محترمہ بے نظیر بھٹو کا الم ناک قتل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو ۲۷؍ دسمبر کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس جاتے ہوئے ایک خود کش حملے میں جاں بحق ہو گئی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ ماہ جب اپنی نو سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئی تھیں تو کراچی میں استقبالیہ جلوس کے دوران بھی ایک خود کش حملہ کا نشانہ بنی تھیں جس میں بہت سے دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے مگر وہ خود محفوظ رہی تھیں، لیکن راول پنڈی کے جلسہ کے بعد ان پر ہونے والا حملہ اس قدر اچانک اور منظم تھا کہ وہ اس سے بچ نہ سکیں اور حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور عوامی لیڈر جناب ذو الفقار علی بھٹو مرحوم کی بیٹی اور جانشین تھیں۔ وہ خود بھی دو مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہی ہیں اور ان کی پارٹی آئندہ انتخابات کے بعد انھیں ایک بار پھر وزیر اعظم بنانے کا عزم ظاہر کر رہی تھی، مگر اسی مہم کے دوران ان کی زندگی کا تسلسل ایک خود کش حملہ آور کے ہاتھوں منقطع ہو گیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی افکار ونظریات، اہداف ومقاصد اور پالیسیوں سے ملک کے بہت سے لوگوں کو اختلاف تھا اور خود ہمیں بھی ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف رہا ہے، لیکن اختلاف کے اظہار کا یہ طریقہ کی مخالف کی جان لے لی جائے اور اس طرح کے خود کش حملوں کے ذریعے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے، نہ صرف یہ کہ سراسر ناجائز اور ظلم ہے بلکہ ملک وقوم کے لیے بھی انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے، کم ہے۔
ہم نے ان صفحات میں بار بار عرض کیا ہے کہ حکومت یا کسی بھی جماعت، طبقہ اور شخصیت کے ساتھ اختلاف کا ہر شہری کو حق حاصل ہے اور اس اختلاف کے اظہار اور اس کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے کا بھی ہر شخص کو حق ہے، لیکن اس کے لیے طاقت کا استعمال، ہتھیار اٹھانا اور کسی کی جان کے درپے ہونا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے، نہ اسلامی تعلیمات اس کی اجازت دیتی ہیں اور نہ ہی آج کا معروف جمہوری کلچر اس کا متحمل اور روادار ہے۔ اس لیے ہم محترمہ بے نظیر بھٹو کا اس الم ناک قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خاندان، پارٹی اور دیگر متعلقین کے ساتھ اس غم میں شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ دیں اور تمام متعلقین وپس ماندگان کو صبر وحوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
ہمیں امید ہے کہ حکومت اس سلسلے میں اپنی قانونی واخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور اس قسم کی افسوس ناک وارداتوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے گی۔
دینی مدارس میں تخصص اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق
ڈاکٹر محمود احمد غازی
دینی مدارس میں درجات تخصص کا قیام اور اسلامی علوم وفنون کی اعلیٰ تعلیم وتحقیق کا بندوبست وقت کی ایک ایسی اہم اور فوری ضرورت ہے جس کی اہمیت اور فوری نوعیت کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس میں درس نظامی کے بعد تخصص اورتکمیل کے شعبے گزشتہ چند عشروں کے دوران کثرت سے قائم ہوئے ہیں۔ تخصص اور تکمیل کے یہ شعبے عموماًتفسیر، فقہ، فتویٰ اور تجوید وقراء ت کے میدانوں سے متعلق ہیں۔ بلاشبہ یہ شعبے مفید کام کر رہے ہیں اور ان کی موجودگی سے اسلامی تخصصات کی اہمیت کا احساس بڑھا ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی شعبہ سے تخصص کے وہ مقاصد اب تک کما حقہ پورے نہیں ہو سکے جس کی آج ملک وملت کو شدید ضرورت ہے۔
تخصص کے شعبہ کا مقصد درج ذیل قسم کے اصحاب کی تیاری ہونا چاہیے :
۱۔ نمایاں اسلامی علوم (تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اسلامی معاشیات) کے اعلیٰ مضامین کی تدریس کے لیے ایسے اساتذہ کی تیاری جو ان مضامین کی اعلیٰ سطح پر کماحقہ تعلیم دے سکیں اور دینی مدارس کے طلبہ کو آنے والے چیلنجوں اور خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر سکیں۔
۲۔ ایسے علماے کرام کی تیار ی جو ملکی جامعات اور عصری تعلیمی اداروں میں اعلیٰ سطح پر اسلامی علوم کی تدریس کی ذمہ داریاں کامیابی سے انجام دے سکیں اور وطن عزیز میں نفاذ اسلام کے عمل کی موثر رہنمائی کر سکیں۔
۳۔ ایسے اہل علم اور اصحا ب تخصص کی تیاری جو اسلامی علوم کے بارے میں پیدا کی جانے والی بدگمانیوں اور اسلامی عقائد واحکام کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل اور تسلی بخش جواب دے سکیں۔
۴۔ ایسے اہل علم کی تیاری جو اپنی عمیق دینی مہارت کی بنیاد پر مغربی علوم وفنون کا ناقدانہ جائزہ لے سکیں اور مغربی افکار وتصورات کا اسلامی شریعت کی روشنی میں تنقیدی مطالعہ کر کے ا ن کے رطب ویابس کو الگ الگ کر سکیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دینی مدارس کے نظام اور نصاب میں ان میں سے کسی بھی ضرورت کی تکمیل کا کوئی بندوبست نہیں۔ تفسیر میں تخصص کے شعبے متعدد مدارس میں قائم ہیں، لیکن وہ چند ماہ میں پورا قرآ ن حکیم کسی ایک استاد یا مفسر کے طرز تفسیر کے مطا بق سرسری طور پر پڑھا دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان تفسیری پروگراموں کے فارغ التحصیل اصحاب زیادہ سے زیادہ اپنے شیخ کے طرز پر عوامی یا مناظرانہ انداز کا درس قرآن دینے کے قابل تو ہو سکتے ہیں لیکن ان پروگراموں کے نتیجے میں وہ علوم قرآن، ذخائر تفسیر، تفسیر کے مہتم بالشان مسائل، مناہج مفسرین، دور جدید میں قرآن پاک پرکیے جانے والے اعتراضات اور شبہات، تاریخ تدوین قرآن اور ان جیسے امہات مسائل سے اکثر ناواقف ہی رہتے ہیں۔
امرواقعہ یہ ہے کہ آج قرآن پر از سرنو اعتراضات اور شبہات کی لہریں زوروشور کے ساتھ مشرق ومغرب میں پھیل رہی ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر وتشریح کے بارے میں طرح طرح کے شبہا ت عقلی وعلمی انداز میں مشرق ومغر ب میں اٹھائے جا رہے ہیں۔ مسلمانو ں کی طرف سے ان روز افزوں اعتراضات اور شبہات کا مدلل اور سنجیدہ جواب دینے کے لیے جس طرح کے متخصص اہل علم درکار ہیں، وہ ناپید ہیں یہاں تک کہ خود مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں یہ نئے گمراہ کن اسالیب جگہ پا رہے ہیں اور مسلمان طلبہ کے ذہنوں کو پراگندہ اور پریشان کر رہے ہیں۔
یہی حال حدیث اور فقہ کے تخصص کا ہے۔ علم حدیث کے وسیع ذخائر، علوم حدیث کے لامتناہی دفاتر اور معارف حدیث کے عمیق مباحث عموماً تخصص حدیث کے شعبوں میں بار نہیں پاتے۔ حدیث میں تخصص اور دو دو سال میں دورۂ حدیث کرنے والے طلبہ علوم حدیث کے امہات مسائل بلکہ اہم کتابوں کے ناموں تک سے ناواقف رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تخصص حدیث دراصل احادیث احکام کے مسلکی مطالعے سے عبارت بن کر رہ گیا ہے۔ مختلف مسالک کے اہل علم نے اپنے اپنے مسلک کی تائید کے نقطہ نظر سے منتخب احادیث کے مطالعے کوتخصص کا نام دے دیا ہے۔ اس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ طلبہ کو اپنے اپنے فقہی اور کلامی موقف کے بارے میں چند گنی چنی احادیث اور روایات کے بارے میں تو واقفیت خوب ہو جاتی ہے، لیکن علوم حدیث کے اعلیٰ مباحث، ہدایت نبوی کے حقائق ومعارف اور محدثین اسلام کی غیر معمولی کاوشیں طلبہ کی پہنچ سے باہر رہتی ہیں۔ یہی بلکہ اس سے بھی گیا گزرا حال فقہ کے تخصص کا ہے۔
اس صورت حال میں ا ب تک کیے جانے والے تجربہ پر ازسرنو غور کر کے تخصصات کے ایسے نئے نصاب اور نظام کی تیاری کی فوری ضرورت ہے جہاں دینی مدارس کے فارغ التحصیل اصحاب سے ذی استعداد نوجوان اہل علم کو منتخب کرکے متعلقہ اسلامی علوم وفنون میں ٹھوس تربیت دی جائے۔ لیکن تخصص کاکوئی بھی نظام یانصاب اس وقت تک موثر اورنتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتاجب تک تعلیم کے ا بتدائی مراحل پر بھی بھرپور اور تفصیلی نظر ثانی نہ کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تخصص کے لیے جس صلاحیت اور سطح کے رجال کار اورطلبہ درکارہوں گے ،جب تک وہ بنیادی اسلامی علوم میں گہری استعداد اور علوم آلیہ سے اچھی طرح واقفیت نہ رکھتے ہوں، ان کے لیے تخصص کی سطح پر اعلیٰ تعلیم کاحصول ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے تخصص پر گفتگو کرنے سے پہلے چند ضروری اشارات قبل از تخصص مراحل کے بارے میں بھی پیش کرنا ضرور ی ہے۔
اس وقت امر واقعہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کی بہت بڑی تعداد مساجد کی امامت اورخطابت کے فرائض سرانجام دی رہی ہے۔ بلاشبہ مساجد کی امامت اورخطابت مسلم معاشرہ میں ایک انتہائی اوربنیادی کردار اداکرتی ہے۔ معاشرہ کی دینی تشکیل اوررائے عامہ کی اسلامی تربیت میں ائمہ اورخطبا کے کام کواساسی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی باک نہیں کہ درس نظامی کاموجودہ نظام اورنصاب پاکستان کے لیے مطلوبہ صلاحیت اورصفات کے ائمہ اورخطبا تیارنہیں کرتا۔ امامت وخطابت کے لیے بہت سی ضروری صلاحیتوں کی تیاری بندوبست درس نظا می میں موجود نہیں۔ اسی طرح مستقبل کاامام بہت سی ایسی چیزیں پڑھنے پر خود کو مجبور پاتاہے جواس کے لیے امامت اورخطابت میں کسی بھی حیثیت سے کارآمد نہیں۔ منطق اورقدیم یونانی فلسفہ کے اعلیٰ مسائل سے پاکستان میں کسی بھی امام کوکوئی واسطہ نہیں پڑتا۔ اس لیے مناسب یہ معلوم ہوتاہے کہ مدارس کے ثانوی اوراعلیٰ ثانوی سطح کے تین بلکہ چارسالوں کانصاب اس طرح تیار کیا جائے کہ اس کے فارغ التحصیل حضرات اچھے امام، اچھے خطیب یاا بتدائی مدرس اورسرکاری سکولوں کے اچھے مدرس بن سکیں۔ اس سطح پر درس نظامی کی عام کتابوں کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشیات ،اسلامی کے سیاسی افکار ،سیرۃ النبی،صدر اسلام کی تاریخ، تاریخ پاکستان، برصغیر میں اسلامی تحریکات کی تاریخ جیسے موضوعات کے علاوہ تجوید وقراء ت کے مضامین کو لازمی طورپر شامل کیاجائے۔ اس سطح پر اردو وعربی کی ایک آسان تفسیر اورحدیث کی دویا تین کتب ضرور شامل ہوں۔ ابتدائی سالوں میں جب طلبہ کی عربی کی استعداد زیادہ نہ ہو تو اردو میں دستیاب احادیث کے مجموعوں میں سے کوئی ایک مجموعہ منتخب کیا جا سکتاہے۔ میر ی ناچیز رائے میں سال اول ودوم میں معارف الحدیث اور سال سوم اور چہارم میں ترجمان السنۃ شامل کی جا سکتی ہیں۔ مزیدبرآں فقہ اوراصول فقہ کی متداول درسی کتب کے ساتھ ساتھ ایک یادوکتابیں اردو اور آسان عربی میں شامل ہونی چاہییں۔ علماے ندوہ نے اور مولانا محمد انوربدخشانی نے یہ کام بہت آسان کر دیا ہے۔
جوطلبہ نصا ب کایہ مرحلہ مکمل کرلیں، ان کو مناسب سند دے کر ادارہ سے فارغ التحصیل کردیا جائے۔ میری ذاتی رائے میں طلبہ کاتقریباًپچاس فی صد حصہ اس مرحلہ پر فارغ ہو کرچلاجائے۔ اگلے مرحلے کے لیے صرف ذی استعداد طلبہ قبول کیے جائیں جن کا اصل مقصد امامت، خطابت، ابتدائی اداروں کی تدریس یا سرکاری اسکولوں کی ملازمت نہیں بلکہ ذرا اعلیٰ سطح کی تدریس ہو۔ یہ مرحلہ بھی تین سے چار سال تک مشتمل ہو سکتاہے۔ مناسب یہ ہوگا کہ یہ اس مرحلہ میں تخصص کے پہلے قدم کے طورپر طلبہ کو دو یا زائد گروپوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کچھ طلبہ جو فقہ اورعلوم فقہ میں تخصص کرناچاہیں، ان کے نصاب کی تفصیلات میں فقہی کتابوں اور مضامین اور فقہی موضوعات میں مہارت اور تخصص پر زیادہ زور دیا جائے۔ جو طلبہ مثلاً علوم قرآن وتفسیر اور علوم حدیث میں تخصص کرنا چاہیں، ا ن کے تجویز کردہ نصاب میں فقہی کتب کی تعداد کونسبتاًکم کرکے حدیث وتفسیر کی کتب شامل کی جائیں۔ لیکن درس نظامی کی موجودہ کتب چند ایک کے اضافے کے ساتھ دونوں گروپوں کے لیے رہنی چاہییں۔ اس سطح پر طلبہ کو اسلامی معاشیات، اسلامی بنکاری، اسلامی بیمہ کاری کے ساتھ ساتھ مغربی افکار اور نظریات کے بارے میں بھی ایک دو کتب لا زمی طور پر پڑھائی جائیں۔ مناسب یہ ہوگاکہ اس مرحلے میں جو طلبہ داخل کیے جائیں، وہ انگریزی زبان سے کسی حد تک واقفیت رکھتے ہوں۔ مغربی افکار سے واقفیت کا بندوبست باقاعدہ نصابی کتب کے ذریعے بھی ہو سکتاہے اور ماہرین کے توسیعی خطبات کے ذریعے بھی۔
مناسب یہ معلوم ہوتاہے کہ اس مرحلے کوبھی دو ذیلی مرحلوں میں تقسیم کیا جائے۔ پہلاذیلی مرحلہ جودوسال پر مشتمل ہو تو وہ تمام طلبہ کے لیے مشترک ہو اور کوشش یہ کی جائے کہ ان دوسالوں کے دوران موقوف علیہ تک کی بنیادی اور اساسی کتب اور مضامین ختم ہو جائیں۔ دوسرا ذیلی مرحلہ حدیث اور تفسیر کے طلبہ کے لیے الگ اورفقہ اوراصول فقہ کے طلبہ کے لیے الگ ہو۔ کچھ مضامین میں دونوں طلبہ شریک ہوں ۔ مثال کے طورپر جامع ترمذی کے درس میں دونوں گروپوں کے طلبہ شریک ہوں۔ اسی طرح آیات احکام یافقہی تفسیر کے متعلق مضامین بھی دونوں گروپوں کے لیے لازمی ہوں ۔ ان دونوں کے علاوہ چند اورمضامین بھی مشترک ہوسکتے ہیں ۔
امید کی جانی چاہیے کہ ہدایہ کے چاروں حصے ابتدائی دوسالوں تک مکمل ہوجائیں گے ۔ اب اگلے دوسالوں کے نصابات میں جو طلبہ آگے چل کر فقہ میں تخصص کرناچاہتے ہیں، ان کے لیے کل مضامین کا آدھا حصہ فقہی مضامین پر مشتمل ہو اور باقی مضامین مشترک ہوں۔ اسی طرح جوطلبہ آگے چل کرحدیث اورتفسیر میں تخصص کرناچاہتے ہیں، ان کے لیے کل مضامین کا کم از کم پچاس فیصد حدیث اور تفسیر پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ان دوسالوں میں فقہ اور اصول فقہ میں آگے چل کر تخصص کرنے والے طلبہ کے لیے نصا ب کاخاکہ اس طرح کا ہو سکتا ہے:
سال اول کی پہلی شش ماہی
۱۔عقود رسم المفتی
۲۔ بدائع الصنائع کے منتخب ابواب، مثلاً کتا ب الزکوۃ ، کتاب النکاح ، کتاب الطلاق۔
۳۔ البحرالرائق کے منتخب ابواب
۴۔ بدایۃ المجتہد (حصہ اول )
۵۔ مجلۃ الاحکام العدلیہ (باب اول)
۶۔مشترک مضامین
۷۔مشترک مضامین
۸۔درس نظامی کی بقیہ کتب
سال اول کی دوسری شش ماہی
۱۔رد المحتار کے منتخب ا بواب
۲۔اصول السرخسی
۳۔بدایہ المجتہد،حصہ اول
۴۔المغنی لابن قدامہ (منتخب ابواب)
۵۔المہذب فی اصول الفقہ المقارن ۔جلد اول
۶۔مشترک مضامین
۷۔مشتر ک مضامین
۸۔درس نظامی کی بقیہ کتب
سال دوم کی دوسری شش ماہی
۱۔نیل الاوطار، منتخب ابواب
۲۔شرح معانی الآثار
۳۔احکام القرآن للجصاص
۴۔المہذب فی اصول الفقہ المقارن، جلد دوم
۵۔المستصفی للغزالی (از آغاز تانہایت قطب ثانی )
۶۔مشترک مضامین
۷ ۔مشترک مضامین
۸۔درس نظامی کی بقیہ کتب
ان دو مرحلوں کی کامیا ب تکمیل کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد فارغ التحصیل ہو جائے گی۔ وہ متداول در س نظامی کی تمام اہم کتابیں اور بنیادی مضامین پڑھ چکی ہوگی۔ ان کے علاوہ اوربھی متعدد مضامین سے ضروری واقفیت حاصل کر چکی ہوگی۔ اب صرف وہ ذی استعداد طلبہ رہ جائیں گے جو اس مرحلہ پر بھی بہت ممتاز اور نمایا ں رہے ہوں۔ ان کو تخصص کی سطح کی تعلیم کے لیے منتخب کیا جائے۔ گویا اگر ادارے میں ابتدائی مرحلے میں ایک سو طلبہ داخل ہوئے ہوں تو ان میں سے پہلے مرحلے میں یعنی ثانوی تعلیم کے چار سال کی تکمیل پر کم از کم پچاس طلبہ کو فارغ کردیاجائے ۔ بقیہ پچاس طلبہ میں سے کم ازکم نصف یعنی پچیس اگلے مرحلے یعنی مزیدچارسال کی تکمیل پر فارغ کردیے جائیں اور تخصص کے مرحلے پر صرف ایک چوتھائی طلبہ کو قبول کیا جائے۔ یہ بات کہ ہرطالب عالم کوآخرتک ہر چیز پڑھائی جائے، نہ مناسب ہے اورنہ قابل عمل۔نہ ہر طالب علم کی یہ استعداد ہے اورنہ اس کی ضرورت ہے کہ اس کو آخری سطح تک ادارے سے وابستہ رکھنے پر اصرار کیا جائے۔
یوں تو تخصص کی ضرورت مختلف میدانوں میں ہے لیکن خاص طورپر درج ذیل شعبوں میں تخصص کی ضرورت آج انتہائی شدید ہے:
۱۔تفسیر اورعلوم قرآن
۲۔حدیث اورعلوم حدیث
۳۔فقہ اوراصول فقہ
۴۔افتا اورقضا
۵۔عقیدہ اور کلام
۶۔اسلامی معیشت وتجارت
۷۔تقابل ادیان
۸۔فکر جدید اور مطالعہ مغرب
۹۔اسلام اور اسلامی تہذیب عصرجدید میں
۱۰۔عربی زبان وادب
تخصص کاپروگرام کسی صورت میں بھی تین سال سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ ان تین سالوں میں ابتدائی دوسال باقاعدہ نصابات اور مقررہ کتب کی تدریس کے لیے وقف ہوں، اور تیسرا سا ل تحقیقی مقالہ اور اپنے موضوع سے متعلق چند مضامین کی، جن کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہ ہو، تدریس پر مشتمل ہونا چاہیے۔
تخصص کی سطح پر متعلقہ میدان میں مغربی مفکرین نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے طلبہ کوگہری واقفیت ہونی چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ تخصص تک پہنچنے والے تمام طلبہ انگریزی کتب اور تحریروں سے بسہولت استفادہ کرنے کے اہل ہوں گے۔
تخصص کی سطح پرمضامین، موضوعات اورکتب کا تعین کرنے کے لیے تین معیارات کو پیش نظر رکھنا چاہیے:
۱۔ متعلقہ میدان تخصص کے بارے میں اکابر اسلام کی نمایاں خدمات اور ان کے اساسی کام سے طلبہ براہ راست واقف ہو جائیں۔
۲۔ متعلقہ میدان تخصص میں جو جو توسیعات اور ترقیاں ہوئی ہیں، ان سے طلبہ براہ راست مانوس ہو جائیں۔
۳۔ متعلقہ میدان تخصص کی موجود ہ صورت حال پورے طورپر طلبہ کو گرفت میں ہو،یعنی بیسویں صدی میں اس موضوع پر مسلمان اہل علم کا نمایاں کام کیا ہے، مغربی مستشرقین نے اس بار ے میں کیا کہا ہے اور مستشرقین کے اثرات کے تحت دنیاے اسلام میں جو رجحانات پیدا ہوئے ہیں، ان سے کس طرح عہد ہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔
مثال کے طورپر فقہ اور اصول فقہ میں تخصص کے لیے ضروری ہوگا کہ ا بتدائی دوسالوں میں جو نصاب پڑھایا جائے، وہ متقدمین کی کتابوں سے لے کر متاخرین تک ہردور کی نمائندہ کاوشوں پر مشتمل ہو۔ اس سطح پر فقہ اسلامی کاتقا بلی مطالعہ ناگزیر ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج دنیاے اسلام میں مختلف فقہی مسالک کا ایک دوسرے سے ارتباط اور احتکاک ہو رہا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں تقریباً ہر فقہی مسلک سے وا بستہ مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کاایک دوسرے سے روزانہ کوئی نہ کوئی فقہی واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ ان حالات میں فقہ کے متخصصین کواپنے فقہی مسلک کے علادہ دوسرے مسالک سے کسی قدر واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کام کے لیے ا بن رشد کی بدایہ المجتہد کے علاوہ دوسرے فقہی مسالک کی بعض منتخب کتب کے ابواب طلبہ کو پڑھانے چاہییں۔ اسی طرح اصول فقہ کا تقابلی مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔ ایک معاصر سعودی عالم نے ’’المہذب فی اصول الفقہ المقارن‘‘ کے نام سے تقابلی اصول فقہ پر ایک جامع کتاب پانچ جلدوں میں تیار کی ہے۔ وہ اس مرحلے پر بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
فقہ میں تخصص کے طلبہ کے لیے انگریزی اصول فقہ، ضابطہ فوجداری ودیوانی، تعزیرات پاکستان اور پاکستان کے آئین اور دو ایک منتخب قوانین کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ان قوانین کے مطالعے کامقصد طلبہ کووکیل یاانگریزی قانون کاماہر بنانا نہیں بلکہ اس طرز فکر سے واقف کرانا ہے جس کی بنیاد پر انگریزی قوانین مرتب ہوئے ہیں۔ اگر تخصص فی الفقہ کامقصد اور ہدف ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے عمل میں حصہ لینا اور اس مقصد کو آگے بڑھا ناہے تو ملک کے قانون، عدالتی نظام اور دستوری نظام سے واقفیت ضروری ہے۔
تخصص کی سطح پر امیدکی جانی چاہیے کہ طلبہ اعلیٰ استعداد کے حامل ہوں گے اور ان کو کوئی کتاب سبقاً سبقاً اول سے لے کر آخر تک پڑھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سطح پر استاذ کا کام رہنمائی کرنا اور طلبہ کا کام از خود مطالعہ ہونا چاہیے۔ تعلیم کے دوسالوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ یہ چاروں حصے پانچ پانچ مہینوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ پانچ مہینوں کی اس مدت میں ایک طالب علم پانچ سے سات موضوعات تک بآسانی مطالعہ کر سکتا ہے۔ اس مرحلے پر پوری پوری کتابیں سبقاً سبقاً پڑھانے کے بجائے امہات الکتب کے منتخب ابواب پڑھائے جائیں۔ ایک مضمون کااستاذ ہفتے میں تین یا چار مرتبہ طلبہ کو درس یا رہنمائی کے لیے دستیاب ہو اور بقیہ اوقات میں طلبہ ازخود مطالعہ کریں اور مطالعہ کے نتائج کو تحریری طور پر مرتب کریں۔ یہ اسلوب انگریزی اور ملکی قانون کے مطالعہ میں بہت آسانی سے اختیار کیا جا سکتا ہے۔
یہاں مختلف موضوعات اور میدا نوں میں تخصص کی مکمل اسکیم کی نشان دہی قبل از وقت ہوگی۔ اگر ان گزارشات سے فی الجملہ اتفاق ہو تو آغاز سے انتہا تک ایک مکمل نقشہ تجویز کرنا ہوگا۔ بنیاد اور ڈھانچہ کی تعمیر سے قبل اونچی منزلوں کی تعمیر کاکام اور اس کی تجاویز غیر مناسب ہیں۔ ان صفحات میں تخصص کے لیے دس میدان تجویز کیے گئے ہیں۔ کسی ایک ادارہ کے لیے ان سب میں بیک وقت تخصص کا پروگرام شروع کرنا نہ قا بل عمل ہے اور نہ مناسب۔ بہتر یہی ہوگا کہ پہلے قدم کے طورپر بڑے بڑے دینی ادارے ایک ایک یا زیادہ سے زیادہ دو دو میدانوں میں تخصص کا پروگرام شروع کریں اور آہستہ آہستہ دوسرے شعبوں کی طرف قدم بڑھائیں۔
وفاق المدارس کی طرف سے ایک مستقل نظامت اعلیٰ برائے تخصصات شرعیہ قائم کی جانی چاہیے جو تخصص کا نصاب اور نظام وضع کرے۔ وفاق کی اجازت اور منظوری کے بغیر کسی ادارہ کو تخصص کا شعبہ قائم کرنے کی اجازت نہ ہونی چاہیے۔ جہاں ایسے شعبے قائم ہوں، ان کی نگرانی مذکورہ نظامت اعلیٰ کرے اور معیار کی پابندی کویقینی بنائے۔
ان صفحات میں اگرچہ گفتگو تخصص کے بارے میں کی گئی ہے، لیکن دواہم باتوں کی نشاندہی کی اجازت چاہتا ہوں۔ ان دونوں باتوں کا تخصص کے پروگراموں کی کامیابی سے بھی اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ تعلق ضرور ہے۔ میری مراد عربی اور فارسی زبان کی تدریس سے ہے۔
عربی زبان کی تدریس
مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجیے کہ بیشتر دینی مدارس میں عربی زبان کی تدریس کا موجودہ نظام، نصاب اور انداز انتہائی ناقص، غیر تسلی بخش اور ناقابل قبول ہے۔ عربی فارسی سے نابلد طلبہ فارسی کے ذریعے عربی صرف ونحو کے ضروری قواعد حفظ کرتے ہیں، پھر عربی کی ازکار رفتہ اور فضول کتابوں کے ذریعے عربی صرف ونحو میں ’’مہارت‘‘ حاصل کرتے ہیں اور اس نامکمل اور انتہائی ناقص علم کے چند صفحات کو رٹ کر عربی زبان واد ب کے ماہرین بن جاتے ہیں۔ میں اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر عرض کرتاہوں کہ مدارس میں عربی ادب کی ان کتا بوں کی سالہاسال تدریس کرنے والے اساتذہ میں سے بیشتر ان کتا بوں کے درسی اجزا کے علاوہ عربی زبان واد ب کے پورے ذخیرہ سے ناواقف رہتے ہیں۔
عر بی ز بان، جودنیا کی سب سے زیادہ دقیق اورسائنٹفک ز بان ہے، عربی ذخیرۂ الفاظ جو دنیا کی ز بانوں کا سب سے وسیع ذخیرہ الفاظ ہے، عربی صرف ونحو جس کا مقابلہ شاید ہی کسی زبان کی صرف ونحو کرسکے، دینی مدارس کے علما کی بڑی تعداد کے لیے ایک بند دروازہ ہی رہتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عربی ز بان کی تدریس میں ندوۃالعلما کاتجربہ بہت کامیا ب اورشاندار رہا ہے۔اس تجربہ نے گزشتہ نصف صدی سے زائد کے عرصے میں اپنی افادیت اورخوبی کو اچھی طرح ثابت کردیا ہے ۔ لہٰذاعربی ز بان کی تدریس کے پورے نصاب ونظام پرندوہ کے تجر بہ کی روشنی میں نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ندوہ کی مرتب کردہ ابتدائی کتا بیں وسطانی مدار س میں پڑھائی جانی چاہییں۔ مزید برآں عربی نثر کی عمدہ کتا بوں کے منتخب حصے نصا ب میں شامل ہونے چاہییں۔ عربی شعر میں بھی متعدد مجموعے ایسے دستیاب ہیں جو حماسہ اور سبعہ معلقہ سے پہلے پڑھا دیے جائیں توزبان کااچھا ذوق پیدا ہو سکتا ہے۔
عربی نثر میں سیرت ا بن ہشام، البدایہ والنہایہ اور مقدمہ ا بن خلدون کے منتخبات پر مشتمل ایک ترتیب دے دی جائے اور نفحۃ العرب کے بعد پڑھائی جائے تو عربی نثر کی اچھی بنیاد بن سکتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں مقامات حریری کی تدریس محض وقت کا ضیاع ہے۔ زیادہ سے زیادہ دوتین مقامے نمونے کے طورپر پڑھا دینا کافی ہے۔
فارسی زبان کااہتمام
برصغیر میں ایک طویل عرصہ تک دینی علوم وفنون کی تدریس فارسی ز بان میں ہوتی رہی ہے۔ فارسی ہی جنوبی ایشیا اور افغانستان کی علمی اور ثقافتی زبان رہی ہے۔ ہندو پاکستان کے دینی مدارس میں ابتدائی تعلیم بھی فارسی ہی میں ہوتی تھی۔ اگرچہ فارسی کو ذریعہ تعلیم بنانا اور دینی وعربی علوم کے لیے فارسی زبان کو استعمال کرناا ردو کے رواج پا جانے کے بعد غیر موزوں اور غیر مفید تھا، لیکن فی نفسہ فارسی زبان وادب کی ضروری تعلیم میں بہت افادیت تھی۔ طلبہ برصغیر کے دینی ورثہ سے واقف ہو جاتے تھے۔ برصغیر کے دینی اکابر کی تحریروں تک ان کو رسائی حاصل ہوجاتی تھی۔ لیکن گزشتہ تیس چالیس سال سے فارسی کومکمل طورپر ختم کردینے کے رجحان سے بہت نقصان ہو ا ہے۔ آج بہت سے علما کے لیے مجد د الف ثانی اورشاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسے اکابر کی کتابیں ناقابل فہم ہوگئی ہیں۔ فارسی زبان کے ذریعے اخلاق، تہذیب اور روحانیت کا جو عنصر نصاب تعلیم کی بنیادوں میں شامل ہو جاتا تھا، اس سے طلبہ قریب قریب محروم ہو گئے ہیں۔
ان حالات میں فارسی ز بان کی (بطورایک مضمون کے) تدریس کا احیا کرناضروری ہے ۔ اگرابتدائی دینی مدارس میں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ اردو، فارسی، حساب اور معاشرتی علو م کے مضا مین شا مل کر دیے جائیں تو پانچ سال کی مدت میں طالب علم قرآن مجید کا حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اردو اور فارسی کی ضروری استعداد کا حامل ہو سکتا ہے بلکہ ضروری حسا ب اور ابتدائی ریاضی سے بھی واقف ہو سکتا ہے۔
وسطانی مدارس میں فارسی کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اگرطالب علم ابتدائی مدارس میں آمدنامہ، گلزار د بستان، کریما، پندنامہ، گلستان اور بوستان پڑھ چکا ہو (جو ایک گھنٹہ روزانہ کے حسا ب سے چار سال میں بہت آسان ہے) تو وسطانی مدارس میں مثنوی مولانا روم کے منتخبات، بہار ستان جامی، کشف المحجوب، امام غزالی کی کیمیائے سعادت کے منتخب ابواب پڑھانا مشکل نہ ہوگا۔ پھر ثانویہ عامہ اور عالیہ میں حضرت مجدد الف ثانی کے بعض منتخب مکتوبات اور مولانا اسماعیل شہید کی منصب امامت کو شامل کرنا آسان ہوگا۔ حضرت مجدد کے بعض طویل مکتو بات عقائد اورتصوف کے بنیادی اورمہتم بالشان مسائل کے بارے میں انتہائی عالمانہ اور وقیع مباحث پر مشتمل ہیں اوراچھی خاصی کتاب کی ضخامت کے برابر ہیں۔ ایسے چند مکتوبات کو نصا بی کتاب کے طور پر پڑھایا جا سکتا ہے۔
اسلام کا تصور علم اور دینی مدارس کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب-)
علم انسان کا وہ امتیاز ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور معلّم وہ منصب ہے جسے سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماکر اپنے تعارف کے طورپر پیش کیا کہ ’انما بعثت معلما‘ (میں معلم اور استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں)، جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراء ت، قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اسلا م میں تعلیم کے مشغلہ اور معلم کے منصب کو ہمیشہ عزت اور وقار کا مقام حاصل رہاہے اور دنیا کی ہر مہذب اور متمدن قوم میں معلم کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ البتہ اسلام نے معلم خیر اور معلم شر کا فرق ضرور کیا ہے اورعلم کو نافع اور ضار کے شعبوں میں تقسیم کرکے خیرو نفع کے معلم کو فضیلت ووقا ر کے مقام سے نوازا ہے جبکہ شر اور ضرر کا باعث بننے والے علوم کی مذمت کرتے ہوئے ان کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ شیطان بھی اصل میں ایک معلم ہی تھا لیکن چونکہ اس نے شر اور ضرر کا راستہ اختیار کرلیا تھا، اس لیے راندۂ درگاہ قرار پایا اور قیامت تک کے لیے لعنت کا طوق اس کی گردن میں پڑ گیا۔
اسلام علم برائے علم کا قائل نہیں ہے بلکہ صرف ان علوم کو اپنے تعلیمی نظام کے دائرہ میں جگہ دیتا ہے جو انسان اور انسانی سوسائٹی کے لیے نفع اور خیر کا باعث ہوں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو اور اس نوعیت کے دیگر علوم کی فنی اور واقعاتی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تعلیم وتعلّم سے منع فرمایا ہے، بلکہ قرآن کریم نے تو جائز علوم کی بھی درجہ بندی کرکے یہ اصول پیش کیا ہے کہ ہرعلم ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہے، بلکہ ذہنی سطح، منصبی فرائض اور مقام وحیثیت کو ملحوظ رکھ کر تعلیم وتعلّم کے لیے مضامین کے انتخاب کی سمت قرآن کریم نے راہنمائی فرمائی ہے جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ‘ (ہم نے آپ کو شعروشاعری نہیں سکھائی اور وہ آپ کے لیے مناسب بھی نہیں ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی علم کا حصول صرف اس لیے ضروری یا مناسب نہیں ہوجاتا کہ وہ علم ہے بلکہ ضرورت ومناسبت کے لیے یہ بھی دیکھنا پڑتاہے کہ علم حاصل کرنے والے کو اس کی عملی زندگی میں اس علم کی کس حد تک ضرورت ہے اور وہ اس کے لیے کس درجہ میں مناسب حال ہے۔
اسلام نے علم کو نافع اور ضار کے درجوں میں تقسیم کیاہے۔ یہ نفع وضرر دنیا اور آخرت دونوں حوالوں سے ہے اور آج کے عالمی تعلیمی نظام اور اسلا م کے فلسفہ تعلیم میں یہی جوہری فرق ہے کہ آج کی دنیا کے نزدیک نفع وضرر صرف اس دنیا کے حوالے سے ہے۔ جو بات اس دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے اور شخصی، طبقاتی یا اجتماعی زندگی کی کامیابی کے لیے مفید ہے، وہ تعلیمی نظام کا حصہ ہے لیکن اسلام اس دنیا کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ آخرت کی فوزو فلاح اور اس ابدی زندگی میں نجات کو اپنے تعلیمی وتربیتی نظام کا اساسی ہدف قرار دیتا ہے۔ اسلام اس دنیا کی زندگی اور اس کی بہتری اور کامیابی کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کے لیے ہر جائز صورت کو اختیار کرنے کی اجازت بلکہ بعض صورتوں میں حکم دیتاہے مگر اس شرط اور ترجیح کے ساتھ کہ دنیا کی زندگی کی آسائش، سہولتیں اور اس کی بظاہر بہتری کی کوئی صورت انسان کی اخروی زندگی میں اس کے لیے خرابی کا باعث نہ بن جائے اور دنیاوی زندگی کی سہولتیں اخروی نجات کی قیمت نہ ہوں۔
میری طالب علمانہ رائے میں اسلام نے علوم کو دنیاوی اور دینی حوالے سے تقسیم نہیں کیا بلکہ نفع وضرر کو علوم کی تقسیم کا باعث سمجھا ہے اور یہ نفع وضرر دنیا اور آخرت دونوں حوالوں سے ہے۔ اس لیے جو علوم انسان کے لیے فرد اور معاشرہ کے دونوں دائروں میں اس کی آخرت کی نجات اور فوزو فلاح اور دنیا کی زندگی کوزیادہ سے زیادہ بہتر، پر امن اور باسہولت بنانے کے لیے مفید ہے، وہ اسلام کی نظر میں مطلوب علم ہے، اور جو علم ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے لیے نقصان کا باعث بنتاہے، وہ علوم ضارہ میں شمار ہوتاہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اسی سمت ہماری راہ نمائی کرتی ہے کہ ’’اے اللہ !مجھے وہ علم عطا فرماجو نفع بخش ہواوراس علم سے محفوظ رکھ جو ضرر کا باعث ہویا نفع بخش نہ ہو۔‘‘ میں سمجھتاہوں کہ ہمارے دینی مدارس میں تعلیم کا انتظام کرنے والے ارباب بست وکشاد اور تعلیم وتدریس کا فریضہ انجام دینے والے اساتذہ کو آج کے عالمی ماحول میں اس کے تعلیمی فلسفہ ونظام کی اس بنیاد اور امتیاز کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے زیر تعلیم اور زیر تربیت افراد کو ایک بہتر انسان اور مسلمان کے طور پر اچھی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ پوری انسانی سوسائٹی کے سامنے اسلا م کے صحیح نمائندہ کا مقام دے سکیں۔
اب سے کم وبیش ڈیڑھ سو سال قبل جب ہمارے معاشرہ میں دینی مدارس کا یہ نظام وجود میں آیاتھا، اس وقت ہمارے بزرگوں کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا ادارہ موجود رہے اور اسے امام، حافظ، قاری، مدرس، مفتی اور خطیب کے طور پر رجال کار ملتے رہیں تاکہ مسلما نوں کی عبادات اور دینی تعلیم کے ماحول اور تسلسل کو باقی رکھا جاسکے اور اس میں کوئی تعطل یا رکاوٹ نہ ہو۔ بحمد اللہ ہمارے دینی مدارس اپنے اس مقصد او رہدف میں کامیاب ہیں اور آج بھی اس پورے خطے میں مسجد ومدرسہ کے ادارے کے لیے ضروری رجال کار یہ دینی مدارس فراہم کررہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ضروریات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی دینی راہ نمائی کا تقاضا بڑھ رہا ہے جو نہ صرف یہ کہ وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح آج کی گلوبل دنیا اور مستقبل کا بین الاقوامی ماحول ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہم اپنے محدود اور مقامی وعلاقائی ماحول کا اسیر رہنے کی بجائے عا لمیت، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامیت کے تقاضوں اور ضروریات کو بھی سمجھیں اور اس کے لیے اپنے تعلیمی نصاب اور تربیتی نظام میں جس ردوبدل اور تنوع کی ضرورت ہو، اس سے گریز نہ کریں تاکہ دینی مدارس اپنے مستقبل کے کردار کو امت مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکیں۔ ہمارے اکابر نے ہر دو ر میں یہ عمل سرانجام دیاہے اور آج بھی یہ عمل ہم سے پیش رفت کا متقاضی ہے۔ ان تمام امور کے حوالہ سے سب سے پہلی ضرورت دینی مدارس کے اساتذہ کو اس طرف توجہ دلانے، انہیں وقت کے تقاضوں اور مستقبل کی ضروریات سے آگاہ کرنے اور فکری، علمی اور فنی طورپر اس کے لیے تیار کرنے کی ہے اور اسی مقصد کے لیے اس ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ ہم باہمی مشاورت اور تبادلہ خیالات کے ذریعہ اس سلسلے میں کوئی قابل عمل پروگرام وضع کرسکیں۔
فضلائے مدارس کے علمی و روحانی معیار کا مسئلہ
مولانا عبد الحق خان بشیر
(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب۔)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
صدر گرامی قدر ، معزز علماے کرام!
اساتذہ کی تربیت کے سلسلے میںیہ نشست منعقد کی گئی ہے۔ اگرچہ میں تدریس کی لائن کا آدمی نہیں ہوں، لیکن چونکہ مدارس کے اندر وقت گزارا ہے، اس لیے چند باتیں عرض کروں گا۔
ایک مسئلہ ہے نصاب میں تبدیلی کا تو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، حضرت شیخ الہندؒ اور امام انقلا ب مولانا عبید اللہ سند ھی ؒ کے دور سے نصاب میں تبد یلی کی ضرورت بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے اور اپنے طور پر کوششیں بھی ہوئی ہے کہ اس نصا ب میں کچھ ایسی ترامیم کی جائیں جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو ں۔ حضرت حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے بارے میںآتاہے کہ بحری سفر کے دوران ایک جرمن سے ان کی گفتگو ہوئی۔ وہ انگلش جانتا تھا، عربی نہیں جانتا تھا۔ حضرت نانوتویؒ عربی جانتے تھے، انگلش نہیں جانتے تھے۔ درمیان میں ترجمان مقرر کرنا پڑا تو اس وقت حضرت نانوتویؒ نے ارادہ ظاہر کیا کہ واپسی پر میں سب سے پہلے انگلش سیکھوں گا۔ گویا حضرت نانوتو ی ؒ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ وقت کے تقاضوں کے مطا بق علما کے لیے انگلش کا جاننا بھی ضروری ہے۔ حضرت امام انقلاب مولانا عبید اللہ سند ھی ؒ نے تو اس کی طرف خصوصی توجہ دی۔ حضرت سندھی ؒ کا موقف یہ تھا کہ ہمارے نصاب کے اندر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتابو ں کو خاص اہمیت دی جانی چاہیے، کیونکہ ان کتابوں کے اندر وقت کے تقاضوں کے مطابق وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کی آگے علما کو ضرورت پیش آسکتی ہے۔
ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ نصاب کا ہے۔ اس کے بعد بڑا مسئلہ نظام کا ہے، لیکن وہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت ہمارا موضوع ’’دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی تربیت اور اس کے تقاضے ’’ہے کہ اساتذہ جو ہمارے دینی مدارس میں پڑھانے کے لیے مقرر ہیں، کیا وہ اپنا حق ادا کر رہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر وہ اپنا حق ادا کر رہے ہوتے تو آج قحط الر جال کا دور نہ ہوتا۔ ہمیں ایک مدرس کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں بیسیوں مدارس سے رابطہ کرنا پڑتا ہے ۔ باوجود اس کے کہ ہر سال ہزاروں علما فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پھر بھی ان میں سے تدریس کے منصب پر بیٹھنے والے بہت کم ہوتے ہیں اور ہمیں ان کی تلاش کرنا پڑتی ہے۔ اور اب تو حالت یہ ہے کہ اوپر میز پر استاد نے کتاب کھولی ہوتی ہے اور نیچے دراز میں شرح کھولی ہوتی ہے۔ کبھی کتاب کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی شرح کی طرف دیکھتا ہے اور سبق پڑھاتا ہے۔ ایسے استاد سے کوئی شاگرد اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوال کا اظہار کرے گا تو اسے ڈانٹ نہیں پڑے گی تو اور کیا ہوگا؟ اس کیفیت میں نہ وہ شاگرد اپنے استاد سے استفادہ کر سکتا ہے اور نہ استاد ہی اپنا فیض اسے منتقل کر سکتا ہے ۔
کسی بھی استاد کے لیے سب سے بنیادی اورضروری بات یہ ہوتی ہے کہ وہ طلبا کی نفسیات کو سمجھتا ہو۔ جو استاد طلبا کی نفسیات سے واقف نہ ہو، وہ صحیح طور پر تعلیم نہیں دے سکتا۔ استاد کو معلوم ہونا چاہیے کہ میری کلاس کا فلاں طالب علم کتنی استعداد کا مالک ہے، اس میں کس قدر صلاحیتیں ہیں، اس کی ذہنی کیفیت کیا ہے۔ میں نے محدث کبیر حضرت علامہ انور شاہ صاحب کاشمیری ؒ کے بارے میں پڑھا ہے کہ حضرت کبھی اپنے طلبہ کا امتحان نہیں لیتے تھے۔ ان کو اپنی کلاس کے ایک ایک طالب علم کی ذہنی استعداد کا پتہ ہوتا تھا، حالانکہ ان کی کلاس میں سینکڑوں طلبہ ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب امتحان کا وقت آتا ، علامہ کاشمیری ؒ رجسٹر دیکھتے اور امتحان لیے بغیر وہیں بیٹھ کرنمبر لگا دیتے تھے، اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ اس طالب علم کی استعداد کیا ہے اور اس کی نفسیات کیا ہے۔
چونکہ دینی تعلیم کا تمام تر انحصار روحانیت پرہے، اس لیے دینی تعلیم کا حق وہی مدرس صحیح طور پر ادا کر سکتا ہے جس میں روحانیت، خشیت اور اخلاص پورے طور پر موجود ہے۔ اور اگر کوئی مدرس روحانیت سے خالی ہے تو چاہے وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، وہ دینی تعلیم کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس سے مجھے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ حضرت سے کسی نے پوچھا کہ جب آپ بیان کرتے ہیں تو عجیب وغریب نکات بیان کرتے ہیں۔ آپ نے کون سی کتابیں پڑھی ہیں؟ تو حضرت تھانوی ؒ نے فرمایا کہ میں نے تین کتابیں پڑھی ہیں، انہی کتابوں کا فیض میرے اندر موجود ہے۔ ان میں سے پہلی کتاب کا نام ہے حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ ، دوسری کا نام حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، اور تیسری کتاب کانام مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ ان چلتی پھرتی کتابوں کے فیض یافتہ تھے اور اگر تعلیم کا تعلق پریکٹیکل کے ساتھ ہے تو استا د کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ طلبا اپنے استاد کے صرف الفاظ پر نہیں بلکہ طرزعمل پر بھی نگاہ رکھتے ہیں۔
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ آج ہم اپنے دینی مدارس میں اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ہمارے نظام تعلیم کی کوتاہیاں ہمیں مسلسل زوال کی طرف لے کر جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس خانقاہی نظام سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنے خانقاہی مدارس سے ہی روحانیت ملتی تھی، ہمارا تزکیہ ہوتا تھا، ہم میں خلوص اور للہیت پیدا ہوتی تھی، لیکن خانقاہی مدارس کے ختم ہونے کے بعد اب اگرچہ ممکن ہے کہ ہمیں اچھا بخاری شریف پڑھانے والا مل جائے، اچھا مسلم شریف پڑھانے والا مل جائے، اچھاجامی وکافیہ پڑھانے والا مل جائے، لیکن ایسا مدرس جو طلبا کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہو، ایسے مدرس ہمارے ہاں بہت کم ہیں، اس لیے کہ ہمارے مدارس میں روحانی تربیت باقی نہیں رہی۔ تو نصاب کی وجہ سے علمی طور پر زوال تو آ ہی رہا تھا، اب خانقاہی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے روحانی زوال بھی آرہا ہے۔
معلم کا منصب اور اس کے فنی و اخلاقی تقاضے
مولانا عبد الرؤف فاروقی
(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب۔)
نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فا عوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اقرا باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔
میں نے جو آیات مبارکہ پڑھی ہیں، ان میں کہاگیا ہے: اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم۔ تعلیم بالقلم، یہ طریقہ تدریس ہے ۔اللہ تعالیٰ نے خود کو جب معلم کہاہے کہ میں نے تعلیم دی ہے تو یہ کہا کہ بالقلم ، ایک واسطہ اور سبب استعمال کیا ہے اور وہ قلم ہے۔ چنانچہ مدرسین کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ علم دینے کے لیے ان مفید ذرائع کو استعمال کریں اور اپنے مدرسے کے منتظمین سے یہ درخواست کریں کہ میں اپنے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مستفید کرنا چاہتا ہوں، مجھے یہ چیزیں مہیا کی جائیں۔پہلے بلیک بورڈ ہوا کرتا تھا، اس پر چاک کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ اب وائٹ بورڈ آگیا ہے، اس پر مارکر کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ بڑے آسان طریقے آگئے ہیں تو اگر اس کو استعمال کرنے کی تھوڑی سی مشق کرلی جائے تو اس پر کوئی اسکول وکالج کی اجارہ داری نہیں ہے کہ وہ استعمال کرسکتے ہیں اور ہم نہیں، یا وہاں اس کو استعمال کیا جاسکتاہے، یہاں نہیں۔ آپ صرف ونحو پڑھا رہے ہیں، آپ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا رہے ہیں، آپ حدیث مبارکہ پڑھا رہے ہیں، اس کے لیے وہ چیز جو سمجھ میں نہیں آرہی، اس کو اگر آپ وائٹ بورڈ کے ذریعے اپنے طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کریں یا کسی کو سمجھا تے ہوئے دیکھ لیں تو آپ کو خود بخود ان شاء اللہ اس کا طریقہ آجائے گا۔اس کا استعمال طریقہ تدریس میں اور تربیتی کام میں ضروری ہے۔
جب ہم پڑھتے تھے تو اس وقت ایک درجے میں دس پندرہ طلبہ ہوا کرتے تھے۔اب ایک درجے میں ڈیڑھ سو تک طلبہ ہوتے ہیں، یعنی مدارس بھی بڑھے ہیں اور مدارس میں طلبہ کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ایک استاذ ایک گھنٹے میں ڈیڑھ سو طلبہ کی نفسیات کے ساتھ کس طرح نباہ کرے گا؟ جامعہ اشرفیہ میں جب میں پڑھتاتھا تو ایک درجے میں بارہ، تیرہ طلبہ تھے۔ اب وہاں میرا بیٹا پڑھتا ہے، اس کے درجے میں طلبہ کی تعداد ۱۴۵ ہے۔ استاذکا تعلق اپنے طلبہ کے ساتھ صرف پون گھنٹے کا ہے، اپنے فن کے اعتبار سے۔ اس کے بعد استاذ چور دروازے سے اپنے گھر چلا جاتا ہے اور طالب علم اپنے ہاسٹل اور دارالاقامہ میں چلا جاتا ہے۔ باقی چوبیس گھنٹے طلبہ کا اپنے اساتذہ کے ساتھ ربط ضبط نہیں ہوتا۔ اب ایک استاذ ڈیڑھ سو طلبہ کی نفسیات کا کیسے مطالعہ کرے گا اور وہ کیسے ان کی نفسیات سے واقف ہوگا؟ اس لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ ہم چالیس چالیس طلبہ کی کلاسیں بنالیں، ایک ہی درجے کے چار پانچ فریق بنا لیے جائیں۔ اس طرح استاذ کو اپنے ہر ایک طالب علم کی نفسیات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور وہ ہر ایک پر ذاتی توجہ دے سکے گا۔ جب کلاس کم ہوگی تو آپ دھیان رکھ سکیں گے کہ کون متوجہ ہے اور کون متوجہ نہیں ہے، کون جاگ رہا ہے اور کون بین النوم والیقظۃ ہے۔ ہمارا آٹھ سال کا جو دورانیہ ہے، اس میں تعلیم تو روزانہ چھ گھنٹے ہوتی ہے۔ ان چھ گھنٹوں میں میرا خیال ہے کہ اکثر طلبہ دو گھنٹے جاگ کر اور چار گھنٹے سو کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اساتذہ کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ اس قطار کے پیچھے جو حضرات ہیں، وہ کیا کر رہے ہیں۔ رقعے بازی ہو رہی ہے یا کتاب کھولی ہوئی ہے اور اپنے گھر والوں کو خط لکھ رہا ہے۔ لیکن اگر طلبہ کی تعداد کم ہوگی تو استاذ ہر ایک طالب علم کے تمام معاملات کو دیکھ رہا ہوگا۔
آپ مدرس ہیں یا مدرس بننے جا رہے ہیں تو آج آپ یہ طے کریں کہ جب میں مدرس بنوں گا تو اپنے شاگرد کے علم وفن، اس کی اخلاقی تربیت اور اس کے مدرسے کے جو مسائل ہیں، ان میں وہ میری اولاد کی طرح ہے۔ جس طرح گھر میں آپ کو چار پانچ بچوں کی تمام ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں، اسی طرح مجھے اپنے طلبہ کی تمام ضروریات پوری کرنا ہیں۔ ایک باپ کی حیثیت سے اپنی کلاس کو دیکھیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک کامیاب معلم ہیں۔
تکرار کا ہمارے ہاں جو ماحول تھا، وہ اب آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔اس کا بہترین حل یہ ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ اذا تکرر الکلام علی السمع تقرر فی القلب، ایک پون گھنٹے میں جتنا سبق ہمیں پڑھایا جاتا تھا، دس منٹ میں پڑھا کر فارغ کر دیا۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ باقی آدھا گھنٹہ فارغ رہتا ہے۔ اگر وہ آدھا گھنٹہ فارغ نہ رہے، ایک استاذ کو چالیس پینتالیس منٹ کا جو وقت دیا گیاہے، اگر وہی پون گھنٹہ استاذ اس سبق کو بار بار دہرائے اور طلبہ سے بھی اس کا اعادہ کروائے تو تکرار کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور ہم جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس انگریزی سیکھنے کے لیے یا کمپیوٹر سیکھنے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے وقت نہیں بچتا تو اس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ جتنا کام کسی فن کا ہم چوبیس گھنٹے میں کرتے ہیں، وہ چالیس منٹ میں ہوسکتاہے اگر ہم کلا س کی جتنی ضروریات ہیں، ان کو پورا کردیں۔ ایک مدرس ہونے کی حیثیت سے آپ اس کا تجربہ کریں شروع میں کتاب کے متعلق جو بنیاد بن جاتی ہے وہ آخر تک قائم رہتی ہے ۔منتظمین کی طرف سے آپ کو جو چالیس ،پینتالیس منٹ کا پیریڈ دیا گیا ہے، آپ اس کا استعمال اس طرح کریں کہ آپ سبق پڑھائیں تو پھر دوبارہ اس کا اعادہ کریں اور دوتین دفعہ دوتین طلبہ سے سنیں۔ کبھی کسی سے، کبھی کسی سے، تو ہر طالب علم اپنا سبق چوکنا ہو کر سنے گا۔اب تو ایسے اسکول آگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ بستہ بھی گھر لے جانے کی ضرورت نہیں۔ بستہ یہاں رہے، بچہ صبح اسکول آئے اور شام کو گھر چلا جائے۔ گھر کا جتنا کام ہے، ہم اس کو یہاں کرائیں گے۔ باقی وقت وہ ٹی وی دیکھتا ہے، کھیلتا کودتا ہے۔ تو اگر ہم جدید طریقہ ہائے تدریس سے کچھ استفادہ کریں تو ہمارے بچوں کے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کو اپنے آپ پر مسلط کر لیں۔
طریقہ تدریس میں ہمارے ہاں تکرار اور مطالعے کا جو ماحول ہے، اس کے بارے میں ہمارے اساتذہ ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بغیر مطالعہ کے سبق پڑھانا تو زنا کرنے کے برابر ہے۔ یہ جملہ ہمارے ہاں چلتا ہے کہ یہ ایسے ہی کتاب کے ساتھ ظلم اور طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہے جیسے ایک آدمی نے ایک بہت بڑے کبیرہ گناہ زنا کا ارتکاب کرلیا ہے۔ طالب علم کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مطالعہ کر کے آئے۔ پھر استاذ کا علم اور طالب علم کا علم، یعنی علم اور طلب علم جب آپس میں ملیں گے تو کام بنے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بات ہے علم کو سینوں میں اتارنے کی۔ اور تدریس کے طریقے کے لیے تو وہی پرانا معاملہ ہے کہ دن کو آپ گھوڑے کی پیٹھ پر ہوں اور رات کو مصلے پر کھڑے ہوں۔ کہا گیا ہے کہ ’ان للتقویٰ مھابۃ‘ ، تقویٰ کا اپنا ایک رعب ہے۔ اور علم کے بارے میں مجھے میرے شیخ حضرت عبید اللہ انورؒ نے کئی دفعہ یہ بات سنائی، مولانا زاہد الراشدی بھی اس کے گواہ ہوں گے کہ حضرت مدنی فرمایا کرتے تھے کہ تسخیر کائنات کا سب سے بڑا وظیفہ تقویٰ ہے۔ آپ جتنے زیادہ متقی ہوں گے، کائنات اتنی آپ کے سامنے مسخر کر دی جائے گی۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کو مجتہد فی التدریس بنادیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ کا اپنا ذوق، اپنا اخلاص یہ ہو کہ میں جو کچھ بنا ہوں، میرا شاگرد مجھ سے بھی اونچی جگہ پر پہنچے۔ یہ تودنیا کا نظام ہے۔ ہر باپ یہ چاہتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے آگے بڑھ جائے، تو جب آپ باپ کے درجے پر آئیں گے اور شاگرد کے بارے میں یہ سمجھیں گے کہ میں باپ ہوں اور یہ میرا بیٹا ہے تو آپ کی یہ خواہش ہو گی کہ آج میں جس جگہ پر بیٹھا ہوں، میرا شاگرد مجھ سے بھی آگے بڑھے اور دنیا میں اس کے علم کا فیضان ہو۔ یہ میرا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب ایسا جذبہ ہو گا، یہ اخلاص ہو گا تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے تدریس کے طریقوں میں خود مجتہدانہ صلاحیت پیدا کر دے گا۔ روزانہ نئے سے نئے طریقے سمجھ میں آتے رہیں گے۔ ان سے آپ اپنا علم آگے پہنچاتے رہیں گے۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ برصغیر کے سب سے بڑے اردو کے خطیب تھے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ سے بیعت ہوئے اور پھر بعد میں حضرت رائے پوریؒ سے بیعت ہوئے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ کے پاس بیعت کے لیے جانے سے پہلے وہ میاں شیر محمد شرقپوریؒ کے پاس گئے کہ مجھے بیعت کر لیں۔ (تو یہ ہمارا ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ ہم نے اپنے مشائخ کو ان کے کھاتے میں ڈال دیا ہے جو کبھی مشائخ کے مزاج کے تھے ہی نہیں) تو کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے کہا کہ ’’شاہ جی، تہاڈا حصہ میرے کول نہیں ہے۔ میر ے کول ہوندا تے میں تہانوں گھڑ دیندا‘‘۔ گھڑ دینے کا مفہوم آپ کے ذہن میں ہے، ایک غیر متوازن چیز کو متوازن بنا دینا۔ یہ ہوتا ہے اصل میں استاد کا کام۔ امیر شریعت کا حصہ یہاں نہیں تھا تو پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے پاس چلے گئے۔ وہاں بیعت ہوئے تو پیر مہر علی شاہ صاحب ؒ کے بعد ان کے خاندان میں وہی صاحبزادگی تھی۔ وہاں مزاج نہ بن سکا تو حضرت رائے پوریؒ کے پاس آئے تو حضرت رائے پوریؒ نے بہر حال گھڑا۔ آپ اگر امیر شریعت کی صرف خطابت نہیں، ان کی وہ زندگی جو تربیت کی زندگی ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ اللہ کرنا سیکھا ہے، وہ کبھی معلوم کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کس طرح وہ گھڑا کرتے ہیں۔
آپ کے پاس والدین ایک سرکش بچہ، ان گھڑا بچہ، غیرمتوازن بچہ، اپنی بہت بڑی متاع آپ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس کو گھڑنا،سنوارنا اور زمانے کا معلم بنانا یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اور یہ تبھی ہوگا جب ہم اس بچے کے اوقات کو اور اس بچے کی زندگی کو اپنے پاس امانت سمجھیں گے اور کل قیامت کے دن ’لاایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عہد لہ ‘ کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دہی کے احساس کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو انجام دیں گے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنے پیغمبر کے طریقہ تدریس کی روشنی میں اپنے زمانے کا معلم بننے کی توفیق عنایت فرمائے اور جو لوگ ہمارے پاس علم سیکھنے کے لیے اور فیضان کی روشنی لینے کے لیے آتے ہیں، ہم ان کو زمانے کا معلم بنا سکیں۔ وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جیسے وہ ’’سراج منیر‘‘ تھا اور اس نے صحابہ کو ’’نجوم‘‘ بنا دیا، ہم بھی اپنے طلبہ کو آئندہ کی نسلوں کے لیے اسی طرح تیار کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
تعلیم و تعلم میں اخلاص نیت کی اہمیت
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی
(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب۔)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد!
محترم حاضرین ،برادران اسلام واساتذہ کرام !
آج کی یہ تربیتی محفل آپ صبح سے سماعت فرما رہے ہیں اور یہ اس کی دوسری نشست ہے۔ اس میں بہت سے اہل علم وفضل کی تقاریر آپ نے سنیں، تجاویز اور آرا آپ کے سامنے آئیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں پر جن مقررین نے خطاب کیا ہے، انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ عصری تعلیم کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ یہ مجلس چونکہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی ورک شاپ کے سلسلے میں ہے، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہم عصری تعلیم کی اہمیت کو بھی اپنی جگہ ملحوظ رکھتے ہیں اور اگر دونوں پہلوؤں پر بات کرنی ہے تو پھر میری ناقص رائے کے مطابق اس میں ایسے مقررین کو بلانا چاہیے جو دینی مدارس کی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی بہرہ ور ہوں۔ کیونکہ ہمارے ہاں جن مقررین نے تقریر کی ہے، ان میں سے بعض نے کہاکہ میرا دینی مدارس کے ساتھ تعلق نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا تعلق صرف دنیاوی تعلیم سے ہے، جبکہ اگر دونوں پہلوؤں پر یکساں تبصرہ کرنا ہے تو ایسی شخصیات کو دعوت دینی چاہیے جن کی دونوں پہلوؤں پر نظر ہو تاکہ ان کے سامنے صرف کالج اور یونیورسٹی کا ماحول نہ ہو یا ان کے سامنے صرف دینی مدرسہ اور مکتب کا ماحول نہ ہو۔ دونوں ہوں تو پھر وہ ایک جامع تبصرہ کر سکتے ہیں۔ اگر صرف ایک پہلو ہوگا تو وہ اپنے متعلق خوبیاں یا خامیاں بیان کرسکتے ہیں، لیکن دوسرے پہلو پر وہ کچھ عرض نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے یہ میری ایک سفارش ہے ۔
باقی جن حضرات نے یہاں پر تقاریر کی ہیں اور اپنی تجاویز دی ہیں، ان کو کئی پہلو ؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ میں اس کے صرف ایک پہلو پر اختصار کے ساتھ کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ تمام پہلو جن میں ہم علم کو، تربیت کو، اخلاق کو اور ارتقا کو تقسیم کرتے ہیں، یہ تمام پہلو اسی وقت ٹھیک ہو سکتے ہیں جب کسی انسان کی نیت ٹھیک ہو گی۔ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’انما الاعمال بالنیات‘۔ اگر ایک آدمی باعمل ہے تو جب اس کی نیت ٹھیک ہوگی، اس کے ساتھ اخلاص ہوگا، باقی چیزیں ہوں گی تو پھر وہ آدمی کامیاب ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ او راگر ایک آدمی کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو چاہے وہ اپنے فن کا کتنا ہی ماہر ہو، اس کا فیض عام نہیں ہو سکتا۔ اس کے پاس وسیع معلومات تو ہیں، لیکن نیت ٹھیک نہیں ہے، اخلاص نہیں ہے تو نہ اس کو خود کچھ فائدہ ہو گا اور نہ اس سے پڑھنے والوں کو، تربیت حاصل کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔ جیساکہ مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب نے بیان کیا، روحانیت کا سلسلہ دینی مدارس کے اندر کم ہوتا جا رہا ہے یا ختم ہوتا جا رہا ہے۔یہ بڑی اہم بات ہے۔اس سلسلے میں، میں اپنے استاذ الاستاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی اپنی بیان کی ہوئی بات عرض کرناچاہوں گا جو انہوں نے اپنی ترمذی کی تقریر میں بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں پڑھ رہا تھا۔ وہاں مجھے ہدایہ اخیرین کی ایک بحث میں مشکل پیش آگئی ۔میں نے اس کو سمجھنے کی پوری کوشش کی، شروحات دیکھیں، حواشی دیکھے، علما کی طرف رجوع کیا، لیکن مسئلہ حل نہ ہوا۔ فرماتے ہیں کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضر ہوا، درود وسلام پیش کیا، مراقبہ کیا اور جب میں مراقبے سے اٹھا تو میرا وہ ہدایہ اخیرین کا مسئلہ حل ہو چکا تھا۔ تو روحانیت کا یہ اثر ہے، کیونکہ جو ہم تعلیم پڑھ رہے ہیں یا پڑھا رہے ہیں، چاہے اس کا تعلق وحی جلی سے ہو یا وحی خفی سے، بہرحال اس کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے اور اس کا دارومدار نیت پر ہے۔ گویا تمام گفتگو اور بحث کا خلاصہ نیت ہے۔ اگر انسان کی نیت ٹھیک ہے تو وہ سارے کام ٹھیک طریقے سے کرے گا۔ تعلیم ٹھیک طریقے سے حاصل کرے گا، پڑھائے گا صحیح طریقے سے اور اسی طرح اخلاق وعبادات بھی صحیح طریقے سے سرانجام دے گا۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی کوتاہیاں دورکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
احیائے ثقافت اسلامی کی تحریک
حافظ صفوان محمد چوہان
دعوت و تبلیغ کا کام اپنے معروف معنوں میں حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے شروع ہوتا ہے۔ جتنی انسانی آبادی اُن کی حیات تک موجود رہی وہ اُس سب کے باپ اور مربی تو تھے ہی، اُن کے نبی اور رسول بھی تھے۔ اپنی اولاد کو خالقِ کائنات کا تعارف کرانا، اُس کی مرضیات پر چلنے یعنی اطاعت و عبادت پر آمادہ کرنا، زخارفِ دنیا میں الجھ کر راہ گم کردینے کے بجائے آخرت کو مطمحِ نظر بنائے رکھنے پر لانا، وغیرہ، سب امور اُن کے فرائضِ منصبی تھے۔ اِن فرائض کو ایک باپ اور ایک نبی کی حیثیت سے ادا کرتے کرتے وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔
اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے جن مردوں کو نبوت اور رسالت جیسے عالی منصب کے لیے انتخاب کیا اُن کی زندگیوں میں یہ دونوں خصوصیات کچھ ایسی واضح اور تواَم نظر آتی ہیں کہ گویا اُن کی فطرتِ ثانی ہوں، یعنی باپ والی شفقت کے ساتھ امت کے مرد و زن کو اِطاعتِ خالق پر آمادہ کرنا۔ جتنے بھی نبی دنیا میں تشریف لائے وہ اللہ کی حدود کو پھلانگنے والے مجرموں اور اللہ کی اطاعت کے نشے میں مدہوش بندوں، دونوں طرح کے آدمیوں کے لیے یکساں محبت اور شفقت کا پرتو ہوتے تھے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے آخری نبی بناکر دنیا میں بھیجا اور اُن کی بعثت کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کردیا۔ دنیا میں آنے والے پہلے نبی سے لے کر آخری نبی تک سب انبیاء ایک ہی مقصد لے کر آئے، یعنی مخلوق کو خالق سے جوڑنا۔ اِس مقصد کے پورا کرنے کے لیے نبی مخلوق میں سے کسی سے بھی سے کسی نفع کا طالب یا متمنی نہیں ہوتا بلکہ اپنی جان پر جھیل کر یہ کام کرتا ہے۔ ہر نبی نے دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنا اجر سوائے اللہ کے اور کسی نہیں چاہتا۔ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا علیٰ رَبِ العٰلَمین سب نبیوں کی اجتماعی آواز ہے جسے قرآنِ پاک نے محفوظ کیا ہے۔ یہ تبلیغِ دین کے کام کی اصالت کا معیار ہے۔ جس طرح کوئی باپ اپنی اولاد کے لیے نفع رسانی کی کوئی بھی کوشش کسی مالی یا دنیاوی منفعت کی حرص یا امید میں نہیں کرتا بلکہ خالصتًا باپ ہونے کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اور شفقتِ پدری کی وجہ سے کرتا ہے اُسی طرح نبی بھی ہر ہر امتی کو جنت کے دروازے پر لاکھڑا کرنے کے کام کی مشقت اپنی ذمہ داری اور امت کے لیے بے کراں، بے تعصب اور بے میل شفقت کی وجہ سے اُٹھاتا ہے۔ بندوں کا بندوں میں نبی سے زیادہ بے غرض پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔
یہ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اِسی شفقت اور محبت کا نتیجہ تھا اور اپنوں پرائیوں ہر ایک کو دنیاوآخرت کی بھلائیوں اور کامرانیوں کا حقدار بنانے پر مصر اور تُلا ہونا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبھی ساتھی (رضوان اللہ علیہم اجمعین) آپ پر دل و جان سے فدا تھے اور ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘‘ کے خیرمقدمی الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور تخاطب کرتے تھے۔ اِس شفقت اور محبت کا امت میں ظہور یوں ہوا کہ صحابہؓ اپنی جان کو اپنے مسلمان بھائی کے مقابلے میں ہلکا جانتے تھے۔ دنیا کا فائدہ درپیش ہوتا تو خود کو پیچھے کرلیتے اور دین کے لیے مشقت کا کام سامنے آتا تو خود کو آگے کرتے۔ کہیں نام آوری یا ناموری کا موقع بنتا تو منھ پر کپڑا ڈال لیتے اور کہیں جان دینے کا موقع بنتا تو آگے آگے ہوتے۔ زندگی کی آخری سانس تک اور قبر کے گڑھے میں اُترتے تک اپنے بھائیوں پر ایثار کرتے۔ اُن میں کا دکاندار اپنے گاہک کو خود دوسرے دکاندار کی دکان پر بھیج دیتا تھا کہ اُس کی بھی بِکری ہوجائے۔ یوں ایک ایسا ماحول وجود میں آگیا تھا جس میں ہر ایک کا جان و مال محفوظ تھا۔ ہر ایک کا کاروبار ترقی بھی پارہا تھا۔ حتٰی کہ زکوٰۃ کا مستحق کوئی نہ ملتا تھا۔ اور یہ دنیاوی آسائش و ترقی صرف آنکھ بند ہونے تک کے زمانے کے لیے نہیں تھی بلکہ اُخروی درجات کی ترقی کا ضمیمہ بھی تھی۔ یہ سب اِس لیے ہوا کہ ایمان سازی سے مملو افراد سازی کی ایک مسلسل محنت کی وجہ سے اِن لوگوں میں ایمان جیسی بے مثال قوت، اعمال جیسا کارگر ہتھیار اور حیا جیسا یکدانہ جوہر وجود میں آچکا تھا۔
محبت اور شفقت کے یہ مظاہر مسلمانوں میں صرف اپنے دینی بھائیوں کے لیے مخصوص نہیں رہے تھے بلکہ تمام مخلوق اِن سے منتفع ہورہی تھی اور غیرمسلموں سے معاملت حتٰی کہ جانوروں سے سلوک تک میں یہ اثرات نفوذ کیے ہوئے تھے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سالہا سالی مشقت مدینۂ منورہ اور تمام فرماں روے اسلام کے اندر اِس ماحول اور اِس ثقافت کو وجود میں لانے کا سبب بنی تھی جس میں تحفیظِ مراتب یعنی بڑے چھوٹے کا لحاظ ملاحظہ، حقوقِ انسانی کی پاسداری اور تمام مخلوق سے اللہ کے حکم کے مطابق اور موافق سلوک کرنا ہی فخرومباہات کا باعث تھا نہ کہ دنیا کی چیزوں اور عہدوں کا کسی کی ذات میں جمع ہوجانا یا کرلیا جانا۔
لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب برکات ضمنًا حاصل ہوئی تھیں۔ روٹی، کپڑا، مکان، ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور بڑے منصوبوں (Mega Projects) کا اعلان کسی نبی نے نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی اِس بات کا اعلان نہیں کیا کہ مجھے لوگوں کی معاشی صورتِ حال بہتر کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے یا میری بعثت کا مقصد امن و امان کی صورتِ حال کی بہترائی ہے۔ یہ سب خوبیاں جن کے حاصل کرنے کے لیے آج پوری دنیا میں دوڑ لگی ہوئی ہے اور جن کے حصول کے لیے سب سے زیادہ خرچ کیا جارہا ہے، اللہ کا انعام ہیں۔ انعام صرف اُسے ملتا ہے جس سے انعام دینے والا راضی ہو۔ قرنِ اوّل کے مسلمانوں کو یہ انعامات اِس لیے ملے کہ وہ دین اور اشاعتِ دین کو اپنی زندگیوں میں پہلے نمبر پر رکھے ہوئے تھے اور بقیہ سب ضروریات کو ثانوی درجہ دیتے تھے۔ آج مسلمان نے اپنی زندگی کی ترجیحات بدل دی ہیں اور ثانوی درجہ والی چیزیں پہلے درجے پر لے آیا ہے۔ یوں اللہ ناراض ہوگیا ہے، اور وہ سب انعامات ملنا بند ہوگئے ہیں جو پہلے ملا کرتے تھے۔ دنیا میں امن و آشتی، راحت، شجاعت، غیرت، ایمان، حیا اور اِس قبیل کی ساری برکات کا اُترنا بند ہوگیا ہے۔ غیرمسلموں کو تو امن وآشتی جیسی چیزیں ملی ہی مسلمانوں کی وجہ سے تھیں۔ جب خود اُن پر ہی یہ انعامات بند ہوگئے ہیں تو اُن کے طفیلیوں کو یہ کیسے ملیں؟
بحیثیتِ امت مسلمان آج اپنا مقصد بھول چکے ہیں۔ افسوس پر افسوس اِس بات کا ہے کہ امت یہ بھولنا بھی بھول چکی ہے۔ یوں منزل کھوبیٹھنے کے احساس سے تہی ایک انبوہِ مردوزن ہے جو بے مقصد سرگرداں ہے۔ ہر چمکتی چیز اور ہر نئی آواز کی طرف دیوانہ وار لپک جانا اِن پر ختم ہے۔ ایک طرف سے دھتکار پڑتی ہے تو یہ دوسری طرف رخ کرلیتے ہیں۔ وہاں سے بھی جوتا پڑتا ہے تو کسی تیسری اور پھر چوتھی طرف منھ کرلیتے ہیں۔ اور پھر بے مزا نہ ہونے کے مصداق پہلی ہی طرف کو مڑ آتے ہیں کہ شاید ہماری کوئی ضرورت اب پھر پیدا ہوگئی ہو۔ جس امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبلے کی طرف منھ کرکے نماز پڑھتا چھوڑکر گئے تھے، آج دنیا میں ہر سَمت اپنا قبلہ رکھتی ہے: کہیں منھ کرکے نیت باندھ کر مال مانگتی ہے، کہیں اسبابِ حفاظت اور صحت کے حصول کے لیے سجدہ ریز ہے، کہیں نظامِ تعلیم کی عطا کے لیے منزل انداز ہے، اور کہیں محض تعلقات اُستوار رکھنے کے لیے ناک سے لکیریں کھینچ رہی ہے۔ لامقصدیت امت کا سب بڑا سانحہ ہے۔ امت کی ایسی مت ماری گئی ہے کہ یہ اپنے صیاد کو اپنا ہمدرد سمجھے ہوئے ہے۔ وہ اِسے مرغیوں کی طرح پالتا ہے، اور یہ یہ سمجھتی ہے کہ اُسے چوگا اپنے ذاتی فائدے کے لیے دیا جارہا ہے۔ ملکوں ملکوں کشکول بجاتے پھرنے اور دنیا زادگی کی نحوست نے مسلمان سے اُس کا جوہر اور پہچان چھین لی ہے۔
مایا کے جادو نے گیان کے لکھشن بندھن توڑے
جوگی جی سے مالا چھوٹی، سادھو سے لنگوٹ
جوں جوں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے سے بُعد ہوتا گیا، اعمالِ دعوتِ دین کو مقصد کے درجے میں رکھ کر کرنے میں تدریجًا کمی ہوتی گئی ۔ دین کا فکر رکھنے والے اسلاف اِس انحطاط کو دور کرنے کی سعی فرماتے رہے۔ ماضیِ قریب یعنی تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری میں بھی کئی لوگوں اور جماعتوں نے امت کو مقصد پر لانے کی کوششیں کی ہیں۔ مدارِس، مساجد، اشاعتِ کتب اور دورِحاضر کے تمام آلاتِ نشرواشاعت کو استعمال کرتے ہوئے دین کے پھیلانے کی فکر کرنا، راہ بھٹکی ہوئی امت کا غم کھانا اور اصلاحِ احوال کی فکر کرنا اللہ نے کئیوں کو نصیب کیا۔ کچھ راستہ چلنے کے بعد یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ اِبطال اور انکار یا مناظرہ کی بجائے، یا اپنے ظن و تخمین یا اپنی خواہشات کو کسی من پسند یا مطلوب سانچے میں ڈھال کر اُس کا نام اشاعتِ دین رکھ دینے کی بجائے، دین کو خالص شکل میں پیش کرنا اور اُس پر لوگوں کو چلنے پر آمادہ کرنا ہی اصل ہے کیونکہ دین صرف دین ہی کی محنت سے آئے گا؛ اور یہ کہ کسی بات کا صرف پہنچادینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو اُس پر لے آنا زیادہ نفع مند ہوتا ہے۔ اِن غمخوار مصلحینِ کرام پر یہ بھی کھلا کہ لوگوں کو ایک طرزِزندگی سے دوسرے طرزِزندگی پر لے آنے میں اُن کے ماحول کا بدلنا، خواہ عارضی طور پر سہی، بنیادی شرط ہوتا ہے۔ آج جب کہ مصروفیت سب سے بڑا عذاب ہے اور وقت کسی کے پاس نہیں، اللہ نے امت پر رحم کیا اور حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃاللہ علیہ پر دین کے زندہ کرنے کی محنت اور امت کو مقصد پر لانے کا کام ایسے انداز میں کرنے کا ڈھنگ کھولا جو اپنی بُنت، ڈھب اور شباہت میں اصلِ اوّل سے قریب ترین بھی ہو اور امت کا بلاتخصیص ہر طبقہ انتہائی قلیل وقت میں دین کی مبادیات کا ضروری علم ، تجربے کے ساتھ حاصل کرسکے۔ ماحول میں چونکہ دینداری بہت کم ہے اِس لیے ایک آدمی محنت و ریاضت سے خواہ دین کے کیسے ہی بلند مقامات کو پاچکا ہو، کے لیے کچھ وقت کے بعد اپنے سب مشاغل کو ملتوی کرکے خالص دین کے ماحول میں کچھ وقت گزارنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سلامتیِ قلب اور تطہیرِ فکرونظر کا یہ مقصد جس کی ضرورت سے کوئی مسلمان بے نیاز نہیں رہ سکتا، پہلے خانقاہوں سے بتمام و کمال حاصل ہوجاتا تھا لیکن آج کی مصروف زندگی کی وجہ سے کاروبارِ حیات کو تج کر دنیا سے یکسو ہوجانا اور ایک بڑی مدت تک کسی اللہ والے کی جوتیاں سیدھی کرکے دین والی زندگی کو سیکھنا امت کے بڑے طبقے کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔ جب دین کی طلب اور اعمال کا ذوق و شوق ہی باقی نہ رہا ہو، اللہ کی جناب میں حضوری کا احساس ہی مرگیا یا کم سے کم مضمحل ہوگیا ہو، اور سنن و مستحبات تو الگ رہے فرائض بھی بوجھ محسوس ہونے لگے ہوں تو خانقاہوں میں کون جائے؟ یہی وجہ ہوئی کہ ازاں جملہ تبلیغی جماعت کے عرف سے موسوم اِس چلتی پھرتی خانقاہ کو جس میں دین کے مبادیات ہی کا نہیں بلکہ جس میں ہر امتی اپنے دنیاوی شغل کو دینی ترتیب پر چلانے کا ڈھنگ بھی بہت ہی کم وقت اور انتہائی کم خرچ میں ہاتھ کے ہاتھ سیکھ لیتا ہے، اللہ پاک نے قبولِ عام عطا فرمایا۔
امت کے لیے درد اور کڑھن کی جو کیفیت اللہ پاک نے مولانا محمد الیاس رحمۃاللہ علیہ کو ودیعت کی تھی، اُس میں وہ اپنے سب معاصرین میں ممتاز تھے۔ امت کے مذہبی جذبات ومیلانات، صلاحیتوں اور مالی وسائل کو جس طرح بے جگہ اور عارضی (اور بیشتر دنیاوی) مقاصد کے حصول کے لیے جھونکا اور جھونکوایا جارہا تھا، اللہ نے حضرت مولاناؒ پر اِسے پوری بصیرت کے ساتھ روشن کردیا تھا۔ کہیں ابنائے زمانہ کی چیرہ دستیوں اور کہیں دین فروش یا سادہ خیال اصحابِ کلاہ و دستار کے ہاتھوں لُٹنے پُٹنے والے مسلمانوں کی حالتِ زار اور اِس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی بربادی کے اِس ادراک نے اُن کو وہ بے آرامی نصیب فرمادی تھی جو دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذی ہوش اور راہ دان مقتداؤں کا جوہرِ اصلی رہی ہے151 دین کے مٹنے کے غم کی شدت سے ہونے والی وہ بے آرامی جو نیندیں اُڑادیا کرتی ہے۔
مولانا محمد الیاس رحمۃاللہ علیہ کا کام کثیرالمقاصد ہے۔ دراصل اُس اسلامی ثقافت کا اِحیا اُن کا مقصدِ وحید ہے جس نے قرونِ اوّل کے اُن لوگوں کو جو ایک وقت میں انسانیت کے نام پر دھبہ تھے، ستاروں کو نشانِ راہ دکھانے والا بنادیا۔ یوں امت سازی یعنی امت کو صحیح الفاظ اور مفہوم میں امت بنانے کا کام دعوت و تبلیغ کا مقصد ہے۔ اِس میں کلام نہیں کہ مساجد و مدارس وغیرہ شعائراللہ ہیں۔ لیکن ذرا سا غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مسلمان ہی بذاتِ خود اللہ کا سب بڑا شعیرہ ہے۔ اِسی لیے تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کعبہ کی حرمت سے ایک عام مسلمان کی جان قیمتی ہے۔ دین کی طلب سے خالی، اللہ سے غافل اور روٹھے ہوئے مسلمان کو اللہ کے سامنے جھکادینا اور اللہ سے دوستی کرلینے پر آمادہ کرنا، مسلمان کا سب سے بڑا اِکرام ہے۔ اِسی طرح ایک کافر جو اپنی کم قسمتی سے یا اسلام کی حقیقی، عملی تصویر سامنے نہ ہونے کے باعث ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بننے کی راہ پر سرپٹ دوڑ رہا ہے، کے جی میں تلاشِ حق کے شعلے کو روشن کرنا اور پھر اِس شعلے کو ہوا دینا، منت و زاری سے اور سمجھابجھاکر اسلام کی نعمت سے بہرہ مند کردینا151 اولادِ آدمؑ میں کے ہر غیرمسلم انسان کا بنیادی انسانی حق (human right) ہے۔ قیامت کے دن حقوق کی اَدائی کے بارے میں سوال ہوگا۔ دعوت و تبلیغ کی محنت سے امت کے اندر یہ احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہر مسلمان بحیثیتِ فردِ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا سفارت کار ہے اور دنیا بھر کے انسانوں کے حقوق کی اَدائی کے سلسلے میں فعّال کردار ادا کرنے پر مامور اور اِس ضمن میں اپنی ذاتی اعانت اور دین کے اجتماعی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنے کی بابت اللہ کو جوابدہ ہے۔
حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کام میں کسی گروہ، مسلک یا فرقے کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے ، نِری اُس کی مسلمانی کی وجہ سے، راستہ کھلا رکھا۔ یوں مختلف خانوں میں بٹے ہوئے اور ذات برادری، علاقوں، زبان اور پیشوں کے کھونٹوں سے بندھے اور کولھوؤں میں پِلتے مسلمانوں کو صرف اور محض مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک جگہ پر اِکٹھا ہونا نصیب ہوا۔ اِس اِکٹھا ہونے سے مسلمانیت سرسبز ہوئی اور جگہ جگہ دین پر بہار آنا نظر آنے لگا ہے۔ اسلام کی ثقافت جس کے رنگ پھیکے پڑگئے تھے اور جو بساحالات دوسری ثقافتوں میں رل مل کر اپنی ایکیت اور وضاحت کھوبیٹھی تھی، ایک بار پھر پنپنے لگی ہے۔ دنیا بھر میں گھروں کے اندر اسلامی معاشرت اور محلوں میں اسلامی کلچر زندہ ہوا ہے۔ دعوت و تبلیغ میں لگنے والے لوگوں کے چارٹر میں پوری دنیا میں دین کو زندہ کرنا (صرف پھیلانا نہیں) پہلے نمبر پر ہے۔ پہلے دور میں یہ کام ہر مسلمان کیا کرتا تھا۔ آج اِس آواز کے لگانے والے یہ واحد لوگ ہیں جو اللہ کی توفیق سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جگا رہے، اُنھیں اُن کا کام و مقصد یاد دلارہے اور مقصد پر واپس کھینچ لانے کے لیے اللہ کی زمین میں بے تابانہ پھر رہے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ تبلیغ کی اِس محنت کی برکت سے دینی جماعتوں میں ایک دوسرے کی ضرورت اور خوبیوں کے اعتراف، ساتھ مل کر چلنے اور برداشت کا کلچر پیدا ہوا۔ ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مسلک پر جمع ہونا ممکن نہیں، البتہ دین سب کا مشترک ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام جو ایک وقت میں ازالۂ منکَر کا نقیب ہوتا تھا اور جو ہماری کم قسمتی کی وجہ سے کہیں اشاعتِ مسلک کا نمائندہ اور کہیں محض اظہارِ منکَر بن کر رہ گیا تھا، بحمداللہ اپنے قدیم، روایتی معنوں میں زندہ ہوا اور دینی جماعتیں151 اشاعتِ مسلک اور وقتی ضرورتوں اور ضرورتِ حادثہ کی پیداکردہ خودبافتہ ترتیبوں پر چلنے کے ساتھ ساتھ151 دین کی اجتماعی فکر پر جمع ہونے لگیں۔ اجتماعیت اور نقل و حرکت وہ بنیاد تھی جس پر اِس امت کا ’’امت پنا‘‘ اُستوار تھا۔ آج یہ بنیاد کمزور پڑگئی ہے۔ جماعتوں کا یہ پھرنا پھرانا بحمداللہ اِسی بنیاد کو بھررہا اور مضبوط کررہا ہے۔
مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
رائے ونڈ کا اجتماع بھی اِسی سلسلے ہوتا ہے کہ امت اپنے کام کو پہچانے، اپنی حیثیت پہچانے اور اپنے کام پر واپس آجائے۔ سروں کا گننا، سیاست گردی، دنیا طلبی، کرسیوں اور کرسی داروں کی ہواخواہی، وغیرہ، کا یہاں گزر نہیں۔ اجتماعِ حجِ بیت اللہ کے بعد یہ واحد فورم ہے جہاں ہر مشرب، طبقے، زبان اور ملک کے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور اپنی آتشِ مسلمانی کو ہوا دیتے ہیں۔ اللہ پاک مجھے، آپ کو اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِس عالی کام میں لگنے کی توفیق دے۔ یہ کام سراسر عمل ہے، باتیں نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ اِس نقل و حرکت اور اجتماعیت کی حفاظت فرمائے، قربانی اور صفات میں مزید آگے بڑھنے والا بنائے اور تمام عالم میں دین کی سرسبزی اور شادابی کو سر کی آنکھوں سے دیکھنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۳)
حافظ محمد زبیر
امام شاطبیؒ کا موقف
امام شاطبیؒ کا موقف بھی وہی ہے جو کہ امام شافعی ؒ کاہے کہ سنت نہ توقرآن کو منسوخ کرتی ہے اور نہ ہی اس کے کسی حکم پر اضافہ کرتی ہے بلکہ یہ اس کا بیان(یعنی قرآن کے اجمال کیتفصیل‘ مشکل کا بیان‘مطلق کی مقید اور عام کی مخصص) ہے۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :
’’سنت یا تو کتاب کا بیان ہوتی ہے یا اس پر اضافہ ہوتی ہے اگر تو وہ کتاب کا بیان ہو تو اس کے مقابلے میں کہ جس کا وہ بیان ہے ثانوی حیثیت رکھتی ہے...اور اگر وہ بیان نہ ہوتو پھر اس کا اعتبار اس وقت ہو گا جبکہ وہ کتاب اللہ میں موجود نہ ہو۔ ‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ الجز الرابع‘ ص۳‘دار الفکر)
غامدی صاحب نے امام شاطبی ؒ کی اس عبارت کواپنے موقف کی تائید میں تو نقل کر دیا کہ دیکھیں امام شاطبیؒ بھی یہ کہتے ہیں کہ سنت ‘قرآن پر اضافہ نہیں کر سکتی ‘لیکن ان سینکڑوں روایات کا غامدی صاحب نے بالکل بھی تذکرہ نہ کیا کہ جو بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی تھیں لیکن امام شاطبیؒ نے انہیں قرآن کا بیان ثابت کیا۔امام شاطبیؒ کا موقف یہ نہیں ہے کہ جو روایات تمہیں کتاب اللہ پر اضافہ معلوم ہوں‘ ان کو رد کر دوجیسا کہ غامدی صاحب نے ان کے قول سے یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے بلکہ امام شاطبی ؒ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو روایات بھی کتاب اللہ پر اضافہ معلوم ہو ں وہ کتاب ا للہ کا بیان ہی ہوں گی ہم اگر غور و فکر کریں تو اس بات کو آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں پھر اسی موقف کو ثابت کرنے کے لیے امام شاطبیؒ نے اپنی کتاب ’المواقفات‘ میں ان سینکڑوں روایات کو قرآن کی آیات کا بیان ثابت کیا ہے کہ جو بظاہر قرآنی احکام پر اضافہ معلوم ہوتی تھیں۔امام شاطبی ؒ اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’سنت کے احکامات کا اصل قرآن میں موجود ہوتا ہے۔پس سنت ‘قرآن کے مجمل کی تفصیل‘مشکل کا بیان‘اور اختصار کی شرح ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سنت‘ قرآن کا بیان ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :ہم نے آپؐ کی طرف ذکر کو نازل کیا ہے تا کہ آپؐ لوگوں کے لیے ان کی طرف نازل کیے گئے کو واضح کریں ۔پس تم سنت میں کوئی بھی ایسا حکم نہ پاؤ گے کہ جس پر قرآن نے اجمالاً یا تفصیلاً رہنمائی نہ کی ہو۔ ‘‘ (الموافقات ‘ ۲/۶)
جیسا کہ امام شاطبی ؒ نے لکھا ہے کہ سنت‘قرآن کا ہر حال میں بیان ہی ہوتی ہے اسی طرح انہوں نے الحمد للہ اس اصول کواپنی کتاب ’الموافقات‘ میں ثابت بھی کیا ہے۔امام شاطبی ؒ کا کہنا یہ ہے کہ
۱) بعض اوقات ہمیں سنت کے بعض احکامات ‘قرآن پر اضافہ معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ اضافہ نہیں ہوتے بلکہ قرآن کا بیان ہوتے ہیں کیونکہ شرح بھی مشروح سے زائد ہی ہوتی ہے۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں :
’’جیسا کہ سائل کے سوال میں ہے تو لازمی بات ہے کہ(سنت کے یہ احکامات) اضافہ ہے اور اس کو اضافہ مانا جائے گا ۔لیکن اس اضافے کے بارے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا یہ اضافہ ایسا اضافہ ہے جو کہ شرح کا مشروح پر ہوتا ہے جیسا کہ ہر شرح اس بیان پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ مشروح میں نہیں ہوتا ‘اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو کوئی شرح نہیں کہے گایا یہ اضافہ کسی دوسرے ایسے معنی کو شامل ہے جو کہ کتاب میں موجود نہیں ہے اور یہ مسئلہ علماء کے درمیا ن اصل محل نزاع ہے(یعنی بعض علماء سنت کے اضافے کو قرآن کے مجمل کا بیان بناتے ہیں جیسا کہ اما م شافعیؒ کا موقف ہے اور بعض علماء سنت کے اضافے کو قرآنی حکم میں اضافہ کی بجائے معنی جدید کا اضافہ قرار دیتے ہوئے قبول کرتے ہیں جیسا کہ ابن تیمیہؒ اور ابن قیم ؒ نے بیان کیاہے) ...اسی طرح اگر قرآن میں ایک حکم اجمالی طور پر ہے اور سنت میں اس کی تفصیل ہے تو جو سنت میں حکم ہے وہ ‘ وہ حکم نہیں ہے جو کہ قرآن میں ہے ۔جیسا کہ قرآن کا حکم ہے ’أقیموا الصلاۃ‘ ۔قرآن کے اس حکم میں ’الصلاۃ‘ کا لفظ مجمل ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے اس کے اجمال کو بیان کیا ہے اور اللہ کے رسولﷺ کے بیان سے جو معنی حاصل ہوا ہے وہ ’مبین‘ یعنی صرف کتاب سے حاصل نہیں ہوتا تھااگرچہ اللہ کے رسولﷺ کے بیان کی مراد اور کتاب کی مراد ایک ہی ہے لیکن پھر بھی دونوںیعنی’ بیان‘ اور’ مبین‘ً حکم میں مختلف ہوں گے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک مجمل کا بیان نہ ہو اس وقت تک اس پر عمل کرنے کا حکم توقف ہے لیکن جب مجمل کا بیان ہو جائے تو اس کے مقتضی پر عمل کیا جائے گا(جیسے قرآن کا حکم ’أقیموا الصلاۃ‘ ایک مجمل حکم ہے اور اس پر عمل اس وقت تک نہ ہو گا جب تک اللہ کے رسولﷺ اس کا بیان نہ فرما دیں) لہذا جب ثابت ہو گیا کہ دونوں یعنی کتاب اور بیان کا حکم مختلف ہے (کیونکہ ’أقیموا الصلاۃ‘ میں کتاب کے حکم پر توتوقف ہو گا جبکہ سنت کے حکم پر عمل ہو گا) تو دونوں کا معنی بھی مختلف ہو گاپس اس طرح سنت کے احکامات کا بھی کتاب کے بالمقابل انفرادی حیثیت میں بھی اعتبار ہو گا۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۱۰‘۱۱)
۲) امام شاطبی ؒ کے نزدیک بعض وہ روایات جوکہ قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیںیا اس کے کسی حکم کی تحدیدکررہی ہوتی ہیں وہ درحقیقت قرآنی آیات میں اللہ کی منشا و مراد کو واضح کر رہی ہوتی ہیں۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:
’’جیسا کہ سنت تبیین کرتی ہے یہ مجمل کی وضاحت ‘مطلق کی تقیید اور عموم کی تخصیص کرتی ہے ۔ پس اس توضیح ‘تقیید اور تخصیص کی وجہ سے بعض اوقات قرآن کے بہت سے صیغے اپنے ظاہری لغوی مفہوم سے باہر نکل جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت ان تمام صورتوں میں یہ واضح کر رہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کی ان صیغوں سے مراد کیا ہے ؟پس جس شخص نے ان تین صورتوں میں سنت کی وضاحت کو چھوڑ کر خواہش نفس سے ظاہری صیغوں کی پیروی کی تو ایسا غور و فکر کرنے والا اپنے غور و فکر میں گمراہ بن جائے گا‘کتاب اللہ سے جاہل شمار کیا جائے گا اور جہالت کے اندھیروں میں پڑا رہے گا اور کبھی ہدایت نہ پا سکے گا۔ ‘‘ (الموافقات‘ ۲/۱۱)
امام شاطبیؒ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مثلا جب قرآن کے حکم ’چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹو‘کا بیان ہمیں سنت سے یہ ملا کہ ہاتھ کلائی سے کاٹا جائے گااور چوری کی ہوئی چیز کا بھی ایک نصاب مقرر ہے( اس نصاب جتنے یا اس سے زائد مال کی چوری ہو گی تو ہاتھ کاٹا جائے گا) اور یہ چوری مالِ محفوظ میں سے ہووغیرہ توسنت کے ان تمام احکامات کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ سنت نے اللہ تعالی کی اس آیت سے مراد کو واضح کیا ہے نہ کہ اپنی طرف سے کچھ مزید احکامات کو ثابت کیا ہے۔اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ امام مالکؒ اور اس طرح دوسرے مفسرین ہمارے لیے قرآن کی کسی آیت یاحدیث کا معنی واضح کرتے ہیں تو جب ہم امام مالکؒ کی تفسیر وتوضیح پر عمل کرتے ہیں تو ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم یہ بات کہیں:کہ ہم نے فلاں مفسر کے قول پر عمل کیاہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے قول پر عمل نہیں کیا۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۵)
لہٰذا امام شاطبیؒ کے بیان کے مطابق سنت میں موجود تخصیص ‘ تحدید اور تقیید وغیرہ قرآنی الفاظ سے اللہ کے منشا کو واضح کر رہے ہوتے ہیں جیسا کہ ہر مفسراور عالم اللہ کی منشا ومراد کو اپنے محدودعلم کی روشنی میں متعین کرتا ہے۔
۳) امام شاطبیؒ کے نزدیک سنت کے بعض وہ احکامات جوقرآن کی کسی آیت کے ناسخ یا اس کے مفہوم کو تبدیل کرنے والے معلوم ہوتے ہیں‘ وہ درحقیقت اللہ کے رسول ﷺ کا قرآن کی کسی آیت کا وہ گہرا فہم ہے کہ جس کی عدم موجودگی کی صورت میں امت قرآن کوسمجھنے میں غلطی کھا سکتی تھی ۔اما م شاطبیؒ کے نزدیک اللہ کے رسولﷺ نے آیت ’و امھتکم التی أرضعنکم و أخواتکم من الرضاعۃ ‘کے ساتھ اور بھی بہت سے رضاعی رشتوں کو قیاس کے ذریعے ملا دیاکیونکہ نص میں موجود ان دورضاعی رشتوں اور باقی رضاعی رشتوں میں کوئی فارق موجود نہیں ہے ‘عام اہل اجتہاد کے لیے ان دو رضاعی رشتوں سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا ممکن نہ تھا ‘ لہذا اللہ کے رسولﷺ نمے قرآن کی اس نص کے گہرے فہم کو اپنی سنت کے ذریعے امت تک منتقل کر دیا کہ جس تک پہنچنے میں امت ترددو اختلاف کا شکار ہوسکتی تھی ۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالی نے آیت مبارکہ ’اور تمہاری وہ مائیں کہ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں ‘میں رضاعت کے دو رشتوں کی حرمت کا تذکرہ کیا ہے تو اللہ کے رسولﷺ نے ان دو رشتوں کے ساتھ رضاعت کے باقی ان تمام رشتوں کو بھی ملا دیا جو کہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں جیسا کہ پھوپھی ‘خالہ‘بھتیجی ‘بھانجی وغیرہ ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان رضاعی رشتوں کو قیاس کے بعد آیت میں مذکورہ دو رشتوں سے ملا دیا کیونکہ سنت میں بیان شدہ رضاعی رشتوں اور قرآن کے رضاعی رشتوں میں کوئی فرق کرنے والی چیز موجود نہیں ہے ۔اگر اللہ کے رسولﷺ کی سنت نہ ہوتی تواللہ کے رسولﷺ کے علاوہ جو مجتہدین ہیں وہ اس غور و فکر اور تردد میں مبتلا ہو جاتے کہ نص میں موجود رضاعی رشتوں کی حرمت پر ہی اکتفاکریں یانص میں قیاس کر تے ہوئے اور بھی رضاعی رشتوں کو ان دو رشتوں کے ساتھ ملا دیں۔پس اللہ کے رسولﷺ نے اپنے علاوہ مجتہدین کو اس تردد سے نکالنے کے لیے اس آیت کے بیان میں یہ سنت جاری فرما دی کہ ’اللہ تعالی نے جورشتے نسب سے حرام ٹھہرائے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام کیے ہیں ‘ اور اس طرح کی باقی تمام روایات کا بھی یہی معنی ہے ۔‘‘ (الموافقات‘ ۲/۲۴)
غامدی صاحب اس بات پر مصر ہیں کہ اس آیت کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ ہر شخص قرآن میں موجو د ’وأخواتکم من الرضاعۃ‘ کے الفاظ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت بھی خود ہی نکال سکتا ہے جبکہ امام شاطبیؒ جو کہ غامدی صاحب کی طرح عجمی نہیں ہیں اور امت نے ان کو مجتہدین علماء میں بھی شمار کیا ہے ‘ ان کی رائے یہ ہے کہ ایک عام آدمی توکجا ایک مجتہد کے لیے بھی قرآن کی اس عبارت ’و امھاتکم التی أرضعنکم و أخواتکم من الرضاعۃ‘سے سنت کے بیان کے بغیر باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا بہت مشکل تھا ۔ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ غامدی صاحب کے عجمی ہونے کے باوجود یہ ممکن ہے کہ وہ امام شاطبی ؒ جیسے عربی النسل‘امام ‘فقیہ ‘مجتہد اور اصولی سے زیادہ قرآن کے اسلوب سے واقف ہوں۔غامدی صاحب کے دعوی کے مطابق قرآن پر تدبر کرنے والے ہر شخص کے لیے ’و أخواتکم من الرضاعۃ‘سے بالبداہت باقی بھی رضاعی رشتوں کی حرمت واضح ہوجاتی ہے لیکن ہم یہ کہتے ہیں یا توقرآنی الفاظ کی یہ بداہت و وضاحت صرف غامدی صاحب کے حصے میں ہی آئی یا پھر قرآن پر تدبر کا شرف پچھلی چودہ صدیوں میں غامدی صاحب کو ہی حاصل ہوا کیونکہ غامدی صاحب کی طرح کسی بھی عربی النسل فقیہ ‘مجتہد یا اصولی کو ’و أخواتکم من الرضاعۃ‘ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت سمجھ میں نہیں آئی۔بلکہ امام شاطبیؒ جیسے مجتہد اور فقیہ کا کہنا تو یہ ہے کہ ان الفاظ سے باقی رضاعی رشتوں کی حرمت نکالنا ایک عام مجتہد کے بس کی بات نہ تھی اسی لیے تو سنت کو جاری کیا گیا۔
امام شاطبی ؒ اپنی کتاب ’الموافقات‘ میں اس کی ایک اورمثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے جو ’ذی مخلب‘ اور ’ذی ناب‘ کو حرام قرار دیا وہ ’قل لا أجد فیما أوحی الی محرما...‘ پر اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ کابیان ہے کیونکہ بعض جانور اور پرندے ایسے تھے کہ جن کے بارے میں آپؐ کے علاوہمجتہدین کو یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ وہ ’الطیبات‘ میں سے ہیں یا ’الخبائث‘ میں سے‘تو اللہ کے رسولﷺ نے ایسے جانوروں کے بارے میں اپنی سنت جاری فرما دی۔امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:
’’ان میں ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے طیبات کو حلا ل قرار دیا ہے اور خبائث کو حرام ٹھہرایا ہے اور کچھ چیزیں ایسی تھیں کہ ان دونوں کے درمیان تھیں ان کا ان دونوں میں سے کسی ایک یعنی طیبات یا خبائث سے الحاق ممکن تھاتو اللہ کے رسولﷺ نے ایسی تمام اشیاء کے بارے میں کہ جن کے طیب یا خبیث ہونے میں اشکال ہو سکتا تھا وضاحت فرمادی کہ یہ طیب ہے یا خبیث ہے پس آپؐ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے درندے اور پرندوں میں سے پنجوں والے پرندوں کے کھانے سے منع فرمایا۔ ‘‘ (الموافقات‘جلد۲‘ الجز الرابع‘دار الفکر‘ ص۱۸)
غامدی صاحب کے نزدیک ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث ‘میں ’الطیبات ‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہو گا اور جہاں فطرت انسانی میں کسی جانور کے بارے میں اختلاف ہوجائے کہ یہ طیبات میں سے ہے یا خبائث میں سے ہے وہاں اہل عرب کے مزاج اور فطرت کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو گی ۔غامدی صاحب کا یہ موقف جمہور اہل سنت امام ابو حنیفہؒ ‘ امام مالکؒ ‘ امام احمدؒ ‘امام ابن تیمیہ ؒ اور امام شاطبی ؒ وغیرہ کے نقطہ نظر کے خلاف ہے جیسا کہ امام ابن تیمیہؒ نے ’مجموع الفتاوی‘ میں اس پر مفصل بحث کی ہے کہ اہل عرب کی فطرت یا مزاج سے طیبات یا خبائث کا تعین قرآن و سنت اور جمہور کی رائے کے خلاف ہے ۔
امام ابن تیمیہؒ کا موقف
امام ا بن تیمیہ ؒ بھی قرآن کے ‘ سنت سے نسخ کے قائل نہیں ہیں اور سنت کو قرآن کا صرف بیان ہی مانتے ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’پس اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کو صرف قرآن ہی منسوخ کر سکتا ہے جیسا کہ امام شافعی ؒ مذہب ہے اور امام احمدؒ سے ثابت شدہ دو روایتوں میں سے صحیح روایت یہی ہے بلکہ یہی قول امام احمدؒ سے نصاً ثابت ہے کہ قرآن کو بعد میں آنے والا قرآن ہی منسوخ کرے گا اور عام حنابلہ کا مذہب بھی یہی ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ ۱۷/۱۹۵)
یہ واضح رہے کہ امام صاحب کی یہاں پر نسخ سے مراد قرآن کے کسی حکم کا مکمل طور پر رفع ہو جانا ہے نہ کہ جزوی حکم کا اٹھ جانا۔امام ابن تیمیہ ؒ نے بعض ایسی روایات کو جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیں‘ قرآن کا نسخ شمار کرنے کی بجائے اس کی کسی دوسری آیت کا بیان قرار دیتے ہیں ۔امام صاحبؒ کے نزدیک اللہ کے رسولﷺ نے ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب ‘ کو جو حرام قرار دیا ہے وہ قرآن کے حکم ’قل لا أجد فیما أوحی الی ...‘ کا نسخ نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اضافہ ہے کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس آیت کے نزول تک جو وحی آپؐ پر نازل ہوئی ہے اس میں صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا۔ امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں :
’’اسی وجہ سے آپؐ کا درندوں میں سے کچلی والوں اور پرندوں میں سے پنجوں والوں کو حرام قرار دینا قرآن کی آیت ’آپؐ کہہ دیں کہ جو میری طرف وحی کی گئی ہے ‘ اس میں ‘ مَیں کسی بھی کھانے والے پرکسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتا کہ جس کو وہ کھاتا ہے ‘کا نسخ نہیں ہے ۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس آیت کے نزول سے قبل تین قسم کی چیزوں کو ہی حرام قرار دیا تھا۔یہ آیت اپنے نزول تک تین قسم کی چیزوں کے علاوہ کی حرمت کی نفی کرتی ہے(نہ کہ اپنے نزول کے بعد حرام ہونے والی چیزوں کی حرمت کی نفی) ۔اس آیت سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ان تین چیزوں کے علاوہ تمام اشیاء حلال ہیں ۔لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (اس آیت کے نزول تک تو اللہ تعالی نے صرف چار ہی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے لیکن) اللہ تعالی نے باقی چیزوں کی حلت و حرمت کو درگزر کرتے ہوئے بیان نہیں کیا (یعنی باقی اشیاء اس آیت کے نزول تک نہ حلال ہیں نہ حرام‘بلکہ اپنا حکم آنے تک معفو عنھا ہیں)جیساکہ کسی بچے کایا مجنون کا فعل ہے ۔اسی طرح معروف حدیث میں ہے :حلال وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے اور جس کے بارے میں اللہ تعالی خاموش ہیں اس سے اللہ تعالی نے درگزر فرما دیا ہے (یعنی اللہ کے رسولﷺ نے جو ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کو حرام قرار دیا ہے وہ ‘وہ جانور تھے کہ جن کے بارے میں کتاب اللہ میں سکوت تھا) اور یہ حدیث حضرت سلمان فارسیؓ سے محفوظ موقوفاً یا مرفوعاً ثابت ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: کتاب الفقہ‘ فصل الانکار علی من یأکل ذبائح أھل الکتاب)
ایک اور جگہ اپنے اسی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے امام صاحب ؒ لکھتے ہیں کہ ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ کی تحریم سنت کی طرف سے ایک ابتدائی حکم تھا نہ کہ قرآن کا نسخ یا اس پر اضافہ‘ اور سنت کا ایسا حکم کہ جس میں سنت ابتداء کسی چیز کو حرام قرار دے‘ اس کو ماننا واجب ہے ۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں :
’’اللہ کے نبیﷺ نے ہر کچلی والے درندے اور پنجوں والے پرندوں کو حرام قرار دیا ہے اور یہ کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہے کیونکہ کتاب اللہ نے ان درندوں اور پرندوں کو کبھی بھی حلال قرار نہیں دیا بلکہ ان کی حرمت سے سکوت اختیار کیاتھا۔پس ان جانوروں اور پرندوں کی حرمت آپؐ سے شریعت کے ایک ابتدائی حکم کے طور پر جاری ہوئی۔اور ایسی حرمت جو کہ آپؐ سے ابتدائی طور پر جاری ہوئی ہو اس کے بارے میںآپؐ سے حضرت أبو رافعؓ ‘حضرت أبو ثعلبہؓ اور حضرت أبو ھریرۃؓ وغیرہم سے مروی روایتکے الفاظ ہیں :میں تم میں سے کسی ایک کو تکیہ لگائے ہوئے اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میری طرف سے کوئی ایسا أمر آئے کہ جس کے کرنے کا میں نے حکم دیا ہو یا جس سے میں نے منع کیا ہوتو وہ یہ کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن ہی کافی ہے جس کو قرآن نے حلال کہا ہے ہم اس کو حلال کہتے ہیں اور جس کوقرآن نے حرام ٹھہرایا ہے ہم اسے حرام ٹھہراتے ہیں ۔خبرار!مجھے قرآن بھی دیا گیاہے اور اس کی مانند اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے ۔ایک اور روایت کے الفاظ ہیں :مجھے قرآن کی مثل یا قرآن سے زائد بھی کچھ دیا گیا ہے ۔خبردار!میں نے کچلی والے درندوں کو حرام ٹھہرایاہے ۔پس آپؐ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آپؐ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی اور یہی وحی ’حکمت‘ کہلاتی ہے(یعنی جس کا ذکرقرآن کی آیت مبارکہ ’واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من آیات اللہ و الحکمۃ‘ میں ہے )اور اسی وحی میں (جو قرآن کے علاوہ ہے)آپؐ کو اللہ تعالی نے خبر دی کہ ’ذی ناب‘ اور ’ذی مخلب‘ حرام ہیں اور آپؐ کا یہ فرمان کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہے کیونکہ کتاب اللہ نے ان جانوروں اور پرندوں کو کبھی بھی حلال نہیں کہا بلکہ کتاب اللہ نے تو ’الطیبات‘ کو حلال قرار دیا ہے اور یہ جانور اور پرندے’ طیبات‘ میں سے نہیں ہیں۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ:کتاب العقیدۃ‘ فصل أحادیث تنازع الناس فی صحتھا)
امام ابن تیمیہؒ کے نزدیک ’ذی مخلب‘ اور ’ذی ناب‘ کی سنت میں حرمت ‘ قرآن کی آیت ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث ‘ کا بیان ہے ۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں :
’’اور اللہ تعالی کا قول’آپؐ ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہرائیں گے ‘اللہ کی طرف سے یہ خبر ہے کہ آپ مستقبل میں ایساکریں گے پس آپؐ نے طیبات کو حلال ٹھہرایا ہے اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے جیساکہ آپؐ نے ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے کو حرام قرار دیا ہے ۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: کتاب التفسیر‘ فصل الناس فی مقام حکمۃ الأمر و النھی علی ثلاثۃ أصناف)
غامدی صاحب کے نزدیک ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا جو کہ خود غامدی صاحب کے اصول ’’قرآن قطعی الدلالۃہے‘‘ کے خلاف ہے ۔کیونکہ اگر فطرت انسانی سے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا تعین کیا جائے گا تو قرآن کے ان الفاظ کا معنی کبھی بھی متعین نہ ہو سکے گااور فطرت میں اختلاف کی صورت میں ایک فقیہ کے نزدیک ایک جانور حلال ہو گا اور دوسرے کے نزدیک وہی جانور حرام ہو گا۔ کیا عربی معلی میں ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کا کوئی معنی نہیں ہے؟کہ غامدی صاحب کویہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کے معنی اور مصداقات کا تعین فطرت انسانی سے ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ بھی قرآنی الفاظ’ الصلاۃ‘ اور ’الحج‘ اور ’الصیام‘ اور ’الزکوۃ‘ وغیرہ کی طرح مجمل ہیں کہ جن کا بیان سنت ہے نہ کہ فطرت‘ کیونکہ صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے گوہ کے گوشت اور پیازکوطبعاً ناپسند کرنے کے باوجود حلال قرار دیا۔ امام ابن تیمیہ ؒ ’الخبائث‘ اور ’الطیبات‘ کا معنی اور ان کی حرمت و حلت کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’جمہور علماء کاکہنا یہ ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہے اور ان کا کھانادین میں نفع کا باعث ہے اور خبیث سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ جو اپنے کھانے والے کے دین کو نقصان پہنچانے والی ہو۔اور دین کی أصل عدل ہے کہ جس کے قیام کے لیے اللہ تعالی نے رسولوں کو مبعوث فرمایا‘پس جو چیز اپنے کھانے والے میں ظلم اور زیادتی پیدا کرتی ہے اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دے دیا ہے۔ جیسا کہ ہر کچلی والے درندے کے کھانے کو حرام قرار دیا گیاکیونکہ ایسادرندہ سرکش اور حد سے بڑھنے والاہوتا ہے اور غذا دینے والاغذا لینے والے کے مشابہ ہوتا ہے ۔پس جب کسی ا نسان کاگوشت ایسے جانور سے پیدا ہو گاتو اس انسان کے اخلاق میں سرکشی اور زیادتی پیدا ہو جائے گی۔ اسی قسم کا حکمخون کا بھی ہے جو کہ شہوت اور غصے سے متعلقہ نفسانی قوتوں کو جمع کرتا ہے۔پس جب انسان ایسی چیزوں کو بطور غذا استعمال کرتا ہے تو اس کی شہوت اور غصہ اعتدال سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہائے گئے خون کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس تھوڑے سے خون کو جائز قرار دیا گیا جو کہ جانور کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے کیونکہ یہ ضرر نہیں دیتا(یعنی انسان کی شہوت اور غصہ نہیں بڑھاتا)اور خنزیر کا گوشت اس لیے خبیث ہے کہ یہ لوگوں میں برے اخلاق پیدا کرتا ہے ۔‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴ و ۲۵)
غامدی صاحب کے نزدیک اگر کسی جانور کے بارے میں فطرت انسانی میں اختلاف ہوجائے کہ وہ ’الطیبات‘ میں سے ہے یا ’الخبائث ‘ میں سے ہے ‘تو ایسی صورت حال میں اہل عرب کافطری رجحان فیصلہ کن ہو گا ۔ جبکہ امام ابن تیمیہؒ اس مسئلے میں اہل علمء کی آراء نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اور اسی طرح علماء میں سے جس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر اس کوحرام قرار دیا ہے کہ جس کو اہل عرب خبیث سمجھتے تھے اور اس کو حلال قرار دیاہے کہ کہ جس کو اہل عرب طیب سمجھتے تھے تو جمہور علماء امام مالکؒ ‘امام ابو حنیفہؒ ‘ امام احمد ؒ ‘ اور متقدمین حنابلہ کا قول اس کے خلاف ہے۔لیکن امام احمدؒ کے اصحاب میں سے خرقی ؒ اور ایک گروہ نے اس مسئلے میں امام شافعیؒ کی موافقت اختیار کی ہے۔لیکن امام احمد ؒ سے مروی عام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کا مسلک وہی ہے جو کہ جمہورعلماء ‘صحابہؓ اور تابعینؒ کامسلک ہے کہ کسی چیز کی حرمت و حلت کا تعلق اہل عرب کے کسی چیز کو طیب یاخبیث سمجھنے سے معلق نہیں ہے بلکہ اہل عرب بہت سی ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے حرام ٹھہرایا ہے جیسا کہ خون‘مردار‘گلا گھٹ کر مرنے والے جانور ‘ چوٹ کھا کر مرنے والے جانور ‘کسی جگہ سے گر کر مرنے والے جانور‘ کسی دوسرے جانور کے سینگ سے مرنے والے جانور‘درندوں کے شکار کا باقی ماندہ‘اور وہ جانور ہیں کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر غیر اللہ کانام لیا گیا ہو۔اور اہل عرب بلکہ ان کے بہترین لوگ بہت سی ایسی چیزوں کو ناپسند کرتے تھے کہ جن کو اللہ تعالی نے کبھی بھی حرام نہیں ٹھہرایاجیساکہ گوہ کے گوشت کو اللہ کے نبیﷺ ناپسند کرتے تھے اور آپؐ نے فرمایا چونکہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں پائی جاتی اس لیے میں اپنے آپ کو اس سے دور رکھ رہاہوں اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ حر ا م نہیں ہے اور آپؐ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپؐ دیکھ رہے تھے۔(یعنی آپؐ نے اس کے کھانے سے منع نہیں فرمایا)۔ ‘‘ (فتاوی ابن تیمیۃ: جلد۱۹‘ ص۲۴)
امام ابن تیمیہؒ کا کلام ختم ہوا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بعض روایات میں پیاز کابھی ذکرہے۔خیبر فتح ہونے کے بعد جب بعض صحابہؓپیاز کھا کر مسجد میں آئے تو آپؐنے فرمایا:
من أکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا یقربنا المسجد فقال الناس حرمت حرمت فبلغ ذلک رسول اللہ ﷺفقال أیھا الناس انہ لیس لی تحریم ما أحل اللہ و لکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا (مسند أحمد:۱۰۶۶۲)
’’جس نے اس خبیث درخت(یعنی پیاز) کو کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے تو لوگ یہ کہنے لگے کہ پیاز حرام کر دیا گیا ‘حرام کر دیا گیا۔جب آپؐ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا :اے لوگو!جس کو اللہ نے حلال ٹھہرایاہے تو مجھے کوئی اختیار نہیں ہے کہ اسے حرام قرار دوں ۔لیکن یہ ایک ایسا درخت ہے کہ جس کی خوشبو مجھے ناپسند ہے ۔‘‘
اس روایت اور اسی جیسی اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عام انسان کی فطرت یا اہل عرب کی فطرت تو کجااللہ کے رسول ﷺ بھی اپنی فطرت سے کسی چیز کو حرام قرار نہیں دے سکتے۔ بلکہ حلال وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے حلال ٹھہرا دیا ہے اور حرام وہی ہے جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کہا ہے اور جس کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص میں سکوت ہے تووہ حدیث کے الفاظ کے مطابق’ معفو عنھا‘ میں شامل ہے اور مباح ہے۔اس لیے جمہور اہل سنت کے نزدیک ہر حرام کی حرمت نص سے ثابت ہے اسی طرح ہر حلال کی حلت بھی نص سے ثابت ہے ۔امام ابن تیمیہؒ نے کسی جانور کے حرا م ہونے کی اصل بنیاد اس کی خباثت کو ہی بنایا ہے ۔امام صاحب ؒ لکھتے ہیں :
’’اسباب تحریم دو قسم کے ہیں ایک تو درندگی کی قوت ہے جو کہ درندے کے نفس میں ہوتی ہے ا ور اس درندے کو کھانے سے انسان کے جسم میں اس کی بہیمانہ قوت کے اثرات آ جاتے ہیں اور لوگوں کے اخلاق درندوں کے سے اخلاق بن جاتے ہیں یا اس وجہ سے کہ اللہ تعالی اس کو بہتر سمجھتے ہیں اور بعض اوقات حرمت کی وجہ کسی خبیث کا کھانا ہوتا ہے جیسا کہ بعض پرندے کسی گلی سڑی لاش کو کھاتے ہیں یا کچھ چیزوں کی حرمت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ فی نفسہ خبیث ہوتی ہیں جیساکہ حشرات الأرض ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ کھانے کی پاکیزگی و خباثت حلت و حرمت میں اثر رکھتی ہے جیساکہ سنت میں جلالۃ(وہ جانور جو کہ گندگی کھاتا ہے ) کے گوشت اور اس کے دودھ اور اس کے انڈے کے استعمال کے بارے میں ممانعت آئی ہے۔کیونکہ بعض اوقات طیب ‘خبیث غذا کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیۃ: جلد ۲۱‘ ص ۵۸۵)
(باقی)
عام انتخابات اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہیں۔ قاضی حسین احمد، عمران خان اور محمود خان اچکزئی کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے جبکہ ان کے علاوہ کم وبیش تمام سیاسی ودینی جماعتیں الیکشن کے عمل میں شریک ہیں اور دن بدن انتخابی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔ ۸؍ جنوری ۲۰۰۸ کو ہونے والے ان انتخابات پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی طرف سے ان کے نمائندے الیکشن کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان آنے والے ہیں۔
الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ ایمرجنسی اور پی سی او کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ان کے مناصب سے الگ کر کے ملک کے عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے اور آئین میں شخصی طور پر کی گئی ترامیم کے ساتھ آئین کو مسخ کیا جا چکا ہے، اس لیے ان انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان کا بائیکاٹ کر کے ایک ایسی تحریک برپا کرنا ضروری ہو گیا ہے جو آئین کی سابقہ پوزیشن کی بحالی اور چیف جسٹس اور ان کے ساتھ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے تمام ججوں کی ان کے دستوری مناصب پر واپسی پر منتج ہو کیونکہ اس کے بغیر عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا قیام ممکن نہیں ہے، جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر کا موقف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس الیکشن میں حصہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ سیاسی عمل سے الگ رہ کر آئین کی بحالی، ججوں کی واپسی اور جمہوری عمل کی بالادستی کے لیے موثر جدوجہد نہیں کی جا سکتی، اس لیے وہ بادل نخواستہ اس عمل میں شریک ہو رہے ہیں تاکہ عوام کی حمایت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچ کر وہ ملک کا دستوری قبلہ درست کرنے کے لیے کردار ادا کر سکیں۔
دونوں موقف اپنے اندر وزن رکھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے حق میں دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ بات ۸؍ جنوری کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب سے معلوم ہوگی کہ ملک کے عوام نے ان میں سے کس موقف کو ترجیح دی ہے اور ملک کے آئندہ سیاسی نقشے کے خدوخال بھی اس کے بعد ہی صحیح طور پر واضح ہوں گے، البتہ ان انتخابات کے تناظر میں ایک بات جو ہمارے لیے باعث تشویش بنی ہے، وہ متحدہ مجلس عمل کا انتشار وخلفشار ہے کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا طویل مدت کے بعد ایک ایسا مشترکہ محاذ سامنے آیا تھا جس نے عام ووٹروں کی توجہ حاصل کی تھی اور اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں دینی سیاست کی معقول نمائندگی کے علاوہ صوبہ سرحد کی مکمل حکومت اور بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شرکت دینی راہ نماؤں کے حصے میں آئی تھی اور یہ توقع پیدا ہونے لگی تھی کہ اگر متحدہ مجلس عمل اپنی اس پوزیشن کو مزید پیش رفت کے لیے موثر طور پر کام میں لے آئی تو وہ قومی سیاست میں مزید آگے بڑھنے اور نفاذ اسلام کے لیے زیادہ موثر جدوجہد کے مواقع حاصل کر لے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اس کی پالیسی ترجیحات میں معروضی سیاست اور وقتی ضروریات کی بالادستی نے اس کے بارے میں عام حلقوں بالخصوص دینی عناصر کی توقعات اور امیدوں کو بریک لگا دی۔ بادی النظر میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس اور مجاہدین کے خلاف امریکی آپریشن، حدود آرڈیننس میں کی جانے والی خلاف شریعت ترامیم اور جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کی مصلحت آمیز روش اور صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی پیش رفت نہ کر سکنے کی صورت حال نے دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کے بارے میں دینی حلقوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں سترھویں آئینی ترمیم کی منظوری میں متحدہ مجلس عمل کا کردار اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوبار صدر منتخب ہونے کے موقع پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے سوال پر اس کا طرز عمل اس کے اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بنا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود اگر متحدہ مجلس عمل اپنا اتحاد برقرار رکھتی اور ۸؍ جنوری کے انتخابات کے حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ کر لینے میں کامیاب ہو جاتی تو گزشتہ غلطیوں یا غلط فہمیوں کی تلافی کے امکانات موجود تھے، لیکن افسوس کہ یہ بھی نہ ہو سکا اور ہمارے نزدیک اس معاملے کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہی ہے۔
ہماری دینی جماعتوں بلکہ زیادہ واضح الفاظ میں مسلکی حلقوں نے قومی سیاست میں نفاذ اسلام کے نعرے کے ساتھ اپنے الگ اور الگ الگ تشخص کے اظہار کو ضروری سمجھتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ اور ریاست کی تشکیل کے قومی مقصد کو ایک حد تک کارنر تو کر ہی لیا تھا جس کے مالہ وماعلیہ پر گفتگو ایک مستقل بحث کی متقاضی ہے لیکن اگر وہ اس کے منطقی اور ناگزیر تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے ان کی تکمیل کا ہی اہتمام کر پائیں تو بھی اس حوالے سے توقعات اور امیدوں کا تسلسل قائم رہنے کی صورت دکھائی دے رہی تھی مگر متحدہ مجلس عمل کے پانچ سالہ سیاسی کردار کے پس منظر میں نفاذ اسلام کے حوالے سے عوام کی امیدیں ایک سوالیہ نشان کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کا مشترکہ محاذ ابھی رسمی طور پر قائم ہے اور اس کے دائرۂ کار کو کسی حد تک محدود کرتے ہوئے اسے غیر سیاسی طور پر باقی رکھنے کی باتیں بھی بعض ذمہ دار حلقوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ سب دل کو بہلانے کی باتیں ہیں، اس لیے کہ متحدہ مجلس عمل کا اصل مقصد وجود قومی سیاست میں دینی حلقوں کی مشترکہ نمائندگی، نفاذ اسلام کے لیے متحدہ سیاسی کردار اور اسلامائزیشن کے عمل میں رائے عامہ کی متفقہ راہ نمائی ہے۔ اگر اس میں بھی متحدہ مجلس عمل کے قائدین کے راستے الگ الگ ہو رہے ہیں تو کسی اور بہانے سے خود کو قوم کے سامنے ’’متحدہ‘‘ شو کرنے کے تکلف کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟
ہماری خواہش اور دعا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اپنے حقیقی مقاصد کے لیے قائم رہے، خاص طور پر جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی کی قیادتیں اپنی معروضی اور جماعتی ضروریات ومفادات پر اجتماعی تقاضوں اور ملی مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے ایثار وقربانی سے کام لیں اور نفاذ اسلام کے حوالے سے عوامی امیدوں کی اس (خاکم بدہن) آخری شمع کو گل ہونے سے بچا لیں، آمین یا رب العالمین۔
وکلا تحریک کے قائدین کی خدمت میں چند معروضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
چودھری اعتزاز احسن صاحب ہمارے ملک کے نامور وکلا اور معروف سیاست دانوں میں سے ہیں اور قومی حلقوں میں ان کا تعارف ایک شریف النفس، شائستہ اور دانش ور راہ نما کے طور پر ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری جب دستور کی بالادستی اور عدلیہ کے وقار کی بحالی کے لیے میدان میں آئے تو ان کے قریبی رفیق کار کے طور پر مسلسل ان کا ساتھ دے کر چودھری اعتزاز احسن نے اپنی عزت میں مزید اضافہ کیا اور اسی کے نتیجے میں انھیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر چن کر ملک بھر کے وکلا نے دستور کی بحالی اور عدلیہ کی بالادستی کے لیے اپنی تحریک کی قیادت سونپ دی ہے جو فی الواقع ایک بڑے اعزاز کی بات ہے اور ہم اس پر چودھری صاحب موصوف کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انھیں دستور پاکستان کی بحالی اور عدلیہ کی بالادستی کی ایک تحریک میں سرخ روئی اور کامیابی سے ہمکنار کریں، آمین یا رب العالمین۔
وکلا اس تحریک کے لیے کئی ماہ سے میدان عمل میں ہیں اور عدالتوں کے بائیکاٹ، عوامی مظاہروں اور عام انتخابات کے بائیکاٹ کی صورت میں دستور کی بحالی اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے محترم جج صاحبان کی ان کے دستوری مناصب پر واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس میں ملک کا ہر باشعور شہری ان کے ساتھ ہے۔ چودھری اعتزاز احسن ایمرجنسی اور پی سی او کے نفاذ کے بعد سے مسلسل زیر حراست ہیں اور انھیں اس بات سے روکنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ وکلا کی اس تحریک کی عملاً قیادت کریں، چنانچہ بظاہر ایمرجنسی ختم ہو جانے کے باوجود ان کی حراست کا تسلسل جاری ہے مگر وہ اپنے عزم پر قائم نظر آتے ہیں جس کا اظہار انھوں نے عید الاضحی کے موقع پر اپنی ’’عارضی رہائی‘‘ کے دوران یہ کہہ کر کیا ہے کہ ۸؍ جنوری کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے لیے تین ہفتوں کا وقت دیا جائے گا اور اگر اس وقت تک چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھی ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔
ہم چودھری اعتزاز احسن صاحب کے اس عزم اور اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دستور کی بالادستی اور عدلیہ کے محترم ججوں کی بحالی کے لیے وکلا کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اسی حوالے سے ہم دو گزارشات وکلا کی اس تحریک کی قیادت، بالخصوص چودھری اعتزاز احسن صاحب کی خدمت میں پیش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
ایک یہ کہ قوم کے دوسرے طبقات کو ساتھ لیے بغیر صرف وکلا کے فورم پر اس تحریک کو منظم کرنے اور آگے بڑھانے کی حکمت عملی ہمارے نزدیک محل نظر ہے، اصولاً بھی کہ جب یہ قومی مسئلہ ہے تو اس کے لیے منظم کی جانے والی تحریک میں قوم کے تمام طبقات کی نمائندگی نظر آنی چاہیے اور عملاً بھی کہ کسی ایک طبقے کی بنیاد پر چلائی جانے والی تحریک کی کامیابی کے امکانات ہمارے خیال میں زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے، اس لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اس تحریک کی قیادت اور کنٹرول بے شک اپنے ہاتھ میں رکھے لیکن اس میں ملک کے دینی وسیاسی حلقوں کی نمائندگی کا اہتمام ضرور کرے۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے تمام تر احترام کے باوجود اس کے ساٹھ سالہ مجموعی کردار کے بارے میں ملک کے عوام اور مختلف طبقات کو جو شکایات ہیں اور ان کے جو تحفظات ہیں، تحریک کے اہداف طے کرتے وقت ان سب کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور اسی صورت میں اس تحریک کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ مثلاً ملک کے جمہوری حلقوں کا شکوہ ہے کہ جسٹس محمد منیر مرحوم نے دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے کے غیر جمہوری عمل کو جواز کی جو سند بخشی تھی، اسے اس کے بعد روایت ہی کا درجہ دے دیا گیا ہے اور اب تک ہر آمر کے دستور شکن اقدامات کو ’’عدالتی تحفظ‘‘ مل رہا ہے۔ یہ صورت حال ملک کے ہر شہری کے لیے پریشان کن اور باعث اضطراب ہے اور وکلا کی موجودہ دستوری جدوجہد بھی اسی کا فطری رد عمل ہے۔ اسی طرح ملک کے دینی حلقوں کو بھی شکایت ہے کہ ملک میں اسلامی نظام وقوانین کی عمل داری کے لیے، جسے قیام پاکستان کا اہم ترین مقصد ہونے کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی بنیاد اور اس کی طرف سے فراہم کی گئی ضمانت کا درجہ حاصل ہے، عدالت عظمیٰ کا اب تک کا مجموعی رول حوصلہ افزائی کا نہیں ہے اور جس طرح جمہوری اقدار کی سربلندی کے خواہاں حلقوں کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے اب تک وہ ’’ریلیف‘‘ نہیں ملا جو جمہوریت کی عمل داری کے لیے ضروری ہے، اسی طرح اسلامی اقدار کی بالادستی کے لیے بھی قوم اسی طرح عدالت عظمیٰ کی طرف سے دیے جانے والے ’’ریلیف‘‘ کا انتظار کر رہی ہے اور اس کا یہ انتظار اب رفتہ رفتہ حسرت میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام اور جمہوریت دونوں ملک کی نظریاتی اساس ہیں۔ دستور پاکستان کی بنیاد بھی انھی دو اصولوں پر رکھی گئی ہے اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ یہ بات دستور میں ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی ہے کہ ملک میں حکومت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہوگا اور پارلیمنٹ کو ہی قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا، لیکن وہ قرآن وسنت کے اصولوں کی پابند اور اسلامی قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار ہوگی۔ اس لیے جہاں جمہوری اقدار کی سربلندی کا اہتمام کرنا اعلیٰ عدالتوں کی ذمہ داری ہے، وہاں اسلامی اصولوں کی بالادستی کا خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے، لیکن اب تک کی معروضی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک کے مجموعی عدالتی کردار میں اسلام اور جمہوریت دونوں سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
ملک کے دینی حلقوں کا عمومی تاثر یہ ہے کہ ۱۔ قرارداد مقاصد کی بالادستی کو تسلیم نہ کرنے کا عدالتی فیصلہ، ۲۔ سود کے خاتمہ کے لیے شریعت کورٹ کے فیصلے کا تعطل، اور ۳۔ صوبہ سرحد میں حسبہ ایکٹ کے نفاذ کو عدالتی طور پر روک دینے کا عمل اپنے نتائج وثمرات کے حوالے سے جسٹس محمد منیر محروم کے اس فیصلے سے مختلف نہیں ہے جسے کے ذریعے انھوں نے دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کے غیر جمہوری اقدام کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کا شیلٹر مہیا کر دیا تھا، بلکہ ہماری معلومات کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کی تحریک کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمن کا گریز کا عمل بھی حسبہ ایکٹ کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے پس منظر میں ہے جس کا دکھ صرف مولانا فضل الرحمن کو نہیں ہے بلکہ ملک میں نفاذ اسلام کی خواہش رکھنے والا ہر شخص اس کی کسک اپنے دل میں محسوس کر رہا ہے اور اعلیٰ عدالتوں سے جسٹس محمد منیر مرحوم کے فیصلے کی طرح مذکورہ بالا فیصلوں کی تلافی کی بھی بجا طور پر توقع رکھتا ہے جس پر اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان اور ملک کے سینئر وکلا کو پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ ہم مولانا فضل الرحمن کے موجودہ سیاسی کردار اور پالیسیوں کا دفاع نہیں کر رہے اور بہت سے دیگر سیاسی حلقوں کی طرح ہم بھی ان کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں، البتہ ’’حسبہ ایکٹ‘ ‘ کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کے تحفظات کو ہم بے جا نہیں سمجھتے، اس لیے اس کا ذکر ان گزارشات میں ہم نے مناسب سمجھا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وکلا تحریک کی اعلیٰ قیادت اس کا ضرور جائزہ لے گی۔
ان گزارشات کے ساتھ ہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت، بالخصوص چودھری اعتزاز احسن صاحب کی طرف سے دستور کی بالادستی اور اعلیٰ عدالتوں کے معزول ججوں کی بحالی کے لیے تحریک کے اعلان کا ایک بار پھر خیر مقدم کرتے ہیں اور انھیں یقین دلاتے ہیں کہ دستور پاکستان اور اس کی دونوں بنیادوں یعنی اسلام اور جمہوریت کی بالادستی کی اس جدوجہد میں انھیں ہمارا ہر ممکن تعاون حاصل ہوگا۔
لاہور میں ایک چرچ کا افسوس ناک انہدام / کراچی کے چند اداروں میں حاضری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۸؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لاہور چرچ کونسل کے سیکرٹری جناب مشتاق سجیل بھٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں ۱۹۶۳ء سے قائم ایک چرچ کو، جو ’’چرچ آف کرائسٹ‘‘ کے نام سے مسیحیت کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک بااثر قبضہ گروپ نے ۱۱؍ دسمبر کو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے بعد ۱۶؍ دسمبر کو مسمار کر دیا ہے اور اسے ایک کمرشل پلاٹ کی شکل دے دی ہے۔ مشتاق سجیل بھٹی کے بقول قبضہ کرنے والے بااثر افراد کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے فرزند چودھری مونس الٰہی اور ایک سابق صوبائی وزیر علیم خان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چر چ کونسل کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اس کی ایف آئی آر تھانہ گارڈن ٹاؤن میں درج کرائی گئی ہے مگر پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق مسیحی کمیونٹی کے کچھ حضرات نے اس سلسلے میں گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف ایس پی ماڈل ٹاؤن پولیس عمران احمر نے ایک اخباری انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ اس جگہ کا مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس میں پانچ چھ پارٹیاں فریق ہیں جبکہ اس پر یک طرفہ قبضہ کے بارے میں ایف آئی آر پر انکوائری کی جا رہی ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر واقعات کی ترتیب یہی ہے جو مشتاق سجیل بھٹی اور ایس پی عمران احمر کے اخباری بیانات سے ظاہر ہے تو اس عمارت پر قبضہ اور اس کو گرائے جانے کا یہ عمل سراسر زیادتی اور ظلم ہے جس کی سنگینی میں اس بات سے اضافہ ہو جاتا ہے کہ یہ عمارت چرچ کی ہے اور اس میں مسیحی حضرات ۱۹۶۳ء سے مسلسل عبادت کرتے آ رہے ہیں۔
ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کو اس بات کا پورا تحفظ حاصل ہوتا ہے کہ ان کی عبادت، مذہبی سرگرمیوں اور عبادت گاہوں سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ امام ابو یوسف نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں جب حضرت خالد بن ولید نے ’’حیرہ‘‘ فتح کیا تو وہاں کے باشندوں کو اس بات کی ضمانت دی جس کی حضرت صدیق اکبر نے توثیق فرمائی کہ ’لا یہدم بیعۃ ولا کنیسۃ ولا یمنعون من ضرب النواقیس ولا من اخراج الصلبان فی یوم عیدہم‘ (ان کی عبادت گاہوں اور خانقاہوں کو منہدم نہیں کیا جائے گا اور انھیں ناقوس بجانے اور اپنی عید کے دن صلیب لے کر باہر نکلنے سے منع نہیں کیا جائے گا)۔ مگر گارڈن ٹاؤں لاہور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم بلاک میں مسیحیوں کے چرچ کو زبردستی قبضہ کے بعد مسمار کر دیا گیا ہے اور اسے کمرشل پلاٹ بنا کر غالباً بیچنے یا کوئی پلازا کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ ہم حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیا جائے اور مسیحی کمیونٹی کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والی اس زیادتی اور ظلم کا بلاتاخیر ازالہ کیا جائے۔
کراچی کے چند اداروں میں حاضری
۸؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو مجھے دو روز کے لیے کراچی حاضری کا موقع ملا۔ ہمارے پرانے دوست مولانا عبد الرشید انصاری نے اپنے جریدہ ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ کے ’’دورۂ تفسیر قرآن کریم نمبر‘‘ کی تقریب رونمائی کا نماز مغرب کے بعد جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں اہتمام کر رکھا تھا۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے تقریب کی صدارت کی جبکہ راقم الحروف کے علاوہ شیخ الحدیث حضرت مولانا زر ولی خان صاحب نے بھی اس سے خطاب کیا۔ اس خصوصی نمبر میں دورۂ تفسیر قرآن کریم کے مختلف حلقوں کا تعارف کرایا گیا ہے اور ان دوروں کی افادیت وضرورت پر مختلف اہل علم کے مضامین شامل اشاعت ہیں۔
۹؍ دسمبر کو فجر کی نماز کے بعد جامعہ انوار القرآن کے شعبہ ’’تخصص فی الفقہ والافتاء‘‘ کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی اور شعبہ کے سربراہ مولانا مفتی حماد اللہ صاحب کی فرمایش پر انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تاریخی پس منظر اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے اس کے بارے میں اپنے تحفظات سے اساتذہ وطلبہ کو آگاہ کیا۔
دس بجے دار العلوم کورنگی کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس تھا جو مختلف دینی مدارس میں تخصصات کے حوالے سے پڑھائے جانے والے نصابات کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں جامع سفارشات اور تجاویز پر مشتمل رپورٹ مرتب کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے اور راقم الحروف کو اس کا مسؤل قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا منظور احمد مینگل، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم الحروف نے شرکت کی اور اجلاس میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے رپورٹ کی ترتیب کے لیے راہ نما اصول طے کیے گئے۔
بعد ازاں ’’آواری ٹاورز‘‘ میں ’’عصر حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے دو روزج سیمینار کی دو نشستوں میں شرکت کی۔ اس کا اہتمام انٹر نیشنل اسلامک سنٹر جوہر ٹاؤن لاہور نے، جو جامعہ خیر المدارس ملتان کا ایک شعبہ ہے، دار العلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم وٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے کیا تھا۔ دار العلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم وٹیکنالوجی کراچی کے ایک فاضل بزرگ مولانا سید فضل الرحمن کی سربراہی میں کام کر رہا ہے جو سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ کے فرزند وجانشین ہیں۔ اس سیمینار کی ظہر سے قبل کی نشست میں محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا مفصل خطاب سنا جو ’’مکالمہ بین المذاہب،: اہداف، مقاصد اور اصول وضوابط‘‘ کے عنوان پر تھا اور ظہر کے بعد سیمینار کی آخری نشست میں ’’عصر حاضر کے چیلنج اور علماے کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر راقم الحروف نے معروضات پیش کیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر نشستوں سے مولانا مفتی منیب الرحمن، پروفیسر عبد الجبار شاکر، مولانا عزیز الرحمن، مولانا محمد اسماعیل آزاد اور حافظ محمد نعمان نے مختلف عنوانات پر شرکا کو اپنے خیالات وافکار سے آگاہ کیا۔
میری کراچی حاضری کا پروگرام دراصل اسی سیمینار کے لیے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی خصوصی دعوت پر طے پایا تھا مگر اس کی برکت سے دوسرے مفید پروگراموں میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہو گئی، فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرم ومحترم حافظ عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
دسمبر کے الشریعہ میں مقاصد شریعہ سے متعلق آپ کا مفصل مضمون پڑھ کر آپ کے علم کی گہرائی وگیرائی کا گمان یقین میں بدل گیا۔ اس مضمون پرتبصرہ کرنا میرے کم علم کے بس کی بات نہیں۔ چند باتیں جو ذہن میں آئی ہیں، لکھ رہا ہوں۔
جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے استاذ نے مشرکین مکہ سے متعلق جو آرا قائم کی ہیں، ان میں سے بیشتر قرآن سے ثابت نہیں۔ افسوس، جاوید صاحب اور ان کے متوسلین علم کے کبر کی وجہ سے ڈھنگ سے جواب نہیں دیتے۔ آپ نے بھی قانون رسالت، اتمام حجت جو لکھا ہے، یہ بھی انھی حضرات کی دین ہے ورنہ سرفراز صاحب صفدر نے میرے علم کی حد تک ایسی بات نہیں لکھی۔ دیکھیں مکہ میں الکہف نازل ہوئی۔ اس میں یہ صراحت ہے: ’من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر‘۔ لہٰذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انھی مکیوں کو جبراً ایمان قبول کروایا جائے؟ پھر الاعراف ۹۴ سے بھی قانون رسالت ٹوٹ جاتا ہے کہ وہاں نبی کا لفظ آیا ہے۔ ریحان احمد یوسفی کو میں نے قرآن سے بہت سی آیات کی روشنی میں لکھا تھا کہ ’ارسلنا‘ کے لفظ میں رسول بنا کر بھیجنا ثابت نہیں ہوتا، مگر یہ لوگ باوجود ہمارے قرآنی آیات ان کے موقف کے خلاف پیش کرنے کے، ماننے کے لیے تیار نہیں۔ بہرحال آپ نے بھی التوبہ آیت ۱۴ سے استدلال کیا ہے کہ مشرکین مکہ کے لیے بھی عذاب کی علت انکار رسالت تھا۔ معاف کریں، آیت ۱۳ میں اس قتال کی علت بیان کر دی گئی ہے جو یہ تین ہیں: (۱) معاہدوں قسموں کا ایفا نہ کرنا، (۲) رسول کو جلاوطن کرنا، (۳) جنگ کی ابتدا کرنا۔ بتائیے انکار رسالت کہاں سے کشید کر لیا گیا؟
محترم طالب حسین صاحب سے چھ ماہ مغز ماری کے بعد میں خاموش ہو گیا۔ قرآن میں عذاب کی علت بیان کر دی گئی ہے۔ القصص ۵۹ اور سورہ ہود ۱۰۱، ۱۰۲ کو سیاق سے پڑھیں۔ السید الشیخ محمد علی کاندھلوی نے بجا طور پر مشرکین مکہ پر عذاب کی علت الانفال آیت ۱۳، ۱۴ کی تفسیر میں لکھ دی ہے، یعنی دنیا میں عذاب کی علت مخالفت رسول (نہ کہ انکار) اور آخرت میں سزاکی علت انکار رسالت ہے۔ مزید اطمینان کے لیے الاعراف ۱۶۵ تا ۱۶۳ پڑھیں۔ وہاں تو نہ نبی تھا اور نہ رسول، محض مصلحین تھے اور عذاب آ گیا۔
آپ بہت ذی علم انسان ہیں۔ میں آپ کی بے حد قدر کرتا ہوں، اس لیے محض اشارات کر دیے ہیں۔ غامدی صاحب کے قانون رسالت کی تغلیط کے لیے ڈھائی سال قرآن دیکھا کہ میرا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ قرآن کی عطا کردہ آزادی کو جبر میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس آزادی پر ہی تو جزا وسزا ملے گی۔ مشرکین مکہ کے لیے مکہ میں رہنے پر جبر تھا۔ آپ سورۂ انفال اور التوبہ دھیان سے پڑھیں، میری بات سمجھ آ جائے گی۔
الانفال آیت ۳۴ کی شرح میں صاحب تدبر قرآن نے لکھا ہے کہ جھگڑا تولیت کعبہ کا تھا، اسی بنا پر انھیں بے دخل کیا گیا۔ التوبہ کی آیت ۲۸ سے بھی میری تائید ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کے لیے بھی تین آپشنز تھے۔ (۱) ایمان لا کرمکہ میں رہ سکتے تھے۔ (۲) مکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ (۳) بصورت دیگر جنگ وقتال۔ یہ بات صرف امین احسن اور ان کے متوسلین کی سمجھ میں نہیں آتی، باقی جمہور مفسرین نے یہ بات لکھی ہے۔ التوبہ کی ابتدائی آیات کی شرح کسی بھی مفسر کی پڑھ لیں، مثلاً تفسیر عثمانی اور تفسیر احسن البیان وغیرہ۔ اس خط کے ہمراہ میں ایک خط بھیج رہا ہوں۔ جاوید صاحب اور ان کی المورد کی ٹیم تو جواب دے نہیں رہی۔ آپ جواب دے سکیں تومیری خلش دور ہو جائے گی۔
آپ نے بھی اپنے مضمون میں دیگر اہل سنت کی طرح لکھا ہے کہ رجم کی سزا تورات میں تھی۔ شاید میں اپنے علم کی حد تک واحد انسان ہوں جو یہ بات نہیں مانتا کیونکہ قرآن سے ثابت ہے کہ رجم کی سزا تورات میں بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ المائدہ آیت ۳۲ میں بنی اسرائیل کے لیے بھی موت کا قانون بیان کر دیا گیا ہے۔
صفحہ ۲۹ پر آپ نے لکھا ہے کہ کوئی حکم کسی علت پر مبنی ہے تو حکم کا وجود وعدم علت کے وجود وعدم پر منحصر ہوگا۔ یہ بات سو فی صد درست ہے، مگر آپ لوگ خود اس پر عمل پھر کیوں نہیں کرتے؟ مثلاً صلوٰۃ قصر کی علت کافروں کا (صرف کافروں کا) خوف ہے۔ تعدد ازواج کی علت یتیموں سے ناانصافی کا اندیشہ وغیرہ۔ ایسے ہی جمع بین الصلاتین پھر ناقابل عمل ہونا چاہیے، کیونکہ نماز وقت موقوت میں ہی فرض ہے۔
صفحہ ۲۷ پر آپ نے رسول اللہ پر ایمان لانے اور امت میں شامل ہونے کو لازمی قرار دیا ہے۔ یہ بات ایک پہلو سے ضروری ہے، مگر جنت میں داخلہ امت محمدیہ کے لیے خاص نہیں۔ قرآن میں (۲:۶۲) جنت میں داخلہ کے لیے بغیر شرک کی آمیزش کے اللہ پر صحیح صحیح ایمان لانا، آخرت پر صحیح طور پر ایمان لانا اورعمل صالح بنیادی شرائط ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کیوں ضروری ہے؟ سادہ سی بات ہے کہ ’ان ہذا القرآن یہدی للتی ہی اقوم‘۔ آج قرآن سمجھے بغیر اللہ کی منشا معلوم کرنا بہت مشکل ہے۔ امین احسن صاحب اور شیخ القرآن غلام اللہ صاحب کی شرح اس آیت کے حوالے سے بداہتاً غلط ہے اور غامدی صاحب نے جو ترجمہ اس آیت کا کیا ہے، ان کے عدم تدبر قرآن کا نتیجہ ہے۔ دیکھیں آل عمران ۱۱۳، ۱۱۴ میں بھی اہل کتاب کی تعریف کی گئی ہے۔ چند آیات پہلے بھی ان میں مومنین کا وجود تسلیم کیا گیا ہے۔ آل عمران ۶۴ میں دور رسالت کے اہل کتاب کو صرف توحید مان لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ یہ دعوت مان لیتے تو جنت میں جا سکتے تھے یا نہیں؟ یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے۔ چند آیات لکھ رہا ہوں۔ ہو سکے تو غور فرمائیں۔ ۱:۷۶، ۲:۵۹و ۶۲ و ۱۰۵، ۳: ۱۱۰ و ۱۱۳ و ۱۱۴، ۴:۱۲۳، ۵:۶۹ سے ثابت ہے کہ اہل کتاب کے بارے میں جمہور امت کی رائے درست نہیں۔
محمد امتیاز عثمانی
امتیاز پائپ اسٹور، H153-154
سردار عالم خان روڈ، راول پنڈی
(۲)
مکرمی امتیاز عثمانی صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟
میں ممنون ہوں کہ آپ نے میرے مضمون کے بعض بحث طلب نکات کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب کفار سے متعلق جہاد وقتال کے احکام کے حوالے سے آپ نے جس زاویہ نگاہ کی ترجمانی کی ہے، کئی برس سے جاری غور وفکر کے باوجود میں اس سے اتفاق کرنا ممکن نہیں پاتا۔ میں نے اپنی زیر ترتیب کتاب ’’جہاد۔ ایک تقابلی مطالعہ‘‘ میں اس موضوع سے متعلق سوالات پر تفصیلی بحث کی ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کی اشاعت تک انتظار کی زحمت گوارا فرمائیں گے۔
عمار ناصر
(۳)
محترمی ومکرمی !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی !
اس اللہ کے نام سے جس کے قبضہ قدرت میں میری آپ کی ساری دنیا جہان کی جان ہے۔ خدارا مسلک دیوبند کی حفاظت کیجیے۔ حضرت ! افغانستان میں خونخوار وحشی درندوں نے جس سفاکی اور درندگی کامظاہر ہ کیا ہے، باجوڑ ایجنسی، لال مسجد، جامعہ حفصہ میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں، اللہ کے مہمانوں کو جس سفاکی، بے رحمی، بے دردی سے شہید کیا گیا، پھر آئے دن علماے کرام بزرگان دین کو جس عیاری مکاری سے شہید کیا جا رہا ہے، دل خون کے آنسو رو رہا ہے، چیخیں نکل گئی ہیں۔
حضرت! اس وقت پور املک ہی نہیں بلکہ ساری امت مسلمہ یتیم ہوچکی ہے۔ ہم ہیں کہ بلک بلک کر رو رہے ہیں۔ ہمار ا کوئی ایک بھی پرسان حال نہیں ہے، نہ فقط نوجوان نسل سے کچھ امید کرسکتے ہیں۔ شاید کوئی ایک شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، قاسم نانوتوی، محمود الحسن، حسین احمد مدنی یا شاہ اشرف علی تھانوی پیدا ہو اور ہمارے سروں پر دست شفقت رکھے۔ مایوسی گناہ ہے مگر موجودہ حالات میں تو معاملہ مایوسی سے بھی کہیں بہت دور پہنچ چکا ہے۔
حضرت! سنا ہے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں طلبہ وفاق المدارس کا اعلیٰ امتحان ہر سال پاس کر کے سند فضیلت حاصل کرتے ہیں، پھر معاشرہ میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ قو موں کی تقدیربدلنے کے لیے توایک مرد قلندر بھی کافی، افسوس کہ یہاں ہزاروں میں ایک بھی نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟
حضرت! محسو س نہ فرمائیں تو عرض کروں کہ اس کی وجہ ’’تربیت کافقدان‘‘ ہے۔ جسے دیکھو تنگ نظر، تنگ دل، سخت متعصب، بغض، عناد، حسد سے معمور، نہ ملاقات کا ڈھنگ، نہ بات کرنے کا سلیقہ، فقط اپنی ’’انا‘‘ تک محدود۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں ایک بڑا جلسہ ہوا۔ علماے کرام، مقررین، مختلف مدارس کے اساتذہ وطلبہ نے شرکت کی۔ جو بھی آیا اکڑ کر آیا، روکھے تیکھے اندازمیں علیک سلیک کی، عجیب انداز میں الگ ہو کر بیٹھ گیا۔ ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔ کن انکھیوں سے بھی دیکھتے رہے مگر خوشگوار ماحول بنا کر کسی نے دوسرے سے بات نہ کی۔ ایسا محسو س ہوا کہ آنے والے کودکھ تھا کہ بیٹھنے والوں نے کھڑے ہوکر میرا استقبا ل کیوں نہیں کیا۔ بیٹھنے والے سوچ رہے تھے کہ آنے والا ہمیں جھک کر کیوں نہیں ملا۔ کسی نے کسی کی عزت اد ب احترام نہیں کیا۔
حضرت! اس پر مجھے بڑ ادکھ اور افسوس ہوا کہ مولوی مولوی کی عزت نہیں کرتا۔ ایک ہی مسلک، ایک ہی مشن، عوام تو کالانعام، منتظمین جلسہ نے بھی عزت نہ کی، وہ کیوں کرتے۔ مولوی مولوی کی عزت کرتا ہے، عوام سے بھی علما کی عزت کرواتا ہے۔
حضرت! طلبہ کی تربیت کا سوچیں۔ مدارس میں کتابیں تو رٹوا دی جاتی ہیں، مگر تربیت کا فقدان ہے۔ تربیت کے لیے بڑی عاجزانہ رائے ہے کہ مسجد میں درس قرآن اور در س حدیث کا انتظام کیا جائے۔ نماز فجر کے بعد تمام درجات کے طلبہ کی حاضری لی جائے، ہر درجے کا مانیٹر اپنے اپنے درجہ کی حاضری لے۔ پھر ایک استاد طلبہ سے مخاطب ہو۔ کہے کہ بچو! اللہ ہمارا خالق مالک حاکم ہے، اس کاحکم قرآن کی صورت میں حضور کے واسطے سے ہم تک پہنچا ہے۔ میں اللہ کاحکم پڑھتاہوں،آپ غورسے سنیں، پھر اس پر عمل کریں۔ قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر ترجمہ اورمختصر تشریح کرے۔ فلسفیانہ ،منطقیانہ بحث سے اجتناب کرے، سادہ ترجمہ سادہ تشریح ہو،جیسے کسی افسر کاحکم ماتحت ملا زمین کوپڑھ کر سنایا جاتا ہے اورانہیں عمل کی تلقین کی جاتی ہے ۔ بعینہ اسی طرح عشا کی نماز کے بعد حاضری ہو، ایک دوحدیثیں پڑھ کر ان پر عمل کی تلقین کی جائے۔
اساتذۃ میں باری باری ایک استادکو ’’معلم الیوم‘‘ مقرر کریں، وہ سارا دن جامعہ میں گھومے پھرے،جائزہ لے کہ طلبہ احکامات الٰہی اور فرمان رسول کے مطابق کس قدر عمل کر رہے ہیں، بچوں کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، آپس کامیل ملاپ، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، مہمانوں کا اکرام، اساتذہ کی عزت، بول چال غرض ہر چیز چیک کر کے جامعہ کی ڈائری میں لکھے۔ درس قرآن وحدیث کے بعد کھڑا ہو، کسی طالب علم کانام لیے بغیر مطلق کہے کہ بعض بچے یہ یہ غلطی کرتے ہیں، ملاقات بول چال میں فلاں فلاں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں، ایسی غلطیوں کوتاہیوں سے اجتناب کریں۔
اساتذہ کی تربیت کا بھی ا نتظام کیاجائے۔ جدید طریقہ ہاے تدریس سے انہیں واقف کیاجائے ۔بچوں کی نفسیات اور ان کی ضروریات سے آگاہی ہو۔ ہر فن کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں، لے کر مطالعہ کریں۔ اساتذہ کی شخصیت پرنگاہ رکھیں۔ سب سے اہم مسئلہ یہی ہے۔ طلبہ کی تربیت میں اساتذہ کی ذات گرامی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حضرت! میں نہایت عاجزانہ مود بانہ دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا، مسلک دیوبند کی حفاظت کیجیے۔ میری رائے اور مشورہ سے اتفاق نہ کریں توکوئی بات نہیں، آپ صاحب علم ہیں خود غورفرمائیں۔ جیسے مناسب سمجھیں ویسے کریں۔ یقین جانیے کہ ہم بڑے ذلیل وخوار ہیں، معاشرہ میں ہماری ذرہ برابر عزت نہیں۔ ہم خود آپس میں ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے، نہ اتحاد نہ اتفاق ہے، جس سے فائدہ اٹھاکر لوگ ہمیں پیٹ رہے ہیں۔ فی الحال سیاست میں حصہ نہ لیں، پس پردہ زیر زمین کام کریں، تین سو تیرہ نفوس تیار کریں۔ یقین جانیں چند سالوں میں انقلاب آجائے گا، پوری دنیا میں مسلک دیوبند کی حکومت ہوگی۔
غلام یاسین ،استاد
نہر کنارہ اللہ آباد
تحصیل لیاقت پور، ضلع رحیم یارخان
(۴)
جنا ب مدیر الشریعہ
السلام علیکم ! ’’الشریعہ‘‘ کے تازہ شمارہ میں جناب منظورالحسن صاحب کا مضمون بعنوان ’’ غامدی صاحب کے تصور کتاب پر اعتراضات کاجائزہ‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جناب منظور احمد صاحب نے لکھاہے کہ ان کے الفاظ ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘ سے حافظ زبیر صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ فطرت کے حقائق اور قدیم صحائف بھی غامدی صاحب کے مصادر دین میں سے ہیں۔ میں منظورالحسن صاحب کی اس بات سے متفق ہوں، لیکن مجھے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ الشریعہ کے تازہ شمارے میں بھی غامدی صاحب کے دفاع میں منظور الحسن نے ہی لکھاہے کہ فطرت کے حقائق اور قدیم صحائف غامدی صاحب کے مآخذدین نہیں ہیں۔ منظور الحسن کے غامدی صاحب کے دفاع میں لکھے جانے والے ان مضامین کو میں کیا سمجھوں؟ غامدی صاحب کی رائے یا منظورالحسن کی؟ منظورالحسن صاحب کے اب تک کے بیانات کے مطابق جو کچھ وہ غامدی صاحب کے دفاع میں لکھ رہے ہیں، حافظ زبیر صاحب کو اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ غامدی صاحب کے الفاظ نہیں ہیں۔ یعنی قارئین منظورا لحسن صاحب کے جواب کو غامدی صاحب کی طرف سے جوا ب سمجھیں، لیکن اگر منظور الحسن صاحب کے جواب پر نقد ہو تو وہ منظورالحسن صاحب پر نقد ہوگی نہ کہ غامدی صاحب پر۔ منظورصاحب بتائیں کیا میں درست سمجھاہوں؟
اسی طرح منظور الحسن صاحب نے اردوالفاظ مآخذ اور مصادر میں کوئی باریک فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں منظور صاحب کی ایسی کوششیں کسی رضوان علی ندوی جیسے عالم کے لیے اس معا ملے میں بہترین محرک ثابت ہوسکتی ہیں کہ وہ اہل مورد کی اردو دانی کا بھی تحقیقی جائزہ لیں۔ مجھے خوشی ہوگی اگر منظور صاحب اہل لغت سے اس باریک فرق کو ثابت کر دیں جو انہوں نے ماخذ اور مصادر میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال میں نے حافظ زبیر صاحب کو مشورہ دیا ہے کہ دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنی کتاب ’’فکر غامدی‘‘ میں جہاں جہاں ماخذ کالفظ ہے، اس کو مصادر سے بدل دیں۔ جناب حافظ زبیر صاحب نے یقین دلایا ہے کہ اگلے ایڈیشن میں ماخذ کی جگہ مصادر کے الفاظ ہوں گے۔
حافظ طاہر اسلام عسکری
قرآن اکیڈمی، ۳۶ ۔کے
ماڈل ٹاؤن، لاہور
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام فکری نشستیں
ادارہ
- انسانی حقوق کے عالمی دن ۱۰؍ دسمبر کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک خصوصی فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانازاہد الراشدی نے کی اور اس سے ممتاز ماہرتعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم، مولانا مشتاق احمد چنیوٹی اور اکادمی کے ناظم پروفیسر محمد اکرم ورک نے خطاب کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب میں انسانی حقوق کی جدوجہد کا نقطہ آغاز بارہویں صدی عیسوی کا میگنا کارٹا بتایا جاتا ہے جو بلاشبہ مغربی دنیا کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن اسلام نے اس سے چھ سو برس پہلے معاشرہ میں انسانی حقوق کا علم بلند کیا تھا اور نہ صرف یہ کہ عوام کو خلیفہ کے انتخاب کا حق دیا بلکہ آزادی رائے، حکومت کے احتساب اور بیت المال سے مستحق لوگوں کی کفالت کا حق بھی سوسائٹی کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آج بھی مغربی دنیا سے کہیں زیادہ فطری انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور انسانی سوسائٹی کو فلاح اور کامیا بی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے خطا ب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی طرز پر انسانی حقوق کے اسلامی چارٹر کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اسلامی سر براہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی کو موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
پروفیسر غلام رسول عدیم نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب نے انسانی حقوق کے زیر سایہ فلسطین، عراق، افغانستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں عوام کے بنیادی حقو ق کو جس طرح پامال کیا ،ہے اس نے انسانی حقوق کے حوالے سے مغر ب کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کاڈھنڈوراپیٹنے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کس طرح وہ انسانی معاشرہ میں اپنے مفادات کی خاطر مظلوم قوموں اور ملکوں کے عوام کے حقوق کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ - ۱۲؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں علماے کرام، طلبہ اور دیگر اہل دانش کی ایک بھرپور نشست منعقد کی گئی جس میں بھارت کے ممتاز عالم دین اور ندوۃ العلما لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان الحسینی الندوی نے خطاب کیا۔ نشست کی صدارت الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس سے مولانا قاری سیف اللہ اختر، مولانا حافظ محمد یوسف اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا۔
مولانا سید سلمان الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے جسے پورے کا پورا قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اس طرح حصے بخرے نہیں کیے جا سکتے کہ جس حکم کو چاہا قبول کر لیا اور جسے نہ چاہا نظر انداز کر دیا۔ قرآن کریم نے ایسے طرز عمل کی مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ بنی اسرائیل نے یہ طرز عمل اختیار کیا تو ان پر ذلت ورسوائی مسلط کر دی گئی جبکہ آج ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مکمل دین کو مختلف خانوں میں بانٹ رکھا ہے اور ہر خانے میں کام کرنے والے مسلمان اپنے اپنے دائرے پر قناعت کیے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے آج امت مسلمہ دنیا میں عزت ووقار اور وحدت سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ضابطے سب کے لیے یکساں ہوتے ہیں۔ جس جرم پر بنی اسرائیل کو ذلت ورسوائی سے دوچار ہونا پڑا، ہمارے لیے اس جرم کی سزا اس سے مختلف نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ علماے کرام کا کام صرف لوگوں کو عبادات سکھانا اور نماز روزے کے مسائل بتانا نہیں ہے بلکہ زندگی کے دوسرے معاملات میں ان کی راہ نمائی کرنا اور انھیں شریعت کے مطابق مسائل سے آگاہ کرنا بھی علماے کرام کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ دینی تعلیم کو صرف مساجد ومدارس تک محدود رکھنا دین کے تصورکو محدود کر دینے کے مترادف ہے جبکہ دین کا دائرہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے اور قرآن وسنت میں عقائد وعبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق ومعاملات، تجارت، معیشت، سیاست، عدالت اور دیگر معاملات کے لیے بھی واضح راہ نمائی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ علماے کرام کو دینی تعلیم کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے اور سوسائٹی کی جو بھاری اکثریت دینی مدارس میں نہیں آتی، انھیں دین کی بنیادی تعلیم سے آراستہ کرنے کا پروگرام بھی تشکیل دینا چاہیے۔
مولانا قاری سیف اللہ اختر نے اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں دین کا کام کرنے والوں کو دوسرے دینی شعبوں کے کام کا احترام کرناچاہیے اور باہمی تعاون واشتراک کے ساتھ دینی جدوجہد میں اجتماعیت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
نشست کے شرکا میں مولانا مفتی محمد اویس، مولانا عبد القدوس خان قارن، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا محمد ظفر فیاض، مولانا محمد ریاض خان سواتی، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، قاری حماد الزہراوی، چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ، حافظ محمد یحییٰ میر، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر محمد اکرم ورک اور دیگر سرکردہ علماے کرام اور اہل دانش شامل تھے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اکادمی کی طرف سے معزز مہمان سید سلمان الحسینی اور ان کے رفقا کی تشریف آوری پر ان کا خیرمقدم کیا اور ان کی دینی وعلمی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا سید سلمان الحسینی اور ان کے رفقا نے واپڈا ٹاؤن میں الشریعہ اکادمی کی مجلس مشاورت کے رکن حاجی محمد معظم میر کی طرف سے دیے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔