اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح: علمی و فکری سوالات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(محمد عمار خان ناصر کی تصنیف ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کے دیباچہ کے طور پر لکھا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
مسلم ممالک میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کا مسئلہ جہاں اپنی نوعیت واہمیت کے حوالے سے ہمارے ملی فرائض اور دینی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں اس کی راہ میں حائل متنوع مشکلات اور رکاوٹوں کے باعث وہ ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور مسلم معاشروں میں اس سے نمٹنے کے لیے مختلف اطراف سے کوششیں جاری ہیں۔
ان مشکلات اور رکاوٹوں میں سیاسی، تہذیبی، اقتصادی اور عسکری امور کے ساتھ ساتھ یہ علمی رکاوٹ بھی نفاذ اسلام کی راہ روکے کھڑی ہے کہ آج کے بین الاقوامی حالات اور جدید عالمی تہذیبی ماحول میں اسلامی احکام وقوانین کی مقامی وبین الاقوامی سطح پر تطبیق کی عملی صورتیں کیا ہوں گی، اور گلوبلائزیشن کی اس فضا میں جبکہ دنیا کی کوئی قوم دوسری اقوام کے حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی اور اقوام عالم میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے اور ایک دوسرے کا اثر قبول کرنے کا دائرہ دن بدن وسیع اور ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، اسلامی احکام وقوانین کی اس کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی قابل قبول اور قابل عمل شکل کیا ہو سکتی ہے؟
مسلم ممالک میں اس حوالے سے تین رجحانات عام طو رپر پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان امتیاز بلکہ کشاکش دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے:
- آج کے عالمی ماحول، جدید ثقافتی فضا اور بین الاقوامی مطالبات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی احکام وقوانین کو اس علمی ورثے اور فقہی ذخیرے کی بنیاد پر بالکل اسی طرح نافذ کر دیا جائے جس طرح وہ ترکی کی خلافت عثمانیہ اور جنوبی ایشیا کی مغل سلطنت میں نافذ تھے اور جن کی اس وقت تک کی ارتقائی شکل ہمارے پاس ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔
- اس علمی ورثے اور فقہی ذخیرے کو ایک طرف رکھتے ہوئے جدید عالمی تقاضوں اور بین الاقوامی مطالبات کو سامنے رکھ کر قرآن وسنت بلکہ بعض حلقوں کے نزدیک صرف قرآن کریم کی بنیاد پر نئی فقہ تشکیل دی جائے اور اسے مسلم ممالک میں قانون سازی کی اساس قرار دیا جائے۔
- گزشتہ چودہ سو سال کے علمی ورثے اور فقہی ذخیرے سے ترک تعلق اور اس سے براء ت کا اظہا ر کرنے کی بجائے اسی کی بنیاد پر اور اس کے مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے نئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، جدید قانون سازی کے تقاضوں کی تکمیل کی جائے اور جن بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی عملی صورتیں اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے نکالی جا سکتی ہیں، ان سے گریز نہ کیا جائے۔
پورے عالم اسلام میں ان تین حوالوں سے علمی کام جاری ہے اور ہر حلقہ اپنی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے تگ وتاز میں مصروف ہے۔ راقم الحروف خود کو اس تیسرے حلقے میں شمار کرتا ہے اور پورے شرح صدر کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ پہلی دونوں صورتیں غیر متوازن اور غیر عملی ہیں، اس لیے کہ نہ تو یہ ممکن ہے کہ ہم آج کے عالمی ماحول کو کلیتاً نظر انداز کر دیں اور جدید بین الاقوامی تمدنی تقاضوں سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دو سو سال قبل کے اجتہادی فیصلوں اور عمل کو آج کے لیے بھی مکمل طور پر واجب العمل قرار دے دیں، ا ور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ ہم امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل، فقہاے امت کی علمی کاوشوں اور دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں اسلامی احکام و قوانین کی حکمرانی کے کم وبیش ایک ہزار سالہ تسلسل کو بین الاقوامیت کے جدید ماحول کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے قرآن کریم یا قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح کرنے بیٹھ جائیں، کیونکہ ایسا کوئی بھی عمل مسلمہ اسلامی اصولوں کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی غالب ترین اکثریت کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں ہوگا اور اس کا عملی نتیجہ مسیحیت میں مارٹن لوتھر کی پراٹسٹنٹ تحریک کی طرح سوسائٹی کو دین سے کلیتاً لاتعلق کر دینے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ اس لیے راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ:
- امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہرحال پابندی کی جائے۔
- امت مسلمہ کی غالب اکثریت کی فقہی وابستگیوں کا احترام کرتے ہوئے ہر ملک میں وہاں کی اکثریت کے فقہی رجحانات کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے، البتہ قانون سازی کو صرف اسی دائرے میں محدود رکھنے کی بجائے دوسری فقہوں سے استفادہ یا بوقت ضرورت قرآن وسنت سے براہ راست استنباط کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔ مثلاً انڈونیشیا میں شوافع کی اکثریت ہے تو اس اکثریت کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ ان کے ملک میں قانون سازی کی بنیاد فقہ شافعی پر ہو، کیونکہ یہ ایک اصولی اورمعقول بات ہونے کے علاوہ ہاں کی اکثریتی آبادی کا جمہوری حق بھی ہے۔
- جدید عالمی ثقافتی ماحول اور گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والے مسائل اور بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو نہ تو حق اور انصاف کا معیار تصور کیا جائے کہ ہم ہر تقاضے کے سامنے سپرانداز ہوتے چلے جائیں اور اس کے لیے اسلامی اصولوں اور احکام سے دست برداری یا ان کی مغرب کے لیے قابل قبول توجیہ وتعبیر ہی ہماری علمی کاوشوں کا ہدف بن کر رہ جائے اور نہ ہی ہم انھیں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نفاذ اسلام کے لیے اپنی پیش رفت کا راستہ خود ہی روکے کھڑے رہیں، بلکہ جن مطالبات اور تقاضوں کو ہم قرآن وسنت کی تعلیمات، اہل سنت کے علمی مسلمات اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کر سکتے ہیں، انھیں کھلے دل سے قبول کریں اور جو امور قرآن وسنت کی نصوص صریحہ اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں، ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں۔
اس پس منظرمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ شریعت اور اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے مختلف اطراف میں جو کام ہو رہا ہے، اس کے بارے میں بھی کچھ اصولی گزارشات ضروری سمجھتا ہوں:
۱۔ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
۲۔ سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آ رہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کر دینا بھی عملاً سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے۔
۳۔ ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے، بلکہ اس کی حیثیت ثانوی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ اس کی مطابقت کی صورت میں ہی اسے احکام وقوانین کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر بہت خوب صورت بات ہے، لیکن اس صورت میں اصل اتھارٹی سنت نہیں بلکہ مطابقت تسلیم کرنے یا نہ کرنے والے کا ذہن قرار پاتا ہے کہ وہ جس سنت کو قرآن کریم کے مطابق سمجھ لے، وہ قانون کی بنیاد بن سکتی ہے اور جس سنت کو اس کا ذہن قرآن کریم کے مطابق قرار نہ دے، وہ احکام وقوانین کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
یہاں ایک بات یہ بھی مغالطہ کا باعث بنتی ہے کہ قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مطابقت کے لیے عقل عام کو معیار تسلیم کر لیا جائے تو معاملہ قرین قیاس ہو جاتا ہے، مگر یہ سراسر مغالطہ ہے، اس لیے کہ عقل عام کی بنیاد میسر معلومات، مشاہدات اور تجربات پر ہوتی ہے جن کے دائرے زمان ومکان دونوں حوالوں سے تغیر پذیر رہتے ہیں، اس لیے عقل عام کو قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح یا ان کے درمیان تطبیق وتوفیق کا حتمی معیار قرار دینے کا مطلب قرآن وسنت کو کسی ایک دور یا علاقہ کی عقل عام کا پابند بنا دینے یا ہر زمانہ اور علاقہ کے لیے الگ الگ تعبیر وتشریح کا دروازہ کھول دینے کے مترادف ہوگا، اس لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ سنت کو ثانوی درجہ کا ماخذ قانون قرار دینے کی بجائے اسلامی قانون سازی کا مستقل ماخذ اور قرآن وسنت کی تعبیر و تشریح کا حتمی معیار تسلیم کیا جائے، جیسا کہ حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں ہوتا تھا اور اسی پر امت مسلمہ کا اجماعی تعامل چلا آ رہا ہے۔
البتہ ان حدود کی پابندی کی یہ بات فیصلہ کے مراحل کی ہے اور میرے نزدیک علامہ محمد اقبالؒ کی طرف سے قانون سازی کے لیے منتخب پارلیمنٹ کو حتمی اتھارٹی قرار دینے کی تجویز کا ایک افادی پہلو یہ بھی ہے کہ رائے عامہ کو مسترد کر کے کسی ایک گروہ کی رائے کو مسلط کر دینے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں جس کا تجربہ ہم پاکستان میں اس طرح کر چکے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک عرصہ تک سنت نبوی کو نظر انداز کرکے صرف قرآن کریم کو قانون سازی کا ماخذ قرار دینے کی تحریک چلتی رہی اور اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر بہت محنت کی گئی، لیکن جب عوام کی منتخب دستور ساز اسمبلی نے ۱۹۷۳ء میں قانون سازی کی دستوری بنیادیں طے کیں تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں تھا کہ وہ رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے قرآن وسنت ، دونوں کو قانون سازی کی بنیاد کے طور پر تسلیم کرے، بلکہ اگر کسی معاملے میں پارلیمنٹ نے بھی عوام کی جمہوری رائے اور رجحانات کو نظر انداز کیا ہے تو رائے عامہ نے اسے قبول نہیں کیا، جیسا کہ مروجہ عائلی قوانین کو اگرچہ پارلیمنٹ نے قبول کر رکھا ہے، لیکن اس کے باجود اس کی قرآن وسنت سے متصادم شقوں کے بارے میں آج بھی عوام کی غالب اکثریت اپنے سابقہ رجحانات پرقائم ہے اور ذہنی طور پر انھیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اس لیے مجھے اس بارے میں کوئی شبہہ یا پریشانی نہیں ہے کہ جب بھی حتمی فیصلہ کا مرحلہ آئے گا، عوام کے جمہوری اور اکثریتی رجحانات کو نظر انداز کر دینا کسی کے بس میں نہیں ہوگا اور نہ ہی ان سے ہٹ کر کیا جانے والا کوئی فیصلہ امت مسلمہ کو باور کرایا جا سکے گا، البتہ کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے علمی بحث ومباحثہ کا میدان محدود نہیں رہنا چاہیے اور نہ ہی ماضی میں اہل علم کے ہاں اس کا دائرہ کبھی تنگ رہا ہے۔ ہماری علمی روایت یہ چلی آ رہی ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر بحث ومباحثہ ہمیشہ کھلے دل ودماغ سے کیا گیا ہے، مسئلہ کے ہر پہلو پر بات ہوئی ہے، تجزیہ وتنقیح کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا اور استدلال واستنباط کی کوئی گنجایش ادھوری نہیں رہنے دی گئی، کیونکہ جس طرح کسی مقدمے میں صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے تفتیش کے کسی امکانی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح کسی علمی مسئلے میں صحیح نتیجے تک رسائی کے لیے اس کے تمام امکانی پہلووں کو کھنگالنا بھی ضروری ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میں اہل علم میں بحث ومباحثہ کے لیے کھلے ماحول کو پسند کرتا ہوں اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہوں۔
عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے جب حدود وتعزیرات کے حوالے سے اپنی کاوش اس کتابچہ کی صورت میں پیش کی جو اسلامی نظریاتی کونسل نے شائع کیا ہے تو مجھے اس کے تمام مندرجات سے اتفاق نہیں تھا، لیکن اس نوعیت کے مسائل میں علمی بحث ومباحثہ کے کھلے ماحول کو میں نے ہمیشہ نہ صرف پسند کیا ہے بلکہ اسے ضروری بھی سمجھتا ہوں، جیسا کہ مجھ سے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے ’’خطبہ اجتہاد‘‘ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ بطور موقف اور فیصلے کے میں اسے قبول نہیں کرتا، لیکن بحث ومباحثہ کی بنیاد اور ایجنڈے کے طور پر اس کا احترام کرتا ہوں اور اس میں اٹھائے گئے نکات پر سنجیدہ علمی بحث ومباحثہ کی حمایت کرتا ہوں۔
آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم وجدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے، مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔
عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے اسی علمی کاوش کا سلسلہ آگے بڑھایا ہے اور زیادہ وسیع تناظر میں حدود وتعزیرات اور ان سے متعلقہ امور ومسائل پر بحث کی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو سے اتفاق کیا جائے، البتہ اس علمی کاوش کا یہ حق ضرور بنتا ہے کہ اہل علم اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، بحث ومباحثہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے مثبت ومنفی پہلووں پر اظہار خیال کریں اور جہاں کوئی غلطی محسوس کریں، اسے انسانی فطرت کا تقاضا تصور کرتے ہوئے علمی مواخذہ کا حق استعمال کریں تاکہ صحیح نتیجے تک پہنچنے میں ان کی معاونت بھی شامل ہو جائے۔
میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت عزیزم عمار سلمہ کی اس کاوش کو حق تک رسائی کا ذریعہ بنائیں اور آج کے دور میں نفاذ اسلام کے حوالے سے درپیش علمی وفکری چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
شرعی سزاؤں میں ترمیم و تغیر کا مسئلہ
حافظ محمد سلیمان
موجودہ دور میں فرد کی تقدیس و احترام میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے اور اس کو پوری معاشرتی زندگی کا محور ومرکز قرار دیتے ہوئے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام کی سزائیں وحشیانہ، ظالمانہ اور متشددانہ ہیں اور ان کے ذریعے معاشرہ میں خونریزی اور بربریت وجود میں آتی ہے۔ نیز یہ سزائیں درحقیقت قدیم زمانہ کے وحشیوں کے لیے وضع کی گئی تھیں۔ چونکہ معاشرہ مسلسل ترقی کی طرف رواں دواں ہے، لہٰذا اب ان سزاؤں کو نافذ کرنا موجودہ انسانی معاشرہ کے ساتھ ناانصافی اور سراسر ظلم ہے، اس لیے اسلامی سزاؤں کو کالعدم قرار دے کر یا ان میں ترمیم کرکے عصرحاضر کے مزاج کے مطابق سزائیں رائج کی جانی چاہییں اور مثال کے طور پر قتل کے بدلے میں قتل جیسی سزا کو عمر قید میں بدل دیا جانا چاہیے۔
یہاں تین امور پر الگ الگ غور کرنا ضروری ہے:
(۱) کیا اسلامی سزائیں وحشیانہ اور بے انصافی پر مبنی ہیں اور خونریزی وبربریت کو جنم دیتی ہیں؟
(۲) کیا یہ سزائیں صرف زمانہ قدیم کے لوگوں کے لیے وضع کی گئی تھیں؟
(۳) کیا نصوص قطعیہ سے ثابت ہونے والی سزاؤں کو کالعدم کر نے یا ان میں ترمیم کرنے کا ارباب اقتدار کو اختیار حاصل ہے؟
وحشیانہ سزائیں؟
پہلا اعتراض یہ ہے کہ اسلامی سزائیں وحشیانہ اور ناانصافی پر مبنی ہیں اور ان سے خونریزی اور بربریت جنم لیتی ہے۔ اگراس مفروضہ کا بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو بالکل مہمل اور غلط نظر آتا ہے، اس لیے کہ اسلامی سزائیں نہ تو وحشیانہ ہیں اور نہ ہی بے انصافی پر مبنی ہیں، بلکہ یہ سزائیں عدل وانصاف کا تقاضا اور امن وامان کو قائم رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مثال کے طورپر قتل کی صورت میں مقتول کے ورثا کے لیے حصول حق کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں: یا تو ورثاے مقتول قاتل کو اسی طرح منطقی انجا م تک پہنچا دیں جیساکہ اس نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا ہے اور یا قاتل پر رحم کھاتے ہوئے اس سے خون بہا (دیت) لینے کا طریقہ اختیار کر لیں۔ دیکھا جائے تو یہ عین انصاف اور عقل کا تقاضا تھا کہ مقتول کے ورثا کو ان کا حق کسی نہ کسی صورت میں ملے۔ اس کو وحشیانہ اور ظالمانہ سلوک کہنا کسی طرح درست نہیں، اس لیے کہ ایک شخص نے ناحق طور پر خون بہایا اور ملک میں بدامنی اور فساد کا بیج بویا ہے، تو اب وہ اس چیز کا سزاوار ہے کہ اس کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ ورثاے مقتول کے جذبہ انتقام کو تسکین ملے اور دوسرے لوگوں کے سامنے ایک انسان کے قاتل کا منطقی انجام آجائے اور وحشت وبربریت کو پروان چڑھنے کا موقع نہ ملے۔ اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ ’ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب لعلکم تتقون‘ (البقرۃ،۲:۱۷۹) ’’اے اہل فہم! تمہارے لیے (قانون)قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم بچو۔‘‘ اسلامی دستور میں اعلان کیا گیا ہے ہر مومن کی اور امت کے ہر فرد کی زندگی یکساں قابل احترام ہے۔ مرد ہو، عورت ہو، آزاد ہو، غلام ہو، کوئی بھی ہو، جس کا جو قاتل ہو گا وہی سزا پائے گا۔ پھر سزا بھی مماثلت ومساوات پر مبنی ہے۔ (المائدۃ، ۵: ۳۲) اس کے ساتھ اسلامی قانون قصاص میں عفو کے پہلو پر بھی توجہ دی گئی ہے کہ اگر ورثاے مقتول معاف کر دیتے ہیں تواسلامی قانون اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ شریعت موسوی میں تو خون کا بدلہ صرف خون تھااور تورات میں اس طرح کی تصریحات موجود ہیں کہ ’’جو انسان کو مارڈالے گا، وہ مار ڈالا جائے گا‘‘ (احبار، ۲۴:۱۷)، ’’جو انسان کو مار ڈالے، جان سے مارا جائے‘‘ (احبار، ۲۴:۲۱)، ’’توڑنے کے بدلہ توڑنا، آنکھ کے بدلہ آنکھ، دانت کے بدلہ دانت، جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے ، اس سے ویسا ہی کیا جائے‘‘ (احبار، ۲۳: ۲۰)، مگرشریعت اسلامیہ نے صاحب حق کو عفو کے پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ (البقرۃ، ۲:۱۷۸) ایک طرف قصاص کی بظاہر سختی، دوسری طرف دیت اور عفو کی نرمی، یہ حسن امتزاج اور اعتدال وتوازن کا یہ مکمل قوام اسی قانون کا حصہ ہو سکتا ہے جوبشری دماغ سے نہیں، حکمت مطلقہ سے نکلا ہوا ہو۔
انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ اس لیے تمام حقوق میں سب سے زیادہ اہم حق جان کا تحفظ ہے کیونکہ زندگی کے تحفظ کے بغیر ایک تو انفرادی ترقی ناممکن ہے، دوسرا اجتماعی طورپر کوئی بہتر معاشرہ بھی وجود میں نہیں آ سکتا اور جب تک زندگی کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہ ہو، زندگی کے مقاصد کا حصول ناممکن ہو جاتاہے ۔ انسان کے مدنی حقوق میں اولین حق زندہ رہنے کا حق ہے اور اس کے مدنی فرائض میں سے اولین فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ کسی ذاتی فائدہ کی خاطر یاکسی ذاتی عداوت کی خاطر اپنے ایک بھائی کو قتل کرنا بدترین قساوت اور انتہائی سنگ دلی ہے جس کا ارتکاب کر کے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا ہونا تو درکنار، اس کادرجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی محال ہے۔
ایک اور جہت سے دیکھاجائے تو سزائیں ایسی وضع کی جانی چاہییں جن سے فرد اور معاشرہ کی اصلا ح مقصود ہو اور مجرم دست اندازی سے رک جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجرم کو نرم سزا مل جانے کے بعد وہ جرائم میں ملوث اور دندناتا پھرتا رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی سزا دی جائے جو خوف ناک اور دوسروں کے لیے سامان عبرت ہو۔ یہ مذکورہ صفات اسلامی سزاؤں میں بخوبی پائی جاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں اسی پہلو کے پیش نظر حکم دیا گیا ہے کہ زانی مرد وعورت کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہیے۔ (النور:۲) اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ مقصود محض سزا ہی نہیں بلکہ سزا کو عبرت کا ذریعہ بنانا ہے کہ خود فرد کی بھی اصلاح ہو اوراس سزا کی نمائش سے دیگر افراد معاشرہ بھی عبرت پکڑیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اسی پہلو کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجرم کے لیے بتقاضاے عقل ایسی سزا ہونی چاہیے کہ اس کامرتکب اپنے معاشرے میں نفور کی نگاہ سے دیکھا جائے اور ساری زندگی سوسائٹی کے دیگر افراد کے لیے سامان عبرت بنا رہے اور اس کے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرائم کرنے کی جسارت کریں گے اور اگر ایسی سزائیں نافذ نہ کی جائیں تو معاشرہ کشت وخون سے بھر جائے گا اور لوگوں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔ شاہ صاحب ؒ لکھتے ہیں کہ اس طرح کے جرائم میں محض آخرت کا خوف دلانا اور نصیحت کرنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ایسی سخت اور عبرت آموز سزا مقرر کی جائے کہ معاشرہ کے دیگر افراد کے لیے سامان عبرت بنا رہے اور لوگ اسی قسم کے فعل کی جرات نہ کریں۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ۲: ۱۵۸)
اس اعتراض کا ایک اور پہلو سے بھی جواب دیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ قوانین شرعیہ اور قوانین وضعیہ کے مابین نتائج وعواقب کے اعتبار سے پائے جانے والے فرق کو سمجھ نہیں پاتے۔ شریعت اور وضعی قانون دونوں اس بات پر تو متفق ہیں کہ جرائم کا سد با ب ہو نا چاہیے تاکہ سوسائٹی کے نظام امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو، چنانچہ شریعت اور وضعی قانون دونوں، جرائم کے سدباب کے لیے قوانین وضع کرتے ہیں،لیکن فرق یہ ہے کہ قوانین شرعیہ کی بنیادا ور زاویہ نگاہ جرائم کے سد باب کے ساتھ ساتھ ’’اخلاق فاضلہ‘‘ پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ شارع چاہتا ہے کہ اخلاقی اقدار کا پورا پورا تحفظ کیا جائے، اس لیے ہر غیر اخلاقی یا مخرب اخلاق فعل پر سزائیں وضع کی گئیں ہیں۔ اس کے برخلاف قوانین وضعیہ کو انفرادی اخلاق سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، البتہ اگر غیر اخلاقی فعل سے کسی دوسرے فردیا جماعت کے نظام یاامن عامہ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ مثلاً زنا کو لیجیے۔ اگر عورت اورمرد دونوں اپنی رضامندی سے زنا کا ارتکاب کریں تو وضعی قانون اس سے کوئی تعرض نہیں کرتا کیونکہ یہ افراد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن اگر زنا بالجبر ہوتو چونکہ یہ فعل ایک دوسرے فرد کے حق میں اس کی مرضی کے خلاف مداخلت ہے، اس لیے وضعی قانون اس میں دست اندازی کرے گا۔ لیکن شریعت زنا کو ایک غیر اخلاقی عمل سمجھتی ہے، اس لیے اس کا ارتکاب خواہ جانبین کی رضا مندی سے ہو یا بالجبر، شریعت اسے مستوجب سزا قرار دے گی۔ شریعت کایہ اصول ہے کہ اگر افراد کے اخلاق خراب ہوں گے تو جماعت بھی خراب ہو جائے گی۔ مزید برآں قوانین وضعیہ بشری میلانات ورجحانات اور انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں ہو سکتے، جبکہ قوانین شرعیہ منزل من اللہ ہونے کی وجہ سے بے عیب اور تقاضاے فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں اسلامی قوانین کی بجائے صرف قوانین وضعیہ پر عمل درآمد ہوتا ہے، وہاں عائلی نظام شکست وریخت کاشکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جہاں جہاں بھی قوانین شرعیہ کاعملی نفاذ ہوتا ہے وہاں پرشرپسند اور دون فطرت عناصر اپنے کردار کش اقدامات سے رک جاتے ہیں اور معاشرہ کو سکون قلب اور روحانی طمانینت میسر آ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے اسلامی حدودکی وجہ نفاذ یہی بتلائی ہے کہ بعض معاصی جن کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہے، یہ وہی معاصی ہیں جن کے ارتکاب سے زمین پر فساد پھیلتا ، نظام تمدن میں خلل واقع ہوتا اور مسلمانوں کے معاشرے کی طمانینت اور سکون قلب رخصت ہوجاتا ہے۔ (جحۃ اللہ البالغہ:۲،۱۵۸)
کیا اسلامی سزائیں آفاقی نہیں؟
دورحاضر میں اسی نوعیت کا یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ درحقیقت یہ اسلامی سزائیں مخصوص زمان ومکان میں مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات واطوار کو ملحوظ رکھتے ہوئے تجویز اور وضع کی گئیں تھیں اور اب چونکہ زمانہ میں ارتقا آگیا ہے اور وہ مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات واطوار نہیں رہے جن کی بنیاد پر اس طرح کی اسلامی سزائیں نافذ کی گئی تھیں، لہٰذا ضروریات زمانہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان اسلامی سزاؤں میں تجدید وترمیم کرنا ہو گی اور عصر حاضر میں ان اسلامی سزاؤں کو بعینہ رائج اور نافذ کرنا موثر اور موزوں نہیں ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ جدید ذہن مختلف تمدنی اور نفسیاتی عوامل کے تحت اسلامی سزاؤں سے اجنبیت محسوس کرتا ہے اور اس بات کاامکان ہے کہ ان سزاؤں کا نفاذ نفسیاتی طورپر دین سے دوری کا سبب بن جائے، اس لیے مصلحت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان اسلامی سزاؤں کے نفاذ کو روک دیا جانا چاہیے۔ اس کی تائید میں سیدنا عمرؓ کے عمل کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دورحکومت میں قحط سالی کی زمانہ میں چور کے لیے قطع ید کی سزا کے نفاذ پر عمل در آمد روک دیا تھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان شرعی سزاؤں کا نفاذ ہر حالت میں ضرور ی نہیں ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے نصوص شرعیہ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلامی سزائیں محض مخصوص سماج کی معاشرتی عادات واطوار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وضع نہیں کی گئی تھیں بلکہ اس کا مقرر کیا جانا اور ان کا نفاذ خداے عزوجل کے حق کے طور پر تھا۔ لہٰذا شارع کے حکم کے بغیر علمی وعقلی طو ر پر ان میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ چنانچہ جب یہودیوں نے تورات میں مقرر کردہ بعض سزاؤں کو سنگین تصور کرتے ہوئے بعض مقدمات اور فیصلوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرمی کی توقع کرتے ہوئے آپ کی طرف رجوع کیا تو قرآن مجید نے اس عمل یہود پر سخت تنقید کی اور فرمایا کہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر یہ اس کوچھوڑ کر آپ کو کیسے حکم بنا سکتے ہیں؟ (مائدہ۵:۴۳) نبی علیہ السلام نے اس مقدمے میں مجرموں پر تورات کے مطابق سزا نافذ فرمائی اور پھر فرمایا: اللھم انی اول من احیاک امرک اذ اماتوہ۔ ’’ اے خدا! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ ان لوگوں نے اسے مردہ کر رکھا تھا۔ (مسلم: رقم ۳۲۱۲)
جہاں تک اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی وجہ سے دین سے دوری کی بات ہے تو یہ بات اس حد تک درست ہے کہ دین کے احکام پر موثر عمل درآمد ان کی اعتقادی واخلاقی اساسات پر مضبوط ایمان اور شکوک وشبہات کو ازالہ کیے بغیر ممکن نہیں، تاہم اس نکتہ کی بنیاد پر شرعی سزاؤں کو جدید دور میں کلیتاً ناقابل نفاذ قرار دے کر مستقل بنیادوں پر متبادل سزاؤں کا جواز اخذ کرنا درست نہیں، اس لیے کہ پھر یہ معاملہ قانون کے عملی نفاذ کی مصلحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ فکرونظر کے زاویے میں ایک نہایت بنیادی اختلاف کو قبول کرنے تک جا پہنچتا ہے۔ جدید ذہن کا اشکال یہ ہے کہ یہ سزائیں وحشیانہ دور کی یاد گار ہیں۔ زاویہ نگاہ کایہ فرق قانون کی مابعدالطبیعیاتی اور اعتقادی بنیادوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسلام خدا کے سامنے مکمل تسلیم اور سپردگی کا نام ہے۔ یہ سپردگی مجرد قسم کے ایمان واعتقاد اور بعض ظاہری پابندیوں کو بجا لانے تک محدود نہیں، بلکہ انسانی جذبات واحساسات بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ محبت ،نفرت، ہمدردی اور غصے جیسے جذبات اور حب ذات، آزادی اور احترام انسانیت جیسے احساسات وتصورات نفس انسانی میں خدا ہی کے ودیعت کردہ اور اس اعتبار سے بجائے خود امانت کی ہیں۔ چنانچہ اسلام کے نزدیک ان کا اظہار اسی دائرۂ عمل میں اوراسی حد تک قابل قبو ل ہے جب تک وہ خداکے مقرر کردہ حدود کے پابند رہیں۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اگر ان کو کوئی مقام دیا جائے گا تو یہ خدا کی امانت کا صحیح استعمال نہیں، بلکہ اس میں خیانت کے متراد ف ہوگا۔ چنانچہ جدید انسانی نفسیات اگر جرم وسزا سے متعلق قرآنی احکام سے نفور محسو س کرتی ہے تو یہ محض قانون کی مصلحت یا اس کے سماجی تناظر کے بدل جانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں قانون کی مابعدالطبیعیاتی اساسات میں پیوست ہیں اور اس معاملے میں جدید فکرکے ساتھ کمپرومائز کا جواز فراہم کرنے کے لیے ’’اجتہاد‘‘ کے دائرے کو ایمان و اعتقاد تک وسیع کرنا پڑے گا۔
اسی طرح اس ضمن میں حضرت عمرؓ کے فیصلے سے استدلال کرنا بھی درست نہیں، اس لیے کہ کسی حکم کا اصولی طور پر واجب الاتباع نہ ہونا ایک اور چیز ہے اور کسی مخصوص صورت حال میں اس کے اطلاق میں کسی اخلاقی اور شرعی مصلحت کو ملحوظ رکھنا ایک دوسری چیز ہے۔ شریعت میں مختلف معاشرتی جرائم پرجو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان کے نفاذ میں ا ن تمام شروط وقیود اور مصالح کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے جو جرم وسزا کے باب میں عقل عام پر مبنی اخلاقیات قانون اور خود شریعت کی ہدایات ثابت ہیں۔ جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کی رعایت کرنا اور اگر وہ کسی پہلو سے معاف کیے جانے کامستحق ہو تو اسے معاف کر دینا ا نہی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول ہے۔ کسی بھی مجرم پر سزا کا نفاذ اسی صورت میں قرین انصاف ہے جب مجرم بھی کسی بھی پہلو سے رعایت کا مستحق نہ ہو۔ اگر جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کسی رعایت کا تقاضا کر رہے ہوں تو اس پہلو کونظر انداز کرتے ہوئے سزا کو نافذ کرنا عدل وانصاف اور خود شارع کی منشا کے خلاف ہے۔ چنانچہ سیدناعمرؓ نے اسی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے قحط سالی کے زمانے میں قطع ید کی سزا پر عمل درآمد کو روک دیا تھا۔ ان کے اس فیصلے سے کسی طرح یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت عمرؓ فی نفسہ ان سزاؤں کے نفاذکو غیر ابدی یا غیر آفاقی خیال کرتے تھے۔
(مذکورہ اعتراض اور اس کا جواب مکرمی مولانا عمارخان ناصر صاحب کے مضمون ’’شرعی سزاؤں کی ابدیت وآفاقیت کی بحث‘‘ (ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ فروری ۲۰۰۸ء) سے اخذ کیا گیا ہے)۔
پاکستان جیسی اسلامی سلطنت میں بعض لوگ اسلامی سزاؤں میں تغیر وتبدل کے خواہاں ہیں، حالانکہ خدا کے قانون اور اس کے رسول کی سنت نے جو حقوق مقرر کر دیے ہیں، خواہ ان کا تعلق تحفظ جان، تحفظ حرمت اور تحفظ ملکیت ہے ہو یا حصول انصاف، مساوات، آزادی اظہار رائے اور آزادی عقیدہ وغیرہ سے، ان میں کسی قسم کا تغیر وتبدل کسی کے، حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں ہے۔ اس کی توثیق اس حدیث سے ہوتی ہے جسے مستند کتب حدیث میں روایت کیا گیا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چوری کا ایک مقدمہ لایا گیا اور سفارش کے ذریعے مجرم کی سزا معاف کرانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے فرمایا: اتشفع فی حد من حدود اللہ، (کیا تم اللہ کی مقر کردہ سزا کے معاملے میں سفارش کر رہے ہو؟) اس موقع پر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: انما اھلک الذین قبلکم انہم کانو ا اذا سرق فیہم الشریف ترکوہ واذا سرق فیہم الضعیف اقاموا علیہ الحد، وایم اللہ لو ان فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا۔ (بخاری، رقم ۶۷۸۸)
شارع علیہ السلام کے اس ارشاد میں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ حدود وفرائض میں تغیر ناممکن ہے اور اس امر کا تقاضا کیا جا رہا ہے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، ان میں رائے زنی اور مداخلت نہ کرو ، بلکہ اسے من وعن لاگو کرو۔ معلوم ہوا کہ اگر کوئی مقدمہ شرعی شرائط کے ساتھ ثابت ہوجائے اور شرعی نقطہ نگاہ سے سزا کے نفاذ میں کوئی مانع نہ پایا جائے تو سفارش سزا کو ٹالنے میں کار گر نہیں ہوگی۔ چنانچہ ایک شخص حضرت زبیر بن عوام کے پاس ایک چور کو لے کر آیا اور اس کامقصد یہ تھا کہ حضرت زبیر سے اس کے حق میں سفارش کروائیں، لیکن حضرت زبیر نے کہا کہ سلطان کے دربار میں مسئلہ جانے کے بعد اب سفارش نہیں کی جا سکتی، بلکہ انہوں نے اس پر سفارش کرنے اور کروانے والے، دونوں کو لعنت کا مستحق قرار دیا۔ (تحفۃ الاحوذی، ۴:۵۸۲) جب معاملہ ارباب اقتدار تک پہنچ جائے اور وہ کسی شرعی وجہ کے بغیر اس سے پہلو تہی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیں تو ان کا معاف کردینا شارع کے ہاں معافی متصور نہیں ہو گا۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ فاذا وصل الی الوالی فعفا فلا عفا اللہ عنہ (سنن دارقطنی، ۲:۱۴۳)
قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۲)
پروفیسر میاں انعام الرحمن
وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَن قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً (بنی اسرائیل ۱۷/ ۳۳)
’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہوتو بے شک ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ، ضرور اس کی مدد کی جائے گی ‘‘
اس آیت کے آغاز میں وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ کے بیان سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ مقتول کو خون کے بدلے یا فساد فی الارض کے بجائے کسی اور وجہ سے قتل کیا گیا ہے اور یہ تاثر زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ دیتا ہے کہ قتل ، قتلِ حق نہیں ، بلکہ قتلِ ناحق ہے۔لیکن قرآنی اسلوب پکار پکار کر قاری کی توجہ اس جانب مبذول کر رہا ہے کہ بات صرف قتلِ ناحق تک محدود نہیں ، بلکہ کافی بڑھی ہوئی ہے۔ اگر وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّ کے بعدیہ بیان کر دیا جاتا کہ: ’’جو قتل کر دیا جائے تو بے شک ہم نے اس کے ولی کو طاقت دی ہے پس چاہیے کہ وہ حد سے تجاوز نہ کرے، اس کی ضرور مدد کی جائے گی ‘‘ تو قتلِ ناحق کے ابلاغ کی حد تک ، بیان میں کسی قسم کی کوئی کمی یا خامی موجود نہیں تھی ، لیکن قرآن نے ایسے بیان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک لفظ مَظْلُوماً کا اضافہ کیا ہے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس لفظ کے بغیر قرآنی منشا پوری نہیں ہو رہی تھی، اسی لیے یہ لفظ باقاعدہ برتا گیا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ یہ لفظ اس آیت میں قرآن کی منشا جاننے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔
ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رہنے دینا ، خواہ کمی کرکے یا زیادتی کر کے ، یا اسے اس کے صحیح وقت یا اصلی جگہ پر نہ رکھنا یا ہٹا دینا ۔ اس لیے ظلم کا اطلاق ہر قسم کی زیادتی اور تجاوز پر ہوتا ہے خواہ تجاوز قلیل ہو یا کثیر ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قبل ظلم کے قرآنی مفاہیم کا مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔قرآن مجید میں ظلم اپنی نوع کے اعتبار سے ، نفس پر ظلم سے لے کر خدا کے شریک ٹھہرانے تک پھیلا ہوا ہے ۔ لیکن ایک بات تقریباََ طے ہے کہ ظلم کی کوئی بھی صورت ہو ، وہ درحقیقت ظلم علی النفس ہی ہے ۔ کیونکہ انسان جب ظلم کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ظالم اپنے ظلم کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے کرتا ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ظلم کی یہ نوعیت واضح کی گئی ہے مثلاََ، البقرۃ ۰۲ : ۵۴ ، ۵۷ ، ۲۳۱ / آل عمران ۰۳: ۱۱۷، ۱۳۵ /النساء ۰۴ : ۶۴، ۱۱۰ /الاعراف ۰۷: ۲۳،۱۶۰ ، ۱۷۷ / توبہ ۹: ۳۶ ، ۷۰ / یونس ۱۰: ۴۴/ھود ۱۱ : ۱۰۱ / النحل ۱۶: ۳۳، ۱۱۸ /الکھف ۱۸ : ۳۵ / النمل ۲۷ : ۴۴ / القصص ۲۸: ۱۶ / العنکبوت ۲۹: ۴۰ / الروم ۳۰ : ۰۹/سبا ۳۴ : ۱۹ / الطلاق ۶۵ : ۰۱۔
ظلم اپنی اصل میں ظلم علی النفس ہونے کے باوجود ، محرکات و نتائج میں تنوع کے اعتبار سے ، کئی سمتوں میں پھیلا ہوا ہے ۔ مثلاً قصہ آدم و ابلیس کے اس پہلو کو ہی لیجیے کہ اللہ رب العزت نے وَقُلْنَا یَا آدَمُ اسْکُنْ أَنتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلاَ مِنْہَا رَغَداً حَیْْثُ شِءْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُونَا مِنَ الْظَّالِمِیْنَ ( البقرۃ ۰۲: ۳۵)کے بیان میںآدم ؑ کو متنبہ کیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کے نتیجے میں وہ ظالم قرار پائیں گے ، لیکن آدم ؑ شیطان کے وسوسے (فَوَسْوَسَ إِلَیْْہِ الشَّیْْطَانُ قَالَ یَا آدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَی (طہ ۲۰: ۱۲۰) میں آکر (وَعَصَی آدَمُ رَبَّہُ فَغَوَی (طہ ۲۰:۱۲۱) اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے فَتَکُونَا مِنَ الْظَّالِمِیْنَ (البقرۃ ۰۲: ۳۵) کے خدائی حکم کی تتبع میں رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی معافی کی درخواست کرتے ہیں وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَاَ (الاعراف ۰۷:۲۳) ۔معافی کی درخواست میں تشویش اور خوف کا پہلونہایت عیاں ہے۔ لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (الاعراف ۰۷:۲۳) بہرحال ! معافی کی یہ التجا ظاہر کرتی ہے کہ آدم ؑ نے نافرمانی یا پھسلاہٹ کا مظاہرہ ، خدائی حکم کی جان بوجھ کرخلاف ورزی کے لیے نہیں کیا ، ورنہ وہ لازماََ متکبرانہ انداز اختیار کرتے اور اکڑتے پھرتے ، بلکہ اس کے برعکس ان کی التجا ایک لحاظ سے گواہ بن جاتی ہے کہ ان کی نافرمانی کے پیچھے (جس کی وجہ سے وہ ظالمین میں شامل ہو گئے ہیں ) ، کوئی ایسا محرک ہے جس نے ان سے نافرمانی کراتے ہوئے بھی ، انہیں اس اخلاقی سطح پر قائم و دائم رکھا ہے کہ وہ اکڑنے کے بجائے مغفرت و بخشش کے طلب گار ہوئے ہیں ۔ قرآن کے مطابق وہ محرک ،بھو ل نسیان ہے (وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلَی آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْماً (طہ ۲۰: ۱۱۵) ۔ اس لیے انہیں معاف کر دیا جاتا ہے (فَتَلَقَّی آدَمُ مِن رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (البقرۃ ۰۲ : ۳۷)۔ قرآن مجید میں دیگر مقامات پر بھی ، اسی نوعیت کے بھول چوک والے ظالم کو مغفرت کی بشارت دی گئی ہے، مثلاً:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللّہِ وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآؤُوکَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّہَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ۰۴ : ۶۴)
’’ اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تمہارے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کے لیے اللہ سے معافی چاہے ، تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ‘‘
وَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْماً (النساء ۰۴ : ۱۱۰)
’’ اور جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا ‘‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زیرِ نظر آیت ( بنی اسرائیل ۱۷ : ۳۳)میں ظلم ، اسی نوعیت کا ہے ؟ اس کابدیہی جواب یہ ہے کہ ظالم (قاتل) کی نہ تو کسی بھول کا بیان ہوا ہے اور نہ ہی توبہ استغفار کا کوئی ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اسے ظلم کی مذکورہ نوع میں شامل کرنا کسی طرح مناسب نہیں ۔ ظلم اگرچہ آغاز کے اعتبار سے ، ظلم علی النفس ہی ہے، لیکن محرکات و نتائج اسے نہایت سنگین بنا دیتے ہیں ۔ ظلم کی انتہائی سنگین نوع سے شناسائی بھی قصہ آدم و ابلیس سے ہوجاتی ہے:
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَاءِکَۃِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِ أَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ أَوْلِیَاء مِن دُونِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِءْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلاً (الکہف ۱۸: ۵۰)
’’ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، قوم جن سے تھا ، تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا ، بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو ، اور وہ تمہارے دشمن ہیں ، ظالموں کو کیا ہی برا بدل ملا ‘‘۔
ایک اور مقام پر اس کی وضاحت إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان ۳۱: ۱۳) کے الفاظ میں کی گئی ہے ۔ظلم کے حوالے سے ہی سورۃ المائدۃ (آیات ۲۷ تا ۳۱) میں آدم ؑ کے بیٹوں میں سے ایک کے دوسرے کو قتل کر دینے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس قصے کے ظالم بھائی کی ندامت کو، جو غالباََ لاش چھپانے سے لاعلمی پر مبنی ہے ، بڑھا چڑھا کر بھائی کے قتل تک بھی پھیلا لیا جائے تو یہ ندامت فرعون کے اس نا قابلِ قبول ایمان کے مانند معلوم ہوتی ہے جو وہ ڈوبتے وقت لے آیا تھا ۔ مقتول بھائی نے یہ کہہ کرکہ ’’ میں چاہتا ہوں کہ تم اٹھاؤ میرا بھی گناہ اور اپنا بھی گناہ ، تو ہو جاؤ گے اہلِ دوزخ میں سے ، اور یہ سزا ہے ظالموں کی ‘‘قتل پر آمادہ بھائی کے انجام کے ساتھ ساتھ اپنے قتل کی نوعیت کی بھی نشاندہی کر دی ہے کہ وہ مظلوم مقتول ہے ۔ ’’تو اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کی جان لینے پر رغبت دلائی ، تو اسے قتل کر دیا ، اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ کا بیان آدم ؑ کے مقتول بیٹے کا بیان نہیں ، بلکہ الہی حکم ہے ، جس میں کسی ابہام کے بغیر نہایت صراحت سے ظالم بھائی کو خاسر قرار دیا گیا ہے ۔ قصہ آدم و ابلیس میں ، آدم ؑ کی تشویش کا ذکر ہوا تھا کہ ظالم ہونے کے ناطے ، انہیں خاسر قرار دیے جانے کا ڈر تھا: لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (الاعراف ۰۷:۲۳) ۔لیکن ان کے ظلم کے محرک اور ظلم کی نو عیت نے انہیں خاسر ہونے سے بچا لیا تھا۔ آ دم ؑ کے ظلم کی نوعیت ، کسی دوسرے شخص کی حق تلفی یا اس سے بھی بڑھ کر جان لینے کی حد تک نہیں بڑھی ، بلکہ نسیان کے سبب ، حکمِ الٰہی کی نافرمانی تک محدود ہے ۔ لیکن آدم ؑ کے بیٹوں کے قصے میں حکمِ الہی کی صریحاََ نافرمانی تو ہے ہی ، اس کے علاوہ ظلم اپنی نوعیت کے لحاظ سے کسی دوسرے شخص کی حق تلفی سے بڑھتا ہوا اس کی جان لینے کی انتہائی حد تک جا پہنچاہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زیرِ نظر آیت (بنی اسرائیل ۱۷ : ۳۳)کے مظلوم کا قاتل ، آدم ؑ کے ظالم بیٹے سے مماثل ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہر دو جگہ تقریباََ یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ صاف معلوم ہورہا ہے کہ قتل ، ظالمانہ ہے اور ظلم ، کسی دوسرے کی جان لینے کی حد تک بڑھ گیا ہے۔ ’ مَظْلُوما‘ بہت ٹھوس انداز میں مقتول کی مظلومیت کی شہادت دے رہا ہے کہ صرف قتلِ ناحق ہی وقوع پذیر نہیں ہوا ، بلکہ ایسا ظلم رونما ہوا ہے جس میں مقتول نے قاتل کو کسی قسم کا اشتعال نہیں دلایا اور قاتل نے تقریباً یک طرفہ طور پر انتہائی ظالمانہ انداز میں قتل کا ارتکاب کیا ہے جیسا کہ آدم ؑ کے مقتول بیٹے کے بیان سے بھی واضح ہوتا ہے ’’ اگر تم نے میری طرف ہاتھ بڑھایا کہ مجھے قتل کرو تو میں اپنا ہاتھ تمہاری طرف تمہیں قتل کرنے کے لیے نہیں بڑھاؤں گا ، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘ ۔ لہٰذا ہر دو مقامات پر قاتل کوئی ایسا جواز پیش کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے مقتول کو بھی ایک درجے میں ذمہ دار ٹھہراکر قاتل کے لیے نرمی کی کوئی گنجایش نکالی جا سکے ، اس لیے بنی اسرائیل ۱۷:۳۳ کے مظلوم کا قاتل بھی ، آدم ؑ کے مقتول بیٹے کے اس قول کا مصداق ہے ’’ میں چاہتا ہوں کہ تم اٹھاؤ میرا بھی گناہ اور اپنا بھی گناہ ، تو ہو جاؤ گے اہلِ دوزخ میں سے ، اور یہ سزا ہے ظالموں کی‘‘۔ اور اس امر میں بھی شک کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ مظلوم کے قاتل پر حکمِ الہٰی ’’ اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ کا بھی اطلاق ہوتا ہے ، اسی لیے یہاں معافی و خون بہا کا سرے سے بیان ہی موجود نہیں ۔ المختصر ! زیرِ نظر آیت (بنی اسرائیل ۱۷:۳۳) میں ، ظلم کی نوعیت و معنویت ، قتل کے ساتھ منسلک ہے ۔ قرآن میں قتل کی انواع کا بھی بیان ہوا ہے اور قتلِ خطا و قتلِ عمد کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے(النساء ۰۴ : ۹۲، ۹۳) لیکن زیرِ نظر آیت میں قُتِلَ مَظْلُوماً کے الفاظ، قتل و ظلم کے معنوی حدود اربع کے فہم کے لیے، آدم ؑ کے بیٹوں کے قصے سے استفادہ کر رہے ہیں ۔
مَظْلُوماً اور آیت کا تکمیلی لفظ مَنْصُوراً پورے قرآن میں غالباََ اسی مقام پر استعمال ہوئے ہیں ۔ اس لیے ان کا ایک ہی مقام پر خاص انتخاب ، دونوں میں کسی گہرے داخلی تعلق کی غمازی کرتا ہے ۔ اس تعلق سے جنم لینے والی معنویت ، چھپائے نہیں چھپتی ۔مظلوم کی مدد کا یہ بیان بھی دیکھیے :
أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ (الحج۲۲:۳۹)
’’ اجازت دی جاتی ہے انہیں جن سے جنگ کی جارہی ہے اس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا ہے اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ‘‘
ان دونوں الفاظ (ظلم، نصر ) کے قرآنی محلات ، باہمی تعلق پر مبنی معنویت مزید واضح کرتے ہیں۔ قرآن نے نہایت صراحت سے بیان کیا ہے کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مظلوم کا کوئی مددگار ہوتا ہے :
فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِن نَّصِیْرٍ (فاطر ۳۵: ۳۷)
’’ تو اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ‘‘
وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِن نَّصِیْرٍ (الحج ۲۲ :۷۱)
’’ اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے ‘‘
وَالظَّالِمُونَ مَا لَہُم مِّن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ ( الشوری ۴۲/ ۰۸)
’’ اور ظالموں کا نہ کوئی ولی اور نہ مددگار ‘‘
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا أَہْوَاء ہُم بِغَیْْرِ عِلْمٍ فَمَن یَہْدِیْ مَنْ أَضَلَّ اللَّہُ وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِیْنَ (الروم ۳۰: ۲۹)
’’ بلکہ ان ظالموں نے بغیر علم کے اپنے خیالات کا اتباع کر رکھا ہے ، سو اسے کون راہ پر لائے جسے خدا گم راہ کرے ، اور ان کا کوئی مددگار نہیں ‘‘
زیرِ نظر آیت ( بنی اسرائیل ۱۷ / ۳۳ ) میں قصاص کے بجائے ’سُلْطَاناً‘ کا استعمال غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔غالباً یہ مقتول کا مظلوم ہونا ہے جس کی وجہ سے یہ لفظ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ، مقتول کے مظلومانہ قتل کے پیشِ نظر اس کے ولی کی ذہنی حالت اور نفسیاتی کیفیت کا لحاظ رکھنے کے سلسلے میں یہ لفظ یہاں وارد ہو اہے ۔ ہماری رائے میں ’سُلْطَاناً‘ کا آیت کے تکمیلی لفظ ’ مَنْصُوراً‘ کے ساتھ گہرا داخلی ربط قائم ہے، اس ربط کی ایک نظیر قرآن میں ایسی صراحت سے سامنے آئی ہے جس سے زیرِ نظر آیت میں اس ربط کی معنویت و حکمت پوری شان کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے:
وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً ( بنی اسرائیل۱۷:۸۰ )
’’ اور کہہ اے میرے رب داخل کر مجھ کو داخل کرنا سچا اور نکال مجھ کو نکالنا سچا ، اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ (سُلْطَاناً نَّصِیْراً) دے ‘‘
مقتول کی مظلومیت اور اس کے ولی کو سلطان بنانے کا بیان ، اس لحاظ سے اہم ہے کہ سلطان اور ظالم کے قرآنی اطلاقات، ایک دوسرے کے تقریباََ مقابل کھڑے نظر آتے ہیں :
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَمَأْوَاہُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَی الظَّالِمِیْنَ (آل عمران ۰۳ :۱۵۱)
’’ ہم ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر کوئی دلیل(سُلْطَاناً) اس نے نہیں اتاری ہے اور جگہ ان کی آگ ہے اور کیا برا ٹھکانہ ہے ظالموں کا ‘‘
وَقَالَ الشَّیْْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الأَمْرُ إِنَّ اللّہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّکُمْ فَأَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْْکُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلاَ تَلُومُونِیْ وَلُومُواْ أَنفُسَکُم مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِکُمْ وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِیَّ إِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَا أَشْرَکْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (ابراہیم ۱۴:۲۲)
’’اور شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے سچے وعدے کیے تھے اور میں بھی کچھ وعدے کیے تھے سو میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کیے تھے اور میرا تم پر اور تو کچھ زور (سُلْطَان) نہ چلتا تھا بجز اس کے کہ میں نے تم کو بلایا تھا سو تم نے میرا کہنا مان لیا تو تم مجھ پر ملامت مت کرو اور ملامت اپنے آپ کو کرو ، نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو ، وہ جو تم نے پہلے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں اس سے سخت بیزار ہوں ، بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے ‘‘
ہَؤُلَاء قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِہِ آلِہَۃً لَّوْلَا یَأْتُونَ عَلَیْْہِم بِسُلْطَانٍ بَیِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللَّہِ کَذِباً (الکہف ۱۸: ۱۵)
’’ یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا الہ بنا رکھے ہیں ،کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند (بِسُلْطَانٍ بَیِّن) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے ‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بنی اسرائیل ۱۷آیت ۳۳ میں مظلوم مقتول کے ولی کو (سُلْطَاناً) بنانے کا بیان خاص حکمت کا حامل ہے ۔ اگر ولی کو صرف طاقت و زور دینا مقصود ہوتا تو کسی اور لفظ کے ذریعے بھی ادائیگی ہو سکتی تھی ۔ اس لیے معنوی سطح پر سُلْطَاناً، ایک طرف (مَظْلُوماً) کے ساتھ اور دوسری طرف (مَنْصُوراً) کے ساتھ ، گہرا داخلی تعلق رکھتا ہے ۔ ذرا مختلف زاویے سے ، اس تعلق کی ایک مثال یہ آیت ہے :
وَیَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَمَا لَیْْسَ لَہُم بِہِ عِلْمٌ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِن نَّصِیْرٍ (الحج ۲۲: ۷۱)
’’ اور وہ عبادت کرتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر اس کی جس کے لیے اللہ نے کوئی دلیل ( سُلْطَاناً )نہیں اتاری اور نہ اس کے متعلق انہیں کچھ علم ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے ‘‘
اندریں صورت ، قرآنی منشا کی تلاش میں ’’ سُلْطَاناً‘‘ کے قرآنی مفاہیم تک رسائی بہت ضروری ہو جاتی ہے :
أَتُرِیْدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً مُّبِیْناً (النساء ۰۴:۱۴۴)
’’ کیا یہ چاہتے ہوکہ اپنے اوپر اللہ کے لیے صریح حجت(سُلْطَاناً مُّبِیْناً) کر لو ‘‘
اس آیت کا استفہامیہ انداز بتاتا ہے کہ سلطان، صفاتِ الہیہ میں سے نہیں ہے ، لیکن چونکہ استفہام کے ایک سرے پر خدا موجود ہے اور اسی کے لیے (سُلْطَاناً مُّبِیْناً) استعمال ہوا ہے ، اس لیے (سُلْطَاناً) کی معنویت کی بابت یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ کسی قسم کی بے انصافی اور اخلاق باختگی اسے چھو کر بھی نہیں گزری ۔حضرت سلیمان ؑ بھی جب ہد ہد کو غیر حاضر پاتے ہیں تو فرماتے ہیں :
لَأُعَذِّبَنَّہُ عَذَاباً شَدِیْداً أَوْ لَأَذْبَحَنَّہُ أَوْ لَیَأْتِیَنِّیْ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (النمل ۲۷: ۲۱)
’’ ضرور میں اسے سخت عذاب کروں گا یا ذبح کر دوں گا یا کوئی صاف حجت (بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ) میرے پاس لائے‘‘
مذکورہ دو آیات (النساء ۴: ۱۴۴ /النمل ۲۷: ۲۱) کے تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’سلطان‘‘ ساختیاتی اعتبار سے کسی ایسے جواز پر دلالت کرتا ہے، جس کے بعد مزید حیل و حجت کی گنجایش باقی نہیں رہتی ۔ البتہ، طرفین کے مقام اور موقع محل کی نسبت سے ، جواز کی نوعیت اور درجے میں تبدیلی ہو سکتی ہے ۔ قرآن میں مختلف مواقع پر ’’سلطان‘‘ کا جس طرح بیان ہوا ہے اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہر قسم کی آلایشوں سے پاک جوازاور صریح حجت ، عطیہ خداوندی ہے ۔ اس لیے جب رسولوں سے ’’سلطان ‘‘ کا تقاضا کیا گیا :
فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (ابراہیم ۱۴: ۱۰)
’’ اب کوئی روشن سند (بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ) ہمارے پاس لے آؤ ‘‘
تو انہوں نے جواب دیا :
وَمَا کَانَ لَنَا أَن نَّأْتِیَکُم بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّہِ (ابراہیم ۱۴:۱۱)
’’ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو دلیل (بِسُلْطَانٍ)دکھائیں‘‘
ایک مقام پر، سلطان کی استثنائی حیثیت کے ساتھ ، جن و انس کو چیلنج کیا گیا ہے :
یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ (الرحمن ۵۵: ۳۳)
’’ اے جن و انس کے گرو ہ اگر تم سے ہو سکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ ، مگر بدون زور (بِسُلْطَانٍ )کے نہیں نکل سکتے ‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ جن و انس ، سلطان کے ساتھ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل سکتے ہیں ، اور سلطان (وَمَا کَانَ لَنَا أَن نَّأْتِیَکُم بِسُلْطَانٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّہِ (ابراہیم ۱۴:۱۱) کے مصداق ، عطیہ خداوندی ہے ۔ بعض مقامات پر تو قرآن نے طنز کی آمیزش کے ساتھ باقاعدہ چیلنج کیا ہے کہ تمہارے پاس ’’سلطان‘‘ ہو ہی نہیں سکتا :
أَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَسْتَمِعُونَ فِیْہِ فَلْیَأْتِ مُسْتَمِعُہُم بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (الطور ۵۲:۳۸)
’’ یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند ( بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ) لائے ‘‘۔
إِنْ عِندَکُم مِّن سُلْطَانٍ بِہَذَا (یونس ۱۰: ۶۸)
’’ تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند (سُلْطَانٍ )نہیں ‘‘
اسی لیے قرآنی اطلاقات میں، کہیں بھی شیطان کوحقیقی معنوں میں ’’ سلطان‘‘ حاصل نہیں :
إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْْہِمْ سُلْطَانٌ وَکَفَی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً (بنی اسرائیل ۱۷:۶۵)
’’ بے شک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو(سُلْطَانٌ ) نہیں ، اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو ‘‘
وَمَا کَانَ لَہُ عَلَیْْہِم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن یُؤْمِنُ بِالْآخِرَۃِ مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ وَرَبُّکَ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ حَفِیْظٌ (سبا۳۴:۲۱)
’’ اور شیطان کا ان پر کچھ قابو (سُلْطَانٍ) نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھا دیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے شک میں ہے اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے ‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی کو سلطان اس لیے ہی حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اس کا مستحق ہے بلکہ اس کے ذریعے دوسروں کی آزمایش مقصود ہوتی ہے ، اس لیے سلطان کا حامل حقیقی معنوں میں سلطان کا حامل نہیں بھی ہو سکتا ۔ اس نکتے کی مزید وضاحت سورۃ النحل کی ان آیات سے ہوتی ہے :
إِنَّہُ لَیْْسَ لَہُ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ إِنَّمَا سُلْطَانُہُ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہُ وَالَّذِیْنَ ہُم بِہِ مُشْرِکُونَ (النحل، ۹۹، ۱۰۰)
’’ بے شک اس کا کوئی قابو (سُلْطَان) ان پر نہیں جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔اس کا قابو (سُلْطَانُہُ) انہیں پر ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں ‘‘
غور کیجیے کہ طرفین (انسان اور شیطان ) میں سے انسان جس مقام پر کھڑا ہوتا ہے اسی سے سلطان کی نوعیت اور وقوع پذیری میں فوری تبدیلی آ جاتی ہے ۔ سورۃ النحل ۱۶ آیت ۱۰۰ کے مطابق ، چونکہ انسان(پورے قرآنی سیاق میں ) کذب و ظلم کا مرتکب ہو کر شیطان کو شریک ٹھہراتا ہے ،جو توحید کے مقابل جعل سازی ہے اس لیے شیطان کو بھی ایسے انسان پر جعلی سلطان حاصل ہو جاتا ہے ۔ بہرحال ! سورۃ سبا اور سورۃ النحل کی مذکورہ آیات کو دیکھیے اور غور کیجیے کہ سلطان کے ساتھ، آخرت ، توکل ، اور توحید جیسے اہم قرآنی تصورات وابستہ ہو گئے ہیں ۔قرآن مجید میں بعض مقامات پر ، لوگوں کے شرک کرنے اور دیگر اخلاقی امراض میں مبتلا ہونے پر ، یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اللہ نے ان کو(ان امور کے لیے کوئی جواز ) سلطان عطا کیا ہے ؟:
أَمْ أَنزَلْنَا عَلَیْْہِمْ سُلْطَاناً فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِہِ یُشْرِکُونَ (الروم ۳۰: ۳۵)
’’ کیا ہم نے ان پر کوئی سند (سُلْطَاناً )نازل کی ہے کہ وہ ان کو شرک کرنے کو کہہ رہی ہے ‘‘
وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً (الاعراف ۰۷:۳۳)
’’اور یہ کہ تم شریک بناؤ اللہ کا ان کو کہ نہیں نازل کی اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند(سُلْطَاناً )‘‘
مزید دیکھیے: الانعام ۰۶:۸۱/الاعراف ۰۷: ۷۱/غافر۴۰:۳۵۔
سلطان، قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ کی طرف سے ، حجت ، سند ، دلیل ، اختیار اور غلبہ وغیرہ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے :
وَأُوْلَءِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْْہِمْ سُلْطَاناً مُّبِیْناً (النساء ۰۴:۹۱)
’’ اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار(سُلْطَاناً مُّبِیْناً ) دیا ہے۔‘‘
وَآتَیْْنَا مُوسَی سُلْطَاناً مُّبِیْناً (النساء ۰۴:۱۵۳)
’’ اور موسیٰ کو صریح غلبہ ( سُلْطَاناً مُّبِیْناً )دیا ‘‘
ِّوَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَاناً (القصص ۲۸:۳۵)
’’ اور تم دونوں کو شوکت (سُلْطَاناً)عطا فرمائیں گے‘‘
وَأَنْ لَّا تَعْلُوا عَلَی اللَّہِ إِنِّیْ آتِیْکُم بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (الدخان ۴۴: ۱۹)
’’ اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس ایک روشن سند( بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ ) لاتا ہوں ‘‘
وَفِیْ مُوسَی إِذْ أَرْسَلْنَاہُ إِلَی فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ (الذاریات ۵۱:۳۸)
’’ اور موسی میں جب ہم نے اسے روشن سند (َ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ )کے ساتھ فرعون پاس بھیجا ‘‘
سلطان کے مذکورہ مفاہیم، اس کی متنوع معنویت کی بابت داخلی شہادت فراہم کر رہے ہیں ۔ اگر ان آیات کو تفصیل سے دیکھا جائے جہاں اللہ نے رسولوں کو سلطان عطا فرمایا ہے تو یہ اہم نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اس اتمامِ حجت اور عطیہ خداوندی کے بعد حکم عدولی کی صورت میں متعلقہ قومیں تباہ و برباد کر دی گئیں ۔ اب زیرِ نظر آیت (بنی اسرائیل ۱۷: ۳۳) کے اس حصے (فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) پر غور کیجیے کہ ولی کو آخر سلطان ہی کیوں بنایاگیا ہے ؟۔اگر ولی کواختیار ، طاقت یا زور دینا مقصود تھا تو کسی اور لفظ سے مدعا ادا ہو سکتا تھا ، اور اگر مقصود ، دلیل و حجت یا سند دینا تھا تو اس کے لیے بھی ایسا لفظ برتا جا سکتا تھا جو اسی مفہوم کو قطعیت کے ساتھ ادا کرسکتا تھا ۔ لہٰذا اس آیت میں ( سُلْطَاناً) کا بیان ، معنوی سطح پر کم ازکم دو سمتوں میں پھیلا ہوا ہے۔ اگر ایک سمت میں ولی کو ایسا اختیار، جواز اور زور ملتا نظر آتا ہے جس کے پیچھے خدائی سند موجود ہے تو دوسری سمت میں معاشرے کے لیے انذار کا اہتمام موجود ہے کہ مظلوم مقتول کے ولی کو جب اللہ رب العزت نے سُلْطَاناً بنا دیا تو پھر اس کے بعد حکم عدولی کی صورت میں ، تباہی و بربادی اس معاشرے کا مقدر ہو گی ۔اگر سُلْطَاناً اور آیت کے تکمیلی لفظَ مَنْصُوراً کے باہمی داخلی ربط پر نظر رکھی جائے تو ولی کے لیے بشارت اور معاشرے کے لیے انذار کی مذکور معنویت مزیداجاگر ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اس آیت میں مقتول کی مظلومیت کی وجہ سے ولی کو سُلْطَاناً بنانے کا بیان ، ایک اعتبار سے رسولوں کو سُلْطَاناً عطا کرنے کے مماثل ہے، جس کے انکار کا نتیجہ بربادی ہی بربادی ہے۔
بنی اسرائیل ۱۷: ۳۳ کے اس حصے (فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) کا، البقرۃ ۰۲: ۱۷۸ کے اس حصے( فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْءٌ) سے تقابل و موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مقام پر مقتول کے وارث کو بھائی کہا گیا ہے اور دوسرے مقام پر ولی ۔ اب اگر قاتل کو معاملہ طے کرنا ہو تو ، جس مقتول کے وارث کو بھائی کہا جارہا ہے، اس کے ساتھ معاملہ طے کرنے میں اسے آسانی ہو گی یا اس کے ساتھ ، جسے مقتول کا ولی قرار دیا جارہا ہے ؟ ۔ ظاہر ہے قاتل کے لیے بھائی کے بجائے ولی کافی روکھا اور سرد لفظ معلوم ہوتا ہے ۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ (لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً) کے بیان میں ولی کوایسی زبردست طاقت و جواز دینے کا اہتمام پایا جاتا ہے جس کے بعد کسی دلیل یا حجت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، جبکہ أَخِیْہِ کے بیان میں ولی کے حوالے سے ، اخوت و الفت جیسی جملہ خصوصیات سموئی گئی ہیں ۔اسی طرح فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً میں ولی،کسی سمجھوتے کے بجائے طاقت و جواز کا جھنڈا لہراتا نظر آتا ہے جبکہ فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْء کے بیان میں مقتول کا وارث معافی کی درخواست ایک حد تک قبول کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ لہٰذا ہر دو مقامات پر مخصوص الفاظ کا انتخاب ، قتل کی مختلف انواع کی غمازی کر تاہے ۔ یعنی جواز کے تحت قتل اور ظالمانہ قتل ، اگرچہ دونوں قتلِ ناحق کے ذیل میں آتے ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل آیت ۳۳میں مقتول کو باقاعدہ مظلوم گرداننا اور اس کے ولی کا طاقت (سُلْطَانا)مکمل اختیار رکھنا ، قتلِ ناحق کی شدید صورت کو ظاہر کرتا ہے ۔ شاید اسی لیے اس آیت میں معافی و خون بہا کا سرے سے ذکر ہی نہیں ۔ ظاہر ہے ایسے اعصاب شکن اور انتہائی تناؤ والے ماحول میں ولی کواسراف فی القتل سے روکنا ہی بڑی بات ہے چہ جائے کہ اس سے معافی کی توقع رکھی جائے ۔
بنی اسرائیل ۱۷ کی زیرِ نظر آیت ۳۳ میں سُلْطَانا کی موجودگی اور دیت ، عفو اور صدقے جیسے الفاظ کی عدم موجودگی اس تاثر کو مزید تقویت دیتی ہے کہ قاتل کو کسی بھی قیمت پر ہرگز نہ چھوڑا جائے ۔ ظاہر ہے ظالم قاتل سے کسی کو بھی ہمدردی نہیں ہوگی اور زبان خلق پکار پکار کر کہے گی کہ اسے بالکل نہ چھوڑا جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کے مطابق کسی شخص کا مظلومانہ قتل ، کسی بھی معاشرے کے ا جتماعی اخلاقی ضمیر کے لیے ناقابلِ برداشت اور ناقبلِ ہضم ہونا چاہیے ۔ مقتول کے ولی کی طاقت و معاونت کے پیچھے درحقیقت یہی ضمیر کارفرما ہے۔
جہاں تک قتل کے فعل میں ، اسراف کی ممانعت کا تعلق ہے اس سلسلے میں’’ اسراف‘‘ کے قرآنی اطلاقات راہنمائی فراہم کرتے ہیں ،جن سے صراحت ہوتی ہے کہ قتل کے فعل میں ’’غلو‘‘ سے روکا گیا ہے ، مثلاََ : (النساء ۰۴:۰۶ / الانعام ۰۶:۱۴۱/ الاعراف ۰۷:۳۱)۔قرآن میں ایک مقام پر اسراف کے مقابل دوسری انتہا کا ذکر کرکے مطلوب و مقصود ’’توازن‘‘کی نشاندہی کر دی گئی ہے :
وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْْنَ ذَلِکَ قَوَاماً (الفرقان ۲۵/ ۶۷)
’’اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال پر رہیں ‘‘
اگر بنی اسرائیل آیت ۳۳ کے بیان(فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ) میں، دوسری انتہا (وَلَمْ یَقْتُرُوا) کو بوجوہ، شامل سمجھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حدِ اعتدال ، معروف کے مطابق قتل ہے ۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مظلوم مقتول کے بدلے میں قتل نہ کرنا بھی قرآنی منشا کے منافی ہے ، شاید اسی لیے یہاں معافی و خون بہا کو کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔قرآن میں ایک مقام پر اسراف کی معنویت ، زیرِ نظر آیت میں اسراف کی ممانعت کو قتل کرنے کے طریقہ کار تک بڑھا دیتی ہے:
إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (الاعراف ۰۷/۸۱)
’’تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر ، بلکہ تم قوم ہو حد سے نکل جانے والے ‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ولی پر لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ قاتل کو قتل کرنے کے عمل میں ، خلافِ فطرت، خلافِ وضع یا معروف کے خلاف ، کوئی شرم ناک طریقہ نہیں اپنائے گا۔ اس لیے (فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ) کے بعد (إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً) کے الفاظ داخلی شہادت دے رہے ہیں کہ ولی کو کسی ایسے منفی اقدام سے روک کر اس کی مدد کی جائے گی۔قابلِ غور امر یہ ہے کہ اس مدد کرنے کے بیان میں، ولی کو ایک خاص درجے میں متنبہ کیا گیا ہے ، لیکن یہ تنبیہ اتنے لطیف کنایے میں ہے کہ ولی پر گراں نہیں گزرتی ۔ ظاہر ہے کہ تنبیہ پر مشتمل یہ مدد ، ریاستی نظم کے ذریعے سے ہی ممکن ہو سکے گی جس کے پیچھے اجتماعی معاشرتی ضمیر لازماً موجود ہو گا۔ قرآن میں اسراف کا بیان ، اللہ سے لا تعلقی و بے نیازی کے معنی میں بھی آیا ہے :
وَإِذَا مَسَّ الإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِہِ أَوْ قَاعِداً أَوْ قَآءِماً فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہُ مَرَّ کَأَن لَّمْ یَدْعُنَا إِلَی ضُرٍّ مَّسَّہُ کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (یونس ۱۰/۱۲)
’’ اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے ، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسا چلتا ہوتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا ، اسی طرح مسرفین کے لیے آراستہ ہوا وہ طرزِ عمل جو وہ اختیار کیے ہوئے تھے ‘‘
گویا زیرِ نظر آیت (بنی اسرائیل ۱۷:۳۳)میں یہ معنویت بھی موجود ہے کہ اگرچہ مظلوم مقتول کا ولی مشکل حالات میں اللہ کو پکارتا ہے اور اللہ اس کو ’’سلطان‘‘ بنا دیتا ہے ، لیکن جب قاتل اس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے تو وہ خود کو حق بجانب خیال کرتے ہوئے ظالم قاتل کو انتہائی برے انداز میں قتل کرکے ، اپنے تئیں عین فطرت کے مطابق حق کام سرانجام دینے کی کوشش کر سکتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شخص کا مظلومانہ قتل ایسی صورتِ حال کو جنم دے سکتا ہے جس میں مقتول کا ولی بھڑک کر اسراف فی القتل کا نہ صرف مرتکب ہو سکتا ہے بلکہ اپنے عمل کو حق بجانب بھی خیال کر سکتا ہے ۔ اس لیے ایسے قتل کی مخصوص نوعیت کے پیشِ نظر ہی اس آیت میں ’’ قصاص ‘‘ کے بجائے اسراف فی القتل کی ممانعت کرکے حقیقت میں قصاص کا حکم دیا گیا ہے اور اس حکم میں مضمر ممانعت کے اندر ہی نہایت لطیف انداز میں ولی کو اسراف سے وابستہ، آراستگی و زینت پر متنبہ بھی کر دیا گیا ہے ۔ قرآن کے مطابق مسرفین ، اسراف کو اس وقت مزین و آراستہ دیکھتے ہیں جب وہ اللہ سے لاتعلقی و بے نیازی کا رویہ اختیار کرتے ہیں ، اس لیے مسرف کو آیاتِ الہی اور خدائی احکامات کا منکر قرار دیا گیا ہے، دیکھیے : یونس ۱۰:۸۳/طہ ۲۰ :۱۲۷/الانبیاء ۲۱:۰۹/ غافر ۴۰: ۲۸ ، ۳۴ ، ۴۳/ الزخرف ۴۳: ۰۵/الدخان ۴۴:۳۱/الذاریات ۵۱:۳۴ ۔اس استشہاد سے، مذکورہ لطیف تنبیہ ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ لہٰذا نفسیاتی اور اخلاقی لحاظ سے ، ولی کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہنا چاہیے کہ اسراف فی القتل کا عمل اسے آیاتِ الہٰی کے منکرین میں شامل کر سکتا ہے ۔
زیرِ نظر آیت میں چونکہ مقتول ، مظلوم ہے اس لیے معاشرے کی اس کے ساتھ فطری ہمدردی اور اس کے ولی کی ذہنی حالت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، اسراف فی القتل کی ممانعت کے حکم کے باوجود ، اسراف ہوجانے کی صورت میں لچک کا پہلو رکھا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ قرآن مجید میں اسراف کی جو معنوی پرتیں پائی جاتی ہیں ان میں اسراف کے محرکات و نتائج کو کافی اہمیت دی دگئی ہے، مثلاً: ’’اور مت مانو حکم مسرفین کا ، جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور نہیں اصلاح کرتے‘‘ (الشعراء ۲۶/۱۵۱، ۱۵۲) لیکن جہاں کہیں انسان ضد اور ہٹ دھرمی کے بجائے بے اختیاری و مجبوری میں اسراف کا ارتکاب کرتا ہے، وہاں اللہ رب العزت نے بخشش و رحمت کی بھر پور امید دلائی ہے :
وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِیْ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (آل عمران ۰۳/۱۴۷)
’’اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوائے اس دعا کے کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں اور ہمارے قدم جما دے اور مدد دے ہم کو اوپر قوم کافروں کے ‘‘
قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ (الزمر ۳۹/۵۳)
’’ تم فرماؤ اے میرے وہ بندو اجنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے ‘‘
چونکہ مظلوم مقتول کا ولی اسراف کرنے کی صورت میں ، بے اختیاری کی کیفیت میں اسراف کرتا ہے ، اس لیے وہ جان بوجھ کر ایک خاص باغی ذہن کے ساتھآیاتِ الہی اور منشائے ربانی کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ اب چونکہ ولی ، ذہنی حالت کے لحاظ سے خدا کا باغی نہیں ہے اس لیے اسراف ہو جانے کی صورت میں اسے مغفرت و رحمت کی امید لازماََ رکھنی چاہیے ۔ زیرِ نظر آیت کے تکمیلی الفاظ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً سے اس نکتے کی مزید تصریح ہوتی ہے ۔ کیونکہ قرآن میں اسراف کی ممانعت کی آیات کا خاتمہ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (الانعام ۰۶/۱۴۱، الاعراف ۰۷/۳۱)کے الفاظ میں کیا گیا ہے ، لہذ اسراف کی صورت میں، اگر ولی کے لیے لچک کی گنجایش مقصود نہ ہوتی تو اس آیت کے اختتام پر بھیِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً کے بجائے إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْن کے الفاظ پائے جاتے ۔لہٰذاِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوراً کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں کہ قرآن نے مقتول کی مظلومیت اور ولی کی ذہنی حالت کا پورا خیال رکھا ہے ۔ اگر إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْن کے الفاظ برتے جاتے تو مقتول کی مظلومیت اور ولی کی ذہنی حالت دھیان میں نہیں رہ سکتی تھی ، اس پر مستزاد یہ تاثر ملتا کہ قرآن، قاتل کو (ظالم ہونے کے باوجود ) کسی نہ کسی حوالے سے کوئی تحفظ دینا چاہتا ہے ۔
اسراف کے محرکات و نتائج کے حوالے سے ، بنی اسرائیل ۱۷/آیت ۳۳ کا تقابل المائدۃ ۰۵/۳۲ سے کیا جائے تو اس مسرف کو چہرہ سامنے آتا ہے جو قرآن کی نظر میں معتوب ہے:
مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (المائدۃ ۰۵/۳۲)
’’اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ، مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں ‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقی (سزا کا مستحق )مسرف وہ ہے جو خون کے بدلے یا فساد فی الارض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قتلِ نفس کا رتکاب کر کے احکامات الہٰی کی دھجیاں اڑا تاہے۔ لہٰذا بنی اسرائیل کی زیرِ نظر آیت میں مقتول کا قاتل ، مقتول کے ’’ مظلوم ‘‘ ہونے کی وجہ سے مسرفین میں شمار کیا جا سکتا ہے کہ وہ مذکورہ وجوہات کے علاوہ کسی اور وجہ سے پہل کرتے ہوئے قتل کا مرتکب ہوا ہے ۔ مظلوم مقتول کے ولی کی پوزیشن اس سے کافی مختلف ہے، وہ اگر اسراف کا مرتکب ہوتا بھی ہے تو اولاََ ، پہل نہیں کرتا ، دوم ، خون کے بدلے میں اسراف کرتا ہے جس کے پیچھے بشری کم زوری چھپی ہوتی ہے نہ کہ حقیقی مسرف کے مانند احکاماتِ الہٰی کو چیلنج کرنے کی باغیانہ ذہنیت ۔اسی لیے محرکات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، مسرف ہونے کی صورت میں اس کے لیے لچک کی گنجایش باقی رکھی گئی ہے ۔
المختصر ! بنی اسرائیل ۱۷: ۳۳ سے واضح ہوتا ہے کہ مظلومانہ قتل کا واقعہ رونما ہونے کی صورت میں ، مقتول کے ولی کے پاس بدلہ لینے کا، خدائی سند پر مبنی پورا جواز موجود ہوگا ، یہ جواز اسے طاقت و اختیار سے نوازے گا ۔ خدائی سند اور سماجی منظوری کی حامل ایسی زبردست طاقت ملنے کے بعد ولی کو اسراف فی القتل کی آراستگی سے بچنا ہو گا کہ وہ آیاتِ الہی کے منکرین میں شمار ہو سکتا ہے ۔ اگر وہ نہیں بچ پاتا تو معاشرے و ریاست کوچاہیے کہ اس پر آیاتِ الہی کے منکرکا لیبل چسپاں نہ کریں اور اس کے عمل کو بشری کم زوری پر محمول کرتے ہوئے حکمت و تدبر سے کام لیں۔
(جاری)
اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۳)
محمد زاہد صدیق مغل
نفع کمانے کو نفع خوری پر قیاس کرنے کی غلطی:
اسلامی ماہرین معاشیات نفع کمانے اور علم معاشیات کے تصور نفع خوری (profit-maximization) کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کاروبار کے نتیجے میں جو نفع حاصل ہوتا ہے اسلام اس کا قائل ہے لیکن اسلام نفع خوری کا ہرگز قائل نہیں۔ نفع تو کسی مقصد کے لیے کمایا جاتا ہے جیسے حضرت عثمانؓ کے نفع کمانے کا مقصد غزوات میں سرمایے کی فراہمی، غریب مسلمانوں کی مدد وغیرہ تھا، اس کے مقابلے میں نفع خوری کا مطلب نفع کا حصول بالذات مقصود (profit for the sake of profit) اور تعقل (rationality) کی بنیاد بنا لینا ہے۔ نفع خوری کی اس مکروہ ذہنیت کا سب سے عمدہ اظہار اسٹاک ایکسچینج کاروبار میں ہوتا ہے جہاں فرد اسٹاک صرف اور صرف اس لیے خریدتا ہے کہ وہ سرمایے میں لگاتار اضافہ کرتا ہی چلا جائے اور اس دھن میں لگا رہے کہ کس کمپنی کے شئیرز منافع (capital gain) پر بیچ کر ایسی کمپنی کے شئیرز میں لگائے جہاں سے مزید نفع کی امید ہو۔ اگر آپ اس سے پوچھیں کہ یہ شئیرز تم کیوں خرید اور بیچ رہے ہو تو اس کا جواب ’مزید نفع سے مزید نفع کمانا‘ ہوگا، یعنی وہ نفع اس لیے کماتا ہے کہ اس سے مزید نفع کماتا چلا جائے ۔ جوائنٹ اسٹاک کمپنی درحقیقت اسی نفع خوری (accumulation for the sake of accumulation)کی ذہنیت کا اظہار ہے جس کا مقصد وجود صرف اور صرف سرمایے کی بڑھوتری ہوتا ہے، اس کا اور کوئی معاشرتی مقصد ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود ایک کامیاب تاجر ہونے کے حضرت عثمانؓ نے امیر صحابہ کی دولت جمع کرکے زر کے بازار (بینک اور اسٹاک ایکسچینج ) کی داغ بیل نہ ڈالی کیونکہ ان اداروں کا تو مقصد ہی نفع خوری کا عموم ہے ۔ انسانی خواہشات کی لامحدودیت اور اس کے حصول کو انسانی جدوجہد کی بنیاد مان کر جو معاشرتی صف بندی وجود میں آتی ہے وہاں ایسے اداروں کی ضرورت پڑتی ہے جو ذرائع میں لگاتار اور جلد از جلد اضافے کا حصول ممکن بناتے ہوں اور زر کے بازار اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
نفع کمانے اور نفع خوری کا فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ ’اسلام نے نفع کمانے کو حرام قرار نہیں دیا‘۔ آج کل ’فلاں کام حرام نہیں ہے‘ کا فلسفہ بے دریغ استعمال کیا جانے لگا ہے، لہٰذا یہاں اس پر بھی کچھ کہنا ضروری ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے مان لیا جائے کہ اسلام نفع خوری کو حرام نہیں کہتا، پھر بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ یہ کوئی مطلوب و مستحسن کام ہے؟ کسی عمل کے حرام نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ مطلوب بھی ہے۔ مثلاً دنیا کا ہر مفتی یہ فتویٰ دے گا کہ طلاق دینا حرام نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بنیاد پر کوئی شخص طلاق کے فروغ کے لیے قریہ قریہ جا کر دفاتر کھول لے، عورتوں کو طلاق لینے پر اکسانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کرتا پھرے، انہیں طلاق کے بعد پہنچنے والے معاشی نقصانات کا مداوا کرنے کے لیے معاشی سکیمیں پیش کرے وغیرہ، اور جب اس سے پوچھا جائے کہ بھائی یہ کیا غضب کررہے ہو تو وہ معصومیت سے جواب دے کہ ’جناب اسلام میں طلاق دینا اور لینا حرام کب ہے؟ میں تو مظلوم عورتوں کے حقوق کا تحفظ کررہا ہوں‘۔ اسی طرح اسلام میں پر تعیش زندگی گزارنا بہر حال ’حرام‘ نہیں بلکہ نا پسندیدہ (مکروہ) ہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اسلامی ریاست کا مقصد معاشرے میں ایسے اداروں کا فروغ ہوگا جو لوگوں کو پر تعیش زندگی گزارنے کی ترغیب دیں گے؟ اور پھر ’اسلامی قحبہ خانے‘ کے مالک کا کیا قصور ہے کہ اس کا یہ ’شرعی جواز‘ نہ مانا جائے کہ اسلام نے شہوانی جذبے کا جائز طریقے سے اظہار حرام کب قرار دیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہی کیوں دیتا؟ نیز اسلامی معیشت دانوں کے فلسفے کو بنیاد بنا کر وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ’جناب اسلام میں جائز اور ناجائز کا فرق صرف طریقہ کار پر مبنی ہے، اگر جانور بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا جائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے ورنہ حرام، اسی طرح میں نے غیر اسلامی کوٹھوں کو غیر شرعی طریقوں سے پاک کرکے اصول شریعہ (Shariah compliance) کی روشنی میں اسلامی قحبہ خانے میں تبدیل کرکے اسے جائز کردیا ہے‘۔ مسلم مفکرین کی ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ مغرب اور اسلام میں چند ظاہری (superficial)مماثلتوں کو بنیاد بنا کر اسلامی تعلیمات کو مغربی تناظر پر چسپاں کرنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دونوں نظاموں میں ان اعمال کی مقصدیت یکسر مختلف ہوتی ہے جو اس کی مابعد الطبعیات سے طے پاتی ہے۔ ’اسلام میں نفع حرام نہیں ہے‘ کو بنیاد بنا کر تمام سرمایہ دارانہ اداروں (بینک اور اسٹاک ایکسچینج وغیرہ ) کی اسلام کاری اسی غلط فہمی کا شاخسانہ ہے۔ اس دلیل کی غلطی واضح کرنے کے لیے ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی مثال ہی کافی ہے لیکن چونکہ یہ غلطی ہر جگہ عام ہے لہٰذا اسے سمجھانے کے لیے ہم چند اور مثالیں پیش کرتے ہیں۔ دیکھئے حضرت عیسی علیہ السلام بطور ایک جسمانی وجود ایک معین شخصیت ہیں لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصور مسیحیت میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہماری مابعد الطبعیات میں وہ ایک رسول بشر جبکہ ان کے ہاں خدا ہیں۔ اگر کوئی مسلمانوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کا نام سن کر یہ دعویٰ کرے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے حضرت عیسی علیہ السلام ایک ہی شخص ہیں تو کیا یہ کہنا درست ہوگا؟ اب ایک عملی مثال لیجئے۔ فرض کریں کوئی شخص صحابہ کرام کی گھوڑ دوڑ اور نیزہ بازی اور چند دیگر کھیلوں کی بنیاد پر دور جدید کے اولمپک گیمز اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں کا اثبات کرنے لگے تو ایسے قیاس کو قیاس مع الفارق نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟ اس شخص کا قیاس اس مفروضے پر مبنی ہے کہ موجودہ کھیل کی نوعیت بھی ویسی ہی ہے جیسی صحابہ کے کھیلوں کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کھیل صرف کھیل نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک معاشرتی ادارہ (social institution)ہیں، جن کی حیثیت اربوں ڈالر سرمایے کی ایک انڈسٹری کی ہے، جس کے بقا کے لیے ضروری ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگیوں کا مقصد ہی کھیلنا بن جائے یعنی کھیل ہی انکی پہچان (profession)ہو ، عوام الناس دنیا و آخرت سے بے پرواہ ہوکر جنونیوں کی طرح کھیلوں کے تماش بین بن کر اربوں ڈالر ان پر برباد کردیں، اور تو اور حکومتوں کا بھی یہ بنیادی وظیفہ ہو کہ وہ کھیلوں کے فروغ کے لیے سہولتیں فراہم کرے تاکہ عوام الناس ان میں مشغول ہوں اور اپنی نسلوں کو جہنم کی تیاری کرنے کے لیے کھلاڑی بنانے پر راغب ہوں وغیرہ وغیرہ۔ آخر کھیل ایک ’وقتی شخصی تفریح ‘ اور ’کھیل ایک معاشرتی ادارے ‘ میں کیا مماثلت ہے؟ بالکل اسی طرح ’مقاصد زندگی کے لیے نفع کمانے ‘ اور ’نفع ہی کمانے کو مقصد بنانے والے ادارے‘ میں مماثلت ہی کیا ہے؟ اسی طرز کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ بخاری شریف (کتاب الحدود) میں ایک ایسے صحابیؓ کا ذکر موجود ہے جو رسالت ماب ﷺ کی فرحت طبع کی خاطر مزاح فرماتے۔ اب فرض کریں کوئی شخص ان صحابیؓ کے عمل کو بنیاد بنا کر معاذاللہ موجودہ دور میں مزاحیہ اداکاری (comedy) کی پوری انڈسٹری کو ’اسلامی ثابت‘ کرنے لگے تو ایسے اجتہاد کو فساد نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟
ساخت اور مقصد کا تعلق باہمی نظر انداز کرنے کی غلطی:
چنانچہ اسلامی تصور ات وقف اور بیت المال سے کمپنی بطور شخص قانونی کا جواز ایسا ہی ہے جیسے صحابہ کے کھیل سے اولمپک گیمز کا جواز۔ اسلامی معاشیات کی ایک بڑی خامی ساخت (structure)اور مقصدیت (sprit) کے تعلق باہمی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل کے لیے یہ نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس کی ساخت (structure) کا حصول مقصد اور اس کے دوام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ افراد جب کسی شے کے حصول کو اپنا مقصد بنا تے ہیں تو اس کے حصول کے لیے کوئی نہ کوئی انتظامی شکل ضرور اختیار کرتے ہیں اور بہت سی انتظامی شکلوں میں سے وہی شکل زندہ رہ جاتی ہے جو زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہوتی ہے۔ افراد کی خود سے اختیار کردہ مخصوص انتظامی ہیئت ان معنوں میں تو ضروری نہیں ہوتی کہ وہ بذات خود اصلاً مطلوب تھی ، مگر ان معنوں میں یقیناضروری ہوتی ہے کہ اس کی بقا سے افراد کے معا شرتی مقاصد قائم رہتے ہیں اور اس کا انہدام ان تمام مقاصد کے انہدام کا باعث بھی بنتا ہے جو اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ ساخت و ڈھانچے کے اندر جو روح [spirit or substance] موجود ہوتی ہے اسے اس ساخت سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شریعت کے بیان کردہ ڈھانچے غیر متبدل ہوتے ہیں کیونکہ شریعت نے ایسے ڈھانچوں کی نشان دہی کردی ہے جنہیں اختیار کرکے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی نظام زندگی بدن اور روح کے آمیختے کا نام ہے ، ساخت اور روح ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ ہر ڈھانچے اور نظام کی اپنی روحانیت (spirituality) اور دانش (wisdom) ہوتی ہے جو اس کے اندر سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے ، جب تک آپ اس نظام کو اس کی ساخت کے ساتھ چلاتے رہتے ہیں تو اس کی مخفی دانش (potential wisdom) اور روحانیت(potential spirituality) ایسے ایسے طریقوں سے اپنا اظہار کرتی رہتی ہے کہ جن کا ادراک کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ عمل کی ساخت اور اس کی روح کے تعلق کی وضاحت چند آسان مثالوں سے کی جا سکتی ہے۔ کھڑے ہو کر کھانے والے نظام کی اپنی دانش وروحانیت ہے جو حرص و حسد کی عمومیت کے ذریعے ظہور پزیر ہوتی ہے، لیکن اسلامی آداب طعام کی روحانیت و دانش دسترخوان پربیٹھ کر کھانے میں مضمر ہے۔ جو شخص دسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے وہ کھڑے ہو کر کھانے والوں کی طرح لوٹ مار، چھینا جھپٹی نہیں کرسکتا، وہ دسترخوان پر تعلقات کے ایک ایسے تانے بانے میں بند ھ جاتا ہے جہاں اس کی نقل و حرکت ناممکن ہو جاتی ہے۔ وہ حالت حرکت سے حالت سکون میں آجاتا ہے، وہ ایک پیالے سے دوسرے پیالے ایک برتن سے دوسرے برتن کی طرف آزادانہ رجوع نہیں کرسکتا۔ جو کچھ اس کے سامنے میسر و موجود ہے وہ اسی پر اکتفا کرتاہے ، صرف اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ جو لوگ فروکش ہیں ان کا حصہ بھی ان چیزوں میں موجود ہے جو سامنے برتنوں میں رکھی ہیں اس سے وہ اعتناء نہیں کرسکتا ۔ اگر برتن میں پانچ بوٹیاں ہیں اور کھانے والے بھی پانچ ہیں توکوئی فرد پانچوں بوٹیاں اپنی رکابی میں ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ پانچ نگاہیں اس کے تعاقب میں ہوں گی، اس کا اخلاقی وجود کڑی نگرانی میں ہوتا ہے۔ کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا لیکن نفس لوامۃ اور اخلاقیات کا قانون دسترخوان کے ڈھانچے کے ذریعے فرد پر مسلط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے جبر سے اوپر نہیں اٹھ سکتا۔ اس کے برعکس کھڑے ہو کر کھانے کی اخلاقیات ہی دوسری ہوتی ہے، ایک میز سے وہ پسند کی بوٹیاں و اشیاء چنتا ہے پسند نہیں آتیں تو دوسری میز پر پھینک کر نئی رکابی اٹھا کر دوسری اشیاء استعمال کرنا شروع کردیتا ہے، پسندیدہ اشیاء ایک میز پر نہ ملیں تو وہ ہر میز پر گھوم پھر کر ڈھونڈتا اور لوٹتا رہتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنا زماں و مکاں تیزی سے بدل رہاہے لہٰذا کسی کی نظر میں نہیں ہے صرف نفس امارہ (حرص و حسد و ہوس) کی گرفت میں ہے۔ دیکھئے ہمارے گاؤں دیہات میں بیٹھک وغیرہ جیسے ادارے گاؤں کے حالات حاضرہ کو افراد تک پہنچا نے اور ایک ساتھ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کی اقدار کے فروغ کا مکمل نظام تھا ۔ ان نشستوں کے ختم ہونے سے وہ روحانی ما حول بھی ہما رے معا شروں سے رخصت ہو گیا جو انکا مرہون منت تھا۔ غور کیجئے نماز تراویح جب مساجد سے نکل کر شادی ہالوں، کمیونٹی سینٹروں اور ہالوں میں جاتی ہے تو اس کی روحانیت سلب ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس تقریب کے انتظامات میں مصروف ہو کر تراویح کی عبادت سے قصداً رضا کارانہ محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ کچھ ویڈیو بناتے ہیں ،کچھ صوتی نظام چلاتے ہیں ، کچھ کتابوں کے اسٹال پر بیٹھتے ہیں، کچھ کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، کچھ چائے بنانے کے انتظام میں مصروف ہوتے ہیں، کچھ تھک کر کرسیوں پر آرام فرما ہوکرچائے پی رہے ہوتے ہیں، کچھ سستانے لگتے ہیں، وقفوں میں چائے کا دور اور کھانے پینے کاسلسلہ چلتا ہے۔ نتیجتاً وہ روحانیت مفقود ہو تی ہے جو تراویح کا حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مسجد کا ادارہ چھوڑتے ہی یہ روحانیت بھی رخصت ہو جاتی ہے، روحانیت اس خاص ڈھانچے کے اندر ہے وہ ڈھانچہ نہیں رہے گا تو روحانیت بھی نہیں رہے گی اور دنیا کو، حرص و ہوس کو ، لذت دنیا کو اس روحانیت میں دخل اندازی کی کھلی اجازت خود بخود مل جاتی ہے ۔ ساخت کوئی غیر اقدار ی (value-neutral or objective free)شے نہیں ہوتی، بلکہ ہر ساخت ایک مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہی مددگار ہوتی ہے۔ چوپالوں اور بیٹھکوں کے ذریعے مل جل کر رہنے کی معاشرت ہی کو عام کیا جا سکتا ہے ان کے ذریعے اغراض پر مبنی معاشرت کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہر ساخت افراد کے مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر وضع کردہ تعلقات کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوتی ہے۔ ساخت اور روح کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ساخت ختم ہوتے ہی روح بھی تحلیل ہوجاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ساخت ختم ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ افراد کے تعلقات کا وہ تانا بانا جو اس مقصد کے حصول کی ضمانت تھا، اب موجود نہیں رہا۔
ساخت اور مقصد کا تعلق بیان کرنے کے لیے مثالیں اس لیے بیان کی گئیں کہ اسلامی تصورات وقف اور بیت المال سے کمپنی کے جواز کی غلطی واضح ہوسکے۔ کمپنی یا کارپوریشن کیا ہے؟ بڑھوتری برائے بڑھوتری(accumulation for the sake of accumulation) کے مقصد و عمل کو ممکن بنانے کا ذریعہ اور ساخت۔ اسے خوبصورت الفاظ میں یوں ادا کرتے ہیں کہ کمپنی کا مقصد شئیر ہولڈرز کے نفع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہے اور اس اضافے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر چکر میں حاصل ہونے والے نفع کی کاروبار میں سرمایہ کاری (reinvestment) کرتے چلے جاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کے منافع میں اضافے کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی، یعنی یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کمپنی کتنا نفع کمانا چاہتی ہے اور کاروبار کے حجم میں کتنی توسیع چاہتی ہے کیونکہ یہ تو لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنے کی انسانی کوشش کا اظہار ہے۔ کمپنی اور شراکت (partnership)میں دو بنیادی فرق ہیں:
- اولاً کمپنی ایک شخص قانونی (legal personality) ہوتی ہے جو اپنے تمام مالکان سے علی الرغم اپنا ایک وجود رکھتی ہے۔ مثلاً فرض کریں اگر زید اور ناصر مل کر کوئی کاروبار کریں اور دونوں کسی وجہ سے کاروبار بند کردیں تو وہ کاروبار اور شراکت ختم ہوجائے گی، اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا ، نہ ہی اس کے ذمے کسی کی ادائیگیاں وغیرہ ہوتی ہیں، نہ کوئی شخص عدالت میں اس ’کاروبار ‘ کے خلاف مقدمہ درج کرسکتا ہے کیونکہ شراکت میں ملکیت ذاتی ہوتی ہے اور افراد ہی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کمپنی ایک علیحدہ (independent) وجود رکھتی ہے، اس کے تما م شئیر ہولڈرز اگر مر بھی جائیں تب بھی کمپنی نہیں مرتی، اس کے خلاف مقدمہ کیا جا سکتا ہے۔
- دوئم ملکیت اور تصرف میں دوئی (separation of ownership and control)، یعنی کمپنی ملکیت میں تصرف کرنے کے حق کو فرد سے چھین کر ایسے افراد کے ہاتھوں میں مرکوز کر دیتی ہے جو فیصلے صرف بڑھوتری سرمایہ (profit maximization)کے اصول پر کرتے ہیں۔ ملکیت جب تک ذاتی ہو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ فرد بڑہوتری سرمایہ کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے اسے استعمال کرے جو سرمایہ داری کو مطلوب نہیں۔ لبرل سرمایہ داری بھی اشتراکیت کی طرح انفرادی ملکیت ختم کردیتی ہے، فرق یہ ہے کہ اشتراکیت ایسا ریاستی جبر کے ذریعے کرتی ہے اور لبرل سرمایہ داری کارپوریشن کے ذریعے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام جتنا مضبوط ہوتا جاتا ہے، فرد کے لیے یہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے کہ وہ ذاتی ملکیت کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ فرض کریں زید آج ٹیکسی چلاکر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے اور ناصر پرچون کی دکان چلاتا ہے، لیکن سرمایہ داری اور زر کے بازار کے فروغ کے نتیجے میں بڑی بڑی کارپوریشن ٹیکسیاں اور رکشے تک چلانے لگتی ہیں، بڑے بڑے میکرو (makro) قائم کر دئیے جاتے ہیں جن سے مقابلہ (compete) کرنا ایک فرد کے بس کی بات نہیں رہتی۔ نتیجتاً فرد مجبور ہوجاتا ہے کہ یا تو اپنی ملکیت (property)کو بینک کے حوالے کردے اور یا پھر کمپنیوں کے شئیرز وغیرہ میں لگا (invest)دے، دونوں صورتوں میں ملکیت فرد کے ہاتھ سے نکل کر ان ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہے جو سرمایے کے غلام ہوتے ہیں ۔ فرد کا کام صرف اتنا ہی رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کو سرمایے کے حوالے کرکے مناسب نفع ملنے کی امید رکھے لیکن اسے یہ حق نہیں ہوتا کہ اپنی ملکیت پر اپنی مرضی سے تصرف کرسکے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ کمپنی کے مالکان شئیر ہولڈرز ہوتے ہیں یہ محض رسمی یا فرضی ملکیت (fictitious ownership) ہوتی ہے کیونکہ انہیں کمپنی کے کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کا حق نہیں ہوتا، وہاں فیصلے صرف اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ سرمایے میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کمپنی میں فیصلے ہمیشہ وہی لوگ کرتے ہیں جو پیسے سے پیسہ بنانے کے علوم میں ماہر ہوتے ہیں (مثلاً financial analysts وغیرہ)۔
کارپوریشن در حقیقت حرص وحسد اور نفع خوری کی ذہنیت و عقلیت کو معاشرے پر مسلط کردینے کا ڈھانچہ ہے۔ اس کی مثال بالکل موبائیل فون کی سی ہے جو انسان کی حد سے بڑھی ہوئی حب دنیاکا اظہار ہے، یعنی انسان نے چوبیس گھنٹے دنیا سے جڑ جانے کی خواہش پورا کرنے کے لیے ایک آلہ تیار کر لیا ہے، اب چاھے وہ حالت نماز میں ہو یا حالت احرام میں، ہر حال میں دنیا سے اس کا تعلق قائم ہے، یہ آلہ اسے کسی لمحے دنیا سے قطع تعلق کرنے نہیں دیتا۔ بالکل اسی طرح کمپنی انسان کی سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنے کی خواہش کا عملی اظہار ہے، اس ڈھانچے (structure)کا اور کوئی مقصد نہیں اور نہ ہی یہ کسی اور مقصدیت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کسی معاشرے میں کمپنی کا نفس وجود اور اس کا فروغ اس بات کی ضمانت ہے کہ افراد بڑھوتری سرمایہ کو اپنا مقصد حیات بناتے چلے جائیں، اس ساخت سے کسی اور شخصیت کا وقوع پزیر ہونا ہی نا ممکن ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کمپنیاں فروغ پائیں اور معاشرے میں حرص و حسد کی ذہنیت عام نہ ہو، اس مقصدیت و روحانیت کو کمپنی سے جدا کرنا خوش فہمی ہے، جب تک یہ ڈھانچہ (structure)موجود رہے گا اس کے اندر موجود روح افراد کو جکڑے رکھے گی۔ کمپنی کو وقف اور بیت المال پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے، بھلا وقف اور بیت المال جیسے اسلامی اداروں کانفع خوری سے کیا لینا دینا؟ اس کے بر خلاف وقف کی ملکیت تو عموماً غیر منافع بخش کاموں پر صرف کی جاتی ہے، جیسے مساجد و مدارس اوقاف کے ما تحت کام کرتے ہیں۔ یہ قیاس صرف ظاہری مماثلت کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس کی حقیقت اوپر بیان کردہ مثالوں سے واضح ہوجانی چاہیے۔ ایک ثقافتی طائفے (art group) میں شامل ہو کر اشعار پڑھنے، ہجو کہنے، خطابت کرنے اور ڈھول بجانے کومیدان جنگ کے طبل جنگ سے تشبیہ دے کر اسلامی روایت قرار دینا باطل قیاس ہے۔ میدان جنگ میں ڈھول بجانا، رجزیہ اشعار پڑھنا، ہجو کہنا اور خطابت کا صور پھونکنا دو مختلف وسیلے [medium] اورراستے [ways] ہیں۔ میدان جنگ میں کوئی غیر پاکیزہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا، زندگی اور موت کی دہلیز پر ڈھول بجانے والا اور جنسی جذبات مشتعل کرنے کے لیے آلات موسیقی استعمال کرنے والے ثقافتی طائفے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح کمپنی کا جواز عبد ما ذون فی التجارۃ(ایسا غلام جو اپنے آقا کی طرف سے تجارت کرتا ہے لیکن مقروض ہونے کی صورت میں اس کے قرضہ جات کی بازیابی غلام کی قیمت کی حد تک محدود ہوگی) سے نکالنا بھی ظاہری قیاس ہے، بھلا کمپنی کا غلام سے کیا تعلق؟ یہاں تو فرضی مالکان (شئیرہولڈرز) بشمول ڈائرکٹرز سب کے سب الٹا کمپنی کے غلام ہوتے ہیں، سب سرمایے کی خدمت و غلامی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر کسی کمپنی کے ڈائرکٹر زسرمایے میں اضافے کے سواء کسی اور بنیاد پر فیصلہ کرنے لگیں تو انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، اور اگر چند ڈائرکٹرز مل کر سرمایے میں اضافے کی ذہنیت معطل کرنے کی کوشش کریں تو کمپنی دیوالیہ ہوجاتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کمپنی سرمایے میں اضافے کے سواء کسی اور مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، جیسے ہی وہ ایسا کرتی ہے کمپنی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی ساخت کو اس کے مقصد سے علیحدہ کرنا نا ممکن ہے۔
اسلامی ریاستی حکمت عملی کا ناقص تصور:
پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ’کیا حرام نہیں ‘ ہے ، بلکہ یہ ہے کہ ’شریعت کا مدعا کیا ہے‘، شریعت کا مقصد کس قسم کی انفرادیت و معاشرت کا فروغ ہے ۔ معاشرتی و ریاستی پالیسیاں ’مطلوب‘ کے معیار سے طے پاتی ہیں نہ کہ ’عدم حرمت’ سے، کیونکہ عدم حرمت کا اصول تو کم از کم (bare-minimum) کا فلسفہ ہے جس کے ذریعے ہر گز بھی کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی بلکہ اس کا لازمی نتیجہ کسی دوسرے نظام کے سامنے پسپائی (retreat) اختیار کرنا ہوتا ہے۔ عدم حرمت کا فلسفہ صرف ’کیا نہیں کرنا‘ بتاتا ہے جب کہ کوئی اصولی اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے ’کیا کرنا ہے‘ طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ علمیت (epistemology)اور رویے (attitude) میں یہی فرق ہے کہ علمیت زندگی کے ’ہر‘ معاملے میں ’کیا کرنا چاہیے‘ (desired) کا اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتی ہے جبکہ رویہ چند گنے چنے اعمال کا نام ہوتا ہے جن پر کسی بھی نظام زندگی کے اندر ایک شاخسانے کے طور پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ ’عدم حرمت‘ کے فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کوئی علم نہیں بلکہ چند مخصوص مطالبے کرنے کے بعد زندگی کے باقی دیگر معاملات کے بارے میں یکسر خاموش ہوجاتا ہے اور انسان کو جو وہ چاہنا چاہے چاہنے اور کرنے کے لیے آزادچھوڑ دیتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک غلط مفروضہ ہے کیونکہ اسلام دین یعنی ایک مکمل نظام زندگی ہے جو ہر انسانی فعل کو اپنی مخصوص اقدار میں سموتا ہے ۔ اسلام ایک دین کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ تمام انسانی زندگی بشمول عقائد، اخلاق، احساسات و اعمال کو یک رنگی (coherence) میں پرو دیتا ہے۔ اگر اسلام نظام و علمیت نہیں تو اصول فقہ کی تمام کتابوں کو دریا برد کر دیجئے کیونکہ جب تک یہ صفحہ ہستی پر موجود رہیں گی اسلام ایک نظام اور علمیت کا اعلان کرتی رہیں گی۔ اگر شریعت چند گنے چنے اعمال کا نام ہے تو آج بھی مدارس میں اصول فقہ کیوں پڑھائے جاتے ہیں؟ آخر انہیں پڑھانے کا مقصد اس کے سواء اور کیا ہے کہ علماء کرام نئے پیش آنے والے مسائل کو مقاصد الشریعہ کی روشنی میں حل کرسکیں؟ ہر نظام زندگی کے معاشرتی ادارے اس کی اپنی علمیت اور خیر و شر کے اپنے معیارات سے وجود میں آتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جسے اسلامی ماہرین معاشیات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ایک اسلام دشمن علمیت و تہذیبی تاریخیت سے نکلے ہوئے اداروں کو ’حرام نہیں ہے‘ کے فلسفے پر پرکھ کر اسلامی جواز فراہم کررہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل کرنے کا دائرہ چھوٹے سے چھوٹا ہوتا چلا جارہا ہے اور غیر نظام زندگی اپنا اثر و نفوذ بڑھا تا جارہا ہے ۔ مغربی (اور اب چند مسلم ممالک مثلاً کویت) میں کسی شخص کے مرنے کے بعد مردے کی تجہیز و تدفین وغیرہ کا انتظام یہ نہیں ہوتا کہ سب عزیز و اقارب اور اہل محلہ وغیرہ مل کر اس میں حصہ لیں جیسا کہ ہمارے یہاں کا معمول ہے بلکہ وہاں یہ کام چند ’ویلفیئر ادارے‘ سر انجام دیتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد کوئی ’ذمہ دار‘ شخص اس ادارے کو فون کردیتا ہے اور ادارے کے اراکین میت اپنے ساتھ اٹھا لیجاتے ہیں اور تدفین کی جگہ اور وقت کی اطلاع میت کے کسی قریبی عزیز کو بذریعہ فون دے دیجاتی ہے کہ اگر اس کے پاس ’فرصت کے چند لمحات ‘ میسر ہوں تو قبرستان چلا آئے، بصورت دیگر اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں، ادارہ اس کے بغیر بھی تدفین کا کام سر انجام دے دے گا۔ ایک ایسا مذہب جو پڑوسیوں کے بے شمار حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہو اس کے ماننے والے اگر تجہیز و تدفین کا سستا انتظام کرنے والا کوئی ادارہ کھول کر یہ سمجھنے لگیں کہ ہم کوئی ’اسلامی کام ‘ کررہے ہیں تو اسے اسلام کے نام پر مذاق نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ؟ کیا اسلامی معاشرت میں اس قسم کے اداروں کے ابھرنے کی کوئی ادنی امید بھی کی جاسکتی ہے؟ ایسے ادارے تو صرف ایسی ہی معاشرت میں پنپ سکتے ہیں جو انفرادیت پسندی (individualism)کی انتہا کو چھو چکے ہوں۔ ایسے اداروں کو اسلامی جواز فراہم کرنے کا مطلب اسلام کے نام پر ایسی معاشرت پروان چڑھانا ہے جہاں صلہ رحمی سرے سے کوئی قدر ہی نہ ہو۔ چنانچہ اسلامی معاشرتی و ریاستی حکمت عملی میں دیکھنے کی بات یہ نہیں ہوتی کہ آیا کوئی عمل حرام ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ مقاصد الشریعہ کا حصول کس طریقے سے ممکن ہے، یعنی اسلامی پالیسی سازی کوئی انفعالی عمل (passive activity)نہیں بلکہ فعلی عمل (active activity)کا نام ہے جن کا مقصد مقاصد الشریعہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کا فروغ بھی ہوتا ہے۔ شرع محض فرائض ، واجبات اور محرمات کا ہی نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ سنن، مندوب، مستحب، مکروہ ، اساء ت و خلاف اولی کے درجات تک اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ پیدائش سے لے کر موت تک کوئی ادنی سے ادنی انسانی فعل بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ اگر اسلام واقعی ایک دین ہے تو لازماً اس کا کوئی مطلوب (desired)طرز زندگی (life style) بھی ہونا چاہیے اور اس طرز زندگی کا ماخذ بھی دیگر احکامات شریعہ کی طرح آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی ہونا چاہیے نہ کہ اس سے ماورا کوئی اور تصوریا معیار۔ اگر اسلام کا کوئی مطلوب طرز زندگی نہیں ہے تو ’اسلام ایک نظام زندگی اور دین‘ کا دعویٰ ایک لغو و لایعنی دعویٰٰ ہے ، اور اگر واقعی اسلامی طرز زندگی نامی کوئی شے ہے تو اسلامی ریاست اسی کے تحفظ اور فروغ کی پابند ہوگی۔ ہر وہ ادارتی صف بندی جو اسلامی طرز زندگی کو مشکل بناتی ہو کسی صورت اسلامی نہیں ہوسکتی چاہے کوئی لاکھ حیلے تراش کر اسے اصول شریعہ پر منطبق کردکھائے ۔ ’حرام نہیں ہے‘ اور ’مباح ہے‘ کہہ کر ہر چیز کو مطلوب سمجھنے والوں کے لیے ہم امام غزالی ؒ کا اقتباس دوبارہ پیش کیے دیتے ہیں، غور سے پڑھئے: ’’یہ (فلسفہ) غلط ہے، اصل حقیقت ان لوگوں پر منکشف ہوئی جنہوں نے دنیا کی محبت کو تمام گناہوں کی جڑ کہا... ضرورت سے زائد مباح چیز مباح ہونے کے باوجود دنیا میں شامل ہے اور انسان کو اس کے خالق سے دور کرتی ہے...نفس کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے مباحات کی لذت سے نہ روکا جائے اس لیے کہ انسان مباحات کی لذت سے تجاوز کرکے محظورات میں مبتلا ہوجاتا ہے ... اور یہ اس کی ادنی آفت ہے... اس کی ایک آفت یہ ہے کہ نفس دنیا کی لذتوں سے خوش ہوتا ہے اور ان لذتوں میں وہ اپنے لیے سکون تلاش کرتا ہے‘‘ (اح: ج ۳: ص ۱۱۵-۱۱۴)
جب ان تمام باتوں کا کوئی جواب نہ بن پائے تو اسلامی معاشیات کے حق میں یہ عذر پیش کردیا جاتا ہے کہ عموم بلوی کی وجہ سے لوگوں کو سود کے گناہ سے بچانے کے لیے اسلامی بینکاری کی ترکیب نکالی گئی ہے، نیز جب تک خلافت اسلامی کا قیام عمل میں نہیں آجاتا اس وقت تک اجتناب حرام کے لیے آئیڈیل کے بجائے رخصت پر عمل کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ بہر حال کرنا ہی ہوگا۔ یہ عذر در حقیقت نام نہاد اسلامی بینکاری کے نام پر کیے جانے والے کاروبار کو دوام بخشنے کا ایک بہانہ ہے کیونکہ اسلامی ماہرین معاشیات کی تحریریں اور رویہ دیکھ کر یہ قطعاً باور نہیں کیا جا سکتا کہ اسلامی بینکاری کوئی حادثاتی حکمت عملی ہے بلکہ یہ حضرات اسلامی معاشیات و بینکاری کو خالصتاً اسلامی بنا کر پیش کرتے ہیں، یعنی یہ اسلامی معاشیات کو بطور حکمت عملی (strategy)نہیں بلکہ بطور آئیڈیل اپناتے ہیں جیسا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کی پیش کردہ تحریروں سے عین واضح ہے۔ پھر ایک لمحے کے لیے مان لیجئے کہ یہ محض حکمت عملی ہی ہے، لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکمت عملی کا آخر کار نتیجہ (end result)کیا ہوگا؟ آخر حکمت عملی کیوں وضع کی جاتی ہے، اس لیے کہ اصلاً مطلوب مقاصد حاصل ہوسکیں یا اس لیے کہ انکا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے؟ یہ بات درست ہے کہ سن ۲۰۰۸ میں آئیڈیل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ممکن نہیں، لیکن حکمت عملی وضع کرنے کا مقصد تو یہ ہونا چاہیے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ سن ۲۰۲۸ یا ۲۰۴۸ میں ہم اس قابل ہوجائیں کہ زیادہ اسلامی تعلیمات پر عمل ممکن ہو سکے۔ لیکن کیا ایسی حکمت عملی کو بھی ’اسلامی‘ کہا جا سکتا ہے جو ہمیشہ کے لیے اسلامی تعلیمات کو معطل بنادینے کی ترکیب ہو؟ کوئی بھی حکمت عملی تب ہی ’اسلامی ‘ کہلانے کی مستحق ٹھہرے گی کہ جب وہ مقاصد اسلامی کے حصول کا ذریعہ بنے نہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو نافذالعمل اور پختہ بنائے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس کے نتیجے میں اسلامی نظام زندگی تحلیل ہورہا ہے اس پر ’اسلامی‘ کا لیبل چسپاں کرکے دین کے نام پر سرمایہ داری کا جواز کیوں فراہم کیا جا رہا ہے ؟ یہ عذر پیش کرکے اسلامی بینکاری پر کاربند رہنے کا مطلب احیاو غلبہ اسلامی کے کام کو پیچھے دھکیلنا ہے نہ کہ اس کا ممد و معاون بننا۔ خلافت اسلامیہ کی غیر موجودگی کو بہانہ بنا کر اس عذر کو بطور رخصت پیش کرنے کا مطلب یہ مان لینا ہے کہ اسلامی بینکاری وغیرہ کا احیا و غلبہ اسلام سے کوئی سرو کا ر نہیں، تو ایک ایسی حکمت عملی جس کا احیائے اسلام سے کچھ لینا دینا ہی نہیں اسے ’اسلامی‘ کیوں کہا جارہا ہے؟ پھر اسلامی بینکاری سے منسلک عمائدین کا رویہ ’نظریہ ضرورت‘ کی بنیاد پر اسلامی بینکاری کے جواز کو بھی سخت مشکوک بنا دیتا ہے۔ فقہ کا مشہور قاعدہ ہے کہ ضرورتاً جائز قرار دی جانے والی شے بمقدار ضرورت ہی جائز ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ اصلاً مطلوب یا حق سمجھ کر اختیار کر لی جائے۔ کیا نظریہ ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی بینکاری سے زیادہ سے زیادہ مادی فوائد حاصل کیے جائیں؟ اسے خود اور لوگوں کو بھی معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر اپنانے کا درس دیا جائے ؟ اس کی کنسلٹنسی کے نام پر بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات حاصل کی جائیں؟ اگر ان علماء کے نزدیک نظریہ ضرورت اسی شے کا نام ہے تو پھر انہیں حجاب اور مردو زن کے اختلاط سے متعلق اسلامی احکامات پر بھی نظریہ ضرورت کے تحت اجتہاد کرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ’وقت کا تقاضا‘ ہے اور مسلمانوں کو اس معاملے میں بھی گناہ سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دی جانے والی شے کا مقصد اس غیر شرعی ضرورت کو ختم کردینا ہوتا ہے نہ کہ اسے زندگی کا لازمی حصہ بنا دینا، کیا ضرورت کے نام پر اسلامی بینکاری کے ذریعے جو حل پیش کیا جارہا ہے وہ اسلامی انفرادیت، معاشرت و ریاست کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے یا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تقاضوں کو ہمیشہ کے لیے اسلامی زندگی کا حصہ بنا رہا ہے؟ ایک ایسی عورت جس کا کمانے والا کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو اسے نوکری کرنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ women job promotion bureau (عورتوں میں نوکری کرنے کا شعور بیدار کرنے کا ادارہ) قائم کردیا جائے؟
عالمی استعماری نظام میں شمولیت کا جواز:
اسلامی معاشیات و فائنا نس کا نتیجہ عالم اسلام کو عالمی استعماری سرمایہ دارانہ نظام میں سمو دینے اور اس کے تابع کردینے کے سواء کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت کی یہ گنجائش زر اور سٹے کے بازاروں (money and capital markets) کا اسلامی جواز فراہم کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لبرل سرمایہ داری بھی ریاستی سرمایہ داری یعنی سوشلزم کی مانند نجی ملکیت کا خاتمہ کردیتی ہے، صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ سوشلزم میں یہ کام ریاست جبکہ لبرل سرمایہ داری میں زر کے بازار سر انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ شخص قانونی، ملکیت اور حق تصرف میں جدائی، نظام قدر کا تعین بذریعہ تخمینہ بازی، فائنانس اور پیداواری عمل میں دوئی وغیرہ وہ ذرائع ہیں جن کے نتیجے میں نجی ملکیت کارپوریٹ ملکیت میں تحلیل ہوکر بڑھوتری سرمایہ کے اصل الاصول میں ضم ہو جاتی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام زر میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو ئی نظام زندگی نہیں بلکہ ایک بڑے نظام زندگی یعنی سرمایہ داری کا ایک جز ہے کیونکہ اسلامی فائنانس و بینکاری وغیرہ کا مقصد اس عالمی نظام زر کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے فطری مان کر اس میں چند اصلاحات کا نفاذ ہے تاکہ سرمایے میں زیادہ اضافہ ممکن ہوسکے۔ اسلامی بینکاری، اسلامی بانڈز، اسلامی انشورنس وغیرہم کا حاصل صرف اور صرف مسلم ذرائع کو عالمی نظام زر میں شامل کرکے نفع خوری کو بڑھاوا دینا ہے۔ پھر اسلامی فائنانس کا نتیجہ اتنا ہی نہیں کہ ایک فرد اس نظام میں شمولیت کو اپنا جائز حق سمجھے، بلکہ مسلم ریاستیں بھی خود کو اس عالمی نظام کے سپرد کردیں اور تمام معاشی و ریاستی پالیسیاں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے تقاضوں کے مطابق وضع کریں۔ اگر بالفرض اسلامی معاشیات و بینکاری نظام عالمی سطح پر ایک غالب نظام کی حیثیت اختیار کر لے تب بھی استعماری نظام کو اس سے کچھ خطرہ نہیں کیونکہ اسلامی معاشیات درحقیقت انہیں مقاصد کی محافظ، معاون اور وکیل ہے جو موجودہ عالمی نظام کے اصل اہداف ہیں۔ یعنی اسلامی فائنانس وغیرہ کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت کی وجہ اس کی اسلامیت یا سرمایہ داری سے علی الرغم کوئی متبادل نظام معیشت پیش کردینا نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول میں عمدہ آلہ کار کی حیثیت رکھنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ استعمار اسلامی معاشیات و بینکاری کے ممکنہ غلبے سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا بلکہ خود اس کا حامی اور موید ہے۔ سچ کہا قرآن نے کہ اے مسلمانوں یہود و نصاری اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقوں کی پیروی نہ کرنے لگو۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام سے نکلے ہوئے اداروں پر ایک کل (totality) کی نظر سے فتویٰ لگائیں بصورت دیگر اسلامی شخصیت، اقدار و روحانیت کا ذکر صرف ’اصلاحی خطبات‘ میں پڑھ کر ’سبحان اللہ‘ کہہ دینے تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا۔ یہ مفروضہ مان لینے کے بعد کہ لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کرنا انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے تزکیہ نفس کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا، ایسے معاشرے جہاں افراد کا مقصد لامحدود خواہشات کا حصول ہو وہاں حرص وحسد کو عموم و دوام بخشنے والے ادارے (زر اور سٹے کے بازار) ہی پھل پھول سکتے ہیں ، نہ کہ خانقاہی نظام۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی مسلم مفکرین اس فکری انتشار کا شکار ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریت (Islam via democracy)کے تو خلاف ہیں لیکن اسلامی معاشیات کے سحر میں گرفتار ہیں حالانکہ دونوں کے پیچھے ’دائرہ شریعت کی پابندی‘ کا فلسفہ ہی کارفرما ہے، ایک جگہ اسے سیاسی عمل پر اور دوسری جگہ معاشی عمل پر منطبق کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ درحقیقت اسلامی جمہوریت اور اسلامی معاشیات دونوں ہی احیاء و غلبہ اسلام کے راستے میں حائل دیگر رکاوٹوں سے زیادہ مہلک ہیں جس کی وجہ مسلم مفکرین کا انہیں غلبہ اسلام کا پیش خیمہ فرض کر لینا ہے۔ مسلمان جس قدر زیادہ انہیں اختیار کریں گے غلبہ اور انقلاب اسلامی کا کام اتنا ہی پسپا ہوتا چلا جائے گا۔ اسلامی معاشیات کا مقصد موجودہ غالب لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہر قسم کی انقلابی اسلامی جدوجہد کا جواز کالعدم قرار دینا ہے کیونکہ اس کے بنیادی فلسفے کے مطابق لبرل سرمایہ داری کے مقاصد اور انہیں حاصل کرنے کے اصول عین حق اور انسانی فطر ت کا جائز اظہار ہیں، البتہ اس میں چند عملی (operational) مگر قابل اصلاح نوعیت کی خرابیاں ہیں جنہیں درست کرنے کے لیے کسی انقلابی جدوجہد نہیں بلکہ اصلاحی سیاست (reformist politics) اور سرمایہ دارانہ علوم یعنی سائنسز (بشمول سوشل اور بزنس ) میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
فی الحقیقت اسلامی معاشیات اور اسلامی جمہوریت نے مل کر وہ سراب پیدا کیا ہے جس کے بعد اسلامی تحریکات کی توجہ انقلابی جدوجہد کے بجائے محض پر امن او رحقوق کی سیاست پر منتج ہوکر رہ گئی ہے اور ان کے لیے غالب نظام کے خلاف جہاد اور مجاہدین کی جدوجہد اجنبی اور لایعنی عمل کی حیثیت اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ اسلامی معاشیات و فائنانس سے وابستگی کے نتیجے میں اسلامی تحریکات کے لیے کسی اعلی اسلامی آئیڈیل کا تصور اور اس کے حصول کا کوئی انقلابی لائحہ عمل وضع کرنا ہی محال ہوجاتا ہے کیونکہ انکی تمام تر توجہ ان پست سرمایہ دارانہ مقاصد کے حصول پر مرکوز ہوجاتی ہے جنہیں اسلامی معاشیات اسلام کے نام پر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون ہم نے ’شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات‘ کے جذبے کے تحت لکھا ہے۔ اگر اہل علم محسوس کریں کہ اس میں جس رائے کا اظہار کیا گیا ہے وہ صائب نہیں تو ہمیں ہماری غلطی پر مطلع کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقت حال سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مباحث مضمون سے متعلق مطالعے کے لیے درج ذیل حوالہ جات دیکھئے :
۱۔ سرمایہ داری اور علم معاشیات کے مختلف تصورات کی تشریح اور تعلق کے لیے دیکھئے:
1. Friedman Milton (1982), Capitalism and Freedom, Chicago, University of Chicago Press
2. Cole K, J. Cameron, and C. Edwards (1983), Why Economists Disagree, The political economy of economics, Longman group limited
3. Hayek, F. A. (1967), "The Principles of a Liberal Society", Studies in Philosophy, Politics and Economics, London Routledge and Kegan Paul, p 70 - 94
4- علم معاشیات کی کوئی سی اچھی درسی کتاب
۲۔ ایڈم سمتھ کے اخلاقی ومعاشی افکار جاننے کے لیے دیکھئے :
1. Smith Adam (1759), The Theory of Moral Sentiments, New York, 1971
2. Smith Adam (1776), An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations, New York 1973
۳۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے عمومی فریم ورک کی تفصیلات کے لیے دیکھئے:
1. Chapra, Umar (1993), Islam and Economic Development, Islamic Research Institute, Islamabad
2. Chapra, Umar (1979), "The Islamic welfare state and its role in the economy" in Ahmed and Ansari (1979), Islamic Perspective, p. 195-227, Saudi Publishing House, Jeddah
3. Kursheed Ahmed (1979), "Islamic Development in an Islamic Framewrok", in Ahmed and Ansari (1979), p. 223-240
4. Siddiqui Nijatullah (1996), Teaching Economics in Islamic Perspective, King Abdul Aziz University, Jeddah
5. Usmani Maulana Taqi (2002), An Introduction to Islamic Finance, The Hague Kluver Law International
6- مولانا تقی عثمانی (۱۹۹۳) ، اسلام اور جدید معیشت و تجارت، ادارۃ المعارف ، کراچی
۴۔ سوشل ڈیموکریٹ معیشت دانوں اور اسلامی ماہرین معاشیات کے خیالات میں مماثلت کے لیے دیکھئے:
1. Giddens A. (1999), The Third Way: The Renewal of Social Democracy, Cambridge Polity
2. Sen, A.K. (2001), Development as Freedom, New Delhi Oxford University Press
۵۔ اسلامی معاشیات و بینکاری کے فریم ورک پر نظامیاتی نقطہ نگاہ سے تفصیلی تنقید کے لیے دیکھئے:
1. Ansari, Javed Akbar (2004), Rejecting Freedom and Progress, chap 4, Jareeda (29), Karachi University Press
2. Ansari, Javed Akbar (2001), "Reading Islam aur Jadid Maeshat-o-Tijarat", Pakistan Business Review, Vol 2 (3), p. 3-17
3. Ansari, J. and Zeeshan Arshad (2007), "Conflicting Paradigms: Alternative Islamic Approaches to Business Ethics Discourse", Business Review, Vol 2 (2), July-December, p. 104-120
۶۔ امام غزالی رحمہ اللہ کی تعلیمات کے لیے دیکھئے:
1- احیاء العلوم (اح): مترجم، مولانا ندیم الواجدی، دارالاشاعت کراچی
2- کیمیائے سعادت (ک): مترجم، محمد سعید الرحمن، مکتبہ رحمان لاہور
’سنت‘ اور ’حدیث‘: جناب جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر (۱)
سید منظور الحسن
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ‘‘شائع ہوا تھا جو اب ان کی تصنیف ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ سنت کے تصور ،اس کے تعین، اس کے مصداق اور اس کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اسی طرح الشریعہ کے جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں محترم جناب مولانا زاہد الراشدی نے ’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے زیر عنوان اپنی تنقید میں غامدی صاحب کے موقف کی تعبیر یوں کی ہے کہ غامدی صاحب اپنی مخصوص اصطلاح کے مطابق ’سنت‘ کے دائرے میں آنے والے امور کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ارشادات اور افعال وتقریرات کو دین کا حصہ اور حجت نہیں سمجھتے جو ایک گمراہی کی بات ہے۔
زیر نظر تحریر میں ہم مذکورہ دونوں تنقیدات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے فہم کی حد تک غامدی صاحب کے تصور سنت وحدیث کی وضاحت ان کی اپنی تحریرات کی روشن میں کریں گے،اس موضوع پر اہل علم کی آرا کی تنقیح کریں گے اور عقل و نقل کی روشنی میں تنقیدی سوالات کا جائزہ لیں گے۔
تصور ’سنت‘
جناب جاوید احمد غامدی اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمے ’’اصول و مبادی‘‘ میں دین کے مآخذ کے بارے میں اپنا اصولی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’دین اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جو اُس نے پہلے انسان کی فطرت میں الہام فرمائی اور اِس کے بعد اُس کی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسان کو دی ہے۔ اِس سلسلہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ.(الجمعہ ۶۲: ۲ )
’’وہی ذات ہے جس نے اِن امیوں میں ایک رسول اِنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اِن پر تلاوت کرتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے ) اِنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘
یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اِس کے ماخذ کی تفصیل ہم اِس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :
۱۔ قرآن مجید
۲ ۔سنت
... سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ ‘‘ (میزان ۱۳۔۱۴)
اسی مقدمے میں ایک مقام پر انھوں نے سنت کے اس تصور کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ ’’مبادی تد بر قرآن‘‘ کے تحت فہم قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیر عنوان یہ واضح کیا ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے، تاریخی طور پر وہ اس کی پہلی نہیں، بلکہ آخری کتاب ہے ۔ دین فطرت، ملت ابراہیمی کی روایت اورنبیوں کے صحائف تاریخی لحاظ سے اس سے مقدم ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’... دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اُس کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اُس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔ پھر اُس کے ابوالآبا آدم علیہ السلام کی وساطت سے اُسے بتا دیا گیا کہ اولاً، اُس کا ایک خالق ہے جس نے اُسے وجود بخشا ہے،وہی اُس کا مالک ہے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر تنہا وہی ہے جسے اُس کا معبود ہونا چاہیے ۔ثانیاً ،وہ اِس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اور اِس کے لیے خیر وشر کے راستے نہایت واضح شعور کے ساتھ اُسے سمجھا دیے گئے ہیں ۔پھر اُسے ارادہ و اختیار ہی نہیں ، زمین کا اقتدار بھی دیا گیا ہے۔ اُس کا یہ امتحان دنیا میں اُس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہے گا ۔وہ اگر اِس میں کامیاب رہا تو اِس کے صلے میں خدا کی ابدی بادشاہی اُسے حاصل ہو جائے گی جہاں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ثالثاً، اُس کی ضرورتوں کے پیش نظر اُس کا خالق وقتاً فوقتاً اپنی ہدایت اُسے بھیجتا رہے گا ،پھر اُس نے اگر اِس ہدایت کی پیروی کی تو ہر قسم کی گمراہیوں سے محفوظ رہے گا اور اِس سے گریز کا رویہ اختیار کیا تو قیامت میں ابدی شقاوت اُس کا مقدر ٹھیرے گی ۔
چنانچہ پروردگار نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور انسانوں ہی میں سے کچھ ہستیوں کو منتخب کر کے اُن کے ذریعے سے اپنی یہ ہدایت بنی آدم کو پہنچائی۔ اِس میں حکمت بھی تھی اور شریعت بھی۔حکمت، ظاہر ہے کہ ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی، لیکن شریعت کا معاملہ یہ نہ تھا ۔وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اُس کے احکام بہت حد تک ایک واضح سنت کی صورت اختیار کر گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کی ایک باقاعدہ حکومت قائم ہو جانے کا مرحلہ آیا تو تورات نازل ہوئی اور اجتماعی زندگی سے متعلق شریعت کے احکام بھی اترے۔ اِس عرصے میں حکمت کے بعض پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوئے تو زبور اور انجیل کے ذریعے سے اُنھیں نمایاں کیا گیا۔ پھر اِن کتابوں کے متن جب اپنی اصل زبان میں باقی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا اور اُنھیں یہ قرآن دیا۔...
یہ دین کی تاریخ ہے ۔چنانچہ قرآن کی دعوت اِس کے پیش نظر جن مقدمات سے شروع ہوتی ہے ،وہ یہ ہیں:
۱۔ فطرت کے حقائق
۲۔ دین ابراہیمی کی روایت
۳۔ نبیوں کے صحائف۔‘‘ (میزان ۴۳۔۴۵)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ملت ابراہیمی کی اتباع لازم ہونے کا حکم قرآن مجید میں یوں بیان ہوا ہے:
ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. (النحل ۱۶ :۱۲۳)
’’پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔‘‘
غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ عربوں کے ہاں دین ابراہیمی کی روایت پوری طرح مسلم تھی ۔ لوگ بعض تحریفات کے ساتھ کم و بیش وہ تمام امور انجام دیتے تھے جنھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جاری کیا تھا اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تصویب سے امت میں سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ چنانچہ ان کے نزدیک نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ،نماز جنازہ، جمعہ، قربانی، اعتکاف اور ختنہ جیسی سنتیں دین ابراہیمی کے طور پر قریش میں معلوم و معروف تھیں۔لکھتے ہیں:
’’...نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ، یہ سب اِسی ملت کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب پوری طرح واقف ،بلکہ بڑی حد تک اُن پر عامل تھے ۔ سیدنا ابوذر کے ایمان لانے کی جو روایت مسلم میں بیان ہوئی ہے ، اُس میں وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وہ نماز کے پابند ہو چکے تھے۔ جمعہ کی اقامت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ نماز جنازہ وہ پڑھتے تھے ۔ روزہ اُسی طرح رکھتے تھے، جس طرح اب ہم رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ اُن کے ہاں بالکل اُسی طرح ایک متعین حق تھی، جس طرح اب متعین ہے۔ حج و عمرہ سے متعلق ہر صاحب علم اِس حقیقت کو جانتا ہے کہ قریش نے چند بدعتیں اُن میں بے شک داخل کر دی تھیں، لیکن اُن کے مناسک فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادات اِس وقت ادا کی جاتی ہیں ،بلکہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اِن بدعتوں پر متنبہ بھی تھے ۔ چنانچہ بخاری و مسلم، دونوں میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے جو حج کیا ،وہ قریش کی اِن بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اُسی طریقے پر کیا ، جس طریقے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے۔
یہی معاملہ قربانی، اعتکاف، ختنہ اور بعض دوسرے رسوم و آداب کا ہے۔یہ سب چیزیں پہلے سے رائج ،معلوم و متعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں ۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِن کی تفصیل کرتا ۔ لغت عرب میں جو الفاظ اِن کے لیے مستعمل تھے ، اُن کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے اُنھیں نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یا حج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں۔‘‘ (میزان۴۵۔۴۶)
غامدی صاحب نے ’’میزان‘‘ کے مقدمے ’’اصول و مبادی‘‘ میں ’’مبادی تدبر سنت‘‘ کے زیر عنوان سنت کی نوعیت اور اس کی تعیین کے حوالے سے چند رہنما اصول متعین کیے ہیں۔ ان کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اگر انھوں نے کسی چیز کو سنن میں شمار کیا ہے تو کیوں کیا ہے اور اگر سنن میں شمار نہیں کیا تو اس کا کیا سبب ہے۔ ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
پہلا اصول یہ ہے کہ سنت صرف وہی چیز ہو سکتی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو۔ چنانچہ وہ چیزیں جو اصلاً عرب کے تہذیب و تمدن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی ہیں، وہ سنت نہیں ہیں۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت سرتاسر عملی زندگی سے متعلق امور پر مشتمل ہے، یعنی دین کی وہ چیزیں جنھیں عملاً انجام دیا جاتا ہے۔ ایمانیات، اخلاقیات اوراس نوعیت کی دوسری چیزیں اس کے دائرے میں شامل نہیں ہیں۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ سنت اگر چہ عملی زندگی سے متعلق ہے، مگر عملی نوعیت کی وہ چیزیں سنت نہیں ہیں جن کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجاے قرآن سے ہوئی ہے۔چنانچہ صرف وہی چیزیں سنت قرار پائیں گی جو اصلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مبنی ہیں اور جوآپ کا قرآن کے کسی حکم پر عمل یا قرآن ہی کی کسی بات کی تفہیم اور شرح و وضاحت نہیں ہیں ۔
چوتھا اصول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سنت پر بطور تطوع عمل کیا ہے تو اس کے نتیجے میں اسے نئی اور الگ سنت تصور نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ جو چیزیں اپنی اولین حیثیت میں سنت قرار پا چکی ہیں ،ان پرفقط بطور تطوع عمل کی بنا پر انھیں سنت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مثلاً نماز کے سنت قرار پا جانے کے بعدنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف اوقات میں نفل نمازیں، روزے کے سنن میں شامل ہونے کے بعد رمضان کے علاوہ نفل روزے،اسی طرح مختلف موقعوں پر نفل قربانی ، اور دین کے کسی عمل کو درجۂ کمال پر انجام دینے والے آپ کے اعمال ، سب اسوۂ حسنہ قرار پا ئیں گے۔ انھیں سنت قرار نہیں دیا جائے گا۔
پانچواں اصول یہ ہے کہ وہ اعمال جو دین میں بیان شریعت کے طور پر نہیں، بلکہ بیان فطرت کے طور پر آئے ہیں، وہ بھی سنت نہیں ہیں۔ البتہ، فطرت کے جن اعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی احکام کی حیثیت سے مقرر کر دیا ہے، انھیں، بہرحال سنت ہی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔
چھٹا اصول یہ ہے کہ وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہیں جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رہنمائی تو کی ہے، مگر انھیں سنت کی حیثیت سے جاری نہیں فرمایا۔
غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق حسب ذیل اعمال کو سنن کی حیثیت حاصل ہے:
عبادات:
۱۔ نماز ۔۲۔ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر ۔۳۔ روزہ و اعتکاف ۔۴۔ حج و عمرہ ۔۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں ۔
معاشرت:
۱۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات ۔ ۲۔حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔
خورونوش:
۱۔ سؤر ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت ۔ ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ ۔
رسوم و آداب:
۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم ‘اور اُس کا جواب۔ ۳۔ چھینک آنے پر ’الحمدللہ ‘اور اُس کے جواب میں ’یرحمک اللہ ‘ ۔ ۴ ۔نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت۔ ۵۔مونچھیں پست رکھنا۔ ۶۔ زیر ناف کے بال کاٹنا۔ ۷۔بغل کے بال صاف کرنا۔ ۸۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۹۔لڑکوں کا ختنہ کرنا ۔ ۱۰۔ ناک ،منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۱۔استنجا۔ ۱۲۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۳۔غسل جنابت۔ ۱۴۔میت کا غسل۔ ۱۵ ۔تجہیز و تکفین ۔ ۱۶۔تدفین ۔۱۷ ۔عید الفطر ۔ ۱۸۔ عید الاضحی ۔
تصور ’حدیث‘
غامدی صاحب کے نزدیک دین اپنے بنیادی مآخذ کے لحاظ سے قرآن وسنت میں محصور ہے، جبکہ اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال اور تصویبات کی جو روایات اخبار آحاد کی صورت میں امت نے نقل کی ہیں، اس میں دین کے مستقل بالذات احکام نہیں پائے جاتے، بلکہ یہ اخبار آحاد قرآن وسنت ہی میں بیان ہونے والے احکام کی تفہیم وتبیین اور ان پر عمل کرنے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو بیان کرتی ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبار آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجہ یقین کو نہیں پہنچتا، اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن وسنت میں محصور اسی دین کی تفہیم وتبیین اور اس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (میزان، ۱۵)
تاہم حدیث کے دائرے کی اس تعیین سے اس کی دینی حیثیت اور اہمیت میں کسی طرح کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ اس دائرے میں وہ دینی علم کا نہایت اہم ذریعہ ہے جس سے کوئی مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں حدیث کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس مضمون کی تمہید میں ہم نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسوانح، آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم وتبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ حدیث ہی ہے۔ لہٰذا اس کی یہ اہمیت ایسی مسلم ہے کہ دین کا کوئی طالب علم اس سے کسی طرح بے پروا نہیں ہوسکتا۔‘‘ (میزان، ۶۱)
دین کی تفہیم وتبیین کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی تشریعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس دائرے کے اندر، البتہ اس کی حجت ہر اس شخص پر قائم ہوجاتی ہے جو اس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل یا تقریر وتصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس سے انحراف پھر اس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اس میں بیان کیا گیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔‘‘ (میزان، ۱۵)
غامدی صاحب کے موقف کی وضاحت کے بعد اب ہم اس حوالے سے دیگر علما ومحققین کے موقف کا مطالعہ کریں گے۔
علماے محققین کی راے
پہلے ’سنت‘ کو لیجیے جو غامدی صاحب کی اصطلاح میں دین ابراہیمی کی اس عملی روایت کا نام ہے جو اسلام سے پہلے اہل عرب میں اپنی اصولی حیثیت میں موجود تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت اسی کی تجدید واصلاح کر کے اسے امت مسلمہ میں جاری فرمایا۔ دین اسلام کے پس منظر کے حوالے سے کم و بیش یہی موقف ہے جسے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں انھوں نے لکھا ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے ۔ تمام انبیا نے بنیادی طور پر ایک ہی جیسے عقائد اور ایک ہی جیسے اعمال کی تعلیم دی ہے۔ شریعت کے احکام اور ان کی بجا آوری کے طریقوں میں حالات کی ضرورتوں کے لحاظ سے ، البتہ کچھ فرق رہا ہے۔ سر زمین عرب میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس موقع پر اس دین کے احوال یہ تھے کہ صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں اس کے احکام دینی مسلمات کی حیثیت اختیار کر چکے تھے اورملت ابراہیم کے طور پر پوری طرح معلوم و معروف تھے، تاہم بعض احکام میں تحریفات اور بدعات داخل ہو گئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا: ’فَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘ یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ آپ نے یہ پیروی اس طریقے سے کی کہ اس ملت کے معلوم و معروف احکام کو برقرار رکھا، بدعات کا قلع قمع کیااور تحریف شدہ احکام کو ان کی اصل صورت پر بحال فرمایا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’جان لو کہ نبوت عام طور پر اسی ملت کے تابع ہوتی ہے (جس میں نبی مبعوث ہوا ہو)، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ‘۔ نیز فرمایا: ’وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہِ لَاِبْرَاہِیْمَ‘۔ اس کا راز اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی دین پر بہت صدیاں گزر جاتی ہیں اور اس لوگ اس کی پابندی اور اس کے شعائر کی تعظیم اور احترام میں مشغول رہتے ہیں اور اس کے احکام اس قدر شائع وذائع ہو جاتے ہیں کہ ان کو نہایت بدیہی باتوں کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا، پھر ایک دوسرا نبی آتا ہے تاکہ پہلے نبی کی تعلیمات میں اختلاط پیدا ہو جانے کے بعد جو کجی پیدا ہو گئی ہے، اس کو سیدھا کرے اور جو بگاڑ آ گیا ہے، اس کی اصلاح کرے۔ چنانچہ جو احکام اس قوم میں جس کی طرف وہ مبعوث ہوا ہے، شائع و ذائع ہوتے ہیں، ان پر وہ ایک نظر غائر ڈالتا ہے اور جو احکام سیاست ملیہ کے اصول کے مطابق درست ہوتے ہیں، ان کو تبدیل نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کو ان کی دعوت دیتا اور ان کے پابند رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ البتہ جو چیزیں غیر مناسب ہوتی ہیں اور ان میں تحریف ہو چکی ہوتی ہے، ان میں حسب ضرورت تبدیلی کرتا ہے اور جس چیز کا اضافہ کرنا مناسب ہو، اس کا اضافہ کر دیتا ہے۔‘‘ (حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۲۰۹)
شاہ صاحب نے ملت ابراہیمی کے حوالے سے اسی بات کو ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت حنیفیہ اسماعیلیہ کی کجیاں درست کرنے اور جو تحریفات اس میں واقع ہوتی تھیں، ان کا ازالہ کرنے اور اس کے نور کو پھیلانے کے لیے مبعوث فرمایا ۔ چنانچہ : ’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ‘ میں اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ اس ملت کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے اور اس کے طریقوں اور سنن کو برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ جب نبی کسی ایسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے جس کے ہاں سنت راشدہ کسی حد تک محفوظ ہو تو کو بدلنا بے معنی بات ہے، بلکہ لازم ہے کہ اس کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ اس کی پیروی پر ان کے نفوس زیادہ آمادہ ہوں گے اور ان کے خلاف حجت قائم کرنے کے لیے بھی وہ زیادہ مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔‘‘ (حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۴۲۷)
یہ بات اہل علم کے ہاں پوری طرح مسلم ہے کہ دین ابراہیمی کے سنن عربوں میں قبل از اسلام رائج تھے۔شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ عرب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اعتکاف، قربانی، ختنہ، وضو، غسل، نکاح اور تدفین کے احکام پر دین ابراہیمی کی حیثیت سے عمل پیرا تھے۔ ان احکام کے لیے شاہ صاحب نے ’سنۃ‘ (سنت)، ’سنن متاکدہ‘ (مؤکد سنتیں)، ’سنۃ الانبیاء‘ (انبیا کی سنت) اور ’شعائر الملۃ الحنیفیۃ‘ (ملت ابراہیمی کے شعار) کی تعبیرات اختیار کی ہیں:
’’یہ بات وہ سب جانتے تھے کہ انسان کا کمال اس میں ہے کہ وہ اپنایظاہر وباطن کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اس کی عبادت میں اپنی انتہائی کوشش صرف کرے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ طہارت عبادت کا جزو ہے اورجنابت سے غسل کرنا اور اسی طرح ختنہ اور دیگر خصال فطرت ان کے ہاں معمول بہ طریقے کی حیثیت رکھتے تھے۔ تورات میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور اس کی اولاد کے لیے ختنہ کو ایک نشان قرار دیا تھا۔ یہود اور مجوس وغیرہ میں بھی وضو کرنے کا رواج تھا اور حکماے عرب بھی وضو کیا کرتے تھے۔ نماز بھی ان کے ہاں رائج تھی اور ابوذر غفاری اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے بھی تین سال پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح قس بن ساعدہ ایادی بھی نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہود اور مجوس اور باقی اہل عرب میں نماز کا جو طریقہ محفوظ تھا، وہ تعظیمی افعال بالخصوص سجدے پر، اور دعا اورذکر پر مشتمل تھا۔ زکوٰۃ بھی ان میں رائج تھی۔ .... صبح صادق سے غروب آفتاب تک روزہ بھی موجود تھا اور جاہلیت میں قریش عاشورا کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ مسجد میں اعتکاف کی عبادت بھی معلوم تھی۔ حضرت عمر نے زمانۂ جاہلیت میں ایک دن کے لیے اعتکاف کی منت مانی تھی۔ ... اور بیت اللہ کے حج اور اس کے شعائر اور اشہر حرم کی تعظیم کا معاملہ تو اظہر من الشمس ہے۔ ..... جانور کو حلق پر چھری پھیر کر اور اونٹ کو سینے میں نیزہ چبھو کر ذبح کرنے کا طریقہ بھی ان کے ہاں رائج تھا۔ وہ جانور کا گلا نہیں گھونٹ دیتے تھے اور نہ اسے چیرتے پھاڑتے تھے۔ ... کھانے پینے، لباس، عید اور ولیمہ، مردوں کی تجہیزوتکفین، نکاح اور طلاق، عدت اور سوگ، خریدوفروخت اور دیگر معاملات کے متعلق ان کے ہاں ایسے واجب الاتباع سنن تھیں جن کے ترک کرنے والے کو مستوجب ملامت قرار دیا جاتا تھا۔ماں بہن اور دیگر محرمات سے نکاح کرنے کو وہ ہمیشہ سے حرام سمجھتے رہے ہیں۔ اسی طرح ظلم وزیادتی کی سزائیں اور حرام کاری اور چوری کے لیے سزائیں بھی ان کے ہاں مقرر تھیں۔‘‘ (حجۃاللہ البالغہ ۱ /۲۹۰۔۲۹۲)
’’انبیا علیہم السلام کی سنت ذبح اور نحر ہے جو سب انبیا کے ہاں متوارث چلی آرہی ہے۔ .... اہل عرب کے ہاں ذبح اور نحر ملت ابراہیمی کے ایک شعار کی حیثیت رکھتا تھا اور ابراہیمی اور غیر ابراہیمی کے مابین امتیاز کا ذریعہ تھا۔ اس طرح اسے ختنہ اور دیگر خصال فطرت کی سی اہمیت حاصل تھی۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کے احیا اور تجدید کے لیے بھیجا گیا تو لازم تھا کہ اس شعار کو بھی قائم رکھا جائے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ۲/۳۱۹۔۳۲۰)
امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ عربوں میں حج اور ختنہ وغیرہ کو دین ابراہیمی ہی کی حیثیت حاصل تھی:
’’... اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چند مخصوص شرائع اور احکام جیسے بیت اللہ کا حج اور ختنہ وغیرہ مقرر کیے تھے۔... اور اہل عرب ان چیزوں کو اختیار کیے ہوئے تھے۔‘‘ (تفسیر کبیر ۴/ ۱۸)
ختنہ کی سنت کے حوالے سے ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
’’ختنہ کو واجب کہنے والوں کا قول ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی علامت، اسلام کا شعار، فطرت کی اصل اور ملت کا عنوان ہے۔... دین ابراہیمی کی اتباع کرنے والے اپنے امام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد سے لے کر خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک ہمیشہ اسی پر کاربند رہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ملت ابراہیمی کی تکمیل اور توثیق کے لیے مبعوث فرمایا گیا نہ کہ اس میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے۔‘‘ (مختصر تحفۃ المولود ۱۰۳۔ ۱۰۴)
قبل از اسلام تاریخ کے محقق ڈاکٹر جواد علی نے اپنی کتاب ’’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ میں نماز ، روزہ، اعتکاف، حج و عمرہ، قربانی ، جانوروں کا تذکیہ، ختنہ، مو نچھیں پست رکھنا ، زیر ناف کے بال کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا، بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا، ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی، استنجا، میت کا غسل، تجہیز و تکفین اور تدفین کے بارے واضح کیا ہے کہ یہ سنن دین ابراہیم کے طور پر رائج تھیں اور عرب بالخصوص قریش ان پر کاربند تھے۔ لکھتے ہیں:
’’بنو معد بن عدنان کی اکثریت دین ابراہیمی کے بعض اجزا پر کاربند تھی۔وہ بیت اللہ کا حج کرتے اور اس کے مناسک ادا کرتے تھے۔ مہمان نواز تھے ، حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے۔ فواحش ،قطع رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کو برا جانتے تھے۔ جرائم کی صورت میں سزا بھی دیتے تھے۔‘‘ (۶/ ۳۴۵)
’’بنو معد بن عدنان کی اکثریت دین ابراہیمی کے بعض اجزا پر کاربند تھی۔وہ بیت اللہ کا حج کرتے اور اس کے مناسک ادا کرتے تھے۔ مہمان نواز تھے ، حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے۔ فواحش ،قطع رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کو برا جانتے تھے۔ جرائم کی صورت میں سزا بھی دیتے تھے۔‘‘ (۶/ ۳۴۵)
’’روایتوں میں ہے کہ قریش یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے۔ ...روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔‘‘ (۶/۳۳۹)
’’دین ابراہیمی کے پیرو نساک، یعنی عبادت گزاروں میں سے تھے۔ وہ قربانی کے جانور کو بھی ’نسک‘ میں شمار کرتے تھے اور زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کے نزدیک قربانی زہد و عبادت کے اہم مظاہر میں سے ایک تھی۔‘‘ (۶/۵۱۰)
’’بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مردوں کی نماز جنازہ پڑھتے تھے جس کا طریقہ یہ تھا کہ میت کو چٹائی پر لٹا دیا جاتا، پھر اس کا وارث کھڑا ہوتا اور اس کے تمام محاسن بیان کرتا اور اس کی تعریف کرتا۔ پھر کہتا: تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ پھر اس کو دفن کر دیا جاتا۔‘‘ (۶/۳۳۷)
’’غسل جنابت اور مردوں کو نہلانا بھی (زمانہ قبل از اسلام کی) ان سنتوں میں سے ہے جو اسلام میں قائم رکھی گئیں۔ افوہ اودی کے شعر میں غسل میت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اعشیٰ اور بعض جاہلی شعرا کی طرف منسوب اشعار میں بھی مردوں کی تکفین اور ان کی نماز جنازہ پڑھنے کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ روایتوں میں ہے کہ قریش اپنے مردوں کو غسل دیتے اور خوشبو لگاتے تھے۔‘‘ (۶/۳۴۴)
’’مورخین بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے متبعین کے ہاں کچھ ایسی علامات اور عادات تھیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتے تھے۔ ان میں ختنہ، زیرناف بال کاٹنا اور مونچھیں ترشوانا شامل ہیں۔ ... شریعت ابراہیم کی سنتوں میں سے ایک سنت ختنہ بھی تھا اور یہ ان قدیم طریقوں میں سے تھا جو زمانۂ جاہلیت کے بت پرستوں میں رائج تھے۔‘‘ (۶/۵۰۸)
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
’الشریعہ‘ پڑھنے کو ملتا ہے۔ الحمد للہ! موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی فکری و نظری رہنمائی کے لیے ایک بہت ہی عمدہ پلیٹ فارم ہے۔عصر حاضر میں ہونے والے جہاد و قتال سے ہر پاکستانی بالعموم اور نوجوان طبقہ بالخصو ص کسی نہ کسی پہلو سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے جس میں پاکستان میں ہونے والے معاصر طالبان جہاد کا ایک تاریخی‘ تجزیاتی و تحقیقی مطالعہ پیش کیاگیا ہے۔ مضمون اگرچہ طویل ہے، لیکن امید ہے کہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرمائیں گے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ علما کی اس حوالے سے بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان پیچیدہ حالات میں امت کی رہنمائی فرمائیں۔ آپ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دین کے علاوہ احوال عالم کا بھی گہرا شعور عطا کیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے علما کے کسی ایسے سیمینار یا مجلس کے انعقاد کی کوشش کریں جس میں پاکستان میں کام کرنے والے مختلف طالبان گروپوں کی تاریخ‘ عقائد و نظریات اور ان کے مناہج جہادو قتال کی شرعی حیثیت کو موضوع بحث بنایا جائے اور علما کی طرف سے اس معاصرجہاد کے بارے میں کوئی متفقہ رائے سامنے آئے جو اس امت کے نوجوانوں کے لیے ان حالات میں دین کا کام کرنے کے لیے مشعل راہ بن سکے اور خود کش حملہ آوروں کے لیے یہ واضح ہو جائے کہ خود کش حملوں میں ان کے لیے عام شہریوں‘ جنگ میں حصہ نہ لینے والے سپاہیوں‘ معصوم بچوں اور عورتوں‘ عام پولیس اہل کاروں‘ رینجرز اور حکومت پاکستان کے ملازمین کو ہلاک کرنا جہاد ہے یا فساد‘ فرض عین ہے‘ مستحب ہے‘ مباح ہے یا حرام۔
بلاشبہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع شریعت اسلامیہ میں ایک بہت بڑا جرم ہے اور یہ ضیاع آئے دن جہاد و قتال کے نام پر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر واقعتا معاصر جہاد ایک اسلامی جہاد ہے تو اس کی شرعی حیثیت علما کے فتاویٰ سے واضح ہونی چاہیے اور پھر سب علما کو بھی اس میں شریک ہونا چاہیے، اور اگر یہ غیر اسلامی ہے تو اس کی مذمت علماے امت کا فریضہ ہے اور یہی اصل جہاد ہوگا‘ چاہے اس کو غیر اسلامی کہنے کی صورت انہیں اپنی جان ہی سے ہاتھ کیوں نہ دھونے پڑیں۔
حافظ محمد زبیر
ریسرچ ایسوسی ایٹ۔ قرآن اکیڈمی
۳۶۔کے، ماڈل ٹاؤن، لاہور
(۲)
جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم! امید ہے مزاج گرامی بخیریت تمام ہوں گے۔
ماہنامہ الشریعہ کا تازہ شمار نظر نواز ہوا۔ مولانا حافظ محمد یوسف صاحب کی زیر ترتیب کتاب ’’شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر: حیات وخدمات‘‘ کے پہلے باب میں تحقیق کی جس خوب صورت روایت کا رخ روشن پیش کیا گیا ہے، وہ ہدیہ تبریک کے لائق ہے۔ اسی طرح میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ اپنی جامعیت کے اعتبار سے قابل مطالعہ ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ البتہ اسی شمارے میں پروفیسر محمد سرور صاحب کی تصنیف ’’مولانا مودودی کی تحریک اسلامی‘‘ کے بارے میں چودھری محمد یوسف صاحب کی تحریر ’’تعارف وتبصرہ‘‘ کے ذیل میں اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ اس کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔
علماے زبان وادب کے نزدیک مطالعہ کرنے کے دو اسلوب ہیں: وقت گزاری کے لیے پڑھنا اور کچھ سیکھنے سمجھنے کے لیے پڑھنا۔ دوسرے اسلوب کی امتیازی راہ یہ ہے کہ جو پڑھا ہے، اس کا حاصل دوسروں کے سامنے پیش کیا جائے جبکہ اختصاصی صورت، جو میرے نزدیک حاصل مطالعہ کی اعلیٰ ترین صورت ہے، یہ ہے کہ:
جو سیکھا ہے سب کو سکھاتے چلو
دیے سے دیے کو جلاتے چلو
کسی کتاب پر تنقید وتبصرہ کرنا کسی ایسے صاحب علم ہی کی ذمہ داری ہے جو کتاب سے اخذ واستفادے کی اہلیت بھی رکھتا ہو اور دوسروں پر اس کے محاسن ومصائب کو بھی واضح کر سکتا ہو۔ ایسے افراد کا مطالعہ علم وادب بہت بھرپور اور وسیع ہونا لازمی و لابدی ہے اور کتاب کی گہری غواصی سے گوہر تابدار برآمد کر کے قارئین وناقدین تک پہنچانے کا عمل اس کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں بیشتر احباب سرسری کتاب خوانی کرتے ہیں جس کے باعث کتاب میں موجود مواد اور علم ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پاتے۔ ایسے احباب کتب بینی کے شوق کے ذیل میں تو آ سکتے ہیں (جس کا انھیں بہرحال حق حاصل ہے) لیکن کتاب، اس کا دور، مصنف کی فکری وعلمی وسعت اور کتاب میں پیش کردہ مواد کے تنقیدی وتحقیقی وتجزیاتی ماحصل کو پیش کرنے کی اہلیت چیزے دیگر است۔
مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر جرح وتنقید کے حوالے سے چودھری صاحب کو کس نوعیت کے اور کس حد تک حقوق حاصل ہیں، جماعت اور چودھری صاحب اس کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ میرا اس سے مطلق تعلق نہیں ہے، لیکن پروفیسر محمد سرور صاحب جیسے نابغہ عصر کی تحقیقی وتنقیدی تصنیف کے بارے میں تعارف وتبصرہ کے ذیل میں کوئی علمی بات نہ کر سکنا اور محض اپنے دل کی بھڑاس نکالنا کم از کم تبصرہ کے ذیل میں نہیں آتا۔ پروفیسر محمد سرور علمی وادبی ودینی حلقوں کا ایک انتہائی محترم نام ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار کی تحقیق وترویج کے حوالے سے ان کا کام ان کو دائمی حیات بخشنے کے لیے بہت کافی ہے۔ ا ن کی فکری اور علمی سطح کا اعتراف غلام مصطفی خان، جمیل جالبی، ابو اللیث صدیقی، ڈاکٹر وحید قریشی، سید عبد اللہ جیسے دانش وروں نے کیا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ان کے معترف ہیں۔ شورش کاشمیری کے مطابق پاکستان کے دو چار پڑھے لکھے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے (بحوالہ چودھری محمد یوسف صاحب)۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ چودھری محمد یوسف صاحب ایسے صاحب اسلوب محقق وناقد کی یادگار پر تنقیدی وتحقیقی حوالے سے خامہ فرسائی فرماتے او رکتاب کے محاسن ومعائب کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے علمی محاسبے یا تحسین کی درخشندہ مثال پیش کرتے او رکتاب کے مختلف ابواب اور مندرجات کے علمی اشکال، ابہام یا حسن تحریر پر اپنے معروضات پیش کرتے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چودھری محمد یوسف اگر اپنی فکری بصیرت کو بروے کار لاتے تو یقیناًایک یادگار مقالہ علم وادب کے دل دادگان کو نصیب ہوتا۔ چودھری محمد یوسف صاحب مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے حوالے سے (جماعت سے اپنے اخراج کے باعث) جو جی چاہے لکھیں یا فرمائیں، کم از کم پروفیسر محمد سرور صاحب جیسے بلند مرتبہ اور صاحب اسلوب مصنف کی کتاب پر تعارف وتبصرہ لکھنے سے پہلے کسی کتاب پر تنقید وتبصرہ کے اصولوں کا مطالعہ ضرور فرمائیں اور کتاب کا تعارف کرانے کی بجائے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے عمل کا بھی خود ہی تجزیہ فرما لیں۔
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز
کمال منزل۔ عبد اللہ کالونی
ریس کورس روڈ۔ گوجرانوالہ