جون ۲۰۰۸ء

مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور ایک نو مسلم کے تاثراتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
زنا بالجبر کی سزامحمد عمار خان ناصر 
دینی و دنیوی طبقات کے مابین دوری: اسباب و علاجڈاکٹر حافظ محمد رشید 
غامدی صاحب کا ’’تصور سنت‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حلال و حرام اور غامدی صاحب کا تصور فطرتحافظ محمد زبیر 
حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
حالات و واقعاتادارہ 

مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور ایک نو مسلم کے تاثرات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران مجھے دو روز اسکاٹ لینڈ کے دار الحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ’’ڈنز‘‘ میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے ہاں گزارنے کا موقع ملا۔ رضوان کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دنوں تیسری بچی دی ہے اور ۸؍ اپریل کو اس کی بڑی بچی کی سالگرہ تھی۔ رضوان نے ڈرتے ڈرتے مجھ سے پوچھا کہ اس کی اہلیہ کہہ رہی ہے کہ اگر ہم بچی کی سالگرہ پر کیک کاٹ لیں تو ماموں ناراض تو نہیں ہوں گے؟ میں نے کہا کہ نہیں بیٹا، ناراضگی کی کون سی بات ہے۔ اصل میں اس کا یہ خیال تھا کہ ایک غیر شرعی رسم ہونے کی وجہ سے میں اس پر غصے کا اظہار کروں گا جبکہ ایسے معاملات میں میرا موقف اور طرزعمل یہ ہے کہ اس قسم کی علاقائی اور ثقافتی رسمیں اگر دین کا حصہ نہ سمجھی جائیں اور انھیں ثواب کے ارادے سے انجام دینے کے بجائے محض خوشی کی علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر کیا جائے تو اس پر شریعت کے منافی ہونے کا فتویٰ لگا دینا اور غیظ و غضب کا اظہار کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں کسی چیز کا غیر شرعی (یعنی شریعت سے ثابت نہ) ہونا اور بات ہے اور شریعت کے منافی ہونا اس سے مختلف امر ہے اور ہمیں ان دونوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
رضوان فیملی کی خوشی میں شامل ہونے کے ساتھ ایک فائدہ اور بھی ہوا کہ شام کو ایک نو مسلم مورس سے ملاقات ہو گئی۔ مورس نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات وواقعات کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات و احساسات کا بھی پورے جوش وخروش کے ساتھ اظہار کیا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
مورس نے اسلام اور قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعارف کے پس منظر کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد کہا کہ ایک دن میں نیوکاسل میں اپنے گھر میں تھا کہ صبح بیدار ہوتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے میں گھر سے باہر جا رہا ہوں اور قریب ہی ایک مسجد میں چلا گیا۔ اس سے قبل میں یہاں کسی مسلمان سے نہیں ملا تھا۔ میں نے ان کو بتایا تو انھوں نے مجھے کلمہ شہادت پڑھایا اور میرا نام تبدیل کر کے مورس بڈن کی بجائے مورس مجید رکھ دیا۔ اس کے بعد تبلیغی جماعت والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ انھوں نے مجھے دوبارہ کلمہ پڑھایا اور نام مورس عبد المجید رکھ دیا۔ پھر میرا کچھ عرصہ ان سے تعلق رہا۔ ان کے ساتھ مختلف مقامات پر جاتا رہا اور نیو کاسل میں کتابوں کی ایک دکان ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے نام سے میں نے کھول لی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’’بیت الحکمۃ‘‘ کا نام یہاں کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا، اس لیے اس کانام ’’House of Wisdom‘‘ رکھا جائے مگر انھوں نے میری بات نہیں مانی اور میں ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے نام سے کچھ عرصہ دکان کرتا رہا۔ پھر میں نے یہ سوچ کر نیو کاسل کو چھوڑ دیا کہ یہاں مسلمان کم ہیں اور مسلمانوں والا ماحول نہیں ہے۔ میں بیوی بچوں سمیت بلیک برن چلا گیا، اس لیے کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی بہت ہے، مسجدیں اور مدرسے بہت ہیں اور اسلامی ماحول موجود ہے، اس سے بچوں کی تعلیم بھی اچھی ہوگی، مگر یہ تجربہ بہت تلخ ثابت ہوا۔ میرا خیال تھا کہ دینی معلومات میں اضافہ ہوگا، ماحول اور تربیت کا فائدہ ہوگا، مگر لوگوں نے مجھے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا دیا۔ مختلف گروہ تھے، ہر ایک مجھے اپنی طرف کھینچنے لگا۔ کوئی کہتا نماز میں پاؤں یوں رکھو، دوسرا کہتا یوں نہیں بلکہ اس طرح رکھو۔ کوئی کہتا ہاتھ اس جگہ باندھو، دوسرا کہتا کہ یہاں نہیں بلکہ یہاں باندھو۔ کوئی کہتا کہ شہادت کی انگلی ایک بار اٹھاؤ، دوسرا کہتا کہ نہیں بار بار اٹھاتے رہو۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی کہ میں اسی کے کہنے پر چلوں، کسی دوسرے کی بات مانتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ میرے مزاج میں تجسس تھا اور سوالات بہت کرتا تھا۔ ہر شخص اپنی بات کی دلیل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتا۔ حدیثوں میں اس قدر تضاد دیکھ کر مجھے ان سے نفرت ہونے لگی۔ میں لوگوں سے کہتا کہ مجھے قرآن سے سمجھاؤ۔ وہ کہتے کہ قرآن کریم اس وقت تک تم نہیں سمجھ سکتے جب تک حدیث نہ پڑھو اور حدیث پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ عربی سیکھو اور کئی سال مدرسے میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کرو۔ مجھے سخت پریشانی ہونے لگی۔ میرے سوالات کی کثرت دیکھ کر وہ لوگ مجھے گمراہ اور کافر کہنے لگے۔ ہر گروہ مجھے اپنی کتابیں دیتا اور حدیثیں سناتا۔ مجھے ان میں واضح تضاد دکھائی دیتا، چنانچہ سخت پریشانی کی حالت میں بلیک برن کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور میں نے طے کر لیا کہ اب ایسی جگہ جا کر رہوں گا جہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہو اور پھر اسکاٹ لینڈ کے اس علاقے میں آ کر آباد ہو گیا۔
مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے بلکہ وہ دوسرے جن نومسلموں کو جانتا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا بلکہ سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں، البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے۔ وہ انھیں پکا مسلمان بنانے اور اسلام کی بنیادی باتوں کی تعلیم دینے کے بجائے پہلے حنفی، شافعی، دیوبندی، بریلوی، تبلیغی اور شیعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے پر کوئی مسلمان اس سے یہ تو نہیں پوچھتا کہ تمھیں مسلمان ہونے کے بعد کیا پریشانی لاحق ہوئی ہے؟ اپنے خاندان کے ساتھ تمہارے تعلقات کا کیا حال ہے؟ تمہیں کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے؟ کسی معاشرتی الجھن سے تو تم دوچار نہیں ہوئے ہو؟ اور تمھیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ کسی نومسلم سے یہ بات کوئی نہیں پوچھتا، البتہ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے فرقے میں شامل ہو جائے، کسی دوسرے فرقے کی بات نہ سنے اور کسی اور کی مسجد میں نہ جائے۔ مجھے خود اس کا تلخ تجربہ ہوا ہے، اس لیے میں نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔
اس نے کہا کہ مجھے ایک بات سے اور پریشانی ہے کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ان کے سارے مسئلے خدا نے ہی حل کرنے ہیں، اس لیے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے قدرت کے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور پچھلے واقعات سنا سنا کر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں موقع پر خدا نے اس طرح ان کی مدد کی تھی۔ اسی طرح بہت سے مسلمان اس انتظار میں ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور دجال ظاہر ہوگا تو اس وقت سب کچھ ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انھیں اپنی حالت بہتر بنانے کے لیے خود کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ اس طرح انتظار میں بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انھیں اپنے حالات درست کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے او رخود بھی کچھ کرنا چاہیے۔
مورس نے کہا کہ ایک اور بات پریشانی کی وجہ بنتی ہے کہ نومسلم کو اسلامی احکام وفرائض کے ساتھ ساتھ بعض لوگ اپنے اپنے علاقائی کلچر کا بھی پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لباس بھی ان جیسا پہنے اور وضع قطع بھی انھی کی اختیار کرے۔ اس پر اس قدر سختی کی جاتی ہے کہ وہ پریشان ہو جا تا ہے۔ جو باتیں اسلام میں ضروری نہیں ہیں، ان کے بارے میں نومسلموں پر اس قدر سختی نہ کی جائے اور انھیں سادہ طریقہ سے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ مورس نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر مسلمانوں کی اس عمومی حالت سے پریشان ہو کر یونیورسٹی کی مسجد میں گیا کہ وہاں قدرے پڑھا لکھا ماحول ہوگا، مگر وہاں بھی صورت حال اسی طرح تھی۔ شیعہ حضرات اپنی نماز کے لیے مٹی کی ٹھیکریاں سجدے کی جگہ رکھنے کے لیے الگ نظر آتے اور دوسرے فرقوں کے لوگ اپنی اپنی علامتوں کے ساتھ الگ دکھائی دیتے تھے۔ اس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کئی بار وقت لگایا جس سے اس کا مقصد یہ تھاکہ اسے دین کی معلومات حاصل ہوں گی اور علم میں اضافہ ہوگا، مگر وہاں بھی اسے تبلیغی نصاب اور کچن کی صفائی کے کاموں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس نے قرآن کریم کا سالہا سال تک مطالعہ کیا تھا۔ اس کے حوالے سے جب وہ کوئی سوال کرتا تو اسے جواب ملتا کہ تم قرآن کریم کو کیا جانتے ہو؟ تمہارے پاس کیا علم ہے؟ اس سے اس کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔ مجھے ایک بار ایک دوست ایک مجلس میں لے گیا۔ غریب لوگوں کا علاقہ تھا، مگر ایک بڑی گاڑی میں سبز چغہ پہنے ایک شیخ صاحب آئے تو ان کے گرد گلی میں بہت سے لوگ گھیرا ڈال کر بلند آواز سے اللہ ہو کا ورد کرنے لگے۔ ارد گرد کے مقامی آبادی کے لوگ کھڑکیوں سے یہ منظر دیکھ کر تعجب کر رہے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں بھی یہ منظر دیکھ کر وہاں سے چلا آیا۔ ایک مسجد میں رمضان المبارک کے دوران دیکھا کہ کھانے پینے کا سامان بہت ضائع ہو رہا ہے اور کھانے کا انداز بھی مجھے اچھا نہ لگا۔ اس قسم کے مناظر دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جس اسلام کی میں تلاش میں تھا، یہ وہ اسلام نہیں ہے، اس لیے میں اب مسلمانوں کی آبادی سے الگ تھلگ یہاں زندگی بسر کر رہا ہوں۔
میں نے مورس سے سوال کیا کہ اسلام کی دعوت دینے والوں کو نو مسلموں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے؟ اس پر مورس عبد اللہ نے کہا کہ:
  • انھیں مسائل اور اختلافات میں نہ الجھائیں اور دین کی بنیادی باتوں کی سادہ انداز میں تعلیم دیں۔
  • انسانیت کے حوالے سے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تلقین کریں۔
  • اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل اور مشکلات معلوم کریں اور انھیں حل کرنے کے لیے ان سے تعاون کریں۔
  • انھیں قرآن کریم کے حوالے سے بات سمجھانے کی کوشش کریں اور احادیث کے اختلافات سے انھیں دور رکھیں۔ اس سے ان کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔
  • دین کے مسائل سمجھانے کے لیے ’’کامن سینس‘‘ کا زیادہ استعمال کریں۔ مثلاً یہ بات سمجھانے کے لیے کہ مونچھیں تراشنی چاہییں، انھیں فرض اور واجب کہہ کر بات نہ کریں بلکہ انھیں اس کے فائدے بتائیں کہ مونچھے تراشنے سے انھیں یہ فائدہ ہوگا، وغیر ذالک۔
  • انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عام لوگوں کی خدمت کا ایسا نظام بنائیں جس سے سب لوگ مذہب کی کسی تفریق کے بغیر فائدہ اٹھا سکیں تاکہ نو مسلموں کو ضرورت پڑنے پر الگ سے چیریٹی کی ضرورت نہ پڑے اور نہ یہ محسوس ہو کہ ان کی الگ سے اس حوالے سے مدد کی جا رہی ہے۔
  • اسلام کے بارے میں ان کے مطالعہ اور اسٹڈی کا احترام کریں اور انھیں اس بات کا بار بار طعنہ نہ دیں کہ تم کیا جانتے ہو؟ تمھیں کیا آتا ہے؟ اور تمھارے پاس کیا علم ہے؟
  •  انھیں قرآن کریم کے بتائے ہوئے اچھے کاموں کو بجا لانے کی تلقین کریں، دیانت وامانت کی اہمیت سے آگاہ کریں اور خیر کے کاموں کی طرف رغبت دلائیں۔
مورس عبد اللہ کی گفتگو جاری تھی اور اس کے لہجے کا جوش وخروش بڑھ رہا تھا۔ وہ کبھی کبھی خاموشی سے آسمان کی طرف سر اٹھا کر گہری سوچ میں چلا جاتا۔ اس کا جی اور بھی بہت سی باتیں کرنے کو چاہ رہا تھا، مگر رات کا وقت تھا، دیر ہو رہی تھی، مجھے صبح سفر کرنا تھا اور اس سے قبل یہ رپورٹ بھی لکھنا تھی، اس لیے بادل نخواستہ گفتگو کا سلسلہ روک کر معذرت کرتے ہوئے شکریہ کے ساتھ ہم وہاں سے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ رخصت ہوئے۔

زنا بالجبر کی سزا

محمد عمار خان ناصر

(مصنف کی زیر طبع کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب۔)

قرآن مجید میں زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے زانی اور زانیہ، دونوں کو سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ قرآن کے پیش نظر اصلاً زنا بالرضا کی سزا بیان کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سزا کا اطلاق زنا بالجبر بھی ہوگا، لیکن چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ زنا بالرضا سے زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے زنا کی عام سزا کے ساتھ کسی تعزیری سزا کا اضافہ، جو جرم کی نوعیت کے لحاظ سے موت بھی ہو سکتی ہے، ہر لحاظ سے قانون وشریعت کا منشا تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کوئی متعین سزا تو قرآن وسنت کے نصوص میں بیان نہیں ہوئی، البتہ روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فیصلے ضرور نقل ہوئے ہیں:
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نماز کے لیے مسجد جاتی ہوئی ایک خاتون کو راستے میں تنہا پا کر اسے پکڑ لیا اور زبردستی اس کے ساتھ بدکاری کر کے بھاگ گیا، لیکن جب اس کے شبہے میں ایک دوسرے شخص کو پکڑ لیا گیا اور اس پر سزا نافذ کی جانے لگی تو اصل مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔ ۱؂ 
اس واقعے سے متعلق روایات میں اس شخص کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی تحقیق کیے جانے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر یہ شخص کنوارا تھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ازدواجی حیثیت کی تحقیق کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی تو پھر اس سے یہ بآسانی اخذ کی جا سکتی ہے کہ زنا بالجبر کی سزا رضامندی کے سزا کے مقابلے میں زیادہ سخت ہونی چاہیے۔
ایک دوسرے مقدمے میں، جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل نہیں تھی تو پھر وہ آزاد ہے اور شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ اس جیسی کوئی دوسری لونڈی اپنی بیوی کے حوالے کرے۔ ۲؂ 
یہاں زنا کے مرتکب کے لیے کسی سزا کا ذکر نہیں ہوا۔ ممکن ہے اس شخص کو کوئی سزا دی گئی ہو، لیکن روایت میں اس کا ذکر نہ ہوا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ وطی کی ہو اور اس طرح حرمت محل میں شبہے کی بنیاد پر اسے سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہو۔ 
صحابہ اور تابعین سے زنا بالجبر کے بعض واقعات میں زنا کی عام سزا دینا منقول ہے۔ ۳؂ ان واقعات میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والی زیادہ تر لونڈیاں تھیں۔ عرب معاشرت میں غلام اور لونڈیاں نہ صرف اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے تھے بلکہ ان میں زنا اور چوری جیسی اخلاقی برائیوں کا پایا جانا ایک عام بات تھی، چنانچہ لونڈیوں کے ہاں عفت وعصمت کا تصور ایسا پختہ نہیں تھا کہ اس کے چھن جانے پر وہ محرومی یا ہتک عزت کے کسی شدید احساس کا شکار ہو جائیں۔ اس تناظر میں لونڈیوں کے ساتھ بالجبر زنا پر اگر کوئی سخت تر سزا نہیں دی گئی تو یہ بات قابل فہم ہے۔
سیدنا ابوبکر نے ایک مقدمے میں زنا بالجبرکے مجرم کو پابند کیا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ نکاح کر لے ۴؂ جبکہ عمر بن عبدالعزیز اور حسن بصری نے زنا بالجبر کی سزا یہ تجویز کی کہ مجرم پر حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے غلام بنا کر اسی عورت کی ملکیت میں دے دیا جس کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی۔ ۵؂ 
تابعی مفسر سدی کی رائے یہ تھی کہ اگر خاتون کا باقاعدہ پیچھا کر کے اس کے ساتھ بالجبر زنا کیا جائے تو مجرم کو لازماً قتل کیا جائے گا۔ سدی نے اس کے لیے سورۂ احزاب میں منافقین کے حوالے سے بیان ہونے والے حکم: ’اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلا‘ سے استدلال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
ہذا حکم فی القران لیس یعمل بہ لو ان رجلا وما فوقہ اقتصوا اثر امراۃ فغلبوہا علی نفسہا ففجروا بہا کان الحکم فیہا غیر الجلد والرجم وہو ان یؤخذوا فتضرب اعناقہم (روح المعانی، ۲۲/۹۲)
’’قرآن مجید میں ایک ایسا حکم ہے جس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص یا کچھ افراد کسی عورت کا پیچھا کریں اور اس کو زبردستی پکڑ کر اس کے ساتھ بدکاری کریں تو ان کی سزا سو کوڑے لگانا یا رجم کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انھیں پکڑ کر ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔‘‘
امام باقر اور امام جعفر صادق بھی زنا بالجبر کے مجرم کو قتل کر دینے کے قائل ہیں۔ ۶؂ 
جہاں تک باقی فقہی مکاتب فکر کا تعلق ہے تو فقہا اس کو زنا بالرضا کے مقابلے میں سنگین تر جنایت تسلیم کرنے کے باوجود بالعموم اس کے مرتکب کے لیے زنا کی عام سزا ہی تجویز کرتے یا زیادہ سے زیادہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو اس کے مہر کے برابر رقم کا حق دار قرار دیتے ہیں، جبکہ احناف اس کو اس رقم کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔ ۷؂ امام مالک سے منقول ہے کہ اس صورت میں عورت کو مہر کے علاوہ عزت وناموس اور حیثیت عرفی کے مجروح ہونے کا تاوان بھی دلوایا جائے گا۔ ۸؂ 
ہماری رائے میں یہ بات بعض صورتوں میں تو شاید نامناسب نہ ہو، لیکن اسے علی الاطلاق درست تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا بالجبر محض زنا کی دو صورتوں میں سے ایک صورت نہیں، بلکہ ایک بالکل مختلف نوعیت کا جرم ہے۔ رضامندی کا زنا اصلاً ایک گناہ ہے جس میں ’حق اللہ‘ پامال ہوتا ہے، جبکہ زنا بالجبر میں حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق العبد پر بھی تعدی کی جاتی اور ایک خاتون سے اس کی سب سے قیمتی متاع چھین لی جاتی ہے۔ فقہا نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ ایک پاک دامن عورت کے لیے، جو اپنی عفت اور اپنی عزت نفس کو عزیز رکھتی ہے، عصمت کا لوٹا جانا کوئی مالی نقصان نہیں کہ اس کے بدلے میں اسے کچھ رقم دے کر نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کا شکار ہونے والی خاتون کے زاویہ نظر سے دیکھیے تو نفسیاتی لحاظ سے یہ غالباً قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور ابن تیمیہؒ نے بجا طور پر اسے ’مثلہ‘ (Mutilation) یعنی انسانی جسم کی بے حرمتی کے مشابہ قرار دیا ہے۔ ۹؂ بروکلین لا اسکول میں قانون کی استاد پروفیسر سوزن این ہرمن (Susan N. Herman) نے اس ضمن میں نفسیاتی تحقیقات کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:
Women who are raped suffer a sense of violation that goes beyond physical injury. They may become distrustful of men and experience feelings of shame, humiliation, and loss of privacy. Victims who suffer rape trauma syndrome experience physical symptoms such as headaches, sleep disturbances, and fatigue. They may also develop psychological disturbances related to the circumstances of the rape, such as intense fears. Fear of being raped has social as well as personal consequences. For example, it may prevent women from socializing or traveling as they wish. (Microsoft Encarta Reference Library 2003, CD edition, "Rape")
’’زنا بالجبر کا شکار ہونے والی خواتین پامالی کے ایک احساس کا شکار ہو جاتی ہیں جو جسمانی اذیت سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اس کا امکان ہے کہ وہ مردوں پر اعتبار کھو بیٹھیں اور انھیں شرمندگی، تذلیل اور پرائیویسی سے محروم ہو جانے کے احساسات کا تجربہ ہوتا رہے۔ اس کا شکار ہونے والی جو خواتین Rape trauma syndrome (زیادتی کے نفسیاتی دھچکے سے پیدا ہونے والی علامات) کا شکار ہو جاتی ہیں، ان میں سر درد، نیند میں خلل اور تھکن کی جسمانی علامات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان میں زیادتی کے حالات سے تعلق رکھنے والے نفسیاتی عدم توازن مثلاً شدید خوف کا پیدا ہو جانا بھی بعید نہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے کا خوف سماجی اور ذاتی نتائج مرتب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ خواتین کے سماجی میل جول یا اپنی مرضی سے سفر کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘‘
مزید یہ کہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے ’نقصان‘ کو پورا کرنا اور چیز ہے اور جرم کی سنگینی کے تناظر میں مجرم کی جسمانی سزا میں اضافہ ایک بالکل دوسری چیز، اور عورت کو عصمت دری کا معاوضہ دلانے کے باوجود اگر مجرم کو کوئی اضافی جسمانی سزا نہیں دی جاتی تو اس سے عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔
بعض اہل علم نے زنا بالجبر کو مطلقاً ’حرابہ‘ کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ ہماری رائے میں زنا بالجبر کی ہر شکل کو ’حرابہ‘ قرار دینا تو غالباً قرین انصاف نہیں ہے او ر اس کی کم یا زیادہ سنگین صورتوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔ مثال کے طور پر کسی موقع پر وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کسی خاتون کی عزت لوٹ لینے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اس جرم کا ارتکاب کرنے کوایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دوسری صورت، بالخصوص جب اس کے ساتھ اغوا کا جرم بھی شامل ہو، ’حرابہ‘ کے تحت آتی ہے، جبکہ پہلی صورت نسبتاً کم سنگین ہے اور اس پرزنا کی سادہ سزا کے ساتھ جبر اور ہتک عزت کی پاداش میں کسی مناسب تعزیری سزا اور جرمانے کا اضافہ کر دینا زیادہ موزوں ہوگا۔ البتہ جہاں تک اجتماعی آبرو ریزی یا خواتین کو برہنہ کر کے سربازار رسوا کرنے یا عصمت و آبرو کے خلاف تعدی کی دیگر سنگین صورتوں کا تعلق ہے جن میں قانون کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور معاشرے میں جان ومال اور آبرو کے تحفظ کے احساس کو مجروح کرنے کا عنصر پایا جاتا ہے تو وہ صریحاً حرابہ اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہیں اور ایسے مجرموں کو عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی دینے یا ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے جیسی سزاؤں کا مستوجب ٹھہرانا ہر لحاظ سے شریعت کا منشا ہوگا۔ ۱۰؂

زنا بالجبر کے اثبات کے لیے چار گواہوں کی شرط

قرآن مجید میں زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی گواہی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد زنا کے جرم پر پردہ ڈالنا اور مجرم کو رسوائی سے بچاتے ہوئے توبہ واصلاح کاموقع دینا نیز پاک دامن مسلمانوں کو زنا کے جھوٹے الزام سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ شارع کا منشا یہ ہے کہ زنا کا جرم اثبات جرم کے عام معیارات کے مطابق ثابت ہونے کے باوجود شرعاً ثابت نہ مانا جائے اور جب تک چار گواہ پیش نہ کر دیے جائیں، مجرم کو سزا نہ دی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زنا کے اثبات کے لیے چار گواہ مقرر کرنے کی حکمت یہ منقول ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں، ورنہ اگر وہ چاہتے تو ایک ہی گواہ کی گواہی پر، چاہے وہ جھوٹا ہو یا سچا، سزا دینے کا حکم دے دیتے۔ ۱۱؂ گویا زنا کے معاملے میں چار گواہوں کی گواہی اس لیے ضروری قرار نہیں دی گئی کہ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے عقلاً جرم ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے دی گئی ہے کہ شارع کو حتی الامکان مجرم کی پردہ پوشی منظور ہے۔ 
چار گواہوں کی کڑی شرط عائد کرنے کا یہ پس منظر ہی واضح کر دیتا ہے کہ اس شرط کا تعلق زنا کی اس صورت سے ہے جس میں شریعت کو اصلاً گناہ کی پردہ پوشی منظور ہے۔ ظاہر ہے کہ جرم کی پردہ پوشی کا یہ اصول اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک جرم کی نوعیت اس اصول سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کا تقاضا نہ کرے، جبکہ جرم کی ایسی صورتیں جن میں شارع کو مجرم کی پردہ پوشی اور ستر نہیں، بلکہ اسے سزا دینا مطلوب ہو، اس پابندی کے دائرۂ اطلاق میں نہیں آئیں گی بلکہ ان میں کسی بھی طریقے سے جرم کے ثابت ہو جانے کو سزا کے نفاذ کے لیے کافی سمجھا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے بالجبر کسی خاتون کی عصمت لوٹی ہو اور وہ داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع کرے تو اس سے چار گواہ طلب کرنا عقل اور شریعت، دونوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ 
قانون وانصاف کے زاویۂ نگاہ سے یہ ایک بالکل بدیہی نکتہ ہے اور اگرچہ فقہی لٹریچر میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا، ۱۲؂ تاہم روایات وآثار سے ہمارے اس نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ 
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خاتون اندھیرے کے وقت میں مسجد میں نماز ادا کرنے کی غرض سے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اس کو پکڑ کر زبردستی اس کی عزت لوٹ لی اور بھاگ گیا۔ خاتون کی چیخ پکار پر لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگے لیکن غلط فہمی میں اصل مجرم کے بجائے ایک دوسرے شخص کو پکڑ لائے۔ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو جس شخص کو پکڑا گیا تھا، اس نے اپنے مجرم ہونے کا انکار کیا، تاہم خاتون نے اصرار کیا کہ یہی شخص مجرم ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ اس پر اصل مجرم آگے بڑھا اور اس نے اعتراف کر لیا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب دراصل اس نے کیا ہے۔ ۱۳؂ 
اس روایت کے حوالے سے ’’سنن ابی داؤد‘‘ کے شارح شمس الحق عظیم آبادیؒ نے تو اس بات کو باعث اشکال قرار دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملزم کے اقرار یا گواہوں کی گواہی کے بغیر محض متاثرہ عورت کے بیان پر ملزم کو رجم کرنے کا حکم کیونکر دے دیا، جبکہ اس صورت میں خود عورت پر حد قذف جاری کی جانی چاہیے تھی ۱۴؂ لیکن ابن قیمؒ نے واضح کیا ہے کہ اگر قرائنی شہادت مدعی کے بیان کی تائید کر رہی ہو تو ایسی صورت حال میں اس کی بنیاد پر ملزم کو سزا دینا کسی طرح قضا کے اصولوں کے منافی نہیں ہے۔ ۱۵؂ ابن قیم کی یہ رائے بے حد وزنی ہے، اس لیے کہ کسی بھی جرم میں متاثرہ فریق عدالت میں استغاثہ کرے تو قرائن وشواہد کی موافقت کی شرط کے ساتھ اس کے اپنے بیان کی اہمیت محض دعوے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ 
سیدنا عمر کے دور میں ایک شخص نے ایک عورت کو تنہا پا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک پتھر اٹھا کر اس کو دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ سیدنا عمر کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کو اللہ نے قتل کیا ہے، اس لیے اس کی کوئی دیت نہیں۔ ۱۶؂ سیدنا عمرؓ ہی کے دور خلافت میں ایک شخص کو قتل کر کے اس کی لاش کو راستے میں پھینک دیا گیا۔ کافی عرصہ تک تحقیق وتفتیش کے بعد سیدنا عمر آخرکار اس خاتون تک پہنچ گئے جس نے اس کو قتل کیا تھا۔ خاتون نے قتل کا اعتراف کر لیا، تاہم یہ عذر پیش کیا کہ مقتول نے اس کو سوتا ہوا پا کر اس کے ساتھ بدکاری کی تھی جس پر اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کر کے لاش کو راستے میں پھینک دیا۔ سیدنا عمر اس کے پیش کردہ عذر پر مطمئن ہو گئے اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔ ۱۷؂ ان میں سے پہلے مقدمے میں زنا بالجبر کی کوشش کو جبکہ دوسرے میں اس کے وقوع کو قتل کی وجہ قرار دیا گیا ہے اور سیدنا عمر نے قرائنی شہادت کی روشنی میں متاثرہ خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے جرم کو ثابت مان کر اسے قصاص یا دیت سے بری کر دیا ہے۔ زنا بالجبر کے ایک واقعے میں، جس میں متاثرہ خاتون نے مجرم کو قتل کر دیا تھا، خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے قصاص سے بری قرار دینے کا فیصلہ امام جعفر صادق سے بھی مروی ہے۔ ۱۸؂ 
بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کسی وجہ سے خود استغاثہ نہ کرے، لیکن یہ بات کسی اور ذریعے سے عدالت کے نوٹس میں آ جائے تو اس صورت میں بھی چار گواہوں کے نصاب پر اصرار نہیں کیا جائے گا، بلکہ عدالت کسی بھی طریقے سے جرم کے ثبوت پر مطمئن ہو جائے تو مجرم کو سزا دے دی جائے گی۔ ابو صالح روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون نے کسی یہودی یا نصرانی کے ساتھ اجرت پر کوئی کام طے کیا اور اس کو ساتھ لے کر چل پڑی۔ راستے میں جب وہ ایک ٹیلے کے قریب سے گزرے تو اس آدمی نے زبردستی اس خاتون کو ٹیلے کی اوٹ میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی بری طرح پٹائی کی اور اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اسے ادھ موا نہ کر دیا۔ وہ آدمی مقدمہ لے کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میری شکایت کی۔ ابو ہریرہ کے طلب کرنے پر میں بھی حاضر ہوا اور صورت حال ان کے سامنے عرض کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے بھی میری بات کی تصدیق کی۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس یہودی یا نصرانی سے کہا کہ ہم نے اس بات پر تم سے معاہدہ نہیں کیا (کہ تم ہماری خواتین کی عزتوں پر حملہ کرو)، چنانچہ ان کے حکم پر اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔ ۱۹؂ 
فقہا نے اس نوعیت کے واقعات سے اخذ ہونے والے قانونی ضابطے کو غیر مسلموں کی حد تک تسلیم کیا ہے، اور ان میں سے بعض کی رائے میں اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو اور یہ بات لوگوں میں مشہور ہو جائے تو چاہے گواہ موجود نہ ہوں، زنا کے مرتکب کو قتل کر دیا جائے گا۔ ۲۰؂ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہا کے نزدیک غیر مسلم کا یہ جرم عقد ذمہ کے منافی ہے جس کی رو سے وہ مسلمانوں کے زیردست اور ان کا محکوم بن کر رہنے کا پابند ہے۔ گویا جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجرم سے درگزر کا طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے نزدیک یہی اصول بالجبر زنا کا ارتکاب کرنے والے مسلمان کے لیے بھی بالکل درست ہے اور اسے سزا دینے کے لیے چار گواہوں کی شرط عائد کرنا زنا بالجبر کو عملاً سزاکے دائرۂ اطلاق سے خارج قرار دینا ہے، جبکہ یہ بات کسی طرح بھی شارع کا مقصد اور منشا قرار نہیں دی جا سکتی۔ 

حواشی

۱؂ ابوداؤد، قم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔
۲؂ نسائی، رقم ۳۳۱۰۔ ابو داؤد، رقم ۳۸۶۸۔
۳؂ موطا امام مالک، رقم ۱۳۰۰، ۱۳۰۲۔ ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۱ تا ۲۸۴۲۷۔
۴؂ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۲۷۹۶۔
۵؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۳، ۲۸۴۲۶۔
۶؂ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۰/۱۷، ۱۸۔
۷؂ الموطا،رقم ۲۲۹۴۔ الشافعی، الام ۳/۲۷۲۔ سرخسی، المبسوط ۹/۶۱، ۶۲۔
۸؂ المدونۃ الکبریٰ، ۱۶/۲۵۴۔
۹؂ مجموع الفتاویٰ، ۲۰/۵۶۶۔
۱۰؂ اس بات کو تقلیدی جمود ہی کا کرشمہ سمجھنا چاہیے کہ۱۹۹۷ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے اجتماعی آبرو ریزی (Gang Rape) پر سزاے موت کا قانون منظور کیا تو بعض مذہبی حلقوں نے اس قانون کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ تاہم جناب ابو عمار زاہد الراشدی نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا: ’’ایک ہی جرم مختلف مواقع اور حالات کے حوالے سے الگ الگ نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی مختلف نوعیتوں کا یہ فرق علمائے احناف کے ہاں تو بطور خاص تسلیم کیا جاتا ہے۔ .... اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو ’’گینگ ریپ‘‘ زنا کی عام تعریف سے ہٹ کر ایک الگ بلکہ اس سے زیادہ سنگین جرم قرار پاتا ہے، اس لیے کہ اجتماعی بدکاری کی صورت میں زنا کے ساتھ دو مزید جرم بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ بدکاری عملاً دوسرے لوگوں کے سامنے کی جاتی ہے جس میں تذلیل اور تشہیر کا پہلو پایا جاتا ہے اور انتقام کے لیے خود ساختہ صورت اختیار کرنا بجائے خود جرم ہے۔ پھر اس موقع پر اگر ہتھیار کی موجودگی اور نمائش بھی کی گئی ہو تو تخویف اور جبر کا ایک تیسرا جرم بھی اس کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور ان تمام جرائم کا مجموعہ ’’گینگ ریپ‘‘ ہے جس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے اگر ’’حدود شرعیہ‘‘ سے ہٹ کر بطور تعزیر الگ سزا مقرر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے تو اسے شرعی اصولوں سے تجاوز قرار دینا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہو گا۔ ... ہمارا خیال ہے کہ ’’گینگ ریپ‘‘ کی انسانیت سوز وارداتوں میں جس طرح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس پر قابو پانے کے لیے موت کی سزا کا یہ قانون ایک مناسب، بلکہ ضروری قانون ہے اور شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی، عصر حاضر میں اجتہاد، ص ۱۸۴-۱۸۶)
۱۱؂ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۷۳۸۱۔
۱۲؂ امام مالک کا فتویٰ یہ نقل ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص گواہوں کی موجودگی میں کسی خاتون کو زبردستی اٹھا کر کسی مکان کے اندر لے جائے اور پھر عورت باہر آکر یہ کہے کہ اس شخص نے میرے ساتھ بالجبر زنا کیا ہے جبکہ وہ آدمی اس کا انکار کرے تو اس شخص پر (جنسی استمتاع کے عوض میں) اس عورت کو مہر کے برابر رقم ادا کرنا تو لازم ہوگا لیکن اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ (المدونۃ، ۵/۳۲۲) ابن عبد البر لکھتے ہیں کہ اگر زنا بالجبر چار گواہوں یا مجرم کے اقرار سے ثابت ہو جائے تو اس پر حد جاری کی جائے گی، بصورت دیگر تعزیری سزا دی جائے گی۔ (الاستذکار، ۷/۱۴۶) مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی زنا بالجبر پر محض تعزیری سزا کا امکان اس صورت میں تسلیم کیا ہے جب قاضی قرائن کی روشنی میں الزام کے درست ہونے پر کسی قدر مطمئن ہو جائے۔ (امداد الاحکام، ۴/۱۲۸)
۱۳؂ ابو داؤد، رقم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۱۱۔
۱۴؂ عون المعبود ۱۲/۲۸۔ بعض فقہا بھی اس بات کے قائل ہیں۔ چنانچہ مالکیہ کے نزدیک اگر کوئی عورت کسی شخص پر الزام لگائے کہ اس نے اسے زنا بالجبر کا نشانہ بنایا ہے اور وہ شخص نیک شہرت کا حامل ہو تو عورت پر حد قذف جاری کی جائے گی، البتہ اگر وہ شخص فاسق ہو تو عورت حد قذف سے بچ جائے گی۔ اسی طرح اگر ملزم نیک شہرت کا حامل ہو، لیکن عورت زنا بالجبر کاشکار ہونے کے فوراً بعد اس حالت میں عدالت میں پیش ہو جائے کہ اس نے ملزم کو اپنے ساتھ پکڑ رکھا ہو اور اس کی ظاہری حالت بھی اس کے دعوے کی تائید کر رہی ہو تو قرائنی شہادت کی موافقت کی وجہ سے عورت پر حد قذف جاری نہیں کی جا ئے گی۔ (محمد علیش، منح الجلیل ۷/۱۴۲) 
۱۵؂ ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۷۱۔ اعلام الموقعین ۶۰۴۔
۱۶؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۷۹۳، ۲۷۷۹۴۔
۱۷؂ ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۳۴، ۳۵۔
۱۸؂ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۰/۲۰۸، ۲۰۹۔
۱۹؂ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۱۶۸، ۱۰۱۷۰۔
۲۰؂ محمد بن مفلح المقدسی، الفروع وتصحیح الفروع، ۶/۲۵۷۔ منصور بن یونس، کشاف القناع، ۳/۱۴۳۔ 
یہ رائے حنبلی فقہا کی ہے۔ مالکیہ کے ہاں ایک رائے یہ ہے کہ ذمی اگر کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بالجبر زنا کرے تو دو گواہوں کی گواہی اثبات جرم کے لیے کافی ہوگی، جبکہ دوسری رائے کے مطابق یہاں بھی چار گواہ ہی درکار ہوں گے۔ (محمد علیش، منح الجلیل، ۳/۲۲۵)

دینی و دنیوی طبقات کے مابین دوری: اسباب و علاج

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

عصرحاضر کے مسلم معاشروں میں دینی طبقے اور جدیدتعلیم یافتہ یا دوسرے الفاظ میں دنیاوی طبقے کے درمیان کشمکش کی ایک شدید کیفیت پائی جاتی ہے۔ ہر طبقہ معاشرے میں موجود دینی ودنیاوی کی تقسیم کاملزم دوسرے کو گردانتے ہوئے اپنے اپنے دلائل پیش کرتا ہے، جبکہ صحیح صورت حال کی عکاسی اردو زبان کے اس محاورہ سے ہوتی ہے کہ ’’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی‘‘۔ یہ محاورہ اس صورت حال کے لیے بولا جاتا ہے جب کسی ناگوار معاملہ میں ملوث دونوں فریق ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوں اور ہر فریق سارا ملبہ اپنے مخالف ہی پر ڈالنے پر تلا ہوا ہو۔ آئیے، ہم ان دونوں فریقوں کے طرز عمل اور اس تشتت وافتراق کی تاریخ کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں اور اصل وجوہات کا کھوج لگاتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس اختلاف کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں گزشتہ تین چار صدیوں میں یورپ میں رونما ہونے واقعات اور سیاسی ومعاشرتی تغیرات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ یہ زمانہ یورپ میں بادشاہ، جاگیردار اور پوپ کے ظالمانہ اقتدار کے خلاف شدید ترین رد عمل کا زمانہ تھا جس کے نتیجے میں بادشاہت اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ ہوا اور پوپ جو کہ مذہب کا نمائندہ تھا، اس کے کردارکو گرجے کی چاردیواری تک محدود کر دیا گیا۔ اس تبدیلی کے پس پردہ عوامل میں اس ظالم تکون کا پر تشدد رویہ اور معاشرے میں علمی وتحقیقی آزادی پر قدغن لگانے کا مزاج تھا۔ بادشاہ اورجاگیردار تواپنے اندھے اقتدار کے زعم میں عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ گراتے اور پوپ اپنی الوہیت کوچھوتی ہوئی مذہبی حیثیت کو لوگوں سے مال ودولت لوٹنے کے لیے استعمال کرتا۔ پوپ کے خلاف رد عمل کی شدت دوسرے گروہوں کے مقابلے میں اس پہلو سے زیادہ تھی کہ چرچ کے پھیلائے ہوئے فرسودہ اور من گھڑت اعتقادات جب سائنسی وعلمی ترقی کی وجہ سے مشاہداتی طورپر غلط ثابت ہونے لگے تو اس نے اس علمی تحریک کو تشدد سے کچل دینے کی پالیسی اپنائی اور علم وتحقیق کے علمبرداروں کو الم ناک سزائیں دیں۔ آج بھی مغربی دنیانے علامتی طورپر ان جگہوں کو محفوظ رکھا ہوا ہے جہاں ایک ایک دن میں کئی کئی سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس تبدیلی سے بڑے نتائج برآمد ہوئے جنہوں نے بعد میں پوری دنیا کو متاثر کیا:
۱۔ بادشاہت اور جاگیرداری کا خاتمہ ہوا اور اس کی جگہ رفتہ رفتہ جمہوری نظام حکومت رائج ہوا جس میں اقتدار اعلیٰ کا محور ’’عوام‘‘ کو قرار دیا گیا اور پارلیمنٹ ’’عوام‘‘ کی خواہش معلوم کرنے کا ذریعہ قرار پائی۔
۲۔ اجتماعی معاملات سے مذہب کے کردار کو ختم کرکے اسے صرف گرجے تک محدود کر دیا گیا، مذہب اور اس کے قوانین پر عمل کرنا فرد کا ذاتی اور شخصی معاملہ قرار پایا اور یہ طے ہوا کہ سوسائٹی اپنے اجتماعی معاملات خود ہی طے کرے گی، اسے کسی بیرونی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔
گویا اجتماعی زندگی میں میں مذہب کے کردار کا خاتمہ کر کے ’’سیکولرزم‘‘ کے نام سے ایک نیا ایجاد کر لیا گیا اور معاشرے کے افراد کو مذہبی وغیر مذہبی گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی زمانے میں دنیامیں صنعتی واقتصادی ترقی کی لہر اٹھی اور بدقسمتی سے مسلم ممالک کی حکومتوں نے اس طرف توجہ کرنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ مغرب اپنی صنعتی اور اقتصادی قوت کے بل بوتے پر دنیا پر حکمرانی کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا اور اسلامی دنیا کے ممالک یکے بعد دیگرے اس کے سامنے ڈھیر ہوتے چلے گئے، حتیٰ کہ ۱۸۵۷ء میں برصغیر اور ۱۹۲۳ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد قوتیں عملاً اسلامی ممالک کی حکمران بن گئیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے قدیم نظام حکومت اور نظام تعلیم کو جڑسے اکھاڑدیا اور اپنا وہ نظام ان پر مسلط کر دیا جو اپنے تجربات کی روشنی میں انہوں نے تخلیق کیا تھا۔ اس تسلط کے سائے میں معاشرتی وسائنسی علوم کا ایک طوفان آیا جس نے مسلمانوں کے ذہنو ں میں یہ بات بٹھا دی کہ یہ علوم ان کے لیے ناگزیر ہیں اور اگرا نہوں نے ان کے حصول کی کوشش نہ کی توزندگی کی دوڑمیں دنیا کا ساتھ نہیں دے سکیں گے، لیکن یہ بھی بدیہی بات تھی کہ مغربی نظام کے تحت ان علوم کے حصول کے لیے انہیں اپنی تہذیبی وتمدنی روایات کی قربانی دینا پڑے گی۔ یہ بہت عظیم خطرہ تھا جو مسلمانوں کے تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا۔
یہاں سے مسلم دنیا میں دینی اور دنیوی، مذہبی اور غیر مذہبی کی تقسیم شروع ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے فکر مند افراد آگے آئے اور اپنے اعتقادات اور اپنے تمدن ومعاشرے کو بچانے کے لیے میدان عمل میں کود پڑے، لیکن راہ عمل کے انتخاب میں متفق نہ رہ سکے۔ ایک گروہ نے اپنا معاشرتی کردار بلند کرنے کے لیے اسی مغربی نظام میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور دوسرے افراد نے اپنی قدیم روایات، نظریات واعتقادات کی حفاظت کو اپنا مطمح نظر بنا لیا۔ دونوں کام اہم تھے، مقصود ایک ہی تھا لیکن راہیں جداجدا تھیں۔ اول الذکر گروہ نے معاشرتی زندگی میں تو کسی نہ کسی طرح اپنی جگہ بنا لی لیکن نئے نظام کی بھول بھلیاں میں کھو کر اپنی روایات ونظریات کو پس پشت ڈالتے چلے گئے اور نئے نظام کے تحت بغیر کسی نکیر کے زندگی گزارنے لگے۔ ا ن کی آئندہ نسلوں نے اسی نظام میں آنکھ کھولی اور ابتدائی راہ عمل کے فرق کو نہ سمجھتے ہوئے اپنے ہی بھائی بندوں سے اجنیت محسوس کرنے لگے۔ جدید نظام نہ صرف ان کے دلوں میں گھر کر گیا بلکہ یہ اس کی دعوت بھی دینے لگے۔ 
دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے اپنے قدیم نظریات، روایات اور تمدن کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا تھا، وہ اپنے مخصوص عبوری حالات کے پیش نظر معاشرے سے بالکل کٹ کر اصحاب کہف کی طرح ایک کونے میں جا بیٹھے اور اپنے دین ودینی علوم کو سینے سے لگائے رکھا۔ یہ لوگ برصغیر کے علاوہ دوسرے خطوں میں تو اس قدر کامیاب نہ ہوسکے لیکن برصغیر میں ان کی قربانیوں اور سرفروشی نے مغربی نظام کے سامنے مزاحمت کی مثال قائم کر دی۔ انہو ں نے اپنی عزت، اجتماعی زندگی اور معاشی مفادات کو تج دے کر اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیاکہ رہتی دنیا تک مسلم دنیا ان کا احسان نہ چکا سکیں گی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے تمدن وروایات کا دفاع کیا بلکہ اپنی بے مثال استقامت وایمانی فراست سے مغربی نظام پر ایسے کاری حملے بھی کیے کہ وہ اپنے زخم چاٹتے ہوئے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا۔ ان حضرات نے علمی وعملی دونوں محاذوں پر مغرب کی یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کر رہے ہیں۔ یہ لوگ بجاطورپر یہ کہنے کے مستحق ہیں 
ہم کیسے تیراک ہیں جاکر پوچھو ساحل والوں سے 
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا 
ان لوگوں کی جدوجہد، قربانیاں اور اس کے ثمرات بجا، لیکن دینی ودنیاوی طبقات کی کشمکش میں یہ لوگ بھی دانستہ نادانستہ حصہ دار ضرور ہیں۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ اپنی دینی اقدار کی حفاظت کے لیے یہ جس غار میں جا ٹھہرے تھے، وہاں سے نکلنے میں انہوں نے کافی دیر کر دی اور اس عرصے میں معاشرہ مغربی نظام سے کافی حد تک مسموم ہو چکا تھا۔ انہوں نے سوسائٹی میں بالکل بدلا ہوا ماحول پایا ،معاشرے میں رائج زبان، ان کی زبان سے اور اصطلاحات ان کی اصطلاحات سے مختلف تھیں۔ علم وتحقیق کے باب میں علم کی کئی نئی اور مفید شاخوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ زما نہ جوپہلے قیاسات سے بہل جاتا تھا، اب ہر بات کی دلیل مانگتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی سے دنیا سمٹ سمٹا کر ایک چھوٹے سے گاؤں (global village) کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ یہ حضرات اپنے دامن میں حق بھی رکھتے تھے اور حق کی حفاظت کے سب دلائل بھی ان کے پاس تھے، مگرزبان وماحول کی اجنیت، لب ولہجہ کا فرق اور مروجہ اصطلاحات سے ناواقفیت کی بنا پر سیکولرزم کے علمبرداروں سے تو دور تھے ہی، معاشرے کے عام سمجھ دار افراد کی فکر اور سوچ کو بھی زیادہ متاثر نہ کر سکے اور عوام کا جتنا کچھ تعلق ان کے ساتھ رہ گیا تھا، وہ بھی محض عقیدت کی بنیاد پر تھا۔ یہ حال محدود شخصیات کے استثنا کے ساتھ تقریباً سارے ہی دینی طبقہ کا تھا۔ اس پر مستزاد مدمقابل کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کے خلاف پروپیگنڈا تھا جس کے نتیجے میں دینی طبقہ اور عوام کے درمیان موجود خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ ان حضرات کا فرقوں میں تقسیم در تقسیم ہونا بھی مخالفین کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا اور انہوں نے بطور ہتھیار اسے استعمال کرکے انہیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ سیکولر لوگوں کا وہی مطالبہ تھا جو مغرب میں پوپ سے کیا گیا تھا کہ اپنا دائرۂ عمل مسجد ومدرسہ تک محدور رکھو اور مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے علیحدہ رہنے دو۔ سیکولرزم کے نمائندہ یہ طبقہ اس وقت مسلم معاشرے اقتدار کے سرچشموں پر قابض ہے اور معاشرے کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تعلیم، سیاست، معاشرت غرض ہر شعبہ زندگی میں اس کو فیصلہ کن اتھارٹی حاصل ہے ۔
مسلم دنیا میں دینی ودنیاوی طبقات کی تقسیم اپنے ابتدائی مراحل میں صرف رائے اور طرز عمل کا اختلاف تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ اختلاف نظریات واعتقادات کی دو مختلف راہوں کی شکل اختیار کر گیا اور اب دونوں طبقے اپنا ایک الگ نظام عمل اور جدا جدا ’’Idealogies‘‘ رکھتے ہیں اور عملاً دونوں دریا کے دو کناروں کا روپ دھار چکے ہیں جو چلتے تو ایک ساتھ ہیں لیکن ان کا ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو جانا خواب وخیال کی دنیا میں بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ بہرحال معاشرے میں دینی ودنیوی طبقات میں دوری ختم کرنے کی ذمہ داری سب سے زیادہ مذہبی حضرات پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں:
(۱) دینی فکر اور مزاج رکھنے والے ایسے افراد حکومتی مشینری میں شامل کیے جائیں جو مذہبی نقطہ نظر کو حکومتی سطح پر قا بل قدر اہمیت دلا سکیں تاکہ لوگوں کو اسلام کی حقانیت کا ان کے ذریعے علم ہو۔
(۲) عوام کو اپنی بات سمجھانے کے لیے رائج طریقوں اور زبان سے آگاہی حاصل کی جائے تاکہ ا ن پر واضح کیا جا سکے کہ فلاح اپنے دین وروایات میں ہی ہے۔
(۳) غیر مذہبی فکر کامقابلہ کرنے کے لیے میڈیا میں ایسا موثر پلیٹ فارم تلاش کیا جائے جہاں سے ان کی بات توجہ اور دلچسپی سے سنی جا سکے۔
(۴) حکومتی شعبوں میں اپنے تعلیمی نظام کو عا م تعلیم کی طرح سرکاری حیثیت دلائیں تاکہ ان کے مستفیضین معاشرے کے بے کار لوگوں کی لسٹ سے نکل کر کارآمد دائرے میں داخل ہو سکیں۔
(۵) مخالفین کو دلائل سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ جو خطرہ مغرب کو مذہب سے تھا، وہ تم کواسلام سے ہرگز نہیں ہے۔ 
اگر یہ اقدامات کیے جائیں توان شاء اللہ معاشرہ میں اسلامی تعلیمات کے عملاً رائج ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ 

غامدی صاحب کا ’’تصور سنت‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور سنت کے بارے میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے مختلف اصحاب قلم اس سلسلے میں اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی بعض مضامین میں اس کا تذکرہ کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے سنت نبوی کے بارے میں جو انوکھا تصور پیش کیا ہے، اس کے جزوی پہلووں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اس کی اصولی حیثیت کے بارے میں بھی بحث ومکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ جس تصور سنت سے آج کی نسل کو متعارف کرانا چاہتے ہیں، اس کا صحیح تناظر سامنے آئے اور اس کو قبول یا رد کرنے کے بارے میں متعلقہ حضرات پورے اطمینان کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔
اسی پس منظر میں گفتگو کے آغاز کے طور پر چند گزارشات قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ محترم غامدی صاحب بھی اپنے موقف کی وضاحت کے لیے اس مکالمہ میں خود شریک ہوں گے اور اپنے قارئین، سامعین اور مخاطبین کی راہ نمائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کا اپریل ۲۰۰۸ کا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں غامدی صاحب کے رفیق کار جناب محمد رفیع مفتی نے سوال وجواب کے باب میں دو سوالوں کے جواب میں سنت نبوی کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف پیش کیا ہے اور ان کے یہی ارشادات ہماری ان گزارشات کی بنیاد ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد رفیع مفتی صاحب فرماتے ہیں:
’’قرآن مجید میں ہر چیز کے موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو دعوت دی گئی ہے او رحق کی شہادت کے حوالے سے جو استدلال کیا گیا ہے، اس میں کوئی کمی نہیں ہے اور وہ ہر پہلو سے جامع ہے، چنانچہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کتاب اجزاے دین کے بیان اور ان کی تفصیلات کے پہلو سے مکمل ہے۔ اجزاے دین کے حوالے سے کئی چیزوں کو اس میں بیان ہی نہیں کیا گیا، مثلاً نماز کی رکعتیں، اوقات اور دیگر تفصیلات، زکوٰۃ کی شرحیں، مونچھیں پست رکھنا، عید الفطر اور عید الاضحی وغیرہ، شریعت سے متعلق یہ اہم چیزیں قرآن مجید میں موجود ہی نہیں۔ چنانچہ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید اس پہلو سے جامع ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے دین کے سب اجزا بیان کر دیے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا دین ایک رسول کے ذریعے سے دیا ہے اور یہ بات ایک تاریخی سچائی ہے کہ اس رسول نے خدا کا یہ دین ہمیں علم کی صورت میں بھی دیا ہے اور عمل کی صورت میں بھی۔ جو دین ہمیں علم کی صورت میں ملا ہے، وہ سارے کا سارا قرآن مجید میں ہے اور جو عمل کی صورت میں ملا ہے، وہ سنت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت میں جاری کیا ہے۔ 
چنانچہ اگر ہم قرآن کے علاوہ سنت کے اس ذریعے کا انکار کرتے ہیں تو پھر ان سب اعمال کو ہم بطور دین قبول ہی نہیں کر سکتے۔ بے شک ان میں سے بعض چیزوں کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے، لیکن اس میں وہ ذکر اس طرح سے موجود ہے کہ گویا یہ پہلے سے موجود اور متعارف چیزیں ہیں جن پر لوگ عمل کر رہے ہیں اور قرآن محض کسی خاص پہلو سے ان کا ذکر کر رہا ہے۔ جب یہ حقیقت ہے تو پھر پورا دین حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن وسنت دونوں کی طرف رجوع کریں۔‘‘
جبکہ اسی باب میں ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں یہ دریافت کیا گیا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک سنت سے کیا مراد ہے اور یہ کو ن کون سی ہیں، محمد رفیع مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’سنت دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک یہ درج ذیل ہیں:
عبادات
۱۔ نماز، ۲۔ زکوٰۃ اور صدقہ فطر، ۳۔ روزہ واعتکاف، ۴۔ حج وعمرہ، ۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں
معاشرت
۱۔ نکاح وطلاق اور اس کے متعلقات، ۲۔ حیض ونفاس میں زن وشوہر کے تعلقات سے اجتناب
خور ونوش
۱۔ سور، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت، ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ
رسوم وآداب
۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا، ۲۔ ملاقات کے موقع پر السلام علیکم اور اس کا جواب، ۳۔چھینک آنے پر الحمد للہ اور اس کے جواب میں یرحمک اللہ، ۴۔ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت، ۵۔ مونچھیں پست رکھنا، ۶۔ زیرناف کے بال کاٹنا، ۷۔ بغل کے بال صاف کرنا، ۸۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا، ۹۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا، ۱۰۔ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی، ۱۱۔ استنجا کرنا، ۱۲۔حیض ونفاس کے بعد غسل، ۱۳۔ غسل جنابت، ۱۴۔ میت کا غسل، ۱۵۔ تجہیز وتکفین، ۱۶۔ تدفین، ۱۷۔ عید الفطر، ۱۸۔ عید الاضحی‘‘۔
ان دونوں عبارتوں کو سامنے رکھ کر ہم جس نتیجے پر پہنچے ہیں، وہ کچھ اس طرح ہے کہ:
  • غامدی صاحب سنت نبوی کے حجت ہونے کے قائل ہیں اور اس بارے میں وہ جمہور امت کے ساتھ ہیں، مگر سنت کی تعریف اور تعین میں وہ جمہور امت سے ہٹ کر ایک الگ مفہوم طے کر رہے ہیں۔
  • وہ سنت کے صرف عملی پہلووں پر یقین رکھتے ہیں اور سنت کے ذریعے علم میں کسی نئے اضافے کے قائل نہیں ہیں۔
  • سنت کے عملی پہلووں میں بھی وہ اسے صرف دین ابراہیمی کی سابقہ روایات کی تجدید واصلاح اور ان میں جزوی اضافوں تک محدود رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک دین ابراہیمی کی سابقہ روایات سے ہٹ کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نیا عمل اور ارشاد سنت میں شامل نہیں ہے۔
  • سنت کے ساتھ ساتھ وہ قرآن کریم کا وظیفہ بھی صرف اس دائرے میں محدود کر رہے ہیں کہ وہ صرف پہلے سے موجود ومتعارف چیزوں کا ذکر کرتا ہے۔ گویا پہلے سے موجود ومتعارف چیزوں سے ہٹ کر کوئی نیا حکم دینا یا دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا قرآن مجید کے دائرۂ کار میں بھی شامل نہیں ہے۔
  •  ان کے نزدیک سنت کسی اصول وضابطہ پر مبنی نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی کام کے سنت یا غیر سنت ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہو، بلکہ سنت صرف لگی بندھی اشیا کی ایک فہرست کا نام ہے جس میں کسی بھی حوالے سے کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔
  • اس فہرست سے ہٹ کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی ارشاد یا عمل غامدی صاحب کے نزدیک سنت کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور نہ ہی اسے حجت کا درجہ حاصل ہے۔
  • سنتوں کی اس فہرست میں شامل تمام امور کا تعلق ایک مسلمان کی ذاتی زندگی اور زیادہ سے زیادہ خاندانی معاملات سے ہے جبکہ سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے تعلق رکھنے والے امور میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات واعمال کو سنت کا درجہ حاصل نہیں ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاکم، قاضی، کمانڈر اور ڈپلومیٹ وغیرہ کے طور پر جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ فرمایا ہے، وہ بھی سنت کے مفہوم سے خارج ہے۔
چنانچہ سنت کے اس مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے جو ہم نے مندرجہ بالا دو عبارتوں سے سمجھا ہے، یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ سنت نبوی کا یہ مفہوم نہ صرف یہ کہ جمہور امت بالخصوص خیر القرون کے اجماعی تعامل کے منافی ہے بلکہ انتہائی گمراہ کن اور عملاً سنت کے حجت ہونے سے انکار کے مترادف ہے۔ سنت اور حدیث کے حوالے سے محدثین کے بعض فنی مباحث سے قطع نظر جمہور امت کے نزدیک سنت وحدیث میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ تمام ارشادات واعمال شامل ہیں جو کسی بھی حوالے سے صحیح سند کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ ان میں ناسخ ومنسوخ اور راجح ومرجوح کی ترجیحات، صحیح وضعیف کی چھان پھٹک اور واجب العمل ہونے یا نہ ہونے کی درجہ بندی اپنے مقام پر مسلم ہے، لیکن سنت نبوی کی تعیین کا بنیادی ماخذ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات واعمال ہی ہیں جنھیں محدثین کرام نے پورے استناد واعتماد کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔ احادیث کے اسی ذخیرے سے سنت کا تعین اور انتخاب ہوتا ہے، اس لیے دین میں سنت کے حجت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے ماخذ کی حیثیت سے حدیث نبوی بھی حجت کا درجہ رکھتی ہے اور یہ حدیث وسنت صرف دین ابراہیمی کی سابقہ روایات کی خبر کا فائدہ نہیں دیتی بلکہ انشا کے درجے میں بہت سے نئے احکام اور قوانین کا اضافہ بھی کرتی ہے، اس لیے اگر قرآن وسنت دونوں کے کردار کو دین ابراہیم کی سابقہ روایات کی خبر دینے اور ان میں تھوڑی بہت اصلاح وترمیم نیز پہلے سے موجود ومتعارف امور کے تذکرہ تک محدود کر دیا جائے تو نہ قرآن کریم مستقل طور پر ’’الکتاب‘‘ کے درجے پر فائز رہتا ہے اور نہ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’مستقل رسول‘‘ قرار دینا آسان ہوگا بلکہ (نعوذ باللہ) دونوں کی حیثیت عملاً بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام علیہم السلام اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی طرح ہو جائے گی جو موسوی شریعت کے تسلسل کو آگے بڑھانے اور بعض ترامیم اور جزوی رد وبدل کے ساتھ بنی اسرائیل کو اس شریعت پر چلاتے رہنے کے لیے تشریف لاتے رہے ہیں۔
اسی طرح جمہور امت کے نزدیک حدیث وسنت صرف عمل کا فائدہ نہیں دیتی، بلکہ وہ علم کا ماخذ بھی ہے اور ہر دور میں علماے امت نے حدیث وسنت کے ذخیرے سے عمل میں راہ نمائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ’’علم‘‘ کے باب میں بھی استفادہ کیا ہے۔ مثلاً عقیدہ کا تعلق خالصتاً ’’علم‘‘ سے ہے اور جمہور امت کے نزدیک جو باتیں عقائد وایمانیات میں شامل ہیں، ان کی بنیاد صرف قرآن کریم پر نہیں ہے، بلکہ حدیث وسنت کو بھی ایمانیات وعقائد کے تعین اور تعبیر وتشریح دونوں حوالوں سے ماخذ کی حیثیت حاصل ہے اور جس طرح قرآن کریم کے ارشادات ہمارے عقیدہ وایمان کا حصہ بنتے ہیں، اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات بھی ایمان وعقیدہ کی بنیاد اور اساس ہیں۔
میں اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ کے دور کے دو واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جو اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہیں کہ خیر القرون میں عقیدہ کے تعین اور تعبیر، دونوں میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کو بھی ماخذ کی حیثیت حاصل تھی اور ان دونوں کی وضاحت اور ان کے صحیح مصداق کے تعین کے لیے صحابہ کرامؓ سے رجوع کیا جا تا تھا۔
امام مسلم نے ’’صحیح مسلم‘‘ کی سب سے پہلی روایت میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ یحییٰ بن یعمرؒ نے، جو تابعین میں سے ہیں، بیان کیا ہے کہ جب بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کے انکار کی بات کی تو میں اور حمید بن عبد الرحمن حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے اور ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ کی زیارت نصیب ہو گئی تو ہم ان سے معبد جہنی کے اس عقیدے کے بارے میں دریافت کریں گے۔ ہمیں اس سفر میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ ہیں جو قرآن کریم بھی پڑھتے ہیں اور علم کی باتیں بھی خوب کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے اور دنیا میں جو کام بھی ہوتا ہے، نئے سرے سے ہوتا ہے (یعنی پہلے سے اس کے بارے میں کچھ لکھا ہوا نہیں ہے)۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جب تم واپس جا کر ایسے لوگوں سے ملو تو انھیں میری طرف سے کہہ دو کہ میں ان سے براء ت کا اعلان کرتا ہوں اور وہ جب تک تقدیر پر ایمان نہیں لائیں گے، اگر احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیں تو ان سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طویل حدیث سنائی جس میں ایمانیات کا ذکر کرتے ہوئے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’وتؤمن بالقدر خیر وشرہ‘۔ تم تقدیر پر بھی ایمان لاؤ کہ خیر اور شر سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ہوتا ہے۔
دوسرا واقعہ بھی امام مسلم نے ہی کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور اس میں ایک اور تابعی بزرگ حضرت یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ میں خوارج کے اس عقیدہ سے متاثر تھا کہ جو شخص ایک بار جہنم میں چلا گیا، وہ وہاں سے کبھی نہیں نکلے گا اور شفاعت کوئی چیز نہیں ہے، مگر مجھے ایک مرتبہ بہت سے دوستوں کے ساتھ حج کے لیے جانے کا موقع ملا تو مدینہ منورہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو مسجد نبوی میں دیکھا کہ وہ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگائے لوگوں کو وعظ فرما رہے تھے۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں کچھ لوگوں کے جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا ذکر کیا تو میں نے سوال کر دیا کہ حضرت! قرآن کریم تو کہتا ہے کہ ’ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ‘۔ اے اللہ، جس کو تو نے جہنم میں داخل کیا تو اسے رسوا کر دیا۔ اور قرآن کریم میں ہے کہ ’کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا‘، جہنم سے جب بھی لوگ نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ تو اس کے بعد آپ حضرات یہ کہا کہہ رہے ہیں کہ شفاعت ہوگی اور کچھ لوگوں کو جہنم میں سے نکالا جائے گا؟ حضرت جابرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا تم نے قرآن کریم پڑھا ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ کیا اس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’مقام محمود‘‘ کا تذکرہ بھی پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں پڑھا ہے تو اس پر حضرت جابر بن عبد اللہ نے ایک طویل حدیث سنائی جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قیامت کے دن ’’مقام محمود‘‘ میں کھڑے ہو کر شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت پر بے شمار لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، جبکہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے یہ حدیث سن کر ہم نے آپس میں گفتگو کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ تمہارے لیے بربادی ہو، کیا یہ بزرگ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں؟ چنانچہ ایک شخص کے سوا ہم سب رفقا نے اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر لیا۔
ان دونوں واقعات کو ایک بار پھر پڑھ لیجیے، بلکہ ہم نے تو انھیں مختصراً نقل کیا ہے۔ ہو سکے تو صحیح مسلم میں انھیں براہ راست بھی دیکھ لیجیے۔ ان میں عقیدہ کی بات ہے اور ایک واقعہ میں تو اشکال کے لیے قران کریم کی دو آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، عقیدہ کی وضاحت کے لیے صحابہ کرام سے رجوع کیا گیا ہے، دونوں بزرگوں یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے عقیدہ کی وضاحت کے لیے حدیث نبوی پیش کی ہے اور پوچھنے والوں نے اسے کافی سمجھتے ہوئے اپنے عقیدہ کو درست کر لیا ہے۔
اہل السنۃ والجماعۃ کا اسلوب یہی ہے کہ وہ دین کے حوالے سے سنت وحدیث کو ماخذ ومعیار سمجھتے ہیں، جبکہ اس کی وضاحت کے لیے صحابہ کرام سے رجوع کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اہل السنۃ والجماعۃ کہلاتے ہیں، چنانچہ عقائد کے باب میں جو رسالے عقائد کے بحث ومباحثہ کے آغاز میں لکھے گئے تھے، ان میں حضرت امام ابو حنیفہ کا رسالہ ’’الفقہ الاکبر‘‘، امام محمد کا رسالہ ’’عقیدۃ الشیبانی‘‘، امام احمد بن حنبل کا رسالہ ’’العقیدۃ‘‘ اور امام طحاوی کا رسالہ ’’العقیدۃ الطحاویہ‘‘ معروف رسائل ہیں۔ ان میں جتنے عقائد کا ذکر ہے اور جن پر ایمان لانا ایک مسلمان کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر کا ماخذ حدیث نبوی ہے اور قرآن کریم کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وفرمودات سے بھی عقائد وایمانیات میں استفادہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری جمہور امت اور اہل سنت کے اسلوب کا بہترین نمونہ ہے جس میں حضرت امام بخاریؒ نے ’’الجامع الصحیح‘‘ کے سب سے پہلے باب ’’کتاب الایمان‘‘ میں عقائد وایمانیات بیان کیے ہیں اور سب سے آخری باب ’’کتاب الرد علی الجہمیۃ‘‘ میں عقائد کی تعبیرات وتشریحات کا ذکر کیا ہے اور دونوں ابواب میں یعنی عقیدہ کے تعین اور اس کی تعبیر وتشریح دونوں میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ کو بھی بنیاد بنایا ہے، ان دونوں کی وضاحت اور ان کے مصداق کے تعین کے لیے حضرات صحابہ کرام کے ارشادات وتوضیحات سے استدلال کیا ہے اور یہی قرآن وسنت کی بنیاد پر دین کی تعبیر وتشریح کا صحیح اسلوب اور معیار ہے۔
اس ضمن میں ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کے مذکورہ شمارے (اپریل ۲۰۰۸) کے صفحہ ۸ میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے اس ارشاد کا حوالہ دینا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ:
’’اصل الفاظ ہیں: بل رفعہ اللہ الیہ۔ اس رفع کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۵۵ میں اس طرح فرمائی ہے کہ وفات کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں اپنی طرف اٹھا لیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ روح قبض کر کے ان کا جسم بھی اٹھا لیا جائے گا تاکہ ان کے دشمن اس کی توہین نہ کر سکیں۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بارے میں غامدی صاحب کا یہ کہنا امت کے اجماعی عقیدہ کے منافی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک عقیدہ کے تعین وتعبیر میں سنت وحدیث کا کوئی دخل نہیں ہے اور ان کے خیال میں قرآن کریم سے اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روح قبض کیے بغیر زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اگرچہ ان کا یہ موقف بھی محل نظر ہے کہ قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ حالت میں آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کا ثبوت نہیں ملتا، لیکن اس وقت ہمارا یہ موضوع گفتگو نہیں ہے اور ہم سردست یہ عرض کرنا چاہ رہے ہیں کہ چونکہ غامدی صاحب سنت وحدیث کو علم کا ذریعہ نہیں سمجھتے اور عقائد کے ماخذ کے طور پر تسلیم نہیں کرتے، اس لیے انھیں امت کے اس اجماعی عقیدہ سے انحراف کرنا پڑ رہا ہے اور بات صرف اس ایک عقیدہ تک محدود نہیں ہے، اور بھی بہت سے معاملات میں جمہور امت کے اجماعی تعامل سے غامدی صاحب کے انحراف کی وجہ یہی ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک محترم جاوید احمد غامدی صاحب کا یہ ’’تصور سنت‘‘ صرف امت کے اجماعی تعامل وعقیدہ ہی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ’ومن یشاقق الرسول‘ اور ’ویتبع غیر سبیل المومنین‘ کی حدوں کو چھوتا ہوا بھی نظر آ رہا ہے، اس لیے ہم ’الدین النصیحۃ‘ کے تحت پورے خلوص کے ساتھ انھیں اس گمراہ کن تصور سے رجوع کا برادرانہ مشورہ دینا اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

حلال و حرام اور غامدی صاحب کا تصور فطرت

حافظ محمد زبیر

غامدی صاحب کے نزدیک جس طرح معروف و منکر کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا، اسی طرح ان کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں بھی سوائے چارکے حلال و حرام کا تعین فطرت انسانی ہی کرے گی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اسے بتایاکہ سؤر ‘خون‘مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ’قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ‘اور بعض جگہ ’اِنَّمَا‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں‘‘۔
غامدی صاحب کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کے ذریعے صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جو کہ قطعاًغلط ہے کیونکہ اہل سنت کے نزدیک ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کی حرمت بھی اللہ کی طر ف سے ہے جیسا کہ آگے چل کر ہم دلائل سے اس بات کو واضح کریں گے۔ ایک اور جگہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ‘چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم اگر چاہیں تو ممنوعات کی اس فہرست میں بہت سی دوسری چیزیں بھی اس علم کی روشنی میں شامل کر سکتے ہیں۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اسے بیان فطرت کے بجائے بیان شریعت سمجھا‘‘۔
غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حرام قرار دیا ہے، وہ اپنی فطرت سے حرام قرار دیا ہے نہ کہ وحی سے۔ غامدی صاحب کا یہ موقف بھی قرآن و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے۔ غامدی صاحب کے شاگردِ رشید جناب منظو ر الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے تصور فطرت کی وضاحت میں اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ قرآن کی آیت ’یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبائث‘ میں ’الطیبات ‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی کرے گی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جمہور اہل سنت کے برحق مذہب کے مطابق حلال و حرام اور خبائث و طیبات کا تعین وحی الٰہی سے ہوگا۔ اس موقف کے درج ذیل دلائل ہیں:* 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قُل لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ (الأنعام: ۱۴۵)
’’اے نبی ﷺ! کہہ دیجیے :میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی کیا گیا ہے کسی بھی چیز کو حرام کسی بھی کھانے والے پر جو کہ اس کو کھاتا ہو۔‘‘
اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’ما أوحی الی‘ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ختیار نہیں ہے تو ایک عام انسان اپنی فطر ت سے کسی طرح کسی چیز کو حرام قرار دے سکتا ہے؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (الأنعام: ۱۱۹)
’’اور تمہیں کیاہو گیا ہے کہ تم اس جانور کو نہیں کھاتے کہ جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کانام لیا گیا ہوجبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کھول کھول کر وہ سب چیزیں بیان کر چکا ہے جوکہ اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں، سوائے اس کے تم ان میں کسی ایک چیز کے استعمال پر مجبور ہو جاؤ۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام چیزوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعے ان کی مزید تشریح اور وضاحت بھی فرما دی ہے۔ لہٰذ ا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وضاحت کے بعد بھی کیا اس بات کی ضرورت باقی رہتی ہے کہ فطرت کی بنیاد پر کچھ چیزو ں کو حرام ٹھہرایا جائے؟ قرآن کی نص ’و قد فصل لکم ما حرم علیکم‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ طیبات و خبائث کے مصداقات متعین ہیں۔ اگر طیبات و خبائث کے مصداقات کا تعین فطرت انسانی سے ہونا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گاکہ حلال و حرام کی تفصیل اللہ نے بیان نہیں کی بلکہ انسان نے اس فہرست کو ابھی مکمل کرنا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبَآءِثَ (الأعراف: ۱۵۷)
’’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال قرار دیں گے اور خبائث کو حرام قرار دیں گے۔‘‘
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ طیبات وخبائث کا تعین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ ’یحل‘ میں ’ھو‘ ضمیر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ‘اس سے عام انسانوں کو مراد لینا اصول تفسیرکے کس اصول کے تحت جائز ہوا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے مطابق طیبات و خبائث کا تعین اپنی احادیث مبارکہ سے فرما دیا۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
’’اور اللہ تعالیٰ کا قول ’’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرائیں گے‘‘ اللہ کی طرف سے یہ خبر ہے کہ آپ مستقبل میں ایساکریں گے۔ پس آپؐ نے طیبات کو حلال ٹھہرایا ہے اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے جیساکہ آپؐ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: کتاب التفسیر‘ فصل الناس فی مقام حکمۃ الأمر و النھی علی ثلاثۃأصناف)
امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :
’’ان میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طیبات کو حلا ل قرار دیا ہے اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے اور کچھ چیزیں ایسی تھیں کہ ان دونوں کے درمیان تھیں، ان کا ان دونوں میں سے کسی ایک یعنی طیبات یا خبائث سے الحاق ممکن تھاتو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تمام اشیا کے بارے میں کہ جن کے طیب یا خبیث ہونے میں اشکال ہو سکتا تھا، وضاحت فرمادی کہ یہ طیب ہے یا خبیث ہے۔ پس آپؐ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے درندے اور پرندوں میں سے پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا۔‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ ص۱۸)
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات و خبائث کی وضاحت فرما دی تو حلال و حرام کی فہرست واضح ہو گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے طیبات و خبائث کے افراد کے بیان کی بجائے ان کی تعیین کے لیے کچھ اصول دے دیے، مثلا آپؐ نے ہر ’ذی ناب من السباع‘ کو حرام قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ حرمت کی علل میں سے ایک علت قوت سبعیہ بھی ہے۔ یعنی جن جانوروں کا گوشت کھانے سے انسانوں میں درندگی کے اوصاف پیدا ہوں ‘ ان کے اخلاق بگڑ جائیں‘ان میں بغاوت‘ زیادتی، ظلم اور سرکشی کے جراثیم پیدا ہوں تو ایسے جانوروں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبائث کہاہے اور ان جانوروں کی ایک معروف علامت ’ذی ناب‘ بیان کر دی تاکہ ان کی معرفت میں آسانی ہو۔ یہ ذہن میں رہے کہ صرف ’ذی ناب‘ ہونا کسی جانور کے حرام ہونے کی علت نہیں ہے، کیونکہ گوہ بھی ’ذی ناب‘ میں سے شمارہوتی ہے، جیسا کہ ابن قیمؒ نے’ اعلام الموقعین‘ میں لکھاہے ۔اس کے علاوہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات و خبائث کا تعین کرتے ہوئے کچھ جامع اصول بیان کیے ہیں کہ جو ایک مستقل مضمون کے متقاضی ہیں۔ ان شاء اللہ ان تمام اصولوں پر ایک علیحدہ مستقل مضمون میں بحث ہوگی۔
سید منظور الحسن صاحب کے نزدیک ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا جو کہ خود غامدی صاحب کے اصول ’قرآن قطعی الدلالۃہے ‘ کے خلاف ہے ۔کیونکہ اگر فطرت انسانی سے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین کیا جائے گا تو قرآن کے ان الفاظ کا معنی کبھی بھی متعین نہ ہو سکے گااور فطرت میں اختلاف کی صورت میں ایک فقیہ کے نزدیک ایک جانور حلال ہو گا اور دوسرے کے نزدیک وہی جانور حرام ہو گا۔بعض فقہا کے جن اقوال کو منظور صاحب نے اپنے تصور فطرت کے حق میں بطور دلیل پیش کیا ہے، ان فقہا کا بعض جانوروں کی حلت و حرمت میں اختلاف ہی اس بات کی صریح دلیل ہے کہ فطرت انسانی سے حلال و حرام کی فہرستیں مرتب نہیں ہو سکتیں اور فطرت انسانی سے طیبات و خبائث کی تعیین کی صورت میں مراد الہٰی معاذ اللہ لغو قرار پاتی ہے کیونکہ ایک فقیہ ایک جانور کو طیب کہہ کر حلال قرار دے رہا ہوگا جبکہ دوسرا فقیہ اسی جانور کو خبیث قرار دے کے حرام کہہ رہا ہوگا ۔علامہ کاسانی ؒ لکھتے ہیں:
’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے طیبا ت کو حلال کرتے ہیں اور خبائث کو حرام قرار دیتے ہیں اور گھوڑے کا گوشت طیب نہیں ہے بلکہ وہ خبیث ہے، کیونکہ طبائع سلیمہ اس کو اچھا نہیں سمجھتیں بلکہ اس کو برا خیال کرتی ہیں، یہاں تک کہ کسی بھی شخص کو اگر اس کی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کوبرا ہی سمجھے گا اور اس کی طبیعت اس کے کھانے سے بچے گی۔‘‘ ( بدائع الصنائع‘ کتاب الذبائح و الصیود)
علامہ کاسانیؒ کی طبیعت کے مطابق گھوڑا خبیث جانور ہے جبکہ شوافع اورحنابلہ گھوڑے کو طیب کہتے ہیں اور اس کا گوشت استعمال کرنے میں کوئی طبعی کراہت محسوس نہیں کرتے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہل حدیث کی فطرت بھی گھوڑے کا گوشت کھانے سے ابا نہیں کرتی،بلکہ ہمارے علاقوں میں اونٹ کا گوشت کھانے میں عامۃ الناس کوطبعاً زیادہ کراہت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس کا گوشت کھانا ہمارے ہاں رواج میں نہیں ہے۔ اگرفقہا کا ایک گروہ کسی جانور کو کھانے میں کراہت محسوس کرے یا کسی مسلمان معاشرے میں کسی جانور کے کھانے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس کا گوشت کھانا پسند نہ کرتے ہوں تو کیا وہ جانورحرام ہو جائے گا؟
۱۷) اگر یہ مان لیا جائے کہ طیبات و خبائث کا تعین فطرت انسانی سے ہوگاتو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم کے مطابق طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام قرار نہیں دیا۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طیبات وخبائث کے بعض مصداقات کا تعین کیا تھا جبکہ بعض کی تعیین کا معاملہ امت پر چھوڑ دیا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو طیبات و خبائث کی تعیین کا اختیار خود آیت مبارکہ سے ثابت ہوا۔ عامۃ الناس کے لیے طیبات وخبائث کے تعین کا اختیار کس نص سے ثابت ہے؟منظور صاحب کے لیے صرف یہ کہنا کافی دلیل نہیں ہے کہ چونکہ بعض علما نے بھی یہ کام کیاہے، لہٰذا ہمارے لیے بھی جائز ہے۔ حالانکہ اس مسئلے میں علما اور غامدی صاحب کے موقف میں زمین و آسمان کافرق ہے جسے ہم آگے چل کر واضح کریں گے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَاتِلُواْ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّہُ وَرَسُولُہُ (التوبۃ:۲۹)
’’تم جنگ کرو ان لوگوں سے جو کہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کو حرام نہیں ٹھہراتے کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہو۔‘‘
یہ آیت مبارکہ میں اس مسئلے میں واضح ہے کہ حرام صرف وہی ہے جسے اللہ یا اس کے حکم سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرا دیا اور یہ محرمات متعین ہیں۔ یہاں کسی فطرت کو حرمت کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اگر توفطرت انسانی کی بنیاد پر ایک فقیہ نے کسی جانور کو طیب قرار دیتے ہوئے حلال کہا اور دوسرے نے اسے خبیث کہتے ہوئے حرام قرار دیا تویہ فقہا کے حلال و حرام ہوئے نہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس عیب سے پاک ہیں کہ ایک ہی جانور مثلا گھوڑے کو حلال بھی کہیں اور حرام بھی۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الحلال بین و الحرام بین و بینھما مشبھات لا یعلمھا کثیر من الناس فمن اتقی المشبھات استبرأ لدینہ و عرضہ و من وقع فی الشبھات کراع یرعی حول الحمی یو شک أن یواقعہ (صحیح بخاری‘ کتاب الإیمان‘ باب فضل من استبرأ لدینہ)
’’حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ ملتے جلتے امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جو کوئی بھی ان ملتے جلتے امور سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بھی بچا لیا اور جو ان میں مبتلا ہو گیا، اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کہ ایک چراگاہ کے گرد اپنے مویشی چراتا ہے اور قریب ہے کہ وہ اس چراگاہ میں اپنے جانور ڈال دے۔ ‘‘
علامہ ابن حجرؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
’لا یعلم کثیر من الناس‘سے مراد یہ ہے کہ اکثر لوگ ان معاملات کا حکم نہیں جانتے اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں وضاحت ہے کہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ حلال ہیں یا حرام ہیں اور حدیث سے مراد یہ ہے کہ ان چیزوں کی حلت یا حرمت کا حکم معلوم کرنا تو ممکن ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے جو کہ اجتہاد کے درجے پر فائز ہوں۔ پس شبہات ان لوگوں کے لیے جو کہ مجتہدین نہیں ہیں کیونکہ عوام الناس کو یہ شبہات اس لیے واقع ہو جاتے ہیں کہ وہ دلیلوں میں ترجیح قائم نہیں کر سکتے ۔‘‘ (فتح الباری مع صحیح بخاری‘ کتاب الإیمان‘ باب فضل من استبرأ لدینہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلال و حرام واضح ہیں اور متعین ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں بعض شرعی دلائل کے بظاہر تعارض کی وجہ سے عوام الناس کو اشتباہ ہو جاتا ہے کہ یہ حلال ہیں یا حرام ہیں تو مجتہدین ان دو شرعی دلیلوں میں نسخ‘ تطبیق یا ترجیح کے اصولوں کے ذریعے کوئی موقف قائم کرسکتے ہیں ۔
امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
’’اور شبہات کا مطلب یہ ہے کہ ان کا معنی واضح نہیں ہے کہ وہ حلال ہیں یا حرام ہیں اس لیے اکثر لوگوں کو ان کی حلت یا حرمت کا علم نہیں ہے اور جہاں تک علما کا معاملہ ہے تو ایسی مشتبہ چیزوں کا حکم قیاس ‘استصحاب حال یااس کے علاوہ شرعی اصولوں سے معلوم کر لیتے ہیں۔ پس جب کسی شے کی حلت یا حرمت کے بارے میں اشتباہ ہوجائے اور اس کے حلال یا حرام ہونے میں کوئی نص صریح یا اجماع نہ ہوتو مجتہد اس میں اجتہاد کر کے اس شے کو حلال یا حرام میں سے کسی ایک سے ملا دے گا .. .اور اگر مجتہد کے لیے بھی کسی چیزمیں اشتباہ باقی رہے تو کیا پھر اس کی حلت کا حکم جاری کیا جائے گا یا حرمت کا یا اس میں توقف کیا جائے گا۔ اس میں تین مذاہب ہیں کہ جن کو قاضی عیاض وغیرہ نے بیان کیا ہے اور ظاہر نص سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مذکور اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو کسی مسئلے میں شرعی حکم کے نزول سے پہلے ہو جاتا ہے اور اس مسئلے میں چار آرا ہیں جن میں سب سے صحیح یہی ہے کہ نہ اس کو حلال کہا جائے گا اور نہ حرام اور نہ مباح اور نہ اس پر اس کے علاوہ کوئی حکم جاری کیا جائے گاکیونکہ اہل حق کے ہاں تکلیف کسی شرعی حکم کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ (شرح النووی مع صحیح مسلم‘ کتاب المساقاۃ‘ باب أخذ الحلال و ترک الشبھات)
امام نووی ؒ کے نزدیک کسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں اگر اشتباہ ہو جائے تو مجتہد کسی شرعی اصول مثلا قیاس یا استصحاب وغیرہ کی روشنی میں اس شے کے حلال و حرام ہونے کا فیصلہ کرے گااور بغیر کسی شرعی دلیل کے حلت و حرمت ثابت نہ ہوگی۔ 
آپؐ کا فرمان ہے:
الحلال ما أحل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ (سنن الترمذی ‘ کتاب اللباس عن رسول اللہ‘ باب ما جاء فی لبس الفراء)
’’حلال وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ نے خاموشی اختیار کی ہے وہ معاف ہے۔‘‘
محدث العصر علامہ مبارکپوریؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :
’فھو مما عفا عنہ‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیا کے استعمال کو جائز اور ان کے کھانے کو مباح قرار دیاہے۔اور اس حدیث سے یہ اصول بھی نکلا کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے۔اور اس حدیث کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان’وہی ہے کہ جس نے تمہارے فائدے کے لیے وہ سب کچھ پیدا کیاہے جو زمین میں ہے‘ سے بھی ہو رہی ہے۔‘‘ (تحفۃ الأحوذی مع سنن الترمذی‘ کتاب اللباس عن رسول اللہ‘ باب ما جاء فی لبس الفراء)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حلال و حرام وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال یا حرام ٹھہرایا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو ’ذی مخلب ‘ اور ’ذی ناب‘ کو حرا م قرار دیا ہے تو وہ اللہ ہی کے حکم سے قرآنی آیت ’یحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث‘ کا بیان ہے۔ لیکن اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی فقیہ یا مجتہد اپنی فطرت سے کسی جانور کو خبیث قرار دے کر حرام ٹھہراتا ہے تو اس کے بارے میں ہم یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے کیونکہ دوسرا فقیہ اس کو حلال بھی کہہ رہا ہوتا ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی۔ آپ اس کو کھانے کے لیے جھکے تو آپؐ سے کہا گیا کہ یہ گوہ ہے۔ پس آپؐ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ حضرت خالدبن ولیدؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپؐ نے جواب دیا: ’’نہیں ‘لیکن چونکہ یہ جانور میری قوم کی سرزمین (یعنی مکہ ) میں نہیں پایا جاتا اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا‘‘۔ پس حضرت خالدؓ نے اس کو کھایا اور آپؐ حضرت خالدؓ کو دیکھ رہے تھے ۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی خالہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ پنیر ‘گھی اور گوہ ہدیہ کے طور پر بھیجے ۔پس آپؐ نے پنیر اور گھی کھا لیا اور گوہ سے کراہت کرتے ہو ئے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ گوہ آپؐ کے دستر خوان پر کھائی گئی‘ اگر وہ حرام ہوتی تو آپ ؐکے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کے گوشت کو ناپسند فرمایااور آپؐ کے سامنے گوہ کا گوشت کھایا گیالیکن آپ ؐ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ کھانے کے ایک جانور سے آپ ؐکی فطرت ابا کررہی تھی لیکن آپ ؐ نے اسے اپنی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے حرام قرار نہیں دے رہے۔ لہٰذ ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے (یعنی وحی کے بغیر) کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے اور فطرت انسانی اگر ایک چیز سے ابا کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حرام ہے‘ جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ زمانہ رسالت کے اہل عرب کی فطرت کو دوسرے مسلمانوں کی فطرت پر کوئی فوقیت اور تحکم حاصل نہیں ہے جیسا کہ جناب غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ معرو ف و منکر کی تعیین بذریعہ انسانی فطرت میں‘ اگر انسانوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو اس صورت میں اہل عرب کے فطری رجحان کو ترجیح حاصل ہو گی۔ 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
من أکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربنا المسجد فقال الناس حرمت حرمت فبلغ ذلک رسول اللہ ﷺفقال أیھا الناس انہ لیس لی تحریم ما أحل اللہ و لکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا (مسند أحمد:۱۰۶۶۲)
’’جس نے اس خبیث درخت(یعنی پیاز) کو کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے تو لوگ یہ کہنے لگے کہ (پیاز) حرام کر دیا گیا حرام کر دیا گیا۔جن آپؐ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا :اے لوگو!جس کو اللہ نے حلال ٹھہرایاہے تو مجھے کوئی اختیار نہیں ہے کہ اسے حرام قرار دوں ۔لیکن یہ ایک ایسا درخت ہے کہ جس کی خوشبو مجھے ناپسند ہے ۔‘‘
یہ حدیث بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک عام انسان کی فطرت تو کجا خیر العرب و العجم کی فطرت بھی اگر کسی کھانے کی چیز سے ابا کرے تو وہ حرام نہیں ہو سکتی جبکہ اللہ کی طرف سے اس کی حرمت کے بارے میں کوئی واضح حکم بذریعہ قرآن یا سنت نہ آ جائے۔

منظور الحسن صاحب کے دلائل

منظور صاحب نے اپنے اس موقف کی تائید میں کہ ’طیبات‘ اور ’خبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا ‘قرآن و سنت سے کوئی ایک دلیل بھی نقل نہیں کی۔ منظور صاحب کی کل دلیل اس مسئلے میں بعض علما کے اقوال ہیں حالانکہ اس بات پر وہ بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ قرآن و سنت کے دلائل کو سمجھنے میں علما کی اہمیت تو مسلم ہے لیکن علما کے اقوال بذات خود کوئی شرعی دلیل نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات سے خوشی ہوئی کہ منظور صاحب نے طیبات و خبائث کے تعین میں علما کے اقوال نقل کیے۔ چلیں اسی بہانے سہی‘ اصحاب مورد کوعلما و فقہا تو یاد آگئے۔ منظور صاحب کا یہ کہنا کہ جو موقف غامدی صاحب کا ہے وہی بعض پچھلے فقہا کا بھی ہے، لہٰذا راقم الحروف کو ان فقہا پر بھی نقد کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طیبات و خبائث کی تعیین میں جو موقف بعض فقہا کے حوالے سے منظور صاحب نے بیان کیاہے، وہ غامدی صاحب کے نقطہ نظر سے قطعاًمختلف ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہماری بحث اس وقت غامدی صاحب سے ہو رہی ہے نہ کہ پچھلوں سے‘ لہٰذا ہم پچھلوں پر فتوے کیوں لگائیں جبکہ ہمیں ان کا موقف سمجھ میں بھی آتا ہے۔ 
سب سے پہلے ہم قرآنی آیت ’یحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث‘ کے بارے میں مفسرین کے اقوال نقل کریں گے کہ وہ اس آیت مبارکہ کی کیا تفسیر کرتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں علما کے درج ذیل اقوال ہیں :
۱۔ طیبات سے مراد وہ حلال چیزیں ہیں کہ جن کو مشرکین مکہ یا یہود نے اپنی طرف سے حرام ٹھہرا لیا تھایا وہ یہود پر ان کی شرارتوں کی وجہ سے حرام کر دی گئی تھیں مثلا بحیرہ ‘ سائبہ‘ وصیلہ‘ حام اورچربی وغیرہ ‘اور خبائث سے مراد وہ حرام اشیاء ہیں کہ جن کواہل مکہ زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے یا یہود نے ان کو حلال بنا لیا تھا مثلاً مردار‘ خنزیر‘سود اور رشوت وغیرہ۔یہ قول ابن عباسؓ ‘ مقاتلؒ ‘ امام طبریؒ ‘زمخشریؒ ‘ابن کثیرؒ ‘محلیؒ ‘ ماوردیؒ ‘بغویؒ ‘عز بن عبد السلامؒ ‘نسفیؒ ‘خازنؒ ‘أبو سعودؒ ‘ الثعلبیؒ ‘ابن عجیبہؒ ‘واحدیؒ ‘ طنطاویؒ ‘ الشربینی الخطیب‘ؒ مفتی عبدہ الفلاحؒ ‘مولاناعبد الرحمن کیلانیؒ ‘ مولانامودودیؒ ‘ مفتی شفیع صاحبؒ اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ وغیرہ کا ہے ۔امام بیضاویؒ کا رجحان بھی اسی طرح ہے ۔
۲۔ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں شریعت اسلامیہ میں حرام کہا گیا ہے۔ یہ قول امام مالکؒ ‘ ابن جریج ؒ ‘ فیروز آبادیؒ ‘ سمر قندیؒ ‘الثعلبیؒ ‘ابن عاشور ؒ کا ہے۔ امام قرطبیؒ ‘ ابن عطیہؒ اور الثعالبیؒ کا رجحان بھی اسی طرف ہے ۔مالکیہ کا مذہب بھی اسی قول کے مطابق ہے ۔یعنی جن چیزوں کی حلت وحرمت قرآ ن و سنت میں آ گئی وہ توحلال یاحرام ہیں اور جن کے بارے میں خاموشی ہے ان کا کھانا جائز ہے، مثلاً سانپ‘ بچھو اور بھونرے وغیرہ۔ ابو جعفر النحاس ؒ نے پہلے دونوں اقوال کو آیت کی تفسیر کے طور پر بیان کیا ہے ۔اس قول پر اگرچہ بعض اعتراضات وارد ہوتے ہیں، لیکن ابن عاشور مالکی نے اپنی تفسیر ’التحریر و التنویر‘ میں ان کامفصل جواب دیا ہے۔
۳۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جنہیں اہل عرب طبعاً پسند کرتے تھے اور خبائث سے مراد ووہ حیوانات ہیں کہ جن کو عرب ناپسند کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حلال یا حرام کہا ہے، وہ شرعاً حلال یاحرام ہیں اور جن جانوروں کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی نص نہیں ہے، ان کی حلت و حرمت کافیصلہ اہل عرب کی طبیعت سے ہو گا۔ یہ قول امام شافعیؒ کا ہے۔ جمہور شوافع ور بعض حنابلہ نے بھی اس قول کو اختیار کیاہے۔شوافع کے نزدیک اہل عرب سے مراد شہروں اور بستیوں کے لوگوں ہیں نہ کہ دیہاتی اور صحرائی بدو۔ جبکہ حنابلہ کے نزدیک اہل عرب سے مراد اہل حجاز ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ فقہا کے یہ دونوں گروہ طیبات و خبائث کی تعیین میں اہل عرب کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کے انسانوں کی طبیعت و مزاج کے رجحان و میلان کو کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ 
امام شافعیؒ ‘ابن قتیبہ ؒ اورا بن قدامہ ؒ کے حوالے سے منظور صاحب نے جو عبارات پیش کی ہیں، ان کا معنی و مفہوم وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک جن چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں کوئی واضح نص نہ ہو، ان کی حلت و حرمت کا فیصلہ اہل عرب کی طبیعت سے ہو گا۔ جبکہ غامدی صاحب کا موقف ان فقہا سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ ان فقہا کے نزدیک جن چیزوں کی حرمت اخبار آحاد میں آئی ہے، وہ اشیا شرعا حرام ہیں جبکہ غامدی صاحب حدیث میں موجود حرام اشیا کی حرمت کو شرعی حرمت نہیں مانتے اور اسے بیان فطرت قرار دیتے ہیں اور اگر وہ ان فقہا کی طرح ان اشیا کی حرمت کو بیانِ شریعت مان لیں تو ان کا بنایا ہوا غلط اصول کہ حدیث سے قرآن کے نسخ ا ور اس کی تحدید و تخصیص کایہ مسئلہ محض سوء فہم اور قلت تدبر کانتیجہ ہے‘ ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فقہا کا یہ گروہ طیبات و خبائث کے تعین میں اہل عرب کے طبعی رجحان کو فیصلہ کن حیثیت دیتاہے اور غیر عرب کے طبعی میلان کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ غامدی صاحب طیبات و خبائث کی تعیین میں نوع انسانی کی فطرت کی بات کرتے ہیں ۔اس فرق کے باوجود ہم غامدی صاحب کے تصور فطرت کے ساتھ ساتھ فقہا کی اس رائے کو اس وقت تک نہیں مان سکتے جب تک کسی شرعی نص سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اہل عرب اور ان میں بھی شہری عربوں کی طبیعت کو ساری امت مسلمہ پر حلت و حرمت کے مسئلے میں حَکم بنایا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ رائے صریح نصوص کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ابن تیمیہؒ کی عبارات ہم اس مسئلے میں پہلے نقل کر چکے ہیں۔
۴۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جن کے کھانے کو نفس انسانی پسند کرتا ہے اور انسانی طبیعت ان کے استعمال سے لذت حاصل کرتی ہے جبکہ خبائث سے مراد وہ حیوانات ہیں کہ جن کے کھانے کو انسانی طبیعت ناپسند کرتی ہے ۔یہ قول امام رازی ؒ اور ابن الخطیبؒ کا ہے۔ابن عادل الحنبلی ؒ اورعلامہ آلوسیؒ کا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے ۔ان حضرات کے نزدیک بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جانوروں کو حلال یا حرام کہا ہے وہ شرعاً حلال یاحرام ہیں اور جن جانوروں کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی نص نہیں ہے ان کی حلت و حرمت کافیصلہ یہ علماء عامۃ الناس کے طبعی رجحان و میلان پر چھوڑ دیتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس کو آپؐ نے حرا م کہا ہے مثلا گھریلو گدھے‘ کچلی والے جانور اور شکاری پرندے اور اس کے علاوہ جانور تو یہ سب خبائث میں شامل ہیں۔ (الأحکام:جلد۲‘ ص۲۰۱)
امام رازیؒ ‘ علامہ کاسانی ؒ اور ابن حزمؒ کی جو عبارات منظور صاحب نے پیش کی ہیں، ان کا یہی مفہوم ہے جو کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ۔جناب منظور الحسن صاحب کا رجحان بھی اسی قول کی طرف معلوم ہوتا ہے ۔غامدی صاحب کا قدیم قول بھی اسی طرح کا ہے جو کہ ’میزان‘ مطبوعہ ۱۹۸۵ء میں موجود ہے ۔
۵۔ طیبات سے مراد وہ جانور ہیں کہ جن کے کھانے کو نفس انسانی پسند کرتا ہے اور انسانی طبیعت ان کے استعمال سے لذت حاصل کرتی ہے جبکہ خبائث سے مراد وہ حیوانات ہیں کہ جن کے کھانے کو انسانی طبیعت ناپسند کرتی ہے۔اورجس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں حرام قرار دیا ہے وہ اپنی فطرت سے حرام ٹھہرایا ہے نہ کہ وحی سے۔ لہٰذا حدیث میں موجود حرام اشیا بیان فطرت ہیں نہ کہ بیان شریعت۔ یہ جناب غامدی صاحب کاقول جدید ہے ۔
۶۔ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ٹھہرایا اور خبائث سے مراد وہ اشیا ہیں کہ جن کو آپؐ نے حرام قرار دیاہے یعنی آپؐ نے اپنی احادیث سے طیبات اور خبائث کے مصداقات کاتعین کر دیا ہے۔ یہ قول مالکیہ‘ جمہور حنابلہ‘بعض احناف‘ امام ابن تیمیہؒ اور امام شاطبیؒ کا ہے۔ بعد میں بعض فروعات کی حلت و حرمت میں ان فقہا کے درمیان اختلاف ہوا مثلا امام مالکؒ نے نصوص میں بیان شدہ صریح حرام جانوروں کے علاوہ باقی تمام جانوروں کو حلال قرار دیا جبکہ امام ابن تیمیہؒ نے نصوص قرآن وسنت سے علل نکال کر نصوص میں نہ بیان کیے گئے جانوروں کو بھی ان علل کی بنیاد پر حرام قرار دیا ہے۔ عبد الرحمن بن ناصر السعدیؒ ‘ أبو بکر الجزائریؒ اور ’التفسیر المیسر ‘ کے مؤلفین نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کی علت خارجی یعنی اہل عرب یا عامۃ الناس کا طبعی رجحان و میلان نہیں ہے بلکہ یہ علت و حکمت ذاتی ہے اور اس علت وحکمت کا علم ہمیں احادیث مبارکہ سے حاصل ہوا ہے یعنی ہر وہ جانور کہ جس کا گوشت انسانی اعضا اور اخلاق کے لیے نفع بخش ہو وہ طیب ہے اور ہر وہ جانور جو انسان کے جسمانی اعضا یا اخلاقی رویوں میں فساد پیدا کرے وہ خبیث ہے۔امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
’’جمہور علما کاکہنا یہ ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور ان کا کھانادین میں نفع کا باعث ہے اور خبیث سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ جو اپنے کھانے والے کے دین کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اور دین کی أصل عدل ہے کہ جس کے قیام کے لیے اللہ تعالی نے رسولوں کو مبعوث فرمایا‘ پس جو چیز اپنے کھانے والے میں ظلم اور زیادتی پیدا کرتی ہے اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ جیسا کہ ہر کچلی والے درندے کے کھانے کو حرام قرار دیا گیاکیونکہ ایسادرندہ سرکش اور حد سے بڑھنے والاہوتا ہے اور غذا دینے والاغذا لینے والے کے مشابہ ہوتا ہے ۔پس جب کسی ا نسان کاگوشت ایسے جانور سے پیدا ہو گاتو اس انسان کے اخلاق میں سرکشی اور زیادتی پیدا ہو جائے گی۔ اسی قسم کا حکم خون کا بھی ہے جو کہ شہوت اور غصے سے متعلقہ نفسانی قوتوں کو جمع کرتا ہے۔پس جب انسان ایسی چیزوں کو بطور غذا استعمال کرتا ہے تو اس کی شہوت اور غصہ اعتدال سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہائے گئے خون کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس تھوڑے سے خون کو جائز قرار دیا گیا جو کہ جانور کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے کیونکہ یہ ضرر نہیں دیتا (یعنی انسان کی شہوت اور غصہ نہیں بڑھاتا)اور خنزیر کا گوشت اس لیے خبیث ہے کہ یہ لوگوں میں برے اخلاق پیدا کرتا ہے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴ و ۲۵)
ہمارے عام طور پر لوگوں کی عادت ہے کہ وہ فقہا کے اختلافات کوتو خوب بیان کرتے ہیں لیکن اس بنیاد کو بیان نہیں کرتے کہ جس پر ان کا اختلاف قائم ہے۔ متقدمین میں ابن رشد ؒ نے ’بدایۃ المجتہد‘ میں اس منہج کو اختیار کیا ہے کہ فقہا کے اختلاف میں اصل بنیاد کو تلاش کر کے نمایاں کیاجائے تاکہ ان کے اختلاف کی حقیقت معلوم ہو سکے۔فقہا کے ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ صرف وہی جانور حر ام ہیں کہ جن کی حرمت قرآن و سنت میں ہے ۔علما کی اس جماعت نے جانوروں کی حرمت کے مسئلے میں شدت احتیاط کو اپنا منہج بنایا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ کسی بھی جانور کو اس وقت تک حرام نہ کہیں جب تک کہ اس کے بارے میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو‘تاکہ اللہ پروہ بہتان لازم نہ آئے جو کہ مشرکین مکہ پر لگایا گیا تھا۔اس گروہ کے امام ‘ امام مالکؒ ہیں۔ اپنے اسی منہج کے تحت امام صاحبؒ نے سانپ ‘ بچھو اور حشرات الأرض کو بھی حلال کہا ہے،جبکہ فقہا کے ایک دوسرے گروہ کا کہنا یہ ہے کہ جن چیزوں کی حرمت قرآن و سنت میں وارد ہے وہ تو شرعاًحرام ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی کچھ جانور حرام ہیں۔ اب اس گروہ میں اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا کہ نصوص میں موجود حرام جانوروں کے علاوہ حیوانات کی حرمت کاعلم کیسے حاصل ہوگا؟ بعض فقہا نے کہا کہ نصوص کے علاوہ جانوروں کی حلت وحرمت کا فیصلہ اہل عرب کی طبیعت اور رجحان سے ہوگا کیونکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم الخبائث‘ میں خطاب انہی میں سے ایک فرد سے ہے لہٰذا عرب جس کو طیب کہیں گے، اس کوآپؐ نے حلال قراردیااور وہ جس کو خبیث کہیں گے، آپؐنے اس کوحرام کہا ہے۔ اس جماعت کے امام ‘ امام شافعیؒ ہیں جبکہ بعض دوسرے فقہا کا کہنا یہ تھا کہ نصوص شریعت کی وسعتوں میں باقی جانوروں کی حلت و حرمت کا حکم بھی تلاش کیا جائے گااورنصوص سے حرمت کی علل نکال کر غیر منصوص جانوروں کا کا حکم قیاس سے تلاش کیا جائے گا۔ اس جماعت کے امام ‘ امام ابن تیمیہؒ ہیں۔ہمارے نزدیک یہی موقف جو کہ امام ابن تیمیہ ؒ کا ہے ‘قوی ہے اور اس کے راجح ہونے کے درج ذیل دلائل ہیں:
۱) اگر توطیبات و خبائث کا تعین انسانی کے طبعی رجحان پر چھوڑ دیا جائے تواللہ کی مرادکبھی بھی واضح نہ ہوسکے گی کیونکہ فقہا کی ایک جماعت اپنی طبیعت و رجحان کی بنیاد پرایک جانور کو حرام ٹھہرائے گی تو دوسری اسے حلال کہے گی۔ مثلاً علامہ کاسانیؒ کی طبیعت کے مطابق گھوڑا خبیث جانور ہے جبکہ شوافع اورحنابلہ گھوڑے کو طیب کہتے ہیں اور اس کا گوشت استعمال کرنے میں کوئی طبعی رکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ فقہا کے اس اختلاف کی صورت میں طیب و خبیث کے تعین میں کس کی طبیعت اور مزاج معتبر ہوگا؟ فقہاے شافعیہ کا‘ احناف کے علما کا یا حنابلہ کا؟ ظاہر ہے ان میں سے کسی ایک کے مزاج یا طبیعت کو دوسروں پر حَکم بنانے کی کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔ سب سے اہم بات تویہ ہے کہ جو شخص مقلد ہے، وہ بھی ایک مزاج ا ور طبیعت رکھتا ہے لہٰذا ایک ایسے مسئلے میں وہ کسی فقیہ کی تقلید کیوں کرے کہ جس کی بنیاد کسی شرعی دلیل پر نہیں بلکہ طبیعت و مزاج پرہے؟ فقہا کو اس مسئلے میں عامۃ الناس پر حَکم بنانے کی شرعی دلیل کیاہے ؟
۲) اگر تو کوئی شخص طیبات و خبائث کی تعیین میں اختلاف کی صورت میں اہل عرب کو حَکم مانیں تو اس کی شرعی دلیل کیاہے؟ بلکہ یہ تو صریح نصوص کے خلاف بھی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں :
’’اور اسی طرح علما میں سے جس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر اس کوحرام قرار دیا ہے کہ جس کو اہل عرب خبیث سمجھتے تھے اور اس کو حلال قرار دیاہے کہ کہ جس کو اہل عرب طیب سمجھتے تھے تو جمہور علما امام مالکؒ ‘ امام ابو حنیفہؒ ‘ امام احمد ؒ ‘ اور متقدمین حنابلہ کا قول اس کے خلاف ہے۔لیکن امام احمدؒ کے اصحاب میں سے خرقی ؒ اور ایک گروہ نے اس مسئلے میں امام شافعیؒ کی موافقت اختیار کی ہے۔لیکن امام احمد ؒ سے مروی عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کا مسلک وہی ہے جو کہ جمہورعلماء ‘صحابہؓ اور تابعینؒ کامسلک ہے کہ کسی چیز کی حرمت و حلت کا تعلق اہل عرب کے کسی چیز کو طیب یاخبیث سمجھنے سے معلق نہیں ہے بلکہ اہل عرب بہت سی ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے جیسا کہ خون‘مردار‘گلا گھٹ کر مرنے والے جانور ‘ چوٹ کھا کر مرنے والے جانور ‘کسی جگہ سے گر کر مرنے والے جانور‘ کسی دوسرے جانور کے سینگ سے مرنے والے جانور‘درندوں کے شکار کا باقی ماندہ‘اور وہ جانور ہیں کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر غیر اللہ کانام لیا گیا ہو۔اور اہل عرب بلکہ ان کے بہترین لوگ بہت سی ایسی چیزوں کو ناپسند کرتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی حرام نہیں ٹھہرایاجیساکہ گوہ کے گوشت کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے اور آپؐ نے فرمایا چونکہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پائی جاتی اس لیے میں اپنے آپ کو اس سے دور رکھ رہاہوں اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ حر ا م نہیں ہے اور آپؐ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپؐ دیکھ رہے تھے۔(یعنی آپؐ نے اس کے کھانے سے منع نہیں فرمایا)‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴)
۳) اگر تو امام مالک ؒ کا موقف اپنا لیا جائے تو بہت سی ایسی چیزیں بھی حلال قرار پائیں گی جو کہ انسانی جان اور اس کے روحانی و اخلاقی وجود کے لیے مضرت رساں ہوں گی جبکہ ان کا حلال ہونا مقاصد شریعہ کے خلاف بھی معلوم ہوتا ہے۔ امام مالکؒ نے طیبات سے مراد حلال اور خبائث سے مراد حرام جانور لیے ہیں ۔امام ابن تیمیہؒ ‘ امام مالکؒ کے موقف کا انکارکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت (یأمرھم بالمعروف و ینھاھم عن المنکر و یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث) میں یہ خبردی ہے کہ آپؐ معروف کاحکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے۔طیب کو حلال ٹھہرائیں گے اور خبیث کو حرام قراردیں گے ۔اگر تو معروف کامعنی یہ لیا جائے کہ اس سے مراد مأمور(جس کا حکم دیا گیاہو) ہے اور منکر سے مراد صرف وہ چیزیں ہوں کہ جن کو شریعت میں حرام کہا گیا ہے تو اس آیت کا مفہوم یہ بنے گا:آپؐ ان کو حکم دیتے ہیں اس کا جس کا ان کو حکم دیتے ہیں اور ان کو منع کرتے ہیں اس سے جس سے ان کو منع کرتے ہیں اور ان کے لیے حلال کرتے ہیں اس کو کہ جس کو ان کے حلال کیا گیاہے اور ان کے لیے حرام ٹھہراتے ہیں اس کو جس کو ان کے لیے حرام کیا گیا ہے۔ اس صورت میں اللہ کا کلام ہر قسم کے فائدے سے خالی ہوگاچہ جائیکہ اس کلام سے آپؐ کی باقی انبیا پر کوئی فضیلت ثابت ہو۔یہ بات بھی معلوم ہے کہ اگر آیت کا یہی معنی مراد لیاجائے تو جو بھی کسی چیز کاحکم دے گا، وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہو گا اور تمام انبیا ایسے ہی ہوتے ہیں (یعنی کسی نہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں لہٰذ ا وہ سب اس آیت کا مصداق بنیں گے تو آپؐ کے لیے اس کلام کو لانے کا کوئی فائدہ باقی نہ رہے گا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض ایسی طیبات کو حرام کر دیاتھا جو کہ ان کے حلال کی گئی تھیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ طیب ہونا ایک ذاتی وصف ہے۔اللہ تعالیٰ بعض اوقات طیبات کو ان کے ذاتی وصف کے ساتھ باوصف ہونے کے باوجود اپنے بعض بندوں کو سزا دینے کے لیے حرام کر دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان چیزو ں کا ذکر کیا جو کہ بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں تو فرمایا:یہ ہم نے انہیں ان کی سرکشی کی سزا دی اور بے شک ہم سچے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :وہ آپؐ سے سوال کرتے ہیں کیا چیز ان کے لیے حلال کی گئی ہے تو آپؐ ان سے کہہ دیں :تمہارے لیے طیبات حلال کیے گئے ہیں۔ اگر طیبات سے مراد حلال ہی ہوتو کلام کا فائدہ باقی نہ رہے گا (یعنی سوال یہ ہوا تھا کہ کیا حلال کیاگیا ہے اور طیب سے مراد حلال لینے کی صورت میں جواب یہ ہو گاکہ حلال کو حلال کیا گیاہے) پس یہ معلوم ہوا کہ طیب یا خبیث ہو نا چیزوں کے ذاتی اوصاف ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاوی:جلد۱۷‘ ص ۱۷۷)
امام ابن تیمیہؒ ‘ امام شافعیؒ کی رائے کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
’’طیب سے مراد صرف کسی کھانے کا انسان کے نزدیک لذیذ ہونا نہیں ہے کیونکہ انسان بعض اوقات بعض ایسی چیزوں کو کھاکر لذت حاصل کرتا ہے جو کہ ا س کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں مثلاً زہراور بہت سی ایسی چیزیں کہ جن کے استعمال سے طبیب(ڈاکٹر) انسانوں کوروکتے ہیں ۔اور نہ ہی طیب سے مراد یہ ہے کہ عرب اقوام میں سے ایک جماعت اس کے کھانے سے لذت محسوس کرے یا عرب جس کے کھانے کے عادی ہوں۔کیونکہ مسلمان اقوام میں سے کسی ایک قوم کا محض کسی چیز کو کھانا یا اس کو پسند کرنا یا ناپسند جاننا اس وجہ سے کہ وہ ان کے علاقوں میں نہیں پائی جاتی‘ سے یہ لازم نہیں آتاکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیزکوتمام امت مسلمہ پر حرام کر دیں کہ جن کو اہل عرب کی طبیعتیں پسند نہیں کرتیں۔اور نہ ہی اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ جس چیز کے کھانے کے اہل عرب عادی ہوں اس کو تمام ا مت کے حلال کر دیا جائے کیونکہ عرب تو خون اور مردار اور اس کے علاوہ بہت سی ایسی چیزوں کو کھانے کے عادی تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ بعض عرب سے جب یہ سوال ہوا کہ تم کیا کھاتے ہو تو انہوں نے جواب دیا: ہر زندہ اور مردہ چیز کو سوائے أم حبین(ایک زہریلا درخت) کے۔تو اس شخص نے جواب دیا :أم حبین کو عافیت مبارک ہو۔خود قریش کی صورت حال یہ تھی کہ وہ بہت سے ایسی خبیث چیزیں کھاتے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور ایسی چیزوں کے کھانے سے بچتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے حرام نہیں ٹھہرایا ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوی:جلد۱۷‘ ص ۱۷۷ و ۱۷۸)
امام شافعیؒ کے نزدیک خبیث یا طیب ہونا ایک اضافی وصف ہے یعنی کسی چیز کے خبیث یا طیب ہونے کا اعتبار اس کے کھانے والوں کی نسبت سے ہوگا۔ امام ابن تیمیہؒ اس رائے کو نہیں مانتے اور یہ کہتے ہیں کہ خبیث یا طیب ہونا اشیا کے ذاتی اوصاف ہیں اور طیب سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کے لیے نفع بخش ہواور خبیث سے مراد ہر وہ شے ہے کہ جوا نسان کے لیے ضرر رساں ہو۔
اصولیین نے علت کی شرائط میں لکھا ہے کہ اس کے لیے منضبط وصف ہونا اس کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ہیں۔ لہٰذا وہی وصف کسی حکم کی علت بن سکتا ہے جوکہ منضبط وصف ہویعنی ایسا وصف ہو جو کہ اشخاص اور احوال کے اعتبار سے تبدیل نہ ہوتاہو۔ غامدی صاحب نے چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں جو وصف(یعنی انسان کی فطرت و طبیعت) بیان کیاہے، وہ بالکل بھی منضبط وصف نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کے اعتبار سے حکم بھی تبدیل ہو رہے، البتہ امام شافعی ؒ نے اس وصف کو منضبط کرنے کے لیے اہل عرب کے ایک خاص طبقے کے ساتھ اس کو متعلق کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس وصف میں کامل انضباط موجود نہیں ہے جس کی دلیل گوہ کوکھانے والی حدیث ہے۔اگر امام شافعیؒ کا بیان کردہ وصف(یعنی اہل عرب کی طبیعت) ایک منضبط وصف ہوتا تو دو عرب یعنی آپؐ اور خالد بن ولید میں گوہ کھانے میں اختلاف نہ ہوتا۔ 
اسی طرح غامدی صاحب اور امام شافعیؒ کے بیان کردہ اوصاف مناسب وصف بھی نہیں ہیں اور علت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ مناسب وصف ہویعنی شارع نے اس حکم سے جس مصلحت کا قصد کیا ہو وہ اس وصف سے پوری ہوتی ہویا آسان الفاظ میں حکم کی اس وصف کے ساتھ مناسبت عقلاً سمجھ میں آتی ہو جیسا کہ شراب کے حرام ہونے کے حکم کے لیے نشہ ایک مناسب وصف ہے کیونکہ اس وصف کی وجہ سے شراب کی حرمت کے حکم سے شارع کا مقصد(انسان کی عقل کی حفاظت) پور اہوتا ہے جبکہ شراب کامائع ہونا اس کی حرمت کے لیے ایک غیر مناسب وصف ہے کہ جس سے شارع کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا، لہٰذا یہ وصف شراب کی حرمت کی علت نہیں بن سکتا۔ایسے اوصاف کو اصولیین وصف طردی یا اتفاقی بھی کہہ دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اور اما م شافعیؒ کا بیان کردہ وصف غیر مناسب وصف ہے کیونکہ اس سے شارع کا کوئی مقصد اور مصلحت پوری نہیں ہوتی لہٰذا یہ وصف حرمت و حلت کے حکم کی علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اگر یہ ثابت بھی کر دیا جائے کہ امام شافعیؒ کا بیان کردہ وصف حکم کے مناسب ہے تو پھر بھی بعض اوقات کسی وصف کی حکم کے ساتھ مناسبت کسی مجتہد کے لیے تو ثابت ہو جاتی ہے لیکن شارع کے نزدیک وہ وصف لغو ہو تاہے، اس کو اصولیین کی اصطلاح میں مناسب ملغی کہتے ہیں۔ اہل عرب کی طبیعت کو حرمت و حلت کی بنیادبنانے کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ انعام میں لغو وصف قرار دیا ہے جیسا کہ اس بارے میں ہم پیچھے آیات نقل کر چکے ہیں۔
امام ابن تیمیہؒ نے جو وصف بیان کیا ہے، وہ منضبط بھی ہے اور مناسب بھی ہے لہٰذا امام صاحب ؒ کا بیان کردہ وصف ہی کسی جانور کے حلال یا حرام ہونے کی بنیادو علت ہے۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام کریں گے پس ہر وہ چیز جو کہ نفع بخش ہو، وہ طیب ہے اور ہر وہ چیزجو کو ضرر رساں ہو وہ خبیث ہے۔اس وصف کی حکم کے ساتھ مناسبت ہر صاحب عقل کے لیے واضح ہے کیونکہ منفعت ‘تحلیل کے لیے ایک مناسب وصف ہے جبکہ ضرر ‘ تحریم کے لیے ایک مناسب وصف ہے ۔ اور مسلک دوران(اصولیین کے نزدیک علت معلوم کرنے کا ایک طریقہ) سے بھی ہماری بیان کردہ علت ثابت ہے کیونکہ تحریم ‘ مضرتوں کے موجود ہونے کے اعتبارسے مردار ‘ خون ‘ خنزیر کے گوشت‘ کچلی والے درندوں‘ پنچوں والے پرندوں اور شراب وغیرم میں گھومتی ہے۔‘‘ (مجموع الفتاوی‘جلد۲۱‘ ص۵۴۰)
ہمارا نقطہ نظر اس مسئلے میں وہی ہے جو کہ امام ابن تیمیہؒ کاہے ۔اس مضمون میں ہم نے حلت و حرمت کے حوالے سے چند اصولی بحثیں کی ہے۔ فروعات میں کیا چیزیں حرام ہیں اور کیا حلال ہیں، ان شاء اللہ ان اصولی بحثوں کی روشنی میں کسی اور وقت میں اس پر بھی مفصل بحث ہو گی۔

*یہاں مقالہ نگار نے بعض ان دلائل کا اعادہ کیا ہے جو ان کے مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷) میں پیش کیے گئے ہیں۔ اختصار کے پیش نظر انھیں حذف کیا جا رہا ہے۔ (مدیر)

حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۷ اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ یہ اطلاع ملی کہ دار العلوم دیوبند (وقف) کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہؒ کا دہلی میں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کے ساتھ ملاقاتوں اور نیاز مندی کا سلسلہ پرانا تھا اور مختلف مجالس او رپروگراموں میں ان کے ساتھ رفاقت کا شرف حاصل رہا ہے۔ گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامعہ قاسمیہ میں متعدد بار تشریف لائے، جامعہ خیر المدارس ملتان اور کراچی کے بعض اجتماعات میں بھی ان سے ملاقات ہوئی اور چند سال قبل ڈھاکہ (بنگلہ دیش) کے نواحی علاقہ مادھوپور میں حضرت مولانا عبد الحمید صاحب کے دینی مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بھی ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ 
حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحبؒ اور ان کے خاندان کے ساتھ عقیدت ومحبت کا تعلق اس حوالے سے شروع سے تھا کہ میں بحمد اللہ تعالیٰ ایک شعوری دیوبندی ہوں اور دیوبند کے جن اکابر کے ساتھ نسبت وعقیدت سے ’’دیوبندیت‘‘ تشکیل پاتی ہے، ان میں ایک بڑا نام حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس اللہ سرہ العزیز کا بھی ہے۔ اس تناظر میں حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو میں اس سے حظ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرتا، مگر گزشتہ چند ماہ سے حضرت شاہ صاحب کے ساتھ فون کا تعلق مسلسل رہا۔ میری بدقسمتی کہ وعدہ کے باوجود میں ایک بار بھی خود انھیں فون نہ کر سکا، مگر انھوں نے کئی بار فون کیا، بلکہ ان کے فرزند سید احمد خضر صاحب نے بتایا کہ حضرت شاہ صاحب اپنی وفات سے دو روز قبل بھی فون پر راقم الحروف سے رابطہ کی کوشش کرتے رہے، مگر بات نہ ہو سکی تو انھوں نے احمد خضر صاحب کو تاکید کی کہ وہ فون پر رابطہ کر کے ان کی طرف سے حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی خدمت میں سلام مسنون اور دعا کے لیے بطور خاص عرض کریں۔ ایک بار دریافت کیا کہ میں روحانی سلسلہ میں کس سے مجاز ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اپنے ذوق کے حوالے سے اس میدان کا آدمی نہیں ہوں مگر میرا بیعت کا تعلق سلسلہ قادریہ میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور ان کے بعد حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ سے رہا ہے اور والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نے سلسلہ نقشبندیہ میں اپنے خلفاے مجازین میں میرا نام لکھ رکھا ہے۔ حضرت مولانا سید محمد انظر شاہؒ نے فرمایا کہ میں بھی آپ کو اپنے مجازین میں شامل کرتا ہوں اور اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت بھی دیتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بخدمت جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب سلمہ اللہ وحفظہ 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ماہنامہ الشریعہ کے اپریل کے شمارے میں جنا ب کا مضمون ’’زنا کی سز ا‘‘ (۲) پڑھا۔ پورے مضمون کاتفصیلی جواب دینے کی ہمت نہیں، البتہ جواب کا جو جوہر ہو سکتا ہے، وہ پیش خدمت ہے۔ اللہ کرے کہ اس سے آ پ کے ذکر کردہ تمام اشکالات کاحل نکل آئے۔ یہ اقتباس احقرکی کتاب ’’تحفہ اصلاحی ‘‘سے ہے۔ یہ جواب الشریعہ میں چھپوانے کے ارادہ سے نہیں لکھا، صرف آپ کے مطالعہ اور غوروفکر کے لیے لکھا ہے۔ ویسے اگر آپ اس کو شائع بھی کر دیں تو مجھے اعتراض نہیں۔
مزید ایک بات پر غورکرنے کے لیے عرض کروں گا کہ علم کس کوکہتے ہیں؟ کیا جو اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہو، وہ علم نہیں؟ اگر وہ علم ہے توپھر اگر کچھ اشکا ل ہے تو ہماری کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے ہے، اور اگر وہ بھی علم نہیں توپھر ہماری اور آپ کی عقلوں اور سمجھوں کا بھی کیا اعتبار ہے ،اوروہ کیا معیاریت رکھتی ہیں؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔ وما علینا الا البلاغ۔
(مولانا مفتی) عبدالواحد غفرلہ 
دارالافتاء، جامعہ مدنیہ لاہور 

’’تحفہ اصلاحی‘‘ سے اقتباس:

امین اصلاحی صاحب نے رجم کے حد ہونے کے خلاف نسخ القرآن بالسنۃ کے عدم جواز کو اپنے لیے بڑی حتمی دلیل سمجھا تھا، ورنہ جہاں تک اصل مسئلہ کاتعلق ہے، احکام کی جو ترتیب واقع میں ہمیں ملتی ہے، اس میں نسخ القرآن بالسنۃ کا قول کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ قرآن پاک میں زنا کی سزا کے متعلق پہلے پہل یہ آیتیں نازل ہوئیں:
وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوتِ حَتَّیَ یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (النساء،۱۵)
’’اور جو عورتیں بے حیائی کا کام کریں تمہاری بیویوں میں سے، تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کرلو۔ پھر اگر وہ آدمی گواہی دے دیں توتم ان کوگھروں کے اندر بند رکھو، یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یااللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرمادیں۔‘‘
وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنکُمْ فَآذُوہُمَا فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُواْ عَنْہُمَا إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ،۱۶)
’’اور وہ مرد وعورت جو تم میں سے یہ برائی کریں، انہیں ایذا پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کر لیں توان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔‘‘
ان دوآیتوں سے دوحکم ملے:
۱۔ اگر شوہر بیویوں پر زنا کا الزام رکھیں اور ان کے جرم پر چارگواہ بھی لے آئیں تو آئندہ حکم آنے تک ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے۔
۲۔ اجنبی مرد وعورت زنا کریں، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ہوں، ان کو حسب حال تعزیر کی جائے۔
زنا کی مرتکب بیویاں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جن سے صحبت ہو چکی ہو یعنی وہ ثیب ہوں یا ان سے صحبت نہ ہوئی ہو یعنی وہ باکرہ ہوں۔ اسی طرح زنا کے مرتکب مردوں میں بعض ایسے ہیں جو نکاح کے بعد صحبت کر چکے ہوں اور کچھ وہ ہیں جو ابھی تک صحبت نہ کر پائے ہوں اور کچھ وہ ہیں جن کا نکاح ہی نہ ہو ا ہو۔ جب یہ کہا گیا کہ ’’آئندہ حکم آنے تک زناکی مرتکب بیویوں کو گھروں میں محبوس رکھو‘‘ تو انتظار صرف ان بیویوں کے حکم کا نہیں بلکہ ان سے زناکرنے والوں کے حکم کا بھی یہی ہے کیونکہ اول یہ انہیں سے ملوث ہوئے ہیں اور دوسرے ان کے بارے میں بھی کوئی متعین حکم نہیں دیا۔
مذکورہ بالاحکم کے بعد دوسرا حکم سنت وحدیث میں بیان ہوا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامتؓ سے نقل ہے :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا، البکر بالبکر جلد ماءۃ ونفی سنۃ والثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم۔
’’رسول اللہ نے فرمایا: مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان زناکار بیویوں کے لیے (اور ان سے ملوث مردوں کے لیے) ضابطہ مقرر فرما دیا ہے۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیر شادی شدہ عورت سے بدکاری میں سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ (یہی حکم ان مردوں اور عورتوں کا ہے جن کا نکاح ہو چکاہو، لیکن صحبت نہ ہوئی ہو) اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت (جو صحبت بھی کر چکے ہوں۔ ان) کی بدکاری کی سزا سو کوڑے اور رجم ہے۔‘‘
اس حدیث وسنت سے اس بیوی کا حکم بھی معلوم ہوا ہے جس سے صحبت ہو چکی ہو، پھر اس نے زنا کیا ہو اور شوہر نے اس پر چار گواہ قائم کر دیے ہوں کہ اس کی سزا رجم ہے۔
تیسرے درجہ میں سورۃ نور کی آیات نازل ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہی رجم سے متعلق آیت بھی نازل ہوئی۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل احکام ملے:
۱۔ شوہر بیوی پر زناکاالزام رکھے لیکن چارگواہ پیش نہ کرسکے تولعان ہوگا۔
۲۔ الزانیۃ والزانی کے الفاظ سے غیر شادی شدہ کاحکم بتایا کہ اس کی سزا صرف سوکوڑے ہے اورایک سالہ جلاوطنی کومنسوخ کر دیا گیا۔
۳۔ رجم کی آیت بھی نازل ہوئی جس سے رجم کی سزا کو برقرار رکھا گیا اور سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا۔ بعد میں اس آیت کے الفاظ منسوخ کردیے گئے۔


(۲)
بخدمت جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر !
بعض ذرائع سے چند ماہ قبل ماہنامہ’’الشریعہ ‘‘کے چند شمارے پڑھنے کا موقع ملا۔ یقیناًیہ رسالہ خالص علمی نوعیت کا ہے اور اس کے مضا مین علمی مباحث پر مشتمل ہیں، مگر معاشرہ میں ان مضامین کو سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ بعض مضامین سے طے شدہ مسائل میں شک اور تذبذ ب پیدا ہوتا ہے اور تحقیق کے عنوان سے تشکیک کا دروازہ کھلتا ہے۔ امت میں بھی پہلے ہی اختلاف در اختلاف ہے۔ جس چیز کو بنیاد بنا کر یہ مضامین تحریر کیے جا رہے ہیں، وہ بنیا دقوم میں اب سرے سے موجود نہیں، نہ اس قسم کے مضامین کی ننانوے فی صد عوام کو ضرورت ہے۔ دین کاوہ حصہ جوقطعی دلائل سے ثابت ہے اور متفق علیہ ہے، اگرامت میں وہ احکام ز ندہ ہو جائیں تو یہ بھی غنیمت ہے۔ اس قسم کے مضامین سے جس قسم کا ذہن تیار ہوگا، وہ کام مختلف ٹی وی پروگرام اور عالم آن لائن سے زیادہ موثرانداز میں ہو رہا ہے۔ قوم دین کی بنیادی باتوں سے بھی ناواقف ہے۔ اس کا تجزیہ آپ اپنے اردگرد کے ماحول میں لوگوں سے گھل مل کر بھی کر سکتے ہیں۔ اگر دین کا علم رکھنے والے اپنی صلاحیتوں کو اس طرح استعمال کریں کہ مختلف مساجد میں یومیہ درس قرآن اور درس حدیث عام فہم انداز میں دیں، عوام کے سامنے بنیادی عقائد اور فرائض کی ادائیگی، انسانیت کی ہمدردی، معاملات کی صفائی، معاشرت کی پاکیزگی، صلہ رحمی، عفو ودرگزر، تحمل وبرداشت اور دین کابنیادی علم حاصل کرنے کا جذبہ، مغربی تہذیب کی بے حیائی سے بچنا، رشوت وسود کی نفرت جیسے عنوانات بیان کیے جائیں، وکلا کو تیار کیا جائے کہ جھوٹاکیس نہ لیں، تجارکی ایک جماعت ملک میں تیار کی جائے جو کم منافع پر عوام کو ضروریات مہیا کرے، ڈاکٹروں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ مناسب فیس لے کر انسانیت کی خدمت کو شعار بنائیں اور اسی قسم کے مضامین کی اشاعت ہو تو قوم کوا س سے زیادہ فائدہ ہوگا۔
اگر آپ کے کسی مضمون سے تحقیق کے عنوان پر کوئی ایسا حکم جو دور صحا بہ سے امت میں نقل ہوتا آ رہا ہے اور اس کو محدثین اور فقہا اسی طرح نقل کرتے آرہے ہیں اور آپ نے اپنے مضامین سے اپنے قاری کو شک میں مبتلا کر دیا تو اللہ کو اس کا کیا جواب دیں گے؟ اگرآپ کے مضامین کے تسلسل سے ایک جماعت ایسی تیار ہوگی جوامت کے متفق علیہ مسائل میں شک کرے اور اس کا ذہن یہ بنا کہ چودہ سوسال میں کسی مفسر، فقیہ، محدث کی نگاہ اس پہلو پر نہیں گئی تو پھر یہ سلسلہ صرف رجم اور اس جیسے پر مسائل پر موقوف نہ ہوگا بلکہ مشترقین کا خوشہ چین بن کر نہ معلوم کس کس مسئلہ کوتختہ مشق بنائے۔ 
امت بہت ضعیف ہوچکی، خدارا اس پر رحم کریں اور تحقیق کا رخ ان مسائل کی طرف کریں جو امت کے حقیقی مسائل اور ضروریات ہیں۔ کیا سود سے قوم کو نکالنے کے لیے تمام وسائل مہیاکر دیے گئے ہیں اور اس کا بہتر متبادل دے کر اہل علم اپنا فریضہ ادا کر چکے ہیں؟ انشورنس کا متبادل قوم کو مل چکا ہے؟ مظلوموں کو واضح ظلم سے نکالنے کے لیے ہر شہر میں وکلا کی جماعت تیار ہو چکی؟ نہایت خستہ حال لاکھوں انسانوں کوایسے تاجر میسر آچکے ہیں جوجائز منافع لے کر ضروریات زندگی مہیا کر دیں؟ ہے کوئی زمیندار اور ملوں کا مالک جو بہاولپور کے صحرا میں بسنے والوں کو اس شدت کی گرمی میں صرف پینے کا پانی مہیا کر دے؟ ذرا شہر سے پانچ کلومیٹر نکل کرجائزہ لیں، ہزاروں مردوعورت ایسے ملیں گے جو واضح حلال وحرام، جائز وناجائز کا کوئی تصور بھی نہیں رکھتے۔
ایک طرف یہ حالت، دوسری طرف آپ کے رسالہ میں چھپنے والے مضامین اس سطح کے کہ شاید کسی پی ایچ ڈی کرنے والے کو بھی زندگی میں ا س کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ اس جذبہ کو لے کر عوام میں آئیں توآپ کا حلقہ ا حباب، آپ کے شانہ بشانہ چلنے والے ایک سال میں اتنے ہوں گے کہ موجودہ طرز کے مضامین سے بیس سال میں بھی ایسے افراد مہیا نہ ہوں گے جن میں انسانیت کی تڑپ ہو۔ انسانیت کے لیے آنسو بہانے والے، مسلمان کو تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہونے والے ایسے مضامین سے پیدا نہ ہوں گے۔ 
تمہاری ایک بہن 
(۳)
محترم المقام جناب حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب زیدمجدکم 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امیدہے ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔
تسلیمات کے بعد ! ۵؍ اپریل کوالشریعہ کاتازہ شمارہ ملا اور ۷؍ اپریل کے تمام قومی اخبارات میںآپ کے پیارے چجا ولی کامل اور عہد حاضرکی عظیم صوفی وروحانی شخصیت حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی کی وفات کی خبرشائع ہوئی۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ پہلی ہی فرصت میں خط لکھنے کاارادہ تھا مگربخار کے شدید حملے کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اب تھوڑا سا افاقہ ہوا ہے تو یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ ہمارے دارالعلوم مصباح الاسلام میں حضرت اقدس ؒ کی وفات کے دوسری دن برادر مکرم مولانا سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی صاحب کے حکم پر حضرت اقدس ؒ کے ایصال ثوا ب کے لیے قرآنی خوانی کااہتمام کیا گیا،اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ 
مرحوم یقیناًاس صدی کی عظیم روحانی شخصیت تھے۔ وہ اخلاص ومحبت، زہد وتقویٰ، سادگی ودرویشی کا مجسمہ اور بلاشبہ اکابر کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ایسے فرشتہ صفت لوگ عطیہ خداوندی ہوتے ہیں جو اپنے اعلیٰ اخلاق وکردار، پاکیزہ سوچ، عالی نظری، حق وصداقت کا علمبردار اور روحانی طبیب ہونے کی بدولت لاکھوں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت، تزکیہ نفس اور جنت کی طرف رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ قحط الرجال کے اس پرفتن دورمیں مرحوم ومغفور کا وجود مسعود بہت بڑی نعمت تھی اور ان کادنیاسے چلے جانا امت مسلمہ کے لیے ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم ومغفور کواپنے جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبرجمیل واجر جزیل سے نوازیں، آمین ثم آمین۔
الشریعہ کے اپریل ۲۰۰۸ ہی کے شمارہ میں آپ کے نام جناب محترم سیف الحق کا خط شائع ہوا ہے جس میں آپ کے ’’علمی وفکری مکالمہ‘‘ نامی کتاب پر طویل بحث کی گئی ہے اور آپ کے بعض افکار سے اتفاق اور بعض سے اختلاف کیا گیا ہے۔ آپ کے افکار سے اختلاف یا اتفاق کے بارے میں محترم سیف الحق صاحب کے رائے کے بارے میں مجھے کچھ کہنے کا حق نہیں، البتہ خط کے مندرجات میں موجود جس بات نے مجھے سخت دکھ سے دوچار کیا، وہ یہ ہے کہ ’’اس وقت سب سے زیادہ خطرناک اور امن عالم کے لیے نہایت ہی نقصان دہ تنظیم القاعدہ کی تنظیم ہے۔‘‘
پرائیویٹ عسکری تنظیموں کی جذباتیت سے رونما ہونے والے اثرات کے بارے میں، میں خود بھی سیف الحق صاحب کے خیالات وافکار سے کسی حد تک اتفاق کرتاہوں، لیکن دنیا میں جاری جنگ وجدل اور بدامنی کا الزام القاعدہ پر لگانا حقائق سے چشم پوشی ہے اور یہ بات عالم اسلام کی اجتماعی سوچ وفکر سے ہٹ کرہے۔ میرے خیال میں ایسے بے سروپا الزامات لگانے سے امریکہ کی سوچ وفکر کو تقویت ملتی ہے اور یہ دہشت گردی کے نام سے عالم اسلام کے خلاف جاری امریکی جدوجہد کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ امن عالم کے لیے اس وقت سب سے خطرناک اور نقصان دہ امریکہ ہے جب کہ القاعدہ اس کے خلاف بطور رد عمل رونما ہونے والے سوچ وفکر کی عکاسی کر رہی ہے۔ زمینی حقائق اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ اس وقت کون امن عالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دنیابھر میں امریکہ کے شدت پسندانہ رویہ کے خلاف سب سے پہلے ۱۹۸۰ء میں استاد عبداللہ عزام نے ’’مکتب الخدمت‘‘ کے نام سے ایک عسکری تنظیم کی بنیادرکھی جبکہ عبداللہ عزام کی شہادت کے بعد اس تنظیم کی تمام ذمہ داری اسامہ بن لادن پرآئی جس نے اس تنظیم کا تبدیل کرکے ’’القاعدہ‘‘ رکھا۔ سوال یہ ہے کہ عرب کی سرزمین سے چند نوجوانوں کے امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے اسبا ب کیا تھے؟ ان عوامل کا اگر سراغ لگایا جائے تو بات امریکہ کی بدمعاشی اور دہشت گردی پر آکر رک جاتی ہے اور دائروں کے اس سفرکے اختتام پر امریکہ کی خونخواری مسلمانوں کے سامنے منہ کھولے ہوئے نظرآتی ہے۔
جنگ عظیم دوم کے بعدامریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسی اور انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے نام پر دنیا کے کمزور ملکوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے دل سوز واقعات کو سامنے رکھا جائے تو ان جارحانہ اقدامات کے تناظر میں اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں کہ دنیا میں جاری بدامنی اور دہشت گردی ’’القاعدہ‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی بدمعاشی اور شدت پسندانہ اقدامات کی وجہ سے ہے۔ القاعدہ اور دیگر عرب مجاہدین کے خلاف امریکی زبان بولنے والے محترم سیف الحق کو اگر امریکی جارحیت کے سیکڑوں سے زائد دل سوز واقعات کاعلم نہیں توتاریخ کے دریچے کھلے ہیں، ذرا ان میں جھانک کر تو دیکھیں تاکہ فرعونیت کی راہ اختیار کرنے والی امریکی تاریخ کا انھیں پتہ چل سکے۔
نائن الیون کے واقعہ کاالزام القاعدہ پرلگاتے ہوئے محترم سیف الحق اپنے خط میں یوں رقم طراز ہیں کہ ’’اس کے بعد نائن الیون کا عظیم حادثہ پیش آیا جس کے منطقی نتیجے کے طور پر طالبان کی شرعی حکومت ختم ہوئی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے اس حادثہ میں جو انیس پائیلٹ کریش ہوئے، وہ سب کے سب القاعدہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے جنہوں نے امریکہ میںآزادی کی وجہ سے امریکی فلائنگ کلب سے تربیت حاصل کی تھی‘‘۔ 
یہ ایک ایساالزام ہے جس کو ابھی تک مسلم تجزیہ نگارماننے سے انکاری ہیں۔ واشنگٹن اور نیویارک میں اس تباہ کن ڈرامے کاذمہ دار کسی مسلم گروپ کو ٹھہرانا یہودیوں کی پشت پناہی ہے۔ نائن الیون کا ڈرامہ کس نے رچایا؟ یہ سوال ا ب ایسا نہیں ہے جس کا جواب نہ ڈھونڈا جا سکے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے یک طرفہ پراپیگنڈا کے باوجود ایسے ٹھوس شواہدسامنے آئے ہیں جنھوں نے اسرائیل کے خون آلود ہاتھوں سے دستانے اتار دیے ہیں۔ ایک خلیجی اخبار ’’الوطن‘‘ کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگون کی تباہی اور بربادی میں امن پسند عالم اسلام نہیں بلکہ یہودی لا بی ملوث ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں چارہزار سے زائدیہودی کام کرتے تھے۔ یہ کیساحسن اتفاق ہے کہ گیارہ ستمبر کوان چارہزار یہودیوں میں سے ایک بھی یہودی ڈیوٹی پر حاضر نہ ہوا! نائن الیون کاواقعہ رونماہونے کے چند منٹ بعدہی اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک ایک پہلے سے تیار شدہ انٹرویو دینے کے لیے بی بی سی پر کیسے آگئے؟ علاوہ ازیں امریکی انٹیلی جنس کے ایک افسرنے حادثے سے چار ہفتے قبل جاری ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیاہے جو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ حملے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کی کارروائی ہیں۔ مذکورہ افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پراس میمو کا حوالہ دیا تھا جس میں بتایاگیا تھاکہ موساد امریکی سرزمین پر امریکہ کے خلاف کوئی خفیہ آپریشن کرے گی تاکہ دنیامیں مسلمان بد نام ہو جائیں۔ واشنگٹن ،ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون سے ٹکرانے والے ہوائی جہاز کا پائلٹ جارج برینگھم امریکی محکمہ دفاع کاسابق افسرتھا جس کو برخاست کیا گیا تھا۔ یہ پائلٹ جو کہ کٹڑ یہودی تھا، امریکی وزارت دفاع کے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ اسی طرح تمام امریکی ایجنسیوں اور اداروں میں موساد کے کارکن موجود ہیں۔ ہر اسرائیلی کے پاس امریکی شہر یت بھی ہے اور ہر امریکی یہودی اسرائیلی شہریت کا حامل ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ چارطیارے دیر تک اپنی پروازوں کی اصل سمت سے ہٹ کر خطرناک سمتوں میں پرواز کر رہے ہوں اور امریکی ملٹری اور سول ایوی ایشن کے ریڈار اور کنٹرول ٹاوروں کا سٹاف چپ بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہوں۔ 
ایک فوجی ماہرکے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں جس وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سنٹر کے ٹاوروں میں، جن سے یہ طیارے ٹکرائے، پہلے سے آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا اور یہ کام وسیع مہارت اور وسائل رکھنے اور امریکہ کے اندررہنے والا کوئی گروپ ہی کر سکتاتھا جو اسرائیل کے بغیر دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا۔ ایک اطلاع کے مطابق اسرائیل نے اپنی جاسوسی تنظیم موساد کے ذریعے یہ حملہ کرایا۔ اس کا کوڈ 233ny تھا۔ اس کوڈ کو اگر wing ding کے fonts میں تبدیل کیاجائے توجو الفاظ اور اشارات سامنے آتے ہیں، ان کامفہوم یہ ہے : ’’طیارے کو دو عمارتوں سے ٹکراؤ تاکہ لوگ مریں اور فتح یہود کی ہو‘‘۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نیتن پاہو کا جب اپنے دورحکمرانی میں انتخابات کے معاملے میں صدر کلنٹن سے الجھاؤ پیدا ہوا تھا تواس نے برملا دھمکی دی تھی کہ اسرائیل چاہے تو واشنگٹن کوآن واحد میں بھسم کر سکتا ہے۔
محترم سیف الحق صاحب ان تمام ترشواہد کے باوجود جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں، وہی ز بان استعمال کر رہے ہیں جو نائن الیون کے بعد امریکیوں اور یہودیوں کا ورد بن چکی ہے۔ اسرائیل کی خفیہ جاسوسی تنظیم موساد نے اپنے فرائض مستعدی کے ساتھ کیوں پورے کیے اور اس عظیم سانحہ کو برپاکرنے کا مقصد کیا تھا؟ صرف یہی کہ دنیاکی ا کثریت کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا جائے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم سے دنیاکی نظر یں ہٹا دی جائیں۔ آج گردنیا میں موجود کش مکش کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل اپنے مقصدمیں کامیاب نظر آرہا ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے کسی بھی معمولی واقعہ کو مسلمانوں ہی کے سر تھوپا جا رہا ہے جبکہ ہمارے مسلمانوں کایہ حال ہے کہ حالات وواقعات سے اتنے بے خبر ہیں کہ ان تمام واقعات کا ذمہ دار خود اپنے مسلمان بھائیوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔
ان گزارشات سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ محترم سیف الحق صاحب کے سامنے یہ باتیں ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کروں کہ دنیا میں موجود دہشت گردی کا ذمہ دار القاعدہ نہیں بلکہ خودامریکہ ہے اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے واقعہ میں کسی مسلمان گروپ کا ہاتھ نہیں بلکہ اسرائیل ملوث ہے۔ میں امید کرتاہوں کہ میری یہ معروضات الشریعہ کی وساطت سے محترم سیف الحق صاحب تک پہنچائی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارا، آپ کا اور تمام امت مسلمہ کا حامی وناصرہو۔
سید عرفان اللہ شاہ ہاشمی 
ایڈیٹر مجلہ مصباح الاسلام 
مٹہ مغل خیل، شب قدر، ضلع چارسدہ
(۴)
محترم جنا ب مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بعافیت ہوں گے۔
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ تقریباً مطالعہ میں رہتا ہے، لیکن مستقل خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کچھ شمارے محرومیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ماہنامہ الشریعہ کو میں ایک ایسی دعوت فکر سمجھتا ہوں جس کی آج کے مذہبی طبقہ کو اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہم آج اس فکر وسوچ سے اتنے تہی دامن ہو چکے ہیں کہ بسا اوقات بلکہ آج کل اکثر اوقات سرپیٹ لینے کوجی چاہتا ہے۔ میری سوچ ناقص ہو سکتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دورمیں بے دینوں کی اصلاح سے کہیں بڑھ کر دین داروں اور مذہب پسند طبقہ کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہم نماز روزہ کے مسائل تومسجد کے عام مولوی صاحب سے پوچھنا بھی لازمی سمجھتے ہیں، لیکن جہاد کے بارے میں ہمارے اپنے جذبات اور فیصلے اور خلوص بھری نادانی حتمی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ فکرعام کرنے کے لیے ہمت، وسائل اور قبول عام بخشے۔ آمین 
محمد آفتاب عاصم 
مدرس ومعاون مفتی 
جامعہ اسلامیہ، صدر راولپنڈی

حالات و واقعات

ادارہ

مولانا زاہد الراشدی کا دورۂ برطانیہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانازاہدالراشدی نے برطانیہ جاتے ہوئے ۲۹؍اپریل کو ایک روز کراچی میں قیام کیا اور انتہا کی مصروف دن گزارا۔ 
نماز فجر کے بعد جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں درجہ تخصص فی الفقہ کے طلبہ کو ’’اجتہاد اور اس کے ضروری تقاضے‘‘ کے عنوا ن پر لیکچر دیا۔
گیارہ بجے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل ٹاؤن میں درجہ تخصص فی الادب العربی کے طلبہ سے ’’ادب وانشا کی اہمیت اور ضرورت‘‘ پر گفتگوکی۔
نماز ظہر کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کے درجہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے طلبہ کو ’’دورحاضر میں دعوت اسلام کا عمومی تناظر اور اس کی ضروریات‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔
نما ز مغرب کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کی اسی کلاس کو ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔
نماز عشا کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کے دورۂ حدیث کے طلبہ کی فرمایش پر دارالحدیث میں ان سے حدیث وسنت کی اہمیت پر گفتگو کی اور اپنی سند کے ساتھ ایک حدیث سنائی۔
اس کے بعد دارالعلوم کے صدرمہتمم حضرت مولانامفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم اور نائب صدر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور دیگر اساتذہ کے ساتھ رات کے کھانے میں شرکت کی اور مختلف امور پر باہمی تبادلہ خیالات کیا۔ 
۳۰ ؍اپریل کو صبح د س بجے مولانازاہدالراشدی پی آئی اے کے ذریعے کراچی سے لندن روانہ ہوگئے اور ۱۵مئی ۲۰۰۸ تک برطانیہ میں قیام کیا اور مختلف شہروں میں احباب سے ملاقات کے علاوہ ورلڈاسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کی ۔ 
مولانا راشدی نے ۱۳ مئی کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں ورلڈاسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست میں جبکہ اسی روز لندن ایسٹ لندن کی مرکزی جامع مسجد میں بنگلہ دیش کی دینی جماعتوں کے مشترکہ فورم ’’بنگلہ دیشی مسلمز‘‘ کی ایک نشست میں عورتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کے خلاف عالمی مہم کے پس منظر پر گفتگو کی۔ بنگلہ دیش میں ان دنوں عبوری حکومت کی طرف پیش کردہ ایک مسودہ قانون پربحث جاری ہے جس میں وراثت میں لڑکے اور لڑکی کے حصے کو برابرقرار دے دیاگیا ہے اور بنگلہ دیش کے دینی حلقے اسے قرآن کریم کے حکم کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی مہم میں مصروف ہیں۔ لندن میں بنگلہ دیشی مسلمز کی یہ نشست اسی پس منظر میں تھی۔
اس کے علاوہ مولانا راشدی نے جامع مسجد اپٹن لین لندن، جامع مسجد صدام حسین برمنگھم، مرکزی جامع مسجد گلاسکو، جامع مسجد الفرقان گلاسکو، مدرسہ عربیہ اسلامیہ گلاسکو، جامع مسجد ابوبکروالسال، جامع مسجد فاروق اعظم فرملی، مدنی مسجد نوٹنگھم، مدنی مسجد بریڈ فورڈ، جامع مسجد پلیشٹ گرو لندن، جامع مسجد ابوبکر ساؤتھال، جامع مسجد امدادیہ مانچسٹر اور جامع الہدیٰ شیفیلیڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں گفتگو کی جبکہ جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم میں طالبات اوراساتذہ کی نشست میں ’’توہین رسالت اور آزادئ رائے‘‘ کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا۔
مولانا راشدی نے ختم نبوت ایجوکیشن سنٹر برمنگھم میں حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی اور حضر ت مولانا سیدانظرشاہ کاشمیری کی وفات پر منعقدہونے والی تعزیتی کانفرنس میں ان بزرگان دین کو خراج عقیدت پیش کیا اور دو ہفتے کی ان مصروفیات کے بعد ۱۶؍ مئی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔

ورلڈاسلامک فورم کاسالانہ اجلاس

ورلڈاسلامک فورم کی ورکنگ کونسل کا سالانہ اجلاس ۱۳؍ مئی ۲۰۰۸ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فورم کے چیئرمین مولانامحمد عیسیٰ منصوری کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پاکستان سے ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست مولانا زاہدالراشدی اور ڈھاکہ سے نائب صدر مولانا سلمان ندوی نے بھی شرکت کی جبکہ دوسرے شرکا میں سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ، مولانامحمد اکرم ندوی، جناب مسرور احمد، رفعت لودھی، مفتی عبدالمنتقم سلہٹی، مفتی صدر الدین، مولانا محمد عمران خان جہانگیری، مولانا محمد حسن، مولانا شمس الضحیٰ، مولانا مشفق الدین، مولانا بلال احمد، جناب کامران احمد، مولانا عادل فاروقی، مفتی محمد عمیر، جناب محمد اصغر، جناب غلام قادر خان اور جناب الطاف احمد شامل ہیں۔
اجلاس میں گزشتہ سال کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایاگیا کہ :
۱۔ فورم کے تعارف اور کارکردگی پر مشتمل تفصیلی کتابچہ شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔
۲۔ ماہانہ فکری نشست تسلسل کے ساتھ جاری ہے جو ہر ماہ کے آخری ہفتہ کے روز شام چھ بجے ابراہیم کمیونٹی کالج میں ہوتی ہے اور اب تک (۱) شریعت کے بارے میں آرچ بشپ آف کنٹر بری کے بیان اور اس پر مختلف حلقوں کا رد عمل (۲) وڈیوچینل کی ضرورت اوراس کے تقاضے (۳) بین الاقوامی قانون اور اسلامی قوانین کا تقابلی جائزہ کے عنوانات پرفکری نشستیں ہو چکی ہیں جبکہ ایک نشست حضرت مولاناسید نفیس الحسینی شاہ اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی کی تعزیت کے سلسلہ میں منعقد ہوئی جس میں دونوں بزرگوں کی خدمات پر خرا ج عقیدت پیش کیا گیا۔
۳۔ مولاناعیسیٰ منصوری نے بھارت کی تیرہ ریاستوں کا دورہ کیا اور بیسیوں اجتماعات سے ورلڈاسلامک فورم کے پروگرام اور اہداف کے حوالے سے خطاب کیا۔ مولانا زاہدالراشدی نے اگست ۲۰۰۷ ؁ء کے دوران داراالہدیٰ اسپرنگ فیلڈ واشنگٹن امریکہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع اور انسانی حقوق پر پانچ تفصیلی لیکچر دیے جبکہ مولانا مفتی برکت اللہ نے پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں فکری نشست سے خطاب کیا۔
۴۔ ورلڈ اسلامک فورم کی ویب سائٹ قائم کی گئی جو جناب محمد جعفر کی نگرانی میں www.wifuk.org کے عنوان سے کام کر رہی ہے۔
۵۔ برطانیہ، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ورلڈاسلامک فورم کے باقاعدہ حلقے قائم ہو چکے ہیں جو فورم کے عنوان سے کام کر رہے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ میں فورم کا حلقہ قائم کرنے کے لیے فورم کے نائب صدر مولانا سلمان ندوی اگلے ماہ وہاں جا رہے ہیں۔
۶۔ عالم اسلام کو درپیش مسائل اور حالات حاضرہ کے اہم عنوانات پر مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا زاہدالراشدی کے مضامین روزنامہ جنگ لندن، روزنامہ پاکستان لاہور، روزنامہ اسلا م کراچی، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اور دیگر جرائد میں اہتمام کے ساتھ شائع ہوتے رہے اور اس سال کے دوران مختلف موضوعات پر دونوں راہ نماؤں کے ایک سو سے زیادہ مضامین شائع ہوئے۔
اجلاس میں اگلے سال کے لیے ورلڈاسلامک فورم کی سرگرمیوں کا مندرجہ ذیل پروگرام طے کیا گیا:
۱۔ فورم کی سرگرمیوں اور حالات حاضرہ پر راہنمائی کے حوالہ سے ماہوار نیوز لیٹر جاری کیا جائے گا جو ویب سائٹ پر نشر کیے جانے کے علاوہ اہم حضرات کو بذریعہ ڈاک بھی بھجوایا جائے گا۔
۲۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری ہر ہفتہ کو شام چھ بجے ابراہیم کمیونٹی کالج میں علماے کرام کو تاریخ اسلامی کے اہم ادوار کے حوالے سے لیکچر دیں گے جب کہ آخری ہفتہ کوحسب معمول ماہانہ فکری نشست ہوا کرے گی۔
۳۔ جنوری ۲۰۰۹ ء کے دوران ڈھاکہ میں ’’ساؤتھ ایشیا میں نئی نسل کی د ینی وفکری راہنمائی کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار ہوگا جس سے مولانا سید سلمان الحسنی الندوی (لکھنو) مولانا محمد عیسیٰ منصوری (لند ن) اور مولانا زاہدالراشدی (گوجرانوالہ) خطاب کریں گے۔
۴۔ وڈیوچینل کی ضروریات اور امکانات کا جائزہ لینے کے لیے جناب کامران رعد اور جناب عادل فاروقی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جس کی رپورٹ پر آئندہ پروگرام طے کیا جائے گا۔
۵۔ فورم کی دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ 
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے شرعی احکام کے حوالے سے آرچ بشپ آف کنٹربری کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت برطانیہ پر زور دیا گیا کہ وہ اس پر منفی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی شخص اور اقوام عالم کے مسلمہ حقوق کے حوالہ سے اس کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔ ایک قرارداد میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا ہے حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون طے کیا جائے اور شرپسند عناصر کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی مذموم حرکات سے روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ ایک قرارداد میں اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے آزادانہ اور باوقار موقف اور حیثیت اختیار کرے اور فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر جیسے مسائل کوحل کرانے کے لیے جرات مندانہ کردار ادا کرے، نیز اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حصول اور انسانی حقوق کے چارٹر پر نظرثانی کے لیے عالم اسلام کے مفاد اور معروضی حقائق کی بنیاد پر موثر پیش رفت کا اہتمام کرے۔

تین وقت نماز کی اجازت دینے کا فتویٰ

مشرق وسطیٰ میں گزشتہ تین ماہ سے علما کے مابین اس پر بحث جاری ہے کہ آیا ترکی سے جاری ہونے والا ایک حالیہ فتویٰ اسلامی قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں۔ اس فتوے کے مطابق ۲۰۰۸ کے آغاز سے ترکی کے مسلمانوں کو اجازت ہوگی کہ وہ معمول کے پانچ اوقات کے بجائے صرف تین وقت نماز ادا کریں اور ایسا کرنے سے وہ گنہگار نہیں ہوں گے۔ استنبول یونیورسٹی کی سائنٹفک کونسل کے رکن محمد نور دوغان نے یہ متنازعہ فتویٰ جاری کر کے نماز کے فریضے کو پانچ سے کم کر کے تین اوقات تک محدود کر دیا ہے۔ اس فتوے نے وسیع پیمانے پر ایک بحث کو جنم دیا ہے اور قدامت پسند علما نے اس کی مخالفت کی ہے۔ 
اسلامی قانون کی رو سے لازم ہے کہ ایک مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرے، البتہ اس بات کی اجازت ہے کہ بیماری یا سفر کی حالت میں دن میں تین اوقات میں نماز ادا کر لی جائے۔ تاہم حالیہ فتوے نے اس اختیار کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اجازت دی ہے کہ مسلمان تین وقت نماز ادا کر سکتے ہیں، بالخصوص جب وہ (دفتری) کام یا کسی ذاتی مصروفیت میں بے حد مصروف ہوں۔
ترکی میں جاری بحث سے ملتی جلتی بحث مصر میں بھی چل رہی ہے جہاں اس فتوے کی کچھ حمایت سامنے آئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے بھائی جمال البنا نے ترکی سے جاری ہونے والے فتوے کی تائید کی ہے۔ انھوں نے ایک عرب نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا دور جدید کی ایک ضرورت بن چکا ہے۔ جدید طرز زندگی کے دباؤ کی وجہ سے لوگ زیادہ تر صورتوں میں پانچ نمازیں ان کے مقررہ اوقات میں ادا نہیں کر پا رہے۔‘‘ جمال البنا پر عام طور پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی جدت پسندانہ تعبیر کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پیروکاروں کو یہ اختیار دیا ہے اور اسے اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب نمازیں اپنے مقررہ اوقات میں ادا نہ کی جا سکیں۔ تاہم بعض لوگوں کی جانب سے فتوے کی تائید کے باوجود دوسرے لوگ دن بدن اس سے اختلاف کے اظہار میں بلند آہنگ ہو رہے ہیں۔ مصر کی سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کے رکن شیخ یوسف البدری نے ٹیلی فون پر اسلامک ٹائمز کو بتایا کہ وہ ترکی عالم کے استدلال کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ سفر، بیماری، بارش یا حج کے علاوہ کسی اور وجہ سے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا درست نہیں۔ یہ بحث ابھی چل رہی ہے۔
(www.islamictimes.co.uk)

الشریعہ اکادمی میں ہفتہ وار نشست سے مولانا اللہ وسایا کا خطاب

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ دستور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی دفعہ اور دیگر اسلامی دفعات کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور نفاذ اسلام سے متعلقہ دستوری دفعات کو ختم کرنے یا غیر موثر بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف عوامی تحریک چلائی جائے گی۔ وہ ۲؍اپریل ۲۰۰۸ کو الشریعہ اکادمی ہاشمی کالونی گوجرانوالہ کی ہفتہ وار فکری نشست سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں علماے کرام، وکلا اور پروفیسر حضرات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 
مولانا اللہ وسایا نے جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور شدہ دستوری ترمیم کو ماننے سے واضح انکار کے باوجود اس دوران قادیانی گروہ پاکستان میں پوری طرح متحرک رہا اور جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ ان کی پشت پناہی کرتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ قادیانی گروہ اندرون ملک اور بیرون ملک اس بات کے لیے مسلسل متحرک ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے بارے میں دستوری فیصلے کو ختم کرایا جائے اور قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے والے قوانین کو غیر موثر بنایا جائے لیکن یہ دستوری اور قانونی فیصلے ملک کے عوام کی پرجوش تحریک اور ہزاروں افراد کی قربانیوں کے نتیجے میں ہوئے ہیں اور ملت اسلامیہ کے متفقہ عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انھیں ختم کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو اسے شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مولانا زاہد الراشدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیکولر لابیاں دستور پاکستان کی ترامیم پر نظر ثانی کے نام پر قرارداد مقاصد، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں دستوری دفعات کو ختم کرانا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ہوم ورک کیا جا رہا ہے، اس لیے دینی قوتوں کو بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تمام مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر کو تحریک ختم نبوت کے ایک نئے راؤنڈ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔