اسلامی سربراہ کانفرنس کا مایوس کن اجلاس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۵؍ مارچ کے مطابق سینیگال کے دار الحکومت ڈاکار میں منعقد ہونے والے اسلامی کانفرنس تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل جناب اکمل الدین اوغلو نے کہا ہے کہ مغربی اور اسلامی ممالک کے مابین ’’اسلام فوبیا‘‘ کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ سرگرمیوں، مذاکرات اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے مذہب، ہمارے پیغمبر اورہمارے بھائیوں کو ہدف بنانے والے غیر ذمہ دارانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسلامی کانفرنس تنظیم کے سربراہی اجلاس سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل کا یہ خطاب توہین رسالت کے حوالے سے مغربی دانش وروں کی مہم کے معروضی تناظر میں اصولی طور پر درست ہونے کے باوجود ہمارے نزدیک انتہائی مایوس کن ہے اور مسلم عوام کی امیدوں اور توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دنیا بھر کے اسلامی حلقوں کو توقع تھی کہ اسلامی کانفرنس تنظیم کے سربراہی اجلاس میں قرآن کریم اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور گستاخی کے حالیہ واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اور مسلم حکومتوں کے نمائندے باہم مل بیٹھ کر اس سلسلے میں مغرب کے ساتھ دوٹوک بات کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں گے، لیکن حسب سابق اس اجلاس میں بھی بات تقاریر اور رسمی قراردادوں سے آگے نہیں بڑھی اور اس کی کارروائی پڑھ کر ہمیں یوں محسوس ہوا ہے کہ یہ حکومتوں کی سطح کا کوئی اجلاس نہیں تھا، بلکہ کسی بین الاقوامی این جی او کی رسمی سی میٹنگ تھی جس میں موقف کے اظہار اور اس کے حق میں تقاریر اور قراردادوں پر قناعت کرنے میں ہی عافیت سمجھی گئی ہے۔
دوسری طرف ڈنمارک کے اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت اور ہالینڈ میں قرآن کریم کے بیان کردہ واقعات کے حوالے سے ایک تحقیر آمیز فلم کی تیاری کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ایک جریدے ہفت روزہ ’’ہیومن ایونٹس‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک کتاب مفت تقسیم کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے جس کے بارے میں مسلمان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ توہین آمیز کتاب ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۸ کی خبر کے مطابق اس دل آزار کتاب کا نام ’’دنیا کا عدم برداشت پر مبنی مذہب اور ا س کے بانی محمد کی حقیقت‘‘ بتایا جاتا ہے۔ اس کا مصنف رابرٹ اسپنسر ہے۔ یہ کتاب ہفت روزہ ’’ہیومن ایونٹس‘‘ نے شائع کی ہے اور اسے پورے امریکہ اور یورپ میں مفت تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہمارے خیال میں یہ مسلم حکومتوں کی بے حسی اور عدم سنجیدگی کا نتیجہ ہے کہ مغرب میں توہین رسالت اور توہین قرآن کریم کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دنیاے اسلام کے عوامی اور دینی حلقوں کی طرف سے مسلسل احتجاج کے باوجود وقفہ وقفہ سے نئے دل آزار واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
جہاں تک مسلمانوں پر عدم برداشت کے الزام کا تعلق ہے، یہ واضح طور پر مغرب کی دھاندلی اور فریب کاری ہے، اس لیے کہ مغرب کی یونی ورسٹیاں اور علمی ادارے صدیوں سے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بحث کر رہے ہیں اور مقالات، مضامین اور تجزیے لکھتے آ رہے ہیں جن میں اختلاف بھی ہوتا ہے اور تنقید بھی موجود ہوتی ہے لیکن مسلمانوں نے ان کے بارے میں کبھی عدم برداشت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ دلیل کا جواب ہمیشہ دلیل سے دیا ہے، البتہ اختلاف اور توہین میں ہم نے ہمیشہ فرق کیا ہے اور سنجیدہ تنقید اور استہزا وتمسخر کے درمیان فاصلوں کو قائم رکھا ہے۔ اسلامیان عالم کو قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے جو بے پناہ محبت اور عقیدت ہے، ا س کا فطری تقاضا ہے کہ وہ ان دونوں کے حوالے سے توہین، استہزا اور تمسخر کی کوئی بات برداشت نہ کریں، اس لیے اگر وہ ایسے کسی واقعہ پر غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے جذبات میں گرمی پیدا ہوتی ہے تو یہ بالکل فطری بات ہے اور مغرب کو اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب اگر اپنی کتاب مقدس اور حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کی راہ نمائی سے عملاً درست برداری اختیار کر لینے کے بعد ان کے ساتھ عقیدت ومحبت سے محروم ہو چکا ہے اور اس کی جذباتیت بے حس ہو چکی ہے تو اسے اس کا بدلہ مسلمانوں سے نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی یہ توقع رکھنی چاہیے کہ مسلمان بھی مغرب کی مسیحی امت کی طرح دینی تعلیمات کی راہ نمائی سے دست بردار ہو جائیں گے اور قرآن کریم اور رسول اکرم کے ساتھ جذباتی وابستگی کو خیر باد کہہ دیں گے۔
باقی رہی بات آزادئ رائے اور آزادئ صحافت کی تو ہم مغرب کا یہ موقف تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے کہ مغرب کے ہر ملک میں ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ کے عنوان سے اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا قانون موجود ہے اور کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت عرفی اور معاشرتی سٹیٹس کو مجروح ہوتا محسوس کرے تو اس کے تحفظ کے لیے قانون سے رجوع کرے، اور صرف مغرب نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک کا قانون اپنے ہر شہری کو یہ تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے اگر ایک عام شہری اپنی حیثیت عرفی کے قانونی تحفظ کا حق رکھتا ہے تو حضرات انبیاے کرام علیہم السلام، بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہ حق ہے کہ ان کے تاریخی مقام اور عرفی حیثیت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون بنایا جائے اور دنیا کے کسی بھی شخص کو یہ حق نہ دیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں اور دنیا کے اربوں انسانوں کے محبوب مذہبی پیشواؤں کے بارے میں استہزا، تمسخر ، تحقیر اور گستاخی کا لہجہ اختیار کر سکے۔
اسلامی کانفرنس تنظیم کے مذکورہ سربراہی اجلاس میں عالم اسلام کے دیگر مسائل بھی زیر بحث آئے ہیں جن میں فلسطین کی صورت حال کو بطور خاص زیرغور لایا گیا ہے لیکن ان مسائل میں بھی رسمی خطابات اور قراردادوں سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ پیش رفت اور لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے خیال میں مسلم حکومتوں سے دنیا بھرکے مسلم عوام کی اسی مایوسی سے اس رد عمل نے جنم لیا ہے جسے انتہا پسندی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی قرار دے کر اس کے خلاف عالمی سطح پر باقاعدہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مبینہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اسباب میں جہاں مغرب کی سیاسی قیادت اور نام نہاد سیکولر دانش کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جانب دارانہ اور معاندانہ رویہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہاں مسلم ممالک کے حکمران طبقات کا غیر سنجیدہ طرز عمل، مجرمانہ تغافل اور مغرب کے سامنے ان کا فدویانہ رویہ بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے جسے دور کیے بغیر اس مبینہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہے جو اصلاح احوال کے معروف طریقوں پر مسلمانوں کے رہے سہے اعتماد کو بھی دھیرے دھیرے پسپائی کی طرف دھکیلتی جا رہی ہے۔
ہمارے خیال میں اس صورت حال میں سب سے زیادہ ذمہ داری مسلم حکومتوں اور عالم اسلام کے حکمران طبقات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم کو رسمی قراردادوں اورخطابات کے بجائے عملی اقدامات اور مسلم امہ کی جرات مندانہ قیادت کا فورم بنائیں کیونکہ اس کے بغیر معاملات کا رخ صحیح سمت میں موڑنے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح کا منصوبہ
محمد عمار خان ناصر
مارچ ۲۰۰۸ ءکے دوسرے ہفتے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی کہ ترکی کی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام احادیث کے حوالے سے ایک منصوبے پر کام جاری ہے جس کا بنیادی مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط طور پر منسوب کی جانے والی احادیث کی تردید اور بعض ایسی احادیث کی تعبیر نو ہے جن کا غلط مفہوم مراد لے کر انھیں ناانصافی کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ منصوبہ، جس پر پینتیس اسکالر کام کر رہے ہیں، ۲۰۰۶ میں شروع کیا گیا تھا اور توقع ہے کہ حالیہ سال کے اختتام تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
ترکی کی مذہبی امور سے متعلق اتھارٹی ’’دیانت‘‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد گورمیز کے حوالے سے، جنھوں نے برطانیہ میں تعلیم وتربیت پائی ہے اور انقرہ یونیورسٹی میں حدیث کے سینئر استاذ ہیں، اس منصوبے کی نوعیت اور مقاصد کے حوالے سے جو بیانات ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئے ہیں، ان میں سے بعض اہم بیانات حسب ذیل ہیں:
- منصوبے کا بنیادی مقصد احادیث کو نئی تعبیر وتشریح کے ذریعے سے آج کے لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم بنانا ہے اور ہمارے کام کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ’’تعبیر نو‘‘ ہی درست اصطلاح ہے۔
- اس منصوبے کا مقصد مذہب کی الٰہیاتی بنیادوں کو تبدیل کرنا نہیں۔ یہ ایک علمی مطالعہ ہے جس کا مقصد الٰہیاتی بنیادوں کو سمجھنا اور ان کی تعبیر کرنا ہے۔
- یہ منصوبہ اسلام کی اس تعبیر نو سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جو جدیدیت سے ہم آہنگ ہے اور تعبیر نو اسلام کے بنیادی ڈھانچے کا ایک حصہ ہے۔ منصوبے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مذہب کو روایتی ثقافتی عناصر سے ممتاز کیا جائے۔
- ہم اسلام کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا اور ایک ایسی تعبیر سامنے لانا چاہتے ہیں جو شخصی احترام، انسانی حقوق، انصاف، اخلاق پسندی، خواتین کے حقوق، اور دوسروں کے احترام کو فروغ دے۔
- آج مشرق اور مغرب میں پیغمبر اسلام اور ان کی تعلیمات کے حوالے سے بے حد کنفیوژن پایا جاتا ہے اور ہم اس کنفیوژن کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- بہت سی احادیث کا مفہوم متعین کرنا اب ممکن نہیں رہا اور بعض روایات کا ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر بھلایا جا چکا ہے۔
- متعدد احادیث کی آج کے دور میں نئی تعبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر بعض احادیث میں خواتین کو خاوند کی اجازت کے بغیر تین دن کی مدت کے سفر پر جانے سے روکا گیا ہے اور ایسی احادیث مستند ہیں، لیکن یہ کوئی مذہبی نوعیت کی پابندی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواتین تنہا حفاظت کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک عارضی نوعیت کی پابندی کو لوگوں نے مستقل حکم کی صورت دے دی ہے۔
- کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ خواتین کے اپنے سروں کو ڈھانپنے کے حوالے سے کوئی نئی انقلابی سوچ پیش کی جائے گی۔ یہ ایک علمی مطالعہ ہے اور اس میں آپ کو ایسی کوئی کوشش دکھائی نہیں دے گی جس کا مقصد اسلام کو مغربی دنیا کے لیے زیادہ خوب صورت بنا کر پیش کرنا ہو۔
- ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس منصوبے سے مسلم دنیا میں خواتین کے بارے میں رائج تصورات میں تبدیلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلامی نصوص میں غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے یا شادی شدہ زانی کو سنگ سار کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اسلام کو غلط سمجھا جا رہا ہے۔ مثلاً آپ سلطنت عثمانیہ کے چھ سو سالہ دور میں ایک مثال بھی ایسی نہیں دکھا سکتے جس میں کسی شخص کو سنگ سار کیا گیا ہو یا کسی چور کا ہاتھ کاٹا گیا ہو۔
اس ضمن میں انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ حدیث کے سربراہ اسماعیل حقی انال نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جانے والی بعض احادیث قرآن سے ٹکراتی ہیں۔ قرآن ہمارا بنیادی راہنما ہے اور جو چیز بھی اس سے ٹکراتی ہو، ہم اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے مثال کے طور پر بعض روایات پر مبنی اس رائے کا حوالہ دیا کہ خواتین کو پڑھنے لکھنے کی تعلیم دینا ممنوع ہے یا یہ کہ وہ عقل اور دین کے اعتبار سے کم تر ہیں۔انھوں نے کہا کہ خواتین کے عقل اور دین کے لحاظ سے کم تر ہونے کی بات گزرے زمانوں میں کسی استدلال کے بغیر درست مان لی گئی تھی، لیکن آج یہ بات درست نہیں مانی جا سکتی، اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز حیات اور خود قرآن کے مطابق نہیں ہے، اس لیے قبول نہیں کی جا سکتی۔ اسماعیل حقی انال نے مزید کہا کہ ’’ہم اس کو کوئی ’’اصلاح‘‘ نہیں سمجھتے، بلکہ اسلام کی اصل بنیادوں کی طرف واپسی کی کوشش سمجھتے ہیں۔‘‘
استنبول کے ایک مبصر مصطفی اکیول نے کہا ہے کہ منصوبے کے نتائج کے طور پر خواتین سے متعلق بعض احادیث کو حذف یا مسترد کیے جانے کا امکان ہے جو ایک جرات مندانہ اقدام ہوگا، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسے تشریحی نوٹس کا اضافہ کر دیا جائے جو یہ بتائیں کہ ان احادیث کو ایک مختلف تاریخی سیاق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
منصوبے پر کام کرنے والے محققین نے مزید بتایا ہے کہ احادیث کا یہ مجموعہ احادیث کی روشنی میں جدید ترین سوالات کا جواب بھی فراہم کرے گا، مثلاً یہ کہ گاڑی چلانے والوں کو کس طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے (کیونکہ ترکی دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں حادثات کا تناسب بہت زیادہ ہے) اور یہ کہ کرۂ ارض کے ماحول میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔
مذکورہ رپورٹوں او ر بیانات سے کافی حد تک اس منصوبے کے محرکات اور ان ذہنی وفکری الجھنوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو اسلامی احکام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے آج کے مسلمان اسکالرز کو درپیش ہیں۔ اس منصوبے کو ترکی جیسے اہم مسلم ملک کی سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور اس سے اس کی اہمیت اور متوقع اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر نے اسی تناظر میں ایک خط کے ذریعے سے برصغیر کی اہم علمی شخصیات اور اداروں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ ترکی میں ہونے والی اس پیش رفت کی اہمیت اور نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اس سلسلے میں ترکی کی وزارت مذہبی امور کو متوازن فکری راہنمائی مہیا کریں ۔ یہ خط درج ذیل ہے:
باسمہ سبحانہ
مکرمی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
برادر مسلم ملک ترکی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اس عریضہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اس کی وزارت مذہبی امور نے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور نئی تعبیر وتشریح کے کام کا سرکاری سطح پر آغاز کیا ہے جو اس حوالے سے یقیناًخوش آئند ہے کہ ترکی نے اب سے کم وبیش ایک صدی قبل ریاستی وحکومتی معاملات سے اسلام اور مذہبی تعلیمات کی لاتعلقی کا جو فیصلہ کیا تھا، یہ اس پر نظر ثانی کا نقطہ آغاز محسوس ہوتا ہے جس کا بہرحال خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
ترکی نے خلافت عثمانیہ کے عنوان سے صدیوں عالم اسلام کی قیادت کی ہے اور اسلام کی سربلندی کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرہ میں اس کی ترویج وتنفیذ کے لیے شاندار کردار ادا کیا ہے، اس لیے خلافت اور دینی تعلیمات سے ریاستی سطح پر ترکی کی دست برداری پر دنیاے اسلام میں عمومی طور پر دل گرفتگی اور صدمہ کا اظہار کیا گیا تھا اور اب تک کیا جا رہا ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے ترکی کے اس فکری وثقافتی انقلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے اسباب میں اپنے اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ ترکی قوم اپنے مزاج کے حوالے سے ایک عسکری قوم ہے جو مغربی ثقافت اور اسلام کے درمیان علمی وثقافتی کشمکش میں علمی واجتہادی صلاحیتوں کو بروے کار نہ لا سکی جس کی وجہ سے وہ مغرب کی ثقافت وفلسفہ کا علمی وفکری میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے پسپائی پر مجبور ہو گئی، جبکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ ترکی کے علما ومشائخ اس ’’غزو فکری‘‘ (Intellectual Onslaught) کی اہمیت کا احساس نہ کر سکے اور اس کی طرف ضروری توجہ دینے کے لیے اپنے اوقات کو فارغ نہ کر سکے جس کی وجہ سے یہ عظیم سانحہ رونما ہوا۔
اس پس منظر میں احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور ان کی نئی تعبیر وتشریح کے بارے میں ترکی حکومت کے اس فیصلے کو ماضی کی طرف لوٹنے کا نقطہ آغاز سمجھنے کے باوجود اس سلسلے میں کچھ تحفظات کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور عالم اسلام کے دینی وعلمی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سارے عمل کے پس منظر اور دیگر متعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترکی کی وزارت مذہبی امور کے اس کارخیر میں اس سے تعاون کریں۔ چنانچہ مختلف علمی اداروں، شخصیات اور مراکز سے ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے بطور تجویز یہ گزارش کر رہے ہیں کہ وہ احادیث نبویہ کی درجہ بندی اور تعبیر وتشریح کے لیے محدثین کرام اور فقہاے عظام کی اب تک کی علمی خدمات، احادیث نبویہ کے بارے میں مستشرقین اور ان کے خوشہ چینوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات نیز آج کے حالات وضروریات اور ملت اسلامیہ کی مسلمہ علمی حدود کے دائرے میں تعبیر نو کے ضروری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع بریفنگ رپورٹ ترکی کی وزارت مذہبی امور کو بھجوائیں جو عربی یا انگلش زبان میں ہو اور اس مسئلے میں ترکی کی وزارت مذہبی امور کی ضروری علمی وفکری راہ نمائی کی ضرورت پوری کرے۔
امید ہے کہ آنجناب اس تجویز پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے اور اس سلسلے میں اپنی رائے اور پیش رفت سے ہمیں بھی آگاہ فرمائیں گے۔ شکریہ
ابو عمار زاہد الراشدی
۱۲ مارچ ۲۰۰۸ء
شرعی قوانین کے حوالے سے برطانیہ میں جاری بحث
مولانا محمد عیسٰی منصوری
فروری ۲۰۰۸ کے شروع میں چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے، جو دنیا بھر کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے عالمی سربراہ ہیں، برطانیہ میں اسلامی شریعت کے چند قوانین کے نفاذ پر غور وفکر کی دعوت دے کر یہاں کی فضا میں ارتعاش بلکہ تہلکہ بپا کر دیا ہے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر روون نے یہ تجویز غور وفکر کے لیے اپنی سنڈ (چرچ آف انگلینڈ کی پارلیمنٹ) میں پیش کی تھی، مگر یہاں کے میڈیا نے، جس پر صہیونیت کی گہری چھاپ ہے، اس طرح ہنگامہ برپا کر دیا گویا صلاح الدین ایوبی نے برطانیہ پر حملہ کر دیا ہو۔ مغربی میڈیا کو، جس نے نائن الیون کے بعد ’’اسلامی خطرے‘‘ کا جو ہوا کھڑا کیا ہے، اسلام کے خلاف شور وشغف کا بہانہ مل گیا، چنانچہ میڈیا کی شرارت کے سبب ڈاکٹر روون ولیمز کو غصے سے بھرے، دھمکی آمیز اور ناشائستہ الفاظ میں بہت سے فون، خطوط اور ای میل ملے۔ آرچ بشپ کی طرف سے شریعت کے بعض قوانین کی حمایت میں ہم دردانہ حمایت کے غیر متوقع بیان پر میڈیا تو ان کی مخالفت میں پیش پیش تھا ہی، خود چرچ کے بعض ممبران اور سابق آرچ بشپ آف کنٹربری لارڈ کیری نے بھی برطانیہ میں شریعت اسلامی کے بعض قوانین کے نفاذ پر غور وفکر کی دعوت کو خطرناک قرار دے کر ڈاکٹر روون پر تنقید کی، حتیٰ کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بشپ ولیمز کے استعفے کی گونج بھی سنائی دی۔ کینٹ پولیس کے سینئر ذرائع نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے آرچ بشپ کو چوبیس گھنٹے پولیس تحفظ کی پیش کش کی اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا، لیکن آرچ بشپ ڈاکٹر ولیمز نے پولیس کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے پریس کو بتایا کہ وہ نہ اپنے بیان پر معذرت کریں گے اور نہ ہی استعفا دیں گے اور وہ اپنا موقف پریس کے بجائے اپنی سنڈ میں پیش کریں گے۔
اس بات پر برطانوی میڈیا نے اسلام کے خلاف جذبات میں آگ لگا دی جس میں سیاست دانوں سمیت اکثر طبقات بہہ گئے اور ہر طرف سے روون ولیمز پر تیروں کی بارش ہونے لگی۔ ایسے میں ان کو اصل حمایت ان کی سنڈ اور ان کے اپنے طبقہ سے ملی۔ ان کے حق میں ایک مضبوط آواز چرچ آف اسکاٹ لینڈ کی سربراہ ریورنڈ شیلا کیسٹک کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ بعض افراد نے جان بوجھ کر آرچ بشپ کے الفاظ کو غلط معنی پہنائے اور انھیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ میں ڈاکٹر ولیمز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ ہم خوش قسمت ہیں جن کے پاس ایک ایسا رہنما موجود ہے جو بعض اہم اور نازک مسائل میں گہری سوچ بچار سے بحث کا آغاز کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ چرچ آف انگلینڈ کی پارلیمنٹ نے آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کے ریمارکس کے خلاف میڈیا کے عام رد عمل پر مایوسی کا اظہار کیا اور آرچ بشپ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ سنڈ (پارلیمنٹ) کا اجلاس شروع ہونے سے قبل بشپ آف لچفیلڈ جوناتھن گلیڈیل نے کہا کہ ڈاکٹر ولیمز کے ریمارکس کو غلط سمجھا گیا ہے۔ آرچ بشپ کوئی فیصلہ نہیں دے رہے تھے، محض غور وخوض کے لیے ایک مسئلہ اٹھا رہے تھے۔ سنڈ میں جب ڈاکٹر ولیمز نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں لیا گیا ہے، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ برطانیہ میں مسلم کمیونٹی بعض اسلامی قوانین پر پہلے ہی عمل پیرا ہے، اس سے ایک وقت آئے گا جب اس عمل کو قانون کا حصہ بنانا ہوگا۔ اس پر انھیں سنڈ کے ارکان کی طرف سے بھرپور حمایت ملی اور برطانوی میڈیا کی غوغا آرائی اور طوفان سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
ڈاکٹر روون ولیمز نے برطانیہ میں کسی متوازی عدالتی نظام کی تجویز پیش نہیں کی، بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ شادی بیاہ، طلاق ووراثت جیسے معاملات میں بعض اسلامی قوانین کی جگہ موجود ہے اور اسلامی شریعت کے چند قوانین اختیار کر لینے سے برطانیہ میں بسنے والی مسلمان کمیونٹی کو سماجی طور پر قریب کرنے میں مدد ملے گی۔ آرچ بشپ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ مسیحی مذہب کے اعلیٰ ترین رہنما نے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی قوانین کے متعلق ایک مثبت بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بحث کا مقصد ایک سیکولر نظام میں رہنے والی اقلیتی کمیونٹیز کے لوگوں کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانا اور ملکی قوانین اور مذاہب کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس کا اطلاق صرف اسلام یا مسلمانوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ بتدریج دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مسلم راہنماؤں اور تنظیموں کا رد عمل اکثر منفی تھا۔ بیرون سعیدہ وارثی نے کہا کہ شرعی قوانین سے اتحاد کے بجائے تقسیم میں اضافہ ہوگا۔ دوسرے کئی مسلم راہنما شریعت سے براء ت کا اعلان کرتے نظر آئے۔ بعض ماڈرن خواتین نے برملا کہا کہ ہمیں شریعت نہیں چاہیے، اور برطانوی قانون نہایت عمدہ ہے۔ دینی تنظیموں اور علماے کرام نے عام طور پر اس بحث میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ شاید ان کے نزدیک حالات وحقائق سے آنکھیں بند رکھنا ہی سب سے مسائل کا حل ہے۔
برطانیہ ومغرب کے زمینی حقائق
برطانیہ میں اس وقت کم وبیش دو ملین یعنی بیس لاکھ مسلمان بستے ہیں۔ فرانس میں تقریباً ۵۰ لاکھ، جرمنی میں ۳۰ لاکھ، اسی طرح بیلجیم اور ہالینڈ سمیت تمام یورپی ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں سرکاری طور پر اسلام کو دوسرا بڑا مذہب تسلیم کیا گیا ہے۔ عملاً اسلام یورپ وامریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں جن چھ سات ملکوں نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی، ان میں بڑی تعداد میں مقامی مسلمان بستے ہیں۔ مثلاً بلغاریہ میں تقریبا تیس فی صد ترکی نسل کے مسلمان آباد ہیں۔ آئندہ جلد ہی جو ممالک یورپ کا حصہ بننے والے ہیں، ان میں کوسووو، بوسنیا، اور البانیہ جیسے مسلم علاقے اور ممالک بھی ہیں۔ عالم اسلام کا عظیم ملک ترکی بھی داخلے کے لیے یورپ کے دروازے پر کھڑا ہے۔ ایک جوہری فرق یہ ہے کہ پرانے یورپ (برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ) میں اکثر مسلمان تارکین وطن کے قبیل سے تھے یعنی باہر سے آکر آباد ہوئے تھے جبکہ جو ممالک حالیہ ای ای سی (آل یورپ) کا حصہ بنے ہیں یا عنقریب بننے والے ہیں، ان میں بسنے والے مسلمان اسی زمین کے فرزند اور اسی یورپی نسل سے ہیں۔ امریکہ ویورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خطرے کو بھانپ کر ہی صہیونی صلیبی گٹھ جوڑ نے نہایت مہارت وچابک دستی سے نائن الیون کا واقعہ انجام دے کر اسے مسلمانوں کے ذمے لگا دیا تاکہ ایک طرف مغرب کو عالم اسلام پرفوجی یلغار کر کے تباہ کرنے کا بہانہ فراہم ہو اور دوسری طرف یہاں اسلام کے خلاف نفرت کی آندھی چلا کر بڑھتی ہوئی مسلم آبادی پر بریک لگائی جا سکے۔
یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ شروع ہی سے مغرب میں اسلام کا مطالعہ کرنے والے تقریباً تمام ہی طبقات (مورخین، ادیب، شعرا) کا تعلق ارکان کلیسا اور چرچ سے رہا ہے۔ ان کے نزدیک یورپ پر بیرونی مسلمانوں کے عسکری وسیاسی دباؤ کا واحد تحفظ اسلام کے خلاف نفرت انگیز جھوٹا پراپیگنڈا تھا۔ جب صلیبی جنگوں میں پورا یورپ تین صدیوں تک اپنی پوری طاقت جھونک کر بھی اسلام کو ختم نہیں کر سکا تو ریمنڈ لل اور راجر بیکن جیسے اسکالرز نے پوپ کے سامنے اسلام کی بیخ کنی کے لیے اسلام کے مطالعہ کی تجاویز رکھیں۔ طویل بحث ومباحثہ کے بعد اسے منظوری مل گئی، چنانچہ شروع ہی سے مغرب کے مطالعہ اسلام کا بنیادی مقصد اسلام کی خامیاں تلاش کرنا اور اسلام پر نظریاتی حملوں کے لیے مواد جمع کرنا تھا۔ جب تک مغرب کو مسلمانوں سے عسکری خطرہ رہا، اس وقت تک مستشرقین کی تحریریں شدید تر عناد ونفرت میں ڈوبی رہیں۔ جیسے جیسے خطرہ کم ہوتا گیا، کھلے عناد ونفرت کی شدت میں بظاہر کمی آتی گئی۔ بیسویں صدی میں جب مغرب کو عالم اسلام پر ہمہ جہتی غلبہ حاصل ہو گیا اور مسلمان عسکری، سیاسی، علمی، فکری طور پر مغلوب ہو گئے، تب اسلام کو سمجھنے کی کوشش شروع ہوئی۔ غرض مغرب میں اسلام کا مطالعہ کرنے والے گروہ (مستشرقین) کی حیثیت ہمیشہ یہاں کی حکومتوں کے آلہ کار اور ہراول دستے کی رہی اور ان کی تحریروں کی نوعیت اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کی تھی، اس لیے سترہویں صدی کی تحریروں کی زبان انتہائی تلخ، پر عناد اور اسلوب جارحانہ تھا۔ اٹھارویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے کمزور ہو جانے کے باعث زبان نے کچھ متانت اور سنجیدگی لے لی۔ کچھ کچھ اسلامی، معاشرتی، تاریخی، علمی اثرات دبی زبان سے تسلیم کیے جانے لگے۔ پہلے مغربی مورخین ومصنفین اسلام کا مطالعہ ترکی سے شروع کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی میں سائمن اوکلے نے وصال نبوی سے شروع کیا۔ پھر انیسویں صدی عالم اسلام کے ابتلا اور شکست کی صدی تھی۔ اب مغرب نے عالم اسلام کو سیاسی، اقتصادی اور علمی وفکری طو رپر شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔ اب اسلام کے کچھ مزید محاسن تسلیم کیے جانے لگے۔ مگر انیسویں وبیسویں صدی کے مغربی اہل قلم کی تحریریں احساس برتری سے لبریز ہیں کہ اصل تہذیب، مذہب وقانون مغرب کا ہے، اسلام کا جتنا اس کے موافق ہے، اچھا ہے اور غیر موافق خراب۔ اب تکبر کے احساس نے طعن وتشنیع، دل آزاری اور انتقامی انداز نمایاں ہوا۔
غرض مغربی اسکالرز اور دانش وروں کی تحریریں ہمیشہ سے سرد جنگ کا حصہ تھیں۔ ان کا پراپیگنڈا اس قدر شدید اور طاقت ور ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جس نے اسلام کو اپنے اصل مآخذ کے بجائے مغربی تحریروں سے پڑھا ہے، اس کی سوچ وفکر مکمل طور پر مغربی اہل قلم ومستشرقین سے ہم آہنگ ہے۔ مغرب میں روزگار کی خاطر آنے والے مسلمانوں کی بھاری اکثریت اسلام کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہے۔ نظریاتی بے یقینی معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے۔ نیز طاقت ور حریف انھیں بآسانی اپنے ہی معاشرے کے خلاف آلہ کار بنا لیتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں ہزاروں مسلمان M15 (برطانوی انٹیلی جنس) کے لیے کام کر رہے ہیں جن میں بے شمار مولوی بھی ہیں۔ یہ علمی سرد جنگ جو تقریباً پانچ صدیوں سے جاری ہے، اس کا ازالہ تو کجا، ابھی تک اس کے بیشتر گوشے پردۂ راز میں مستور ہیں۔ تاہم تاریخ میں پہلی بار اب موقع آیا ہے کہ آج گلوبل ولج کے عنوان سے مغرب اور اس کے واسطے سے پوری دنیا میں عالمی ضابطہ اخلاق اور معاشرتی اقدار کی جو تدوین وترتیب ہو رہی ہے، اس میں اسلام، قرآن اور شریعت کے انسانی معاشرہ کے لیے مفید، بہبود کے ضامن اور مثبت پہلووں سے مغرب کو روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرتی واجتماعی مسائل کے حل کے لیے سیرت نبوی کے بہت سے گوشے ممد ومعاون ہو سکتے ہیں۔
آج کی دنیا ایک بستی یا گاؤں (گلوبل ولج) اور مختلف ممالک اس کے محلے بن چکے ہیں۔ ہر ملک ملٹی نیشن، ملٹی کلچر اور ملٹی ریلیجن ملک ہے۔ دنیا کے ہر بڑ ے شہر میں ایک پڑوسی کرسچین، دوسرا یہودی، تیسرا سوشلسٹ یا بدھسٹ ہونا عام بات ہو گئی ہے۔ نیز سیکولرازم، ڈیما کریسی، انسانی حقوق کو عصری دنیا بطور ایک عقیدہ ومذہب کے تسلیم کر چکی ہے اور سیکولر ازم کے معنی کسی خاص مذہب یا تمدن کی ترجیح کے بجائے ہر مذہب وکلچر کو مساوی حقوق دینا اور سب کے لیے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ہر مذہب وکلچر کا فرد باہمی رواداری، قربت، محبت سے رہ کر ملک وقوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ آج دنیا کا سب سے اہم مسئلہ یہی باہمی قربت، افہام وتفہیم، اور رواداری کا ماحول ہے۔ جب تک دنیا کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان یہ رواداری اور افہام وتفہیم کی روایت قائم نہیں ہوگی، دنیا میں اس کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ان دو بڑی قوموں کے درمیان ٹکراؤ اور کشیدگی سے صرف اور صرف صہیونی نسل پرستوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ اس طرح انھیں دونوں قوموں پر اپنے خونی پنجے گاڑنے کا مزید موقع ملے گا۔ یہ بات مغرب جتنی جلدی سمجھ لے، اس کے اور انسانیت کے حق میں بہتر ہوگا۔
اس وقت دنیا کا سب سے مقبول سیاسی فلسفہ سیکولرزم اور نظام جمہوریت ہے جس پر مغرب کا نہ صرف ایمان واثق ہے بلکہ وہ اس کی خاطر قوموں کی نسل کشی پر بھی آمادہ ہے۔ افغانستان وعراق میں اپنی خونریزی کو جواز دینے کے لیے امریکہ ونیٹو کا یہی دعویٰ ہے کہ ہم ڈیماکریسی اور سیکولرزم کی برکات بانٹنے آئے ہیں۔ سیکولرزم اور جمہوریت، دونوں کی روح یہ ہے کہ حکومت اور قوانین معاشرہ کی مرضی ومنشا کے مطابق ہوں نہ کہ باہر سے مسلط کیے جائیں، حتیٰ کہ دنیا کی کسی پارلیمنٹ کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف کسی سپر پاور کے دباؤ میں آ کر قوانین معاشرہ پر مسلط کرے۔ غرض یہ عصر حاضر کی بنیادی ضرورت ہے کہ رواداری اور افہام وتفہیم کا ماحول قائم کرنے کے لیے اقوام عالم چند مشترکہ نکات پر اتحاد کریں۔ چودہ سو سال پہلے قرآن نے تینوں آسمانی مذاہب کے لیے مفاہمت واتحاد کا تین نکاتی فارمولا دیا تھا:
۱۔ خالق کے سوا کسی کی حقیقی عبادت وتابع داری نہ کی جائے۔
۲۔ اس عبادت واطاعت میں کسی بھی طاقت وقوت کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
۳۔ اقوام عالم ایک دوسرے پر رب وخالق بن کر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔
پہلے دو نکات یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں مسلم ہیں۔ یہ تینوں آسمانی مذاہب توحید کے قائل اور شرک سے بے زار ہیں، البتہ مغرب تیسرے نکتے کے خلاف ڈیڑھ ہزار سال سے پاپا کریسی میں مبتلا رہا ہے۔ مسیحیت کے مذہبی طبقے سے بنیادی غلطی یہی ہوئی کہ انھوں نے خالق کا اطاعت وقانون سازی کا حق پوپ کو دے کر اسے عملاً رب وخالق کا درجہ دے دیا۔ ہزار سال تک پوپ مطلق العنان بن کر مذہبی، معاشرتی، سیاسی حتیٰ کہ شہنشاہوں کے عزل ونصب کے فیصلے کرتا رہا۔ یہ فیصلے محض اس کی ذاتی مرضی وصواب دید پر منحصر ہوتے تھے اور دنیا کی کسی عدالت میں انھیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سے فائدہ اٹھا کر پوپ نے اپنے اقتدار کی خاطر یورپ کے عوام اور معاشرہ پر اپنی غلامی مسلط کر دی، سوچ او ر فکر پر پہرے بٹھا دیے۔ ہزار سال پوپ کے مطلق العنان اقتدار کے تاریک دور کے بعد علم اور سائنس کا دور شروع ہوا تو چرچ نے استبداد کی طاقت سے بے شمار اہل فکر ومحققین کو قتل کر کے اور زندہ جلا کر علم اور سائنس کی راہ روکنی چاہی۔ یورپ نے مسیحیت کی اس غلطی (پاپا کریسی) کا صدیوں تک خمیازہ بھگتا۔ علم اور مذہب کی اس جنگ میں اعلیٰ اخلاقی قدریں زوال پذیر ہوئیں اور مغرب میں اخلاقی انارکی کا دور شروع ہوا۔ گزشتہ دو صدیوں میں سازش، سرمایہ اور میڈیا کی بدولت ایک مٹھی بھر شاطر ٹولے نے یورپ کے معاشرہ کو بے بس کر کے یرغمال بنا لیا ہے۔ اب مغرب کے عوام کو اس گھناؤنی سازش کا احساس ہونے لگا ہے چنانچہ یہ شیطانی ٹولہ (جی ایٹ وسرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں) جہاں کہیں جمع ہوتا ہے، نفرت کی صورت میں عوام کا رد عمل سامنے آتا ہے۔ اب تک انسانیت کے سارے وسائل پر قابض ہونے کی وجہ سے یہ ٹولہ کامیاب ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا حشر بھی پاپاکریسی کی طرح ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بقول ایک مفکر کے تاریخ کا پہیہ اگرچہ آہستہ چلتا ہے مگر پیستا باریک ہے۔ لگتا ہے مغرب کا معاشرہ ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو کر بکھراؤ کی طرف چل پڑا ہے۔ اگر مغرب کے مفکرین واہل دانش نے گلوبل ویلج معاشرہ کے لیے اقدار اور ضابطے تلاش نہ کیے تو تباہی سامنے کی بات ہے۔ یہ مسلم علماواہل دانش کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ عالمی انسانی بہبود کی ضمانت دینے والی اقدار اور ضابطوں کے تعین میں شریعت، فقہ اسلامی کا رول کیا ہو؟ اگر ہمارے علما واہل دانش اپنی سوچ وفکر اور علمی کاوشوں کا رخ اس خلا کو پر کرنے کی طرف موڑ سکیں تو اسلام ہی کی نہیں، پوری انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔
اسلامی قانون وشریعت کا امتیازیہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر غیر سرکاری قانون ہے جس کے بنانے، مرتب کرنے اور توسیع دینے میں کبھی بھی کسی حکومت، ریاست، طاقت ور طبقہ کی مداخلت نہیں رہی۔ یہ عوامی عمل کے ذریعے مرتب ہوا۔ امام ابوحنیفہ قانون تاریخ کے عظیم ترین دماغوں میں ایک تھے جن کی تعبیر قانون کو مسلمانوں کا دو تہائی کے قریب حصہ تسلیم کرتا ہے۔ وہ کسی حکومتی قانون ساز ادارے کے رکن نہیں تھے۔ امام احمد بن حنبل جن کے فقہی اقوال کو آج سعودی عرب میں قانون کی حیثیت حاصل ہے، ان کو کسی بادشاہ نے قانون سازی کے لیے مقرر نہیں کیا تھا۔ اسلام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اگر کبھی کسی حکمران یا فوجی ڈکٹیٹر نے طاقت کے زور پر کوئی قانون نافذ کرنا چاہا تو مسلم عوام نے اسے مسترد کر کے علما وفقہا وعابدین کی آرا پر عمل کیا جبکہ دنیا کے تمام قوانین شہنشاہوں اور طاقت ور حکمرانوں کی مرضی کے مطابق مرتب ہوئے حتیٰ کہ نیقہ کی کونسلوں کے گہرے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسیحیت کے بنیادی مذہبی عقائد تک تمام قوانین اور فیصلے رومن شہنشاہ کی مرضی سے بنتے رہے۔ مذکورہ کونسلوں کے اراکین جو صرف مذہبی پادری ہوتے تھے، ان کی آرا سے لے کر دنیا کے تمام قوانین ودساتیر کی تاریخ یہی ہے کہ پہلے ریاست قائم ہوئی، پھر اس نے اپنی طاقت سے قانون بنا کر نافذ کیا، مگر اسلام میں قانون پہلے بنا، پھر اس کے مطابق ریاست قائم ہوئی۔ اسلام میں ریاست کا جواز صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ قانون شریعت کی حفاظت ونفاذ کرے، ورنہ وہ اپنا قانون جواز کھو بیٹھتی ہے۔
آج مغرب بلکہ دنیا کا ایک بڑا مسئلہ جرائم کی بہتات وکثرت ہے۔ ہر سال کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ قتل، چوری، ڈکیتی، زنا بالجبر سمیت تمام جرائم دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ انھیں ختم کرنے بلکہ کم کرنے کی ہر کوشش ناکام ہے۔ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ ومتمدن کہلانے والی قوم امریکہ میں ہر روز بلکہ ہر گھنٹہ کے جرائم کے ہوش ربا اعداد وشمار اس بات کی دلیل ہیں کہ مغربی قوانین جرائم کی روک تھام میں بالکل ناکام ہو چکے ہیں۔ مغرب کے ہر ملک میں جتنی جیلیں تعمیر ہوتی ہیں، ناکافی ہو جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب میں سب سے زیادہ حقوق مجرموں اور قاتلوں کے ہیں۔ امریکہ میں ایک شخص سو کے قریب معصوم بچوں کو اغوا کر کے ان سے بدفعلی وبدکاری کر کے انھیں بے دردی سے قتل کر دیتا ہے اور جب پکڑا جاتا ہے تو امریکہ کے بہت سے نامور وکیل انسانی ہمدردی میں اسے پھانسی سے بچانے کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں، جبکہ یہ معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کا قانون وشریعت جرائم کو جڑ سے اکھاڑ کر ناپید کر دیتے ہیں۔ ۱۴ سو سالہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی اسلامی قانون وشریعت سے کسی ملک وقوم نے فائدہ اٹھایا تو سوسائٹی کو جرائم سے پاک کرنے میں انتہائی مدد ملی۔ آج سعودی عرب میں اسلامی قانون وشریعت کے صرف ایک چھوٹے سے حصے (حدود وقصاص) کے نفاذ کی وجہ سے وہاں جرائم کی تعداد دنیا میں سب سے کم ہے۔ کیا یہ بات اقوام عالم اور مغرب سمیت ہر تمدن ومعاشرہ سے غور وفکر کا تقاضا نہیں کرتی؟
گلوبل ولج کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ رنگ ونسل، قومیت وطبقہ کی حد بندیوں سے بالاتر ہو کر کھلے دل سے دنیا کے تمام قوانین وشرائع اور دساتیر کا جائزہ لیا جائے۔ مطمح نظر صرف جرائم کا خاتمہ اور انسانی بہبود ہو، نہ کہ کسی خاص تمدن وآئین کا تسلط۔ آرچ بشپ ڈاکٹر ولیمز کے ریمارکس سے برطانیہ میں مسلمانوں کو شریعت کے حوالے سے شریعت کا صحیح موقف پیش کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آیا تھا مگر مسلمان اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کے برخلاف اسلام دشمن طاقتوں نے میڈیا کے ذریعے اسلام کا ہوا کھڑا کر کے اقوام یورپ کو ڈرا دیا حتیٰ کہ وضاحت کے بہانے ڈاکٹر روون ولیمز کو بھی ایک حد تک پسپائی اختیار کرنا پڑی، لیکن اس بحث سے مثبت نتائج بھی نکلیں گے۔ چنانچہ ۲۸ فروری کو برطانیہ کے دو روزناموں فائنانشل ٹائمز اور ٹیلی گراف نے خبر دی ہے کہ حکومت سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ برطانیہ میں بسنے والے مسلم علما کو اسلامی قانون اور شریعت کی باقاعدہ ٹریننگ دی جائے۔ اس مسئلے میں برطانیہ کی اسلام دشمن اور اسلام کے متعلق سخت گیر پالیسیوں کی حامی قوتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ شرعی قانون کی تعبیر وتشریح مغربی نقطہ نظر کے مطابق ہو یا دوسرے الفاظ میں مغربی اقدار اور نظام کو کسوٹی بنا کر کی جائے، لیکن قدرت نے ہمارے لیے بہت سے مواقع پیدا کر دیے ہیں کہ ہم انسانی سوسائٹی کی فلاح وبہبود سے متعلق اسلام اور شریعت کے فائدہ مند پہلووں کو سامنے لائیں جن میں ایک یہ ہے کہ اسلام نے اس دور میں جب ایک مذہب اور تمدن کے لوگوں کے درمیان دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا زندہ رہنا مشکل تھا، دوسرے مذاہب وشرائع کے اپنے اپنے مذہبی قوانین کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے کی مکمل ضمانت دی۔ پیغمبر اسلام کے میثاق مدینہ میں یہودیوں اور مدینہ اور اس کے اطراف کے غیر مسلم بت پرست قبائل کو پوری آزادی کے ساتھ ان کے قوانین پر چلنے کی آزادی دی۔ اسی طرح دور خلفاے راشدین میں یروشلم، عراق، وسطی ایشیا کے تمام مفتوحہ ممالک میں تمام مذاہب واقوام کو ان کے قوانین پر چلنے کی آزادی وتحفظ فراہم کیا۔ آج بھی مصر کے قبطی مسیحی ہوں یا عرب دنیا کے یہودی، سب آزادی سے اپنے قوانین وشرائع پر عمل پیرا ہیں۔ اگر یہی حق اکیسویں صدی میں مغرب میں بسنے والی مختلف مذاہب کی کمیونٹیز کو مل جاتا ہے تو اس سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا نہ یہاں کے عدالتی سسٹم وقانون کے لیے کوئی خطرہ یا مسئلہ پیدا ہوگا، بلکہ ملک میں بسنے والی تمام کمیونٹیز میں باہمی ہم آہنگی اور قربت کا ذریعہ بنے گا۔
جب آرچ بشپ کے ذریعے برطانوی میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی ہے تو ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ بحث کو مثبت رنگ دیں اور شریعت کے انسانیت ومعاشرہ کے لیے نفع بخش پہلووں کو سامنے لائیں۔ خاص طور پر اس غلط فہمی کا ازالہ کریں کہ شریعت صرف چور کا ہاتھ کاٹنے یا زانی کے سنگسار کرنے کا نام ہے۔ حدود وقصاص کا نفاذ اسلام میں معاشرہ کی مکمل اصلاح اور معاشرہ کے مکمل طور پر آخری آسمانی تعلیمات پر استوار ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔
زنا کی سزا (۲)
محمد عمار خان ناصر
(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب۔)
زنا کی سزا سے متعلق دوسری آیت سورۂ نور میں آئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:
اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ وَلَا تَأْخُذْکُم بِہِمَا رَأْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَاءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ. (النور۲۴: ۲)
’’زانی عورت اور زانی مرد، ان میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر فی الواقع ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملے میں ان دونوں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ تم پر حاوی نہ ہو جائے۔ اور ان دونوں کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود ہونا چاہیے۔‘‘
آیت، جیسا کہ واضح ہے، کسی قسم کی تخصیص کے بغیر زنا کی سزا صرف سو کوڑے بیان کرتی ہے۔ یہاں قرآن مجید کا سو کوڑوں کی سزا کے بیان پر اکتفا کرنا اور اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کسی فرق کی تصریح نہ کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر طرح کے زانی کو بس یہی سزا دینا چاہتا ہے۔ مزید برآں اسی سلسلہ بیان میں چند آیتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے تعیین کے ساتھ شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑوں ہی کی سزا کی تصریح فرمائی ہے۔ چنانچہ آیت ۲ و۳ میں زنا کی سزا بیان کرنے کے بعد آیت ۴و۵ میں پاک دامن عورتوں پر بدکاری کا الزام لگانے والوں کے لیے قذف کی سزا بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد آیت ۶ تا ۱۰ میں میاں بیوی کے مابین لعان کا حکم بیان کیا گیا ہے جس کی رو سے اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اپنے الزام کے سچا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا ہوں گی۔ اس کے بعد بیوی اگر زنا کی سزا سے بچنا چاہتی ہے تو اسے بھی اس الزام کے جھوٹا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا ہوں گی۔ ارشاد ہوا ہے:
وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہٰدٰتٍ بِاللّٰہِ اِنَّہُ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ (آیت ۸)
’’اور (مرد کے قسمیں کھانے کے بعد) عورت سے یہ سزا اس صورت میں ٹلے گی جب وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔‘‘
یہاں شادی شدہ عورت کی سزا کے لیے ’العذاب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو معرفہ ہے اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس سے مراد وہی سزا یعنی ۱۰۰ کوڑے ہو سکتی ہے جس کا ذکر اس سے پیچھے آیت ۲ میں ’ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ رازی لکھتے ہیں:
الالف واللام الداخلان علی العذاب لا یفیدان العموم لانہ لم یجب علیہا جمیع انواع العذاب فوجب صرفہما الی المعہود السابق والمعہود السابق ہو الحد لانہ تعالیٰ ذکر فی اول السورۃ ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین والمراد منہ الحد (التفسیر الکبیر، ۲۳/۱۴۶)
’’العذاب پر داخل الف لام عموم کا فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ اس عورت پر ہر نوع کاعذاب لازم نہیں، اس لیے العذابسے وہی عذاب مراد لینا ضروری ہے جس کا پیچھے ذکر ہو چکا ہے اور وہ ’حد‘ کا عذاب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ ’ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین‘ اور یہاں عذاب سے مراد حد ہی کا عذاب ہے۔‘‘
رازی نے یہ بات اصلاً اس تناظر میں لکھی ہے کہ ’العذاب‘ کا لفظ لعان سے انکار کرنے والی خاتون کے لیے جس سزا کو بیان کر رہا ہے، اس سے مراد آیا دنیوی سزا ہے یا آخرت کا عذاب، اور ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ’العذاب‘ کا الف لام اسی عذاب یعنی دنیوی سزا پر دلالت کر رہا ہے جس کا ذکر سیاق کلام میں ’عذابہما‘ کے لفظ سے ہو چکا ہے۔ تاہم عربیت کی رو سے ’العذاب‘ کا الف لام صرف عذاب کی نوعیت کے حوالے سے نہیں بلکہ سزا کی متعین صورت کے حوالے سے بھی اسی سزا پر دلالت کرتا ہے جو ’عذابہما‘ میں بیان ہوئی ہے۔ ابن قیم نے اس نکتے کو یوں واضح کیا ہے:
والعذاب المدفوع عنہا بلعانہا ہو المذکور فی قولہ تعالیٰ ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین وہذا عذاب الحد قطعا فذکرہ مضافا ومعرفا بلام العہد فلا یجوز ان ینصرف الی عقوبۃ لم تذکر فی اللفظ ولا دل علیہا بوجہ ما من حبس او غیرہ (زاد المعاد، ۹۷۸)
’’یہاں لعان کے ذریعے سے عورت سے جس سزا کے ٹلنے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ وہی ہے جو اس سے قبل ’ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین‘ میں مذکور ہے۔ اس سے مراد لازماً زنا کی مقررہ سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اس کا ذکر اضافت کے ساتھ (عذابہما) کیا ہے اور اس کے بعد لام عہد (العذاب) کے ساتھ، چنانچہ ’العذاب‘ سے مراد کوئی ایسی سزا مثلاً عورت کو قید کر دینا وغیرہ ہو ہی نہیں سکتی جس کا پیچھے نہ الفاظ میں ذکر ہوا ہے اور نہ اس پر کسی قسم کا کوئی قرینہ پایا جاتا ہے۔ ‘‘
سورۂ نور کی مذکورہ آیت کی طرح سورۂ نساء کی آیت ۲۵ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت بیان کی ہے کہ اگر کوئی شخص آزاد عورت سے نکاح کی مقدرت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے۔ یہاں شادی شدہ لونڈی کے لیے بدکاری کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
فَاِذَا اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ (نساء ۴:۲۵)
’پھر جب وہ قید نکاح میں آ جائیں اور اس کے بعد بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان کو اس سے آدھی سزا دی جائے جو آزاد عورتوں کو دی جاتی ہے۔‘‘
آیت میں ’نصف ما علی المحصنات من العذاب‘ کے الفاظ اس مفہوم میں صریح ہیں کہ متکلم کے نزدیک آزاد عورتوں کے لیے زنا کی ایک ہی سزا ہے اور وہ ایسی ہے جس کی تنصیف ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ رجم کی سزا اس کا مصداق نہیں ہو سکتی۔
مفسرین نے کلام کی کسی داخلی دلالت کے بغیر شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو پیشگی فرض کرتے ہوئے بالعموم اس آیت کی تاویل یہ بیان کی ہے کہ چونکہ رجم کی تنصیف نہیں ہوسکتی، اس لیے لونڈیوں کے لیے نصف سزا بیان کرنا اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے مراد کوڑوں ہی کی سزا ہے۔ (زمخشری، الکشاف، ۱/۵۳۲۔ ابن عطیہ، المحرر الوجیز، ۲/۳۹۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱/۴۷۸) لیکن یہ بات کلام کے مدعا کی توضیح کے بجائے اس کو الٹ دینے کے مترادف ہے، کیونکہ کلام کے اسلوب سے واضح ہے کہ متکلم زنا کی دو سزائیں فرض کرتے ہوئے ان میں سے ایک کا انتخاب کر کے اس کی تنصیف کرنے کی بات نہیں کہہ رہا، بلکہ ’العذاب‘ یعنی زنا کی ایک متعین اور معہود سزا سے آدھی سزا دینے کی بات کر رہا ہے۔ بالبداہت واضح ہے کہ اس کا اشارہ سورۂ نور میں بیان کردہ سزا کی طرف ہے جہاں کسی قسم کی تفریق کے بغیر زنا کی ایک ہی سزا بیان کی گئی ہے۔ فرض کر لیجیے کہ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق متکلم کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے، پھر بھی ’نصف ما علی المحصنت‘ کے الفاظ شادی شدہ زانی کی سزا رجم نہ ہونے پر ہی دلالت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں شادی شدہ لونڈیوں کو آزاد عورتوں کے مقابلے میں نصف سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اگر آزاد عورتوں میں زنا کی سزا کے اعتبار سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی تقسیم موجود ہے تو ظاہر ہے کہ شادی شدہ لونڈی کا تقابل شادی شدہ آزاد عورت ہی کے ساتھ کیا جائے گا نہ کہ غیر شادی شدہ کے ساتھ، اس لیے کہ تقابل اسی صورت میں بامعنی قرار پاتا ہے ۔ اگر متکلم اس متبادر مفہوم سے مختلف کسی مفہوم کا ابلاغ کرنا چاہتا ہے تو بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی قرینہ کلام میں بہم پہنچایا جائے جو یہاں موجود نہیں۔
قرآن مجید کے نصوص کی وضاحت کے بعد اب ہم بحث کے دوسرے نکتے کی طرف آتے ہیں۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کی بنیاد پر زانی کی سزا میں فرق کیا اور قرآن کی بیان کردہ سزا کے علاوہ کنوارے زانی کے لیے ایک سال کی جلاوطنی جبکہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی اضافی سزا مقرر فرمائی۔ اس ضمن میں روایات دو طرح کی ہیں: ایک وہ جن میں شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا قولی حکم مذکور ہے اور دوسری وہ جن میں مختلف مقدمات کے حوالے سے بعض مجرموں کو عملاً رجم کی سزا دینے کا ذکر ہوا ہے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
کان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا انزل علیہ کرب لذلک وتربد لہ وجہہ قال فانزل علیہ ذات یوم فلقی کذلک فلما سری عنہ قال خذوا عنی فقد جعل اللّٰہ لہن سبیلا: الثیب بالثیب والبکر بالبکر، الثیب جلد ماءۃ ثم رجم بالحجارۃ، والبکر جلد ماءۃ ثم نفی سنۃ. (مسلم، رقم ۳۲۰۰)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کو تکلیف ہوتی اور اس کی شدت سے آپ کا چہرہ کسی قدر سیاہ ہو جاتا۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی اور یہی کیفیت آپ پر طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیدا کر دی ہے۔ شادی شدہ زانی شادی شدہ زانیہ کے ساتھ ہے اور کنوارا زانی کنواری زانیہ کے ساتھ۔ شادی شدہ کو سو کوڑے مارنے کے بعد سنگسار کیا جائے، جبکہ کنوارے کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلاوطن کر دیا جائے۔‘‘
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
لا یحل دم امرئ مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ الا باحدی ثلاث: النفس بالنفس والثیب الزانی والمارق من الدین التارک للجماعۃ. (بخاری، رقم ۶۳۷۰)
’’کسی مسلمان کی، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جان لینا تین صورتوں کے سوا جائز نہیں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل کر مسلمانوں کی جماعت کا ساتھ چھوڑ دے۔‘‘
بعض روایات کے مطابق رجم کا حکم قرآن مجید میں باقاعدہ ایک آیت کی صورت میں نازل ہوا تھا۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے ایک موقع پر اپنے خطبے میں فرمایا :
ان اللہ بعث محمدا بالحق وانزل علیہ الکتاب فکان مما انزل اللہ آیۃ الرجم فقراناہا وعقلناہا ووعیناہا رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل واللہ ما نجد آیۃ الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلہا اللہ والرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنی اذا احصن من الرجال والنساء اذا قامت البینۃ او کان الحبل او الاعتراف (بخاری، ۶۳۲۸)
’’اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے جو وحی نازل کی، اس میں رجم کی آیت بھی تھی، چنانچہ ہم نے اسے پڑھا اور سمجھا اور اسے یاد کیا۔ (اس پر عمل کرتے ہوئے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی اس پر عمل کیا۔ مجھے خدشہ ہے کہ زیادہ وقت گزرنے کے بعد کوئی شخص یہ کہے گا کہ بخدا ہم کتاب اللہ میں رجم کی آیت کو موجود نہیں پاتے۔ اس طرح وہ اللہ کے اتارے ہوئے ایک فریضے کو چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں گے۔ جو مرد یا عورت محصن ہونے کی حالت میں زنا کا ارتکاب کرے اور اس پر گواہ موجود ہوں یا حمل ظاہر ہو جائے یا وہ خود اعتراف کر لے تو اللہ کی کتاب میں اس کے لیے رجم کی سزا ثابت ہے ۔‘‘
رجم کا حکم قرآن میں نازل ہونے کی روایات سیدنا عمر کے علاوہ ابی بن کعب اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہیں اور ان میں یہ آیت ’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ‘ (بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو ان کو لازماً سنگ سار کردو)کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ (مسند احمد، رقم ۲۰۶۱۳۔ موطا امام مالک، رقم ۲۵۶۸)
اس باب میں نقل ہونے والے مقدمات میں ماعز اسلمی (بخاری، رقم ۴۸۶۵)، قبیلۂ غامد کی ایک خاتون (مسلم، رقم ۳۲۰۸)، اپنے مالک کی بیوی سے بدکاری کرنے والے مزدور (بخاری، رقم ۲۵۲۳)، زنا کا ارتکاب کرنے والے ایک یہودی جوڑے، (بخاری، رقم ۳۳۶۳) اور نماز کے لیے جاتی ہوئی خاتون کو راستے میں پکڑ کر اس سے زیادتی کرنے والے ایک شخص (ابو داؤد، رقم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴) کے واقعات معروف ہیں۔
مذکورہ روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی میں فرق کیا اور دونوں کے لیے جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزائیں مقرر کی ہیں جو بظاہر قرآن مجید کے مدعا سے متجاوز دکھائی دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی بیان کردہ سزا اور مذکورہ روایات میں تطبیق وتوفیق کی صورت کیا ہو؟ یہ سوال ہمیشہ سے اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ صدر اول میں خوارج اور بعض معتزلہ نے رجم کو قرآن مجید کے منافی قرار دیتے ہوئے شرعی حکم کے طور پر تسلیم کرنے سے ہی سرے سے انکار کر دیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ نہ صرف ’الزانیۃ والزانی‘ کا عموم اس کا مقتضی ہے کہ ہر قسم کے زانی کے لیے سو کوڑے ہی شرعی حد ہو، بلکہ قرآن مجید نے جس قدر تفصیل کے ساتھ زنا سے متعلق احکام وقوانین کو موضوع بنایا ہے، اتنا کسی دوسرے جرم کو نہیں بنایا اور اگر رجم کی سزا بھی زنا کی سزاؤں میں شامل ہوتی تو قرآن مجید لازماً اس کا ذکر کرتا۔ (رازی، التفسیر الکبیر ۲۳/۱۱۷، ۱۱۸) خوارج وغیرہ نے اس بنیاد پر رجم کی روایات کو سرے سے ناقابل اعتنا قرار دیا، تاہم یہ نقطۂ نظر امت کے جمہور اہل علم کے ہاں پذیرائی حاصل نہیں کر سکا اور انھوں نے رجم کی روایات کو قبول کرتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ اس حکم کی توفیق وتطبیق کی راہ اختیار کی۔ اس ضمن میں جو مختلف علمی توجیہات پیش کی گئیں ہیں، ذیل کی سطور میں ہم ان کا ایک تنقیدی مطالعہ کریں گے۔
۱۔ ایک نقطہ نظر یہ پیش کیا گیا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی آیت خود قرآن مجید میں نازل ہوئی تھی جو بعد میں الفاظ کے اعتبار سے تو منسوخ ہو گئی، لیکن اس کا حکم باقی رہ گیا۔ (ابن حزم، المحلیٰ ۱۱/۲۳۴۔ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۰/۳۹۸، ۳۹۹) اس موقف کے حق میں بناے استدلال بالعموم سیدنا عمر کے اس خطبے کوبنایا جاتا ہے جس کا متن ہم نے اوپر رجم سے متعلق روایات کے ضمن میں نقل کیا ہے۔**
اس مفہوم کی روایات اس حوالے سے باہم متعارض ہیں کہ رجم کا حکم آیا قرآن مجید کی کسی باقاعدہ آیت کے طور پر نازل ہوا تھا یا قرآن سے باہر کسی الگ حکم کے طور پر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت باقاعدہ قرآن مجید کے ایک حصے کے طور پر نازل ہوئی تھی اور اسی حیثیت سے پڑھی جاتی تھی، چنانچہ زر بن حبیش ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ سورہ احزاب اپنے حجم میں سورۂ بقرہ کے برابر ہوا کرتی تھی اور اس میں یہ آیت بھی تھی: ’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم‘ (بیہقی، ۱۶۶۸۸۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۷۱۵۰) اس کے برعکس بعض دوسری روایات یہ بتاتی ہیں کہ کہ یہ قرآن مجید سے الگ ایک حکم تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حین حیات میں اسے قرآن مجید میں لکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ کثیر بن ا لصلت روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت نے ایک موقع پر مروان کی مجلس میں یہ کہا کہ ہم ’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتۃ ‘ کی آیت پڑھا کرتے تھے۔ اس پر مروان نے کہا کہ کیا ہم اسے مصحف میں درج نہ کر لیں؟ زید نے کہا کہ نہیں، دیکھتے نہیں کہ جوان شادی شدہ مرد عورت بھی اگر زنا کریں تو انھیں رجم کیا جاتا ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں صحابہ کے مابین زیر بحث آئی تو سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ، مجھے رجم کی آیت لکھوا دیجیے، لیکن آپ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ (بیہقی، ۱۶۶۹۰۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۷۱۴۸)
بہرحال رجم کا حکم قرآن مجید میں نازل کیے جانے کے بعد اس سے نکال لیا گیا ہو یا ابتدا ہی سے اسے قرآن کا حصہ بنانے سے گریز کیا گیا ہو، دونوں صورتوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شارع کے پیش نظر اس کو ایک مستقل حکم کے طور پر برقرار رکھنا تھا تو مذکورہ طریقہ کیوں اختیارکیا گیا؟ اگر یہ مانا جائے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی آیت قرآن میں نازل ہونے کے بعد اس سے نکال لی گئی تو اس کی واحد معقول توجیہ یہی ہو سکتی ہے کہ اب یہ حکم بھی منسوخ ہو چکا ہے، ورنہ حکم کو باقی رکھتے ہوئے آیت کے الفاظ کو منسوخ کر دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی یہ حکم تو دیا گیا تھا لیکن اسے قرآن مجید کا حصہ بنانے سے بالقصد گریز کیا گیا تو بظاہر یہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی نوعیت کا حکم تھا جسے ابدی شرعی احکام کی حیثیت سے برقرار رکھنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف اسی سزا کے بیان پر اکتفا کی جسے ابدی طور پر باقی رکھنا ضروری تھا۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رجم کے حکم کے منسوخ ہو جانے کی بات بظاہر معقول دکھائی دیتی ہے، لیکن اس امر کی توجیہ کسی طرح نہیں ہو پاتی کہ یہ بات صحابہ سے کیسے مخفی رہ گئی، کیونکہ نہ صرف سیدنا عمر جیسے بلند پایہ فقیہ رجم کے ایک شرعی حکم کے طورپر باقی ہونے کے قائل ہیں، بلکہ خلفاے راشدین اور دوسرے اکابر صحابہ کے ہاں بھی متفقہ طور پر یہی تصور پایا جاتا ہے۔
۲۔ امام شافعی نے یہ زاویۂ نگاہ پیش کیا ہے کہ اگرچہ قرآن مجید کے الفاظ بظاہر عام ہیں اور ان کو غیر شادی شدہ زانی کے ساتھ خاص کرنے کا کوئی قرینہ کلام میں موجود نہیں، تاہم قرآن مجید کا حقیقی مدعا اس کے ظاہر الفاظ کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کی روشنی میں زیادہ درست طور پر متعین کیا جا سکتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر کرنا گویا اس بات کی وضاحت ہے کہ قرآن میں ’الزانیۃ والزانی‘ کے الفاظ درحقیقت صرف کنوارے زانیوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ (الشافعی، الرسالہ، ۶۶، ۶۷، ۷۲)
امام صاحب کے نقطہ نظر پر ہمارا بنیادی اشکال یہ ہے کہ امام صاحب نے اس مسئلے کو سنت کے ذریعے سے قرآن مجید کی تخصیص کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ یہ درحقیقت تخصیص کی نہیں بلکہ قرآن پر زیادت کی مثال ہے، چنانچہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت میں، جو زنا کی سزا کے قانونی بیان کا بنیادی ماخذ ہے، کوڑوں کی سزا کے حوالے سے شادی شدہ اور کنوارے زانی میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، بلکہ اسے دونوں پر یکساں قابل اطلاق قرار دیا گیا ہے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ کنوارے زانی کے لیے ایک سال کی جلاوطنی کی جبکہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی اضافی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ سورۂ نساء میں زنا کی عبوری سزا مقرر کیے جانے کے بعد سورۂ نور کی آیات نازل ہوئیں جن میں زنا کی مستقل سزا مقرر کی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکم کی وضاحت میں وہ تفصیل بیان کی جو عبادہ بن صامت کی روایت میں نقل ہوئی ہے، البتہ امام صاحب کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ واضح فرمایا ہے کہ شادی شدہ زانی کو صرف رجم کی سزا دی جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو سو کوڑوں کی سزا دینا منسوخ ہو چکا ہے۔ تاہم اس سے صورت حال میں کوئی ایسا فرق واقع نہیں ہوتا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ یہ سنت کے ذریعے سے قرآن پر زیادت کی نہیں بلکہ تخصیص کی مثال ہے، اس لیے کہ عبادہ بن صامت کی روایت سے واضح ہے کہ یہ حکم سورۂ نساء میں زنا کی عبوری سزا کے بیان کے بعد نازل ہونے والا پہلا مستقل حکم ہے اور اس میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کے ساتھ ساتھ کوڑوں کی سزا بھی بیان ہوئی ہے، اس لیے اگر امام شافعی کی رائے کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوڑوں کی سزا بعد میں منسوخ ہو گئی تھی تو بھی عبادہ بن صامت کی روایت کی حد تک یہ ’زیادت‘ ہی ہے، اسے کسی طرح بھی ’تخصیص‘ نہیں کہا جا سکتا۔
برسبیل تنزل اسے ’تخصیص‘ کی مثال مان لیا جائے تو بھی امام صاحب کی اس بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں کہ قرآن مجید شادی شدہ زانی کی سزا بیان کرنے کے معاملے میں قطعی نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر کرنا قرآن کے محتمل اور ظنی الدلالۃ الفاظ کی وضاحت اور بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’الزانیۃ والزانی‘ کے ظاہری عموم کے علاوہ سورۂ نور میں ’یدرؤ عنہا العذاب‘ اور سورۂ نساء میں ’نصف ما علی المحصنت من العذاب‘ کے الفاظ صریحاً یہ بتاتے ہیں کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑے ہی کی سزا ہے۔ چنانچہ روایت نے اگر قرآن کی ’تخصیص‘ کی ہے تو شرح ووضاحت اور ’بیان‘ کے طریقے پر نہیں بلکہ نسخ اور تغییر کے طریقے پر کی ہے جس کے جواز کے خود امام شافعی بھی قائل نہیں۔ ان وجوہ سے امام شافعی کی رائے ہمارے نزدیک معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرنے (oversimplification) کی ایک مثال ہے جسے علمی بنیادوں پر قبول کرنا ممکن نہیں۔
مولانامودودی نے امام شافعی کے زاویہ نگاہ کو ایک دوسرے انداز سے پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید صرف غیر شادی شدہ زانی کی سزا بیان کرتا ہے اور اس کے لیے خود قرآن مجید میں قرائن موجود ہیں۔ مولانا نے اس ضمن میں جو استدلال پیش کیا ہے، اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
استدلال کا پہلا مقدمہ یہ ہے کہ سورۂ نساء کی آیت ۱۵ میں اللہ تعالیٰ نے زنا کی جو مستقل سزا مقرر کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اسی سورہ کی آیت ۲۵ میں شادی شدہ لونڈی کے لیے جس سزا کا ذکر کیا ہے، وہ وہی ہے جو سورۂ نور کی آیت ۲ میں بیان کی گئی ہے۔ دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ ’نصف ما علی المحصنت‘ (نساء ۲۵) میں ’محصنات‘ کا لفظ شادی شدہ آزاد عورتوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے مفہوم میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا سے آدھی سزا دی جائے۔ ان دو مقدموں سے مولانا یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ چونکہ سورۂ نساء کی آیت ۲۵ میں لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا سے آدھی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ اصل سزا سورۂ نور میں بیان ہوئی ہے، اس لیے سورۂ نور میں بیان ہونے والی سزا بھی لازماً غیر شادی شدہ آزاد عورتوں ہی سے متعلق ہے۔ (تفہیم القرآن، ۳/۳۲۶)
دوسرے مقدمے کے حق میں مولانا نے دو دلیلیں پیش کی ہیں: ایک کہ اسی آیت کے شروع میں ’من لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنات المومنات‘ میں محصنات کا لفظ غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لیے آیا ہے، اس لیے اسی سیاق میں جب یہ لفظ دوبارہ استعمال ہوا ہے تو اس سے مراد بھی غیر شادی شدہ عورتیں ہی ہو سکتی ہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ زنا کی سزا دراصل اس حفاظت کو توڑنے کی سزا ہے جو عورت کو خاندان یا نکاح کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ شادی شدہ آزاد عورت کو دونوں حفاظتیں میسر ہوتی ہیں جبکہ غیر شادی شدہ کو صرف ایک۔ اس کے برعکس لونڈی خاندان کی حفاظت سے بالکل محروم ہوتی ہے ، جبکہ شادی شدہ ہونے کی صورت میں اسے صرف ایک حفاظت حاصل ہوتی ہے اور وہ بھی ادھوری، چنانچہ لونڈی کا تقابل شادی شدہ آزاد عورت سے نہیں، جس کو دوہری حفاظت حاصل ہوتی ہے، بلکہ غیر شادی شدہ آزاد عورت سے ہونا چاہیے جسے لونڈی کی طرح ایک ہی حفاظت میسر ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن، ۱/۳۴۲، ۳۴۳)
مولانا کا پیش کردہ یہ استدلال واقعہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہے۔ اول تو ان کا یہ استنتاج عجیب ہے کہ چونکہ نساء میں لونڈیوں کو غیر شادی شدہ آزاد عورتوں سے آدھی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے سورۂ نور میں بیان ہونے والی سزا بھی کنوارے زانیوں ہی سے متعلق ہے۔ نساء کی آیت سے واضح ہے کہ سورۂ نور کی آیت اس سے پہلے نازل ہو چکی تھی، چنانچہ یہ بات طے کرنے کے قرائن کہ سورۂ نور میں کون سے زانی زیر بحث ہیں، خود سورۂ نور میں موجود ہونے چاہییں اور انھی روشنی میں اس کا فیصلہ کرنا چاہیے، نہ کہ سورۂ نور کے احکام کا دائرۂ اطلاق سورۂ نساء کی آیات سے متعین کرنا چاہیے۔ اگر سورۂ نور کے احکام کے دائرۂ اطلاق کی تعیین کے لیے نساء کی آیت ۲۵ ہی قرآن مجید میں واحد بنیاد ہے تو سوال یہ ہے کہ جب تک اس آیت میں مذکورہ قرینہ اگر اسے کوئی قرینہ کہا جا سکے بہم نہیں پہنچایا گیا تھا، اس وقت تک سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ کے منشا تک رسائی کا ذریعہ کیا تھا؟ حکم کو بیان کر دینا لیکن اس کے ایک نہایت بنیادی پہلو کے فہم کو معلق رکھتے ہوئے اس کے قرائن کو بعد میں کسی دوسری جگہ پر الگ رکھ دینا آخر زبان وبیان اور بلاغت کا کون سا اسلوب ہے؟
مولانا نے سورۂ نساء کی آیت ۲۵ میں جس قرینے کی نشان دہی کی ہے، وہ بھی دلچسپ ہے۔ عربی زبان میں ’محصنات‘ کا لفظ ’’آزاد عورتوں‘‘کے مفہوم میں استعمال ہو تو اس کا مصداق بننے والے افراد اپنی حالت کے لحاظ سے شادی شدہ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر شادی شدہ بھی، لیکن اس فرق پر کوئی دلالت لفظ کے اپنے مفہوم میں داخل نہیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاق کلام میں قرینے کی بنا پر اس لفظ کا اطلاق صرف شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورتوں تک محدود ہو جائے، لیکن ’محصنات‘ کا لفظ موقع کلام سے پیدا ہونے والی اس تخصیص سے قطع نظر فی نفسہ محض ’’آزاد عورتوں‘‘ کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ زیر بحث آیت میں بھی ’من لم یستطع منکم ان ینکح المحصنات‘ میں لفظ ’محصنات‘ محض ’’آزاد عورتوں‘‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ’’غیر شادی شدہ آزاد عورت‘‘ ہونا اس کا معنی یا اس کے استعمالات میں سے کوئی استعمال نہیں، بلکہ اس میں یہ مفہوم اس کے ساتھ متعلق ہونے والے فعل یعنی ’ینکح‘ کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے اور عربیت کی رو سے یہ تخصیص اسی جملے تک محدود ہے۔ اس کے بعد جب یہ لفظ ’فعلیہن نصف ما علی المحصنات من العذاب‘ میں دوبارہ استعمال ہوا ہے تو یہاں بھی اس کا مفہوم محض ’’آزاد عورتیں‘‘ ہے، جبکہ ’ینکح المحصنات‘ میں فعل ’ینکح‘ کے تقاضے سے پیدا ہونے والی تخصیص کو یہاں موثر ماننے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ قرینہ۔
مولانا نے اس ضمن میں اکہرے اور دوہرے احصان کا جو نکتہ بیان کیا ہے، وہ ذہانت آمیز ہے لیکن اس کا عربی زبان یا قرآن مجید کے مدعا سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی زبان میں ’محصنات‘ کا لفظ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، سادہ طور پر ’’آزاد عورتوں‘‘ یا ’’شادی شدہ خواتین‘‘ کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ ان دونوں استعمالات کی لسانی تحقیق کے تناظر میں یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ آزاد عورتوں کو خاندان کی حفاظت حاصل ہوتی ہے اور شادی شدہ عورتوں کو نکاح کی۔ اسی طرح عقلی استدلال کی حد تک یہ بات بھی درست ہے کہ شادی شدہ آزاد عورت کو دو حفاظتیں حاصل ہوتی ہیں جبکہ غیر شادی شدہ کو صرف ایک، لیکن جہاں تک عربی زبان کے استعمال کا تعلق ہے تو اہل زبان اس لفظ کو ’’آزاد عورت‘‘ یا ’’شادی شدہ عورت‘‘ کے بالکل سادہ مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ اکہرے یا دوہرے احصان کا کوئی تصور نہ اہل زبان کے استعمال میں موجود ہے اور نہ قرآن کے الفاظ میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ موجود ہے۔ اس لیے یہ ایک دقیق نکتہ آفرینی تو ہو سکتی ہے، لیکن الفاظ کا مفہوم ومدلول اور متکلم کا مدعا ومنشا متعین کرنے کا یہ طریقہ زبان وبیان کے لیے ایک اجنبی چیز ہے۔
مولاناکی یہ رائے کہ نساء کی آیت ۱۵ غیر شادی شدہ زانیوں ہی سے متعلق تھی، اس وجہ سے بھی محل نظر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث عبادہ میں ’او یجعل اللہ لہن سبیلا‘ کاحوالہ دیتے ہوئے صرف کنوارے زانیوں کے ساتھ شادی شدہ زانیوں کی سزا بھی بیان کی ہے جو اس کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیت میں بیان ہونے والی عبوری سزا بھی دونوں ہی سے متعلق تھی۔ مولانا کی بات درست مان لی جائے تویہ سوال تشنہ جواب رہتا ہے کہ اگر یہ آیت صرف غیر شادی شدہ زانیوں سے متعلق تھی تو عبوری سزا بیان کرتے ہوئے صرف انھیں کیوں مدنظر رکھا گیا اور شادی شدہ زانیوں کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا۔
مذکورہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے تو اس میں کسی ابہام یا احتمال کے بغیر پوری وضاحت کے ساتھ شادی شدہ اور کنوارے زانی کے لیے ایک ہی سزا یعنی سو کوڑے کی تصریح کی گئی ہے، اس لیے قرآن مجید اور روایات کے مابین تطبیق وتوفیق پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید کے بیان کو محتمل اور اس کی دلالت کو ظنی قرار دینے کا نقطہ نظر درست نہیں۔ قرآن کے بیان کا واضح، غیر مبہم اور غیر محتمل ہونا اس بحث کا بنیادی نکتہ ہے اور اس کو نظر انداز کر کے کی جانے والی توجیہ وتطبیق کی ہر کوشش محض دفع الوقتی ہوگی۔
۳۔ اصولیین کے ایک گروہ نے رجم کے حکم کو آیت نور کی ’تخصیص‘ کے بجائے اس پر ’زیادت‘ قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی بیان کردہ سزا ہر قسم کے زانی کے لیے عام ہے، البتہ ان میں سے شادی شدہ زانیوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی صورت میں ایک اضافی سزا بھی مقرر فرمائی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے حامل اہل علم میں سے بعض شادی شدہ زانی پر دونوں سزائیں نافذ کرنے کے قائل ہیں، (ابن عبد البر، الاستذکار ۲۴/۴۹) جبکہ بعض کی رائے میں رجم کی سزا نافذ کرنے کی صورت میں چونکہ کوڑے لگانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس لیے عملاً ایک ہی سزا نافذ کی جائے گی۔ (شاہ ولی اللہ، حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۷)
اس رائے پر بنیادی اشکال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کی بیان کردہ سزا میں یہ اضافہ آیا سورۂ نور کے نزول کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا یا اسے بعد میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا؟ اگر دوسری صورت فرض کی جائے تو روایت اسے قبول نہیں کرتی، کیونکہ وہ یہ بتاتی ہے کہ سورۂ نساء کی آیت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جانے والا پہلا حکم یہی تھا، چنانچہ سورۂ نور کا نزول اس حکم کے ساتھ یا اس کے بعد تو مانا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پہلے نہیں۔ اس کے برعکس پہلی صورت مانی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سو کوڑے لگوانے کے ساتھ ساتھ کنوارے زانی کو جلاوطن جبکہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کروانا چاہتے ہیں تو دونوں حکموں کے ایک ہی موقع پر نازل کیے جانے کے باوجود قرآن مجید کے اس پوری بات کو خود بیان کرنے سے گریز کرنے اور سزا کا ایک جزو قرآن میں جبکہ دوسرا جزو اس سے باہر نازل کی جانے والی وحی میں بیان کرنے کی وجہ اور حکمت کیا ہے اور جب قرآن نے زنا کی سزا کے بیان کو باقاعدہ موضوع بنایا ہے تو مجرم کے حالات کے لحاظ سے اس جرم کی جو مختلف سزائیں دینا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا، ان کی وضاحت میں کیا چیز مانع تھی؟ قرآن کے اسلوب کا ایجاز مسلم ہے، لیکن عدت، وراثت اور قتل خطا وغیرہ کی مختلف صورتوں اور ان کے الگ الگ احکام کی تفصیل کا طریقہ خود قرآن میں اختیار کیا گیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ زنا کی سزا کے معاملے میں اس معروف اور مانوس طریقے کو چھوڑ کر ایک ایسا انداز اختیار کیا گیا جو نہ صرف زبان وبیان کے عمومی اسلوب بلکہ خود قرآن کے اپنے طرز گفتگو سے بھی بالکل ہٹ کر ہے؟
ایک احتمال یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے تو زنا کی سزا سو کوڑے ہی مقرر کی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ فیصلہ فرمایا کہ اس پر جلا وطنی اور سنگساری کی سزا کا بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت امت پر مطلقاً فرض کی گئی ہے، اس لیے آپ نے قرآن کے علاوہ اپنے اجتہاد کی بنیاد پر جو حکم دیا، امت کے لیے اسے بھی ایک شرعی حکم کی حیثیت سے تسلیم کرنا لازم ہے۔ تاہم یہ مفروضہ بھی اصل الجھن کو حل کرنے میں کسی طور پر مددگار نہیں، اس لیے کہ اصل سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو ماننے یا نہ ماننے یا آپ کی اطاعت کے دائرے کو مطلق یا مقید قرار دینے کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں مقرر کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اجتہاد تھا تو کیا آپ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ جس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم دیا گیا ہو، اس میں اپنے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے نفس حکم میں کوئی ترمیم یا اضافہ کر لیں اور کیا آپ کے اجتہادات میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ان سزاؤں کے اضافے کو آپ کے اجتہاد پر مبنی ماننے سے دوسرا اہم اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرعی سزاؤں کے معاملے میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا رجحان یہ تھا کہ مجرم کو سزا سے بچنے کا موقع دیا جائے، چنانچہ آپ نے زنا کے اعتراف کے ساتھ پیش ہونے والے مجرموں کو اپنے رویے سے واپس پلٹ جانے اور توبہ واصلاح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور عمومی طور پر بھی مسلمانوں کو یہی ہدایت کی کہ وہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے حتی الامکان سزا سے بچنے کا راستہ تلاش کریں۔ اس تناظر میں یہ بات ایک تضاد دکھائی دیتی ہے کہ ایک طرف آپ مجرموں سے سزا کے نفاذ کو ٹالنے کا رجحان ظاہر کر رہے ہوں اور دوسری طرف انھی مجرموں کے لیے قرآن کی بیان کردہ سزاؤں کو ناکافی سمجھتے ہوئے اپنے اجتہاد سے ان پر مزید اور زیادہ سنگین سزاؤں کا اضافہ فرما رہے ہوں۔ ان وجوہ سے جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزاؤں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد پر مبنی قرار دینے کی بات کسی طرح قرین قیاس دکھائی نہیں دیتی۔
ایک مزید احتمال یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے صرف نفس زنا کی سزا بیان کی ہے، جبکہ سزا کے نفاذ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر اس میں مجرم کے حالات یا جرم کی نوعیت کے لحاظ سے شناعت کا کوئی مزید پہلو شامل ہو جائے تو اس کی رعایت سے کوئی اضافی سزا بھی اصل سزا کے ساتھ شامل کی جا سکتی ہے۔ چونکہ شادی شدہ زانی جائز طریقے سے جنسی تسکین کی سہولت موجود ہوتے ہوئے ایک ناجائز راستہ اختیار کرتا اور اپنے رفیق حیات کے ساتھ بھی بے وفائی اور عہد شکنی کا مرتکب ہوتا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے زانی کے لیے اضافی سزا مقرر کرنے سے قرآن مجید کے حکم پر کوئی زد نہیں پڑتی۔
تاہم یہ احتمال بھی اشکال سے خالی نہیں، ا س لیے کہ قرآن نے محض ’الزانیۃ والزانی‘ کے ظاہری عموم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، شادی شدہ زانی کے لیے بھی سو کوڑوں ہی کی سزا بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اصل سزا یہی ہے۔ اب اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اضافی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی زائد سزا بیان کی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ ’حد‘ نہیں بلکہ ایک تعزیری سزا ہوگی، کیونکہ اسے اصل سزا کا لازمی حصہ تصور کرنے کا مطلب اس معاملے میں قرآن کے صریح بیان کو ناکافی قرار دینا ہوگا۔ ویسے بھی مجرم کے حالات کے لحاظ سے دی جانے والی اضافی سزا اپنی نوعیت کے لحاظ سے تعزیری سزا ہی ہو سکتی ہے اور اس کے نفاذ میں یہ بات ملحوظ رکھنا پڑتی ہے کہ سزا میں جس بنیاد پر اضافہ کیا جا رہا ہے، وہ عملاً موجود بھی ہے یا نہیں۔ اس طرح اس توجیہ کا منطقی تقاضا یہ ہوگا کہ مثال کے طور پر رجم کی اضافی سزا کا نفاذ صرف ایسے شادی شدہ زانی پر کیا جائے جس کے لیے ارتکاب زنا کے وقت بھی شرعی طریقے سے اپنی بیوی یا شوہر سے جنسی استمتاع کا امکان موجود ہو۔ اگر نکاح کے بعد جدائی ہو چکی ہو یا زوجین میں سے کوئی ایک انتقال کر چکا ہو یا خاوند گھر سے دور ہو تو ازروے علت ان صورتوں میں زنا کے ارتکاب پر مجرم کے شادی شدہ ہونے کے باوجود اسے رجم کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ چنانچہ یہ توجیہ اصل مقصود یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ سزاؤں کے ’حد‘ یعنی سزا کا لازمی حصہ ہونے کوکسی طرح واضح نہیں کرتی۔ مزید برآں اگر اس کو درست مانا جائے تو اس سے صرف شادی شدہ زانی کی سزا میں اضافے کی توجیہ ہوتی ہے، جبکہ کنوارے زانی کی سزا میں جلاوطنی کا اضافہ کرنے کی کوئی وجہ واضح نہیں ہو پاتی۔
واقعہ یہ ہے کہ روایت میں بیان ہونے والی اضافی سزاؤں کی اگر زنا کے علاوہ کوئی اضافی وجہ فرض نہ کی جائے اور ان سزاؤں کو قرآن ہی کی بیان کردہ سزا کے دائرۂ اطلاق میں مساوی طور پر لازم مانا جائے تو آیت اور روایت کے باہمی تعلق کی کوئی معقول توجیہ کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ فقہاے احناف نے کم از کم روایت کے ایک حصے یعنی کنوارے زانی کی سزا کی حد تک قرآن مجید اور روایت میں تطبیق کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ ان کی رائے میں جلاوطنی کی سزا محض ایک تعزیری سزا ہے اور اس کے نفاذ کا مدار قاضی کی صواب دید پر ہے۔ اس ضمن میں احناف کا اصولی استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید مطلقاً ہر قسم کے زانی کے لیے صرف سو کوڑوں کی سزا بیان کے حوالے سے بالکل واضح اور قطعی ہے اور اس کے دائرۂ اطلاق میں کوئی تخصیص یا اس سزا پر کوئی اضافہ کسی قطعی دلیل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ وہ کنوارے زانی کے لیے حدیث میں بیان ہونے والی اضافی سزا یعنی ایک سال کی جلاوطنی کو، خبر واحد سے ثابت ہونے کی بنا پر، سزا کا لازمی حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں قرآن نے جس سزا کے بیان پر اکتفا کی ہے، وہی اصل سزا ہے اور اس پر کوئی اضافہ کرنا قرآن کے نسخ کو مستلزم ہے جو خبر واحد سے نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وہ زانی کو جلا وطن کرنے کو ایک صواب دیدی سزا کے طور پر قبول کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اگر قاضی کسی مجرم کی آوارہ منشی کو دیکھتے ہوئے اس کے اس علاقے میں رہنے کو خطرے کا باعث سمجھے یا مزید تنبیہ کی غرض سے اسے گھر در سے دور اور اعزہ واقربا کی حمایت سے محروم کرنے کو بھی قرین مصلحت دیکھے تو وہ سو کوڑے لگانے کے بعد اسے جلا وطن بھی کر سکتا ہے۔ (سرخسی، المبسوط ۹/۵۰، ۵۱۔ جصاص، احکام القرآن ۳/۲۵۵، ۲۵۶۔ طحاوی، شرح معانی الآثار ۴۴۷۹)
امام طحاوی نے اس پر یہ استدلال پیش کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لونڈیوں کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ اگر وہ زنا کا ارتکاب کریں تو انھیں آزاد عورتوں سے نصف سزا دی جائے: ’فنصف ما علی المحصنت من العذاب‘۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی سزا بیان کرتے ہوئے صرف کوڑے لگانے کا ذکر کیا ہے اور انھیں جلاوطن کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا:
اذا زنت الامۃ فاجلدوہا ثم اذا زنت فاجلدوہا ثم اذا زنت فاجلدوہا فی الثالثۃ او الرابعۃ بیعوہا ولو بضفیر (بخاری، ۲۳۶۹)
’’جب لونڈی زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ زنا کے بارے میں فرمایا کہ اب اسے بیچ دو، چاہے قیمت میں ایک معمولی رسی ہی ملے۔‘‘
تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ شریعت کی رو سے زنا کے ارتکاب کی صورت میں لونڈی کو جلاوطن نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ قرآن مجیدنے لونڈیوں کی سزا آزاد عورتوں سے نصف بیان کی ہے، اس لیے اگر جلا وطن کرنا آزاد عورتوں کی سزا کا لازمی حصہ ہوتا تو قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی رو سے لونڈیوں کو بھی چھ ماہ کے لیے جلا وطن کرنا ضروری ہوتا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے لیے یہ سزا بیان نہیں فرمائی اور نہ اہل علم میں سے کوئی اس کا قائل ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد عورتوں کے لیے بھی جلا وطن کرنا زنا کی سزا کا کوئی لازمی حصہ نہیں ہے۔ پھر چونکہ زنا کی سزا کے معاملے میں آزاد عورتوں اور آزاد مردوں کی سزا میں کوئی فرق نصوص سے ثابت نہیں، اس لیے مردوں کے بارے میں بھی لازماً یہی موقف اختیار کرنا پڑے گا۔ (طحاوی، شرح معانی الآثار، ۴۴۷۹)
زانی کو جلا وطن کرنے کی احادیث کو روایت کرنے والے بعض صحابہ کے اسلوب بیان سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ وہ اس سزا کو اصل حد کا حصہ نہیں، بلکہ ایک اضافی سزا سمجھتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قضی فی من زنی ولم یحصن ان ینفی عاما مع اقامۃ الحد علیہ (نسائی، السنن الکبریٰ، ۷۲۳۷)
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے بارے میں حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے جلاوطن کرنے کاحکم دیا۔‘‘
گویا جلا وطن کرنے کی سزا فی نفسہ کسی جرم کی مستقل اور باقاعدہ سزا نہیں ہے، بلکہ اسے جرم کی نوعیت اور حالات کی مناسبت سے کسی بھی جرم کی اصل سزا کے ساتھ تعزیری طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، اور اسی حکمت ومصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مجرم کو جلا وطن کرنے میں بہتری کے بجائے فساد کا خدشہ ہو تو اسے جلاوطن نہ کیا جائے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی کی رائے یہ نقل ہوئی ہے کہ زانی مرد وعورت کو جلاوطن کرنا ’فتنہ‘ ہے، (کتاب الآثار، ۶۱۴، ۶۱۵) یعنی اس سے ان کی اصلاح کے بجائے مزید برائی میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رائے اصلاً جلا وطن کرنے کے جواز کی نفی نہیں کرتی، بلکہ معروضی حالات میں اس سزا کے مفید یا موثر ہونے کے بجائے الٹا نقصان دہ ہونے کے امکان کو بیان کرتی ہے۔
فقہاے احناف نے مذکورہ طریقہ تطبیق کو روایت کے پہلے حصے تک محدود رکھا ہے اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا پر اس کا اطلاق نہیں کیا بلکہ اس حوالے سے قرآن مجید اور روایت کے باہمی تعارض کونسخ کے اصول پر حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کے ہاں دو زاویہ ہائے نگاہ پائے جاتے ہیں: ایک رائے کے مطابق رجم کا حکم سورۂ نور کی آیت کے لیے ناسخ کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اولاً ہر قسم کے زانی کے لیے سو کوڑوں ہی کی سزا مشروع کی گئی تھی، لیکن بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کو صرف کنوارے زانیوں کے ساتھ مخصوص کرتے ہوئے شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم کی سزا مقرر کر دی۔ (ابن الہمام، فتح القدیر ۵/۲۳۰) دوسری رائے کی رو سے شادی شدہ اور کنوارے زانی کی سزا میں فرق سورۂ نور کی مذکورہ آیت سے پہلے ہی قائم کیا جا چکا تھا اور کنوارے زانی کو سو کوڑوں کے ساتھ جلا وطن کرنے جبکہ شادی شدہ زانی کو کوڑے مارنے کے ساتھ رجم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سورۂ نور کی آیت نازل ہوئی اور کنوارے زانی کو جلا وطن کرنے اور شادی شدہ زانی کو رجم سے پہلے سو کوڑے مارنے کی سزا منسوخ قرار پائی۔ (سرخسی، المبسوط ۹/۴۱، ۴۲)
ہم یہاں اصول فقہ کی اس بحث سے صرف نظر کر لیتے ہیں کہ سنت کے ذریعے سے قرآن یا قرآن کے ذریعے سے سنت کے کسی حکم کو کلی یا جزوی طور پر منسوخ کیا جا سکتا یا نہیں۔ اس بات کو فرضاً درست مان لیا جائے تو بھی زیربحث مسئلے میں نسخ کے اصول کا اطلاق کرنا مشکل ہے، اس لیے کہ اگر یہ کہا جائے کہ سورۂ نور کی آیت حدیث عبادہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی سے پہلے نازل ہو چکی تھی اور حدیث عبادہ اس کے لیے ناسخ ہے تو اس کی نفی خود روایت کے داخلی شواہد سے ہو جاتی ہے، کیونکہ روایت سے واضح ہے کہ سورۂ نساء میں زنا کی عبوری سزا کے بیان کے بعد اس موقع سے پہلے زنا سے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور ’او یجعل اللہ لہن سبیلا‘ کے وعدے کی تکمیل پہلی مرتبہ اسی حکم کے ذریعے سے کی جا رہی تھی۔ اس لیے یہ فرض کرنا درست نہیں ہوگا کہ سورۂ نور کی آیت اس سے پہلے نازل ہو چکی تھی اور حدیث عبادہ اس کے لیے ناسخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر اس کے برعکس سورۂ نورکی آیت کو حدیث عبادہ کے لیے ناسخ مانا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ شادی شدہ اور کنوارے، دونوں طرح کے زانیوں کے لیے سو کوڑے ہی حد شرعی قرار پائے، اس لیے کہ سورۂ نور میں، جیسا کہ واضح ہے، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ یہ کہنا کہ سورۂ نور کی آیت کے ناسخ ہونے کا اثر کنوارے زانی کے لیے جلاوطنی اور شادی شدہ کے لیے سو کوڑوں کی سزا تک محدود ہے اور رجم کی سزا اس کے تحت نہیں آتی، محض ایک تحکم ہوگا جس کے لیے آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق میں کوئی بعید ترین قرینہ بھی موجود نہیں۔ مزید برآں روایت کا اسلوب یہ تقاضا کرتا ہے کہ کنوارے زانی اور شادی شدہ زانی، دونوں کے لیے بیان کی جانے والی اضافی سزا کی نوعیت ایک جیسی ہو۔ اگر کنوارے زانی کی اضافی سزا تعزیری نوعیت کی ہے تو شادی شدہ زانی کی اضافی سزا کو اس سے مختلف نوعیت پرمحمول کرنے کے لیے کوئی قرینہ ہونا چاہیے جو بظاہر روایت میں موجود نہیں۔
روایتی علمی ذخیرے میں زیر بحث سوال کے حوالے سے پیش کی جانے والی توجیہات کے غیر اطمینان بخش ہونے کے تناظر میں متاخرین میں سے بعض اہل علم نے ان سے ہٹ کر بعض نئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک الجھن موجود ہے، مزید غور وفکر اور تحقیق کی گنجایش بلکہ ضرورت بھی موجود رہے گی اور اہل علم اگر اس ضمن میں نئی اور متبادل آرا پیش کرتے ہیں تو ان کو سنجیدہ توجہ کا مستحق سمجھا جانا چاہیے۔ یہ توجیہات حسب ذیل ہیں:
۴۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قرآن مجید میں رجم کا حکم کسی واضح آیت کی صورت میں نہیں، بلکہ سورۂ مائدہ کی آیات ۴۱۔۴۳ میں مذکور اس واقعے کے ضمن میں نازل ہوا ہے جس میں یہود کے، منافقانہ اغراض کے تحت، ایک مقدمے کے فیصلے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا ذکر ہے۔ روایات کے مطابق یہ زنا کا مقدمہ تھا اور یہود نے نرم سزا کی توقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تھا، لیکن آپ نے ان پر تورات ہی کی سزا یعنی رجم کو نافذ کر دیا۔ (بخاری، رقم ۴۱۹۰) مولانا کی رائے میں قرآن مجید میں اس واقعے کا ذکر اس کو حکم کا ماخذ بنانے کے لیے کافی ہے، تاہم اس کا مبہم انداز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا ۱۰۰ کوڑے ہی ہے اور وہ عمومی طور پر اسے رجم کی سزا نہیں دینا چاہتا۔ اسی وجہ سے اس نے اس کے نفاذ کی شرائط، یعنی مجرم کے شادی شدہ اور مسلمان ہونے کی وضاحت نہیں کی تاکہ ان کی تعیین میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش باقی رہے، اور اسی لیے معمولی شبہات اور اعذار کی بنا پر رجم کی سزا کو ساقط کر کے سو کوڑے کی سزا دینے پر اکتفا کی جاتی ہے۔ (فیض الباری ۵/۲۳۰۔ مشکلات القرآن ۱۶۵، ۱۶۶، ۲۱۳)
شاہ صاحب کی توجیہ سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ وہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو عملاً کیا حیثیت دیتے ہیں؟ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس پر اس سزا کے نفاذ کو لازم سمجھتے ہیں اور اس طرح ان کی توجیہ میں ایک تضاد پیدا ہو جاتا ہے، کیونکہ اگر قرآن مجید کے رجم کی سزا کو مبہم طور پر بیان کرنے سے سے مقصود یہ تھاکہ عمومی طور پر رجم کی سزا نافذ نہ کی جائے اور اس کے نفاذ میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش باقی رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے منشا کے برعکس شادی شدہ زانی کے لیے متعین طور پر رجم کی سزا کیوں مقرر کر دی؟ اگر قرآن کی منشا آپ پر بھی واضح نہیں ہو سکی تو بلاغت کے پہلو سے ابہام کا یہ اسلوب کمال نہیں بلکہ نقص کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ اور اگر خود قرآن کا منشاوہی ہے جو روایت میں بیان ہوا ہے تووہی سوال عود کر آتا ہے کہ قرآن خود صاف لفظوں میں اس کی تصریح کیوں نہیں کرتا اور اس کے لیے ایک جگہ زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے مقرر کرنے اور دوسری جگہ رجم کی سزا کا مبہم انداز میں ذکر کرنے اور پھر اس کے نفاذ کی شرائط وتفصیلات کو روایات ومقدمات پر، جو اس وقت تک وجود میں بھی نہیں آئے تھے، منحصر چھوڑ دینے کا پر پیچ طریقہ کیوں اختیارکرتا ہے؟
۵۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ روایت میں جلا وطنی یا رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی چڑھانے، ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے، جبکہ جلاوطنی یا رجم دراصل اوباشی اور آوارہ منشی کی سزا ہے جو ’فساد فی الارض‘ کے تحت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نوعیت کے بعض مجرموں پر زنا کی سزا کے ساتھ ساتھ، مائدہ کی مذکورہ آیت کے تحت فساد فی الارض کی پاداش میں جلا وطن کرنے یا سنگ سار کرنے کی سزا بھی نافذ کی تھی۔ (تدبر قرآن ۵/۳۶۷ ۔ ۳۶۹) اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’الثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم‘ کے بارے میں مولانا اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ یہاں حرف ’و‘ جمع کے لیے نہیں، بلکہ تقسیم کے مفہوم میں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ زانی کی اصل سزا تو تازیانہ ہی ہے، البتہ آیت محاربہ کے تحت مصلحت کے پہلو سے اسے جلاوطن یا سنگ سار بھی کیا جا سکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح آیت مائدہ کے تحت ازروے مصلحت بعض مجرموں کو جلاوطنی کی سزا دی، اسی طرح بعض سنگین نوعیت کے مجرموں کے شر وفساد سے بچنے کے لیے آیت مائدہ ہی کے تحت انھیں رجم کی سزا بھی دی۔ (تدبر قرآن ۵/۳۷۴)
جناب جاوید احمد غامدی نے رجم کی سزا کے زنا کے عادی مجرموں سے متعلق ہونے کے حق میں یہ استدلال کیا ہے کہ عبادہ بن صامت کی روایت میں ’خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللّٰہ لہن سبیلا‘کے الفاظ اس کو صریحاً سورۂ نساء کی آیت ۱۵ اور ۱۶ سے متعلق کر رہے ہیں جہاں قحبہ عورتوں اور یاری آشنائی کا تعلق قائم کر لینے والے جوڑوں کے لیے عبوری سزا بیان کی گئی ہے اور ’حَتّٰی یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً‘ کے الفاظ میں ان کے لیے بعد میں باقاعدہ اور مستقل سزا مقرر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نور میں زنا اور سورۂ مائدہ میں محاربہ کے احکام نازل ہونے کے بعد زیر بحث روایت میں انھی قحبہ عورتوں کے لیے زنا کی پاداش میں سو کوڑوں اور ’فساد فی الارض‘ کی پاداش میں جلا وطنی یا سنگ ساری کی سزا مقرر کر کے اس وعدے کی تکمیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (جاوید احمد غامدی، حدود وتعزیرات، ۱۶)
اس رائے کو درست ماننے کے نتیجے میں ’رجم‘ کی بنیاد زانی کا شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونا نہیں، بلکہ اس کے جرم کی نوعیت قرار پاتی ہے۔ اس طرح نہ ہر شادی شدہ زانی کو رجم کرنا لازم رہتا ہے اور نہ کوئی غیر شادی شدہ محض اپنے کنوارے ہونے کی بنا پر اس سزا سے محفوظ قرار پاتا ہے، بلکہ اگر زنا کے جرم میں سنگینی یا شناعت کا مذکورہ اضافی پہلو پایا جائے تو مجرم کی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر، اسے رجم کیا جا سکتا ہے۔
رجم کی سزا کو زنا کے عام مجرموں کے بجائے زیادہ سنگین نوعیت کے مجرموں سے متعلق قرار دینے کی مذکورہ توجیہ کو قبول کر لیا جائے تو قرآن مجید اور روایات کا ظاہری تعارض باقی نہیں رہتا، اور ’البکر بالبکر‘ کی روایت کی حد تک یہ توجیہ بظاہر الجھن کو حل کر دیتی ہے، اس لیے کہ یہ روایت اصلاً زنا کے عام مجرموں سے متعلق نہیں بلکہ، جیسا کہ ’خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا‘ کے الفاظ سے واضح ہے، قحبہ عورتوں اور ان زانیوں سے متعلق ہے جن کے ہاں یاری آشنائی نے ایک مستقل تعلق کی صورت اختیار کر لی ہو۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقل وحی سے راہنمائی پا کر یا آیت محاربہ سے استنباط کرتے ہوئے ایسے مجرموں میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی سزا میں تفریق کرنے اور قرآن مجید میں بیان کردہ سو کوڑوں کی سزا کے علاوہ جلا وطنی اور رجم کی اضافی سزا دینے کا حکم بھی دیا ہو تو اس سے قرآن مجید کے ساتھ تعارض کا سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں زنا کے عام مجرم زیر بحث ہیں۔
اسی طرح آیت محاربہ کو رجم اور جلاوطنی کی سزا کا ماخذ قرار دینے کی رائے اس پہلو سے بھی قابل توجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے ایک مقدمے میں فیصلہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ ’لاقضین بینکما بکتاب اللہ‘، یعنی میں تمھارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور پھر آپ نے زانی کو سو کوڑے مارنے اور جلا وطن کرنے کاحکم دیا۔ (بخاری، رقم ۲۴۹۸) قرآن مجید میں زانی کی سزا کے ساتھ جلاوطن کرنے کا کوئی ذکرنہیں، جبکہ سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت ہی وہ واحد مقام ہے جہاں مجرموں کو سزا کے طور پر جلا وطن کردینے کا ذکر ہوا ہے۔ شارحین حدیث نے اس اشکال سے بچنے کے لیے ’کتاب اللہ‘ سے اللہ کا حکم یا اس کا قانون مراد لیا ہے، لیکن اگر زانی کو جلا وطن یا سنگسار کرنے کا ماخذ سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کو قرار دینے کی رائے درست تسلیم کر لی جائے تو مذکورہ تاویل کی ضرورت نہیں رہتی۔
البتہ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے جن میں زنا کے بعض مقدمات میں عملاً رجم کی سزا کے نفاذ کا ذکر ہوا ہے تو اس امر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ یہ توجیہ ان پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتی، کیونکہ اس توجیہ کی رو سے یہ محض زنا کے سادہ مقدمات نہیں تھے، بلکہ ان میں سزا پانے والے مجرموں کو درحقیقت آوارہ منشی اور بدکاری کو ایک پیشے اور عادت کے طور پر اختیار کر لینے کی پاداش میں آیت محاربہ کے تحت رجم کیا گیا۔ اب اگر آیت محاربہ کو رجم کا ماخذ مانا جائے تو یہ ضروری تھا کہ احساس ندامت کے تحت اپنے آپ کو خود قانون کے حوالے کرنے والے مجرم سے درگزر کیا جائے یا کم ازکم سنگین سزا دینے کے بجائے ہلکی سزا پر اکتفا کی جائے، جبکہ قبیلۂ غامد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو خود عدالت میں پیش ہونے اور سزا پانے پر خود اصرار کرنے کے باوجود رجم کیا گیا۔ ماعز اسلمی کے جرم کی نوعیت اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں خود پیش ہونے یا پکڑ کر لائے جانے کے حوالے سے روایات الجھی ہوئی ہیں اور تفصیلی تحقیق وتنقید کا تقاضا کرتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ماعز کو رجم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس سے اس کا ایک عادی مجرم ہونا واضح ہوتا ہے، (مسلم، ۳۲۰۳، ۳۲۰۶) جبکہ بعض دیگر روایات کے مطابق آپ نے نہ صرف ماعز کو رجم کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر وہ رجم سے بچنے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا تھا تو تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا، بلکہ اس کے سرپرست ہزال سے بھی کہا کہ ’’اگر تم اس کے جرم پر پردہ ڈال دیتے تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہوتا‘‘۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ماعز کا آیت محاربہ کے تحت ماخوذ ہونا قابل فہم نہیں رہتا۔ ’لا یحل دم امرئ مسلم‘ کی روایت میں بھی شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے اور روایت میں اسے عادی مجرموں کے ساتھ مخصوص قراردینے کا کوئی قرینہ بظاہرموجود نہیں۔
اسی طرح یہ بات بھی بعض روایات سے بظاہر لگا نہیں کھاتی کہ مجرم کا شادی شدہ ہونا اس سزا کے نفاذ میں محض ’ایک‘ عامل کی حیثیت رکھتا تھا نہ کہ ’واحد‘ فیصلہ کن بنیاد کی۔ مثال کے طور پر مزدور کے مقدمے میں اس کے مالک کی بیوی کو رجم کی جبکہ خود مزدور کو سو کوڑوں کی سزا دی گئی اور روایت سے اس فرق کی وجہ بظاہر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونا ہی سمجھ میں آتی ہے۔ ’لا یحل دم امرئ مسلم الا باحدی ثلاث‘ میں بھی زانی کے شادی شدہ ہونے کو قتل کے جواز کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسی اضافی پہلو کو بیان کرنے کے لیے یہ اسلوب بدیہی طور پر موزوں نہیں۔ مزید برآں صحابہ کے ہاں، جنھیں رجم کے ان واقعات کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے مقدمے کے احوال وشرائط اور سزا کی نوعیت سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے، اس سزا کے بارے میں جو مجموعی فہم پایا جاتا ہے، وہ بھی اس فرق کے اضافی نہیں، بلکہ اساسی اور حقیقی ہونے ہی پر دلالت کرتا ہے۔
مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ اگر قرآن مجید کے ظاہر کو حکم مانا جائے تو زنا کے عام مجرموں کے حوالے سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنا بے حد مشکل ہے۔ دوسری طرف اگر روایات اور ان پر مبنی تعامل کو فیصلہ کن ماخذ مانا جائے تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کی نفی یا اس کی ایسی توجیہ و تاویل بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتی جس سے روایات کے متبادر مفہوم ومدعا کو برقرار رکھتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ ان کا ظاہری تعارض فی الواقع دور ہو جائے۔ اس ضمن میں اب تک جو توجیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کا موجب زیادہ بنتی ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طالب علمانہ رائے میں یہ بحث، ان چند مباحث میں سے ایک ہے جہاں توفیق وتطبیق کا اصول موثر طور پر کارگر نہیں اور جہاں ترجیح ہی کے اصول پر کوئی متعین رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ عقلاً اس صورت میں دو ہی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
ایک یہ کہ روایات سے بظاہر جو صورت سامنے آتی ہے، اس کو فیصلہ کن مانتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ قرآن مجید کا مدعا اگرچہ بظاہر واضح اور غیر محتمل ہے، تاہم یہ محض ہمارے فہم کی حد تک واضح ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے منشا کی تعیین کے حوالے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کے ظاہر کو حکم مانتے ہوئے یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا یقیناًکوئی ایسا محل ہوگا جو قرآن کے ظاہر کے منافی نہ ہو، لیکن چونکہ قرآن کا مدعا ہمارے لیے بالکل واضح ہے جبکہ روایات کا کوئی واضح محل بظاہر سمجھ میں نہیں آتا، اس لیے روایات اور ان پر مبنی تعامل کو توجیہ وتاویل یا توقف کے دائرے میں رکھتے ہوئے ان پر غور وفکر جاری رکھا جائے گا تاآنکہ ان کا مناسب محل واضح ہو جائے ۔
اس دوسرے زاویۂ نگاہ کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ شریعت کے جو احکام قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں، ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز نہیں ہو سکتا اور اگر بظاہر کہیں ایسی صورت دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید ہی میں تلاش کرنی چاہیے یا توجیہ وتاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ تصور اصولی طور پر خود صحابہ کے ہاں موجود رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ جب قرآن مجید میں قصر نماز پڑھنے کی اجازت خوف کی حالت سے مشروط ہے تو امن کی حالت میں اس رعایت سے فائدہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ (مسلم، رقم ۶۸۶) ابن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت کو حرمت پر محمول کرنے میں تردد تھا، اس لیے کہ ان کے خیال میں یہ بات قرآن مجید کی آیت: ’قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا‘ (الانعام ۶: ۱۴۵) کے منافی تھی جس میں حصر کے ساتھ صرف چار چیزوں کو حرام کہا گیا ہے۔ (بخاری، رقم ۵۲۰۹۔ المستدرک، رقم ۳۲۳۶)
سنت کے جو احکام بظاہر قرآن مجید کے نصوص سے متجاوز دکھائی دیتے ہیں، ان کے بارے میں سوچ کا یہ زاویہ بھی صحابہ کے ہاں دکھائی دیتا ہے کہ شاید وہ قرآن مجید میں نازل ہونے والے حکم سے پہلے کے دور سے متعلق ہوں۔ مثال کے طور پر وضو میں پاؤں دھونے کے بجائے موزوں پر مسح کر لینے کے جواز کے بارے میں صحابہ کے مابین خاصی بحث موجود رہی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کے جواز کے قائل نہیں تھے اور ان کا اصرار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا سورۂ مائدہ میں وضو کی آیت نازل ہونے سے پہلے کا عمل تھا:
سلوا ہؤلاء الذین یزعمون ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسح علی الخفین بعد سورۃ المائدۃ واللّٰہ ما مسح بعد المائدۃ. (طبرانی، المعجم الکبیر ۱۱/۴۵۴، ۱۲۲۸۷)
’’ان سے پوچھو جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد موزوں پر مسح کیا۔ بخدا، آپ نے سورۂ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسح نہیں کیا۔‘‘
خود رجم کی سزا کے معاملے میں بھی یہ سوال ذہنوں میں پیدا ہوا۔ ابو اسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انھوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا کہ سورۂ نور کے نازل ہونے سے پہلے یا اس کے بعد؟ انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔(بخاری، رقم ۱۷۰۲)
چنانچہ یہ بحث دو مختلف اصولی زاویہ ہاے نگاہ میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بحث ہے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم وبیش یکساں کشش رکھتے ہیں اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رجحان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔
حواشی
** سیدنا عمر کی طرف اس قول کی نسبت کے صحیح ہونے میں ایک اہم اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اس خطبے کے راوی عبد اللہ بن عباس ہیں، لیکن خود ان کی رائے قرآن مجید میں رجم کا کوئی باقاعدہ حکم نازل ہونے کے برعکس ہے۔ اس ضمن میں ان سے سے مروی دو آثار قابل توجہ ہیں۔
علی بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ ابتدا میں زنا کی سزا یہ تھی کہ خاتون کو گھر میں محبوس کر دیا جائے اور مرد کو زبانی اور جسمانی طور پر اذیت دی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ’الزانیۃ والزانی‘ کی آیت اتاردی، جبکہ مرد وعورت اگر محصن ہوں تو ان کے لیے حکم یہ ہے کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی رو سے رجم کر دیا جائے۔ (تفسیر الطبری، ۴/۲۹۷۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۶۹۱)
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص رجم کا انکار کرتا ہے، وہ غیر شعوری طور پر قرآن کا انکار کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’یا اہل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب‘ (اے اہل کتاب، تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو تمھارے لیے تورات کی ان بہت سی باتوں کو ظاہر کرتا ہے جنھیں تم چھپاتے تھے) اور رجم کا حکم بھی امور میں سے ہے جنھیں اہل کتاب چھپاتے تھے۔ (نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۱۶۲)
ان دونوں روایتوں سے واضح ہے کہ ابن عباس قرآن مجید میں واضح طور پر رجم کا حکم نازل ہونے کے قائل نہیں اور اس کے بجائے اسے اشارتاً قرآن میں مذکور مانتے اور اس کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سیدنا عمر کے مذکورہ خطبے کے راوی ہیں جس میں انھوں نے رجم کے قرآن مجید میں نازل ہونے کا ذکرکیا ہے تو پھر ان کا اس سے مختلف رائے قائم کرنا بظاہر سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔
* رجم کو زنا کی سزا کا لازمی حصہ نہ سمجھنے والے بعض دیگر اہل علم نے اس سے مختلف ماخذ بھی متعین کیے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا عنایت اللہ سبحانی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی نے اس حکم کا ماخذ سورۂ احزاب (۳۳)کی آیت ۶۱ کے الفاظ ’اَیْْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً‘ (یہ جہاں ملیں، ان کو پکڑ لیا جائے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے) کو قرار دیا ہے جن میں مدینہ منورہ کے منافقین کی فتنہ پردازیوں اور بالخصوص مسلمان خواتین کے حوالے سے ان کے مفسدانہ اور شرانگیز طرز عمل سے نمٹنے کے لیے انھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کر دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ (عنایت اللہ سبحانی، حقیقت رجم ۲۰۲ ۔۲۰۷۔ محمد طفیل ہاشمی، حدود آرڈی نینس کتاب وسنت کی روشنی میں ۱۲۷ ۔ ۱۳۶) جبکہ بعض اہل علم قرآن مجید میں رجم کا کوئی ماخذ متعین کیے بغیر اسے حد کے بجائے محض ایک تعزیری سزا قرار دیتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مجرموں کو ان کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے دی۔ (عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: رجم اصل حد ہے یا تعزیر؟ ۵۵، ۹۳ ۔۹۵۔ فقہ القرآن: حدود و تعزیرات اور قصاص ۶۳۲ ۔ ۶۴۴)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
میری دعا ہے کہ رب کائنات آپ کے دل ودماغ اور مقدس لوح وقلم کو تاروز حیات سرسبز، شاداب رکھیں۔
تقریباً ایک ماہ پہلے غالباً جنوری ۲۰۰۸ کے تیسرے عشرے میں رائے ونڈ بازار کے ایک بک اسٹال سے ’’ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ کے نام سے آپ کی تالیف خرید کر پڑھی جس کے پڑھنے پر نہایت ہی خوشی حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ بار شکریہ ادا کیا کہ اس قحط الرجال کے دور میں بھی آپ جیسے سلیم الفطرت، وسیع القلب اور وسیع النظر، عالی ظرف اور نہایت ہی سنجیدہ علماے کرام موجود ہیں۔ آپ کے ذوق کتب بینی اور نہایت ہی وسیع مطالعہ کو میں سلام کرتا ہوں۔ آپ کی تحریر میں علمی محاسبہ اور احتساب کے ساتھ ساتھ نہایت ہی شایستگی، رواداری، شیریں گوئی، اعتدال اور ذہنی پختگی کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جس کے متعلق محترم جاوید احمد غامدی کے تینوں شاگردان رشید جناب معز امجد، جناب خورشید ندیم اور جناب ڈاکٹر فاروق خان بھی آپ کی مذکورہ تمام خوبیوں کے معترف نظر آ رہے ہیں۔ آپ کا شمار اور مقام ان علماے حق میں سرفہرست ہے جو مریض سے نہایت محبت اور ہم دردی اور اس کے مرض سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسے فرد فرید بہت ہی کم بلکہ نایاب ہوتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ آپ سو فیصد رومی کے اس شعر کے مصداق ہیں جو سید منظور الحسن نے آپ کے لیے نقل کیا ہے:
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دام ودد ملولم وانسانم آرزو ست
آپ نے مذکورہ تینوں اسکالرز کے ساتھ جو علمی وفکری مکالمہ کیا ہے، اس کے چار موضوعات: علما اور سیاست، زکوٰۃ اور ٹیکسیشن، فتویٰ بازی کا درست/غلط استعمال اور پرائیویٹ عسکری تنظیموں کے جہاد میں سے پہلے تینوں موضوعات کے بارے میں دونوں فریقوں کے موقف میں کافی وزن پایا جاتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد اگر خود قاری کے دل میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہ ہو تو وہ ایک بہترین نقطہ اعتدال پر پہنچ جاتا ہے۔ البتہ ’’اسلام میں پردے کے احکام‘‘ کے موضوع پر میرا جھکاؤ آپ کی طرف بہت ہی زیادہ ہے، خاص طور پر غامدی صاحب کا یہ فرمان کہ ’’دوپٹہ کا تعلق کلچر سے ہے، شریعت سے نہیں‘‘ میرے لیے دکھ کا باعث ہے اور اس طرز فکر اور زاویہ نگاہ کی کڑی پرویز مشرف کی روشن خیالی سے جا ملتی ہے۔ حمید الدین فراہیؒ کے مکتبہ فکر میں آپ نے ’’تفردات‘‘ کی اصطلاح بہت استعمال کی ہے جو موقع اور محل کے اعتبار سے اگرچہ درست ہے لیکن میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ماہنامہ میثاق کے مطابق فراہیؒ نے ایک دفعہ خود قینچی منگوا کر مولانا اصلاحیؒ کی شلوار کا اتنا حصہ کاٹ ڈالا تھا جو ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا تھا۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ’’دوپٹہ کا تعلق کلچر سے ہے، شریعت سے نہیں‘‘ کا نقطہ نظر غامدی صاحب کا تو ہو سکتا ہے، فراہی کا نہیں۔ شریعت کے ساتھ دوپٹہ کے تعلق میں عورت ذات کا تحفظ بہت ہی زیادہ ہے۔
جہاں تک حکومتی سرپرستی کے علاوہ پرائیویٹ عسکری تنظیموں کے جہاد اور قتال کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں آپ کی رائے کے ساتھ خاکم بدہن ہرگز متفق نہیں ہوں، کیونکہ جہاد افغانستان میں امریکہ کی طرف سے بے تحاشا دولت، سرمایہ اور اسلحہ کی فراوانی میں القاعدہ کے علاوہ تقریباً چودہ عسکری تنظیمیں روس کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ ان کا یہ قتال سرمایہ اور اسلحہ حاصل کر نے کے لیے زیادہ اور فی سبیل اللہ برائے نام تھا اور امریکہ کے اس مال غنیمت میں سب سے بڑھ کر مذہب کے شاہین، فوج کے بڑے جرنیل اختر عبد الرحمن (مرحوم)، جنرل حمید گل اور ضیاء (مرحوم) کے بیٹے سب شامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ روسی شکست کے بعد تمام عسکری تنظیمیں آپس میں الجھ گئیں اور تقریباً پانچ سال تک نہایت افراتفری، بد امنی اور لوٹ مار کی کیفیت رہی اور نہایت مقدس جہاد خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا، اس لیے کہ اس کی پشت پر کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ ا س کے بعد پاکستان کے ایما پر جنرل نصیر اللہ بابر نے طالبان کو منظم کیا ۔ ادھر طالبان کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن گلبدین حکمت یار سمیت بہت سے بڑے بڑے سابقہ جہادی لیڈر طالبان کے خلاف تھے۔ اسی دوران طالبان اور احمد شاہ مسعود کے درمیان تقریباً چار سال خانہ جنگی رہی۔ آخرکار اسامہ بن لادن کی مہربانی سے نائن الیون کے واقعات کے بعد افغانستان پر امریکہ کے حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔ اگر ابتدا ہی سے یہ تمام تنظیمیں ایک ہی کمان کے تحت لڑتیں تو کوئی افراتفری نہ ہوتی اور یہ مقدس جہاد خانہ جنگی میں تبدیل نہ ہوتا، لیکن پاکستان یہی چاہتا تھا کہ افغانستان سو فیصد ہمارے رحم وکرم پر ہو اور وہاں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو۔
اس وقت سب سے زیادہ خطرناک اور امن عالم کے لیے نہایت ہی نقصان دہ تنظیم القاعدہ تنظیم ہے۔ اس پرائیویٹ عسکری تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کا تصور قتال کیا ہے؟ ۲۳فروری ۱۹۹۸ء کو القاعدہ کے سربراہ کی حیثیت سے اسامہ بن لادن، امیر جماعت الجہاد مصر کی حیثیت سے ڈاکٹر ایمن الظواہری اور امیر جماعت اسلامیہ مصر کی حیثیت سے جناب ابویاسر کی طرف سے افغانستان میں خوست کے مقام پر یہ فتویٰ جاری کیا گیا کہ امریکہ نے بقول اسامہ بن لادن کے پورے عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، ایسے موقع پر امریکہ کے خلاف جہاد فرض عین ہو جاتا ہے، چنانچہ ہم تمام مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ہر امریکی شہری اور امریکہ کے ہم نواؤں کو قتل کریں اور ان کا سامان لوٹیں۔ گویا تمام یہود ونصاریٰ کی جان، مال اور آبرو اس مرحلے پر تمام مسلمانوں کے لیے مباح اور حلال ہے۔ اس فتوے پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے القاعدہ نے اگست ۱۹۹۸ء میں کینیا اور تنزانیہ کے سفارت خانوں میں بم دھماکوں سے دو سو بیس افراد کو ہلاک کیا۔ بن لادن نے اپنے ایک بیان میں حملہ آوروں کی تعریف وتحسین کی اور جتنے بھی افراد کو ان دھماکوں میں ملوث پا کر عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی گئیں، ان سب سے القاعدہ سے تعلق کا اعتراف کیا بلکہ بن لادن نے ان دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اس کے بعد نائن الیون کا عظیم حادثہ پیش آیا جس کے منطقی نتیجے کے طور پر طالبان کی شرعی حکومت ختم ہوئی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے اس حادثے میں جو انھیں انیس پائیلٹ کریش ہوئے، وہ سب کے سب القاعدہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے جنھوں نے امریکہ میں آزادی کی وجہ سے امریکی فلائنگ کلب سے تربیت حاصل کی تھی۔
پاکستان میں بھی مختلف پرائیویٹ عسکری تنظیموں مثلاً حزب المجاہدین، حرکت الانصار، جیش محمد، لشکر طیبہ اور حرکت المجاہدین نے ملک کے اندر اور باہر ایسے بہت سے تخریبی کارنامے سرانجام دیے جس سے ملک کا امن وامان تباہ وبرباد ہو گیا۔ صوبہ سرحد میں باڑہ اورپشاو ر میں دو مذہبی عسکری تنظیموں، مفتی منیر شاکر کی طرف سے لشکر اسلام اور پیر سیف الرحمن کی طرف سے انصار الاسلام نے ایک دوسرے کے ستاسی افراد قتل کیے، سینتالیس دکانوں اور چالیس مکانات کو کو جلا دیا اور ہر تنظیم نے اپنی اس قتل وغارت کو جہاد کے نام سے موسوم کیا۔ آپ ہی کے گوجرانوالہ کے ایک جنونی مولوی محمد سرور نے ایک ایم پی اے خاتون ظل ہما کو کھلی کچہری میں قتل کر دیا اور اس قتل ناحق کو جہاد سے منسوب کیا۔ ابھی حال ہی میں سوات کے مولانا فضل اللہ کی طالبان تحریک کے ایک راہنما مسمیٰ نڈر سے جب دو ریٹائرڈ اور چار حاضر سروس پولیس اور محکمہ ملیشا کے ملازمین کو بے دردی سے ذبح کر کے سروں کو تن سے جدا کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کے خلاف فرد جرم جنرل مشرف کی ملازمت تھی اور جب ان کے سروں کو رولنگ سٹون کی طرح گاڑی کے ساتھ باندھ کر بازاروں میں پھرانے کی وجہ پوچھی گئی تو یہ عمل کرنے والوں کو معاذ ومعوذ سے اور ذبح ہونے والوں کو ابوجہل سے تشبیہ دے کر وجہ جواز بتائی گئی۔
ان پرائیویٹ تنظیموں نے باربر شاپس کو اس لیے بموں سے اڑایا کہ وہاں ڈاڑھیاں مونڈی جاتی ہیں۔ سوات میں طالبان نے ایک ایسے گرلز ڈگری کالج کو دھماکوں سے اڑا دیا جو ابھی حال ہی میں ایم ایم اے کی حکومت نے تقریباً دو کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا تھا۔ غرض گزشتہ تین سالوں میں جو بھی خود کش حملے، دھماکے، گھیراؤ جلاؤ اور توڑ پھوڑ ہوتی رہی، ان سب کو اسلامی جہاد کی طرف منسوب کر کے اسلام کے پرامن روئے زیبا کو داغ دار کیا جا تا رہا جس کو مغربی دنیا میڈیا پر دیکھتی ہے اور مسلمانوں سے وحشت محسوس کر کے دعوت کے راستے بند ہو جاتے ہیں، اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جنونی مسلمان اپنے اس عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے اسود عنسی، کعب بن اشرف اور ابو رافع کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
فی الوقت تمام پرائیویٹ عسکری تنظیموں میں سے اہل حدیث کی لشکر طیبہ (جماعۃ الدعوۃ) سب سے بڑی تنظیم ہے۔ میں نے خود مریدکے میں ان کے ساتھ تین دن گزار کر ان کے طریقہ واردات کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کا طریقہ مزاج اسلام کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا، بلکہ ان کے قول کے مطابق مسعود اظہر کی اقتدا میں نماز باجماعت ادا نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ حرکت الانصار کے بھی سخت خلاف ہیں۔
آپ کی سلامت طبع سے امید ہے کہ اگر آپ یہ علمی مکالمہ ۲۰۰۷ کے بعد کرتے تو پرائیویٹ ، غیر منظم اور حکومت کی سرپرستی کے بغیر جہاد وقتال کے بارے میں آپ غامدی صاحب کے موقف کی تائید کرتے۔ آپ کے مضامین ماہ اگست ۲۰۰۱ کے ہیں جو علم ومشاہدہ میں بعد کے زمینی حقائق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے اور زمینی حقائق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا نقصان اس کے فائدہ سے ہزار گنا زیادہ ہے۔
سیف الحق
ڈائریکٹر چکیسر پبلک اسکول
تحصیل الیوری، ضلع شانگلہ۔ صوبہ سرحد
(۲)
مکرمی جناب مولانا عمار خاں ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاجِ گرامی!
ماہنامہ الشریعہ ہر مہینے وصول ہوکر ہوا کاایک تازہ جھونکا مہیا کرتا رہتا ہے۔ اس ہوا میں نئی خوشبو پچھلے ایک دو ماہ سے خود آپ کی، اپنے مضامین کے ذریعے حاضری سے محسوس ہورہی ہے، خصوصاً فروری کے شمارے میں حدود کی ابدیت اور آفاقیت پر آپ کا طرزِ استدلال متأثر کن تھا۔ فروری کے شمارے میں جو چیز میرے لیے سب سے زیادہ خوش گوار حیرت کا باعث بنی، وہ اہل فکرو دانش کی اس بزم میں اس ناچیز طالب علم کی اس کی ریکارڈ شدہ تقریرکے ذریعے شرکت تھی۔ راقم کو اس بات میں خاصا تردد تھا کہ اس کی گفتگو بھی الشریعہ جیسے وقیع پلیٹ فارم پر جگہ پانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ بہرحال اس نحیف آواز کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے آگے پہنچانے کا بہت بہت شکریہ۔ الشریعہ جیسے جریدے میں اپنے نقطہ نظر کی اشاعت میں ایک فائدہ یہ بھی متوقع ہے کہ اسے تنقید اور بحث کی چھلنی سے گزرنے کا موقع مل جائے گا اور اس سے مختلف کوئی رائے ہوگی تووہ بھی سامنے آجائے گی۔ دیگر دینی جرائد میں یہ بات تقریباً ناپید ہے ۔
الشریعہ کا ’’ کلمہ حق‘‘ اور بہت سے لوگوں کی طرح یہ ناچیز بڑے اشتیاق سے پڑھتا اور اس سے مستفید ہوتاہے ، لیکن جنوری کے ’’کلمۂ حق‘‘ سے ’’حسبہ بل‘‘ سے جس طرح کا ’’حسنِ عقیدت ‘‘ محسوس ہورہا تھا، وہ خاصی حیرت کا باعث بنا۔ اس پر کچھ عرض کرنے کی جسارت کا ارادہ کررہا تھا، لیکن مارچ کے شمارے میں اسلام آباد سے جناب محمد مشتاق صاحب کے مراسلے نے کافی حد تک یہ فرضِ کفایہ ادا کردیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین کی پہلے بھی ایسی کمی نہیں ہے۔ اگر سیاسی اور انتظامی قوتِ ارادی موجود ہو تو موجودہ قوانین کے اندر رہتے ہوئے بھی بہت سے اچھے کام کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی حکومت واقعی رشوت اور بد عنوانی جیسے ’’منکر‘‘ کو ختم کرنا چاہے تو نہ تو اس کے لیے نئی قانون سازی کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی سپریم کورٹ اسے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت کو بھی اس برائی کے خاتمے سے نہ تو مرکز کی کسی پالیسی نے منع کیا تھا اور نہ ہی سپریم کور ٹ کا کوئی فیصلہ آڑے آسکتا تھا۔ ایم ایم اے نے اپنے دورِ حکومت میں اس سلسلے میں کتنی کوششیں کیں اور ان میں کس حد تک کامیاب رہی، اس کے بارے میں صوبہ سرحد کے لوگوں سے پوچھا جاسکتاہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کے فہمِ اسلام میں رشوت وبد عنوانی جیسی برائی ’’منکرات ‘‘ کی ترتیب میں کتنویں نمبر آتی ہے۔
(مولانا مفتی) محمد زاہد
خادم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد
(۳)
محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ ،گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا ماہنامہ مجھے باقاعدگی سے مل رہا ہے اور میں بہت شوق سے اس کے مضامین کو دیکھتا ہوں، خاص کر وہ مضامین جن میں جاوید احمد صاحب غامدی کے کام کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں دیگربہت سے لوگوں کی طرح حافظ محمد زبیر صاحب (ریسرچ ایسوسی ایٹ، قرآن اکیڈمی، لاہور)نے بھی قلم اٹھایا اور جاوید صاحب کے کام کی علمی بنیادوں کو زیر بحث لے آئے۔ مجھے ذاتی طور پر اس بات کی بے حد خوشی تھی اور ہے کہ انھوں نے اپنی تنقید کی بنیاد جزوی اور فروعی چیزوں کے بجائے اصولی باتوں پر رکھی۔ اپنے مضامین کو جب کتاب کی صورت میں انھوں نے شائع کیا تو اس بات کو خاص طور پر اہتمام کے ساتھ بیان کیا، بلکہ یہاں تک دعویٰ کیا گیاکہ حافظ صاحب نے جاوید صاحب کے افکار کی ’جڑوں پرتیشہ‘ رکھ دیاہے۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ جاوید صاحب کے حلقے سے پہلی دفعہ ایک اسکالر (منظور الحسن صاحب )نے کسی تنقید کا باقاعدہ جواب اور جواب در جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آپ کے اسی رسالے کے صفحات پر وہ بحث چلتی رہی جس میں پہلے ’فطرت‘ اور پھر ’الکتاب‘کے بارے میں جاوید صاحب پر لکھے گئے تنقیدی مضامین اور ان کے جواب شائع ہوئے۔ خاص طورپر حافظ زبیر صاحب کی کتاب کے پہلے باب ’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت ‘پر جواب در جواب کی شکل میں تفصیلی بحث ہوئی۔ ایک ایک نکتہ کو زیر بحث لایا گیااوراس سلسلے کا آخری مضمون وہ تھا جس میں منظور الحسن صاحب نے آٹھ نکات کی شکل میں پوری بحث کا خلاصہ کرکے یہ بتادیا کہ حافظ زبیر صاحب کے اعتراضات کیاتھے، ان کے جوابات کیا دیے گئے ، مگر ناقد نے ان کے جواب میں مکمل خاموشی اختیار کرلی۔
ایک قاری کی حیثیت سے میں زبیر صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ان کی یہ اخلاقی اور علمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ یہ حسن ظن رکھا جاسکتا تھا کہ وہ کسی مصروفیت کا شکار ہیں اور اس بنا پر جواب نہیں دے پارہے ، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نت نئے موضوعات لے کر جاوید صاحب پر زور و شور سے تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اپنے اس رویے کو شاید وہ حق بجانب سمجھتے ہوں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ رویہ کسی سنجیدہ آدمی کا ہونہیں سکتا۔ ایک سنجیدہ انسان جسے قیامت کے دن پروردگار کے حضور جواب دہی کا اندیشہ لاحق ہوجائے، وہ اس طرح کے مکالمے کے لیے قلم اٹھانے سے قبل یہ پہلے یہ سوچ لیتا ہے کہ اس بحث میں ایک تیسرا فریق خود پروردگار عالم بھی ہے۔ وہ پروردگار علم اور فہم کی غلطیاں تو معاف کرسکتا ہے، مگر عدم اعتراف پر مبنی اس طرح کی ’ذہانت‘ کا مظاہر ہ اس کے نزدیک کوئی پسندیدہ رویہ نہیں ہوسکتا۔
زبیر صاحب کے اس رویے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ ان کا طرز عمل اصل میں جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کی وہ خدمت ہے جو ان کا کوئی بڑے سے بڑا ہمدرد بھی سر انجام نہیں دے سکتا۔ ان کی کتاب پڑھ کر پہلے ایک آدمی جاوید صاحب کو ’گمراہ‘ سمجھتا ہے۔ پھر منظور صاحب کا جواب پڑھنے اور زبیر صاحب کی خاموشی کی داستان سننے کے بعد اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تحریر کوئی علمی کاوش نہیں بلکہ جاوید صاحب کو بدنام کرنے کی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح زبیر صاحب جاوید صاحب کی شہرت اور مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔
مدیر محترم! یہاں میں آپ کی توجہ بھی ایک اہم حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس امت میں اختلافات کی داستان کوئی نئی نہیں ہے۔ اہل الرائے اور اہل حدیث، معتزلہ اور اشاعرہ اور شیعہ سنی اختلافات سے امت کی تاریخ عبارت ہے۔ پھر بریلوی، اہل حدیث اور دیو بندی اختلافات کی بات تو ابھی حال ہی کا واقعہ ہے۔ آپ نے اگر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ دینی اختلافات پر مضامین شائع کریں گے تو یہ ضرور کیجیے، لیکن ساتھ میں لوگوں کو مکالمے کے آداب،اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا جذبہ اور اعتراف کا حوصلہ سکھائیے۔ لوگوں کو یہ سکھائیے کہ تنقید کرنے سے قبل سامنے والے کی بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ پھر اس طرح اسے دیانتداری کے ساتھ بیان کیا جائے کہ وہ خود کہے کہ میری بات بالکل صحیح بیان ہوئی ہے، وگرنہ اس امت میں بریلویوں کو مشرک قرار دیا جاتا رہے گا اور ہر بریلوی اپنے بچوں کو یہی بتائے گا کہ دیوبندی منکر درود اور اہل حدیث گستاخ رسول ہیں۔ یہ کافر ہیں، کافر ہیں ،کافر ہیں، جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کے جذبے کے ساتھ اعتراف کا حوصلہ بھی عطا فرمائے ۔
ریحان احمد یوسفی
ishraqkarachi@gmail.com
(۴)
محترم جناب محمد عمار ناصر صاحب
السلام علیکم۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ دن بدن اپنے رسالے ’الشریعہ‘ کو علمی اور تحقیقی بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کر رہے۔ خدارا اپنے رسالے میں تحقیق کا مرکز ومیدان امت میں موجود تفرق وتشتت کے کینسر کو بنائیں جو امت مسلمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس تفریق کا باعث ائمہ اربعہ کی فقہی آرا ہیں یا ایک ہی موضوع پر مختلف مفہومات کی حامل احادیث ہیں یا علماے سو کے ذاتی مفادات یا کوئی اور سبب؟ بہرحال جو بھی اس کے اسباب ہیں، ان کا دقت نظر سے جائزہ لے کر ان کے استیصال کی بھرپور کوشش کرنا ہی فی زماننا دین کی سب سے بڑی خدمت ہے۔
آپ ایسے اہل علم سے یہ مخفی نہیں ہے کہ امت کی موجودہ تفریق بھی ازروے قرآن حکیم شرک کے زمرے میں آتی ہے۔ آپ حضرات لوگوں کو شرک جلی اور شرک خفی سے تو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں، لیکن اس شرک کے معاملے میں آپ کی آنکھیں کیوں بند ہیں؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
امید ہے کہ آپ میری معروضات پر مثبت رد عمل کا مظاہرہ فرمائیں گے۔
ماسٹر لال خان
ساکن بیکنانوالہ۔ ڈاک خانہ چک جانی
براستہ ڈنگہ۔ تحصیل کھاریاں۔ ضلع گجرات
(۵)
محترمی ومکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
الشریعہ کبھی کبھی نظر سے گزرتا ہے۔ ماشاء اللہ اپنے انداز وادا سے تازگی اور جدت کا پیغامبر ہے۔ آپ جس دردمندی، محنت اور اخلاص کے ساتھ قلم اٹھاتے ہیں، وہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
الشریعہ (دسمبر ۲۰۰۷) میں ’’کلمہ حق‘‘ کے عنوان کے تحت ایک خاتون کا خط شائع کیا گیا ہے۔ اس میں بیان کردہ حالات بہت بڑے خطرات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں علماے کرام کو کیا کرنا چاہیے، گہرے غور وفکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موجودہ فتنہ پرور دور اور سازشوں کا شعور وادراک عطا فرمائے، آمین۔
عمران ظہور غازی
چیف آرگنائزر ہیومن رائٹس نیٹ ورک پنجاب
۲۲۔سی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور
مولانا ضیاء الدین اصلاحی (مرحوم) ۔ دارالمصنفین کا ایک تابندہ ستارہ
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح
(دار المصنفین شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ) کے ڈائریکٹر ، ماہنامہ ’’معارف‘‘ کے مدیر مولانا ضیاء الدین اصلاحی مؤرخہ یکم فروری ۲۰۰۸ء بروز جمعہ بنارس میں سڑک کے ایک جان لیوا حادثے کا شکار ہوگئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ مرحوم کی دارالمصنفین سے پچاس سالہ رفاقت، معارف کی بیس سالہ ادارت اور خدمات پر مضمون پیش کیا جارہا ہے۔)
سیر ت النبی ﷺ (شبلی نعمانی) کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے تو لازماً دارالمصنفین کا خیال دل و دماغ میں نقش ہوجاتا ہے۔ اعظم گڑھ (ہند) میں قائم ہونے والا یہ ادارہ محض مولانا شبلی نعمانی کا خواب ہی نہ تھا بلکہ ہند کے مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ اور علمی احیا کی ایک تحریک تھی۔ دارالمصنفین کی تقریباً ۹۲سالہ تاریخ نے یہ ثابت کردیا کہ یہ خطہ علمی طور پر ابھی بانجھ نہیں ہوا، بلکہ ایسے اداروں نے ایسے رجال کار اور علما و مصنفین پیدا کیے جس کا خواب شبلی نعمانی مرحوم نے دیکھا اور جس کی عملی تعبیر ان کے شاگردِ رشید سید سلمان ندوی نے فراہم کی۔ اس ادارے نے وہ عظیم الشان اہلِ علم و دانش پیدا کیے اور انہوں نے وہ تہذیبی و تمدّنی اور تاریخی سرمایہ چھوڑا جس پر خطہ ہندوستان بجا طور پر فخر کرسکتا ہے۔(۱)
علامہ شبلی نعمانی کے خاکہ کے مطابق اس ادارہ کو علمی تحریک کا روپ دینے میں جن شخصیات نے اپنا خونِ جگر دیا، ان میں سید سلمان ندویؒ ، مولانا معین الدین ندوی، مولانا عبدالماجد ندوی، مولانا ریاست علی ندوی، مولانا ابوظفر ندوی، مولانا عبدالسلام قدوائی، سید صباح الدین عبدالرحمٰن اور مولانا ضیاء الدین اصلاحی شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دارالمصنفین کے افق پر چمکنے والا ستارہ ہے ، جس کی ضوفشانیوں سے ایک عالم منور ہورہا ہے۔
مختصر حالاتِ زندگی
مولانا ضیاء الدین اصلاحی اعظم گڑھ (یو۔پی) کے ایک چھوٹے سے گاؤں سہاریا(Sahara)میں نظام آباد کے قریب ۱۹۳۷ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں حاصل کی ۔ آپ مولانا اختر احسن اصلاحی کے شاگرد خاص تھے جومولانا حمید الدین فراہی کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کے بڑے بھائی مولانا قمر الدین اصلاحی مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد تھے۔ مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعد مولانا ضیاء الدین اصلاحی ۱۹۵۷ء میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ) سے بطور رفیق (ریسرچ سکالر) وابستہ ہوگئے۔ اس وقت شاہ معین الدین ندویؒ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ تقریباً تیس سال رفیق کی حیثیت سے کام سرانجام دیا۔ سید صباح الدین عبدالرحمٰن کی ناگہانی وفات (۲)کے بعد۱۹۸۸ء میں ضیاء الدین اصلاحی ڈائریکٹر (ناظم) کے عہدے پر فائز ہوئے جو تادمِ حیات اپنی ذمہ داریاں پوری جانفشانی سے ادا کرتے رہے۔ علاوہ ازیں مولانا ضیاء الدین مندرجہ ذیل علمی اداروں اور فلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے۔
۱۔ ناظم (ڈائریکٹر) مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر۔ اعظم گڑھ)
۲۔ ممبر مجلس منتظمہ ندوۃ العلماء (لکھنؤ)
۳۔ ممبر مجلس منتظمہ دارالعلوم تاج المساجد (بھوپال)
۴۔ ممبر مجلس منتظمہ جامعۃ الفلاح (اعظم گڑھ)
۵۔ ممبر مجلس عاملہ اردو اکیڈمی (یو۔پی)
۶۔ ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
بطور مصنّف و قلم کار
مولانا ضیاء الدین اصلاحی کا قلم بہت رواں تھا۔ انہوں نے متعدد موضوعات پر قلم اٹھایا ۔ ان میں تفسیر، حدیث، فقہ، ترجمہ نگاری، سیرت و سوانح، تاریخ و ادبیات شامل ہیں۔ تصنیف و تالیف میں اگرچہ زیادہ تر مقالات شامل ہیں جن پر ہم الگ سے بحث کریں گے۔ تاہم مندرجہ ذیل تصنیفات ان کے قلم سے نکلیں:
۱۔ تذکرۃ المحدثین:
رجالِ حدیث مولانا کا پسندیدہ موضوع تھا۔ مذکورہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ جلدِ اول میں دوسری صدی ہجری کے آخر سے چوتھی صدی ہجری کے اوائل تک مشہور محدثین کے حالات اور ان کی تصنیفات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جبکہ دوسری جلد میں چوتھی صدی ہجری کے نصف آخر سے آٹھویں صدی ہجری تک محدثین کا احاطہ کیا گیا ہے جبکہ تیسری جلد میں آٹھویں صدی ہجری سے شیخ عبدالحق محدث دہلوی تک کے ممتاز صاحبِ تصنیف اور ہندوستانی محدثین کے حالات قلم بند کیے ہیں۔
۲۔ مسلمانوں کی تعلیم:
۲۲۶صفحات کی اس کتاب میں اسلام میں تعلیم کی اہمیت، طریقہ تعلیم، مدارس کی اہمیت ،ان کے نصابات میں اصلاح ،مردوں اورعورتوں کے لیے عصری تعلیم کی ضرورت اورمولانا شبلی نعمانی کے تعلیمی نظریات پر بحث کی گئی ہے ۔
۳۔ ہندوستان عربوں کی نظرمیں
۴۔مولاناابوالکلام آزاد
۵۔ ایضاح القرآن
۶۔انتخاب کلام اقبال
مولاناضیاء الدین اصلاحی نے ملک میں متعدد علمی کانفرنسوں ،سیمینار ،اورتاریخ وادبیات کی مجالس میں شرکت کی اوران میں مقالات پیش کیے۔ ان کی عربی زبان و ادب کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے ۱۹۹۵ء میں انہیں ’’پریذیڈنٹ آف انڈیا ایوارڈ ‘‘ سے نوازا ۔یہ ایوارڈ بھارت کے صدر ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے دیا۔
بطورناظم دارالمصنفین شبلی اکیڈمی
مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے بطور ڈائریکٹر دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نہایت جانفشانی سے کام کیا ۔ شبلی نعمانی کے خوابوں کوعملی تعبیر وتشکیل دینے میں اپنے پیش روں کے نقش قدم پر چلے ۔ نہ صرف یہ کہ اکیڈمی کی تصنیفات وتالیفات کی نشرواشاعت میں غیر معمولی تیزی آئی بلکہ انہیں کے دور میں دارالمصنفین قدیم پر یس (لیتھو)سے جدید اورمشینی پریس (آفسٹ )پر منتقل ہوا جس سے طباعت کامعیار عمدہ ہوا ۔ علاوہ ازیں دارالمصنفین کادیگر ملکی اورغیر ملکی اداروں سے تعاون وتعلق مزید پختہ ہوا۔ بطور ناظم اس پلیٹ فارم سے موثر آواز اٹھائی اورملکی اوربین الاقوامی امورپر مسلمانوں بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے موقف کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ،فروری ۲۰۰۷ء میں جب شبلی اکیڈمی کی ویٹ سائٹ تیارہوئی تواس پر از حد خوشی کااظہار فرمایا۔
معارف اورضیاء الدین اصلاحی
ماہ نامہ معارف (اعظم گڑھ)کااجراء رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ /جولائی ۱۹۱۶ء کو ہوا۔ سید سلمان ندوی ؒ اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس اعتبار سے اس کی عمر ۹۲سال ہوگئی ہے۔ مجلّہ معار ف کا شمار برصغیر کے قدیم علمی مجلات میں ہوتا ہے۔ سید سلمان ندوی نے مولانا شبلی نعمانی ؒ کی ہدایات کے مطابق اس کا اجرا کیا ۔ نیز اسے ایک ضابطہ کار کا پابند بنایا اور اعتدال و توازن اور توسیع پر مبنی اس نقطہ نظر کا نصب العین قرار دیا جس میں اپنی بنیادوں سے انحراف بھی نہ ہو اور زمانہ کی وسعتوں کا بھی احاطہ کیا جائے۔ اس کی حیثیت برصغیر میں دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کی ہے جس کے لکھنے والوں میں نہ صرف ہندوستان و پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کی نامور شخصیات رہی ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے مجلہ معارف کے بارے میں لکھا :
’’معارف کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ، صرف یہی ایک پرچہ ہے اور ہر طرف سناٹا ہے۔ الحمدللہ! مولانا شبلی مرحوم کی تمنائیں رائیگاں نہیں گئیں اور صرف آپ کی بدولت ایک ایسی جگہ بن گئی جو خدمت علم و تصنیف کے لیے وقف ہے۔‘‘
عالمِ اسلام کے نامور محقق ، مصنف ڈاکٹر حمیداللہ جو معارف کے تادمِ حیات معاون و قلم کار رہے، یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:
’’واقعہ تو یہ ہے کہ آج کل ساری دنیاے اسلام میں عرب ہو کہ عجم، کوئی اسلامی رسالہ اسلامیات پر اعظم گڑھ والے معارف کے معیار کا نہیں۔ اوروں کے ہاں کاغذ اور طباعت بہتر ہوسکتی ہے، لیکن مضامین کے مندرجات میں علمی معیار بدقسمتی سے کچھ بھی نہیں ۔ خدا معارف کو سلامت با کرامت رکھے۔ میں خود معارف میں جگہ پاؤں تو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا ہوں۔‘‘ (۳)
مولانا ضیاء الدین اصلاحی معارف (اعظم گڑھ) سے اگرچہ ۱۹۵۷ء سے وابستہ ہوگئے تھے تاہم بطور مدیر انہوں نے ۱۹۸۸ ء سے ذمہ داری سنبھالی ۔ ان کی پہلی تحریر فروری۱۹۵۵ء میں شائع ہوئی اور آخری تحریر بطور مقالہ اکتوبر۲۰۰۷ء میں شائع ہوئی۔ (۴)
ضیاء الدین اصلاحی نے اپنے پیش رو مدیروں سید سلیمان ندویؒ ، شاہ معین الدین ندوی ؒ ، عبدالسلام ندوی ؒ اور سید صباح الدین عبدالرحمن ؒ کی طرح معارف کا معیار برقرار رکھنے میں دن رات محنت کی ۔ خود ان کے قلم سے سینکڑوں مقالات نکلے اور ماہنامہ معارف کی زینت بنے۔ (۵) ان مقالات کا دائرہ کار بہت وسیع بھی ہے اور متنوّع بھی۔ سب سے بڑھ کر مدیر کی ذمہ داری ’شذرات‘ قلم بند کرنا ہے جو بالعموم تین صفحات پر تین یا چارحصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں کبھی تو ایک ہی موضوع اور کبھی مختلف پیراؤں میں مختلف موضوعا ت پر اظہارِ خیال ہوتا تھا۔ شذرات نہ صرف مدیر کے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ معارف اور دارالمصنفین کی پالیسیوں کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں ملکی و علاقائی مسائل پر بھی اظہارِ خیال ہوتا ہے اور بین الاقوامی حالات پر بھی۔ بالخصوص مسلمانوں کے مسائل خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا بیرونِ ہندوستان کے ، کھل کر بات کی جاتی ہے۔ چند شذرات پر نظر ڈالتے ہیں۔
عالمی سطح پر مسلمانوں کو جس طرح سازشوں اور دہشت گردی کا سامنا ہے ، اس پر مدیرِ معارف نے یوں روشنی ڈالی ہے:
’’اس وقت دنیا کا سب سے طاقت ور ملک امریکہ ہے۔ تلک الایام نداولھا بین الناس، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جمہوریت اور امن عالم کاسب سے بڑا محافظ اورعلم بردار سمجھتاہے ،جبکہ وہ جمہوریت کاسب سے بڑا قاتل ہے ۔ خوف ودہشت انگیزی ،انتشار اوربدا منی پھیلانا اورخون خرابہ کرانا اس کامشن رہاہے۔ اس کی آمرانہ اوراستبدانہ پالیسی نے کئی کئی ملکوں میں جمہوریت کے منتخب نمائندوں کی حکومتیں قائم نہیں ہونے دیں اوران کو راستے کا روڑا سمجھ کر کنارے لگا دیا اور اپنی پسند کے حکمران مسلط کردیے ااس طرح کی کٹھ پتلی حکومتوں سے جمہوریت کاخون ہی نہیں ہوا، بلکہ حکومت نے یقینی وبے اطمینانی کی کیفیت پید اہوئی، تشدد اور خلفشار مچا، قتل وخون ریزی سے ملک کے ملک تباہ ہوگئے اورامن وچین غائب ہوگیا اس وقت افغانستان وعراق میں اس کی چنگیزیت اورنادرگری سے یہی ہورہاہے۔‘‘(۶)
پاکستان اورہندوستان کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم کرکے حوالے سے رقم طراز ہیں ۔
’’۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان اورپاکستان ایک ہی ملک تھے ،گواب یہ دوملک بن گئے ہیں اوران کے درمیان سرحد حائل ہوگئی ہے ،لیکن اس کی وجہ سے صدیوں سے قائم نہ علمی ،تہذیبی اورثقافتی تعلقات ختم ہوسکتے ہیں اورنہ اعزہ واقارب کے دونوں ملکوں میں بٹ جانے سے خونی رشتے منقطع ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کافائدہ اسی میں ہے کہ یہ مل جل کررہیں،ان کے تعلقات خوشگوار ہوں اوراپنے متنازع امور کوکسی اورملک کی مداخلت کے بغیر خودہی بات چیت کے کرکے طے کرلیں اورآپس کے گلے شکوے ،رنجشیں اورعداوت دورکرلیں تاکہ ہر قسم کی کش مکش ،آویزش اورٹکراؤ کاسدباب ہوسکے بلکہ دوستوں اوربھائیوں کی طرح امن وچین سے رہیں،یہی بات دونوں ملکوں کے حکمرانوں کوبھی سمجھ لینی چاہیے کہ امن مفاہمت اوربقا کے باہمی راستہ اختیار کرنے میں ان کی فلاح اوربھلائی ہے۔‘‘ (۷)
مدیر معارف کوا س بات پر نہایت تشویش تھی کہ دارالمصنفین کی کتابیں پاکستان اور دیگر ملکوں میں بلااجازت چھپ رہی ہیں، علمی فائدہ اپنی جگہ اورکتب کی اشاعت خوب ہورہی ہے ،لیکن دارالمصنفین جوان کتب کی اصل ہے اورجس کے جملہ طباعی و اشاعتی حقوق اس کے پاس محفوظ ہیں، وہ شدید طورپر مالی دشواریوں سے دوچارہے اوروسائل نہ ہونے کی وجہ سے دارالمصنفین کے بہت سے منصوبے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ شذرات میں مولانا ضیاء الرحمن اصلاحی نے بارہا مرتبہ اپنے اضطراب کایوں اظہار کیاہے ۔
’’ہم ان صفحات میں متعدد بار لکھ چکے ہیں کہ دارالمصنفین کی کتابیں ہندوستان وپاکستان کے ناشرین غیر قانونی اورغیراخلاقی طورپر شائع کررہے ہیں ،،مگر ہماری چیخ وپکار کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔‘‘
ایک اور شذرے میں لکھتے ہیں :
’’دارالمصنفین کی کتابوں کی ڈاکہ زنی اورقذافی کایہ سلسلہ ہندوستان اورپاکستان میں توبہت عرصے سے جاری ہے لیکن اب عرب ملکوں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوگیاہے۔ ان کتابوں کی جس قدر اشاعت اورترجمے ہوں گے، اس سے ان کو خوشی ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے اداروں اورمصنفین خصوصاًدارالمصنفین کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ اس کے علم میں لائے بغیر اس کی کتابیں اس طرح چھپتی اوردوسری زبانوں میں ترجمے کی جاتی رہیں ، اس سے تووہ تباہی کے کنارے پر پہنچ جائے گا، اس لیے پاکستان اورعرب ملکوں یادنیا کے کسی ملک اورزبان میں جولوگ دارالمصنفین کی کتابیں ،یا ان کے ترجمے شائع کرناچاہیں، ان کے لیے اس سے اجازت لینا،معاہدے اورمعاوضے کی شرائط طے کرنا ضروری ہے۔ عرب ملکوں میںیہ ذمہ داری ڈاکٹر تقی الدین ندوی اورپاکستان میں سجاد الٰہی کے ذمہ ہوگی ۔‘‘(۹)
الحمد للہ مدیر معارف کی اس توجہ کے بعد پاکستان میں دارالمصفین کے ذمہ دارجناب سجاد الٰہی نے بھر پور طریقے سے کام کیا اور دو طریقوں سے دارالمصنفین کی بھر پور معاونت کی ۔ ایک تو وہ پبلشرز جوبرس ہابرس سے دارالمصنفین کی مطبوعات بالخصوص سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم شائع کررہے تھے،ان سے معاملات کیے گئے اورکسی قدر رائلٹی دارالمصنفین کے سپرد کی گئی۔ دوسرا اہم کام یہ کیاکہ ماہ نامہ معارف کی پاکستان میں وسیع پیمانے پر نشرواشاعت کے لیے چند دوستوں نے ملک کر بھر پور مہم چلائی اوردوسال کے اندر اندر اس وقت ۲۰۰ کی تعداد میں معارف علمی وتعلیمی اداروں اورافراد تک پہنچ رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں دارالمصفین کی مطبوعہ کتب کوبھی وسیع پیمانے پر لائبریریوں اوردیگر خواہش مند افراد تک مناسب قیمت پر مہیا کرنے کا انتظام کیا گیا ۔(۱۰)
دارالمصنفین نے ان کاوشوں کو بنظر تحسین دیکھا اورمدیرمعارف نے شذرات میں یوں اظہار کیا :
’’گزشتہ دوبرسوں میں دارالمصفین شبلی اکیڈمی کے کر م فرماؤں نے خاص طورپر تعاون کیا ہے۔ جلسہ انتظامیہ نے ان کے شکریہ کی منظوری دی۔ جناب سجاد الٰہی (لاہور )جناب شمس الرحمن اورپروفیسر ظفرالاسلام نے معارف اور دارالمصنفین کی کتابوں کی توسیع میں بڑی دلچسپی لی۔‘‘(۱۱)
صرف ہندوستان ہی کے نہیں ،علمی واشاعتی ادارے جہاں کہیں بھی ہیں، دارالمصفین نے ان اداروں کی حوصلہ افزائی کی ہے اوران سے ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ اقبال اکیڈمی لاہور کی بابت مدیرمعارف نے لکھا :
’’اقبال اکیڈمی پاکستان لاہور کاایک فعال ادارہ ہے جواقبالیات پربلند پایہ کتابوں کی اشاعت کے لیے مشہور ہے۔ علم دوستی کی بنا پر اس کی مطبوعات دارالمصفین کے حصے میں بھی آتی ہیں (دس کتب کی فہرست )ان کتابو ں کی اشاعت کے لیے ہم اکادمی کومبارک باددیتے ہیں، اورعطیے کے لیے اس کے شکرگزار ہیں۔‘‘ (۱۲)
مدیر معارف پاکستان کے داخلی معاملات میں کس قدر دلچسپی رکھتے تھے، اس کا اندازہ جولائی ۲۰۰۷ ء میں سانحہ لال مسجد وجامعہ حفصہ سے ہوتاہے وہ اس سانحہ پر کس قدر دل گرفتہ تھے۔ شذرات میں رقم طراز ہیں :
’’گزشتہ مہینے پاکستان میں لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے آپریشن سائی لنس کانہایت اندوہ واقعہ پیش آیا اورایک صد سے زیادہ علوم دینیہ کے طلبہ وطالبات اورعلما کی قیمتی جانیں گئیں۔ یہ خون ریزی اوروحشیانہ کاروائی اورمسجد ومدرسے کی پامالی وبے حرمتی حکومت کی کوئی مجبوری نہیں تھی ،مذاکرات اوربااثر لوگوں کودرمیان میں لاکر مسئلے کوحل کیا جا سکتا تھا۔ اگر مسجد اورمدرسہ والوں کی انتہا پسند ی اورسرکشی اتنی بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے متوازی حکومت بنالی تھی ،اس بنا پر یہ سخت اقدام ضروری ہوگیا تھا کہ توکیا اس میں حکومت کی غفلت نہیں تھی ،جس نے انہیں اتنی چھوٹ دے رکھی تھی ،کہ وہ مسجد ومدرسہ کواپنی باغیانہ سرگرمیوں کامرکز بنا کرامن وقانون کو پامال کرنے لگے تھے؟ پاکستان اپنے دستور کی روسے اسلامی مملکت ہے۔ اس سے اسلامی قانون وشریعت کے نفاذ اورفواحش ومنکرات کے انسداد کامطالبہ غلط نہیں تھا ،غلط مطالبہ کاطریقہ تھا۔ ضد ،غلو اورتشدد سے مطالبات نہیں منوائے جاتے اورنہ زوروقوت سے برائیاں ختم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے لیے ذہن وکردار سازی کی جاتی ہے اورآئینی جمہوری اورپرامن طریقے سے رائے عامہ ہموار کیا جاتی ہے، مگر حکومت کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے یہ جارحانہ کاروائی مغربی آقاؤں کی خوش نودی کے لیے کی تھی جس کی شاباشی اسے مل چکی۔ فوج کشی اورظلم وتشدد سے وقتی طورپر سکوں ہوجاتاہے مگر آئندہ دبی ہوئی چنگاریاں بہت زوروشور سے بھڑکتی ہیں۔ مشرف صاحب کے اس طرح کے ناروا اقدامات سے ان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔‘‘ (۱۳)
جیساکہ قبل از یں سطورمیں بیان کیاجاچکاہے کہ معارف علوم ومعارف کے اردورسائل میں اپنی ایک شاندار تاریخ کا حامل ہے، اس کے معیار کے بارے میں مدیر معارف کے کیا خیالات تھے، ملاحظہ کیجیے:
’’علامہ شبلی مرحوم نے دارالمصنفین سے معارف کے اجرا کاجوپروگرام بنایاتھا،وہ مولانا سید سلیمان ندوی کے ذریعہ روبہ عمل آیااورجولائی ۱۹۱۶ ء میں اس کاپہلا شمارہ نکلا اورالحمدللہ اس وقت سے اب تک یہ مسلسل بلاناغہ شائع ہورہاہے۔ ۹۰ سال تک اردو کے وہ بھی ایک سنجیدہ علمی اورتحقیقی رسالہ کا جس میں تمام دلچسپی کی چیزیں نہ ہوں، شائع ہوتے رہنا خدائے ذوالجلال کافضل وکرم ہے۔ معارف کاشروع سے جوبلند معیار واندازرہاہے،اسے قائم رکھنا مجھ جیسے کم مایہ کے لیے بہت مشکل ہے مگر ہمیشہ میری یہ کوشش رہی کہ اس کے معیار کوہاتھ سے نہ جانے دیاجائے ۔ اگر اس میں کچھ کامیابی ہوئی تو یہ تائید ربانی اوراہل علم ودانش کی اعانت سے ہوئی ہے، لیکن اب لوگ سہولت پسند ہوگئے ہیں اورمحنت وپتہ ماری سے گھبراتے ہیں۔ جن موضوعات پرقلم اٹھائے ہیں، ان کے اصل مراجع سے واقف نہیں ہوتے۔‘‘ (۱۴)
مدیر معارف نے امسال ۱۴۲۸ھ (دسمبر ۲۰۰۷ء) کو حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو ان کی انسانی خطاؤں اور لغزشوں کی معافی مطلوب تھی اور بلندئ درجات مقصود تھی ۔ فروری ۲۰۰۸ء کے شذرات سفرِ حج کے تاثرات و مشاہدا ت تھے۔ چند سطور ملاحظہ ہوں :
’’حج کا یہ عالم گیر اجتماع امتِ مسلمہ کے مختلف طبقوں اور گروہوں کی وحدت اور یک رنگی کا عظیم الشان مظہر ہے۔ قوم و وطن، رنگ و نسل، جنس و زباں، لباس، ذوق و مزاج، یہاں تک کہ نماز کی بعض ظاہری صورتوں میں بھی اختلاف کے باوجود سب کی زبانوں پر لبیک لبیک کی صدائیں اور احرام کی چادریں سب کے جسموں پر ہوتی ہیں اور سب اللہ کے گھر پر نثار اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں، اختلاف میں وحدت کا یہ منظر حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی کوئی مثال دوسرے مذہب میں معدوم ہے۔‘‘ (۱۵)
معارف فروری ۲۰۰۸ء کے مذکورہ شذرات مدیر معارف کے آخری الفاظ ثابت ہوئے۔ شذرات کے آخر میں درج یہ الفاظ کس قدر دل دوز اور غم ناک ہیں:
’’آہ کس دل سے اور کس قلم سے ناظرین معارف کو خبر دی جائے کہ ان شذرات کے پاک نفس اور پاک طنیت لکھنے والے قلم کی ضیاپاشیوں سے وہ محروم ہوگئے ہیں۔ مدیر معارف اور ناظم دارالمصنفین مولانا ضیاء الدین اصلاحی اب مرحوم ہیں۔ یکم فروری کو وہ سڑک کے ایک حادثے میں سخت مجروح ہوئے اور ۲ فروری کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔‘‘ (۱۶)
سانحہ ارتحال
کل نفس ذائقۃ الموت کے مصداق پر ذی روح اورمتنفس کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوتاہے لیکن بعض افراد اپنے پیچھے بہت بڑا خلا چھوڑجاتے ہیں ۔ مولانا ضیاء الدین اصلاحی بھی انہی شخصیات میں سے ہیں کہ یہ فرد کی موت نہیں بلکہ ایک جہاں اور تحریک کی موت ہے۔
یکم فروری ۲۰۰۸ ء بروز جمعہ مولانا ضیاء الرحمن اصلاحی اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک ٹیکسی پر سفرکررہے تھے کہ شام ساڑھے بجے کے قریب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا فوری طورپر اعظم گڑھ ہسپتال میں لے جایا گیا۔ وہاں سے نازک حالت کے پیش نظر بنار س ہندویونیورسٹی میڈیکل کالج منتقل کیاگیامگر وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاسکے اور۲فروری بروز ہفتہ جاں جان آفریں کے سپر دکردی۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون) ندوۃ العلماء کے ریکٹر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سیدرابع ندوی نے نماز جنازہ پڑھائی اورمولانا شبلی نعمانی کے پہلو میں دارالمصنفین کے احاطہ میں دفن کیاگیا۔ تدفین بروز اتواز ۳فروری ۲۰۰۸ ء صبح ساڑھے دس بجے عمل میں آئی ۔ مرحوم کے پس ماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اوردوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی عمر۷۱ برس تھی۔ مسلمانان پاکستان دعاگوہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات کوبلند فرمائے۔ (۱۷)
اس طرح دارالمصنفین کے افق پرچمکے والاتابندہ ستارہ پچاس برس سے زائد ضوفشانیوں کے بعد غروب ہو گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ موت العالِم موت العالَم۔
توضیحات و حواشی
۱۔ دارالمصنفین کی تاریخ و خدمات کے لیے دیکھیے: ڈاکٹر الیاس اعظمی، دارالمصنفین کی تاریخی خدمات، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری ، پٹنہ ۲۰۰۲ء ؛ ڈاکٹر خورشید نعمانی ، دارالمصنفین کی تاریخ اور علمی خدمات ، دارالمصنفین ، اعظم گڑھ انڈیا، ۲۰۰۳ء
۲۔ واضح رہے کہ معارف کے سابق مدیر سید صباح الدین عبدالرحمان بھی ۱۰ نومبر ۱۹۸۷ء میں حادثے کا شکار ہوئے۔
۳۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے: حافظ محمد سجاد، معارف اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور ماہنامہ معارف ، اعظم گڑھ، فکر و نظر، خصوصی اشاعت، جلد ۴۰، ۴۱ ، اپریل ۔ستمبر، ۲۰۰۳ء، اسلام آباد، ص:۳۷۔۴۱۰
۴۔ پہلا مضمون ’’امام ابو حنیفہ کی فقہ (ترکِ حدیث کے الزام کا جواب ) ‘‘ فروری ۱۹۵۵ء ، جمادی الثانی ۱۳۷۴ھ میں شائع ہوا۔ آخری مضمون : ’’مولانا روم ، مولانا شبلی کی نظر میں‘‘ ، اکتوبر ، نومبر ۲۰۰۷ء دو اقساط میں شائع ہوا۔
۵۔ ۱۹۵۵ء سے ۲۰۰۷ء تک ۱۲۰ کے قریب مقالات معارف میں شامل ہیں، علاوہ ازیں مطبوعاتِ جدیدہ کا تعارف، اخبارِ علمیہ اور مختلف علمی اجلاسوں کی روداد کی ترتیب میں بھی زیادہ تر حصہ مدیر معارف ہی کا ہوتا ہے۔
۶۔ ضیاء الدین اصلاحی، شذرات، ماہ نامعارف (اعظم گڑھ) ، جلد ۱۷۸، عدد۵، نومبر ۲۰۰۶ء، ص:۳۲۲۔
۷۔ ایضاً، جلد ۱۷۹، عدد، ۲، فروری ۲۰۰۷ء، ص:۸۲
۸۔ ایضاً، جلد۱۷۹، عدد ۱، جنوری ۲۰۰۷ء، ص:۳
۹۔ ایضاً ، جلد ۱۷۹، عدد ۵، مئی ۲۰۰۷ء، ص:۳۲۲،۳۲۳
۱۰۔ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اور ماہ نامہ معارف کے ساتھ اخلاقی و مالی معاونت میں جہاں سجاد الٰہی صاحب نے سرگرمی دکھائی ، وہاں ڈاکٹر حافظ محمد سجاد ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ) اور راقم الحروف بھی شامل ہیں۔ سجاد الٰہی کا پتہ ہے : ۲۷/اے، مال گودام روڈ، لوہا مارکیٹ، بادامی باغ، لاہور ۔
۱۱۔ دارالمصنفین ، شبلی اکیڈمی کا دو روزہ اجلاس، یکم ، دو ستمبر ۲۰۰۷ء ، مزید دیکھیے ،شذرات ماہ نامہ معارف، جلد ۱۸۰، عدد ۳، ستمبر ۲۰۰۷ء، ص:۱۶۳، ۱۶۴۔
۱۲۔ ضیاء الدین اصلاحی ، شذرات، ماہ نامہ معارف، جلد ۱۷۹، عدد۱، جنوری ۲۰۰۷ء، ص:۴
۱۳۔ ایضاً، شذرات، معارف، جلد ۱۸۰، عدد۲، اگست ۲۰۰۷ء، ص:۸۲،۸۳
۱۴۔ ایضاً، شذرات، معارف، جلد ۱۸۰، عدد۲، اگست ۲۰۰۷ ء، ص:۸۲،۸۳
۱۵۔ ایضاً، ملاحظہ ہو دارالمصنفین کی ویب سائٹ۔www.shibliacademy.org۔ واضح رہے مذکورہ ویب سائٹ افضال عثمانی نے فروری ۲۰۰۷ء میں ڈاکٹر اے عبداللہ ( واشنگٹن)اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (دہلی ) کے تعاون سے تیار کی ۔
۱۶۔ایضاً شذرات جلد ۱۸۱، عدد، ۲، ص:۸۳،۸۴
مولانا محمد اشرف شادؒ
مولانا محمد یوسف
عالم ربانی، استاذ العلماء، جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا محمد اشرف شاد گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ پاکستان کی عظیم دینی درس گاہ دار العلوم کبیر والا کے قدیم فضلا میں سے تھے۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد آپ عنفوان شباب ہی سے درس وتدریس سے وابستہ ہو گئے اور تادم واپسیں مسند تدرریس پر رونق افروز رہے۔ اس عرصے میں بے شمار تشنگان علم نے اس چشمہ علم سے اپنی پیاس بجھائی۔ آپ نے ملک کے تدریسی حلقوں میں امام الصرف والنحو کا لقب پایا اور آپ کو بجا طور پر ملک کے چوٹی کے مدرسین میں شمار کیا جاتا تھا۔
آپ صبح سویرے مسند تدریس پر رونق افروز ہوتے اور پھر ناشئَۃ اللیل تک علم وعرفاں کی روشنی بکھیرتے رہتے۔ گو بنیادی طور پر آپ زندگی بھر تدریسی شعبے سے وابستہ رہے، لیکن اس کے علاوہ بھی تمام ملی ودینی خدمات میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتے رہے۔ عاجزی، انکسار اور سادگی میں آپ اپنے اکابر کا نمونہ تھے۔ پہلی نظر دیکھنے والا شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ یہی وہ عالم ربانی ہیں جن کی شبانہ روز محنت سے ملک کے تدریسی حلقوں میں پختہ کار رجال فراہم ہو رہے ہیں۔
آپ کی ایک نمایاں خوبی جس کا مشاہدہ آپ کے متعلقین میں سے ہر ایک کو ہے، زیر تعلیم طلبہ میں سے ہر ایک طالب علم کے ساتھ ایک شفیق باپ کا سا تعلق تھا۔ جب تعطیلات میں طلبہ اپنے گھروں کو لوٹتے تو طلبہ کو فرداً فرداً ملتے ہوئے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور فرماتے: زینۃ المکان بالمکین۔ فرماتے کہ عزیز طلبہ، اس ادارے کی رونق آپ کے دم قدم سے ہے۔ آپ کے جانے کے بعد رونق ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کی حیات طیبہ اور مساعی جمیلہ کے ہر گوشہ کو محفوظ کرنا اور انھیں آئندہ نسلوں تک پہنچانا بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف آپ کے کردار سے واقف ہو سکیں بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے دارین کی سرخ روئی بھی حاصل کر سکیں۔
ہم حضرت مولانا کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے اور آپ کے علمی فیض کو عام اور تام فرمائے۔ ہم آپ کے علمی جانشین مولانا مفتی محمد احمد انور کے لیے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے عظیم والد کے عظیم علمی ورثہ کو آنے والی نسلوں تک بخوبی منتقل کرنے کی ہمت اور توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔