اکتوبر ۲۰۰۷ء

مذہب کا ریاستی کردار اور مغربی دانشورمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن مجید کا موثر اور معجز طرز بیانمولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
ماہ رمضان اور قرآن مجیدمولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہمحمد مشتاق احمد 
دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضےڈاکٹر محمود الحسن عارف 
ہماری درس گاہوں میں عربی زبان و ادب کی پس ماندگیمولانا محمد بشیر سیالکوٹی 
امہات المومنین اور آیت حجاب کا حکممحمد رفیق چودھری 
لال مسجدکا سانحہ، علماءِ عظام اور صدر مشرفمولانا عتیق الرحمن سنبھلی 
مکتوب بنام صدر وفاق المدارسقاضی محمد رویس خان ایوبی 
’’ملی مجلس شرعی‘‘ کا قیامادارہ 
حضرت مولانا حسن جانؒ کی شہادت اور مولانا شفیق الرحمن درخواستی کی وفاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

مذہب کا ریاستی کردار اور مغربی دانشور

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نیو یارک سے شائع ہونے والے اردو جریدہ ہفت روزہ ’’نیو یارک عوام‘‘ نے ۳۱؍ اگست تا ۶؍ ستمبر ۲۰۰۷ کی اشاعت میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے آسٹریا کے ایک اخبار ’’آئی پریس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی صورت حال تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال ابتری کے حوالے سے ایسے نقطے پر پہنچ چکی ہے جس نقطے پر بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں یورپ کی صورت حال تھی اور یہ صورت حال دو عالمی جنگوں کا باعث بنی تھی۔ انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی اتار چڑھاؤ جو اس وقت انتہائی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور اسلامی تہذیب تیسری عالمی جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے یہ بھی کہا کہ اسلامی تہذیب بالآخر عالمی دھارے میں شامل ہو جائے گی تاہم اس عمل میں کچھ وقت لگے گا۔
’’نیو یارک عوام‘‘ کے اسی شمارے میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل ارج کیسی کے ایک خطاب کی رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے جو انھوں نے سان جوآن میں نیشنل گارڈ ایسوسی ایشن کی ۱۲۹ویں سالگرہ میں کیا ہے اور جس میں انھوں نے کہا ہے کہ انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی نظریاتی جنگ کئی عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک اعتدال پسند مسلمان انتہا پسند مسلمانوں پر بالادستی نہ حاصل کر لیں، اس لیے سرد جنگ کے دور کی طرح یہ نظریاتی جنگ بھی کئی عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ’’نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کی اس رپورٹ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے جس کا ان دنوں امریکی حلقوں میں بہت چرچا ہے۔ یہ رپورٹ ۹۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا اعلان نیو یارک کے پولیس کمشنر ریمون کیلی نے پریس کانفرنس میں کیا ہے اور اس میں امریکہ کے اندر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ہفت روزہ ’’پاکستان نیوز‘‘ نے، جو نیو یارک سے شائع ہوتا ہے، ۲۳-۲۹ ؍اگست ۲۰۰۷ کے شمارے میں اس کے کچھ حصے شائع کیے ہیں۔ پولیس کمشنر ریمون کیلی نے اخباری کانفرنس میں بتایا کہ اس رپورٹ کو تیار کرنے کے لیے نیو یارک پولیس افسروں نے دنیا بھر کا دورہ کیا ہے اور ۱۰۰ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے گیارہ منصوبوں کے مطالعہ کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ اس میں دہشت گردی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ کن مراحل سے گزر کر کوئی دہشت گرد مکمل دہشت گرد کا روپ دھار لیتا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خطرہ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص زیادہ مذہبی ہو جائے، ڈاڑھی بڑھا لے، لڑکیوں اور نشے سے دوری اختیار کر لے، امریکن پاپ کلچر سے بیزاری ظاہر کرے اور وار گیم کھیلنے شروع کر دے۔ ایسے نوجوان اپنے خاندان سے تعلقات کم کر لیتے ہیں اور ایسی مساجد میں جانا بند کر دیتے ہیں جو کہ شدت پسند نہیں ہوتیں۔ اس کے بجائے وہ شدت پسند مساجد میں جاتے ہیں۔
تحقیقاتی افسر کا کہنا ہے کہ اگر ’’کوئی مسجد جانا چھوڑ دے تو بظاہر لگتا ہے کہ اچھی بات ہے‘‘ مگر یہ ہو سکتا ہے کہ اس نے مسجد آنا اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ اتنی شدت پسند نظریات والے نہیں ہیں۔ رپورٹ میں نوجوانوں کے دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی کی نوکری چھوٹ جائے، نوکری پر تعصب کا شکار ہو جائے، کوئی جانی نقصان ہو جائے، والدین کا انتقال ہو جائے یا پھر کوئی ایسا شخص جو مسلم دنیا پر ہونے والی زیادتی سے ناراض ہو۔
یہ تین رپورٹیں مغرب اور عالم اسلام کے درمیان جاری کشمکش کے بارے میں خود مغربی راہ نماؤں کی طرف سے ظاہر کیے جانے والے خیالات کی ایک جھلک کی حیثیت رکھتی ہیں، ورنہ اگر مغرب میں شائع ہونے والے اخبارات اور جرائد کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو اس جیسے بیسیوں بیانات، مضامین اور رپورٹوں کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جن کی رو سے مغرب کے ذمہ دار دانش وروں، حکمرانوں اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس کشمکش اور تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اسباب کی جڑیں عقیدہ، ثقافت اور کلچر میں پیوست ہیں اور اپنے اسباب، معروضی صورت حال اور نتائج کے حوالے سے یہ واضح طور پر ایک کلچرل اور عقیدہ وثقافت کی جنگ دکھائی دیتی ہے، مگر مسلم دنیا کے ان حکمرانوں اور دانش وروں کے حوصلہ کی داد دینا پڑتی ہے جو ابھی تک مسلسل یہ واویلا کیے جا رہے ہیں کہ مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان اس کشمکش کا عقیدہ وثقافت اور کلچر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جن کے ہر تجزیہ کی تان اس نکتہ پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ مسلمانوں کو اور خصوصاً ان کے دینی حلقوں اور مذہبی راہ نماؤں کو مغرب کے بارے میں اپنی رائے پر نظر ثانی کر نی چاہیے، مغرب کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے۔
ہم ان صفحات میں کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ مغرب نے آسمانی تعلیمات سے انحراف اور ریاست وسوسائٹی کے معاملات سے مذہب کی بے دخلی پر مبنی جس سولائزیشن کو گزشتہ دو صدیوں میں پروان چڑھایا ہے، وہ اسے دنیا پر اپنے سیاسی، عسکری اور معاشی غلبے کی وجہ سے ’’واحد عالمی سولائزیشن‘‘ قرار دے کر اسے میڈیا، لابنگ، عسکری بالادستی اور معاشی تسلط کے ذریعے دنیا بھر سے منوانے کے درپے ہے اور مسلم دنیا چونکہ اپنے عقیدہ وثقافت اور قرآن وسنت کی تعلیمات سے بے لچک وابستگی کے باعث سوسائٹی اور ریاست کے معاملات میں ان کے راہ نمائی کے کردار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے وہ اس کی مزاحمت کر رہی ہے اور جیسا کہ مظلوم، مقہور اور بے بس شخص مزاحمت پر اتر آنے کے بعد جو چیز اس کے ہاتھ میں آ جائے، اسی کو ہتھیار بنا لیتا ہے، اسی طرح ہر طرف سے جکڑی ہوئی مسلم دنیا کا ایک حصہ اس حصار کی رسیوں کو کاٹنے کے لیے جو اس کے بس میں ہے، وہ کیے جا رہا ہے۔
آپ ایک لمحہ کے لیے تصور کیجیے کہ ایک شخص رسیوں سے جکڑا ہوا دشمن کے سامنے پڑا ہے اور دشمن خنجر ہاتھ میں لیے اس کے سر پر کھڑا ہے، وہ شخص خود کو اس صورت حال سے نجات دلانے کے لیے کیا کچھ نہیں کرے گا؟ وہ تڑپے گا، بھاگنے کی کوشش کرے گا، رسیوں کو توڑنے کے لیے دانتوں اور ناخنوں کا استعمال کرے گا، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو پتھروں پر رگڑے گا اور جسم کے جس حصے کو حرکت دینے کی پوزیشن میں ہوگا، اسے وہ دشمن کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس وقت اگر آپ ریفری بن کر سامنے کھڑے ہوں اور اسے سمجھانا شروع کر دیں کہ اس طرح تمھارے دانت ٹوٹ جائیں گے، ناخن اکھڑ جائیں گے، جسم چھلنی ہو جائے گا اور ہاتھ پاؤ ں کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی تو آپ خود اپنے ضمیر سے پوچھ لیجیے کہ آپ کے اس طرز عمل کو کس عنوان سے تعبیر کیا جانا چاہیے؟
ہم کبھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حق میں نہیں رہے۔ ہم نے ہمیشہ اعتدال وتوازن او رپرامن جدوجہد کی بات کی ہے اور اس کی حمایت کی ہے۔ اب بھی ہم دنیا کے کسی بھی حصے میں عام شہریوں اور غیر متعلق اور بے گناہ لوگوں کی جان ومال کو خطرے میں ڈالنے کے عمل کو قابل نفریں سمجھتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مسلم ممالک میں مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد کو بھی درست نہیں سمجھتے اور مسلم معاشروں کی اصلاح اور مسلم ممالک میں اسلامی اقدار وروایات کے نفاذ وتحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کو ہی صحیح اور معقول راستہ تصور کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم ان زمینی حقائق کو بھی نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں کہ:
o --- مغرب اس وقت مسلم دنیا میں سیاسی، معاشی اور عسکری غلبہ کے زور سے جو کچھ کر رہا ہے، اس کا ایک بڑا مقصد مسلمانوں کو اسی طرح آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے معاشرتی اور ریاستی کردار سے دست بردار ہونے پر مجبور کرنا ہے جس طرح مغرب خود یہ دست برداری اختیار کر چکا ہے۔
o --- مغرب نے ’’دہشت گردی‘‘ کا کوئی مفہوم عالمی سطح پر طے کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کر رکھی ہے، اس نے دہشت گردی اور تحریک آزادی کے معاملات کو آپس میں گڈمڈ کر دیا ہے جس سے مظلوم اور غلام قوموں کا خود ارادیت اور آزادی کا حق مجروح ہو رہا ہے۔
o --- مختلف ممالک میں غیر ملکی فوجی تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والے ’‘فریڈم فائٹرز‘‘ کو دہشت گرد قرار دے کر قوموں کی آزادی اور خود مختاری کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
البتہ صورت حال میں ایک مثبت تبدیلی کے آثار بھی نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں جو ہمارے لیے کسی حد تک اطمینان کا باعث ہے۔ وہ یہ کہ سوسائٹی اور ریاست کے معاملات میں مذہب کے کردار کا خلا اب مغرب میں بھی محسوس کیا جانے لگا ہے اور امریکی دانش وروں کے ایک فکری فورم کے ساتھ ہمیں اس سلسلے میں ابتدائی گفتگو کا موقع ملا ہے۔ راقم الحروف نے اس سال شعبان المعظم کا بیشتر حصہ واشنگٹن کے ایک دینی ادارے ’’دار الہدیٰ‘‘ میں گزارا ہے اور اسی دوران میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بہت سے امریکی دانش ور اس پہلو پر کام کر رہے ہیں کہ ریاست کے ساتھ مذہب کا تعلق ختم ہونے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پر کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالا جائے۔ اس سلسلے میں دو امریکی دانش وروں ڈگلس جانسٹن اور سینتھیا سمپسن کی مشترکہ طور پر لکھی ہوئی ضخیم کتاب: "Religion: The Missing Dimension of State Craft" اسی حلقہ کے ایک دوست نے مجھے فراہم کی۔ اس کا پیش لفظ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے تحریر کیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اس کتاب میں مذہب کے ریاستی کردار کی اہمیت پر بات کی گئی ہے۔ اس کتاب کی دیگر تفصیلات اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں، مگر اس کا یہی پہلو میرے لیے کسی حد تک اطمینان بخش ہے کہ مغرب میں ریاست کے ساتھ مذہب کے تعلق کی اہمیت پر دانش وروں میں بحث ہو رہی ہے۔ یہی نکتہ ہمارے دانش وروں کی توجہ کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور مسلم دانش وروں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں مسلمانوں کو مذہب کے ریاستی کردار سے دست برداری کی تلقین کرنے کے بجائے مغرب کو مذہب کے ریاستی کردار کی بحالی کی اہمیت کا احساس دلانے میں صرف کریں کہ وقت کا سب سے اہم تقاضا یہی ہے۔

قرآن مجید کا موثر اور معجز طرز بیان

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو فرائض بیان کیے ہیں، ان میں ایک فریضہ تلاوت کتاب اللہ بھی ہے۔ چونکہ آپ کے اولین مخاطب اہل عرب تھے جن کی مادری زبان عربی تھی، جو اپنے وقت میں فصاحت وبلاغت اور نطق وبیان کے امام سمجھے جاتے تھے، اس لیے وہ محض قرآن پاک کی تلاوت ہی سے اس کا مطلب ومفہوم سمجھ لیتے تھے اور اس کی شیرینی اور ٹھوس دلائل سے لطف اندوز اور متاثر ہوتے تھے۔ قرآن کریم کا طرز ادا، اسلوب بیان اور ترغیب وترہیب کا انداز اس قدر سادہ اور موثر ہے کہ اس سے جس طرح ایک بڑے سے بڑا فلسفی محظوظ ہوتا ہے، اسی طرح اس کے دل کش بیان سے اونٹوں اوربکریوں کا چرواہا بھی اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور جیسے ایک ماہر فلسفی اور عالم اس کے انداز بیان پر داد تحسین دینے پر مجبور ہے، اسی طرح ایک سادہ بدو بھی اس کے پند وموعظت اور رشد وہدایت کے ہمہ گیر اصول پر صد آفرین کہنے پر مجبور ہے۔ یہ قرآن کریم ہی تھا جس نے پہاڑ جیسے مضبوط دلوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر ان میں ایمان واصلاح کا تخم بویا جس سے اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے شیریں ثمرات نمودار ہوئے۔ قرآن کریم وہ اعلیٰ واکمل کتاب ہے جس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں۔ عبارت انتہائی سلیس وفصیح، اسلوب بیان نہایت موثر وشگفتہ اور تعلیم بے حد متوسط ومعتدل ہے جو ہر زمانہ اور ہر طبیعت کے مناسب اور عقل سلیم کے بالکل مطابق ہے۔ اس میں افراط وتفریط کا ادنیٰ شائبہ بھی نہیں ہے۔ اس کا ہر مضمون جچاتلا ہے۔
قرآن کریم کے ذریعے سے جب وحی الٰہی کی بارش ہوتی ہے تو تسلیم کرنے والوں کے دلوں میں ایمان کا پودا اگتا، بڑھتا، پھولتا اور پھلتا ہے اور اس کی بدولت رضاے الٰہی کے ثمرۂ شیریں سے لذت اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ قرآن پاک کی اس شیریں مقالی سے گھبرا کر کفار قریش یہ منصوبہ باندھنے پر کمر بستہ ہو گئے اور بالآخر اس پر عمل کر ہی دکھایا کہ ’’نہ سنو اس قرآن کو اور اس کے سننے میں شور وغل مچا دو تاکہ تم غالب آ جاؤ‘‘۔ (حم السجدۃ آیت ۲۶) اس سے بڑھ کر شکست کا اور کیا مظاہرہ ہو سکتا ہے؟ اور اس سے یہ بھی بخوبی آشکارا ہو گیا کہ وہ لوگ بھی جو اپنی فصاحت وبلاغت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے، قرآن کریم کے دلائل قاہرہ اور براہین ساطعہ سے کس قدر بدحواس ہو جاتے تھے اور قرآن کریم کی آیات کی معجزانہ ادا نے ان کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کر دی تھیں۔

ماہ رمضان اور قرآن مجید

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

قرآن پاک کے رمضان المبارک میں نزول کے متعلق حضرات عبد اللہ بن عباسؓ، سعید بن جبیرؒ ، امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قران پاک کو ماہ رمضان کی ایک رات، لیلۃ القدر میں لو ح محفوظ سے بیت العزت میں اتارا اور پھر وہاں سے پورے تئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کر کے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔ نزول قرآن کی اس رات کے متعلق خود رب العزت نے فرمایا: ’لیلۃ القدر خیر من الف شہر‘، یہ تو ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اگر یہ میسر آ جائے تو اس ایک رات کی عبادت ۸۳ سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ یہ بڑی فضیلت والی رات ہے۔
دیگر آسمانی کتابوں کی فضیلت کے متعلق بھی بہت سی روایات آتی ہیں۔ مثلاً طبرانی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے، تورات ۶ رمضان کو اور انجیل ۱۳ رمضان کو نازل ہوئی جبکہ قرآن کریم ۲۴ رمضان کو نازل ہوا۔ یہ تفسیری روایات سے معلوم ہوا ہے۔ بہرحال رمضان المبارک کا قرآن پاک کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ یہ وہ ماہ مبارک ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بڑی نعمت عطا فرمائی۔
اس ماہ مبارک کو قرآن پاک کے ساتھ بطور یادگار خصوصی لگاؤ ہے، اسی لیے حکم ہے کہ اس مہینے میں قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے۔ اگرچہ محض تلاوت منتہائے مقصود نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس سے نصیحت پکڑی جائے، اس کے بتلائے ہوئے اصولوں کی پیروی کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ اسی لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ’’مقصد از نزول قرآن محض تلفظ نیست‘‘۔ اگرچہ اس زمانے میں محض تلاوت بھی غنیمت ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام کا ارشاد مبارک ہے کہ قرآن پاک کا ایک ایک حرف پڑھنے سے دس دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص خلوص دل کے ساتھ تین حرف ’الم‘ پڑھتا ہے تو تیس نیکیوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی اس قدر برکت ہے کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ قرآن پاک کے علاوہ جو بھی کلام یا اوراد ہیں، انھیں بغیر سمجھے پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں، صرف کلام پاک ہی ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھ کر یا بے سمجھے ہر حالت میں پڑھنے سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس کے لیے صرف ایمان اور نیت صالحہ کی ضرورت ہے۔

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہ

محمد مشتاق احمد

شان نزول کی روایات اور سورتوں کی اندرونی شہادتیں 

کتب تفاسیر میں بعض اوقات ایک ہی سورت کے متعلق شان نزول کی بہت سی روایات مل جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی آیت کے کئی اسباب نزول ذکر کیے جاتے ہیں۔ کبھی آیات کے مضامین کی اندرونی شہادت یہ ہوتی ہے کہ ان کا نزول مکہ میں ہوا تھا، لیکن شان نزول کی روایت میں مدنی دور کا واقعہ ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات سورت کے نظم کی گواہی یہ ہوتی ہے کہ پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی مگر روایات میں بعض آیات کا الگ الگ شان نزول ذکر ہوتا ہے۔ اس قسم کی الجھنوں کے حل کے لیے امام الہند شاہ ولی اللہ نے جو تحقیق اپنے رسالے ’’الفوز الکبیر فی علوم التفسیر‘‘ میں پیش کی ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
صحابہ کرام اور دیگر متقدمین علما جب نزلت فی کذا  اور اس قسم کی دیگر تراکیب استعمال کرتے تھے تو ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب بنا جو اس روایت میں بیان ہوا، بلکہ بعض اوقات ان کی مراد یہ ہوتی تھی کہ عہد نبوی یا اس کے بعد کا یہ واقعہ بھی اس آیت کا مصداق ہے۔ کبھی صحابہ کوئی سوال کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے نازل شدہ کسی آیت سے اس کا حکم مستنبط کرکے بیان فرما دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استنباط بھی دراصل وحی، القا اور نفث فی الروع کی قسم ہوتی، اس لیے اس طرح کے موقع پر فانزل اللہ تعالی قولہ کے الفاظ کا استعمال جائز ہوتا۔ کبھی صحابۂ کرام کے باہمی مباحثوں میں آیات سے استشہاد ہوتا یا بطور تمثیل ان کا ذکر ہوتا۔ اس قسم کی روایات کو بھی مفسرین اسباب نزول میں ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح صحابۂ کرام یہود ، نصاریٰ، مشرکین اور دوسرے فرق ضالہ کی اعتقادی اور عملی برائیاں بیان کر کے کسی آیت کی تلاوت کرتے اور کہتے کہ نزلت فی کذا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ یہی اعمال و عقائد ان آیات کے نزول کا سبب بنے، بلکہ ان کی مراد یہ ہوتی تھی کہ اسی قسم کے عقائد اور اعمال کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ آیات ان عقائد اور اعمال پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔ اسی طرح کبھی قرآن مجید میں اچھے اور برے لوگوں کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔ ان صفات کا کسی خاص شخص یا اشخاص سے مخصوص کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ عام طور پر جن میں بھی وہ صفات ہوں، وہ ان آیات کے مصداق شمار ہوں گے۔ 
شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ فی الجملہ مفسر کے لیے دو چیزوں کی معرفت ضروری ہے : ایک وہ واقعات جن کی طرف آیات میں اشارہ ہو کیونکہ ان کے علم کے بغیر آیات کے ایما کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ واقعات جن سے عام کی تخصیص ہوتی ہو یا اور کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہو۔ اس مؤخر الذکر اصول کو شاہ ولی اللہ علم توجیہ اور تاویل سے متعلق کر دیتے ہیں۔ (۱) 
شاہ صاحب کی رائے کوئی انوکھی یا منفرد رائے نہیں ہے۔ یہی رائے دیگر محققین علما نے بھی اختیار کی ہے۔ (۲) اس اصولی تحقیق کو ماننے کے باوجود مفسرین بالعموم شان نزول کی روایات کو ان کے ظاہری مفہوم کے ساتھ قبول کرکے انہیں سورت کی اندرونی شہادتوں پر فوقیت دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض سورتوں کا نزول ٹکڑوں میں ہوا۔ یہ بھی مسلم ہے کہ بعض سورتوں کے چند ٹکڑے ہجرت سے قبل اور چند ٹکڑے ہجرت کے بعد نازل ہوئے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان ٹکڑوں کی پہچان کے لیے سورت کے اندر کوئی نشانی نہیں پائی جاتی۔ نیز ان دونوں حقائق کے ساتھ ساتھ ایک تیسری حقیقت بھی مسلم ہے کہ بہت سی سورتوں کا نزول یک بارگی ہوا ہے۔ پس کسی سورت کی مختلف آیات کے متعلق محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ چونکہ بعض سورتیں ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ بھی ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے جواب میں بالکل برابر کی سطح پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ بعض سورتیں پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ سورت بھی یک بارگی ہی نازل ہوئی ہوگی۔ گویا ہر سورت کے متعلق الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ پوری کی پوری یک بارگی نازل ہوئی یا اس کا نزول ٹکڑوں میں ہوا، اور اگر ٹکڑوں میں ہوا تو وہ ٹکڑے کب نازل ہوئے؟ اس سلسلے میں شان نزول کی روایات سے یقیناًمدد لی جاسکتی ہے، لیکن کیا سورت کی اندرونی شہادتوں مثلاً سورت کے نظم اور آیات کے سلسلۂ بیان کی بھی اس ضمن میں کچھ اہمیت ہے؟ اگر شان نزول کی روایت اور سورت کی اندرونی شہادت متصادم ہوں تو پھر ترجیح کسے دی جائے گی؟ کیا سورت کی اندرونی شہادت پر اعتماد کرتے ہوئے شان نزول کی روایت کی اسی طرح تاویل کی جائے گی جس طرح شاہ ولی اللہ اور دیگر محققین نے کی ہے یا شان نزول کی روایت کو قبول کرتے ہوئے سورت کی اندرونی شہادت نظر انداز کی جائے گی، یا اس کی تاویل کی جائے گی ؟ 
مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ سورت کے زمانۂ نزول کے تعین کے لیے شان نزول کی روایات کے علاوہ سورت کی اندرونی شہادتوں کا بھی بعض مقامات پر تجزیہ کرتے ہیں۔ سورۃ ابراہیم کے زمانۂ نزول کا تعین کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں : 
’’عام انداز بیان مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا سا ہے۔ سورۂ رعد سے قریب زمانہ ہی کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے۔ خصوصاً آیت ۱۳ کے الفاظ: و قال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا (انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے ) کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ اس وقت مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اہل مکہ پچھلی کافر قوموں کی طرح اپنے ہاں کے اہل ایمان کو خارج البلد کردینے پر تل گئے تھے۔ اسی بنا پر ان کو وہ دھمکی سنا ئی گئی جو ان کے سے رویہ پر چلنے والی پچھلی قوموں کو دی گئی تھی کہ لنھلکن الظٰلمین (ہم ظالموں کو ہلاک کرکے رہیں گے ) اور اہل ایمان کو وہی تسلی دی گئی جو ان کے پیش روؤں کو دی جاتی رہی ہے کہ لنسکننکم الارض من بعدھم (ہم ان ظالموں کو ختم کرنے کے بعد تم ہی کو اس سرزمین میں آباد کریں گے) اسی طرح آخری رکوع کے تیور بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ سورہ مکہ کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ‘‘ (۳) 
بسا اوقات وہ شان نزول کے متعلق مفسرین کے اقوال پر سورت کی اندرونی شہادتوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ مثلاً سورۃ العنکبوت کے زمانۂ نزول کے متعلق وہ کہتے ہیں: 
’’آیات ۵۶ تا ۶۰ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانہ کے حالات جھلکتے نظر آتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا عملی ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کر لیا کہ اس سورہ کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورہ مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے، وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدینہ میں۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس سورہ میں مسلمانوں کو ہجرت کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔ یہ تمام قیاسات دراصل کسی روایت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادتوں پر ان کی بنا رکھی گئی ہے اور یہ اندرونی شہادت ، اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔‘‘ (۴) 
بعض سورتوں کے زمانۂ نزول کی تحقیق میں مولانا مودودی روایات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک روایت کو دوسری پر فوقیت بھی دے دیتے ہیں۔ (۵ ) سورۃ الانعام کی تفسیر کے دیباچے میں انہوں نے مکی سورتوں کے مضامین پر بڑی معرکہ آرا تحقیق کی ہے اور مکی دور کے مختلف ادوار متعین کیے ہیں۔ (۶) تاہم انہوں نے تمام سورتوں میں تحقیق کا یہ معیار برقرار نہیں رکھا۔ مثلاً سورۃ البینۃ کے زمانۂ نزول کے متعلق وہ پہلے مختلف اقوال نقل کرتے ہیں : 
’’اس کے بھی مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی ہے اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ ابن الزبیر اور عطاء بن یسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔ ابن عباسؓ اور قتادہ کے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے ، دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ حضرت عائشہؓ اسے مکی قرار دیتی ہیں۔ ابو حیان صاحب بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفرس صاحب احکام القرآن اس کے مکی ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ ‘‘ (۷) 
اس کے بعد سورت کی اندرونی شہادتوں کے متعلق اتنا کہہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں : 
’’جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے، اس میں کوئی ایسی علامت نہیں پائی جاتی جو اس کے مکی یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔‘‘ (۸) 
مولانا امین احسن اصلاحیؒ سورت کے زمانۂ نزول کے تعین کے لیے سورت کی اندرونی شہادتوں اور نظم کی طرف بھرپور توجہ دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے استاد حمید الدین فراہیؒ سے ایک قدم آگے بڑھا کر یہ طے کیا ہے کہ قرآن مجید کی سورتیں سات گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں ہر گروپ کا اپنا ایک الگ مضمون ہوتا ہے۔ ہر گروپ کا آغاز ایک یا زائد مکی سورتوں سے ہوتا ہے اور ہر گروپ کا اختتام ایک یا زائد مدنی سورتوں پر ہوتا ہے۔ مولانا اصلاحی نے گروپوں کی جو تقسیم کی ہے اور ان میں مدنی اور مکی سورتوں کی جس طرح تقسیم کی ہے، وہ حسب ذیل ہے : 
پہلا گروپ : الفاتحۃ تا المآئدۃ ۔ اس گروپ میں صرف الفاتحۃ مکی ہے ۔ باقی چار سورتیں مدنی ہیں ۔ 
دوسرا گروپ : الانعام تا التوبۃ ۔ اس گروپ میں دو سورتیں الانعام اور الاعراف مکی ہیں جبکہ دو سورتیں الانفال اور التوبۃ مدنی ہیں ۔ 
تیسرا گروپ : یونس تا النور ۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق آخری سورت النور کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں ۔ سورۃ الحج کی صرف چار آیات کو مدنی مانتے ہیں اور مجموعی لحاظ سے وہ اسے مکی دور کے آخر کی سورت قرار دیتے ہیں ۔ 
چوتھا گروپ : الفرقان تا الاحزاب۔ اس میں بھی آخری سورت کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں ۔ 
پانچواں گروپ : سبا تا الحجرات ۔ اس میں سبا سے الاحقاف تک سورتیں مکی ہیں ، جبکہ آخری تین سورتیں: محمد ، الفتح اور الحجرات مدنی ہیں ۔ 
چھٹا گروپ : ق تا التحریم ۔ اس گروپ میں ق تا الواقعۃ سات مکی سورتیں ہیں ، جبکہ الحدید تا التحریم دس مدنی سورتیں ہیں ۔ 
ساتواں گروپ : الملک تا الناس ۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق الملک تا الکافرون مکی سورتیں ہیں ، جبکہ آخری پانچ سورتیں: النصر ، لہب ، الاخلاص ، الفلق اور الناس مدنی ہیں ۔ (۹) 
مولانا اصلاحی قرار دیتے ہیں کہ ان میں ہر گروپ کا اپنا الگ موضوع اور مضمون ہوتا ہے اور گروپ کی ہر سورت اس مرکزی مضمون کے کسی خاص پہلو کی وضاحت کرتی ہے۔ وہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ ہر گروپ کے اندر گروپ کے مضمون کا بتدریج ارتقا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک گروپ کے اندر سورتوں کی ترتیبِ نزولی کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ النسآء اور سورۃ المآئدۃ ایک ہی گروپ میں یکے بعد دیگرے رکھی گئی ہیں ، اس لیے سورۃ النسآء سورۃ المآئدۃ سے قبل نازل ہوئی۔ 
مولانا اصلاحی سورتوں کے باہمی ربط ، گروپ کے مضمون ، سورت کی اندرونی شہادتوں ، نظم اور آیات کے سلسلۂ بیان پر تدبر کرکے سورت کا زمانۂ نزول متعین کرتے ہیں اور اس سلسلے میں یقیناًانہوں نے بڑا قابل قدر کام کیا ہے۔ تاہم زمانۂ نزول کے تعین میں وہ بالعموم روایات کا تجزیہ نہیں کرتے۔ 
سورتوں کے زمانۂ نزول کے تعین میں نظمِ قرآن سے استدلال کے طریقِ کار کو مولانا اصلاحی کے شاگرد جناب جاوید احمد غامدی نے مزید آگے بڑھایا ہے۔ مثلاً سورتوں کے آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کے زمانۂ نزول کو انہوں نے پانچ مراحل میں تقسیم کیا ہے اور طے کیا ہے کہ سورۃ الملک تا سورۃ الجن ’’مرحلۂ انذار‘‘ میں نازل ہوئیں۔ سورۃ المزمل تا سورۃ الم نشرح ’’مرحلۂ انذار عام‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورۃ التین تا سورۃ الکوثر ’’اتمام حجت‘‘ کے دور کی ہیں۔ سورۃ الکافرون تا سورۃ الاخلاص ’’براء ت وہجرت ‘‘ کے مرحلے کی سورتیں ہیں۔ یہ تمام مراحل مکی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ آخری دو سورتیں، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس، مدنی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں۔ (۱۰) 

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کازمانۂ نزول 

سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ میں بظاہر اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول پہلے ہوا۔
وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلَکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ (النحل ، آیت ۱۱۸)
’’اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُوْمَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَالِکَ جَزَیْْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ (الانعام، آیت ۱۴۶) 
’’اور جو یہودی ہوئے، ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ ہو یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں۔‘‘
لیکن دوسری طرف سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ میں بظاہر اشارہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ النحل کا نزول پہلے ہوا۔
وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (سورۃ الانعام ، آیت ۱۱۹)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ ۔ ‘‘
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (النحل ، آیت ۱۱۵)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے ، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ ‘‘
اس مسئلے کے حل کے لیے ہم نے مختلف قدیم اور جدید تفاسیر کا مطالعہ کیا اور مفسرین کرام کی کاوشوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ شان نزول کی روایات اور آیات کی اندرونی شہادتوں کے درمیان توافق و ترجیح کے مسئلے کی شاید سب سے اچھی مثال یہی ہے۔ نیز اس اشکال کے حل سے تورات کے نزول کے متعلق بھی ایک اہم حقیقت ثابت ہوتی ہے۔ 
امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے شان نزول کے متعلق عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت پوری کی پوری ایک ہی رات کو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد آلوسی نے بعض دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کے مطابق اس سورت کی چند آیات مدنی ہیں۔ کسی روایت میں آیات ۱۹ ۔ ۲۰ کو، کسی میں صرف آیت ۱۱۱ کو، کسی میں آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ کو اور کسی میں آیات ۱۹ تا ۲۱ اور آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ کو مدنی قرار دیا گیا ہے ۔ (۱۱) تاہم سورت کے نظم اور آیات کے مضامین اور سلسلۂ بیان کو مدنظر رکھا جائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ پوری کی پوری سورت ایک ہی موقع پر نازل ہوئی۔ جہاں تک بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق روایات کا تعلق ہے، اگر شان نزول کی روایات کے متعلق علمائے محققین کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کی توجیہ بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ یہی بات ان روایات کے متعلق کہی جاسکتی ہے جن میں سورۃ الانعام کی بعض آیات کا الگ الگ شان نزول بیان ہوا ہے۔ 
سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا اشارہ سورۃ الانعام کی طرف ہے ۔ یہاں ہم سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ سے ۱۱۸ تک نقل کردیتے ہیں تاکہ آیت ۱۱۸ کا سیاق بھی معلوم ہو : 
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلاَلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُون (النحل ، آیت ۱۱۵ ۔۱۱۸)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے ۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں ۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ۔ ‘‘
آیت ۱۱۸ کے الفاظ کی سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کے الفاظ کے ساتھ ظاہری مشابہت کی بنا پر عام طور پر مفسرین نے یہ رائے قائم کی ہے کہ سورۃ النحل کا اشارہ سورۃ الانعام ہی کی طرف ہے۔ مثال کے طور پر امام ابن الجوزی کہتے ہیں : 
’’یعنی بہ ما ذکر فی الانعام و ھو قولہ تعالی : و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر۔‘‘ (۱۲) 
امام قرطبی بھی اسی کے قائل ہیں ۔ (۱۳) یہی رائے امام بیضاوی نے قائم کی ہے۔ (۱۴) امام آلوسی بھی اسی کے قائل ہیں ۔ (۱۵) امام طبری نے اس قول کو عکرمہ اور قتادہ جیسے ائمہ تفسیر سے نقل کیا ہے ۔ (۱۶) 
اگر یہ بات تسلیم کی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول سورۃ النحل سے پہلے ہوا تھا۔ اب سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ پربھی نظر ڈالیں : 
وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (سورۃ الانعام ، آیت ۱۱۹)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ ۔ ‘‘
یہ تفصیل قرآن مجید میں چار مقامات پر ذکر ہوئی ہے: سورۃ الانعام ، آیت۱۴۵؛ سورۃ النحل، آیت ۱۱۵؛ سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۳ ، اور سورۃ المآئدۃ ، آیت ۳۔
اب یہاں چار امکانات ہیں : 
(۱) سورۃ الانعام کے اس اشارے کو سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۳ کی طرف مانا جائے ؛ 
(۲) اسے سورۃ المآئدۃ کی آیت ۳ کی طرف مانا جائے ؛ 
(۳) اسے سورۃ الانعام ہی کی آیت ۱۴۵ کی طرف مانا جائے ؛ یا 
(۴) اسے سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف مانا جائے ۔ 
پہلی دو صورتوں میں ماننا پڑے گا کہ سورۃ البقرۃ یا سورۃ المآئدۃ کی مذکورہ آیت مکی ہے، لیکن دونوں سورتوں میں آیات کا سیاق و سباق اور نظم اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں ۔ تیسری صورت مانی جائے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگرچہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ تلاوت میں آیت ۱۱۹ سے مؤخر ہے مگر یہ نزول میں اس سے مقدم ہے۔ گویا نہ صرف یہ کہ ایک ہی سورت کی آیات کی ترتیب تلاوت اور ترتیب نزول میں فرق کو تسلیم کرنا ہوگا بلکہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ سورۃ الانعام کی آیات کئی ٹکڑوں میں نازل ہوئیں۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ سورت کے نظم کے خلاف ہے بلکہ شان نزول کی روایات سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی ۔ چوتھی صورت مانی جائے تو ماننا پڑے گا کہ سورۃ النحل کا نزول سورۃ الانعام سے قبل ہوا تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا صرف ایک ہی امکان ہے اور وہ یہ کہ یہ مانا جائے کہ پہلے سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ نازل ہوئی، پھر سورۃ الانعام نازل ہوئی، اس کے بعد سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ نازل ہوئی۔ لیکن کیا سورۃ النحل کی آیات کا نظم اس بخیہ گری کی اجازت دیتا ہے؟ 
مولانا مودودی نے اس اشکال کا ذکر کیا ہے اور یہی حل پیش کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : 
’’ ہمارے نزدیک اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ پہلے سورۂ نحل نازل ہوئی تھی جس کا حوالہ سورۂ انعام کی مذکورۂ بالا آیت [۱۱۹] میں دیا گیا ہے۔ بعد میں کسی موقع پر کفارِ مکہ نے سورۂ نحل کی ان آیتوں پر وہ اعتراضات عائد کیے جو ابھی ہم بیان کرچکے ہیں۔ اس وقت سورۂ انعام نازل ہوچکی تھی، اس لیے ان کو جواب دیا گیا کہ ہم پہلے ، یعنی سورۂ انعام میں بتا چکے ہیں کہ یہودیوں پر چند چیزیں خاص طور پر حرام کی گئی تھیں۔ اور چونکہ یہ اعتراض سورۂ نحل پر کیا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب بھی سورۂ نحل ہی میں جملۂ معترضہ کے طور پر درج کیا گیا۔‘‘ (۱۷) 
یہی رائے مولانا اشرف علی تھانوی نے قائم کی ہے۔ وہ اس اشارے کا سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۵ کی طرف ہونا بعید اور سورۃ المآئدہ آیت ۳ کی طرف ہونا مستحیل قرار دیتے ہیں ۔ (۱۸) لیکن چونکہ وہ بھی یہی قرار دیتے ہیں کہ سورۃ النحل آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام آیت ۱۴۶ کی طرف ہے، اس لیے وہ اس پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ قرار دیں کہ یہ آیات مختلف ٹکڑوں میں نازل ہوئیں ۔
یمکن ان یکون تقدم النحل علی الانعام باعتبار اکثر الاجزاء لا کلھا، و یکون قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا الخ متأخراً عن سورۃ الانعام، لاسیما عن قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ، فافھم۔(۱۹) 
لیکن جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ، سورۃ النحل کی آیات ۱۱۵ تا ۱۱۸ کے سلسلۂ بیان اور نظم کی قطعی شہادت یہ ہے کہ یہ آیات ایک ہی موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ پھر اس اشکال کا حل کیا ہوسکتا ہے ؟ 
بعض مفسرین نے یہ رائے اختیار کی کہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ کا اشارہ سورۃ المآئدۃ آیت ۳ کی طرف ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوا کہ سورۃ المائدۃ تو مدنی ہے۔ (۲۰) امام قرطبی نے بھی اس اعتراض کا ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ فصّل کو یفصّل سمجھا جائے تو پھر یہ اشارہ سورۃ المائدۃ کی طرف ہوسکتا ہے۔ (۲۱) لیکن اس تاویل کا ضعف نہایت واضح ہے کیونکہ آیت میں لوگوں کو توبیخ کی جارہی ہے کہ تمہارے لیے حرام ذبائح کا حکم پہلے ہی سے واضح کیا جاچکا ہے، پھر بھی تم اس حلال ذبیحے کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ! اگر فعل ماضی کو فعل مضارع میں تبدیل کیا جائے تو یہ توبیخ بالکل ہی بے معنی ہوجاتی ہے۔ 
امام آلوسی نے خود یہ رائے اختیار کی کہ یہ اشارہ سورۃ الانعام ہی کی آیت ۱۴۵ کی طرف ہے ۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ آیت ۱۴۵ تو آیت ۱۱۹ کے بعد ہے۔ آلوسی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ تلاوت میں مؤخر ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے ۔ (۲۲) لیکن بصد ادب و احترام گزارش ہے کہ یہ بات نہایت ضعیف ہے کیونکہ اولاً تو تلاوت میں مؤخر ہونے کی وجہ سے اصولاً یہ احتمال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے، اس لیے جو اسے نزول میں مقدم کہتے ہیں ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں قوی دلیل پیش کریں۔ ثانیاً ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ سورۃ الانعام کا نظم اور آیات کا سلسلۂ بیان قطعی شہادت دیتے ہیں کہ یہ پوری کی پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی ہے ، اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہوئی ہے۔ خود امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے نزول کے متعلق جو روایات نقل کی ہیں، ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۱۱۹ اور آیت ۱۴۵ کا نزول ایک ہی موقع پر ہوا ہے ۔ جن بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق انہوں نے روایات نقل کی ہیں، ان میں آیت ۱۴۵ نہیں ہے ۔ 
ان چاروں اقوال کی بنا یہ امر ہے کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف ہے کیونکہ ان کے الفاظ میں بھی ظاہری مشابہت ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قول مانا جائے تو سورت کی آیات کے سلسلۂ بیان اور نظم کو توڑنا پڑتا ہے۔ بعض مفسرین نے ایک پانچواں امکان بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ سورۃ الانعام آیت ۱۱۹ میں اشارہ وحی غیر متلو میں بیان شدہ احکام کی طرف ہے۔ (۲۳) لیکن ظاہر ہے کہ یہ محض بات بنانا ہی ہے۔ یہ قول محض اس وجہ سے وجود میں آیا ہے کہ چاروں اقوال کی غلطی واضح تھی اور کوئی اور حل نظر نہیں آیا۔ لیکن کیا کوئی اور حل نہیں ہے؟ کیا سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کے اشارے کو سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کے بجائے سورۃ النحل ہی کی آیت ۱۱۵ کی طرف سمجھا جا سکتا ہے؟ یہاں ہم یہ آیات پھر نقل کردیتے ہیں : 
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلاَلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُون (النحل ، آیت ۱۱۵ ۔۱۱۸)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے ۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ۔ ‘‘
مولانا امین احسن اصلاحی سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کی تفسیر میں کہتے ہیں : 
’’یعنی اصلاً یہود پر بھی وہ چیزیں حرام ٹھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات ۱۱۵ میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جو ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔‘‘ (۲۴) 
مفسرین نے چونکہ بالعموم سورۃ النحل آیت ۱۱۸ کے اشارے کو سورۃ الانعام آیت ۱۴۶ کی طرف سمجھا ہے، اس لیے وہ اس بحث میں پڑ گئے کہ سورۃ الانعام آیت ۱۱۹میں اشارہ کس طرف ہے؟اگر یہ بات تسلیم کی جائے کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ النحل ہی کی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے تو سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ پھر سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ کے اشارے کو سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف ماننے میں کوئی اشکال پیش نہیں آتا، نہ ہی ان میں سے کسی بھی سورت کے نظم کو توڑنے کی ضرورت پڑتی ہے ، اور نہ ہی وحی غیر متلو میں مذکور احکام فرض کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا پہلے سورۃ النحل کا نزول ہوا جس میں بتایا گیا کہ شریعت ابراہیمی میں انعام(مویشیوں) میں اصلاً حرام چار چیزیں تھیں۔ یہی شریعت موسوی کا بھی حکم تھا۔ بعد میں ان پر مزید چیزیں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں جو اصل میں حلال تھیں لیکن یہود کے ظلم کی وجہ سے حرام کردی گئیں، ان کی تفصیل سورۃ الانعام میں دے دی گئی جو بعد میں نازل ہوئی۔ سورۃ الانعام میں بعض مسلمانوں کو بھی توبیخ کی گئی جو مشرکین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر بعض ان چیزوں کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا تھا۔ ان کو کہا گیا کہ تمہارے لیے حرام چیزوں کی وضاحت اور اضطرار کی حالت کا حکم پہلے ہی سے سورۃ النحل میں واضح کیا جاچکا ہے، پھر تم کیوں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو ؟ 
اس طرح دونوں سورتوں کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ تاہم اس قول کے ماننے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ پھر ماننا پڑے گا کہ تورات کا نزول بھی قرآن ہی کی طرح تدریجی ہوا تھا نہ کہ یک بارگی۔ اس بات کی تھوڑی سی وضاحت یہاں پیش کی جاتی ہے۔ 

تورات کے احکام کا تدریجی نزول

قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بعض طبی وجوہات کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا، تاہم یہ شریعت ابراہیمی میں حرام نہیں تھا ۔ 
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاًّ لِّبَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِیْلُ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ قُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوْہَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (آل عمران ، آیت ۹۳) 
’’کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام ٹھہرالی تھیں۔ کہہ دو کہ لاؤ تورات اور پڑھو اس کو، اگر تم سچے ہو۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ تورات کے نزول سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے وہ سبھی چیزیں حلال تھیں جو شریعت ابراہیمی میں حلال سمجھی جاتی تھیں اور جو سلیم انسانی فطرت کے مطابق کھانے کی چیزیں (الطعام) سمجھی جاتی تھیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تورات میں یہ تصریح بھی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل پر جو مزید بعض چیزیں حرام کی گئیں، وہ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کے زمانے میں حرام نہیں تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہود کو چیلنج کیاگیا کہ اگر تم اس بات کو غلط سمجھتے ہو تو تورات لے آؤ اور اسے پڑھو ۔ 
بائبل کے سِفر پیدائش میں حضرت نوح علیہ السلام کی طرف وحی کیے گئے بعض احکام بھی موجود ہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے متعلق کہا گیا کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کو دیے گئے۔ ان کو ’’حضرت نوح علیہ السلام کا عہد نامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہود کے بہت سے علما کی رائے یہ ہے کہ ’’غیر قوموں‘‘ کے لیے تورات کے تمام احکام پر عمل کرنا واجب نہیں بلکہ ان کی نجات کا دارومدار حضرت نوح علیہ السلام کے عہد نامے پر عمل ہے۔ (۲۵) اس عہد نامے میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں : 
’’سب جیتے چلتے جانور تمہارے کھانے کے واسطے ہیں۔ میں نے ان سب کو نباتات کی طرح تمہیں دیا ۔ مگر تم گوشت کو اس کے خون کے ساتھ مت کھانا، کیونکہ میں تمہارا خون ہر ایک جنگلی جانور سے اور ہر ایک آدمی کے ہاتھ سے طلب کروں گا۔ اس آدمی سے بھی جو اپنے بھائی کو مار ڈالے، میں آدمی کی جان طلب کروں گا۔‘‘ (۲۶) 
یہاں نباتات کی طرف اشارے اور جنگلی جانوروں کے ساتھ تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’کھانے کے واسطے ‘‘ (الطعام) حلال جانوروں سے مراد مویشی (انعام) ہیں۔ یہی کچھ قرآن مجید سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت ابراہیمی میں مویشیوں میں اصلاً چار ہی چیزیں حرام تھیں : مردار ، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیاگیا : 
قُلْ لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلیٰ طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْْتَۃً أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِیْرٍ فَإِنَّہُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقاً أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّکَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (الانعام، آیت ۱۴۵) 
’’کہہ دو میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کووہ کھائے حرام نہیں پاتا ، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ، یا سؤر کا گوشت، کہ ان میں ہر چیز ناپاک ہے، یا فسق کرکے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہوجائے ، نہ چاہنے والا بنے اور نہ حد سے بڑھنے والا ، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بھی ابتدا میں یہی چار چیزیں حرام تھیں، جیسا کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ میں ذکر ہوا ہے۔ بعد میں ان کے ظلم کی بنا پر ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں ۔ آیت ۱۱۸ کا اشارہ ، جیسا کہ پیچھے تفصیل سے واضح کیا گیا، سورۃ النحل ہی میں اس سے قبل آنے والی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے۔ گویا آیات کا مجموعی پیغام یہ ہوا کہ یہود پر اصلاً یہی چار چیزیں حرام تھیں، لیکن بعد میں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں جن کی تفصیل سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ میں بیان کی گئی ہے ۔ یہی بات سورۃ النسآء میں یوں کہی گئی ہے: 
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ طَیِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَہُمْ (النساء ، آیت۱۶۰) 
’’پس جو یہودی ہوئے، ان کے ظلم ہی کے سبب سے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے پہلے حلال کی گئی تھیں۔‘‘
اس کی وجہ یہود کا رویہ تھا۔ وہ طرح طرح کے سوالات کرکے خود ہی اپنے لیے مشکلات کھڑی کرتے تھے ۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس قسم کے سوالات سے روکا گیا :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّہُ عَنْہَا وَاللّہُ غَفُورٌ حَلِیْمٌ ۔ قَدْ سَأَلَہَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِکُمْ ثُمَّ أَصْبَحُواْ بِہَا کَافِرِیْنَ (المآئدۃ ، آیت ۱۰۱ ۔ ۱۰۲) 
’’اے ایمان والوا! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جو اگر ظاہر کی گئیں تو تمہیں گراں گزریں گی ۔ اور اگر تم ان کی بابت ایسے زمانے میں سوال کروگے جب قرآن اتررہا ہو تم پر ظاہر کردی جائیں گی ۔ اللہ نے ان سے درگزر کیا ، اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے ۔ اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے ایک قوم نے پوچھیں پھر انہی کے سبب سے کافر ہوگئے ۔ ‘‘
اس کی ایک اور مثال گائے کے ذبح کا واقعہ ہے ۔ ابتدا میں انہیں کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم تھا ۔ (۲۷) پھر انہوں نے طرح طرح کے سوالات کرکے اس حکم کو ایک مخصوص گائے کے ساتھ خاص کرلیا ۔ 
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ چربی کی حرمت کے حکم کو یہود کے احبار کے تشدد نے اور بھی سخت کردیا تھا ۔ چنانچہ اسفار خمسہ میں جہاں چربی کی حرمت کا ذکر ملتا ہے وہاں نہ صرف یہ حکم انتہائی تعمیم کے ساتھ دیا گیا ہے ، بلکہ قرآن مجید کی مذکورہ استثناء ات بھی صراحتاً ختم کردی گئی ہیں۔ سِفر احبار میں یہ حکم یوں بیان کیا گیا ہے : 
’’اور خداوند نے موسیٰ سے کہا: بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو بیل کی، نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔ جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو، ان کی چربی اور کام میں لاؤ تو لاؤ، پر تم کسی حال میں نہ کھانا کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں، وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘ (۲۸) 
ایک اور جگہ اس حکم کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے: 
’’جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمر کے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت، ان سبھوں کو وہ الگ کرے اور کاہن مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشیں قربانی کی غذا ہے جو راحت انگیز خوشبو کے لیے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل در نسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ۔‘‘(۲۹) 
اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ سورۃ النحل میں حلت و حرمت کے ضابطے کے بیان کے بعد یہ کیوں کہا گیا کہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ یہ گویا اصر اور اغلال کی ایک مثال ہوئی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو آزاد کرانے کے لیے آئے۔ (سورۃ الاعراف ، آیات ۱۵۶۔۱۵۷) مگر یہود نے اس نعمت کبریٰ کی قدر نہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کے لیے دلیل یہ پیش کی کہ وہ تورات کے حکم کو منسوخ کررہے ہیں۔ 

حواشی 

(۱) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے : الفوز الکبیر فی علوم التفسیر ، اردو ترجمہ مولانا رشید احمد انصاری ، (مکتبہ برہان ، اردو بازار ، دہلی ، ۱۹۶۳ء)، ص ۳۸ تا ۴۳۔
(۲) تفصیل کے لیے دیکھئے : بدر الدین الزرکشی ، البرہان فی علوم القرآن، (دار الفکر ، بیروت ، ۱۹۸۸ء) ، ج ۱، ص ۴۵۔۶۰۔ 
(۳) تفہیم القرآن ، (ادارۂ ترجمان القرآن، لاہور ، ۱۹۷۴ء)، ج ۲ ، ص ۴۶۸ 
(۴) تفہیم القرآن ، ج ۳ ، ص ۶۷۲ 
(۵) مثال کے طور پر ملاحظہ ہو : سورۃ النور کے زمانۂ نزول پر ان کی تحقیق ، تفہیم القرآن ج ۳ ، ص ۳۰۶۔۱۸ ۳ ۔ 
(۶) تفہیم القرآن ، ج ۱ ، ص۵۲۰ ۔۵۲۳ 
(۷) تفہیم القرآن ، ج ۶ ، ص ۴۱۰ 
(۸) ایضاً
(۹) تدبر قرآن ، (فاران فاؤنڈیشن ، لاہور ، ۲۰۰۱ء ) ، ج ۱ ، ص ۲۴۔۲۷ ؛ ج ۸ ، ص ۴۷۹ 
(۱۰) البیان ، دار الاشراق لاہور ، ۲۰۰۱ ء 
(۱۱) روح المعانی ، (دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۹۸۵ء )، ج ۷، ص ۷۷ 
(۱۲) زاد المسیر ، (مکتبۃ حقانیۃ ، پشاور ) ، ج۴ ، ص۳۸۳ 
(۱۳) الجامع لاحکام القرآن ، (مکتبۃ رشیدیۃ ، کوئٹہ ) ج ۱۰ ، ص ۱۹۷ 
(۱۴) تفسیر البیضاوی ، (مکتبۃ مدنیۃ ، لاہور ) ج۳ ، ص۲۲۴ 
(۱۵) روح المعانی ، ج ۱۴ ، ص ۲۵۷ 
(۱۶) جامع البیان ، (دار الفکر ، دمشق ، ۱۹۷۸ ء ) ، ج ۱۴ ، ص ۱۲۷ 
(۱۷) تفہیم القرآن ، ج ۲ ، ص ۵۷۹ 
(۱۸) بیان القرآن ، (ادارۂ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، ۱۴۲۷ھ ) ، ج ۱ ، ص ۵۸۷ 
(۱۹) ایضاً 
(۲۰) روح المعانی ، ج ۸ ، ص ۱۴ 
(۲۱) الجامع لاحکام القرآن ، ج ۷ ، ص ۷۳ 
(۲۲) روح المعانی ، ج ۸ ، ص ۱۴ 
(۲۳) آلوسی نے اس قول کا ذکر ضعیف صیغے قیل کے ساتھ کیا ہے ۔ (ایضاً ) 
(۲۴) تدبر قرآن ، ج ۴ ، ص ۴۶۰ 
(۲۵) ملاحظہ کیجئے یہودی ربی مائیکل ویشوگروڈ (Michael Wyschogrod) کا مقالہ زیر عنوان Islam and Christianity in the Perspective of Judaism (اسلام اور مسیحیت ، یہودیت کے تناظر میں ) ۔ 
Al-Faruqi, Isma'il Raji, Trialogue of the Abrahamic Faiths, (Virginia: International Institute of Islamic Thought, 1991), pp 13-18 
(۲۶) پیدائش : باب ۹ ، آیات ۳۔۵ 
(۲۷) سورۃ البقرۃ آیت ۶۷ میں گائے کے ذبح کے متعلق پہلا حکم ذکر ہوا ہے ۔ اس میں بقرۃً لفظ آیا ہے جو اسم نکرہ ہے ۔ 
(۲۸) احبار : باب ۷ ، آیات ۲۲۔۲۵ 
(۲۹) ایضاً : باب ۳ ، آیات ۱۵۔۱۷ 

دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے

ڈاکٹر محمود الحسن عارف

(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ میں پڑھا گیا۔)

مولانا ابو عمار زاہدا لراشدی و دیگر معزز علماے کرام و شرکائے سیمینار!
میں سب سے پہلے تو آج کی تقریب کے میزبانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھ جیسے ایک طالب علم کو علما کی اس مجلس میں مدارس سے تعلق رکھنے والے ایک خصوصی مسئلے پر اظہار خیال کی دعوت دی۔ میں سمجھتاہوں کہ اس مسئلے پر زیادہ بہتر تھا کہ دینی مدارس کے کسی استاذ محترم کو اظہار خیال کی دعوت دی جاتی جو اس موضوع پر یقیناًمجھ سے بہتر آپ کی رہنمائی کرتے۔ غالباً میزبانوں کا خیال ہے کہ اس عنوان پر کسی غیر جانب دار مبصر کو اظہار خیال کے لیے کہا جائے، اس لیے ان کی نظر انتخاب مجھ جیسے شخص پر پڑی ہے۔ بایں ہمہ میں کوشش کروں گا کہ مجھے جو ذمہ داری تفویض ہوئی ہے، اس پر ایک غیر جانب دار مبصر کے طورپر روشنی ڈالوں۔
اس سے قبل کہ میں اپنے موضوع پر گفتگو کروں، مناسب خیال کرتاہوں کہ میں ابتدا ہی میں اپنے اس تجربے کا تذکرہ کروں جو مجھے اپنی ابتدائی زندگی میں دینی مدارس کے ایک طالب علم کے طورپر حاصل ہوا۔ مجھے اس پر فخرہے کہ میں نے دینی تعلیم دینی مدارس کے ایک باقاعدہ طالب علم کے طورپر حاصل کی ہے۔ میری طالب علمی کا دور ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۳ء تک پھیلاہواہے اوران آٹھ برسوں میں، میں نے پانچ شہروں میں واقع چھ مدارس سے دینی تعلیم حاصل کی۔ اس وقت وفاق المدارس کا موجودہ سیٹ اب موجود نہ تھا اورطالب علم تعلیمی درجات اور مراحل کے انتخاب میں کافی حد تک آزاد ہوتا تھا اور آٹھ سال کا کورس چھ یا سات برسوں میں مکمل کر لیا جاتا تھا۔ چنانچہ میں نے ایک سال تو فارسی پڑھی اور باقی سالوں میں مدرسہ کاشف العلوم شیخوپورہ، مدرسہ حسینیہ شہداد پور سندھ، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، دار العلوم کبیر والا اور جامعہ مدنیہ وجامعہ اشرفیہ لاہور میں درس نظامی کی تکمیل کی اور دورۂ حدیث میں مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اورمولانا محمد موسیٰ خان صاحبؒ جیسے اساتذہ کرام سے شرف تلمذ حاصل ہوا۔ تحدیث نعمت کے طورپرعرض ہے کہ اس وقت کے سالانہ امتحان میں مدارس میں اول پوزیشن حاصل کرنے کی سعادت تک حاصل ہوتی رہی اور راقم الحروف کا شمار ہمیشہ اچھے طلبہ میں ہوتا رہا۔
اس تفصیل سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ آج کے اس سیمینار میں دینی مداس کی تعلیم کے حوالے سے جو کچھ عرض کیاجائے گا، وہ محض سنائی سنائی باتوں پر مبنی نہیں، بلکہ اس میں سے بہت کچھ ’’آپ بیتی‘‘ اور ذاتی مشاہدے کا نتیجہ ہے۔

دینی مدارس میں تربیتی نظام کی اہمیت وضرورت

جہاں تک آج کے موضوع کا تعلق ہے تو یہ میرے خیال میں بہت اہم بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی، اور اگریہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ تربیت نام کی شے ابھی تک دینی مدارس کی حدود میں داخل نہیں ہوئی۔ دینی مدارس میں تربیتی نظام نہ ہونے کی بنا پر انداز تدریس اور اسلوب تدریس میں عجیب بو العجبیاں دیکھنے میں آتی ہیں اور دینی مدارس سے جو طلبہ فارغ ہوتے ہیں، دینی مدارس کے ذ مہ دار حضرات انہی میں سے کسی ایک کا، ذاتی تعلق یاکسی سفارش کی بنیاد پر اپنے مدرسہ میں استاذ کی آسامی پر تقرر کر دیتے ہیں اور یہ دیکھنے اور جاننے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کرتے کہ مذکورہ فرد میں پڑھانے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں، اور چونکہ مدارس سے طالب علموں کی جو کھیپ تیار ہو رہی ہے، وہ زیادہ تر ایسے ہی اساتذہ کے ’’فیضان علمی‘‘ کا نتیجہ ہے، یہی وجہ ہے کہ دن بدن طالب علموں کا علمی اور فکری معیار گرتا جا رہا ہے اور درس نظامی سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی اکثریت کسی بھی عربی کتاب کو سمجھنا تو درکنار، اس کی عبارت تک پڑھنے سے ناواقف رہتی ہے اور مقابلے کے امتحانات میں معلومات کے فقدان اور نصاب پر گرفت نہ ہونے کی بنا پر اکثرناکام رہتی ہیں اور اکثر وبیشتر نشانہ تضحیک بنتی ہے۔

دینی تعلیم وتربیت کا پس منظر

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دینی تعلیم وتربیت کا یہ سلسلہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے تسلسل کے ساتھ کابراً عن کابر چلا آ رہا ہے اور اس میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی انقطاع واقع نہیں ہوا اور اس میں مسلمانوں کی محنت سے زیادہ قرآن حکیم اور اس کے سایے تلے نشوونما پانے والے علوم وفنون کے اعجازی پہلو کا زیادہ تعلق ہے، اس لیے یقیناًوہ لوگ خوش قسمت اور خوش نصیب ہیں جنہیں ان علوم وفنون کو پڑھنے اور پڑھانے کا موقع ملتا رہا اور جن کے سینے ’’یاد یار مہرباں‘‘ سے اور ہونٹ ’’ذکر یار‘‘ سے معطر اور منور رہے ہیں اور انہوں نے دشمنوں کی ہزاروں کوششوں اور ہزار کاوشوں کے باوجود اس تعلیم کاپرچم سربلند رکھا۔ اللہ تعالیٰ علوم اسلامیہ کے ان جاں بازوں پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔
تاہم دینی مدارس کے موجودہ نصاب اور موجودہ نظام تعلیم کا تعلق متاخرمغلیہ دو رسے تعلق رکھنے والی ایک قد آور اور بالغ نظر ہستی ملا نظام الدین سہالویؒ (۱۰۸۸۔۱۰۸۹ھ مطابق ۱۱۶۱ھ؍۱۷۴۸ء) کی ذات سے ہے جنہوں نے ایک ایسا جامع اور عمدہ نصاب تعلیم متعارف کروایا جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی اسی آب وتاب اور اسی جوش وخروش اور دینی جذبے سے پڑھایا جا رہا ہے۔ اسے دارالعلوم دیوبند کی علمی تحریک نے نئے ’’بال وپر‘‘ عطاکیے جو انگریز کے مکمل تسلط، ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی اور ۱۹۳۵ء میں لارڈ میکالے کی طرف سے آنے والی تعلیمی پالیسی کے عملی نفاذ کے بعد سامنے آئی۔ ملانظام الدین سہالویؒ کا تیار کردہ نصاب تعلیم کا اگر دارالعلوم دیوبند کی علمی اور فکری تحریک کے ذریعے احیا اور اجرا نہ ہوا ہوتا تو شاید یہ نصاب تعلیم ہندوستان کے دوسرے کئی نصا ب ہائے تعلیم کی طرح کبھی کا ختم ہو چکا ہوتا۔ یقیناًاسے دوسری زندگی دارالعلوم دیوبند کی علمی تحریک نے عطا کی ہے۔
نصاب تعلیم کی طرح انداز تدریس بھی صدیوں کی روایت اور قدامت رکھتاہے اور آج بھی درس نظامی کی کتب کو پڑھانے کا طریقہ اورانداز وہی ہے جو صدیوں پہلے ہندوستان بھر میں خصوصاً اور باقی دنیائے اسلام میں عموماً رائج اور نافذ تھا۔ ابتدائی دور میں چونکہ پڑھانے والے اساتذہ تدریس میں خصوصی مہارت رکھتے تھے اور پڑھنے والے بھی محض ذاتی شوق اور محنت سے پڑھایا کرتے تھے، اس لیے اس وقت اساتذہ کی تربیت نہ ہونے کے باوجود بہت عمدہ طریقے سے کام چل رہا تھا۔ اس وقت استاد اور شاگرد کے مابین تعلق کا جو لازوال رشتہ قائم ہوتا تھا، وہ انہیں ایک دوسرے کے قریب کرتا تھا اور چونکہ طلبہ اپنے اساتذہ کے ساتھ جو وقت گزارتے تھے، اس کے دوران وہ اپنے اساتذہ سے سیکھنے کا عمل جاری رکھتے تھے، اس لیے جب وہ مسند تدریس پر فائز ہوتے تو انہیں کوئی دقت اور دشواری پیش نہیں آتی تھی۔
دوسرا اہم اور امتیازی فرق یہ تھا کہ اس دورمیں علوم آلیہ (صرف ونحو اور منطق) پر شروع میں خوب محنت کرائی جاتی تھی جس کی بنا پر طالب علم کی عربی عبارت اور گریمر پر گرفت مضبوط ہو جاتی تھی۔ اس کے لیے اپنے استاد سے سیکھنے کا عمل بہت بہتر ہوتا تھا۔ مگر اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اور طالب علم اور استاد میں فاصلے بڑھ گئے ہیں اور اساتذہ کے دروس محض حاشیوں اور شروح تک محدود ہو گئے ہیں۔ جس استاد محترم سے میں نے کافیہ پڑھا، انہوں نے سات دن اس کے پہلے جملے ’الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفردٌ مفرداً مفردٍ‘ کی تشریح پر لگائے جس کے دوران انہوں نے کافیہ کی ایک شرح کی پوری باتیں اپنے طالب علموں کے گوش گزار کیں، لیکن ان سات دنوں کی اس تقریر میں شایدہی کوئی ایسی بات ہو جو اس وقت کے میرے طالب علمانہ ذہن میں بیٹھی ہو۔ اس طرح مختلف کتابوں کے اساتذہ کرام کی کاپیاں کافی مشہور تھیں۔ میرے ایک استاد محترم نے اس وقت (۱۹۷۳ء میں) ہمیں حدیث کی ایک کتاب کے جو نوٹس لکھوائے تھے، برسہا برس گزرنے کے باوجود نہ تو ان کے ان نوٹس کے الفاظ بدلے ہیں اور نہ ہی ان کے معانی ومضامین میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
یہ میرے اساتذہ کرام کی محنت کا ثمر تھاکہ حدیث کی تعلیم کے دوران بھی ہم پر حدیث کا کوئی رنگ نہیں چڑھا اور ہم بخاری، مسلم اور ترمذی کے درسوں میں بھی قدوری، ہدایہ اور نور الانوار کا مزہ لیتے رہے اورمجھے یہ بھی یاد نہیں کہ چند ایک اساتذہ کرام کے سوا کسی ایک استاد نے کتاب کے مصنف کا یا ان کے حالات کا ذکر کیا ہو اور یہ بتایا ہو کہ یہ کتاب کس دور میں لکھی یا تصنیف کی گئی۔ بعض اساتذہ گھنٹہ بھر کی تدریس کے بعد جب درس گاہ سے رخصت ہوتے تو ہمارا ذہن کورے کاغذ کی طرح خالی اور صاف ہوتا اور ہمیں ان کی لچھے دار تقریروں میں سوائے دوچار جملوں کے کچھ بھی یاد نہ رہتا تھا۔ پھر علا مہ تفتازانی اور جرجانی کے حاشیہ در حاشیوں کا مسئلہ اس پر مستزاد ہے جن کی اٹھائی ہوئی منطقی موشگافیوں سے ذہن تو یقیناًتیز ہوتا ہے، مگر طالب علم کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور مجبوراً امتحان کے وقت دوسرے لوگوں کی تیار کردہ کاپیوں یا نوٹس کا سہارا لینا پڑتا ہے اور جب سے وفاق المدارس کا نظام قائم ہوا ہے، اس وقت سے تو یہ کاپیاں اور یہ نوٹس ایک بین الملکی شے بن گئے ہیں اور طالب علموں کے لیے Guess paper کا سا درجہ رکھتے ہیں۔
دراصل ہر مضمون کو اس کے اپنے ماحول میں مطالعہ کرنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر دینیات کو منطق کے رنگ میں یا حدیث کوفقہ کے انداز میں پڑھایا جائے تو اس سے اس مضمون کی افادیت ختم ہو جاتی ہے اور پڑھنے والا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے ان رویوں پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ حالات اورہمارے دینی مدارس سے تیار ہونے والی علما کی کھیپ اور ان کا معیارِ علمی اور معیارِ تعلیمی، دینی مدارس کے زعما کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے جس کی بنا پر مذہب کی دنیا میں بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں اور ہمیں شاید ابھی تک اس مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا احساس نہیں ہے۔ یہ محض تصویرکا وہ رخ ہے جو شاید ہمارے سامنے نہیں ہے یا جس کی طرف سے ہم نے اپنی آنکھیں عملاً بند کر رکھی ہیں اور ہم کسی بھلے وقت کا انتظار کر رہے ہیں جو شاید کبھی نہیں آئے گا اور ہمیں وہی کچھ ملے گا جو اہم اپنی ان نسلوں کے ذہنوں میں بو رہے ہیں۔

پس چہ باید کرد

اب سوال یہ ہے کہ دینی مدارس کے معیار تعلیم، وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علموں کی بالغ نظری اور انہیں وقت اور زمانے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا سکھانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے اب یہ بات ناگزیر ہوگئی ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کی مناسب وموزوں تربیت کا بھی انتظام اور اہتمام ہونا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ بات عملاً تسلیم کر لی گئی ہے کہ دوسروں کو پڑھانا یا تعلیم دینا یہ ایک الگ اور مستقل فن ہے اوریہ بات ضروری نہیں ہے کہ ایک اچھا عالم ایک اچھا استاد بھی ہو اور یہ فن بھی تعلیم وتعلم کا محتاج ہے۔ خود لفظ تعلیم میں اس عملی پہلو کی طرف رہنمائی پائی جاتی ہے۔ نامورماہر لغات علامہ راغب الاصفہانی نے لفظ تعلیم کی توضیح کرتے ہوئے لکھاہے:
والتعلیم اختص بما یکون بتکریر وتکثیر حتی یحصل منہ اثر فی نفس المتعلم وقال بعضہم التعلیم تنبیہ النفس لتصور ذالک (الراغب الاصفہانی،مفردات فی غریب القرآن،ص۳،بذیل مادہ علم)
’’تعلیم کسی شے کو دہرانے اور کثرت کے ساتھ اس کے تکرار کا نام ہے، تاآنکہ اس کا اثر طالب علم کے نفس پر ظاہر ہو جائے۔ بعض علما نے کہاہے کہ تعلیم اس کے تصور کے لیے نفس کو متنبہ اور آگاہ کرنے کا نام ہے۔‘‘
تعلیم کی اس لغوی تشریح سے واضح ہو جاتا ہے کہ تعلیم بذات خود ایک الگ اور مستقل فن ہے جو سیکھنے سکھانے کا محتاج ہے۔ جبکہ تربیت کا مادہ’’رب‘‘ہے جو کہ مصدر ہے۔ علامہ راغب اس کے متعلق لکھتے ہیں:
الرب فی الاصل التربیۃ ھو انشاء الشئ حالا فحالا الی التمام یقال ربہ ورباہ ورببہ فالرب مصدر مستعار للفاعل (ایضاً، ص۱۸۹، بذیل مادہ رب)
’’الرب کے لغوی معنی ’’تربیت‘‘ کے ہیں، یعنی کسی شے کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچانا۔ اسی مفہوم کے اعتبار سے کہاجاتاہے: ’ربہ ورباہ ورببہ‘۔ اس طرح ’الرب‘ لغوی لحاظ سے مصدر ہے جو فاعل (تربیت کرنے والے) کے مفہوم میں مستعار لیا گیا ہے۔‘‘
اور اگر جدید علم التعلیم کے حوالے سے بات کی جائے تو فن تعلیم یا فن تدریس سے مراد نصاب کو موثر انداز میں طلبہ تک پہنچانے کے لیے موثر حکمت عملی کو اپنانے کا نام ہے۔ اس کے لیے اصول نفسیات اور طرق تدریس کاصحیح فہم ہونا بھی ضروری ہے۔ نظام تعلیم کا یہ پہلو اطلاقی وعملی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید برآں آج کل تعلیم وتدریس کو کسی ایک طریقے تک محدود نہیں سمجھا جاتا، بلکہ دور حاضر میں تعلیم اور تدریس کے بیسیوں طریقے ہیں جو طالب علم اور طالب علموں کے رویے اور ان کی ذہنی سطح اور ان کے فکری افق کو سامنے رکھ کر اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خود استاد یا معلم کی تربیت کا ہونا ضروری ہے۔ پھر جس طرح علم کی تحصیل‘ محنت کے علاوہ اساتذہ کی طرف سے مناسب رہنمائی کی محتاج ہے، اس طرح ’’تربیت معلم‘‘ کے لیے طالب علم میں مناسب وموزوں اہلیت کا ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی طرف سے مناسب رہنمائی کا ملنا بھی ضروری ہے۔
اب آئیے، ہم دیکھیں کہ دینی مدارس کے اساتذہ کی کن کن پہلوؤں پر رہنمائی یا تربیت ضروری ہے۔

۱۔ مقاصد 

دنیا میں جس طرح علوم وفنون میں تنوع اور رنگا رنگی ہے، اسی طرح تدریسی مناہج اور تعلیمی طریقوں میں بھی بڑا تنوع پایا جاتا ہے اور مقاصدتعلیم کو سامنے رکھ کر تعلیم کا منہج اور تدریس کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر مختلف قومیں اور مختلف ممالک اپنی تعلیمی پالیسیاں جاری کرتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمارے دینی مدارس میں تعلیمی مقاصد پر کوئی توجہ اور کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔ اس میں شک نہیں کہ دینی مدارس میں تعلیم کاسب سے بڑا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے اوریہ مقصد بذات خود بڑا مقصد ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے ضمنی اور جزوی مقاصد کا تعین بہرحال ضروری ہے۔
تعلیمی مقاصد کا تعین اوران کے مطابق تعلیمی انداز اور منہج کا اختیار کرنا اس لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ اب دنیا کا ماحول بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اورایک استاد کو اس با ت کا احساس اور ادراک ہونا ضروری ہے کہ اسے کس ماحول میں اورکس انداز سے اپنی بات کہنی ہے۔

۲۔ تعلیم کے جدید طریقے

پھر جیساکہ اوپر ذکر ہوا، ہمارے دینی مدارس میں زیادہ تر، تدریس کا ایک ہی طریقہ رائج اور نافذ ہے جسے درسی کتب کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں استاد خود درسی کتاب سے کچھ حصہ پڑھتاہے یا کسی طالب علم سے پڑھواتاہے اورپھر استاد عبارت کے مشکل مقامات کی تشریح کرتا جاتا ہے اور حسب ضرورت طلبہ سوالات کے ذریعے بھی اپنی مشکلات حل کرتے ہیں۔ تعلیم اور تدریس کا یہ طریقہ اتنا فرسودہ ہو چکا ہے کہ اس سے نہ تو طالب علم میں کوئی علمی مہارت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی استاد کی علمی اور فکری صلاحیتوں میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس انداز تعلیم سے کلاس کے صرف ذہین طلبہ ہی مستفید ہو سکتے ہیں اور ایسے طلبہ جن کا ذہنی اور فکری مستویٰ مختلف ہو، یہ طریقہ تدریس ان کے لیے چنداں فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس عصر حاضر میں تعلیم ایک ’’فن‘‘ اور ایک ’’سائنس‘‘ بن گیاہے اورطالب علموں کو مضمون پڑھانے کے لیے بیسیوں طریقے ایجاد کیے جاچکے ہیں جن میں سمعی اور بصری ذرائع اور وسائل کو اختیار کرکے طالب علموں کے لیے حصول علم میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ہر مضمون اور ہر ایک Subject))کو پڑھانے کا مستقل طریقہ یا طریقے ایجاد کرلیے گئے ہیں، اور جو مضمون جتنا اہم ہوتا ہے، اتنا ہی اسے آسان اور سہل طریقے سے پڑھانے کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عربی صرف ونحو، حدیث ، فقہ اور قرآن مجید کی تدریس کے آسان اور سہل طریقے اختیار کرنا وقت کی سب سے اہم اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ طریقہ ہائے تدریس میں وسعت اور تنوع سب سے پہلے مسلمان علما کے ہاں پیدا ہوا جس کے لیے صحیح بخاری کی کتاب العلم کو دیکھا جا سکتاہے جس میں مسلمانوں کے ہاں اس بارے میں پائی جانے والی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔

۳۔ طلبہ میں نظم ونسق کا مسئلہ

اس سلسلے میں سب سے خراب صورت حال طلبہ کے ساتھ معاملات کی ہے۔ دینی مدارس میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ کا رویہ اور ان کا معاملہ بے حد افسوس ناک حیثیت رکھتا ہے۔ عام طورپر دینی مدارس میں طلبہ کی وہی حیثیت ہے جو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہاں ان کے مزارعوں اور نوکروں کی ہے اوراگر یہ کہاجائے تو بجا ہوگا کہ دینی مدارس میں طلبہ کے کوئی آئینی حقوق نہیں ہیں۔ اسباق کے دوران طلبہ کو زیادہ سوالات پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے قدوری کے سبق میں اپنے استاد سے یہ پوچھا تھا کہ اگر نماز کے دوران میں نمازی کو ایک سے زیادہ مرتبہ سہو ہو جائے تو اس کا کیاحکم ہے؟ تو میرے استاد محترم نے جواب دیا تھا کہ ’’تم مودودی کی طرح خواہ مخواہ کے سوال نہ اٹھایا کرو۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اس کا مزید جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعض اساتذہ سوال پوچھنے پر اپنی درس گاہ سے طالب علم کو نکال دیتے ہیں جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہاں دینی مدارس میں طلبہ کی ذہنی استعداد بڑھانے اور اس بارے میں ان کی رہنمائی کرنے کے بجائے ان کے اندر موجود علمی اورفکری صلاحیتوں کو کچلنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ 
علاوہ ازیں مدارس میں طالب علموں کا گلا گھونٹنے کا قدم قدم پر بندوبست ہوتا ہے تاکہ ان کے اند ر سے ’’لاالہ الا اللہ‘‘ کی کوئی آواز بلند نہ ہو سکے۔ یہ طالب علم انتہائی خوف کے عالم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدارس کی انتظامیہ ہر ممکن طریقے سے طالب علموں کی تذلیل گوار ااور روا رکھتی ہے۔ سب سے زیادہ دکھ ذہنی اورفکری تذلیل کا ہے جس کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ ان رویوں اور طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے زیادہ ترطلبہ کا تعلق پس ماندہ علاقوں اور پس ماندہ خاندانوں سے ہوتاہے، اس لیے وہ اس گھٹے ہوئے اور تذلیل وتحقیر کے ماحول کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں، لیکن ان کے ساتھ روارکھا جانے والا یہ رویہ ان کے اندر موجود ان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کے خاتمے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے یہ توقع رکھناکہ وہ احیا و اشاعت دین کا کام کریں گے، احمقانہ سی بات ہے۔ موجودہ زمانے میں طلبہ سے ڈیلنگ بھی ایک مستقل فن اور ایک مستقل علم بن چکا ہے اور اس کے لیے بھی اساتذہ کی بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔ 
مختصراً یہ کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں اساتذ ہ کی تربیت کا کوئی معقول نظام اپنایا جائے۔ یہ کام وفاق المدارس کی سطح پر بھی کیا جا سکتا ہے اورمختلف مدارس کی سطح پر بھی۔ جن مضامین اور موضوعات میں انہیں تربیت کی ضرورت ہے اورجن جن طریقوں سے انہیں تربیت مہیا کی جا سکتی ہے، ان کا تعین باہم مشاورت سے کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ دینی مدارس میں بطور استاد ہونے والی نئی بھرتی میں انہی تربیت یافتہ اساتذہ کو موقع دیاجائے۔ ا س سے دینی مدارس کی تعلیم میں بہتری آئے گی اور طالب علم کے ذہنی افق میں اضافہ ہوگا۔

ہماری درس گاہوں میں عربی زبان و ادب کی پس ماندگی

مولانا محمد بشیر سیالکوٹی

میں آج کی نشست میں وطن عزیز کی سرکاری اور غیرسرکاری درسگاہوں میں، جن میں ہمارے قابل قدر دینی مدارس یا عربی مدارس سرفہرست ہیں، عربی زبان و ادب کی تعلیم و تدریس کی پسماندگی اور اس کے اسباب اور اس سے پیدا ہونے والے متنوع نتائج پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔

تدریس عربی میں پس ماندگی سے کیا مراد ہے؟

اولاً میں اس امر کا اعتراف کرتا ہوں کہ خصوصا ہماری دینی درسگاہوں میں عربی زبان وادب کی نہایت وقیع اور معیاری کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، نیز عربی گرامر کے دونوں شعبوں یعنی علم صرف اور علم نحو میں مستند اور مفصل کتابوں کی تدریس ہوتی ہے اور ان کی تعلیم وتدریس کئی سال جاری رہتی ہے، جو بڑی محنت اور جانفشانی سے کی جاتی ہے۔ اور پھر ان تینوں علوم (عربی زبان، علم صرف اور علم نحو) کی تدریس کی ذمہ داری صرف کہنہ مشق اور محنتی اساتذہ کو ہی دی جاتی ہے۔ چنانچہ طلبہ وطالبات علم صرف کی گردانوں اور قواعد کو بڑی توجہ سے پڑھتے ہیں بلکہ حفظ کرتے اور فرفر سناتے ہیں اور نحو کے قواعد کو بھی نہایت محنت اور توجہ سے پڑھایا جاتا ہے، پھر بڑی جماعتوں میں عربی زبان کی بلاغت اور معانی کی مستند کتابوں کی تدریس بھی ہوتی ہے۔ تو ان علوم پر اتنی توجہ اور اہتمام کے باوجود ہمارے طلبہ وطالبات ان میں پسماندہ کیوں رہتے ہیں؟ اور اس پسماندگی کا کیا مفہوم ہے؟
اسلامی درسگاہوں کی ان مفید خدمات اور روشن پہلوؤں کے باوجود ہم ان کے فضلا کو دیکھتے ہیں کہ وہ عربی زبان اور عربی ادب دونوں میں پس ماندہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ ان علوم کی پچیس تیس کتابیں پڑھنے کے باوجود عربی زبان کے عملی استعمال یعنی اس میں گفتگو اور تحریر کی قدرت نہیں رکھتے اور سخت ضرورت کے وقت معمولی عربی بول چال اور تحریر سے بے بس نظر آتے ہیں، نیز اہل زبان سے ملاقات کے وقت ان کی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے، اور عصر حاضر کے عربی اخبارات اور مجلات سے استفادہ نہیں کرسکتے۔ وہ صرف قدیم کتابوں کی عبارتوں کو سمجھتے ہیں لیکن جدید عربی لٹریچر کا مطالعہ نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے طویل تعلیمی عرصے میں ان کی کتابوں کا اردو ترجمہ یاد کرتے ہیں، اور ان کے قواعد اور اصولوں کو صرف نظری اور زبانی حد تک رٹنے میں صرف کرتے ہیں اور عربی الفاظ اور تراکیب کے ان روزمرہ استعمالات اور محاوروں سے ناواقف رہتے ہیں جو اہل زبان کے معاشرے میں لکھے بولے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ یہ فاضل حضرات صرف عربی زبان کے مفرد اسماء اور افعال کو کسی حد تک جانتے ہیں اور ان کے عملی استعمال کی شکلوں اور تراکیب سے ناواقف رہتے ہیں۔
اس لیے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ اولاً تو عربی بولنے یا لکھنے سے بچتے ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ اسے بولنے یا لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے جملوں میں لغت، صرف، نحو اور محاوروں کی غلطیاں اتنی کثرت سے ہوتی ہیں کہ ان کی اصلاح کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ انہوں نے اگرچہ زبان کے ان چاروں اجزا کو سالہا سال تک پڑھا بلکہ رٹا ہوتا ہے لیکن انہیں ان کے عملی استعمال کی مشق اورتربیت سے محروم رکھا گیا ہے، لہٰذا اسے لکھنے یا بولنے کی استعداد حاصل نہیں کرسکے، حالانکہ ان کیلئے عربی ایک نہایت آسان زبان ہے۔ اگر انہیں کچھ ہی عملی تربیت کرادی جاتی تو وہ اسے خوب لکھ بول سکتے۔
اب میں محترم علماے کرام، تعلیمی ماہرین، عربی زبان و ادب کے معلمین اورمعلمات نیز اپنے عزیز طلبہ وطالبات کے سامنے اس مسئلے کو آسانی سے پیش کرنے کے لئے عربی زبان کی تعلیم وتدریس کی چند مثالیں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ 

پہلا طریقہ تدریس

یہ ہمارے فاضل دوست جامعہ ..... میں عربی زبان کے مدرس ہیں۔ اس وقت ان کے سامنے اٹھارہ بیس طلبہ بیٹھے ہیں۔ وہ انہیں وفاق المدارس العربیۃ کے نصاب میں مقرر نصابی کتاب قصص النبیین، الجزء الاول پڑھا رہے ہیں جو حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔ معلم اور طلبہ کے ہاتھوں میں کتاب کا ایک ایک نسخہ موجود ہے۔ ان کی تدریس کا طریقہ یہ ہے کہ معلم خود سبق کی عبارت پڑھ رہا ہے اور طلبہ کو اس کے الفاظ اور جملوں کا لفظی اردو ترجمہ بتا رہا ہے جسے وہ سنتے ہیں اور ذہن نشیں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ طلبہ اپنے معلم سے سبق کی عبارت کا لفظی اردو ترجمہ پڑھتے اور اسے یاد کرتے ہیں۔ معلم کے پاس اپنی تیاری کیلئے اس کتاب کا چھپا ہوا اردو ترجمہ موجود ہے جسے وہ حسب ضرورت دیکھ لیتے ہیں۔
نتیجہ : طلبہ سبق کی عبارت کا لفظی اردو ترجمہ سمجھنے اور یاد کرنے لگتے ہیں۔

دوسرا طریقہ تدریس

یہ ہمارے ایک فاضل دوست موقر دار العلوم ...... میں عربی زبان وادب کے مدرس ہیں۔ یہ ابتدائی اور متوسط جماعتوں کو پڑھانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ بھی اس پیریڈ میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب قصص النبیین، الجزء الاول کی تدریس کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی تدریس کا طریقہ پہلے مدرس کے طریقہ تدریس سے کچھ مختلف ہے۔ ان کی جماعت میں تختہ سیاہ موجود ہے اور ہر طالب علم کے پاس نصابی کتاب کے علاوہ اپنی کاپی اور قلم موجود ہے۔ معلم سبق کے آغاز میں تختہ سیاہ پر مناسب اور خوبصورت خط میں سبق کے منتخب الفاظ کی تشریح لکھ رہا ہے جس میں عربی افعال کے معنی اور ان کا ماضی، مضارع اور مصدر، نیز اسم مفرد کا معنی اور جمع، اور جمع اسم کا معنی اور مفرد وغیرہ۔ طلبہ الفاظ کی اس تشریح کو اپنی کاپیوں میں نقل کرکے اسے یاد کر رہے ہیں۔ بعد ازاں معلم سبق کی تدریس اس طریقے پر کرتا ہے کہ ایک طالب علم سبق کی عبارت پڑھتا ہے اور معلم اس کا اردو ترجمہ کرتا جاتاہے۔ یوں پہلے سبق کی تکمیل ہوتی ہے اور طلبہ سبق کی عبارت کے اردو معنی کوآسانی سے سمجھنے لگتے ہیں اور مختلف عربی الفاظ کی تشریح سے واقف ہوتے ہیں۔
نتیجہ : طلبہ سبق کی عبارت کے اردو ترجمہ اورالفاظ کی تشریح کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔

تیسرا طریقہ تدریس

یہ تیسرے معلم معہد اللغۃ العربیۃ اسلام آباد میں اپنے طلبہ کو یہی کتاب قصص النبیین، الجزء الاول پڑھا رہے ہیں۔ بچوں کے سامنے ایک وائٹ بورڈ آویزاں ہے اور ہر بچے کے پاس نصابی کتاب کے علاوہ ایک کاپی اور قلم موجود ہے۔ نیز معلم اور ہر طالب علم کے پاس اس کتاب کی تدریسی گائیڈ (ورک بک) موسومہ دلیل قصص النبیین، الجزء الاول موجود ہے۔ وہ اس گائیڈ کے مطابق سبق کے آغاز میں وائٹ بورڈ پر سبز مارکر سے منتخب الفاظ کے معنی اور تشریح لکھتے ہیں، جسے ہر طالب علم بلند آواز سے پڑھتا ہے، اور اس کے صحیح تلفظ کی مشق کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے اپنی کاپی میں درج کرتا ہے۔ اس کے بعد معلم عربی میں کہتے ہیں: الآن بدأ الدرس، الآن نبدأ الدرس۔ اور سبق کی تدریس شروع ہوتی ہے، تو سبق کو معلم خود نہیں پڑھتا بلکہ اسے باری باری مختلف طلبہ پڑھتے ہیں اور معلم اس کا بامحاورہ اردو ترجمہ بولتا ہے۔ پھر معلم گاہے گاہے طلبہ کو مناسب ہدایات دیتے ہوئے عربی بولتا ہے۔ مثلاً الآن اقرأ أنت یاخالد، الآن اقرأ أنت یا حمزۃ، اور کسی طالب علم کے اچھے نطق پر أحسنت! بارک اﷲ فیک اور کسی سے غلطی سرزد ہونے پر لا، یا عبد الرحمن اور سبق کے اختتام یر الآن انتہی الدرس، الآن انتہت الحصۃ وغیرہ۔ نیز معلم طلبہ کو جملوں کے لفظی ترجمہ سکھانے کے بجائے ان کا بامحاورہ ترجمہ بتاتا ہے۔ اس طرح معلم پہلے پیریڈ میں پہلے سبق کی تدریس مکمل کرتا ہے۔
پھر دوسرے دن وہ طلبہ کو دلیل قصص النبیین، الجزء الاول کے مطابق اس سبق پر عربی میں بول چال کی مشق کراتا ہے، جو دو مشقوں پر مشتمل ہے۔ پہلی مشق میں سبق کے مضمون کے بارے میں عربی زبان میں چھوٹے چھوٹے سوال دئیے گئے ہیں۔ معلم ایک سوال بولتا ہے، تو طلبہ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اگر طلبہ کا جواب غلط یا ناقص ہو تو معلم اسے درست کراتا ہے۔ دوسری مشق میں سبق کے بارے میں لکھے ہوئے جملوں میں خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پر کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔
عربی بول چال کی ان دونوں مشقوں کو طلبہ دو بار زبانی اور تحریری دونوں طرح حل کرتے ہیں؛ پہلے کلاس میں اپنے معلم کی نگرانی میں زبانی حل کرتے ہیں اور پھر انہیں اپنی کاپیوں میں تحریری طور پر حل کرکے لاتے ہیں اور معلم اسے چیک کرتا اور حسب ضرورت تصحیح کرکے اس پر اپنے دستخط کرتا ہے۔
نتیجہ : طلبہ سبق کی عبارت کا با محاورہ اردو ترجمہ سیکھتے ہیں اور مختلف عربی الفاظ کی لغوی تشریح کے ساتھ ان کے تلفظ کی صحت سیکھتے ہوئے روزمرہ کی ابتدائی عربی زبان کو سمجھنے، لکھنے اور بولنے لگتے ہیں کیونکہ انہیں عربی لکھنے اور بولنے کا اچھا ماحول میسر آیا ہے۔

چوتھاطریقہ تدریس

یہ معہد اللغۃ العربیۃ میں عربی زبان وادب کے ایک دوسرے معلم ہیں۔ آئیے ان کی کلاس کو دیکھتے ہیں۔ یہ آج راقم الحروف کی کتاب اقرأ، الجزء الاول کا پہلا سبق پڑھا رہے ہیں۔ اس سبق میں چونکہ ہر چیز کی تصویر کے ساتھ اس کا عربی نام لکھا ہے، اسلئے وہ الفاظ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے، بلکہ ہر چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کا عربی نام پڑھنے کی مشق کراتے ہیں اور اگر طالب علم سے کسی اسم کی خواندگی میں تلفظ کی غلطی واقع ہو تو اسے درست کراتے ہیں۔ کلاس کے شرکاء بالکل نئے ہیں اور آج پہلے دن عربی زبان پڑھنے لگے ہیں اس کے باوجود وہ انہیں براہ راست عربی پڑھنے اور بولنے کی مشق کرا رہے ہیں۔ وہ تمام طلبہ کو ضروری ہدایات بھی عربی میں ہی دے رہے ہیں، اور جہاں دقت پیش آتی ہے، اشارے سے کام لیتے ہیں۔ اب کلاس پہلا سبق ختم کر رہی ہے تو معلم نے انہیں کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ما ہذا؟ سے سوال کرنا سکھا دیا ہے اور اس کا جواب بھی ہذا قلم وغیرہ سمجھا دیا ہے۔اس کے علاوہ ایک اہم اضافی مشق یعنی کسی شخص کے بارے میں سوال کرتے ہوئے من ہذا؟ اور اس کا جواب بھی سکھا دیا ہے، اور اس کے لیے جماعت کے شرکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے من ہذا؟ ہذا أکرم، من ہذا؟ ہذا جمیل الرحمن وغیرہ کی مشق کرادی ہے۔ اور اس نہج کو جاری رکھتے ہوئے سبق کی تینوں مشقیں بھی حل کر ا دی ہیں۔
یوں ان نووارد طلبہ نے آج اٹھارہ بیس چیزوں کے عربی نام سیکھ لئے ہیں اوران کے بارے میں سوال وجواب کی مشق کرلی ہے، اور اس طرح پندرہ بیس اشخاص کے بارے میں من ہذا؟ کی مشق بھی کرلی ہے اور مجموعی طور پر پہلے ہی دن ہذا ......، ہذا ...... کی طرح کے تیس سے زیادہ عربی جملے فرفر بولنے لگے ہیں۔ اب معلم نے طلبہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کل ان مشقوں کو اپنی کاپیوں میں تحریر کرکے لائیں۔
نتیجہ : طلبہ سبق کے جملوں کو براہ راست سمجھنے کے علاوہ انہیں باربار پڑھنے بولنے اور لکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور ان کے تلفظ کی تصحیح بھی کرچکے ہیں۔ کیونکہ انہیں خالص عربی ماحول میں بول چال کی مشق کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔

ہمارے ہاں مروجہ طریقہ تدریس

اب آئیے دیکھیں کہ ہم اپنی درسگاہوں میں اپنے بچوں کو بنیادی عربی زبان کی تعلیم ان چار طریقوں میں کس طریقے پر دے رہے ہیں؟ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ہماری درسگاہوں میں عرصہ دراز سے عربی زبان وادب کی تعلیم کا پہلا طریقہ تدریس ہی رائج ہے اور ہمارے اساتذہ سبق کے لفظوں یا عبارت کو خود پڑھتے ہیں یا کبھی کبھی کسی طالب علم سے پڑھوا کر اس کا اپنی مقامی زبان اردو وغیرہ میں ترجمہ کرتے ہیں، جسے طلبہ وطالبات سنتے اور یاد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری اکثر درسگاہوں میں تفہیم وتعلیم کا بنیادی ذریعہ تختہ سیاہ یا وائٹ بورڈ موجود نہیں ہوتا، اگر موجود ہوتا ہے تو اسے بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کو عربی الفاظ کی تشریح لکھوانے کا اہتمام بہت ہی کم کیا جاتا ہے۔ یوں ہمارے مروجہ نظام تعلیم میں عربی زبان وادب، قرآن کریم اور حدیث شریف نیز صرف ونحو اور فقہ کی تدریس کا یہی منہج جاری ہے کہ سال اول سے لیکر سال ہشتم (دورہ شہادۃ عالمیۃ) تک اور مڈل سے لے کر ایم اے عربی، ایم اے اسلامیات تک، بلکہ پی ایچ ڈی تک عربی عبارتوں کا اردو ترجمہ ہی سکھاتے ہیں، اور ان کا اردو ترجمہ کرلینے اور اپنی زبان میں ان کے مفہوم کی تشریح کرنے کو کامیابی کی منزل قرار دیتے ہیں۔ اس کے سوا وہ اس پورے عرصے میں عربی زبان کے الفاظ اور محاوروں کو لکھنے یا بولنے اور ان کے متنوع استعمالات کی کوئی مشق نہیں کرتے، اور نہ ہی انہیں عربی زبان میں زبانی یا تحریری بول چال کی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ مثلاً ملک کے عربی مدارس کے تمام وفاقوں کے نصاب تعلیم کو دیکھ لیجیے، اس میں ایسی درسی کتابیں بہت کم ملیں گی جن میں متعلقہ مضمون پر سوال وجواب، عربی بول چال اور تحریر وانشاء کی مشقیں موجود ہوں، اور جہاں ایسی بہت ہی کم کتابوں میں ایسی مشقیں موجود ہوتی ہیں ان کی تدریس کرنے والے اساتذہ انہیں نظرانداز کردیتے ہیں اور وہ انہیں زبانی یا تحریری طور پر حل کرانے کا اہتمام نہیں کرتے الا قلیل منہم۔

ہمارے نظام تعلیم میں عربی زبان عملاً متروک ہے

اگر آپ اپنے ملک کے قرآن وحدیث اور عربی ادب کوپڑھنے والے نہایت ذہین اور محنتی طلبہ بلکہ نہایت وسیع اور طویل تدریسی تجربات کے مالک اساتذہ کرام کو دیکھتے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت عربی زبان میں گفتگو اور تحریر میں بے بس ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عربی زبان اس قدر مشکل یا پیچیدہ ہے کہ اسے طویل عرصہ تک پڑھنے اور پڑھانے کے باوجود اس میں مناسب صلاحیت پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ انہیں ان کی طویل تعلیمی مدت کے دوران ایسی تربیت نہیں دی گئی۔ بلکہ انہیں عربی زبان اور ادب کے زبانی اور تحریری استعمال سے مکمل محروم رکھا گیا۔ اس لئے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں عربی زبان کو، غیر شعوری طور پر ہی سہی، عملی طور پر اور مسلسل ترک کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمارے فضلا اس فن میں ترقی نہیں کرسکتے۔
ہماری درسگاہوں میں عربی زبان کی تعلیم وتدریس کے دوران کئی صورتوں میں اس کے عملی استعمال کی راہ نکل سکتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں کرسکے۔ چنانچہ عربی کو ترک کرنے اور نظرانداز کرنے کی کئی صورتیں بالکل واضح ہیں:
۱۔ ہماری نصابی کتابوں میں تمرین وتربیت کی مشقیں موجود نہیں ہیں۔
۲۔ ہمارے اساتذہ بول چال اور تحریر کی مشقیں نہیں کراتے۔
۳۔ ہمارے اداروں میں تشریح وتعلیم کیلئے تختہ سیاہ استعمال نہیں کیا جاتا۔
۴۔ ہمارے اداروں کے داخلی ماحول میں عربی بول چال کا ماحول پیدا نہیں کیا جاتا۔
۵۔ ہمارے معلمین بھی اپنے اسباق کے دوران کلاس میں ایسا عربی ماحول پیدا نہیں کرتے جس سے معلم اور طلبہ کے درمیان باہمی گفتگو میں عربی زبان کے روزمرہ محاورے استعمال ہوتے ہوں۔
اس طرح ہمارے طلبہ اور مدرسین دونوں کو عربی الفاظ یا عبارتوں کا مقامی زبان اردو یا پشتو وغیرہ میں ترجمہ تو یاد رہتا ہے لیکن عربی الفاظ کی سرسری قرأت کے بعد اس کے عملی استعمال کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ یوں ہم اپنے تمام اسباق میں اور تمام تعلیمی مراحل میں عربی زبان کو عملاً اور مسلسل ترک کرتے رہتے ہیں۔
اسلئے ہمارے طلبہ وطالبات بلکہ اساتذہ بھی عربی ایسی آسان زبان کو بھی لکھنے اور بولنے کی معمولی صلاحیت سے قاصر رہتے ہیں۔ اس فرسودہ طریقہ تدریس سے عربی زبان مسلسل ’’متروک‘‘ رہتی ہے۔ اس لئے ہمارے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسلامی درسگاہوں میں عربی زبان عملاً ’’متروک‘‘ ہے۔ اور یہ ایک بدیہی بات ہے کہ جس چیز سے آپ زندگی بھر گریزاں رہیں بلکہ اسے آپ عمداً ترک کریں، وہ آسان ہونے کے باوجود آپ کو نہیں آئے گی۔

معلم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے

محترم حضرات! میں نے بنیادی عربی زبان کی تعلیم وتدریس کے جن چار مختلف طریقوں کا ذکر کیا ہے، ان سب میں ایسی نصابی کتابوں کی مثالیں دی ہیں جو ہمارے اپنے ملک یا علاقے میں لکھی گئی ہیں اور ان میں ہمارے اداروں اور ہمارے طلبہ وطالبات کی ضروریات اور معیار کو ملحوظ رکھا گیاہے اور وہ یہاں زیر تعلیم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر معلم کی مہارت، تجربے اور محنت کی بدولت اس کا طریقہ تدریس دوسرے سے یکسر مختلف ہے اور اس کے مقاصد اور نتائج بھی مختلف ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ
  • تدریس کا پہلا طریقہ بالکل سادہ اور سطحی ہے، اور اس میں عربی عبارت کا صرف لفظی اردو ترجمہ سکھایا جاتا ہے۔
  • دوسرے طریقے میں اردو ترجمہ کے ساتھ منتخب الفاظ کی تشریح سکھائی جا رہی ہے۔
  • جبکہ تیسرا طریقہ تدریس کئی طرح کی محنت اور منصوبہ بندی سے تیار کیا گیا ہے اور اس سے پانچ فوائد کی تکمیل ہورہی ہے۔ (۱) بامحاورہ اردو ترجمہ، (۲) الفاظ کی تشریح، (۳) نطق کی تصحیح، (۴) عبارت کا مکمل فہم اور (۵)عربی لکھنے بولنے کی استعداد۔
  • اسی طرح چوتھا طریقہ تدریس بھی بڑی مہارت اور توجہ سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ کسی زبان کی تدریس کا سب سے زیادہ مؤثر اور نہایت کامیاب طریقہ تدریس ہے، اور تمام مقاصد اور فوائد کی تکمیل کرتا ہے۔ اس سے قارئین اردو ترجمہ کے بجائے براہ راست عربی زبان میں غور وفکر کرتے ہوئے اسے پڑھنے لکھنے اور بولنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔
فرمان باری تعالیٰ ہے: و اَن لیس للانسان الا ما سعٰی  (اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ انسان کو اس کی محنت کے مطابق ہی نتیجہ ملتا ہے)، بہرحال یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت اور تدریس میں معیاری اور اچھی تدریسی کتاب کے ساتھ معلم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس نکتے پر مزید گفتگو کسی دوسرے موقع پر کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

امہات المومنین اور آیت حجاب کا حکم

محمد رفیق چودھری

اگست ۲۰۰۷ء کے ’’الشریعہ‘‘میں جناب ڈاکٹرسید رضوان علی ندوی صاحب کامضمون ’’امہات المومنین کے لیے حجاب کے خصوصی احکام‘‘نظر سے گزرا۔جنا ب ندوی صاحب کے مذکورہ مضمون کی گئی باتوں سے مجھے اختلاف ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
۱۔ندوی صاحب فرماتے ہیں کہ :
’’قرآن میں پر دہ کے کچھ احکام توایسے توہیں جن کاتعلق امہات المومنین یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے اوردوسرے احکام وہ ہیں جوعام مسلمان خواتین سے متعلق ہیں اوربعض حکم ایسے ہیں جن میں دو نوں مشترک ہیں۔‘‘ (ص:۳۷)
مگر آگے چل کر ندوی صاحب نے اپنے عجیب وغریب نظریے کی وضاحت نہیں فرمائی کہ ان تین اقسام کے پردوں کے لیے قرآن وحدیث سے کیادلیل ملتی ہے انہوں نے صرف ایک قسم کے پردے کی وضاحت کرتے ہوئے سورۃ الاحزاب آیت ۳۳کاحوالہ دیاہے باقی دوقسموں کے پردوں کے بارے میں نہ کوئی دلیل دی ہے اورنہ کوئی حوالہ بلکہ اس معاملے سے اعراض کرکے انہوں نے اس بحث میں اچھاخاصاالجھاؤ اورمغالطہ پیدا کردیاہے ،کہ اسلام میں ستر وحجاب کے احکام ازواج مطہرات کے لیے اورہیں اورعام مسلمان خواتین کے لیے اور۔
۲۔جناب ندوی صاحب کے مضمون کادوسرانکتہ جس سے مجھے اختلاف ہے یہ ہے کہ انہوں نے سورۃ الاحزاب کی آیت ۳۳کے الفاظ : ’وقرن فی بیوتکن‘(اوراپنے گھروں میں ٹک کر رہو ...) کے حکم کو صر ف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے ساتھ خاص کردیاہے اوروہ اس حکم میں عام مسلمان عورتوں کوشامل نہیں سمجھتے ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :
’’بعض مفسرین نے قدیم زمانے سے مذکورہ آیت ۳۳ کے پہلے جملے ’وقرن فی بیوتکن‘ (اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو) کا اطلاق عام مسلمان خواتین پر کرکے عورتوں کوگھر کی چار دیواری میں محبوس کردیا‘‘۔ (ص ۳۸)
وہ مزید لکھتے ہیں کہ :
’’عورتوں کوچار دیواری میں رکھنے کے دفاع میں جوکچھ بھی کہا جائے وہ اپنی جگہ لیکن اس کا حکم قرآن میں نہیں ہے۔ اورازواج مطہرات پر قیاس کرتے ہوئے اس حکم کوتمام مسلمان خواتین کے لیے عام کرنا کسی طرح درست نہیں، کیونکہ سورۃ الاحزاب کی انہی آیتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ ازواج مطہرات میں سے اگرکوئی بدکرداری کرے توان کوآخرت میں دگنی دی جائے گی ،اوراگروہ اطاعت شعاری اورنیکوکاری کریں گی توان کودگنا اجر دیاجائے گا (سورۃ الاحزاب آیت ۳۰۔۳۱)جب کہ عام مسلمانو ں کو کسی گناہ کی سزادینے کاذکر قرآن میں نہیں‘‘۔ (ص۳۸)
اصل نکتے پر بحث کرنے سے پہلے میں عرض کروں گا کہ ندوی صاحب کای دعوی کہ عام مسلمانوں کو کسی گناہ کی دگنی سزا دینے کا ذکر قرآن میں نہیں ہے ،ہرگز صحیح نہیں ہے ۔سورۃ الفرقان آیت ۶۸۔۶۹میں عام مسلمانوں کوبھی تین قسم کے گناہوں (شرک ،قتل اورزنا)پر آخرت کی دگنی سزاسنائی گئی ہے ۔قرآن کہتاہے کہ:
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ یَلْقَ أَثَاماً یُّضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَاناً  (الفرقان آیت ۶۸۔۶۹)
’’اورجوشخص ایسے کام کرے گا وہ اپنے کیے کی سزابھگتے گا، قیامت کے دن اسکو دگنا عذاب دیاجائے گا اوروہ اس میں ہمیشہ ذلیل ہوکر رہے گا ۔‘‘
اب اصل نکتے کی طرف آتے ہیں ،یہ بجا ہے کہ سورۃ الاحزاب آیت ۳۳میں ’وقرن فی بیوتکن‘ (اوراپنے گھروں میں ٹک کررہو) کا خطاب اگرچہ ازواج مطہرات سے ہے مگر اس حکم میں عام مسلمان خواتین بھی داخل ہیں کیوں کہ اسی آیت میں نماز، زکوٰۃ، اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت جیسے احکام بھی موجود ہیں جو ظاہر ہے صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص نہیں ہوسکتے۔ پوری آیت یوں ہے :
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاۃَ وَآتِیْنَ الزَّکَاۃَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً (الاحزاب آیت ۳۳)
’’اوراپنے گھروں میں ٹک کررہو،دورجاہلیت کی عورتوں کی طرح اپنی زینت کی نمائش کرتی نہ پھرو،نمازقائم کرو، زکوٰۃ اداکرو ،اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو،اللہ چاہتاہے یہ کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دوررکھے اورتمہیں اچھی طرح پاک کردے ۔‘‘
کیا اس آیت کا یہ مطلب لیا جائے کہ صرف ازواج مطہرات ہی گندگی سے پاک ہوں اوراللہ تعالیٰ باقی مسلمان عورتوں کو گندگی سے پاک نہیں کرنا چاہتا ؟ مذکورہ آیت کے حوالے سے اگر ندوی صاحب کے موقف کوتسلیم کیا جائے تو مانناپڑے گا کہ صر ف امہات المومنین ہی کواپنے گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا گیا تھا ،اورعام مسلمان خواتین کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ گھروں میں ٹک کر نہ رہاکریں بلکہ گلیوں اوربازاروں میں پھرتی رہا کریں ۔صرف امہات المومنین کے لیے حکم تھاکہ وہ تبرج جاہلیت سے پرہیز کریں اورعام مسلمان خواتین کو باہر ٹھن کرنکلنے کی اجازت ہے ۔صر ف امہات المومنین کے حکم تھا کہ وہ امہات المومنین کو زکوٰۃ اداکرنے کاحکم دیا گیا تھا اورعا م مسلمان خواتین کے لیے زکوٰۃ کاحکم نہیں ہے۔ صرف امہات المومنین کے لیے یہ حکم تھاکہ وہ اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کریں اورعام مسلمان خواتین کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اللہ ورسول کی نافرمانی کیاکریں۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
تمام مفسرین مانتے ہیں کہ اس آیت میں گھر میں ٹکے رہنے کاجوحکم ہے، وہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے دیاگیا ہے، مگرا س کے مفہو م میں عا م مسلمان خواتین بھی شا مل ہیں، مثال طورکے پر امام قرطبی ؒ نے اپنی شہر ہ آفاق تفسیر قرطبی (الجامع لاحکام القرآن) میں اسی آیت کے تحت یہی لکھا ہے کہ ’’معنی ہذہ الایۃ الامر بلزو م البیت، وان کان الخطاب لنساء النبی ﷺ فقد دخل غیر ھن فیہ بالمعنی‘‘۔
اسی طرح مذکورہ آیت کے تمام(چھ)احکام کا اطلاق ازواج مطہرات کے علاوہ عام مسلمان خواتین پربھی کیا گیا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمان گھروں میں جو اصلاح فرمائی تھی، اس کا آغاز سب سے پہلے ازواج مطہرات سے کہا گیا تاکہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ عمل بن جائیں۔
۳۔ تیسری بات اس مضمون میں ندوی صاحب کا وہ طرزکلام ہے جوان جیسے بزرگ اورعربیت کے ماہر شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ : ’’عورتوں کو چار دیواری میں رکھنے کے دفاع میں جو بھی کہا جائے وہ اپنی جگہ، لیکن اس کاحکم قرآن میں نہیں ہے۔‘‘ (ص۳۸)
دوسری جگہ فرماتے ہیں :
’’بعض مفسرین نے قدیم زمانے سے مذکورہ آیت کے پہلے جملے ’وقرن فی بیوتکن‘ (اوراپنے گھروں میں بیٹھی رہو )کا اطلاق عام مسلمان خواتین پر کرکے عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں محبوس کردیا .....‘‘(۳۸)
ان عبارات میں ’’عورتوں کوچار دیواری میں رکھنے‘‘ اور آیت کا اطلاق عا م مسلمان خواتین پرکرکے ’’عورتوں کو گھرمیں محبوس کردیا‘‘ جیسی پھبتیاں کسنا ندوی صاحب کے شایان شا ن نہیں ہے۔ یہ تومغربی تہذیب کے دلدادگا ن کا شیوہ ہے۔ آخرندویوں کے لیے کیوں لازم ہوگیاہے کہ وہ بھی مغرب کی ہم نوائی میں پردہ جیسے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے لگیں؟ شریعت نے پردے کاحکم عورت کو محبوس کرنے کے لیے نہیں دیا، اس کی عفت وعصمت کی حفاظت کے لیے دیاہے ۔
ندوی صاحب کو یہ بھی معلوم ہوناچاہیے کہ اب کی اس پھبتی اورطعن وتمسخر کی زد کہاں تک پہنچی ہے۔ ان کی ان عبارات سے یہ تو نکلتاہے کہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے تواپنے قرآن میں صرف رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو گھر کی چاردیواری میں ’’محبوس کرنے‘‘ کا حکم دیاتھا، مگر کم فہم مفسرین نے اس خاص حکم کو عام قراردے کرعا م مسلمان خواتین کو بھی گھروں میں محبوس کردیا۔ یاللعجب! کیا ایسی بات کہنے کے بعد کسی مسلمان کا ایمان محفوظ رہ سکتاہے!محترم ندوی صاحب کو اس سے توبہ کرنی چاہیے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ عربی ادب اور چیز ہے، اور دین کی سمجھ اور چیز!
۴۔ جناب ندوی صاحب کے مضمون کے آخری نکتہ جس سے مجھے اختلاف ہے، وہ یہ ہے کہ وہ سورۃ الاحزاب کی آیت ۵۳ جسے آیت حجاب کہاجاتاہے، کے حکم کو بھی ازواج مطہرات کے ساتھ خاص مانتے ہیں اور ان کویہ شکایت ہے کہ مفسرین کرام نے اس خاص حکم کوبھی غلطی سے ساری خواتین کے لیے عام کر دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
’’یہ آیت اپنے طرز خطاب اوراپنے سبب نزول کی روشنی میں واضح طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق ہے لیکن اس کے آخری جملے ’’اورجب ان (ازواج مطہرات )سے کچھ کہامانگا کرو تویہ پردے کے پیچھے سے مانگا کرو‘‘ کا حکم بعد کے مفسرین نے ساری خواتین کے لیے عام کردیا۔‘‘ (ص ؟؟)
قارئین کی آسانی کے لیے یہاں پر متعلقہ آیت حجاب بھی لکھ دی جاتی ہے :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَن یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَیْْرَ نَاظِرِیْنَ إِنَاہُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ یُؤْذِیْ النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِیْ مِنکُمْ وَاللَّہُ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ...
’’اے ایمان والو !نبی کے گھروں میں بلااجازت نہیں چلا جائے کرو ،نہ کھانے کاوقت تکتے رہو ،ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایاجائے توضرور آؤ ،مگر جب کھانا کھالو توچلے جاؤ ،بیٹھ کر باتیں کرنے میں نہ لگے رہو ،تمہار ایہ عمل نبی کوتکلیف دیتاہے ،مگروہ شرم ک وجہ سے کچھ نہیں کہتے ،اوراللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا ہے ،نبی کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگناہوتو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے دلوں اوران کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے ‘‘۔
اس سلسلے میں پہلی گزارش یہ ہے کہ جہاں تک طرزخطاب اورسبب نزول ،کا معاملہ ہے ،تواہل علم جانتے ہیں کہ تفسیر کایہ مسئلہ قاعدہ ہے کہ ’’العبرۃ بعموم اللفظ لابخصوص السبب‘‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ جن آیات کا کوئی خاص شان نزول ہوتاہے، ان کاحکم بھی صرف مخصوص موقع ہی کے لیے ضروری نہیں سمجھاجاتابلکہ اس کے حکم کوعام قرار دیا جاتا ہے۔ گویایہ نہیں کہاجائے گا کہ چو نکہ فلاں آیت شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لہٰذا اس کے بارے میں جوحکم آیا ہے، وہ بھی اسی شخص کے ساتھ خاص ہے بلکہ وہ حکم عا م بھی ہوسکتاہے ،اورسبب کے لیے ہوسکتاہے۔ یہی معاملہ اس آیت حجاب کاہے۔ یہ اگرچہ اپنے طرز خطاب اورسبب نزول کے اعتبار سے خاص حکم رکھتی ہے مگر اس کے معنی ومفہوم میں عموم پایا جاتا ہے۔ روایات میں ہے کہ اس آیت حجاب کے نازل ہونے کے بعد ازواج مطہرات کے گھروں میں دروازوں پر پردے لٹکادیے گئے تھے۔ پھر چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاگھر تمام مسلمانوں کے لیے نمونے کا گھر تھا، اس لیے سب مسلمانوں نے بھی اپنے گھروں پر پردے لٹکا دیے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ صحابہ کرام نے بھی اس آیت کے حکم کوخاص نہیں سمجھا بلکہ عام سمجھ کراس پر عمل کیا اورصحابہ کرام کی قرآن فہمی بعدوالوں کی قرآن فہمی سے بہر حال مقدم ہے ۔
دوسرے اس آیت کے آخری فقر ے میں بھی اس بات کا واضح اشارہ موجود ہے کہ جو لوگ اپنے مردوں اوراپنی عورتوں کے دلوں کو پاک رکھنا چاہتے ہیں، وہ یہی طریقہ اختیا رکریں جس کا یہ آیت میں حکم دیا گیاہے۔ پھر جہاں تک ذَلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِن کی قرآنی حکمت کاتقاضاہے توکیا اسلام میں بھی صرف صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے دلوں کی پاکیزگی مطلوب ہے ،اوربعد میں آنے والے مسلمان مردوں اورعورتوں کے دلوں کی پاکیزگی اسلام کومطلوب نہیں ہے؟ جس طریقے کے بغیر صحابہ کرام اورازواج مطہرات کے دلوں کی پاکیزگی میں کمی آسکتی تھی، کیا اس طریقے کے بغیر جدوجہد میں آنے والے مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی میں کمی نہیں آسکتی؟

لال مسجدکا سانحہ، علماءِ عظام اور صدر مشرف

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

اسلام آباد کی لال مسجد کا نام مہینوں سے ہر اُس آدمی کو ذہنی پریشانی میں ڈالے ہوئے تھا جو اسلام اور اسلامی شعائر سے نام کا بھی جذباتی تعلق رکھتا ہو۔ دعائیں تھیں کہ اللہ کوئی بہتر حل کی صورت نکال دے۔مگردعاؤں پر تو مدت سے ہماری بد اعمالیوں نے درِ اجابت بند سا کر رکھا ہے۔سو، ۱۱ ؍جولائی کو ساری دعاؤں کے علیٰ الرغم یہ پریشانی ایک اتھاہ رنج و الم میں جابدلی ۔ افہام و تفہیم کی کوششیں نہ صرف حکومت کی طرف سے ہوا کیں، پاکستان کے مؤقّرترین علماء کی طرف سے بھی مسجد اور اس سے وابستہ جامعۂ حفصہؓ کے ذ مہ دار برادران(عبدالعزیز صاحب اور عبدا لرشید صاحب) سے پیہم کہا جاتا رہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر اسلام نافذ کرنے کی راہ سے واپس آجائیں۔ ورنہ اس کے نتائج تنہا ان کو نہیں،کم و بیش سب ہی اہلِ مدارس و مساجد کو خدا نہ کردہ بھگتنا پڑیں گے۔مگر نہ دعاؤں سے کچھ ہونا تھا نہ کوششوں سے۔
اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا 
حکومت ایکشن میں آئی ،اور وہ ہوا کہ اپنے تو اپنے وہ غیر بھی رو ئے جو حکومت پر لعنت برسارہے تھے کہ لال مسجد والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ،جبکہ انھوں نے حکومت اندرونِ حکومت قائم کر رکھی ہے اور سرِ عام لوگوں کے انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں۔اور تو اور ،حقوقِ انسانی کی ایک عالمی شہرت یافتہ چیمپین خاتون عاصمہ جہانگیرجو وہاں ہوتی ہیں، اور بھر پور تنقید کرنے والوں میں شامل تھیں وہ بھی کہہ اُٹھیں ہیں کہ لوگ بیشک غلط تھے مگر مارے بھی غلط طریقے سے گئے ۔ الغرض، مشکل ہی سے کوئی ا س روشن خیال قبیلے میں نکل رہا ہے جو ایکشن کے بعد کہہ رہا ہو کہ ہاں ٹھیک ہوا۔حد یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتِ عالیہ (سپریم کورٹ) ازخود اس معاملہ کا نوٹس لیکر حکام کو پے بہ پے ہدایات جاری کر نا اپنی ذمہ داری سمجھ رہی ہے کہ اس سلسلہ کے معامالات میں کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔

لال مسجد برادران حکومتی ایکشن(یا آپریشن) سے پہلے تک پوری سوسائٹی میں بالکل یکہ و تنہا(Isolate (تھے۔ کوئی قابلِ ذکر آدمی ان کی حمایت کو تیار نہ تھا۔اور علماءِ دیوبند، جن سے ان برادران کا مسلکی رشتہ تھا ا ن کے اکابر نے تو اپنا سمجھانا کارگر نہ ہوتا پاکر ان سے بالکل قطع تعلق و براء ت کا اظہار اس حد تک کیا کہ اپنے مدارس کی تنظیم ’’وفاق المدارس‘‘ سے ان کے مدرسوں(جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ) کا الحاق بالاعلان ختم کردیا ۔اس سے زیادہ کسی دلیل کی ضرورت اس بات کے لیے نہ تھی کہ یہ دونوں برادران جو کچھ کر رہے اور اپنے طلباء و طالبات سے کرا رہے ہیں یہ ان کی ایک ایسی سوچ ہے جس کی تائید کی کوئی گنجائش ان کے اپنے علما بھی اپنے علم میں نہیں پاتے۔اور ان مؤقّر علماء کرام کے اس موقف کی روشنی میں بجا طور پر سمجھا جا سکتا تھا کہ بالفرض حکومت اُن کے ہاتھ میں ہوتی توحکومت کی طاقت سے بھی وہ سب کچھ کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے جس سے ان برادران کے خلافِ قانون اقدامات پر روک لگائی جا سکے۔ اور کوئی جائز استغاثہ ان کے اقدامات کے سلسلہ میں پیش ہوتا تو اس کو بھی قابلِ شنوائی جانا جاتا۔
یہ ایک ایسی صورتِ حال رونما ہورہی تھی جسے کہا جا سکتا تھا کہ ایک شر سے خیر کا ظہور ہوا چاہتا ہے۔مدارس اور علماءِ مدارس جو تقریباً چھ سال سے اس شک و شبہے اورالزام کا نشانہ بنے ہوئے تھے ( اور یہ زیادہ تر دیوبندی مدارس کے بارے میں تھا) کہ ان میں دہشت گردی کی بھی تربیت ہوتی یا اسکے جراثیم پیداکئے جاتے ہیں،اس صورتِ حال سے بہت کچھ مدد یہ ثابت ہونے میں مل سکتی تھی کہ اس شک وشبہے کو عمومی نوعیت میں مدارس پر پھیلانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایک اور بڑا مسئلہ مدارس اور علماء کے حوالہ سے اسلامی حکومت کے’’ طالبانی تصور‘‘ کا بنا ہوا تھا،وہ تصور جس کی ایک عملی نمائندگی لال مسجد برادران کرنے لگ گئے تھے، سواس پرعلماء عظام کی متفقہ اور بالاعلان نکیر نے کوئی گنجائش کسی کے لیے نہیں رہنے دی تھی کہ آئندہ اس کو علماءِ پاکستان کے حوالے سے زبان پر لایا جائے ۔ مگر صدر مشرف صاحب کی حکومت، جو چھ ماہ سے یہ تأثر دینے میں لگی ہوئی تھی کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی ،اس نے ایک دم سے طاقت کا وہ استعمال کر کے کہ جیسے ساری تأخیر و احتیاط کی تلافی کردینا چاہتی ہو، اس( شر سے خیر نکلتی ہوئی) صورتِ حال کا قصہ آناً فاناً تمام کردیا اور بھرپور توپ و تفنگ سے چڑھائی کرکے یکسروہ ایک نئی فضا اس کے برعکس پیدا کرڈالی کہ ’’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔‘‘ ٹھیک ہے کہ ان برادران کا دستِ اصلاح وانکار اپنے لوگوں سے بڑھ کر غیر ملکی لوگوں (اور وہ بھی چینیوں) تک جا پہنچا تھا اور چینی حکومت اس پر فوراً اپنے سفیر کے ذریعہ حرکت میں آئی تھی، مگر پاکستان میں تو اب تک کتنے ہی چینی انجینئر قتل ہو چکے ہیں۔ یہاں تو قتل جیسا کوئی کیس بھی نہ تھا کہ ایک دم سے فوج کو حکمِ بزن دے دیا جائے، حتیٰ کہ اپنے بندے مرجانے کی بھی پروا نہ کی جائے! 
حکومت کے اس بے ہنگم وغیر متناسب (Inappropriate) اقدام نے خود اس کو تو ملزمین کے کٹہرے میں کھڑا کرہی دیا ہے ،اور اس کو وہی بھگتے گی، مگر یہاں سے علماء کرام کا جو یو ٹرن سامنے آیا ہے کہ وہ سانحہ کے سلسلہ میں مسجد برادران کا حصہ بھلا کر ساری ذمہ داری حکومت پر ڈال رہے ہیں، وہ ہم جیسوں کے لیے تو لال مسجد قصہ کے انجام سے کم المیہ نہیں ہے، اس لیے کہ وہ تمام بہتر صورتِ حال جو گزشتہ چھ ماہ میں اِن حضرات کے ،یعنی دین کے مستند نمائندوں اور اداروں کے حق میں، ان کے ایک قدرے جرأت مندانہ موقف کی بنا پر پیدا ہونا شروع ہوئی تھی، ا س کا قصہ بھی ان کی پوزیشن کی اس تبدیلی کے ساتھ یقیناًختم ہوگیا۔ اور جتنی اطلاعات اب تک سامنے ہیں،جن میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے،ان کے مطابق کوئی معقول وجہ بھی نہیں بنتی کہ ۱۰؍۱۱جولائی کی رات میں جو کچھ ہوا، اس کی ذمہ داری میں لال مسجد برادران کا حصہ پسِ پشت ڈال کر محض حکومت کی مذمت کی جائے۔ پہلے دن (۱۱جولائی) سے آج دمِ تحریر(۲۳جولائی) تک کی اطلاعات کے مطابق اس یو ٹرن کی وجہ فقط یہ سامنے آرہی ہے کہ اس رات میں سمجھوتے کا ایک ڈرافٹ (مسودہ) حکومت کے نمائندوں اور علماء کے نمائندوں کے اشتراک سے،بہ منظوری عبدالرشید غازی صاحب، تحریر ہوا۔ پھر وہ ڈرافٹ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لیے گیا تو وہاں سے ترمیم کے ساتھ واپس آیا جس پر ’’ہاں یا ناں‘‘ کے لیے آدھا گھنٹہ یا (ایک روایت کے مطابق) بس پندرہ منٹ دیے گئے،کیونکہ فوج نے فائنل آپریشن کے آغاز کے لیے جو گھڑی مقرر کر رکھی تھی، اس کا وقت نکل رہا تھا۔ علماء کے نزدیک ترمیم پر فیصلہ کے لیے یہ وقت ناکافی تھا، اس لیے انھیں سمجھوتے کا کردار چھوڑ کر اُٹھ آنا پڑا، اور پھر ہوا جو ہوا۔

پاکستان کے علماء کرام اپنے معاملات کو سمجھنے میں یقیناًہم سے بہتر پوزیشن میں ہیں، اور یوں بھی یہ معاملہ ایسی جذباتی نوعیت کا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں باہر سے کوئی رائے زنی ناخوشگواری کا باعث ہو سکتی ہے۔ مگر حالات کے اس جبرکو کیا کہیے کہ پاکستانی مدارسِ عربیہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم نے وہاں سے لے کرافغانستان ہی نہیں، ہندوستان اور برطانیہ تک کے واقعات کو ان مدارس سے جوڑ دیا ہے۔ اس لیے پاکستانی مدارس کا مسئلہ اب سب کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس لیے ہم نے ایک اطمینان کا سانس لیا تھا کہ لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے معاملے میں پاکستان کے اکابر اہلِ مدارس نے جو موقف اختیارفرمایا ہے، وہ ان شاء اللہ مخالف پروپیگنڈے کی طاقت توڑے گا اور مطلع کچھ صاف ہوگا۔ مگراب ۱۱جولائی کے بعد موقف میں جو تبدیلی یکایک آئی ہے، ہمارا خیال ہے وہ بجائے خود ہی اس پروپیگنڈے کو بے حد تقویت نہ دے گی جس کا سحر ٹوٹنے کی امید ہم کر رہے تھے، بلکہ حکومتی آپریشن کے بے ہنگم پن نے جو حکومت مخالف انتقامی تشدُّد کی ایک اندھی لہر پاکستان میں دوڑائی ہے، اسے بھی اخلاقی تائیدعلما کے اس موقف سے ملے گی۔ اور مولانا عبد العزیز صاحب جنھوں نے برقع میں نکل بھاگنے کا ننگ مجاہد علما کے نام کو لگایا (اور پھر وہی برقع پہن کر انٹر ویو دینے کا دباؤ بھی قبول کر لیا) وہ جس طرح کی ’’مجاہدانہ‘‘ تقریر اپنے بھائی کی تدفین کے موقع پر کرتے سنے گئے، اس کا حوصلہ انھیں کہاں سے دستیاب ہوا مانا جائے گا؟ اور اس سب سے بڑھ کر وہ ہزاروں طلبہ و طالبات جن کے ذہن میں اسلام، جہاد اور شہادت کا ایک سفیہانہ اور گمراہانہ تصور ان برادران نے بٹھا دیا تھا اور اس کے المناک و یاس انگیز انجام سے امیدہو سکتی تھی کہ سمجھائے جانے پر یہ نوعمر سمجھ کی راہ پالیں اور پاکستان اور اسلامیانِ عالم کے لیے مزید مسئلہ نہ بنیں، یہ امیدکیسے قائم رکھنا ممکن ہوگی اگر ان کے کان میں وہی آوازیں جائیں گی جو یہ سننا چاہ رہے ہوں گے؟
لال مسجد اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ ڈرافٹ کی وہ آخری شکل جو صدر مشرف کی ترمیمات سے بنی اور جس کے نتیجہ میں علماے کرام سمجھوتے کی کوشش سے باہر آگئے، وہ حسنِ اتفاق سے آج (۲۳ جولائی) کے اخبار جنگ کے ایک کالم کے ذریعہ ہمارے سامنے آگئی ہے۔ اسے دیکھ کر تو صرف اپنی بد قسمتی ہی اس کی ذمہ دار نظر آتی ہے کہ سمجھوتہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ جنگ کے اس کالم کے مطابق، جو پاکستان کے معروف صحافی حامد میر صاحب کا ہے، صدر کے منظور کردہ سمجھوتہ ڈرافٹ کی آخری اور حتمی شکل یہ بن گئی تھی کہ (۱) عبدالرشید غازی کو ان کے گھر میں رکھا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، (۲) لال مسجد سے باہر آنے والے تمام لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، (۳) جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا مستقبل محکمۂ اوقاف، وفاق المدارس اور دیگر حکومتی اداروں کے مشورہ سے طے کیا جائے گا۔ حامد میر صاحب نے ڈرافٹ کی یہ آخری شکل اپنے نام جناب مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی کے ایک خط کے حوالہ سے، جو سمجھوتے کی اس کوشش میں علماے کرام کے سربراہ تھے، درج کی ہے۔ ہمارے سامنے سمجھوتے کا ابتدائی مسودہ نہیں ہے، تاہم یہ سمجھنے سے ہم خود کو بالکل قاصر پاتے ہیں کہ مسوّدے کی یہ آخری شکل سابق سے کتنی بھی بدلی ہوئی رہی ہو، پھر بھی اس میں کا کون سا نکتہ ایسا تھا کہ اس کی بنیاد پر سمجھوتے کے کردار سے دستبرداری دے دی جائے؟ 
چھ مہینے جو کچھ لال مسجد سے ہوتا رہا اور خود حضراتِ علما اسے ناقابلِ قبول قرار دیتے رہے، اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سمجھوتے کی یہ دفعات کسی طرح بھی غیر منصفانہ اور کسی زیادتی پر مبنی کہے جانے کے قابل نظر نہیں آتیں۔ اس ڈرافٹ کے رد کیے جانے سے اندازہ ہوتا ہے، اور یاد آتا ہے کہ خبریں بھی اس طرح کی آئیں تھیں، کہ عبدالرشید غازی نے سیف پیسیج (Safe Passage) دیے جانے(یعنی جہاں اورجس طرح چاہیں، چلے جانے دیے جائیں) کی شرط پر ہتھیار ڈالنے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ پہلے مسودہ کی سب سے اہم بات غالباً یہی رہی ہوگی مگر ایسی حالت میں کہ فوج کے کئی آدمی کام آ چکے تھے جس میں لیفٹیننٹ کرنل کے رتبہ کا افسر بھی تھا، کیا سربراہِ فوج صدر سے امید کی جانی چاہیے تھی کہ وہ اس سے زیادہ رعایت غازی صاحب کو دے دے کہ وہ (جیل میں نہیں) اپنے گھر میں نظر بند کیے جائیں گے؟ ہر چند کہ یہ تأثر و تبصرہ صدر مشرف صاحب کے حق میں جا رہا ہے، جبکہ ہم خود بھی ان کے طرزِ حکومت کے سلسلہ میں، بالخصوص دین کے حوالے سے، کلمۂ خیر کہنے کی گنجائش نہیں پاتے ،مگردین ہی کا کہنا ہے کہ:
یٰآ اَیُّھا الّذِینَ اٰمَنوا کُونُوا قَوّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْط وَلا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنئانُ قَوْمِِ عَلیٰ اَلّا تَعْدِلُوا (المائدہ:۸)
’’اے ایمان والو کھڑے ہو اللہ کے لیے، گواہی دینے والے بن کر انصاف کی۔اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر نہ آمادہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔‘‘
اور اس حکمِ الٰہی سے اگر اس راقم کے جیسے لوگ بھی اعراض کرنے لگ جائیں جن کو سال بھر تک آیۃُٗ مِن آیاتِ اللہ حضرت مدنی علیہ الرحمہ(م۱۹۵۷) کے حضور قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردان کی عزت ملی ہے، پھر کس کی شکایت کی جاسکے گی کہ وہ اس فرمان سے آنکھ چرارہا ہے؟ (اللہ جانتا ہے، میں اپنے اس شرف کا اظہاربالکل مجبوراً کر رہا ہوں)
کیسے کہا جائے اور کیسے نہ کہا جائے کہ حکومتی آپریشن کے آثار سامنے آتے ہی غازی صاحب اور ان کے برادر بزرگ کو اوّلاً تو مسجد کے تقدّس اورطلباء و طالبات کے تحفظ کی خاطر خود کو حکومت کے حوالے کردینا تھا کہ پھر جو کچھ بِیتے ان پر بِیتے، مسجد اور طلباء و طالبات پرگولہ بارود کا عذاب نہ آئے۔ دوسرے، وہ جب لڑنے اور جان دینے کو تیار ہو سکتے تھے تو جیل جانا اور عدالت کا سامنا کرنا کیا اس سے بھی کوئی مشکل بات تھی؟ وہ خود کو جب اس قدر برسرِ حق سمجھتے تھے کہ اپنے شیوخ واکابر کی بھی نہ سنیں، تب تو اس حق کے اظہاراور اثبات کے لیے سب سے بہتر ممکن جگہ عدالت کا کٹہرا ہی تھا۔ اور ہمارے بزرگوں نے تواظہارِ حق کے اس پلیٹ فارم کی آواز کو ہمیشہ لبیک کہا اور بھر پور استعمال کیاہے ، اس سے گریز کرکے سیف پیسیج مانگنا یہ تو کسی بھی طرح قابلِ حمایت کردار نہیں بنتا۔

افسوس ،جو نہ ہونا تھا وہ ہوا، اور اس میں صدر مشرف صاحب کے کردار کو بھی یقیناًنظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر محمد علی جناح سوٹ بوٹ کے آدمی تھے، مگر جب وہ قائدِ اعظم اور گورجنرل پاکستان بنے تو اس خطے کی روایات کا پاس کرتے ہوئے کوٹ پتلون کو شلوار اور شیروانی سے بدلا اور سرپہ ٹوپی لگائی۔ مشرف صاحب نے ا س خطے کی روایات کا احساس وپاس رکھنے والوں کے اور اپنے بیچ میں پہلے ہی دن نفرت کی دیوار کھینچ دینے کو دو کتّے بغل میں سنبھالنا اس وقت ضروری سمجھا جب وہ بیرونی صحافیوں کو انٹرویو دے رہے تھے، اور اپنے لیے آئیڈیل بھی علی الاعلان ٹرکی کے روایت شکن مصطفی کمال کو ٹھیرایا۔ یہ پاکستان کی جڑوں میں پلائی ہوئی دینی روایا ت کے خلاف اعلانِ جنگ کی زبان تھی، اور پھر زیادہ دیر نہیں لگی کہ وہ جو قرآن نے کہہ رکھا تھا کہ:
’’ جس کسی نے’’ سبیلَ الْمؤمنین‘‘ چھوڑ کرکوئی دوسرا راستہ اپنایا تو ہم اس کو اسی راستے پہ چلائیں گے جس پر وہ چل دیا۔ ‘‘(النسآء :۱۱۵) 
موصوف کے اسی راہ پر چلتے چلے جانے کا سامان ستمبر ۲۰۰۱ کی ۱۱ کے بعد امریکہ کے دھمکی لپٹے اس سوال سے ہوگیا کہ ’’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘‘؟ مشرف صاحب کا جواب تھا کہ ’’آپ کے ساتھ!‘‘ اور اس امریکہ کے ساتھ میں انھیں پیہم اپنوں سے نبرد آزمائی کی راہ پہ چلنا پڑا۔ لیکن اب یکایک یہ صورت رونما ہو ئی ہے کہ چھ برس سرد و گرم کا ساتھ نبھانے کے باوجود امریکہ خود مشرف صاحب ہی کی سلطنت میں ان کی مرضی کے خلاف کارروائی کو پر تول رہا ہے۔ وہ اس سے جس قدر بھی پریشانی کے عالم میں نہ ہوں، کم ہے۔ان کے ارد گرد کے لوگوں کے بیانات اس صورتِ حال کی صاف تصدیق کر رہے ہیں۔ وقت ہے کہ مشرف صاحب اپنی اپنائی ہوئی راہ (غیرَ سبیلِ المؤمنین) سے تائب ہوکر راہِ مؤمنین کی طرف واپس آئیں اور اللہ سے مدد کے طالب ہوں، کہ اس کی مدد کے سامنے امریکہ یا غیرِ امریکہ کی طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہماری تاریخ میں اس کی نظیریں موجود ہیں کہ حکمراں نے تائب ہوکر اللہ کے سامنے قوم کی حفاظت و عزت کے لئے زمین پہ ماتھا رگڑا تومعرکہ کے نتائج بڑی طاقت کے حق میں نہیں اس کے حق میں نکلے۔ مشرف صاحب ماشاء اللہ حج سے بھی مشرف ہو چکے ہیں،عمرے بھی شاید کئی کر لیے ہیں اورکعبۂ مقدسہ میں قدم رکھ پانے کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوئے ہیں۔ان کے لیے رجوع اِلیٰ اللہ مشکل نہ ہونا چاہیے۔ اور یہ ان کا وہ قدم ہوگا کہ قوم سے ان کی بگڑی ہوئی بھی بن جائے ۔
مشرف صاحب ابھی کچھ دن پہلے اسی لندن میں، جہاں یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے ’’ہاں یا ناں‘‘ والے سوال کے جواب میں ان کی’’ ہاں‘‘ محض قوم کی خاطر ڈر سے تھی، ورنہ ان کی تربیت ڈرنے کی نہیں لڑنے کی ہے۔ یہ بات موصوف نے اس سوال کے جواب میں کہی تھی کہ لال مسجد کے خلاف ایکشن لینے سے وہ کیوں ڈر رہے ہیں اور ان الفاظ میں کہی تھی کہ ’’ہاں، صرف ایک دفعہ ڈرا ہوں، اور یقین جانو صرف قوم کی خاطر‘‘۔ اور اس ایک دفعہ کا مطلب صاف ظاہر تھا۔ تو بسم اللہ، اب وہ اس نئی آزمائش کو ’’ڈرجانے‘‘ کی عار سے دامن صاف کرنے کا موقع سمجھیں اور رجوع الیٰ اللہ کی طاقت پہ ایمان لائیں۔ اللہ ان کے لیے آسان کرے۔ 

مکتوب بنام صدر وفاق المدارس

قاضی محمد رویس خان ایوبی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب مولانا سلیم اللہ خان صاحب ،مدظلہ العالی (صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان )
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
یکم جولائی سے شروع ہوکر ۱۰؍ جولائی کی صبح پانچ بجے تک کربلائے اسلام آباد میں آتش وآہن کی بارش برساکر قوم کی معصوم، عفت مآب بیٹیوں، حفاظ قرآ ن اور غازی عبدالرشید شہید کے خاندا ن کے ۱۹؍ افراد سمیت سیکڑوں طلبہ وطالبات کو جس بے دردی اور سفاکی سے شہید کیاگیا، اس کی نظیر چنگیز، ہلاکو، ہٹلر اور بوسنیا ہرز گوینا اور چیچنیا، عراق، ویت نام، کشمیر، فلسطین میں بھی نہیں ملتی۔ ظلم واستبداد کی اس داستان کو رقم کرنے میں جہاں موجودہ حکومت کا کردار اظہرمن الشمس ہے، وہاں اس ظلم کوروکنے کے لیے جمعیت علماے اسلام کی قیادت، خطباے اسلام آباد اور دینی طبقات کی مجموعی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔
جناب صدر وفاق! فقیر کے آپ کی خدمت عالیہ میں بصد ادب واحترام چند سوالات پیش خدمت ہیں۔ ان پرغور کر لیجیے۔ مجنو ں کی بڑسمجھ لیجیے، مگر شایدکوئی ایک کام کی بات بزرجمہرانِ جمعیت اور وفاق کے پلے پڑ جائے:
۱۔ غازی برادران نے فحاشی کے خلاف جس جرات کا مظاہر ہ کیا اور غاصب حکمران کی بے دین پالیسیوں کے خلاف جس طرح انہوں نے حق کا بول بولا کرنے کی خاطراستقامت کا مظاہر ہ کیا، کیا یہ ایسے جرائم تھے کہ ان کی پاداش میں جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا وفاق سے الحاق ختم کر دیا جاتا؟
۲۔ وفاق کے ضوابط کار کی کون سی دفعہ کی خلاف ورزی کی گئی تھی جس کی یہ سزا دی گئی؟
۳۔ کیا سب سے پہلا وار وفاق نے نہیں کیا کہ دونوں مدرسوں کو اچھوت بنا کر حکومت کو اشارہ دے دیا گیا کہ ہمارا ان کے مطالبات اور اعمال سے کوئی تعلق نہیں؟
۴۔ وفاق کے بقراطوں کے پاس سوائے اخراج کے کوئی ہتھیار نہ تھا، ورنہ شایدوفاق المدارس خود وہی کردار ادا کرتا جو حکومت نے کیا۔
۵۔ ایک بجے تک وفاق نے اس ٹیم سے کیوں مذاکرات کیے جس کے پاس کوئی اختیار نہ تھا؟ کیامفتی رفیع عثمانی صاحب، عبدالرزاق اسکندر صاحب، زاہدالراشدی صاحب، فضل الرحمن خلیل صاحب اور دیگر حضرات نے اس امر کی کوئی یقین دہانی حکومت سے حاصل کی تھی کہ جو شرائط مصالحتی مذاکراتی ٹیم طے کرے گی، وہ حکومتی ٹیم صدر کے بغیر خود منظور کرے گی اور اس پر عمل درآمد کرائے گی؟ جناب رفیع عثمانی صاحب نے خود ٹی وی پر یہ بیان دیا کہ سی این سی ہاؤس سے مسودہ تبدیل کر دیا گیا اور حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اس مسودے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ کرنے سے معذوری ظاہر کر دی، تب ہم اٹھ کرچلے آئے ۔
۶۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے خود اپنے تحریرکردہ مقالات میں فرمایاکہ ہم نے فون بند کر دیے اور سو گئے۔ کیا آگ اور خون کے اس طوفان میں سونے والے مخلص کہلا سکتے ہیں؟
۷۔ حادثہ کے اختتام سے آج تک وفاق کے علما کاکوئی وفد فقط تعزیت کی غرض سے بھی مولانا عبد العزیز سے ملاقات کے لیے نہیں گیا۔ کیایہ سنگ دلی کی ا نتہا نہیں؟ کیا یہ اس بات کا بین ثبوت نہیں کہ مذاکراتی ٹیم کے علماے کرام، جمعیت علماے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب سمیت دیگر علما نے مولانا سے تعزیت نہ کر کے اور ان کی بے گناہ معصوم خواتین کے ساتھ عملاً اظہار ہمدردی نہ کرکے اس ظالمانہ آپریشن کو سند توثیق عطا فرما دی؟
۸۔ کیا اس طرح علماے دیوبند کی روایتی جرات اور جذبہ حق پرستی کی نفی نہیں کی گئی؟ آج تک قائد حز ب اختلاف اور ذمہ دارانِ وفاق صدر سے ملاقات کرکے مقدمات کی واپسی، مولانا کی بحالی، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو کے حوالے سے گفتگو کرتے۔ کیا ان کی ملاقات پر پابندی تھی؟
۹۔ لاپتہ طالبات اور طلبہ کے بارے میں وفاق اور قائد جمعیت نے کیا کردار ادا کیا؟
۱۰۔ ۱۸؍اگست کو راقم الحروف پندرہ علما کے ساتھ مولانا عبدالعزیز سے وزیرداخلہ کے توسط سے سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس میں ملا۔ مولانا عبدالعزیز کا یہ کہنا تھا کہ اخراج کے باوجود ہم وفاق کے علما کااحترام کرتے ہیں اور میں صرف یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جس مقصد کے لیے دینی ادارے قائم کیے گئے ہیں، ان مقاصد کو بروئے کار لایا جائے اور منکرات کے سدباب کے لیے علما اٹھ کھڑے ہوں۔
۱۱۔ میں آپ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حافظ حسین احمد آف مردان اور زاہد قاسمی صاحب نے جب وزیر داخلہ کے سامنے وفاق کے ذمہ داران کے کردار کا ذکر کیا تو فقیر نے فوری مداخلت کی اور وزیر داخلہ سے مندرجہ ذیل گفتگوکی:
جناب وزیر داخلہ! وفاق ہمارا گھر ہے، ہم اپنے شکوے اپنوں سے اپنے گھر میں بیٹھ کر کریں گے، نہ ہم آپ کوقائد سمجھتے ہیں نہ تھانیدار۔ ہم صرف اس لیے آئے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں حکومت اور فوج جیسے عظیم اور ملک کے دفاعی ادارے کے خلاف عوام الناس، علما اور طلبا کے دلوں میں نفرت کا جو طوفان ہے، اسے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ آپ ہی بتائیے۔ میں نے عرض کیا کہ اس عظیم حادثے کاواحد مرہم یہ ہے کہ :
۱۔ صدر مملکت مولانا عبدالعزیز، ان کے اہل خانہ اور شہید طلبا وطالبات کو اہل خانہ سمیت سی این سی ہاؤس میں بلائیں، اظہار افسوس کریں، تعزیت کریں، ان کے سر پر دست شفقت رکھیں۔
۲۔ مولانا کو مسجد کی خطابت پر بحال کریں، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو کریں۔
۳۔ دینی مدارس کی خدمات کے حوالے سے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کریں۔
۴۔ اس آپریشن میں شہید ہونے والوں کے لیے تعزیت کریں اور فاتحہ خوانی کریں۔
۵۔ ملک سے بے حیائی اور مغربی کلچر کے خاتمے اور اسلامی طرز حیات کے لیے دستور پاکستان میں موجود دفعات پر عمل درآمد کرائیں۔
۶۔ علما کی تذلیل وتحقیر اور مدارس کے خلاف خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کو بند کریں۔
۷۔ علماے کرام کا کنونشن بلائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ آئندہ مدارس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوگی۔
۸۔ شہید مساجد کو تعمیر کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو فوج، حکومت، عوام اور مذہبی طبقات کے تصادم کا ایسا سلسلہ چل نکلے گا جسے نہ فوج روک سکتی ہے نہ سیاست دان۔
اس گفتگو کے بعد ہمیں سرکاری گاڑی میں مولانا کی ملاقات کے لیے سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس لے جایا گیا جہاں مولانا تمام علما سے گلے ملے، شہدا کے لیے دعا مانگی گئی۔ مولانا کے ساتھ حافظ حسین احمد صاحب نے وفاق کے گلے شکوے شروع کیے جس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ سب ہمارے بزرگ ہیں، بس آپ سب لوگ میری بحالی، جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کریں، یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے۔ انہوں نے آئی جی، کمشنر اور کمانڈوز کے سامنے علما سے فرمایا کہ یہ پہلا وفد ہے جو مجھ سے ملنے آیا ہے۔ وفاق نے یا قائد جمعیت نے اور علماے اسلام آباد نے حادثے کے بعد ہمیں اچھوت سمجھ کر ملاقات تک نہیں کی۔ ان حضرات نے اتنی اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اظہارتعزیت کے لیے آجاتے۔ اب توآپریشن نہیں ہو رہا۔
جناب صدر وفا ق! کیا وفاق، چیف جسٹس کی حمایت میں اٹھنے والے وکلا کی جدوجہد کے دسویں حصے جتنی جدوجہد کے قابل بھی نہ تھا؟ کسی کو حکومتی ایجنٹ کہنے سے وفاق اپنی کاہلی اور نااہلی پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ اگراس طرح کے طعنے اپنوں کو دیے جانے لگے تو پھر وہ تحریر اخبارات کی زینت بن سکتی ہے جو وزارت داخلہ میں آپ کے، مولانا حنیف جالندھری، حسن جان صاحب، قاضی عبد الرشید صاحب اور انوارالحق صاحب کے دستخطوں کے ساتھ موجود ہے، جس میں لکھ کر دیا گیا ہے کہ ہمارا ان دونوں بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور ہم ان کے اعمال کی مذمت کرتے ہیں۔
جناب شیخ! راقم نہ پہلے کسی ایکشن کمیٹی کا ممبر تھا، نہ اب ہے۔ نہ کبھی حکومت کی ایجنٹی کی ہے، نہ ایسا سوچ سکتا ہے، لیکن آپ تک اپنے اور اپنے عوام کے جذبات پہنچانا میرا اخلاقی، مذہبی، منصبی فریضہ ہے۔
حضرت الشیخ! ’ربما صرع الاسود الثعلب‘، کبھی لومڑیاں شیروں کو شکست دے دیتی ہیں۔ حیا اور اخلاق اگرہمارے علما کے دلوں سے رخصت نہیں ہو گیا تومولاناکی رہائی، مقدمات کے اخراجات، ا ن کی رہائش، گمشدہ طالبات کی بازیابی، ان کی والدہ کی لاش کی سپردگی جیسے معاملات پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تلخ نوائی معاف۔
خاک پائے اکابر
قاضی محمد رویس خان ایوبی 
سابق ضلع مفتی میرپور 
خطیب مسجد اقصیٰ میر پور، آزادکشمیر

’’ملی مجلس شرعی‘‘ کا قیام

ادارہ

تحریک اصلاح تعلیم ٹرسٹ لاہور ایک اسلامی انجمن ہے جو جدیدتعلیم کی اصلاح کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو مزید موثر اور مفید بنا نے کے لیے علماے کرام کے تعاون سے مختلف سطح پر کوششیں کرتی رہتی ہے۔ ۳؍اگست ۲۰۰۷ء کو تحریک نے لاہور میں دینی مدارس کے مہتمم حضرات کا ایک اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت ماہنامہ ’الشریعۃ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ اس اجلاس میں مغربی فکروتہذیب کے حوالے سے بعض نئی کتابیں لکھوانے اور دینی مدارس میں داخل نصاب کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اس نشست میں، جس میں سارے مکاتب فکر کے علماے کرام اور بعض دینی اسکالرز بھی موجود تھے، اس ضرورت کا احساس سامنے آیا کہ ایک قومی بلکہ ملی سطح کی علمی وفکری مجلس ایسی ہونی چاہیے جس میں ہر مکتب فکر کے جید علماے کرام اور معتدل مزاج اسلامی اسکالرز شامل ہوں اور جو مسلم معاشرے کو درپیش فقہی وفکری مسائل میں عوام کی راہنمائی کرے۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ اس طرح کی ایک علمی مجلس تشکیل دینے کے لیے تاسیسی اجلاس جامعہ نعیمیہ ،گڑھی شاہو لاہور میں بلایا جائے جس میں مندرجہ ذیل علماے کرام کو شرکت کی دعوت دی گئی:
۱۔ مولانا زاہد الراشدی، ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ 
۲۔ مولانا حافظ فضل الرحیم، نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور
۳۔ مولاناعبدالرؤ ف فاروقی، مہتمم جامعہ اسلامیہ، کامونکی 
۴۔ مولاناڈاکٹر سرفراز نعیمی، مہتمم جامعہ نعیمیہ، لاہور
۵۔ مولانامفتی محمد خاں قادری، مہتمم جامعہ اسلامیہ، لاہور
۶۔ مولانامحمد صدیق ہزاروی، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور
۷۔ مولاناحافظ عبدالرحمن مدنی، جامعہ لاہور اسلامیہ، لاہور
۸۔ مولانا ارشاد الحق اثری، ادارۂ علوم اثریہ، فیصل آباد
۹۔ مولاناصلاح الدین یوسف، دار السلام، لاہور
۱۰۔ مولاناعبدالمالک، شیخ الحدیث مرکز علوم اسلامیہ منصورہ، لاہور
۱۱۔ ڈاکٹر محمد امین، تحریک اصلاح تعلیم ٹرسٹ، لاہور
۱۲۔ محمد رفیق چودھری، مکتبہ قرآنیات، لاہور
۱۳۔ احمد جاوید، اقبال اکیڈمی، لاہور
۹؍اگست ۲۰۰۷ ء کو حسب پروگرام جامعہ نعیمیہ لاہور میں علماے کرام کا اجلاس ہوا جس میں ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے نام سے ایک علمی وفکری مجلس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ متفقہ طورپر مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب کو ا س مجلس کاکنوینر اور راقم کو اس کا رابطہ سیکرٹری مقررکیا گیا۔ مفتی محمد خان قادری صاحب اور مولانا عبدالمالک صاحب بیرون شہرہونے کی وجہ سے اور مولانا فضل الرحیم صاحب اور احمد جاوید صاحب دیگر ناگزیر مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکے۔ (مولانافضل الرحیم صاحب نے اپنی طرف سے گفتگو کے لیے مولانا فہیم الحسن تھانوی صاحب کو بھجوایا) علماے کرام نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ دینی مدارس کے امتحانات اور رمضان المبارک کی وجہ سے مجلس کا پہلا ورکنگ اجلاس عید الفطر کے بعد ہوگا جس میں میڈیا (پرنٹ اور الیکٹرانک) سے متعلق مسائل پر غوروخوض کیا جائے گا۔
یادرہے کہ اس مجلس کے قیام سے مقصود یہ ہے کہ مسلم معاشرے کو جن جدید مسائل کا سامنا ہے، ان کے حوالے سے سب مکاتب فکر کے علما کاایک متفقہ اجتماعی موقف سامنے لایا جائے تاکہ علماے کرام کے بارے میں فرقہ وارانہ اختلافات کا تاثر دور ہو سکے، مغربی فکر وتہذیب کے خلاف بند باندھا جا سکے، امت کو روشن خیال اور مغرب سے مرعوب متجددین کی مخدوش فکر سے بچایا جا سکے اور عامۃ الناس خصوصاً جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا اس بات پر اعتماد بحال کیا جائے کہ اسلام آج بھی ان کے سارے مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور علماے کرام آج بھی امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ مجلس مستقبل میں اسلامی مباحث کے حوالے سے وقیع کردار اداکرے گی ،ان شاء اللہ۔
(ڈاکٹر محمد امین ،رابطہ سیکرٹری ملی مجلس شرعی 
۱۳۶۔نیلم بلاک ،علامہ اقبال ٹاؤن ، لاہور )

مولانا زاہد الراشدی کی بیرونی سفر سے واپسی

الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر اور ’’الشریعہ‘‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی چالیس روزہ بیرونی دورہ مکمل کر کے گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ وہ ۱۳؍ اگست سے ۲۳؍ اگست تک سعودی عرب میں رہے اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں مختلف دینی اجتماعات میں شریک ہوئے جبکہ ۲۳؍ اگست سے ۲۳؍ ستمبر تک انھوں نے امریکہ میں قیام کیا اور واشنگٹن، بالٹی مور، نیو یارک، باسٹن، ہیوسٹن، پراوی ڈنس اور دیگر مقامات میں درجنوں اجتماعات میں شرکت کی اور خاص طور پر دار الہدیٰ، اسپرنگ فیلڈ واشنگٹن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃالوداع پر مسلسل پانچ روز لیکچر دیے اور مکی مسجد بروک لین نیو یارک میں ’’قرآن کریم کے حقوق اور فہم قرآن کریم کے تقاضے‘‘ پر چھ لیکچر دیے۔

حضرت مولانا حسن جانؒ کی شہادت اور مولانا شفیق الرحمن درخواستی کی وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا حسن جانؒ صاحب کی شہادت اور حضر ت مولانا شفیق الرحمن درخواستی کی اچانک وفات کی خبر میں نے دارالہدیٰ واشنگٹن میں سنی۔ دونوں بزرگ ہمارے ملک میں حدیث نبوی کے بڑے اساتذہ میں سے تھے اور دونوں کی وفات دینی وعلمی حلقوں کے لیے صدمہ کے ساتھ ساتھ ناقابل تلافی نقصان کا بھی باعث ہے۔
حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی معذوی اور وفات کے بعد ان کی مسند تدریس پر رونق افروز ہوئے اور پھر پشاور صدر کی درویش مسجد میں دینی درس گاہ قائم کر کے علوم حدیث کی ترویج و اشاعت کو زندگی بھر مشن بنائے رکھا۔ وہ سیاست میں بھی آئے اور خان عبد الولی خان مرحوم جیسی قدر آور شخصیت کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، لیکن سیاست انھیں راس نہیں آئی۔ وہ تو سیاست میں آئے لیکن سیاست ان میں آنے کا راستہ نہ پا سکی، بالآخر انھوں نے اسے طلاق بائن دے دی۔ وہ اس میدان کے بزرگ ہی نہیں تھے۔ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کی واحد جولان گاہ علم اور صرف علم تھا۔ اپنے مزاج کے حوالے سے وہ مرنجاں مرنج قسم کی شخصیت تھے۔ خدا جانے ان کے سفاک قاتلوں کو ان کی جان لینے میں کس پہلو سے دلچسپی تھی۔ بہرحال ہم ان کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، ان کے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان کے لیے جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات کی دعا کرتے ہوئے اہل خاندان، تلامذہ اور عقیدت مندوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہیں۔
حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی ہمارے مخدوم ومحبوب امیر حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے نواسے اور ان کی علمی وتدریسی روایات کے امین تھے۔ انھوں نے حضرت درخواستی کے زیر سایہ تعلیم وتربیت حاصل کی اور پھر جامعہ مخزن العلوم والفیوض خان پور اور پھر ان کی موجودگی میں ان کی مسند تدریس پر بیٹھ کر ان کے تعلیمی وتدریسی سلسلہ کو جاری رکھا۔ بعد میں خان پور میں ہی جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ قائم کر کے تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مسلکی حمیت سے مالامال تھے اور دینی تحریکات کی ہمیشہ سرپرستی فرماتے تھے۔ ان کی اچانک وفات صرف درخواستی خاندان کے لیے نہیں بلکہ ملک بھر کے دینی وعلمی حلقوں کے لیے صدمہ کا باعث ہے، حضرت درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق وعقیدت کے حوالے سے بھی اور اس حوالے سے بھی کہ ہم قحط الرجال کے اس دور میں ایک باعمل عالم دین، باصلاحیت استاذ حدیث اور جذبہ حق گوئی سے بہرہ ور دینی راہ نما سے محروم ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات سے نوازیں، ان کے اہل خاندان، تلامذہ اور عقیدت مندوں کو صبر جمیل کی توفیق دیں اور ان کے برادران وفرزندان کو ان کا علمی صدقہ جاریہ تادیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا الٰہ العالمین