مئی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا سانحہ وفاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ثقافتی انقلاب کی ضرورتڈاکٹر محمد امین 
سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت: ایک تعارفمحمد زاہد صدیق مغل 
بجلی کا بحران ۔ چند تجاویزپروفیسر محمد شفیق ملک 
کیا فطرت أصلاً یا تبعاً مصدر شریعت ہے؟حافظ محمد زبیر 
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے سانحہ ارتحال پر اہل علم ودانش کے تعزیتی پیغاماتادارہ 
آفتاب علم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒسید احمد حسین زید 
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگیمولانا محمد یوسف 
ڈاکٹر محمد دین مرحوممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوامولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
آہ ! حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہسید سلمان گیلانی 

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا سانحہ وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶؍ اپریل ۲۰۰۸ کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے اور جن کے دیکھنے کو اب آنکھیں ترستی ہیں۔ 
ان کا تعلق مانسہرہ کے علاقہ میں آباد سواتی پٹھان قوم سے تھا۔ وہ ۱۹۱۷ء میں شنکیاری سے چند میل آگے کڑمنگ بالا کے پہاڑ کی چوٹی پر واقع ’’چیڑاں ڈھکی‘‘ میں جناب نور احمد خان مرحوم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ والدہ محترمہ کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد والد محترم کا بھی انتقال ہو گیا اور وہ اپنے برادر بزرگ حضر ت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ہمراہ قریہ قریہ مختلف مدارس میں گھوم کر علم کی پیاس بجھاتے رہے۔ دونوں بھائیوں نے بفہ، ملک پور، کھکھو، لاہور، وڈالہ سندھواں، جہانیاں منڈی، گوجرانوالہ اور دیگر مقامات کے متعدد مدارس میں اکٹھے دینی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند پہنچے جہاں انھوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز اور دیگر اکابر علماے کرام سے کسب فیض کیا اور سند فراغت حاصل کر کے عملی جدوجہد کا میدان سنبھال لیا۔ 
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے حیدر آباد دکن کے طبیہ کالج اور لکھنو کے دار المبلغین میں امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی سے بھی تعلیم پائی اور گوجرانوالہ واپس آنے کے بعد کھیالی اور کرشنا نگر (محلہ فیصل آباد) کی بعض مساجد میں کچھ عرصہ دینی خدمات سرانجام دیں اور چوک نیائیں میں مطب کا آغاز کیا، مگر قدرت نے ان کے حصے میں ایک بڑی دینی خدمت رکھی تھی کہ ۱۹۵۲ء میں مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ (جو ان کے استاذ بھی تھے) اور دیگر علماے کرام کے مشورے سے چوک گھنٹہ گھر کے قریب ایک بڑے جوہڑ کے کنارے مدرسہ نصرۃ العلوم کے نام سے دینی درسگاہ اور جامع مسجد نور کے نام سے مسجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔ انھیں اس کار خیر میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضر ت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحد جیسے اکابر علماے کرام کی سرپرستی اور برادر بزرگ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی رفاقت حاصل تھی اور مخلص رفقا کی ایک ٹیم بھی میسر آ گئی جنھوں نے خلوص ومحنت کے ساتھ اس گلشن علم کی ایسی آبیاری کی کہ اللہ رب العزت نے مدرسہ نصرۃ العلوم کو ملک کے بڑے دینی مدارس اور علمی مراکز کی صف میں کھڑا کر دیا اور آج دنیا کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے براہ راست یا بالواسطہ فیض پانے والے علماے کرام دینی جدوجہد کے کسی نہ کسی شعبے میں مصروف عمل نہ ہوں۔
حضرت صوفی صاحب ایک کامیاب مدرس، حق گو خطیب، باعمل صوفی اور بے باک دینی راہ نما تھے جن سے لاکھوں افراد نے استفادہ کیا اور ہزاروں علما نے تربیت پائی۔ وہ اپنے ذوق کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مشن کے علمبردار اور ان کی حکمت وفلسفہ کے شارح تھے جس کی جھلک ان کی تین درجن سے زائد تصانیف اور ہزاروں خطبات ودروس میں جابجا پائی جاتی ہے۔
راقم الحروف نے حفظ قرآن کریم کے بعد درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کا بیشتر دور ان کی نگرانی میں گزارا ہے، حدیث وفقہ، ادب وتاریخ اور حکمت ولی اللہٰی کے شعبے میں بیسیوں کتابیں ان سے براہ راست پڑھی ہیں اور فکری وذہنی دنیا میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انھوں نے ساری زندگی مدرسہ کے مکان میں گزار دی اور کم وبیش نصف صدی تک گوجرانوالہ کی خدمت کرنے کے باوجود اس شہر میں اپنے لیے ایک ذاتی مکان نہ بنا سکے۔ وہ زہد وقناعت میں اپنے ا ن بزرگوں کا عملی نمونہ تھے جن کا وہ اپنے بیانات، مضامین اور دروس میں اکثر تذکرہ کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو ان بزرگوں کی خدمات وفیوضات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔
وہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے ساتھ سب سے زیادہ عقیدت رکھتے تھے اور ان کے علوم وافکار اور روایات کے تذکرہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ حضرت مولانا سندھیؒ کے بارے میں ناقدین اور نادان دوستوں کی طرف سے دو طرفہ طور پر پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنے میں انھوں نے بطور خاص محنت کی اور تاریخ کا قرض ادا کیا۔ وہ مسلکاً متصلب دیوبندی تھے اور علماے دیوبند کے علمی وفکری مسلک ومنہج سے نئی نسل کو متعارف کرانے میں نہ صرف اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے معاون اور دست راست تھے بلکہ اس حوالے سے خود بھی ایک مستقل ذوق اور اسلوب رکھتے تھے۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے ایک مقام پر دیوبندی مسلک کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا ہے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی کے افکار وتعلیمات کا امتزاج قائم کیا جائے تو اس کا نام دیوبندیت ہے۔ میں اس حوالے سے عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارا گھرانہ بحمد اللہ تعالیٰ اس کا صحیح نمونہ ہے کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم پر ابن تیمیہؒ کا رنگ غالب ہے جبکہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ ابن عربیؒ کے ذوق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں کے فکر وذوق میں ایک واضح تنوع پایا جاتا ہے مگر ایک حسین امتزاج بھی موجود ہے اور اس تنوع اور امتزاج کے بعض واقعات کا میں خود بھی شاہد ہوں جو حضرت صوفی صاحب کے کسی تفصیلی تذکرہ میں مناسب موقع پر ان شاء اللہ پیش کیے جائیں گے۔
حضرت صوفی صاحب نے دینی، علمی، عملی اور فکری شعبوں میں جو خدمات سرانجام دی ہیں اور خلوص وللہیت کے ساتھ سعی ومحنت کا جو نمونہ پیش کیا ہے، اس کا ایک ایک پہلو تاریخ اور نئی نسل کی امانت ہے کہ قومیں ایسے ہی لوگوں سے راہ نمائی حاصل کر کے اپنی راہیں متعین کیا کرتی ہیں۔ خدا کرے کہ ہم اس امانت کو صحیح طور پر نئی نسل اور تاریخ کے سپرد کرنے میں کامیاب ہوں، آمین۔ سردست ان جذبات غم کے اظہار کے ساتھ قارئین سے ملتمس ہوں کہ وہ حضرت صوفی صاحب کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ بارگاہ ایزدی میں بطور خاص دست بدعا ہوں کہ اللہ رب العزت حضرت صوفی صاحب کے فرزند وجانشین مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی اور ان کے برادران مولانا محمد ریاض خان سواتی اور مولانا محمد عرباض خان سواتی نیز ہم جیسے دیگر پس ماندگان کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہر قسم کے شر سے حفاظت کرتے ہوئے دین حق کے فروغ اور سربلندی کے لیے آخر دم تک خدمات سرانجام دینے کے مواقع نصیب کریں اور خلوص ومحنت کے ساتھ اس کے لیے پیش رفت کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ثقافتی انقلاب کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

پاکستان میں سیاسی تبدیلی عوام کے ہاتھوں آچکی۔ گو فوج کی لائی ہوئی آمریت اپنی بقا اور اپنی پالیسوں کے تسلسل کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ یہ بجھتی ہوئی شمع کی آخری بھڑک ہے۔ جب شاہوار ملک مشرق سے طلوع ہو چکا اور سپیدۂ سحر نمودار ہو چکا تو اب تاریکی کا وجود کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ اس کا مقدر یہی ہے کہ کو نوں کھدروں میں چھپتی پھرے اور اپنی نیستی کو قبول کر لے۔ 
یہ بھی تسلیم کر لیجیے کہ یہ تبدیلی تھوڑی غیر متوقع اور قدرے حیران کن ہے۔ اگر چہ اس تبدیلی کے لیے کئی سیاسی قوتیں میدان میں تھیں اور کشمکش و مزاحمت عرصے سے جاری تھی لیکن یہ توقع پھر بھی بہت سے لوگوں کونہ تھی کہ یہ تبدیلی انتخابات کے ذریعے آئے گی اور رائے عامہ کے زور سے آئے گی کیونکہ آمریت نے اپنے بدیسی آقاؤں کی مرضی ، خواہش اور تعاون سے رائے عامہ کو دبانے، کچلنے اور غیر موثر کر نے کے سارے انتظامات باطمینان خاطر کر رکھے تھے اور ہر روزن بند کر نے کے بعد اس کی پوری کوشش تھی کہ روشنی کی کرن کہیں سے نہ پھوٹے لیکن بالآخر اسے انتخابات کروانے پڑے اور وہ بھی بڑی حد تک شفاف، جس کے نتیجے میں اس کا دھڑن تختہ ہوگیا۔
ہم اس مثبت تبدیلی کو سراہتے اور اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ تپتے ہوئے صحرا میں ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ہے جس نے میدان سیاست میں مشام جاں کو معطر کیا اور حیات نو کی نوید دی ہے، لیکن کیا اس سے ہمارے سارے زخم بھر جائیں گے، ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے؟ پُرامیدی اور خوش امیدی کے باوجود اس کا جواب ہاں میں دینا محض مبالغہ آرائی ہوگی۔ ہاں! یہ کہنا شاید صحیح ہو کہ سیاسی میدان میں یہ ایک مثبت پیش رفت کا آغاز ہے اور اگر سیاست میں یہ روش جاری رہتی ہے کہ انتخابات باقاعدگی سے ہوتے رہیں اور وہ شفاف بھی ہوں اور ان میں حقیقی رائے عامہ بھی ابھر کر سامنے آتی رہے تو یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہمارا معاشرہ کچھ بہتر ہوجائے، انسانوں کے رہنے کے قابل ہوجائے اورلوگوں کے دکھ درد میں کچھ کمی ہو جائے اور ان کے کچھ مسائل حل ہونے لگیں، لیکن سیاسی میدان میں یہ تبدیلی یا مثبت رجحان بہر حال کوئی امرت دھارا نہیں ہے کہ اس سے ہمارے سارے امراض کا علاج ہو جائے اور ہمارے سارے نظریاتی ،معاشرتی،معاشی، قانونی، تعلیمی، تربیتی مسائل حل ہوجائیں۔ خصوصاً اس حوالے سے سو چیے کہ ہمارا سیاسی نظام اصلاً مغربی جمہوریت پر مبنی ہے (اور ہم نے اپنے ہاں کے دینی عناصر اور دین پسند عوام کے دباؤ پر محض ان کی اشک شوئی کے لیے اس میں بعض اسلامی اجزا کا اضافہ کر رکھا ہے) جو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور مغرب کے لادین طرز حیات کا مظہر اور عکاس ہے۔ یوں جمہوریت محض ایک سیاسی نظام نہیں اور اسی طرح سرمایہ داری محض ایک معاشی سسٹم نہیں بلکہ یہ دونوں اس وحدت کے اجزا ہیں جسے ہم مغربی تہذیب کہتے ہیں اور مغربی تہذیب نام ہے ایک ملحدانہ ورلڈ ویو اور ایک لادین طرز زندگی کا جس کی بنیاد ہیومنزم، سیکولرزم، کیپٹل ازم، سائنس ازم جیسے ملحدانہ نظریات پر ہے۔ یو ں سمجھیے کہ مغربی تہذیب ایک دین ہے جو ساری انسانی زندگی کا احاطہ کرتا ہے، جو فرد اور اجتماع کے سارے اعمال کو کنٹرول کر تا ہے اور چونکہ یہ اس وقت غالب اور طاقتور ہے لہٰذا یہ ہر اس فکر، نظریے اور معاشرے کو کچل کر آگے بڑھ رہا ہے جو اس سے موافقت نہ کر ے یا اس کی راہ میں مزاحم ہو۔ لہٰذا مغربی جمہوریت کو محض ایک سیاسی نظام سمجھنا پہاڑ جتنی بڑی غلطی ہے۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک پورا ’’دین‘‘ ہے اور مکمل طرز زندگی ہے جس کی دست برد سے فرد اور اجتماع کا کوئی معاملہ بچا ہوا نہیں ہے یا یوں کہیے کہ یہ ایک اکٹوپس (ہشت پا) ہے جس کے شکنجے سے نکل کر آپ کہیں نہیں جاسکتے۔

سیاسی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں

آپ خود سوچیے! کیا اس جمہوری تبدیلی سے جو پاکستان میں آئی ہے، آپ کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا قبلہ درست ہوجائے گا اور جو فحاشی، عریانی اور ذہنی و فکری پراگندگی وہ پھیلا رہا ہے اسے بریک لگ جائے گی؟ کیا اس سیاسی تبدیلی سے آپ کا تعلیمی نظام ٹھیک ہو جائے گا، نصاب اسلام اور نظریہ پاکستان کے تقاضوں کو پورا کر نے والا اور بچوں کو اچھا مسلمان اور اچھا انسان بنانے والا بن جائے گا؟ کیا معیشت سے سود ختم ہو جائے گا اور افلاس کم ہو جائے گا اور غریبوں کے دن پھر جائیں گے؟ کیا اس جمہوری تبدیلی سے لوگوں کے اخلاق بہتر ہوجائیں گے اور وہ فراڈ، رشوت ، بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے باز آ جائیں گے؟ کیا اس سے چوریاں ، ڈاکے ، زنا اور قتل بند ہو جائیں گے ؟ معاف کیجیے گا، ان میں سے کچھ بھی نہ ہوگا۔ بدی کا یہ سارا نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔
آپ یہ دیکھیے کہ ایم ایم اے کے نام سے پاکستان کی ساری بڑی دینی جماعتوں کا اتحاد ایک صوبے پر پانچ سال تک بر سراقتدار رہا، وہاں وہ کیا اسلامی اور تعمیری تبدیلی لاسکا؟ کچھ بھی نہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا سارا ریاستی نظام اور آپ کا سارا معاشرتی سیٹ اپ مغربی فکر و تہذیب کے قائم کردہ اداروں کی گرفت میں ہے۔ آپ اگر مغربی جمہوریت کے تحت قائم کردہ سیاسی اداروں کو قبول کر کے اور ان سے مصالحت کرتے ہوئے سیاسی میدان میں کامیاب ہو بھی جائیں تو آپ مغربی فکرو تہذیب سے مختلف اور ان کی مخالف دینی، اخلاقی، تعلیمی، معاشرتی تعلیمات و اقدار کو معاشرے میں مقبول نہیں کراسکتے اور انہیں رائج اور نافذنہیں کر سکتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ایم ایم اے یا دینی جماعتوں کو بالفرض پورے پاکستان میں بھی اقتدار مل جائے (جس کا پاکستان کی عملی سیاست میں دور دور تک کوئی امکان نہیں، پانچ دس فیصد بھی نہیں) تو پھر بھی وہ کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گے؟ (جس طرح کہ وہ صوبہ سرحد میں نہیں لا سکے) بس زیادہ سے زیادہ کچھ قانون بنا لیں گے اور کاغذوں میں شریعت نافذکر لیں گے اور اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جنرل ضیاء الحق صاحب نے بھی اسلامی حدود نافذ کر دی تھیں اور یہ ۱۹۷۹ء کی بات ہے۔ گو یاتیئیس برس ہونے کو ہیں۔ کیا کسی ایک چور کا بھی ہاتھ کٹا ہے؟ کوئی ایک زانی بھی سنگسار ہوا ہے؟ اسی طرح جنرل ضیاء الحق نے آئین میں آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ کا اضافہ کر کے اسمبلیوں میں پہنچنے والوں کے لیے اخلاقی معیار طے کردیا تھا۔ کیا اس کے بعد اسمبلیوں کے جتنے انتخابات ہوئے ہیں، ان میں حصہ لینے والے اس اخلاقی معیار پر پورا اترتے ہیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ تازہ سیاسی تبدیلی موجودہ تپتی جھلستی فضا میں ٹھنڈی ہواکا ایک خوشگوار جھونکا ضرور ہے لیکن اس سے ہمارے مسائل حل نہ ہو سکیں گے، خصوصاً ہمارے تہذیبی اور نظریاتی تناظر میں۔ لہٰذا ہمیں ضرورت ہے ایک ثقافتی انقلاب کی، ایک ایسے ثقافتی انقلاب کی جس کی جڑیں ہمارے عقائد، ہماری اقدار اورہماری تہذیب میں پیوست ہوں، جو فکری بھی ہو اور اخلاقی بھی۔ ہم نے اسے دینی اس لیے نہیں کہا کہ نمازیں تو ہم اب بھی پڑھتے ہیں، روزے تو ہم اب بھی رکھتے ہیں لیکن نہ ہمارے اعمال ان سے بدلتے ہیں اور نہ ہمارا کردار۔ دراصل ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارا کردار بدلے، ہمارے رویے تبدیل ہوں۔ اسی لیے ہم نے اسے ثقافتی انقلاب کا نام دیا ہے۔

مجوزہ ثقافتی انقلاب اور اس کے خدوخال 

یہ عرض کرنے کے بعد کہ سیاسی تبدیلی سے ہمارے مسائل حل نہ سکیں گے بلکہ اس کے لیے ایک ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہے، ایک ایسے ثقافتی انقلاب کی جس کی جڑیں ہمارے عقائد، ہماری اقدار اور ہماری تہذیب میں پیوست ہوں،جو فکری بھی ہو اور اخلاقی بھی، اب ہم یہ عرض کر نے کی کوشش کریں گے کہ مجوزہ ثقافتی انقلاب کیسے آ سکتا ہے اور اسے کون لائے گا ؟ لیکن اس سے بھی پہلے ایک بنیادی بات کہ اس ثقافتی انقلاب کا فکری منہج کیا ہوگا؟ ہمارے نزدیک مجوزہ ثقافتی انقلاب تین اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے:
۱۔ اسلامی فکروتہذیب سے وابستگی (کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان رہنا چاہتے ہیں) 
۲۔ مغربیت اور مغربی تہذیب کا ردّ (کیونکہ وہ اسلامی فکر و تہذیب سے مختلف اور اس کی مخالف ہے) 
۳۔ مندرجہ بالا دو اصولوں کے مطابق فکر وعمل اور طرز زندگی میں عملاً تبدیلی تاکہ ہماری دنیا سنور جائے اور آخرت میں بھی کامیابی ملے۔ 
ان اصولوں کے مطابق پاکستان میں ثقافتی انقلاب کیسے آئے گا؟ ہماری رائے یہ ہے کہ اس کے لیے ایک بھرپور عوامی تحریک چلنی چاہیے۔ اس تحریک کو چند ایسے عملی اقدامات کی بنیاد پر اٹھایا جا سکتا ہے جو متفق علیہ ہوں اور اختلافی نہ ہوں مثلاً :
۱۔ غریبوں کی مدد 
۲۔ اخلاقی سدھار
۳۔ تعلیم عام کرنا 
۴۔ فحاشی اور عریانی کا خاتمہ۔۔۔۔۔۔وغیرہ 
وضاحت کی خاطر ہم صرف پہلے نکتے کے بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں ۔ جو لوگ غریب، نان جویں کے محتاج اور بھوک سے خودکشیاں کر رہے ہیں، وہ آخر کہیں تو رہتے ہیں۔ کسی کے تو عزیز رشتہ دار ہیں۔ تو لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔ اپنی بستی، اپنے محلے کے غریبوں کی مدد کریں ، اپنی برادری اور خاندان کے غریبوں کی مدد کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ امیروں کو چھوڑیے۔ اگر ہر متوسط طبقے کا گھرانہ ایک سو روپیہ بھی ماہانہ اس مد میں دے (جو وہ بسہولت دے سکتا ہے) تو اتنی رقم آسانی سے جمع ہو سکتی ہے جو اس بستی ، اس محلے کے غریبوں کو مرنے نہیں دے گی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایوب خاں کے زمانے میں حکومت نے ’’ایک پیسہ ایک ٹینک‘‘ کا نعرہ دیا تھا یعنی ایک پاکستانی اگر ایک پیسہ روزانہ دے تو ایک دن کی آمدنی سے پاک فوج کے لیے ایک ٹینک خریدا جا سکتا ہے اور اس وقت لوگوں کی جذباتی کیفیت ایسی تھی کہ لوگوں نے پیسے دیے اور وہ اسکیم کامیاب رہی۔ کراچی کے ایک ٹرسٹ نے افغانستان میں لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے وہاں کئی بستیوں میں تندورکھول دیے تھے جہاں سے لوگوں کو بلا قیمت روٹی مل جاتی تھی اور ایسے بہت سے لوگ تھے جو مثلاً ایک گاؤں یا بستی کے لیے ایک تندور کا سارا خرچ آسانی سے دے دیتے تھے۔ ہم پچھلے ہفتے ایک دینی مدرسے میں موجود تھے جہاں ہمیں پتہ چلا کہ اس دن مدرسے میں غریب دینی طلبہ کے لیے اتنا گوشت آیا تھا جو ضرورت سے زیادہ تھا اور انتظامیہ اسے سنبھالنے سے قاصر تھی، لہٰذاملازمین کو کہاگیا کہ وہ سستے داموں اسے خرید لیں۔ ان مثالوں سے ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ابھی بانجھ نہیں ہوا ، جذبہ اور اخلاص موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ایک شفاف اور قابل اعتماد نظام تشکیل پا جائے اور لوگوں کو اس کے لیے متحرک کر دیا جائے۔ اگر ہر بستی، ہر محلے اور ہر برادری میں اس طرح کی ایک کمیٹی تشکیل پا جائے جو شریف اور دیانت دار افراد پر مشتمل ہوتو لوگ اس پر اعتماد کریں گے اور وسائل کی قلت نہ ہوگی۔ مسجد یا مقامی سکول کو اس کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ہم نے ایک شعبے کی مثال دی ہے کہ اس طرح ہر بستی کے غریبوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کی اسکیم دیگر تین نکات اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے لیے بھی بنائی اور چلائی جا سکتی ہے۔ تاہم طوالت سے بچنے کی خاطر ہم صرف ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔ 
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ مذکورہ عوامی تحریک کون چلائے گاکہ مجوزہ ثقافتی انقلاب آ سکے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اور معاشرے کے مختلف طبقات مثلاً ادیبوں، صحافیوں، وکیلوں، اساتذہ، طلبہ وغیرہ میں ایسے لوگوں کی ہرگز کمی نہیں جو مذکورہ بالا تین نکات سے اتفاق کرتے ہوں اور اصلاح فرد و معاشرہ کے لیے ان نکات پر اکٹھے ہو سکتے ہوں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ متحرک و منظم ہو جائیں اور قافلہ چل پڑے اور اس کی سمت درست ہو۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے اور طبقے سے ایسے چیدہ چیدہ لوگ جمع ہوں جن کو مجوزہ ثقافتی انقلاب اور اس کے اصول و مناہج سے اصولی اتفاق ہو اور وہ مل کر ایک وسیع البنیاد قومی کونسل تشکیل دے لیں اور تحریک کے لیے عملی پروگرام کی نوک پلک سنوار کر اسے آخری شکل دے دیں اور اللہ کا نام لے کر کام کا آغاز کر دیں۔ تحریک ان شاء اللہ آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی اور اپنے اثرات مرتب کرتی جائے گی۔ 
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اتنے بڑے انقلاب اور عوامی تحریک کا خواب دیکھنا تو آسان ہے، لیکن اسے عملاً برپا کرنا مشکل بلکہ ناممکن اور ناقابل عمل ہے۔ یہ وہ بھاری پتھر ہے جسے چوم کر تو چھوڑا جا سکتا ہے ، اٹھایا نہیں جا سکتا۔ یہ تو K2 بلکہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے برابر ہے۔ ہم کہتے ہیں دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا۔ ہر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ نیت صادق اور جذبہ قوی ہو اور ٹھوس پلاننگ کے ساتھ بھرپور جدوجہد کی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو اور اسی سے توفیق طلب کی جائے۔ عقلی استدلال یہ ہے کہ مجوزہ عوامی تحریک پاکستانی معاشرے میں کامیابی سے چلائی جاسکتی ہے کیونکہ معاشرے اور ریاست کے معمول کے ادارے لوگوں کے مسائل حال کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ لوگ مایوس ہو رہے ہیں۔ جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ ان کے کام نہیں ہورہے۔ وہ جدھر جائیں ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور وہ موجودہ سسٹم سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ انہیں تعمیری اور مثبت انداز میں متحرک کر دیا جائے تا کہ وہ خود اپنے مسائل کو حل کر سکیں اور اپنے نظریات اور اپنے عقیدے کے مطابق حل کرسکیں۔ 
آپ پاکستان کے ماضئ قریب کے حالات پر غور کیجیے۔ جب سیاسی جماعتیں تبدیلی لانے میں ناکام ہو گئیں تو وکلا تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ کیا ایسا کسی ایک فردیا چند افراد نے پلاننگ سے کیا؟ ہماری رائے میں ہرگز نہیں۔ بہتا ہوا پانی اپنا رستہ خودبخود بنا لیتا ہے بشرطیکہ وہ سراٹھا کر زمین کا سینہ شق کرنے میں کامیاب ہوجائے اور جب اس کی مقدار زیادہ ہو اور وہ زور لگائے تو وہ زمین کا سینہ شق کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین اس ثقافتی انقلاب کے لیے تیار ہو چکی ہے۔ اب کسی بھی وقت لاوا پھٹ پڑے گا اور جس طرح وکلا تحریک نمودار ہوگئی، اسی طرح اس ثقافتی تحریک کے لیے بھی مختلف لوگ اور مختلف طبقے اٹھ کھڑے ہوں گے، ان شاء اللہ۔ 
دیکھیے، اس ملک کی روایتی دینی قوتیں نتائج کے لحاظ سے ناکام ہوچکی ہیں۔ دینی سیاسی جماعتوں کا حشر آپ کے سامنے ہے۔ تبلیغی جماعت اور دینی مدارس اس طرح کا فرد تیارہی نہیں کر رہے جو موجودہ معاشرے کی رہنمائی کر سکے اور دین کا رشتہ حاضر و موجود سے جوڑ سکے۔ سیاسی لوگوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے۔ وقتی طور پر حالات کچھ بہتر ٹرن لیتے محسوس ہوتے ہیں لیکن اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ پچھلے ساٹھ سالوں سے سیاستدانوں اور اصحاب اقتدار کی کارکردگی تباہ کن اور عبرتناک رہی ہے۔یہی حال سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور سول و فوجی بیوروکریسی کا ہے۔ مطلب یہ کہ جو اس معاشرے کے بالا دست طبقات تھے، جنہوں نے معاشرے میں تبدیلی لانا تھی اور مسائل کو حل کرناتھا وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ لہٰذا معاشرے کی فطری ضرورت یہ ہے کہ یہ خلا پُر ہو اور یہ خلا پُر کرنے والے منطقی طور پر وہ لوگ ہو ں گے جو مذکورہ بالا ناکام شدہ طبقات میں سے نہیں ہوں گے۔ مثلاًہم سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کواٹھ کھڑے ہونا چاہیے، وہ کسی حد تک منظم بھی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ان کی ایک توقیر، منصب اور مقام بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مزدور اور کسان زیادہ منظم نہیں ہیں اورنہ ان کی فعال انجمنیں ہیں حالانکہ سب سے زیادہ مظلوم تو وہی ہیں۔ تاہم جو اور جتنی موجود ہیں، انہیں متحرک ہو جانا چا ہیے۔ اسی طرح صحافیوں، ادیبوں، وکیلوں، انجینئرز، چھوٹے دکانداروں اور متوسط طبقے کے دوسرے عناصر کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ متحرک ہو جائیں توان کا ایک بڑا ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ وہ طلبہ کو منظم اورمتحرک کریں اور طلبہ جب اس ثقافتی اور معاشرتی انقلاب کے لیے متحرک ہو جائیں گے تو کامیابی یقینی ہے کیونکہ نوجوانوں میں قوت کار اور جذبہ وافر مقدار میں موجود ہوتاہے اور وہ کسی بھی تحریک کا بہترین سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اللہ کرے ہماری یہ تحریر ان لوگوں کے لیے خرد افروزی،فکر انگیزی اور تحریک کا سبب بنے جو اس معاشرے اور ملک کے لیے سوچتے ہیں، جو اپنی دنیا وآخرت کی بہتری کی فکر رکھتے ہیں اور اس کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور مجوزہ ثقافتی انقلاب و عوامی تحریک کے لیے بیج کاکام دے، ایسا بیج جو نرم و نازک کلی کی طرح پھوٹتا ہے لیکن پھر شجر سایہ دار بن کر انسانوں کو ٹھنڈک اور سایہ پہنچاتا اور زندگی کی کڑی دھوپ سے بچاتا ہے۔ 

سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت: ایک تعارف

محمد زاہد صدیق مغل

کسی تہذیب کا تصور علم اس کے اہداف و مقاصد کے اظہار کا سب سے بلند ترین درجہ ہوتا ہے۔ در حقیقت تصور علم ہی وہ اساس ہے جہاں کسی تہذیب کے مقاصد علمی و فکری سطح پر متشکل ہوتے ہیں۔ ہر تصور علم ایک تہذیب کے حیات انسانی کی حقیقت کی بابت ما بعد الطبعیاتی ایمانیات کا مرہون منت ہوتا ہے۔ یعنی یہ سوال کہ علم کیا ہے کا جواب مقصد علم کے بغیر دینا ناممکن ہے اور یہ مقصد لازماً ایک ما بعد الطبعیاتی ایمان پر قا ئم ہوتا ہے ۔ یہی وہ بنیادی بات ہے جس پر غور نہ کر نے کے سبب کئی اہل علم و فکر نے مغربی علوم کو اسلامی تاریخ میں تلاش کرنے نیز ان کی اسلام کاری کرنے کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی کہ مغربی علوم ایک اٹل حقیقت ہیں نیز ان کی بنیاد ایسے آفاقی تصورات پر قائم ہے جو انسانیت بحیثیت مجموعی کا مظہر ہیں، اسی سوال پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ماہیت علم اور ایمانیات کا تعلق نظر انداز کرنے کے نتیجے یہ فکری کجی بھی عام ہوئی کہ مسلمانوں کو مغربی علوم کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس مضمون میں ہماری کوشش ہو گی کہ ہم علم بحیثیت مجموعی اور سرمایہ دارانہ (یا سائنسی ) نظریہ علم کی حقیقت وا ضح کریں۔ 
حقیقت علم کی تفہیم کے ضمن میں تین سوالات کے جوابات اصل اہمیت کے حامل ہیں: 
۱) علم کیا ہے ، یعنی اس کی نو عیت و ماہیت (Nature)کیا ہے ؟ 
۲) علم کہاں سے آئے گا، یعنی منبع علم (source of knowledge) کیا ہے؟ منبع علم کی تشخیص کے ساتھ ہی اس سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ اس منبع علم سے حاصل ہونے والے علم کی صحت و عدم صحت (validity) کا معیار کیا ہے ؟ 
۳) اس مخصوص منبع علم سے حاصل شدہ معلومات کن شکلوں میں متشکل (embodiement) ہوئیں ، یعنی اس نظریہ علم کا اظہار کن علوم کی شکلوں میں ہوا ؟
سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت کے ضمن میں ان تینوں سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ایک طویل مضمون درکار ہوگا، لہٰذا خوف طوالت کو ملحوظ خا طر رکھتے ہوئے اس مضمون میں ہم پہلے سوال کا جواب تفصیلاً جبکہ تیسرے کا جواب اجمالاً دینے کی کو شش کریں گے۔ ان سوالات کے جوابات سمجھنے کے لیے تین امور پر روشنی ڈالنا ضروری ہے :
الف) علم کی نوعیت و ماہیت کا حقیقت کی بابت ایمانیات سے تعلق پر
ب) سرمایہ دارانہ تصور علم کا اس کے تصور حقیقت سے تعلق اور اس کی خصوصیات پر
ج) چند اہم سرمایہ دارانہ علوم کی حقیقت پر
اس مضمون میں ہم درج بالا ترتیب سے اپنے مدعا کو بیان کریں گے :

۱) ایمانیات اور تصور علم کا باہمی تعلق 

علم سے مراد عام طور پر معلومات کا ایک با مقصد مجموعہ سمجھی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ ’عالم ‘ (knower) اور ’معلوم ‘ (known) کے درمیان ایک تعلق کا نام ہے اور ان دونوں کے درمیان اس تعلق کی مقصدیت ہی ’مجموعہ معلومات ‘ کے مافیہ (content) کی ماہیت (nature) اور درجہ بندی (hirarchy) کا تعین کرتی ہے۔یعنی کس مجموعہ معلومات پر لفظ علم کا اطلاق کیا جا ئے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ علم حا صل کرنے والے شخص کا مقصد کیا ہے۔ چنانچہ ہر مقصدیت سے نکلنے والا تصور علم اور معلومات کی درجہ بندی یکساں نہیں ہوتی۔ اس کی مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہم یہ بیان کرتے چلیں کہ معلومات کے ہر مجموعے پر لفظ علم کا اطلاق نہیں کیا جاتا بلکہ صرف ایک بامقصد معلومات کے مجموعے پر ہی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً کسی پا گل شخص کو بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن اس کی ان معلومات کوکسی بھی تصور علم میں ’علم ‘ نہیں مانا جاتا۔ اس بنیادی وضاحت کے بعد اب ہم ایک آسان مثال بیان کرتے ہیں۔ فرض کریں آپ سائنس ، انجینئرنگ اور سو شل سائنسز کے مختلف مضامین کی ایک فہرست مرتب کرکے ان کی درجہ بندی کرنا چا ہتے ہیں ۔ اگر آپ یہ فہرست کسی سائنس کے طالب علم کے سامنے پیش کریں گے تو وہ ان مضا مین کی جو درجہ بندی کرے گا، ان کی تر تیب کچھ یو ں ہوگی: 
۱) سائنس کے مضا مین ، 
۲) انجینئرنگ کے مضا مین ، 
۳) سو شل سائنسز کے مضا مین 
اس کے برعکس اگر آپ یہی فہرست کسی انجینئرنگ کے طا لب علم کے سامنے پیش کریں تو وہ انہیں درج ذیل ترتیب سے مرتب کرے گا : 
۱) انجینئرنگ کے مضا مین ، 
۲) سائنس کے مضا مین ، 
۳) سو شل سائنسز کے مضا مین 
جبکہ ایک سو شل سائنسز یا بزنس ایڈ منسٹریشن کے طا لب علم کی مرتب کردہ فہرست درج ذیل ہو گی : 
۱) سو شل سائنسز کے مضا مین ، 
۲) سائنس کے مضا مین ، 
۳) انجینئرنگ کے مضا مین 
ان طا لب علمو ں کی مرتب کردہ فہرستوں میں علوم کی درجہ بندی کا یہ فرق اس مقصد اور تعلق (relevance) کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کی خا طر یہ طلبا علم حا صل کرنا چا ہتے ہیں۔ چنا نچہ اگر آپ کسی انجینئرنگ کے طا لب علم سے تاریخ کی اہمیت پر بات کریں تو شاید اس کے نزدیک تاریخ ایک غیر اہم علم کہلائے، لیکن اگر کسی فلسفی کی نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ سے زیادہ اہم علم کوئی اور نہ ہوگا ۔ اس مثال میں نو ٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ معلومات کی علمی حیثیت اور اس کی درجہ بندی طے کرنے میں علم حاصل کرنے والے شخص کا مقصد فیصلہ کن اہمیت کا حا مل ہوتا ہے۔ اس بات کو مزید وا ضح کرنے کے لیے ایک اور مثال پر غور کریں۔ آپ اور ہم بچپن سے یہ بات سنتے چلے آئے ہیں کہ ’اصل علم تو قرآن و حدیث ہی ہیں‘۔ آج کے جدیدیت پسند مفکرین کو یہ بات مبالغہ انگیز ی دکھا ئی دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا واقعی یہ مبا لغہ انگیزی ہے یا حقیقت وا قعہ ہے؟ اور اگر حقیقت ہے تو کن معنوں میں یہ بات درست ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اسلام کے نزدیک انسانی زندگی کے مقصد پر غور کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات نہایت وا ضح طریقے سے بیان کی ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد دنیا وی زندگی کوپرلطف بنانے کے لیے کائنات کو مسخر کر نے کی سعی کرنا نہیں بلکہ اپنے رب کی عبادت کرنا اور اس کی خوشنودی حا صل کرنا ہے ، نیز یہ کہ انسان کو یہ زندگی اس کے کسی حق کے طور پر نہیں دی گئی کہ جسے وہ جیسے چا ہے ترتیب دے ، بلکہ یہ زندگی اسے آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ جب یہ طے ہو گیا کہ زندگی کا مقصد آزمایش اور حصول رضاے الٰہی ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آزمایش جس شے میں ہو رہی ہے، اس کا علم کہاں سے حا صل ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں رضا ے الٰہی حا صل کرنے کے طریقے کا علم کہا ں سے ہو گا؟ کیا ہر شخص آزاد ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کا جو بھی مقصد چا ہے بنا لے یا اس کے رب نے اس کی ہدایت کا کوئی انتظام کیا ہے؟ ہر شخص جا نتا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے ہدایت انسانی کے لیے انبیا و رسل کا سلسلہ جاری فرمایا اور اس ہدایت کے حصول کا آخری اور واحد معتبر ذریعہ قرآن و حدیث نبوی کی صورت میں موجود ہے۔ چنا نچہ یہی وہ وا حد ذریعہ علم ہے جس سے رضاے الٰہی کے حصول کا طریقہ جا نا جا سکتا ہے اور اس ذریعہ علم کو چھوڑ کر اس دنیا میں اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے انسا ن یہ جان سکے کہ میرا رب مجھے کس شے میں آزما نا چا ہتا ہے، نیز وہ میرے کن اعمال سے خوش ہو گا اور کون سے اعمال اس کی نا را ضگی کا با عث ہوں گے۔ پس ثا بت ہوا کہ انسانی زندگی کے مقصد ’ عبادت رب‘ کے معیار پر پورا اترنے والا علم وہی ہے جسے مولوی صاحب ’قرآن و حدیث ‘ کہتے ہیں، لہٰذا یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ’اصل علم تو قرآن و حدیث ہی ہیں‘، نیز دیگر عقلی علوم کی درجہ بندی ان علوم کے اس مقصد حیات کے حصول میں معا ونت و عدم معا ونت کے اصول پر طے کی جا ئے گی۔ جو علم اس مقصد حیات کے حصول میں جتنا زیادہ ممد و مددگار ہوگا، اسلامی نظریہ علم میں اتنا ہی اہم کہلائے گا، اور جس علم کا تعلق اس مقصد کے ساتھ جتنا کمزور ہو گا، وہ علوم کی درجہ بندی میں اتنا ہی نیچے دکھائی دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں قرآن و حدیث کے بعد صرف ونحو، فقہ و اصول، کلام و منطق وغیرہ کو خصوصی اہمیت حا صل رہی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات وا ضح ہو جا نی چا ہیے کہ ہر تصور علم (یعنی مجموعہ معلومات کی نوعیت) اور اس کی درجہ بندی چند مابعد الطبعیاتی ایمانیا ت کی مرہون منت ہوتی ہے، نیز مقصد حیات کی با بت عقائد بدل جا نے سے تصور علم بھی بدل جا تا ہے۔ چنا نچہ کسی تہذ یب سے نکلنے والے تصور علم اور معلومات کی درجہ بندی کو اس تہذ یب کی ایمانیات سے ما ورا ہو کر سمجھنا نا ممکن ہے اور جو شخص بھی ایسی کوشش کرے گا، لازماً غلط نتا ئج تک ہی پہنچے گا۔ ایمانیات اور تصور علم کے تعلق کی اس اصولی بحث کے بعد اب ہم سرمایہ دارانہ تصور علم کی تفصیلات کی طرف آتے ہیں۔ 

۲) سا ئنسی علم کی نوعیت اور اس کے تصور حقیقت سے اس کا تعلق 

آ ج کی دنیا بالخصوص مغربی دنیا میں جب بھی لفظ علم بولا جا تا ہے تو اس سے مراد عام طور پر ’سائنس و ٹیکنالوجی‘ ہی سمجھا جا تا ہے۔ ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب موجودہ سائنس و ٹیکنا لو جی نامی کوئی بھی شے علم کے مسمیٰ کے طور موجود نہ تھی۔ کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ سا ئنس و ٹیکنالوجی کا موجودہ علم تمام انسانی تہذیبوں میں تحلیل ہوتا ہوا اپنا تاریخی سفرطے کرکے اس منطقی منزل تک پہنچا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے نزدیک علم ایک مسلسل تاریخی عمل (Historical progression) کا نام ہے جو کسی قسم کی ایمانیات کا مرہون منت نہیں۔ ہمارے متجددین حضرات اس فکر کو اس وجہ سے اپنا تے ہیں تا کہ موجودہ سائنس کو اسلامی تاریخ کا تسلسل ثا بت کر دکھا ئیں۔ ہو سکتا ہے اس تجزیہ میں ان کے لیے خوشی کا بہت سا سامان ہو ، لیکن حقیقت علم کا یہ تجز یہ کوئی علمی حیثیت نہیں رکھتا۔ سرمایہ دارانہ علم (یعنی سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ) کسی مسلسل تا ریخی عمل کے نتیجے میں نہیں بلکہ انسانی زندگی و کا ئنات کے بارے میں تصور حقیقت کی ایک ایسی تبدیلی سے پیدا ہوا جو تحریک تنویر (enlightenment) کے نتیجے میں عام ہوئی۔ 
۲.۱ : سر مایہ دارانہ تصور حقیقت کی ایمانیات 
اس تصور حقیقت نے جن بنیادی ایما نیات اور اقدار کو اپنانے کی طرف دعوت دی وہ مختصراً یہ تھے (ان اقدار کی تفصیلی وضاحت ہم نے اپنے جمہوریت کے مضمون میں بیان کی ہے، دیکھئے: ساحل ، نومبر ۲۰۰۶): 
الف) آزادی جس کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی خواہشات کی ترتیب متعین کرنے کا اخلاقی طور پر مستحق ہے، یعنی یہ اس کا حق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہے، چاہ سکے اور اپنی چاہت حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکلف ہونے کی جدوجہد کرے۔ مختصراً آزادی کا معنی خیرو شر طے کرنے کا حق انسان کو حا صل ہونا ہے، یعنی انسان کے ’حق ‘ کا ’خیر و شر‘ پر فوقیت رکھنا ہے [prioritization of right over good] (آسان لفظوں میں یہ تصور کہ خیر اور شر کا منبع اور اس کا تعین نفس انسانی سے ہوتا ہے )۔ مغربی انسان خود کو قائم بالذات (self-determined) اور آزاد (autonomous) تصور کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں آزادی کا مطلب ہے ’عبدیت‘ کا رد، یعنی انسان کی حقیقت عبد ہونا نہیں بلکہ قائم بالذات یعنی خود اپنا خدا ہونا ہے، کیونکہ انسان کو خیرو شر طے کرنے کا حق دینے کا مطلب اس بات کا انکار ہے کہ وہ عبد ہے اور اس کا مقصد حیات خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ خواہش کی نفی کرکے اپنے نفس کو خدا کی رضا کے آگے جھکا دینا ہے ۔
ب) مساوات جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں کی خوا ہشات کی ترتیب اور ان سے طے پانے والے تصور ات خیر مساوی اہمیت کے حا مل ہیں اور ان میں اصولاً کسی قسم کی درجہ بندی کرنا نا ممکن ہے، یعنی تمام تصورات خیر و شر اور زندگی گزارنے کے تمام طریقے برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مساوات کا معنی ہے ’نظام ہدایت‘ کا رد ، یعنی اس بات کا انکار کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر بتانے کے لیے ہدایت کا کوئی سلسلہ انبیاے کرام کے ذریعے قائم کیا ہے ، نیز انبیاے کرام کی تعلیمات خیر و شر طے کرنے کا کوئی حتمی معیار ہیں ۔ یہ اس لیے کہ نظام ہدایت کا معنی ہی یہ ہے کہ تمام انسانوں کی خواہشات کی ترتیب ہرگز مساوی معاشرتی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ وہ شخص جس کی خواہشات کی ترتیب تعلیمات انبیا کا مظہر ہیں، تمام دوسری ترتیبوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں نظام ہدایت مساوات کا نہیں بلکہ حفظ مراتب کا متقاضی ہے جس میں افراد کی درجہ بندی کا معیار (differentiating factor)تقویٰ ہوتا ہے۔ نیز اسلامی معاشرے و ریاست کا مقصد جمہوری معاشرے کی طرح ہرفرد کو اپنی اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی خواہشات کو نظام ہدایت کے تابع کرنے کا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظریہ ریاست میں citizen(ایسی عوام جو اصولاً حاکم اور فیصلہ کرنے والی ہوتی ہے) اور عوامی نمائندگی (Representation of citizens) کا کوئی تصور ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں عوام citizen نہیں بلکہ رعایا ہوتی ہے اور خلیفہ عوام کا نمائندہ نہیں ہوتا کہ جس کا مقصد عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے کرنا ہو بلکہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے جس کا مقصد رعایا کی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کے لیے نظام ہدایت کا نفاذ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آزادی و مساوات کا معنی یہ ہے کہ خیر و شراور اپنی منزل کا تعین انسان خود طے کرے گا اور ہر شخص کا تصور خیرو زندگی گزارنے کا طریقہ مساوی معاشرتی حیثیت رکھتا ہے اور ریاست کا مقصد ایسی معاشرتی صف بندی وجود میں لانا ہوتا ہے جہاں ہر فرد اپنی خواہشات کو ترتیب دینے اورانہیں حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکلف ہوتا چلا جائے ۔
ج) ترقی جس کا حاصل یہ ہے کہ زندگی میں انسان کا مقصد اپنے ارادے اور خواہشات کی زیا دہ سے زیادہ تکمیل (maximum satisfaction) ہے اور ارادہ انسانی کی یہی منتہا تکمیل ترقی کا جوہر ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ترقی کا مطلب ہے ’آخرت‘ کا اور دنیا کے ’دارلامتحان ‘ ہونے کارد اور دنیاوی زندگی کو بذات خود مقصد (End in itself) سمجھنا ہے۔ ترقی درحقیقت وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے آزادی اور مساوات کا اظہار ممکن ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی معاشرہ آزادی اور مساوات کے اصول پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو وہ واحد طریقہ جس کے نتیجے میں ہر فرد اپنی خواہشات کی ترتیب طے کرنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف بن سکتا ہے، ترقی یعنی سرمائے میں لامحدود اضافہ کرنے کی جدوجہد ہے ۔
تصور حیات کی اس تبدیلی کے بدولت ایک ایسے ’جدید انسان ‘کی تخلیق ہوئی جسے ہیومن (Human being)کہتے ہیں ۔ تحریک تنویر سے قبل اس انسان کا کوئی معاشرتی وجود نہ تھاکیونکہ ہر مذہب میں انسان سے مراد عبد (Mankind) ہی سمجھا جاتا تھا جو اپنی پہچان اور وجود خود اپنی ذات سے نہیں بلکہ خدا کے وجود سے حاصل کرتا تھا ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ مختلف مذاہب کے ما بین اظہار عبدیت کے معتبر طریقے میں اختلاف موجود تھا۔ فوکالٹ (بیسویں صدی کے مشہور ترین مغربی فلسفیوں میں سے ایک) کا یہ کہنا صد فیصد درست ہے کہ ہیومن تو پیدا ہی سترہویں صدی میں ہوا ہے، اس سے پہلے کسی تہذیب اور نظام زندگی میں ہیومن کا تصور موجود ہی نہیں تھا۔ ہیومن (وہ انسان جو خود کو قائم بالذات سمجھتا اور آزادی کا خواہاں ہے ) مغربی نظام زندگی کی روح رواں ہے اور تمام مغربی علوم جس انسان کے رویے سے سے بحث کرتے ہیں، وہ یہی ہیومن ہے نہ کہ عبد۔ یہ ایک ایسا انسان تھا جس کی دلچسپی کا محور مذہبی رسوم عبودیت بجا لانے کے بجائے دنیاوی معاملات سے بے پناہ رغبت تھی، اور جس میں ایک ایسا نیا ولولہ اور جوش تھا جو اسے غیر مشروط آزادی کی طرف مائل کرتا تھا۔ اس تبدیلی کی تصویر کشی ڈاکٹر ظفر حسن نے اپنی کتاب ’’سر سید اور حالی کا نظریہ فطرت‘‘ میں خوبصورت الفاظ میں کی ہے: 
’’یہ ایک ایسا انسان تھا جو اپنے سے پہلے والے انسان سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر دینا چا ہتا تھا...اٹھا رویں صدی کے اوائل میں کہا جا نے لگا کہ بزرگوں نے نئی نسل کو ایک ایسا معا شرتی نظام دیا ہے جو نرا دکھاوا اور دھو کا ہے اور جو ہر برائی کا ذمہ دار ہے ... اٹھا رویں صدی کی نسلیں اس نظریے کو کہ انسان کو کوئی الہامی پیغا مات وصول ہوتے ہیں بالکل رد کرکے وحی کا انکار کر دینا چا ہتی تھیں ۔ القصہ مختصر وہ انسانی زندگی کو کسی حال میں بھی مذہبی طرزفکر سے نہ دیکھنا چا ہتی تھیں۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ایک نئی چیز کوجنم دیں گی، عقل کی روشنی سے وہ ظلماتی دور کو نیا نور بخشیں گی اور قدرت کے منصوبے کو دریافت کر لیں گی اور اس طرح انسان کا ایک پیدایشی حق یعنی انسانی خوشی اور خوشحالی انسان کے لیے بحال کر دیں گی ‘‘۔

۲.۲: سرمایہ دارانہ یا سائنسی علم کا مفہوم: ارادہ انسانی کی بالا دستی 

حیات انسانی کی مقصد یت کے بارے میں یہ گمراہ کن تصورات سترہویں اور اٹھا رویں صدی کی پیداوار ہیں جن کے نتیجے میں علم کا ایک نیا تصور ابھرا۔ اگر اس دنیا میں انسان کا مقصد ارادے اور خو اہشات کی تکمیل ہے تو پھر اس کائنات میں لامحدود خواہشات انسانی کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ یہا ں کی تمام اشیا و موجودات اس کے ارادے کے تابع ہوجائیں، کیونکہ جب تک وہ انسانی ارادے کے تابع نہیں ہو جا تیں، تکمیل خواہشات کا خواب کبھی شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ مثلاً انسان کی ایک خوا ہش یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ ہوا میں اڑے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ وہ زمین کی اپنی طرف گرانے کی قوت پر قابو پائے۔ اشیا و موجودات کو اپنے ارادے کے تابع کرنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان ایسی معلومات حاصل کرنے کے در پے ہو جو اسے تسخیر کائنات کی راہ سجھا ئے۔ لہٰذا اس تصور حقیقت (کہ زندگی کا مقصد ارادہ انسانی کی تکمیل ہے ) سے جو تصور علم نکلا اس کے مطا بق علم سے مراد ایسی بات جاننا ہے جس کے ذریعے انسان اس چیز پر قادر ہو جا ئے کہ اس کے ارادے کی تکمیل کیسے ہوسکتی ہے اور وہ علم جو انسان کو یہ بتا تا ہے کہ کائنات پر اس کے ارادے کا تسلط کیسے ممکن ہے، اسے ’سائنس ‘ کہتے ہیں ۔ لہٰذا ترقی کا اصل معنی ہے علم کو سائنس کے ہم معنی قرار دینا، یعنی ترقی سے مراد ان معلومات میں اضافہ ہے جو انسانی ارادے کی تکمیل کو ممکن بناتی ہوں ۔ گویا مغربی تہذیب میں ’ارادے و خواہشات کی تکمیل ‘ ہی معلومات کے مجموعے اور عالم (knower)کے درمیان تعلق کی بنیاد ٹھہر ا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب میں علم وہ چیز جاننا نہیں ہے کہ جس سے انسان اپنے رب کی رضا جان لے، یعنی علم یہ نہیں کہ مجھے وضو یا غسل وغیرہ کرنے کا طریقہ اور مسائل معلوم ہو جائیں بلکہ علم تو یہ ہے کہ میں یہ جان لوں کہ پنکھا کیسے چلتا ہے، بجلی کیسے دوڑتی ہے، جہاز کیسے اڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گویا اب علم رضا ے الٰہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں، بلکہ تسخیر کا ئنا ت یا با الفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کے ہم معنی بن گیا ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں علم اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں بلکہ نفس انسانی کی رضا اور اس کی تکمیل کا سامان فراہم کرنے والی معلومات کا نام پڑ گیا۔ تصور علم کی یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی تبدیلی تھی جس نے انسان کی کامیابی کو کسی خدا کی اطا عت (obedience) کے ساتھ نہیں بلکہ لا متناہی خواہشات انسانی کی تکمیل و ارادہ انسانی کے تسلط (dominance) کے ساتھ مشروط کر دیا۔ سائنسی علم کا یہ مقصد اور اس کے پھیلاؤ کے لیے درکار ضروری اسباب کا نقشہ سائنس کے موجدین اور فلاسفہ نے بڑے وا شگاف الفاظ میں بیان کیا تھا۔ مثلاً گلیلیو کا مشہور مقولہ ہے: Bible shows us the way to heavens, but it does not show the way heavens go یعنی ’ بائبل ہمیں جنت میں جا نے کا راستہ تو بتاتی ہے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ یہ کائنات کیسے چلتی ہے‘۔ مشہور تاریخ دان H.G. Wellsرا جر بیکن جسے جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے، کے خیا لات کو کچھ اس طرح خراج تحسین پیش کرتا ہے: 
’’ بیکن کی کتابیں جہالت کے خلاف بغاوت تھیں۔ اس نے اپنے دور کے لوگوں کو بتایا کہ وہ جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اوریہ ایک ایسی بات تھی جسے اس دور میں کہنے کے لیے بہت ہمت درکار تھی۔ قرون وسطی کے لوگ اپنے دور کی ذہانت اورایمانیات کے سچ ہونے کے بارے میں جذباتی حد تک قائل تھے اور ان کے خلاف ہر گز کوئی تنقید بر داشت نہ کرتے۔ راجر بیکن کی کتابیں ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کی کرن تھیں۔ وہ کہتا تھا کہ ’ غیر عقلی ایمانیات اور مسلمہ مقتدرہ (Authority) کی پیروی کرنا چھوڑ دو‘۔ دنیا پر غور کرو، (حصول علم کے لیے) تجربہ تجربہ اور تجربہ (پر زور ) ہی اس کا مقصد تھا۔ اس نے جہالت کے چار اسباب بیان کیے: مسلمہ مقتدرہ کا احترام، اسلاف کے طور طریقوں پر عمل ، ریت و رواج کی پیروی ، اور ہمارے فخریہ مگر نہ سمجھ آنے والے دکھاوے۔ اگر ہم ان چیزوں سے جان چھڑالیں تو پھر سائنسی ایجادات اور مکیینیکل قوت سے بھر پور ایک نئی دنیا انسانیت کو دکھائی دے گی۔ ۔۔(میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ) بحری سفروں کے لیے بغیر ملا حوں کی ایسی مشینیں بنانا ممکن ہے جسے صرف ایک آدمی اس کشتی کی رفتار سے کئی گنا تیز چلا سکتا ہو گا جسے کئی ملا ح مل کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح بغیر ڈھور ڈنگر سے چلنے والی ایسی سواریاں بنانا بھی ممکن ہے جو پرانے دور کی تیز ترین سواریوں سے تیز چلتی ہوں گی۔ اور ہوا میں اڑنے والی ایسی مشینیں بنانا بھی ممکن ہے جس میں انسان بیٹھ سکتا ہو اور وہ مشین بالکل پرندوں کی طرح پر ہلاکر چلتی ہو‘‘ ۔
بیکن نے یہ تمام تفصیلات اپنی کتاب The New Atlantis میں بیان کی ہیں جس میں اس نے ایک ایسے فرضی جزیرے کی تصویر کشی کی ہے جہاں سائنسی تحقیقات کرنے والا ایک بہت بڑا ادارہ قائم کردیا گیا ہے۔ جہاں کا حاکم آنے جانے والے لوگوں کو اس جگہ کی سیر کرا تا ہے اور ان سے کہتا ہے: ’’ ہمارے اس ادارے کا مقصد علل و معلول (cause and effect) و حرکت کائنات کے قوا نین اور انسانی ارادے کی حدود کی توسیع کرنے کے طریقے کا علم حا صل کرنا ہے تاکہ ہر چیز کرنا ممکن ہو سکے‘‘۔ ( A Short History of the World, by H.G. Wells, p. 200-01، بحوالہ مریم جمیلہ صا حبہ کی معرکہ آرا کتا ب Modern Technology and the Dehumanization of Man)۔ اس تصور علم میں فطرت ان معنوں میں انسا ن کی حریف ٹھہری کہ یہ انسانی ارادے کی تکمیل پر حد بندی کرتی ہے اور اسے تسخیر کرکے انسا نی ارادے و خوا ہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا ضروری ٹھہرا۔ آج بھی مو جودہ سائنسی علمیت کا یہ جنون ہے کہ انسانی عقل کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اس کے اپنے سوا ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ سائنس دانوں کا خیا ل ہے کہ جینیٹکس (Genetics) کی فیلڈ میں تحقیقات کرکے انسانی خون میں ایسی تبدیلیاں لانا ممکن ہے جس کے بعد اس کے اندر پائے جا نے والے غضب اور حسد جیسے جذبات کو ختم کرکے دنیا کو جنگوں سے نجات دلائی جا سکے گی، اسی طرح سائنس دانوں کو امید ہے کہ موت پر قابو پانا ممکن ہے ، اور نجا نے کیا کچھ اور۔ سائنس کے اس اصل جنون کا اظہار دور جدید کی انگریزی زبان میں بننے والی سائنس فکشن فلموں میں سب سے واضح انداز سے نظر آتا ہے جن کے جملوں ، الفاظ اور مرکزی خیالات میں نت نئے انداز کے ساتھ انسان کی خود اپنا خدا بننے کی خوا ہش جلوہ گر ہوتی ہے۔ 

مسلمانوں میں سائنس کیوں عروج نہ پا سکی ؟ 

تصور علم کی اس یکسر تبدیلی کو کلیتاً نظر انداز کرنے کے نتیجے میں اکثر مسلم جدیدیت پسند مفکرین دو غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے۔ ایک طرف تو وہ قرآن و سنت کے علم کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک اصل علم سائنس و ٹیکنالوجی ہی کا علم ہے ، اور دوسری طرف وہ سائنس کو اسلامی تاریخ میں تلا ش کرنے اور مسلمانوں کو سائنس کا موجد ثابت کرنے کی نا کام کوششوں میں اپنی توا نائیاں صرف کرتے رہتے ہیں ۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ تقریباً پچھلی ایک صدی کی بھر پور تحقیقات کے بعد بھی جدیدیت پسند حضرات اسلام کی ابتدائی ایک ہزار سا لہ تاریخ میں پچا س سے زیادہ مسلم سائنس دونوں کے نام تلاش نہ کرسکے جبکہ اس کے مقابلے میں جدیدیت کی صرف تین سو سالہ تاریخ سے ہزاروں نہیں بلکہ لا کھوں سائنس دانوں کی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے؟ اسی بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ سے اگر ان لوگوں کے نا موں کی فہرست تیار کی جائے جنہوں نے قرآن و علوم قرآن ، حدیث و علوم حدیث ، فقہ واصول فقہ وغیرہ پر علمی تحقیقا ت پیش کیں تو بلا مبالغہ لاکھوں افراد کے ناموں کی فہرست تیار ہو جا ئے گی، جبکہ اگر اسی معیار پر جدیدت کی تاریخ میں عیسائی علمیت پر کام کرنے والے افراد کے نام تلاش کیے جائیں تو انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ کیا اس سے ثا بت نہیں ہو تا کہ اصل اسلامی علمیت کیا ہے؟ نیز سائنسی تحقیقا ت وغیرہ اصل علمیت (main stream discourse) سے دور کی چیز یں تھیں۔ اگر چند افراد اپنے شوق کی تسکین کی خا طر ان تحقیقات کے پیچھے پڑتے بھی تھے تو اس کے ذریعے انہیں معا شرے میں کوئی اونچا مقام و مرتبہ حاصل نہ ہوتا بلکہ ’امام‘ اور ’علامہ‘ جیسے با وقار الفاظ ہمیشہ اسلامی علوم کے ما ہرین ہی کا خا صہ ہوتے تھے ۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ افراد جنہیں مسلمان سائنس دانوں کی حیثیت سے پیش کیا جا تا ہے ان میں سے اکثر و بیشتر کی مسلمانیت ہی مشکوک رہی ہے۔ مثلاً کندی اور فا رابی کا نام بڑے فخر سے بیان کیا جا تا ہے، لیکن کون نہیں جا نتا کہ ان کے افکار کس قدر گمراہ کن تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تمام سائنسی قسم کے مسلمان معتزلی یلغار کے بعد کی پیداوار ہیں، اور ان میں سے اکثر و بیشتر کا تو تعلق ہی معتزلی گروہ سے تھا۔ ایسے افراد کو اسلامی تاریخ کا ہیرو ثا بت کرنے کا مطلب اپنی اصل علمیت کو غیر معتبر ثا بت کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ 
سائنسی علمیت، ترقی، تسخیر کائنات اور تصرف فی الارض جیسے تصورات اسلامی علمیت کے لیے کس قدر اجنبی ہیں، ان کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ فقہاے کرام نے جہاں اسلامی زندگی اور معاشرت و ریاست کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کی وضاحت کے لیے کتب فقہ میں مستقل ابواب اور فصلیں قائم کی ہیں، وہاں ترقی اور تسخیر کائنات جیسے عنوانات کے تحت ایک فصل بھی نہیں ملتی، یعنی کسی فقیہ نے ایسا کوئی باب تو درکنار فصل بھی مرتب نہ کی جس میں ترقی یا تسخیر کائنات یا سائنسی تحقیقات کی شرعی حیثیت پر بحث کی گئی ہو۔ ایسے ہی کسی محدث نے بھی کتب احادیث میں ان موضوعات کے تحت احادیث جمع نہ کیں۔ اگر تسخیر کائنات، ترقی، معیار زندگی، آزادی، مساوات جیسے تصورات واقعی اسلامی علمیت کے ’اہم و مقصود‘ موضوعات ہوتے تو فقہا یقیناًان عنوانات کے تحت شرعی مسائل بیان کرنے کی خاطر ابواب اور فصلیں لکھتے، محدثین چن چن کر ایسی تمام احادیث جمع کرڈالتے جو ترقی اور دنیا سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کے جذبات ابھارنے والی ہوتیں۔ اس کے بر خلاف ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ محدثین کرام کتب احادیث میں کتاب الرقاق اور کتاب الزہد جیسے عنوانات قائم کرکے وہ احادیث بیان کرتے ہیں جو تسخیر کائنات اور تصرف فی الارض کی خواہشات کم کرنے کا سبق دیتی ہیں۔ در اصل جدیدیت پسند حضرات یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہر علمیت کا میابی کے ایک مخصوص ما بعد الطبعیاتی تصور پر قائم ہوتی ہے اور ہر علمیت کا بنیادی مقصد افراد کو کامیابی کے ایک مخصوص تصور اور اس کے حصول کی جدوجہد میں منہمک ہونے کو بطور مقصد حیات قبول کرنے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ پس اگر دو مختلف داہروں سے نکلنے والی علمیتوں کے مقاصد مختلف ہوں گے تو یہ نا ممکن ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھ پروان چڑھ سکیں۔ سائنس کو اسلامی علمیت میں تلاش کرنے کا مطلب یہ مان لینا ہے کہ اسلامی علمیت کا ہدف بھی انسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تسخیر کائنات کرنا ہے۔ 
ایسا نہیں ہے کہ صرف مذہبی معا شروں میں ہی سائنسی علمیت نہیں پھیل سکتی، بلکہ سائنسی معا شروں میں بھی مذہبی علمیت برگ و بار نہیں لا سکتی (ذرا بیکن کے اوپر دیے گئے خیالات ایک بار پھر دہرا لیں )۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ علم کے اس جا ہلانہ تصور کو عوام الناس میں رائج کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اس وقت کے معاشروں میں پائے جانے والے مقبول عام تصور علم کو غیر معتبر اور لا یعنی ثا بت کیا جائے۔ قرون وسطی میں موجود علمیت کوئی اور نہیں بلکہ عیسائی علمیت تھی جسے ہر طرح کے جھوٹے پروپیگنڈوں اور نام نہاد عقل پرستی کے دعووں کی آڑ میں حقارت سے دیکھا جا نے لگا۔ اس ضمن میں اہم بات یہ کہ عوام الناس کا عیسائی علمیت سے ایمان کمزور کرنے کے لیے سب سے ضروری یہ تھا کہ اس علمیت کے حا مل فرد یعنی پوپ کی شخصیت کو متنازع اور مشکوک بنا یا جائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عوام الناس کا رابطہ کیتھو لک چرچ کے ساتھ ٹوٹ جائے جہاں سے انہیں دنیا کے دارا لا متحان ہونے اور آخرت کی تیاری کا سبق ملتا تھا تاکہ جدیدیت کے حامی ان کے قلوب میں دنیا داری کے بیج بو سکیں۔ جدیدیت دنیا کے جس ملک میں بھی گئی اس نے مذہبی پیشواؤں کے عوامی اثر و رسوخ کم کرنے کے تمام حربے استعمال کیے۔ سرمایہ داری اس وقت تک معا شروں کو مسخر نہیں کر سکتی جب تک افراد زندگی کے ہر معا ملے کو معاد کے بجائے معاش کے نقطہ نگا ہ سے نہ دیکھنے لگیں، اور نقطہ نظر کی یہ تبدیلی مذہبی پیشواؤں اور اداروں سے لا تعلقی پیدا کیے بغیر نا ممکن ہے۔ 

روایتی اداروں کی اہمیت

یہ نہا یت اہم بات ہے جس کی کچھ مزید تفصیل ہم یہاں بیا ن کرنا چا ہیں گے۔ خاندان ، مسجد، مدرسہ اور خا نقاہ اسلامی معاشروں کے ایسے فطری ادارے ہیں جو جدیدیت کے پھیلاؤ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ لیکن جدیدیت کے پھیلاؤ نے مسلمانوں کا خا نقاہ سے تعلق تقریباً ختم کر دیا ہے جو یقیناًخطرے کی علامت ہے کیونکہ خا نقاہ ہی وہ ادارہ تھا جہاں لوگ بچپن ہی سے اپنے بچوں کے تزکیہ نفس کا سامان فراہم کرنے کے لیے انہیں کسی مرد صا لح کے ہاتھ بیعت کراکے ان کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتے، اور اس سلسلے کے ختم ہو جا نے کے بعد اب مسلمانوں میں تز کیہ نفس کا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ کسی تہذیب کا زوال درحقیقت ان اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے عیاں ہوتا ہے جو ایک تہذیب کے مقا صد کے حصول کی خاطر افراد کے تعلقات کے نتیجے میں ابھرتے ہیں۔ افراد جب کسی شے کے حصول کو اپنا مقصد بنا تے ہیں تو اس کے حصول کے لیے کوئی نہ کوئی انتظامی شکل ضرور اختیار کرتے ہیں اور بہت سی انتظامی شکلوں میں سے وہی شکل زندہ رہ جاتی ہے جو زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہوتی ہے۔ کوئی مخصوص انتظامی ہیئت ان معنوں میں تو ضروری نہیں ہوتی کہ وہ بذات خود اصلاً مطلوب تھی ، مگر ان معنوں میں یقیناضروری ہوتی ہے کہ اس کی بقا سے افراد کے معا شرتی مقاصد قائم رہتے ہیں اور اس کا انہدام ان تمام مقاصد کے انہدام کا باعث بھی بنتا ہے جو اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت ایک آسان مثال سے کی جا سکتی ہے۔ ہمارے گاؤ ں دیہات میں ترپال، چوپال اور بیٹھک لوگوں کی روز مرہ زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے (کہیں کہیں اب بھی یہ نشستیں مو جود ہیں)۔ اب دیکھیے، اسلام چا ہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے تعلقات سے جو معا شرہ وجود میں آئے وہاں پڑوسیوں کی خوب خبر گیری ہونی چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خیال کیسے رکھا جا ئے؟ اس کا انتظام کیا ہو؟ کیا ہر شخص روز انہ رات سونے سے پہلے اپنے پڑوسی کا دروازہ بجا کر اس سے پوچھے کہ بھا ئی کیسے ہو؟ ظا ہر ہے ایسا تو نہیں ہو سکتا، مگر پھر کیا ہو ۔ اب ذرا غور کریں کہ یہ بیٹھک کیا ہے؟ عام نشست کی ایسی جگہ جہاں لوگ شام کے وقت تھوڑی دیر دل لگی اور فرحت طبع کے لیے اکھٹے بیٹھتے جس کے ذریعے انہیں پورے گاؤں اور اس کے اطراف کے لوگوں کے حالات معلوم ہوتے ، مثلاً گاؤں میں کون بیمار ہے، کس کے گھر شادی ہے، کس کے گھر فوتگی ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی شخص دو دن تک بیٹھک نہ آتا تو لوگ اس کے گھر خیریت معلوم کرنے جاتے۔ یوں سمجھیے کہ ایک طرف تو یہ گاؤں کے حالات حاضرہ کو افراد تک پہنچا نے کا ایک مکمل طریقہ تھا تو دوسری طرف ایک ساتھ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کی اقدار کے فروغ کا ذریعہ تھا۔ پڑوسیوں کی خبر گیری کرنے کا بھلا اس سے بہتر انتظام اور کیا ہو سکتا تھا؟ لیکن پھر ٹی وی آگیا اور ہرشخص فرحت طبع کے لیے اب بیٹھک کے بجا ئے اپنے اپنے گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کا عا دی ہو نے لگا۔ نشستیں ختم ہونے لگیں، اور ان نشستوں کے ٹوٹنے سے وہ سارا ما حول بھی ہما رے معا شروں سے رخصت ہو گیا جو ان کا مر ہون منت تھا۔ کہا جا نے لگا کہ ٹی وی سے ہمیں خبریں ملتی ہیں، مگر کس کی خبریں؟ وہ خبریں جو ہمارے اسلامی معا شرے کی تشکیل کے لیے کسی کام کی نہیں۔ ٹی وی لوگوں کو یہ تو بتاتا ہے کہ بھا رت میں کس فلمی ہیرو کی شا دی کس ہیروئن سے ہوئی، امریکہ میں لوگ روزانہ کتنے کتے خریدتے ہیں، مگر انہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ تمہارے پڑوسی کس حال میں ہیں۔ بیچارہ ٹی وی کیا کرے اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ وہی بات کہے گا جہاں سے اسے پیسے ملنے کی امید ہو کیو نکہ اس کا تو سارا دھندہ ہی اشتہاری کمپنیوں کے سرمائے کا فروغ ہے۔ ہم یہاں ٹی وی کے نقصانات کی بات نہیں کر رہے بلکہ معا شرتی مقا صد کے حصول کے ضمن میں اداروں کی بقا کی اہمیت و افادیت کی بات کر رہے ہیں کیو نکہ یہ ادارے ہی ہیں جو افراد کا تعلق کسی خا ص مقصد سے منسلک اور قائم رکھنے کا با عث بنتے ہیں۔ پس سرمایہ دارانہ علمیت کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف تو ہم اپنی مساجد اور مدا رس کے دا ئرہ کار کو بڑھائیں اور دو سری طرف خانقاہوں کو پھر سے زندہ کریں۔ 
۲.۳ : سرمایہ دارانہ علم کی خصوصیات ( طریقہ حصول علم کے اعتبار سے) 
سائنس یا سر مایہ دارانہ طریقہ حصول علم میں حتمی بات اور قانون معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ (اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سائنس پر ہمارے مضا مین ساحل اگست اور نومبر ۲۰۰۶ میں) سائنسی علمیت حقیقت کے ارتقائی تصور پر ایمان رکھتی ہے جسے سمجھا نے کے لیے ہم ارتقائی تصور علم کی چند خصو صیات بیان کرتے ہیں: 
(الف) غیر حتمیت (uncertainty): 
ارتقائی علمیت کا اول اصول یہ ہے کہ حتمی سچ جاننا نا ممکن ہے ، البتہ سائنسی طریقہ علم استعمال کرکے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ انسانیت ایک حتمی سچ کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی کلیات کی مدد سے کسی حتمی سچ کا علم حاصل کرپانا ہی سرے سے ناممکن ہے۔ 
(ب) تردیدیت : 
اس تصور علم میں وہی دعوی اور قضیہ علم کہلانے کا مستحق ہے جسے تجربے میں لا کر رد کرنا ممکن ہو ۔ سائنس میں علم کو غیر علم سے ممیز کرنے کا معیار تردیدیت (falsification) ہے یعنی اگر کسی بات کو تجربے کے ذریعے غلط ثا بت کرنا نا ممکن ہو تو وہ علم کی تعریف پر پوری نہیں اترے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب میں زندگی بعد الموت وغیرہ جیسے حقائق علم نہیں سمجھے جا تے کیونکہ یہ سائنس کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ اس بات کو دوسرے انداز سے یوں سمجھئے کہ ارتقائی علم وہی ہو سکتا ہے جسے غلط ثا بت کرنا ممکن ہو کیونکہ جو بات غلط ثا بت نہیں کی جا سکتی، اس میں ارتقا کہا ں سے آئے گا ؟ 
البتہ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سرمایہ داری اور سائنس کی اپنی ایمانیات کبھی سائنس کے اس معیار پر نہیں جا نچی جا تیں بلکہ انہیں ما ننا تو ایما نیا ت کا حصہ ہے اور جو انہیں نہیں ما نتا وہ ہیو من کہلانے کا مستحق نہیں۔ مثلاً سا ئنس کا یہ مفروضہ کہ علم کا منبع انسان کی ذات ہے (یعنی علم انسان کی ذات سے نکلتا ہے) کسی بھی تجربے ثا بت نہیں کیا جا سکتا (یعنی یہ تردیدیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا) لیکن پھر بھی سائنس اسے مفروضے کے طور ما ن کر آگے بڑھتی ہے۔ گو کہ سائنسی علمیت میں حوادثات عالم کی تشریح اور حقیقت کے لیے کسی ایسی مقصدیت کو تلاش کرنا جس کی نسبت ارادہ انسانی سے باہر مثلاً خدا کی طرف ہو، سائنس کے نزدیک ایک لایعنی بات ہے لیکن سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ خود انسانی ذات کی حقیقت کیا ہے بلکہ اسے آزاد اور خود مختا ر فرض کرتی ہے۔ ایسے ہی سائنس کا یہ مفروضہ بھی محض ایمان ہے کہ یہ کائنات کسی خارجی کنٹرول کے بغیر چلنے والا ایک ایسا مکمل قائم بالذات نظام ہے جس کے اندر تبدیلیاں اس کے اندرونی نظام کے تحت آتی ہیں، نیز اس کی معنویت سمجھنے کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں بلکہ اس مشین کو علت و معلول کے چند اصولوں کے ما تحت سمجھنا ممکن ہے ( البتہ سائنس کی دنیا میں ہونے والی تازہ ترین Quantum Mechanics کی تحقیقات نے سائنس کے اس ایمان کی جڑیں ہلا کر کے رکھ دی ہیں)۔ گویا اگر انسان علت و معلول کے قانون کے ماتحت رونما ہونے والے سلسلے کو دریافت کرلے تو نہ صرف یہ کہ وہ اشیا کی حقیقت سمجھ سکتا ہے بلکہ اسے قابو میں لاکر ان پر اپنا تسلط قائم کرسکتا ہے۔ سائنس کے نزدیک انسان کا اپنی آزادی کی تکمیل کے لیے کائناتی تسلط قائم کرنا ہی اصل حقیقت اور مقصد انسانی ہے۔ 
(ج) شک نہ کہ ایمان : 
سرمایہ دارانہ تصور علم کے مطا بق کسی بات کو حتمی اور آخری سمجھ کر اس پر صمیم قلب سے ایمان لے آنا اور دوسروں کو اس کی دعوت و تبلیغ کرنا غیر علمی طریقہ کہلاتا ہے ۔ ہمیشہ اور ہر بات میں شک کرنا اور کسی چیز کو رد کرنے کی کوشش کرنا ہی اصل علمیت کہلا تی ہے ۔ جو شخص مذہبی حقائق پر ایمان لائے اسپر انتہا پسند ، بنیاد پرست اور دہشت گرد کے لیبل چسپاں کر دیے جا تے ہیں۔
(د) ترقی (بہتری): 
ہر نئے دور کا سچ پچھلے دور کے سچ سے بہتر گردانا جا تا ہے کیونکہ اس میں پچھلے دور کے تصور حقیقت کے اچھے پہلو کو شامل کرلیا جاتا ہے اور کمزور پہلووں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ لہٰذا ہر آنے والا دور پچھلے دور سے بہتر ٹھہرتا ہے۔ مغربی دنیا میں سپنسر، ہیگل اور مارکس وغیرہ نے انسانی علم کے رفتہ رفتہ ایک خا ص منزل کی طرف بڑھنے کے تصور کی بنا پر تا ریخ کی اپنی اپنی تعبیرات پیش کی ہیں جن سب کا حا صل یہ ہے کہ بنی نو ع انسان بحیثیت مجموعی لا شعوری طور پر ایک ایسے عظیم الشان مقصد کی طرف رواں دواں ہے جہا ں پہنچنا اس کا مقدر ہے، لہٰذا ہر آنے والا دور پہلے سے بہتر ہے ۔ ان تمام تعبیرات کی حیثیت چند قصوں اور کہا نیوں سے زیادہ اور کچھ نہیں جو ان لوگوں نے اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر گھڑ ی تھیں۔ 
جدیدیت پسند مسلمانوں کو مولوی کی یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی کہ ’’ ہم مسلمانوں کا سب سے اچھا دور تو دور نبوی ، دور صحا بہؓ اور سلف صا لحین کا دور تھا جو گزر چکا، لہٰذا اب آنے والا ہر دور پہلے سے بہتر نہیں بلکہ برا ہو گا جیسا کہ احا دیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مولوی ہمیں پیچھے کی طرف لے جا نا چا ہتا ہے، اور اس میں شک بھی کیا ہے کہ مولوی تو یہی چا ہتا ہے کہ دنیا کسی طرح پھر ویسی ہی ہو جائے جیسی آقاے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحا ب کے دور میں تھی۔ اسی جرم میں مولوی پر دقیانوسی اور تنگ نظر ہونے کی پھپتی کسی جاتی ہے کہ یہ ہمیشہ یہ طے کرنے کے لیے کہ ’’ہمیں آگے کیا کرنا چا ہیے‘‘۔ مستقبل کے بجائے ما ضی کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے ، یہ آج کے عمل کو ما ضی کے پیما نوں پر کسنے کی کو شش کر تا ہے، یہ ہدایت حا صل کرنے کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف پلٹنا سکھا تا ہے ، یہ تو ترقی کا دشمن ہے اور یہ دنیا کو پھر پتھروں کے دور میں وا پس لے جا نا چاہتا ہے۔ 
(ہ) ایک سے زیادہ حق کا امکان: 
اس نظریہ علم میں چونکہ کسی بھی چیز کی با بت مسلمہ اور حتمی علم موجود نہیں ہوتا ، لہٰذا ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ حق نیز دو مختلف افراد کے لیے دو مختلف حق ہو سکتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں بیک وقت ایک ہی شے کے بارے میں دو مختلف نظریات (theories) کا ہونا معمول کی بات ہے۔ 
(و) تحقیق برائے تحقیق کا نہج : 
چنانچہ تحقیق برائے تحقیق کا نام ہی علمی کاوش پڑ گیا، چاہے وہ تحقیق بندروں اور کتوں وغیرہ کے حالات زندگی جمع کرنے کا کام ہی کیوں نہ ہو۔ ہر لغو سے لغو بات جس میں انسانی خواہش کوئی معنی دیکھتی ہو لائق تحقیق ٹھیرتی ہے کیونکہ کسی شے کے معنی اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی روشنی میں نہیں بلکہ انسانی خواہشات اور ارادے کی تکمیل کے پیمانے پر تول کر متعین کیے جاتے ہیں۔ 
(ذ) ارتقائی تعبیرات کی تلا ش : 
دور حا ضر میں موجود ہر معاشرتی و انسانی ادارے و عمل کی وحی سے علی الرغم ایک ارتقائی تعبیر پیش کرنے کی روش عام ہو جا تی ہے اور اس فرضی قیاس آرائی کو ہی علمی کا رنامہ سمجھا جا نے لگتا ہے۔ اس ضمن میں ایک بہت عمدہ مثال یاد آئی۔ ایک مرتبہ ہمارے ایک بزرگ ساتھی (اللہ تعا لی انہیں جنت نصیب فرمائے) نے ایک محفل میں شادی کے مو ضوع پر ہونے والی ہوئی گفتگو میں تمام شرکاے مجلس سے سوال کیا: ’کیا آپ لوگ جا نتے ہیں کہ شادی کا ادارہ کیسے قائم ہوا؟‘ سب نے پو چھا کہ جناب آپ بتا ئیے ۔ تو انہوں نے کہا کہ اولاً تمام انسان بھی جانوروں کی طرح جنسی تعلقات استوار کرتے تھے، یعنی جس مرد و عورت کا جس سے دل چا ہا خوا ہش پوری کرلی۔ ایک عرصے تک معا ملہ یو نہی چلتا رہا، لیکن پھر آہستہ آہستہ انسا نوں میں جذبہ رقا بت نے جو ش مارا، اور لوگوں کو یہ بات بری محسوس ہونے لگی کہ کل تک جو عورت میرے ساتھ تھی، آج کسی اور مرد کے ساتھ کیوں ہے؟ اس جذبے کے زیر اثر انسانی معا شروں میں طا قت کے قانون کا راج شروع ہونے لگا یعنی جس نے آگے بڑھ کر پہلے کسی عور ت پر قبضہ جما لیا، پس وہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہو گئی۔ پھر بچوں کی پیدائش کے بعد بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کے مسائل سامنے آنے لگے جنہیں حل کرنے کے لیے لوگوں نے کئی طرح کے قوانین بنانے شروع کر دیے۔ مثلاً یہ کہ بچوں کی ذمہ داری اسی پر ہو گی جس نے عورت پر قبضہ جما یاتھا وغیرہ وغیرہ۔ یوں انسانیت لمحہ بہ لمحہ آگے بڑہتی رہی یہا ں تک کہ لوگوں نے مرد و عورت کے جنسی تعلق کی بنیاد شادی کے ادارے کے ساتھ منسلک کردی۔ جب وہ بزرگ تمام کہانی سنا چکے تو میں نے پو چھا کہ یہ کہا نی آپ نے کہاں سے سنی؟ تو فرمانے لگے کہ فلاں سوشل سائنس کے جرنل میں فلاں محقق نے یہ مقا لہ لکھا ہے۔ میں نے کہا یہ بتا ئیں کہ اس پوری کہا نی میں انسانی معا شروں کی کردار سازی میں ایک لاکھ چو بیس ہزار سے زائد انبیاے کرام کا کردار کیا رہا؟ کیا انبیا نے لوگوں کو نہیں بتایا کہ انہیں کیسے زندہ رہنا چا ہیے؟ نیز کیا ان کی تعلیمات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو تاتھا؟ اس کہانی سے تو یہ تصور ابھرتا ہے کہ گویا اول تو انبیا نا م کی کوئی ہستی انسانی تا ریخ میں گزری ہی نہیں، اور اگر تھی بھی تو شاید وہ دنیا کی سیر وغیرہ کرنے کے لیے آتے تھے، نیز انسانوں اور معا شروں نے اپنی زندگیاں وحی الٰہی کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنے حیوانی جذبا ت کے تحت گزاری تھیں۔ یہ کہانی تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیے بغیر یہ کہے کہ مسلمانوں کے معاشروں میں پایا جا نے والا شادی کا تصور در حقیقت اسلام سے قبل عربوں کے معا شرے میں پائے جانے والی جنسی بے راہ روی کی ارتقائی شکل ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ایک مضحکہ خیز کہانی ہے، کیونکہ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ یہ معا شرتی تبدیلی انسانی جذبات کے محرکات میں ارتقا کے طور پر نہیں بلکہ ایک نبی کی تعلیمات پر عمل کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ اگر شادی کے ادارے کا یہ سفر کوئی ارتقائی سفر تھا تو پھر مغرب میں یہ ادارہ ٹوٹ کیسے گیا؟ ارتقا کا تقاضا تو یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ مضبوط سے مضبوط تر ہو تا چلا جاتا ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ انبیاے کرام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کرزندگی گزارتا ہے تو وہاں زندگی کا اظہار صرف حیوانی سطح پر ہی ہو تا ہے جس کا نظارہ ہم مغربی دنیا کی غلیظ اور پلید معا شرت میں کر سکتے ہیں ۔ 
یہ محض ایک مثا ل تھی، ورنہ اس طرز کی اور بھی کئی فرضی کہا نیاں ہمارے ہاں مشہور ہیں، مثلاً یہ کہ سب سے پہلے انسانیت پر غاروں اور پتھروں کا دور گزرا کہ جب سب لوگ غاروں میں رہتے تھے، پتے اور جا نوروں کی کھالوں سے اپنے بدن ڈھا نپتے تھے، جنگلوں میں جنگلیوں کی طرز کی زندگی اختیار کیے ہو ئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام کہانیوں کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہ سب کی سب انسانی معا شروں کی تشکیل میں وحی اور انبیاے کرام کے کردار کو نظر انداز کرنے کے لیے گھڑی گئی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں وحی کو علم نہیں سمجھا جاتا ۔ کیا کوئی مسلمان اس بات کا تصور کر سکتا ہے کہ معا ذاللہ انبیاے کرام جنگلیوں کی ما نند زندگیاں گزارتے رہے ہوں گے؟ 

تبدیلی شرا ئع اور فلسفہ ارتقا کا انوکھا گٹھ جوڑ 

یہاں اس بات کا ذکر فا ئدے سے خالی نہ ہوگا کہ مغرب کے اس مقبول عام ارتقائی تصور علم سے متاثر ہوکر ہمارے ہاں بھی انبیاے کرام کے حوالے سے ایک ارتقائی تعبیر اختیار کی گئی ہے جس کا حا صل یہ ہے کہ وقت اور حالات بدلنے کے ساتھ جوں جوں انسانیت آگے بڑھتی جا رہی تھی، اس کے مسائل بھی اسی لحا ظ سے تبدیل ہو رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ان ضروریات کا لحا ظ کرتے ہوئے مختلف رسل کو مختلف شریعتیں دیں۔ دوسرے لفظوں میں شریعتوں کا اختلاف انسانی حا لات میں ارتقائی تبدیلی آنے کا مرہون منت تھا ۔ چونکہ تبدیلی شرائع کی اس فرضی تعبیر کا مسئلہ یہ تھا کہ اس میں ختم نبوت کسی طرح فٹ نہیں ہوتی کیو نکہ انسانیت کا یہ سفر تو تا قیامت چلتا رہے گا، تو اسے مکمل کرنے کے لیے ایک اضا فی مفروضہ یہ گھڑ لیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسان بحیثیت مجموعی اپنے عہد طفولیت سے نکل کر عہد شباب میں دا خل ہو چکا تھااور گویا اب وہ اس قابل ہو گیا تھا کہ اسے ایک آخری اور اصولی پیغام دے کر ہمیشہ کی نبوت کے سہارے سے آزاد کر دیا جا ئے کیونکہ باقی کا سفر وہ اپنی عقل کی روشنی میں طے کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ تعبیر ایک فرضی کہانی ہے جس کے حق میں آج تک نصوص شرعیہ سے کوئی قطعی دلیل پیش نہیں کی گئی۔ محض قیاس آرائی ہی کو حتمی بات سمجھ کر پیش کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کے ثبوت کے لیے جن مثالوں کا سہارا لیا جا تا ہے، ان کا تصور ارتقا کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ مثلاً تبدیلی احکامات کی ایک مثال یہ دی جا تی ہے کہ شریعت محمدی میں دو بہنوں کوایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام قرار دیا گیا جبکہ اس سے پہلے یہ جائز تھا۔ لیکن ہم یہ سمجھنے سے قا صر ہیں کہ آخر اس تبدیلی کا انسانی تمدن و حالات کے ارتقا سے کیا تعلق ہے؟ اسی طرح امت محمدی کے لیے بہت سے ایسے جانوروں کا کھا نا حلال قرار دیا گیا ہے جو پہلے کی امتوں پر حرام تھے، لیکن اس تبدیلی کا بھی ارتقا کے ساتھ کیا لینا دینا؟ کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے نظام ہاضمہ میں کوئی تبدیلی آ گئی تھی کہ پہلے کا انسان انہیں ہضم کرنے کی صلا حیت نہ رکھتا تھا اور اب کے انسان میں یہ صلا حیت پیدا ہو گئی ہے، یا یہ کہ پہلے یہ جا نور نا پید تھے اور اللہ تعا لیٰ نے ان کی نسل کشی ہو جانے کے خوف سے ان کے کھا نے کو حرام قرار دیا تھا؟ آخر حالات کے ارتقا کا ان کی حرمت سے کیا لینا دینا؟ دوسری بات یہ کہ اگر اس کہا نی کو مان بھی لیا جائے تو بھی یہ دعویٰ قابل نزاع ہے کہ انسانیت کا عہد شباب آج سے چودہ سو سال پہلے آگیا تھا کیونکہ مغربی مفکرین کا دعویٰ یہ ہے کہ نیا انسان تو پیدا ہی سترہویں اور اٹھا رویں صدی میں ہوا جبکہ اس سے پہلے کا انسان محض افسانوں اور کہانیوں پر یقین رکھتا تھا۔ تیسری بات یہ کہ تبدیلی کا یہ عنصر تو بدستور جاری و ساری ہے، مثلاً صنعتی انقلاب کے بعد کے انسان کے معا شرتی و معا شی مسائل پہلے سے بہت مختلف ہیں تو ارتقا کی اس تعبیر کا تقا ضا یہ ہوا کہ شریعت کے بہت سے احکامات اب منسوخ قرار دیے جا ئیں اور کچھ نئے احکامات کا اضافہ کر لیا جائے۔ یہ اسی ارتقائی تعبیر کا نتیجہ ہے کہ ہمارے مسلم جدیدیت پسند مفکرین اجتہاد کے نام پر نصوص شرعیہ کی تبدیلی کے امکانات کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نیز اس دعوے سے تو جدیدیت پسند مفکرین کے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اسلام کی جو معتبر تعبیر اجماع امت کے نام پر پیش کی جاتی ہے، وہ اب قابل عمل نہیں رہی کیونکہ وہ پرانے زمانے کے حالات کا لحاظ کرکے اپنائی گئی تھی اور اب ہمیں ایک جدید تعبیر کرنی چا ہیے وغیر وغیرہ۔ پس جا ننا چا ہیے کہ تبدیلی شرائع کی یہ ارتقائی تعبیر در حقیقت ایک خطرناک تصور ہے جس سے شریعت اسلامیہ میں قطع برید کا دروازہ کھل جا تا ہے۔ 
۲.۴: سرمایہ دارانہ علم کی منطقی منزل 
ایک نئی شخصیت کا جواز : 
سر ما یہ دارانہ جا ہلی تصور علم نے اخلاق رزیلہ سے متصف ایک نئی قسم کی شخصیت کے اظہار کا جواز فراہم کیا جس کے نتیجے میں ایک نئی انفرادیت معا شروں میں مقبول ہوئی۔ سر مایہ دارانہ تصور علم سے پہلے صرف ایسی شخصیت ہی معا شروں میں عزت کی نگا ہ سے دیکھی جاتی تھی جن کی زندگی انبیاے کرام کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کا منہ بولتا ثبوت ہوتی۔ لیکن اس تصور علم نے ایک ایسی شخصیت کے علمی جواز کی بنیادیں فراہم کیں جو انبیاے کرام کی تعلیمات سے کوسوں دور اور اخلاق رزیلہ سے متصف ہونے کے با وجود بھی معا شرے میں ایک با عزت علمی مقام پر فائز ہوسکتی تھی۔ اس ضمن میں آئن سٹائن کی مثال نہا یت وا ضح ہے جسے سائنس کی دنیا میں ایک امام کی سی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی زندگی زنا و بدکاری کی غلاظت سے لت پت تھی (آئن سٹائن کے نجی معاملات زندگی ان خطوط سے واضح ہوتے ہیں جو اس کی پوتی نے چھاپے ہیں)۔ ایسے ہی با وجود اس کے کہ کانٹ اغلام باز تھا، اسے مغربی فلسفے میں بلند ترین مقام حا صل ہے۔ اگر آپ مغربی علم کے کسی دلدادہ شخص کو یہ مثال دیں تو وہ کہے گا کہ اس کے اخلاق کو مت دیکھو بلکہ اہم چیز اس کا سائنسی کارنا مہ ہے۔ گویا مذہبی اخلاقیات اب علم کے معنوں میں شا مل ہی نہیں رہیں۔ سرمایہ دارانہ تصور علم میں ایسی معلومات کو علم سمجھا جا تا ہے جو سرمایہ دارانہ اخلاقیات یعنی حرص و حسد کی غماز ی کرتی ہوں (۱س کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔ آج علم کا تصور اس حد تک گر چکا ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر ، وکیل، ایم بی اے وغیرہ خاتون ننگے سر اور نیم برہنہ حالت میں ٹی وی پر بیٹھ کر انٹرویو دے رہی ہو تو اس کے علمی کارناموں کا تعارف اس شان سے کرایا جاتا ہے گویا وہ کتنی بڑی عالمہ ہے۔ اس کے مقابلے میں گاؤں میں رہنے والی خاتون جس کی حیا اسے نا محرم کے سامنے جانے سے روکتی ہو، اسے جاہل ، ان پڑھ اور گنوار کہا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تصور علم نے مادہ پرستا نہ سوچ اور دنیا داری کے رجحا نات کو تقویت بخشی اور رہی سہی عیسائی اخلاقیات کا جنازہ مارٹن لوتھراور کیلوین جیسے مفکرین کے خیالات سے برآمد ہونے والی پروٹسٹنٹ ازم نے نکال دیا۔ اس فرقے نے عیسائی عوام میں یہ خیالات عام کیے کہ بائبل کی تشریح ہر شخض خود کر سکتا ہے، انسان اور خدا کے درمیان تعلق فرد کا نجی معاملہ ہے جس کی صحت و عدم صحت پرکسی دوسرے فرد (مثلاً پوپ) کو حکم لگانے یا فتویٰ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ، چونکہ خدا اور بندے کا تعلق نجی اور اندرونی احساسات پر مبنی ہے، لہٰذا ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ عبادت کرنے کا جو بھی طریقہ اختیار کرنا چاہے کرلے، دنیا کی کامیابی آخرت کی کا میابی کا پیش خیمہ ہے ، اصل عبادت چرچ جانا یا ذکر و ازکار کرنا نہیں بلکہ دنیا کے کام زیادہ انہماک سے کرنا ہے نیز فطرت کا مطا لعہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ جتنا بائبل کا۔ در حقیقت جدیدیت کی کامیابی کی ا صل وجہ مادہ پرست فلسفیوں کے افکار سے زیادہ وہ مذہبی عناصر تھے جنہوں نے اصلاح مذہب کے نام پر مذ ہبی تعلیمات کو مسخ کرکے جدیدیت کی مذہبی توجیہات بیان کیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس اورمیکس ویبر جدیدیت کی کامیابی کواصلاح مذہب کی تحریک (Reformation) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر اصلاح مذہب کی تحریک کا میاب نہ ہوتی تو جدیدیت یورپ میں شکست کھا جاتی کیونکہ مذہبی آزادی کی روش ہی وہ راستہ ہے جو آگے چل کر نفس پرستی اور دنیا کی محبت جیسے جذبات دلوں میں راسخ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ 
مذہبی ایمانیات کا انکار : 
ادراک حقیقت کے اس ارتقائی تصور کا دوسرا منطقی نتیجہ بالآخر پس جدیدیت (post-modernism) کی شکل میں ظاہر ہوا جس نے حق کے وجود ہی کا انکار کر ڈالا۔ جدیدیت نے ادراک حقیقت کے لیے سائنسی طریقے پر اعتماد کرنے کی دعوت تو دی، لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ حقیقت کا حتمی ادراک ممکن ہی نہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی حتمی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں تو اسے تلاش کیوں کیا جا ئے؟ نیز جب حقیقت معلوم ہی نہیں تو یہ کیسے طے ہو گا کہ جس سائنسی طریقے پر ہم عمل پیرا ہیں، و ہ ہمیں حقیقت کے قریب کر رہا ہے یا دور ؟ یعنی جب منزل کا ملنا ہی نا ممکن ٹھہرا تو اس بات کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے کہ ’کس طرح‘ دوڑا جائے ؟ یہی وہ سوالات ہیں کہ جن کا جدیدی مفکرین کے پاس کوئی جواب تھا ، نہ ہے اور نہ کبھی ہو سکتا ہے۔ اس فکر نے کسی حتمی حقیقت (absolute truth) کے وجود ہی کا انکار ڈالا، یعنی حقیقت ایک اضافی (relative) شے بن گئی جو ہر فرد، معا شرے اور زمانے کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔ ان مفکرین کے نزدیک زندگی بعد الموت وغیرہ کے سوالات کالعدم اور لا یعنی ٹھہرے یعنی جب مرنے کے بعد زندگی ہے ہی نہیں تو اس کے بارے میں سوچنا بے کار کی بات ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ تو اس وجود انسانی کا ہے جو اس دنیا میں اسے حاصل ہے ، اس وجود سے پہلے انسا ن نہ تو کہیں تھا اور نہ ہی اس کے بعد وہ کہیں اور جا نے والا ہے۔ اس فکر کے نتیجے میں پس جدیدیت کے نزدیک دنیا وی زندگی کی حقیقت اور معنویت محض کھیل تما شہ اور مزے کرنا ہے۔ وٹنگسٹائن کی فکر کا نچوڑ یہ ہے Life is a game, and maturity is to play it seriously یعنی زندگی ایک کھیل ہے اور عقلمندی یہ ہے کہ اسے سنجیدگی سے کھیلا جائے۔ 
بیسویں صدی کے وسط میں جب یہ فکر یورپ میں عام ہوئی تو نو جوانوں میں خود کشیاں کرنے ، سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں جا بسنے اور ہیروئن اور بھنگ استعمال کرکے مست رہنے کے رجحا نات پروان چڑھے ۔ وٹنگسٹائن جیسے بڑے فلسفی نے با لآخر تنگ آکر خود کشی کی۔ یہ نت نئے فیشن کی بھر مار اور راک موسیقی کا پھیلاؤ اسی زمانے کی پیداوار ہے ۔ الغرض ہر ایسا کام کیا جانے لگا جسے لوگ عجیب سمجھتے تھے اور ہر ایسے کام میں معنی تلاش کیے گئے جنہیں لوگ عام طور پر بے معنی گردانتے تھے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر زندگی بے معنی ہے تو پھر کسی خا ص طریقے سے ہی زندگی گزارنے میں معنی کیوں تلاش کیے جا ئیں، ہر طریقہ مساوی طور پر بے معنی ہے لہٰذا سب کا اظہار کرنا چا ہیے۔ آخر کسی خاص طریقے کے ساتھ ہی گا نا کیوں گا یا جا ئے، ہر اس طریقے سے گا نا گاؤ جسے لوگ عام طور پر غیر عقلی (senseless) سمجھتے ہیں۔ یہ اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ آئے دن سر اور دا ڑھی کے بالوں کے نئے نئے انداز نظر آ تے ہیں، کبھی پینٹ کے پائنچے پھاڑ لیے جا تے ہیں کبھی اسے الٹا کر کے پہنا جا تا ہے، کبھی مرد کانوں میں با لیاں لٹکا ئے گھومتے دکھا ئی دیتے ہیں، اور عورتوں کے فیشن کی بھر مار وغیرہ وغیرہ، اور جب ان سے پو چھا جائے کہ بھائی یہ کیا کر رہے ہو تو جواب ملتا ہے ’فیشن‘۔ فیشن کا مطلب ہی بے معنی کاموں میں معنی تلاش کرنا ہے۔ آزای کا خواہاں شخص معنویت ’فرق‘ (difference) میں تلاش کرتا ہے یعنی آزاد انفرادیت کا اظہار فرق کے طریقے سے ہوتا ہے ، جبکہ عبدیت کا اظہار فرق میں نہیں بلکہ یکسانیت (similarity) میں ہوتا ہے یعنی میری ذات جس قدر آقاے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا میں فنا ہوگی، اتنی ہی زیادہ معنی خیز ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مولوی اور صوفی وہی حلیہ اپناتا ہے جو چودہ سو برس قبل کانقشہ پیش کرسکے۔ 
زندگی بعد الموت اور اس کی اصل حقیقت کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان مفکرین کے ہاتھ زندگی بعد الموت کے خلاف کوئی ایسی قاطع دلیل آ گئی ہے جسے رد کرنا نا ممکن ہو، بلکہ یہ حقائق حصول علم کے ان ممکنہ ذرائع کی گرفت سے ہی باہر ہیں جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں (یعنی حواس خمسہ اور عقل انسانی )۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ادراک حقیقت کا ذریعہ اگر کوئی ہے تو وہ وحی یعنی انبیاے کرام کی تعلیمات ہیں جن کی حیثیت خبر صا دق کی ہے اور جنہیں کسی اور ذریعہ علم سے پرکھا (judge) نہیں جا سکتا ہے کیونکہ یہی اصل میزان ہیں۔ پس جدیدیت نے تو سائنس کی بالا دستی کے تمام دعوے بھی رد کردیے ہیں۔ اس کے نزدیک موجودہ سائنسی علمیت مغرب میں رونما ہونے والی چند مخصوص معاشرتی و تہذیبی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جو مغرب میں سترہویں اور اٹھارویں صدی میں پیش آئیں جن کے نتیجے میں لوگوں کے تصورات حق و باطل ، خیر و شر ، کامیابی اور ناکامی ، عدل و ظلم، علم و جہالت سب میں یکسر تبدیلی آئی اور انسانیت کے جہاز کا سفراخروی نجات سے ہٹا کر دنیاوی عیش و عشرت، تسخیرو اصلاح قلب کے بجائے تسخیر کائنات کی منزل کی طرف موڑ دیا گیا۔ مغربی سائنس درحقیقت مقاصد کی انھیں تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والا ایک نیا طریقہ علم تھا جوان نئے قسم کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ضروری تھا۔
پس جدیدیت کے ان افکار ات کو ان معنوں میں علمی سطح پر برتری حاصل ہوئی ہے کہ جدیدیت کے حامی مفکرین مثلاً ہیبر ماس وغیرہ کے پاس ان کے جواب میں مغربی تہذیب کے آفاقی نیز عقلی طور پر برترہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں رہی۔ البتہ ابھی اس فکر کا اظہار سیاسی سطح پر نہیں ہوا ، لیکن یا د رہے کہ فکر پہلے کتا بوں میں لکھی جاتی ہے اور پھر وہ معاشرے اور ریاست میں نفوذ کرتی ہے ۔ آخر لوگ ایک دن میں ہی تو enlightenedنہیں ہوئے تھے بلکہ کئی صدیوں کی خونی تاریخ کے بعد ہی جدیدیت معا شروں پر غالب آئی۔ بدقسمتی سے ہمارے مسلم مفکرین (جو کئی صدیاں پیچھے کی سوچتے ہیں) جدیدیت کے لیے اسلامی علمیت سے دلائل فراہم کرنے کی فکر میں کوشاں ہیں : کبھی اجتہاد کے نام پر نصوص شریعت میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں ، کبھی اسلام کی نئی تعبیر کی بات کرتے ہیں ، کبھی اجماعی مسائل امت سے انحراف کی دعوت دیتے ہیں ، کبھی مغربی افکار و تصورات کی حقیقت سمجھے بغیر ہی انہیں اسلام میں تلاش اور ان کا اسلامی جواز فراہم کرتے ہیں ، اور سب سے بڑھ کر عوام کو مذہب سے برگشتہ کرنے کے لیے مولوی کو طعن و تشنیع کا نشا نہ بناتے ہیں تاکہ عوام کا رابطہ علما سے کٹ جائے اور جدیدیت کی راہ ہموار ہو سکے۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مساجد و مدارس اور علماے کرام کے وقار کا تحفظ درحقیقت جدیدیت کے خلاف جنگ میں اسلام کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اس محاذ پر ہار گئے تو پھر جدیدیت کے سیلاب کے آگے بندھ باندھنے والا کوئی منفرد گروہ باقی نہیں رہے گا ۔ 

۲.۵: سرمایہ دارانہ علم کی تشکیل 

سرمایہ دارانہ علم در حقیقت (anthopocentric approach) یعنی ’حوادثات عالم اور انسانی زندگی اور معاشروں میں رو نما ہونے والی تبدیلیوں کی تشریح و تعبیر میں انسانی نقطہ نگاہ سے غور کرنے ‘ کے رویے کا نام ہے ۔ دوسرے لفظوں میں وحی سے حا صل ہونے والے علم کی روشنی میں اس کائنات اور انسانی معاشروں کو سمجھنے کی کو شش کرنا سرمایہ دارانہ تصور علم میں معتبر علم نہیں کہلاتا۔ سائنسی علوم کے ماہرین جب بھی انسانی رویوں کے اخلاقی و غیر اخلاقی اظہار اور معا شروں و ریاست کی صحیح اور غلط تشکیل و ترتیب کے اصول وضع کرتے ہیں تو اس کے لیے وہ ہر گز وحی کی طرف رجوع نہیں کرتے، بلکہ وہ آزادی، مساوات اور ترقی کے مجموعی خا کے کو سامنے رکھ کر ان سوالات پر غور کرتے ہیں۔ 
تنویری علم سائنس کی دو شاخوں کی صورت میں متشکل ہو کر آج ہما رے سامنے موجود ہے: (۱) طبعی سائنسز اور (۲) معاشرتی سائنسز (natural and social sciences)۔ پہلے کا دائرہ کار انسانی ارادے کے کا ئناتی قوتوں پر تسلط کے امکانات کو بڑ ھا نا جبکہ دوسرے کا مطلوب ایک ایسے معیاری معا شرے اور ریاست کی ترتیب و تنظیم کا لائحہ عمل وضع کرنا ہے جہاں افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادی اور سرمائے کی بڑہوتری کے مواقع میسر آسکیں۔ اس بات کی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے جیسے اسلامی علمیت علم الفقہ، کلام اور تصوف وغیرہ کی صورت میں متشکل ہوکر سا منے آئی ہے۔ یعنی جیسے علم اصول فقہ اور فقہ کا مقصد قرآن و سنت میں وارد شدہ نصوص سے وہ اصول اخذ کرنا ہے جن کی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے کہ ان گنت انسانی اعمال و افعال سے رضاے الٰہی کے حصول کا درست طریقہ کیا ہے (یعنی ان اعمال کا شرعی حکم بیان کیا جا سکے ) نیز یہ معلوم کیا جا سکے کہ افراد کے تعلقات کو کن ضروری بندشوں کا پا بند بنا کر معاشرے کو احکامات الٰہی کے تابع کیا جاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح سوشل سائنسز کا مقصد ایک طرف سرمایہ دارانہ شخصیت ، معا شرے و ریاست کی علمی توجیہ پیش کرنا ہے اور دوسری طرف یہ افراد کے تعلقات میں آزادی کی ان لازمی حد ود کا تعین کرنے کے اصول وضع کرتی ہیں جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معا شرتی و ریاستی صف بندی وجود میں آسکے۔ (سو شل سائنسز کا معا شرتی پالیسیا ں وضع کرنے کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے لیے جمہوریت پر ہمار ا مضمون دیکھئے: ساحل نومبر ۲۰۰۶ ) تنویری مفکرین کا یقین تھا کہ جس طرح فطرت میں ایسے قوانین ہیں جو اشیا پر عائد ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معا شروں میں بھی ایسے قوانین فطرت ہیں جن کے تحت معا شرے قائم رہتے ہیں، لہٰذا معا شروں اور انسانی تعلقات کی تفہیم کے لیے بھی سائنسی تجربے اور مشاہدے کا طریقہ استعمال کرنا ضروری ہے ۔ سو شل سائنسز کا مقصد ایک ایسے نئے دستور، ایک ایسے نئے قانون، ایک ایسے نئے معا شرتی نظام کا قیا م ہے جسے الہامی اور آسمانی قانون سے کوئی واسطہ یا رابطہ نہ ہو۔ ایک ایسا نیا سیاسی ڈھانچہ جس میں کوئی رعایا (subjects) نہ ہو بلکہ سب شہری (citizens) ہوں۔ 

سرمایہ دارانہ علمی اخلاقیات 

(’خریدو فروخت‘ (Buying and Selling) کی ذہنیت کا عموم )
لیوتارڈ ایک نامی گرامی پس جدیدی فلسفی ہے جس نے سائنسی علمیت کی حقیقت ’خرید وفروخت‘ کے معنی خیز الفاظ میں بیان کی ہے۔ اس بات کی تفہیم کے لیے خواہشات اور سرمائے کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تسخیر کائنات اور لامحدود خواہشات کی تکمیل کو مقصد علم ٹھہرانا درحقیقت سرمائے کی بڑھوتری (accumulation of capital) کو اپنا مقصود بنانا ہے، کیونکہ ہر خواہش کی تکمیل سرمائے ہی کی مرہون منت ہے۔ یعنی اگر کوئی فرد یا معاشرہ آزادی کا خواہاں ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ درحقیقت سرمائے میں اضافے کا خواہاں ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل بغیر سرمائے کے ناممکن العمل ہے۔ مثلاً ایک شخض یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس عالی شان بنگلہ ہوجس میں دنیا بھر کی پر تعیش اشیا الٹ دی گئی ہوں، نئے ماڈل کی گاڑی ہو، کئی عدد پلاٹ اور کئی کمپنیوں کے شئیرز اس کی ملکیت ہوں جن سے حاصل ہونے والے نفع سے وہ مزید کاروبار کر سکتا ہووغیرہ وغیرہ ، تو ظاہر بات ہے کہ یہ تمام خواہشات بغیر سرمائے کے عملی شکل اختیار نہیں کر سکتیں۔چنانچہ معاشیات کا مضمون اس بات کو باور کراتا ہے کہ ایک فرد اپنی انفرادیت (یاآزادی) کا اظہار عمل صرف (Consumption) کے ذریعے کرتا ہے یعنی وہ جتنی زیادہ تعداد میں اشیاء کو اپنے استعمال میں لا کر صرف (Consume) کرتا ہے اتنی ہی زیاد ہ خواہشات کی تسکین کر سکتا ہے۔ اورایک صارف (Consumer) زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تسکین تبھی کر سکتا ہے جب اس کے پاس زیادہ سے زیاد ہ اشیا خریدنے کے لیے آمدنی (Income) ہو۔اسی طرح معاشیات کا مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ انسان کی خواہشات لامحدود (Infinite)ہونی چاہییں ،مگر چونکہ ان خواہشات کو پورا کرنے کے ذرائع لامحدود نہیں ہیں، لہٰذا زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ فرد اپنے ذرائع کو اپنے وجود کی ممکنہ حد تک بڑھانے کی کوشش میں لگا رہے۔ (ذرائع میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کی اسی خواہش کو ماہرین معاشیات عقلیت (Rationality) کا معیار کہتے ہیں ، یعنی عقلمند شخص (Rational agent)وہی ہے جو سرمائے میں لامحدود اضافے کی خواہش رکھتا ہو )۔ بقول ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری: 
’’آزادی کا مطلب ہی سرمائے کی بڑھوتری ہے، اس کا کوئی دوسرا مطلب نہیں۔ جو شخص آزادی کا خواہاں ہے، وہ لازماً اپنے ارادے سے اقدار کی وہی ترتیب متعین کرے گا جس کے نتیجے میں اس کی آزادی میں اضافہ ہو۔ سرمایہ ہی وہ شے ہے جو ممکن بناتا ہے کہ انسان جو کچھ بھی چاہے حاصل کر سکے۔مسجد بنانا چاہے تو مسجد بنائے، شراب خانہ بنانا چاہے توشراب خانہ بنائے، چاند پر جانا چاہے تو چاند پرجائے۔کسی چیز کی کوئی اصلی قدر نہیں،ہر چیز اپنی قدر صرف اور صرف ہیومن کی خواہش اور ارادے سے حاصل کرتی ہے ۔لہٰذا قدر اصل (Intrinsic value) صرف ارادہ انسانی کی ہے۔ اس قدر اصل کے اظہار کا واحد ذریعہ ’سرمائے کی بڑھوتری ہے۔لہٰذا سرمایہ دارانہ عقلیت (آزادی )کا تقاضا ہے کہ ہر ہیومن اپنی خواہشات کو اس طرح مرتب کرے کہ ان کے حصول کی جدوجہد قدر اصل یعنی سرمائے کی بڑھوتری کے فروغ میں ممد اور معاون ہو۔خواہشات کی ہر وہ ترتیب جو ہیومن کو سرمائے کی بڑھوتری کے عمل کا آلہ کار نہیں بناتی (سر مایہ دارانہ) عقلیت کے خلاف ہے۔۔۔سرمائے کی بڑھوتری وہ کسوٹی ہے جس پر ہیومنز کی ہر خواہش اور خواہشات کی تمام ترتیبوں کو جانچا جاتا ہے اور ان کی تقابلی قدر (Exchange value) اسی قدر محض کے مطابق متعین ہوتی ہے۔ہر وہ خواہش جو سرمائے میں اضافے کا ذریعے نہیں بنتی، اس کی تقابلی قدر (سرمایہ دارانہ معاشرے میں ) صفر یا منفی ہوتی ہے‘ (دوسرے لفظوں میں ایک سرمایہ دارانہ معاشرے میں ایسی خواہشات رکھنے والے شخص کی یہی سزا ہے کہ اس کی خواہشات کی کوئی وقعت یا قدر وقیمت نہ ہو)۔۔۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت (rationality) ہرفعل کو خود ارادیت اور خود غرضیت کے پیمانے پر تول کر اس کی تقابلی قدر متعین کرتی ہے۔ جب للہیت، محبت، طہارت، تقویٰ، آخرت کا خوف، عفت، حیا، غیرت، ایثار، شوق شہادت کو اس پیمانے پر تولا جاتا ہے تو یہ بالکل بے وقعت اور بے قدر دکھائی دیتی ہیں۔ ایک سول سوسائٹی یا سرمایہ دارانہ معاشرے میں ا ن اوصاف (حمیدہ) کے پنپنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اس معاشرے کے نظام تعلیم کا مقصد تسخیر کائنات اور تمام فطری قوتوں کو ہیومن کے ارادے کے مطیع بنانے کو بطور مقصد کے قبول کرنے کی ایمانیات کو مستحکم بنانا ہوتا ہے‘‘۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری ، ساحل اگست ۲۰۰۶: ص ۳۸) 
اس اقتباس سے بخوبی واضح ہوا کہ سرمایہ دارانہ علم کا مقصد سرمائے کی بڑھوتری برائے بڑھوتری ہوتا ہے۔ سرمائے کی بڑھوتری کا یہ عمل اسی وقت ظہور پزیر ہوتا ہے جب علم بذات خود نفع خوری (profit-maximization) کے نظم (Discipline) کا پابند اور اس کے تابع ہوجائے ، یعنی علم تعمیر کیا جائے ’بیچنے‘ کے لیے اور اسے ’خریدا ‘ جائے صرف (consumption)کرنے کے لیے [knowledge is produced for sale, and purchased for consumption]۔ دوسرے لفظوں میں تکمیل خواہشات کی ذہنیت علم کو خریدوفروخت میں تبدیل کردیتی ہے اور خرید و فروخت کی یہ ذہنیت ہی سرمایہ دارانہ علمیت کی اصل شکل (essence) ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجادات سے لیکر سوشل و بزنس سائنسز کی تحقیقات تک خرید وفروخت کے اسی عمل کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ مثلاً جب ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر یا بزنس سائنس کا طالب علم چار سال کی محنت شاقہ کے بعد اپنے تعلیمی کیرئیر کے آخری سال میں اپنا تحقیقی کام (Research project) کرنے لگتا ہے تو اس کے اساتذہ اس کے پلے یہ ہدایت نامہ باندھتے ہیں: ’بیٹا ایسا کام کرو جسکی کوئی مارکیٹ میں مانگ (Market value) ہو ، فضول کاموں میں وقت برباد مت کرو‘۔ درحقیقت یہی نصیحت تمام تر علم اور ٹیکنالوجی کا نقطہ آغاز و انتہا ہوتا ہے۔ تعلیم، تحقیق اور کنسلٹنسی (consultancy) کے تمام تر ادارے اسی اصول پر اور ایسا ہی علم تعمیر کرتے ہیں جسے زیادہ متوقع منافع و آمدنی کے ساتھ کمپنیوں کو بیچنا ممکن ہو، اور کمپنیاں ایسے ہی علم کو خریدتی ہیں جسے وہ اپنے پیداواری عمل میں استعمال کرکے مزید اشیا بیچ کر زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ خرید و فروخت کا یہ علم جب معاشروں میں پروان چڑھتا ہے تو معاشرے ’مارکیٹ ‘ میں تبدیل ہوجاتے ہیں جہاں تعلقات کی بنیاد محبت، صلہ رحمی، تعاون اور مذہب نہیں بلکہ ’اغراض ‘ اور اشیا اور خدمات کی لین دین (Exchange of goods and services) بن جاتی ہیں۔ ظاہر سی با ت ہے کہ کسی شے کے لین دین میں ایک شخص ڈیمانڈر (Demander) اور دو سرا سپلائیر (Supplier) ہواکرتا ہے،اورسرمایہ دارانہ معاشرے میں طلب اور رسد (Demand and Supply) کا اصول ہی درحقیقت ہر رشتے اور تعلق کی اصل روح ہوتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ تعلق کی یہ نوعیت صرف موچی، درزی، کسان، مزدور، سرمایہ دار وغیرہ کے درمیان ہی بننے والے تعلقات میں ہوتی ہے،بلکہ ایک سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہر تعلق (چاہے میاں بیوی کا ہو یا ماں باپ کا)کی روح آہستہ آہستہ بس طلب اور رسد (Demand and Supply) پر منتج ہو جاتی ہے کیونکہ اس معاشر ے کے تمام افراد ماں باپ، بھائی بہن، استاد شاگرد یا پیر مرید نہیں بلکہ پروفیشنل (professionals) ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک مذہبی معاشرے میں استاد کا تعلق اپنے شاگرد سے باپ اور مربی کا ہوتا ہے،اس کے مقابلے میں مارکیٹ (یا سول)سوسائٹی میں یہ تعلق ڈیمانڈر اور سپلائیر (Demander and Supplier) کا ہوتا ہے یعنی استاد محض زر کی ایک مخصوص مقدار کے عوض ایک خاص قسم کی خدمت مہیا کرنے والا جبکہ طالب علم اس خدمت کا ڈیمانڈر ہوتا ہے اور بس۔ ہر وہ تعلق جس کی بنیاد ڈیمانڈ اور سپلائی کی روح پر استوار نہ ہو، سرمایہ دارانہ معاشرے میں لایعنی، مہمل، بے قدرو قیمت اور غیر عقلی (irrational)ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیار عقلیت کے مطابق عقل مندی (Rationality)اسی کا نام ہے کہ آپ تعلقات ذاتی اغراض کی بنیاد پر قائم کریں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی معاشرے میں سائنسی (بشمول طبعی و عمرانی) علوم عام ہوں اور افراد میں ذاتی اغراض اور حرص و حسد نیز دیگر اخلاق رزیلہ پروان نہ چڑھیں۔ یہ تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے مذہبی علوم کا مقصد افراد میں زہد، تقویٰ، عزیمت ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وفنا جیسی صفات عام کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ علوم کی بالا دستی کا مطلب در حقیقت افراد کی ذہنیت اور معاشروں کو خرید وفروخت کے نظم میں شامل اور تابع کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایسے علوم (مثلاًمذہبی علم) جو خریدوفروخت کی کسوٹی پر پورا نہ اترتے ہوں یعنی جنہیں خریدنے اور بیچنے کے نتیجے میں سرمائے کی بڑھوتری کے مواقع کم ہوں، ان کے پنپنے کے مواقع بھی اتنے ہی کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی بات کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے معاشرے (مثلاًمذہبی معاشرے) جہاں علم کے معنی خرید وفروخت نہ ہوں، وہاں سرمایہ دارانہ علوم ہر گز ترقی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ’اعتدال پسند‘ اور enlightened ہونے کا سبق دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے بغیر سائنسی علوم کا فروغ اور ترقی ہرگزممکن نہیں۔ 

نتائج: نوٹ کرنے کی اہم باتیں 

اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ علم سے مراد وہ مجموعہ معلومات ہے :
* جو ارادہ انسانی و خواہشات کی تکمیل (self-determination) کو ممکن بناتا ہو، اسے سائنس کہتے ہیں۔
* جو وحی کے علم ہونے کے انکارپر مبنی ہے، لہٰذا یہ جہالت خالصہ ہے ۔
* جس کا مقصدانسان کے تمتع اور تصرف فی الارض میں لا محدود اضافہ ہے ۔
* جو اس مادہ پرستانہ تصور حیات کو بطور مقصد حیات قبول کرنے کی ذہنیت عام کرتا ہے ۔
* اس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں افراد میں بہت سے اخلاق رزیلہ پھیلتے ہیں: 
۔ خود غرضی (اپنے مقصد کے لیے دوسروں سے تعلقات قائم کرنا)
۔ حرص (زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی خواہش)
۔ حسد (دوسروں سے زیادہ دولت کی خواہش) 
۔ طول امل (دنیا کی بے پناہ محبت ، طویل العمری کی خواہش اور موت سے کراہیت)
۔ غضب (ہر شے کو قابو اور زیر کرنے کی خواہش )
۔ لذت پرستی (خواہشات نفسانی کی کثرت )
۔ عبادات کو حقیر جاننا، ضیاع اوقات، گنا ہ کے کاموں کو تفریح سمجھنا، کلام لغو (جو فحش گوئی، کھیل تماشوں، فلموں ، ٹھٹھے بازی اور جنس مخالف کے موضوعات سے پر ہوتا ہے) وغیرہ کے اوصاف کا پیدا ہوجا نا ایک فطری عمل ہے ۔
* جس میں کوئی حتمی حق نہیں ہوتا (سوائے اس کے کہ انسان قائم بالذات ہے)۔
یہ فکر اور تصوربدا ہتاً لغو اور عقلاً با طل ہے، اسی لیے فکری سطح پر سرمایہ دارانہ علمیت ایک دم توڑتی ہوئی فکر ہے ، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی ماہیت و مقاصد کی سمجھ بوجھ حاصل کرکے اس کا محا کمہ کرنے کی کوشش کریں نہ یہ کہ اس کی حما یت میں امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجماع کا انکار کرکے اس جاہلی علمیت کے لیے دلائل فراہم کر دیں۔ ہمارے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر مسلما نوں نے جدیدی علمیت کے افکار و نظریات کے خدوخال پر اپنے معاشروں اور ریاست کو تشکیل دیا تو وہ لازماً ایک قوم پرست مسلم سرمایہ دارانہ ریاست ہی بنا پا ئیں گے جس کے نتیجے میں اس ملک کے مسلمانوں کو تو شا ید کوئی مادی فوائد فائدہ مل جائیں لیکن اسلام کو ہر گز بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ 
اللہ تعا لیٰ سے یہی دعا ہے کہ: اللہم ارنا حقیقۃ الا شیاء کما ہی۔ 

بجلی کا بحران ۔ چند تجاویز

پروفیسر محمد شفیق ملک

اس وقت ملک عزیز میں جمہوری حکومت کی تشکیل مکمل ہوچکی ہے اور وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضاگیلانی نے مسائل اورپریشانیوں میں مبتلاپاکستان کے شہریوں کے لیے کچھ فوری اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹریڈیونین اور طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ ورکرز کی بنیادی تنخواہ چھ ہزار روپے ماہانہ کرنے کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت عوام کی توقعات پر پوری اترے گی اور قوم کو خوشحالی کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے توانائی کی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کااعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کی نیک نیتی شک سے بالاتر ہے، ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کی کابینہ کوجرات مندانہ فیصلے کرنے کی توفیق عطافرمائے، آمین ۔ 
پاکستان میں ہرحکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے وعدے اورکسی حد تک کوشش بھی کرتی رہی ہے، لیکن ساٹھ سال گزرنے کے باوجود پاکستان آج بھی دنیاکے پس ماندہ ترین ملکوں کی فہر ست میں قابل افسو س مقام پر کھڑا ہے۔ اس وقت ہمارا ملک توانائی کے شدید بحران میں مبتلاہے، بجلی کی کمی نے ملک کی معیشت کوہلاکررکھ دیا ہے،ہزاروں کی تعداد میں مزدور بے روزگارہوگئے ہیں، اکثر فیکٹریوں کی پیداوار نہ ہونے کے برابرہے، چھوٹے چھوٹے کاروبار تو بندہوچکے ہیں، مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام دن رات کی تگ ودو کے بعد بمشکل روٹی حاصل کرپاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ساٹھ سال کے عرصہ میں آج تک مستقبل کی ضروریات کومدنظر رکھ کر بجلی پیداکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے جوکہ انتہائی مشکل اورکسی حدتک ناممکن نظر آتاہے ۔ وفاقی کابینہ نے کچھ اقدامات فوری طورپر کرنے کی منظوری دی ہے جن پر کام شرو ع ہوچکاہے لیکن اس مسئلہ میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کابھی فرض ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کرے۔ حکومتی دعوے اور کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک ان کو عوام کی خدمت حاصل نہ ہو۔ فوری طورپر بڑے ڈیم بنانا ناممکن ہے۔ اس وقت ملک کے اکثر حصوں میں آٹھ سے سولہ گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے۔ فوری قابوپانے کے لیے کچھ ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی جرم کے مترادف ہوگی۔ حکومتی مشیزی کے ماہرین اگرچہ جانتے ہیں کہ اس کافوری حل ممکن نہیں کیونکہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں زیادہ تر ڈنگ پٹاؤ پالیسیاں ہی جاری رکھیں گئی اوردوسرا آمروں نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی۔ اب جبکہ جمہوری حکومت ہے اورپاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جسے تقریباًتمام سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اورملک کی بڑی پارٹیوں کی نمائندگی بھی شامل ہے، اس حکومت کے ماہرین معاشیات اور منصوبہ سازوں کو ٹھوس اور طویل المیعاد پالیسیاں بنانی ہونگی۔ ملک سے بجلی کی قلت کودور کرنے کے لیے صرف اور صرف ملکی مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔ بڑے ڈیم اورمنصوبے مکمل ہونے میں دیرلگے گی، جبکہ پچاس فی صد سے زائد بجلی کی قلت کامسئلہ حل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرناہوگا۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز ہیں جومعاون ثابت ہوسکتی ہیں :
۱۔ سرکاری دفاتر کے اوقات کارمیں ایک گھنٹہ کی کمی کردی جائے۔
۲۔ فوری طورپر تمام سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں ہفتہ وار دوچھٹیاں کردی جائیں۔
۳۔تمام قسم کے جنریٹروں سے ہرقسم کی ڈیوٹی اور ٹیکس فوری طورپر ختم کردیے جائیں۔
۴۔ بڑے صنعتی یونٹوں کواپنی بجلی پیداکرنے کے لیے یونٹ لگانے کی ا جازت دی جائے۔
۵۔ شادی بیاہ پر چراغاں اور غیر ضروری بجلی کے استعمال پر سخت پابندی لگائی جائے۔
۶۔ عام بلب بنانے کے تمام یونٹ بند کر کے سٹاک ضائع کر دیا جائے اور انرجی سیور کے استعمال کو رواج دیا جائے۔
۷۔ایسے مکانات، پلازے اور ہوٹل بنانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے جن میں دن کے وقت روشنی نہ آسکے اور بجلی کے استعمال کی ضرورت پڑے۔
۸۔ ڈیزل اور پٹرول سے ہرقسم کے ٹیکس ختم کرکے ان کو مناسب قیمت پر لایا جائے۔ 
۹۔ نندی پور بجلی گھر کی طرح کے چھوٹے چھوٹے پاور سٹیشن فوری طورپر لگائے جائیں۔
۱۰۔ واپڈا کے اندر کالی بھیڑوں کی کمی نہیں جو بجلی چوری کرواتے ہیں۔ اس طرح چوری کی بجلی استعمال کرنے والے بجلی کا ضیاع کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کوبعض اوقات بااثر افراد بشمول افسران اور سیاست دانوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ حکومت میں شامل لوگ ان کی سرپرستی نہ کریں، بلکہ ان کی نشاندہی کر کے ان کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ 
۱۱۔ تمام سرکاری افسران، وزرا، اعلیٰ حکومتی عہدے داران اور آرمی افسران کے سرکاری دفاتر سے AC کی سہولت فوری طورپر ختم کر کے پا بندی لگا دی جائے، خلاف ورزی پر سخت سرزنش کی جائے۔
اس مہم میں عوام کوبھی حکومت سے تعاون کرنا ہوگا، گھیراؤ جلاؤ کی پالیسی ترک کرکے حکومت کی کوششوں میں اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ عوام کو اپنے طرز زندگی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ پرتعیش زندگی گزارنے کی عادات پر قابو پانا ہوگا۔ ACکے استعمال کوترک کرنا ہوگا تاکہ یہ بجلی کارخانوں کو چلانے میں کام آسکے۔ اپنے مکانات کو اس طرح بناناہوگا کہ دن کے وقت تمام کمروں میں سورج کی روشنی سے ہی کام چلایا جا سکے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ تاجر برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ دیکھا گیاہے کہ اکثر تجارتی مارکیٹیں اور بڑے بڑے کاروباری مرکز تنگ وتاریک گلیوں اور بازاروں میں ہیں جن کو روشن رکھنے کے لیے دکانداروں نے بڑے بڑے بلب لگا رکھے ہیں۔ اس رجحان کو بدلنا ہوگا۔ تاجر تنظیموں کو حکومتی اقدامات کا ساتھ دیتے ہوئے رات آٹھ بجے کے بعد دکانیں بند کرنا ہوں گی۔ یہ بھی دیکھنے میں آیاہے کہ بہت سے کاروباری مرکز اور بڑی بڑی مارکیٹوں کے بعض دکاندار ہفتہ وار چھٹی نہیں کرتے۔ دکانداروں کوہفتے میں دو دن بازار بند رکھنا ہوں گے۔

کیا فطرت أصلاً یا تبعاً مصدر شریعت ہے؟

حافظ محمد زبیر

(فاضل مقالہ نگار نے اپنے مفصل مقالے میں اہل سنت کے تصور فطرت کی وضاحت میں طویل اقتباسات جمع کیے ہیں جنھیں اختصار کے پیش نظر حذف کرتے ہوئے مضمون کا وہ حصہ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جو سید منظور الحسن کے دلائل کی تنقید سے متعلق ہے۔ مدیر)

راقم الحروف نے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت‘ کا ایک تنقیدی جائزہ لیا تھا جو کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ فروری ۲۰۰۷ میں شائع ہوا۔ غامدی صاحب کے ایک شاگرد رشید جناب منظور الحسن صاحب نے ہماری اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت ‘کے دفاع میں ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۷ اور پھر ماہنامہ ’اشراق‘ اگست و ستمبر ۲۰۰۷ میں شائع ہوا۔ہمارے پیش نظر اس وقت منظور الحسن صاحب کی طرف سے غامدی صاحب کے ’تصور فطرت‘ کے دفاع میں لکھا جانے والا مضمون ہے۔ 
قرآن ‘سنت اور محققین اہل لغت کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سے مراد وہ ابتدائی تخلیق ‘ پیدائشی حالت اور ہیئت ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور فطرت کے اس لغوی مفہوم پر اہل لغت کا اجماع بھی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ فطرت یعنی ابتدائی تخلیق یا ہیئت کیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو پیدا کیا ہے؟ اس بارے میں اہل علم کے مختلف اقوا ل ہیں۔ جمہور علماے محققین کے قول کے مطابق فطرت انسانی ایک قوت یااستعداد ہے کہ جس کے ذریعے انسان اسلام کے بنیادی حقائق‘اپنے رب کی معرفت اور حق وخیر کی طرف میلان محسوس کرتا ہے اور باطل وشر سے دور بھاگتا ہے۔اس کی سادہ سی مثال انسان کی قوت سماعت ہے جو پیدائش کے وقت ہر انسان میں بالقوۃ موجود ہوتی ہے اور جیسے جیسے انسان بڑا ہوتاجاتا ہے، اپنی اس قوت و صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی معلومات کو وسیع کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ ذہن میں رہے کہ مجرد قوت سماع کسی علم کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو علم کے حصول کا ایک ذریعہ یا صلاحیت ہے جو ہر انسان میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی فطرت یعنی پہلی ہیئت تخلیق یہ ہے کہ اس میں قوت سماعت موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا قوت سماعت ‘ قوت بصارت اورقوت فکر وغیرہ کی طرح ہر انسان میں پیدائشی طور پر ایک قوت یا مَلکہ ایسا بھی موجود ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے انسان پنی بلوغت کے بعد اپنے رب کی معرفت اورخیروحق بات کی طرف میلان اور شرو باطل سے ابا محسوس کر سکتاہے۔ لیکن یہ ذہن میں رہے کہ قوت سماعت کی طرح فطرت مجرد ایک صلاحیت، قوت یا استعداد کا نام ہے کہ جس کا کوئی تعلق علم سے نہیں ہے ۔
قرآن و سنت ‘لغت عرب اور اہل سنت کے مذہب کے مطابق فطرت نہ تو مأخذ علم ہے نہ ہی مصدر شریعت ‘بلکہ یہ ایک قوت اور صلاحیت ہے کہ جو ہر انسان میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس قوت اور صلاحیت کو استعمال کر کے انسان توحید ربوبیت کی معرفت حاصل کر سکتا ہے‘نبی کی دعوت کو حق سمجھ کر قبول کرتا ہے‘ ہرشرعی خیر کی طرف اپنے نفس میں ایک میلان محسوس کرتا ہے اور شریعت میں بیان کر دہ ہر شر سے اپنے نفس میں نفرت کرتا ہے اور اگر بیرونی و خارجی موانع و عوارض نہ ہوں تو ہر انسان بلوغت کے بعد اسی پیدائشی حالت پر برقرار رہے گا۔ جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآنی معروف و منکر ‘ کھانے کی چیزوں میں طیبات و خبائث کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا ‘ نیزفنون لطیفہ مثلا موسیقی ‘ رقص و سرود ‘مجسمہ سازی اور عشقیہ شاعری وغیرہ بھی فطرت کی بنیاد پر جائز ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ اہل سنت کا قرآن و سنت کی روشنی میں تصور فطرت غامدی صاحب کے تصور فطرت سے بالکل مختلف ہے۔
منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کے دفاع کے طور پر بعض آیات کو بطور دلیل بیان کیا ہے۔ ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ منظور الحسن صاحب کے پیش کردہ دلائل کا مسلمہ اصول تفسیر کی روشنی میں حقیقی معنی و مفہوم کیا ہے ؟
پہلی دلیل: منظور الحسن صاحب نے سور ۃ الشمس کی آیات ’ونفس وما سوھا فألھمھا فجورھا وتقوھا‘ کو غامدی صاحب کے تصور فطرت کی دلیل بنایا ہے۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ مفسرین نے اس آیت مبارکہ میں ’الہام‘ کے چار معانی بیان کیے ہیں:
۱) جمہور علما کا کہنا یہ ہے اس آیت مبارکہ میں’الہام‘ کا معنی واضح کرنے ‘بیان کرنے‘ بتلا دینے اور سمجھا دینے کے ہیں۔ کسی چیز کا خیر یا شر ہونا اللہ کے بتلانے اور واضح کرنے سے متعین ہوا لیکن اللہ کے بتلائے ہوئے خیر کو خیر اور شر کو شر سمجھنے کے لیے انسان نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں یعنی اپنی عقل و فطرت کو استعمال کیا۔امام ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں:
فبین لھا ما ینبغی لھا أن تأتی أو تذر من خیر أو شر أو طاعۃ أو معصیۃ (تفسیر طبری: سورۃ الشمس: ۷ تا ۸)
’’پس اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس چیز کو واضح کر دیا کہ کون سے خیر اور اطاعت کے کام اسے کرنے چاہئیں اور کون سے شر اور معصیت کے کاموں سے وہ اجتناب کرے۔‘‘
یہ رائے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ‘ قتادۃؒ ‘ مجاہدؒ ‘ ضحاکؒ ‘ مقاتل ؒ ‘ سفیان ثوریؒ ‘طبریؒ ‘واحدیؒ ‘ قرطبیؒ ‘ زمخشریؒ ‘ بیضاویؒ ‘فراء‘ جلال الدین محلیؒ ‘ شوکانیؒ ‘ مجد الدین فیروز آبادیؒ ‘ ابن عطیہؒ ‘ عز بن عبد السلامؒ ‘نسفیؒ ‘ الثعالبیؒ ‘ابن عادل الحنبلیؒ ‘أبو جعفر النحاسؒ ‘ ابو المظر بن السمعانیؒ ‘ بقاعیؒ ‘ أبو سعودؒ ‘ شنقیطیؒ ‘ سید طنطاویؒ ‘ أبو بکر الجزائریؒ ‘ ابن عاشورؒ ‘ علامہ صابونیؒ ‘نواب صدیق الحسن خانؒ ‘احمد مصطفی المراغیؒ ‘شیخ حسنین محمد خلوفؒ ‘ مفتی شفیع صاحبؒ ‘مولاناشبیر احمد عثمانیؒ ‘ مولاناثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ وغیرہم کی ہے ۔
۲) ’الہام ‘سے مراد توفیق اور خذلان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومن میں تقوی رکھ کر اسے نیکی کی توفیق دی اور کافر میں فجور رکھ کر اسے ذلیل کر دیا۔ یہ قول ابن زید ؒ کاہے۔ زجاج ؒ اور ابن عجیبہؒ نے بھی اسے اختیار کیا ہے۔ابن بطہؒ نے اس قول کی نسبت أبو حازم ؒ کی طرف بھی کی ہے۔ (شوکانی، فتح القدیر: سورۃ روم: ۳۰)
۳) ’الہام‘ سے مراد ساتھ لگا دینا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ اس کی بدبختی یا سعادت کو ساتھ لگا دیا ہے۔ یہ قول صحیح سند کے ساتھ ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ امام حاکمؒ نے اس قول کو مستدرک حاکم میں بیان کرنے کے بعد صحیح کہا ہے اور اس قول کی صحت میں امام ذہبی ؒ نے امام حاکم ؒ کی موافقت کی ہے۔یہ قول سعید بن جبیرؒ سے بھی منقول ہے ۔علامہ بدر الدین عینیؒ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا یہ قول اس آیت کا ایک مصداق ہے جیسا کہ بعض علما مثلا الشیخ مساعد بن سلیمان الطیار نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔ابن عباسؓ کے اس قول کی بنیاد مسئلہ قدر میں مروی ایک صحیح روایت ہے کہ جس کے آخر میں آپؐ نے ان آیات کی تلاوت کی ہے۔ لہٰذا اس قول کو ابن عباسؓ کے پہلے قول کے معارض نہ سمجھا جائے۔ صحابہؓ کا یہ معمول تھا کہ قرآن کی کسی آیت کی تفسیر سمجھانے کے لیے اس کے کسی ایک مصداق کی طرف اشارہ کر دیتے تھے جبکہ کسی دوسری مجلس میں اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اسی آیت کے کسی دوسرے مصداق کو بیان کردیتے تھے۔ سحابہؓ کی ایسی تمام تفاسیر اپنے مقام پر صحیح ہوتی ہیں۔بعض ناواقف لوگ صحابہؓ اور تابعینؒ کے ان تفسیری اقوال کے ظاہری اختلاف کو تعارض سمجھتے ہیں حالانکہ در حقیقت وہ اختلاف تنوع ہوتا ہے ۔
۴) ان آیات کاچوتھا معنی ان مفسرین نے کیا ہے جن میں تجدد کا عنصر کسی نہ کسی درجے میں پایا جاتا ہے اور یہ بات علما میں واضح ہے کہ یہ حضرات اپنے خلوص ‘تقویٰ‘ تدین اورامت مسلمہ کے لیے علمی و عملی خدمات کے باوصف قرآن کی تفسیر میں بہت سے مقامات پر ’فھم النصوص علی منہج السلف الصالحین‘ کے بالمقابل تجدد پسند ی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ اس قول کے مطابق ’فألھمھا فجورھا وتقواھا‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی میں خیر و شر کا علم رکھ دیا ہے اور انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی عقل و فطرت سے معلوم شدہ خیر و شر کے علم کی اتباع کرے۔ اس فلسفے کو تفصیلاً امین احسن اصلاحی صاحب ؒ نے اپنی تفسیر تدبر قرآن میں بیان کیا ہے۔ سید جمال الدین قاسمی ؒ ‘ سید قطب شہیدؒ اور مولانا مودودیؒ کی تفاسیر میں موجود عبارات میں بھی اس قسم کے اشارات ملتے ہیں کہ یہ حضرات بھی اسی فکرکے حاملین میں سے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ چوتھی رائے غلط ہے اور اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:
۱) اس آیت مبارکہ میں فطرت کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ ‘نفس‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔فطرت انسانی اور نفس انسانی میں بہت فرق ہے ۔قرآن و سنت کے مطابق ’فطرت ‘ سے مراد وہ قوت اور استعداد ہے کہ جس کی وجہ سے انسان خیر و شر اور حق و باطل کو پہنچانتا ہے، جبکہ ’نفس‘ سے مراد وہ روح ہے جوانسانی جسم میں داخل ہو کر اپنی تدبیر شروع کر دیتی ہے۔امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
و النفس ھی الروح المدبرۃ للجسم مثلا نفس الانسان اذا کانت فی جسمہ (مجموع الفتاوی‘ امام ابن تیمیہ‘جلد۴‘ص۱۱۸)
’’ ’نفس‘سے مراد وہ روح ہے جو انسانی جسم میں تدبیر کرتی ہے مثلاً انسان کا نفس جبکہ روح اس کے جسم میں ہو۔‘‘
’نفس‘ کی یہی تعریف امام اہل السنۃ ابن أبی العز الحنفیؒ نے شر ح عقیدہ طحاویہ میں بھی کی ہے۔ لہٰذا صحابہؓ و تابعین ؒ و جمہور مفسرین کی تفسیر صحیح ہے جو کہ قرآنی لفظ ’نفس‘ کے عین مطابق ہے کہ نفس انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا و رسل اور کتابوں کے ذریعے واضح کر دیا کہ اسے کس چیز کو اختیار کرنا چاہیے اور کس کو چھوڑنا چاہیے، جبکہ آیت کا وہ معنی مرادلینا جو چوتھے قول میں بیان ہوا ہے، اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ قرآن کے ظاہر کی تاویل کرتے ہوئے نفس کو فطرت کے معنی میں نہ لیا جائے۔ اور قرآن کی ایسی تاویل بغیر کسی دلیل کے جائز نہیں ہے، لہٰذا سورۃ الشمس میں ’نفس‘ سے مراد اس کا حقیقی معنی یعنی نفس انسانی ہے نہ کہ مجازی معنی یعنی فطرت ہے۔ علاوہ ازیں فطرت بھی اس صورت میں نفس کا مجازی معنی ہو گا جبکہ کلام عرب سے اس بات کے دلائل اور شواہد مل جائیں کہ اہل عرب نفس کو فطرت کے معنی میں استعمال کرتے تھے، اور ہمارے علم کی حد تک کلام عرب میں نفس کالفظ فطرت کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ۔
۲) غامدی صاحب کا بیان کردہ یہ مفہوم قرآن کی واضح نص کے خلاف ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا (النحل :۷۸)
’’اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے۔ ‘‘
امام ابن قیمؒ لکھتے ہیں کہ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے دین کا علم لے کر آیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا ’’اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے ‘‘بلکہ حدیث سے مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت دین اسلام کی معرفت اور اس کی محبت کا تقاضا کرتی ہے۔‘‘ 
امام ابن قیمؒ کے علاوہ امام ابن تیمیہؒ ‘ امام قرطبیؒ اور ابن رجب حنبلیؒ نے بھی قرآن کی اس آیت کوا س مسئلے میں بطور دلیل بیان کیاہے کہ پیدا ئش کے وقت انسان کے پاس کسی قسم کا کوئی فطری علم نہیں ہوتا ‘ہم ان جلیل القدر أئمہ کی عبارات پیچھے بیان کر چکے ہیں۔ جناب منظور الحسن صاحب کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت کا یہ مفہوم قرآن کے سیاق و سباق کے خلاف ہے۔ منظور الحسن صاحب کے لیے پہلا جواب تو یہ ہے کہ کیاان کے خیال میں امام ابن تیمیہؒ ‘امام ابن قیمؒ ‘ امام قرطبیؒ اور ابن رجب الحنبلیؒ جیسے جلیل القدر مفسرین قرآن کے سیاق و سباق سے ناواقف تھے جو سبھی اس آیت کو بطور دلیل نقل کرتے چلے آئے ہیں؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس کو منظور الحسن صاحب قرآن کا سیاق و سبا ق کہہ رہے ہیں، اس کی حیثیت ان کے ذاتی فہم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ عربی زبان کا یہ معروف قاعدہ ہے کہ نفی کے سیاق میں جب نکرہ آئے تو وہ اپنے عموم میں نص بن جاتا ہے، لہٰذا ’لا تعلمون شیئا‘ میں نفی کے سیاق میں نکرہ ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ تمہارے پاس کسی قسم کا بھی علم نہ تھا اورقرآن کے اس قدر صریح مفہوم کی اپنے ذاتی فہم سے تخصیص کرنا جائز نہیں ہے۔ امام النحو أبو حیان الاأندلسیؒ اس کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
و الأولی عموم لفظ شیء و لاسیما فی سیاق النفی (البحر المحیط: سورۃ النحل:۷۷)
’’راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ شے سے مراد اس کا عموم ہے جبکہ اس کے سیاق میں نفی بھی موجود ہے ۔‘‘
اسی طرح علامہ آلوسی ؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: 
و الظاہر العموم و لا داعی الی التخصیص (روح المعانی: سورۃ النحل:۷۷)
’’ظاہر نص یہی کہتی ہے کہ یہ آیت عام ہے اور اس کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔‘‘
چوتھا جواب یہ ہے کہ منظور الحسن صاحب ’وجعل لکم السمع و الأبصار و الأفئدۃ‘ کو ’واللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا‘ کا سیاق بنا رہے ہیں، حالانکہ ’وجعل لکم السمع والأبصار و الأفئدۃ‘ کسی طرح بھی ’واللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا‘ کا سیاق نہیں بن رہا ہے کیونکہ ’ و جعل...‘ میں ’واؤ‘ استیناف کا ہے اور ’وجعل لکم السمع و الأبصار والأفئدۃ‘ جملہ مستأنفہ ابتدائیہ ہے۔ اگر ’و جعل ...‘ کے ’واؤ‘ کو عطف کا واؤ مانیں تو پھربھی ’وجعل لکم السمع و الأبصار و الأفئدۃ‘ کا جملہ ’و اللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا‘ کا معنوی سیاق نہیں بنتا کیونکہ انسان کی سماعت ‘ بصارت اور دل تو اس وقت بھی موجود تھے جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں تھا، لہٰذا انسان اپنی قوت سماعت ‘ بصارت اور دل کے وجود کے ساتھ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا اور وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا، پھر جب وہ اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا ہے تو اس وقت بھی وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ اس آیت کے سیاق سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتاہے کہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس کسی قسم کا علم تو نہیں ہوتا لیکن ایسے آلات ضرور ہوتے ہیں کہ جن سے وہ علم حاصل کر سکتا ہے۔ امام رازیؒ لکھتے ہیں :
’’انسانی اپنی ابتدائی پیدائشی حالت میں جبکہ وہ پیدا ہوتا ہے‘ مختلف اشیا کے علم سے خالی ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سماعت‘ بصارتیں اور دل بنائے‘اور اس کا معنی یہ ہے کہ انسانی نفوس چونکہ اپنی پیدائشی حالت میں اللہ کی معرفت اور اس سے متعلقہ علوم سے خالی ہوتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ حواس عطا کیے ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعے معارف اور علوم کو حاصل کرے۔‘‘ ( مفاتیح الغیب: سورۃ النحل: ۷۷)
۳) غامدی صاحب کا یہ بیان کردہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
اَللّٰھُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرٌ مَنْ زَکَّاھَا
’’اے اللہ تعالیٰ! تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ(یعنی تقویٰ کی رہنمائی ) عنایت فرما دے اور اس کو پاک کر دے‘ بے شک تو پاک کرنے والوں میں بہترین پاک کرنے والاہے ۔ ‘‘
اگر ’فجور‘ اور’ تقویٰ ‘ انسانی فطرت میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس تقویٰ کو مانگنے کی کیاضرورت ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دُعا اس آیت کے مفہوم کو واضح کر رہی ہے کہ اس آیت میں ’تَقْوٰی‘ سے مراد اس( تقویٰ) کی رہنمائی اور ’فجور‘ سے مراد اس( فجور) کی پہچان ہے جیسا کہ صحابہؓ و تابعینؒ نے بیان کیاہے۔منظور الحسن صاحب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز بھی مانگی جا سکتی ہے جو کہ انسان کو حاصل ہو اور اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’اھدنا الصراط المستقیم‘ کی آیت کو پیش کیا ہے کہ مسلمانوں کو ہدایت حاصل ہے وہ پھر بھی اللہ تعالیٰ سے ہر نمازمیں ہدایت مانگتے ہیں۔ منظور الحسن صاحب کو پہلا جواب تو یہ ہے ان کی اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا ہے اور وہ پانچ وقت کی نماز میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ تو مجھے مسلمان بنا دے، حالانکہ ایسی دعا کی امید و توقع کسی صاحب عقل سے نہیں کی جا سکتی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ منظور الحسن صاحب کو ’اھدنا الصراط المستقیم‘ کا صحیح مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ابن رجب الحنبلیؒ ’اھدنا الصراط المستقیم‘ میں بیان شدہ ہدایت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جہاں تک مومن کااللہ سے ہدایت طلب کرنا ہے ‘ تو اس کی دو قسمیں ہیں۔ایک مجمل ہدایت ہے اور اس سے مراد اسلام اور ایمان کی ہدایت ہے اور وہ ہر مومن کو حاصل ہے اور دوسری مفصل ہدایت ہے اور اس سے مراد ایمان اور اسلام کے اجزا کواس کی تفصیلات کے ساتھ جاننا ہے اور ان پر عمل کرنے کے لیے اللہ کی مدد کا طلب گار ہونا ہے ۔یہ وہ ہدایت ہے کہ جس کا ہر مومن دن رات میں محتاج ہے اور اسی ہدایت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو پانچ وقت کی نماز میں یہ دعا پڑھنے کا حکم دیاہے ’اے اللہ !توہمیں سیدھا رستہ دکھا‘۔ اور اللہ کے رسول ﷺ بھی رات کی نماز میںیہ دعا کرتے تھے:اے اللہ !جن معاملات میں اختلاف کیا گیاہے ان میں حق بات کی طرف اپنے حکم سے تو میری رہنمائی فرما دے۔بے شک جس کو تو چاہتا ہے سیدھے رستے کی ہدایت عنایت فرماتا ہے۔ ‘‘ (جامع العلوم و الحکم: فصل الحدیث الرابع و العشرون)
۴) غامدی صاحب کا بیان کردہ مفہوم صحابہ کرامؓکی تفسیر کے خلاف ہے۔ امام طبری ؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓکا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : ’یقول: بین الخیر و الشر‘، یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے خیر اور شر کو واضح کر دیا ہے ۔‘‘
اہل سنت میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صحابہؓ اگر قرآن کی کسی آیت کا لغوی مفہوم بیان کریں تو اس کو قبول کرنا واجب ہے کیونکہ وہ قرآن کی لغت کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں جبکہ صحابہؓ کی تفسیر اجتہادی میں علما کا اختلاف ہے کہ اس کا قبول کرنا حجت ہے یا نہیں ۔یہاں پر ابن عباسؓ قرآنی لفظ ’الہام‘ کالغوی معنی بیان کر رہے ہیں کہ’ الہام‘ سے مراد’تبیین‘ ہے، لہٰذا ابن عباسؓ کی یہ تفسیر حجت ہے ۔
۵) غامدی صاحب کا بیان کردہ مفہوم جلیل القدر تابعین اور تبع تابعین کی تفسیر کے خلاف ہے۔امام طبری ؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت مجاہدؒ سے روایت کیا ہے کہ’’فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰاہَا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہ اور تقویٰ بتلا دیاہے ۔‘‘
امام مجاہد ؒ معروف تابعی اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے شاگرد ہیں۔مشہورمحدث سفیان ثوری ؒ فرماتے تھے کہ جب تمہیں مجاہدؒ سے تفسیر پہنچ جائے تو بس بالکل کافی ہے۔امام ابن تیمیہؒ نے ’رسالہ اصول تفسیر‘ میں لکھا ہے کہ جلیل القدر أئمہ امام شافعیؒ ‘ امام احمدؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ حضرت مجاہدؒ کی تفسیر پر بہت زیادۃ اعتماد کرتے تھے۔ امام طبریؒ نے یہی تفسیر قتادہ، ضحاک اور سفیان سے بھی نقل کی ہے۔ جمہور مفسرین امام طبریؒ ‘واحدیؒ ‘ قرطبیؒ ‘ زمخشریؒ ‘ بیضاویؒ ‘فراء‘ جلال الدین محلیؒ ‘ شوکانیؒ ‘ مجدالدین فیروز آبادیؒ ‘ ابن عطیہؒ ‘ عز بن عبد السلامؒ ‘نسفیؒ ‘ الثعالبیؒ ‘ابن عادل الحنبلیؒ ‘أبو جعفر النحاسؒ ‘ ابو المظر بن السمعانیؒ ‘ بقاعیؒ ‘ أبو سعودؒ ‘ شنقیطیؒ ‘ سید طنطاویؒ ‘ أبو بکر الجزائریؒ ‘ ابن عاشورؒ ‘ علامہ صابونیؒ ‘نواب صدیق الحسن خانؒ ‘احمد مصطفی المراغیؒ ‘شیخ حسنین محمد خلوفؒ ‘ مفتی شفیع صاحبؒ ‘مولاناشبیر احمد عثمانیؒ ‘ مولاناثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا عبد الرحمن کیلانیؒ وغیرہم نے بھی اس آیت کایہی مفہوم بیان کیا ہے جو کہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے حوالے سے اوپر بیان ہوچکا ہے ۔
۶) اگر بفرض محال چوتھے قول کو صحیح تسلیم بھی کر لیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں نیکی اور بدی کا علم ودیعت کردیا ہے تو پھر بھی اس آیت سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس بات کاپابند بھی بنایا ہے کہ وہ اپنے اس فطری علم کے مطابق زندگی گزارے اور نہ ہی اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے اس کے اس فطری علم کی بنیاد پر آخرت میں کچھ مواخذہ بھی فرمائیں گے جیسا کہ غامدی صاحب کا یہ موقف واضح ہے۔
منظور الحسن صاحب نے امام ابن کثیرؒ ‘مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ‘ مولانامودودیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کے اقوال اپنی اس رائے کی تائید میں نقل کیے ہیں کہ ’و اللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا‘ والی عام آیت اپنے سیاق ’وجعل لکم السمع و الأبصار و الأفئدۃ‘ سے خاص ہے۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہمارے نزدیک علما کے اقوال دلیل نہیں ہیں۔ اصل دلیل قرآن و سنت ہے۔ ہاں قرآن و سنت سے ثابت شدہ مسئلے کی تائید میں علما کے اقوال نقل کیے جا سکتے ہیں، لہٰذا منظور الحسن صاحب کا یہ کہنا کہ اس آیت کی تفسیر میں ہم نے فلاں علما کے یہ اقوال نقل کیے اور حافظ صاحب نے ان کاجواب نہیں دیا، ایک لایعنی بحث ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ خود آپ نے ’و اللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا‘ کی تفسیر میں ان علما کے جو چار اقوال نقل کیے ہیں، کسی ایک کے قول سے بھی آپ کے اس موقف کی تائید نہیں ہوتی کہ قرآن کی یہ آیت اپنے سیا ق کے اعتبار سے خاص ہے اور اس آیت سے فطری علم کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ صرف حواس و مشاہدے سے حاصل شدہ علم کی نفی مراد ہے ۔ 
دوسری دلیل: منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کے دفاع میں دوسری دلیل قرآن کی درج ذیل آیت کو بنایا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اناھدیناہ السبیل إما شاکرا وإما کفورا (الإنسان:۳)
ہمارا جواب یہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں:
۱) اس آیت میں ہدایت سے مراد واضح کرنا ‘بیان کرنا‘ رہنمائی کرنا اور بتلا دینا ہے۔امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
بینا لہ و عرفناہ طریق الھدی و الضلال و الخیر و الشر ببعث الرسل فأمن أو کفر (تفسیر قرطبی: سورۃ الإنسان: ۳)
’’ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انسان کے لیے ہدایت ‘ گمراہی ‘خیر اور شر کے رستوں کو رسولوں کی بعثت سے واضح کر دیاہے پس انسان چاہے تو ایمان لے آئے اور چاہے تو کفر کرے۔ ‘‘
یہ قول جمہور مفسرین مجاہدؒ ‘ عکرمۃؒ ‘ عطیہ العوفی ؒ ‘ ابن زیدؒ ‘طبریؒ ‘ رازیؒ ‘ قرطبیؒ ‘ جلال الدین محلیؒ ‘ شوکانیؒ ‘ علامہ مجد الدین فیروز آبادیؒ ‘ علامہ سمرقندیؒ ‘ زمخشریؒ ‘ بغویؒ ‘ ابن کثیرؒ ‘ ابن عطیہؒ ‘ فراءؒ ‘ابن جوزیؒ ‘ نسفیؒ ‘ خازنؒ ‘ أبو حیانؒ ‘ الثعالبیؒ ‘ ابن عادل الحنبلیؒ ‘ البقاعیؒ ‘ علامہ آلوسیؒ ‘ واحدیؒ ‘ الثعلبیؒ ‘ سید طنطاویؒ ‘ علامہ أبو بکر الجزائری‘ علامہ صابونیؒ ‘ مولانا ثناء اللہ أمر تسریؒ نواب صدیق الحسن خانؒ ‘شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدیؒ ‘ علامہ وحید الزمانؒ ‘ مولانا پیر کرم شاہ صاحبؒ اور مولانا مفتی شفیع صاحبؒ وغیرہم کا ہے ۔مقاتل بن حیانؒ ‘ بیضاوی اور أبو سعود ؒ کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ ان حضرات کارجحان بھی اسی قول کی طرف ہے۔ ہدایت کا یہ معنی قرآن کی دوسری آیات سے بھی واضح ہے جیسا کہ امام ا بن کثیرؒ لکھتے ہیں :
أی بینا لہ و وضحنا ہ و بصرناہ بہ کقولہ تعالی جل و علا أما ثمود فھدیناھم فاستحبوا العمی علی الھدی ( تفسیر ابن کثیر: سورۃ الإنسان: ۳)
’’ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انسان کے لیے اس رستے کو بیان اور واضح کر دیا اور اسے وہ رستہ دکھا بھی دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے :جہاں تک قوم ثمود کا معاملہ ہے پس انہوں نے ہدایت کے بالمقابل اندھے پن کو پسند کیا۔‘‘
۲) دوسرا قول یہ ہے کہ رستے کی ہدایت سے مراد انسان کا اپنے ماں کے پیٹ سے نکلنا ہے۔امام ابن کثیرؒ نے اس قول کو غریب قرار دیاہے ۔وہ لکھتے ہیں:
و روی عن مجاہد و أبی صالح و الضحاک و السدی أنھم قالوا فی قولہ تعالی إنا ھدیناہ السبیل یعنی خروجہ من الرحم وھذا قول غریب و الصحیح المشھور الأول۔ (تفسیر ابن کثیر: سورۃ الإنسان: ۳) 
’’مجاہد ؒ ‘أبو صالحؒ ‘ ضحاکؒ اور سدیؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد انسان کا اپنی ماں کے پیٹ سے نکلنا ہے اور یہ قول غریب ہے جبکہ پہلا قول ہی صحیح اور معروف و مشہور ہے۔‘‘
۳) تیسرا قول اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ ہدایت سے مراد الہام ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیرو شر کا علم الہام کردیا ہے اور انسان سے اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ اس فطری خیر و شر کی پابندی کرے۔یہ تفسیر مولانا اصلاحی ؒ ‘ مولانا مودودیؒ اور جناب غامدی صاحب کی ہے ۔ اس آیت مبارکہ کی یہ تفسیر صحیح نہیں ہے اور اس کی درج ذیل وجوہات ہیں :
۱) ہدایت کا لفظ عربی زبان ‘ قرآن اور سنت میں اکثرو بیشتر رہنمائی کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے اور جب تک قرآن کے الفاظ سے حقیقی معنی مراد لیا جا سکتا ہو اس وقت تک اس سے مجاز مراد لینا صحیح نہیں ہے۔ قرآن کے کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کسی بھی کلام میں اصل حقیقت ہوتی ہے جبکہ مجاز مراد لینے کے کوئی دلیل چاہیے۔
۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ’السبیل‘ کالفظ استعمال کیا ہے جواس بات کا قرینہ ہے کہ اس رستے سے مراد شریعت کا بتایاہوارستہ ہے کہ جس میں خیر وشر دونوں کو واضح کر دیا گیاہے نہ کہ فطری خیر و شرمراد ہے۔کیونکہ فطری خیر و شر کی طرف اشارہ کرنا اگر مقصود ہوتا تو اس کے لیے ’السبیلین‘ کا لفظ زیادہ مناسب تھا جیسا کہ سورۃ البلد میں ’النجدین‘ کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔ علامہ ابن جوزیؒ ‘ نسفیؒ ‘ محلیؒ ‘ بیضاویؒ ‘ زمخشریؒ ‘ أبو حیان الأندلسیؒ ‘واحدیؒ ‘ طنطاویؒ اور علامہ أبوبکرؒ الجزائریؒ وغیرہ نے ’السبیل‘ سے شریعت یا ہدایت یعنی ایک رستہ مراد لیا ہے جبکہ مفسرین کی ایک دوسری جماعت نے’ السبیل‘ سے مراد خیر وشر یا ہدایت و ضلالت یعنی دو رستے مراد لیے ہیں لیکن ان حضرات سلف کے نزدیک خیر و شر کے یہ دونوں رستے ایک ہی رستے یعنی شریعت سے معلوم ہوئے ہیں۔ لہٰذا سلف کا اختلاف لفظی ہے سب کے نزدیک ’السبیل‘ سے ایک ہی رستہ مراد ہے ۔
۳) آیت کا سباق ’فجعلناہ سمیعا و بصیرا‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس آیت میں ہدایت سے مراد وہ ہدایت کہ جس کے حصول کا ذریعہ حواس یعنی سماعت و بصارت ہو اور ایسی ہدایت انبیا و رسل کی دی ہوئی اخبار یا اللہ کا اتارا ہوا کلام ہی ہوسکتی ہے۔
۴) آیت کا سیاق ’إنا أعتدنا للکفرین سلسلا وأغلالا و سعیرا‘ بھی اس مسئلے میں واضح قرینہ ہے کہ پچھلی آیت میں ہدایت سے مراد شرعی ہدایت ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت کی ناشکری کرنے والوں کو کافر کہا ہے اور جہنم کی وعید سنائی ہے جبکہ فطری علم کا منکر کسی کے نزدیک بھی کافر نہیں ہے اورہم نصوص قرآنیہ سے یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ آخرت کی سزا صرف شرعی علم و ہدایت کے پہنچنے کے بعد ہے۔ 
۵) آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے ساتھ ’السبیل‘ کالفظ استعمال کیا ہے جو اس بات کا صریح قرینہ ہے کہ یہاں الہام مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ اہل عرب جب ہدایت کے لفظ کے ساتھ ’سبیل ‘ یا ’طریق‘ کے لفظ کو بطور مفعول استعمال کرتے ہیں تو اس وقت ہدایت سے ان کی مراد اس رستے کو واضح کرنا اور بیان کرنا ہوتاہے جیسا کہ معروف عربی لغات معجم مقاییس اللغۃ‘ لسان العرب اورا لقاموس المحیط وغیرہ میں ہے علاوہ ازیں اگر ہدایت کو الہام کے معنی میں لے بھی لیا جائے تو پھر رستے کے الہام کے کیا معنی ہوئے ؟
۶) اگر تو ہدایت سے مراد اس کا حقیقی معنی یعنی وضاحت ‘ بیان اور رہنمائی مراد ہو تو پھر ’السبیل‘ کامطلب بھی واضح ہے۔لیکن اگر ہدایت سے وہ معنی مراد لیا جائے جو کہ غامدی صاحب لیتے تو بغیر محذوف نکالے وہ معنی مراد لینا ممکن نہیں ہے۔ مثلاً ہدایت کو الہام کے معنی میں لینے کی صورت میں سبیل سے پہلے علم اور بعد میں خیر و شر کے الفاظ محذوف نکالنے پڑیں گے اور تقدیرعبارت ’ھدیناہ علم سبیل الخیر و الشر‘ ہو گی۔سبیل کے بعد خیر و شر کو بعض علمائے سلف نے محذوف مانا ہے لیکن خیر وشر کو محذوف ماننے کے باوجود ہدایت سے الہام کا معنی لینا اس وقت تک درست نہیں ہے جب تک کہ سبیل سے پہلے بھی علم کو محذوف نہ مان لیا جائے۔ اورعلم کو یہاں کسی نے بھی محذوف نہیں مانا۔ علاوہ ازیں اتنے محذوفات نکالنے کی دلیل کیا ہے؟ کیونکہ کلام میں اصل یہ ہے کہ اس میں حذف نہیں ہوتا اور کچھ محذوف نکالنے کے کوئی قرینہ یا دلیل چاہیے ہوتی ہے۔ 
ہمیں ا س سے انکار نہیں کہ ہدایت کے لفظ کا بعض سلف نے الہام بھی معنی کیا ہے لیکن ان کی مراد اس الہام سے توفیق الٰہی ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کسی انسان کے دل میں کوئی بات ڈال کر اسے کوئی کام کرنے کی توفیق دے دیتے ہیں جیسا کہ امام ابن تیمیہؒ نے ’مجموع الفتاوی‘ میں لکھا ہے۔سلف کی بعض عبارات میں الہام کے الفاظ استعمال کرنے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے خیر اور شر کو انسان کی پیدائش کے وقت اس کے دل میں ڈال دیاہے جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے،بلکہ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقت میں ایک خاص شخص کے دل میں کوئی بات ڈال دی ۔ 
تیسری دلیل: منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کے دفاع میں تیسری دلیل کے طور پر سورۃ البلد کی آیت ’و ھدیناہ النجدین‘ کو بیان کیا ہے ۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفسرین کے چار اقوال ہیں :
۱) اس آیت میں ہدایت سے مراد واضح کرنااوربیان کرنا ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کے دونوں رستوں کو اپنی شریعت کے ذریعے واضح اور بیان کر دیا ۔امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
و ھدیناہ النجدین یعنی الطریقتین طریق الخیر و طریق الشر أی بینا ھما لہ بما أرسلناہ من الرسل (تفسیر قرطبی: سورۃ البلد: ۱۰) 
’’اور ہم نے ان کی دو رستوں کی طرف یعنی خیر اور شر کے رستوں کی طرف رہنمائی کی یعنی ہم نے ان دونوں رستوں کو اس وحی سے واضح کر دیا کہ جس کے ساتھ ہم نے رسولوں کو بھیجا ہے ۔ ‘‘
یہ رائے مقاتلؒ ‘ الثعلبیؒ ‘ مجد الدین فیروز آبادیؒ ‘ ابن عطیہؒ ‘ سمر قندیؒ ‘ ابن جوزیؒ ‘فراءؒ ‘ الثعالبیؒ ‘واحدی ؒ ‘ شنقیطیؒ ‘ طنطاویؒ ‘ عبد الرحمن بن ناصر السعدیؒ ‘ علامہ وحید الزمان ؒ ‘ مولانا مودودیؒ اورمولاناپیر کرم شاہ صاحبؒ کی ہے ۔ان کے علاوہ ابن عباسؓ ‘ عبد اللہ بن مسعودؓ ‘مجاہدؒ ‘ ضحاکؒ ‘ عکرمہؒ ‘ ابن زیدؒ ‘ ربیع بن خثیمؒ ‘ عطاا لخراسانیؒ ‘ أبو صالح ؒ ‘ محمد بن کعبؒ ‘ أبو وائلؒ ‘ حسن بصریؒ ‘ ابن قتیبہؒ ‘ فراءؒ ‘ نسفیؒ ‘عز بن عبد السلام ؒ ‘ طبریؒ ‘ زمخشریؒ ‘ رازیؒ ‘خازنؒ ‘ ابن عادل الحنبلیؒ ‘ نواب صدیق الحسن خانؒ اور أبو مسعود ؒ کا رجحان بھی اس طرف ہے ۔
۲) ’و ھدیناہ النجدین‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی رہنمائی اس کی پیدائش کے وقت اس کی ماں کی چھاتیوں کی طرف کی ہے کہ جہاں سے وہ اپنی خوراک حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ رائے ابن عباسؓ ‘ علیؓ ‘ سعید بن مسیبؒ ‘ قتادۃ ؒ ‘ ضحاکؒ ‘ ربیع بن خثیم ؒ اور أبو حاتمؒ سے مروی ہے ۔امام بیضاویؒ اور امام بن کثیر ؒ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہ دونوں اقوال درست ہیں ہمارے نزدیک بھی یہ قول راجح ہے کہیہ دونوں اقوال اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے دو مصداقات ہیں۔
۳) تیسرا قول اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس آیت میں ہدایت سے مراد الہام ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر و شر کاعلم القاء کر دیا ہے ۔یہ رائے البقاعیؒ ‘ ابن عجیبہؒ ‘ ابن عاشورؒ ‘جمال الدین قاسمیؒ ‘احمد مصطفی المراغیؒ ‘ مولانا اصلاحیؒ اور غامدی صاحب کی ہے۔ 
۴) مولانا مفتی شفیع صاحبؒ ‘ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ‘نواب صدیق الحسن خانؒ اور علامہ ابو بکر الجزائری کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں ہدایت سے مراد فطری اور شرعی ہدایت دونوں ہیں۔لیکن ان حضرات کے نزدیک فطری ہدایت سے مرادشرعی خیرو شر کی طرف میلان و رجحان کا مادہ و استعداد ہے جیسا کہ فطرت کی بحث میں ہم تیسرے قول کی تشریح میں پڑھ چکے ہیں۔ 
ہمارے نزدیک اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں تیسرا قول درست نہیں ہے اور اس کے درج ذیل دلائل ہیں :
۱) ہم یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ ہدایت کا حقیقی معنی واضح کرنا ‘بیان کرنا اور رہنمائی کرنا ہے جبکہ الہام اس کا مجازی معنی ہو گا اور جہاں حقیقت مراد لینا ممکن ہو وہاں مجاز ی معنی کرنا جائز نہیں ہے ۔کیونکہ کلام میں اصل حقیقت ہے۔
۲) ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اہل عرب جب ہدایت کے لفظ کے ساتھ ’سبیل ‘ یا ’طریق‘ کے لفظ کو بطور مفعول استعمال کرتے ہیں تو اس وقت ہدایت سے ان کی مراد اس رستے کو واضح کرنا اور بیان کرنا ہوتاہے جیسا کہ معروف عربی لغات معجم مقاییس اللغۃ‘ لسان العرب اورالقاموس المحیط وغیرہ میں ہے ۔
۳) اگر اس آیت میں ہدایت سے مرادفطری ہدایت لے بھی لی جائے تو پھر بھی اس سے مراد کسی خیر و شر کا علم نہ ہو گا بلکہ اس سے مراد وہ ہدایت ہو گی کہ جس کا تذکرہ ’وأعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی‘ میں ہے۔اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جن و انسان حتی کہ حیوانات تک کو فطری ہدایت دی ہے اور اس فطری ہدایت سے مراد ان بنیادی چیزوں کی طرف ہر ایک نوع کے افرادکا رجحان و میلان ہے جو کہ ان کے درمیان مشترک ہیں۔جیسا کہ شاہ ولی اللہ نے ’حجۃ اللہ البالغۃ ‘ میں اس کی وضاحت کی ہے ۔اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ پیدائش کے وقت ہر بچہ منہ مارتا ہے۔ اب بچے کا منہ مارنا اس کی فطرت ہے لیکن بچے کو یہ علم نہیں ہے کہ اس نے اپنا منہ کہاں مارنا ہے یا وہ کون سی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی غذا حاصل کر سکتا ہے، لہٰذا بچہ نہ تواپنی غذا اپنے ساتھ لے کردنیا میں آتا ہے اور نہ ہی وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ اسے اس کی غذا کہاں سے ملے گی اور کون سی غذا اس کے جسم کے لیے صالح ہے یہ بھی اس کے علم میں نہیں ہوتا۔اگر بچے کو ایسی غذا مل جائے جو کہ اس کے جسم کے لیے نفع بخش ہو جیسے کہ ماں کا دودھ ہے تو یہ غذا حاصل کر کے اس کے جسم کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا جسم اس غذا کو قبول کرتا ہے۔اسی طرح ہر انسان میں پیدائشی طور پر خیر کوحاصل کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خیر اس کو کہاں سے ملے گااس کے لیے وہ اللہ کی وحی کامحتاج ہوتا ہے ۔ اور جب بذریعہ وحی اس کو کوئی خیر ملتا ہے تو اس کی طرف انسان اپنی فطرت میں ایک رجحان محسوس کرتا ہے ۔ اس شرعی خیر پر عمل اس کے جسم کے لیے نفع بخش ہوتا ہے اور اس پر عمل سے اس کو اپنے نفس میں اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔
۴) اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں نیکی اور بدی کا علم ودیعت کردیا ہے تو پھر بھی اس آیت سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس بات کاپابند بھی بنایا ہے کہ وہ اپنے اس فطری علم کے مطابق زندگی گزارے اور نہ ہی اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے اس کے اس فطری علم کی بنیاد پر آخرت میں کچھ مواخذہ بھی فرمائیں گے۔ 
چوتھی دلیل: غامدی صاحب کے تصور فطرت کے دفاع میں منظور الحسن صاحب کی چوتھی دلیل سورۃ القیامۃ کی آیت ’بل الإنسان علی نفسہ بصیرۃ‘ ہے۔
ہمار جواب یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علماء کے تین اقوال ہیں:
۱) اس قول کے مطابق اس آیت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال سے خوب واقف ہے او ر وہ قیامت کے دن بذات خود ان پر گواہ ہو گا۔یہ رائے أبو العالیہؒ ‘ عطاءؒ ‘ ابن کثیر ؒ ‘ زمخشریؒ ‘ اخفشؒ ‘ عز بن عبد السلامؒ ‘ فیروز آبادیؒ ‘ سمر قندیؒ ‘ فراءؒ ‘ أبو حیانؒ ‘أبو سعودؒ ‘ ابن عجیبہؒ ‘ ابن عاشورؒ ‘ آلوسیؒ ‘ طنطاویؒ ‘ شنقیطیؒ ‘ مولانا ثناء اللہ ؒ ‘ صابونیؒ ‘سعدیؒ ‘مولانا وحید الزمان ؒ ‘مولانا پیر کرم شاہ صاحبؒ ‘ مولاناشبیر احمد عثمانیؒ ‘مولانا مودودیؒ ‘ مولانا مفتی شفیع صاحبؒ ‘ کا ہے ۔اس قول کے قائلین نے اپنے موقف کی تائید میں آیت قرآنی ’کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا‘ کو نقل کیا ہے۔
۲) بعض مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں انسان سے مراداس کے اعضاء و جوارح ہیں جو کہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے جیسا کہ ’ألیوم نختم علی أفواھھم و تکلمنا أیدیھم و تشھد أرجلھم بما کانوا یکسبون‘ وغیرہ جیسی آیات میں مذکور ہے ۔یہ قول ابن عباسؓ ‘ سعید بن جبیرؒ ‘ ابن قتیبہؒ ‘ مقاتلؒ ‘ عکرمہ ؒ ‘ا لثعلبیؒ ‘قرطبیؒ ‘ بیضاویؒ ‘محلی ؒ ‘ نسفیؒ ‘ خازنؒ ‘ واحدی‘ؒ المراغیؒ اور الجزائریؒ کا ہے۔ان دونوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے کا بیان ہیں۔ لہٰذا اس آیت کی تفسیر میں یہ دونوں اقوال ہی درست ہیں ۔
۳) اس قول کے مطابق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ آیت میں لفظ ’بصیرۃ‘ سے مراد فطرت انسانی میں موجود خیر و شر کاعلم ہے۔جس کی روشنی میں انسان دنیا میں ہی اپنے نفسانی اعمال کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اس قول کو البقاعیؒ اورا صلاحیؒ صاحب نے اختیار کیا ہے ۔ابن عطیہ ؒ نے احتمال کے الفاظ کے ساتھ اس سے ملتی جلتی بات کہی ہے ۔ ہمارے خیال میں اس آیت کی تفسیر میں تیسرا قول بعیداز قیاس ہے اور اس کی درج ذیل وجوہات ہیں :
۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ’بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ‘ میں ’بل‘ انتقال کے لیے ہے لیکن اس کے باوجود ’ینبؤ الانسان یو مئذ بما قدم و أخر‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ آیت آخرت کے بارے میں ہے کیونکہ انتقال سے مراد مضمون کلام میں انتقال ہے نہ کہ موضع میں ۔
۲) ’بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ‘کے بعد ’ولو ألقی معاذیرہ‘ بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ آیت آخرت کے بارے میں ہے نہ کہ اس میں دنیا کا معاملہ بیان ہو رہا ہے۔تقریبا تمام مفسرین نے بھی اس آیت کو آخرت سے ہی متعلق کیاہے ۔ 
۳) آیت میں موجود لفظ ’بصیرۃ‘ سے خیر و شر کا علم مراد لینے کے بھی کوئی شرعی دلیل یا قرینہ چاہیے چہ جائیکہ اس آیت کو فطری علم کے وجود کی دلیل بنایا جائے۔جمہور مفسرین نے ’بصیرۃ‘ سے مراد ’شاہد‘ یعنی گواہ لیا ہے جبکہ بعض مفسرین نے ’عین‘ محذوف نکال کر ’عین بصیرۃ‘ مراد لی ہے۔ پہلا معنی مجازی ہے اور علاقہ ملازمت کا ہے کیونکہ کوئی بھی گواہ ایسا نہیں ہوتاجو کہ دیکھنے والا نہ ہو۔کسی فعل یا واقعے کا گواہ کہتے ہی اس کو ہیں کہ جس نے اس کو دیکھا ہے جبکہ دوسرا معنی حقیقی ہے اور مراد یہ ہے کہ ہر انسان کی آنکھ اس کے اعمال کو دیکھ رہی ہے اور قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گی۔ ’بصیرۃ‘ سے خیر و شر کا علم مراد لینا اس کا مجازی معنی ہے کہ جس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے۔ 
پانچویں دلیل: منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کے دفاع میں پانچویں دلیل کے طور پر سورۃ أعراف کی آیت مبارکہ ’فلما ذاقا الشجرۃ بدت لھما سوآتھما فطفقا یخصفان علیھما من ورق الجنۃ‘ نقل کی ہے ۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ :
۱) منظور صاحب کا قرآن کی اس آیت سے غامدی صاحب کے تصور فطرت پر استدلال ایسا ہی ہے جیساکہ منکرین حجاب کا ’فتمثل لھا بشرا سویا‘ سے حجاب کے عدم وجوب پر استدلال ہے ۔ایک دفعہ راقم الحروف کوایک صاحب نے لکھا کہ قرآن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ نہیں ہے اور اس کی دلیل قرآن سے یوں دی کہ قرآن میں ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس جب فرشتے آئے تھے توان کی اہلیہ بھی پاس موجود تھیں اور انہوں نے فرشوں سے پردہ نہیں کیا۔ اسی طرح قرآن میں یہ بھی ہے کہ حضرت مریم ؑ کے پاس حضرت جبرئیل ؑ تنہائی میں آئے تو انہوں نے پردہ نہیں کیا۔ اسی طرح حضرت موسی ؑ کے بارے میں بھی آتا ہے کہ انہوں نے دو عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا دیا تھا اور ان دونوں عورتوں نے حضرت موسی ؑ سے پردہ نہیں کیا تھا ۔
۲) ہم یہ بات مانتے ہیں کہ ہر انسان میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے احکامات کی طرف ایک فطری رجحان رکھ دیا ہے، لہٰذا حضرت آدم ؑ کا اپنے جسم کو جنت کے پتوں سے چھپانا اسی فطرت کی وجہ سے تھا کہ جس کی تشریح ہم فطرت کے باب میں تیسرے قول کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں ۔اپنے جسم کو چھپانا انسان کی فطرت بھی ہے لیکن شریعت نے بھی ہمیں اس کاحکم دیا ہے اور اس شرعی حکم کی بنیاد پر جسم نہ چھپانے کی صورت میں ہم سے آخرت میں مواخذہ ہوگا۔ 
۳) اس آیت مبارکہ میں تو صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم ؑ اور ہوا ؑ نے اپنی شرم گاہوں کو چھپانا شروع کر دیا تھا ۔کیا مرد و عورت اپنے فطری علم کے مطابق صرف اپنی شرم گاہوں کو چھپائیں اور جسم کے باقی اعضا کو ظاہر کرنے میں کوئی شرم و جھجک محسوس نہ کریں۔اس قسم کی آیات سے اس طرح کے استدلالات سے اہل مغرب کی فطرت کو تو شاید کچھ فائدہ ہوجائے اور ان کی فطرت ‘اپنے باپ حضرت آدم ؑ کے مطابق بھی ثابت ہو جائے لیکن اہل اسلام کو سوائے‘عریانی ‘ فحاشی اور کتاب وسنت کی خلاف ورزی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ 
۴) اس آیت سے غامدی صاحب کا یہ تصور ثابت نہیں ہوتا کہ فطرت انسانی سے جو علم حاصل ہو اس کے مطابق زندگی گزارنے کو کسی وحی کے پہنچنے سے پہلے بھی ہر انسان پر لازم قرار دیاگیاہے اور اس فطری علم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں آخرت میں مواخذہ بھی ہو گا۔
چھٹی دلیل: جناب منظور صاحب نے غامدی صاحب کے دفاع میں بعض علما کے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ یہ علما مولانا اصلاحیؒ ‘ مولانا مودودیؒ ‘ مفتی شفیع صاحبؒ ‘ مولانا شبیر احمدعثمانیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ ہیں ۔مولانا اصلاحیؒ اور مولانا مودودیؒ کے بارے میں تو ہم پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں کہ فطری خیر وشر کے بارے میں ان حضرات کے تصورات وہی ہیں جو کہ غامدی صاحب کے ہیں۔ جہاں تک مفتی شفیع صاحبؒ اور مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی عبارات کا معاملہ ہے تو وہ خیر وشر کے مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور فطرت کی تائید نہیں کر تیں بلکہ یہ عبارات درحقیقت فطرت کے اس تصور کو پیش کر رہی ہیں جسے ہم نے فطرت کی بحث میں تیسرے قول کے ذیل میں بیان کیاہے ۔شاہ ولی اللہؒ کی’حجۃ اللہ البالغۃ‘ کی عبارات اس مسئلے میں کافی پیچیدہ ہیں:
پہلی صورت تو یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کی ان عبارات کو ان کے ظاہری مفہوم پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں غامدی صاحب کا موقف وہی ہے جو کہ شاہ صاحبؒ کا تھا۔لیکن اس صورت میں شاہ صاحب کایہ موقف شاذ ہے اور خود شاہ صاحبؒ کے بقول ان کا یہ موقف قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ شاہ صاحب نے ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ اگر ان کی کوئی رائے جمہور علما کے موقف کے خلاف ہو جائے تو اس کو رد کر دیاجائے۔ اور جمہور کیا اس مسئلے میں جمیع اہل سنت ماتریدیہ ‘ اشاعرہ اورسلفیہ کا موقف ہم تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ جس کے مطابق أخروی جزا و سزا عقلی خیرو شر کی بجائے نبوت اور دعوت کے پہنچنے کے بعد ہے ۔شاہ صاحب ؒ لکھتے ہیں :
’’سن لو! میں ہر س بات سے بری ہوں جو بات مجھ سے قرآن و سنت کے خلاف یا خیر القرون کے اجماع کے مخالف یا جمہور مجتہدین اور مسلمانوں کے سواد اعظم کے خلاف صادر ہو گئی ہو۔اگر اس قسم کی کوئی بات مجھ سے صادر ہوئی ہو تو وہ خطا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرے اور ہماری کوتاہیوں پر متنبہ کرے۔ ‘‘ (حجۃ اللہ البالغۃ‘ جلد۱‘ ص۲۰) 
دوسری صورت یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کی ان عبارات کی کوئی مناسب تاویل کی جائے۔شاہ صاحب ؒ نے اپنی کتاب ’المسویٰ‘ میں فطرت کا وہی معنی بیان کیا ہے جو کہ جمہور نے مراد لیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’سب سے صحیح قول جو کہ اس حدیث کی شرح میں بیان کیاگیاہے وہ یہ ہے کہ فطرت سلیمہ دین حق کے لیے ایک رستے اور سبب کی حیثیت رکھتی ہے اور بچہ صحیح و سالم صلاحیت اور دین کو قبول کرنے کے لیے تیار طبیعت لے کر پیدا ہوتا ہے ۔اگر بچے کواس کی اس فطرت پر چھوڑ دیاجائے تووہ اس پر برقرار رہے گا اور کسی دوسرے دین کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔اگر کوئی شخص اپنی اس فطرت سے پھرے گا تو وہ ارتقاء کی آفات میں سے کسی آفت یا والدین کی تقلید کی وجہ سے پھرے گا۔اور بچے میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہوتی جو کہ اس کے لیے ایمان لانے کے حکم کوواجب کرے اور نہ ہی فطرت دین کوقبول کرنے کے لیے کوئی قطعی علت ہے بلکہ اس حدیث سے اصل مقصود دین اسلام کی تعریف اور یہ بیان کرناہے کہ اس دین کا محل عقل ہے اور اس کا حسن نفوس انسانیہ میں موجود ہے۔‘‘ (المسویٰ شرح المؤطا‘ کتاب الصلاۃ‘ باب جامع الجنائز)
شاہ صاحب ؒ کے ’المسوی‘ کے قول کو بنیاد بناتے ہوئے مفتی شفیع صاحبؒ نے’ معارف القرآن‘ میں، مولانا ادریس کاندھلویؒ نے ’التعلیق الصبیح‘ میں اور مولانا عبیداللہ مبارکپوریؒ نے ’مرعاۃ المفاتیح‘ میں شاہ صاحب کی’ حجۃ اللہ البالغۃ‘ کی عبارات کی تاویل کرتے ہوئے ان کے نزدیک فطرت کا وہی مفہوم بیان کیا ہے جس کو جمہور نے بیان کیا ہے اور خود شاہ صاحبؒ نے بھی’المسوی‘ میں اسی کو اختیار کیاہے۔
شاہ صاحب ؒ کے ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ اور ’المسوی‘ کے اقوال میں تطبیق کی ایک تیسری صورت جو کہ راقم الحروف کے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ’المسوی‘ میں شاہ صاحبؒ نے فطرت کو جمہور کے قول کے مطابق ایک دین حق کی قبولیت کے لیے ایک رستہ اور استعداد قراردیا ہے جبکہ ’حجۃ اللہ البالغۃ‘میں شاہ صاحبؒ نے یہ واضح کیا ہے کہ اپنی فطرت سلیمہ کی بنیاد پر انسان دین اسلام کے کون کون سے احکامات کی طرف میلان اور رجحان محسوس کرتا ہے ۔شاہ صاحبؒ کے نزدیک انسان اپنی فطرت کی وجہ سے دین اسلام کے ان کلی اصولوں کی طرف اپنے نفس میں ایک رجحان و میلان محسوس کرتا ہے جو کہ تمام انبیا کے دین میں مشترک رہے ہیں۔اور اگر انسان اپنے اس فطری رجحان پر انبیاء کی بعثت سے پہلے عمل نہ کرے گا تو اس کے دنیاوی نتائج برے نکلیں گے جس کو شاہ صاحب ؒ نے ’مؤاخذۃ‘ کا نام دیا ہے ۔شاہ صاحبؒ بعض اوقات’حجۃ اللہ البالغۃ‘ میں مؤاخذۃ اورمجازاۃ کے الفاظ استعمال کر تے ہیں تو ان کی مراداس سے کوئی اخروی عذاب یا محاسبہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے دنیامیں انسان کو اس کے اعمال کا ملنے والا بدلہ مراد لے رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ شاہ صاحب ؒ نے ’مبحث کیفیۃ المجازاۃ فی الحیاۃ و بعد المماۃ‘ کے عنوان سے’ حجۃ للہ البالغۃ‘ میں ایک مبحث قائم کی ہے۔ لہٰذاشاہ صاحبؒ کا یہ کہنا کہ انبیا کی بعثت سے پہلے بھی خیر وشر کے کلی اصولوں میں انسانوں سے ’مؤاخذۃ‘ثابت ہے‘ اس سے ان کی مراد انبیا کی بعثت سے پہلے اپنے فطری رجحان کے خلاف چلنے والے انسانوں کے افعال کے دنیاوی نتائج یعنی دنیاوی جزا و سزاہے۔واللہ أعلم بالصواب۔
(باقی)

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے سانحہ ارتحال پر اہل علم ودانش کے تعزیتی پیغامات

ادارہ

(۱)
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زادت مکارمکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ڈاکٹر محمد دین کی پے در پے وفات حسرت آیات آپ کے لیے اور دوسرے متعلقین کے لیے تو رنج والم کا باعث ہے ہی، لیکن حضرت صوفی صاحب مرحوم کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کے پر ہونے کی امید نہیں۔ یہ بڑا قومی سانحہ ہے۔ آج تو جو مہر تاباں غروب ہوتا ہے، اس کی جگہ معمولی چراغ بھی جلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اب ایسے افراد پیدا ہی نہیں ہو رہے۔ علم وعمل کے جامع اور بزرگوں کے مزاج ومسلک سے بخوبی واقف، شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے علوم کے شارح وناشر، قرآن کریم کے قابل رشک مفسر، حدیث نبوی کے کامیاب ترین ماہر محدث کہاں میسر ہیں! اب تو لگتا ہے:
زندگی بے کیف ہے بے رنگ ہے تیر ے بغیر
نام بھی جینے کا گویا ننگ ہے تیرے بغیر
جو سکوں آباد رہتا تھا جوار قلب میں
آہ وہ صد میل وصد فرہنگ ہے تیرے بغیر
اب نہ احساس مسرت ہے نہ کچھ احساس غم
دل کے آئینے پہ ایک زنگ ہے تیرے بغیر
یاس کی ظمت الم کی چار سو تاریکیاں
صبح نور افروز بھی شب رنگ ہے تیرے بغیر
جناب محمد دین مرحوم کے احوال قابل رشک ولائق تقلید ہیں۔ بزرگوں سے مضبوط تعلق اور اس کے نتیجے میں تعلق مع اللہ کی دولت سے سرشار وسرفراز حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں مستعد ومحتاط، یہ ایسی صفات ہیں کہ آج ان کا قحط روز افزوں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل واجر جزیل عطا ہو۔ 
والسلام
(شیخ الحدیث حضرت مولانا) سلیم اللہ خان (دامت برکاتہم)
صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
(۲)
بخدمت گرامی اقدس حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز صفدر صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوں گے۔
حضرت صوفی صاحب قدس اللہ سرہ کے انتقال کی خبر یہاں برطانیہ میں نہایت صدمہ اور افسوس سے سنی گئی۔ پاکستانی چینلوں خاص طور پر جیو پر حضرت صوفی صاحبؒ کے وصال کی خبر بعض اکابرین کے تعزیتی جملوں کے ساتھ سارا دن چلتی رہی۔ برطانیہ میں علما فون کر کے ایک دوسرے سے تعزیت کرتے رہے۔ بند ہ کو بھی بہت سے تعزیتی فون آئے۔
حضرت صوفی صاحب قدس اللہ سرہ آج کے شر وفساد کے دور میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ بندہ نے حضرت صوفی صاحبؒ کو انتہائی انکسار، تواضع اور سادگی کا پیکر پایا۔ بندہ نے جب بھی حضرت صوفی صاحب کی خدمت میں حاضری دی، انھیں ایک چھوٹے سے سادہ کمرے میں سادہ سی چارپائی پر جلوہ افروز پایا۔ آپ انتہائی شفقت ومحبت عنایت فرماتے۔ آپ سے مل کر ہمیشہ اپنائیت کا احساس ہوتا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے عنوان سے جو ٹوٹی پھوٹی کوششیں ہم لوگ یہاں کر رہے ہیں، ان میں حضرت صوفی صاحب کی توجہات اور دعائیں شامل حال محسوس کیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صوفی صاحبؒ سے اس قدر علمی، دعوتی، فکری وتصنیفی کام لیا کہ کوئی بڑی سے بڑی اکیڈمی نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں چھوٹی سی جگہ بیٹھ کر انتہائی کم وسائل بلکہ کس مپرسی کی حالت میں حضرت صوفی صاحب کا اس قدر وسیع ووقیع کام کر جانا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ کے ایک ایک وارث نے پچھلی امتوں کے انبیا کی طرح کام کیا۔ 
حضرت صوفی صاحب نے بلامبالغہ تفسیر، حدیث، دعوتی مضامین اور علمی مقالات کی صورت میں ہزاروں صفحات تحریر فرمائے۔ حضرت صوفی صاحب کی تحریروں میں ہمیشہ علماے دیوبند کا ٹھیٹھ، خالص، صحیح اور عزیمت والا موقف سامنے آتا رہا۔ گزشتہ نصف صدی میں پورے برصغیر میں بعض علمی مسائل خاص طور پر وحدت الوجود پر نیز حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ پر جو تحریریں سامنے آئیں، آپ نے پورے طبقہ علما کی طرف سے فرض کفایہ ادا فرمایا۔ بندہ کے نزدیک آپ حضرت شیخ الہندؒ ، حضرت شیخ الاسلام مدنی کے پرعزیمت ومجاہدانہ سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی تھے۔ آپ کی زندگی علما کے لیے مشعل راہ ہے۔ 
بدقسمتی سے عرصہ سے علما کا رجحان اجتماعی ذمہ داریوں اور عملی میدانوں سے فرار ہو کر پرسکون گوشوں میں بیٹھ کر تدریسی، تعلیمی، تصنیفی کام کرنے کی طر ف بڑھ رہا ہے۔ اس قحط الرجال کے دور میں جب کوئی شخصیت رخصت ہوتی ہے تو اس کی جگہ بڑی حد تک خالی ہی رہتی ہے۔ صوفی صاحب بھی ایک ایسی ہی عظیم شخصیت تھے جن کا خلا پر ہونا بظاہر بہت مشکل ہے۔ 
اللہ تعالیٰ حضرت صوفی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے، اعلیٰ علیین اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، پس ماندگان کو آپ کے اوصاف وکمالات کا حامل بنائے۔ آپ نے علم وعمل، عزیمت وکردار کے جو چراغ روشن کیے، ان شاء اللہ ان کی روشنی قائم دائم رہے گی۔ جامعہ نصرت العلوم اور آپ کے تربیت کردہ سیکڑوں علما، خاص طور پر مولانا محمد فیاض خان دامت برکاتہم اور مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم حضرت صوفی صاحب کا مشن جاری رکھیں گے۔ 
صوفی صاحب کا وصال تمام پس ماندگان خاص طور پر حضرت والا کے لیے انتہائی غم واندوہ کا باعث ہے اور اس عمر میں حضرت والا کے لیے جان کاہ صدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا اور تمام پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازے اور اللہ تعالیٰ حضرت والا کا سایہ تادیر ملت اسلامیہ پر قائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
محتاج دعا
(مولانا) محمد عیسیٰ منصوری
لندن
(۳)
برادر مکرم مولانا زاہد الراشدی صاحب زید فضلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آج اخبارات میں آ پ کے عم محترم شیخ التفسیر حضرت مولانا عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پڑھ کر بہت صدمہ پہنچا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا عبد الحمید سواتیؒ کے تبحر علمی اور ان کے زہد وتقویٰ کے باوصف ان کی شگفتہ مزاجی ہر زائر اور ملاقاتی کو گرویدہ بنا لیتی تھی۔ علم وادراک اور فہم وشعور کے اعتبار سے پاکستان کے بنجر بیابان میں حضرت صوفی سواتی صاحبؒ نے اسلام کے صحیح عقائد ونظریات کی ایسی تخم ریزی کی کہ ویرانہ بہار آفریں گلشن سے آراستہ ہو گیا اور معاشرہ اس کی عطر بیزی سے مہک اٹھا۔ حضرت مولانا علیہ الرحمہ فکر ولی اللہٰی کے صحیح شارح اور ترجمان تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ کی رفاقت میں وہ دفتر آزاد لاہور میں کئی مرتبہ تشریف لائے اور اپنی گراں قدر تجاویز اور مشوروں سے اس فقیر کو نوازا تھا مگر میری محرومی کہ ان کی تیمار داری کے ارادے سے گوجرانوالہ میں حاضری کا کئی مرتبہ پروگرام بنانے کے باوجود حرماں نصیب ہی رہا تا آنکہ ان کے سفر آخرت کی افسوس ناک خبر ملی۔ بہت افسوس اور صدمہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں اور گناہوں کو معاف کر دے، حضرت مولانا عبد الحمید سواتی کو جنت الفردوس میں مقام علیین سے سرفراز فرمائے اور آپ سب اہل خانہ اور احباب واقربا کو صبر وتحمل کی توفیق سے نوازے، آمین۔
حضرت مولانا عبد الحمید سواتی کے داغ مفارقت سے پاکستان ایک عظیم اور عبقری شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ یہ صرف شہر گوجرانوالہ یا پاکستان کا نہیں، عالم اسلام کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آپ کی دینی، علمی وادبی اور تحقیقی خاندانی روایات کی کڑی ٹوٹنے سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے، وہ مشکل ہی سے پر ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ غیب سے ایسے اسباب فراہم کر دے کہ حضرت صوفی صاحب کی روشن کردہ دینی وعلمی شمع ہمہ جہت درخشاں وتابندہ رہے اور ہمیں استفادے کے مواقع فراہم کر کے ہمارے ظلمت کدۂ فکر ونظر کو منور فرماتا رہے۔ آمین۔
آپ کا شریک غم
(مولانا) مجاہد الحسینی
فیصل آباد
(۴)
مکرمی ومحترمی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
عرض کہ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پڑھ کر انتہائی صدمہ ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بلاشبہ حضرت صوفی صاحب مرحوم ہمارے اکابر واسلاف کے سلسلۃ الذہب کی ایک روشن کڑی تھے جن کے انتقال سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، لیکن رب کائنات کے قائم کردہ نظام موت وحیات کی حکمتیں برحق ہیں۔ اللہ رب العزت حضرت صاحب کی جملہ دینی خدمات کو قبول فرما کر ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کے قائم کردہ گلشن علم وعرفاں جامعہ نصرۃ العلوم کو مزید ترقیات سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔
(مولانا) سیف الرحمن
ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان
حیدر آباد
(۵)
محترم ومکرم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب زاد مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مورخہ ۷ اپریل کے اخبارات میں یہ روح فرسا خبر پڑھنے کو ملی کہ بانی مدرسہ نصرۃ العلوم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دار فانی سے دار بقا کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک شخص کا سانحہ ارتحال نہیں، ایک دور اور علمی تحریک سے محرومی ہے۔ حدیث مبارک کے مطابق علم نہیں اٹھتا بلکہ صاحبان علم اٹھ جاتے ہیں۔
بلاشبہ صوفی صاحب کی زندگی کا ہر لمحہ علم نبوت کی ترویج میں گزرا۔ نصرۃ العلوم کی صورت میں ایک شاندار علمی درس گاہ قائم فرمائی جس کا فیض جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا۔ ان کے ہزاروں پھیلے ہوئے شاگرد ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کی نجات کے لیے اس سے بڑھ کر وسیلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر دروس القرآن کا سلسلہ جو مرتب ومدون ہوا ہے، یہ بھی علمی دنیا کے لیے ایک سرمایہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے فیض کو سدا جاری رکھے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کی علمی وتدریسی وتصنیفی خدمات کے پیش نظر ان کی یاد میں خصوصی نشست رکھی جائے، نیز الشریعہ میں ان کی خدمات پر جامع مضمون شائع کیا جائے۔
خیر اندیش
ڈاکٹر محمد عبد اللہ
اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی لاہور

آفتاب علم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

سید احمد حسین زید

۶ اپریل ۲۰۰۸ بمطابق ۲۸؍ ربیع الاول ۱۴۲۹ھ بروز اتوار صبح دس بجے فکر ولی اللٰہی کے وارث اور ترجمان، مفسر قرآن، محقق ومورخ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی بانی مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ لاکھوں عقیدت مندوں، شاگردوں اور عزیز واقارب کو داغ مفارقت دے کر قبرستان کلاں گوجرانوالہ میں آسودۂ خاک ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنے دین کی اشاعت کے لیے منتخب کرتا ہے تو پھر اس پر خصوصی التفات فرماتا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتی انھی چنیدہ افراد میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شنکیاری (مانسہرہ) کے ایک دور دراز گاؤں چیڑاں ڈھکی سے اٹھایا اور دنیاے اسلام کی عظیم دینی وتعلیمی شخصیات میں لا کھڑا کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مدرسے سے حاصل کی۔ کئی دینی مدارس سے فیض یاب ہونے کے بعد آپ نے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں بھی تعلیمی پیاس بجھائی۔ یہاں آپ کو جمعیۃ علماے ہند کے مرکزی راہ نما حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے استفادہ کا موقع ملا۔ ۱۹۴۲ء میں آپ نے دار العلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور سند فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے طبیہ کالج حیدر آباد دکن سے طب یونانی کی سند حاصل کی اور پھر دار المبلغین لکھنو سے بھی تربیت حاصل کی۔ آپ کو حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا عبد القدیر کیمل پوری اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہم اللہ جیسی نابغہ روزگار ہستیوں سے اکتساب فیض کا موقع ملا۔
گوجرانوالہ کو خان پور سانسی سے گوجرانوالہ بننے کا شرف ملا تو اسے پہلوانوں کے شہر کا نام اور تعارف ملا۔ علمی سطح پر اس وقت مدرسہ انوار العلوم اور مرکزی جامع مسجد ملحقہ شیرانوالہ باغ محدث گوجرانوالہ مولانا عبد العزیز کی یادگار کی حیثیت سے جگمگا رہے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد سینکڑوں افراد کے اس شہر میں لوگوں کی تعداد لاکھوں کو چھونے لگی۔ بدعت، بدعقیدگی اور ہندوانہ رسوم نے اس شہر پر سایہ کر لیا۔ اس ماحول میں حضرت صوفی صاحب نے گوجرانوالہ شہر کے بارہ دروازوں سے باہر چوک گھنٹہ گھر سے متصل شہر کا پانی جمع ہونے سے بننے والے ایک بڑے سے جوہڑ کے کنارے مدرسہ نصرت العلوم اور عظیم الشان مسجد نور کی بنیاد رکھی۔ آپ نے اس کام کا آغاز بے سروسامانی کے عالم میں کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جوہڑ غائب ہو گیا اور آج عظیم جامعہ نصرت العلوم نقشہ عالم پر جگمگا رہا ہے۔
آپ نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی فکر اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی اتباع میں مدرسہ نصرت العلوم میں دورۂ تفسیر کا اجرا کیا جو حضرات شیخین (حضرت صوفی صاحب اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر) کی علالت تک جاری رہا۔ آپ کی سرپرستی میں مدرسہ نصرت العلوم سے مجلہ نصرت العلوم کا بھی اجرا ہوا جو دینی اصلاح اور تحقیق کا مرقع ہوتا ہے۔
جب تک آپ کی صحت نے اجازت دی، آپ مسجد نور میں باقاعدگی سے درس قرآن وحدیث ارشاد فرماتے رہے۔ ان دروس سے اردو کی سب سے بڑی اور جدید وسہل تفسیر ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ ۲۰ جلدوں میں منصہ شہود پر آئی جو اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں باطل فرقوں اور باطل نظریات کی تردید کی گئی ہے اور جدید دور کے سائنسی اور فکری مسائل کا حل سلیس اور آسان اردو میں دیا گیا ہے۔ اس میں جدید وقدیم تفسیری ذخیرے کا خلاصہ بھی ہے۔ آپ سے ہزاروں شاگردوں نے اکتساب فیض کیا ہے اور لاکھوں لوگ معالم العرفان فی دروس القرآن، نماز مسنون اور دیگر تصانیف اور خطبات سے مستفید ہو کر جادۂ حق پر گام زن ہوئے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے فکر وفلسفہ کے امین امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار کو جن حضرات نے گہرائی میں جا کر سمجھا اور ان کی توضیح واشاعت کے لیے کام کیا، ان میں حضرت صوفی صاحب کا نام نہایت قابل احترام ہے۔ آپ نے اس بات کو غلط ثابت کیا کہ امام انقلاب مولانا سندھی کمیونزم سے متاثر تھے۔ آپ اس موضوع پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے اور آپ نے ’’مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم وافکار‘‘ کے عنوان سے ایک شاہکار کتاب بھی تصنیف کی ہے۔
حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی بہت ہی زبردست قوت اصلاح کے مالک تھے۔ آپ نے لاکھوں لوگوں کے ایمان وعقیدہ کی اصلاح کی۔ مجھے ۲۸ سال تک ان کی سرپرستی اور راہ نمائی سے مستفید ہونے کا موقع ملا اور مجھ جیسے کالجیٹ جب حضر ت صوفی صاحب کے پاس حاضر ہوتے تو قدرتی طور پر ایسا رعب ودبدبہ طاری ہو جاتا کہ پاس ادب سے زبان گنگ ہو جایا کرتی تھی۔ آپ کی مجلس میں حاضری سے قبل یہ تسلی کر لیتے تھے کہ کہیں آپ کسی بات پر ہم سے نالاں تو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم محدث اعظم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ کے پاس حاضر ہو کر کچھ حوصلہ پاتے، پھر صوفی صاحب کی مجلس میں سلام کر کے ایک جانب ہو کر بیٹھ جاتے۔ سرزنش کے بعد آپ کی نصیحتیں اور دعائیں ذہنی اور قلبی تسکین کا باعث ہوتیں۔
۶؍ اپریل کا دن وہ دن ہے جس نے ہم سے ہمارا مربی، سرپرست، ہمدرد اور مخلص راہ نما، قائد اور استاذ چھین لیا ہے۔ ان کی توجہ، ان کی محبت اور ان کی دعائیں یقیناًہمارے لیے توشہ آخرت ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ روز آخرت آپ کی رفاقت نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔

ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

مولانا محمد یوسف

پیکر علم وعمل، علماے حق کی تابندہ روایات کے امین شیخ المفسرین والمحدثین حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان صاحب سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ طویل علالت کے بعد ۶؍اپریل ۲۰۰۸ ؁ء بروز اتوار صبح تقریباًساڑھے نو بجے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی وفات سے امت مسلمہ ایک نکتہ رس مفسر، عظیم محدث، مایہ ناز محقق ومولف، اسلامی علوم وفنون کے ممتاز مدرس اور علوم ومعارف ولی اللہٰی کے محقق ومدون سے محروم ہوگئی ہے۔ آپ کی وفات ملک بھر کے تمام علمی، دینی، تحریکی حلقوں کے لیے سانحہ عظیم ہے۔ بہرحال دارفانی سے داربقا کی طرف ہر ذی روح کاانتقال ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ خداوند قدوس آپ کی مساعی جمیلہ کواپنی بارگاہ عالیہ میں اپنی شان کے مطابق قبول فرمائے اورآپ کی بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے آپ کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطافرمائے، آمین یارب العالمین۔
حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی ؒ ضلع مانسہرہ کی ایک غیر معروف بستی چیڑاں ڈھکی داخلی کڑمنگ بالا میں ۱۹۱۷ء میں پید اہوئے۔ آپ نے درس نظامی کی اکثرتعلیم رئیس المدرسین حضرت مولانا عبدالقدیر کیمل پوری ؒ کی زیرنگرانی مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور پھر ۱۹۴۱ء میں عظیم بین الاقوامی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبندسے سند فراغت حاصل کی۔ آپ کے استاد محترم شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے آپ کی علمی لیاقت پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کواپنی طرف سے دارالعلوم کی سند کے علاوہ بھی خصوصی سند عطافرمائی۔ ۱۹۵۲ء میں انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم پرتوکل کرتے ہوئے گوجرا نوالہ میں ایک دینی درسگاہ مدرسہ نصر ت العلوم کی بنیاد رکھی اورپھر شباب سے شیب تک کازمانہ اسی مرکز حق میں تدریس کرتے ہوئے صرف کیا۔ آپ اپنے زمانہ تدریس میں دینی علوم وفنون کی تمام کتابیں پڑھاتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر فن میں کمال عطافرمایا تھا، لیکن علم تفسیر اورعلم حدیث میںآپ کو ایک امتیازی شان حاصل تھی۔ آپ نے صحاح ستہ میں شامل احادیث کی تمام کتب، بالخصوص بخاری شریف اورمسلم شریف کئی مرتبہ پڑھائیں۔ آپ کو شاہ ولی اللہ ؒ کے علوم ومعارف سے بھی ایک خصوصی شغف وتعلق تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی کی شہرۂ آفاق تصنیف حجۃ اللہ البالغہ مسلسل پینتیس سال پڑھاتے رہے۔ 
آپ مجموعی طورپر تقریباًپچاس برس مسند تدریس پر رونق افروز رہے اورہزاروں تشنگان علم نے اس چشمہ علم سے اپنی پیاس بجھائی۔ آج آپ کے تلامذہ جنوبی ایشیا تمام ممالک میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔ تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ نے تصنیفی میدا ن میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے دروس پر مشتمل اردو زبان میں برصغیر کی سب سے ضخیم تفسیر معالم الفرقان فی دروس القرآن بیس جلدوں میں منظرعام پر آچکی ہے اور علمی حلقوں میں اس کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ قرآنی علوم ومعارف اورحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے شغف کایہ عالم تھا کہ تقریباًنصف صدی تک آپ باقاعدگی سے ہفتہ میں چار دن بعداز نماز فجرقرآن حکیم کا اورتین دن حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کادرس ارشادفرماتے رہے۔ بے شمار بندگان خداکواس مبارک سلسلہ سے فائدہ ہوا۔ اس کے علاوہ آپ زندگی بھر امت مسلمہ کے اجتماعی معاملات میں بھی ہمیشہ ایک متحرک کردار اداکرتے رہے۔ گو آپ کا ذوق ومزاج سیاسی نہ تھا، لیکن جب کبھی ضرورت پیش آئی اورحالات نے پکاراتوآپ نے اپنے شیخ طریقت مولانا سیدحسین احمد مدنی ؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مصائب وآلام کی پروا کیے بغیر جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر پوری تن دہی سے اس میدان میں بھی پھر پورحصہ لیا اور قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ پاکستان میں اسلامی قانون سازی کی جدوجہد، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفی، تحریک جامع مسجدنور گوجرانوالہ میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنے روشن کردارسے بعد میںآنے والوں کویہ مثالی درس دیا کہ ’جدا ہودین سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی ‘۔
اس کے علاوہ دنیا بھر کی تمام دینی تحریکات کی بھرپور حمایت کرتے رہے۔ تقویٰ وپرہیزگاری ،خلوص وایثار ،محبت ومودت میںآپ اپنے اکابر کی تابندہ روایات کے مظہر تھے۔ آپ انتہائی منکسرالمزاج، خوش اخلاق اور خندہ جبیں تھے۔ کم گوئی آپ کا خاص وصف تھا۔ بقدرضرورت تکلم فرماتے، ورنہ خاموش رہتے۔ زیرتدریس طلبہ کے ساتھ توآپ کاتعلق ایک مشفق باپ کا سا تھا۔ عصرکی نماز کے بعد مدرسہ کے دارالاقامۃ کے برآمدے میں چارپائی پر بیٹھ جاتے اور طلبہ آپ کے اردگرد جمع ہو جاتے۔ طلبہ سے مختلف موضوعات پر گفتگو فرماتے اورگاہے گاہے ان سے خوش طبعی کرتے اورطلبہ میںیوں گھل مل جاتے کہ کوئی بھی طالب علم بلاجھجک آپ سے اپنے ذوق کا سوال کرسکتاتھا۔ آپ کبھی کسی طالب کے سوال سے ناراض نہ ہوتے بلکہ خندہ پیشانی اور خوش روئی سے اس کا جواب مرحمت فرماتے۔
راقم اکثر آپ سے اکابراہل علم کے متعلق مختلف سوال پوچھتا توآپ ہمیشہ نرمی اور شفقت سے جواب دیتے۔ ایک مرتبہ راقم نے آپ سے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی وجہ دریافت کی تو فرمانے لگے کہ عزیز! حضرت مدنی ؒ میدان تصوف کے ہی شاہسوار نہ تھے بلکہ میدان جہاد کے بھی عظیم شاہسوار تھے، اسی لیے میں نے آپ کے دست حق پرست پربیعت کی۔ آپ نے عامۃ الناس کی دینی راہنمائی کے لیے ایک جریدہ ماہنامہ نصرت العلوم کابھی اجرا کیا جس کی اشاعت کا سلسلہ بحمداللہ تعالیٰ اب بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ آپ تواپنا فرض خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے بخوبی نبھا چکے۔ اب یہ ذمہ داری آ پ کے تمام متعلقین وتلامذہ کے کندھوں پرآپڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ذمہ داری سے عہد برآہ ہونے کی توفیق عطافرمائے، آمین۔
آپ کی حیات طیبہ اورمساعی جمیلہ کے ہرگوشہ کومحفوظ کرنا اورانہیں آئندہ نسلوں تک پہنچانا بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف آپ کے روشن کردارسے واقف ہو سکیں،بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے دارین کی سرخروئی بھی حاصل کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ استاد محترم کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے اور آپ کے علمی فیض کوعام اورتام فرمائے اورآپ کے علمی جانشین استاذمحترم حضرت مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کویہ ہمت اور توفیق عطا فرمائیں کہ وہ اپنے عظیم والد کے عظیم علمی ورثہ کوآنے والی نسلوں تک بخوبی منتقل کرسکیں۔ آمین یارب العالمین۔

ڈاکٹر محمد دین مرحوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ملک بھر اور اندرونی ممالک سے تعزیتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ ہمیں ایک اور صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور بدھ (۹؍ اپریل ۲۰۰۸) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ بھی حضرت صوفی صاحب کی طرح کافی عرصہ سے صاحب فراش تھے۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب وعلاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا، ورنہ وہ ڈسپنسر تھے۔ اسی حیثیت سے انھوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔
ڈاکٹر محمد دین مرحوم کا بیعت کا تعلق حضرت لاہوریؒ سے تھا اور یہ صرف تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حضرت لاہوریؒ کے طریقہ پر زندگی بھر ذکر واذکار کرتے رہے۔ جب تک معذور نہیں ہوئے، شاید ہی زندگی میں کوئی دن ایسا آیا ہو کہ ان کی رات کا آخری حصہ اللہ اللہ کی ضربوں سے نہ گونج رہا ہو۔ بڑے اہتمام اور توجہ کے ساتھ ذکر کرتے تھے۔ شب زندہ دار بزرگ تھے۔ حضرت لاہوریؒ کی وفات کے بعد انھوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ساتھ بیعت کا تعلق قائم کر لیا مگر غالباً حضرت شیخ الحدیث کی ہدایت پر ذکر واذکار کا معمول وہی حضرت لاہوریؒ والا رہا۔ عبادات میں فرائض و نوافل کے معمولات کی پابندی کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اکل کھرے انسان تھے اور ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے تھے۔ وہ ڈسپنسر کے طور پر سرکاری ملازمت کے دوران ڈیوٹی کے لیے خود چن کر ایسے دور دراز ہسپتالوں کا انتخاب کرتے جہاں پیشہ ورانہ خیانت اور بدعنوانی کا امکان کم سے کم ہوتا اور ہر معاملہ میں پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے۔ 
ہمارا خسر داماد کے طور پر اڑتیس سال ساتھ رہا ہے۔ اس دوران مجھے یاد نہیں کہ ان سے مجھے کوئی ایسی شکایت ہوئی ہو جسے واقعتا شکایت کہا جا سکتا ہو اور میں نے بھی ان کے مکمل احترام کے ساتھ ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ انھیں مجھ سے کوئی شکایت نہ ہو۔ میرے ساتھ جب بھی ملاقات ہوتی، دینی تحریکات کے حوالے سے بات کرتے، مسئلہ مسائل کا ذکر ہوتا، کسی نہ کسی دینی معاملہ کا تذکرہ کرتے یا کسی بزر گ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ ابھی چند روز قبل ہم دونوں میاں بیوی ان کی بیمار پرسی کے لیے گلیانہ گئے تو سخت تکلیف کے عالم میں تھے۔ تکلیف کی شدت سے منہ سے ہائے ہائے بھی نکل رہا تھا مگر ہر سانس کے ساتھ اللہ اللہ کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ رسم ورواج اور بدعات سے طبعی تنفر تھا۔ خاندان کے کسی ایسے فنکشن میں ان کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جس کے بارے میں انھیں علم ہو جاتا کہ کوئی خلاف شرع بات وہاں ہوگی۔ 
بعض بزرگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے زمانے کے لوگوں میں سے نہیں تھے اور ڈاکٹر محمد دین رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی تکلف کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع اس دور کے نہیں بلکہ پچھلے کسی زمانے کے بچھڑے ہوئے بزرگ تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقا م عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔ 

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شعر پڑھنے، سننے اور اس سے حظ اٹھانے کا ذوق بحمد اللہ تعالیٰ شروع سے رہا ہے مگر شعر گوئی کبھی زندگی کا معمول نہ بن سکی۔ طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے معروف شعرا اثر لدھیانوی مرحوم، عزیز لدھیانوی مرحوم، راشد بزمی مرحوم، بیکس فتح گڑھی مرحوم، شاکر سہارنپوری مرحوم، شہید جالندھری مرحوم اور طالب اعوان جیسے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا۔ شاعروں میں اہتمام سے شریک ہوتا اور ادبی مجالس سے استفادہ کرتا تھا۔ ایک بار اثر لدھیانوی مرحوم نے ایک طرحی مشاعرہ میں کچھ پڑھنے پر مسلسل اصرار بھی کیا جس کا طرح مصرع تھا:
وفور کرب وغم سے خون دل بھی ہو گیا پانی
مگر دو تین روز کی مسلسل مغز کھپائی کے باوجود ایک مصرع سے زیادہ نہ کہہ سکا جو یہ تھا:
خدایا کب تھمے گی ظالموں کی یہ ستم رانی
اس ناکامی کا اس قدر صدمہ ہوا کہ اس مشاعرہ میں شرکت کا حوصلہ بھی نہ کر سکا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔
اس کے کم وبیش ربع صدی بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کے صدمہ نے بے ساختہ چند اشعار کا روپ دھار لیا جو بعض جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور اب ایک طویل عرصہ کے بعد عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ان کے ساتھ عقیدت ومحبت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں نوک قلم پر آگئی ہے۔ ’’اشعار موزوں ہو گئے‘‘ کا جملہ عمداً استعمال نہیں کر رہا کہ وزن، قافیہ اور ردیف کے فن سے قطعی طو رپر ناآشنا ہوں اور قارئین سے درخواست ہے کہ منظوم تاثرات کو فن کے آداب ورموز کے حوالے سے جانچنے کی بجائے صرف عقیدت اور جذبات کے اظہار کے پہلو سے ہی پڑھا جائے۔

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا
خاکی تھا، اہل دیں میں تھا، جنت مکاں ہوا

عبد حمید بھی تھا جو وہ عبد الحمید تھا
اسی عبدیت کی راہ میں خلد آشیاں ہوا

’’چیڑاں ڈھکی‘‘ سے اترا تو پہنچا وہ دیوبند
قسام علم اس پر جب مہرباں ہوا

توحید رب کا عمر بھر مناد تھا وہ شخص
جہل وشرک کی حرکتوں پہ نوحہ خواں ہوا

سنت کی پیروی ہی بنا اس کا ذوق وشوق
بدعت سے نفرتوں کا وہ اک نشاں ہوا

کوفہ کے بوحنیفہؒ کا وہ پیروکار تھا
اور اس کے علم وفضل کا وہ مدح خواں ہوا

تھا دہلوی ولیؒ کی وہ حکمت کا ترجماں
اور اس کے جہد وعمل کا وہ قصہ خواں ہوا

مدنی حسین احمدؒ جو تھا اس کا شیخ خاص
پھر اس کی ادائے ناز کا وہ نغمہ خواں ہوا

صفدر کے ساتھ تھا وہ اور اس کا تھا دست راست
اس کے مشن میں غافلِ سود وزیاں ہوا

ہے اس کی محنتوں کا ثمر ’’نصرت العلوم‘‘
اور اس کے فیض کا ہے یہ چشمہ رواں ہوا

ہے راشدی بھی برکتوں کا اس کی خوشہ چیں
وہ جو کہ اب ہے عازم سوے جناں ہوا

آہ ! حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ

سید سلمان گیلانی

رہبر دین تھے وہ، ہادئ ایمان تھے وہ
فلک رشد وہدیٰ کے مہ تابان تھے وہ

ناز تھا علم کو جن پر وہ تھے ایسے عالم
فخر تھا جن پہ سخن کو وہ سخن دان تھے وہ

نصرت حق کے لیے وقف رہا ان کا قلم
اہل باطل کے لیے خنجر بران تھے وہ

زہد وتقویٰ میں تھے وہ مثل برادر صفدر
جس میں اوصاف ملائک ہوں وہ انسان تھے وہ

تعزیت ان کی میں فیاض سے زاہد سے کروں
اس کے والد تھے وہ اور اس کے چچا جان تھے وہ

(غم زدہ سید سلمان گیلانی)