اگست ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے خاتمے کی بحثمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سانحہ لال مسجد اور علماء ایکشن کمیٹیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز صفدر کی علمی و تحقیقی تصانیفمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دو اجنبیوں سے ملاقاتحسن الامین 
مذہبی رویے: چند اصلاح طلب امورادارہ 
اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۱)محمد زاہد صدیق مغل 
جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظرالیاس نعمانی ندوی 
مکاتیبادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹادارہ 

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزاے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے قانونی نظام میں سزاے موت کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مطالبہ اور دباؤ بھی موجود ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی کچھ عرصہ قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے جس میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قانونی نظاموں میں سزاے موت ختم کر دیں اور آئندہ کسی شخص کو کسی ملک میں کسی بھی جرم کے تحت موت کی سزا نہ دی جائے۔ اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر لابنگ جاری ہے اور پاکستان کے اندر بھی سینکڑوں این جی اوز اس کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ہمارے موجودہ دستوری ڈھانچے میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔
دستور پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری دین قرار دیا گیا ہے، قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے اور قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزاے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو، کیونکہ قرآن وسنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ کی آیت ۱۷۸ اور ۱۷۹ میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر قصاص (جان کے بدلے جان) کا قانون فرض کیا گیا ہے اور یہ قانون معاشرے میں جان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ چنانچہ قرآن وسنت کے ساتھ دستوری کمٹ منٹ پر قائم رہتے ہوئے ہمار ے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد پر عمل کریں جس میں ملک کے قانونی نظام سے موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگرچہ عملی صورت حال مختلف ہے اور ہمارا قومی رویہ گزشتہ ساٹھ سال سے یہی چلا آ رہا ہے کہ ہم قرآن وسنت کے ساتھ وفاداری کا بھی ہر موقع پر اظہار کرتے ہیں، لیکن قانونی نظام میں وہ تمام تبدیلیاں یکے بعد دیگرے کرتے چلے جا رہے ہیں جن کا ہم سے مغرب مطالبہ کرتا ہے، جیسا کہ حدود آرڈیننس میں کیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ موت کی سزا کے بارے میں بھی پارلیمنٹ میں اسی نوعیت کا کوئی بل لانے کی کوشش کی جائے، لیکن ایسا کرنا قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ دستور سے بھی انحراف کے مترادف ہوگا۔
باقی رہی یہ بات کہ سزاے موت کو قانون کو چھیڑے بغیر ملک میں اس وقت سزاے موت پانے والے قیدیوں کی سزاے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعظم نے صدر کو سمری بھجوائی ہے تو اس حوالے سے بھی شرعی پوزیشن یہ ہے کہ ’’قتل نفس‘‘ سے تحفظ کو قرآن کریم نے حقوق اللہ اور ریاست کا حق قرار دینے کے ساتھ ساتھ ’’حقوق العباد‘‘ میں بھی شامل کیا ہے اور اس میں قاتل سے قصاص لینے یا قصاص معاف کر کے دیت (خوں بہا) وصول کرنے یا دیت بھی معاف کر دینے کو مقتول کے ورثا کا حق بتایا ہے، اس لیے قصاص یا دیت کے کسی معاملے میں مقتول کے وارث اگر معاف کر دیں تو وہ سزا معاف ہوتی ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حتیٰ کہ ریاست بھی اس حق کو صاحب حق کی مرضی کے بغیر معاف نہیں کر سکتی۔ ہمیں سزاے موت کے قیدیوں کو موت کے پھندے تک لازماً پہنچانے سے کوئی غرض نہیں ہے اور اگر وہ کسی جائز ذریعے سے موت کے پھندے سے بچ جائیں تو ہمیں بھی خوشی ہوگی، لیکن اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے اور ایسا کوئی عمل قرآن وسنت کے احکام کو کراس کر کے نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ سزاے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے صدر کو سمری بھیجنے کی بجائے ان مقتولین کے خاندانوں سے رابطہ کریں اور انھیں راضی کر کے ان کی طرف سے ان قیدیوں کو معافی دلوانے کی کوشش کریں جن کے قتل کے جرم میں انھیں سزاے موت سنائی گئی ہے، اس لیے کہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے اور قرآن و سنت کی ہدایات بھی یہی ہیں۔

سانحہ لال مسجد اور علماء ایکشن کمیٹی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لال مسجد کے سانحہ کو ایک سال گزر گیا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں باقی ہیں۔ عوام نے تو اپنا فیصلہ الیکشن میں صادر کر دیا تھا کہ لال مسجد کے آپریشن کی ذمہ داری میں شریک جماعتوں اور ان کے حامیوں کو مسترد کر کے لال مسجد کے سانحہ پر غم وغصے کا اظہار کرنے والی جماعتوں اور راہ نماؤں کو اپنے اعتماد سے نوازا۔ یہ الیکشن خاتون شہدا کے نام پر جیتا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ووٹ حاصل کیے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شہداے لال مسجد کا کارڈ استعمال کیا جس کا پاکستان مسلم لیگ (ق) کے متعدد راہ نماؤں نے واضح اعتراف کیا کہ ان کی شکست کا باعث لال مسجد کا آپریشن ہے، جبکہ راول پنڈی کی فضاؤں میں انتخابی مہم کے دوران بلند کیے جانے والے اس نعرے کی گونج اب تک سنائی دے رہی ہے کہ ’’ووٹ کس کا؟ لال مسجد کا یا لال حویلی کا؟‘‘ مگر الیکشن گزر جانے کے بعد لال مسجد کسی کو یاد نہ رہی اور جامعہ حفصہ کی طالبات ابھی تک قومی راہ نماؤں کا منہ تک رہی ہیں کہ الیکشن جیت جانے کے بعد بھی کسی کی زبان پر لال مسجد کا نام آ رہا ہے یا نہیں؟
لال مسجد کے حوالے سے توجہ طلب مسائل واضح ہیں کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف اس وحشیا نہ آپریشن کی ذمہ داری کس پر ہے جس میں سینکڑوں معصوم بچیوں کو آگ اور خون میں تڑپا دیا گیا؟ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی رٹ زیر سماعت ہے، مگر عدالت عظمیٰ کا اپنا بحران کسی طرف لگے تو لال مسجد جیسے مسائل کو اس کی توجہ حاصل ہو۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر اور جامعہ فریدیہ کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دے رکھا ہے، مگر دونوں فیصلوں پر عمل درآمد کی طرف کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ مولانا عبد العزیز کی بیشتر مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے، مگر جو ایک دو باقی ہیں، ان میں تاریخ دی جا رہی ہے۔ اس طرح ان کی رہائی کا بظاہر مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آ تا، حالانکہ اسی نوعیت کے مقدمات اور سرگرمیوں کے الزام میں مولانا صوفی محمد صوبہ سرحد کی حکومت کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت رہا ہو چکے ہیں، بلکہ انھیں پرامن رہنے کے وعدے پر نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے سرگرمیوں کی اجازت بھی دے دی گئی ہے جو ایک خوش آیند بات ہے۔ اسی قسم کا معاہدہ مولانا عبد العزیز کے ساتھ بھی ہو سکتا تھا جو اس بحران کے پرامن خاتمے کی طرف پیش رفت ہوتا، مگر ارباب حل وعقد اس رخ پر سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کچھ پس پردہ قوتیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملات کو بدستور جوں کا توں رکھنا چاہتی ہیں تاکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر وہ مقاصد حاصل ہوتے رہیں جن کے لیے اس سب کچھ کا اہتمام کیا گیا تھا۔
اس پس منظر میں راول پنڈی اور اسلام آباد کے علماے کرام نے ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ قائم کر کے اس مسئلے پر رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے احتجاجی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ۶ جولائی کو لال مسجد اسلام آباد میں پہلا احتجاجی جلسہ منعقد کر کے اپنی جدوجہد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا جلسہ ۱۰ جولائی کو کوئٹہ میں ہو چکا ہے اور تیسرا جلسہ ۱۰؍اگست کو لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ۶ جولائی کے جلسے میں جمعیۃ علماے اسلام، وفاق المدارس، کالعدم سپاہ صحابہ اور دیگر دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور ان مطالبات کو دہرایا جن کا ہم سطور بالا میں تذکرہ کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسمار شدہ جامعہ حفصہ کی زمین پر خیموں میں طالبات کی تعلیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات اور تصویروں کے مطابق علامتی طور پر اس جگہ خیمے میں طالبات کی کلاس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لال مسجد کے قائم مقام خطیب مولانا عبد الغفار اور ان کے نائب مولانا عامر صدیق بھی اس جدوجہد میں ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ کے ساتھ شریک ہیں اور سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مولانا عبد العزیز کی اہلیہ محترمہ ام حسان صاحبہ نے، جو اپنی رہائی کے بعد سے مسلسل ملک کے مختلف حصوں میں خواتین کے اجتماعات سے خطاب کر رہی ہیں، دو روز بعد لال مسجد میں ہی خواتین کا اجتماع منعقد کر کے ۶ جولائی کی ’’شہداے لال مسجد کانفرنس‘‘ کے اعلانات اور مطالبات کی تائید کر دی ہے جو اس حوالے سے یقیناًقابل اطمینان بات ہے کہ لال مسجد کی تحریک اور اس کے خلاف آپریشن کے دوران غازی عبد الرشید شہید کے خاندان اور ملک کی معروف دینی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم کرنے اور پھر اسے برقرار رکھنے کی بطور خاص کوشش کی گئی تھی اور ایک مخصوص حلقے نے مسلسل اس پرمحنت کی تھی کہ غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کے معروف دینی قیادت بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اسی طرح اسلام آباد اور راول پنڈی کے علماے کرام کے ساتھ اس قسم کے روابط اور باہمی اعتماد کی وہ کیفیت نہ رہے کہ دونوں ایک دوسرے کے کام آ سکیں۔
بعض اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوشش اب تک جاری ہے اور اس کے لیے فرضی شکوک وشبہات کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں، لیکن اسلام آباد اور راول پنڈی کے علماے کرام پر مشتمل لا ل مسجد علما ایکشن کمیٹی کی ۶ جولائی کی کانفرنس میں وفاق المدارس کی قیادت اور دیگر دینی جماعتوں کے قائدین کی شرکت وخطاب اور اس کے بعد محترمہ ام حسان کی طرف سے خواتین کے اجتماع میں اس کانفرنس کے فیصلوں پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ باہمی غلط فہمیوں کے بادل چھٹ رہے ہیں اور مطلع بتدریج صاف ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ’’لال مسجد علما ایکشن کمیٹی‘‘ کے فورم پر جمعیت علماے اسلام، وفاق المدارس، کالعدم سپاہ صحابہ اور دوسری جماعتوں کے ساتھ غازی عبد الرشید شہید کا خاندان اور مولانا عبد العزیز کا مشاورتی حلقہ بھی شریک کار ہو جائیں اور پالیسی ترجیحات باہمی مشاورت واعتماد کے ساتھ طے کر لیں تو لال مسجد کے حوالے سے مطالبات کی جدوجہد کو موثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور نفاذ شریعت کی تحریک کے لیے بھی ایک اچھی بنیاد فراہم ہو سکتی ہے، بلکہ ہم تو اس سے بھی آگے جدوجہد کے دائرے کو مزید وسعت دیے جانے کے خواہش مند ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے مذہبی مکاتب فکر اور طبقات بالخصوص سیاسی جماعتوں اور وکلا کو بھی اعتماد میں لینے اور شریک کار بنانے کی ضرورت ہے اور لال مسجد علما ایکشن کمیٹی کو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائز لینا چاہیے۔


انا للہ وانا الیہ راجعون
گزشتہ ماہ کے دوران ہمارے احباب ومخلصین میں سے 
o کھیالی کے جناب حاجی ثناء اللہ طیب کے والد محترم بشیر احمد صاحبؒ 
o جناب محمد فاروق شیخ (شارجہ) اور مولانا فضل القادر کے والد محترم حاجی محمد شیخ صاحبؒ 
o اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے ناظم ترسیل حافظ محمد طاہر صاحب کی والدہ محترمہ
قضاے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ادارے کے رفقا پس ماندگان کے 
ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت ورفع درجات کے لیے دعا گو ہیں۔ 

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز صفدر کی علمی و تحقیقی تصانیف

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(محمد عمار خان ناصر کے مرتب کردہ مجموعہ ’’فن حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے دیباچہ کے طور پر لکھا گیا۔)

نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ نے مطالعہ، تحقیق اور احقاق حق کا جو خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے، ان کی تین درجن سے زائد علمی اور تحقیقی کتابیں اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ برصغیر کے معروضی حالات میں مختلف مسائل کے حوالے سے اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی مسلک کی وضاحت اور اثبات ان کی تدریسی، تحقیقی اور تصنیفی سرگرمیوں کی جولان گاہ رہا ہے اور اس میدان میں ان کی مسلسل محنت اور خدمات کی وجہ سے بحمد اللہ تعالیٰ انھیں دیوبندی مسلک کا علمی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔
دور طالب علمی میں میرا لکھنے پڑھنے کا ذوق دیکھ کر حضرت والد محترم مدظلہ کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ میں اس محاذ پر ان کا معاون بنوں، چنانچہ فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ پر ان کی ضخیم تصنیف ’’احسن الکلام‘‘ کی ’’اطیب الکلام‘‘ کے نام سے تلخیص اسی کوشش کا ثمرہ تھا اور اس موقع پر میرے لیے خوشی کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس کتابچہ پر جو پیش لفظ اس وقت میں نے تحریر کیا تھا، اس میں والد محترم مدظلہ نے ایک جملہ کی تبدیلی کے علاوہ اور کسی تصحیح کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ میں نے اس میں ’’بیک بندش چشم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی جسے انھوں نے ’’چشم زدن‘‘ کے محاورہ سے تبدیل کر دیا اور اس کے علاوہ میرے لکھے ہوئے ’’پیش لفظ‘‘ کو من وعن کتابچہ میں شامل کر لیا۔ 
اس پر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اس واقعہ کو چار عشروں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کا نشاط ابھی تک ذہن میں موجود ہے، مگر میں اس راہ پر نہ چل سکا، اس لیے کہ جمعیۃ طلباے اسلام اور جمعیۃ علماے اسلام کے پلیٹ فارم پر سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہو جانے کے بعد میرے فکر ونظر کا زاویہ قدرے مختلف ہو چکا تھا اور میرے لکھنے پڑھنے کے موضوعات میں اسلامی نظام کی اہمیت وضرورت، مغربی فلسفہ وثقافت کی یلغار، اسلام پر مغرب کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات وشبہات، آج کے عالمی تناظر میں اسلامی احکام وقوانین کی تشریح، اسلامائزیشن کے علمی وفکری تقاضے، نفاذ اسلام کے حوالے سے دینی حلقوں کی ضروریات اور ذمہ داریاں، اسلام دشمن لابیوں کی نشان دہی اور تعاقب اور ان حوالوں سے طلبہ، دینی کارکنوں اور باشعور نوجوانوں کی راہ نمائی اور تیاری کو اولین ترجیح کا درجہ حاصل ہو گیا تھا، چنانچہ گزشتہ پینتالیس برس سے انھی موضوعات پر مسلسل لکھتا چلا آ رہا ہوں۔
میں بحمد اللہ تعالیٰ راسخ العقیدہ سنی، شعوری حنفی اور متصلب دیوبندی ہوں اور اپنے دائرۂ کار کو کراس کیے بغیر ان مسائل پر سنجیدہ کام کرنے والوں سے حتی الوسع تعاون اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا رہتا ہوں، مگر میرا اپنا دائرۂ کار وہی ہے جن کا اوپر ذکر کر چکا ہوں اور اسی دائرے میں آخر وقت تک محنت کرتے رہنے کو اپنے لیے باعث سعادت ونجات سمجھتا ہوں۔ میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ میرے چھوٹے بھائی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولانا عبد القدوس قارن سلمہ نے حضرت والد محترم کی معاونت کا میدان سنبھال رکھا ہے اور وہ مسلسل اس خدمت کی پوری محنت او رذوق کے ساتھ سرانجام دیتے آ رہے ہیں مگر ا س کے باوجود اس بات کی خود مجھے شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ حضرت والد محترم دامت برکاتہم کی تحقیقات وتصنیفات میں مختلف حوالوں سے علمی ابحاث اور معلومات کا جو ذخیرہ بکھرا ہوا ہے، اسے اختلافی مسائل کے تناظر سے ہٹ کر مثبت انداز میں بھی سامنے لایا جائے تاکہ وہ لوگ جو کسی بھی وجہ سے اختلافی مسائل کے حوالے سے مطالعہ کا ذوق نہیں رکھتے، وہ بھی اس سے استفادہ کر سکیں، بلکہ میرے سامنے اس کی افادیت کا ایک اور پہلو بھی ہے جو اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ وہ یہ کہ یہ مباحث اگر مثبت انداز میں ازسرنو مرتب ہو جائیں تو نہ صرف دینی مدارس کے مدرسین بلکہ کالجوں میں اسلامیات کے اساتذہ کے لیے بھی بہت مفید ہوں گے بلکہ آج کے عمومی حالات کے تناظر میں دینی مدارس اور عصری کالجوں کے دینیات کے نصاب میں تبدیلی، اصلاح اور ترمیم واضافہ کے لیے جو آواز اٹھائی جا رہی ہے اور اس پر کسی درجے میں کام بھی ہو رہا ہے، اس میں یہ علمی ذخیرہ نئی نصاب سازی کے لیے ایک بہتر بنیاد بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب میرے بڑے بیٹے حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ وایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) نے بتایا کہ وہ اپنے دادا محترم مدظلہ کی تصنیفات پر اس حوالے سے کام کر رہا ہے اور اس نے اس سلسلے میں چند مجموعے مرتب بھی کر لیے ہیں تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، چنانچہ ’’علم حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے عنوان پر ان مباحث کا مسودہ میں خود لے کر حضرت والد محترم مدظلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے دعا کی درخواست کی تو انھوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور اس کام کی تکمیل اور کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ بعد میں عزیزم عمار خان سلمہ بھی ان کی خدمت میں اس کی باقاعدہ اجازت کی درخواست کے لیے حاضر ہوا تو انھوں نے اجازت کے ساتھ دعاؤں سے نوازا۔
میرے دل میں ایک کسک شروع سے رہی ہے کہ میں اپنی علمی وفکری تگ وتاز کا میدان مختلف ہو جانے کے باعث حضرت والد محترم مدظلہ کا ان کی جدوجہد کے میدان میں معاون نہیں بن سکا۔ اس کسک کے ایک پہلو کی کسی حد تک تسکین برادرم مولانا عبد القدوس قارن سلمہ، عزیز م مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی سلمہ، برادرم مولانا عبد الحق خان بشیر سلمہ اور برادرم مولانا قاری حماد الزہراوی سلمہ کی مسلکی سرگرمیاں دیکھ کر ہوتی رہتی ہے، جبکہ دوسرے پہلو کی تسکین کا سامان عزیزم عمار خان سلمہ نے فراہم کر دیا ہے اور میں پورے اطمینان اور خوشی کے ساتھ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے نظر بد سے محفوظ رکھیں، اس کار خیر کی جلد از جلد تکمیل کی توفیق دیں اور اپنی صلاحیتوں کو دین حق کی خدمت کے لیے صرف کرتے رہنے کے مواقع، توفیق، اسباب اور پھر قبولیت ورضا سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
(ابو عمار زاہد الراشدی)

استاذ گرامی وجد مکرم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی زندگی دینی علوم کی تعلیم وتدریس اور قرآن، حدیث، فقہ اور تاریخ وسیرت کے ذخائر کے مطالعہ سے عبارت رہی ہے اور ان کی وسعت مطالعہ، دینی علوم کے دقائق اور اکابر اہل علم کی آرا واقوال پر ان کی گہری نظر کا اعتراف ہر اس شخص کو کرنا پڑتا ہے جسے مختلف اور متنوع موضوعات پر ان کی تصانیف دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ 
استاذ گرامی کی تحقیق وتصنیف کا موضوع زیادہ تر وہ مسائل ومباحث رہے ہیں جو اہل سنت اور اہل بدعت کے مابین اور اسی طرح احناف اور اہل حدیث وغیرہ کے مابین متنازع فیہ امور کہلاتے ہیں، تاہم اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے چونکہ وہ دینی علوم کے ایک پختہ کار ناقد اور محقق ہیں، اس لیے اس طرح کے موضوعات پر گفتگو کے دوران میں بھی انھوں نے سنجیدہ اور ٹھوس علمی بحث کا طریقہ اختیار کیا ہے اور زیر بحث نکتے سے متعلق مختلف اصولی وعلمی بحثوں کی وضاحت کے علاوہ، جن کا دائرہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، کلام اور دیگر علوم تک پھیلا ہوا ہے، انھوں نے اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا ہے کہ متعلقہ موضوع پر سند سمجھے جانے والے ائمہ اور محققین کی زیادہ سے زیادہ آرا اور عبارات کو بھی باحوالہ جمع کر دیا جائے۔ اس طرح ان کی تصانیف اپنے علمی مواد اور افادیت کے اعتبار سے محض بعض فروعی مسائل کی وضاحت تک محدود نہیں رہیں بلکہ دینی علوم کے متنوع اصولی اور مستقل افادیت رکھنے والے مباحث کا بھی ایک گراں قدر ذخیرہ بن گئی ہیں۔
مجھے استاذ گرامی کی ان تصانیف کی طرف مراجعت کا موقع وقتاً فوقتاً ملتا رہتا ہے اور ہر موقع پر مجھے اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی تصانیف میں جگہ جگہ تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے جن مختلف اور متنوع مباحث پر اپنی محنت اور وسعت مطالعہ کا حاصل پیش کیا ہے، وہ بعض ضمنی اور فروعی مسائل کے تحت زیر بحث آنے کی وجہ سے دب گئے ہیں اور دینی علوم کے طلبہ اور اہل علم کے لیے ان سے ان کی مستقل حیثیت میں استفادہ کرنا آسان نہیں رہا۔ استاذ گرامی کی مبسوط اور مختصر تصانیف کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے اور ان میں زیر بحث آنے والے مسائل وموضوعات اور علمی نکات کا کوئی انڈیکس بھی ابھی تک میسر نہیں، چنانچہ یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں کہ کس علمی بحث سے متعلق کہاں اور کس نوعیت کی تفصیل مل سکے گی۔ 
میں اسی احساس کے تحت استاذ گرامی کی تصانیف کے مطالعہ کے دوران میں اس نوعیت کی علمی بحثوں کی ایک الگ فہرست اس ارادے سے مرتب کرتا رہا ہوں کہ اہل علم کی سہولت اور استفادہ کے لیے ان مباحث کو ترتیب دے کر مستقل مجموعوں کی صورت میں پیش کیا جائے۔ میں استاذ گرامی کا بے حد ممنون ہوں کہ جب ان کی تصانیف پر مبنی اس طرح کے مجموعوں کی ترتیب وتدوین کا ارادہ ان کے سامنے ظاہر کیا گیا تو انھوں نے کمال شفقت ومحبت سے نہ صرف فی الفور اس کی اجازت دے دی بلکہ حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اس ارادے میں کامیابی کے لیے دعا بھی فرمائی۔ 
بحمد اللہ تعالیٰ ’’فن حدیث کے اصول ومبادی‘‘ کے نام سے زیر نظر مجموعہ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پرپیش کیا جا رہا ہے جبکہ اسی نہج پر اصول تفسیر، اصول فقہ، علم عقائد اور سیرت وغیرہ کے موضوعات پر مجموعوں کی ترتیب وتدوین کا کام جاری ہے۔ یہ مباحث استاذ گرامی کی جن تصانیف سے لیے گئے ہیں، ان کے حوالے درج کر دیے گئے ہیں تاکہ اصل سے مراجعت کرنا بآسانی ممکن ہو۔ عبارت میں ربط پیدا کرنے، اسے مناسب حال یا قاری کے لیے قابل فہم بنانے کی غرض سے استاذ گرامی کی اصل عبارات میں حسب موقع جزوی ترمیم، تقدیم وتاخیر اور تسہیل سے بھی کام لیا گیا ہے، جبکہ بہت سے مقامات پر عربی عبارات کے ترجمے شامل کیے گئے ہیں۔ متعدد مقامات پر زیر بحث نکتے سے متعلق بعض مفید اضافی معلومات یا مثالوں کا اضافہ کیا گیا اور انھیں ’’اضافہ از مرتب‘‘ کے الفاظ سے ممتاز کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اس مجموعے کی تیاری میں مرتب نے اپنی بساط کی حد تک جو کوشش اور کاوش صرف کی ہے، امید ہے کہ علم حدیث کے طلبہ اسے مفید پائیں گے۔
حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم گزشتہ کئی سال سے علیل اور صاحب فراش ہیں اور پیرانہ سالی کے علاوہ گوناگوں امراض وعوارض سے نبرد آزما ہیں۔ قارئین سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے جلیل القدر استاذ حضرت مولانا عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی مغفرت ورفع درجات اور حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کی صحت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ درخواست کریں کہ وہ ان بزرگوں کی علمی ودینی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی برکات وفیوض کے سلسلے کو جاری رکھے، اور ان کے اہل خاندان، تلامذہ ومتوسلین اور ان کی سرپرستی میں قائم ہونے والے اداروں، بالخصوص مدرسہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی کو اپنے بزرگوں کی علمی، دینی اور اخلاقی روایت کے مطابق دین حق کی خدمت کے تسلسل کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
(محمد عمار خان ناصر)

دو اجنبیوں سے ملاقات

حسن الامین

مجھے دو ’’اجنبیوں‘‘ سے ملنے اور ان کا گردوپیش دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا۔ ایک ’’اجنبی‘‘ کا تعلق الٹرا ماڈرن معاشرت کی ایک این جی او سے تھا، اور دوسرے اجنبی کا تعلق قدامت پسندمعاشرت کے نقیب تحریک نفاذ شریعت محمدی سے۔ دونوں جگہ شدید گھٹن کا احساس ہوا۔ شدید ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا۔ جدت اور قدامت کی علمبردار یہ دونوں تحریکیں مختلف زاویوں سے مجھے اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کے مسائل سے بیگانہ نظر آئیں۔ میں نے دونوں کو اپنے آپ اور اپنے گردوپیش کی حقیقتوں سے غیرمتعلق پایا۔ دونوں کو ایک اجنبی کے روپ میں دیکھا۔
(۱) ہم اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں واقع ایک ایسے عالی شان بنگلہ میں داخل ہوئے جہاں ملک کے تاریک ترین مشرف و شوکت عزیز دور کے دو سابق وزرا (محمد علی درانی اور بیرسٹر سیف ) ایک این جی او کا آفس کھول چکے ہیں، جہاں سول سوسائٹی الائنس کے نام سے ایک این جی او کا دفتر بنا دیا گیا ہے۔ اس بنگلے کے باہر نہایت کڑی سیکورٹی کا پہرہ تھا، اس کو قیمتی قالینوں اور فرنیچر سے مزین کیا گیا ہے، اس دفتر میں جہاں این جی او کے مالکان کا ذوق جمالیات جھلکتا ہے، وہاں یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اس دفتر میں جو بھی پروجیکٹ آئے گا، اس کا بیشتر حصہ کس بے رحمی سے اس دفتر کی تزئین و آرائش اور اس میں کام کرنے والے ملازمین کے لمبے چوڑے اخراجات پر خرچ کیا جائے گا۔ اس محل کا کرایہ اور اس کے یوٹیلیٹی چارجز اس کے علاوہ ہوں گے۔ میں تھوڑی دیر اس دفتر میں بیٹھ کر در ودیوار کا جائزہ لیتا رہا، کچھ ہی دیر میں اپنے آپ کو پس زنداں محسوس کیا، گھٹن اور حبس کا احساس ہوا، پریشانی اور ڈیپرشن میں اضافہ ہوا۔ اس دفتر کے "مالکان"اور ان سے ملنے والے مہمانوں کے درمیان اتنی ہی بڑی بڑی باتیں ہو رہی تھیں جتنی اسلامی انقلاب کے لیڈروں اور امت مسلمہ کے عروج کا خواب دیکھنے والے شاعروں اور ادیبوں کے درمیان ہوا کرتی ہیں۔ ان کی اصطلاحات، ان کی تشبیہات اور ان کے خیالات مغربی تھے، ترقی پسندانہ تھے، لبرل اور پروگریسیو تھے۔ الفاظ کی جنگ میں ان کا کوئی مقابل نہیں تھا، سماجی تبدیلی سے وابستہ خیالات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ میں ان کی اصطلاحات سنتا، ان کے جملوں کے دروبست کا جائزہ لیتا، پھر ان چہروں کی طرف دیکھتا جو گزشتہ حکومتوں میں موجود رہے اور کوئی تبدیلی نہیں لاسکے، وہی چہرے، وہی لوگ، وہ شخصیات لیکن اب ایک اور نام سے۔ ان دونوں شخصیات کے ماضی میں اور سماجی تبدیلی کے اس نئے ایجنڈے کے درمیان کیا ربط اور علاقہ ہے؟ ان دونوں میں تو ہزاروں کائناتوں کی خلیج حائل ہے۔ اتنے پرتعیش طرززندگی کے عادی لوگ کوئی بڑی سماجی تبدیلی کیسے لاسکتے ہیں؟ ان کے بطن سے کسی بڑے سماجی خیر کا چشمہ کیسے پھوٹ سکتا ہے؟ یہ تو سیاسی نظام کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد اب سماجی تبدیلی کے عمل کو سبوتاژ کرنے نکلے ہیں۔ پہلے ہم نے سنا کہ دنیا کی اکثر ترقی پذیر ریاستیں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ناکام ہوئیں اور ان کے اوپر اپنے شہریوں کا اعتماد نہیں رہا تو ناکام ریاستیں اور ناکام حکومتیں کہلائیں اور پھر یہ عالمی بیداری وجود میں آئی کہ ان کرپٹ بااثر سیاسی و فوجی اشرافیہ کو پیسے دینے کی بجائے یہی رقم سول سوسائٹی کی تنظیموں کو دی جائے اور ان کے ذریعے سے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کی تگ ودو کی جائے۔ افسوس کہ بااثر اور بالادست طبقے صرف سیاسی پوزیشنز پر ہی نہیں بلکہ دوسرے تمام عہدوں پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ ریاست کی ناکامی کے بعد اب سماجی شعبے کی ناکامی۔ وہ دن دور نہیں۔ اب جو سرمایہ سول سوسائٹی کے نام سے اس ملک میں آئے گا، اس کو بھی وہ روایتی سیاسی اشرافیہ اور ان کے عزیز واقارب مختلف ناموں سے ہڑپ کر جائیں گے۔ میں مسلسل اس کوشش میں رہا کہ پوری وسعت نظری سے خود کو ایک عام اور غریب پاکستانی مسلمان شہری کی حیثیت سے اس این جی او سے متعلق کرسکوں، مگر میں اس کوشش میں ناکام رہا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی رہے۔
(۲) دوسرا اجنبی مالاکنڈ کے مولانا صوفی محمد اور ان کی تحریک نفاذ شریعت محمدی (TNSM) ہے۔ امان درہ کے مقام پر واقع ان کے مرکزی مدرسے میں ہم داخل ہوئے۔ مولانا صوفی محمد مسجد کے ایک کونے میں واقع کمرے میں تشریف فرما تھے۔ بزرگ، سفید ریش، سادہ اوراپنے مقصد سے اخلاص ان کے چہرے سے جھلکتا۔ دین کو جیسا سمجھتے ہیں، ویسا ہی اپنے اوپرنافذ کرتے ہیں۔ کسی سے معانقہ نہیں کرتے، صرف ہاتھ ملاتے ہیں کیونکہ کسی حدیث سے انہوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ چھوٹا سا سفری بیگ ان کے قریب پڑا ہے جس میں ایک جوڑا کپڑوں کا، ایک مسواک اور چند دیگر مسنون چیزیں نظر آئیں۔ لگتا ہے کسی لمبی چوڑی تیاری کے بغیر مسلسل حالت سفر میں اور شاید جیل جانے کے لیے بھی ہروقت تیار رہتے ہیں۔ مولانا کے لباس سے غربت جھلکتی ہے، ان کے چہرے کی جھریوں سے متوازن غذا کی کمی کا احساس ہوتا ہے، وہ بالکل عام پاکستانی سے بھی زیادہ فقیر اور خستہ حال دکھائی دیتے ہیں، عام آدمی ان کواپنا جیسا محسوس کرتا ہے، اس لیے لوگ ان کے اشارے پر جان دینے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنے جیسے غریبوں کی حالت بدلنے کے لیے اس مرد درویش کے ایشوز کیا ہیں اور ان کے سامنے اپنے جیسے خستہ حال کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلنے کا ایجنڈا کیا ہے؟ افسوس کہ اپنے ایشوز اور ایجنڈے کی بنیاد پر مولانا بھی اپنے گردوپیش کے مسائل سے اتنے ہی اجنبی اور غیرمتعلق نظر آئے جتنے کہ درانی صاحب اور بیرسٹر سیف صاحب کی عالی شان این جی او اپنے شاہانہ اخراجات کے حساب سے نظر آئی تھی۔ 
مولانا صوفی محمد صاحب خواتین کی تعلیم کو ناجائز سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ان کو کسی اسلامی مدرسے میں بھیجنے کے بھی قائل نہیں۔ ان کا ایجنڈا ہے باطل کی تردید اور اس سے انکار، جمہوریت اسلام میں کفر ہے اور اس کفر میں قاضی حسین احمد، نوازشریف اور زرداری سب برابر ہیں۔ کوئی صالح نظام صرف علما ہی قائم کرسکتے ہیں اور انہی کے ذریعے سے عام آدمی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ افسوس کہ مولانا صوفی محمد کو اپنے گرودوپیش میں ہونے والی علمی اور تمدنی تبدیلی، سماجی و معاشرتی علم میں ہونے والے ارتقا کا ذرہ برابر علم نہیں۔ دنیا کے مختلف مسلم ممالک اور مسلم معاشروں میں اسلامی نظام برپا کرنے کے نام لیوا کیوں ناکام ہوئے؟ وہ کوئی بڑا انقلاب کیوں برپا نہیں کرسکے؟ دنیا کے سماجی اورمعاشرتی علم میں کیا تبدیلیاں آچکی ہیں؟ انسانی علم اور تمدنی علم نے کیا کیا منزلیں طے کی ہیں؟ مولانا کی سادگی دیکھ کر رونا آیا اور ان کا اخلاص دیکھ کر رشک آیا۔ مولانا تصویر کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر اسی کیمرے میں اپنی آواز کو ریکارڈ کرانے کو جائز سمجھتے ہیں، آخر کیوں اور کس اصول کی بنیاد پر؟ مولانا میوزک کو حرام سمجھتے ہیں مگر موبائل فون پر میوزیکل رنگ ٹون سن لینے کو مائنڈ ہی نہیں کرتے، آخر کیوں اور یہ استثنا کس اصول کی بنیاد پر؟ مولانا مغرب و امریکہ و اسرائیل کو کوستے ہیں مگر مہمانوں کو کوکا کولا اور پیپسی سے نوازتے ہیں۔ مولانا نے جو گھڑی اپنی کلائی پر پہن رکھی ہے، وہ چین کی بنی ہے جو ایک غیرمسلم ملک ہے۔ انہوں نے جو کپڑے پہنے ہیں، اس کی ٹیکنالوجی کسی مغربی ملک سے آئی ہے۔ میں مسلسل اس کوشش میں تھا کہ خود کو ایک عام گناہ گار پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے مولانا صوفی محمد سے متعلق کرسکوں مگر میں اس کوشش میں ناکام رہا۔ میں ان کے لیے اور وہ میرے لیے اجنبی رہے۔
مولانا کی محفل سے رخصت ہونے لگے تو ان کی شوریٰ کا اجلاس شروع ہونے کو تھا جس میں کالی پگڑیوں میں ملبوس ان کی شوریٰ کے سینکڑوں بزرگ تشریف لاچکے تھے، مخلص، سادہ اور پرانی روایت کے امین بزرگ۔ مگر ایک ایسے سفر کے مسافر جس کی نہ طوالت کا علم، نہ پڑا و کا پتہ اور نہ منزل کی خبر۔ 

مذہبی رویے: چند اصلاح طلب امور

ادارہ

ہمارے ملی ادارے جوکبھی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے تھے، آہستہ آہستہ ذاتی اورموروثی اداروں میں بدلتے جارہے ہیں۔ ہر ادارے کے منتظم کی یہ خواہش چھپی نہیں رہتی کہ ادارہ اس کی اولاد اور خاندان تک محدود ہو کر رہ جائے۔ یہ ساری ریشہ دوانیاں اور اتھل پتھل، کہیں دبی دبی بے چینی اور کہیں کھلا کھلا انتشار سب اسی خواہش کانتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ اصل میں اس طرز عمل سے بہت سے حق داروں کی حق تلفی ہوتی ہے اور وہ کھلاپن باقی نہیں رہتاکہ ہرشخص کو اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے اور ترقی کرنے کے مساوی موقعے مل سکیں۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جب حق داروں کوان کاحق نہیں ملتا اور محنت کرنے والوں کی محنت کانتیجہ ان کے سامنے نہیں آتا تو پھر اداروں میں چاپلوسی، خوشامد اور انتظامیہ کو ہر حال میں خوش رکھنے کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی سچائی ہے، چاہے کڑوی ہی کیوں نہ ہو کہ ہمارے ملک میں اب بہت سے اداروں کا مدار باہر کے ملکوں سے امداد پر زیادہ ہو گیا ہے۔ کیونکہ یہ باہر کا پیسہ قانونی مرحلے طے کر کے نہیں پہنچتا، اس لیے یا تو اس پیسے کو ظاہر نہیں کیا جاتا یا پھر فرضی حساب بنایا جاتا ہے۔ پہلے ہمارے اداروں کی بڑی مفصل سالانہ روئیدادیں شائع ہوا کرتی تھیں جن میں ایک ایک پیسہ کی آمد وخرچ کے حسا ب کی تفصیل حاصل ہوتی تھی، تعلیم کی پوری کارکردگی آئینے کی طرح سامنے ہوتی تھی، طلبہ کے مکمل نام، ان کے حاصل کردہ نمبرات، یہ سب بڑی تفصیل کے ساتھ عوام کے سامنے رکھ دیے جاتے تھے اور لوگ بھی اپنے اداروں کی کارکردگی دیکھ کرمطمئن رہتے تھے۔ یہ اصل میں عوامی محاسبے کاایک بہت ہی سائنٹیفک اور صاف ستھرا انتظام تھا۔ اب یہ سب کچھ دھیرے دھیرے سمٹتا جا رہا ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ خیال تعلیم کے معیار کا رہتا تھا۔ اسباق کی پابندی، طلبہ کی حاضری کا خیال، حاضری پر ان کو انعامات، مقررہ نصاب کی تکمیل، ان سب پر بہت زیادہ توجہ رہتی تھی۔ اس کے ساتھ طلبہ کی تربیت اوراخلاقی حالت پر پوری نظر رکھی جاتی تھی۔ ماننا چاہیے کہ اب ان سب چیزوں سے زیادہ عمارتوں پر توجہ ہے، بڑی بڑی عمارتیں، پرشکوہ بلڈنگیں ہمارے اداروں کی شان بنتی جا رہی ہیں۔
دیوبند جانا ہوتا رہتا ۔ہے کئی بار دیکھا ہے کہ طلبہ کی ایک بڑی بھیڑ کہیں سے نکلی چلی آرہی ہے جس سے سڑک پر آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ معلوم کیا توپتہ لگا کہ ہمارے طلبہ عزیز کہیں ٹیلی ویژن مرکز پر کرکٹ کا میچ دیکھ کر آرہے ہیں جہاں ہر دیکھنے والے سے پانچ روپے لے کر ٹیلی ویژن پر میچ دکھایا جاتا ہے۔ اب نہ فکر نماز کی نہ اسباق کی، کرکٹ کی شکست وفتح ہمارے طلبہ عزیز کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ چند باتیں کچھ اشارات کے طورپر عرض کر دی گئیں اور ان کامنشا اپنی اس فکر مندی کا اظہار ہے جو ملی اداروں کی حالت دیکھ کر قدرتی طور پر ہوتاہے اور شاید ہر حساس انسان کو ہونا بھی چاہیے۔
بات چلی تھی کہ ہمارے ادارے ذاتی اور موروثی حیثیت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ غالباًوقت آچکاہے کہ ملت کے دردمند لوگ سرجوڑ کر بیٹھیں اور اعلیٰ سطح کی ایک ایسی کمیٹی تشکیل دیں جو ان اداروں پر خاص طورپر مرکزی حیثیت کے مدرسوں اور اہم جماعتوں پر نظر رکھیں اور اس کمیٹی کو عوام کا اتنااعتماد حاصل ہو جائے کہ لوگ اس کی غیر جانب داری اور انصاف پسندی پر بھر پور اعتماد کر سکیں۔ اس سے ان اداروں کو اس بات کا خیال رہے گا کہ بہرحال عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور عوامی اداروں کے لیے عوام کا اعتماد کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ (طارق عمیر عثمانی)
(بشکریہ ماہنامہ دار السلام، اپریل ۲۰۰۸۔ مالیر کوٹلہ، بھارت)

جمعیۃ العلماء ہند میں چچا بھتیجے کے اختلاف کا موضوع ہم چھیڑنا نہیں چاہتے۔ اخبارات میں یہ مسئلہ جس انداز سے آتا رہا ہے، وہ سبھی کے لیے تکلیف دہ رہا ہے۔ ڈر یہ ہے کہ اس اختلاف کا اثر دار العلوم دیوبند پر نہ پڑے اور وہاں کی فضا میں کوئی ایسی ہلچل پیدا نہ ہو جو دار العلوم کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہو۔
اس قضیہ نامرضیہ میں ایک بات جو شروع سے ہمیں کھلتی رہی ہے، وہ یہ ہے کہ کیا پورے ملک میں اس خاندان کے دو گروپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے جو ملت کے مسئلوں کو سلجھانے کے لیے آگے بڑھے؟ جمعیۃ العلماء مولانا اسعد میاں صاحب کے زمانے سے ہی ان کے حلقہ مریدین کی جماعت بن کر رہ گئی تھی۔ ہمیں معلوم ہے، اگرچہ کافی وقت گزر چکا ہے، کہ ہمارے والد محترم جس زمانے میں دار العلوم دیوبند کے شعبہ فارسی میں پڑھانے کی خدمت انجام دے رہے تھے، جمعیۃ العلماء کا ترجمان روزنامہ ’الجمعیۃ‘ مولانا عثمان فارقلیط کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ مولانا فارقلیط نے ایک اداریہ لکھا جس میں شکوہ کیا کہ جمعیۃ العلماء کی ممبر سازی عوامی طور پر کرنے کے بجائے خاص لوگوں کے نام بھر دیے جاتے ہیں اورممبر سازی کے پیسے دفتر میں جمع کرا دیے جاتے ہیں۔ یہ ممبر حقیقی طور پر ممبر نہیں ہوتے، بلکہ بعض کو تو یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہمیں ممبر بنایا گیا ہے۔ یہ اداریہ شائع ہوا تو میرے والد صاحب نے اس کی تائید میں ایڈیٹر کو ایک خط لکھ دیا اور غضب یہ ہوا کہ حضرت مولانا محمد میاں صاحب نے اپنے تائیدی نوٹ کے ساتھ اس خط کو نمایاں طور پر شائع کر دیا۔ بس پھر کیا تھا، پورے حلقے میں ایک ہلچل مچ گئی۔الجمعیۃ ترجمان جمعیۃ کے تعلق سے اداریہ اور پھر اس خط کی اشاعت!
ہمیں معلوم ہے کہ درجہ فارسی میں ایک مدرس ہوا کرتے تھے مولانا شمیم احمد عثمانی دیوبندی۔ یہ مولانا اسعد میاں صاحب کے بہت قریبی رازدار دوستوں میں سے تھے۔ انھوں نے والد صاحب سے کہا کہ جمعیۃ العلماء کی ممبر سازی ہونے والی ہے۔ اب کی مرتبہ آپ اس میں حصہ لیں اور ممبر بنائیں۔ والد صاحب نے کہا کہ ہم ضرور تیار ہیں۔ ہمیں آپ رسید بک لا کر دے دیں، ان شاء اللہ ہم ممبر سازی کریں گے۔ کہنے کو تو انھوں نے کہہ دیا مگر والد صاحب کے بار بار یاد دلانے اور تقاضا کرنے کے باوجود انھوں نے والد صاحب کو ممبر بنانے کا موقع نہیں دیا۔ جب ممبر سازی کی تاریخ نکل گئی تو والد صاحب نے ان سے کہا کہ ہمیں یہی امید تھی کہ آپ ہمارے ذریعے ممبر نہیں بنائیں گے اور اس وقت ایک لفظ ان کی زبان سے نکلا کہ ’’سکہ بند‘‘ لوگوں کے علاوہ کس کی مجال ہے جو جمعیۃ میں داخل ہو سکے۔
تو حقیقت یہی ہے کہ جمعیۃ العلماء مریدوں کے حلقے میں محدود ہو کر رہ گئی تھی اور آج بھی کچھ صورت حال مختلف نہیں ہے، اس لیے جمعیۃ العلماء کا ماضی کتنا بھی شاندار رہا ہو، اب وہ ایک حلقے میں محدود ہے۔ یہی حال ان لوگوں نے دار العلوم دیوبند کا کر دیا کہ قبضے کے بعد سے اس پر ایک ہی خاندان اور ایک ہی فکر کے لوگ قابض ہیں۔ جب تک یہ صورت حال نہیں بدلے گی، چاہے اختلافات ہوں، لڑائیاں بجتی رہیں یا کچھ بھی ہوتا رہے، ملت کے لیے یہ ایک مستقل ناسور بنا رہے گا۔ لوگ کہیں گے علما لڑ رہے ہیں، حالانکہ علما نہیں، بلکہ ایک خاندان کے لوگ اپنی انا اور مفادات کے لیے برسر پیکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس امت پر رحم فرمائے کہ اس نازک دور میں بھی لوگ اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(طارق عمیر عثمانی)
(بشکریہ ماہنامہ دار السلام، مئی ۲۰۰۸۔ مالیر کوٹلہ، بھارت)

تبلیغی جماعت میں دین کے صرف ظاہری فارم کو بنانے کی بات پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ اندرونی انسان سازی پر۔ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ طریقہ امت کے عوام طبقہ کے لیے درست ہو سکتا ہے جس کو سرے سے اس بات کا علم ہی نہیں کہ دین کیا ہے؟ خدا، رسول اور آخرت کیا ہے؟ لیکن اب میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ عوام ہوں یا خواص، تبلیغی جماعت میں جڑنے کے بعد مسلمان ذہنی جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے سے باہر کسی بات پر سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہتا، اس لیے کہ اس میں کچھ گنی چنی باتوں کو دہرایا جاتا ہے اور خالص روایتی انداز میں بات کہی جاتی ہے، بنا کسی دلیل کے۔ 
میرے محلے کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ کچھ دنوں پہلے میری بیٹی کے گھر ڈلیوری ہونے والی تھی۔ میرے داماد پر محلے کی جماعت کے ساتھیوں نے چار مہینہ جماعت میں لے جانے کے لیے زور دیا۔ اس پر میں نے یہ بات جماعت والوں کو بتائی تو انھوں نے کہا کہ اللہ سب اچھا کرے گا۔ ایسا کہہ کر وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ دنوں بعد میری لڑکی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ پھر میں اس کو اپنے گھر لایا اور اسپتال میں بھرتی کرایا جس میں مجھے قریب ۱۷۰۰۰ روپے کا خرچ اٹھانا پڑا۔ نہیں تو میری بچی کی جان خطرے میں تھی۔یہ بات جب میں نے اپنے داماد کو جماعت سے واپس آنے پر بتائی تو وہ میرا احسان ماننے کے بجائے مجھ سے جھگڑا کرنے لگے اور ۱۷۰۰۰ میں سے ایک پیسہ بھی مجھے نہیں دیا۔ تب سے مجھے جماعت کے نام سے نفرت ہو گئی ہے۔ یہ بات مذکورہ صاحب نے مجھے اس وقت بتائی جب میں نے ان سے فجر کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلتے وقت پوچھا کہ آج کل آپ تعلیم میں کیوں نہیں بیٹھتے؟ اسی طرح کے اور بھی واقعات ہیں۔
اصل یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں بھیڑ دیکھ کر آدمی اس سے جڑ تو جاتا ہے لیکن وہ خدا کی معرفت اور دین کی حقیقت سے ہمیشہ بے خبر رہتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد جب میرے اندر صحیح طرز فکر پیدا ہوا تو میں نے ان حضرات سے کہا کہ آپ لوگ صبح شام ایک ہی کتاب پڑھتے رہتے ہیں اور وہ فضائل اعمال ہے، اور بات کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی۔ حالانکہ آپ کا طریقہ تو یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے اور قرآن سے ہی دعوت دیتے تھے، جبکہ ان کی مخاطب قوم تو جہالت کی حد پر تھی۔ پھر جب وہ قوم قرآن کے ذریعے ہمارے لیے نمونہ بنا دی گئی تو ہمیں جھوٹے فضائل کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ جس دین میں خدا کی کتاب ہی کا وجود نہیں، وہ دین کیسا؟ میری اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، لہٰذا وہ کسی مفتی سے یہ جواب لے آئے کہ قرآن کو صرف علما ہی سمجھ سکتے ہیں، عام مسلمان اس کو پڑھنے سے بھٹک سکتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے جماعت کے آدمی کا ذہن ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ خود کسی بات پر کھلے ذہن سے سوچ نہیں پاتا۔ بس ایک بات یا جملہ ان کے بڑوں نے کہہ دیا تو وہ پتھر کی لکیر ہو گئی۔ صحیح ہے یا غلط، اس پر کسی کو عقل لگانے کی ضرورت نہیں۔ (شکیل احمد، اندور)
تبلیغی جماعت کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے ذمے داروں نے عوام کے اندر دینی شوق پیدا کرنے کے لیے اس کام کو شروع کیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ عوام زیادہ گہری باتوں کو سمجھ نہیں سکتے، اس لیے انھوں نے فضائل کی روایات کے اوپر اپنی تحریک کی بنیاد رکھی۔ عوام کی اصلاح کے اعتبار سے یہ طریقہ مفید ہو سکتا ہے لیکن بعد کو یہ ہوا کہ تبلیغ کے ذمے داروں نے اپنے طریق کار کو بدلے بغیر خواص کو اپنے دائرۂ عمل میں شامل کر لیا۔ تبلیغی جماعت کی یہ توسیع الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بن گئی کیونکہ فضائل کی روایتیں عوام کو متاثر کر سکتی تھیں، لیکن خواص کا ذہن اس سے ایڈریس نہیں ہوتا، چنانچہ خواص تبلیغی جماعت سے قریب ہونے کے بعد جلد ہی اس سے دور ہونے لگے۔ 
خواص کی یہ دوری سادہ طور پر تبلیغ سے دوری نہ تھی، بلکہ عملاً وہ دین سے دوری کا سبب بن گئی۔ خواص یہ سمجھنے لگے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو عوام کی ضرورت کو تو پوری کرتا ہے، لیکن اس میں خواص کے لیے اطمینان کا سامان نہیں۔ دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان، جو پہلے تبلیغی جماعت سے قریب ہوئے تھے اور پھر وہ دل برداشتہ ہو کر اس سے دور ہو گئے، انھوں نے ا س معاملے کو بتاتے ہوئے یہ بامعنی جملہ کہا: ’’تبلیغ والوں نے پہلے میواتیوں کو مسلمان بنایا، اب وہ مسلمانوں کو میواتی بنا رہے ہیں۔‘‘ (مولانا وحید الدین خان)
(بشکریہ ماہنامہ تذکیر لاہور، جون ۲۰۰۸)

اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

(وضاحت: مضمون کا مقصد کسی کی علمی حیثیت کم کرنا یا کسی کے خلوص پر شک کرنا ہرگز نہیں، بلکہ راقم الحروف کے خیال میں اسلامی معاشیات و بینکاری سے منسلک تمام حضرات خلوص دل کے ساتھ اسے خدمت اسلام سمجھتے ہیں اور ان کی غلطی اجتہادی خطا پر محمول ہے۔ واللہ اعلم بالصواب)

ارباب فکر و نظر پر خوب واضح ہے کہ پچھلی دو صدیوں کے دوران سر مایہ دارانہ نظام کے غلبے کے نتیجے میں اسلا می اصولوں کے مطا بق زندگی گزارنے کے مواقع کم سے کم تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چو نکہ معاش معا شرتی زندگی کا وہ شعبہ ہے جس سے ہر خاص وعا م کو وا سطہ پڑتا ہے، لہٰذا اس کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ اسی شعبہ زندگی پر پڑے ہیں۔ نیز چونکہ سرمایہ داری کا اصل مقصد و محور صرف معاش ہی معاش ہے، لہٰذا موجودہ دور میں معا شی مسائل ہی نے سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے اورزندگی کے ہر مسئلے کو ’معاد‘ کے بجا ئے ’معا ش‘ کے نقطہ نگاہ سے دیکھے جانے کی روش عام ہونے لگی ہے اور اسی روش کے عام ہونے سے سرمایہ داری معا شروں پر غالب آاتی ہے۔ مثلاً سود کے مسئلے کو لیجیے، اس کے حق میں جتنی بھی عقلی تو جیہات پیش کی جاتی ہیں، ان کا لب لباب یہی تو ہے کہ یہ ترقی یعنی معا ش کی بڑھوتری کا ضامن ہے۔ لیکن معاد کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان جنگ ہے، نیز آخرت میں ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔ پس جب تک افراد اپنے معاش کے معا ملات کو معاد کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے رہیں گے، سرمایہ داری کبھی معاشرے پر غالب نہیں آ سکتی، اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تمام تو جیہات، چاہے وہ لبرلزم ہو یا سوشلزم، مذہب کی معا شرتی بالا دستی کی شدید دشمن ہیں۔ 
معا شی مسا ئل حل کرنے کے لیے علماے کرام پہلے ہی دن سے جز واً جزواً پیش آنے والے مختلف مسا ئل اور ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں ار با ب اختیار اور عوام کو آگاہ اور متنبہ کرتے چلے آئے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ ایسے ہی پیش آنے والے مسا ئل میں سے ایک اہم مسئلہ موجودہ سود پر مبنی بینکاری نظام کی شرعی حیثیت اور اس کے متبادل کا بھی تھا۔ علماے کرام نے اس مسئلے پر مختلف جہات سے اپنی اپنی تحقیقات پر مبنی لائق تحسین آرا پیش کیں جن کے نتیجے میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو کر سامنے آگئی کہ موجودہ بینکاری نظام میں جاری و ساری سود وہی ربا ہے جسے قرآن نے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا جب تک بینکاری نظام کو سود سے پاک نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ کاروبار شرعاً جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بینکاری نظام کی اس شرعی حیثیت کو متعین کرنے کے بعد دوسرا مسئلہ اسکا متبادل نظام وضع کرنے کا تھا تو اس سلسلے میں بھی امت مسلمہ کے مختلف ممالک کے علما نے کئی حل پیش کیے ہیں اور مملکت پاکستان میں بھی اس امر میں کافی پیش قدمی ہوئی اور اس ضمن مولانا مفتی تقی عثمانی صا حب کی کاوشیں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں کی گئیں تمام تر تحقیقات علماے کرام کے ذاتی اجتہا دات و آرا پر مبنی ہیں اور اب تک کوئی اجماعی رائے سامنے نہیں آسکی ۔ اسی طرح مروجہ اسلامی نظام بینکاری و زر (Finance) کی شرعی حیثیت اور مقاصد شریعہ کے حصول میں اس کی افادیت پر بھی علماے کرام مختلف الرائے ہیں۔ اسلامی بینکاری نظام پر تنقیدی تناظر میں کئی جہتوں پر بحث کرنا ممکن ہے، مثلاً: 
  • موجودہ بینکاری کی اسلام کاری کے امکانات، جس میں یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا موجودہ نظام بینکاری کو اسلامیانے کا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔ کیا واقعی بینک ایک زری ثالث (financial intermediate) ہوتا ہے یا کچھ اور؟ 
  • اسلامی بینکاری نظام کار (methodology)کا اصول شریعہ کی روشنی میں تنقیدی جائزہ ، جس میں جزواً جزواً یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسلامی بینک جو زری سروسز اور پراڈکٹس (Financial products and services) مہیا کرتے ہیں، آیا وہ قواعد شریعہ کے مطابق ہیں یا نہیں ؟
  • اسلامی اور مروجہ بینکاری نظام کا تطبیقی موازنہ، جس میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا واقعی اسلامی بینک موجودہ بینکاری نظام سے علیحدہ کوئی کام کربھی رہے ہیں یا محض لفظی ہیر پھیر سے کام چلا رہے ہیں ۔
  • سرمایہ داری اور اسلامی بینکاری کا باہمی ربط، جس میں اسلامی بینکاری نظام کار کو جزوی طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے نظام زندگی کے ایک پرزے کے طور پر جانچ کر یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اس طریقہ کار سے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یا نہیں ۔
اس مضمون کا مقصد ان تمام تناظروں پر نہیں بلکہ صرف آخری تناظر میں بحث کرنا ہے، یعنی ہمارے تجزیے کی بنیاد (unit of analysis) جزوی تفصیلات نہیں بلکہ نظام ہے۔ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح اسلامی معاشیات و بینکاری نظام کا فلسفہ اور حکمت عملی سرمایہ داری کی تقویت اور اسلامی زندگی کی بیخ کنی کا باعث بنتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں اسلامی بینکاری وغیرہ پر سب سے عمدہ تحقیق مولانا تقی عثمانی صاحب نے فرمائی ہے، لہٰذا ہمارے پیش نظر آپ کی کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ ہے۔ مولانا کی قد آور شخصیت اور علماے کرام کے سامنے خطبات کی صورت میں پیش کیے جانے کی بنا پر اس کتاب کی علمی اہمیت و ثقاہت (authenticity) دیگر کتب سے بہت بڑھ کر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو مدارس میں ایک بنیادی نصابی کتاب کے طور پر شامل کرلیا گیا ہے۔ 
مباحث مضمون کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلے حصے میں اسلامی معاشیات کا علمیاتی تناظر اور عمومی ڈھانچہ (framework) بیان کرکے یہ دکھایا جائے گا کہ کیونکر اسلامی معاشیات کا لازمی نتیجہ سرمایہ داری ہی کی بالادستی ہے اور دوسرے حصے میں مولانا کی کتاب سے اس عمومی ڈھانچے کی تصویب (endorsement) بیان کرکے اس کی بنیادی غلطیاں واضح کی جائیں گی۔ وماتوفیقی الا باللہ 

۱ ) اسلامی معاشیات کا علمیاتی ڈھانچہ (epistemological framework)

دیگر سائنسز کی اسلام کاری کی طرح اسلامی معاشیات کی بنیادی غلطی سوشل سائنسز کو غیر اقداری (value-neutral) علمیت سمجھ کر اختیار کرلینا ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات کے خیال میں سوشل سائنسز کوئی ایسا غیر اقداری فریم ورک ہے جو کسی ’مجرد انسان ‘ (abstract and neutral human being) کے رویے سے بحث کرتا ہے، یعنی سوشل سائنسز کے فراہم کردہ فریم ورک کو ’کسی بھی‘ فرد اور معاشرے کے عمومی رویے کو سمجھنے اور ان سے حاصل ہونے والی پالیسیوں کو کسی بھی معاشرے پر لاگو کرکے ہر قسم کے مقاصد حاصل کرنا ممکن ہے۔ گویا ان کا مفروضہ یہ ہے کہ سوشل سائنسز کی حیثیت بس ایک آلے (tool) کی ہے جسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین مغربی علوم کو ’’جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے چھوڑ دو‘‘ کے پیرایے میں دیکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل سائنسز ہرگز کوئی غیر اقداری علوم نہیں بلکہ علوم اسلامیہ کی طرح ان کا ایک مخصوص مقصد ہے۔ سوشل سائنسز کسی ایسے ماورا انسان کے رویے سے بحث نہیں کرتے جس کے تناظر میں ’ہر‘ فرد اور معاشرے کا رویہ سمجھنا ممکن ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایسی اٹل حقیقت ہیں جن کی بنیاد ایسے آفاقی تصورات پر قائم ہے جو ’انسانیت بحیثیت مجموعی‘ کا مظہر ہیں، بلکہ یہ اس مخصوص انسان کے رویے سے بحث کرتی ہیں جسے ہیومن بینگ (Human being)کہا جاتا ہے۔(ہیومن بینگ کی تفصیلات کے لیے دیکھیے راقم الحروف کا مضمون، ماہنامہ الشریعہ، مئی ۲۰۰۸) مختصراً ہیومن بینگ سے مراد ایسا انسا ن ہے: 
۱) جو خود کو قائم بالذات (الصمد) مانتا ہے ،
۲) جس کی نظر میں تمام تصورات خیر اور زندگی گزارنے کے تمام طریقے مساوی حیثیت رکھتے ہیں، اور جس کے خیال میں قدر متعین کرنے کا واحد پیمانہ انسانی ارادہ ہے، 
۳) جس کا مقصد زندگی انسانی ارادے و خواہشات کی لامحدود تکمیل یعنی سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ 
تمام سوشل سائنسز درحقیقت اس مخصوص انسان اور اس کے تعلقات سے ابھرنے والی معاشرت و ریاست سے بحث کرتی ہیں، یعنی ان کا مطمع نظر ایک ایسے معیاری معا شرے اور ریاست کی ترتیب و تنظیم کا لائحہ عمل وضع کرنا ہے جہا ں افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادی اور سرمایے کی بڑھوتری کے مواقع میسر آسکیں۔ اس مخصوص انفرادی پس منظر کے علاوہ کسی دوسری انفردایت اور معاشرت کے رویے کی تفہیم کے لیے یہ سرے سے کوئی بنیاد فراہم ہی نہیں کرتیں۔ اس کی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے جیسے اسلامی علمیت میں علم الفقہ کا مقصد قرآن و سنت میں وارد شدہ نصوص سے وہ اصول اخذ کرنا ہے جن کی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے کہ ان گنت انسانی اعمال و افعال سے رضا ے الہٰی کے حصول کا درست طریقہ کیا ہے (یعنی ان اعمال کا شرعی حکم بیان کیا جا سکے) نیز یہ معلوم کیا جا سکے کہ افراد کے تعلقات کو کن تعلیمات کا پا بند بنا کر معاشرے کو احکامات الہٰی کے تابع کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح علم تصوف کا مقصد وہ لائحہ عمل فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے فرد اپنے نفس کو احکامات الہٰی پر راضی کرنے کے قابل ہوجائے۔ بالکل اسی طرح سوشل سائنسز کا مقصد ایک طرف سرمایہ دارانہ شخصیت ، معا شرے و ریاست کی علمی توجیہ پیش کرنا ہے اور دوسری طرف یہ افراد کے تعلقات میں آزادی کی ان لازمی حد ود کا تعین کرنے کے اصول وضع کرتی ہیں جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معا شرتی و ریاستی صف بندی وجود میں آسکے۔ (سو شل سائنسز کا معا شرتی پالیسیاں وضع کرنے کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے لیے جمہوریت پر ہمار ا مضمون دیکھیے : ساحل نومبر ۲۰۰۶ )۔ سو شل سائنسز کا مقصد ایک ایسے دستور، ایک ایسے قانون، ایک ایسے معا شرتی نظام کا قیا م ہے جسے الہامی اور آسمانی قانون سے کوئی واسطہ یا رابطہ نہ ہو۔ جس طرح علم تصوف کوئی ایسا غیر اقداری علم نہیں جس کے ذریعے ’ہر قسم کی انفرادیت ‘ کا فروغ ممکن ہوسکے ، بالکل اسی طرح سوشل سائنسز بھی کوئی غیر اقداری علوم نہیں بلکہ یہ ایک مخصوص انفرادیت کے رویے سے بحث کرتی ہیں۔ 
اس ضمن میں دوسری بات یہ کہ ہر اجتماعیت یا معاشرتی صف بندی کو تشکیل دینے کے لیے ایک خاص نوعیت کی پالیسیاں اور قوت نافذہ یا ریاستی ادارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ پالیسیاں ایک علمیت سے نکلتی ہیں جو ایک مخصوص انفرادیت، معاشرت و ریاست کی تشکیل اور تنظیم کو ممکن بنانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ہر پالیسی ہر قسم کے معاشرے میں قابل استعمال نہیں ہوتی جس کی بنیادی وجہ اس مقصد کا اختلاف ہوتا ہے جس کے لیے افراد کسی معاشرتی صف بندی کی پابندی کو قبول کرتے ہیں۔ مثلاً ایک ایسا معاشرہ جس کا مقصد وجود آزادی اور لذت پرستی ہو، اس میں شراب وشباب خانے پھیلانے، قرضے کی معیشت کو عام کرنے عورتوں کو ملازمت کا پیشہ اختیار کرنے پر ابھارنے وغیرہ کی پالیسی اس مقصد کی منطق کے عین مطابق ہے، جبکہ یہی پالیسیاں ایک مذہبی معاشرے کے مقصد کے لیے سم قاتل ثابت ہوتی ہیں۔ایک لبرل سرمایہ دارانہ (capitalist) معاشرے کو کامیاب طریقے سے چلانے کے لیے مارکیٹ کے ادارے کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی پالیسی اپنانا پڑتی ہے جبکہ ایک اشتراکی (socialist) معاشرے کے قیام کے لیے سب سے پہلے اسی مارکیٹ کے ادارے کوتہس نہس کرنا ضروری امر ہوتا ہے[گو کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کا اصل مقصد آزادی یا سرمایے کی بڑھوتری ہی ہوتا ہے، دونوں ہی تحریک تنویر سے نکلنے والے دو دھارے ہیں جن میں اختلاف اس بات پر ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا صحیح ترین طریقہ کیا ہے] چنانچہ پالیسی اور مقصد کا تعلق اس قدر واضح بات ہے کہ اگر آپ سے کوئی کہے ’’پالیسی بناؤ‘‘ تو آپ اس سے پہلا سوال یہی پوچھیں گے ’’کس لیے‘‘۔ آپ پالیسی کو کسی حکیم کے نسخے کے مشابہ سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے ہر نسخہ ہر بیماری میں قابل استعمال نہیں ہوتا، با لکل ایسے ہی ہر مقصد ہر پالیسی کے ذریعے قابل حصول نہیں ہوتا۔ مقصد کا یہ تعلق نہ صرف پالیسی کے ساتھ، بلکہ خاص نوعیت کے ریاستی ادارے کی ہیئت کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک لبرل سرمایہ دارانہ معاشرہ جمہوری طرز حکومت جبکہ اشتراکی معاشرہ مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ کا خواہاں ہوتا ہے۔ چنانچہ سوشل سائنسز کے تجزیے سے ماخوذ شدہ پالیسیاں ہر گز اسلامی معاشرت کے فروغ کاباعث نہیں بنتیں بلکہ ان کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ انفرادیت و معاشرت ہی کا فروغ ظہور پزیر ہوتا ہے۔ پس یوں سمجھیے کہ سوشل سائنسز سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی علمیت (Epistemology) ہیں جو اس نظام کے تحت گزاری جانے والی زندگی کی عملی شکل اور اس کے لوازمات کی وضاحت کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ سرمایہ داری کے بازو ہیں جن کے سہارے یہ ایک عملی نظام زندگی کی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ 

علم معاشیات کا خاکہ 

اس اصولی تمہید کے بعد اب ہم معاشیات کے مضمون کے علمی ڈھانچے کا عمومی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ یوں تو معاشیات کے مضمون میں کئی مکتبہ ہائے فکر نمایاں اہمیت کے حامل ہیں، البتہ تین اہم ترین نظریات درج ذیل ہیں: 
۱) نیوکلاسیکل (neoclassical) یا مارکیٹ اکانومی جوسرمایہ داری کی لبرل (یعنی Individualistic ) تعبیر کی توجیہ و تشریح بیان کرتی ہے ۔
۲) سوشلزم و مارکسزم ، جو سرمایہ داری کی اجتماعی (collectivist)تعبیر بیان کرتی ہیں ۔
۳) سوشل ڈیموکریسی جو اول الذکر دونوں کی خامیوں کو دور کرکے اور خوبیوں کو جمع کرکے سرمایہ داری کے لیے ایک قدرے بہتر فریم ورک فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے ، اسے مکسڈ (mixed)اکانومی وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ 
ان تینوں نظریات کے اندر بذات خود کئی ذیلی نظریات بھی موجود ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ (اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے فقہ حنفی کے اندر پھر بریلوی یا دیوبندی کی تقسیم وغیرہ )۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام نظریات میں اختلاف اہداف (ends) پر نہیں بلکہ طریقہ کار (method) پر ہے ، یعنی لبرل سرمایہ داری ہو یا اشتراکی سرمایہ داری دونوں کے نزدیک اصل اہداف و مقاصد آزادی، مساوات اور ترقی ہی ہیں، البتہ اختلاف اس امر میں ہے کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کا درست طریقہ کار کیا ہے۔ ایک کے نزدیک وہ طریقہ مارکیٹ اکانومی جبکہ دوسرے کے نزدیک پلاننگ ہے۔ اسی طرح سوشل ڈیموکریسی بھی ان تینوں سے علیحدہ کوئی منفرد نظام نہیں بلکہ انہی مقاصد کے لیے دونوں کی خوبیوں کو جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیے جیسے فقہ کے مختلف مکاتب فکر میں یہ مقصد مشترک ہے کہ سب کے سب شارع ہی کی رضا حاصل کرنے کا درست طریقہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی معاشیات در حقیقت نیوکلاسیکل نظریہ اکنامکس کی ایک ذیلی شکل (off-shoot) ہے نہ کہ بذات خود کوئی علیحدہ مکتبہ ہائے فکر (independent school of thought)۔ ایسا اس لیے کہ اسلامی معاشیات نیوکلاسیکل اکنامکس کے تمام بنیادی تصورات کو ’فطری حقائق ‘ مان کر اس میں چند تحدیدات تجویز کرتی ہے۔ نیوکلاسیکل اکنامکس بنیادی طور پر سرمایہ دارانہ شخصیت ہیومن بینگ کے رویے سے بحث کرتی ہے جس کے مطابق : 
۱) انسان اصلاً آزاد ہے، اس کی خواہشات لامحدود ہونی چاہئیں اور زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ خواہشات کی تکمیل ہے۔
۲) ہر قسم کے نظام ہدایت سے علی الرغم اپنی خواہشات کی ترجیحات طے کرنے کا معیار ہر فرد کا نفس ہے جسے حاصل کرنے کی جدوجہد کا اسے حق ہے (every individual is the best judge of his own welfare) ۔
۳) عمل صرف کا مقصد زیادہ سے زیادہ لذت (utility maximization)کا حصول ہے۔ لذت پرستی کے اس انفرادی تعقل اور روحانیت کی بنیاد پر علم معاشیات صارف کا رویہ (consumer behavior) کچھ یوں بیان کرتی ہے کہ اس کا مقصد تو حصول لذت ہی ہوتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس اتنی آمدن نہیں کہ وہ اپنی تمام خواہشات پوری کرنے پر قادر ہو۔ لہٰذا صارف کو چاہیے کہ وہ حصول لذت کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ آمدن کمانے کی کوشش کرتا رہے اور ذرائع میں اضافہ کرنے کی جدوجہد کرنا ہی عقلمندی (rationality) کا معیار ہے۔
۴) پیداواری عمل کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع خوری (profit maximization) اور سرمایے کی بڑھوتری (accumulation of capital) ہونا چاہیے۔ پیداواری عمل میں منتہا اضافے کے لیے ضروری ہے کہ یہ عمل مسابقت (competition) کے اصول پر مرتب ہو اور ہر فرد کو چاہئے کہ وہ اپنی توانیاں اور مہارت (talent) سرمایے میں اضافے کے لیے تج کردے ۔
۵) تمام تر معاشرتی تعلقات غرض کی بنیاد پر قائم ہونے چاہئیں جن کا مقصد اپنے اپنے مقاصد کا حصول ہوتا ہے۔ 
ان تمام تصورات کوفطری ماننے کے بعد نیوکلاسیکل اکنامکس ان سوالا ت کا جواب دیتی ہے کہ:
الف) وہ کون سی معاشرتی ادارتی صف بندی (institutional arrangment)ہے جس کے نتیجے میں ہر فرد کے لیے سرمائے کی بڑھوتری اور عمل صرف کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں ۔
ب) حکومت کا تعلق معاشرے کے ساتھ کس نوعیت کا ہونا چاہیے، یعنی وہ ریاستی لائحہ عمل (state policy)کیا ہے جسے اپنانے کے نتیجے میں سرمایے کا اضافہ تیز ہوسکے اور سرمایے کی بڑھوتری کے لیے کس قسم کے محرکات کو معاشرے میں عام کرنا چاہیے، وغیرہ غیرہ ۔
نیوکلاسیکل ماہرین معاشیات کے خیال میں مارکیٹ (market) وہ ادارہ ہے جو سرمایے میں تیز ترین اضافے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، یعنی اگر تمام ذرائع پیداوار کو مارکیٹ کے تابع کردیا جائے تو سرمایے میں اضافے کی شرح سب سے زیادہ ہوسکے گی۔ مارکیٹ سے مراد وہ نظام ہے جہاں افراد غرض کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں اور کسی شے و خدمت کی قدر کا تعین اس معیار سے طے پاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مجموعی لذت (aggregate utility) اور سرمایے کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک کرکٹر کی تنخواہ امام مسجد سے کئی لاکھ گناہ زیادہ اس لیے ہوتی ہے کہ اس کے عمل سے سرمایے میں اتنی ہی مناسبت سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے، ایک ڈاکٹر کی فیس قرآن پڑھانے والے قاری صاحب کی فیس سے ، نیز بینک کے شریعہ ایڈوائزر کی فیس مدرسے کے مدرس سے اسی بنیاد پر زیادہ ہوتی ہے کہ ان کی صلاحیتیں سرمایے میں زیادہ اضافے کا باعث بنتی ہے۔ الغرض مارکیٹ جس بنیاد پر قدر کا تعین کرتی ہے، وہ سرمایے میں اضافے کا اصول ہے اور اس پیمانے کے علاوہ کسی عمل کی قدر متعین کرنے کا کوئی دوسراپیمانہ سرمایہ داری میں سرے سے مفقود ہے۔ طلب و رسد (supply and demand) کے قوانین سرمایے میں اضافے ہی کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ ان قوانین کے پیچھے جو ذہنیت (rationality) کار فرما ہوتی ہے وہ سرمایے میں اضافے (accumulation) اور مسابقت (competition) کی عقلیت ہے، یعنی مارکیٹ در حقیقت حرص و حسد (accumulation and competition) کی روحانیت کا اظہار ہوتی ہے۔ 
المختصر اس نظریہ معاشیات کے مطابق مارکیٹ وہ ادارہ ہے جہاں ہر شخص کو اپنی ’ہر قسم ‘ کی خواہشات حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کمانے کے موقع ملتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس معاشرتی صف بندی میں حکومت کا کام خود کاروبار کرنا نہیں بلکہ نفع خوری کے مجموعی عمل پر مبنی کاروبار کا تحفظ ہوتاہے جسے nightwatch man state کہتے ہیں۔ اس ریاست کا کام ایسا لائحہ عمل (macroeconomic policy) بنانا ہوتا ہے جس کے ذریعے مسابقت کی بنیاد پر قائم بڑھوتری سرمایے کا نظام باہمی مسابقت کی وجہ سے انتشار کا شکار نہ ہو۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مارکیٹ اکانومی میں بڑھوتری سرمایے کا طریقہ کمپنیوں کے درمیان مسابقت ہوتا ہے اور اس طریقہ کار میں یہ امکان ہمیشہ رہتا ہے کہ کمپنیوں اور افراد کی رسہ کشی کے نتیجے میں مجموعی نفع میں اضافے کے بجائے کمی ہوجائے، لہٰذا لبرل جمہوری حکومت ایسی پالیسی اپناتی ہے کہ متضاد مفادات (conflicting interests) کے گروہوں (مثلاً مزدور اور سرمایہ دار) اور کمپنیوں کی باہمی رسہ کشی کے باوجود مجموعی نفع میں اضافہ ہوتا چلا جائے ۔ 
اس تفصیل سے واضح ہے کہ نیوکلاسیکل اکنامکس جو معاشرتی و ریاستی لائحہ عمل فراہم کرتی ہے، وہ ہر گز بھی غیر اقداری نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ مقصد (عمل تکاثر) اور اخلاقیات (حرص و حسد ) کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مارکیٹ کا اثر و نفوذ تو معاشرے میں بڑھ رہا ہو مگر افراد حرص و حسد کی ذہنیت میں مبتلا نہ ہورہے ہوں۔ یاد رہے کہ مارکیٹ محض کسی ’مخصوص جگہ ‘ کا نام نہیں جیسے عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ مارکیٹ سے مراد ہر وہ تعلق ہے جس کی بنیاد زر کی مقدار کے عوض اشیا و خدمات کی لین دین ہو۔ موجودہ دور کے تعلیمی ادارے ، ہسپتال، کنسلٹنسی کمپنیاں وغیرہ بھی سب مارکیٹ میں شامل ہیں۔ انہی معنی میں مارکیٹ کسی مخصوص دائرہ عمل کا نام نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے یہاں تک کہ خاندان تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے جس کا نظارہ ہم مغرب میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی بات کو یوں کہا جاتا ہے کہ market is atotalizer۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مارکیٹ اب مدارس تک میں گھس آئی ہے جس کا اظہار علماے کرام کا پیسے لے کر فتوے دینے کی روش میں ظاہر ہے۔ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے پیسے لے کر فتوے دینے کے اس عمل کا خوبصورت نام ’کنسلٹنسی فرم ‘ اور ’بینک کنسلٹنسی‘ وغیرہ رکھ لیا گیا ہے۔ 

اسلامی معاشیات کا فریم ورک 

اسلامی معاشیات جدیدی (revisionist) فکر کا شاخسانہ ہے جس کا اصل ہدف مغرب کی اسلام کاری (Islamization of west) ہے۔ اس مکتبہ فکر کے خیال میں مغرب اور اسلام میں بنیادی نوعیت کی مماثلت پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ اسلامی تاریخ و علمیت کی معتبر تعبیر چھوڑ کر ایک نئی تعبیر تلاش و پیش کرتا ہے۔ اس فکر کے حاملین اسلامی تاریخ اور علمیت کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے، لیکن جدید دور میں پائے جانے والے تمام مغربی تصورات کو خیر تسلیم کرکے اسلامی تاریخ ہی کا تسلسل گردانتے ہیں۔ ان کے خیال میں سائنس کے اصل موجد تو مسلمان تھے نیز یہ کہ سائنس اصل میں مسلمانوں کی کھوئی ہوئی میراث ہے، کبھی ملٹی کلچرلزم (multi-culturalism) یعنی کثیر معاشرتی نظام کو مدنی معاشرے میں تلاش کیا جاتا ہے، امام ابوحنیفہ ؒ کی ذات میں موجودہ بینکاری نظام کا بانی دکھایا جاتا ہے، جمہوریت کو بھی اسلام ہی کا عطیہ قرار دیا جاتا ہے وغیرہ۔ المختصر دور جدید میں مقبول عام ہر جاہلانہ تصور کو کسی نہ کسی طرح اسلامی تاریخ سے جوڑ دینے میں ہی اسلام کی بقا سمجھی جاتی ہے ۔ 
اسلامی ماہرین علم معاشیات کے اوپر بیان کردہ فریم ورک کوغیر اقداری اور ’فطری‘ (یعنی انسانی فطرت کا جائز اظہار) سمجھ کراپناتے ہیں ۔ ان کے خیال میں معاشیات کا بنیادی مقدمہ تو عین درست ہے، البتہ اسے چند شرعی تحدیدات کا پابند بنانے کی ضرورت ہے، یعنی وہ لبرل سرمایہ داری کو ’دائرہ شریعت کا پابند ‘ بنانے کی بات کرتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے سیاسی مسلم مفکرین جمہوریت کو دائرہ شریعت کا پابند بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ گویا ان مفکرین کا مفروضہ ہے کہ لبرل سرمایہ داری کو شریعت کا پابند بنا کر اسلامی اہداف کا حصول ممکن ہے۔ چنانچہ اسلامی معاشیات کے ماہرین معاشیات کے ان مفروضات کو قبول کرتے ہیں کہ : 
۱) فرد کی خواہشات لامحدود ہونی چاہئیں۔
۲) اسے عملِ صرف مزے لینے (utility maximization) کے لیے ہی کرنا چاہیے۔
۳) کاروبار کا اصل مقصد نفع خوری (profit maximization) یعنی سرمایے کی بڑھوتری ہی ہونا چاہیے۔ 
لذت پرستی اور نفع خوری کے اس فریم ورک کو انفرادیت کے اظہار کا ’فطری حق ‘ مان کر اسلامی معاشیات کے ماہرین اس میں چند اسلامی تحدیدات (constraints) کا اضافہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زید کو عملِ صرف تو منتہا مزے اٹھانے کے لیے ہی کرنا چاہیے لیکن یہ لامحدود خواہشات پوری کرنے کے لیے اسے ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے معاشرے کی مجموعی لذت (aggregate utility OR social welfare) میں کمی نہ ہو۔ مثلاً یہ کہ وہ ایسی اشیا استعمال نہ کرے جن کی شرع میں ممانعت ہے وغیرہ۔ اسی طرح زید کے کاروبار کا اصل مقصد تو نفع خوری (profit maximization) ہی ہونا چاہیے، البتہ یہ نفع خوری معاشرے کے مجموعی مفاد اور نفع کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے، لہٰذا ضروری ہے کہ نفع خوری کے جذبات کو چند ضروری اسلامی تحدیدات کا پابند بنایا، یعنی وہ سرمایے میں اس طرح اضافہ نہ کرے جس کی شرع اجازت نہ دیتی ہو۔ مثلاً وہ چاہے تو زر کا بازار یعنی بینک تو بنائے، البتہ سودی کاروبار کرنے کے بجائے شرعی حیلے استعمال کرکے جائز طریقے سے سرمایہ دارانہ معاشرت کو فروغ دے، ایسے ہی سٹے کے بازار یعنی اسٹاک ایکسچینج میں شرعی اصولوں کے مطابق سٹے بازی کو فروغ دے۔ 
اسلامی معاشیات کے مطابق زید کے ’دائرہ شریعت کے پابند لذت پرستی اور نفع خوری ‘ کے اس رویے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں سب کے لیے زیادہ سے زیادہ لذت پرستی ممکن ہوسکے گی اور صحیح معنی میں سرمایے میں اضافے اور ترقی کا عمل تیز ہوسکے گا۔ ان ماہرین کے خیال میں اسلام کا مقصد بھی معاشی ترقی اور اجتماعی انصاف کا حصول ہے (Khursheed A: 1979, p. 226) ، تزکیے اور فلاح کا معنی وہی ہے جسے علم معاشیات میں ’زیادہ سے زیادہ انسانی ویلفئیر و بہبود ‘ (optimization of human well being) کہاجاتا ہے۔ (Khursheed A: 1979, p. 231)، بہتر زندگی و مادی بہبود و غیرہ کا فروغ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک حصہ تھا، نیز مادی وسائل کے حصول کی جدوجہد کرنا بھی اتنی ہی روحانیت کا باعث ہے کہ جتنا نماز ادا کرنا‘ (Chapra U: 1979, p. 197)۔ اسلامی ریاست کو انہی معنی میں ایک ویلفئیر اسٹیٹ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جن معنی میں سوشل ڈیموکریٹ معیشت دان اسے پیش کرتے ہیں۔ (Chapra U: 1979, p. 176, 200) اسلامی معاشرے میں بھی بینک اور اسٹاک ایکسچینج اسی طرح کام کرتی رہیں گی جس طرح سرمایہ دارانہ معاشروں میں ہم دیکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام اور سرمایہ داری میں اصولاً کوئی فرق نہیں کیونکہ جن تحدیدات کو ’اسلام‘ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، ان کا اصل مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ان کے نتیجے میں زیادہ لذت پرستی اور ترقی ممکن ہو سکے گی۔ (Chapra U: 1993, p. 113, 116) 

اسلامی معاشیات بطور سرمایہ داری کی خادم 

اس تفصیل سے عین واضح ہے کہ اسلامی تحدیدات (constraints) لگانے کا مقصد سرمایہ دارانہ اہداف (لذت پرستی، نفع خوری و سرمایے میں اضافے) کا رد نہیں بلکہ اس کے حصول کا درست طریقہ کا رہے جو ان مفکرین کے خیال میں اسلام فراہم کرتا ہے۔ جو چیز اسلامی معاشیات کے ایجنٹ (economic agent (کو موجودہ معاشیات کے ایجنٹ سے ممیز کرتی ہے، وہ ان کی زندگیوں کے اہداف کا فرق نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسلامی صارف طویل المدت (long term) لذت پرستی کے لیے قلیل المدت (short term) لذت پرستی کے رویے کو ترک کردیتا ہے، گویا وہ ایک عمدہ لذت پرست ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اسلامی ماہرین معاشیات دراصل Rule utilitarianism فلسفے پر عمل پیرا ہیں اور ان کے خیالات سوشل ڈیموکریٹ معیشت دانوں کے افکار کا ہو بہو چربہ ہیں۔ یعنی اسلامی معاشیات جو بنیادی بات کہتی ہے، وہ یہ ہے کہ زیدکو چاہیے کہ وہ زہد و فقر کی اقدار اپنانے کے بجائے دنیا سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونے کے لیے خوب عملِ صرف (consumption) کرے، ہاں حرام اشیا استعمال نہ کرے، نیز وہ کاروبار کو اللہ تعالیٰ کی رضا یا آخرت کا گھر کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے کرے، البتہ حرام اشیا کی پیداوار کا باعث نہ بنے۔ اسلامی معاشیات کے خیال میں اسلامی تعلیمات، مثلاً سود کی ممانعت و نظام زکوٰۃ کے اجرا وغیرہ، پر صحیح معنی میں عمل کرنے کا ثمر یہ ہوگا کہ معاشرے میں زیادہ سے زیادہ لذت پرستی کے مواقع فراہم ہو جائیں گے اور ’ا صل ترقی‘ تب ہی ممکن ہوگی جب اسلامی تحدیدات کے اندر رہتے ہوئے لذت پرستی اور نفع خوری کے مجموعی عمل کو فروغ دیا جائے گا۔ گویا لبرل مفکر کانٹ کی Kingdom of Ends اور اشتراکی مفکر مارکس کیMarxist Utopia کا خواب صحیح معنی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے بعد شرمندہ تعبیر ہو گا جہاں ہر فرد کو جو وہ چاہے گا، میسر ہوسکے گا ۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی ماہرین معاشیات یہ کہتے ہیں کہ سرمایہ داری اپنے لیے جو ہدف (عمل تکاثر) مقرر کرتی ہے، وہ تو عین حق ہے البتہ اس کے حصول کا درست طریقہ وہ نہیں جو معاشیات کا مضمون بتاتا ہے بلکہ اس کا اصل طریقہ تو اسلام کے پاس چودہ سو سال سے محفوظ ہے ۔ 
علم معاشیات کے اس فریم ورک کو غیر اقداری اور ٹیکنیکل سمجھ کر اپناتے وقت اسلامی ماہرین معاشیات یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے ذریعے وہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات مثلاً لذت پرستی، حرص وحسد، شہوت، مادی مفادات کی فوقیت وغیرہ کا اسلامی جواز فراہم کررہے ہیں کیونکہ اگر اسلام کا ہدف بھی ترقی اور سرمایے کی بڑھوتری ہی ہے نیز انسان کی خواہشات لامحدود ہونی چاہئیں توماننا پڑے گا کہ اسلام بھی لذت پرستی اور حرص و حسد جیسے رزائل نفس کے فروغ کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کی مخلص خدمت ہی کا صلہ ہے کہ جہاں استعماری طاقتیں دیگر شعائر و احکامات اسلامی کو تو مٹانے دینے کے درپے ہیں ، وہی طاقتیں اسلامی معاشیات و بینکاری کو ہاتھوں ہاتھوں لے کر کر خود اپنے ممالک میں فروغ دے رہی ہیں۔ شاید یہ پہلا اسلامی حکم ہوگا جس پر عمل کرنے کے لیے مسلمانوں سے زیادہ کفار گرم جوش ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس حکمت عملی کا خوبصورت نام 'Shariah compliance' (اصول شریعہ سے ہم آہنگی) رکھ لیا گیا ہے جس کا مطلب ’دائرہ شریعت کی پابند سرمایہ داری‘ ہے۔ اسلامی ماہرین معاشیات پر امید ہیں کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں ’اسلام ‘ کا فروغ ہوگا۔ اپنے آپ کودھوکہ دینے کی اس سے بہترین مثال شاید ہی کوئی دی جا سکے کیونکہ اس لائحہ عمل کا مقصد سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کا انہدام (Destruction)نہیں بلکہ اس کی اسلامی تطہیر (Reconstruction)اور سرمایہ داری کی اسلامی توجیہ (Islamic version of capitalism) تیار کرنا ہے۔ یہ حکمت عملی اپنانے والے مفکرین کبھی اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ اس نام نہاد Shariah complianceکے نتیجے میں جو انفرادیت و معاشرت عام ہو رہی ہے، وہ اسلامی ہے یا سرمایہ دارانہ؟ کیا اسلامی بینکاری کے نتیجے میں اس شخصیت کے وقوع پزیر ہونے کی ادنی امید بھی کی جاسکتی ہے جس کا نقشہ احادیث کی کتاب الرقاق میں پیش کیا جاتا ہے؟ کیا بلاسود بینکاری کے نام پر لوگوں کو مصنوعی طریقے سے معیار زندگی بلند کرنے کے لیے قرضے دے کر انہیں دنیا پرستی کا سبق دیا جاتا ہے یا زہد کا؟ اسلامی معاشیات کے بنیادی مقدمات مان لینے کے بعد جو شخصیت پروان چڑھے گی، وہ کیونکر تقوے و پرہیزگاری کا پیکر ہوگی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ حکمت عملی تو استعمال ہو اسلامی، مگر فروغ ہو سرمایہ داری کا؟ اس حکمت عملی کو اپنانے والے ماہرین یا تو سرمایہ داری سے ناواقف ہیں اور یا پھر اسلام سے۔ اسلامی معاشیات کی یہ حکمت عملی درحقیقت نظام اسلامی کے احیاء نہیں بلکہ اس کی تحلیل کی ضمانت ہے جس کے ذریعے دنیا پرستوں کی ایک فوج دین کے نام پر تیار کی جارہی ہے۔ 
اسلامی معاشیات کے اس فریم ورک کی ایک اور خامی فقہ اسلامی کا ناقص تصور قائم کرنا بھی ہے۔ علم معاشیات و بینکاری وغیرہ کو دائرہ شریعت کا پابند بنانے کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کو ئی علمیت نہیں بلکہ اسلام مخصوص اعمال و افعال (fixed dos and don'ts) کا نام ہے۔ یعنی اسلام کوئی ایسا با ضابطہ نظام نہیں جس کی ادارتی صف بندی خود اس کی اپنی علمی بنیادوں سے طے پاتی ہوں بلکہ وہ تو محض ایک ’مخصوص رویہ ‘ ہے جس کا اظہار کسی بھی نظام زندگی کے اندر ممکن ہے۔ ظاہر بات ہے اسلام اگر ایک علمیت اور دین ہے تو پھر کسی دوسرے نظام میں اس کی پیوندکاری کے کیا معنی ؟ خوب یاد رہے کہ دائرہ شریعت کی پابند معاشیات و بینکاری کا فروغ مقاصد الشریعہ و تزکیے وغیرہ کا نہیں بلکہ لذت پرستی، حرس و حسد، دنیا پرستی و بڑھوتری سرمایے کے فروغ کا ہم معنی ہے۔ اس اقرار کے بعد ہماری معاشرتی و ریاستی حکمت عملی کا مطمع نظر (end result) ایسی فضا پیدا کرنا نہیں ہوتا جس کے بعد لوگوں کے لیے اپنی ذات کو آقاے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں فنا کرنے کے زیادہ مواقع میسر آجائیں اور نبی علیہ السلام کی ہر سنت پر عمل کرنا نیز خلافت راشدہ کی طرف مراجعت ممکن ہوسکے، بلکہ ہم شرع کو چند گنے چنے افعال کا نام سمجھ کر حالات کے تناظر میں کم سے کم درجے کا تعین (retreat) کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے دائرہ شریعت کے اندر رہتے ہوئے اپنی خواہشات پر چلنا ممکن ہوسکے۔ ایسا نظام زندگی جس کی معاشرتی پالیسیاں اس کے نقطہ انتہا (optima) کے بجائے ادنیٰ درجے (minima) کے معیار سے متعین ہوں، خود اپنی موت کا سامان اکھٹا کرتا ہے کیونکہ انسانی زندگی کے دائرے عمل میں کسی ایک نظام کے سکڑنے کا لازمی مطلب کسی دوسرے نظام کی بالادستی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلامی بینکاری اور سودی بینکار ی کے کاروبار میں مماثلت بڑھتی چلی جارہی ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ حرام قرار دی جانے والی زری (financial) پراڈکٹس کی فہرست شرعی حیلے استعمال کرکے سکڑتی چلی جارہی ہے۔ دائرہ شریعت کے سکڑنے کا مطلب انسانی ارادے کی عمل داری (human self-determination) بڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ چنانچہ اسلامی معاشیات کے ذریعے انسانی آزادی یعنی سرمایے کی بڑھوتری کا جواز پابندی شریعت کی شرط کے ساتھ فراہم کیا جارہا ہے اور اس اصول کے مطابق ہم اسلام کو بطور مستقل نظام زندگی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر بطور چند حدود (limiting constraints) کے شامل (treat)کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ سرمایہ داری کا اسلام پر غلبہ ہوتا ہے اور نام نہاد اسلامی تحدیدات آہستہ آہستہ سکڑتی چلی جاتی ہیں۔ (جاری)

جمعے کی امامت اور غامدی صاحب کا نقطۂ نظر

الیاس نعمانی ندوی

ماہنامہ اشراق (بابت ماہ اپریل ۲۰۰۸ء) کے شذرات کے کالم میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی گفتگو پر مبنی ایک تحریر نظر نواز ہوئی ہے۔ عنوان ہے: ’’جمعے کی امامت‘‘۔ اسی کی بابت کچھ عرض کرنے کا اس وقت ارادہ ہے۔ غامدی صاحب کا حاصل مدعا خود انہی کے الفاظ میں یہ ہے:
’’جہاں تک جمعے کی نماز کا تعلق ہے تو اس کا قانون پنج وقتہ نماز سے کچھ مختلف ہے۔ اس کی رو سے مسلمانوں کے نظم اجتماعی، یعنی حکومت وریاست کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن جمعے کے روز خصوصی نماز کا اہتمام کریں۔ ۔۔۔اس نماز کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کا اہتمام عام مسلمان نہیںِ بلکہ ان کے حکمراں کرتے ہیں۔ اس کی امامت اور خطاب کا حق بھی انہی کو حاصل ہے اور اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہے۔‘‘
جمعہ کی امامت کی بابت یقیناًاصل حکم شرعی یہی ہے، اور ملت کے بعض مصالح کی بنا پر یہ ایک ایسا مؤکد حکم ہے کہ رسالت مآب (ﷺ) کی یہ صراحت بعض احادیث میں موجود ہے کہ امام متقی ہو کہ فاسق وفاجر بہر حال اس کے پیچھے نماز پڑھی جائیگی۔ (ملاحظہ ہو:سنن ابو داوٗد: ۲۵۳۳، سنن ابن ماجہ:۱۰۸۱)لیکن غامدی صاحب نے جس ’’گرد وپیش‘‘ میں پہلے یہ گفتگو فرمائی اور پھر اسی ماحول میں یہ شائع بھی ہوئی ہے اسکی بنا پر یہ عرض کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکم تب تک ہے جب تک حکمراں ( چاہے وہ فاسق وفاجر ہی کیوں نہ ہو) اسلام وکفر کی کشمکش میں کفر کی طاقتوں کا ساتھ نہ دے،اس کے برخلاف اگر اس کا حال یہ ہو کہ وہ عالمی سیاست میں ان طاقتوں کا حلیف اور معاون ہو جو اسلام کے خلاف براہ راست برسر پیکار اور قرآن مجید کے الفاظ میں ’إفساد في الأرض‘ کی مجرم ہوں ،وہ مملکت کے اندرامن عالم،اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو فوجی کاروائیاں کرنے کی اجازت دے اور خود بھی دوسروں کے کہنے پربے قصوروں کا قتل کرے تو ایسے حکمراں کا یہ حق ہرگز نہ ہوگا۔ بلکہ ایسی صورت میں شریعت کا اصل حکم تویہ ہے کہ ایسے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کر دیا جائے۔ (ملاحظہ ہو:بخاری:۷۰۵۶، مسلم: ۱۷۰۹)ہاں اگر ایسے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششوں میں کامیابی کی امید نہ ہو اور مزید فتنہ بھڑکنے کا ڈر ہو تو ان کو برداشت تو کرلیا جائے گا لیکن ان کو حکمرانوں والے اختیارات حاصل نہ ہوں گے۔
غامدی صاحب نے اپنی اسی گفتگو میں ’’جمعے کے منبر کے حکمرانوں کی تحویل سے نکلنے اور علما کی تحویل میں جانے کے نہایت مضر رساں[کذا] نتائج‘‘ بیان کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ :’’حکمرانوں کے لیے عبادت اور اللہ کے دین کے ساتھ تعلق کا ایک لازمی موقع ختم ہوگیاہے۔ حکمران اگر جمعے کے لیے مسجدوں میں آتے تو ان کا کچھ وقت عبادت میں گزرتا۔ خطبۂ جمعہ میں وعظ ونصیحت کے لیے انھیں دینی تعلیمات سے رجوع کرنا پڑتا۔ نماز کی امامت میں تلاوت کے لیے قرآن کے اجزاء کو یاد کرنا پڑتا۔ ایسی وضع اختیار کرنی پڑتی جو مسجد میں حاضری کے لیے موزوں ہو۔یہ ساری چیزیں ظاہر ہے کہ انھیں اللہ اور اس کے دین سے قریب کرنے کا باعث بنتیں‘‘۔لیکن ہماری عقل ناقص کے مطابق تو یہ خیال محض خوش فہمی ہی ہے، ہمارے حکمرانوں کا جب حال یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر سے دین پسندی کی ہر’’ تہمت‘‘ ہٹانا چاہتے ہیں، اقتدار میں آتے ہیں تو ’’عالمی برادری‘‘ کو یہ پیغام دینا اپنا فرض اولیں سمجھتے ہیں کہ وہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے قائل ہیں لہٰذا وقت کے چیرہ دست سپر پاوروں کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اوراس کے لیے ہر حد تک چلے جائیں گے، تو کیا ان حکمرانوں کے سلسلے میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اکیلا جمعے کا منبر ان کو راہ ہدایت پر لے آئے گا اور ’’انھیں اللہ اور اس کے دین سے قریب کرنے کا ‘‘ باعث بنے گا۔ اور کیا ان کو یہ خوف لاحق نہ ہوگا کہ اگر بر سر منبر ہوئے تو شدید تنقید اور احتساب کا سامنا کرنا پڑے گااور ایسی صورت میں ان کو عافیت کیا اس میں نظر نہیں آئے گی کہ ع
اگر ٹھہری یہ شرطِ وصلِ لیلیٰ
تو استعفیٰ میرا با حسرت ویاس
کہتے ہوئے راہ فرار اختیار کرلیں۔ خود غامدی صاحب کا بیان ہے کہ: ’’بنو امیہ کے زمانے تک جمعے کا منبر حکمرانوں ہی کے پاس رہا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ حکمران لوگوں سے خوف زدہ ہونا شروع ہوگئے۔ یعنی وہ جب مسجد میں آتے تو انھیں لوگوں کی تنقید اور رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے جمعہ کے منبر کو چھوڑ دیا‘‘۔ تو اب کے حکمراں کیسے عوام میں آئیں گے، اور کیسے وہ رد عمل سہیں گے جو ان کے ظلموں کے نتیجہ میں عوام میں پنپ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے نائبین کو جمعہ کا منبر سونپ دیں گے، اور ان کے نائبین؟ بس اللہ نہ کہلوائے۔
’’جمعے کے منبر کے حکمرانوں کی تحویل سے نکلنے اور علما کی تحویل میں جانے‘‘ کا ایک نتیجہ غامدی صاحب نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ:’’ مسجدیں فرقہ بندی کا مرکز بن گئی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ہر مسجد کسی نہ کسی فرقہ سے منسوب ہے۔ چنانچہ یہاں پر اہل حدیث کی مسجدیں ہیں،دیوبندیوں کی مسجدیں ہیں اور بریلویوں کی مسجدیں ہیں۔۔۔‘‘۔ لیکن اگر یہ منبر حکمرانوں کی تحویل میں ہوتے تو منظر اس سے بھی زیادہ درد ناک ہوتا، عالمی ایجنسیز میں سے جس کو جس علاقہ میں اپنے پاؤں جمانے ہوتے اس علاقے کی مسجدوں کے منبر اس ایجنسی کے زیر تصرف ہوتا، یہ خدشہ کوئی بے بنیاد نہیں ہے بلکہ ان حکمرانوں کا طرز عمل یہی بتاتا ہے، جو پالیسی ساز ادارے ان کے زیر تصرف ہیں کیا ان میں ایسا نہیں ہے؟ اکیلے محکمۂ تعلیم کی ہی مثال سب کچھ سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
اپنی اس گفتگو کے آخر میں غامدی صاحب نے اپنے موقف کو فقہ حنفی کے عین مطابق بتایا ہے، اس موقع پر غالباً ان کے ذہن سے یہ بات اوجھل ہوگئی کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے اپنی زندگی میں ہمارے بعض موجودہ حکمرانوں سے بدرجہا بہتر حکمرانوں کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کی مدد فرمائی تھی، یعنی امام صاحب کے نزدیک بھی ایسے حکمراں حکمرانوں والے حقوق نہیں رکھتے ورنہ وہ کیوں ان کے خلاف ہونے والی بغاوتوں میں کسی طور شریک ہوتے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ الشریعہ جون ۲۰۰۸ء کے شمارے میں ’’ غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے عنوان سے استاذِ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کے افکار پر آپ کی تنقید و تبصرہ دیکھنے کا موقع ملا۔ اصحاب المورد جب بھی اپنے پیش کردہ افکار پر کسی جید عالم کی طرف سے کوئی تنقید و تبصرہ دیکھتے ہیں تو تہہ دل سے اُن کے شکر گزار ہوتے اور یہ امید کرتے ہیں کہ علما کی یہ توجہ اُن کے لیے رہنمائی کی باعث ہو گی۔ چونکہ آپ نے راقم الحروف کی ایک تحریر کو غامدی صاحب کی فکر پر بحث کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے میں آپ کی اس حوصلہ افزائی سے ہمت پاتے ہوئے،آپ کی تنقید و تجزیے کے بارے میں کچھ گزارشات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
۱۔ آپ نے ایسا کیوں مناسب سمجھا کہ قرآن، سنت اور حدیث (اسوۂ رسول اور دین کی تفہیم و تبیین)، ان سب کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف، جو ان کی کتاب ’’میزان‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہوا ہے اور یہ کتاب آپ کو میسر بھی ہے، اُن کی کتاب کے بجائے ان کے ایک رفیق کار کی طرف سے کسی سوال کے جواب میں لکھی جانے والی تحریر سے اخذ کیا جائے؟ سوال کا جواب تو لازماً سوال کے زاویے اور اس کے دائرے کی محدودیت کے ساتھ وجود میں آتا ہے، اور کسی مخصوص سوال کے جواب میں مسئلے کے تمام پہلووں کا احاطہ مقصود نہیں ہوتا۔
۲۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاذ محترم ’’سنت‘‘ کی تعریف میں عام رائے سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن یہ محض اصطلاح کا اختلاف ہے۔ عام طور پر سنت کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تشریع کے طور پر قرآن کے علاوہ جو قول فعل یا تقریر صادر ہوئی، وہ سنت ہے‘‘۔ اس تعریف کے مطابق اعمالِ سنن، آپ کی بیان کردہ تفہیم و تبیین اور آپ کا اسوہ سب کچھ سنت شمار ہوتا ہے۔ جب کہ غامدی صاحب ’’سنت‘‘ کا اطلاق دین کے ان مستقل بالذات احکام پر کرتے ہیں جن کی ابتدا قرآن سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ دین سے متعلق احادیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اسے وہ دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:
۱۔ قرآن و سنت کی تفہیم و تبیین
۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ 
ان دو چیزوں کو وہ سنت کی اصطلاح کے تحت نہیں لاتے، بلکہ انھیں وہ تفہیم و تبیین اور اسوہ کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ 
’’(تفہیم و تبیین اور اسوہ کے )دائرے کے اندر ، البتہ اِس (حدیث) کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے ۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔‘‘  (اصول و مبادی، ص۱۵)
سوال یہ ہے کہ کیا غامدی صاحب نے واضح طور پر ’’سنت‘‘ کے علاوہ احادیث میں بیان ہونے والی تفہیم و تبیین اور آپؐ کے اسوے کی حجت کو پوری طرح سے تسلیم نہیں کیا؟ اگر تسلیم کیا ہے تو پھر آپ نے چھ نکات کی صورت میں غامدی صاحب پر جو اعتراضات بیان فرمائے ہیں، وہ بالکل وارد نہیں ہوتے۔
۳۔ آپ نے غامدی صاحب کی تعریف سنت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ:
’’جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاکم، قاضی، کمانڈر اور ڈپلومیٹ وغیرہ کے طور پر جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ فرمایا ہے، وہ بھی سنت کے مفہوم سے خارج ہے۔‘‘
ہمارا سوال یہ ہے کہ قضا اور تشریع میں فرق تو علماے امت نے ہمیشہ کیا ہے۔ یہی فرق غامدی صاحب بھی کر رہے ہیں، اور اسی لیے وہ قضا سے متعلق امور کو ’’سنت‘‘ میں نہیں لاتے۔
۴۔ آپ نے ایمان بالقدر اور مسلمانوں کے جہنم سے نکلنے کے بارے میں جو احادیث بیان کی ہیں، غامدی صاحب انھیں اسی طرح قبول کرتے ہیں جیسے آپ کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں وہ آپ سے مختلف نہیں ہیں، لہٰذا اس حوالے سے بھی ان پر اعتراض سمجھ میں نہیں آتا۔
۵۔ آپ نے غامدی صاحب کی اس رائے کو کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کو وفات دینے کے بعد آسمان کی طرف اٹھایا گیا تھا، حدیث کو حجت تسلیم نہ کرنے کا نتیجہ قرار دیا ہے، حالانکہ یہ اختلاف دراصل ’متوفیک‘ کی تفسیر پر مبنی ہے۔ اگر ’متوفیک‘ کی وضاحت کسی حدیث میں موجود ہوتی اور غامدی صاحب اس کی نسبت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مانتے ہوئے اس سے اختلاف کرتے تو آپ کا اعتراض درست قرار دیا جا سکتا تھا،لیکن کیا کوئی ایسی مستند حدیث موجود ہے جس میں ’متوفیک‘ کی تفسیر کرتے ہوئے یا ویسے بطور ایک واقعہ کے یہ بات کہی گئی ہو کہ مسیح علیہ السلام کو زندہ اٹھایا گیا تھا؟
محمد رفیع مفتی
ریسرچ فیلو، المورد
(۲)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
امید ہے کہ آپ ایمان وصحت کی بہترین حالت میں دین متین کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہم سب کو ہمہ وقت دین کی خدمت کے لیے قبول رکھے۔
حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات تمام اہل حق کے لیے نقصان عظیم ہے، مگر موت تو اٹل حقیقت ہے اور اس کائنات رنگ وبو میں آیا ہی ہر کوئی جانے کے لیے ہے۔ ایسے حضرات بظاہر ’کل نفس ذائقۃ الموت‘ کے قاعدے کے تحت موت کا پیالہ ضرور پیتے ہیں کہ اس کے بغیر چارۂ کار نہیں اور قدرت کا طریقہ کار بھی ہے نیز رب تعالیٰ کا فیصلہ بھی جہاں چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کی گنجایش ہی نہیں، مگر ایسے حضرات مرتے نہیں ہیں بلکہ اپنے تقویٰ، اخلاص، للہیت، اپنی دینی خدمات، اپنی تحریر اور اپنی شاندار تدریسی اور تقریری روایات کی شکل میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ حضرت نے دنیا سے انتقال ضرور فرمایا ہے اور حضرت پر وہ کیفیت جس کا نام موت ہے اور جو نزع وسکرات سے شروع ہو کر روح کی پرواز پر ختم ہوتی ہے، ضرور طاری ہوئی ہے مگر حضرت اپنی مختلف تصانیف اور اپنے دروس اور اپنے تلامذہ کی شکل میں زندہ ہیں۔ بارہا حضرت کی خدمت میں حاضری کا سوچا مگر میری انتہائی بدقسمتی تھی کہ زیارت سے محروم رہا اور آپ کے انتقال کا دو دن کے بعد گاؤں میں علم ہوا۔ بہر کیف رب کریم نے جو توفیق دی، تلاو ت اور استغفار کی صورت میں ہدیہ بھیجنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔
اس خط کے ذریعے سے حاضری کا اصل مقصد تو آپ سے تعزیت ہے، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا شکوہ بھی کہ شکوہ بھی ہمیشہ اپنوں سے ہی کیا جاتا ہے نہ کہ غیروں سے۔ دو شمارے قبل ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں سیف الحق نامی ایک صاحب نے، جو خدا جانے قادیانی ہیں یا پرویزی، جدید روشن خیال یا مادہ پرست، یا کسی این جی او کے نمائندہ ہیں، بیک جنبش قلم دنیا بھر کی جہادی تحریکات کو لتاڑا ہے اور اس انداز میں رگیدا ہے کہ گویا دنیا بھر کی مشکلات کا سبب یہی تحریکات ہیں اور شاید موجودہ معاشرے کے سب سے بڑے گنہگار بھی۔ حالانکہ میرے ایمان کے مطابق یہی چند تحریکات اس وقت گھپ اندھیرے میں امید کے چراغ ہیں۔ تنظیمات اور ادارے افراد پر مشتمل ہوا کرتے ہیں اور افراد مختلف طبائع، رنگ ونسل نیز تعلیم، برادری، علاقائیت اور مختلف قسم کی تربیت کے حامل ہوتے ہیں۔ غلطیاں افراد میں ہوتی ہیں، ان کا الزام اداروں یا تنظیمات کو دینا کم ظرفی ہی نہیں، بے وقوفی بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی تنظیم ٹھیک ہے اور کون سی غلط، سوال یہ ہے کہ اگر القاعدہ سے لے کر حماس تک، حرکت المجاہدین سے لے کر حزب المجاہدین تک، اور جیش محمد سے لے کر لشکر طیبہ تک یہ سب غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟ اور اگر یہ جو کچھ کفار کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں تو پھر جہاد وقتال کہاں ہے اور نعوذ باللہ قرآن پاک کی وہ ۴۸۲ آیات کس کھاتے میں ہیں جو جہاد وقتال سے متعلق ہیں؟ اگر یہ سب کچھ غلط ہے تو پھر جو لوگ کشمیر ، افغانستان، عراق اور چیچنیا میں شہید ہو گئے ہیں، وہ کس کھاتے میں ہیں اور پھر ماضی میں تمام اکابر علماے حق مثلاً ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب، ڈاکٹر شامزئی شہید، حضرت لدھیانوی شہید، مفتی عبد السمیع شہید، مفتی احمد الرحمن شہید اور حضرت ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی سرپرستی کس کھاتے میں ہے؟ نیز حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کا مجاہدین کے ساتھ تعلق اور سرپرستی اور مختلف مواقع پر ان کا خطاب اور تربیتی نشستوں میں تعلیم کس طرح جائز ہے؟ 
میں صرف ایک مثال دوں گا۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں تقریباً ۱۷۸۰ نفوس قدسیہ کو خاک وخون میں غرق کر دیا گیا۔ اب اس کے مقابلے میں ری ایکشن تو ہونا ہی تھا اور اگر یہ کچھ نہ ہوتا تو شاید آج تک بڑے بڑے مدارس بھی بلڈوز ہو چکے ہوتے۔ آج مذہبی جماعتیں ہوں یا سیاسی، نہ جانے کس مجبوری کے تحت مشرف/بش ایجنڈے کی تکمیل میں کوشاں ہیں، سوائے چند ایک جماعتوں کے جو اب بھی صحیح نہج پر چل رہی ہیں۔ ہم وانا کا گلہ کرتے ہیں۔ میں اصل دشمن کے علاوہ جہاں کوئی اور چارہ کار نہ ہو، کسی کے خلاف خودکش حملوں کو جائز نہیں سمجھتا ۔ میں بھی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے قتل عام کا قائل نہیں ہوں، مگر آپ ہی فرمائیں یا سیف الحق صاحب جواب دیں کہ جب مرد، عورتوں کی جامہ تلاشی لیں گے یا جب کسی مطلوب فرد کی جوان بہن، جوان بیوی یا ۶۰ سالہ بوڑھی والدہ کو تھانوں میں ننگا کیا جائے گا تو کیا وہ فوج اور پولیس پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرے گا یا اپنی جان داؤ پر لگا کر انھیں سبق سکھلائے گا؟ جب کشمیری مجاہدین کو ہراساں کیا جائے گا بلکہ انہیں گرفتار کر کے ان کے ساتھ بدترین سلوک ہوگا تو پھر رد عمل کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر کسی تنظیم کے کسی فرد نے پاکستان میں کوئی کارروائی کی ہے تو وہ انفرادی انتقام تو ہو سکتا ہے، تنظیمی پالیسی نہیں۔ 
گستاخی معاف، مگر یہ چند تلخ حقائق ہیں جن کا ادراک ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ڈالروں کے عوض ہمارے نمازی پرہیز گار لوگوں کو امریکہ کے ہاتھ بیچا گیا؟ ان کا کیا جرم تھا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ آج ہر ڈاڑھی والے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہے؟ کیا دین دار لوگوں کو جینے کا حق نہیں؟ اور پھر معاملات یہاں تک پہنچے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے اعلیٰ عہدے دار کو خود انصاف کی بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ یہ سب کچھ یہودیوں اور عیسائیوں کے ایجنٹوں کی کارستانی ہے جو انہوں نے ہمارے اوپر مسلط کیے ہوئے ہیں، کبھی مشرف شیطانی کی شکل میں اور کبھی نام نہاد گیلانی کی شکل میں۔ انہوں نے دین کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہیں۔ فوج کے لیے یہ بدنامی کا سبب ہیں۔ قومی ہیروز کو یہ ذلیل کر رہے ہیں اور پاکستان کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور دیگر عالم کفر کے معاون ہیں۔ کیا بچا ہے ا س ملک میں؟ یہ سب کچھ قرآن وسنت اور جہاد سے روگردانی کا نتیجہ ہے۔ اگر جہاد اپنے جوبن پر ہوتا تو شاید یہ دن اس بدقسمت پاکستانی قوم کو نہ دیکھنے پڑتے۔
مانا کہ آپ حضرات انتہائی وسیع الظرفی کے ساتھ دین کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں اور کھلے دل ودماغ کے ساتھ لوگوں کو دعوت فکر دے رہے ہیں، نیز بحث ومباحثہ میں سنجیدہ رویہ اپنا رہے ہیں، مگر کہیں فراہی صاحب، غامدی صاحب اور مودودی صاحب کی طرح حد سے باہر ہی معاملہ نہ نکل جائے۔ ایسی تحریر جو لچر گفتگو پر مشتمل ہے، جس میں صرف اندھی تنقید ہو اور جس سے خبث باطن ظاہر ہو رہا ہو اور جس میں ذاتی بغض کارفرما ہو، ایسی تحریر ایسے علمی مجلہ کے ہرگز لائق نہیں بلکہ میرے خیال میں تو ایسی تحریر کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنا بھی اس ٹوکری کی توہین ہوگی۔ ایسی تحریرات کو چھان پھٹک کر رسالہ کی زینت بنانا چاہیے، نہ کہ جو رطب ویابس آئے، اسے شائع کر دیا جائے۔ حضرت صوفی صاحب، حضرت شیخ الحدیث صاحب اور پھر مولانا زاہد الراشدی کا پوری دنیا میں ایک نام ہے۔ ایسی تحریرات ان کے لیے بھی بدنامی کا سبب ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نازک وقت میں مجاہدین جو درحقیقت محافظین اسلام وپاکستان ہیں، ان کی پشت پناہی کی جائے نہ یہ کہ اپنے پاکیزہ مجلے میں اسلام وجہاد دشمن عناصر کی تحریرات شائع کر کے کفر کے ہاتھوں کو مضبوط کیا جائے۔ جو کچھ یہودی اور عیسائی اور لادین عناصر کہہ رہے ہیں، وہی زبان اگر ہم نے بھی استعمال کی تو پھر شاید ہماری داستاں بھی نہ رہے داستانوں میں۔ 
اگر کوئی بات طبع پر گراں گزرے تو پیشگی معذرت۔ ویسے بھی ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔
قاضی محمد حفیظ 
ناظم تعلیمات مدرسہ عبد اللہ بن عمر
میرا تنولیاں۔ مظفر آباد۔ آزاد کشمیر
(۳)
محترمی ومکری حضرت مولانا زاہدا لراشدی صاحب
السلام علیکم 
امید ہے کہ مزاج گرامی بعافیت ہو ں گے۔ گزشتہ ماہ حضرت صوفی صاحبؒ کے ارتحال کی خبر علمی حلقوں کے لیے حادثہ فاجعہ سے کم نہ تھی کہ قحط الرجال کے دور میں ایسی جبال العلم ہستیا ں یقیناًاللہ تعالیٰ کا محض فضل اور رحمت ہوا کرتی ہیں۔ جنازہ میں حاضری ہو گئی تھی مگر ازدحام کی بنا پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ آپ سے تعزیت کے ساتھ رب العزت سے عاجزانہ التماس ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی دینی خدمات کواپنی بارگاہ عالی میں قبول فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں۔ آمین۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی اکابرین کے صحیح جانشین اور تمام اہل علم کے لیے سرمایہ حیات ہیں۔ ر ب کریم سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادم دیر ہم سب پر قائم رکھے اور ہم سب کو ان کی روحانی برکات سے حصہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔
’’الشریعہ ‘‘ ہمارے مدرسہ میں اعزازی مل رہا ہے جس کے لیے ہم انتہائی مشکور ہیں۔ حالات حاضرہ اور بعض علمی نکات کے حل میں الشریعہ کا شاید ہی کوئی ثانی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اس سعی کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔
ماہ اپریل ۲۰۰۸ ء کے شمارے میں ’’مکاتیب‘‘ کے ذیل میں کسی سیف الحق نامی (سیف الحق کم اور زیغ الحق زیادہ) شخص کا خط شائع ہوا ہے۔ خط کیا ہے، الزامات ا ور ہر زہ سرائی کا مرقع ہے۔ ہمیں اس شخص کی تحریر پر کو ئی دکھ نہیں، اس لیے کہ برتن کے اندر سے وہی کچھ نکلتا ہے جو اس میں بھر ا ہوتا ہے۔ اس شخص کاامیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد، شیخ اسامہ، ایمن الظواہری اور دیگر مقتدر ومحترم شخصیات وتنظیمات پر کیچڑا چھالنا چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے اور چاند پر تھوکا ہو ا ہمیشہ تھوکنے والے کے اپنے منہ پر گرتا ہے اور چاند اپنی اسی آب وتاب کے ساتھ چمکتا رہتا ہے۔ 
اعتراض یہ نہیں کہ کسی ناعاقبت اندیش نے ان محترم حضرات کے خلاف زبا ن کیوں استعمال کی۔ وہ تو بیمار ذہنیت کا مالک تھا، یہاں توجدید روشن خیالی کی آڑ میں امام بخاری ؒ کو بھی گالیاں دی جاتی ہیں۔ شکوہ تو یہ ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ جیسے موقر جریدے میں، جو کہ علماے حق اور اسلامی تحریکات کا نمائندہ اور ترجمان سمجھا جاتا ہے، یہ زہر آلودہ تحریر کیسے شائع ہو گئی۔ حیرت ہے کہ آپ کے ادارے نے اس تحریر کو من وعن شائع کر دیا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو یا آپ کے ادارے کے کسی شخص کو اس تحریر سے اتفاق نہیں ہو گا، لیکن کیا کوئی تحریر آپ کے ادارہ میں کسی علما دشمن اور جہاد مخالف اور اکابر امت کے خلاف گندی گالیوں سے آلودہ پہنچتی ہے تو کیا آپ اس کو بغیر تبصرہ کے اور بغیر کسی تحقیق کے شائع کر دیں گے جس سے یہ تاثر ملے کہ آپ کے ادارے کا بھی کسی درجے میں اس سے اتفاق ہے؟ حضرت محترم! اس خط سے سینکڑوں مجاہدین اور ہزاروں اہل علم کی دل آزاری ہوئی ہے اور ہزاروں شہدا کے ورثا کو تکلیف پہنچی ہے۔ عالم بالا سے شہدا کی ارواح آپ سے سوال کر رہی ہیں کہ آپ توہمارے سرپرست تھے، آپ نے توہمیشہ تحریری وتقریری طور پر ہماری حمایت کی ہے، آپ کادست شفقت تو ہمیشہ ہمارے سر پر رہا ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ ہمیں اس تحریر میں نہ صرف یہ کہ مطعون کیا گیا بلکہ ہماری شہادت کو بھی مشکوک بنایا گیا۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ وحدت امت کا داعی اور غلبہ اسلام کا علمبردار کہلاتا ہے، لیکن اس قسم کاروے سخن جو اس خط میں مستعمل ہوا، وہ اس نعرے کی نفی کرتا ہے۔ وحدت تو تب ہی قائم ہو گی جب حقائق کو مسخ نہ کیا جائے بلکہ دن کو دن اور رات کو رات کہا جائے۔ غلطی ممکن ہے۔ خطا سے مبراکوئی نہیں مگر بیک جنبش قلم دنیا بھر کی تحریکات جہاد کی نفی اور ا ن پر لعن طعن کم از کم ماہنامہ الشریعہ اور اس کے عملہ کے وقار کے منافی ہے۔ یقیناًیہ خط آپ کی جہاد کی حمایت میں لکھی گئی تحریر کا جواب ہے مگر یہ خط صرف سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ اور محرر کے باطنی بغض کا اظہار ہے۔ یہ کسی فلمی اخبار یا مجلے کی زینت تو بن سکتا ہے مگر ’الشریعہ‘ جیسے پاکیزہ مجلے کے اجلے دامن پر بدنما اور بد بودار داغ ہے۔ اگر تحریر میں کوئی سقم ہو تو پیشگی معذرت ۔
(مولانا) محمد فاروق کشمیری
امیر حرکت المجاہدین جموں وکشمیر 
(۳)
بخدمت جناب ابوعمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ 
میں ..... یونیورسٹی ..... کے شعبہ فائن آرٹس کی طالبہ ہوں۔ روزنامہ اسلام میں آپ کے کالم کی قاریہ بھی ہوں۔ عموماً آپ کے کالم فکری، انقلابی اور تہذیبی تصادم کے متعلق ہوتے ہیں۔ فکری انقلاب کسی معاشرے کو بدلنے کے لیے جڑ اور بنیاد ہے۔ اللہ کرے یہ بات دینی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کی سمجھ میں آجائے۔ اگر دینی جماعتوں کے کارکن، تمام دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور طالبات ہفتہ میں صرف دو دن تعلیمی اوقا ت سے فارغ ہو کر صرف دوگھنٹے، ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے، بے لوث ہو کر، جذبہ رحم سے، فروعی اختلاف سے ہٹ کر، خالص دینی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر دیں اور اس میں تسلسل جاری رکھیں تو اس کا وہ نتیجہ نکلے گا کہ بڑی بڑی کانفرنسیں، جلسے اورطویل تدریسی محنت وہ نتیجہ نہیں دے سکتی۔ غریب اورمتوسط طبقہ آپ کا میدان ہے۔ انقلاب ہمیشہ اسی طبقے سے آتا ہے اور قربانی بھی یہی طبقہ دیتا ہے، مگر علما اور دینی جماعتوں کا اس طبقہ سے عمومی رابطہ نہیں ہے۔
حضر ت مجد د الف ثانی ؒ نے طبقہ امرا میں جس طرز پر محنت کی، اس کے نتیجہ میں جو دینی اقدار کو بعد والی صورتوں میں تحفظ ملا، علما کا ایک طبقہ جو سنجیدہ ہو، جو دینی ضرورت پر ذاتی خواہشات کو قربان کرنا جانتا ہو، مضبوط علمی دلائل کے ساتھ تحمل وبرداشت کا عنصر رکھتاہو، ایسے علما حضرت مجد د الف ثانی کے طرز پر اپنے علاقے کے اعلیٰ افسران، صوبائی وقومی اسمبلی کے ممبرا ن، ناظم وغیرہ سے دینی بنیا د پر بار بار ملاقات کریں، ان سے رابطہ پیدا کریں، خطوط کے ذریعہ اعلیٰ سطح پر اٹھنے والے دینی مسائل کو مضبوط دلائل سے ذہن نشین کرا کر قانون سازی کرنے والوں پر دباؤ بڑھائیں۔ آپ صرف چھ ماہ اس کا تجربہ کرلیں اور پھر برسوں کی محنت کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذکرلیں، آپ خود حیران ہوں گے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے قبل علما اور عمومی وفود دینی مسائل دیکر ان کو اجلاسوں میں روانہ کریں، ان کی طرف سے قانون ساز اداروں میں دینی آواز کا اٹھنا دینی کام کرنے والوں کے لیے معاون ہوگا۔
آپ فکری اور تہذیبی کشمکش کی بات ہر مجلس میں کرتے ہیں۔ میر ی گزارش ہے کہ اسلامی تہذیب کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ اسلامی تہذیب وتمدن سے ایک مسلم نوجوان کیسے متعارف ہو سکتا ہے؟ یورپ وامریکہ جو اپنی تہذیب کو اعلیٰ تہذیب کہتے ہیں، اس میں اور اسلامی تہذیب میں بنیادی فرق کیا ہے؟ اس کے متعلق کوئی جاندار کتاب اگر ہو تو رہنمائی کریں۔ یورپ اور امریکہ میں دفتروں میں، علاج معالجہ، جانی ومالی تحفظ، عوامی سہولیات میں جو مراعات ہیں، کیا یہ اسلامی تہذیب کاحصہ نہیں جو ہم نے چھوڑ دیا اور انہوں نے اپنا لیا؟
مولانا صاحب !دینی مدارس کے متعلق چند تلخ حقیقتیں تحریر کرنے کی جسا ر ت کر رہی ہوں۔ امیدہے محسو س نہیں کریں گے۔
(۱) علما اور دینی طبقہ میں دوسرے کا موقف سننے کے لیے تحمل وبرداشت بالکل نہیں، جلد غصہ میں آجاتے ہیں اور اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔
(۲) دینی کام جس طبقہ میں کرناہے، اس کے لیے طویل منصو بہ بندی اور نفسیات کا مطالعہ اور رعایت نہیں۔
(۳) طریقہ تعلیم میں طلبا کا چناؤ نہیں، ہر طالب علم کو ایک جیسا نصا ب پڑھنا پڑتا ہے، خواہ اس کی استعداد رکھتا ہو یا نہیں، خواہ اس کی طبیعت کا میلان اس مضمون میں ہو یا نہیں، حالانکہ آپ کا موجودہ نصاب فطین، نہایت ذہین اور ذہین کے لیے مفید ہے، متوسط اور غبی کے لیے اس نصاب کوجاری رکھنا اس کے ساتھ زیادتی ہے۔
(۴) بچیوں کے نصاب پر آپ کے علما خود مطمئن نہیں۔ جو مقصد آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے حاصل نہیں ہو رہا اور قوم کا کروڑوں روپیہ اس پر خرچ ہو رہا ہے۔ جو استعداد چار سال پڑھ کر فارغ ہونے والی طالبات میں ہے، میرے سروے کے مطابق وہ صرف ایک سال میں صرف اردو کی دینیات کا نصا ب مرتب کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔
۵۔ مولانا صاحب! میرے اور کچھ طلبا کے ذمہ دینی مدارس کا تعلیمی اور تہذیبی سروے کرنا تھا جسے ایک ماہ میں مکمل کرنا تھا۔ اس کی چند بنیاد ی چیزیں جو عملی مشاہد ہ میں آئیں، تحریر کر رہی ہوں۔
(۱) دینی مدارس میں صفائی کا اہتما م نہیں۔
(۲) عمارت کی اکثر تعمیر بغیر منصوبہ بندی کے کی جاتی ہے جسے کئی دفعہ گرا کر بنانا پڑتاہے اور قوم کا سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔
(۳) اساتذہ اور منتظمین مدرسہ کا معاشی معیار میں فرق ہے جس سے چھوٹے اساتذہ میں کافی احساس کمتری ہے۔ بعض مدارس کے منتظمین کے آفس وزرا کے آفس معلوم ہوتے ہیں جبکہ درسگا ہ میں دری بھی پھٹی ہوئی ہے اور شعبہ حفظ کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔
(۴) شعبہ حفظ جو مدارس کا بنیادی شعبہ ہے، اس میں اساتذہ کا انتخاب انتہائی غیر معیاری ہے جس میں سادہ حفظ کے علاوہ کوئی تعلیمی قابلیت شرط نہیں، کوئی تدریسی تربیت ضروری نہیں، حالانکہ بچوں میں یہی زمانہ فکری انقلاب کا ہے۔ شعبہ حفظ کے اساتذہ کی اکثر یت سادہ اردو، بنیادی دینی تعلیم، اپنے شعبہ کے متعلق بنیادی تجویدی قواعد کا علم نہیں رکھتی۔ تمام علما کی رائے ہے کہ مکمل حفظ فرض نہیں مگر طلبا کو ان میں حفظ کی صلاحیت ہویانہ، حفظ پر مجبور کیا جاتا ہے، سخت سزا دی جاتی ہے۔ بعض طلبا ایسے بھی تھے جن کو شعبہ حفظ میں چھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا مگر حفظ مکمل نہ تھا۔ شعبہ حفظ کے بچوں کے لیے بنیادی لکھنے پڑھنے کا اہتما م نہیں، بنیادی دینی تعلیم بھی اس شعبہ کے نصا ب میں شامل نہیں ۔
(۵)ہمیں شعبہ عربی اور اسلامیات کے پروفیسر حضرات کی طرف سے دینی مدارس کے تعلیمی وتہذیبی سروے میں راہنمائی کے لیے ایک سوال نامہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے کچھ سوال فقہ کے متعلق تھے۔ چنانچہ ایک بڑے دینی ادارہ کے کچھ طلبہ سے رابطہ کر کے میں نے ہدایہ کی جماعت کے چند طلبہ سے گفتگو کی۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ چار سال سے فقہ کا مضمون پڑھ رہے ہیں اور یہ آخری کتاب ہے۔ میرا سوال تھاکہ اگر میں اپنے لاکٹ میں دس لاکھ کا ہیرا بطور زینت کے لگوا لوں تو کیا اس کی مالیت پر مجھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟ نیز جدید کاروبار کے متعلق چند عمومی سوال تھے، مگر کوئی طالب علم مجھے مطمئن نہ کر سکا۔ آپ کے موجودہ نصاب میں ہر فن میں بعض قدیم ترین کتب شامل ہیں جو موجودہ زمانہ میں اپنی افادیت شاید نہ رکھتی ہوں اور موجودہ ز مانہ کے تقاضوں کو پورا نہ کریں، مگر ان کی تعلیم بدستور جاری ہے جو وقت کا ضیاع معلوم ہوتا ہے۔ مکمل نصاب عربی میں ہونے کے باوجود عربی ز بان وادب کی اہلیت نہیں۔
(۶) دینی مدارس کے متعلق سنا تھا کہ ان کا اصل مقصد اخلاقی ودینی تربیت ہے۔ اس کے ٹیسٹ کے لیے تہذیب وکلچر کی پروفیسرصاحبہ نے تین طالبات اور تین طلبا کوتیارکیا۔ طالبات کا لباس دینی مدرسہ کے ماحول کے اعتبار سے کوئی بہت زیادہ مناسب نہ تھا۔ آخری سال کے طلبہ سے ملاقات مقصودتھی۔ طالبات کو ہدایت تھی کہ گفتگوکے دوران سوالات کے جواب سے زیادہ جواب دینے والوں کی جسمانی حرکات نوٹ کرنی ہیں۔ مولانا صاحب!آپ یقین کریں کہ ان کی حرکات یونیورسٹی کے طلبہ سے کوئی زیادہ مختلف نہ تھیں۔ بعض طلبا نے اشاروں میں فقرے بھی کہے۔
(۷) دینی مدارس کا چندہ کیسے ہوتا ہے؟ مدارس کے سفیر کیا کرتے ہیں؟ کچھ طلبہ نے اس پر سروے کرنا ہے۔ غالباً رمضان المبارک میں اس پر کام ہوگا۔ اگراس کی رپورٹ مجھے مل سکی تو ضرور ارسال کروں گی۔
مولانا صاحب! میر ا تعلق بنیاد ی طورپر مذہبی گھرانہ سے ہے۔ اپنی دوست کے ذریعے جو ایک عالم کی بیٹی ہے، آپ کا ایڈریس معلوم کر کے یہ خط ارسال کر رہی ہوں اور آپ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اسلامی تہذیبی اقدار اور روایات کے متعلق کوئی مواد عنایت فرما سکیں تو عنایت ہوگی۔ شاید اپنے شعبہ میں کسی موقع پر میں اسلام کی ترجمانی کر سکوں۔
ایک مزید گزارش ہے کہ ایک دینی تعلیمی نصا ب تجویز فرماکر ممنون فرمائیں جس کے تین درجے ہوں: چالیس روزہ، چھ ماہ، ایک سال۔ تعلیمی دورانیہ یومیہ چار گھنٹے میں جس کو کم فرصت خواتین وحضرات فائد ہ حاصل کر سکیں اور علما وعالمات کے ذریعہ اسے محلوں میں شروع کیا جا سکے جس سے معاشرہ کی دینی ضروریات پوری ہو سکیں۔ 
حنا ر اشد
(۴)
حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب 
سلام مسنون! امید ہے مزاج گرامی خیریت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قدم قدم پر حفاظت فرمائیں۔
ایک سال سے زیادہ عرصہ سے ’’الشریعہ‘‘ کا قار ی ہوں۔ رسالہ جاری کروانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آپ کی معتدل سوچ ہے اور اسلامی فلسفہ کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دوسرا جہاں بہت سے اکابر ا سلام کی فکری اور نظریاتی سرحدات کے محافظ ہیں، الحمدللہ آپ کا شمار بھی ان میں سے ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ اٹھتا ہے تو آپ کی رائے کی طرف بھی خصوصیت سے توجہ ہوتی ہے کہ آپ اس مسئلہ کے بارے میں کیا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ 
’’الشریعہ‘‘ کا اداریہ بہت عمد ہ ہوتا ہے جس کو پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے، مگر بعض اوقات مضامین کی بھرمار ہوتی ہے۔ سوائے آپ کے اداریہ کے باقی مضامین انتہائی مشکل، طویل اور ذہن پر مزید بوجھ لاتے ہیں اور طبیعت اکتا جاتی ہے۔ الشریعہ کے تمام مضامین پر کمانڈ نہیں ہوتی۔ اگر الشریعہ صرف علما اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے ہے تو پھر تود رست ہے لیکن اگر متوسطہ طبقہ کو بھی آپ اپنے ساتھ شامل رکھنا چاہتے ہیں تو پھر مضامین کا معیار اونچا ہو مگر عام فہم ہوں تاکہ قاری آسانی کے ساتھ مطلوبہ نتائج تک پہنچ سکے۔ انڈیا کا ’’الفرقان‘‘ اس وقت ایک بہترین جرید ہ ہے جس کے مضامین اور اداریوں کو جتنی داد دی جائے کم ہے۔ اول تا آخر پورے رسالہ پر اپنی فکر کو حاوی رکھتے ہیں اور آگے پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور جس چیز کو حق سمجھتے ہیں، پوری جرات سے اس کو بیان کرتے ہیں، خواہ کوئی چین بہ جبیں ہو۔ آپ سے بھی یہی گزارش ہے کہ ازاول تا آخر رسالہ آپ کی فکر ونظر کا امین ہو اور ہمارے اکابر کی فکر ونظر کاامین ہو۔ موجود ہ زمانے کی کشمکش میں اسلامی فکر کو جس طرح ہمارے اکابر نے پیش کیا ہے، اس کی مثال نہ ملے گی۔ 
انتہائی ادب کے ساتھ صرف سمجھنے کے لیے دوسری گزارش پیش کرنے کی جرات کر رہا ہوں۔ جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں سالگرہ سے متعلق آپ کا اداریہ پڑھا۔ اس میں آپ نے گنجایش دی ہے مگر عوام تو حدود کو پھلانگ جاتے ہیں۔ یہی سالگرہ بے جا اسراف اور غیرشرعی امور مثلاً فوٹو گرافی، ویڈیو وغیرہ کا سبب بن جاتی ہے اور اس سالگرہ میں ناچ اور گانے وغیرہ کی محفل بھی بعض دفعہ سجائی جاتی ہے۔ عوام کو تھوڑی سی اجازت ملنے سے حدود سے تجاوز ہو جاتا ہے۔ 
علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں: ’’اگر کوئی فعل خلاف شریعت ہو تو وہ گناہ او ر معصیت ضرور ہو گا مگر بدعت نہیں کہا جا سکتا۔ بدعت وہی ہے جس کو دین کا کام سمجھ کر او ر موجب اجر وثواب خیال کر کے کیا جائے۔ اس سے بدعت اور رسم میں فرق نکلتاہے ۔ رسم بے اصل اور خلاف شرع ہوتی ہے مگر بہت سی رسوم کو دین سمجھ کر نہیں کیا جاتا۔ بخلاف بدعت کے کہ وہ بے اصل ہے مگر لوگ اسے دین سمجھ کر کرتے ہیں۔‘‘ (فضل الباری ۴۴ تا ۴۵ ج ۱) اس سے معلوم ہوا کہ رسم بھی معصیت ہے۔ 
خدا م الدین صفحہ ۳۲ جنوری ۲۰۰۴ء میں دارالافتا جامعہ فاروقیہ کے فتویٰ کا متن شائع ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’سالگرہ ایک فضول رسم ہے۔ اس میں مال خرچ کرنا اسراف اور وقت صرف کرنا تضییع اوقات ہے، لہٰذا اس سے بہرصورت اجتناب ضروری ہے۔ مسلمانوں کا وقت اورمال اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے ہے۔‘‘ 
فتاویٰ رحیمیہ جلد ۱ صفحہ ۱۹۲ میں عنوان ہے: ’’سالگرہ کا کیا حکم ہے؟‘‘ سائل کہتا ہے کہ انگلینڈ میں عیسائیوں کے اندر بچہ کی سالگرہ (برتھ ڈے) منانے کا دستور ہے۔ جواب میں مفتی صاحب نے دیگر احادیث کے ساتھ ساتھ ’من تشبہ بقوم فھو منھم‘ بھی درج کی ہے۔ ۱۹۲سے ۱۹۶تک اس پر بحث کی ہے۔ ص۱۹۴پر لکھا ہے کہ ’’حضرت عثمان بن ابی العاص ختنہ کی دعوت میں شریک نہ ہوتے تھے۔ .... رسم سالگرہ، یہ خالص غیر اقوام کا طریقہ اور ا نہی کی رسم ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکورہ طریقہ سے اجتناب کریں ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ‘‘
خیرالفتاویٰ ص۵۵۴ جلد۱ میں ختنہ کی دعوت کو بدعت لکھا اور شریک ہونے سے منع فرمایا ہے۔ نیز ۵۶۷ جلد۱ پر سہرا بندی کو رسم کفر کہا ہے۔ اب سوال یہ ہے اگر سالگر ہ منائی جا سکتی ہے تو پھر ختنہ کی دعوت اور پھر سہرا بندی کا جوپرانا رواج ہے، اس کا کیا بنے گا؟ دوسری بات یہ کہ کیا واقعی سالگرہ ہماری علاقائی رسم ہے یا عیسائیت کی رسم ہے؟ تیسرے اگر حدود سے تجاوز ہو تو پھر بھی علاقائی رسم سمجھ کر شرکت کرنا درست ہے یا نہیں؟ 
میرے ذہن میں چند اشکالات تھے جولکھ دیے ہیں۔ باقی اس بے ادبی اور جرات پر پھر معافی کا خواستگار ہوں۔ چونکہ آپ کی شخصیت عام نہیں ہے، لہٰذا آپ کے اقوال اور قلم سے نکلے ہوئے الفاظ پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے۔ جب آپ کی طرف سے اجازت سمجھیں گے تو شاید کل وہ کسی بڑے فساد میں مبتلا ہو جائیں، کیونکہ سنت تو حد بند ی کرتی ہے مگر رسم کی کوئی حد بندی نہیں۔ یہ ایک رواں دواں سلسلہ ہے جو آنے والے وقت میں نئے نئے گل کھلاتا ہے۔ 
محمد اسلم معاویہ 
چاہ ملک والا ڈاکخانہ مریالی
ڈیرہ اسماعیل خان 
(۵)
محترمی و مکرمی جناب عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ ہفتے محترم مولانا زاہد الراشدی کے دست شفقت سے ’الشریعہ‘ جون ۲۰۰۸ء کا شمارہ ملا جس کو ابتدا سے آخر تک پڑھنے کا موقع ملا۔ ’الشریعہ‘ کے کلمہ حق سے لے کر اخبار و آثارتک ایک ایک چیز متعدد مرتبہ پڑھی۔ پڑھنے کے بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ بلا شبہ ’الشریعہ‘ جیسے رسالہ کی یقیناًضرورت تھی، ایک ایسا رسالہ جس میں علمی ابحاث کے ساتھ ساتھ جدید زمانہ میں پیدا ہونے والے مسائل پر بھی علمی اور تحقیقی انداز میں قلم اٹھایا جائے اور جو جدیدزمانہ میں عوام کی رہبری و راہنمائی اور شرعی مسائل سے آگاہی کا فریضہ سرانجام دے سکے۔ میرے خیال میں الشریعہ دینی رسائل میں اعلیٰ مقام کا حامل مجلہ ہے۔ آج کے دور میں اس وقت تک کو ئی عالم معاشرہ کے مسائل پر تک قلم نہیں اٹھا سکتا جب تک وہ معاشرتی، سماجی، سیاسی اور معاشرہ میں پائے جانے والے رسوم رواج سے آگاہ نہ ہو۔ آج ہمارا دینی طبقہ عوامی مسائل اور سماج سے بہت دور ہے ا ور شاید یہ دوری کئی خلیجوں سے کم نہ ہو۔ الشریعہ اس لحاظ اپنی ذمہ داری پو ری کرتا نظر آاتا ہے۔ ۲۵ جون کو اسلامک میڈیا فانڈیشن کے اجلاس منعقدہ گوجرانوالہ کے موقع پر الشریعہ کے چند سابقہ شمارے بھی ملے جن کو پڑھنے کے بعد اپنے احساس کو مزید تقویت ملی۔ اللہ آپ کی اس محنت جلیلہ کو قبول فرمائے۔ 
حافظ محمد ابوبکر چودھری (سابق لکچرر) 
پنجاب یونیوسٹی کالج آف انفار میشن ٹیکنالوجی 
پنجاب یونیوسٹی لاہور 

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی‘‘

’’ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی افکار کا تقابلی جائزہ‘‘ (برائے ایم فل اقبالیات) کی مبسوط جلدسامنے ہے۔ یہ مقالہ جناب محمد یونس میو کے رشحات قلم کا نتیجہ ہے۔ پہلے تو اتنی ضخیم کتاب کو دیکھ کر ایک مرعوب کن تاثر ابھرتا ہے۔ ساتھ ہی خیال گزرتا ہے کہ اتنی ضخامت میں رطب و یابس بھی ہو گا۔ آخور کی بھرتی ہی سے ایسی طول کلامی ہو سکتی ہے، کیونکہ ’ خیرالکلام ماقل ودل‘ کا فرمان رسول بھی اپنے ا ندر حقائق کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ شیکسپیئر نے بھی کہا تھا اور سچ ہی کہا تھا: Brevity is the soul of will ۔
قاری حوصلہ کر کے پہلے تو اس کے محتویات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر جی کڑا کر کے آگے بڑھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں اس کے مشمولات نظر سے گزرتے ہیں، ایک بے نام مسرت بھی ہوتی ہے اور مقالہ نگار کی ژرف نگاہی کے لیے ستایش کا داعیہ بھی ابھرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حسن ترتیب کی گرہیں بھی کھلتی چلی جاتی ہیں، تاآنکہ پیش لفظ سے گزر کر پہلے باب اور پھر چھٹے باب کے آخر میں فقہ واجتہاد اور کتابیات تک پہنچتے پہنچتے یہ مرعوبیت فاضل مقالہ نگار کی علمی وجاہت کی حد تک تو قائم رہتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، مگر علم وآگہی اور معلومات فراواں کی جو قندیلیں فروزاں ہوتی چلی جاتی ہیں، ان کی روشنی میں دونوں جید ہستیوں ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی کی فکری مماثلتیں اور ذہنی ہم آہنگی کے مختلف پہلو دل ودماغ میں نئی کسمسا ہٹیں پیدا کر دیتے ہیں۔ دونوں کے تعلیمی نظریات، سیاسی نظریات بالخصوص دو قومی نظریہ، تصوف، نظریہ شعر وسخن، تحریک علی گڑھ اور اس کے اساطین کے بارے میں مستند معلومات اور آخر میں دونوں کے نظریہ اجتہاد اور دینی تفقہ سے متعلق گراں قدر معلومات قاری کو ایک انسائیکلوپیڈیائی فضا میں لے جاتی ہیں۔ 
مقالہ نگار کا یہ تقابلی مطالعہ ا ن کی علمی بصیرت، تحقیقی کاوش، موضوع پر مضبوط گرفت اور ہمہ جہت مطالعے کا آئینہ دار ہے۔ ان عظیم شخصیتوں کے افکار وخیالات اور احوال وکوائف کے ساتھ ساتھ کتنی ہی علمی وادبی شخصیات کے احوال وآثار اور روشن فکری کے گوشے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ دیوبند، علی گڑھ اور ندوۃ العلماء کی کئی جہتیں اس مقالے سے روشن تر ہو کر سامنے آ گئی ہیں۔ سید انور شاہ کشمیری، خواجہ عزیزالحسن مجذوب، مولانا ڈاکٹر عبدالحئ عارفی، ذکی کیفی، سید سلیمان ندوی، مولانا شاہ حکیم محمد اختر جیسے مختلف الجہات عظیم رجال اپنی گوناگوں صفات کے ساتھ صفحہ قرطاس پر منتقل ہو گئے ہیں۔ 
سیاسی میدان میں اقبال وتھانوی کے ساتھ ساتھ سرسید احمد خان، قائد اعظم محمد علی جناح، موہن داس کرم چند گاندھی، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عبدالباری جیسی سیاسی شخصیات کے سیاسی نظریات اور موضوع مقالہ کی دونوں عظیم شخصیتوں سے ان کے ربط وارتباط کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ 
یوں تو مقالے کا ایک ایک باب اور ہر باب کے ذیلی عنوان اپنی پوری تحقیقی روح کے ساتھ مقالہ نگار کے علم وآگہی کا پتہ دیتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے اس کی تحریر وتسوید، مواد کی چھان پھٹک، اصول تحقیق کی پابندی سے لے کر تبویب وتدوین کے جملہ مراحل میں کئی ہفت خواں طے کیے ہیں، تاہم تصوف اور اجتہاد جیسے دقیق موضوعات میں اصل مآخذ سے استفادہ کرنے کی صلاحیت نے مقالے کو بڑا ہی جاندار، شاندار اور قابل قدر بنا دیا ہے۔ 
وحدت الوجود جیسا دقیق اور پیچیدہ موضوع جس میں اتفاق واختلاف رکھنے والے مشرق ومغرب کے بعد پرہیں، علامہ اقبال اور مولانا تھانوی کے تعلق سے تحقیقی مقتضیات کو پورا کرتے ہوئے اس سے عہدہ برآ ہونا مقالہ نگار کی علمی گہرائی اور فنی مہارت کا غماز ہے، بالخصوص یہ باور کرانا کہ علامہ اقبال مولانا تھانوی کے پیروکار تھے اور اسے پرزور دلیل سے ثابت کرنا کارے دارد۔ موصوف کی یہ رائے ہے کہ ’’مولانا کے اتحاد وحلول کی نفی اور وجود حقیقی کامل کے سامنے ان کے وجود کو کالعدم اور لاشی سمجھنا‘‘ ایک دلیل قاطع ہے۔
تصوف کی بات چھڑی تو مقالے میں دونوں بزرگوں کی زندگی سے متعلق معلومات تو ہیں ہی اور ان کی فکر کے میلانات تو سامنے آئے ہی ہیں، ابن عربیؒ ، حلاج، جلال الدین رومی اور حافظ شیرازی سے ان کی فکری یگانگت یا جزوی اختلافات بھی نکھر کر منظر عام پر آ گئے ہیں۔ ان اتفاقات واختلافات کو سامنے رکھ کر قاری خود اخذ نتائج اور اقامت رائے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ 
تقلید واجتہاد کا باب اس مقالے میں خاص اہمیت کاحامل ہے۔ علامہ اقبال کا تجدیدی فکرونظر کے لیے سراپا ستایش ہونا اور عموماً تقلید سے گریز کی راہیں تلاش کرنے کے باوجود ان کی ذہنی یافت کا نتیجہ ہے۔ مقالہ نگار نے ڈاکٹر سید عبداللہ کے حوالے سے اقبال کا ایک اقتباس پیش کر کے انہیں تقلید جامد سے متنفر اور تقلید اجتہاد آمیز کا قائل ثابت کیا ہے، کیونکہ اقبال ایک طرف تو کہتے ہیں:
کامل بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد
دوسری طرف ان کا کہنا ہے :
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی 
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے 
خطاب ’’مطالعہ اقبال کے چند نئے رخ‘‘ از عبداللہ کا اقتباس یہ ہے : ’’اگرچہ یورپ نے مجھے بدعت کا چسکا ڈال دیا ہے، تاہم میرا مسلک بھی وہی تھے جو قرآن کا ہے۔ میرا میلان بھی قدیم کی طرف ہے۔‘‘ (مقالہ ہذا، ص۴۳۲)
جہاں تک مولانا تھانوی کا تعلق ہے وہ تو مسلمانوں کے شاندار ماضی کے بہت بڑے مناد ہیں۔ وہ اپنی تمام تحریروں میں ماضی کے شفاف آئینے میں جھانک کر حال واستقبال کی اصلاح و ابقا کے بہت بڑے علمبردار ہیں۔ وہ ماضی سے کسی صورت میں ہٹ سکتے ہیں نہ کٹ سکتے ہیں۔ یوں دونوں ( اقبال و تھانوی) میں کامل ہم آہنگی موجود ہے۔ دونوں ہی ماضی سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔ اس مقام پر دونوں میں فکری مماثلت بھی بدرجہ اتم پیدا ہو گئی ہے اور عملی مساعی بھی قدرے اختلاف کے ساتھ ایک جیسی ہو گئی ہیں۔ دونوں تجدد کے زبردست مخالف ہیں، مگر بصد احتیاط تجدید واجتہادکے سرگرم داعی بھی ہیں۔ ترکی کی مغرب پرستی اور غیر اسلامی تجدد، اذان ونماز کو ترکی زبان کاجامہ پہنانا دونوں کے نزدیک ناقابل قبول بھی ہے اور ناقابل عمل بھی۔ مقالہ نگار نے اس پہلو کوبطریق احسن پیش کیا ہے۔ دونوں کے نزدیک اجتہاد وتجدید دین کا دروازہ تو کھلا ہے مگر ہرکہ ومہ کومنہ اٹھائے اندر جانے کی اجازت نہیں، سوائے ان اہل خبرونظر کے جواس میں داخلے کی اہلیت و استعداد سے بہرہ مند ہوں۔ ان کے نزدیک صلاحیت وصالحیت دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ 
پایان کار یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ اتنے اچھے مواد کو جس حسن وخوبی سے پیش کیا گیا ہے وہ لائق توصیف ہے مگریہ بات رہ رہ کر کھٹکتی ہے کہ اس ضخامت کے مقالے کی مسودہ خوانی جس امعان نظر کے ساتھ ہونی چاہیے تھی، نہیں کی گئی۔ زیر نظر کاپی میں ان گنت غلطیاں ہیں۔ بہت سی تصحیح کر دی گئی ہے مگر بہت سی ایسی باتیں ہیں جو استیعا باً مطالعے کی متقاضی ہیں جس کے لیے فاضل مقالہ نگار کو خصوصی محنت ودقت نظر سے کام لینا چاہیے۔ اشعار میں بہت غلطیاں ہیں اور عربی عبارات میں تو اغلاط کی بھرمار ہے۔ جب تک ان کانٹوں کو ہٹا نہیں دیا جاتا، یہ گل تراپنی اصلی بہار نہیں دکھا سکتا۔ 
میرا خیال ہے کہ اگر ان اغلاط کا ازالہ کر دیا جائے تو یہ مقالہ ایم فل کے چوٹی کے مقالات میں شمار کیے جا نے کے قابل ہے۔ معلومات کی فراوانی، اسلوب کی ندرت، تحقیق وتدقیق کے تقاضوں کی تکمیل اور موضوع سے شیفتگی کی حد تک وابستگی اس تحریرکو اہل ذوق کے لیے اپنی سطح کا ایک نادرہ کار کارنامہ بنا رہی ہے۔ مقالے میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔ موضوع وسعت طلب تھا، اس میں گہرائی کا آنا ایک بدیہی امر تھا۔ مقالہ نگار نے ’’دریا بحباب اندر‘‘ کے مصداق اس وسعت صحرا کو سمیٹ کر قارئین کے سامنے پھولوں سے لدی پھندی کیاری بنا دیا ہے۔ 
(پروفیسر غلام رسول عدیم)

’’عصر حاضر میں اجتہاد: چند فکری وعملی مباحث‘‘

(۱)
لغت کا ایک لفظ ہے ’یلغار‘۔ اس لفظ کے ساتھ فوری طور پر یہ تصویر ذہن میں بنتی ہے کہ ایک گروہ یا لشکر اپنی قوت کے بل بوتے پر دوسرے کو پچھاڑنے، بے بس کرنے یا اپنی مرضی کا تابع بنانے کے لیے امڈا چلا آ رہا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے دین اسلام کے کچھ ’ہمدردوں‘ نے تو واقعی اس لفظ کے پردے میں خود اسلام کی ’تشکیل نو‘ کے لیے یلغار کر رکھی ہے۔ وہ جو دین کی ابجد سے بھی واقف نہیں اور وہ جو اس لفظ کے دائرۂ اثر کی نزاکتوں اور عملی سطح پر اس کی وسعتوں تک سے بے خبر ہیں، وہ بھی اس لفظ کو اس زعم میں گھما پھرا کر اسلامی فکریات کے ایوان پر دے مارتے ہیں کہ گویا اہل دین تو دین اور دنیا سے بے خبر بیٹھے ہیں اور عقل ودانش کی دولت بس اس یلغاری گروہ کی ملکیت ہے۔ یہ ایک عجیب منظر ہے۔ 
مولانا زاہد الراشدی اس کتاب میں مذکورہ صورت حال پر نظر دوڑانے کے ساتھ علماے کرام کو دین، ایمان اور عقل کی بنیاد پر وسعت نظر، منصبی ذمہ داری اور قوت عمل کی دعوت دیتے ہیں: ’’ایک طرف سرے سے اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اجتہاد کے نام پر امت کے چودہ سو سالہ علمی مسلمات اور اجتماعی اصولوں کا دائرہ توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حق ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔‘‘ (ص ۲۸۷)
زیر نظر کتاب اجتہاد کے حوالے سے اس بحث کے پس منظر، عملی جہتوں، اس کے مقدمات، نظائر، امکانات اور مضمرات کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ قاری بڑی حد تک معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھ لیتا ہے۔ چونکہ یہ کتاب مولانا راشدی کے ان بیش تر اخباری کالموں پر مشتمل ہے جو انھوں نے اکتوبر ۱۹۹۰ء سے تاحال سپرد قلم کیے (مگر اخباری کالم ہونے کے باوجود ان میں گہرائی اور تازگی ہے) چنانچہ اس عرصے کے دوران میں زیر بحث موضوع کے بارے میں اٹھنے والے مناقشوں کا ایک ریکارڈ بھی سامنے آ جاتا ہے۔ مصنف نے استدلال کے لیے عام فہم نظائر اور مثالوں کو خوبی سے چن چن کر فکر وخیال کا دیوان سجایا ہے۔ چند در چند ناہمواریوں کے باوجود اہل دین ان کی اس کاوش کو یقیناًخوش آمدید کہیں گے۔
مصنف کو علمی حلقے ایک معتدل شخصیت کے طور پر جانتے ہیں، تاہم زیر تبصرہ کتاب میں یہ نثر پارہ ان کی مذکورہ حیثیت کو متاثر کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’مولانا ]عبید اللہ[ سندھیؒ اور ابو الکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انھیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی جو خود مولانا مودودی اور ان کے رفقا نے ان کی تحریروں پرعلما کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات پر اپنا لی تھی۔ چنانچہ اس روش کے نتیجے میں وہ جمہور علما ]؟[ کے مدمقابل ایک فریق کی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے۔‘‘ (ص ۳۱۷) اس ٹکڑے میں الزام تراشی اور مبالغہ آمیزی کا وہ لحن کارفرما ہے جو گزشتہ صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے میں منظر پر چھایا ہوا تھا۔ ]موصوف نے یہ عجب دعویٰ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی نے اس غوغا آرائی کا جواب نہ ہونے کے برابر دیا اور ان کے رفقا نے گنتی کی چند چیزوں کے سوا کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ دوسری جانب سے تنقید کا ایک طوفان اٹھایا جاتا رہا[ سبحان اللہ، ان ’جمہور علما‘ میں سے واقعی کتنے حضرات نے خدا ترسی اور علمی مناسبت سے تنقید کی اور کتنے حضرات نے عصبیت کی چوکھٹ پر سچائی، اخلاق، علم اور شائستگی کا خون کیا؟ مذکورہ بالا فرد جرم کا جائزہ اور ’جمہور علما‘ کے اسلوب نگارش کا گل دستہ اس مختصر تبصرے میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ’کرم فرماؤں‘ کو خوش رکھے۔ (تبصرہ نگار: سلیم منصور خالد)
(بشکریہ ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور، جولائی ۲۰۰۸)
(۲)
ابو عمار زاہد الراشدی علمی حلقوں میں نام ور ہیں۔ ان کے یہ مضامین مختلف اخبارات اور ماہنامہ الشریعہ (گوجرانوالہ) میں شائع ہوئے اور اب اس موضوع کو انھوں نے زیر نظر کتاب میں یکجا کر دیا ہے۔ 
مولانا راشدی صاحب پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’اجتہاد موجودہ دور میں زیر بحث آنے والے اہم موضوعات میں سے ایک ہے اور دین کی تعبیر کے حوالے سے قدیم وجدید حلقوں کے درمیان کشمکش کی ایک وسیع جولان گاہ ہے۔ اس پر دونوں طرف سے بہت کچھ لکھا گیا، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا اور جب تک قدیم وجدید کی بحث جاری رہے گی، یہ موضوع بھی تازہ رہے گا۔‘‘
اجتہاد کے حوالے سے دو نقطہ نظر ہیں۔ ایک طبقے کا نظریہ ہے کہ اجتہاد کی تکمیل ہو گئی ہے اور اب مزید کی ضرورت نہیں رہی اور دروازہ بند کر دیا۔ دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ اجتہاد کا عمل جاری رہنا ضروری ہے اور ان کے نزدیک اس دروازے کو بند کرنا نقصان کا باعث ہے۔ مولانا راشدی صاحب نے ان مضامین میں اس بحث کو مختلف انداز میں دیکھا ہے۔ اب اگر ہم راشدی صاحب کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ان کا ایک نہایت اہم خطبہ ’’دور جدید میں اجتہا دکی ضرورت اور دائرۂ کار‘‘ دیکھنا ہوگا۔ مولانا فرماتے ہیں:
’’جہاں تک اجتہاد کے بنیادی اصول وضوابط کے تعین کی بات ہے، اس کا دروازہ تو ابتدائی تین صدیوں کے بعد اس لحاظ سے بند ہے کہ اس کے بعد اجتہاد کا عمل انھی دائروں میں ہوتا آ رہا ہے جو مسلمہ فقہی مکاتب فکر نے طے کر دیے تھے اور یہ دروازہ کسی کے بند کرنے سے بند نہیں ہوا، بلکہ ضرورت پوری ہو جانے کے بعد فطری طور پر خود بخود بند ہو گیا ہے جیس اکہ کسی بھی علم کا فطری پراسس ہوتا ہے۔‘‘
مولانا راشدی صاحب اکثر ملکی اور غیر ملکی سفر کرتے ہیں، اس لیے ان کا مکالمہ عام طور پر عوام سے ہوتا ہے جنھوں نے اجتہاد کا نام تو سنا ہے مگر اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ شاید عالم لوگوں کا خیال ہے کہ مذہب کو ضرورت پڑنے پر تبدیل کر دیا جائے تو یہی اجتہاد ہے، جبکہ ایسا نہیں۔ دین کے بنیادی قوانین میں ترمیم ممکن نہیں ہے، وہ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ اجتہادی گنجایش ہر جگہ ممکن بھی نہیں ہے۔ 
مولانا کے انداز تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کے مسائل اور مطالبات کو زیر بحث لاتے ہیں اور ان کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا انداز بیان سہل ہے، اس لیے قارئین کو ان کی بات سمجھنے میں دقت پیش نہیں آتی۔ زیر نظر کتاب کی خوبی یہی ہے کہ یہ عام لوگوں کے لیے جو عالم نہیں ہیں، لیکن اپنے طور پر دین کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اجتہاد بھی ایک ایسا ہی سوال ہے۔ اس کتاب میں اس موضوع پر تمام سوالات کے جواب آپ کو مل جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس کتاب کی تدوین سے ایک مشکل موضوع کو ایک آسان راستہ مل گیا۔ یہی خوبی راشدہ صاحب کی ہے۔ وہ مشکل بات کو آسان انداز میں بیان کرنے پر بے پناہ عبور رکھتے ہیں۔ (تبصرہ نگار: جاوید اختر بھٹی)
(بشکریہ ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان، جولائی ۲۰۰۸)

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

ادارہ

(شعبان المعظم ۱۴۲۸ھ تا رجب ۱۴۲۹ھ ۔ ستمبر ۲۰۰۷ء تا اگست ۲۰۰۸)

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ایک علمی، فکری اور تعلیمی ادارہ ہے جو ۱۹۸۹ء سے درج ذیل مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہے:
  • امت مسلمہ کو درپیش فکری وعملی مسائل کا تجزیہ وتحقیق اور ان کے حل کے لیے درست خطوط پر رہنمائی
  • امت مسلمہ کے مختلف علمی مکاتب فکر اور نظریاتی تحریکات کے مابین مفاہمت، رواداری اور رابطہ وتعاون اور اشتراک کی فضا کا فروغ
  • مغربی فکر وتہذیب کے پیدا کردہ نظریاتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی چیلنجوں کے مضمرات کے درست ادراک اور ان کے مقابلہ کے لیے صحیح لائحہ عمل کی وضاحت
  • روایتی دینی حلقوں میں جدید فکر وفلسفہ، معاصر دنیا کے احوال ووقائع اور نشر وابلاغ کے جدید ترین ذرائع، ان کے طریق کار اور اثر ونفوذ سے آگاہی اور شعور کا فروغ
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (فاضل وفاق المدارس العربیہ، ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔ 
اکادمی کی سال رواں کی رپورٹ احباب ومعاونین کی خدمت میں پیش ہے:

اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز

  • ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 
  • کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں چار دیواری کی بنیادیں بھرنے کے علاوہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کا ایک بلاک بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ 
  • کھوکھرکی گوجرانوالہ کے مخیر بزرگ حاجی مہر عبد العزیز صاحب نے جہانگیر کالونی میں ایک کنال رقبہ پر دو منزلہ جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ تعمیر کر کے اس کا انتظام الشریعہ اکادمی کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس کا انتظام اکادمی چلا رہی ہے۔ مولانا مجاہد اختر (فاضل درس نظامی) کو مسجد ابوذرؓ کا خطیب اور امام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خطابت وامامت کے ساتھ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور علاقہ کے نوجوانوں کے لیے فہم دین کورس بھی جاری ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں

  • مقامی بچوں اور بچیوں کے لیے نا ظرہ قرآن کریم کی کلاسیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں، جبکہ کوروٹانہ میں تعمیر کیے جانے والے مرکز میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی کلاس بھی جاری ہے۔
  • گزشتہ سال میٹرک پاس طالبات کے لیے وفاق المدارس کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق درجہ ثانویہ عامہ وثانویہ خاصہ پر مشتمل دو سالہ کورس کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کورس میں شریک طالبات کو تجوید کی ضروری تعلیم دینے کے علاوہ عربی ادب وانشا کے ساتھ مناسبت پیداکرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کلاس میں شریک چار طالبات اس سال وفاق المدارس العربیہ کے تحت ثانویہ عامہ کاسالانہ امتحان دیں گی۔ تعلیم کے فرائض اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد یوسف اور ان کی اہلیہ انجام دے رہے ہیں۔ 
  • موسم گرما کی تعطیلات میں میٹرک پاس طلبہ کو درس نظامی کے درجہ اولیٰ کے مضامین پر مشتمل کورس مکمل کروایا گیا۔ اس سے قبل اس نوعیت کی پانچ کلاسز مکمل ہو چکی ہیں۔
  • اسکول وکالج کے طلبہ اور طالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن مجید کی کلاسز کا سلسلہ بحمد اللہ جاری ہے۔ اب تک طلبہ کی چار کلاسز ترجمہ قرآن مجید مکمل کر چکی ہیں اور پانچویں کلاس جاری ہے، جبکہ طالبات کی دوسری کلاس اس وقت چھبیس پاروں کا ترجمہ پڑھ چکی ہے۔
  • اپریل؍مئی ۲۰۰۸ میں اکادمی کے زیر اہتمام شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں تیس روزہ عربی لینگویج کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں تیس کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ ان کلاسز کے لیے روزانہ نماز عصر کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا اور اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی زبان اور عربی بول چال کی تعلیم دی۔ کورس میں مجموعی طور پر چالیس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ 
  • عامۃ الناس کوامور زندگی سے متعلق دینی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز اور الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی مختلف مساجد میں تعلیمی کلاسز کاسلسلہ جاری ہے۔ 

دعوت وابلاغ

  • علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
  • ۲۰۰۲ء میں اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org  لانچ کی گئی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف اہم عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • حالات حاضرہ کے حوالے سے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار کالم روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ 

نشر واشاعت

 ۲۰۰۷  میں اکادمی کے شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام اہم علمی وفکری موضوعات پر مطبوعات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اب تک اکادمی کی طرف سے حسب ذیل کتب اور کتابچے شائع کیے جا چکے ہیں:
  • ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ 
  • از ابو عمار زاہد الراشدی/معز امجد/ ڈاکٹر فاروق خان/خورشید ندیم (صفحات ۲۰۰)
  • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۵۲)
  • ’’عصر حاضر میں اجتہاد: چند فکری وعملی مباحث‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۳۲۴)
  • ’’مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۰۴)
  • ’’متحدہ مجلس عمل: توقعات، کارکردگی اور انجام ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۵۲)
  • ’’دینی مدارس کا نصاب ونظام: نقد ونظر کے آئینے میں‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۴۱۶)
  • ’’دینی مدارس اور عصر حاضر‘‘ (اکادمی کے زیر اہتمام فکری وتربیتی نشستوں کی روداد) (صفحات ۲۳۴)
  • ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ: حالات وواقعات اور دینی قیادت کا لائحہ عمل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۲۸)
  • ’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۱۲۸)
  • ’’جنرل پرویز مشرف کا دور اقتدار‘‘ از ابوعمار زاہد الراشدی (صفحات ۵۹۲)
  • ’’قرارداد مقاصد کا مقدمہ‘‘ از سردار شیر عالم خان ایڈووکیٹ/چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ (صفحات ۲۰۸)
  • ’’مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ از ڈاکٹر محمود احمد غازی (صفحات ۳۶)
  • ’’ہمارے دینی مدارس: چند اہم سوالات کا جائزہ‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۸۸)
  • ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ از ابو عمار زاہد الراشدی (صفحات ۲۴)
  • ’’صحیح بخاری کی ثلاثی احادیث‘‘ از وقار احمد (صفحات ۳۲)

تربیتی ورکشاپس

جون ۲۰۰۸ میں اکادمی میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر ایک تربیتی ورک شاپ منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹر محمد امین (سابق سینئر ایڈیٹر دائرۂ معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی) اور اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مولانا داؤد احمد (استاذ الحدیث مدرسہ انوار العلوم) اور مولانا محمد یوسف (رفیق الشریعہ اکادمی) نے گفتگو کی اور ائمہ وخطبا کو بتایا کہ نسل نو کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس ضمن میں انھیں کن تعلیمی، اخلاقی اور نفسیاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

علمی وفکری نشستیں 

  •  گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اکادمی کے زیر اہتمام ہفتہ وار فکری نشستوں کا اہتمام کیا گیا جن میں اکادمی ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ذاتی، خاندانی، تعلیمی اور سیاسی یادداشتیں بیان کیں۔ یہ یادداشتیں کیسٹ پر محفوظ کر لی گئی ہیں اور انھیں صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ 
  • ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ نے الشریعہ اکادمی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والی ’’عید ملن پارٹی‘‘ میں شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج کی عالمی صورت حال گزشتہ صدی سے بالکل مختلف ہے اور دنیا بھر کی اقدار وروایات تیزی سے تبدیل اور ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں، اس لیے ہمیں اسلام کی دعوت اور نفاذ کے لیے روایتی طریق کار پر قناعت کرنے کی بجائے جدید ضروریات اور تقاضوں کا ادراک کرنا ہوگا اور جذباتیت اور سطحیت کے دائرہ سے نکل کر زمینی حقائق اور معروضی حالات کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ 
  • ۲ نومبر ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں نئے تعلیمی سال کے افتتاح کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماے اسلام پنجاب کے امیر مولانا قاضی حمید اللہ خان نے کہا کہ انسان کے لیے راہنمائی کا ذریعہ اور اس کی زینت ووقار کا باعث ہے اور معاشرہ میں علمی اداروں کا وجود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور اس سے قوم کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ علمی اداروں سے بھرپور استفادہ کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔
  • ۵؍ نومبر ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس کے ساتھ، جو حال ہی میں اسکاٹ لینڈ سے پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ کی تکمیل کے بعد واپس آئے ہیں، ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر شمس نے اسکاٹ لینڈ اور پاکستان کے تعلیمی نظاموں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ میں تعلیمی نظام کی بہتری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں اساتذہ کا رویہ طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت اور محنت کا ہے اور تدریسی اوقات کا زیادہ تر دورانیہ سوال وجواب اور تنقید وتبصرہ پر صرف کیا جاتا ہے اور اساتذہ کا ہدف طلبہ میں علمی کمی کو دور کرنا اور ان کے تصورات میں نکھار پیدا کرنا ہوتا ہے۔
  • ورلڈ اسلامک فورم کے راہ نما اور آسٹریلیا میں گولڈ کوسٹ اسلامک سنٹر کے خطیب مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی نے اکادمی میں ایک نشست سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کے ساتھ تہذیبی جنگ اور فکری کشمکش میں مسلمانوں کے جو تعلیمی اور فکری ادارے کام کر رہے ہیں، ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور بالآخر وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں الشریعہ اکادمی جیسے علمی وفکری ادارے سینکڑوں کی تعداد میں اپنے اپنے دائرہ میں مصروف کار ہیں اور ان کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے ہی آج دنیا کے ہر خطہ کے مسلم معاشرہ میں دینی بیداری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ 
  • انسانی حقوق کے عالمی دن ۱۰؍ دسمبر کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک خصوصی فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے چودہ سو برس پہلے معاشرہ میں انسانی حقوق کا علم بلند کیا تھا اور اسلام آج بھی مغربی دنیا سے کہیں زیادہ فطری انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور انسانی سوسائٹی کو فلاح اور کامیا بی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروفیسر غلام رسول عدیم نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ مغرب نے انسانی حقوق کے زیر سایہ فلسطین، عراق، افغانستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں عوام کے بنیادی حقو ق کو جس طرح پامال کیا ہے، اس نے انسانی حقوق کے حوالے سے مغر ب کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ 
  • ۱۲؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو علماے کرام، طلبہ اور اہل دانش کی ایک بھرپور نشست سے ندوۃ العلما لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان الحسینی الندوی نے خطاب کیا۔ مولانا سید سلمان الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ علماے کرام کا کام صرف لوگوں کو عبادات سکھانا اور نماز روزے کے مسائل بتانا نہیں ہے بلکہ زندگی کے دوسرے معاملات میں ان کی راہ نمائی کرنا اور انھیں شریعت کے مطابق مسائل سے آگاہ کرنا بھی علماے کرام کی ذمہ داری ہے۔ مولانا قاری سیف اللہ اختر نے اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں دین کا کام کرنے والوں کو دوسرے دینی شعبوں کے کام کا احترام کرناچاہیے اور باہمی تعاون واشتراک کے ساتھ دینی جدوجہد میں اجتماعیت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 
  • ۹ جنوری ۲۰۰۸ کوالشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہدالراشدی کے ہفتہ وارلیکچرز کے سال نو کے پروگرام کے آغاز پرایک تقریب منعقد ہوئی۔ ماہنامہ ’’نور علیٰ نور‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر مولانا عبدالرشید انصاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دینی حلقے مغرب کی تہذیبی یلغاراورفکری حملے کامتحد ہو کرہی مقا بلہ کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نوجوان علما کو بطور خاص اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ وہ آج کی عالمی فکری اورتہذیبی کشمکش کے بارے میں معلومات حاصل کریں اورصورت حال کاپوری طرح ادراک کرتے ہوئے اس عالمی تناظر میں قرآن وسنت کی صحیح ترجمانی کے لیے خود کوتیار کریں۔ 
  • ۱۸؍ فروری ۲۰۰۸ کو برطانیہ کے معروف دینی راہ نما اور دانش ورمحترم حاجی محمد بوستان صاحب آف ڈیوزبری نے مغرب الشریعہ اکادمی میں ایک خصوصی فکری نشست سے خطاب کیا اور قوموں کے عروج وزوال میں علمی وفکری کام کرنے والے افراد اور اداروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ علمی وفکری کام کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں اور پاکستانی معاشرے کو چاہیے کہ وہ اس نوعیت کے اداروں کو اپنے وسائل کا وافر حصہ مہیا کرے تاکہ اہل فکر معاشی تگ ودو سے بے نیاز ہو کر یکسوئی کے ساتھ علمی وفکری کام کر سکیں۔
  • ۲؍اپریل ۲۰۰۸ کو اکادمی کی ہفتہ وار فکری نشست میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا نے اپنے تفصیلی خطاب میں جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور شدہ دستوری ترمیم کو ماننے سے واضح انکار کے باوجود اس دوران قادیانی گروہ پاکستان میں پوری طرح متحرک رہا اور جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ ان کی پشت پناہی کرتی رہی۔ مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دینی قوتوں کو بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تمام مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر کو تحریک ختم نبوت کے ایک نئے راؤنڈ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ 
  • ۲۳؍ اپریل ۲۰۰۸ کو اکادمی کی ہفتہ وار فکری نشست شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی شخصیت اور خدمات کے تذکرہ کے لیے مخصوص کی گئی اور اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے حضرت صوفی صاحبؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ابتدائی حالات، تعلیمی دور اور تعلیمی وتدریسی اور دینی خدمات کے حوالے سے اپنی بعض یادداشتیں حاضرین کے سامنے پیش کیں۔ 

رفاہ عامہ

الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۱۰۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔