنیاوی سزا پر دلالت نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں ( فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا ) کے پیشِ نظر ، قرآنی جہنمیوں کی دنیاوی سزا کی تلاش کے لیے قرآن مجید کا مطالعہ کیاجائے تو سورۃ توبہ کی آیت ۷۳ کافی مددگار معلوم ہوتی ہے:
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْْہِمْ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ
’’ اے نبی ! کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی (وَاغْلُظ) فرماؤ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا انجام‘‘۔
اس آیت میں (وَاغْلُظْ) رقت کے متضاد معنی میں استعمال ہوا ہے اور مخاطب نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی حیثیت مومنین کی ہیتِ اجتماعی کے قاید کی ہے ۔سورۃ توبہ میں ہی مومنین کو اجتماعی طور پر مخاطب کرکے سختی کا حکم دیا گیا ہے :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ یَلُونَکُم مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُواْ فِیْکُمْ غِلْظَۃً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (التوبۃ۹:۱۲۳)
’’ اے ایمان والو ان کافروں سے جنگ کرو جن کا علاقہ تمہارے ساتھ ملتا ہے اور ان کے ساتھ تمہیں سختی (غِلْظَۃً) کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور یہ جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘۔
قابلِ غور مقام ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کو قاید کی حیثیت میں اور مومنین کو اجتماعی حیثیت میں ’سختی ‘ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ النساء آیت ۹۳ میں مقتول مومن کے وارث کی حیثیت ’ مومنین کے قا ید یا مومنین کی ہیتِ اجتماعی‘ ہی کو حاصل ہے کہ دیگر ورثا کی جانب سے ’رقت‘ کا احتمال موجود ہے جبکہ شارع کی منشا سختی ہے (اسی لیے مقتول مومن کے وارث یا ولی کاذکر ہی سرے سے موجود نہیں )۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ مومنین کے قاید یا ہیتِ اجتماعی کو مومن کے قاتل کے ساتھ صرف اور صرف سختی ہی کے ساتھ پیش آنا چاہیے ۔سورۃ النور میں زنا کی سزا کے ضمن میں بھی صرف سختی اپنانے کا حکم دیا گیا ہے :
الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِءَۃَ جَلْدَۃٍ وَلَا تَأْخُذْکُم بِہِمَا رَأْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَاءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (النور ۲۴:۲)
’’ اور جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے اللہ کے دین میں، اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر، اور چاہیے کہ ان کوعذاب کرتے وقت مومنین کا ایک گروہ حاضر ہو ‘ ‘۔
لہٰذا، مومن کے قاتل کے لیے بدرجہ اولی سختی کے اہتمام کی زیادہ ضرورت ہے ، اسی لیے قاتل کا ہمیشہ کے لیے جہنمی ہونا ، اس پر اللہ کا غضب و لعنت اور اس کے لیے عذابِ عظیم کی تیاری ، انتہائی سختی و درشتی پر دلالت کرتے ہیں ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قاتل کے ساتھ سختی کی ’نوعیت‘ کیا ہوگی ؟۔ اس سلسلے میں سورۃ الزخرف کی آیات، جہنمی مجرموں کی بابت آگاہ کرتی ہیں کہ وہ ظالم تھے :
إِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خَالِدُونَ ۔ لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِیْہِ مُبْلِسُونَ ۔ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلَکِن کَانُوا ہُمُ الظَّالِمِیْنَ (۷۴-۷۶)
’’بے شک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آس رہیں گے اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں وہ خود ہی ظالم تھے ‘‘
زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ میں مومن کے قاتل کو جہنمی کے علاوہ ملعون بھی قرار دیا گیا ہے اور قرآن مجید میں ملعونین کو ظالم گردانا گیا ہے :
وَنَادَی أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقّاً فَہَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقّاً قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْْنَہُمْ أَن لَّعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (الاعراف۷ :۴)
’’اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا ، بولے ہاں ، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ا للہ کی لعنت ہو ظالموں پر‘‘۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أُوْلَئِکَ یُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّہِمْ وَیَقُولُ الأَشْہَادُ ہَؤُلاء الَّذِیْنَ کَذَبُواْ عَلَی رَبِّہِمْ أَلاَ لَعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (ہود ۱۱ :۱۸)
’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے وہ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا ، سن لو ، لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے ‘‘۔
یَوْمَ لَا یَنفَعُ الظَّالِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوءُ الدَّارِ (غافر ۴۰ :۵۲)
’’ جس دن ظالموں کو ان کے بہانے کچھ کام نہ دیں گے اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو جہنمی و لعنتی ہے وہ ظالم ہے اور جو ظالم ہے وہ لعنتی و جہنمی ہے ۔ لہذا جودنیاوی سزا ظالم کے لیے مقرر کی گئی ہے وہ مومن کے قاتل جہنمی و لعنتی کو بھی دی جا سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کو مظلوم کہا گیا ہے ، (یعنی قاتل ظالم ٹھہرا) ، پھر نرمی کی کوئی گنجایش رکھے بغیر انتہائی سرد لہجے میں قاتل کو قتل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس لیے مومن کے قاتل کو بھی ظالم گردانتے ہوئے قتل کیا جا سکتا ہے(بلکہ جہنمی و ملعون ہونے کی بنا پر دوہراظالم قرار دے کر برے طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے ) ۔سورۃ البقرۃ کی درج ذیل آیات کے مطابق ، جہنم کے سزاوار دنیاوی زندگی میں فسادی اور نفس کے تابع ہوتے ہیں :
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ۔ وَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ وَلَبِءْسَ الْمِہَادُ (البقرۃ۲ :۲۰۵، ۲۰۶)
’’اور جب وہ لوٹتا ہے تو تو عملاََ اس کی تگ و دو یہ ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائے اور کھیتی اور نسل (انسانی) کو تباہ کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ، اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اپنی عزت کی خاطر گناہ پر جم جاتا ہے تو جہنم اسے کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ‘‘
جہنمی کے فسادی ہونے کے علاوہ فسادی کے لعنتی ہونے کا بھی پورا قرینہ موجود ہے :
وَالَّذِیْنَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اللّہِ مِن بَعْدِ مِیْثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللّہُ بِہِ أَن یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِیْ الأَرْضِ أُوْلَئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوءُ الدَّارِ (الرعد ۱۳ :۲۵)
’’اور وہ جو اللہ کاعہد اس کی مضبوطی کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت ہے اور ان کا نصیب برا گھر ‘‘
قرآن مجید نے لعنتی اور فسادی کے لیے یہ ’جزا‘مقرر کی ہے :
إِنَّمَا جَزَاء الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (المائدۃ ۵:۳۳)
’’وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں ،ان کی یہی جزا ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کر دیے جائیں ، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ‘‘
مَلْعُونِیْنَ أَیْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلاً (الاحزاب ۳۳ :۶۱)
’’وہ موردِ لعنت ہیں جہاں بھی وہ پائے جائیں پکڑے جائیں اور پوری طرح قتل کیے جائیں‘‘۔
قرآن مجید نے حق راہ واضح ہونے کے بعد رسول کے خلاف چلنے والے اور(قابلِ غور ہے کہ ) مومنین کی راہ سے الگ راہ لینے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے :
وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء تْ مَصِیْراً (النساء ۴ :۱۱۵)
’’اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مومنین کی راہ سے الگ راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی‘‘۔
چہ جائے کہ الگ راہ لینے سے کئی درجے بڑھ کر مومن کو عمداََ قتل کر دیا جائے ، خیال رہے النساء آیت ۹۳ میں ’عمد‘ حق راہ جاننے کے حوالے سے اتمامِ حجت اور تحقق پر بھی دلالت کرتا ہے ۔ بہرحال ، قرآن نے مطلق انسان کے قتل کو انتہائی نا پسندیدہ قرار دیا ہے چہ جائے کہ مومن ہو :
مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (المائدۃ ۵ :۳۲)
’’اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ، مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔‘‘
خیا ل رہے کہ تخلیقِ آدم سے قبل فرشتوں نے کہا تھا کہ انسان تو زمین میں فساد پھیلائے گا قتل و غارت کرے گا ، اور اللہ نے فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے، اس لیے یہاں یہ قرینہ پایا جاتا ہے کہ مومن ، فرشتوں کے اس سوال کا جواب ہونے کے ناطے ایک جہت سے آیتِ الہی ہے اور دوسری جہت سے آیاتِ الہی کی تجسیم ہے ، نہ فسادی اور نہ قتل و غارت پر تلا ہوا ۔اس لیے اگر اس کا قتل ، آیتِ الہی کے خاتمے کی کوشش خیال کیا جائے تو اس کے قاتل کو ’جزا‘ کے طور پر لوگوں کے لیے آیت بنا دیا جانا چاہیے ،جیسا کہ سورۃ الفرقان میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے :
وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغْرَقْنَاہُمْ وَجَعَلْنَاہُمْ لِلنَّاسِ آیَۃً وَأَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِیْنَ عَذَاباً أَلِیْماً (۳۷)
’’اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انہیں لوگوں کے لیے نشانی کر دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔
مذکورہ نکتے کی مزید تصریح درج ذیل آیات سے ہوتی ہے :
وَیَا قَوْمِ ہَذِہِ نَاقَۃُ اللّہِ لَکُمْ آیَۃً فَذَرُوہَا تَأْکُلْ فِیْ أَرْضِ اللّہِ وَلاَ تَمَسُّوہَا بِسُوءٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ (ہود ۱۱:۶۴)
’’ اور اے میری قوم ، یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے آیت ، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے ، اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا ، پس پکڑے گا تم کو عذاب فوری‘‘۔
قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ۔ مَا أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِآیَۃٍ إِن کُنتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ ۔ قَالَ ہَذِہِ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُومٍ ۔وَلَا تَمَسُّوہَا بِسُوءٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ فَعَقَرُوہَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِیْنَ ۔ فَأَخَذَہُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَۃً وَمَا کَانَ أَکْثَرُہُم مُّؤْمِنِیْنَ (الشعراء ۲۶ :۱۵۳-۱۵۸)
’’ وہ کہنے لگے تم تو ایک سحر زدہ آدمی ہو ، تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو اگر تم سچے ہو تو کوئی آیت لاؤ ، کہا آیت یہ ناقہ ہے ایک دن اس ناقہ کے پانی پینے کے لیے مقرر ہے اور ایک دن تم سب کے لیے ، اسے کوئی دکھ نہ پہنچانا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہیں آ لے گا ، سو انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے ، تو انہیں عذاب نے آ لیا بے شک اس میں ضرور آیت ہے اور ان میں اکثر ایمان نہیں لاتے ‘‘
اگرمومن کی دوسری جہت ، یعنی آیاتِ الہی کی تجسیم کو پیشِ نظر رکھا جائے تو :
وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ آیَاتِنَا مُعَاجِزِیْنَ أُوْلَءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِیْمٌ (سبا ۳۴ :۵)
’’ اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی ، ان کے لیے سخت درد ناک عذاب ہے ‘‘
کے مصداق ، اس کا قتل ، آیاتِ الہی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس لیے خدائی نظام میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش ہے اور قرآن مجید کا فیصلہ ہے : وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ ۲:۱۹۱) ’’اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے‘‘وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ ۲ :۲۱۷) ’’اور فتنہ انگیزی ، قتل سے بھی بڑھ کر ہے‘‘۔ ایسے فتنہ و فساد پر قرآن نے خاموشی اختیار نہیں کی اور نہ ہی محض اخروی سزاؤں پر انحصار کیا ہے بلکہ ان کے سدِ باب کے لیے سخت دنیاوی تدابیر و سزائیں مقرر کی ہیں ، مثلاً: سورۃ النور آیت ۲ میں زانی مرد و عورت پر ترس نہ کھانے اور مومنین کے ایک گروہ کی حاضری کا حکم آیا ہے ، ظاہر ہے کہ اس حکم کے پیچھے جواز یہی ہے کہ زانی لوگ ، ایک لحاظ سے آیاتِ الہی کو چیلنج کرتے ہوئے ، قرآنی اقدار پر مبنی اجتماعی نظم میں خلل اندازی کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے وہ ترس کے بجائے ذلت و رسوائی کے زیادہ مستحق ہیں ۔ زنا کے مقابلے میں مومن کا قتل ، آیاتِ الہی کو کلی اعتبار سے چیلنج کرنے کے مترادف اور اجتماعی نظم میں خلل اندازی کی انتہائی کوشش ہے ، اس لیے منطقی طور پر اس کے قاتل کے لیے نہ تو نرمی کا کو ئی گوشہ ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کی ذلت و رسوائی میں کوئی کسر باقی چھوڑنی چاہیے۔ زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ کو دوبارہ دیکھیے (وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً)، اس میں کہیں بھی کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس میں قاتل کے لیے کسی حوالے سے نرمی کی ذرہ برابر بھی گنجایش نکلتی ہو ۔ اس کے برعکس ، سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں مقتول کے مظلوم ہونے کے باوجود ظالم قتل کے لیے (فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ) کے الفاظ ، ایک حد تک نرمی ظاہر کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ النساء آیت ۹۳ میں اس اسراف (سختی و رسوائی )کی اجازت (بلکہ حکم ) دیا گیا ہے جس کی بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں ممانعت کی گئی ہے ۔اگرالمائدۃ آیت ۳۲ کے بیان (مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً) ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ‘‘ میں انسانی جان کی حرمت اور قرآن میں مومن کے مقام پر نظر رکھتے ہوئے، النساء آیت ۹۳ میں قصاص کے مقابل ’جزا‘ کی معنویت کا احاطہ کرکے ، مذکور سزاؤں جہنم غضب لعنت عظیم عذاب پر غور و خوض کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن کے قاتل کے ساتھ ’اسراف‘ کرنے کی صورت میں بھی ’جزا‘ کا معنوی اطلاق (قاتل کے فعل کے مساوی ، وزن و کمیت کے لحاظ سے ) ممکن نہیں ہوتا ، اس لیے قاتل کی سزا کے لیے ایسے الفاظ (جہنم غضب لعنت عظیم عذاب) برتے گئے ہیں جو بدیہی طور پر اخروی سزا پر دلالت کرتے ہیں ، یعنی دنیاوی سزا کی کوئی بھی نوعیت چونکہ قاتل کے فعل کا بدل نہیں ہو سکتی ، اس لیے آخرت میں بھی اسے لازماََ سزا ملے گی ۔
زیر نظر النساء آیت ۹۳ کا ایک قابلِ اعتنا پہلو ، تشنہ طلب ہے کہ ’مومن‘ کون ہے؟ کیا اس کی کوئی جامع تعریف موجود ہے ؟ قرآنی مطالعہ بتاتا ہے کہ مومنین ، مساوی نہیں ہیں :
اَََّّّ یَسْتَوِیْ الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْْرُ أُوْلِیْ الضَّرَرِ وَالْمُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّہُ الْمُجَاہِدِیْنَ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَکُلاًّ وَعَدَ اللّہُ الْحُسْنَی وَفَضَّلَ اللّہُ الْمُجَاہِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً (النساء ۴ :۹۵)
’’برابر نہیں ہیں مومنین میں سے بغیر معذوری کے گھر میں بیٹھنے والے اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پردرجے میں فضیلت دی ہے اور یوں تو ہر ایک سے اس نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور جہاد کرنے والوں کو پیچھے رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کے ساتھ فضیلت دی ہے‘‘۔
قرآن مجید کے مطابق ایمان کی کیفیات کے بھی مدارج ہیں :
الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیْمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ (آل عمران ۳ :۱۷۳)
’’وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑا لشکر جمع کیا ہے ان سے ڈرو تو اس سے ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور بڑا اچھا کارساز‘‘۔
لہٰذا ، یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ النساء آیت ۹۳ میں مذکور مقتول مومن کو ایمان کے کس درجے کا حامل خیال کیا جائے کہ درجے کے تعین کے بعد اور درجے کے مطابق، اس کے قاتل سے معاملہ نمٹایا جائے؟ بنظرِ غائر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس زاویے سے معاملے کو نمٹانا، انسانی اختیار کی حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے ۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید میں ’مومن‘ کی کوئی ایسی تعریف تلاش کی جائے جس کا اطلاق تمام مومنین پر یکساں ہو سکے۔ سورۃ النساء آیت ۹۴ ، اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کرتی ہے :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَتَبَیَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِندَ اللّہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذَلِکَ کُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّہُ عَلَیْْکُمْ فَتَبَیَّنُواْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً
’’اے ایمان والو جب سفر کرو اللہ کی راہ میں تو تحقیق کر لیا کرو اور مت کہو اس شخص کو جو تم سے سلام علیک کہے کہ تو مومن نہیں ، تم چاہتے ہو اسباب دنیا کی زندگی کا ، سو اللہ کے ہاں بہت غنیمتیں ہیں ، تم بھی تو ایسے ہی تھے اس سے پہلے ، پھر اللہ نے تم پر فضل کیا ، سو اب تحقیق کر لو ، بے شک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے ‘‘۔
اس لیے خالصتاً قانونی پہلو سے ، کسی کی باطنی کیفیات کے اعتبار سے ایمان کے تعین کے بجائے ظاہری حالت کا لحاظ ہی ممکن اور قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے ۔ اور اگر کوئی شخص اپنے ظواہر و شعائر سے ایمان والا دکھائی دیتا ہو ، تو اس کی اس حالت کو قانوناََ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لہٰذا، النساء آیت ۹۳ کا اطلاق کسی مخصوص مومن پر ہی نہیں ہوتا ، بلکہ ہر درجے کے مومنین اس کے دائرہ میں آ جاتے ہیں ۔
اسی بحث کے ضمن میں ایک اور سوال قابلِ غور ہے کہ مومن کا قاتل اگر کافر ہو تو کفر کے سبب اسے ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے ، اگر قاتل خود بھی مومن ہو تو کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ؟ جبکہ جہنم میں ہمیشگی کے سزاوار کافر و مشرک ہیں ، مومن نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مومن کے قاتل کی سزاؤں کا مذکورہ تنقیدی مطالعہ ، اس امر پر شاہد ہے کہ اس کا قاتل اگر مومن تھا بھی ، تو وہ قتل کرنے کے عمل کے دوران میں ایمان سے محروم ہو جاتا ہے ۔اس حوالے سے زیرِ نظر النساء آیت ۹۳ میں (مُّتَعَمِّداً) کی مستور معنویت کا کھوج ، قاتل کے لیے ہر اعتبار سے اتمامِ حجت و تحقق پر دلالت کرتا ہے ۔ سورہ الشوری میں ارشادِ ربانی ہے :
وَالَّذِیْنَ یُحَاجُّونَ فِیْ اللَّہِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہُ حُجَّتُہُمْ دَاحِضَۃٌ عِندَ رَبِّہِمْ وَعَلَیْْہِمْ غَضَبٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ (آیت ۱۶)
’’اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ اسے قبول کیا جا چکا ، ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک بے ثبات ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے ‘‘
اس لیے قاتل اگر مومن ہے تواس کا مومن کوعمداََ قتل کرنا، ذہنی حالت کے لحاظ سے اتما مِ حجت کے بعد حجت بازی کی علامت بن جاتا ہے ، جس کے باعث وہ مغضوب قرار پاتا ہے اور شدید عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ سیاقِ کلام سے قاتل کی تکفیر کی مزید تصریح ہوتی ہے: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً (النساء ۴ :۹۲)، ذرا غور کیجیے کہ بیان کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس میں کس قدر زور ہے، اور اس زور میں شدت و قطعیت (إِلاَّ خَطَئاً) سے مزید نمایا ں ہوئی ہے۔ لہٰذا ، قاتل اگر مومن تھا تو وہ مومن کوعمداََ قتل کرکے ’بالفعل ارتداد‘ کا مرتکب ہو گیا ہے ، اس لیے اس کی سزا میں مرتد ہونے کے باعث تخفیف کی کوئی گنجایش نہیں نکلتی بلکہ مزید اضافہ ہی ہو تاہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسے تجدیدِ ایمان کی توفیق نصیب ہو سکتی ہے؟ سیاقِ کلام میں (تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور کلام میں ( تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ) کی عدم موجودگی و سزاؤں کی نوعیت پر نظر رکھتے ہوئے اس کا جواب نفی میں ملتا ہے ۔
بحث کے اس مقام پریہ لطیف نکتہ سامنے آتا ہے کہ مومن ، مومن کا قتل (خَطَئاً ) ہی کر سکتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ البقرۃ ، المائدۃ اور الاسراء میں قتل کی جن انواع کا ذکر ہواہے ، کیا مومن ان سے مبرا ہے یا ان انواع کو خطا کے ذیل میں لیا جائے گا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید میں قتلِ عمد و قتلِ خطا ، دو انتہاؤں کا بیان ہوا ہے ، قتل کی دیگر اقسام ان کے بین بین ہیں۔
اس خطِ مستقیم کو دائیں سے بائیں دیکھیں تو عمد کی شدت میں کمی واقع ہوتی جاتی ہے اور خطا کا مقام آ جاتا ہے اور بائیں سے دائیں نظر دوڑائیں تو خطا کی نوعیت سنگین ہوتے ہوتے ظلم کے مرحلے سے گزر کر عمد سے جا ملتی ہے ۔
المائدۃ آیت ۴۵ و البقرۃ آیت ۱۷۸کے تکمیلی الفاظ سے قبل کے احکامات ، قاتل کے مومن ہونے کی صورت میں بھی اس کی قانونی پوزیشن(ایمان) کو موضوع بحث نہیں بناتے اورنہ ہی الاسراء آیت ۳۳ میں ایسا قرینہ ملتا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ مومن ، خطا کی ان سنگین صورتوں یا عمد کی تخفیف حالتوں کا مصداق ہو سکتا ہے۔
اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے گزارش کریں گے کہ سورۃ النساء آیت ۹۳میں دنیاوی سزا کی تلاش کے حوالے سے مذکورہ داخلی شواہد کو نظر میں رکھتے ہوئے ،اب ذرا سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ کے تکمیلی الفاظ (فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ) اور سورۃ المائدۃ آیت ۴۵ کے تکمیلی الفاظ (وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ) پر غور کیجیے کہ کیا ان دو مقامات پر بھی سزا کی ایسی ہی نوعیت کی گنجایش موجود نہیں ہے؟ اور کیا قاتل (اگر مومن ہو) کی قانونی پوزیشن مشکوک نہیں ہو جاتی؟ ہماری رائے میں اعْتَدَی، عَذَابٌ أَلِیْمٌ اور الظَّالِمُونَ جیسے الفاظ مذکورہ سزاؤں ( جن کا بیان النسا آیت ۹۳ کے ضمن میں ہوا ) کی تنفیذ کے لیے داخلی شہادت دے رہے ہیں ۔ لیکن ان کا محل یہ ہے کہ اگر الٰہی احکامات (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ) کے بعدیا الٰہی احکامات (وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ) کے علاوہ ، کوئی حیل و حجت کی گئی ہو تو ایسے سرکش و ظالم کو (مذکورہ النساء آیت ۹۳ کی تصریح کے مطابق ) ، ظالم ، لعنتی ، فسادی اور فتنہ باز قراردیا جا سکتا ہے ، یعنی البقرۃ آیت ۱۷۸ ، اور المائدۃ آیت ۴۵ میں ، پہلے ہی مرحلے میں کسی فریق یا فریقین کو اس انداز میں نہیں لیا جا سکتا جیسے النساء آیت ۹۳ میں مومن کے قاتل کو پہلے ہی مرحلے میں لیا گیا ہے کہ اس سے معاملہ مومنین کا قاید یا ہیتِ اجتماعی ، یک طرفہ طور پر سختی و درشتی اور ذلت و رسوائی کے انداز میں نمٹائے گی ، جبکہ ا لبقرۃ و المائدۃ میں یہ معاملہ ہماری رائے میں پہلے مرحلے میں ناکامی کے بعد اس کے تسلسل میں دوسرے مرحلے پر آتا ہے ، یعنی مومنین کے قاید یا ہیتِ اجتماعی کو اس وقت کلی اختیار حاصل ہو جاتا ہے جب فریقین یا کوئی فریق پہلے حکم کی تکفیر و تکذیب کرے ، اس کے نتیجے میں وارث ولی وغیرہ کا عمل دخل و اختیار بھی بالکلیہ ختم ہوجاتا ہے ۔
حاصل مطالعہ
قصاص و دیت کے قرآنی احکامات کے طالب علمانہ مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے خالق ہونے کے ناطے مخلوق کے خلقی ، ذہنی، نفسیاتی اور واقعاتی عوامل کا دھیان رکھا ہے ۔ یہ احکامات خالی خولی ، قانونی قسم کی سرد زبان میں نہیں ہیں، بلکہ قرآنی لب و لہجہ انسانی احوال و ظروف سے پورا پورا میل کھاتا نظر آتا ہے ۔ ان احکامات میں ، تقریباًہر مقام پر ایک حفاظتی حصار قائم ہوتا دکھائی دیتا ہے ، جو قرآن مجید کی نہایت اعلیٰ حکمت پر دلالت کرتا ہے ، مثلاً: سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں مقصود ، معافی و خون بہا کی ادائیگی ہے ، اور اس مقصود کے گرد قصاص کے عنوان سے فصیل کھڑی کر دی گئی ہے ۔ سورۃ المائدۃ آیت ۴۵ میں قرآنی مطمح نظر ، مکمل معافی ہے ، اور اس کے اوپر نہایت اٹھتے ہوئے اسلوب میں ، قصاس و بدلہ کا آسمان کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں اسراف سے رکنے کا حکم دے کر، قصاص لینے کا سامان پیدا کیا گیا ہے ۔
اس مطالعہ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید جس قتل کی سزا بدیہی طور پر قصاص(یا اس سے بھی بڑھ کر ) دیناچاہتا ہے، اسے وہ تقریباََ استثنائی انداز میں لیتا ہے کہ کبھی کبھا ہی ایسا واقعہ رونما ہوگا ، مثلاََ قتلِ مومن اور مظلومانہ قتل ۔اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ قرآن، مومنین کی اوسط اخلاقی قوت سے یہ توقع ہی نہیں کرتا کہ قتل کے دیگر واقعات میں وہ قصاص لینے پر اصرار کریں گے اور یوں قصاص، زندگی کا غالب رجحان بن کر مومنین کی اخلاقی گراوٹ کی نمائندگی کرے گا ۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ قصاص کے احکامات کی تنفیذ سے قبل مومنین کا اوسط اخلاقی سطح پر آنا نہایت ضروری ہے ۔ اس لیے اگر مسلم معاشرہ میں قتل کے واقعات میں اکثر اوقات دیت و معافی کے بجائے قصاص پر عمل کیا جائے تو اس کا حل یہ نہیں کہ قصاص کو سرے سے ختم ہی کردیا جائے کہ اس کے نہایت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اور معاشرہ ظاہری نظم سے بھی بہرہ مند نہیں رہے گا ، البتہ قصاص لینے کے عمومی رجحان پر تشویش ضرور ہونی چاہیے کہ معاشرہ عفو و احسان ، صدقہ و کفارہ جیسی جملہ اقدار و خصوصیات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
اس مطالعے میں کہیں ایسا مقام نہیں آیا جہاں حکمرانوں کو قصاص معاف کر دینے کا اختیار دیا گیا ہو، کہ وہ اپنی طاقت استعمال کرکے مصنوعی اخلاقی معیار ظاہر کرنے کی کوشش کریں البتہ دیت و معافی کے حکم کی عمومی قبولیت کو ممکن بنانے کے لیے، بطور حاکم ان کی یہ ذمہ داری بنتی نظر آتی ہے کہ اپنے تئیں مطلوب معاشرتی فضا قائم کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں ۔ قرآن نے اس کی حقیقی ذمہ داری معاشرے پر ڈالی ہے کہ معاشرتی تحرکات اور ثقافتی متغیرات کے ذریعے ایسا ماحول تشکیل پانا چاہیے جہاں عفو احسان اور صدقہ و کفارہ ، کوروزہ مرہ کی حیثیت حاصل ہو ، نہ کہ استثنا کی ، کہ کبھی کبھار کسی نے معاف کر دیا ۔ اس مطالعے کے مطابق حکمرانوں کو یہ حق بھی نہیں دیا گیا کہ وہ کسی بہانے، دیت و معافی کے اختیار کو سلب کرنے کی مذموم کوشش کریں ۔یہاں کسی کو یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ البقرۃ و المائدۃ میں یہ اختیار سلب کرنے کا حق دیا گیا ہے ، کیونکہ دونوں مقامات پر مومنین کے قاید یا ہیتِ اجتماعی کا براہ راست دخل صرف اور صرف تکمیلی حکم کی اتباع میں ، پہلے حکم کی تنفیذ کے بعد ناکامی کی صورت میں شروع ہوتا ہے۔ اس لیے البقرۃ میں قصاص یا کچھ معافی و دیت ، اور المائدۃ میں قصاص یا مکمل معافی کا حکم ، لازماََ قابلِ نفاذ ہوتا ہے ، ان کی تنفیذ سے قبل ، صورتِ حال کو تکمیلی حکم کا مصداق قرار دینا ، نصوص کی کھلی خلاف ورزی ہو گی ، اور ایسا حاکم خود تکمیلی حکم کے مطابق سزاوار ہو گا ۔
اس وقت مسلم دنیا کی صورتِ حال یہ ہے کہ ایک طرف حکمران ہیں جن کا فرضِ منصبی ، قصاص کی چھتری کو قائم رکھنا ہے تاکہ اس کے سائے تلے افہام و تفہیم کی فضا کسی قسم کی اخلاقی کرپشن سے آلودہ نہ ہوسکے ، لیکن وہ قصاص کو ترک کرنا چاہتے ہیں ، منشاے ربانی کی تائید میں نہیں ،بلکہ ذہنی مفلوجیت کے ہاتھوں غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ، اور دوسری طرف ، نام نہاد علماے دین ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خدائی قانون کی بالادستی کا علم بلند کر رکھا ہے اور لفظیات میں الجھ کر، قصاص کو منشاے ربانی قرار دے کر وہ کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے جو درحقیقت حکمرانوں کا ہے، اپنی ذمہ داری سے یہ لوگ خیر سے آگاہ ہی نہیں۔ یہ دو انتہائیں ہیں ، دونوں غلط ہیں، اور ان د ونوں کے درمیان ، قرآن مجید کی حقیقی منشا گم ہو چکی ہے ۔
بہر حال، ہمیں اس مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن مجید ، انسان کے اخلاقی وجود کی تکمیل اور اس کی حفاظت کو نہایت اہم خیال کرتا ہے ۔ اس لیے جہاں کہیں اخلاقی وجود میں دراڑیں پڑیں وہاں سزا دینے کے عمل میں، انہی مخصوص اخلاقی لطائف کی بڑھوتری کا خاطر خواہ بندوبست کیاگیا ، جو اخلاقی شکستگی کا موجب بنے تھے ۔ اور جہاں کہیں اخلاقی وجود اس قدر پامال ہوتا نظر آیا جس کے بعد کسی اصلاح کی توقع نہیں کی جا سکتی ، وہاں قرآن مجید نے نہایت سنجیدگی سے انتہائی سخت گیر رویہ ظاہر کیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ قرآن عمومی طور پر ، مومنین پر کوئی ایسا قانونی حکم لاگو کرتا نظر نہیں آتا ، جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ وہ قرآنی قانون کے مطابق مومن نہیں رہے (سوائے النساء آیت ۹۳ کے )۔ لیکن مومنین کی قانونی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے ، ان کے اخلاقی انحطاط پر تشویش کا اظہار ضرور کرتا دکھائی دیتا ہے ، تشویش کے اس اظہار میں قرانی زبان اگرچہ تنبیہی ہو جاتی ہے ، لیکن رحمت و محبت کا چھایا ہوا اسلوب ، انسان کو پژمردہ کرنے کے بجائے اخلاقی بحالی کے مراحل سے گزارتا ہے۔
غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ (۲)
سید منظور الحسن
ملت ابراہیم کی اتباع
فاضل ناقد نے دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کی یہ بات درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا تھا۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے احکام محفوظ ہی نہیں تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اتباع کا حکم کیونکردیا جا سکتا تھا۔ لکھتے ہیں:
’’اگر ملت ابراہیمی سے مراد وہ ستائیس اعمال لے بھی لیے جائیں جو کہ غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں تو پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین ابراہیمی کی بنیادی عبادات نماز اور مناسک حج وغیرہ بھی محفوظ نہ تھیں چہ جائیکہ باقی اعمال محفوظ رہے ہوں۔ جب دین ابراہیمی ہی محفوظ نہ تھا تواللہ تعالیٰ کا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی اتباع کا حکم دینا کچھ معنی نہیں رکھتا ۔‘‘ (فکر غامدی۵۷)
فاضل ناقد کے پہلے اعتراض کے جواب میں یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ ملت ابراہیمی سے مراد دین ابراہیمی ہے اور اس کے مشمولات میں فقط اصولی تصورات نہیں، بلکہ احکام و اعمال بھی شامل ہیں۔اس تناظر میں دوسرے اعتراض کے بارے میں ہماری معروضات حسب ذیل نکات پر مبنی ہیں:
اولاً، اس اعتراض کی تردید خود آیت کے اسلوب بیان سے ہو جاتی ہے۔ حکم دیا گیا ہے :’وَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ‘ یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو یا اپنے بندوں کو کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس کا وجود عنقا ہو ، جو غیر محفوظ ہو یاجس کا مصداق مشتبہ ہو۔ اس ضمن میں دلیل قاطع یہ ہے کہ آیت کے اولین مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ عامۂ عرب کو ملت ابراہیم کے مختلف احکام کے بارے میں ابہام یا اشکال ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ہرگز ممکن نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ کے احکام کی تفہیم کے لیے وحی کی مکمل رہنمائی میسر تھی۔چنانچہ یہ یقینی امر ہے کہ آپ ان سنن کی حقیقی صورتوں سے بھی آگاہ تھے اور ان سے متعلق بدعات اورتحریفات کو بھی پوری طرح جانتے تھے۔
ثانیاً،قرآن مجید میں مختلف سنن کا جس طریقے سے ذکر ہوا ہے، اس سے بھی یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دین ابراہیمی کے سنن اہل عرب میں پوری طرح معلوم و متعارف تھے۔ عرب جاہلی میں دین ابراہیمی کے سنن کوئی اجنبی چیز نہیں تھے۔ ان کی زبان میں صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ ، حج، نسک کے الفاظ کا وجود بجاے خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان عبادات سے پوری طرح واقف تھے۔ وہ ان کی مذہبی حیثیت ، ان کے آداب ، ان کے اعمال و اذکار اور حدود و شرائط کو بھی بہت حد تک جانتے تھے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ قرآن نے جب ان کاذکر کیا تو ایسے ہی کیا جیسے کسی معلوم و معروف چیزکا ذکر کیا جاتا ہے۔ نہ ان کی نوعیت اور ماہیت بیان کی اور نہ ان کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے یہ جس طرح انجام دی جاتی تھیں،وحی کی رہنمائی میں ان میں بعض ترامیم کر کے، ان میں کیے جانے والے انحرافات کو ختم کر کے اور ان کی بدعات کی اصلاح کر کے انھیں اپنے ماننے والوں کے لیے جاری فرمایا۔
فاضل ناقد نے نماز اور حج کی مثال دی ہے اور لکھا ہے: ’’دین ابراہیمی کی بنیادی عبادات نماز اور مناسک حج وغیرہ بھی محفوظ نہ تھیں چہ جائیکہ باقی اعمال محفوظ رہے ہوں۔‘‘ہمارے نزدیک ان سنن کے حوالے سے قرآن و حدیث میں ان کے بیان ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اعمال فی الجملہ محفوظ تھے اور اہل عرب ان پر عامل تھے۔۱
ثالثاً،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنی اسماعیل میں دین ابراہیمی کی جو روایت رائج تھی ، اس میں انھوں نے بعض تحریفات کر رکھی تھیں اور بعض بدعات اختراع کر لی تھیں، لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ان تحریفات او ر بدعات کا تحریف اور بدعت ہونا پوری طرح مسلم تھا، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے بھی انھیں اختیار نہیں کیا۔ مزید براں نبوت کے بعد ان تحریفات کی نشان دہی اور ان بدعات سے آگاہی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی رہنمائی بھی میسر ہو گئی۔ اس تناظر میں بالبداہت واضح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو سنت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیاتو اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں تھا۔
رابعاً،فاضل ناقد کا اعتراض اگر حفاظت ہی کے پہلو سے ہے تو سوال یہ ہے کہ ’’ملت ابراہیم‘‘ کا جو مفہوم و مصداق خودانھوں نے متعین کیاہے،یعنی توحید، شرک سے اجتناب اور اطاعت الٰہی، کیا یہ تصورات مشرکین عرب کے ہاں محفوظ اور تحریف و آمیزش سے پاک تھے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ فاضل ناقد اس کے جواب میں یہی کہیں گے کہ، بلا شبہ مشرکین نے ان تصورات میں تحریف و آمیزش کر رکھی تھی، لیکن وہ اس آمیزش سے بھی پوری طرح آگاہ تھے اور اصل تصورات کو بھی بخوبی جانتے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ بعینہٖ یہی معاملہ اعمال کا بھی ہے۔وہ ان اعمال کی اصل سے بھی واقف تھے اور ان کے محرفات کو بھی جانتے تھے۔
یہ نکات امید ہے کہ فاضل ناقد کے اطمینان کے لیے کافی ہوں گے۔مزید تاکید کے لیے اہل علم کی تالیفات کے چند اقتباس درج ذیل ہیں۔ ان کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ تمام احکام جنھیں غامدی صاحب نے دین ابراہیمی کی روایت قرار دے کر سنن کی فہرست میں شمار کیا ہے،ہمارے جلیل القدر علما بھی انھیں دین ابراہیمی کی مستند روایت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کے پس منظر کے حوالے سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے ۔ تمام انبیا نے بنیادی طور پر ایک ہی جیسے عقائد اور ایک ہی جیسے اعمال کی تعلیم دی ہے۔ شریعت کے احکام اور ان کی بجا آوری کے طریقوں میں حالات کی ضرورتوں کے لحاظ سے ، البتہ کچھ فرق رہا ہے۔ سر زمین عرب میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس موقع پر اس دین کے احوال یہ تھے کہ صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں اس کے احکام دینی مسلمات کی حیثیت اختیار کر چکے تھے اورملت ابراہیم کے طور پر پوری طرح معلوم و معروف تھے، تاہم بعض احکام میں تحریفات اور بدعات داخل ہو گئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا:’ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ آپ نے یہ پیروی اس طریقے سے کی کہ اس ملت کے معلوم و معروف احکام کو برقرار رکھا، بدعات کا قلع قمع کیااور تحریف شدہ احکام کو ان کی اصل صورت پر بحال فرمایا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’اصل دین ایک ہے، سب انبیا علیہم السلام نے اسی کی تبلیغ کی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو فقط شرائع اور مناہج میں ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب انبیا نے متفق الکلمہ ہو کر یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دین کا بنیادی پتھر ہے۔ عبادت اور استعانت میں کسی دوسری ہستی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ... ان کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے سب حوادث اور واقعات کو وقوع سے پہلے ازل میں مقدر کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پاک مخلوق ہے جس کو ملائکہ کہتے ہیں۔ وہ کبھی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے اور اس کے احکام کی اسی طرح تعمیل کرتے ہیں، جس طرح ان کو حکم ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو چن لیتا ہے جس پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا ہے اور لوگوں پر اس کی اطاعت فرض کر دیتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہے، جنت اور دوزخ کا ہونا حق ہے۔جس طرح ہر دین کے عقائد ایک ہیں، اسی طرح بنیادی نیکیاں بھی ایک جیسی ہیں۔ چنانچہ دین میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو فرض قرار دیا گیا ہے۔نوافل عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں قرب حاصل کرنے کی تعلیم ہر دین میں موجود ہے۔ مثلاًمرادوں کے پورا ہونے کے لیے دعا مانگنا، اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہنا نیز کتاب منزل کی تلاوت کرنا۔ اس بات پر بھی تمام انبیا علیہم السلام کا اتفاق ہے کہ نکاح جائز اور سفاح حرام اور ناجائز ہے۔ جو حکومت دنیا میں قائم ہو عدل اور انصاف کی پابندی کرنا اور کمزوروں کو ان کے حقوق دلانا اس کا فرض ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس کا فرض ہے کہ مظالم اور جرائم کے ارتکاب کرنے والوں پر حد نافذ کرے، دین اور اس کے احکام کی تبلیغ اور اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔ یہ دین کے وہ اصول ہیں جن پر تمام ادیان کا اتفاق ہے اور اس لیے تم دیکھو گے کہ قرآن مجید میں ان باتوں کو مسلمات مخاطبین کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ان کی لمیت سے بحث نہیں کی گئی۔ مختلف ادیان میں اگر اختلاف ہے تو وہ فقط ان احکام کی تفاصیل اور جزئیات اور طریق ادا سے متعلق ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ۱/۱۹۹۔۲۰۰)
’’ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا: ’اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ اور آپ کی امت کو ان الفاظ سے مخاطب کیا گیا: ’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ‘۔ اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے حق میں فرمایا: ’وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ‘۔ اس کا راز اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی دین پر بہت صدیاں گزر جاتی ہیں اور اس اثنا میں لوگ اس کی پابندی اور اس کے شعائر کی تعظیم اور احترام میں مشغول رہتے ہیں تو اس کے احکام اس قدر شائع وذائع ہو جاتے ہیں کہ ان کو بدیہات اور مشہورات مسلمہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے اور کسی کو بھی ان سے انکار کرنے کی جرأت نہیں ہوتی، لیکن ساتھ ہی اس کے احکام میں طرح طرح کا تغیر و تبدل اور اس کی تعلیمات میں مختلف النوع تحریفات بھی آجاتی ہیں اور بعض بری رسوم بھی رواج پا جاتی ہیں۔ چنانچہ ان رسوم کی اصلاح اور ان تحریفات کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک نبی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب وہ مبعوث ہو چکتا ہے تو اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ جو احکام اس قوم میں جس کی طرف وہ مبعوث ہوا ہے، شائع و ذائع ہیں، ان پر وہ ایک نظر غائر ڈالتا ہے جو احکام سیاست ملیہ کے اصول کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو برقرار رکھتا ہے اور لوگوں کو ان کے پابند رہنے کی ترغیب دیتا اور تاکید کرتا ہے، برخلاف اس کے جن میں تحریف آچکی ہے، ان کو بدل کر اپنی اصل صورت پر لاتا ہے اور جن احکام میں ہنگامی مصلحت کے لحاظ سے کچھ کمی بیشی کرنا مطلوب ہو، ان میں وقتی مصالح کے تقاضوں کے مطابق تغیر و تبدل کر دیتا ہے۔‘‘ (حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۲۰۹)
شاہ صاحب نے ملت ابراہیمی کے حوالے سے اسی بات کو ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت حنیفیہ اسماعیلیہ کی کجیاں درست کرنے اور جو تحریفات اس میں واقع ہوتی تھیں، ان کا ازالہ کرکے ملت مذکورہ کو اپنے اصلی رنگ میں جلوہ گر کرنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ چنانچہ : ’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ‘ (اور ’اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘) میں اسی حقیقت کا اظہار ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ ملت ابراہیم کے اصول کو محفوظ رکھا جائے اور ان کی حیثیت مسلمات کی ہو۔ اسی طرح جو سنتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں، ان میں اگر کوئی تغیر نہیں آیا تو ان کا اتباع کیا جائے۔ جب کوئی نبی کسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے تو اس سے پہلے نبی کی شریعت کی سنت راشدہ ایک حد تک ان کے پاس محفوظ ہوتی ہے جس کو بدلنا غیر ضروری، بلکہ بے معنی ہوتا ہے۔ قرین مصلحت یہی ہے کہ اس کو واجب الاتباع قرار دیا جائے، کیونکہ جس سنت راشدہ کو وہ لوگ پہلے بنظراستحسان دیکھتے ہیں، اسی کی پابندی پر مامور کیا جائے تو کچھ شک نہیں کہ وہ اس کو قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہیں کریں گے اور اگر کوئی اس سے انحراف یا سرتابی کرے تو اس کو زیادہ آسانی سے قائل کیا جاسکے گا، کیونکہ وہ خود اس کے مسلمات میں سے ہے۔‘‘ (حجۃاللہ ۱/ ۴۲۷)
یہ بات بھی اہل علم کے ہاں پوری طرح مسلم ہے کہ دین ابراہیمی کے سنن عربوں میں قبل از اسلام رائج تھے۔شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ عرب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اعتکاف، قربانی، ختنہ، وضو، غسل، نکاح اور تدفین کے احکام پر دین ابراہیمی کی حیثیت سے عمل پیرا تھے۔ ان احکام کے لیے شاہ صاحب نے ’سنۃ‘ (سنت)، ’سنن متاکدہ‘ (مؤکد سنتیں)، ’سنۃ الانبیاء‘ (انبیا کی سنت) اور ’شعائر الملۃ الحنیفیۃ‘ (ملت ابراہیمی کے شعار) کی تعبیرات اختیار کی ہیں:
’’یہ بات وہ سب(عر ب)جانتے تھے کہ انسان کا کمال اور اس کی سعادت اس میں ہے کہ وہ اپنا ظاہر اور باطن کلیۃً اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اس کی عبادت میں اپنی انتہائی کوشش صرف کرے۔ طہارت کو وہ عبادت کا جز سمجھتے تھے اورجنابت سے غسل کرنا ان کا معمول تھا۔ ختنہ اور دیگر خصال فطرت کے وہ پابند تھے۔ تورات میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور اس کی اولاد کے لیے ختنہ کو ایک شناخت کی علامت مقرر کیا۔ یہودیوں اور مجوسیوں وغیرہ میں بھی وضو کرنے کا رواج تھا اور حکماے عرب بھی وضو اور نماز عمل میں لایا کرتے تھے۔ ابوذر غفاری اسلام میں داخل ہونے سے تین سال پہلے، جبکہ ابھی ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نیاز حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، نماز پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح قس بن ساعدہ ایادی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہود اور مجوس اور اہل عرب جس طریقے پر نماز پڑھتے تھے، اس کے متعلق اس قدر معلوم ہے کہ ان کی نماز افعال تعظیمہ پر مشتمل ہوتی تھی جس کا جزو اعظم سجود تھا۔ دعا اورذکر بھی نماز کے اجزا تھے۔ نماز کے علاوہ دیگر احکام ملت بھی ان میں رائج تھے۔ مثلاً زکوٰۃ وغیرہ۔... صبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک کھانے پینے اور صنفی تعلق سے محترز رہنے کو روزہ خیال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ عہد جاہلیت میں قریش عاشورکے دن روزہ رکھنے کے پابند تھے۔ اعتکاف کو بھی وہ عبادت سمجھتے تھے۔ حضرت عمر کا یہ قول کتب حدیث میں منقول ہے کہ انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھنے کی منت مانی تھی جس کا حکم انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ... اور یہ تو خاص و عام جانتے ہیں کہ سال بہ سال بیت اللہ کے حج کے لیے دور دور سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف قبائل کے لوگ آتے تھے۔ ذبح اور نحر کو بھی وہ ضروری سمجھتے تھے۔ جانور کا گلا نہیں گھونٹ دیتے تھے یا اسے چیرتے پھاڑتے نہیں تھے۔ اسی طرح اشہر الحرم کی حرمت ان کے ہاں مسلم تھی۔ ... ان کے ہاں دین مذکور کی بعض ایسی مؤکد سنتیں ماثور تھیں جن کے ترک کرنے والے کو مستوجب ملامت قرار دیا جاتا تھا۔ اس سے مراد کھانے پینے، لباس، عید اور ولیمہ، نکاح اور طلاق، عدت اور احداد، خریدو فروخت، مردوں کی تجہیزوتکفین وغیرہ کے متعلق آداب اور احکام ہیں جو حضرت ابراہیم سے ماثور و منقول تھے اور جن پر ان کی لائی ہوئی شریعت مشتمل تھی۔ ان سب کی وہ پابندی کرتے تھے۔ ماں بہن اور دیگر محرمات سے نکاح کرنا اسی طرح حرام سمجھتے تھے، جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ قصاص اور دیت اور قسامت کے بارے میں بھی وہ ملت ابراہیمی کے احکام پر عامل تھے۔ اور حرام کاری اور چوری کے لیے سزائیں مقرر تھیں۔‘‘ (حجۃاللہ البالغہ ۱/۲۹۰۔۲۹۲)
’’انبیا علیہم السلام کی سنت ذبح اور نحر ہے جو ان سے متوارث چلی آئی ہے۔ ذبح اور نحر دین حق کے شعائر میں سے ہے اور وہ حنیف اور غیر حنیف میں تمیز کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے یہ بھی اسی طرح کی ایک سنت ہے، جس طرح کہ ختنہ اور دیگر خصال فطرت ہیں اور جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو خلعت نبوت سے سرفراز فرما کر دنیا میں ہدایت کے لیے بھیجا گیا تو آپ کے دین میں اس سنت ابراہیمی کو دین حنیفی کے شعار کے طور پر محفوظ رکھا گیا۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ۲/۳۱۹۔۳۲۰)
امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ عربوں میں حج اور ختنہ وغیرہ کو دین ابراہیمی ہی کی حیثیت حاصل تھی:
’’ اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت خاص تھی، جیسے بیت اللہ کا حج اور ختنہ وغیرہ۔... عربوں نے ان چیزوں کو دین کی حیثیت سے اختیار کر رکھا تھا۔‘‘(التفسیر الکبیر ۴/ ۱۸)
ختنہ کی سنت کے حوالے سے ابن قیم نے لکھا ہے کہ اس کی روایت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک بلا انقطاع جاری رہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کی تکمیل اور توثیق کے لیے مبعوث ہوئے:
’’ختنہ کو واجب کہنے والوں کا قول ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی علامت، اسلام کا شعار، فطرت کی اصل اور ملت کا عنوان ہے۔... دین ابراہیمی کی اتباع کرنے والے اپنے امام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد سے لے کر خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک ہمیشہ اسی پر کاربند رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کی تکمیل اور توثیق کے لیے مبعوث فرمائے گئے نہ کہ اس میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے۔‘‘ (ابن القیم، مختصر تحفۃ المولود ۱۰۳۔ ۱۰۴)
قبل از اسلام تاریخ کے محقق ڈاکٹر جواد علی نے اپنی کتاب ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں کم و بیش ان تمام سنن کو دین ابراہیمی کے طور پر نقل کیا ہے جنھیں جناب جاوید احمد غامدی نے سنتوں کی فہرست میں جمع کیا ہے اور جو عربوں میں اسلام سے پہلے رائج تھیں۔ اس ضمن میں فاضل محقق نے نماز ، روزہ، اعتکاف، حج و عمرہ، قربانی ، جانوروں کا تذکیہ، ختنہ، مو نچھیں پست رکھنا ، زیر ناف کے بال کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا، بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا، ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی، استنجا، میت کا غسل، تجہیز و تکفین اور تدفین کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ سنن دین ابراہیم کے طور پر رائج تھیں اور عرب بالخصوص قریش ان پر کاربند تھے۔ لکھتے ہیں:
’’بنو معد بن عدنان دین ابراہیمی کے بعض اجزاپر کارفرما تھے۔وہ بیت اللہ کا حج کرتے تھے اور اس کے مناسک اداکرتے تھے۔ مہمان نواز تھے ، حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے۔ فواحش ،قطع رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کو برا جانتے تھے۔ جرائم کی صورت میں سزا بھی دیتے تھے۔ یہی چیزیں ہیں جنھیں آج ہم رسم و رواج اور اخلاقی اصول و ضوابط میں شمار کرتے ہیں۔ یہی امور سنت ابراہیمی تھے، یعنی بت پرستی سے پہلے عربوں کا قدیم دین ۔‘‘ (۶/ ۳۴۵)
’’روایتوں میں ہے کہ قریش یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے۔ ...روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔‘‘ (۶/۳۳۹)
’’اعتکاف کی نسبت دین ابراہیمی کے متبعین کی طرف کی جاتی ہے جو پہاڑوں،غاروں اورغیر آباد جگہوں میں اس کااہتمام کرتے تھے۔ اہل اخبار بیان کرتے ہیں کہ وہ ویران اورآبادی سے دور مقامات پراعتکاف کیا کرتے تھے۔ ان جگہوں میں وہ اپنے آپ کو بند رکھتے اور شدید حاجت اور ضروری کام کے علاوہ باہر نہیں نکلتے تھے۔ ان میں عبادت کرتے، کائنات میں غوروفکر کرتے، سچ اور حق کے لیے دعا کرتے۔‘‘ (۶/۵۰۹)
’’دین ابراہیمی کے پیرو نساک، یعنی عبادت گزاروں میں سے تھے۔ وہ قربانی کے جانور کو بھی ’نسک‘ میں شمار کرتے تھے اور وہ ’’نسیکہ‘‘ سے مراد ’’ذبیحہ‘‘ لیتے تھے۔ قربانی کے جانور، یعنی نسائک زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کے نزدیک زہد و عبادت کے اہم مظاہر میں سے تھے ۔‘‘ (۶/۵۱۰)
’’بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مردوں پر صلوٰۃ پڑھتے تھے۔ ان کی نمازجنازہ یہ تھی کہ میت کو کھاٹ پر لٹا دیا جاتا، پھراس کا ولی کھڑا ہوتا اور اس کے تمام محاسن بیان کرتا اور اس کی مدح و ثنا کرتا۔ پھر کہتا: تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ پھر اس کو دفن کر دیا جاتا۔‘‘ (۶/۳۳۷)
’’غسل جنابت اور مردوں کو نہلانا بھی ان سنتوں میں سے ہے جو اسلام میں مقرر کی گئیں۔ افوہ اودی کے شعر میں غسل میت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اعشیٰ اور بعض جاہلی شعرا کی طرف منسوب اشعار میں مردوں کے کفن اور ان پر نماز پڑھنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ روایتوں میں ہے کہ قریش اپنے مردوں کو غسل دیتے اور خوشبو لگاتے تھے۔‘‘ (۶/۳۴۴)
’’اہل اخبار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متبعین کی کچھ ایسی علامات اور عادات تھیں،جن کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ ان میں سے ختنہ، زیرناف بال کاٹنا اور مونچھیں ترشوانا۔ ... ختنہ شریعت ابراہیم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ ان قدیم عادات میں سے ہے جو زمانۂ جاہلیت کے بت پرستوں میں عام تھیں۔‘‘ (۶/۵۰۸)
سیدنا ابراہیم سے سنن کا استناد
فاضل ناقد نے تیسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے سنن کی نسبت تواتر عملی کے معیار پر تو کجا، خبر صحیح کے معیار پر بھی ثابت نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ اگر یہ ثابت ہی نہیں ہے کہ مذکورہ اعمال کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دین کی حیثیت سے جاری فرمایا تھا تو انھیں دین ابراہیمی کی روایت کی حیثیت سے پیش کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ (فکر غامدی ۴۸۔۴۹)
ہمارے نزدیک فاضل ناقد کا یہ اعتراض بالکل بے معنی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے تصور کے مطابق سنت کی صورت میں موجود دین کا ماخذ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وہ اگر سیدنا ابراہیم کی ذات کو ماخذ قرار دیتے تو اسی صورت میں فاضل ناقد کا اعتراض لائق اعتنا ہوتا، لیکن ان کی کسی تحریر میں بھی اس طرح کا تاثر نہیں ہے۔ ’’اصول و مبادی‘‘ میں انھوں نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے کہ رہتی دنیا تک کے لیے دین کا ایک ہی ماخذ ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ انھی سے یہ دین قرآن اور سنت کی دو صورتوں میں ملا ہے۔ سنت اگرچہ اپنی نسبت اور تاریخی روایت کے لحاظ سے سیدنا ابراہیم ہی سے منسوب ہے، لیکن اس روایت کو ہمارے لیے دین کی حیثیت اس بنا پر حاصل ہوئی ہے کہ اسے نبی آخر الزماں نے دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔
سنن کی سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے نسبت
فاضل ناقدنے چوتھا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کی مرتب کردہ سنن کی فہرست میں سے بیش تر سنن ایسی ہیں جن پر عمل کے شواہد ابراہیم علیہ السلام سے پہلے انبیا کے ہاں بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی مثال قربانی اور تدفین ہے۔ چنانچہ حقیقت اگر یہی ہے تو غامدی صاحب کے اصول کی رو سے انھیں سنت ابراہیمی کے طور پر نہیں، بلکہ سنت آدم یا سنت نوح کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ (فکر غامدی ۵۰۔۵۲)
فاضل ناقد کا یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے۔ زبان و بیان کے مسلمات اور تاریخ و سیر کے معروفات کی رو سے یہ لازم نہیں ہے کہ کسی چیز کی نسبت اس کے اصل موجد ہی کی طرف کی جائے۔بعض اوقات یہ نسبت بعد کے زمانے کی کسی مشہور و معروف شخصیت یا قوم کی طرف بھی کر دی جاتی ہے۔ سورۂ مائدہ میں قصاص کے قانون کے لیے ’کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ‘ (۳۲۔ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا)کے الفاظ آئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون بنی اسرائیل سے پہلے بھی موجود تھا۔ قرآن نے اگر اسے بنی اسرائیل کے حوالے سے بیان کیا ہے تو اس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ اس کا اجرا بھی بنی اسرائیل کے زمانے میں ہوا ہے۔ چنانچہ ابن العربی نے ’’احکام القرآن‘‘ میں بیان کیا ہے:
’’حضرت آدم اور ان کے بعد کوئی دور ایسا نہیں گزرا کہ اس میں (اللہ کی) شریعت موجود نہ رہی ہو۔ شریعت کے قواعد میں سب سے اہم قاعدہ یہ ہے کہ ظلم سے خون بہنے سے بچایا جائے اور قصاص کے ذریعہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے تا کہ ظالموں اور جور کرنے والوں کے ہاتھ کو روکا اور پابند کیا جائے۔ یہ ان قواعد میں سے ہے جو ہر شریعت اپنے اندر رکھتی ہے اور یہ اس اصول کا حصہ ہے جو تمام ملتیں بالاتفاق مانتی ہیں۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بنی اسرائیل میں یہ قانون جاری فرمانے کا ذکر کیا، کیونکہ ان سے پہلے کی امتوں کی طرف ان کی شریعتوں میں جو بھی وحی نازل کی گئی، وہ محض قول ہوتا تھا اور لکھا ہوا نہ ہوتا تھا۔‘‘ ( ۲/۵۹۱)
فاضل ناقد کاوضع کردہ یہ اصول کہ کسی چیز کی نسبت لازماً اس کے اصل موجد ہی کی طرف ہونی چاہیے ،اس قدر خلاف حقیقت ہے کہ خود لفظ ملت پر، جس کے مفہوم ومصداق کی تعیین کے لیے فاضل ناقد نے یہ اصول تشکیل دیا ہے، اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔فاضل ناقد نے لکھا ہے: ’’ ’ملت ابراہیم ‘ سے مراددین اسلام کی وہ اساسی تعلیمات ہیں جو کہ حضرت ابراہیم کی شخصیت میں نمایاں تھیں یعنی ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرنااور اللہ کا انتہائی درجے میں فرمانبردار ہو جانا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ ملت ابراہیم کو فاضل ناقد شرک سے اجتناب اور اللہ کی فرماں برداری کے جس مفہوم میں لے رہے ہیں، کیا یہ تصور اور یہ رویہ آپ سے پہلے انبیا کے ہاں نہیں تھا؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے اور یقیناًایسا ہی ہے تو پھر فاضل ناقد نے اس کی نسبت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کیوں کی ہے ؟
(جاری)
مقام عبرت (۲)
مولانا مفتی عبد الواحد
(’’حدود و تعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ پر تنقید و تبصرہ۔)
محمد عمار صاحب اور زنا کی سزا
محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید میں زنا کی سزا دو مقامات پر بیان ہوئی ہے اور دونوں مقام بعض اہم سوالات کے حوالے سے تفسیر و حدیث اور فقہ کی معرکہ آرا بحثوں کا موضوع ہیں۔
پہلا مقام سورۂ نساء میں ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًاo وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ (۴:۱۵، ۱۶)
’’اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہوں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو گھروں میں محبوس کر دو، یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بیان کر دیں۔ اور تم میں سے جو مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انہیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو۔ بے شک، اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘
سزا کی نوعیت اور حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ ایک عبوری سزا تھی جس کی جگہ بعد میں زنا کی سزا سے متعلق حتمی احکام نے لی۔ اس لحاظ سے عملاً یہ آیت اب شریعت کے کسی مستقل حکم کا ماخذ نہیں رہی، تاہم ان آیتوں کے مفہوم کی تعیین میں مفسرین کو بڑی الجھن کا سامنا ہے۔ ان میں سے پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے جب کہ دوسری آیت میں زانی مرد اور عورت، دونوں کی۔ بنیادی الجھن یہ ہے کہ خواتین کی سزا کو پہلے الگ ذکر کرنے اور پھر اس کے بعد مرد و عورت، دونوں کی سزا بیان کرنے کا مقصد اور باعث کیا ہے؟‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۲۳، ۱۲۴)
ہم کہتے ہیں: یہ ذکر کرنے کے بعد محمد عمار صاحب نے اس الجھن کے جواب میں بہت سے مفسرین کے اقوال نقل کیے ہیں لیکن ہر قول کو انہوں نے مخدوش قرار دیا۔ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں زنا سے متعلق دو ہی باتیں اہم ہیں:
i- شادی شدہ عورت کا زنا کرنا اور اس پر اس کے شوہر کا زنا کا الزام رکھنا۔
ii- مرد کا غیر شادی شدہ، عورت سے زنا کرنا اگرچہ وہ کنواری ہو یا بیوہ ہو یا مطلقہ ہو۔
اور ان ہی سے متعلق واقعات بھی پیش آئے جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ رہی محمد عمار صاحب کی یہ بات کہ اس وقت کے دو اہم مسئلے بدکاری کے اڈے چلانے اور یاری آشنائی کو مستقل شغل بنانے کے تھے تو یہ ان کی محض اختراع کیونکہ اس وقت کے مسلمان معاشرے میں ایسی کوئی خرابی تاریخ سے یا حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
قرآن اور سنت میں ان دونوں ہی کے اعتبار سے احکام دیے گئے ہیں۔ عبوری طور پر پہلی صورت میں یہ حکم دیا کہ عدالت شوہر سے چار گواہ طلب کرے۔ اگر وہ گواہ پیش کر دے تو عدالت کے حکم پر عورت کو گھر میں قید کر دیا جائے۔ دوسری صورت میں یہ حکم دیا کہ ان کا زنا ثابت ہونے پر ان کو تعزیر کی جائے۔
مفسرین کے اقوال پر محمد عمار صاحب نے جو اعتراضات اٹھائے ہیں وہ ہمارے دیئے ہوئے جواب پر نہیں پڑتے کیونکہ ہمارے جواب میں:
۱۔ دونوں آیتیں الگ الگ صورتوں پر محمول ہیں۔
۲۔ پہلی آیت میں خطاب تمام مسلمانوں سے ہے اور ان کی بیویوں سے متعلق ہے لہٰذا حکم دینے اور سزا نافذ کرانے کا تعلق مسلمانوں کے اجتماعی نظم یعنی حاکم یا عدالت و قضا سے ہو گا۔
۳۔ دوسری آیت میں صرف مرد زانیوں کی سزا مراد نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کی سزا مراد ہے۔
۴۔ دونوں آیتوں میں خرچ کا مدار چار گواہوں کے ہونے نہ ہونے پر بھی نہیں رکھا گیا۔
۵۔ فاحشہ کے لفظ سے زنا ہی مراد لیا ہے لواطت نہیں۔
محمد عمار صاحب کی سوچ کا زاویہ اگر صحیح ہوتا تو شاید وہ خود ہی ہمارے جواب تک پہنچ جاتے یا اس سے بھی بہتر جواب سوچ لیتے لیکن سوچ و فکر کا زاویہ غلط ہونے سے ان کو جاوید غامدی صاحب کا ہی فلسفہ پسند آیا ہے۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں:
’’جناب جاوید احمد غامدی نے مولانا اصلاحی کی رائے کے اس پہلو سے تو اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبے میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طور پر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے، البتہ دونوں آیتوں کے باہمی فرق کے حوالے سے ان کی راے یہ ہے کہ پہلی آیت کا مصداق وہ پیشہ ور بدکار عورتیں ہیں جن کے لیے زنا شب و روز کا شغل تھا، جب کہ دوسری آیت میں ایسے مردوں اور عورتوں کی سزا بیان ہوئی ہے جن کا ناجائز تعلق یا ری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ان کی رائے میں قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر ان میں سے پہلی صورت کو ’مُسٰفِحِیْنَ‘ اور ’مسٰفِحٰتِ‘ جب کہ دوسری صورت کو ’مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ‘ اور ’مُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔
ہماری رائے میں آیت کی یہ تاویل اس پہلو سے قرین قیاس لگتی ہے کہ اس میں جرم کی جن دو صورتوں کو متعین کیا گیا ہے، ان کا عرب معاشرت میں پایا جانا مسلم ہے، ان کی سزا کو قانون کا موضوع بنانا بھی قابل فہم ہے اور اس سے دونوں صورتوں میں تجویز کی جانے والی الگ الگ سزاؤں کی وجہ اور حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پہلی آیت میں صرف خواتین کی سزا کو موضوع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری میں بنیادی کردار خواتین ہی کا ہوتا ہے اور جرم کے سد باب کے لیے اصلاً انہی کی سرگرمیوں پر پہرہ بٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مرد و عورت میں یاری آشنائی کے تعلق کی صورت میں دونوں جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی تادیب و تنبیہ کو قانون کا موضوع بنانا پڑتا ہے۔ مزید براں جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، آیت کے الفاظ اور سیاق و سباق میں کوئی چیز اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع نہیں، اس لیے جب تک کوئی قابل غور اعتراض سامنے نہ آئے، یہ کہنا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس تاویل کی روشنی میں آیت کی مشکل بظاہر قابل اطمینان طریقے سے حل ہو جاتی ہے۔
اوپر کی سطور میں ہم نے سورۂ نساء کی ان آیات کا جو مفہوم متعین کیا ہے، اگروہ درست ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن مجید نے زنا کی عبوری سزا بیان کرتے ہوئے صرف زنا کے عادی مجرموں کو موضوع بنایا ہے، جب کہ اتفاقیہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اصول تدریج کے تناظر میں اس کی حکمت واضح ہے۔ اگر کسی معاشرے میں مناسب اخلاقی تربیت کے فقدان اور زنا کے محرکات کی کثرت کے سبب سے کسی جرم کا سدباب فوری طور پر ممکن نہ ہو تو ابتدائی مرحلے پر ہلکی سزاؤں پر اکتفا کرنا اور سزا کے لیے جرم کو عادت اور معمول بنا لینے والے مجرموں پر توجہ مرکوز کرنا ہر اعتبار سے قابل فہم ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۴، ۱۳۵)
ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کا جاوید غامدی کے نظریہ کو ترجیح دینا مندرجہ ذیل وجوہ سے غلط ہے:
۱۔ حدیث میں اس آیت کا حوالہ دے کر جو حکم بیان کیا گیا ہے اس میں پیشہ ور اور غیر پیشہ ور عورتوں کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔
۲۔ یہ امت کے اجماع کے خلاف ہے۔
۳۔ آیت میں مِنْکُمْ سے مراد مسلمان ہیں اور یہ بعید ہے کہ ایک انتہائی صالح مسلمان معاشرہ میں جس کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہوں اس میں ایسے مسلمان افراد بھی ہوں جو بدکاری کے اڈے چلا رہے ہوں یا جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا ہو۔ غرض کوئی بھی با غیرت مسلمان اس تصور کو اپنے دل و دماغ میں جگہ نہیں دے سکتا۔ لیکن غامدی صاحب الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے بمصداق یوں دھونس جماتے ہیں ’’یہی وہ چیز ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ آیت ہماری تفسیروں میں ایک لا ینحل معما بنی ہوئی ہے‘‘۔ (میزان ص ۲۸۷)
۴۔ یہ آیتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہؓ کے دور میں بھی تھیں اور اس وقت بھی یہ کچھ معنی رکھتی تھیں۔ ان کا جو معنی و ترجمہ عمار صاحب یا غامدی صاحب کر رہے ہیں، کیا یہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا تھا یا صحابہ نے سمجھا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا یہ مذموم تفسیر بالرائے کا مصداق نہیں بن جاتی۔
۵۔ غامدی صاحب خود اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’ان (الفاظ) کا اسلوب دلیل ہے کہ یہ قحبہ عورتوں کا ذکر ہے۔ اس صورت میں اصل مسئلہ چونکہ عورت ہی کا ہوتا ہے اس لیے مرد زیر بحث نہیں آئے‘‘۔ (میزان ص ۲۸۷) اور آیت میں جو چار گواہ طلب کرنے کا حکم ہے تو ’’وہ اس بات کے گواہ ہوں کہ وہ فی الواقع زنا کی عادی قحبہ عورتیں ہی ہیں۔‘‘ (میزان ص ۲۸۷)
ہم کہتے ہیں کہ وَالَّذَانِ یَاتِیَانِھَا کا اسلوب بھی بعینہ اسی طرح کا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے لیے قحبہ ہونا اور پیشہ ور ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ ان الفاظ کا ترجمہ وہ یہ کرتے ہیں ’’وہ مرد و عورت جو یہ برائی کریں۔‘‘ اب معلوم نہیں کہ غامدی صاحب نے واقعی خود بھی آیت کے ترجمہ میں ترمیم کر کے اس کی وضاحت میں یہ قید بڑھائی ہے کہ ’’جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا ہو‘‘ یا یہ محمد عمار صاحب کے قلم کی فنکاری ہے۔ غرض اگر غامدی صاحب نے ایسا کچھ نہیں کیا تو غامدی صاحب پر یہ اعتراض ہے کہ ایک ہی اسلوب کے باوجود ترجمہ کا فرق بے بنیاد ہے اور محمد عمار صاحب پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے من گھڑت بات کو غامدی صاحب سے منسوب کر دیا اگر غامدی صاحب یہ قید لگاتے ہیں تو وہ قرن اول کے اسلامی معاشرہ پر ایک اور الزام کا اضافہ کرتے ہیں۔
زنا کی سزا
محمد عمار صاحب لکھتے ہیں:
’’اس عبوری سزا کے بعد زنا کی حتمی سزا سورہ نور میں بیان کی گئی۔ ارشاد ہوا ہے:
الَزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَلَا تَاخُذْکُمْ بِِھِمَا رَافَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ۔ (سورہ نور: ۲)
’’زانی عورت اور زانی مرد ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان دونوں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کا جذبہ تم پر حاوی نہ ہو جائے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۶)
’’سورہ نور کی یہ آیت اپنے ظاہر کے لحاظ سے حکم کے جن اہم پہلوؤں پر دلالت کرتی ہے انہیں درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
ایک یہ کہ یہاں حکم زنا کی ان مخصوص صورتوں تک محدود نہیں رہا جو عبوری سزا کا موضوع بنی تھیں، بلکہ اتفاقیہ زنا کا مرتکب ہونے یا اسے عادت اور معمول بنا لینے کے پہلو سے مجرد کرتے ہوئے فی نفسہ زنا کے جرم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح یہ حکم اپنے دائرہ اطلاق کے اعتبار سے زنا کی تمام صورتوں کو شامل اور اس میں بیان ہونے والی سزا زنا کی ہر صورت پر یکساں قابل نفاذ ہے۔
دوسرے یہ کہ قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے مجرم کی ازدواجی حیثیت کو بھی موضوع نہیں بنایا اور زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بس یہی سزا دینا چاہتا ہے۔۔۔
تیسرے یہ کہ نفس زنا کی سزا کے بیان کو قرآن نے چونکہ یہاں خود موضوع بنایا ہے، اس لیے یہ سزا کسی کمی بیشی کے بغیر صرف وہی ہو سکتی ہے جو قرآن نے بیان کی ہے۔ جرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی اگر تقاضا کرے تو یقیناًمجرم کو اس کے علاوہ کوئی مزید سزا بھی دی جا سکتی ہے۔۔۔
سورہ نساء کی آیت میں زنا کے جن عادی مجرموں کے لیے عبوری سزا بیان کی گئی ان کا جرم چونکہ زنا کے عام مجرموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سنگین تھا اور ان میں سے بالخصوص یاری آشنائی کا تعلق رکھنے والے بدکار جوڑے اس عرصے میں توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے اس لیے عام مجرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے۔ چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
۔۔۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی۔۔۔ تو آپ نے فرمایا مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کر دی ہے۔ شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ ہے اور کنوارا زانی کنواری زانیہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کیا جائے جب کہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔
سورہ نساء کی زیر بحث آیت کے حوالے سے ہم جناب جاوید احمد غامدی کی اس رائے کا ذکر کر چکے ہیں کہ یہاں زنا کے عام مجرم نہیں بلکہ صرف عادی مجرم زیر بحث ہیں۔ اگر یہ رائے درست ہے تو پھر عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت بھی زنا کے عام مجرموں سے متعلق نہیں، بلکہ جیسا کہ خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا کے الفاظ سے واضح ہے، قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق قرار پائے گی جن کے ہاں یاری آشنائی ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ اگر ایسے مجرموں میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی سزا میں تفریق کرنے اور قرآن مجید میں بیان کردہ سو کوڑوں کی سزا کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں دینے کا حکم دیا گیا ہو تو اس سے قرآن مجید کے ساتھ تعارض کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کسی قسم کے اضافی پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے نفس زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔ تاہم صدر اول سے اہل علم کی غالب ترین اکثریت کا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ عبادہ بن صامت کی روایت اور اس کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی سزا سے متعلق دیگر روایات زنا کے عام مجرموں ہی سے متعلق ہیں اور متعدد روایات سے بظاہر اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ اس رائے کے مطابق ان اضافی سزاؤں کو ہر طرح کے زانی پر قابل اطلاق مانا جائے تو یہ بات بظاہر قرآن مجید کے مدعا سے متجاوز قرار پاتی ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ۱۳۵-۱۳۸ )
اس عبارت میں محمد عمار صاحب کی غلطیاں
محمد عمار صاحب کی یہ طویل عبارت بہت سی خرابیوں پر مشتمل ہے جو یہ ہیں:
پہلی خرابی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن افراد کو رجم کی سزا دی یہ نہیں ملتا کہ آپ نے ان کو سو کوڑوں کی بھی سزا دی ہو حالانکہ محمد عمار صاحب کے نظریہ کے مطابق سو کوڑے ان کی سزا کے لازمی جزو ہوتے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔‘‘
دوسری خرابی:
اسی طرح یہ بھی نہیں ملتا کہ ان افراد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سو کروڑوں کی سزا دی ہو یا تعزیر کی ہو لیکن ’’وہ توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے۔‘‘
تیسری خرابی:
محمد عمار صاحب نے لکھا کہ ’’قرآن نے زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بس یہی سزا دینا چاہتا ہے‘‘۔ اس پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نفس زنا پر سزا دینے میں شادی کے ہونے نہ ہونے کا اعتبار نہیں کرتے تو اضافی سزاؤں میں وہ اس کا اعتبار کیوں کرتے ہیں ؟ کیا ایک جگہ ان کے درمیان فرق کا باعث دوسری جگہ ان میں فرق کا باعث نہیں بن سکتا؟
چوتھی خرابی:
رجم کی سزا کا تعلق جب قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق ہے جن کے ہاں یاری آشنائی ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر چکی تھی تو اس کو یہ لازم ہو گا کہ ماعز رضی اللہ عنہ اور غامدیہ خاتونؓ توبہ توبہ انتہائی بد کردار لوگ تھے جنہوں نے توبہ و اصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش نہ بدلی تھی۔ محمد عمار صاحب نے اس بات کو اس طریقہ سے پیش کیا ہے کہ یہ نتیجہ ان کو بس لازم ہی ہو ورنہ ان کے ممدوح اہل علم امین احسن اصلاحی اور حمید الدین فراہی تو ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں التزام کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی لکھتے ہیں کہ ’’اس کی بد اخلاقی حد سے بڑھی ہوئی تھی‘‘ اور ’’یہ ایک نہایت بدخصلت غنڈا تھا۔‘‘
پانچویں خرابی:
محمد عمار صاحب کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی اسلامی ریاست کا جو تصور بنتا ہے، وہ ایسا ہے کہ اس میں قحبہ عورتوں کے اڈے قائم ہیں اور مستقل یاری و آشنائی کے مواقع حاصل ہیں اور ان کو ختم کرنے کی اس ریاست میں کچھ طاقت نہیں کیونکہ یہ نہیں ملتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قحبہ عورتوں کے اڈے ختم کرائے ہوں۔
چھٹی خرابی:
محمد عمار صاحب نے لکھا ہے کہ ’’زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں ’’یہاں عمار صاحب نے متعین اضافی سزاؤں کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہدایت (Instruction) بتایا ہے اور چونکہ اس ہدایت میں کوئی قید نہیں ہے لہٰذا ان کی بات کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ عادی مجرموں پر ہر حال میں اضافی سزا نافذ کی جائے گی اور چونکہ وہ اضافی سزا متعین بھی ہے لہٰذا وہ حد کے طور پر ہے، تعزیرکے طور پر نہیں اور اس میں کمی بیشی بھی ممکن نہیں۔ لیکن محمد عمار صاحب جلا وطنی کی سزا پر کلام کرتے ہوئے اپنی اس بات کے تمام تقاضوں کو بھول گئے اور کچھ اور ہی کہنے لگے۔ لکھتے ہیں:
’’فقہاے احناف۔۔۔ کی رائے میں جلا وطنی کی سزا محض ایک تعزیری سزا ہے اور اس کے نفاذ کا مدار قاضی کی صوابدید پر ہے۔۔۔بہرحال، استدلال کی اس کمزوری کے باوجود احناف کا یہ موقف فی نفسہ درست ہے اور سورہ نور کی آیت کے علاوہ دیگر دلائل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سورہ نساء کی آیت ۲۵ ۔۔۔
چونکہ قرآن مجید نے لونڈیوں کی سزا آزاد عورتوں سے نصف بیان کی ہے اس لیے اگر جلا وطن کرنا آزاد عورتوں کی سزا کا لازمی حصہ ہوتا تو قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی رو سے لونڈیوں کو بھی چھ ماہ کے لیے جلا وطن کرنا ضروری ہوتا۔۔۔زانی کو جلا وطن کرنے کی احادیث کو روایت کرنے والے بعض صحابہ کے اسلوب بیان سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ وہ اس سزا کو اصل حد کا حصہ نہیں، بلکہ ایک اضافی سزا سمجھتے ہیں۔۔۔ گویا جلا وطن کرنا فی نفسہ زنا کی مستقل اور باقاعدہ سزا نہیں ہے، بلکہ اسے جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت کے لحاظ سے اصل سزا کے ساتھ تعزیری طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، اور اسی حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجائے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلا وطن نہ کیا جائے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی کی رائے یہ نقل ہوئی ہے کہ زانی مرد و عورت کو جلا وطن کرنا فتنہ ہے، یعنی اس سے ان کی اصلاح کے بجائے مزید برائی میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ۱۳۸-۱۴۱)
ہم کہتے ہیں: ۱۔ فقہاے احناف تو کسی بھی کنوارے مرد کے لیے زنا کی حد سو کوڑے مانتے ہیں اور حدیث میں جس جلاوطنی کا ذکر ہے اس کو تعزیر پر محمول کرتے ہیں جب کہ محمد عمار صاحب اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ حدیث میں مذکور جلا وطنی کی سزا ان کنوارے مرد و عورت کے لیے ہے جو پکے بد کردار ہوں۔ اور اس کو نافذ کرنے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کی تھی جس کی وجہ سے وہ پکے بد کردار کنوارے مرد و عورت زانی کے لیے حد کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کہ تعزیر اور اس کی مقدار تو حاکم و عدالت کی صوابدید پر ہوتی ہے۔اتنے بڑے فرق کے ہوتے ہوئے محمد عمار صاحب نہ جانے کیوں فقہاے احناف کے موقف کو درست کہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ محمد عمار صاحب کہیں کہ انہوں نے فقہائے احناف کے موقف کو صرف اس اعتبار سے درست کہا ہے کہ اتفاقیہ زنا میں ملوث ہونے والے مرد کو جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت کے لحاظ سے اصل سزا کے ساتھ تعزیر کے طور پر ایک سال کے لیے جلا وطنی کی سزا تجویز کی جا سکتی ہے۔ باقی رہی پکے بدکرداروں کی سزا تو جلا وطنی کی سزا اس کا ایک حصہ ہے جو بہرحال لازمی ہے ۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ :
(ا) فقہاے احناف بھی اور محمد عمار صاحب بھی دونوں ایک ہی حدیث سے اپنا اپنا مطلب نکال رہے ہیں اور دونوں کے مطلب میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو محمد عمار اپنے موقف سے متضاد موقف کو کیسے درست کہتے ہیں۔
(ب) محمد عمار صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’قرآن نے نفس زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے جرم کی ازدواجی حیثیت کو بھی موضوع نہیں بنایا اور زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نفس زنا کے ارتکاب پر ہر طرح کے زانی کو چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ بس یہی سزا دینا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ ظاہر بات ہے کہ شادی شدہ شخص اگر زنا کرے تو غیر شادی شدہ کے مقابلہ میں اس کے جرم کی نوعیت بڑھ جاتی ہے لیکن محمد عمار صاحب کہتے ہیں کہ ’’زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے ہیں۔‘‘ محمد عمار صاحب کے اس نظریہ کے مطابق تو چاہے کیسے ہی حالات ہوں اور جرم کی نوعیت بھی خواہ کیسی ہی ہو کنوارے مرد زانی کی سزا بس سو کوڑے ہی ہو۔ فقہاے احناف اس پر جلا وطنی کی سزا کو بڑھاتے ہیں تو محمد عمار صاحب اس کو کیسے درست مانتے ہیں۔
(ج) محمد عمار صاحب خود لکھ چکے ہیں کہ زائد سزا اصل سزا کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ ان کی عبارت یہ ہے۔ ’’قرآن نے ہر قسم کے زانی کے لیے زنا کی سزا صرف سو کوڑے بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اصل سزا یہی ہے۔ اب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اضافی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی زائد سزا بیان کی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حد نہیں بلکہ ایک تعزیری سزا ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اسے اصل سزا کا لازمی حصہ تصور کرتے ہوئے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ مساوی طور پر لازم مانا تو یہ بات قرآن کے صریح بیان کو ناکافی قرار دینے کے مترادف ہے‘‘۔ (حدود و تعزیرات ص ۱۳۴، ۱۵۵)
ii- محمد عمار صاحب نے لکھا کہ ’’اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجائے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلا وطن نہ کیا جائے۔‘‘ ان کی اس بات کو لے کر ہم کہتے ہیں کہ پکے بدکردار غیر شادی شدہ مرد و عورت زانی کی جلا وطنی میں بہتری کے بجائے فسادکا خدشہ ہو تو کیا خدائی ہدایت کے باوجود اس کو جلا وطن نہ کیا جائے گا۔
پھر غور طلب بات یہ ہے کہ اگر عورت کو جلا وطن کیا جائے گا تو اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے گا۔ اگر جلا وطنی کے بجائے تاویل کر کے اس کو قید کرنے پر محمول کیا جائے تو محمد عمار صاحب نے اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ ایسے بدکردار لوگوں کے لیے قید کے مقابلہ میں جلا وطنی آسان ہوتی ہے اور وہ نئی جگہ پر بھی بہت جلد اپنا مشغلہ دوبارہ جاری کر لیتے ہیں۔ اسی لیے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو فتنہ کہا۔ تو کیا خدائی ہدایت کے بر خلاف ان کو جلا وطنی سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی اور اپنی عقل سے خدائی سزا کو بدل دیا جائے گا۔
ساتویں خرابی:
محمد عمار صاحب نے لکھا ہے ’’عام مجرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے چنانچہ ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ سو کوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذ کی جائیں۔‘‘
ہم کہتے ہیں: محمد عمار صاحب کی اس بات پر وہ سب اعتراض پڑتے ہیں جو انہوں نے رجم کی سزا کے عنوان کے تحت امین احسن اصلاحی پر وارد کیے ہیں، مثلاً:
’’اس امر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ یہ توجیہ رجم سے متعلق تمام روایات پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتی کیونکہ اس توجیہ کی رو سے یہ محض زنا کے سادہ مقدمات نہیں تھے بلکہ ان میں سزا پانے والے مجرموں کو درحقیقت آوارہ منشی اور بدکاری کو ایک پیشے اور عادت کے طور پر اختیار کر لینے کی پادرش میں آیت محاربہ (یا بقول عمار صاحب حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث) کے تحت رجم کیا گیا۔ اب اگر آیت محاربہ کو (یا مذکورہ حدیث کو) رجم کا ماخذ مانا جائے تو یہ ضروری تھا کہ احساس ندامت کے تحت اپنے آپ کو خود قانون کے حوالے کرنے والے مجرم سے در گزر کیا جائے یا کم از کم سنگین سزا دینے کے بجائے ہلکی سزا پر اکتفا کیا جائے جب کہ قبیلہ غامد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو خود عدالت میں پیش ہونے اور سزا پانے پر خود اصرار کرنے کے باوجود رجم کیا گیا۔۔۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
لا یحل دم امرئ مسلم یشھد ان لا اِلہ الا اللہ و انی رسول اللہ الا باحدی ثلاثہ النفس بالنفس و الثیب الزانی و المارق من الدین التارک للجماعۃ۔ (بخاری)
’’کسی مسلمان کی جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جان لینا تین صورتوں کے سزا جائز نہیں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل کر مسلمان کی جماعت کا ساتھ چھوڑ دے۔‘‘
یہاں شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے اور روایت میں اسے عادی مجرموں کے ساتھ مخصوص قرار دینے کا کوئی قرینہ بظاہر موجود نہیں۔ یہی صورتحال مزدور کے مقدمے میں دکھائی دیتی ہے اور روایت کے داخلی قرائن یہی بتاتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل یاری آشنائی کا نہیں بلکہ اتفاقیہ زنا میں ملوث ہو جانے کا ایک واقعہ تھا۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۴)
آٹھویں خرابی:
حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی اور جاوید غامدی صاحبان نے بے چارے ماعز رضی اللہ عنہ کو اپنی تحقیق میں بہت بڑے گناہ کا مرتکب اور بد خصلت غنڈا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمد عمار صاحب بھی اسی گھاٹ کا پانی پیئے ہوئے ہیں تو وہ کیوں پیچھے رہتے، اس لیے وہ بھی یہ فرماتے ہیں:
’’ماعز اسلمی کے جرم کی نوعیت اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں خود پیش ہونے یا پکڑ کر لائے جانے کے حوالے سے روایات الجھی ہوئی ہیں اور تفصیلی تحقیق و تنقید کا تقاضا کرتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ماعز کو رجم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس سے اس کا ایک عادی مجرم ہونا واضح ہوتا ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۳، ۱۶۴)
محمد عمار صاحب نے کچھ غور نہیں کیا کہ وہ تفصیلی تحقیق کے بغیر ہی ایک نیک نفس کے بارے میں کیا کہہ گئے ہیں۔ کسی مسلمان پر اور وہ بھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف تھا اور جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک جماعت کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔‘‘ پوری تحقیق کے بغیر اتنا بڑا بہتان لگانا اور بدظنی کرنا کیا خود ایک بڑا گناہ اور بری خصلت نہیں ہے۔
بہتان کی حقیقت
اب اس بہتان اور الزام کی حقیقت جاننے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت یہ ہے:
قال فرجمہ ثم خطب فقال الاکلما نفرنا غازیں فی سبیل اللہ خلف احدھم لہ نبیب کنبیب القیس یمنحاحدھم الکثبۃ اما واللہ ان یمکنی من احدھم الا نکلتہ عنہ۔
’’اس کو رجم کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا آگاہ ہو جب بھی ہم اللہ کے رستے میں غزوے کے لیے نکلتے ہیں ان لوگوں میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور شہوت زدہ بکرے کی طرح آواز نکالتا ہے۔ وہ تھوڑے سے دودھ کی بخشش کرتا ہے۔ خدا کی قسم اگر اللہ نے مجھے ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا۔‘‘
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
ثم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطیباً من العشی فقال أوکلما انطلقنا غزاۃ فی سبیل اللہ تخلف رجل فی عیالنالہ، نبیب کنبیب التیس علیٰ ان لا اوتی فعل ذلک إلا نکلت بہ۔
’’پھر شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ جب بھی ہم اللہ کے رستے میں غزوے کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی شخص ہمارے عیال میں پیچھے رہ جاتا ہے وہ شہوت زدہ بکرے کی طرح بولتا ہے۔ مجھ پر لازم ہے کہ ایسا شخص جب بھی میرے پاس لایا جائے گا میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا۔‘‘
ان حدیثوں سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مسلمان کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو کچھ منافقین پیچھے رہ جاتے اور مجاہدین کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے پردے میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں ان کے پاس لے جاتے اور بعض اوقات دبے لفظوں میں کچھ بے حیائی کے کلمات کہہ دیتے۔ ماعز رضی اللہ عنہ کو چونکہ رجم کیا گیا تھا جو خود عبرتناک سزا ہے، اس کی مناسبت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرما دی کہ منافقین ایسی حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ ان کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اتنی کمزور نہیں تھی اور یہ منافق اتنے جری نہیں تھے کہ اعلانیہ لوگوں کی عزت و آبرو پر ہاتھ ڈال سکیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کر سکیں۔ وہ تو بس دبے لفظوں میں کچھ بے حیائی کے کلمات کہہ دیتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معمولی بے حیائی کو بھی برداشت نہیں کیا اور تنبیہ فرما دی۔
زنا کی سزا کی ترتیب
جو ترتیب محمد عمار صاحب دیتے ہیں، وہ یہ ہے:
i- سب سے پہلے سورہ نساء میں قحبہ عورتوں اور پکے بدکردار لوگوں کے بارے میں عبوری حکم نازل ہوا۔
ii- پھر سورہ نور کی شروع کی دوسری آیت میں نفس زنا کی سزا سو کوڑے مذکور ہوئی۔
iii- پھر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قحبہ عورتوں اور پکے بدکردار لوگوں کے لیے اضافی سزا بیان کی گئی جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے کی۔
ہم کہتے ہیں:
۱۔ اس ترتیب پر ہم بطور تبصرہ محمد عمار صاحب کی وہ بات کچھ ترمیم کے ساتھ نقل کرتے ہیں جو انہوں نے مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی بات کے جواب میں لکھی ہے:
’’اور اگر خود قرآن کا منشا وہی ہے جو (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی) روایت میں بیان ہوا ہے تو وہی سوال عود کر آتا ہے کہ قرآن خود صاف لفظوں میں اس کی تصریح کیوں نہیں کرتا اور اس کے لیے ایک جگہ زنا کی سزا مطلقا سو کوڑے مقرر کرنے اور دوسری جگہ جلا وطنی اور رجم کی سزا کو حدیث کے حوالہ کرنے) کا پر پیچ طریقہ کیوں اختیار کرتا ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات ص ۱۶۱)
۲۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اس ترتیب کا سارا دارومدار سورہ نساء کی آیتوں کے اس ترجمہ پر ہے جو عمار صاحب نے امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی کی تقلید میں اختیار کیا ہے حالانکہ خیر القرون میں بھی اور بعد کے زمانوں میں بھی آیت کا یہ ترجمہ اور مطلب کبھی نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد عمار صاحب کے نزدیک امت کے اب تک مفسرین کو قرآن کی اس آیت کا مطلب نہیں سوجھا اور وہ ایک عظیم غلطی میں مبتلا رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ امت کے حق میں انتہائی خوفناک ہے۔ کہ وہ ایک اہم مسئلہ میں گمراہی کا شکار رہی اور ایسے ہی قرآن پاک کے حق میں بھی کہ وہ ایسا چیستان ہے کہ صرف جاوید احمد غامدی اور محمد عمار جیسے صاحب اسلوب لوگ ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں نہ صحابہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تابعین۔
محمد عمار صاحب کی بتائی ہوئی ترتیب کے برخلاف ایک ترتیب وہ ہے جو ہم دیتے ہیں۔ ان شاء اللہ اس پر وہ اعتراض نہیں پڑیں گے جو محمد عمار صاحب نے دوسروں پر وارد کیے ہیں یا جو ہم نے ان پر لگائے ہیں۔ ہماری ترتیب میں تین مرحلے ہیں :
پہلا مرحلہ:
اس مرحلہ میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں:
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا (سورہ نساء: ۱۵)
’’اور جو عورتیں بے حیائی کا کام کریں تمہاری بیویوں میں سے سو تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کر لو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں کے اندر بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرما دیں۔‘‘
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَااِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ (سورہ نساء: ۱۶)
’’اور وہ مرد و عورت جو تم میں سے یہ برائی کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
ان دو آیتوں سے دو حکم ملے:
۱۔ اگر شوہر بیویوں پر زنا کا الزام رکھیں اور ان کے جرم پر چار گواہ بھی لے آئیں تو آئندہ حکم آنے تک ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے۔
۲۔ مرد اور غیر شادی شدہ عورت زنا کریں تو ان کو مناسب تعزیر کی جائے۔
دوسرا مرحلہ:
اس مرحلے میں دوسرا حکم سنت و حدیث میں دیا گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکر بالبکر جلد مائۃ و نفی سنۃ و الثیب جلد مائۃ والرجم۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان زنا کار بیویوں (اور ان سے ملوث مردوں) کے لیے ضابطہ مقرر فرما دیا ہے۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیر شادی شدہ عورت سے بدکاری میں سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ (یہی حکم ان مردوں اور عورتوں کا ہے جن کا نکاح ہو چکا ہو لیکن صحبت نہ ہوئی) اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت (جو صحبت بھی کر چکے ہوں، ان) کی بدکاری سے سو کوڑے اور رجم ہے۔‘‘
اس حدیث و سنت سے اس بیوی کا حکم بھی معلوم ہوا جس سے صحبت ہو چکی ہو پھر اس نے زنا کیا اور شوہر نے اس پر چار گواہ قائم کر دیئے ہوں کہ اس کی سزا رجم ہے۔
تیسرا مرحلہ:
تیسرے درجہ میں سورہ نور کی آیات نازل ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہی رجم سے متعلق آیت بھی نازل ہوئی۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل احکام ملے۔
۱۔ شوہر بیوی پر زنا کا الزام رکھے لیکن چار گواہ پیش نہ کر سکے تو لعان ہو گا۔
۲۔ الزانیۃ والزانی کے الفاظ سے غیر شادی شدہ کا حکم بتایا کہ اس کی سزا صرف سو کوڑے ہے اور ایک سالہ جلا وطنی کو منسوخ کر دیا گیا۔
۳۔ رجم کی آیت بھی نازل ہوئی جس سے رجم کی سزا کو برقرار رکھا گیا اور سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا۔ بعد میں اس آیت کے الفاظ منسوخ کر دیے گئے۔
عن ابن عباس قال قال عمر بن الخطاب و ہو جالس علی منبر رسول اللہ ا ان اللہ قد بعث محمداا بالحق و انزل علیہ الکتاب فکان مما انزل علیہ آیۃ الرجم قرأنا ھا و وعینا ھا وعقلناھا فرجم رسول اللہ ا و رجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل ما نجد الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللہ و ان الرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنی اذا احصن من الرجال و النساء اذا قامت البینۃ (رواہ مسلم)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت عمر نے (اپنے دور خلافت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھ کر فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی۔ آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں سے آیت رجم بھی تھی جس کو ہم نے پڑھا اور یاد کیا اور سمجھا (لیکن چونکہ اس کے الفاظ منسوخ ہونے تھے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھوایا نہیں) اور رسول اللہ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ مجھے ڈر ہے کہ (قرآن میں لکھے نہ ہونے کے باعث) کچھ زمانہ گزرنے پر لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہم کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں پاتے اور اس طرح اللہ کے اتارے ہوئے فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں۔ اور یہ (بھی جان لو) کہ کتاب الٰہی میں رجم ثابت ہے اس شخص پر جو شادی شدہ مرد ہو یا عورت زنا کرے جب کہ گواہ قائم ہو جائیں (یا وہ خود اعتراف کر لے)۔‘‘
تنبیہ:
سورہ نساء کی آیتوں کا غلط مفہوم نکالنے اور زنا کی سزا میں ہماری بتائی ہوئی ترتیب کو اختیار نہ کرنے کی وجہ سے محمد عمار صاحب یا تو خود تردد میں مبتلا ہو گئے ہیں یا ایسا صرف ظاہر کرتے ہیں تاکہ اپنے نظریہ کو تحفظ دے سکیں اور قاری کو تردد میں مبتلا کر کے پھر اپنے مقدمات قائم کر کے اس سے اپنے موقف کو ترجیح دلوائیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ اگر قرآن مجید کے ظاہر کو حکم مانا جائے تو زنا کے عام مجرموں کے حوالے سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنا بے حد مشکل ہے۔ دوسری طرف اگر روایات کے ظاہر اور ان پر مبنی تعامل کو فیصلہ کن ماخذ مانا جائے تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کی نفی یا اس کی ایسی توجیہ و تاویل بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتی جس سے روایات کے متبادر مفہوم و مدعا کو برقرار رکھتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ ان کا ظاہری تعارض فی الواقع دور ہو جائے۔ اس ضمن میں اب تک جو تو جیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کا موجب زیادہ بنتی ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طالب علما نہ رائے میں یہ بحث ان چند مباحث میں سے ایک ہے جہاں توفیق و تطبیق کا اصول موثر طور پر کارگر نہیں اور جہاں ترجیح ہی کے اصول پر کوئی متعین راے قائم کی جا سکتی ہے۔ عقلاً اس صورت میں دو ہی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
ایک یہ کہ روایات سے بظاہر جو صورت سامنے آتی ہے، اس کو فیصلہ کن مانتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ قرآن مجید کا مدعا اگرچہ بظاہر واضح اور غیر محتمل ہے، تاہم یہ محض ہمارے فہم کی حد تک ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے منشا کی تعیین کے حوالے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کے ظاہر کو حکم مانتے ہوئے یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا یقیناًکوئی ایسا محل ہو گا جو قرآن کے ظاہر کے منافی نہ ہو، لیکن چونکہ قرآن کا مدعا ہمارے لیے بالکل واضح ہے، جب کہ روایات کا کوئی واضح محل بظاہر سمجھ میں نہیں آتا، اس لیے روایات اور ان پر مبنی تعامل کو توجیہ و تاویل یا توقف کے دائرے میں رکھتے ہوئے ان پر غور و فکر جاری رکھا جائے گا تاآنکہ ان کا مناسب محل واضح ہو جائے۔
اس دوسرے زاویۂ نگاہ کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ شریعت کے جو احکام قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں، ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز نہیں ہو سکتا اور اگر بظاہر کہیں ایسی صورت دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید میں تلاش کرنی چاہیے یا توجیہ و تاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
اور آخر میں لکھتے ہیں:
’’اس طرح یہ بحث دو مختلف اصولی زاویہ ہائے نگاہ میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بحث قرار پاتی ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم و بیش یکساں کشش رکھتے ہیں اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رحجان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔‘‘
ہم کہتے ہیں:
۱۔ محمد عمار صاحب اگر ہماری بتائی ہوئی ترتیب کو اختیار کریں تو :
i- ان کو توفیق و تطبیق کے کارگر اور مؤثر نہ ہونے کا شکوہ نہ رہے گا۔
ii- اور انہوں نے جو دو عقلی طریقے ذکر کیے ہیں ان کی ضرورت نہ رہے گی۔
۲۔ محمد عمار صاحب نے جو دوسرا عقلی طریقہ ذکر کیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرض منصبی یعنی تعلیم قرآن اور تبیین قرآن سے جوڑ نہیں کھاتا۔ علاوہ ازیں یہ عقلی طریقہ جن خوفناک غلطیوں پر مبنی ہے ان کو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
۳۔ محمد عمار صاحب لکھتے ہیں ’’ہماری رائے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم و بیش یکساں کشش رکھتے ہیں۔ اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رجحان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔‘‘ حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے پہلی رائے کو کمزور اور بودا دکھانے کی پوری کوشش کی ہے اور دوسری رائے کو ہی جابجا ترجیح دیتے رہے ہیں اور اب دونوں کو یکساں درجہ دے رہے ہیں۔ لیکن خود ان کا اور ان کے مخدوم اہل علم امین احسن اصلاحی کا ذوق اور رحجان تو پہلے ہی واضح ہو چکا ہے۔
۴۔ پھر محمد عمار صاحب کی یہ بات بھی صحیح نہیں کہ ’’اس باب میں انفرادی ذوق اور رحجان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی ’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے فیصلے اور دیگر حدیثیں اور اجماع امت یہ سب چیزیں ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ محمد عمار صاحب لفظوں کے ہیر پھیر میں بہت خوفناک باتیں کہہ جاتے ہیں لیکن ان کو پوری تسلی ہے کہ کوئی بھی ان کے اسلوب بیان کے آگے کچھ پر نہیں مار سکتا۔
پروفیسر عبد الرؤف صاحب کی تنقید کے جواب میں
محمد زاہد صدیق مغل
ماہنامہ الشریعہ شمارہ جنوری ۲۰۰۹ میں محترم پروفیسر عبد الرؤف صاحب نے راقم الحروف کے مضمون ’’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟‘‘ کا تنقیدی جائزہ پیش کیاہے۔ درحقیقت صاحب تنقید نے ’تنقید ‘ سے زیادہ ’تبصرہ‘ تحریر فرمایاہے کیونکہ ان کے مضمون کا نصف سے زیادہ حصہ ہمارے مضمون کے خلاصے اور تجزیے پر مشتمل ہے۔ پروفیسر صاحب کی تنقید پڑھنے کے بعد راقم الحروف کسی تفصیلی جواب کا موقع نہیں پاتا کیونکہ پروفیسر صاحب نے ہمارے مضمون کے مرکزی خیال یعنی ’اسلامی معاشیات سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے‘ پر کوئی اصولی نقد پیش کرنے کے بجائے چند جزوی باتوں پر اعتراض اٹھایا ہے۔ اپنی تنقیدمیں پروفیسر صاحب نے نہ تو سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ عمل پر کچھ تحریر فرمایا اور نہ ہی یہ بتایا کہ کس طرح اسلامی معاشیات لبرل سرمایہ داری کے بنیادی مقدمات کی نفی کرکے کسی جدا گانہ معاشی صف بندی کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ انکا زیادہ تر تبصرہ اسلامی معاشیات کے حق میں پیش کردہ عذر (apology)کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ انکے اٹھائے گئے چند جزوی اعتراضات و اشکالات پر مختصراً وضاحت پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
۱۔ سب سے پہلے پروفیسر صاحب نے ہمارے انداز بیان کی شدت پر اعتراض کیا ہے۔ اگر امر واقعی ویسا ہی ہے جیسا کہ پروفیسر صاحب نے ارشاد فرمایا تو ہم اسپر معذرت خواہ اور توجہ دلانے کیلئے انکے شکر گزار ہیں۔ امید ہے وہ اسے راقم الحروف کی تحریری کمزوری پر محمول کریں گے، انشاء اللہ مستقبل میں اس قسم کی کمزوری دور کرنے کی کوشش کی جائے گی (ویسے جب غلط بات کو پوری شد و مد کے ساتھ فروغ دیا جارہا ہو تو اسکا رد بھی اتنے ہی زور دار انداز میں کرنا ضروری ہوجاتا ہے ) ۔
۲۔ ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ مولانا تقی عثمانی صاحب کی کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں سے کیا مراد ہے ہم سمجھ نہیں پائے۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب سے استفادہ نہ کیا جائے کہ اسمیں جو کچھ لکھا ہے وہ درست نہیں یا یہ کہ وہ سب کچھ حتمی نہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو مولانا کو کتاب کے سر ورق سے اپنا نام حذف کردینا چاہئے تھا۔ اگر یہ کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں تو اسے ہزاروں کی تعداد میں کئی بار چھپوا کر کیوں پھیلادیا گیا ہے؟ اسے مدارس کے نصاب میں کیوں شامل کرلیا گیا ہے؟ ویسے اس کتاب کے علاوہ اسلامی معاشیات پر مولانا کی دیگر ’باقاعدہ‘ تصا نیف میں بھی انہیں نظریات کا پرچار کیا گیا ہے ۔ (مثلاً دیکھیے ان کی کتاب An Introduction to Islamic Finance ) پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب نے یہ نہیں فرمایاکہ جو کچھ اس کتاب میں کہا گیا ہے وہ تشنہ یا نامکمل ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ عام قاری کے لیے اسے سمجھنا ذرا مشکل ہے ۔
۳۔ ہمیں مولانا تقی عثمانی صاحب کی دینی علوم پر مہارت کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں، البتہ علم معاشیات پر ان کی مہارت کے بارے میں ایسا کہنا اور ماننا مشکل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مولانا نے علم معاشیات کی تفصیلات اور اسکے فکری پس منظر و مغربی فلسفے کی تعلیم کس حد تک اور کن حضرات سے حاصل کی ہے۔ جن دو حضرات (ڈاکٹر ارشد زمان اور سید محمد حسین صاحب) کے نام مولانا نے اپنی کتا ب کے تعارف میں بیان کیے ہیں، اگر واقعی مولانا نے علم معاشیات کی تحصیل ان حضرات سے کی ہے تو ان کی علمی ثقاہت مزید شکوک کا شکار ہوجاتی ہے۔ (مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا کے استاد جناب ارشد زمان صاحب اسلامی بینکاری سے تائب ہوچکے ہیں) ۔
۴۔ پروفیسر صاحب نے مولانا کی کتا ب سے اقتباسات نقل کرکے نتیجے اخذ کرنے کے طریقہ کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ یقیناًیہ طریقہ غیر معتبر ہوتا اگر مولانا کی کتاب سے ابھرنے والا عمومی تصور اور انکی کتاب سے پیش کردہ جزوی حوالوں سے اخذ شدہ تصویر میں تضاد ہوتا۔ اگر واقعی ایسا کوئی تضاد ہے تو پروفیسر صاحب نشاندہی فرمادیں، ہمیں قبول کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔ پروفیسر صاحب نے اپنی بات کو وزنی بنانے کیلئے یہ مثال پیش کی ہے کہ ہم نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے ایک اقتباس سے غلط بلکہ غیر ذمہ دارانہ معنی اخذ کئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے یہ معنی زبردستی نہیں بلکہ عین مولانا کی فکر سے نکالے ہیں۔ کیا مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب میں ’ترقی بطور قدر ‘ اور ’طلب و رسد کے قوانین کو فطری ‘ نہیں مانتے؟ اگر مانتے ہیں جیسا کہ نفس امری ہے تو علم معاشیات کا ادنی طالب علم بھی اس بات سے واقف ہے کہ ترقی بطور قدر کا اثبات خواہشات کی فطری لامحدودیت کے اقرار کے بغیر ممکن نہیں نیز طلب و رسد کے قوانین کے پیچھے جو ذہنیت و عقلیت کار فرما ہے وہ لذت پرستی کے سواء اور کچھ نہیں۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ ’قلیل ذرائع سے زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل‘ کو مولانا ’بنیادی معاشی مسئلے ‘ کے طور پر قبول کرنے کے ’بعد‘ مختلف نظامہائے معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرائع پیداوار سے زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل کا اسلامی طریقہ کیا ہے (دیکھئے انکی کتاب کے مضامین کی ترتیب)۔
۵۔ پروفیسر صاحب نے مولانا کی بیان کردہ حلال و حرام کی چند تحدیدات کا ذکر کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ مولانا کا نظریہ اسلامی معاشیات لبرل سرمایہ داری سے علی الرغم کوئی منفرد شے ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں کیونکہ ہم اپنے مضمون میں بیان کرآئے ہیں کہ :
اسلامی معاشیات = لبرل سرمایہ داری + چند اسلامی تحدیدت
مولانا ان تحدیدات کو اس طور پر بیان کرتے ہیں گویا یہ کسی بڑے فطری نظام زندگی کی اصلاح کا ذریعہ ہیں اور سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کو فطری سمجھنا ہی انکی بنیادی غلطی ہے کیونکہ اس اقرار کے بعد سرمایہ دارانہ اہداف کا کوئی علمی رد ممکن نہیں رہتا۔ اسلام کو علمیت کے بجائے محض چند حلال وحرام (Do's and Don'ts)کا مجموعہ سمجھنا اسلامی ماہرین معاشیات کی سخت غلطی ہے ۔
۶۔ پروفیسر صاحب نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ہم نے اپنی تنقید قرآن وسنت کے بجائے محض عقل کی روشنی میں کی ہے۔ درحقیقت ہر مضمون کا ایک مخصوص پس منظر ہوتا ہے جس کی رعایت کرتے ہوئے اسے تحریر کیا جاتا ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات لبرل سرمایہ داری کو اسلامیانے کے لیے قرآن و سنت جو استدلال پیش کرتے ہیں وہ نہایت سطحی تجزیے پر مشتمل ہوتے ہیں، ان کے استدلال کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک حدیث سے پوری لبرل معاشیات اخذ کرڈالتے ہیں، جبکہ اس حدیث کے اس معنی کے حق میں متقدمین کا کوئی حوالہ تک پیش نہیں کیا جاتا۔ (ان کے استدلال کی نوعیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اسلام سے سوشلزم کا اثبات کرنے والے حضرات کی ہوتی ہے)۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے حق میں پیش کردہ اکثر و بیشتردلائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں (مثلاً کمپنی کا جواز بیت المال سے نکالنا) جو ایک عقلی طریقہ استدلال ہے اور ان کا رد بھی اصولاً عقلی بنیادوں پر ہی ہوگا اور اسی کی ہم نے کوشش کی ہے کہ ان قیاسات (مع الفارق) کی خرابی واضح کی جائے۔ ہمارے مضمون کا مقصد بھی اس سطحی انداز استدلال کی غلطی واضح کرنا تھا۔ باقی رہے شرعی دلائل تو الحمدللہ اسلامی بینکاری اور کمپنی وغیرہ کے تصورات پر تفصیلی فقہی تنقید علماے کرام کے متفقہ فتوے میں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے لہٰذا اس پر مزید کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں ۔
۷۔ پروفیسر صاحب نے دبے لفظوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل انہدام کا سبق شاید ہم نے مارکس سے سیکھا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات ہی سرے سے غلط ہے کہ مارکس سرمایہ داری کا مخالف تھا، کیونکہ وہ ’سرمایہ داری ‘ نہیں بلکہ صرف اس کی ایک ’مخصوص تعبیر ‘ کا مخالف تھا۔ سرمایہ داری کے دو بڑے نظریات ہیں: (۱) لبرلزم (جسے عام طور پر مارکیٹ سرمایہ داری (market capitalism)یا محض سرمایہ داری کہہ دیا جاتا ہے)، (۲) اشتراکیت (جسے ریاستی سرمایہ داری (state capitalism)بھی کہتے ہیں)۔ یہ کہناکہ مارکس سرمایہ داری کا مکمل انہدام چاہتا تھا اصولاً غلط دعوی ہے کیونکہ وہ انہیں آدرشوں (آزادی، مساوات اور ترقی) کی تعلیم دیتا اور انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے جنہیں سرمایہ داری حق کہتی ہے البتہ اس کے خیال میں ان اہداف کو حاصل کرنے کا حتمی اور درست طریقہ لبرل سرمایہ داری نہیں بلکہ اشتراکیت (یعنی بڑھوتری سرمائے کے نظام کو تیز ترقی دینے کیلئے پیداواری عمل کو مارکیٹ کے بجائے ریاستی مشنیری کے تابع کرنا)ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ان جاہلانہ اہداف ہی کو رد کرتے ہیں جنہیں سرمایہ داری فرد، معاشرے اور ریاست کا مقصد قرار دیتی ہے اور اسلامی معاشیات جنہیں فطری سمجھ کر اسلامیانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامی تبدیلی یہ ہے کہ ’تمام سنتوں ‘ کا احیا اور ان پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کے امکانات اور ترجیحات کا فروغ ممکن ہو سکے۔ ان سنتوں میں یہ بھی شامل ہیں:
- ایسی کاروبار ی صف بندی ونظم کا احیاء اور تشکیل جو عشاء کے بعد جلد سونے اور عبادت میں مشغولیت کی ترجیحات کو فروغ دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کے بعد جاگنا نا پسند تھا ۔
- افراد میں بازاروں میں کم از کم وقت گزارنے کی ترغیب دلانا کہ بازار اللہ کے نزدیک برے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی زہداور فقر پر مبنی طرز زندگی کا فروغ کہ سرکار دوعالم نے فقر کو اپنا فخر قرار دیا ۔
- خیر القرون کے دور کی طرح صلہ رحمی پر مبنی خاندان، برادری اور قبیلے کے اداروں پر قائم معاشرت کا احیاء و استحکام
- نظام جبر اور ریاستی فیصلوں کا علمائے کرام کے ماتحت کردینا یعنی theocracyقائم کرنا بھی ہے، یہ چند مثالیں ہیں، تفصیل کا موقع نہیں۔
ہر ریاستی قانون اور پالیسی کا مقصد افراد میں مخصوص نوع کی ترجیحات کو فروغ دینا ہوتا ہے (اس نکتے کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں، مثلاً اگر یہ قانون بنا دیا جائے کہ گاڑی چلانے کی زیادہ سے زیادہ رفتار ۳۰ سے ۴۰ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی تو لوگوں کی کام کاج کے اوقات و مقامات نیزسفری و رہائشی ترجیحات میں یکسر تبدیلی رونما ہوگی) اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کاروباری پالیسی مرتب کرے جو افراد میں حرص و حسد (accumulation and competition) نہیں بلکہ قناعت پسندی، فقر ا ور زہد کے جذبات کو ابھارے کیونکہ یہی جذبات توشہ آخرت جمع کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ امام غزالیؒ کی تعلیمات کو فرد کی دنیاوی زندگی سے علیحدہ گردان کر انہیں ’دنیا سے بے رغبتی‘ پر ابھارنے والی کہہ کر نظر انداز (sideline) کرنے کی کوشش ہمارے نزدیک عجیب بات ہے۔ اسلامی انفرادیت وہی ہے جس کی زندگی کا ’ہر فیصلہ‘ (چاہے وہ عمل تجارت کا ہو یا صرف کرنے کا ) ان اقدار و جذبات (sentiments)کا غماز ہوتا ہے جنکی تعلیم امام غزالیؒ نے فرمائی ۔
۸۔ پروفیسر صاحب نے ہم پر تنقید کرنے کیلئے امام غزالیؒ کا کاروبار کرنے کے حوالے سے جو اقتباس پیش کیا ہے وہ اس بحث سے صاف ہوجانا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کاروبار نہیں کرنا چاہئے، ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نفع خوری کی بنیاد پر کاروبار کی تنظیم قائم نہیں ہونی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کاروبار کی ایک مخصوص تنظیم اور صف بندی جسے for profit-maximizing enterprise) کہتے ہیں ( کے خلاف ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امام غزالیؒ کے پیش کردہ اقتباس میں بھی تجارت کو ’عبادت‘ نہ کہ ’profit-maximization‘ کے نظم اجتماعی کے ما تحت کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے۔ پروفیسر صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ آجکل کے دور میں صنعتیں لگانے کا مروجہ نظام ہی کاروبار کا طریقہ ہے تو وہ اس طریقے کو گویا غیر اقداری فرض کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اسے کسی بھی قدر سے مزین کیا جاسکتا ہے جبکہ ایسا ہرگز بھی نہیں کیونکہ موجودہ نظم پیداوار مخصوص اخلاق رزیلہ (حرص و حسد جنہیں خوبصورت الفاظ میں accumulation and competition کہا جاتا ہے) کی تشکیل و ترتیب کا نتیجہ اور انکا محافظ ہے۔ حیرت ہے پروفیسر صاحب نے امام غزالیؒ کی کاروبار کرنے کی تلقین تو نقل کی مگر امام صاحب کے کاروبار کرنے کا تجویز کردہ طریقہ وہ نہ دیکھ سکے ۔ مثلاً امام صاحب فرماتے ہیں :
- تاجر بازار میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نیت سے داخل ہو۔
- تاجر بازار میں کم سے کم وقت گزارنے کی کوشش کرے ۔
- تاجر اور خریدار دوران بیع اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہیں ۔
- تاجر کو اپنا نفع کم سے کم رکھنا چاہے۔
- تاجر زاہدانہ طرز زندگی اختیار کرے اور جونہی اتنا مال بک جائے جو اس مخصوص طرز زندگی کے لیے کافی ہو تواپنی دکان بند کردے ۔
- تاجر حرص اور حسد سے کلیتاً اجتنا ب کرے۔
- مزدوری کا وقت نماز اشراق سے ظہر کے درمیان رکھنا بہتر ہے ۔
- دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دو دن کی مزدوری پر اکتفا کرنا چاہیے۔ (یعنی ضرورتوں اور پیداواری عمل ہی کو محدود رکھنا چاہیے) ۔ (احیاء العلوم، جلد ۲ ، ۱۴۱-۱۴۶)
۹۔ پروفیسر صاحب اپنے تجزئیے میں وہی غلطی دہراتے ہیں جو اسلامی ماہرین معاشیات کو لاحق ہے کہ مقاصد سے علی الرغم چند اجزا کی مماثلت کی بنا پر اسلام کو مغربی تناظر میں سمجھنا، جیسا کہ نجی ملکیت کی مثال سے عین واضح ہے۔ اگر پروفیسر صاحب کے نزدیک مقاصد سے علی الرغم ساخت کی درستگی کافی ہے تو وہ بتائیں کہ انہیں ہمارے پیش کردہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ پر کیا اعتراض ہے؟ انہیں ہمارے تجویز کردہ ’طلاق دلوانے کے بزنس‘ میں کیا خرابی نظر آتی ہے؟ اگر ایک شخص سال ختم ہونے سے ایک ماہ یا ایک دن قبل اپنی جائیداد بیوی کے نام کرکے زکوۃ بچالے تو اس میں کیا حرج ہے؟ فقہ کے مشہور قاعدے الامور بمقاصدھا (یعنی معاملات کو ان کے مقاصد کے اعتبار سے دیکھا جائے گا) کا کیا معنی ہے؟ اصول فقہ کی کتب میں مقاصد الشریعہ کی بحثوں کا تناظر کیا ہے؟ آخر اصحاب السبت کا جرم کیا تھا؟ مقاصد کو پس پشت ڈال کر ساخت کی دستگی پر توجہ دینے پر تفصیلی کلام ہمارے مضمون ’’اسلامی متبادل کے فلسفے کا جائزہ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے گا۔ (مضمون عمار صاحب کی خدمت میں دو ماہ قبل ہی ارسال کیا جا چکا ہے۔ بس چھپنے کا منتظر ہے) یہاں اس غلطی کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے کہ ’ نجی ملکیت کے معاملے میں لبرل سرمایہ داری اور اسلام مماثل ہیں ‘ کیونکہ لبرل سرمایہ داری نجی ملکیت ختم کرکے کارپوریٹ ملکیت قائم کرتی ہے جو نجی ملکیت کی نفی ہے ۔
۱۰۔ پروفیسر صاحب نے مختلف علما کے اقوال نقل کرکے ’عقلی حکمتوں کی بنیاد پر شریعت میں تبدیلی‘ کرنے کی جو مذمت بیان کی ہے، اس کا نفس مضمون سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم خود بھی اس کے سخت خلاف ہیں اور نہ ہی ہم نے اپنے مضمون میں ایسی کوئی کوشش کی ہے ۔ اس معاملے میں ہم امام اشعریؒ کے مقلد ہیں کہ حسن و قبح افعال کے ذاتی، فطری یا عقلی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسلام میں نجی ملکیت کا جو اصول ہے حالات کے تقاضوں کے تحت اسے ختم کردینا چاہئے بلکہ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نجی ملکیت کی بقا کے لیے سرمایہ دارانہ (کارپوریٹ) ملکیت ختم کرنا لازم ہے کیونکہ اس کے فروغ کے نتیجے میں نجی ملکیت ناممکن ہوتی چلی جاتی ہے۔ شاید پروفیسر صاحب کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ ہمارا تعلق بھی اس گروہ سے ہے جو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت کی تبدیلی اور نسخ کی بات کرتا ہے۔ الحمدللہ ہم ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کہتے بلکہ ہماری بات اسلامی تاریخ اور علمیت کے تسلسل پر مبنی ہے اور ہم انہی کے احیاء کی دعوت دیتے ہیں۔ ہاں ہمارے مباحث ضرور نئے ہیں جس کی وجہ یہ مجبوری ہے کہ سرمایہ داری کے غلبے نے چند نئے مسائل پیدا کردیے ہیں اور جن کے محاکمے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم اسلامی علمیت اورتہذیبی روایت کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جائے۔ تجدید اور تجدد پسندی میں یہی فرق ہے کہ تجدید کا مطلب نئے مسائل کا ایسا حل تلاش کرنا ہے کہ خیر القرون کی طرف مراجعت ممکن ہو سکے (اس عمل میں گمراہ کن نظریات کی تنقیح بھی شامل ہے) جبکہ تجدد پسندی کا مطلب اپنی علمی روایت ترک کرکے نئے مسائل اور وقت کے تقاضوں کی روشنی میں دین میں تبدیلی لاناہے۔ دوسرے لفظوں میں تجدید کا معنی ’احیائے دین‘ (revival or refreshal of the tradition) ہے جبکہ تجدد کا مطلب دین کی اصلاح یا تعبیر و تشکیل نوع (Reformation or Reconstruction)کرناہے۔ گویا تجدید اور تجدد میں مشترک شے مسائل و مباحث کی یکسانیت اور فرق کرنے والی شے دونوں کا زاویہ نگاہ (approach) اور نتائج ہیں ۔
۱۱۔ جمہوریت پر ہماری تفصیلی رائے اور اس کے حق میں دیے جانے والے دلائل کے تجزیے پر ہمارا مضمون بھی کئی ماہ سے عمار صاحب کے پاس موجود ہے۔ ان شاء اللہ جلد چھپ کر منظر عام پر آئے گا ۔
امید ہے اس وضاحت سے غلط فہمیاں دور ہوں گی۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم جناب محمد عمار صاحب، مدیر الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے جو جواب مجھے تحریر کیا تھا، محض اس وجہ سے اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں ہوا کہ جناب کے جواب سے مایوسی ہوئی تھی، لیکن اب جبکہ آپ نے اسے جنوری کے الشریعہ میں شائع کر دیا ہے تو مجبوراً چند سطریں لکھتا ہوں۔
میرے مضمون کا حاصل دو امور ہیں:
۱۔ یہ دکھانا کہ آپ نے اجماعی تعامل اور علمی مسلمات کے دائرے سے جابجا تجاوز کیا ہے اور خطرناک اصولی غلطیاں کی ہیں۔
۲۔ علمی مسلمات کے دائرے میں رہ کر بھی ذکر کردہ اشکالات کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جس کی کچھ مثالیں بھی میں نے پیش کی ہیں۔
کوئی بھی فکر صرف اسی وقت صحیح ہو سکتی ہے جب اصولوں کی مکمل پاس داری کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ ’’نکرہ تعظیمی سے یہ استدلال آخر عربیت کے کس اصول کے تحت درست ہے؟‘‘ لیکن اپنی فکر کو پیش کرتے ہوئے آپ نے بہت سے اصول توڑے جن کی نشان دہی کرنے کو آپ نے پھبتیاں کسنے سے تعبیر کیا ہے۔ پھر آپ نے اس اہم نکتہ سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ لکھا کہ زیر بحث نکتہ کچھ اور ہے۔ زیر بحث نکتہ کیا ہے، اس سے تو میں نے اختلاف نہیں کیا تھا۔ میں نے تو یہ بتایا تھا کہ آپ کے نکتہ سے بہت سے اصول ٹوٹ رہے ہیں اور علمی مسلمات پامال ہو رہے ہیں، لیکن آپنے اپنے پورے جواب میں ان کو نظر انداز کرنے کی روش کو اختیار کیا۔
آپ چاہیں تو کسی با اعتماد مستند عالم سے محاکمہ کرا لیجیے۔
رہی یہ بات کہ میں بھی اصولوں اور علمی مسلمات کونظر انداز کرکے آپ کے ذکر کردہ نکتوں میں آپ سے یا آپ کے موافقین سے بحث میں الجھ جاؤں تو اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔
دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو گمراہیوں سے بچائیں اور ہدایت کی راہ پر لگائیں۔ آمین
(مولانا مفتی) عبد الواحد غفر لہ
۱۴؍محرم الحرام ۱۴۳۰ھ
(۲)
مکرم ومحترم مولانا مفتی عبد الواحد زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ!
آپ نے میری آرا میں جن ’بے اصولیوں‘ کی طرف توجہ دلائی ہے، ان سب کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ کسی آیت یا حدیث کی تشریح میں یا کسی علمی وفقہی مسئلے سے متعلق سلف سے منقول آرا سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا یا کوئی نئی تعبیر پیش کرنا ایک امر ممنوع ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے، وہ علمی بے اصولی کا مرتکب ہوتا ہے۔ میرے نزدیک چونکہ یہ بات ہی سرے سے درست نہیں، ا س لیے میں اسے کوئی بے اصولی بھی نہیں سمجھتا اور اپنے اس موقف کو کتاب کی تمہید میں، میں نے پوری تفصیل سے واضح کیا ہے۔ اس نکتے کی توضیح وتفصیل کے لیے میں چند مزید گزارشات قلم بند کر رہا ہوں جو امید ہے کہ ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں شائع ہو سکیں گی۔
اس کے ساتھ ایک عاجزانہ شکوہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں کسی بھی راے پر تنقید کرتے ہوئے اہل علم کا منصب بس یہ ہے کہ وہ علمی طریقے سے کسی نقطہ نظر کی غلطی کو واضح کر دیں، اور اپنے مخاطب کو یہ حق دیں کہ وہ اپنے اطمینان ہی کے مطابق اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ یہ توقع کرنا کہ اس تنقید سے ضرور اتفاق بھی کیا جائے گا اور ایسا نہ ہونے پر ’مایوسی‘ کا اظہار کرنا یا علمی بحثوں کی سنسنی خیز انداز میں تشہیر کر کے اس بات کی کوشش کرنا کہ عوامی یا خاندانی دباؤ کا ہتھیار استعمال کر کے کسی شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق راے قائم کرنے اور اسے بیان کرنے سے ’’روکا‘‘ جائے، میرے خیال میں علم اور اہل علم کے منصب کے شایان شان نہیں۔
امید ہے کہ آپ اپنی نیک دعاؤں میں مسلسل یاد رکھیں گے۔
محمد عمار خان ناصر
۱۵؍ جنوری ۲۰۰۹
(۳)
عزیز القدر حافظ عمار خان ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
رسالہ ’الشریعہ‘ مل گیا ہے۔ کرم فرمائی کا شکریہ۔ کبھی کبھار رسالہ یکھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ نہایت ہی وقیع رسالہ ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اپنے حلقے میں اس قسم کا وقیع رسالہ شائع ہوتا ہے۔
عزیزم! آپ کے رشحات قلم ’’اشراق‘‘ میں پڑھتا رہا ہوں۔ ماشاء اللہ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اطمینان ہے کہ آپ ان صلاحیتوں کو صحیح مصرف میں صرف کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں مزید ترقی دے۔ آمین۔
(پروفیسر حافظ) خالد محمود
چک لالہ۔ راول پنڈی
(۴)
محترم المقام استاذی مولانا زاہد الراشدی صاحب ومحترم مولانا عمار صاحب
السلام علیکم!
جنوری کے شمارے میں ’’روایت ودرایت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جو اپنے اندر کسی بھی قسم کا علمی مواد نہیں رکھتا۔ اسے ’الشریعہ‘ میں شائع کرنے کے دو مقصد سمجھ میں آتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں الشریعہ اور مدیر الشریعہ کی تعریف کی گئی ہے اور دوسرے یہ کہ راجہ انور صاحب کی کم علمی یا لا علمی اور ان کے تعصب کو ظاہر کرنا مقصود تھا۔ درسی ملا اور ساڑھے تین سو سال پرانے نصاب نے معاشرے کو جو کچھ دیا ہے، راجہ صاحب کو پچھلے زمانے میں علامہ شبلی نعمانی اور آج کے دور میں مولانا عمار صاحب ہی ایسے نظر آئے ہیں جو معاشرے کی ضرورتوں کو صحیح معنی میں سمجھ پائے ہیں۔ ان کے بقول اس نصاب نے شبلی وحالی جیسا پرتو بھی پیدا نہیں کیا، لیکن ان کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ یہ شبلی وحالی اور عمار صاحب بھی تو اسی نصاب کے فیض یافتہ ہیں۔ پھر انھیں مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی اور سید سلمان ندوی جیسے اکابر کے نام ہی نظر نہیں آئے جنھوں نے اسلام کی خاطر انقلابی کام کیے۔
اس میں راجہ صاحب کا قصور بھی نہیں ہے۔ آج کا دور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور میڈیا کہتا ہے کہ آج کا ملا کسی کام میں ترقی نہیں کر رہا۔ راجہ صاحب کو عالم بھی وہ لوگ نظر آتے ہیں جنھیں میڈیا عالم فاضل بنا کر پیش کر رہا ہے اور جن کی ظاہری ہیئت ایسی ہے کہ مسلم وغیر مسلم میں فرق بھی محسوس نہیں ہوتا۔ راجہ صاحب کو نظر آئے تو جاوید غامدی صاحب جن کا عربی میں مبلغ علم جاننے کے لیے ’ضرب مومن‘ میں شائع شدہ ان کے خط کا عکس دیکھ لینا ہی کافی ہے۔
راجہ صاحب اور ان جیسے لوگوں سے عرض ہے کہ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے صرف بصارت کافی نہیں، بلکہ بصیرت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اپنی بصیرت کو وسعت دیں، ان شاء اللہ آپ کو درسی ملا کے اوصاف اورصدیوں پرانے نصاب کے کمالات بھی نظر آ جائیں گے۔
محمد حسنین اعجاز
بلاک N۔ مکان ۴۸۔ ڈیرہ غازی خان