’’اسلام اور شہری حقوق و فرائض‘‘ ۔ غیر مسلم معاشرے کے تناظر میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(برطانیہ کے ایک تحقیقاتی فورم کی طرف سے موصولہ سوال نامہ کے جواب میں حسب ذیل گزارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ ذاتی مطالعہ اور غور وفکر کا نتیجہ ہیں جن کے کسی بھی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی صاحب علم علمی انداز میں ان کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہیں تو ’الشریعہ‘ کے صفحات حاضر ہیں۔ ابو عمار زاہد الراشدی)
جمہوریت اور انصاف
۱۔ سماجی زندگی پر اثر انداز ہونے کے لیے فیصلہ سازی اور انتخابی عمل میں فعال حصہ لینے، ایک شہری کی حیثیت سے متحرک کردار ادا کرنے او رجمہوریت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کیا ہے؟
جواب: اسلام ایک مسلمان کو اور کسی اسلامی مملکت کے ایک شہری کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں حصہ لینے اور سوسائٹی کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کا نہ صرف حق دیتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ’تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘ کے تحت جو ہدایت دی گئی ہے، وہ اس کی واضح علامت ہے، اس لیے کہ بر وتقویٰ اور اثم وعدوان کا اطلاق صرف ذاتی نیکی اوربدی پر نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی خیر وشر اور نفع وضرر بھی اس کے دائرے میں شامل ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے جو مسلمان نقل مکانی کر کے مغربی ممالک میں گئے ہیں اور انھوں نے ان ممالک کو اپنا وطن بنا لیا ہے تو جہاں وہ ان ممالک کے وسائل اور سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں، وہاں اس سوسائٹی کا بھی ان پر حق ہے کہ وہ اسے کچھ دیں۔ اس ملک اور سوسائٹی نے مسلمانوں کو بہت کچھ دیا ہے اور وہ اسے بھرپور طریقے سے وصول کر رہے ہیں، لیکن صرف لینا اور لیتے ہی چلے جانا انصاف کی بات نہیں ہے اور اس سوسائٹی کو کچھ دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
اس سلسلے میں احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے پاس انھیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہمارے پاس بہت کچھ ہے اور ہم انھیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ اس سوسائٹی کے پاس دنیا کے وسائل اور سہولتوں کی فراوانی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے اور یہ ہمیں ان سے بہرہ ور کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس روح کا سکون اور آخرت کی نجات کا سامان نہیں جو بحمد اللہ تعالیٰ تمام تر خرابیوں کے باوجود ہمارے پاس موجود ہے، وہ ہم انھیں دے سکتے ہیں اور یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم وہ انھیں مہیا کریں۔ میں نے چند سال قبل نوٹنگھم برطانیہ میں ایک بڑے پادری صاحب سے اس سلسلے میں بات کی اور ان سے پوچھا کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی سسٹم کی بربادی اور روحانی سکون کے فقدان کے حوالے سے جو صورت حال ہے، کیا وہ اس سے مطمئن ہیں؟ انھوں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا کہ یہ صورت حال ہمارے لیے بڑی پریشان کن ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کے نزدیک اس کا حل کیا ہے؟ تو انھوں نے بڑے صاف انداز میں یہ بات کہہ دی کہ ’’ہمارے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے، ہم تو آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ ۔
جمہوریت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ:
- حکومت کی تشکیل عوام کی رائے اور مشورہ سے ہوگی، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جانشین نامزد کرنے کی بجائے اس کا انتخاب لوگوں کی اجتماعی صواب دید پر چھوڑ دیا تھا۔
- حکومت خاندانی نہیں ہوگی، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں بننے والے خلفا حضر ت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کا نسبی وارث نہیں تھا۔
- حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی، جیسا کہ حضرت ابوبکر نے اپنے پہلے خطبے میں عام لوگوں کا یہ حق تسلیم کیا کہ ’’میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دو۔‘‘ یا جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں اور بعد میں بھی عام لوگ خلفا کے طرز عمل پر کھلے بندوں انھیں ٹوک دیا کرتے تھے اور خلفا کو بعض اوقات اپنے فیصلے واپس بھی لینا پڑتے تھے۔
- حکمران اپنے معاملات عوام کے مشورہ سے چلائیں گے۔ عوامی معاملات عام لوگوں کے مشورہ سے اور علمی وفنی معاملات عوام کے مشورہ سے چلانے کے بارے میں خلفاے راشدینؓ کے طرز عمل کا ذکر تاریخ کی بہت سی روایات میں موجود ہے، بلکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے امور میں جن میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی، عام لوگوں یا متعلقہ لوگوں سے مشاورت کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنی رائے کے خلاف عمومی مشاورت کی رائے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی ہے، جیسا کہ غزوۂ احد کے موقع پر ہوا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر حملہ آور لشکر کا مقابلہ کیا جائے، لیکن نوجوان صحابہ کے اصرار پر آپ نے مدینے سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
- البتہ ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی بالادستی کو تسلیم کرنا اور ان کے واضح احکام کی پابندی حکمرانوں اور رعیت، دونوں کے لیے ضروری ہے اور ان میں سے کوئی بھی قرآن وسنت کے صریح احکام سے انحراف کا مجاز نہیں ہے، نیز قران وسنت کے صریح احکام کو بطور قانون نافذ کرنا مسلمان حکمران کی منصبی ذمہ داری ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ وہ تم میں کتاب اللہ کے احکام کو نافذ کرے‘‘، اور خلیفہ اول سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے پہلے خطبے میں اعلان کیا تھا کہ ’’میری اطاعت تم پر واجب ہے، جب تک میں قرآن وسنت کی پابندی کروں اور اگر اس سے انحراف کروں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں ہے۔‘‘
۲۔ اسلام اس بات کی کیسے حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ (سیاسی دائرے میں) مختلف صورت حال میں جائز اور ناجائز کے مابین امتیاز جائے، تاکہ نوجوان درست فیصلہ کر سکیں؟
جواب: اسلام ہر شخص کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ وہ جس بات کو قانون کے حوالے سے غلط اور باہمی حقوق کے حوالے سے زیادتی سمجھتا ہو، اس کے خلاف آواز اٹھائے بلکہ سوسائٹی کے اجتماعی نقصان کی صورت میں یہ آواز اٹھانا اور معروف ذرائع سے اس کے سدباب کی عملی کوشش کرنا اس کے مذہبی فرائض میں شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں خیر کے فروغ اور شر کے سدباب کے لیے محنت کرنا بھی ہر شخص کا حق بلکہ اس کی ذمہ داری ہے۔
ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی خلاف ورزی اور غیر مسلم ریاست میں مسلمہ دستور ومعاہدات کی خلاف ورزی پر اسے ٹوکا جا سکتا ہے اور جہاں حق تلفی ہو رہی ہو، اس کی نشان دہی کی جا سکتی ہے اور اس روک ٹوک، نشان دہی اور احتجاج کے لیے وہ سب ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہیں جو اس دور اور علاقے میں معروف اور تسلیم شدہ ہوں۔ حضرت معاویہؓ رومیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا لشکر لے کر روم کی سرحد کی طرف جا رہے تھے اور ان کا ارادہ تھا کہ وہ مدت ختم ہونے تک سرحد تک پہنچ جائیں گے اور مدت ختم ہوتے ہی حملہ کر دیں گے، لیکن حضرت عمرو بن عبسہؓ نے انھیں روک دیا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی رو سے اگر کسی قوم کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ہو تو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے اس کے خلاف فوجوں کو حرمت میں لانا درست نہیں۔ حضرت معاویہؓ یہ سن کر راستے سے ہی واپس آ گئے اور فوج کو چھاؤنی میں بھیج دیا۔ اس طرح کے درجنوں واقعات خلفاے اسلام کے مختلف ادوارمیں ملتے ہیں۔
۳۔ ایک جمہوری ڈھانچے میں انصاف کے حوالے سے اسلام کا تصور کیا ہے؟ (کیا عمومی عدالتی نظام قابل قبول نہیں اور مسلمانوں کی علیحدہ عدالتیں قائم کرنا ضروری ہے؟)
جواب: جمہوری ڈھانچے میں انصاف کے حوالے سے اسلام کا تصور حالات او رزمینی حقائق کی روشنی میں مختلف دائروں میں تقسیم ہے:
- جہاں مسلم اکثریت یا مسلم اقتدار ہے، وہاں اسلامی عدالتوں کا قیام ضروری ہے جو قرآن وسنت کے مطابق لوگوں کو انصاف فراہم کریں، مگر غیر مسلم اقلیتیں اپنے خاندانی معاملات اور مذہبی معاملات میں ان عدالتوں کی پابند نہیں ہوں گی اور ان کے فیصلے ان دو حوالوں سے ان کے مذہب وروایات کے مطابق کیے جائیں گے جس کے لیے عدالتی نظام بھی ان کے اطمینان کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔
- جن ممالک میں مسلمان اکثریت یا اقتدار میں نہیں ہیں، وہاں چونکہ وہ ایک سماجی معاہدے کے تحت رہ رہے ہیں، اس لیے اس سماجی معاہدہ (نیشنیلٹی کے قوانین) کی پابندی ان کے لیے ضروری ہے جو وہاں کی ریاستی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگا، البتہ مذہبی معاملات اور خاندانی احکام وقوانین میں ان کے مذہب کے مطابق عدالتی نظام کا فراہم کیا جانا ان کا حق ہے۔ اس حق کے لیے وہ کوشش کرتے رہیں گے اور اس کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کریں گے۔ نیز اس ملک کے عمومی قوانین میں اگر کوئی بات قرآن وسنت کے صریح احکام اور مسلمانوں کے کسی اجماعی عقیدہ سے ٹکراتی ہے تو وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے، اسے تبدیل کرانے کی کوشش کریں گے اور حکمرانوں کو اس کی طرف توجہ دلائیں گے اور اگر اس کے باوجود وہ تبدیل نہیں ہوتے تو مسلمانوں کے لیے دو ہی راستے ہیں کہ یا وہ ملک چھوڑ دیں اور یا مجبوری کے درجے میں وہاں رہتے ہوئے اپنا احتجاج مسلسل ریکارڈ کراتے رہیں، مگر قانون کو ہاتھ میں لینے یا مروجہ سسٹم سے بغاوت کرنے کا ان کو اس سماجی معاہدہ کی رو سے حق نہیں ہوگا۔
۴۔ سماج میں امن قائم رکھنے کے لیے قانون کی اہمیت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ (سیاسی فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے قانون کی پابندی کرنے کی کیا اہمیت ہے؟)
جواب: اسلام سوسائٹی میں امن کو برقرار رکھنے اور اس کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے اور رائج الوقت قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’حاکم وقت اگر تمھاری حق تلفی بھی کر رہا ہو تو اس کی اطاعت کرو‘‘۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ان دونوں ارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ ظلم وزیادتی کے خلاف احتجاج کرنا، اپیل کرنا اور آواز اٹھانا تو مظلوم کا حق ہے، لیکن قانون سے انحراف اور فیصلوں سے بغاوت کا اسے حق نہیں ہے۔ البتہ مسلم اقتدار کی صورت میں مسلمان حکمران کی طرف سے صریح کفر (کفر بواح) کے ارتکاب پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام مسلمانوں کو بغاوت کی اجازت دیتے ہیں جس کے لیے فقہاے کرام نے شرط لگائی ہے کہ اگر ’’کفر بواح‘‘ یعنی صریح کفر کے مرتکب مسلم حکمران کو عوامی بغاوت کے ذریعے تبدیل کر دینے کا غالب امکان نظر آ رہا ہو تو ایسا کرنا ضروری ہے، ورنہ خواہ مخواہ عام لوگوں کو بدامنی کا شکار بنانا اور ان کی جان ومال کو خطرے میں ڈال دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ حکم اسلامی ریاست کے لیے ہے۔ غیر مسلم ریاست کے لیے ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ایسی صورت میں مسلمان یا ملک چھوڑ دیں اور یا اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے وہاں رہیں، لیکن قانون کی پابندی ان کے لیے ضروری ہوگی۔
اس وقت عالمی تناظرمیں عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان وغیرہ کے حوالے سے مغربی حکومتوں کا جو طرز عمل ہے، اس کے بارے میں صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، بلکہ عالمی رائے عامہ اور غیر جانب دار مبصرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، اس لیے مسلمانوں بالخصوص گرم خون رکھنے والے نوجوانوں کے ذہنوں میں اس کا رد عمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اس لیے آج کے ورلڈ میڈیا کی کھلی فضا میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف مسلمان نوجوانوں کے دل ودماغ میں رد عمل کے پیدا ہونے کو تو کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی اس کے اظہار پر کوئی قدغن لگائی جا سکتی ہے، البتہ اس رد عمل کے اظہار کو مناسب حدوں کا پابند ضرور کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ عراق، فلسطین، کشمیر، افغانستان یا کسی اور جگہ کے مسلمانوں کی مظلومیت پر رد عمل کا شکار نہ ہوں یا اپنے رد عمل کا اظہار نہ کریں، کیونکہ ان سے یہ کہنا صریحاً زیادتی اور ناانصافی کی بات ہوگی، البتہ ہم ان سے یہ ضرو رکہہ سکتے ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور رد عمل کے اظہا رمیں اپنے ملک کے احوال وظروف، دستور وقوانین اور اپنے دیگر ہم وطنوں کے جذبات واحساسات کی ضرور پاس داری کریں اور اپنی حکومت، مسلمان بھائیوں اور دیگر برادران وطن کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عبسہؓ کو قبول اسلام کے بعد اپنے قبیلے میں جا کر خاموشی کے ساتھ وقت گزارنے اور غلبہ اسلام کی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جانے کی ہدایت کی تھی۔ (صحیح مسلم) آپ نے حضرت ابوذر غفاری کو بھی قبول اسلام کے بعد اسی قسم کی ہدایت کی تھی۔ (صحیح بخاری) جنگ بدر کے موقع پر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ اور ان کے والد محترم دونوں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہے تھے کہ راستے میں کافروں نے پکڑ لیا اور اس شرط پر چھوڑا کہ آپ دونوں ہمارے خلاف جنگ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ کفار کی قید سے رہا ہو کر دونوں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ بیان کر دیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ کہہ کر جنگ میں شرکت سے روک دیا کہ چونکہ آپ دونوں نے کفار کی یہ شرط منظور کر لی تھی، اس لیے آپ ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ چنانچہ دونوں باپ بیٹا موجود ہوتے ہوئے بھی غزوۂ بدر میں شامل نہ ہو سکے۔ ان واقعات سے اس سلسلے میں اصولی راہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
میری رائے میں حالیہ عالمی کشمکش میں ہمیں مغربی ممالک واقوام کو اقوام وممالک کی حیثیت سے اپنا حریف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ جس طرح مسلم ممالک میں حکومتوں کے اہداف عوام کے اہداف ومقاصد سے مختلف ہیں، اسی طرح مغربی ممالک میں بھی حکومتوں اور بالادست قوتوں کے اہداف وعزائم کا عوام کے اہداف ومقاصد سے ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ان دونوں میں فرق کو محسوس کرتے ہوئے مغرب کی رائے عامہ سے اس کی نفسیات اور ذہنی سطح کے مطابق براہ راست مخاطب ہو کر اس کے سامنے اپنا مقدمہ صحیح طور پر پیش کیا جا سکے تو مسلمان اپنے اختلاف اور احتجاج کو زیادہ موثر طریقے سے ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔
مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کے دستور وقانون کی پوری طرح پابندی کریں اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دین اور ملت کے لیے جو بھی کر سکتے ہوں، اس سے گریز نہ کریں۔ میں ایسی سرگرمیوں کے حق میں نہیں ہوں جن سے ملک کے دستور وقانون کی پابندی کا عہد متاثر ہوتا ہو اور عام مسلمانوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہو اور ایسی خاموشی کو بھی جائز نہیں سمجھتا جس میں اسلام اور مسلمانوں کے جائز حقوق اور ان کے حصول وتحفظ کے قانونی استحقاق سے بھی دست برداری اختیار کر لی جائے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے درمیان اعتدال اور توازن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور پوری ہوشیاری اور بیداری کے ساتھ اپنے ملی اور معاشرتی حقوق ومفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔
۵۔ رواداری اور احترام کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے، بالخصوص ان لوگوں کے حوالے سے جو مختلف اعتقادات اور پس منظر کے حامل اور مختلف روایتوں سے وابستہ ہیں؟
جواب: اسلام عقیدہ ومذہب کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کا حکم دیتا ہے، ایک دوسرے کے معبودوں او رمسلمہ بڑوں کے خلاف بد زبانی سے روکتا ہے، اپنے اپنے دائرے میں مذہبی احکام وروایات پر عمل کا حق دیتا ہے اور مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ایک اسلامی ریاست میں اسلامی روایات واقدار کو کھلے بندوں چیلنج کرنے کا حق نہیں دیتا اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی بھی ریاست اپنے تمام شہریوں کو اپنے اپنے دائرے میں اپنے عقائد، کلچر اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتی ہے، لیکن ریاست کے عمومی دستور وقانون اور ریاست کی تہذیبی بنیادوں کو چیلنج کرنے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہوتا۔
جہاں تک معاشرتی اور سماجی تعلقات کا تعلق ہے تو اسلام ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور احترام کے رویے کی خصوصی تلقین کرتا ہے۔ سیرت نبوی میں اس کی جھلک حسب ذیل چند واقعات میں دیکھی جا سکتی ہے:
- مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔
- ہجرت کے بعد ایک مخصوص عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود کی تالیف قلب کے لیے ان کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔
- فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا اور فرمایا کہ ’’ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
- ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: ’’اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے‘‘ اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے انبیا میں سے بعض کو بعض سے افضل قرار دیں۔
- ۹ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی ہی میں مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔
- ایک شخص کا جنازہ گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو فرمایا: ’’کیا وہ انسان نہیں ہے؟‘‘
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ان کے ساتھ معاشرتی اور قانونی معاملات میں ہر موقع پر عدل وانصاف کا رویہ اختیار فرمایا جس کی شہادت ایک موقع پر خود یہود نے یوں دی کہ: ’’یہی وہ حق اور انصاف ہے جس کے سہارے زمین اور آسمان قائم ہیں۔‘‘
- جن معاملات میں آپ کو کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
- لباس اور وضع قطع سے متعلق امور میں بھی آپ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔
۶۔ دوسرے مسلم گروہ، جو کسی مختلف مکتب فکر سے متعلق ہیں، ان کے ساتھ طرز عمل کے بارے میں اسلام کی کیا تعلیم ہے؟
جواب: اسلام کے دائرے میں شمار کیے جانے والے تمام مسلمان گروہوں کو جنھیں اسلامی اصطلاح میں اہل قبلہ کہا جاتا ہے، ایک اسلامی ریاست میں برابر کے حقوق حاصل ہیں اور تمام گروہوں کے معتقدات وجذبات کے احترام کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ فقہی اور اعتقادی اختلافات کی صورت میں ملک کا عمومی قانون اکثریت کے رجحانات کے مطابق ہوگا اور اقلیتی گروہوں کو اپنے مذہبی اور خاندانی معاملات اپنی اپنی فقہ کے مطابق طے کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ البتہ اہل قبلہ کے تعین میں یہ فرق ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ مثلاً ختم نبوت سے منحرف گروہوں (قادیانیوں اور بہائیوں وغیرہ) کو اسلام کے دعوے کے باوجود اس دائرے میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور جذبات کا احترام ضروری ہوگا۔
جہاں تک مسلمانوں کے باہمی اعتقادی مسائل اور فقہی اختلافات کا تعلق ہے تو ان اختلافات کی درجہ بندی اور ترجیحات مسلمانوں کے سامنے واضح ہونی چاہیے اور انہیں اس با ت کا علم ہونا چاہیے کہ کون سی بات کفر واسلام کی ہے اور کون سی بات اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہے، کس اختلاف پر سخت رویہ اختیار کرنا ضروری ہے او ر کون سے اختلاف کو کسی مصلحت کی خاطر نظر انداز بھی کیا جاسکتاہے ۔ اگر نظری،فقہی اور فروعی مباحث میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے احترام اور برداشت کا رویہ باقی نہ رہے تو خالصتاً فروعی حتیٰ کہ اولیٰ وغیر اولیٰ کے جزوی اختلافات بھی بحث ومباحثہ میں اس قدر شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ کفرو اسلام میں معرکہ آرائی کا تاثر ابھرنے لگتاہے اور بیشتر اوقات اس سے خود اسلام کے تعارف میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر برطانوی معاشرہ اسلام کی تبلیغ ودعوت کا ایک وسیع اور ہموار میدان ہے، لیکن اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں یہاں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات، بالخصوص دیوبندی بریلوی کشیدگی ہے جس کے دل خراش اور سنگ دلانہ مظاہروں نے یہاں کی مقامی آبادی کے سامنے اسلام اور مسلم معاشرہ کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا ہے جسے کشش، پسندیدگی یا قبولیت کا باعث کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کشیدگی کا اہتمام کرنے والے عناصر خواہ کوئی ہوں، انھوں نے اس کے ذریعے اپنے فرقہ وارانہ جذبات کی وقتی تسکین کا سامان شاید فراہم کر لیا ہو مگر اسلام کی قطعاً کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
۷۔ عقیدہ و طرز حیات کے تنوع اور ان کے مابین انتخاب کی آزادی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
جواب: عقیدہ اور طرز حیات کے تنوع کو اسلام تسلیم کرتا ہے اور اسے سوسائٹی کاناگزیر حصہ تصور کرتا ہے، لیکن چونکہ اسلام کے نزدیک آسمانی تعلیمات کی پابندی اور وحی الٰہی کو قبول کرنا ہی انسان کے لیے صحیح راستہ ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی محفوظ اور فائنل صورت قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وسنت ہے، اس لیے وہ اس سے انحراف کی اجازت نہیں دیتا، بالکل اسی طرح جیسے آج کی مغربی قیادت ویسٹرن کلچر کو انسانی کلچر کی صحیح ترین اور فائنل شکل قرار دیتے ہوئے دنیا میں کسی قوم یا طبقہ کو بھی اس سے انحراف کی اجازت نہیں دے رہی اور جہاں بھی ویسٹرن کلچر سے ہٹ کر کسی دوسرے کلچر کے سوسائٹی میں اسٹیبلش ہونے کا امکان نظر آتا ہے، وہاں مغربی ممالک طاقت کے اندھا دھند استعمال کے ذریعے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس معاملے میں اسلام اور مغرب کے نقطہ نظر میں اصولی طور پر اتفاق پایا جاتا ہے اور صرف اتنا فرق ہے کہ اسلام آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کو اس کی فائنل صورت (قرآن وسنت) میں انسانی سوسائٹی کی صحیح ترین اور حتمی شکل قرار دیتا ہے اور اس سے انحراف کو برداشت نہیں کرتا، جبکہ مغرب اپنے موجودہ کلچر کو حتمی اور فائنل سمجھتا ہے اور دنیا میں کسی کو اس سے ہٹ کر کوئی اور کلچر اختیار کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
۸۔ حکومت اور معاشرہ کے حوالے سے ایک شہری کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
جواب: اسلام ایک عام شہری کو ملکی معاملات میں شریک ہونے، ملک کے مشاورتی نظام کا حصہ بننے، خیر کے کاموں میں تعاون کے راستے تلاش کرنے اور شر کی راہ میں رکاوٹ بننے کا نہ صرف حق دیتا ہے ، بلکہ اس کی تلقین کرتا ہے اور اسے مذہبی فرائض میں شمار کرتا ہے۔
۹۔ اسلام میں ارباب حل وعقد کو ان کے اعمال کے لیے جواب دہ ٹھہرانے کا طریقہ کیا ہے؟ (حکومت کے فیصلوں سے اختلاف اور ان پر تنقید کا درست طریقہ کیا ہے؟)
جواب: خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کا پہلا خطبہ اس سلسلے میں اسلامی مزاج کی صحیح عکاسی کرتا ہے کہ اگر میں قرآن وسنت (یعنی قانون) کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دیتے رہو، اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام حاکم وقت کو عوام کے سامنے جواب دہ بناتا ہے اور عوام کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ حاکم وقت کو قانون کے خلاف چلنے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ ٹوک دیں بلکہ اسے سیدھا کر دینے کے جو ذرائع میسر ہوں، وہ بھی اختیار کریں۔ حکام کو روک ٹوک کرنے اور انھیں سیدھا کر دینے کا کوئی متعین طریقہ اسلام نے نہیں طے کیا، بلکہ اسے حالات اور مواقع کی مناسبت سے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اس کے لیے حالات زمانہ کے حوالے سے کوئی بھی مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً آج کے دور میں ووٹ، سیاسی عمل، احتجاج اور میڈیا ولابنگ اس کی مروجہ اور معروف صورتیں ہیں۔
حقوق اور فرائض
۱۔ حقوق اور فرائض کی ان مختلف قسموں کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے جن کا اثر فرد اور سماجی گروہوں، دونوں پر پڑتا ہے؟ (دوسروں کے حقوق کا کیسے خیال رکھا جائے، حقوق میں ٹکراؤ کی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور اختلاف کے حدود اور آداب کیا ہیں؟)
۲۔ اسلام کی نظر کی اس بات کو یقینی بنانے کے حوالے سے حکومت کی ذمہ داری کیا ہے کہ مختلف تنظیموں اور افراد کے حقوق کے مابین توازن قائم رہے اور ان حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے؟
۳۔ ایسے مسائل کو اسلام کیسے ڈیل کرتا ہے جہاں حقوق کے مابین تصادم کی کیفیت پیدا ہو جائے؟ تصادم کے حل کے لیے اس کا تجویز کردہ طریقہ کیا ہے؟
جواب: مختلف افراد، طبقات یا گروہوں کے درمیان حقوق کے باہمی تصادم اور ٹکراؤ کی صورت میں اسلام انصاف، عدل اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے اور کسی فریق کی ناجائز طرف داری سے روکتا ہے۔ اسی طرح وہ متصادم گروہوں کے درمیان مفاہمت اور مصالحت کا ماحول قائم کرنے پر زور دیتا ہے اور ثالثی، محاکمہ اور گفت وشنید کے ذریعے ایک دوسرے کو قریب لانا اسلامی تعلیمات کا ایک مستقل باب ہے۔
عدل وانصاف کو قائم رکھنے اور افراد اور طبقات کو ایک دوسرے کی زیادتی سے بچانے کے حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس ضمن میں خلفاے اسلام کے بہت سے واقعات بطور مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ فتح بیت المقدس کے موقع پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ شہر کا دورہ کرتے ہوئے مسیحیوں کی ایک عبادت گاہ میں گئے اور وہاں نماز کا وقت آ گیا تو وہ نماز کی ادائیگی کے لیے باہر آ گئے اور الگ جگہ نماز ادا فرمائی۔ اس پر بعض ساتھیوں نے دریافت کیا کہ امیر المومنین! وہ بھی تو عبادت گاہ تھی۔ اس جگہ نماز ادا کرنے میں کیا حرج تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اس جگہ نماز ادا کر لیتا تو بعد میں تم نے وہاں مستقل قبضہ کر لینا تھا کہ یہاں ہمارے امیر المومنین نے نماز ادا کی ہے، اس لیے ہم اس جگہ مسجد بنائیں گے۔ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں پر اس طرح قبضہ کیا جائے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز نے خلافت کا منصب قبول کیا اور ذمہ داریاں سنبھال کر گزشتہ حکومتوں کے مظالم کی تلافی کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے عدل وانصاف کے واقعات سن کر سمرقند کے غیر مسلم باشندوں کا ایک وفد ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ اب سے پندرہ سال قبل جب مسلم کمانڈر قتیبہ بن مسلم نے سمرقند فتح کیا تو اس شہر پر حملے سے قبل اسلامی احکام کے مطابق نہ تو انھیں اسلام کی دعوت دی اور نہ ہی دوسری شرائط پیش کیں بلکہ اچانک حملہ کر کے فتح کر لیا، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اس کی تلافی ہونی چاہیے۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبد العزیز کے خلیفہ بننے سے پندرہ برس قبل ہوئی تھی، لیکن انھوں نے اسے ماضی کے حوالے سے ٹالنے کی بجائے غیر مسلموں کی شکایت کی تلافی ضروری سمجھی اور جمیع بن حاضر الباجی کو اس شکایت کی انکوائری اور تصفیے کے لیے خصوصی قاضی مقرر کر دیا۔ انھوں نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو اس پر فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا، اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں، چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہ وگیا اور اسلامی افواج اس عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئیں۔
تشخص اور تنوع
۱۔ کیا ’’مسلم تشخص‘‘ نام کی کوئی چیز موجود ہے؟ ایک غیر مسلم ریاست میں رہتے ہوئے مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور اعتقادات کے ساتھ کس طرح وابستہ رہ سکتے ہیں؟ اس ریاست سے متعلق ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جواب: ’’مسلم تشخص‘‘ یہی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک عقیدہ پر قائم ہیں، قرآن وسنت کے ساتھ واضح کمٹمنٹ رکھتے ہیں، اپنی تہذیبی شناخت کو باقی رکھنے پر مصر ہیں، خاندانی نظام میں مذہبی احکام سے ہٹ کر کسی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کی مساجد ومکاتب اور دینی تعلیم کا بنیادی نظام یکساں ہے اور وہ دینی روایات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان تمام معاملات میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں پائی جانے والی یکسانیت واضح طور پر نظر آنے والی معروضی حقیقت ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے مرکز بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں بلا امتیاز حاضری دے کر ایک ہی طریقے سے اپنی کمٹمنٹ کا مسلسل اظہار کرتے رہتے ہیں۔
ایک مسلمان کے کسی غیر مسلم ملک (مثلاً برطانیہ) کا شہری ہونے کا مطلب اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ ہے کہ وہ:
- خود کو برطانیہ کا شہری تصور کرے۔
- جس معاہدے کے تحت وہ شہری بنا ہے، اس کی پابندی کرے۔
- قانون ودستور اور سسٹم کو چیلنج نہ کرے۔
- اپنے مذہب اور کلچر پر برقرار رہنے کے مسلمہ حق سے دست بردار نہ ہو۔
- ملکی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مذہبی احکام پر عمل کرے اور اپنے دیگر مسلمان برادران وطن بلکہ ملک سے باہر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی بھائی چارے اور باہمی تعاون وحمایت کا قانونی حق استعمال کرے، البتہ قانون اور سسٹم کو چیلنج نہ کرے اور اس حوالے سے میرے نزدیک دنیا کے کسی ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن حقوق کو یہودی اس ملک کے قانون کی پابندی اور عالمی سطح پر یہودیوں کے مفادات وحقوق کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
- ملک کے سیاسی نظام میں شریک ہوں اور مسلمانوں کے حقوق ومفادات کے ساتھ ساتھ ملک کی عمومی آبادی اور عام شہریوں کے حقوق ومفادات کے تحفظ اور ملک وقوم کے اجتماعی مفاد کے لیے کردار ادا کرے۔
- اگر ملک کے دستور وقانون میں کوئی بات اپنے عقیدہ اور مسلمہ حق کے خلاف سمجھتا ہے تو اس کے لیے معروف طریقوں سے آواز اٹھائے، لابنگ کرے اور پالیسی سازوں کو اپنے موقف پر قائل کرنے کی ہر ممکنہ صورت اختیار کرے۔
۲۔ کیا وقت کے ساتھ ساتھ ’تشخص‘ کے بدلنے کے حوالے سے کوئی اسلامی نقطہ نظر موجود ہے جس میں اس امر کی گنجایش مانی جاتی ہو کہ ’’کسی ملک (مثلاً برطانیہ) کا شہری ہونے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ کے سوال کا جواب مختلف طریقوں سے دیا جا سکتا ہے؟
جواب: اسلام ایک مسلمان کے بنیادی تشخص (مثلاً اسلام پر قائم رہنے اور قرآن وسنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ برقرار رکھنے) میں تغیر کو قبول نہیں کرتا اور ہر حال میں ایک مسلمان کو اس کی پابندی کا حکم دیتا ہے، البتہ وقت کے ساتھ ساتھ تشخص وتنوع میں جزوی تغیر کو اسلام تسلیم کرتا ہے اور یہ فطری بات ہے۔ آج کے عالمی ماحول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے اور تہذیبوں کے اختلاط کا دور ہے کیونکہ فاصلے اس قدر سمٹ گئے ہیں کہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان صدیوں سے قائم سرحدیں پامال ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں جبکہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان حدود اور فاصلوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، منطقی طور پر یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کہ مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے دور میں اسلام کیا راہ نمائی کرتا ہے؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وارشادات میں اس بارے میں واضح راہ نمائی موجود ہے اور احادیث کے ذخیرے میں بہت سی روایات پائی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گاجو امام بخاریؒ نے کتاب النکاح، باب عظۃ الرجل بنتہ اور بعض دیگر ابواب میں بیان کی ہے اور اس تفصیلی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے بہت سے خاندان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو مہاجرین اور انصار کی خاندانی روایات میں واضح فرق موجود تھا۔ مہاجرین کے ہاں کسی عورت کا خاوند کو کسی بات پر ٹوکنا یا اس کی کسی بات کو رد کرنا سرے سے متصور نہیں تھا جبکہ انصار کے خاندانوں میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ خاوند کو کسی بات پر ٹوک سکتی ہیں، کسی بات کا جواب دے سکتی ہیں اور کسی بات سے انکار بھی کر سکتی ہیں۔ حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک روز ان کی بیوی نے کسی بات پر ٹوک دیا تو انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹا۔ بیوی نے جواب دیا کہ مجھے ڈانٹنے کی ضرورت نہیں، یہ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی ہوتا ہے کہ ان کی ازواج مطہرات کسی بات پر ٹوک دیتی ہیں اور کسی بات کا جواب بھی دے دیتی ہیں۔ حضرت عمر نے اسے اس بات سے تعبیر کیا کہ انصار کی عورتوں کی عادات ہماری عورتوں پر اثر انداز ہوتی جا رہی ہیں چنانچہ حضرت عمرؓ اسی غصے کی حالت میں سیدھے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے گھر پہنچے جو ان کی بیٹی تھیں اور انہیں سمجھایا بجھایا کہ ایسا مت کیا کرو۔ وہ تو بیٹی تھیں، خاموش رہیں مگر یہی بات جب حضرت عمرؓ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے کہنا چاہی تو انہوں نے آگے سے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ’’آپ نے میاں بیوی کے معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صرف یہ فرمایا کہ ’’آخر ام سلمہ ہے‘‘۔
یہ دو علاقائی ثقافتوں اور معاشرتی روایات کے اختلاط اور ٹکراؤ کا قصہ ہے اور میری طالب علمانہ رائے ہے کہ تہذیبوں کے اختلاط اور مختلف ثقافتوں کے باہمی میل جول کے مسائل میں یہ روایت اصولی اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے جس سے ہمیں راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے اور دور نبوی کے اس طرز کے واقعات اور روایات واحادیث کی روشنی میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں اصول وضوابط وضع کرنے چاہییں کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تال میل میں کہاں ایڈجسٹ منٹ کی گنجائش ہے، کہاں صاف انکار کی ضرورت ہے اور کہاں کوئی درمیان کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ دین اور ثقافت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ان کے درمیان حد فاصل قائم رہنی چاہیے اور دونوں کو گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ دین کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے جبکہ ثقافت کی بنیاد ایک علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان خود بخود تشکیل پا جانے والی معاشرتی اقدار وروایات پر ہوتی ہے اور اس کا سرچشمہ سوسائٹی اور اس کا ماحول ہوتا ہے۔ اگر علاقائی ثقافتوں پر دین وشریعت کا لیبل لگا کر انہیں ساری دنیا سے ہرحال میں منوانے کی جائے گی تو اس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوں گے۔
۳۔ عالمی سطح پر (مثلاً برطانیہ، یورپ کے باقی ممالک اور وسیع تر دنیا کے مابین) باہمی تعلقات کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ کیا دنیا کے ایک عالمی کمیونٹی ہونے کے حوالے سے اسلام کوئی منفرد نقطہ نظر رکھتا ہے؟
جواب: اسلام خود گلوبل سوسائٹی کا علم بردار ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دین کی دعوت کے لیے پوری نسل انسانی کو خطاب کیا ہے اور حجۃ الوداع کے خطبے میں (دنیا کی تاریخ میں پہلی بار) گلوبل انسانی سوسائٹی کے خد وخال واضح کیے ہیں اور اس کے بنیادی اصول بیان فرمائے ہیں، البتہ اسلام گلوبل سوسائٹی کی نظریاتی بنیاد آسمانی تعلیمات کو سمجھتا ہے اور قرآن وسنت کو اس کی محفوظ اور فائنل شکل قرار دیتا ہے جیسا کہ مغرب ویسٹرن کلچر کو گلوبل سوسائٹی کی بنیاد قرار دیتا ہے اور اسے دنیا بھر سے منوانے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔
۴۔ کیا ایک یکجان اور آپس میں جڑی ہوئی کمیونٹی وجود میں لانے کے بارے میں کوئی اسلامی نقطہ نظر پایا جاتا ہے؟
جواب: آسمانی تعلیمات کے معاشرتی کردار کی نفی اور وحی الٰہی سے انحراف کی بنیاد پر کمیونٹی کے باہمی اتحاد کو اسلام قبول نہیں کرتا۔
۵۔ اسلام میں رضا کارانہ خدمت اور (غریبوں کی) مالی امداد اتنی اہم کیوں ہے؟
جواب: وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات نے ہر دور میں انسان کو راستی کی تعلیم دی ہے، امن کا راستہ دکھایا ہے، باہمی محبت اور رواداری کا سبق دیا ہے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی ہے، نادار اور بے سہارا افراد کی خدمت پر آمادہ کیا ہے، سچائی اور دیانت وامانت کو انسانی سوسائٹی کی اساسی اقدار قرار دیا ہے اور حیا وپاک دامنی کو انسان کا زیور بتایا ہے۔ بائبل اور قرآن کریم کے سینکڑوں اوراق وحی الٰہی کی ان تعلیمات پر گواہ ہیں اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے متعدد ارشادات مقدس کتابوں میں اس حوالہ سے موجود ومحفوظ ہیں۔ ہم اس حوالے سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سے دو حوالے دینا مناسب سمجھیں گے:
ایک یہ کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی وحی کے نزول کے بعد غار حرا سے اتر کر گھر آئے اور اس اچانک واقعہ پر کچھ گھبراہٹ کا اظہار کیا تو ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ گھبرائیں نہیں، اس لیے کہ آپ
’’۱۔ صلہ رحمی کرتے ہیں، ۲۔ ناداروں اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، ۳۔مہمانوں اور مسافروں کی خدمت کرتے ہیں، ۳۔ ناگہانی آفتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، ۵۔ محتاجوں کو کما کر کھلاتے ہیں۔‘‘
دوسرا حوالہ اس موقع کا ہے جب بخاری شریف ہی کی روایت کے مطابق سلطنت روما کے فرمانروا شاہ ہرقل کے نام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پہنچا اور شاہ ہرقل نے عرب دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کے سب سے بڑے حریف جناب ابو سفیانؓ کو دربار میں بلا کر ان سے حضرت محمد کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو ابو سفیان نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور پیغام کا تعارف قیصر روم کے دربار میں ان الفاظ میں کرایا کہ:
۱۔ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں،
۲۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نماز کا حکم دیتے ہیں،
۳۔ سچائی کی تلقین کرتے ہیں،
۴۔ صلہ رحمی کو ضروری قرار دیتے ہیں،
۵۔ اور پاک دامن رہنے کا سبق دیتے ہیں۔
سوسائٹی اور تمدن کا قیام چونکہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور سوسائٹی اور تمدن کی بنیاد باہمی تعاون پر ہے، اس لیے باہمی تعاون کی رضاکارانہ صورتوں کو اسلام نہ صرف ضروری قرار دیتا ہے، بلکہ انھیں مذہبی فرائض میں شمار کرتا ہے اور ان سے انحراف کو گناہ اور جرم تصور کرتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث نبوی میں ہے کہ:
’’جو شخص خود پیٹ بھر کر رات کو سویا رہا اور اس کے پڑوسی نے بھوک کی حالت میں رات گزار دی، جبکہ اسے اس کے بارے میں معلوم بھی ہے تو ایسے شخص کو مومن کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح اور بھی بہت سی احادیث میں سماجی ضروریات اور خدمات سے غفلت برتنے کو مذہبی طور پر گناہ اور جرم قرار دیا گیا ہے۔ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا یہی خلاصہ ہے۔ نسل انسانی نے جس دور میں بھی ان تعلیمات کو اپنایا ہے، اسے سکون واطمینان کی وافر دولت ملی ہے اور انسانوں نے باہمی محبت واعتماد کی زندگی بسر کی ہے اور جب بھی ان آسمانی تعلیمات کے بارے میں افراط وتفریط سے کام لیا گیا ہے، انسانی سوسائٹی میں امن اور سکون کا توازن بگڑ گیا ہے۔
۶۔ صنفی مساوات کے حوالے سے اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟
جواب: اسلام مرد اور عورت کو سوسائٹی اور تمدن کی دو ناگزیر بنیادیں تصور کرتا ہے اور باہمی برتری اور فضیلت کے لیے بر وتقویٰ کو بنیاد قرار دیتا ہے، لیکن معاشرتی معاملات میں دونوں کے درمیان مکمل فطری مساوات کا قائل نہیں ہے اور اس کے نزدیک یہ غیر فطری اور مصنوعی بات ہے، اس لیے کہ مرد اور عورت کی جسمانی تخلیق، نفسیات اور ان کے فطری فرائض میں ایسا تنوع موجود ہے جس سے نہ تو انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے کی کوئی صورت ممکن ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان جسمانی تخلیق، نفسیاتی رجحانات اور فطری ذمہ داریوں میں جو واضح فرق موجود ہے، اسلام ان کے باہمی حقوق وفرائض کے تعین وتقسیم میں اسی کو بنیاد قرار دیتا ہے اور اس کے مطابق دونوں کے لیے احکام وقوانین میں ا س نے فرق وامتیاز قائم رکھا ہے۔
اسلام نے عورت کے معاشی حقوق اور تحفظات کا متوازن نظام پیش کیاہے۔ یہ شعبہ ایسا ہے جہاں بڑے بڑے نظام افراط وتفریط کا شکار ہو گئے ہیں، لیکن اسلام نے اعتدال اور توازن کا اصول یہا ں بھی پوری طرح قائم رکھا ہے۔ اسلام نے فرائض کی ایک فطری تقسیم کر دی ہے کہ گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت کی ہے اور باہر کی ذمہ داری مرد پر ہے اور مردو عورت کی خلقت میں فطرت نے جو طبعی فرق رکھا ہے، اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی تقسیم ممکن ہی نہیں ہے۔ چونکہ گھر کے اندر کا نظام عور ت کی سپرداری میں ہے، اس لیے باہر کی کوئی ڈیوٹی اس کے سپرد کرنا اس پر ظلم ہے۔ اسی لیے عورت کے تمام اخراجات مرد کے ذمہ لگا دیے گئے ہیں اور ان اخراجات کے سلسلہ میں عور ت کو عدالتی تحفظات بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی مرد اس معاملے میں عورت کے ساتھ ناانصافی نہ کرسکے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عورت کے ملازمت کرنے پر کلی پابندی لگاتا ہے۔ ہرگز نہیں! بلکہ اسلام عورت کو ایسی ہر ملازمت کی اجازت دیتا ہے جس سے اس پر اس کی طاقت وصلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔
اسی طرح اسلام کے نزدیک ’’خاندان‘‘ سوسائٹی کی بنیادی اکائی ہے جس کا تحفظ ضروری ہے اور خاندان کا یونٹ اس کے سوا قائم نہیں رہ سکتا کہ رشتوں کا تقدس تسلیم کیا جائے، مرد وعورت کے کسی ایسے باہمی میل جول کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جس کے نتیجے میں آزادانہ جنسی ملاپ اور رشتوں کے تقدس کی پامالی اور خاندان کے بکھر جانے کی صورت پیدا ہو جائے۔ نیز خاندان کے یونٹ کا ڈسپلن اور نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے سسٹم میں فائنل اتھارٹی ایک ہو، اس لیے اسلام خاندان کے نظام میں مرد کی برتری کی تعلیم دیتا ہے، البتہ مرد کی سنیارٹی کو خاندان کے تحفظ کی ضمانت قرار دیتے ہوئے عورت کو وہ تمام حقوق فراہم کرتا ہے جو ایک شہری، ایک مسلمان اور سوسائٹی کے ایک فرد کے طور پر اس کے لیے ضروری ہیں۔ نسل انسانی کی نشو ونما اور ترقی میں عورت کا بھی اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے، اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس واحترام بخشا بلکہ ان کی اہمیت وافادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔
مثال کے طور پر آزادی رائے کو انسانی حقوق میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخ یہ منظر پیش کرتی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک بوڑھی خاتون خولہ بنت حکیمؓ امیر المومنین حضرت عمر کو سرعام روک کر کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے : ’’عمر! وہ دن یاد رکھو جب تمہیں عکاظ کے بازار میں صرف عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور آج تم امیر المومنین کہلاتے ہو، اس لیے خدا سے ڈرتے رہو اور انصاف کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہو‘‘۔ حضرت عمرؓ اس بڑھیا کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں اور اپنے عمل کے ساتھ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ انسانی معاشرہ میں مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ راہ چلتے امیر المومنین کا راستہ روک کر کھڑی ہوجائے اور انصاف کی طلب گار ہو۔
اسلام مر دکی طرح عورت کو بھی یہ حق دیتاہے کہ وہ اپنے جائز حق کے لیے ڈٹ جائے اور اس کے خلاف کسی بڑے سے بڑے دباؤ کی پروا نہ کرے۔ حضرت عائشہ کی باندی بریرہ کو آزاد ہونے کے بعد شرعی طورپر یہ حق حاصل ہو گیاتھا کہ وہ اپنے سابقہ خاوند مغیثؓ کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے اپنا یہ حق استعمال کیا تو مغیثؓ پریشان ہوگئے۔ وہ مدینہ کی گلیوں میں روتے پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی ہے جو بریرہؓ کو دوبارہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ کرے؟ اس کی حالت دیکھ کر خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے بات کی اور اسے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے کہا۔ بریرہؓ نے صرف یہ پوچھا کہ یارسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف مشورہ ہے، تو بریرہؓ نے دو ٹوک کہہ دیا کہ میں یہ مشورہ قبول نہیں کرسکتی۔ چنانچہ بریرہؓ مغیثؓ سے الگ رہنے کے فیصلے پر قائم رہی اور اپنے عمل کے ساتھ اسلام کا یہ اصول دنیا کے سامنے پیش کیا کہ عورت اپنے جائز حق سے از خود دستبردار نہ ہونا چاہے تو اسے اس کے حق سے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا۔
خلافت راشدہ کے دور میں عورت اجتماعی معاملات میں بھی مشاورت کے دائرہ میں شامل رہی ہے،بالخصوص ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن کو تو اس دور میں امت مسلمہ کی اجتماعی راہ نمائی کا مقام حاصل تھا۔ اہم امور میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا اور ان سے اجتماعی معاملات میں راہ نمائی حاصل کی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک موقع پر مدینہ منورہ کے عامل امیر مروان بن حکم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’جب تک ازواج مطہرات موجود ہیں، ہمیں دوسرے لوگوں سے مسائل دریافت کرنے کی ضرورت ہی کیاہے!‘‘ اور عورتوں سے متعلقہ امور میں تو مشورہ ہی عورتوں سے کیا جاتا تھا۔ مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے ذمہ لگایا کہ وہ سمجھدار عورتوں سے مشورہ کرکے بتائیں کہ ایک عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزار سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی رائے پر حضرت عمرؓ نے حکم جاری کیا کہ ہر فوجی کو چھ ماہ کے بعد کچھ دنوں کے لیے ضرور گھر بھیجا جائے۔
خلافت راشدہ کے دور میں خواتین کو علم حاصل کرنے اور تعلیم دینے کے آزادانہ مواقع میسر تھے۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ بیسیوں خواتین کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات امت تک پہنچانے کا شرف حاصل ہے۔ ان کے شاگردوں میں مر د بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ وہ نہ صرف احادیث بیان کرتی تھیں، بلکہ فتویٰ بھی دیتی تھیں اور ان کے فتوے پر عمل کیا جاتاتھا۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے جو فتاویٰ منقول ہیں، ان سے ایک بڑا مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے بڑے بڑ ے علما صحابہ مسائل میں رجوع کرتے تھے اور اپنے اشکالات کا تسلی بخش جواب پاتے تھے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ سے بھی علمی معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا۔ الغرض علم اور افتا کا میدان بھی خواتین کے لیے کھلا تھا اور اس میں ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔
الغرض اسلام عورت کو انسانی زندگی کی گاڑی کا برابر کا پہیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں اپنا فطری کردار ادا کرنے کے لیے اسے درکار ہیں، البتہ فرائض کی تقسیم وہ مرد اور عورت کے طبعی تقاضوں اور فطری ضروریات کو سامنے رکھ کر کرتاہے اور عورت کو ہر ایسے عمل سے روکتاہے جو اس کے نسوانی وقار، فطری ذمہ داریوں اور طبعی مناسبت کے منافی ہو اور اسلا م کا یہ اصول حق تلفی نہیں بلکہ عین انصاف ہے جس کے بغیر انسانی معاشرت کو متوازن رکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔
جستجو، تنقیدی غور وفکر اور اختلاف رائے
۱۔ اسلام جستجو اور تنقیدی غور وفکر کو کیسے پروان چڑھاتا ہے تاکہ نوجوان نسل مختلف آرا اور آپشنز میں ذہنی دلچسپی لے اور ان پر غور کر سکے؟
۲۔ کیا تحقیق اور جستجو کے حوالے سے کوئی اسلامی اپروچ پائی جاتی ہے؟
۳۔ اسلام طالب علموں کو اپنا استدلال پیش کرنے اور اپنی رائے کو بیان اور واضح کرنے کے حوالے سے کیا مدد فراہم کر سکتا ہے؟
۴۔ اسلام نوجوانوں کو دوسرے کے ایسے خیالات کو سمجھنے اور انھیں بیان کرنے کے حوالے سے کیا مدد دے سکتا ہے جن سے ضروری نہیں کہ وہ متفق ہوں؟
جواب: قرآن کریم غور وفکر کی دعوت دیتا ہے، تاریخ کے حوالے سے بھی، اقوام کے عروج وزوال کے حوالے سے بھی، ارد گرد کے زمینی اور ماحولیاتی حقائق کے مشاہدہ کے حوالے سے بھی، آیات قرآنی پر تدبر کے حوالے سے بھی، کائنات کے مشاہدات اور سائنسی ارتقا کے حوالے سے بھی اور سوسائٹی کے مسائل پر بحث ومباحثہ کے حوالے سے بھی۔ اسلام سوسائٹی کے ہر فرد کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے، حکمرانوں اور مقتدر طبقات پر تنقید کرے اور سوسائٹی کے مفاد کے لیے ہر سطح پر مشورہ دے۔ اسلام جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام تسلیم نہیں کرتا کہ اس کی بات حرف آخر ہے۔ وہ خلفاے راشدین کو بھی مجتہد کے درجے میں تسلیم کرتا ہے جن کی ہر بات میں خطا اور صواب دونوں کا احتمال موجود ہے اور ان کے کسی بھی فیصلے اور رائے سے اختلاف کی نہ صرف گنجایش موجود ہے، بلکہ بے شمار لوگوں نے ان کی بہت سی آرا سے عملاً اختلاف کیا ہے اور علمی اختلاف سے اسلامی کتب بھری پڑی ہیں۔ اسلام بنیادی طور پر تحقیق و جستجو کا دین ہے اور ایسے معاملات میں اسلامی لٹریچر سے ہزاروں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
اختلاف رائے انسانی فطرت کا اظہار اور عقل ودانش کا خوش ذائقہ ثمر ہے جو اپنی جائز حدود کے اندر اور جائز طریقہ سے ہو تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق امت کے لیے رحمت بن جاتا ہے اور اسے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے نہایت خوب صورت انداز میں یوں بیان فرمایا ہے کہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مسائل میں اختلاف نہ ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل اچھی نہ لگتی، کیونکہ اس طرح امت ہر مسئلہ میں ایک لگے بندھے راستے پر چلنے کی پابند ہو جاتی۔ اب اختلاف ہے، ایک ایک مسئلہ میں چار چار پانچ پانچ قول ہیں، تنوع ہے، چوائس ہے اور امت کے ارباب علم ودانش اپنے اپنے فہم، ذوق، ضرورت، حالات اور سہولت کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں جس سے علم ودانش کی دنیا رنگا رنگ خوش نما پھولوں کے ایک چمنستان کا روپ اختیار کر گئی ہے۔
اسلام گفتگو او رمکالمہ میں انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت بھی کرتا ہے اور دوسروں کے موقف کو صحیح طور پر دیانت داری کے ساتھ سمجھنا، بیان کرنا اور دلیل کے ساتھ اس کا جواب دینا ’وجادلہم بالتی ہی احسن‘ کا مصداق ہے جو اس سلسلے میں قرآن کریم کی ہدایت ہے۔ اسی طرح مقابل فریق کے طرز عمل کی خامیوں کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا اعتراف کرنا بھی اسلامی اخلاقیات کا حصہ ہے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشی رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قیامت سے پہلے رومی لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔‘‘ روم اس دور میں مسیحی سلطنت کا پایہ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے مسیحی حکمران ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاص نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ ’’دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ مستورد قرشی نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر ان رومیوں میں چار خصلتیں موجود ہوں گی (جن کی وجہ سے وہ انسانی سوسائٹی پر غالب آئیں گے):
پہلی یہ کہ وہ فتنے اور آزمایش کے وقت دوسرے لوگوں سے زیادہ تحمل او ربردباری کا مظاہرہ کریں گے۔
دوسری یہ کہ وہ مصیبت گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں دوسرے لوگوں سے زیادہ تیز ہوں گے۔
تیسری یہ کہ وہ شکست کے بعد دوبارہ جلدی حملہ آور ہونے والے ہوں گے۔
چوتھی یہ کہ وہ اپنے یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے لیے اچھے لوگ ثابت ہوں گے۔
اتنا کہہ کر حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ ان میں ایک اور پانچویں خصلت بھی ہوگی جو اچھی اور خوب ہوگی کہ وہ لوگوں کو حکمرانوں کے مظالم سے روکنے میں پیش پیش ہوں گے۔
آج مغرب سے ہمیں شکوہ ہے کہ مغرب ہمارے خلاف صف آرا ہے اور ہمیں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھ کر زیر کرنے کے لیے جو کچھ وہ کر سکتا ہے، کر رہا ہے۔ مغرب سے ہمیں یہ بھی شکایت ہے کہ وہ ہم پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور انسانی حقوق کے خود ساختہ فلسفے کے ہتھیار سے ہماری اخلاقی، دینی اور معاشرتی اقدار کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے۔ یہ سب شکایا ت بجا ہیں، لیکن ہمیں حضرت عمرو بن العاص کے مذکورہ ارشاد کے حوالے سے مغرب کے ساتھ اپنا تقابل بھی کر لینا چاہیے کہ :
۱۔ مصیبت اور مشکل کے وقت مغربی اقوام اور ہمارے طرز عمل میں کیا فرق ہوتا ہے؟
۲۔ مصیبت کے گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں ہم کتنا وقت لیتے ہیں؟
۳۔ شکست کے بعد اس کی تلافی کرنے یا ماتم کرتے رہنے میں سے ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں؟
۴۔ معاشرہ کے نادار اور بے سہارا لوگوں کی کفالت کے لیے ہمارے پاس کون سا نظام موجود ہے؟
۵۔ عام لوگوں کو حکام کے مظالم اور ریاستی جبر سے بچانے کے لیے ہمارا ’’معاشرتی شعور‘‘ کس مرحلے میں ہے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کا گزشتہ نصف صدی کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے تو یہ شکایت ضرور سامنے آتی ہے کہ مسلم ممالک کے بارے میں مغرب دوہرا معیار رکھتا ہے اور جن ممالک کی حکومتیں مغرب کے مفادات کی نگہبانی کر رہی ہیں، وہاں کے عوام کے انسانی اور سیاسی حقوق کے معاملے میں مغرب نے مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن اس سے ہٹ کر عمومی تناظر میں دیکھا جائے تو اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ آج مغربی ممالک دنیا بھر کے مختلف خطوں کی حکومتوں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی سب سے بڑی پناہ گاہ بھی ہیں اور معاشرے کے نادار اور معذور افراد کے لیے اگر زندگی کی سب سے زیادہ سہولتیں میسر ہیں تو وہ بھی انھی مغربی ممالک میں ہیں۔
درست معلومات پر مبنی اور ذمہ دارانہ عملی اقدام
۱۔ معاصر دنیا میں درست معلومات پر مبنی اور ذمہ دارانہ اقدام کرنے کے بارے میں اسلام نوجوان مسلمانوں کی کیسے مدد کر سکتا ہے؟
۲۔ معاصر ذرائع ابلاغ سے نبرد آزما ہونے اور سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کے حوالے سے اسلام نوجوان مسلمانوں کی کیسے راہنمائی کر سکتا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ محض سنی سنائی خبروں پر کوئی فیصلہ نہ کریں جب تک کہ ان کی تحقیق نہ کر لیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں کسی گروہ کو نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ (سورۃ الحجرات) اسی طرح قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ جو لوگ امن یا خوف کی ہر خبر کو پھیلا دیتے ہیں، ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور اگر وہ خبر کی تحقیق اور اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں تک خبر پہنچائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ (سورۃ النساء)
ابلیس اور حکمران
محمد مشتاق احمد
امام ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی رحمہ اللہ ( متوفی ۵۹۷ ھ ) نے اپنی کتاب ’’ تلبیس ابلیس ‘‘ اس مقصد کے لیے لکھی تھی کہ لوگوں پر واضح کیا جائے کہ ابلیس ان پر کس کس طرح حملہ کرسکتا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے مثال کے طور پر واضح کیا ہے کہ محدثین پر وہ کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ فقہا کو وہ کیسے نشانہ بناتا ہے؟ صوفیا کو کیسے اپنے دام میں پھنساتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب کے ساتویں باب میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ ابلیس حکمرانوں کو کس طرح اپنے متبعین میں شامل کرتا ہے۔ اس باب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار خیال جنرل (ر) پرویز مشرف کے آٹھ سال سے زائد عرصے پر محیط دور حکومت کی طرف جا رہا تھا۔ ابن الجوزی نے ابلیس کی بارہ چالوں کا ذکر کیا ہے ۔ ذرا دیکھیے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ان میں سے کس کس چال کا شکار ہوئے؟ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا نئے حکمران ابلیس کی ان چالوں سے خود کو بچانے کی کوشش کریں گے؟
۱۔ ابلیس حکمرانوں کے دلوں میں یہ خیال ڈال دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ مخلوق ہیں، جبھی تو اس نے انہیں حکومت دی ہے، حالانکہ اگر یہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے منتخب کیا ہے تو چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق فیصلے کریں تاکہ درحقیقت اس کے پسندیدہ افراد میں شامل ہوجائیں۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بارہا ظالموں کی رسی دراز کردیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر مطالم ڈھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کا پیمانہ بھر جاتا ہے ۔
۲۔ ابلیس ان کے دلوں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ حکمران کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں پر اس کی دہشت قائم ہو ۔ چنانچہ ایک طرف وہ مظالم ڈھانا شروع کردیتے ہیں اور دوسری طرف علما اور سنجیدہ و فہمیدہ لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر یہی بات ان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے ۔
۳۔ ابلیس حکمرانوں کو ان کے مزعومہ دشمنوں سے ڈراکر اس بات پر مجبور کردیتا ہے کہ وہ عام لوگوں سے دور رہیں اور اپنے ارد گردہ سخت حفاظتی پہرا بٹھائیں۔ اس طرح وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جو حکمران لوگوں کی حاجات پوری نہ کرے اور ان سے کنارہ کشی اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری نہیں کرتا اوران سے کنارہ کشی کرلیتا ہے۔
۴۔ ابلیس کے دام میں پھنس کر حکمران ایسے ماتحتوں کو لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جن میں نہ علم ہوتا ہے اور نہ تقوی ٰ۔ چنانچہ وہ لوگوں کا حق کھاتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں ، بے گناہوں کو سزائیں دیتے ہیں اور مجرموں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر لوگوں کی بدعائیں صرف ان ماتحت افسران ہی کو نہیں لگتیں بلکہ ان کو تعینات کرنے والے حکمران بھی ان کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
۵۔ ابلیس کے اثر سے حکمران اپنی رائے کو حتمی اور مبنی برصواب سمجھنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ بے گناہوں کو سزائیں دینے اور مجرموں کو آزاد چھوڑنے کو ہی ’’ سیاست‘‘ اور ’’ تقاضاے مصلحت ‘‘ قرار دینا شروع کردیتے ہیں ، حالانکہ شریعت کی خلاف ورزی میں کوئی مصلحت نہیں ہوسکتی اور ظلم ڈھا نا کبھی بھی مصلحت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔
۶۔ حکمران ابلیس کے مغالطے میں آکر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ریاست کے تمام خزانے ان کے اختیار میں ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر اپنے مال کو بھی بے جا اڑانا شروع کردے تو شریعت کے تحت اس پر اپنے مال میں تصرف سے بھی روکا جاسکتا ہے۔ پھر اس ملازم کو کیسے کھلی چھٹی دی جاسکتی ہے جسے ایک مخصوص اجرت پر اس کام کے لیے ملازم رکھا گیا ہو کہ وہ لوگوں کے مال کی حفاظت کرے؟
۷ ۔ ابلیس حکمرانوں کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ چونکہ وہ ملک اور قوم کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں، اس لیے وہ اگر چھوٹے موٹے گناہ کریں گے تو ان سے کچھ باز پرس نہیں ہوگی ، حالانکہ اگر انہوں نے باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ ملک اور قوم کی حفاظت کریں۔ اس فرض کی ادائیگی میں وہ کوتاہی کریں گے تو انہیں سزا ملے گی۔ چنانچہ اس فرض کی ادائیگی کو ایک استحقاق سمجھ کر مزید گناہوں کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں ؟
۸۔ ابلیس حکمرانوں کو ہر جانب سے مطمئن کردیتا ہے اور وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک جارہا ہے، حالانکہ اگر حقیقت تک ان کی نظر پہنچتی تو وہ جان لیتے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے بلکہ ہر طرف ان کی غلط روش کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوچکا ہے۔
۹۔ ابلیس کے اثر سے حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بدعنوان لوگوں کے قبضے میں جو کچھ بھی ہے، وہ ان سے چھین لینا نہایت مستحسن کام ہے، حالانکہ اگر کوئی شخص بدعنوان ہو تب بھی اس کی ملکیت میں موجود مال کے متعلق جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ بدعنوانی سے حاصل کیا گیا ہے، وہ اس سے نہیں چھینا جاسکتا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو ان کے ایک ماتحت نے لکھا کہ کچھ بدعنوان لوگ ایسے ہیں جنہوں نے لوگوں سے ناجائز مال بٹور لیا ہے، لیکن اس کی وصولی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کو سخت سزا نہ دی جائے۔ عمر بن عبد العزیز نے جواب میں لکھا کہ وہ بدعنوانی سے حاصل کیے گئے مال سمیت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں، یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ان پر ڈھائے گئے ظلم سمیت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں ۔
۱۰ ۔ ابلیس حکمرانوں کو یہ بات سجھا دیتا ہے کہ وہ ظلم کے ذریعے چھینے گئے مال میں سے صدقہ کریں تو ان کا ظلم معاف ہوجائے گا، حالانکہ ظلم کا گناہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ اگر صدقہ لوٹے گئے مال سے ہی دیا جارہا ہو تو وہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہی نہیں ہے ۔ اور اگر ظالم نے صدقہ اپنے جائز مال سے دیا ہے تب بھی ظلم کا گناہ معاف نہیں ہوسکتا کیونکہ ظلم اس نے کسی اور پر ڈھایا ہوتا ہے اورصدقہ یہ کسی اور کو دیتا ہے ۔
۱۱ ۔ ابلیس حکمرانوں کو اس روش پر ڈال دیتا ہے کہ ایک جانب وہ ظلم اور گناہوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بعض نیکوکاروں اور مشائخ کے پاس جا کر ان سے اپنے حق میں دعا کرواتے ہیں ۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح ان کے گناہ کا اثر کم ہوجاتا ہے، حالانکہ اس اچھے کام سے اس برے کام کے وبال کو نہیں ٹالاجاسکتا ۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ نے ایسے ہی موقع پر کہا تھا کہ ظالم مجھ سے اپنے لیے دعا کرنے کو کہتا ہے حالانکہ ہزار افراد سے بد دعا دے رہے ہوتے ہیں، تو کیا ایک کی دعا قبول ہوگی اور ہزار کی بد دعا رد کی جائے گی ؟
۱۲ ۔ بعض حکومتی اہلکار حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے کہنے پر لوگوں کا حق چھینتے اور ان پر مظالم ڈھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کا وبال ان کے حکمرانوں پر ہی آئے گا، حالانکہ ظلم کے لیے آلہ بننے والا اور ظلم پر مدد دینے والا ظالم کے جرم میں برابر کا شریک ہے ۔ گناہ میں مدد دینے والے بھی گنہگار ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سودی لین دین لکھنے والے پر اور اس لین دین پر گواہ ہونے والوں پر، اور فرمایا کہ وہ برابر کے گنہگار ہیں۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ کسی کے خائن ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ خائنوں کے لیے امین بن جائے۔
ایک تحریک علماء کی ضرورت
حسن الامین
پاکستان میں ججوں کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی وکلا کی تحریک کو اس کی کامیابی، ناکامی، خفیہ سیاسی عزائم اور اس نوعیت کے دیگر ایشوز سے الگ کرکے صرف اس زاویے سے دیکھا جائے کہ یہ جدید تعلیم یافتہ اور پروفیشنل لوگوں کی ایک پرامن تحریک تھی جو پاکستان جیسے کم تعلیم یافتہ اور پیچیدہ معاشرے میں سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی تو یقیناًوکلا کی یہ کوشش کسی سعی مشکور سے کم نہیں تھی۔ بالکل انہی خطوط پر، ایک تحریک علما کی تجویزپیش نظرہے۔ اس بارے میں پہلے چند سوالات اٹھانا چاہتا ہوں:
- وکیلوں کی تحریک کے طرز پرپاکستان کے روایتی علماے کرام بھی کیا ایک غیرسیاسی تحریک شروع کرسکتے ہیں جس کا ہدف سیاسی ہونے کی بجائے سماجی ہو؟
- موجود حالات کے تناظر میں ایسی کوئی تحریک اگر اٹھتی ہے تو اس کے سامنے اصل ہدف کیا ہونا چاہئے؟
- اور ممکنہ طور پر علماے کرام کی اس سماجی تحریک کے کون ے فائدے سامنے آسکتے ہیں؟
ان سوالات پر غور کرنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ وکلا اور علما کے درمیان قدر مشترک کیا ہے؟
۱۔ سماجی لحاظ سے، وکیلوں کی طرح، علماے کرام بھی ایک پبلک ڈیلنگ والے پیشہ سے وابستہ ہیں اور صبح و شام ان کو لوگوں سے متفرق معاملات کرنے پڑتے ہیں۔ وہ صرف نماز ہی نہیں پڑھاتے بلکہ لوگوں کے دینی، معاشی، سماجی، عائلی، نفسیاتی اور ثقافتی مسائل سے متعلقہ سوالات کے جوابات بھی دیتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے جوابات ان کی اپنی سمجھ اور فقہی مسلک کے مطابق ہوتے ہیں۔ وکیلوں کا کام اگر عدالتی نظام میں اپنے موکلوں کی نمائندگی کرنا اور ان کی قانونی چارہ جوئی کرنا ہے تو علماے کرام کا کام مذہب کے میدان میں لوگوں کو دین بتانا، سکھانا اور اس کی تشریح کرنا ہے۔
۲۔ جیسا کہ جب بھی قانون اور آئین کی حکمرانی اور اس کی پاسداری کی بات آئے گی تو فطری طور پر سب سے پہلے نگاہ انتخاب وکلا پر ہی جاکر ٹھہرے گی، بالکل اسی طرح، مذہب کے معاملے میں علماے کرام ہی کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہوگی اور ہمارے موجودہ سماجی و ثقافتی ڈھانچے میں ابھی ان کا کوئی متبادل تیار نہیں ہوسکاہے۔
۳۔ معاشرے میں وکلا برادری کی طرح ایک علما برادری بھی اپنا وجود رکھتی ہے جو اصل میں سول سوسائٹی کا حصہ ہے، اگرچہ سیکولر حلقوں میں جب بھی سول سوسائٹی کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کو شامل نہیں کیا جاتا جو ناقابل فہم ہے۔ لیکن عملی طور پر علماے کرام، مساجد اور مدرسے سول سوسائٹی کا ہی حصہ ہے بلکہ سب سے موثر حصہ ہے۔
۴۔ وکلا اگر کچہریوں میں منظم ہوتے اور باررومز کے ذریعے سے اپنی تنظیم سازی کرتے ہیں تو علما مسجد اور مدرسہ کے ذریعے سے منظم ہیں اور یہ ان کے اور عام لوگوں کے درمیان رابطہ کا ذریعہ بھی ہے۔
۵۔ لیکن جیسے وکلا سول سوسائٹی کا حصہ ہونے کے باوجود سیاسی وابستگیوں سے آزاد نہیں ہوتے بلکہ ہر وکیل کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہی وابستگی رکھتا ہوتا ہے، یہی حال علماے کرام کی اکثریت کا بھی ہے۔ لیکن جب وکلا نے ججوں کی بحالی کا پروجیکٹ سنبھالا تو وکلا کی اکثریت نے اپنی سیاسی شناخت کو اس نئی سماجی شناخت میں (ججوں کی بحالی اور آئین کی بحالی) ضم کردیا۔ اسی طرح، علماے کرام بھی ایک "کامن سماجی پروجیکٹ" کے اوپر کچھ عرصہ کے لیے اپنے مسلکی و فروعی شناختوں کو بھلا کر ایک نئی سماجی شناخت تخلیق کرسکتے ہیں جو ان کو ایک کاز پر منظم کردے۔
اگر اس مفروضے کو درست مان لیا جائے کہ علما سول سوسائٹی کا اہم حصہ ہیں اور یہ کہ ایک مشترکہ سماجی منصوبہ شروع کیا جاسکتا ہے جو علما کو وکلا کی طرح اکٹھا کرنے، ان کو متحرک کرنے، اور ان کو اس مقصد کے حصول کے لیے جمع ہونے کا محرک بنے تو پھر کئی سماجی، معاشی اور ثقافتی مسائل کی فہرست مرتب کی جاسکتی ہے جن میں علماے کرام کا کردار نہایت موثر ہوسکتا ہے لیکن اس وقت میرے پیش نظر صرف اور صرف ایک ہی زیرغور مسئلہ ہے جو کہ امن و امان کی بحالی اور عسکریت پسندی کے لیے ہمارے سماج میں موجود پسندیدگی کی اس جڑ کو کاٹ دینے سے بھی متعلق ہے جس کی وجہ سے ہم اس خونیں صورت حال سے مقابل ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اکثر جگہوں پر عسکریت پسندی کا وجود کسی نہ کسی شکل میں مذہب سے وابستہ ہے اور بدقسمتی سے مسلمان اس میں یا تو جھونک دیے گئے ہیں یا وہ خود اس کو لیڈ کررہے ہیں۔ لیکن اس سے بھی ایک بڑی سماجی حقیقت موجود ہے، وہ یہ کہ اس ملک کے علما کی واضح اکثریت نے ہر قسم کی عسکری کارروائیوں کو نہ صرف یہ کہ خلاف شریعت قرار دیا ہے بلکہ اس کے خلاف واضح فتوے بھی دیے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی سے لے کر مولانا زاہد الراشدی صاحب سے مولانا حسن جان شہید تک، سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ عسکری کاروائیوں کے واضح اسباب اور وجوہات موجود ہیں لیکن پھر بھی اس طرح کرنا نہ صرف یہ کہ اسلای شریعت سے انحراف پر مبنی ہے بلکہ اس کی مجموعی روح کے بھی خلاف ہے اور خلف و سلف کے علما نے بھی پر امن ذرائع سے اپنی جدوجہد کی ہے۔ انڈیا میں منعقدہ دیوبندی علما کانفرنس نے بھی اس کے خلاف اسلام ہونے کے حوالے سے اپنا فتویٰ جاری کردیا ہے۔ اس طرح سے اگرچہ ان علما کی علمی ذمہ داری تو ادا ہوگئی ہے لیکن اس کے ساتھ ان کی ایک دعوتی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے جو فتویٰ دینے سے کہیں زیادہ مشکل اور صبر آزما ہے، کیونکہ مولانا حسن جان شہید نے اپنی علمی حیثیت سے بڑھ کر جب اسی سماجی و دعوتی ذمہ داری کو نبھانا چاہا تو ان کو اپنی زندگی کی شہادت دینی پڑی۔
ایک ایسی ہی پرامن سماجی تحریک شروع کرنے کا موزون وقت ہے، شرط یہ ہے کہ علماے کرام کا ایجنڈا یک نکاتی اور آخری حد تک غیرسیاسی ہو۔ علماے کرام اپنی اس تحریک کو مذہبی سیاستدانوں سے دور رکھیں اور بالکل مذہبی اور دعوتی انداز میں نکل کر سوسائٹی کو مخاطب کریں اور اپنی دعوتی و سماجی ذمہ داری پوری کریں۔ اس تحریک کے موثر ہونے کے دو امکانات ہیں:۔
۱۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی موجودگی جو ان کی آواز کو ملک کے کونے کونے تک پہنچا دے گا اور اس میں یقیناًان کا ساتھ دیا جائے گا۔
۲۔ سوسائٹی کی وہ خاموش اکثریت جو امن وامان کی ابتر صورت حال سے تنگ ہے اور جو اس کو صحیح نہیں سمجھتی اور اس سے جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن نہ ان کو قیادت میسر ہے اور نہ ہی وہ خود یہ کام کرسکتے ہیں، اور نہ ہی ان کو مذہبی و سیکولر سیاست دانوں سمیت اپنی فوج پر اعتماد ہے۔ اس تحریک کا فائدہ یہ ہوگا کہ سوسائٹی میں سیکولر اور مذہبی کی پولرائیزیشن کے درمیان یہ علما ایک پل کا کام دے سکیں گے اور اس کامن پروجیکٹ میں ایک بڑا سیکولر اور لبرل طبقہ ان کے پیچھے کھڑا ہوجائے گا۔
پوری دنیا میں عسکریت کے مسئلے کو اسلام کے تناظر میں سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ علما کی اکثریت کم از کم اس مسئلے میں بالکل دوسرا موقف رکھتی ہے جو امن و آشتی اور اخوت و محبت پر مبنی ہے۔ اس تاثر کو یوں زائل کیا جاسکے گا جب علماے کرام از خود عسکریت کے مسئلے کے جڑ اور سبب بننے کی بجائے مسئلے کے حل کے طور پر سامنے آئیں گے۔
اسلامی درس گاہوں میں تعلیم قرآن کا طریقہ
مولانا محمد بشیر سیالکوٹی
یہ امر کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک بلکہ برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی اسلامی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصہ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ ’ترجمہ قرآن کریم‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے اور اس کی تدریس یوں ہوتی ہے کہ درس کے آغاز پر ایک طالبعلم مقررہ آیات تلاوت کرتا ہے، پھر معلم ان آیات کریمہ کا اپنی مقامی زبان اردو، پشتو یا سندھی وغیرہ میں ترجمہ سکھاتا ہے۔ وہ ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ان میں مذکور مشکل الفاظ اور تراکیب کی حسب ضرورت تشریح بھی کرتا جاتا ہے۔ طلبہ اور طالبات اس ترجمہ اور تشریح کو نہایت توجہ اور انہماک سے سنتے ہوئے یاد کرلیتے ہیں۔ کچھ مدرسین اور شیوخ خصوصاً تفسیر قرآن کے مرحلے میں قرآنی مطالب کی تفسیر کو املا بھی کرا دیتے ہیں۔
بلا شبہ قرآن کریم کی تعلیم وتدریس اور تفسیر کے اس منہج سے زیر تعلیم طلبہ کو متنوع تعلیمی اور دینی فوائد حاصل ہوتے ہیں: (۱) وہ قرآن کریم کے لفظی اور بامحاورہ معنی سیکھ لیتے ہیں۔ (۲) وہ قرآن کریم کے الفاظ اور تراکیب کو سمجھنے لگتے ہیں اور کسی حد تک ان کی لغوی، صرفی اور نحوی تشریح سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ (۳) وہ قرآن حکیم کا ترجمہ اور تشریح نیز تفسیر پڑھ کر اس کے متن کے براہ راست فہم ومطالعہ کی اہلیت حاصل کرلیتے ہیں، اور قرآنی احکام اور ارشادات سے استفادہ کے اہل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان متعدد فوائد کی بنا پر ’ترجمہ قرآن حکیم‘ کا یہ مضمون ہماری تمام چھوٹی اور بڑی درسگاہوں میں جاری و ساری ہے اور اس کی افادیت پر تمام علما اور مدرسین کا اتفاق ہے۔
میں اس امر سے اتفاق کرتا ہوں کہ ترجمہ قرآن کریم کی تدریس سے مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوتے ہیں، اور اس مضمون کے مروجہ طریقۂ تدریس کی اتنی افادیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ لیکن قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کے یہ فوائد خود ناکافی اور محدود ہیں اور یہ اس کی تعلیم وتدریس کے کئی بنیادی تعلیمی مقاصد کا احاطہ نہیں کرتے، کیونکہ یہ طریقۂ تدریس عالمی سطح پر مسلّمہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتا اور بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کے کم از کم لازمی تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتا۔ چنانچہ انہی اسباب کی بنا پر ہمارے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے کئی اہم اور بنیادی گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں اور مملکت پاکستان میں ہماری دینی اور تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے جس سطح کے ماہر معلمین، اساتذہ، علما اور اسکالرز کی ضرورت ہے، ان کی تعلیم وتربیت میں بھی یہی ناقص طریقۂ تدریس نافذ وغالب ہے، اس لیے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس طریقۂ تدریس کے نقصانات، فوائد کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں زیر تعلیم بچوں کو قرآن کریم کی آیات کریمہ کا صرف مقامی زبان میں ترجمہ کرنے پر لگا کر اس کی آسان عربی زبان اور ادب کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور انہیں اس کو لکھنے یا بولنے کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ بلکہ انہیں ایسی تربیت یا مشق سے کئی سال تک مسلسل لاتعلق رکھتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اتنا جامد کردیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ عربی زبان وادب میں اچھی صلاحیت یا بلند مقام کا سوچ بھی نہیں سکتے، اور اس بارے میں ہمیشہ کے لیے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے تعلیم قرآن کریم کے مروجہ طریقۂ تدریس کی فوری اصلاح کرتے ہوئے اسے اپنے قومی اور ملی مقاصد اور تعلیم وتربیت کے جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ میں دینی مدارس کے اساتذہ، مہتمم حضرات اور تعلیمی وفاقوں کے ذمہ دار بلند مرتبہ علما اور شیوخ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری ان گزارشات پر توجہ فرمائیں۔ إن أرید إلا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی إلا بااللہ۔
ہمارے پورے تعلیمی نظام کا اہم ترین مضمون تعلیم قرآن کریم ہے اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو اس کی بہتر تعلیم وتفہیم کی خاطر انہیں عربی زبان وادب اور حدیث وفقہ نیز اصول کے کئی علوم وفنون کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسی جماعت جسے ہم مستقبل میں امت کی تعلیمی اور فکری قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں اور وہ عنقریب معلم، ادیب، مفتی وخطیب اور محدث ومفسر کی عظیم ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے، کو کتاب اللہ اور فرقان حمید کی تعلیم وتدریس کا طریقہ اور منہج ایسا جامع، منظم اور مثالی ہونا چاہیے جو انہیں قرآنی الفاظ اور عبارتوں کا ترجمہ سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی عمدہ فکری، لسانی اور ادبی تربیت ومہارت کی اساس بن سکے۔
لفظی ترجمہ رٹنے کا متعدی مرض
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تعلیم قرآن کریم کا یہ عظیم ترین مضمون اس کی عبارت کا صرف لفظی اور زبانی ترجمہ رٹنے اور رٹانے تک محدود چلا آ رہا ہے اور تین چار سال تک اسی نہج پر چلتا رہتا ہے، اور ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا کہ اس مضمون کے دوسرے سال یا اگلے سالوں میں اس کے تعلیمی مقاصد یا تدریسی نہج میں مزید ترقی کرتے ہوئے اس میں مزید تعلیمی مقاصد کا اضافہ کردیا جائے۔ نتیجتاً معلمین اور طلبہ وطالبات سب کی نظریں اسی لفظی ترجمہ کو پڑھنے اور پڑھانے اور یاد کرنے تک مرکوز اور محدود رہتی ہیں۔ رہا قرآن کریم کا اصل عربی متن تو وہ ان سب کی نظروں سے اس قدر اوجھل رہتا ہے کہ اس پورے عرصے میں انہیں اس کی عبارتوں، استعمالات اور الفاظ کے فہم ومطالعہ پر کوئی بحث یا مشق نہیں کرائی جاتی، اس لیے وہ قرآن کریم کے نہایت آسان عربی استعمالات اور محاوروں سے بھی ناواقف رہتے ہیں اور مشہور قرآنی افعال کے مادوں اور ان کے صلات تک کو نہیں سمجھتے۔
ہماری اسلامی درسگاہوں میں تعلیم قرآن ایسے بنیادی اور اہم اسلامی مضمون کا یہ جمود نسل در نسل چلا آرہا ہے اور اس نے ہمارے لاکھوں ذہین اور محنتی نوجوانوں کی تعلیم وتربیت پر کئی منفی اثرات ڈالے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ نمایاں نقصان یہ ہے کہ ان لاکھوں نوجوانوں کو کتاب حکیم کی عربی زبان وادب کے فہم ومطالعہ سے اس حد تک محروم رکھا جاتا ہے کہ اس کی تدریس تین چار سال کا طویل عرصہ جاری رہنے کے باوجود معلمین یا طلبہ کو اس پر عربی زبان میں چند صفحات لکھنے یا بولنے کی مشق نہیں کرائی جاتی۔ آپ کو شاید دنیا کے کسی ترقی یافتہ تعلیمی نظام میں کسی کتاب یا کورس کا محض لفظی ترجمہ رٹانے کے اس جمود کی ایسی کوئی مثال نہ ملے جو ہماری درسگاہوں میں سالوں تک جاری رہتا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جمود عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عام لوگ جو کسی مستند تعلیمی درسگاہ میں نہ پڑھتے ہوں وہ اگر اپنی کاروباری مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر صرف ترجمہ قرآن کریم پڑھیں تو یہ ان کے لیے بہت کام کی بات ہے، کہ وہ اس طرح قرآن کریم کے الفاظ کا لفظی ترجمہ یاد کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات سے آگاہ ہورہے ہیں، لیکن جس گروہ نے اپنی عمروں کا بہترین وقت کسب وتعلم کے لیے وقف کیا ہوا ہے اور وہ اسلامی تعلیم اور عربی زبان کے تمام بنیادی علوم وفنون کو سالہا سال پڑھیں گے اور مستقبل میں بلند علمی مناصب پر فائز ہوں گے، کیا وہ بھی ان عام لوگوں کی طرح سالوں تک قرآن کریم کا صرف لفظی ترجمہ ہی رٹتے رہیں؟ ایسی صورت حال میں یہ لازمی اور مفید ہوگا کہ جب ان میں مناسب صلاحیت موجود ہوتی ہے اور وقت کی گنجائش بھی ہوتی ہے تو انہیں اس کتاب حکیم کا مقامی زبان میں ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کی آسان اور مبارک عربی لغت، محاوروں اور استعمالات پرمفید معلومات فراہم کی جائیں اور پھر ان معلومات کو ان کے ذہنوں میں راسخ کرنے اور ان کے عملی استعمالات کی تربیت دینے کی غرض سے ان سے متنوع مشقیں حل کرائی جائیں۔
ہم تعلیم قرآن اور عربی زبان کے اچھے معلم کیوں تیار نہ کرسکے؟
ہماری عظیم درسگاہوں میں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جس سادہ اور ناقص طریقے پر چلی آ رہی ہے، اس کے مضر اثرات کی وسعت کا جائزہ لینے کے لیے ان پہلوؤں پر غور کرنا مفید ہوگا:
اولاً: ہمارے طلبہ اور طالبات اپنی نوعمری میں پوری لگن اور شوق سے اپنا تعلیمی سفر شروع کرتے ہیں، اس لیے یہ ان کی عمدہ تعلیم، بہتر تربیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی اچھی نشو ونما کا سنہری وقت ہوتا ہے، اور انہیں عربی زبان کو لکھنے اور بولنے کا ابتدائی سلیقہ اور تربیت دینے کا بھی یہی فطری وقت ہوتا ہے لیکن چونکہ ہماری درسگاہوں میں مروجہ طریقۂ تدریس کا زیادہ زور عربی عبارتوں کا لفظی ترجہ رٹنے اور صرف ونحو کی گردانوں اور قواعد کو استعمالات کے بغیر یاد کرنے پر ہی رہتا ہے، اس لیے ہمارے نہایت ذہین اور محنتی بچے بھی عربی ایسی آسان زبان کو لکھنے اور بولنے کی مشق نہیں کرتے اور وہ قدرتی طور پر اس پہلو میں جمود کا شکار ہوتے ہیں جو آگے جا کر عملی زندگی میں ان کے لیے طرح طرح کی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت جو طریقۂ تدریس ہمارے ہاں رائج ہے اس میں طالبعلم سورہ فاتحہ سے لے کر والناس تک پڑھتے ہوئے عربی میں چند صفحات بھی لکھنے کی مشق نہیں کرتا۔
ثانیاً: پھر اس ایک مضمون کے طریقۂ تدریس کی پسماندگی صرف اس ایک مضمون تک محدود نہیں ہے، بلکہ اکثر معلمین تعلیم وتدریس کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں اور مدارس کی انتظامیہ بھی انہیں فن تعلیم میں تربیت اور تدریب کے مواقع فراہم نہیں کرتی، اس لیے وہ اس پرانے طریقۂ تدریس کو آسان اور چلتا ہوا سکہ خیال کرتے ہوئے اپنائے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت ہماری درسگاہوں میں اکثر مضامین کی تدریس اسی لفظی اور زبانی ترجمہ اور تشریح تک محدود رہتی ہے اور یہ طرز تدریس سال اول سے لے کر شہادۃ العالیۃ اور شہادۃ العالمیۃ تک بلکہ اس سے بھی آگے تخصص کی اقسام (تخصص فی التفسیر، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الفقہ، تخصص فی الافتا وغیرہ) اور یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کورس میں بھی جاری رہتا ہے۔ یوں کاہلی اور جمود کا یہ متعدی مرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
ثالثاً: ہمارے عربی مدارس اور اسلامی درسگاہوں میں رائج اس ناقص اور مضر طریقۂ تدریس کا ایک وسیع اور قومی سطح کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ یہ درسگاہیں آج تک سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں عربی زبان وادب اور اسلامی علوم کی معیاری تدریس کے لیے اچھے معلمین اور اساتذہ تیار نہیں کرسکیں کیونکہ جن معلمین نے خود ایسے ماحول میں تعلیم پائی ہوتی ہے وہ عملی زندگی میں تدریس کی جدید اور ترقی یافتہ انداز اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ یہ مسلّمہ قاعدہ ہے کہ فاقد الشئ لا یعطیہ (جو شخص خود کسی خوبی سے محروم ہو وہ اسے دوسروں کو نہیں دے سکتا)۔ انہی اسباب کی بنا پر ہم قیام پاکستان کے بعد آج تک ماہر معلمین اور اساتذہ کی تیاری کے اس خلا کو پر نہیں کرسکے۔
چونکہ زیر بحث مسئلہ ملک بھر کے اسلامی مدارس کے نظام تعلیم سے متعلق ہونے کی وجہ سے نہایت اہم ہے اور عمیق غور وفکر کا متقاضی ہے، اس لیے میں اس موقع پر محترم علما اور اساتذہ کی اطلاع اور اطمینان کے لیے اپنا مختصر تعارف عرض کرنا مفید خیال کرتا ہوں۔
میں یہ گذارشات بتوفیقہ سبحانہ وتعالٰی تعلیم وتربیت کے میدان میں اپنے طویل تجربات اور غور وفکر کی روشنی میں ان عظیم اسلامی درسگاہوں کو بہتر علمی وتعلیمی ترقی دینے کی غرض سے پیش کر رہا ہوں۔ میں خود متعدد اسلامی درسگاہوں کا بانی ہوں، اور دن رات ان کے بہتر اور ترقی یافتہ نصاب کی ترتیب وتصنیف میں مشغول رہتا ہوں۔ ماضی میں ملت کے جن اکابر علما اور مفکرین سے میرا کسی طرح کا تعلق رہا ہے، میں ان کی قیمتی آرا سے استفادہ کرتے ہوئے ہی اسلامی علوم اور عربی زبان کی خدمت کر رہا ہوں۔ ان میں اولاً میرے اساتذہ مولانا عبدالغفار حسن، محدث مولانا حافظ محمد گوندلوی، مولانا معاذ الرحمن، مولانا عبد اللہ امرتسری، مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیل اور مولانا مفتی ابوالبرکات مدراسی ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا عبدالرحیم اشرف، مفتی پاکستان مولانا محمد شفیع (ان کی جو تقریر اب وحدت امت کے عنوان سے چھپتی ہے، اسے انہوں نے پہلی بار مولانا عبدالرحیم اشرف کی درخواست پر ہمارے ادارے جامعہ تعلیمات اسلامیہ میں بیان فرمایا تھا، پھر راقم نے اسے کیسٹ سے قرطاس پر منتقل کیا تھا)، محدث مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا خلیل احمد حامدی، مولانا عطاء اللہ حنیف نیز مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور احمد نعمانی، اور معلم الانشاء کے مؤلف مولانا عبدالماجد ندوی نیز اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کے وائس چانسلر اور سعودی عرب کے مفتی اکبر شیخ عبدالعزیز بن باز، الطریقۃ الجدیدۃ کے مؤلف ڈاکٹر احمد امین مصری کے اسماے گرامی شامل ہیں۔ رحمہم اﷲ جمیعا وغفر لہم ورفع درجاتہم۔
میں ۱۹۷۳ء کے آخر میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں اعلیٰ تربیتی کورس کے لیے گیا تو میرے ہمراہ محترم ڈاکٹر شیرعلی اور مولانا محمود اشرف بھی تھے۔ میں اس سے پہلے ہی پاکستان میں عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کی جدید نہج پر تدریس کر رہا تھا۔ مولانا عبدالرحیم اشرف کی سرپرستی میں سات آٹھ سال جامعہ تعلیمات اسلامیہ میں بہت عمدہ تجربات ہوئے اور یہیں سے نصابی کتابوں کی تصنیف شروع کی۔ بعدازاں چند ماہ محتر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تنظیم اسلامی اور جامعہ اشرفیہ میں عربی زبان کی تدریس کرتا رہا۔ وہاں کے بزرگوں مولانا عبیداللہ، مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا فضل الرحیم سب کا اعتماد اور تعاون حاصل رہا۔ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے دوران مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی تو ان سے دار العلوم ندوۃ العلما کے اس وقت کے نصاب تعلیم اور برصغیر پاک وہند میں عربی زبان وادب کی اشاعت پر تبادلہ خیال ہوتا۔ وہ اکثر میری سوچ اور جذبہ عمل کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک بار انہوں نے حرم مکی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’بشیر صاحب، مملکت پاکستان میں عربی زبان کے ایک سپاہی کی ضرورت ہے اور وہ آپ ہی ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا سفارت خانے کی ملازمت کو چھوڑ کر پاکستان جائیے۔‘‘
میں پہلے ہی اسی نظریے کو لے کر عالم عرب میں عربی زبان وادب کی ترقی کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کی غرض سے سعودی عرب گیا تھا۔ مزید کسی ڈگری یا سروس کا حصول میرا مقصد نہ تھا۔ اس سے قبل ان کی تصنیف ’پاجا سراغ زندگی‘ پڑھ چکا تھا اور اس سے متاثر تھا۔ اس لیے ان کی اس رائے سے میرے پرانے تصور کو تقویت ملی۔ میں نے جدہ کے پاکستانی سفارت خانے میں ملازمت کے دنوں میں ’اقرأ‘ الجزء الاول کا مسودہ تیار کر لیا تھا اور الجزء الثانی کی ترتیب جاری تھی۔ آخر میں اپنے مہربان دوست اور تعلیم عربی کے عالمی ماہر جناب ڈاکٹر ف عبد الرحیم مؤلف کتاب دروس اللغۃ العربیۃ (تین حصے) کا تذکرہ ضروری ہے۔ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران اور کئی تعلیمی کانفرنسوں میں میرا ان سے تبادلہ خیال ہوتا، اور ان کے تجربات سے استفادہ کرتا۔
پس چہ باید کرد؟
اسلامی مدارس کے ابتدائی سالوں میں جو طلبہ اور طالبات عربی زبان اور اسلامی تعلیم کے مختلف علوم وفنون پڑھتے ہیں، انہیں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جدید تعلیمی نظریات اور تجربات کے مطابق اور عالمی سطح پر مسلّمہ اور معیاری طریقۂ تدریس کے مطابق کی جائے۔ جس کا خاکہ ذیل میں دیا جا رہا ہے، واﷲ الموفق والمستعان۔
اولاً: اس مضمون کا موجودہ عنوان ’ترجمہ قرآن کریم‘ بدل کر اسے تعلیم القرآن الکریم یا تدریس القرآن الکریم کا نام دیا جائے۔
ثانیاً: ان طلبہ اور طالبات کے لیے تدریس القرآن الکریم کے ہر سبق میں درج ذیل تین اجزا یا حصے ہوں گے: ۱۔ شرح الکلمات، ۲۔ ترجمۃ الآیات وشرحہا، ۳۔ المناقشۃ۔
۱۔ شرح الکلمات:
معلم ہر سبق کے شروع میں اس کی مقررہ آیات کریمہ کے الفاظ اورتراکیب کی لغوی تشریح کو تختہ سیاہ پر لکھے تاکہ بچے اسے اپنی کاپیوں میں درج کریں۔ اس جزء کے تیس (۳۰) نمبر ہوں گے۔
۲۔ ترجمۃ الآیات وشرحہا:
بعد ازاں معلم ان آیات کریمہ کا مقامی زبان میں ترجمہ کرے گا اور بچوں کے معیار کے مطابق ان کی تشریح کرے گا۔ اس ترجمہ کے پچیس (۲۵) نمبر اور تشریح کے پندرہ (۱۵) نمبر ہوں گے۔ یوں اس جز کے کل چالیس (۴۰) نمبر ہوں گے۔
۳۔ المناقشۃ:
آخر میں معلم ان آیات کریمہ کے جملوں اور مضمون پر زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق آسان عربی زبان میں سوالات تختہ سیاہ پر لکھے گا اور بچے ان سوالات کے عربی میں جواب دینے کی زبانی مشق کرینگے اور بعد میں ان سوالات اور ان کے جوابات کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔اس جزء کے تیس (۳۰) نمبر ہوں گے۔
۱۔ مجوزہ تبدیلیاں
ملکی درسگاہوں میں کتاب اللہ کی ایسی معیاری اور جامع تدریس کے لیے ہمیں اس کے موجودہ طریقۂ تدریس میں درج ذیل دو بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
۱۔ قرآن کریم کے الفاظ کی لغوی تشریح کا بہتر اور منظم اسلوب
اس وقت ترجمہ قرآن کریم پڑھاتے ہوئے اکثر معلمین قرآنی الفاظ کی جو تشریح کرتے ہیں، وہ بہت کم اور سرسری ہوتی ہے، اور وہ بھی اکثر زبانی بتا دی جاتی ہے اور بچوں کو املا نہیں کرائی جاتی، الا ما شاء اﷲ۔ اس لیے اس سے زیر تعلیم بچوں کے ذہنوں میں لغوی معلومات کو راسخ کرنے میں چنداں مدد نہیں ملتی۔ یہ سلسلہ بہرحال کم سن بچوں کی تعلیم وتربیت میں بہت مفید ہے، اس لیے اسے زیادہ مؤثر اور منظم صورت دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے دو باتوں کو واضح اور متعین کرلیا جائے:
۱۔ ان مطلوبہ لغوی معلومات کا دائرہ متعین کرلیا جائے۔
۲۔ اور پھر انہیں جماعت کے طلبہ کو پیش کرنے کا طریق کار واضح کردیا جائے۔
(۱) مطلوبہ لغوی معلومات
۱۔ شروع میں صرف مشہور اور کثیر الاستعمال عربی افعال کا ماضی، مضارع، مصدر اور معنی بتائے جائیں۔
۲۔ اگر آیت کریمہ میں اسم مفرد استعمال ہوا ہے تو اس کا معنی اور جمع بتائی جائے، اور جمع کی صورت میں اس کا معنی اور مفرد بتایا جائے، وغیرہ۔
جبکہ دو تین پارے پڑھنے کے بعد ان میں درج ذیل معلومات کا اضافہ کر لیا جائے:
۱۔ مشہور افعال کے صلات یعنی ان حروف جر کابتایا جائے جو ان افعال کو متعدی بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً قال کے بعد لِ کا استعمال، مثلاً واذ قال ربک للملائکۃ، وغیرہ
۲۔ قرآن کریم میں مستعمل متضاد کلمات نیز مترادف کلمات بتائے جائیں۔
۳۔ اس مرحلے پر نسبتاً مشکل افعال اور اسما کی تشریح بھی کی جائے۔
۴۔ لغت قرآن، صرف ونحو نیز علم بلاغت کی آسان اور عام فہم معلومات بھی لکھائی جائیں جنہیں معلم بچوں کے معیار کے مطابق مناسب تصور کرے۔ (مزید راہنمائی اور نمونے کے لیے دیکھیے دلیل قصص النبیین جز اول، دوم، سوم)
ان لغوی معلومات کو بچوں کو اس طریقے پر پڑھایا جائے:
۱۔ معلم سبق پڑھانے سے قبل مقررہ آیات کے منتخب الفاظ کی تشریح تیار کرکے لائے۔
۲۔ اور وہ اسے درس کے شروع میں بچوں کے سامنے تختہ سیاہ پر لکھے۔
۳۔ اور بچے اسے آواز سے پڑھتے ہوئے یاد کریں اور اپنی کاپیوں میں لکھیں۔
۴۔ اور معلم اس امر کا اہتمام کرے کہ تمام بچے ان معلومات کو اپنی اپنی کاپیوں میں لکھیں۔
۲۔ عربی زبان کے استعمالات اور سوال وجواب کی مؤثر تربیت
قرآن کریم کی عربی زبان نہایت آسان اور سلیس ہے۔ اس کے الفاظ سہل اور عام فہم ہیں اور زیادہ تر چھوٹی چھوٹی ترکیبات اور مختصر جملے اور میٹھے میٹھے بول ہیں۔ پھر اہل زبان کے ہاں انتہائی معروف ومشہور محاورے اور استعمالات، اور اسلوب بیان اسقدر عام فہم کہ اوسط درجے کا قاری اسے بخوبی سمجھ لے۔ اس کی اس خوبی کو خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے: (وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُo عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ o بِلِسَانٍ عَرَبيٍّ مُّبِیْنٍ) (سورۃ الشعراء، آیات ۱۹۲ تا ۱۹۵)۔ نیز فرمایا: (وَھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِیْنٌ) (سورۃ النحل، آیت ۱۰۳)۔
میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم عجمی مسلمان ہیں اور ہماری مادری اور قومی زبان عربی نہیں ہے۔ اس لیے ہمارے بچے قرآن کریم کی عبارت کو براہ راست عربی میں نہیں سمجھ سکتے، لیکن ہم اپنی اس کمزوری کے ازالے کی خاطر اپنے زیر تعلیم بچوں کو قرآن کریم کے ابتدائی فہم کے لیے اس کے الفاظ، ترکیبوں، اور مشہور محاوروں اور استعمالات کی مناسب تشریح اور معنی یاد کراتے ہیں، نیز انہیں اس کی آیات کریمہ کا پورا ترجمہ پڑھاتے ہیں تو اب ان کے لیے کتاب اللہ کے ابتدائی فہم ومطالعہ کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ پھر اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ وہ ایک دینی درسگاہ کے طلبہ اور طالبات ہیں اور ابتدائی عربی زبان (نثر ونظم) کے کئی اسباق نیز علم صرف، علم نحو اور دوسرے کئی ایسے مضامین کو پڑھ رہے ہیں جو عربی زبان کے فہم اور استعمال میں معاون اور خادم ہیں۔ اس لیے اب وہ قرآن کریم کے اسباق میں ابتدائی سطح کی آسان عربی زبان میں سوال وجواب اور دیگر ایسی مشقوں کو حل کرنے کی اچھی قدرت رکھتے ہیں، جو ان کی مزید علمی اور لسانی ترقی میں معاون بنیں گی۔ اس لیے اس مرحلے پر معلم قرآن کریم کی آیات کریمہ کے مضمون اور جملوں پر آسان عربی میں سوالات تیار کرے اور انہیں تختہ سیاہ پر لکھے۔ بچے انہیں سمجھیں اور پھر عربی میں ان کے جوابات بولیں۔ جہاں ضرورت ہو معلم ان کی مدد کرے۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی ایسی مشقوں کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے اور معلم ان کی تصحیح کرے گا، جبکہ اس کورس کے تیسرے اور چوتھے سال میں طلبہ سبق کی مقررہ آیات کا عربی زبان میں مختصر خلاصہ بھی پیش کیا کریں گے۔
۲۔ سورہ فاتحہ کی تدریس کی مثال
اب میں اپنی معروضات کو مزید واضح کرنے کے لیے اس مجوزہ تدریسی خاکے کے مطابق سورہ فاتحہ کی تدریس کی مثال پیش کرتا ہوں۔
۱۔ شرح الکلمات:
معلم سبق کے شروع میں سورہ فاتحہ کے الفاظ کی درج ذیل تشریح کو تختہ سیاہ پر لکھے گا جسے طلبہ آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔
أعوذ: میں پناہ مانگتا ہوں ۔ (عاذ یعوذ عوذا وعیاذا: پناہ مانگنا)
بااللہ :اللہ کی ۔ (مِنْ : سے)
الشیطان الرجیم: راندہ ہوا شیطان
بسم: نام سے (اصل میں باِسم تھا)
الرحمن: بہت زیادہ رحم کرنے والا ۔ (الذی یرحم کل شيء.)
الرحیم: سدا رحم کرنے والا ۔ (الذی یرحم دائما وأبدا.)
الحمد: سب تعریفیں ۔ (حمِد یَحمَد حمدا: تعریف کرنا)
رب: پروردگار، ج أرباب
العالَمین: جہانوں، م عالَم
یوم: دن، ج أیّام
الدِّین: بدلہ
إیاک: صرف تیری ہی
نعبُد: ہم عبادت کرتے ہیں ۔ (عبَد یعبُد عبادۃ: عبادت کرنا)
نستعینُ: ہم مدد مانگتے ہیں ۔ (استعان یستعین استعانۃ: مدد مانگنا)
اہدنا: آپ ہماری راہنمائی کریں ۔ (ہَدی یَہدِی ہُدًی: راہنمائی کرنا)
الصراط المستقیم: سیدھی راہ ۔ (وہو سبیل الأنبیاء والمرسلین)
أنعمتَ علیہم: جن پر تو نے انعام کیا ۔ (أنعمَ یُنعم إنعاما: انعام کرنا)
غیر: وہ لوگ نہیں
المغضوب علیہم: جن پر غضب ہوا
الضالین: گمراہ لوگ
آمین: قبول فرما
۲۔ ترجمۃ الآیات:
پھر معلم جماعت کو اپنی مقامی زبان میں ترجمہ پڑھائے گا اور زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق اس کی تشریح کرے گا۔
۳۔ المناقشۃ
التمرین الاول: اب تیسرے مرحلے پر معلم تختہ سیاہ پر سورہ فاتحہ کے بارے میں عربی میں درج ذیل سوالات لکھے گا جنہیں طلبہ آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں درج کرینگے:
۱۔ لمن الحمد؟ (الحمد لِلّہ)
۲۔ من رب العالمین؟
۳۔ من رب الإنسان؟
۴۔ من رب الحیوان؟
۵۔ من رب السماوات؟
۶۔ من رب الأرض؟
۷۔ من الرحمن؟
۸۔ من الذی یرحم کل شيء؟
۹۔ من الرحیم؟
۱۰۔ من الذی یرحم دائما وأبدا؟
۱۱۔ من نعبد؟
۱۲۔ من نستعین؟
۱۳۔ من یہدینا الصراط المستقیم؟
۱۴۔ من یجیب دعائنا؟
سوالات کی تحریر سے فراغت کے بعد معلم جماعت کو ان کے عربی میں جواب دینے کی مشق کرائے گا اور حسب ضرورت ان کی مدد بھی کرے گا۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی اس مشق کو اپنی کاپیوں میں حل کرکے لائیں گے جنہیں معلم چیک کرکے ضروری تصحیح کرے گا۔
التمرین الثانی: اب معلم طلبہ سے کہے کہ وہ اپنی کاپیوں میں الحمد لِلّٰہ کی طرح کے عربی میں دس جملے لکھیں، مثلاً
۱۔ الحمد لِلّٰہ
۲۔ التحیات لِلّٰہ
۳۔ الشکر لِلّٰہ
۴۔ الأرض لِلّٰہ
وغیرہ۔
اگر معلم چاہے اور وقت کی گنجائش موجود ہو تو طلبہ کو کہے کہ وہ اوپر کی مشق میں اپنے تمام عربی جملوں کے ترتیب وار سوالات بنائیں اور ان کے سامنے جوابات لکھیں، مثلاً:
۱۔ لمن الحمد؟
۲۔ لمن التحیات؟
وغیرہ
آپ دیکھ رہے ہیں کہ الحمد للّٰہ ان آسان مشقوں کو حل کرتے ہوئے بچے قرآنی عربی زبان کے پچاس ساٹھ جملے بآسانی لکھ بول رہے ہیں۔
۳۔ بحث کے نتائج
۱۔ اس وقت اسلامی مدارس میں تعلیم قرآن کریم کا مروجہ طریقۂ تدریس (ترجمہ قرآن کریم) اس کی تعلیم وتدریس کے صرف چالیس فیصد (40%) مقاصد کو پورا کر رہا ہے جبکہ ساٹھ فیصد (60%) بنیادی مقاصد کو نظرانداز کرتا ہے، اس بنا پر ہمارے طلبہ اور طالبات کی تعلیم وتربیت کے کئی اہم گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں۔
۲۔ قرآن کریم کی عربی زبان اور اسلوب بیان نہایت آسان اور پرکشش ہونے کے باوجود ہمارا طریقۂ تدریس اور معلمین زیر تعلیم بچوں کو ان کے عملی استعمال اور لکھنے بولنے کی تربیت نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی نوعمری میں اس نقص سے برا اثر لیتے ہوئے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں۔
۳۔ اپنے طلبہ اور طالبات کی بہتر اور معیاری تعلیم وتربیت کیلئے اس ناقص طریقۂ تدریس کی فوری اصلاح کرتے ہوئے اسے جدید تعلیمی تجربات اور تحقیق کے مطابق از سر نو ترتیب دینا ضروری ہے۔
۴۔ اگر ہم اپنی درسگاہوں کے اس طریقۂ تدریس کی مناسب اصلاح اور ترقی کا اہتمام کرلیں تو ان کے طلبہ اور طالبات کی علمی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان درسگاہوں کا مقام اور وقار بڑھے گا۔
۵۔ اور ان کے فضلا کے لیے اندرون وبیرون ملک مختلف میدانوں میں کام اور ترقی کے وسیع اور اچھے مواقع میسر ہوں گے، اور وہ چھ یا آٹھ سالہ تعلیمی کورس مکمل کرنے کے بعد نہیں، بلکہ صرف تین سالہ کورس کرنے کے بعد عربی زبان اور اسلامیات کے اچھے معلم بنیں گے، نیز وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے عرب دنیا کی کسی یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہوں گے، ان شاء اﷲ تعالیٰ. وہو الموفق والمستعان۔
۴۔ تقاضے اور ضروریات
قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کو ترقی دینے کی اس تجویز پر اگر صدق دل اور محنت سے عمل کیا گیا تو یہ ان شاء اﷲ تعالیٰ ہماری عظیم اسلامی درسگاہوں کے نصاب تعلیم، طریقۂ تدریس اور مجموعی ماحول میں ایک مثبت اور تعمیری انقلاب کا ذریعہ بنے گی، اور ان کے اسلامی اور ملی کردار اور عظمت میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے محترم علما اور مدرسین کو کتاب اللہ اور دوسرے علوم شرعیہ کی تدریس میں موجود اس دیرینہ نقص کا فوری ازالہ کرتے ہوئے اپنے طلبہ اور طالبات کی زیادہ معیاری تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس اصلاحی مہم میں ایسے حضرات کو زیادہ مؤثر کردا ادا کرنا چاہیے جو ان عظیم اسلامی درسگاہوں کے ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، خصوصاً وہ حضرات جنہوں نے الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ اسلام آباد، الجامعۃ الاسلامیۃ مدینہ منورہ اور مکہ، ریاض یا قاہرہ وغیرہ کی دوسری یونیورسٹیوں اور اداروں سے کسب فیض کیا ہے۔ البتہ اس تجویز کے مناسب اور مؤثر نفاذ کے لیے دو چیزوں کی فوری ضرورت ہوگی:
(۱) قرآن کریم کی ایسی تدریس میں معلمین اور طلبہ وطالبات کی راہنمائی اور مدد کے لیے مناسب دلیل یا مرشد المعلم (teacher's guide) کی تیاری۔ الحمد لِلّٰہ، معہد اللغۃ العربیۃ میں اس کی تیاری اور تصنیف کئی سال سے جاری ہے۔
(۲) قرآن کریم کی اس نہج پر تعلیم وتدریس کی راہنمائی کے لیے معلمین اور معلمات کو کم از کم دو ہفتے کی تعلیمی تربیت دی جائے۔ یہ عملی تربیت وفاق کی سطح پر دی جاسکتی ہے۔ وفاق المدارس السلفیۃ نے گذشتہ ماہ فیصل آباد میں ۱۵۰ معلمین اور معلمات کی تربیت کا پہلا کورس مکمل کراتے ہوئے اس میدان میں پہل کردی ہے۔ ان عظیم مقاصد کی تکمیل کے لیے ایسے تربیتی کورسز کے انعقاد سے ہماری درسگاہوں کی بہتر تعمیر وترقی کے راستے کھلیں گے اور ان کے فضلا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔ ان کورسز کے انعقاد کے لیے موجودہ حکومت اور جامعۃ الدول العربیۃ (عرب لیگ) سے مناسب مالی اور فنی امداد لی جاسکتی ہے، ان شاء اﷲ تعالیٰ۔
’’سرمایہ دارانہ یا سائنسی علمیت‘‘ پر ایک تنقیدی نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج
مئی ۲۰۰۸ء کے ’الشریعہ‘ میں محمد زاہد صدیق مغل صاحب کا مضمون ’’سرمایہ دارانہ یاسائنسی علمیت، ایک تعارف‘‘ مسئلہ زیربحث میں ایک خاص نقطہ نظرسے تدبر اور اس کے نتائج کو منظم ومرتب شکل میں پیش کر نے کے حوالے سے توقابل تحسین ہے، لیکن مضمون کے مندرجات مذکورہ حو الے سے صاحب مضمون کے فکری بے اعتدالی کا شکار ہو جانے کی واضح غمازی کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طرف وہ صاحبان فکر ہیں جو سائنس کو قرآن میں گھسیڑ کر سائنس کومسلمان بنانے یا قرآن کو سائنس کا منبع ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور دوسری طرف محترم مضمون نگا ر جیسے اہل علم ہیں جو سائنس کو شجر ممنوعہ ظاہر کر کے اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، حالانکہ قرآن اور اسلام نہ عین سائنس ہیں اور نہ دشمن سائنس۔ اگر اول الذکر حضرات کا نتیجہ فکر غلط ہے توثانی الذکر افراد کا حاصل تدبر بھی ہرگز درست نہیں۔
فاضل مضمون نگار کے خیالات کاحاصل یہ ہے کہ سائنس دراصل علم ہے ہی نہیں، یہ وحی کے انکارپر مبنی سرگرمی اور جہالت خالصہ ہے۔ یہ آدمی کو آزاد و خودمختار فرض کرتی ہے اور اس کے پھیلاؤ کا لازمی نتیجہ معاشرے میں فواحش ومنکرات کا شیوع ہے۔ اہل سائنس پچھلے دورمیں جانے کو دقیانوسیت اور پتھر کے زمانے میں جانے سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ اہل حق مسلمانوں کے نزدیک مسلمانوں کی بہتری ہی پیچھے جانے میں ہے۔ اہل سائنس مثلاً راجر بیکن وغیرہ مذہبی معلومات کو جہل سے تعبیر کرتے ہیں، انہوں نے اپنے عہد میں بحری اور ہوائی جہازوں وغیرہ کی ایجاد سے متعلق ببانگ دہل دعوے کیے، حالانکہ اس زمانے میں ان چیزوں کے وجود میں آنے کا ابھی کوئی امکان ہی تھا۔ سائنس دانوں نے مذہبی علمیت کو جو اصلی علمیت تھی، رد کر کے ایسی علمیت رائج کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد ومنتہا صرف اور صرف انسانی خواہشات کی تکمیل تھا۔ موجودہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایساعلم کہنا جو مسلسل تاریخی عمل کا نتیجہ ہے، یکسر غلط ہے۔ یہ دراصل سترہویں اور اٹھارویں صدی میں انسانی زندگی اور کائنات کے بارے میں انسان کے تصور حقیقت کی اس تبدیلی کی پیداوار ہے جو تحریک تنویر (enlightenment) کے نتیجے میں عام ہوئی۔ سائنسی اور مذہبی تصورات علم دو متضاد چیزیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ سائنس خالص دنیوی اور مادہ پرستانہ اغراض پر مبنی ہے جبکہ مذہب بالکلیہ اخروی فلاح وکامرانی کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ مذہب کے نقطہ نظر سے سائنس سے کسی خیر کا برآمد ہونا تو درکنار، سائنسی علمیت کھڑی ہی مذہبی علمیت کے ملبے پر ہوتی ہے۔
ہمار ے نزدیک فاضل مضمون نگار کا نتیجہ فکر درست نہیں ہے۔ ان کایہ کہنا کہ موجودہ سائنس وٹیکنالوجی، جسے وہ سرمایہ دارانہ علم کانام دیتے ہیں، کسی مسلسل تاریخی عمل کے بجائے زندگی اور کائنات کے بارے میں انسان کے اس تصور حقیقت کی تبدیلی کانتیجہ ہے جو سترھویں اور اٹھارویں صدی کی پیداوار ہے، سراسر غلط ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سائنس ایک مسلسل تاریخی عمل کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ باور نہیں کیاجاسکتا کہ تاریخ میں کسی خاص موڑ پر انسان نے یکایک زندگی اور کائنات کے بارے میں ایک خاص نقطہ نظر اپنا کر سائنس کی بنیاد رکھی اور پھر کچھ ہی عرصے بعد یہ اپنی موجودہ حیرت ناکیوں کے ساتھ سامنے آگئی۔ تاریخی حقائق موجودہ سائنس کو ایک تاریخی عمل کی پیداوار ثابت کرتے ہیں۔ سائنس نے تاریخ انسانی کے ارتقا کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ یہ بات تاریخ کی اس حقیقت پر نگاہ ڈالنے سے بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ بعد کے دور کی معلو مات اور ایجادات واختراعات پہلے دور کی معلومات اور ایجادات واختراعات سے بہتر اور اچھی ہیئت اور شکل میں سامنے آتی رہی ہیں۔ مضمون نگار کو یہ فکر لاحق ہے کہ اگر گزشتہ معلومات میں پیہم بہتری کے امکان کو تسلیم کر لیا گیا تو مختلف مسائل میں مذہب کے پیش کردہ حتمی تصورات خطرے میں پڑ جائیں گے، حالانکہ و ہ چیز حتمی ہی کیا جس کے انسانی غوروفکر کے نتیجے میں غیر حتمی ثابت ہوجانے کا اندیشہ ہو! دراصل مذہب کو سائنس سے کوئی خطرہ ہے اور نہ سائنس کو مذہب سے کوئی خوف۔ مذہب وسائنس اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے باہم معاون تو ہو سکتے ہیں، مخالف اور دشمن نہیں۔
مذہب کے بارے میں اہل سائنس کے معاندانہ خیالات اور ریمارکس زندگی اور کائنات کے بارے میں ان کے بدلے ہوئے خیالات کے بجائے اہل کلیسا کے مسخ شدہ بائبل اور بائبل کی غلط تعبیرات کی بنیا دپر اختیار کردہ غیر علمی رویے اور جامد سوچ کا رد عمل تھے۔ گویا اہل سائنس کو مذہب اور خدا سے بیزار کرنے والا کوئی اور نہیں، خود اہل مذہب تھے۔ سائنس دانوں کو اگرچہ اصولاً عیسائیت سے اپنی بیزاری کو مطلقاً مذہب تک ممتد نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن چونکہ اس زمانے میں مغرب میں مذہب کی واحد نمائندہ صرف عیسائیت تھی اور اہل مغرب کا کسی ایسے مذہب کے بارے میں سوچنا قریب قریب ناممکن تھا جو عیسائیت جیسے علمی جمود وکج روی سے مبرا ہو، اس لیے ان کی عیسائیت بیزاری مذہب بیزاری پر منتج ہوئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر عیسائیت سائنس کی راہ روکنے کی کوشش نہ کرتی تو سائنس اور اہل سائنس اس کے کبھی دشمن نہ بنتے اور نتیجتاً سائنس اور مذہب میں کوئی مخاصمت نہ ہوتی۔ جب ز مام اقتدار کلیسا کے ہاتھ میں تھی تو مذہبی پیشواؤں نے مسخ شد ہ مذہب یا مذہب کی غلط تعبیرات کی بنا پر ان لوگوں کے خلاف سخت معاندانہ کارروائیاں کیں جو سائنس کی ترقی کے خواہاں تھے، یہاں تک کہ بعض اہل سائنس کوزندہ جلا دیا گیا۔ گلیلیو محض اس بنا پر مستوجب سزا قرار پایا کہ اس نے زمین کی گردش سے متعلق کوپرنیکس کے نظریے کو مان لیا تھا۔ پھر جب نشاۃ ثانیہ ہوئی تو سائنس دانوں نے بھی فطری طور پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور اپنے سابقہ دشمنوں سے بدلہ لینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ چنانچہ ان کے نزدیک مذہب کی ہر چیز کو، خواہ اس کا سائنس سے نفیاً یا اثباتاً کسی بھی طرح سے کوئی تعلق نہ بنتا ہو، پاے حقارت سے ٹھکرانا ضروری قرار پایا اور یہ سلسلہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہا اور آج تک جاری ہے۔
یہاںیہ بات بھی قابل ذکرہے کہ مغرب کے بعض اہل علم نے جنہوں نے سائنس کے ساتھ ساتھ اسلام کاتفصیلی معروضی مطالعہ بھی کیا ہے، اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ رد عمل کی نفسیات کے شکار سائنس دانوں کا مطلقاً مذہب پر برسنا ایک انتہاپسندانہ رویہ ہے کیونکہ اسلام کواس مذہب کا ہرگز مصداق قرار نہیں دیا جا سکتا جس سے اہل سائنس کو دشمنی ہے۔ اس سلسلے میں The Bible, the Quran and Science کے مصنف مورس بکائے (Mauice Bucaille) کی مثال دی جا سکتی ہے۔ بکائی نے اپنی مذکورہ کتاب میں تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ مغرب میں مذہب اور سائنس میں جو حریفانہ کشاکش ہے، وہ درحقیقت سائنس اور یہودیت وعیسائیت کے مابین ہے۔ وہاں لوگ مذہب سے مراد یہودیت و عیسائیت ہی لیتے ہیں اور اس حوالے سے اسلام سے متعلق کم ہی سوچتے ہیں، کیونکہ اسلام کے بارے میں مغرب میں انتہائی غلط تصورات رائج ہیں، لیکن اگر اسلام کا صحیح اور معروضی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مغرب کا سائنس اور مذہب کی مخاصمت کا تصور اسلام اور سائنس کے حوالے سے قطعاً غلط ہے۔ یہاں نہ صرف یہ کہ ان خرافات کا وجود تک نہیں، بلکہ الٹا سائنس کی ترقی اور اس سے ہم آہنگی وموافقت کے و سیع امکانات ہیں۔
سائنسی علمیت کو محض سرمایہ دارانہ یا خواہشات انسانی کی تکمیل کے لیے سرگرم ذہنیت کی پیداوار سمجھنا ایک بے بنیاد تصور ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض طبقات وافراد انسانی کے مذہب کو اپنے بعض مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بنا پر مذہب کو ان طبقات وافراد انسانی کی استحصالی ذہنیت کا شاخسانہ قرار دے دیا جائے۔ سائنس ایک علم ہے۔ اسے مختلف افراد اپنے اپنے اغراض ومقاصد اور ترجیحات کے تحت استعمال کر سکتے ہیں۔ تاریخ کے کسی موڑپر اگر سرمایہ دارانہ اور خواہشات انسانی کی تکمیل میں سرگرم ذہنیت نے سائنس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور عصر حاضر تک اسے تسلسل کے ساتھ استعمال کیے جا رہی ہے تو اس میں سائنس کا کیا قصور؟ اگرانسان اسے اپنے دینی وفلاحی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا تووہ اس کے لیے بھی تیار تھی، اور حق یہ ہے کہ بہت سے صاحبان نظر نے اسے موخرالذکر مقصد کے لیے استعمال کیا بھی ہے اور آج تک کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں ہم پھر مورس بکائی کی مثال دیں گے۔ موصوف نے اپنی مذکورہ کتاب میں جدیدسائنس کے ثابت شدہ حقائق سے قرآنی بیانات کے توافق یاعدم تخالف کوثابت کرکے جس طرح جدید تعلیم یافتہ افراد کی مذہب بیزار ذہنیت کو مضمحل کیا ہے، اس سے سائنس کا مذہب کے لیے مفید خدمات سرانجام دے سکنے کا تصور ایک حقیقت بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ بنابریں سائنس صرف ایک علمیت ہے جسے سرمایہ دارانہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے اسے مذہبی علمیت کہا جائے۔ اگر بالفرض یہ مان لیاجائے کہ سائنس کی تمام تحقیقات انسانی خواہشات اور سرمایہ دارانہ مقاصد کی تکمیل کی غرض سے کی جاتی ہیں تو بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نہج پرہونے والی تحقیقات کے نتائج آدمی کو ہر حال میں مادہ پرست اور خواہشات کا بندہ ہی بنائیں گے۔ سائنس کے میدان میں داد تحقیق دینے والے بہت سے بے خدا ایسے ہوں گے جنہیں ان کی تحقیقات کے نتائج نے باخدا بنا دیا۔
مضمون نگار کا خیال ہے کہ مذہبی اور سائنسی علمیت ایک دوسرے کی ضد ہیں جن کا کسی ایک ہی معاشرے میں برا بر پھیلنا محال ہے۔ اس سلسلہ میں وہ راجر بیکن کے ان خیالات کاحوالہ دیتے ہیں جو اس نے عیسائی علمیت کے مقابل پیش کیے تھے۔ یہ امر باعث تعجب ہے کہ مضمون نگار نے مذہب اور سائنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں بھی اسلام اور عیسائیت میں فرق نہیں کیا، حالانکہ جیسے اوپر ذکر کیا گیا، خود نامور مغربی اہل قلم اس ضمن میں اسلام اور عیسائیت میں واضح فرق کرتے ہیں اور سائنسی علمیت کے مقابلہ میں عیسائی علمیت کا دفاع کرنے میں خود عیسائی اہل مذہب بھی بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ موصوف کے خیال میں عیسائی علمیت کو لوگوں کی نظروں میں حقیر ہو جانا سائنسی علمیت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ یہ کہ عیسائیت میں اتنا دم خم ہی نہ تھا کہ وہ سائنسی علمیت کے شائع ہو جانے کے بعد اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتی۔ جہاں تک مذکورہ حوالے سے سائنسی اور اسلامی علمیتوں کا سوال ہے تو یہاں معارضے اور مقابلے کو کبھی حریفانہ نقطہ نگاہ سے دیکھا ہی نہیں گیا بلکہ عیسائیت کے بالکل برعکس سائنسی علمیت کی ترقی کو مہمیز ملی۔
جس زمانہ میں عیسائی دنیا میں سائنسی ترقی پر بابندیاں عائد تھیں، اسلامی جامعات میں سائنس کے حوالے سے آزادانہ تحقیق ومطالعہ جاری تھا اور سائنس ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بین الاقوامی صورت اختیار کررہی تھی، اس دور میں یورپ کے لوگ اسلامی جامعات میں تحصیل علم کے لیے اسی طرح کھنچے چلے آتے تھے جس طرح آج کل ہم مسلمان یورپ اور امریکہ جاتے ہیں۔ فاضل مضمون نگار سائنسی علمیت کو مذہبی علمیت کی ضدبتا رہے ہیں جبکہ مسلم معاشروں میں سائنسی اور مذہبی علمیتیں واضح طور پر توام دکھائی دیتی ہیں۔ نامور مورخ رینان(Renan) کے مطابق قرطبہ کی مسجدیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ تعلیم پاتے تھے، سائنسی مطالعات کا مرکز تھیں۔ مسجد میں، جو مذہبی تعلیم کا مرکز ہے، سائنسی مطالعات اس حقیقت کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ مسلم معاشروں میں مذہبی وسائنسی علمیت کو کبھی ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھا گیا۔ اگر سائنسی علمیت اسلامی علمیت سے متعارض یا اس سے کوئی دور کی چیز ہوتی تو مسلم خلفا کو،جو اس زمانے کے مقتدر ترین حکمران تھے، اور باوقار علما ومدرسین کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی جامعات اور مساجد میں ایک ایسی علمیت کو پوری تن دہی سے پروان چڑھائیں جو ان کی اپنی علمیت سے معارض یااس کے لیے نقصان دہ تھی۔
مضمون نگار کا خیال ہے کہ مسلمانوں میں سائنسی تحقیقات کے پیچھے پڑنے والے لوگوں کومعاشرے میں کوئی اونچا مقام حاصل نہیں ہوتاتھا بلکہ امام اور علامہ جیسے الفاظ صرف اسلامی علوم کے ماہرین کے لیے استعمال ہوتے تھے، لیکن موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس دورکے اسلامی علوم کے ماہرین صرف نماز روزے یا فقہی مسائل سے متعلق علم کے ماہر نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ان علوم کے ساتھ ساتھ طب، فلسفہ، ہیئت اور طبیعیات وغیرہ علوم کے بھی ماہر ہوتے تھے۔ ا بن باجہ، ابن رشد اور ابن خلدون وغیرہ اسی قبیل کے علما تھے جو معروف دینی علوم کے علاوہ سائنسی، عقلی اور عمرانی علوم کے بھی ماہر تھے۔ کیاان حضرات کے ناموں کے ساتھ امام اور علامہ کے باوقار الفاظ لگے ہوئے ہونے یا اسلامی معاشرہ میں ان کے اعلیٰ مقام ومرتبے میں کسی کو شک ہے؟
قرآ ن اور صاحب قرآن کے فیضان سے علم وعمل اور تہذیب وتمدن سے عاری وناآشنا عرب بادیہ نشیں اور گلہ بان دیکھتے ہی دیکھتے علم وعمل اور تہذیب وتمدن کے اعتبار سے دنیاکے امام بن گئے۔ مشہور مصنف جانسن (Johnson) کے بقول قرآن ایک ایسی پکارتھی جو عالمگیر معنی کی حا مل ہے۔ اس نے اپنے خاص مخاطبوں میں کائنات کی تسخیر کاولولہ پیدا کیا اور پھر ایک تعمیری قوت بن گئی تاکہ اس کے ذریعے یونان اور ایشیا کی ساری تخلیقی روشنی عیسوی یورپ کی گہری تاریکی کا پردہ چاک کر کے اس کے اندر داخل ہو جائے کیونکہ عیسائیت اس وقت رات کی ملکہ تھی۔ سائنسی عمل اگرچہ قدیم تہذیبوں میں بھی جاری رہا، مگراس سلسلہ میں بقول چارلس سنگر یونانیوں سے ابتدا اس لیے کی جاتی ہے کہ ان کی سائنسی جستجو کا ہمارے پاس باقاعدہ ریکارڈ ہے۔ یونانی سلطنت تہہ وبالا ہوئی اور عیسائیت کو غلبہ حاصل ہوا تو یونانی علوم کی تعلیم ممنوع قرار پائی تھی۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے اسلام کے عطا کیے ہوئے علم کی روشنی میں نہ صرف یونانی علوم سے استفادے کی راہیں ہموار کیں بلکہ ان میں اصلاحاتی ترامیم اور اضافے کر کے انہیں اگلی نسلوں کو منتقل کیا۔ اگر سائنس سے متعلق اسلام کا مزاج عیسائیت جیسا ہی ہوتا تو مسلمان بھی سائنس سے متعلق وہی رویہ اختیار کرتے جواہل کلیسا نے اختیار کیا تھا۔ یہ حقائق جہاں اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ سائنسی علمیت سترھویں اور اٹھارویں صد ی میں آدمی کے بدلے ہوئے تصور علم کی پیداوار ہے، وہاں اس تصور کی بھی واضح تردید کر رہے ہیں کہ ایک مذہبی معاشرے میں سائنسی علمیت برگ وبار نہیں لاسکتی۔ کجا یہ تخیل کہ دنیا میں سائنسی علمیت اور اس کا نفوذ مغرب کی مادہ پرستانہ ذہنیت کی فسوں کاری ہے اور کجا یہ حقیقت کہ اہل مغرب کو سائنسی علمیت ملی ہی اسلام اور اہل اسلام کے واسطے سے ہے۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ سازکرے
فاضل مضمون نگار نے سائنس کی مخالفت میں اس روایت کا تذکرہ بھی کیاہے جس کے مطا بق مسلمانوں کا سب سے اچھا دورعہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد سلف صالحین ہے اور اس کے بعد آنے والا ہر دور مسلمانوں کے لیے برا ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے وہ اس نتیجے کی تحسین کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو آگے کی بجائے پیچھے کی طرف دیکھنا چاہیے، لیکن مذکورہ روایت اور اس سے اخذ کردہ نتیجے کا سائنس کی مخالفت میں پیش کیا جانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اس مشہور روایت کو جس کے مطابق ’’وہ مسلمان تباہ وبرباد ہو گیاجس کا آج اس کے کل سے بہتر نہیں‘‘ سائنس کی حمایت میں پیش کرے اور اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ مسلمانوں کو پیچھے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں روایتیں مسلمانوں کو اپنی اخلاقی حالت بہتر سے بہتر بنانے کی ترغیب دے رہی ہیں اور سائنس کی حمایت یا مخالفت سے ان کا نفیاً یا اثباتاً کوئی علاقہ ہی نہیں۔ لوگ نیکی وتقویٰ کے اعتبارسے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا نمو نہ پیش کرنے لگیں تواس کے مطلوب اور قابل ستائش وتحسین ہونے میں کسی مسلمان کو کوئی کلام نہیں ہو سکتا، لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ گاڑیوں اور ہوائی جہازو ں کی بجائے گدھوں اور اونٹوں پر سفر کریں، میدان کارزار میں جنگی جہازوں اور بموں کی بجائے گھوڑوں اور تلواروں پر انحصار کریں تو اس کے نامحمود وقابل مذمت ہونے میں بھی کسی باشعور مسلمان کو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ نہ یہ ضروری ہے کہ سائنسی علمیت کے ثمرات سے تمتع آدمی کو خدا اور رسول کی بتائی ہوئی اخلاقیات سے بیزار ہی کرے گا، اور نہ یہ لازم ہے کہ سائنسی علمیت کے ثمرات سے عدم تمتع آدمی کونیکی وتقویٰ کے اعلیٰ مقام پرفائز کر دے گا۔ اگرآپ اسلامی اخلاقیات کالحاظ رکھیں تو اسلام کو اس سے کچھ سروکار نہیں کہ آپ ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں یا اونٹوں اور خچروں پر۔ یہی نہیں بلکہ جدید دور میں اکثر صورتوں میں تو آپ جدید سہولیات سے صرف نظر کر کے مذہبی حوالے سے سخت خسارے کا سودا کریں گے۔ مثال کے طور پر آپ کا دشمن ایٹم بموں سے لیس آپ کے سامنے ہواور آپ اپنے آبا کی پیروی میں تلواریں لیے مقابلے کو نکلیں تو نتیجہ زیادہ غور وفکر کا محتاج نہیں۔
غالب گمان یہ ہے کہ فاضل مضمون نگار بھی سائنسی ترقی کے ان بیش قیمت ثمرات کو برا نہیں سمجھتے ہوں گے جن سے ہم آج کل اپنی روزمرہ زندگی میں نہ صرف متمتع ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سی چیزیں ہماری زندگی کا لاز می حصہ بن چکی ہیں۔ اگریہ گمان حقیقت ہے تویہ امر انتہائی حیرا ن کن ہے کہ ایک علمیت کے مثبت ثمرات سے آدمی نہ صرف فائدہ اٹھائے بلکہ ان کی طرف لپک لپک کر جائے اور اسی علمیت سے برآمد ہونے والے بعض منفی ثمرات کو بنیاد بنا کر اس علمیت کے علمیت ہونے ہی کا انکار کر ڈالے اور اسے سرمایہ دارانہ ومادہ پرستانہ ذہنیت ہونے کاشاخسانہ قراردے دے۔ حالانکہ سائنس سے خیر یا شر برآمدہونے اور اس کے ثمرات کے مثبت ومنفی استعمال کا انحصار انسان پر ہے، لہٰذا اسے فی نفسہ برائی سمجھنا قطعی غیر متوازن سوچ کا مظہر ہے۔
فاضل مضمون نگار نے راجر بیکن کے خیالات کو اس کے مذہب دشمن تصورات کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ لوگوں سے کہتا تھا کہ بحری سفروں کے لیے ایسی مشینیں بنانا ممکن ہے جسے صرف ایک آدمی اس کشتی کی رفتار سے کئی گنا تیز چلا سکتا ہوگا جسے کئی ملاح مل کر چلاتے ہیں، بغیر ڈھور ڈنگر کے چلنے والی ایسی سواریاں بنانا ممکن ہے جو پرانے دور کی تیز ترین سواریوں سے تیز چلتی ہوں گی، اور ہوا میں اڑنے والی ایسی مشینیں بنانا بھی ممکن ہے جس میں انسان بیٹھ سکتا ہو اور وہ مشین بالکل پرندوں کی طرح پر ہلا کر چلتی ہو، لیکن بیکن کی مذہبیت کے اعتبار وعدم اعتبار کی بحث سے قطع نظر مستقبل میں امکانی سائنسی ترقی سے متعلق اس کے مذکورہ خیالات کو مذہب مخالف کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مذہبی آدمی آج کے کسی سائنس دان کے مستقبل میں امکانی سائنسی ترقی سے متعلق اس طرح کے خیالات کو مذہب مخالف قرار دے دے کہ آئندہ انسان کا چاند اور مریخ کے علاوہ دیگر سیاروں پرقدم رکھنا ممکن ہے یا اس بات کاامکان ہے کہ آدمی زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر رہائشی کالونیاں بنا لے، یا یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں چاند اور زمین کے درمیان باقاعدہ آمد ورفت شروع ہو جائے ، یا ممکن ہے زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر بھی زندگی کا وجود مل جائے یا ہو سکتاہے کہ بچوں کو ماؤں کے رحموں کی بجائے لیبارٹریوں کے اندر پروان چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو جائے، وغیرہ وغیرہ۔ بیکن کے مذکورہ خیالات آج حقائق ہیں لیکن کوئی بھی ان حقائق کو کسی مذہبی حقیقت سے متصادم قرار نہیں دیتا جس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس زمانے میں ان خیالات و مفروضات کو خلاف مذہب وحقانیت کہنے والے خود مذہب وحقانیت کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایسے ہی وہ مفروضات جن کاہم نے اوپر ذکرکیا، اگر کل کلاں کو حقائق کی صورت میں سامنے آجاتے ہیں تو وہ کسی طور پر مذہبی حقائق سے متصادم نہیں ہوں گے اور اگر آج ہم ان مفروضات کو مذہب کے لیے خطرہ قرار دے کر ان کے خلاف شروع واویلا کر دیں تو عین ممکن ہے کہ کل کے اہل مذہب، مذہب سے متعلق ہماری اس جہالت زدہ ذہنیت پر ہنسیں اور ہمیں سائنسی علمیت کی راہ روکنے کی کوشش کاملزم قرار دے دیں۔
واقعہ یہ ہے کہ سائنس جیسے چاہے مفروضات قائم کرلے، ان میں سے جومفروضات بھی حقائق بن کر سامنے آئیں گے، وہ مذہبی حقائق یاحقیقی مذہبی بیانات کی صحیح تعبیر سے متصادم نہیں ہوسکتے۔ ہاں یہ ہوسکتاہے کہ سائنسی مشاہدے میں آنے والا کوئی امرکسی حقیقی مذہبی بیان یا بیانات کی روایتی تعبیر سے مختلف ہو۔ اس صورت میں مذہبی بیانات کی ایسی تعبیر ہوگی جو ثابت شدہ سائنسی حقیقت سے ہم آہنگ ہو اور دراصل وہی صحیح تعبیر بھی ہوگی۔ مثال کے طورپر ہماری پرانی تفسیروں میں عام طور پر قرآنی بیانات کی روشنی میں زمین کو ساکن تصور کیا گیا ہے، لیکن جدید دورمیں جب کہ زمین کی حرکت مشاہدہ میں آچکی ہے، پرانی تعبیر پر اصرار کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا، چنانچہ بہت سے جدید اہل تفسیر نے ا ن قرآنی بیانات کا مفہوم اس حقیقت کی رو شنی میں متعین کیا ہے اور آج لوگ اصرار کرتے ہیں کہ قرآن سے سکون زمین پر دلائل لانا غلط طرز فکر تھا، کیونکہ قرآنی الفاظ میں تو سکون کی بجائے حرکت کی طرف واضح اشارے موجود ہیں۔ سائنس کے غیر حتمیت کے حامل طرز فکر پر اعتراض کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر مذہبی تعبیرات کی پیروی میں سائنس دان بھی سکون زمین کے تصور کو حتمی سمجھ لیتے تو حرکت زمین کاثبوت کبھی بھی نہ ملتا، اور انسانیت ایک حتمی سچ تک پہنچنے میں ناکام رہتی۔
اس سلسلے میں ایک اورحقیقت یہ بھی ہے کہ اہل مذہب کے ہاں ایسے مسلمہ حقائق یاحقیقی مذہبی بیانات جن کی کوئی دوسری تعبیر ممکن نہیں، ان سے متعلق اگر سائنس دان کسی طرح کے مفروضات قائم کرتے ہیں تو بھی اہل مذہب کوخوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسے مفروضات کبھی حقیقت بن ہی نہیں سکتے۔ البتہ یہ امکان موجود ہوگاکہ ایسے مفروضات کی بنیاد پر تحقیق کرنے والے ایک دن اس سچ تک پہنچ جائیں جو اہل مذہب کے ہاں شروع سے مسلمہ تھا۔ مثلاً اہل مذہب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور کائنات اس کی تخلیق ہے، لیکن سیکولرذہن کے سائنس دان یہ مفروضہ قائم کرتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں اور یہ کائنات علت ومعلول کے چند اصولوں کی مدد سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ا ب اہل مذہب یہ تونہیں کرسکتے کہ سیکولر ذہن کے ان سائنس دانوں کواپنے مفروضہ کی بنا پر غوروفکر سے روک دیں، ہاں اہل مذہب اپنے انداز میں اپنے عقیدے کے حق میں دلائل دیتے جائیں گے ،اور اہل سائنس سے صرف نظر کریں گے تاکہ آنکہ سائنس دان اس حقیقت کو پالیں کہ کائنات بے خدانہیں۔ اس صور ت میں سائنس دانوں کی تحقیقات بالآخر مذہبی حقیقت سے موافق ہو جائیں گے اور وہ اس حقیقت کومان لیں گے جس کو وہ محض مذہبی لوگوں کے کہنے پر کبھی نہ مانتے۔ یوں بھی سائنس اپنی آخری تحقیق میں مذہب کی معاون ٹھہرے گی۔ مختصریہ کہ اپنی اپنی نفسیات میں مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد پایا ہی نہیں جا سکتا۔ ظنیا ت میں البتہ دونوں میں اختلاف ہو سکتا ہے، مگریہاں بھی کبھی ظن کے یقین میں بدلنے کی صورت میں دونوں اکٹھے ہو جائیں گے اور جو بھی ظن، یقین بنے گا، وہ ایک کا نہیں، دونوں کا یقین ہوگا۔
زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنے زیربحث مضمون میں سائنس کے حوالے سے جس فکر کی نمائندگی کی ہے، اس سے ایک ایسے جمود کی بو آتی ہے جس کے ڈانڈے قرون وسطیٰ کے سائنس دانوں کے حریف اہل کلیسا کے فکری جمود سے جا ملتے ہیں۔ فکری جمود کے ضمن میں مذکورہ تشبیہ نرم تر ہے کیوں کہ اس دور کے اہل مذہب کے لیے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے حریفوں کے پیش کردہ حقائق پر نہیں بلکہ محض قیاسات وگما نات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ نیز ان کے پاس ان کا مذہب اپنی حقیقی شکل میں موجود نہیں تھا، لیکن ہمارے دوستوں نے تونہ صرف ان بہت سے تصورات کوحقائق بنے ہوئے دیکھاہے جن کو قدیم لوگ وہم وگمان سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھے، بلکہ ان لاتعداد خیالات کواپنی آنکھوں سے واقعات کی شکل میں ڈھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جن کو سو دو سو سال قبل یار لوگ اپنی محفلوں میں دیوانے کے خوا ب سے تعبیر کر کے بحث وگفتگو کارخ دوسری طرف موڑ دیا کرتے تھے۔ اس پرمستزاد یہ کہ ہمارے ممدوحوں کا مذہب بھی اپنی حقیقی واصلی شکل میں موجود ہے۔
مقام حیرت ہے کہ ’کل یوم ھوفی شان‘ (الرحمن ۲۹) کی شان والے پر ایمان رکھنے والے اس تغیر پذیر کائنات میں ٹھہراؤ کے خواہاں ہیں اور خدا کی عطاکردہ فہم وفراست کے مسلسل استعمال کے ذریعے انسان کی خدمت کی خاطر رواں دواں علمیت کو، جو کسی خاص قوم وملت کی بجائے انسانیت کی میراث ہے، جاہلی اور مادہ پرستانہ علمیت ثا بت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کاش دوسروں کوسکون وثبات کی طرف مائل کرنے والے اسے فریب نظر سمجھ کر کائنات کے ذرے ذرے کی طرح خود بھی تڑپنے لگیں۔ دعا ہے !
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحرکی موجوں میں اضطراب نہیں
مکاتیب
ادارہ
(۱)
لندن ۔ ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء
بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ملاقات بڑی مختصر رہی۔ میں اچھا ہوتا تو خود آپ کی قیام گاہ پر آتا، تب زیادہ موقع مل جاتا۔تاہم آپ جو کتب خانہ عنایت فرماگئے، اس نے خاصی تلافی کر دی۔ اگرچہ واقعہ یہ بھی ہے کہ میں کتابوں کا اتنا بڑابنڈل دیکھ کے گھبرایا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو معذرت کردیتا کہ بھائی میں آج کل اس حال میں نہیں ہوں، اخبار ہی پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔ مگر طبیعت میں ذرا سا فرق آیا تو پرسوں وقت گزاری کے خیال سے سوچا کہ آپ کابنڈل کھولوں، شاید کوئی ہلکی پھلکی چیز نکل آئے اور کچھ وقت اچھا کٹ جائے۔ سب سے ہلکی کتاب جامعہ حفصہ نظر آئی۔ اور اللہ جزائے خیر دے، حسبِ مطلب نکلی۔ تھوڑی تھوڑی کرکے کئی دن میں پڑھی۔ آپ کی جتنی قدر اب تک تھی، اور وہ بھی کچھ کم نہ تھی، اس چھوٹی سی کتاب نے اس میں اور بڑا اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی بڑی تعداد میں اشاعت ہونی چاہیے۔ ذہن و فکر کو متوازن کرنے میں(ِ جو ہماری بڑی اہم ضرورت ہے) یہ بقامت کہتر ہونے کے باوجود بہت معاون ہو سکتی ہے۔ اور اس سے یہ جان کر تو اور ہی خوشی ہوئی ہے کہ وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ا س طرح سوچ سکتے ہیں اور اس کے اظہار کی جرأت رکھتے ہیں، جیسا کہ ایک صاحب نے آ پ سے سوال کیا کہ’’جب صدر مشرف نے مصالحتی فارمولا مسترد کردیا تھا تو بظاہر گفتگو اس نکتے پر منقطع ہوئی کہ مولانا عبد الرشید غازی شہید گرفتاری دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور حکومت انھیں ہر صورت میں گرفتار کرنا چاہتی تھی .... اور (یہ کہ)وہ اگر اپنی گرفتاری کے لیے تیار ہو جاتے توحکومت کے لیے اس آپریشن کا کوئی جواز باقی نہ رہ جاتا اور اتنی جانیں اس سانحے کی نذر نہ ہوتیں۔‘‘ نیز ان صاحب کا یہ کہنا بھی آپ نے آگے نقل کیا ہے کہ’’اگر مولانا عبد الرشید غازی گرفتاری دے دیتے تو کیا ہو جاتا؟ ان کے بھائی بھی تو گرفتار تھے۔‘‘ (صفحہ۸۹؍۹۹) بہرحال یہ پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ آپ حضرات سے تعلق والے لوگوں میں بھی ایسی سوچ کے لوگ موجود تھے، جو واقعہ میں ایک حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔
مگر اس کے آگے جب اگلی سطر میں اس سوال کے جواب میں آپ کا یہ فرمانا دیکھتاہوں کہ ’’میں دیانت داری سے عرض کرتا ہوں کہ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا اور میں نے بڑی مشکل کے ساتھ گول مول جواب دے کر انھیں چُپ کرایا‘‘ تو خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھئے! کامخمصہ بنتا ہے۔اے کاش کہ گول مول جواب سے ان صاحب کو چپ کرانے کے بجائے’’ دیانت داری‘‘ کے تقاضے والا جواب آپ کی طرف سے دیا گیا ان سطروں میں پایا ہوتا تو اپنی خوشی حسرت آمیز ہوکے نہ رہ جاتی، اور شاید لال مسجد کے حوالے سے میرے مضمون مجریہ الشریعہ(غالباً اکتوبر ۷۰۰۲)سے لوگوں کو یہ شکایت نہ ہوتی کہ دور بیٹھیے لوگ ہی اس طرح کی بات کرسکتے ہیں۔ میں نے تو پھر بھی آپ کے یہاں کا حال دیکھ کر اپنے آپ کو بہت مجبور پایا تھا کہ عام جذبات کی بھی رعایت رکھوں، ورنہ بات ازراہِ دیانت داری صرف اسی پر نہیں رکتی ہے کہ جامعہ حفصہ کے المیے کی اوّلین ذمہ داری غازی عبدالرشید صاحب پر جاتی ہے (اللہ ان کی مغفرت کرے) بلکہ ذہن میں یہ سوال اٹھے بغیر بھی نہیں رہتا کہ دین کے ایک ایسے شیدائی اور نفاذِ شریعتِ کے ایسے علمبردار کے لیے یہ ممکن کیونکر ہوا کہ وہ اپنی شرط کی خاطر ہزاروں لڑکیوں کی جان کو صاف نظر آنے والے خطرے میں ڈٖال دے؟ کیسے نہیں ان کو اپنی اس شرعی ذمہ داری کا خیال آیا کہ کُلُّکُم راعِِ وَکُلُّکُم مَسؤلُٗ عَن رِعیّتِہٖ (حدیثِ نبوی)؟
یقیناًکوئی چیز ہونی چاہیے جو مرحوم کو اپنی اس کھلی شرعی ذمہ داری کو پسِ پشت ڈالنے پر آمادہ یا مجبور کر ہی ہو۔وہ کیا چیز تھی؟ یہ عقدہ شاید حل ہوجاتا اگر آپ حضرات(اصحابِ مذاکرات )نے مرحوم کے اس آخری جواب پر کہ ’’پھر ٹھیک ہے ان سے کہیں ہمارا قتلِ عام کریں۔ قیامت کے دن میں آپ سب حضرات سے اس کے بارے میں بات کرلوں گا‘‘ انھیں متنبہ کیاہوتا کہ برادرم کیا اس طریقہ سے تم کُلُّکم راعِ کی نبوی آگاہی کی خلاف و رزی نہیں کر رہے ہو؟، اور جب تمھیں اپنی ’’رعیّت‘‘ کی پرواہ نہیں تو جنرل مشرف سے کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی پرواہ کریں گے؟ بہر حال اللہ مغفرت کرے۔
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی
(۲)
۲۶/۴/۱۴۲۹ھ
مکرمی ومحترمی جناب ابو عمار زاہد راشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ اس میں ترکی میں احادیث شریفہ کی ترتیب جدید کی خبر کے حوالے سے ترکی کی وزارت اوقاف کو مناسب علمی مشورہ دینے کی تجویز ہے۔ یہ تجویز مناسب ہے۔ اس کے سلسلے میں ہمارے یہاں سے جو ہو سکے گا، ان شاء اللہ اس کی کوشش کی جائے گی۔
امید ہے مزاج بخیر ہوگا۔ دین وملت کے فروغ اور رہنمائی کے سلسلے میں آپ جو کر رہے ہیں، اس کی خبر مجھے ملتی رہتی ہے جس کی میرے دل میں بڑی قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین
(مولانا) محمد رابع حسنی ندوی
مہتمم دار العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ
(۳)
مکرمی وعزیزی جناب مولانا محمد عمار صاحب زیدمجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزا ج گرامی بعافیت ہوں گے۔ دیگر اپریل کے ’’الشریعہ ‘‘ میں آنجناب کا مضمون بعنوان ’’ز نا کی سزا‘‘ نظر سے گزرا۔ ماشاء اللہ کیا زور قلم ہے، قاری کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ خطابت وطلاقت لسانی کو سحرکہا گیا ہے۔ اسی طرح قلم کا سحر اس سے کم نہیں ہوتا۔ یہ دونوں اللہ کی عظیم نعمت ہیں۔ اگر خطیب یا اہل قلم صحیح موقف (جمہور کے دائرے یا دھارے) پر نہ ہو تو لوگوں کے لیے بڑی آزمائش بنتا ہے۔
آنجناب نے ’’رجم‘‘ پر اس قدر محققانہ مضمون لکھنے کی زحمت کی۔ خاطر جمع رکھیں، پاکستان میں کہیں رجم ہونے نہیں جا رہا۔ جب حدود آرڈیننس موجود تھا، تب بھی نہیں ہو سکا۔ ا ب تو حدود آرڈیننس کا خاتمہ بالخیرہو چکا ہے۔ ملائیشیا اور نائجیریا کے بعض صوبوں میں لوگ شریعت کے نفاذ کے ولولہ کے ساتھ اٹھے تھے، وہاں بھی نہ ہو سکا۔ دعا کریں سپرپاور کا استقبال سلامت رہے تورجم کے مسئلہ پر فکر مند یا پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں۔ چند سال پہلے یہاں ( برطانیہ) کے وزیر خارجہ نے کہا تھا: ہم (مغرب) دنیا بھر میں تین باتیں کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ (۱) خلافت کا احیا (۲) شریعت کا نفاذ (۳)عورت کے مسئلہ پر ادنیٰ لچک۔
علما انبیا کے وارث ہیں۔ کوئی کام کرنے سے پہلے اتنا استحضار کر لیا کریں کہ اگر آج اصل (نبی) ہوتے تو اپنی توانائیاں کہاں خرچ کرتے یا کس کام کو اختیار فرماتے تو بہت سی آزمائش سے بچ جائیں۔ انبیا کا بنیادی کام لوگوں تک ایمان پہنچانے کے ساتھ وقت کے اربا ب وخداؤں (کفر کے طاغوت) کے چنگل سے غریب عوام کو نجات دلانا بھی ہوتا تھا۔ مغربی استعمار پوری انسانیت کے ساتھ کس قدر بھیانک منصوبہ رکھتا ہے؟ گزشتہ سالوں میں بے شمار تحقیقات مسلسل سامنے آرہی ہیں جیسے کیلی فورنیا کے سوشیالوجی کے پروفیسر مائیکل مین کی بے شمار تحقیقات۔ کاش کہ ہمارے ذہین وفطین حضرات کسی ایسے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے۔ بندہ کے نزدیک موجودہ دور کا اہم ترین فتنہ ہمارے ذہین وفطین حضرات کا دین کی اپنی پیش کردہ تعبیرات پر ضرورت سے زیادہ اعتماد واصرار ہے۔ اس مشغلہ کا کچھ حاصل نہیں۔ تاریخ میں اچھے اچھے ذہین وفطین وذکی حضرات اپنی اپنی تعبیر وفکر کے بلبلے اٹھا اٹھا کر غائب ہوتے رہے ہیں، جیسے مولانا قمر عثمانی صاحب توکل کی بات ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عہد بنی عباس میں تقریباً ڈیڑھ سو سال تک قلم و تلوار کے دھنی معتزلہ تھے۔ کہاں گئیں ان کی علمی وعقلی تحقیقات؟
مئی کے تازہ شمارے میں ’’بجلی کے بحران‘‘ کے موضوع پر مضمون دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ یہ موضوع قومی اخبارات کا ہے نہ کہ علمی وفکری رسالہ کا۔ مولا نا راشدی صاحب کا دورۂ برطانیہ نہایت کامیاب و عمدہ رہا۔ آج عافیت سے پہنچ گئے ہوں گے۔ حاضرین کی خدمت میں سلام مسنون۔ دعا کی استدعا ۔
(مولانا) محمد عیسیٰ منصوری
چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم لندن
(۴)
مکرم ومحترم جناب مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
زنا کی سزا سے متعلق میرے مضمون کے حوالے سے آپ کا عنایت نامہ موصول ہوا۔ میرے لیے یہ بات حوصلہ افزائی کا باعث ہے کہ آپ جیسے بزرگ میری ناچیز طالب علمانہ تحریروں کو دیکھنے کے لیے اپنی متنوع مصروفیات میں سے وقت نکالتے ہیں، اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی آپ کی یہ شفقت مجھے حاصل رہے گی۔ البتہ آپ کا یہ تبصرہ حیرت انگیز ہے کہ میرامضمون جمہور کے مقابلے میں ’’اپنی پیش کردہ تعبیرات پر ضرورت سے زیادہ اعتماد واصرار ‘‘ کی غمازی کرتا ہے، اس لیے کہ میں نے اس مضمون میں خود اپنی کوئی تعبیر پیش نہیں کی، بلکہ محض زیر بحث مسئلے کے حوالے سے پیش کی جانے والی مختلف علمی توجیہات کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان کے غیر اطمینان بخش ہونے کے تناظر میں ایک یا دوسرا اصولی منہج اختیار کرنے کی گنجایش کو واضح کیا ہے۔
علمی روایت کے ارتقا کے نتیجے میں روایتی فقہی تعبیرات کے بارے میں جو سوالات واشکالات دور جدید میں سامنے آئے ہیں، روایتی اہل علم نے عام طور پر انھیں درخور اعتنا نہیں سمجھا اور انھیں یہ بات بھی گوارا نہیں کہ یہ تعبیرات سرے سے کسی تنقیدی تجزیے کا موضوع بنیں، چہ جائیکہ وہ بحث کی تنقیح اور تصفیے کے لیے مثبت طور پر کوئی کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔ البتہ آپ جیسے وسیع النظر بزرگ سے میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ یا تو میرے علم وفہم میں پائے جانے والی کسی کمزوری کی نشان دہی فرمائیں گے یا اگر ان سوالات واشکالات میں کچھ وزن ہے تو اہل علم کو ان کے حل کی طرف متوجہ کریں گے۔
ورلڈ اسلامک فورم کی ویب سائٹ قائم ہونے پر مبارک باد قبول فرمائیے۔ میرے خیال میں حلقہ علما کو درپیش مسائل کی طرف متوجہ کرنے سے آگے بڑھ کر اب فورم کو ایک باقاعدہ ادارے کی شکل دے دی جانی چاہیے جہاں فکری اور تحقیقاتی وتجزیاتی مواد کی فراہمی کا کام منظم طریقے سے کیا جا سکے۔ موجودہ صورت میں یہ کام شخصیات تک محدود رہ جائے گا اور شاید اس کے زیادہ دیرپا اثرات مرتب نہ ہو سکیں۔
محمد عمار خان ناصر
۲۸؍ مئی ۲۰۰۸
(۵)
محترم جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب
السلام علیکم ۔ مزاج بخیر
ماہنامہ الشریعہ (جون ۲۰۰۸) کے شمارہ میں آنجناب کی تحریر ’’ مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور ایک نو مسلم کے تاثرات‘‘ نظر سے گزری۔ آپ کی وسعت ظرفی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ آپ نے لکھا ہے کہ :
’’علاقائی اور ثقافتی رسمیں اگر دین کا حصہ نہ سمجھی جائیں اور انہیں ثواب کے ارادے سے انجام دینے کی بجائے محض خوشی کی علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر کیا جائے تو اس پر شریعت کے منافی ہونے کا فتویٰ لگا دینا اور غیظ و غضب کا اظہار کرنا مناسب بات نہیں ہے ‘‘ ۔
بندہ کو آج سے تقریباً چالیس سال پرانا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ جھنگ کے علاقہ میں ایک شادی کے موقع پر دلہن کو رخصتی کے وقت جب ڈولی میں بٹھا یا جانے لگا تو وہاں کے ایک بزرگ عالم دین نے اس علاقائی رسم کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ یہ شریعت کے منافی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برادری میں کا فی اختلاف پیدا ہو گیا، کیونکہ دلہن والے ان بزرگ عالم دین کے مرید ہونے کی وجہ سے دلہن کو ڈولی میں بٹھانے پر رضا مند نہ تھے جبکہ دولہا والے خاندانی رسم ہونے کی وجہ سے مصر تھے کہ لڑکی ڈولی میں ہی جائے گی۔ اس قسم کی علاقائی رسومات پر شریعت کے منافی ہونے کا فتو یٰ لگا دینا لوگوں میں اختلافات پیدا ہونے اور مذہب سے دوری کا سبب بنتا ہے۔
اسی شمارے میں عمار خان ناصر کا مضمون ’’ زنا با لجبرکی سزا‘‘ شائع ہوا ہے۔ میں بڑھتی ہوئی معاشرتی برائیوں کی وجہ سے مصنف کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے آپ کی وساطت سے علماے کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کو صرف تنقیدی نظر سے دیکھنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بحث کو علمی انداز میں آگے بڑھائیں تاکہ اس زنا بالجبر اور اجتماعی آبروریزی جیسے جرائم کے سد باب کے لیے از سر نو غور کرکے مناسب سزا مقرر کی جا سکے۔
ماہنا مہ الشریعہ کی اس پالیسی کی تعریف نہ کی جائے تو یقیناًناانصافی کی بات ہوگی کہ اس نے مختلف نقطہ ہاے نظر کو اظہار رائے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ اس طریقہ سے اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی ساری ٹیم کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ آمین
(مولانا) محمد اسامہ سہیل
مہتمم دارالعلوم نعمانیہ
پرانی سبزی منڈی ، گوجرانوالہ
(۶)
جناب محمد عمار خان ناصر صاحب !
السلام علیکم
ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں آپ کامضمون ’’شرعی سزاؤں کی ابدیت وآفاقیت‘‘ دیکھا۔ میرے نزدیک اس میں دوسرا نقطہ نظر درست ہے کہ اصل مقصد سزائیں جاری کرنا نہیں بلکہ جرائم کو روکنا ہے۔ آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی طرح مخصوص حالات کی وجہ سے سزا معاف کی جا سکتی ہے، لیکن یہ قانون ابدی ہے۔ اگر قانون ابدی ہے توعمر فاروقؓ نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟ میرے نزدیک موجودہ حالات میں بھی ان سزاؤں کے نفاذ سے، جیسا کہ سعودی عرب میں ہیں، سوائے اسلام کی بدنامی کے کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ اس سلسلہ میں، میں نے جاوید احمد غامدی صاحب سے فون پر بات کی توانہوں نے فرمایا کہ شریعت نے جو رعایت کا پہلو رکھا ہے جس کے تحت مجرم کی سزا معاف کی جا سکتی ہے، اس میں زمانے کے حالات بھی شامل ہیں۔ اگرکسی زمانے میں ان سزاؤں کے نفاذ سے نقصان ہوتا ہو تو ضروری نہیں کہ یہ سزائیں دی جائیں۔ میرا بھی یہی موقف ہے کہ ہم قرآن سے سزائیں نہیں نکال سکتے، وہ اللہ کاحکم ہے لیکن اپنے آئین سے تو نکال سکتے ہیں۔ غامدی صاحب نے آپ کی طرح سزاؤں کے ا بدی ہونے کا اظہار کیا اور میرے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کیا کہ اصل مقصد جرائم کو روکنا ہے، جیسا کہ جہاد تلوار سے بھی ہو سکتا ہے اور ٹینک سے بھی۔
آپ نے لکھا ہے کہ ’’معاشرتی جرائم پر موثر طریقے سے قابو پانا سخت اور سنگین سزاؤں ہی کی مدد سے ممکن ہے۔‘‘ پاکستان میں قتل کے بدلے قتل کی سزا موجود ہے۔ یورپی یونین کے ممالک میں یہ سزا نہیں۔ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پاکستان میں قتل نہ ہوتے یا بہت کم ہوتے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ پاکستان میں اوسطاً سالانہ دس ہزار سے زائد قتل ہوتے ہیں جو کہ بہت سے مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ شاید یہ سوال کریں کہ ہمارے ہاں سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ یہ بھی مکمل صحیح نہیں۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی قرآن میں موجود سزاؤں کو وحشی کہتا ہے تو وحشی قوم کے لیے تھی۔ دنیا کے کئی ممالک میں پاکستان اور سعودی عرب کی طرح سنگین سخت سزائیں موجود نہیں تاہم وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ غالباً فرانس کے بارے میں پڑھا ہے کہ ان کی لغت میں ریپ کا لفظ موجود نہیں۔ گویاان کی پوری تاریخ میں اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا، جبکہ ہمارے ہاں حدود جیسے سخت قوانین کے باوجود ہر روز ایسے شرمناک واقعات پیش آتے ہیں۔
بہرحال یہ فلسفہ تو غلط ثابت ہو چکا ہے کہ بعض سزاؤں کے نفاذ سے جرائم ختم کیے جا سکتے ہیں۔ لوگوں کی تعلیم وتر بیت، معاشی خوش حالی اور دیگر بہت سے عوامل ہیں جن کو درست کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بہت سے دانشور مغرب کی اندھی مخالفت میں مبتلا ہیں اور مغرب کی ہر بات میں نقص نکالنا اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مغرب نے اخلاقی لحاظ سے بہت ترقی کی ہے۔ ہمیں ہرحال میں انصاف پر قائم رہنا ہے۔ مغرب کی اچھی باتوں کی تعریف کرنے سے ہمارا ایمان خطرے میں نہیں پڑ جائے گا۔ امید ہے آپ اس پہلو پر غور فرمائیں گے۔
حافظ ممتاز علی
سنگھوئی، ضلع جہلم
(۷)
مکرمی جناب ابو عمار زاہد الراشدی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اللہ کرے آپ بخیریت ہوں۔ ایک بہن کے خط نے مجھ سے کم ہمت میں ہمت پیدا کی کہ میں بھی ایک بہن کے خیالات سے سو فی صد اتفاق ظاہر کر سکوں۔ چند ماہ سے آپ کا رسالہ شاید شبیر احمد خان میواتی کی سفارش پر مجھے مل رہا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ آپ نے حضرت مولانا علامہ جاوید الغامدی کے ساتھ کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ ان کے خیالات و نظریات کو آگے بڑھائیں۔ پہلی بات تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ علما حضرات ہمیں تو احادیث سناتے نہیں تھکتے کہ اپنے بچوں کے نام اللہ کے نام پر رکھو، لیکن آپ کے نام احمد میاں، محمد میاں، الغامدی، ابو عمار زاہد الراشدی! میرا خیال ہے کہ اتنے موٹے موٹے نام رکھنے سے شاید ان پڑھ اور جاہل عوام کو یہ تاثر دینا مقصود ہوتا ہے کہ جب آپ ہمارے ناموں کا مطلب ہی نہیں سمجھ سکتے تو جو کچھ ہم بیان کرتے ہیں، لکھتے ہیں، وہ آپ کے سر سے گزر جائے گا۔
آپ کا رسالے اور دیگر مذہبی رسائل میں جو کچھ چھپتا ہے، ا س کا غریب عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس مرتبہ بھی آپ کے رسالے میں ایک مضمون زنا کے حوالے سے شائع ہوا ہے۔ آپ کے خیال میں اس وقت کل مسلمانوں کے کتنے فی صد زنا کرتے ہیں جن کی اصلاح کے لیے آپ اس قسم کے مضامین شائع کرتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کے معاشرے میں صرف زنا ہی ہو رہا ہے؟
غامدی کے نظریات کے فروغ کے لیے آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ غالباً میں نے کراچی سے شائع ہونے والے ایک رسالے ساحل میں پڑھا تھا کہ آپ کے کوئی قریبی عزیز غامدی کے انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتے ہیں۔ ویسے میں جاننا چاہوں گا کہ کیا غامدی کوئی فقہی اصطلاح ہے یا کسی نئے سلسلہ باطنیہ کا نام ہے؟ ایک گم نام مصنف نے سرسید احمد خان مرحوم سے کہا تھا کہ کوئی ایسا طریقہ بتلائیے کہ مجھے بھی آپ جیسی شہرت ومقام حاصل ہو جائے تو سرسید احمد نے کہا کہ میری کتابوں کی تردید لکھنا شروع کردو۔
آپ کے مضمون سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ انگلستان تشریف لے گئے تھے۔ مجھے بھی دو سال قبل کافروں کے ملک جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ میں تو سیر وتفریح کے لیے گیا تھا، تبلیغ یا اشاعت اسلام مقصد نہیں تھا کیونکہ ہمارے اسلام کی سچی تصویر تو مورس مجید نے کھینچ دی ہے۔ میں ایک روز اپنی بیوی کے ہمراہ ٹیوب میں سفر کر رہا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ایک نوجوان جوڑا ٹیوب میں داخل ہوا اور بوس وکنار میں مصروف ہو گیا۔ میری بیوی کے لیے یہ منظر اور قسم کا تھا۔ اس سے وہ اپنی طرز کی برہمی کا اظہار کرنے لگی اور اسٹیشن سے اتر کر کہنے لگی کہ یہ کس قدر بے شرم لوگ ہیں۔ اس پر میں نے اس کو کہا کہ مجھے یہ بتلاؤ کہ جب وہ اس کام میں مصروف تھے تو ٹرین میں ایک بھی شخص نے ان کے معاملات میں مداخلت کی؟ کیا کسی ایک شخص نے بھی ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا؟ اب تو مجھے بتلا کہ میں جب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تجھے یا تیری بیٹی کو اسکوٹر پر لے جاتا ہوں تو ہر شخص کا طرز عمل کیا ہوتا ہے؟ جب تک وہ تجھے یا تیری بیٹی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہیں کر لیتے، وہ تجھ سے نظر نہیں ہٹاتے۔ بتا مسلمان کو ن ہیں؟ تو یا وہ کافر عیسائی؟
آپ کو وہاں باہر نکلنے کا بھی موقع ملا ہوگا۔ ’’اپنے گھروں کے آگے برآمدوں کو صاف رکھا کرو‘‘، اس حدیث پر کہاں عمل ہوتا ہے؟ آپ کی مساجد کے غسل خانے اور واش روم اور مسلمانوں کے محلے اور علاقے اس حدیث پر کس قدر عمل کرتے ہیں، شاید وہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مولانا تقی عثمانی نے اپنے ایک سفر نامے میں اسی صورت حال کی خوب صورت عکاسی کی ہے۔ آپ کو وہاں Spencer اسٹور پر جانے کا اتفاق ہوا ہوگا۔ میں بھی ایک مرتبہ نہیں، بے شمار مرتبہ وہاں گیا۔ ایک روز وہاں خربوزے ایک شیلف میں دو پونڈ فی دانہ تھے اور ایک شیلف میں ایک پونڈ کے دو دانے۔ میں نے اپنے بھائی سے معلوم کیا تو وہ کہنے لگا کہ خربوزے تو ایک ہی قسم کے ہیں، لیکن جو سستے والے ہیں، وہ کل نہیں بک سکے تھے اس لیے باسی ہو گئے۔ میں نے کہا، لیکن انسانوں نے دیکھا تو نہیں، جس طرح وہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ ماں، دودھ میں پانی ملا دے، اس وقت صبح کا وقت ہے، کوئی نہیں دیکھ رہا۔ تو ان کافروں عیسائیوں کو بھی تو کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔
یقیناًآپ نے اپنے کسی میزبان کی موٹر میں بھی سفر کیا ہوگا۔ یقیناًان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوگا اور اگر ہوگا تو رشوت، نہیں ’’چائے پانی‘‘ پلا کر حاصل کیا ہوگا، حالانکہ سڑک پر ٹریفک پولیس بھی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی کی ہوگی۔ ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے ہوں گے کہ میں ہر کسی سے آگے نکل جاؤں۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب محض رسومات کا مجموعہ ہے۔ اس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، وگرنہ ہر روز صرف پاکستان سے سینکڑوں لوگ ہر ہفتے بعد عمرہ کرنے جاتے ہیں اور پھر واپس آ کر اسلام پر عمل کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
آپ کو وہاں کسی نہ کسی دفتر میں خدا نخواستہ جانے کی ضرورت تو نہیں پیش آئی ہوگی اور یہاں تو ہمیں دفاتر، ہسپتالوں اور عدالتوں میں ہی جانا پڑتا ہے۔ کس ملک کے دفتر، ہسپتال اور عدالت میں اسلام پر عمل ہوتا ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان یا ملک کفار میں؟ میں ۳۵ سال اپنے مخاطبین سے یہ کہتا رہا ہوں کہ یا اللہ، میری دشمن اندرا گاندھی کو بھی پاکستان کے کسی دفتر، کسی ہسپتال، کسی عدالت میں نہ لے جانا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام معاملات تو علماے کرام وعظام کے وعظ ونصیحت سے خارج ہیں کیونکہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ علما ومشائخ (اللہ ہو والے پیر صاحب، رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ وغیرہ) گرمیوں میں یورپی ممالک میں ہی تبلیغ اسلام کے لیے کیوں جاتے ہیں، سردیوں میں کیوں نہیں؟ شاید سردیوں میں وہاں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔
مورس مجید کے واقعے سے مجھے یہ واقعہ یاد آیا کہ میرے گھر کے قریب کی مسجد کے جو صاحب ’’مالک‘‘ ہیں، وہ تین چار لاکھ روپے کے قریب ’’کرایہ‘‘ کھا کر زندگی گزارتے اور تبلیغ کرتے ہیں۔ ایک صاحب جو یہاں قریبی ریستوران میں بیرا گیری کرتے تھے، وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس غریب شخص نے کئی مرتبہ دبے لفظوں میں یہ کہا کہ مسلمان ہونے کے بعد میرے سماجی اور معاشی مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں تو تبلیغی جماعت کے مفکر اور کرایہ خوار صاحب فرمانے لگے کہ انھیں چلے پر بھیج دو، یوں ان کے تمام معاشی، سماجی اور مذہبی معاملات طے ہو جائیں گے۔
ایک بہن نے علماے کرام وعظام سے جوتوقعات وابستہ کی ہیں، مجھے تو سو فی صد یقین ہے کہ انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں بتلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی ستر فی صد آبادی گاؤں میں رہتی ہے۔ گاؤں تو زمیندار کا ہوتا ہے یا کسی پیر مخدوم کا، اور وہاں کا عالم دین تو جمعرات کی روٹی وڈیرہ صاحب سے لیتا ہے۔ وہ کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ وڈیرہ صاحب! بہاول پور میں لوگوں کے لیے پینے کا جوہڑ تک کا پانی دست یاب نہیں۔ صاف پانی کی فراہمی کا اگر وہ کہے گا تو اپنی جان سے ہاتھ گنوا بیٹھے گا۔ گاؤں کے اسلا م میں تو یہ چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتیں، وہاں تو نور اور بشر کے مسائل ہی ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔ انسان کے حقوق تو ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
باقی رہا شہری اسلام تو یہاں کے مسائل مختلف ہیں۔ یہاں کے وڈیروں او رپیر صاحبان نے تو علماے کرام سے یہ لکھوا رکھا ہے کہ جمعے کے ہر خطبے میں یہ پڑھنا ضروری بلکہ واجب ہے کہ السلطان المسلم ظل اللہ فی الارض من اہان سلطانہ اہانہ اللہ۔ اب ظاہر ہے کہ جتنے بھی جرنیل ظل اللہ اور سویلین ظل اللہ ہیں، انھوں نے تو فی الحال عوام کے مسائل کو حل کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، وہ تو سمجھ لیجیے کہ حل ہو ہی گئے۔ اب تو عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ ہری پگڑی پہنیں یا کالی پگڑی، نماز کے بعد زور زور سے لا الہ الا اللہ کا ورد ضروری ہے یا نہیں۔ یہی مسائل ہیں جن کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔ باقی خواہ آپ ہر ہفتے عمرہ کریں یا انگلستان کا تبلیغی سفر یا اب ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے: بین المذاہب مکالمہ، یہی اسلام ہے۔ اسلام کا دفتر، عدالت، ہسپتال، محلے، شہر یا ملک میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اسلام کا تعلق روحانی دنیا سے ہے، عملی دنیا سے نہیں۔ یہ ذاتی معاملہ ہے اور اس کی سزا وجزا کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
بہرحال آپ اسلام کی تبلیغ جاری رکھیے۔ اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔
احمد سعید
مکان ۷۲۔ بلاک جی ۴
محمد علی جوہر ٹاؤن ii ۔ لاہور