مارچ ۲۰۰۸ء

عام انتخابات کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
معاصر اسلامی فکر کے اخلاقی چیلنجزڈاکٹر ابراہیم موسٰی 
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کی تعلیمی اصلاحاتپروفیسر محمد اکرم ورک 
اردو زبان کی ضرورت و اہمیت اور دینی مدارس کے طلبہمولانا مفتی محمد اصغر 
مغرب اور اسلام کیرن آرمسٹرانگ کی نظر میںڈاکٹر محمد شہباز منج 
زنا کی سزا (۱)محمد عمار خان ناصر 
مکاتیبادارہ 

عام انتخابات کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۸ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ملک بھر میں زیر بحث ہیں اور ان کے حوالے سے ملک کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ نتائج خلاف توقع نہیں ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات جس رخ پر آگے بڑھ رہے تھے، ان سے ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ الیکشن میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ کم رہے گا، پیپلز پارٹی سیٹوں کے حصول میں سب سے آگے رہے گی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ ساتھ متحدہ مجلس عمل کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہرحال اب قومی سیاست کی نئی صف بندی ہو چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور نیشنل عوامی پارٹی اس پوزیشن میں آ گئی ہیں کہ وہ مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے لیے کسی نہ کسی درجے میں کوئی کردار ادا کر سکیں اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔
الیکشن کے نتائج سے ظاہر ہے کہ جتنے لوگوں نے بھی ووٹ ڈالے ہیں، ان کی غالب اکثریت نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کومسترد کر دیا ہے اور ملک کی رائے عامہ کی یہ خواہش نمایاں نظر آ رہی ہے کہ الیکشن کے بعد صرف حکومت ہی تبدیل نہ ہو، بلکہ قومی پالیسیوں میں بھی واضح تبدیلی نظر آئے، لیکن صدر پرویز مشرف مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت بے شک الیکشن کے نتائج کی روشنی میں نئی بن جائے، لیکن ان کی پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح جاری رہے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی نئی حکومت عوامی رجحانات کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنانے کی بجائے صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو بدستور قائم رکھے، جبکہ اس مقصد کے لیے انھیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف سابقہ حکمران پارٹی کے ذمہ دار راہ نماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی شکست کے اسباب میں (۱) امریکہ نواز پالیسی، (۲) قبائلی علاقوں میں فوج کشی، (۳) لال مسجد کے خلاف وحشیانہ آپریشن (۴) مہنگائی میں ہوش ربا اضافے اور (۵) عدلیہ کی بالادستی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جس کا مطلب ظاہر ہے کہ عوام نے ان پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے اور وہ ان میں جوہری تبدیلیوں کے خواہاں ہیں، اس لیے اس مرحلے میں سابقہ حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھنے کی کوششیں الیکشن کے نتائج اور ملک کی رائے عامہ کے اجتماعی فیصلے کو مسترد کرنے کے مترادف ہوں گی۔ ایسی کوششوں کو آگے بڑھانے میں سب سے زیادہ افسوس ناک کردار امریکہ سمیت ان مغربی ممالک اور حکومتوں کا دکھائی دے رہا ہے جو مشر ف حکومت کی پالیسیوں کو بچانے کے لیے منتخب سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان میں ۱۸؍ فروری کے انتخابات کا ڈول صرف چہروں کی تبدیلی کے لیے ڈالا گیا تھا اور قومی پالیسیوں کے حوالے سے پاکستان کے عوام کی رائے کو کوئی حیثیت نہیں دی جا رہی جو انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن بات ہوگی۔ اس لیے ان انتخابات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ ان کی سیاسی فراست، حب الوطنی اور حوصلہ وتدبر کا امتحان ہے کہ وہ اس الیکشن کے نتیجے میں صرف چہروں کی تبدیلی اور حکومتی مناصب پر اکتفا کرتی ہیں یا عوامی رائے اور رجحانات کا احترام کرتے ہوئے سابقہ حکومت کی ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں جن پر نہ صرف یہ کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت نے انتخابات میں عدم اعتماد کر دیا ہے بلکہ لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے ان پالیسیوں کے ساتھ شدید نفرت کی وجہ سے پولنگ اسٹیشنوں تک آنا بھی گوارا نہیں کیا۔
ہمارے ہاں سیاسی عمل اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے طریق کار پر لوگوں کا اعتماد پہلے ہی کم ہوتا جا رہا ہے جو ۱۸؍ فروری کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب سے واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے اور اگر ووٹ ڈالنے والوں کا اعتماد بھی اس عمل پر باقی نہ رہا تو سیاسی عمل کی افادیت سے عام لوگوں کی یہ مایوسی شدید رد عمل کا باعث بھی بن سکتی ہے جس کا ان نازک حالات میں ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نواز گروپ) اور دوسری بڑی سیاسی جماعتیں اس مرحلے پر ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی رجحانات کی پاس داری کے لیے موثر کردار ادا کریں گی اور جمہوری عمل کو مایوسی اور تذبذب کی دلدل کی طرف دھکیلنے کی بجائے امید اور حوصلہ افزائی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی کہ قوم کے بہتر اور روشن مستقبل کی طرف یہی راستہ جاتا ہے۔
اس موقع پر ہم متحدہ مجلس عمل کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پانچ سال قبل ہونے والے عام انتخابات میں دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ نے جو پیش رفت کی تھی، اس سے ملک میں نفاذ اسلام اور دینی اقدار کے تحفظ وفروغ کے حوالے سے امید کی ایک کرن ذہنوں میں نمودار ہونے لگی تھی اور عوام یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ پاکستان جس مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا، اس کی تکمیل کا کوئی راستہ اب نکل آئے گا، لیکن حالیہ الیکشن سے قبل متحدہ مجلس عمل کے باہمی خلفشار اور الیکشن میں اس کی پسپائی نے امید کی اس شمع کو گل کر دیا ہے اور قومی سیاست میں دینی حلقوں کا کردار پھر ایک بار سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔
۲۰۰۲ کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی نمایاں کامیابی کے اسباب ہمارے خیال میں یہ تھے:
  • یہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی دینی سیاسی جماعتوں کا متحدہ محاذ تھا اور پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ دینی جماعتوں نے جب بھی مسلکی دائروں سے بالاتر ہو کر دینی وقومی مقاصد کے لیے جدوجہد کی ہے، ملک کے عوام نے ان کا ساتھ دینے میں بخل سے کام نہیں لیا۔
  • افغانستان پر امریکی اتحاد کی فوج کشی اور طالبان حکومت کے جبری خاتمہ نے پاکستانی عوام کے دینی جذبات میں ہلچل پیدا کر دی تھی جس کا براہ راست فائدہ دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کو ہوا۔
  • مغرب کی فکری یلغار اور اسلامی اقدار کے خلاف مغربی لابیوں کی طوفانی پیش قدمی میں پاکستانی عوام یہ امید کر رہے تھے کہ اس کی روک تھام کے لیے متحدہ مجلس عمل کوئی بھرپور کردار ادا کر سکے گی۔
اس پس منظر میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیا اور قومی اسمبلی اور سینٹ میں معقول نمائندگی کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت اور بلوچستان کی حکومت میں اشتراک ایم ایم اے کے حصے میں آیا جس سے عوام کو حوصلہ ہوا کہ ان کے امریکہ مخالف جذبات اور نفاذ اسلام کی خواہش کو اچھی ترجمانی میسر آ گئی ہے، لیکن متحدہ مجلس عمل اپنے پانچ سالہ دور میں عوام کی توقعات اور امیدوں کا ساتھ نہیں دے سکی۔ اس سلسلے میں معترضین کی شکایات کی فہرست طویل ہے، لیکن چند امور ان میں ایسے ہیں جن پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے:
  • باجوڑ کے دینی مدرسہ پر امریکی بمباری کے موقع پر ملک بھر کے دینی حلقے بجا طور پر یہ توقع کر رہے تھے کہ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی قیادت عوام کی احتجاجی لہر کی قیادت کرے گی، مگر ایم ایم اے نے عوامی احتجاج کی قیادت پر اپنی حکومت کے تحفظ کو ترجیح دی جس سے دینی حلقوں کے جذبات کو دھچکا لگا۔
  • حدود آرڈیننس کے بارے میں وفاقی حکومت کے عزائم سب پر واضح تھے اور ا س نے حدود شرعیہ کا تیا پانچہ کر دیا، مگر متحدہ مجلس عمل کا کردار اس میں یہ رہا کہ نہ تو وہ خود اس سلسلے میں اپنے بلند بانگ دعووں کو عملی جامہ پہنا سکی اور نہ ہی اس نے اس کے لیے کوئی دوسرا احتجاجی فورم وجود میں آنے دیا، حتیٰ کہ ’’مجلس تحفظ حدود شرعیہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک احتجاجی فورم تشکیل پاتے پاتے رہ گیا اور اس کے تشکیل نہ پا سکنے کی بنیادی وجہ ایم ایم اے کی قیادت کا طرز عمل تھا۔
  • لال مسجد کے سانحہ میں بھی متحدہ مجلس عمل سے جس کردار کی توقع ملک کے عوام اور خاص طور پر دینی حلقے بجا طور پر رکھتے تھے، ایم ایم اے کی قیادت نے خود کو اس کردار سے دور رکھا۔ اس سلسلے میں عوامی جذبات اور احتجاج کی قیادت کرنا اور اسے صحیح رخ پر رکھتے ہوئے موثر بنانا بنیادی طور پر متحدہ مجلس عمل کی ذمہ داری تھی، لیکن ایم ایم اے کی قیادت کی ترجیحات میں یہ ذمہ داری اپنی جگہ نہ بنا سکی جس کا خمیازہ اپنے دائرے میں تھوڑا بہت کردار ادا کرنے والے وفاق المدارس العربیہ کو بھگتنا پڑا اور لوگوں کے جذبات کی شدت کا رخ اس کی طرف مڑ گیا حالانکہ کوئی احتجاجی تحریک سرے سے وفاق المدارس کے دائرۂ کار میں ہی شامل نہیں تھی اور نہ ہی یہ اس کی ذمہ داری بنتی تھی۔
  • متحدہ مجلس عمل کی قیادت سے لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اپنے دائرے میں ملک کے ان دیگر دینی حلقوں کو بھی شامل کرنے کا راستہ اختیار کرے گی جو دینی وملی مقاصد میں اس کا ساتھ دے سکتے ہیں اور اس طرح یہ متحدہ محاذ زیادہ موثر حیثیت حاصل کرے گا، لیکن ایم ایم اے سے باہر کے دینی حلقوں کو اعتماد میں لینے کی بجائے خود اس کے داخلی حلقوں کا باہمی اعتماد بھی مسلسل سکڑنے لگا جو پہلے دو جماعتوں (جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی) کے دائرے تک محدود ہوا اور پھر ان دونوں میں ایک دوسرے پر بالادستی حاصل کرنے کی کشمکش نے الیکشن سے قبل متحدہ مجلس عمل کا شیرازہ مکمل طور پربکھیر کر رکھ دیا۔ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگر جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی ہی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کی بجائے باہمی اعتماد کے ساتھ حالیہ الیکشن میں کوئی مشترکہ موقف اختیار کر لیتیں تو صورت حال اس قدر خراب نہ ہوتی۔
  • اس سب کچھ کے باوجود بلوچستان کی حد تک ہمیں یہ توقع تھی کہ جمعیۃ علماے اسلام ان انتخابات میں پہلے سے زیادہ اچھی پوزیشن حاصل کر لے گی اور متحدہ مجلس عمل کا صف اول کا سیاسی کردار باقی رہ جائے گا مگر وہاں بھی جمعیۃ علماے اسلام میں پیدا ہو جانے والے باہمی خلفشار پر حکمت عملی کے ساتھ قابو پانے کی بجائے دستوری موشگافیوں کو ترجیح دی گئی جس سے سیاسی عمل میں جمعیۃ کی مزید پیش رفت کا خواب بکھر کر رہ گیا۔
ان حالات میں متحدہ مجلس عمل کے گزشتہ پانچ سالہ سیاسی کردار پر ایک حد تک مایوسی کا اظہار کرنے کے باوجود بھی ہماری شدید خواہش ہے کہ ایم ایم اے کا فورم قائم رہے اور وہ مذکورہ بالا شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کے سیاسی سفر میں باہمی اشتراک وتعاون کو جاری رکھنے کا اہتمام کرے۔
ہمیں متحدہ مجلس عمل سے یہ شکایت نہیں ہے کہ وہ اپنے حکومتی دائرے میں نفاذ اسلام کا اہتمام کیوں نہیں کرسکی، کیونکہ ہم بخوبی یہ بات سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومتی نیٹ ورک میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے جس کی تصدیق حسبہ بل کے ساتھ وفاقی دار الحکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے طرز عمل نے کر دی ہے، البتہ ہم اس شکایت کو بے جا نہیں سمجھتے کہ عوام کے دینی جذبات کی ترجمانی، دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت وتعاون کو وسعت دینے اور ان کی احتجاجی قوت کو منظم واستعمال کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل جو کچھ کر سکتی تھی اور جو کچھ اسے کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا اور متحدہ مجلس عمل کی پالیسی ترجیحات میں آہستہ آہستہ معروضی اور روایتی سیاست کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل اور دینی جماعتوں نے بھی معروضی سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے تو اس کے لیے دوسری روایتی سیاسی جماعتیں ہی کافی ہیں اور وہ ان سے زیادہ اچھے انداز میں معروضی سیاست کے تقاضے پورے کر رہی ہیں۔ دینی جماعتوں کا اصل اور امتیازی کردار ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ معروضی سیاست میں صرف اس حد تک ملوث ہوں جتنا نظریاتی اور دینی مقاصد کے لیے ناگزیر حد تک ضروری ہو۔ وہ اسے اساس بنا کر موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں دینی اقدار کے تحفظ وفروغ اور نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت کا راستہ نکالیں اور اس سلسلے میں عوامی احتجاج کی قیادت کریں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اب بھی متحدہ مجلس عمل کے قائدین ایک بار پھر مل بیٹھیں اور گزشتہ کوتاہیوں کا احساس وادراک کرتے ہوئے باہمی مفاہمت واعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کر لیں تو بہت سی باتوں کی تلافی ہو سکتی ہے اور قومی سیاست میں دینی جماعتوں کے کردار کو موثر بنانے کے راستے نکل سکتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری یہ گزارشات متحدہ مجلس عمل کے قائدین کے اذہان وقلوب تک رسائی حاصل کر پائیں اور دینی جدوجہد کے ازسرنو منظم ہونے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔ 
(۲۳ فروری ۲۰۰۷)

معاصر اسلامی فکر کے اخلاقی چیلنجز

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

ترجمہ: وارث مظہری (مدیر ماہنامہ ترجمان دار العلوم، انڈیا)

(شاہ مراکش کی طرف سے اسلامی خطبات کے سالانہ سلسلے کے طور پر اکتوبر ۲۰۰۷ میں ’’فاس ‘‘ (مراکش) میں منعقد ہونے والے پروگرام میں پیش کیا گیا۔)

ہم نے اپنے اس مقالے کے لیے ’’معاصر اسلامی فکر کے اخلاقی تحدیات‘‘ کا عنوان منتخب کیا ہے، اس لیے کہ ہمارا یقین ہے کہ مسلمان اپنی ابتدا سے اکثر قوموں کے مقابلے میں اخلاق کی اہمیت سے زیادہ واقف اور متوارث اخلاقی ڈھانچے سے انحراف کے بارے میں زیادہ حساس رہے ہیں۔ تاہم جہاں تک قرآن کے پیش کردہ اور رسول اللہ کے قول و فعل سے ثابت اخلاقیات کے بروئے کار لائے جانے کا مسئلہ ہے، اس میں ہر زمانے میں شدید ترین دشواریاں پیش آتی رہی ہیں۔ ان دشواریوں کا تعلق ایک طرف احوال زمانہ اور اخلاقی نظریات کی عملی تشکیل سے رہا ہے تو دوسری طرف اجتہادی مساعی کے امکانات سے۔ چنانچہ میں اپنے اس محاضرے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کو بنیاد بنانا چاہوں گا جو مختلف الفاظ و روایات کے ساتھ کتب حدیث میں وارد ہوئی ہے: ان الدین بدأ غریبا و یرجع غریبا فطوبی للغرباء الذین یصلحون ما افسد الناس من بعدی من سنتی (دین اپنی ابتدا میں اجنبی تھا۔ وہ اجنبی ہونے کی صورت میں ہی لوٹ جائے گا۔ اس لیے ان اجنبیوں کو خوش خبری ہو جو میرے بعد میری سنت میں پیدا کیے گئے بگاڑ کو درست کریں گے۔)
یہ حدیث بخاری و مسلم جیسی حدیث کی اساسی کتابوں میں وارد ہوئی ہے اور اس کے راوی اکابرین صحابہ ہیں جیسے عبداللہ بن عمر، ابو ہریرہ، عمر و بن عوف اور عبد اللہ بن مسعود وغیرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)۔ ہم نے جن الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو یہاں ذکر کیا ہے وہ اپنے آخری جز کے ساتھ ابوبکر بن العربی المالکی کی کتاب ’’عارضۃ الاحوذی‘‘ میں موجود ہے۔
اسلامی مفکرین پچھلی دو صدیوں سے فکر اسلامی اور سائنسی و تکنیکی ترقیات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اہم اور حیرت انگیز تبدیلیوں کے درمیان مصالحت اور ہم آہنگی کی کوششیں کرتے آرہے ہیں۔ وہ اپنی ان کوششوں میں اصولی دینی تعلیمات کی عملی تشکیل اور اس سے حاصل ہونے والے ایسے نتیجے کے درمیان حیران و سرگرداں رہے ہیں جس کے تحت انھیں پورا یقین حاصل ہو کہ اللہ کو مطلوب اس کامل و مکمل دین میں ایسی کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہوسکتی جو لوگوں کے حق میں ضروری اور مفید ہو۔ اس تعلق سے عالم اسلام کی سطح پر اجتہادی فکر رکھنے والے علما و مفکرین کے کہکشانی سلسلے کے جو چند نام اس وقت ذہن میں آرہے ہیں، ان میں رفاعہ رافع الطہطاوی،سر سید احمد خاں، شبلی نعمانی، مفتی محمد عبدہ، طاہربن عاشور اور علال فاسی وغیرہ ہیں۔ ان مفکرین کی زیادہ کوششیں اس بات پر مرکوز رہیں کہ تجدد(Modernity) اور روایت (Tradition) کے درمیان ایک قسم کی موافقت اور ہم آہنگی سامنے آجائے۔ ان مفکرین کی غالب سوچ یہ تھی کہ روشن خیالی کے بعد کی فکر (Post-enlightment thought) اور فکر اسلامی (Islamic thought)کے درمیان مشترک عنصر ’عقل‘ ہے۔ چنانچہ ان کی نظر میں اسلامی اور مغربی دونوں فکر عقل اور تعقل پسندی (Rationalism) کو ہی اپنی مشترک اساس بناتے ہیں۔ اس زمرے میں مشہور فلسفی شاعر محمد اقبال (وفات:۱۹۳۸) کا بھی نام آتا ہے جنھیں تجدد اور اس کے وظائف کے ساتھ فکری تعامل برتنے کی حقیقی قدرت حاصل تھی۔ چنانچہ تجدد پسندی اقبال کی نظر میں محض ایک ایسی تہذیب کا ہی نام نہیں جس کی تاسیس عقل پر ہوئی ہو، اس لیے کہ سائنسی اکتشافات اور تیز رفتار فنیاتی ارتقا نے موجودہ اور خیالی زندگی کے مختلف جدید طریقے ایجاد کیے ہیں۔ جدید طریقے خود روز مرہ زندگی سے بھی تعلق رکھتے ہیں، جن کی بنا پر انسان کا ماضی اور ماضی کے اعمال اور سرگرمیوں سے رشتہ منقطع ہوگیا ہے۔ 
تجدد پسندی نے موجودہ زمانے میں فرد کے معاشرتی تخیل (Social imaginary) میں نہایت اہم اور بنیادی قسم کی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔ ہم اس جگہ Social imaginary کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم ان غیر شعوری مفہومات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو فرد کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں اور اس کی اپنی ثقافت اور اس زمانے کے مطابق جس میں وہ زندگی گزار رہا ہے، اس کے افکار کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ تجدد پسندی نے ہر چیز کی دوبارہ نئی ترتیب قائم کی ہے، جس میں فرد اور اجتماع کے نزدیک معاشرتی تخیل بھی شامل ہے۔ گویا اس طرح تجدد پسندی نے کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق اور سیاست و حکمرانی کے تعلق سے اس کے مفاہیم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نیز فرد اور خاندان سے متعلق بہت سے مسلمات میں بھی زبردست تبدیلیاں پیدا کردی ہیں، اس لیے کہ سائنس اور ٹکنالوجی نے فضائی اور فطری سرحدوں پر کمندیں ڈال دی ہیں۔ جس کے نتیجے میں خود انسان کے اندرون سے تعلق رکھنے والی نئی دریافتیں سامنے آئی ہیں۔
تجدد پسندی کے سیاق میں علوم و افکار کے نتائج کے سامنے آنے کے ساتھ جو اہم تبدیلیاں پیدا ہوئیں، ان میں دینی قدر کی باز شناسی (re-evaluation) بھی شامل ہے۔ چنانچہ تجدد پسندی کے سیکولر تصور کے تحت دین کو ایک دوسرے سیاق میں لاکر بحث و گفتگو کا موضوع بنا دیا گیا۔ بعض لوگوں نے یہ کوشش کی کہ اسے صرف فر دکی زندگی تک خاص اور محدود کردیا جائے۔ جہاں تک مسلم مفکرین کی بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت کے نزدیک تجدد پسندی کی تعبیر جامع اور ہمہ گیر نہ تھی، اس لیے کہ انھوں نے خاص و عام کی زندگی جن میں سیاسی زندگی بھی شامل ہے کے تعلق سے عقل و دین کے دو مسئلوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی اور اس اعتبار سے ان مسئلوں کو روایتی اسلامی فکر کے لیے انھوں نے چیلنج سمجھا۔ اگرچہ ایسا سمجھنا پوری طرح غلط نہیں، تاہم وہ قضیے کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتے۔ چنانچہ مسلم مفکرین نے تجدد پسندی کی خامیوں اور خوبیوں سے خوب خوب بحثیں کیں، جن کی تفصیلات تو کجا ان کے اہم محوروں پر بھی روشنی ڈالنا اس وقت ممکن نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تجدد پسندی نے مسلمانوں کی زندگی کے اکثر شعبوں میں زبردست اثرات قائم کیے جو سائنس سے شروع ہوکر صحت، اقتصاد، اجتماعی تنظیم کے ساتھ خاندان اور فرد کے مفاہیم کا احاطہ کرتی ہے۔ تاہم اس سلسلے کی اصل مشکل یہ ہے کہ بعض اسلامی مفکرین اس بات پر اصرار کرتے آرہے ہیں کہ اسلام جدت یا تجدد پسندی کے معارض ہے۔ یہ ان کی نظر میں ایک طرح سے اسلام کے تحفظ کی شکل ہے۔ حالانکہ حقیقت میں اکثر حالات میں وہ محض اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ سے آگے کچھ بھی نہیں۔ حقیقتاً تجدد پسندی اپنے تمام تر عناصر کے ساتھ انسانی زندگی پر پوری طرح حاوی و غالب ہے۔ اکثر اوقات لوگوں کے شعور بلکہ ان کی امیدوں و آرزوؤں اور زندگی کی مجبوریوں کے درمیان ایک قسم کا تضاد اور تناقض (Paradox) پایا جاتا ہے۔
بہت سے اسلامی معاشروں میں ایسے دینی حلقے پائے جاتے ہیں جنھیں تجدد پسندی سے مزاحمت کی اپنی خیالی قدرت پر فخر ہے حالانکہ حقیقت میں ان حلقوں کی یہ حرکت جدید سماجی تصور کے ریلے کے تعلق سے اپنے سر کو مکمل تجاہل کے ساتھ شترمرغ کی طرح ریت میں چھپانے کے مترادف ہے۔ بعض لوگ اسے امر محمود بلکہ ضروری امر تصور کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر اسلام کے دور زریں میں پائی جانے والی اسلامی فکر کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ اسے کس طرح فراریت اور داخلی سکڑاؤ کے بجائے اپنے زمانے کا فہم، نئے پیش آمدہ مسائل اور چیلنجوں کے حل کی دریافت کے ساتھ ان کے ساتھ تعامل کی قدرت حاصل تھی، تو موجودہ دور کے مسلم مفکرین کا یہ رویہ ایک قسم کی فکری پسپائی نظر آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید علوم اور ایک حد تک انسانی اور اجتماعی علوم ہی ان اجتماعی آفاق کی طرف لے جاتے ہیں، جن سے صحت، زراعتی طریقے یہاں تک کہ کھانے پینے کے تعلق سے بھی ہم روزانہ گزرتے اور محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ جدید علوم اپنی شکل میں کامل اور اٹل ہیں وہ مستقل ارتقا اور تغیرات کی راہوں سے گزر رہے ہیں، انھیں جن ثقافتوں سے واسطہ پڑتا ہے وہ ان سے متاثر ہوتے ہیں اور اس طرح تجدد پسندی پر بھی وہ اپنی خصوصیات کی نئی چھاپ قائم کر رہے ہیں۔ اس طرح ایک متعین فہم کے ساتھ مصالحت میں ان اجتماعی تصورات (Social imaginaries) کی ناکامی موجودہ دور کے مسلمانوں کی زندگی میں کمزور نقطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اگر روایتی اسلامی فکر جدید علوم کے ساتھ تعامل برت سکے تو اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ ایک نتیجہ خیز اور خلاقیت سے بھرپور چیز وجود میں آجائے۔
یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ تمام اسلامی ممالک میں ایسے علما و مفکرین موجود ہیں جو ان دونوں ثقافتوں کے درمیان مصالحت کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم حقیقت میں ان کی کوششیں اب تک ایسے جزیروں میں بند ہیں، جن کا کوئی اثر ان اہم مراکز اور اداروں تک نہیں پہنچ سکا ہے، جو عمومی اور عالمی سطح پر اپنے افکار کی تشکیل کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی کتاب ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ (Reconstruction of Religious Thought in Islam) میں بیسویں صدی کے رُبع اول میں لکھا تھا:
’’وہ روحانی نظامات جن پر جامد اور مردہ مابعد الطبعیاتی اصطلاحات کی پرت پری ہوئی ہے کسی مختلف فکری پس منظر رکھنے والے شخص کو مطلقاً کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ایسے میں دور حاضر کے مسلمانوں کی ذمے داری دو چند ہوجاتی ہے۔ ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ماضی سے اپنا رشتہ بحال رکھتے ہوئے، اسلام کے پورے نظام میں غور و فکر کریں۔ شاید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (وفات:۱۷۶۲) وہ پہلے مسلم مفکر ہیں جنھوں نے نئی اسپرٹ کی ضروت کو محسوس کیا۔ ان کے بعد جمال الدین افغانی کا نام آتا ہے۔ اس لیے ہمارے سامنے واحد کشادہ راستہ یہ ہے کہ ہم ایک مستقل، اسی کے ساتھ غیر جانب دار موقف کے ساتھ علوم عصریہ پر متوجہ ہوں اور ان علوم کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو پہچاننے کی کوشش کریں، خواہ اپنے پیش روؤں کے ساتھ اختلافات سے کام لینا پڑے۔‘‘ (ص:۹۷)
اقبال کی یہ دقیق تشخیص آج بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی وہ کل تھی۔ اپنے اس جملے ’’نظام اسلامی میں نئے سرے سے غور و فکر‘‘ سے اقبال کی جو مراد ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم علم کے اس فریم ورک اور بنیادی ساخت میں جس کا تعلق دینی فکر کے ساتھ معاملت سے ہے، اس انداز میں نئے سرے سے غور و فکر کریں جو ہمارے اجتماعی تصور کے اُس ڈھانچے اور ذہنی و خیالی پیکر کے مطابق ہو جو ہماری معاصر زندگی کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ اجتماعی تصور ان لوگوں کے ذہنوں کے مطابق نہ ہو، جو ہم سے صدیوں قبل اس دنیا سے گزر چکے ہیں۔
اس لیے وہ اخلاقی چیلنج جس سے متعلق ہم یہاں گفتگو کر رہے ہیں، اس کا تعلق علم و معرفت کی پیداوار اور دینی و اسلامی فکر میں اس کی اہمیت سے ہے۔ اہل فلسفہ اسے ’’علمیاتی مشکل‘‘ (Epistemological problem) سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ بہت سے تعلیمی اداروں جیسے جامعات، دینی مدارس و مکاتب پر جہاں دینی افکار کی تشکیل و تدوین ہوتی ہے، اثر انداز ہوتے ہیں، عالم اسلامی میں ایسی جگہیں بہت کم ہی ہیں جہاں روایتی دینی علوم جیسے تفسیر، حدیث، کلام، فقہ، اصولِ فقہ کے ساتھ عمرانیات، انسانیات، نفسیات اور تاریخ جیسے علوم کے درمیان سنجیدہ اور موثر ’ڈائیلاگ‘ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔ یہاں ’ڈائیلاگ‘ سے ہماری مراد جدید علوم کے درمیان سنجیدہ تعامل سے ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم مسلمانوں کے جدید و معاصر حالات کا دینی علوم سے نئے سرے سے ربط قائم کریں۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو دینی علوم عقائد و اعمال کے مسئلے میں اپنی بعض ایسی دخل اندازیوں پر قائم رہیں گے جو عصر حاضر کے سیاق سے ہٹی ہوئی ہیں اور اس طرح ان کے ذریعہ دین و دنیا کے درمیان علاحدگی اور انفصال کو تقویت ملتی رہے گی۔ ان دونوں بُعدوں دین و دنیا کے درمیان ناہم آہنگی نے مسلمانوں خصوصاً نوجوان طبقے کے اندر فکری پراگندگی کو جنم دیا ہے۔ اس مشکل کا حل اس بات کا متقاضی ہے کہ دینی تعلیم کے طریقۂ کار اور مشتملات دونوں کی تجدید کی جائے ۔ نوجوانوں کا طبقہ اس وقت داخلی کشمکش سے دوچار ہے۔ وہ یہ احساس رکھتا ہے کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں دین کے معیاری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر نہیں کر پا رہا ہے اور اس طرح وہ ایک طرح کے شدید ترین احساسِ گناہ میں مبتلا ہے۔ کیوں کہ جدید تعلیم کو اب تک ایک معارض ثقافت کی دخل اندازی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 
گزشتہ دو سالوں کے درمیان خاص طور پر ہندوستان و پاکستان کے متعدد مدارس کے اہم ذمہ داروں سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں، جن سے ہمارے اندر یہ احساس پختہ ہوا کہ ان ممالک کے علما پر ہنوز یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فکر اسلامی کے سیاق میں جدید علوم اور ان کے منہاجات سے تعلق رکھنے والی مشکلات کو حل کریں۔ اس تعلق سے علمی و اسلامی حلقوں میں جو کنفیوژن پایا جاتا ہے، اس نے نوجوانوں کے اذہان میں جدید علوم کے تئیں دوہرا رویہ پیدا کردیا ہے ۔ یعنی ایک ہی وقت میں وہ ان سے شغف بھی رکھتے ہیں اور انھیں ناپسند بھی کرتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ایک زبردست فکری اور اکیڈمک گراوٹ ان حلقوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے اور عمومی سطح پر معاشرے پر اس کے نہایت منفی اثرات قائم ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بہت سے نوجوان دنیوی علوم کی طرف متوجہ ہو ئے ہیں۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہیں لیکن دین کے ساتھ ان کا صحیح تعامل نہیں ہو پاتا۔ دوسری طرف وہ طبقہ یا جماعت جو دینی امور کی انجام دہی کے ساتھ عصری علوم کے حصول کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، اس کی شدت پسند دینی حلقوں کی طرف سے مذمت کی جاتی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی تخلیقی کارکردگی نصف تک بھی نہیں پہنچ پاتی، اس لیے کہ وہ اپنی تعلیم اور مطالعے میں جوش اور مکمل آمادگی کے ساتھ حصہ نہیں لے پاتے اور اکثر یہ خیال انھیں کچوکے لگاتا رہتاہے کہ ان کا ڈاکٹر، انجینئر، یا بزنس مینیجر ہونا کچھ بھی قیمت نہیں رکھتا۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی دنیا دین سے دور اور علیحدہ ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ ہم دنیوی علوم کو اس حیثیت سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں کہ وہ مادیت اور دنیوی مال و متاع کے پیچھے دوڑ لگانے کا نام ہے۔جیسے مادی منافع کا حصول اسلام میں حرام ہو۔ حالانکہ مادیت پسندی دراصل اس کا نام ہے کہ انسان خدا کو بھول کر متاع دنیا کے پیچھے اس طرح پڑ جائے جس میں پوری انسانیت کا نقصان ہو۔ جبکہ متوسط طبقہ دنیا کے حصول کو دینی مقاصد کے حصول کا وسیلہ تصور کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں صرف دینی مقصد کی خاطر ہی کوشش و عمل کو صحیح تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن آپ ذرا اس المیے پر غور فرمائیں کہ کروڑوں مسلمان جو اپنے اوقات کا بڑاحصہ اس طرح کے بظاہر دنیوی کاموں میں خرچ کرتے ہیں، وہ اپنے ان کاموں کو دین و اخلاق کا جز تصور نہیں کرتے۔ اسلامی معاشروں میں دین و دنیا کے درمیان اس نوع کی تفریق کا نظریہ اسلامی معاشروں کے فروغ و ارتقا میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔
اقبال نے اس دینی و دنیوی یا مقدس اور ناپاک کے درمیان علاحدگی برتے جانے سے متعلق بصیرت کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اقبال کی بات کا اسلامی حلقوں پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا۔ اقبال ’’تشکیل جدید‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’روحانی اور مادی میدان الگ الگ نہیں ہیں، کوئی عمل اپنے ظاہر کے اعتبار سے خواہ کتنا ہی دنیوی کیوں نہ ہو، اس کی حقیقت کا دار و مدار اس عمل کے انجام دینے والے کے ذہن اور نیت پر ہوتا ہے۔ غیر مرئی ذہن اور پس منظر (نیت) ہی وہ چیز ہے جو متعلقہ عمل کی حقیقت کو متعین کرتا ہے۔ کوئی عمل اگر کائنات کے ساتھ مضبوط اور قیمتی ولامتناہی رابطے سے ہٹ کر انجام دیا جائے تو وہ بلاشبہ مادی اور دنیاوی ہوگا اور اگر وہ اس لامتناہی ربط سے جڑا ہوا اور اس میں پیوست ہوگا تو یقیناًروحانی ہوگا۔‘‘
ماضی کے مفکرین کی ایک بڑی تعداد نیز حال کے بعض مفکرین نے اس حقیقت کو واحد اور قطعی حقیقت کے طور پر سمجھا کہ جس میں کسی تقسیم کی گنجائش نہیں۔ ابو حامد الغزالی نے مثال کے طور پر ایک قضیہ کی حیثیت سے اس بات کا ادراک کیا کہ ان کے زمانے میں فقہ و اخلاق سے تعلق رکھنے والے اعمال ومشاغل کی صورت حال بگڑ چکی ہے۔ فقہ سے تقویٰ کی روح نکل چکی ہے۔ جب کہ اسلام کے ابتدائی عہد میں یہ اخروی نجات کی طرف رہنمائی کرنے والا علم تھا۔ اس طرح فقہ کوئی ایسا محفوظ اور پاکیزہ شعبۂ علم نہیں جو سراسر تقویٰ اور للہیت پر مبنی ہو بلکہ وہ ایک ایسامنہج ہے جو علم آخرت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔حقیقت میں آخرت کی نجات دنیا میں اخلاقی اعمال سے وابستہ ہے۔ سورہ توبہ میں اللہ کا ارشاد ہے:
وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنفِرُواْ کَآفَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ. (التوبۃ: ۱۲۲)
’’اور مسلمانوں کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وہ ڈر جائیں۔‘‘ 
اسی لیے غزالی کا خیال ہے کہ انسان کے اندر تدین یا اللہ کی خشیت اور اس کی تعظیم کا احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ اس بنیا دپر فقہ کا علم حاصل کرنے والا ہو کہ یہ علم دنیا و آخرت میں اس کی رہنمائی اور نجات کا ضامن ہے۔ فقہ اپنی روح کے اعتبار سے نکاح و طلاق اور خرید و فروخت وغیرہ کی تفصیلات پر ہی مبنی اور مرکوز نہیں۔ غزالی کے نزدیک دین کا اصل جوہر اس بات میں مضمر ہے کہ ہم اپنے تمام اعمال اور سرگرمیوں کے اخلاقی ابعاد (Dimentions) کا ادراک کریں اور یہ جانیں کہ دنیا و دین ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔
اندلسی فقیہ ابو الولید ابن رشد نے اپنی مشہور و متداول کتاب ’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :
’’ شرعی احکام کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جس کا حکام اور قضاۃ فیصلہ کرتے ہیں اور دوسری قسم وہ ہے جس کا قضاۃ (و حکام) فیصلہ نہیں کرتے اور وہ مستحب احکام کے ضمن میں آتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر کا تعلق اخلاق سے ہے لیکن اپنی اہمیت میں وہ کسی بھی طرح احکام سے کم نہیں۔‘‘
پھر ابن رشد اس کی تشریح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سلوک سے متعلق سنتوں ، جنھیں انھوں نے ’’السنن المشروعۃ العملیۃ‘‘ کا نام دیا ہے، کی ایک ہی غرض یا مقصد ہے اور وہ فرد کے اندر ’’فضیلت‘‘ (الفضیلۃ) پیدا کرنا ہے، اسے انھوں نے ’’الفضائل النفسانیۃ‘‘ کا نام دیا ہے۔ پھر عبادات کے شعائر کو ابن رشد نے کریمانہ اعمال کے طور پر اخلاق کے ضمن میں رکھتے ہوئے ’’السنن الکرامیۃ‘‘ کا نام دیا ہے جو عفت کی فاضلانہ صفت (فضیلۃ العفۃ) پر مبنی ہے، اورجو قبیح عادات سے اجتناب کا نام ہے۔ اس کے بعد ’’عدل‘‘ (العدل)، شجاعۃ (الشجاعۃ) اور سخاوت (السخاء) کا نمبر آتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی حقیقت اور اس کا جوہر ان چار فضائل میں منحصر ہے۔ جن کا اختیار کرنا فرد کے لیے لازمی ہے۔ تاکہ وہ معاشرے میں ایک ذمہ دار اور کج روی و انحراف سے پاک شخصیت کا کردار ادا کرسکے۔
ابن رشد سے ہی ملتی جلتی بات شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمائی ہے۔ اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اصول اخلاق چار ہیں: طہارت (الطہارۃ) اخبات (الاخبات)، سماحت نفس (سماحۃ النفس) اور عدالت (العدا لۃ) اس کی شرح وہ اس طرح کرتے ہیں کہ: پہلی چیز ’’طہارت‘‘ ہے اس لیے کہ وہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ملائکہ کی مشابہت اختیار کرسکے۔ دوسری چیز ’’اخبات‘‘ (خشوع و تواضع) ہے۔ اس لیے کہ وہ انسان کو اللہ سے قریب کرتی ہے۔ اور اس لائق بناتی ہے کہ وہ ۔ان کی تعبیر میں۔ جبروت کا مشاہدہ کرنے والا بن جاتا ہے۔ تیسری چیز ’’سماحت نفس‘‘ ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے ملکوتی صفت پر غلبے کو یقینی بناتا ہے۔ چوتھی چیز عدالت ہے اور وہ کسی ایسے نظام کو چلانے کی قدرت کا نام ہے جو حیات خاصہ کے حق میں ہو اور اسی کے ساتھ حیات عامہ سے تعلق رکھنے والے امور کا بھی انتظام و انصرام کرنے والا ہو۔ ان کے الفاظ میں: ھی ملکۃ یصدر منھا اقامۃ النظام العادل المصلح فی تدبیر المنزل و سیاسۃ المدنیۃ  (یہ ایسے ملکہ کا نام ہے کہ جس کے ذریعے ایسا عادل نظام قائم ہوتا ہے جو تدبیر منزل اور سیاست مدنیہ میں اصلاح کرنے والا ہو۔ (شاہ ولی اللہ: حجۃ اللہ البالغہ : ۱۸۴-۱۸۷)
اس تفصیل کے بعد میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمارا مقصد ابن رشد اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے بیان کردہ فضائل کے مابین تقابل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ قدیم مسلم مفکرین اخلاق کو مسلمانوں کی زندگی کی اساس تصور کرتے تھے۔ چناں چہ ابن رشد اگرچہ ایک فلسفی اور فقیہ تھے اور ان کے اور شاہ ولی اللہ دہلوی، جو ایک عالم وصوفی تھے، کے زمانے کے درمیان پانچ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ اول اندلسی اور ثانی ہندی ہیں، تاہم وہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے ہمارے علما دین کی روح کو اخلاق کے تناظر میں دیکھتے تھے۔ اس لیے کہ اگر دینی اعمال اس سے قاصر رہ جاتے ہیں کہ وہ متعلقہ افراد اور جماعتوں کے اندر اخلاقی شعور و احساس کو ابھار سکیں تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوگا کہ اسلامی تصور (Concept) اور عمل (Practice) میں زبردست خلل پایا جاتا ہے۔
اخلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ زندگی میں ایک اہم مشروع کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا: انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق  (میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں کہ مکارم اخلاق کی تکمیل کروں) قرآن میں اس مشروع کا اثبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ان لفظوں میں کیا گیا ہے: انک لعلی خلق عظیم (آپ عظیم اخلاق سے متصف ہیں۔ ۶:۶۸)
آئیے ہم ان اعلیٰ اخلاقی مفاہیم و اقدار کا موازنہ ان اعمال اور سرگرمیوں سے کریں جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کی طرف سے انجام دی جا رہی ہیں اور جن کی بنیادوں پر دنیا میں مسلمانوں کی عزت خاک میں مل رہی ہے اور ان کی شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق غیر مسلموں کی عداوت سے نہیں ہے۔ یہ خود مسلمانوں کے اپنے غلط اعمال بلکہ اسلام اور اس کی اقدار کو پامال کردینے والی حرکتوں کا طبعی نتیجہ ہے۔ ایسے بہت سے لوگ جو دین و سیاست کے تعلق سے خود کو مسلمانوں کا رہنما اور ترجمان تصور کرتے ہیں ان کی طرف سے ان اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی پامالی کو جنھیں ابن رشد اور شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے مستنبط کیا تھا (جن کی وضاحت اوپر کی گئی) دیکھ کر ان کی کوتاہ فکری پر عقل حیرت میں ڈوب جاتی ہے کہ ایں چہ بو العجبی ست۔ مثال کے طور پر مسلم خواتین کے معاملے میں مسلمانوں پر ہمیشہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔ ہم غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم نے خواتین کے تعلق سے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ ان کے حق میں اخلاقی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ اگر ایسا نہیں تو پھر بہت سے اسلامی ملکوں میں مسلم عورتوں کو ازدواجی معاملات میں توہین آمیز اور ناشائستہ سلوک سے کیوں دوچار ہونا پڑ رہا ہے؟آخر بعض اسلامی معاشروں میں عورتوں کی عزت و عفت کو پامال کردینے والے جرائم سے چشم پوشی کیوں کی جا رہی ہے؟ اس سیاق میں ان مثبت اور جرأت مندانہ اصلاحات کی گونج مغرب اور اسلامی دنیا دونوں میں سنائی دے رہی ہے۔ 
ہر شہری کا یہ حق ہے کہ ان کے ان حقوق کی حفاظت کی جائے جن کی پامالی کا امکان ہے۔ لیکن اکثر اسلامی ملکوں میں ان عادلانہ مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جو وسائل استعمال کیے جاتے ہیں وہ اکثر اوقات ان مقاصد سے میل نہیں کھاتے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ ’’الغایۃ تبرر الوسیلۃ‘‘ (مقصد طریقہ کار کو جواز عطا کرتا ہے) کا اصول یا شعار اسلامی اخلاق کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اسلامی اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ عادلانہ مقاصد کے لیے عادلانہ طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں۔ اس تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو مثال کے طور پر خود کش حملوں کا طریقہ اسلام کے اعلیٰ اقدار کی بالکلیہ مسخ کاری ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہر اعتبار سے یہ ہے کہ اس طرح کے نہایت درجہ قبیح اعمال کو فقہی حیلوں اور حوالوں سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ معرکۂ کارزار میں نبرد آزمائی اور شجاعت کا جوہر دکھانا اور بات ہے۔ خاص طور پر وہ معرکے جو وقار اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہوں، لیکن ایسے ضروری اور دفاعی معرکوں میں بھی اخلاقیات سے دست کش ہوجانا کسی بھی طور پر صحیح نہیں ہے، کجا کہ پوری دنیا کو میدان جنگ تصور کرلیا جائے اور پوری انسانیت کو اپنے غضب و انتقام کا ہدف بنالیا جائے۔ یہ حد درجہ خوفناک اور شیطانی فعل ہے۔ اسی نوع کی فقہ سے امام غزالی نے لوگوں کو ہوشیار و خبردار کیا ہے۔ چناں چہ وہ دین کے فہم میں خارجی احوال یعنی ’’فقہ باطن‘‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے ’’فقہ ظاہر‘‘ پر ارتکاز سے منع فرماتے ہیں۔ خاص طور پر جب کہ فقہ ظاہر رحمت، عدل، طہارت اور وہ تمام فضائل جن کا ذکر پچھلی سطور میں کیا گیا، کو بروئے کار لانے سے قاصر ہو۔ 
یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی ایک تعداد ضمنی طور پر بسا اوقات نہ صرف تشدد کے اس نوع کے واقعات کی موافقت کرتی ہے بلکہ اس طرح کے رجحانات نے بہت سے اسلامی معاشروں کو ایک قسم کی گھٹن میں مبتلا کردیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بہت سے منکرات کو معروفات اور معروفات کو منکرات کا جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ ان اعمال اور طریقوں کا دوبارہ احیا کیا جائے جنھیں ہم بھول یا بھلا چکے ہیں۔ یعنی وہ اعمال اور فضائل جن کی اپنے اپنے زمانوں میں غزالی، ابن رشد، اور شاہ ولی اللہ دہلوی علیہم الرحمہ اور دوسرے بہت سے اصحاب ہمت و شجاعت نے لوگوں کو ترغیب دی تھی اور جن سے ہمارا وسیع علمی تاریخی ورثہ مالا مال ہے۔لیکن آج کے دور میں اس طرح کے اصحاب ہمت نہایت کم نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ان مسائل سے متعلق بالکل چپ سادھ رکھی ہے۔ اگر وہ اپنی زبان کھولتے ہیں اور اس طرح کے شاذ و منحرف افعال کی مذمت کرتے ہیں تو ان کی حیثیت حدیث میں مذکور ’’غربا‘‘ جیسی ہوتی ہے۔
امام غزالی نے اس امر (اخلاقی انحراف) سے متعلق اپنے زمانے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا مطالعہ کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انھوں نے یہ باتیں ہمارے زمانے کے تعلق سے لکھی ہوں۔ اگر ہم دین کے ظاہری امور پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ وہ پوری طرح فروغ پارہے ہیں کیوں کہ ان کے وسائل موجود ہیں۔ اسی طرح عبادات پر کافی زور دیا جا رہا ہے لیکن اگر رسالت محمدی کی روح پر نظر ڈالی جائے جو پوری انسانیت کی نجات کے لیے آئیتھی، خاص طور پر اسلامی اخلاق جنھیں دوسری قوموں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دین کو داخل و خارج سے درپیش مختلف قسم کے خطرات اور چیلنجوں نے عجیب و غریب چیز بنا دیا ہے۔ ضرورت ایسے مصلحین کی ہے کہ جو لوگوں کے بگاڑ اور فساد کی اصلاح کرسکیں۔ابن بیہ (عربی اسلامی قلم کار)نے بالکل صحیح طور پر ان مصلحین غربا کو قرآن میں ذکر کردہ ’’اولو بقیہ‘‘ میں شمار کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ : اسلام اپنی ابتدا میں غریب تھا اور اخیر میں پھر غریب ہو جائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ غربا کون لوگ ہیں؟ آپ نے جواب دیا: غربا وہ لوگ ہیں جو میری سنت میں لوگوں کے پیدا بگاڑ کی اصلاح کرنے والے ہیں اور میری سنت کے اس حصے کو جسے لوگوں نے ترک کر دیا ہے، زندہ کرنے والے ہیں۔‘‘
اسلامی تناظر میں اس بات کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ خالص اسلامی معیار کے مطابق اسلامی اقدار پر ایک نیا اجماع منعقد ہو۔ ضروری ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپس میں ایک قسم کا اجتماعی اخلاقی عہد (Collective Moral Consensus) اور مسلمانوں اور سول سوسائٹیز کے درمیان ایک لازمی رشتہ قائم ہو۔ اس کے لیے مسلم دانش وران اور علما کو سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ وہی اس بات کے اہل ہیں کہ تعلیم و ابلاغ کے ذرائع سے عام لوگوں کے درمیان اس کی تبلیغ و توضیح کریں۔ ایسے مستقبل کے لیے جس میں مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود مضمر ہے، ان علما اور دانش وروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اخلاقی عہد کی اہمیت کو واضح اور مدلل کریں۔ اس نوع کے پروجیکٹ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نئی نسلیں ان اعلیٰ اخلاقی اقدار سے بہرہ ور ہوں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے جیسے: عفت، طہارت، سماحتِ نفس اور عدالت۔
موجودہ دور میں ہم پر مزید یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم ان اقدار کی فہرست میں نئی قدروں کا اضافہ یا ان کی تخصیص کریں۔ ایسی کئی قدریں میرے ذہن میں اس وقت آرہی ہیں لیکن میں یہاں خصوصیت کے ساتھ دو قدروں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پہلی قدر تکثیریت و تنوع یا دوسرے لفظوں میں رواداری ہے۔ چنانچہ عام شعبوں اور خاص طور پر ارباب دانش کے تعلق سے ضروری ہے کہ تکثیریت ہمارے معاشرے کا ایک اہم جز بن جائے کیونکہ حق تو یقیناًایک ہے لیکن اس کی تجلیات متعدد ہیں۔ حق مطلق کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جب کہ ہماری حقیقت کی قدر شناسی علمی اور نسبتی ہے۔ ہم جب کسی چیز سے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا قطعی علم ہے تو اس وقت علمی زاویے سے اس سے متعلق گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ آخری سطح پر اشیا کی حقیقت کا علم ہمیں مستقبل میں ہوگا۔ اس لیے کہ ہم انسان ہیں اور کسی چیز سے متعلق ہمارا حکم لگانا کامل نہیں ہوسکتا۔ اس طرح ہمارے حکم لگانے میں غلطیوں کا صدور ہوگا اور ہمارا اجتہاد خواہ کتنی ہی دقت رسی پر مبنی ہو، اس میں کوتاہی کا دخل ہوگا۔ اور صحیح نیت کے ساتھ حق کی تلاش و جستجو میں غلطی کرجانا اسلام میں کبھی حرام نہیں سمجھا گیا۔ بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یعنی اس کے لیے اللہ کی طرف سے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر ہم نے راہ حق میں فکری کوشش کی اور ہم نے مطلوبہ حق کو پالیا تو ہمارے لیے دو اجر ہیں جب کہ اگر ہم سے خطا کا صدور ہوا تب بھی ہمارے لیے ایک اجر کا وعدہ ہے۔ اس طرح داخلی سطح پر مسلمانوں کے اندر تکثیریت کا پایا جانا خدا کی رحمت و قوت کی نشانی ہے۔حدیث میں امت کے اختلاف کو رحمت کہا گیا ہے نہ کہ باعث نزاع و جدال۔ اختلاف اور تعدد عمومی سطح پر کائنات کے مزاج، قانون اور اللہ کی سنت سے ہم آہنگ ہے۔
دوسری اہم قدر اختلاف کے حل کے لیے ہمارا تشدد کے راستے کو اختیار کرنا ہے۔ تشدد ہمارے معاشرے کا مزمن مرض بن چکا ہے جو ہماری صلاحیتوں کو گھن کی طرح کھائے جا رہا ہے۔ اس سے ہماری ترقی و خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ آرہی ہے۔ انسانی جان کے احترام اور اس کی قیمت و اہمیت پر ازسرنو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانی جان کی حفاظت اسلامی شریعت کے مقاصد خمسہ میں سے ایک ہے۔ انسان کا قتل اسلام میں ایک بڑا گناہ ہے۔ اہل اسلام کے ہاتھوں اس کو سستا اور آسان سمجھا جانا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ انسانیت کے ماتھے پر ایک کلنک ہے جسے ہم اسلام پر لگا رہے ہیں حالاں کہ دین اس سے بری ہے۔
محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب ’’ترجمان الاشواق‘‘ میں کعبہ کو ایک ذی روح پیکر کی شکل میں فرض کرتے ہوئے لکھا ہے:
تطوف بقلبی ساعۃ بعد ساعۃ
لوجد و تبریح و تلثم ارکانی
کما طاف خیر الرسل بالکعبۃ التی
یقول دلیل العقل فیھا بنقصان
ّوقبل احجارا بھا و ھو ناطق
و این مقام البیت من قدر انسان
’’تم ہر ہر لمحہ وجد اور دردِ دل سے ہمارے دل کا طواف کرتے ہو اورہمارے ارکان کو چومتے ہو۔ جس طرح پیغمبر اعظم نے اس کعبے کا طواف کیا جس کے بارے میں عقل کہتی ہے کہ اس میں کمی ہے۔ اور لبیک کہتے ہوئے اس کے پتھروں کو چوما۔ بیت اللہ انسان کی اہمیت کو بھلا کیسے پا سکتا ہے۔‘‘
ان اشعار میں ابن عربی کا مقصد اس حقیقت کو ذہن نشیں کرانا ہے کہ انسان کی قدر و اہمیت اسلام کی سب سے مقدس نشانی کعبے سے بھی برتر و بالا ہے جسے تمام مسلمانوں کا قبلہ اور اس کی روحانیت کا مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم ان دونوں قدروں، تکثیریت اور عدم تشدد کو نیز ان اقدار کو جن کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ اولین بنیادی اقدار کے طور پر اپنے معاشرے میں نافذ کرنے میں کامیاب رہے تو ہم اپنی قوم کے لیے زیادہ بہتر مستقبل کی توقع کرپائیں گے۔ چناں چہ جو قوم انسانی جان کا احترام کرتی اور تکثیریت میں یقین رکھتی ہے وہ بہ ذات خود ایسی قدرت کی حامل ہو جاتی ہے کہ وہ علم کی حامل قوم بن جائے۔ جو قوم علوم کو ترقی دینے پر قادر ہوتی ہے وہ قوم اس بات پر بھی قادر ہوتی ہے کہ وہ تہذیبی ارتقا کو تیز رو کرسکے۔ پھر ایسی قوم کی ترقی صرف اسی کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ دوسری اقوام کے تہذیبی ارتقا کا سبب بنتی ہے۔ یہ انسانیت کی معلم اور حقیقی معنوں میں خیر امم جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے امت اسلام کی طرف کی ہے، ہوتی ہے۔
اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے تعلیم کے ابتدائی مرحلے سے اعلیٰ مرحلے تک مسلم تعلیمی اداروں میں عقل اور اور خیال (Imagination) کی اہمیت و قوت کو زندہ و تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔کسی بھی اسلامی مشروع (Project) کے لیے عقل کی ضرورت مسلم ہے۔ عقل کے بغیر اسلام میں فرد پر کوئی اخلاقی ذمے داری عائد نہیں ہوتی، جسے اصطلاح میں ’’تکلیف‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ عاقلانہ مخاطبت کے لیے شعور و فہم بنیادی عنصر کا درجہ رکھتے ہیں۔ حتی کہ وحی کے ادراک اور اس کے ساتھ تعامل میں ہم عقل پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس ضمن میں بہت سے اقوال و مراجع کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن ان اقوال سے فائدہ اٹھانے کی کم ہی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: کونوا للعلم دُعاۃ و لا تکونوا للعلم رواۃ (علم کوسمجھنے والے بنو صرف اس کو روایت کرنے والے نہ بنو) ابن عساکر نے لکھا ہے کہ: ھمۃ العلماء ،الوعایۃ و ھمۃ السفھاء، الروایۃ  (علما کی کوشش علم کو سمجھنے کی اور سفہا کی کوشش علم کو روایت کرنے کی ہوتی ہے)۔ ابن عساکر کے اس قول سے وہ لوگ مراد ہیں جو نصوص کو سمجھے بغیر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن عقل کو خیال سے مزین کرنا چاہیے کیو ں کہ ،جیسا کہ فریڈریکوگار سیا لور کا نے لکھا ہے: 
’’خیال عقل کے گرد اس طرح پھیل جاتا ہے جس طرح خوشبو پھولوں کے گرد، جو ان برگہائے گل سے الگ نہیں ہوتی جن سے وہ پھوٹ رہی ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک ہی وقت میں فضا میں بکھر رہی ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ اپنے دائمی اعجاز آفریں مرکز سے وابستہ بھی ہوتی ہے۔‘‘
علامہ اقبال اپنی مشہور اردو نظم ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘ میں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ رسول اللہ کی سیرت، اقبال کی نظر میں، انسان کو اس کے شعور ذات کو برسر عمل لانے کی قدرت عطا کرتی ہے اور اس کو کائنات کی تمام تر موجودات سے ہم آہنگ اور اسی کے ساتھ بشری ذرائع پر اعتماد کرنے والا بنا دیتی ہے۔ چناں چہ تخلیق نو اور تازہ کاری کی وہ روح جس کی ربانی نوازش سے انسانی تجربات عبارت ہیں ،نیز طبیعات و تاریخ نے ان مواد کو وجود بخشا جن سے زندہ تہذیب کی تخلیق ہوئی۔ اقبال کی خواہش تھی کہ اگر مسلمان اپنے عزم و عہد کو عملی شکل دیں تو اپنی تقدیر کی کلید خود ان کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس تناظر میں وہ کہتے ہیں:
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش خلافت ہے جہاں گیر تری
ما سو اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(کلیات: ۲۰۸)
مسلمان تاریخ کے مختلف ادوار میں شدید طور پر مصائب و مشکلات سے دوچار ہوتے رہے ہیں، بسا اوقات مسلمان اسلام کے مستقبل کے تعلق سے قنوطیت کا شکار ہوگئے۔ ہم نے مقالے کے شروع میں اسلام کے غریب ہوجانے کے تعلق سے جو حدیث نقل کی تھی، اس کی بعض لوگوں نے ایسی شرحیں کی ہیں، جن سے مزید ان لوگوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اسلام غربت کا شکار ہوکر ختم ہوجائے گا۔ حالانکہ یہ تاویل بالکل باطل ہے۔ اس لیے کہ وہ کتاب و سنت میں وارد بہت سے اہم احکام و ہدایات سے متصادم ہے۔ اس میں سرفہرست اللہ کا صالحین بندوں سے یہ وعدہ ہے کہ وہی اس زمین کے وارث ہوں گے۔ اس لیے اس حدیث کو اس روشنی میں دیکھا جانا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو بیدار ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی اور احیا و تجدید کے عمل پر مائل کرتی ہے۔ اسلامی عمل میں جب بھی انحراف واقع ہوگا، اس کی اصلاح ضروری ہوگی۔ رسول اللہ کی ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ حق پر قائم رہے گی اس کے مخالفین اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے گا۔

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کی تعلیمی اصلاحات

پروفیسر محمد اکرم ورک

تعلیم اور نصاب کاتعلق صرف استاذ ،شاگرد اور درس گاہ سے نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق اس زندگی سے ہے جو ہر لمحہ رواں دواں اور تغیر پذیر ہے اس لیے بہترین نصاب وہی ہو سکتاہے، جو ایسے علوم وفنون پر مشتمل ہوجو انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں نیز انسانی فکر کے تاریخی ارتقا کے عکاس ہوں اور جن کے پیشِ نظر ایسے رجال کار کی تیاری ہو ، جو سوسائٹی کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی مثبت تشکیل ممکن بنا سکیں ۔ 

مسلم تاریخ میں نصاب تعلیم کا ارتقا

اسلامی تاریخ کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کی ثبوت کے لیے کافی ہے کہ نبوت کے مکی اور مدنی ادوار میں نظا م تعلیم اور نصاب میں معروضی حالات کے پیش نظر بقدر ضرورت تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔دار ارقمؓ اور شعب ابی طالب میں تعلیم کا نصاب اور نظام اس سے بہرحال مختلف تھا جس کی تعلیم مسجد نبویؑ کی درس گاہ (صفہ)میں دی جاتی تھی۔صفہ میں حالات کے تقاضوں اور ضرورتوں کے پیش نظر قرآن وسنت کی لازمی تعلیم کے ساتھ ساتھ خطاطی،طب،تیر اندازی،تلوار زنی،اور نیزہ بازی کے فنون بھی سکھائے جاتے تھے ۔مرورِ ایام کے ساتھ قرآن وسنت جیسے بنیادی اور لازمی مضامین کی اہمیت و افادیت میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا ۔ ان کے علاوہ دیگر علوم وفنون ارتقاء اور تبدیلیوں کے مختلف مراحل طے کرتے رہے ۔ ان میں سے بعض مضامین اگر حالات کے تقاضوں کے پیش نظرداخل نصاب ہوئے تو بعض دیگر کو ضرورت پوری ہونے پر نصاب سے خارج بھی کر دیا گیا ۔ 
ہلاکو خان کے حملہ بغداد ۱۲۵۸ء ؁ تک مسلم فکر میں زبردست ارتقاء نظر آتاہے ۔بغداد کی تباہی سے نہ صرف مسلمانوں کی صدیوں کی علمی ترقی اور ذہنی ریاضت دریا برد ہوگئی بلکہ کئی نامور علما بھی تاتاری تلوار کی نذرہوگئے ۔اور پھر ۱۴۹۲ء ؁ میں سقوط غرناطہ کے بعد مسلم فکر کے تقریبا تمام علمی سر چشمے خشک ہوگئے ۔اور علمی روایت مکمل طورپر مغر ب کی طرف منتقل ہوگئی۔ اگر چہ ان دو بڑے حادثات کے بعد بھی مسلمانوں کو سیاسی عروج حاصل رہاہے ۔لیکن فکری اور علمی اعتبار سے یہی مسلمانوں کادور انحطاط ہے۔درس نظامی کے روایتی نصاب پر ایک نظر ڈالنے سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس نصاب میں شامل اکثر کتب اور علوم وفنون اسی دور زوال کی یاد گار ہیں۔جب مسلمانوں کا علمی انحطاط شروع ہوچکاتھا اور مسلم فکر پر جمود کے سائے پڑنا شروع ہوگئے تھے ۔
نئے علوم وفنون اور موضوعات پر غور وفکر کی بجائے ایسی کتابیں منصہ شہود پر آنے لگیں ۔جن میں اختصار نویسی ،لفظی بحثوں اور لفظی موشگافیوں کو ہی کمال فن سمجھا جانے لگا۔بڑا کمال یہی سمجھا گیا کہ عبارت ایسی دقیق اور غامض ہو جس کے لئے شرح وحاشیہ کی ضرورت ہو ، لطیفہ یہ ہے کہ بعض اصحاب علم نے ذہنی عیاشی کی خاطر انتہائی مختصر کتب تصنیف کیں ۔اور پھر خود ہی ان پر طویل حواشی لکھنے بیٹھ گئے اور اب ہمارے مدرسین اپنی عمر عزیز کا زیادہ حصہ انہی دقیق عبارتوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں گزار دیتے ہیں۔مصنف کی مراد ،ضمائر کے امکانی مراجع اور عبارت کی اعرابی حالتوں کے ایسے خیالی پلاؤ پکائے جاتے ہیں کہ بسااوقات ایسی بحثوں میں کئی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں اور نتیجہ پھر بھی غیر حتمی ہی رہتاہے۔گویا فن میں مہارت کے بجائے کتاب کی تفہیم حقیقی مقصد بن کر رہ گئی ہے۔

برصغیر میں مدارس کا نصاب تعلیم 

برصغیر میں انگریزی عہد اقتدار سے قبل مدارس میں جن علوم وفنوں کی تعلیم دی جاتی تھی ان کی افادیت محدود ہوچکی تھی ،تاہم اس وقت جو نظام تعلیم اور نصاب رائج تھا اس میں دینی اور دینوی کی کوئی تفریق نہ تھی۔اور یہ نصاب مسلم دور کی ضرورتوں اور تقاضوں کو کسی نہ کسی حد تک پورا کررہاتھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغلیہ دور میں جس نظام تعلیم اور نصاب نے مجدد الف ثانیؒ جیسامذہبی عبقری پیداکیااسی نظام نے نواب سعداللہ خان جیسا شخص بھی تیار کیا۔جو سلطنت مغلیہ کاوزیراعظم بنااور جو حضرت مجدؒ د کاہم جماعت تھا،پھر استاذاحمد معمارجس نے تاج محل،جس کاشمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتاہے ، تعمیر کیا۔یہ بھی حضرت مجدؒ د کاکلاس فیلوتھا۔یہ تینوں ایک ہی استاذکے شاگرد اور ایک ہی درس گاہ کے پڑھے ہوئے تھے اور ایک ہی نصاب اور تعلیمی نظام کی پیداوار تھے۔
۱۸۵۷ء ؁میں برصغیر پر انگریز کے مکمل قبضہ واختیار کے بعد ہمارے سامنے نظام تعلیم اور نصاب کے حوالے سے دو گروہ ابھر کر سامنے آتے ہیں ایک گروہ کاتعلق روایتی دینی مدارس سے ہے۔ فی الوقت جن کی نمائندگی شیعہ اور سنی وفاق (بریلوی ،دیوبندی،سلفی)کررہے ہیں۔دوسرے گروہ کاتعلق جدید تعلیم کے علمبرداروں سے ہے۔سر سید احمد خانؒ کی علمی تحریک اسی گروہ کی نمائندہ تحریک ہے۔روایتی دینی مدارس کانصاب ہو یاعلی گڑھ کا،دونوں کانصاب تعلیم دور غلامی کے مخصوص حالات ،تقاضوں اور پس منظر کا عکاس ہے۔یقینی طور پر کہاجاسکتاہے کہ ان دونوں نصاب ہائے تعلیم کی بنیاد خوف اور ذہنی تحفظات پر تھی۔ایک طبقہ اس خوف میں مبتلاتھا کہ جدید تعلیم سے احتراز مسلمانوں کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگا۔مسلمان تجارت ،اسباب معیشت ،ملازمتوں اور دیگر قومی معاملات میں پیچھے رہ جائیں گے۔جبکہ دوسرے طبقہ کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ انگریزجو برصغیر کو دوسرا اسپین بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیراہیں ،کے عزائم کو ملیامیٹ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وقتی فوائد سے صرف نظر کرتے ہوئے دینی علوم کی تدریس کے لیے مدارس کا ایسا نظام قائم کیا جائے جو قوم کو تہذیبی ارتداد سے بچاسکے اور جو مسلمانوں کے دین ،ایمان اور اسلامی تہذیب وتمدن کے تحفظ کاضامن ہو۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں دین وایمان کی بہاریں ہمارے اسلاف کی اسی محنت ،خلوص اور حکمت عملی کا نتیجہ ہیں ، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ہر دو طبقات کی حکمت عملی دفاعی نوعیت کی تھی۔اور یہ حکمت عملی اپنے مخصوص پس منظر میں بالکل درست تھی۔

پاکستانی مدارس کا نصاب تعلیم 

۱۹۴۷ء کے بعد حالات وضروریات اور تقاضے بدل گئے اس وقت دونوں (دینی ودینوی)نصاب ہائے تعلیم میں انقلابی اور اجتہادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت تھی۔ان دونوں نظام ہائے تعلیم کو ختم کرکے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایسا نصاب مرتب ہونا چاہیے تھا ،جو جدید علمی اور فکری چیلنچز کابھر پورجواب مہیا کرتا۔خاص طور پر پاکستان میں تو اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ علماء کو سوسائٹی میں قائدانہ کرادار اداکرنے کے قابل بنایاجاتا،لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس سے فارع ہونے والے علماء جب عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو چونکہ وہ سوسائٹی کے عرف اور محاورے سے واقف نہیں ہوتے اس لیے عجیب طرح کی اجنبیت کاشکار ہو جاتے ہیں۔اور عملا معاشرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں ۔بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی:
’’آج ہمار ا امام سوسائٹی میں جاکر یہ محسوس کرتاہے کہ میں نے جو کچھ پڑھا ہے وہ تو Irrelevantہے اور یہاں لوگ جو سوال کررہے ہیں اس کامیرے پاس جواب نہیں تو وہ پڑھی ہوئی چیزوں کو Relevant بنانے کے لیے وہاں وہ مسائل پیداکرتاہے جو اس کے اپنے مسائل ہیں تاکہ وہ لوگوں کے بھی مسائل بن جائیں اور جب وہ ان کے مسائل بن جائیں گے اور وہ پوچھیں گے تو میں ان کا جواب دوں گا ۔وہ مسائل کیا ہوتے ہیں ؟وہ فرقہ ورانہ ہوتے ہیں اب جن بیچاروں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا اور نہ کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال آیاہوتاہے کہ حضور ؑ نور تھے یا بشر تھے،ان کے لیے امام مسئلہ پیدادیتاہے۔رسول اللہ کاحکم واجب التعمیل ہے یہ کوئی نہیں بتاتا،لیکن ایک اس پر زور دیتاہے کہ آپ ﷺ بشر تھے اور دوسرا اس پر کہ آپﷺ نور تھے ۔وہ نور کا ایک محدو د مفہوم بیاں کرتاہے یہ بشر کامحدود مفہوم بیاں کرتاہے۔اور جب علم کی کمی کی وجہ سے لوگوں کا ایک گروہ اس کام کے لئے تیار ہوجائے گا تو اب امام صاحب کی نوکری پکی ہوجا ئے گی اور انہیں کوئی وہاں سے نہیں اٹھائے گا۔یہ ایک افسو س ناک بات ہے جس پر غور کرنا چاہیے‘‘۔(ماہنامہ الشریعہ مارچ ۲۰۰۵ء:۲۶)
ایسے ہی سطحی علم رکھنے والے حضرات معاشرے میں فتنہ وفساد اور فرقہ ورانہ تشدد کا باعث بنتے ہیں ۔یہ صورت حال ایسی خوف ناک اور گھمبیر ہے جس کی وجہ سے ایک طرف سیلم الفطرت لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف عام لوگ دین سے دوری میں ہی اپنی ’’عافیت‘‘ سمجھنے لگے ہیں بقول علامہ اقبال:
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے 
کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی 
ضرورت اس امر کی تھی کہ دور غلامی میں حالت جبر میں اختیار کردہ تعلیمی نظام پر نئے سرے سے غور وفکر کیا جاتا اور قیام پاکستان کے بعد ماہرین تعلیم کی مشاور ت سے مناسب ا ور معقول قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جاتی ۔لیکن بد قسمتی سے ایسی کوئی بھی سنجیدہ کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی ۔ اس وقت صورت حال یہ کہ پاکستان میں طبقاتی نظام تعلیم میں مز ید پھیلاؤ آیا ہے۔
جدید تعلیمی اداروں سے جو نسل تیار ہوکر نکل رہی ہے ان کا دین سے تعلق انتہائی کمزور ہے اور دوسری طرف جو نسل روایتی دینی اداروں سے فارغ التحصیل ہو رہی ہیں ان کا حالات حاضرہ ،جدید معاشی ،سیاسی اور عمرانی علوم سے کوئی تعارف نہیں،عالمی قانون ،عرف،رسم ورواج اور مغربی فکر وفلسفہ توان کے لئے قطعا اجنبی چیزیں ہیں ۔ نصاب کی اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نصاب کے پڑھنے والے اس نصاب کے آثارونتائج سے قطعا بے گانہ ہیں جیسے انھوں نے نہیں پڑھا ہے ۔ملک میں پڑھے لکھے طبقہ کی دو مستقل جماعتیں قائم ہوگئیں ہیں ایک طبقہ دوسرے پر فسق والحاد اور بے دینی کا الزام عائد کرتاہے تو دوسرا اس پرتاریک خیالی اور زمانے سے ناواقفیت کی پھبتیاں کستا ہے۔مسڑاور ملا ں کے طنزیہ ناموں سے قائم ان طبقوں میں کشمکش مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے۔
ارباب دانش کی نظر میں نصاب تعلیم کی وحدت کے علاوہ اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے ۔اس حوالے سے حکومتی اور اعلیٰ ترین سطح پر پیش قدمی کی ضرورت تھی تاہم حکومت کی مجرمانہ غفلت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دینی مدارس کے ارباب بست وکشاد بھی اسی عدم تدبر کا مظاہرہ کرتے ،نئے حالات میں ان کی حکمت عملی دفاعی کی بجائے اقدامی ہونی چاہیے تھی ،کیونکہ آزادی کے بعد عوام الناس زندگی کے ہر میدان میں ان سے قائدانہ کردار کی توقع کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے ہماری دینی قیادت اس فہم وفراست کا مظاہرہ نہ کرسکی جس کامظاہر ہ ہمارے اسلاف ہر دور میں کرتے رہے ہیں۔

برِ صغیر کے علما کی فکر مندی

نصابِ تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا احساس تقریباََ تمام مکاتبِ فکر کے اکابرین میں شروع سے ہی رہا ہے ۔ اس حوالے سے ، نصابِ تعلیم کی ماہیت پر مشتمل کتابوں میں تمام مکاتبِ فکر کے اسلاف کی آراء ملاحظہ کی جا سکتی ہیں ۔ طوالت سے بچتے ہوئے ہم صرف مولانا قاری محمد طیب ؒ کے ایک خطاب کے اس اقتباس پر اکتفا کرتے ہیں: 
’’اب رہا مدارس عربیہ کا نصاب میں تبدیلی کا قضیہ ،سو مجھے اس اصول سے انکا رنہیں اور نہ کسی کو ہو سکتاہے ۔جن تعلیمات کا تعلق وحی الہی سے ہے ،ان کی تبدیلی پر نہ ہم قادر ہیں ،نہ ہمیں حق ہے ۔باقی جو فنون یا کتابیں قرآن کے خادم کی حیثیت سے زیر تعلیم آتی ہیں ،وہ زمانہ اور احوال کے لحاظ سے بدل سکتی ہیں۔قرآن ہر زمانہ میں ایک رہا ،لیکن اس کی تفہیمات کا انداز بدلتارہا ۔جس دور میں مثلاً فلسفہ کا زور ہوا تو قرآن کو فلسفیانہ انداز میں سمجھایا گیا۔جس دور میں تصوف کا زور ہوا تو قرآن کو صوفیانہ انداز میں سمجھایا گیا ۔آج سائنس کازور ہے تو وہ سائنسی رنگ میں تجلی کرے گا۔اس ساری حقیقت کو میں بطور خلاصہ ان الفاظ میں لاسکتاہوں کہ’’مسائل پرانے ہوں تو دلائل نئے ہوں۔ ‘‘ (۲۲،۲۳ فروری ۱۹۴۷ء کو اسمبلی ہال لکھنو میں منعقدہ’’تعلیمی کانفرنس ‘‘سے خطاب)

ضیاء الامت ؒ کے عملی اقدامات اور اصلاحات

ضیاء الامت پیرمحمد کرم شاہ الازہری ؒ نے علماء اور جدید تعلیم یافتہ نسل کے درمیاں بڑھتے ہوئے خلا کو آج سے نصف صدی قبل محسوس کیا۔ چنانچہ آپ نے قدیم اور جدید علوم کے امتزاج سے ایک ایسے نصاب تعلیم کی ضرورت محسوس کی جو علماء کو نہ صرف قومی دھارے سے جوڑے رکھے بلکہ انہیں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناسکے ۔چنانچہ پیر صاحبؒ نے ۱۹۵۷ء ؁ میں اپنے والد محترم کے قائم کردہ ادارے ’’دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ‘‘ کی نشاۃ ثانیہ کا آغازفرمایا ۔نئے نصاب کی ترتیب ،تدوین ،اور تنفیذ میں پیر صاحبؒ کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا وہ بڑے گھٹن اور صبر آزما تھے ۔چونکہ یہ بالکل نیا اور منفرد تجربہ تھا۔اس لیے جب پیر صاحبؒ نے اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان عمل میں اترے تو وہ اس منزل کے تنہا مسافر تھے ۔پیر صاحبؒ نے ا پنی ذات میں ایک پورے ادارے کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپ کے مشہور سوانح نگار پروفیسر حافط احمد بخش صاحب نے پیر صاحب ؒ کی سوانح عمری ’’جمال کرم‘‘جلد اول میں ان تمام حالات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ نئے نصاب کی ترتیب میں حضرت ضیاء الامتؒ کے پیش نظر جو خصوصی امور تھے ان کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
’’دینی مدارس کا نصاب تعلیم ایسا ہونا چاہیے جس سے فراغت پانے کے بعد انسان میں علوم جدیدہ سے پوری واقفیت اور حالا ت حاضرہ پر گہری نظر ہونے کے ساتھ علوم دینیہ میں ٹھوس قابلیت پیداہوجائے،سطحی قسم کے علماء الحاد وفجور کے اس خوف ناک سیلاب کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ملت کو ایسے علماء کی ہرگز ضرورت نہیں جو اسلام کی ابدی تعلیمات کو حالات حاضرہ سے ہم آہنگ کرنے کے خبط میں قطع وبرید اور تبدیلی وتحریف تک آمادہ ہوں بلکہ ایسے مردان کار کی ضرورت ہے جو ایمانی فراست کو کام میں لاتے ہوئے حالات کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اس کے لیے علوم دینیہ میں مہارت ضروری ہے۔‘‘(جمال کرم ۱/۳۳۲)
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں داخلہ کے خواہش مند طلباء کے لیے میڑک پاس ہونا بنیادی شرط ہے۔نو سالہ دورانیے پر مشتمل اس نصاب میں ایف ۔اے ۔اور بی ۔اے کے امتحانات بالترتیب سرگودھا بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی کے زیر انتظام دلوائے جاتے ہیں ۔جبکہ دارالعلوم کی تکمیلی سند کو حکومت نے ایم۔اے اسلامیات وعربی کے مساوی تسلیم کیا ہے ۔یہاں سے فارغ التحصیل علما کو ’’شاہین‘‘ کہا جاتاہے ۔دارالعلوم میں دینی تعلیم میں رسوخ کو اولیت اور تر جیح حاصل ہے۔
پیر صاحبؒ نے دینی مدارس کے روایتی نصاب میں جو انقلابی اصلاحات تجویزفرمائیں زیر نظر سطور میں ہم اس کے صرف چند اہم پہلووں کا اختصا ر کے ساتھ تعارف پیش کریں گے اور ان کوششوں کے عملی فوائد وثمرات کا تجزیہ کریں گے۔

صرف ونحو

کسی بھی زبان کی سمجھ بوجھ کے لیے گریمر خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے ۔گریمر کا کردار زبان کی تسہیل اور تفہیم سے ہے جبکہ مدارس کے طرز تعلیم میں علمِ صرف اور خاص طور پرعلمِ نحو کو زبان کے مشکل بنانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے کافیہ اور شرح جامی جیسی کتب جس تحقیق اور لفظی موشگافیوں کی ابحاث کے ساتھ پڑھی پڑھائی جاتی ہیں ،کاش قرآن وسنت کی تعلیم میں بھی یہی شوق پیش نظر ہو۔عموما اساتذہ کافیہ کی پہلی سطر ’’الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفردا‘‘ کی تقریر میں ہی کئی ہفتے گزار دیتے ہیں۔مولانا ابو الکلام آذاد کی یہ رائے بالکل درست ہے کہ برصیغیر میں صرف ونحو کی تعلیم میں طلباء پر بیک وقت تین بوجھ ڈال دیے جاتے ہیں۔
ایک اجنبی زبان (کہ صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں زیادہ تر فارسی زبان میں ہیں )۔
دوسرا حلِ عبارت کا ،طالب علم کی بیشتر توانائی مغلق وغامض عبارت کے حل پر صرف ہو جاتی ہے۔
تیسر ا اگر دما غ میں کچھ گنجائش باقی رہ گئی ہے تو وہ اصل علم حاصل کرے ۔ 
یہی وجہ ہے کہ گوہرِ مقصود ہاتھ نہیں آتا ۔ہمیں یہ چیز ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صرف ونحو اور دیگر علوم صرف قرآنی بصیر ت تک رسائی کے وسائل اور ذرائع ہیں اس لیے ایسی تمام کتب کو آسان اور عام فہم ہونا چاہئے ۔پیر صاحب ؒ نے صرف ونحو کے روایتی اسلوب میں جو تبدیلی کی ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:
’’عربی علوم میں دسترس حاصل کرنے کے لیے صرف ونحو کو کلیدی حیثیت ہے اس سے کسے انکار ہے ،اس لیے میں نے مفید خیال کیا کہ ابتدائی سالوں میں صرف ونحو پر زیادہ سے زیادہ زور دیا جائے اور اس کے لیے ایسی کتب کاانتخاب کیا جائے جو آسان اور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ فن کی تمام خصوصیتوں کی حامل ہوں اور ان کی تعداد بھی زیادہ نہ ہو‘‘(جمال کرم ۱/۳۳۲)
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں صرف ونحو کی تعلیم میں جن چیزوں کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے ان کی نوعیت درج ذیل ہے:
۱۔روایتی دینی مدارس کے بر عکس صرف و نحو کی تعلیم کے لیے کتب کی تعداد واضح طور پر کم کی گئی ہے۔
۲۔جو کتب منتخب کی گئی ہیں وہ سادہ عام فہم اور آسان اردو اور عربی زبان میں ہیں ۔ابتدائی تعلیم کی مادری زبان میں ضرورت واہمیت ماہرین تعلیم کے ہاں مسلم ہے۔تسہیل النحو اور تسہیل الصر ف (مولانا حافظ محمد خان نوری) اردو زبان میں ہیں ۔نیز اس کے ساتھ عربی زبان میں عصر جدید کی مطبوعات النحو الواضح(از علی جارم مصطفی امین )کے چھ حصوں کی تدریس بہت عمدہ انتخاب ہے۔یہ کتا ب اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور سلجھے ہوئے انداز میں لکھی گئی ہے ۔اس کتاب کی خاص خوبی یہ ہے ،قواعد عربی کاعملی اجراء بھی ساتھ ساتھ ہوتاجاتا ہے۔اور عربی زبان کے قواعد اس طرح پڑھائے جاتے ہیں کہ جس طرح ایک زندہ زبان کے پڑھائے جانے چاہییں۔

ادب وانشا 

درس نظامی کے روایتی نصاب میں ادب وانشاء کی تعلیم برائے نام ہے ۔ادب وانشاء کی جگہ فن بدیع (لفظی صنعت گری)کی کتابین داخل نصاب ہیں ۔مطول جیسی کتابوں کی تعلیم کے بعد طلبہ میں ادبی ذوق پروان چڑھنے کی توقع رکھنا عبث ہے ۔آج کی علمی دنیا میں اگر کسی کو یہ بتایا جائے کہ کچھ’’اصحاب علم‘‘ دنیا میں ایسے بھی ہیں جو بیس پچیس سال تک عربی زبان وادب کی تدریس کے بعد بھی اس میں اپنے مافی الضمیر کے اظہار پر قادر نہیں تو یقیناًوہ اسے قبل از تاریخ کی کوئی من گھڑت کہانی قرارد یں گے۔ ویسے بھی جس قسم کی عربی زبان ہمارے علماء بولتے ہیں وہ روز مرہ کی زبان نہیں ہے اس لیے جدید نسل کے لیے اس کو سمجھنا کافی مشکل ہے آج کے معروضی حالات میں عالم عرب سے رابطہ وتعلق کیلئے جدید عربی کا جاننا انتہائی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دینی مدارس کے قیام کااصل مقصد قرآن وسنت کی تفہیم ہے جبکہ قرآن وسنت کے معانی ومفاہیم سے واقفیت کے لیئے قدیم عربی زبان وادب میں مہارت وممارست ضروری ہے ،لہٰذا عربی زبان کے قدیم اور جدید دونوں اسالیب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اس لیے دونوں کااپنی اپنی جگہ سیکھنا ضروری ہے۔
پیر صاحبؒ نے اپنے مجوزہ نصاب میں ان دونوں ضرورتوں کو پیش نظر رکھا ہے ۔طلباء میں قدیم عربی ادب کاذوق پیدا کرنے کے لیے البلاغۃ الواضحۃ (علی الجارم ومصطفی امین)کے ساتھ دیوان متنبی ،دیوان حماسہ،دیوان حسان ، المفضلیات ،نثر میں العبرات ،مقامات حریری ،الکامل للمبرد،تلخیص المفتاح،اور اسرارالبلاغۃ جیسی کتب شامل نصاب ہیں تو دوسری طرف ابتدائی سالوں میں ہی مفید الطالبین(محمد احسن نانوتوی)تسہیل الانشاء مکمل حصے (محمد سعید الازہری،محمداکرم الازہر یؒ ) معلم الانشاء(محمد رابع حسنی ندوی )اور الاسلوب الصحیح (دوحصے) جیسی کتب سے طلبہ میں جدید عربی زبان وادب کا ذوق پیدا کیا جاتاہے۔عام طورپر کہا جاتاہے کہ ادب لادین ہوتاہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پیر صاحبؒ نے اپنے مرتب کردہ نصاب تعلیم میں ادب کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور کسی لمحہ بھی زبان دانی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی تربیت کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ۔چنانچہ قصیدہ اطیب النغم (شاہ ولی اللہؒ )اور قصیدہ بردہ شریف (امام بو صیریؒ ) کاشامل نصا ب ہونا ہمارے اس موقف کی تائید کرتاہے۔

معاشیات اور سیاسیات

درس نظامی کے روایتی نصاب کی تدریس میں عموما اسلام کے اجتماعی پہلووں کو بری طرح نظر انداز کر دیا جاتاہے۔بالخصوص اقوام عالم میں رائج نظا م سیاست اور جدید نظام معیشت سے ہمارے علماء کی واقفیت برائے نام ہے جدید علوم سے بے اعتنائی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ طبقہ علماء آہستہ آہستہ ایک ایسا گروہ بنتا جارہاہے جس کا کار گاہ حیات اور زندگی کے عملی اور زندہ مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔سوسائٹی میں ہمارے علماء کاکردار بھی اب دیگر مذاہب کے مذہبی راہنماوں جیسا بنتاجارہاہے جن سے صرف حصول ثواب کی نیت سے مخصوص مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے رجوع کیا جاتاہے۔ظاہر ہے یہ صورت حال اسلام جیسے مکمل ضابطہ حیات کے لیے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ۔علوم جدیدہ سے علماء کی عدم واقفیت کی وجہ سے ہی اس غلط فہمی نے بھی جنم لیا ہے کہ شاید اسلام جدید معاشی ،سیاسی اور عمرانی افکار کامقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ہمارے اکثر علماء کی سادگی کا یہ عالم ہے کہ وہ ان علوم میں رسوخ تو بڑی دور کی بات ،ان کی بنیادی اصطلاحات تک سے واقف نہیں ہیں۔بقول مولانا زاہد الراشدی:
’’دینی تعلیم وتدریس اور بحث وتمحیص کے حوالے سے ہماری گفتگو اعتقادات ،عبادات ،اخلاقیات ،یا سے زیادہ خاندانی معاشرت کے چندمسائل تک محدود رہتی ہے جب ہم حدیث یا فقہ کی کوئی کتاب پڑھاتے ہیں تو سارا زور کتاب الطہارت سے کتاب الحج تک ہوتاہے ۔بہت زور مارا تو نکاح وطلاق کے مسائل گویا یہ آخری حد ہے حالانکہ انہی کتابوں میں کتاب البیوع بھی ہے ،کتاب الاجارہ بھی ،کتاب المزارعۃ بھی ،کتاب الجہاد بھی،کتاب الامارہ بھی ہے اور کتاب القاضی بھی۔اس طرح سیاست ،معیشت اور زندگی کے دیگر اجتماعی شعبوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے ابواب بھی،لیکن ہم ان ابواب سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے یہ سب منسوخ ہوں۔‘‘ (مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی ذمہ داریاں )
پیر صاحبؒ اپنی دوررس نگاہوں سے علما اور سوسائٹی میں بڑھتے ہوئے فاصلے کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔چنانچہ انھوں نے اپنے مجوزہ نصاب تعلیم میں اس کمزوری کا ازالہ کرنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے ۔آپؒ فرماتے ہیں:
’’اس نصا ب میں انگریزی ،جغرافیہ ،طبعیات کے علاوہ فلسفہ جدیدہ، علم سیاست (Politics)، علم اقتصادیات (Economics) کو بھی شامل کیا گیاہے۔کیونکہ آج اسلامی تعلیمات کو موثر طور پر پیش کرنے کے لیے ہمارا ان علوم سے روشناس ہونا از حد ضروری ہے ۔علم سیاست واقتصادیات اسلام کے لیے کوئی نئی چیزیں نہیں ہیں اسلام نے جہاں عقائد باطلہ کے بت کدے پاش پاش کیے وہاں اس نے روز ازل سے مستبدانہ ملوکیت اور ظالمانہ نظام معاشیات پر بھی بھر پور وار کیا اور اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں ایسی بنیادی اور عادلانہ اصلاحات کیں جن کی گردِ راہ کو بھی عقل کا کاروانِ تیز گام آج تک نہیں پہنچ سکا ،لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ موجودہ دور میں سیاست ومعاشیات کے علوم کو ایسے خطوط پر مرتب کیا گیا ہے کہ بادی النظر میں وہ بالکل جدید علوم دکھائی دیتے ہیں ،ضروری ہے کہ ہم بھی موجودہ معنی میں ان کو سمجھیں تاکہ اپنے نظریات عہد حاضر کی عقلوں کو سمجھا سکیں ۔اس لیے پہلے ان مضامین کو ان کی موجودہ شکل میں پڑھانے کا انتظام کیا گیا ہے ۔اس کے بعد اسلام کے نظریات کا دوسرے نظریات کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے‘‘( جمال کرم۱/۳۳۴)
ہمارے بعض قارئین کے لیے شاید یہ بات نئی ہو کہ پیر صاحبؒ کے مرتب کردہ نصاب تعلیم میں ایف اور بی اے کی سطح پر معاشیات اور سیاسیات اختیاری کے بجائے بطور لازمی مضامین پڑھائے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طلباء کے لیے معیشت اور سیاست کے جدید نظاموں کا سمجھنا اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ان کا تقابل کرنا آسان ہوجاتاہے۔تعلیم یافتہ طبقے میں تبلیغ کا کام کرنے کے لیے یہ صلاحیت انہیں نسبتاً زیادہ اعتماد اور اعتبار مہیا کرتی ہے۔

اردو اور انگریزی زبانوں کی تدریس

چونکہ اسلام کا تمام علمی سرمایہ عربی زبان میں ہے اس لیے قدیم اور جدید عربی زبان وادب سے واقفیت علماء کے لیے نا گزیر ہے لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ عربی زبان کے بعد بر صغیر کے اہل علم کے لیے اردو زبان بڑی اہمیت کی حامل ہے جو بجا طور پر اس خطے کی زندہ علمی زبان ہے اور شاید یہ مبالغہ نہ ہو کہ عربی کے بعد اسلامی کتب کا سب سے بڑا علمی اور تحقیقی ذخیرہ اردو زبان میں ہی ہے لیکن دینی مدارس کے روایتی نصاب سے ہمارے علماء میں عربی ،اردو اور انگریزی کا جو ذوق پید ہو رہا ہے اس کا حقیقی نقشہ ہمارے ایک بزرگ سید عماد الدین قادری نے اپنے مکتوب میں ان الفاظ میں کھینچا ہے :
’’ہمارے وارثان منبر ومحراب!! انگریزی سن کر ہی جن کی اکثریت کو غسل شرعی واجب ہو جاتاہے ،عربی اتنی ہی سیکھتے ہیں جو شاید جنت کی حوریں بولتی ہوں تو ہوں، کیونکہ منتہائے نظر وہی مقام ہے اور اسی غرض سے ہے ،اور رہی اردو،ذرا کسی دارالعلوم میں باوضو ہی سہی ،جانے کی ہمت تو کر لیجئے، اردو کا جنازہ آپ کو دارالافتاء کے باہر ہی رکھا ہوا بے کفن ملے گا۔(ماہنامہ الشریعہ ،گوجرانوالہ بابت ماہ جولائی، ص:۳۹)
محترم قادری صاحب کے الفاظ سخت ضرور ہیں لیکن حقیقت کے قریب ہیں فتوی نویسی میں ’’کیا فرماتے ہیں علماء کرام بیچ اس مسئلہ کے ‘‘جیسے فقروں کا طویل عرصہ سے مسلسل استعمال ہمارے علما کی ’’اردو دانی ‘‘کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پیر صاحب چونکہ خود اردو زبان کے صاحب طرز ادیب تھے اور اردو زبان وادب کی اہمیت سے آگاہ تھے نیز طبقہ علماء سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علماء کی اس کمزوری کا احساس رکھتے تھے اس پر انھوں نے اپنے مجوزہ نصاب میں اردو زبان کی تدریس کو خصوصی اہمیت دی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ علماء کے لیے انگریزی زبان میں مہارت کو انتہائی اہم سمجھتے تھے۔چنانچہ فرماتے ہیں:
’’یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریزی زبان ایک علمی اور بین الاقوامی زبان ہے ایک عالم دین کے لیے اس پر عبور حاصل کرنا متعدد افادیتوں کا حامل ہے اس لئے ابتداء سے آخر تک اس کا سلسلہ تعلیم جاری رکھا گیا ہے ۔تاکہ طلباء نصا ب سے فراغت پانے کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بھی ہو جائیں‘‘۔(جمال کرم۱/۳۳۴)
گلوبلائزیشن کے موجودہ دور میں انگریزی زبا ن کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے آج سے نصف صدی قبل انگریزی جیسی بین الاقوامی زبان کی تعلیم کو اپنے نصاب تعلیم میں لازمی مضمون کے طور پر داخل کرنا پیر صاحبؒ کی دور اندیشی اور بصیرت کا منہ بولتاثبوت ہے۔

علوم القرآن والحدیث 

اسلام کے فکری سرچشمے دو ہیں۔ایک قرآن دوسر ا سنت ،اس لیے منطقی طورپر نظام تعلیم کی اساس بھی ا نہی کو ہونا چاہیے۔لیکن مدارس کے نظام تعلیم میں طلباء کو پہلے دیگر علوم پڑ ھا کر ان کا ایک مخصوص مزاج اور ذہنی سانچا بنا دیا جاتاہے اور پھر اس سانچے کی روشنی میں قرآن پڑھایا جاتاہے ۔قرآن کو اصل معیار اور کسوٹی بنانے کی بجائے اس کا مطالعہ فقہی مذاہب اور اقوال فقہاء کی روشنی میں کیا جاتاہے۔اس سے بڑھ کر قرآن پر اور کیا ظلم ہو گا۔حدیث کی صورت حال اس سے بھی افسوس ناک ہے،رفع یدین ،فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجھر جیسے اولی اور خلاف اولی مسائل پر سال کا اکثر حصہ صرف کرنے کے بعد اجتماعی مسائل سے تعلق رکھنے والی احادیث کی تلاوت کے لیے ایسے طالب علم کو تلاش کیا جاتاہے ،جو روزانہ تیس ،چالیس صفحات کی تیز رفتار تلاوت پر’’ قدرت کاملہ‘‘ رکھتاہو۔اللہ کے رسول ؑ کیا فرماتے ہیں اس سے نہ استاذکوغرض ہے اور نہ طلباء کو ۔ ہمارے ممدوح حضرت پیر کرم شاہ الازہرؒ ی اس حوالے سے اپنے احساس کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’مروجہ نصاب میں علوم اسلامیہ یعنی قرآن حکیم ،حدیث اور اصول فقہ کی تعلیم سے عملی طور پر جو بے اعتنائی روا رکھی ہے وہ باعث ہزار تاسف ہے ،اس کو پورا کرنے پر پوری توجہ دی گئی ہے تاکہ ان مضامین سے طلباء کا سرسری تعارف ہی نہ ہو بلکہ ان کی گہرائیوں تک ان کی رسائی ہو ۔ان علوم میں ان کو مہارت حاصل ہو ،تاکہ ہر لحظہ تغیر پذیر حالات میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اسلام کے ابدی حقائق کو اس طرح پیش کر سکیں کہ موجودہ ذہن انہیں قبول کرنے بلکہ عملی طورپر انہیں اپنا لینے پر مجبور ہو جائے‘‘(جمال کرم ۱/۳۳۳)
دینی مدارس میں ایک آدھ کتاب کے استثنی کے ساتھ حدیث کی تمام کتب دورہ حدیث شریف کے نام سے مخصوص آخری سال پڑھائی جاتی ہیں ۔لیکن پیر صاحب ؒ نے اپنے مجوزہ نصاب میں ابتدائی سالوں سے لے کر آخری سال تک مسلسل حدیث نبویؑ کی تعلیم وتدریس پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے ۔طلباء کی کردار سازی میں حدیث کی ضرورت واہمیت اور مقام کی وضاحت کر تے ہوئے پیر صاحبؒ رقمطراز ہیں:
’’اخلاقی تربیت کی اہمیت کے پیش نظر تیسرے سال (نو ترقیم شدہ نصا ب میں دوسرے سال)سے احادیث نبویؑ کی دل پذیر یوں اور درخشانیوں سے چشم قلب وخردروشن کرنے کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق کے ان زرین اصولوں سے بھی روشناس ہوں گے جو بعثت نبویؑ کا مقصد اعلی ہیں‘‘(جمال کرم ۱/۳۳۳)
چنانچہ اربعین نووی دوسرے سال، ریاض الصالحین تیسرے،مشکوۃ چوتھے ،شرح معانی الاثار چھٹے ،مو طا امام مالک ساتویں جبکہ صحیحین ،سنن ابی داود اور جامع ترمذی نویں اور آخری سال کے نصا ب میں شامل ہیں۔ اسی طرح اصول حدیث اور تاریخ حدیث پر کئی کتب مختلف سالوں کے نصاب میں شامل کی گئی ہیں۔
اسی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کے نصاب تعلیم میں قرآن مجید کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔انتسویں اور تیسویں پارے کا حفظ کرنانیز تجوید کے ساتھ تلاوت قرآن کی صلاحیت ہر طالب علم کے لیے لازمی ہے۔اگر چہ تفسیر بیضاوی کے منتخب حصے مختلف سالوں میں داخل نصاب ہیں ،تاہم پورے قرآن کا ترجمہ اور معاصر تفاسیر کی روشنی میں فہم قرآن نصا ب کا لازمی حصہ ہے ۔اس کے علاوہ اصول تفسیر میں الفوز الکبیر ،الاتقان اور تاریخ قرآن جیسے موضوعات بھی نصا ب کا حصہ ہیں۔ اس مختصر جائزے سے یہ واضح ہوتاہے کہ پیر صاحبؒ نے اپنے مرتب کردہ نصاب میں قرآن وسنت کو پوری اہمیت دی ہے۔

تاریخ

اہل دانش کے نز دیک تاریخ کی مثال جھیل کے صاف اور پاک پانی جیسی ہے جس میں قومیں اپنی ماضی کا عکس دیکھتی ہیں اور پھر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ قوموں کا تابناک ماضی ہی ان کو روشن مستقبل کے لیے تگ وتاز پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے یہ بات درست ہی معلوم ہوتی ہے کہ’’ جس قوم کاکوئی ماضی نہیں اس کا کوئی مستقبل نہیں ‘‘علامہ اقبال کا نوجوانوں سے یہ مطالبہ اسی پس منظر میں تھا:
کبھی اے نوجواں مسلم !تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیاگردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹاہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالاہے آغوش محبت میں 
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِدارا
اپنے اسلاف کے کارناموں سے بے بہرہ رہ کر کوئی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی ۔مسلمانوں کے لیے تو سیرت رسول ﷺاور سیرت صحابہؓوخلفاء راشدین سے واقف ہوئے بغیر اسلام کی عملی تعبیر وتشریح کاتصور ہی محال ہے،اور پھر پوری اسلامی تاریخ کو جس طرح روایت اور درایت کے اصول پر پرکھ کر ہر قسم کے خرافات اور قصے کہانیوں سے پاک کرکے خالص ،علمی ،تحقیقی اور عقلی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے ، تحقیق وتنقید کے اس اسلوب نے اسلامی تاریخ کی قدروقیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ علم اسماء الرجال جیسا فن تو خالصتا مسلمانوں کی ہی ایجاد ہے تاریخ میں جس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔
درس نظامی کے روایتی نصاب میں تاریخ سے جس بے اعتنائی کامظاہرہ کیا گیا ہے محترم پیر صاحبؒ نے کسی حد تک اس کا ازالہ کرنے کی سعی فرمائی ہے ۔چنانچہ ان کے رائج نصاب میں تاریخ قرآن ،تاریخ حدیث کے علاوہ سال بہ سال پوری اسلامی تاریخ کا مطالعہ شامل ہے ۔سیرت نبوی ﷺ کے تمام ادوار کا مفصل مطالعہ نصاب کا اہم حصہ ہے ۔زیر تبصرہ نصاب کی یہ ایسی خصوصیت ہے جس نے اس کو تمام وفاقوں کے نصاب سے انفرادی شان عطاکی ہے۔

ضیاء الامت کی کاوشوں کے نتائج واثرات

دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں جس نظام تعلیم کا تجربہ کیا گیا وہ بالکل نیا اور انفرادی توعیت کا تھا۔پروفیسر حافظ احمد بخش صاحب کا یہ دعوی بجا طور پر درست ہے :
’’یہ ایک تاریخی اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ ہی برصغیر پاک وہند میں وہ پہلا ادارہ ہے جس کے سربراہ نے سب سے پہلے قدیم اور جدید علوم کو یکجا کرکے نصاب کا ایسا حسین گلدستہ قوم کی نذر کیا جس کی مہک پھیلتے پھیلتے آفاق کی وسعتوں میں پہنچ گئی اور نہ صرف پورے پاکستان بلکہ بنگلہ دیش بلکہ یورپ کے مختلف ممالک میں بھی یہ دانش گاہ مختلف واسطوں سے اسلام کا فیضان پہنچا رہی ہے‘‘۔ (جمال کرم،۱/۳۳۸)
لیکن ابتدائی سالوں میں صورت حال قطعا قابل رشک نہ تھی نئے نظام تعلیم کی تنفیذ میں پیر صاحبؒ کو جن مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور پھر آپ نے ان مشکلات کا جس خندہ پیشانی ،استقامت اور مستقل مزاجی سے سامنا کیا اس کی بعض جھلکیاں ’’جمال کرم ‘‘ کی پہلی جلد میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔تاہم جوں جوں وقت گزرتاگیا دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کا نظام تعلیم لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا گیا اور آج تقریبا نصف صدی بعد، جو کسی بھی علمی تحریک کے لیے زیادہ مدت نہیں ہے ،دارالعلوم محمدیہ غوثیہ ایک ایسے علمی اور فکری مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے ذیلی اداروں کی تعداد سو سے زائدہے جبکہ یورپی ممالک اور دوسرے ملکوں میں دارالعلوم کی ذیلی شاخوں کی حیثیت سے کام کرنے والے ادارے اس کے علاوہ ہیں۔
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ سے فارع التحصیل فضلا کی قومی اور عالمی سطح پر دعوتی خدما ت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پیر صاحبؒ نے جس شجر سایہ دار کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی تھی وہ کاروان نہ تو رکا ہے اور نہ ہی فکر ی جمود کا شکار ہوا بلکہ ایک ایسی علمی تحریک کا روپ دھار چکا ہے جس کے تجربات سے استفادہ کرنا دینی مدارس کے ارباب دانش کی اہم ضرورت اور حالات کا تقاضا ہے۔ دینی اور عصر ی تعلیم کے حسین امتزاج پرمشتمل اس نصاب تعلیم ہی کا یہ ثمرہ ہے کہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کے فضلا اس وقت ،مساجد ،مدارس ،افواج پاکستان ،سکول ،کالج،جامعات اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اعلی عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔دارالعلوم کے فضلا کی علمی فکر ی اور ملی خدمات ایک مستقل مضمون کی متقاضی ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے ۔

تجاویز و گزارشات 

دارالعلوم کے نصاب تعلیم میں وقتافوقتا ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ نصاب کبھی بھی جمود کا شکار نہیں ہوا اور اس کے موسس اعلی نے اپنے علمی ورثاکے لیے عملی مثال قائم کی ہے کہ وہ حالات اور ضرورتوں کے مطابق نصاب میں مناسب تبدیلیوں سے گریز نہ کریں ۔اس پس منظر میں ہم دارالعلوم کی موجودہ نصاب کمیٹی سے چند گزارشات کریں گے ۔ 
۱۔ عبا سی دور میں یونانی فلسفہ کے اثرات سے امت کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلمان اہل علم اور متکلمین نے شاندار خدمات سر انجام دیں یہاں تک کہ یہ فتنہ فناہوگیا۔ آج پھر یونانی فلسفہ کی مانند مغربی فلسفہ و تہذیب چیلنج بن کر سامنے آئی ہے اس لیے مغربی فکر وفلسفہ کا تفصیلی تعارف اور جائزہ عصر حاضر کا اہم موضوع بن گیا ہے ۔ اس وقت اسلامی فکر کا براہ راست تصادم اور ٹکراو بھی مغربی فکروفلسفہ سے ہے اس لئے ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ معتزلہ ،جبریہ ،قدریہ اور دیگر کلامی فرقوں اور ان کے ائمہ کوکچھ وقت کے لیے معاف کر دیا جائے ۔ مناسب یہ ہوگا کہ تقابل ادیان کی طرز رپر مغربی فکر وفلسفہ کو شامل نصاب کیا جائے ،فرائیڈ ،ڈارون ،مالتھس ،آئن سٹائن ایرک فرام ،ایڈلر ،سارتر اور دیگر مغربی علماء کے افکار کا جائزہ لیا جائے کیونکہ انہی اہل علم کے نظریات مغربی تہذیب کے اصل سر چشمے ہیں ۔نوجوان نسل کومغرب کے فکر ی اثرات سے بچانے کے لیے اس میدان میں بھی دارالعلوم کے قائدانہ کردار کی ضرورت ہے۔ 
۲۔ ہمارے ہاں مدارس میں زیادہ زور فقہ اور اصول فقہ کی تدریس پر دیا جاتاہے اساتذہ کرام اپنی ساری ذہنی صلاحیتں دیگر فقہی مذاہب پر فقہ حنفی کی فوقیت ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا فقہ شافعی یا کسی دوسری فقہ کے عالمی سطح پر غلبے کا خطرہ ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دیگر فقہی مذاہب کی پر زور تردید بلکہ مذمت کا کیا فائدہ ہے؟۔اس سلسلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر آئمہ اربعہ کے فقہی مذاہب کے تعارفی مطالعہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قانون (فقہ) کا ملکی اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ تقابلی مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے ،تاکہ اسلامی قانون کی آفاقیت اور ابدیت کو مدلل اندز میں پیش کیا جا سکے۔اس کے بغیر نہ فقہ کی تدریس کا حق ادا ہوسکتاہے اور نہ جدید فکری چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکتاہے ۔اس لیے مناسب یہ ہے کہ اقوام متحدہ (UNO) کے چارٹر ’’بنیادی انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ کو جو اس وقت عالمی قانون کا درجہ رکھتا ہے،شامل نصاب کیا جائے اور پھر تقابلی مطالعہ کے بعد اسلامی حدو د وتعزیرات اور عائلی قوانین پر ہونے والے اعتراضات کا علمی اور تحقیقی انداز میں جواب دیا جائے ۔
۳۔اگر چہ دارالعلوم میں زیر تدریس نصاب تعلیم میں فہم قرآن مجید پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاہم اس پہلو پر ابھی مزید سوچ بچار کی ضرورت ہے ،بالخصوص قرآن مجید کی آیاتِ احکام خصوصی توجہ کی مستحق ہیں ۔اس لیے اگر آیاتِ احکام کو ایک خصوصی پرچے کے طور پر شامل نصاب کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

اردو زبان کی ضرورت و اہمیت اور دینی مدارس کے طلبہ

مولانا مفتی محمد اصغر

ملک کے معروف معیاری جرائد ورسائل میں ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں مختلف الخیال لوگوں کے آرا وافکار اورجدید افکار ونظریات رکھنے والے ارباب علم ودانش اور مفکرین کے مضامین ومقالات شائع ہوتے ہیں جس سے ان کے خیالات سے آگاہی ہوتی ہے اورغور وفکر کاموقع ملتا ہے۔ دوسروں کا نقطہ نظر سامنے آتاہے اور ان کے موقف کی کمزوری یابرتری ثابت ہوتی ہے۔ علمی دنیا میں اس کی جتنی ضرورت ہے، شاید ہی کسی صاحب علم کواس سے اختلاف ہو ۔
’’الشریعہ ‘‘میں وقتاًفوقتاًدینی مدارس کے مسائل کوزیر بحث لایاجاتاہے اور نظام تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی تعلیم وتربیت سے متعلق ماہرین تعلیم کی آرا پیش کی جاتی ہیں۔ گزشتہ چند شماروں میں دینی مدارس کے نظام تعلیم، اساتذہ اورطلبہ کی تعلیم و تربیت سے متعلق مسائل اور ان کے حل پر متعدد اصحاب علم ودانش کے خیالات پڑھنے کاموقع ملا اور دینی مدارس کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ یہ مفید سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہنا چاہیے۔
بندہ دینی مدارس کے طلبہ کی اردودانی اور اردو زبا ن وادب میں کمزوری سے متعلق ارباب مدارس کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ کی ایک معتد بہ تعداد کی اردو بول چال کیسی ہے اور اردو گفتگو کااندازہ کیا ہے، اس کی ایک جھلک ذیل کے واقعات میں ملاحظہ فرمائیں:
معروف اسلامی اسکالر اورمتعددکتابوں کے مصنف ڈاکٹر قاری فیوض الرحمن صاحب سے بندہ نے یہ واقعہ خود سنا۔ فرماتے ہیں:
’’ایک دن میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیرعلی شاہ صاحب سے ملنے کے لیے ان کے پاس دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک گیا۔ حضرت اس وقت دارالحدیث میں دورۂ حدیث کے طلبہ کوسبق پڑھارہے تھے۔ جب گیٹ کراس کرکے اندر پہنچا تومیں نے ایک طالب علم سے پوچھا کہ ڈاکٹر شیرعلی شاہ صاحب کہاں ہیں؟اس طالب علم نے جواب دیا کہ ’’وہ دارالحدیث پڑھتی ہے ‘‘۔ میں حیران ہوا کہ اب اس عمر میں حضرت کو پڑھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے۔ میں دارالحدیث میں پہنچا تو دیکھاکہ حضرت ،طلبہ کوبخاری شریف کاسبق پڑھارہے ہیں ۔‘‘
ایک اورواقعہ خود بند ہ کے ساتھ پیش آیا۔ دوتین سال قبل کی بات ہے کہ بندہ مغر ب کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلا توایک منتہی طالب علم (جو ماشاء اللہ اپنے رقبے کے طول وعرض کے اعتبار سے بڑے وسیع واقع ہوئے تھے) نے سلام کیا۔ بندہ نے ابھی سلام کاجواب دیاہی تھا کہ کہنے لگا: ’’استادجی !تومجھے بہت اچھی لگتی ہے‘‘۔ بندہ نے متعجبانہ اور سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا توکہنے لگا کہ ’’تونے ہم کو بہت اچھا’’ کنز‘‘ پڑھاتی تھی ‘‘یہ دوواقعے توبطور نمونہ لکھ دیے ہیں ،ورنہ دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے احباب کواس طرح کے کلمات واحوال سے روزانہ کسی نہ کسی طرح واسطہ پڑتا رہتا ہے، ورنہ کم ازکم طلبہ سے سبق سننے کے دوران یاان سے گفتگو کے وقت توضرور موقع مل ہی جاتاہے۔ صرف کسی خاص علاقے اوروہاں کے باشندگان کی بات نہیں، بلکہ ملک کے دوسرے مختلف حصوں سے آنے والے طلبہ سے بھی اردو گفتگو کے وقت ان کی اردوزبان کی غلطیاں ایک ایک کرکے واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگرلفظی اورزبان کی غلطی نہ بھی ہو، تب بھی کم از کم مادری زبان کا لب ولہجہ اردو گفتگو میں ضرور شامل ہو جاتا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ متکلم کی مادری زبان کیاہے اورکس علاقے کا رہنے والاہے ۔
ہمارے اکثردینی مدارس میں درس نظامی کاکورس اگرچہ اردوزبان میں پڑھایاجاتاہے،لیکن بطور زبا ن کے اردونہیں پڑھاتی ہے اورنہ اس کی طرف ارباب مدارس کی توجہ ہے۔ اس لیے فراغت کے بعد بھی ہمارے طلبہ کی اردوبول چال، تقریر اور گفتگومیں صریح غلطیاں ہوتی ہیں جواہل مدارس کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔ اس وقت اردوزبان کی ضرورت واہمیت سے کوئی بھی ذی فہم انسان انکارنہیں کرسکتا۔ اس کااثرورسوخ پوری دنیا میں دن بدن پھیل رہاہے، بلکہ بہت سے علوم اردو میں منتقل ہوچکے ہیں اور کیے جارہے ہیں۔ ہماری ملکی زبان اردوہونے کے ناتے سے اور شرعی لحاظ سے بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سب اردوزبان پرمکمل طور پر عبور حاصل کریں، اس کو ترقی دیں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ (جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کے تقریباً تمام شعبوں کی خدمت سے نوازا تھا) انہوں نے اردوزبا ن کی شرعی حیثیت پر ایک وقیع مقالہ تحریر فرمایا تھا۔ حضرت نے دنیامیں رائج مختلف زبانوں کاشرعی لحاظ سے جائزہ لیا، ان میں سے عربی زبان کی مختلف جہات سے فوقیت وبرتریت اورفضیلت ثابت فرمائی اور واقعتاً عربی زبان مختلف حوالوں سے ہے بھی فضائل کامجموعہ۔ اس کی فضیلت ایک مسلمان کے لیے تواتنی ہی کافی ہے کہ یہ عربی زبان قرآن کی اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے اوراہل جنت کی زبان ہے۔ عربی کے بعد دوسرے درجے میں فارسی زبان ہے کیونکہ فصاحت میں فارسی عربی کے قریب ترہے اور اشرف اللغات ہے۔ عربی سے مناسبت کی وجہ سے فارسی کو فضیلت حاصل ہے، حتیٰ کہ ایک وقت میں توحضرت امام اعظم ؒ فارسی میں قراء ت کوجائز قرار دیتے تھے، اگرچہ بعدمیں رجوع فرما لیا تھا۔ اور دینی علوم کا بہت سا ذخیرہ بھی فارسی زبان میں ہے، خاص طورپر علم تصوف کااکثر وبیشتر حصہ توفارسی زبان میں ہی ہے۔ تیسرے درجے میں حضرت تھانوی ؒ نے اردو زبان کو بیان کیا ہے۔ اردوزبان کے بکثرت الفاظ عربی کے ہیں اور عربی اوراردوکے الفاظ تقریباًملتے جلتے ہیں۔
حضرت تھانوی ؒ نے اردوزبان کی تین فضیلتیں بیان کی ہیں۔
۱۔اردوکوعربی اورفارسی سے جزئیت کی مناسبت حاصل ہے ،کہ ان کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں۔
۲۔علوم دینیہ بالخصوص تصوف صحیح ومقبول کاذخیرہ اردو میں ہے جس کو علما ومشائخ نے صدیوں کی محنت اورمشقت سے جمع فرمایاہے۔
۳۔ اردو کا سلیس اورآسان ہونا۔ جتنی یہ ز بان آسان ہے، شاید ہی اتنی کوئی اورزبان ہو اورقرآنی آیت ’فانما یسرنہ بلسانک لتبشربہ المتقین‘ اور ’فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون‘ سے بھی مشکل زبان کی بہ نسبت آسان زبان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔ 
خاتم المحدثین حضرت مولانا محمد انورشاہ کشمیری ؒ کے بارے میں متعدد حضرات سے سناہے کہ آپ اردوزبان کی اہمیت کے قائل نہیں تھے لیکن جب حضرت تھانوی ؒ کی تفسیر بیان القرآن دیکھی تو فرمایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ اردوزبان شاید علوم سے خالی ہے، لیکن بیان القرآن دیکھنے سے معلو م ہواکہ اردوزبان بھی علوم کاذخیرہ ہے۔
حضرت تھانوی ؒ اردوزبان کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اس وقت اردوزبان کی حفاظت دین کی حفاظت ہے ، اس بنا پر یہ حفاظت حسب استطاعت اورواجب ہوگی، اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اورسستی کرنامعصیت اورموجب مواخذہ آخرت ہوگا۔‘‘ (البلاغ ،۲،۱۷)
ہمارے ہاں چونکہ اکثر مدارس میں اردوزبان بطور نصاب اور زبان کے نہیں پڑھائی جاتی جبکہ عصری تعلیم گاہوں میں اردو زبان بطور نصاب پڑھائی جاتی ہے اور اس پر خوب توجہ دی جاتی ہے، اس لیے مدارس کے طلبہ کے لیے اس میں متعد د مشکلات ہیں۔ اس کے لیے طلبہ کی خدمت میں گزارش ہے کہ جب تک اردوزبان مدارس کے نصاب میں شا مل نہیں کی جاتی، اس وقت تک اپنے طورپر اس کو سیکھنے کی کوشش کریں۔ اردو کے نامور اور معروف ادیبوں کی تحریریں پڑھیں اوراگر موقع میسر ہو توان کی اردو گفتگو کو توجہ سے سنیں اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں۔ اپنی بول چال اور اپنی تقریر وتحریر میں اردو الفاظ سوچ سمجھ کراستعمال کریں، پھرا ن کی خوب عملی مشق کریں۔
اردو ادب پرلکھی جانے والی اچھی کتابوں کااپنے اساتذہ کرام سے انتخاب کرا کے ان کانہ صرف مطالعہ کریں بلکہ بآواز بلند ان کی خواندگی کریں اور ایک دوسرے کو ان کی تحریر پڑھ کرسنائیں۔ بلند آواز سے پڑھتے ہوئے تلفظ کی صحت، لب و لہجہ کی عمدگی اور آوازکے اتارچڑھاؤ کا ضرور خیال رکھیں۔ ہلکے پھلکے اور زور دار جملوں کو پڑھتے وقت بھی آواز میں اتار چڑھاؤ کوظاہر کریں۔ اسی طرح الفاظ کے معانی کے ساتھ آواز کی مناسبت کابھی لحاظ کریں۔
اس مقصدکے لیے ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل وکرم سے یہ ملکہ بھی ہمارے اکابرین کو حاصل ہے۔ ہمارے اکابر میں ایک سے بڑھ کر ایک اردو ادب پر ماہرانہ دسترس رکھنے والے موجود ہیں اور ان کی کتابیں موجود ہیں۔ بالخصوص مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا سید ا بوالحسن ندوی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور موجودہ اکابر میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا زاہدالراشدی، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانامفتی ابو لبابہ، مولانا ابن الحسن عباسی کی کتابیں اور ان کے مضامین و مقالات کو پڑھیں۔ اس سے ان شاء اللہ اردو زبان کی درستی کے ساتھ ساتھ معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔

مغرب اور اسلام کیرن آرمسٹرانگ کی نظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

نامور برطانوی اسکالر کیرن آرمسڑانگ مستشرقین کے جم غفیر میں ان چند استثنائی مثالوں میں سے ایک ہیں جو اسلام سے متعلق حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کی حامل ہیں۔ ۲؍فروری ۲۰۰۸ء کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں انہوں نے اسلام کے بارے میں جن خیالات کااظہارکیا ہے، وہ اسلام کے حوالے سے ان کے اس مبنی برعدل واعتدال موقف کاتسلسل ہیں جس کو وہ گزشتہ کئی برس سے اپنی تصانیف میں پیش کرتی چلی آرہی ہیں۔ اپنے مذکورہ انٹرویو میں موصوفہ نے مغرب میں اسلام سے متعلق غلط تصورات کی موجودگی کا واضح لفظوں میں اعتراف کیاہے۔ اس حقیقت کومس کیرن نے اپنی کتاب Muhammad: a Western Attempt to understand Islam میں پورے تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہاں انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے کہ مغرب میں کس طرح ا بتدا ہی جان بوجھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی رہی ہے اور کس طرح قرطبہ کے ’’مسیحی شہیدوں‘‘ (وہ عیسائی جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی پاداش میں قرطبہ کی اسلامی عدالت کی طرف سے سزاے موت دی گئی تھی) اور قرون وسطیٰ کے داستان سراؤ ں سے لے کر عصرحاضر تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بے بنیاد الزامات واتہامات کی بوچھاڑ کی جاتی رہی ہے۔ موصوفہ کے مطابق قرو ن وسطیٰ کے وہ توہمات جن کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذباللہ) عیاش، کذاب اور تشدد پسند قرار دیا جاتا تھا، ان کے آثار آج بھی مغرب میں آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ آج بھی لوگ ان خیالات پر یقین رکھتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مذہب کودنیاوی کامیابیوں کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی یہ خیال عام ہے کہ اسلام تلوار کادین ہے۔ مغرب میں آج بھی بعض لوگ یہ سن کر حیرا ن ہوتے ہیں کہ مسلمان اسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت یہودی اور عیسائی کرتے ہیں۔ مغرب میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمثیلی حیثیت نے لوگوں کے لیے اس بات کومشکل بنادیاہے کہ وہ آپ کوایک ایسے تاریخی کردارکی شکل میں دیکھیں جو اسی طرح کے سنجیدہ سلوک کامستحق ہے جس کے مستحق نپولین اور اسکندر اعظم تھے۔ کیرن آرمسٹرانگ نے یہ حقائق برسوں قبل منظر عام پرآنے والی اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیے تھے، لیکن اب انہوں نے نائن الیون کے بعد کی بدلی ہوئی صورت حال میں نام نہاد War on Terror کے تناظر میں پھریہی بات دہرائی ہے کہ مغرب میں اسلام سے متعلق غلط تصورات رائج ہیں۔ 
کیرن نے سوفیصد درست کہا ہے۔ مسیحی مغر ب میں اسلام کا غلط تصور اور اسلام دشمن رویہ شروع سے آج تک ایک تسلسل کے ساتھ موجود چلا آ رہا ہے۔ آج کا مغرب اسلام دشمن رویے کو عہد رفتہ کاگڑا مردہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے میں کسی طور حق بجانب نہیں کہلا سکتا۔ کیا ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک اور بعدازاں دیگرمغربی ممالک کے اخبارات میں سرور انبیا کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور پھر خاکے شائع کرنے والے ملعون صحافیوں کا اعلیٰ انعامات کے لیے منتخب کیا جانا اور ابھی کچھ ہی ماہ پیشتر یہودی ومسیحی مصنفین کی طرف سے شان رسالت ماب میں کی گئی ہزرہ سرائیوں کو لفظ بلفظ دہرانے والے ملعون سلمان رشدی کو’’سر‘‘ کا خطاب ملنا اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت نہیں کر رہا کہ مغرب میں آج بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کی مسخ شدہ تصویر ہی کو پذیرائی ملتی ہے اور مغرب آج بھی ہراس چیز کی طرف جھپٹتاہے جس میں اسلام اور پیغمبر اسلام سے متعلق نفرت اور عداوت کا کوئی پہلو نکلتاہو؟
یہ بات تو درست مانی جا سکتی ہے کہ عام اہل مغرب کے اسلام کے بارے میں غلط تصورات، ناقص اورناکافی معلومات اور اصل اسلامی ماخذ سے عدم استفادہ کانتیجہ ہیں، لیکن یہ بات قطعاً خلاف واقعہ ہے کہ عام اہل مغرب کواسلامی معلومات فراہم کرنے والے مستشرقین بھی اکثر وبیشتر اصلی اسلامی مصادر سے بے بہرہ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین کو بالعموم اسلام کے اصلی مصادر تک رسائی حاصل تھی لیکن بمصداق فرمان خداوندی ’’الذین آتینھم الکتاب یعرفونہ کمایعرفون ابناء ھم وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون‘‘ّ (البقرہ ،۱۴۶۔ جن لوگوں ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبرآخرالزمانؑ ) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کوپہچانا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک گروہ حق کوجان بوجھ کر چھپاتاہے) انہوں نے اپنے خصوصی اسلام مخالف اہداف کے پیش نظر اسلامی تصورات کو دانستہ مسخ کرکے پیش کیا۔ مثلاً میڈرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پلاسیوس (Placious) کی تحقیق کے مطابق اٹلی کے مشہور شاعر دانتے (۱۲۶۵ تا ۱۳۲۱ء) نے، جو صرف اٹلی کی نشاۃ ثانیہ کا جد امجد ہی نہیں، یورپ کی نشاۃ ثانیہ کاپیامبر بھی ہے، اپنی شہرۂ آفاق نظم The Divine Comedy میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث معراج، ابن عربی کی ’’فتوحات مکیہ‘‘ اور المصری کے ’’رسالہ الغفران‘‘ سے استفادہ کیاتھا، لیکن ایسے اہم اسلامی مصادر تک رسائی رکھنے والے اس مستشرق شاعر نے اپنے ’’خیالات عالیہ‘‘ میں حضور کو (نعوذباللہ) عیسائیت میں تشتت وافتراق کامجرم قرار دیا، جہنم کے آٹھویں درجے میں مثلہ کردہ زیر عتاب بتایا اور حضرت علیؓ اور حضور کے دیگر اصحاب قدسی صفات کو روتے چلاتے مبتلائے عذاب ظاہر کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ دانتے کی بات پرانی ہے اور اس وقت اہل مغرب کواسلامی مصادر تک کماحقہ رسائی حاصل نہ تھی نیز مغربی اہل قلم صلیبی جنگوں کے تعصبات میں مبتلاتھے، بنابریں وہ اسلام سے متعلق معروضی رویہ اپنانے پر آمادہ نہ ہوسکے اور یہی وجہ ہے کہ جب معروضی تحقیق کاچلن عام ہو ا توخود مغربی اہل قلم نے اپنے پیشرووں کے غیر معروضی اور متعصبانہ رویے کو نشانہ تنقید بنایا، لیکن کیا کیجیے کہ جدید مغربی معروضیت بھی اکثر وبیشتر (استنثا ہر جگہ موجود ہوتا ہے) قدیم غیر معروضیت کی اسیر نظر آتی ہے۔ مثال کے طورپر مشہور مستشرق منٹگمری واٹ جواپنی کتاب Muhammad: Prophet and Statesman میں صلیبی تعصبات کے نتیجے میں عیسائیوں کی طرف سے اسلام پرہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں ہیں، ان کی اپنی معروضیت اور غیر جانبداری کا اندازہ واٹ کی مذ کورہ کتاب ہی میں موجود ان کے ا س ’’تجزیے‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’اسلامی جہاد قدیم عر بوں کے ہاں مروج ڈاکہ زنی اور لوٹ کھسوٹ کے عمل کا تبدیل شدہ نام ہے۔‘‘ گویا یورپ آج بھی قدیم تعصبات میں مبتلاہے۔ نائن الیون کے موقع پر جناب بش کی زبان سے ’’فی البدیہہ‘‘ crusade کے لفظ کانکلنا عیسائی ذہن میں ہنوز صلیبی تعصبات کی موجودگی کاواضح عکاس ہے۔
اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اسلام اور عیسائیت کے پیروکاروں کے مابین ڈائیلاگ کی ضرورت سے انکاری ہیں۔ ایک مسلمان تو ڈائیلاگ سے پہلو تہی کرہی نہیں سکتا،کیونکہ اسلام ہی نے توسب سے پہلے ڈائیلاگ پر زور دیتے ہوئے کہاتھا کہ یااھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ (آل عمران، ۶۴) ’’اے اہل کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔‘‘ ڈائیلاگ کی یہی وہ بنیاد ہے جس کی طرف مس کیرن نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں اشارہ کیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عیسائی، مسلمان اور یہودی، سب کاخدا ایک ہے اور وہ ایک دوسرے کی الہامی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں توپھر ایک دوسرے کی بات کیوں نہیں سن سکتے؟ انہوں نے کہا کہ مذاہب میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ اسلام اس سلسلے میں رہنما کردار اداکرسکتاہے کیونکہ اسلام تمام دیگرمذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔ 
کاش عام مستشرقین یورپ، دیگر مسیحی اہل مغرب اور یہودی بھی مس کیرن کی آواز پر کان دھرتے ہوئے اور ان کی طرح وسعت قلبی کامظاہر ہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی الہامی کتاب اور ان کے پیغمبر سے متعلق احترام کا وہی رویہ اختیار کر سکیں جو ان کی الہامی کتابوں اور پیغمبروں سے متعلق مسلمان رکھتے ہیں۔ کیایہودی اور عیسائی اس وسعت قلبی کا مظاہرہ کریں گے کہ قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کواسی طرح اپنے ایمان کاحصہ بنائیں جس طرح مسلمان تورات وانجیل اور موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے احترام کو اپنے ایمان کاحصہ سمجھتے ہیں؟ توقع اور دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ مغرب سے کیرن جیسی مزید محبت بھری آوازیں اٹھیں اور مغرب اور امریکہ کے ارباب بست وکشاد کویہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فلسفہ درست نہیں ہے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے کہ محروموں کی محرومیاں ختم کی جائیں اور کمزوروں پر ظلم بند کر دیا جائے۔ مس کیرن آرمسٹران! خوف و وحشت اور قتل وخونریزی کی آگ میں بھسم انسانیت آج آپ جیسے محبت کے سفیروں ہی کی راہ تک رہی ہے۔

زنا کی سزا (۱)

محمد عمار خان ناصر

(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب۔)

قرآن مجید میں زنا کی سزا دو مقامات پر بیان ہوئی ہے اور دونوں مقامات بعض اہم سوالات کے حوالے سے تفسیر وحدیث اور فقہ کی معرکہ آرا بحثوں کا موضوع ہیں۔ 
پہلا مقام سورۂ نساء میں ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَإِنْ شَہِدُوْا فَأَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً ۔ وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوْا عَنْہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ۴:۱۵، ۱۶)
’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہوں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو گھروں میں محبوس کر دو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بیان کر دیں۔ اور تم میں سے جو مرد وعورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘
ان میں سے پہلی آیت، جس میں خواتین کے لیے بدکاری کی ایک عبوری سزا بیان کی گئی ہے، اپنے مدعا کے لحاظ سے واضح ہے، البتہ دوسری آیت میں ’واللذان یاتیانہا‘ کا مصداق متعین کرنے کے حوالے سے مفسرین کو الجھن کا سامنا ہے، کیونکہ عربی زبان کی رو سے تثنیہ کا صیغہ دو مردوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مرد وعورت کے لیے بھی۔ مفسرین کے ایک بڑے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد زانی مرد اور عورت ہیں اور پہلی آیت میں گھروں میں محبوس کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد ، جو خواتین کے ساتھ مخصوص ہے، دوسری آیت میں وہ سزا بیان کی گئی ہے جو مرد اور عورت، دونوں کو مشترک طور پر دی جائے گی۔ تاہم آیت اس توجیہ کو قبول نہیں کرتی، اس لیے کہ یہاں ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ اور اس کے بعد ’واللذان یاتیانہا‘ کا اسلوب اپنے متبادر مفہوم کے لحاظ سے اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو تکرار کے بجائے استیناف پر محمول کیا جائے اور دوسری آیت کو بدکاری کی کسی مختلف صورت سے متعلق مانا جائے۔ اس کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ دونوں آیتوں میں بیان کی جانے والی سزا کی نوعیت بھی ایک دوسرے سے مختلف بلکہ معارض ہے، چنانچہ پہلی آیت میں توبہ واصلاح کے امکان کا ذکر کیے بغیر حتمی طور پر خواتین کو گھروں میں محبوس کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دوسرا حکم آ جائے، جبکہ دوسری آیت میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کی ہدایت کی گئی اور اس کے تحقق کی صورت میں زانی مرد اور عورت سے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
دوسری رائے یہ ہے کہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم‘ میں شادی شدہ خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے جبکہ ’واللذان یاتیانہا‘ میں کنوارے زانی اور زانیہ کی۔ اس پر ایک اشکال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’نساء‘ کا لفظ اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے ہر طرح کی خواتین کے لیے عام ہے۔ اسے شادی شدہ خواتین کے ساتھ خاص قرار دینے کے لیے سیاق کلام میں کوئی قرینہ درکار ہے جو یہاں موجود نہیں۔ قرآن مجید میں جن دوسرے مقامات پر، مثال کے طور پر ’للذین یولون من نسائہم‘ (البقرہ ۲۲۶) اور ’الذین یظاہرون منکم من نسائہم‘ (المجادلۃ ۲) میں یہ لفظ ’’بیویوں‘‘ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، وہاں سیاق میں واضح قرائن موجود ہیں۔ دوسرا اشکال یہ ہے کہ یہاں ’نساء‘ کو بیویوں کے معنی میں لینے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کا مضاف الیہ بننے والی ضمیر خطاب یعنی ’کم‘ کا مصداق ان خواتین کے شوہر ہوں، اس لیے کہ ’نساء‘ کے لفظ میں بیویوں کا مفہوم شوہروں کی طرف اضافت ہی سے پیدا ہوسکتا ہے، ورنہ اگر ’کم‘ کا مصداق بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کو مانا جائے ہو تو ’نساء‘ کا مطلب بیویاں نہیں ہو سکتا۔ اس تاویل کو ماننے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں خواتین کو سزا دینے کے حکم کے مخاطب مسلمانوں کے اہل حل عقد نہیں بلکہ انفرادی حیثیت میں ان خواتین کے شوہر قرار پائیں گے، جبکہ ’فاستشہدوا علیہن اربعۃ منکم‘ کی ہدایت اس حکم کو اندرون خانہ اختیار کی جانے والی ایک تدبیر قرار دینے میں مانع ہے، اور اسے صریحاً نظم اجتماعی اور عدالت وقضا سے متعلق کر رہی ہے۔ مذکورہ تاویل پر ایک اور اشکال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر کنوارے زانی کی سزا بیان کرتے ہوئے مرد اور عورت، دونوں کا ذکر کیا گیا ہے تو پہلی آیت میں صرف شادی شدہ خواتین کیوں زیربحث ہیں اور شادی شدہ مردوں کی سزا کیوں بیان نہیں کی گئی؟ 
ایک رائے یہ ہے کہ پہلی آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب بدکاری کے فعل پر چار گواہ میسر ہوں، جبکہ دوسری آیت میں اس صورت کا حکم بیان ہوا ہے جب چار گواہ موجود نہ ہوں۔ یہ بھی ایک غیر متبادر اور الفاظ سے بعید تاویل ہے، اس لیے کہ اگر یہ مقصود ہوتا تو ’فان شہدوا فامسکوہن فی البیوت‘ کے تقابل میں ’وان لم یشہدوا فآذوہما‘ یا ’وان لم یکونوا فآذوہما‘ سے ملتا جلتا کوئی اسلوب اختیار کیا جاتا جو مدعا کے ابلاغ کے پہلو سے زیادہ واضح اور صریح ہوتا۔ موجودہ صورت میں متبادر مفہوم یہ ہے کہ چار گواہوں کی شرط دوسری آیت میں بھی مقدر سمجھی جائے جسے اقتضاے عقلی کے اصول پر واضح ہونے کی بنیاد پر لفظوں میں ذکر نہیں کیا گیا۔ مزید برآں یہ اشکال اس تاویل میں بھی برقرار رہتا ہے کہ پہلی آیت میں خواتین ہی خاص طور پر کیوں زیربحث ہیں اور مردوں کی سزا بیان کرنے سے کیوں گریز کیا گیا ہے؟
ایک اور رائے یہ ہے کہ پہلی آیت صرف زانی خواتین کی سزا بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری آیت صرف مرد زانیوں کی اور یہاں تثنیہ کا صیغہ لانے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ زانی چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کے لیے ایک ہی سزا ہے۔ لیکن اس پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کسی قرینے کے بغیر مجرم کی ازدواجی زندگی کی دو مختلف حالتوں پر تثنیہ کے صیغے کی دلالت غیر واضح ہے۔ مزید یہ کہ اگر مطلقاً ہر طرح کے زانی کے لیے ایک ہی سزا کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا تو اس کے لیے تثنیہ کا صیغہ لانے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس کے بجائے ’والذی یاتیہا‘ یا ’والذین یاتونہا‘ کا معروف اسلوب ہی کافی تھا، جیسا کہ پہلی آیت میں ’واللاتی یاتین‘ کا اسلوب ہر طرح کی زانی عورتوں پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب مقصد دونوں آیتوں میں ایک ہی ہے تو دوسری آیت میں پہلی سے مختلف اسلوب اختیار کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔
بعض مفسرین اس آیت کو زنا سے نہیں بلکہ ہم جنس پرستی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ میں خواتین کی جبکہ ’والذان یاتیانہا‘ میں مردوں کی ہم جنس پرستی کی سزا بیان کی گئی ہے۔ تاہم یہ رائے بھی کئی پہلووں سے محل نظر ہے:
اولاً، ’فاحشۃ‘ کا لفظ اگرچہ اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے زنا، لواطت اور خواتین کی ہم جنس پرستی، سب کے لیے بولا جا سکتا ہے، لیکن کسی زبان کے عرف میں الفاظ کا استعمال ان میں ایک نوع کی تخصیص پیدا کر دیتا ہے اور جب وہ لفظ بولا جائے تو اس کا وہی متبادر مفہوم مراد ہوتا ہے جس میں وہ بالعموم استعمال ہوتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ پایا جائے۔ ’فاحشۃ‘ کا لفظ اور خاص طور پر ’اتی الفاحشۃ‘ کی ترکیب بھی عربی زبان میں زنا کے لیے معروف ہے، اس لیے جب تک کوئی قرینہ نہ پایا جائے، اس کا کوئی دوسرا مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ ’الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ‘ (نساء، ۱۹) اور ’من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ‘ (الاحزاب، ۳۰) میں یہ تعبیر زنا ہی کے لیے استعمال ہوئی ہے، کیونکہ اس کے برخلاف کوئی قرینہ موجود نہیں۔ البتہ اعراف ۷۹ اور نمل ۵۳ میں یہی ترکیب لواطت کے مفہوم میں استعمال ہوئی ہے اور دونوں جگہ ’ما سبقکم بہا من احد من العالمین‘ اور ’انکم لتاتون الرجال‘ کا واضح قرینہ موجود ہے۔ 
اگر ’الفاحشۃ‘ کا مصداق زنا ہے تو پھر ’والذان یاتیانہا‘ کو بھی لازماً زنا ہی سے متعلق ماننا ہوگا، کیونکہ ’یاتیانہا‘ میں ضمیر منصوب پچھلی آیت میں مذکور اسی ’الفاحشۃ‘ کی طرف لوٹ رہی ہے، چنانچہ اس کا مفہوم بھی زنا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اگر قرآن کا مدعا ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ سے زنا کی جبکہ ’والذان یاتیانہا‘ سے بدکاری کی کسی دوسری صورت کی سزا بیان کرنا ہوتا تو لازم تھا کہ اس کے لیے کوئی زائد قرینہ کلام، مثال کے طور پر ’والذان یاتیانہا من رجالکم فاذوہما‘ کلام میں رکھا جاتا۔ اس اضافی قرینے کے بغیر ’یاتیانہا‘ میں مذکور بدکاری کو ’یاتین الفاحشۃ‘ میں ذکر ہونے والی بدکاری سے کسی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ثانیاً، ’والذان یاتیانہا‘ کی تعبیر عربیت کی رو سے لواطت کے لیے کسی طرح موزوں نہیں، اس لیے کہ اس میں فعل کی نسبت فریقین کی طرف کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ زنا کے ارتکاب کی نسبت تو مرد اور عورت، دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے، لیکن لواطت میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں قوم لوط کا جرم جہاں بھی بیان کیا گیا ہے، وہاں ’تاتون الرجال‘ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے جس میں فعل کی نسبت ایک ہی فریق کی طرف کی گئی ہے۔ 
ثالثاً، جرم اور سزا کے مابین مناسبت بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس ہدایت کو زنا سے متعلق مانا جائے۔ اگر اس تدبیر سے مقصود ہم جنسی پرستی کا سدباب تھا تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ایسی خواتین کو باہمی میل ملاقات سے روک دیا جائے، جبکہ ’امسکوہن فی البیوت‘ کی تعبیر انھیں علی الاطلاق گھروں میں محبوس کر دینے کو بیان کرتی ہے اور یہ بات ہم جنس پرستی کے بجائے زنا کے سدباب کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ مزید برآں قرآن مجید نے اس جرم کے اثبات کے لیے چار گواہ طلب کرنے کی بات کی ہے جس سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت سے متعلق قرار دے رہا ہے، جبکہ خواتین کی ہم جنس پرستی کے سدباب کے لیے اس اہتمام کی ضرورت نہیں۔ اگر دو خواتین اس عادت میں مبتلا ہیں تو انھیں عدالت میں پیش کرنے اور باقاعدہ مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ کو یہ ہدایت دینا کافی ہے کہ وہ ان کے باہمی میل جول کو روک دیں۔
رابعاً، قرآن مجید نے یہاں ’حتی یجعل اللہ لہن سبیلا‘ سے واضح کیا ہے کہ یہ ایک عبوری سزا ہے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد جب زنا کی حتمی سزا بیان کی تو اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا‘۔ آپ کے اس ارشاد سے بھی واضح ہے کہ زیر بحث آیت میں زنا ہی زیر بحث ہے۔
خامساً، اس رائے پر مولانا مودودی کا یہ تبصرہ بھی بالکل برمحل ہے کہ ’’قرآن انسانی زندگی کے لیے قانون واخلاق کی شاہراہ بناتا ہے اور انھی مسائل سے بحث کرتا ہے جو شاہراہ پرپیش آتے ہیں۔ رہیں گلیاں اور پگڈنڈیاں تو ان کی طرف توجہ کرنا اور ان پر پیش آنے والے ضمنی مسائل سے بحث کرنا کلام شاہانہ کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہے۔ ایسی چیزوں کو اس نے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد نبوت کے بعد جب یہ سوال پیدا ہوا کہ مرد اور مرد کے ناجائز تعلق پر کیا سزا دی جائے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی یہ نہ سمجھا کہ سورۂ نساء کی اس آیت میں اس کا حکم موجود ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ۱/۳۳۲، ۳۳۳)
مذکورہ تمام توجیہات اور ان پر وارد ہونے والے اشکالات کے تناظر میں قاضی ابن العربی نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’ہذہ معضلۃ فی الآیات لم اجد من یعرفہا‘ (احکام القرآن، ۱/۴۵۷) یعنی یہ ایک بے حد مشکل آیت ہے اور مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کا مطلب جانتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے حوالے سے مختلف تفسیری امکانات کا جائزہ لینے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور متاخرین کے ہاں بھی اس ضمن میں بعض نئی آرا سامنے آئی ہیں۔
صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ نساء کی مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت اس صورت کو بیان کرتی ہے جب زنا کی مرتکب عورت کا تعلق مسلمانوں سے جبکہ مرد کا تعلق کسی غیر مسلم گروہ سے ہو، جبکہ دوسری آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب دونوں مسلمان اور اسلامی ریاست کے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوں۔ دوسری صورت میں مرتکبین کو توبہ واصلاح کا موقع دینے جبکہ پہلی صورت میں خواتین کو اس طرح کا کوئی موقع دیے بغیر تامرگ محبوس کر دینے کی وجہ مولاناکی رائے میںیہ تھی کہ ’’دوسری صورت میں تو دونوں فریق اسلامی معاشرے کے دباؤ میں ہیں، ان کے رویے میں جو تبدیلی ہوگی وہ سب کے سامنے ہوگی۔ نیز ان کے اثرات اور وسائل معلوم ومعین ہیں، ان کے لیے بہرحال اپنے خاندان اور قبیلے سے بے نیاز ہو کر کوئی اقدام ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہوگا۔ لیکن پہلی صورت میں مرد، جو اصل جرم میں شریک غالب کی حیثیت رکھتا ہے، مسلمانوں کے معاشرہ کے دباؤ سے بالکل آزاد ہے۔ نہ اس کے رویے کا کچھ پتہ، نہ اس کے عزائم کا کچھ اندازہ، نہ اس کے اثرات ووسائل کے حدود معلوم ومعین۔ ایسی حالت میں اگر عورت کو یہ موقع دے دیا جاتا کہ توبہ کے بعد اس سے درگزر کی جائے تو یہ بات نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتی تھی۔ اول تو مرد کے رویہ کو نظر انداز کر کے عورت کی توبہ واصلاح کا صحیح اندازہ ہی ممکن نہیں ہے اور ہو بھی تو جب مرد بالکل قابو سے باہر اور مطلق العنان ہے تو اغوا، فرار اور قتل وخون کے امکانات کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس پہلو سے اس میں احتیاط کی شدت ملحوظ ہے۔‘‘ (تدبر قرآن، ۲/۲۶۵)
مولانا اصلاحی کی اس رائے پر ایک بڑا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زنا کے واقعات میں جتنا امکان خاتون کے مسلمان جبکہ مرد کے غیر مسلم ہونے کا پایا جاتا تھا، اتنا ہی اس کے برعکس صورت کے پائے جانے کا بھی موجود تھا، لیکن قرآن مجید نے اس کو سرے سے موضوع ہی نہیں بنایا۔ مولانا کی رائے کے مطابق قرآن مجید نے دوسری آیت میں زانی مرد وعورت کو اذیت دینے اور انھیں توبہ واصلاح پر آمادہ کرنے کی جو ہدایت دی ہے، اس کاموثر ہونا اس امرپر منحصر تھا کہ دونوں مسلمان معاشرے کے افراد ہوں، جبکہ مرد کے کسی غیر مسلم گروہ کا فرد ہونے کی صورت میں اس تدبیر کاموثر ہونا مخدوش تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگر مسلمانوں کے لیے اپنی خواتین کو توبہ واصلاح کا موقع دینا ممکن نہیں تھا اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ انھیں گھروں میں محبوس کر دیا جائے تو ظاہر ہے کہ مردوں کے معاملے میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کا خطرہ مول لینا بدرجہ اولیٰ ممکن نہیں تھا۔ یہ صورت زیادہ اعتنا کی مستحق تھی اور تقاضا کرتی تھی کہ زانی مرد کے مسلمان جبکہ عورت کے غیر مسلم ہونے کی صورت میں بھی متعین ہدایات دی جاتیں اور بتایا جاتا کہ ایسے مرد کو زنا سے روکنے کے لیے اس پر کس طرح کی قدغنیں عائد کی جائیں۔ تاہم قرآن نے ایسا نہیں کیا جس کی کوئی وجہ، مولانا اصلاحی کی بیان کردہ صورت واقعہ کے لحاظ سے، سمجھ میں نہیں آتی۔
مولانا نے جو صورت واقعہ فرض کی ہے، وہ بھی حقیقت سے دور دکھائی دیتی ہے۔ اول تو سب کے سب غیر مسلم گروہ ایسے نہیں تھے جو ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوں، کیونکہ یہود کے بیشتر قبائل کا مسلمانوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ تھا اور ان میں سے بعض قبائل مدینہ کے حدود میں آباد تھے۔ چنانچہ خواتین کو محبوس کر دینے کی تدبیر کا محرک اگر وہی ہوتا جو مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے تو دونوں طرح کے گروہوں میں فرق کیا جانا ضروری تھا، جبکہ قرآن مجید کا بیان بالکل مطلق ہے۔ جہاں تک یہود کے علاوہ مدینہ کے اطراف میں آباد غیر مسلم قبائل کا تعلق ہے تو ان کے مردوں کا مدینہ کی خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا کوئی پائیدار تعلق قائم کرنے کا امکان قبائلی معاشرت میں بہت کم تھا۔ یاری آشنائی کا تعلق بالعموم ایک ہی علاقے میں رہنے اور آپس میں عمومی میل جول رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے مابین استوار ہوتا ہے ، جبکہ الگ الگ قبیلوں اور مقامات سکونت (localities) سے تعلق رکھنے والے افراد میں ایسا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اس طرح کے واقعات کی تعداد اتنی نہیں ہو سکتی کہ اسے باقاعدہ قانون کا موضوع بنانا پڑے۔ بالفرض ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر کسی مجرم کے خلاف کوئی اقدام کرنا مشکل ہوتا تو بھی خود مدینہ کے حدود کے اندر بے بسی کی ایسی کوئی فضا موجود نہیں تھی کہ ایسے مجرموں کی آمد ورفت اور آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی قدغن عائد نہ کی جا سکتی۔ عورت کے لیے توبہ واصلاح کے امکان یا اس کے رویے میں تبدیلی کا اندازہ کرنے میں مرد کے غیر مسلم ہونے کو مانع قرار دینا بھی قابل فہم نہیں، کیونکہ خاتون کا تعلق بہرحال مسلمانوں ہی کے گروہ سے تھا اور قبائلی معاشرت میں نہ تو ایسے آزادانہ مواقع اور امکانات ہوتے ہیں اور نہ افراد، بالخصوص خواتین کو اتنی آزادی حاصل ہوتی ہے کہ معاشرہ ان کی نگرانی اور محاسبہ سے عاجز ہو جائے۔ 
جناب جاوید احمد غامدی نے اس آیت کی تاویل یہ بیان کی ہے کہ یہ زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبے میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طورپر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے۔ یہ مجرم دو طرح کے تھے: ایک وہ پیشہ ور بدکار عورتیں جن کے لیے زنا شب وروز کا شغل تھا، اور دوسرے وہ مرد وعورت جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ان کی رائے میں قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر ان میں سے پہلی صورت کو ’مسافحین‘ اور ’مسافحات‘ جبکہ دوسری صورت کو ’متخذی اخدان‘ اور ’متخذات اخدان‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ (برہان، ۱۲۵، ۱۲۶)
ہماری رائے میں آیت کی یہ تاویل درپیش الجھن کو بظاہر حل کر دیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ اور ’واللذان یاتیانہا‘ میں اسم موصول کا صلہ فعل مضارع کی صورت میں لانے کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، وہ عربی زبان میں کسی فعل کے نفس وقوع کے بیان کے لیے بھی آ سکتا ہے اور کسی عادت اور معمول کو بیان کرنے کے لیے بھی، چنانچہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ کا ترجمہ ’’وہ عورتیں جو بدکاری کی مرتکب ہوں‘‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’’وہ عورتیں جو بدکاری کیا کرتی ہیں‘‘ بھی۔ سابق مفسرین نے اس کو پہلے مفہوم پر محمول کرتے ہوئے آیت کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں جتنی مختلف تاویلیں ممکن تھیں، ان سب کی نشان دہی کی ہے لیکن، جیسا کہ ہم تفصیل سے واضح کر چکے ہیں، ان میں سے ہر تاویل پر وزنی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ مولانااصلاحی نے اگرچہ دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے، تاہم انھوں نے دونوں آیتوں میں جو فرق متعین کیا ہے، وہ تشفی بخش نہیں۔ ان تمام آرا کے مقابلے میں غامدی صاحب کی تاویل دو پہلووں سے قرین قیاس لگتی ہے:
ایک یہ کہ ان آیات میں زنا کے عادی مجرموں کا زیر بحث ہونا خود آیات کے داخلی قرائن سے بھی واضح ہوتا ہے، چنانچہ دوسری آیت میں زنا کے مرتکب مرد وعورت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ واصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کیا جائے، جس سے واضح ہے کہ ان دونوں کے مابین یاری آشنائی کا تعلق تھا، ورنہ اگر یہ کسی اتفاقی صورت کا ذکر ہوتا تو انھیں سزا دینے کے بعد ان کی مزید نگرانی کرنے اور توبہ واصلاح کی صورت میں درگزر کی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ان آیات کے ساتھ متصل اگلی آیات بھی، جن میں قرآن مجید نے وقتی جذبات کے تحت گناہ کے مرتکب ہونے والوں اور اسے ایک عادت بنا لینے والوں کے مابین فرق کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ کسی گناہ کو معمول بنا لینے والوں کے لیے توبہ کی قبولیت کا امکان کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے، اسی بات کو واضح کرتی ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:
وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوْا عَنْہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً ۔ إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَأُولٰءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً ۔ وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّءَاتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُولٰءِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً (النساء ۴: ۱۶-۱۸)
’’اور تم میں سے جو مرد وعورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ اللہ پر انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنا لازم ہے جو جذبات میں بہہ کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کی توبہ کو اللہ قبول کر لیتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ان لوگوں کے لیے توبہ کا کوئی موقع نہیں جو برابر برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
یہ آیات اس بات کا ایک مضبوط قرینہ ہیں کہ اوپر کی آیتوں میں زنا کو عادت بنا لینے والی خواتین اور جوڑے ہی زیر بحث ہیں۔ 
دوسرے یہ کہ اس رائے میں جرم کی جن دو صورتوں کو متعین کیا گیا ہے، ان کا عرب معاشرت میں پایا جانا مسلم ہے، ان کی سزا کو قانون کا موضوع بنانا بھی قابل فہم ہے اور اس سے دونوں صورتوں میں تجویز کی جانے والی الگ الگ سزاؤں کی وجہ اور حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ میں صرف خواتین کی سزا کو موضوع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری میں بنیادی کردار خواتین ہی کا ہوتا ہے اور جرم کے سدباب کے لیے اصلاً انھی کی سرگرمیوں پر پہرہ بٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مرد وعورت میں یاری آشنائی کے تعلق کی صورت میں دونوں جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی تادیب وتنبیہ کو قانون کا موضوع بنانا پڑتا ہے۔
مزید برآں، جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق میں کوئی چیز اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع نہیں، اس لیے جب تک کوئی قابل غور اعتراض سامنے نہ آئے، یہ کہنا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس تاویل کی روشنی میں آیت کی مشکل بظاہر قابل اطمینان طریقے سے حل ہو جاتی ہے۔
(باقی)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔ 
جنوری ۲۰۰۸ ء کے الشریعۃ کے ’’کلمۂ حق ‘‘ کے مندرجات سے عمومی اتفاق کے باوجود حسبہ بل کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید بری طرح کھٹکی ۔ ملک اس وقت جس سیاسی اور قانونی بحران سے گزر رہا ہے اس میں دینی جماعتوں ، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام ( ف) ، کا کردار چنداں تسلی بخش نہیں ہے ۔ الیکشن میں لوگوں کی جانب سے جو response سامنے آرہا ہے، اس کی وجہ سے دینی سیاسی لیڈرشپ کو بھی اب احساس ہوچکا ہے کہ ان کے اپنے حلقوں میں ان کی مقبولیت کا گراف کس حد تک گر چکا ہے۔ اس لیے اب اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر گرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر الزامات کی بوچھاڑ اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے ۔ چنانچہ ان کے قد کو گھٹانے کے لیے پہلے یہ شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ انہوں نے بھی تو پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا ۔ حالانکہ ۲۰۰۰ ء کے پی سی او اور ۲۰۰۷ ء کے پی سی او میں فرق سے معمولی قانونی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی واقف ہے۔ باقی باتیں ایک طرف ، ۲۰۰۰ ء کے پی سی او اور اس کے بعد ۲۰۰۲ ء کے ایل ایف او کو تو خود متحدہ مجلس عمل کی آشیر باد سے سترھویں آئینی ترمیم کے ذریعے سند جواز عطا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جب لوگوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تو اس موقف کو ذرا تبدیل کرکے کہا گیا کہ ججوں کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کا اصولی موقف اپنایا جائے۔ ہمارے یہ رہنما ، جو اپنی ’’عملیت پسندی ‘‘ کے لیے بہت مشہور ہیں ، کیا اس بات کا جواب دے سکیں گے کہ معزول ججوں کی بحالی کے بغیر آزاد عدلیہ کیا معنی رکھتی ہے ؟ اس کمزور موقف کے دفاع میں جو تاویلات تراشی گئیں، ان میں ایک یہ ہے کہ جسٹس افتخار نے حسبہ بل کے خلاف فیصلہ دے کر شریعت کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکائے، بلکہ صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی انتخابی جلسوں میں لوگوں یہاں تک کہتے رہے ہیں کہ افتخار چوہدری کو اس بات کی سزا مل رہی ہے کہ انہوں نے حسبہ بل کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور اور دینی مدارس کی اسناد کے بی اے کے برابر ہونے کے خلاف فیصلہ دینے والے تھے ! اس سے کچھ اندازہ ہوجاتا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کن کن محاذوں پر لڑنا پڑا ہے ۔ کیا واقعی جسٹس افتخار اور ان کے ساتھیوں کو سزا مل رہی ہے ؟ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو عزت بخشی اور جو کامیابی عطا کی، اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں لگا سکتے جو اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنے کی خاطر ہر اصول کو قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ 
؂ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں ! 
یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے، اس لیے میں صوبہ سرحد میں ’’ نفاذ شریعت ‘‘کے سلسلے میں کی جانے والی دو اہم کوششوں کا مختصر جائزہ پیش کروں گا۔ ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں صوبہ سرحد کے عوام نے متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے اس لیے کامیاب کیا تھاکہ وہ صوبے میں شریعت کا نفاذ چاہتے تھے اورپچھلی حکومتوں نے اس سلسلے میں عوام کو مایوس کیا تھا۔ تاہم صوبہ سرحد میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ جون ۲۰۰۳ء میں ’’شرعی قانون ایکٹ ‘‘ (جسے عام طور پر شریعت ایکٹ کہا جاتا ہے ) پاس کیا گیا۔ تاہم درحقیقت یہ اس قانون کا ناقص چربہ تھا جسے نوازشریف حکومت نے ۱۹۹۱ء میں پارلیمنٹ سے پاس کرایاتھا۔ چربہ اس وجہ سے کہ اس قانون میں نواز شریف کے دور کے قانون کی ۲۱ دفعات من و عن نقل کی گئی تھیں اور ناقص اس وجہ سے کہ اصل قانون کا متن انگریزی میں تھا جسے انتہائی ناقص طریقے سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ۔ یہاں اس کی صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔ 
اصل قانون میں شریعت کی تعریف یہ تھی : 
"Injunctions of Islam as laid down in the Holy Qur'an and Sunnah"
[قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام] 
یہ ترکیب دستور پاکستان میں کئی مقامات پر استعمال ہوئی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سالانہ رپورٹ ۱۹۸۷ء میں اس کی تصویب کی تھی ۔ البتہ اس کے ساتھ کونسل نے اس توضیح کا اضافہ کیا تھا کہ ’’ احکام اسلام کی تشریح میں رہنمائی کے لیے درج ذیل مآخذ سے استفاد ہ کیا جائے گا۔ (۱) سنت خلفاء راشدین (۲) تعامل صحابہ (۳) اجماع امت (۴) مسلمہ فقہائے اسلام کی تشریحات و آراء۔‘‘
صوبہ سرحد کی نفاذ شریعت کونسل نے اس تعریف میں یہ اضافہ کیا کہ قرآن و سنت سے ’’ اخذ کردہ ‘‘ احکام بھی شریعت کا حصہ ہیں ۔ مسودہ لکھنے والے غالباً یہ بتانا چاہتے تھے کہ اسلام کے احکام سے صرف نصوص (text)نہیں مراد بلکہ قواعد عامہ اور مقاصد شریعت بھی اس میں شامل ہیں۔ تاہم ’’ماخوذ احکام ‘‘ کی اصطلاح بھی مبہم ہے اور ’’اخذ‘‘ کا طریقہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔ اس لیے تعریف واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم ہوگئی ۔
واضح رہے کہ نواز شریف دور میں منظور کردہ شریعت ایکٹ کو تمام مذہبی جماعتوں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ایک اجلاس میں متفقہ طور پر مسترد کردیاتھا ۔ خود جماعت اسلامی کی مرکزی شوری نے ایک قرارداد کے ذریعے اسے نفاذ شریعت سے فرار کا بل قرار دیا تھا ۔ یہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور ممتاز عالم دین جناب مولانا گوہر رحمان نے وفاقی شرعی عدالت میں اس ایکٹ کی کئی دفعات کے ’’خلاف شریعت ‘‘ ہونے کے سلسلے میں دلائل دیے اور ان کو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع کیا ۔ اب اسی ایکٹ کے ناقص چربے کو وہی دینی جماعتیں نفاذ شریعت کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت اور اپنے ایک اہم کارنامے کے طور پر پیش کررہی ہیں ۔ 
جو تیری زلف کو پہنچی تو حسن کہلائی 
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی 
شریعت ایکٹ کی منظوری کے بعد جب عملًا نفاذ شریعت کے سلسلے میں کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو مجلس عمل کی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شریعت کے نفاذ کے لئے ایک اور قانون ’’حسبہ بل‘‘ کی منظوری کی ضرورت ہے جس کی تیاری کے لیے صوبائی شریعت کونسل کام کررہی ہے ۔ تاہم تقریبا ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مجوزہ حسبہ بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ۔ حسبہ بل کے سلسلے میں کئی سیمینار منعقد کیے گئے جن پر صوبائی خزانے سے تقریباً تین کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے باوجود ان سیمیناروں میں شرکا کی جانب سے جو تجاویز اور ترامیم پیش کی گئیں، ان میں کسی کو بھی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا ۔ بعد میں حکومت نے صوبائی وزیر قانون کو بھی تبدیل کیا، لیکن اس کے باوجود اس بل سے وہ متنازعہ امور دور نہ کیے جاسکے جس پر مختلف عوامی اور علمی حلقوں اعتراضات کیے گئے تھے ۔ 
اس بل کا تجزیہ کیا گیاتو معلوم ہوا کہ اس کی اکثر دفعات وہی ہیں جو پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ ’’صوبائی محتسب ایکٹ ‘‘ میں شامل تھیں۔ یہ بل ۱۹۹۶ء میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن پھر اس وجہ سے پاس نہیں کیا جاسکا کہ اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی ۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے اس میں بعض ایسی دفعات کا اضافہ کردیا تھا جو نہ صرف دستور اور دیگر قوانین کے خلاف تھیں بلکہ وہ شریعت کے واضح احکام سے بھی متصادم تھیں ۔ ان پر اعتراضات کیے گئے تو اعلان کیا گیا کہ اس مسودے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا گیا ہے جس کی سفارشات کے مطابق اس میں تبدیلی لائی جائے گی ۔ کونسل نے بھی اس مسودے کی کئی دفعات پر تنقید کی جس کے بعد صوبائی حکومت نے کونسل کی سفارشات بھی مسترد کردیں اور بہت لے دے اور تاخیری حربوں کے استعمال کے بعد سیاسی پوائنٹس سکور کرنے کے لئے بالآخر اس بل کو اسمبلی سے منظور کروایا ۔ یہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے انہی دفعات کے خلاف فیصلہ دیا جن پر علمی اور قانونی حلقوں اور اسلامی نظریاتی کونسل نے پہلے ہی تحفظات پیش کیے تھے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں خود صوبائی حکوت کے وکیل جناب خالد اسحاق مرحوم نے اقرار کیا تھا کہ اس بل کا مسودہ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ 
اس کے بعد حسبہ بل کا دوسرا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں کئی مقامات پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ چنانچہ جب بل سپریم کورٹ میں دوبارہ چیلنج کیا گیا تو اس نے پھر واضح کیا کہ اس کی چند دفعات اب بھی دستور سے متصادم ہیں۔ خود کردہ را علاج نیست! 
اب میں ان چند شقوں کا تذکرہ کروں گا واضح طور پر شریعت یا دستور سے متصادم تھیں ۔ 
(۱) اس بل میں ’’تعریفات‘‘ کی شق انتہائی حد تک ناقص تھی۔ ’’معروف ‘‘ اور ’’منکر‘‘ کی تعریفات اتنی مبہم تھیں کہ ان کی ہر طرح کی تعبیر ممکن تھی۔ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھی اعتراض کیا گیا تھا۔نیزہر اس شخص کو ’’مستند عالم دین‘‘ قرار دیا گیا تھا جس نے شہادۃ العالمیۃ کے ساتھ ساتھ میٹرک کیاہو۔ اسی طرح ’’سینیئر صحافی‘‘ اسے قرار دیا گیا تھا جس کے پاس ایم اے جرنلزم کی ڈگری ہو یا شعبۂ صحافت سے جس کی وابستگی دس سال سے زائد رہی ہو۔ ’’سینیئر وکیل‘‘ اسے قرار دیا گیا تھا جس کے پاس وکالت کا دس سال کا تجربہ رہا ہو ، چاہے وہ ڈسٹرکٹ کورٹس ہی میں ہو ۔ اس طرح کے مستند عالم دین ، سینیئر صحافی یا سینیئر وکیل کو ضلعی محتسب بنایا جاسکتا تھا جس کو سیشن جج کے برابر اختیارات اور مراعات حاصل ہونے تھے! 
(۲) اس بل کے تحت محتسب کو عدالتی اختیارات دیے گئے لیکن اس کے باوجود حکومت کو اس کی معزولی کے سلسلے میں وسیع اختیارات دیے گئے تھے ۔ مثلا کہا گیا تھا کہ اگر محتسب کو بدعنوانی کے الزام میں معزول کیا جائے اور وہ اس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل کرے تو نوے دنوں کے اندر اس کی درخواست کی سماعت نہ ہونے کی صورت میں اس کی معزولی کا حکم مؤثر سمجھا جائے گا ۔ 
(۳) محتسب کے متعلق قرار دیا گیا تھا کہ وہ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۱کے مفہوم میں ’’سرکاری ملازم‘‘ متصورہوگا ۔ تاہم اس کے باوجود اس بل میں قرار دیا گیاتھا کہ بدعنوانی کی صورت میں اس کومعزول کیا جائے تو وہ چار سالوں کے لئے وفاقی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر انتخابات کے لئے نااہل ہوگا، حالانکہ آئین کے مطابق ایسی صورت میں سزایافتہ شخص ہمیشہ کے لئے نااہل ہوجاتا ہے ۔ 
(۴) اس بل میں محتسب کو وسیع اختیارات دیے گئے تھے جن میں اکثر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے مطابق نہ صرف یہ کہ مبہم تھے بلکہ ان کا غلط استعمال بھی انتہائی آسان تھا ۔ 
(۵) ایک انتہائی حد تک خطرناک بات اس بل میں یہ تھی کہ محتسب کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں دیا گیا تھا ۔ اسی طرح ’’ توہین محتسب ‘‘ کی صورت میں دی جانے والی سزا کے خلاف بھی اپیل کا حق نہیں تھا ۔ 
(۶) بل میں یہ تو قرار دیا گیا تھا کہ کسی سرکاری اہلکار یا ایجنسی کے خلاف شکایت صحیح ثابت ہو تو یہ یہ کارروائی ہوگی لیکن اس میں یہ وضاحت نہیں تھی کہ اگر یہ شکایت بے بنیاد ہو یا بدنیتی پر مبنی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ 
(۷) اس بل کے ذریعے ایک متنازعہ ’’حسبہ فورس‘‘ قائم کرنے کا کہا گیا تھا ۔ بعد میں قرار دیا گیا کہ یہ فورس پولیس ہی کے محکمے سے تشکیل دی جائے گی ۔ اس فورس کو سرکاری دفاتر پر چھاپوں اور ریکارڈ تک رسائی جیسے وسیع مضمرات کے حامل اختیارات دیے گئے لیکن اس کے لئے کوئی طریق کار متعین نہیں کیا گیا ۔ چاہیے یہ تھا کہ محتسب یا اس کے کسی نائب کی سرکاری دفاتر پر چھاپوں اور ریکارڈ تک رسائی کے طریق کار کو قواعد و ضوابط کے ذریعے منضبط کردیاجاتا تاکہ وہ اختیارات کا غلط استعمال نہ کرتے ۔ 
(۸) اس بل میں ضلعی محتسب کا ادارہ آئین سے صراحتاً متصادم تھا کیونکہ سترھویںآئینی ترمیم ، جو ایم ایم کے تعاون اور آشیرباد سے منظور ہوئی ، کے بعد صوبائی حکومت ضلعی نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔ 
یہ محض چند امور آپ کے سامنے پیش کیے گئے ، ورنہ تفصیلی تجزیے میں جائیں تو بات بہت دور تک نکل جائے گی ۔ اس مختصر تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حسبہ بل کے خلاف سپریم کورٹ کے دونوں فیصلے مبنی برحق تھے ۔ صوبہ سرحد کے اس وقت کے وزیر قانون نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اسمبلی کی قانون سازی کے اختیار پر حملہ قرار دیا تھا ۔ شاید ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اسمبلی کا قانون سازی کا اختیار مطلق نہیں بلکہ بہت سی قیود کے ساتھ مقید ہے جن میں ایک اہم قید یہ ہے کہ اسمبلی شریعت یا دستور سے متصادم قانون بنائے گی تو عدالت اسے تصادم کی حد تک کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ میں نے اپنے ایک پچھلے مکتوب میں اسی وجہ سے کہا تھا کہ محض ’’حسبہ‘‘ نام رکھ دینے سے یا اس وجہ سے کہ اس بل کو دینی جماعتوں کے اتحاد نے پیش کیا یہ بل از خود اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہوجاتا ۔ 
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر 
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی 
محمد مشتاق احمد 
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ قانون 
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 
(۲)
مکرمی جناب حافظ عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔
تسلیمات کے بعد، آپ کا موقر رسالہ ’الشریعہ‘ دار العلوم مصباح الاسلام کے ذیلی ادارہ مصباح الاسلام لائبریری کے نام باقاعدگی کے ساتھ مل رہا ہے۔ اس کے تمام مضامین ما شاء اللہ خوب تحقیقی اور حالات حاضرہ کے لیے تیر بہدف ہیں۔ اس وقت امت مسلمہ کو درپیش سب سے اہم مسئلہ مسلم امہ کا انتشار ہے۔ مسلکی وسرحداتی طور پر امت مسلمہ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ وطن عزیز اس وقت سخت افتراق وتفریق اور اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے۔ اس وقت پاکستان کے اندر تمام مسالک کے پیروکاروں کو متحد ہو کر ملکی سا لمیت کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ 
الشریعہ کے گزشتہ شمارے میں محترم غلام یاسین صاحب کا خط پڑھ کر خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی! خوشی اس لیے ہوئی کہ ماشاء اللہ الشریعہ کے قارئین اس سوچ کے حامل ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر فکری تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے فکر مند رہتے ہیں، جبکہ افسوس اس بات پر کہ خود محترم غلام یاسین صاحب کی تحریر میں فرقہ واریت کا عنصر موجود ہے۔ وہ ایک طرف امت مسلمہ کے انتشار کا رونا رو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف دیگر مسالک کی دل آزاری کرکے پوری دنیا پر مسلک دیوبند کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ 
محترم غلام یاسین صاحب کی اس بات سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ ’’سینکڑوں نہیں ہزاروں طلبہ وفاق المدارس کا اعلیٰ امتحان ہر سال پاس کر کے سند فضیلت (فراغت) حاصل کرتے ہیں۔ پھر معاشرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے تو ایک مرد قلندر بھی کافی، افسوس کہ یہاں ہزاروں میں ایک بھی نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟‘‘ یاسین صاحب خود اس کی وجہ فضلا میں تنگ نظری، تنگ دلی، تعصب، بغض وعناد، حسد اور انانیت کو قرار دے رہے ہیں۔ مجھے ان تمام باتوں سے اتفاق ہے کہ مذکورہ خصلتیں امت مسلمہ کے مابین انتشار کا سبب ہیں، لیکن ان خصلتوں سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے دینی اداروں میں تربیت کا فقدان ہے۔ ہمارے ہاں بین المذاہب کے بجائے بین المسالک پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور ابناے امت کو اسلام کے مدمقابل مذاہب کے سامنے کھڑا کرنے کے بجائے اپنے دین ہی کے اندر دیگر مسالک کے خلاف نظریاتی طور پر تیار کر کے کھڑا کرنے کا رواج عام ہے جس کا نتیجہ اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ اغیار کے بجائے ہم اپنوں ہی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں جبکہ غیر اقوام ہمارے ان اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ہمیں کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
مسلمان ہر جگہ خوار ہو رہے ہیں۔ صرف مسلک دیوبند کی حفاظت کرنے سے کچھ نہیں ہو سکتا، نہ پوری دنیا پر مسلک دیوبند کی حکومت قائم ہونے سے امت مسلمہ انتشار سے نکل سکتی ہے۔ تین سو تیرہ نفوس کو تیار کرنے کے لیے ہمیں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کی زنجیروں سے نکلنا ہوگا، تب کہیں جا کر فضائے بدر پیدا ہوگی اور امت مسلمہ کی نصرت کے لیے فرشتے قطار اندر قطار نازل ہوں گے۔ اور اگر ان تین سو تیرہ نفوس پر دیوبندیت کا لیبل لگا کر میدان میں نکالا گیا تو یہ بھی یقینی ہے کہ ان کے مدمقابل بریلوی، اہل حدیث کے تین سو تیرہ بھی میدان میں کھڑے ہوں گے کہ یہی بین المسالک تعصب کا نتیجہ ہے۔ امت مسلمہ اس وقت سخت امتحان کا شکار ہے۔ ہمیں اس وقت اتحاد ویک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امت مسلمہ کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا ملے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کا حامی وناصر ہو۔
سید عرفان اللہ ہاشمی
ایڈیٹر مجلہ ’’مصباح الاسلام‘‘
مٹہ مغل خیل، تحصیل شب قدر، ضلع چارسدہ
(۳)
برادر محترم عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
دسمبر کے شمارے میں آپ کا نہایت ہی عالمانہ اور فکر انگیز مقالہ بعنوان ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ جس خوب صورتی اور سلیقے کے ساتھ آپ نے اس ادق موضوع کو بیان کیا ہے، اس سے آپ کے فہم اور صلاحیت تفہیم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔
ناصر مصطفی
مکان نمبر DV-10، ڈنہ، نزد ایف بلاک 
سیٹلائیٹ ٹاؤن، راول پنڈی
(۴)
محترمی ومکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
الشریعہ کبھی کبھی نظر سے گزرتا ہے۔ ماشاء اللہ اپنے انداز وادا سے تازگی اور جدت کا پیغامبر ہے۔ آپ جس دردمندی، محنت اور اخلاص کے ساتھ قلم اٹھاتے ہیں، وہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
تازہ الشریعہ (دسمبر) میں ’’کلمہ حق‘‘ کے عنوان کے تحت ایک خاتون کا خط شائع کیا گیا ہے۔ اس میں بیان کردہ حالات بہت بڑے خطرات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں علماے کرام کو کیا کرنا چاہیے، گہرے غور وفکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موجودہ فتنہ پرور دور اور سازشوں کا شعور وادراک عطا فرمائے، آمین۔
عمران ظہور غازی
چیف آرگنائزر ہیومن رائٹس نیٹ ورک پنجاب
۲۲۔سی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور