مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش مشرق وسطیٰ کادورہ کر کے واپس جا چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سعودی عرب، کویت، مصر، متحدہ عرب امارات، فلسطین اور اسرائیل وغیر ہ کا دورہ کیا اور اسرائیل اور فلسطین کے راہنماؤں سے بھی تبادلہ خیالات کیا۔ ان کے اس دورے کے مقاصد کیا تھے؟ اس کی ایک جھلک بعض عرب اخبارات کے مندرجہ ذیل تبصروں سے دیکھی جا سکتی ہے :
ایک عرب اخبار ’’الحیاۃ ‘‘ کا کہنا ہے کہ : ’’امریکی صدر کایہ دورہ ایک شہنشاہ کا دورہ تھا۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک مغربی اور امریکی صدور اور وزراے اعظم کے نظارے دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی مسئلہ فلسطین حل کر سکا ہے اور نہ ہی مشرق اوسط کے عوام کے سنگین مصائب کوکم کرسکاہے ۔ عرب ممالک کے تعلیم یافتہ عوام بادشاہوں اورشہزادوں کے زیرنگیں رہنے کی بجائے جمہوریت کی فضامیں زندگی گزارناچاہتے ہیں، لیکن انہیں یہ مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے ۔ اس کا قصوروار امریکہ بھی ہے۔‘‘
’’عرب نیوز‘‘ کاکہناہے کہ: ’’امریکی صدر کے اس دورے کے دوران مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل میں سے ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا ہے اور عراق میں جگہ جگہ لگی ہوئی آگ میں سے کوئی آگ بجھ نہ سکی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اس دورے کے دوران امریکی صدر ایران کے خلاف شعلہ فشانیاں کرتے رہے، حالانکہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل واشنگٹن میں کہاتھا کہ میں فلسطین کے مسائل کم کرنے کے لیے اسرائیل کو مقبوضات خالی کرنے پر مجبور کروں گا۔ لیکن ایک ہفتہ گزرگیا، امریکی صد ر اسرائیلی حکمرانوں کواس طرف مائل نہ کرسکے۔‘‘
’’الشر ق الاوسط ‘‘نے لکھا ہے کہ : ’’امریکی صدر جارج بش نے جس بے فکری اور غیر سنجیدگی سے اسرائیل، کویت، فلسطین اورعرب امارات کادورہ کیاہے اور آج وہ سعودی عرب آرہے ہیں، یوں محسو س ہوتاہے کہ جیسے پکنک پر آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کسی ایک جگہ بھی درپیش سنگین مسائل کے حل کی طر ف توجہ دی، نہ فریقین کو ایک جگہ بٹھانے کا اہتمام ہی کیا ..... امریکہ چونکہ اکلوتی سپر پاور ہے اور محض اکلوتی سپر سے تمام ترتوقعات وابستہ کیے رکھنا عالمی سطح پر اپنے تعلقات کو گرانے اور زک پہنچانے کے مترادف ہے، عرب ممالک سے غلطی یہ ہوئی کہ ا نہوں نے گزشتہ پچاس سال میں صرف امریکہ کو اپنا نجات دہندہ خیال کیا ہے، لیکن یہ خیال باربار غلط اور غیر مفید ثابت ہوا۔‘‘
’’گلف نیوز‘‘ کاتبصرہ اس طرح ہے کہ : ’’مشرق وسطیٰ کے اس دورے کے دوران امریکی صدر کی اولین ترجیح ایران رہی ہے۔ وہ ایران کے بارے میں جوپالیسی بیان دیتے رہے، ان سے یہی عیاں ہوتاہے کہ یہ دورہ محض ایران کے لیے تھا کیونکہ جن ممالک کاموصوف نے دورہ کیا، ان کے بالکل ہمسایے میں ایران واقع ہے۔ گویایہ بات بجا طورپر کہی جاسکتی ہے کہ ایران کے معاملات سے براہ راست آگاہی حاصل کرنے او رعرب حکمرانوں اور عوام کی نفسیات سے آگاہی کے لیے ہی مشرق وسطیٰ کے دورے کاڈول ڈالاگیا۔ ...... اگرایران اس خطہ کے لیے خطرہ ہے بھی تو ہم سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل کے اس قول پر عمل کر کے خطرے کا مقابلہ کرسکتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران سے ہمارے تعلقات ہیں، ہماری اس کے ساتھ کھلی بول چال ہے، اگرہمیں اس سے کبھی خطرہ محسوس ہوا تو ہم ایران سے براہ راست بات چیت کر کے معا ملات حل کر لیں گے۔ امریکی صدر نے اس دورہ کے دوران اس خطے کے لیے باربار انصاف اور آزادی کی بات کی۔ اگر امریکی صدر ان دونو ں الفاظ کی معنو یت سے آگاہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کوبھی انصاف اور آزادی فراہم کرنے میں فوری اور طاقت ور امداد دیں۔‘‘
یہ تو وہ تبصرے ہیں جو معروف عرب اخبارات نے امریکی صدر کے دورۂ مشرق وسطیٰ کے اہداف اور دورے کے درمیان ان کی سرگرمیوں اور ارشادات کے حوالہ سے کیے ہیں۔ ا ب ایک جھلک اس صورت حال کی بھی دیکھ لی جائے جو ان کے دورے کے فوراً بعد مشرق وسطیٰ میں سامنے آئی ہے اور جس نے لاکھوں فلسطینیوں کو اسرائیل کے ہاتھوں جبر اور استبداد کے ایک اور مرحلے سے دوچار کر دیا ہے۔ روزنامہ’’ پاکستان‘‘ لاہور میں ۲۴؍ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطا بق اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس اور ملحقہ علاقے میں یہودی آبادیوں کے لیے نئے مکانات تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایاکہ آٹھ ہزار میں سے تقریباً اڑھائی ہزار مکانات مشرقی مقبوضہ بیت المقدس اور ملحقہ علاقوں میں بنائے جائیں گے، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر سے مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل متاثر ہوگا۔
’’پاکستان ‘‘ میں ہی ۱۶؍ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع ہونے والی خبر کے مطا بق غزہ میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے جن میں حماس کے ایک اہم رہنما اور سا بق وزیر خارجہ محمود الزہار کا بیٹا بھی شامل ہے۔ ا س کارروائی کے بعد اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چالیس دیگر شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطا بق اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کررکھی ہے جس سے نہ صرف بجلی بلکہ خوراک کی ترسیل کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور عالمی رائے عامہ کے مسلسل احتجاج کے باوجود اسرائیل ابھی تک اس ناکہ بندی میں نر می کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ پاکستان میں ۲۴ جنوری کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی عوام امن چاہتے ہیں تو حماس کے خلاف بغاوت کریں اوران کے تحفظ کاایک ہی راستہ ہے کہ فلسطین سے عسکریت پسندی کاخاتمہ کر دیا جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہاہے کہ غزہ کے شہری اگر اسرائیل پر حملہ کرتے ہیں تووہ گاڑیوں کے بجائے پیدل چلیں، روشنی کی بجائے اندھیرے میں رہیں اور بھوک وافلاس سے مرتے رہیں۔
یہ ہے ایک منظر امریکی صدر کے دورۂ مشرق وسطی اور اس کے فوراً بعد رونما ہونے والی صورت حال کا، جبکہ امریکہ دنیا کو یہ تاثر دینے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے اور صدر بش چاہتے ہیں کہ ان کا دور اقتدار ختم ہونے سے پہلے آزاد فلسطینی ریاست کے اعلان کی کوئی شکل سامنے آجائے۔
اس پس منظر میں اس حوالے سے ایک اور رپورٹ پر بھی نظر ڈال لی جائے جو نئی دہلی سے شائع ہونے والے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نے ۷ جنوری ۲۰۰۷کی اشاعت میں شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں لبنان میں برطانیہ کی سفیر محترمہ فرانسز گائی نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’فلسطین میں ہمارے پیش روؤں نے جو غلطیاں کی ہیں، ان کو سدھارنا ہمارے لیے ناممکن ہے، لیکن ’’عدل وانصاف‘‘ پر مبنی امن وسلامتی کے لیے کوشش کرنا ہمارے لیے یقیناًممکن ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ برطانیہ کوایک موثر طاقت نہیں سمجھاجاتا۔‘‘ ا ب اس بات کی وضاحت محترمہ فرانسز گائی ہی کرسکیں گی کہ ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کیے بغیر ’’عدل وانصاف‘‘ پر مبنی امن وسلامتی کے قیام کے لیے ان کے پاس کون سا فارمولا ہے، البتہ اس حوالے سے ان کاخیال توجہ طلب ہے کہ ’’دیگر ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ فلسطین کا دورہ وہاں کے عوام کی ذلت وخواری کو دیکھنے اور سمجھنے کی نیت سے اور اس نیت سے کریں کہ ایسی پالیسی اختیار کی جا سکے جس سے اہل فلسطین اس صورت حال سے باہر آ جائیں۔‘‘
مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر یہ تبصرہ کسی عرب راہنما یا فلسطینی لیڈر کانہیں بلکہ برطانیہ کی ایک سفارت کار خاتو ن کا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے ا ب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سرخم تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم وکرم پرچھوڑدیں اور اسرائیل جوکچھ بھی کرے، فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت کے حق میں ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کردیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لاناچاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، اس لیے کہ قوموں کواس طرح دبانے اورد بائے رکھنے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہواکرتی اور آزادی، خودمختاری اور اقوام عالم میں باوقار حیثیت دنیا میں ہر قوم کی طرح فلسطینیوں کا بھی حق ہے جو جلد یا بدیر وہ ان شاء اللہ تعالیٰ حاصل کر کے رہیں گے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
رونامہ’’ پاکستان‘‘ لاہور میں ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ کو بی بی سی کے حوالہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحدکی نگران حکومت نے ۱۹۹۴ میں نافذ کیے جانے والے شرعی نظام عدل ریگولیشن میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے جن کے مطا بق مالا کنڈ ڈویژن کی قاضی عدالتوں کے فیصلوں کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا۔ صوبہ سرحد کے نگران وزیر قانون میاں محمد اجمل نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ شرعی نظام عدل ریگولیشن میں یہ ترامیم مالاکنڈ کے عوام کے مطالبہ پرکی جا رہی ہیں اور اس ترمیمی مسودہ کامقصد اس بات کو ممکن بنانا ہے کہ کسی بھی قاضی کورٹ کے فیصلے کوہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی بجائے فیڈرل شرعی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے اور ایسے مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہوسکیں۔
شرعی نظام عدل ریگولیشن ۱۹۹۴ء کے دوران مولانا صوفی محمد کی قیادت میں تنظیم نفاذ شریعت محمدی کی طرف سے چلائی جانے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سرحد جناب آفتا ب احمد شیر پاؤ کی حکومت نے نافذ کیا تھا جس کے تحت مالاکنڈ ڈویژن میں تحصیل اور ضلع کی سطح پر قاضی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ قاضی عدالتیں شریعت محمدیہ کے مطا بق مقدمات کے فیصلے کریں گے۔ اس پر مولانا صوفی محمد اوران کے رفقا کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ ان قاضی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق رکھا گیا ہے جو شرعی قوانین کی بجائے انگریزی قوانین کے مطا بق فیصلے کرتی ہیں اور اس طرح ان شرعی عدالتوں کو عملی طور پر غیر موثر کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس خطہ میں مولانا فضل اللہ کی طرف سے شروع کی جانے والی حالیہ تحریک میں بھی مکمل نفاذشریعت کا مطالبہ سامنے آیاہے، اس لیے یوں محسوس ہوتاہے کہ اس د باؤ کے پیش نظر نگران صوبائی حکومت نے یہ ترامیم لانے کافیصلہ کیاہے تاکہ عوام کویہ باور کرایاجاسکے کہ مالاکنڈ ڈویژن کی قاضی کورٹس کے خلاف اپیلوں کی سماعت کاحق ہائی کورٹ کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کومنتقل کرکے اس اعتراض کو ختم کر دیا گیا ہے کہ یہ قاضی عدالتیں عملی طورپر غیر موثر ہیں اور اس کے بعد اب مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا نفاذ عملاً ہو گیا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں یہ بھی بیوروکریسی کی ان چالوں میں سے ایک ہے جو وہ وقتاً فوقتاً پاکستان کے عوام کواسلامی نظام کے نفاذ، شرعی قوانین کی عملداری اور قرآن وسنت کی ترویج وتنفیذ کے حوالے سے یقین دلانے کے لیے کرتی رہتی ہے، لیکن گزشتہ ساٹھ برس کے دوران اس قسم کی بیسیوں چالوں کے باوجود ابھی تک صورت حال جوں کی توں ہے اورملک میں شرعی قوانین کی عملداری کی کوئی شکل عمل درآمدکے دائرے کی طرف بڑھتی ہوئی نظرنہیں آتی، بلکہ اس حوالہ سے سوات (مالاکنڈ ڈویژن)، قلات، خیرپور، بہاول پور اور چترال کی ریاستیں زیادہ بد قسمت رہیں کہ ان نیم خود مختار ریاستوں میں انگریزوں کے دورمیں بھی ایک حد تک شرعی قوانین کا نفاذ قاضی عدالتوں کے ذریعہ موجود تھا جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ ان ریاستوں کے الحاق کے بعد ختم ہو گیا اور مالاکنڈ ڈویژن یعنی سوات کے عوام اپنی موجودہ جدوجہد کے ذریعہ اسی ختم کی جانے والی صورت حال کو دوبارہ بحال کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے۔ چنانچہ ۱۹۹۴ء میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کے نام سے مالاکنڈ ڈویژن میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر قاضی عدالتوں کاقیام عمل میں لایا گیاجن کے با رے میں ہم نے اس وقت بھی مینگورہ کے ایک مطالعاتی دورہ کے بعد یہ عرض کردیاتھا کہ کہ اس ریگولیشن سے اس کے سوا عملاً کوئی فرق نہیں پڑا کہ مروجہ قوانین کے تحت کا م کرنے والی عدالتوں کو قاضی عدالتوں کانام دے دیا گیا ہے اور اب چودہ سال بعد ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار ہائیکورٹ سے وفاقی شرعی عدالت کو منتقل کرنے کی مجوزہ کارروائی سے بھی کوئی عملی تبدیلی نہیں ہوگی، اس لیے کہ ان ترامیم کے اعلان کے ساتھ ہی نگران صوبائی وزیر قانون میاں محمد اجمل نے بی بی سی کی مذکورہ رپورٹ کے مطا بق یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ ’’مالا کنڈ ڈویژن میں ریگولر قانون ہی نافذ ہوگا، تاہم جج صاحبان کوئی بھی فیصلہ سنانے میں قرآن وسنت کے احکامات کو زیادہ اہمیت دیں گے۔ جج صاحبان معاون قاضیوں اور شرعی وکلا کی راہنمائی میں فیصلے سنائیں گے مگروہ ان کی تجاویز کو ماننے کے پابندنہیں ہوں گے۔‘‘
اس وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی شخص یا حلقہ اس غلط فہمی کاشکار رہتا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں قاضی کورٹس کے نام سے قائم یہ عدالتیں شرعی عدالتیں ہیں اور ان کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق وفاقی شرعی عدالت کو منتقل کرنے سے ان کی شرعی حیثیت مزید پختہ ہو جائے گی تو اس بھولپن پر ہم اس کے لیے دعاے خیر بلکہ دعاے صحت کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں؟
موجودہ شورش: اسباب اور علاج
ادارہ
آج کل وطنِ عزیز تہہ درتہہ بحرانوں کے جس سنگین دور سے گذررہا ہے، اس کی کوئی مثال ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ملک کا ہر حساس باشندہ اس صورتِ حال پر بے چین ہے، اور اُسے ان حالات میں روشنی کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آرہی۔ ایسے پُر آشوب حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کے وجود و بقا کی خاطر ہر شخص اپنی ذات سے بلند ہوکر سوچے، اور ملک کے تمام طبقات، تنظیمیں اور جماعتیں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈالیں اور ملک کو مل جل کر اس گرداب سے نکالنے کی کوشش کریں۔ ملک کے گوناگوں مسائل میں جس چیز نے کئی گناہ اضافہ کردیا ہے، وہ بڑھتی ہوئی بد امنی، سڑکوں پر غارت گری اور بالخصوص بم دھماکوں اور خود کُش حملوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے نتیجے میں تقریباً ہر ہفتے کہیں نہ کہیں درجنوں افراد کی ہلاکت سینکڑوں خاندانوں کو اُجاڑ چکی ہے اور یہ سلسلہ کسی حد پر رکتا نظر نہیں آرہا۔
یہ بات تقریباً ہرمسلمان کو معلوم ہے کہ اسلام میں خود کُشی حرام ہے، اور قرآنِ حکیم اور احادیثِ شریفہ کے احکام وارشادات اس بارے میں بالکل واضح ہیں، لیکن جب کسی دشمن سے جائز اور برحق جنگ ہورہی ہو، اُس وقت دشمن کو مؤثر زک پہنچانے کے لیے کیا کوئی خود کُش حملہ کیا جاسکتاہے؟ شرعی اور فقہی طور پر اس بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں۔ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اگر ایک جائز اور برحق جنگ کے دوران حقیقی ضرورت پیش آجائے اور ہدف بے گناہ لوگ نہ ہوں تو خود کُش حملہ جائز ہے، یہ اُسی طرح کاخود کُش حملہ ہوگا جیسے ۱۹۶۵ ء میں ہندوستان کے حملے کے وقت ’’چونڈہ‘‘ کے محاذ پر پاکستانی فوج کے جوانوں کی یہ داستانیں مشہور ہیں کہ وہ جسموں سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں سے ٹکراگئے تھے۔ او راُ س کے نتیجے میں ٹینکوں کی پیش قدمی روک دی تھی ۔ چونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے او رملک وملت کو دشمن سے بچانے کے لیے ایک جائز او ربرحق جنگ کے دوران کوئی شخص ایسا اقدام کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ا س کے حسنِ نیت کی بنا پر اس کی قربانی کو قبول فرمالیں ۔ لیکن یہ ساری بات اُ س وقت ہے جب کھلے ہوئے دشمن سے کوئی جائز اور برحق جنگ ہورہی ہو، اس بحث کا اُس صورت سے کوئی تعلق نہیں ہے جہاں خود کُش حملے کا نشانہ ایسے کلمہ گو مسلمانوں کو یا ایسے غیر مسلموں کو بنایا جائے جن کے جان ومال کو اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے۔ ایک کلمہ گو مسلمان ، خواہ عملی اعتبار سے کتنا گناہ گار ہو، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس حرمت کا حامل ہے، اورقرآن وحدیث کے ارشادات نے ایسے شخص کے قتل کرنے کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی جان و مال کو کعبے سے بھی زیادہ حرمت کا حامل قرار دیا ہے۔ بلکہ وہ خودکُش حملہ جس کانشانہ مسلمان یا مسلمان ریاست کے پُر امن شہری ہوں، دوہراگُناہ ہے، ایک تووہ دوسرے کے خلاف قتلِ عمد کا گناہ ہے، اور اس کے نتیجے میں جتنے انسان ناحق قتل ہوں، وہ اتنے ہی زیادہ گناہوں کا مجموعہ ہے۔ اوردوسرے اس صورت میں خود کُشی کے حرام ہونے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس لیے خود کُشی کا گناہ اس کے علاوہ ہے۔
اس لحاظ سے ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں جو خود کش حملے ہورہے ہیں او رجن کے نتیجے میں سینکڑوں مسلمان اور پُر امن شہری ناحق ہلاک ہوچکے ہیں، وہ دینی اعتبار سے انتہائی سنگین گناہ ہیں اور ’’ فساد فی الأرض‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ خود کُش حملے کون کررہا ہے؟ او رکیوں کررہا ہے؟ ان اقدامات کی پوری مذمت کے ساتھ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ جو لوگ بھی اس قسم کے حملے کرتے ہیں، وہ یہ جان کر کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا نشانہ بنے یا نہ بنے، سب سے پہلے وہ خود موت کے منہ میں جائیں گے۔ عام حالات میں زندگی ہر شخص کو پیاری ہوتی ہے، اور کوئی بھی شخص انتہائی غیر معمولی حالا ت کے بغیر خود اپنے آپ کو موت کے گھاٹ نہیں اتار سکتا۔ لہٰذا سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد یکایک کس وجہ سے اس غیر معمولی اقدام پر آمادہ ہوگئی ہے کہ نہ اُسے اپنی جان کی پروا ہے، نہ اپنے یتیم ہونے والے بچوں، بیوہ ہونے والی بیوی اور غم زدہ خاندان کا کوئی خیال ہے، اور نہ اس بات سے کوئی بحث ہے کہ اُ س کے مرنے کے بعد دنیا اُسے کیا کہے گی؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ خود کُش حملوں کی یہ بہتات ہمارے ملک میں پچھلے چند سالوں ہی سے پیدا ہوئی ہے، اس سے پہلے اس کا کوئی وجود ہمارے ملک میں نہیں تھا۔ یقیناًاس کے کچھ اسباب ہیں جنہیں دور کیے بغیر محض ایسے لوگوں پر غصّے سے دانت پیس کر تشدد کی فضا کو اور ہوا دینے سے یہ صورتِ حال ختم نہیں ہوسکتی۔ اگر واقعی ہم اس صورت حال کو ختم کرکے ملک میں امن امان بحال کرنے میں مخلص ہیں تو ہمیں پوری حقیقت پسندی کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر تنقیدی نگاہ ڈالنی ہوگی، اور جو غلط پالیسیاں اس کا سبب بنی ہیں، انہیں تبدیل کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
یہ خود کُش حملے جن میں ایک انسان اپنے ساتھ کبھی دو چار، کبھی آٹھ دس، کبھی پچیس تیس اور کبھی اس سے بھی زیادہ افراد کو ہلاکت کے غار میں دھکیل دیتا ہے، در حقیقت ایک شدید جھنجھلاہٹ اور چڑچڑاھٹ ہے جو ہر طرف سے مایوس ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یوں تو ہماری بیشتر حکوتیں امریکہ کے زیرِ اثر رہی ہیں، لیکن ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ ء کے بعد ہماری حکومت نے امریکہ کا بالکل تابع مہمل بن کر جس طرح اپنے آپ کو امریکہ کی بھینٹ چڑھایا ، اورامریکی مفادات کی جنگ کو اپنے ملک میں لاکرجس بے دردی سے قومی مفادات کا خون کیا، وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ ہماری افواج کو امریکہ کی رضامندی کی خاطر خود اپنے ہم وطنوں کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا گیا۔امریکہ او ربھارت کے مقابلے میں بزدلی دکھائی گئی، اور تمام تر بہادری کامظاہرہ وانا، وزیرستان، سوات، بلوچستان اور لال مسجد کے نہتوں پر کیا گیا، او رخواتین کے حقوق کاڈھنڈورا پیٹنے والوں نے جامعہ حفصہ کی سینکڑوں خواتین کو بھی خون میں نہلا کر واشنگٹن کی شاباش حاصل کی۔
دوسری طرف ’’روشن خیالی ‘‘اور ’’ اعتدال پسندی‘‘ کی آڑ میں ملک کو بے دینی کی طرف لے جانے کی کوششیں پورے اہتمام کے ساتھ جاری ہوئیں،نظامِ تعلیم کو اپنے قومی مقاصد اور مصالح کے بجائے غیروں کے لیے خوش نما بنانے کی خاطر نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں، حدود کے قوانین میں عورتوں کے حقوق کے نام پر سراسر بے جواز ترمیمات کی گئیں جن کا نہ صرف یہ کہ عورتوں کے حقوق سے تعلق نہ تھا، بلکہ وہ ان کے لئے مزید بے انصافی پر مشتمل تھیں۔ عریانی وفحاشی کو فروغ دیا گیا، اور فحاشی کے اڈوں کی عملاً سرپرستی کی گئی، روز افزوں گرانی اور بے روز گاری نے غریبوں کے لیے جینا دوبھر کردیا، ملک بھر میں قتل وغارت گری او رلوٹ مار کا طوفان برپاہے،جس کی بنا پر کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنی جان او رمال کے بارے میں ہروقت خطرات کا شکار نہ ہو، اور حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے میراتھن ریس، بسنت اوررقص وسرود کو فروغ دینے میں مصروف رہی۔ عدالتوں سے انصاف حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مرادف بن گیا، پھر عدلیہ کو انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ پامال کیا گیا، اور دفتروں میں رشوت ستانی کے نتیجے میں عوام در بدر کی ٹھوکریں کھا کر بھی اپنے چھوٹے چھوٹے کام کرانے سے قاصر ہوگئے۔
ان تمام حالات کے باوجود حکومت نے اپنے طرزِ عمل سے لوگوں کو یہ تأثر دیا کہ اُ س کے دربار میں عوام کے حقوق اور مطالبات کی کوئی شنوائی نہیں ہے، او راس ملک میں پُر امن اور آئینی راستے سے کوئی معقول مطالبہ منوانے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ یہاں لاقانونیت کا راج ہے، دھونس، دھاندلی لوٹ مار اور قتل وغارت گری کرنے والے دندناتے پھر تے ہیں اورقانون پر چلنے والوں کو قدم قدم پر مصائب کاسامنا ہے۔ یہاں پُر امن طریقے پر اسلام کے نفاذ کا مطالبہ ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے، او راس کے حق میں قرآن وسنت اور عقل و دانش کی کوئی دلیل نہ صرف کارگر نہیں، بلکہ مقتدر حلقے اُسے توجّہ سے سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔
بہ ظاہر یہ وہ مجموعی حالات ہیں جنہوں نے کچھ جذباتی اور مایوس افراد کے دل میں وہ جھنجلاہٹ پیدا کی جو خود کُش حملوں کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے،یہ لوگ ہر طرح کے پُر امن راستوں سے مایوس ہوکر تشدّد کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ ان میں ایسے نوجوان بھی ہوں گے جن کے گھر حکومت یا امریکہ کے آپریشنوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، اور جنہوں نے ان فوجی کارروائیوں میں اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے دیکھا، اور اب ان کے پاس انتقام کی آگ کے سوا کچھ نہیں بچا، جو وہ خود اپنی جان دیکر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک دشمن طاقتیں جو پاکستان کو (خاکم بدہن) افراتفری کی نذر کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاھتی ہیں، یا اس افراتفری سے فائدہ اٹھاکر اس پر حملہ آور ہونا چاھتی ہیں، وہ بھی اس آتش گیر فضا سے فائدہ اٹھا کر ایک طرف خود بھی دھماکے کرارہی ہیں، تاکہ ہر دھماکہ انہی انتہا پسندوں کی طرف منسوب کیا جاسکے، دوسرے انہوں نے ایسے جذباتی افراد کو در پردہ ابھارا ہے کہ وہ اپنایہ مشن جاری رکھیں۔ انہیں یہ کہہ کرگمراہ کیاگیا ہے کہ موجودہ حالات کی ذمہ داری جس طرح حکومت پر عائد ہوتی ہے، اسی طرح وہ شہر ی بھی اس کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے ایسی حکومت کی اطاعت قبول کر رکھی ہے، لہٰذا ان سب پر حملہ کرکے انہیں ختم کرنا جائز ہے۔
یہ جذباتی ذہنیت اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کے سامنے کوئی زبانی کلامی دلیل فائدہ مند نہیں ہوتی۔ اور اس ذہنیت کا مقابلہ کرنے کے لئے جتنا زیادہ تشدّد اختیار کیا جائے گا، اُس کی اشتعال پذیری میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ لہذا پاکستان کی سول آبادی پر ہونے والے فوجی آپریشن اس صورتِ حال کا حل نہیں ہیں۔ اس ذہنیت کے مقابلے کے لئے جوش سے زیادہ ہوش اور ہتھیار سے زیادہ ناخنِ تدبیر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
ہمارے نزدیک سب سے اہم او ربنیادی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جنہیں ’’ شدّت پسند‘‘ یا ’’ انتہا پسند‘‘ کہا جارہا ہے، حکومت ان کو امریکی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے پاکستانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے۔ یہ لوگ، خواہ آزاد قبائل میں ہوں، یا سوات اور مالاکنڈ میں، یابلوچستان میں، دراصل ہمارے ہی بھائی ہیں، ہمارے ہم وطن او رہمارے ہم مذہب ہیں۔ یہ پاکستان کے دشمن نہیں، بلکہ ان میں بہت بڑی تعداد اُ ن کی ہے جو قبائلی علاقوں میں ہمیشہ پاکستان کی سرحدوں کے محافظ رہے ہیں، لیکن حالات نے انہیں حکومت کا دشمن، اور انتہا پسند جذباتیت نے انہیں ہر اُس شخص کا دشمن بنادیا ہے جو حکومت دشمنی میں ان کے ساتھ شریک نہ ہو۔ اگر حکومت اپنی پالیسیوں میں مثبت تبدیلیاں لا سکتی ہو تو اُن اسباب کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کی بنیاد پر ان کی انتہاء پسندی کوہوا ملی ہے، اورجن کی وجہ سے وہ سازشوں کا شکار ہورہے ہیں۔
مرے طائر نفس کو نہیں گلستاں سے رنجش
ملے گھر میں آب ودانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے
اگر اس طرز فکر کی سچائی ایک مرتبہ دل میں بیٹھ جائے تو کچھ تجاویز ہیں جن پر عمل کرکے ہم موجودہ بحران سے نجات حاصل کرسکتے ہیں:
(۱) ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر ہم نے جس طرح آنکھ بند کرکے امریکہ کی حکمت عملی اختیار کی ہے،اُس کے بارے میں اس حقیقت کا دل سے اعتراف کیا جائے کہ وہ قطعی طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
(۲) شمالی علاقہ جات او ربلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرکے وہاں کی شورش کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کی جائے،اور شورش کے رہنماؤں سے اس پر کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، اور ان کے جائز مطالبات کو وہ اہمیت دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔
(۳) اس حقیقت کا ادراک کیا جائے کہ اصل میں طالبان دہشت گرد نہیں ہیں، اور نہ ان میں سب لوگ انتہاء پسند جذباتی ہیں، اُن میں ایسے عناصر موجود ہیں جن سے معقولیت کے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے۔
(۴) شمالی علاقہ جات اور آزاد قبائل کے معتدل علماء اور خوانین خونریزی کے حق میں نہیں ہیں، لیکن اُ ن کی بات مشتعل عناصر میں اس لئے مؤثر نہیں ہورہی کہ حکومت کی طرف سے مسلسل خلافِ اسلام پالیسیاں جاری رہی ہیں، اور اُن کی موجودگی میں ان معتدل علماء اور خوانین کی طرف سے عدمِ تشدد کی اپیلیں بے اثر ہیں، کیونکہ تشدد رکوانے کے لئے اُن کے ہاتھ میں کوئی ایسی مثبت بات نہیں ہے جو وہ ان مشتعل عناصر کے سامنے پیش کرکے سرخ رُو ہوسکیں۔ اگر حکومت لوگوں کے دلوں میں یہ اعتماد پیدا کرسکے کہ اب وہ اپنی پالیسیاں مرتب کرتے وقت واشنگٹن کی چشم وابرو کا اشارہ دیکھنے کے بجائے ملک وملت کے مفاد پر نظر رکھے گی، اپنے ہم وطنوں کے خلاف فوجی کاروائیاں بند کریگی اور اپنی خلافِ اسلام پالیسیوں کو ختم کردے گی، اور اس غرض کے لیے عملی اقدامات کرکے بھی دکھائے جائیں اور انہیں مؤثر طور پر جاری رکھا جائے تو یہ معتدل عناصر جذباتی عناصر کی ایک بڑی تعداد کو شورش سے باز رکھ سکتے ہیں۔
(۵) اس حقیقی کوشش کے باوجود اگرکچھ لوگ شورش پرآمادہ رہیں تو اوّلاً اُ ن کی آواز اتنی مؤثر نہیں رہے گی، اور دوسرے معتدل حلقوں کی طرف سے اُن کے خلاف کھل کر اعلانِ براء ت ممکن ہوگا، اور عام تائید کے فقدان کے بعد یہ شورش خود بخود دب جائے گی۔
(۶) بلوچستان کے لوگوں کے کچھ حقیقی مسائل او رمطالبات ہیں جو بڑی حد تک انصاف پر مبنی ہیں، ان مطالبات کو ملک دشمنی سے تعبیر کرکے ان کے خلاف فوجی آپریشن کسی بھی طرح دانشمندی نہیں ہے، وہاں کے رہنماؤں سے ایک مرتبہ پھر سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا سلسلہ شروع کرکے وہاں کی شورش پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔
(۷) پچھلے چند روز میں صدر مملکت کی طرف سے امریکہ کے بارے میں پہلی بار کچھ ایسے جرأت مندانہ بیانات آئے ہیں جو قومی غیرت کے عین مطابق ہیں، او ران سے عوام کے دلوں کو کچھ حوصلہ ملا ہے۔ ان بیانات کو صرف لفظی بیانات کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے ان کو آئندہ اپنی عملی پالیسی کی بنیاد بنانے کی ضرورت ہے۔
ابھی وقت ہے کہ ان خطوط پر نیک نیتی سے کام شروع کرکے ملک وملت کو اس گرداب سے نکالا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے بھی نہایت ضروری ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نازک حالات میں حکومت، سیاست دان اور فکری رہنما اپنی ذات سے بلند ہو کر ملک وملت کی سا لمیت کے لیے بنیادی نکات پر متفق ہوں، اور اس مقصد کے لیے یک جان ہوکر کام کریں۔ اس اتفاقِ رائے کو حاصل کرنے کے لئے صدر مملکت کو پہل کرنی ہوگی، ان پر یہ فریضہ سب سے زیادہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر تمام طبقۂ خیال کے لوگوں کو جمع کریں، اور اگر اختلافات کو ختم کرنے کے لئے موجودہ سیاسی ڈھانچے میں جوہری تبدیلیاں کرنی پڑیں ، انتخابات کو قابلِ اطمینان بنانے کے لیے سیاسی رہنماؤں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا پڑے، خواہ وہ صدر صاحب کی پہلے اعلان شدہ پالیسی کے خلاف ہوں، تو ملک وملت کی سا لمیت اور ملک میں سیاسی استحکام کی خاطر ا ن کو گوارا کریں۔ سیاسی رہنماؤں سے بھی ہماری درخواست ہے کہ وہ اس موقع پر ملک کو بچانے کے لئے سیاسی عداوتوں کو فراموش کرکے کم سے کم نکات پر متفق ہوں جو ملک کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔
موجودہ تہہ در تہہ بحرانوں کے حل کے لیے ہماری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ عدلیہ کو فعّال کیا جائے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ لوگ سڑکوں پر انصاف کے حصول کی کوشش کے بجائے عدلیہ میں فریادرسی کرکے حقیقی انصاف حاصل کرسکیں۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ جملہ ماورائے آئین اقدمات کو منسوخ کیا جائے، ان مقاصد کے حصول کے لیے اگر صدر پرویز مشرف کو ملک وملّت کی خاطر مستعفی ہونا پڑے تو اس سے گریز نہ کریں، یہ ایک باوقار طریقہ ہوگا، جس کا اس منصب کے شایانِ شان راستہ یہ ہے کہ وہ آئین کے مطابق صدارت کا منصب سنیٹ کے چیئر مین کے حوالے کریں، اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر معینہ تاریخ کو شفاف انتخابات کراکر اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کردیں۔
ہمارا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے ،اور نہ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے، اس لیے یہ تجویز کسی مخاصمت یا کسی ذاتی یا گروہی سیاسی مقصد پر مبنی نہیں ہے، بلکہ ملک وملت اور خود صدر پرویز مشرف صاحب کی خیر خواہی پر مبنی ہے، انہوں نے آئین سے ماورا جن اقدامات کے ذریعے صدارت کا عہدہ حاصل کیا ہے، وہ کبھی ملک میں دیر پا استحکام پیدا نہیں کرسکتے،ان کی وجہ سے انہیں جلد یا بدیر یہ عہدہ چھوڑنا ہوگا، لیکن اُس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی، اس کے برعکس اگر وہ رضا کارانہ طور پر ملک و ملت کی خاطر یہ اقدام کریں تو ایک طرف اُن کا وقار بلند کرنے کا ذریعہ بنے گا، دوسری طرف ملک موجودہ سیاسی بحران سے نکل کر پٹری پر آجائے گا، او رامید یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں شورش زدہ علاقوں میں بھی فوری بہتری آئے گی۔
(۱) حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم ۔مہتمم جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی۔
(۲) حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم۔ صدر جامعہ دارالعلوم کراچی ۔
(۳) حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔
(۴) حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم۔نائب صدر جامعہ دارالعلوم کراچی۔
(۵) حضرت مولانا قاری حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم۔ مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان۔
(۶) حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب دامت برکاتہم۔ شیخ الحدیث جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک۔
(۷) حضرت مولانا محمد سلفی صاحب دامت برکاتہم۔ نائب مہتمم جامعہ ستاریہ
(۸) حضرت مولانا انوار الحق صاحب۔ نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک۔
(۹) حضرت مولانا محمود اشرف صاحب دامت برکاتہم۔ نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی۔
(۱۰) حضرت مولانا مفتی عبد الرؤف صاحب۔ نائب مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی۔
(۱۱) حضرت مولانا مفتی سید عبدالقدوس ترمذی صاحب۔ مہتمم جامعہ حقانیہ ساہیوال سرگودھا۔
(۱۲) حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب دامت برکاتہم۔ جامعہ دارالعلوم کراچی۔
(۱۳) حضرت مولانا عبید اللہ صاحب دامت برکاتہم۔ مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۴) حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب دامت برکاتہم۔نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور
(۱۵) حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب ۔ ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۶) حضرت مولانا قاری ارشد عبید صاحب۔ ناظم اعلی جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۷) حضرت مولانا محمد اکرم کاشمیری صاحب۔رجسٹرار جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۸) حضرت مولانا غلام الرحمن صاحب۔ چیئر مین نفاذ شریعت کونسل صوبہ سرحد۔
(۱۹) حضرت مولانا محمد صدیق دامت برکاتہم۔ شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان۔
(۲۰) حضرت مولانا مفتی عبد اللہ صاحب دامت برکاتہم۔ مفتی جامعہ خیر المدارس ملتان۔
آئین اور قانون کی بالادستی کی جدوجہد اور دینی حلقوں کی ذمہ داری
مولانا مفتی محمد زاہد
(۱۲ نومبر ۲۰۰۷ کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے فضلاء کے ایک اجتماع سے خطاب۔)
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت ہمارا ملک بلکہ پورا عالم اسلام اور پوری دنیا بڑے عجیب وغریب حالات سے گزر رہی ہے۔ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تبدیلیاں بھی فیصلہ کن، خاص طور پر عالم اسلام میں اور عالم اسلام کے چنداہم ملکوں میں جن میں شاید سرفہرست ہمارا وطن عزیز پاکستان ہے۔ ہم امت مسلمہ کاایک حصہ ہونے کے ساتھ پاکستان کے شہری بھی ہیں اوریہ ملک ہماراگھر ہے۔ جوحضرات دین کے کام سے وابستہ ہیں، وہ ہماری برداری ہے اوراللہ کے فضل وکرم سے ہم ان کا بھی ایک حصہ ہیں، اس لیے ہم کبھی بھی اپنے آپ کو امت، پاکستان اور دینی حلقوں کے مسائل سے الگ نہیں رکھ سکتے اور بے فکر بھی نہیں رہ سکتے۔ جو کام کسی بھی میدان میں ہو رہا ہے، چاہے وہ ملکی سطح پر ہو، عالم اسلام کی سطح پر ہو یادینی حلقوں کی سطح پر، ہم اپنے آپ کو اس سے لاتعلق نہیں رکھ سکتے۔ ایک حدیث میں آتاہے کہ: من لم یھتم بامر المسلمین فلیس منھم۔ حضوراقد س صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں فکرمند نہیں ہوتا،بے فکری اور بے حسی کا شکار رہتا ہے جسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’’سانوں کی‘‘ (ہمیں کیا) وہ مسلمانوں میں شمار کیے جانے کے قابل نہیں۔ ہماری بحیثیت مسلمان اور بحیثیت انسان یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہماری نظر میں ہو کہ کیا ہو رہا ہے اور ان حالات میں ہمارے کرنے کا کیا کام ہے، خاص طورپر اس حیثیت سے کہ اللہ جل جلالہ نے ہمیں اپنے دین کے کسی نہ کسی کام سے وابستہ کیا ہوا ہے، اور کسی نہ کسی حد تک ہماری بات سنی اور مانی جاتی اور اس کا اثر ہوتا ہے، کسی کا زیادہ اور کسی کا کم۔ اس لیے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہمیں حالات کا علم ہوا ور حالات پر ہماری مکمل نظرہو کہ کیا ہو رہا ہے اورہمارے کرنے کا کیا کام ہے۔ کام کرنے کے کئی میدا ن ہوتے ہیں، کئی پہلو اور کئی رخ ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ سب کے سب ایک ہی انداز کے کام میں لگے ہوں،لیکن بہرحال ملت اور امت اور خاص طورپر اپنے ملک کے حالات کے بارے میں فکرمندی اور دائرے کے اندر رہتے ہوئے، اپنے کام کی نوعیت برقرار رکھتے ہوئے، حالات کی بہتری کے لیے جوکچھ ہو سکتا ہے، وہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
اس وقت ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، پوری امت کے لیے بالعموم اور دین کا کام کرنے والوں کے لیے بالخصوص فیصلہ کن لگ رہے ہیں۔ حالات یا آگے جائیں گے یا اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے، ریورس گیئر لگ سکتاہے۔ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے اور کس طرح کرنا چاہیے، یہ ایک ایسی بحث ہے کہ اس میں ایک سے زیادہ آرا ہو سکتی ہیں اور یہ آرا کا تنوع ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، بشرطیکہ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ہو۔ بعض اوقات متضاد پالیسیاں ہوتی ہیں اور متضاد آرا ہوتی ہیں، ہرکوئی اپنے اپنے طریقے پر چل رہا ہوتا ہے ،لیکن بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ اس میں خیر پیدا فرما دیتے ہیں۔ آپ اپنی گھڑی کو کھول کردیکھیں، اس میں کئی کچھ گراریاں دائیں سے بائیں اور کچھ بائیں سے دائیں چل رہی ہوں گی، لیکن بحیثیت مجموعی ساری گراریاں مل کر جو نتیجہ د ے رہی ہوتی ہیں، وہ ایک ہوتا ہے اور وہ ہے وقت بتانا۔ تویہ آرا کاتنوع، طریقہ کار کا تنوع ہمیشہ فائدہ مند رہاہے اور اسی کو کہا گیا ہے کہ اس امت کا اور علما کا اختلاف رحمت ہے۔ مغربی دنیا خاص طورپر اس پر بڑا فخرکرتی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر تنوع آرا کا بڑا احترام کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں diversity ہے، pluralism ہے، لیکن وہ یہاں تک صدیوں کے دھکے کھانے کے بعد پہنچے ہیں اور ہمیں یہ بات ابتدا ہی سے سمجھا دی گئی تھی کہ سب کے سب ایک ہی کھینچی ہوئی لکیر پر چل رہے ہوں، یہ کوئی ضروری نہیں،بلکہ بہت سی جگہوں پرتنوع اور تعدد آرا کی گنجایش رکھی گئی ہے کہ پالیسیوں اور طرز عمل میں آرا کااختلاف اور تنوع اگرایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ہو تو بظاہر بالکل مختلف رخ بھی نظر آرہے ہوں، تب بھی بحیثیت مجموعی امت کو،معاشرے کو، دین کو اور دین کے کام کو فائدہ ہی پہنچتا ہے۔
میں صرف ایک چھوٹی سی بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت یوں لگ رہاہے کہ جیسے ہمارا ملک خاص طورپر ایک خاص حوالے سے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ دو راستوں میں سے ایک اختیار کرنا پڑے گا۔ یہ ملک یاصحیح راستے پر چڑھے گا یا غلط راستے پر، لیکن جس راستے پرایک دفعہ چڑھ گیا، اس سے ہٹانا انتہائی مشکل ہوگا۔ یہ وقت فیصلہ کن ہے اور جس طرف کو گاڑی چل پڑی، بظاہر اسی طرف چلتی رہے گی۔ ا س میں ہمارا وزن کس جانب ہونا چاہیے؟ دو راستے ہیں۔ ایک راستہ تویہ ہے کہ اس ملک کے اندر عوام کی آواز کوتسلیم کیاجائے۔ ہمارا دستور وآئین یہ کہتاہے کہ اس ملک کے اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بعد اس ملک کی قسمت کے مالک باہر سے یا اندر سے مسلط کیے ہوئے چند افراد نہیں بلکہ اس ملک کے عوام ہیں۔ یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ یہاں کے شہری سب کے سب انسان ہیں اور انسان ہونے کے ناطے ان کے کچھ حقوق ہیں جنہیں شہر ی حقوق کہا جاتا ہے۔ شہری حقوق اور شخصی آزادیوں کی ضمانت عملاً نظر آئے۔ ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ نامی کسی چڑیا کے کہنے پر یاکسی بھی بہانے سے ان پر جبر کرنے اور قدغنیں لگانے کا اختیار کسی کونہ ہو۔ آپ یہ کہہ سکتے ہو یانہیں، آپ یہ لکھ سکتے ہو یا نہیں۔بہت واضح اور معقول وجہ کے بغیر کسی کو بات کہنے سے روکا نہ جاسکے۔ تم نے یہ کیوں لکھا ہے؟ تم نے یہ کیوں کہا ہے؟ فلاں جگہ پر تم جمع کیوں ہوئے تھے؟ فلاں پارٹی کے ساتھ تمہاری وابستگی کیوں ہے؟ اس طرح کی پابندیاں لگانے کے بجائے ان معاملات میں آزادی ہو۔
یہ باتیں ہمیں تھوڑی سی اجنبی لگتی ہیں۔ اجنبی اس لیے لگتی ہیں کہ پچھلی چند صدیوں سے ان باتوں کی مغرب نے رٹ لگائی ہے اور اپنے ہاں انہوں نے اپنے عوام کوایک بڑی حدتک یہ حقوق اور آزادیاں دے رکھی ہیں۔ جس طرح کی ایمرجنسیاں اور قوانین یہاں چلتے ہیں اور جس طرح کی پا بندیاں یہاں لگتی ہیں، کسی مغربی ملک برطانیہ، امریکا اور یورپ کے کسی ملک میںیہ آسان کام نہیں۔ ا گر وہاں اس طرح کی کوئی چھوٹی سی بھی بات ہو، ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ چند سال پہلے بعض چھوٹی چھوٹی باتوں پر لاکھوں لوگوں کے مظاہرے ہوئے ،لاکھوں لوگ باہر نکلے۔ انہوں نے اپنے ہاں ان چیزوں کو منوا لیا ہے ۔ توچونکہ انہوں نے اپنے ہاں منوایا ہے، اپنے ہاں روبعمل لائے ہیں، اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شایدیہ چیزیں ان کی ہیں، یہ باتیں اسلام سے کوئی تعلق اورواسطہ نہیں رکھتیں۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ آپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کایہ ارشاد سناہوگا کہ ’’تم نے لوگوں کو کب سے غلام سمجھنا شروع کر دیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے توان کو آزاد جنا تھا‘‘۔ جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ اپنی ماں کے پیٹ سے آزادی ساتھ لے کر آتاہے۔ فطری طورپر وہ آزاد ہوتا ہے۔ آپ کسی کو کسی معاملے میں جکڑنا چاہتے ہیں تو جکڑنے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ کسی کو آزاد رہنے کی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مثلاًمیں کوئی کام کر رہا ہوں، آپ مجھے روکنا چاہتے ہیں تو آپ وجہ بتائیں کہ آپ کیوں روکنا چاہتے ہیں۔ میں اس چیز کا پابند نہیں ہوں کہ آپ چونکہ اس ملک کے حاکم ہیں، آپ ڈی سی ہیں، آپ تھانیدار ہیں، اس لیے پہلے میں آپ کو قائل کروں گا کہ میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں۔ نہیں، میر ی مرضی۔ میں آزاد ہوں، یہ میرا حق ہے۔ آپ اگر روکنا چاہتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ مجھے بتائیں اور سمجھائیں کہ آپ مجھے کیوں روکنا چاہتے ہیں؟ پیدایشی آزادی کایہی مطلب ہے کہ کسی کوکسی چیز سے روکنے کے لیے وجہ درکار ہے، کرنے کے لیے نہیں۔
مغر ب نے اپنے ہاں شہری آزادیوں کو نافذ کیا ہے اوریہ بات یاد رکھیں کہ مغرب نے صدیوں کی جدوجہد سے جویہ مقام حاصل کیاہے اوریہاں تک پہنچاہے، یہ ہمارے لیے نہیں ہے، بلکہ صرف گوروں کے لیے ہے اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے کہ یہ ان کی صدیوں کی جدوجہد ہے جو انہوں نے اپنے لیے کی ہے۔ ہم جدوجہد کریں گے تواپنے لیے کریں گے۔ انہوں نے ایک چیز حاصل کی ہے تو وہ اپنے لیے حاصل کی ہے۔ ہم یہ چاہیں کہ مغرب چونکہ ان شہری آزادیوں کو تسلیم کرتاہے، وہاں امریکا اور برطانیہ میں پائی جاتی ہیں تواسی معیار کی یہ آزادیاں امریکا، برطانیہ وغیرہ اسلامی ملکوں میں ہمیں دلوا دیں گے، اس کی توقع رکھنا فضول ہے۔ اپنے گھر خود بنانے پڑتے ہیں۔ اگرآپ کے ہمسایے نے اچھا گھر بنا لیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ کا گھر بھی خو ب صورت بنا دے گا۔ یہ چیز ہمیں خود اپنی محنت سے حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے لیے آزاد اورمضبوط ریاستی ادارے ناگزیر ہوتے ہیں، چاہے وہ پارلیمنٹ اور مقننہ ہو، انتظامیہ ہو یا عدلیہ ہو، خاص طورپر عدلیہ آزاد ہو۔
آپ کومعلوم ہوگا کہ الیکشن کے دنوں میں انڈیا کے اندر الیکشن کمیشن کی اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وزیراعظم تک اس سے تھرتھر کانپ رہاہوتا ہے۔ اندرا گاندھی نے اپنے ایک الیکشن میں اپنی سرکاری حیثیت کا استعمال کرلیا تھا تووہاں کی عدالتوں نے الیکشن کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالتوں کی آزادی ناگزیر ہوتی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے کیوبا، گوانتا ناموبے کے قیدیوں کے بارے میں یہ چاہا کہ ان پر صرف فوجی قانون لاگو ہو، امریکا کا عام قانون ان پر لاگو نہ ہو۔ اس پر بہت زور لگایا لیکن امریکہ کی سپریم کورٹ نے اسے نہیں چلنے دیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ عام لوگوں کو جتنا اعتماد برطانیہ، امریکاکی عدالتوں پر ہے، اتنا اعتماد پاکستان بلکہ کسی بھی اسلامی ملک کی عدالتوں پر نہیں ہے، کیونکہ آزاد اداروں کا تصور، شہری حقوق اور شخصی آزادیوں کا تسلیم کیا جانا،اس طرح کی باتیں ہمارے معاشرے میں فکری عیاشی سمجھی جاتی ہیں۔ عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک فکری عیاشی ہے، اس کا ہماری روٹی سے کوئی تعلق ہے نہ پہناوے سے اور نہ ہماری بنیادی ضرورتوں سے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔یہ چیزیں کسی بھی معاشرے کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جب تک یہ چیزیں حاصل نہ ہوں، اس وقت تک قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ بے شک سڑکیں اچھی بن جائیں، جال بچھ جائیں، سڑکوں پرپل بن جائیں، یہ صرف ظاہری ترقی ہے۔ اصل ترقی انسانی،سیاسی اور سماجی ترقی ہے جس میں مضبوط اداروں کے زیرسایہ شہری حقوق اور شخصی آزادیاں تسلیم شدہ ہوں۔
اس وقت ملک میں جوکچھ ہو رہا ہے، وہ ایک انتہاہے۔ مختلف اداروں پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہو رہی ہیں، ٹی وی چینلو ں اور اخبارات وجرائد پر پابندیاں اور جکڑنیں ہیں اور یہ سب کچھ روشن خیالی کا نام جپنے والوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ اگرچہ ہماری معلومات کے مطا بق الحمد للہ ابھی تک بعض اخبارات اور ٹی وی والوں نے حکومت کے آگے ہتھیا رنہیں ڈالے، حکومت جس طرح کا قانون نافذکرنا چاہتی ہے، اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیارنہیں ہوئے، بند پڑے ہوئے ہیں۔ اوربھی کئی طبقے اللہ کے فضل سے اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ حکومتی جبر نہیں مانیں گے۔ اب دو راستے ہیں۔ یا تو ملک کو دستور پسند اور مہذب معاشرہ دیکھنے کے خواہشمند بھرپور طریقے سے اپنی بات تسلیم کروائیں گے اور موجودہ حالات کا ایسا نتیجہ نکلے گا کہ آئندہ آنے والوں کو یقین ہوجائے کہ یہاں کے لوگ ا ب اتنے باشعورہوچکے ہیں کہ یہاں کسی کی مطلق العنانی نہیں چل سکتی، لوگوں کے حقوق چھینے نہیں جا سکتے، لوگوں پر بے جاریاستی دباؤ اور جبر نہیں چل سکتا، فرد واحد کی خواہش پر اداروں کوتہس نہس نہیں کیاجاسکتا۔ اس سے ملک ایک خاص راستے پر چڑھے گا۔ ایک دفعہ یہ بات سمجھ میں آگئی توپھر ا ن شاء اللہ یہ ملک صحیح رخ پر چلتا رہے گا۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ قوم بحیثیت مجموعی تسلیم کرلے کہ ’’سانوں کی‘‘ (ہمیں کیا) موجودہ صورت حال سے ہماراکوئی تعلق نہیں، یہ اخبارات والوں کامسئلہ ہے، یہ ٹی وی چینل والوں کا مسئلہ ہے، یہ ججوں کا مسئلہ ہے، یہ وکیلوں کا مسئلہ ہے، یہ دینی حلقوں اور مولویوں کا مسئلہ ہے۔ ہرکوئی اپنے حصے کی مار الگ الگ کھاتارہے۔ اس سے ملک ایک خاص راستے پر چڑھے گا۔آنے والی حکومتوں کو پتہ ہوگا کہ جیسے پہلے ساٹھ سال سے ہوتاآرہا ہے، جب دیکھاکہ عدلیہ ہماری تا بعداری سے نکل رہی ہے توکسی نہ کسی طریقے سے اپنے مرضی پر لے آئیں۔ جب دیکھاکہ لوگوں تک بات پہنچانے کے جتنے ذرائع ہیں، جتنا میڈیا ہے، وہ ایک خاص حدسے نکل رہا ہے، ہماری منشا کے مطا بق نہیں چل رہا تو ان کو پکڑ کر جکڑ دیں اور کہیں کہ لوگوں نے مان لیا اور ’’سانوں کی‘‘ کا رویہ اختیار کر کے ہماری خاموشی نے تصدیق کر دی۔ لہٰذا یہ صرف چندلوگوں کا مسئلہ ہے۔ اس سے ملک ایک دوسری قسم کی ڈگر پر چلے گا اور یاد رکھیں کہ گاڑی کارخ جس طرف کوبھی مڑا، اس کے اچھے یا برے اثرات ہم یعنی دین کا کام کرنے والوں پر بھی لازماً پڑیں گے۔ اگر ملک کی یہ گاڑی شخصی آزادیوں کے راستے پر چل نکلی، شہری حقو ق، دستورپسندی اور آئین کی پاس داری کے راستے پر چل نکلی تواس کے اثرات وثمرات سے دینی حلقے بھی مستفید ہوسکیں گے۔ اس کافائدہ جہاں لادین طاقتوں کو ہوگا، وہیں ہمیں بھی ان آزادیوں اور شہری حقوق سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
اگر خدانخواستہ گاڑی کارخ دوسری طرف ہوگیا اور آپ نے کسی کایہ اختیار تسلیم کرلیا کہ وہ اپنی مرضی سے جس کا چاہے، گلا دبا دے توجس نے آج ان کا دبایاہے، کل آ پ کا بھی دبا سکتا ہے۔ آج اگر اس کا گلہ د بانے کی طاقت حاصل کرتاہے توکل آپ کا بھی د بادے گا،بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہارا اس سے زیادہ دبائے۔ آج کئی لوگوں کے لیے بات کہنا اور لکھنا مشکل ہے اور دوسرے شہری حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں توکل کوہمارے لیے دین کے کام میں بھی مشکلات آسکتی ہیں۔ آپ دوسرے اسلامی ملکوں کاحال دیکھ لیں۔ سعودی عرب اور ترکی کا حال دیکھ لیں، وہاں کی حکومتوں کے نقطہ نظر سے ہٹ کر آپ دین کی کوئی بات بھی کر سکتے ہیں؟ تبلیغی جماعت کا کام آزادی سے کرسکتے ہیں؟ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ تبلیغ والے حضرات کہنے لگے کہ آج کل ہمیں ترکوں پر زیادہ محنت کرنے کا کہا گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ جماعتیں ترکی میں جا رہی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، اس مقصدکے لیے جماعتیں زیادہ تر جرمنی میں جا رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ محنت ترکوں پر اور جماعتیں جرمنی میں جا رہی ہیں؟ کہنے لگے اس لیے کہ ترکی میں وہ حقوق نہیں، وہ آزادیاں نہیں ہیں جو جرمنی میں ہیں۔ ترک چونکہ جرمنی میں کثر ت سے ہیں ملازمت اور کسب معاش وغیر ہ کے سلسلے میں، اس لیے جرمنی میں جا کر ترکوں پرمحنت کرتے ہیں اور ترکی میں یہ کام نہیں ہوسکتا۔
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ شایدہماری نفسیات میں کہیں سے یہ بات آگئی ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی آکر لوگوں کو جکڑے، ان کے ہاتھ پاؤں باندھے اور ہم ان جکڑے ہوئے لوگوں میں دین کا جام انڈیلیں، لیکن یاد رکھیں یہ ہم میں سے کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے، خود اسلام فطری طورپر اتنا بودا اور بے کشش نہیں ہے کہ اسے اس طرح کی کسی بیساکھی کی ضرورت ہو۔ آپ پچھلے کچھ عرصہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ جن جن ملکوں میں شہری حقوق اور شخصی آزادیاں جتنی زیادہ تسلیم کی گئی ہیں، جتنا زیادہ کھلا ماحول ملا ہے، وہاں اسلام اتنا زیادہ پھیلاہے اور جو ملک اشتراکی نظام کے زیر اثر رہے ہیں، اشتراکیت میں چونکہ ان حقوق کو سلب اور چھینا جاتا ہے، جیسے روس ہے، چائنا ہے، وہاں اسلام اتنا نہیں پھیلا جتنا امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ میں پھیلا ہے۔ آج مسلمان ملکوں کے اندر عورتیں حجاب چھوڑ ر ہی ہیں، لیکن مغرب میں مسلمان ہو کر حجا ب اوڑھ رہی ہیں۔ کھلے ماحول میں جب بھی اسلام کی بات چلے گی تووہ لوگوں کے دل ودماغ میں خود جگہ بنائے گی۔
بات یہ کررہاتھاکہ اس وقت ہماری ہمدردیاں کس کے ساتھ ہونی چاہییں؟ میں کسی خاص طبقے کی بات نہیں کر رہا۔ ہم اگر عملی طورپر کچھ نہیں کرسکتے توکم ازکم ذہنی اورفکری طورپر ہماری ہمدردیاں کس کے ساتھ ہونی چاہییں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ اس وقت چند ججوں اور وکیلوں کا نہیں، نہ اخبارات والوں اور ٹی وی والوں کا ہے، بلکہ مسئلہ اصول اور رخ کا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمیں کون سا راستہ سوٹ کرے گا۔ اس وقت ہم اپنا وزن صحیح جانب ڈالیں کیونکہ یہ فیصلہ کن موڑہے۔اپنے آپ کو بالکل لاتعلق نہ رکھیں، ا ب یہ کہنے کا موقع نہیں رہاکہ ’’سانوں کی‘‘۔ اگر آزادیوں اورحقو ق کوتسلیم کرلیا گیا تواس سے ہم بھی مستفید ہوں گے۔قانونی ڈھانچے اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے آپ کوئی مدرسہ بنائیں یاکوئی مسجد بنائیں توآپ کوکوئی نہیں روک سکے گا۔ برطانیہ اورامریکا میں اوریورپ کے دیگر ملکوں میں وہاں کے قانون کے مطابق اگر مسجد بنانا چاہتے ہیں تو وہاں کی حکومت کی مجال نہیں کہ وہ آپ کوروک دے، محض اس وجہ سے کہ ہمیں پسند نہیں۔ آپ مند ربنا نا چاہیں توآپ کاحق ہے، آپ بنائیں۔ آپ گرجاگھر بنانا چاہیں، آپ کاحق ہے، بنائیں۔ توحقوق کو تسلیم کیے جانے کا جو راستہ ہے، شہری حقوق اور شہری آزادیوں کا جو راستہ ہے، اس سے جتنا زیادہ فائدہ دوسروں کوہوگا، اس سے کہیں زیادہ فائدہ ہم اٹھا سکیں گے۔یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو ایک خاص قانونی دائرے کے اندر رکھنا پڑے گا، لیکن اس حد کے اندر رہتے ہوئے توکم ازکم روک ٹوک نہیں ہوگی۔ ہم اپنا کام آزادی سے کرسکیں گے، دین کی بات بڑھا سکیں گے، پھیلا سکیں گے، لوگوں تک پہنچا سکیں گے، اور یہ ہماری طاقت نہیں بلکہ دین کی اپنی طاقت ہے۔ دین اپنے آپ کو خود منواتاہے۔ توجہاں تک ہماری بات چلتی ہے، جہاں تک ہمارے قلم کی دسترس ہے، ورنہ کم از کم ہمدریوں کی حدتک ہمیں صحیح جانب وزن ڈالنا چاہیے، خاص طورپر ہم میں سے جولوگ سیاسی میدانوں میں ہیں۔ ہمیں اپنی سیاسی قیادت پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر امیرالمومنین کو برسرعام غلطی پرٹوکا جاسکتاہے تودینی سیاسی قیادت اگر غلط راستے پر چل رہی ہے تواس کو بھی بتایا جا سکتاہے کہ جناب!آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔ خاص طورپر جولوگ سیاسی میدان میں ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیادت کوبتائیں کہ ہمیں پتہ ہے کہ اندر سے کیا ہو رہا ہے اور باہر کیا کیا جا رہا ہے۔ آپ یہ مت سمجھیں کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کوبتائیں کہ ہم محض آپ کی ز بان کی چکناہٹ اور خوب صورت دلیلوں سے متاثر ہونے والے نہیں ہیں۔اب وقت آگیاہے کہ آپ کے بیانات اورطرز عمل اورپالیسیوں میں یکسانیت نمایاں نظر آئے۔
اس ملک کے ساتھ اس وقت چند قائدین اتنا سنگین مذاق کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہماری چالبازیوں اور مذاق سے لوگ بے وقو ف بن جائیں گے۔ اس کا نقصان جس طرح ملک کو پہنچے گا، ویسے ان کو بھی پہنچے گا۔ اس وقت کی صورت حال سے دل اتنا دکھا ہواہے کہ کوئی قیادت نظر نہیں آرہی ہے۔ نچلی سطح پرپہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے، لیکن اوپر کی سطح پرکوئی قیادت ہی نہیں۔ پھرایک بات یہ بھی ہے کہ ملک کاجوبہت متمول طبقہ ہے تواسے اپنے مفادات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اور نچلا طبقہ مہنگائی کی چکی میں ایسا پسا ہواہے کہ اسے اپنی دال روٹی سے فرصت نہیں۔ لے دے کے مذل کلاس خصوصاً اپر مذل کلاس رہ جاتی ہے۔ اس وقت بیداری کی لہربھی سب سے زیادہ اس میں ہے اور علما کے ساتھ رابطہ اورتفاعل اس کا سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے بھی اس طبقے پر خاصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مطلق العنانی کے خلاف مزاحمت کی علامت مولوی ہوتا تھا۔ لوگوں کی نظر یں مولا نا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ پر ہوتی تھیں، مفتی محمود ؒ پر ہوتی تھیں، لیکن آج لوگ سوچنے پر مجبورہیں۔ آج لوگوں کی نظریں اعتزاز احسن پر ہیں، جاوہد ہاشمی پرہیں، منیراے ملک، افتخار چوہدری پر ہیں۔ آپ لوگوں سے خود جاکر پوچھ لیں، خود سرو ے کرلیں۔ اور نہیں تو کم از کم اپنے مقتدیوں کا ہی سروے کرلیں، ہم لوگ کسی زمانے میں ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت ہوتے تھے، ۔ اب اس جگہ پر پہنچ گئے،یہ ہمارے لیے سوچنے کی بات ہے۔ ہم عام تقریریں نہیں کر سکتے، عوام کو بھڑکانہیں سکتے توکم از کم اپنے دائرے کے اندر رہتے ہوئے سوچ توسکتے ہیں اوراپنی دینی لیڈر شپ کو جتا سکتے ہیں۔ اگر ان کویہ پتہ چل جائے کہ نیچے والوں نے صرف ہمارے حق میں نعرے نہیں لگانے بلکہ ہماری پالیسیوں کو چیک بھی کرناہے توانہیں بھی اپنی پالیسیوں پر غور اور نظرثانی کے لیے وقت نکالنا پڑے گا۔ اس معاملے میں اگرہم نے سستی کی توخدانخواستہ ہم پر کہیں وہ وقت نہ آجائے کہ ہم چیخیں لیکن کوئی سننے والا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، آمین۔
(ضبط وتلخیص:مولانا مفتی محمد اصغر۔ بشکریہ مجلہ ’’الحقانیہ‘‘ ساہیوال، سرگودھا، جنوری ۲۰۰۸)
شرعی سزاؤں کی ابدیت و آفاقیت کی بحث
محمد عمار خان ناصر
(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب)
شرعی قوانین اور بالخصوص سزاؤں سے متعلق شرعی احکام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے معاصر مسلم فکر میں ایک اہم اور بنیادی بحث یہ ہے کہ قرآن وسنت میں مختلف معاشرتی جرائم مثلاً زنا، چوری، قذف اور محاربہ وغیرہ سے متعلق جو متعین سزائیں بیان کی گئی ہیں، آیا وہ ابدی اور آفاقی نوعیت کی ہیں یا ان کی معنویت اور افادیت ایک مخصوص زمان ومکان تک محدود تھی۔ ایک مکتب فکر یہ رائے رکھتا ہے کہ یہ سزائیں تجویز کرتے وقت اہل عرب کے مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات واطوار کو پیش نظر رکھا گیا تھا اور اس معاشرت میں جرائم کی روک تھام کے حوالے سے یہ موزوں اور موثر تھیں، تاہم ان کی ظاہری صورت کو ہر دور میں بعینہٖ برقرار رکھنا ضروری نہیں اور اصل مقصد یعنی عدل وانصاف پر مبنی معاشرے کے قیام اور جرائم کی روک تھام کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی معاشرے کی نفسیات اور تمدنی حالات وضروریات کے لحاظ سے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں سے مختلف سزائیں تجویز کی جا سکتی ہیں۔
یہاں تنقیح طلب نکتہ یہ ہے کہ آیا شارع نے کیا فی الواقع ان سزاؤں کی اساس یہی بیان کی ہے کہ ان کے ذریعے سے محض معاشرے میں جان ومال اور آبرو وغیرہ کا تحفظ مقصود ہے اور یہ کہ سزا کے اصل مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ان سزاؤں کی ظاہری صورت میں تبدیلی کی گنجایش موجود ہے؟ قرآن مجید کے متعلقہ نصوص کے مطالعے سے اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ قرآن سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں اس کا زاویہ نگاہ جوہری طور پر زیر بحث زاویہ نگاہ سے مختلف ہے۔ قرآن ان سزاؤں کو اصلاً ’حقوق العباد‘ یعنی جان ومال اور آبرو کے تحفظ کے ایک ذریعے کے طور پر بیان نہیں کرتا اور نہ اس نے ان سزاؤں کو بیان کرتے ہوئے وہ مقدمہ ہی قائم کیا ہے جو زیر بحث نقطہ نظر میں ان سزاؤں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، یعنی یہ کہ انسانی معاشرے میں امن ہونا چاہیے، اور چونکہ مذکورہ جرائم امن وامان کو تباہ کر دیتے ہیں، اس لیے یہ معاشرے کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ ان جرائم کی روک تھام کے لیے مجرموں کو مذکورہ سزائیں دی جائیں۔ قرآن نے یہ بات نہیں کہی، بلکہ وہ ان سزاؤں کو ’حق اللہ‘ کے طور پر بیان کرتا ہے اور اس کا مقدمہ یہ ہے کہ انسان کی جان، مال اور اس کی آبرو کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اللہ کی اجازت کے بغیر یہ حرمت کسی صورت میں ختم نہیں کی جا سکتی، اس لیے اگر کوئی مجرم کسی انسان کی جان، مال یا آبرو پر تعدی کرتا ہے تو وہ دراصل خدا کی قائم کی ہوئی ایک حرمت کو پامال کرتا ہے اور اس طرح خدا کی طرف سے سزا کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ کسی بھی جرم پر خدا کی بیان کردہ سزا دراصل خدا کا حق ہے جس کے نفاذ کو اس نے انسانوں کی ذمہ داری ٹھہرایا ہے۔
شرعی سزاؤں کا یہ پہلو قرآن مجید نے کم وبیش ہر موقع پر واضح کیا ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں اللہ تعالیٰ نے قاتل سے قصاص لینے کو فرض قرار دیا ہے۔قصاص کا قانون تورات میں بھی بیان کیا گیا تھا، تاہم اس میں قاتل کو معاف کر کے دیت لینے کی گنجایش نہیں رکھی گئی تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اجازت تمھارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل کی صورت میں قاتل کو قتل کرنا یا اس سے دیت لے کر معاف کر دینا انسانوں کی صواب دید پر مبنی نہیں، بلکہ یہ اجازت خدا کی طرف سے رحمت کی وجہ سے ملی ہے اور اگر وہ تورات کے قانون کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی اجازت نہ دیتا تو قاتل کو قصاص میں قتل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا۔
سورۂ نور کی آیت ۲ میں زانی مرد اور زانی عورت کے لیے سو کوڑوں کی سزا بیان کی گئی ہے۔ یہاں قرآن نے اپنی بیان کردہ سزا کے نفاذ کو اللہ کے دین پر عمل درآمد کا معاملہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مجرم پر کوئی ترس کھائے بغیر اس پر سزا کا نفاذ اہل ایمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
سورۂ مائدہ کی آیت ۳۸ میں چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سزا کو ’نکالا من اللہ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف عبرت کا نمونہ کہا گیا ہے۔ اس سے پہلے آیت ۳۳، ۳۴ میں نے محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرموں کی سزائیں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر یہ مجرم قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا، مہربان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ توبہ کی صورت میں اللہ کی طرف سے معافی کی پوری توقع ہے، اس لیے ایسے مجرموں پر سزا نافذ نہ کی جائے۔
ان سزاؤں کا یہ پہلو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات سے بھی واضح ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص قتل، زنا، چوری اور بہتان طرازی کا مرتکب ہو اور دنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا پا لے، اس کی سزا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی، لیکن اگر دنیا میں وہ سزا سے بچ گیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا حق ہوگا کہ وہ چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ (بخاری، ۱۷) ایک دوسری روایت میں آپ نے اس بات کو یوں بیان کیا کہ اگر کسی شخص کو دنیا ہی میں اس کے جرم کی سزا مل جائے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے عدل سے بعید ہے کہ وہ آخرت میں اسے دوبارہ اس کی سزا دے۔ (ترمذی، ۲۵۵۰) دونوں روایتوں سے واضح ہے کہ دنیا میں ملنے والی سزا بھی دراصل اللہ کا حق ہے جس کا نفاذ مجرم کو آخرت کے عذاب سے بچا لیتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی بہت سے مقدمات میں مجرم کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے، صاحب حق کے معاف کر دینے یا تلافی کی متبادل صورت موجود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سزا ہی کے نفاذ پر اصرار کیا۔ چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا، اسے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ کو بتایا گیا کہ اس نے چوری کی ہے تو آپ کا چہرہ مبارک اس طرح سیاہ ہو گیا جیسے اس پر راکھ پھینک دی گئی ہو۔ صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، آپ کو کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: ’’میں اس پر سزا نافذ کرنے سے کیسے رک سکتا ہوں جبکہ تم خود اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد کرنے والے ہو؟ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ (تمھیں چاہیے تھا کہ اس کو میرے سامنے پیش نہ کرتے کیونکہ) حکمران کے سامنے جب سزا سے متعلق کوئی معاملہ پیش ہو جائے تو اس کے لیے سزا کو نافذ کرنا ہی مناسب ہے۔‘‘ (مسنداحمد، ۳۷۸۰)
ایک شخص نے صفوان بن امیہ کی چادر چرا لی۔ اس کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کاحکم دیا۔ صفوان نے چور پر ترس کھاتے ہوئے کہا کہ یارسول اللہ، میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، اس لیے میں اپنی چادر اس چور کو ہبہ کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے میرے پاس لانے سے قبل اسے کیوں معاف نہیں کر دیا؟ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ (نسائی، ۴۷۹۵۔ ابن ماجہ، ۲۵۸۵)
عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ ہم اس کا عوض مال کی صورت میں دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ انھوں نے کہا کہ ہم پانچ سو دینار تک دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن آپ نے فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ (مسند احمد، ۶۳۷۰)
اس تفصیل سے واضح ہے کہ قرآن وسنت ان سزاؤں کو اصلاً ایک سماجی ضرورت کے طور پر نہیں ،بلکہ خدا کے حق کے طور پر بیان کرتے ہیں جس میں خود اس کے حکم کے بغیر کسی تبدیلی کی علمی وعقلی طور پر کوئی گنجایش نہیں۔ جہاں تک جرائم کے سدباب کا تعلق ہے تو یقیناًوہ بھی ان سزاؤں کا ایک اہم پہلو ہے، لیکن اس کی حیثیت اضافی اور ثانوی ہے اور اسے بنیاد بنا کر سزا کی اصل اساس کو اس کے تابع بنا دینے بلکہ بالکل نظر انداز کر دینے کو کسی طرح بھی شارع کے منشاکی ترجمانی نہیں کہا جا سکتا۔ شرعی سزاؤں کو یہی حیثیت سابقہ شرائع میں بھی حاصل رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب یہود نے تورات میں بیان ہونے والی بعض سزاؤں کو سنگین تصور کرتے ہوئے نرم سزا کی توقع پر بعض مقدمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تو قرآن نے ان کے اس طرز عمل پر تنقید کی اور فرمایا کہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر یہ اس کو چھوڑ کر آپ کو کیسے حکم بنا سکتے ہیں؟ (مائدہ ۵:۴۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمے میں یہود کی منشا کو بالکل الٹتے ہوئے مجرموں پر تورات ہی کی سزا نافذ فرمائی اور پھر کہا: ’اللہم انی اول من احیا امرک اذ اماتوہ‘ (یا اللہ، میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا، جبکہ انھوں نے اسے مردہ کر رکھا تھا)۔ (مسلم، ۳۲۱۲)
نصوص کی روشنی میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان استدلالات پر بھی تبصرہ کر دیا جائے جو اس ضمن میں بالعموم پیش کیے جاتے ہیں:
پہلا استدلال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سیدنا عمر نے اپنے عہد حکومت میں قحط سالی کے زمانے میں چور کے لیے قطع ید کی سزا کے نفاذ پر عمل درآمد روک دیا تھاجو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس سزا کا نفاذ ہر حالت میں ضروری نہیں ہے۔ تاہم یہ نکتہ اصل بحث سے بالکل غیر متعلق ہے، اس لیے کہ کسی حکم کا اصولی طور پر واجب الاتباع نہ ہونا ایک چیز ہے اور کسی مخصوص صورت حال میں اس کے اطلاق میں کسی اخلاقی اور شرعی مصلحت کو ملحوظ کھنا ایک بالکل دوسری چیز۔ سیدنا عمر کا مذکورہ فیصلہ دوسرے دائرے کی چیز ہے اور اپنی جگہ بالکل درست ہے، اس لیے کہ شریعت میں مختلف معاشرتی جرائم پر جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان کے نفاذ میں ان تمام شروط وقیود اور مصالح کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو جرم وسزا کے باب میں عقل عام پر مبنی اخلاقیات قانون اور خود شریعت کی ہدایات سے ثابت ہیں۔ جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کی رعایت کرنا اور اگر وہ کسی پہلو سے معاف کیے جانے کا مستحق ہو تو اسے معاف کر دینا انھی اصولوں میں سے ایک بنیادی ہے۔ کسی بھی مجرم پر سزا کا نفاذ اسی صورت میں قرین انصاف ہے جب مجرم کسی بھی پہلو سے رعایت کا مستحق نہ ہو۔ اگر جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کسی رعایت کا تقاضا کر رہے ہوں تو اس پہلو کونظر انداز کرتے ہوئے سزا کو نافذ کرنا عدل وانصاف اور خود شارع کی منشا کے خلاف ہے اور سیدنا عمر نے اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے قحط سالی کے زمانے میں قطع ید کی سزا پر عمل درآمد کو روکا تھا۔ ان کے اس فیصلے سے کسی طرح یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ فی نفسہ ان سزاؤں کو ہی شریعت کا کوئی ابدی حکم تصور نہیں کرتے تھے۔
دوسرا استدلال یہ سامنے آیا ہے کہ چونکہ جدید ذہن مختلف تمدنی اور نفسیاتی عوامل کے تحت شرعی سزاؤں سے اجنبیت محسوس کرتا ہے اور ان سزاؤں کا نفاذ نفسیاتی طور پر دین سے دوری کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے موجودہ دور میں ان سزاؤں کا نفاذ مصلحت کے خلاف ہے۔ ہماری رائے میں یہ بات تو درست ہے کہ دین کے احکام پر موثر عمل درآمد ان کی اعتقادی واخلاقی اساسات پر مضبوط ایمان اور شکوک وشبہات کا ازالہ کیے بغیر ممکن نہیں، تاہم اس نکتے کی بنیاد پر شرعی سزاؤں کو جدید دور میں کلیتاً ناقابل نفاذ قرار دے کر مستقل بنیادوں پر متبادل سزاؤں کا جواز اخذ درست نہیں، اس لیے کہ پھر یہ معاملہ قانون کے عملی نفاذ کی مصلحت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ فکر ونظر کے زاویے میں ایک نہایت بنیادی اختلاف کو قبول کرنے تک جا پہنچتا ہے۔ جدید ذہن کو ان سزاؤں پر یہ اشکال نہیں ہے کہ یہ جرائم کی روک تھام میں مددگار نہیں یا ان سے زیادہ موثر سزائیں دریافت کر لی گئی ہیں، بلکہ اسے یہ سزائیں سنگین،متشددانہ اور قدیم وحشیانہ دور کی یادگار دکھائی دیتی ہیں اور وہ انھیں انسانی عزت اور وقار کے منافی تصور کرتا ہے۔ زاویۂ نگاہ کا یہ فرق قانون کی مابعد الطبیعیاتی اور اعتقادی بنیادوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسلام خدا کے سامنے مکمل تسلیم اور سپردگی کا نام ہے۔ یہ سپردگی مجرد قسم کے ایمان واعتقاد اور بعض ظاہری پابندیوں کو بجا لانے تک محدود نہیں، بلکہ انسانی جذبات واحساسات بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ محبت، نفرت، ہمدردی اور غصے جیسے جذبات اور حب ذات، آزادی اور احترام انسانیت جیسے احساسات وتصورات نفس انسانی میں خدا ہی کے ودیعت کردہ اور اس اعتبار سے بجائے خود خدا کی امانت ہیں، چنانچہ اسلام کے نزدیک ان کا اظہار اسی دائرۂ عمل میں اور اسی حد تک قابل قبول ہے جب تک وہ خدا کے مقرر کردہ حدود کے پابند رہیں۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اگر ان کو کوئی مقام دیا جائے گا تو یہ خدا کی امانت کا صحیح استعمال نہیں، بلکہ اس میں خیانت کے مترادف ہوگا۔ چنانچہ جدید انسانی نفسیات اگر جرم وسزا سے متعلق قرآنی احکام سے نفور محسوس کرتی ہے تو یہ محض قانون کی مصلحت یا اس کے سماجی تناظر کے بدل جانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں قانون کی مابعد الطبیعیاتی اساسات میں پیوست ہیں اور اس معاملے میں جدید فکر کے ساتھ کمپرومائز کا جواز فراہم کرنے کے لیے ’اجتہاد‘ کے دائرے کو ایمان واعتقاد تک وسیع کرنا پڑے گا۔
اس بحث سے متعلق تیسرا اہم استدلال برصغیر کے جلیل القدر عالم شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب ’’الکلام اور علم الکلام‘‘ میں شاہ صاحب کی تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ سے ایک اقتباس نقل کر کے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاہ صاحب قتل، زنا اور چوری وغیرہ سے متعلق قرآن کی بیان کردہ سزاؤں کو اہل عرب کی عادات پر مبنی اور ان کی مخصوص معاشرت ہی کے لیے موزوں سمجھتے ہیں، جبکہ دنیا کے دیگر معاشروں میں ان سزاؤں کے نفاذ کو لازم قرار نہیں دیتے۔ یہ عبارت ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے ’المبحث السادس‘ کے ’باب الحاجۃ الی دین ینسخ الادیان‘ سے لی گئی ہے۔ ذیل میں ہم سیاق وسباق کی روشنی میں اس کا مفہوم واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
مذکوہ باب میں بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دنیا میں مختلف اقوام اورملل کے وجود میں آ جانے اور ان کے اختیار کردہ سنن وشرائع میں راہ راست سے کجی اور انحراف واقع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اب ایک ایسا امام راشد سامنے آئے جو تمام ملتوں کو ایک ملت پر جمع کر دے اور ان ملتوں میں پائے جانے والے انحراف کو درست کرنے کے لیے وہی کردار ادا کرے جو ایک خلیفہ راشد دوسرے ظالم حکمرانوں کے ظلم وجور کو ختم کر کے دنیا میں عدل قائم کرنے کے لیے ادا کرتا ہے۔ اس عالمگیر مقصد کے حصول کے لیے امام راشد کو ان عمومی اصولوں کے علاوہ جن کی وضاحت شاہ صاحب ’باب الارتفاق الرابع‘ نے میں کی ہے، چند مزید اصولوں کی بھی ضرورت ہے۔ شاہ صاحب نے اس ضمن میں حسب ذیل اصولوں کا تذکرہ کیا ہے:
۱۔ یہ امام راشد ایک مخصوص قوم کو تزکیہ وتربیت کے بعد اپنا آلہ جارحہ بنائے اور پھر وہ قوم دنیا کی دیگر ملتوں کو اس امام کی لائی ہوئی ملت پر جمع کرنے کی ذمہ داری انجام دے۔
۲۔ یہ قوم صاحب ملت کی مقرر کردہ ملت کے لیے دینی حمیت کے ساتھ ساتھ نسبی حمیت بھی رکھتی ہو۔
۳۔ صاحب ملت اس مقصد کے لیے اپنے دین کو دنیا کے دوسرے سارے ادیان پر غالب کر دے جس کی صورت یہ ہو کہ اس دین کے شعائر کا عام چرچا کیا جائے جبکہ دیگر ادیان کے شعائر کے عمومی اظہار کو ممنوع قرار دیا جائے۔ اسی طرح غیر مسلموں کو قانونی اور معاشرتی امور میں مسلمانوں کے ہم پلہ نہ سمجھا جائے بلکہ انھیں پستی اور کہتری کا احساس دلا کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
۴۔ صاحب ملت لوگوں کو شریعت کے ظاہری احکام کا پابند بنائے اور ان احکام کے اسرار ومصالح کے ساتھ انھیں زیادہ مشغول نہ ہونے دے، کیونکہ اسرار ومصالح پر غور کے نتیجے میں اختلاف پیدا ہوگا اور شریعت دینے سے اللہ تعالیٰ کے پیش نظر جو مقصد ہے، وہ فوت ہو جائے گا۔
۵۔ اس دین کے بارے میں یہ واضح کر دیا جائے کہ یہی واضح، آسان اور معقول دین ہے اور اس میں مقرر کیے جانے والے طریقے انسانوں کی اکثریت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں، جبکہ دیگر تمام ادیان تحریف اور انحراف کا شکار ہونے کی وجہ سے قابل اتباع نہیں رہے۔
باب کے اس پورے نظم سے واضح ہے کہ یہاں بنیادی نکتہ یہ زیر بحث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت اور شریعت پر پوری انسانیت کو جمع کرنے کے لیے کون کون سے اصولوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ ان اصولوں میں سے پہلے اصول یعنی ایک مخصوص قوم کو تزکیہ وتربیت کے بعد دنیا کی دیگر ملتوں کو امام راشد کی ملت پر جمع کرنے کا ذریعہ بنانے کی توضیح کرتے ہوئے شاہ صاحب نے وہ عبارت لکھی ہے جو شبلی نے نقل کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ شرعی سزاؤں کو ابدی اور آفاقی نہیں سمجھتے۔ ’باب الحاجۃ الی دین ینسخ الادیان‘ کا جو بنیادی نکتہ اور رخ اوپر واضح کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں اب اس عبارت کو دیکھیے:
منہا ان یدعو قوما الی السنۃ الراشدۃ ویزکیہم ویصلح شانہم ثم یتخذہم بمنزلۃ جوارحہ فیجاہد اہل الارض ویفرقہم فی الآفاق وہو قولہ تعالیٰ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس وذلک لان ہذا الامام نفسہ لا یتاتی منہ مجاہدۃ امم غیر محصورۃ واذا کان کذلک وجب ان تکون مادۃ شریعتہ ما ہو بمنزلۃ المذہب الطبیعی لاہل الاقالیم الصالحۃ عربہم وعجمہم ثم ما عند قومہ من العلم والارتفاقات ویراعی فیہم حالہم اکثر من غیرہم ثم یحمل الناس جمیعا علی اتباع تلک الشریعۃ لانہ لا سبیل الی ان یفوض الامر الی کل قوم او الی ائمۃ کل عصر اذ لا یحصل منہ فائدۃ التشریع اصلا ولا الی ان ینظر ما عند کل قوم ویمارس کلا منہم فیجعل لکل شریعۃ اذ الاحاطۃ بعاداتہم وما عندہم علی اختلاف بلدانہم وتباین ادیانہم کالممتنع وقد عجز جمہور الرواۃ عن روایۃ شریعۃ واحدۃ فما ظنک بشرائع مختلفۃ والاکثر انہ لا یکون انقیاد الآخرین الا بعد عدد ومدد لا یطول عمر النبی الیہا کما وقع فی الشرائع الموجودۃ الآن فان الیہود والنصاری والمسلمین ما آمن من اوائلہم الا جمع ثم اصبحوا ظاہرین بعد ذلک فلا احسن ولا ایسر من ان یعتبر فی الشعائر والحدود والارتفاقات عادۃ قومہ المبعوث فیہم ولا یضیق کل التضییق علی الآخرین الذین یاتون بعد ویبقی علیہم فی الجملۃ والاولون یتیسر لہم الاخذ بتلک الشریعۃ بشہادۃ قلوبہم وعاداتہم والآخرون یتیسر لہم ذلک بالرغبۃ فی سیر ائمۃ الملۃ والخلفاء فانہا کالامر الطبیعی لکل قوم فی کل عصر قدیما او حدیثا (حجۃ اللہ البالغہ، ۱/۲۴۸)
’’ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ وہ ایک قوم کو سنت راشدہ کی طرف دعوت دے اور ان کا تزکیہ اور اصلاح کرنے کے بعد انھیں اپنا آلہ وجارحہ بنا ئے اور انھیں مختلف خطوں کی طرف بھیج کر ان کے ذریعے سے اہل زمین کے ساتھ جہاد کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘ کا یہی مطلب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام کے لیے بذات خود دنیا کی لاتعداد قوموں کے خلاف جہاد کرنا ممکن نہیں۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ اس کی شریعت کا مادہ ایک تو وہ (احکام وقوانین) ہوں جو عرب وعجم کی مہذب قوموں کے لیے ایک فطری طریقے کی حیثیت رکھتے ہیں اور پھر وہ علوم وارتفاقات جو امام کی مخاطب قوم کے ہاں پائے جاتے ہیں اور اس شریعت میں اس قوم کے حالات کی دوسروں کی نسبت زیادہ رعایت کی جائے۔ پھر امام راشد دنیا کے تمام لوگوں کو اس شریعت کی پیروی پر مجبور کرے، کیونکہ نہ تو یہ ممکن ہے کہ وضع شریعت کا معاملہ ہر قوم یا ہر دور کے ائمہ کے سپرد کر دیا جائے، اس لیے کہ اس سے شریعت مقرر کرنے کا فائدہ ہی سرے سے فوت ہو جاتا ہے، اور نہ یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ امام راشد ہر قوم کے احوال وعادات کو دیکھے اور ان میں سے ہر ایک کے معاملات کا خود تجربہ حاصل کرے اور پھر سب کے لیے الگ الگ شریعت مقرر کر دے، کیونکہ خطہ ہائے زمین اور مذاہب کے اختلاف اور تباین کے باعث ان سب قوموں کی عادات اور اطوار کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ راویوں کی اکثریت ایک ہی شریعت کو (بحفاظت) آگے منتقل کرنے سے عاجز ہے تو الگ الگ شریعتوں کے نقل کیے جانے کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے! پھر یہ بھی ہے کہ دوسری قوموں کا امام راشد کے دین کی پیروی اختیار کرنا عام طور پر عرصہ دراز کی کوششوں اور کاوشوں کے بعد ہی ہو سکتا ہے اور نبی کی عمر اس قدر طویل نہیں ہوتی۔ چنانچہ دنیا کے موجودہ مذاہب میں ایسا ہی ہوا ہے، کیونکہ یہود ونصاریٰ اور مسلمانوں کی ابتدائی نسلوں میں ایک گروہ ہی ایمان لایا تھا جنھیں بعد میں غلبہ نصیب ہوا۔ اس صورت حال میں اس سے اچھا اور آسان طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ امام راشد شعائر، رسوم واحکام اور ارتفاقات میں اس قوم کی عادات کی رعایت کرے جس کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے، جبکہ بعد میں آنے والوں کے لیے اس معاملے میں بہت زیادہ سختی کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ ان کے لیے امام راشد کی شریعت اصولی حیثیت میں لازم رہے۔ (اولین قوم اور بعد کی اقوام میں فرق یہ ہوگا کہ) پہلوں کے لیے اس شریعت کو اختیار کرنا اپنے قلوب کی شہادت اور اپنی عادات کے ساتھ موافقت کی بنیاد پر آسان ہوگا جبکہ بعد میں آنے والوں کے لیے یہ یوں آسان ہوگا کہ وہ اس ملت کے ائمہ اور حکمرانوں کے طریقوں اور عادات کی پیروی میں راغب ہوں، کیونکہ حکمران قوم کے طریقوں کی پیروی کی رغبت پیدا ہونا قدیم اور جدید، ہر دور میں ہر قوم کے لیے ایک فطری طریقہ رہا ہے۔‘‘
مولانا شبلی نے اس اقتباس میں ’فلا احسن ولا ایسر من ان یعتبر فی الشعائر والحدود والارتفاقات عادۃ قومہ المبعوث فیہم ولا یضیق کل التضییق علی الآخرین الذین یاتون بعد‘ سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ ’’اس اصول سے یہ ظاہر ہو گیا کہ شریعت اسلامی میں چوری، زنا، قتل وغیرہ کی جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان میں کہاں تک عرب کی رسم ورواج کا لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ کہ ان سزاؤں کا بعینہا اور بخصوصہا پابند رہنا کہاں تک ضروری ہے‘‘۔ (الکلام، ص ۱۲۴) تاہم باب کے پورے نظم اور خود اس جملے کے سیاق وسباق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بات کسی طرح بھی شاہ صاحب کے مدعا کی ترجمانی نہیں ہے۔ شاہ صاحب نے مذکورہ اقتباس میں بنیادی طور پر دو سوالات کا جواب دیا ہے:
پہلا یہ کہ تمام ملتوں کو ایک ملت پر جمع کرنے کے لیے امام راشد کو کسی مخصوص قوم کو اپنا آلہ جارحہ بنانے کی ضرورت کیوں ہے؟ شاہ صاحب نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تمام ملتوں کو اس ایک ملت پر بالفعل جمع کرنے کی ذمہ داری براہ راست امام راشد پر ڈال دینا مناسب نہیں تھا کیونکہ امام کے لیے بذات خود دنیا کی بے شمار اقوام کے خلاف جہاد کر کے انھیں مغلوب کرنا ممکن نہیں، چنانچہ مناسب یہی تھا کہ وہ ایک مخصوص قوم کو تزکیہ وتربیت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے تیار کرے اور پھر آفاق عالم میں اس ملت کی اشاعت کی ذمہ داری اس قوم کے سپرد کر دی جائے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ شاہ صاحب نے شرائع اور مناہج کے حوالے سے پیغمبر کی مبعوث الیہ قوم کی عادات اور سنن کو ملحوظ رکھنے کی جو اصولی بحث کی ہے ، اس کی روشنی میں اس مخصوص قوم کو دی جانے والی شریعت کی نوعیت کیا ہوگی اور دنیا کی دوسری اقوام اور ملل کو کیونکر اس کا پابند کیا جا سکے گا؟ اس کے جواب میں شاہ صاحب نے تین امکانی طریقے بیان کیے ہیں: ایک یہ کہ شریعت کا معاملہ ہر قوم یا ہر زمانے کے ائمہ کے سپرد کر دیا جائے۔ شاہ صاحب نے اس امکان کی صاف نفی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ طریقہ، تشریع کے بنیادی مقصد اور فائدے ہی کو فوت کر دینے والا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ شریعت کے معاملے کو اقوام اور ائمہ کی صواب دید پر چھوڑنے کے بجائے تمام لوگوں کو امام راشد ہی کی دی ہوئی شریعت کا پابند کیا جائے۔ (ثم یحمل الناس جمیعا علی اتباع تلک الشریعۃ لانہ لا سبیل الی ان یفوض الامر الی کل قوم او الی ائمۃ کل عصر اذ لا یحصل منہ فائدۃ التشریع اصلا)
دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ خود امام راشد دنیا کی ہر ہر قوم کے لیے الگ الگ شریعت مقرر کر دے۔ شاہ صاحب نے اس کو بھی ناممکن قرار دیا ہے، اس لیے کہ ایک تو دنیا کے دور دراز علاقوں میں آباد تمام اقوام کی عادات کا احاطہ عملاً محال ہے اور دوسرے ان اقوام کے، دائرۂ ملت میں داخل ہونے کے لیے عادتاً ایک طویل عرصہ چاہیے جبکہ امام راشد اس قدر طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔
ان دو امکانات کی نفی کرتے ہوئے شاہ صاحب نے تیسرے امکان کو احسن اور ایسر قرار دیا ہے، یعنی یہ کہ امام راشد کو جو شریعت دی جائے، اس میں ان عادات کو تو ملحوظ رکھا ہی جائے جو عرب وعجم کے تمام صالح مزاج اقالیم کے لیے ’مذہب طبیعی‘ کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن اس مخصو ص قوم کے علوم وارتفاقات اور اس کے حالات کی زیادہ رعایت کی جائے جس کی طرف امام راشد کو مبعوث کیا گیا ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس مخصوص قوم کی عادات کی رعایت سے مقرر کی جانے والی شریعت کو دنیا کی باقی اقوام کے لیے کیسے مانوس ومالوف بنایا جائے تو شاہ صاحب نے اس کی حکمت عملی یہ بیان کی ہے کہ یہ شریعت اصولی حیثیت میں تو ان کے لیے لازم رہے لیکن انھیں عملاً اس کا پابند بنانے کے لیے زیادہ سختی اور تنگی سے کام نہ لیا جائے۔ (لا یضیق کل التضییق علی الآخرین الذین یاتون بعد ویبقی علیہم فی الجملۃ) شاہ صاحب ان اقوام کو شریعت کے ان احکام سے جو ان کے لیے ’بمنزلہ مذہب طبیعی‘ کے نہیں ہیں، مانوس کرنے کے لیے ایک دوسرا فطری طریقہ تجویز کرتے ہیں جو ان کی رائے میں ہر زمانے میں ہر قوم کے لیے فطری طریقے کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی یہ کہ بعد میں آنے والی ان اقوام میں اپنے حکمرانوں (جو پیغمبر کی مبعوث الیہ قوم سے تعلق رکھتے ہیں) کی سیرت اور طور طریقوں کی طرف رغبت پیدا ہو اور وہ ان سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ اس شریعت کو اپنانے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ (والآخرون یتیسر لہم ذلک بالرغبۃ فی سیر ائمۃ الملۃ والخلفاء فانہا کالامر الطبیعی لکل قوم فی کل عصر قدیما وحدیثا)۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ شاہ صاحب کا مدعا ہرگز وہ نہیں جو شبلی وغیرہ نے اخذ کیا ہے۔ اول تو اس عبارت میں وہ فقہی اصطلاح کے مطابق خاص حدود کے حوالے سے کوئی بحث نہیں کر رہے، بلکہ عمومی طور پر شرعی احکام کے نفاذ کا فلسفہ اور اس کی حکمت عملی واضح کر رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے شرعی احکام کے اہل عرب کی عادات پر مبنی ہونے کے نکتے کو انھیں غیر ابدی اور غیر آفاقی قرار دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا، بلکہ ان احکام کو ابدی مان کر انھیں دیگر اقوام پر نافذ کرنے کی حکمت عملی کو موضوع بحث بنایا ہے۔ شاہ صاحب کی بیان کردہ حکمت عملی پر کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں، لیکن اتنی بات واضح ہے کہ اہل عرب کو دی جانے والی شریعت کو غیر عرب اقوام کے لیے لازم نہ سمجھنے کا نقطہ نظر ان کی طرف کسی طرح منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک قتل، زنا اور چوری وغیرہ کی شرعی سزاؤں کا تعلق ہے تو شاہ صاحب نے اپنی اسی تصنیف میں ان کو الگ سے اور باقاعدہ موضوع بحث بنایا ہے اور غیر مبہم الفاظ میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ انھیں اہل عرب کی مخصوص عادات پر مبنی نہیں سمجھتے بلکہ ان قوانین میں شمار کرتے ہیں جو عرب وعجم کی سب قوموں کے لیے فطری طریقے کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ یہ سزائیں دنیا کی تمام اقوام کے لیے لازم ہیں اور انھیں کسی حال میں ترک نہیں کیا جا سکتا۔ فرماتے ہیں:
’’جان لو کہ مسلمانوں کی جماعت میں ایک حکمران کا ہونا ضروری ہے کیونکہ بہت سے مصالح اس کے وجود کے بغیر حاصل نہیں ہو سکے۔ یہ مصالح بہت سے ہیں اور انھیں بنیادی طورپر دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک وہ جن کا تعلق سیاست مدینہ سے ہے، مثلاً حملہ آور اور قابض ہونے والے لشکروں کی مدافعت، مظلوم کو ظالم کی دست رس سے بچانا، مقدمات کا فیصلہ وغیرہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام حاجات کو چار ابواب میں جمع فرما دیا ہے۔ ایک نزاعات، دوسرے حدود، تیسرے قضا اور چوتھے جہاد۔ پھر حاجت پیش آئی کہ ان چاروں ابواب کے کلیات طے کر دیے جائیں جبکہ جزئیات کو ارباب حل وعقد کی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے اور انھیں تاکید کر دی جائے کہ وہ عوام کے بارے میں خیر خواہی کا رویہ اختیار کریں۔‘‘ (حجۃ اللہ ۲/۳۸۲، ۳۸۳)
اس کے بعد انھوں نے وہ ضروریات اور مصالح بیان کیے ہیں جو اس باب کے کلیات کو ضبط کرنے کے متقاضی ہیں۔ ان میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ جرم اور سزا کے مابین تناسب کی تعیین کو اگر لوگوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا جاتا تو یہ افراط اور تفریط کا موجب ہوتا اور لوگ اس معاملے میں اعتدال پر قائم نہ رہ سکتے، اس لیے یہ مناسب تھا کہ شارع جرم وسزا کے باب میں ’کلیات‘ کو خود متعین کر دے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’تمام صورتوں کا حکم بیان کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ یہ ایک امر محال کامکلف ٹھہرانے کے مترادف ہوتا، اس لیے یہ ضروری تھا کہ بنیادی باتیں طے کر دی جائیں (جبکہ فروع کو متعین نہ کیا جائے) کیونکہ اصول کے مقابلے میں فروع میں لوگوں کا اختلاف کرنا نسبتاً قابل برداشت ہے۔ بنیادی سزاؤں کو طے کرنے کی ایک حکمت یہ تھی کہ یہ قوانین جب شارع کی طرف سے بیان کیے جائیں گے تو لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے انھیں نماز اور روزہ کے احکام ہی کے مانند سمجھیں گے۔ ؟؟؟ ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس معاملے کو نہ تو بالکلیہ خواہشات اور درندگی جیسی خصلت سے مغلوب انسانی نفوس کے سپرد کر دینا ممکن تھا اور نہ یہ ہو سکتا تھا کہ حکمرانوں میں سے عادل اور انصاف پسند کو (پیشگی) ممتاز کر لیا جاتا (اور عادلانہ سزاؤں کی تعیین ان کی صواب دید پر چھوڑ دی جاتی) چنانچہ شرعی قانون سازی اور احکام کی ظاہری صورتوں کو متعین کرنے میں جتنے بھی مصالح پیش نظر ہو سکتے ہیں، وہ سب اس باب میں پائے جاتے ہیں (اور اسی لیے شارع نے بنیادی سزاؤں کی ظاہری صورت کو بھی متعین کر دیا ہے)‘‘ (حجۃ اللہ، ۲/۳۸۳، ۳۸۴)
ان ’اصول‘ یعنی بنیادی سزاؤں کی وضاحت کرتے ہوئے جنھیں شریعت نے متعین کر دیا ہے، شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’جان لو کہ قتل کی صورت میں قصاص، زنا کی صورت میں رجم اور چوری کی صورت میں ہاتھ کاٹنے کی سزائیں ہم سے پہلی شریعتوں میں بھی موجود تھیں۔ یہ تین سزائیں آسمانی شریعتوں میں متوارث چلی آ رہی ہیں اور ان پر انبیا اور اقوام عالم کی اکثریت کا اتفاق رہا ہے، چنانچہ اس طرح کی سزاؤں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے اور انھیں چھوڑنا نہیں چاہیے۔ البتہ شریعت محمدی میں ان سزاؤں میں ایک اور طرح کا تصرف کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر جرم کی سزا کے دو درجے مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک بے حد سخت اور آخری درجے کی سزا جس کا حق یہ ہے کہ اسے سنگین قسم کے جرم میں نافذ کیا جائے، اور دوسری اس سے کم تر سزا جس کا حق یہ ہے کہ اسے پہلے کی بہ نسبت کم سنگین جرم میں نافذ کیا جائے۔‘‘ (حجۃ اللہ، ۲/۴۰۷)
شاہ صاحب کے نزدیک ان سزاؤں میں تخفیف یا رعایت کا فیصلہ بھی نصوص ہی کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں کہ احادیث میں زنا کی سزا کے طور پر زانی کو جلاوطن کرنے کا جو ذکر ہوا ہے، اسے معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اس طریقے سے متعارض روایات میں تطبیق دی جا سکتی ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ۲/۴۱۱)
کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۴)
حافظ محمد زبیر
امام ابن قیمؒ کا موقف
امام صاحب سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کے قائل نہیں ہیں اور سنت کو ہر صورت میں قرآن کا بیان ہی ثابت کرتے ہیں۔ امام ابن قیمؒ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ متقدمین علمائے سلف تخصیص ‘تقیید وغیرہ کے لیے بھی نسخ کا لفظ استعمال کر لیتے تھے اور اس معنی میں قرآن کا نسخ ‘سنت کے ذریعے سب علماء کے نزدیک جائز ہے لیکن جمہور متأخرین علمائتخصیص ‘تقیید‘استثناء وغیرہ کے لیے نسخ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال نہیں کرتے ۔امام صاحب ؒ لکھتے ہیں ۔
’’اگر نسخ کا معنی عام لیا جائے جسے سلف نسخ کہتے ہیں وہ یہ کہ کسی تخصیص ‘ تقیید ‘شرط یا مانع سے قرآن کے کسی حکم کا ظاہری مفہوم باقی نہ رہے تو اس کو اکثر سلف نسخ کہہ دیتے ہیں بلکہ وہ تو استثناء کو بھی نسخ کہہ دیتے ہیں ...اور اس معنی میں قرآن کے سنت کے ذریعے نسخ کا انکار کسی بھی عالم نے نہیں کیا ہے ۔‘‘ (اعلام الموقعین: باب المراد بالنسخ فی السنۃ الزائدۃ علی القرآن)
امام ابن قیمؒ نے سنت کے اضافے کی تمام اقسام کو قرآن کابیان ہی قرار دیا ہے۔یہاں تک امام صاحبؒ کے نزدیک سنت کے وہ احکامات کہ جن کے بارے میں قرآن خاموش ہے ‘وہ بھی قرآن ہی کا بیان ہیں ۔امام ابن قیمؒ اپنے مخالفین کا اعتراض نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اگر یہ کہا جائے کہ وہ سنن جو کہ قرآن پر اضافہ ہیں وہ بعض صورتوں میں تو قرآن کا بیان ہوتی ہیں اور بعض صورتوں میں ایک ایسے حکم کی موجد ہوتی ہیں کہ جو قرآن میں موجود نہیں ہے اور بعض اوقات وہ قرآن کے کسی حکم کو تبدیل کرنے والی ہوتی ہیں اور پہلی دو قسموں میں تو ہمارا کوئی نزاع نہیں ہے کیونکہ وہ بالاتفاق حجت ہیں لیکن ہمارا نزاع تیسری قسم میں ہے ۔ ‘‘ ( اعلام الموقعین: باب أنواع السنن الزائدۃ علی القرآن)
امام صاحبؒ اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اضافے کی ان تینوں قسموں میں کوئی ایک بھی بیان سے باہر نہیں ہیں بلکہ سلف صالحین کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب بھی وہ کوئی حدیث سنتے تھے تو اس کی اصل قرآن میں پا لیتے تھے(امام شافعیؒ وغیرہ کی طرف اشارہ ہے) اور کسی نے بھی ایک حدیث کے بارے میں بھی یہ کبھی بھی نہیں کہا کہ یہ حدیث قرآن پر اضافہ ہے لہذا ہم اسے نہ تو قبول کریں کریں گے ا ور نہ ہی سنیں گیاور نہ ہی اس پر عمل کریں گے اور اللہ کے رسولﷺ کا مرتبہ ان کے نزدیک بہت بلند تھا اور آپؐ کی سنت ان کے ہاں اس (قسم کے فلسفوں)سے اعلی مقام کی حامل تھی۔ ‘‘ (اعلام الموقعین:باب أنواع السنن الزائدۃ علی القرآن)
امام ابن قیمؒ کے نزدیک وہ روایت جو کہ قرآن پر اضافہ معلوم ہوتی ہیں وہ درحقیقت قرآن ہی کا بیان ہیں۔امام صاحبؒ کے نزدیک یہ روایات قرآن کے سنت کے ذریعے بیان کی درج ذیل دس اقسام سے باہر نہیں ہیں ۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں :
’’اللہ کے نبیﷺ کے بیان کی کئی اقسام ہیں ۔ان میں سے ایک خود وحی کا آپؐ کی زبان سے بیان اور ظہور ہے جبکہ وہ اس بیان سے پہلے پوشیدہ تھی۔بیان کی دوسری قسم آپؐ کا وحی کے معانی بیان کرنا اور قرآن کے ان الفاظ کی تفسیر کرنا ہے کہ جن کی تفسیر کی ضرورت ہو(یعنی جن الفاظ قرآنی کی تفسیر اگر اللہ کے رسولﷺ نہ بتائیں تو لوگ گمراہ ہو جائیں گے)جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اللہ کے قول ’اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی قسم کے ظلم کونہیں ملایا‘میں ’ظلم‘ کی تفسیر ’شرک‘ سے کی ہے ...بیان کی تیسری قسم آپؐ کا فعل ہے جیسا کہ آپؐ نے اس شخص کے لیے نمازوں کے اوقات اپنے فعل سے بیان کیے کہ جس نے آپؐ سے سوال کیا تھا۔بیا ن کی چوتھی قسم وہ احکامات ہیں کہ جن کے بارے میں آپؐ سے جب سوال ہوا تو اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی جیساکہ آپؐ سے قذف کے بارے میں سوال ہوا تو قرآن میں لعان وغیرہ کی آیات نازل ہوئیں۔بیان کی پانچویں قسم وہ وحی ہے جو آپ ؐ سے کسی سوال کے بعد نازل ہوئی اور یہ وحی قرآن کے علاوہ نازل ہوئی جیسا کہ آپؐ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا کہ جس نے اپنے جبے کو حالت احرام میں ایک خوشبولگائی ہوئی تھی توآپؐ کی طرف وحی نازل ہوئی کہ آپ ؐ اس شخص کو کہیں کہ وہ اپنا جبہ اتار کر اس خوشبو کے نشان کو دھو ڈالے۔چھٹی قسم ایسے احکامات کا سنت میں بیان ہے کہ جن میں آپؐ نے بغیر کسی سائل کے سوال کے ابتدائی طور پر کسی حکم کو اپنی سنت کے ذریعے جاری فرمایا جیسا کہ آپؐ نے گدھوں کی حرمت‘ متعہ کی حرمت ‘مدینہ میں شکار کی حرمت اور عورت کو اس کی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ نکاح میں لانے وغیرہ کی حرمت بیان کی(یعنی امام ابن قیمؒ کے نزدیک پھوپھی کو خالہ کے ساتھ جمع کرنا معنی جدیدیا ایک نئی نوعیت میں ابتدائی طور پر ایک نیا حکم جاری کرنا ہے نہ کہ قرآنی الفاظ پر اضافہ ہے)۔ساتویں قسم خود آپؐ کا اپنے کسی فعل سے کسی کام کے جواز کو بیان کرنا ہے اور آپؐ اس فعل میں اپنی پیروی کرنے سے کسی امتی کو بھی نہ روکیں۔آٹھویں قسم آپؐ کا کسی کوکوئی کام کرتے دیکھنا اور اس پر خاموش رہنا ہے یا آپؐ امت کو کسی بات کی تعلیم دی ہو اور امت اس پر عمل کرے۔نویں قسم کسی شیء کو حرام قرار دینے سے آپؐ کا سکوت اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مباح ہے اگرچہ آپؐ نے اس کی اباحت کو الفاظ میں بیان نہ بھی کیا ہو۔دسویں قسم یہ ہے کہ قرآن کا کسی چیز کے واجب ‘حرام یا مباح ہونے کا حکم جاری فرمانا لیکن اس حکم کی شرائط ‘موانع ‘قیود ‘ مخصوص اوقات ‘احوال اور اوصاف ہوں جن کے بیان کو اللہ تعالی اپنے نبیﷺ پر چھوڑ دیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’اور تمہارے لیے اس کے علاوہ جو بھی عورتیں ہیں حلال کی گئی ہیں ‘۔اس آیت مبارکہ میں باقی تمام عورتوں کی حلت شرائطِ نکاح ‘موانعِ نکاح کے نہ ہونے‘اس کے وقت کے آنے اور محل کی اہلیت پر موقوف ہے ۔پس حدیث جب بیان کی ان قسموں میں سے کسی قسم کو بیان کرے تو وہ قرآن پر اضافہ نہیں ہے کہ اس کی ناسخ ہو اگرچہ بیان کی ان اقسام سے آیت کا ظاہری اطلاق اٹھ جاتا ہے۔پس اسی قسم کا حکم ہر اس روایت کا بھی ہے کہ جس کو قرآن پر زائد کہا گیا ہے۔‘‘ (اعلام الموقعین: باب بیان السنۃ علی أنواع)
ان میں سے کون سی قسم ایسی ہے جو کہ غامدی صاحب کی عربی معلی کے مطابق بیان کی قسم شمار نہیں ہو سکتی ‘اگر یہ سب بیان ہی کی اقسام ہیں تو امام ابن قیم ؒ نے سینکڑوں روایات کو جو کہ بظاہرقرآن پراضافہ یا اس کے کسی حکم کو تبدیل کرنے والی معلوم ہوتی ہیں‘انہیں ان اقسام میں میں داخل کر کے انہیں قرآن کا بیان ثابت کیا ہے ۔مثلا امام ابن قیم ؒ ’تغریب عام‘ کی سزا کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’پس ’تغریب عام‘ کی سزااللہ تعالی کے قول ’یا اللہ تعالی ان کے لیے کوئی رستہ نکال دے گا‘ کا بیان ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ ’تغریب‘ اس آیت میں مذکور رستے کاہی بیان ہے تو آپ ؐ کی اس وضاحت کے بعد یہ کہنا کیسے جائز ہے کہ آپؐ کی یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے اوراگر ہم اس روایت کو قبول کر لیں گے تو ہم قرآن کے حکم کو باطل کر دیں گے۔ ‘‘ (اعلام الموقعین: باب بیان السنۃ علی أنواع)
جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ کیا اللہ کے رسولﷺ کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ قرآن کے کسی حکم پر اضافہ کریں ؟تو امام ابن قیم ؒ کا اگرچہ موقف تو یہی ہے کہ سنت کا قرآن پر اضافہ ‘ اضافہ نہیں ہے بلکہ اس کا بیان ہے اور امام صاحب اس کو بیان ثابت بھی کرتے ہیں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں لیکن امام صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ اضافہ بھی ہوتا تو پھر بھی اس کو ماننا واجب ہے اور اللہ کے رسولﷺ کے پاس اس اضافے کا اختیار تھا اور اللہ کے رسولﷺ کو اس کااختیار اللہ تعالی نے دیاتھا۔امام صاحب اپنی کتاب ’اعلام الموقعین ‘ میں اس کے درج ذیل دلائل بیان کرتے ہیں :
۱) اللہ تعالی نے قرآن میں جہاں بھی اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہ مطلقاً اطاعت کا حکم ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں کہیں بھی یہ بیان نہیں فرمایا کہ اگر میرا رسول کوئی ایسی بات کہے جو تم کو قرآن پر اضافہ معلوم ہو تو تم اس کو رد کر دینا۔
۲) جس طرح آپؐ ایسی چیز میں کوئی شرعی حکم مقرر کر سکتے ہیں کہ جس میں قرآن خاموش ہے اور اس کو سب مانتے ہیں ‘اسی طرح آپؐ اللہ کے بتلانے سے قرآن پر اضافہ بھی کر سکتے ہیں اور قرآن نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس اضافے کو قبول کریں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’ما آتاکم الرسول فخذوہ و ما نھاکم عنہ فانتھوا‘۔
۳) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی ذمہ داری یہ لگائی ہے کہ وہ قرآن کی تبیین فرمائیں ‘اب آپؐ کی سنت سے جو احکامات معلوم ہوئے وہ سب قرآن کا ہی بیان ہوں گے‘ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آپ ؐ کی بعض روایات قرآن کی تبیین میں شامل نہیں ہیں وہ گویا کہ آپ ؐ پر الزام لگا رہاہے کہ آپؐ نے قرآن کے بیان میں ایک ایسا کام کیا کہ جس کے منصب پرآپؐ مقرر نہیں کیے گئے تھے ۔
۴) سنت کا قرآن پر اضافہ نہ تو اس کے کسی حکم میں تغیر یا تبدیلی پید ا کرتا ہے اور نہ ہی یہ نسخِ ِ قرآن ہے بلکہ درحقیقت یہ اضافہ برات أصلیہ کو ختم کر دیتا ہے جیسا کہ سنت میں موجود’تغریب عام‘ کی سزانے قرآن کے سو کوڑوں کے حکمِ ِ قرآنی کو تبدیل نہیں کیا بلکہ حکمِ استصحاب کو اٹھا دیا ہے ۔
۵) اضافے اور زیادتی کی وجہ سے یہ سمجھنا کہ قرآن کا کوئی حکم تبدیل ہو گیاہے یہ لغتاً‘عقلاً‘شرعاًاور عرفاً درست نہیں ہے اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میری تھیلی میں موجود رقم میں اضافہ ہو گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جو رقم پہلے تھی وہ جاتی رہی ہے ۔
۶) زیادتی اور اضافے سے مزید علیہ(جس پر زیدتی کی گئی ہے)کی تاکید اور بیان مزید بڑھ جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’رب زدنی علما‘ اور ’واذا تلیت علیھم آیاتہ زادتھم ایمانا‘۔
۷) ناسخ و منسوخ میں جمع نہیں ہو سکتی لیکن زیادتی اور مزید علیہ کو جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان دونوں میں نہ توتعارض ہوتا ہے اور نہ ہی تناقض‘دونوں مسقل ہیں۔ دونوں الگ الگ حکم ہیں۔دونوں پر عمل ممکن ہے ۔پھر دونوں میں سے ایک کولغو و باطل قرار دینا کون سا انصاف ہے۔
۸) سنت کی زیادتی و اضافہ ایک معنی جدید ہے نہ کہ قرآنی حکم میں تغیر و تبدل‘اور معنی جدید میں اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع سب کے نزدیک فرض ہے۔
امام ابن حزم ؒ کا موقف
امام ابن حزمؒ سنت کو قرآن کا بیان ہی سمجھتے ہیں لیکن امام صاحب جس طرح قرآن کے عام کی سنت کے ذریعے تخصیص کو قرآن کابیان کہتے ہیں اسی طرح قرآن کے سنت کے ذریعے نسخ کو بھی قرآن کے بیان میں شمار کرتے ہوئے اس کے جواز کے قائل ہیں۔امام صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’ہم یہ کہتے ہیں کہ تخصیص اور استثناء ‘بیان ہی کی دو قسمیں ہیں کیونکہ مجمل کا بیان بعض اوقات اس کی کیفیت یا کمیت کی تفسیر سے ہو تا ہے اور اس بیان میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے قرآن کے الفاظ اپنے لغوی معنی سے نکل جائیں ۔جیساکہ قرآن کا حکم ہے ’اور تم زکوۃ ادا کرو‘۔تو اللہ کے رسولﷺ نے اس زکوۃ کی ماہیت کو واضح کیا ہے کہ جس کی ادائیگی کاقرآن میں حکم دیا گیا ہے اور آپؐ کے اس بیان سے قرآن کالفظ’الزکوۃ‘ اپنے لغوی معنی سے نہیں نکلا‘اسی طرح آپ ؐ نے نکاح اور حج وغیرہ کی بھی ان کی صفات کے ذکر سے تفسیر کی ہے اور بعض اوقات یہ بیان استثناء کے ذریعے ہوتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسولﷺ نے خشک کھجور کو تر کھجور کے ساتھ بیچنے سے منع فرمایا ہے(یعنی آپؐ کا یہ فرمان’ أحل اللہ البیع و حرم الربو‘ اور ’ ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل‘کا بیان تھا) لیکن بعد میں آپؐ نے بیع العرایا میں‘اگر وہ پانچ وسق( تقریباً۷۵۰کلو گرام ) سے کم ہو ‘تواس کی رخصت دے دی ۔ بعض اوقات یہ استثنا الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے جیسا کہ ’الا‘ اور ’خلا‘ اور ’حاشا‘ اور ’ما لم‘ وغیرہ ہیں اور بعض اوقات یہ استثنا ایک حکم کی شکل میں ہوتا جو کہ أمر یا خبر کے صیغے میں ہوتا ہے اور یہ استثنا ایک عمومی حکم سے ہوتا ہے اور اسی کو تخصیص کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرک عورتوں سے نکاح کرنے سے یکبارگی منع فرمایا اور پھر اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کے ذریعے شادی کی اجازت دے دی تو یہ اس آیت کے عمومی حکم کی تخصیص ہے۔جہاں تک نسخ کا معاملہ ہے تو نسخ کامعنی حکم کو کلی طور پر یا اس کے ایک جز کو اٹھا لینا ہے اور بیان کی جن قسموں کاہم نے ذکر کیا ہے یعنی تفسیر ‘استثنا اور تخصیص وغیرہ تو بعض اوقات یہ بیان قرآن کے لیے خود قرآن سے ہوتا ہے اور بعض اوقات حدیث سے اور بعض اوقات اجماع سے ہوتا ہے (اجماع کو بیان اس لیے کہا ہے کہ وہ مظہرِ شریعت ہو تا ہے نہ کہ مثبتِ شریعت) ۔اور بعض اوقات یہ بیان حدیث کے لیے قرآن سے ہوتا ہے اور حدیث سے ہوتا ہے اور اجماع سے ہوتا ہے اور ہمارے قول کے مطابق حدیث سے مراد آپؐ کا حکم ‘فعل ‘ تقریر اور اشارہ سب شامل ہیں اور یہ سب احادیث قرآن کا بیان ہیں اور قرآن ان کا بیان ہے ۔ ‘‘ (الاحکام:باب الثامن فی البیان و معناہ)
ایک اور جگہ امام ابن حزم ؒ لکھتے ہیں :
’’علماء کے ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ سنت قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ قرآن سنت کو منسوخ کر سکتا ہے اور ایک دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ یہ سب جائز ہے یعنی قرآن‘ قرآن سے بھی منسوخ ہوتا ہے اور سنت سے بھی اور اسی طرح سنت قرآن سے بھی منسوخ ہوتی ہے اور سنت سے بھی۔ابو محمد(ابن حزمؒ ) کا کہنا یہ ہے:ہمارا قول بھی یہی(یعنی دوسرا) ہے اور یہی قول صحیح بھی ہے اور ہمارے نزدیک سنت متواتر ہو یا اخبار آحاد ہو ‘سب برابر ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے کو منسوخ کرتا ہے ۔‘‘ (الاحکام:الباب العشرون الکلام فی النسخ‘ فصل فی نسخ القرآن بالسنۃ و السنۃ بالقرآن)
امام ابن حزم ؒ اپنے اس موقف کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اور ہمارے اس موقف کی دلیل وہی ہے جو کہ ہم نے اس کتاب کے اس باب میں واضح کی ہے جو کہ اخبار آحاد سے متعلق ہے اور وہ (یعنی اس دلیل کا خلاصہ)یہ ہے کہ جب آپ ؐ سے ایک چیز ہمیں ملے اس کی اطاعت ایسے ہی واجب ہے جیسے کہ اس کی اطاعت واجب ہے جو کہ ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔اور ان دونوں اطاعتوں میں کوئی فرق نہیں ہے* اور یہ دونوں اللہ ہی کی اطاعتیں ہیں جیسا کہ اللہ کا تعالی کا فرمان ہے ’اور آپؐ اپنی خواہش نفس سے بات نہیں کرتے ‘آپؐ جو بھی بات کرتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جوکہ اپؐ کی طرف وحی کی جاتی ہے ۔جب آپؐ کا کلام اللہ کی طرف سے وحی ہے اور قرآن بھی وحی ہے تو دونوں کا ایک دوسرے کو منسوخ کرنا جائز ہے کیونکہ یہ دونوں کلام وحی ہونے کے اعتبار سے برابر ہیں ۔‘‘ (الاحکام:الباب العشرون الکلام فی النسخ‘ فصل فی نسخ القرآن بالسنۃ و السنۃ بالقرآن )
*بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جو آپؐ سے ہمیں ملا ہے وہ تو ایسی سند کے ساتھ ہے کہ جس میں ظن ہے اور جو ہمیں قرآن سے ملا ہے وہ ایسی سند کے ساتھ ہے کہ جس سے علم یقین حاصل ہوتا ہے‘اس لیے دونوں کی اطاعت برابر نہیں ہے ۔ہم یہ کہتے ہیں کہ جس صحابیؓکی روایت ہے اس کے لیے تو آپؐ کا حکم اور قرآن دونوں واسطے اور سند کے اعتبار سے برابر ہیں تو کیا صحابیؓ کے لیے تو حکم یہ ہو کہ وہ اللہ کے رسولﷺ کی حدیث کو لے لے کیونکہ اس کے لیے سند کے ظنی ہونے کا مسئلہ نہیں ہے اور ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم اس کو پہلے ظنی قرار دیں پھر اس کا قرآن کی کسی آیت سے ٹکراؤ پیدا کریں اورپھر اس روایت کو رد کر دیں تو کیا نتائج کے اعتبار سے صحابہؓ اور ان کے مابعد کی شریعت مختلف نہیں ہو جائے گی؟کیونکہ جس روایت کو ہم صرف ظنی الثبوت ہونے کی وجہ سے رد کر رہے ہوں گے، صحابہؓ اس کو قطعی الثبوت ہونے کی وجہ سے قبول کر رہے ہوں گے۔
امام ابن حزمؒ نے ایسی بہت سی احادیث بھی نقل کی ہیں جو کہ اس بات کی دلیل بنتی ہیں کہ قرآن کا نسخ سنت سے جائز ہے اور یہ واقع بھی ہواہے۔اسی طرح امام صاحب کا کہنا ہے کہ تخصیص بعض اعیان کے لیے حکم کے اثبات کا نام ہے اور نسخ بعض ازمان کے لیے حکم کے اثبات کا نام ہے لہذ ادونوں میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہیعلاوہ ازیں جس طرح تخصیص میں بعضِ حکم مرفوع ہو جاتا ہے اسی طرح نسخ میں کل حکم مرفوع ہو جاتا ہے جب سنت سے بعض حکم کا رفع ثابت ہے تو سنت سے کل حکم کا رفع کیوں جائزنہیں ؟ اس کے بعد امام ابن حزمؒ اپنے اس موقف کے خلاف دیے جانے والے دلائل کا ذکر کرتے ہیں اور ان کا ردبھی کرتے ہیں ۔ امام ابن حزمؒ کی اس عبارت کا خلاصہ ہم اپنے الفاظ میں ذکر کر رہے ہیں :
۱) بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا موقف قرآن کی آیت ’قل ما یکون لی أن أبدلہ من تلقاء نفسی ان أتبع الا ما یوحی الی‘ کے خلاف ہے ۔ہمارا جواب ان کو یہ ہے اس آیت میں ’من تلقاء نفسی‘کے الفاظ ہیں اور ہمارا عقیدہ تویہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ اللہ کے حکم ’ان أتبع الا ما یوحی الی‘ کے تحت ہی اس کی کتاب کے کسی حکم کو منسوخ کرتے ہیں اور ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ’ اللہ کے رسولﷺ اپنی طرف سے بغیر وحی کے قرآن کی کسی آیت میں تبدیلی کا اختیار رکھتے تھے‘ تو ہم ایسے شخص کو کافر سمجھتے ہیں ۔
۲) ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ دوسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ہماراموقف قرآن کی آیت ’ماننسخ من آیۃ أو ننسھا نأت بخیر منھا أو مثلھا‘ کے خلاف ہے کیونکہ سنت نہ تو قرآن کے مثل ہے اور نہ اس سے بہتر ہے ۔ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ایک آیت جب دوسری آیت کو منسوخ کرتی ہے تو کیا قرآن کا بعض اس کے بعض سے بہتر ٹھہرا‘ایسا معاملہ نہیں ہے اور اس آیت کامفہوم یہ ہے ’نأت بخیر منھا لکم أو مثلھا لکم‘ ۔یعنی تمہارے لیے اس سے بہتر یا تمہارے لیے اس کے جیسا حکم لے کر آتے ہیں۔
۳) ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ بعض علماء ہمارے اس موقف کے خلاف ’و أنزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم‘ سے دلیل پکڑتے ہیں ۔ہمارا کہنایہ ہے کہ یہ آیت بھی دلیل نہیں بنتی کیونکہ نسخ ‘بیان ہی کی ایک قسم ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نسخ ‘ایک حکم کے ارتفاع اور دوسرے حکم کے اثبات کا بیان ہے ۔دوسری بات یہ کہ جوبعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’مُبَیّن‘ کبھی ’ناسخ‘ نہیں ہوتا ‘تویہ ایسا دعوی ہے کہ جس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور بغیر دلیل کے دعوی قابل قبول نہیں ۔
۴) بعض لوگ ’و اذ ابدلنا آیۃ مکان آیۃ‘ سے استدلال پکڑتے ہیں کہ سنت سے قرآن کا نسخ جائز نہیں ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اس مسئلے میں قابل حجت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں کہا کہ ہم کسی آیت کو دوسری آیت ہی سے تبدیل کرتے ہیں ‘بلکہ یہ تو ایک مثبت خبر ہے کہ اللہ تعالی ایک آیت کی جگہ دوسری آیت لے آتے ہیں اور ہم اس کے پہلے ہی قائل ہیں۔اس کے علاوہ بھی بعض ایسی آیات کا ابن حزمؒ نے جواب دیا جو کہ عموماً ان کے اس موقف کے خلاف پیش کی جا سکتی تھیں‘جنہیں طوالت کے خوف سے ہم نقل نہیں کر رہے۔
امام شافعی ؒ ‘امام شاطبیؒ ‘امام ابن تیمیہ‘ؒ امام ابن حزم ؒ اور امام ابن قیمؒ وغیرہ کا اصل امتیاز یہی تو ہے کہ وہ کس طرح بظاہر قرآن کی ناسخ یا اس پر اضافہ یااس کے کسی حکم کو تبدیل کرنے والی روایات کو قرآن کا بیان ثابت کرتے ہیں ‘خود غامدی صاحب کی صورت حال یہ ہے کہ انہیں صرف چھ روایات ہی ایسی نظر آئیں جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ یا اس کے کسی حکم کو تبدیل کرنے والی تھیں کیونکہ باقی روایات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ان چھ روایات کی قرآنی آیات سے تطبیق کے لیے انہوں جس انداز سے اپنی ذہانت کو استعما ل کیاہے اس پر کچھ تبصرہ آئندہ صفحات میں آ رہا ہے ‘ لیکن ہمیں افسوس تواس بات کا ہے کہ سلف صالحین میں سے بہت سے ایسے جلیل القدر أئمہ جو اسی اصولی موقف کے قائل ہیں جو کہ غامدی صاحب کا ہے کہ قرآن صرف سنت کا بیان ہے اور اپنے اس موقف کے اثبات کے لیے انہوں نے صرف چھ نہیں بلکہ سینکڑوں ایسی روایات کو قرآن کا بیان ثابت کیاہے ‘ جو بظاہر قرآن کے کسی حکم کی ناسخ یا اس پر اضافہ یا اس کو تبدیل کرنیوالی معلوم ہوتی ہیں لیکن غامدی صاحب ان میں سے بعض اصحاب کے حل سے استفادہ کرنے کے باوجود ان کاذکرتک نہیں کرتے۔غامدی صاحب ہی کے موقف کو أئمہ سلف نے اس قدر منطقی‘عقلی اور شرعی دلائل سے اچھی طرح ثابت کر دیا ہے جو شاید اکیلے غامدی صاحب کے بس میں نہ تھا لیکن غامدی صاحب اگر ان حضرات کا نام لے کر اس موقف کو بیان کریں تو ان کو وہ سب روایات ماننی پڑتی کہ جن کا وہ اپنے استاذ امام کی تقلید میں انکار کرنا چاہتے ہیں ‘مثلا امام شوکانیؒ نے لکھا ہے کہ قرآن کی آیت ’الزانیۃ و الزانی‘ شادی شدہ اور غیر شادی دونوں کو شامل ہے اس لیے اللہ کے رسولﷺ نے غیرشادی شدہ کے لیے ’سو کوڑے اور تغریب عام‘ اور شادی شدہ کے لیے ’سوکوڑے اور رجم ‘ کی سزا مقرر کی ہے اور حدیث میں ہے کہ آپ ؐ کی طرف سے یہ سزا قرآن کی آیت ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کا بیان ہے اور ہم یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ بعض علما کا کہنا ہے کہ رجم کی سزا ’أو یقتلوا‘اور تغریب عام کی سزا ’أو ینفوا من الأرض‘ کا بیان ہے ۔جب حدیث میں موجود ہر سزا قرآن کے مطابق ہے اور اس کا بیان ہے تو غامدی صاحب أئمہ سلف کی اس تعبیر دین کو ماننے سے کیوں انکاری ہیں؟
غامدی صاحب کا اپنے اصول سے انحراف
غامدی صاحب قرآن کو قطعی الدلالۃ مانتے ہیں اور حدیث کے ذریعے قرآن کے کسی حکم کی تخصیص وتحدید یا تغیرو ترمیم کے اس لیے قائل نہیں ہیں کہ اس سے قرآن کی قطعیت اور اس کی ’میزان‘ یا’ فرقان ‘ہونے کی حیثیت باقی نہیں رہتی ۔ قرآن کا ’میزان‘ یا ’فرقان‘ ہونا ‘ یہ کیا ہے ؟یہ غامدی صاحب کا قرآن کے بارے میں ایک فلسفہ ہے کہ جس کے رد میں ماہنامہ محدث اکتوبر۲۰۰۷ میں ایک مضمون شائع ہو چکا ہے۔
أمر واقعہ یہ ہے کہ غامدی صاحب نے بہت سی جگہ پر اپنے اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہت سی ایسی روایات کو قبول کیا کہ جن کے قبول کرنے سے قرآن کے الفاظ کی اپنے معانی پرنہ تو قطعیت باقی رہتی ہے اور نہ ہی قرآن کوغامدی صاحب کے بقول ’میزان‘ یا’ فرقان ‘قرار دیاجا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم غامدی صاحب کی اپنے ہی اصول کی خلاف ورزی کی کچھ مثالیں بیان کر رہے ہیں :
۱) جناب غامدی صاحب نے موزوں پر مسح کی روایات کو قبول کیا ہے اور وہ موزوں پر مسح کے قائل ہیں ‘حالانکہ موزوں پر مسح کومان لیا جائے تو قرآن کے الفاظ ’فاغسلوا‘ کی اپنے معنی پر قطعیت باقی نہیں رہتی‘کیونکہ ’غسل‘ کا معنی عربی معلی ہو یا عربی مبین‘حقیقت ہو یا مجاز‘کسی صورت بھی ’مسح کرنا ‘نہیں ہوتا۔قرآن پاؤں کے دھونے کا حکم دیتا ہے جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں مسح کرنا بھی جائز ہے۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’رسول ﷺ نے تیمم کے اسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا‘‘۔(قانون عبادات )
غامدی صاحب کے نزدیک موزوں پر مسح قرآن کی آیت ’فتییمموا صعیدا طیبا‘ کا بیان ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگرغامدی صاحب کی اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے موزوں پر مسح کا حکم آیتِ تیمم پر قیاس کرتے ہوئے بیان کیا ہے توپھر بھی قرآن کی آیت ’فاغسلوا‘ کی قطعیت توباقی نہ رہی ۔غامدی صاحب نے ’مسح علی الخفین‘ کو قرآن کا بیان تو ثابت کر دیا لیکن سوال تو یہ ہے کہ قرآنی الفاظ ’فاغسلوا‘ کی قطعیت اور قرآن کا ’میزان‘ یا ’فرقان‘ ہوناکہاں با قی رہا۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ بھی تومحض ایک احتمال ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے آیت تیمم سے’ مسح علی الخفین‘کا حکم نکالا ہو گا اور اس احتمال یا دعوی کی غامدی صاحب کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو پھر ہر اس روایت کے بارے میں غامدی صاحب یہ احتمال قائم کیوں نہیں کر لیتے جو کہ انہیں قرآن کے کسی حکم کی مخصص یا محدد نظر آتی ہے ‘ کہ وہ قرآن ہی کسی نہ کسی آیت کا بیان ہو گا ‘اور میرا علم اتنا نہیں ہے لہذ امجھے کسی روایت کو اس لیے رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مجھے قرآن کے کسی حکم میں تغیر یا تبدیلی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔تیسری بات یہ کہ أئمہ سلف امام شافعیؒ ‘امام شاطبیؒ اور امام ابن قیمؒ نے ہر ایسی روایت کو قرآن کی کسی نہ کسی کا آیت کی تشریح یا تفسیرثابت کیا ہے جو کہ بظاہر قرآن پر اضافہ یا اس کے کسی حکم کو تبدیل کرنے والی معلوم ہوتی ہے لہذا غامدی صاحب کو ان تمام روایات کو ماننا چاہیے۔ چوتھی بات یہ کہ جب اللہ کے رسولﷺ خود بیان فرمائیں کہ ’تغریب عام‘اور ’رجم‘ قرآن پر اضافہ نہیں ہے بلکہ ’أو یجعل اللہ لھن سبیلا‘ کا بیان ہے۔ اس کو غامدی صاحب اس لیے رد کر دیں کہ وہ قرآن کے حکم ’الزانیۃ و الزانی‘ کے خلاف ہے تو ’مسح علی الخفین‘کو جو غامدی صاحب نے ’فتیمموا صعیدا طیبا‘ کا بیان قرار دیا ہے توکیا وہ قرآن کی آیت ’فاغسلوا ‘کے خلاف نہیں ہے؟ ۔ پانچویں بات یہ کہ سلف نے ایسی روایات کو عام طور پر جس طرح سے قرآنی آیات کابیان ثابت کیا ہے وہ انتہائی معقول ‘منطقی اور قابل فہم بھی ہے لیکن غامدی صاحب جب قرآن پر اضافہ اور اس کے مفہوم کو تبدیل کرنے والی بعض ایسی روایات کو مان لیتے ہیں اور ان کو قرآنی آیات کا بیان ثابت کرنا شروع کرتے ہیں توان کا یہ بیان کسی اور کو سمجھ آناتو دور کی بات ہے خود غامدی صاحب بھی اس پر مطمئن ہو جائیں تو بڑی بات ہے۔ مثلا امام شافعی ؒ کا کہنا یہ ہے کہ پاؤں دھونے کا فرض ہر شخص پر عائد ہوتا ہے چاہے کسی نے موزے پہنے ہوں یا نہ پہنے ہوں کیونکہ سنت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موزوں پر مسح وہی شخص کر سکتا ہے کہ جس نے پاؤں دھوئے ہوں ‘یعنی جس نے کامل وضو کر کے اور پاؤں دھو کر موزے پہنے ہوں‘اب اگر اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لیے قرآن کی آیت ’فاغسلوا‘ پر ہر صورت میں عمل ہو گاچاہے موزے پہننے ہوں یا نہ پہننے ہوں۔
۲) قرآن مجید نے چوری کی سزا قطعِ ید بیان کی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
السارق و السارقۃ فاقطعوا أیدیھما (المائدۃ:۳۸)
چوری کرنے والا مرد اورچوری کرنے والی عورت‘ دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔
اس آیت مبارکہ میں ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘ کے الفاظ مطلقاًاستعمال ہوئے ہیں اور عام ہیں لہذاعربی زبان و اسلوب کے مطابق ہر چوری کرنے والے مرد اور عورت پر اس صیغے کا اطلاق ہوتا ہے لیکن غامدی صاحب قرآن کے ان الفاظ کے معانی کی تحدید و تخصیص کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی بچہ اپنے باپ یا کوئی عورت اپنے شوہر کی جیب سے چند روپے اڑا لیتی ہے یا کوئی شخص کسی کی بہت معمولی قدر و قیمت کی کوئی چیز چرا لے جاتا ہے یا کسی کے باغ سے کچھ پھل یا کسی کے کھیت سے کچھ سبزیا ں توڑ لیتا ہے یا بغیر حفاظت کے کسی جگہ ڈالا ہوا کوئی مال اچک لیتاہے یا آوارہ چرتی ہوئی کوئی گائے یابھینس ہانک کر لے جاتا ہے یا کسی اضطرار اور مجبوری کی بنا پر اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتا ہے تو بے شک‘ یہ سب نا شایستہ افعال ہیں اور ان پر تادیب و تنبیہ ہونی چاہیے ‘لیکن یہ وہ چوری نہیں ہے جس کا حکم ان آیات میں بیان ہوا ہے ‘‘۔ (میزان:ص۳۰۶)
غامدی صاحب نے بہت سے ایسے افراد کو کہ جن پر عربی لغت کے مطابق لفظ ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘کا اطلاق ہوتا ہے ان کو اس لفظ سے نکال دیا ۔أمر واقعہ یہ ہے کہ جن افراد کو غامدی صاحب نے ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘ سے نکالا ہے وہ عربی لغت و زبان کے مطابق اس لفظ میں داخل ہیں ۔مثلا غامدی صاحب کہتے ہیں کہ اگرکوئی شخص معمولی چیز چرا لے تو یہ ایسی چوری نہیں ہو گی کہ جس پر الفاظ قرآنی ’السارق‘ اور’السارقۃ‘ کاا طلاق ہو۔ہم غامدی صاحب سے کہتے ہیں کہ آپ نے معمولی چیز کی چوری کرنے والے کو ’السارق‘ کے الفاظ سے نکالا ہے یہ قرآن کے الفاظ کی قطعیت کے خلاف ہے‘کیونکہ قرآن کی قطعیت کا تقاضا تو اسی وقت پورا ہو گا جبکہ ’السارق‘ کو اس کے لغوی معنی پر برقرار رکھا جائے۔اہل عرب نے ان تما م افراد کے لیے ’السارق‘ کا لفظ استعمال کیا ہے کہ جن کو غامدی صاحب ’السارق‘ کے لفظ کی تحدید کرتے ہوئے اس کے معنی سے نکال رہے ہیں مثلا دیوان حماسہ (باب الحماسۃ‘قال جمیل بن عبد اللہ بن معمر العذری ‘۸۷‘المکتبۃ السلفیۃ) میں ہے :
أبوک حباب سارق الضیف بردہ
و جدی یا حجاج فارس شمرا
علامہ زمخشری ؒ ‘اپنی کتاب (أساس البلاغۃ:ص۲۹۶‘دار صادر‘ بیروت) میں أبو مقدام کا شعر نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
سرقت مال أبی یوما فأدبنی
و جل مال أبی یا قومنا سرق
غامدی صاحب کے نزدیک حدیث بھی عربی معلی کے مأخذ و مصادر میں سے ہے اور حدیث میں بھی یہ لفظ ایک حقیر چیز کی چوری کے لیے استعمال ہوا ہے ۔آپ ؐ کافرمان ہے :
لعن اللہ السارق یسرق البیضۃ فتقطع یدہ ویسرق الحبل فتقطع یدہ (صحیح بخاری‘ کتاب الحدود‘باب لعن السارق اذا لم یسم)
’’اللہ تعالی اس چور پر لعنت کرے کہ جو انڈا چوری کرتا ہے اور اس وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور رسی چوری کرتا ہے پس اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ ‘‘
اگر تو غامدی صاحب یہ کہیں کہ ہم نے ایک حدیث ’لا قطع فی ثمر معلق و لا فی حریسۃ جبل ...‘ کی وجہ سے بعض افراد کو ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘کے مفہوم سے نکالا ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ اس کے علاوہ مسائل میں اس طرح کی تمام احادیث سے پھر آپ قرآن کے الفاظ کے معنی کی تحدید و تخصیص کیوں نہیں کرتے؟ دوسری بات یہ کہ ایک معضل اور مرسل روایت کو آپ نے قرآن کا بیان بنا دیا جو کہ آپ کے عربی معلی کے خلاف بھی ہے کیونکہ عربی معلی تو یہ کہتی ہے کہ یہ سب ’سرقہ‘ ہے اور اس کے فاعل ’سارق‘ ہیں۔تیسری بات یہ کہ ایک صحیح روایت کہ جس میں انڈے اور رسی کی چوری کو بھی ایسی چوری قرار دیا گیا کہ جس پر چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے ‘کو آپ نے قرآن کا بیان کیوں نہ مان لیا کہ جس کو قرآن کا بیان ماننے سے ’السارق‘ کے ان بعض فراد کو آپ کونکالنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی کہ جن کو آپ نے اپنی عقل و خواہش سے نکال لیا ہے۔ اگر تو غامدی صاحب اپنی عربی معلی سے یہ ثابت کر دیں کہ جن افراد کو انہوں نے ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘ یا ’سرقۃ‘سے نکالا ہے ان پر اہل عرب اپنی لغت میں ’سرقۃ‘یا ’السارق‘ یا’السارقۃ‘ کے لفظ کا اطلاق نہیں کرتے تھے تو ہم مان لیں گے کہ انہوں نے اپنے اصول کی اتباع کی ہے۔لیکن ہمارے خیال میں غامدی صاحب کے لیے ا یسا ثابت کرنا ناممکن ہے کیونکہ ہم نے عربی ادب سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ عرب شعراء ہر قسم کی چوری پر لفظ ’سرقۃ‘ کا اطلاق کرتے تھے اور اس فعل کے مرتکب کو’سارق‘ کہتے تھے۔لہذا جب عربی معلی کے مآخذ و مصادر سے قرآن کے الفاظ’السارق‘ اور ’السارقۃ‘ کا معنی ثابت ہو گیا تو اس معنی کی تحدید و تخصیص غامدی صاحب کی محض رائے سے کیسے جائز ہوگئی؟ جبکہ غامدی صاحب اللہ کے رسول ﷺ کے لیے تو اس اختیار کے قائل نہیں ہیں۔
۳) غامدی صاحب حیض والی عورت کے لیے نماز نہ پڑھنے کے قائل ہیں جو کہ قرآنی حکم ’وأقیموا الصلاۃ‘ کا نسخ اور اس میں تغیر ہے ۔کیونکہ قرآن کا حکم نماز پڑھنے کا ہے۔ہم مانتے ہیں کہ آیت مبارکہ ’وأقیموا الصلاۃ‘ مجمل حکم ہے لیکن کیا اجمال کے بیان کا معنی یہ ہوتا ہے کہ أمر سے مراد نہی لی جائے۔ ’وأقیموا الصلاۃ‘ کا معنی نماز قائم کرنا ہے اس سے مراد ’نماز نہ قائم کرنا‘ بیان کی کون سے قسم ہے؟ دوسر ی بات یہ کہ حائضہ عورت کے بارے میں قرآن خاموش نہیں ہے بلکہ قرآن نے حائضہ کے بارے میں یہ حکم جاری کیا ہے کہ وہ أیام حیض میں شوہر سے علیحدہ رہے۔جب قرآن نے حائضہ کوصرف ایک چیز یعنی شوہرسے علیحدگی کا حکم دیا تو اس کا نماز اور روزے سے علیحدہ رہنا کیا قرآنی حکم پر اضافہ نہیں ہے؟۔اسی طرح ’فاعتزلوا النساء‘ میں ’اعتزال‘ کا حکم عمومی ہے جو کھانے ‘ پینے ‘ ملنے ‘جلنے‘ اٹھنے ‘ بیٹھنے اور مباشرت وغیرہ جیسے سب افعال سے علیحدگی کو شامل ہے لیکن ’اعتزال‘ سے غامدی صاحب کا صرف مباشرت مراد لینا کیاقرآن کے عمومی مفہوم کی تخصیص و تحدید نہیں ہے؟
غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا تنقیدی جائزہ
محمد زاہد صدیق مغل
اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ وا صحابہ اجمعین ومن اتبعہ الی یوم الدین۔
اس مضمون میں ہم جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریہ اخلاق کا ایک مختصر مگر جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ غامدی صاحب کا نظریہ اخلاق درحقیقت اسلام کے بجائے مغربی ما بعد الطبیعیات پر مبنی ہے اور امت مسلمہ کو اعتزال قدیمہ کی راہوں پر ڈالنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ غامدی صاحب کا یہ نظریہ ان کی ’’اخلاقیات‘‘ نامی کتاب میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ چونکہ غامدی نظریہ اخلاق اور غامدی نظریہ فطرت باہم مربوط ہیں، لہٰذا نظریہ اخلاق کے کچھ مباحث ’’میزان‘‘ نامی کتاب کے باب ’’اصول ومبادی‘‘ میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ اس مضمون کے لیے ہم انہیں دو کتب کے مباحث کو اپنی تنقید کی بنیاد بنائیں گے۔ کتاب ’’اخلاقیات‘‘ کے ابتدائی باب ’’بنیادی مباحث‘‘ میں غامدی صاحب نے تین سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے: (الف) انسان کے لیے خیر وشر کے جا ننے کا ذریعہ کیا ہے؟ (ب) وہ اصل محرک کیا ہے جو انسان کو تزکیہ اخلاق پر آمادہ کرتا ہے؟ (ج) اس (اخلاقی) سعی و عمل کی غایت و مقصود کیا ہے؟ درحقیقت یہ تینوں سوالات فلسفہ اخلاق کے بنیادی مباحث ہیں اور انہیں کے جوابات سے کسی تہذیب کا نظریہ اخلاق (یعنی خیر وشرکا تصور واصول) وجود میں آتا ہے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غامدی صاحب نے ان تینوں سوالات کے جواب دینے میں چند بنیادی نوعیت کی علمی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ آئیے، ہم باری باری ان تینوں سوالات پر غامدی صاحب کے خیالات کا خلاصہ پیش کرکے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلا سوال
اس سوال کے جواب میں کہ انسان کے پاس خیر وشر جاننے کا حتمی ذریعہ کیا ہے، غامدی صاحب انسانی نفس کو بحیثیت معیار ما نتے ہیں، یعنی خیر وشر طے کرنے کا اصل منبع انسانی نفس ہے۔ اپنے اس تصور کے لیے غامدی صاحب درج ذیل قرآنی آیت پیش فرماتے ہیں:
ونفس وما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواہا (الشمس ۹۱: ۸۔۷ )
’’اور نفس گواہی دیتا ہے، اور جیسا اسے سنوارا، پھر نیکی اور بدی اس میں الہام کردی۔‘‘
اس آیت کو بنیاد بنا کر غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ نیکی اور بدی میں تمیز کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک اخلاقی حاسہ عطا فرمایا ہے اور اسی احساس کی بنا پر ایک برے سے برا آدمی بھی جب گناہ کرتا ہے تو اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر اس کی خاطر حیلے بہانے تراشتا بھی ہے تو انہیں اپنی فطرت کے خلاف پاتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ انسانوں کی ہر معاشرت میں کسی نہ کسی تصور حق و انصاف کا پایا جانا بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نفس میں خیر وشر کا احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ لیکن اس اخلاقی حاسہ کے باوجود چونکہ انسانی اعمال و تصورات خیر وشر میں تفاوت و اختلاف کا امکان ہوسکتا تھا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسے بڑے اختلافات کو رفع کرنے کے لیے اپنے رسولوں کے ذریعے وضاحت کردی۔ دوسرے لفظوں میں خیروشر کا اصل منبع تو انسانی نفس ہی ہے، اور وحی کی ضرورت صرف اس وقت آتی ہے جب انسان اپنے نفس کے ذریعے کسی معاملے کا حتمی طور پر خیریاشر ہونا طے نہ کر سکے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خیر و شر (یا فطرت) کو متعین کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا تو غامدی صاحب کے نزدیک وہ طریقہ استقرا (induction ) ہے، یعنی تاریخ کی روشنی میں اقوام عالم کا مطالعہ کرکے انسانی فطرت کا درست تعین کرنا ممکن ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ (یا اصول و مبادی) میں غامدی صاحب یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ خیر وشر کا تعین (جسے وہ انسانی فطرت بھی کہتے ہیں) بذریعہ استقرا ممکن ہے اور اس ضمن میں جب کبھی اختلاف ہو گا تو تعیین فطرت کے لیے امت ابراہیمی کی اکثریت کا عمل معتبر ہوگا۔
ہم کہتے ہیں کہ غامدی صاحب نے پہلے سوال کا جواب دینے میں کئی فاش غلطیاں کی ہیں:
پہلی غلطی یہ کہ اپنے دعوے کے اثبات کی خاطر جو قرآنی آیت انہوں نے پیش کی ہے، وہ کسی بھی طرح اس کی دلیل نہیں بن سکتی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ کب کہا کہ خیروشر کاتعین نفس انسانی کے ذریعے ہو سکتا ہے؟ اس آیت میں تو صرف اتنی خبر دی گئی ہے کہ اصل خیر و شر جو بھی ہے، وہ ہم نے انسانی نفس میں ودیعت کر دیا ہے اور بس۔ لیکن خیر و شر کے ما فیہ کا تصور کیا ہے، یعنی کسی عمل کے خیر و شر ہونے کا اصول کیا ہے ، آیا اس کا تعین انسانی نفس کے ذریعے ہو سکتا ہے یا نہیں؟ یہ آیت اس بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔ قرآن مجید کی بے شمار آیات اس مضمون کو بیا ن کرتی ہیں کہ خیر وشر، حق و انصاف، عدل و ظلم کا واحد حتمی ذریعہ صرف اور صرف وحی ہے۔ نیز کسی عمل کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ انسانی نفس نہیں بلکہ صرف اور صرف شریعت کی روشنی میں ہوتا ہے، یعنی آیا نماز پڑھنا، زنا کرنا یا شراب پینا اچھا عمل ہے یا برا، اس کا تعین میرے نفس سے نہیں ہو سکتا (قرآن مجید کی وہ تمام آیات جن میں یہ فرمایا گیا کہ رسول کی اتباع کرو، رسول جو دے لے لو اور جس سے منع کرو اس سے رک جاؤ، نیز انبیاے کرام پر نازل شدہ وحی کی پیروی کرو ، قرآن مجید میزان و فرقان ہے وغیرہ کا مضمون یہی موضوع ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے کسی مقام پر اپنے نفس کی پیروی کرنے کا نہیں بلکہ اس شریعت کی پیروی کا حکم دیا ہے جو انبیاے کرام پر نازل ہوتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ کیا خیر و شر انسانی فطرت میں موجود ہیں یا نہیں یا آیا یہ بھی معاشرے سے سیکھے ہوئے چند تصورات ہیں؟ تو اس سوال کا جواب اثبات میں ہو گا یا نفی میں۔ ہر دو صورت میں آپ کو اپنے جواب کی دلیل بیا ن کرنا ہوگی، یعنی آپ کو بتانا ہو گا کہ آپ کو کس ذریعے سے معلوم ہوا کہ انسانی فطرت میں خیر وشر ہیں یا نہیں۔ اپنے دعوے کی دلیل بیان کرنے کے لیے آپ کو لا محالہ حواس خمسہ، عقل اور خبر تینوں میں سے کسی ایک سے دلیل پیش کر نا ہوگی۔ ایک مسلمان جب آیت بالا کو اپنے مثبت جواب کے حق میں پیش کرتا ہے تو گویا وہ صرف یہ کہتا ہے کہ خیر و شر انسان کے اندر موجود ہیں اور اس کا علم مجھے خبر صادق (قرآن) سے ملا ۔ جدید فلسفے میں علم اخلا قیات کے مبا حث و مسا ئل کا ہر طالب علم خوب جانتا ہے کہ حواس اور عقل کے ذریعے خیر وشر کا انسانی نفس میں ہونا یا نہ ہونا قطعاً ثابت نہیں کیا جا سکتا، یعنی انسانی ذرائع علم میں ایسا کوئی حتمی طریقہ موجود ہی نہیں جس کے ذریعے ہم نفس انسانی کا مطالعہ کرکے کسی حتمی خیر و شر کا ادراک حاصل کر سکیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ نفس انسانی کے ذریعے خیر وشر کا تعین تو رہا درکنار، انسانی نفس میں خیر وشر کا وجود ہے بھی یا نہیں، اس کا علم بھی صرف اور صرف خبر ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے تم سے عالم ارواح میں الست بربکم قالوا بلی کا عہد لیا تھا۔ ظاہر بات ہے ہم میں سے نہ تو کسی کو وہ عہد یاد ہے اور نہ ہی اس عہد کا علم سوائے خبر صادق کے کسی دوسرے ذریعہ علم سے ممکن ہے۔ کوئی شخص چاہے کتنا ہی سو چ بچار کرلے، بجز وحی کسی بھی دوسرے ذریعہ علم سے اس عہد کی حقیقت و ماہیت اور اس کے مضامین کو نہیں جان سکتا۔ اس کی دوسری مثال یوں بھی ہے جیسے خبر صادق کے ذریعے معلوم ہوا کہ انسان میں ایک شے روح (امر ربی) بھی موجود ہے، لیکن وہ روح کیا ہے نیز اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے، اس کا ادراک اور تعین کسی انسانی ذریعہ علم سے ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح میرے نفس میں خیر وشر موجود ہیں یا نہیں، اس کی خبر مجھے اس آیت میں دی گئی ہے، لیکن وہ خیر وشر کیا ہے اور اس کا تعین کیسے ہوگا، یہ آیت اس ضمن میں بالکل خاموش ہے۔ قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ انسانی نفس سے خیر وشر معلوم کیے جا سکتے ہیں، اگر ایسا کرنا ممکن ہوتا تو قرآن یقیناًاس نفسانی فطرت کی اتباع کا حکم بھی دیتا۔ قرآن مجید کی اس خبر سے کہ انسانی نفس میں خیر وشر موجود ہیں، یہ نتیجہ نہیں نکا لا جا سکتا کہ انسانی نفس سے ان کا تعین بھی ممکن ہے (جو غامدی صا حب کا اصل مدعا ہے)۔ چنانچہ غامدی صاحب کے دعوے اور دلیل میں مطابقت نہیں، وہ ایسے کہ ان کا دعویٰ تو نفس انسانی کے ذریعے خیر وشر کی تعیین کا ہے جبکہ دلیل وہ نفس انسانی میں خیر وشر کے وجود ہونے کی دیتے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے سمجھنے میں غامدی صاحب اور ان کے مکتبہ فکر نے شدید ٹھوکر کھائی ہے۔ (اس غلطی کی ابتدا سید احمد خان سے ہوتی ہے)۔
غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ ہر معاشرت میں حق و انصاف کا کوئی نہ کوئی تصور موجود ہوتا ہے، ان کے دعوے کے حق میں سرے سے کوئی دلیل ہے ہی نہیں۔ بحث یہ نہیں کہ آیا خیر وشر انسانی نفس میں موجود ہیں یا نہیں، بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کیا انسانی ذرائع سے خیر وشر کی تعیین ممکن ہے یا نہیں؟ دوسرے لفظوں میں حق و انصاف ، عدل و ظلم کا درست تصور کیا ہے، اس کا تعین کیسے ہوگا؟ چونکہ غامدی صاحب کی یہ دلیل عمرانیاتی (sociological) بنیادوں پر مبنی ہے، لہٰذا اگر خالصتاً عمرانیاتی نقطہ نگاہ سے بھی غامدی صاحب کی اس دلیل کا جائزہ لیا جائے تو بھی غامدی صاحب کا موقف ثابت نہیں ہوتا۔ وہ ایسے کہ تمام انسانی معاشرتوں میں حق و انصاف کے کسی نہ کسی تصور کاپایا جانا اس بات کی لازمی دلیل نہیں بن سکتی کہ حق و انصاف کا تصور فطری ہے۔ پیور باخ، ہیگل، مارکس، فرائیڈ اور نطشے وغیرہ کے مطابق تو خیر وشر، حق و انصاف وغیرہ جیسے تمام تصورات در حقیقت معاشرتی تعلقات اور ان کے نتائج میں قائم ہونے والی معاشرتی درجہ بندی (social structure) کے پیداوار ہیں، یعنی عدل و انصاف کا سوال ہی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دو افراد کے تعلق کے بعد حقوق و فرائض کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے ، اور جب تک یہ تعلق قائم نہ ہو، حقوق و فرائض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں ماہر عمرانیات کے مطابق حق اور انصاف کا تصوربذات خود ایک خاص طریقے سے وجود انسانی کے اظہار کے بعد پیدا ہوا ہے نہ کہ یہ تصور پہلے سے اس کی فطرت میں موجود ہیں۔ (خیال رہے کہ راقم کاان خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہم یہ بحث صرف اتنا ثابت کرنے کے لیے کر رہے ہیں کہ غامدی صاحب جو عمرانی دعویٰ فرما رہے ہیں، خود عمرانیاتی علوم کی روشنی میں وہ ایک کمزور دعویٰ ہے)۔ دوسرے لفظوں میں غامدی صاحب کی دلیل سے نفس انسانی کے ذریعے کسی خیر وشر کا امکانِ تعین ثابت ہونا تو رہا ایک طرف، اس دلیل سے تو انسانی فطرت میں کسی خیر وشر کا وجود ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔
اسی طرح غامدی صاحب کا یہ کہنا بھی بے معنی ہے کہ ہر شخص گنا ہ کے کام کو چھپا تا ہے یا اس کے لیے جھوٹی دلیلیں تراشتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص یا معاشرے کے تصور خیر وشر میں کوئی عمل برا ہے ہی نہیں تو وہ اسے کیوں چھپائے گا؟ مثلاً اشتراکی تصور خیر کے مطا بق اپنی سگی بہن سے نکاح کرلینا کوئی گناہ کا کام نہیں۔ اب اگر کوئی شخص اشتراکی تصور خیر پر صمیم قلب سے ایمان رکھتا ہو، اسے اس عمل کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ وہ تو ایسے لوگوں کو بے و قوف گردانتا ہے جو اپنی خوبصورت بہن سے خود نکاح کرنے کے بجائے اسے دوسرے شخص کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اگر غامدی صاحب کہیں کہ اشتراکی تصور خیر غلط اور غیر فطری ہے تو ہم پوچھیں گے کہ انہیں یہ علم کیسے ہوا؟ ان کے پاس بجز وحی اصل خیر کا معیار کیا ہے؟ اس لمحے پر یقیناًغامدی صاحب استقرا اور امت ابراہیمی کی پناہ تلاش کریں گے۔ مگر غامدی صاحب کا استقرا کو خیر وشر کی تعیین کے طریقے کے طور پر پیش کرنا ایک نہایت گمراہ کن تصور ہے۔
اس ضمن میں پہلی بات یہ کہ اس اصول کی شرعی دلیل کیا ہے، یعنی یہ اصول قرآن مجید کی کس آیت سے اخذ کیا گیا ہے کہ خیر وشر کا تعین اقوام عالم کی تاریخ سے ممکن ہے؟ غامدی صاحب کے اصول کے برعکس قرآن مجید تو ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر تم زمین میں اکثریت کی پیروی کرو گے تو گمراہ ہو جا ؤ گے۔ (انعام ۶۔ ۱۱۶) اسی ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ غامدی صاحب کے پاس اس اصول کی شرعی دلیل کیا ہے کہ اختلاف اعمال کی صورت میں تعیین فطرت اور خیر و شر کے لیے امت ابراہیمی کی اکثریت کا عمل معتبر ہوگا؟ آخر یہ اصول کس قرآنی آیت سے ماخوذ ہے؟ دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب کا یہ دعویٰ بھی قابل نزاع ہے کہ اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعے سے فطری خیر وشر کا درست تعین ممکن ہے۔ غامدی صاحب تو یہ دعویٰ یوں فرمارہے ہیں گویا انہوں نے اقوام عالم کا تاریخی مطالعہ کرکے تمام اعداد وشمار جمع کررکھے ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جو عادات و اطوار اپنے معاشرے سے سیکھے ہیں، انہیں بغیر کسی دلیل آفاقی سمجھ بیٹھے ہیں۔ مثلاً موجودہ حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ امت ابراہیمی کی اکثریت شراب پینے، سود خوری، دو مردوں کی آپس میں شادی کرنے اور ہیومن رائٹس کے نام پر نجانے کس کس غلاظت کو خیر اور انسانی فطرت کا جائز تقاضا گردانتی ہے۔ تو کیا اصول استقرا کی بنا پر یہ سب اعمال اب خیر کی لسٹ میں شمار کیے جا نے لگیں گے؟ اس ضمن میں اہم بات یہ بھی ہے کہ کیا امت ابراہیمی کی تاریخ کا کوئی ایسا معتبر ریکارڈ موجود ہے جس کی بنیاد پر خیر وشر اور انسانی فطرت کی تعیین جیسے اہم امور طے کیے جا سکتے ہوں؟ تیسری اہم بات یہ کہ اگر خیر وشر کا فیصلہ استقرا پر چھوڑ دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو ا کہ خیر وشر کبھی متعین ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ راجربیکن (وہ شخص جس نے حصول علم کے لیے وحی کے بجائے استقرا پر زور دینے کی مہم کا آغاز کیا) سے لے کر آج تک کوئی بڑے سے بڑا فلسفی بھی مسئلہ استقرا (problem of induction) حل نہیں کر سکا۔ (مسئلہ استقرا کی تفصیل منطق کی ہر کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے ، یا دیکھئے سائنس پر راقم کا مضمون ، ساحل اگست ۲۰۰۶ )۔ استقرائی طریقہ علم کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا علم نہ تو حتمی ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے کسی بات کا اثبات ممکن ہوتا ہے، بلکہ وہ علم ہمیشہ ظنی(probable) اور ارتقائی (evolutionary) ہوتا ہے۔ چنانچہ خیر وشر کا تعین استقرا کے حوالے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خیر وشر کسی متعین اور آفاقی حقیقت کا نام نہیں بلکہ یہ زمانے اور مکان کا پابند ہے۔ دوسرے لفظوں میں خیر وشر اضافی (relative) تصورات ہیں نہ کہ ابدی (absolute)۔ ایک طرف تو غامدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ خیر وشر ابدی حقائق کا نام ہے اور دوسری طرف وہ انہیں جاننے کا ذریعہ استقرا قرار دے کر اپنے اسی دعوے کا رد فرما رہے ہیں۔ ہم غامدی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ بتائیے آپ کے پاس مسئلہ استقرا کا حل کیا ہے؟ اور اگر اس کا حل نہیں ہے تو بتائیے بجز وحی آپ کے پاس خیر وشر اور انسانی فطرت کی تعیین کا قطعی طریقہ علم کیا ہے؟ اور اگر ایسا کوئی طریقہ نہیں تو پھر نفس انسانی کے ذریعے خیر وشر کے تعین کے معنی کیا ہوئے؟ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نظریہ استقرائیت جو سائنس کی دنیا میں بھی بری طرح مات کھا چکا ہے، غامدی صاحب اسے مذہب پر لاگو کرکے آخر کون سے طلسماتی نتائج حاصل کر نے کی امید رکھے ہوئے ہیں۔ نیز خیر وشر جاننے کے لیے اقوام عالم کے تاریخی مطالعے کا طریقہ بھی خوب ہے۔ گویا ہر شخض خیر وشر پر عمل پیراہونے سے پہلے تاریخ کی کتب کھول کر بیٹھ جائے اور دنیا کی تمام تہذیبوں کا باری باری مطالعہ کرے۔ پھر اپنے مطالعے سے درست نتائج نکالنے کے لیے استقرائی منطق کے قواعد و اصول سیکھے، اور اتنا ہی نہیں بلکہ اب تک دنیا کے دوسرے افراد نے مطالعہ تاریخ سے جو نتائج اخذ کیے ہیں، ان سے بھی واقفیت حاصل کرے تاکہ درست نتیجہ نکالنے میں مدد مل سکے۔ چونکہ غامدی صاحب تقلید کے قائل نہیں تو اب مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص اپنی ساری عمر اخلاقی اصول معین و مرتب کرنے پر ہی صرف کرڈالے اور اگر اس کے بعد قسمت نے یارانہ کرکے فرصت کے چند لمحات میسر کردیے تو ان پر عمل کرنے کی کچھ سعی کر لے۔
دوسرا سوال
اب ہم غامدی نظریہ اخلاق کے دوسرے سوال کی جانب چلتے ہیں۔ وہ دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کو تزکیہ اخلاق پر آمادہ کرنے والا اصل محر ک کیا ہے؟ غامدی صاحب کے خیال میں وہ محرک خیر وشر پر مبنی انسان کا یہ احساس ہے کہ ان دونوں کے نتائج اس کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔ ان کے خیال میں اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان اپنے اعمال کے صلے میں لازماً جزا و سزا سے دو چار ہوگا۔ پھر خوف و طمع کا یہی احساس جب ایمان باللہ میں تبدیل ہو تا ہے تو یہی احساس خدا سے متعلق ہو جاتا ہے، یعنی خدا کی محبت، اس کی رضا اور ناراضگی کا خوف اخلاق کی پابندی کا محر ک بن جاتا ہے۔
غامدی صاحب کی تقریرسے واضح ہوتا ہے کہ خیر و شر کا تعین گویا ایمان باللہ سے قبل ہی ہو جا تا ہے اور ایمان باللہ کی ضرورت صرف اس کے محرک کے لیے پڑتی ہے۔ وہ یہ حقیقت سمجھنے میں نا کام رہے ہیں کہ ہر تصور خیر بذات خود ایک ما بعد الطبیعیاتی ایمان پر قائم ہوتا ہے، یعنی ہر اخلاقی نظریہ ما بعد الطبیعیات سے اخذ شدہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر ایما نیات سے نکلنے والا تصورو اصول اخلاق مختلف ہوتا ہے۔ غامدی صاحب جب یہ فرماتے ہیں کہ انسانی نفس کے احساس کی بنا پر خیر وشر کا تعین ممکن ہے، نیز اس کا اصل محرک یہی احساس انسانی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خیر و شر کا تعین ہر قسم کی ایمانیات سے ماورا ہے، یعنی کسی مابعد الطبیعیاتی حقیقت پر ایمان لائے بغیر بھی خیر وشر طے کرنا ممکن ہے، لیکن اس خیال کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ایں خیال است، محال است و جنوں۔ مختصراً یوں سمجھیے کہ یہ سوال کہ انسانی اعمال کی صحت اور بطلان کا معیار کیا ہے، اس وقت تک لا ینحل رہتا ہے جب تک یہ طے نہ کر لیا جائے کہ اس دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے۔ کسی معاملے میں انسان کے جائز تصرفات اور اشیا و موجودات کے ساتھ جائز و ناجائز رویے کا تعین تبھی ممکن ہے جب یہ طے ہوجائے کہ اس کی اپنی حیثیت کیا ہے، نیز اس کا تعلق ان معاملات اور موجودات کے ساتھ کیسا ہے؟ یعنی آیا اس دنیا میں وہ مالک ہے یا امین، خود مختار ہے یا ما تحت، اپنے اعمال کے لیے آزادہے یا جواب دہ، اس کی زندگی بامقصد ہے یا نہیں، نیز وہ مقصد کیا ہے، اپنا ضابطہ حیات اسے خود طے کرنا ہے یا کسی اور کو وغیرہ وغیرہ۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کا تعلق ما بعد الطبیعیاتی ایمانیات سے ہے اور ہر تہذیب کا نظریہ خیروشر انہیں کے جوابات سے وجود میں آتا ہے۔ (اس موقع پر ہم غامدی صاحب سے عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ مولانا مودودیؒ کی کتا ب ’’اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات‘‘ کے مضامین ’’اسلام اور جاہلیت‘‘ اور ’’اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر‘ ‘ ہی کا مطالعہ فرما لیں تو ان شاء اللہ بہت سی فکری لغزشوں سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہاں مودودی صاحب کاحوالہ اس لیے دیا گیا کہ غامدی صاحب بذات خود مولاناکے بہت بڑے مداح ہیں) اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا :
لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من آمن باللہ و الیوم الاخر و الملئکۃ والکتاب والنبیین (بقرۃ ۲: ۱۷۷)
یعنی نیکی کسی خاص عمل کرنے کا نام نہیں، بلکہ نیکی کی حقیقت تو یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، آسمانی کتابوں (یعنی وحی ) پر، انبیاے کرام پر۔ اس تقاضاے ایمان کے بعد قرآن نیکی کرنے کے چند خاص اعمال کا ذکر کرتا ہے، مثلاً نماز پڑھنا ، غریبوں کی مدد کرنا وغیرہ۔ یہ آیت واضح طور پر یہ حقیقت بیان کر رہی ہے کہ خیر وشر کا منبع ایمان ہے، نہ کہ انسانی نفس کا مطالعہ وغیرہ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی عمل بذات خود اچھا یا برا نہیں ہے بلکہ اصل حیثیت حکم الٰہی کی پیروی کرنے کی ہے، یعنی نہ تو غریب کی مدد کرنا ہی بالذات نیکی ہے اور نہ ہی جھوٹ بولنا بالذات گناہ ہے بلکہ نیکی اور بدی کی بنیاد حکم الٰہی کی پیروی کرنا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس احساس کی بنا پر کسی غریب کی مدد کرتا ہے کہ ایسا کرنے سے اسے خوشی ہوتی ہے ، یا ایسا کرنے کو اس نے بذات خود اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے یا ایسا کرنے سے اس کی قوم کی بھلائی ہوتی ہے تو یہ ہرگز بھی کوئی نیکی نہیں بلکہ یہ عمل نیکی تب ہوگا جب اس ایمان کے ساتھ اسے کیا جائے کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کی جزا کا وعدہ اس نے مجھ سے کیا ہے۔ گویا جب نیکی اور بدی کا تعین ہی حکم الٰہی سے ہوتا ہے تو اس کا محرک بھی اس حکم الٰہی سے متعلق جواب دہی کا احساس ہی ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے اصولیین یوں بیان کرتے ہیں کہ شارع کا حکم ہی بندے کو کسی عمل کا مکلف بناتا ہے نہ کہ اس کا داخلی احساس یا فطرت وغیرہ۔ حکم الٰہی کے سوا کوئی دوسری شے نہ توخیر و شر کی بنیاد بن سکتی ہے اور نہ ہی اس حکم سے متعلق جواب دہی کے احساس کے علاوہ کوئی شے خیر وشر کا محرک ہو سکتا ہے۔ درحقیقت غامدی صاحب انسانی فطرت کو خیر وشر کا ماخذ، استقرا کو اس کے جاننے کا طریقہ اور انسانی احساس کو اس کے محرک کی بنیاد مان کر انجانے میں مغربی ما بعد الطبیعیات پر ایمان لا بیٹھے ہیں جس کے مطابق انسان عبد نہیں بلکہ آزاد ہے اور علم کا منبع خدا کی ذات نہیں بلکہ نفس انسانی ہے ، اور یہ تمام تر تصورات صریح گمراہی اور اعتزال قدیمہ کے شاخسانہ ہیں۔ غامدی صاحب ہمیں بتائیں کہ حکم الٰہی کے سوا وہ کون نسا اصول ہے جو کسی عمل کے خیریا شر ہونے کا تعین کرتا ہے۔ نیز آخرت کی جواب دہی کے علاوہ کیونکر انسان کسی خیر و شر کی پابندی پر آمادہ ہو سکتا ہے؟
تیسرا سوال
فلسفہ اخلاق کا آخری سوال یہ ہے کہ خیر وشر پر عمل پیرا ہونے کا مقصد کیا ہونا چا ہیے۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ اخلاقی سعی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ابدی بادشاہی کا حصول ہے ۔ ان کے نزدیک علماے اخلاقیات نے اخلاقی سعی کے جتنے بھی مقاصد بیان کیے ہیں، وہ سب کے سب ایک معنی میں حصول رضائے الٰہی میں خود بخود شامل ہو جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ علماے اخلاقیات کے ایک گروہ نے اخلاقی سعی کا مقصد utility(جس کا ترجمہ غامدی صاحب نے ’مسرت‘ کیا ہے) کا حصول قرار دیا ہے جبکہ ایک دوسرے گروہ کے نزدیک فرض برائے فرض کی ادئیگی (duty-ethics) اس کا مقصد ہونا چاہئے۔ اس سوال کے جواب میں بھی غامدی صاحب نے کئی غلطیاں کی ہیں جن کی نشاندی ہم یہاں کیے دیتے ہیں۔
ہم غامدی صاحب سے ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں: جب خیر وشر کا تعین انسانی نفس اور فطرت سے ہوتا ہے اور اس پر عمل پیراہونے کا محرک بھی ارادہ و احساس انسانی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقی جدوجہد کا مقصد انسانی ارادہ سے باہر کیسے ہو گیا؟ علماے اخلاقیات اخلاقی سعی کا مقصد انسانی مسرت، کمال یا ارادہ انسانی کے ماتحت فرض برائے فرض کے تصور ات کو اسی لیے تو کہتے ہیں کیونکہ وہ خیر وشر کا ماخذ اور اس کا محرک انسانی نفس کو مانتے ہیں۔ جب نیکی اور بدی انسانی ذات سے نکلتے ہیں تو اس کا مقصد بھی انسانی ذات ہی سے نکلے گا۔ غامدی صاحب کا معاملہ عجب ہے کہ ایک طرف تو وہ خیر وشر کا ماخذ اور اس کا محرک انسانی نفس کو قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اس کا مقصد نفس انسانی سے باہر تلاش کرتے ہیں۔ اخلاقی جدوجہد کا مقصد حصول رضاے الٰہی تبھی قرار پاتا ہے جب یہ مانا جائے کہ خیر وشر کا ماخذ حکم الٰہی اور اس کا محرک اللہ کے سامنے مسؤلیت کا تصور ہے۔ غامدی صاحب کا نظریہ اخلاق درحقیقت مباحث اخلاقیات اور مذہبی ایمانیات کی خلط مبحث پر مبنی ہے۔
غامدی صاحب کا یہ خیال کہ علماے اخلاقیات کے اخلاقی سعی کے تمام تر مقاصد حصول رضاے الٰہی میں شامل ہیں، ایک فاش غلطی ہے۔ علماے اخلاقیات جب یہ کہتے ہیں کہ اخلاقی جدوجہد کا مقصد حصول لذت (utility)ہے تو وہ انسان کو آزاد (self-determined) مانتے ہیں اور اسی تصور کی بنا پر وہ حصول لذت کا طریقہ اختیار کرنے کا حق انسان کو دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حصول لذت کا مقصد نفس انسانی کی پیروی (obedience and dominance of self) کرنے کا نام ہے جبکہ حصول رضاے الٰہی نفس کی نفی (submission of self to God)کرنے کا نام ہے۔ ایک ما بعد الطبیعیات میں انسان آزاد جبکہ دوسری میں وہ عبد ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح اخلاقی جدوجہد کا مقصد فرض برائے فرض کی ادائیگی قرار دینے کا مطلب یہی ہے کہ انسان صرف اور صرف اپنے ارادے کا مطیع بن کر اخلاقی جدوجہد کرے، نہ کہ اپنے ارادے کو اپنے رب کے سامنے جھکا کر۔ اپنے نفس کی پیروی کرنے اور اسے اپنے رب کے سامنے جھکا دینے میں جو فرق ہے، ہر شخص اسے با آسانی سمجھ سکتا ہے، مگر غامدی صاحب اس فرق میں تمیز کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
غامدی صاحب کا یہ فرمانا کہ اخلاقی سعی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ابدی بادشاہی کا حصول ہے، نہایت خطرناک نظریہ ہے کیونکہ اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ انسان خدا ئی عمل میں شریک بن جائے۔ ہم یہ خدشہ کسی وہم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس حقیقت کی بنا پر پیش کر رہے ہیں کہ بہت سے مسلم مفکرین کسی معنی میں انسان کو تخلیقی عمل میں شامل اور تقدیر یزداں مانتے رہے ہیں۔ (حسن ادب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم یہاں کسی کا نام لینا نہیں چاہتے) گو کہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب میں (فادخلی فی عبادی وادخلی جنتیکے قرآنی الفاظ سے) اس کی کچھ وضاحت ضرور فرمائی ہے، لیکن چونکہ ’’الٰہی بادشاہی کا حصول‘‘ اسلامی سے زیادہ عیسائی تمثیل اور علم الکلام پر مبنی ہے، لہٰذا بہتر ہوگا اگر غامدی صاحب یہ وضاحت بھی فرما دیں کہ آیا یہ معنی ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کے حصول میں شامل ہیں یا نہیں کیونکہ اگر یہ معنی بھی اس میں شامل ہیں جو ہم نے بیان کیے تو خیال رہے یہ نہایت گمراہ کن اور خلاف اسلام تصور ہے کیونکہ اللہ کی بادشاہی کے حصول اور اس میں شرکت کا امکان ہی وہ تصور ہے جو الوہیت انسانی کا جواز فراہم کر تا ہے اور جدیدیت پسند عیسائی علما کے اسی قسم کے مذہبی تصورات اور تاویلات کے ذریعے مغربی تہذیب میں انسان کو خدا تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں شمولیت کو اپنا مقصد بنانے کے بعد انسانی زندگی کا جو عملی نقشہ ابھرتا ہے، وہ یہ نہیں کہ انسان رسوم عبودیت بجا لانے کی فکر کرتا پھرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ تصرف فی الارض یعنی اس کائنات کو اپنے ارادے اور خواہشات کے تابع کرنے کی سعی کرے اور یہی جدوجہد در حقیقت سائنس و ٹیکنالوجی کے جواز کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا خوب یاد رہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اخلاقی سعی کا مقصد درحقیقت حصول رضاے الٰہی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی موعود جنت ہے اور اس جنت کا مل جانا کسی بھی معنی میں اللہ کی بادشاہی کا حصول یا اس میں شرکت نہیں بلکہ عبدیت ہی کا پرتو ہے ، یعنی انسان جنت پہنچ کر بھی عبد ہی رہے گا نہ کہ اللہ تعالی کی خدائی اور بادشاہی کا حصہ بن جائے گا۔ بھلا کون ہے جو اللہ کی بادشاہی میں ذرا برابر بھی حصہ حاصل کر سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ محض صفات کے مجموعے نہیں بلکہ ایک ذات کا نام ہے اور بادشاہی صرف اور صرف اس ہی کی ذات کو سزا وار ہے۔
ایک اہم لغوی غلطی
آخر میں ہم غامدی صاحب کی توجہ ترجمہ و بیان مفہوم کی ایک اہم لغوی غلطی کی طرف دلانا چا ہتے ہیں۔ علماے اخلاقیات کے ایک گروہ نے اخلاقی جدوجہد کامقصد utility maximization کو قرار دیا ہے۔ (اس فکر کو Utilitarianism کہتے ہیں) ۔غامدی صاحب نے اپنی کتاب اخلاقیات میں لفظ utility کا ترجمہ ’’مسرت‘‘ کیا ہے حالانکہ یہ اس لفظ کی نہایت غلط تعبیر ہے کیونکہ اس لفظ کی درست تعبیر اگر اردو زبان کے کسی الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہے تو وہ ہیں حصول لذت، مزے کرنا یا نفس پرستی وغیرہ۔ گو کہ لذت، مزہ، خوشی، مسرت وغیرہ قریب المعنی الفاظ ہیں، لیکن کیفیات کے اعتبا رسے یہ الفاظ احساس خوشی کے مختلف درجات پربولے جاتے ہیں۔ مثلاًخوشی کا ایک احساس وہ ہے جو کسی غریب کی مدد کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور ایک کیفیت وہ ہے جو بدکاری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ظاہر بات ہے خوشی کی ان دونوں کیفیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اردو زبان میں لفظ ’’ مسرت‘‘ درحقیقت ایک باوقار اور قابل ستائش احساس خوشی کے لیے بولا جاتا ہے جبکہ لفظ ’’مزہ‘‘ اپنے متعلقات سمیت عموماً خوشی کے سفلی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح انگریزی زبان میں بھی خوشی کے احساسات بیان کرنے کے لیے کئی الفاظ مستعمل ہیں اور ان تمام الفاظ میں لفظ utility سب سے گھٹیا ترین معنوں کا حامل ہے جس کا مفہوم قریب قریب وہی ہے جو اردو زبان میں ’مزے کرنے‘ یا نفس پرستی کا ہے۔ اس لفظ کا سب سے بہترین اور درست مفہوم خود بینتھم (جو Utilitarianism کا بانی ہے) نے یوں بیان کیا تھا کہ Man and pig are equal in their capacity to derive utility from consumption activity. یعنی عملِ صرف کے ذریعے مزہ (utility) اٹھانے کے معاملے میں انسان اور سور یکساں صلاحیت کے حامل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ احساس خوشی کے سب سے نچلے یعنی حیوانی درجے کی کیفیات بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غامدی صاحب نے لفظ utility کا ترجمہ مسرت کرکے ایک حیوانی کیفیت کو اعلیٰ مرتبے پر فائز کر ڈالا اور بیان مفہوم کی اسی غلطی نے نتیجتاً انہیں اس غلط فہمی میں بھی مبتلا کر دیا کہ utility کا حصول کسی معنی میں حصول رضائے الٰہی کے مفہوم میں شامل ہو سکتا ہے۔ چونکہ غامدی صاحب بزعم خود عربی زبان کے ماہر ہیں، لہٰذا انہیں ترجمے کی ایسی فاش غلطیوں کے نتائج و عواقب کا خوب اندازہ ہو نا چاہیے۔ بظاہر یہ ترجمے کی ایک معمولی غلطی دکھائی دیتی ہے مگر ایسی غلطیوں کے نتیجے میں انسان بسا اوقات گہری فکری گمراہیوں کا شکار ہو جاتا ہے اور مسلم مفکرین تو پہلے ہی مغرب سے آنے والے ہر گمراہ کن تصور کا خوبصورت اور ’’ایمانی‘‘ ترجمہ کرکے ان گنت غلط فہمیوں کا شکا ر ہیں ، چنانچہ ہم نے ہیومن رائٹس کا ترجمہ حقوق العباد، ہیومن کا انسان، فریڈم کا آزادی ، equality کامساوات، ولفئیر کا فلاح، ٹولیرنس کا رواداری، Enlightenment کا روشن خیالی وغیرہ کرکے مغربی افکار و علوم کا ایک خوبصورت محل قائم کر رکھا ہے۔ غامدی صاحب سے گزارش ہے کہ اگر وہ ایسی غلط فہمیوں کا مداوا نہیں کر سکتے تو نہ سہی، لیکن کم ازکم ان میں اضافہ کرکے مزید فکری خلفشار کا باعث تو نہ بنیں۔
ایک تقابلی مطالعہ
اب ہم اسلامی ، غامدی اور مغربی نظریاتِ خلاق کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہیں تاکہ قارئین خود فیصلہ کرسکیں کہ غامدی نظریہ اخلاق دونوں میں سے کس نظریے پر مبنی ہے۔
اس تقابلی مطالعے میں دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ اسلامی و مغربی نظریاتِ اخلاق میں پانچوں جوابات کے مابین ایک منطقی ربط موجو د ہے یعنی اسلامی نظریہ اخلاق میں ہر جگہ خدا جبکہ مغربی نظریات میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ غامدی صاحب کا نظریہ چوتھے مسئلے تک انسان کی مرکزیت پر قائم ہے اور اس کے بعد یکایک ایک غیرمنطقی چھلانگ لگا کر خدا کوبھی شامل بحث کر لیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ غامدی نظریہ اخلاق کی یہ بے ربطی در حقیقت مغربی و اسلامی نظریہ اخلاق کے خلط مبحث کا شاخسانہ ہے۔
غامدی صاحب سے چند سوالات
غامدی نظریہ اخلاق پر اپنے تنقیدی نکات کو ہم چند سوالات کی صورت میں غامدی صاحب کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ بہتر ہوگا غامدی صاحب اپنے مقلدین کے بجائے خود ان کے جوابات عنایت فرمائیں۔ (وہ اور بات ہے کہ ان کے مقلدین جو بھی کہتے ہیں، اپنے استاد صاحب کی تصویب کے ساتھ ہی شائع کرتے ہیں)۔
۱) قرآن مجید کی کس آیت میں یہ کہا گیا کہ خیر وشر کی تعیین نفس انسانی کے ذریعے ممکن ہے؟
۲) انسانی نفس میں خیر وشر موجود ہیں سے یہ نتیجہ کیسے نکل آیا کہ اس کا تعین بھی انسانی نفس سے کیا جا سکتا ہے؟
۳) غامدی صاحب انسانی فطرت سے کیا مراد لیتے ہیں؟ نیز اس کی تعیین کے لیے خبر صادق کے علاوہ دوسرا حتمی ذریعہ اور طریقہ علم کیا ہے؟
۴) غامدی صاحب کے پاس اس اصول کی شرعی دلیل کیا ہے کہ خیر وشر اور انسانی فطرت کی تعیین کے لیے استقرا کا طریقہ اختیار کیا جائے؟ اسی طرح اختلاف اعمال کی صورت میں تعیین فطرت کے لیے امت ابراہیمی کی اکثریت کا عمل معتبر قرار دینے کی شرعی دلیل کیا ہے؟
۵) کیا امت ابراہیمی کی تاریخ کا ایسا معتبر ریکارڈ موجود ہے جس کی روشنی میں خیروشر کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا جاسکے؟
۶) غامدی صاحب کے پاس مسئلہ استقرا کا حل کیا ہے؟
۷) ایمان باللہ اور حکم الٰہی سے ما ورا رہ کر خیر وشر طے کرنے کا اصول کیا ہے؟
۸) کیا غامدی صاحب خیر وشر کی بنا حکم الہٰی کومانتے ہیں یا انہیں حکم الہٰی سے ما ورا اور مستقل تصورات مانتے ہیں؟
۹) خیر وشر کا ماخذ اور اس کا محرک انسانی نفس کو قرار دینے کے بعد اس کا مقصد نفس انسانی سے باہر کیسے ہو سکتا ہے؟
۱۰) علماے اخلاقیات کے نفس پرستی پر مبنی خیالات کیسے خدا پرستی پر محمول کیے جا سکتے ہیں؟
الشریعہ اکادمی میں ہفتہ وار فکری نشستوں کا آغاز
ادارہ
۹ جنوری ۲۰۰۸ کوالشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہدالراشدی کے ہفتہ وارلیکچرز کے سال نو کے پروگرام کے آغاز پرایک تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اخترنے کی اورشہر کے سرکردہ علماے کرام اوردیگر ارباب دانش نے اس میں شرکت کی۔
پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اورماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر مولانا عبدالرشید انصاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دینی حلقے مغرب کی تہذیبی یلغاراورفکری حملے کامتحد ہو کرہی مقا بلہ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے تمام دینی مکاتب فکر اورعلمی مراکز کی باہمی مشاورت کاکوئی مربوط نظام قائم کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ نوجوان علما کو بطور خاص اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ وہ آج کی عالمی فکری اورتہذیبی کشمکش کے بارے میں معلومات حاصل کریں اورصورت حال کاپوری طرح ادراک کرتے ہوئے اس عالمی تناظر میں قرآن وسنت کی صحیح ترجمانی کے لیے خود کوتیار کریں۔
صدر نشست مولانا قاری جمیل الرحمن اختر نے مولانا زاہد الراشدی کی یادداشتوں کے اس پروگرام پر خوشی کااظہار کیا اورکہاکہ اس طرح گزشتہ نصف صدی کی پوری تاریخ ہمارے سامنے آجائے گی
پروگرام کے مطابق مولانا زاہد الراشدی ہر بدھ کو مغرب کی نماز کے فوراً بعد الشریعہ اکادمی میں اپنی پینتالیس سالہ دینی ،سیاسی اور فکری جدوجہد کی یادداشتیں ترتیب واربیان کریں گے۔