نومبر ۲۰۰۷ء

پاکستانی حکمرانوں اور دانشوروں کے لیے لمحہ فکریہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دنیا کا مال و متاع اور اللہ کے ہاں کامیابی کا معیارمفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی 
استشراق کا تازہ رخ اور اہل علم کی ذمہ داریمحمد شاہد عالم 
’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ادارہ 
کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۱)حافظ محمد زبیر 
غامدی صاحب کے تصور ’کتاب‘ پر اعتراضات کا جائزہسید منظور الحسن 
’’تحریک طالبان وطالبات اسلام‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
مولانا مفتی برکت اللہ کا دورۂ پاکستانادارہ 

پاکستانی حکمرانوں اور دانشوروں کے لیے لمحہ فکریہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ٹیکساس (امریکہ) سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ نے ۶؍ستمبر ۲۰۰۷ کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ جمہوریہ ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل نے ۵۵۰ رکنی ترک پارلیمنٹ میں ۳۳۹ ووٹ لے کر منتخب ہونے کے بعد اپنے اسلامی ایجنڈے سے دست برداری کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ:
’’ان کا کوئی اسلامی ایجنڈا نہیں ہے۔ وہ کمال اتاترک کی تعلیمات کے مطابق سیکولر روایات سے مخلص رہیں گے۔ بی بی سی کے مطابق عبد اللہ گل نے کہا کہ انھوں نے سیاسی اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لیے ہیں۔‘‘
’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے اسی شمارے میں شائع ہونے والی ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس کے باوجود:
’’ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل کو فوج کی طرف سے سرد مہری کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ روز جب فوج کی گریجویشن کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے عبد اللہ گل گئے تو فوج کے چیف آف اسٹاف اور دیگر اعلیٰ جرنیلوں نے انھیں سلیوٹ نہیں کیا حالانکہ وہ صدر ہونے کے ناطے سے ترک افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔‘‘
ترکی کے موجودہ صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم طیب اردگان کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ترکی کی قومی سیاست میں اسلامی رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں اور عام انتخابات میں سیکولر عناصر کے ساتھ شدید معرکہ آرائی کے بعد ان کی جماعت نے قومی اسمبلی میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں طیب اردگان کو وزیر اعظم اور عبد اللہ گل کو صدارت کے منصب کے لیے منتخب کیا گیا ہے لیکن انتخابات میں ترک عوام کی زبردست حمایت اور اکثریتی ووٹ حاصل ہونے کے باوجود وہ ترکی کے سیکولر دستور اور روایات کے سامنے اس قدر بے بس نظر آتے ہیں کہ انھیں اپنے اقتدار کو تسلیم کرانے کے لیے اسلامی ایجنڈے سے دست برداری اور سیاسی اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لینے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔
سیاسی اسلام سے ظاہر ہے کہ ان کی مراد یہی ہو سکتی ہے کہ اسلام کے جن احکام کا ریاست اور حکومت کے ساتھ تعلق ہے، وہ ان کے عملی پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گے اور وہ ملک میں ان کی عمل داری کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔
یہ سیاسی اسلام کی اصطلاح بھی عجیب ہے اور اس اصطلاح کے پردے میں جس طرح اسلام کے معاشرتی، قانونی، حکومتی اور ریاستی احکام کی نفی کی جا رہی ہے، وہ بھی حالات کے جبر کی پیدا کردہ ایک افسوس ناک ستم ظریفی ہے کیونکہ یہ بات درست ہے کہ اسلام محض سیاست نہیں ہے مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ سیاست اسلام کا ایک اہم شعبہ ہے جس کو اسلام سے الگ کر دیا جائے تو بقول اقبالؒ :
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
مگر آج کا عالمی نظام اس بات پر بضد ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اسلام کے سیاسی اور ریاستی احکام سے دست بردار ہو کر مغرب کی مسیحیت کی طرح صرف عقیدہ وعبادت اور شخصی اخلاقیات تک اپنے اسلام کو محدود رکھیں حتیٰ کہ اگر کسی مسلمان ملک کے عوام جمہوری ذریعہ سے اکثریتی فیصلہ کے ساتھ اسلام کے اجتماعی، عدالتی اور ریاستی احکام کو اپنے ہی ملک میں نافذ کرنا چاہیں تو انھیں اس کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس سے قبل الجزائر میں بھی ایسا ہو چکا ہے کہ اسلام کے ریاستی کردار کے داعی سیاسی حلقوں نے جمہوری عمل کے ذریعے اکثریتی ووٹ حاصل کر لیے اور ان کے برسر اقتدار آنے کا امکان پیدا ہو گیا تو نہ صرف یہ کہ فوجی جبر کے ذریعے ان کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے بلکہ شب وروز جمہوریت، آزادئ رائے اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے عالمی نظام کے سائے تلے الجزائر کو خوفناک خانہ جنگی سے دوچار کر دیا گیا۔
ہمارے خیال میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی یہی تجربہ دہرایا جانے والا ہے اور اس کے لیے تمام ابتدائی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، یہ فرق ملحوظ رکھے بغیر کہ ترکی اور الجزائر کے دستور سیکولر ہیں جن کو بہانہ بنا کر اسلامی قوتوں کا زبردستی راستہ روکا گیا ہے جبکہ پاکستان کادستور اسلام کو اپنی بنیاد تسلیم کرتا ہے اور فوج سمیت تمام اداروں نے پاکستان میں اس کی نظریاتی بنیادوں کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، مگر اس کے باوجود عالمی نظام کے بزرجمہروں نے پاکستان کی قومی سیاست میں دینی عناصر کو کارنر کرنے اور پاکستان کو زبردستی سیکولر ملک بنانے کے لیے جو منصوبہ بندی کی ہے، ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنے کی جو سازش کی جا رہی ہے اور دینی سیاست کے نمائندوں کی جس بے دردی کے ساتھ کردار کشی کی جا رہی ہے، وہ عالمی نظام کی منافقت اور دوغلے پن کی بدترین مثال ہے۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ مغرب کو نہ تو کسی ملک کے دستور سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی اسے کسی ملک کے عوام کے ووٹوں اور اکثریتی رائے سے کوئی دلچسپی ہے۔ اس کا ایجنڈا صرف او رصرف یہ ہے کہ جس طرح مغرب اپنے مذہب کے ریاستی، عدالتی اور حکومتی کردار سے دست بردار ہو گیا ہے، اسی طرح عالم اسلام کو بھی قرآن وسنت کے ان احکام سے زبردستی دست بردار کرا دیا جائے جن کا تعلق سیاست، حکومت، ریاست، قانون اور معیشت سے ہے تاکہ کوئی مسلم لک اسلامی بنیادوں پر اپنا نظام تشکیل نہ دے سکے۔
سوال یہ ہے کہ ترک حکومت کی آخر کیا مجبوری ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے حضرات کو عوامی مینڈیٹ اور توقعات سے ہٹ کر اور اپنی سابقہ روایات سے دست بردار ہو کر ’’سیاسی اسلام‘‘ سے رشتے توڑنا پڑے ہیں؟ وہ مجبوری یورپی یونین اور یورپی برادری میں شامل ہونے کی خواہش ہے جس کے لیے ترک حکمرانوں کو گزشتہ پون صدی سے طرح طرح کے پاپڑ بیلنا پڑ رہے ہیں، لیکن یورپی یونین کی قیادت کی ہر شرط اور خواہش کی نت نئی چوٹی عبور کرنے کے بعد ترک حکمرانوں کے سامنے اس سے بھی بلند چوٹی ان کے صبر وحوصلہ کو آزمانے کے لیے موجود ہوتی ہے۔ اس کھیل کو شرو ع ہوئے آٹھ عشرے گزرنے کو ہیں مگر ’’ہنوز دلی دور است‘‘ والا معاملہ ہے اور یورپی یونین میں ترکی کو شامل کیے جانے کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
یہ صورت حال ہمارے ان حکمران طبقوں اور دانش وروں کے لیے یقیناًلمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے جو ہر حال میں مغرب کے ساتھ دوستی اور عالمی برادری کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کو ہی پاکستان اور مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں اور اس کے لیے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ مغرب کے ساتھ ہر معاملے میں محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا جائے اور بہرصورت تصادم ہی کا بگل بجا دیا جائے، لیکن خودسپردگی کی یہ کیفیت بھی عقل ودانش اور حمیت وغیرت سے مطابقت نہیں رکھتی کہ اپنے نظریاتی تشخص، تہذیبی امتیاز اور دینی پہچان سے دست برداری تک سے گریز نہ کیا جائے۔ 
ہمیں طیب اردگان اور عبد اللہ گل کی قیادت میں سامنے آنے والی نئی عوامی ترک قیادت سے ہمدردی ہے۔ ہم ان کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں اور ہمیں اس دلدل کی گہرائی کا پوری طرح اندازہ ہے جس میں وہ بری طرح پھنسے ہوئے ہیں، اس لیے ہم ان کو کوئی الزام دینے کی بجائے ان کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں ترک قوم کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ہمت وحوصلہ اور جرات وتدبر عطا فرمائے، البتہ اس ساری صورت حال کو کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے اسی دلدل کی طرف بگٹٹ دوڑے چلے جانے والے پاکستان کے حکمران طبقات اور ارباب دانش سے ہم یہ ضرور گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ ایک بار پھر حالات کا ازسرنو جائزہ لے لیں اور مغرب کے ہر مطالبہ اور خواہش کے سامنے خاموشی کے ساتھ سرجھکا دینے کی بجائے اعتدال اور توازن کا باوقار راستہ اختیار کریں، ورنہ دینی حلقے تو جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار اور وسطی ایشیا میں روسی استعمار کے ہاتھوں جبر واستبداد کے سخت سے سخت وار سہہ کر بھی زندہ وموجود ہیں، وہ موجودہ عالمی استعمار کے جبر کا بھی ان شاء اللہ تعالیٰ صبر وحوصلہ اور توفیق خداوندی کے ساتھ سامنا کر لیں گے، مگر قوم کو اس طرح لے جانے والے مقتدر طبقات اور دانش ور اپنا مستقبل سوچ لیں کہ تاریخ ان کے نام کون سے خانے میں محفوظ کرے گی اور آنے والی نسلیں انھیں کس عنوان سے یاد کریں گی۔

دنیا کا مال و متاع اور اللہ کے ہاں کامیابی کا معیار

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

شور برپا ہے کہ مسلمان دنیا میں پست ہو رہے ہیں اور غیر مسلم خصوصاً مغربی قومیں بلند اور ترقی یافتہ ہو رہی ہیں ۔ گویا کہ دنیا میں کامیابی ، عزت اور کمالیت کا معیار دنیا اور متاع دنیا ہی کو سمجھا جا رہا ہے ۔ ظاہر بین نگاہیں ، دنیا اور متاع دنیا کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں ، حالانکہ کسی چیز کا اچھا یا برا ہونا اس کے انجام کے ساتھ وابستہ ہے ۔ یعنی جو چیز اپنے انجام اور نتیجہ کے اعتبار سے مہلک اور باعثِ فساد ہو ، ایسی چیز کو محبوب اور پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ اس کے حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار ہوتا ہے اور نہ ایسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی جاتی ہے ۔ عقل مند ، نیک اور انجام پر نظر رکھنے والے انسان ایسی چیزوں کو قدر اور وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔ ایسے رفیع النظر عقل مند اشخاص دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے رہے ہیں ۔ 
قرآن مجید میں تدبر اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجودیکہ دنیا اور متاع دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے لیکن اس کی نعمتوں سے حد سے زیادہ لذت حاصل کرنے اور اس میں ضرورت سے زیادہ ترقی حاصل کرنے کو انجام کے اعتبار سے ناپسند قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو خاص طور سے اس میں انہماک سے منع کیا ہے ۔ دنیا میں ترقی کرنا اور اس کی متاع سے لذت حاصل کرنا غیر مسلموں کا شیوہ اور ان کا مقصدِ اصلی ہے ۔ حدیث میں آیا ہے: الدنیا سجن للمومن و جنۃ للکافر، یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ قرآن میں تو یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ : 
وَلَوْلَا أَن یَکُونَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃً لَجَعَلْنَا لِمَن یَکْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُیُوتِہِمْ سُقُفاً مِّن فَضَّۃٍ وَمَعَارِجَ عَلَیْْہَا یَظْہَرُونَ وَلِبُیُوتِہِمْ أَبْوَاباً وَسُرُراً عَلَیْْہَا یَتَّکِؤُونَ وَزُخْرُفاً وَإِن کُلُّ ذَلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ عِندَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ (الزخرف ۴۳: ۳۳ تا ۳۵)
’’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک طریقہ کے ہو جائیں گے ( کافر) تو جو اللہ کے منکر ہیں ان کے گھروں کی چھت اور ان پر چڑھنے کی سیڑھیاں چاندی کی کردیتے اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی چاندی کے کر دیتے جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور سونے کے بھی اور یہ کہ سب کچھ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور دارِ آخرت آپ کے رب کے ہاں پرہیزگاروں کے لیے ہے ‘‘ 
یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیوی مال و دولت کی کوئی قدر نہیں ، نہ اس کا دیا جانا کچھ قرب و وجاہت عنداللہ کی دلیل ہے ۔ یہ تو ایسی بے قدر اور حقیر چیز ہے کہ اگر ایک خاص مصلحت مانع نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافروں کے مکانوں کی چھتیں ، زینے، دروازے ، چوکھٹ ، قفل اور تخت چوکیاں سب چاندی اور سونے کی بنا دیتا مگر اس صورت میں لوگ یہ دیکھ کر کہ کافروں ہی کو ایسا سامان ملتا ہے عموماً کفر کا راستہ اختیار کر لیتے ( الا ماشاء اللہ ) اور یہ چیز مصلحتِ خداوندی کے خلاف ہوتی ، اس لیے ایسا نہیں کیا گیا ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدر مچھر کے بازو کے برابر ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی کا نہ دیتا ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : کافر کو اللہ نے پیدا کیا ہے ، کہیں تو اس کو آرام دے ، آخرت میں تو دائمی عذاب ہے ، کہیں تو آرام ( کامل ) ملتا ، مگر ایسا ہو تو سب ہی کفر کا راستہ پکڑ لیں ۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ متاع دنیا سے غیر مسلموں کو بہت کچھ دیا گیا ہے لیکن مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں کیا کچھ دیا گیا ہے؟ اس اہم سوال کا جواب قرآن حکیم کی مندرجہ ذیل نظم سے حاصل ہو رہا ہے:
وَلَقَدْ آتَیْْنَاکَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ لاَ تَمُدَّنَّ عَیْْنَیْْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجاً مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَقُلْ إِنِّیْ أَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ (الحجر ۱۵: ۸۷ تا ۸۹)
’’ اور ہم نے دی ہیں تجھ کو سات آیتیں وظیفہ اور قرآن بڑے درجہ کا ، تو اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھ ، جو ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو استعمال کرنے کے لیے دے رکھی ہیں اور ان پر غم نہ کر اور جھکا اپنے بازو ایمان والوں کے واسطے اور کہہ کہ میں وہی ہوں ڈرانے والا کھول کر ‘‘ 
یہ سورت مکی ہے اور حالات یہ تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی سب کے سب دنیوی حالات کے اعتبار سے خستہ حالی میں مبتلا تھے اور کافر ومشرک دولت مند ، دنیا کی عیش و عشرت میں سرشار تھے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام مسلمان مکے اور اطراف و نواح کی بستیوں میں مظلومی کی زندگی بسر کر رہے تھے ، ہر طرف سے مطعون تھے ، ہر جگہ تذلیل و تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور قلبی و روحانی تکلیفوں کے ساتھ جسمانی اذیتوں سے بھی کوئی بچا ہوا نہ تھا۔ دوسری طرف سردارانِ قریش دنیا کی نعمتوں سے مالا مال اور ہر طرح خوش حالیوں میں مگن تھے ۔ ان حالات میں فرمایا جا رہا ہے کہ تم شکستہ خاطر کیوں ہوتے ہو؟ تم کو ہم نے وہ دولت عطا کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری نعمتیں اور دولتیں ہیچ ہیں۔ رشک کے لائق تمہاری یہ دولت ہے جو دنیا کی ہر دولت سے فائق تر اور مسلمانوں کے لیے ہر شعبہ زندگی کے لیے سازو سامان اور بے پناہ قوت و طاقت ہے ۔ دنیا کی کوئی بھی دولت و ثروت اور حکومت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ۔ لہٰذا تم صبر و استقلال سے ان موجودہ حالات کو نبھاؤ ۔ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھو جو ہم نے مختلف قسم کے غیر مسلموں کو دے رکھی ہیں ۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے وہ دولت سبعاََ من المثانی و القرآن العظیم عنایت کی ہے جس کے آگے تمام دولتیں گرد و غبار ہیں ۔ اس تمہاری دولت میں اللہ تعالیٰ کے پختہ وعدے اور اٹل فیصلے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلموں پر غالب کرے گا اور اس کی مدد و نصرت مسلمانوں کو پہنچتی رہے گی ۔ سورۃ حج میں ارشاد ہے: 
إِنَّ اللَّہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ آمَنُوا إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُورٍ أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ (الحج ۲۲: ۳۸ تا ۴۰)
’’ اللہ دشمنوں کو ہٹا دے گا ایمان والوں سے اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی دغاباز ناشکرا ، حکم ہوا ان لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں ان سے لڑنے کا ، اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے ، وہ لوگ جن کو نکالا گیا ان کے گھروں سے اور دعوی کچھ نہیں سوائے اس کے وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے ‘‘ 
حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ نے ان آیات کی جو تشریح فرمائی ہے ، قابل دید ہے ۔ فرماتے ہیں:
’’یعنی اپنی قلت اور بے سروسامانی سے نہ گھبرائیں۔ اللہ تعالیٰ مٹھی بھر فاقہ مستوں کو دنیا کی فوجوں اور سلطنتوں پر غالب کر سکتا ہے۔ فی الحقیقت یہ ایک شہنشاہانہ طرزمیں مسلمانوں کی نصرت امداد کا وعدہ تھا، جیسے دنیا میں بادشاہ اور بڑے لوگ وعدہ کے موقع پر اپنی شان وقار اور استغنا دکھلانے کے لیے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہاں تمھارا فلاں کام ہم کر سکتے ہیں۔ شاید یہ عنوان اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ مخاطب سمجھ لے کہ ہم ایسا کرنے میں کسی سے مجبور نہیں ہیں۔ جو کچھ کریں گے، اپنی قدرت واختیار سے کریں گے۔‘‘ 

استشراق کا تازہ رخ اور اہل علم کی ذمہ داری

محمد شاہد عالم

مغرب کے لیے اسلامی معاشروں کو گوارا کرنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا۔ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے کو محیط ایک طویل دور وہ تھا جب مغرب اور اسلام، دونوں ایک دوسرے کے وجود کے لیے خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ اسلامی خطرے کو روکنے اور اسے پہلے ارض مقدسہ اور جنوب مغربی یورپ اور بعد ازاں جنوب مشرقی یورپ سے پسپا کرنے کے لیے عوامی طاقت وحمایت کو تحریک دینے کی غرض سے یورپی مصنفین اسلام کی تصویر کشی مسیحیت کی ایک بگڑی ہوئی شکل، شیطان کے پجاری مذہب، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دھوکہ اور فریب اور عرب بدووں کی فتوحات کے لیے قائم کیے جانے والے ایک دہشت پسند اور عسکری مذہبی گروہ کی حیثیت سے کرتے رہے۔ ان تاریک اوصاف کی فہرست میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) اور تحریک تنویر (Enlightenment) کے مفکرین نے مزید اضافہ کیا اور اب اس تصور کو بھی فروغ حاصل ہوا کہ اسلامی معاشرے آمریت، تقدیر پر اندھے اعتبار، جنونیت، بے عقلی اور جستجو کے فقدان سے عبارت ہیں اور سائنس کے مخالف اور ترقی کے دشمن ہیں۔ جب یورپ کو انیسویں صدی میں عسکری بالاتری حاصل ہوئی تو مذکورہ استشراقی خیالات کو اسلامی ممالک پر قبضہ کر کے انھیں یورپی نو آبادیاں بنانے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
تاہم مغربی مفکرین کی ایک محدود تعداد نے، جس کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی، اسلام اور اسلامی معاشروں کے حوالے سے استشراق کے معیاری تصورات کو مسترد کرنا اور معاملات کو ویسے دیکھنا شروع کیا جیسا کہ انھیں مسلم مآخذ میں بیان کیا جاتا ہے۔ انھوں نے فلسفہ، سائنسی علوم، آرٹ اور فن تعمیر میں مسلمانوں کے کارناموں سے متعلق معلومات بہم پہنچائیں اور اسلام کی مساوات پسند روح، نسلی تعصبات کی غیر موجودگی، اور دوسرے مذہبی گروہوں کے حوالے سے روادارانہ رویے کو اجاگر کیا۔ اسلام کو اس کا جائز مقام دینے کا طریقہ اختیار کرنے والے ان یورپی مصنفین میں سے بیشتر یہودی تھے جنھیں حال ہی میں اپنی الگ تھلگ آبادیوں (ghettos) سے آزاد ہو کر مغرب کے علمی اداروں میں داخل ہونے کا موقع ملا تھا۔ ماضی میں یہ یہودی ایک دوسری سامی قوم (یعنی عربوں) کی کامیابیوں کو اپنے کھاتے میں ڈالتے رہے۔ اسلامی معاشروں کی رواداری کی طرف توجہ مبذول کرا کر وہ بڑے مہذب طریقے سے اہل یورپ کو اس امر کی یاد دہانی کرا رہے تھے کہ انھیں انسانی اقدار پر مبنی ایک بورژوا تہذیب کی تشکیل کے لیے ابھی بہت سا سفر طے کرنا ہے۔ ذرا سخت الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ یہودی ناقدین مغرب کے حریف مسلم مشرق کو بلند تر مقام دے کر مسیحی مغرب کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
استشراق کے مزاج میں دوسری تبدیلی ۱۹۵۰ء کی دہائی میں رونما ہوئی اور اس کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس کے بعد اسلام اور اسلامی معاشروں کے مطالعہ وتحقیق کے مرکزی دھارے سے تعلق رکھنے والے محققین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سابقہ مستشرقین کے بعض مسلمات کو لازمی قرار دینے والے ذہنی رویوں سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش شروع کی۔ یہ تبدیلی کم از کم تین عوامل کا نتیجہ تھی جن میں سے سب سے زیادہ طاقت ور عامل جنگ عظیم دوم کے بعد مغربی نوآبادیوں کے عوام کی مغربی طاقتوں کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد تھی۔ سرد جنگ کے تناظر میں مغربی طاقتوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ پچھلی چار صدیوں سے اہل مغرب جن اقوام کو حقیر سمجھتے رہے، اب ان کی ثقافت، مذہب اور تاریخ کے بارے میں نسبتاً محتاط طرز عمل اختیار کیا جائے۔ چنانچہ ان موضوعات کے حوالے سے احترام اور توقیر کا اظہار مستشرقین کی تحریروں میں ایک خوبی کی چیز سمجھا جانے لگا۔
مغربی علمی اداروں میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اہل علم کی شمولیت نے بھی مستشرقین کے محتاط رویہ اختیار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان میں فلپ کے ہٹی، البرٹ حورانی، جارج مقدسی، محسن مہدی، سید حسین نصر اور فضل الرحمن شامل ہیں، جنھوں نے اسلامی معاشروں سے متعلق اپنی تحقیقات میں خیالات اور احساسات کے اشتراک اور تفہیم وافہام کے عناصر کو شامل کیا۔ ایڈورڈ سعید کا تعلق بھی اسی گروہ تھا جس نے استشراق کے مناہج پر عالمانہ اور مسلسل تنقید کر کے منفرد طور پر اس رجحان کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا۔ ایڈورڈ سعید کی تنقید کا تعلق ایک وسیع تر علمی وفکری تحریک سے بھی تھا جس کے پس پشت، جزوی طور پر، غیر مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے محققین تھے۔ اس تحریک نے نہ صرف مستشرقین کے مسخ شدہ تصورات کا پردہ چاک کیابلکہ ایشیائی اور افریقی معاشروں کی تاریخ نسبتاً ہمدردانہ زاویہ نگاہ سے لکھ کر ان کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی بھی کوشش کی۔ دوسرے لفظوں میں اس دور میں مغرب کے بعض حلقوں نے ذرا مایوسی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا کہ مغرب کے سماجی علوم اور مطالعہ انسان سے متعلق شعبوں میں نسل پرستی اور عدم رواداری کا رویہ سرایت کیے ہوئے ہے۔
۵۰ء کی دہائی میں ہی اسلام نے مغرب کے روحانی جستجو رکھنے والے بعض مفکرین کی توجہ بھی حاصل کی۔ یہ مفکرین اپنے معاشروں میں رائج روحانی روایت کی کم مائیگی سے مایوس ہو کر اس طرف متوجہ ہوئے تھے۔ انھوں نے مستند صوفیوں (یعنی ایسے مسلمان جو شریعت کے احکام کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ اسلام کے داخلی پہلووں کو بھی تربیت حاصل کرتے ہیں) کے ساتھ روابط کے ذریعے سے اسلام کا جو گہرا فہم حاصل کیا، اس نے انھیں اسلام کے مابعد الطبیعیاتی اور روحانی زاویہ نگاہ سے متعلق، خواہ اس کی عکاسی اسلام کے پیروکاروں کے عمل کی صورت میں ہو رہی ہو یا اسلامی دنیا کے فن خطاطی، فن تعمیر اور اب تک چلے آنے والے روایتی ہنروں میں اس کا اظہار ہو رہا ہو، متعدد غیر معمولی کتابیں تصنیف کرنے کا موقع فراہم کیا۔ رینے گینوں، ٹائٹس برک ہارڈ، Frithjof Schuon، مارٹن لنگز، Charles Le Gai Eaton اور دیگر مفکرین نے اس بات کے قطعی شواہد پیش کیے کہ اسلام ایک بالکل منفرد روحانی زاویہ نگاہ پیش کرتا ہے جو ایک گہری مذہبی زندگی کے لیے سہارا بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم مذکورہ تبدیلی کے بالکل مخالف سمت میں استشراق کا ایک بالکل نیا رجحان بھی جنگ عظیم کے بعد کے دور میں تشکیل پا رہا تھا۔ اس رجحان کی بنیاد اسلام کے کسی نئے تصور پر نہیں، بلکہ زیادہ تر پرانے استشراقی خیالات کی ترتیب نو پر تھی اور اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے عمل دخل میں اضافہ اور ان کے تسلط کو قائم کرنا تھا۔ برنارڈ لیوس کی قیادت میں اس نئی استشراقی مکتب فکر نے یہ دعویٰ کیا کہ مسلم دنیا ایک ناکام تہذیب ہے۔ بعض دوسرے شواہد کے علاوہ اس مکتب فکر کا استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشرے جدیدیت کو اپنانے میں ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ اسلام میں سیاست اور مذہب کا امتزاج اس کے لیے جمہوریت کو ناقابل قبول ٹھہراتا ہے، اسلام خواتین اور اقلیتوں کے لیے مساوی حقوق کا قائل نہیں، اور اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک ساری دنیا پر اسلامی قانون کی بالادستی قائم نہ ہو جائے، وہ مسلسل جنگ جاری رکھیں۔مختصراً یہ کہ جدیدیت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں ناکامی اور اپنے بے لچک رویے کے باعث اسلام موجودہ تہذیب یعنی مغربی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ 
نئے روپ میں سامنے آنے والی اس استشراقی فکر میں جدت کا پہلو بس یہ ہے کہ اس کے عزائم، اس کے علم بردار اور وہ دشمن جس کی تباہی کو وہ اپنا ہدف قرار دیتی ہے، نئے ہیں۔ اس کے عزائم یہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ کو نسلی، فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کے لیے امریکا کی پشت پناہی حاصل کی جائے، یعنی مغرب کی دست نگر ریاستوں کا ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے جو علاقے پر اسرائیل کے طویل مدتی تسلط کو قائم رکھنے کے لیے مددگار ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم استشراقی فکر کی اس ترتیب نو میں جن محققین کا حصہ سب سے زیادہ ہے، وہ زیادہ تر یہودی ہیں جو اب ماضی کے بالکل برعکس کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی براہ راست وجہ مشرق وسطیٰ کے قلب میں نوآبادیاتی طریقے پر آباد کاری کرنے والی ایک یہودی ریاست کا قیام ہے۔ صہیونی جانتے تھے کہ اسرائیل کے قیام میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس کی طویل المدت بقا اسلام اور مغرب کے مابین جنگ کے شعلے بھڑکانے پر منحصر ہوگی۔ صہیونیت نے اس مقصد کے حصول کے لیے خود بھی عربوں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں اور ۱۹۶۷ کے بعد سے مغربی کنارے اور غزہ پر اپنا ظالمانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی بربادی کے لیے امریکی پشت پناہی حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
نئے استشراقی مفکرین جو جنگ برپا کرنا چاہتے ہیں، اس کا ہدف وہ مختلف تعبیرات کی صورت میں اسلامی بنیاد پرستی، اسلامی دہشت پسندوں، اسلامی فاشسٹوں یا اسلامی دہشت گردوں کو قرار دیتے ہیں۔ اصطلاح جو بھی استعمال کی جائے، اس کے دائرے میں وہ تمام اسلامی تحریکیں آ جاتی ہیں، خواہ تشدد کے سیاسی استعمال کے حوالے سے ان کا موقف کچھ بھی ہو، جو ۱۹۴۵ء سے مشرق وسطیٰ کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم کے مقابلے کے لیے مقامی، قومی اور عالم اسلام کی سطح پر مزاحمت کو مہمیز دینے کے لیے اسلامی علامات اور حوالوں کو استعمال کرتی ہیں۔یہ اسلامی مزاحمتی تحریکیں جو قومی سطحوں پر بھی سرگرم عمل ہیں اور قومی سرحدوں سے بالاتر ہو کر بھی، ان سیکولر قوم پرستوں کی جگہ لے چکی ہیں جنھیں ان کے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے اپنی صفوں میں شامل کر لیا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں رونما ہونے والے واقعات ، مثلاً مسلم مزاحمت کا ظہور، امریکہ اور اسرائیل کا باہمی مفادات پر مبنی گٹھ جوڑ، اور اسلامی دنیا کے خلاف چھیڑی جانے والی حالیہ جنگ، ان سب کی پیش بینی کی جا سکتی تھی، بلکہ جب برطانیہ نے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی ذمہ داری اٹھائی تو فی الحقیقت ان حالات کی پیش بینی کر لی گئی تھی۔ بین الاقوامی امور پر لکھنے والے ایک امریکی قلم نگار ہربرٹ ایڈمز گبنز نے برطانوی اور صہیونی منصوبوں کے طویل المدت نتائج کے بارے میں اس وقت کے صف اول کے مغربی مدبرین کے مقابلے میں زیادہ بصیرت کا ثبوت دیا۔ جنوری ۱۹۱۹ء میں اس نے لکھا: ’’اگر امن کانفرنس یہودیوں کوفلسطین میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس علاقے میں یہودیوں کی نقل مکانی اور علاقے کی ترقی کی ضمانت صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب ایک اچھی خاصی فوج غیر معینہ مدت کے لیے علاقے میں موجود رہے۔ نہ صرف فلسطین میں آباد نصف ملین مسلمانوں کو بلکہ قرب وجوار کے ممالک کے کروڑوں مسلمانوں کو طاقت کی مسلسل نمایش اور بعض اوقات اس کے استعمال کے ذریعے سے تابعداری پر مجبور رکھنا پڑے گا۔‘‘
اس سے بھی زیادہ درست پیش گوئی کرتے ہوئے Anstruther MacKay نے، جو جنگ عظیم اول میں فلسطین کے ایک علاقے میں فوجی گورنر تھا، لکھا کہ صہیونی منصوبہ ’’ان مغربی طاقتوں کے خلاف جنھوں نے اس کی اجازت دی، مسلمانوں میں خوف ناک نفرت اور جنونیت پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس مخاصمت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے اور اس سے شام، عراق، مصر اور انڈیا میں مسائل پیدا ہوں گے۔ مستقبل کے مورخین سفید اور براؤن نسلوں کے مابین چھڑنے والی عظیم جنگ کا سبب بھی اسی کو قرار دیں گے ، اور اس جنگ میں امریکہ کو بلاشبہ گھسٹنا پڑے گا۔‘‘
اس وقت ہم اسی مستقبل میں جی رہے ہیں جس کی پیش گوئی گبنز اور میک کے نے کی تھی۔ مسلم مزاحمت کو منصہ شہود پر آنے میں کچھ وقت لگا لیکن اب یہ ایک یا دوسری شکل میں شام، عراق، مصر اور انڈیا سے لے کر مسلم دنیا کے دور دراز کونوں تک بلکہ مغرب میں مقیم مسلم تارکین وطن میں بھی پھیل چکی ہے۔ اہل علم کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس نئے استشراقی محاذ کو ٹھیک ٹھیک سمجھیں، اس کے اثرات وعواقب کو متعین کریں، اس کا تناظر طے کریں اور اس کی تردید کریں۔ ہمیں دنیا کو اور بالخصوص مغربی دنیا کو، جو ٹی وی اسکرین پر دکھائے جانے والے (پرتشدد) مناظر کے سحر میں گرفتار ہے، یہ بات مسلسل یاد دلاتے رہنے کی ضرورت ہے کہ ان کی امن کی امیدوں کو پریشان کرنے والے ان مناظر کے پیچھے مغرب کی پھیلائی ہوئی تباہ کاریوں، جنگوں، نوآبادیاتی نظام، غلامی، نسلوں کے خاتمے، استحصال، فریب اور منافقت کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان کی جڑیں سنگین نا انصافیوں میں پیوست ہیں۔
تاریخ مظلوموں کی ساتھی ہے۔ وہی اس کو درست طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ تاریخی حقائق کی نفی کرنے کی ضرورت ظالموں کو پیش آتی ہے جواپنے مظالم کو چھپانے کے لیے من گھڑت تاریخ بنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ بغاوتوں، دہشت گرد حملوں، عالمی امن کو لاحق خطرات اور مہذب نظام کے خلاف تشدد کو کچلنے کی ضرورت پر مسلسل اور بے تکان زور دیتے رہیں۔ ہمیں بھی گزشتہ چار صدیوں میں مغربی تباہ کاریوں کی تاریخ کو بار بار سامنے لانا ہوگاتاکہ ہم دنیا کی موجودہ بدحالی کے اسباب مغرب کی شرم ناک تاریخ میں دکھا سکیں۔
(بشکریہ ڈان۔ ترجمہ: ابو طلال)

’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘

ادارہ

شرکاء کے مابین مجلس مذاکرہ کی روداد

۱۴ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف دینی مدارس اور کالجوں کے اساتذہ نے شرکت کی۔ پہلی نشست کی صدارت بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی، دوسری نشست مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جبکہ تیسری نشست کی صدارت کے فرائض اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے انجام دیے۔ 
ورکشاپ سے خطاب کرنے والوں میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبدالرؤف فاروقی، پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے امیر مولانا عبدالحق خان بشیر، پروفیسر حافظ منیر احمد، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے گزشتہ سال کی رپورٹ اور آئندہ سال کے پروگرام کی تفصیل پیش کی۔ 
ورکشاپ کی ایک نشست دینی مدارس کے اساتذہ کے درمیان باہمی مشاورت کے لیے مخصوص تھی جس میں اساتذہ نے ورکشاپ میں مختلف حضرات کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کی روشنی میں تبادلہ خیالات کیا اور متعدد سفارشات پیش کیں۔ ان نشست کی روداد درج ذیل ہے:

مولانا زاہدالرشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! 
میں نے اپنی بات اصولی طور پر صبح کی نشست میں کہہ دی تھی۔ اس وقت میں شام کے مذاکرے کا ایجنڈا عرض کروں گا۔ یہی آخری اور اصلی نشست ہو گی اور اسی کی روشنی میں سیمینار کی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔
ایجنڈا استاد کی تربیت کے حوالے سے ہو گا۔ اس کو ہم اس طرح سے تقسیم کریں گے:
۱۔فکری تربیت، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم جو تعلیم وتعلم کا کام کرتے ہیں، اس کا مقصد کیا ہے اور ہدف کیاہے؟ یہ ساری کھیپ ہم کیوں تیار کر رہے ہیں اور سوسائٹی میں اس کا رول کیا ہوگا؟ وہ مقصد اگر استاد کے ذہن میں ہوگا تو جو کلاس اس کے سامنے بیٹھی ہے، وہ اس مقصد کے مطابق اس کی تمام ضروریات کو پورا کرے گا کہ ان طلبہ کو اس مقصد کے لیے تیار کرنا ہے اور وہ ویسی ہی تربیت کرے گا۔ اس سلسلے میں استاد کی ذہن سازی ہونی چاہیے۔
۲۔علمی تربیت، اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب ہم ایک سند لے کر ایک مسند پر بیٹھ جاتے ہیں تووہ سند ہمارے لیے اسٹاپ بن جاتی ہے کہ اب آگے ہم نے کچھ نہیں پڑھنا ہے۔ جو کچھ پڑھ لیا، وہ کافی ہے تو وہ سند ہمارے لیے بریک بن جاتی ہے۔ اگر استاد کے علم میں ترقی وارتقا نہیں ہوگا اور وہ یہی سوچے گاکہ جو کاپی میں نے پہلے سال پڑھائی تھی، وہی اب بھی پڑھانی ہے تو طلبہ کو اس زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر استاد کے علم میں ترقی نہیں ہو گی تو شاگرد کے علم میں بھی ترقی نہیں ہو گی اور وہ جمود کا شکار رہے گا۔ علمی تربیت سے مراد یہ ہے کہ اساتذہ میں مطالعہ کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور ان کے علم میں گہرائی اور گیرائی دونوں ہوں۔ میرے ایک دوست پروفیسر ہیں۔ انہوں نے بڑی دلچسپ بات سنائی کہ ایک جگہ مذاکرہ ہو رہا تھا تو میں نے ایک مولوی صاحب سے کہاکہ عربی ادب آپ پڑھاتے ہیں‘ لیکن عربی ادب کے بارے میں معلومات ہمیں زیادہ ہیں۔ مثلاً شعرا کے نام‘ اشعار کا پس منظر اور تاریخ ادب وغیرہ، تو انہوں نے جواباً کہا کہ عربی ادب کے بارے میں اگرچہ آپ زیادہ جانتے ہیں، لیکن عربی ادب (زبان) ہم زیادہ جانتے ہیں۔ تو یہ دونوں چیزیں ہونی چاہییں۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی علم کبھی ایک جگہ پر نہیں رکا۔ اس میں ارتقا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نور الانوار میں نے دس مرتبہ پڑھا ئی ہے۔ نور الانوار ملا جیون ؒ نے آج سے تین سو سال قبل لکھی ہے اور ان تین سو سالوں میں حنفی اصول فقہ نے بہت ترقی کی ہے اور بہت آگے بڑھا ہے۔ اب طالب علم کا کیا قصور ہے کہ اسے گیارھویں صدی کے علم اصول فقہ تک روک دیا جائے اور بعد میں ہونے والی ترقی کے بارے میں اس کو معلومات فراہم نہ کی جائیں؟ مثلاً جو اضافات ہوئے ہیں‘ جو نئی اصطلاحات آئی ہیں، وہ کیوں اس کو نہ بتائی جائیں؟ اس کے دو حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ نصاب میں نئی کتابیں شامل کی جائیں۔ دوسرا یہ کہ استاد کچھ محنت کر کے وہ جدید مواد اپنے مطالعہ میں لے آئے تو وہ نور الانوار کو سامنے رکھ کر بھی ساری بات کر سکتا ہے۔
۳۔ اخلاقی اور دینی تربیت، آج کی جدید تعلیم اور دینی تعلیم میں بڑافرق ہے کہ جدید تعلیم میں استادصرف استاد ہے اور اس کا کام صرف پڑھاناہے‘ جبکہ دینی تعلیم میں استاد صرف استاد نہیں بلکہ اپنے طلبہ کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت بھی ر کھتا ہے۔ طالب علم نے استاد کے رنگ میں رنگا جانا ہے۔ استاد کو دیکھ کر طالب علم کی عادتیں بنیں گی‘ عقیدہ بنے گا۔ ہمارے ہاں تو عقیدہ استاد کو دیکھ کر بنتا ہے کہ فلاں عقیدہ کی تشریح جو میرے استاد کی ہے، وہی میری ہے۔ فلاں مسلک کے بارے میں میرے استاد کی رائے یہ ہے اور میری بھی یہ ہے۔ تو استاد کوتمام باتوں میں ماڈل بننا چاہیے۔ آج کل کے دور میں دینی استاد بننا بڑا مشکل ہے۔ استاد اگر رخصتوں پر آجائے گاتو طالب علم مباحات ومکروہات میں چلا جائے گا۔ اگر طالب علم کورخصتوں پر رکھنا ہے تو استاد کو عزیمت پر رہنا ہو گا‘ اپنی عبادات میں‘اخلاق میں‘ میل جول میں اور اس طرح کے بہت سے معاملات میں۔
۴۔فنی تربیت، اب تعلیم کے بہت سے جدید ذرائع آگئے ہیں۔ ان میں سے جو جائز ہیں اور جن سے آپ مطمئن ہیں‘ ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگرفن کے حوالے سے ہم یونانی فلاسفہ سے استفادہ کر سکتے ہیں تو آج کے فلاسفہ سے بھی ہمیں استفادہ کرنا چاہیے۔

پروفیسر میاں انعام الرحمن 

(گورنمنٹ ڈگری کالج، قلعہ دیدار سنگھ)
صبح کی پہلی نشست میں تو میں شریک نہیں ہو سکا۔ دوسری نشست سے جو باتیں میں نے سنی ہیں، ان میں ایک بات جو بار بار دہرائی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ شاید کالج سائیڈ میں اساتذہ کی تربیت کا خاطر خواہ انتظام ہے اور مدارس میں ایسا نہیں، حالانکہ بعینہ یہی صورت کالج سائیڈ میں ہے۔ ٹیسٹ، انٹرویو دیا اور آکر پڑھانا شروع کردیا۔ سوچتے ہی نہیں کہ کیسے پڑھانا ہے اور کیا پڑھانا ہے،کیا لیکچر وغیرہ دینا ہے۔ البتہ اسکول کی سطح پر تھوڑا بہت تربیت کا نظام موجود ہے۔ گورنمنٹ سی ٹی، بی ایڈ وغیرہ کچھ کورسز کرواتی ہے۔ لیکن کالج کی سطح پر اب بھی ایسا نہیں ہے۔ آپ سادہ ایم اے ہوں، آپ نے ٹیسٹ دیا ہے، بغیر کسی ٹریننگ کے آپ کالج میں جاتے ہیں اور لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نہ مدارس میں پڑھا ہوں، نہ مجھے زیادہ تجربہ ہے، لیکن میرا مشاہدہ اس کے بارے میں یہ ہے کہ کالج سائیڈ میں جو ٹیچر ہے اور مدرسہ میں جو ٹیچر ہے، دونوں میں بنیادی فرق طالب علم کے ساتھ ڈیلنگ کے حوالے سے پایا جاتا ہے ۔ جو مدرسے کا استاد ہے، وہ اپنے آپ کو زیادہ ترجیح دیتا ہے، زیادہ تقدس کا درجہ دیتا ہے جبکہ کالج سائیڈ میں یہ بات نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اب طالب علم کو ڈیل کیسے کرنا ہے، اس کی ٹریننگ وہاں بھی نہیں ہوتی اور یہاں بھی نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ٹریننگ پہلے لے کر آئے ہیں، یہ اسی کا اثر ہے۔ تو مجھے جو بنیادی فرق نظر آتا ہے، وہ یہی ہے کہ دینی مدارس کے جو طلبہ ہیں، وہ استاد کی اتنی زیادہ تعظیم کرتے ہیں، اتنا زیادہ تقدس کا درجہ دیتے ہیں کہ شاید اس کے بعد اس کو وہ ٹوک نہیں سکتے اور نہ اس کی ہمت کر سکتے ہیں کہ سوال کریں اور استاد سے سیکھنے کی کوشش کریں ۔ علم تو ہوتا ہی سوال وجواب ہے، تو جب آپ اس کو زیادہ تقدس کا درجہ دیتے ہیں تو پھر آپ اس سے سیکھ نہیں سکتے۔ پھر تو ہاں ناں ہوگا جیسے کمنٹری میں ہوتا ہے ۔

حافظ محمد سمیع اللہ فراز 

(فاسٹ نیشنل یونیورسٹی، لاہور)
سب سے پہلے تو یہ بے حد خوشی کا مقام ہے کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپ منعقد کرنے میں الشریعہ اکادمی نے پہل کی ہے ۔ ہمارے ضلع گوجرانوالہ میں اتنا بڑاحلقہ ہے دینی مدارس کا، شاید ہی کسی اور شہر میں اتنا زیادہ ہو۔ اس اعتبار سے یہاں ضرورت بھی زیادہ تھی۔ اس پر اللہ کا شکر ہے کہ الشریعہ اکادمی نے اس کا اہتمام کیا ہے ۔ 
استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جو چار نکات ایجنڈے کے لیے رکھے ہیں، ان میں سے اساتذہ کی فکری اور اخلاقی تربیت یقیناًایک اہم ضرورت ہے اور انھیں اس حوالے سے راہنمائی ملنی چاہیے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک معلم کی سطح پر پہنچ جانے والے کسی شخص کو اخلاق سکھانا یا اس کی فکر کو درست کرنا نفسیاتی طور پر ایک نازک مسئلہ ہے، اور بنیادی طور معلم کو خود اس پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ مطالعے کے ذریعے سے اپنی فکرکو کس طرح درست کرتا ہے یا اپنے اخلاق کو کس طرح سنوارتا ہے ۔ 
جہاں تک علمی اور فنی تربیت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے میری چار گزارشات ہیں: 
پہلی بات یہ کہ چونکہ میں دینی مدارس میں بھی پڑھا ہوں اور اس کے بعد یونیورسٹی میں بھی پڑھانے کا تجربہ ہے تو جب ہم یونیوسٹی کا اور مدرسے کا ایک موازنہ کرتے ہیں تو اس میں سب سے بڑا فرق ہمیں نظر آتا ہے، وہ ہے کسی فن میں اسپیشلائزیشن یا مہارت کا۔ کیونکہ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک ہی وقت میں صرف اور فقہ اور نحو اور منطق،چاروں میرے پسندیدہ مضمون ہوں اور میں ان کو پڑھاؤں بھی، یہ نہیں ہو سکتا بلکہ ہر طالب علم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب زمانہ طالب علمی میں ہی کر لیتا ہے ۔ میں نے جب مدرسے میں پڑھانا شروع کیا تو استاد محترم نے پوچھا کہ ایک سبق ایسا لیں جس میں آپ کو زیادہ رغبت ہو، تو میں نے کہا کہ فقہ سے مجھے زیادہ رغبت ہے۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک استاد ہر فن میں ماہر ہو ، یہ ایک فطری رجحان ہوتا ہے ۔ 
ہمارے مدارس میں اس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً ایک استاد نے ہدایۃ النحو یا کافیہ ایک سال پڑھایا تو اگلے سال اس سے چھین لیا جاتاہے۔ طالب علم ہدایۃ النحو ایک استاد سے پڑھ کر اس استاد کا انداز سمجھتا ہے تو اگلے سال کافیہ پڑھانے والا استاد بالکل اور طریقے سے پڑھاتا ہے تو طالب علم کا جو ایک رجحان بنا تھا اور وہ ہدایۃ النحو جو ذہن میں لے کر آیا تھا، وہ یکسر آکر دوسرے استادکے انداز نے بدل دیا۔ تو یہ جو وقفے آجاتے ہیں، اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے میں گزارش کروں گا کہ ایک استاد اگر نحو پڑھا رہا ہے تو اسے مسلسل اس کا موقع دیا جائے تاکہ وہ نحو میں ماہر ہو اور ا س کی شہرت ہو جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک استاد تمام فنون میں یکساں مہارت حاصل کر لے۔ یونیورسٹی میں یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک استاد تقابل ادیان پڑھا رہا ہے تو وہ وہی پڑھائے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ تقابل ادیان کا مالہ وماعلیہ کیاہے۔ 
دوسری بات ہے طریقہ تدریس کی۔ ہمارا طریقہ تدریس یہ ہے کہ جو ہم دیکھتے چلے آرہے ہوتے ہیں اور جس طرح ہم نے استاد کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح ہم کوشش کریں گے کہ آگے پڑھائیں، کیونکہ ہمیں بتایا ہی نہیں گیا اور نہ ہم نے ا پنے استاد کے علاوہ کسی اور کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔اب جدید طریقہ تدریس میں ملٹی میڈیا آگیا ہے ،بلیک بورڈ آگیا ہے، لیکن یہ تمام چیزیں ابھی تک ہمارے مدارس میں مفقود ہیں۔ ہمارے مدارس میں طریقہ یہ ہے کہ استاد بیٹھا ہوا ہے اور تلقی اور بالمشافہہ تدریس کا جو سلسلہ ہے، وہی چلتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ اس وقت مفید تھا جب لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوتے تھے ۔استاد نے ایک بات کہی اور طالب علم نے اس کو محفوظ کر لیا۔ لیکن اب نہ وہ مزاج رہے ہیں، نہ وہ حافظے رہے ہیں اور نہ ہمارے مدارس میں اس قسم کے طلبہ آتے ہیں۔ اس بات کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ جو بچہ گھر میں سب سے نکما ہو گا، اس کو مدرسے میں داخل کر ا دیں گے۔ تو جب طلبا کی ذہنی سطح یہ ہو تو اس میں پھر ہمیں ان تمام چیزوں کا سہارا لینا چاہیے جو تدریس میں اضافی معاونت کا ذریعہ بن سکتی ہوں۔ ایک استاد اگر زبان سے کچھ کہتا ہے اور طالب علم اس کو سنتا ہے، پھر اس کا تکرار ہو گیا، مطالعہ ہو گیا تو اس طرح ایک محدود وقت کے لیے وہ بات طالب علم کے ذہن میں رہتی ہے، لیکن اس میں اس کے سمجھنے کی ایک ہی حس استعمال ہوئی ہے‘ اس نے صرف سماعت کی ہے۔ لیکن اس کے بجائے اگر بلیک بورڈاستعمال کیا جائے‘ ملٹی میڈیا استعمال کیا جائے تو اس سے طالب علم کے دیگر حواس بھی کام کرتے ہیں۔ استاد نے ایک چیز لکھ کرطالب علم کو سمجھائی ہے تو اس نے سنی بھی ہے، دیکھی بھی ہے اور سمجھی بھی ہے۔ کتنے حواس سے وہ چیزوں کو اخذ کر رہا ہے۔ تو میرا خیا ل ہے کہ ہمارے طریقہ تدریس میں تبدیلی ضرور آنی چاہیے۔ کم از کم بلیک بورڈ کا استعمال تو ضرور کیا جائے‘ حتیٰ کہ اگر وہ کوئی ایسا فن پڑھا رہا ہے جس میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی تو بھی وہ اس میں ایسی چیزیں لے کر آئے کہ اس کا استعمال ہو سکے۔ طالب علم کے حواس کو جتنا آپ مصروف رکھ سکتے ہیں، رکھیں۔
تیسری بات یہ کہ ہمارا تدریس کا مواد بھی بالکل روایتی ہے کہ جس طرح پہلے پڑھایا جاتا تھا، ویسے ہی آج بھی پڑھایا جا رہا ہے۔ نصاب کی بحث اپنی جگہ لیکن اتنا تو ہم کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھا رہے، مثلاً فقہ پڑھا رہے ہیں یاجدید معیشت وتجارت پڑھا رہے ہیں تو اس کے بارے میں ہمارے معاشرے کے اندر جو عملی مثالیں ہیں، ان کا استعمال زیادہ کیا جائے۔ اس سے میں سمجھتا ہوں کہ طالب علم کے ذہن میں کتاب اور شرح سے ہٹ کر ایسی چیزیںآئیں گی جو استاد کے ذہن میں بھی نہیں آسکتیں اوروہ چیزیں طالب علم کبھی بھلا نہیں سکتا، کیونکہ وہ عملی طور پر اس کو اپنے ذہن میں لے رہا ہوتا ہے۔ تو تیسری چیز یہ ہے کہ عملی مثالیں اپنے تدریسی مواد میں شامل کریں۔
چوتھی بات زبان کا استعمال ہے۔ بدقسمتی سے میرے سمیت جو نئے معلمین ہیں‘ عربی زبان تو دور کی بات ہے، اردو زبان جس میں ہم پڑھا رہے ہوتے ہیں، وہ بھی ہماری گرفت میں نہیں ہوتی۔ اس میں ہمیں اعتماد پیدا کرنا چاہیے۔ اگر ایک استاد کی زبان عمدہ اور موثر ہے تو اس کے اپنے اثرات ہوں گے۔ اگر معلم اس میں فرق نہیں کر سکتا کہ نہر بہتا ہے یا بہتی ہے تو طالب علم بھی ساری زندگی اس پر توجہ نہیں دے گا۔ یہ چار باتیں فنی اور عملی تربیت کے حوالے سے تھیں۔
پانچویں بات جو ضمنی ہے، وہ ہمارا رہن سہن کا طریقہ ہے۔ اس کو بھی بہتر کر نے کی ضرورت ہے۔ اگرایک استاد صاف ستھرے اور اچھے کپڑے پہنتا ہے تو طلبا اس کو دیکھ کر اپنا رہن سہن بہتر کر لیں گے، اس کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کیونکہ ایک حقیقی معلم کی حیثیت اپنے طلبا کے لیے ایک نمونہ کی سی ہوتی ہے۔ ایک معلم کا رہن سہن‘ اس کا کلاس میں آنا ‘ کلاس سے اٹھ کر جانا‘ اپنے طلبہ کے ساتھ ملنا جلنااگر بہتر ہے تو اس سے طلبہ کے اخلاق وکردار پر اثر پڑے گا۔ 
سب سے بڑی ضرورت جو میں محسوس کرتا ہوں، وہ یہ کہ طلبہ کو سوال کرنے اور اظہار خیال کرنے کا موقع دیا جائے اور اس میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ میں مدرسے سے یونیورسٹی میں گیا۔ مدرسے میں ‘میں یہ سمجھتا تھاکہ اپنی کلاس میں اور اردگردکے ساتھیوں میں زیادہ باتونی ہوں۔ مدرسے میں ہم تقریریں بھی کیا کرتے تھے، زمانہ طالب علمی سے جمعہ بھی پڑھایا کرتے تھے۔ یونیورسٹی میں ایک پروگرام ہوتا ہے کہ جس چیز پر آپ نے لکھا ہے، اس کو آکر بیان کریں۔ جب وہاں ڈیسک پر کھڑے ہوئے تو آپ یقین کریں کہ جو کچھ وہ بول رہے تھے، وہ نہ ہماری سمجھ میں آرہا تھانہ ہم وہ بول سکتے تھے۔ یہ مطلب نہیں کہ ہمارے پاس مواد نہیں تھایا الفاظ نہیں تھے، کمی صرف اعتماد کی تھی۔ تو استاد کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کا اعتماد بڑھائے۔ ان کو اتنا اعتماد دلائے کہ اگر ان کو صدر کے سامنے بھی کھڑا کر دیا جائے تو وہ اپنی بات کہہ سکیں۔
اپنے طلبہ میں اعتماد کیسے پیدا کیا جائے؟ اس کے بہت سے طریقے ہیں۔ مثلاً جب آپ اس کو پڑھا رہے ہوں تو آپ خود اس کو اعتماد سے پڑھائیں اور جب آپ سبق سنیں یا ٹسٹ لیں تو اس کا اعتماد چیک کریں۔ وہ اگر غلط لکھتا ہے تو اس کو اعتماد سے بتائیں۔ آپ نے اگر اس کو دس نمبروں میں سے صفر دیا ہے کہ بس وہ جائے اور اگلے دن کے ٹسٹ کی تیاری کر کے آئے تو اس طرح نہ طالب علم کو اس ٹسٹ کا فائدہ ہو گا نہ آپ کو۔
یہ میری کچھ گزارشات تھیں ۔اﷲتعالی عمل کی توفیق دے ۔ آمین۔

مولانا محمد طارق بلالی 

(مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)
میری ایک گزارش ہے کہ ہمارے ہاں مدرسین بھی اور متعلمین بھی احساس کمتری کا شکا ر ہیں۔ اگر ابتدا ہی سے اس علم کی عظمت اور اس کی اہمیت طلبہ کے ذہنوں میں بٹھا دی جائے تو یہ کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ ہمارے طلبہ جب اسکول وکالج کے طلبا کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ خود کو ان سے کم تر سمجھتے ہیں اور ان میں اتنی استعداد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے علم کی اہمیت وعظمت کو ان کے سامنے بیان کر سکیں۔ تو طلبا میں خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہم نے خود پڑھا ہوتا ہے، ویسے ہی آگے پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طریقہ میں کوئی بہتری بھی آسکتی ہے، اس بارے میں ہم بالکل نہیں سوچتے۔اللہ رب العزت توفیق نصیب فرمائے ۔

مولانا حافظ محمد یوسف 

(الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)
محترم سامعین ! آپ مختلف اصحاب فکر ودانش کی گفتگو سن رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کی روشنی میں ایک بات تو یہ سامنے آئی کہ عصری علوم کی طرف ہمارے مدارس کو قدم بڑھاناچاہیے ۔ البتہ میرا چھ سات سال کا تجربہ یہ ہے کہ عصری علوم کے ساتھ اگرتربیت نہ ہو تو عصری علوم کے ساتھ دین ایک فتنہ بن جاتاہے۔ میں پی ایف اے میں وارنٹ آفیسر بھرتی ہو گیا۔ ایک دفعہ ایجوکیشن کا اجلاس ہو رہا تھا، میں بھی موجود تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آئندہ جو خطبا ہم بھرتی کریں تو دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبا کو بھرتی نہ کریں۔ میں نے ایجوکیشن آفیسر سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہاکہ وہ ایک مخصوص زاویہ فکر کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔ ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ ہم ان کی جگہ یونیورسٹی سے ایم ۔اے پاس طلبہ کو خطیب کی حیثیت سے بھرتی کریں۔ میں نے عرض کیاکہ ٹھیک ہے، آپ انہیں بھرتی کریں لیکن میں علیٰ وجہ البصیرۃعرض کرتا ہوں کہ سو فیصد نہیں تو ستر فیصد ایسے طلبہ ہوں گے جو مصلاے امامت پر کھڑے ہونے کے اہل نہیں۔ یہ بات میں پوری دیانت داری سے عرض کرتاہوں اورمیرااپنا تجربہ بھی ہے کہ ایم اے پاس طلبہ کی جب تک دینی تربیت نہ ہو گی، وہ اس کے اہل نہ ہوں گے کیونکہ اس میں سے اکثر تو امامت کو اپنے اسٹیٹس کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تو بغیر تربیت کے عصری علوم کی طرف کوئی بھی قدم ایک بہت بڑے فتنے کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہو گا۔
انگلش لینگویج کی بھی بات ہوئی۔ میں انگلش زبان کا ماہرتو نہیں ہوں، لیکن انگلش پڑھاتے ہوئے کچھ عرصہ ہوگیا ہے۔ جب زبان بغیر تربیت کے آتی ہے تو لامحالہ اپنا ماحول ضرور لے کر آتی ہے۔ بڑی معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے طلبہ مدارس سے فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں‘ یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں،سب کی بات نہیں کر رہا کیونکہ سب کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں، مدرسے سے نکلتے ہیں تو چہرے پر ڈاڑھی اور سر پر پگڑی بھی ہوتی ہے ‘ لیکن دکتورہ کی ڈگری ملنے تک ستر فیصد شیو کروا چکے ہوتے ہیں۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے۔ میں نے بہت سے ساتھیوں کو دیکھا۔ میں نے اپنے ایک طالب علم کو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بھیجا۔ جب وہ ملنے کے لیے آیاتو میں نے محسوس کیا کہ اس کی ڈاڑھی کٹی ہوئی ہے۔ میں نے افسوس کرتے ہوئے کہاکہ بھئی، تمہیں اس کام کے لیے تو وہاں نہیں بھیجا تھا۔ تو وہ کہنے لگا کہ استاد جی، یہ سنت ہی تو ہے، فرض تو نہیں ہے۔ میں نے کہاکہ ٹھیک ہے، فرض نہیں ہے لیکن سنت تو تم خود اسے تسلیم کر رہے ہو اور یہ کہ تمھارا یہ جواب مسلمانوں والا نہیں ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک چھوٹی سی بات ہے‘ لیکن میں اسے ضروری خیا ل کرتا ہوں کہ انگلش ضرور سیکھیں‘ کمپیوٹر ضرور سیکھیں، لیکن اکابر کے مزاج اور راہ کو کبھی نہ چھوڑیں۔ یہ ہمارے پاس بہت بڑا سرمایہ ہے۔
حضرت امداداﷲ مہاجر مکیؒ کے بارے میں، میں نے کہیں پڑھا کہ انہوں نے کافیہ تک کتابیں پڑھی تھیں، لیکن حضرت کا فیضان اﷲ تعالیٰ نے کتنا پھیلایا! اس وجہ سے کہ پوری امت کے علما کے ساتھ جب تعلق ہو گاتو اﷲ تعالیٰ فیض کو آگے پھیلا دیں گے۔ چودہ سو سال کے امت کے اجتماعی تعامل کو چھوڑ کر دین کو سمجھنے کی کوئی بھی کوشش ایک بہت بڑے فتنے کا باعث ہو گی اور کئی ایسے فتنے کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی ہیں۔ انہو ں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی، پھر ایم اے کیااور نیوی میں خطیب بھرتی ہو گئے۔ بعد میں سول جج بھرتی ہو گئے۔ اب چند دن پہلے انہیں قطر کے سفارت خانے سے آفر آئی کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور یہاں آکر خدمات سرانجام دیں تو انہوں نے کہاکہ میں اٹھارہ بیس سال ملک کے جدید تعلیمی اداروں میں پڑھا چکا ہوں، نمل اسلام آباد میں ‘میں نے پڑھایا ہے‘ الدعوۃ اکیڈمی میں بھی پڑھایا ہے‘ اب میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ جو فائدہ میں مدارس میں اٹھا سکتا تھا، وہ میں وہاں نہیں اٹھا سکا۔ اب میں شعبہ حفظ کی ایک کلاس پڑھا رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسی کو پڑھاتا رہوں۔ یہ بات میں نے ضمناً عرض کردی ہے۔ اﷲتعالیٰ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین ۔

مولانا مشتاق احمد 

(جامعہ اسلامیہ، کامونکی)
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد !
سب سے پہلے تو میں مخدوم گرامی حضرات مولانا زاہد الراشدی مدظلہ اور ان کے رفقا کا شکر گزار ہوں کہ وہ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں، اور آج کی نشست میں بھی انہوں نے مجھے اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ فی البدیہہ جو باتیں میرے ذہن آئی ہیں، میں وہی بیان کر رہا ہوں۔ میری آج کی جو گزارشات ہیں، ان کے کئی پہلو ہیں۔ ایک تو دینی مدارس کا نصاب ، دوسرا اساتذہ کرام کے انتخاب کا معیا ر، تیسرا طلبا کی تعلیم و تربیت کا طریق کار، چوتھاجدید علوم کی سرگرمیاں اور اس طرح کی چند ایک باتیں۔ میں شق وار ہر جانب اشارہ کرتا ہوں۔
پہلی بات دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے کہ دینی مدارس کا نصاب بدلنا چاہیے یا نہیں بدلنا چاہیے؟ کس حد تک ترمیمات ہونی چاہییں؟ بیسیوں سال گزر گئے، یہ بحث چل رہی ہے اور چلتی رہے گی لیکن میں اس میں صرف اتنی بات عرض کروں گا کہ اگر ہمارے بہت سے علماے کرام، اساتذہ کرام، وفاق کے ذمہ دار حضرات موجودہ نصاب کو ہی تر جیح دیتے ہیں اور اس پر قائم ہیں کہ اس میں تبد یلی نہیں ہونی چاہیے یاجزوی طور پر کوئی تبدیلی ہو تو ہو، میں اس حوالے سے عر ض کروں گا کہ فنون میں پختگی حاصل کر نا اور چیز ہے اور ان درس نظامی کی کتابوں کو پڑھنا، ان کے قیل وقال میں مہارت پیدا کرنا، یہ اور چیز ہے۔ مثلاً ایک ہے شرح جامی کو سمجھنا اور ایک ہے علم نحو کو سمجھنا۔ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس لیے جدید طرز کی جو کتا بیں لکھی جا رہی ہیں، ان سے اساتذہ کو بھی استفادہ کرنا چاہیے اور طلبا کے لیے بھی بطور مطالعہ ایسی کتب تجویز ہونی چاہییں کیونکہ نصاب تبدیل کرنا تو ہمارے بس کی بات نہیں ہے، لیکن ایسی جدید طرز کی لکھی ہوئی کتابیں اساتذہ اپنے زیر مطالعہ رکھ سکتے ہیں، طلبا کو مطالعہ کروا سکتے ہیں۔ اس کا اہتمام ضرور ہونا چاہیے ۔
دوسری بات اساتذہ کے انتخاب کے معیار سے متعلق ہے۔ سرکاری طور پر ایک ٹیچر یا پروفیسر بھرتی ہونا ہو تو اس کی تقرری سے پہلے اس کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو بطور ٹیچر یا بطور پرو فیسر کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں افسوس یہ ہے کہ ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ دینی مدارس میں ذاتی تعلقات اور سفارشیں بھی کام کرتی ہیں۔ ہم نے یہ بات چار پانچ سال قبل وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالند ھری سے بھی عرض کی تھی کہ اس طرز کے کسی پروگرام کا انعقاد وفاق کے تحت ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا اور فرمایا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے، لیکن چار پانچ سال گزر گئے، اس کا کوئی پتہ نہیں چلا کہ معاملہ کہاں تک پہنچا ہے۔اس حوالے سے میں اپنے مادر علمی جامعہ اسلا میہ امدادیہ فیصل آباد کا حوالہ دوں گا کہ استاذمحترم حضرت مولانا نذیر احمد اس بات کا اہتمام کیا کرتے تھے کہ دورۂ حد یث کے طلبا کو بالخصوص اور باقی طلبا کو بالعموم تدریس کا طریقہ بتلایا کرتے تھے۔ شعبان یا رمضان میں دو تین ہفتے کا خصوصی پروگرام ہواکرتا تھا۔ اس قسم کے پرو گرام ملک کے جتنے بھی بڑے بڑے مراکز ہیں، ان کو منعقد کرنے چاہییں۔ اگر وفاق کی مجبوریاں ہیں یا وفاق والے اس کا انتظام نہیں کرسکتے تو ہر ڈویژن میں ایک بڑے مدرسے والے اس کا انتظام کر لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ کافی حد تک اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ اب تعلقات کی بنیاد پر یا بعض دوسری وجوہا ت سے جو اساتذہ بھرتی ہو جاتے ہیں، وہ کیسے کیسے لطیفے پیدا کرتے ہیں۔ میں صرف ایک بات مثال کے طور پر عرض کر نا چاہوں گا کہ ایک مدرس کو جسے فارسی پڑھانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، حکم دیا گیا کہ فارسی پڑھانی ہے۔ اس نے طلبا کو فارسی پڑھائی۔ پڑھاتے ہوئے ایک لفظ آیا ’’ترش رو‘‘، تو اس نے اس کا معنی بیان کیا ’’کھٹے منہ والا‘‘۔
ڈاکٹر محمود الحسن عارف صا حب بھی اس حوالے سے بات کر رہے تھے کہ اساتذہ کو اپنے ماحول کو، اپنے موضوع کو، منطق و فلسفہ جو بھی ہے اور مجموعی طور پر جو بھی ساری صورت حال ہے، اس کو اور طلبا کی نفسیات کو سامنے رکھ کر، طلبا کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تعلیمی نفسیات کے اصولوں کو ملحوظ رکھنا ایک استاذکے لیے بہت ضروری ہے۔ 
استاذمحترم حضرت مولانا نذیر احمد کا ایک مقولہ میں نقل کرتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہی آدمی استاد کہلانے کا مستحق ہے جو فن تدریس میں مجتہد ہونے کا ملکہ رکھتا ہے۔ جو استا د مجتہد فی التدریس نہیں ہے، وہ استاد کہلانے کے قابل نہیں۔ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا اور اس میں سمجھنے والے کے لیے بہت کچھ ہے۔
ایک بات میںیہ عرض کروں گا کہ جدید علوم کس حد تک دینی مدارس میں ہونے چاہییں، اس حوالے سے تو دو آرا ہوسکتی ہیں، لیکن آیا اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحث اب ختم ہو چکی ہے۔ ضرورت کو ہر کوئی مانتا ہے۔ دور حاضر میں انگلش ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس میں ہمارے علماے کرام کو مہارت ہونی چاہیے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے بڑے بڑے جید علماے کرام کو اس میں مہارت نہیں ہے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے مخدوم ومحترم حضرت مولانا راشدی صاحب سے عرض کیا تھا کہ حضرت، آپ انگلش سیکھ لیں، آپ کی کاکردگی اور جتنی تبلیغ آپ کر رہے ہیں، اس سے کئی گنا آپ زیادہ کام کر سکیں گے، لیکن حضرت نے اپنے روایتی انداز میں ہنس کر ٹال دیا۔ اسی طرح کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی علماے کرام کے لیے تبلیغ کا ایک بڑا میدان ہے۔ انٹر نیٹ میں جہا ں خرافات بہت ہیں، اسی طرح کمپیوٹرمیں بھی ہیں لیکن انٹر نیٹ میں تو اب بڑی بڑی لائبریریاں منتقل ہوگئی ہیں اور بڑے بڑے دینی مدارس بھی اپنی لائبریریاں انٹرنیٹ پر منتقل کر رہے ہیں۔ کراچی کے بعض مدارس کا کام اس حوالے سے شروع ہے۔ تو انٹرنیٹ کے ذریعے سے جہاں قادیانی تبلیغ کرتے ہیں، عیسائی تبلیغ کرتے ہیں، ہمیں بھی اس میدان میںآنا چاہیے اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے ہمیں بھی دین کا کام کرنا چاہیے۔
موضوع کے حوالے سے تو میری گزارشات یہی تھیں۔ آخر میں حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک ملفوظ سنانا چاہتا ہوں۔ اس ملفوظ میں میرے لیے بھی بڑا فائدہ ہوگا اور آپ کے لیے بھی ہوگا۔ حضرت نے فرمایا کہ علماے کرام اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ زمانہ ہماری قدر نہیں کرتا، لوگ قدر نہیں کرتے۔ فرمایا کہ یہ شکوہ اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جن میں یا خلوص کی کمی ہوتی ہے یا صلاحیت کی۔ یا تو کام کرنے کی پوری صلاحیت نہیں ہوتی یا پورا اخلاص نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک شخص میں اخلاص بھی کامل ہو اور کام کرنے کی صلاحیت بھی پوری ہو اور لوگ اس کی قدر نہ کریں۔ جو لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں، ان کو اپنا جائزہ لینا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۱)

حافظ محمد زبیر

ہر دور میں انسان اپنے’ ما فی الضمیر ‘ کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے زبان کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ انسان اپنے خیالات ‘افکار ‘نظریات‘جذبات اور احساسات کو اپنے ہی جیسے دوسرے افراد تک پہنچانے کے لیے الفاظ کو وضع کرتے ہیں۔ کسی بھی زبان میں کسی مفہوم کی ادائیگی کے لیے جو الفاظ وضع کیے جاتے ہیں، وہ دوطرح کے ہوتے ہیں۔ یا تو کسی لفظ کو اہل زبان کسی ایک متعین معنی یا مفہوم کو ادا کرنے کے لیے وضع کرتے ہیں، اس کو اصولیین کی اصطلاح میں ’خاص‘ کہتے ہیں۔ مثلاً اردو زبان میں اس کی سادہ سی مثال کسی کا نام ہے۔ جب والدین کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس بچے کو پکارنے ‘بلانے‘ اس سے متعلق کسی کو خبر دینے وغیرہ کے لیے اس کا ایک نام رکھ لیتے ہیں۔ کسی مفہوم یا تصور کا کسی لفظ کے ساتھ یہ الزام ’وضع‘ کہلاتا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اصل مفہوم ہوتا ہے نہ کہ الفاظ ‘کیونکہ الفاظ تو مفہوم کی ادائیگی کے لیے وضع کیے جاتے ہیں لیکن اس لحاظ سے الفاظ کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ انسان کے مافی الضمیر کی ادائیگی کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ الفاظ و معانی کا یہ تعلق لازم و ملزوم کا ہے۔ مثلاً لفظِ ’زید‘ ہے جو کہ ایک معین ذات پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، اس لیے یہ لفظ خاص ہے ۔اگر استاذکلاس روم میں بیٹھے طلبہ سے کہتا ہے :’ زید کی ڈیوٹی ہے کہ وہ روزانہ بلیک بورڈ صاف کرے گا‘ تو اس عبارت میں لفظِ زید خاص ہے اور اس سے ایک ہی متعین مفہوم اور ذات مراد ہے۔ بعض اوقات اہل زبان جب کوئی لفظ وضع کرتے ہیں تو وہ بہت سے غیر متعین افراد کو یکبارگی شامل ہوتا ہے جسے اصولیین کی اصطلاح میں ’عام‘کہتے ہیں۔ اس کی سادہ سی مثال اردو زبان میں لفظِ ’جو‘ ہے۔ اگر کوئی استاذ اپنی کلاس کے طلبہ سے کہتا ہے کہ ’جو بھی کلاس روم میں ہے کھڑا ہو جائے‘ تو اس جملے میں لفظِ ’جو‘ عام ہے اور کلاس کے تمام افراد کو شامل ہے اس لیے کلاس کے ایک ایک طالب علم کو یہ حکم شامل ہو گا۔ بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک لفظ ایک اعتبار سے خاص ہوتا اور ایک اعتبار سے عام ہو تا ہے۔ مثلاً اردو زبان میں اس کی سادہ سی مثال لفظِ ’شیر‘ ہے۔ یہ لفظ باقی حیوانات چیتا‘ ہاتھی‘ بندر‘ لومڑی وغیرہ کے اعتبار سے خاص ہے، لیکن اپنے افراد کے اعتبار سے عام ہے کیونکہ اس لفظ کا اطلاق کسی بھی شیر پر ہو سکتا ہے۔

لفظ خاص وعام کی اپنے معنی پر دلالت

قرآن جو کہ عربی زبان میں ہے اس کا ہر لفظ اپنی وضع کے اعتبار سے یا توخاص ہو گا یا عام ہو گا۔قرآن کے خاص الفاظ کے بارے میں فقہا اور اصولیین کا اتفاق ہے کہ وہ قطعی الدالۃ ہوتے ہیں یعنی ان الفاظ کا معنی ایک ہی ہو تا ہے اور اس معنی میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:
’’احناف اور باقی مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لفظِ خاص اپنے اس معنی پر کہ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے ‘قطعیت اور یقین کے ساتھ دلالت کرتا ہے جب تک کہ کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہوجو اس کو اس کے موضوع لہ معنی سے پھیر دے اور کسی دوسرے معنی کی طرف لے جائے۔قطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظِ خاص میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا‘ نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔‘‘ (أصول الفقہ الاسلامی‘جلد۱‘ص۲۰۵‘مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
مثلاً قرآن میں ہے: تبت یدا أبی لھب و تب (لہب:۱) (ہلاک ہو ں أبو لہب کے دونوں ہاتھ‘اور وہ خود بھی ہلاک ہو) اس آیت مبارکہ میں لفظ ’أبولہب‘خاص ہے اور اس سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہے جو کہ آپؐ پر ایمان نہیں لایا تھا اور آپؐ کو اذیت پہنچاتاتھا۔یہ لفظ اپنے مفہوم میں قطعی الدلالۃ ہے یعنی اس میں کسی اور مفہوم کی گنجائش نہیں ہے۔ 
اسی طرح قرآن میں ہے: الزانیۃ و الزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ جلدۃ (النور:۲) (زنا کرنے والا مرد اور زنا کرنے والی عورت‘پس تم ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔) اس آیت مبارکہ میں ’ماءۃ‘ لفظِ خاص ہے کہ جس کا معنی سو ہے‘ کیونکہ اس سے مراد ’ننانوے‘ یا ’ایک سو ایک‘ نہیں ہوتے‘ اس لیے یہ لفظ اپنے معنی میں قطعی الدلالۃ ہے۔ لیکن اگر کوئی قرینہِ صارفہ یا دلیل موجود ہو تو خاص کو اس معنی سے پھیرا جا سکتا ہے کہ جس کے لیے یہ وضع ہوا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے : یذبح أبناءھم و یستحی نساءھم (القصص:۴) (وہ (یعنی فرعون) ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔) 
اس آیت میں ’یذبح‘ کا لفظ خاص ہے جو کہ واحد مذکر غائب کے فعل کے لیے اہل زبان نے وضع کیا تھا اور جب اس لفظ کو ایک ہی فرد کے فعل کے لیے استعمال کیا جائے گا تو یہ اس کا قطعی الدلالۃ مفہوم ہو گا اور اس لفظ کا اپنے موضوع لہ معنی میں استعمال حقیقی استعمال کہلائے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں یہ لفظِ خاص اپنے موضوع لہ معنی یعنی واحد مذکرغائب کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ یہاں یہ جمع مذکر غائب یعنی فرعون کے لشکر کے سپاہیو ں کے لیے استعمال ہوا ۔کیونکہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے والے تو اصلاً فرعون کے لشکر کے سپاہی تھے نہ کہ اکیلا فرعون‘جیسا کہ قرآن نے کئی دوسرے مقامات پر اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے :
یذبحون أبنائکم و یستحیون نسائکم (البقرۃ: ۴۹ و ابراہیم: ۶)
’’وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں ’یذبح‘ سے صرف فرعون کو مراد لینا عقلاً بھی محال ہے اس لیے اس آیت میں یہ لفظ اپنے موضوع لہ معنی میں استعمال نہ ہوگااور واحد مذکر غائب کے صیغے کا جمع مذکر غائب کے لیے یہ استعمال‘ مجازی استعما ل کہلائے گا۔
مذکورہ بالا مثال صرف یہ سمجھانے کے لیے دی گئی ہے کہ قرآن میں خاص کے قطعی الدلالۃ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے صرف ایک ہی معنی مراد ہو سکتا ہے کوئی اور معنی مراد ہی نہیں ہوسکتا بلکہ خاص کے قطعی الدلالۃ ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب تک کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو تو اس وقت تک لفظِ خاص اپنے معنی میں قطعی اور یقینی ہوتا ہے اور اس سے مراد صرف وہی معنی ہوتا ہے کہ جس کے لیے اسے اہل زبان نے وضع کیا ہے‘ اسی نکتے کی طرف ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے :
’’قطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظِ خاص میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا ‘نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔ (أصول الفقہ الاسلامی‘ جلد۱‘ ص۲۰۵)
لفظِ عام کی اپنے معنی پر دلالت کے بارے میں فقہا و اصولیین کا اختلاف ہے۔ جمہور فقہا مالکیہ ‘شوافع اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ ایساعام کہ جس کی تخصیص نہ ہوئی ہواس کی دلالت اپنے معنی پر ظنی ہوتی ہے جبکہ احناف اور معتزلہ کا موقف یہ ہے کہ عام کی تخصیص سے پہلے اپنے معنی پر دلالت قطعی ہوتی ہے ۔ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:
’’اکثر فقہائے مالکیہ‘شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا یہ ہے کہ عام کی اپنے جمیع افراد پر دلالت ظنی ہوتی ہے جبکہ احناف او ر معتزلہ کامختار مذہب یہ ہے کہ عام کی تخصیص سے قبل اس کی اپنے افراد پر دلالت قطعی ہوتی ہے اور ایک ایسا قول امام شافعیؒ کی طرف بھی منسوب ہے ‘اور اگر عام کی تخصیص ہو جائے تو باقی پر اس کی دلالت ظنی ہوتی ہے اورقطعیت سے یہاں مراد یہ ہے کہ لفظ عام میں کسی دلیل کی وجہ سے کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا ‘نہ کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں اصلاً کسی دوسرے معنی کا احتمال نہیں ہوتا۔‘‘ (أصول الفقہ الاسلامی‘جلد۱‘ص۲۵۰‘ ۲۵۱)
أحناف کا کہنا یہ ہے کہ لفظِ عام کو اہل زبان نے عمومی معنی کے لیے وضع کیا ہے لہذا اس سے مراد قطعی طور پر اس کا عمومی معنی ہی ہو گا جبکہ جمہور کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی عام ایسا نہیں ہے کہ جس کی تخصیص موجود نہ ہو، یہاں تک کہ بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کے عام میں صرف ایک آیت ایسی ہے کہ جس کی تخصیص نہیں ہے ورنہ ہر عام کی کوئی نہ کوئی تخصیص ضرور موجود ہے ۔اسی وجہ سے أصولیین اور فقہاء میں یہ قول بہت معروف ہے کہ ’ما من عام الا و قد خص منہ البعض‘ یعنی کوئی عام ایسانہیں ہے کہ جس سے کسی چیز کو خاص نہ کیا گیا ہو۔علامہ آمدیؒ لکھتے ہیں:
’’یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی عام ایسا نہیں ہے کہ جس کا کوئی مخصص نہ ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے کہ :اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ (الاحکام فی أصول الأحکام‘جلد۲‘ ص۴۱۰)
جبکہ امام شوکانی ؒ نے ’ارشاد الفحول ‘ میں بعض علما کے حوالے سے قرآن کی صرف چارآیات ایسی بیان کی ہیں کہ جو کہ اپنے عموم پر باقی ہیں۔ تمام فقہائے مالکیہ ‘شافعیہ ‘حنابلہ اور احناف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عام کی تخصیص کے بعد باقی افراد پر عام کی دلالت ظنی ہوتی ہے لہذاجمہور اور احناف کے مسلک میں فرق بالکل نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ استقرا سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ہر عام کا کوئی نہ کوئی مخصص ہے لہذا تخصیص کے بعد اس عام کی دلالت اپنے باقی افراد پر فقہائے أربعہ کے نزدیک ظنی ہوگی ۔اورعام کی تخصیص بعض اوقات عقل سے ہوتی ہے ‘بعض اوقات عرف و عادت سے ‘بعض ا وقات خودقرآن سے اور بعض اوقات سنت سے ہوتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اہل سنت میں سے کسی کا بھی یہ موقف نہیں ہے کہ قرآن کاہر ہر لفظ قطعی الدلالۃ ہے ۔ہاں اہل سنت میں اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ قرآن کے کتنے مقامات قطعی الدلالۃ ہیں اور کتنے ظنی الدلالۃ ہیں؟
ہمیں قطعی الدلالۃکا لغوی معنی آسان الفاظ میں سمجھ لیناچاہیے ۔ لفظ ’قطعی‘ کا مادہ ’قطع‘ ہے کہ جس کا معنی عربی زبان میں کاٹنا ‘جدا کرنا یا علیحدہ کرنا ہیں اور دلالت سے مراد کسی لفظ کا معنی یا مفہوم ہے لہذا کسی لفظ کے قطعی الدلالۃ ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس لفظ کا صرف ایک ہی معنی ہے اور اس لفظ کے دوسرے معانی لینے کے احتمالات ختم ہوچکے ہیں۔جیسا کہ ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ فقہائے اہل سنت کے نزدیک قرآن کا بعض حصہ قطعی الدلالۃ ہے اور بعض ظنی الدلالۃ ہے اور قرآن کے بعض الفاظ کو قطعی الدلالۃ کہنے سے ان کی مرادیہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں کہ جو ان الفاظ کے اپنے وضعی معنی پر دلالت میں مانع ہو۔اگر قرینہ صارفہ یا دلیل ہو تو سب علمائے اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کے الفاظ قطعی الدلالۃ ہوں یا ظنی الدلالۃ‘ ان کو ان کے لغوی و وضعی معنی و مفہوم سے پھیرا جا سکتا ہے ‘ اور ان کے نزدیک وہ دلیل جو کہ قرآن کو اس کے قطعی الدلالۃمفہوم سے پھیر دے ‘عقل بھی ہوسکتی ہے اورحس و مشاہدہ بھی ‘عرف و عادت *بھی ہو سکتی ہے اوراجماع امت بھی ‘ حدیث نبوی بھی ہو سکتی ہے اور قول صحابی* بھی ‘اور خود نص قرآنی بھی ہو سکتی ہے ۔مثلا قرآن میں ملکہ سبا کے بارے میں ہے: ’وأوتیت من کل شیء‘ یعنی ملکہ سبا کو ہر چیز دی گئی تھی ‘اس آیت کا یہ مفہوم مشاہدے اور حس کے خلاف ہے لہذا اس آیت میں ’من کل شیء‘ سے مراد ہر چیز نہیں بلکہ وہ چیزیں مراد ہوں گی جو کہ عام طور پر بادشاہوں کے پاس ہوتی ہیں‘لہذا س آیت کی تخصیص بھی ہوگئی کیونکہ یہ اپنے عموم پر باقی نہ رہی اور اس کے مفہوم میں تبدیلی بھی ہو گئی کیونکہ ’من کل شیء‘ اپنے لغوی معنی پر برقرار نہ رہا‘اس طرح کی قرآن میں بیسیوں مثالیں ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ہم بیان نہیں کر رہے۔ اہل سنت کا موقف بیان کرنے کے بعد اب ہم غامدی صاحب کا اس مسئلے میں نقطہ نظر بیان کر رہے ہیں۔
* قول صحابیؓ اور عادت سے قرآن کے عام کی تخصیص کے بارے میں اختلاف ہے‘احناف اور حنابلہ کے نزدیک قول صحابیؓ جبکہ احناف اور جمہورمالکیہ کے ہاں عادت سے قرآن کے عام کی تخصیص ہو سکتی ہے ۔

قرآن کی قطعیت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف

غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کا ہر ہر لفظ قطعی الدلالۃ ہے اور قرآن کو اس کے قطعی مفہوم سے پھیرنے کے لیے صرف خود قرآن ہی دلیل بن سکتا ہے ۔جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یاجلی‘یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے ‘اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میں ہو گا ۔ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کر دی جائے گی۔ہر وحی ‘ہر الہام‘ہر القاء‘ہر تحقیق اور ہر رائے کو اس کے تابع قرار دیا جائے گااور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ و شافعی ‘بخاری و مسلم‘أشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی ‘سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی بھی چیز قبول نہیں کی جاسکتی۔دوسری یہ کہ اس کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے ۔یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے‘پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہر گز قاصر نہیں رہتا ۔اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کرتے ہیں‘وہ نہ اس سے مختلف ہے نہ متبائن۔اس کے شہرستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں۔وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔اس میں کسی ریب و گمان کے لیے ہر گز کوئی گنجائش نہیں ہوتی‘‘۔ (میزان:ص۲۳‘۲۴)
ایک اور جگہ جناب غامدی لکھتے ہیں :
’’حدیث سے قرآن کے نسخ اور اس کی تحدید و تخصیص کا یہ مسئلہ محض سوئے فہم اور قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔اس طرح کا کوئی نسخ یا تحدیدو تخصیص سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی کہ اس سے قرآن کی یہ حیثیت کہ وہ میزان وفرقان ہے ‘کسی لحاظ سے مشتبہ قرار پائے۔قرآن کے بعض اسالیب اور بعض آیات کا موقع و محل جب لوگ نہیں سمجھ پائے تو ان سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی صحیح نوعیت بھی ان پر واضح نہیں ہو سکی‘‘۔(میزان:ص۳۶)
غامدی صاحب کے نزدیک قرآنی الفاظ کے علاوہ اس کا عرف اور اس کا سیاق و سباق بھی اس کے کسی عام کی تخصیص یا تحدید کر سکتا ہے ۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’سوم یہ کہ اس کے عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہرا لفاظ عام ہیں‘لیکن سیاق سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مرادعام نہیں ہے۔ قرآن ’الناس‘ کہتا ہے لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ‘بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔و ہ ’علی الدین کلہ‘ کی تعبیر اختیار کرتا ہے ‘لیکن اس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا۔ وہ ’المشرکون‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے ‘لیکن انھیں سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ وہ ’و ان من أھل الکتاب‘ کے الفاظ لاتا ہے ‘لیکن اس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے۔ وہ ’الانسان‘ کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے ‘لیکن اس سے ساری اولاد آدم کا ذکر مقصود نہیں پوتا ۔یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کامنشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ‘لہذ اناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے‘‘۔(میزان:ص۲۱‘۲۲)
جاوید احمد غامدی صاحب اس بات کو مانتے ہیں کہ سنت ان احکامات میں ایک مستقل مأخذ کی حیثیت رکھتی ہے جو کہ قرآن میں بیان نہیں ہوئے اور قرآن ان کے بارے میں خاموش ہے لیکن جو احکامات قرآن میں بیان ہو گئے ہیں ان کے بارے میں غامدی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سنت ‘قرآن میں بیان شدہ احکامات کی صرف تبیین کر سکتی ہے نہ تو ان کی تخصیص کر سکتی ہے نہ ان پر اضافہ کر سکتی ہے اور نہ ان میں سے کسی حکم کو منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے۔ جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’سنت قرآن مجید کے بعد دین کا دوسرا قطعی مأخذ ہے ۔ہمارے نزدیک یہ اصول ایک ناقابل انکار علمی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و ہدایات قیامت تک کے لیے اسی طرح واجب الاطاعت ہیں ‘جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے۔آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ ؐ کا کام ختم ہو گیا ۔رسول کی حیثیت سے آپؐ کا ہر قول و فعل بجائے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے ۔آپؐ کو یہ مرتبہ کسی ا مام و فقیہ نے نہیں دیا ہے ‘خود قرآن نے آپؐ کایہی مقام بیان کیا ہے ۔کوئی شخص جب تک صاف صاف قرآن کا انکار نہ کر دے ‘اس کے لیے سنت کی اس قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ہے ۔قرآن نے غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر امر و نہی کی بہر حال بے چون و چرا تعمیل کی جانی چاہیے:
و ما ارسلنا من رسول الالیطاع باذن اللہ (النساء:۶۴)
’’اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘
سنت کے یہ اوامر و نواہی دو قسم کے معاملات سے متعلق ہو سکتے ہیں ۔ایک وہ جن میں قرآن مجید بالکل خاموش ہے اور اس نے صراحۃً یا کنایۃً کوئی بات نہیں فرمائی ہے ‘اور دوسرے وہ جن میں قرآن مجید نے نفیاً یا اثبا تاًکوئی حکم دیا ہویا کوئی اصول بیان فرما دیا ہے ۔پہلی قسم کے معاملات میں اگر سنت کے ذریعے کوئی حکم یا قاعدہ ہمیں پہنچے تو اس کے بارے میں کسی بحث و نزاع کا کوئی سوال نہیں ہے ۔اس طرح کے معاملات میں سنت بجائے خود مرجع و مأخذ کی حیثیت رکھتی ہے ‘ان معاملات میں ہمارا دائرہ عمل بس یہ ہے کہ ہم ان ذرائع کی تحقیق کریں ‘جن سے یہ احکام و قواعد ہمیں پہنچے ہیں ‘پھر ان کا مفہوم و منشا متعین کریں اور اس کے بعد بغیر کسی تردد کے ان پر عمل پیرا ہوں ۔رہے دوسری قسم کے معاملات ‘یعنی وہ جن میں قرآن مجید نے کوئی حکم یا قاعدہ بیان فرمایا ہے ‘تو ان کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ سنت نہ قرآن مجید کے کسی حکم اور قاعدے کو منسوخ کر سکتی ہے ‘اور نہ اس میں کسی نوعیت کا تغیر و تبدل کر سکتی ہے۔سنت کو یہا ختیار قرآن مجیدنے نہیں دیا ہے اب کسی امام و فقیہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بطور خودسنت کے لیے یہ اختیار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ (برہان:ص ۳۶‘ ۳۷)

غامدی صاحب کے نقطہ نظر کی غلطی

ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا یہ موقف عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں غلط ہے اور اس کے غلط ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں:
۱) غامدی صاحب کا یہ موقف اجماع امت کے خلاف ہے‘ فقہائے محدثین‘ مالکیہ‘ حنابلہ‘ شافعیہ‘ا حناف‘ ظاہریہ اور اہل الحدیث کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنت‘ قرآن کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیرکر سکتی ہے ۔ علامہ آمدی ؒ لکھتے ہیں:
یجوز تخصیص عموم القرآن بالسنۃ أما اذا کانت السنۃ متواترۃ‘ فلم أعرف فیہ خلافا...و أما اذا کانت السنۃ من أخبار الآحاد ‘ فمذھب الأئمۃ الأربعۃ جوازہ۔ (الاحکام فی أصول الأحکام‘ جلد۲‘ ص۴۷۲)
’’قرآن کے عموم کی سنت سے تخصیص جائز ہے ‘جہاں تک سنت متواترہ کا معاملہ ہے تو میرے علم کی حد تک اس بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے...جہاں تک اخبار آحاد کا معاملہ ہے تو أئمہ أربعہ کا موقف ہے کہ ان سے قرآن کی تخصیص جائز ہے ۔‘‘
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ احناف ‘خبر واحد سے قرآن کی تخصیص کے قائل نہیں ہیں‘یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ہم یہ بات پہلے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کا ایسا عام کہ جس کی تخصیص ہو چکی ہو وہ احناف کے نزدیک ظنی الدلالۃ ہوتاہے اور اس کی تخصیص ان کے ہاں خبر واحد سے جائز ہے۔اسی طرح ایسا عام کہ جس کی ابھی تک تخصیص نہ ہوئی ہو اس کی تخصیص بھی احناف کے ہاں خبر متواتر اور خبر مشہور سے جائز ہے او راحناف کی خبر مشہورجملہ أئمہ محدثین کے نزدیک خبر واحد ہی کی ایک قسم ہے لہذا علامہ آمدی ؒ کا یہ قول درست ہوا کہ أئمہ أربعہ‘اخبار آحاد سے قرآن کی تخصیص کے قائل ہیں۔علاوہ ازیں احناف جس خبر مشہور سے قرآن کی تخصیص کے قائل ہیں اس کی تعریف وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ خیر القرون میں مشہور ہو۔امام ابن قیم ؒ نے ’اعلام الموقعین‘ میں ایسی بہت سی مثالیں جمع کر دی ہیں جو کہ احناف کی خبر مشہور کی تعریف پر پوری نہیں اترتی لیکن احناف پھر بھی ان کے ذریعے قرآن کے عام کی تخصیص کرتے ہیں۔لہذا عملاًیہی ہوا ہے کہ احناف نے اخبار آحاد سے قرآن کے عام کی تخصیص کی ہے لیکن انہوں نے اس کو خبر مشہور کا نام دے دیا‘حالانکہ جن اخبار آحاد سے وہ قرآن کے عام کی تخصیص کر رہے ہوتے ہیں وہ خیر القرون میں مشہور تو کیا‘بعض اوقات ضعیف اور موضوع درجے کی ہوتی ہیں۔اس لیے بات وہی صحیح ہے جو کہ علامہ آمدی ؒ نے کہی ہے کہ اخبار آحاد سے أئمہ اربعہ کے نزدیک قرآن کے عمومات کی تخصیص جائز ہے۔جبکہ اس کے برعکس غامدی صاحب‘خبر متواتر ہو یا احناف کی خبر مشہور‘خبر واحد ہو یا اجماع أمت ‘کسی سے بھی قرآن کے کسی حکم کی تخصیص کے قائل نہیں ہیں۔غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یاجلی‘یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے ‘اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا۔دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میں ہو گا‘‘۔(میزان:ص۲۳)
۲) غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کے عام کی تخصیص اس کے سیاق و سباق سے جائز ہے۔ لکھتے ہیں:
’’سوم یہ کہ اس کے عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہرا لفاظ عام ہیں‘لیکن سیاق سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مرادعام نہیں ہے۔قرآن ’الناس‘ کہتا ہے لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر ‘بارہا اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔و ہ ’علی الدین کلہ‘ کی تعبیر اختیار کرتا ہے ‘لیکن اس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا ۔وہ’المشرکون‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے ‘لیکن انھیں سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا ‘... لہذاناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے‘‘۔(میزان:ص۲۱‘۲۲)
غامدی صاحب جس کو قرآن کا عرف اور اس کا سیاق و سباق کہہ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت ان کے ذاتی فہم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔جناب غامدی صاحب سورۃ احزاب کی آیت ’یأیھا النبی قل لأزواجک وبناتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن‘کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس آیت کا سیاق و سباق اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت میں چہرے کے پردے کاحکم ایک عارضی حکم تھا جو کہ صرف آپؐ کے زمانے کی عورتوں کے لیے تھا۔جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’ان آیتوں میں ’أن یعرفن فلا یؤذین‘کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہ تھا‘بلکہ ایک وقتی تدبیر تھی جو أوباشوں کے شر سے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی‘‘۔(قانون معاشرت )
جبکہ غامدی صاحب کے استاذ امام ‘امین احسن اصلاحی ؒ صاحب اسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’(ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ ط)اس ٹکڑے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اشرار کے شر سے مسلمان خواتین کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اوّل تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں‘ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں۔‘‘ (تدبر قرآن‘ امین احسن اصلاحی‘ جلد۶‘ ص ۲۷۰‘ فاران فاؤنڈیشن‘ لاہور)
مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کہ جنہوں نے ‘بقول غامدی صاحب‘ اُن کو قرآن کے سیاق و سباق اور نظمِ قرآن کی تعلیم دی ‘وہ ’ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ‘ یعنی قرآن کے سیاق و سباق کو بنیاد بنا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کو عارضی اور تدبیری حکم سمجھنا غلط ہے۔اور اس کے لیے دلیل کے طور پر انہوں نے ایک اصول بیان کیا جس اصول کو نہ سمجھنے کی وجہ سے غامدی صاحب نے اپنے ایک درس کے دوران استاد امام کی شان میںیہ کلمات ارشاد فرمائے کہ ان سے بھی اس مسئلے میں غلطی ہوئی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے یہ اُصول بیان کیا کہ ’’احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں وہ محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں ‘لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہو جائیں گے‘‘۔ یہاں استاذ امام اپنے تلمیذ رشید جاوید احمد غامدی صاحب کو جو اصول سمجھانا چاہتے ہیں اسے اصولیّین ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب‘  کہ قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کرتے وقت اصل اعتبار الفاظ کے عموم کا ہو گا نہ کہ سببِ نزول کا۔
اسی طرح غامدی صاحب کے امام کے امام ‘مولاناحمید الدین فراہیؒ صاحب نے بھی یہ لکھا ہے کہ قرآن کے سیاق و سباق اور نظم سے چہرے کا پردہ ثابت ہوتا ہے۔جناب فراہیؒ صاحب لکھتے ہیں:
’’حجاب کے مسئلہ میں تفاسیر اور فقہ میں پوری توضیح موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ میری رائے میں نظمِ قرآن پر توجہ نہ کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے ۔ایسی قدیم غلطیوں کا کیا علاج کیا جائے۔ کون سنتا ہے کہانی میری‘ اور پھر وہ بھی زبانی میری۔ فقہاء اور مفسرین کا گروہ ہم زبان ہے مگر صحابہؓ اور تابعین زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے ٹھیک سمجھا ہے مگر متأخرین حضرات نے ان کا کلام بھی نہیں سمجھا۔ بہرحال الحق أحق اَنْ یُتَّبع ۔ میں اس مسئلے پر مطمئن ہوں اور میرے نزدیک اجنبی سے پورا پردہ کرنا واجب ہے اور قرآن نے یہی حجاب واجب کیا ہے جو شرفاء میں مروّج ہے ‘بلکہ اس سے قدرے زائد۔ ذرا مجھے طاقت آئے تو مفصل مضمون آپ کی خدمت میں بھیجوں‘‘۔ (اشراق ‘ مئی ۱۹۹۲ء‘ ص ۶۰)
غامدی صاحب کے ہر دو استاذ امام صاحبان کے بقول عصر حاضر کی خواتین کے لیے بھی چہرے کا پردہ نص قرآنی اور نظم قرآنی سے ثابت ہے اور یہ کوئی عارضی یا تدبیری حکم نہ تھا جبکہ غامدی صاحب کے بقول قرآن کے سیاق و سباق کے مطابق چہرے کا پردے ایک عارضی و تدبیری حکم تھا۔اب یہ دو متضاد بیانات ہیں۔اگر قرآن و اقعی قطعی الدلالۃ ہے یا قرآن کا سیاق و سباق اس کے قطعی مفہوم کو متعین کرتا ہے تو ایک ہی جیسے اصول تفسیر کو ایک ہی نص پر منطبق کرنے کے نتیجے میں دو متضاد آراء کیسے حاصل ہو گئیں؟اگر تو غامدی صاحب کہیں کہ دونوں استاذ امام غلطی پر ہیں تو پھر قرآن قطعی تو ہوگا لیکن صرف غامدی صاحب کے لیے ‘نہ کہ اپنے جمیع مخاطبین کے لیے‘کیونکہ جو قرآن عصر حاضر کے دو اماموں کے لیے قطعی الدلالۃ نہ ہو سکا وہ عامۃ الناس کے لیے کیسے قطعی ہو سکتا ہے؟واقعہ یہ ہے کہ نظم قرآنی ہو یا قرآن کاسیاق و سباق ‘عرف قرآنی ہو یا عربی معلی‘یہ سب قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کے اصول نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن کی غیر قرآن کے ذریعے تفسیرکے اصول ہے۔قرآن کا سیاق وسباق ‘اس کا عرف ‘اس کا نظم اور عربی معلی‘ یہ سب غیر قرآن ہیں اور ان میں سے پہلے تین تو مفسر کا ذاتی فہم ہوتے ہیں۔قرآن کے کتنے ہی مقامات ایسے ہیں کہ جن کی تفسیر میں غامدی صاحب نے اپنے استاذ امام سے اختلاف کیا تو اس اختلاف کے باوجود قرآن قطعی الدلالۃ کیسے ہو گیا؟ مثال کے طور پر میں غامدی صاحب کو کہتا ہوں کہ سورۃ نور کی آیت کا سیاق و سباق اور نظم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آیت گھر کے پردے کے پارے میں ہے جیسا کہ استاذ امام کی بھی یہی رائے ہے تو کیا غامدی صاحب میری اس رائے کو مان لیں گے ؟۔ہر گز نہیں‘تو کیا اس پر مجھے یہ کہنا چاہیے کہ غامدی صاحب نے قرآن کا انکار کر دیا ‘ہر گز نہیں ‘میں نے قرآن کے عرف یا اس کے سیاق و سباق یا نظم سے جو کچھ سمجھا ہے وہ صرف میری ایک رائے ہے وہ قرآن نہیں ہے ‘اس لیے مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اپنی رائے کو قرآن کا نام دے کر اس کو دوسروں پر مسلط کروں۔لہذاغامدی صاحب قرآن کے سیاق و سباق اور عرف کا نام لے کر اپنے ذاتی فہم سے قرآن کے عام کی تخصیص کر رہے ہوتے ہیں۔جب غامدی صاحب کے فہم سے قرآن کے کسی حکم کی تخصیص و تحدید جائز ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ ’ما لکم کیف تحکمون؟' 
۳) غامدی صاحب کے موقف’قرآن قطعی الدلالۃ ہے‘ کا بدیہی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کی تفسیر میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے ۔جب قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو اس کی تفسیر میں اختلاف کیوں؟ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ ہو ں یا تابعین عظامؒ ‘جلیل القدر مفسرین ہوں یا أئمہ مجتہدین ‘یہ سب حضرات قرآن کی تفسیر میں اختلاف کرتے ہیں ‘اگرچہ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ متأخرین کی نسبت متقدمین میں تفسیر کا یہ اختلاف بہت کم ہوا ہے اور جو کچھ ہوا بھی ہے اس میں اکثر و بیشتر اختلاف تنوع کاہے ‘لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ متقدمین اور سلف صالحین میں بھی قرآن کی تفسیر میں اختلاف تضاد بھی واقع ہوا ہے اس کی سادہ سی مثال قرآن کی آیت ’و المطلقت یتربصن بأنفسھن ثلثۃ قروء‘ ہے۔امام شافعیؒ کے نزدیک اس آیت میں ’قروء‘ سے مراد ’طھر‘ ہے جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس آیت میں ’قروء‘ سے مراد ’حیض‘ ہے ۔اور ہر دوفقہ کے حاملین کی طرف سے فقہ و اصول فقہ کی کتب اپنے موقف کے اثبات کے لیے دلائل کے انبار سے بھری پڑی ہیں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہر بعد میں آنے والا مفسر اپنے پہلے مفسر سے اختلاف کرتا ہے‘اگر قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو صحابہؓ و تابعینؒ ‘امام ابو حنیفہؒ وامام شافعیؒ ‘ امام رازی ؒ و علامہ زمخشریؒ ‘امام طبری ؒ و امام قرطبیؒ ‘مولاناامین احسن اصلاحی ؒ اور جاوید احمد غامدی کاقرآن کی تفسیر میںآپس میں اختلاف کیوں ہوا ؟ صحابہ کرا مؓ ‘تابعین عظامؒ ‘أئمہ أربعہ ؒ ‘طبری ؒ و زمخشریؒ ‘قرطبیؒ و رازیؒ وغیرہ کے بارے میں شاید غامدی صاحب یہ کہیں کہ وہ عربی معلی سے واقف نہیں تھے یا ان پر نظم قرآنی کے ذریعے تفسیر کے وہ نادر اصول ابھی تک منکشف نہیں ہوئے تھے کہ جن کی دریافت پرغامدی صاحب نے نولانافراہی ؒ و اصلاحیؒ کو امام کے لقب سے نواز الیکن خود مولانا فراہیؒ اور مولانا اصلاحی ؒ کے ساتھ غامدی صاحب کے تفسیر کے جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں وہ کیا کہیں گے؟
قرآن قطعی الدلالۃ کا اگر یہ مفہوم لیا جائے کہ قرآن اللہ کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہے تو ہمیں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ہر کلام اپنے متکلم کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہوتا ہے لیکن مسئلہ تو جمیع مخاطبین کا ہے ‘اپنے جمیع مخاطبین کے اعتبار سے قرآن کے بعض مقامات قطعی الدلالۃ ہیں اور بعض مقامات ظنی الدلالۃ ہیں۔ہم یہ بات پہلے کر چکے ہیں کہ قرآن میں لفظِ خاص قطعی الدلالۃ ہے اسی طرح قرآن کے وہ مقامات بھی قطعی الدلالۃ ہیں کہ جن کی تفسیر پر علماء کا اتفاق ہوسوائے اس شخص کے اختلاف کے کہ جس کا اختلاف معتبر نہ ہو۔اس حد تک تو کہا جا سکتا ہے کہ ایک ‘دو ‘تین یا چار مفسرین کو غلطی لگی ہے اور قرآن قطعی الدلالۃ ہے لیکن یہ کہنا کہ چودہ صدیوں میں کسی صحابیؓ‘تابعیؒ ‘ امام‘ مجتہد‘ فقیہ ‘ مفسر ‘محدث‘ یاعالم کو قرآن سمجھ ہی نہیں آیا اور پہلی دفعہ غامدی صاحب کو سمجھ میں آیا ہے کہ ’کلالۃ‘ کا معنی کیا ہے؟اگر قرآن قطعی الدلالۃ ہے تو اس کو سمجھنے میں ایک فرد تو غلطی کر سکتا ہے لیکن ہزاروں صحابہؓ‘تابعینؒ ‘علمااورفقہا غلطی نہیں کر سکتے۔ یا تو غامدی صاحب قرآن کو قطعی الدلالۃ نہ کہیںیا پھر فرد واحد(یعنی اپنی) کی غلطی مانیں اور علما و فقہا کے موقف کی تائید کریں۔ غامدی صاحب قانون وراثت بیان کرتے ہوئے ’کلالۃ‘ کے بارے میں عربی زبان و اسلوب کے مطابق تین مفاہیم بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے ‘فقہا نے اگرچہ یہاں بالاتفاق وہی مراد لیے ہیں ‘لیکن آیت ہی میں دلیل موجود ہے کہ یہ معنی یہاں مراد لینا کسی طرح ممکن نہیں ہے‘‘(میزان:ص۱۷۶)
غامدی صاحب کے بقول ایک فقہا نے بالاتفاق قرآن کے لفظ ’کلالۃ‘ کا جو معنی سمجھا ہے وہ غلط ہے اور جو غامدی صاحب کو سمجھ آیا ہے وہ درست ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا صحابہؓ ‘ تابعین ؒ اور فقہا قرآن کی تفسیر کرتے وقت آنکھیں بند کرلیتے تھے کہ وہ کسی آیت کی ایسی تفسیر‘ جو کہ قرآن کی اسی آیت ہی کے خلاف ہو نہ صرف بیان کر دیتے تھے بلکہ اس پر سب اتفاق بھی کر لیتے تھے۔اگر سب کو غلط سمجھ آیاتو قرآن کے قطعی الدلالۃہونے کا کیا معنی ہے؟کیا صرف غامدی صاحب کے لیے قرآن قطعی ہے؟
(جاری)

غامدی صاحب کے تصور ’کتاب‘ پر اعتراضات کا جائزہ

سید منظور الحسن

ماہنامہ ’’ الشریعہ‘‘ کے مئی ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیرکا مضمون ’’علامہ جاوید احمد غامدی کا تصور کتاب ‘‘شائع ہواتھاجو اب ان کی کتاب ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی قدیم آسمانی صحائف کودین وشریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہ مقدمہ صریح طور پر غلط ہے۔ غامدی صاحب کی تصانیف میں اس کے اثبات کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور اس ضمن میں فاضل ناقد کے جملہ اعتراضات سر تا سر سوے فہم پر مبنی ہیں۔ذیل میں غامدی صاحب کے تصور کتاب کے حوالے سے بعض اصولی مباحث کی تقدیم کے ساتھ فاضل ناقد کے ان اعتراضات کا جائزہ لیا گیاہے۔

قدیم صحائف کی صحت، استناد اور استفادہ کا دائرہ کار

دین میں قدیم آسمانی صحائف کا جو بھی مقام متعین کیا جائے، پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا ان صحائف کے متن محفوظ ہیں اور لائق استناد ہیںیا تحریف شدہ ہیں اور اس بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے رجوع کیا جائے؟اس مسئلے کے بارے میں علما کے ہاں تین مختلف آرا پائی جاتی ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ اصلاً محفوظ ہیں اور جہاں تک تحریف کا تعلق ہے تووہ ان کے متن میں نہیں ، بلکہ ان کی تعبیر و تشریح میں ہوئی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اپنے متن کے لحاظ سے یہ وہ کتابیں ہی نہیں ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے حامل پیغمبروں پر نازل کیا تھا۔ان کا بیش تر حصہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ تیسری رائے ان کے بین بین یہ ہے کہ ان میں کچھ ترمیم و اضافہ تو ضرور ہوا ہے، مگر ان کا زیادہ تر حصہ اپنی اصل صورت ہی پر قائم ہے۔ 
متعدد علماے امت بعض جزوی اختلافات کے ساتھ اسی تیسری رائے کے قائل ہیں اور امام ابن قیم نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابن تیمیہ کے حوالے سے تورات کے بارے میں یہی رائے نقل کی ہے۔ ’اغاثۃ اللہفان‘ میں لکھتے ہیں:
’’اس (تیسرے) قول کو اختیار کرنے والوں میں ہمارے استاذ (امام ابن تیمیہ)بھی شامل ہیں جنھوں نے ’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘ میں یہ بات کہی ہے۔ ... اور حق بات یہ ہے کہ یہی رائے سب سے بڑھ کر پیروی کرنے کے لائق ہے، اس لیے نہ ہم ان غلو کرنے والوں کے پیچھے چلتے ہیں جو تورات کا مذاق اڑاتے ہیں، بلکہ ہم اس طرز عمل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، او رنہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تورات، قرآن مجید کی طرح حرف بحرف اسی طرح موجود ہے جیسا کہ اس کو نازل کیا گیا تھا۔‘‘ 
مولانا مودودی بیان کرتے ہیں:
’’تورات ان منتشر اجزاکا نام ہے ، جو سیرت موسیٰ علیہ السلام کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔...قرآن انھیں منتشر اجزا کو ’’تورات‘‘ کہتا ہے، اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کرکے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرموفوق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کر سکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی مبلغ سے نکلے ہوئے ہیں۔
اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ ... قرآن انھیں اجزا کے مجموعے کو ’’انجیل‘‘ کہتا ہے اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کرکے قرآن سے ان کا مقابلہ کرکے دیکھے، تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہو گا، وہ بھی غیر متعصبانہ غوروتامل کے بعد بآسانی حل کیا جا سکے گا۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱/۲۳۲)
کم و بیش یہی موقف ہے جو اس ضمن میں جناب جاوید احمد غامدی نے اختیار کیا ہے۔ ان کے نزددیک قدیم آسمانی کتابیں اللہ کی کتابیں ہیں جواپنے اپنے زمانوں میں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی تھیں۔ ان کا سرچشمہ وہی ہے جو قرآن مجید کا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید ان پر بالاجمال ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مختلف حاملین نے مذہبی تعصبات کی بنا پراگرچہ ان کے بعض اجزا ضائع کر دیے ہیں اور بعض میں تحریف کر دی ہے، اس کے باوجود ان میں الہامی شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور الہامی لٹریچر کے اسالیب کو جاننے والے اس سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔جناب جاوید احمد غامدی نے ان صحائف کے بارے میں یہ موقف اپنی تصنیف ’’ایمانیات‘‘ میں ’’کتابوں پر ایمان‘‘ کے زیر عنوان بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں: 
’’اس وقت جو مجموعۂ صحائف بائیبل کے نام سے موجود ہے، اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کسی نہ کسی صورت میں تمام پیغمبروں کو دی گئیں۔ قرآن جس طرح تورات و انجیل کا ذکر کرتا ہے، اسی طرح صحف ابراہیم کا ذکر بھی کرتا ہے۔اس کی تائید بقرہ و حدید کی ان آیتوں سے بھی ہوتی ہے جو اوپر نقل ہوئی ہیں۔ یہ سب کتابیں خدا کی کتابیں ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی تفریق کے قرآن بالاجمال ان پر ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔... 
... (تورات) موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ..... اپنی موجودہ صورت میں غالباً یہ پانچویں صدی قبل مسیح میں کسی وقت مرتب کی گئی۔ تاہم سیدنا مسیح علیہ السلام نے جس طرح اس کا ذکر کیا ہے، اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تصویب بھی اس کو کسی حد تک حاصل ہے۔ 
انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی جو ہدایت بنی آدم کو ملی ہے، اس کے دو حصے ہیں: ایک قانون، دوسرے حکمت۔ تورات میں زیادہ تر قانون بیان ہوا ہے اور اس کا نام بھی اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ قرآن اسے ’ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘ (بنی اسرائیل کے لیے ہدایت) اور ’تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ‘ (ہر چیز کی تفصیل) کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس میں اللہ کا حکم ہے، ہدایت اور روشنی ہے، لوگوں کے لیے رحمت ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ اس میں یہود کی تحریفات کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی جو روایت (version) زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ کے پاس تھی، قرآن فی الجملہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔
(زبور) اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ نغمات الٰہی کا مجموعہ ہے جنھیں مزامیر کہا جاتا ہے۔ بائیبل کے مجموعۂ صحائف میں زبور کے نام سے جو کتاب اس وقت شامل ہے، اس میں ۵ دیوان اور ۱۵۰ مزامیر ہیں۔ دوسرے لوگوں کے مزامیر بھی اگرچہ اس میں خلط ملط ہو گئے ہیں، مگر جن مزامیر پر صراحت کی گئی ہے کہ داؤد علیہ السلام کے ہیں، ان میں الہامی کلام کی شان ہر صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے۔ انجیل کی طرح یہ بھی ایک صحیفۂ حکمت ہے اور خدا کی نازل کردہ ایک کتاب کی حیثیت سے قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔
(انجیل) مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ....یہ کوئی مرتب کتاب نہیں، بلکہ منتشر خطبات تھے جو زبانی روایتوں اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے۔ مسیح علیہ السلام کی سیرت پر ایک مدت کے بعد بعض لوگوں نے رسائل لکھنا شروع کیے تو ان میں یہ خطبات حسب موقع درج کر دیے گئے۔ یہی رسائل ہیں جنھیں اب انجیل کہا جاتا ہے۔ ..... سیدنا مسیح کے جو خطبات، ارشادات اور تمثیلیں ان میں درج ہیں، ان کی الہامی شان ایسی نمایاں ہے کہ الہامی لٹریچر کے اسالیب سے واقف کوئی شخص ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن جس انجیل پر ایمان لانے کامطالبہ کرتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ سیرت کی ان کتابوں میں محفوظ ہے۔‘‘ (اشراق، جون ۲۰۰۷،۱۸)
قدیم صحائف کے بارے میں دوسری بحث اس سوال پر مبنی ہے کہ یہ صحف سماوی جن پر قرآن نے ایمان لانے کا مطالبہ کیاہے، کیا انھیں دین کے مآخذ کی حیثیت بھی حاصل ہے ؟علماے امت نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف بھی یہی ہے۔ان کے نزدیک ان صحائف کو دین کے مآخذ کی حیثیت ہر گزحاصل نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے یہ حیثیت فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو حاصل ہے اور ان سے امت کو یہ دین دو صورتوں میں ملا ہے: ایک قرآن اور دوسرے سنت۔چنانچہ کرۂ ارض پر یہی دو چیزیں ہیں جن سے دین اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور چیز کو دین کا ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انھوں نے بیان کیا ہے:
’’دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ صرف انھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو ان کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔ ......
یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے : 
۱۔ قرآن مجید 
۲ ۔سنت ‘‘ (اصول و مبادی ۹)
قدیم صحائف کے بارے میں تیسری بحث یہ ہے کہ اگر ان صحائف کو مآخذ دین کی حیثیت حاصل نہیں ہے تو پھر علوم اسلامی کے حوالے سے کیا ان کی کوئی ضرورت اور اہمیت موجود ہے اور اگر ہے تو ان سے اخذ و استفادے کا کیا دائرہ ہے؟ اس باب میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ فہم قرآن کے ایک ذریعے کی حیثیت سے قدیم آسمانی کتابوں کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک قرآن مجید دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور تاریخی اعتبار سے دین کا آغاز ان بنیادی حقائق سے ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے۔ پھر تورات ، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلووں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے سابقہ کتب سماوی کی اہمیت مسلم ہے۔ اس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’ ان (صحائف) کے بدقسمت حاملین نے ان کا ایک حصہ اگرچہ ضائع کر دیا ہے اور ان میں بہت کچھ تحریفات بھی کر دی ہیں ،لیکن اس کے باوجود اللہ کی نازل کردہ حکمت اور شریعت کا ایک بڑا خزانہ اللہ تعالیٰ کے خاص اسالیب بیان میں اب بھی ان میں دیکھ لیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے طالب علم جانتے ہیں کہ اس نے جگہ جگہ ان کے حوالے دیے ہیں ،نبیوں کی جو سرگزشتیں ان میں بیان ہوئی ہیں، ان کی طرف بالاجمال اشارے کیے ہیں اوران میں یہودونصاریٰ کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید کی ہے، اہل کتاب پر قرآن کا سارا اتمام حجت انھی صحائف پر مبنی ہے اور وہ صاف اعلان کرتا ہے کہ اس کا سرچشمہ وہی ہے جو ان صحیفوں کا ہے۔‘‘ (اصول و مبادی ۵۶)
تاہم، غامدی صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے ایک معاون ذریعے کی حیثیت سے بھی ان صحائف سے اخذ و استفادے کا دائرہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات تک محدود ہے۔چنانچہ ان کا اصرار ہے کہ قرآن مجید کے ان مقامات کی شرح و تفسیر کے لیے جن میں بنی اسرائیل کے انبیا کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں یا یہود و نصاریٰ کی تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا گیاہے، ان روایتوں کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے جو اسرائیلیات کے عنوان سے تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کے بجائے قدیم صحائف ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو بہرحال اسرائیلیات سے زیادہ مستند ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔بحث و تنقید کی ساری بنیاد انھی پر رکھی جائے گی ۔ اس باب میں جو روایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں ، انھیں ہرگز قابل التفات نہ سمجھا جائے گا ۔ ان موضوعات پر جو روشنی قدیم صحیفوں سے حاصل ہوتی ہے اور قرآن کے الفاظ جس طرح ان کی تفصیلات کو قبول کرتے یا ان میں بیان کردہ کسی چیز سے متعلق اصل حقائق کو واضح کرتے ہیں، اس کا بدل یہ روایتیں ہرگز نہیں ہو سکتیں جن سے نہ قرآن کے کسی طالب علم کے دل میں کوئی اطمینان پیدا ہوتا ہے اور نہ اہل کتاب ہی پر وہ کسی پہلو سے حجت قرار پا سکتی ہیں۔‘‘  (اصول و مبادی، ۵۰)
درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ غامدی صاحب قدیم صحائف کو من جانب اللہ تصور کرتے ہیں۔ وہ ان میں جزوی طور پر تحریف اور ترمیم و اضافہ کے قائل ہیں،تاہم ان کے نزدیک قرآن کے ان مقامات کی شرح و تفسیر میں ، جن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا کوئی پہلو بیان ہوا ہے، اصل ماخذ کی حیثیت اسرائیلیات کو نہیں، بلکہ انھی صحائف کو حاصل ہے۔ چنانچہ ان کی رائے کے مطابق خاص اس ضمن میں اگر قرآن کے کسی اجمال کی تفصیل ان صحائف سے معلوم ہو تی ہے تو اس سے پوری طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ اخذ استفادہ کیا مجرد ہو گایا قرآن مجید کی روشنی میں ہو گا۔ جناب جاوید احمد غامدی اس کاجواب یہ دیتے ہیں کہ لازماً قرآن مجید کی روشنی میں ہوگا۔ قرآن کی کوئی آیت یا اس کا عرف اگر قدیم صحائف کے کسی جز کو قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اس سے ہر گز اعتنا نہیں برتا جائے گا۔ان کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن مجید حق و باطل کے لیے میزان اور فرقان ہے اور تمام آسمانی صحیفوں پر اسے ’مہیمن‘ یعنی محافظ اورر نگران کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’ قرآن مجید اس زمین پر حق و باطل کے لیے ’میزان ‘اور ’فرقان ‘اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک ’مہیمن‘ کی حیثیت سے نازل ہوا ہے:....
...اسی مفہوم کے لیے لفظ ’مھیمن ‘ استعمال ہوا ہے ۔یہ ’ھیمن فلان علی کذا‘ سے بنا ہوا اسم صفت ہے جو محافظ اور نگران کے معنی میں آتا ہے ۔ آیت میں قرآن مجید کو پچھلے صحیفوں پر ’مھیمن‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب الٰہی کا اصل قابل اعتماد نسخہ یہ قرآن مجید ہی ہے۔ چنانچہ دوسرے صحیفوں کے متن جب گم کر دیے گئے اور ان کے تراجم میں بھی بہت کچھ تحریفات کر دی گئی ہیں تو ان کے حق و باطل میں امتیاز کے لیے یہی کسوٹی اور معیار ہے ۔جو بات اس پر کھری ثابت ہو گی ، وہ کھری ہے اور جو اس پر کھری ثابت نہ ہو سکے ، وہ یقیناًکھوٹی ہے جسے لازماً رد ہو جانا چاہیے۔‘‘ (اصول و مبادی ۲۵)
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید کی یہ حاکمیت صرف قدیم صحائف ہی پرنہیں، بلکہ ہر قسم کے دینی لٹریچر اور ہر سطح کی دینی شخصیت پر قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی بھی کوئی بات قبول نہیں کی جا سکتی۔ لکھتے ہیں:
’’...قرآن سے باہر کوئی وحی خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی ترمیم و تغیر نہیں کر سکتا ۔ دین میں ہر چیز کے ردو قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی ، ہر الہام ، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر رائے کو اس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بو حنیفہ و شافعی ،بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ‘‘(اصول و مبادی)
اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کو ماخذ دین کی حیثیت ہرگزحاصل نہیں ہے ۔ البتہ، فہم قرآن کی شرح و ضاحت کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پروہ ان کی اہمیت کو بہرحال تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم اس اہمیت کے باوجود وہ ان سے اخذ و استفادہ کرتے ہوئے دو چیزوں کے ملحوظ رکھنے کو لازم قرار دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا دائرہ اصلاً یہود و نصاریٰ کی تاریخ اور اس کے متعلقات تک محدود رہے اور دوسری یہ کہ ان کی ہر بات کو قرآن کی میزان میں تولا جائے اور صرف اسی بات کو قبول کیا جائے جسے قرآن قبول کرنے کی اجازت دے ۔جہاں تک ایمانیات اور شریعت کے مباحث کا تعلق ہے تو ان کی رائے یہ ہے کہ اس ضمن میں اخذ و استنباط کا تمام تر انحصار قرآن وسنت پر کرنا چاہیے۔ 

اعتراضات کا جائزہ

فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں ’’اصول و مبادی‘‘ کا اقتباس نقل کر کے یہ تسلیم کیا ہے کہ غامدی صاحب احکام و عقائد کے لیے قدیم صحائف کو مآخذ قرار نہیں دیتے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’غامدی صاحب ’میزان‘ میں ایک جگہ تدبر قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سوم یہ کہ الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاریٰ کی تاریخ ،انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے۔‘‘
اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کویہود و نصاریٰ کے اخبار و واقعات اور قصص وتاریخ سے متعلقہ قرآنی آیات کو سمجھنے کے لیے مآخذ بنایا جائے گا نہ کہ احکام و عقائد کے لیے۔‘‘  (فکر غامدی۶۹)
فاضل ناقد نے یہ بات تسلیم کرنے کے باوجوداس کے بالکل برعکس یہ نقطۂ نظر قائم کیا ہے کہ غامدی صاحب کتب سماویہ کو دین اور شریعت کا ماخذ قرار دیتے ہیں۔لکھتے ہیں:
’’ان کے مآخذ دین میں منسوخ شدہ آسمانی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ بھی شامل ہیں۔...ان کے نزدیک سابقہ شرائع کے اکثر و بیشتر احکامات اب بھی دین اسلام میں قانون سازی کا ایک بہت بڑا ماخذ ہیں۔ ‘‘ (فکر غامدی۶۰) 
زیر نظر مضمون میں فاضل ناقد کے اعتراضات بنیادی طور پراس مقدمے پر مشتمل ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو مآخذ دین میں شمار کرتے اور قرآن وسنت کی طرح اس سے بھی دین و شریعت کے احکام اخذ کرتے ہیں۔اس مقدمے کے حوالے سے فاضل ناقد نے بعض دلائل پیش کیے ہیں۔ اگرچہ تمہیدی مباحث میں یہ بات ہر لحاظ سے فیصل ہو گئی ہے کہ غامدی صاحب پر اس الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ بائیبل کو دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں، لیکن فاضل ناقد کے پیش کردہ نکات چونکہ بعض پہلووں سے خلط مبحث کا باعث ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ضروری توضیحات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔ 
۱۔ فاضل ناقد نے ایک دلیل یہ پیش کی ہے کہ غامدی صاحب اور ان کے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی کے نزدیک ’ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ‘ میں ’کتاب‘ سے مرادصرف قرآن نہیں، بلکہ تمام الہامی صحائف ہیں اور یہ کہ ان کے نزدیک قرآن مجید کتاب الٰہی کا ایک حصہ ہے،مکمل کتاب نہیں ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مولانا اصلاحی کی تفسیر’ ’ تدبر قرآن‘‘ اور غامدی صاحب کی تفسیر ’’ البیان‘‘ میں’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ کے تحت تفسیری حواشی کا حوالہ دیا ہے۔ (فکر غامدی۵۹)
فاضل ناقد کی یہ بات بالکل غلط ہے۔ ’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ میں ’الکتاب‘ کا مصداق مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی، دونوں کے نزدیک قرآن مجید ہے ۔ یہی مفہوم انھوں نے اپنی کتب ’’تدبر قرآن‘‘ اور ’’البیان ‘‘ میں بیان کیا ہے۔مولانا اصلاحی نے’ ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’’یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں‘‘ ۔اس ترجمے ہی سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہاں ’الکتاب ‘سے مراد قرآن مجید ہے۔’یہ‘ اور ’اس‘ کی ضمیریں اس مفہوم کے لیے صریح ہیں۔ البتہ صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ نے یہاں لفظ ’کتاب‘ کے مختلف معانی بھی اس ممکنہ سوال کے پیش نظر بیان کیے ہیں کہ اس لفظ کے دیگر معانی کے تقابل میں’کلام الٰہی‘ کے معنی کو ترجیح دینے کا کیا سبب ہے۔ چنانچہ انھوں نے بتایا ہے کہ قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے: ۱۔ نوشتہ تقدیر، ۲۔ اللہ تعالیٰ کا وہ رجسٹر جس میں ہر چیز کا ریکارڈ ہے، ۳۔ خط اورپیغام ، ۴۔ احکام و قوانین، ۵۔ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام۔ اس کے بعد انھوں نے لکھا ہے:
’’جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر معنی کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کا لفظ بھی خاص طور پر کتاب الٰہی کے لیے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیا کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سفر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا، اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب ہی کے ہیں۔ اسی طرح ان صحیفوں کے لیے (scripture) کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔ الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لیے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے‘‘ ۔ (تدبرقرآن۱/۸۷)
مولانا اصلاحی نے اس مقام پر بلا شبہ، بائیبل کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سے انھوں نے فقط یہ بات سمجھائی ہے کہ لفظ ’کتاب‘ کا اللہ کے کلام کے معنی میں استعمال ہونا اس کا کوئی نیا استعمال نہیں ہے جسے قرآن نے ابتداءً اختیار کیا ہو۔ قدیم زمانے میں بھی اللہ کے کلام کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔ چنانچہ یہود صحیفۂ آسمانی کے لیے’ سفر‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے جس کے معنی ’کتاب‘ کے ہیں۔ اسی طرح عیسائی مترجمین نے بھی صحف سماوی کے مجموعے کے لیے ’بائیبل ‘کا لفظ اختیار کیا جو ’کتاب‘ ہی کے ہم معنی ہے ۔اس سے واضح ہے کہ مولانا اصلاحی کی یہ بحث لفظ ’کتاب‘ کے معنی کے بارے میں ہے، ’ذٰلک الکتٰب لا ریب فیہ‘ میں اس کے مصداق کے بارے میں ہر گز نہیں ہے۔ 
لفظ ’الکتاب‘ کے بعینہٖ یہ معنی جناب جاوید احمد غامدی نے بھی اختیار کیے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’اصل الفاظ ہیں: ’ذٰلک الکتٰب‘۔ اس میں ’ذٰلک‘ کا اسم اشارہ سورہ کے لیے آیا ہے اور ’الکتٰب‘ کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے او راسی طریقے پر استعمال ہوا ہے، جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔
یعنی اس بات میں(کوئی شبہ نہیں) کہ یہ کتاب الٰہی ہے یہی اس جملے کا سیدھا اور صاف مفہوم ہے اور قرآن کے نظائر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔‘‘( اشراق ، اکتوبر۱۹۹۸، ۸)
۲۔ غامدی صاحب سے یہ بات منسوب کرنے کے لیے کہ بائیبل بھی مآخذ دین میں شامل ہے ،فاضل ناقد نے دوسری دلیل کے طور پر راقم کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں یہ جملہ درج ہے کہ’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘۔ فاضل ناقد کی اس دلیل کا ہم ’’غامدی صاحب کا تصور فطرت چند توضیحات ‘‘ کے زیر عنوان اپنے گزشتہ مضمون (الشریعہ، ستمبر ۲۰۰۷) میں تفصیل سے جائزہ لے چکے ہیں۔ 
۳۔ فاضل ناقد نے اس مقدمے کے اثبات کے لیے کہ غامدی صاحب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں جن تحریروں کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے، ان میں ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں شائع ہونے والے دو مضامین بھی شامل ہیں۔ ایک مضمون کا عنوان ’ ’اسلام اور موسیقی‘‘ اور دوسرے کا ’’اسلام اور مصوری ‘‘ ہے۔ ان کی بنا پر فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب دین کے کسی مسئلے میں قرآن کے اشارات کو بنیاد بنا کر قدیم صحائف کی تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں اور قرآن کے مجمل الفاظ کی تفصیلات جاننے کے لیے کتاب مقدس کی آیات سے رجوع کرتے ہیں۔ ’’فکر غامدی‘‘ کے ص ۶۲ و ۶۳ پر ان مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل ناقد نے ’’غامدی صاحب کے بقول‘‘، ’’ایک جگہ...موسیقی کے حوالے سے لکھتے ہیں‘‘، ’’ایک دوسری جگہ کتاب مقدس کے حوالے سے لکھتے ہیں‘‘، ’’جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں... تو غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں‘‘، ’’ایک جگہ لکھتے ہیں‘‘، ’’گویا کہ غامدی صاحب کے نزدیک‘‘، ’’ان کے بقول‘‘، ’’غامدی صاحب نے تفصیل کی ہے‘‘، ’’تورات کی آیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں‘‘ ، ’’جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں تو وہ جواب میں فرماتے ہیں‘‘ جیسے جملے غامدی صاحب کی نسبت سے بار بار لکھے ہیں۔ قارئین یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی غامدی صاحب کے قلم سے نہیں نکلا۔ خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے!
یہ ساری تقریرغامدی صاحب کی تحریر کو نہیں،بلکہ راقم کے مضامین ’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے۔ ’’اشراق‘‘ کے صفحات میں ان کے مصنف کے طور پر غامدی صاحب کا نہیں، بلکہ راقم کا نام درج ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’ فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ کے زیر عنوان لکھی جانے والی تنقید میں اس کی کیا گنجایش ہے کہ غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے سیکڑوں صفحوں سے قطع نظر کر کے ان کے رفقا و تلامذہ کی تحریروں کو منتخب کیا جائے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فاضل ناقد نے فقط یہی نہیں کیا کہ غامدی صاحب پر تنقید کے لیے ان کی اپنی تحریر کے بجاے ان کے شاگرد وں کی تحریر کوبنیاد بنایا ہے، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کرشاگردوں کی تحریر کو غامدی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ قرار دے ڈالا ہے۔ یہ اسلوب تنقید ہے جو فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں جابجا اختیار کیا ہے۔ فاضل ناقد صاحب علم بھی ہیں اور صاحب ایمان بھی۔ توقع ہے کہ وہ اس سوال پر ضرور غور فرمائیں گے کہ علم و عقل اور دین و اخلاق کی رو سے اس طرز استدلال کی کیا گنجایش ہے؟
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راقم کے مضامین ’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری ‘‘ غامدی صاحب ہی سے بالاجمال اخذ و استفادے پر مشتمل ہیں اور اسی بنا پر ان کے عنوانات کے ساتھ ’’جناب جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی‘‘ اور ’’جناب جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر‘‘کی تصریح کی گئی ہے، لیکن ان کے اوپر مصنف کے طور پر راقم کا نام درج ہے۔ یہ علم و ادب کا مسلمہ ہے اور اس کی مثالوں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں کہ مصنفین اپنے اساتذہ اور دیگر اہل علم کے افکار سے اخذ و استفادہ کرتے ، ان کی بنا پر تصانیف رقم کرتے اور پھر انھی کی نسبت سے کوئی عنوان قائم کر کے انھیں شائع کرتے ہیں ۔ تحریر و تصنیف کی دنیا میں اس کے معنی صرف اور صرف یہ ہوتے ہیں کہ مصنف نے اپنے استاذ یا کسی اور صاحب علم کے تصور، موقف، نقطۂ نظر یا تحقیق کو اپنے فہم کے مطابق، اپنے زاویۂ نظر سے، اپنے دلائل کی بنا پر اور اپنے پیرایۂ بیان میں تصنیف کیا ہے۔اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوتے کہ یہ عین بہ عین اس استاذ یا صاحب علم کی نگارش ہے اور اس کے افکار کے تجزیے کے لیے اسے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ ان تحریروں کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان کے لکھنے والوں نے ان میں اپنے فہم کے لحاظ سے غامدی صاحب ہی کا نقطۂ نظر بیان کیا ہے تو یہ بالکل بجا ہو گا،لیکن اگر کوئی شخص ان کے بارے میں یہ حکم لگاتا ہے کہ ان کا لفظ لفظ غامدی صاحب کے موقف کا ترجمان ہے تو اسے کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر فاضل ناقد کی طرح اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ غامدی صاحب ہی کی تصنیف ہیں اور ان کے مندرجات کی بنا پرغامدی صاحب پر تنقید کے لیے قلم اٹھاتا اور ’’فکر غامدی ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ‘‘ جیسی کتاب تصنیف کر دیتا ہے تو اس کی خدمت میںیہی گزارش کی جائے گی کہ یہ چیز تنقید ادب کے مسلمات کے منافی ہے کہ کسی صاحب علم پر تنقید کے لیے اس کی اپنی تصنیفات کو چھوڑ کر اس کے موقف پر مبنی کسی اور مصنف کی تحریر کو بنیاد بنایا جائے۔ علم و ادب کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اقبال کے فکر پر تنقید کے لیے قلم اٹھایا جائے اور ’’بانگ درا‘‘ اور ’’بال جبریل‘‘ کے بجائے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی تصنیف ’’فکر اقبال‘‘ کو بناے تنقید بنایا جائے۔
یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر یہ واضح رہے کہ راقم کے مضامین’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ میں بائیبل کے مندرجات کو اباحت کی دلیل کے طور پر ہر گز پیش نہیں کیا گیا۔یہ بیانات ان فنون لطیفہ کے فی نفسہٖ مباح ہونے کی تائید میں استشہاداً پیش کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ا ن میں بائیبل کے وہ مقامات بھی نقل کیے ہیں جن میں ان فنون لطیفہ کا ذکر مثبت طور پر ہوا ہے اور وہ بھی نقل کیے ہیں جن میں ان کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کتب احادیث سے بھی حلت وحرمت، دونوں طرح کی روایتیں اسی اصول کو واضح کرنے کے لیے نقل کی گئی ہیں۔ان فنون لطیفہ کی اباحت کے بارے میں ہماری یہ رائے اصلاً بائیبل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ا س اصول پر مبنی ہے کہ جس چیز میں فی نفسہٖ عقیدہ و اخلاق کی قباحت موجود نہ ہو، اسے علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم کسی اضافی سبب کی بنا پراسے ممنوع قرار دینا بالکل بجا ہے۔لیکن اس صورت میں ظاہر ہے کہ ممانعت کا باعث وہ اضافی سبب ہی قرار پائے گانہ کہ بذات خود وہ چیز۔ چنانچہ کسی ایسی چیز کے بارے میں جسے دین نے فی نفسہٖ حرام قرار نہ دیا ہو، حرمت کا فتویٰ صادر کرنا شریعت سے تجاوز ہے ۔ مذکورہ مضمون میں ہم نے اپنے استدلال کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ فاضل ناقد اگر اس کو موضوع بنا کر اس پر بحث کریں تو ان شااللہ ہم اپنے استدلال کی مزید وضاحت کر دیں گے۔
’’اسلام اور موسیقی‘‘ اور ’’اسلام اور مصوری‘‘ کے حوالے سے اطلاقی مثالوں کے علاوہ فاضل ناقد نے ’’یاجوج و ماجوج‘‘ کی مثال بھی پیش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ غامدی صاحب نے قرآن کے الفاظ’ یاجوج و ماجوج‘ کے مصداق کے تعین کے لیے بائیبل سے رجوع کیا ہے۔
اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یاجوج وماجوج کے مصداق کا تعین کسی طرح بھی ’دین‘ کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ ایک تاریخی بحث ہے جس کے لیے دیگر تاریخی مآخذ کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔یہ اور اس نوعیت کے دیگر موضوعات پر بائیبل سے استشہاد تاریخ، سیرت اور تفسیر کے علما کا معمول بہ عمل ہے۔ اس سے بائیبل کو ماخذ دین سمجھنے کا تصور ہر گز قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ اگر کوئی مفسر بدر، احد، خندق، فتح مکہ اوراس طرح کے دوسرے واقعات سے متعلق قرآنی آیات کی شرح و وضاحت کے لیے ’’سیرت ابن ہشام‘‘ اور ’’طبقات ابن سعد‘‘ سے واقعات کی تفصیلات حاصل کرے تو اس پر یہ الزام عائد کر دیا جائے کہ اس نے ’’سیرت ابن ہشام‘‘ اور ’’طبقات ابن سعد‘‘ کو دین کا ماخذ قرار دے ڈالا ہے۔اس الزام کی علم و عقل کی دنیا میں کیا حیثیت ہو گی ، قارئین اس کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔
۴۔ فاضل ناقد نے مضمون کے آخر میں ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف‘‘ کا عنوان قائم کر کے یہ حکم لگایا ہے کہ غامدی صاحب ان مسائل میں تو بائیبل کو بناے استدلال بناتے ہیں جو ان کے نظریات کے موافق ہیں، لیکن جن مسائل میں بائیبل ان کے نظریات کی مخالف ہے ، ان میں وہ اس سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں اورنتیجۃً بائیبل کو ماخذ دین قرار دینے والے اپنے ہی اصول سے منحرف ہوتے ہوئے ان عقائد و احکام کا انکار کر دیتے ہیں جن کی تائید بائیبل بھی کرتی ہے۔اس تقریرکے اثبات کے لیے انھوں نے تین مثالیں پیش کی ہیں۔ پہلی مثال یہ پیش کی ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کااثبات قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ بائیبل سے بھی ہوتا ہے، مگر غامدی صاحب اس سلسلے میں بائیبل سے رہنمائی نہیں لیتے اور عملاً اس تصور کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری مثال یہ بیان کی ہے کہ بائیبل سے احادیث کی اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے کہ قرب قیامت میں ایک شخص دجال ظاہر ہو گا۔ بائیبل کی اس تصدیق کے باوجود غامدی صاحب دجال کو شخص ماننے سے انکار کرتے اور اسے اسم صفت قرار دے کر تہذیب مغرب کو اس سے موسوم کرتے ہیں۔تیسری مثال رجم کی سزا کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے حوالے سے ہے۔فاضل ناقد کے نزدیک غامدی صاحب شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ یہ سزا بائیبل سے بھی پوری طرح ثابت ہے۔ گویا غامدی صاحب ایک جانب بائیبل کو ماخذ دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب اس کے شادی شدہ زانی پر رجم کی سزا نافذ کرنے کے حکم کو تسلیم نہیں کرتے۔
’’انحراف‘‘ کی یہ تینوں مثالیں فاضل ناقد نے اس مزعومہ مقدمے کو مان کر پیش کی ہیں کہ غامدی صاحب بائیبل کو ما خذ دین قرار دیتے ہیں۔ تمہید میں یہ بات ہر لحاظ سے ثابت ہو گئی ہے کہ فاضل ناقد کا مزعومہ مقدمہ سرتاسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔جب مقدمہ ہی غلط ہے تو اس سے انحراف کی تقریر بالکل بے معنی اور غیر متعلق ہے، لہٰذااس کے بارے میں بحث و تمحیص سرتاسر اضافی ہے۔چنانچہ اس مضمون میں ہم ان مثالوں سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ البتہ فاضل ناقد کی اصولی تنقیدات پر اپنا تبصرہ مکمل کرنے کے بعد ہم ان شاء اللہ انھیں ان کی انفرادی حیثیت میں ضرور زیربحث لائیں گے اور اس سوء فہم اور خلط مبحث کو واضح کریں گے جو ان مثالوں کے حوالے سے فاضل ناقد کی تحریر میں مضمر ہے۔

’’تحریک طالبان وطالبات اسلام‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے افسوس ناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں ایک اجلاس کے دوران ’’تحریک طالبان وطالبات اسلام‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کا سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امرا اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کر کے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا۔ ’’تحریک طالبان وطالبات اسلام‘‘ کا مقصد اسی تحریک کو آگے بڑھانا بیان کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر رابطوں کا سلسلہ بھی تازہ معلومات کے مطابق شروع ہو گیا ہے۔ 
ہم ان صفحات میں مسلسل یہ عرض کرتے چلے آ رہے ہیں کہ جہاں تک پاکستان میں نفاذ اسلام اور انسداد منکرات کے لیے جدوجہد کرنے، مطالبات کرنے، رائے عامہ کو منظم کرنے، عوامی دباؤ کو بڑھانے اور پرامن جدوجہد کا ہر ممکن راستہ اختیار کرنے کا تعلق ہے تو ایسا کرنا نہ صرف ہمارا حق ہے بلکہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے، لیکن ان مقاصد کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینا، حکومت کے ساتھ تصادم کی صورت اختیار کرنا، ہتھیار اٹھانا اور کوئی بھی ایسی صورت اختیار کرنا جسے فقہاے کرام نے ’’خروج‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، ہمارے نزدیک درست نہیں ہے اور ہم اس کی تائید کے لیے تیار نہیں ہیں، البتہ ہمارے جو بزرگ اسے درست سمجھتے ہیں، اس کے شرعی اور جائز ہونے پر مطمئن ہیں اور اسے اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ حق ہم تسلیم کرتے ہیں مگر اس درخواست کے ساتھ کہ اس تحریک کا مورچہ ’’دینی مدارس‘‘ سے الگ رکھا جائے اور کسی دینی مدرسہ کو اس تحریک کا مورچہ نہ بنایا جائے۔ ہماری ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں مدرسہ کبھی کسی مسلح تحریک کا مورچہ نہیں رہا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز نے بھی اس دور میں جب وہ برصغیر کی آزادی کے لیے برطانوی استعمار کے خلاف مسلح تحریک کا تانا بانا بن رہے تھے جسے تاریخ میں تحریک ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس تحریک کا مورچہ دار العلوم دیوبند کو نہیں بنایا تھا بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کر کے اپنا نظام الگ تشکیل دیا تھا تاکہ دار العلوم دیوبند اور اس سے متعلقہ دینی اداروں کا تعلیمی کردار کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے اور ان کے لیے خواہ مخواہ مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی نہ ہوں۔
ہمارے نزدیک دینی مدارس کا تعلیمی کردار، ان کا آزادانہ وجود اور دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد اور عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کے لیے ان کی مساعی دیگر تمام امور سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی تحریک کے لیے ا س کو خطرے میں ڈالنا اور کسی بھی حوالے سے دینی مدارس کے لیے مشکلات پید اکرنا نہ شریعت وحکمت کے لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی ہمارے اکابر واسلاف بالخصوص شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاے کار کی روایات اور مزاج سے مطابقت رکھتا ہے۔ 

مکاتیب

ادارہ

محترم ومکرم جناب مدیر الشریعہ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر؟
ماہنامہ الشریعہ اکتوبر کے پرچے میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب کا سانحہ لال مسجد کے حوالے سے مضمون پڑھ کر دل کو جو صدمہ پہنچا، وہ بیان سے باہر ہے۔ پرانے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ یہ مضمون میری طرح پتہ نہیں کتنے مسلمانوں، ماؤں اور بہنوں کی دل آزادی کا سبب بنا ہوگا۔ آخر جو مضمون ۲۳ جولائی کو تحریر کیا گیا تھا، کم وبیش دو ڈھائی مہینوں کے بعد پتہ نہیں کس مقصد اور افادیت کے پیش نظر الشریعہ میں شائع کیا گیا ہے۔ یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ مدارس کے ترجمان دینی ومذہبی نسبتاً معیاری رسائل میں اس سانحہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے، اس سے تو وہ غیر مذہبی رسائل ہی صحیح رہے جنھوں نے غیر جانب دارانہ اصل صورت حال بیان کی اور کھل کر مظلوموں کا ساتھ دیا۔ کاش مرنے کے بعد تو مرنے والے کو معاف کر دیا جاتا کہ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔
مولانا سنبھلی صاحب غالباً پاکستان کے حالات اور یہاں کے حکمرانوں کے طرز عمل سے پورے طور پر واقف نیں، جیسا کہ انھوں نے اپنے مضمون میں اس بات کا خود بھی اعتراف کیا ہے۔ ان کی معلومات غالباً اخباری رپورٹوں تک محدود ہیں، اس لیے پہلے بھی ایک خط میں اور اب اس مضمون میں انھوں نے فرمایا کہ ’’کاش (غازی) برادران نے مسجد ہی کے تقدس اور طالبات وطلبا کی حفاظت ہی کے خیال سے گرفتاری دے دینے کو حصول شہادت کے مساوی سمجھ لیا ہوتا۔‘‘
جناب والا! حقیقت بھی یہی ہے۔ اسی خیال سے غازی صاحب آخری مذاکرات میں گرفتاری دینے کے لیے بالکل تیار ہو گئے تھے۔ اس کے گواہ مولانا فضل الرحمن خلیل صاحب موجود ہیں اور یہی بات قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے ’’الخیر‘‘ میں اپنے مضمون میں بیان فرمائی ہے۔
دوسری بات یہ کہ ڈرافٹ کی آخری اور حتمی شکل جو صحافی کے حوالے سے مضمون میں دی گئی ہے، وہ یہ تھی کہ عبد الرشید غازی کو ان کے گھرمیں رکھا جائے گا۔ یہ بات بھی مذاکرات میں شریک تمام علما کے بقول غلط ہے۔ صرف گھر کا لکھا گیا تھا نہ کہ ’’ان کے گھر میں۔‘‘ آخر مولانا صاحب کو جید علما کے بجائے ایک صحافی کے بیان پراعتماد کیسے ہو گیا جبکہ اسی صحافی نے علما کی طرف اور بھی کئی باتیں منسوب کی ہیں جن کی وضاحت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے کر دی ہے۔
باقی مولانا صاحب کو کرنل ہارون اسلام اور دیگر فوجیوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس ہے اور یقیناًاس کا افسوس ہمیں بھی ہے، لیکن اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مولانا صاحب! کرنل صاحب کس کی گولی سے جاں بحق ہوئے، اس کی صحیح حقیقت تو اس ذات علیم کو ہے جو دلوں کے رازوں سے بھی خوب واقف ہے۔ یہاں تو اس کے برعکس باتیں گردش کر رہی ہیں۔ دنیا میں اس کی حقیقت اگر واضح نہ بھی ہو سکی تو ان شاء اللہ قیامت کے دن کرنل صاحب خود اور غازی صاحب بتائیں گے کہ وہ کس کی گولی سے جاں بحق ہوئے۔ 
فوجی حکومت تو ہے ہی امریکی ایجنڈا پورا کرنے کے لیے۔ وہ بلا جھجھک اپنا کام پورا کر رہی ہے اور ہم آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہم سب کو اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں اور اپنے اپنے مزاج کے مطابق اسلام کی تعبیر وتشریح کر رہے ہیں اور باری باری قربانی کے بکرے بن رہے ہیں۔ عیار ومکار دشمن نے ہمیں کیسے مختلف ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا ہے کہ ہم اپنوں کے دکھ درد کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں۔ چند سال قبل مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اپنی شہادت سے پہلے ایک مضمون میں بڑی دل سوزی کے ساتھ اس طرف توجہ دلائی تھی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’علماے کرام، مشائخ عظام، اہل دین اور مجاہدین سمیت اہل حق دشمنان اسلام سے اتنے مرعوب ہو چکے ہیں یا بہ الفاظ دیگر اتنے تن آسان ہو چکے ہیں کہ وہ دفاع اور مقابلہ کی کیفیت سے عاری ہو چکے ہیں۔ پے درپے واقعات کے بعد انھوں نے دفاعی حکمت عملی اختیار کرلی ہے اور وہ دین کی حفاظت کا کام چھوڑ کر اپنی جان اور اپنے اداروں کے تحفظ میں لگ چکے ہیں۔ ان کی کیفیت بغداد کے زمانہ کے مسلمانوں کی ہو چکی ہے جب ایک تاتاری سپاہی سینکڑوں مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کر کے کہتا تھا کہ کھڑے ہو جاؤ، میں بندوق لے کر آ رہا ہوں جس سے تم کو قتل کروں گا۔ بزدلی کی اس کیفیت میں وہ جان بچانے کی حس سے عاری ہو چکے تھے اور سر جھکا کر مرنے کے لیے اپنے گردن آگے کر دیتے تھے۔
آج ہمارے مدارس پر پورے پاکستان میں افتاد پڑی ہوئی ہے اور ہم صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں کہ ہمیں کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ ہمارے ادارے تو جہادی سلسلے سے متعلق نہیں، ہمارے یہاں تفرقہ کی تعلیم نہیں دی جاتی، ہم تو کسی ایسے کام میں ملوث نہیں جس کی وجہ سے ہمارے اداروں کو نشانہ بنایا جائے۔ آج ہم میں سے ہر شخص اپنے تحفظ کی فکر میں ہے، اجتماعیت کا فقدان ہو چکا ہے۔ ایک ایک کر کے ہم دشمنوں کا نشانہ بن رہے ہیں، لیکن ہماری زبانیں اور قلم اپنوں کے خلاف چلنے سے نہیں رکتے۔اب تو ہماری بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے کہ ہم ان واقعات پر احتجاج کی بھی سکت نہیں رکھتے۔ حکومت کی طرف ہماری نگاہیں لگی رہتی ہیں جو خود اہل دین کو ملیامیٹ کرنے کے چکر میں ہے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ اہل مدارس اجتماعیت اختیار کریں۔ سیاسی، مسلکی، شخصی، تنظیمی اور روحانی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر آپس کی مقابلہ آرائی سے کنارہ کشی اختیار کر کے ہر دین دار فرد کو اپنا عزیز سمجھیں، ہر مدرسہ کو اپنا مدرسہ، ہر ادارے، ہر جماعت، ہر مذہبی تنظیم کو اپنی جماعت تصور کریں، ہر غم زدہ کی امداد کے لیے فوراً پہنچ جائیں۔ اگر ہم نے اپنے اداروں اور اہل دین کو اس طرح لا وارث چھوڑ دیا تو دنیا میں تو ہم خوار ہوں گے ہی اور ہمارے ادارے ختم ہو جائیں گے، اور قیامت کے دن بھی ہم مواخذۂ خداوندی سے بچ نہیں سکیں گے۔‘‘
محمد اصغر غفرلہ
جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد

مولانا مفتی برکت اللہ کا دورۂ پاکستان

ادارہ

برطانیہ کے معروف عالم دین اور ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ پاکستان میں کم وبیش تین ہفتے کے قیام کے بعد گزشتہ روز لندن واپس چلے گئے۔ انھوں نے رمضان المبارک کے دو عشرے لاہور میں حضرت سید نفیس شاہ صاحب الحسینی کی خانقاہ سید احمد شہیدؒ میں گزارے، اسلام آباد کے نامور دینی مرکز ادارۂ علوم اسلامی بھارہ کہو اور گوجرانوالہ کے مدرسہ نصرۃ العلوم کا دورہ کیا، بزرگ علماے کرام حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی سے ملاقات کی اور الشریعہ اکادمی میں اپنے اعزاز میں دی جانے والی ’’عید ملن پارٹی‘‘ میں شرکت کی۔
مولانا مفتی برکت اللہ کا تعلق انڈیا میں ممبئی کے علاقہ بھیونڈی سے ہے، دار العلوم دیوبند کے فضلامیں سے ہیں، ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فقہ اسلامی پڑھاتے ہیں اور اسی سال مئی میں انھیں مولانا زاہد الراشدی کی جگہ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔ 
ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے عید ملن پارٹی میں مولانا مفتی برکت اللہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی علمی ودینی خدمات کو سراہا اور کہا کہ مفتی صاحب مغرب کے تہذیبی مرکز لندن میں بیٹھ کر اسلامی علوم کی ترویج اور اسلامی اقدار وروایات کے تحفظ ودفاع کے لیے موثر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ 
مولانا مفتی برکت اللہ نے عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی عالی صورت حال گزشتہ صدی سے بالکل مختلف ہے اور دنیا بھر کی اقدار وروایات تیزی سے تبدیل اور ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں، اس لیے ہمیں اسلام کی دعوت اور نفاذ کے لیے روایتی طریق کار پر قناعت کرنے کی بجائے جدید ضروریات اور تقاضوں کا ادراک کرنا ہوگا اور جذباتیت اور سطحیت کے دائرہ سے نکل کر زمینی حقائق اور معروضی حالات کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اور ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ مغرب میں مسلمانوں کے مسائل، کمزوریوں، خوبیوں، ضروریا اور نفسیات کا جائزہ لینے کے لیے سینکڑوں ادارے کام کر رہے ہیں جو معروضی حالات وحقائق کا انتہائی گہرائی میں جا کر تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں اور عالم اسلام کے بارے میں پالیسیاں طے کرنے میں اپنی اپنی حکومتوں کی راہ نمائی کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں خاص طور پر دینی حلقوں میں مغرب کے ایجنڈے، اہداف اور طریق کار کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی ہمارے دینی ماحول میں اس مقصد کے لیے کوئی ڈھنگ کا ادارہ موجود ہے، بلکہ ہم میں سے بیشتر حضرات کی مغربی اداروں کی ان رپورٹوں تک رسائی نہیں ہے جو وہ عالم اسلام کے دینی حلقوں، اداروں اور مسائل کے بارے میں تیار کرتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی حلقوں تک پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے علمی مراکز اور دینی اداروں کو اس صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور آج کی دنیا کو اسلام کا پیغام دینے کے لیے آج کی دنیا کی ضروریات، نفسیات اور ماحول کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، ورنہ ہم آج کے عالمی ماحول میں اپنی ذمہ داریوں سے صحیح طور پر عہدہ برآ نہیں ہو سکیں گے۔

اکادمی کے فکری وتربیتی اور تعلیمی پروگرام

  • الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال سے میٹرک پاس طالبات کے لیے وفاق المدارس کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق درجہ ثانویہ عامہ اور ثانویہ خاصہ پر مشتمل دو سالہ کورس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کورس میں شریک طالبات کو وفاق کے نصاب کے علاوہ تجوید کی ضروری تعلیم کے علاوہ ایف اے کی مکمل تیاری کرائی جائے گی اور ا س کے ساتھ ساتھ عربی ادب وانشا میں مہارت پیداکرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سردست یہ کلاس مقامی طالبات کے لیے شروع کی گئی ہے جو صبح سات سے سہ پہر تین بجے تک اکادمی میں تعلیم حاصل کریں گی۔ تعلیم کے فرائض اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد یوسف اور ان کی اہلیہ انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں معلومات اور داخلے کے لیے مولانا محمد یوسف سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
  • گزشتہ سالوں کی طرح اس سال کے لیے بھی الشریعہ اکادمی میں فکری وتربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس ضمن میں طے شدہ پروگرام کے مطابق ہر ہفتے کے روز مغرب کی نماز کے بعد اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی حاضرین سے گفتگو کریں گے۔ اس سال کے لیے گفتگو کا موضوع ’’مولانا زاہد الراشدی کی یادداشتیں‘‘ طے کیا گیا ہے اور ا س سلسلے کا آغاز عید الاضحی کے فوراً بعد کر دیا جائے گا۔ ان یادداشتوں کو کیسٹ پر محفوظ کر کے بعد میں تحریری صورت میں شائع بھی کیا جائے گا۔
  • یہ بھی طے پایا ہے کہ ہر ماہ ایک خصوصی فکری نشست منعقد کی جائے گی جس میں متعین موضوع پر اظہار خیال کے لیے مختلف اصحاب فکر کو دعوت دی جائے گی اور حاضرین کو سوال وجواب اور تنقید وتبصرہ کا موقع بھی دیا جائے گا۔ 
  • اکادمی کے زیر اہتمام ۲۵؍ نومبر بروز اتوار دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ’’مغربی دنیا کے فکری وتعلیمی تناظر میں دینی مدارس کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک تربیتی ورک شاپ منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس میں مغربی تعلیمی اداروں سے وابستہ اور ان میں تعلیم پانے اہل دانش کو گفتگو کے لیے مدعو کیا جائے گا۔
  • گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ایک کے دورانیے پر مشتمل عربی وانگریزی لینگویج کورسز کروائے جائیں گے جن کا آغاز عید الاضحی کے بعد کیا جائے گا۔