ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۔ ولادت سے تکمیل تعلیم تکمولانا محمد یوسف 
قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۱)پروفیسر میاں انعام الرحمن 
اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۲)محمد زاہد صدیق مغل 
مکاتیبادارہ 
’’مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی‘‘ ۔ چند تاثرات واحساساتچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 

امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹؍ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں اور قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے ساتھ ان علوم وفنون کی انھیں تعلیم دی جائے جو قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے بنیادی لٹریچر تک موثر رسائی کے لیے ضروری ہیں، البتہ اس میں مقامی اور علاقائی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ رد وبدل اور ترامیم واضافہ جات بھی کیے گئے ہیں۔
ان مدارس میں زیادہ تر طلبہ اور طالبات پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، البتہ افریقہ او ر مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور طالبات بھی بعض مدارس میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ دار العلوم نیو یارک کے منتظم بھائی برکت اللہ صاحب کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور ان کی اس سال خواہش تھی کہ میں اس مدرسہ کے طلبہ کا تفصیل کے ساتھ امتحان لوں اور مجموعی صورت حال کے بارے میں انھیں بریف کروں کہ کام کیسا چل رہا ہے اور اسے مزید بہتر اور بامقصد بنانے کے لیے اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ میں مسلسل پانچ روز تک طلبہ کا امتحان لیتا رہا۔ روزانہ دو تین گھنٹے اس میں صرف ہوتے تھے۔ دار العلوم کے اساتذہ میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماے کرام کے علاوہ ہمارے گوجرانوالہ کے پرانے ساتھی مولانا حافظ اعجاز احمد، شام سے تعلق رکھنے والے ایک استاذ اور ایک نومسلم اسپینش عالم دین بھی ہیں جنھوں نے قبول اسلام کے بعد درس نظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اب وہ اس نصاب کے اسباق پوری دلچسپی کے ساتھ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔ اساتذہ کی محنت اور ذوق کا اندازہ طلبہ کی صلاحیت واستعداد سے بخوبی ہو رہا تھا جس کا میں نے اپنی رپورٹ میں اظہار کیا اور کام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشورے دیے ہیں۔
اسی دوران مجھے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے ہیڈ آفس میں بھی جانے کا موقع ملا۔ یہ تنظیم جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حضرات پر مشتمل ہے اور شمالی امریکہ میں اپنا ایک مستقل حلقہ اثر رکھتی ہے۔ ابتدا میں یہ حضرت اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے ساتھ منسلک تھے جو شمالی امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ اس میں عرب ممالک کے علماے کرام اور دانش وروں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن دوسرے مسلم ممالک کے حضرات بھی اس میں شریک ہیں، لیکن اب سے دو عشرے قبل اس سے ہٹ کر اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ اس کے بانیوں میں ہمارے پرانے دوست عبد الشکور صاحب بھی شامل ہیں جو ایک زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر رہے ہیں، ۱۹۷۴ کی تحریک ختم نبوت میں ہمارے ساتھ سرگرم عمل تھے۔ ۱۹۸۷ میں جب میں پہلی بار امریکہ آیا تو وہ میرے میزبانوں میں شامل تھے اور ان سے اس دور میں امام سراج وہاج سمیت بہت سے حضرات کے ساتھ میری ملاقاتیں ہوئیں۔ آج کل وہ پاکستان میں ہیں اور تحصیل کھاریاں میں واقع اپنے گاؤں گکھڑ چنن میں ایک معیاری اسکول چلا رہے ہیں۔
اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ یہاں کے حلقوں میں ’’اثنا‘‘ (ISNA ) کے نام سے اور اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ’’اکنا‘‘ (ICNA) کے نام سے متعارف ہیں۔ اکنا کے دفتر میں حاضر ہوئی اور وہاں کے ذمہ دار حضرات سے ملاقات ہوئی۔ اکنا کے دوست آج کل دعوت اسلام کی ایک نئی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں جس کے تحت رمضان المبارک کے دوران نیو یارک کی زیر زمین ریلورے کے اسٹیشنوں پر اسلام کی دعوت اور تعارف کے حوالے سے ہزاروں پوسٹر لگائے جائیں گے اور مختصر جملوں میں ’’سب وے‘‘ کے مسافروں کو اسلام کے مطالعہ اور اسلامی تعلیمات سے واقفیت کی طرف توجہ دلائی جائے گی۔ اس مہم کی تفصیلات معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ جس ماحول اور معاشرہ میں ہم رہتے ہیں، وہاں کی عمومی آبادی کو اسلام کی دعوت اور بنیادی تعلیمات سے متعارف کرائیں اور دعوت اسلام کے مواقع تلاش اور استعمال کریں۔ اکنا کے ذمہ دار جناب طارق صاحب نے بتایا کہ امریکی میڈیا میں اس مہم کی مخالفت میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن اس سے مہم کو فائدہ پہنچا ہے کہ اس مخالفت کے ماحول میں زیادہ لوگ اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور اکنا کے ذمہ دار حضرات کو امریکی میڈیا پر اپنے موقف او رپروگرام کی وضاحت کا بھی موقع مل رہا ہے۔
اس کے علاوہ مجھے مسجد سیدنا صدیق اکبرؓ میں ’’شریعہ بورڈ آف امریکہ‘‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا بھی موقع ملا جو ۹؍اگست کو منعقد ہوا، بلکہ مجھے اس کے خصوصی مہمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ شریعہ بورڈ کا مقصد مسلمانوں کو ان کے خاندانی اور مالی نوعیت کے تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے علماے کرام کو اس طرف سب سے زیادہ توجہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے دلائی اور اس کے لیے شکاگو کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی نوال الرحمن صاحب نے محنت کی جس کے نتیجے میں نہ صرف شکاگو میں بلکہ نیو یارک میں بھی ’’شریعہ بورڈ‘‘ کئی سالوں سے کام کر رہا ہے۔ سرکردہ علماے کرام ایک جیوری کی شکل میں نکاح وطلاق، وراثت اور مالی تنازعات کے مقدمات سنتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کے تحت ان کے فیصلے کرتے ہیں۔ اس بورڈ کو امریکی قانون کے تحت منظور کرایا گیا ہے اور اس کے فیصلوں کا امریکی عدالتیں بھی احترام کرتی ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شکاگو میں دو مسلمانوں کے درمیان کاروباری شراکت کے حوالے سے ایک مقدمہ کم وبیش سات برس تک عدالتوں میں چلتا رہا اور ہزاروں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچا تو متعلقہ عدالت نے وہ کیس ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے پاس بھجوا دیا جس کا فیصلہ شریعہ بورڈ نے کسی بھی قسم کے خرچہ اور فیس کے بغیر صرف گیارہ روز میں کر دیا جس پر دونوں فریق مطمئن ہیں اور متعلقہ عدالت نے بھی اسی فیصلے پر صاد کر دیا ہے۔
مجھے ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے سالانہ اجلاس میں اس کی کارکردگی کی رپورٹ سننے کے بعد خطاب کے لیے کہا گیا تو میں نے عرض کیا کہ جن بزرگوں نے اس کے لیے محنت کی ہے، وہ مبارک باد اور تحسین کے مستحق ہیں، لیکن اس میں تھوڑا سا حصہ بحمداللہ تعالیٰ میرا بھی ہے کہ ۱۹۹۰ کے دوران شکاگو کے مسلم کمیونٹی سنٹر میں مجھے پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے مرحلہ وار جائزہ کے حوالے سے ایک نشست میں گفتگو کی دعوت دی گئی تو میں نے ۲؍ دسمبر ۱۹۹۰ کو مسلم کمیونٹی سنٹر شکاگو کی اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے علماے کرام اور دانش وروں کو توجہ دلائی تھی کہ امریکی دستور کے تحت آپ حضرات کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ مسلمانوں کے نکاح وطلاق اور وراثت کے معاملات کے ساتھ ساتھ مالی معاملات میں بھی اپنے مذہبی قوانین پر عمل کا حق حاصل کر سکتے ہیں جس کے لیے آپ کو یہاں کے عدالتی نظام کی منظوری سے باقاعدہ طور پر ایک ثالثی بورڈ (Board of arbitration) قائم کرنا ہوگا اور اگر آپ ایسا بورڈ قائم کر لیتے ہیں تو امریکی دستور کے مطابق یہاں کی عدالتیں بھی اس بورڈ کی قائم کردہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی پابند ہوں گی۔ میں نے اس نشست میں علماے کرام اور مسلم راہ نماؤں سے گزارش کی تھی کہ اگر آپ کو امریکی دستور یہ حق دیتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا آپ کی دینی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ آج اس رخ پر شکاگو اور نیو یارک (او رمیری معلومات کے مطابق اٹلانٹا میں بھی) شریعہ بورڈ قائم ہوئے ہیں اور پیش رفت کر رہے ہیں۔ تو یہ میرے ایک پرانے خواب کی تعبیر بھی ہے جس پر شریعہ بورڈ کے ذمہ دارحضرات کو مبارک باد دیتے ہوئے اس مشن کی کامیابی او رپورے امریکہ میں اس کا دائرہ وسیع ہونے کی دعا کرتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
اس کے ساتھ میں نے یہ گزارش بھی کی کہ شریعہ بورڈ آف امریکہ کو مسلمانوں کے مسائل، تنازعات اور مقدمات کے شریعت اسلامیہ کے مطابق حل کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ساتھ اسلامی شریعت کے حوالے سے مسلمانوں کی فکری راہ نمائی کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور آج کے عالمی تناظر میں شریعت اسلامیہ کے احکام وقوانین کے بارے میں جو شکوک وشبہات پیدا کیے جا رہے ہیں اور اسلامی نظام کے بارے میں جو منفی مہم ہر سطح پر جاری ہے، اسے سامنے رکھ کر نئی نسل کی راہ نمائی، ذہن سازی اور بریفنگ کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ مسائل ومشکلات کے عملی حل سے پہلے ان کی فکری بنیادوں اور تہذیبی پس منظر کا واضح ہونا ضروری ہے اور ایمان وعقیدہ کے رسوخ اور احکام شرعیہ پر مخلصانہ عمل کے لیے فکری وذہنی اطمینان بھی ایک ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے جسے نظر انداز کر کے ہم نفاذ شریعت کی جدوجہد میں موثر پیش رفت نہیں کر سکتے۔ 

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۔ ولادت سے تکمیل تعلیم تک

مولانا محمد یوسف

(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر: حیات وخدمات‘‘ کا پہلا باب۔)

ولادت اور نام ونسب

بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے عشرے اورچودھویں صدی ہجری کے عشرہ ثالثہ میں مملکت پاکستان کے صوبہ سرحد کے علاقہ ہزارہ میں واقع ضلع مانسہر ہ کی ایک غیر معروف بستی ڈھکی چیڑاں داخلی ’’کڑمنگ بالا‘‘ کے افق سے رشدو ہدایت کاایک آفتاب طلوع ہوا جس کو علمی دنیا میں امام اہل سنت، استاذ العلما،شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا ا بوالزاہد محمد سرفراز خان صاحب صفدر دامت برکاتہم کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی۔
آپ نے ۱۹۱۴ء میں اس جہا ن رنگ وبومیں آنکھ کھولی۔ آپ کا آبائی گاؤں کڑمنگ بالاہے جوشاہراہ ابریشم پر شنکیاری سے کچھ آگے اوربٹل سے پہلے واقع ہے۔ اس گاؤں کے بالائی طرف پہاڑ پر واقع ایک چھوٹا ساڈیرہ’’ ڈھکی چیڑاں‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ یہی ڈیرہ آپ کی جاے پیدائش ہے۔ آپ کے برادر عزیز مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان صاحب سواتی ؒ بھی ۱۹۱۷ء میں اسی مقام پر پیدا ہوئے۔ 
آپ کا اسم گرامی محمد سرفرازخان، کنیت ابوالزاہد، تخلص صفدراور لقب امام اہل سنت ہے۔آپ نے ابوالزاہد کنیت اپنے بڑے فرزند مولانا زاہدالراشدی کے نام کی مناسبت سے اختیار کی، جبکہ تخلص ’صفدر‘ کی وجہ آپ خود یہ بیان فرمایا کرتے تھے: ’’ میں دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم تھا۔ میں ایک روز کسی وجہ سے کچھ تاخیر سے جماعت میں حاضر ہوا اور طلبا کی صفوں کے درمیان سے گزرتا ہوا اپنی جگہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرے استاد محترم شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے مجھے یوں جلدی جلدی آتے دیکھا تو فوراً بول اٹھے، صفدرآرہا ہے۔ تمام طلبہ نیا نام سن کر مسکر ا پڑے تو شیخ العرب والعجم ؒ نے فرمایا: یہ وہ صفدر ہے جوان شاء اللہ حق وباطل کی صفوں میں تمیز کرے گا‘‘ ۔ سبحان اللہ! کیسا سہانا وقت تھا اورکتنی مقبولیت کی گھڑی تھی کہ آپ کے استاد محترم کی زبان مبارک سے نکلا ہوا لفظ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسا قبول ہو اکہ آپ زندگی بھر حق وباطل کی صفوں میں تمیز کرتے رہے۔ تمام فرق باطلہ کے عقائد باطلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کاعلمی انداز میں رد کرتے رہے۔ بقول آپ کے:’’ عزیز طلبہ! میں نے چومکھی لڑائی لڑی ہے، یعنی جس جہت سے دین اسلام پر حملہ ہوا ہے میں نے بحمداللہ تعالیٰ اس کا بھرپور جواب دیا ہے‘‘۔
ممتاز اصحاب فضل وکمال نے آپ کی ہمہ جہت دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرط عقیدت سے آپ کوامام اہل سنت کے لقب سے موسوم کیا۔ مولانا مفتی احمدا لرحمن صاحب (جانشین محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ ) اور شیخ الحدیث والتفسیر مولانا زرولی خاں صاحب کی تحریک پر سفرکراچی کے دوران اصحاب علم ودانش نے آپ کو اسی لقب سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب کی عاجزی وانکساری کایہ عالم کہ آپ اس لقب کی توجیہ ان الفاظ میں بیان فرمایا کرتے تھے: ’’ میں امام اہل سنت صرف اس مفہوم ومعنی میں ہوں کہ میں گوجرانوالہ شہرمیں واقع گگھڑ میں اہل سنت کی ایک مسجد کاامام ہوں‘‘۔ 

خاندانی پس منظر

حضرت شیخ الحدیث کاسلسلہ نسب درج ذیل ہے: ’’محمد سرفراز خان بن نور احمد خان بن گل احمد خان بن مولوی گل‘‘ ۔ قومیت کے اعتبار سے آپ یوسف زئی پٹھان ہیں۔ یوسف زئی خاندان کا یہ حصہ ہزارہ کے علاقہ میں سواتی برادر ی کے نام سے معروف ہے۔ آپ کا خاندانی تعلق اسی سواتی برادری کی شاخ مند راوی سے ہے ۔ ضلع مانسہرہ میں اورخاص طورپر شکیاری سے ایک میل آگے اچھڑیاں گاؤں میں آج کل یہ برادری بڑی تعداد میں آباد ہے ۔
آپ کے والد بزرگوار محترم نوراحمد خان مرحوم ایک نیک سیرت ،صوم وصلوۃ کے پابند اورباخدا انسان تھے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب اپنے ایک مضمون میں خود تحریر فرماتے ہیں: ’’ہم نے جب ہوش سنبھالا تووالدمحترم کوبالکل سفید ریش دیکھا۔ ایک بال بھی سراور داڑھی میں سیاہ نہ تھا۔ بخلاف اس کے ہمارے دادا جی مرحوم بھی اس وقت زندہ تھے، ان کی ڈاڑھی اور سر میں بال سیاہ بھی تھے اوران کی عمر سو سال کے لگ بھگ تھی۔ جب دونوں باپ بیٹا اکٹھے ہوتے تو دیکھنے والوں کو الٹ شبہ پڑتاتھا۔ ہمارے گھر کے قریب کوئی اورمکان نہ تھا تقریباً دو فرلانگ فاصلہ پر ہمارے دادا صاحب مرحوم اور ان کے چھوٹے بھائی میر عالم خان مرحوم کے دومکان تھے جو بالکل آس پاس تھے اورا نہوں نے اپنی سہولت کے لیے مسجد بھی تعمیر کر لی تھی۔ بحمداللہ سبھی بزرگ متشرع اور پختہ نمازی تھے۔ ہمارے والد محترم نے گھر سے باہر ایک چبوترہ نمازکے لیے بنا رکھاتھا اور جانوروں سے اس کی بڑی حفاظت کیاکرتے تھے۔ تہجد اور با قی سب نمازوں کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ یہی حال ہماری سوتیلی والدہ محترمہ کاتھا۔ والدمحترم کبھی کبھی اذان خود بھی کہتے تھے، مگر زیادہ تر مقابل میں دوسرے پہاڑ پر جگوڑی کے موذن کی اذان پر نمازوں اور افطاری وسحری کا انحصار تھا۔ والد محترم اور اسی طرح دادا محترم بالکل ان پڑھ تھے۔ جوانی کے دورمیں والد محترم نے قرآن کریم کاپہلا پارہ ناظرہ پڑھا تھا۔ اس کے بعض مقامات پڑھ لیا کرتے تھے۔ ہاں قرآن کریم کی بعض سورتیں خوب یاد تھیں ، نماز اور تلاوت میں انہیں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ عمرگو خاصی تھی، مگر صحت بفضلہ تعالیٰ قابل رشک تھی، اور اپنا تمام کاروبار خودکرتے تھے ۔ ایک معمر نوکر رکھا تھا جو کوہ مری کے علاقہ کا تھا اور عباسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ بڑا پرہیز گار ، متشرع ،نمازی اور نہایت خدمت گزار تھا۔ ہمارے مال مویشی اکثر وہی چرایا کرتا تھا، اورہم بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ مال مویشی چرا نے کے لیے شرکت کرتے تھے۔ پانی خاصی دور تھا اور وہ پانی بھی اکثر لایا کرتا تھا۔ ہمارا گھر گو اکیلاتھا، مگر مہمان بکثرت آتے رہتے تھے اور خصوصاً لمبی کے ہمارے پھوپھی زاد بھائی تو اکثر وہاں رہا کرتے تھے۔ خوب چہل پہل تھی۔ والد محترم بڑے مہمان نواز تھے۔ بٹ کس کی صاف شفاف ندی سے خود مچھلیاں پکڑ کر لاتے اور مہمانوں کی مچھلیوں اور اس کے علاوہ مرغوں اور گوشت سے خوب تواضع کیا کرتے تھے ۔ جب کسی موقع پر کوئی مہمان نہ آتا تو خاصے پریشان دکھائی دیتے تھے، لیکن مہمانوں کے نہ آنے کاواقعہ سال میں کبھی کبھی پیش آتا تھا‘‘۔ 
آپ کے والد محترم ریاست سوات کے ایک باعمل عالم دین، ولی کامل، خواجہ عبدالغفور اخوند ؒ کے دست حق پر ست پر بیعت تھے۔ آپ روحانی تربیت وتزکیہ کے لیے اکثر اپنے شیخ کامل کی خدمت میں حاضر ہوتے اور درخواست کرتے کہ حضرت دعا فرمائیں: ’’ میری اولاد عالم دین ہو‘‘۔ خداوندقدوس نے آپ کی قلبی خواہش اور آپ کے شیخ طریقت کی دعا کو یوں قبول فرمایاکہ آج آپ کی اولاد کاعلمی وروحانی فیض ہر سو عالم پھیلاہوا ہے۔ آپ کی اولاد حضر ت شیخ الحدیث صاحب اور مفسر قرآن مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی ؒ کے علمی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی کارناموں نے دنیاے اسلام کو متاثر کیا ہے۔ آج ان کا نام دنیاے علم میں انتہائی ادب واحترام سے لیاجاتا ہے اورا ن کوبرصغیر کی عظیم شخصیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 
آپ کے والدمحترم کی پہلی شادی اپنے حقیقی چچا محمد خان مرحوم کی بیٹی رحمت نور مرحومہ سے ہوئی۔ (یہ حضرت شیخ الحدیث صاحب وحضرت صوفی صاحب ؒ کی سوتیلی والدہ محترمہ تھیں اور قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۹ء میں گگھڑ ضلع گوجرانوالہ میں ان کی وفات ہوئی اور یہیں وہ مدفون ہیں) ان کے ہاں ایک بیٹا پید ا ہوا اور اس نومولود کانام خواجہ عبدالغفور اخوند کے نام کی مناسبت سے عبدالغفور رکھاگیا لیکن تقدیر الہٰی غالب آگئی اور ان کاجوانی ہی میں انتقال ہوگیا ۔ ان کے انتقال کے بعد تقریباً تیس سال تک حضرت شیخ کے والدمحترم کے ہاں باوجود والدہ مرحومہ کے علاج معالجہ کے کوئی اولاد نہ ہوئی ۔
جب آپ کے والد محترم کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہوئی تو آپ کی سوتیلی والدہ مرحومہ اور خاندان کے بعض دیگر بزرگوں نے اولاد کی غرض سے ان کو دوسری شادی پر مجبور کیا تو ابتدا میں تو وہ پہلو تہی کرتے رہے مگر بالآخر وہ بھی راضی ہو گئے اور ڈنہ کے مقام کے چیچی خاندان کی پندرہ وسولہ سال کی ایک خاتون سے جن کانام بی بی بخت آور تھا خاصی کش مکش کے بعد نکاح ہوگیا۔ دونوں کی عمروں کے نامناسب ہونے کی وجہ سے بعض رشتہ دار ابتدائی مرحلہ میں سخت مخالف تھے۔ بالآخر یہ سب راضی ہوگئے۔ یہ حضرت شیخ کی حقیقی والدہ محترمہ تھیں۔ شادی کے بعد ان کے بطن سے ۱۹۱۱ ء میں ایک بیٹی حکم جان پیدا ہوئی۔ دوسرا بیٹا ۱۹۱۴ ء میں پیدا ہوا جس کا نام محمد سرفراز خان رکھا گیا جو بعدمیں امام اہلسنت ، استاذ العلماء شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا ابواالزاہد محمد سرفراز خان صفدر کے نام سے معروف ہوئے۔ تیسرا ہونہار فرزند ۱۹۱۷ء میں پیدا ہوا جن کو علمی دنیامیں مفسر قرآن ، شیخ المفسرین والمحدثین حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی ؒ کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ۱۹۲۰ء میں ایک بیٹی، بی بی خانم مرحومہ پیدا ہوئی (جن کی وفات ۱۹۴۴ء میں لاہور میں ہوئی اور وہ باغبانپورہ کے قبرستان میں مدفون ہیں کیونکہ اس وقت ان کے خاوند دولت خان ساکن اچھڑیاں وہاں ٹیکسالی میں ملازم تھے) ۱۹۲۰ء میں جب بی بی خا نم مرحومہ پیداہوئیں تو ابھی تقریباً وہ چالیس دن کی تھیں کہ ان کی حقیقی والدہ بی بی بخت آور مرحومہ چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوکر تقریباً پچیس سال کی عمرمیں دنیاسے رخصت ہو گئیں۔ یوں یہ چاروں بہن بھائی اپنی حقیقی ماں کی مامتا سے محروم ہوگئے اوروہ بھی اپنے معصوم بچوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے آخرت کوروانہ ہوگئیں۔ ان کے دل میں کیا کیا حسرتیں ہوں گی، کون اندازہ کرسکتا ہے! ان تمام حسرتوں کے عوض اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس مرحمت فرمائے۔ حقیقی والدہ کے انتقا ل سے پہلے بھی چاروں بہن بھائی سوتیلی والدہ کی گود میں رہتے تھے اور حقیقی والدہ کی وفات کے بعد تو گود ہی وہی تھی۔ حضرت شیخ صاحب اپنی سوتیلی والدہ محترمہ کے حسن سلوک کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’ یہ بالکل ایک حقیقت ہے کہ ایسی نیک دل خدمت گزار، ہمدرد اور شفیق ومہربان سوتیلی والدہ شاید کسی کو میسر ہوئی ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مرحمت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار میں جگہ مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ ‘‘

تعلیم کا آغاز

حضرت شیخ الحدیث صاحب نے جب ہوش سنبھالا تو زمینداری طریقہ سے گھر کے سب کام کاج میں 
ہاتھ بٹانے لگے لیکن آپ کے والد مرحوم کو آپ کی تعلیم کی بے حد فکر تھی اور اس پسماندہ اور غیر معروف بستی میں تعلیم کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن حسن اتفاق سے آپ کے ایک پھوپھی زاد بھائی محترم سید فتح علی شاہ صاحب بن سید دین علی شاہ صاحب مرحوم ساکن لمبی بٹل میں واقع ایک سکول میں چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے۔ ۱۹۲۷ء میں جب آپ تیرہ برس کی عمر کو پہنچے تو آپ کے والد محترم نے آپ کو اپنے بھانجے سید فتح علی شاہ صاحب کی نگرانی میں بٹل کے سکول میں پہلی جماعت میں داخل کروا دیا ۔ اس وقت آپ کی رہائش بٹل کی ایک بڑھیا خاتون کے ہاں تھی۔ اس بڑھیا کا گھر یعقوب خان مرحوم کے گھر کے قریب ہی تھا۔ حضرت شیخ اس خاتون کے ہاتھ کے پکے ہوئے لذیذ کھانوں کی بڑی تعریف کرتے تھے۔ اپنے ایک مضمون میں یوں تحریر فرماتے ہیں۔ مکئی کی روٹی اورکڑی اس مائی کے ہاتھ کی پکی ہوئی اب تک یاد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جزاے خیر دے۔ 
آپ کے پھوپھی زاد بھائی سید فتح علی شاہ نہ معلوم وجوہ اور اسباب کی بناپر بٹل سے ملک پور چلے گئے اور وہاں فقیرا خان مرحوم کی مسجد میں بحیثیت امام اپنے فرائض سرا نجام دینے لگے اور شیر پور کے مڈل سکو ل میں داخل ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد محترم بھی آپ کو ملک پور چھوڑ آئے۔ اس وقت آپ کی رہائش ملک پور کی مسجد میں سید فتح علی شاہ کے پاس تھی اور حصول تعلیم کے لیے آپ اپنے برادر محترم کے ہمراہ روزانہ شیرپور کے مڈل سکول میں جایا کرتے تھے ۔ آپ نے شیرپور کے مڈل سکول سے دوسری جماعت پاس کی اور ا س کے ساتھ ساتھ اپنے برادر محترم سے قاعدہ ناظرہ قرآن کریم اور ضروری دینی مسائل کی تعلیم حاصل کی۔
برادر محترم نے شیر پور میں مڈل سکول پاس کر لیا اور آپ دوسری جماعت سے تیسری جماعت میں پہنچ گئے۔اسی موقع پر آپ کے والد محترم نے حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی کو بھی حصول تعلیم کے لیے ملک پور پہنچا دیا ۔ یہ حضرت صوفی صاحب کاپہلا سفر تھا لیکن چونکہ اپنے ہی رشتہ دار چند ہم عصر ساتھی پہلے سے وہاں موجود تھے، اس لیے انہوں نے کوئی زیادہ تکلیف محسوس نہ کی۔ (اس زمانہ میں اخبار زمیندار بہت عروج پر تھا اور افغانستان میں بچہ سقہ کی شورش کی شہ سرخیاں اخبارات میں نمایاں ہوئی تھیں)۔
اس زمانہ میں بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور محترم جناب غلام احمد (عرضی نویس) کی کوششوں سے ایک دینی مدرسہ اصلاح الرسوم کے نام سے قائم ہو ا اور سید فتح علی شاہ اس مدرسہ میں داخل ہوگئے اور رہائش مانسہرہ کے قریب گنڈاکی مسجد میں رکھی۔ حضرت شیخ اور حضرت صوفی صاحب دونوں بھائی ملک پور سے کوچ کرکے گنڈا چلے گئے اور مانسہرہ کے مدرسہ اصلاح الرسوم میں داخل ہوگئے۔ حضرت شیخ تیسری جماعت اور حضرت صوفی صاحب ابتدائی جماعت میں تھے۔ اس مدرسہ میں حضرت شیخ نے تیسری جماعت تکمیل کی اوردینی مسائل پر مشتمل ابتدائی کتاب تعلیم الاسلام اورنحو کی ابتدائی کتاب نحومیر حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی سے پڑھی۔ اس مدرسہ میں زیر تعلیم طلبہ کو فن تقریر بھی سکھایا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ نے ا پنی استعداد کے مطابق تقریر کافن بھی سیکھا، اس دوران دونوں بھائی پیدل ہی گھر آجایاکرتے تھے ۔اس وقت بس وغیرہ کاکوئی انتظام نہ تھا اور آپ کے والد محترم بھی اکثر خبرگیری کے لیے تشریف لاتے اور دیکھ بھال کر تسلی دے کر کچھ رقم دے کر چلے جاتے۔ 

کٹھن اور مشکل حالات

اس اثنا میں آپ کے دادا محترم غالباً ۱۹۳۰ء کو رمضان المبارک کے مہینہ میں بحالت روزہ وفات پاگئے۔ چونکہ اس وقت سواری کا انتظام نہ ہوتا تھا، اس لیے دونوں بھائیوں کو اطلاع نہ بھیجی جا سکی، جب کہ گنڈا اور آپ کے گھر کے درمیان چھپیس میل کی مسافت تھی۔ دادامحترم کے انتقال کے ایک سال بعد رمضان المبارک ہی کے مہینہ میں ۱۹۳۱ء کے قریب آپ کے والد محترم کا بھی انتقال ہوگیا ۔ اس موقع پر دونوں بھائی حضرت شیخ اور حضرت صوفی صاحب گھر میں ہی تھے۔ چنانچہ دونوں بھائی اپنے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ والد مرحوم کی تجہیز وتکفین میں شریک ہوئے اور آپ کے والد مرحوم کو ’’پادرے‘‘ کے قبرستان میں ان کے والد محترم(حضرات شیخین کے دادا مرحوم )کے پہلو میں سپردخاک کردیا گیا۔ اسی پادرے کے قبرستان میں آپ کی حقیقی والد ہ محترمہ بھی مدفون ہیں۔ 
آپ کی حقیقی والدہ محترمہ تو پہلے ہی انتقال فرما چکی تھیں اور پھر ۱۹۳۱ء میں والد محترم کے انتقال کے بعد ایک سخت ابتلاو آزمائش کادور شروع ہوا۔ حضرت شیخ صاحب کبھی کبھی اس زمانہ کو یاد کرکے خود فرمایا کرتے تھے: ’’ ہم نے یتیمی کی حالت میں بڑی غربت دیکھی ہے۔ ہمارے پاس کبھی کبھی پہننے کے لیے جوتے نہیں ہوتے تھے اور ہمارے کپڑے بہت پرانے ہوتے تھے‘‘۔ بہرحال یتیموں کی داستان خاصی دردناک اور طویل ہوا کرتی ہے جس سے حضرات شیخین کو بھی دو چار ہونا پڑا۔ حضرت شیخ کی زندگی میں بہت سارے نشیب وفراز آئے، تلخ وترش حالات سے دوچا رہوئے ، دنیا کی دھوپ چھاؤں دیکھی، لیکن غیرت وخود داری کے ٹھوس جذبے کو کبھی ٹھیس نہیں لگنے دی۔ آپ کو یہ پاکیزہ جذبہ اپنے آباء واجداد سے موروثی طور پر ملا تھا۔ چنانچہ آ پ کے والد محترم کے انتقال کے بعد آپ کی آبائی زمین پر لوگ صرف اس وجہ سے قابض ہوگئے تھے کہ یہ زمین آ پ کے خاندان کے نام نہ تھی جس کی وجہ بھی یہی تھی کہ آپ کے آباواجداد میں غیرت وخودداری بدرجہ کمال موجود تھی۔ 
جب مانسہر ہ میں ایک انگریز افسر زمینوں کے سرکاری کاغذات وغیرہ بنانے کے لیے آیا تو لوگوں نے آپ کے دادا گل احمدخان ؒ کو توجہ دلائی کہ کاغذات وغیرہ بنو ا کر زمین اپنے نام لکھوا لو۔ انگریزوں کی نفرت ان کے رگ وپے میں اس قدر سمائی ہوئی تھی کہ انہوں نے زمین کے کاغذات وغیرہ بنوانے کے لیے بھی اس قوم کے ایک انگریزافسر کے پاس جانا بھی مناسب نہ سمجھا اور جواب دیا ’’ میں اس سور کامنہ نہیں دیکھنا چاہتا‘‘۔ والدمرحوم کے انتقال کے بعد بظاہر تحصیل علم کے تمام اسباب مسدود ہوگئے تھے، لیکن جب مسبب الاسباب کسی خوش قسمت کو اپنے دین متین کی خدمت کے لیے منتخب فرمالیں تو اسباب خود ہی مرحمت فرما کر اسباب اور راحت وآسائش کی دنیا میں پلنے، بڑھنے والوں پر اپنی شان بے نیازی ظاہر فرماتے ہیں تاکہ ان پر یہ حقیقت واضح آجائے کہ وہ قادر مطلق ناتواں اور کمزوروں سے بھی خدمت دین کاکام لینے پر قادر ہے۔ ان المقادیر اذا ساعدت الحقت العاجز بالقادر (جب تقدیر الہٰی مدد کرتی ہے تو عاجز کو قادر کے ساتھ ملادیتی ہے)۔
آپ کے والد محترم کی وفات کے بعد خاندان کا شیرازہ کچھ ایسا بکھرا کہ اس کے بعد آپ سب بہن بھائی اور سوتیلی والدہ محترمہ کبھی اکٹھے نہیں رہ سکے۔ کہیں دو اکٹھے ہو جاتے اور کہیں تین، آپ کی سوتیلی والدہ محترمہ اور چھوٹی ہمشیرہ بی بی خانم مرحومہ کو آپ کی سوتیلی والدہ کے بھانجے حاجی گوہر امان خان اچھڑیاں لے گئے۔ بڑی ہمشیرہ کو پھوپھی درمرجان صاحبہ لمی لے گئیں جن کے فرزندسے آپ کے والدمرحوم اپنی زندگی ہی میں انکی منگنی کرچکے تھے۔ حضرات شیخین دونوں بھائی کبھی لمبی اور کبھی اچھڑیاں اور کبھی کورے میں اور زیادہ تر مسجدوں میں وقت گزارتے۔ گھر کا اثاثہ ، سامان اورجانور کچھ اس انداز سے تقسیم کیے گئے کہ آج تک وثوق سے نہیں کہاجا سکتا کہ ان سے فائدہ کس کس نے اٹھایا۔ اس دور میں سید فتح علی شاہ مرحوم کی شادی ہوگی اور وہ باوجود شوق کے تعلیم جاری نہ کرسکے اور اکثر گھر ہی میں رہنے لگے اور حضرات شیخین گنڈا سے نکل کر ادھر ادھر چلے گئے ۔ 
والد مرحوم کی وفات کے بعد گھر کے اجڑنے اور گنڈا سے نکل چکنے کے بعد تھوڑے عرصہ میں خاصی جگہیں بدلنا پڑیں چنانچہ آپ کچھ عرصہ بٹل میں پڑھتے رہے اس کے بعد ہروڑی پائیں میں حضرت مولانا سخی شاہ ؒ کے پاس رہے۔ وہاں نورالایضاح اور صر ف کی کچھ ابتدائی گردانیں یاد کیں۔ اس کے بعد کھکھو میں حضرت مولانا عیسی ؒ کے پاس رہے اور سنگل کوٹ میں مولانا احمد نبی ؒ صاحب کے پاس رہے اور نحومیر کاکچھ حصہ پڑھا پھر بائی پائین میں کچھ عرصہ رہے لیکن ان تما م جگہوں میں تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکا اور تعلیمی کام نہ ہونے کے برابر رہا۔ اس دوران حضرت صوفی ؒ صاحب زیادہ تر اچھڑیاں اور کورے میں رہے اور کبھی کبھار لمبی چلے جاتے۔ 
اس اثنا میں ایک خوش قسمت اورنیک دل بزرگ نے آپ کومشورہ دیاکہ تمہارا وطن میں کیا دھرا ہے، کہیں جاکر تعلیم حاصل کرو۔ چنانچہ حضرت شیخ اپنے برادر عزیز حضرت صوفی صاحب ؒ کو ساتھ لے کر ۱۹۳۳ء کے لگ بھگ حصو ل علم کے لیے روانہ ہوئے۔ کیا ہی صاحب بصیرت تھے وہ رجل مومن جنہوں نے مستقبل کی ان دوعبقری شخصیات کوحصول علم کا مشورہ دیا اور رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے نکلی ہوئی اس خوش خبری کامصداق ٹھہرے۔ الدال علی الخیر کفاعلہ۔ نیکی اور خیر کی طرف رہنمائی کرنے والانیکی کرنے والے کی طرح ہوتاہے ۔چنانچہ دونوں بھائی سفر کرتے ہوئے کوئٹہ(بلوچستان) جا پہنچے اور وہاں کوئٹہ کے متصل ایک بستی میں ایک پرانے طرز کے مدرسہ میں داخل ہوگئے۔ یہ مدرسہ ایک مسجد میں قائم تھا اس مدرسہ میں ابتدائی کتابیں پڑھناشروع کردیں لیکن کچھ عرصہ بعد نہ معلوم وجوہ کی بنا پر دونوں بھائی کوئٹہ سے عازم سفر ہوئے اورکلکتہ جاپہنچے وہاں کچھ دن رہ کر پھر تے پھراتے پھر وطن پہنچ گئے۔ اس کے بعد حضرت شیخ دوبارہ اپنے ایک رفیق سفر کے ہمراہ جو چٹہ بٹہ کا رہنے والا تھا عازم سفر ہوئے اور اجمیر شریف جا پہنچے کچھ عرصہ اجمیر شریف قیام کے بعد دوبارہ وطن واپس آگئے۔ 
اجمیر شریف سے واپسی پر آپ شیٹر کے مقام پر واقع گجر برادری کی ایک مسجد میں امامت کرنے لگے۔ اس مسجد کے آس پاس کوئی گھر نہ تھا۔ کبھی کچھ لوگ نماز کے لیے آجاتے تو جماعت ہوجاتی اور کبھی کوئی نہ آتا تو آپ اکیلے ہی اذان کہہ کر نماز پڑھ لیتے۔ ان دنوں آزاد قبائل انگریز کے خلاف برسرپیکار تھے جن کی قیادت مشہور مجاہد مولانا اللہ داد خان کرتے تھے۔ لمبی سے تقریباً د ومیل کی مسافت پر آزاد علاقہ شروع ہوتاتھا، جہازوں کی بمباری کے علاوہ توپوں مشین گنوں حتیٰ کہ رات کے وقت رائفلوں کی فائرنگ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت شیخ نے ان دنوں شوق جہاد میں ایک تلوار بھی خریدی جبکہ آپ کے پاس بندوق توپہلے ہی سے موجود تھی۔ 
لمبی کے ایک بزرگ سید محمود شاہ نے ایک مرتبہ آپ کو پا س بٹھا کر بڑے نرم لہجہ میں آپ کو نصیحت کرتے ہوے فرمایا : ’’سرفراز!تو خاصا ذہین اور محنتی آدمی ہے اور ابھی تمہاری عمر بھی کوئی زیادہ نہیں، کہیں جا کر علم حاصل کرو اور ان گوجروں کی مسجد میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرو۔ ‘‘ان کی اس نصیحت کا دل پر گہرا اثر ہوا، چنا نچہ دفعتاً آپ کاوہاں سے دل اچاٹ ہوگیا اور آپ اپنے پھوپھی زاد بھائی محمد ایوب خان اور حضرت صوفی صاحب ؒ کے ہمراہ ہری پور جا پہنچے وہاں سے کھلا بٹ ہوتے ہوئے دو ڑ کی ندی کے کنارے پر نام کی ایک چھوٹی سی بستی میں مقیم ہوگئے اور پکا پیالہ میں دن کو جاکر سبق پڑھ آتے اور رات کو اپنے مستقر پر آجاتے۔ پہاروں نامی بستی کے ایک معمر بزرگ جناب سکندرخان آپ کے کھانے وغیرہ کاخصوصی خیال رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت صوفی صاحب سوتیلی والدہ مرحومہ اور چھوٹی حقیقی ہمشیرہ مرحومہ کے پاس واپس اچھڑیاں چلے آئے جب کہ آ پ خانپور (جو ہر ی پور سے جنوب مشرق کی طرف روہی کی ندی کے کنارے سر سبز علاقہ ہے اورراجوں کا خان پور کہلاتا ہے) چلے گئے اوروہاں لوہاروں کی ایک مسجد میں قیام پذیر ہوگئے اوراسی مسجد کے امام حضرت مولانا عبدالعزیز ؒ سے صرف کی ابتدائی کتابیں شروع کردیں۔ آپ چند ماہ وہاں رہے اور یہاں بھی تعلیمی کام نہ ہونے کے برابر رہا۔ اس دوران آپ اکثر اوقات حضرت مولاناعبدالعزیز ؒ کی بکریاں چرایا کرتے تھے، آپ دو تین میل باہر پہاڑوں پر چلے جاتے اور وہاں سے بکریوں کے لیے چارہ وغیرہ لاتے۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نے اپنی ہی برادری کی ایک لڑکی سے آپ کی شادی کرنے کی سعی شروع کر دی۔ جب آپ کواس پتہ چلا تو آپ واپس وطن چلے آئے اوروہاں سے اپنے برادر عزیز حضرت صوفی صاحب ؒ کو لے کر لاہور چلے آئے۔ 

حصول علم کے لیے لاہور آمد

آپ اپنے برادرعزیز کے ہمراہ حصول علم کے لیے مصری شاہ لاہور پہنچے اس زمانہ میں مصری شاہ لاہور میں ایک ڈاڑھی منڈھے مولوی صاحب رہتے تھے جن کا نام عبدالواحد تھا اور عرب استاد کے نام سے مشہور تھے۔ موصوف صر ف ونحو میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ عربی زبان بڑی روانی سے بولتے تھے اور پشتو بھی بڑی فصیح اور سلیس بولتے تھے۔ ان کی علمی شہرت کی وجہ سے ان کے پاس دودراز سے طلبا نحو کی مشکل او ردقیق کتب ’’ عبدالغفور‘‘ اور ’’مغنی اللبیب ‘‘ وغیرہ پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ دونوں بھائیوں کی جب عرب استاذ صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ طلبہ پڑھنے کابے حد شوق رکھتے ہیں لیکن ناتجربہ کاری کی وجہ سے کسی مناسب تعلیمی درسگاہ میں نہیں پہنچ سکے تو انہوں نے دونوں بھائیوں کو تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں واقع اک گاؤں مرہانہ میں حضرت مولانا غلام محمد ؒ کے پاس بھیج دیا، چنانچہ حضرت شیخ صاحب اپنے برادر عزیز اورایک اور طالب علم مولوی عبدالحق ساکن کھکھو کولے کر مرہانہ پہنچے لیکن جب یہ تینوں ساتھی مرہانہ پہنچے تو تعلیمی داخلہ بند ہو چکا تھا۔ نیز یہ تینوں ابتدائی کتب کے طلبہ تھے او رمرہانہ کی تعلیمی درسگاہ میں طلبہ کی تعداد پہلے ہی سے زیادہ ہوچکی تھی اس لیے حضرت مولانا غلام محمد ؒ نے داخلہ سے تو معذوری ظاہر کر دی لیکن اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزاے خیردے کہ انہوں نے ان کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے انہیں مرہا نہ سے چند میل کی مسافت پر واقع ایک قصبہ وڈالہ سندھواں میں حضرت مولانا محمد اسحاق رحمانی ساکن چونیاں منڈی کی خدمت میں بھیج دیا۔ 

باقاعدہ تعلیم

حضرت شیخ اور حضرت صوفی صاحب ؒ کی باقاعدہ تعلیم کاآغاز ضلع سیالکوٹ کے اسی مشہور قصبہ وڈالہ سندھواں سے ہوا۔ اس قصبہ میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی کے ایک شاگرد حضرت مولانا اسحاق رحمانی مسند تدریس پر رونق افروز تھے۔ آپ غضب کے ذہین بہترین مدرس اورچوٹی کے مقرر تھے۔ مسلکاً اہل حدیث تھے مگر خاصے معتدل تھے۔ فروعی مسائل میں نزاع اور اختلاف پسند نہ کرتے تھے۔ جب حضرت شیخ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ سے داخلہ کاامتحان لیا اورمعرفہ ونکرہ کی تعریف دریافت فرمائی اور بھی بعض سوالات کیے۔ جب آپ نے فی الفور صحیح جوابات دے دیے تو بہت خوش ہوئے اور آپ کو اور آپ کے برادرعزیز کوداخلہ دے دیا۔ وڈالہ سندھواں کی مرکزی دو منزلہ مسجد میں تقریباً دو سال آپ مولانا محمدا سحاق ؒ کے پاس زیر تعلیم رہے۔ آپ نے سبعہ معلقہ ، شرح جامی اور قطبی تک کتابیں وڈالہ سندھواں ہی میں پڑھیں جب کہ حضرت صوفی صاحب ؒ کی ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔ تقریباً دو سال کے بعد حضرت صوفی صاحب ؒ اپنے ایک اور رفیق درس مولانا سید امیر حسن شاہ ساکن تھب تحصیل باغ ضلع پونچھ کے ہمراہ بغیر اطلاع وڈالہ سندھواں سے چلے گئے۔ 
جب حضر ت صوفی صاحب وڈالہ سندھواں سے بغیر کچھ بتلائے چلے گئے تو حضرت شیخ وڈالہ سندھواں میں اکیلے رہ گئے۔ پھر کچھ دنوں بعد آپ ان کی تلاش میں نکلے۔ غربت کا زمانہ تھا رقم پاس نہ تھی چنانچہ پیدل ہی وہاں سے گوجرانوالہ پھر قلعہ دیدا ر سنگھ پھر حافظ آباد اور پھروہاں سے ونیکے تارڑ پہنچے۔ ان تمام مقامات پر اس زمانہ میں دینی کتب پڑھائی جاتی تھی اور بیرونی طلبہ پڑھتے تھے، مگر ان مقامات پر حضر ت صوفی صاحب کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔ بالآخر آپ کشتی کے ذریعے دریاے چناب کو عبور کرتے ہوئے قادرآباد اور پھر وہاں سے’’انھی‘‘ کی مشہور در سگاہ میں جاپہنچے جہاں ماہر علوم عقلیہ ونقلیہ یادگار اسلاف حضرت مولاناولی اللہ ؒ (جانشین ماہر معقول ومنقول حضر ت مولانا غلام رسول ؒ ) پڑھاتے تھے۔ 
انھی کی درسگاہ بلامبالغہ برصغیر کی مشہور درسگاہوں میں سے ایک ہے جہاں ممتاز اصحاب علم وکمال زیر تعلیم رہے۔ یہ درسگاہ پہلے تو ماہر معقول ومنقول حضرت مولانا غلام رسول ؒ کے دم قدم سے آباد رہی پھر آپ ہی کے شاگرد رشید استاذ العلماء حضرت مولانا ولی اللہ ؒ کی محنت اور توجہ نے اس کومرکز علم وعرفان بنا دیا۔ مختلف علاقوں سے ذہین اور باذوق طلبہ کااس چھوٹے سے قصبے میں ہجوم رہتا تھا۔ حضرت شیخ بھی حضر ت صوفی صاحب کو تلاش کرتے ہوئے انہی کی اس درسگاہ میں پہنچ کر شریک درس ہوگئے۔ آپ انھی سے چندمیل دور ککہ میں مقیم ہوگئے جہاں کشمیر کے مولانا عبدالمجید صاحب بھی رہتے تھے۔ صبح سویرے دونوں ہی پیدل چل کر انھی آجاتے اور سبق پڑھ کر ظہر تک واپس چلے جاتے۔ 
انھی میں طریقہ تعلیم یہ تھا کہ طالب علم ہر فن کی کتاب کا مطالعہ کرتا اور خو ب سمجھ کر کتاب کا مطلب استاد کے سامنے بیان کر دیتا اور غلطی پر استاد اس کی اصلاح کردیتے۔ اس طریقہ سے طالب علم بمشکل ایک دو سبق ہی حل کر سکتا۔ نہایت ہی ذہین طالب علم تین اسباق پڑھ سکتا تھا۔ اس طرز سے طلبہ میں مطالعہ اور کتابوں کو سمجھنے اور حل کرنے کا جذبہ بخوبی اجاگر ہوتا تھا ۔ آپ نے اسی طریقہ تعلیم سے اس مشہور درسگاہ میں سے درس نظامی کی دقیق اورمشکل کتب خیالی ، میبذی اور ملا حسن وغیرہ پڑھیں۔ 
پھر آپ نے اپنے برادرعزیز کی تلاش میں رخت سفر باندھا اور انہی سے پکھی ،منڈی بہاؤالدین ، ملکوال، پنڈدادخان، بھیرہ، خوشاب سے ہوتے ہوئے شاہ پور اور پھر وہاں سے سرگودھا اور وہاں سے تقریباً بیس میل دور جہاں آباد پپدل پہنچے جہاں سے آپ کو اتنا معلوم ہوا کہ صوفی صاحب بمع اپنے رفیق کے یہاں آئے تھے اورکچھ دن یہاں رہے ہیں اور پھر چلے گئے ہیں چنانچہ آپ وہاں ایک رات رہ کر پھر عازم سفر ہوئے اور خوشاب، واں بھچراں، کندیاں، کلورکوٹ سے ہوتے ہوئے لائل پور (فیصل آباد) کے ایک قصبہ بازار والا میں واقع بریلوی مسلک کی ایک درسگاہ میں جاپہنچے جہاں بیرونی طلبہ بھی رہتے تھے۔ اس درسگاہ سے اتنا معلوم ہوا کہ حضر ت صوفی صاحب بمع اپنے رفیق کے ملتان میں مولانا عبدالعلیم صاحب کے مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں۔ 
چنانچہ آ پ فیصل آباد سے ملتان روانہ ہوئے اور مولانا عبدالعلیم صاحب کے مدرسہ میں جاپہنچے جہاں آپ کی ملاقات حضر ت صوفی صاحب اورا ن کے رفیق درس حضرت مولانا سید امیر حسن صاحب سے ہوئی۔ حضرت شیخ اپنی اس ملاقات کو ان الفاظ میں بیا ن فرماتے ہیں : ’’ راقم فیصل آباد سے روانہ ہو کر ملتان پہنچا اور عزیزم عبدالحمید بمع اپنے رفیق کے وہاں موجود تھا۔ ملاقات ہوئی، گلہ شکوہ اور سفر کی تکلیفوں کاتذکرہ بھی ہوا اور ملاقات کر کے خوشی بھی ہوئی‘‘۔ تینوں حضرات کچھ عرصہ مولانا عبدالعلیم کے مدرسہ ہی میں رہے، اورموصوف سے علم میراث کاایک رسالہ پڑھاجس کے مصنف خود ہی مولانا تھے۔ حضرت شیخ موصوف کی مسلکی وابستگی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ مولانا بہت معمر تھے۔ ان کے فرزند مولانا عبدالحلیم اورا ن کے فرزند مولانا عبدالکریم اور ان کے فرزند مولانا عبدالشکور سب زندہ تھے ۔ لانگے خان کے باغ کے قریب ان کی مسجد تھی اور اس میں درس کتب جاری تھا۔ یہ حضرات نہ پکے دیوبندی اور نہ پختہ بریلوی تھے بلکہ بین بین تھے۔ علم اور علما سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔‘‘ جب تعلیمی سال ختم ہوا تو تینوں حضرات وہاں سے روانہ ہو کر ملتان کے قریب ہی پیراں غائب کے مقام پر پہنچے اور اتفاقاً وہاں ایک امام مسجد میاں عبداللہ سے ملاقات ہوگئی ۔ میاں صاحب سادات کی بڑی قدر کرتے تھے اور حسن اتفاق تینوں رفقاے سفر میں سے ایک رفیق سفر سید امیر حسن شاہ سادات کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے تینوں حضرات کی بڑی قدر کی اوران کے اصرار پر تینوں نے رمضان المبارک کا مہینہ ان کے ہاں گزارا۔ 
۱۹۳۷ء میں آپ حضر ت صوفی صاحب اور سید امیر حسن شاہ کے ہمراہ حصول علم کے لیے جہانیاں منڈی میں مولانا غلام محمد لدھیانویؒ کی خدمت حاضر ہوئے۔ موصوف حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری کے شاگرداور فضلائے دیوبند میں سے تھے اور جہانیاں منڈی کی مرکزی مسجد کے خطیب اورمدرس تھے۔ مسجد کے متصل طلبہ کی رہائش کے لیے کمرے تھے۔ چنانچہ وہاں اسباق شر وع ہوگئے۔ اسباق شروع ہونے کے چند دن بعد دارالعلوم دیوبند کے قدیم فضلا میں سے مولانا عبدالخالق مظفر گڑھی بھی بحیثیت مدرس وہاں تشریف لے آئے۔ حضرت شیخ نے وہاں عبدالغفور ،حمداللہ، مسلم الثبوت اور مختصرالمعانی وغیرہ کتابیں پڑھیں جب کہ حضر ت صوفی صاحب نے ملاں حسن اور شرح جامی وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ تینوں رفقا ایک سال جہانیاں منڈی کے مدرسہ رحمانیہ میں زیر تعلیم رہے۔ 
جہانیاں منڈی میں تعلیمی سال کے اختتام کے قریب مولانا سیدا میر حسن شاہ کے اصرار پر تینوں رفقا گوجرانوالہ کے لیے رواانہ ہوئے اور رمضان سے قبل ہی مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ میں نئے سال کے داخلہ کی منظوری لے لی۔ اس وقت مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم محدث گوجرانوالہ مولانا عبدالعزیز (متوفی،۱۳۵۹ھ) تھے۔ آپ فضلاے دیوبند میں سے تھے اور وسیع ا لنظر ،علم حدیث اور طبقات روات پر بڑی گہری نگاہ رکھنے والے تھے۔ 
داخلہ کی منظوری کے بعد دونوں بھائیوں نے رمضان المبارک میں گوجرا نوالہ حافظ آباد اور شیخوپورہ کے بہت سے دیہات کا تبلیغی اور اکتسابی دورہ کیا۔ رمضان المبارک کے بعد ماہ شوال میں مدرسہ انوار العلوم تشریف لے آئے۔ اس وقت مدرسہ انوارالعلوم میں حضرت مولانا عبدالقدیر ؒ صدر مدرس تھے۔ مولانا عبدالقدیر کیمل پوری عوامی حلقوں میں توزیادہ معروف نہ تھے لیکن تدریسی حلقوں میں آپ کو ایک مایہ ناز استاد ،محقق دوراں اور شیخ المعقول والمنقول کے نام سے شہرت حاصل تھی۔ اگر آپ کو برصغیر کی چوٹی کے مدرسین کی فہرست میں شمار کیا جائے تو تدریسی میدان کے وابستگان جانتے ہیں کہ یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ موصوف حضرت مولانا سید انور شاہ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے۔ حضرات شیخین تقریباً تین سال مدرسہ انوارالعلوم میں رہے اور یہ وہ دورتھا جس میں ہٹلر کی اتحادیوں سے جنگ عظیم چھڑی ہوئی تھی اور سر کار برطانیہ کی قوت کی چولیں ڈھیلی دکھائی دیتی تھی۔ حضرت شیخ اپنے علمی ذوق وشوق کے بارے میں خود فرمایا کرتے تھے ’’ میرا تعلیمی ذوق وشوق اور علمی استعداد استاد محترم حضرت مولانا عبدالقدیر کی خصوصی شفقت اور توجہ کی مرہون منت ہے‘‘۔ استاد محترم آپ کے ذوق وشوق ، قوت حافظہ اور علمی استعداد سے اس قدر مطمئن تھے کہ زمانہ طالب علمی ہی میں اپنی نگرانی میں آپ کوتدریس کاموقع عطا فرما کر آ پ کی علمی لیاقت پر اعتماد کیا ۔ 
مفسر قرآن شیخ الحدیث والتفسیر حضر ت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ اپنے استاذ محترم ؒ کی شفقت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: ’’احقر نے تقریباًتین سال دوران تعلیم آپ کی خدمت میں گزارے۔ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر توآپ کے اجل تلامذہ میں سے تھے ان کی ذہانت اورفطانت کی وجہ سے مولاناان کا بہت خیال فرماتے تھے، لیکن احقرکی طبعی خاموشی اورمسکینی کی وجہ سے اوراس لیے کہ صبح کی نماز باجماعت ادا کرتا تھا، بہت لحاظ فرماتے تھے۔‘‘ حضرات شیخین نے موقوف علیہ تک کی تمام اہم کتابیں انہی سے پڑھیں۔ راقم کے استفسار پر ایک مرتبہ حضرت شیخ نے فرمایا کہ میں نے تما م اہم کتابیں مثلاً ہدایہ اولین، اخیرین، تفسیرجلالین، تفسیر بیضاوی، تصریح، اقلیدس ، صدرا، قاضی مبارک، شمس بازغہ، شرح نخبۃ الفکر، حسامی، توضیح وتلویح، حمداللہ، خیالی، متن متین، ملا حسن اور حماسہ وغیرہ کتابیں حضرت ہی سے پڑھیں جبکہ مطول، سراجی، شرح وقایہ وغیرہ کتب مدرسہ انوارالعلوم میں مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبدالواحد ؒ سے پڑھیں۔ 
جب آپ مدرسہ انوارالعلو م سے اپنے اسباق کی تکمیل کرچکے توآپ کے دل میں یہ پاکیزہ جذبہ پیدا ہواکہ مسلمانوں کی نامور علمی ودینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی روح پروراورایمان افروز فضا میں دینی تعلیم کاآخری سال گزاریں اوراسی درسگاہ سے سند فراغت حاصل کریں، لیکن آپ کو اپنے شوق کی تکمیل کے لیے دوبرس مزید انتظار کرناپڑا۔ چونکہ آپ کی خواہش تھی کہ آپ کے برادرعزیز مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی ؒ بھی آپ کے ساتھ ہی دارالعلوم دیوبند جائیں، لہٰذا جب انہوں نے اپنے اسباق مکمل کرلیے توپھر اپنے برادرعزیز کے ہمراہ دارالعلوم کی طرف عازم سفر ہوئے۔ حضرت صوفی صاحب جب مدرسہ انوارالعلوم میں اپنے اسباق کی تکمیل کر رہے تھے تو اس دوران حضرت شیخ بحکم استاد محترم تقریباً ڈیڑھ سال پرائیویٹ طور پر ایک جگہ پچیس روپے ماہانہ مشاہراہ پرمولوی فاضل کا کورس پڑھاتے رہے۔ 
مصری شاہ لاہور میں تحصیل علم کے لیے تشریف آوری سے لے کر مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ میں اسباق کی تکمیل تک حضرات شیخین کا اپنے رشتہ داروں سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔ کچھ پتہ نہ تھا کہ دونوں بھائی کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ حضرات شیخین کی والدہ محترمہ اور آپ کی ہمشیرگان ان کے بارے میں سخت متفکر اور پریشان تھیں۔ اس زمانہ میں آپ کی برادری کے ایک بزرگ محترم گل خان ساکن اچھڑیاں راہوالی میں ریلوے کے محکمہ میں ملازم تھے۔ ان کی وساطت سے گھروالوں کو دونوں بھائیوں کی خیریت معلوم ہوئی۔ چنانچہ آپ کے خالہ زاد بھائی حاجی گوہر امان خان ملاقات کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اوران کے ذریعہ گھر اور خاندان کے دیگر افراد کی خیروعافیت کا حضرات شیخین کو بھی علم ہوا ۔ پھر چند دنوں بعد حضرت شیخ وطن تشریف لے گئے او ر اعزہ واقارب سے ملاقات ہوئی اور بعض مقامات پر تقریریں بھی کیں۔ حضرت شیخ نے چند روز اپنے وطن میں قیام کیا اورواپس گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔ 

دارالعلوم دیوبند کا سفر 

 ۱۹۳۹ء میں حضرات شیخین نے اپنے چند دیگر رفقا کے ہمراہ دارالعلوم دیوبند کی طرف رخت سفر باندھا۔ جب آپ دارالعلوم دیوبند پہنچے تواس وقت دارالعلوم کی مسند تدریس پر بہت سی ایسی ہستیاں رونق افروز تھیں جن کو بجاطورپر علمی دنیا میں مسند تدریس کی آبرو کہاجاسکتاہے ۔ بالخصوص شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد ؒ مدنی مدینۃ الرسول میں ایک عرصہ تک علم وعرفان کے موتی بکھیر کر اوروہاں کے علمی وروحانی سوتوں سے بقدرتوفیق الٰہی اپنی روح کوسیرا ب کرکے واپس دیوبند تشریف لاچکے تھے۔ حضرات شیخین نے دارالعلوم میں داخلہ کا امتحان دیا اور بفضلہ تعالیٰ کامیاب رہے اور حدیث شریف کے دورہ میں شریک ہوگئے ۔ اس سال دارالعلوم میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد ۱۹۹۵تھی جب کہ دورہ حدیث میں شریک طلبہ کی تعدد ۳۳۳ تھی۔ جضرات شیخین کے علاوہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدصاحب اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب پلندری بھی دورۂ حدیث میں شریک تھے۔ آپ حضرات کوجن اصحاب فضل وکمال کے دامن فضل سے وابستگی اور سرچشمہ علم وفن سے کسب فیض اور اکتساب علم کا شرف حاصل ہوا، ان میں سے اکثر اس زمانہ کے عبقری رہنما اور علوم دینیہ کے ممتاز مدرس تھے۔ 
حضرت شیخ نے بخاری شریف اور ترمذی جلداول حضرت مدنی ؒ کے پاس پڑھی۔ حضرت مدنی صبح کے وقت دو گھنٹے ترمذی اور ایک گھنٹہ بخاری شریف جلد اول پڑھاتے تھے اور رات کے وقت بخاری جلددوم پڑھاتے تھے۔ دوران درس طلبا کو کیسا ایمان پرور ماحول نصیب ہوتا تھا، اس کی ایک ہلکی سی جھلک حضرت صوفی صاحب کی اس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں: ’’دوران سبق شرکا کو ایسا عجیب روحانی ماحول نصیب ہوتاتھا کہ ہر شریک درس کی یہ دلی خواہش ہوتی تھی کہ کاش یہ مجلس دراز سے دراز ہوتی جائے۔ ہم کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہمارے قلوب زنجیروں کے ساتھ عالم بالا میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ جو علما اور طلبا شریک درس ہوتے تھے، اپنے شکوک وشبہات اور اعتراضات پرچیوں پر لکھ کر بھیجتے تھے۔ آپ (حضرت مدنی) ان کو پڑھ کر ہر ایک سوال کا جواب دیتے تھے۔کسی معترض کی تلخ کلامی یا غلط تحریر پڑھ کر کبھی ناراض نہ ہوتے تھے‘‘۔ 
آپ نے مسلم شریف (کامل) حضرت مولانا ابراہیم ؒ سے پڑھی جب کہ ابوداؤد مکمل اور ترمذی جلدثانی اور شمائل ترمذی شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی سے پڑھی۔ نسائی شریف مولانا عبدالحق نافع گل، اورابن ماجہ حضرت مولانا مفتی ضیاء الدین سے پڑھی، موطاامام مالک حضرت مولانا ادریس کاندھلوی سے اورطحاوی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع سے پڑھی(ان تمام اساتذہ گرامی کے اسما حضرت شیخ نے خود راقم کو ایک ملاقات میں بتلائے) تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، خاص طور پر دارالعلوم دیوبند میں فن خطابت میں طلبہ بڑے جوش وخروش سے اپنی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے تھے۔ حضرت شیخ نے تقریر کافن تو بچپن ہی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کے قائم کردہ مدرسہ اصلاح الرسوم سیکھ لیاتھا جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس فن میں پختگی اور حسن پیدا ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ دارالعلوم دیوبند میں ایک دوتقریر کے بعدہی یہ تاثر قائم ہوگیاتھا کہ آپ ایک بہترین مقرر ہیں۔ علامہ صابری نے ایک مرتبہ حضرت شیخ کی تقریر سے متاثر ہو کر جو تبصرہ کیا، قارئین حضرت شیخ کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔ ’’ راقم کے بارے میں بلاوجہ ایک دو تقریروں کے بعد یہ تاثر قائم کر لیا گیا کہ یہ اچھا مقرر ہے بلکہ ایک موقع پر مشہور شاعر محمد انور صابری نے راقم کی تقریر سن کر یہ فرمایا کہ سر حدیوں میں سے یہ ابو الکلام کہاں سے پیدا ہو گیا ہے؟‘‘ 

حضرت مدنی ؒ کی گرفتاری

دوران سال مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے مراد آباد میں ایک تقریر فرمائی۔ اس سلسلہ میں حکومت برطانیہ کی طرف سے آپ پر مقدمہ چلا اور آپ گرفتار ہوگئے۔ اس گرفتاری کے خلاف طلبہ کا مشتعل ہونا ایک فطری امر تھا، چنانچہ طلبہ نے حضرت کی گرفتاری کے خلاف زبردست احتجاج کیاحتیٰ کہ پولیس اور فوج کومداخلت کرنا پڑی۔ طلبہ نے اپنے احتجاج کو منظم کرنے کے لیے طلبہ میں سے متحدہ ہندوستان کے ہر صوبے کے لیے ایک ایک نمائندہ مقر ر کر دیا۔ اس وقت متحدہ ہندوستان کے گیارہ صوبے تھے۔ حضرت شیخ کو صوبہ سرحد اور افغانستان کانمائندہ مقرر کیا گیا اور پھر ان تمام نمائندوں کا صدر بھی آپ ہی کو منتخب کیا گیا۔ حضرت مدنی کی گرفتاری کے خلاف طلبہ کی اس تحریک کی قیادت میں آپ نے بھر پور قائدانہ کردار اداکیا ۔ چونکہ آپ طلبہ تحریک کے رہنما تھے اس لیے ارباب دارالعلوم دیوبند ،مجلس شوریٰ کے اراکین اور حکومت کے نمائندوں کاسلسلہ بھی آپ سے وابستہ ہوگیا۔ اس نازک موقع پر آپ ارباب دارالعلوم، مجلس شوریٰ کے اراکین اور طلبہ کے اعتماد پر بفضلہ تعالیٰ پورے اترے اور آپ نے سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا ۔ 
اس تحریک میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ اراکین دارالعلوم مدرسہ کے مستقبل کے بارے میں سخت متفکر ہوگئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت برطانیہ غیر معین عرصہ تک دارالعلوم بند کردے یا حکومت برطانیہ کوئی اور ایسا فتنہ کھڑا کر دے جس کو سبنھالنا اراکین دارالعلوم کے بس میں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی ؒ نے حضرت شیخ کو بلایا اور اس پر یشانی سے آگاہ کرتے ہوئے یہ مخلصانہ مشورہ دیا کہ عزیز! تم اس وقت طلبہ کے نمائندے ہو، اس وقت دارالعلوم کامفاد اسی میں ہے کہ ہنگامہ ختم کر دیا جائے اور طلبہ جلسوں اور جلوسوں اور نعرہ بازی سے گریز کریں اور فوراً اپنی اپنی کلاسوں میں چلے جائیں اور ذوق وشوق سے تعلیم جاری رکھیں‘‘۔ حضرت شیخ نے حضرت مفتی صاحب ؒ کے اس مخلصانہ اور معقول مشورہ کو بغور سنا اور آپ سے اتفاق کیا، لیکن آپ کے لیے مشکل یہ تھی کہ ایک طرف حضرت مفتی صاحب کی یہ معقول اور وزنی رائے تھی اور دوسری طرف طلبہ کے قلبی جذبات تھے جن کو یک لخت ٹھنڈا کرنا بظاہر ناممکن نظر آرہا تھا۔ بہرحال توفیق الہٰی شامل حال ہوئی۔ آپ نے انتہائی مدبرانہ سیاست اور فہم وبصیرت سے طلبہ کے جوش وخروش کا رخ نہ صرف اراکین دارالعلوم کی طے کردہ حکمت عملی کی طرف پھیر دیا بلکہ طلبہ اپنی اپنی کلاسوں میں جانے کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ آپ کی اس سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کی تفصیل ان شاء اللہ قارئین آئندہ صفحات میں بعنوان’’ حضرت شیخ کا سیاسی کردار‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ چنانچہ دارالعلوم میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیا اور طلبہ دورۂ حدیث نے بخاری اور ترمذی کا بقیہ حصہ مولانا اعزازعلی سے پڑھا۔ بعدازاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مدنی ؒ کو بھی باعزت رہائی نصیب فرمادی۔ 
جب سالانہ امتحان قریب آیا تو پھر چند ہنگامہ خیز طبیعتوں کے حامل افراد نے دفعتاً ہنگامہ برپاکر دیااور مطالبہ یہ رکھا کہ امتحان کے بغیر ہی ہمیں تصور پاس کیاجائے اور مفت میں اسناد مل جائیں اوراس ہنگامہ میں غبی، بے محنت اور نالائق طلبہ پیش پیش تھے مگر چونکہ یہ مطالبہ سراسر غیرمعقول تھا اس لیے اراکین مدرسہ نے اس پر آمادہ نہ ہوئے اور معمول سے چند دن پہلے ہی دارالعلوم بندکر دیا گیا اور اہتمام کی طرف سے صاف اعلان کر دیا گیا کہ کسی مناسب موقع پر ان شاء اللہ امتحان ہو گا اور کامیاب طلبہ کو اسناد دی جائیں گی۔ 

وطن واپسی

حضرات شیخین دارالعلوم سے سیدھے اچھڑیاں اپنے وطن پہنچے جہاں سوتیلی والدہ محترمہ اور چھوٹی ہمشیرہ بی بی خانم مرحومہ تھیں۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلے آپ نے اپنی ہمشیرہ کی شادی کا انتظام کیا اور ان کی شادی محترم دولت خان سے کردی۔ اس ضروری کام سے فارغ ہوکر آپ اپنے دیگر اعزہ واقربا اور دوست احباب سے ملتے رہے۔ بعدازاں دونوں بھائی مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ تشریف لے آئے ۔ گوجرانوالہ تشریف آوری کے بعد حضرت شیخ کو آپ کے اساتذہ نے مدرسہ انوارالعلوم میں پندرہ روپے ماہانہ وظیفہ پر درجہ وسطی کاا ستاد مقرر کر دیا جب کہ حضرت صوفی صاحب کھیالی (گوجرانوالہ) کی ایک مسجد میں خطیب مقرر ہوگئے۔ اسی اثنا میں تمام طلبا دارالعلوم کو امتحان کے لیے طلب کر لیا گیا چنانچہ حضرات شیخین بھی گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر دیوبند پہنچ کرامتحان میں شریک ہوگئے ۔امتحان سے فراغت کے بعد واپس گوجرانوالہ تشریف لے آئے، کچھ عرصہ بعد دارالعلوم کی طرف سے دونوں بھائیوں کو بذریعہ ڈاک کامیابی کی اسناد بھی موصول ہوگئیں۔ 

حضرت مدنی ؒ کی طرف سے خصوصی سند

آپ کے ممتاز استاد گرامی حضرت مدنی ؒ نے دونوں بھائیوں کی علمی لیاقت پر اعتماد کرتے ہوئے دارالعلوم کی سند کے علاوہ اپنی طرف سے بھی خصوصی سند واجازت عطا فرمائی۔ حضرت صوفی صاحب نے دارالعلوم سے تحصیل علم کے بعد بھی حصول علم کا سفر جاری رکھا، چنانچہ آپ دارالمبلغین (لکھنو) تشریف لے گئے اورامام اہل سنت رئیس المناظرین مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی سے تقابل ادیان کی تعلیم حاصل کی اور مناظرہ کافن سیکھا۔ بعدازاں آ پ نے نظامیہ کالج حیدر آباد (دکن) میں علم طب کا چارسالہ کورس بھی کیاا ور کالج میں چاروں سال فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ پھر آپ ۱۹۵۱ء میں واپس گوجرانوالہ تشریف لائے اور کچھ عرصہ تک طب کے شعبہ سے وا بستہ ہوکر عوامی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۲ء میں انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھی گئی اور صوفی صاحب زندگی بھر اس مرکز حق میں حق وصداقت کی آواز بلند کرتے رہے اور اسی مرکز سے اپریل ۲۰۰۸ء میں عالم دنیا سے عالم عقبی کی طرف روانہ سفر ہوئے ۔ 
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۱)

پروفیسر میاں انعام الرحمن

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَاْ أُولِیْْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ۲: ۱۷۸، ۱۷۹)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،لکھا گیاہے اوپر تمہارے برابری کرنامارے گیوں کے بیچ ، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے ، تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی ہو، تو پیروی کرنا ہے ساتھ اچھی طرح کے ، اور ادا کرنا ہے طرف اس کے ساتھ نیکی کے ، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ، اس کے بعد جو زیادتی کرے ، تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اے اہلِ عقل تاکہ تم(قتل و خون ریزی سے، یعنی اللہ کے غضب سے کہ قتل و خون ریزی غضب کی ایک صورت ہے ) بچو‘‘۔
سورۃ البقرۃ کی آیت۱۷۸ کے پہلے حصے میں قصاص کی لزومیت کا بھر پور تاثر موجود ہے ۔ قرآن مجید میں فرضیت و لزومیت کے معنوں میں کُتِبَ مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ آیت کے اس حصے میں سب ایمان والوں (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ) کو مخاطب کیا گیا ہے ، مومنین میں سے کسی اقلیت یا اکثریت کو نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قصاص کی لزومیت کا تعلق اہلِ ایمان کی اجتماعی حیثیت سے ہے نہ کہ کسی فرد یا کسی مخصوص گروہ سے، وہ گروہ چاہے اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے مطابق ، قصاص کی تنفیذ کا صحیح محل، اجتماع ہے ، جوا جتماعی اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے قصاص (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی) کو یقینی بنائے گا ۔آج کے محاورے میں ہم یہ بات اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ فرد کے بجائے فقط ریاستی اتھارٹی ( یا ایمان والوں کی کوئی بھی مقتدر اجتماعی ہیت ) آیت کے اس حصے کی مخاطب ہے ۔ اور آیت کے الفاظ نہایت قطعیت کے ساتھ قصاص کی لزومیت کے آئینہ دار ہیں اور ریاستی اتھارٹی کے لیےْ قصاص کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رکھا گیا یعنی کسی قسم کی لچک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاستی اتھارٹی کے ذمے محض قصاص کو بھر پور طریقے سے یقینی بنانا ہے ، جس کے پیچھے لازمی دوہری حکمت یہ ہے: (۱) قصاص کے اصول کی موجودگی اور اس کے پیچھے مقتدر اجتماعی ہیت کی قوت نافذہ ، ارتکابِ قتل کے رجحان کا قلع قمع کر سکے۔ (۲)مقتول کے ورثا اپنے طور پر بدلہ لینے کے خواہاں نہ ہو سکیں اور جذبات کی رو میں بہہ کر اشتعالی کیفیت میں ظلم و تعدی کے مرتکب نہ ہو سکیں ۔ 
قصاص کے حوالے سے مذکورہ اصول کی سختی و استواریت (اور اس میں پنہاں حکمت)کے بیان کے بعد فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْء کے الفاظ، ایک طرف، لچک اور نرمی کے پہلو کو عیاں کرتے ہیں، اور دوسری طرف، مخاطب،مقتدر اجتماعی ہیئت کے بجائے افراد ہو جاتے ہیں ۔ یہاں دو سوالات جنم لیتے ہیں : ایک تو یہ کہ، آئیڈیلی استواراصول (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی)کے بیان کے بعد نرمی و لچک کا پہلو کیوں نکالا گیا؟ دوسرا یہ کہ ، مخاطب، مقتدر اجتماعی ہیئت کے بجائے افراد کو کیوں بنایا گیا؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شارع کی منشا ، حقیقت میں نرمی و لچک کی تنفیذ ہے وگرنہ لچک کی گنجائش ہی نہ نکالی جاتی اور سیدھے سادے طریقے سے محض قصاص کا حکم دے دیا جاتا۔ نرمی و لچک کے پہلو کا اس موقع پر بیان بنفسہٖ اس امر پر دال ہے کہ اس آیت کا اصل مقصود ، قتل ہونے کی صورت میں ، خون بہا کا دستور کے موافق تقاضا اور بھلے طریقے سے اس کا ادا کرنا ہے ۔جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شارع نے اس سلسلے میں حکم و اصول کو حرکت میں لانے کے بجائے مومنین کی ’’اخلاقی قوت‘‘ کو انگیخت کرنے کی راہ نکالی ہے ۔ اگر یہاں بھی افراد کے بجائے مقتدر اجتماعی ہیت کو خطاب کیا جاتا، تو لازمی طور پر مومنین کی اخلاقی قوت کے ظہور کے بجائے ریاستی جبر سامنے آتا ، اور مقتدر حلقے (قاتل ہونے کی صورت میں )ہمیشہ جبراً خون بہا کے نام پر کچھ دے دلا کر مقتول کے ورثا کو فارغ کر دیتے جس کے نتیجے میں لازماََ انتشار پیدا ہوتا، کیونکہ مقتول کے ورثا کی عدم تسلی ، ردِ عمل کی کوئی نہ کوئی سبیل ضرور ڈھونڈ نکالتی۔مومنین کی اخلاقی قوت کو انگیخت کرنے کا بیان ہماری ذہنی اختراع نہیں ، کیونکہ واضح طوپر آیت ۱۷۸ میں اخیہکا لفظ اسی اخلاقی قوت کی نمائندگی کر رہا ہے ۔ قتل جیسے سنگین جرم کے ثابت ہونے کے بعد (ذرا غور کیجیے کہ الزام کے بعد نہیں )، قاتل و مقتول کو الفت و اخوت کی لڑی میں پرونے کا بیان ، ایسی اخلاقی قوت کے زور دار ظہور کا آئینہ دار نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟ ۔ سورۃ آل عمران کی آیت ۱۰۳ ہمارے موقف کی مزید تصریح کرتی ہے : 
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ
’’ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رکھو اور متفرق نہ ہو اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا ، اس طرح اللہ تم کو اپنی آیات کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ ‘‘ 
چونکہ اخلاقی قوت کی نمود ، ریاست کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ محال ہے ، اس لیے اس اخلاقی قوت کی آبیاری کی ذمہ داری افراد اور معاشرے پر ڈال دی گئی ہے اور مخاطب بھی افراد اور معاشرہ ہیں ۔(خیال رہے کہ جہاں دو یا دو سے زیادہ افراد موجود ہوں وہاں معاشرہ وجود میں آجاتا ہے ، اور یہاں تو قاتل ومقتول کے دو خاندانوں کے علاوہ ان کے دوست احباب بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنے لازماََ آ موجود ہوتے ہیں ) ۔ 
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شارع نے افراد و معاشرہ کی اخلاقی قوت پر ہی بھروسہ کرنا ہے ، تو پھر یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی کے بیان کا مقصد کیا ہے ؟ ۔ قتل کا ذکر کر کے براہ راست دیت کی ادائیگی کا حکم دیا جا سکتا تھا ، کہ مقصود یہی ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی کے بیان کی حکمت سمجھ میں آجاتی ہے ۔ اگرمعاشرے کی محض اخلاقی قوت پر بھروسہ کرتے ہوئے دیت کی ادائیگی کا حکم براہ راست دے دیا جاتا، تومرورِ ایام سے لازمی طور پر یہ اخلاقی قوت مضمحل ااور دبی دبی سی ہو جاتی ۔ مقتول کے ورثا کی تشفی نہ ہو پاتی اور دیت کی وصولی کے بعد بھی وہ نفسیاتی اعتبار سے خود کو مظلوم خیال کرتے اور بدلہ لینے کے درپے ہوتے ۔ اس لیے قصاص کا حکم مقتول کے ورثا کی نفسیاتی ضرورت کا لحاظ رکھے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت ایک ’’ چیک ‘‘ کی بھی ہے کہ قصاص کی تلوار تلے ہی قاتل اور اس کے بھائی بندے خون بہا کی ادائیگی عمدگی (بِإِحْسَان) کے ساتھ کریں گے اور مقتول کے ورثا کے ممنون بھی رہیں گے۔ 
آیت ۱۷۸ میں عفی کے ذکر سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قاتل کو مقتول کے ورثا سے معافی مل گئی تو پھر اس مقام پرخون بہا کا بیان کیا معنی رکھتا ہے؟ عفی کے ساتھ شئ کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ قصاص سے دست برداری، مکمل معافی کے بجائے ایک خاص درجے میں معافی کے زمرے میں آتی ہے ۔اگر مکمل معافی مقصود ہوتی تو (فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ) کے بعد شئ کا لفظ نہ ہوتا ، اور دستور کے موافق تقاضاکرنے اور عمدگی کے ساتھ اداکرنے کا بیان بھی موجود نہ ہوتا، لیکن عفیکا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ مقتول کے ورثا کی طرف سے یہ عمل ، بہرحال کسی نہ کسی درجے میں معاف کر دینے کا ہی آئینہ دار ہے ۔اس آیت کے مندرجات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خون بہا ، قصاص کا بدل نہیں ہے ۔ اگر خون بہا ، قصاص کا بدل ہوتا تو درمیان میں معافی کا تذکرہ بھی ناگزیر نہ ہوتا ، اور عفی کے بجائے ایسا لفظ وارد ہوتا جو مدعا بہتر طریقے سے ادا کرسکتا تھا۔ اس آیت میں عفی کا لفظ اس امر پر دال ہے کہ اگرچہ مقتول کے ورثا خون بہا لینے پر آمادہ ہو جائیں، پھر بھی ان کی قصاص سے دست برداری ایک درجے میں’’ معافی‘‘ کے زمرے میں ہی آتی ہے، ’’چھوڑنے ‘‘ کے معنی میں نہیں اور قصاص کے’’ متبادل‘‘ کے معنی میں نہیں ۔ قرآن مجید کے اس اسلوبِ بیان سے مقتول کے ورثا کی ایک اور نفسیاتی ضرورت پوری ہوتی نظر آتی ہے ۔ اگرفقط خون بہا ہی قصاص کا متبادل ہوتا، تو مقتول کے ورثا نفسیاتی طور پر تذبذب کا شکار ہوتے کہ وہ آخر کیونکرمحض مال کے لالچ میں اپنے پیارے کی موت کا سودا کریں، اس لیے ان کا غالب رجحان ، خون بہا کے بجائے قصاص لینے کی طرف ہوتا ۔ معاف کر دینے کے بیان سے مقتول کے ورثا کی اس نفسیاتی الجھن کا خاتمہ کیا گیا ہے کہ وہ قصاص کے متبادل کے طور پر کسی قسم کا سودا کر رہے ہیں ۔لہٰذا مقتول کے ورثا کو یقینِ واثق ہوجاتا ہے کہ اولاً انہوں نے کسی نہ کسی درجے میں قاتل کو ’’معاف‘‘ کیا ہے پھر معاف کردینے کے ایسے رویے کے بعد ہی ’’خون بہا ‘‘ کا مرحلہ آیا ہے۔ دوسری طرف قاتل اور اس کا خاندان بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں کہ محض مال کی ادائیگی سے ان کی جان نہیں چھوٹی بلکہ اس سے قبل مقتول کے ورثا اخوت و فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دینے کے انتہائی دشوار مرحلے سے گزرے ہیں۔ اور یہ لازمی بات نہیں کہ آئندہ کسی ایسی صورت میں کسی مقتول کے ورثا اتنی ہی فراخ دلی کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ سبق قاتل اس کے خاندان اور دیگر لوگوں کی عبرت کے لیے کافی ہوتاہے ۔ 
مذکورہ نکتے سے ایک اور اہم نکتہ مترشح ہوتا ہے کہ اگر شارع کی منشا یہ نہ ہوتی کہ مقتول کے ورثا قصاص کے بجائے خون بہا لیں تو سیدھے سادے طریقے سے دو آپشنز ، مقتول کے ورثا کے لیے کھلے چھوڑ دیے جاتے ، قصاص کا بیان ہوتا اور اس کے متبادل کے طور پر خون بہا کا ۔ ایسی صورت میں اکثر و بیشتر حالات میں مقتول کے ورثا ، مذکورہ نفسیاتی الجھن کی وجہ سے قصاص لینے کو ترجیح دیتے ۔ بفرضِ محال ،اگر کوئی وارث نرمی سے کام لیتے ہوئے خون بہا لینے پر آمادہ بھی ہو جاتا تو ارد گرد کے لوگ طعنے دے کر اس کا جینا دوبھر کردیتے کہ خون کا سودا کر لیا ہے، اسے ہم معاشرتی جبر کہہ سکتے ہیں اور اس معاشرتی جبر کے سامنے مقتول کا پورا خاندان ہمیشہ رسوا ہوتا رہتا ۔ چونکہ شارع کی منشا قصاص کے بجائے خون بہا کی ادائیگی ہے ، اس لیے شارع نے اپنی منشا کی جانب راہ ہموار کرنے کی خاطر ، مقتول کے ورثا کی ایک بہت سنجیدہ الجھن کے خاتمے کا اہتمام کر کے، فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ  کے ذریعے ، بالواسطہ طور پرخون بہا لینے کی ترغیب کا سامان پیدا کیا ہے، جس کی عد م موجودگی مقتول کے ورثا کو مشکلات سے دوچار کرتی اور قصاص لینے کی طرف مائل کرتی ۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ کے الفاظ، شارع کی منشا پر دلالت کرتے ہیں۔ 
البقرۃ کی آیت ۱۷۸ کی متصل آیت ۱۷۹ میں پھر قصاص کا ذکر ہے ۔ یہ ذکر بہت شدت لیے ہوئے ہے کہ قصاص میں حیات ہے (فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ) ۔اہم بات یہ ہے کہ آیت ۱۷۸ کی ابتداء میں قصاص کا ذکر ہے اس کے بعد آیت ۱۷۹ میں اس کا بیان نہایت زوردار اسلوب میں ہوا ہے اور ان دونوں کے درمیان مذکورہ اخلاقی قوت کا تذکرہ ہے ۔ غور کیجیے کہ شارع ہمیں اصل اصول (قصاص )کی طرف متوجہ رکھنا چاہتے ہیں کہ کہیں اصول سے بے توجہی مقصود کو گنوا دینے کا باعث نہ بن جائے ۔اس لیے آیت ۱۷۹ میں اصل اصول (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی) کی یاد دہانی (فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ) بہت شدت لیے ہوئے ہے تاکہ مقصود(ایک خاص درجے میں معافی ، خون بہا کا معروف کے مطابق تقاضا اور اس کی عمدگی سے ادائیگی ) کی تحصیل کے عمل میں اصل (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی) نگاہوں سے پوشیدہ نہ ہو جائے ۔ کیونکہ اگر اصل نگاہوں سے پوشیدہ ہو گیا تو مقصود کی تحصیل اپنی اصل سپرٹ میں ممکن نہیں رہے گی ، کہ قصاص اصول کی سطح پر ہے اور معافی و خون بہا مقصود کی سطح پر۔ اگر آیت ۱۷۹ میں اصل کی تذکیر (فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ) نہ ہوتی تو عین ممکن ہے کہ آیت ۱۷۸ کے اصل (الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی) کو مقصود کی تحصیل (معافی و خون بہا )کے ضمن میں بھلا دیا جاتا ، کہ مقصود تو حاصل ہو رہا ہے اور اصل کی حیثیت اب ثانوی ہے ۔ لیکن اصل کے متروک ہو نے سے ، ایک تو مقتول کے ورثا کے ہاتھ سے معاف کر دینے کا نفسیاتی اطمینان چھن جاتا ( کہ قصاص سرے سے موجود ہی نہیں ) ، اور دوسرا ، آ ہستہ آہستہ خون بہا کا معروف کے مطابق تقاضا اور اس کی عمدگی سے ادائیگی میں کافی گڑبڑ کی جاتی جو لازماً اخلاقی قوت کے زوال کا شاخسانہ ہوتی، اس طرح شارع کی منشا دھری کی دھری رہ جاتی ۔ لیکن شارع نے آیت ۱۷۹ میں نہ صرف تذکیراً بلکہ اصل پر تاکیداً زور دے کر کما ل حکمت سے اس احتمال کا خاتمہ کر دیا ہے ۔
البقرۃ کی آیت ۱۷۸ میں معاف کرنے اور خون بہا لینے کے بیان میں مخاطب مقتول کے ورثا ہیں ، اس لیے قاتل کے لیے کسی قسم کی وعید کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، بلکہ مقتول کے ورثا کو معافی اور خون بہا کی طرف راغب کرنے کا واضح اہتمام کیا گیا ہے۔ اخیہ کے لفظ سے اور ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ کے بیان سے قاتل کے حوالے سے جو تاثر ملتا ہے، وہ اخوت و الفت اور نرمی و رحمت سے عبارت ہے۔ آیت کے آخر میں فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ کے الفاظ سے جو تنبیہ کی گئی ہے اس کا مصداق بھی محض قاتل کو قرار نہیں دیا جا سکتا ، بلکہ مقتول کے ورثا بھی مخاطب معلوم ہوتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تومعلوم ہو گا کہ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ کا بیان بھی صرف قاتل کے لیے نہیں ہے بلکہ مقتول کے وارثوں کے لیے بھی قصاص سے دست برداری ایک درجے میں تخفیف و رحمت کا باعث معلوم ہوتی ہے ۔ قصاص سے دستبردار ہو کر، در حقیقت مقتول کے ورثا منشائے الہی کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں ، جس سے وہ قصاص لینے کے عمل میں متوقع ، کسی بھی قسم کے ظلم و تعدی کے عمل سے رک جاتے ہیں۔(کہ مقتول ، مظلوم نہیں تھا ، بلکہ وہ خود بھی کسی طور قتل کی وجہ تھا ، اس لیے اسے بنی اسرائیل آیت ۳۳ کی طرح مظلوم نہیں کہا گیا)۔ 
اس آیت میں مضمر اخلاقی دلالتیں فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَان کے بیان میں نہایت نمایاں ہو جاتی ہیں ۔ مقتول کے ورثا کو کہا جا رہا ہے کہ معروف کی اتباع کریں ، ایسا نہ ہو کہ وہ تھوڑی معافی دینے کے بعد ، قاتل کی نفسیاتی ممنونیت کو بھانپتے ہوئے ، دھونس زبردستی سے اسے اینٹھنے کی کوشش کریں جس کے نتیجے میں قاتل اور اس کا خاندان (خاص طور پر معاشی اعتبار سے) تباہ وبرباد ہو جائے ۔ معروف کی اتباع کا یہ حکم ، قاتل کے لیے بھی ہے کہ وہ معاف کیے جانے کی سبیل پانے کے بعد ، مقتول کے ورثا کا ایسا تقاضا ، جس کی خوبی عقل و شریعت سے ثابت ہوتی ہو ، رد نہ کرے ۔ عام طور پر کسی کے قتل کے بعد، دیگر لوگ صلح صفائی کے لیے دخیل ہو جاتے ہیں ، اور ان میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو مشاورت کے عمل میں، قاتل و مقتول دونوں خاندانوں کی یا کسی ایک خاندان کی غلط راہنمائی کرکے معاملے کو سلجھانے کے بجائے بگاڑ نے کا باعث بن سکتے ہیں ، اس لیے قرآ ن مجید نے معروف کی اتباع کا حکم دیا ہے ۔ چونکہ مقتول کے ورثا ، کسی کے غلط سلط مشورے سے جلد بھڑک سکتے ہیں، اس لیے فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ کے بنیادی مخاطب وہی معلوم ہوتے ہیں کہ وہ عقل و منطق کو چھوڑ کر دھونس زبردستی کی روش نہ تو خود اپنائیں اور نہ ہی کسی ایسے مشورے یا حکم کے سامنے سرتسلیم خم کریں : 
لاَّ خَیْْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّن نَّجْوَاہُمْ إِلاَّ مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَۃٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلاَحٍ بَیْْنَ النَّاسِ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ ابْتَغَاء مَرْضَاتِ اللّہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ أَجْراً عَظِیْماً (النساء ۰۴/ ۱۱۴) 
’’ عام لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر نہیں ہوتی، ہاں مگر وہ جو کہ صدقہ کا یا معروف کا یا لوگوں میں باہم اصلاح کر دینے کا حکم دے ، اور جو شخص یہ کام کرے گا اللہ کی رضا کے لیے ، ہم اسے عنقریب اجرِ عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘ 
اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے معروف کی’’ اتباع‘‘ کا حکم تو دیا ہے لیکن معروف ہے کیا؟ اس کا تعین نہیں کیا ۔اب اگر معروف کا تعین مقتول کے ورثا پر چھوڑ دیا جائے تو دھونس زبردستی کا در آنا لازم ہو جاتا ہے۔ بِالْمَعْرُوفِ کے دیگر قرآنی اطلاقات سے یہ نکتہ کھل کر سامنے آتا ہے کہ معروف کا تعین کسی سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ کسی بھی مسئلے میں فریقین معروف کا تعین از خود نہیں کریں گے بلکہ انہیں اپنے سماج کے اجتماعی شعور پر بھروسہ کرنا ہو گا : 
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَءِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّہُ إِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ ۰۹/ ۷۱)
’’ اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں معروف کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں ، ان لوگوں پر ضرور اللہ رحمت کرے گا ، بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے ‘‘ 
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْْراً لَّہُم مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران ۰۳/۱۱۰)
’’ تم بہترین امت ہو ان سب امتوں میں سے جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں ، معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب ایمان لاتے تو ان کے لیے خیر تھا ، بعضے ان میں سے ایمان والے ہیں اور اکثر ان کے فاسق ہیں ‘‘ ۔
مومن مردوں اور مومن عورتوں کی رفاقت کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ بات’’ سماج‘‘ کی ہو رہی ہے ۔ یہی بات امت کے حوالے سے سچ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ معروف کیا ہے ؟ اس کا تعین حقیقت میں کوئی سماج اجتماعی طور پر کرتا ہے اور سماجی قوت کے بل بوتے پر متعین معروف کے استقلال کو یقینی بناتا ہے، البتہ اس متعین معروف کی تنفیذ کی ذمہ دارریاست قرار پاتی ہے کہ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اورِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ کے الفاظ تحکمانہ لہجہ لیے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک احتمال ہماری زیرِ نظر آیت میں پھربھی موجود رہتا ہے کہ معروف کی ’’نوعیت ‘‘اس میں واضح نہیں ہے۔ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ،ِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ کے مانند فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ میں بھی معروف عمومی نوعیت کا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں معروف کی اتباع کا حکم ہے اور وہاں معروف کے حکم کا بیان ہے۔ لیکن قرآن مجید کے بعض مقامات پر معروف کی نوعیت واضح کی گئی ہے، مثلاً: وَمَن کَانَ فَقِیْراً فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ / وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوف ( النساء ۴/۶،۱۹)،ِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ / مَتَاعاً بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُحْسِنِیْن/ وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ۲/ ۲۲۹، ۲۳۶،۲۴۱)، فَأَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ ( الطلاق ۶۵/ ۲)۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ کے بعدِ وَأَدَاء کے الفاظ زیرِ نظر آیت میں معروف کی نوعیت کا اشاریہ بن جاتے ہیں کہ اس کا تعلق کسی ایسی چیز سے ہے جسے ایک ہی بار میں پورے کا پورا ’’ادا‘‘ کرنا لازم ہے ۔ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء کے الفاظ سے ( قانونی اعتبار سے مکمل اور قدرے اخلاقی لحاظ سے بھی )مدعا ، اداہوجاتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس کے بعد إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کے الفاظ کیوں بیان کیے گئے ہیں؟ہماری رائے میں ان کی بنیادی نوعیت، اخلاقی ہے۔ اگرچہ قاتل نے کسی نہ کسی جواز کے تحت ہی قتل کیا ہے(اس لیے مقتول ، مظلوم نہیں ہے ) ، لیکن جرم اپنی نوعیت میں نہایت سنگین ہے جس سے ایک طرف تو سماج کا اخلاقی نظم شدید متاثر ہوا ہے اور دوسری طرف یہ جرم خود سماج کی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے ، اس لیے احسان کی داخلی معنویت ملحوظ رکھتے ہوئے اس لفظ کا خصوصی انتخاب کیا گیا ہے ۔ احسان کا مطلب ہے حق سے زیادہ دینا یا حق سے کم لینا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی نفسیاتی شخصیت میں اسی قدر کی کمی نے اس سے قتل جیسا سنگین جرم کروایا تھا ( جوازِ قتل عام طورکوئی حق جتانے سے عبارت ہوتا ہے) ۔چونکہ قاتل سماج کا ہی ایک فرد ہے اس لیے ظاہر ہوتا ہے کہ سماج میں یہ قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء کے بعد احسان کا تاکیدی ذکراس کمی کی تلافی کی نشاندہی کرتا ہے ۔لہٰذا شارع نے سزا دینے کے عمل میں ، سماج کے اخلاقی نظم کی سدھار کی خاطر قاتل کی مخصوص نفسیاتی کم زوریوں کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایاہے ۔ 
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقتول کے ورثا کے ساتھ معاملہ معروف کے مطابق ’’طے‘‘ پا جائے تو اس کے بعد نظر ثانی کی گنجائش باقی رہتی ہے یا نہیں ؟ ۔ ظاہر ہے نظر ثانی کے کسی ایسے مطالبے کے پیچھے یہی منطق کارفرما ہو سکتی ہے کہ معاملہ اصلاً معروف کے مطابق طے نہیں پایا ۔اس سلسلے میں ان قرآنی آیات سے استشہاد کیا جا سکتا ہے : 
کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَکَ خَیْْراً الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْْنِ وَالأقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ ۰۲/۱۸۰) 
’’ تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لیے معروف کے مطابق، یہ متقیوں پر حق ہے ‘‘ 
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفاً أَوْ إِثْماً فَأَصْلَحَ بَیْْنَہُمْ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (البقرۃ۰۲/۱۸۲)
’’ پھر جسے اندیشہ ہو اکہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلاح کرا دی اس پر کچھ گناہ نہیں ، بے شک اللہ بخشنے والا مہربا ن ہے ‘‘ 
معلوم یہ ہوتا ہے کہ گڑبڑ کی صورت میں، اصلاح کی خاطر ، مقتول کے ورثا کا نظر ثانی کا مطالبہ قابلِ غور ہو سکتا ہے ۔ لیکن دو احتمالات اس نتیجے کے آڑے آتے ہیں: 
(۱)مقتول کے ورثا قدرے جارحانہ پوزیشن میں ہوتے ہیں چونکہ ان کا بھائی بندہ قتل ہوا ہے اس لیے معاملہ طے کرنے میں ان سے اسراف کی امید تو کی جاسکتی ہے، بخل کی نہیں ۔ان کی اسی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے قرآن میں ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ کے بلیغ الفاظ استعمال ہوئے ہیں تاکہ وہ ذاتی اور نفسانی رجحانات کے تحت غیر معقول مطالبہ نہ کر بیٹھیں ۔ وصیت والے معاملے میں صور تِ حال مختلف ہے( اس کی وضاحت ہمارے موضوع سے خارج ہے ) ۔ 
(۲) بفرضِ محال، اگر انیس بیس کا فرق پایا بھی جاتا ہے تو اس کی تلافی وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کے الفاظ کرتے نظر آتے ہیں۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے ۔ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کا حکم قاتل کے لیے ہے ۔ 
احسان کے لفظ کے قرآنی اطلاقات میں، ایسی دلالتیں موجود ہیں جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ، یہاں پر اس لفظ کے انتخاب کا مقصد، قاتل کے تزکیے کو ظاہر کرنا ہے۔ اگر اس نے قتل کیا ہے تو ظاہر ہے کسی جواز کے تحت کیا ہے ۔ وہ جواز لازمی طور پر اس نوعیت کا ہے کہ اس نے قاتل کے ذہن کو اپنے کنٹرول میں لے کر اسے قتل جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔ قصاص سے بچ جانے ، معافی پانے اور اس کے ساتھ خون بہا طے کرنے کے عمل سے وہ جواز اس کے ذہن سے نہیں نکلتا، خاص طور پر خون بہا طے کرنے کا عمل اس کے جواز کو مزید تقویت دے سکتا ہے کہ یہ خوامخواہ دینا پڑے گا، میں تو حق بجانب ہوں ۔ قرآن نے ادائیگی کے ضمن میں احسان کا لفظ اختیار کر کے قاتل کی اسی الجھن کا خاتمہ کیا ہے کہ وہ حق سے زیادہ دے اور حق سے کم لے ، یعنی ایک طرف ادا کرے اور دوسری طرف جواز چھوڑدے ۔ اب اگر قاتل معروف کے مطابق معاملہ طے پانے کے بعد ادائیگی کرتا ہے تواحسان کے جذبے سے کرتا ہے کہ ادائیگی کے حوالے سے اتنا حق نہیں بھی بنتا جتنا طے کیا گیا ہے تو پھر بھی حکمِ ربی کی اطاعت میں مجھے اتنا ہی ادا کر نا چاہیے ۔ یہ عمل قاتل کا تزکیہ کر کے اسے محسنین میں شامل کر دیتا ہے ۔ لہٰذا معروف اور احسان محض دو الفاظ نہیں، بلکہ ان معاشرتی اقدار کی تلافی کی صورتیں ہیں جن سے سماج میں ایسا اخلاقی توازن جنم لیتا ہے جس کی توقع اور تقاضا ، قرآن مجیدافرادِ معاشرہ سے کرتا ہے ۔
فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کے ذکر کے بعد ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ کا بیان شارع کی منشا مزید واضح کرتا ہے ۔ غالباََ تَخْفِیْفٌ  کا مصداق عُفِیَہے کہ قصاص سے جان بچ گئی ہے۔لفظ ’’تخفیف‘‘ کا انتخاب داخلی شہادت دے رہا ہے کہ شارع کی منشا بھی قصاص نہیں ہے، آخر کیوں؟ اس کیوں کا جواب اس آیت میں ملتا ہے جہاں تخفیف کا ذکر ، اس کے بیان کی ’’وجہ‘‘ کے ساتھ کیا گیا ہے : 
یُرِیْدُ اللّہُ أَن یُخَفِّفَ عَنکُمْ وَخُلِقَ الإِنسَانُ ضَعِیْفاً (النساء ۰۴/۲۸)
’’ اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور انسان کم زور بنایا گیا ہے ‘‘ ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’ ضعف ‘‘ انسان کی خلقی خصوصیات میں سے ہے ۔ اسی بنا پر انسان کے خالق نے ضعف کے ذکر کے ساتھ ہی(بلکہ اس سے پہلے ) تخفیف کے بیان سے اپنی بے پایہ رحمت کا اظہار کیا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ضعف کی وجہ سے انسان کوئی جرم( قتل ) کر بیٹھتا ہے تو پھر ضعف کی خلقی خصوصیت کے پیشِ نظر، انسان کے لیے مکمل معافی کی سبیل کیوں نہیں نکالی گئی؟ البقرۃ آیت ۱۷۸ میں، قاتل کو مکمل معاف کرنے کی ترغیب کے بجائے عفی شئ یعنی کچھ معافی کے بیان سے مقتول کے ورثا کو خون بہا لینے کی طرف کیوں راغب کیا گیا؟ ( خیال رہے کہ عفی شئ اور تخفیف میں ایک داخلی ربط موجود ہے) جواب یہ ہے کہ اس ضعف کے علاوہ، رب العالمین نے انسان کو علم سے بھی نوازا ہے: الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (الرحمن ۵۵/۱،۲،۳، ۴) اس علم کا تقاضا ہے کہ انسان خلقی ضعف کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہ دے ، جب انسان اس ضعف کو اس کے فطری مقام سے آگے لے جاتا ہے تو اللہ رب العزت کے دیے گئے علم کی نفی کرتاہے ۔ چونکہ ضعف کو اس کے فطری مقام سے آگے لے جانے کا ایک ہی درجہ نہیں ہے بلکہ اس کے مختلف مدارج ہو سکتے ہیں ، اس لیے قرآن مجید نے ایک لحاظ سے، سزا تجویز کرتے وقت انہی مدارج کو مدِ نظر رکھا ہے ۔ آیت ہذا میں چونکہ قتلِ ناحق جیسا انتہائی سنگین جر م کیا گیا ہے جو ضعف کے فطری حالت سے آگے بڑھنے کی علامت ہے اس لیے مکمل معافی کی ترغیب نہیں دی گئی ( کہ ضعف ،شہ پاکر اس سے بھی اگلی خلافِ فطرت حالت تک پہنچ سکتا ہے ) ، اور قصاص جیسی انتہائی سخت سزا بھی اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ ضعف ، علم کو روند تا ہوا اس خلافِ فطرت حالت تک ابھی نہیں پہنچا کہ انسان سزاوارِ قصاص ہو جائے ۔ 
جہاں تک ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ  میں رحمت کے ذکر کا تعلق ہے ، اس کا داخلی ربط فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ معافی کی گنجائش پیدا کرنے کے بعد اللہ رب العزت نے ایسی سزا تجویز کی ہے جس کے دیے جانے کے عمل میں ، ضعف کی تلافی کے ساتھ ساتھ اس علم کی بازیافت کی راہ بھی نکلتی ہے جو ضعف کے اس درجے میں انسان سے کھو گیا ہے ۔ ( اس سلسلے میں معروف و احسان کی معنویت کا بیان پچھلی سطور میں ہو چکا) ۔ ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ میں اسمِ ذات (اللہ )کے بجائے اسمِ صفت(رب) کا بیان ہوا ہے ۔رب کے معنی پروردگار کے بھی ہیں اور تربیت کرنے والے ، تدریجاََ نشوونما دے کر حد کمال تک پہنچانے والے کے بھی ۔ اس لیے من اللہ کے بجائے من ربکم کے خاص انتخاب سے عفو ، معروف و احسان کے بیان میں مضمر حکمت مزید واضح ہو جاتی ہے ۔ 
ذَلِک تَخْفِیْفٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ کے بعد فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ سے مراد یہ ہے کہ جب ایک واقعہ ہوجانے کے بعد تمہارے خالق نے اس کے سلجھاؤ کا ، انتہائی حکمت پر مبنی حل دے دیا ہے ، ایسا سلجھاؤ ، جو سزا ہونے کے ساتھ ساتھ کھوئے ہوئے کردار کی بحالی سے عبارت ہے ، جس کی وجہ سے اس واقعہ میں ملوث مختلف کردارنہ صرف اس واقعہ سے سے قبل کی نارمل نفسیاتی اخلاقی صورتِ حال میں لوٹ جاتے ہیں بلکہ تربیت و تجربہ کا ایک درجہ طے کرنے کے سبب کمال کی سمت بڑھتے ہیں جس سے سماج کا اخلاقی نظم درہم برہم ہونے سے بچ جاتا ہے، پھر اس تمام عمل کے بعد اگر کوئی زیادتی کرنے میں’’ پہل ‘‘ کرتا ہے تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔اس موقع پر فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ کا بیان تصورِ آخرت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ، علم کی بنیاد پر تشکیل پائے اس نظامِ اقدار کا محافظ معلوم ہوتا ہے، جس کو گزند پہنچنے کے بعدنہایت حکیمانہ طریق پر بحال کیا گیاتھا ۔ 
خیال رہے کہ زیرِ نظر آیت( البقرۃ ۱۷۸) کے مطابق سزا کی انتہائی صورت قصاص ہے ۔ اس لیے اگر قصاص کو پہلی اور حتمی ترجیح میں رکھا جائے تو آہستہ آہستہ غلو کے باعث ، ظلم و تعدی کے در آنے کا اندیشہ موجود رہتا ہے ۔دوسری ترجیح جو معافی اور خون بہا سے عبارت ہے ، اس سے آگے اگرچہ( غلو کی صورت میں ) قصاص کی انتہائی صورت موجود ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بھی تعدی پر تنبیہ کئی گئی ہے، فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ، غور کیجیے کہ پھر قصاص میں غلو کی صورت میں اس سے آگے کیا ہو گا؟ اس لیے بدرجہ اولیٰ قصاص کے بیان کے ضمن میں شدید قسم کی تنبیہ کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے قرآن مجید میں جہاں بھی قصاص کا ذکر آیا ہے وہاں اس پہلو کو خاص مدِ نظر رکھا گیا ہے، مثلاً البقرۃ کی آیت ۱۷۹ ہی کو لیجیے اور غور کیجیے کہ اس میں قصاص کو حیات قرار دے کر ایک انتہائی صورت پیدا کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی آیت کا اختتام تَتَّقُون کے بلیغ تنبیہی اشارے سے ہوتا ہے ، جس میں نہایت لطیف پیرایے میں ظلم و تعدی پر مبنی کسی بھی نوعیت کے عمل کی روک تھام مطلوب و مقصود دکھائی دیتی ہے۔البقرۃ ہی کی ایک اور آیت میں قصاص و تعدی کے محل اور تقوی( اللہ کے غضب سے بچنے کے معنی میں ) کے ساتھ ان کی مناسبت کو اجاگر کیا گیا ہے :
الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْْکُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَیْْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْْکُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (البقرۃ۲/ ۱۹۴)
’’حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے بدلے ہے اور حرمتوں میں قصاص ہے پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو اور اللہ سے بچو اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے ‘‘ ۔ 
بعض مقامات پر’’ الا بالحق ‘‘ کی مخصوص ترکیب سے تحدید کی گئی ہے ،مثلاً وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ( الانعام ۰۶/ ۱۵۱)، وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ (بنی اسرائیل ۱۷/۳۳)، وَلَا یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللَّہُ إِلَّا بِالْحَقّ (ِالفرقان ۲۵/ ۶۸) ۔ اور فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْل (بنی اسرائیل ۱۷/۳۳) ، وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (المائدۃ۵/ ۴۵) ، میں مذکورہ تنبیہی امر نہایت واضح ہے۔
البقرۃ کی آیت ۱۷۸ کے بین السطور ایک اور تاثر ملتا ہے کہ قاتل نے اگرچہ ناحق قتل کیا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے پیچھے کوئی ’’ جواز ‘‘ بھی ہے ، یعنی ایک لحاظ سے شدید نوعیت کا ناحق قتل نہیں ہے( اور بالحق بھی نہیں ہے کہ بالحق قتل کی صورتوں کا قرآن مجید میں تعین کر دیا گیا ہے ) ۔ چونکہ شدید نوعیت کا ناحق قتل نہیں ہے اسی لیے ان آیات میں قصاص کے بجائے خون بہا کی ادائیگی کا بڑے سلیقے سے اہتمام کیا گیا ہے اور مذکورہ غلو کے وقوع پذیر ہونے کو نا ممکن بنایا گیا ہے ۔ معافی و خون بہا کو مقصود کی سطح پر رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کہیں قاتل کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوجائے کہ اس کے پاس قتل کرنے کا کوئی نہ کوئی جوا ز ضرور ہے ۔ لیکن چونکہ کسی فرد نے اگرچہ جواز کے تحت ہی لیکن جان بوجھ کر’’ اپنے طور پر‘‘ قتل کرنے کا انتہائی قدم اٹھایا ہے ، اور شارع کے نزدیک ایسا طرزِ عمل کسی ایسے رجحان کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے جو سماجی نظم کے اخلاقی پہلوؤں کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ، مومنین کی مقتدر اجتماعی ہئیت کی ’’مقتدرحیثیت ‘‘کو بری طرح مجروح کر سکتا ہے، اس لیے قتل کا کوئی جواز ہوتے ہوئے بھی قصاص کی تنفیذ کی ذمہ داری مقتدر اجتماعی ہئیت پر ڈال دی گئی ہے ، تاکہ اس کی مقتدر حیثیت اور سماجی نظم کے اخلاقی پہلوؤں کی آن شان قائم رہے اور ظلم و تعدی کے پھیلاؤ کی کوئی صورت سر نہ اٹھا سکے ۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ مقتول کی کسی قسم کی مظلومیت کا کوئی اشارہ البقرۃ کی آیت ۱۷۸ میں نہیں پایا جاتا(اگرچہ اس کا مقتول ہونا بنفسہٖ ایک درجے کا مظلوم ہونا ہے )، بلکہ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی میں محض مطلق قتل کا بیان ہوا ہے، ایسے مطلق قتل کے بیان کے بعد معافی و خون بہا کی ترغیب اور تخفیف و رحمت کا بیان ، ایک درجے میں خود شاہد بن جاتا ہے کہ قتل کے پیچھے کوئی ایسا جواز ضرور ہے جس کی وجہ سے قصاص کو اصول کی سطح پر رکھتے ہوئے بھی( کہ مقتول ، مقتول ہونے کی وجہ سے بہر حال مظلوم ہے ) مقصود کی سطح پر نہیں رکھا گیا ۔ ویسے بھی یہ بدیہی امر ہے کہ بالحق قتل کے ماسوا قتل کی دیگر صورتوں میں، قاتل کسی جواز کے تحت ہی قتل کرتا ہے ، راہ چلتے خوامخواہ کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا ۔ اگر ایسا ہو بھی تو یہ ایک استثنائی صورت ہو گی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن مجید میں قتل کی دوصورتیں بیان کی گئی ہیں ، (۱) بالحق ، (۲) ناحق ۔ اگر قتل بالحق نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ ناحق ہو گا۔ اب اگر بالحق قتل کی صورتیں متعین ہیں تو ان کے سوا قتل کی ہر نوع ناحق کے زمرے میں آئے گی ۔ چونکہ ناحق قتل کی ہر نوع، مختلف اعتبارات سے یکساں نہیں ہوسکتی ، اس لیے ہر ناحق قتل کو ایک ہی خانے میں فٹ نہیں جا سکتا ، بلکہ ان کی درجہ بندی ضروری ہو جاتی ہے ۔
قصاص کے قرآنی مفہوم کی جزئیات ، معاشرے کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت اور اس کے مقاصد سے آگاہی درج ذیل آیت سے ہوتی ہے : 
وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (المائدۃ۵/ ۴۵)
’’ اور ہم نے ان پر اس (تورات) میں یہ بات فرض کی تھی کہ جان بدلے جان کے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر جو شخص اس کو صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا اور جو شخص اللہ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ‘‘ 
اس آیت کے آغاز میں، بیان کے اعتبار سے ایسی اٹھان ہے جس سے نہ صرف بدلے و قصاص سے متعلق تمام اسالیب سامنے آجاتے ہیں بلکہ انصاف کے حصول کا یقین ، نفسیاتی تشفی کی راہ گزر سے ہوتا ہوا باطنی تطہیر کی سرحدوں میں داخل ہو جاتاہے ۔لیجیے دوبارہ غور کیجیے، أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ۔ قصاص و بدلے کی جزئیات دیکھیے اور ان کے محلات و وقوع پذیر ہونے کے محرکات کا تصور کیجیے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جزئیات کے باقاعدہ ذکر سے ، قرآن مجید نے ا نسان کی فطرت اور اس سے وابستہ بعض علائق کی نشاندہی کی ہے کہ عام معاشرتی صورتِ حال میں انسان آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں ۔اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ انسان معاشرتی حیوان ہے وہ اکیلا زندگی بسر نہیں کر سکتا ، اور معاشرے میں اکھٹے رہنے سے جہاں اسے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں وہاں نقصانات سے بھی اس کاو اسطہ پڑتا ہے ۔ تقریباََ ہر شخص کسی نہ کسی حوالے سے دھونس زبردستی کرتا ہے ، دانستہ و نا دانستہ کسی کی حق تلفی کرتا ہے ، جس سے جھگڑوں کا رونما ہونا فطری امر ہو جاتا ہے ۔اس لیے ان جھگڑوں کی وجہ بظاہر معاشرتی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں انسان کا خلقی ضعف ( جس کا ذکر ہوچکا ) اور جھگڑالو پن ، اسے مائل بہ جرم کرتا ہے: 
خَلَقَ الإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (النحل ۱۶/ ۰۴)
’’ پیدا کیا انسان کو نطفے سے ، تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے ‘‘ 
أَوَلَمْ یَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ (یس ۳۶/ ۷۷) 
’’ اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ، جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے ‘‘ 
ایسی خلقی خصوصیات کے ہوتے ہوئے اگر انسان کسی کی آنکھ ، ناک ، کان ، دانت کو نقصان پہنچاتا ہے یا کسی کو زخمی کر دیتا ہے ، اس سے بھی بڑھ کر ، کسی کی جان ہی لے لیتا ہے تو یہ تعجب انگیز نہیں ہے ۔ عمومی صورتِ حال میں انسان باقاعدہ طے کر کے جان لینے کے ارادے سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتا ، بلکہ کوئی خارجی صورتِ حال اس کے داخل میں موجود خصومت کے جذبے کو بھڑکا دیتی ہے(یا خصومت کا جذبہ ، جان لیوا خارجی صورتِ حال کو جنم دیتا ہے ) اور وہ انجانے میں کسی کی جان لے لیتا ہے یا ناک دانت وغیرہ توڑ دیتا ہے اور اس کے بعد پشیمانی سے دوچار ہوتا ہے ۔ایسی صورتِ حال میں یہ محض اتفاق ہوتا ہے کہ مضروب یا مقتول ، مضروب یا مقتول بن جاتا ہے، ورنہ امر واقعہ تو یہ ہے کہ وہی خصومت کا جذبہ مضروب یا مقتول کے داخل میں بھی موجود ہوتا ہے، اور عموماً وہ بھی اپنے تئیں ( انجانے میں سہی ) مقابل کو پچھاڑنے کی کوشش کرتا ہے ، یعنی مقتول یا مضروب بنانے کی۔ اسی لیے قرآن مجید نے اگرچہ یہاں بھی اصول کی سطح پر، قصاص ہی کا حکم دیا ہے لیکن منشا چونکہ ( البقرۃ آیت ۱۷۸ سے بھی بڑھ کر ) مکمل معافی ہے اس لیے ایک تو، اطلاقی پہلو سے اکثر و بیشتر صورتوں میں قصاص لیا ہی نہیں جا سکتا ، اور دوسرا یہ کہ ، اگر ایسی صورت بن بھی جائے تو فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ کے حکیمانہ اسلوب میں معافی کی زبردست ترغیب دی ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں خون بہا لینے کا بیان کیوں نہیں کیا گیا ؟ قصاص یا مکمل معافی ، یہ دو انتہائیں کیوں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ‘‘کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے جھگڑوں کی واقعیت اپنی جگہ ، لیکن ان کے محلات اور وقوع پذیری کے محرکات ، انسانی احوال و ظروف سے پرے نہیں ہٹتے۔اس لیے أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ بھی انہی محلات اور احوال و ظروف کی انتہائی صورت ہونے کے ناطے ، نوعیت کے اعتبار سے قتلِ ناحق کی شدید حالت کو ظاہر نہیں کرتا۔ اسی لیے(خالصتاً قانونی نقطہ نظر سے ) قصاص کو ایک انتہا پر رکھنے کا مقصد ، خارجی صورتِ حال کو نظم میں رکھنا ہے اور دوسری انتہا پر ( جو خالصتاً اخلاقی ہے) مکمل معافی کا مقصد ، اس امر کا اعتراف کرنا ہے کہ ضعف و خصومت کی بنا پر انسان سے گناہ سرزد ہو سکتے ہیں اس لیے انہیں بدلہ لینے کے انتقامی جذبے کے بجائے اپنے گناہوں کے کفارے کی سبیل نکالنی چاہیے۔ لہٰذا دو انتہاؤں کے بیان کے ساتھ اگر خون بہا کا بھی ذکر کیا جاتا ، تو ضعف و خصومت کے ہاتھوں انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ نہ ہونے سے ، بے غرضانہ معافی(دنیاوی لحاظ سے بے غرضانہ )کا کلچر پروان نہ چڑھ سکتا ، جس کی قرآن کے نظامِ اقدار میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ 
اس لیے زیرِ نظر آیت میں ’’قصاص ‘‘کے تقریباََ مخالف کھڑے ہو کر ’’ کفارہ ‘‘ نہایت اعلی درجے کی ترغیب کی علامت بن جاتا ہے ۔ اگر البقرۃ آیت ۱۷۸ کے اس حصے فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء إِلَیْْہِ بِإِحْسَانٍ کا المائدۃ آیت۴۵ کے اس حصےٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ سے تقابل و موازنہ کریں کہ ہر دو جگہ محلات یکساں ہیں تو اخلاقی معنویت کی مختلف پرتیں کھلنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ چونکہ المائدۃآیت ۴۵ میں مقصود، مکمل معافی ہے (اور اس کے مقابل صرف قصاص کی آپشن ہے)، اس لیے مضروب یا مقتول کے ورثا کو معاف کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی خاطر ’’ عفو ‘‘ کے بجائے ’’صدقہ‘‘ کے لفظ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ صدقے کے داخلی مفہوم میں تزکیے کا پہلو بھی پایا جاتا ہے کہ صدقہ ، تزکیہ نفس ہے ۔ اس لیے قرآن مجید میں ’عفا اللہ‘ کی ترکیب تو ملتی ہے لیکن ’تصدق اللہ‘ کے بیان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چونکہ عفو میں تزکیے کا پہلو مفقود ہے اس لیے البقرۃ آیت ۱۷۸ میں قاتل و مقتول کے ورثا کے لیے، معروف و احسان کے الفاظ سے یہ عنصر، اس ماحول کے خاص سیاق میں شامل کر دیا گیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ عنصر معافی دینے کے عمل کا حصہ نہیں بنتا ، بلکہ قدرے معافی (عفی شئ ) دیے جانے کے بعد دخیل ہوتا ہے ۔ لیکن المائدۃ آیت ۴۵ میں تزکیے کا یہ عنصر ، بعد میں شامل نہیں ہوتا بلکہ (صدقہ کی بنا پر ) معافی دیے جانے کے عمل کا حصہ ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر یہاں’’ عفو‘‘ استعمال کیا جاتا، تو کیا صرف دو آپشن کی موجودگی میں ورثا ، قصاص کو ترجیح نہ دیتے؟ قرآن مجید میں ’’ صدقے ‘‘ کے جو مفاہیم وارد ہوئے ہیں ، ان سے آگاہی کے بعد مضروب یا مقتول کے ورثا کے ’’ صدقے ‘‘ کے آپشن کو چننے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ، جو شارع کی بھی منشا ہے ۔ صدقے کا ایک قرآنی اطلاق ملاحظہ کیجیے : 
وَإِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْْسَرَۃٍ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرۃ ۰۲/ ۲۸۰)
’’ اور اگر تنگ دست ہو تو اسے مہلت دو آسودگی تک ، اور اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلا ہے اگر تم جانو ‘‘ 
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ کے بیان میں صدقہ کرنے کی صورت میں، نتیجے کے اعتبار سے ’’خیر‘‘ کا ذکر ہے جو ایجابی معنی لیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس فَمَن تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ کے بیان میں، نتیجے کے لحاظ سے ’’ کفارے‘‘ کا ذکر ہے جو قدرے سلبی معنی لیے ہوئے ہے۔ اس لیے اگر انسان ’’ خیر ‘‘ کے لیے صدقہ نہیں بھی کرتا تو کوئی مضائقہ نہیں ، کہ وہ اخلاقی اعتبار سے مفعولی حالت میں نہیں ( بلکہ صرف بہتری مقصود ہے )۔ اس کے برعکس ’’کفارے‘‘ کے قرآنی مفاہیم شاہد ہیں کہ اخلاقی لحاظ سے انسان کو مفعولیت کی پست سطح سے بلند کرنے کی خاطر ہی کفارے کا حکم دیا جاتا ہے: 
لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (المائدۃ ۰۵/ ۸۹)
’’ اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ، ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے ، یا انہیں کپڑے دینا یا ایک گردن آزاد کرنا ، تو جو ان میں کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے ، یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جبکہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو ، اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیات بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو ‘‘ 
سورۃ المائدۃ کی آیت ۹۵ کے اس حصے سے بھی کفارے کی نوعیت پر روشنی پڑتی ہے : أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً لِّیَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِہِ ’’ یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا یا اس کے برابر روزے تاکہ اپنے کیے کی پاداش کا مزہ چکھ لے‘‘۔ ان قرآنی اسالیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ ہماری زیرِ نظر آیت (المائدۃ ۴۵)میں صدقے کے بعد کفارے کا تذکرہ ، معاف کر دینے کی انتہائی ترغیب کی علامت بن جاتا ہے ۔ چونکہ کفارہ سلبی معنی لیے ہوئے ہے ، اس لیے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ انسان کو(گناہ گار ہونے کے ناطے ) نفسیاتی طور پر’’ ہائی جیک ‘‘ کیا جا رہا ہے کہ وہ لازماََ معاف کر دے ، اگرچہ اس ترغیب کی تنفیذ کا مکمل انحصار ، مضروب یا مقتول کے ورثا کے اخلاقی شعور پر ہی کیا گیا ہے۔ ( ہائی جیک کی ترکیب اگرچہ منفی معنی کی حامل ہے لیکن چونکہ ایسا اسلوب خود قرآن نے بھی اختیار کیا ہے کہ منفی نوعیت کا لفظ استعمال کر کے ، مخاطب کو پورا تاثر ذہن نشین کرایا جائے ، مثلاً وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللّہُ وَاللّہُ خَیْْرُ الْمَاکِرِیْنَ (آل عمران ۰۳/ ۵۴)، ا س لیے ہم نے بھی قرآنی ترغیب میں مضمر لزوم کی شدت ملحوظ رکھتے ہوئے ہائی جیک کا لفظ برتا ہے) 
ایک اعتبار سے ، زیرِ نظر آیت کی تکمیل کافی سخت الفاظ سے ہوتی ہے : وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امرِ واقعہ کو ظلم نہیں کہا گیا، بلکہ واقعہ رونما ہونے کے بعد ، اللہ کے دیے گئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کو ظالم کہا گیا ہے ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ قصاص یا مکمل معافی کے بجائے اگر کوئی اور سزا (سخت یا نرم ) تعزیراََ تجویز کی جائے تو وہ قرآن کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگی ، بلکہ بنفسہٖ ظلم ہو گی، اس لیے منفیت کے لحاظ سے امرِ واقعہ سے بھی بڑھ کر ہو گی ۔ اس کے برعکس سورۃ بنی اسرائیل آیت ۳۳ میں امرِ واقعہ کو ظلم کہا گیا ہے : وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً ’’ جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو ‘‘ ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ المائدۃ آیت ۴۵ کے مطابق قتل کیا گیا شخص ، بہرحال مظلوم نہیں ہے اسی لیے قصاص کو اصول کی سطح پر رکھتے ہوئے بھی ، مکمل معافی کی مکمل ترغیب دی گئی ہے ، جبکہ بنی اسرائیل کی پوری آیت میں ایسی کسی ترغیب کا شائبہ تک نہیں ہے ۔
ایک اور زاویے سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض مماثلتوں کے باوجود ، المائدۃ آیت ۴۵ کا اختتام ، البقرۃ آیت ۱۷۸ کے برعکس کسی تخفیف و رحمت کے تذکرے کے بغیر ہی وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ کے الفاظ سے ہو جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ اس کا بدیہی جواب یہ ہے کہ یہاں قرآن نے’’صدقہ و کفارہ‘‘ کی مخصوص اصطلاحات کے ذریعے ، انسان کو ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے ، مکمل معافی دینے کے لیے تقریباََ پابند کر دیا ہے۔ چونکہ انسان صدقہ کرکے ’’پہل ‘‘کرتا ہے جو نتیجے کے اعتبار سے اس کے لیے کفارہ بن جاتا ہے ، اس لیے صدقہ کے داخلی مفاہیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآن نے انسان کے پہل کرنے کے عمل کو سراہا ہے ۔آیت کے اختتام پر ، تخفیف و رحمت کے بیان سے انسان کے اس عمل پر ، جو تزکیہ نفس کی علامت ہے ، توجہ مرکوز نہیں رہ سکتی تھی ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اس آیت میں قرآن نے انسانی اخلاقی شعور کی توقع و تقاضا ، البقرۃ آیت ۱۷۸ سے کہیں زیادہ کیا ہے ۔ 
(جاری)

اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی معاشیات پر اس عمومی تبصرے کے بعد اب ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب کی طرف چلتے ہیں۔ 

۲) مولانا تقی عثمانی اور اسلامی معاشیات 

مولانا کی کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ کھلے عام لبرل سرمایہ داری کا اسلامی جواز پیش کرتی ہے۔ مولانا معاشیات کو غیر اقداری علم سمجھ کر معاشی مسئلے کے بارے میں یہ تصور قائم کرتے ہیں : 
’’انسانی وسائل محدود ہیں اور اسکے مقابلے میں ضروریات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لامحدود ضروریات اور خواہشات کو محدود وسائل کے ذریعے کس طرح پورا کیا جائے؟ اقتصاد اور اکنامکس کے یہی معنی ہیں کہ ان وسائل کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے کہ انکے ذریعے زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہو سکیں‘ ‘ ۔ (ص ۲۰-۱۹) 
گویا مولانا مانتے ہیں کہ scarcity (لامحدود خواہشات اورمحدود وسائل میں فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والی قلت) ایک فطری انسانی کیفیت کا نام ہے اور اصل انسانی مسئلہ ’تزکیہ نفس‘ نہیں کہ جس کے بعد اس کی ضرورتیں اور خواہشات کم ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کون سا طریقہ کار ہے جسے استعمال کرکے وہ ان وسائل سے زیادہ سے زیادہ خواہشیں پوری کرسکے۔ اس کے بعد مولانا چار بنیادی معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہیں جو ان کے خیال میں تمام انسانی معاشروں کو درپیش ہوتے ہیں: 
۱) ترجیحات کا تعین: چونکہ خواہشات لامحدود اور وسائل محدود ہیں لہٰذا یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کن خواہشات کو پورا کیا جائے ۔
۲) وسائل کی تخصیص: ذرائع پیداوار کو کن مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے ۔
۳) آمدنی کی تقسیم کار: ذرائع پیداوار کو کام میں لانے کے نتیجے میں جو آمدنی حاصل ہو اسے معاشرے میں کس اصول کے تحت تقسیم ہونا چاہیے۔
۴) ترقی: ایسا کیا جائے کہ جس سے ’’جو پیداوار حاصل ہورہی ہے وہ معیار کے لحاظ سے پہلے سے اچھی ہو اور مقدار کے اعتبار سے اس میں اضافہ ہو، اور کس طرح نئی نئی ایجادات اور مصنوعات وجود میں لائی جائیں تاکہ معاشرہ ترقی کرے اور لوگوں کے اسباب معیشت میں اضافہ ہو‘‘۔ (ص: ۲۱-۲۰) 
اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ ’’یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسائل اگرچہ فطری مسائل ہیں لیکن ایک نظام کے تحت ان کو سوچنے، ان کا حل تلاش کرنے کی فکر آخری صدیوں میں زیادہ پیدا ہوئی‘ ‘ ۔(ص: ۲۱) یعنی مولانا کے نزدیک نفس امارہ کا غلبہ (خواہشات کی لامحدودیت اور مادی ترقی کے پردے میں چھپی ہوئی دنیا پرستی کی روحانیت) فطری انسانی کیفیت ہے، نیز یہ کیفیت محض موجودہ دور کے انسان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر دور کے انسان اور معاشروں کے اوپر غالب رہی ہے، لیکن مولانا اپنے سامعین و قارئین کو وہ وجہ نہیں بتاتے کہ آخری دو صدیوں میں ہی کیوں ان مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ’لامحدود خواہشات کی تکمیل‘ کو انسانی فطرت کا جائز اظہار سمجھنے اور ’ترقی‘ کی ذہنیت (rationality) بذات خود انہیں آخری صدیوں کی پیداوار ہے؟ 
ان ’فطری‘ معاشی مسائل کی تعیین کے بعد مولانا ان کے حل کے طور پیش کیے گئے دو نظاموں سرمایہ داری اور اشتراکیت پر عمومی تبصرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں: 
’’اسلام کوئی معاشی نظام نہیں ہے بلکہ وہ ایک دین ہے جس کے احکام ہر شعبہ زندگی سے متعلق ہیں‘جس میں معیشت بھی شامل ہے۔ لہٰذا قرآن و حدیث نے معروف معنی میں کوئی معاشی فلسفہ یا نظریہ پیش نہیں کیا ‘ ‘ (ص: ۳۸) 
اولاً مولانا کے اس اقتباس سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ سرمایہ داری اور اشتراکیت کو محض ’معاشی نظریات ‘ ہی سمجھتے ہیں نہ کہ مکمل طرز زندگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری محض کسی ’معاشی نظریے ‘ کا ہی نام نہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ عقلیت اور عمل معاشی جدوجہد تک ہی محدود رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ ایک نظام زندگی ہے جس کا ایک خاص تصور فرد،معاشرہ اور ریاست ہے اور جو پوری انسانی زندگی پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج کوئی ایسا ملک نہیں جہاں سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کررہی ہو لیکن افراد حرص وحسد کا شکار نہ ہورہے ہوں، خاندان تباہ نہ ہو رہے ہوں،زنا عام نہ ہو رہا ہو، ادب اور ثقافت دھوکہ ،غلیظ ترین اور فحش ترین رجحانات کی عکاسی نہ کر رہا ہو، استبداد، ظلم اور جعل سازی عام نہ ہو۔ درج بالا اقتباس سے دوسراتصور یہ ابھرتا ہے گویا مولانا کے خیال میں اسلام کا اپنا کوئی معاشی نظام نہیں بلکہ اس کی چند لگی بندھی تعلیمات ہیں جسے کسی بھی ماوراے اسلام معاشی اصول میں برت کر اسے اسلامی بنایا جاسکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے خیال میں اسلام لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کا حامی ہے ۔ چنانچہ مولانا نیوکلاسیکل اکنامکس کے پیش کردہ طلب و رسد کے قوانین کو ’ فطری ‘ مانتے ہونے فرماتے ہیں: 
’’اس کائنات میں بہت سے قدرتی قوانین کار فرما ہیں جو ہمیشہ ایک جیسے نتائج پیدا کرتے ہیں، انہی میں سے ایک قانون رسد اور طلب کا بھی ہے۔‘‘ (ص: ۲۳)، ’’معاشی مسائل کے حل کے لیے ذاتی منافع کے محرک اور بازار کو قوتوں یعنی طلب و رسد سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہیں‘‘ (ص: ۳۵)، ’’اسلام نے بازار کی قوتوں یعنی طلب و رسد کے قوانین کو فی الجملہ تسلیم کیا ہے، اسی طرح ذاتی منافع کے محرک سے بھی کام لیا ہے‘‘۔ (ص: ۳۹) 
پہلی بات یہ کہ اگر واقعی مولانا کے بقول اسلام رسد و طلب کے ’فطری قوانین ‘ کی تصویب (endorsement) کرتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسلام موجودہ دور کے معروف نظاموں میں سے ’لبرل سرمایہ داری‘ یا کم از کم ’سوشل ڈیموکریسی‘ ہے اور مولانا کا یہ فرمانا کچھ معنی نہیں رکھتا کہ ’قرآن و حدیث نے معروف معنی میں کوئی معاشی فلسفہ یا نظریہ پیش نہیں کیا ‘ ۔ پھر اگر طلب و رسد کے قوانین فطری ہیں تو ان کے پیچھے جو قوت محرکہ کام کرتی ہیں یعنی انفرادی لذت اور نفع خوری وہ بھی فطری ٹھہریں۔ اتنا ہی نہیں، ان قوانین کو فطری مان کر مولانا بے خبری میں ایڈم سمتھ (Adam Smith) کے یہ مفروضے بھی مان بیٹھے ہیں کہ (۱) معاشرے کی بنیادی اکائی مجرد فرد (ananymous individual)ہے ، (۲) ہر فرد کو بنیادی طور پر خود غرض (self-interested) ہی ہوناچاہیے، (۳) معاشرتی تعلقات کی بنیاد اغراض ہونی چاہئیں، (۴) ذاتی اغراض کی ذہنیت معاشرتی ہم آہنگی کے حصول اور فروغ کا سب سے عمدہ ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلب و رسد کے قوانین بیان کرنے کا مقصد ہی لبرل سرمایہ داری کے ان مفروضات کا جواز فراہم کرنا ہے کہ بنیادی معاشرتی اکائی فرد ہے نہ کہ خاندان وغیرہ نیز خود غرضانہ انفرادی ذہنیت کا لازمی نتیجہ معاشرتی ہم آہنگی (social harmony) اور ولفئیر (welfare) ہوتا ہے، یعنی اس فلسفے کے مطابق معاشرے کی مجموعی ولفئیر بڑھانے کا طریقہ یہ نہیں کہ افراد اس کے حصول کی شعوری کوشش کریں بلکہ اس کا سب سے بہترین حصول تب ممکن ہوتا ہے جب ہر فرد صرف اور صرف اپنے ذاتی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرے (self-interestedness reinforces social harmony)جسے سمتھ یوں کہتا ہے : 
"The universal, constant and uninterrupted effort of everyman to better his condition", and, "every individual ... intends only his own gain, and he is led by an invisible hand to promote an end which was not part of his intention. Nor is it always the worse for the society that it was no part of it. By pursuing his own interest he frequently promotes that of the society more effectually than when he really intends to promote it" [Smith (1776): Wealth of Nations, p. 423]
نیز :
"man has almost constant occasion for the help of his brethren, and it is in vain for him to expect it from their benevolence only. (It) will be more likely to prevail if he can interest their self-love in his favor, and show them that it is for their own advantage to do for him what he required of them....We address ourselves not to their humanity but to their self-love..." [Wealth of Nations: p. 14]
مفہوم اوپر بیان کردیا گیا۔ اگر ہر فرد اپنے فائدے کا سب سے بہترین جاننے والا ہے نیز ان کی ذاتی اغراض کا حصول ہی معاشرتی تشکیل کا سب سے بہترین طریقہ ہے تو پھر کسی ریاست، مولوی یا چرچ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ افراد کی ذاتی اغراض کے حصول کی جدوجہد میں رکاوٹ بنیں اور ذاتی اغراض کا حصول ہی ہر عمل کے جواز کی بنیاد ٹھہرتا ہے : 
"Greed of one man is considered to be the adequate check on that of another and universal greed can work out the highest attainable good for all. Hands off, then, state, church, etc and let selfishness have its perfect work" [Clark (1877): p. 712] 
"Nature has placed mankind under the governance of two sovereign masters, pain and pleasure. It is for them alone to point out what we ought to do as well as to determine what we shall do" [Bentham (1789)]
مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا کے الفاظ بھی ان سے ملتے جلتے ہی ہیں: 
’’(مارکیٹ میں) ہر شخص اگرچہ اپنے منافع کی خاطر کام کررہا ہے لیکن رسد و طلب کی قدرتی طاقتیں اسے مجبور کررہی ہیں کہ وہ معاشرے کی طلب اور ضرورت کو پورا کرے‘‘ (ص: ۲۳)
حیرت ہے کہ نفس پرستی کی اس روحانیت کو مان لینے کے بعد مولانا کے پاس ’اصلاحی خطبات‘ بیان فرمانے اور چھپوانے کا کیا جواز باقی رہ جاتاہے کیونکہ یہ مان لینا کہ طلب و رسد کے قانون ہی یہ طے کرتے ہیں کہ کیا چیز پیداکی جائے اور کیا نہیں نیز انہیں سے قدر کا تعین ہوتا ہے (ص : ۲۳) یہ مان لینے کے مترادف ہے کہ قدر کا تعین انسانی خواہشات سے ہوتا ہے، نیز فیصلوں کی بنیاد آزاد انسانی خواہشات ہونی چاہئیں ۔ مولانا کے خیال میں سرمایہ داری کا بنیادی مقدمہ اور ہدف عین حق ہیں، البتہ اسے حاصل کرنے میں چند غلطیاں سر زد ہو گئیں: 
’’سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی فلسفے میں اس حد تک تو بات درست تھی کہ معاشی مسائل کے حل کے لیے ذاتی منافع کے محرک اور بازار کی قوتوں یعنی رسد وطلب سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہیں، لیکن غلطی یہاں سے لگی کہ ایک فرد کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے حصول کی بے لگام آزادی دی گئی جس میں حلال و حرام کی کوئی تفریق نہیں تھی نہ ہی اجتماعی فلاح کی طرف خاطر خواہ توجہ تھی۔ چنانچہ اس کے لیے ایسے طریقے اختیار کرنا بھی جائز ہوگیا جن کے نتیجے میں وہ زیادہ سے زیادہ دولت مند بن کر بازار پر اپنی اجارہ داری (monopoly)قائم کرلے ‘‘۔ (ص: ۳۵) 
مولانا کے خیال میں تعین قدر کا فطری نظام وہ ہے جسے معاشیات دان perfect competition (مکمل مسابقت)کہتے ہیں۔ (ص ۳۵) خیال رہے کہ معاشیات میں perfect competition سے مراد ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں (۱) ہر فرد ایسامجرد انسان ہوتا ہے جس کی خواہشات لامحدود ہوتی ہیں، (۲) ہر کسی کا مقصد اپنی اپنی اغراض کا حصول ہوتا ہے، (۳) واحد شے جس کی بنیاد پر فرد کوئی فیصلہ کرتا ہے وہ نفع خوری و سرمائے کی بڑہوتری کے امکانات ہیں۔ (تفصیل کیلئے معاشیات کی کوئی بھی اچھی درسی کتاب دیکھ لیجئے) مولانا کے نزدیک سرمایہ داری کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر اسے کھلی چھٹی دے دی جائے تو اسکے نتیجے میں اجارہ داریاں قائم ہوجاتی ہیں اور قدر کے تعین کا فطری نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ (ص: ۳۶) مزید یہ کہ سود اور سٹے کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ اس سے معیشت کا فطری توازن خراب ہوتا ہے اور اجارہ داریاں قائم ہوتی ہیں۔ (ص : ۳۵) گویا سرمایہ داری کا مسئلہ اس کے مقاصد نہیں بلکہ ان کے حصول کا طریقہ ہے جس سے اجارہ داری جنم لیتی ہے اور اجتماعی مصالح کا کما حقہ لحاظ نہیں ہوپاتا۔ انہی معنی میں مولانا سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے حامی بن جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ داری پر ان مفکرین کے بنیادی اعتراضات بھی یہی ہیں کہ اسے کھلی چھٹی دینے سے اجارہ داریاں بنتی ہیں، تقسیم دولت کا نظام خراب ہوتا ہے، اجتماعی مصالح کا حصول مشکل ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نفع خوری کے عمل پر حد بندیاں (regulations)لگنی چاہئیں۔ مولانا اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین میں فرق نظریات (approach) کانہیں بلکہ چند حد بندیوں کی نوعیت (nature of regulations)کا ہے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ : 
’’ اسلام نے بازار کی قوتوں کو فی الجملہ تسلیم کیا ہے، اسی طرح ذاتی نفع کے محر ک سے بھی فی الجملہ کام لیا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اس محرک کو بالکل آزاد چھوڑ دیا گیا ہے جسکے نتیجے میں خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اسلام نے ... تجارتی اور معاشی سرگرمیوں پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کردیں کہ ان پر عمل کی صورت میں ذاتی نفع کا محرک ایسے غلط رخ پر نہیں چل سکتا جو معیشت کو غیر متوازن کرے‘‘۔ (ص: ۴۰)
مولانا کے نزدیک نفع خوری پر دیگر معاشی حد بندیوں کے علاوہ حرام اشیا کی پیداوار پر قدغن، سفلی جذبات بھڑکانے والے کاروباری طریقوں پر پابندی وغیرہ بھی لگنی چاہئے۔ (ص: ۴۰) گو کہ مولانا یہ بات مانتے ہیں کہ ’’معاشی سرگرمیاں اور ان سے حاصل ہونے والے مادی فوائد انسان کی زندگی کا منتہاے مقصود نہیں ہے‘‘ (ص: ۴۲) لیکن ان معاملات میں ’’شریعت نے کوئی وجوبی حکم (mandatory order) نہیں دیا‘‘ (ص: ۴۲) جس کامطلب یہ ہوا کہ وسائل کی تخصیص و تقسیم کار اصولاً نفع خوری کے جذبات کے ماتحت وقوع پزیر ہوتی رہیں تو بھی اسلامی ریاست کو ان محرکات کے فروغ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ 
مولانا کے نزدیک اسلامی تعلیمات پر عمل کا فائدہ اجارہ داریوں کے خاتمے اور ترقی کی صورت میں ظاہر ہوگا، چنانچہ پیدائش دولت پر تینوں نظاموں (سرمایہ داری، اشتراکیت و اسلام) کے مجموعی اثرات پر بحث کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : 
’’ذاتی منافع کے محرک پر حلال و حرام کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے سود، قمار، سٹہ وغیرہ سب سرمایہ دارانہ نظام میں جائز ہیں، حالانکہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو معیشت کے فطری توازن میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں جس کا ایک مظاہرہ یہ ہے کہ ان کے نتیجے میں بکثرت اجارہ داریاں قائم ہو جاتی ہیں‘‘ (ص: ۳۶)، ’’اسلام نے ایک طرف ذاتی منافع کے محرک کو تسلیم کیا جو پیداوارکی کمیت اور کیفیت میں اضافے کا موجب ہوتا ہے لیکن دوسری طرف اس پر وہ پابندی عائد کردیں جو اسے ان معاشی اور اخلاقی خرابیوں سے باز رکھ سکے جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمی خا صہ ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ دارانہ نظام میں سود کی اجازت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی کاروبار کو سرمایہ فراہم کرنے والا کاروبار کی بہبود سے قطعی لاتعلق رہتا ہے، اس کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کاروبار کو فائدہ ہوا یا نقصان کیونکہ اس کو ہر صورت میں معین شرح سود ملنی ہے۔ اس کے بر خلاف اسلام میں چونکہ سود حرام ہے اس لیے کسی کاروبار کو سرمایہ فراہم کرنے کی بنیاد شرکت و مضاربت پر ہی ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں سرمایہ فراہم کرنے والے کی پوری خواہش اور کوشش یہ ہوگی کہ جس کاروبار میں اس نے سرمایہ لگایا ہے وہ ترقی کرے اور اس سے نفع حاصل ہو، ظاہر ہے کہ اس سے پیدائش دولت پر بہتر اثرات قائم ہوں گے‘‘۔ (ص: ۵۱) 
گویا مولانا کے خیال میں مضاربت اور مشارکت سے ترقی سودی کاروبار کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور نفع خوری کے جذبات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ 
لبرل سرمایہ داری کے اس فریم ورک کو فطری اور اسلامی ثابت کرنے کے بعد مولانا تھوک کے حساب سے سرمایہ دارانہ اداروں کی اسلام کاری اور اسلامی سرمایہ داری کا لائحہ عمل کچھ اس طرح وضع فرماتے ہیں: 
  • وقف، بیت المال اور ترکہ جیسے بغیر نفع (non-profit) پر چلنے والے اسلامی اقدارکے محافظ اداروں پر قیاس کرتے ہوئے نفع8 خوری کے تصور پر مبنی ’کمپنی بطور شخص قانونی‘ (legal personality) کو جواز فراہم کیا گیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ شخص قانونی کی صرف اصطلاح نئی ہے، اس کا تصور اسلام میں پہلے سے موجود ہے۔ (ص: ۸۱) 
  • کمپنی کے محدود ذمہ داری (limited liability) کے کا روبار کا جواز مضاربت سے فراہم کردیا گیا۔ (ص: ۸۲-۸۱) 
  • شئیرز کی خریدوفروخت کا جواز اس مفروضے پر فراہم کیا گیا کہ شئیرز کی پشت پر کمپنی کے املاک و اثاثہ جات ہوتے ہیں۔ شئیرز کے منافع کا وجہ جواز یہ بیان فرمایا گیا کہ یہ کمپنی کے غیرزری (non-financial) اثاثہ جات کی مالیت ظاہر کرتا ہے۔ (ص: ۸۷-۸۵)
  • سودی کاروبار میں شریک کمپنیوں کے شئیرز کی خرید و فروخت کی حلت اس قید کے ساتھ فراہم کی گئی کہ ’’ شئیر ہولڈر سالانہ جمعیت (A.G.M.) میں سود کے خلاف آواز اٹھا دے‘‘ ، اللہ اللہ خیر سلا ۔ اور تو اور، سود کے خلاف یہ براء ت اس صورت میں بھی کفایت کرے گی جب یہ معلوم ہو کہ یہ بالکلیہ برائے نام ہی ہے۔ (ص: ۸۸) 
  • سودی کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے شئیرز پر ملنے والے منافع (dividend) کی تطہیر کا طریقہ یہ تجویز کیا گیا کہ اس میں سے کچھ رقم ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردی جائے۔ (ص: ۸۹) 
  • سٹے پر مبنی لین دین اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ شرعی شرائط کا خیال رکھا جائے کیونکہ تخمینہ بازی (speculation) بذات خود حرام نہیں۔ (ص: ۹۰) 
  • بینکاری نظام پر قائم شدہ فرضی نظام زر کی تخلیق (fictitious money) اور بینک زر (bank money)کو زر اعتباری سمجھ کر قبول کرلیا گیا ہے 
  • اس کے بعد مولانا مالیات کا ہو بہو وہی اسلامی نظام تجویز کرتے ہیں جو نجات اللہ صدیقی، عمر چھاپرا اور پروفیسر خورشید احمد وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ (ص: ۱۵۸-۱۲۶) موجودہ نظام زر اور بینکاری کو منہدم کرنا تو ایک طرف مولانا کے خیال میں موجودہ مالیاتی نظام کو سود سے مکمل پاک کیے بغیر بھی اسلامی بینکاری کرنا ممکن ہے ۔
  • مولانا کے خیال میں اسلامی بینکاری کی کامیابی کے امکانات روشن ہونے کی امید یہ ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرہ بھی اس کی تائید کررہے ہیں ۔ (ص: ۱۷۱) 

مولانا کی کتاب پر ایک نظر 

قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کا اسلامی معاشیات و بینکاری کا تصور (vision) اور حکمت عملی ہو بہو وہی ہے جو پچھلے سیکشن میں بیان کی گئی، لہٰذا پچھلے سیکشن میں کیا گیا تمام تبصرہ اس پر صد فیصد صادق آتا ہے۔ یہاں ہم چند مزید باتوں کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

علم معاشیات کا ناقص تصور: 

سب سے اہم بات یہ کہ مولانا کا علم معاشیات کا یہ تصور ہی غلط ہے کہ یہ کسی آفاقی انسانی مسائل کا ٹیکنکل حل پیش کرتی ہے، نیز اس کا کام اخلاقیات سے ماورا ہوکر حقائق کا بیان ہے، یعنی مولانا اسے مثبت سائنس (positive science) سمجھتے ہیں جس کا کام بس حقائق کو جوں کا توں بیان (describe)کردینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشیات ایک اخلاقی سائنس (moral or normative science)ہے جس کا مقصد حرص و حسد کی اخلاقیات کا جواز فراہم کرنا ہے ، جیسا کہ اس کے بنیادی مقدمات (کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہونی چاہئیں، عقلمندی کا معیار دنیا سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کے لیے سرمائے کی بڑہوتری ہے وغیرہ ) سے عین واضح ہے۔ علم معاشیات کے بارے میں یہ غلط تصور ہی اسلامی ماہرین معاشیات کی تمام تر مشکلات کا اصل پیش خیمہ ہے۔ 

کل (whole)کو نظر انداز کرنے کی غلطی : 

یہاں اسلامی بینکاری پر علماے کرام کے اس اعتراض کا ذکر فائدے سے خالی نہ ہوگا کہ موجودہ بینکاری اس لیے اسلامی نہیں کیونکہ اس میں کیے جانے والے کاروبار کی جزوی تفصیلات شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں، یعنی علماے کرام کو اسلامی بینکاری کی اسلامیت پر اعتراض اس لئے نہیں کہ یہ جن مقاصد کا حصول ممکن بناتی ہے وہ غیر اسلامی ہیں ، بلکہ یہ ہے کہ اس کاروبار کا طریقہ کار (methodology) شرعی اصولوں (مثلاً شرکت و مضاربت) پر منطبق نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں ان کے تجزیے کا نقطہ ماسکہ (unit of analysis) نظام نہیں بلکہ جزوی تفصیلات ہیں۔ ان کی تنقید کا حاصل یہ ہے کہ اگر بینکاری نظام وغیرہ کو شرکت و مضاربت اور دیگر شرعی اصولوں کا پابند بنا لیا جائے تو پھر انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اسلامی بینکاری کی جزوی تفصیلات شرعی اصولوں کے مطابق ہوبھی جائیں، تب بھی یہ ہرگز اسلامی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ جن مقاصد (لذت پرستی و نفع خوری کی ذہنیت کا عموم) کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے، وہ صد فیصد غیر اسلامی ہیں۔ سرمایہ داری کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسکا طریقہ کار درست نہیں بلکہ یہ ہے کہ جس ہدف (عمل تکاثر) کو یہ فرد، معاشرے اور ریاست کا مقصد وجود قرار دیتی وہ عین شر ہے، لذت پرستی و نفع خوری کے جن احساسات کو یہ تعقل کی بنیاد قرار دیتی ہے، وہ عین جہالت ہیں اور جن کے عموم کے نتیجے میں بلا شک وشبہ زیادہ مادی ترقی ممکن ہوتی ہے لیکن اس معاشرے میں زندگی گزارنے کے بعد ہر فرد اپنے لیے جہنم کا راستہ آسان بنالیتا ہے۔ کل کو نظر انداز کر کے جز پر فتوے دینے کی غلطی واضح کرنے کیلئے ہم ایک مثال بیان کرتے ہیں۔ فرض کریں کسی معاشرے میں فحاشی و بدکاری عام ہوجائیں اور کوئی ’خداترس‘ عالم لوگوں کو ’بدکاری کے گناہ سے بچانے ‘ کے لیے ’عموم بلویٰ‘ کو دلیل بنا کر ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنائے جس کا نقشہ فرض کریں کچھ ایسا ہو: 
  • وہاں بڑی تعداد میں دھندہ کرنے والی عورتوں کو جمع کرلے اور لوگوں سے کہے کہ مباشرت کرنے سے پہلے ’نکاح‘ کی رسم ادا کرکے ’مہر ‘ کی رقم طے کرلو ،
  • نکاح کرانے کے لیے شرعی قاضیوں اور گواہوں کا انتظام موجود ہو ،
  • مباشرت کے بعد شوہر بیوی کو طلاق دے کر مہر کی رقم ادا کردے ،
  • چونکہ عورت کے لیے ہر طلاق کے بعد نئے نکاح کی راہ میں عدت کی طویل مدت حائل ہوگی، لہٰذا یہاں غامدی صاحب کے فتوے پر عمل کرلے کہ اگر میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوجائے کہ حمل نہیں ٹھہرا تو عدت ختم ہوجائے گی، لہٰذا اسلامی قحبہ خانے میں بہترین لیبارٹری بھی بنوا لے ۔
قریہ قریہ ’اسلامی قحبہ خانے ‘ بنانے کے بعد یہ نقشہ وہ علماے کرام کے سامنے پیش کرکے کہے کہ بتائیے اس کا کون سا ’جز‘ اصول شریعہ کے خلاف ہے اور علما بجائے اسے ایک ’کل‘ کے جزواً جزواً پرکھ کر یہ کہنے لگیں کہ ’میاں یہاں عدت گزارنے کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق نہیں‘ یا ’گواہ صفت عدالت سے متصف نہیں ‘ وغیرہ، تو ایسے طریقہ اجتہاد کو کیا کہا جائے گا؟ کیا عدت گزارنے کے طریقے کو درست کرلینے سے واقعی یہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے اور ہم خلق خدا کو ’غیر اسلامی کوٹھوں‘ کے بجائے ’اسلامی قحبہ خانے‘ جانے کی ترغیب دلائیں گے اورخود ان میں کنسلٹنٹ بھرتی ہونے کی فکر کرنے لگیں گے کہ دیکھیں کہیں یہ قحبہ خانے ’غیر شرعی‘ اصولوں پر نہ چل نکلیں؟ ہو سکتا ہے کسی کو ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی ہماری یہ مثال محض ایک ذہنی عیاشی لگتی ہو، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مصر کے فقیہ العصر علامہ یوسف قرضاوی صاحب نے نکاح المسیار کی اجازت دے کراسلامی قحبہ خانے بنانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب ضرورت ہے تو صرف ہمت کی۔ پس یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اس وقت تک کوئی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی جب تک تجزیے کا نقطہ ماسکہ جزوی تفصیلات نہیں بلکہ ’نظام‘ نہ بن جائے۔ مقصدیت کسی شے کی کلیت (totality) میں ہوتی ہے، کسی کل کو اس کے اجزا میں توڑ کر دیکھنے سے اس کی مقصدیت نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ (اس نکتے کی مزیدتفصیل آگے آرہی ہے)۔ 

لذت پرستی و نفع خوری کو فطری فرض کرنے کی غلط فہمی: 

تمام الہامی مذاہب بشمول اسلام ان مفروضات کو کلیتاً رد کرتے ہیں جنہیں مولانا سمیت دیگر اسلامی ماہرین معاشیات ’انسانی فطرت‘ سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ لذت پرستی اور نفع خوری بے شک ان معنی میں تو انسانی فطرت ہیں کہ انسان میں جتنی صلاحیت احسن تقویم بننے کی ہے اتنی ہی اسفل سافلین کی بھی ہے، لیکن ان معنی میں نہیں کہ ایسا کرنا ہی کوئی معیاری یا طبعی (normal)انسانی کیفیت ہے۔ نفس امارہ ہر گز بھی کوئی معیاری نفسی کیفیت نہیں، البتہ مغربی علمیت میں نفس امارہ ہی فطری نفسی کیفیت مانی جاتی ہے کیونکہ مغرب خیر کے جس تصور پر یقین رکھتا ہے، وہ نفس امارہ ہی کا دوسرا نام ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی علوم میں قانون اور معاہدے (contract) جیسے تصورات تو ملتے ہیں لیکن گناہ کا ذکر سرے سے مفقود ہے۔ گناہ کیا ہے؟ یہ کہ انسان اپنے ارادے کو خدا کی مرضی پر غالب کردے، مغرب میں خیر عین اسی چیز کا نام ہے کہ انسان ارادہ خدا وندی سے علی الرغم اپنے لیے جو چاہنا چاہے، چاہ سکے۔ ظاہر ہے خیر کے اس تصور پر ایمان لانے کے بعد گناہ نامی کوئی شے باقی نہیں رہتی۔ الہامی مذاہب جسے گناہ کہتے ہیں، مغرب میں عین اسی شے کو اصل خیر اور تعقل کہتے ہیں۔ اسلام نہ تو فرد کی خودمختاریت (sovereignty) کا قائل ہے جس کا حصول علم معاشیات کا اصل مقصد ہے اور نہ ہی خواہشات کے لامحدود ہونے کو جائز قرار دیتا ہے۔ اس کی تعلیمات میں تعقل کی بنیاد حرص وحسد نہیں بلکہ زہدوقناعت کی ذہنیت کا معاشرتی عموم ہے۔ معاشی عمل کی بنیاد لامحدود خواہشات کی تکمیل ، نفع خوری اور ترقی نہیں بلکہ حصول رضائے الہٰی اور اخروی کامیابی ہے۔ ریاست کا کام سرمایے میں بڑھوتری کا لائحہ عمل طے کرنا نہیں بلکہ ایسی ادارتی صف بندی فراہم کرنا ہوتا ہے کہ معاشی عمل کے ذریعے مذہبی اقدار کا فروغ ظہور پزیر ہو اور لوگ زہد و قناعت کے خوگر ہوسکیں۔ اسلامی ماہرین معاشیات کے مقابلے میں امام غزالیؒ لذت پرستی و نفع خوری کا مکمل رد فرماتے ہیں ۔ چنانچہ عمل صرف کے مقصد utility maximization (یعنی لذت پرستی و حرص و حسد) کے بارے میں امامؒ فرماتے ہیں : 
’’(شیطان) انسانی قلب کو غضب اور شہوت کی حالت میں قابو کرتا ہے ... پیٹ بھر کھانا خواہ وہ حلال اور صاف ستھرا ہی کیوں نہ ہو شیطان کے مدخل ہونے کا بڑا راستہ ہے اس لیے کہ شکم سیری سے خواہشات کو تقویت ملتی ہے اور خواہشات شیطان کا ہتھیار ہیں‘‘ (اح: ج ۳، ص ۶۲)۔ ’’دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے، دنیا کی محبت کا اثر یہ ہے کہ دل دنیا سے خوش ہو‘‘۔ (اح: ج ۴، ص ۶۷)، ’’ شیطان کا کام خواہشات بھڑکانہ ہے...خواہشات لامحالہ ناقابل تسکین شے ہیں اور بالآخر انسان کا ایمان برباد کرکے چھوڑتی ہیں‘‘ (اح: ج ۳، ص ۶۷)، ’’خدا تک پہنچنے کا واحد راستہ خواہشات کی مخالفت ہے‘‘ (اح:ج۳، ص ۱۱۱)، ’’آخرت کی سعادت حاصل کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ نفس کو خواہشات کی اتباع سے روکا جائے‘‘ (اح: ج ۳: ص ۱۱۲)۔ 
امام صاحبؒ ’مباحات سے مزے اٹھانے کی حلت‘ ثابت کرنے کے فلسفے پر فرماتے ہیں: 
’’یہ (فلسفہ) غلط ہے اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہوئی جنہوں نے دنیا کی محبت کو تمام گناہوں کی جڑ کہا... ضرورت سے زائد مباح چیز مباح ہونے کے باوجود دنیا میں شامل ہے اور انسان کو اس کے خالق سے دور کرتی ہے...نفس کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مباحات کی لذت سے نہ روکا جائے، اس لیے کہ انسان مباحات کی لذت سے تجاوز کرکے محظورات میں مبتلا ہوجاتا ہے...اور یہ اس کی ادنی آفت ہے... اس کی ایک آفت یہ ہے کہ نفس دنیا کی لذتوں سے خوش ہوتا ہے اور ان لذتوں میں وہ اپنے لیے سکون تلاش کرتا ہے‘‘۔ (اح: ج ۳: ص ۱۱۵-۱۱۴)۔ 
اسی طرح نفع خوری اور عمل تکاثر کے بارے میں امام صاحب ؒ فرماتے ہیں: 
’’وہ شخص جو مال جمع کرنے کو اپنا مقصد بناتا ہے ملعون ہے‘‘ (ک: ص ۲۰۰)، ’’وہ شخص جو بازار صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لییجاتا ہے حقیقی مقصد (نجات) کو نہیں پا سکتا ‘‘ (ک: ص ۲۲۴-۲۲۱)، ’’حسد (یعنی دنیاوی مسابقت کا جذبہ) نفرت و بغض سے پیدا ہوتا ہے، حسد انسان کو ہلاک کرڈالتا ہے‘‘ (ک: ص ۴۰۲)، ’’حب مال بڑی آفت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’مال اور شہرت کی محبت اسی طرح قلب میں نفاق پیدا کرتے ہیں جیسے پانی فصل اگاتا ہے‘، نیز ’دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے کہ جتنا نقصان حب مال اور شہرت ایک انسان کے ایمان کو پہنچاتے ہیں‘‘ (ک: ص ۴۱۵)۔ ’’مال (سرمایہ) معصیت کا دروازہ کھولتا ہے اور قلب میں خواہشات و لذات کو بھڑکاتا ہے، صاحب مال کے لیے تعیشات سے بچنا اور صبر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ (ک: ص ۴۱۹-۴۱۸)
ان تعلیمات کو بار بار پڑھیے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیے کہ اسلامی معاشیات اس میں کہاں فٹ ہوتی ہے۔ 
مولانا کا کاروبار کو نفع خوری کے ساتھ جوڑنا نہ صرف یہ کہ اسلامی تعلیمات بلکہ انسانی تاریخ کے بھی خلاف ہے کیونکہ سرمایہ داری سے پہلے دنیا کی کسی بھی تہذیب میں پیداواری عمل کا مقصد نفع خوری نہ تھا ۔ تاریخی تجزئیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلب و رسد کے قوانین صرف ان معاشروں میں عمل پزیر ہوتے ہیں جہاں عمل پیداوار قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے تابع ہو، اور روایتی معاشروں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پیداوار کا بنیادی یونٹ فرم (firm)نہیں بلکہ خاندان ہواکرتا ہے اور پیداوار کا مقصد ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے نہ کہ زائد قدر (surplus value) کی پیداوار۔ مزید یہ کہ رسد و طلب کو فطری قوانین کہنے کا فلسفہ بھی غلط در غلط ہے کیونکہ انسانی معاشروں میں کچھ ’فطری قوانین ‘ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کے اظہار کا کوئی دائرہ ایسا بھی ہے جو ہر قسم کی مابعد الطبعیات سے ماورا ہے۔ ظاہر ہے علمی طور پر یہ ایک غلط دعویٰ ہے کیونکہ انسانی معاشروں میں ایسا کوئی ’طبعی قانون ‘ کارفرما نہیں ہوتا جو ہر قسم کے انسانی مقاصد سے ما وراء ہو، یعنی انسانی معاشرہ طبعی کائینات (physical world) کی مانند نہیں جہاں انسانی ارادے و مقصد سے ماوراء بھی چند قوانین نافذ ہیں۔ ایڈم سمتھ یا دیگر ماہرین معاشیات جو یہ کہتے ہیں کہ طلب و رسد کو ئی فطری قوانین ہیں نیز افراد کے میل جول کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام خود بخود وقوع پزیر ہوجاتا ہے ایک سفید جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ قوانین صرف سرمایہ دارانہ معاشروں میں وقوع پزیر ہوتے ہیں اور چونکہ ماہرین معاشیات سرمایہ داری ہی کو فطری نظام مانتے ہیں لہٰذا ان کے نزدیک رسد و طلب فطری قوانین ہیں۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کے طرز زندگی میں حصول لذت اور نفع خوری کا رویہ نظر آتا ہے ؟ کیا حضرت عثمانؓ کے کاروبار کا مقصد نفع خوری یا زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل تھا؟ کیا کاروبار میں کامیابی کے بعد حضرت عثمانؓ نے اپنا اور دیگر صحابہ کرام کا ’معیار زندگی‘ بلند کرنے کی کوئی مہم چلائی؟ اگر معاذاللہ ان کے کاروبار کا مقصد نفع خوری اور خواہشات کی تکمیل ہی ہوتا تو یقیناًوہ اپنے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے عمدہ ہاتھی وغیرہ بطور سواری استعمال کرنا شروع کردیتے، صحابہ کرام کو قسطوں پر قرضے دے کر بہترین گھوڑے اور اونٹ فراہم کرنے کا کاروبار جماتے اور یوں غریب صحابہ کے روز گار کا بندوبست فرماتے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، آج بھی گاؤں دیہات میں رہنے والے لوگ ذاتی لذت پرستی ، نفع خوری اور حرص وحسد کی ذہنیت سے کوسوں دور ہیں۔ اسلامی معاشیات کی ایک اہم غلطی انسانی زندگی کو مختلف حصوں میں بانٹ کر دیکھنا ہے ۔ چنانچہ ایک طرف تو مولانا اپنے ’ا صلاحی خطبات ‘ میں فرد کو اپنی ذاتی زندگی میں انہیں اقدار کو اختیار کرنے کا وعظ فرماتے ہیں جن کی تلقین صوفیاے کرام نے کی، لیکن وہی فرد جب معاشی تگ و دو کرنے لگتا ہے تو اس کے لیے ان اخلاق حمیدہ سے بالکلیہ متضاد اخلاق اپنانے کا جواز فراہم کرتے ہیں، فیا للعجب ۔ 
(جاری)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی!
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ سے مسلسل فیض یاب ہو رہا ہوں۔ اللہ کریم آپ کی توانائیوں اور دینی وعلمی خدمات میں مزید برکت مرحمت فرمائے۔ آمین۔ دینی حلقوں میں پائے جانے والے فکری جمود کوتوڑنے کا عزم لائق تحسین ہے۔ اس سلسلے میں مختلف الخیال دینی وعلمی حلقوں کے افکار کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت قابل قدر ہے۔ اللہ کرے کہ یہ اقدام ’’تلذذ بالمسائل‘‘ کے بجائے قارئین ومعاونین میں دوسروں کی رائے صبر وتحمل کے ساتھ سننے اور معقول آرا پر غور وفکر کا ذریعہ بن جائے۔ 
عصر حاضر میں دینی مدارس کے اساتذہ کی فنی تربیت بہت ضروری ہے۔ یہ امر بہت حوصلہ افزا ہے کہ دینی حلقوں خصوصاً وفاق المدارس نے اس سلسلے میں کچھ اقدامات کیے ہیں۔ آپ نے ’’الشریعہ ‘‘ میں بھی اس سلسلے میں گاہے گاہے کچھ رپورٹیں اور مواد شائع کیا ہے، لیکن یہ امر محتاج بیان نہیں کہ ان سرگرمیوں کی حیثیت محض ابتدائی نوعیت کی ہے جو بالعموم اعتراف ضرورت اور ترغیبی وعظ سے زیادہ نہیں۔ 
یہ امر آپ سے مخفی نہیں کہ موجودہ دور میں فن تعلیم باقاعدہ ایک سائنس کامقام رکھتا ہے۔ چنانچہ اس میدان میں رسمی نظام تعلیم میں ہونے والی پیش رفت سے استفادہ کرتے ہوئے اسباق کی تیاری، پیشکش، سوالات کی ترتیب وتیاری، اسباق کا اعادہ، جائزہ( Evaluation) اور نظام امتحانات میں کافی بہتری لائی جا سکتی ہے تاکہ تدریس زیادہ دلچسپ اور موثر ہو، نظام امتحانات جملہ مقاصد تدریس (خصوصاً درسی مواد پر عبور اور رویے میں تبدیلی یعنی تعمیر سیرت وکردار) بشمول تلامذہ میں پیدا ہونے والی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کا قرار واقعی جائزہ لے سکے اور معلومات وکردار ی تبدیلیوں کی پیمائش بھی کی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایسے ماہرین تعلیم جو رسمی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ دینی علوم خصوصاً مدارس دینیہ میں مروج تعلیمی نظام سے کما حقہ آگاہی رکھتے ہوں، کے علوم، تجربات اور آرا سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے، میری ان گزارشات کا ہر گز یہ مدعانہیں کہ خدانخواستہ دینی مدارس کے نصابات اور تشخص میں کوئی بنیادی تبدیلی لائی جائے، بلکہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تدریس زیادہ موثر، بامقصد اور نتیجہ خیز ہو اور تشخص مزید مستحکم اور معتبر ہو۔ یہی روایت اور تشخص جاری نسلوں کی اسلامیت کا رہن ہے۔ 
امید ہے میری ان معروضات پر توجہ فرمائیں گے اور وفاق المدارس کے ذمہ داران کو بھی دعوت دیں گے۔ 
ابوطاہر 
۴۴/۱ ، کورنگ ٹاؤن
اسلام آباد 
(۲)
محترم مدیر صاحب
السلام علیکم
اگست کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون ’’مذہبی رویے۔ چند اصلاح طلب امور‘‘ میں تبلیغی جماعت پر کچھ غیر حقیقت پسندانہ اعتراضات کیے گئے ہیں۔ 
شکیل احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ’’تبلیغی جماعت میں دین کے صرف ظاہری فارم کو بنانے پر زور دیا جاتا ہے نہ کہ اندرونی انسان سازی پر۔‘‘ مجھے ان کے اس جملے پر حیرت ہو رہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں کا نمازوں کے ذریعے اللہ پاک سے مسئلے حل کروانا، تہجد کی تنہائی میں اللہ کے حضور رونا، صبح وشام کی تسبیحات کا اہتمام کرنا کیا یہ سب ’’ظاہری فارم‘‘ ہے؟ آگے لکھتے ہیں: ’’اور خالص روایتی انداز میں بات کہی جاتی ہے بنا کسی دلیل کے۔‘‘ قرآن پاک کی آیات مبارکہ، احادیث مبارکہ، انبیاے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام کے واقعات بیان کرنا ان کے نزدیک ’’روایتی انداز‘‘ اور ’’بنا کسی دلیل کے‘‘ ہے۔
اس کے بعد اپنے محلے کے ایک صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہیں جو ۱۷۰۰۰ کا رونا رو رہے ہیں، حالانکہ انھی صاحب کے داماد کا اگر امریکا یا کینیڈا کا ویزا لگ رہا ہوتا تو بخوشی چار ماہ نہیں بلکہ چار سال کے لیے بھی گوارا کرتے۔ پھر نہ تو بیٹی کی ڈلیوری کا شکوہ ہوتا اور نہ ہی ۱۷۰۰۰ کا۔ آگے تبلیغی جماعت سے جڑنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’وہ خدا کی معرفت اور دین کی حقیقت سے ہمیشہ بے خبر رہتا ہے۔‘‘ گویا زنا، شراب، سود، رشوت، موسیقی اور دیگر برائیاں چھوڑ کر پابند صلوٰۃ بننے والے افراد، امت مسلمہ کے لیے اللہ پاک کے حضور رو رو کر دعائیں مانگنے والے افراد اور اپنا جان مال وقت خرچ کر کے لوگوں کی ہدایت کے لیے در در پھرنے والے افراد ’’خدا کی معرفت اور دین کی حقیقت سے بے خبر‘‘ رہتے ہیں۔ اس کے بعد تو کوتاہ علمی کی حد سے گزر کر فضائل اعمال اور فضائل صدقات کو ’’جھوٹے فضائل‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ فضائل اعمال اور فضائل صدقات میں موجود فضائل قرآن اور حدیث سے بحوالہ نقل کیے گئے ہیں۔
مضمون کے آخر میں وحید الدین خان صاحب نے خواص کی تبلیغی جماعت سے دوری کا مفروضہ قائم کیا ہے۔ اگر ان کے نزدیک ’’خواص‘‘ سے مراد علماے کرام ہیں تو الحمد للہ علما کی اکثریت تبلیغی جماعت کے کام سے مطمئن اور اس سے محبت رکھتی ہے اور اگر ان کے نزدیک ’’خواص‘‘ سے دنیاوی تعلیم یافتہ حضرات ہیں تو یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تبلیغی جماعت میں فوج اور سول اداروں کے بڑے بڑے افسران، یونی ورسٹی اور کالجز کے کثیر تعداد میں اساتذہ اور طلبہ سرگرم عمل ہیں۔
تبلیغی جماعت نے پوری دنیا میں ایک انقلاب سے برپا کیا ہوا ہے۔ صرف فرانس کی مثال لے لیجیے جہاں آج سے چالیس پچاس سال پہلے ایک مسجد بھی نہیں تھی اور گنتی کے چند مسلمان تھے۔ اب تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت کی وجہ سے چار ہزار سے زائد مساجد اور ساٹھ لاکھ سے زائد مسلمان ہیں۔ تبلیغی جماعت کی دینی خدمات سے انکار دن کے اندر سورج کی روشنی سے انکار کے مترادف ہے۔
آخر میں ’الشریعہ‘ کے ذمہ داران سے گزارش کروں گا کہ اس انٹرنیشنل لیول کی دینی تحریک کے بارے میں اس قسم کے لچر اعتراضات پر مشتمل مضمون اپنے رسالہ شائع نہ کریں۔ کیا یہ بھی ایک ’’فکری‘‘ مضمون تھا؟
محمد وسیم انجم
جھنگ صدر
(۳)
بخدمت مولانا زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے رسالہ میں تبلیغی جماعت کے بارے میں پڑھ کر کہ پہلے یہ میواتیوں کو مسلمان بناتی تھی، اب مسلمانوں کو میواتی بناتی ہے، دکھ ہوا۔ ہمارے بزرگوں کی بنائی ہوئی جماعت بے راہ روی کا شکار کیوں ہے؟ آپ حضرات اس کے لیے کھوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھاتے تاکہ عوام کالانعام کا ایمان محفوظ ہو جائے؟ مولانا الیاسؒ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ چلہ چار ماہ لگا کر لوگوں میں دینی شعور آ جائے اور واپس آ کر علما کی خدمت میں حاضری دے کر اپنی بقیہ زندگی دین کے مطابق گزاریں۔ اب تو چلہ چار ماہ لگانے والا علما کا دشمن بن کر واپس آتا ہے۔ قرآن وحدیث کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے فیصلے مشورے سے طے ہوتے ہیں اور اپنے مشوروں کویہ لوگ الہامی قرار دے دیتے ہیں۔ گویا انھوں نے مشوروں کے ذریعے قرآن وحدیث کو ریٹائرڈ کر دیا ہے۔
ان کا اصول ہم سنتے تھے کہ کسی کے خلاف نہیں بولنا، لیکن یہ لوگ اب صحابہ کرام سے لے کر مولانا نانوتوی تک کسی کو معاف نہیں کرتے۔ بیس بیس لاکھ کے مجمع میں مجاہدین اور جہاد کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ لوگوں کے عقیدے برسرمیدان خراب کیے جا رہے ہیں۔ درس قرآن اور درس حدیث کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ آخر کب تک اس جماعت کو مقدس گائے سمجھتے رہیں گے؟ ا ن کو کچھ سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ یہ لوگ نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ جب تک مدارس دینیہ قائم ہیں، تبلیغ کا کام نہیں چل سکتا۔ مدارس کو چندے دینا حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس بارے میں علماے کرام کی ایک فکری نشست رکھی جائے اور کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کیا جائے۔ انھوں نے ابلیسی ڈائیلاگ بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی انھیں سمجھاتا ہے کہ تمہارا یہ کام قرآن وسنت کے خلاف ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ’’سنو سب کی، کرو اپنی۔‘‘ ان کے بڑوں کو سمجھانا بھی فضول ہے۔ ان میں صرف ان لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے جو نئے نئے تبلیغ میں وقت لگائیں۔ پرانوں کے بارے میں شیخ سلیم اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو تبلیغ میں جتنا پرانا ہوتا ہے، اتنا ہی بگڑتا ہے۔
علماے دیوبند ان کو اپنا سمجھتے ہیں، لیکن یہ علماے دیوبند کے کسی کام میں شریک نہیں ہوتے بلکہ علماے دیوبند کو ہی دین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ گردانتے ہیں۔ اس وقت تبلیغی جماعت میں وقت لگانے سے حق وباطل کی پہچان کی صلاحیت مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ صرف تبلیغ کو ہی دین کا کام سمجھا جانے لگا ہے، باقی سارے شعبے بیکار گردانے جا رہے ہیں۔ 
نذیر احمد
نذیر کیمسٹ۔ بوہڑ بازار
راول پنڈی

’’مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی‘‘ ۔ چند تاثرات واحساسات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

نام کتاب: مولانا مودودی کی تحریک اسلامی مع جماعت اسلامی اور اسلامی دستور
مصنف: پروفیسر محمد سرور
ناشر: دار الکتاب، کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور
سال اشاعت: جولائی ۲۰۰۴ء
قیمت: ۲۰۰ روپے
سید مودودیؒ کا دور (۱۹۰۳ تا ۱۹۷۹) برصغیر ہند و پاک کی تاریخ میں بڑا اہم دور تھا۔ مسلمانوں میں رہنماؤں کے قحط کا رونا پرانا رونا ہے، مگر اس دور میں مسلمانوں ہی میں بڑے سر برآوردہ رہنما سامنے آئے۔ سرسید، عبیداللہ سندھی، جمال الدین افغانی، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، ابو الکلام آزاد، سید عطا ء اللہ شاہ بخاری، مولانا ظفر علی خان اور آخر میں سید مودودی۔ رہنماؤں کی پوری ایک کھیپ نظر آتی ہے، لیکن تاریخ نے قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ کو ان سب پر بھاری کر دیا۔ 
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
اوپر کے تمام نام دینی اور سیاسی شناخت رکھتے ہیں، جبکہ سیادت و قیادت میں سبقت لے جانے والا نام دینی شناخت کے لحاظ سے کسی درجے میں شمار نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے۔ قیادت کی عطا میں اس کی کیا حکمت ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے۔ قیادت میں قائد اعظم کی سبقت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ قائد اعظم کو ایک بنی بنائی جماعت ملی اور وہ اس جماعت میں موجود لوگوں کو ساتھ لے کر اپنی منزل کی جانب رواں ہونے پر مجبور تھے۔ ان کے پاس اپنی صحت کے پیش نظر محدود وقت تھا۔ اس میں حصول منزل کے لیے عملی طور پر قریب ترین راستہ اختیار کرنا لازم تھا۔ وہ اسی ٹوٹی پھوٹی تنظیم کے لوگوں کو لے کر چلے اور منزل پر جا کر ہی دم لیا۔ ان کے ساتھی کسی درجے کے لوگ نہیں تھے۔ ان کے بارے میں ایک معروف روایت کے مطابق قائد اعظمؒ نے خود کہا تھا کہ میری جیب میں تمام سکے کھوٹے ہیں۔ یہ کمال قیادت ہی تھا کہ کھوٹے سکوں کی مدد سے ایک انتہائی بیمار ااور لاغر شخص، جو صحیح اردو بھی نہیں بول سکتا تھا، مقتدر انگریز اور برصغیر کی سب سے بڑی قوم یعنی ہندؤں سے چومکھی لڑائی لڑ کر ان سب کو پچھاڑنے میں کامیاب ہوا۔ یہ ان کی بہترین حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ مسلم لیگ کیا تھی اور کیا نہیں تھی، اس بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قائد محترم نے خود کہا: ’’مسلم لیگ کیا ہے ، میں اور میری بہن‘‘، ’’مسلم لیگ کیا ہے ،میں اور میرا ٹائپ رائٹر‘‘۔ تاریخ کا شعور رکھنے والا شخص یہ کہے بغیر نہیں رہے گا کہ حصول پاکستان کی تمام تر جد وجہد یقینی طور پر ایک شخص کی مرہون منت ہے۔ بر صغیر میں دوسرا قائد اعظم تو ہو ہی نہیں سکا، نہ ہو گا۔ قائد کو جو تنظیم میسر تھی، اسے مسلم لیگ کے نام سے پکارا جاتا ہے مگر اسے تنظم کہنے کے لیے دل اور دماغ پر پتھر رکھنا پڑے گا۔ 
ان حالات کے تناظر سے بالکل الگ رہ کر ایک شخص لوگوں کی تنظیم کے لیے مخصوص ہو کر رہا۔ اسے سید مودودی کہتے ہیں۔ سید ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ۱۹۷۹ء میں وفات پا ئی۔ دین اسلام کو ایک مشن کی صورت میں، صحافیانہ استعداد کو بروے کار لا کر انہوں نے قوم کی تنظیم کے لیے بھر پور کام کیا۔ ان کی قائم کردہ جماعت، جماعت اسلامی ابھی زندہ و سرگرم عمل ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ سید مودودی کا دور ابھی تک جاری ہے۔ سید علیہ الرحمہ سے براہ راست استفادہ کرنے والے ابھی باقی ہیں۔ وہ کسی حد تک سرگرم بھی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ مایوسیوں کے خلاف نبرد آزما رہے، مگر اپنی جگہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انقلاب کی منزل، سید حاصل کر سکے اور نہ ان کی جماعت۔ اس کے باوجود، پرانے لوگ اسلامی انقلاب کی آرزؤں کی اپنے سینوں میں پرورش کر رہے ہیں۔ البتہ اب ان میں سے زیادہ تر لوگ مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 
افسوس صد افسوس کہ مایوسیوں کی تخم ریزی اور افزایش اور اس کی بار آوری کے تمام مراحل بھی جماعت کی پوری تاریخ کے ساتھ ساتھ ہی رہے۔ خود سید مودودی کی اپنی تحریریں دیکھیں تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ قیام جماعت سے پہلے اور بعد کی تحریروں میں بہت فرق ہے۔ اس دور کے ’’ایک صالح جماعت کی ضرورت‘‘ جیسے مضامین بڑے ہی جاندار ہیں۔ پھر سیاسی کشمکش کے فولادی تحزیے ذہن و دل ہلا دینے والے ہیں۔ اس دور میں ان کا قلم آگ اور بارود سے کم طاقت ور نہیں تھا، مگر جماعت کے قیام کے بعد کی تحریروں میں وہ انداز ہی معدوم ہو گیا۔ یوں لگتا ہے کہ سید نے اپنی زور دار تحریروں سے برصغیر کا دینی ٹیلنٹ جمع کرنے کا منشا حاصل کر لیا ہے۔ اب اسے چھانٹنا لازم ہے۔ چنانچہ دو تین سال کے اندر اندر اسے چھانٹنے میں کام یاب ہو گئے۔ لے دے کر ایک ہی شخص رہ گیا جو کشتیاں جلا کر آیا تھا، اس کے لیے واپسی کا راستہ ہی نہیں تھا، چنانچہ وہ خم ٹھونک کر ڈٹا رہا، لیکن کب تک! آخر کار ۱۹۵۷ء میں اس کے لیے جماعت کی اندرونی فضا تنگ ہو گئی۔ وہ بھی باہر آزاد فضا میں آ نے پر مجبور ہوا۔ اس کانام گرامی امین احسن اصلاحی ہے۔
قائد کے لیے سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ مایوسیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے ماحول تیار کرے، مگر خود کبھی مایوسی کا اظہار نہ کرے۔ اگر اس کے کسی ایک جملے سے بھی مایوسی کا اظہار ہو جائے تو تاریکیوں اور مایوسیوں کو خود کمک فراہم کر دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ ترجمان القرآن جماعت کی فکر کا جشمہ جاری ہے۔ قیام جماعت کے بعد، مولانا مودودی سے لے کر مولانا نعیم صدیقی، پروفیسر عبدالحمید صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد صدیقی تک ہر دور کے اشارات دیکھ لیں۔ ان سے مایوسی پھوٹتی نظر آتی ہے۔ یہ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ اشارات پڑھ پڑھ کر بوڑھا ہو گیا ہوں۔ بلاشبہ میں نے ان تحریروں سے اپنی استعداد کے مطابق استفادہ کیا، لیکن ایک بات ہمیشہ ذہن میں کھٹک پیدا کرتی رہی کہ ان تحریروں کا مجموعی اثر مایوسی کا ہے۔ بلاشبہ میں خود متاثر نہ ہوا، لیکن ترجمان کے دیگر قاریوں کو پڑھنے کے بعد مایوسیاں پھیلانے کے مشن پر رواں دواں دیکھا۔ نتیجہ کیا ہو سکتا تھا؟ مایوسیاں اور تاریکیاں پھیلتی گئیں۔ اس پر مزید یہ ہوا کہ ان تاریکیوں اور ناکامیوں کی تعبیر روشنی اور کامیابی کی صورت میں کر لی گئی۔ اس کے لیے تمام تر اجتہادی بصیرت کام میں لائی گئی۔
فکری سرچشموں پر بیٹھ کر مایوس کن تحریریں ایسا زہر گھولتی ہیں جس پر دشمن پلتا اور دوست گھل گھل کر مر جاتا ہے۔ ایک حساس اور دل زندہ رکھنے والے کارکن کے طور پر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں ، کوئی سنے یا نہ سنے، مجھے اس سے کیا غرض ہو گی۔ 
نوا را تلخ تر می زن چوں محمل را گراں بینی
یہ بات بہر حال صاف ہے کہ ایسے لوگ اپنے منصب کے لائق نہیں۔ یہ فقہ کا مسئلہ نہیں، دل کی بات ہے۔ میری ’’اہلیت‘‘ صرف یہ ہے کہ میں نے ان حضرات کی مایوس کن تحریروں کو اپنے اندر خوب جذب کیا مگر مایوسی کو فلٹر کر کے۔ مطلب یہ ہوا کہ مایوسی کو اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ایک کارکن کی سطح سے اوپر نہیں گیا لیکن ذہن کو کارکن کی سطح سے بلند رکھنے کی کوشش کی۔ مایوسیوں کے خلاف جنگ آزما رہا مگر مایوسیوں کو قریب پھٹکنے نہ دیا۔ 
بہر حال میری زندگی کی پوری کہانی اسی ساز وستیز کے گرد گھومتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں اپنے سے بر تر پوزیشن والے شخص کے ساتھ گزارا کر سکا ہوں۔ اس میں بھی ایک بات قطعی ہے کہ جنگ کی ابتدا کبھی میری جانب سے نہیں ہوئی۔ فطری بات بھی یہ ہے کہ فروترشخص با لا دست سے چھیڑ چھاڑ کی ابتدا نہیں کر سکتا۔ جماعت اسلامی سے میرے اخراج کی اصل حقیقت صرف اتنی ہے۔ اخراج کرنے والے ارباب جماعت، با اختیار لوگ، میں ان کا کیا بگاڑ سکتا ہوں، مگر ہمیشہ یہی خیال کیا کہ وہ بھی اخراج کے سوا میرا کیا بگاڑ سکے ہیں۔ اخراج کے بعد تو ان سمجھ داروں نے مجھے مکمل آزادی دے دی ہے۔ چلیے میں اس آزادی کو برتنے میں تو آزاد ہوں، چنانچہ یہ میرے لیے سب سے بڑی متاع حیات ہے۔
بڑا دکھ ہوتا ہے کہ مجھے نکالنے والے مجھ پر خیانت، بد دیانتی، نالائقی اور کم کاری کا کوئی بھی الزام نہ لگا سکے، مگر ان کے دامن ایسی آلائشوں سے ’’روشن ‘‘رہے۔ کاش ایسا نہ ہوتا۔ مجھ پر ایسے الزامات لگتے، جھوٹے ہی لگ جاتے۔ کچھ تو کالک میرے چہرے پر آ جاتی۔ اس سے میرے مربیوں کا چہرہ تو روشن ہی رہتا۔ لیکن آج تو کیفیت یہ ہے میں ان کے روشن چہروں کو مزید روشن کرنے کی کوشش میں منہمک ہوتا ہوں تو دوست مجھ سے اصرار پوچھتے ہیں: ’’اتنے برے لوگوں کی جماعت میں دوبارہ گھسنے پر بضد کیوں ہو؟‘‘ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ ’’اگر میرے گھر سے، چور اور ڈاکو مجھے گھر سے نکال کر قبضہ کر لیں تو کیا میں اس ناجائز قبضے کو تسلیم کر لوں؟ ہرگز نہیں، مجھے قبضہ واپس ملے نہ ملے، میں ان کا قبضہ جائز تسلیم نہیں کروں گا۔ میں سر پھوڑتا رہوں گا۔‘‘
مجھے ہر دور میں ایسی آزمائش سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پہلی بار میرے ساتھ یہ تجربہ طالب علمی کے دور میں ہوا۔ ہم چار پانچ دوست اسلامی جمعیت طلبہ کے رفقا پر مشتمل تھے۔ اس دور میں عشرے کے بعد جمعیت کی کل کائنات تھی۔ خواجہ امتیاز احمد مقامی ناظم تھے۔ انہوں نے میرے خلاف تادیبی کاروائی کی اور اخبارات میں خبر بھی چھپوائی۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کو بڑے پروٹو کول کے ساتھ پکارا کرتے تھے۔ قبلہ و کعبہ کے بغیر تخاطب ممکن نہیں تھا۔ میرے بارے میں اخباری خبر یوں تھی: ’’اسلامی جمعیت طلبہ کے مقامی رفیق محمد یوسف بتخانہ کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔‘‘ گویا مجھے جو پروٹوکول دیا گیا، وہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ بہر حال میں نے اس پر خاموشی اختیار کی، اس کے بعد کئی سال جمعیت سے کوئی تعلق نہ رکھا، ما سواے اس کے کہ پنجاب یونی ورسٹی میں جہانگیر بدر کے مقابلے میں حافظ ادریس اور حفیظ خان کو دونوں دفعہ جتوانے کے لیے نعرے لگائے اور ووٹ دئیے۔ حفیظ خان کے ساتھ جاوید ہاشمی سیکریٹری منتخب ہوئے۔
لا کالج میں تعلیم کے دوران میری سرگرمیاں زیادہ تر تعلیم تک محدود رہیں۔ قانون کی ڈگری لی۔ دو سال کی تربیت حاصل کی۔ میرے سینئر چوہدری مختار احمد ایڈووکیٹ تھے۔ پنجاب بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کے روبرو پیش ہوا۔ اس طرح یہ مرحلہ پورا ہونے کو تھا کہ والد محترم نے گوجرانوالہ سے نکال دیا اور ان کے حکم کے مطابق کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ میں پریکٹس کی ابتدا کی۔ یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو کوٹ ادو میں سب ڈویژنل کورٹس میں بسم اللہ کی۔ یہ شہر میرے لیے مکمل اجنبی تھا۔ کوئی شخص میرا واقف تھا اور نہ ہی اس سے پہلے میں نے کبھی یہ شہر دیکھا تھا۔ میرے خاندان کے لوگ دس میل دور قصبہ سنانواں میں رہتے تھے۔ گوجرانوالہ سے یہاں آ کر برف خانہ کھولنے والے حافظ عبد الماجد ایڈووکیٹ مجھ سے پہلے یہاں وکالت اور کارو بار کر رہے تھے۔ اہل جماعت نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بار میں میرا نمبر سولہواں تھا۔ سب سے سینئیر وکیل جناب عبد الغفور گرمانی تھے۔ گیارہ سال پلک جھپکنے میں گزر گئے۔ جماعت کا رکن ہی نہیں، مقامی سطح پر جماعت کی جانب سے نہایت منہ زور نمائندہ بھی تسلیم کیا گیا۔
یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو والد مرحوم کے حکم پر واپس گھر لوٹا۔ گھر لوٹے تو جماعت کی رکنیت کا متاع غرور ہی میرا سرمایہ تھا۔ اسے لے کر یہاں پہنچا تو ایک بار پھر زیرو پوزیشن تھی۔ کوٹ ادو گیا تو صفر سے ابتدا کی۔ گیارہ سال بعد گوجرانوالہ صفر ہی سے پریکٹس شروع کی۔ پرائمری سے لے کر ایل ایل بی تک کے زمانہ اسی شہر میں گزارنے کے بعد ایک بار پھر اجنبی کے طور پر داخل ہوا۔ گوجرانوالہ جماعت کا ماحول ہمیشہ ہی سے صاف ستھرے شخص کے لیے بیزاری کا رہا۔ ہر جانب با صلاحیت اور پڑھے لکھے شخص کی جو کچھ نمایاں کار کردگی انجام دینے والا سامنے آیا، اسے کوئے یار سے سوئے دار تک کا سفر کرنا پڑا۔ اسی انجام سے خوف کھاتے ہوئے میرے والد محترم جماعت کے رکن بننے سے گریزاں رہے۔ میں بھی یہاں وکالت شروع کرتا تو کبھی رکن نہ بنتا۔ خیال تھا کہ شاید اکتیس سال بلا فصل امیر ضلع رہنے والے شخص کے شہرت کے راکٹ پر چاند تک پہنچنے کے بعد شاید حالات میں معمولی فرق ہوا ہو، مگر حالات پہلے سے بھی سخت تھے۔ لہٰذا مجھے اخراج کے سنچری ٹارگٹ پورا کرنے کا پندرہ سال بعد موقعہ ملنے لگا تو میں نے اپنی گردن پیش کر دی۔ ٹارگٹ کے جانب کا یہ سفر بڑا دلچسپ اور خوبصورت ہے۔ اس کی روئیداد میرے لیے زندگی بڑھانے والی ہے۔
ایک روز ایک بزرگ سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ان کی یہ بات میرے دل کی بات تھی، اس لیے بہت اچھی لگی۔ فرمانے لگے، اہل جماعت نے سخت غلطی کی۔ وہ اگر جماعت کے اندر کڑے ڈسپلن اور ماحول میں تم کو درست نہیں کر سکے تو نکال کر بدل دینے کا مطالبہ کرنے میں کیسے حق بجانب ہو سکتے ہیں؟ بہر صورت جماعت سے اخراج کے بعد اسلامی جمعیت وکلا اور اس کی قائم قام تنظیم اسلامک لائرز موومنٹ میں مجھے آخری پناہ ملی ہوئی ہے۔ یہاں سے مجھے نکالنے کی کوششیں رہتی ہیں، کبھی کبھی میں بے حمیتی اختیار کر کے لچک اختیار کر لیتا ہوں، اس طرح یہ رشتہ و پیوند بتان وہم وگماں کی طرح چل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود میرے جیسے بے شمار دوستوں کے سینوں میں انقلاب کی آرزو مر نہیں سکی۔ جماعت کو تو میں تاریخ کا اثاثہ خیال کرتا ہوں۔ اثاثہ اس معنے میں کہ اس کا مطالعہ کیا جائے اور معلوم کرنے کی کوشش کی جائے کہ اتنی منظم تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام کیوں رہی تاکہ آئندہ اٹھنے والی تحریکیں اس تحریک کی ناکامی کے اسباب سے خبر دار رہیں۔
خود سید مودودی نے اپنے دور سے پہلے کی تحریکوں کا اس پہلو سے بھر پور جائزہ لیا۔ اس لحاظ سے ان کی ’’تجدید و احیاے دین‘‘ دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں تو پوری اسلامی تاریخ پر گرفت کی۔ سیاسی تاریخ پر نقد بالکل ایک نیا موضوع تھا۔ سید مودودی علیہ الرحمہ نے اس موضوع کو دریافت کیا۔ اردومیں اس موضوع پر خلافت و ملوکیت اولین کتاب ہے۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو اس کتاب کو سید کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دوں گا۔ تصنیف کے طور پر اس کتاب کو دیکھا جائے تو سید مودودی کی شاید یہ واحد معیاری تصنیف ہو گی۔ سید کی باقی کتابیں فنی لحاظ سے مکمل تصنیف کے درجے میں مشکل ہی سے شمار ہوتی ہیں۔
سید مودودی کی خدمات کا تذکرہ یہاں مقصود نہیں۔ اس پر تو ان کا پورا دور گواہ ہے اور آئندہ کتنے زمانوں تک یہ شہادت باقی رہے گی، اس کا تعین نہیں ہو سکتا۔ سید کی فکری خدمات اور اثرات تو عالمگیر ہیں۔ ایک شخص اپنی صلاحیتوں، وسائل اور توانائیوں کے بل بوتے پر اک دنیا کو متاثر کر جائے تو اس کی زندگی کے پلس اور نیگیٹو پوانٹس کا بیلنس نکالنا بے معنی سا کام ہے۔ پھر یہ کام میرے لیے اس لیے مشکل ہے کہ میرے ذہن کا تانا بانا سید علیہ الرحمہ کی فکر سے مرتب ہوا ہے۔ یہ انہی کا دیا ہوا درس ہے کہ آنکھیں بند کر کے پیچھے چلنے کے بجائے آکھیں کھول کر سفر کیا جائے۔ وہ تو نمار میں، خدا کے حضور بھی آنکھیں بند کر کے کھڑے ہونے کو ترجیح دینے پر آمادہ نہیں، تو ایک شعوری سفر میں آنکھیں بند کر کے سفر کرنے پر اگر کوئی جماعت آمادہ ہو جائے تو ایسی جماعت کو اندھوں کی جماعت تو کہا جا سکتا ہے مگر سید کی جماعت نہیں کہا جا سکتا۔ سید مودودی علیہ الرحمہ کی خدمات کے اعتراف کرنے والے بے شمار ہیں۔ مجھے اس سے انکار کیسے ہو سکتا ہے۔ کسی کے کام کی نقد، تحسین و تعریف کے مقابلے پر کافی مشکل ہے۔ پھر اس کو اہمیت بھی نہیں دی جاتی، مگر اس کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ نقد و جرح کرنے والا ہزار میں ایک بھی نہیں ملتا۔ پھر نقد و جرح میں یہ بھی مشکل پیش آتی ہے کہ اس میں مقصدیت اور افادیت کا پہلو سامنے رکھا جائے تو کام تو بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
نقد و جرح میرا دل پسند موضوع ہے۔ پچھلے دنوں پروفیسر محمد سرور صاحب کی ایک کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں موصوف نے سید مودودی کی تحریک اور فکر کا مطالعہ پیش کیا۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی۔ جولائی ۲۰۰۴ء میں اسے سندھ ساگر اکیڈیمی لاہور نے دوبارہ شائع کیا ہے۔ یہ ۴۱۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ موضوع سے اپنی دلچسپی کی بنا پر میں نے کتاب کو پورے انہماک سے پڑھا۔ کتاب کے مرتب پروفیسر محمد سرور جامعہ ملیہ دہلی کے استاذ رہ چکے ہیں۔ دینی حلقوں میں ایک بڑا نام ہیں۔ شاہ ولی اللہ اور مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و تحریک پر پھی اپنے کام کی وجہ سے معروف ہیں۔ شورش کاشمیری کے مطابق پاکستان کے دو چار پڑھے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے مولانا سید مودودی علیہ الرحمہ کی شخصیت اور فکر کو ان کے ماحول کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اس دور کی ہم عصر شخصیات کے ساتھ ان کا تقابل کے ساتھ ساتھ تاریخی پس منظر کو بھی پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ مطالعہ اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔
پروفیسر محمد سرور خود مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے ہم عصر ہیں۔ پروفیسر صاحب ۱۹۰۶ء میں پیدا ہوئے، جب کہ سید مودودی علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۹۰۳ء کی ہے۔ سید مودودی ۱۹۷۹ء میں وفات پا گئے تو پروفیسر سرور صاحب ان کا تعاقب کرتے ہوئے ۱۹۸۳ء میں خدا کے حضور پہنچے۔ اس طرح ان کا مطالعہ اپنے دور کا مطالعہ ہے۔ اس پہلو سے بھی ان کے مشاہدات وزن رکھتے ہیں۔ سید مودودی کے بارے میں ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ اپنے دور اور ماحول کی پیداور تھے۔ یہی بات ان کے مشاہدات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ انہوں نے سید مودودی کو جامعہ ملیہ کے ماحول میں دیکھا ہے۔ اس طرح سید مودودی علیہ الرحمہ کا مطالعہ کرتے ہوئے پروفیسر صاحب اپنے مخصوص نقطہ نظر کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکے۔ اپنے مطالعے میں پروفیسر صاحب نے سید مودودی کے دور کی شخصیات سے تقابل بھی کیا ہے اور اس تقابل میں انہوں نے کسی لاگ لپیٹ سے کام نہیں لیا۔ ابوالکلام آزاد سے تقابل کرتے ہوئے انہوں نے سید مودودی کی فکر کو مولانا آزاد کی فکر کا نقش ثانی قرار دیا ہے۔ اپنے جائزے میں وہ سید کے ذہنی ڈھانچے کو سید کے خاندانی پس منظر کو اور تاریخی پس منظر کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ اس طرح وہ سید مودودی رحمہ اللہ کی نظریاتی فکر کی صداقت کوچیلنج کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی بنیاد پر کسی نظام کا تصور کوئی ٹھوس بنیاد نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق یہ طرز فکر خلافت اور بنو امیہ کے دور تک بھی موجود نہیں تھی۔ اس کی شروعات بنو عباس کے دور میں ہوئیں۔ ان کے بقول بنو عباس کے دور میں ظل الٰہی جیسے تصورات نے رواج پایا اور حکمرانوں نے مذہبی تقدس کو اپنے سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑا۔ وہ آئندہ کے لیے بھی اسلامی نظام یا انقلاب کے منشا کے ساتھ میدان عمل میں آنے کو کسی طرح قابل عمل تسلیم نہیں کرتے۔ 
سید کے فکری نظام سے اتنے واضح اختلاف کے ساتھ ساتھ وہ جماعت کے ارکان کو بڑے درد مندانہ طور پر اپیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں آ کر ان کے تجزیوں کی تمام تر عمارت بوسیدہ بنیادوں پر تعمیر شدہ معلوم ہوتی ہے۔ در اصل سید مودودی کی تحریروں کے زور میں آ کر جو دینی ٹیلنٹ ان کے گرد جمع ہوا، وہ جلد ہی چھٹ گیا۔ اس میں پروفیسر صاحب کا حلقہ بھی شامل ہے۔ اس طرح یہ حلقہ سید کی تحریروں اور فکر کے بارے میں اسی طرح کے نقطہ نظر کو پیش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ جماعت کے ارکان سے ہمدردانہ اپیل کرنے کا یہ انداز میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ تجزیہ نگار خود تو کبھی میدان عمل میں اترے ہی نہیں۔ دور بیٹھ کر خالی خولی علمی تجزیے کرنے کا شغل بڑی اچھی علمی تفریح ہو سکتی ہے، مگر وہ اپنے اندر کوئی تاثیر نہیں لا سکتی۔ یہ بات میں کسی علمی سند کے ساتھ کہنے کے بجائے اپنے تجربات کی روشنی میں کہ سکتا ہوں۔ میرا اپنا جائزہ یہ ہے کہ سید مودودی علیہ الرحمہ کی تحریروں سے کھنچ کر آنے والوں کو مولانا ساتھ لے کر نہیں چل سکے۔ سید مودودی کا یہ رویہ ان کی تحریک کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اس میں کسی کو قصور وار ٹھہرانا تو ممکن نہیں، لیکن اس کی ذمہ داری بہر صورت بطور ’’تاحیات امیر جماعت‘‘ سید مودودی پر ہی عائد ہو گی۔
بہرصورت یہاں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی تمام تر کاوش out of range firing(ہدف چھوڑ کر گولہ باری) کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے کہ مجھے ایسی فائرنگ سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ جناب سرور صاحب کے مخاطبین کو بھی اس سے مشکل ہی سے کوئی دلچسپی ہو گی۔ بلا شبہ ان کا انداز بیان بڑا ٹھوس اور مناظرانہ ہے۔ علمی لحاظ سے بھی انہوں نے کافی محنت کی ہے مگر ہدف واضح نہیں ہوتا۔ لگتا ہے کہ کسی خاص ماحول میں، فرمائش کے تحت لکھاگیا ہے۔ جماعت کے بارے میں پروفیسر صاحب نے جو کہنا چاہا، وہ آج کے دور میں دینی سیاسی کارکن قبول نہیں کرے گا۔ ہاں میرے علم میں اضافہ ہوا ہے کہ شاہ ولی اللہ کی فکر کا ایک سرچشمہ ان کے خواب بھی ہیں۔ بلاشبہ علم نفسیات کی رو سے خواب علم کا ذریعہ ہیں۔ اس مرحلہ پر کیانی کی ایک تقریر کا عنوان یاد آ گیا ہے ’’ساڈیاں خواباں وچ آیا کرو‘‘، لیکن خواب کو ہدایت اور حکمت مان لینا، کم از کم میرے لیے مشکل ہے۔ 
جناب پروفیسر محمد سرور صاحب نے سید مودودی پر فکری، نظریاتی لحاظ سے اپنے نقطہ نظر سے شدید اختلاف کیا ہے مگر سید مودودی کی تحریری اور تنظیمی صلاحیتوں کا کھل کر اور بار بار اعتراف کیا ہے۔ سید کی تحریری اسلوب کے بارے میں ان کا فرمان تو درست ہے مگر ان کی تنظیمی صلاحیتوں اور جماعت کی تنظیمی خوبیوں کے بارے میں ان کے اعترافات پر مجھے شدید تحفظات لاحق ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ سید کے تنظیمی پہلوؤں کی حقیقت سے شناسا نہیں۔ ویسے بھی جماعت پر تنقید کے سلسلہ میں میری ساری دلچسپی کا نیوکلیس تنظیمی امور ہی ہیں۔ میرے نزدیک سید مودودی کی ناکامیوں کا ایک بہت بڑا سبب جماعت کی تنظیمی خرابیاں ہیں۔ ان خرابیوں اور کمزوریوں کی نوعیت، ان کی ابتدا اور معراج، پورا ایک سلسلہ ہے جس کا مطالعہ میرا خاص موضوع ہے۔ ان کمزوریوں اور انحطاط کی ابتدا کے بارے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ
تیری تعمیر میں مضمر ہے اک خرابی کی
میرا منشا یہ ہے کہ جماعت کی تنظیمی صورت اپنی ابتدا ہی سے بے حد کمزور اور دقیانوسی تھی۔ اس میں سید مودودی رحمہ اللہ نے اپنی میزبانی کی حیثیت سے فائدہ اٹھایا اور اپنے لیے تاحیات امارت کا اہتمام کر لیا۔ جماعت کا نظام ایسا متشکل ہوا کہ سید علیہ الرحمہ کے برابری کے کسی شخص کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اس وجہ سے سید کے ہم مرتبہ لوگ جماعت کی تشکیل کے ایک دو سال بعد ہی جماعت سے دور ہو گئے۔ جماعت کی تشکیل کے موقع پر جتنا زبردست ٹیلنٹ جمع ہوا تھا، وہ چھٹ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۷۲ء میں جب سید علیہ الرحمہ کی توانائیاں جواب دے گئیں اور وہ جماعت کی امارت ترک کرنے پر مجبور ہوئے تو اس منصب کو سنبھالنے والا کوئی صاحب صلاحیت شخص، جماعت کے اندر موجود ہی نہیں تھا۔ چاروناچار جناب میاں طفیل محمد کو یہ بار گراں اٹھانا پڑا۔ محترم میاں صاحب کی سید مرحوم کے قیم کے طور پر خدمات درجہ کمال کی ہیں مگر امارت جماعت کے منصب پر ان کا فائز ہونا بہر حال خانہ پری سے زیادہ نہیں تھا۔ اس انتخاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ میاں صاحب تیس سال قیم رہ کر حقیقت میں ایگزاسٹ ہو چکے تھے۔ ایک ایگزاسٹ شخص سے کسی بڑی کارکردگی کا توقع مشکل ہوتی ہے۔ ذرا ان سے پہلے کا عرصہ دیکھیں تو سید مرحوم بھی ایوب خان کے خلاف تحریک کے بعد اگزاسٹ ہو چکے تھے۔ اس ضعف کو دیکھا جائے تو امارت جماعت کے منصب پر سید مودودی علیہ الرحمہ کا تواتر سے طویل عرصہ تک فائز رہنا بھی جماعت کی تنظیمی قوت کو گھن کی طرح کھا گیا تھا۔ بہر حال ان پہلوؤں سے ہم دقت نظر سے اپنی معروضات مرتب کریں گے۔
پروفیسر محمد سرور صاحب کی کتاب پر ہم جو کچھ کہہ سکتے تھے، کہہ چکے ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جماعت کے بارے میں لکھنے کا جو ارادہ مدت سے محتاج تکمیل چلا آ رہا تھا، اب شاید میرے اوقات میں سے کچھ زیادہ حصہ لے سکے۔ موجودہ تبصرے کو اس سلسلے کی اولین کڑی خیال کیا جا سکتا ہے۔ سردست اتنا کہنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ ترجمان القرآن کا گرتا ہوا معیار میرے لیے سخت صدمے کا باعث ہے۔ اس ماہنامے کے مدیر جناب پروفیسر خورشید احمد کی ادارت میں یہ انحطاط ناقابل فہم ہے۔ پروفیسر صاحب محترم کو لڑکپن سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کے تجزیے بڑے چشم کشا ہوتے ہیں، مگر جماعتی پالیسی کی حدوں میں قید۔ جولائی ۲۰۰۸ء کے شمارے میں پروفیسر صاحب نے آئینی پیکیج کا پوسٹ مارٹم پیش کیا ہے۔ ان کی یہ پیشکش واقعتاً بڑی ہی خوب ہے، لیکن ایک مقام پر آ کر ایک لفظ ایسا لکھ دیا ہے جو میری دانست میں ان کے موقر و محترم قلم سے سر زد نہیں ہو سکتا۔ لکھتے ہیں:
’’چیف جسٹس کی میعاد کی تحدید تین سال ہو یا پانچ سال، اس سے کم زیادہ بھی اسی قبیل کی شے ہے۔ ایک خاص شخص سے نجات اور کسی خاص شخص کو اس عہدے پر لانے کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے جو دستور کے ساتھ بد دیانتی بلکہ بد فعلی کے مترادف ہے۔‘‘ (ترجمان القرآن جولائی ۲۰۰۸ء صفحہ نمبر ۱۳)