’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ۸؍اکتوبر کو طلب کر لیا ہے جس میں حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان پارلیمنٹ کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔ اجلاس میں امن وامان کی صورت حال پر تفصیلی بحث کی جائے گی اور حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ صدر اور وزیر اعظم کا یہ اقدام موجودہ حالات میں یقیناًخوش آئند ہے اور اس سے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کا موقع ملے گا، وہاں حکومت کے ذمہ دار حضرات بھی عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے عوام کے جذبات اور تاثرات سے مزید آگاہی حاصل کریں گے۔
ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں؟ اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے گزشتہ چند روز میں قومی اخبارات کے ذریعے سامنے آنے والی بعض رپورٹوں اور خبروں پر ایک نظر ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے:
- ۳۰؍ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی طرف سے کرائے جانے والے ایک عالمی سروے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اپنے سب سے بڑے ہدف ’’القاعدہ‘‘ کو کمزور کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ تیس میں سے بائیس ممالک کے افراد کے مطابق اوسطاً بائیس فی صد رائے دہند گان کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے القاعدہ تنظیم کمزور ہوئی ہے، جبکہ سروے میں شریک ہر پانچ میں سے تین راے دہندگان کہتے ہیں کہ اس جنگ کاالقاعدہ پرکوئی اثر نہیں ہوا بلکہ القاعدہ اس جنگ سے مضبوط ہوئی ہے۔
- ۳۰؍ ستمبر کوہی شائع ہونے والی ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کی سفیر محترمہ این ڈبلیو پیٹرسن نے لاہور کے ایوان صنعت وتجارت کے کاروباری افراد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم افغانستان اور قبائلی علاقوں میں تعلقات عامہ کی جنگ ہار چکے ہیں اور امریکی پیغام نہیں پہنچا سکے۔ امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ کے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک ارب ستر کروڑ ڈالر سالانہ دے رہاہے، لیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پیسہ وہاں خرچ ہونے کی بجائے درآمدی بل کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔
- ۵؍اکتوبر کوشائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق عالمی امدادی ادارے ’’ریڈ کراس‘‘ کے ترجمان مارکوسی نے اسلام آباد میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کو دنیا کا نیا ’’وار زون‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قبائلی علاقے مکمل میدان جنگ بن چکے ہیں، پاکستانی فوج طالبان کے خلاف بر سر پیکار ہے، بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں، فورسز کی بمباری اور جنگجوؤں کے خوف سے اڑھائی لاکھ افراد نقل مکانی کر گئے ہیں، اور کئی ہزار افغانستان میں داخل ہونے کے منتظر ہیں، ہزاروں افراد پناہ گزین کیمپوں میں پڑے ہیں اور وادی سوات جہنم میں تبدیل ہو چکی ہے۔
- ۵؍اکتوبر کو ہی شائع ہونے والی ایک اور خبر کے مطابق عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل پیٹر یوس نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کاکنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ عراق میں حاصل ہونے والے تجربہ کو افغانستان میں استعمال کرنا چاہیے تھا، لیکن ہر جگہ صورت حال مختلف ہوتی ہے۔
- یکم اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق افغانستان کے لیے یورپی یونین کے سابق اعلیٰ سفارت کار فرانسس منشال نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تباہی وبربادی سے بچنے کے لیے حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کومزید تباہی وبربادی سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی سرگرمیوں اور حکمت عملی میں تبدیلی لائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کے باعث عوامی غم وغصہ میں اضافہ ہوا ہے جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
- ۴؍اکتوبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی ملکوں کے تمام انٹیلی جنس ادارو ں کے اہل کار کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک اگلے سات برسوں میں بھی افغانستان کو زیر نہیں کر سکتے۔ ان کاکہنا ہے کہ القاعدہ اور اس سے وابستہ لوگ اب بھی اتنے ہی مضبوط ہیں جتنے نائن الیون کے حملوں کے وقت تھے۔
- ۶؍اکتوبر کو روزنامہ پاکستان نے یہ خبر شائع کی ہے کہ افغانستان میں برطانوی کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں فیصلہ کن فتح ممکن نہیں ہے، اس لیے برطانیہ کو طالبان کے ساتھ ممکنہ ڈیل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کمانڈر مازک اسمتھ نے کہا ہے کہ افغانستان میں برطانیہ کا جنگ جیتنا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس بارے میں عوام کو اپنی توقعات میں کمی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عسکریت پسندی کی سطح کوکم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ کام افغان فوج کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اور طالبان سے مذاکرات کر کے مسئلے کا سیاسی حل نکالا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شائع ہونے والی بیسیوں خبروں اور رپورٹوں میں سے ان چند خبروں کا ہم نے بطور مثال حوالہ دیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ سات برس میں کیا کچھ حاصل کیا ہے اور مستقبل قریب میں مزید کیا کچھ حاصل ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس جنگ کا نتیجہ اس کے سوا کچھ برآمد ہونے والا نہیں تھا اور ہم جنگ کے آغاز میں ہی اس خیال کا اظہار کرچکے ہیں، اس لیے کہ اس جنگ کی بنیاد ہی مغالطوں ا ور فریب کاری پر تھی اور مغالطوں اور فریب کاری کی اساس پر لڑی جانے والی جنگوں کا نتیجہ یہی ہوا کر تا ہے۔
- ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف یہ جنگ دہشت گردی کا کوئی واضح مفہوم اور مصداق طے کیے بغیر لڑی جا رہی ہے، کسی گروہ یا ملک کو دہشت گرد قرار دینے اور اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے کے لیے کوئی اصول اور ضابطہ موجود نہیں ہے اور یہ اختیار اتحادی افواج اورا ن کے قائد امریکہ کے پاس ہے کہ وہ جس کوچاہیں، دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف عسکری یلغار کر دیں۔ اس جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادی کہتے ہیں کہ طالبا ن اور القاعدہ دہشت گرد ہیں، اس لیے ان کے خلاف جنگ ضروری ہے جبکہ طالبان اور القاعدہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان اور مڈل ایسٹ میں غیر ملکی مداخلت اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کے خلاف اپنی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بد قسمتی سے ان دونوں کے موقف سن کر غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کرنے والا کوئی ایسا فورم دنیا میں موجود نہیں ہے جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے ہوں، اس لیے ظاہر ہے کہ یہ جنگ ہتھیاروں سے ہی لڑی جائے گی اور وہی غالب ہوگا جو طاقت اور ہتھیار سے دوسرے کوشکست دے گا۔
- امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے غلط طور پر یہ سمجھ لیاہے اور دنیا کو بھی مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان صرف دو طبقے یا گروہ ہیں جن کوزیر کرنے سے معاملہ حل ہو جائے گا، جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ صرف دو طبقے نہیں بلکہ افغان اور عرب عوام کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی قوم کو زیر کرنے میں آج تک کسی کو کامیابی نہیں ہوئی اور نہ ہی آئندہ کبھی اس کاامکان موجودہے۔
- امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا کو غلط طور پر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ دہشت گردی غربت اور جہالت کی وجہ سے ہے، اس لیے اگر مغربی تعلیم سے لوگوں کو بہرہ ور کر دیا جائے اور چارپیسے دے دیے جائیں تو فتح حاصل ہو سکتی ہے، جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جسے دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے، وہ در اصل امریکہ اور مغربی اقوام کی ان مسلسل زیادتیوں، ناانصافیوں اور مظالم کارد عمل ہے جو وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ بالعموم اور فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بالخصوص طویل عرصہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے جب تک ان زیادتیوں اور ناانصافیوں کا خاتمہ نہیں ہوگا، ان کے رد عمل کو روکنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ دہشت گردی کی سب سے بڑی علامت اسامہ بن لادن کو بتایا جاتا ہے اور وہ اوراس کے گروپ کے افراد نہ غریب ہیں اور نہ ہی ان پڑھ ہیں۔
اس پس منظر میں ۸؍اکتوبر کو عوام کے منتخب نمائندے اسلام آباد میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہو رہے ہیں توہم اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ بالآخر عوام کے منتخب نمائندوں کوا س کا موقع مل گیا ہے کہ وہ اس اہم ترین قومی مسئلہ پر باہمی تبادلہ خیالات کریں، لیکن اس کے ساتھ ہم یہ گزارش بھی کرنا چاہیں گے کہ بلاشبہ پاکستان میں امن وامان کے حوالے سے ہمارے لیے دو بڑے چیلنج ہیں: ایک یہ کہ وطن عزیز کی سرحدوں میں بیرونی مداخلت اور حملوں کو روکنے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ملک کے اندر خود کش حملوں میں اضافہ اور ان میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کاکیسے سدباب کیا جا سکتا ہے؟ ہم پاکستان کی سرحدوں کے اندر بیرونی حملوں اور اندر ون ملک خودکش حملوں کی یکساں مذمت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ ہیں، البتہ یہ درخواست ہم ضرور کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کے عمومی اور عالمی تناظر کو بھی سامنے رکھیں اور صورت حال کے تمام پہلو ؤں کاجائزہ لیتے ہوئے ملک میں امن وامان کی بحالی، قومی خود مختاری کے تحفظ اور ملکی وقار کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین یار ب العالمین۔
مذکورہ گزارشات راقم الحروف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل روز نامہ پاکستان میں اپنے کالم کے ذریعے پیش کیں جو ۷؍ اکتوبر کو شائع ہوئیں، جبکہ اس کے بعد اجلاس کے دوران جیو ٹی وی کے معروف پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ کی دو نشستوں میں مجھے پروفیسر عبد الجبار شاکر، مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی اور مولانا امین شہیدی کے ساتھ مدعو کیا گیا۔ ان نشستوں میں راقم الحروف نے مختلف سوالات کے جواب میں جو گزارشات پیش کیں، ان کا خلاصہ درج کیا جا رہا ہے۔
سوال: خود کش حملوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آ رہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعمال کیا تھا اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں اس کا استعمال ناجائز ہوگا۔
سوال: پاکستان میں خود کش حملوں کے بارے میں علما کا فتویٰ شائع ہوا ہے کہ یہ حرام ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: پاکستان میں خود کش حملوں کو ناجائز کہنے والوں میں خود میں بھی شامل ہوں، اس لیے کہ پاکستان اس حوالے سے نظریاتی طور پر ایک اسلامی ریاست ہے کہ پاکستان کا دستور قرارداد مقاصد کو اپنی بنیاد قرار دیتا ہے، قرآن وسنت کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے، اسلام کو ریاست کا مذہب تسلیم کرتا ہے، قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی سے پارلیمنٹ کو روکتا ہے اور قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے نفاذ کا وعدہ کرتا ہے، اس لیے جب تک یہ دستوری پوزیشن موجود ہے، پاکستان عملی طور پر کچھ بھی ہو، مگر نظریاتی طور پر بہرحال ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی ریاست میں حکومت کے خلاف کسی بھی مطالبہ کے لیے ہتھیار اٹھانا جائز نہیں ہے۔
سوال: قبائلی علاقہ میں جو فوجی آپریشن اور خود کش حملے ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: اس وقت پاکستان کی مغربی سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں ہمارے خیال میں تین قسم کے عناصر ملوث ہیں: وہ انتہا پسند او رجذباتی مسلمان بھی ان میں شامل ہیں جو نفاذ شریعت کے سلسلے میں حکومت کے مسلسل منفی طرز عمل کے باعث رد عمل کا شکار ہو کر ایسا کررہے ہیں۔ ان کے طریق کار سے ہمیں اختلاف ہے، لیکن ان کا یہ موقف بہرحال درست ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے۔ دوسرے نمبر پر ان واقعات میں بین الاقوامی محرکات کارفرما ہیں اور مختلف قوتیں اس میں ملوث ہو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو کسی طرح نظرا نداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور تیسرے نمبر پر بہت سے جرائم پیشہ لوگ بھی اس فضا کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد پورا کرنے کے لیے اس میں شامل ہو گئے ہیں جیسا کہ ایسے مواقع پر اس طرح ہوتا ہے، اس لیے اس ’’مبینہ دہشت گردی‘‘ پر قابو پانے کے لیے ان تمام عناصر کو سامنے رکھ کر صورت حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا، ورنہ حالات کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
سوال: علماے کرام اور آپ حضرات اس سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
جواب: ہم اس صورت حال میں ان ناراض حضرات سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں جو نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی منت کریں گے اور ان کو پوری طرح سمجھانے کی کوشش کریں گے، لیکن اس کے لیے پیشگی طور پر ضروری ہے کہ حکومت بھی اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور اس کا ثبوت دے اور میرے نزدیک اس سنجیدگی کا ثبوت دو صورتوں میں ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ پارلیمنٹ کی سطح پر فیصلہ کیا جائے کہ قبائلی علاقوں کا مسئلہ فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، اور دوسرا یہ کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے جس ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کا حکومت اس علاقے کے لوگوں سے بار بار وعدہ کر رہی ہے اور اس کا کئی بار اعلان ہو چکا ہے، حکومت علامت کے طور پر وہاں کے لوگوں کو اعتماد میں لے کر وہ شرعی نظام عدل ریگولیشن نافذ کر دے۔ جب حکومت یہ دو کام پیشگی کر لے گی تو باقی ماندہ امور کے لیے ہم وہاں جانے اور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
اس پس منظر میں پارلیمنٹ نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے سلسلے میں مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ اور اس پر کئی روز کے بحث ومباحثہ کے بعد جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے، وہ کئی حوالوں سے ہمارے لیے اطمینان بخش ہے۔ مثلاً یہ کہ:
- قوم کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور انھیں پالیسی سازی میں اصولی طو رپر شریک کیا گیا ہے۔
- پارلیمنٹ نے قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی اور سٹریٹجی پر نظر ثانی اور اس کی ازسرنو تشکیل کو ضروری قرار دیا ہے۔
- ملٹری آپریشن پر مذاکرات کو ترجیح دیتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے مذاکرات کے لیے کہا گیا ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق پارلیمنٹ کے ارکان کی بریفنگ اور متفقہ قرارداد کو متوازن بنانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہ نماؤں ار جمعیۃ علماے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے موثر کردار ادا کیا ہے جس کے لیے وہ پوری پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر بھی تشکر وتبریک کے مستحق ہیں او رہم اس متفقہ قرارداد پر پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کو مبارک بار پیش کرتے ہیں۔
ہمارے خیال میں پارلیمنٹ کی اس متفقہ قرارداد سے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے حوالے سے پوری قوم کے جذبات واحساسات کی عکاسی ہوئی ہے اور مجموعی طو رپر قوم کا موقف دنیا کے سامنے آ گیا ہے، لیکن یہ بہرحال قرارداد ہے جس کو عمل کے دائرے میں لانے کے لیے حکومتی کیمپ اور حکومت کی ترجیحات اور رجحانات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اور پوری قوم کی نظریں اب حکومت پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی قرارداد پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں کا یہ موقف پاکستان کی خود مختاری، سرحدوں کے تقدس، مکمل سا لمیت اور امن وامان کے حوالے سے صورت حال کو بہتری کی طرف لے جانے میں کس قدر موثر ثابت ہوتا ہے۔
ہماری دعا ہے کہ پاکستان کے حکمران اس نازک مرحلے میں ملک وقوم کی بہتری اور وقار واستحکام کے لیے موثر کرداد ادا کریں اور وطن عزیز کو اس دلدل سے باعزت طور پر باہر نکالنے میں کامیاب ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
علمائے کرام کی ارکانِ پارلیمنٹ سے درد مندانہ اپیل
ادارہ
الحمدﷲ رب العالمین ، والصلاۃ والسلام علی سیدنا وشفیعنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین،ومن تبعہم باحسان إلی یوم الدین۔ أما بعد:
معزز ارکانِ پارلیمنٹ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان جن نامساعد حالات سے گذر رہاہے،او رجس نازک صورتِ حال سے دوچار ہے، اور اس نے پوری پاکستان قوم کو جس تشویش او رفکر میں مبتلا کررکھا ہے ،وہ اہلِ نظر پر پوشیدہ نہیں۔ الحمدﷲ!کہ قومی اسمبلی،سینٹ کے منتخب ممبران او رحکومت کے سرکردہ افراد اس پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس نازک صورتِ حال پر غور کرنے کے لیے جمع ہیں۔اس اہم موقع پر ہماری یہ قومی اور شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کی خدمت میں اپنی کچھ گذارشات پیش کریں،تاکہ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور ملک کے موجودہ بحران کے حقیقی اسباب اور حکومتی اقدامات اور خارجی وقومی پالیسیوں کا جائزہ لے کر متفقہ لائحہ عمل تجویز کیا جاسکے۔
ہمارے خیال میں اگر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ صوبہ سرحد، قبائلی علاقوں او رسوات وغیرہ کے بگڑتے ہوئے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں کے عوام وخواص درج ذیل طبقات میں منقسم نظر آتے ہیں:
(الف) مسلمانوں کی وہ بھاری اکثریت جو ہمیشہ پُرامن رہی ہے اور اب بھی پُرامن ہے وہ پاکستان کی بھرپور حامی رہی ہے،او راب بھی پاکستان کی صرف حامی ہی نہیں بلکہ اس کی شمالی سرحدوں کی نگہبان و محافظ بھی ہے، وہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی بھی محافظ رہی ہے، اور اس کی نظریاتی سرحدوں کی بھی، اور دشمن کے لیے ہمیشہ ناقبلِ تسخیر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی قدیم روایات کی بھی حامل ہے، یہ بھاری اکثریت پاکستان کے دوسرے علاقوں کی بہ نسبت نماز ،روزہ وغیرہ کے اعتبار سے زیادہ دین دار اور باغیرت ہے، اگر کوئی حکومت دین یااہل دین کا مذاق اڑائے،یا دین یا اور اہل دین کو رسوا کرنے ،یا ان کی قدیم روایات کو پامال کرکے ان پر غیر ملکی حکمرانوں کو ،یا غیر ملکی نظریات کو مسلط کرنے کی کوشش کرے تو وہ مکمل طور پر پُرامن ہونے کے باوجود اسے انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،او رغیر ملکی افواج،یا غیر ملکی نظریات کے تسلط کو اپنے لیے اور ملک وملّت کے لیے ہرحالت میں ناقابلِ برداشت سمجھتے ہیں، ان علاقوں کے علماءِ کرام ان میں سر فہرست ہیں،اس وقت ان علاقوں میں جو بمباری ہورہی ہے،یا تشدد کو روکنے کے لیے متشددانہ کاروائیاں ہورہی ہیں، ان کا زیادہ نشانہ یہی مظلوم اکثریت ہے،جس میں جواں بھی شامل ہیں ،بوڑھے بھی، عورتیں بھی ان کاروائیوں کا نشانہ ہیں،اور معصوم بچے بھی۔
(ب) (الف) میں ذکرکردہ مسلمانوں کی اس بھاری اکثریت میں سے چند مخلص مگر حد سے زیادہ مشتعل نوجوان ایسے بھی مسلسل رونما ہورہے ہیں جو جامعہ حفصہ اور اپنے علاقوں میں مظلوم مسلمانوں کی شہادت پر اور حکومت کی خلافِ اسلام اورافغانستان پالیسی پر انتقام کی آگ میں جل اٹھے ہیں، اور انہوں نے علماے کرام کے منع کرنے کے باوجود دینی اخلاص ،علاقائی غیرت،اور اپنے پیارے عزیزوں کی لاشیں دیکھ کر ہتھیار اٹھالیے ہیں،یا خودکُش حملوں کا پاکستان کے اندر ہی وہ راستہ اختیار کرلیا ہے جو حد درجہ خطرناک ہے،او رعام مسلمانوں کے درمیان ان حملوں کو علما اپنے ایک مشترکہ مؤقف میں بالاتفاق ناجائز قرار دے چکے ہیں، لیکن مذکورہ بالا اسباب کی بنا پر یہ جذباتی او رمشتعل نوجوان انتقام کی پیاس کو خود اپنے خون سے سیراب کررہے ہیں۔
(ج) جب کسی علاقے میں افراتفری ،بمباری او رخانہ جنگی کی سی صورتِ حال پید ہوجاتی ہے تو سماج دشمن عناصر مثلاً چور ،ڈاکوؤں کی بن آتی ہے، وہ بھی اپنے مذموم عزائم کی خاطر کبھی غیر ملکی افواج سے جاکر مل جاتے ہیں ،کبھی ملکی افواج سے، او رکبھی ان نوجوانون کے ساتھ آکر شریک ہوجاتے ہیں جن کا ذکر (ب )میں گذرا، اور حالات کی خرابی میں وہاں کے باخبر اور بااثر حضرات کے بیان کے مطابق ایسے عناصر کا بھی بڑا حصہ ہے۔
(د) امریکی افواج اپنی معاون نیٹو افواج نیز بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ گذشتہ سات سال سے افغانستان پر فتح حاصل کر نے کی کوشش کرتی رہی ہیں،اب ان کے اپنے کمانڈروں ،او رسفارت کاروں نے ان تمام کوششوں کی ناکامی کا مختلف بیانات کے ذر یعے اقرار کرلیا ہے،ان غیر ملکی افواج نے اپنی کھلی آنکھوں نظر آنے والی شرمناک شکست کو فتح ،یا باعزت پسپائی میں بدلنے کے لیے آخر ی کوشش یہ کی ہے کہ انہوں نے اپنے ایجنٹوں کو اسلحہ، ڈالر او رافغانی ،اور پاکستانی کرنسی دیکر ہمارے قبائلی علاقوں میں گھسا دیا ہے، او ریہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ جب یہ ایجنٹ پکڑے گئے ،یا ان لاشیں ملیں تو ان میں سے کئی غیر مختون تھے، اور بہت سے واضح طو رپر غیر ملکی افواج کے نمائندے تھے،جو طالبان کے بھیس میں پاکستانی افواج سے لڑے، او ران علاقوں میں افرا تفری پیدا کرنے کے لیے داخل ہوئے تھے۔ایسے ایجنٹوں کی تعداد اب روز بروز بڑھ رہی ہے،حتیٰ کہ بعض قبائلی علاقوں کے علماء نے یہ بتایا کہ اب ہمیں اپنے علاقوں میں وہ وہ چہرے بکثرت نظر آرہے ہیں جنہیں ہم نے ساری زندگی کبھی نہیں دیکھا۔یہ امریکی ،بھارتی ایجنٹ اصل طالبان کو بدنام کرنے کے لیے طالبان کے روپ میں پاکستانی افواج سے لڑ رہے ہیں، اور علاقے میں اور پاکستان کے شہروں میں بم دھماکوں میں بربادی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
اگر گذشتہ ساری صورتِ حال سامنے رکھی جائے تو صاف واضح ہوگا کہ (الف) میں ذکرکردہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت جن میں علماے کرام بھی شامل ہیں، اس وقت سب سے زیادہ متأثر ہیں،غیر ملکی افواج کے، بغیر پائلٹ طیاروں کی بمباری ہو، یا ان کے میزائلوں کی بارش ہو،یا پاکستانی مسلح فورسز کی کاروائیاں ہوں،ان کا زیادہ تر نشانہ وہ بے گناہ مسلمان بن رہے ہیں جن کا (الف )میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) میں ذکرکردہ نوجوان جو بہت کم تعداد میں ہیں وہ تو ویسے ہی اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں۔اور (ج) اور (د) میں مذکور طبقات اپنے اثرورسوخ ،سازشوں اور غیر ملکی پشت پناہی کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں،او رسارا نزلہ عام مسلمانوں پر گر رہا ہے۔
علاج:
اس پیچیدہ صورتِ حال کا اس کے سواکوئی علاج نہیں ہے کہ :
۱۔ بمباری ،میزائلوں کی بارش او راندھادھند فوجی کاروائیاں فوی طور پر بند کی جائیں۔
۲۔ ہر علاقے کے مقامی علما، دین دار حضرات اور محب وطن سرداروں کو ساتھ ملاکر ان لوگوں کو پکڑا جائے جن کا ذکر (ج) اور (د ) میں کیا گیا ہے، اور ان کو سرِ عام عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔
۳۔ (الف) اور (ب)میں ذکرکردہ حضرات کے جو جائز مطالبات ہیں انہیں فوری طور پر خلوص دل سے اس طرح پورا کیا جائے کہ علاقے لوگوں کو یہ اطمینان ہو کہ حکومت یہ کام محض وقت گذاری کے لیے نہیں کررہی بلکہ واقعتا وہ یہاں انصاف مہیا کرکے امن وامان قائم کررہی ہے۔
۴۔ اندرون ملک بھی خلافِ اسلام پالیسیوں او راقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔
۵۔ غیر ملکی طاقتوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا رویہ ختم کرکے محب وطن عوام کو ساتھ ملایا جائے ، اور ان کے تمام جائز مطالبات کو ممکنہ حد تک پورا کیا جائے۔
۶۔ اپنی موجودہ خارجہ پالیسی اور خصوصاً امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے ’’اُس کی دہشت گردی میں تعاون‘‘ کے شرمناک معاہدے سے جان چھڑانے کا محتاط راستہ جلد از جلد نکالا جائے، جو درحقیقت اپنی سلامتی کا راستہ ہے۔
۷۔ عدلیہ کو آزاد او ربحال کیا جائے کیونکہ فوری انصاف کی فراہمی، او رآزاد عدلیہ کے بغیرامن وامان کا قیام ممکن نہیں۔
آخرمیں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی او رمعاشی بدحالی کے موجودہ طوفان کے مختلف اسباب ہیں، لیکن تین بڑے سبب یہ ہیں:
۱۔بدامنی:جسے ختم کیے بغیراسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاشی استحکام کاتصوّر نہیں کیا جاسکتا،بدامنی کے خاتمہ کے لیے تجاویز اوپر تحریر کردی گئی ہیں۔
۲۔ کرپشن:کرپشن کی یہ دیمک اس وقت ملک کے بالائی طبقات سے لے کر نچلے طبقات تک سرایت کرچکی ہے، امانت ودیانت او رسچائی کے ساتھ کسبِ حلال کا تصوّر کم سے کم ہوتا جارہا ہے، ان اخلاقی اسلامی اوصاف کا احیا ہر سطح پر ضروری ہے تاکہ کرپشن کا کا خاتمہ کیا جاسکے، او راس کے لیے موجودہ قوانین کا آزاد عدلیہ کے ذریعہ نفاذ ضروری ہے۔
۳۔ تعیشانہ زندگی :پاکستان کے بالائی طبقات جس پُر عیش زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اس کے واقعات اب عوام کی زبانوں پر ہیں،اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تعیشانہ زندگی ختم کرکے ہر سطح پر سادگی کو فروغ دیا جائے ،اور ملک وقوم کے لیے جو پیسہ بچایا جاسکتا ہے اسے ہر قیمت پر بچایا جائے۔
یہ سب تجاویز نیک نیتی او راخلاص کے ساتھ دی جارہی ہیں،ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں،امید ہے کہ آپ حضرات اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہوئے ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ان پر غور فرمائیں گے۔
اللہ جل شانہ ہمیں اپنے محبوب وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی او رنظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی توفیق نصیب کرے۔آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین۔
گزارش کنندگان:
* مولانا محمد سرفراز خان صفدر، شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ * مولانا سلیم اللہ خان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان * ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی * مفتی محمد رفیع عثمانی، صدر جامعہ دار العلوم کراچی * مفتی محمد تقی عثمانی، نائب صدر جامعہ دار العلوم کراچی *مفتی منیب الرحمن، صدر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان * مولانا نعیم الرحمن، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان * مولانا عبد المالک، صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان * علامہ ریاض حسین نجفی، صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان * علامہ قاضی نیاز حسین نقوی، نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان * پیر امین الحسنات شاہ، رئیس دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف *مولانا عبد الرحمن سلفی، امیر جماعت غرباے اہل حدیث پاکستان * مولانا حافظ محمد سلفی، مدیر جامعہ ستاریہ اسلامیہ *مولانا محمود احمد حسن، شیخ الحدیث جامعہ ستاریہ اسلامیہ *مولانا حافظ محمد انس مدنی، وکیل جامعہ ستاریہ اسلامیہ *مفتی محمد ادریس سلفی، رئیس دار الافتاء جماعت غرباے اہل حدیث پاکستان * مولانا عبید اللہ، مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور *قاری محمد حنیف جالندھری، مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان * مولانا انوار الحق، نائب مہتمم دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک *مولانا محمود اشرف، نائب مفتی جامعہ دار العلوم کراچی * مفتی عبد الرؤف، نائب مفتی جامعہ دار العلوم کراچی *مفتی سید عبد القدوس ترمذی، مہتمم جامعہ حقانیہ ساہیوال سرگودھا *مفتی محمد، رئیس دار الافتاء والارشاد کراچی *مفتی عزیز الرحمن، جامعہ دار العلوم کراچی * مولانا فضل الرحیم، ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ لاہور *مولانا زاہد الراشدی، شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ * مولانا فداء الرحمن درخواستی، امیر پاکستان شریعت کونسل * مولانا عبد الغفار، منتظم جامعہ فریدیہ اسلام آباد * قاری ارشد عبید، ناظم اعلیٰ جامعہ اشرفیہ لاہور *مولانا محمد اکرم کاشمیری، رجسٹرار جامعہ اشرفیہ لاہور * مولانا محمد صدیق، شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان * مفتی عبد اللہ، جامعہ خیر المدارس ملتان *مفتی محمد طیب، صدر جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد * مفتی محمد زاہد، نائب صدر جامعہ امدادیہ اسلامیہ فیصل آباد *مولانا محمد یوسف کرخی، مدیر مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن، گلشن بلال کراچی۔
پارلیمنٹ کے معزز ارکان کی خدمت میں پاکستان شریعت کونسل کی عرضداشت
ادارہ
(اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ۸؍ اکتوبر ۲۰۰۸ کو شروع ہونے والے اجلاس کے موقع پر پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ارکان پارلیمنٹ اور قومی پریس کی خدمت میں مندرجہ ذیل عرض داشت پیش کی گئی۔)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بگرامی خدمت معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
ملک بھر کے محب وطن اور اسلام دوست عوام بالخصوص علماے کرام اور دینی حلقوں کے لیے یہ بات باعث مسرت واطمینان ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندے ۸؍اکتوبر ۲۰۰۸ سے ملک کی موجودہ نازک، سنگین اور حساس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں جمع ہو رہے ہیں اور انھیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملک میں امن وامان کی تازہ ترین صورت حال اور حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں بریف کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ آٹھ برس سے ملک جس بدترین شخصی آمریت سے دوچار تھا اور قوم، اس کے نمائندوں اور جمہوری اداروں کو جس طرح قومی پالیسیوں کے حوالے سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا تھا، اس فضا میں پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس خوشگوار ہوا کا ایک جھونکا ہے جس پر ملک کے ہر محب وطن شہری نے یک گونہ طمانینت محسوس کی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ اجلاس اپنے مقاصد کے حوالے سے بارآور ہو اور قومی وقار اور اعتماد کی بحالی کا ذریعہ ثابت ہو۔ آمین یا رب العالمین۔
اس موقع پر ہم ارکان پارلیمنٹ کی خدمت میں حب الوطنی، قومی ہمدردی اور ملی خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ عوام کے منتخب نمائندے ملک وقوم کو درپیش اس سنگین بحران کے بارے میں قومی رائے اور پالیسی طے کرتے وقت ان کو بھی ضرور سامنے رکھیں گے۔
معزز ارکان پارلیمنٹ!
وطن عزیز کو اس وقت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں سے سرفہرست چند اہم ترین مسائل کی طرف اس وقت ہم آپ کو توجہ دلا رہے ہیں:
- اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اساس اور اسلامی تشخص کو خدانخواستہ ختم کرنے یا کم از کم غیر موثر بنا دینے کے لیے بین الاقوامی سازشوں کا اس وقت ہر طرف جال پھیلا ہوا ہے جس کی تقویت کے لیے ملک کے اندر سیکولر حلقے اور لادین عناصر بھی متحرک ہیں اور اس کے لیے ریاستی وسائل کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اساس اسلام اور مسلمانوں کا جداگانہ تشخص ہے۔ اسی بنیاد پر متحدہ ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی اور پاکستان کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ کوئی بھی قوم اپنی نظریاتی اساس اور تہذیبی تشخص سے محروم ہو کر دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتی، اس لیے عوام کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی نظریاتی اساس، اسلامی تشخص اور تہذیبی امتیاز کے تحفظ کی طرف خصوصی توجہ دیں اور ان عناصر سے ہوشیار رہیں جو:
۱۔ ملک کے دستور وقانون کی اسلامی دفعات کو غیر موثر بنانے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔
۲۔ میڈیا اور ابلاغ کے ذرائع کو فحاشی وعریانی کے فروغ اور اسلامی تہذیبی اقدار کو خدا نخواستہ مٹانے کے لیے مسلسل اور بے تحاشا استعمال کر رہے ہیں۔
۳۔ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور ملت اسلامیہ کے ماضی سے لاتعلق اوربے خبر بنانے کے لیے ملک کے تعلیمی نظام کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں اور
۴۔ لسانی وعلاقائی عصبیتیں پھیلا کر قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ - قومی خود مختاری کا تحفظ بلکہ بحالی اس وقت ہمارے لیے اہم ترین مسئلہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ساٹھ سال کے بعد یہ خوف ناک اور شرم ناک صورت اختیار کر گیا ہے کہ غیر ملکی فوجیں پاکستان کی سرحدوں کے اندر حملے کر رہی ہیں، بمباری کی جا رہی ہے، بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی سرحدات کا تقدس مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے بہت سے راہ نماؤں اور حکمرانوں کی مسلسل غفلت، بے پروائی اور امریکہ کے ساتھ ان کی فدویانہ وفاداری کے تلخ ثمرات ہیں جو پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اور ان کا ایک انتہائی اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ خاکم بدہن ملک کی جغرافیائی وحدت، قومی خود مختاری اور ملکی سالمیت کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی حلقوں میں سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور مشرقی پاکستان کی تاریخ دہرائے جانے کی باتیں بھی زبانوں پر آنے لگی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی سرحدوں کے اندر غیرملکی فوجوں کے زمینی اور فضائی حملوں کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر دوٹوک اور باوقار موقف اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کے تحفظ کا ہمہ جہت جائزہ لینابھی ضروری ہے اور قومی پالیسیوں کے تعین اور ملکی انتظامات کے حوالے سے دستوری اور قومی اداروں کی آزادانہ حیثیت کی بحالی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ قومی خود مختاری کا اصل سرچشمہ پارلیمنٹ ہے۔ اگر عوام کے منتخب نمائندے اپنی دستوری، جمہوری اور اخلاقی پوزیشن کا صحیح طور پر ادراک کرتے ہوئے اپنا دستوری کردار موثر طریقے سے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو وطن عزیز کی سالمیت، خود مختاری اور جغرافیائی وحدت کے خلاف اندرونی وبیرونی ہر قسم کی سازشوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔
ہم پوری دیانت داری کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ (۱) دستور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کا تحفظ (۲) پارلیمنٹ کا آزادانہ کردار اور (۳) دستور کے مطابق آزاد عدلیہ کی بحالی ہی پاکستان اور پاکستانی قوم کے محفوظ، باوقار اور بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اس سارے معاملے کی کنجی اس وقت پارلیمنٹ اور اس کے ارکان کے ہاتھ میں ہے اور اگر خدا نخواستہ اس نازک ترین مرحلے میں بھی عوام کے منتخب نمائندے اپنی دستوری پوزیشن کے موثر استعمال کی بجائے وقتی مفادات اور محدود وابستگیوں کی بھول بھلیاں میں گم رہے تو وطن عزیز اور پاکستانی قوم کو درپیش سنگین خطرات اور ان کے ممکنہ تلخ نتائج وثمرات کی ذمہ داری سے وہ عند اللہ اور عند الناس کسی جگہ بھی سرخروئی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ - ملک میں مبینہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان میں سیکڑوں بے گناہ شہریوں کی مسلسل شہادتیں بھی ایک بڑا قومی المیہ ہے جس پر ہر شہری مضطرب اور پریشان ہے۔ ہم نے ملک کے اندر خود کش حملوں، دینی یا سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار اٹھانے اور کسی بھی مطالبہ کے لیے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے طرز عمل کی ہمیشہ مخالفت کی ہے، اسے ناجائز قرار دیتے ہوئے بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے اور اب بھی ہم اسے قابل مذمت سمجھتے ہیں، لیکن اس کے اسباب وعوامل کو نظرانداز کرتے ہوئے یک طرفہ مذمت اور ہرحال میں کچل دینے کی پالیسی کو بھی ہم درست نہیں سمجھتے۔ ہمارے نزدیک اس کے اسباب میں بین الاقوامی محرکات اور علاقائی محرومیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور ان عوامل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے ان کا سدباب کیے بغیر ان پر قابو پانا ممکن ہی نہیں ہے۔
اس امر کے شواہد اب کھلم کھلا سامنے آ رہے ہیں کہ اس کار شر میں بین الاقوامی ایجنسیاں بھی ملوث ہیں اور پوری پلاننگ کے ساتھ مختلف حلقوں میں ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ عوام اور پاکستانی فوج کے درمیان تصادم کے مواقع پیدا ہوں اور ملک کے اندر عوام اور فوج کے درمیان بے اعتمادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دینی قوتوں اور بالخصوص طالبان کو بدنام کرنے کی مہم کو آگے بڑھایا جائے۔ افغانستان کے طالبان کے بارے میں ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا پاکستان کے اس داخلی خلفشار سے کوئی تعلق نہیں ہے اور طالبان کے بعض ذمہ دار راہ نماؤں نے اس سلسلے میں خود وضاحت بھی کی ہے، لیکن میڈیا کے یک طرفہ پراپیگنڈے کے ذریعے ’’طالبان‘‘ کا نام استعمال کر کے ان غریبوں کی خواہ مخواہ کردار کشی کی جا رہی ہے، جبکہ وہ اپنے ملک افغانستان کا اندر غیر ملکی فوجی مداخلت کے خلاف آزادئ وطن کی جنگ میں مصروف ہیں اور پاکستان کے اندر اس قسم کی کارروائیاں کرنا یا ایسی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنا خود ان کے مفاد کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم عوام کے منتخب نمائندوں سے گزارش کریں گے کہ وہ اس مبینہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کے بین الاقوامی محرکات اور عوامل کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور اس کے اصل ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کر کے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کریں۔
اس کے ساتھ ہم اس امکان کو بھی کلیتاً مسترد نہیں کر رہے کہ اس خطے میں امریکہ کے جبری اقدامات اور اس کی حمایت میں سابقہ مشرف حکومت کی عوام دشمن کارروائیوں کا رد عمل بھی ان خود کش حملوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے اور بعض ایسے لوگ بھی اس میں ملوث ہو سکتے ہیں جن کے خلوص پر تو شبہ نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کا طریق کار یقیناًدرست نہیں ہے اور ایسے افراد کو ان کاموں سے روکنے کے لیے ان کی شکایات او رمحرومیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ مثلاً سوات کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ انھیں وہ شرعی عدالتی نظام واپس کیا جائے جو پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق کے وقت ختم کر دیا گیا تھا۔ ان کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے، اس لیے کہ وہ اس عدالتی شرعی نظام کے ساتھ مانوس چلے آرہے ہیں، یہ نظام ان کے عقیدہ وایمان اور کلچر وثقافت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور یہ عدالتی نظام سستے اور فوری انصاف کا ضامن ہے، جیسا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی تحریک کے طریق کار سے اختلاف کے باوجود ان کا یہ مطالبہ بالکل درست تھا کہ ملک میں شرعی نظام نافذ کیا جائے۔
حکومتی حلقے بھی ان کے اس مطالبہ کو جائز تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ پہلے بھی اس خطے میں شرعی نظام عدل ریگولیشن نافذ کیا گیا تھا جو محض رسمی اور غیر واضح ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکا تھا اور اب بھی سرحد حکومت سوات ومالاکنڈ کے عوام سے شرعی نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا بار بار وعدہ کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس خطے کے عوام کا مطالبہ درست ہے اور حکومت اس کو تسلیم بھی کرتی ہے تو اس میں مسلسل تاخیر اور ٹال مٹول کرکے بے اعتمادی کو بڑھانے اور ان لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنے کی آخر کیا تک ہے؟ اس لیے ہم گزارش کریں گے کہ مبینہ دہشت گردی اور خود کش حملوں کے بین الاقوامی اور داخلی محرکات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ان کے اسباب وعوامل اور زمینی ومعروضی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس سلسلے میں واضح حکمت عملی طے کی جائے۔
قابل صد احترام ارکان پارلیمنٹ!
ملک کے اندر مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ، خود کش حملوں کی روک تھام اور امن عامہ کی بحالی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا بھی ہمارے سرفہرست قومی مسائل میں سے ہے۔ اشیاے صرف کی قیمتوں نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے، خود کشیاں بڑھ رہی ہیں اور انارکی کا خوف ناک عفریت منہ کھولے مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے جس پر لوڈ شیڈنگ جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنا بھی عوام کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے اور انھیں محض بیورو کریسی کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا غریب عوام سے ووٹ لے کر ایوان اقتدار اور پارلیمنٹ تک پہنچنے والوں کے شایان شان نہیں ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا قومی سطح پر اور ہنگامی بنیادوں پر حل تلاش کیا جانا ضروری ہے اورہمارے خیال میں شرعی اصولوں کی بنیاد پر بیت المال کا قیام اور ملک کے تمام شہریوں کو ان کی ضروریات زندگی ان کی قوت خرید کے اندر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم، سرمایہ دارانہ نظام سے گلو خلاصی، تعیش اور لگژری پر پابندی اور قناعت اور بچت کے ساتھ غریب عوام کو بنیادی ضروریات میں سبسڈی کی فراہمی کے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہم ارکان پارلیمنٹ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلانے کے لیے بھی موثر کردار ادا کریں گے اور اس سلسلے میں کوئی واضح اور ٹھوس پروگرام طے کرنے کی طرف عملی پیش رفت کریں گے۔
ہم ایک بار پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملتمس ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے ہماری ان مخلصانہ گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو ملک وقوم کی بہتری کے لیے اچھے اور نتیجہ خیز فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کا متن
ادارہ
پارلیمنٹ کے اس مشترکہ ان کیمرہ سیشن نے ان معاملات کو نہایت تشویش کی نظر سے دیکھا ہے جو قومی ریاست کی سالمیت اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات ایوان کے سامنے رہی ہے کہ ماضی میں آمرانہ حکومتوں نے ایسی پالیساں اختیار کیے رکھی ہیں جن کا مقصد قومی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنا تھا۔
یہ ایوان صورت حال پر پوری طرح اور تفصیلی غور وخوض کرنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ قوانین وضع کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے، شہریوں کو تشدد سے بچانے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے، معیشت کی تشکیل نو اور محروم طبقات کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ہم سب درج ذیل امور کے ساتھ گہری وابستگی کا اظہار کریں:
۱۔ یہ کہ ہمیں قومی سلامتی کی حکمت عملی پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے اور آزادانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان میں اور خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے دہشت گردی کے مقابلے کے طریق کار پر بھی دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
۲۔ یہ کہ عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے چیلنج کا سامنا اتفاق رائے پیدا کر کے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکالمہ کے ذریعے سے کرنا چاہیے۔
۳۔ یہ کہ قوم اس بڑھتی ہوئی لعنت کے مقابلے کے لیے متحد ہے۔ رائے عامہ پرزور طریقے سے دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کی، جن میں فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کا فروغ بھی شامل ہے، مذمت کرتی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے بنیادی اسباب کو دور کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔
۴۔ یہ کہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا۔ قوم وطن عزیز میں کسی نوع کی مداخلت اور حملوں کے خلاف متحد ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں کے ساتھ موثر طریقے سے نمٹے۔
۵۔ یہ کہ پاکستان کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف کسی نوع کے حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور اگر ملک میں کہیں غیر ملکی جنگ جو پائے جائیں تو انھیں ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا۔
۶۔ یہ کہ تصادم سے نمٹنے اور اس کو حل کرنے کے لیے بنیادی وسیلے کے طور پر اب مذاکرات ہی اولین ترجیح ہوں گے۔ ان تمام عناصر کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو پاکستان کے آئین اور قانون کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں۔
۷۔ یہ کہ شورش زدہ علاقوں، خصوصاً قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد (پختون خواہ) کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ طریقے اور جائز ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ لوگوں میں یقین پیدا ہو کہ ان کے مفادات امن وامان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کم ترقی یافتہ علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
۸۔ یہ کہ بلوچستان کے عوام سے سیاسی مذاکرات کیے جائیں گے، ان کی شکایات دور کی جائیں گی اور وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے کا عمل تیز رفتاری سے کیا جائے گا۔
۹۔ یہ کہ وفاق قانون کی حکمرانی کو قائم رکھے گا اور جب کبھی شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے ریاست کو مداخلت کی ضرورت محسوس ہو تو تصادم کے علاقے میں آباد غیر جانبدار شہریوں کو جانی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے پوری احتیاط سے کام لیا جائے گا۔
۱۰۔ یہ کہ وفاق کو جمہوری کثرت رائے، سماجی انصاف، مذہبی اقدار اور رواداری اور ۱۹۷۳ء کے آئین کے مطابق صوبوں کے درمیان وسائل کی مساوی تقسیم کے ذریعے سے مضبوط بنایا جائے گا۔
۱۱۔ یہ کہ مملکت شورش زدہ علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرے گی، روایتی اور مقامی جرگوں سے مدد لیتے ہوئے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے اور جتنی جلدی ممکن ہو، فوج کی جگہ قانون نافذ کرنے والی سول ایجنسیوں کو، جن کی کارکردگی کی صلاحیت کو بہتر بنایا گیا ہو، متعین کیا جائے گا، اور مشاورت کے ذریعے ایک قابل تسلسل سیاسی نظام کو مستحکم کیا جائے گا۔
۱۲۔ یہ کہ مغربی اور مشرقی سرحدوں پر (دو طرفہ) مفادات کو علاقائی امن اور تجارت کے ساتھ منسلک کر کے پاکستان کے تزویراتی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔
۱۳۔ یہ کہ تشدد کا نشانہ بننے والوں کو معاوضہ ادا کر کے اور بے گھر ہونے والوں کی ان کے گھروں میں جلد از جلد آباد کر کے داخلی سطح پر تحفظ کے انتظامات کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی، دہشت گردی کے توسع پذیر اثرات پر پورے ملک میں قابو پایا جائے گا، اور ذرائع ابلاغ اور مذہبی (طبقات) کو شریک کار بناتے ہوئے رائے عامہ کی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔
۱۴۔ یہ کہ پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس قرارداد میں متعین کردہ اصولوں اور بتائے گئے لائحہ عمل پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی کرے گی، راہنما خطوط فراہم کرے گی اور ان کے نفاذ کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ یہ ایوان قومی اسمبلی کی اسپیکر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے پارلیمانی لیڈروں سے صلاح مشورہ کر کے اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں۔ کمیٹی اجلاس کے موقع پر اپنے قواعد وضوابط خود وضع کرے گی۔
(انگریزی سے ترجمہ: ابو طلال)
جدیدیت کے خلاف مسلم معاشرے کا ردعمل ۔ نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت
ڈاکٹر محمد امین
امت مسلمہ علمی، تہذیبی ، سماجی ، معاشی، دفاعی اور سیاسی شعبوں میں اپنی برتری ایک ہزار سال تک برقرار رکھنے کے بعد جب زوال پذیر ہوئی تو اس کے دو بنیادی سباب تھے۔ ایک اس کی اپنے نظریہ حیات سے مستحکم وابستگی میں کمزوریاں در آئیں اور دوسرے اس کی حریف صلیبی اور یہودی قوتوں کی سازشیں جنہوں نے نہ صرف مسلم معاشرے کو مغلوب کیا بلکہ اس پر قبضہ کر کے اسے پنے فکر ونظر کے مطابق قوت سے بدل ڈالاتاکہ مسلمان آئندہ کبھی سر نہ اٹھاسکیں اور ہمیشہ ان کے غلام ہی رہیں ۔ لیکن اسلام چونکہ اپنے ماخذ سمیت محفوظ موجود تھا اور وہ مزاجاً کفر سے مغلوبیت کو قبول نہیں کرتا اور مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی کمزور ضرور پڑی تھی، بالکل ختم نہ ہوئی تھی اس لیے جلد ہی مسلم معاشرے نے انگڑائی لی اور ایک دو صدیوں کے اندر ہی اس نے غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالیں۔ اگر چہ فکری اور ذہنی غلامی کے اثرات ابھی تک باقی چلے آرہے ہیں، کہیں کم اور کہیں زیادہ۔
بیسویں صدی کے وسط میں مغربی استعمارسے آزادی کے بعد مسلم معاشرے اور حضو صاً اس کے دینی عناصر نے، جنہوں نے آزادی کی تحریکوں میں نمایاں حصہ لیا اور بعد میں بھی اہم کردار ادا کیا، اپنے لیے جس راہ عمل کا انتخاب کیا اور مغربی فکر و نظر کے رد و قبول کے حوالے سے جو فیصلے کیے ، انہیں ہم سہولتِ بیان کی خاطر تین اقسام میں شمار کر سکتے ہیں: مصالحت ، مزاحمت اور صرفِ نظر ۔ اور اب ان کی کچھ تفصیل :
مصالحت کی پالیسی
مسلم زوال کے وقت چونکہ مسلم معاشرے کا روایتی ڈھانچہ استعمار نے توڑ ڈالا تھا لہذا اب حصول آزادی کے بعد مسلمانوں کو ایک نیا آغاز کرنا تھا اور چونکہ استعمار نے اکثر جگہ اقتدار ایک پلاننگ کے تحت ان طاقتوں کو منتقل کیا جو فکر و عمل کے لحاظ سے اس کی پروردہ تھیں تاکہ مسلم معاشرہ آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی فکر و عمل میں مغرب ہی کا زیر دست رہے، اس لیے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلم حکمرانوں نے مغربیت اور جدیدیت کو اپنا نے ہی کا راستہ اختیارکیا ۔ مسلم دینی قوتوں نے ان کی مزاحمت کی کوشش کی لیکن انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی اور انہیں عملاً زندگی گزارنے کے لیے رائج الوقت نظام سے مفاہمت کرنا پڑی ۔ اس کو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس صورت حال کو بدلنے کے لیے تصادم کی بجائے مفاہمت اور مصالحت کا راستہ اختیار کر لیا یعنی اس نظام کومجبوراً قبول کرتے ہوئے اور اس کے اندر رہتے ہوئے اسے بدلنے کا راستہ اپنایا تاکہ اس میں اسلامی حوالے سے کمی بیشی کر کے اسے مسلم معاشرے کے لیے قابل قبول بنایا جاسکے۔ اس کی بہترین مثال سیاسی نظام کی ہے ۔ مغرب اور مغرب کے پروردہ مسلم حکمران مغربی جمہوریت ہی کو مسلم ریاستوں میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔ (اس کے باوجودکہ اس کی روح اور بنیادی اصول خلاف اسلام تھے) اب بعض دینی قوتوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر یہ جمہوری ڈھانچہ اسلام کے بعض بنیادی مطالبات، خواہ نظری طور پر ہی سہی ، مان لے تو اسے اسلامی لحاظ سے قابل قبول گردانا جاسکتا ہے چنانچہ انہوں نے اس قبولیت کے بعد اسے’’ اسلامی جمہوریت ‘‘ قرار دے دیا ۔ اور اس کے تحت انتخابات میں حصہ لینے اور اس نظام کا ایک حصہ بن کر اسے بدلنے اوراسلامی لحاظ سے مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگ گئے۔
اس حکمت عملی کا نتیجہ نکلا؟ یہ کہ اس میں وہ سیاسی عناصرتو اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے جن کے پیش نظر مسلم معاشرے کی بقا اور دنیوی مفادات کے لیے اپنا ایک کردار مطلوب تھا لیکن وہ دینی عناصر جن کے پیش نظر اسلامی فکرو تہذیب کا احیا تھا، انہیں عموماً اس نظام میں کامیابی نہ ملی جیسے مثلاً پاکستان، انڈونیشیا ، ملائیشیا، نائجیریا، مصر ، شام ، لیبیا ، تیونس وغیرہ میں اور جہاں ملی بھی تو وہاں مغربی قوتوں نے اسے بروئے کار نہ آنے دیا جیسے مثلاً الجزائر، میں یا سیاسی دباؤ سے اسے موثر نہ ہونے دیا جیسے ترکی میں ،یا اگر کوئی بطور استثنا حکومت بنانے میں کامیاب ہو بھی گیا جیسے مثلاً ایران میں تو مغرب نے ہر سطح پر اس کی مزاحمت کر تے ہوئے اسے غیر مستحکم بنانے کی کوشیش شروع کر دیں۔اس حکمت عملی پر کا ر بند لوگ (جن میں دوسرے دینی عناصر کے علاوہ عالم عرب کی ا خوان المسلمین، برصغیر پاک و ہند کی جماعت اسلامی اور دیگر مسلم ممالک میں ان سے ملتی جلتی جدید اسلامی تحریکیں شامل ہیں) تو اب بھی اپنے موقف کو صحیح سمجھتے ہیں، اس کی وکالت کرتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل دیتے ہیں لیکن اگر غیر جانبداری سے ان کی حکمت عملی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہے بغیر نہیں رہاجا سکتا کہ ان کی بہت ساری دیگر خوبیوں اور مثبت اقدامات کے باوجود انہوں نے اپنے تئیں مغربی مفاہیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی جو کوشش کی تھی اس کے نتیجے میں بالاآخر اسلام کی سیاسی تعلیمات مغربی سانچے میں ڈھل گئی ہیں یایوں کہئے کہ نئے سیاسی ڈھانچے میں عملاً برتری اب بھی مغربی سیاسی تصورات ہی کو حاصل ہے اور اسلامی سیاسی تصورات کم بھی ہیں اور غیر موثر بھی بلکہ وہ مغربی تصورات کا حصہ بن کر اس میں مد غم ہوگئے ہیں اور اپنی شناخت کھوچکے ہیں۔
اور بات محض سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ عصر حاضر میں ریاست کا کردار اتنا وسیع ہوگیا ہے اور اس کا عمل دخل ہر شعئبہ زندگی میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ زندگی کے سارے شعبوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جدیدیت زندگی کے سارے شعبوں تعلیم ، ثقافت ،قانون ، معیشت ، معاشرت وغیرہ میں ہر جگہ غالب آگئی ہے اور ان شعبوں میں اسلامی تعلیمات پس پشت چلی گئی ہیں اور مغلوب ہو چکی ہیں اور عملاً گویا پورامسلم معاشرہ مغربیت وجدیدیت کے سیلاب میں بہتا چلا جارہا ہے اور اس کے خلاف دینی عناصر کی قوت مزاحمت دم توڑ رہی ہے بلکہ بڑی حد تک دم توڑ چکی ہے۔
یہاں چونکہ ہم مسلم معاشرے کے اجتماعی رد عمل کی بات کر رہے ہیں اس لیے ہم نے ان افراد کے رویے کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے مغربی تہذیب کی فکری بالادستی کو ذہنی مرعوبیت کے ساتھ قبول کر لیا اور اسلامی تعلیمات کی تشریح اس انداز میں کرنے لگے کہ وہ مغربی فکر و تہذیب کے مطابق نظر آئیں ،کیونکہ مسلم معاشرے نے بحیثیت مجموعی اس فکری طرز عمل کو کبھی قبول نہیں کیا بلکہ اسے رد ہی کیا۔ اگرچہ اس میں شک نہیں کہ اس طرح کے افراد ہر مسلم ملک میں پائے جاتے رہے ہیں بلکہ اب بھی پائے جاتے ہیں جیسے برصیغر پاک و ہند میں سرسید احمد خاں ، غلام احمد قادیانی اور آج کل کے پرویز اور جاوید احمد غامدی وغیرہ۔
مزاحمت کی پالیسی
مغربی ممالک سے آزاد ہونے والے مسلم معالک کے بعض گروہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اجتماعی زندگی میں مغربی اداروں کو قبول نہ کیا جائے بلکہ عوام کے اندر ان کے خلاف مزاحتمی شعور بیدار کیا جائے تاکہ مغرب کی ملحدانہ تہذیب اور اس کے مقامی ایجنٹوں کے خلاف تحریک چلائی جائے اور ایک ایسا اجتماعی نظام تشکیل دیا جائے جو خالص اسلامی ہو اور مغربی اثرات کو کلیۃََ رد کردے ۔بظاہر یہ نقطۂ نظر بہت صحیح اور مدلل تھالیکن بد قسمتی سے اس کے پیروکار صبرو حکمت اور اعتدال کی پالیسی نہ اپنا سکے اور جونہی ان کو کہیں معمولی منظم ہونے میں کامیابی ملی وہ دیگر دینی قوتوں اور مسلم حکومتوں سے ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں وہ اس تھوڑی بہت قوت کو بھی جو انہیں میسر ہوئی گنوا بیٹھے ۔ اس کی بہترین مثال مصر کی جماعۃ الہجرۃ والتکفیر، حزب التحریر اور پاکستان کے طالبان وغیرہ ہیں ۔
القاعدہ تحریک کو بھی اس کا ایک حصہ سمجھا جاسکتا ہے جس نے مغربی تہذیب اور مغربی ممالک کے سرخیل امریکہ پر حملہ کرکے اہل مغرب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں اور اسلامی تہذیب کے خلاف مغرب کی سازشوں اور جدوجہد میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا خواہ اس میں ان کے اپنے ہاتھ ہی کیوں نہ قلم ہو جائیں۔
ان مسلم گروہوں کی غیر معتد ل اسلامی فکر اور مغرب کی فوجی قوت کو چیلنج کر نے والی اس مزاحمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغرب اس پر مشتعل ہو گیا ہے اور مغربی فکر و تہذیب کی پشتیبان اور دنیا کی واحدسپر پاور پر امریکہ نے ، جہاں آج کل ایسے عناصربرسر اقتدار ہیں جو اسلام کے خلاف متعصب عیسائیوں جیسا روایتی جوش و جذبہ رکھتے ہیں، مسلم دنیا کے طاقتور ممالک کو بزور قوت تہس نہس کر کے انہیں کمزور، بے بس اور اپنا دست نگر بنانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ وہ مغربی فکر و تہذیب کے غلبے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور یورپ اگرچہ امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے خلاف ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بہر حال اس کا ساتھ دے رہا ہے ۔ چنانچہ امریکہ نے مسلمانوں (اور اسلام) کو دہشت گردقرار دے کر ان کے خلاف ایک عالمی جنگ چھیڑرکھی ہے اور وہ اقوام متحدہ کے ادارے ، یورپ اور دیگر ممالک کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے بل پر گھسیٹ کر اپنے ساتھ کھڑا کر رہا ہے ۔وہ افغانستان اور عراق کو نگل چکا ہے اور ایران اور پاکستان پر اس کی یلغار جاری ہے۔
خلاصہ یہ کہ بعض مسلم دینی عناصر نے مغربی فکر و عمل کے خلاف عملی عسکری مزاحمت کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے اس کے نتیجے میں مسلم معاشرہ مزید کمزور ہوا ہے ۔ ان عناصر نے مغرب کے خلاف لڑائی تو چھیڑ لی لیکن وہ مغرب کے خلاف چونکہ باقاعدہ جنگ لڑنے کی سکت نہیں رکھتے لہذا اس نے گوریلا لڑائی بلکہ اکا دکا خود کش حملوں کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ اگرچہ یہ عناصر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جہاد اور گوریلا کاروائیوں سے دشمن کو بتدریج کمزور کرنے اوربالآخر اس کے قدم اکھاڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ، ان کے اس زعم کو چیلنج نہ بھی کیا جائے، تو بھی دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ محض مغرب خصوصاً امریکہ کے زوال سے مسلمانوں کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ اس سے پہلے ہم یہ تجربہ کر چکے ہیں کہ پاکستان ، افغانستان بلکہ سارے عالم اسلام نے مغرب وامریکہ کا ساتھ دیا اور شلزم کا علمبردار روس ، (جو دوسری سپر پاور تھا) ٹوٹ گیا تو امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا اور مسلمانوں (خصوصاً پاکستان اور افغانستان) کو کچھ بھی نہ ملا بلکہ خود امریکہ آج انہیں برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لہذا سوال یہ نہیں کہ امریکہ کو کیسے شکست دی جائے؟ فرض کیجیے اور یہ بہت بڑا مفروضہ ہے کہ اگر مسلمان اگلے ایک عشرے میں امریکہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں یا اسے کمزور کر دیتے ہیں تو بھی نظر یہ آتا ہے کہ اس کی جگہ چین یا یورپ لے لے گا ، مسلمانوں کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آئے گا کیونکہ (اور یہ دوسرا نکتہ ہے کہ ) اس مزاحمانہ پالیسی کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کو ابھارنے ، مستحکم کر نے اور اسے مضبوط اور ترقی یا فتہ بنانے کی کوئی متحد، منظم اور موثر تحریک اور حکمت عملی موجود نہیں ہے بلکہ الٹایہ مزاحمتی پالیسی مسلم معاشرے میں خلفشار پیدا کرنے اور اسے کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے کیونکہ ان جہادی تنظیموں نے امریکہ اور یورپ کے خلاف محاذ جنگ کھولنے کے ساتھ ساتھ ان مسلم حکمرانوں اور ریاستو ں کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا ہے جوطوعاً اور کرہاً امریکہ و یورپ کا ساتھ دے رہی ہیں ۔ اوریوں مسلم عوام اور ان کے حکمرانوں میں مزید بُعداور کشمکش پیدا ہو رہی ہے ۔اندر یں حالات یہ باور کرنا مشکل ہے کہ ان مسلم گروپوں کی مزاحمانہ عسکری پالیسی مغرب کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کا باعث بن سکتی ہے۔
صرف نظر کی پالیسی
بعض مسلم دینی تحریکوں اور تنظیموں نے مغرب اور اس کی فکر و تہذیب کے حوالے سے ایک تیسری حکمت عملی اپنائی ہے جسے صرف نظر کی پالیسی کہا جا سکتا ہے جس کا مفاد اور مطلب یہ ہے کہ سیاست میں عملی حصہ نہ لیا جائے اور اجتماعی زندگی میں تغیر لانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے اور لوگوں تک دین پہنچانے کے عمل کو فرد اور عبادات و اخلاق تک محدود رکھا جائے ۔ اس پالیسی کی علمبردار، بعض دیگرر دینی عناصر کے علاوہ، تبلیغی جماعت ہے جو عالم اسلام کی غالباً سب سے بڑی دینی تحریک ہے اور حج کے بعد سب سے بڑے اجتماعات کئی مسلم ممالک میں ہر سال منعقد کرتی رہتی ہے ۔یہ جماعت اس بات سے کوئی غرض نہیں رکھتی کہ کسی مسلمان ملک کا حکمران نیک ہے یا بد اور وہ اجتماعی زندگی میں اسلام نافذ کرتا ہے یا نہیں ؟ ان لوگوں کو تبلیغ سے غرض ہے کہ وہ لوگوں کے کلمے سیدھے کرادیں اوردین کی بنیادی معلومات ان تک پہنچا دیں اور انہیں اس دین پر عمل کرنے والا بنا دیں ۔ اسی طرح انہیں امریکہ و یورپ سے بھی کوئی دلچسپی یا گلہ نہیں کہ وہ مسلم ممالک میں اپنی تہذیب و ثقافت کیوں متعارف اور نافذ کر رہے ہیں یا عراق و افغانستان جیسے مسلم ممالک کو کیوں کچل رہے ہیں۔ان کی روش یہ ہے کہ یہ سیاسی امور ہیں اور انہوں نے سیاست میں حصہ نہیں لینا۔
تبلیغی جماعت کے لوگوں کی سادگی، اخلاص اور محنت اپنی جگہ لیکن اسلام کے کسی ایسے تصور کو صحیح کیسے سمجھا جا سکتا ہے جو امت کی اجتماعی، سیاسی اور تہذیبی زندگی سے صرف نظر کرتا ہو، اسے اہمیت نہ دیتا ہو اور ان پر منفی طور پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے رد کو نہی عن المنکر کے اسلامی تصورکا حصہ نہ سمجھتا ہو۔ لہذا ہم تبلیغی جماعت اور اس سے ملتی جلتی تنظیموں کے موقف کو اسلامی حوالے سے امت مسلمہ کے سیاسی اور تہذیبی مستقبل کے تناظر میں غیر مفید بلکہ نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
نئی حکمت عملی کی ضرورت
ہماری اب تک کی گفتگو اس امر پر مرتکز رہی ہے کہ دنیا میں مغربیت اور جدید یت کے غلبے کے ماحول میں مسلم معاشرے کے دینی عناصرنے اس فکری اور تہذیبی غلبے کے رد عمل میں مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیمات و اقدار کے بقا، احیا اور نفاذکے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی ۔اور اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ اس رد عمل میں دینی قوتوں نے جو موقف اپنائے ہیں وہ ناقص اور غیر موثر ثابت ہوئے ہیں لہذا اس امرکی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ معاملے پر از سر نو غور کیا جائے اور نئی حکمت عملی وضع کی جائے۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلم ممالک کے حوالے سے خود مغرب کے رویے پر ایک نظر ڈال لی جائے تاکہ نئی حکمت عملی وضع کرنے میں آسانی رہے۔
اس ضمن میں اہل مغرب نے ایک حکمت عملی تو یہ اپنائی ، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، کہ مسلم ممالک کو آزادی دیتے وقت وہاں اقتدار اپنے تربیت یافتہ آدمیوں کے سپرد کیا ۔ پھر اس کے بعد بھی اپنا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے پر امن ذرائع سے (جیسے میڈیا اور تعلیم و تربیت وغیرہ) مسلم اوراجتماعی اداروں کی تشکیل اور ورکنگ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کی اور ان کو ششوں میں اسے عموماً کامیابی ملی ۔ اس کے باوجود بعض مسلم ممالک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مغرب کی خواہشات کے بر عکس اپنی پالیسیاں خود مختاری سے وضع کرنے کی کوشش کرنے لگے جیسے پاکستان ، عراق ، ملائیشیا ، ترکی اور ایران وغیرہ ۔
اس موقع پر سرد جنگ کے خاتمے اور روس کے ٹوٹ جانے کے نتیجے میں امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا اوراسے من مانی سے روکنے کے لیے کوئی طاقت موجود نہ رہی۔ دوسری طرف بعض مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرنے اور اپنی مرضی چلانے کے نتیجے میں بعض مغربی مفکر ین نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا کیونکہ ان کی رائے میں مذہبی اختلافات اوردیگر مسائل اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔( ’’تہذیبی‘‘ تصادم کی بات انہوں نے اس لیے کی کہ ’’مذہب‘‘ کو اہل مغرب رد کر چکے ہیں اور اس کی جگہ ان کے ہاں’’ تہذیب‘‘ لے چکی ہے) اور انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام ہی اب ایک ایسی بڑی نظریاتی قوت ہے جس کے مغربی فکر و تہذیب کے مدمقابل آنے کا امکان ہے یا پھر چین ایک ابھرتی ہوئی بڑی قوت ہے۔ لیکن کمیونزم اور کنفیوشس ازم کے اثرات کے باوجود جدید چین جس طرح نظری اور عملی طور پر مغربی فکر و تہذیب کے قریب آرہا ہے، اسے وہ کوئی بڑا نظریاتی مد مقابل نہیں سمجھتے اور ہر پھر کر ان کی نظریں اسلام ،مسلم معاشروں اور حضوصاًان جماعتوں اور تحریکوں پر پڑتی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کی متمنی ہیں چنانچہ انہوں نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیااور دنیاکی بدقسمتی یہ کہ پچھلے کئی سالوں سے امریکی اقتدار پر قابض حکمران جماعت نے اسے قبول کر لیا۔ چنانچہ پر امن ذرائع سے مسلم ممالک کو قابو میں رکھنے کی پالیسی ترک کر کے امریکہ نے یورپ اور اقوام متحدہ کو ساتھ ملا کر ، اور جہاں انہوں نے ساتھ نہ دیا، وہاں اکیلے ہی، اپنی برتر فوجی قوت سے مسلم ممالک پر چڑھائی کر دی ۔ اس نے افغانستان اور عراق کو تباہ و برباد کر دیا اور ایران اور پاکستان کو روندنے کے حیلے بہانے تلاش کئے جارہے اور دباؤ بڑھا یا جارہا ہے۔
نئی حکمت عملی کے خدوخال
ان حالات میں کہ اسلامی فکر و تہذیب کا بقاء و استحکام خطرے میں ہے اور مغربی فکر و تہذیب کا غلبہ و استیلاء جاری ہے اور مسلم دینی عناصر کی اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں، یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ اس معاملے پر از سر نوغور کیا جائے اور اس صورت حال سے عہدہ بر آہونے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کی جائے ۔ ہماری طالب علمانہ رائے میں نئی حکمت عملی کی تشکیل کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہونے چاہئیں:
۱۔ پر امن ہونا
یہ بات واضح ہے کہ فوجی تصادم اس مسئلے کا کوئی حل نہیں؟ مسلم ممالک بفرض محال اکٹھے ہو بھی جائیں(جس کے امکانات نہایت معدوم ہیں) تو وہ یورپ اور امریکہ کی فوجی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ گوریلا جنگ، جیسا کہ اس وقت بعض مسلم تنظیمیں لڑ رہی ہیں، وہ طاقتور مغرب کو مشتعل تو کر سکتی ہے اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت اسے کچھ کمزور بھی کر سکتی ہے اور مسلمانوں میں جذبہ جہاد بھی بیدار رکھ سکتی ہے لیکن یہ نہ تو مغرب کو شکست دے سکتی ہے اور نہ اس کی علمی اور تہذیبی برتری کو دھندلا سکتی ہے اور نہ مسلم معاشرے کو ترقی اور عروج کی متبادل اساس فراہم کر سکتی ہے بلکہ الٹا اہل مغرب کی نفرت کو بڑھا کر انہیں اسلام اور مسلمانوں سے دور لے جا سکتی ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں مغرب سے فوجی تصادم اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ ہاں !اگر کسی مسلمان ملک پر حملہ ہو تو پھر دفاع اس کا قانونی حق بھی ہے اور مجبوری بھی۔
۲۔ تعلیم و تربیت اور میڈیا پر ترکیز
مسلم جماعتوں اور اداروں کو چاہیے کہ تعلیم و تربیت اور میڈیا پر اپنی توجہ مرکوز کر یں حضوصاً تعلیم و تربیت کا میدان ایسا ہے جو صحیح مسلم فرد اور شخصیت کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کام کی گنجائش اور اس کے مواقع و امکانات بھی موجود ہیں۔ تعلیم میں اس وقت دنیا بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔ مسلم عناصرا گر، گر اس روٹ لیول پرکام کریں اور ایسے سکول و کالج ہزاروں کی تعداد میں مسلم معاشرے میں پھیلا دیں جو مسلم شخصیت کی نمومیں مثبت کردار ادا کریں تو اس کام کے مثبت اثرات مستقل قریب میں ضرور نکلیں گے۔ دیکھیے! تعلیم ایک خاموش انقلاب لاتی ہے۔ اس کے لیے نعروں کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے لیے کسی اسلحے اور ایٹم بم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے حکومتی امداد کی بھی ضرورت نہیں ۔ مقامی مسلم آبادی کو متحرک کیا جائے اور انہیں تعلیم و تربیت کی اہمیت بتائی جائے تو یقیناًاتنے وسائل مہیا کئے جا سکتے ہیں جن سے مقامی سکول و کالج چلایا جاسکے ۔ ہاں! اس کی ضمانت دیناہوگی کہ اس اسکول کا نصاب مغربی تعلیم کا چربہ نہ ہو بلکہ آزاد مسلم سوچ کا نتیجہ ہو یہ نصاب اسلامی نظرئیہ علم اور اسلامی ورلڈ و یو پر مبنی ہو۔ مغرب کے تعلیمی تجربات کو سامنے ضرور رکھا جائے لیکن ان کی اندھی پیروی نہ کی جائے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں کے لیے چونکہ بھاری فنڈز درکار ہوتے ہیں جو حکومتوں ہی کے بس میں ہوتے ہیں اس لیے مجوزہ تعلیمی اداروں میں سوشل سائنس یا عمرانی علوم پر توجہ مرکوزکی جائے۔ ان سکولوں میں مسلم طلبہ و طالبات کو نہ صرف صحیح خطوط پر تعلیم دی جائے بلکہ ان کی تربیت بھی کی جائے یعنی تعمیر سیرت اور کردار سازی اس کا لازمی حصہ اور نتیجہ ہو۔ اس سے بڑی تعداد میں ایسے افراد تیار ہونا شروع ہو جائیں گے جو اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں گے اوروہ اسلامی اقدار کے پشیتبان ہوں گے۔ یہ لوگ زندگی میں جہاں بھی جائیں گے مثبت انداز میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے۔ وہ اگر اجتماعی اداروں کی تشکیل میں حصہ لیں گے تو ان کی بنا اسلامی اصولوں پر رکھیں گے اور جہاں ضروری ہو گا مغربی تجربات سے استفادہ بھی کر لیں گے۔ یہ کام مسلم معاشرے میں وسیع پیمانے پر کیا جائے تو اس سے اسلامی فکر و تہذیب کو یقیناًفروغ حاصل ہوگا،اس کا تشخص بحال ہو گا اور مسلم معاشرہ بحیثیت مجموعی مستحکم ہو گا۔
مسلمان عوام کی فکری و عملی و تربیت اور ذہن سازی میں تعلیم و تربیت کے علاوہ الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کی مد د لینا بھی ضروری ہے کیو نکہ ان کی افادیت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔مسلم ممالک میں میڈیا اگر آزاد انہ خطوط پر استوار ہو تو بین الاقوامی سطح پر اس سے یہ موقع بھی ملے گا کہ مغرب کے عوام اور اہل دانش میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کیا جائے اوربتدریج ایسی فضا پروان چڑھے جس سے اہل مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور تعصب ختم ہو اور وہ معروضی انداز میں اسلامی حقائق کی تفہیم پر قادر ہو سکیں۔اگر ایسا ہو جائے تو اسلام کی مقناطیسی قوت انہیں خوداپنی طرف کھینچ لے گی خواہ ان کے حکمران اس کی جتنی بھی مخالفت کریں۔
۳۔ فرد پر توجہ
اس سے پہلے مصالحت اور مزاحمت پر مبنی جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس میں ترکیز نظام پر تھی مثلاً یہ کہ سیاسی نظام اسلامی ہو جائے، قانونی نظام اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔۔۔ وغیرہ۔ نئی حکمت عملی میں نظام کے برعکس ترکیز فرد پر ہو۔ معاشرہ چونکہ افرد ہی سے مل کر بنتا ہے لہذا اگر فرد کی صحیح تعلیم و تربیت کا فعال اور موثر نظام وضع ہو جائے تو معاشرے کے سدھرنے اور صحیح سمت میں اس کی پیش رفت کے امکانات غالب ہو جائیں گے ۔ معاشرے کی ترقی اور عروج کے لیے فرد کی اصلاح اور ترقی نہ صرف فطری تدریج کے اصول کے عین مطابق ہے بلکہ یہ اس اسلامی اصول کے مطابق بھی ہے جس کی رو سے اصلاح ود عوت کا کام نیچے سے اوپر کو جانا چاہئے نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف آنا چاہیے اور الاقرب فالا قرب کی ترجیح پر مبنی ہونا چاہئے نہ کہ عمومی معاشرتی تبدیلی کی اساس پر۔
۴۔ فکری جارحیت
ماضی کی مفاہمانہ حکمت عملی نے مسلم امت کو مغربی فکر سے مرعوبیت اور اس کی اندھی پیروی کے راستے پر ڈال دیا ہے جو تہذیبی خود کشی کے مترادف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو فکری لحاظ سے کسی دست گیری کی ضرورت نہیں۔ ہمارے دینی مآخذ (قرآن و سنت) الحمدللہ محفوظ و مامون ہیں۔ پھر مسلمانوں کا سماجی اور اقداری ڈھانچہ مغربی تسلط کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔ لہذا ہم اب بھی مغرب کو بہت کچھ دینے کے قابل ہیں جیسے مستحکم خاندانی نظام ، پر سکون زندگی، اعلیٰ اقدار، اطمینان ذہن و قلب وغیرہ ۔اور چونکہ اسلام ایک مشنری دین ہے، لہٰذا مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ مغرب سے فکری مرعوبیت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور مدافعانہ اسلوب اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے رد کرتے ہوئے اور اس پر فکری و علمی تنقید کر کے اسے ناقص اور انسانیت کے لیے مضر ثابت کیا جائے اور ہجومی انداز اختیار کر تے ہوئے اور دعوت و تبلیغ کا کام جدید خطو ط پر اور احسن انداز میں منظم کر کے اہل مغرب کے دل و دماغ کو فتح کر لینے کی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے ۔ اس سے بالواسطہ یہ فائدہ بھی ہو گا کہ نوجوان مسلم نسل اپنے ماضی پر فخر کرنا سیکھے گی،اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید ہو جائے گی اور اس کی ملی انا مستحکم ہوگی اور یہ تاثر پختہ ہوگا کہ ہم بھی کچھ چیزہیں، ہماری بھی کچھ اہمیت ہے اور دینا میں ہمارا بھی کچھ کردارہے۔
۵۔ تیز رفتار ترقی
دراصل چیز کی مسلم امہ کو ضرورت ہے وہ یہ کہ کسی تصادم اورچپقلش میں پڑنے کی بجائے اسے موقع ملے کہ وہ خاموشی سے مسلم عوام کی ترقی اور بہبود کے لیے تیز رفتار اقدامات کر سکے (ترقی اسلامی ماڈل کے مطابق [جیسی مثلاً خلافت راشدہ میں ہوئی] نہ کہ مغربی ماڈل کے مطابق) جس کی اساس صحیح اسلامی تعلیم و تربیت ہی ہوسکتی ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرے میں شرح خواندگی سو فیصد ہو جائے، غربت کا خاتمہ ہو، سیاسی نظام مستحکم ہو، سماجی اقدار پر عمل ہو اور معاشی نظام کو یہودیوں کے زیر تسلط عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل اور قرض کی معیشت سے چھٹکارا دلایا جائے۔
۶۔ قیادت
نئی حکمت عملی کے وضع و نفاذ کے لیے قیادت اور عمل درآمدی قوت کے بارے میں بھی نئی سوچ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اس کی قیادت روایتی دینی عناصر کی بجائے سول سوسائٹی کے ان افراد کو کرنی چاہیے جو جدید تعلیم یافتہ ہوں، لیکن ساتھ ہی اپنے ماضی، دین، تعلیم اور اقدار سے بھی وابستہ ہوں۔ اسی طرح اس کے نفاذ کے لیے بوڑھوں اور ادھیڑ عمر افراد کی بجائے ایسے نوجوانوں کو اس کے لیے تیار اور متحرک کیا جائے جو اسلامی تناظر میں صحیح نقطہ نظر کے حامل ہوں اور جو اس حکمت عملی کی تفہیم کے بعد اخلاص اور جذبے کے ساتھ اس کے لیے متحرک کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں۔
یہ وہ رہنما خطوط ہیں جن پر عمل کر کے ہماری رائے میں، نہ صرف مسلم معاشرے کو مغربیت اور جدید یت کے تباہ کن سیلاب سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ مسلم امہ کو اسلامی تناظر میں دنیا وی ترقی اور غلبہ و عرو ج کی سمت میں متحرک کیا جا سکتا ہے ۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور مسلم اہل دانش کو اس پر غور و تدبر کرنا چاہئے اور اپنے نتائج فکر سامنے لانے چاہئیں ۔ ظاہر ہے سٹیٹس کو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا اور نئے حالات میں نئی حکمت وضع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام صرف آزادانہ اور تنقیدی سوچ ہی سے ممکن ہے، لہٰذا اس موضوع پر مسلم اہل دانش کے درمیان ڈائیلاگ ضروری ہے جس کی ابتدا ہم نے کردی ہے۔ فہل من مزید؟
آداب القتال: بین الاقوامی قانون اور اسلامی شریعت کے چند اہم مسائل
محمد مشتاق احمد
مسلمان اہل علم کے لیے اس وقت جن مسائل پر بحث از بس ضروری ہوگئی ہے، ان میں شاید سب سے زیادہ اہم مسئلہ آداب القتال کا ہے ۔ فلسطین ، افغانستان ، عراق اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس وقت ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے مسلح تصادم میں مبتلا ہیں ۔ یہ مسلح تصادم خواہ مسلمانوں میں سے بعض افراد نے شروع کیا ہو یا ان پر غیروں کی جانب سے مسلط کیا گیا ہو ، بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ آداب اور قواعد لوگوں کے لیے واضح کیے جائیں جن کی پابندی ان پر اسلامی شریعت اور موجود بین الاقوامی قانون کی رو سے لازم ہے ۔ ایک افسوسناک امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو جنگ اور آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کی مبادیات تک کا علم نہیں ہے ۔ اس لیے اس مقالے میں پہلے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں آداب القتال کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اس کے بعد دوسرے حصے میں اسلامی شریعت کی روشنی میں ان مسائل پر بحث کی جائے گی ۔
اس مقالے کو فقہ اسلامی اور بین الاقوامی قانون کے ایک طالب علم کی کاوش سمجھا جائے ۔ راقم الحروف اپنی رائے کو حتمی نہیں سمجھتا ، اس لیے اصلاح کی خاطر کی جانے والی تنقید کھلے دل سے قبول کی جائے گی ۔
حصۂ اول : آداب القتال اور بین الاقوامی قانون
جنگ اور قتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کے دو بڑے حصے ہیں : ایک کو jus ad bellum کہتے ہیں جس میں جنگ کے جواز او عدم جواز سے متعلق احکام ہوتے ہیں ؛ دوسرے حصے کو ، جو جنگ کے طریق کار کو منضبط کرتا ہے ، jus in bello کہا جاتا ہے ۔ گویا اول الذکر حصہ ’علۃ القتال‘ سے بحث کرتا ہے جبکہ ثانی الذکر ’آداب القتال‘ سے متعلق ہے۔ (۱) اس مقالے میں ہم علۃ القتال سے صرف نظر کرتے ہوئے آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے چند ایسے اہم قواعد کا ذکر کریں گے جو پاکستان کے اندر اور باہر جاری جنگوں اور مسلح تصادم کے سلسلے میں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ پھر عصر حاضر میں جاری مسلح تصادم کے چند اہم مسائل پر ان قواعد کی روشنی میں بحث کی جائے گی ۔
فصل اول : آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون ۔ ایک تعارف
بین الاقوامی قانون کے دیگر حصوں کی طرح آداب القتال کا قانون بھی بنیادی طور پر دو مآخذ سے ماخوذ ہے ؛ بین الاقوامی معاہدات (Treaty) اور بین الاقوامی رواج (Custom)۔ (۲) معاہدات سے ماخوذ قانون اور رواج پر مبنی قانون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصول Pacta sunt servanda کے بموجب معاہدے کی پابندی صرف ان ریاستوں پر لازم ہوتی ہے جنہوں نے معاہدے کی توثیق کی ہو ، جبکہ رواج پر مبنی قانون کا ماننا ہر ریاست پر لازم ہوتا ہے ۔ (۳) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بالعموم معاہدے میں مذکور ضوابط رواج پر مبنی ضوابط کی بہ نسبت زیادہ واضح ہوتے ہیں (اگرچہ دیگر قواعد عامہ کی طرح اس قاعدے سے بھی استثناء ات پائے جاتے ہیں )۔ مغرب میں بین الاقوامی قانون اپنے ارتقا کے ابتدائی مراحل میں زیادہ تر رواج پر مبنی تھا ۔ تاہم انیسویں صدی کے آخر سے باقاعدہ کوششیں شروع ہوئیں کہ اس قانون کو معاہدات کی صورت میں مدون کیا جائے ۔ چنانچہ بیسویں صدی میں کئی بین الاقوامی معاہدات کے ذریعے رواج پر مبنی بین الاقوامی قانون کو مدون کیا گیا ۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے نزدیک یہ امر بھی مسلم ہے کہ بہت سے ایسے قواعد ، جو پہلی دفعہ کسی بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے وضع کیے گئے ، وقت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی رواج کا حصہ بن گئے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بسا اوقات ایک ہی قاعدہ رواج سے بھی ماخوذ ہوتا ہے اور وہ کسی معاہدے میں بھی مذکور ہوتا ہے ۔ پس اگر کوئی ریاست ایسے کسی قاعدے کو اپنے اوپر لازم نہ سمجھے اور دلیل یہ دے کہ اس نے تو اس معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے تو اس پر دوسری جانب سے یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ یہ قاعدہ صرف معاہدے میں ہی مذکور نہیں، بلکہ یہ رواج کا بھی حصہ ہے اور رواج کی پابندی تمام ریاستوں پر لازم ہے ۔
آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون ، جسے ’’ مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون ‘‘ (International Humanitarian Law) بھی کہا جاتا ہے ، کئی معاہدات اور رواجی قواعد کا مجموعہ ہے لیکن چار جنیوا معاہدات ایسے ہیں جن کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ ان میں پہلا جنیوا معاہدہ بری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق سے متعلق ہے جبکہ دوسرا جنیوا معاہدہ بحری جنگ میں زخمی ، بیمار یا معذور ہونے والے فوجیوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔ تیسرا جنیوا معاہدہ جنگی قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور چوتھا جنیوا معاہدہ جنگ کے دوران میں غیر مقاتلین اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ہے ۔ یہ چاروں معاہدات دوسری جنگ عظیم کے بعد ۱۹۴۹ء میں وضع کیے گئے اور ان پر پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک نے دستخط کیے ہیں ۔
جنیوا معاہدات بنیادی طور پر اس مسلح تصادم سے متعلق ہیں جس میں دو ریاستیں حصہ لیں ۔ بہ الفاظ دیگر ان معاہدات کا اطلاق ’’ بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ (International Armed Conflict) پر ہوتا ہے ۔ ان معاہدات کی صرف دفعہ ۳ ، جو ان چاروں معاہدات میں مشترک ہے ، کا اطلاق ’’غیر بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ (Non-international Armed Conflict) پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے ، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایشیا ، افریقہ اور مشرق بعید میں آزادی کی جنگوں اور خانہ جنگیوں کا ایک طویل سلسلہ ، جو اب تک جاری ہے ، شروع ہوا ۔ یہ بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے مسلح تصادم میں بالعموم عام شہری آبادی کا زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ مسلح تصادم اور جنگ کی ان قسموں پر جنیوا معاہدات کا اطلاق نہیں ہوتا تھا ۔ اس لیے ۱۹۷۷ء میں جنیوا معاہدات کے ساتھ دو اضافی معاہدات ملحق کیے گئے جنہیں Additional Protocols کہا جاتا ہے ۔ان دونوں اضافی پروٹوکولز کا تعلق عام شہریوں کے تحفظ سے ہے ۔ البتہ پہلے پروٹوکول کا اطلاق بین الاقوامی مسلح تصادم پر ہوتا ہے اور دوسرے پروٹوکول کا اطلاق غیر بین الاقوامی مسلح تصادم پر ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ دیگر ، پہلا پروٹوکول چوتھے جنیوا معاہدے پر مزید اضافہ ہے ، جبکہ دوسرا پروٹوکول جنیوا معاہدات کی مشترک دفعہ ۳ کی توسیع اور تفصیل کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہ بات اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ پہلے پروٹوکول کی دفعہ ۱ ، ذیلی دفعہ ۴ کے مطابق آزادی کی جنگ ’’ بین الاقوامی مسلح تصادم ‘‘ ہے ، نہ کہ کسی ملک کا اندرونی معاملہ ۔ یہ ایک بنیادی سبب ہے اس امر کا کہ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک نے ابھی تک ان پروٹوکولز پر دستخط نہیں کیے ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’’قانون جنیوا‘‘ (Geneva Law) یعنی جنیوا معاہدات اور اس کے ساتھ متعلقہ اضافی پروٹوکولز مسلح تصادم سے متاثر ہونے والے افراد (Victims of Warfare) یعنی عام شہری ، زخمی ، بیمار اور معذور جنگجو اور جنگی قیدیوں کا تحفظ کرتے ہیں ۔
آداب القتال سے متعلق بین الاقوامی قانون کا ایک دوسرا حصہ بھی ہے جسے ’’ قانون ہیگ ‘‘ (Hague Law) کہا جاتا ہے ۔ اس قانون کا تعلق جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں (Means and Methods of Warfare) سے ہے ۔ اسے قانون ہیگ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ۱۸۹۹ ء اور ۱۹۰۷ء کے ہیگ معاہدات کے ذریعے پہلی دفعہ کوشش کی گئی کہ جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں پر مناسب پابندیاں لگائی جائیں اور اس سلسلے میں پہلے سے موجود بین الاقوامی رواج کے قواعد و ضوابط کو معاہدات کی صورت میں منظم اور مرتب کیا جائے ۔ (۴)
پس مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون نے کوشش کی ہے کہ ایک جانب ہتھیاروں کے استعمال اور حملوں کے طریقوں میں جائز اور ناجائز کی تقسیم کرکے ریاست کے لامحدود اختیار کو محدود کیا جائے اور دوسری جانب جنگ سے متاثرہ افراد کا تحفظ کیا جائے ۔ گویا اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنگ کے جواز اور عدم جواز سے قطع نظر اس بات کی کوشش کی جائے کہ جنگ میں انسانیت کے تقاضوں کا حتی الامکان لحاظ رکھا جائے اور اس طرح جنگ کے نقصان کو ممکن حد تک محدود کیا جائے ۔ اس قانون نے صاحبان اقتدار کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جنگ میں ’’ سب کچھ ‘‘ جائز نہیں ہے ( بالکل اسی طرح جیسے محبت میں بھی ’’سب کچھ ‘‘جائز نہیں ہوتا ) ۔
فصل دوم: آداب القتال کے قانون کے بنیادی اصول
اس قانون کا اولین اور بنیادی اصول ’’ انسانیت ‘‘ (Humanity) ہے ۔ یہ قانون جنگ کو بطور ایک امر اضطراری اور امر واقعی تو مان لیتا ہے مگر قرار دیتا ہے کہ جنگ کے دوران میں انسانیت کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا لازم ہے ۔ مثال کے طور پر جنگ کے دوران میں فریق مخالف کے فوجی کو قتل کرنا اس قانون کے تحت ناجائز نہیں ہے لیکن اگر وہ ہتھیار ڈالے ، یا زخمی ہوجائے ، یا معذور ہوجائے ، یا کسی اور وجہ سے جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے تو پھر اسے قتل کرنا ناجائز ہوجاتا ہے ، الا یہ کہ اس نے قید ہونے سے پہلے یا بعد میں کوئی ایسا جرم کیا ہو جس کی سزا موت ہو ۔ اس آخری صورت میں بھی انسانیت کے تقاضوں کا لحاظ رکھا جائے گا ۔ چنانچہ اس پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا ۔ (۵)
اسی اصول کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر ’’ تمییز ‘‘ ( Distinction) کا بنیادی اصول بھی وضع کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حملے کے دوران میں جائز اور ناجائز ہدف (Target) میں فرق کیا جائے ۔ چنانچہ دشمن کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ جائز ہے جبکہ شہری آبادی ، ہسپتالوں ، سکولوں ، بازاروں اور عبادت گاہوں پر حملہ ناجائز ہے ۔ اسی طرح ایسے حملے ناجائز ہیں جن میں فوجی اور غیر فوجی دونوں کے نشانہ بننے کا احتمال ہو۔ اسی اصول پر ایسے ہتھیاروں کا استعمال بھی ناجائز ہے جس کا اثر صرف دشمن کے فوجیوں تک ہی محدود نہ ہو ، مثلاً کیمیائی ہتھیار ۔ (۶)
تاہم ، جیسا کہ ذکر کیا گیا ، یہ قانون جنگ کو مکمل طور پر حرام نہیں ٹھہراتا بلکہ جنگی حملے کو جائز قرار دیتا ہے اگر اس میں اوپر مذکورہ اصولوں اور قواعد کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ بہ الفاظ دیگر، اس قانون نے فوجی ضرورت (Military Necessity) کے اصول کو تسلیم کیا ہے ۔ چنانچہ اس اصول کے تحت ایسے حملوں کو جائز قرار دیا گیا ہے جن میں بنیادی ہدف دشمن کا فوجی ٹھکانہ ہو اگرچہ اس میں اضطراری طور پر کچھ عام شہری بھی نشانہ بنیں ۔ ایسے حملوں میں عام شہریوں کو پہنچنے والے ضرر کو ’’ ضمنی نقصان ‘‘ (Collateral Damage) کہا جاتا ہے ۔ (۷)
اضطرار کے اس اصول کو انسانیت اور تمییز کے اصولوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو نتیجے کے طور پر ایک اور اہم اصول سامنے آجاتا ہے جسے ’’تناسب کا اصول‘‘ (Principle of Proportionality) کہا جاتا ہے ۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں دشمن کو صرف اتنا ہی نقصان پہنچایا جائے جتنا اس کے حملے کی پسپائی یا اس پر فتح کے حصول کے لیے ضروری ہو ۔ گویا جنگ کا مقصد دشمن کا صفایا کرنا (Extermination) نہیں ہونا چاہیے ۔ اس اصول کی بنیاد پر ایسے ہتھیاروں یا طریقوں کا استعمال بھی ناجائز ہوجاتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائے ، یا جو غیر ضروری اذیت دے ، خواہ اس کا استعمال دشمن کے فوجیوں پر ہی ہو ۔ (۸)
بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے جواز و عدم جواز کے متعلق اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ان ہتھیاروں سے آداب القتال کے چند اہم قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ عدالت کے مطابق ان قواعد میں اہم ترین یہ ہیں :
۱ ۔ شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کی ممانعت
۲ ۔ اندھا دھند حملوں ( Indiscriminate Attacks) کی ممانعت
۳ ۔ فریق مخالف کے فوجیوں کو غیر ضروری نقصان پہنچانے کی ممانعت
۴ ۔ تناسب کا اصول
۵ ۔ جنگ میں غیر جانبدار رہنے والے ملک کو نقصان پہنچانے کی ممانعت
۶ ۔ قدرتی ماحول کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچانے کی ممانعت
۷ ۔ زہریلے مواد کے استعمال کی ممانعت ۔ (۹)
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ بین الاقوامی قانون نے بالعموم دو ریاستوں کے مابین تعلقات کے ضمن میں معاملۃ بالمثل یا مجازاۃ (Reciprocity) کے اصول کو تسلیم کیا ہے لیکن جہاں تک آداب القتال کا تعلق ہے، اس میں معاملۃ بالمثل کا اصول قابل قبول نہیں ہے ۔ پس اگر ایک فریق دوسرے فریق کے عام شہریوں کو نشانہ بنائے، تب بھی دوسرے فریق کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جواب میں شہریوں کو نشانہ بنائے۔ اگر اس نے بھی شہریوں کو نشانہ بنایا تو یہ اسی طرح کا جرم ہوگا جیسے فریق اول کا فعل جرم تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آداب القتال کے مسلمہ اصولوں میں ایک اصول ’’ جرم کے ارتکاب کے لیے انفرادی ذمہ داری ‘‘ (Individual Criminal Responsibility) ہے۔ اس اصول کے مطابق نہ صرف ریاست بلکہ ہر فرد بھی آداب القتال کی خلاف ورزی کے لیے انفرادی طور پر ذمہ دار ہے۔ مثال کے طور اگر کسی کمانڈر کے حکم کی اطاعت میں ماتحتوں نے کسی عبادت گاہ پر حملہ کرکے اسے مسمار کردیا اور وہاں موجود افراد کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو ماتحت یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ وہ اس مجرمانہ فعل کے ارتکاب پر مجبور تھے کیونکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے کمانڈر کا حکم مانیں۔ اگر عدالت میں ثابت کیا گیا کہ ماتحت عملاً اس کام پر مجبور تھے اور انہوں نے کرھاً اس کام کا ارتکاب کیا تب بھی وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ البتہ اس بنیاد پر ان کی سزا میں تخفیف کی جاسکے گی۔ اسی طرح کمانڈر اپنے تمام افعال کے لیے بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کے افعال کے لیے بھی ۔ پس اگر کسی کمانڈر کے ماتحتوں نے کسی علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی آبادی پر مظالم ڈھائے تو کمانڈر لاعلمی کا عذر نہیں پیش کرسکتا ۔ (۱۰)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون بنیادی طور پر ریاستوں کے مابین تعلقات کو منظم کرتا ہے لیکن آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کا اطلاق ریاستوں کے علاوہ افراد پر بھی ہوتا ہے ۔
فصل سوم : مقاتلین اور غیر مقاتلین میں تمییز
مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے غیر مقاتلین (Non-combatants) کو جنگ کے اثرات سے محفوظ کرنے اور جنگ کے طریقوں اور ہتھیاروں کو مناسب حدود کے اندر رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس قانون کا اصل اصول یہ ہے کہ عام شہریوں پر حملہ ناجائز ہے ۔ عام شہری صرف دو صورتوں میں حملے کا ہدف بن سکتے ہیں : ایک صورت یہ ہے کہ وہ جنگ میں حصہ لیں اور مقاتلین (Combatants) بن جائیں ؛دوسری صورت یہ ہے کہ مقاتلین اور عام شہریوں میں تمییز ممکن نہ ہو ۔ اول الذکر صورت میں ان کو براہ راست اور عمداً نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ ثانی الذکر صورت میں ان کو براہ راست اور عمداً نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ، بلکہ لازم ہوگا کہ حملہ کرنے والا فریق حملے کو ناگزیر ثابت کرے اور حملے کو مقاتلین تک محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کرے ۔ ایسی صورت میں ، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ، عام شہریوں کو پہنچنے والا نقصان ’’ ضمنی نقصان ‘‘ ( Collateral Damage) کہلاتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس طرح عام شہری جنگ میں حصہ لے تو اس پر حملہ جائز ہوجاتا ہے ، اسی طرح مقاتل جب زخمی یا معذور ہوجائے ، یا ہتھیار ڈال دے ، یا اسے قید کیا جائے ، یا کسی اور وجہ سے جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے تو اس پر حملہ ناجائز ہو جاتا ہے ۔
واضح رہے کہ اس قانون کے مطابق ’’غیر مقاتل ‘‘ (Non-combatant) اور ’’ شہری ‘‘ (Civilian) باہم مترادف ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر، ہر فوجی مقاتل ہے الا یہ کہ وہ جنگ سے باہر (hors de combat) ہوجائے ، اور ہر شہری غیر مقاتل ہے الا یہ کہ وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ لے ۔ مقاتل اور غیر مقاتل کی حیثیت کے تعین کے لیے جنس یا مذہب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ خاتون اگر جنگ میں حصہ لے تو مقاتلہ ہے اور اگر مرد اگر جنگ سے باہر ہو تو غیر مقاتل ہے۔
رواجی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر وہ شخص جنگ میں حصہ لے سکتا ہے ، یا حملہ کرسکتا ہے ، جو مندرجہ ذیل چار شرائط پوری کرے :
۱ ۔ وہ ایک ذمہ دار کمان کے ماتحت ہو ؛
۲ ۔ وہ غیر مقاتلین سے خود کو ممیز کرنے کے لیے کوئی امتیازی نشان یا لباس (Uniform) استعمال کرے ؛
۳ ۔ وہ واضح طور پر ہتھیار سے مسلح ہو ؛ اور
۴ ۔ وہ آداب القتال کی پابندی کرے ۔ (۱۱)
یہ چاروں شرائط ۱۹۰۷ء کے ہیگ معاہدے میں بھی مذکور ہیں اور تیسرے جنیوا معاہدے میں بھی انہیں دہرایا گیا ہے ۔ ان چار شرائط کو پورا کرنے والا شخص قانوناً ’’مقاتل ‘‘ (Combatant) کہلانے کا مستحق ہوتا ہے اور گرفتار ہونے کی صورت میں اسے ’’جنگی قیدی ‘‘ (Prisoner of War) کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔
تاہم یہ اصول بھی مسلمہ ہے کہ بعض اوقات ان میں سے پہلی اور دوسری شرائط معطل ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے پر حملہ ہو اور اس علاقے کے عام لوگ ، کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان ، کالجوں کو جانے والے طلبا ، تجارت پیشہ دوکاندار ، وغیرہ اچانک ہی حملہ آوروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جو ہتھیار جس کے ہاتھ لگے اسی سے حملہ آوروں سے لڑنے لگے تو ان سب کو مقاتل کی حیثیت حاصل ہوگی اگر وہ اوپر مذکور آخری دو شرائط پوری کرتے ہوں ، خواہ وہ باقاعدہ طور کسی کمان کے تحت منظم نہ ہوئے ہوں اور ان کا کوئی امتیازی نشان یا لباس نہ ہو۔ اس قسم کی عمومی اور اچانک شروع ہونے والی مزاحمت کو اصطلاحاً levee en masse کہا جاتا ہے ۔(۱۲) اسی طرح ۱۹۷۷ء کے پہلے اضافی پروٹوکول نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ مسلح تصادم کے ہر مرحلے میں امتیازی نشان یا لباس کے استعمال کی شرط پر عمل ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لیے اگر کوئی شخص امتیازی نشان یا لباس کا بعض اوقات استعمال نہ کرے لیکن وہ اوپر مذکور آخری دو شرائط پر عمل کرے تو اسے مقاتل کی حیثیت حاصل رہے گی ۔ (۱۳) یہ بھی واضح رہے کہ ہتھیار سے مسلح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ جنگجو اپنے مخالف فریق پر حملہ کرنے سے پہلے اسے دکھائے کہ اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہے یا راکٹ لانچر ۔ بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے فعل اور حرکات و سکنات سے مخالف فریق کو یہ تاثر نہ دے کہ وہ غیر مقاتل ہے ۔ مخالف فریق کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی طرف بڑھنے والا شخص حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے ۔ گویا اصل مقصد دھوکہ دہی کی ممانعت ہے۔
فصل چہارم : دھوکہ دہی ( Perfidy) کی ممانعت اور جنگی چالوں (Ruses of War) کی اجازت
مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون نے جنگ کے جن طریقوں کو ’’ جنگی جرائم ‘‘ (War Crimes) میں شمار کیا ہے ان میں ایک ’’دھوکہ دہی ‘‘ (Perfidy) ہے ۔ (۱۴) اس سے مراد یہ ہے کہ دشمن کو پہلے اپنے قول یا فعل کے ذریعے اطمینان دلایا جائے کہ اس پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر دھوکے سے اس پر حملہ کیا جائے ۔ مثال کے طور پر ہم نے اوپر ذکر کیا کہ مقاتل اگرجنگ سے باہر ہوجائے تو اس پر حملہ ناجائز ہوجاتا ہے ۔ اب اگر کوئی مقاتل دشمن کے سامنے ہاتھ اٹھائے ، یا سفید پرچم بلند کرے ، یا ہتھیار پھینک دے، یا خود کو زخمی یا معذور ظاہر کرے ، اور جب دشمن کے فوجی اس کے قریب آئیں تو یہ اچانک ان پر حملہ کردے ، تو یہ جنگی جرم ہوگا ۔ اسی طرح ایمبولینس پر حملہ ناجائز ہے۔ اگر ایک فریق ایمبولینس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے بھیس میں اپنے جنگجو بھیجے اور دوسرا فریق انہیں اپنے درمیان آنے دے اور پھر ان کے بیچ میں پہنچ کر ایمبولینس میں بیٹھے افراد ان پر حملہ کردیں تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم ہوگا ۔ اسی طرح ہلال احمر اور صلیب احمر کی تنظیموں کے افراد ، دفاتر ، تنصیبات اور گاڑیوں پر حملہ ناجائز ہے کیونکہ ان کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں جاکر زخمیوں اور لاشوں کو اکٹھا کریں اور قیدیوں کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں ، اور یہ جنگ میں غیر جانبدار رہتے ہیں ۔ ان کو حملوں کی زد سے بچانے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے امتیازی نشانات (Distinctive Emblems) اس طور پر استعمال کریں کہ دور سے بھی لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہلال احمر یا صلیب احمر کے لوگ ہیں۔ اب اگر کوئی فریق ہلال احمر یا صلیب احمر کی گاڑی یا ان کے امتیازی نشانات استعمال کرکے دشمن کے قریب پہنچ جائے اور پھر اس حملہ کرے تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم شمار کیا جائے گا ۔ بعینہ اسی طرح اگر کوئی شخص غیر مقاتل کے بھیس میں ہو اور دشمن اسے غیر مقاتل سمجھ کر اسے نزدیک آنے دے اور اس کے بعد وہ ان پر حملہ کرے تو یہ دھوکہ دہی اور جنگی جرم ہے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ’’ دھوکہ دہی ‘‘ کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں کہ ’’ جنگی چالیں‘‘ ( Ruses of War) بھی ممنوع ہیں ۔ (۱۵) مثال کے طور پر دشمن پر اچانک حملہ (Surprise Attack) جائز ہے ۔ اسی طرح یہ جائز ہے کہ آپ اپنی فوجوں کی حرکت سے دشمن کو یہ تاثر دیں کہ آپ مشرقی محاذ پر حملہ کرنے والے ہیں اور جب وہ مشرقی محاذ کی حفاظت پر توجہ دے کر مغربی محاذ سے لاپروا ہوجائے تو آپ مغربی محاذ پر حملہ کردیں ۔ اسی طرح فوجوں کی نقل و حرکت کے متعلق دشمن کو شبہ میں مبتلا کیے رکھنا ، یا اسے غلط اطلاع پہنچانا ، یا اپنی فوجوں کی پوزیشن ، تعداد اور صلاحیت کے متعلق اسے غلط فہمی میں مبتلا کرنا جائز جنگی چال ہے ، بشرطیکہ ان میں کسی فعل کی بنا اس بات پر نہ ہو کہ آپ پہلے دشمن کو اعتماد میں لیں کہ آپ اس پر حملہ نہیں کریں گے اور پھر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں ۔ پس دھوکہ دہی میں ایک فریق دوسرے کو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لے رہا ، یا یہ کہ اسے حملے کا ہدف بننے سے قانونی تحفظ حاصل ہے اور جب فریق دوم اس پر بھروسہ کرکے اس پر حملے سے باز رہتا ہے تو فریق اول اس پر حملہ کرلیتا ہے ۔ اس کے برعکس جائز جنگی چال میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ فریق دوم جانتا ہے کہ فریق اول اس پر حملہ کرے گا لیکن ’’کہاں سے ‘‘اور ’’کیسے ‘‘کے تعین میں وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے فریق اول کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ اسی طرح جائز جنگی چال میں فریق اول خود کو حملے کے لیے ناجائز ہدف بنا کر نہیں پیش کرتا بلکہ فریق دوم جانتا ہے کہ فریق اول کو ہدف بنانا جائز ہے لیکن فریق اول کی جنگی چال کی وجہ سے وہ اس بات کے تعین میں غلطی کر بیٹھتا ہے کہ اس پر ’’کہاں‘‘ اور ’’کیسے‘‘ حملہ کرے ؟ اور یہ اس کا اپنا قصور ہوتا ہے ۔ اس میں فریق اول کی جانب سے غدر یا خیانت نہیں ہوتی ۔
بین الاقوامی قانون نے دہشت گردی کی متفقہ اور مسلمہ جامع مانع تعریف نہیں پیش کی مگر حملے کی چند صورتیں ایسی ہیں جن کو بالاتفاق دہشت گردی میں شمار کیا جاتا ہے ، مثلاً :
۱۔ شہری آبادی یا تنصیبات پر براہ راست اور عمداً حملہ ؛
۲ ۔ شہری ہوابازی کے طیاروں کو اغوا کرنا ؛
۳ ۔ شہریوں یا مقاتلین کو یرغمال بنانا ؛
۴ ۔ مقاتلین پر ’’ دھوکہ دہی ‘‘ کے ذریعے حملہ ؛
۵۔ مقاتلین پر زہریلی گیسوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال (۱۶)؛ وغیرہ ۔
فصل پنجم : خود کش حملوں کی قانونی حیثیت
بین الاقوامی قانون کے ان اصول و ضوابط کی روشنی میں اگر خود کش حملوں کے جواز اور عدم جواز کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جواز کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پورا کرنا لازم ہوگا :
اولاً : یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں ۔
ثانیاً : یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو ۔
ثالثاً : یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں ۔
رابعاً : یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو ۔
چنانچہ اگر جنگ کے دوران میں ایک مقاتل سینے سے بم باندھ کر فریق مخالف کے مقاتلین کی صفوں کے اندر گھس جائے اور پھر بم ڈیٹونیٹ کر لے ، یا بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ جائے ، یا جنگی جہاز کا پائلٹ جہاز کو دشمن کے فوجی ٹھکانے پر گرائے ، اور اس طرح خود اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کرلے اور فریق مخالف کو بھی سخت مادی اور نفسیاتی نقصان پہنچائے تو اس قسم کے حملوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت ناجائز نہیں قرار دیا جاسکے گا ۔
تاہم چونکہ بالعموم خود کش حملہ کرنے والا شہری آبادی کے اندر حملہ کرتا ہے اس لیے یہ فعل دہشت گردی کے ضمن میں آئے گا ۔ پھر چونکہ وہ مقاتل کے لباس میں نہیں ہوتا بلکہ بظاہر وہ عام شہری کے بھیس میں ہوتا ہے اس لیے وہ ’’ دھوکہ دہی ‘‘ (Perfidy) کا بھی ارتکاب کرتا ہے ۔ اسی طرح خود کش حملوں کا ہدف بالعموم ایسا ہوتا ہے کہ اس میں فریق مخالف کے مقاتلین اور غیر مقاتلین دونوں نشانہ بن جاتے ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر ، ان حملوں سے اس قاعدے کی مخالفت ہوتی ہے کہ اندھادھند حملہ ناجائز ہے ۔ بسا اوقات حملے کا مقام یا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس میں غیر مقاتلین کو پہنچنے والا نقصان بہت شدید ہوتا ہے اور اس قسم کے نقصان کو ’’ ضمنی نقصان ‘‘ (Collateral Damage) نہیں کہا جاسکتا ۔
اس قسم کے حملوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ فریق مخالف بد اعتمادی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ ہر شخص کو حملہ آور فرض کرنے لگتا ہے خواہ وہ عام شہری کے لباس میں ہی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح وہ بسا اوقات عام شہریوں کو خود کش حملہ آور فرض کر کے اس پر حملہ کردیتا ہے ۔ یوں عام شہریوں کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے ۔ باہمی بد اعتمادی کی اس فضا میں آداب القتال کے بنیادی قاعدے مسمار ہوجاتے ہیں ۔ چنانچہ ایک فریق دوسرے پر الزام رکھتا ہے کہ وہ حملے میں مقاتلین اور عام شہریوں میں تمییز روا نہیں رکھتا اور دوسرا فریق جواب میں قرار دیتا ہے کہ فریق اول کے مقاتلین عام شہریوں کا بھیس بدل کر حملہ کرتے ہیں ۔ یوں آداب القتال کی تمام بحث غیر متعلق ہوجاتی ہے اور فریقین کی جانب سے تمام قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں ۔ پھر ان کے نزدیک جنگ میں ’’ سب کچھ ‘‘ جائز ہوجاتا ہے ۔ فلسطین کی سرزمین پر یہی کچھ عرصے سے ہوتا رہا ہے اور اب پاکستان میں بھی خدانخواستہ حالات کا رخ اسی نہج پر ہے ۔
حصۂ دوم : اسلامی شریعت اور آداب القتال
آداب القتال کے ان مسائل پر جب اسلامی شریعت کی رو سے بحث کی جاتی ہے تو سب سے پہلے اس امر کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے کہ اس بین الاقوامی قانون کی کیا حیثیت ہے جس نے ان آداب کا تعین کیا ہے ؟ بعض لوگوں نے ان بین الاقوامی معاہدات ، بلکہ پورے بین الاقوامی قانون کو اسلامی شریعت سے متصادم قرار دے کر ان کی پابندیاں ماننے سے انکار کیا ہے ۔ اس لیے پہلے اس اصولی بحث کا فیصلہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ کیا آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے اصول و مبادیات اسلامی شریعت سے مطابقت رکھتے ہیں یا وہ اس سے متصادم ہیں؟ پھر عصر حاضر کے مسلح تصادم کے حوالے سے چند نہایت اہم مسائل کا شریعت کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے گا۔ و باللہ التوفیق ۔
فصل اول : آداب القتال کے بین الاقوامی معاہدات کی حجیت کا مسئلہ
آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون ، جیسا کہ واضح کیا گیا ، بنیادی طور پر معاہدات اور بین الاقوامی عرف سے ماخوذ ہے ۔ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق عرف اور رواج کی پیروی بھی جائز ہے اور معاہدات پر عمل بھی لازم ہے ، الا یہ کہ کسی رواج یا معاہدے کی کسی شق سے شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو ۔ خلاف شریعت کسی شرط کا ماننا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے ( المسلمون علی شروطھم الا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً) (۱۷) بلکہ اگر اس قسم کی شرط مان بھی لی گئی تو اس پر عمل ناجائز ہوگا ۔ (ما من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل ، ولو کان مائۃ شرط) (۱۸) تاہم بعض شرائط کے مقتضیات کے تعین پر اختلاف ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ یہ ممکن ہے کہ بعض شروط کے ماننے سے بعض لوگوں کے نزدیک کفر کی بالادستی ماننی لازم آتی ہو ، جبکہ بعض دوسرے لوگوں کے خیال میں ہوسکتا ہے کہ یہ ان شروط کے ماننے کا لازمی تقاضا نہ ہو ۔ اس لیے کوئی sweeping statement دینا مناسب نہیں ہوگا ، بلکہ ضروری ہوگا کہ ہر ہر شرط کے مقتضیات پر الگ الگ بحث کی جائے اور پورے معاہدے کے مجموعی اثر پر اس کے بعد نظر ڈالی جائے۔ اس کے بعد ہی اس معاملے کی صحیح شرعی تکییف کی جاسکے گی ۔ عقود اور شروط کے بارے میں اصل صحت ، نفاذ اور لزوم کا ہے ۔ (۱۹) جو شخص دعوی کرے کہ کوئی شرط یا عقد اس اصل کے خلاف ہے تو ثبوت کا بار بھی اسی کے ذمے ہے ۔ مزید برآں ، اگر کسی شرط پر مسلمان اس وجہ سے عمل نہیں کرسکتے کہ وہ خلاف شریعت ہے تب بھی معاہدے کے دوسرے فریق کو اس بات کی اطلاع دینا لازم ہے کہ مسلمان اس معاہدے یا اس شرط کو قبول نہیں کرتے۔ اگر وہ ایسا کیے بغیر اس شرط کی خلاف ورزی کریں گے تو یہ غدر ہوگا جو شرعاً حرام ہے ۔
شریعت نے مسلمانوں پر لازم کیا ہے کہ جنگ کے دوران بعض قواعد اور ضوابط کا لحاظ رکھیں گے قطع نظر اس سے کہ دوسرا فریق ان کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگردوسرا فریق ان قواعد کو معاہدے کا حصہ بناکر ان کی پابندی پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کے لیے اس قسم کے معاہدات میں شامل ہونا مستحسن ہی ہوگا ۔ اس کے علاوہ ان معاہدات میں بعض مزید کاموں کو بھی ممنوع قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اس قسم کے معاہدات کے تحت ممنوع کام اس وقت تک ممنوع رہیں گے جب تک وہ معاہدات مؤثر ہوں ، الا یہ کہ ان کاموں کو شریعت نے بھی ممنوع قرار دیا ہو ۔ ظاہر ہے کہ شریعت کے تحت ممنوع شدہ کام مسلمانوں کے لیے ممنوع رہیں گے خواہ دوسرے فریق کے ساتھ معاہدہ ختم ہوجائے ۔
اس قسم کے معاہدات سے بعض اوقات مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً جنگی قیدیوں کے متعلق نص قرآنی ( سورۃ محمد ، آیت ۴ ) کے بموجب مسلمان حکمران کو دو اختیار دیے گئے ہیں ؛ من اور فداء ، یعنی بغیر معاضہ کے یا معاوضہ لے کر رہائی ۔ بعض دیگر آیات اور احادیث کی روشنی میں احناف کی رائے یہ ہے کہ حکمران جنگی قیدیوں کو قتل بھی کرسکتا ہے اور غلام بھی بنا سکتا ہے ۔ (۲۰) تیسرے جنیوا معاہدے کے ذریعے طے کیاگیا ہے کہ جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کو بغیر معاوضہ کے رہاکیاجائے گا ۔ (۲۱) اس شق کو شریعت کے خلاف متصور کیا جائے گا یا اسے حکمران کے اختیارات کا جائزاستعمال سمجھا جائے گا ؟
امام محمد بن الحسن الشیبانی نے، جو فی الحقیقت آیۃ من آیات اللہ تھے، ’’السیر الکبیر ‘‘ میں کئی ایسے معاہدات پر بحث کی ہے جو مسلمان دیگر اقوام کے ساتھ آداب القتال کے سلسلے میں کرسکتے ہیں۔ شمس الائمہ ابو بکر محمد بن ابی سہل السرخسی نے ’’شرح السیر الکبیر‘‘ میں ان کی توضیح میں کئی اہم قانونی اصول مستخرج کیے ہیں۔ یہاں اس بحث پر ایک نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
امام شیبانی نے اس قسم کے معاہدات پر بحث اس ضمن میں شروع کی ہے کہ اگر مسلمان لشکر کسی علاقے میں داخل ہونا چاہتا ہے لیکن راہ میں دشمن کے فوجی حائل ہیں اور وہ مسلمانوں کو یہ معاہدہ کرنے کی تجویز دیں کہ اگر مسلمان اس عام اور مختصر راستے کو چھوڑ ایک دوسرے طویل اور پر مشقت راستے سے جائیں تو وہ ان سے نہیں لڑیں گے اور انہیں بحفاظت وہاں سے گزرنے کا حق (Right of Safe Passage) دے دیں گے ، تو اگر ایسا کرنا مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو مسلمان ایسا معاہدہ کرسکتے ہیں ۔ پھر اگر انہوں نے ایسا معاہدہ کرلیا اور بعد میں مسلمان محسوس کریں کہ انہیں اس مختصر اور عام راستے سے ہی جانا چاہیے تو اس وقت تک اس راستے سے نہیں جاسکتے جب تک کہ وہ فریق مخالف کو باقاعدہ اطلاع نہ دیں کہ ان کا معاہدہ ختم ہوچکا ہے ۔ مسلمان یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس راستے سے جائیں یا اس راستے ، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ ہی ان کا کوئی نقصان ہوتا ہے :
لأن ھذا بمنزلۃ الموادعۃ والأمان، فیجب الوفاء بہ و التحرز عن الغدر الی أن ینبذوا الیھم (۲۲)
[کیونکہ اس معاہدے کی حیثیت امن کے معاہدے کی ہے ، اس لیے اس پر عمل اور عہد شکنی سے احتراز واجب ہے جب تک مسلمان انہیں باقاعدہ طور معاہدہ ختم ہونے کی اطلاع نہ دیں۔ ]
اسی طرح وہ بعض مزید شروط کا ذکر کرتے ہیں جن سے مندرجہ ذیل قواعد عامہ مستخرج ہوتے ہیں :
اولاً : اگر معاہدے میں کسی کام کو ممنوع کیا گیا تو ایسے تمام کام جو اس ممنوع کام کی نوعیت کے ہوں ممنوع ٹھہریں گے ۔ مثلاً اگر فصلوں کو جلانا ممنوع کیا گیا تو انہیں پانی میں غرق کرنا بھی ممنوع ہوگا ۔
لأن ھذا فی معنی المنصوص من کل وجہ (۲۳)
[کیونکہ یہ ہر پہلو سے منصوص حکم کے مفہوم میں داخل ہے ۔ ]
ثانیاً : ممنوع کام سے اوپر کے درجے کے کام بھی ممنوع ٹھہریں گے ۔ مثلاً فصل میں سے کھانے کے لیے کچھ لینا ممنوع کیا گیا تو جلانا بدرجۂ اولی حرام ہوگا ۔
فان الاحراق افساد للعین ، و الأکل انتفاع بالعین ۔ فاذا شرطوا أن لا یؤکل فمقصودھم بقاء العین لھم ، و ذلک ینعدم بالاحراق کما ینعدم بالأکل (۲۴)
[کیونکہ جلانا اس چیز کو ضائع کرنا ہے ، جبکہ کھانا اس سے فائدہ اٹھانا ہے ۔ پس جب انہوں نے یہ شرط لگائی کہ اسے نہ کھایا جائے تو ان کا مقصد اس چیز کے وجود کو باقی رکھنا تھا ، اور جیسے اس کا وجود کھانے سے معدوم ہوتا ہے ایسے ہی جلانے سے بھی معدوم ہوتا ہے ۔ ]
اسی طرح اگر معاہدے میں طے پایا کہ مسلمان ان کی کشتیوں کو نہ جلائیں گے اور نہ ہی انہیں غرق کریں گے تو جلانے اور غرق کرنے کے علاوہ ان کشتیوں کو چھین کر لے جانا بھی ممنوع ہوگا :
لأنھم انما أرادوا أن لا نستھلکھا علیھم ، الا أنہ تعذر علیھم التنصیص علی جمیع أنواع الاستھلاک ، و ذکروا ما ھو الظاھر من أسبابہ ، و ھو التغریق و الاحراق (۲۵)
[کیونکہ ان کا اردہ دراصل یہ تھا کہ ہم ان کی کشتیاں ان کے لیے ناکارہ نہ بنائیں ، مگر چونکہ ناکارہ بنانے کے تمام طریقوں کا معاہدے میں ذکر کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے انہوں نے صرف اس کے ظاہری اسباب ذکر کیے جو ڈبونا اور جلانا ہیں ۔ ]
ثالثاً: ممنوع کام سے نچلے درجے کا کام ممنوع نہیں ہوگا ۔ مثلاً جلانا ممنوع کیا گیا تو کھانا ممنوع نہیں ٹھہرے گا ۔
والأصل أن ما ثبت بالشرط نصاً لا یلحق بہ ما لیس فی معناہ من کل وجوہ(۲۶)
[ قاعدہ یہ ہے کہ معاہدے میں مذکور شرط سے جو بات ثابت ہوتی ہو اس کے ساتھ اس بات کو نہیں ملحق کیا جائے گا جو تمام پہلوؤں سے اس کے مفہوم میں داخل نہ ہو ۔ ]
ان قواعد کی وضاحت کے بعد وہ جنگی قیدیوں کے متعلق معاہدے کا ذکر کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ مسلمان جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بھی دوسرے فریق سے معاہدہ کرسکتے ہیں اور جب تک یہ معاہدہ برقرار رہے گا اس پر عمل واجب ہوگا ۔ اگر مسلمان اس معاہدے پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ کہ دوسرے فریق کو باقاعدہ اطلاع دے دی جائے کہ وہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کر رہے ہیں ۔
امام شیبانی نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ معاہدے میں یہ شرط رکھی جاسکتی ہے کہ مسلمان دوسرے فریق کے قیدیوں کو قتل نہیں کریں گے۔ اس شرط کے بعد قیدیوں کو قتل کرنا ممنوع ٹھہرے گا مگر قید کرنا اور غلام بنانا جائز ہوگا :
لأن الأسر لیس فی معنی ما شرطوا من القتل (۲۷)
[کیونکہ انہوں نے قتل کی ممانعت کی شرط رکھی اور قید کرنا قتل کے مفہوم میں داخل نہیں ہے ۔ ]
امام شیبانی نے آگے یہ بھی قرار دیا ہے کہ اس قسم کے معاہدے کے ذریعے یہ بھی طے کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان سرے سے انہیں قید ہی نہیں کریں گے ۔ اگر یہ طے پایا تو پھر انہیں قید کرنا بھی ناجائز ہوگا اور غلام بنانا اور قتل کرنا بدرجۂ اولیٰ ناجائز ہوگا :
لأن القتل أشد من الأسر (۲۸)
[کیونکہ قتل قید سے زیادہ سنگین نوعیت کا کام ہے ۔ ]
البتہ اگر معاہدے میں طے پایا ہو کہ دوسرا فریق بھی اس قسم کے کاموں سے باز رہے گا اور اس کے بعد دوسرے فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس فعل سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا کہ وہ ان کو قید کریں، غلام بنائیں اور قتل کریں ، جیسا کہ معاہدے کے وجود میں آنے سے پہلے حکم تھا ۔
اگر اس شرط کی خلاف ورزی ان کی جانب سے کسی ایک فرد نے کی ہو اور ان کی حکومت نے اس کی اجازت نہ دی ہو تو اس سے معاہدہ نہیں ٹوٹے گا :
لیس لھذا الواحد ولایۃ نقض العھد علی جماعتھم (۲۹)
[اس تنہا شخص کو اپنی جماعت پر یہ قانونی اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان کی جانب سے معاہدہ ختم کر لے۔]
تاہم اگر اس کی خلاف ورزی ان کی حکومت نے کی ، یا ایک بڑے گروہ نے کی ، یا ایک فرد یا چند افراد کھلے عام اس کا ارتکاب کریں اور ان کی حکومت انہیں نہ روکے تو یہ ان کی جانب سے عہد شکنی تصور کی جائے گی :
ان السفیہ اذا لم ینہ مأمور (۳۰)
[غلط روش پر چلنے والے کو اگر روکا نہ گیا تو گویا اسے اس کی اجازت دی گئی ۔ ]
اگر معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی کہ فریقین میں کوئی بھی فریق دوسرے فریق کے قیدیوں کو قتل نہیں کرے گا ، اور اس کے بعد وہ مسلمانوں کو قید کریں لیکن قتل نہ کریں تو مسلمانوں کے لیے بھی ان کو قید کرنا جائز اور انہیں قتل کرنا ناجائز ہوگا :
لأن ھذا لیس نقض العھد منھم ، فانھم التزموا بأن لا یقتلوا ، و ما التزموا بأن لا یأسروا واذا بقی العھد ، نعاملھم کما یعاملوننا جزاء وفاقاً (۳۱)
[کیونکہ یہ ان کی جانب سے نقض عہد نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی تھی کہ وہ قیدیوں کو قتل نہیں کریں گے ، یہ نہیں کہ وہ انہیں سرے سے قید ہی نہیں کریں گے ۔ پس جب معاہدہ برقرار ہے تو ہم ان کے ساتھ ان کے عمل کے عین مطابق اسی طرح کا معاملہ کریں گے جیسے وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں ۔]
امام شیبانی کی ان تصریحات اور امام سرخسی کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ آداب القتال کے تعین کے لیے مسلمان دوسرے فریق کے ساتھ معاہدات کرسکتے ہیں ۔ جنیوا معاہدات اور اس کے ساتھ اضافی ملحقات اسی نوعیت کے معاہدات ہیں ۔ تمام اسلامی ممالک نے ان معاہدات پر دستخط کیے ہیں ۔ اس لیے ان معاہدات کی پابندی مسلمانوں پر لازم ہے ۔
فصل دوم : آداب القتال کے بنیادی اصول اور اسلامی شریعت
اسلامی شریعت نے انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح جنگ کو بھی تہذیب اور انسانیت کے دائرے میں رکھنے کے لیے احکام ، اصول اور قواعد دیے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین کے طرز عمل سے آداب القتال کے متعلق فقہا نے تفصیلی ضابطہ اخذ کیا ہے جس کی پابندی مسلمانوں پر ہر صورت میں لازم ہے ، خواہ فریق مخالف اس ضابطے کی پابندی کرے یا نہ کرے ۔ اس ضابطے کی تفصیلات کے متعلق عصر حاضر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ، اور لکھا جارہا ہے۔ ان تفصیلات سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے جو قواعد عامہ ہم نے ابتدا میں ذکر کیے ہیں ، اسلامی شریعت نے ان سب کو تسلیم کیا ہوا ہے ۔
چنانچہ اسلامی شریعت نے حملے کے دوران میں انسانیت کے تقاضوں کی پابندی لازم ٹھہرائی ہے ۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملے کے دوران میں غیر مقاتلین کو ہدف بنانے سے منع فرمایا ، لاشوں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ، لوٹ مار اور قتل عام سے منع فرمایا، امیر کی اطاعت کا حکم دیا ، جنگ کو منظم طریقے سے لڑنے کا حکم دیا، بعض مخصوص قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کی ممانعت کی ، جنگی قیدیوں اور مفتوحین کے ساتھ حسن سلوک کی شاندار مثالیں قائم کیں، معاہدات کی پابندی کی اور کروائی ، وغیرہ وغیرہ ۔ (۳۲)
اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ شریعت نے جنگ کو اس وجہ سے جائز ٹھہرایا ہے کہ بعض اوقات اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا، ورنہ اگر پر امن طریقوں سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو شریعت نے پر امن طریقے اپنانے کی ہدایت کی ہے ۔ مثال کے طور پر فقہا کی غالب اکثریت نے قرار دیا ہے کہ غیر مسلموں سے جنگ کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا گیا کہ وہ اسلام قبول نہیں کرتے، بلکہ اس وجہ سے ان سے جنگ کا حکم دیا گیا وہ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتے ہیں ۔ اصطلاحی الفاظ میں اس بات کی تعبیر یوں کی جاتی ہے کہ قتال کی علت کفر نہیں بلکہ محاربہ ہے ۔ (۳۳) اسی طرح شریعت نے لازم ٹھہرایا ہے کہ جنگ سے پہلے مخالف فریق کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے ، اگر ان تک اسلام کی دعوت پہلے ہی نہ پہنچ چکی ہو۔ اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
لا تقاتلھم حتی تدعوم ھم ۔ فان أبوا فلا تقاتلوھم حتی یبدء وکم ۔ فان بدء وکم فلا تقاتلوھم حتی یقتلوا منکم قتیلا ۔ ثم أروھم ذلک القتیل و قولوا لھم : ھل الی خیر من ھذا سبیل ؟ فلأن یھدی اللہ تعالیٰ علی یدیک خیر لک مما طلعت علیہ الشمس وغربت (۳۴)
[ان سے جنگ نہ کرو جب تک کہ ان کو دعوت نہ دو ۔ اگر انہوں نے دعوت کی قبولیت سے انکار کیا تو ان سے جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ شروع نہ کریں ۔ پھر اگر وہ جنگ شروع کریں تو ان سے نہ لڑو یہاں تک کہ وہ تم میں کسی کو قتل کرلیں ۔ پھر انہیں مقتول کی لاش دکھا کر کہو : کیا اس سے بہتر کی طرف کوئی راہ نکل سکتی ہے ؟ پس اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی کو ہدایت نصیب کرے تو یہ تمہارے لیے اس سب کچھ سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوا۔ ]
تاہم شریعت نے فوجی ضرورت کے قاعدے کو بھی تسلیم کیا ہوا ہے ۔ چنانچہ بعض مخصوص شرائط کے ساتھ شریعت نے دشمن پر شب خون کی اجازت دی ہے حالانکہ اس میں غیر مقاتلین کے نشانہ بننے کا احتمال بھی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی قلعے میں مسلمانوں کا کوئی قیدی ہو اور اس قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تومسلمان اس قلعے پر حملہ کرسکتے ہیں اگر چہ اس میں احتمال ہوتا ہے کہ حملے کی زد میں وہ مسلمان قیدی بھی آجائے ۔ اس قسم کے حملوں میں مسلمان جن شرائط کا خیال رکھیں گے ان میں اہم ترین یہ ہیں کہ جن لوگوں کو ہدف بنانا ناجائز ہے ( مثلاً غیر مقاتلین یا مسلمان قیدی)ان کو عمداً نشانہ نہ بنایا جائے ، ان پر حملے کی نیت نہ کی جائے ، انہیں جہاں تک بچایا جاسکتا ہو بچانے کی کوشش کی جائے ، حملے کو جائز ہدف تک ہی محدود رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فوجی ضرورت یا اضطرار کے ساتھ ساتھ شریعت نے جائز ضمنی نقصان اور تناسب کے اصولوں کو بھی تسلیم کیاہوا ہے ۔
جہاں تک انفرادی فوجداری ذمہ داری ( Individual Criminal Responsibility) کے اصول کا تعلق ہے شریعت نے اسے بھی تسلیم کیا ہے اور صراحتاً قرار دیا ہے کہ جن کاموں کو شریعت نے حرام ٹھہرایا ہے ان کا ارتکاب اس بنیاد پر جائز نہیں ہوسکتا کہ ان کے ارتکاب کا حکم حاکم یا امیر نے دیا ہے اور حاکم یا امیر کی اطاعت لازم ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح اور قطعی الفاظ میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ کسی مخلوق کی اطاعت کسی ایسے کام میں جائز نہیں جس سے خالق نے منع کیا ہو ۔
لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ عز و جل (۳۵)
[ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے ۔ ]
ایک موقع پر صحابہ کے ایک فوجی دستے کے امیر نے طیش میں آکر آگ لگا کر اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ اس آگ میں داخل ہوں ، اور دلیل یہ دی ان پر اپنے امیر کی اطاعت لازم ہے ۔ ماتحتوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کے لیے ہی مسلمان ہوئے ہیں۔ بعد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:
لو دخلوھا ما خرجوا منھا أبداً ، انما الطاعۃ فی المعروف لا فی المنکر (۳۶)
[ اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو کبھی اس سے نہ نکلتے ۔ اطاعت صرف جائز کام میں ہے نہ کہ ناجائز کام میں ۔ ]
اسی طرح یہ اصول بھی شریعت نے تسلیم کیا ہوا ہے کہ امیر اپنے ماتحتوں کے عمل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بنو جذیمہ کے لوگوں کو غلط فہمی کی بنیاد پر قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین کا خون بہا بھی ادا کیا اور ان کو پہنچنے والے مالی نقصان کی بھی تلافی کی ، باوجود اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کام کی اجازت نہیں دی تھی ۔ (۳۷)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد شکنی اور غدر کو انتہائی شدید الفاظ میں منع فرمایا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ جنگی چالوں کی اجازت اپنے فعل سے بھی دی ہے اور قول سے بھی ۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا :
الحرب خدعۃ (۳۸)
[جنگ چالبازی کا نام ہے ۔ ]
شریعت کی روشنی میں ناجائز غدر اور جائز جنگی چال میں کیسے فرق کیا جائے گا ؟ اس مسئلے پر آگے تفصیلی بحث آرہی ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ آداب القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون اپنے اصول عامہ اور قواعد عامہ کے لحاظ سے اسلامی قانون کے عین مطابق ہے ۔ اگر دونوں نظامہائے قوانین میں کسی جزئیے میں کہیں اختلاف آرہا ہو تو وہ الگ بات ہے، لیکن بنیادی طور پر ان میں توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ بلکہ بعض اوقات وضعی قانون کی بہ نسبت اسلامی قانون میں زیادہ پابندیاں پائی جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی قانون کی رو سے خود کش حملوں کے جواز یا عدم جواز کی بحث میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ خود کشی جائز ہے یا ناجائز ؟ تاہم جب اس قسم کے حملوں کے جواز یا عدم جواز پر اسلامی قانون کی رو سے بحث کی جاتی ہے تو یہ سوال بہت اہم ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا حملہ ’’خود کشی ‘‘ہے یا نہیں کیونکہ اسلامی شریعت کی رو سے خودکشی ایک بہت بڑا گناہ ہے؟
ان بنیادی اصولوں میں توافق اور ہم آہنگی کے باوجود بعض مسائل ایسے ہیں جن میں عصر حاضر کے تناظر میں ان دونوں نظام ہائے قوانین کے درمیان تفصیلی موازنہ ضروری ہے ۔
فصل سوم : مقاتلین اور غیر مقاتلین کی حیثیت کے تعین کا مسئلہ
دونوں نظام ہائے قوانین نے لازم ٹھہرایا ہے کہ حملے کا جائز ہدف صرف مقاتلین ہی ہوسکتے ہیں اور حتی الامکان اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ غیر مقاتلین حملے کی زد میں نہ آئیں ۔ تاہم مقاتل اور غیر مقاتل کے تعین کے اصولوں میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے ۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، مبنی بر انسانیت بین الاقوامی قانون کی رو سے ’’غیر مقاتل ‘‘ (Non-Combatant) اور ’’شہری ‘‘ یا ’’غیر فوجی ‘‘(Civilian) تقریباً مترادف اصطلاحات ہیں ۔ اس قانون کی رو سے باقاعدہ فوجی یا جنگجو تو مقاتل ہیں الا یہ کہ وہ کسی وجہ سے جنگ سے باہر ہوجائیں ، اور عام شہری ، خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، غیر مقاتل ہیں ، الا یہ کہ وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ لیں۔ اس کے برعکس فقہاء کے نصوص پر سرسری نظر دوڑائی جائے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک برسر جنگ قوم کا ہر عاقل بالغ مرد اصلاً مقاتل ہے ، الا یہ کہ کسی اور سبب سے اسے مقاتل نہ سمجھا جائے ، اور نا بالغ بچے اور عورتیں غیر مقاتلین ہیں الا یہ کہ وہ جنگ میں حصہ لیں ۔ عورتوں کو اصلاً غیر مقاتلین میں شمار کرنے سے تو اتنے بڑے مسائل پیدا نہیں ہوتے لیکن تمام مردوں کو اصولاً مقاتلین فرض کرنے سے بظاہر بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ تاہم اگر اس اصول کا تفصیلی قانونی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون میں توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔
مردوں کو فقہانے اس وجہ سے اصولاً مقاتلین میں شمار کیا کہ زمانۂ قدیم میں، جبکہ فقہا نے اسلامی قانون کے اصولوں کا استخراج کیا ، جنگوں میں بنیادی کردار مرد ہی ادا کرتے تھے اور کسی قوم کے تقریباً تمام ہی عاقل بالغ مرد جنگ میں حصہ لیتے تھے۔ البتہ بعض حالات کی وجہ سے بعض مرد جنگ میں حصہ نہ لے پاتے تو فقہاان کو مقاتلین میں شمار نہیں کرتے تھے۔ مثلاً فقہا نے ایک طرف یہ اصول طے کیا ہے کہ ہر مرد مقاتل ہے اور دوسری طرف یہ بھی قرار دیا ہے کہ دشمن کے علاقے میں داخل ہونے والے تاجر غنیمت میں حصہ لینے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ وہ قتال میں حصہ لینے کے لیے نہیں بلکہ تجارت کے لیے وہاں جاتے ہیں ۔ پس وہ صرف اسی صورت میں غنیمت میں حصہ لینے کے مستحق ہوں گے جب وہ قتال میں باقاعدہ شرکت کریں ۔ امام سرخسی اس حکم کے پیچھے کارفرما قانونی اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
فانھم کانوا تجاراً قبل ھذا ، لا غزاۃً (۳۹)
[ کیونکہ وہ قتال میں حصہ لینے سے پہلے تاجر تھے ، نہ کہ غازی ۔ ]
پس اصل قاعدہ یہ ہے کہ مقاتل اور غیر مقاتل کی حیثیت کا تعین کسی شخص کی جنس سے نہیں بلکہ اس کے قتال میں حصہ لینے یا نہ لینے سے ہوتا ہے ۔ چونکہ اس زمانے میں بالعموم تمام مرد قتال میں حصہ لیتے تھے اس لیے مفروضہ یہ ہوتا تھا کہ تمام مرد مقاتلین ہیں الا یہ کہ ان کا غیر مقاتل ہونا ثابت ہو ۔
اس مسئلے کا تجزیہ ایک اور پہلو سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ غیر مقاتلین کی ممانعت کا حکم کہاں سے اخذ کیا گیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگوں میں عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔ (۴۰) اہل ظاہر قرار دیتے ہیں کہ اصلاً جنگ میں ہر غیر مسلم کا قتل جائز ہے ، سوائے عورتوں اور بچوں کے ۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ سورۃ التوبۃ میں تمام مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت گویا قاعدے سے استثنا ہے ۔ (۴۱) اس کے برعکس جمہور فقہا عورتوں اور بچوں کے علاوہ دیگر ایسے لوگوں کو بھی غیر مقاتلین میں شمار کرتے ہیں جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے مثلاً شیخ فانی، خانقاہ میں باقی دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے راہب ، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان وغیرہ ۔ (۴۲) اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دیگر احادیث ، جو متشدد روایت پسندوں کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں ، میں ان لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے ۔ نیز خلفاے راشدین کے فرامین اور احکامات میں بھی یہ استثناء ات مذکور ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ اگر سورۃ التوبۃ کی آیت ۵ کے حکم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم [پس مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ ] کو عام حکم مانا جائے تو ان احادیث اور خلفا کے فرامین نے اس عام کی تخصیص کیسے کردی ؟ یہ سوال شافعی فقہا کے لیے اتنا اہم نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک عام ظنی الدلالۃ ہوتا ہے جس کی تخصیص خبر واحد ، بلکہ قیاس ، کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے ۔ تاہم احناف کے نزدیک عام قطعی الدلالۃ ہوتا ہے اور اس کی پہلی تخصیص کے لیے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ البتہ پہلی تخصیص کے بعد احناف کے نزدیک بھی مزید تخصیص خبر واحد اور قیاس کے ذریعے ہوسکتی ہے کیونکہ ’’عام مخصوص منہ البعض ‘‘ ان کے نزدیک بھی ظنی الدلالۃ ہوجاتا ہے۔ (۴۳) یہاں اس عام حکم کی تخصیص اس آیت کریمہ کے معاً بعد آنے والی آیت نے کر دی ہے :
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّٰہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ (سورۃ التوبۃ ، آیت ۶ )
[ اگر ان مشرکین میں کوئی تم سے امان مانگے تو اسے امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے ۔ پھر اسے اس کے امان کی جگہ تک پہنچاؤ ۔ ]
اس آیت نے واضح کیا کہ ماسبق آیت میں لفظ ’المشرکین‘ بظاہر عام ہے لیکن درحقیقت عام نہیں ہے ، بلکہ اس سے ایک مخصوص گروہ مراد ہے کیونکہ مستامن کو قتل کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ مشرک ہو ۔ گویا ما سبق آیت میں مذکور حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ’’ تمام مشرکین ‘‘ کو قتل کرو ۔ اب جب لفظ ’المشرکین‘ عام نہیں رہا تو دیگر دلائل احادیث مبارکہ ، صحابہ کرام کے فیصلوں اور قیاس کے ذریعے اس بظاہر عام حکم کی مزید تخصیص ہوسکتی ہے۔
باقی رہا یہ سوال کہ عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ، راہبوں اور کسانوں کو اس حکم سے کیوں مستثنیٰ کیا گیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں مستثنیٰ کرنے کی وجہ وہی ہے جو مستامن کو مستثنی کرنے کی ہے ۔ جیسے مستامن مسلمانوں سے لڑتا نہیں بلکہ ان سے امن کا معاہدہ کرتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی جنگ میں حصہ نہیں لیتے ۔ بہ الفاظ دیگر ، یہ لوگ ’’غیر مقاتلین‘‘ ہیں ۔ یہ علت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارک سے براہ راست بھی معلوم ہوتی ہے۔ جب آپ نے میدان جنگ میں ایک خاتون کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
ما کانت ھذہ فیمن یقاتل (۴۴)
[یہ تو لڑنے والوں میں نہیں تھی ۔ ]
پس جن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے وہ صرف وہ ہیں جن کو مقاتلین کہا جاسکے ، اور جو غیر مقاتلین ہیں وہ اس حکم سے مستثنی ہوئے ۔ البتہ غیر مقاتلین میں کوئی فرد اگر قتال میں حصہ لے تو اس پر حملہ جائز ہوجاتا ہے کیونکہ جس ’’علت‘‘ کی وجہ سے اس پر حملہ ناجائز تھا وہ علت معدوم ہوگئی ، یا یوں کہیے کہ جس ’’علت ‘‘ کی وجہ سے کسی پر حملہ کرنا جائز ہوجاتا ہے وہ علت اس میں اب پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ اگر عورت جنگ میں حصہ لے تو اسے ہدف بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اسے استثنا عورت ہونے کی وجہ سے نہیں دیا گیا تھا بلکہ غیر مقاتلہ ہونے کی وجہ سے دیا گیا تھا اور اب وہ غیر مقاتلہ نہیں رہی ۔
پس اصل چیز جو دیکھنے کی ہے ، اور جس پر حکم کے وجود اور عدم کا مدار ہے ، وہ یہ ہے کہ کون جنگ میں حصہ لیتا ہے اور کون نہیں لیتا ؟ اول الذکر کو مقاتل کہا جائے گا اور ثانی الذکر کو غیر مقاتل ۔ چونکہ عصر حاضر میں جنگوں میں ، ماسوائے استثنائی حالات کے ، عام شہری حصہ نہیں لیتے اس لیے عام شہریوں کو غیر مقاتلین ہی کہا جائے گا جب تک وہ جنگ میں باقاعدہ حصہ نہ لیں ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ ’’ جنگ میں باقاعدہ حصہ لینے ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ بعض لوگوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آئی ہے کہ چونکہ فوج کے اخراجات ان ٹیکسوں سے پورے کیے جاتے ہیں جو حکومت اپنے شہریوں پر لگاتی ہے، اس لیے ہر وہ شخص مقاتل ہے جو حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے کیونکہ اس طرح وہ مال کے ذریعے قتال میں حصہ لے رہا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے نزدیک وہ تمام دانشور ، ماہرین اور اہل علم بھی مقاتل شمار ہوں گے جن کی آرا یا نظریات کسی بھی طور پر جنگ میں ممد و معاون ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس رائے کو تسلیم کیا گیا تو پورے اسلامی آداب القتال کا حلیہ ہی تبدیل ہوجائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی جنگوں کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی لیکن کیا انہوں نے ہر اس شخص کو مقاتل قرار دیا جس نے جنگ کے لیے فنڈ میں ذرا سا بھی حصہ ڈالا ہو ؟ ہر شخص جانتا ہے کہ غزوۂ بدر میں شکست کے بعد اہل مکہ کے ہر مرد و عورت نے بدلے کے لیے تیاری میں بھرپور حصہ لیا اور غزوۂ احد کے لیے باقاعدہ Fund Raising ہوئی۔ خود قرآن کریم اس پر گواہ ہے :
إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَسَیُنفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُونَ (سورۃ الانفال ، آیت ۳۶ )
[کفر کرنے والے اپنا مال اس مقصد سے خرچ کررہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں ۔ پس وہ اسے خرچ تو کرلیں گے ، پھر یہ ان کے لیے سرمایۂ حسرت بنے گا ، پھر وہ مغلوب ہو جائیں گے ۔ ]
اس سے بھی آگے بڑھ کر مشرکین کی عورتیں اپنے مردوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے میدان جنگ میں بھی آئیں اور شعر اور نغمے گا گا کر مردوں کے جذبات کو برانگیختہ کرتی رہیں ۔ اس کے باوجود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر حملہ کرنے سے منع فرمایا ۔
یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کے لیے مادی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شریعت نے مباشر اور متسبب میں فرق کیا ہے یا نہیں ؟ پھر دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک سبب کے وجود میں آنے کے بعد نتیجہ نمودار ہونے سے پہلے درمیان میں ایک اور سبب طاری ہوجائے تو فعل کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی ؟ اگر ایک سبب کا کوئی نتیجہ برآمد ہو اور وہ نتیجہ ایک اور فعل کا سبب بنے تو یہ آخری فعل سبب اول کی طرف منسوب ہوگا یا سبب ثانی کی طرف ؟ کیا نتیجے اور سبب کے درمیان رابطہ سببیہ (Causal Link) ثابت کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اسباب کا یہ سلسلہ کہاں روکا جائے گا ؟ کیا شہد کی مکھی کے باغ میں داخل ہونے کو پروانے کے خونِ ناحق کا اس بنا پر سبب قرار دیا جاسکتا ہے کہ نہ وہ باغ میں داخل ہوتی نہ رس چوستی ، نہ اس سے موم بنتا ، نہ موم بتی وجود میں آتی ، نہ موم بتی جلائی جاتی ، نہ ہی پروانے اس پر نثار ہوتے ؟
پس جن لوگوں کا جنگ کی تیاری میں براہ راست حصہ ہو ، جنہیں جنگ کا ’’متسبب‘‘ قرار دیا جاسکے ، جن کے فعل اور جنگ کے درمیان رابطہ سببیہ ثابت کیا جاسکے ، جن کے فعل اور جنگ کے درمیان کوئی اور قوی سبب طاری نہ ہوا ہو ، ان کو یقیناًجنگ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے خواہ انہوں نے باقاعدہ ہتھیار نہ اٹھائے ہوں ۔ کعب بن الاشرف کو مقاتل قرار دیا گیا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ اس نے غزوۂ بدر میں قریش کے مقتولین کا مرثیہ کہا تھا ، بلکہ دراصل اس نے اپنی اس شاعری اورخطابت کے زور پر مشرکین مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے ابھارا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ مہم چلائی تھی اور منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا ۔ (۴۵) نیز اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی تھیں جو نص قرآنی کے بموجب ’’طعن فی الدین‘‘ ہونے کے سبب سے قتال کی علت میں شامل ہے۔ (۴۶) اسی سبب سے ابو عزہ شاعر کو سزاے موت سنائی گئی کہ وہ قریہ قریہ جا کر اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کو جنگ کے لیے اکٹھا کرتا رہا ، اور ساتھ ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجو میں شعر کہتا تھا۔ اسی طرح عمر رسیدہ درید ابن الصمہ کو مقاتل شمار کیا گیا کیونکہ اس نے جنگ کی منصوبہ بندی میں باقاعدہ حصہ لیا تھا اور جنگ کی ابتدا میں مسلمانوں کو جو سخت جانی نقصان ہوا، اس میں درید کے مشوروں نے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ (۴۷) پس مقاتلین میں کچھ تو وہ لوگ ہیں جن کو ’’مباشر ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے ، یعنی جنگجو یا فوجی، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن کو ’’ متسبب‘‘ کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس ثانی الذکر گروہ میں صرف انہی کو شامل کیا جاسکتا ہے جن پر جنگ کی براہ راست ذمہ داری ڈالی جاسکے ۔ یہی اصول بین الاقوامی قانون کا بھی ہے ۔ مثال کے طور پر ریاست کا سربراہ جنگ میں فوجی کے طور پر حصہ نہیں لیتا لیکن اس کے باوجود جنگ شروع کرنے اور جنگ کے دوران میں کیے جانے والے بعض کاموں کے لیے اسے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور بعض کے لیے ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جاتی ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکومت کو جو ٹیکس ادا کیا جاتا ہے وہ خالصتاً جنگ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس پر حکومت اور ریاست کا پورا نظام چلایاجاتا ہے اور اس کا کچھ ہی حصہ جنگ کے مصارف پر بھی خرچ کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں، وہ لازماً اس نیت سے نہیں دیتے کہ اس کو جنگ پر خرچ کیا جائے، بلکہ ان میں سے کئی لوگ جنگ کے مخالف بھی ہوتے ہیں۔ عراق پر حملے کے خلاف جتنے بڑے مظاہرے خود امریکہ میں ہوئے اس کے عشر عشیر کے برابر بھی پاکستان سمیت کسی مسلمان ملک میں نہیں ہوئے ۔ کیا ان جنگ کے مخالفین کو بھی ’’مقاتلین‘‘ میں شمار کیا جائے گا کیونکہ یہ جب ٹیلی فون کا بل ادا کرتے ہیں تو اس ضمن میں حکومت کو ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں ؟ پس عام شہریوں کو محض اس بنا پر مقاتلین میں شمار کرنا کہ وہ حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں بدیہی طور پر غلط ہے ۔
فصل چہارم : مقاتل کی حیثیت کے لیے چار شرائط
یہاں ایک اور مسئلہ بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ’’مقاتل ‘‘کی حیثیت اسی شخص کو دی جاتی ہے جو چند مخصوص شرائط پوری کرے ۔ ان شرائط کو پورا کیے بغیر کوئی شخص جنگ میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ شریعت کی رو سے ان شرائط کی کیا حیثیت ہے ؟ اصولی طور پر ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، مسلمان اگر آداب القتال کے تعین کے لیے معاہدہ کرلیں تو جب تک وہ معاہدہ برقرار رہتا ہے مسلمانوں پر اس کی پابندی لازم ہوتی ہے البتہ مسلمان معاہدے میں کسی ایسی شرط کو نہیں مان سکتے جس کے ماننے سے شریعت کی خلاف ورزی لازم آتی ہو ۔ پس اصولاً اس قسم کے شرائط طے کرنا صحیح ہے ۔ اگر کسی کو کسی شرط پر اعتراض ہے تو اس شرط کا بطلان ثابت کرنا اسی کی ذمہ داری ہے ۔ ہماری ناقص رائے میں ان چاروں شرائط میں کوئی شرط بھی شریعت سے متصادم نہیں ہے ۔
یہ شرط کہ قتال میں حصہ لینے والے خود کو غیر مقاتلین سے ممیز کرنے کے لیے کوئی امتیازی لباس یا نشان استعمال کریں ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، دھوکہ دہی (Perfidy) کی ممانعت کا لازمی تقاضا ہے ۔ اس پر شریعت کی روشنی میں تفصیلی بحث ہم آگے غدر اور خدعہ میں فرق کے ضمن میں کریں گے ۔ جہاں تک اس شرط کا تعلق ہے کہ مقاتل کی حیثیت اسی جنگجو کو حاصل ہوگی جو آداب القتال کی پابندی کرے تو ظاہر ہے کہ جن آداب القتال کی پابندی شرعاً لازم ہے ان کے متعلق کوئی دو رائیں نہیں ہوسکتیں ، اور جن اضافی آداب کی پابندی بین الاقوامی معاہدات کے ذریعے لازم ٹھہرائی گئی ہے ان کے متعلق بھی ہم نے تفصیل سے واضح کیا کہ اسلامی شریعت کی رو سے مسلمانوں کو اجازت ہے کہ اس قسم کے معاہدات کریں اور یہ کہ وہ ان معاہدات پر عمل کے پابند ہوں گے ۔ البتہ باقی دو شرائط پر ذرا تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
ذمہ دار کمان کے تحت لڑائی کی شرط
درحقیقت یہ شرط شریعت کے مقتضیات کے عین مطابق ہے ۔ یہ شرط اصل میں اس مقصد کے لیے رکھی گئی ہے کہ جنگ منظم طریقے سے ہو اور لوٹ مار اور دہشت گردی یا رہزنی کی سی صورت پیدانہ ہو ۔ زمانۂ جاہلیت میں رائج جنگ کے طور طریقوں میں شریعت نے جو اصلاحات کیں ان میں ایک اہم اصلاح یہ ہے کہ اس نے جنگ کو منظم کیا اور حکمران اور امیر کی اطاعت میں جنگ کا حکم دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
الغزو غزوان ۔ فاما من ابتغی وجہ اللہ و أطاع الامام و أنفق الکریمۃ و اجتنب الفساد فان نومہ و نبھتہ أجر کلہ ۔ و أما من غزا ریاء و سمعۃ و عصی الامام و أفسد فی الأرض فانہ لا یرجع بالکفاف (۴۸)
[جنگیں دو قسم کی ہیں : جس شخص نے خاص اللہ کی خوشنودی کیلیے جنگ کی ، امام کی اطاعت کی ، اپنا بہترین مال خرچ کیا اور فساد سے اجتناب کیا اس کا سونا اور جاگنا سب اجر کا مستحق ہے ۔ اور جس نے دکھاوے اور شہرت کے لیے جنگ کی ، امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو وہ برابر بھی نہیں چھوٹے گا ۔ ]
ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أطاعنی فقد أطاع اللہ ، و من یطع الأمیر فقد أطاعنی ، و من یعص الأمیر فقد عصانی ۔ و انما الامام جنۃ یقاتل من ورآۂ و یتقی بہ ۔ فان أمر بتقوی اللہ و عدل فان لہ بذلک أجرا ، و ان قال بغیرہ فان علیہ منہ (۴۹)
[جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ،اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔ امام تو ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر جنگ کی جاتی ہے اور جس کے ذریعے اپنا بچاؤ کیاجاتا ہے ۔ پس اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل کرے تو اس سب کا جر اسے ملے گا ، اور اگر وہ اس کے سوا کچھ اور حکم دے تو اس کا وبال بھی اس پر آئے گا ۔ ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ حاکم چاہے اچھا ہو یا برا جہاد اسی کی امارت میں کیا جائے گا:
الجھاد واجب مع کل أمیر برا کان او فاجرا (۵۰)
[جہاد ہر امیر کے ساتھ ، چاہے وہ نیک ہو یا بد ، واجب ہے ]
ایک اور موقع پر فرمایا:
لا یدخل الجنۃ الا نفس مسلمۃ و ان اللہ لےؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر (۵۱)
[جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے ، البتہ اللہ تعالی اس دین کی مدد کسی فاجر شخص سے بھی کرتا ہے ۔ ]
اسی بنا پر تمام فقہا نے قرار دیا کہ جہاد حکمران کی اطاعت میں کیاجائے گا ۔ امام ابو حنیفہ کے عظیم المرتبت شاگرد اور اپنے عہد کے چیف جسٹس امام ابو یوسف نے صراحتاً قرار دیا ہے کہ کوئی جہادی کاروائی حکمران یا اس کے نائب کی اجازت کے بغیر نہیں کی جائے گی ۔
لا تسری سریۃ بغیر اذن الامام (۵۲)
[کوئی لشکرکشی امام کی اجازت کے بغیر نہیں کی جائے گی ۔ ]
مشہور حنبلی فقیہ ابن قدامہ کا قول ہے :
و أمر الجھاد موکول الی الامام و اجتھادہ ، و یلزم الرعیۃ طاعتہ فیما یراہ من ذلک (۵۳)
[جہاد کا معاملہ امام اور اس کے اجتہاد کے حوالے ہے ، اوروہ اس معاملے میں جو فیصلہ کرے رعیت پر لازم ہے کہ اس کی اطاعت کرے ۔ ]
بلکہ ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، امام محمد بن الحسن الشیبانی نے تو صراحت کی ہے کہ ہم اسی قاعدے کو غیرمسلموں پر بھی لاگو کریں گے ۔ چنانچہ اگر کسی غیر مسلم ملک کے چند افراد نے اسلامی ملک کے کسی علاقے پہ حملہ کیا تو حملہ آوروں کے خلاف تو کارروائی کی جائے گی لیکن اسے اس ملک کی جانب سے حملہ اس وقت تک نہیں تصور کیا جائے گا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ حملہ اس ملک کی حکومت کی اجازت سے ہوا ہے۔
یہ قاعدہ اور اصول کہ جنگی کاروائی حکومتی نظم کے تحت ہو صرف حملے ہی کے لیے نہیں بلکہ دفاع میں بھی اصول یہی ہے ۔ جب مسلمان ملک پر حملہ ہو تو حکومت ہی مدافعت کرے گی اور وہی مختلف محاذوں پر فوجیں بھیجے گی ۔ اسی طرح حکومت ہی نفیر عام کا فریضہ ادا کرے گی ، یعنی وہی اعلان کرے گی کہ سارے ہی لوگ دفاع کے لیے اٹھ جائیں۔ (۵۴) مزید برآں فقہا نے اس کی بھی صراحت کی ہے جنگ سے متعلق دیگر جتنے امور ہیں ۔۔۔ جیسے مقبوضہ علاقوں اور آبادی نیز جنگی قیدیوں کے مستقبل کے متعلق فیصلہ ، جنگ بندی یا مستقل امن کا معاہدہ طے کرنا وغیرہ ۔۔۔ تو یہ سب حکومت کے کرنے کے کام ہیں۔ (۵۵)
البتہ یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے :
ایک یہ کہ موجودہ دور میں اس شرط سے عام طور پر نتیجہ یہ اخذ کیاجاتا ہے کہ یہ حکومت کا حق (Prerogative)ہے ، جبکہ اس کے برعکس فقہاء جہاد کو حکومت کا فریضہ قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے فریضے کو حق میں تبدیل کرنے سے پورا مفہوم اور مدعا ہی بدل جاتا ہے ۔
دوسری یہ کہ بعض استثنائی صورتیں ایسی ہیں جن میں یہ شرط ساقط ہوجاتی ہے ، یا تو اس وجہ سے کہ اس شرط پر عمل ممکن ہی نہیں رہ جاتا اور یا اس وجہ سے کہ اس شرط کا شرعی بدل موجود ہوتا ہے ۔ ان صورتوں کی کچھ وضاحت یہاں کی جاتی ہے ۔
اولاً: اچانک حملہ (Surprise Attack) اور حق دفاع شخصی (Right of Private Defense)
اگر حملہ اچانک ہو اور مرکزی حکومت یا اس کے نائبین کے ساتھ رابطہ ممکن نہ ہو ، یا اس میں بہت سخت نقصان کا اندیشہ ہو تو پھر حملے کی زد میں آئے ہوئے لوگ خود ہی مدافعت کا فرض ادا کریں گے اور ان کے لیے حکومت یا کسی بھی شخص کی اجازت ضروری نہیں ہوگی ۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ایسی صورت میں دفاع کا فریضہ فرض عینی کی حیثیت حاصل کرلیتا ہے ، اور فرض عینی کی ادائیگی میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔(۵۶) دوسرا سبب اس کا یہ ہے کہ ایسی صورت میں دفاع صرف فریضہ ہی نہیں بلکہ حق بھی ہوتا ہے ۔ اپنی جان ، مال اور عزت بچانا ہر شخص کا حق ہے اور حملہ آور کے خلاف اس کے حملے کو روکنے اور خطرہ دفع کرنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی ہر انسان کا حق ہے ۔ اس لیے اس سلسلے میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ (۵۷) اس کی ایک مثال حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی کاروائی ہے جو انہوں نے اچانک حملہ کرنے والوں کے خلاف کی تھی اور جس کے لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موقع پر یا پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔ (۵۸)
ثانیاً: حکومت کی خاموش تائید جو اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے :
بعض اوقات کسی فرد یا جتھے کو حکومت باقاعدہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ مخالفین کے خلاف فوجی کاروائی کرے ۔ تاہم حکومت کے مختلف اقدامات ، بلکہ بعض اوقات اس کی خاموشی بھی ، اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل امام سرخسی نے یوں بیان کی ہے کہ مخالفین کے خلاف کاروائی کرنے والے چار طرح کے ہوسکتے ہیں: یا تو وہ ایک یا چند ہی افراد ہوں گے جو کچھ خاص فوجی اور سیاسی طاقت (منعۃ) نہ رکھتے ہوں ؛ یا وہ ایک مضبوط جتھے کی صورت میں جو منعۃ رکھتے ہوں کاروائی کریں گے ۔ پھر ہر دو صورتوں میں انہیں یا تو حکومت کی اجازت حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی ۔
۱۔ پس اگر وہ چند ہی لوگ ہوں جو منعۃ نہ رکھتے ہوں اور انہیں حکومت کی اجازت بھی حاصل نہ ہو تو سرخسی کے الفاظ میں وہ گویا چوروں اور ڈاکووں کی طرح (علی سبیل التلصص) وہاں گئے ہیں ۔ اگر وہ وہاں پھنس جائیں تو مسلمانوں کی حکومت پر ان کی مدد واجب نہیں ہوگی اور اگر وہ کچھ مال حاصل کرلیں تو اسے مال غنیمت کی حیثیت بھی حاصل نہیں ہوگی ، کیونکہ مال غنیمت اس مال کو کہا جاتا ہے جو اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں مل جائے اور جسے مقصود اصلی کی حیثیت حاصل نہ ہو۔
۲۔ اگر وہ چند ہی لوگ ہوں اور انہیں حکومت نے اجازت دی ہو تو ان کی حیثیت حکومت کے نمائندوں یا جاسوسوں یا چھاپہ مار دستوں کی ہوگی۔ ان کی مدد بھی حکومت پر واجب ہوگی اور انہیں جو مال وغیرہ ملے، اس کی حیثیت مال غنیمت کی ہوگی۔
۳۔ اگر بہت سارے لوگ جو منعۃ بھی رکھتے ہوں حکومت کی اجازت سے دوسرے ملک میں کارروائی کریں تو ان کی حیثیت فوج کے مختلف دستوں کی ہوگی ۔ حکومت پر ان کی نصرت واجب ہوگی اور جو مال وہ حاصل کریں، وہ مال غنیمت متصور ہوگا ۔
۴۔ اگر بہت سارے لوگ جو منعۃ بھی رکھتے ہوں دوسرے ملک میں کاروائی کریں لیکن انہیں حکومت نے باقاعدہ صریح اجازت نہ دی ہو تب بھی قانوناً پوزیشن یہی ہوگی کہ ان کی حیثیت فوج کے مختلف دستوں کی ہوگی ۔ اس کی وجہ سرخسی نے یہ ذکر کی ہے کہ ایک مضبوط جتھا جو فوجی طاقت اور شوکت کا حامل ہو اور وہ کاروائی کے لیے اسلامی ملک سے کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو یہ حکومت کے علم میں آئے بغیر نہیں ہوسکتا ، اور جب حکومت نے باوجود علم کے انہیں جانے دیا تو یہ اس کی جانب سے خاموش تائید ہے جو صریح اجازت کے قائم مقام ہوجاتی ہے ۔ اس لیے حکومت پر ان کی نصرت بھی واجب ہوگی اور جو مال وہ حاصل کریں وہ مال غنیمت ہی متصور ہوگا ۔ (۵۹)
ہمارے نزدیک سرخسی کا یہ تجزیہ بالکل صحیح ہے اور اس کی روشنی میں جہادی تنظیموں کی صحیح حیثیت بہ آسانی متعین ہوجاتی ہے۔ جب حکومت نہ صرف یہ کہ لوگوں کو مسلح تنظیمیں بنانے کا موقع دیتی ہے ، بلکہ انہیں ہر قسم کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے ۔۔۔ ان کی ٹریننگ ، ان تک اسلحہ کی فراہمی ، ان کو سرحد پار کاروائی میں مدد دینا اور پھر واپس آنے پر محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا، وغیرہ ۔۔۔جب ان میں سے ہر ہر مرحلہ حکومت کی تائید اور نگرانی میں طے پاتا ہو تو پھر صریح اجازت محض ایک کاغذی کاروائی (Formality) ہو جاتی ہے ۔اس کاغذی کاروائی کے بغیر بھی قانونی پوزیشن یہی ہوگی کہ ان مسلح تنظیموں کی کاروائیاں حکومت کی اجازت سے ہی متصور ہوں گی ۔
ثالثاً: اسلامی حکومت کی عدم موجودگی میں حق دفاع شخصی کے لیے منظم جدوجہد
جیسا کہ پیچھے اشارہ کیاگیا ، کبھی کبھار شرط کی عدم موجودگی میں اس کا بدل اس کا قائم مقام بن جاتا ہے ۔ اس اصول پر اگر کبھی اسلامی ملک پر حملے کے نتیجے میں وہاں کی حکومت کا عملاً خاتمہ ہو جائے اور ابھی جنگ جاری ہو تو دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے لیے کسی جگہ باقاعدہ نظمِ حکومت قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ مزاحمت کرنے والے آپس میں کسی کو امیر چن کر اس کی اطاعت کا اقرار کریں تو یہ حکومت کا بدل ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور ریاست بذات خود مقصد نہیں ، بلکہ فریضۂ دفاع و اعلاء کلمۃ اللہ کے اچھے طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک ذریعہ ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی ظالمانہ نظام سے آزادی چاہتے ہو تاکہ اپنے حقوق کا تحفظ کریں تو ان پر بھی ریاست و حکومت کے تحت لڑنے کی شرط لاگو نہیں ہوتی ، بلکہ وہ تو لڑیں گے ہی اس مقصد کے لیے کہ اپنی ریاست اور حکومت قائم کرسکیں ۔ یہ حق انہیں موجودہ بین الاقوامی قانون نے بھی دیا ہے اور شریعت نے بھی ۔ (۶۰)
امام سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم قوم مسلمانوں کے ملک پر حملہ کرے اور حملہ آور قوم کے ملک میں چند مسلمان عارضی یا مستقل طور پر مقیم ہوں تو ان پر جہاد کا فریضہ عائد نہیں ہوتا ۔ جہاد اور نصرت کا فریضہ اصلاً اسلامی ملک میں مقیم مسلمانوں پر ہی عائد ہوتا ہے ۔ یہ حکم اس وقت بھی ہوگا جب حملہ آور مسلمان مردوں کو قیدی بنائیں ۔تاہم اگر وہ مسلمان عورتوں اور بچوں کو قید کریں تو اب ان کا چھڑانا ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کے لیے جدوجہد کی استطاعت رکھتا ہو ، چاہے وہ اس غیر مسلم ملک میں بطور مستامن ہی مقیم ہو۔ ایسی صورت میں اگر وہ مسلح کاروائی کریں گے تو اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ پہلے باقاعدہ حکومت قائم کریں ، بلکہ اتنا ہی کافی ہوگا کہ وہ منظم ہوکر امیر کی اطاعت میں جنگ کریں ۔ (۶۱)
جنیوا معاہدات کے تحت بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کمان کے تحت جنگجو جنگ میں حصہ لے رہے ہوں اس کمان کو لازماً ہی جنگ کے دوسرے فریق نے جائز تسلیم کیا ہو ، بلکہ صرف اس قدر ضروری ہے کہ کمانڈر اور جنگجو کے درمیان امیر اور مامور کا تعلق واضح طور پر موجود ہو ۔ چنانچہ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ الف کی ذیلی دفعہ ۲ کا کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل لوگ بھی مقاتلین میں شمار ہوں گے اور گرفتار ہونے پر انہیں جنگی قیدی کی حیثیت حاصل ہوگی :
Member of regular armed forces who profess allegiance to a government or authority not recognized by the Detaining Power.
[ باقاعدہ فوج کے ارکان جو ایسی حکومت یا طاقت کے وفادار ہیں جسے قید کرنے والی طاقت نے تسلیم نہیں کیا ۔ ]
اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۴۳ میں اس اصول کو مزید وسعت دی گئی ہے اور غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو بھی باقاعدہ مقاتل تسلیم کیا گیا ہے :
The armed forces of a Party to a conflict consist of all organized armed forces, groups and units, which are under a command responsible to that Party for the conduct of its subordinates, even if that Party is represented by a government or authority not recognized by an adverse Party. Such armed forces shall be subject to an internal disciplinary system which, inter alia, shall enforce compliance with the rules of international applicable in armed conflict.
[ تصادم کے کسی فریق کے فوجیوں میں تمام منظم فوجی ، گروہ اور یونٹ شامل ہیں جو کسی ایسی کمان کے ماتحت ہیں جو اس فریق کے سامنے اپنے ماتحتوں کے افعال کے لیے جوابدہ ہے ، خواہ اس فریق کی نمائندگی ایسی حکومت یا طاقت کرے جسے مخالف فریق نے تسلیم نہیں کیا ۔ ایسے فوجی اندرونی طور پر ایک تنظیمی ڈھانچے میں بندھے ہوں گے جو دیگر امور کے علاوہ مسلح تصادم پر لاگو ہونے والے بین الاقوامی قانون کے ضابطوں کی پابندی کو یقینی بنائے گا ۔ ]
ہم نے اوپر یہ بھی ذکر کیا ہے کہ آزادی کی جنگ کو پہلے اضافی پروٹوکول نے ’’بین الاقوامی جنگ‘‘ قرار دیا گیا ہے حالانکہ ظاہر ہے کہ آزادی کے لیے لڑنے والوں کے امیر اور کمانڈر کو دوسرا فریق جائز تسلیم نہیں کرتا ، نہ ہی آزادی کے لیے لڑنے والے کسی ’’ریاست‘‘کی جانب سے لڑتے ہیں ۔
مزید برآں ، یہ بھی پیچھے ذکر کیا گیا کہ غیر ملکی حملے کی صورت میں عوامی سطح پر مزاحمت کرنے والے لوگ بھی مقاتل شمار ہوتے ہیں اگرچہ وہ باقاعدہ طور پر کسی کمان کے تحت منظم نہیں ہوئے ہوتے ۔ ایسے لوگوں کو اصطلاحی طور پر levee en masse کہاجاتا ہے ۔
کھلے عام ہتھیار لیے پھرنے کی شرط
قتال میں حصہ لینے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ حملہ کرنے والا حملے کے وقت واضح طور پر مسلح ہو ، وہ کھلے عام ہتھیار لیے پھرے ، اسے چھپا کر نہ رکھے ۔ یہ شرط بھی ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، دھوکہ دہی کی ممانعت کا حصہ ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقاتل اور غیر مقاتل میں تمیز ممکن ہو تاکہ غیر مقاتل کو مقاتل سمجھ کر اس پر حملہ نہ کیا جائے ، نہ ہی مقاتل خود کو غیر مقاتل ظاہر کرکے فریق مخالف کو دھوکہ دے ۔ بعض لوگوں نے اس شرط کو بھی شریعت سے متصادم قرار دیا ہے کیونکہ صحیح بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات دیں، ان میں ایک یہ تھی :
لا تسلوا السیوف حتی یغشوکم (۶۲)
[ تلوار نیام سے نہ نکالو جب تک وہ تم پر چھا نہ جائیں ۔ ]
تاہم یہ موقف ہماری ناقص رائے میں صحیح نہیں ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہتھیار کھلے عام لیے پھرنے کی شرط کا یہ مطلب نہیں کہ مقاتل جنگ کے ہر مرحلے پر اور ہر لمحے ہتھیار ہاتھ میں اٹھائے رکھے ، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقاتل غیر مقاتل سے ممیز ہو اور دھوکے کا احتمال نہ ہو ۔ باقی رہا میدان جنگ کا معاملہ ، جب فوجیں آمنے سامنے ہوں اور لڑائی جاری ہو تو چاہے لڑنے والا تلوار ہاتھ میں لیے رہے یا اسے نیام میں رکھے رہے ہر دو صورتیں جائز ہیں کیونکہ ہر دو صورتوں میں فریق مخالف کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا لڑنے ہی کے لیے آرہا ہے ۔ البتہ اگر اس نے ہتھیار چھپا لیے اور ہاتھ بلند کرکے یہ تاثر دیا کہ وہ گرفتاری دے رہا ہے ، یا پناہ مانگ رہا ہے ، اور پھر مخالف فوجی کے قریب آنے پر اس پر حملہ کیا تو یہ دھوکہ دہی ہوگی جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے اور ، جیسا کہ ہم آگے ذکر کریں گے ، اسلامی قانون کے تحت بھی ناجائز ہے ۔ پس اگر جنگجو نے تلوار باندھ رکھی ہے تو یہ بات اس کے مسلح ہونے اور مقاتل ہونے کا کافی ثبوت ہے ، چاہے تلوار اس کے نیام میں ہو ، یا اس نے نیام سے نکال لی ہو ۔
اس بحث کی روشنی میں اس روایت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت سے یہ استدلال بالکل غلط ہے کہ ہتھیار کھلے عام لیے پھرنے کی شرط اسلامی شریعت سے متصادم ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہدایت میدان جنگ میں اس وقت دی گئی جب فوجیں آمنے سامنے تھیں اور فریقین میں ہر ایک جانتا تھا کہ جو کوئی بھی سامنے ہے وہ قتال کے لیے آیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خود کو غیر مقاتل بنا کر پیش کرو ، پھر جب دشمن قریب آئے تو اچانک اس پر حملہ کرو۔ اس حکم کا مقصد یہ تھا کہ دور ہی سے تلوار لہراتے نہ جاؤ کیونکہ اس طرح تمہارا رعب باقی نہیں رہے گا ، بلکہ جب دشمن قریب آئے تو اچانک تلوار نکالو تاکہ اس کی چمک اور تیزی دیکھ کر دشمن کے دل پر دھاک بیٹھ جائے ۔ مزید برآں ، یہ کوئی دینی حکم نہیں تھا جس کی پابندی لازم ہو ، بلکہ یہ ایک جنگی چال تھی جو انسانی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو سکھائی ۔ چنانچہ اس روایت کی توضیح میں امام سرخسی کہتے ہیں :
بیانہ أنہ لا ینبغی للغازی أن یسل سیفہ حتی یصیر من العدو بحیث تصل الیہ ضربتہ ، لا أن ذلک مکروہ فی الدین ، و لکنہ من مکایدۃ العدو ، فبریق السیف مخوف للعدو فی أول ما یقع بصرہ علیہ ( ۶۳)
[اس کی وضاحت یہ ہے کہ غازی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ دور ہی سے تلوار سونت کر نکلے جبکہ ابھی اس کی تلوار کی ضرب اس کے دشمن تک نہ پہنچ سکتی ہو ۔ یہ حکم اس وجہ سے نہیں کہ ایسا کرنا دینی لحاظ سے ناپسندیدہ ہے ، بلکہ یہ دشمن کے خلاف ایک جنگی چال ہے ، کیونکہ جب دشمن کی نظر تلوار کی چمک پر پہلی دفعہ پڑتی ہے تو اس پر خوف طاری ہوجاتا ہے ۔ ]
فصل پنجم : غدر کی ممانعت اور خدعہ کی اجازت
اسلامی شریعت نے جنگ اور امن کی ہر صورت میں غدر اور عہد شکنی کی ممانعت کی ہے اور عہد کی پابندی کو لازم ٹھہرایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
یٰایھا الذین آمنوا أوفوا بالعقود (سورۃ المآئدۃ ، آیت ۱ )
[ اے ایمان والو ! بندشوں کی پابندی کرو ۔ ]
ایک اور جگہ فرمایا :
و أوفوا بالعھد ، ان العھد کان مسؤلا ( سورۃ بنی اسرائیل ، آیت )
[ عہد کو پورا کرو ۔ بے شک عہد کی پابندی کے متعلق پوچھا جائے گا ۔ ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد معاہدوں کی خلاف ورزی کی سنگینی کو اچھی طرح واضح کرتا ہے :
ألا، انہ ینصب لکل غادر لواء یوم القیمۃ بقدر غدرتہ ، و لا غدرۃ أعظم من غدرۃ امام عامۃ یرکز عند أستہ(۶۵)
[ آگاہ رہو کہ عہد توڑنے والے ہر شخص کے لیے ایک علم ہوگا جو اس کی عہد شکنی کی مقدار کے برابر بلند ہوگا ۔ اور لوگوں کے حکمران کی عہد شکنی سے بڑی عہد شکنی کوئی نہیں ہے ۔ ]
شریعت نے معاہدات کے متعلق یہ قاعدہ عامہ دیا :
فی العھود و فاء ، لا غدر (۶۴)
[ معاہدات کا پورا کرنا لازم ہے ، ان میں خیانت جائز نہیں ہے ۔ ]
اس طرح کی نصوص کی وجہ سے فقہاء نے بالاتفاق قرار دیا ہے کہ جنگ میں بھی غدر کی اجازت نہیں ہے ، بلکہ فقہاء ان چالوں کو بھی ناجائز قرار دیتے ہیں جو صورۃً غدر ہوتی ہیں نہ کہ حقیقتاً ۔ (۶۶)
غدر کی ممانعت کے متوازی قاعدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی چالوں کی اجازت دی ہے اور جنگ کو خدعۃ (چالبازی) کا نام دیا ۔ کیا خدعہ سے مراد یہ ہے کہ جنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے ؟ امام سرخسی اس روایت کی توضیح میں کہتے ہیں :
و أخذ بعض العلماء بالظاھر فقالوا: یرخص فی الکذب فی ھذہ الحالۃ ۔ و استدلوا بحدیث أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن النبی ﷺ قال: لا یصلح الکذب الا فی ثلاث : فی الصلح بین اثنین ، و فی القتال ، و فی ارضاء الرجل أھلہ ۔ و المذھب عندنا : أنہ لیس المراد الکذب المحض ، فان ذلک لا رخصۃ فیہ ۔ و انما المراد : استعمال المعاریض ۔ و ھو نظیر ما روی أن ابراھیم صلوات اللہ و سلامہ علیہ کذب ثلاث کذبات ، و المراد أنہ تکلم بالمعاریض ، اذ الأنبیاء علیہم صلوات اللہ و سلامہ معصومون عن الکذب المحض ۔ و قال عمر رضی اللہ عنہ : ان فی المعاریض لمندوحۃ عن الکذب ۔ و تفسیرہذا ما ذکرہ محمد رحمہ اللہ فی الکتاب و ھو : أن یکلم من یبارزہ بشیء و لیس الأمر کما قال ، و لکنہ یضمر خلاف ما یظھرہ لہ (۶۷)
[ بعض علما نے ظاہری معنی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اس حالت میں جھوٹ بولنے کی رخصت ہے ، اور اس کے لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے استدلال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جھوٹ جائز نہیں مگر تین مواقع پر : دو افراد کے درمیان صلح کے لیے ، جنگ کے دوران میں اور کسی شخص کے اپنی بیوی کو منانے کے سلسلے میں۔ ہمارے نزدیک مذہب یہ ہے کہ یہاں مراد محض جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی رخصت نہیں ہے۔ ( وہ کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے ۔ ) بلکہ مراد ہے ذو معنی الفاظ کا استعمال ۔ اس قسم کے استعمال کی مثال وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام نے تین مواقع پر جھوٹ بولا ۔ اس روایت میں بھی مراد ذو معنی الفاظ کا استعمال ہے کیونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام محض جھوٹ کے بولنے سے معصوم ہیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ذو معنی کلام کے ذریعے جھوٹ سے بچا جاسکتا ہے ۔ خدعہ کے لفظ کی تفسیر امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب ( سیر کبیر ) میں یہ ذکر کی ہے کہ : جنگ کے لیے مد مقابل آنے والے سے کوئی بات کہی جائے جس سے وہ معاملے کو یوں سمجھ بیٹھے جیسے وہ حقیقت میں نہیں ہے ، لیکن یہ بولنے والا اس اصل حقیقت کو دل میں چھپائے رکھے ۔ ]
آگے امام سرخسی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
و کان من الخدعۃ أن یقول لأصحابہ قولاً لیری من سمعہ أن فیہ ظفراً ، أو أن فیہ أمراً یقوی أصحابہ و لیس الأمر کذلک حقیقۃً ، و لکن یتکلم علی وجہ لا یکون فیہ کاذباً فیہ ظاھراً (۶۸)
[ خدعہ کی ایک مثال یہ ہے کہ امیر اپنے ساتھیوں سے ایسی بات کہے جس سے سننے والے کو یہ تاثر ملتا ہو کہ اس میں انہیں کامیابی نصیب ہوگی ، یا اس میں کچھ ایسی بات ہے جس سے اس کے ساتھیوں کو تقویت ملے گی ، حالانکہ درحقیقت ایسا نہ ہو ، لیکن شرط یہ ہے کہ ایسی بات وہ اس طرح کہے کہ اس میں اسے ظاہری طور پر جھوٹ نہ بولنا پڑے ۔ ]
اس قسم کے قول کی مثال میں سرخسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ جنت میں بوڑھیاں داخل نہیں ہوں گی ۔ اس پر ایک بوڑھی خاتون بہت زیادہ پریشان ہوئیں تو آپ نے وضاحت کی کہ جنت میں داخل ہونے والی خواتین دوبارہ جوان ہوں گی ۔ اسی طرح ایک اور طریقے کا ذکر سرخسی نے یوں کیا ہے :
و من ھذا النوع أن یقید کلامہ بلعل و عسی ، فان ذلک بمنزلۃ الاستثناء ، یخرج بہ الکلام من أن یکون عزیمۃ (۶۹)
[ اس کی ایک قسم یہ ہے کہ بات کو ’’ کیا خبر ؟ ‘‘ یا ’’ ممکن ہے ‘‘ جیسے الفاظ کے ساتھ مقید کرے ، کیونکہ ان الفاظ کی حیثیت استثنا کی ہے جس سے کلام عزیمت سے نکل جاتا ہے ۔ ]
پھر اس کی مثال میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چال کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر چلی۔ جب بنی قریظہ نے مسلمانوں سے عہد شکنی کی اور قریش کے ساتھ ایکا کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا ۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا :
فلعلنا نحن أمرناھم بھذا (۷۰)
[ کیا خبر ہم ہی نے ان کو اس کا مشورہ دیا ہو ! ]
ایک اور روایت کے بموجب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر کہی تھی جب بنی قریظہ نے قریش سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے کچھ افراد ان کے پاس بطور ضمانت چھوڑ دیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ قریش واپس مکہ چلے جائیں اور بنی قریظہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تنہا رہ جائیں۔ (۷۱)
یہ بات جب قریش کے سپہ سالار ابو سفیان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس سے یہ تاثر لیا کہ بنی قریظہ قریش کا ساتھ دینے میں مخلص نہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے کہنے پر قریش کا ساتھ دیا ہے ، یا وہ مسلمانوں کے کہنے پر قریش سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں کچھ افراد بطور ضمانت دیں ۔ اس طرح وہ بنی قریظہ سے بد ظن ہوگئے ۔ پھر ان کا آپس میں اختلاف اتنا بڑھا کہ ان کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت یہ بات کہہ رہے تھے انہیں اندازہ تھا کہ یہ بات قریش تک پہنچائی جائے گی ۔ اس لیے انہوں نے ایسی ذو معنی بات کی ۔ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بنی قریظہ کا معاملہ اتنا اہم نہیں ہے، لیکن آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے تو یہ بہت بڑی بات ہوگی ، یعنی اگر دشمن کل آپ کے متعلق کہیں کہ آپ نے تو ان سے جھوٹ کہا تھا تو یہ بہت بڑا الزام ہوگا ۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا :
الحرب خدعۃ ، یا عمر! (۷۲)
[اے عمر ! جنگ چالبازی کو کہتے ہیں ۔ ]
اسی طرح ایک اور اصطلاحی لفظ ’’ توریۃ‘‘ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ متکلم ایسا لفظ استعمال کرے جو فی نفسہ تو صحیح ہو مگر مخاطب اس سے کوئی دوسری بات مراد لے ۔ مثال کے طور پر روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی طرف لشکر کشی کرتے تو بالعموم لوگوں کو صحیح طور پر معلوم نہ ہوپاتا تھا کہ اصل منزل مقصود کیا ہے ۔
ان النبی ﷺ کان اذا أراد غزوۃ ورّی غیرھا ، و کان یقول : الحرب خدعۃ (۷۳)
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی طرف لشکر کشی کا ارادہ کرتے تو اس کے بجائے کسی اور طرف کا تاثر دیتے اور کہتے تھے کہ جنگ چالبازی کا نام ہے ۔ ]
اس قسم کی چال کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت میں بھی ملتی ہے ۔ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد آپ نے سیدھا مدینہ مدینہ منورہ کی طرف رخ کرنے کے بجائے اس کے بالکل مخالف سمت میں غارثور کا رخ کیا ۔ کئی دن وہاں قیام کے بعد ایک لمبا چکر کاٹنے کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کی راہ پر سفر شروع کیا تو اس وقت تک آپ کا پیچھا کرنے والوں کی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں ۔
جہاں تک ایسی چال کا تعلق ہے جس سے غدر ، عہد شکنی یا اعتماد شکنی لازم آتی ہو تو وہ جائز خدعہ میں شامل نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر اسلامی قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ اگر جنگ میں کسی ایک مسلمان غازی نے بھی مخالفین میں کسی کو امان دیا تو وہ شخص یا اشخاص حملے سے محفوظ ہوگئے ۔ اس کے بعد ان پر حملہ کرنا ناجائز ہوگا ۔ اب اگر کسی مسلمان نے لڑائی کے دوران میں مخالفین کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا اور زیر لب کہا کہ تم یہاں آؤ تو میں تمہیں قتل کردوں ، اور اس اشارے پر اعتماد کرتے ہوئے مخالفین مسلمانوں کی طرف آئے تو ان پر حملہ ناجائز ہوگا ۔ اشارہ کرنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو اس نے ایک چال چلی تھی کہ دشمن کسی طرح حملے کی زد میں آجائے ۔ پس یہ خدعہ نہیں بلکہ غدر ہے ۔ یہ اصول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس کی وضاحت میں امام سرخسی کہتے ہیں :
لأنہ بالاشارۃ دعاہ الی نفسہ ، و انما یدعی بمثلہ الآمن لا الخائف ۔ و ما تکلم بہ : ان جئت قتلتک ، لا طریق للکافر الی معرفتہ بدون الاستکشاف منہ ۔ و لا یتمکن من ذلک قبل أن یقرب منہ ۔ فلا بد من اثبات الأمان بظاھر الاشارۃ ، و اسقاط ما وراء ذلک للتحرز عن الغدر (۷۴)
[ کیونکہ اس نے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا ، اور اس طرح کے اشارے سے اس شخص کو بلایا جاتا ہے جو خوف سے محفوظ ہو ، نہ کہ اس کو جو خائف ہو ۔ اور اس نے جو بات کہی کہ : اگر تم میرے قریب آئے تو میں تمہیں قتل کردوں گا ، تو کافر کے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ اتنی دور سے اس بات کو سن اور سمجھ لے ، جب تک کہ وہ اس کے قریب نہ آئے ۔ پس غدر سے بچنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ظاہری اشارے سے امان کا اثبات کیا جائے اور اس کے علاوہ اس نے جو کچھ کہا اسے غیر مؤثر سمجھا جائے۔ ]
آگے امام سرخسی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس فعل کو غدر کیوں کہا جائے گا کہتے ہیں :
فان ظاھر اشارتہ أمان لہ ، و قولہ : ان جئت قتلتک ، بمعنی النبذ لذلک الأمان۔ فما لم یعلم بالنبذ کان آمناً۔ (۷۵)
[کیونکہ اس کا ظاہری اشارہ دوسرے فریق کے لیے امان ہے اور اس کا قول کہ ’ اگر تم میرے قریب آئے تو میں تمہیں قتل کردوں گا ‘ اس امان کے خاتمے کے مترادف ہے ۔ پس جب تک دوسرے فریق کو امان کے خاتمے کا علم نہ ہو اسے امان حاصل رہے گا ۔ ]
اسی طرح یہ ناجائز ہے کہ کوئی مسلمان خود کو مسلمانوں کے سفیر کے طور پر پیش کرے اور پھر جب دوسرا فریق اس کی جانب سے مطمئن ہوکر اسے قریب آنے دے تو یہ اس پر حملہ کرے ۔ یہ کام ناجائز ہوگا خواہ یہ مسلمان درحقیقت سفیر ہو یا اس نے بطور جنگی چال خود کو سفیر بنا کر پیش کیا ہو ۔ یہ جنگی چال نہیں بلکہ غدر ہے ۔ امام شیبانی نے تصریح کی ہے :
و لو أن رھطاً من المسلمین أتوا أول مسالح أھل الحرب فقالوا: نحن رسل الخلیفۃ ، و أخرجوا کتابا یشبہ کتاب الخلیفۃ ، أو لم یخرجوا ، و کان ذلک خدیعۃ منھم للمشرکین ، فقالوا لھم : ادخلوا ، فدخلوا دار الحرب ، فلیس یحل لھم قتل أحد من أھل الحرب ، و لا أخذ شیء من أموالھم ماداموا فی دارھم(۷۶)
[ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ دشمنوں کے پہلے مورچوں کی طرف آکر ان سے کہے کہ ہم اپنے حکمران کے سفیر ہیں ، پھر خواہ وہ سفارت کی دستاویز پیش کریں جو مسلمانوں کے حکمران کی دستاویز سے مشابہ ہو ، یا ایسی کوئی دستاویز پیش نہ کریں ، اور اس طرح وہ مشرکین کے ساتھ چال چل رہے ہوں (درحقیقت وہ سفیر نہ ہوں ) ، تو اگر مشرکین نے انہیں اپنے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی تو داخل ہونے کے بعد جب تک وہ ان کے علاقے میں ہوں گے ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ اس علاقے کے لوگوں میں کسی کو قتل کریں یا ان کا مال چھینیں۔]
اس حکم کی وضاحت میں امام سرخسی نے جو کچھ کہا ہے اس کے لفظ لفظ پر ڈیرے ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس تشریح سے جو اہم قانونی اصول سامنے آتے ہیں ان سے عصر حاضر کی جنگی چالوں بالخصوص خود کش حملوں کے متعلق نہایت واضح رہنمائی حاصل ہوتی ہے :
لأن ما أظھروہ لو کان حقاً کانوا فی أمان أھل الحرب ، و أھل الحرب فی أمان منھم أیضاً، لا یحل لھم أن یتعرضوا لھم بشیء ۔ ھو الحکم فی الرسل اذا دخلوا الیھم کما بینا، فکذلک اذا أظھروا ذلک من أنفسھم ، لأنہ لا طریق لھم الی الوقوف علی ما فی باطن الداخلین حقیقۃً ۔ و انما یبنی الحکم علی ما یظھرون، لوجوب التحرز عن الغدر ۔ و ھذا لما بینا أن أمر الأمان شدید ، والقلیل منہ یکفی ۔ فیجعل ما أظھروہ بمنزلۃ الاستئمان منھم ۔ و لو استأمنوا فأمنوھم وجب لھم أن یفوا لھم ۔ فکذلک اذا ظھر ما ھو دلیل الاستئمان (۷۷)
[ کیونکہ جو کچھ انہوں نے ظاہر کیا ( کہ وہ سفیر ہیں ) اگر یہ حقیقت ہوتی تو وہ دشمن قوم کی جانب سے امان میں ہوتے اور دشمن قوم بھی ان کی جانب سے امان میں ہوتی کیونکہ ان مسلمانوں کے لیے جائز نہ ہوتا کہ دشمن کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان پہنچائیں ۔ سفیر جب ان کے علاقے میں داخل ہوں تو ان کے لیے حکم یہی ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے واضح کیا ہے ۔ پس یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب وہ خود کو سفیر ظاہر کریں کیونکہ جو کچھ ان داخل ہونے والوں کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اسے جاننے کا کوئی ذریعہ دوسرے فریق کے پاس نہیں ہے ۔ پس حکم کا بنا ان کے ظاہر پر کیاجائے گا کیونکہ غدر سے بچنا واجب ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے ، کہ امان کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس کی خلاف ورزی کے لیے معمولی بات بھی کافی ہوتی ہے ۔ پس جو کچھ انہوں نے ظاہر کیا اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ گویا انہوں نے دوسرے فریق سے امان طلب کیا ۔ پس اگر ان کے امان طلب کرنے پر وہ انہیں امان دیتے تو ان کے لیے لازم ہوتا کہ اس کی پابندی کرتے ( اور ان پر حملہ نہ کرتے)۔ پس یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب ان کی جانب سے ایسا طرز عمل سامنے آیا جو امان طلب کرنے کے برابر ہے ۔ ]
انہی اصولوں پر آگے امام شیبانی نے قرار دیا ہے کہ اگر مسلمان تاجر کے روپ میں جا کر انہیں یہ تاثر دیں کہ وہ تو لڑنے نہیں آئے تو ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ وہ ان پر حملہ کریں ۔اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں :
لأنھم لو کانوا تجاراً حقیقۃً کما أظھروا لم یحل لھم أن یغدروا بأھل الحرب ۔ فکذلک اذا أظھروا ذلک لھم۔ ( ۷۸)
[ کیونکہ اگر وہ درحقیقت تاجر ہوتے ، جیسا کہ انہوں نے ظاہر کیا ، تو ان کے لیے جائز نہ ہوتا کہ دشمن قوم کے ساتھ غدر کرتے ۔ پس یہ حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب انہوں نے خود کو تاجر ظاہر کیا ۔ ]
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس قسم کا حملہ تبھی غدر میں شمار ہوگا اور ناجائز ہوگا جب مسلمان اپنے قول یا فعل سے اپنا ارادہ یہ ظاہر کریں کہ وہ ان سے امان چاہتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ مخالفین نے از خود ان کو بے ضرر سمجھ کر ان کو نظر انداز کیا تو مسلمانوں کے لیے جائز ہوگا کہ ان پر حملہ کریں کیونکہ جب انہوں نے امان طلب نہیں کیا ، نہ ہی قول سے نہ فعل سے ، تو ان کی جانب سے حملے کو غدر بھی نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ چنانچہ امام شیبانی ایسے مسلمان قیدیوں کے متعلق، جنہیں دشمن آزاد کردے ، کہتے ہیں :
ولو أن رھطاً من المسلمین کانوا أسراء فی أیدیھم فخلوا سبیلھم ، لم أر بأساً أن یقتلوا من أحبوا منھم ، و یأخذوا أموالھم ، و یھربوا ان قدروا علی ذلک (۷۹)
[ اگر مسلمانوں کے کچھ لوگ ان کے قبضے میں قید ہو ں اور وہ انہیں رہا کردیں تو مجھے اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کہ وہ ان میں جسے چاہیں قتل کریں ، ان کا مال چھینیں اور اگر ہوسکے تو وہاں سے فرار ہوں ۔ ]
اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن کو معلوم تھا کہ یہ جنگجو تھے ، اسی لیے تو اس نے ان کو قید کیا تھا ۔ چنانچہ قید میں آنے سے پہلے ان کے لیے جائز تھا کہ دشمن پر حملہ کرتے اور قید میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے قول یا طرز عمل سے ایسا کو ئی ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ دشمن پر حملہ نہیں کریں گے ۔ گویا انہوں نے صراحتاً یا دلالۃً امان طلب نہیں کیا ۔ امام سرخسی کہتے ہیں :
لأنھم کانوا مقھورین فی أیدیھم ، و قبل أن یخلوا سبیلھم لو قدروا علی شیء من ذلک کانوا متمکنین منہ ۔ فکذلک بعد تخلیۃ سبیلھم ، لأنھم ما أظھروا من أنفسھم ما یکون دلیل الاستئمان ۔ و ما خلوھم علی سبیل اعطاء الأمان ، بل علی وجہ قلۃ المبالاۃ و الالتفات الیھم (۸۰)
[ کیونکہ وہ ان کے قبضے میں بالکل بے بس تھے ، اور رہائی سے پہلے اگر وہ اس طرح کے کسی کام پر قادر ہوتے تو اس کا کرنا ان کے لیے جائز ہوتا۔ پس یہ حکم ان کے رہا ہونے کے بعد بھی ہے کیونکہ ان قیدیوں نے اپنی جانب سے ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا جسے امان طلب کرنے کی دلیل سمجھا جائے ۔ اور انہوں نے انہیں اس وجہ سے رہا نہیں کیا کہ وہ انہیں امان دے رہے تھے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے ان کو حقیر سمجھا اور ان کو نظر انداز کردیا ۔ ]
اگر دشمن ان قیدیوں کو خاموشی سے رہا کرنے کے بجائے ان سے کہے کہ ہم نے تمہیں امان دیا ، پس جہاں چاہو جاؤ ، اور یہ قیدی اس کے جواب میں خاموش رہیں ، تب بھی ان کے لیے دشمن پر حملہ جائز ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیدیوں نے امان طلب نہیں کیا ، نہ ہی دشمن کو اطمینان دلایا ہے کہ وہ ان پر حملہ نہیں کریں گے ، بلکہ جو کچھ بھی کیا ہے دشمن نے اپنی جانب سے کیا ہے ۔
و قول أھل الحرب لا یلزمھم شیئا لم یلتزموہ (۸۱)
[اور دشمن قوم کا قول ان قیدیوں پر ایسی کوئی بات لازم نہیں کرتا جس کی ذمہ داری انہوں نے اپنے اوپر نہ لی ہو ۔ ]
البتہ اگر مسلمان اپنے علاقے سے دشمن کے علاقے میں داخل ہورہے ہوں اور دشمن نے ان سے کہا کہ ہم نے تمہیں امان دیا ، پس جہاں چاہو جاؤ ، تو ان مسلمانوں کے لیے ناجائز ہوگا کہ وہ ان پر حملہ کریں خواہ دشمن کے اس قول کے جواب میں خاموش ہی کیوں نہ رہے ہوں ۔ ان دونوں حالات میں فرق کی وضاحت کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں :
لأن ھناک جاء وا عن اختیار مجئ المستأمنین ، فانھم حین ظھروا لأھل الحرب فی موضع لا یکونون ممتنعین منھم بالقوۃ ، فکأنھم استأمنوھم و ان لم یتکلموا بہ ۔ و أما الأسراء فحصلوا فی دارھم مقھورین لا عن اختیار منھم ۔ فلا بد للاستئمان من قول او فعل یدل علیہ (۸۲)
[ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں وہ اپنے اختیار سے چل کر امان طلب کرنے والوں کی طرح آئے کیونکہ جب وہ ایسے مقام پر دشمن کے سامنے ظاہر ہوئے جہاں وہ قوت کے ذریعے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے تو گویا انہوں نے امان طلب کیا خواہ انہوں نے امان کی بات نہ کہی ہو ۔ اس کے برعکس قیدی تو دشمن کے علاقے میں بغیر اپنے اختیار کے بے بس پائے گئے۔ چنانچہ ان کی جانب امان طلب کرنے کی نسبت کے لیے ضروری ہے کہ ان کی جانب سے کوئی قول یا فعل ایسا پایا جائے جو امان طلب کرنے پر دلالت کرے ۔ ]
پس اگر ان قیدیوں کی جانب سے ایسا قول یا فعل پایا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امان طلب کررہے ہیں تو پھر ان کے لیے بھی حکم یہی ہوگا کہ وہ دشمن پر حملہ نہیں کرسکتے ۔ امام شیبانی قرار دیتے ہیں :
و لو أن قوماً منھم لقوا الأسراء فقالوا : من أنتم ؟ فقالوا : نحن قوم تجار دخلنا بأمان من أصحابکم ، أو قالوا : نحن رسل الخلیفۃ ، فلیس ینبغی لھم بعد ھذا أن یقتلوا أحداً منھم (۸۳)
[ اور اگر ان میں سے کچھ لوگ قیدیوں سے ملے اور ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ تو اس کے جواب میں اگر انہوں نے کہا کہ ہم تاجر ہیں جو تمہارے ساتھیوں سے امان لے کر تمہارے ہاں آئے ہیں ، یا یہ کہا کہ ہم اپنے حکمران کے سفیر ہیں ، تو ایسی صورت میں ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ اس کے بعد وہ ان میں کسی کو قتل کریں ۔ ]
اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح بین الاقوامی قانون نے اس قسم کے حملوں کو Perfidy قرار دے کر جنگی جرم قرار دیا ہے اسی طرح اسلامی قانون کی رو سے بھی اس قسم کے حملے قطعی طور پر ناجائز ہیں اور ان کو جائز جنگی چال قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اگر اسلامی قانون نے اس قسم کے حملوں کو ناجائز نہ قرار دیا ہوتا تب بھی مسلمانوں کے لیے یہ حملے ناجائز ہوتے کیونکہ ان حملوں کو جنیوا معاہدات کے ذریعے ناجائز قرار دیا گیا ہے اور ، جیسا کہ اوپر تفصیل سے واضح کیا گیا ، آداب القتال کے لیے کیے گئے اس طرح کے معاہدات کی پابندی مسلمانوں پر لازم ہے ۔ تاہم یہاں امام شیبانی کی تصریحات اور امام سرخسی کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ اصلاً بھی اسلامی قانون کا اس معاملے میں موقف وہی ہے جو بین الاقوامی قانون کا ہے۔ بلکہ بسا اوقات کوئی چال بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہو تب بھی اسلامی قانون کے تحت وہ ناجائز ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر دشمن کو اپنی پوزیشن یا حملے کے ارادے کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا رکھنا بین الاقوامی قانون اور اسلامی قانون دونوں کی رو سے جائز جنگی چال ہے ۔ البتہ بین الاقوامی قانون کی رو سے دشمن کو غلط اطلاع دینا (Misinformation) جائز ہے اور اسلامی قانون کی رو سے یہ صرف اس صورت میں جائز ہوسکتا ہے جب اس کے لیے جھوٹ نہ بولنا پڑے ۔
فصل ششم : خود کش حملوں کی شرعی حیثیت
اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ اگر خود کش حملوں میں چار شرائط پوری کی جائیں تو ان کو بین الاقوامی قانون کی رو سے ناجائز نہیں کہا جائے گا :
اولاً : یہ کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں ۔
ثانیاً : یہ کہ حملہ کرنے والا مقاتل ہو ۔
ثالثاً : یہ کہ حملے کا ہدف فریق مخالف کے مقاتلین ہوں ۔
رابعاً : یہ کہ حملے میں ایسا طریقہ یا ہتھیار استعمال نہ کیا جائے جو قانوناً ناجائز ہو ۔
اسلامی شریعت کی رو سے بھی ان شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے ، ایک تو اس وجہ سے بین الاقوامی معاہدات اور عرف کی پابندی اسلامی شریعت کی رو سے بھی ضروری ہے ، اور دوسرے اس وجہ سے کہ یہ شرائط خود اسلامی شریعت نے بھی مقرر کی ہیں۔ چنانچہ ہم نے اوپر تفصیل سے ذکر کیا کہ مقاتل کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے جو چار شرائط بین الاقوامی قانون نے مقرر کی ہیں ( ذمہ دار کمان کے ماتحت ہونا ، امتیازی لباس کا استعمال کرنا ، واضح طور پر ہتھیار سے مسلح ہونا اور آداب القتال کی پابندی کرنا ) یہ سب شرائط اسلامی قانون نے بھی مقرر کی ہیں ۔ اسی طرح اسلامی شریعت نے لازم ٹھہرایا ہے کہ حملے کا ہدف مقاتلین تک ہی محدود ہو اور حتی الامکان کوشش کی جائے کہ غیر مقاتلین ہدف نہ بنیں ۔ بعینہ اسی طرح بعض ہتھیاروں کا استعمال شریعت نے از خود ناجائز ٹھہرایا ہے اور بعض کو اس وجہ سے ناجائز قرار دیا جائے گا کہ ان کو بین الاقوامی قانون نے ناجائز ٹھہرایا ہے اور بین الاقوامی قانون کی پابندی اصولاً لازم ہے ۔ مثال کے طور پر شریعت نے غیر مقاتلین کو ہدف بنانا ناجائز قرار دیا ہے ۔ پس ایسے ہتھیاروں کا استعمال ناجائز ہوگا جن کا اثر مقاتلین تک ہی محدود نہ رہے بلکہ غیر مقاتلین بھی اس کی زد میں آئیں ، جیسے کیمیائی و جراثیمی ہتھیار یا ایٹمی ہتھیار ۔ اسی طرح شریعت نے مثلہ حرام ٹھہرایا ہے اور ، جیسا کہ امام شیبانی اور امام سرخسی نے تصریح کی ہے ، شریعت کی رو سے باؤلے کتے کا مثلہ بھی حرام ہے ۔ (۸۴) اس لیے ایسے ہتھیاروں کا استعمال بھی اصولاً ناجائز ہوگا جس سے لاشوں کا مثلہ لازم آتا ہو ۔ مثال کے طور پر کسی بھی قسم کے بم کے استعمال کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لاشوں کے ٹکڑے بکھر کر ادھر ادھر منتشر ہوجائیں ۔ اس لیے اصولاً کسی بھی قسم کے حملے میں کسی بھی قسم کا بم استعمال کرنا ناجائز ہے ۔ اس کا جواز صرف اضطرار کے قاعدے ہی کے تحت پایا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی واضح ہے کہ حالت اضطرار کی اپنی پابندیاں اور حدود ہیں جن کی پابندی لازم ہے ۔ اسی طرح شریعت کی رو سے یہ ناجائز ہے کہ کوئی شخص خود کو غیر مقاتل ظاہر کرکے فریق مخالف کو اعتماد میں لے اور پھر غدر کرتے ہوئے اس پر حملہ کرے ۔
البتہ جو پہلی شرط ہے کہ حملہ مسلح تصادم کے دوران میں کیا جائے ، نہ کہ حالت امن میں تو اس کی کچھ وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے ۔ عام طور پر خود کش حملوں کے جواز کے لیے فقہ کے جس جزئیے سے استدلال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ فقہا نے اسے جائز ٹھہرایا ہے کہ کوئی غازی تنہا دشمنوں کی صفوں میں گھس جائے اگر اسے یقین ہو کہ اس طرح کے حملے سے وہ دشمن کو شدید نقصان پہنچائے گا ، یا اس طرح وہ دشمن کو مرعوب کردے گا ۔ امام شیبانی کہتے ہیں :
لا بأس بأن یحمل الرجل وحدہ و ان ظن أنہ یقتل ، اذا کان یری أنہ یصنع شیئاً یقتل او یجرح أو یھزم (۸۵)
[ اس میں کوئی حرج نہیں کہ تنہا ایک آدمی دشمن پر حملہ کرے خواہ اس کا گمان ہو کہ اسے قتل کردیا جائے گا ، بشرطیکہ اس کی رائے یہ ہو کہ وہ کچھ بڑا کام کرلے گا دشمن کو قتل کرکے ، یا زخمی کرکے ، یا پسپا کرکے ۔ ]
اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں :
فقد فعل ذلک جماعۃ من الصحابۃ بین یدی رسول اللہ ﷺ یوم أحد ، ومدحھم علی ذلک (۸۶)
[ کیونکہ ایسا کام بہت سے صحابہ نے احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا اور آپ نے ان کی تعریف کی ۔ ]
تاہم اس جزئیے پر معمولی غور سے بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حکم اس موقع کے لیے ہے جب دو فوجیں جنگ کر رہی ہوں یا جنگ کرنے والی ہوں اور ہر فریق دوسرے کے متعلق جانتا ہے کہ وہ مقاتل ہے اور اس پر حملہ کرنے کے لیے آیا ہے ۔ پس بدیہی طور پر یہ شرط بھی شریعت نے مقرر کی ہے کہ اس قسم کے حملے جنگ کے دوران میں بطور مقاتل کیے جائیں ، نہ کہ غیرمقاتل کے بھیس میں ۔ اس کے برعکس خود کش حملوں میں ہوتا یہ ہے کہ حملہ آور بالعموم غیر مقاتل کے بھیس میں آکر اس گروہ کے بیچ میں پہنچ جاتا ہے جسے وہ ہدف بنانا چاہتا ہے ۔ واضح رہے کہ اس جزئیے سے خود کش حملوں کے جواز کے لیے استدلال بالکل باطل ہے ، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے ۔
خود کشی یا شہادت؟
اوپر ہم نے ذکر کیا تھا کہ خود کش حملوں کے جواز پر جب شریعت کی روشنی میں بحث کی جاتی ہے تو بعض ایسے سوالات کا جواب بھی دینا پڑتا ہے جن کی کوئی اہمیت بین الاقوامی قانون برائے آداب القتال کی رو سے نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی قانون کی رو سے اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس طرح کے حملوں میں حملہ آور خود کو ہلاک کرنے کا باعث بنتا ہے ، یا بہ الفاظ دیگر خود کشی کرتا ہے ، تو کیا اس کا یہ فعل جائز ہے ؟ تاہم اسلامی شریعت کی روشنی میں یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے خود کشی کو بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے اور اس پر بڑی سخت وعید کا اعلان کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
من قتل نفسہ بحدیدۃ فحدیدتہ فی یدہ یجأ بھا نفسہ فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ و من تردی من موضع فھو یتردی فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ و من شرب سماً فمات فھو یشربھا فی نار جھنم خالداً مخلداً ۔ (۸۷)
[ جس نے اپنے آپ کو لوہے کے ذریعے قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اس لوہے کو اپنے جسم میں گھونپتا رہے گا ۔ اور جس نے کسی بلند جگہ سے چھلانگ لگائی تو جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھلانگ لگاتا رہے گا ۔ اور جس نے زہر پی کر خود ہلاک کیا تو اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسے پیتا رہے گا ۔ ]
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے حملوں میں اپنی زندگی ختم کرنے والا حملہ آور شہید ہوگا یا اسے خود کشی کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا ؟ اس سلسلے میں اولین بات تو یہ ہے کہ اوپر مذکور جزئیے سے خود کش حملوں کے جواز کے لیے استدلال ناجائز ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خود کش حملہ آور بھی ان صحابۂ کرام کی طرح دشمنوں کی صف میں گھس کر ان میں بہت سوں کو قتل کردیتا ہے اور اس حملے کے نتیجے میں خود بھی قتل ہوجاتا ہے ۔
اس کی ایک وجہ تو اوپر ذکر کی گئی کہ صحابۂ کرام کے ان حملوں میں غدر کا شائبہ بھی نہیں تھا کیونکہ وہ جنگ کے دوران میں اس طرح کا حملہ کرتے تھے، جبکہ خود کش حملہ آور بالعموم اس طرح کا حملہ غیر مقاتل کے بھیس میں کرتا ہے جو غدر ہے اور حرام ہے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ دشمن کی صفوں میں تنہا مجاہد کے گھسنے کے نتیجے میں مجاہد کا قتل ہونا یقینی نہیں بلکہ محض ایک امکان کے طور پر ہوتا ہے اور اسے اس لیے جائز قرار دیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں دشمن کو سخت مادی یا نفسیاتی نقصان پہنچتا ہے ۔ چنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر اس طرح کے حملے میں دشمن کو مادی یا نفسیاتی نقصان نہ پہنچتا ہو تو پھر اس قسم کا حملہ ناجائز ہے کیونکہ یہ خود کشی کے مترادف ہے ۔ امام شیبانی کہتے ہیں :
فأما اذا کان یعلم أنہ لا ینکی فیھم فانہ لا یحل لہ أن یحمل علیھم (۸۸)
[ اگر وہ جانتا ہو کہ اس طرح دشمن کے حوصلے پست نہیں کرسکے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ ان پر اس طرح تنہا حملہ کرے ۔ ]
اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں :
لأنہ لا یحصل بحملتہ شیء مما یرجع الی اعزاز الدین ، ولکنہ یقتل فقط ، وقد قال اللہ تعالیٰ : و لا تقتلوا أنفسکم (۸۹)
[ کیونکہ اس کے اس حملے سے کوئی ایسا نتیجہ برآمد نہیں ہوتا جس سے دین کو سرفرازی حاصل ہو ، بلکہ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ وہ قتل کردیا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے : ’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ۔ ‘‘]
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس قسم کے حملے میں مجاہد کے قتل ہونے کا صرف امکان ہی ہوتا ہے پھر بھی فقہاء اس حملہ آور کو اپنے قتل کا ذمہ دار گردانتے ہیں تو اس صورت میں جبکہ حملہ آور کا قتل ہونا یقینی ہوتا ہے ، بلکہ جب دشمن کی موت کے لیے ضروری ہو کہ حملہ آور خود کو قتل کردے ، تو اسے کیسے خود کشی قرار نہیں دیا جائے گا ؟
تیسری وجہ ، جو قانونی لحاظ سے زیادہ اہم ہے ، یہ ہے کہ جب مجاہد دشمن کی صفوں میں گھس کر ان کو قتل اور زخمی کرنے لگتا ہے اور پھر دشمن کے حملے کے نتیجے میں وہ قتل ہوجاتا ہے تو درحقیقت اس کے قتل کا باعث دشمن کا فعل بنا ہے ۔ اس کے برعکس خود کش حملے میں حملہ آور کی موت کا باعث خود اس کا اپنافعل ہوتا ہے ۔ فقہاء نے قرار دیا ہے کہ اگر جنگ کے دوران میں حملہ آور نے دشمن پر تلوار چلائی اور غلطی سے وہ تلوار خود اس حملہ آور کو ہی لگ گئی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تو ایسا شخص ، خواہ آخرت کے احکام کے لحاظ سے شہید ہو ، دنیوی احکام کے لحاظ سے شہید نہیں کہلائے گا کیونکہ اس کے قتل کا باعث اس کا اپنا فعل بنا ہے ۔ امام سرخسی کہتے ہیں :
فأما من ابتلی بھذا فی الدنیا یغسل و یکفن و یصلی علیہ ، لأن الشہید الذی لا یغسل من یصیر مقتولا بفعل مضاف الی العدو ، و ھذا صار مقتولا بفعل نفسہ و لکنہ معذور فی ذلک ، لأنہ قصد العدو لا نفسہ ، فیکون شہیداً فی حکم الآخرۃ ، و یصنع بہ ما یصنع بالمیت فی الدنیا ۔ (۹۰)
[ البتہ جس پر اس قسم کی آزمائش آئی تو دنیا میں اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ( شہید کے برعکس) اسے غسل دیا جائے گا ، اسے کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکم کہ اسے غسل نہیں دیا جاتا ( اور کفن نہیں پہنایا جاتا ) اس شہید کے لیے ہے جو کسی ایسے فعل سے قتل ہوجائے جسے دشمن کی طرف منسوب کیا جاسکے ، جبکہ یہ شخص خود اپنے فعل کے نتیجے میں قتل ہوا ۔ تاہم چونکہ وہ اس معاملے میں معذور تھا کہ اس نے دشمن کے قتل کا ارادہ کیا تھا نہ کہ اپنے آپ کو قتل کرنے کا ، اس لیے آخرت کے احکام میں وہ شہید ہوگا ۔ اور دنیا میں اس کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو عام میت کے ساتھ دنیا میں کیا جاتا ہے ۔ ]
پس جب مجاہد دشمن پر حملہ کرتے ہوئے غلطی سے خود کو زخمی کرلے اور اس زخم سے اس کی موت واقع ہوجائے تو اسے آخرت کے احکام کے لحاظ سے تو شہید کہا جائے گا لیکن اس پر شہید کے دنیوی احکام کا اطلاق نہیں ہوگا ۔ جو شخص قصداً اپنی موت کا باعث بنے ظاہر ہے کہ اس پر شہید کے دنیوی کا احکام کا اطلاق تو قطعاً نا ممکن ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے آخرت کے احکام کے لحاظ سے شہید کہا جاسکے گا ؟ قرآن و سنت کے نصوص اور فقہاء کی تشریحات کی روشنی میں ہماری ناقص رائے تو یہ ہے و اللہ اعلم کہ ایسا شخص آخرت کے احکام کے لحاظ سے بھی شہید نہیں کہلا سکتا کیونکہ اپنے قتل کا آپ باعث بن کر وہ شریعت کے ایک بنیادی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملہ روک دینے کا حکم دیا تو اس کے بعد آپ کو اطلاع ملی کہ فلاں شخص شہید کیا گیا ۔ جب پوچھنے پر آپ کو معلوم ہوا کہ اسے حملے کی ممانعت کے کے حکم کے بعد قتل کیا گیا تو آپ نے فرمایا :
ان الجنۃ لا تحل لعاص (۹۱)
[ یقیناًجنت میں نافرمان داخل نہیں ہوسکتا۔ ]
ایک وقتی حکم کی مخالفت پر اتنی سخت وعید سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ ایک ابدی حکم کی مخالفت کرنے والا خود کو کتنی بڑی سزا کا مستحق بناتا ہے ! و العیاذ باللہ ۔
خود کش حملے اور مسلمانوں کا قتل ناحق
قرآن و سنت میں جن کاموں پر انتہائی سخت وعید آئی ہے ان میں ایک مسلمان کا قتل بھی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۳ )
[اور جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اور پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے ، اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ ]
اہل سنت کا عام اصول یہ ہے کہ وہ کسی بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر نہیں ٹھہراتے ۔ اس لیے اس قسم کی آیات اور احادیث کے متعلق ، جن میں کسی گناہ کی سزا میں خلود فی النار کی وعید آئی ہو ، ان کی تاویل یہ ہوتی ہے کہ یہ سزا اس شخص کے لیے ہے جو اس حرام کو حلال قرار دیتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور ظاہر ہے کہ حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے ۔ ایک اور تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ یہاں خلود فی النار سے مراد جہنم میں طویل مدت کے لیے رہنا ہے ۔ اہل سنت کے اصول کی صحت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس بات کی نشاندہی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ اس آیت کریمہ میں صرف خلود فی النار کی سزا ہی ذکر نہیں ہوئی بلکہ اس کے علاوہ چار دیگر سزائیں بھی ذکر کی گئی ہیں :
۱۔ یہ کہ اس کا بدلہ جہنم ہے ۔
۲ ۔ یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے غضب کیا ۔
۳ ۔ یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ۔
۴ ۔ یہ کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے شدید عذاب تیار کیا ہے ۔
خلود فی النار کی سزا کی طرح یہ چار سزائیں بھی قرآن کریم میں صرف کفار ۔ بلکہ یہود ، نصاری ، مشرکین اور منافقین میں بد ترین کفار ۔ کے لیے آئی ہیں ۔ اس لیے ہماری ناقص رائے میں آیت کا مقتضا یہ ہے کہ مسلمان کا قتل عمد (Cold Blooded Murder) کوئی ایسا شخص کر ہی نہیں سکتا جس کے دل میں ایمان کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو ۔
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَئاً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۲)
[ یہ کسی مومن کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے ۔ ]
بہ الفاظ دیگر، مسلمان کا قتل عمد کرتے وقت ایمان اس میں سے نکل جاتا ہے ۔ البتہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ وہ سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما کر یہ گناہ معاف کرسکتا ہے ، بلکہ جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے وہ سو آدمیوں کے قاتل کو بھی معاف کرسکتا ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ توبہ سے دنیوی سزا ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ مقتول خود موت سے قبل یا اس کی موت کے بعد اس کے اولیاء الدم قاتل کو معاف کردیں یا اس کے ساتھ صلح کرلیں ۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ دنیوی سزا قاتل کو مل بھی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے لازماً ہی آخرت کی سزا ساقط ہوگئی ، بلکہ آخرت کی سزا کا تعلق توبہ سے ہے ۔ نیز چونکہ قتل اللہ تعالیٰ کے حق کے علاوہ بندے کے حق پر بھی اعتدا ہے اس لیے آخرت کی سزا کی معافی کے لیے بھی مقتول کی رضامندی ضروری ہے ۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے کہ جس قاتل نے سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کے مقتول کو جنت میں اعلی مقامات اور انعامات سے سرفراز کرکے اسے اس کا قائل کردے گا کہ وہ اپنے قاتل کو معاف کردے ۔
قتل مومن کا معاملہ انتہائی حد تک سنگین معاملہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد کے دوران میں خصوصاً اس بات کا حکم دیا کہ مسلمان حملے کے دوران میں خصوصی احتیاطی اقدامات اٹھائیں تاکہ حملے کی زد میں کوئی مسلمان نہ آجائے، بلکہ اگر کسی کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے تو وہ حملے سے محفوظ سمجھا جائے اور اس کے متعلق یہ نہ کہا جائے کہ وہ مسلمان نہیں ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَتَبَیَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً ( سورۃ النسآء ، آیت ۹۴ )
[اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ ]
چنانچہ شریعت کے مقتضیات کو سمجھتے ہوئے فقہا نے قرار دیا ہے کہ جہاد کے دوران میں بھی کسی مسلمان کا قتل عمد جائز نہیں ہے ، بلکہ انہوں نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر کفار کے کسی قلعے کو فتح کرنے کے بعد ان کے تمام لوگوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا جائے، لیکن یہ معلوم ہوا ہو کہ اس قلعے میں کوئی شخص مسلمان بھی ہے تو جب تک اس ایک مسلمان کا علم نہ ہو جائے کہ وہ کون ہے ، تب تک اس قلعے میں کسی ایک شخص کا قتل بھی جائز نہیں ہوگا ۔ امام ابن عابدین کہتے ہیں :
ان أمر الدم خطر عظیم ، حتی لو فتح الامام حصناً أو بلدۃً وعلم أن فیھا مسلماً لا یحل لہ قتل أحد من أھلہا لاحتمال أن یکون المقتول ھو المسلم ۔ (۹۲)
[کسی کی جان لینا بڑا سنگین معاملہ ہے ۔ یہاں تک کہ اگر امام کوئی قلعہ یا شہر فتح کرے اور اسے علم ہو کہ وہاں ایک مسلمان ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ وہاں کے لوگوں میں کسی ایک کو بھی قتل کرے کیونکہ ہر شخص کے متعلق یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ شاید وہی مسلمان ہو ۔ ]
البتہ اضطرار کے قاعدے کے تحت فقہاء نے قرار دیا ہے کہ اگر دشمن کے قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تو اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے خواہ یہ اندیشہ یا یقین ہو کہ اس قلعے میں کوئی مسلمان قیدی ہے جو حملے کی زد میں آسکتا ہے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے مسلمان کا قتل عمد جائز ہے ۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام حسن بن زیاد کہتے ہیں :
ھذا اذا علم أنہ لیس فی ذلک الحصن أسیر مسلم ۔ فأما اذا لم یعلم ذلک فلا یحل التحریق و التغریق ، لأن التحرز عن قتل المسلم فرض و تحریق حصونھم مباح ۔ و الأخذ بما ھو الفرض أولی۔ (۹۳)
[دشمن کے قلعے کو جلانا یا اسے پانی میں غرق کرنا اس وقت جائز ہے جب معلوم ہو کہ اس قلعے میں کوئی مسلمان قیدی نہیں ہے ۔ اگر اس بارے میں علم نہ ہو تو اس قلعے کو جلانا یا غرق کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مسلمان کے قتل سے بچنا فرض ہے اور دشمن کے قلعوں کو جلانا یا غرق کرنا مباح ہے اور فرض پر عمل مباح پر عمل سے زیادہ ضروری ہے۔]
اس کے جواب میں امام سرخسی اور دیگر فقہائے احناف نے اضطرار کے قاعدے کا ذکر کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اگر ایسے قلعے پر حملہ ناگزیر ہو تو حملہ کیا جاسکتا ہے لیکن حملہ آور مسلمان کے قتل کا ارادہ نہیں کریں گے کیونکہ مسلمان کا قتل عمد حرام ہے۔ امام سرخسی کہتے ہیں :
لو منعناھم من ذلک یتعذر علیھم قتال المشرکین و الظھور علیھم ، و الحصون قلّ ما تخلو عن أسر ۔ و کما لا یحل قتل الأسیر لا یحل قتل النساء و الولدان ۔ ثم لا یمتنع تحریق حصونھم بکون النساء و الولدان فیھا ۔ فکذلک لا یمتنع ذلک بکون الأسیر فیھا ، و لکنھم یقصدون المشرکین بذلک ، لأنھم لو قدروا علی التمییز فعلاً لزمھم ذلک ۔ فکذلک اذا قدروا علی التمییز بالنےۃ یلزمھم ذلک۔ (۹۴)
[ اگر ہم مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے سے روکیں تو ان کے لیے مشرکین سے لڑنا اور ان پر غالب ہونا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ ان کے قلعے میں کم ہی کوئی ایسا ہوگا جس میں کوئی مسلمان قیدی نہ ہو ۔ پھر جس طرح مسلمان قیدی کا قتل ناجائز ہے اسی طرح دشمن کی عورتوں اور بچوں کا قتل بھی ناجائز ہے ۔ اس کے باوجود اس قلعے پر حملہ جائز ہے خواہ وہاں دشمن کی عورتیں اور بچے ہوں ۔ اسی طرح اس قلعے میں مسلمان قیدی کا ہونا اس حملے کی ممانعت کا سبب نہیں بن سکتا ۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ حملہ کرنے والوں کی نیت مشرکین پر حملے کی ہو کیونکہ اگر ان کے لیے عملاً مسلمان اور مشرک میں تمیز ممکن ہوتی تو ان پر لازم ہوتا کہ وہ تمیز کرتے ۔ پس اس صورت میں جبکہ وہ نیت میں تمیز پر قادر ہیں تو ان پر یہی لازم ہے ۔ ]
کیا کوئی ایسی صورت ہوسکتی ہے جس میں مسلمان کا قتل عمد جائز ہوسکے ؟ امام غزالی نے ایک فرضی صورتحال ذکر کی ہے جس میں کفار مسلمان قیدیوں کو ڈھال بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں مسلمان اگر دشمن پر حملہ کریں گے تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ پہلے ان مسلمانوں کو قتل کیا جائے جن کو انہوں نے ڈھال بنا کر آگے کیا ہوا ہے ۔ اگر مسلمان انہیں قتل نہیں کریں گے تو یقینی ہے کہ مسلمانوں پر فتح پانے کے بعد دشمن ان قیدیوں کو بھی قتل کردے گا ۔ پس ایسی صورت میں ان قیدیوں کو بہر حال قتل ہونا ہے ۔ تو کیا ان کا قتل جائز ہوگا ؟ یا ان کے قتل سے باز رہ کر مسلمان دشمن کو آگے بڑھ کر اپنے اوپر غالب ہونے کا موقع دیں گے ؟
ان الکفار اذا تترسوا بجماعۃ من أساری المسلمین ، فلو کففنا عنھم لصدمونا ، و غلبوا علی دار الاسلام ، و قتلوا کافۃ المسلیمن ۔ و لو رمینا الترس لقتلنا مسلماً معصوماً لم یذنب ذنباً ، و ھذا لا عھد بہ الشرع ۔ و لو کففنا لسلطنا الکفار علی جمیع المسلمین ، فیقتلونھم ، ثم یقتلون الأساری أیضاً ۔ فیجوز أن یقول قائل : ھذا الأسیر مقتول بکل حال ، فحفظ جمیع المسلمین أقرب الی مقصود الشرع لأنا نعلم قطعاً أن مقصود الشرع تقلیل القتل کما یقصد حسم سبیلہ عند الامکان ۔ فان لم نقدر علی الحسم قدرنا علی التقلیل ۔ و کان ھذا التفاتاً الی مصلحۃ علم بالضرورۃ کونھا مقصود الشرع ، لا بدلیل واحد و أصل معین بل بأدلۃ خارجۃ عن الحصر ۔ لکن تحصیل ھذا المقصود بھذا الطریق ، و ھو قتل من لم یذنب ، غریب لم یشھد لم أصل معین ۔ فھذا مثال مصلحۃ غیر مأخوذۃ بطریق القیاس علی أصل معین ، و انقدح اعتبارھا باعتبار ثلاثۃ أوصاف : أنھا ضرورۃ ، قطعیۃ ، کلیۃ ۔ (۹۵)
[ اگر کفار مسلمانوں کے قیدیوں کو ڈھال بنائیں تو اگر ہم ان پر حملے سے گریز کریں گے تو وہ ہمیں سخت نقصان پہنچا کت دار الاسلام پر غالب آئیں گے اور پھر تمام مسلمانوں کو قتل کردیں گے ۔ تاہم اگر ہم ان ڈھال بنائے گئے قیدیوں کو نشانہ بنائیں گے تو ہم ایک ایک ایسے مسلمان کو ، جس کی زندگی قانونی طور پر محفوظ ہے ، قتل کریں گے حالانکہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ، اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اور اگر ہم ان پر حملہ نہیں کریں گے تو ہم کفار کو تمام مسلمانوں پر مسلط ہونے کا موقع دیں گے جو غالب ہونے کے بعد ان مسلمانوں کو بھی کریں گے اور ان کے بعد ان قیدیوں کو بھی ۔ پس کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ قیدی تو دونوں صورتوں میں قتل ہوں گے تو تمام مسلمانوں کی حفاظت شریعت کے مقصود سے زیادہ قریب ہے کیونکہ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ شریعت کا مقصود قتل کو روکنا ہے لیکن اگر روکنا ممکن نہ ہو تو پھر شریعت اسے کم سے کم کرنا چاہتی ہے ۔ پس اگر ہم قتل کو روک نہیں سکتے تو اسے کم تو کرسکتے ہیں ۔ پس یہ ایسی مصلحت کی طرف التفات ہے جس کا شریعت کا مقصود ہونا کسی ایک مخصوص دلیل یا معین اصل سے نہیں بلکہ بے شمار دلائل سے ضرورۃً معلوم ہے ۔ تاہم اس مصلحت کا اس مخصوص طریقے سے حصول ، کہ اس کے لیے کسی بے قصور کا قتل کرنا پڑے ، غریب ہے جس کے لیے کوئی معین اصل شاہد نہیں ہے ۔ پس یہ ایسی مصلحت کی مثال ہوئی جو کسی اصل معین پر قیاس کے ذریعے ماخوذ نہیں ہوتی ، اور اس کے معتبر ہونے کے لیے تین شرائط ضروری ہیں : کہ یہ ضرورات میں ہو ، قعطی ہو اور کلی ہو ۔ ]
امام غزالی نے اس صورت حال کو ’’ مصلحۃ غریبۃ‘‘ کا عنوان دیا ہے ، یعنی وہ مصلحت جس کی شریعت نہ تو تائید کرے نہ تردید ۔ مصلحت غریبہ پر عمل کے لیے امام غزالی نے تین شرائط ذکر کی ہیں :
(۱) یہ کہ اس کا تعلق ضرورات کے ساتھ ہو ۔ یعنی اس کے ذریعے دین ، نفس ، عقل ، نسل یا مال کی حفاظت مقصود ہو۔
(۲) یہ کہ یہ قطعی ہو ۔یعنی اس کے نتائج کے متعلق ہمیں پورا یقین ہو کہ اس کے ذریعے مذکورہ مقصد کی حفاظت ہوگی ۔
(۳) یہ کہ یہ کلی ہو ۔ یعنی یہ امت کے کسی ایک فرد یا افراد کے مجموعے کے لیے نہ ہو بلکہ پوری امت کے لیے ہو۔
ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا گروہ ہو ، کی مصلحت کو پوری امت کی مصلحت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لیے خواہ یہ امکان ہو کہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے اس گروہ پر کفار غالب آجائیں گے تب بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگا کہ ڈھال بنائے گئے مسلمانوں کا قتل عمد کریں ۔ اسی وجہ سے امام غزالی آگے کئی مثالیں ذکر کرتے ہیں جن کے متعلق وہ صراحتاً کہتے ہیں کہ ان صورتوں میں کسی مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان شرائط میں کوئی شرط مفقود ہوتی ہے :
ولیس فی معناھا : ما لو تترس الکفار فی قلعۃ بمسلم ، اذ لا یحل رمی الترس، اذ لا ضرورۃ، فینا غنیۃ عن القلعۃ، فنعدل عنھا، اذ لم نقطع بظفرنا بھا لأنھا لیست قطعیۃ ، بل ظنیۃ۔ ولیس فی معناھا: جماعۃ فی سفینۃ لو طرحوا واحداً منھم لنجوا، و الا غرقوا بجملتھم ، لأنھا لیست کلیۃ ، اذ یحصل بھا ھلاک عدد محصور، ولیس ذلک کاستئصال کافۃ المسلمین ، و لأنہ لیس یتعین واحد للاغراق الا أن یتعین بالقرعۃ، و لا أصل لھا۔ وکذلک جماعۃ فی مخمصۃ، لو أکلوا واحداً بالقرعۃ لنجوا، فلا رخصۃ فیہ لأن المصلحۃ لیست کلیۃ ۔(۹۶)
[ ایسی مصلحت کی مثال یہ نہیں ہے کہ اگر کسی قلعے میں کفار نے کسی مسلمان کو ڈھال بنا لیا ہو ، کیونکہ ایسی صورت میں اس ڈھال بنائے گئے مسلمان کو نشانہ بنانا ناجائز ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حملہ ناگزیر نہیں ہے ۔ ہم اس قلعے پر قبضہ کرنے سے بے نیاز ہیں ۔ پس ہم اس قلعے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے کیونکہ ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ہم اسے فتح ہی کرلیں گے ۔ پس یہ مصلحت قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے ۔ اسی طرح اس کی مثال یہ بھی نہیں کہ اگر کسی ڈوبتی کشتی میں کئی لوگ سوار ہوں اور اگر وہ کسی ایک کو دریا میں پھینک دیں تو باقی بچ جائیں گے ، اور اگر کسی کو نہیں پھینکیں گے تو سارے ہی ڈوب جائیں گے۔ اس مصلحت کے غیر معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلی نہیں ہے کیونکہ اس طرح چند لوگ ہی غرق ہوں گے جسے تمام مسلمانوں کا صفایا ہونے کے مترادف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ کسی ایک کو دریا میں پھینکنے کے لیے منتخب کرنے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ قرعہ ڈالیں جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ بھوک سے مجبور ہوجائے اور وہ چاہیں کہ ان میں کسی ایک کو قتل کرکے اس کا گوشت کھائیں ورنہ سارے ہی مر جائیں گے تو اس کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ یہ مصلحت کلی نہیں ہے ( ان چند لوگوں کے مرنے سے پوری امت کا خاتمہ نہیں ہوگا ۔ ]
قرآن و سنت کے نصوص اور فقہا کی ان تصریحات کے بعد جب خود کش حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نظر آتی ہے کہ ان حملوں میں ان تمام نصوص اور تصریحات کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کتنے معصوم مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے ؟ اس کا کوئی صحیح اندازہ اس وقت تک نہیں لگایا جاسکتا جب تک ان حملوں کے پورے ریکارڈ کا تجزیہ نہ کیا جائے ۔ تاہم اتنی بات تو بالکل واضح ہے کہ مسجد ، جنازگاہ ، جرگہ کی مجلس اور بازار وں میں کیے جانے والے ان حملوں کا نشانہ معصوم مسلمان ہی بنتے ہیں ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان حملوں کا رخ فوج کے علاوہ دیگر سیکیورٹی فورسز بالخصوص پولیس کی طرف ہوا ہے ۔ کیا یہ فوجی اور پولیس غیر مسلم ہیں ؟ کیا ان کا قتل عمد جائز ہے ؟
اس قسم کے سوالات سے بچنے کے لیے ہی خود کش حملہ آور کو تیار کرنے والے لوگوں کا زور اس کی جسمانی تربیت کے علاوہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ حملہ آور کو یہ پختہ یقین دلایا جائے کہ جس ہدف پر حملے کے لیے اسے تیار کیا جارہا ہے وہ بالکل جائز ہے کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں بلکہ مرتد ہیں اور اس وجہ سے واجب القتل ہیں ۔ فوجیوں اور پولیس کو مرتد کیسے قرار دیاجا سکتا ہے ؟ اس کا انہوں نے بڑا سیدھا حل نکالا ہے ۔ عام طور پر استدلال اس طرح کیا جاتا ہے :
- امریکہ اور اس کے اتحادی کفار نے مسلمانوں پر حملہ کیا ہے ۔
- ان کفار کا ساتھ دینا حرام ہے ۔
- مسلمان حکمران جو ان کفار کا ساتھ دیتے ہیں وہ مرتد ہوچکے ہیں ۔
- ان حکمرانوں کی حفاظت کرنے والے اور ان کے پشتیبان بننے والے بھی ان کے ساتھ شامل ہیں اور ظاہر ہے کہ حکومت کا دفاع کرنے والوں میں فوجی پہلے درجے میں اور دوسری سیکورٹی فورسز ان کے بعد دوسرے درجے میں آتے ہیں۔
یہ استدلال بالبداہت غلط ہے لیکن اس پر بحث اس مقالے کے حدود سے باہر ہے ۔ یہاں صرف اس بات کی طرف اہل علم کی توجہ دلانا مقصود ہے کہ خود کش حملوں کے جواز اور عدم جواز کی بحث میں ’’مسلمان کی تکفیر ‘‘کا مسئلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جسے خود کش حملوں پر بحث میں بالعموم نظر انداز کیا گیا ہے۔
مقتولین کی دیت ، زخمیوں کا ارش اور املاک کو نقصان پہنچنے والے نقصان کا ضمان
اگر ایک لمحے کے لیے اسلام اور کفر کے مسئلے سے صرف نظر بھی کیا جائے اور فرض کیا جائے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف بنیادی طور پر صحیح ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرض کیا جائے کہ اس کا ارادہ بے قصور لوگوں کو مارنے کا نہیں ہوتا تب بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بے قصور مقتولین کی دیت کی ادائیگی لازم نہیں ہے ؟ اسی طرح کیا زخمی ہونے والوں کے زخموں کے ارش یا ضمان کی ادائیگی لازم نہیں ہے ؟ اگر دیت ، ارش اور ضمان کی ادائیگی لازم ہے تو اس کی ادائیگی کا کون ذمہ دار ہے ؟ یہی سوال املاک کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق بھی ہے ۔ کیا غلطی سے کسی کا مال ضائع کرنے یا خراب کردینے والے کو شریعت نے ضمان ادا کرنے کا پابند نہیں کیا؟
فقہ اسلامی کا مسلمہ اصول ہے کہ جنگ کے دوران میں بھی اگر کوئی شخص غلطی سے کسی ایسے شخص کو قتل کرلے جس کا قتل اس کے لیے جائز نہیں ہے تو دیت کی ادائیگی واجب ہوتی ہے ۔ چنانچہ قتل خطا کی تمثیل میں بالعموم یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ مسلمان نے کسی شخص کو حربی سمجھ کر اس پر حملہ کیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تو مسلمان تھا ، یا اس نے حربی کو نشانہ بنایا لیکن غلطی سے کوئی دوسرا مسلمان اس کی زد میں آکر قتل ہوا ۔ امام شیبانی کہتے ہیں:
و اذا کان القوم من المسلمین یقاتلون المشرکین فقتل مسلم مسلماً ظن أنہ مشرک ، أو رمی الی مشرک فرجع السھم فأصاب مسلماً فقتلہ فعلیہ الدیۃ و الکفارۃ۔ (۹۷)
[ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ مشرکین سے لڑ رہا ہو اور کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان کو مشرک سمجھ کر قتل کیا ، یا اس نے مشرک کی طرف تیر پھینکا مگر وہ پلٹ کر کسی مسلمان کو لگا جس کے نتیجے میں وہ قتل ہوگیا ، تو ہر دو صورتوں میں اس پر دیت اور کفارہ لازم ہے ۔ ]
امام سرخسی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں :
لأن ھذا صورۃ الخطأ ، و الدیۃ و الکفارۃ فی قتل الخطأ واجب بالنص (۹۸)
[ کیونکہ یہ خطا کی صورت ہے ، اور قتل خطا میں دیت اور کفارے کا وجوب نص سے ثابت ہے ۔ ]
دیت کا حکم اس صورت میں بھی ہے جب حملے کی زد میں ایسا غیر مسلم آئے جس کا قتل ناجائز ہو ، مثلاً وہ مسلمان ملک میں مستقل اقامت پذیر ہو ( اہل ذمہ ) ، یا وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس کے ساتھ مسلمانوں نے امن کا معاہدہ کیا ہو ( اہل موادعہ) ، یا وہ مسلمانوں سے اجازت لے کر مسلمانوں کے درمیان آیا ہو ( مستامن ) ۔ ارش اور ضمان کا بھی یہی حکم ہے ۔ یہ اصول بھی فقہا کے نزدیک مسلمہ ہے کہ دیت کی ادائیگی قاتل کی عاقلہ کرتی ہے بشرطیکہ قتل عمد نہ ہو یا دیت کی ادائیگی صلح کے نتیجے میں لازم نہ ہوئی ہو ۔ ان آخری دو صورتوں میں دیت کی ادائیگی کے لیے تنہا قاتل ذمہ دار ہوگا ۔ (۹۹)
پس اگر خود کش حملوں کے نتیجے میں قتل و زخمی ہونے والوں میں کوئی ایسا ہو جس پر حملہ ناجائز ہو ( اور بالعموم ان حملوں کی زد میں وہی لوگ آتے ہیں جن پر حملہ ناجائز ہوتا ہے ) اور یہ فرض کیا جائے کہ یہ غلطی سے حملے کی زد میں آئے تو ان کی دیت کی ادائیگی قاتل کے عاقلہ پر لازم ہوگی، اور اگر یہ مانا جائے کہ ان لوگوں کو قصداً نشانہ بنایا گیا تو پھر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری قاتل پر ہوگی ۔ اول الذکر صورت میں یہ تعین کرنا بھی ضروری ہوگا کہ قاتل کا عاقلہ کسے سمجھا جائے ؟ کیا اس کے اہل خاندان کو ؟ یا اس کے ان مربّیوں کو جن کو اس نے اپنا اہل و عیال چھوڑ کر اپنایا ہوتا ہے اور جن کی رہنمائی میں وہ اس حملے پر آمادہ ہوتا ہے ؟ ثانی الذکر صورت میں دیت کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی کیونکہ قاتل تو خود بھی اس حملے میں ہلاک ہوجاتا ہے ۔ اگر قاتل کے متعلق معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا ؟ یا اس کے عاقلہ کا تعین نہ ہوپارہا ہو ، یا اس نے جو ترکہ چھوڑا ہو، اس میں سے تمام مقتولین و مجروحین کی دیت ، ارش اور ضمان کی ادائیگی ممکن نہ ہو تو پھر اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ۔ کیا حکومت اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے ؟
اسی طرح شریعت نے ضمان کے سلسلے میں عقل ، بلوغت یا عمد کی شرائط نہیں رکھیں ۔ اس لیے کسی کی املاک کو اگر بچہ یا مجنون بھی نقصان پہنچائے ، یا کوئی عاقل بالغ شخص غلطی سے نقصان پہنچائے، تب بھی ان تمام صورتوں میں شریعت نے لازم کیا ہے کہ نقصان پہنچانے والے کے مال سے اس نقصان کی تلافی کی جائے ۔ اس نقصان کی تلافی کے لیے عاقلہ ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ اگر نقصان پہنچانے والے کا تعین نہ ہوپارہا ہو تو یہاں بھی آخری ذمہ داری حکومت پر آتی ہے ۔ (۱۰۰)
اسلامی شریعت کے قواعد عامہ جو خود کش حملے کے نتیجے میں پامال ہوتے ہیں :
اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ خود کش حملوں کے نتیجے میں اسلامی آداب القتال کے کئی قواعد عامہ پامال ہوتے ہیں ۔ ان میں سے چند اہم قواعد عامہ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں :
اولاً : غدر کی ممانعت ۔ خود کش حملہ آور بالعموم مقاتل کے روپ میں نہیں ہوتا اور غدر کا مرتکب ہوتا ہے ۔
ثانیاً : غیر مقاتلین پر حملہ ۔ ان حملوں کی زد میں آنے والے لوگوں کی اکثر یت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن پر حملہ کرنا ناجائز ہوتا ہے ۔
ثالثاً : اندھا دھند حملے کی ممانعت ۔ حملہ بالعموم میدان جنگ کے بجائے عام شہری آبادی میں کیا جاتا ہے جس میں عام شہریوں کے قتل اور زخمی ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔
رابعاً : خود کشی کی ممانعت ۔ حملہ آور کی موت کا باعث خود اس کا اپنا فعل ہوتا ہے ، نہ کہ دشمن کا کوئی فعل ۔
خامساً : مثلہ کی ممانعت ۔ حملہ آور بم اور بارود کا استعمال کرکے خود اپنی لاش کا اور دوسروں کی لاشوں کا مثلہ کرتا ہے۔
سادساً : قتل مومن کی ممانعت ۔ اگر حملہ مسلمانوں پر ہو تو خود کش حملہ آور ان کے قتل کے گناہ کبیرہ کا بھی ارتکاب کرتا ہے ۔
سابعاً : دیت ، ارش اور ضمان ادا کرنے کے حکم کی خلاف ورزی ۔ حملے کی زد میں آنے والے بے قصور مقتولین اور مجروحین کے قتل یا زخمی ہونے ، اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے لازم ہونے والی دیت ، ارش یا ضمان کی ادائیگی نہیں کی جاتی ۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ خود کش حملوں کے جواز کے لیے ’’ اضطرار ‘‘ کا قاعدہ بھی ناکافی ہے ۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر غور کیجیے :
اولاً : یہ صحیح ہے کہ اگر مقاتلین اور غیر مقاتلین میں تمییز ممکن نہ ہو اور غیر مقاتلین کو حملے سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی اقدامات اٹھائے جائیں تب بھی چند غیر مقاتلین حملے کی زد میں آجائیں تو اضطرار کے قاعدے کے تحت اس کی گنجائش نکل سکتی ہے ۔ تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس صورت میں اضطرار کی پابندیوں پر عمل لازم ہوتا ہے ۔ پس شہری آبادی میں حملہ بہر صورت ناجائز ہوگا کیونکہ اس حملے کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں غیر مقاتلین بلا ارادہ ضمنی طور پر نشانہ بنے ۔
ثانیاً : دیت ، ارش یا ضمان کی ادائیگی کے حکم کو اضطرار کے نام پر معطل نہیں کیا جاسکتا ۔
ثالثاً : چونکہ حملہ آور کا غیر مقاتل کے بھیس میں آنا غدر ہے اس لیے اسے بھی اضطرار کے نام پر جواز نہیں مل سکتا ۔
رابعاً : مسلمان کا قتل عمد اضطرار کے قاعدے سے بھی جائز نہیں ٹھہرتا ، بلکہ اس کے لیے چند اضافی شرائط کی پابندی لازمی ہے جو بہت ہی مخصوص حالات کے ماسوا ممکن نہیں ہوسکتا ۔
خامساً : عام حملوں میں بم اور بارود کے استعمال کو اضطرار کے قاعدے کے تحت جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور مثلہ کی ممانعت کے حکم کو اضطرار کے قاعدے کے تحت غیر مؤثر سمجھا جاسکتا ہے لیکن خود کش حملے میں ان کے استعمال کو اس وجہ سے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا کہ اس کے نتیجے میں حملہ آور خود اپنی موت کا باعث بنتا ہے ۔ گویا اگر اس اجازت دی گئی تو یہ خود کشی کی ممانعت کے حکم کو معطل کرنے کے مترادف ہوگا ۔ کیا خود کشی کی ممانعت کو اضطرار کے تحت معطل کیا جا سکتا ہے ؟
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر اسلامی شریعت کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے حملہ کیا جائے تو وہ ’’ خود کش حملہ ‘‘ نہیں ہوگا ۔ پس اسلامی آداب القتال کی پابندی کرتے ہوئے خود کش حملوں کے جواز کے لیے کوئی راہ نہیں نکالی جاسکتی ۔
ھذا ما عندی ، و العلم عند اللہ ۔ اللھم أرنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعہ، و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ ۔
حواشی
۱۔ اس موضوع پر بین الاقوامی قانون کے ایک اچھے تعارف کے لیے دیکھئے :
Michael Akehurst, Modern Introduction to International Law (New York: Routledge, 1997), pp 306-363.
۲ ۔ ایضاً ، ص ۳۵ ۔ ۴۷
۳ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے :
Larry Maybee and Benerji Chakka (ed.), Custom as a Source of International Humanitarian Law (New Delhi: ICRC, 2006).
۴ ۔ آداب القتال کے بین الاقوامی قانون کے خلاصے اور تعارف کے لیے دیکھئے :
Hans-Peter Gasser, International Humanitarian Law (Haupt: Henry Dunant Institute, 1993).
۵ ۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۸۵ کے تحت جنگی قیدی کے خلاف کسی ایسے جرم میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے جو اس نے قید کرنے والے فریق کے خلاف کیا ہو ۔ دفعہ ۱۰۰ کے تحت اسے سزائے موت بھی سنائی جاسکتی ہے ۔
۶۔
International Humanitarian Law, 58-61
۷ ۔ ایضاً ، ص ۶۲ ۔ ۶۶
۸ ۔ ایضاً ، ص ۵۰ ۔ ۵۲ ۔
۹۔
The Legality of the Threat or Use of Nuclear Weapons, ICJ 1996 Rep 66
۱۰ ۔ اس اصول کی بنیاد پر دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی اور جرمن جرنیلوں کو سزائیں دینے کے لیے خصوصی عدالتیں ٹوکیو اور نورمبرگ میں قائم کی گئیں ۔ اسی طرح یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مجرموں کو سزا دینے کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جس نے اس اصول کو پھر تسلیم کیا ۔ اس اصول کو روانڈا کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ اب اس قسم کے مجرموں کو سزا دینے کے لیے جو مستقل ’’ عالمی فوجداری عدالت ‘‘ (International Criminal Court) قائم ہوئی ہے اس کے دستور میں بھی اس اصول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روایتی طور پر سفیر اور سربراہ ریاست کو عام طور پر فوجداری قانون کے اطلاق سے مستثنی مانا گیا تھا لیکن جنرل پنوشے کیس سے ثابت ہوا ہے کہ اب بین الاقوامی فوجداری قانون (International Criminal Law) کے اطلاق سے سفیر اور سربراہ ریاست بھی مستثنی نہیں ہیں ۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر کے خلاف کاروائی کی بنیاد بھی یہی اصول ہے ۔
۱۱ ۔ دیکھئے چوتھے ہیگ معاہدے کی دفعہ ۱ ؛ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴۔
۱۲ ۔ چوتھے ہیگ معاہدے کی دفعہ ۲ ؛ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۴ ۔
۱۳ ۔ پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۴۳
۱۴ ۔ دیکھئے : پہلے اضافی پروٹوکول کی دفعہ ۳۷
۱۵ ۔ دیکھئے :
International Humanitarian Law, 56-58; Pietro Verri, Dictionary of the International Law of Armed Conflict (Geneva: International Committee of the Red Cross, 1992), p 100.
۱۶ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے :
Muhammad Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self- determination in International Law and Shari'ah: A Comparative Study, Dissertation of LLM Shari'ah and Law, International Islamic University Islamabad, 2006, pp 88-97 and 121-35.
۱۷ ۔ سنن الترمذی ، کتاب الأحکام ، باب ما ذکر عن النبی ﷺ فی الصلح بین الناس ، حدیث رقم ۱۲۷۲
۱۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب البیوع ، باب اذا اشترط شروطاً فی البیع لا تحل ، حدیث رقم ۲۰۲۳
۱۹ ۔ اس اصول پر فقہاء نے لاتعداد جزئیات کی بنیاد رکھی ہے ۔ مثال کے طور پر انہوں نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی نے معاہدہ کرکے دو دراہم اور ایک دینار کے بدلے ایک درہم اور دو دینار لیے تو یہ معاہدہ صحیح ہوگا حالانکہ معلوم ہے کہ ایک درہم کا دو دراہم کے ساتھ اور ایک دینار کا دو دینار کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں ہے ۔ تاہم معاہدے کی تصحیح حسب الامکان واجب ہے ۔ اس لیے یہ فرض کیا جائے گا کہ اس نے دو دراہم کے بدلے دو دینار لیے اور ایک دینار کے بدلے ایک درہم لیا ، اور یہ دونوں معاملات اپنی جگہ صحیح ہیں ۔( امام ابو بکر برہان الدین المرغینانی ، الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ( بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندار ) ، کتاب الصرف ، ج ۳ ، ص ۸۳ )
۲۰ ۔ اس موضوع پر تفصیلی فقہی تجزیے کے لیے دیکھئے : امام ابو بکر محمد بن احمد ابی سہل السرخسی ، شرح کتاب السیر الکبیر (بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۱۹۹۷ م ) ، باب قتل الأساری و المن علیہم ، ج ۳ ، ص ۱۲۴ ۔ ۱۳۵ ۔
۲۱ ۔ تیسرے جنیوا معاہدے کی دفعہ ۱۱۸
۲۲ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ، ج ۱ ، ص ۲۱۰
۲۳ ۔ ایضاً
۲۴ ۔ ایضاً
۲۵ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۳
۲۶ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۲
۲۷ ۔ ایضاً
۲۸ ۔ ایضاً
۲۹ ۔ ایضاً ، ص ۲۱۴
۳۰ ۔ ایضاً
۳۱ ۔ ایضاً
۳۲ ۔ اسلامی آداب القتال کے ایک اچھے مطالعے کے لیے دیکھئے :
محمد منیر ، أحکام المدنیین فی الحرب فی الفقہ الاسلامی و القانون الدولی الانسانی ۔ دراسۃ مقارنۃ ، بحث مقدم لنیل درجۃ الماجستیر فی الشریعۃ و القانون ، کلیۃ الشریعۃ و القانون ، الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ ، اسلام آباد ، ۱۹۹۶ م
مزید دیکھئے :
Muhammad Mushtaq Ahmad, International Humanitarian Law and Islamic Law, Journal of Law and Society, Vol. XXXVI, No. 49, January 2007, Legal Research Centre, Law College, University of Peshawar
۳۳ ۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : ابو الولید محمدبن احمد ابن رشد ، بداےۃ المجتھد و نھایۃ المقتصد ، (الریا ض: مکتبۃ مصطفی باز ، ۱۹۹۵ء ) ، ج ۱ ، ص ۳۷۱ ؛ کمال الدین محمد ابن الھمام الاسکندری ، فتح القدیرعلی الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، (القاھرۃ : دارالکتب العربیۃ ، ۱۹۷۰ء ) ، ج ۴ ، ص ۲۹۱ ؛ سحنون عبد السلام بن سعید بن حبیب التنوخی ،المدونۃ الکبری، (القاھرۃ ، دارالباز ، ۱۳۲۳ ھ) ، ج ۳، ص ۶ ؛ تقی الدین ابن شہاب الدین ابن تیمیۃ ، قاعدۃ فی قتال الکفار ، (دمشق : مطبعۃ السنۃ المحمدیۃ ، ۱۹۴۹ء) ، ص۱۱۶ ۔
۳۴ ۔ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی ، المبسوط (بیروت : دار الکتب العلمیۃ ، ۲۰۰۱ م ) ، کتاب السیر ، باب معاملۃ الجیش مع الکفار ، ج ۱۰ ، ص ۳۶
۳۵ ۔ مسند احمد ، مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ ، و من مسند علی بن أبی طالب ، حدیث رقم ۱۰۴۱ ؛ مسند المکثرین من الصحابۃ ، باب و من مسند علی بن أبی طالب ، حدیث رقم ۳۶۹۴ ؛ أول مسند البصریین ، باب بقیۃ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری ، حدیث رقم ۱۹۷۳۲ ۔
۳۶ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب ما یجب من طاعۃ الوالی و ما لا یجب ، ج ۱ ، ص ۱۱۷
۳۷ ۔ صحیح البخاری ، کتاب المغازی ، باب بعث النبی ﷺ خالد بن الولید الی بنی جذیمۃ ، حدیث رقم ۳۹۹۴؛ علامہ شبلی نعمانی ، سیرت النبی ﷺ ( کراچی : دار الاشاعت ، ۱۹۸۵ء ) ، ج ۱، ص ۳۴۴ ۔
۳۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب الحرب خدعۃ ، حدیث رقم ۲۸۰۳ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الجھاد و السیر ، باب جواز الخداع فی الحرب ، حدیث رقم ۳۲۷۳ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الجھاد ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الکذب و الخدیعۃ فی الحرب ، حدیث رقم ۱۵۹۸ ۔
۳۹ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب سھمان الخیل فی دار الحرب ، ج ۳ ، ص ۴۸ ۔ عورتوں کا غنیمت میں حصہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جنگ میں حصہ نہیں لیتیں ۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر وہ جنگ میں زخمیوں کی تیمار داری کریں یا اور کسی طریقے سے جنگ میں حصہ لیں تب بھی ان کو مال غنیمت میں مقررہ حصہ (سھم) نہیں ملے گا ۔ البتہ اس صورت میں امام ان کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مال غنیمت میں ہی کچھ مال بطور انعام (رضخ) دے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غنیمت میں مقررہ حصہ مقاتلین کے لیے ہے ، جبکہ عورتوں کے متعلق مفروضہ یہ ہے کہ وہ اصلاً غیر مقاتلہ ہے ۔ تاہم قتال میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ غنیمت میں سے کچھ حصہ لینے کی مستحق ہوجاتی ہے ۔ یہ حصہ باقاعدہ مقاتل کے حصے کے برابر تو نہیں ہوتالیکن اسے اس بات کے اعتراف کے طور پر ادا کیا جاتا ہے کہ اس جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ گویا وہ وقتی طور پر مقاتلہ ہوگئی تھی ۔ امام سرخسی نے واضح کیا ہے کہ سہم ہو یا رضخ ، چونکہ ہر دو صورتوں میں اس کی ادائیگی مال غنیمت میں ہوتی ہے اس لیے ہر دو صورتوں میں ادائیگی کا استحقاق جنگ میں حصہ لینے کی بنا پر ہوتا ہے ۔ ( ایضاً ، ص ۴۹ ) ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ سہم باقاعدہ مقاتل کو ادا کیا جاتا ہے جبکہ رضخ اس کو ادا کیا جاتا ہے جو باقاعدہ مقاتل نہ ہو مگر کسی موقع پر قتال میں حصہ لے ۔
۴۰ ۔ کئی روایات میں یہ ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر پر دیکھئے : صحیح مسلم ، کتاب الجہاد و السیر ، باب تأمیر الامام الأمراء علی البعوث و وصیتہ ایاھم ، حدیث رقم ۳۲۶۱ ؛ سنن الترمذی ، کتاب السیر ، باب ما جاء فی وصیتہ فی القتال ، حدیث رقم ۱۵۴۲ ۔
۴۱ ۔ امام علی بن احمد ابن حزم الظاھری ، المحلی بالآثار (القاھرۃ : ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ، ۱۹۳۴ م ) ، ج ۷ ، ص ۲۹۶۔ ۲۹۷
۴۲ ۔ المغنی، ج ۸ ، ص ۴۷۷؛ محمد بن علی الشوکانی ، نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار ( بیروت : دار الفکر، ۱۹۹۴ م ) ، ج ۷ ، ص ۲۰۱ ۔
۴۳ ۔ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی ، تمھید الفصول فی الأصول ( لاہور : مکتبہ مدنیہ ، تاریخ ندارد ) ، ج ۱ ، ص ۱۴۴ ۔ ۱۴۹
۴۴ ۔ سنن ابن ماجۃ ، کتاب الجھاد ، باب الغارۃ و البیات و قتل النساء و الصبیان ، حدیث رقم ۲۸۳۲
۴۵ ۔ صحیح مسلم ، کتاب الجھاد و السیر ، باب قتل کعب بن الأشرف طاغوت الیھود ، حدیث رقم ؛ سنن أبی داود ، کتاب الخراج و الامارۃ و الفیء ، باب کیف کان اخراج الیھود من المدینۃ ، حدیث رقم ۲۶۰۶
۴۶ ۔ سورۃ النسآء کی آیت ۴۶ کے بموجب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی ’’ طعن فی الدین ‘‘ ہے ، اور سورۃ التوبۃ کی آیت ۱۳ کے بموجب قتال کا ایک بنیادی سبب طعن فی الدین ہے ۔
۴۷ ۔ ابو عزہ عمرو بن عبد اللہ الجمحی نامی اس شاعر کو غزوۂ بدر میں گرفتار ی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے احساناً رہا کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ایسی حرکتیں نہیں کرے گا ۔ تاہم وہ رہائی کے بعد مزید زور و شور سے آپ کے خلاف اشعار کہتا رہا اور مشرکین کو آپ کے خلاف ابھارتا رہا ۔ غزوۂ احد میں وہ دوبارہ گرفتار ہوا تو اسے قتل کردیا گیا ۔ ( نصب الرایۃ لأحادیث الھدایۃ ، ج ۳ ، ص ۴۰۹ ) یہ بھی واضح ہے کہ وہ دونوں دفعہ جنگ میں پکڑا گیا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شاعری سے قطع نظر کیا جائے تب بھی وہ مقاتل تھا ۔ درید بن الصمۃ ایک نہایت عمر رسیدہ (بعض روایات کے مطابق ایک سو ساٹھ سال کی عمر کا ) تھا ۔ اس نے غزوۂ حنین کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ یہ قبیلۂ جشم کا سردار تھا اور اس کی شاعری کے علاوہ بہادری کے قصے بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے تھے ۔ مزید برآں ، وہ ہزاروں کی جمعیت لے کر جنگ میں شرکت کے لیے اوطاس آیا تھا ۔ ( مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے : شبلی ، سیرت النبی ﷺ ، ج ۱ ، ص ۳۰۵ ۔ ۳۱۱ )
۴۸ ۔ سنن النسائی ، کتاب البیعۃ ، باب فی تشدید عصیان الامام ،حدیث رقم ۴۱۲۴ ؛ سنن ابی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی من یغزو و یلتمس الدنیا ،حدیث رقم ۲۱۵۴
۴۹۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب یقاتل من وراء الامام و یتقی بہ ، حدیث رقم ۲۷۳۷ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب الامام جنۃ یقاتل من وراۂ و یتقی بہ ،حدیث رقم ۳۴۱۸
۵۰ ۔ سنن ابی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی الغزو مع أئمۃ الجور ، حدیث رقم ۲۱۷۱
۵۱ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر ، باب ان اللہ یؤید ھذا الدین بالرجل الفاجر ، حدیث رقم ۲۸۳۴ ؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ ، حدیث رقم ۱۶۲
۵۲ ۔ امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ، کتاب الخراج (القاھرۃ : المطبعۃ السلفیۃ ، ۱۹۳۴ ء ) ، ص ۲۱۵
۵۳ ۔ امام موفق الدین ابن قدامۃ الحنبلی ، المغنی فی فقہ امام السنۃ احمد بن حنبل الشیبانی ، (بیروت : دار احیاء التراث العربی ، تاریخ ندارد ) ، ج ۸ ، ص ۳۵۲
۵۴ ۔ ایضاً ، ص ۳۵۳
۵۵ ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :
Use of Force for the Right of Self-determination, pp 216-226
۵۶ ۔ جہاد عام حالات میں فرض کفائی ہوتا ہے لیکن بعض مخصوص حالات میں یہ فرض عینی ہوجاتا ہے ۔ دیکھئے : الھدایۃ ، کتاب السیر ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ ۔
۵۷ ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حقوق کی حفاظت میں قتل ہونے والے کو شہید قرار دیا ہے ۔ دیکھئے : صحیح البخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من قاتل دون مالہ ، حدیث رقم ۲۳۰۰ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الدیات ، باب ما جاء فی من قتل دون مالہ فھو شہید ،حدیث رقم ۱۳۴۰ و ۱۳۴۱ ؛ سنن النسائی ، کتاب تحریم الدم ، باب من قتل دون مالہ ، حدیث رقم ۴۰۲۵ ۔
۵۸ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجھاد و السیر، باب من رأی العدو فنادی بأعلی صوتہ ، حدیث رقم ۲۸۱۴
۵۹۔ تفصیل کے لیے دیکھئے : المبسوط ، کتاب السیر ، باب ما أصیب فی الغنیمۃ مما کان المشرکون أصابوہ من مال المسلم، ج ۱۰ ، ص ۸۲ ۔ اس مسئلے کے بعض دیگر اہم پہلوؤں کی وضاحت کے لیے دیکھئے : شرح کتاب السیر الکبیر ، باب النفل فی دار الحرب ، ج ۲ ، ص ۱۵۰ ؛ باب النفل من أسلاب الخوارج ، ج ۲ ، ص ۲۲۷ ؛ باب ما یجوز من النفل بعد اصابۃ الغنیمۃ ، ج ۲ ، ص ۲۵۹ ؛ باب سھمان الخیل فی دار الحرب ، ج ۳ ، ص ۴۸۔
۶۰ ۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے :
Muhammad Mushtaq Ahmad, Use of Force for the Right of Self- determination in International Law and Shari'ah: A Comparative Study, Dissertation of LLM Shari'ah and Law, International Islamic University Islamabad, 2006.
۶۱ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب نکاح أھل الحرب و دخول التجار الیھم بالأمان ، ج ۱۰ ، ص ۱۰۶ ۔ ۱۰۷
۶۲ ۔ سنن أبی داود ، کتاب الجھاد ، باب فی سل السیوف عند اللقاء ، حدیث رقم ۲۲۹۰
۶۳ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب وصایا الأمراء ، ج ۱ ، ص ۴۴
۶۴ ۔ اصحاب السنن نے اسے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر روایت کیا ہے ۔ ایک موقع پر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل روم سے معاہدہ کیا تھا تو معاہدہ ختم ہونے کی مدت سے کچھ قبل انہوں نے روم کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی تاکہ معاہدے کا وقت ختم ہوتے ہی ان پر حملہ کردیں ۔ اس موقع پر عمرو بن عبسہ لشکر میں یہ آواز بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے کہ : فی العھود وفاء ، لا غدر۔ اس کے بعد آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث سنائی :
من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلن عقداً و لا یشدن حتی یمضی أمدہ أو ینبذ الیھم علی سواء ۔ ( سنن الترمذی ، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغدر ، حدیث رقم ۱۵۰۶ )
[ جس نے کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا تو وہ نہ اس معاہدے کی گرہ کھولے نہ ہی اسے مزید سخت کرے یہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہو ، یا وہ انہیں معاہدہ ختم کرنے کے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردے ۔ ]
۶۵ ۔ سنن الترمذی ، کتاب الفتن ، باب ما جاء ما أخبر النبی ﷺ أصحابہ بما ھو کائن الی یوم القیامۃ، حدیث رقم ۲۱۱۷؛صحیح البخاری ،کتاب الجزیۃ ، باب اثم الغادر للبر والفاجر ، حدیث رقم ۲۹۴۹؛ صحیح مسلم، کتاب الجھاد و السیر ، باب تحریم الغدر ، حدیث رقم ۳۲۶۹۔
۶۶ ۔ اوپر ہم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ ذکر کیا وہ درحقیقت غدر کے مفہوم میں داخل نہیں تھا لیکن چونکہ صورۃً اسے غدر کہا جاسکتا تھا اس لیے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ۔ (شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج ۱ ، ص ۱۸۴ ۔ ۱۸۵ )
۶۷ ۔ ایضاً ، باب الحرب خدعۃ ، ج ۱ ، ص ۸۵ ۔ ۸۶
۶۸ ۔ ایضاً ، ص ۸۶
۶۹۔ ایضاً
۷۰ ۔ کنز العمال ، ج ۱۰ ، ص ۷۴۲
۷۱ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الحرب خدعۃ ، ج۱ ، ص ۸۶
۷۲ ۔ کنز العمال ، ج ۱۰ ، ص ۷۴۲
۷۳ ۔ سنن أبی داود ، کتاب الجھاد ، باب المکر فی الحرب ، حدیث رقم ۲۲۶۷ ۔ بعض مواقع پر رسول اللہ ﷺ نے بعض دیگر مصالح کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کے برعکس طرز عمل بھی اختیار کیا ۔ مثلاً غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صراحتاً پہلے ہی سے لوگوں کو مطلع کیا کہ ان کا ارادہ کئی سو میل دور جاکر روم کے ساتھ لڑنے کا ہے ۔ اس غزوہ نے منافقین اور مومنین کے درمیان تمیز کا کام تکمیل تک پہنچایا ، جیسا کہ سورۃ التوبۃ میں مفصل مذکور ہے ۔
۷۴ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج۱ ، ص۱۸۳
۷۵ ۔ ایضاً
۷۶ ۔ ایضاً ، باب ما یکون أماناً ممن یدخل دار الحرب و الأسری و ما لا یکون أماناً ، ج ۲ ، ص ۶۶
۷۷ ۔ ایضاً ، ص ۶۶۔ ۶۷
۷۸ ۔ ایضاً
۷۹۔ ایضاً ، ص ۶۸
۸۰ ۔ ایضاً
۸۱ ۔ ایضاً
۸۲ ۔ ایضاً ، ص ۶۸ ۔ ۶۹
۸۳ ۔ ایضاً ، ص ۶۹
۸۴ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب الخوارج ، ج ۱۰ ، ص ۱۳۹ ؛ مجمع الزوائد ، ج ۶ ، ص ۳۷۶
۸۵ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من یحل لہ الخمس و الصدقۃ ، ج ۱ ، ص ۱۱۵
۸۶ ۔ ایضاً
۸۷ ۔ صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی قاتل النفس ، حدیث رقم ۱۲۷۵ ؛ کتاب الطب ، باب شرب السم و الدواء بہ ، حدیث رقم ۵۳۳۳ ؛ صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب غلظ تحریم الانسان قتل نفسہ ، حدیث رقم ۱۵۸ ؛ سنن الترمذی ، کتاب الطب ، باب ما جاء فی من قتل نفسہ بسم أو غیرہ ، حدیث رقم ۱۹۶۶ ؛ سنن النسائی ، کتاب الجنائز، باب ترک الصلوۃ علی من قتل نفسہ ، حدیث رقم ۱۹۳۹ ۔
۸۸ ۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من یحل لہ الخمس و الصدقۃ ، ج ۱ ، ص ۱۱۵
۸۹ ۔ ایضاً
۹۰ ۔ ایضاً ، باب من قاتل فأصاب نفسہ ، ص ۷۳
۹۱ ۔ مسند احمد ، باقی مسند الأنصار ، باب و من حدیث ثوبان ، حدیث رقم ۲۱۳۳۰ ؛ مجمع الزوائد ، ج ۳ ، ص ۱۵۴۔ ۱۵۵؛ کنز العمال ، ج ۱ ، ص ۵۰۷ ۔
۹۲ ۔ محمد امین ابن عابدین الشامی ، مجموعۃ رسائل ابن عابدین ( دمشق : المکتبۃالھاشمیۃ ، ۱۳۲۵ ھ ) ، ج ۱ ، ص ۳۴۴
۹۳ ۔ المبسوط ، کتاب السیر ، باب معاملۃ الجیش مع الکفار ، ج ۱۰ ، ص ۳۸
۹۴ ۔ ایضاً
۹۵ ۔ المستصفی من علم الأصول ، ج ۱ ، ص ۲۱۸
۹۶ ۔ ایضاً
۹۷۔ شرح کتاب السیر الکبیر ، باب من قاتل فأصاب نفسہ ،ج ۱ ، ص ۷۵
۹۸۔ ایضاً
۹۹۔ بدایۃ المبتدی کے متن میں مذکور ہے :
و کل عمد سقط القصاص فیہ بشبھۃ فالدیۃ فی مال القاتل ۔ و کل أرش وجب بالصلح فھو فی مال القاتل ۔ (الہدایۃ ، کتاب الدیات ،ج ۴ ، ص ۴۷۰ )
[ ہر وہ عمد جس میں قصاص کسی شبہے کی وجہ سے ساقط ہوجائے تو اس کی دیت قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی ۔ اور وہ ارش جو صلح کی وجہ سے واجب ہو تو وہ بھی قاتل کے مال سے ادا کیا جائے گا ۔ ]
البتہ اس قاعدے سے یہ استثنا آگے ذکر کیا گیا ہے کہ بچے اور مجنون کا عمد بھی خطا شمار ہوتا ہے :
و عمد الصبی و المجنون خطأ ، و فیہ الدیۃ علی العاقلۃ ۔( ایضاً )
[ بچے اور مجنون کا عمد خطا شمار ہوتا ہے ، اور اس میں دیت عاقلہ پر واجب ہوتی ہے ۔ ]
۱۰۰ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جذیمہ کو پہنچنے والے مالی نقصان کی تلافی بھی اپنی طرف سے کی تھی۔ اس سلسلے میں ایک رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لیے عاقلہ ہونے کے ناطے یہ تاوان ادا کیا مگر سرخسی اس موقف کو اس بنا پر رد کرتے ہیں کہ عاقلہ مالی نقصان کی تلافی کی ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ (شرح کتاب السیر الکبیر ، باب الأمان ثم یصاب المشرکون بعد أمانھم ، ج ۱ ، ص ۱۸۱) ان کے نزدیک یہ ادائیگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تبرع کی تھی ۔ ہماری ناقص رائے میں زیادہ صحیح موقف یہ ہے کہ یہ ادائیگی حکومت کی جانب سے کی گئی تھی کیونکہ مقتولین کی دیات ، مجروحین کے اروش اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے ساری ادائیگی بیت المال سے کی گئی۔
پاکستان کی جہادی تحریکیں: ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ
حافظ محمد زبیر
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے اپریل ۲۰۰۸ء کے شمارے میں جناب سیف الحق صاحب کی طرف سے القاعدہ اوردوسری معاصرتحریکوں کے جہاد پر ایک تنقیدی تحریرشائع ہوئی ۔اس تحریر کے جواب میں جون ۲۰۰۸ء میں سید عرفان اللہ شاہ ہاشمی کا ایک خط شائع ہوا ۔مزید برآں اگست ۲۰۰۸ء کے شمارے میں سیف الحق صاحب کی تحریر پر شدید رد عمل کا اظہار دو خطوط کی صورت میں پڑھنے کو ملا ‘ جن میں سے ایک خط جناب مولانا محمد فاروق کشمیری صاحب کا تھا جبکہ دوسرا قاضی محمد حفیظ کا ‘۔جناب سید عرفان صاحب‘ مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کے شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کے حق میں جذبات قابل قدر ہیں لیکن ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا کہ سیف الحق صاحب کی تحریر کو شائع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا ‘ ایک بالکل غیر شرعی ‘ غیر اخلاقی اور غیر علمی رویہ ہے۔یہ واضح رہے کہ قرآن و سنت میں بیان شدہ جہادو قتال کے تصور اورمعاصر جہاد ی تحریکوں کے اعمال و افعال میں وہی فرق ہے جو کہ اسلام اور کسی مسلمان کے عمل میں ہوتا ہے۔کسی مسلمان کے اعمال و افعال پر تنقید کرنے کا مطلب اسلام پر نقد کرنا نہیں ہے۔ہاں اگر تو کوئی شخص قرآن وسنت میں بیان کیے گئے احکام جہاد کا انکار کر دے یا انہیں منسوخ سمجھے تو ایسے شخص کی تحریر واقعتاً قابل اشاعت نہیں ہونی چاہیے۔جہادی تحریکوں میں عموماًجذباتی رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ جب مجاہدین کے اخلاق ‘ رویوں ‘ کردار و اعمال اور ان کی ذاتی رائے پر مبنی بعض نظریات پر تنقید کی جاتی ہے تو اس کو جہادو قتال پر نقد سمجھتے ہیں۔کسی نظریے یا نکتہ نظر کی صحت کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ اپنے مخاطب کو اس کی دلیل کے طور پر قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر سنا دی جائے ۔قرآن کو اپنے نکتہ نظر کی دلیل کے طور پر تو غلام احمد قادیانی بھی نقل کرتا رہا ہے اور غلام احمد پرویز بھی۔جناب طاہر القادری صاحب بھی قرآن بیان کرتے ہیں اور علامہ طالب جوہری بھی۔غامدی صاحب بھی قرآن سے دلیل پکڑتے ہیں اور جہادی تحریکوں کے رہنما بھی ‘ڈاکٹر اسرار صاحب بھی اپنی تقاریرو مجالس میں کثرت سے قرآن پڑھتے ہیں اور مولانا طارق جمیل بھی‘ حالانکہ ان سب حضرات کے نظریات میں زمین و آسمان کا فر ق ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ قرآن کی جس آیت کو اپنے موقف کی دلیل کے طور پرپیش کیا جا رہا ہے وہ ان اصول وضوابط کے مطابق کہ جنہیں علما کے ہاں اصول تفسیر و اصول فقہ کہتے ہیں‘ اس نکتہ نظر کی دلیل بن رہی ہے یانہیں۔ اگرتو علماے سلف صالحین کے منہج فہم کے مطابق قرآن کی آیت کو سمجھا جا رہا ہے اور بطور دلیل نقل کیا جا رہا ہے تو قرآن کی دلیل بہت ہی اعلیٰ دلیل ہے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر ہماری بات وہی ہے جو کہ حضرت علیؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو اس وقت کی تھی جبکہ ان کو خوارج کی طرف بھیج رہے تھے ۔حضرت علیؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو نصیحت کی تھی کہ خوارج کو سمجھاتے وقت قرآن سے دلیل نہ دینا کیونکہ قرآن میں اجمال ہے اور وہ اس کاغلط مفہوم نکال لیں گے۔
مولانا فاروق کشمیری اور قاضی حفیظ صاحب کی طرح جناب سیف الحق صاحب کے دین و ایمان کے بارے میں بھی حسن ظن رکھتے ہیں اور مناسب طرز عمل تو یہ تھا کہ سیف الحق صاحب نے مروجہ جہاد و قتال کے حوالے سے جن اعتراضات کا اظہار کیاتھا، ان کا علمی اسلوب میں جواب دیا جاتا‘ نہ کہ اس کے چھاپنے کو ہی ایک ایشو بنا لیا جانا چاہیے۔مسئلہ صرف سیف الحق صاحب کانہیں ہے بلکہ ہزاروں مسلمانوں ‘ علماء ‘ جہادی تحریکوں کے سابقہ کارکنان ‘ دوسری اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں اور کارکنان کو مروجہ جہاد کے حوالے سے کچھ اشکالات لاحق ہیں اور وہ ان کا علمی اسلوب میں جواب چاہتے ہیں جبکہ جہادی تحریکوں کے پاس ہر سوال کا بس ایک ہی جواب ہوتاہے کہ ’یہ جہاد کے مخالفین ہیں‘۔ہم ایک مکالمے کی صورت میں اپنے کچھ سوالات و اشکالات جہادی تحریکوں کے سامنے رکھ رہے ہیں۔جہادی تحریکوں کے علماء یا امراء اس حوالے سے ہماری رہنما ئی کے لیے کچھ لکھیں گے تو دلیل کی روشنی میں اپنی رائے تبدیل کرنے میں ہمیں ہر گز پیچھے نہ پائیں گے۔
ہمارے ہاں طالبان کی تین قسمیں پائی جاتی ہیں۔پہلی قسم افغانستان کے طالبان کی ہے ۔دوسرے پاکستانی طالبان ہیں اور تیسرے جرائم پیشہ لوگ ہیں جو کہ طالبان کی آڑ میں ملکی نظام اور امن عامہ کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔ذیل میں ہم طالبان کی ان تما م جماعتوں کے وجود میں آنے کے اسباب و محرکات‘ تاریخ ‘ عقائد و نظریات اور عملی جدوجہد کا ایک تجزیاتی جائزہ لیں گے۔
شمالی و جنوبی وزیرستان کا جہاد: تاریخ و أسباب
وزیرستان پاکستان کے شمال مغرب میں ایک پہاڑی علاقہ ہے کہ جس کی سرحد افغانستان سے بھی ملتی ہے۔ وزیرستان جغرافیائی اعتبار سے دو حصوں’شمالی وزیرستان‘اور ’جنوبی وزیرستان‘ میں تقسیم ہے۔۱۹۹۸ء کے اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان کی آبادی تقریباًتین لاکھ اکسٹھ ہزار اور جنوبی وزیرستان کی آبادی چار لاکھ انتیس ہزار تھی۔شمالی وزیرستان کا صدر مقام’ میران شاہ ‘ہے جبکہ جنوبی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر ’وانا‘ ہے۔
وزیرستان کے مقامی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد جہاد افغانستان اور طالبان تحریک میں بھی شامل رہی تھی۔ نومبر ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے غیر ملکی اورمقامی مجاہدین نے وزیرستان کا رخ کیااور یہاں پناہ لی۔امریکہ نے ان مجاہدین کے حوالے سے حکومتِ پاکستان پر دباؤڈالا۔
حکومت پاکستان نے جولائی ۲۰۰۲ء میں مقامی قبائلیوں کی رضامندی سے علاقے کی ترقی کے بہانے ’وادی تیرہ ‘اور ’خیبر ایجنسی‘ میں اپنی فوجیں اتاریں۔ اور کچھ ہی عرصہ بعدحکومت نے اچانک ہی جنوبی وزیرستان پر ہلا بول دیا۔مقامی لوگوں نے حکومت پاکستان کے اس اقدام کو اپنی آزادی کے منافی سمجھا اور پاکستانی افواج و مقامی قبائلیوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔مارچ ۲۰۰۴ء میں ’وانا‘ کے قریب ’أعظم وارسک‘ کے مقام پر حکومت اور قبائلیوں کے مابین ایک بڑی جھڑپ ہوئی۔
اپریل ۲۰۰۴ء میں پے در پے ناکامیوں کے بعدحکومت پاکستان نے ’نیک محمد‘ کی قیادت میں لڑنے والے قبائلیوں سے امن معاہدہ کر لیا۔جون ۲۰۰۴ء میں ’نیک محمد‘ کو ایک امریکی میزائل کے ذریعے شہید کر دیاگیا۔اکتوبر ۲۰۰۴ء میں جنوبی وزیرستان کے ایک بڑے رہائشی محسودقبیلے کے جنگجو عبد اللہ محسود مقامی قبائلیوں کے رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے ۔یہ حضرت تقریباً ڈیڑھ سال تک گوانتاناموبے جیل میں قید رہے تھے بعد ازاں امریکی حکام نے ا ن کو رہا کر دیا تھااور ان کی رہائی کی وجہ آج تک ایک سوالیہ نشان ہے۔مارچ ۲۰۰۳ء میں یہ رہا کیے گئے تھے۔درمیان میں ایک ڈیڑھ سال چھپے رہے اور اکتوبر ۲۰۰۴ء کے قریب ایک دم سے میڈیا میں ان کے بیانات آنے شروع ہو گئے ۔عبد اللہ محسود کو میڈیا میں آنے کا بہت شوق تھا یہاں تک کہ ان کانام ہی میڈیا فرینڈلی کمانڈر کے طور پر معروف ہو گیا تھا‘یہ حضرت خود سے ٹی وی چینلز کو فون کر کے اپنے انٹر ویو ریکارڈ کرواتے تھے۔دو چینی انجینیئرز کو اغواء کرنے کی وجہ سے ۲۰۰۷ء میں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے شہید کر دیاگیا۔
عبد اللہ محسود کے علاوہ ایک اور جنگجو بیت اللہ محسود بھی مقامی طالبان کے رہنما کے طور پر سامنے آئے۔بیت اللہ محسود ایک سنجیدہ مزاج اور فہم و فراست رکھنے والے کمانڈر ہیں۔فروری ۲۰۰۵ء میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قبائلیوں کا حکومت پاکستان سے معاہدہ ہوا۔ بیت اللہ محسودنے عبد اللہ محسود کو بھی اس معاہدے میں شریک کرنے کی درخواست کی لیکن حکومت پاکستان نے چینی انجینیئرز کے اغواء کے معاملے کی وجہ سے عبد اللہ کو اس معاہدے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔
جولائی ۲۰۰۷ء میں حکومت پاکستان نے لال مسجد پر حملہ کر تے ہوئے بیسیوں طلباء اورسینکڑوں بچیوں کو شہید کر دیا‘ جس کے رد عمل میں بیت اللہ محسود نے افواج پاکستان پر خود کش حملوں کی دھمکیاں دیں اور معاہدہ توڑنے کا اعلان کیا۔
دسمبر ۲۰۰۷ء میں سات قبائلی ایجنسیوں شمالی وزیرستان ‘ جنوبی وزیرستان‘ کرم ایجنسی‘ باجوڑ ایجنسی‘ خیبر ایجنسی‘ أورکزئی ایجنسی اور مہمند ایجنسی کے علاوہ مالاکنڈ ڈویزن‘ سوات اور درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے بیس کے قریب طالبان رہنماؤں کا اجلاس ہوااور بیت اللہ محسود کی قیادت میں ’تحریک طالبان پاکستان ‘ کا قیام عمل میں آیا۔چالیس رکنی شوری بھی مقرر کی گئی اور مولوی عمر کو تحریک کا ترجمان بنایا گیا۔
جنوری ۲۰۰۸ء میں حکومت پاکستان نے دوبارہ محسود قبائل کے خلاف آپریشن شروع کر دیاجس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے وزیرستان علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی۔۶فروری ۲۰۰۸ء کو ’تحریک طالبان پاکستان‘ نے سوات سے وزیرستان تک افواجِ پاکستان کے خلاف کاروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا۔
جنوبی وزیرستان کے مقامی جنگجو’نیک محمد‘ ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں سینکڑوں غیر ملکیوں کو ’وانا‘ لے کر آئے تھے۔ یہ غیر ملکی یہاں آ کر آباد ہو گئے تھے اور قبائلیوں نے ان پر کوئی اعتراض نہ کیا۔۲۰۰۴ء میں ’نیک محمد‘ کی قیادت میں قبائلیوں نے افواج پاکستان کوبھاری نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں امن معاہدہ ہوا اور بعد ازاں نیک محمد ایک میزائل حملے میں شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد ان کے کمانڈروں نے مختلف دھڑے بنا لیے اور اپنی اپنی اجارہ داریاں قائم کر لیں۔طالبان کی اعلی قیادت نے جنوبی وزیرستان میں ’ملا نذیر‘ کو طالبان کا لیڈر مقرر کردیا۔
جنوبی وزیرستان میں اسی عرصے میں مقامی طالبان کو غیر ملکی ازبک مجاہدین کے رویوں سے کچھ شکایات پیدا ہوئیں اور بہت سے مقامی سرداروں کے قتل کا الزام بھی ازبکوں پر لگایا جاتا رہا۔ازبک کسی بھی مقامی سردار پر جاسوسی کا الزام لگا کر اس کو قتل کر دیتے تھے۔انہوں نے زمین میں گڑھے کھود کر اپنی جیلیں بنائی ہو ئی تھیں جہاں وہ اپنے مخالفین کو قید رکھتے تھے۔صورت حال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب القاعدہ سے متعلق ایک عرب مجاہد سیف العادل کو ازبکوں نے شہید کر دیا۔مقامی طالبان ملا نذیر کی قیادت میں ازبکوں کے خلاف اکھٹے ہو گئے اور مقامی و غیر ملکی مجاہدین میں آپس کی لڑائی شروع ہوگئی۔ ازبک مجاہدین تین حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ان کا ایک حصہ تومقامی طالبان سے مل گیا جب ایک حصہ میر علی کی قیادت میں شمالی وزیرستان چلا گیا اور تیسرا حصہ قاری طاہر یلداشیو کی قیادت میں مقامی طالبان سے جہاد کرتا رہا۔اس جہاد کے نتیجے سینکڑوں مجاہدین شہید ہوئے اوربالآخر مقامی طالبان نے ازبک مجاہدین کا کنٹرول علاقے سے ختم کر دیا۔
شمالی وزیرستان کی طرف پیش قدمی افواج پاکستان کی طرف سے ۲۰۰۲ء میں ہوئی تھی۔۲۰۰۴ء کے شروع سے ہی مقامی طالبان اور سیکورٹی فورسز کے مابین گاہے بگاہے جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔حکومت پاکستان کا یہ دعوی تھا کہ اس علاقے میں وہ غیر ملکی اور القاعدہ کے مجاہدین موجود ہیں جو حکومت پاکستان اور امریکہ کو مطلوب ہیں۔شمالی وزیرستان کی صورت حال اس وقت زیادہ خراب ہو گئی جب مارچ ۲۰۰۶ء میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام’ میران شاہ‘ پر حملہ کر دیا اور اس حملے میں فضائیہ کا بھرپور استعمال کیا گیا۔فضائی حملوں کے نتیجے میں شہر تباہ ہو کر رہ گیا اور تقریباً تمام آبادی پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع ٹانک کی طرف ہجرت کر گئی۔اڑھائی برس کی اس باہمی جنگ کے بعد ۴۵ قبائل کے گرینڈ جرگہ اور حکومت کے مابین امن معاہدہ ہو گیا۔یہ معاہدہ ۲۰جولائی ۲۰۰۶ء کو ہوا۔
سوات کا جہاد: تاریخ و اسباب
مالاکنڈ ڈویزن سے سے تعلق رکھنے والے عالم دین صوفی محمد نے مالاکنڈ میں شریعت کے نفاذ کے لیے ’تحریک نفاذ شریعت محمدی ‘ کی بنیاد رکھی۔۱۹۹۴ء میں اس تحریک نے بغاوت کی جو کہ ناکام ہوگئی ۔ ۲۰۰۱ء میں جب طالبان حکومت پرامریکہ نے حملہ کیا تو صوفی محمد کی قیادت میں دس ہزار افراد کا لشکر مالاکنڈ سے طالبان کی نصرت کے لیے افغانستان گیا۔طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ افراد واپس پاکستان آ گئے اور امریکہ کو مطمئن کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے ان کی ایک بڑی تعداد کو القاعدہ کے ارکان کے طور پر پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنا شروع کر دیا جس کہ وجہ سے مقامی لوگوں میں حکومت اور سیکورٹی فورسز کے خلاف نفرت اور ردعمل میں اضافہ ہوا۔
۲۰۰۲ء میں پرویز مشرف نے تحریک پر پابندی لگا دی۔صوفی محمد کے داماد مولوی فضل اللہ کی قیادت میں مقامی مجاہدین اکٹھے ہو گئے۔مولوی فضل اللہ نے اپنے ایف ایم چینل کے ذریعے علاقے میں جہادی فکر پھیلانا شروع کر دیا۔’نفاذ شریعت محمدی‘ کے ضلع سوات کے امیر نے یہ بیان جاری کیا کہ مولوی فضل اللہ کا تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور صوفی محمد نے ان کو غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے کی وجہ سے تحریک سے نکال دیا ہے۔
مولانا فضل اللہ نے ’امام ڈھیرئی ‘ کو اپنا صدر مقام بنایااور وہاں دو کروڑ کی لاگت کے تخمینے سے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔انہوں نے ’شاہین فورس‘ کے نام سے ایک عسکری جماعت بھی قائم کی کہ جس میں پانچ ہزار کے قریب مسلح افرادشامل تھے ۔ ۲۰۰۶ء میں ان ا فراد نے مبینہ طور پر بازاروں میں مسلح ہو کر گشت کرنا شروع کر دیا‘تاہم علاقے کی صورت حال اس وقت خراب ہوئی جب جولائی ۲۰۰۷ء میں لال مسجد پر حکومت کے آپریشن نے ان کو آگ بگولا کر دیا اور انہوں نے سیکورٹی فورسرز پر خود کش حملے شروع کر دیے۔مولانا فضل اللہ نے سوات کی کئی ایک تحصیلوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔حکومت نے ان کے خلاف آپریشن میں فضائیہ او ر آرٹلری کو بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے سینکڑوں شہری شہید ہوئے اور ہزاروں افراد نے دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ۔ڈاکوؤں اور پرانی قبائلی دشمنیاں رکھنے والوں نے طالبان کے روپ میں لوگوں کو لوٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔علاقے میں طوائف الملوکی عام ہو گئی ۔
۲۷ نومبر ۲۰۰۷ء کو طالبان اپنے مورچے خالی کرتے ہوئے نامعلوم مقامات کی طرف روپوش ہوگئے اور ۳ دسمبر کوافواج پاکستان نے امام ڈھیرئی کا کنٹرول سنبھال لیا۔بعد ازاں مولانا فضل اللہ بھی بیت اللہ محسود کی قیادت میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ میں شامل ہو گئے۔
لال مسجد کا جہاد: تاریخ و اسباب
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ و لال مسجد اور حکومت پاکستان کی انتظامیہ کے مابین تنازع کی رپورٹیں۲۰ جنوری ۲۰۰۷ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے مسجد امیر حمزہ اوراس سے ملحق مدرسے کو گرانے کے بعد میڈیا میں آنا شروع ہوئی۔ لال مسجد کے خطیب کے ایک مبینہ بیان کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد کی طرف سے کچھ عرصے کے وقفے کے ساتھ سات سے زائد مساجد کو گرایا گیا۔علاوہ ازیں اسلام آباد انتظامیہ نے جامعہ مسجد ضیاء الحق ‘جامعہ مسجد شکر لال ‘جامعہ مسجد منگرال ٹاؤن‘جامعہ مسجد راول چوک ‘مسجد شہداء‘جامعہ مسجد مدنی ‘جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو بھی گرانے کے لیے نوٹس جاری کر دیے تھے ۔اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے مساجد و مدارس کوشہید کرنے کی اس مہم کی وجہ سے ملک بھر کے علماء ا ور مذہبی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ۔علماء کے ایک اجلاس میں ’تحریک تحفظ مساجد ‘ کے قیام کا اعلان ہواجس میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے عزم کا اظہارکیااورحکومت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جامعہ حفصہ سے ملحق دو بڑے کمروں پر مشتمل ایک چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا۔
۲۷ جنوری کو لال مسجد کے مہتم مولانا عبد العزیز صاحب کی طرف سے اخبارات میں ایک بیان شائع ہوا کہ جس میں حکومت سے چند مطالبات کیے گئے تھے ‘ان مطالبات میں گرائی جانے والی مساجد کی تعمیر نو‘ملک میں فحاشی کلچرکا خاتمہ ‘جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو بھیجے گئے حکومتی نوٹس کی واپسی اور پرویز مشرف کامساجد گرانے کے حوالے سے اللہ اور قوم سے معافی مانگنا شامل تھا۔مولانا نے مزید یہ بھی کہا کہ طالبات کا چلڈرن لائبریری پر اس وقت تک قبضہ برقرار رہے گا جب تک ملک کے اندر اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جاتا۔
۳ فروری کے اخباری بیانات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے مدارس کے ۱۲۵ اساتذہ اور طلباء کو گرفتار کر لیا۔نیزجامعہ حفصہ اور جامہ فریدیہ کو اپنے تجاوزات ختم کرنے کے لیے ۲۴ گھنٹے کا نوٹس دے دیا۔
۱۲ فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق لائبریری سے طالبات کا قبضہ ختم کروانے کے لیے علماء اور حکومت کے مابین مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ‘جس پر انتظامیہ نے ویمن پولیس ‘ایف سی اور رینجرز طلب کر لی‘جامعہ حفصہ نے بھی فارغ التحصیل طالبات کو بلوا لیا۔
درمیان میں کچھ دن فریقین کی طرف سے خاموشی رہی لیکن۲۵ مارچ کوجامعہ حفصہ کی طالبات اور لال مسجد کے طلباء کی طرف سے آنٹی شمیم نامی ایک خاتون اور اس کی بہو اور بیٹی کے جامعہ حفصہ منتقلی کا ایک واقعہ ایسا ہواکہ جس نے ا س تنازع کو ایک دفعہ پھر بھڑکادیا ۔
۲۹مارچ:مبینہ ذرائع کے مطابق پولیس نے جامعہ حفصہ کی دو معلمات ‘ان کے دو مرد ساتھوں اور ڈرائیور کو آنٹی شمیم اغوا کیس میں گرفتارکرلیا‘جبکہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے لال مسجد کے طلباء نے دوپولیس اہلکاروں او ر دو پولیس کی گاڑیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا‘رات گئے تک ضلعی حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ میں مذاکرات ہوتے رہے‘مذاکرات کے نتیجے میں ضلعی حکومت نے ان دو معلمات ‘ان کے دو مرد ساتھیوں اور ڈرائیور کو رہاکر دیاجن پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے جی سکس اسلام آباد سے آنٹی شمیم نامی ایک خاتون ‘ان کی بیٹی ‘بہو اورچھ ماہ کی پوتی کوجامعہ حفصہ پہنچا دیا تھا۔لال مسجد کے خطیب نے ان افراد کی رہائی کے بعد دو پولیس اہل کاروں اور موبائلز گاڑیوں کو چھوڑ دیا لیکن آنٹی شمیم اور ان کی رشتہ دار خواتین کوتاحال لال مسجدنے اپنی تحویل میں رکھا ۔
۳۰مارچ :مبینہ ذرائع کے مطابق بدکاری کا اڈا چلانے کے الزام میں محبوس شمیم اختر ‘اس کی بیٹی اور بہو کواڑھائی دن کی یرغمالی کے بعد لال مسجد کی انتظامیہ نے برقعے پہنا کررہا کر دیا۔
۳۱مارچ :مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کے کے خطیب نے اپنے خطاب جمعہ کے دوران درج ذیل مطالبات کیے:حکومت فوری طور پر نفاذ شریعت کا اعلان کرے ورنہ آئندہ جمعہ لال مسجد میں منعقدہ نفاذ شریعت کانفرنس میں ہم خود اس کا اعلان کریں گے۔حکومت عریانی ور فحاشی کے اڈے بند کرے اور اسلامی نظام نافذکر کے فحاشی کے مرتکب افراد کو بیس کوڑے لگائے‘ورنہ لال مسجد میں قاضی کی عدالت میں ان پر حد لاگو کی جائے گی۔ بہت صبر کیا ‘مر جائیں گے لیکن فحاشی کے ا ڈے نہیں چلنے دیں گے۔نائب خطیب جناب عبد الرشید غازی صاحب کا بیان آیا کہ آنٹی شمیم سے پورا محلہ تنگ تھاآنٹی شمیم کے خلاف تقریبا اڑھائی سو معززین محلہ نے میڈیا کو بیانات دیے ۔
۹ اپریل :مبینہ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ جناب آفتاب احمد شیر پاؤ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا:حکومت کا موقف ہے کہ معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو‘جامعہ حفصہ کی طالبات کے والدین کو متنبہ کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک اشتہاری مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔دوسری طرف سے لال مسجد کے نائب خطیب عبد الرشید غازی صاحب کی طرف سے اعلان ہوا :ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔
۱۱اپریل :مبینہ ذرائع کے مطابق جناب چوہدری شجاعت نے ایک دفعہ پھر منگل کی شب جامعہ حفصہ کا دورہ کیایہ مذاکرات تقریبا اڑھائی گھنٹے جاری رہے جن کے نتیجے میں حکومت نے سات شہید کی گئی مساجد کی دوبارہ تعمیر کی یقین دہانی کرائی ‘علاوہ ازیں دونوں بھائیوں نے اس وقت تک چلڈرن لائبریری پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا جب تک کہ حکومت شریعت کو نافذ نہیں کرنے کی یقین دہانی نہیں کراتی۔
۱۲اپریل :مبینہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم جناب شوکت عزیز کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔وفاقی وزیر برائے بند گاہ و جہاز رانی جناب بابر غوری ‘وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف اور وزیر خارجہ جناب خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے خلاف فورا ایسا ایکشن لیا جائے کہ جس سے یہ معاملہ ختم ہو جائے جبکہ بعض دوسرے وزراء جن میں وزیر مذہبی امورجناب اعجاز الحق ‘وزیر داخلہ جناب آفتاب احمد شیر پاؤ اور جناب ہمایوں اخترشامل ہیں‘کا بیان تھا کہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونا چاہیے۔جبکہ دوسری طرف آئی این پی کو دیے گئے اپنے ایک انٹر ویو کے دوران مولاناعبد العزیزغازی صاحب نے کہا: ایم۔ ایم۔ اے‘ والے سرحد میں اپنی حکومت کے باوجود اسلامی نظام نافذ نہیں کر سکے وہ ہماری مدد کیا کریں گے۔ایم ۔ایم ۔اے ‘والے جمہوریت کے ذریعے اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم جہاد کے ذریعے۔پانچ لاکھ کے قریب استحصالی ٹولے نے سترہ کروڑ عوام کو یر غمال بنا رکھا ہے۔جب تک اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا چلڈرن لائبریری پر اپنا قبضہ ختم نہیں کریں گے۔
۱۴اپریل :مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کے نائب خطیب مولاناعبد الرشید غازی صاحب نے کہا:چوہدری شجاعت سے مذاکرات کے اختتام تک شرعی عدالت غیر فعال رہے گی۔جبکہ مولانا عبد العزیز غازی صاحب نے اپنے جمعہ کے خطبے میں کہا:اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے پرامن تحریک چلائیں گے۔اسلامی نظام کے نفاذ کے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ہماری جدوجہد باطل نظام کے خلاف ہے اگر پرویزمشرف اسلامی نظام نافذ کرتے ہیں تو ان کی جوتیاں اٹھانے کو تیار ہوں ۔ڈنڈے اور تیزاب کی بات ہم نے نہیں کی‘ ڈنڈا تو وہ استعمال کر رہے ہیں جنہوں نے وزیرستان میں تباہی پھیلائی۔انہوں نے مزید کہاکہ چوہدری شجاعت کا رویہ مثبت ہے لیکن اعجاز الحق آپریشن کی بات کرتے ہیں ۔
۲۰اپریل :وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کی دو روز ہ میٹنگ کے بعد ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حکومت پاکستان درج ذیل مطالبات کیے گئے :حکومت جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مطالبات کو منظور کرے ‘ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے ‘گرائی جانے والی مسجد کو دوبرہ تعمیر کروائے ‘بدکاری اور فحاشی کے اڈے ختم کرے ۔اس اعلامیہ کے مطابق مجلس عاملہ نے جامعہ حفصہ کے مطالبات کو درست قرار دیا لیکن انہوں نے کہا کہ جا معہ حفصہ کی طالبات اور لال مسجد کی انتطامیہ کا طریق کار غلط ہے ۔
۲ مئی : امام کعبہ نے وفاقی وزیر اعجاز الحق سے سعودی عرب میں ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان میں خود کش حملے کرنے والے گمراہ ہیں ۔اسلام سرکاری یا کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کر کے مسجد یا مدرسہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا ۔حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی فرد اپنی شرعی عدالت قائم نہیں کر سکتا یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اگر وہ پورا نہیں کرتے تو اللہ کو جوابدہ ہوں گے۔
یہ تنازع بڑھتا ہی گیا اوربالآخر۱۰جولائی کو حکومت نے قدام کیا اور لال مسجد کو شہید کر دیا۔سینکڑوں طلبہ و طالبات نے سر نڈر کرتے ہوئے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر دیاجبکہ باقی طلبہ و طالبات کو شہید کر دیاگیا۔لال مسجد کے نائب خطیب عبد الرشید غازی صاحب شہید کر دیے گئے جبکہ خطیب عبد العزیز صاحب کو گرفتار کر لیا گیا جو کہ تاحال حکومت کی قید میں ہیں۔
طالبان جہاد کا ایک تجزیاتی مطالعہ
وزیرستان کا جہاد ہمارے نزدیک دفاعی جہاد تھا جو کہ حکومت پاکستان نے قبائلیوں پر مسلط کیا تھا۔لیکن سوات اور لال مسجدکے جہاد کو ہم ایک بڑی غلطی سمجھتے ہیں کیونکہ یہ دونوں اقدامی جہاد تھے اور مسلمان حکومت کے خلاف تھے۔فقہی اصطلاح میں یہ’ خروج‘ کی بحث بنتی ہے ۔ہمیں اس بات سے بحث نہیں کرنی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے خلاف خروج جائز ہے یا نہیں ۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ خروج اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے مسئلہ اور زیادہ بگڑے گا۔اس کی ہمارے نزدیک درج ذیل وجوہات ہیں:
۱) امریکہ اور عالمی طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ پاکستانی افواج کو مجاہدین سے لڑا کر دونوں کو کمزور کر دیا جائے۔
۲) مجاہدین ‘ پاکستان میں عسکری رستوں سے کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ عسکری تنظیموں اور ریاست میں طاقت کا عدم توازن ہے۔
۳) صوفی محمد کی بغاوت‘ لال مسجد اور سوات کے واقعے نے مجاہدین کوکیا دیا؟ ہزاروں لوگوں کی شہادت ‘ نقل مکانی اور گھروں اور اموال کی تباہی ؟
۴) مذکورہ بالاتینوں تحریکوں کے رہنما اس نتیجے تک پہنچ گئے تھے کہ حکوت پاکستان کے خلاف عسکری کاروائیوں کا کوئی نتیجہ نہیں ہے ۔صوفی محمد صاحب نے عسکریت سے توبہ کر لی تھی اور یہاں تک کہ اپنے داماد مولانا فضل اللہ کو یہ طریقہ اختیار کرنے پر اپنی جماعت سے نکال دیا۔لال مسجد کے غازی برادران کے آخری بیانات اس بات کے شاہد ہیں کہ وہ حکومت سے مفاہمت سے چاہتے تھے لیکن پرویز مشرف صاحب آپریشن پر ڈٹے ہوئے تھے۔مولانا فضل اللہ نے بھی تین ماہ بعد سوات خالی کر دیا اور روپوش ہوگئے ۔
۵) حال ہی میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے امیر بیت اللہ محسود نے یہ بیان دیا ہے کہ ہم پاکستان میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائیاں نہیں کریں گے اور ہمارے نزدیک یہ مجاہدین کی فہم و فراست‘ تجربات اور گہری بصیرت کا نتیجہ ہے کہ وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ پاکستان حکمرانوں کے خلاف ان کے قتال کا فائدہ سراسر اسلام دشمنوں امریکہ اور انڈیا کوہو گا۔
۶) پاکستان کسی خلا میں نہیں ہے بلکہ اسی دنیا میں موجود ہے۔ہمیں کوئی بھی تحریک قائم کرنے سے پہلے پاکستان کی جغرافیائی حدود میں رہتے نہیں سوچنا چاہیے بلکہ اپنی تحریک کواقوام عالم کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے کوئی اقدام کرنا چاہیے۔مبینہ ذرائع کے مطابق اصل صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والے طالبان کو حکومت پاکستان اور آئی ایس آئی نے اپنی پشت پناہی فراہم کی تھی اور پاکستانی ایجنسیوں ہی کی اجازت سے سرحد کے پاکستانی طالبان بھی امریکہ کے خلاف کاروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہے تھے ۔امریکہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے انڈیا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے ایک پلان بنایا جس کے مطابق سرحد کے قبائلی علاقوں میں ایک نئی طالبان تحریک کو حکومت پاکستان کے خلاف کھڑا کر کے ان کی چال کو انہی کے خلاف الٹ دیا مقصود تھا۔أمر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ اپنی چال میں کامیاب رہا اور اس نے ایک ایسی طالبان تحریک کو جنم دیا جو کہ حکومت پاکستان کو کمزور کر رہی تھی ۔اخبارات میں یہ بیانات واضح طور پر شائع ہوتے رہے ہیں کہ القاعدہ ‘ مولوی فضل اللہ کی قیادت میں سوات کے طالبان اور بیت اللہ محسود کی قیادت میں تمام طالبان نے کئی بار اس عزم کا ظہار کیا تھا کہ وہ حکومت پاکستان کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے اور ان اور حکومت پاکستان کے درمیان کئی معاہدے بھی ہوئے ۔بعد میں فریقین نے ایک دوسرے پر کئی دفعہ معاہدے توڑنے کا الزام بھی لگایا ہے ۔اس صلح کو ختم کرنے میں درحقیقت امریکہ اور اس کی سازش کا شکار ہونے والے بعض نام نہادطالبان عناصر کارفرما تھے اور امریکہ کا اس کاروائی سے ایک طرف تویہ مقصود ہے کہ پاکستانی حکومت اور آئی ایس آئی‘ امریکہ کے خلاف لڑنے والے طالبان کی خفیہ امداد بند کرے اور دوسرا وہ یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والے پاکستانی طالبان اپنے وطن واپس آ کر اپنی ہی حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہو ں تاکہ امریکہ اپنے دو دشمنوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑا کر کمزور کر دیں۔کرم ایجنسی میں ہونے والے حالیہ سنی شیعہ فسادات بھی امریکہ کی اسی جنگی چال کا ایک حصہ ہے کہ ان کو باہم لڑا کر کمزور کرو اور ان پر حکومت کرو۔
ہماری رائے کے مطابق جہادی تحریکوں کو ایک خاص عرصے تک کے لیے ہر قسم کے جنگ و جدال سے علیحدہ رہتے ہوئے اسلامی ریاستوں کے حکمرانوں سے خیر خواہی کے جذبے کے تحت اپنے روابط بڑھانے چاہئیں۔ حکمرانوں کے ساتھ اس اتحاد میں اصل بنیاد امریکہ کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی روک تھام‘ پاکستان کی سا لمیت اور مسلمانوں پر ظلم کے خاتمے کو بنانا چاہیے نہ کہ اعلاے کلمۃ اللہ اور نفاذ شریعت جیسے نعروں کوکہ جس سے حکمرانوں کو پہلے ہی چڑ ہے ۔اور اسی قسم کی جنگی سیاست و تدابیر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’الحرب خدعۃ‘ کا نام دیا ہے ۔
جہادی تحریکوں کو یہ بھی چاہیئے کہ وہ ایسے نوجوانوں کو اکٹھا کریں جو کہ انجینئرنگ‘ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلی تعلیم یافتہ ہوں ۔ ان نوجوانوں کومختلف اسلامی ریاستوں مثلا سعودیہ‘ ایران‘ مصر اور پاکستان وغیرہ میں حکومتی سطح پر ایک مشن کے طور پر کھپایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم أو آئی سی میں تحریک پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں اورعالم اسلام کو متحد کیا جائے۔
دین دار تاجر طبقوں خصوصاعرب سرمایہ داروں کو اکٹھا کرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں اسلامی انڈسٹریز بنانی چاہیے تاکہ مسلمان اپنی معاشی ضرورتوں میں خود کفیل ہوں وغیر ذلک۔
مقصود یہ ہے کہ جہادی تحریکوں کو کچھ عرصے تک اپنی توانائیاں عالمی سطح پرمسلمانوں کی تعلیم‘ معیشت‘ ٹیکنالوجی اور سیاسی گٹھ جوڑ پر صرف کرنی چاہئیں تاکہ اسلامی ریاستیں اور جہادی تحریکیں مل کر ایک خاص عرصے میں سپر پاور نہ سہی ایک منی سپر پاور کے طور پر سامنے آئیں۔اس سلسلے میں پہلی جنگ عظیم میں امریکہ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد چین کی پالیسیوں سے رہنمائی لی جا سکتی ہے کہ دونوں نے ایک خاص وقت تک کے لیے اپنے ممالک کو ہر قسم کے جنگ و جدال سے دور رکھتے ہوئے معاشی و ٹیکنالوجی کی ترقی پر اپنی ساری توجہ مرکوز رکھی اور اس کے نتائج وہ آج حاصل کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں اسلامی ریاستوں کے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے کسی بھی عسکری طریقہ کار کی بجائے آئینی‘ دعوتی‘ تبلیغی‘ اصلاحی‘ انتخابی‘احتجاجی‘ پر امن مظاہروں‘ پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا کے ذرائع وغیرہ کو استعمال کرنا چاہیے۔
چند شبہات اور ان کے جوابات
۱) طالبان تحریک سے بہت سے گروہ نظریاتی اختلافات کی بنا پر علیحدہ ہو کر چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہو تے گئے۔ان دھڑوں میں سے بعض ایسے تھے جو کہ حکومت پاکستان کو کافر قرار دیتے تھے اور حکومت کی معاونت کی وجہ سے افواج پاکستان‘ رینجرز اور پولیس پر بھی کفر کا فتوی لگاتے ہیں لہذا یہ حضرات سیکورٹی فورسز پر پاکستان میں ہر جگہ خود کش حملوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔ان مقاتلین میں سے ایک طبقہ تو اس قدرشدت پسند ہے کہ اس کے نزدیک حکومت پاکستان کے تمام ملازمین طاغوتی نظام کی اعانت کی وجہ سے کافر اور مباح الد م ہیں۔ہمارے نزدیک تکفیر کے اس فتنے کا نتیجہ مسلمانوں کی باہمی قتل و غارت کے سواکچھ نہیں ہے ۔اس فتنے میں چند ایک ناسمجھ ‘جاہل اور جوشیلے نوجوان مبتلا ہیں اور اس تکفیر کے نتیجے میں مسلمان حکمرانوں اور پاکستانی سیکورٹی فورسز سے قتال کو ہر مسلمان پر فرض عین قرار دیتے ہیں۔یہ نوجوان عام طور پر قرآن کی آیات اور أئمہ سلف کے فتاوی کو اپنے موقف کے حق میں دلیل کے طور پرپیش کرتے ہیں۔
ہماری رائے کے مطابق یہ تکفیری ٹولہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے ۔یہ حضرات واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کو بھی عراق بنانا چاہتے ہیں۔ٹینشن ‘ فرسٹیشن اور ڈیپریشن میں مبتلا اس قتالی تحریک کو سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کا بس ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ان سب کو باہمی جنگ و جدال میں جھونک دو۔یہ حضرات مسلمانوں کو چولہے(حکومتی ظلم وستم) سے اٹھانے کی بات کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی تنور(باہمی قتل و غارت) میں جھونکنا چاہتے ہیں۔شریعت ہمارے مسائل حل کرنے کے آئی ہے نہ کہ پیدا کرنے کے لیے ۔اگر ان حضرات کے منہج کو اختیار کر لیا جائے تو شاید ایک مسئلہ حل ہو جائے لیکن اس سے جو آگے بیس مسائل پیدا ہوں گے‘ ان کی طرف ان کی نظر بالکل بھی نہیں جاتی۔یہ نوجوان طبقہ حکمرانوں پر کفر کے فتوے لگا کر ان سے قتال یا افواج پاکستان پر خود کش حملوں کا رستہ تو تجویز کرتے ہیں لیکن اس کے نتائج سے بلی کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔پاکستانی حکومت کے کمزور ہونے کا اصل فائدہ کس کو ہو گا؟امریکہ ‘ اسرائیل اور انڈیا کویا اس قتالی تحریک کو۔ہم پہلے ہی اسلام دشمنوں سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور باہمی جنگ و جدال سے اپنے ملک کو اورزیادہ کمزور کر لیں۔پاکستانی حکومت کی شکست اور پاکستان کا بھی عراق جیسا حشر ہونے سے کیا امت مسلمہ کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے سناہے:
’’آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں کہ جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے پس یہ جہاں بھی تمہیں ملیں تم ان کوقتل کرو کیونکہ جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے قیامت کے دن اجر ہو گا۔‘‘ (صحیح بخاری‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب إثم من رأی بقراء ۃ القرآن أو تأکل بہ)
راہ اعتدال اور اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران‘ افواج ‘ رینجرز‘ پولیس اور ملازمین کافر نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بعض ظالم ہیں ‘ بعض فاسق ہیں اور بعض مؤمن صادق ہیں۔اہل سنت کی عقیدے کی معروف کتاب ’شرح عقیدہ طحاویہ‘ میں ’لا نکفر أحدا بذنب ما لم یستحلہ‘ کے تحت بڑی عمدہ بحث موجود ہے۔
سیکورٹی فورسز کے جن اہلکاروں نے وزیرستان میں قبائلیوں پر حملہ کیا تو قبائلیوں کے لیے اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانا اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنا جائز ہے لیکن اس قتل و غارت کی صورت میں دونوں طرف سے مرنے والے مسلمان ہیں اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی‘لیکن سیکورٹی فورسرز کی یہ قتل و غارت گناہ کبیرہ کے درجے میں آئے گی اور وہ ظالم و فاسق شمار ہوں گے۔
دوسری صورت میں اگر تو اقدام مجاہدین کی طرف سے ہوتا ہے تو دونوں طرف کے مسلمان شہید ہوں گے اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس صورت میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار ظالم و فاسق یا گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ دفاعی قتال کر رہے ہیں ۔
تیسری بات یہ ہے کہ مجاہدین اپنے دفاع میں کسی اہلکار کو ہلاک کر سکتے ہیں لیکن جو اہلکار مجاہدین سے لڑنے نہیں جاتے مثلا وہ کراچی ‘ لاہور یا دوسرے شہروں میں تعنیات ہیں تو ان اہلکاروں پر خود کش حملے کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اس کا قصاص لینا واجب ہے اور یہ جہاد نہیں فساد ہے ۔ کیونکہ یہ اہلکار کلمہ پڑھتے ہیں‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں‘ اللہ کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں۔قرآن ‘ آخرت‘ فرشتوں‘ رسالت اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں لہذاو ہ مومن صادق ہیں۔
اگر بفرض محال تکفیری گروپ کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ حکمران اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار فلال فلاں اسباب کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں تو ہمارا سوال یہ ہے کہ کسی مرتد کافر کے اسلام لانے کا کیا طریقہ کار ہے؟ظاہری بات ہے کہ یہی طریقہ ہے کہ وہ کلمہ شہادت کا اقرار کرے اور سیکورٹی فورسز کے اہلکارکلمہ شہادت کا اقرار بدستور کر رہے ہیں لہذا مسلمان ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ پرویز مشرف اور اس کی کابینہ کے فیصلوں میں ایک عام سیکورٹی اہلکار کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو پرویز مشرف کو گالیاں دیتی ہے اور ان کو اگر کسی جگہ مجاہدین کے خلاف آپریشن کا حکم دیا بھی جاتا ہے تو وہ رضامندی کی بجائے جبراً ایسی کاروائی کرتے ہیں۔ان میں سے ایک بہت بڑی تعداد توایسے افراد کی ہے جو معاشی مجبوریوں کے تحت حکومت کی بات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں حکومت کی طرف سے قرآن وسنت کی روشنی میں ان اہلکارں کے سامنے یہ بات ثابت کی جاتی ہے کہ مجاہدین ریاست کے باغی ہیں اور ان کے خلاف قتال واجب ہے ۔لہذا یہ حضرات مجاہدین کے خلاف جہاد ایک دینی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہوتے ہیں۔پس ان کا حکم متأولین کا ہو گا اورامت کا اس بات پر اجماع ہے کہ تأویل کی غلطی کی وجہ سے کسی پر بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔ لہٰذ ا یہ مومن صادق ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور جوکوئی بھی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تواس کا بدلہ جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہو گا اور اللہ کی لعنت ہو گی اور اللہ تعالی نے اس کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (النساء:۹۳)
اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے أبی بن کعب اور اس کے ساتھیوں کے کفر اکبر کے باوجود ان سے قتال نہیں کیا جبکہ ان کے کفر پر قرآن بھی شاہد تھا تو ان کلمہ گو مسلمان اہلکاروں کوکافر قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قتال کیسے جائز ہو جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں شاید حجاج بن یوسف جیسے سفاک اور ظالم حکمران کی کوئی مثال موجود ہو جس نے صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کی خلافت کے خاتمے کے لیے مکہ کا محاصرہ کیا‘ ان کو شہید کروا کے سولی پر چڑھایا‘ بیت اللہ پر سنگ باری کروائی اور ہزاروں مسلمانوں کو صرف اپنے اور بنو امیہ کے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے قتل کراویا۔اس شخص کے فتنوں سے تنگ آ کر جب دو صحابیؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پاس آئے تو کہنے لگے:
’’لوگوں نے امانت کو ضائع کر دیا( یعنی حقدار کو امارت و خلافت عطا نہ کی ) اور آپؐ ابن عمرؓ ہیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیؓ بھی ہیں تو پھر بھی آپ ان ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کیوں نہیں کرتے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا مجھے اللہ کا یہ حکم ان کے خلاف خروج سے روکتا ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمان بھائی کے خون کو حرام کیا ہے تو اس شخص نے کہا : کیا اللہ تعالی نے یہ حکم نہیں دیا کہ ان سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو جائے(یعنی حضرت عبد اللہ بن زبیر کو بنو أمیہ کے فتنے سے نکالنے کے لیے قتال ہونا چاہیے) تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے جواب دیا: ہم نے قتال کیا تھا یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیااور دین (یعنی اطاعت) اللہ ہی لیے ہو گیا اور تم یہ چاہتے ہوئے کہ تم قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ (مسلمانوں کی باہمی قتل و غارت)پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہوجائے۔(صحیح بخاری‘ کتاب التفسیر‘ باب و قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ)
صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓؓ سے آکر کہاکہ آپ ہر سال حج و عمرہ تو کرتے ہیں لیکن اللہ کے رستے میں جہاد نہیں کرتے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا : ارکان اسلام پانچ ہی ہیں یعنی جہاد ان میں شامل نہیں ہے تو اس شخص نے کہا اللہ تعالی نے تو یہ حکم دیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ اور اگر پھر ان میں کوئی ایک زیادتی کرے تو اس کے خلاف لڑو۔یہ شخص دراصل حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو کہہ رہا تھا کہ ’فقاتلوا الیے تبغی‘ کی نص کے تحت آپ پر ظالم گروہ کے ساتھ قتال واجب ہے تو پھر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اسے وہ جواب دیا جو اوپر مذکور ہے۔
اسی طرح قرآن مجید نے مسلمانوں کے آپس میں لڑنے والے دونوں گروہوں کو مومن کہا ہے اگرچہ ان میں سے ایک ظالم بھی ہوتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور اگر اہل ایمان کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ‘ پس اگر ان میں سے ایک دوسرے پر ظلم کرے تو اس ظلم کرنے والے کے خلاف لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم(یعنی صلح) کی طرف لوٹ آئے۔پس جب وہ ظلم کرنے والا گروہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان پھر عدل و انصاف سے صلح کرواؤ بے شک اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (الحجرات:۹)
عام مسلمانوں کے لیے ظالم اور باغی گروہ کے خلاف قتال اس صورت میں ہے جبکہ اس سے قتال کی صلاحیت و استطاعت موجود ہو لیکن عصر حاضر میں ریاست کو اس کے ظلم سے روکنے کے لیے احتجاجی و آئینی طریقہ تو اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن قتال کا نہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی اندیشے سے حکومت کے باغی گروہ کے خلاف قتال کے طریقہ کو فتنہ قرار دیا تھا کہ اس سے مسئلہ سلجھنے کی بجائے باہمی قتل و غارت کے بڑھنے کے یقینی امکانات موجود تھے۔
جہاں تک أئمہ سلف کے ان فتاوی کا تعلق ہے جوکہ قتال کی فرضیت کے بارے میں مروی ہیں‘ تو وہ ایک خاص ماحول اور حالات کے تحت جاری کیے گئے تھے جو کہ آج موجود نہیں ہیں۔قرآن و سنت دائمی ہیں یعنی ان میں قیامت تک کے لیے رہنمائی موجود ہے لیکن أئمہ کے فتاوی کی شرعی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ ہر زمانے کے قابل عمل ہوں۔اسی لیے اصول فقہ کا یہ معروف قاعدہ ہے ’یتغیر الفتوی بتغیرا لزمان‘ یعنی عرف کے بدلنے سے فتاوی یا اجتہادبدل جاتے ہیں۔
۲) تکفیری گروپ کی طرف سے ایک شبہ یہ بھی پیش کیاجاتا ہے کہ یا تو ہم دار الحرب میں ہیں یا دار الاسلام میں ہیں ۔اب پاکستان دار الاسلام تو نہیں ہے کیونکہ یہاں طاغوتی نظام قائم ہے لہذا دار الحرب ہے۔جب پاکستان دار الحرب ہے تو قتال فرض عین ہے۔
دار الحرب و دار الاسلام کی تقسیم کون سی آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کاخلاف جائز نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فقہاء نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی کہ جس کا شریعت سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آج ہم اپنے زمانے کے اعتبار سے مسلمانوں کے مختلف خطوں کو مختلف نام دیں گے۔آج جس دنیا میں مسلمان آباد ہیں وہ کئی داروں میں تقسیم ہے مثلا دارالحرب‘ دار الاسلام‘ دار الکفر‘دار المسلمین‘ دار العہد‘ دار الصبر‘ دار الأمن اوردار الہجرت وغیرہ۔دار الحرب سے مراد وہ مسلمان علاقے ہیں جہاں کافروں نے جبری قبضہ کر رکھا ہے اور مسلمان ان کے خلاف جنگ کر رہے ہیں جیسا کہ عراق ‘افغانستان‘ کشمیر اور فلسطین ہیں۔دار الاسلام سے مراد وہ علاقے ہیں کہ جہاں اللہ کی حاکمیت بالفعل نافذ ہوجیسا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی ریاست تھی یا پھر موجودہ سعودی عرب اور ایران کسی درجے میں اس کی مثال بن سکتا ہے کہ جہاں شیعہ اسلام نافذ ہے۔دار الکفر سے مراد وہ علاقے ہیں جہاں کافروں کی اکثریت ہے اور حکومت بھی انہی کے کنٹرول میں ہے۔ دارلمسلمین سے مراد وہ مسلمان ریاستیں ہیں جہاں فاسق و فاجر حکمران قابض ہیں اور اسلامی نظام اپنی مکمل شکل میں بالفعل نافذ نہیں ہے جیسا کہ پاکستان‘ مصر وغیرہ ہیں۔دار العہد سے مراد وہ کافر ریاستیں ہیں کہ جہاں مسلمان ایک اقلیت کے طور پرآباد ہیں اور ان کا ریاست سے یہ عہد ہے کہ وہ اس کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے اور جواباً کافر ریاست بھی ان کے حقوق ٹھیک طرح سے اداکرے گی جیسا کہ انڈیا‘امریکہ ‘ برطانیہ اور یورپین ممالک میں بسنے والے مسلمان ہی۔اس سے مراد وہ کافر ریاستیں بھی ہیں کہ جن کے ساتھ مسلمان ریاستوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا ہو۔دار الصبر سے مراد مسلمانوں کے وہ علاقے ہیں کہ جن پر کفار نے قبضہ کر لیا ہو اور وہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری ہواور مسلمان اس پوزیشن میں نہ ہوں کہ وہ کافر حکمرانوں سے جنگ کر سکیں جیسا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کا حال تھا۔ان علاقوں میں کفار حکمرانوں سیجنگ کی بجائے پر امن ذرائع سے آزادی کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔دار الأمن سے مراد کفار کے وہ علاقے ہیں جو کہ پوری دنیا میں امن و امان کے خواہاں ہیں اور کسی بھی قوم سے لڑائی نہیں چاہتے یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے اپنی فوج بھی نہیں بنائی مثلا سوئٹزر لینڈ اور جاپان وغیرہ۔دار الہجرت سے مسلمانوں کے وہ علاقے کہ جن کی طرف مسلمان اپنے علاقوں میں کفار کے ظلم سے تنگ آ کر ہجرت کریں جیسا کہ انڈیا اور افغانستان سے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی وغیر ذلک۔
۳) تیسرا مغالطہ جو عام طور پر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ دفاعی قتال فرض عین ہے۔افغانستان پر امریکہ کاحملہ ہوا‘اب افغانیوں پرقتال فرض عین ہے اگر وہ قتال کے لیے کافی نہ ہوں تو ساتھ والی ریاستوں کے باشندوں پر قتال فرض عین ہو جائے گااگر وہ بھی کفایت نہ کریں تو یہ فرض پھیلتے پھیلتے تمام امت مسلمہ پر فرض عین ہو جائے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ دفاعی قتال بھی ہر حال میں فرض عین نہیں ہوتا یہ اس صورت میں فرض عین ہو گا جبکہ گمانِ غالب ہو کہ مسلمانوں کے اس دفاعی قتال کے نتیجے میں بالآخر ان کو فتح ہو گی یا دشمن کو بھاری نقصان پہنچے گا ۔اس بات کو ہم ایک سادہ سی مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رستے میں جا رہا ہواور اس کو چار افراد گن پوائنٹ پر روک لیں اور یہ حکم جاری کریں کہ اپنا مال ہمارے حوالے کر دو یا چار مسلح افراد آپ کے سامنے کسی دوسرے شخص کو قتل کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں جبکہ آپ کے پاس حفاظت اور بچاؤ کا کوئی ہتھیار بھی نہیں ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنا مال یا دوسرے شخص کی جان بچانے کے لیے مزاحمت کی تو آپ کی اپنی جان بھی ضائع ہو جائے گی تو ایسی صورت میں آپ پر ان ا فراد کے ساتھ لڑنا فرض عین تو کجا مستحب بھی قرار نہیں دیا جا سکتاہے۔اس لیے اگرتو مسلمانوں کی مقبوضہ سرزمین پر کسی کافر حکمران کے خلاف دفاعی قتال کے نتیجے میں مسلمانوں کی آزادی کا گمانِ غالب ہے اور کفر کو کوئی بڑا ضرر پہنچنے کے امکانات ہیں تو ایساقتال اس مقبوضہ سرزمین کے افراد پر فرض عین ہو گا لیکن اگر کسی جگہ مسلمانوں کے دفاعی قتال کا نتیجہ ان کی نسل کشی کی صورت میں نکل رہا ہو تو پھر یہ دفاعی قتال جائز نہیں ہو گا۔عام طور پر اس مسئلے میں ایک حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔حضرت ابو ہریرۃؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سوال کیا:
’’اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ ایک شخص مجھ سے میرا مال زبردستی لینا چاہتا ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنا مال مت دے۔تو اس شخص نے دوبارہ سوال کیا:آپؐ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ وہ میرا مال لینے کے لیے مجھ سے قتال تک کرنے کو تیار ہے تو آپؐ نے فرمایا:تو بھی اس سے قتال کر۔اس شخص نے کہا: آپؐ کا کیاخیال ہے اگر وہ شخص مجھے قتل کر دے توآپؐ نے فرمایا : تو شہید ہے۔اس شخص نے پھر سوال کیا اور آپؐ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں تو آپؐ نے فرمایا وہ جہنمی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب الدلیل علی من قصد أخذ مال غیرہ بغیر حق کان)
یہ حدیث اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص گن پوائنٹ پر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے جبکہ میں نہتا ہوں تو میں اس سے لڑائی کروں اور اپنی جان قربان کر دوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے’ قتال ‘ کا حکم دیا ہے اور قتال دو طرفہ ہوتا ہے اور اس وقت ہوتا ہے جب دونوں طرف طاقت کا کوئی توازن موجود ہو۔چار افراد کے پاس کلاشنکوفیں ہیں اور دوسری طرف خالی ہاتھ ایک آدمی ہے تو یقینی صورت ہے کہ اس نہتے آدمی کی موت قطعی ہے سوائے اس کے کہ وہ مارشل آرٹ کا ورلڈ چیمپیئن ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں طاقت کا توازن موجود تھا اور عرف میں یہ بات عام تھی کہ ہر شخص اپنا ہتھیار مثلا تلوار وغیرہ اپنے پاس رکھتا تھا لہذا اگر کوئی شخص کسی سے اس کا مال چھیننا چاہتا تو وہ جواباً اس کو بھی قتل کر سکتا ہے اسی لیے صحابیؓ نے اس بارے میں سوال بھی کیا کہ اگر میں اس کو قتل کردوں تو پھر اس کا حکم کیا ہو گا۔ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی درجے میں طاقت کا توازن قائم ہو جیسا کہ قبائلی علاقوں میںیہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ وہاں عرف یہ ہے کہ ہر شخص اپنا ہتھیار اپنے پاس رکھتا ہے‘لہذاایسے علاقوں اور صورت حال میں انسان کو اپنا دفاع لازما کرنا چاہیئے اور اس دفاع میں اگر وہ قتل بھی ہو جائے تو شہید ہے ۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں بھی دفاعی قتال کا منہج اختیار کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان ۵۰ سال تک قیادت سے محروم ہو گئے ۔انگریزوں نے ردعمل میں آ کر آزادی کی اس تحریک کو اس قدر کچلا کہ مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا کوئی لیڈر باقی نہ چھوڑا۔پھر پچاس سال کے بعد نئی نسل میں علامہ اقبال بھی پیدا ہورہے ہیں اور قائد اعظم بھی‘ مولانا ابو الکلام آزاد بھی اور شیخ الہند بھی‘اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس تحریک کے ذریعے انگریز کی غلامی سے آزادی حاصل ہوئی وہ قتال کی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک آئینی و سیاسی تحریک تھی۔کیا وہ مقصود یعنی ظلم کا خاتمہ کہ جس کے لیے قتال کو مشروع قرار دیا گیا ہے ‘ قتال کے علاوہ کسی اور منہج سے بہتر طور پر حاصل ہورہا ہو‘ تو کیا اس جدید ذریعے سے اس مقصود کا حصول حرام ہو گا؟
دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی فرض کفایہ اگرچہ امت کے بعض طبقوں پر فرض عین ہو جاتا ہے لیکن تمام امت پر فرض عین کبھی بھی نہیں ہوتا ۔اس کی سادہ سی مثال نماز جنازہ ہے۔مثلا کسی بستی مثلا پشاورمیں کسی شخص کا انتقال ہو جاتا ہے اور اگر پشاور کے علماء یا مسلمان اس کا نماز جنازہ نہیں پڑھتے تواس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ افریقہ یا یورپ میں بیٹھا ہوا مسلمان بھی گناہ گار ہو گا اور یہ فرض عدم ادائیگی کی صورت میں پھیلتا پھیلتا امت کے تمام افراد پر فرض عین ہو جائے گا۔یہ بات بالکل درست ہے کہ فرض کفایہ کی عدم ادائیگی کی صورت میںیہ فرض الأقرب فالأقرب کے اصول کے تحت امت میں آگے منتقل ہو گا، لیکن اس منتقلی میں بنیادی شرط اس فرض کی ادائیگی کی اہلیت و أ سباب ذرائع ہیں، اس لیے اگر افغان باشندے امریکہ کے بالمقابل اپنے ملک کادفاع نہیں کر سکتے تو افغانستان کے ساتھ ملحقہ ریاستوں کے حکمرانوں اور سربراہان پر یہ قتال فرض عین ہو گا نہ کہ عامۃ الناس پر۔ ہم یہ بات پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ آج جہاد و قتال کی کامیابی کا دارومدار عددی قوت پر منحصر نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی اور جدید آلات حرب وضرب پر ہے۔ جب عامۃ الناس کے پاس نہ تو قتال کی اہلیت ہے اور نہ اس کے اسباب و ذرائع ‘تو ان پر قتال کیسے فرض عین ہو سکتا ہے ؟سورۃ توبہ میں تو یہ ہے کہ اہلیت اور اسباب وذرائع نہ ہونے کی وجہ سے قتال غزوہ تبوک کے موقع پر بھی فرض نہیں ہوا جبکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قتال کے لیے نفیر عام تھی۔ أسباب و ذرائع سے ہماری مراد افغانستان‘ عراق یا کشمیر جانے کا کرایہ‘ کلاشنکوف یاہینڈ گرنیڈ نہیں ہے بلکہ ہماری مراد وہ أسباب و ذرائع ہیں کہ جن کے ذریعے امریکہ ‘انڈیا یا اسرائیل کی شکست کا کم از کم امکان تو ہو۔ ہمارے خیال میں یہ أسباب و ذرائع اس وقت پاکستانی ریاست کے پاس تو موجود ہیں لیکن کسی جہادی تحریک کے پاس نہیں ہیں ۔
۳) عام طور پر جہادی تحریکیں کے رہنماؤں کی تقاریر اور علما کی تحریروں میں عوام الناس کو ایک مغالطہ یہ بھی دیا جاتا ہے کہ ریاست کے بغیر ہونے والے اس جہاد کے نتیجے میں کل ہی امریکہ کے ٹکڑے ہو جائیں گے یا انڈیا فتح ہو جائے گا یا اسرائیل دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا،اس لیے ہمیں یہ قتال ضرور کرنا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس بات کا تعین کیسے ہو گا کہ معاصر جہادی تحریکوں کے قتال کے نتیجے میں امت مسلمہ کومجموعی سطح پر کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا ضرر پہنچ رہا ہے؟ ہمارے خیال میں اس کا تعین‘ماضی قریب کے واقعات‘ حالات حاضرہ اور مستقبل قریب کی تاریخ سے ہو سکتا ہے ۔حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک بندہ مؤمن کو نہ تو سی این این اور بی بی سی کی اخبار و اطلاعات پر اندھا اعتماد کرنا چاہیے اور نہ ہی جہادی تحریکوں کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہونا چاہیے کہ جس میں ہرفدائی کاروائی میں فرشتوں کے نزول کی کہانی بیان کی جاتی ہے یا روس کی طرح امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی خوشخبری سنائی جاتی ہے یاانڈیا کے فتح ہونے کی نوید ہوتی ہے۔ہمارے خیال میں ایسی تمام تقاریر اور تحریریں مبالغے پر مبنی اور حقائق کے خلاف ہوتی ہیں ۔راقم الحروف کو اسلام آباد کی ایک جامع مسجد میں ایک معروف جہادی تحریک کے مفتی صاحب کا خطاب سننے کو ملا کہ جس میں انہوں نے حاضرین مجلس کو یہ خوشخبری سنائی کہ مسلمان مجاہدین نے ایک ایسی گن ایجاد کر لی ہے جو کہ کئی کلو میٹر ز سے بھی دشمن کا صحیح نشانہ لگاکر اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے اور اس گن کی وجہ سے امریکی فوجی اتنے خوفزدہ ہو گئے ہیں کہ انہوں نے مارے خوف کے پیمپرز(pampers) پہننا شروع کر دیے ہیں۔حقائق یہ ہیں کہ عراق کو امریکہ نے جہنم کی بھٹی بنا رکھا ہے اور اگر امریکہ ‘عراق سے نکل بھی جائے تو اس نے پیچھے کیا چھوڑا کہ جس پر مجاہدین اللہ کے دین کا غلبہ کریں گے؟ویران کھنڈر!کہ جن کے زیر زمین مکینوں کی تعداد اوپر رہنے والوں سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔اگربالفرض امریکہ ‘عراق سے نکل بھی جائے کہ جس کے نکلنے کے دور دور تک کوئی امکانات بھی نظر نہیں آ رہے تو پھر بھی عراق کو معاشی طور پر خود کفیل ہونے میں ایک صدی کا عرصہ درکار ہے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ عراق میں مجاہدین کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں امریکہ اپنے مفادات کو خطرہ محسوس کرنے کی صورت میں دوبارہ حملہ آور نہیں ہو گا‘اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ عراق میں سنی مجاہدین کی حکومت ہو گی یا شیعہ کی ؟ علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی مجاہد کی فدائی کاروائیوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجی جہنم واصل ہوتے ہیں تو پچاس مسلمان بھی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں کہ جسکے بارے میں جہادی تحریکوں کے پاس یہ عذر ہے کہ جنگ میں تو سب جائز ہے۔ ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا جنگ میں جانتے بوجھتے سینکڑوں مسلمانوں کی جان لینا جائز ہو جاتا ہے؟جبکہ ایک مسلمان کی جان کی حرمت کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی حرمت سے بڑ ھ کر بیان کیا ہے۔ حقائق سے متعلقہ یہ اور اس جیسے بیسیوں سلگتے ہوئے سوالات ایسے ہیں کہ جس کے جوابات کسی جہادی تحریک کے پاس نہیں ہیں ۔
ہم عراق میں ہونے والے قتال کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارے خیال میں عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قتال کے لیے ابھارنے والے ان واعظین کو عوام الناس سے تصویر کا دوسرا رخ چھپانا نہیں چاہیے تاکہ ہر مسلمان حقائق کی روشنی میں خود فیصلہ کرلے کہ معاصر جہادی تحریکوں کا یہ جہاداپنے نتیجے کے اعتبار سے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ پہنچا رہا ہے یا نہیں؟اگر تو کوئی مسلمان صدق دل سے اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ ریاست کے بغیر ہونے والے اس قتال سے امریکہ ٹوٹ جائے گا یاا نڈیا فتح ہو جائے گا یااسرائیل سے بیت المقدس کو آزاد کروا لیا جا ئے گا تو اسے ضرور بالضرور اس قتال میں شریک ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے اس قتال میں شرکت فرض عین ہے۔اور اگر کوئی بندہ مؤمن یہ سمجھتا ہے کہ اس قسم کے قتال سے اگرچہ مسلمانوں کو کوئی فتح تو نصیب نہیں ہوگی لیکن اس سے دشمن کو کوئی بڑا مالی یا جانی ضرر پہنچایا جا سکتا ہے تو ایسی صورت میں بھی اس کے لیے یہ قتال مستحب ہو گا ‘لیکن اگر کوئی مؤمن اپنے مشاہدے‘ تجزیے اور تجربے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ جس قتا ل کا وہ حصہ ہے یا حصہ بننے جا رہا ہے اس سے کسی جہادی تحریک کے رہنماؤں کے مفادات وابستہ ہیںیا کسی جہادی تحریک کے لیڈر‘علما اور قتال کو فرض عین کہنے والے مفتی حضرات حب جاہ‘ حب مال اور اپنے وی آئی پی پروٹوکول کی خاطرقتال کے لیے نوجوانوں کو تیار کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اور اپنی اولاد کواسی قتال کی سعادت سے محروم رکھتے ہیںیا معصوم‘ لاعلم اورسیدھے سادھے جذباتی نوجوانوں کے لیے ان تحریکوں کے معسکرات ایسے خرکار کیمپ ثابت ہوتے ہیں جو ان کو جبراً فریضہ قتال کی ادائیگی پر مجبور کرتے رہتے ہیں اور اس کی انتہاء ایک مجاہد کے اپنے گھر والوں کے لیے یہ الفاظ ہوتے ہیں کہ میں واپس ہونا چاہتا ہوں لیکن اب میرے لیے واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہے شہادت میرا مقدر ہو چکی ہے اگر میدان جنگ میں نہ شہید ہو ا تو یہ مجھے شہید کردیں گے‘ یا اگر کوئی بندہ مؤمن یہ سمجھتا ہے کہ اس قسم کے قتال سے اگر دو امریکی مریں گے تو ساتھ ہی پچاس مسلمان بھی شہید ہوں گے اور اس قتال کا نتیجہ مسلمانوں کی نسل کشی کے سوا کچھ نہیں ہے تو ایسے شخص پریہ فرض عین ہے کہ قتال کے نام ہونے والے اس ظلم سے ممکن حد تک دور چلا جائے۔
ریاست کی سطح پرایسی جنگ‘ کہ جس کے نتیجے میں امریکہ کے ٹوٹنے کے پچاس فی صد بھی امکانات ہوں‘میں اگرپچاس ہزار مسلمان بھی شہید ہو جائیں تو کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن دو امریکی فوجیوں کو مارنے کے پچاس مسلمانوں کو شہید کرنا کون سی عقلمندی ہے؟
ہمارے ہاں عام طور پر یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ جہادی تحریکوں کے قتال کے نتیجے میں روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے حالانکہ حقائق بالکل اس کے خلاف ہیں ۔روس کے ٹکڑے مجاہدین کے ہاتھوں اس لیے ہوئے کہ اس قتال کے پیچھے دو ریاستوں امریکہ اور پاکستان کا پورا عمل دخل موجود تھا۔ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا روس جو کہ اس وقت عالمی سپر پاور تھا ‘اس کے لیے کیایہ مشکل تھا کہ وہ امریکہ کی طرح افغانستان پر بمباری کر کے مجاہدین کو پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیتا؟ ہمارے خیال میں روس بالکل ایساکرسکتا تھا لیکن اس کو اس وقت امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں کے جس دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا، امریکہ کو طالبان پر حملہ کرتے وقت اس سے واسطہ نہیں پڑا۔طالبان کی حکومت کو اگر صرف پاکستانی ریاست و حکومت کی امداد بھی حاصل ہوتی تو امریکہ کو کبھی بھی افغانستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔
کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر میں ہونے والے قتال میں تو پاکستانی ریاست کا تعاون بھی شامل ہے اس لیے وہاں قتال کی صورت میں کامیابی کے امکانات ہیں۔ہمارے خیال میں یہ کامیابی ممکن تو کیاقطعی اور یقینی ہے بشرطیکہ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں واقعتا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مخلص ہوں۔
کشمیر میں بہت سی جہادی تحریکیں کام کر رہی ہیں جن میں حزب المجاہدین‘جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ‘ حرکۃ الأنصار‘ تحریک جہاد ‘ جمعیت المجاہدین‘ الجہاد‘ تحریک المجاہدین‘ العمر مجاہدین‘ مسلم جانباز فورس ‘ حزب اللہ ‘ الفتح ‘ حزب المؤمنین اور جموں و کشمیر اسلامک فرنٹ وغیرہ شامل ہیں ۔یہ تیرہ عسکری جماعتیں متحدہ جہاد کونسل کی ممبربھی ہیں کہ جس کہ بنیاد ۱۹۹۰ء میں رکھی گئی‘متحدہ جہاد کونسل کا ہیڈ کوارٹر مظفرآباد میں ہے۔ان عسکری تناظیم کے علاوہ لشکر طیبہ ‘ جیش محمد اور البدر بھی معروف جماعتیں ہیں۔
جہاد کشمیرکے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ جہاد فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد و قتال کو امت مسلمہ پر فرض قرار دیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا ہے :
’’اور اے مسلمانو!تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے رستے میں قتال کیوں نہیں کرتے جبکہ کمزور مرد‘ عورتیں اور بچے کہہ رہے ہیں: اے ہمارے رب!ہمیں اس بستی سے نکال کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ولی یا مددگار مقرر فرما۔‘‘(النساء: ۱۷۵)
ہمارے نزدیک کشمیر کا جہاد فرض ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کس پرفرض ہے ؟اس مسئلے میں ہمیں جہادی تحریکوں کے موقف سے اختلاف ہے ۔ہمارے موقف کے مطابق کشمیر کا جہاد پاکستانی حکمرانوں اور افواج پر فرض ہے جو کہ اُس کی کامل استطاعت رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کے عوام کے لیے ہم اس جہاد کو فرض عین نہیں سمجھتے ۔عامۃ الناس کا فرض یہی ہے کہ وہ اُس جماعت کو جہاد و قتال پر آمادہ کریں جو کہ اس کی استطاعت و اہلیت رکھتی ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ عوام الناس کروڑوں نہیں بلکہ أربوں روپے اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ ملکی افواج اپنے عوام اور ان کی علاقائی سرحدوں کی حفاظت کریں اور پاکستانی افواج کی بقا کامقصد ہی یہی ہے۔لہذا ہمارے نزدیک اصلاً کشمیر کا جہاد پاکستانی افواج کی ذمہ داری ہے اور اگر اس میں مجاہدین کی معاونت بھی ان کو شامل ہو جائے تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے فورا بعد افواج پاکستان کے ساتھ مل کر جب مجاہدین نے کاروائیاں کیں تو موجودہ آزاد کشمیر ہمیں حاصل ہوا اور اس کی تازہ ترین مثال کارگل کی جنگ ہے۔لہذاکشمیر کی آزادی کے مسئلے کا واحد حل ہمارے نزدیک یہی ہے کہ اس محاذ پر پاکستانی افواج لڑیں جو کہ اس کو آزاد کرانے کی استطاعت و صلاحیت بھی رکھتی ہیں اور ان کا مقصد حیات و بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہے اور اسی کی وہ تنخواہ بھی لیتی ہیں۔
جو لوگ بھی’ جیش محمد‘ اور’ لشکر طیبہ‘ کی عسکری تربیت کے نظام سے گزرے ہیں، وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان جماعتوں کے معسکرات میں عسکری تربیت کم ہوتی ہے اور مسلکی تعصب کی تعلیم زیادہ دی جاتی ہے۔ دونوں مکاتب فکرکے معسکرات میں تقاریر و دروس کے ذریعے احسن طریقے سے ایک دوسرے کے مسلک کا رد کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات دوسری جماعت کے مجاہدین سے اس قدر تعصب کا اظہار کیا جاتاہے کہ ’تحسبھم جمیعا و قلوبھم شتی‘ والی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ کشمیر‘ انڈیا سے آزاد ہونے کے بعد ایک خود مختار آزاد ریاست کے طور پر قائم رہ سکتا ہے‘ جیسا کہ دنیا میں اس طرح کی اور بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی موجود ہیں مثلا کویت وغیرہ‘ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چھوٹی سی آزاد مسلم ریاست کا حکمران کون ہو گا؟ کشمیری عوام کی ترجمان سیاسی ‘سماجی اور مذہبی تنظیمیں یا غیر کشمیری جہادی تحریکیں؟صرف آل پارٹیز حریت کانفرنس تقریبا۳۰ سیاسی و سماجی تنظیموں پر مشتمل ہے جو کشمیری عوام کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔ ان میں مسلم کانفرنس‘ تحریک حریت ‘ کشمیری جمعیت علمائے اسلام‘ عوامی کانفرنس‘ جماعت اسلامی‘ اتحاد المسلمین‘ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(یسین ملک) ‘عوامی لیگ‘ آزادی کونسل‘ جموں و کشمیر عوامی کانفرنس‘ عوامی ایکشن کمیٹی‘ انجمن تبلیغ اسلام‘ جمعیت اہل حدیث‘ جمعیت حمدانیہ‘ کشمیر بار ایسوسی ایشن‘ کشمیر بزم توحید‘ تحریک حریت کشمیری‘ سیاسی کانفرنس‘ جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کمیٹی‘ سٹوڈنٹ اسلامک لیگ‘ دختران ملت اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(امان اللہ خان) وغیرہ ہیں۔ان سیاسی ‘ سماجی اور مذہبی تنظیموں کااصل منشورانڈیا کے مظالم سے کشمیری عوام کی آزادی ہے نہ کہ اعلائے کلمۃ اللہ۔ اگر تو جہادی تحریکوں کا منشور بھی وہی ہے جو کہ ان سیاسی و سماجی کشمیری تنظیموں کا ہے تو پھر ان عسکری تناظیم کو چاہئے وہ اپنے موقف میں اس بات کو اچھی طرح واضح کریں کہ وہ کسی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ ایک خطہ ارضی کے حصول کے لیے قربانی دے رہے ہیں اور ان کا مقصد صرف کشمیری عوام کی آزادی ہے نہ کہ اعلاے کلمۃ اللہ۔ اور اگر جہادی تحریکیں یہ موقف اپناتی ہیں کہ ہم اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے لڑ رہی ہیں تو پھر ان کے پاس اس سوال کا جواب کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اس کے عوام اور ان کی مقامی سیاسی تنظیموں کو کشمیر میں حکمرانی کا حق حاصل ہے یا غیر ملکی پاکستانی مجاہدین کو(اگرکشمیر علیحدہ ریاست بنے گا تو اس صورت میں پاکستانی مجاہدین کشمیریوں کے لیے غیر ملکی ہوں گے)۔
بفرض محال اگرہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اس کا الحاق نہ پاکستان کے ساتھ ہو گا اور نہ انڈیا کے ساتھ‘ بلکہ یہ ایک آزاد خود مختار ریاست ہو گی اور ہم یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اس کی تمام مقامی سیاسی ‘ سماجی اورمذہبی جماعتیں مجاہدین کے حق میں حکومت اور اس کی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جاتی ہیں ‘ توپھر بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کشمیر میں کون سی عسکری تنظیم اپنا اقتدار قائم کرے گی۔ اس وقت کشمیر میں تقریباً سترہ عسکری تنظیمیں کام کر رہی ہیں جن میں سے بعض مقامی مجاہدین پر مشتمل ہیں مثلا حزب المجاہدین وغیرہ ۔۱۹۹۶ء کی بات ہے کہ راقم الحروف اٹک کالج میں ایف۔ ایس۔ سی کا طالب علم تھا کہ اس دوران کالج میں ایک معروف جہادی تنظیم حزب المجاہدین کے ایک سپریم کمانڈر کی تقریر سننے کا موقع ملا۔خطاب کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک طالب علم نے یہی سوال اٹھایا کہ کشمیر میں اس وقت چودہ عسکری جماعتیں کام کر رہی ہیں تو کشمیر کی آزادی کے بعد کشمیر پر حکومت کون سی جماعت کرے گی اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ جماعتیں افغانستان کی طرح ایک دوسرے کے خلاف جہاد نہ شروع کر دیں گی؟تو ان مجاہد صاحب کا جواب یہ تھا کہ ہم نے کشمیر کے چودہ حصے بنا رکھے ہیں جن کو ہم آپس میں بانٹ لیں گے لہذا آپ حضرات اطمینان رکھیں کشمیر میں افغانستان جیسی خانہ جنگی پیدا ہونے کا ذرا برابر بھی امکان نہیں ہے۔ و اللہ المستعان علی ما تصفون!
جہادی کشمیری تحریکوں کے مفتیان کرام نے عرصہ دراز سے یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ جہاد کشمیر فرض عین ہے ۔جہادی تحریکوں کا یہ طرز عمل بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں جن لوگوں پر ان تحریکوں کی طرف سے کفر و شرک کے فتوے لگائے جاتے ہیں انہی کی آزادی کے لیے قتال کو عامۃا لناس پر فرض عین قرار دیاجاتا ہے۔اس کی سادہ سی مثال ایک معروف جہادی تحریک کے مفتی صاحب کی کتاب ’کلمہ گو مشرک‘ ہے ۔ان مفتی صاحب نے جس گروہ اور طبقے کے لیے یہ کتاب لکھی اسی فرقے کی اکثریت مقبوضہ کشمیر میں آباد ہے۔جہادی تحریک سے وابستہ ایک مفتی صاحب جس گروہ کو مشرک قرار دے رہے ہیں اسی جماعت کے ایک دوسرے مفتی صاحب ’الجہاد الاسلامی‘ نامی کتاب میں اس گروہ کی آزادی کے لیے قتال کو فرض عین قرار دے رہے ہیں۔فیا للعجب!مشرکین کی آزادی کے لیے مسلمانوں پر قتال کیسے فرض عین ہو گیا؟
’قتال فرض عین ہے ‘کی ایک نئی تعبیر جو کہ کشمیری جہادی تحریکوں کے مفتی حضرات نے متعارف کروائی ہے‘ وہ یہ ہے کہ’ قتال فرض عین ہے‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مفتی صاحب یا کسی جہادی تحریک کے سربراہ خود بھی میدان جنگ میں جا کر لڑیں‘بلکہ ’قتال فرض عین ہے‘ کا فتوی دینے والے مفتی صاحب جہادی تحریک کے کسی مدرسے میں بیٹھے سارا سال ’بخاری‘ پڑھاتے ہیں یا کسی جہادی تحریک کے امراء‘ نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب و تشویق دلانے کے لیے تقاریر و سیمینارز کا انعقاد کرواتے ہیں تو یہ بھی قتال ہی ہے ۔
ہمارے خیال میں ایسے مفتی حضرات یا تو فرض عین کا مطلب نہیں سمجھتے یا ان کا علم ان کی عقل سے مستغنی ہے ‘کیا نماز فرض عین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ وضو کرلیں اور بعض سنتیں پڑھ لیں اور بعض فرائض ادا کرلیں تو سب کی نماز اد ہو جائے گی یا روزے کے فرض عین ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ بعض لوگ سحری کا خرچہ اٹھا لیں‘ بعض سحری تیار کر دیں اور بعض روزہ رکھ لیں تو فرض عین ادا ہو جائے گا۔اگر یہ مفتی حضرات اپنی اور اپنے أمراء کی قتال سے جان بچانے کے لیے ’کتاب الحیل‘ کا سہارا نہ لیں تو قتال کے فرض عین ہونے کا مطلب اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ بنفس نفیس میدان جنگ میں جاکر لڑا جائے ‘اور جو بھی میدان جنگ میں لڑ رہا ہے وہ اس فرض کو ادا کر رہا ہے اور جو نہیں لڑ رہا وہ اس فرض کو ادانہیں کررہا۔فتوی یہ حضرات قتال کے فرض عین ہونے کا دیتے ہیں اور اس فرض عین کی تعبیر و تشریح وہ کرتے ہیں جو کہ فرض کفایہ کی ہے۔ أئمہ سلف میں سے کس فقیہ یا محدث نے قتال کے فرض عین ہونے کا یہ مفہوم بیان کی ہے کہ وہ عامۃ الناس کے لیے تو میدان جنگ میں جا کر لڑنا ہے لیکن جہادی تحریکوں کے مفتیان کرام و أمرا کے لیے بخاری پڑھانا یا میجر جنرل کے اعزازی عہدے کی سہولیات و پروٹو کول سے فائدہ اٹھانا ہے۔
بعض جذباتی قسم کے نوجوانوں سے جب یہ بات کی جاتی ہے کہ قتال اصل میں حکومت کا فرض ہے تو وہ بھڑک اٹھتے ہیں اور جواباً کہتے ہیں: مسلمان قتل ہورہے ہیں‘ ان کے بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے‘ ان کی عورتوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں‘ان پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں ہم قتال نہ کریں ۔
اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے یہ بالکل بھی نہیں کہا کہ مسلمان قتال نہ کریں ‘ ہم توقتال کے قائل ہیں بلکہ قتال کے منکر کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ‘ہمارا موقف یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اس کوختم کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ اسلامی ریاستوں کی سطح پر قتال ہو۔کشمیر ہو یا افغانستان‘عراق ہو یا فلسطین ‘اگر صرف مملکت خدادادپاکستان کے حکمران ہی ریاست کی سطح پر امریکہ یا یہود و نصاری سے قتال کرتے تو آج ان مقبوضہ علاقوں میں ہمیں یہ ظلم و ستم نظر نہ آتا۔جن حکمرانوں کے قتال سے امت مسلمہ کے مسائل کا حل ممکن ہے انہیں تو اس طرف توجہ نہیں دلائی جاتی بلکہ سا را زور اس بات پر صرف ہوتاہے کہ عامۃ الناس پر کسی نہ کسی طرح اس کو فرض عین قرار دیا جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ آج دنیا میں تمام مسلمان ریاستوں میں فاسق و فاجر اور ظالم حکمران مسلط ہیں جنہوں نے اللہ کی شریعت کے بالمقابل اپنے ظالمانہ قوانین کا نفاذ کر رکھا ہے ‘ اگرکوئی شخص ذاتی طور پر محسوس کرتا ہے کہ مقتول کے ورثا کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا اور قاتل کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں لہذا ایسے قاتل کو اپنے طور پر قتل کر دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے مظلوم بھائی کی مدد کر سکے تو ہم اسے یہی مشورہ دیں گے کہ تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے۔ تمہارے کرنے کااصل کام ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے جسے اللہ کے رسولﷺ جہاد قرار دیا ہے ‘اس لیے تمہارا جہاد ان حالات میں حکمران کے فریضے اپنے ہاتھ میں لینا نہیں ہے بلکہ حکمران کو اس فریضے کی ادائیگی پر مجبور کرنا ہے۔
ہم جہاد کشمیر کو بھی فرض عین سمجھتے ہیں لیکن ریاست کے حکمرانوں اور افواج پاکستان پر‘ جوکہ اس کی صلاحیت و اہلیت رکھتے ہیں۔عامۃ الناس کے لیے ہمارے نزدیک جہادی ٹریننگ تولازم ہے لیکن جہاد کشمیر نہیں۔جہاد کشمیر کے بارے میں عوام الناس کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اس جماعت کو جہاد کی ادائیگی پر بذریعہ تقریر ‘ تحریر‘ میڈیا‘پریس‘قانونی ‘ آئینی ‘ سیاسی اور انقلابی جدوجہد آمادہ کریں کہ جس پر یہ فرض عین ہے اور جو اس کی صلاحیت و اہلیت رکھتی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اے نبی! اہل ایمان کو قتال پر ابھاریں۔اگر تم میں بیس ڈٹ جانے والے ہوں گے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں ایک سو ڈٹ جانے والے ہوں گے تو وہ ایک ہزار کافروں پرغٖالب آئیں گے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جو کہ سمجھتے نہیں ہیں۔اب اللہ تعالی نے تمہارے لیے تخفیف کر دی ہے کہ اگر تم میں ایک سو ڈٹ جانے والے ہوں گے تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو وہ دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے اور اللہ تعالی ڈٹ جانے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘(الأنفال:۶۵‘۶۶)
آیت :۶۶ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کی کسی جماعت یا حکومت پر قتال اس وقت فرض ہوتا ہے جبکہ اس کی قوت ‘ دشمن کی قوت سے نصف ہو۔ امام قرطبی ؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:
’’میں یہ کہتا ہوں:حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی حدیث اس طرف رہنمائی کر رہی ہے کہ یہ حکم (آیت نمبر ۶۵ والا) مسلمانوں پر فرض تھا پھر جب اس حکم کی فرضیت ان کو بھاری محسوس ہوئی تو اللہ تعالی نے فرضیت میں تخفیف کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا کہ اگر ایک دو کی نسبت ہو تو پھر اس کی فرضیت باقی ہے(اور اس سے کم ہو تو ساقط ہے)۔پس اللہ تعالی نے ان سے تخفیف کر دی اور ان پر یہ فرض کر دیا کہ دو سو کے مقابلے میں ایک سو میدان جنگ سے نہ بھاگیں۔اس قول کے مطابق یہ حکم تخفیف کا ہے نہ کہ نسخ کا‘ اور یہ قول بہترین ہے۔‘‘(تفسیر قرطبی:الأنفال:۶۶)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قوت میں تعداد کو ایک نمایاں حیثیت حاصل تھی لہذا اس کا تذکرہ آیت میں کر دیا گیا ہے۔ آج بھی اگر مسلمانوں کی کسی جماعت یا حکومت کے پاس دشمن کے مقابلے میں نصف قوت موجود ہو تو اس پردفاعی یا دوسرے خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اقدامی و دفاعی قتال فرض ہو گااور اگر نصف سے کم قوت ہو تو پھر قتال کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں یعنی یہ مستحب بھی ہو سکتا ہے او ر حرام بھی ۔امام ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
’’انکار منکر کے چار درجات ہیں پہلا درجہ وہ ہے کہ جس سے منکر ختم ہو جائے اور اس کی جگہ معروف قائم ہو جائے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ منکر کم ہو جائے اگرچہ مکمل ختم نہ ہو۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ وہ منکر تو ختم ہو جائے لیکن اس کی جگہ ایک ویسا ہی منکر اور آ جائے اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ اس منکر کے خاتمے کے بعد اس سے بھی بڑا اور بدترین منکر آ جائے ۔پس پہلے دو درجے مشروع ہیں جبکہ تیسرا درجہ اجتہاد کا میدان ہے اور چو تھا درجہ حرام ہے ۔‘‘(اعلام ا لموقعین: جلد ۳‘ص۱۵۱)
حکومت پاکستان پر کشمیر کے مسلمانوں کو ہندوؤں کے ظلم و ستم سے بچانے کے قتال فرض عین ہے لیکن عوامی جہادی تحریکیں جب بھی قتال کریں گی چاہے وہ کشمیر میں ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے میں ‘ اس قتال کی یہ چاروں صورتیں بنیں گی جو کہ ابن قیم ؒ نے بیان کی ہیں۔اصل میں علماء کا دنیا بھر میں ہونے والے جہاد سے علمی اختلاف اسی مسئلے میں ہے ۔یعنی علماء جہاد کی نصوص یا احکام کے انکاری نہیں ہیں۔وہ اسلامی ریاستوں کے لیے جہاد و قتال کو فرض قرار دیتے ہیں لیکن عوامی جہادی تحریکوں کی صورت میں اس بات کو مد نظر رکھتے ہیں کہ اس جہاد کے نتیجے میں ظلم و منکر ختم ہو رہا ہے یا بڑھ رہا ہے ۔کشمیر یا دنیا کے مختلف خطوں میں جہادی تحریکوں کے جہادسے ظلم ختم ہورہا ہے یا بڑھا رہا ہے‘ اس کاتعلق شریعت سے نہیں ہے بلکہیہ حالات و واقعات کا موضوع ہے۔اگر کوئی عالم دین حالات و اخبار عالم سے واقف ہے اور اس کا گہرائی میں تجزیہ کرتے ہوئے اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ جہاد کو اللہ تعالی نے ظلم ختم کرنے کے لیے مشروع کیا تھا لیکن فلاں فلاں خطے میں جہادی تحریکوں کے جہاد کے نتیجے میں ظلم بڑھ رہا ہے تو اس عالم دین کو منکر جہاد یا امریکہ کا حمایتی کہنا سراسر ظلم و زیادتی ہے۔ہاں جہادی تحریکوں کے رہنماؤں اور ہمدردوں کو یہ چاہیے کہ وہ علماء پر اس قسم کے فتوے لگانے کی بجائے یہ ثابت کریں کہ واقعتاً ان کے جہاد و قتال کے نتیجے میں ظلم ختم ہورہا ہے‘ امریکہ تباہ ہو جائے گا ‘ انڈیا فتح ہو جائے گا اور اسرائیل کا غرور خاک میں مل جائے گا۔ یہ واضح رہے کہ قتال نہ تو ہر آدمی پر فرض ہوتا ہے اور نہ ہی ہر صورت میں فرض ہوتا ہے ۔ہرصورت میں اس کے فرض نہ ہونے کو ہم بیان کر چکے ہیں کہ جب مسلمانوں کی تعدادو قوت دشمنوں کی نصف تعداد و قوت سے بھی کم ہو تو ان حالات میں ان پر قتال فرض نہیں ہے۔اور ہر آدمی پر اس کے فرض نہ ہونے کی مثال غزوہ تبوک ہے ‘ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی ریاست پر شاہ روم کے ممکنہ حملے کی خبر کے پیش نظر تبوک کی طرف نکلے تھے ۔اور موقع پر ہر مسلمان پر قتال فرض نہیں کیا گیا تھا۔اس لحاظ سے غزوہ تبوک دفاعی و اقدامی قتال کی ایک ملی جلی صورت تھی ۔ارشاد باری تعالی ہے:
’’نہیں ہے کمزور لوگوں پر کوئی گناہ اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے جو کہ مریض ہیں اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے جو کہ خرچ نہیں پاتے جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ ہوں ‘ہر کام کو بخوبی انجام دینے والوں پر کوئی الزام نہیں ہے اور اللہ تعالی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے‘اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو کہ آپؐ کے پاس آئے تاکہ آپؐ ان کو کسی سواری پر سوار کریں توآپؐ ان کو کہتے ہیں میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس پر تم کو سوار کروں‘وہ پھر جاتے ہیں اس حال میں کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے آنسو بہا رہی ہوتی ہیں کہ وہ ایسی چیز نہیں پاتے کہ جس کووہ خرچ کر سکیں۔‘‘(التوبۃ:۹۱)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عورتو ں پر قتال غزوہ تبوک کے موقع پر نفیرِ عام کے باوجودبھی فرضِ عین نہیں تھا حالانکہ اس دور میں عورتیں نہ صرف قتال کی اہلیت رکھتی تھیں بلکہ بالفعل کئی غزوات میں شریک بھی ہوتی تھیں اور ان میں میدان جنگ میں اسلام کے دشمنوں سے لڑنے کا جذبہ بھی بدرجہ أتم موجود تھا جیسا کہ بعض روایات کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ‘ اس سب کے ہوتے ہوئے بھی ان پر قتال فرض نہیں کیا گیا۔اسی طرح وہ صحابہ کرامؓ کہ جن میں قتال کی اہلیت نہیں تھی یعنی بوڑھے اور مریض ‘ان پر بھی قتال فرض نہیں کیا گیا‘علاوہ ازیں وہ صحابہ ؓ کہ جن میں قتال کی اہلیت و قدرت توتھی لیکن ان کے پاس قتال کے أسباب و ذرائع یعنی کوئی سواری یارستے کا خرچ نہیں تھا تو ان کو بھی مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں قتال کی فرضیت سے مستثنی قرار دیا گیا۔لیکن جن لوگوں میں قتال کی اہلیت بھی تھی اور ان پر وہ فرض بھی تھا اور ان کے پاس اس فرض کی ادائیگی کے ذرائع و وسائل بھی موجود تھے لیکن اس کے باوجود وہ غزوہ تبوک میں نفیرِ عام کے بعد بھی شریک نہ ہوئے تو ان کا مواخذہ کیا گیا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
’’سوا اس کے نہیں گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو کہ آپ سے غنی ہونے کے باوجود اجازت طلب کرتے ہیں ‘وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ ہو جائیں‘اور اللہ تعالی نے ان کے دل پر مہر لگا دی ہے پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ (التوبۃ:۹۳)
لہٰذا قتال امت کے اس خاص طبقے کے لیے‘ خاص حالات میں فرض ہوتا ہے جو اس کی ادائیگی کی اہلیت اورأسباب و ذرائع رکھتا ہے۔ہر دور میں قتال کی مکمل اہلیت و استطاعت اور أسباب وذرائع کسی بھی خطے میں مسلمانوں کی حکمران جماعت کے پاس ہوتے ہیں۔
جہاد کشمیر کے مفتیان کرام کے نزدیک جب یہ جہاد پاکستانی عوام پرفرض عین ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی افواج ‘ ایجنسیاں اور حکمران اہل پاکستان میں شامل نہیں ہیں ؟اگر عامۃ الناس کو یہ سبق پڑھا یا جا سکتا ہے تو ’جہادِ کشمیر فرض عین ہے ‘ کایہی فتوی حکمرانوں اور ایجنسیوں کو کیوں نہیں سنایا جا سکتا۔کیا پاکستانی افواج و پاکستانی حکمرانوں کا جہاد صرف وزیرستان ‘ سوات اور لال مسجد کے طلباء و عوام کے خلاف ہی ہونا چاہیے۔جتنا زور جہادی تحریکیں عامۃ الناس پر جہاد کشمیر کو فرض عین قرار دینے میں صرف کرتی ہیں اگر اس کا دسواں حصہ بھی حکمرانوں کو جہاد کشمیر کے لیے کھڑا کرنے میں لگایا جاتا تونتائج بہت بہتر ہوتے۔ اگر ایجنسیاں مجاہدین کو کشمیر کا باڈر کراس کروا دیتی ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ فوج نے اپنے حصے کا فرض عین ادا کر دیا ہے ۔ہمیں تو کشمیری جہادی تحریکوں کے مفتی حضرات کے فتاوی سے یہی سمجھ میںآتا ہے کہ جہاد کشمیر فرض عین ہے لیکن غریب عوام کے لیے ‘ نہ کہ ان مفتی حضرات کے لیے اورنہ جہادی تحریکوں کے سربراہان اور پاکستانی حکمرانوں کے لیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس میدان جنگ میں شریک ہوتے تھے لہذا جہادی تحریکوں کے سربراہان کو بھی چاہیے کہ امارت و قیادت اپنے پچھلوں کے سپرد کر کے کشمیر میں قتال کرتے ہوئے شہادت حاصل کر یں اور جہاد کشمیر کے فرض عین ہونے کی گواہی اپنے قول کے ساتھ عمل سے بھی دیں۔عام طور پرجہادی تحریکوں کے کارکنان کی طرف سے یہ عذر بھی پیش کیاجاتا ہے کہ جہاد کشمیر تو فرض عین ہے لیکن ہمارے امیر صاحب بیمار ہیں یا اس قابل نہیں ہیں کہ وہ میدان جنگ میں شریک ہوںیاانہیں فلاں عذر ہے یا انہیں گھٹنوں کی تکلیف ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ امیر صاحب نے جب سے تحریک شروع کی اس وقت سے بیمار ہیں اگر نہیں تو اس وقت انہوں نے جہاد کیوں نہیں کیا جبکہ وہ صحت مند تھے اور تحریک میں شامل بھی تھے۔کیا امیر صاحب کے علاوہ باقی تمام اعلی عہدیدار اوراراکین شوری بھی بیمار ہیں اگر ایسا ہی ہے تو بیماروں کی اس تحریک کو ختم کر دینا چاہیے اور جہاد کے لیے کوئی صحت مند افراد تلاش کرنے چاہئیں اور اگر ایسا معاملہ نہیں ہے تو ان اعلی عہدیدران کے لیے قتال فرض عین ہونے کا معنی مفتی صاحب کیا بیان فرماتے ہیں ؟اور اس معنی کی دلیل شرعی کیا ہے؟ جہادی تحریکوں کے بعض ارکان یہ عذر بھی پیش کرتے ہیں کہ ہمارے امیر صاحب نے ہمیں تعلیمی ‘ تدریسی ‘ دعوتی‘ تبلیغی یا انتظامی ذمہ داریاں سونپی ہیں اس لیے ہمارے لیے قتال فرض عین ہونے کا معنی یہی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔اگر قتال فرض عین ہونے کا یہ معنی جہادی تحریکوں کے اراکین کے لیے ہوسکتا ہے تو ان علماء یا مذہبی جماعتوں کے افراد کے لیے کیوں نہیں ہو سکتاجوکہ کسی جہادی تحریک میں شامل نہیں ہیں اور تعلیم‘ تدریس‘دعوت یاتبلیغ وغیرہ کے میدان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جہادی تحریکوں کے مفتیان علماء پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ جہاد کا عمومی معنی مراد لیتے ہیں اور دین کے لیے ہر قسم کی جدوجہد کو جہاد میں شامل کرتے ہیں جبکہ خود جہادی تحریکوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جہاد تو کجا قتال کوبھی اسی عمومی معنی میں لیتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں دین اسلام کی خدمت کو قتال کا نام دیتے ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ لگاتے ہیں کہ کسی جہادی تحریک کے امیر صاحب سے اس کام کے کرنے کی اجازت لے لی جائے۔ہمارے خیال میں صرف وہ چند مجاہدین جو کہ بالفعل کشمیر میں لڑ رہے ہیں جہادی تحریکوں کے مفتیان کے فتوی کے مطابق فرض عین قتال کی ادائیگی کر رہے ہیں جبکہ جہادی تحریکوں کے باقی تمام افرادبشمول مفتی صاحبان اس فرض عین کی ادائیگی سے محروم ہیں۔نماز فرض عین کا یہ معنی کس فقیہ نے بیان کیا ہے کہ اس کے فرض عین ہونے سے مراد یہ ہے کہ بعض لوگ اس کو ادا کر لیں بعض اس کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو تقاریر و خطبات سے تیار کریں اوران کا فرض عین اسی سے ادا ہو جائے گا اور بعض اس کے فرض عین ہونے کا صرف فتوی جاری کر دیں تو ان کا فرض عین ادا ہو جائے گا۔ سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون
علماے دیوبند‘ علماے اہل حدیث‘ سعودی علما اور عالم اسلام کے بڑے بڑے نامی گرامی فقہا‘ محدثین ‘ مجتہدین اور اسکالرز کی ایک بہت بڑی جماعت کے علاوہ تبلیغی جماعت‘ جماعت اسلامی اور ڈاکٹر اسرار صاحب کی تنظیم اسلامی سے وابستہ‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مؤمنین صادقین جہادی تحریکوں کے منہج جہاد و قتال کو درست نہیں سمجھتے اور اس پر گاہے بگاہے نقد کرتے رہتے ہیں ۔جہادی تحریکوں کو ان تمام تنقیدات کی روشنی میں اپنے لائحہ عمل اور منہج پر غور کرنا چاہیے نہ کہ ان سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے ان پر مخالفین جہاد کا فتویٰ لگا دینا چاہیے۔ میں تو کہتا ہوں کہ آج اگر شیخ عبد اللہ عزام ؒ زندہ ہوتے تو وہ اپنے اس منہج سے رجوع کر لیتے جو کہ انہوں نے اپنی کتاب ’ قتال فرض عین ہے ‘ میں پیش کیا تھا جیسا کہ سعودی علماء کی ایک بہت بڑی جماعت جو کہ روس کے خلاف ہونے والے جہاد کے حق میں تھی اور اس کی فرضیت کے فتوے بھی جاری کرتی رہی۔ اب القاعدۃ و طالبان تحریک کے رہنماؤں کو بھی اپنا منہج تبدیل کرنے کا مشورہ کئی سالوں سے دے رہی ہے۔
۴) عام طور پر جہادی تحریکوں کی طرف سے حضرت أبو بصیرؓ جیسے واقعات کوریاست و امیر کے بغیر قتال کے جواز کی دلیل کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے ؟
ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ ہم اس کے قائل ہیں کہ ریاست کے بغیر بھی قتال ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس سے دشمن کو کوئی بڑا ضرر پہنچ رہا ہو لیکن خودجہادی تحریکیں ایک امیر کے تحت قتال نہیں کر رہی اور اس کے مفاسد بہت زیادہ ہیں۔ہمارے خیال میں اگر کسی خطہ ارضی میں ایک امیر کے بغیر قتال ہو رہا ہو تو وہ ایک امیر کے تحت ہونا چاہیے۔ اگر تو وہ ایک سے زائد امرا کے تحت ہو رہا ہے تو ایسے قتال کا نتیجہ سوائے فساد کے کچھ نہیں ہے جیسا کہ ہم افغانستان میں دیکھ چکے ہیں بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فتنوں کے دور میں اپنے ایک صحابیؓ کو نصیحت فرمائی:
’’تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑو‘پس میں(حذیفہ بن یمانؓ) نے کہا: اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت اور ان کا امام نہ ہو تو آپؐ نے فرمایا:پھر تمام فرقوں سے علیحدہ رہ ‘یہاں تک کہ تجھے کسی درخت کی جڑ ہی کیوں نہ چبانی پڑ جائے یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے اور تو اسی حال میں ہو۔‘‘ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن‘ بابکیف الأمر اذا لم تکن جماعۃ)
اس حدیث کا اطلاق اس قتال پر بھی ہوتا ہے کہ جو ایک امیر کی قیادت کے تحت نہ ہو رہا ہو جیسا کہ ہم دیکھتے کہ افغانستان میں روس کے خلاف ہونے والا قتال ایک امیر کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے فساد بن گیا تھا اور جہادی تحریکیں اور ان کے امرا اقتدار کی خاطر باہم دست و گریبان ہو گئے تھے ۔یہی حال اس وقت کشمیر میں ہونے والے قتال کا بھی نکل سکتاہے۔
مسلمانوں کی جماعت اور اس کے امیر کے بغیر ہونے والے قتال کے حق میں فتوی دیتے وقت علما کواس قسم کے قتال کے نتائج اورنقصانات سے چشم پوشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں موجود تمام معروف جہادی تحریکیں ایک سرابرہ بیت اللہ محسود کی قیادت میں اکٹھی ہیں ‘اللہ اس اتحاد کو برقرار رکھے۔ریاست کی سطح پر فوج میں بالقوۃ یہ طاقت موجود ہوتی ہے کہ بغاوت کے امکانات کم سے کم ہوں لیکن جہادی تحریکوں کے اتحادوں میں اس قسم کے خطرات ہر وقت سر پر منڈالتے رہتے ہیں۔
قتال کی علت
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو احکامات دیے ہیں وہ علل پر مبنی ہوتے ہیں بعض اوقات ان احکامات کی علل خود شارع کی طرف سے نصوص میں بیان کر دی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات فقہاء ان کو مسالک علت کی روشنی میں تلاش کرتے ہیں۔قتال کی علت جو کہ اللہ سبحانہ و تعالے نے قرآن میں بیان کی ہے وہ ظلم ہے یعنی ظلم کے خاتمے کے لیے اللہ تعالی نے قتال کو مشروع قراردیا ہے ‘جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ( الحج:۳۹)
اجازت دی گئی ان لوگوں کو (قتال کی)جو کہ قتال کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ان پر ظلم ہوا۔
اس آیت میں ‘باء‘ تعلیلیہ ہے یعنی یہ اذنِ قتال کی علت بیان کر رہا ہے۔یہ ذہن میں رہے کہ حکم قتال کی علت کفر یا شرک نہیں ہے اگرچہ قتال اصلاً مشرکین اور کافروں سے ہی سے ہوتا ہے۔مسلمانوں کوکافروںیا مشرکین سے قتال کا حکم اس لیے نہیں دیا گیا کہ وہ کافر یا مشرک ہیں یا اسلام کا مقصود دنیا کو کافروں یا مشرکین سے پاک کرنا نہیں ہے بلکہ کافروں اور مشرکین سے قتال کے حکم کی بنیادی وجہ بھی ظلم ہی ہے کیونکہ جہاں جس قدر شرک اور کفر ہو گا وہاں اتنا ہی ظلم ہو گا اس لیے کافروں اور مشرکین سے قتال دراصل ظالمین سے قتال ہے کیونکہ ظلم اور کفر و شرک تقریباًلازم و ملزوم ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں قرآن میں کئی جگہ شرک کے لیے ظلم اور کافروں کے لیے ظالمین کے الفاظ آئے ہیں۔لہذا گر ظلم مسلمان بھی کرے تو اس سے بھی قتال ہو گا جیسا کہ ارشاد باری ہے :
’’اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ اور اگر(صلح کے بعد) ان میں ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو تم سب اس سے قتال کرو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘ (الحجرات:۹)
اسی طرح اگر کافر‘ظالم نہ ہو تو اس کے ساتھ قتال نہیں ہو گابلکہ ایسے کافروں کے ساتھ حسن سلوک بھی جائز ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :
’’اللہ تعالی تمہیں ان کافروں سے حسن سلوک یا انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا کہ جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں قتال نہیں کیا اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا بے شک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (الممتحنۃ:۸)
لہٰذا قتال صرف ان کافروں اور مشرکین سے ہے جوکہ ظلم کے مرتکب ہوں ۔اب ظلم کئی طرح کا ہوتاہے‘ ایک ظلم وہ ہے جس کا تعلق انسان کی اپنی جان سے ہوتا ہے جیسا کسی شخص کا‘ کافر یا مشرک ہونابھی ایک ظلم ہے لیکن ایسا ظلم جو کہ کسی انسان کے اپنے نفس تک محدود رہے اور متعدی نہ ہو تو اس ظلم کے خلاف بھی قتال نہیں ہے بلکہ اسلام ایسے ظلم کو برداشت کرتا ہے جیساکہ یہود و نصاریٰ کے صریح کفر و شرک کے باوجود اللہ نے ان کو زندہ رہنے کی اجازت دی ہے‘ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’تم یہود و نصاری سے قتال کرو جو کہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کو حرام نہیں ٹھہراتے کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہو اور دینِ حق کو بطور دین اختیار نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔‘‘(التوبۃ:۲۹)
لیکن ایسا ظلم جو کہ متعدی ہویعنی جس کے اثرات صرف انسان کی اپنی ذات تک محدود نہ ہوں بلکہ عامۃ الناس بھی اس کے ظلم سے متأثر ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے خلاف قتال ہو گا۔قرآن و سنت کی نصوص سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک کافر یا مشرک کی حکومت اللہ تعالی کبھی بھی برداشت نہیں کرتے کیونکہ جہاں بھی کافریا مشرک کی حکومت ہو گی وہاں ظلم متعدی ہو گا اور عوام الناس اس ظلم سے متأثر ہوں گے اس لیے اہل کتاب کے انفرادی کفر وشرک کو برداشت کیا گیا ہے لیکن مذکورہ بالاآیت میں ان کی ذلت و رسوائی اور حکو مت کے خاتمے کو قتال کی غایت وانتہاء قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس آیت میں اعطائے جزیہ اور اہل کتاب کی ذلت کو قتال کی غایت قرار دیا ہے تو ایک اور جگہ اللہ تعالی نے مشرکین سے قتال میں فتنے کے خاتمے اور اطاعت کا صرف اللہ ہی کے لیے ہو جانے کو قتال کا منتہائے مقصود بیان کیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’اور ان (یعنی مشرکین)سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین(اطاعت) کل کی کل اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔‘‘ (الأنفال:۲۹)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اجتماعی کفر(یعنی کفر کی حکومت) اور اجتماعی شرک (یعنی شرک کی حکومت ) کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ایسی حکومت میں ہمیشہ ظلم ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کئی اور مقامات پر بھی ایسے کافر سے قتال کا حکم دیا ہے کہ جس کا ظلم متعدی ہو۔ارشاد باری تعالی ہے:
’’(اے مسلمانو!)اور تمہیں کیاہو گیا ہے کہ تم اللہ کے رستے میں قتال نہیں کرتے جبکہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے یہ کہہ رہے ہیں :اے ہمارے رب!ہمیں اس بستی سے نکا ل کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور تو ہمارے لیے اپنی طرف سے ایک ولی مقرر کر اور ہمارے لیے اپنی طرف سے ایک مددگار بنا۔‘‘ (النساء:۷۵)
ایک اور جگہ قرآن میں ایسے کفار سے دوستی اور حسن سلوک کر نے سے بھی منع فرمایا ہے‘کہ جنہوں نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’سوا اس کے نہیں اللہ تعالی تم کو ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے کہ جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے قتال کیا اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (تمہارے دشمنوں ) کی مدد کی۔پس یہی کافر ظالم ہیں۔‘‘(الممتحنۃ:۹)
اللہ تعالیٰ نے جو احکامات دیے ہیں، ان کو فقہا نے دو طرح سے تقسیم کیا ہے: ایک حسن لذاتہ اور دوسرے حسن لغیرہ۔ حسن لذاتہ سے مراد ایسے احکامات ہیں جو کہ فی نفسہ اسلام میں مطلوب ہیں۔ اسلام نے لڑنے بھڑنے کو فی نفسہ ناپسند قرار دیا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ’لا تتمنوا لقاء العدو‘ میں مذکورہے کہ دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو۔اسلام نے کچھ مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے قتال کو فرض قرار دیا ہے لہذا قتال حسن لذاتہ نہیں ہے بلکہ حسن لغیرہ ہے ۔ظلم کے خاتمے کے لیے انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیا گیا اور جس مقصد کے لیے قتال کو جائز کہا گیا ہے اگر وہ مقصود ہی پور انہ ہو رہا ہو اور جہاد و قتال سے ظلم ختم ہونے بجائے بڑھ رہا ہو تو ہمارے نزدیک یہ جہاد و قتال جائز نہیں ہے۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ جہاد و قتال ظلم کو ختم کرنے کے لیے ہے نہ کہ ظلم بڑھانے کے لیے ہے۔
قتال کی غایت
قتال کی غایت یا منتہائے مقصود ایسے فتنے ‘عدم اطاعت ‘کفر ‘شرک یا زیادتی کا خاتمہ ہے جس کا نتیجہ ظلم ہو۔ یعنی قتال ہر ایسے فتنے‘عدم اطاعت‘کفر ‘شرک یا زیادتی کے ختم ہونے تک جاری رہے گا کہ جس سے دوسروں پر ظلم ہو رہا ہو‘جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرۃ:۱۹۳)
اور ان (یعنی مشرکین)سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین(اطاعت) اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے :
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ (الأنفال:۲۹)
اور ان (یعنی مشرکین)سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین(اطاعت) کل کا کل اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔
اس آیت میں فتنے سے مرادکفار کی طرف سے مسلمانوں پر ہونے والا وہ تشدداور ظلم ہے جو کہ اہل ایمان کے ایمان کے لیے آزمائش بن جا تا ہے جبکہ ’دین‘ کا بنیادی معنی اطاعت اور بدلہ ہے جیسا کہ امام راغب ؒ نے لکھاہے اور یہاں پردین سے مراد اجتماعی اطاعت ہے کیونکہ انفرادی اطاعت میں تو مسلمان بھی بعض اوقات اللہ کی اطاعت نہیں کرتے ‘اس لیے یہاں پر مراد اللہ تعالیٰ کی ایسی اطاعت ہے کہ جس کے عدم کی صورت میں کسی پر ظلم لازم آئے مثلا اللہ کے نازل کردہ حدود کے نفاذ میں اس کی اطاعت کا نہ ہونامعاشرے میں ظلم کا سبب ہو گااس لیے حدوداللہ میں اللہ کی اطاعت تک امت مسلمہ پر کافروں سے قتال واجب رہے گا۔
لہٰذا ان آیات کامفہوم یہ ہے کہ قتال اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک کہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے یاجب تک کفار و مشرکین کو ہر اس معاملے میں مطیع و فرمانبردار نہ بنا لیا جائے کہ جس کی عدم اطاعت کی صورت میں دوسروں پر ظلم و زیادتی ہو۔ظاہری بات ہے کہ کفار و مشرکین کے اپنے عقیدے پر قائم رہنے یا اس کے مطابق عبادات کرنے سے کسی پر ظلم و زیادتی نہیں ہوتی لہذا ان سے اس معاملے میں اطاعت جبرا نہیں کروائی جائے گی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’دین (قبول کرنے میں)میں کسی قسم کا جبر نہیں ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۵۶)
لیکن ریاست و حکومت کے انتظامی أمور میں کفار و مشرکین کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے اور قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تمام کے تمام کافر و مشرک اس دنیا وی نظام میں اللہ کے مطیع و فرمانبردار نہیں بن جاتے یعنی جب تک اللہ کے دین کا غلبہ تما م ادیان باطلہ پر نہیں ہو جاتا اس وقت تک قتال جاری رہے گا۔ اسی بات کو قرآن نے اس طرح بھی بیان کیاہے :
’’تم یہود و نصاریٰ سے قتال کرو جو کہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کو حرام نہیں ٹھہراتے کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہو اور دینِ حق کو بطور دین اختیار نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔‘‘ (التوبۃ:۲۹)
اور اسی بات کو ایک اور جگہ اس طرح بیان کیاہے :
’’وہی اللہ تعالیٰ ہے کہ جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا قرآن مجید اور دین حق دے کر تاکہ وہ اس کو تمام ادیان (باطلہ) پر غالب کردے اگرچہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی برا کیوں نہ لگے۔‘‘(التوبۃ:۳۳)
اور اسی بات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان کیا ہے:
’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ اداکریں پس جب وہ یہ کر لیں گے تو اپنے مال اور جانیں مجھ سے بچا لیں گے سوائے اسلام کے حق کے‘اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ (صحیح بخاری‘ کتاب الایمان‘ باب فان تابوا وأقامو ا الصلاۃ و آتوا الزکوۃ)
اس حدیث مبارکہ میں ’الناس‘ سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی کی ایک روایت میں ’أن أقاتل المشرکین‘ کے الفاظ آئے ہیں‘قرآن میں سورۃ توبہ میں بھی یہ حکم ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:
’’پس تم مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کا گھیراؤ کرو اور ان کے لیے ہر گھات لگانے کی جگہ میں بیٹھو پس اگر وہ لوٹ آئیں(یعنی اپنے کفر سے)اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔‘‘(التوبۃ:۵)
قرآن کے اسی حکم کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’أمرت أن أقاتل الناس‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ امام بخاری نے بھی اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر کے طور پر بیان کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مشرکین عرب کی طرف خاص طور پر ہوئی تھی اس لیے ان کے معاملے میں یہود و نصاری اور دوسرے کفارکی نسبت زیادہ سختی کی گئی ہے اور ان کے لیے جزیہ کی صورت باقی نہیں رکھی گئی ۔ ان مشرکین کے لیے دو ہی صورتیں تھیں یا تو اسلام قبول کر لیں یا پھر قتال کے لیے تیار ہو جائیں یا تیسری صورت یہ تھی کہ حجاز کاعلاقہ چھوڑ کر بھاگ جائیں۔
یہ واضح رہے کہ قتال کی اس علت اور غایت کی بنیاد پر قتال اس وقت ہوگا جبکہ کوئی مسلمان ریاست یا جہادی تحریک ان اسباب و ذرائع اور اس استعداد و صلاحیت کی حامل ہو کہ جن کا ہم اس مضمون میں بار بار ذکر کر چکے ہیں ۔جب تک ہمارے پاس کفار سے جنگ کی استعداد و صلاحیت موجود نہیں ہے، اس وقت اسلام کے پھیلانے کا منہج دعوت و تبلیغ ہے نہ کہ جنگ و جدال‘ اور کفار کے ظلم کا جواب صبرہے نہ کہ قتال۔اسلام کے کسی بھی معاشرے میں نفوذ کے لیے مسلمانوں کو ان کے حالات کے اعتبار سے بنیادی طور پر دو منہج دیے گئے ہیں ایک دعوت و تبلیغ کا ور دوسرا جہاد و قتال کا‘ دونوں مناہج کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حالات میں کام کیا ہے اور اب بھی جیسے حالات ہوں گے ویسا ہی منہج اختیار کیاجائے گا۔یہ کہنا کہ دعوت و تبلیغ اور صبر و مصابرت کا منہج منسوخ ہو چکاہے ‘ ایک باطل دعوی ہے کہ جس کی کوئی دلیل شریعت اسلامیہ میں موجود نہیں ہے۔دعوت و تبلیغ اور صبر و مصابرت سے متعلق قرآن کی سینکڑوں آیات کو بغیر کسی دلیل کے منسو خ قرار دینا سوائے جہالت کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔امام زرکشی ؒ نے ’البرہان‘ میں ناسخ و منسوخ کی بحث کے تحت اس موضوع پر عمد ہ کلا م کیا ہے اور لکھا ہے کہ اسلام کے یہ دونوں مناہج اب بھی برقرار ہیں اور حالات کے تحت کسی بھی منہج کو اختیار کیاجا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ’الفوز الکبیر‘ میں قرآن کی صرف پانچ آیات کو منسوخ قرار دیاہے۔بعض قتالی حضرات تو قرآن کی قتال سے متعلق ان آیات کو بھی بغیر کسی دلیل کے منسوخ قرار دیتے ہیں کہ جن میں کفار کے ساتھ کسی صلح یا معاہدے کا حکم ہے اور عملاً قرآن کاایک تہائی حصہ منسوخ ہو کر رہ جاتا ہے۔
خلاصہ کلام
ہم آخر میں ایک دفعہ پھر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم قتال کے خلاف نہیں ہیں۔ہم جہادی تحریکوں کے اس موقف سے متفق ہیں کہ امریکہ بہادر‘ انڈیا ور اسرائیل کے ظلم و ستم کا جواب صرف صبر کرنا یا دعوت تبلیغ نہیں ہے بلکہ ان ظالموں کا واحد علاج قتال ہے، لیکن کس کے قتال میں؟یہاں ہمیں جہادی تحریکوں ا ور ان کے رہنماؤں سے اختلاف ہے ۔ہماری رائے اس مسئلے میںیہ ہے کہ ریاست یا ایک امیر کے بغیر قتال میں دشمن کو کچھ نقصان تو پہنچایا جا سکتا ہے لیکن اس سے نہ تو دین کا غلبہ ممکن ہے اور نہ ہی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ‘ پوری دنیا میں مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل ریاستی اور ایک امیر کے تحت ہونے والے قتال میں ہے اور اسی کے لیے ہمیں اپنی جدوجہد اور توانائیاں صرف کرنی چاہئیں‘کیونکہ ایک ایسا قتال شریعت اسلامیہ میں حرام ہے کہ جس سے ایک چھوٹا منکر تو رفع ہو جائے لیکن اس سے بڑا منکر یا منکرات کے پیدا ہو نے کے امکانات ہوں۔اس کی ایک سادہ سی مثال یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں ایسا قتال کہ جس کے نتیجے میں پرویز مشرف کی حکومت تو ختم ہو جائے لیکن بش کی حکومت قائم ہو جائے ‘حرام ہو گا۔اسی بات کو امام ابن قیمؒ نے بڑے خوبصورت پیرایے میں بیان کیاہے ۔ امام صاحب ؒ فرماتے ہیں :
’’انکار منکر کے چار درجات ہیں پہلا درجہ وہ ہے کہ جس سے منکر ختم ہو جائے اور اس کی جگہ معروف قائم ہو جائے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ منکر کم ہو جائے اگرچہ مکمل ختم نہ ہو۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ وہ منکر تو ختم ہو جائے لیکن اس کی جگہ ایک ویسا ہی منکر اور آ جائے اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ اس منکر کے خاتمے کے بعد اس سے بھی بڑا اور بدترین منکر آ جائے ۔پس پہلے دو درجے مشروع ہیں جبکہ تیسرا درجہ اجتہاد کا میدان ہے اور چو تھا درجہ حرام ہے ۔‘‘(اعلام ا لموقعین: جلد ۳‘ص۱۵۱)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جہادی تحریکوں کی مساعی اور مجاہدین کی قربانیوں سے کئی منکرات کا خاتمہ ہو رہا ہے لیکن کیا ریاست کے بغیر ہونے والے اس جہاد سے کچھ اور منکرات اور مفاسد بھی پیدا رہے ہیں؟ تو یہ سارا حالات حاضرہ اور تاریخ کا موضوع ہے اس کا کوئی تعلق شریعت سے نہیں ہے اور اگر حالات پر گہری نظر رکھے والے بعض علما یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے قتال سے کئی بڑے بڑے منکرات پیدا ہو رہے ہیں تو ایسے علما پر یہ فتوے لگانا کہ وہ جہاد کے مخالف ہیں‘ محض تنگ نظری‘ ہٹ دھرمی اور جماعتی تعصب ہے۔اس لیے ہماری نظر میں اس وقت مسئلہ شرعی نہیں ہے‘ کیونکہ شرعاً تو تمام علما قتال کو جائز سمجھتے ہیں‘بلکہ أصل مسئلہ أمر واقعہ کا ہے کہ فقہ الواقع میں کیاہو رہا ہے؟ کیا یہ وہی جہاد و قتال ہے کہ جس کا قرآن و سنت کی نصوص میں تذکرہ ہے ؟قرآن و سنت میں قتال کے بارے میں آنے والی نصوص اور کسی جہادی تحریک کے قتال میں بہر حال زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہ نصوص صحابہ کرامؓ کے قتال کی تائید تو کرتی ہیں کہ جس کے بارے میں ان کا نزول ہوا لیکن کوئی جہادی تحریک ان نصوص کا مصداق بنتی ہے یا نہیں ‘یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں اختلاف کی گنجائش ہر زمانے میں باقی رہے گی۔
خود کش حملے: چند توجہ طلب پہلو
حافظ محمد سلیمان
موجودہ دور میں اس غلط تصور کو رواج دے دیا گیا ہے کہ خودکش حملے مذہب اسلام کی پیدا وار یا اسلامی تعلیمات کا نتیجہ ہیں، حالانکہ یہ چیز واضح ہے کہ خود کش حملوں کا تعلق کسی خاص مذہب و ملت سے نہیں ہے۔ اگر ان کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ خود کش حملے دراصل سیاسی اور معاشرتی جبرواستبداد کی پیدا وار ہیں اور جہاں بھی مخصوص اسباب پائے جائیں گے، وہاں لوگ اس طرح کی کارروائیوں پر مجبور ہوں گے۔ انسان استبدادی نظام کو فطرتاً اور طبعاً پسند نہیں کرتے اور یہ چیزان کے عقل ومزاج کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے جب انہیں اپنی مظلومیت کا احساس وادراک ہو جا تا ہے تو وہ مستبدانہ نظام کے خلاف مزاحمت کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی بات اصولی طور پر ان مغربی استعماری قوتوں پر صادق آتی ہے جنہوں نے وسطی ایشیا پراپنی قوت وطاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمایا۔ اسی طرح جب انسان کے بنیادی حقوق، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، معاشرتی ہوں یا معاشی، سلب ہو جاتے ہیں تو قومیں اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنی طاقت کی حد تک اپنی زندگی کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ جب انہیں حصول انصاف اور آزادی وخود مختاری سے ناامیدی اور مایوسی ہو جاتی ہے تووہ اس صورت میں اپنی اور دوسروں کی زندگی کاامن وامان اور سلامتی پامال اور تہس نہس کر دیتی ہیں۔ کبھی خونزیزی کا سبب اور وجہ طبقاتی تقسیم ہو ا کرتا ہے۔ جو معاشرہ طبقاتی تقسیم میں مبتلا ہو اور وسائل چند مخصوص گروہوں اور افراد کے ہاتھوں میں ہوں تو محروم طبقات غیر روایتی طرزعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کا پہلو اختیار کرتے ہیں۔
انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ تمام حقوق میں سب سے زیادہ اہم حق جان کا تحفظ ہے، کیونکہ زندگی کے تحفظ کے بغیر نہ تو انفرادی ترقی ناممکن ہے اور نہ اجتماعی طورپر کوئی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ جب تک زندگی کی حفاظت کی ضمانت نہ ہو، زندگی کے مقاصد کا حصول ناممکن بن جاتا ہے۔ انسان کے مدنی حقوق میں اولین حق زندہ رہنے کا حق ہے اور اس کے مدنی فرائض میں سے اولین فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ کسی ذاتی فائدہ کی خاطر یاکسی ذاتی عداوت کی بنیاد پر اپنے ایک بھائی کو قتل کر دینا بدترین قساوت اور انتہائی سنگ دلی ہے جس کا ارتکاب کر کے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا ہونا تو درکنار، اس کادرجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی محال ہے۔
اسلام نے انسانی جان کو محترم قرار دیا ہے۔ احترام نفس کی جیسی صحیح اور موثر تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ بات مذہب اسلام کی خصوصیات میں شمار کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے افکار ونظریات کی بنیاد پر انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو امن اور تحفظ کا یقین دلاتا ہے اور اس بات کا درس دیتا ہے کہ کوئی انسان اپنے جذبات وخواہشات کی بنیاد پر دوسروں کے حقوق کو پامال نہ کردے اور انسانی جان ومال کو بلاوجہ ہلاک اور ضائع نہ کرے۔ مذہب اسلام میں انسانی جان کی ہلاکت اور اموال محترمہ کے ضیاع کو ایک قابل سزا جرم قرار دیاگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ناحق طور پر ہونے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ (المائدۃ،۵:۹۱) اس لیے کہ مذہب اسلام نے ہر انسان کو پوری آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق عطا کیا ہے اوراگر انسانی نظام حیات میں خلل واقع ہو جائے تو اس مقاصد شریعت یعنی حفاظت دین، حفاظت نفس، حفاظت عقل، حفاظت نسل اورحفاظت مال وغیرہ میں فساد لازم آئے گا۔
جہاں تک خود کش حملوں کا تعلق ہے تو میدان جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے فدائی کارروائیوں یا کسی دوسری صورت کو اختیار کرنے کی گنجایش ہے، لیکن ایک اسلامی ریاست اور سلطنت میں مسلمانوں یا معاہد غیر مسلموں کے خلاف کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنے کا جواز نہیں جس سے ناحق طور پر جانوں کی ہلاکت اور اموال کا ضیاع ہو۔ اس ضمن میں تشدد پسند عناصر کا رویہ اسلام کے حقیقی فلسفہ امن وامان کو مسخ کرنے اور اسلام کی ایک بے حد غلط تصویر دکھانے کا موجب بن رہا ہے۔ جو تنظیمیں اور جماعتیں ایک مسلم ریاست کے اندر مسلمانوں کے خلاف ان کارروائیوں اور حملوں کو جائز سمجھتی ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام جیسے پاکیزہ مذہب اور جہاد جیسے مقدس فریضہ کی اصل روح کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طرز عمل کے نتائج وعواقب کاادراک کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں وہ جہاد کی اصل حقیقت یعنی اعلاے کلمۃ اللہ ہی سے نا آشنا اور شرعی واخلاقی حدود وقیود سے رو گرداں تو نہیں۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک شخص مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد کرتا ہے، دوسرا شخص اس لیے جہاد کرتا ہے کہ دنیا میں اس کا چرچا ہو، تیسرا شخص اس لیے جہاد کرتاہے کہ فن سپہ گری کی اعلیٰ مہارت دکھائے توان میں سے فی سبیل اللہ کرنے والا کون سا ہے؟ جنا ب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صرف اس لیے جہاد کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔ (بخاری، رقم:۲۵۹۹) سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اعلاے کلمۃ اللہ کی بجائے دین کا چہرہ مسخ کرنے اور لوگوں کو اس سے دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں؟
ان تنظیموں اور افراد کا مقصود اگر ان کارروائیوں سے معاشرے کی ایسی شخصیات یا عناصر کو ختم کرنا ہے جو ان کے خیال میں مذہب اور ملت کے لیے نقصان دہ ہیں تو اسلامی قانون میں اس کی بھی گنجایش نہیں۔ ملت ومذہب کی تقویم کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں کشت وخون نہ ہو اورنہ لوگوں کو جبر واکراہ کے ذریعے اسلامی احکام پر عمل پیرا کیا جائے۔ ایسے ماحول میں حکمت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن ا لمنکر کا فریضہ ادا کرنا چاہیے تاکہ ارباب اقتدار میں اسلامی احکام و قوانین کورائج کرنے کی طرف جھکاؤ پیدا ہو جائے اور عوام الناس اس پر عمل پیرا ہو ں۔ اگر اسلامی احکام پر عمل کرنے اور انھیں رواج دینے میں معاشرہ اور حکام کی طرف رکاوٹ پائی جائے تو اس وقت چاہیے کہ آدمی اپنی قوت وبساط کے مطابق احکام پر عمل پیرا ہو، اس لیے کہ عدم استطاعت کا شرعی عذر موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے ’لا یکلف اللہ الاوسعہا‘ (البقرہ،۲:۲۸۶) میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اعتدال پسندی کا عملی مظاہر ہ کرے نہ یہ کہ معاشرہ میں خون ریزی اور فساد برپا کر دے جو کہ مصلحت شرعی اور مصلحت عامہ کے خلاف ہے۔
پھر یہ بات بھی اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ہے کہ جرم کی سزا مجرم ہی کو دی جانی چاہیے اور سزا بھی شرعی حدود وقیود کے مطا بق ہونی چاہیے۔ قرآن مجید نے عدل وانصاف پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’ولا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لاتعدلوا، اعدلوا‘ کہ کسی طبقے کے ساتھ دشمنی اور مخالفت تم کو ناانصافی کے راستے پر نہ لے جائے، بلکہ تم ان کے ساتھ بھی انصاف کا حق ادا کرو۔ (المائدۃ،۵:۸) ایسے ہی مذہبی معاملات میں بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے جملہ اخلاقی پہلووں پر غور وفکر اور مشاہداتی نتائج کی روشنی میں عدل وانصاف، مساوات اور رواداری وغیرہ جیسے امور کے مفقود ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ پھر یہ طرز عمل متعصبانہ اور جاہلانہ رویے کی نشاندہی کرتا ہے، حالانکہ تعصب تنگ نظری اور انتہاپسندی کی علامت ہوا کرتا ہے۔
اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ احتجاج کا قانونی راستہ ہمیشہ کھلا رکھا جائے۔ اگر احتجاج مبنی بر حقیقت ہے تو اسے قبول کیا جائے اور اگر خلاف واقعہ ہے تو متاثرین کو مطمئن کیا جائے۔ ملک کے ایک عام شہری کو بھی امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے دائرہ کار کا لحاظ رکھتے ہوئے ارباب اقتدار کو روکنے ٹوکنے کا حق حاصل ہے۔ اگر کچھ لوگ اسلامی نظریہ سے ہٹ کر کوئی غیر سنجیدہ طریقہ اختیار کریں تو ان کا بھی بہتر طریقہ پر جواب دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ادفع بالتی ھی احسن السیءۃ (مومنون: ۹۶) یعنی برائی کو بھی احسن طریقے سے دور کرو۔ گویا اسلام ہر آدمی کو ایک دائرہ کار دیتا ہے جس کے مطا بق وہ زندگی اختیار کرے۔ ایسی سرگرمیاں اور کارروائیاں جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو، منافرت اور عداوت کی چنگاریاں سلگاتی ہیں جو کسی وقت بھی پورے معاشرے کے امن وامان کو تباہی اور بربادی سے بدل سکتی ہیں، لہٰذا اسی خطرہ کے انسداد کے لیے یہ حکم ہوا کہ مخالفین کے سب وشتم کا جواب تلوار سے دینے کے بجائے ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ اس قسم کی نوبت بھی نہ آئے کہ دوسروں کی دل آزاری اور دل شکنی ہو۔ مذہب اسلام کی شناخت ہی یہی ہے کہ جبر وتشدد کا راستہ ترک کرکے اعتدال پسندی اور رواداری کا راستہ اختیار کیا جائے۔
تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانے کو اس لیے بھی فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے کہ وہ تمام جنگی امور میدان کارزار میں جائز ہوا کرتے ہیں جن سے دشمن کو نقصان پہنچے، مگر ایک اسلامی ریاست میں ایسے امور کو اختیار کرنا جن سے اسلامی سلطنت کی بنیادیں کمزور ہوں، قومی املاک اور اثاثوں کو نقصان پہنچایا جائے اور نتیجتاً ملت کا شیرازہ بکھر جائے، قطعاً ایک مذموم امر ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ملک شام کی طرف ایک اسلامی لشکر روانہ کیا تو آپؓ نے لشکر کے امیر یزید بن ابی سفیانؓ کو حکم دیا کہ ’’عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، بستیاں ویران نہ کرنا، کوئی بکری یا اونٹ کھانے کے سوا ذبح نہ کرنا، کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ ہی جلانا، خیانت نہ کرنا، اور نہ بزدلی دکھانا۔‘‘ (موطاامام مالک ،رقم: ۱۳۴۷ )
اس معاملے کا یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دور حاضر میں عالم اسلام کے جتنے بھی ممالک ہیں، دوسروں کے مقابلہ میں قوت وشوکت میں کمزور اور ضعیف ہیں اور خود ان ممالک کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں سے مزید سیاسی انتشار وافتراق پیدا ہوگا جس سے عالم اسلام کی انفرادی اور اجتماعی قوت مستحکم ہونے کی بجائے مزید کمزور پڑ جائے گی، جبکہ جہاد وقتال کا مقصد کلمۃ اللہ کی بلند ی اور دین اسلام کی سربلندی ہے اور دنیا کو تخریب کاری اور فساد سے نجات دلانا ہے۔ ایسی صورتوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان چیزوں میں خلل اور فساد واقع ہوتا ہے اور بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے ان کارروائیوں کے خلاف ردعمل ظاہر ہوتا ہے جس سے مسلمان مزید مصائب ور مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جبکہ اسلامی قانون اس بات پر زور دیتا ہے کہ جہاد وقتال کا مقصد فتنہ کی سرکوبی ہے نہ کہ فتنہ وفساد میں مزید اضافے کا سبب بن جانا۔
جو حضرات ان پالیسیوں اور سرگرمیوں کو مطلقاً اچھا سمجھتے ہیں اور اس میں شریک ہیں، انھیں ماضی کے حالات پر بھی گہری نظر رکھنی چاہیے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی مختار اور نیم خودمختار حکومتیں قائم ہوں اور پھر خانہ جنگیوں اور باہم اختلافات کی وجہ سے باہم دست وگریباں ہوں اور مسلم دشمن عناصر اپنی قوت کے بل بوتے پر ان ریاستوں پر اپنا قبضہ جما لیں۔ یہی صورت حال زمانہ قدیم کے مسلمانوں کی ہلاکت کا سبب بنی، چنانچہ اموی اور عباسی دورحکومت میں چھوٹی چھوٹی خود مختار اور نیم خود مختار حکومتیں قائم ہوئیں۔ آخر کار یہود ونصاریٰ نے ان اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام ریاستوں پر قبضہ جما لیا جو آج تک آزاد اور خود مختار نہ بن سکیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نہ تو مسلمانوں کا کوئی سیاسی وزن ہے اور نہ سماجی مقام، نہ تعلیم میں ان کی حیثیت نمایاں ہے اور نہ معیشت میں۔ مسلمانوں کو دہشت گرد، انتہا پسند اور بنیاد پرست مشہور کر کے اس مقام پر پہنچا دیا گیا کہ وہ ایک قابل نفرت قوم بن گئے ہیں اور لوگ ان سے خوف کھاتے ہیں۔ آج بین الاقوامی معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ایسی راہ اور منصوبہ بنائیں جو دیر سے سہی، لیکن انھیں منزل مقصود تک پہنچائے جس سے ان کے مسائل بھی حل ہوں، ملی تشخص بھی باقی رہے اور وہ دنیا میں اسلام کی اشاعت وحفاظت کا ذریعہ بھی بنیں۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
گرامی قدر حضرت والد صاحب دام مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بین الاقوامی سطح پر غیر مسلم لابیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ان کے موثر جواب کے لیے مسلم رہنما اسلامی ٹی وی چینل اور کیبل کا سوچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں علما کی دو رائے سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طبقہ، جس کی قیادت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب مدظلہ اور مولانا علی احمد سراج صاحب مدظلہ وغیرہ کر رہے ہیں، یہ کہتا ہے کہ ایسا ٹی وی چینل اور کیبل جائز اور درست ہے جس میں فوٹو بھی آتی ہے اور ان حضرات نے آپ کے حوالے سے ایک خبر شائع کی جو کہ اخبارات میں شائع ہوئی کہ آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان مرحوم کو ایسے چینل کی اجازت دی تھی اور پھر علما کے ایک وفد سے بھی، جس میں مولانا محمد اسلم شیخوپوری صاحب مدظلہ بھی تھے، آپ نے ایسے الفاظ فرمائے جس میں فوٹو والے چینل کی تائید ہوتی ہے۔ علما کے اس نظریے کے باعث اب مساجد اور مدارس میں بھی دینی مجالس کی فوٹو اور ان کی سی ڈی بے دھڑک تیار کی جا رہی ہیں۔ علما کے دوسرے طبقے کا، جس میں سرفہرست مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری مدظلہ ہیں، خیال یہ ہے کہ دنیا میں ایسے چینل اور کیبل بھی کام کر رہے ہیں جن میں فوٹو نہیں آتی اور آواز سے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں، اس لیے فوٹو والا چینل اور کیبل ناجائز ہے۔
آپ کے بیانات اور تحریروں میں تصویر کو ناجائز کہا گیا ہے، خواہ وہ تصویر کیمرہ کی ہو یا ویڈیو سے تیار شدہ ہو۔ جب آپ کے ہاں تصویر ہر حال میں حرام ہے تو آپ نے تصویر والے ٹی وی چینل اور کیبل کی اجازت کیسے دے دی ہے؟ اس بارے میں کسی عزیز سے اپنے موقف کی ایسی وضاحت فرمائیں کہ کوئی ابہام باقی نہ رہے اور آپ کے ہزاروں شاگرد اور لاکھوں معتقدین اس کی روشنی میں ٹھوس رائے قائم کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور تادیر آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ آمین ثم آمین۔
حافظ عبد القدوس قارن
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۲۰؍ رمضان المبارک، ۲۱ ستمبر ۲۰۰۸
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا جواب
میں نے کبھی بھی فوٹو کی اجازت نہیں دی۔ میرا موقف وہی ہے جو مولانا سعید احمد جلال پوری کا ہے۔ جس چیز میں فوٹو ہو، وہ قطعاً جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو چیز میری طرف منسوب ہے، وہ یا غلط بیانی ہے یا کج فہمی ہے۔ مولانا اسلم شیخوپوری صاحب سے جو میں نے کہا تھا، وہ اسلامی بینکاری اور بغیر تصویر والے چینل سے متعلق تھا۔
ابو الزاہد محمد سرفراز
(۲)
محترم عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ دو ڈھائی برس سے آپ کی جانب سے تو نہیں، البتہ آپ کے قابل قدر پرچے میں جماعت اسلامی، مولانا مودودی، ترجمان القرآن، قاضی حسین احمد، پروفیسر خورشید احمد پر طعنہ زنی اور گاہے بہتان طرازی کا ایک ہوکا پڑھنے کو ملتا ہے۔ یہ خدمت کوئی ایڈووکیٹ صاحب انجام دیتے ہیں۔
اب کے پانچویں مرتبہ، اور وہ بھی نہایت بھونڈے انداز میں، ستمبر ۲۰۰۸ کے شمارے میں انھی حضرت کی جانب سے یہ کھیل کھیلا گیا ہے۔ اگر تو یہ سب آپ کی پالیسی کے عین مطابق ہے تو پھر بسرو چشم، جو جی میں آئے کہیے، بلکہ فرمائیے ]کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کی کوثر وتسنیم سے دھلی زبان سے زیادہ شائستہ زبان بھلا کس کے نصیبے میں ہے! اگر وہ پڑھ سن لی تو یہ کس شمار قطارمیں[۔ لیکن اگر خود آپ کی ترجیحات میں، چن کر کسی ایک شخصیت یا جماعت کو ہدف بنانا شامل نہیں ہے تو پھر ایک ایسا فرد جو جماعت کی اجتماعی زندگی میں اپنے افعال، گفتار اور غیر متوازن رویوں کے باعث اخراج شدہ ہے، اس کی جانب سے انفرادی سطح پر بہانے ہی بہانے میں جماعت اسلامی اور اس کے متعلقین کو نفرت کا نشانہ بنانے کا کھیل کسی درجے میں سمجھ میں آتا ہے، مگر کیا ’’وحدت امت کا داعی اور غلبہ اسلام کا علم بردار‘‘ یہ الشریعہ ہی اس مقصد کے لیے رہ گیا ہے کہ بستہ بند ایڈووکیٹ صاحب اپنی فکری تلچھٹ اور قلمی پھوہڑ پن کو قارئین کے سامنے پے درپے انڈیلتے چلے جائیں۔
میں آپ سے ہرگز، ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ اس شغل کو بند کر دیں، مگر یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ لڑنا ہے، حملہ کرنا ہے تو میرے بھائی، اپنے ہتھیاروں سے لڑیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ بچہ جمہورا کے ہاتھوں لذت ثواب لے رہے ہیں۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور محبت ونفرت کی راہوں پر بھی اپنے خاص فضل سے نوازے۔
سلیم منصور خالد
486/C، سیٹلائیٹ ٹاؤن، گوجرانوالہ
یہ خط اشاعت کی غرض سے نہیں، توجہ کی غرض سے ہے۔ باقی آپ صاحب اختیار ہیں۔
(۳)
حضرت مولانا
السلام اور عید مبارک، آپ کو اور کل اصحاب شریعہ کو۔ آپ امریکا سے بالا بالا واپس ہو گئے۔ ہم انتظار سحر دیکھتے رہے۔ اللہ کرے عافیت سے ہوں۔
اکتوبر کا الشریعہ آ پہنچا ہے۔ اسلامی معاشیات پر مضمون تمام ہوا۔ میں اس موضوع پر کچھ پڑھنے کے لیے کبھی اپنے اندر دلچسپی نہیں پا سکا۔ یہ پہلا مضمون ہے جس نے پکڑ لیا۔ یہ کون صاحب ہیں؟ اس پر کسی رد عمل کا انتظار رہے گا۔ چودھری محمد یوسف صاحب کے تبصرے پر جو تبصرہ آیا ہے، بالکل برحق کہے جانے کے لائق ہے۔ مجھے بھی تقاضا اس کے بارے میں لکھنے کا ہوا تھا کہ اس کی اشاعت ’الشریعہ‘ کے صفحات اور قارئین دونوں کے ساتھ نا انصافی کا درجہ رکھتی ہے۔
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی
لندن
(۴)
عزیز القدر عمار خان ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کی عظیم القدر تالیف ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ موصول ہوئی۔ شگفتہ عبارت، تحقیق کا اعلیٰ معیار، تفقہ فی الدین کا حسین اسلوب، فکر انگیز طرز استدلال، کسر جمود کی خوب صورت سعی!
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
آپ نے کل ۱۳۹ ؍مراجع ومصادر کے حوالے دیے ہیں۔ کاش کتاب کے آخر میں ’’المصادر والمراجع‘‘ کے عنوان سے اندراج ہو جاتا تو ایک حسین اضافہ ہو جاتا۔ فقیر نے آپ کی اس نادر تالیف کو مورخہ ۲۷ رمضان المبارک کی شب میں ختم کر دیا اور ۲۸ کی شب کو مصادر ومراجع کی فہرست مرتب کردی۔ تفصیلی تبصرہ پھر کسی نشست، سر دست فہرست مراجع ارسال ہے۔
میری تجویز ہے کہ مصنف کا نام پہلے مع تاریخ ولادت ووفات، اور پھر کتاب کا نام، جیسے
المرغینانی، برہان الدین، مولود .....، متوفی ....، ہدایہ
فہرست مراجع کمپوز کروا کر ارسال کی جا رہی ہے۔
اگر آپ کے پاس مقاصد الشریعہ اسحاق شاطبی ہو تو اس سے ضرور استفادہ کریں۔ آپ کے تمام مباحث کے لیے یہ کتاب امہات الکتب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ ایڈیشن کے لیے قواعد الاحکام لعز بن عبد السلام کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
راشدی صاحب سے دیباچہ لکھوا کر آپ نے اس کاوش کی توقیر میں اضافہ کردیا ہے۔ جزاہ اللہ وجزاک اللہ۔
پرخلوص دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔
(مولانا قاضی) محمد رویس خان ایوبی
سرپرست مجلس افتاء آزاد کشمیر، میر پور
(۵)
برادرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کی وقیع اور قابل قدر علمی کاوش ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے عنوان سے وصول ہوئی۔ اس کتاب کا ہر عنوان اور ہر صفحہ گواہی دیتا ہے کہ آپ نے اخذ واستنباط، محنت اور جستجو کا حق ادا کیا ہے۔ بڑا نازک موضوع تھا جس پر آپ نے قلم اٹھایا مگر مشکل مقامات سے جس طرح آپ دامن بچا کر نکلے ہیں، اس نے صغر سنی کے باوصف علمی حلقوں میں آپ کا قد بہت اونچا کر دیا ہے۔ ’’شاب شیخ‘‘ کی ترکیب بجا طو رپر آپ پر صادق آتی ہے۔ مخدوم ومحترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم خوش نصیب ہیں کہ انھیں آپ جیسا ذہین وفطین اور مطالعہ کا شوقین فرزند عطا ہوا۔
یقیناًآپ کی تحقیق کے بعض نتائج سے اختلاف کیا جائے گا اور اختلاف کرنا بھی چاہیے کہ اختلاف رحمت ہے اور خوب سے خوب تر کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اختلاف، اختلاف ہی رہے، ضد او رخلاف میں تبدیل نہ ہو جائے۔ امید ہے کہ آپ بھی دلائل کی بنیاد پر کیے جانے والے اختلاف کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے اور اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ ظاہر نہیں کریں گے۔
دعا ہے کہ باری تعالیٰ شرور وفتن سے آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کے علم، قلم، زبان اور ذہنی صلاحیتوں سے امت مرحومہ کو بیش از بیش فائدہ پہنچے۔
(مولانا) محمد اسلم شیخوپوری
جامع مسجد توابین۔ سیکٹر Y6
گلشن معمار۔ کراچی
(۶)
بخدمت جناب محترم محمد عمار خان صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی ارسال کردہ کتاب ’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘ وصول ہوئی۔ بھیجنے پر مشکور ہوں، لیکن اس کا ظاہر وباطن دیکھ کر دلی رنج ہوا۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ پھر کسی موقع پر۔ اس وقت تو صرف رسید دینی مقصود تھی۔
(مولانا مفتی) عبد الواحد
دار االافتاء جامعہ مدنیہ لاہور
(۷)
عزیز القدر محمد عمار خان ناصر سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔
آج آپ کی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ موصو ل ہوئی۔ نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے یاد رکھا۔ قبل ازیں آپ کی دونوں ارسال کردہ کتابیں بھی موصول ہو گئی ہیں۔ آپ کی یہ کتاب ماشاء اللہ نہایت علمی ہے، کیونکہ چیدہ چیدہ مقامات میں نے دیکھے ہیں۔ ان شاء اللہ عید الفطر کے بعد پوری کتاب کا مطالعہ کروں گا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب کو بھی میرا سلام مسنون عرض کر دیں۔
(مولانا) حکیم محمود احمد ظفر
روڈس روڈ ۔مبارک پورہ ۔سیالکوٹ
(۸)
مکرمی محمد عمار خان صاحب
السلام علیکم
آپ کی کتاب ’’حدود وتعزیرات، چند اہم مباحث‘‘ مجھے ۴؍ اکتوبر کو لاہور کے پتے پر موصول ہو گئی تھی۔ یہ عرصہ میں سفر میں ہوں اور اس طرح مجھے کتاب کو پڑھنے کا موقع بھی مل گیا، لیکن خط لکھنے میں تاخیر کا باعث یہ ہوا کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتاب بھجوانے کا شکریہ آپ کا ادا کرنا ہے یا اس تحفہ کے متعلق جناب غامدی صاحب کو خط لکھنا ہے یا اسے میں جناب زاہد الراشدی صاحب کی مہربانی سمجھوں۔ کتاب کے ساتھ کوئی خط یا کارڈ منسلک نہیں تھا۔ بہرحال میں یہ خط آپ کو بھیج رہا ہوں۔ دونوں حضرات کی خدمت میں میرا سلام عرض کر دیں۔
آپ نے بلاشبہ اہم موضوعات پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ بطور خاص ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر آپ کا مضمون قابل قدر اضافہ ہے۔ راشدی صاحب کا دیباچہ آپ کی تحقیقی کاوش کا خوب صورت تعارف ہے۔
کتاب بھجوانے کا بار دگر شکریہ!
(جسٹس) سید افضل حیدر
جج فیڈرل شریعت کورٹ، اسلام آباد
(۹)
برادر محترم حافظ عمار خان صاحب
السلام علیکم
’’حدود وتعزیرات‘‘ مل گئی۔ بے حد شکریہ! مگر شاید میں تبصرہ نہ کر سکوں، کیونکہ جاوید غامدی صاحب اور ان کے حلقہ احباب کے بارے میں بے حد تلخ تجربہ ہے۔ خود آنجناب نے بھی بندہ کے خط کا جواب دینے سے معذرت کی تھی۔ اگر آپ اس وقت بات کر لیتے تو ارتداد سے متعلق آپ کی کتاب کا مبحث بہتر ہو سکتا تھا کیونکہ مرتد سے متعلق آنجناب کا مقدمہ محض روایت پرستی پر مبنی ہے، یعنی بنیادی مقدمہ ہی غلط ہے۔ خبر واحد سے صفحہ ؟؟ پر آپ کا استدلال؟ حیرت ہے۔
محمد امتیاز عثمانی
I-157,158 سردار عالم خان روڈ
نزد کمیٹی چوک۔ راول پنڈی
(۱۰)
محترم عمار خان ناصر صاحب
سلام مسنون
آپ کی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ اتفاقاً راول پنڈی میں ایک صاحب کے پاس نظر سے گزری۔ اس میں ارتداد کی سزا پڑھ کر یہ سطور لکھنے پر مجبور ہوا۔ قرآن حکیم کے واضح ارشادات کے مطابق صرف دو قسم کے لوگوں کو قتل کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اولاً: محارب یعنی فساد فی الارض کے مرتکب کو، ثانیاً: قاتل کو۔ یقیناًنبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام اس کے خلاف ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ نہیں فرما سکتے، کیونکہ آپ وحی کی اتباع کے پابند تھے نہ کہ اس میں تغییر وتبدیل یا نسخ کے۔
امید ہے میری گزارشات پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔
محمد رضوان حیدر
مکان ۱۴۔ گلی ۵۔ ماڈل ٹاؤن
HMC روڈ۔ ٹیکسلا