سانحہ لال مسجد اور شریعت و حکمت کے تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(لال مسجد کے سانحے کے سلسلے میں لکھے گئے مجموعہ مضامین ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ‘‘ کے دیباچے کے طور پر تحریر کیا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے تنازع کا جب آغاز ہوا تو راقم الحروف نے اس کے مختلف پہلووں پر اسی وقت سے اپنے تاثرات واحساسات کو قلم بند کرنا شروع کر دیا تھا جو مختلف کالموں اور مضامین کی صورت میں ماہنامہ الشریعہ، روزنامہ اسلام اور روزنامہ پاکستان میں شائع ہوتے رہے اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے مضامین اور کالموں میں متعلقہ مسئلہ کی معروضی صورت حال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں دینی نقطہ نظر کو بھی متوازن انداز میں پیش کر دیا جائے تاکہ قارئین کو کسی فیصلے تک پہنچنے میں آسانی رہے۔
دینی نقطہ نظر سے میری مراد کسی بھی مسئلے کے حوالے سے قرآن وسنت کے ارشادات وفرمودات کی وہ تعبیر وتشریح ہوتی ہے جو امت کے جمہور اہل علم اور خصوصاً اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی اکابر نیز حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تعبیرات وتشریحات کے ساتھ ساتھ عقل عام (Common Sense) کے ناگزیر تقاضوں سے بھی ممکنہ حد تک مطابقت رکھتی ہو۔ میں نے خود کو ہمیشہ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے فکر اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی تحریک کا فرد سمجھا ہے، اسی دائرے میں رہتے ہوئے حتی الوسع دینی، علمی اور فکری جدوجہد میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتا چلا آ رہا ہوں اور اسی کو اپنے لیے باعث سعادت ونجات تصور کرتا ہوں۔ بعض مسائل پر میری طالب علمانہ طور پر آزادانہ رائے بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات اس کا اظہار بھی کرتا ہوں، مگر خود میرے نزدیک بھی اس کی حیثیت محض ایک رائے کی ہوتی ہے اور جمہور اہل علم کی اجتماعی رائے کے علی الرغم میں نے نہ کبھی اس پر اصرار کیا ہے اور نہ ہی اس پر عمل ضروری سمجھا ہے، البتہ رائے کا حق ضرور رکھتا ہوں اور بوقت ضرورت اسے استعمال بھی کرتا ہوں۔
لال مسجد کے تنازع اور سانحہ کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ ملک میں نفاذ اسلام او رمنکرات وفواحش کے سد باب کے لیے جدوجہد کے روایتی اور معروف طریقے کافی ہیں یا افغانستان کی طرح اسے باقاعدہ جہاد کا عنوان دینا اور اسے مسلح احتجاج یا تصادم کی شکل دینا بھی ضروری ہے؟ اب سے پچیس برس قبل افغانستان کو روسی استعمار کی مسلح مداخلت اور معاشرہ میں لادینیت کے فروغ کے سنگین مسئلہ کا سامنا تھا جس کا حل افغان علما اور عوام نے مسلح جدوجہد کی صورت میں نکالا اور روس مخالف بین الاقوامی حلقوں کے تعاون سے اس میں کامیابی حاصل کر کے ایک مرحلے میں طالبان کی حکومت کے نام سے اسلامی امارت بھی قائم کر لی، لیکن اس مرحلے تک ان کے پہنچنے میں بھرپور تعاون کرنے والے بین الاقوامی حلقوں نے اس سے آگے ان کی کسی بھی پیش رفت کو خود اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ان کا راستہ بزور قوت روک دیا اور طاقت کے بل پر انھیں اقتدار سے ہٹا کر ربع صدی قبل کی صورت حال دوبارہ قائم کر دی، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج افغان عوام پر سنگین تانے ہوئے تھیں اور اب ان کی جگہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلح افواج نے لے لی ہے۔
پاکستان میں ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ، نفاذ اسلام اور منکرات وفواحش کے تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے ہمارے بہت سے دوست اسی تجربے کو دہرانے کے خواہش مند ہیں اور ان نیک مقاصد کے لیے جہاد کا عنوان اور مسلح جدوجہد کا طریق کار اپنانے کے لیے بے چین ہیں۔ ہمارے نزدیک لال مسجد کا یہ معرکہ اسی بے چینی کے اظہار کی ایک ابتدائی شکل ہے۔
ہمیں ان دوستوں کے خلوص، جذبہ ایمانی اور ایثار وقربانی کے عزم میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اس بات کو تسلیم کرنے میں بھی ہم کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے تحفظ، ملک میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ اور منکرات وفواحش سے پاکستانی معاشرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے سیاسی عمل، دستوری جدوجہد اور جمہوری ذرائع اب تک پوری طرح کامیاب ثابت نہیں ہو پا رہے جس کے اسباب ایک مستقل بحث کے متقاضی ہیں، لیکن کیا اس کے بعد پرامن اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کا راستہ چھوڑ کر مسلح جدوجہد کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے؟ یہ سوال اتنا آسان نہیں ہے کہ اس کا جواب فوری طو رپر ہاں میں دے دیا جائے، اس لیے کہ مسلح جدوجہد کے وجوب یا کم از کم جواز کے لیے صرف مذکورہ بالا اسبا ب وعوامل کافی نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے امور ہیں جن کا نہ صرف حکمت وتدبر بلکہ شرعی اصول وقواعد کے حوالے سے بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ہماری طالب علمانہ رائے میں عالمی حالات کا معروضی تناظر، شریعت اسلامیہ کے مسلمہ قواعد وضوابط اور حکمت ودانش کے ناگزیر تقاضے موجودہ حالات میں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم پاکستان میں کسی دینی جدوجہد کے لیے ہتھیار اٹھائیں، دستور وقانون کو چیلنج کریں یا معروف تصور کے مطابق جہاد کا عنوان اختیار کر کے مسلح جدوجہد کی کوئی صورت پیدا کریں۔
برطانوی استعمار کے خلاف جنوبی ایشیا کی آزادی کی جدوجہد میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ مسلح جدوجہد کے آخری اور پرامن جدوجہد کے پہلے علمبردار تھے۔ ان کی جوانی آزادئ وطن کے لیے مسلح جدوجہد کا تانا بانا بنتے ہوئے بسر ہوئی جو تحریک ریشمی رومال کے نام سے تحریک آزادی کا ایک نمایاں باب ہے، لیکن انھی شیخ الہند کا بڑھاپا عدم تشدد پر مبنی اور پرامن جدوجہد کی تلقین سے عبارت ہے۔ اس کے بعد سے آزادئ وطن اور دیگر ملی ودینی مقاصد کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن تحریکات کا نقطہ آغاز وہی ہیں اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور دیگر اکابر کے متعین کردہ اسی راستے اور انھی خطوط پر دینی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہمارے نزدیک شریعت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے۔
لال مسجد کی جدوجہد کے بارے میں راقم الحروف نے جو کچھ لکھا ہے، اسی پس منظر میں لکھا ہے اور ہم پورے شرح صدر کے ساتھ علیٰ وجہ البصیرت اس موقف پر اب بھی قائم ہیں۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے لال مسجد کی جدوجہد اور پھر اس کے الم ناک سانحہ کے بارے میں میرے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین اور کالموں کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے جس کا پہلا ایڈیشن نکل چکا ہے اور اس کے بعد لکھے جانے والے مزید مضامین کو شامل کر کے اس کا دوسرا ایڈیشن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ مضامین مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں، اس لیے حالات کے اتار چڑھاؤ کے اثرات ان میں بعض مقامات پر قارئین کو محسوس ہوں گے، تاہم مجموعی تاثرات واحساسات اور جذبات وخیالات کا دائرہ چونکہ ایک ہی ہے، اس لیے قارئین کو اس سلسلے میں زیادہ الجھن پیش نہیں آئے گی۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دین وملت کے لیے صحیح رخ پر سوچنے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
(۱۴؍ اگست ۲۰۰۷)
کفارہ کا عقیدہ اور عمل کی اہمیت
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم بائیبل، کتاب مقدس اور انجیل مقدس کے حوالے سے یہ ثابت کر دیں کہ ہر ایک کو عمل کرنا پڑے گا اور تب جا کر کہیں نجات نصیب ہو سکتی ہے۔ جب ہر ایک کے لیے عمل ضروری ٹھہرا تو پھر کفارے کا سوال کہاں سے؟ اور اس نامنصفانہ عقیدہ اور نظریہ کو بھلا سنتا بھی کون ہے؟
استثنا باب ۲۷ آیت ۲۶ میں ہے: ’’لعنت اس پر جو شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے ان پر قائم نہ رہے اور سب لوگ کہیں: آمین۔‘‘
اگر شریعت کی باتوں کو ترک کر کے محض کفارہ ہی کا عقیدہ موجب نجات ہے تو پھر یہ لعنت کیسی اور کیوں؟
انجیل لوقا باب ۶ آیت ۴۶ تا ۴۹ میں ہے: ’’جب تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرتے تو کیوں مجھے خداوند خداوند کہتے ہو؟ جو کوئی میرے پاس آتا اور میری باتیں سن کر ان پر عمل کرتا ہے، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ وہ کس کی مانند ہے۔ وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے گھر بناتے وقت زمین گہری کھود کر چٹان پر بنیاد رکھی۔ جب طوفان آیا اور سیلاب اس گھر سے ٹکرایا تو اسے ہلا نہ سکا کیونکہ وہ بہت مضبوط بنا ہوا تھا۔ لیکن جو سن کر عمل میں نہیں لاتا، وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے زمین پر گھر کو بے بنیاد بنایا۔ جب سیلاب اس پر زور سے آیا تو وہ فی الفور گر پڑا اور وہ گھر بالکل برباد ہوا۔‘‘
غور کیجیے کہ حضرت یسوع مسیح نے کس طرح مثال دے کر عمل کرنے پر زور دیا ہے اور بے عمل انسان کے برائے نام ایمان کو کس طرح بے قدر وبے وقعت قرار دیا ہے۔
کرنتھیوں باب ۷ آیت ۱۹ میں ہے: ’’نہ ختنہ کوئی چیز ہے نہ نا مختونی، بلکہ خدا کے حکموں پر چلنا ہی سب کچھ ہے۔‘‘
اور یعقوب باب ۲ آیت ۱۰ تا ۱۲ میں ہے: ’’کیونکہ جس نے ساری شریعت پر عمل کیا اور ایک ہی بات میں خطا کی، وہ سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا۔ اس لیے کہ جس نے یہ فرمایا کہ زنا نہ کر، اسی نے یہ بھی فرمایا کہ خون نہ کر۔ اس پر اگر تو نے زنا تو نہ کیا مگر خون کیا تو بھی تو شریعت کا عدول کرنے والا ٹھہرا۔ تم ان لوگوں کی طرح کلام کرو اور کام بھی کرو جن کا آزاد کی شریعت کے موافق انصاف ہوگا۔‘‘
جبکہ آیت ۱۴ میں ہے: ’’اے میرے بھائیو! اگر کوئی کہے کہ میں ایماندار ہوں مگر عمل نہ کرتا ہو تو کیا فائدہ؟ کیا ایسا ایمان اسے نجات دے سکتا ہے؟‘‘
نماز تراویح سنت موکدہ ہے
مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ
نماز تراویح سنت موکدہ ہے۔ (ہدایہ ۱/۹۹۔ شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) تراویح کے سنت ہونے کا انکار سوائے روافض کے کسی اسلامی فرقے نے نہیں کیا۔ اس کے سنت موکدہ ہونے کے بارے میں بہت سے اہل علم کے اقوال موجود ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’وسننت لکم قیامہ‘ (نسائی ۱/۳۰۸۔ ابن ماجہ، ۹۴۔ مسند احمد ۱/۱۹۱) ’’اور میں نے اس میں قیام (تراویح) کو سنت قرار دیا ہے۔‘‘
امام ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ تراویح سنت ہیں، ان کا ترک کرنا جائز نہیں۔ (شرح نقایہ ۱/۱۰۴۔ کبیری، ۴۰۰) امام نوویؒ شارح مسلم لکھتے ہیں: خوب جان لو کہ صلاۃ تراویح کے سنت ہونے پر علما کا اتفاق ہے اور وہ بیس ہیں۔ (کتاب الاذکار، ۸۳) امام غزالیؒ اپنی شہرۂ آفاق اور بے نظیر کتاب احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ تراویح سنت موکدہ ہے اور وہ بیس رکعت ہیں۔ ان کی کیفیت مشہور ہے، اگرچہ ان کا موکد ہونا عیدین سے کم درجہ کا ہے۔ امام ابن قدامہؒ جو ’مغنی‘ کے مصنف ہیں، لکھتے ہیں کہ تراویح سنت موکدہ ہیں، سب سے پہلے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت مقرر کیا ہے۔ (مغنی ابن قدامہ، ۲/۱۶۶) امام حاکمؒ نے مستدرک میں ایک حدیث بیان کرنے کے بعد لکھا ہے: اس میں واضح دلیل ہے کہ یہ صلوٰۃ تراویح مسلمانوں کی مساجد میں ادا کرنا سنت مسنونہ (موکدہ) ہے اور حضرت علیؓ نے حضرت عمر کو اس سنت کے قائم کرنے پر ابھارا تھا یہاں تک کہ حضرت عمر نے اس کو قائم کر دیا۔ (مستدرک حاکم ۱/۴۴۰)
مسئلہ: تراویح میں ایک بار قرآن کریم کا ترتیب کے ساتھ پڑھنا سنت موکدہ ہے۔ لوگوں کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اس کو ترک نہ کیا جائے گا۔ (ہدایہ ۱/۱۰۰۔ شرح نقایہ ۱/۱۰۴)
مسئلہ: اگر قرآن کریم ۱۵، ۲۰، ۲۱، ۲۵ تاریخوں میں ختم ہو جائے تو تراویح کو ترک نہ کیا جائے۔ سارے رمضان میں آخری تاریخ تک تراویح پڑھتے رہیں۔
مسئلہ: وتروں کو تراویح کے بعد پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر وتروں کو تراویح سے پہلے پڑھے تو یہ بھی جائز ہے۔ (کبیری، ۴۰۳)
(بحوالہ نماز مسنون کلاں، ص ۵۹۶ و ۶۱۰)
دنیا کی محبت اور علمائے اسلام کی ذمہ داری
مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی
اس وقت غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن نے تمام دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کو ممالکِ اسلامیہ بھی اپنائے جا رہے ہیں، لیکن اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ زندگی کی کشتی کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور وہ اس کو جس طرف لے جانا چاہے، لے جانے دیا جائے، کیونکہ اسلام ہر زمانہ میں اپنے غالب رہنے کے اصول دیتا ہے اور ایسی تدبیریں بتلاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں اصلاح کی جا سکتی ہے اور انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہے:
ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفیٰ بِاللَّہِ شَہِیْداً (الفتح، ۲۸)
’’ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی کے لیے۔‘‘
حدیث میں ارشاد ہے :
الاسلام یعلو ولا یعلیٰ (سنن دارقطنی، ۳/۲۵۲)
’’اسلام اونچا رہتا ہے، پست نہیں ہوتا۔‘‘
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ (الصف، ۸)
’’ اور اللہ اپنے نور کو پور ا کر کے رہے گا، چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
ارشاد ہے :
وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (العنکبوت، ۶۹)
’’ جو لوگ ہمارے کاروبار میں مشقت برداشت کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور اپنے راستے بتلا دیتے ہیں اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘
یہ آیات اور ان کے علاوہ اور بہت سی آیات اور احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ دینِ اسلام کو عالم گیر اصلاح کے لیے پیش کیا گیا ہے :
إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَمُ ...... وَمَن یَبْتَغِِ غَیْْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آل عمران، ۱۹ و ۸۵)
’’ دین حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے ..... جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش و اختیار کرے گا، اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خائب و خاسر ہو گا ۔‘‘
اس قسم کی آیات اور احادیث ہر مسلک کے علماے ’’ خیر امت‘‘ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور باتوں پر اپنے یقین اور اعتقاد کا عملی ثبوت پیش کریں اور اس غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن کے بے پناہ سیلاب سے امتِ مسلمہ کو نجات دلانے اور پاک کرنے کا پورا بندوبست کریں۔ آپ ہی اس وقت اس امت کے قائد ہیں اور سب سے پہلے عنداللہ جواب دہ ہیں اور حسبِ فیصلہ و وعدہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپ کے لیے وقف ہے ۔ پہلے اس بات پر جزم و یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال ہو گا کہ دنیا میں جب تمہاری موجودگی میں یہ حالات پیش آرہے تھے تو تم نے ان حالات کے درست کرنے کے لیے حسبِ استطاعت کیا کچھ کیا تھا؟ اس کے جواب میں اعذار اور حیلے مسموع نہیں ہوں گے۔
وقت کے دھارے میں بہہ کر علم دین سے ناواقف دنیا دار اگر متاع دنیا کے ساتھ ملوث ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ لیکن افسوس علمائے دین پر ہے کہ جب وہ عنداللہ و عندالرسول دنیا اور متاع دنیا کی ناپسندیدگی اور مضرت معلوم کر چکے ہیں تو اس کی طرف کیونکر راغب ہو سکتے ہیں؟ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور احادیثِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں دنیا کی محبت اور اس کی طرف رغبت کرنے سے روکا گیا ہے۔ کہیں پوری دنیا کو ’’متاع قلیل‘‘ کہہ کر اس کی تحقیر کی گئی ہے : ’قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقی‘ ( اے نبی کہہ دوکہ دنیا کا سامان قلیل ہے اور آخرت متقی لوگوں کے لیے بہترین سامان ہے )۔ کہیں اس کو لہو ولعب بتایا گیا ہے: ’انما الحیوۃ الدنیا لھو ولعب‘ ( یاد رکھو دنیا کی زندگی کھیل کود ہے)۔ اور کہیں اسے دھوکہ کی ٹٹی فرمایا گیا: و ما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (دنیا کی زندگی دھوکہ کی ٹٹی ہے )۔
کہیں آفتوں کی ماری ہوئی کھیتی کہا :
إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ أَنزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الأَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالأَنْعَامُ حَتَّی إِذَا أَخَذَتِ الأَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ أَہْلُہَا أَ نَّہُمْ قَادِرُونَ عَلَیْْہَا أَتَاہَا أَمْرُنَا لَیْْلاً أَوْ نَہَاراً فَجَعَلْنَاہَا حَصِیْداً کَأَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالأَمْسِ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ (یونس، ۲۴)
’’ دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے جو آسمانوں سے برس کر زمین کی پیداوار میں شامل ہو گیا جس کو انسان اور حیوان کھاتے ہیں، حتیٰ کہ جب زمین کی پیداوار پورے آب و تاب کو پہنچ گئی اور آراستہ پیراستہ ہو گئی اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں ، تو ہمارا حکم ( عذاب) رات یا دن کے وقت آ پہنچا، پس وہ تمام پیداوار نیست و نابود ہو گئی، گویا اگلے دن کے لیے ان کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔‘‘
کہیں اس کی حاصل صورت ( زن ، زر ، زمین ) کو بے حقیقت نمایش، بے روح نمود، بے بود ظاہری ٹیپ ٹاپ اور شہوت پرستوں کا محبوب بتایا:
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَالِکَ مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاللّہُ عِنْدَہُ حُسْنُ الْمَآبِ۔ قُلْ أَؤُنَبِّءُکُمْ بِخَیْْرٍ مِّنْ ذَالِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ (آل عمران، ۱۴، ۱۵)
’’لوگوں کو محبوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہو اہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی۔ یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے ۔ کہہ دے کیا میں تمہیں اس سے بہتر بتاؤں؟ پرہیز گاروں کے لیے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاک عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔ اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘
اور کہیں اس کی لذتوں میں منہمک ہونے والوں کے جاہل احمق ہونے کا اشارہ کیا ہے :
إِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا وَرَضُوْا بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَأَنُّواْ بِہَا وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ آیَاتِنَا غَافِلُونَ۔ أُوْلَءِکَ مَأْوَاہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (یونس، ۷، ۸)
’’جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے، ان اعمال کی پاداش میں جن کے مرتکب ہوئے ۔‘‘
ذَرْہُمْ یَأْکُلُواْ وَیَتَمَتَّعُواْ وَیُلْہِہِمُ الأَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ (الحجر، ۳)
’’ ان کو چھوڑ دو ، کھانے پینے دو ، مزے اڑانے دو، باطل آرزوئیں ان کو خدا سے غافل بنائے رکھیں ، مگر وہ ضرور جان جائیں گے۔ ‘‘
کہیں دنیا کی فراوانی کو گرفتار لہو ولعب یا بد انجام مشاغل میں پھنس جانا بتلایا :
أَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (التکاثر، ۱ و ۲)
’’ غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے، یہاں تک کہ جا دیکھیں قبریں ۔‘‘
تو کہیں سرمایہ داری پر عذاب الیم کی دھمکی دی :
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ (توبہ، ۳۴)
’’ جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، اے نبی ! ان لوگوں کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دو۔‘‘
کہیں بے تحاشا کھانے اور عیش میں غرق ہونے کو بہائم سے تشبیہ دے کر انجام جہنم بتایا:
وَیَأْکُلُونَ کَمَا تَأْکُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ (محمد، ۱۲)
’’یہ لوگ اس طرح کھاتے پیتے ہیں جس طرح جانور کھایا پیا کرتے ہیں ، ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔‘‘
اور کہیں اپنے پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ اس دنیا کی چند روزہ ٹیپ ٹاپ کی طرف کوئی ادنیٰ التفات نہ کریں کہ یہ فتنہ اور بلا ہے، بلکہ صرف طلب اور فکرِ عاقبت میں منہمک رہیں :
وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْْنَیْْکَ إِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجاً مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْْرٌ وَّأَبْقیٰ (طہ، ۱۳۱)
’’ مت چلاؤ اپنی دونوں آنکھوں کو ان چیزوں کی طرف جو ہم نے ان لوگوں کو دنیاوی زندگی میں عطا کی ہیں، اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی آزمایش کے لیے ہے ، تیرے رب کا رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے ۔‘‘
اسی طرح دنیا کے اس حصہ کی بھی قرآن نے مذمت کی ہے جس کا تعلق جاہ و نخوت سے ہے ۔ ایسی آیات کو خوفِ طوالت سے نقل نہیں کیا گیا ۔ احادیث میں بھی دنیا کو ملعون اور جیفہ کہا گیا ہے اور اس کے طالبوں کو کلاب کا لقب دیا گیا ہے۔ اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا ولا غاےۃ رغبتنا۔
علمائے اسلام ! دنیا کے راحت و سرور کے نشہ اور اس کے خوش کن منظروں کی دل فریب رغبتوں کے اتمام سے باخبر ہو کر آپ حضرات اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کریں ۔
ہمی گویم و باز ہمی گویم ہمی!
کار ایں است غیر ایں ہمہ ہیچ
(یہی کہتا ہوں اور پھر یہی کہتا ہوں کہ یہی اصل کام ہے، اس کے علاوہ سب کام ہیچ ہیں)
آپ کا کام تعلیم و تبلیغ ہے جو عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے سپرد کیا گیا ہے اور دنیا کے دیگر کاروبار سے آپ کو سبکدوش کیا گیا ہے۔
اندریں راہ مے تراش ومے خراش
یک دمے غافل دمے فارغ مباش
(اسی راہ میں اپنی تگ ودو جاری رکھو اور ایک لمحے کے لیے بھی غافل یا فارغ نہ ہونا)
ان باتوں میں سے جو پیش کی جارہی ہیں، کوئی بات بھی ایسی نہیں جو آپ حضرات کے علم سے باہر ہو ۔ صرف جذبہ خیر خواہی سے تاکیداً خامہ فرسائی کی جا رہی ہے، اپنے کو بڑا یا ناصح سمجھ کر نہیں، بلکہ آپ حضرات کو عالم دین اور وارث نبی عالمی صلی اللہ علیہ وسلم ظن غالب سے قرار دے کر مخاطب کیا جا رہا ہے۔ تخاطب امت کے اخیار سے ہے نہ کہ علمائے اشرار سے۔ آپ علمائے اخیار ہی صحیح معنی میں وارث النبی الخاتم ہیں۔ علمائے اشرار نے متاع دنیا کی وراثت کو پسند کر لیا ہے اور وراثت النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہ کرنے پر ان کو دنیا میں پہلی سزا یہ دی گئی کہ علمائے اخیار کی جماعت سے ان کو نکال باہر کر دیا گیا ۔ ارشادِ باری ہے :
وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِیْراً (النساء، ۱۱۵)
’’ جو شخص اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ راستہ سیدھا اس کے سامنے واضح ہو چکا اور وہ ایمان والوں کے طریقے کے خلاف کوئی اور راستہ اختیار کرے گا تو ہم اس کو وہی راہ سونپ دیں گے جس طرف وہ خود متوجہ ہوا اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور دوزخ برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘
کیا اس آیت محکمہ کے فیصلہ سے کوئی شخص بحیثیت عالمِ دین ہونے کے مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟ اس آیت شریفہ کے متعلق زیادہ تشریح اور تفصیل کی ضرورت نہیں ، البتہ بعد ما تبین لہ الھدیٰ، ویتبع غیر سبیل المومنین، نولہ ما تولیٰ کے جملات مبارکہ قابلِ غور و فکر ہیں۔ المومنین سے مراد ما انا علیہ و اصحابی ہیں۔ جو علما باقاعدہ مدارس عربیہ اسلامیہ میں علوم دین کی سند حاصل کر چکے ہیں، ہدایت و ضلالت، رشد و غی ان حضرات پر پورے طور سے واضح ہونے کے بعد پھر ان کا اس قدر بلند مقام و وراثت الانبیاء ’’ العلم‘‘ کو چھوڑ کر وراثت فرعون و نمرود، متاع دنیا کو اختیاراً اختیار کرنا عبرت انگیز ہے۔
اسلام، جمہوریت اور ہماری اعلیٰ عدالتیں
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
حاکم خان کیس میں اکثریتی نقطہ نظر یہ ہے کہ قرار داد مقاصد دستور کے دیباچے میں تھی تو اس کی کوئی موثر حیثیت نہیں تھی، دیباچے سے اٹھا کر اس کے متن میں موثر (substantive) طور پر شامل کر دی گئی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ( ۱) یہ پہلے بھی فضائل ومواعظ کی طرح تھی اور اب بھی اس کی حیثیت نمائشی سے زیادہ نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جنرل ضیا ء الحق کا دستور میں ترمیمی حکم اور پھر قومی اسمبلی کی جانب سے آٹھواں آئینی ترمیمی حکم ۱۹۸۵ء محض بیکار مشق ہے۔ ایک باقاعدہ دستوری ترمیم کے بارے میں اس طرح کا فیصلہ صادر فرماناکتنا تعجب خیز ہے، لیکن ہمارے ہاں سپریم کورٹ بیچاری فوجی بوٹوں، خاکی وردی، پی کیپ اور چھڑی کی خدمت کرتے کرتے اس مرحلے تک پہنچ چکی تھی۔
جب ایک فیصلہ ذہن میں پہلے سے ہو تو اس کے لیے دلائل کا انبار لگا دینا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے علمائے مناظرین سے ہمارے روشن خیال اور جدید تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور اونچے منصب پر فائز جج زیادہ پیچھے نہیں رہ سکتے۔ ایسے میں نظریاتی شیفتگی، اعلیٰ اساسی اصولوں اور منصبی حلف کی پاسداری کا کسے خیال رہ سکتا ہے؟
فیصلے کے لیے جن دلائل پر انحصار کیا گیا ہے، ان کا تفصیلی تذکرہ سردار شیر عالم خان کے تنقیدی مقالے میں موجود ہے۔ ان میں سے اہم باتوں کا ذکر ہم اس اختتامی باب میں کرنا چاہتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اعلیٰ عدالتیں اپنے اختیار سماعت کے بارے میں بہت حساس واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں کبھی کمزور پوزیشن اختیار نہیں کی۔ مارشل لا کے نفاذ کا حکم ہو یا دستور کو معطل کرنے کا فرمان، عدالتوں نے ان کے جواز وعدم جواز کے بارے میں سماعت اور فیصلے کے اختیار پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔ اس بارے میں عدالت کواختیار سماعت سے محروم کرنے کے لیے بعض اوقات قوانین یا غیر معمولی احکام میں یہ شق شامل کی جاتی رہی کہ حکم، فرمان یا قانون سے متعلقہ معاملات کے بارے میں کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جائے گا۔ ایسی شق کو clause ouster کہتے ہیں۔ عدالتوں نے ہمیشہ یہی قرار دیا کہ کوئی clause ouster ان کے اختیار سماعت کو چھین نہیں سکتی۔ یہ فیصلہ کرنا عدالتوں ہی کا کام ہے کہ ان کو اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اس بارے میں کوئی دوسرا کچھ نہیں کر سکتا۔ اس بارے میں عدالتی فیصلوں میں تسلسل اور تواتر پایا جاتا ہے۔ پاکستانی ججوں کا اس نکتے پرمتواتر اجماع ہے۔ یہ واقعی ایک عظیم اجماع ہے۔ اس کی تاریخ مرتب کی جا سکتی ہے۔ سر دست ہمارے پیش نظر اس کا تاریخی پہلو نہیں۔ اعلیٰ عدالتوں نے اپنے اختیار سماعت کے بارے میں اس حریصانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ مغرب کی روایت ہے۔ اصول قانون بن چکا ہے۔ ہماری عدالتوں نے اسی کی پیروی کی ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ کے چیف جسٹس مارشل نے کی۔
جنرل مارشل، پینتیس سال تک امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ امریکہ میں ججوں کا تقرر عمر بھر کے لیے ہوتا ہے۔ وہاں جج ریٹائر نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں تو ایک وردی پوش جرنیل، ایک فرمان کے ذریعے سپریم کورٹ کے سات سات ججوں کو گھر بھیج دیتا ہے۔ پھر بھی عدلیہ کی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، سپریم کورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس طرح عدالتوں میں وسیع ’’چھانٹی‘‘ کیسے مناسب ہو سکتی ہے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ارشاد حسن خان صاحب نے دو لفظوں میں فیصلہ فرما دیا کہ یہ قصہ ماضی ہو چکا ہے۔ جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اندازے کے لیے تفصیل اس طرح ہے کہ سید ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی فل کورٹ، جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے جواز کے سوال پر سماعت شروع کر چکی تھی۔ ابھی تیسری پیشی میں چھ دن باقی تھے کہ پی سی او کے تحت حکم جاری ہوا۔ حلف میں کہا گیا کہ بعض زیر سماعت امور کے تحفظ کا حلف اٹھایا جائے۔ تیرہ میں سے سات ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار کیا اور گھر چلے گئے۔ اس طرح تھوک کے حساب سے ججوں کو گھر بھیج کر اس ادارے میں کیا بچتا ہے۔ پی سی او کا حکم مورخہ ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء کو جاری ہوا۔ ۲۶ جنوری کو ججوں کا حلف ہوا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۰ء کو کیس کا فیصلہ ہوا اور اس چھانٹی کو قصہ ماضی matter of past قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے صادر فرمایا۔ (۲)
عدالتوں کے اپنے اختیار سماعت پر اصرار کی روایت کیسے قائم ہوئی؟ امریکہ میں بھی عدالتی جریت پر ناک منہ چڑھانے والے لوگ موجود ہیں، مگر وہاں عدالتیں جرا ت سے کام لیتی ہیں تو رائے عامہ ان کی پشت پر ہوتی ہے۔ عدالتیں لوگوں کو انصاف دیتی ہیں تو لوگ ان فیصلوں کو منوانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی حوالے سے چیف جسٹس کی بحالی کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے ایک سابق جج جناب جسٹس آفتاب فرخ نے کہا تھا کہ اگر لوگوں میں طاقت ہوئی تو وہ بحالی کے اس فیصلے کو اپنی طاقت سے منوا لیں گے۔
بہر صورت ستم یہ ہوا ہے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ عدالتوں نے اختیار سماعت پر ہمیشہ اصرار کیا۔ اس سے عدالتوں کی انا کی تسکین تو ہوئی ہو گی مگر اختیار جتلاتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں نے کبھی دادرسی فراہم نہیں کی۔ پبلک کو ہمیشہ غیر معمولی اور ماوراے آئین اقدامات کے خلاف دادرسی سے محروم ہی رکھا گیا۔ دادرسی سے انکار کے لیے عدالتوں نے مختلف عذر اختیار کیے۔ مارشل لا کے احکامات کے خلاف دادرسی سے انکار کے لیے نظریہ ضرورت اور کامیاب انقلاب کے اصول اختیار کیے گئے۔ حاکم خان کیس میں یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ دستور کی دو دفعات میں باہم تضاد کو دور کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ لہٰذا آرٹیکل ۴۵ کے تحت تھوک کے حساب سے سزا یافتگان کی سزاؤں کی معافی کے احکامات کے بارے میں آرٹیکل ۴۵کو غیر موثر قرار دے کر دادرسی نہیں ہو سکتی۔
ایک بہت چھوٹی عدالت کا لطیفہ بڑا معروف ہے۔ تحصیلدار کی عدالت میں ایک وکیل صاحب یہ عذر کر رہے تھے کہ تنازعہ مالی کے بجائے دیوانی نوعیت کے ہے، اس لیے عدالت سن نہیں سکتی۔ دوسرے فریق کے وکیل کہہ رہے تھے کہ عدالت سن سکتی ہے۔ بحث تکرار کے قریب پہنچنے لگی تو تحصیل دار صاحب ناراض ہو کر فرمانے لگے:
’’یہ کیا فضول بات ہے کہ آپ دو گھنٹے سے بحث کر رہے ہیں کہ میں سن نہیں سکتا۔ حالانکہ میں سن رہا ہوں۔ کیا میں اپنی سماعت کے بارے میں کسی ای این ٹی سپیشلسٹ سے سرٹیفکیٹ لا کر دکھاؤں؟ بکواس بند کرو۔ میں سن رہا ہوں۔ بہرا نہیں ہوں۔‘‘
حاکم خان کیس میں بڑی دلیل یہ دی گئی کہ اعلیٰ عدالتیں دستور کی تخلیق ہیں لہٰذا وہ دستور کی کسی دفعہ کو غیر موثر یا منسوخ نہیں کر سکتیں۔
قانون و انصاف کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ibi jus ibi remedium’’ہر ظلم و زیادتی پر دادرسی لازم ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ قانونی اور عدالتی نظام کا بنیادی منشا ہر ظلم اور زیادتی پر دادرسی فراہم کرنا ہے۔ یہ تصور ہی محال ہے کہ زیادتی ہو اور اس کی دادرسی ممکن نہ ہو۔ قانون میں سقم اور کوتاہی، انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ قانون نہ ہو تو کامن لا کی روشنی میں انصاف کیا جائے گا۔ کامن لا بھی خاموش ہو تو روایت کی پیروی ہو گی۔ ایسا جج جو قانون میں کمی کی بنا پر انصاف فراہم کرنے سے گریز کرے، اسے قابل تعزیر گردانا جاتا ہے۔ اس سب کچھ کو ذہن میں رکھ کر سوال یہ ہے کہ اختیار سماعت بھی ہو اور پھر دادرسی نہ ہو، یہ ایک ایسی صورت ہے جس کو معمول بنا کر ہمارے ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے اپنی نفی خود کی ہے۔ اس روش کا نتیجہ یہ ہے کہ عدالتیں ظلم و عدوان کی محافظ بن گئیں۔ بالکل جس طرح پولیس کا پیشہ اپنی تشکیل کے لحاظ سے مقدس ترین پیشہ ہے۔ پولیس واقعتا محافظ ہو تو اس سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہو گا۔ مگر وہ اپنے طرز عمل کی وجہ سے نفرت اور حقارت کی علامت بن گئی ہے۔
ہماری عدالتیں انصاف و دادرسی کی فراہمی میں گریز کے متواتر عمل سے پبلک کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ ۹ مارچ ۲۰۰۷ء سے پہلے کے جسٹس افتخار کے دور میں یہ صورت حال اپنی انتہا کو پہنچی۔ وکلا برادری نے سیاسی تنازعات میں اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ قانون اور آئین کا سقم انصاف میں رکاوٹ ہو، مملکت خداد داد پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت انصاف، پارلیمنٹ سے سقم دور کرنے کی درخواست کرے تو انصاف ہو لیا۔ انتظامیہ پاکستان کے شہریوں کو گرفتار کر کے غائب کر دے، ڈاکٹر خواجہ احمد جاوید جیسے لوگوں کو نشانہ بنائے، ڈاکٹر قدیر احمد کی خدمات کا حشر کر دے تو عدالت پردہ فرما جائے، انتظامیہ کو کھلا چھوڑ دے۔ مسجد و مکتب پر ساری دفاعی طاقت لے کر چڑھ دوڑے تو عدالت عظمیٰ از خود نوٹس کی سماعت کرتی رہے اور سینکڑوں معصوموں کو خون کا غسل دے کر، بارود میں راکھ کر دیا جائے۔ مملکت کی سرحدوں کو پائمال کرنے اور اپنے وفادار قبائلیوں کو نیٹو فورسز اور ہماری بہادر اور مسلح افواج باری باری نشانہ بناتی رہیں، عدالت عظمیٰ فوج کو کوئی حکم دینے سے گریز کا فیصلہ صادر فرما دے۔ مملکت کی دینی اور نظریاتی حیثیت، لوگوں کے حقوق، جان، مال، عزت، آزادی ، حکومت اور شوریٰ کی نمائندہ حیثیت اور وفاق کے علاقوں کی سا لمیت خطرے میں ہو، اعلیٰ عدالتیں اس سب کچھ سے چشم پوشی کر کے انصاف کے چوغے اور ٹوپیاں پہنے، اپنے پروٹو کول میں مسحور رہیں تو ایسی عدالتوں کا لوگ کیا کریں گے۔
یہ گھمبیر صورت حال کیسے برقرار رہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس کو اس کو بدلنے کی ضرورت کا احساس تھا۔ چنانچہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس سمت میں سفر شروع کیا۔ چند اہم کیسوں میں حکومت پر گرفت کر کے پبلک بد اعتمادی کی صورت کو بہتر بنایا، مگر یہ صورت حال وردی پوش حکومت پر سخت گراں گزری۔ پھر جو صورت حال پیدا ہوئی وہ سامنے ہے۔
یہ واضح رہے کہ داد رسی کی فراہمی میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ قانون میں سقم بھی موجود ہو، قانون دادرسی فراہم کرنے کے لیے کوئی راستہ تجویز نہ کرتا ہو، تب بھی دادرسی کی فراہمی سے عدالتیں انکار نہیں کر سکتیں۔ عدالتیں انصاف کے لیے ہیں، قانون کے لیے نہیں۔ عدالت، عدالت ہے۔ عدالت اور انصاف مترادف ہیں۔ انصاف نہیں تو عدالت، عدالت نہیں، سوسائٹی کے ساتھ مذاق ہے۔ خاص طور پر یہ اصول سامنے رہنا چاہیے کہ ماتحت عدالتیں عدالت ہائے قانون ہیں مگر اعلیٰ عدالتیں، عدالت ہائے انصاف ہیں۔ قانون کو قانون ماننا اور کس طرح ماننا مقننہ کا کام نہیں۔ قانون کی تشریح اور تعبیر عدالت ہی کا منصب ہے۔ قانون کیا ہے کیا نہیں، یہ بھی عدالت ہی طے کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اعلیٰ عدالتوں کو عدالت ہائے قانون کے بجائے عدالت انصاف کہا جاتا ہے۔ اور سپریم کورٹ تو انصاف کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ سپریم کورٹ میں انصاف نہ ہو تو مطلب یہ ہوا کہ انصاف حشر کے لیے اٹھا رکھا گیا۔ حشر کے روز تو انصاف ہو گا مگر یہاں انصاف سے انکار کر کے اعلیٰ عدالتیں حشر میں جواب دہی کا موقع باقی رکھ سکتی ہیں؟ یہ امر کتنا خوف ناک ہے۔ کوئی مسلم جج خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار اور کمزور ہو، یہ قرار دے سکتا ہے کہ میں یہاں انصاف نہیں کر سکتا، حشر کے دن انصاف ہو گا اور میں وہاں انصاف نہ کرنے پر جواب دہی کر لوں گا؟
اعلیٰ عدالتیں قانونی اور آئینی سقموں کے باوجود اپنی اجتہادی بصیرت کی مدد سے تعبیر و تشریح اور آخری چارہ کار کے طور پر تکمیل خلا کے اصول کو بروئے کار لا کر کامل انصاف کرنے کی ذمہ دار و پابند ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں تحریری قانون کی عدم موجودگی یا اس میں سقم کورکاوٹ بنانا، تحریری قانون کی محتامی اور غلامی ہے۔ دور جدید کے قانونی نظام کی ماں، برطانیہ میں تو مملکت کا آئین بھی غیر تحریری ہے۔ روایات پر مملکت چل رہی ہے۔ ہماری روایات تو ان سے بھی اعلیٰ ہیں۔ یہاں میں اسلامی تاریخ کی ایک ہزار سالہ روایت کا تذکرہ کروں گا۔
’’اسلام میں ایک روایت (tradition) عجیب و غریب رہی ہے جو کسی اور قوم میں ہمیں نظر نہیں آتی۔ یعنی اور ممالک میں قانون سازی حکومت کا اجارہ ہوتی ہے، جب کہ اسلام میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے بعد یہ چیز کبھی یوں نہیں رہی۔ اسلامی قانون کا یہ اصول ہے کہ عدالت کو حکومت سے آزاد رہنا چاہیے۔ یہ اصول مغرب میں بھی قبول کر لیا گیا ہے اور ہمارے ہاں بھی برقرار اور جاری ہے۔ اسی طرح عہد نبوی کے بعد سے لے کر آج تک اسلام میں قانون سازی ایک پرائیویٹ چیز رہی ہے۔ اس پر کبھی حکومت کا اجارہ monopoly نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان فقہا پوری آزادی کے ساتھ قانون کی ترقی میں مشغول رہے۔ قانون سازی صرف حکومت کی پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہی، ورنہ اسلامی قانون کی ترقی اس طرح نہیں ہو سکتی تھی جس طرح عمل میں آئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کا یہ اصول، قانون اور حکم ہے مگر یہ اسلامی روایت (tradition) ہے۔ .... ورنہ حکومت کی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے قانون متاثر ہوگا۔اگر میں وزیر قانون ہوں تو صدر مملکت کی ضرورت اور بعض وقت اس کی منشا کا لحاظ کر کے مسودہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کروں گا اور اپنے اثرات ڈال کر، کہ میں اکثریتی پارٹی یا حکومتی پارٹی کا لیڈر ہوں، اپنے ارکان کو حکم دوں گا کہ وہ مسودہ قانون کے خلاف رائے نہ دیں۔ اس صورت میں اکثریت کی رائے سے جو قانون بنے گا، وہ سیاسی ضروریات سے متاثر ہو گا۔ ‘‘ (۳)
استدلال کی حاکمیت sovereignty اصل الاصول ہے۔ سنجیدہ مسائل پر اہل رائے کے ما بین بحث و تمحیص ہوگی۔ سڑکوں اور گلیوں پر سنجیدہ مسائل لا کر نظم عامہ میں خلل نہیں ڈالا جا سکتا۔ اہل علم او راہل رائے ہر سطح پر بحث کریں گے۔ اس کی کوئی حد نہیں۔ استدلال گروہی اور دوسرے جملہ تعصبات سے بالا تر ہو کر پیش کیا جائے گا اور سنا جائے گا۔ کہنے کا موقعہ ہر ایک کو حاصل ہو گا۔ اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ کثرت رائے پر نہیں بلکہ استدلال پر ہو گا۔ بحث میڈیا پر بھی ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی خوب کھل کر بحث ہو گی۔ مگر فیصلہ رائے شماری کے بجائے استدلال کے وزن پر ہو گا۔ اسپیکر فیصلے میں طاقت ور استدلال کو قبول کرے گا اور کمزور استدلال کو رد کر دے گا۔ سپیکر کا کردار مکمل طور پر عدالتی نوعیت کا ہو گا۔ اسے شمار کنندہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ذہن کو بروئے کار لا کر پیش کردہ دلائل پر کھلی اور سیر حاصل بحث کے بعد استدلال کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
استدلال ہی کی بنا پر عدالتوں کے اختیار پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ وہ مکمل انصاف کے لیے آزاد ہوں گی۔ ججوں کے ہاں بھی کثرت و قلت کے لحاظ سے فیصلے نہیں ہوں گے۔ کھلی اور مکمل عدالتی بحث کے دوران ہی باہم مشاورت اور بحث کے بعد استدلال کی بنا پر فیصلے سناتے رہیں گے۔ پھر فیصلے پر نظر ثانی کے لیے ذہنوں کو ہمیشہ کھلا رکھا جائے گا۔ غلط فیصلے کو بدلنے میں کسی ہچکچاہٹ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ استدلال کی حاکمیت قانون اور ضابطے کی بنیاد ہو گی تو بات بنے گی۔ سید امیر علی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس پر پور ایک نظام فکر مرتب ہونا چاہیے۔
He (the Prophet Muhammed (PBUH) upheld the sovereignty of reason.
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استدلال کی حاکمیت قائم کی۔‘‘
اجتہاد کی بنیاد نص کی حدود میں استدلال ہے۔ اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ کسی فرد، طبقے، ادارے، یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی بھی نہیں۔ علماے دین کا بھی ہمارے ہاں اس پہلو سے کوئی اجارہ نہیں مانا جا سکتا۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ استدلال ایک غیر مسلم کا بھی ہو تو اسے اسلامی احکام و قانون کے تعین میں سنا جائے گا۔ اسے اس کا حقیقی وزن دیا جائے گا۔ استدلال کو تسلیم کرنے کا اصول وہ گم گشتہ متاع ہے جسے ہاتھ میں لیے بغیر ہمارے دن نہیں بدلیں گے۔
برطانیہ میں غیر تحریری دستور پر مملکت کا پورا نظام چل سکتا ہے۔ قانون کے خلا کو کامن لا سے پر کر کے اپنی سوسائٹی کو بے انصافی سے بچایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اسلامی روایت کو اختیار کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری سوسائٹی زیادہ مظلوم ہے۔ اس طرح انصاف کی زیادہ محتاج ہے۔ ہماری عدالتوں کو تو انصاف کے لیے زیادہ جری ہونا چاہیے۔ عدل و انصاف کی ساری قدریں تو ہم سے اہل مغرب لے گئے ہیں۔ عدل و انصاف کی اصل، استدلال ہے۔ کسی بنچ میں ایک سے زائد جج ہوں تو ہماری روایت کی رو سے وہ کثرت رائے کے بجائے استدلال کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں استدلال کی بنیاد پر اپنے فیصلوں کو بدل لیتی ہیں۔ آج ہم اپنی اصل روایت کی جانب رجوع کرنے کے بجائے، بلا سوچے سمجھے مغرب کی پیروی کریں۔ کثرت و قلت فیصلے کی بنیاد کیسے ہو سکتی ہے؟
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
استدلال کی قوت سے آج پورے عالم اسلام میں امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کا مسلک غالب ہے۔ استدلال کی قوت خوشبو کی طرح پھیلتی ہے۔ کوئی رکاوٹ اس کے پھیلنے میں حائل نہیں ہوتی۔ جبر کی تمام طاقتیں اپنے تمام تر جبر و قہر کے ساتھ تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ آج عدالتیں استدلال کی قوت کو اختیار کر کے پبلک کو انصاف فراہم کریں تو لوگوں میں اتنی قوت پیدا ہو جائے گی کہ وہ عدالتوں کے مبنی بر انصاف فیصلوں کو منوا سکیں۔ کسی جابر و قاہر کو عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے کی ضمانت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہو گی۔ شرط انصاف ہے۔
آج ہماری عدالتیں انصاف کے لیے بے خوف اور جری کیوں نہ ہوں؟ ہماری سوسائٹی ساٹھ سال سے ظلم و تعدی سے چور چور ہو چکی ہے۔ خود چیف جسٹس نے انصاف کے لیے سوا چار ماہ گلیوں اور سڑکوں کی خاک چھانی ہے۔ اس مملکت خدا داد پاکستان میں کون سا دن ظلم و عدوان سے خالی آیا ہے؟ کوئی دن تو ایسا بتائیں جب یہاں فر د واحد نے ظلم، بدعنوانی، لوٹ مار، بیرونی آقاؤں کی خوشنودی اور آمرانہ روش سے ہٹ کر حکمرانی کی ہو۔ کون سی جماعت ہے جہاں جمہوریت، انصاف اور نظریے کی اقدار کا سکہ رواں ہو؟ فوجی حکمرانی کی طویل رات نے پوری سوسائٹی کو تار تار کر رکھا ہے۔ ہر آنے والا حاکم پہلے سے زیادہ ظالم ہے۔ ہماری مختصر تاریخ میں حکمرانوں کا مقابلہ فرعونیت میں آگے بڑھ جانے میں ہوا ہے جہاں ہر کوئی نظریے کو دفن کرنے کے درپے ہے۔ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے والے نوے ہزار فوجیوں کی وردیاں اور اعزازات آج بھی بھارت کے عجائب گھر میں سجے ہوئے ہیں۔ وہ منظر کیسے بھلایا جا سکتا ہے جب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اروڑہ سنگھ نے جنرل نیازی کے سینے پر سجے ہوئے تمغے اپنے ہاتھوں سے نوچے۔ کارگل کی کی چوٹیوں پر لاشیں چھوڑ بھاگنے والے، ایک مسجد اور مدرسے میں بے گناہوں اور نہتے بچوں، بچیوں اور معصوموں پر سینکڑوں کی نفری ، ۱۶۴ تربیت یافتہ کمانڈوز کی مدد سے حملہ کریں۔ ہمارے یہ بہادر کسی ایک کو بھی زندہ نہ پکڑ سکیں۔ مسجد و مدرسہ فتح کر لینے کے بعد پھر لاشوں اور ملبے تک کو غائب کر دیاجائے۔ آپریشن کے دوران فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد مسجد سے فرار ہونے والوں کے حوالے سے بار بار یہ کہیں کہ فرار ہونے والوں کو مارا جاتا ہے، پکڑا نہیں جاتا۔
آپریشن کے دوران میڈیا کو باہر کہیں دور پابند کر دیا جائے۔ آپریشن مکمل کرنے کے چار دن بعد اسلحے کی دکان خود سجا کر اہل مدرسہ کو دہشت گرد ثابت کیا جائے۔ اس خونچکاں آپریشن کے دوران کسی کو محصورین سے ملنے، ان کے پاس جانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ معاملہ سلجھنے کی صورت میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد، بش کی تولیت سے محروم نہ ہونا پڑے۔ ان جملوں کا یہ مطلب نہیں کہ پوری فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، حقیقت میں ذمہ دار تو قیادت ہو گی۔ بہرحال ایسے میں عدالتیں فنی رکاوٹوں کی آڑ میں انصاف فراہم کرنے سے گریز و حجاب کی راہیں اختیار کریں تو حشر ہونے میں کتنی دیر ہے۔
وہ ملک جہاں ایک شخص کا فرمان چلنے کی روایت جڑ پکڑ چکی ہو، ایک شخص کے اقتدار کی خاطر معصوم لوگوں کا قتل عام تک سے گریز نہیں کیا جاتا۔ ایسا ایک بار نہیں ہوا۔ ہماری ساٹھ سال کی تاریخ میں ایسے حادثات کئی بار ہوئے ہیں۔ شخصی اور فوجی حکمرانی کی طویل شب ظلمت جائز ہے تو قانون سازی پر اجارہ توڑنے میں کیا حرج ہے؟ کتنی بے شرمی سے صدر مملکت فرماتے ہیں کہ وہ وردی میں ہی انتخاب لڑیں گے اور کئی سیاسی رہنما کہتے ہیں، صدر کو سو بار وردی میں منتخب کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ہر حکمران، اپنے آپ کو مملکت کے لیے ناگزیر سمجھے، وہاں قانون پر پارلیمنٹ کا اجارہ بے حکمتی کی انتہا سے کم نہیں ہوگی۔
آج تک اعلیٰ عدالتوں نے اپنے اختیار سماعت پر اصرار کیا ہے مگر حاکم خان کیس میں، جب مسئلہ مملکت کے اساسی نظریے اور اصولوں کو موثر کرنے کا آیا تو سپریم کورٹ اپنے اختیار سماعت سے پارلیمنٹ کے حق میں دست بردار ہو گئی۔
سب مانتے ہیں کہ قانون کی تشریح عدلیہ کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ دستور کی تشریح کون کرے گا؟ یہ عدالت ہی نے کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے کوئی دوسرا ادارہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ قانونی اور آئینی سقموں پر قانون ساز اداروں سے ان سقموں کو دور کرنے کی فدویانہ درخواستیں کرنا عدالت کے منصب سے فرو تر ہے۔ عدالت کسی فیصلے میں ایسی سفارش نہیں کر سکتی۔ اعلیٰ عدالتوں نے اس کی روایت قائم کی ہے مگر دستور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت کا منصب ایڈوائزری نوعیت کا ہو ہی نہیں سکتا۔ عدالت اپنے منصبی تقاضوں کی رو سے مکمل انصاف کرنے کی اہل ہے۔ حاکم خان کیس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ دستور کی تخلیق ہیں۔ اس بنا پر اگر دستور کی کوئی دفعہ مملکت کے اساسی نظریے یا احکام الٰہی سے متصادم ہو تو وہ اس کو چھیڑ نہیں سکتیں۔ یہ بات بالکل بے معنی اور لغو ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ عدالتوں کو دستور کی تخلیق کیسے کہا جا سکتا ہے۔
اہم تر بات تو یہ ہے کہ ہماری مملکت، حقیقت میں ابھی تک مملکت بے آئین ہے۔ اس بے آئینی کے باوجود عدالتیں قائم و دائم ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں ہر دستور اور آئین سے پہلے سے قائم ہوئیں۔ آئین ٹوٹتے رہے، منسوخ ہوتے رہے، ان کی معطلی آئے دن کا کھیل بنا رہا۔ ہر آرمی چیف آئین کی بساط لپیٹ دینے کو تیار رہا۔ عدالتوں نے آئین کے تحفظ کے حلف کے باوجود ان کا تحفظ نہ کیا۔ فوج کے سربراہوں نے تو آئین توڑنے کے لیے اتنا تکلف بھی نہ کیا جتنا ان کو اپنی وردی بدلنے میں کرنا پڑتا ہے۔ جنرل ضیا ء الحق نے تو صاف لفظوں میں کہا تھا کہ آئین کیا ہے، چند صفحات کی کتاب ہی تو ہے، اسے لپیٹ دینے میں کیا دیر لگتی ہے۔ وہ اسے آسمانی صحیفہ ماننے کو تیار نہ تھے۔ آج کے حکمران دستور اور آئین کا کتنا احترام کرتے ہیں؟ مملکت وفاقی ہے۔ صدر مملکت سربراہ مملکت ہیں۔ وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ صدر کے سوا کوئی دوسرا کٹھ پتلی جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ صدر نے پوری مملکت کو یرغمال بنا یا ہوا ہے۔ پھر بھی دستور کی باتیں کی جاتی ہیں۔ کیا اعلیٰ عدالتوں کو یہ حقائق جن سے پوری دنیا آگاہ ہے، دکھائی نہیں دیتے؟
بے آئینی اور لا دستوری پن کی اس کیفیت کے باوجود عدالتیں قائم رہیں۔ عدالتیں قائم رہیں گی۔ اب تک ان پر کوئی حرف آیا اور نہ آئے گا۔ ان کی جگہ کوئی دوسرا نظام آیا ہے اور نہ ہی آ سکتا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں آئین کی تخلیق نہیں بلکہ عدالت معنوی طور پر عدالت ہے۔ انصاف کے لیے ہے۔ عدالتوں کی وجہ سے قانون یا آئین کا وجود ہے۔ ساٹھ سال سے غاصبانہ احکام کو قانون کے درجہ عدالتوں کی وجہ سے ہی تو حاصل ہے۔ یہ کہنا بالکل فضول بات ہے کہ آئین اور قانون کی وجہ سے عدالتیں قائم ہیں۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دستور میں ترمیم کر کے عدلیہ کو ختم abolish کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ قرار دینا مذاق والی بات ہے۔ کبھی کوئی عدالت یہ نہیں کہہ سکتی۔
عدالتوں کو اس بات پر یکسو ہو جانا ہو گا۔ اس یکسوئی کے بغیر عدل و انصاف کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ عدل و انصاف کے بغیر معاشرے نہیں رہ سکتے۔ ہمارے لیے یہی راہ نجات ہے۔
عدل و انصاف کی بربادی کی تمام تر ذمہ دار انتظامیہ اور حکومت ہے۔ انہوں نے آئین اور قانون کو کبھی احترام ہی نہ دیا۔ تاریخ کو آواز تو دیں۔ ۴۷ سے ۵۸ تک اکھاڑ پچھاڑ رہی۔ اس اکھاڑ پچھاڑ کے پیچھے کون رہا؟ صرف اور صرف ایک شخص۔ وہی شخص فوجی اقتدار کا پودے لگانے والا تھا۔ قائد اعظم اس شخص کو اس کی کار کردگی اور کردار کی وجہ سے سخت نا پسند کرتے تھے۔ اسے بطور سزا مرکز سے دور مشرقی پاکستان میں تعینات کیا گیا، مگر لیاقت علی خان نے اس کے خوشامدانہ طرز عمل سے متاثر ہو کر میرٹ کے خلاف فوج کا سربراہ بنایا۔ واضح ہے کہ یہ شخص ایوب خان تھا۔ آرمی چیف بن کر وہ ہر طرح کی محلاتی سازشوں میں شریک ہوا۔
ایوب خان ہر سازش میں بڑے کردار کے طور پر سامنے آئے۔ اس کے لیے اس کی خودنوشت Friends Not Masters میں کافی شواہد موجود ہیں۔ آخر کار وہ پس پردہ سازشوں سے نکل کر میدان عمل میں آئے اور ۱۹۵۸ء کا مارشل لالگوا کر مملکت خدا داد پاکستان پر قابض ہو گئے۔ چوکیدار نے گھر کا انتظام و انصرام سنبھال لیا۔ وہ دستور دہندہ بھی بن گیا۔ ۱۹۶۲ء کا دستور اسی کا عطیہ تھا۔ ۱۹۶۲ء کے دستور کو کس اصول کے تحت دستور مانا جا سکتا ہے؟ ایوب خان کو کیا حق تھا کہ وہ مارشل لا لگاتا اور دستور عطا فرماتا؟ کیا ایوب خان نے فوج کی مدد سے پاکستان فتح کر کے ہمیں عطا فرمایا تھا کہ ان کو دستور دہندہ مان لیا جائے؟ یہ حیثیت تو بابائے قوم، قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے بھی claim نہیں کی تھی۔ ۱۹۶۲ء کے دستور کو جائز تسلیم کرنے کے لیے کسی قانون، دلیل، اصول کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔
ایوب کے پورے دور میں ایمر جنسی نافذ رہی۔ دوسرے لفظوں میں حکمرانوں نے اپنے تئیں بنیادی حقوق معطل کیے رکھے۔ مزید برآں ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو ایوب خان نے خود اپنے ہی دستور کی نفی کرتے ہوئے اقتدار مسلح افواج کے سربراہ آغا جنرل محمد یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ قوم نے تو ایک دن بھی ۱۹۶۲ء کے دستور کو تسلیم نہ کیا۔ صرف اور صرف عدالتوں نے نظریہ ضرورت کی آڑ میں اسے جواز عطا فرمایا۔ ہماری قوم نظم عامہ کو خراب کرنے کا کوئی رجحان نہیں رکھتی۔ صرف اس وجہ سے بے آئینی کی کیفیت کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی۔
یحییٰ خان کے مارشل لا کے بعد بھٹو صاحب کا سول مارشل لا، عبوری دستور جو مارشل لا کی دوسری صورت تھی، نافذ رہا۔ اپوزیشن نے اسے تسلیم کیا۔ ہمارے قومی نمائندوں نے کبھی اصولی کردار ادا کرنے کے بجائے اصولوں پر سمجھوتے کو ہی شعار بنایا۔ ۱۹۷۳ء کا دستور متفقہ طور پر بنایا گیا۔ اس میں بھی بہت سے سمجھوتے کیے گئے۔ کچھ وعدوں پر بعض باتیں مان لی گئیں۔ پھر بھٹو صاحب نے دستور میں یک طرفہ ترامیم کے ذریعے دستور کا حلیہ بدل دیا۔ ساتھ ہی اپنے دور حکومت کے اختتام تک ایمر جنسی لگائے رکھی۔ اس پورے دور میں ایک دن بھی ایمرجنسی کے بغیر نہ گزرا۔ بعد کے ادوار تازہ ہیں۔ مارشل لا یا نیم مارشل لا جیسی صورت حال اب تک چل رہی ہے۔ اس سارے عرصے میں ایوب خان کو کسی موقعے پر روکنے کا فرض عدالتوں پر تھا یا نہیں؟
اس طویل پس منظر کو ایک جانب رکھ کر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں دستور کی پیدا وار ہیں۔ وہ ہمیشہ سے قائم ہیں اور قائم رہیں گی۔ قانونی نظام میں تبدیلی کے ساتھ ان کی توثیق اور آشیر باد حاصل کی جاتی رہی۔ قانونی نظام کا سرچشمہ عدالتیں رہی ہیں۔ جواز انہوں نے دیا۔ سادہ بات ہے کہ دستور منسوخ ہو یا ٹوٹے، عدالتیں قائم رہیں۔
فوجی حاکمیت کو جواز فراہم کرنے میں ہماری عدلیہ نے جس فراخ دلی سے کام لیا ہے، اس کے بعد اب بدلے ہوئے حالات میں ہمیں اپنی اصل، اسلامی روایت کی جانب لوٹنا چاہیے۔ قانون سازی پر پارلیمنٹ کی اجارہ داری بھی ختم ہو جانی چاہیے۔ استدلال کی حاکمیت ہماری حقیقی متاع ہے ۔ حالات کی چارہ گری اس کی جانب رجوع میں ہے۔ سپریم کورٹ کا حاکم خان کیس میں یہ کہنا کہ پارلیمنٹ دستور کی درستی جیسے سنجیدہ کام کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتی ہے، پارلیمنٹ کی ساٹھ سالہ قانون سازی کی کار کردگی سے آنکھیں بند کر لینے کا نتیجہ ہے۔ قانون سازی میں ہماری عدالتوں اور مجالس قانون نے فوجی قدامات کی توثیق و اتباع کے سوا کیا کیا ہے؟ در اصل فوج نے ہر ادارے کو اپنے تابع کر کے بالکل بیکار کیے رکھا۔ اب فوج بھی مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ فوج کا دور ختم ہو گیا ہے۔ عدلیہ کا دور شروع ہو چکا ہے۔ عدالتی رہنمائی میں تمام اداروں کی ترتیب نو پیش نظر ہے۔
قرار داد مقاصد میںیہ مقاصد واضح ہیں۔ مملکت کا نظریاتی اور دینی تشخص، نمائندہ حکومت اور شوریٰ، ملکی سا لمیت کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری قرار پا چکاہے۔ عدلیہ ان امور کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے۔ انصاف کے لیے معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑ دیے جائیں، ملکی سرحدوں اور سالمیت کے لیے صدر اور فوج پر انحصار کر لیا جائے، اگر یہی کچھ کرنا ہے تو ہمیں رضاکارانہ طور پر مملکت کے وجود سے ہی دستبردار ہو جانا چاہیے۔ یہ عافیت، روشن خیالی اور ترقی کی راہ ہوگی۔ رہی حمیت، غیرت، آزادی، دین، یہ کاغذی باتیں ہیں۔ اس زبانی جمع خرچ سے قومیں باقی رہتی ہیں؟
۲۰ جولائی ۲۰۰۷ء کے بعد جو دور شروع ہو رہا ہے، وہ ایک نئی صبح کی نوید بن سکتا ہے۔ عدالتیں اپنے چیف جسٹس کے ساتھ یک جان ہو کر کھڑی ہیں۔ وکلا برادری ان کے ساتھ ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ستم رسیدہ قوم کی سن لی ہے۔ سیاستدان حالات کے تقاضوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ ان کے انداز پرانے ہی ہیں۔ حکمرانوں میں طاقت کا بھوت ناچ رہا ہے۔ ایسے میں قانون اور دستور میں پائے جانے والے سقم، جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے کردار کا انتظار بلا جواز اور معقولیت سے عاری ہو گا۔ انصاف کے مسلمہ اصولوں کی نفی ہو گی۔ محض اختیار سماعت جتلانے پر اطمینان کافی نہیں ہوگا۔ ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ قرار داد مقاصد کے نفاذ میں تو عدالتوں نے اپنے اختیار سے بھی پیچھے ہٹ کر ایک متواتر اجماع کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ بات عدالتی منصب کے سرا سر منافی ہے۔ نئے حالات میں اعلیٰ عدالتیں ایسا نہیں کر سکتیں۔ ان کو اپنی ذمہ داری بہرصورت پورا کرنا ہوگی۔
ہم اوپر کہہ چکے ہیں کہ ہر ظلم و زیادتی پر داد رسی لازم ہے۔ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے عدالتیں معرض وجود میں آئیں اور قائم ہیں۔ نمائندہ حکومت اور نظریاتی اساس کا تحفظ، یہ دو بنیادی انحراف ہیں جو قرار داد مقاصد سے کیے گئے ہیں۔ جنرل پرویز کے دور نا مشرف میں ملکی سا لمیت کو بھی خطرات درپیش ہیں۔ خیبر پار سے آئے دن ہماری آبادیوں اور علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے کمانڈرز قبائلی علاقوں میں دور دور تک معائنے کے لیے جاتے ہیں۔ امریکی ذمہ داران آئے دن دھمکیوں سے نواز رہے ہیں۔ مسجد و مدارس کا تقدس، ان میں محصور بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور طلبہ کو فاسفورس بموں سے جس طرح بھسم کیا گیا ہے، اس سے ظلم کی حدیں ختم ہو گئی ہیں۔نئے دور کے تقاضے یہ ہیں کہ ظلم کو حدوں کے اندر ہی نہ لایا جائے بلکہ مکمل انصاف کیا جائے۔ اس عمل تعدیل میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہونے دی جائے۔ سب سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ فوج کی وردی میں بر سر اقتدار غاصبان اقتدار کو لگام دی جائے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس یعقوب علی خان کے الفاظ یہاں درج کرنا چاہوں گا:
''let it be laid down firmly that the order which the usurper imposes will remain illegal and Courts will not recognize its rule and act upon them as dejure. As soon as the first opportunity arises, when the coercive apparatus falls from the hands of the usurper, he should be tried for high treason and suitably punished. This alone will serve as a deterrent to would be adventurers.''
’’میرے نزدیک جو شخص ہمارے قومی اور قانونی نظام کو ناجائز طور پر توڑتا ہے، وہ قانون بنانے کا جائز ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس کے جابرانہ نظام کی وجہ سے عوام اور عدالتیں عارضی طور پر خاموشی اختیار کر سکتی ہیں مگر یہ واضح ہو جانے دیں کہ وہ غاصب جو نظم قائم کرے گا، ہر لحاظ سے غیر قانونی رہے گا۔ عدالتیں اس کے حکم اور طرز عمل کو کبھی جائز تسلیم نہیں کریں گی۔اس کے جابرانہ کنٹرول کے ہٹتے ہی اس پر بغاوت کا مقدمہ چلا کر مناسب سزا دی جانی چاہیے۔ آئندہ غاصبانہ مہم جوئی کا راستہ روکنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘ (۴)
قرار داد مقاصد کے قابل نفاذ ہونے کی بحث کے سلسلے میں حاکم خان کیس کے فیصلے سے جسٹس عبد الشکور السلام کی یہ سطور نقل کر کے بات کو ختم کرنا چاہتا ہوں:
’’کسی آرٹیکل کا آرٹیکل ۲۔الف سے تصادم ہو تو اس کا مناسب طریقہ قاعدے کے مطابق دستوری ترمیم ہے۔ لیکن اس کے باوجود عدالتوں کو آرٹیکل ۲۔الف کے دستور کے موثر جزو بنانے کے بعد اس کو نافذ کرنے کی ذمہ ختم نہیں ہو جاتی۔ دستور ایک نامیاتی کل ہے۔ اس کے تمام تر آرٹیکلز کی اس طرح تعبیر کرنا ہو گی کہ اس کی روح موثر ہو اور تمام دفعات میں توازن ہو۔‘‘ (۵)
حوالہ جات
(۱) پی ایل ڈی ۲۰۰۰ سپریم کورٹ ۸۶۹
(۲) ڈاکٹر حمید اللہ خان، خطبات بہاولپورصفحہ ۱۴۲،۱۴۳
(۳) پی ایل ڈی ۱۹۷۲ء سپریم کورٹ ۱۳۹ صفحہ ۲۴۳
(۴) حاکم خان کیس پی ایل ڈی ۱۹۹۲سپریم کورٹ ۵۹۵ صفحہ ۶۳۶
(۵) حاکم خان کیس پی ایل ڈی ۱۹۹۲سپریم کورٹ ۵۹۵ صفحہ ۶۲۰
مثالی حکمران کے اوصاف اسوۂ فاروقی کی روشنی میں
مولانا مشتاق احمد
آزادئ فکر، آزادئ اظہار، قانون کی بالادستی، خود احتسابی، عدل وانصاف، قومی خزانہ کی حفاظت، خوشامدیوں سے دوری، ہدیہ قبول کرنے سے انکار، سادگی، خوف خدا، اچھے رفقا کی عہدوں پر تقرری، اصول مساوات، عوام کی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ایک اچھے مسلمان حکمران کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اسلامی تاریخ کے نامور حکمران خلیفہ راشد حضرت سیدنا عمربن خطابؓ ان تمام مذکورہ اوصاف سے متصف تھے۔ ذیل میں ان کے زمانہ خلافت کی چند جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ واقعات سید عمر تلسانی کی کتاب’’عمر بن الخطاب‘‘ کے اردو ترجمہ اور علامہ شبلی نعمانی کی ’’الفاروق‘‘ سے منتخب کیے گئے ہیں۔
خود احتسابی
آپ کے دل میں اگر کبھی کوئی غیر پسندیدہ خیال آتا تو اسے سختی سے جھٹک دیتے، اپنے آپ کو ڈانٹ پلاتے اور اپنا محاسبہ خود کرتے تھے۔ ایک مرتبہ سورہ عبس کی آیت ’فاکہۃً وابّا‘ پڑھی تو دل نے کہا یہ ’ابا‘ کیاہے؟ فوراً سنبھلے۔ دل سے کہا یہ تکلیف کیوں؟ تجھے اگر یہ معلوم نہ ہو کہ ’ابا‘ کیاہے تو اس سے تیرا کون سا عمل ناقص رہ جائے گا۔ یعنی قیامت کو جن باتوں کے بارے میں پوچھ ہوگی، وہ معلوم ہیں تو اپنا عمل درست کر لو اور اس باز پرس کی فکر کرو۔
قانون کی بالادستی
آپ نے فرمایا کہ جس کسی پر کوئی امیر یا گورنر کوئی زیادتی کرے، وہ مجھے اس کی اطلاع دے، میں اس سے بدلہ دلواؤں گا، چنانچہ جب امرا کسی شخص پر زیادتی کرتے تو ضرور ان سے بدلہ دلوایا جاتاتھا۔ آپ نے بطور حاکم اپنی ذمہ داری ور رعایا کے بنیادی حقوق کا اعلان فرماتے ہوئے کہا: ’’اگر میرے کسی عامل نے کسی شخص پر ظلم کیا اور مجھے اس کی اطلاع مل گئی اور ا س کے باوجود میں نے مظلوم کی داد رسی نہ کی تو سمجھو میں اس ظلم میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ حقیقت میں ظلم کا مرتکب ہوں۔‘‘
اس احساس فرض اور پاکیزہ تصور کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ لوگوں کو تاکید فرمایا کرتے تھے کہ ظلم وزیادتی پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے وہ اس پر احتجاج کیا کریں تاکہ ظلم کا خاتمہ کیاجاسکے۔ یہ حاکم وقت کے فہم سلیم اور احساس ذمہ داری کی قابل رشک مثال ہے۔
قومی خزانے کی حفاظت
قومی خزانہ ایک امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔ حاکم وقت اور ذمہ داران اس کے امین ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں ان سے باز پرس بھی سخت ہوگی۔ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے: ’’بیت المال کے ساتھ میرا معاملہ ایساہی ہے جیسا یتیم کے مال کے ساتھ اس کے سرپرست کا ہوتا ہے۔ اگر میں محتاج ہوا تو حسب ضرورت بیت المال سے لوں گا، حالات درست ہوگئے تو واپس کردوں گا اور اگر مال دار ہوگیاتو بیت المال سے کچھ نہ لوں گا ۔‘‘
اس اہم اور نازک معاملہ کی مزید وضاحت یوں فرمائی: ’’اس بیت المال سے میں اسی قدر وصول کروں گاجس قدر میں اپنے کمائے ہوئے مال سے خرچ کیاکرتاتھا۔‘‘ حضرت عمر مسلمانوں کے بیت المال کے بارے میں اللہ سے بہت ڈرتے تھے۔ ایک مرتبہ حج کے لیے گئے اور مدینہ سے مکہ اور وہاں سے واپسی کا سفر حضر تک ۸۰ دراہم میں مکمل کرلیا۔ اس کے باوجود اپنا محاسبہ کرنے لگے اور کف افسوس ملتے ہوئے کہا: ’’ہم کتنے بے خوف ہوگئے ہیں کہ بیت المال میں اسراف کرنے لگے ہیں۔‘‘
خوشامد سے نفرت
حضرت عمر لوگوں کو اجاز ت نہیں دیتے تھے کہ وہ ان کی ذات کی تعریف میں رطب اللسان ہوجائیں۔ فرماتے تھے : ممکن ہے میں تمہیں ایسے کاموں سے منع کروں جس میں تمہارا فائدہ اور مصلحت ہو اورتمہیں ایسے کاموں کا حکم دے دوں جس سے تمہیں نقصان ہونے کا احتمال ہو، اس لیے تم میری اصلاح کرتے رہا کرو۔
قحط سالی میں حضرت عمرکا طرز عمل
آپ جب رعایا کو کسی بات کا حکم دیتے تو خود اس پر پہلے کاربند ہوجاتے تاکہ عامۃ الناس کے لیے اچھا نمونہ پیش کریں۔ آپ نے لوگوں سے سادگی اور قناعت اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تو خود اس کی بہتر ین عملی مثال بن گئے۔ قحط سالی میں اپنے لیے ہر وہ چیز ممنوع سمجھ لی تھی جس تک عام لوگوں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ قحط کے زمانے میں رعایا کی بھوک اور تنگی کا اس قدر احساس تھا کہ یوں معلوم ہونے لگا کہ اس فکر سے ہلکان ہو جائیں گے۔ یہ زمانہ پانچ چھ سال کے عرصہ پر محیط تھا۔ اس پورے دور میں آپ نے زندگی کی ہر پرلطف چیز کو خیر باد کہہ دیاتھا۔
ہدیہ قبول کرنے سے انکار
ہدیے لینا اور دینا اسلامی نقطہ نظر سے جائزبلکہ مستحسن ہے، مگر حکمرانوں کو عموماً ہدیے غلط انداز میں دیے جاتے ہیں۔ صاف ستھرے نظام حکومت میں، جہاں قانون کی حکمرانی ہو، حکمرانوں کا ہدیوں سے کیا واسطہ؟ عام حکمران اگر بہت قابل رشک مثال بھی پیش کریں تو ان کا حال یہ ہوتاہے کہ اپنی ذات کے لیے تو ہدیہ قبول نہیں کرتے مگر اپنے اہل وعیال کے لیے بخوشی وصول کرلیتے ہیں۔ مگر سیدنا عمر کا معاملہ یہ تھا کہ نہ تو اپنے لیے کوئی تحفہ قبول کرتے تھے اور نہ اپنے اہل وعیال کے لیے اور اگر کوئی عزیز ایسا ہدیہ قبول کر لیتاتھا تو اس پر مناسب انداز میں سرزنش فرماتے تھے۔
سادگی اور زہد
آپ اتنے ساد ہ مزاج اور دنیا داری سے دور تھے کہ اپنی خلافت کے دور میں آپ حج کے لیے نکلے اور کوئی خیمہ نہیں لگایا۔ دھوپ سے بچنے کے لیے کسی جھاڑی کی اوٹ میں بیٹھ جاتے تھے۔ چمڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ساتھ تھا۔ کبھی اس سے سایہ کرلیتے تھے۔ تپتے ہوئے ریگستان میں وہ سایہ کیا حیثیت رکھتاتھا۔ آپ اس بات سے خائف تھے کہ اپنے لیے کوئی ایسا سایہ فراہم کریں جس کا مہیا کرنا رعایا کے ہر فرد کے لیے ممکن نہ ہو۔
اچھے رفقا کی تلاش
حضرت عمر نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریاں سونپ دیاکرتے تھے۔ اس سے ان میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوتی تھی اور ان کی صلاحیتیں بھی مزید پروان چڑھتی تھیں۔ مثلاً آپ حضرت عبداللہ بن عباس کو اپنی مجلس میں بٹھایا کرتے اور مشکل مسائل میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے اور کئی مرتبہ ان کی رائے کو قبول کر لیا کرتے تھے۔ آپ ہر میدان کے لیے مردانِ کار کی تلاش میں رہتے تھے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت فوراً مناسب آدمی کو ڈھونڈ لیتے تھے۔
اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینا
ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کہیں سے مال غنیمت آیا جس میں بہت سے قیمتی پارچہ جات تھے۔ آپ نے سب صحابہ کرام کو لباس دیا۔ ایک قیمتی جوڑا بچ گیا تو آپ نے صحابہؓ سے کہا: ’’کسی ایسے نوجوان کی نشان دہی کرو جس نے ہجرت کی ہو اور ا س کے باپ نے بھی ہجرت کی ہو تاکہ میں یہ جوڑا اسے دے دوں۔ ‘‘لوگوں نے بلاتوقف کہا: عبداللہ بن عمرؓ۔ آپ نے فرمایا: نہیں، وہ تو اس کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ پھر آپ نے سلیط بن سلیط کو حلہ عطا کر دیا۔
مقدمات کے فیصلے اور انصاف کے تقاضے
ارضی وسماوی ہر قانون میں ایک بنیادی اصول مسلم ہے کہ کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک صادر نہ کیا جائے جب تک طرفین کی بات پوری طرح نہ سن لی جائے۔ شریعت اسلامیہ میں جب معاملہ مشتبہ ہوجائے تو حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ ایک حدیث کی تاویل میں فقہا اور مسلم ماہرین قانون نے یہ موقف اختیا ر کیا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کے حکمرانوں نے دور انحطاط میں ان اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ کیا بلندی تھی اور اب کیا پستی ہے! شکوک وشبہات کو بنیاد بنا کر اپنے مخالفین کو فوری اور ناقابل برداشت سزائیں سنا دینے کی ایسی روایت چلی ہے کہ خدا کی پناہ! استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ الزام کا ثبوت پیش کرے مگر ہمارے ممالک میں اس اصول کو الٹ دیاگیا کہ ملزم اپنی بے گناہی ثابت کرے۔ اگر ملزم اس سکھا شاہی نظام میں اپنی بے گناہی ثابت کربھی دے تو ضروری نہیں کہ عقوبت سے بچ نکلے کیونکہ انصاف کا گلا گھونٹنے والوں سے انصاف کی توقع عبث ہے۔
حضرت عمر کا دور حکومت انصاف کے مذکورہ تقاضوں پر عمل درآمد کا آئینہ دار تھا۔ اصول مساوات کی بنا پر وہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کا امتیاز پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک فعہ ابی بن کعب سے کچھ نزاع ہوئی۔ زیدبن ثابت کے ہاں مقدمہ پیش ہوا۔ حضرت عمرؓ ا ن کے پاس گئے تو انہوں نے تعظیم کے لیے جگہ خالی کر دی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ پہلی ناانصافی ہے جو تم نے اس مقدمہ میں کی۔ یہ کہہ کر اپنے فریق کے برابر بیٹھ گئے۔
یہی بھید تھا کہ طرز معاشرت نہایت سادہ اور غریبانہ رکھی تھی۔ سفر وحضر میں، جلوت وخلوت میں، مکان اور بازار میں کوئی شخص ان کو کسی علامت سے پہچان نہیں سکتاتھا کہ یہ خلیفہ وقت ہیں۔
آزادی اور حق گوئی کا قائم رکھنا
اخلاق کی پختگی اور استواری کا اصل سرچشمہ آزادی اورخود داری ہے۔ حضرت عمرؓ نے ا س پر بہت توجہ کی۔ آپ نے مختلف موقعوں پر تحریر وتقریر سے جتا دیا کہ ہر شخص ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی کسی کے آگے ذلیل ہو کر نہیں رہ سکتا۔ حضرت عمروبن العاصؓ کے معزز فرزند نے جب ایک قبطی کو بے وجہ مارا تو خود اسی قبطی کے ہاتھ سے مجمع عام میں سزادلوائی اور ’مذ کم تعبدتم الناس وقد ولدتھم امھاتھم احرارا‘ کا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا، یعنی تم لوگوں نے آدمیوں کو غلام کب سے بنا لیا ہے؟ ان کی ماؤں نے تو ان کوآزاد جنا تھا۔
ایک دفعہ انہوں نے منبر پر چڑھ کر کہا: صاحبو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں تو تم لوگ کیاکروگے؟ ایک شخص وہیں کھڑا ہوگیا اور تلوار میان سے کھینچ کر بولا کہ تمہارا سر اڑا دیں گے۔ حضرت عمرؓ نے اس کے آزمانے کو ڈانٹ کر کہا: کیا میری شان میں تویہ لفظ کہتاہے! اس نے کہا: ہاں، تمہاری شان میں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: الحمد للہ قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ میں کج ہوں گا تو مجھ کو سیدھا کر دیں گے۔
تقسیم ہند کے بعد بھارتی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے (غیر مسلم ہونے کے باوجود) حضرت ابوبکر وعمر کو خراج تحسین پیش کیاتھا اور وزرا سے کہاتھا کہ اگر تم ابوبکر وعمرکی پیروی کروگے تو ایک کامیاب حکمران ثابت ہوگے۔
آج وطن عزیز میں ہر طرف لاقانونیت کا راج ہے، اقربا پروری، ناقدین سے بے مروتی اور مظالم، روزافزوں مہنگائی، قتل وغارت، چوری وڈکیتی، رشوت واستحصال کا دور دورہ ہے۔ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سکون عنقا ہے۔ کیا ہمارے سیاستدان بالخصوص حکمران ایک آئیڈیل مسلم حکمران کی خصوصیات سے بہرہ ور ہیں؟ ان کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تاریخ میں ان کو اچھے الفاظ سے یاد کیا جائے اور عوام الناس سکھ کا سانس لے سکیں۔
فکر اسلامی کو درپیش عصری چیلنج ۔ تجمد اور تجدد کے درمیان راہ توسط کی تلاش
ڈاکٹر محمد امین
شارع مشفق ومہربان نے ختم نبوت کااعلان کرتے ہوئے دین حق کو تاقیامت قابل عمل رکھنے کے لیے جس حکمت عملی کااعلان فرمایا، اس کے اہم اجزا یہ تھے:سارے عالم کوہمیشہ کے لیے امت دعوت قراردینا، نصوص قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود لینا، مسلمانوں کو کار دعوت کی ذمہ داری سونپنا اور انہیں اجتہاد کی اجازت دینا۔ عقیدے سے قطع نظر عقل ومنطق کی رو سے بھی یہ انتظامات اس امر کی قطعی بنیاد مہیا کر دیتے ہیں کہ فکر اسلامی دنیا کے ہرخطے میں اور ہر عہد میں قابل عمل رہ سکتی ہے، لیکن ان اصولوں سے فائدہ اٹھانے اور ان پرعمل کرنے کا انحصار بہرحال انسانی کاوشوں پر ہے۔ اگر مسلم اہل علم ان اصولوں کونہ اپنائیں اور ان پر عمل درآمد نہ کریں تو کوئی ان کو مجبور نہیں کرسکتا اورنہ اس سے شریعت کے کمال وشمول پر حرف آتا ہے۔
اجتہاد کی ضرورت اور سپرٹ یہ تھی کہ نصوص قرآن وسنت بہرحال محدود تھیں جبکہ قیامت تک آنے والی انسانی نسلوں کے مسائل محدود نہ ہو سکتے تھے کہ زمان ومکان کے تغیر کے ساتھ فکری اور تمدنی ارتقا بھی ناگزیر تھا۔ لہٰذا اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہ تھا کہ نئے دعوتی، قانونی، سماجی، معاشی مسائل میں نصوص کی تعبیر نو، قیاس، مقاصد شریعت، مصالح مرسلہ وغیرہ جیسے ذرائع استعمال کرکے اجتہاد کی مستقل اجازت دے دی جائے۔ اس سلسلے میں صدر اول میں دو طرح کے رجحانات دیکھنے میں آئے۔ ایک نصوص کی تعبیر الفاظ نص کے قریب تر رہتے ہوئے کرنا (جسے Literal Interpretation کہا جا سکتا ہے) اور دوسرے الفاظ نص کی سپرٹ اور علت وغایت کو سامنے رکھتے ہوئے تشریح کرنا (یعنی Liberal Interpretaion کرنا)۔ انہی دو نوں رجحانات نے بعد میں اہل الرائے اور اہل الحدیث اور عصرتدوین میں مذاہب ائمہ اربعہ کی تدوین اور مسلک اہل الظاہر کی ترسیم کا روپ دھارا۔ اس دوران مسلمانوں میں تعلیم وتعلم اور تحقیق وتفتیش کے رویے پختہ ہو کر سامنے آئے۔ یونانی افکار کے تعارف نے علمی حلقوں میں تموج پیدا کیا اور اگرچہ کچھ عرصہ تک بعض مسلم حلقے اس سے مرعوب بھی ہوئے، لیکن مسلم فکر اس وقت تک بہرحال اتنی توانا تھی کہ اسے یونانی فکر کے حملے کو پسپا کردینے میں زیادہ دقت نہ ہوئی اور اعتزال کافتنہ بتدریج اشعریت اور ماتریدیت کی صورت میں مسلم فکر کے مرکزی دھارے میں جذب ہوتا چلا گیا اور بعد میں امام غزالی، امام رازی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے تابڑ توڑ حملے کرکے اس کی کمر ہی توڑ دی۔ لیکن متعدد عوامل کی بناپر (جن میں سیاسی عدم استحکام، منگولوں کاحملہ، تدوین فقہ کی کوششوں کی جامعیت وعبقریت، مذہبی انتشار، اخلاقی اضمحلال وغیرہ شامل ہیں) تحقیق وتفتیش اور فکری حریت کا یہ سفر اسی آب وتاب سے جاری نہ رہ سکا اورعلماے کرام کواجتہاد کی بجائے تقلید میں عافیت نظر آنے لگی۔
مسلم زوال کی ایک اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نظام تعلیم وتزکیہ میں دراڑیں پڑ گئیں اور وہ فرد تیار ہونا بند ہوگیا جیسا کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں ہوتاتھا۔ تاہم یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ بتدریج ہوا اور نورنبوت کی روشنی اتنی توانا تھی کہ منگولوں کے بڑے جھٹکے اور دیگر چھوٹے موٹے بے شمار دھچکوں کے باوجود تقریباً ایک ہزار سال تک مسلم دنیا کے دل و دماغ کو منور کرتی اور انہیں قوت عمل مہیا کرتی رہی، تاآنکہ مسلمانوں کے قلوب زنگ آلود ہونے اور عقلیں کند ہونے کی وجہ سے ان کی بے علمی وبے عملی اس حد کو جا پہنچی کہ نور نبوت سے اکتساب کے قابل نہ رہی اور مسلمان محض ’’پدرم سلطان بود‘‘ کے نعرے تک محدود ہو کر رہ گئے۔
اسے کوئی سوئے اتفاق کہے، مسلمانوں کی کمزور منصوبہ بندی یا اللہ کی مشیت کہ مسلمان افریقہ، شرق اوسط، وسط ایشیا اور مشرق بعید تک کے علاقوں پر تواسلام کا جھنڈا گاڑنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن یورپ کے قلب تک نہ پہنچ سکے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی یورپ ہمیشہ مسلمانوں کا حریف اور مدمقابل رہا اور صلیبی جنگوں میں کبھی جیتا اور کبھی ہارتا رہا۔ وہاں کے مذہبی اور سیاسی طبقے نے اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں کے خلاف عوام میں نفرت کے گہرے بیج بو دیے اور جب مسلم ریاستیں اپنی داخلی کمزوریوں کی وجہ سے مضبوط نہ رہیں اور اہل مغرب خواب غفلت سے بیدار ہو کر توانا ہو گئے توانہوں نے سازشوں سے مسلمانوں کوباہم لڑایا، کمزور کیا، پھر مل کر ان پر حملہ کیا اور انہیں غلام بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ مسلمانوں، خصوصاًعلماے کرام نے ان کی حتی المقدور مزاحمت کی لیکن ان کا راستہ نہ روک سکے۔ بالآخر بیسویں صدی میں غالباً ’تلک الایام نداولھا بین الناس‘ کے الہٰی اصول پر یورپی اقوام آپس میں لڑ کر کمزور ہوئیں اور مسلمانوں کو غلامی کی زنجیریں توڑنے کا موقع مل گیا۔
بیسویں صدی میں مغرب کی غالب الحادی فکر وتہذیب کے ساتھ تعامل کے تناظر میں مسلم معاشرے میں اسلامی فکر کے تین پہلو ابھر کر سا منے آئے ہیں۔ ایک تجمد کا پہلو جس کی طرف میلان ہمارے روایتی علماے کرام رکھتے ہیں جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کے مدارس ومساجد کی آبادی اور معاشرے کے مذہبی رسوم ورواج کی ادائیگی ہے اوروہی مسلم معاشرے میں اسلام کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی حالت بقول اقبال یہ ہے کہ :
آئین نوسے ڈرنا،طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
وہ اپنے قدیم ائمہ فقہا کی آرا کو بھی تقدیس کادرجہ دینا گو اصولاً نہ تسلیم کرتے ہوں لیکن عملاً تودیتے ہی ہیں اور اسی طرح گو اجتہاد کا اصولاً انکار نہ کریں لیکن عصر حاضر میں کسی فرد میں عملاً مجتہد ہونے کی صلاحیت تسلیم کرنا یا اسے حق اجتہاد دینا انہیں ممکن نظر نہیں آتا۔ اسی طرح جدید عصری مسائل کے وجود کے بھی وہ منکر نہیں، لیکن اپنے مدارس میں وہ ایسے فقہا تیارکرنے کے لیے آج بھی آمادہ نہیں جو اہل مغرب کی زبان سمجھتے ہوں، ان کی تہذیب کی فکری اساسات وفلسفے اور تہذیبی اداروں اور مظاہر سے واقف ہوں اور مغربی فکر وتہذیب سے تعامل کے نتیجے میں مسلم معاشرے جن مسائل سے دوچار ہیں، ان مسائل کے حل کی تربیت ان کے دینی مدارس میں انہیں دی جاتی ہو اور اس حوالے سے وہ امت کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔
دوسرا رویہ تجدد کا ہے۔ اس رویے کے حامل وہ لوگ ہیں جو خود کو روشن خیال سمجھتے ہیں، تجمد کی مذمت کرتے ہیں اور بزعم خویش وہ اس کارخیر میں مصروف ہیں کہ اسلامی تعلیمات کو عصر حاضر کی عقلیت کے مطابق ثابت کرسکیں جب کہ ان کے بارے میں دوسرے سب لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ مغرب کی الحادی فکر وتہذیب سے مرعوب ہیں اور اسلام کی کتربیونت کر کے اور مغربی تقاضوں کے مطابق اسلامی احکام کی تشریح کرکے مغربی لباس کو اسلام کے جسم پر فٹ کرناچاہتے ہیں۔ گویابقول اقبال :
خود بدلتے نہیں قرآں کوبدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان کو اسلام کی ہر وہ چیز قابل مدح لگتی ہے جو مغربی فکروتہذیب کے مطابق ہو اور اسلام کی ہر اس فکر، رائے اور ادارے کو وہ قابل تغیر اور قابل تاویل سمجھتے ہیں جو مغربی فکر وتہذیب کے مطابق نہ ہو، اوران کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ عقلی استدلال اور تاویل کے ہنر سے کسی نہ کسی طرح نصوص شرعیہ کی ایسی تشریح کر سکیں جس سے وہ مغربی فکرو تہذیب کے قریب نظر آئیں یا اس کے مطابق دکھائی دینے لگیں۔ برصغیر میں مغربی فکر وتہذیب سے مرعوب ومتاثر ان متجددین کی کاوشوں کی بھی ایک پوری تاریخ ہے جس کے سالار اول سرسید احمد خان تھے اور جن کی آج کے پاکستان میں نمائندگی جناب جاوید احمد غامدی صاحب کرتے ہیں۔
صحیح اور متوازن نقطہ نظر یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں فکری رویے افراط وتفریط پر مبنی ہیں۔ نہ تجمد صحیح ہے اورنہ ہی تجدد، اعتدال اور توسط کی راہ ہی درست ہے اوراسی میں خیر ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں آیاہے کہ ’خیر الامور اوسطھا‘ اور نماز وسطیٰ کوآپ نے بہترین نماز قرار دیا۔ اسی طرح قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ ہم نے تمہیں امت وسط بناکر بھیجا ہے۔ لہٰذا ضرورت ا س امرکی ہے کہ اسلام جس فکری حریت کا علم بردار ہے اورجس کا مظاہرہ ہمارے اسلاف کرتے رہے ہیں، آج بھی اسی کو اپنایا جائے۔ ہر نئی چیز بدعت اور مضر نہیں ہوتی سوائے اس کے جوخلاف اسلام ہو، لہٰذا قرآن وسنت کی روسے ہر اس جدید کو قبول کرنے میں کوئی مانع نہیں جو خیر اور معروف پر مبنی ہو، جوقرآن وسنت اور مقاصد شرعیہ کے خلاف نہ ہو اورجس میں مسلمانوں کی مصلحت ہو۔ تاہم اس امر کا شعوری ادراک بہت ضروری ہے کہ مغربی فکر وتہذیب (جو اس وقت دنیا کی غالب فکرو تہذیب ہے) وہ اپنی اصل میں غیر اسلامی ہے۔ سیکولر ازم، ہیومنزم، لبرل ازم وغیرہ (جن کے پیش نظر یہ دنیا اور اس میں انسان کی خدائی ہے) اسلامی تصور انسان، تصور کائنات اور تصورالٰہ کی ضد ہیں۔ لہٰذا اس فکر وتہذیب اور مسلم معاشرے کے تعامل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں ذہنی بیداری کی ضرورت ہے کہ ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر اس غیر اسلامی (بلکہ اسلام دشمن) فکر وتہذیب سے مرعوب و متاثر نہ ہو جائیں اور ان کا ناخوب بھی ہمیں خوب نظر نہ آنے لگے۔ ہمیں اجتہاد کی ضرورت ہے، ہم حریت فکرکے علم بردار ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جدیدیت اور تجدید کے نام پر مغربی فکر کا ہر رطب ویابس قبول کرلیں۔ نہیں! ہمارے ردوقبول کے اپنے پیمانے ہیں اورہمیں انہیں پیمانوں کو استعمال کرنا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج فکر اسلامی کو درپیش چیلنج یہ ہے کہ تجمد اور تجدد کے افراط وتفریط پر مبنی رویوں سے بچتے ہوئے اعتدال وتوسط کی راہ پر چلا جائے اور ایسی تجدید کو قبول کیا جائے جو اسلامی معاییر کے مطابق ہو لیکن اس کے ساتھ ہی نہ صرف مغرب کی الحادی فکر وتہذیب کے مفاسد سے بچنے کی شعوری کوشش کی جائے بلکہ دوکام اوربھی کیے جائیں:
ایک تو یہ کہ مغربی فکر وتہذیب کا شعوری منصوبہ بندی سے علمی، فکری، تہذیبی اور عملی کوششوں سے رد کیا جائے اور اس کے مقابلے میں فکر اسلامی کی ہر لحاظ سے برتری اور بہتری کا عقل واستدلال سے اثبات کیا جائے۔
دوسرے فکر اسلامی کو مسلم فرد کے اذہان وقلوب میں راسخ کرنے اور مسلم معاشرے میں اس کے عملی غلبے واستحکام کے لیے تعلیم وابلاغ وتزکیہ پر مبنی درست سمت میں کوششوں کو فزوں تر کیا جائے تاکہ اس سے مطلوبہ نتائج عملاً نکلتے نظر آئیں۔
غامدی صاحب کا تصور فطرت چند توضیحات
سید منظور الحسن
’’قرآن اکیڈمی‘‘ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ محمد زبیر صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی کی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ کے بعض اصولی تصورات پر تنقیدی مضامین تحریر کیے تھے ۔ یہ مضامین پہلے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوئے اور بعد ازاں ’’فکر غامدی، ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں طبع ہوئے۔یہ کل تین مضامین تھے جن میں سے پہلے کا عنوان ’’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ تھا اور اس میں خیر و شر کے فطری الہام کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر تنقید کی گئی تھی۔اس مضمون کے جواب میں ہم نے ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا جس میں عقل و نقل کے دلائل کی بنا پر جملہ تنقیدی نکات کے سقم کو واضح کیا تھا۔ ہمارا یہ مضمون ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس کے جواب میں ہمیں یہ توقع تھی کہ زبیر صاحب کو اگر ہمارے تجزیے سے اتفاق ہوا تو وہ کسی تعصب کے بغیر اس کا اظہار کریں گے اور اگر اختلاف ہوا تو ہمارے دلائل کی تردید میں اپنا استدلال پیش کریں گے۔ ہمارے لیے یہ بات باعث تعجب ہے کہ اس کے جواب میں جو تحریر لکھی گئی ہے، اس میں ہمارے دلائل اور ہماری توضیحات کے بارے میں کامل خاموشی کا رویہ اختیار کیا گیاہے ۔
قارئین کی یاددہانی کے لیے اس علمی مکالمے کے جملہ نکات حسب ذیل ہیں جو فاضل ناقد کی نظر عنایت سے محروم رہے ہیں:
۱۔ فاضل ناقد کی بنیادی تنقید یہ تھی کہ سورۂ شمس کی آیت ’فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا‘ سے غامدی صاحب نے یہ غلط مفہوم اخذ کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے خیر و شر کا احساس اور شعور انسان کی فطرت میں ودیعت ہے جس کی بدولت وہ نیکی اور بدی سے پوری طرح شناسا ہے۔
اس کے جواب میں ہم نے گزارش کی تھی کہ نیکی و بدی کے شعور کا انسانی فطرت میں ودیعت ہونا سورۂ شمس کی مذکورہ آیات کے علاوہ سورۂ اعراف کی آیت ۲۲، سورۂ دہر کی آیت ۳، سورۂ بلد کی آیت ۱۰ اور سورۂ قیامہ کی آیات ۱۴۔۱۵ سے بھی واضح ہے۔ اس ضمن میں ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ، مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع، مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جیسے جلیل القدر علماے امت کے اقتباسات نقل کیے تھے۔
فاضل ناقد کی تحریر میں ہمارے اس جواب پرکوئی تبصرہ نہیں ہے ۔
۲۔فاضل تنقید نگار نے انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے نصوص کی بنا پر تین دلائل پیش کیے تھے: ان کی پہلی دلیل یہ تھی کہ سورۂ بقرہ کی آیت۳۸ اور سورۂ طٰہٰ کی آیت ۱۲۳ میں ’مِّنِّیْ ہُدًی‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت کو دنیا میں بھیجنے کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے ذریعے سے انسان کو نیکی اور بدی سے روشناس کرایا۔
اس کے جواب میں ہم نے لکھا تھا کہ بنی آدم کے لیے روز اول سے سلسلۂ وحی جاری کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان کا فطری علم کسی بھی درجے میں اس کی رہنمائی نہیں کر سکتا اور یہ کہ انسان ہر معاملے میں ’وحی‘ ہی کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ اس موقف کی تائید میں ہم نے علماے امت کی تحریریں بھی نقل کی تھیں۔
ہمارے اس جواب پربھی مذکورہ تحریر میں کوئی تبصرہ نہیں ہے ۔
۳۔انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے فاضل تنقید نگار کی دوسری دلیل یہ تھی کہ سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۷۸ میں بیان ہوا ہے کہ ’اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کی ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے‘۔ اس بنا پر انھوں نے یہ استدلال کیا تھا کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ نیکی و بدی کے شعور سے بے بہرہ ہوتا ہے۔
اس پر ہم نے ’’تفسیر ابن کثیر‘‘،’’ تفسیر عثمانی‘‘، ’’تدبر قرآن‘‘ اور ’’تفہیم القرآن‘‘ کے اقتباسات نقل کر کے یہ بات واضح کی تھی کہ مذکورہ آیت میں انسان کی پیدایش کے وقت اس علم کی نفی ہوئی ہے جو اسے حواس اور مشاہدات کے ذریعے سے خارجی دنیا کے بارے میں حاصل ہوتا ہے، اس کے فطری علم کی یہاں ہر گز نفی نہیں کی گئی۔
اس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔
۴۔انسان کی فطرت میں نیکی و بدی کے شعور کی نفی کے لیے تیسری دلیل کے طور پر فاضل تنقید نگار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل کی تھی کہ ’اللّٰھم آت نفسی تقواھا‘، ’’پروردگار، میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما۔‘‘ اس پر انھوں نے لکھاتھا کہ اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ ‘ انسانی فطرت میں داخل تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ا للہ سے مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟گویااگر نفس کا تقویٰ انسان کو فطری طور پر ودیعت ہوتا تو آپ اسے اللہ تعالیٰ سے ہر گز طلب نہ کرتے۔
اس ضمن میں ہم نے گزارش کی تھی کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ دعا سے اس چیز کی عدم دستیابی لازم آتی ہے جس چیز کے لیے دعا مانگی جا رہی ہے۔ بلا شبہ ناحاصل کے لیے دعا مانگی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم حاصلات کے لیے بھی پروردگار کے حضور میں دست دعا بلند کرتے ہیں۔ اس سے مقصود اس حاصل میں ازدیاد اور اس کا دوام و استمرار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر صالح مسلمان صراط مستقیم پر گا م زن رہنے کے باوجود دن میں کم سے کم پانچ مرتبہ ’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ کی دعا مانگتا ہے۔
ہمارا یہ جواب بھی فاضل ناقد کے تبصرے سے محروم ہے۔
۵۔ فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں یہ الزام لگایا تھا کہ غامدی صاحب نے انسانی فطرت کو حلال وحرام کا اختیار تفویض کر کے اسے شارع بنا دیا ہے اور اس طرح نعوذ باللہ اسے اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
اس کے جواب میں ہم نے کہا تھا کہ یہ بات بدیہی طور پر سوء فہم پر مبنی ہے کہ فطری علم کی روشنی میں طیبات و خبائث کی تعیین تحلیل وتحریم کے زمرے میں آتی ہے اور یہ بات انسان کو شارع کے منصب پر فائز کرنے کے مترادف ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ چیز اگر فطرت کے مستقل ماخذ دین قرار پانے یا انسان کے تحلیل وتحریم کے منصب پر فائز ہونے کو مستلزم ہے تو اس ’جر م‘ میں جمہور فقہا بھی غامدی صاحب کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔
اس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔
۶۔فاضل تنقید نگار نے ایک الزام یہ بھی لگایا تھاکہ غامدی صاحب ہر انسان کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیں، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں ہم نے واضح کیا تھا کہ جس دائرے میں قرآن نے چار چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، اس پر اضافے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں ان محرمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ اس سے مختلف ایک دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے۔ اس ضمن میں آپ کے ارشادات اور ان کے علاوہ بہت سے دوسرے جانوروں کی حرمت کے بارے میں فقہا کے فیصلے، دونوں خبائث کی حرمت کے اس اصول پر مبنی ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، لہٰذا قرآن کی بیان کردہ حرمتوں پر اضافے کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ ماننے اور عام انسانوں کے لیے تسلیم کرنے کا اعتراض بالکل بے معنی ہے۔ ہم نے امام شافعی کی کتاب ’’الام‘‘، فقہ حنفی کی شہرۂ آفاق کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘، ابن قتیبہ کی ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘،فقہ حنبلی کی نمائندہ کتاب ’’المغنی‘‘ اور ابن حزم کی ’’المحلیٰ‘‘ کے اقتباسات نقل کر کے یہ واضح کیا تھا کہ جانوروں کی حلت و حرمت کے معاملے میں طیبات اور خبائث کو بنیادی اصول قرار دینا غامدی صاحب کی کوئی منفرد رائے نہیں ہے، بلکہ جمہور فقہا بھی اسی رائے کے قائل ہیں۔
اس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔
۷۔فاضل ناقدنے یہ نکتہ بھی پیدا کیا تھا کہ انسانی فطرت کو خبیث و طیب کے تعین کا اختیار دینے کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے مختلف گروہ اپنے اپنے فطری میلان کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف نتائج پر پہنچیں تو ان میں سے ترک و اختیار کا فیصلہ کس اصول کی بنا پر کیا جائے گا؟ انھوں نے اس سوال کا از خود یہ جواب وضع کر کے کہ اس کا فیصلہ انسانی فطرت سے ہو گا،اسے جناب جاوید احمد غامدی کی نسبت سے بیان کیا تھا۔
اس پر ہم نے یہ توجہ دلائی تھی کہ غامدی صاحب سے اس بات کی نسبت صریح طور پر غلط ہے اور یہ واضح کیا تھا کہ غامدی صاحب نے نہایت صراحت سے اپنی تصنیف ’’اصول و مبادی‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے کہ اختلاف کی صورت میں ذریت ابراہیم کا رجحان فیصلہ کن ہو گا، کیونکہ معروف و منکر سے متعلق ان کے رجحانات کو گویا انبیا کی تصویب حاصل ہے۔
اس جواب پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔
۸۔زبیر صاحب نے اپنی بحث کے آخر میں ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف‘‘کی سرخی قائم کی تھی اور اس کی مثال کے طور پر ڈاڑھی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تضاد بیان کیا تھا کہ ایک جانب غامدی صاحب فطرت کو دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ڈاڑھی جیسی فطری چیز کو دائرۂ دین میں شامل ہی نہیں کرتے۔
اس پر ہم نے گزارش کی تھی کہ ڈاڑھی کے ایک فطری چیز ہونے سے غامدی صاحب نے ہر گز انکار نہیں کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فطری چیز کو شریعت نے باقاعدہ دینی رسم کی حیثیت دی ہے یا نہیں؟
اس جواب پر بھی مذکورہ مضمون میں کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا۔
یہ فاضل ناقد کی تنقیدات اور ان پر ہمارے جوابات کا خلاصہ ہے۔ فاضل ناقد نے اپنی تازہ تحریر میں ان میں سے کسی نکتے پر کلام کرنا تو پسند نہیں کیا، البتہ ان کے بارے میں ایک جامع کلمہ ارشاد فرما کر بحث کو سمیٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:
’’... میں جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر آپ واقعۃً اس بحث کو کسی نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں تو اس ادھر ادھر کی تاویلات میں پڑکر بحث کو طویل کرنے ا ور الجھانے کی بجائے درج ذیل تین آپشنز پر غور کریں:
الف) اگر تو غامدی صاحب ’الشریعہ‘ کے کسی شمارے میںیہ لکھ دیں کہ ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں جناب منظور الحسن صاحب نے میری نسبت سے جو چار مصادر دین بیان کیے ہیں، اس میں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور میں ان کی اس عبارت سے متفق نہیں ہوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
ب)یاجناب سیدمنظورا لحسن صاحب خود یہ لکھ دیں کہ میری ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں شائع شدہ عبارت منسوخ ہے، پہلے میرا خیال یہ تھا کہ غامدی صاحب کے مصادر دین چار ہیں لیکن اب مجھ پرواضح ہوا ہے کہ’فطرت‘ ان کے مصادر دین میں سے نہیں ہے۔
ج)یا سید منظور الحسن صاحب مجھے کم از کم غامدی صاحب کے بارے میں اتنالکھنے کی اجازت دیں جتنا کہ خود انھوں نے لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ
’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ ‘‘
اور چوتھی اور آخری صورت وہ ہے کہ جو جناب منظور الحسن صاحب عملاً کر رہے ہیں کہ اس بحث کو اتنا طویل کر دو اور الجھا دو کہ قارئین کے ذہن منتشر ہو جائیں اور اصل نکتے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ اگست ۲۰۰۷،۴۵)
’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ اور ’’تین آپشنز‘‘ یہ اس بحث کا انجام ہے جو ’’فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے نام سے شروع ہوئی تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کے نام سے موسوم ہونے والی اور ’’تین آپشنز‘‘ تک محدود رہ جانے والی اس بحث کا آغاز بھی فاضل ناقد نے کیا تھا اور اس کے تمام تنقیدی نکات کا انتخاب بھی ان کی اپنی صواب دید پر مبنی تھا۔ سوال یہ ہے کہ ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کا حکم لگا کر اور ’’تین آپشنز‘‘ کی راہ دکھلا کر مذکورہ علمی مباحث سے جو گریز کیا گیا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ فاضل ناقد نے غامدی صاحب کے تصور فطرت پر اپنی تنقیدات سے رجوع کر لیا ہے؟ اگر اس کے یہی معنی ہیں تو فاضل ناقد کی جانب سے اس کا برملا اظہار ہی حق پرستی کا تقاضا ہے۔ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ فاضل ناقد کو ہمارے پیش کردہ دلائل سے اتفاق نہیں ہے؟ اگر یہ بات ہے تو انھیں ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ میں پڑنے کے بجائے ہمارے دلائل کی تردید میں اپنا استدلال پیش کرنا چاہیے۔ یہی علم ہے، یہی اخلاق ہے اور یہی دین ہے۔ لیکن اگر صورت یہ ہے کہ میرے پاس آپ کے استدلال کا جواب بھی نہیں ہے اوراپنے موقف کی مدافعت میں کوئی دلیل بھی نہیں ہے اور اس کے باوجود میں آپ کی بات کو غلط کہنے اور اپنی بات کو صحیح کہنے پر اصرار کرتا ہوں اور مستزاد یہ کہ میرا یہ رویہ کسی دنیوی معاملے میں نہیں، بلکہ اللہ کے دین کے معاملے میں ہے تو پھر مجھے اس دن کے بارے میں متنبہ رہنا چاہیے جس دن ہمارے ہر قول و فعل کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
فاضل ناقد نے اپنی جوابی تحریر میں اس بحث پر ہمارے دلائل سے تو کوئی تعرض نہیں کیا، البتہ اس بحث کے حوالے سے بعض اضافی باتوں پر مبنی ایک تقریر ارشاد فرمائی ہے۔ یہ تقریرفاضل ناقد کے چند تبصروں کا مجموعہ ہے۔ایک تبصرہ یہ ہے کہ اہل ’’المورد‘‘ جب چاہتے ہیں امت کی متفقہ رائے کو نظر انداز کر کے اس کے مقابل میں منفرد رائے قائم کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فقہا کی شاذ آرا کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کر لیتے ہیں۔ (الشریعہ ، اگست ۲۰۰۷،۴۵)
اس تبصرے پر بصد ادب ہمارے دو سوال ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ ’’جب چاہتے ہیں‘‘کے الفاظ سے کیا مراد ہے؟اہل ’’المورد‘‘کی جو آرا فاضل ناقد نے تنقید کے لیے منتخب کی ہیں، کیا اہل ’’المورد‘‘ نے انھیں عقل و نقل کے دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر علم و اخلاق کی رو سے ’’جب چاہتے ہیں‘‘کا فتویٰ صادر کرنے کی کیا گنجایش ہے؟ اس صورت میں کیا واحد راستہ یہ نہیں ہے کہ زیر تنقید رائے کے دلائل کو چیلنج کر کے ان کی غلطی کوواضح کیا جائے؟
دوسراسوال یہ ہے کہ ’’فقہاء کی شاذ آراء کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کر لینے‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ ’’شاذ آراء‘‘ کی اس تعبیر کا مصداق اگر امام رازی، علامہ آلوسی، مفتی محمد شفیع اور مولانا مودودی جیسے مفسرین اور امام شافعی، علامہ کاسانی حنفی، امام ابن قتیبہ،ابن قدامہ حنبلی اور ابن حزم جیسے فقہا کے وہ حوالے ہیں جنھیں ہم نے اپنے موقف کی تائید میں نقل کیا ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ فاضل ناقد لغت میں سے’’شاذ‘‘ کے معنی و مفہوم کو تبدیل کر دیں۔ بصورت دیگر، انھیں یہ بتانا ہو گا کہ وہ کون کون سے علما و فقہا ہیں کہ جن کے حوالے اگر پیش کر دیے جائیں تو مذکورہ رائے ’’ شاذ‘‘ کے دائرے سے نکل کر معروف ، متداول اورمتفق علیہ قرار پا سکتی ہے۔
فاضل ناقد نے اپنی اس تقریر میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی شرح و تفسیر میں جن علما و فقہا کے حوالے دیے گئے ہیں، اگر ان کا فہم ہمارے لیے حجت ہے تو ر جم کی سزا، ارتداد کی سزا، نزول مسیح، تصویر کاجواز اور قراء توں کے اختلاف جیسے مسائل پر بھی ہمیں ان علما و فقہا کے فہم پر اعتماد کرنا چاہیے۔
فاضل ناقد کی اس بات کے معنی یہ ہیں کسی صاحب علم کی اگر ایک رائے قبول کی ہے تو لازم ہے کہ اس کی باقی آرا کو بھی قبول کیا جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ علم و استدلال کی دنیا میں اس مطالبے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔جن اصحاب علم کے لیے یہ استحقاق طلب کیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے خود بھی کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیشہ فرد کے بجائے اس کے موقف اور اس موقف کے استدلال کو موضوع بنایا۔ سلف صالحین کا یہی منہج ہے جسے بعد میں آنے والوں نے بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کیا اور اس میں کبھی تامل نہیں کیا کہ اگر ایک معاملے میں طبری اور ابن کثیر کی رائے قبول کی ہے تو دوسرے معاملے میں رازی اور زمخشری کی رائے کو اختیار کیا جائے۔ اہل علم کی یہی روایت ہے جسے دور جدید میں علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی ،سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔
فاضل ناقد نے اپنی تقریر میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیرمیں جن علما و فقہا کے حوالے نقل کیے گئے ہیں، ہم نے ان کی آرا تو نقل کر دی ہیں، مگر ان کا استدلال بیان نہیں کیا۔
اس بات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فاضل ناقد مذکورہ بحث میں ہمارے پیش کردہ حوالوں کا توجہ سے مطالعہ نہیں کر سکے ۔ ہم نے جو حوالے نقل کیے تھے، ان میں علما و فقہا کا استدلال نہایت واضح طور پر بیان ہوا ہے۔ فاضل ناقد اگر ایک مرتبہ پھر ان کا مطالعہ کریں تو انھیں معلوم ہو گا کہ ان میں طیبات کی حلت اور خبائث کی حرمت کے لیے سورۂ اعراف کی آیت ’وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ ‘ (یہ پیغمبر ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھیراتا ہے) کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کی شرح و تفسیر کے ضمن میں ہم نے امام رازی کا اقتباس نقل کیا تھا جس میں انھوں نے فرمایا:
’’’ویحل لہم الطیبات‘: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جن کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، مگر یہ بات دو پہلووں سے بعید ہے۔ ایک یہ کہ اگر اس کا معنی یہ ہوتا تو پھر الفاظ یہ ہوتے کہ ’ویحل لہم المحلات‘ (اور پیغمبر ان کے لیے حلال چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے) اور یہ محض تکرار ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ معنی لینے سے آیت فائدے سے خالی ہوجاتی ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جن اشیا کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے، وہ کیا ہیں اور کتنی ہیں۔ لازم ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہوں جو طبیعت کو اچھی لگیں اور جن کو کھانے میں لذت کا فائدہ حاصل ہو۔‘ ‘ (تفسیر کبیر۱۵/ ۲۴)
فاضل ناقد نے حالیہ تحریر میں اپنی تمام علمی تنقیدات اور ان پر ہمارے جوابی دلائل سے تو پوری طرح قطع نظر کیا ہے، البتہ راقم کے ایک گزشتہ مضمون کا یہ جملہ نقل کر کے کہ ’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اورقدیم صحائف بھی ہیں‘‘،سارا زور قلم اس بات پر صرف کیا ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک فطرت بھی ہے۔فاضل ناقد نے یہ مقدمہ ’’ جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت‘‘ کے زیر عنوان اپنے گزشتہ مضمون میں بھی پیش کیا تھا، مگر ہم نے اسے موضوع بحث نہیں بنایا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ مقدمہ غامدی صاحب کی تحریر پر مبنی نہیں تھا اور اس پر گفتگو ’’فکر غامدی، ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے اس دائرے سے باہر نکلتی تھی جسے خود فاضل ناقد نے قائم کیا تھا۔ لیکن اب جبکہ فاضل ناقد نے اپنی مختصر سی تحریر میں ہمارے اس جملے کو پانچ مرتبہ نقل کر کے اپنے ’’تحقیقی اور تجزیاتی مطالعے‘‘ میں اس کی غیر معمولی اہمیت کا تاثر دیا ہے تو اس سے صرف نظر کرنا ان تحقیقات کی قدر ناشناسی پر محمول ہو سکتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس کے بارے میں بھی اپنی معروضات پیش کر دی جائیں۔
مذکورہ جملہ راقم کے ایک مضمون ’’اسلام اور موسیقی‘‘سے منتخب کیاگیا ہے جو مارچ ۲۰۰۴ کے ماہنامہ’’ اشراق‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ یہ اس کی ایک بحث ’’قرآن اور موسیقی‘‘ کے تمہیدی نوٹ کا جز ہے۔ قارئین کے ملاحظے کے لیے یہ نوٹ حسب ذیل ہے:
’’قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے ۔ دین کی ابتدا اس کتاب سے نہیں ، بلکہ ان بنیادی حقائق سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے ۔ پھر تورات، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلووں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بالعموم ان مسلمات کی تفصیل نہیں کرتا جو دین فطرت کے حقائق کی حیثیت سے انسانی فطرت میں ثبت ہیں یا سنت ابراہیمی کی روایت کے طور پر معلوم و معروف ہیں ۔ (۱۱)
اس عبارت میں ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘ کے تحت فٹ نوٹ میں ہم نے لکھا ہے کہ ’’اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘ کے صفحہ ۴۷ پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘ کے زیر عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔‘‘
ہمارے اس نوٹ سے فاضل ناقد نے جو معنی اخذ کیے ہیں اور ہماری تحریر کو اپنے مفہوم کا جامہ پہنانے کے لیے جس جاں فشانی سے کام لیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:
- لکھا گیاہے:’’منظور الحسن صاحب کا دعویٰ تھا کہ غامدی صاحب نے ’اصول و مبادی‘ میں ’فطرت کے حقائق ‘ کو ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر بیان کیا ہے ‘‘۔ (ماہنامہ الشریعہ اگست ۲۰۰۷، ۴۳)
- حالانکہ اس طرح کا کوئی دعویٰ زیر بحث اقتباس میں مذکور نہیں ہے۔
- لکھا گیا ہے کہ منظور الحسن صاحب نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں۔
- ’’مآخذ دین‘‘، ’’چار مآخذ دین‘‘ اور ’’غامدی صاحب کے چار مآخذ دین‘‘، ان میں سے کوئی الفاظ ہماری تحریر میں موجود نہیں ہیں۔
- لکھا گیا ہے کہ منظور الحسن نے اپنی اس عبارت کی نسبت غامدی صاحب سے کی ہے۔
- یہ بات بھی درست نہیں ہے ۔ ہم نے یہ نہیں لکھا کہ ’’یہ غامدی صاحب کی بات ہے‘‘، بلکہ یہ لکھا ہے کہ’’ اس موضوع پر مفصل بحث غامدی صاحب کی تالیف ’’میزان‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے‘‘ ۔ یہ دونوں جملے ظاہر ہے کہ بالکل الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔پہلا جملہ مصنف کی نسبت سے ہے، جبکہ دوسرا جملہ موضوع کی نسبت سے ہے۔
- لکھا گیا ہے: ’’منظور الحسن صاحب نے واضح لکھا ہے کہ غامدی صاحب کی’’میزان‘‘ کی عبارت کو کوئی صاحب صرف ان کا فلسفہ نہ سمجھے، بلکہ یہ ان کے مصادر شریعت ہیں۔‘‘
ہمارے اقتباس میںیہ کہیں بیان نہیں ہوا کہ غامدی صاحب کی بات کو ان کا فلسفہ نہ سمجھا جائے۔ ’’مصادر شریعت‘‘ کے الفاظ بھی استعمال نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔فاضل ناقد اس بات سے واقف ہوں گے کہ شریعت دین کا ایک حصہ ہے، کل دین نہیں ہے۔ شریعت کے علاوہ دین کا ایک بہت بڑا جز ایمانیات اور اخلاقیات پر مبنی ہے۔چنانچہ ’’مصادر شریعت‘‘ اور’’ دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ کو ہم معنی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اس تقابل اور تجزیے سے یہ بات اگر چہ پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے مذکورہ اقتباس کو الفاظ و معانی کا جو جامہ پہنایا گیا ہے، وہ قرین حقیقت نہیں ہے، تاہم اگربرسبیل تنزل یہ مان بھی لیا جائے کہ فاضل ناقد کا اخذ و استنباط حرف بہ حرف درست ہے ، تب بھی اس تحقیق انیق پر حسب ذیل بعض ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے کم سے کم ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہیں۔
فاضل ناقد نے اپنی تنقید ’’فکر المورد ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے نہیں لکھی ۔ اگر عنوان یہ ہوتا تو انھیں اس کا حق حاصل تھا کہ ’’المورد‘‘ کے کسی بھی مصنف کی تحریر کو منتخب کرکے اس کا تجزیہ اور تحلیل کرتے۔ ظاہر ہے کہ اس پر کسی صاحب فہم کو اعتراض نہ ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے جو عنوان قائم کیا ہے، وہ ہے: ’’فکر غامدی ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ ‘‘۔فکر غامدی کے’’تحقیقی وتجزیاتی مطالعے‘‘کے لیے غامدی صاحب کی تحریر کے بجائے کسی اور کی تحریر کا انتخاب علم و اخلاق کے کن مسلمات کی رو سے روا سمجھا گیا ہے؟
اس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
’’اصول و مبادی‘‘ میں مآخذدین کے موضوع پر غامدی صاحب کی مفصل تحریر موجود ہے جس میں انھوں نے بیان کیا ہے :
’’دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے:
ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ.(الجمعہ ۶۲: ۲ )
’’وہی ذات ہے جس نے اِن امیوں میں ایک رسول اِنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اِن پر تلاوت کرتا ہے اور اِن کا تزکیہ کرتا ہے اور (اِس کے لیے ) اِنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘ ‘
یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :
۱۔ قرآن مجید
۲ ۔سنت۔ ‘‘ (اصول ومبادی، ۹)
’’اصول و مبادی‘‘ وہ کتاب ہے جسے فاضل ناقد نے اپنی تنقیدات کے لیے منتخب کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا آغاز ہی مآخذ دین کی درج بالابحث سے ہوتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ فاضل ناقد نے غامدی صاحب کے مآخذ دین پر تنقید کے لیے قلم اٹھایا ہے اور انھیں غامدی صاحب کی اس واضح تحریر کو چھوڑ کر راقم کی ایک ایسی تحریر کا انتخاب کرنا پڑا ہے جس میں مآخذ کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوا؟
اس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
فاضل ناقد کے منظور نظر مذکورہ اقتباس کے تحت حاشیے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ ’’اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘ کے صفحہ ۴۷ پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘ کے زیر عنوان ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔‘‘ فاضل ناقد کو اگر غامدی صاحب پر اسی موضوع کے حوالے سے تنقید کرنی تھی تو وہ بآسانی ’’میزان‘‘ کے صفحہ ۴۷سے ’’دین کی آخری کتاب ‘‘ کے مندرجات کونقل کر کے ان پر اپنا زور قلم صرف کر سکتے تھے۔ انھیں اس کو چھوڑ کر ہمارا اقتباس منتخب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟
اس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
’’اسلام اور موسیقی‘‘ کے زیر عنوان ہمارے جس مضمون میں سے فاضل ناقد نے مذکورہ اقتباس اٹھا کر درج بالا مضمون آفرینی کی ہے ، اسی مضمون کی تمہید میں ہم نے نہایت صراحت کے ساتھ حکم شریعت اخذ کرنے کے ذرائع بیان کیے تھے۔ ہم نے لکھا تھا:
’’... دین میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے ۔ ان کی سند کے بغیر شریعت کی فہرست حلت و حرمت میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایمان کا تقاضا ہے کہ جن امور کو یہ جائز قرار دیں،انھیں پورے شرح صدر کے ساتھ جائز تصور کیا جائے اور جنھیں ناجائز قرار دیں ، فکر و عمل کے میدان میں ان کے جواز کی کوئی راہ ہر گز نہ ڈھونڈی جائے۔
کسی معاملے میں دین کا نقطۂ نظر جاننے کے لیے اہل علم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے شریعت کے یقینی ذرائع یعنی قرآن و سنت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پھرحدیث کی کتابوں میں درج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایات کی تحقیق کی جاتی ہے۔اگر موضوع سے متعلق روایات موجود ہوں تو عقل و نقل کے مسلمات کی روشنی میں ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ضرورت ہو تو قدیم الہامی صحائف کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے اور صحابۂ کرام کے آثار کی روایتیں بھی دیکھی جاتی ہیں ۔انجام کار قرآن ، حدیث اور فقہ کے علماے سلف و خلف کی شروح اور توضیحات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‘‘ (اشراق، مارچ ۲۰۰۴، ۸)
فاضل ناقد کو اگرراقم کے مضمون ’’اسلام اور موسیقی‘‘ ہی سے مآخذ دین کی بحث برآمد کرنی تھی تو اس کے لیے واحد جگہ یہی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ اس سے صرف نظر کر کے ایک ایسے مقام کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں یہ موضوع اصلاً زیر بحث ہی نہیں ہے؟
اس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
مذکورہ اقتباس میں ہم نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے ’’دین کے مآخذ‘‘ کے نہیں، بلکہ ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے ۔ یہ تعبیر اختیار کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ کوئی شخص اس بحث کو مآخذ دین کی بحث پر محمول نہ کر لے۔
ہمیں اگر مآخذ دین ہی کی بحث کرنی ہوتی تو اس کے لیے نہ ’’قرآن اور موسیقی‘‘ کایہ مقام موزوں تھا اور نہ ’’مصادر‘‘ کا لفظ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اسلامی علوم میں دین اخذ کرنے کے ذرائع کے لیے ’’مصادر‘‘ کا نہیں، بلکہ ’’مآخذ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ لفظ ایک اصطلاح ہے جس کا ایک متعین مفہوم اور مصداق ہے۔ ’’مآخذ‘‘ کا یہ لفظ اس مفہوم میں اس قدر صریح اور اس قدر متداول ہے کہ فاضل ناقد کو مذکورہ اقتباس پر تنقید کرنے کے لیے جابجا’’مصادر‘‘ کے لفظ کو ’’مآخذ‘‘ کی اصطلاح سے تبدیل کرنا پڑا ہے۔چند جملے ملاحظہ کیجیے:
’’غامدی صاحب کے حوالے سے میں نے وہی بات بیان کی ہے جو کہ منظور الحسن صاحب نے بھی لکھی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں ۔...میں سید منظور الحسن صاحب سے یہ استفسار کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کا اپنے اس فہم کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جس میں انھوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں؟...سب سے اہم بات یہ ہے کہ ۲۰۰۴ء میں منظورا لحسن صاحب کی یہ عبارت ’اشراق‘ میں شائع ہوئی کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔‘‘ (الشریعہ، اگست ۲۰۰۷، ۴۳)
بہرحال،مذکورہ جملے میں’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ کے بارے میں فاضل ناقد اگریہ کہتے کہ مضمون کی تمہید میں شریعت اخذ کرنے کے ذرائع کا بیان، جملے کا سیاق و سباق اورغامدی صاحب کی محولہ عبارت جیسے واضح قرائن اگرچہ اس میں مانع ہیں کہ’’دین کے مصادر‘‘ کے الفاظ سے ’’مآخذ دین‘‘ کی اصطلاح مراد لی جائے، لیکن ’’مصادر‘‘ کا لفظ چونکہ لغوی مفہوم کے اعتبار سے ’’مآخذ‘‘ کے لفظ کے قریب ہے، اس لیے اس کا استعمال خلط مبحث کا باعث بن سکتا ہے اور کوئی شخص اسے ’’مآخذ‘‘کی اصطلاح پر بھی محمول کر سکتا ہے۔ وہ اگر یہ تنقید کرتے تو ہم اسے ہر لحاظ سے صائب قرار دیتے اور اظہار تشکر کے ساتھ قبول کرتے۔ ہم اب بھی ان کے شکر گزار ہیں کہ ان کی تنقید کے نتیجے میں ہمیں اپنی تحریر کے ایک ناموزوں لفظ کو تبدیل کرنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم،فاضل ناقد نے یہ تنقید نہیں کی۔ اس کے بجائے انھوں نے ’’مصادر‘‘ کے لفظ کونہایت بے تکلفی سے ’’مآخذ‘‘ کی اصطلاح اور اس کے جملہ اطلاقات سے تبدیل کیا اور اسی زاویے سے اس پر نقد و جرح کی۔ کیا وجہ ہے کہ یہ تبدیلی کرتے ہوئے ان کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ مصنف نے ’’مآخذ‘‘ کی معروف اصطلاح چھوڑ کر ’’مصادر‘‘ کا لفظ کیوں اختیار کیا ہے؟
اس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
فاضل ناقد کی تنقید کے جواب میں ہم نے نہایت تفصیل کے ساتھ اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ غامدی صاحب فطرت کو ہرگز ’’مآخذ دین‘‘ میں شامل نہیں کرتے۔ ہم نے لکھا تھا کہ غامدی صاحبنے ’’اصول ومبادی‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآن مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیا ہے، لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذ دین کے طور پر پیش نہیں کیا، ورنہ وہ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کی طرح ’’مبادی تدبر فطرت‘‘ کا بھی باقاعدہ عنوان قائم کرتے اور اس کے تحت فطرت اور اس کے تقاضوں کی تعیین کے اصول وضوابط بیان کرتے۔ ۲۰۰۷ء کی ہماری اس وضاحت کے بعد فاضل ناقد ۲۰۰۴ء کے اقتباس کو زیر بحث لانے پر کیوں اصرار کر رہے ہیں؟
اس سوال کا بھی ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
ہمارے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ فاضل ناقد کے پاس بھی ان سوالوں کا جواب ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کیا وہ اس کو اگلے مضمون میں زیر بحث لائیں گے یا انھیں بھی ’’ادھر ادھر کی تاویلات‘‘ کا عنوان دے کر کچھ مزید ’’آپشنز‘‘ پر غور کرنے کا حکم صادر کریں گے۔
خاتمۂ کلام کے طور پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مذکورہ اقتباس کے مدعاکی وضاحت کر دی جائے جو فاضل ناقد کے لیے خلط مبحث کا باعث بنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ غامدی صاحب کی جس بحث کا حوالہ ہم نے اپنے اقتباس میں دیا تھا، اس کی نوعیت اور اس کا مفہوم ہمارے فہم کے لحاظ سے کیا ہے۔
مذکورہ اقتباس میں ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ قرآن مجید کا پس منظر بیان کیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ دین قرآن مجید سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اس پر مکمل ہوتا ہے اور قرآن کے پس منظر میں دین کی جو تاریخ ہے، اس کا آغاز فطرت کے حقائق سے ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری یہ تحریر اپنے مدعا کے کامل ابلاغ سے قاصر ہو، لیکن جہاں تک غامدی صاحب کی ’’میزان ‘‘کے صفحہ ۴۷ کی بحث کا تعلق ہے، جس کا حوالہ ہم نے اس اقتباس کے ساتھ درج کیا تھا، وہ اپنے مدعا میں اس قدر واضح ہے کہ اس سے کم سے کم فطرت کے ماخذ دین ہونے کا مفہوم ہرگز اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ ’’دین کی آخری کتاب‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے ،تاریخی طور پر اس کی وہ پہلی نہیں،بلکہ آخری کتاب ہے۔ دین فطرت، سنت ابراہیمی اور نبیوں کے صحائف تاریخی لحاظ سے اس سے مقدم ہیں۔چنانچہ قرآن کی شرح و تفسیر میں پس منظر کے ان مقدمات کو لازماً ملحوظ رکھا جائے گا۔ انھوں نے لکھا ہے :
’’(قرآن پر غور و تدبر کے اصولوں میں سے )چھٹی چیز یہ ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے ،اس کی وہ پہلی نہیں،بلکہ آخری کتاب ہے۔اس دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اس کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔ ..... ان کتابوں کے متن جب اپنی اصل زبان میں باقی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا اور انھیں یہ قرآن دیا ۔ ...یہ دین کی تاریخ ہے ۔‘‘ (اصول و مبادی ۴۷)
بات کا آغاز بھی اس جملے سے ہوا ہے کہ ’’اس دین کی تاریخ یہ ہے ‘‘ اور اختتام بھی اس جملے پر ہوا ہے کہ ’’یہ دین کی تاریخ ہے۔‘‘ دین کی تاریخ کی بحث کو دین کے مآخذ کی بحث تصور کرنا کیسے ممکن ہوا ہے، اس کا جواب ظاہر ہے کہ فاضل ناقد ہی دے سکتے ہیں۔
دارالعلوم کراچی کا فتویٰ
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
لندن،۱۶ اگست ۲۰۰۷ء
حضرت مولانا !
اگست کے شمارے میں اپنا استفتاء اور اس کا جواب دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ اور ایسا لگا جیسے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
آپ برطانوی مسلمانوں کے موجودہ حالات و گھمبیر مسائل سے بالکل ہم لوگوں ہی کی طرح واقف ہیں۔پھر بھی کیاآپ نے یہ چاہا ہے کہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کا وہ جواب جو صرف مجھ تک اور آپ ہی تک تھا ،ایک معنیٰ میں آپ کی توثیق کے ساتھ، اسلامیانِ برطانیہ تک عام ہو، اور ان کے حالات کی نزاکت جلد سے جلد اپنے بقیہ مراحل ،خد ا نہ کردہ،طے کرلے !
آپ نے یقیناً یہ نہیں چاہا ہوگا۔ لیکن ذرا غور تو فرمائیے۔جب ہمارے ایک بڑے دارالافتاء کا یہ فتویٰ، ادارہ الشریعہ کی سند سے ،لوگوں تک پہنچے کہ برطانوی مسلمانوں کیلئے بھی ملعون رشدی کے قتل کا فتویٰ اصلاً اسی طرح واجب العمل ہے جس طرح پاکستان جیسے کسی مسلم ملک کے مسلمانوں پر،اِلّا یہ کہ وہ راہِ عزیمت چھوڑ کر رخصت کی آسان راہ پہ قناعت کریں، تویہ ہمارے یہاں کے روز بروز شکنجہ کستے ہوئے حالات میں بہتری کی کوئی تدبیر ہوگی یا بد تری کی طرف ایک قدم اور بڑھانے کا ہمت افزا اشارہ؟
اور ،کسی اور کو نہیں تو آپ کو تو آپ کی کتاب’’ حدود آرڈیننس ‘‘کا وہ مقام اس موقع پر یاد دلایا ہی جا سکتا ہے جہاں پاکستان میں اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کے مسئلہ کی مشکلات میںآپ نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کا عمل دخل بتا تے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہمارے یہاں سپریم کورٹ میں ایک کیس کے حوالے سے اس پر بحث ہو چکی ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے اسی اصول پر(کہ ہم نے اس پر دستخط کر رکھے ہیں،اس لئے ہمیں اس معاہدہ کی پابندی کرنی چاہئے)فیصلہ کیا تھاکہ انسانی حقوق کا یہ منشور بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اس معاہدہ کی پابندی ہم پر لازم ہے۔۔۔ ۔‘‘(صفحہ ۱۶)۔نہ آپ کا مقصد اس فیصلہ کی تائید تھا جس میں حالات کے آگے بالکل سر نگوں ہونے کا سبق ہے نہ میرا اس کو دوہرانے سے مقصد یہ ہے۔البتہ حالات سے آنکھیں بند کرکے باتیں کرنا تو زندگی کی راہ نہیں ہے۔ اللٰھُمَّّ اَلْھِمْنا مَراشِدَ اُمورِنا ۔
والسلام
نیازمند
عتیق سنبھلی
الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ڈپٹی ڈائریکٹر اور مولانا حافظ محمد یوسف (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) ناظم کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔
اکادمی کی سال رواں کی رپورٹ احباب ومعاونین کی خدمت میں پیش ہے:
اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز
- ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس سال مسجد کے ہال کا تعمیری کام جزوی طور پر مکمل کیا گیا ہے جس پر ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی ہے جبکہ مسجد کے بقیہ تعمیری کام کی تکمیل کے لیے سات لاکھ روپے کی لاگت کا اندازہ ہے۔
- کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں تقریباً دس لاکھ روپے کی لاگت سے، چار دیواری کی بنیادیں بھرنے کے علاوہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کا ایک بلاک بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ اس مرکز میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی کلاس جاری ہے۔
- کھوکھرکی گوجرانوالہ کے مخیر بزرگ حاجی مہر عبد العزیز صاحب نے جہانگیر کالونی میں ایک کنال رقبہ پر دو منزلہ جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ تعمیر کر کے اس کا انتظام الشریعہ اکادمی کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس کا انتظام اکادمی چلا رہی ہے۔ مولانا مجاہد اختر (فاضل درس نظامی) کو مسجد ابوذرؓ کا خطیب اور امام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خطابت وامامت کے ساتھ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور علاقہ کے نوجوانوں کے لیے فہم دین کورس بھی جاری ہے۔
تعلیمی سرگرمیاں
- عوام الناس کی دینی واخلاقی تربیت کے حوالے سے ’’فہم دین کورس‘‘ کے عنوان سے اکادمی نے جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس کے فوائد وثمرات کے پیش نظر اس سلسلے کو وسیع تر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور رمضان المبارک ۱۴۲۷ھ کے دوران میں شہر کی مختلف مساجد کے ائمہ اور خطبا کے ساتھ مشاورت کی روشنی میں اور ان کے تعاون سے ۲۳ مساجد میں ’’فہم دین کورس‘‘ کی کلاسز کا انعقاد کیا گیا۔
- جولائی ؍ اگست ۲۰۷ میں چالیس روز کے دورانیے پر مشتمل فہم دین کورس کی تین کلاسز منعقد کی گئیں جن سے ۱۰۰ کے قریب نوجوان اور بزرگ طلبہ اور خواتین نے استفادہ کیا۔ ان کورسز کی تکمیل پر اکادمی میں نوجوان طلبہ اور خواتین میں تقسیم اسناد وانعامات کی الگ الگ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں عوام الناس اور خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس کے علاوہ الشریعہ اکادمی کے تعاون سے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران میں شہر کی مختلف مساجد ومدارس میں ’’فہم دین کورس‘‘ کی پچاس سے زائد کلاسز منعقد کی گئیں۔
- موسم گرما کی تعطیلات میں میٹرک پاس طلبہ کو درس نظامی کے درجہ اولیٰ کے مضامین پر مشتمل کورس مکمل کروایا گیا۔ اس سے قبل اس نوعیت کی پانچ کلاسز مکمل ہو چکی ہیں۔
- اسکول وکالج کے طلبہ اور طالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن مجید کی کلاسز کا سلسلہ بحمد اللہ گزشتہ چھ سال سے جاری ہے۔ اب تک طلبہ کی چار کلاسز ترجمہ قرآن مجید مکمل کر چکی ہیں جبکہ طالبات کی دوسری کلاس اس وقت چھبیس پاروں کا ترجمہ پڑھ چکی ہے۔
- مئی ؍جون ۲۰۰۷ میں اکادمی کے زیر اہتمام شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں چالیس روزہ انگلش لینگویج کورس کا جبکہ جون؍ جولائی ۲۰۰۷ میں مرکزی جامع مسجد ہی میں عربی بول چال کورس کا انعقاد کیا گیا۔ ان کلاسز کے لیے روزانہ نماز عصر کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا اور اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی زبان اور عربی بول چال کی تعلیم دی۔ کورس میں مجموعی طور پر چالیس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ دونوں کورسز میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں تقسیم اسناد وانعامات کے لیے ۲۱؍ جولائی ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں طلبہ نے انگریزی اور عربی میں اظہار خیال کے علاوہ ان کورسز کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ مہمان خصوصی کے طور پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث مولانا داؤد احمد شریک ہوئے۔
دعوت وابلاغ
- علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
- اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org کام کر رہی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
- حالات حاضرہ کے حوالے سے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے معلوماتی اور فکر انگیز ہفتہ وار کالم روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔
- اکادمی کے شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام اس سال حسب ذیل کتابیں اور کتابچے شائع کیے گئے:
- ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ (ابو عمار زاہدالراشدی/ معز امجد/ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ خورشید ندیم/ ڈاکٹر فاروق خان)
صفحات : ۲۰۰
- ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل ‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
صفحات: ۱۵۲ - ’’دینی مدارس کا نصاب ونظام نقد ونظر کے آئینے میں‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
صفحات: ۴۱۶ - ’’دینی مدارس اور عصر حاضر ‘‘ (الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تعلیم کے موضوع پر فکری نشستوں اور تربیتی ورکشاپس کی روداد)
صفحات: ۲۳۶ - ’’جامعہ حفصہ کا سانحہ :حالات وواقعات اور اثرات ونتائج‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
صفحات: ۸۰ - ’’ہمارے دینی مدارس: چند اہم سوالات کا جائزہ ‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
صفحات: ۸۸ - ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل : پس منظر اور پیش منظر‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی)
صفحات: ۲۴ - ’’مغرب کی فکری وتہذیبی یلغار اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ (ڈاکٹر محمود احمد غازی)
صفحات: ۳۶
تربیتی ورکشاپس
- ۱۴؍نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا مشتاق احمد، پروفیسر حافظ منیر احمد، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر انعام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے گزشتہ سال کی رپورٹ اور آئندہ سال کے پروگرام کی تفصیل پیش کی۔ تیسری نشست دینی مدارس کے اساتذہ کے درمیان باہمی مشاورت کے لیے مخصوص تھی جس میں اساتذہ نے ورکشاپ میں مختلف حضرات کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کی روشنی میں تبادلہ خیالات کیا اور متعدد سفارشات پیش کیں۔
- ۱۱؍ جون ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے علما اور ائمہ وخطبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی جبکہ مولانا داؤد احمد، مولانا حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالواحد رسول نگری نے عوام الناس میں دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ اس نشست کا اہتمام گزشتہ سال الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی دو درجن سے زائد مساجد میں ۳۰ روزہ فہم دین کورس کے کامیاب سلسلے کے تناظر میں کیا گیا۔ تقریب میں شریک ہونے والے ائمہ وخطبا نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس کار خیر کو پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں اب تک شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں، جن میں خواتین کی تعلیم وتربیت کے ۱۵ مراکز بھی شامل ہیں، اس نوعیت کی کلاسز شروع ہو چکی ہیں۔
علمی وفکری نشستیں
- گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی عالم اسلام کی موجودہ صورت حال، اسلامائزیشن اور دیگر علمی وفکری مسائل پر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مولانا راشدی نے مختلف موضوعات پر لیکچر دیے جن میں سے نمایاں عنوانات یہ ہیں: حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل کا پس منظر، انسانی حقوق کا مغربی تصور اور اسلام، جدید جمہوری تصورات اور اسلامی احکام وتعلیمات، پاکستان میں اسلامائزیشن کے مختلف مراحل، لال مسجد کا سانحہ اور اس کے اسباب وعوامل۔
- میرپور، ڈھاکہ کے ’دار الرشاد‘ کے مہتمم مولانا سلمان ندوی ۲۴؍ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور ایک خصوصی نشست میں علما اور اساتذہ کے ساتھ تعلیمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ احباب نے ان سے بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے نصاب ونظام اور طریق کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
- ۳، ۴، ۵ فروری ۲۰۰۷ کو جامعہ سید احمد شہید لکھنو (انڈیا) میں برصغیر کے دینی نصاب ونظام کے حوالے سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (پاکستان) میں اس سمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست ممتا زماہر تعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم کی زیر صدارت ۳؍ فروری ۲۰۰۷ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی جس میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف، جامعہ عربیہ گوجرانوالہ کے ناظم مولانا ضیاء الرحمن، گورنمنٹ کالج قلعہ دیدار سنگھ کے پروفیسر محمد اکرم ورک، گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ، پروفیسر محمد زمان چیمہ اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
- مارچ ۲۰۰۷ میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے الشریعہ اکادمی میں ’’سنت نبوی کی دستوری اور آئینی حیثیت‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا جس میں دینی مدارس اور اسکول وکالجز کے اساتذہ نے شرکت کی۔ لیکچر کے بعد سوال وجواب کی نشست میں فاضل مقرر نے حاضرین کے مختلف سوالا ت کے جواب بھی دیے۔
- ۳۱؍ مارچ ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہد الراشدی کے مضامین کے دو مجموعوں کی اشاعت کے موقع پر ان کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ مضامین کے یہ دو مجموعے ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ اور ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ تقریب رونمائی سے پروفیسر غلام رسول عدیم، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر محمد شریف چودھری، پروفیسر محمد اکرم ورک اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کے علاوہ جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانش ور جناب نادر عقیل انصاری نے بھی خطاب کیا جبکہ علماے کرام، اساتذہ، پروفیسر صاحبان اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
- حفظ قرآن کریم کے بزرگ استاذ حضرت قاری محمد انور صاحب، جو ایک عرصہ تک گکھڑ میں حفظ قرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور گزشتہ اٹھائیس برس سے مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں، ۲؍ مئی ۲۰۰۷ بروز بدھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے جہاں ان کے شاگرد اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا راشدی نے ۱۹۶۰ء میں گکھڑ میں حضرت قاری محمد انور صاحب سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا تھا۔ تقریب میں شہر بھر سے قاری محمد انور صاحب کے تلامذہ کے علاوہ علما اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
- مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن جولائی ۲۰۰۷ میں اکادمی میں تشریف لائے اور فہم دین کورس میں شریک خواتین سے ’’خواتین کی دینی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انھوں نے مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز کے زیر اہتمام شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں خواتین وحضرات کے لیے فہم دین کورس کی کلاسز کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
رفاہ عامہ
- الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۶۰ تا ۸۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔