مئی ۲۰۰۷ء

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریتمفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی 
قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردارپروفیسر شیخ عبد الرشید 
سنت کی دستوری اور آئینی حیثیتڈاکٹر محمد سعد صدیقی 
غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردارچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
مکاتیبادارہ 
’دشتِ وصال‘ پر ایک نظرپروفیسر میاں انعام الرحمن 
تعارف و تبصرہادارہ 
الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائیادارہ 

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم و افکار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۳؍اپریل ۲۰۰۷ کو لاہور میں ’’اسلام اور مغرب کے درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار کی رپورٹ خبر کے طور پر شائع کی ہے جس کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز (پائنا) نے کیا ہے اور صدارت ملک کے معروف دانش ور اور قانون دان جناب ایس ایم ظفر نے فرمائی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں جسٹس (ر) خلیل الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد اور دیگر ارباب دانش کے علاوہ اسپین سے تشریف لانے والے دو معروف دانش پروفیسر پری ویلانووہ اور پروفیسر راحیل بیونو بھی شامل ہیں۔
سیمینار میں ہونے والی گفتگو کے اہم نکات میں اسلام اور مغرب کے مابین مبینہ طور پر پائی جانے والی غلط فہمیاں، دہشت گردی، انتہا پسندی، مذہبی اختلافات، جنگ آزادی اور دہشت گردی میں فرق، صلیبی جنگوں کا تسلسل، فلسطین وکشمیر جیسے مسائل اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کا رویہ جیسے امو رخاص طور پر قابل ذکر ہیں اور ان میں سے ہر نکتہ سنجیدہ گفتگو کا متقاضی ہے، مگر ہم سردست اس تقریب کے صدر جناب ایس ایم ظفر کے بعض ارشادات کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں جو مذکورہ اخبار میں ان الفاظ کے ساتھ رپورٹ کیے گئے ہیں:
’’ایس ایم ظفر نے کہا کہ مغرب اور اسلام میں غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کی اچھی باتیں اپنا لیں تو اسلام مغرب سے جمہوریت، شہریوں کے انسانی حقوق، علم اور ٹیکنالوجی کا سبق سیکھ سکتا ہے جبکہ مغرب اسلام کے خاندانی نظام کو اپنا کر اپنے بہت سے معاشرتی مسائل دور کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان جمہوری کلچر کی طرف آئیں۔ آج میڈیا کا دور ہے مگر اسلام اس سلسلے میں بہت پیچھے ہے۔ ہمیں میڈیا سنٹر بنانے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مسائل حل کرنا ہوں گے جن میں فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے۔‘‘
ہم محترم ایس ایم ظفر صاحب کی اس گفتگو میں سے دو نکات پر کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام اور مغرب کے درمیان مبینہ طو رپر پائی جانے والی غلط فہمیوں کا دائرہ کیا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کو مغرب سے کون کون سی چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے؟
یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور ان کے مابین کشمکش کی موجودہ فضا زیادہ تر ان غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے جنھیں اگر دور کر دیا جائے تو کشمکش کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے اور مسلمان اور مغرب آپس میں قریب آ سکتے ہیں۔ بظاہر یہ بات بہت قرین قیاس ا ور مستقبل کے حوالے سے امید افزا لگتی ہے، لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ معروضی صورت حال اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے کہ مغرب کے بارے میں یہ تصور رکھنا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہے، خود مغرب کی ذہنی سطح، نفسیاتی ماحول اور تحلیل وتجزیہ کی استعداد وصلاحیت سے بے خبری یا اسے شک وشبہ کا شکار بنانے کے مترادف ہے کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں تو یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ علم وخبر کے ذرائع اور ذوق کی کمی کے باعث مغرب کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور تحلیل و تجزیہ، باریک بینی اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کی کمزوری کی وجہ سے مغرب کے مقاصد اور عزائم کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے ہیں، لیکن کیا مغرب بھی مسلمانوں کے حوالے سے اسی سطح پر ہے؟ ہمارے خیال میں اس سوال کا اثبات میں جواب دینا مشکل ہوگا۔ 
یہ بات ہم تسلیم کرتے ہیں کہ سارے مغرب کی ذہنی سطح ایک نہیں ہے اور ہمیں یہ بات قبول کرنے میں بھی کوئی حجاب نہیں ہے کہ مغرب کے سارے طبقات اور افراد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایک طرح سے نہیں سوچتے، لیکن یہ بات ہمارے نزدیک کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ مغرب میں دانش، سیاست اور اقتدار کے حوالے سے جو طبقہ ’’رولنگ کلاس‘‘ سے تعلق رکھتا ہے اور جو اس وقت عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں سے نبردآزما ہے، و ہ کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہیں ہے، بلکہ وہ سالہا سال کی نہیں بلکہ صدیوں کی علمی وفکری محنت کے ذریعے سے اس بات کا خوب اچھی طرح شعور رکھتے ہوئے کام کر رہا ہے کہ جس عالمی نظام اور گلوبل کلچر کو وہ دنیا میں مستقبل کے واحد نظام اور کلچر کے طور پر متعارف کرانے بلکہ اسے غلبہ دلانے کی کوشش کر رہا ہے، اس کی راہ میں اگر کوئی فلسفہ حیات اور ثقافتی نظام رکاوٹ بن سکتا ہے تو وہ صرف اسلام ہے جسے راہ سے ہٹانے کے لیے مغرب کی رولنگ کلاس اسلام اور مسلمانوں کے اہل دین کو کردار کشی کے ذریعے سے بدنام اور جبر وتشدد کے ذریعے سے بے بس بنانے کی تگ ودو میں مصروف ہے۔ اس لیے ہم اپنے ارباب دانش سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ محض ’’غلط فہمیوں‘‘ کے چکر میں اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع نہ کریں، بلکہ مغرب کی رولنگ کلاس کے اہداف، پروگرام، طریق کار اور مراحل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کریں۔
دوسری بات جناب ایس ایم ظفر کے اس ارشاد کے حوالے سے ہے کہ مسلمانوں کو مغرب سے جمہوریت، انسانی حقوق، علم اور ٹیکنالوجی سیکھنی چاہیے۔ جہاں تک جدید علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، ہمیں محترم ظفر صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ہم اس میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دراصل اسی اجتماعی جرم او رکوتاہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، اس لیے ہمیں ان ضروریات کی تکمیل بہرحال مغرب کی مدد سے ہی کرنی ہے جس کے لیے ہم تو اب کسی درجہ میں تیار ہیں لیکن مغرب ایک خاص حد سے آگے ہمیں اس سلسلے میں کسی قسم کا تعاون یا سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس نے جدید علوم اور سائنس وٹیکنالوجی کے حوالے سے ہمارے گرد ایسی مضبوط ریڈ لائن کا گھیرا ڈال رکھا ہے کہ ہمارے لیے اس حصار کو توڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے قومی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان کا مقدمہ خود ایس ایم ظفر صاحب نے لڑا تھا، اس لیے ان سے بہتر اس معروضی حقیقت سے اور کون واقف ہو سکتا ہے کہ جدید علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کا مغرب سے اس درجہ کا سبق سیکھنا جس کی ہمیں ملی سطح پر ضرورت ہے، اب ممکن نہیں رہا چنانچہ اب یہ بات بھی ہمارے دانش وروں کی ذمہ داری میں شامل ہو گئی ہے کہ وہ امت مسلمہ کو مغرب سے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید علوم سیکھنے کا مشورہ دیتے رہنے پر اکتفانہ کریں بلکہ کوئی متبادل راستہ بھی امت کو دکھائیں کہ مغرب نے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے معروف راستے امت مسلمہ پرچاروں طرف سے بند کر رکھے ہیں اور کوئی متبادل صورت نکالے بغیر امت مسلمہ کے لیے اب اس راستے میں آگے بڑھنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔
باقی رہی بات مغرب سے جمہوریت اور انسانی حقوق کا سبق حاصل کرنے کی تو ہمیں اس باب میں محترم ظفر صاحب کے ارشاد سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ مغرب نے جمہوریت اور انسانی حقوق دونوں کا توازن جس بری طرح بگاڑ دیا ہے، اسے اسلام کے بنیادی معتقدات اور قرآن وسنت پر ایمان رکھتے ہوئے قبول کرنا ہمارے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ مغرب نے جمہوریت اور جمہور کو آسمانی تعلیمات اور وحی کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے کر جس مادر پدر آزادی کو فروغ دیا ہے، اسلام اسے تسلیم نہیں کرتا اور اس کے ساتھ ہی مغرب نے حقوق اللہ کو نظر انداز کر کے اور انسانوں کے باہمی حقوق کو مذہبی اخلاقیات سے آزاد کر کے خالصتاً مادہ پرستی پر مبنی انسانی حقوق کا جو نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، وہ بھی اسلام کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔
ہم جمہوریت اور انسانی حقوق، دونوں کو انسانی سوسائٹی کی ناگزیر ضرورت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مسلم معاشروں اور ممالک واقوام کی تمام تر کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان دونوں اصولوں کی طرف مسلم امہ کی واپسی کو امت مسلمہ کے لیے وقت کا سب سے بڑا تقاضا تصور کرتے ہیں، لیکن یہ مغرب کے فلسفہ وفکر اور نظام وثقافت کے حوالے سے نہیں بلکہ قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے سنہری اصولوں کی روشنی میں ہوگا، اس لیے ہمارے خیال میں بہت سے مسلم دانش وروں کا یہ طرز عمل درست نہیں کہ وہ مسلمانوں کو مغرب کے جمہوریت اور انسانی حقوق کے تصور کو اپنانے کا مشورہ دیتے رہیں، بلکہ ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کی روشنی میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی وضاحت کریں اور مغرب کے ساتھ ان کے تضاد کی نشان دہی کرتے ہوئے امت مسلمہ کو قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے سنہری اصولوں کی پیروی کے لیے تیار کریں۔

اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

یہ ایک حقیقت اور صداقت ہے کہ ایسا نظامِ حکومت جو تمام قوموں، ملکوں اور ساری دنیا کے لیے ہو، بڑے سے بڑے مفکر و فلاسفر انسان اور انسانوں کی کوئی بھی سوسائٹی مرتب نہیں کر سکتی۔ پس اس کے لیے لامحالہ حقیقت کے متلاشی اور صداقت شعار انسانوں کو مذہب کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ مذہب ہی وہ ضابطہ حیات ہے جو انسان کی اس کے ہر شعبہ زندگی، انفرادی اور اجتماعی میں رہنمائی کرتا ہے اور وہ ایسا ضابطہ حیات ہے جو ایسے انسان کامل پیدا کرتا ہے جن میں انصاف ہو، انسانیت ہو، مساوات و رواداری ہو، انسانی حقوق کا احترام ہو، نوع انسانی کی خدمت ہو، سب کے ساتھ بھلائی و ہمدردی ہو اوروہ ایسے انسان پیدا کرتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لیے امن و سلامتی کے خواہش مند ہوں۔ مذہب ہی انسان کا رشتہ خدا سے جوڑتا ہے اور ماورا ہستی کا تصور اس کے ذہن و دماغ میں پیدا کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہر انسان اپنے سے بالاتر ہستی کے آگے اپنے آپ کو جواب دہ یقین نہیں کرتا، اس میں مذکورہ بالا صفات ہر گز پیدا نہیں ہو سکتیں۔ 
مذہب وہ ضابطہ حیات ہے جس کا واضع خود خدا ہے۔ اس کی بنیاد وحدتِ انسانیت پر ہے اور انسانیت کی وحدت، فطرت و فکرپر اور مساوات پر رکھی گئی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سارے ادیان و مذاہب اور فلسفوں کا اصل اصول یہی فکر ہے۔ اس کو ضمیرِ انسانی یا دین اور فطرت اللہ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ خدا کو معلوم تھا کہ انسان خود ضابطہ حیات اپنے لیے نہیں بنا سکتا، لہٰذا خدا نے جیسا کہ موجوداتِ عالم کی بقا و نشوونما کے لیے ہر اس چیز کی فراہمی کا انتظام کیا جس کی ضرورت کا تصور کیا جا سکتا تھا، اسی خدا نے اس کی سب سے بڑی ضرورت کا بھی انتظام کیا جس کے بغیر پوری نوع انسانی کی زندگی کا غلط ہو جانا یقینی تھا۔ اس بڑی اور اہم ضرورت کے لیے خدا نے جو ضابطہ زندگی وضع کیا ہے، اسی کا نام مذہب اور دین ہے اور اسی کی ترجمانی انبیا و صلحا اور حکما کرتے آئے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اصلی مذہب میں باہر سے کدورتیں شامل ہوتی گئیں اور بار بار نئے ڈرانے والوں اور خوش خبری دینے والوں کی ضرورت پڑتی رہی۔ چنانچہ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں نظامِ زندگی ان برگزیدہ انبیا کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم ہوا، یہ زمین جنت کا نمونہ اور امن و سلامتی کا گہوارہ بن گئی۔ اس کے متعلق ہر قوم اور ہر ملک کے لوگوں میں گزشتہ سنہری زمانوں کے قصے کہانیاں اب تک کم و بیش چلی آرہی ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ ہر زمانے اور ہر ملک و قوم میں خدا کے برگزیدہ انبیا مذہب کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور ایک ایک چیز پر عمل کرکے بھی دکھاتے رہے ہیں۔ بے شک یہ سارے کے سارے مذاہب اپنے اپنے زمانے میں حق تھے اور درست تھے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس جہان میں گزشتہ برگزیدہ رسولوں کے اسوہ اعمال اور ان کی تعلیمات کا اس وقت صحیح صحیح موجود ہونا تو درکنار، ان کے دوچار سو سال بعد بھی ان کے ٹھیک ٹھیک دنیا میں موجود ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اور اس کا بھی کوئی صاحبِ علم و عقل انکار نہیں کرسکتا کہ آسمانی کتب میں سے صرف قرآن کریم اور خدا کے رسولوں میں سے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و رہنمائی اس وقت دنیا میں بے کم و کاست محفوظ ہیں۔ گزشتہ تیرہ چودہ سو سال کے نشیب و فراز اور مسلمان قوم کی ساری نالائقیوں اور گمراہیوں کے باوجود محمد رسول اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی معرفت آئی ہوئی پوری کی پوری تعلیمات آج بھی اسی طرح موجود و محفوظ ہیں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑا تھا۔ اور یہ کوئی اتفاقِ زمانہ کی بات نہیں، قرآن کریم نے بتلا دیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کا آخری نبی اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے، اور یہ دونوں آئندہ ہمیشہ کے لیے ہدایت کا واحد ذریعہ ہیں اور ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔ اس بات کا ثبوت کہیں باہر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کتاب و سنت کا ایک ایک پہلو آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ 
پس ا ب طالبان حق و حقیقت کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ دوسرے تمام منبع ہائے ہدایت ( جنہیں لوگوں نے اپنی تحریف و تصرف سے گدلا کر دیا ہے) کو چھوڑ کر صرف قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کریں ااور انہی دونوں کی راہنمائی اختیار کریں۔ اس اختلافِ مذاہب ہی کو تو دور کرنے کے لیے خداے برتر و بزرگ نے سابقہ تعلیمات کو جو مختلف اقوام اور مختلف ممالک میں ابتدا سے وقتاً فوقتاً نازل کی جاتی تھیں، یکجا کر کے قرآن کریم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا اور بتا دیا کہ اللہ کی طرف سے آنے والے سب ہادیوں کی یہی تعلیم تھی اور سب اللہ کے سچے پیغامبراور برگزیدہ بندے تھے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سب کو سچا تسلیم کرنا اور ان پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار انسان کو دائرہ حق پرستی سے خارج کر دیتا ہے۔ اس لیے قرآن جب سے نازل ہوا ہے، ساری دنیا کے لیے ہدایت نامہ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لیے رسول بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں۔ 
قرآن مجید کے برحق ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ایسی تعلیم دیتا ہے جو سب انسانوں کے فطری رجحانات کی آئینہ دار اور ساری نوع انسانی کے فائدہ کے لیے ہے اور قرآن کی عالم گیریت محض اس بنا پر ہے کہ وہ کل انسانیت کی کتاب ہے۔ قرآن کی تعلیمات انسانیت کی طرح عالم گیر، ہمہ گیر اور دائمی ہیں۔ وہ ہر ملک کے لیے ہیں، ہر قوم کے لیے ہیں اور ہر زمانہ کے لیے ہیں۔ یہ اس لیے کہ قرآن کریم دینِ اسلام کا ترجمان ہے اور دین اسلام کسی ایک ملک قوم یا زمانہ کے لیے مخصوص نہیں بلکہ اسلام تمام انسانیت کا دین ہے اور ہر زمانہ کے لیے ہے اور قرآن کریم ہی اس دین کا قانونِ اساسی ہے۔ قرآن مجید جیسا کہ اپنے نظریات میں بے نظیر ہے، ایسا ہی عملیات میں بھی اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ کسی کتاب کا اعلیٰ اور عمدہ ہونا صرف اس اعتبار سے نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کتاب نظری حیثیت سے بلند اور بے مثل ہے بلکہ اس کتاب کو عمل و نتیجہ سے دیکھا جانا بھی ضروری ہے، یعنی اس اعتبار سے کہ وہ کتاب خارج میں معاشرہ پر کیا اثر ڈالتی ہے اور اس پر عمل کرنے سے کیسے نتائج مرتب ہوتے ہیں اور یہ کس قسم کی سوسائٹی پیدا کرتی ہے۔ پس قرآن مجیدکو جب اس اعتبار سے دیکھا جاتا ہے تو قرآن اپنے عملی نتائج کے اعتبار سے بھی بے نظیر کتاب ثابت ہوتی ہے۔ جیسی سوسائٹی قرآن نے بنائی، اس سوسائٹی سے بہتر سوسائٹی کوئی کتاب بھی پیدا نہیں کر سکی۔ اس سے قرآن کی عظمت کا صحیح اندازہ ہو سکتا ہے ( مثلاً جو لوگ زانی تھے ، قرآن کی تعلیم و تربیت سے عورتوں کی عصمت کے محافظ بن گئے۔ بعض لوگ اشتراکیت کی بڑی مبالغہ سے توصیف کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک نامکمل ہے ۔ )
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انسانیت کے لیے رسول و نبی ہونا ان شرائط سے ثابت ہوتا ہے کہ :
(۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص قوم یا نسل یا طبقہ کی بھلائی کے لیے نہیں، بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے لیے کام کیا ہے ۔ 
(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اصول پیش کیے جو تمام دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور جن میں انسانی زندگی کے تمام اہم مسائل کا حل موجود ہے ۔
(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کسی خاص زمانہ کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر زمانے اور ہر حال میں یکساں مفید ، یکساں صحیح اور یکساں قابلِ پیروی ہے ۔ 
(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اصول پیش کرنے پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ اپنے پیش کردہ اصولوں کو زندگی میں عملاً جاری کر کے دکھایا ہے اور ان کی بنیا د پر ایک جیتی جاگتی سوسائٹی قائم کر کے دکھا دی ہے۔
پس جو شخص بھی سلامتئ فکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرے گا، وہ ایک نظر میں یہ محسوس کر لے گا کہ یہ کسی قوم پرست یا محبِ وطن کی زندگی نہیں ہے بلکہ ایک محبِ انسانیت اور عالم گیر نظریہ رکھنے والے انسان کی زندگی ہے جن کی نگاہ میں تمام انسان یکساں تھے۔ کسی خاندان، کسی طبقے، کسی قوم، کسی نسل یا کسی ملک کے خاص مفاد سے انہیں دلچسپی نہیں تھی۔ امیر و غریب، اونچ اور نیچ، کالے اور گورے، عرب اور غیر عرب، مشرقی اور مغربی، سامی اور آرین، سب کو وہ ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی ہی میں حبشی، ایرانی، رومی، مصری، اسرائیلی اسی طرح رفیقِ کار بنے جس طرح عرب، اور ان کے بعد زمین کے ہر گوشے میں ہر نسل و قوم کے انسانوں نے ان کو اسی طرح اپنا رہنما تسلیم کیا جس طرح ان کی اپنی قوم نے۔ اسی کا کرشمہ ہے کہ آج ہندوستانی کی زبان سے بھی اس شخص علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف سنی جا رہی ہے جو صدیوں پہلے عرب میں پیدا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص قوموں اور مخصوص ملکوں کے وقتی اور مقامی مسائل سے بحث کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ اپنی پوری قوت انسانیت کے اسی بڑے مسئلے کو حل کرنے پر صرف کردی جس سے تمام انسانوں کے سارے چھوٹے چھوٹے مسائل خود حل ہو جاتے ہیں۔ وہ بڑا مسئلہ کیا تھا؟ انسان کی خدا سے بغاوت، یہ بغاوت تمام خرابیوں کی جڑ ہے، اس لیے کہ خدا سے باغی ہو کر انسان لازمی طور پر دو میں سے ایک صورت اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ اپنے آپ کو خود مختار اور غیر ذمہ دار سمجھ کر من مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے اور یہ رویہ اس کو ظالم بنا دیتا ہے، یا پھر وہ خدا کے سوا دوسروں کے آگے سر جھکانے لگتا ہے اور اس سے بے شمار فساد کی صورتیں دنیا میں پیدا ہوتی ہیں، اس لیے کہ ایسا کرنا حقیقت کے خلاف ہے اور جو کام حقیقت کے خلاف ہو، اس کے نتائج برے نکلتے ہیں ۔ 
اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خیالی نقشہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس نقشہ پر ایک زندہ سوسائٹی پیدا کر کے دکھا دی۔ انہوں نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں لاکھوں انسانوں کو خدا کی حکومت کے آگے سر اطاعت جھکانے پر آمادہ کر لیا اور ان کوجمع کر کے خالص ایک خدا کی بندگی پر ایک نظامِ اخلاق ، نظام تمدن ، نظامِ معیشت اور نیا نظامِ حکومت بنایا اور تمام دنیا کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کردیا کہ وہ جو اصول پیش کر رہے ہیں، اس پر کیسی زندگی بنتی ہے اور دوسرے اصولوں کی زندگی کے مقابلے میں وہ کتنی اچھی ، پاکیزہ اور کتنی صالح ہے ۔ 
یہ وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردارِ عالم اور پیغمبرِ عالم کہتے ہیں ۔ جب مذہب اسلام سب کے لیے ہے اور اس کی کتاب قرآن سب کے لیے ہے اور اس کا رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لیے ہے، یہ تینوں چیزیں بلا تفریق انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں جن پر کسی کا حق دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں ہے ، جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے، پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس کے خلاف کسی کو تعصب رکھنے یا نظر انداز کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
اس وقت ہر ملک و قوم کے عقل مند حلقوں کا رجحان اس طرف ہو رہا ہے کہ اپنے اپنے فکری نظاموں کو عالم گیر اور انسانیت کا ترجمان بنا کر پیش کررہے ہیں اور تمام دنیا میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے متحدہ بین الاقوامی حکومت کی ضرورت پیش کی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسلام ( جس سے بہتر انسانیت کے لیے کوئی مذہب، کوئی فلسفہ، کوئی تمدن اور کوئی قانون میسر نہیں آ سکتا) جو سب کے لیے بلا تفریق، مذہب قرار دیے جانے کا مدعی ہو اور وہ بہترین نظامِ حکومت پیش کر سکتا ہو، پھر بھی اسلام جیسے عالم گیر اور بہترین نظامِ زندگی پیش کرنے والے مذہب سے حقیقت کے متلاشی اور صداقت کے خواست گار، عقل مند اور مفکر انسانوں کا پہلو تہی کرتے رہنا حیرت انگیز ہے اور بے انصافی ہے۔ 
غیر از خدا ہر چہ پرستند ہیچ نیست 
بے دولت است آں کہ بہ ہیچ اختیار کرد 
(خدا کے علاوہ لوگ جس کسی کو بھی پوجتے ہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ شخص بڑا محروم القسمت ہے جو بے حیثیت چیز کا انتخاب کر لے۔)
مذہب اسلام کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا، ایک حقیقت اور نفس الامر بات کو بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کوئی خوش فہی ، حسنِ عقیدت اور مبالغہ پر مبنی نہیں ہے۔ اگر دنیا والے امن اور سلامتی کی زندگی چاہتے ہیں توان کو چاہیے کہ ٹھنڈے دل سے بخوشی و رضامندی ابھی سے اسلام کو تسلیم کر لیں، ورنہ آئندہ چل کر ٹھوکریں کھانے کے بعد لامحالہ ان کو اسلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اگر غیر مسلم عقیدتاًاور مذہباً تسلیم نہ کرنا چاہیں تو ان کو اختیار ہے، اسلام کی طرف سے جبراً مطالبہ نہیں، لیکن نظماً اور سیاسۃً بھی اسلام سے بہتر کوئی نظام نہیں۔ اگر کسی صاحب کو اس کے متعلق تردد ہو تو وہ اسلام کے اصول و فروع کا مطالعہ کرکے اپنی تسلی کر سکتا ہے، یہاں سب باتیں تفصیل سے بیان نہیں کی جا سکتیں۔ 

قائد اعظم اور فوج کا سیاسی کردار

پروفیسر شیخ عبد الرشید

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ایک آئین پسند، جمہوری فکر کے حامل راہنما تھے جنہوں نے جمہوری جدوجہد، آئینی سیاست اور عوامی حمایت سے پاکستان حاصل کیا اورحصول آزادی کے فیصلہ کن ایام میں ۹جون ۱۹۴۷ء کو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ’’میں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ جب فیلڈ مارشل آرمی کو فتح سے ہمکنار کرتاہے تو اس کے بعد سول اتھارٹی کنٹرول سنبھال لیتی ہے۔‘‘ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ قائداعظم نئی ریاست میں سویلین کنٹرول کے حامی اور خواہشمند تھے۔ وہ ملک میں جمہوری نظام اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ہی کوشاں تھے۔ اس حوالے سے ان کی سوچ شروع ہی سے واضح تھی۔ ۱۹۴۶ء میں دہلی میں رائٹرز Reuters کے نامہ نگار ڈون کیمپبل(Doon Campbell) کو انٹر ویو دیتے ہوئے قائداعظم نے کھلے الفاظ میں اظہار کیا کہ ’’نئی ریاست جدیدجمہوری ریاست ہو گی جس میں اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہو گا اور نئی قوم کے اراکین کو شہریت کے مساوی حقوق حاصل ہو ں گے۔‘‘
ایک مدبر راہنما کے طورپر معمار پاکستان کا وژن حقیقت پسندانہ اور لائق تقلید ہے۔ وہ سول اور ملٹری امور پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ تقسیم ہند سے پہلے بھی برطانوی حکمران سول و ملٹری معاملات میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے لارڈ چیمسفورڈ کے دور میں بمبئی میں ہونے والی صوبائی کانفرنس میں شرکت کی اور مشورہ دیا کہ ہندوستان میں کرائے کی فوج کی بجائے ایک قومی فوج (Citizen Army) تشکیل د ی جائے۔ قائداعظم کے مطالبے پر ہی ڈیرہ دون (بھارت) میں انڈین ملٹری اکیڈمی قائم کی گئی اور فوج کے لیے کمیشنڈ آفیسر تیار کیے گئے، تاہم نو آبادیاتی حکمرانوں نے سامراجی تسلط کی مضبوطی کے لیے لارڈ میکالے کی فکر پر مبنی نئی حکمت عملی اپنائی کہ ہندوستان میں ایسا طبقہ پیدا کر دیا جائے جو سامراجی آقاؤں اور مقامی رعایا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکے۔ یہ طبقہ رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہو مگر فکرو عمل، رسم و رواج اور اقتدار کے اعتبار سے برطانوی ہو۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں سول اور ملٹری زعما پر میکالے کے فلسفے کا سب سے زیادہ اثر ہوا اور گندمی انگریزوں کا طبقہ پیدا ہو گیا۔ بریگیڈیئر شمس الحق نے لکھا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو فتح نہیں کیا بلکہ ہندوستان سے ہی دیسی فوج بھرتی کر کے پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا اور لگ بھگ ڈیڑھ سوسال اسی دیسی فوج کے سہارے پورے برِصغیر پر قبضہ قائم رکھا۔ انگریزوں کی افواج میں بعد میں بھی گورا سپاہیوں کی تعداد ایک تہائی سے زیادہ نہ ہوئی، البتہ افسر ہندوستانی فوج میں بھی سب کے سب انگریز ہی پیدا ہوا کرتے تھے۔ ان انگریز افسروں کے سہارے ہی برصغیر میں انگریزوں کی سلطنت قائم تھی ۔‘‘ 
نو آبادیاتی دور میں سول ملٹری تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ فوج کا کنٹرول حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں تھا جبکہ مقامی کنٹرول گورنمنٹ آف انڈیا کا تھا۔ یعنی بھارت کی فوج اور دفاعی امور پربرطانیہ کا کنٹرول تھا، بھارتی مجلس قانون ساز کو صرف دفاعی بجٹ پر نظر ثانی کرنے کا اختیار حاصل تھا ۔ بھارت کے راہنما مطالبہ کیا کرتے تھے کہ دفاعی اخراجات پر مکمل اختیار دیا جائے اور دفاع کا محکمہ وزیر کے حوالے کیا جائے جو مجلس قانون ساز کو جوابدہ ہو ۔ ۱۹۳۵ء کے ایکٹ میں بھی دفاع اور خارجہ امور کے اختیارات گورنر جنرل کو دیے گئے تھے جو اسمبلی کو جوابدہ نہیں تھا، چنانچہ برصغیر میں حکومت میں سول اور ملٹری دونوں شریک کار کے طور پر کام کرتے تھے۔ فوج کی یہ حیثیت استعماری تقاضوں کے مطابق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب تقسیم ہند کے بعد اگست ۱۹۴۷ء میں برطانوی حاکموں نے ان تمام سول اور فوجی ملازمین و افسران کو جو نو آبادیاتی ہندوستان میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، انہیں جبری ریٹائر کر دیا اور متاثرین نے شکایت و احتجاج کی صدا بلند کی تو انہیں حکومت برطانیہ نے جواب دیا کہ وہ ایک غلام ملک میں ’’آقائی ذہنیت ‘‘ کے ساتھ اپنے فرائض سرا نجام دیتے رہے ہیں۔ اس آقائی ذہنیت کو ایک جمہوری ملک برطانیہ عظمیٰ کی سروسز میں شامل نہیں کیاجا سکتا۔ مگراسے تاریخ کے جبر کے علاوہ کیا کہیے کہ برطانیہ کے برعکس پاکستان اور بھارت نوآبادیاتی دور کے سامراجی تربیت یافتہ فوجی زعما کو بحال رکھنے پر مجبور تھے کہ یہاں کوئی متبادل کیڈر نہ تھا۔ نو آزاد مملکت کے راہنماؤں کا فرض تھا کہ وہ سامراجی فوج کی آقائی ذہنیت اور حکمرانہ طرز فکر و عمل کو تبدیل کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کرتے لیکن پاکستان میں دستور ساز اسمبلی نے آرمی ایکٹ ۱۹۱۱ء کو بالکل اُسی طرح اپنا لیاجیسے وہ تھا، حالانکہ یہ ایکٹ برطانوی آقاؤں نے اپنے نو آبادیاتی مفادات کے تحفظ، رعایا کے حقوق کو سلب کرنے اور آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے بنایا تھا۔ مگر ہم نے اس استعماری و نو آبادیاتی آرمی ایکٹ کو کسی ترمیم کے بغیر قبول کر کے جمہوری پاکستان پر پہلی ضرب لگائی ۔ 
برصغیر پاک و ہند کی فوج کا جدوجہد آزادی ہند یا تحریک پاکستان میں کوئی کردار نہ تھا چنانچہ حصول آزادی کے دوران فوجیوں کے دل میں پاکستان سے محبت اور والہانہ وابستگی کے جذبات جنم نہ لے سکے۔ تقسیم ہند کے فیصلہ کن مرحلے پر بھی مسلمان فوجی دل ہی دل میں بھارتی فوج کا حصہ رہ کر اپنا مقام اور اسٹیٹس قائم رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ علیحدہ ہو کر ان کی عسکری حیثیت اور شناخت کم ہو جائے گی، چنانچہ وہ پاکستان آرمی کی بجائے انڈین آرمی کہلانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس کا پہلا اظہار تب ہوا جب جنوبی ایشیا میں سلامتی سے وابستہ برطانوی جرنیلوں نے تقسیم ہندکی مخالفت کی، بلکہ ان کا خیال تھا کہ تقسیم کی صورت میں بھی دونوں ریاستیں فوجی کنفیڈریشن کے طور پر مشترکہ دفاعی نظام میں رہیں گی۔ انہوں نے بالخصوص فوج کی تقسیم کی شدید مخالفت کی، لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے انہیں یہ کہہ کر دھمکا یا کہ اگر پاکستان کو اپنی فوج کا کنٹرول نہ دیا گیا تو وہ ۱۴؍اگست کو اقتدار قبول نہیں کریں گے۔ ۳۰جون ۱۹۴۷ء کو افواج کی تقسیم کے لیے قائم کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بھارت اور پاکستان کے فوجی اثاثوں کا تناسب ۶۴اور ۳۶تھا جو کم و بیش ہندوؤں اور مسلمانوں کے تناسب کے برابر تھا۔ چار لاکھ فوج میں سے پاکستان کو تقریباً ۳۳فیصد یعنی ڈیڑھ لاکھ فوج ملی۔ پاکستان کو چار ہزار فوجی افسران کی ضرورت تھی، لیکن اس کے پاس صرف ڈیڑھ ہزار افسر تھے جن میں پانچ سو برطانوی تھے ایک میجر جنرل ، ۲بریگیڈیئر اور ۵۳کرنل تھے۔ گیارہ مسلم ملٹری افسر سول سروس میں شامل ہو گئے۔ عارضی کمیشن ، شارٹ سروس اور اہلیت و تجربے کے بغیر قبل از وقت ترقیاں دے کر اس کمی کو پورا کیا گیا۔ فوج اور اثاثوں کی تقسیم کے مسائل کو پیش نظر رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حصے میں آنے والی مسلم فوج پیشہ وارانہ لحاظ سے ایک کمزور فوج تھی ۔ 
یہ فوجی افسران تقسیم کے وقت بھی آزادی کے بجائے نوکریوں ،اپنی ترقیوں اور مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ سپریم کمانڈر سرکلا وڈآکن لیک کے پرائیویٹ سیکرٹری میجر جنرل شاہد حامد اپنی کتاب ’’DisastrousTwilight‘‘ میں آزادی سے چند روز پہلے فوجی افسران سے قائداعظم کی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ۳؍اگست ۱۹۴۷ء کو انہوں نے اپنے گھر پر جنرل آکن لیک، بحریہ و فضائیہ کے سربراہان، پرنسپل سٹاف آفیسرزوغیرہ کو مدعو کیا اور قائداعظم کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی۔ تقریب میں قائداعظم خوشگوار باتیں کرنے کے موڈ میں تھے۔ وہ صرف اس وقت رنجیدہ و سنجیدہ ہوئے جب ایک فوجی افسر نے پاکستان میں ترقی کے بارے میں سوال کر دیا۔ قائداعظم نے جذباتی ہو کر سوال کرنے والے کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا: ’’آپ مسلمان یا تو آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں یا دھم سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ آپ متوازن راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ تمام ترقیاں اپنے وقت پر ہوں گی اور پاگل پن سے یا جلد بازی میں نہیں کی جائیں گی۔‘‘ انہی افسران کے ایک اور سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی قائداعظم ان فوجی افسران کے ارادے اور خیالات بھانپ گئے اور بڑے دو ٹوک انداز میں فرمایا: ’’ پاکستان کی منتخب حکومت سول افراد پر مشتمل ہو گی۔ جو بھی جمہوری اصولوں کے برعکس سوچتاہے، اُسے پاکستان کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ میجر جنرل شاہد حامد کے بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ مسلمان فوجی افسران کو آزادی اور حصول پاکستان کی خوشی کم اوراپنی نوکریوں اور ترقیوں کی فکر زیادہ تھی ۔ ایک مدبر راہنما کی حیثیت سے قائداعظم کواس ملاقات میں ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ فوجی افسران پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر بنانے کی کوششیں کریں گے، چنانچہ انہوں نے بغیر کسی ابہام کے واضح کر دیا کہ یہاں منتخب سول حکومت ہو گی اور جو اس کے برعکس خواہش رکھتاہے، وہ پاکستان منتقل ہونے کا خیال دل سے نکال دے۔
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے انحراف کے ارادے رکھنے والے فوجی افسران کو بابائے قوم کی جانب سے اس سے زیادہ واضح انتباہ اور کیا ہو سکتاتھا، مگر اس کے باوجود نو آبادیاتی عہد کے تربیت یا فتہ یہ افسران اپنی سوچ اور عمل میں تبدیلی نہ لا سکے اور پاکستان کی آزادی کے دن بھی ان آقائی ذہنیت کے حامل افسران نے آنے والے دنوں کی نحوست کا اظہار کردیا۔ ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خاں فوجی افسران کے اس رویے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’۱۴؍اگست کا دن تھا۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کراچی میں ایک استقبالیہ دے رہے تھے جس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو مدعو کیا گیا تھا۔ حاضرین میں د فاعی ملازمتوں کے چند عہدیدار بھی تھے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ قائد اعظم اپنے مہمانوں کے درمیان بے تکلفی سے گھوم پھر رہے ہیں، وہ فوجی افسر بھی قائداعظم کے قریب آگئے۔ انہیں وردی میں د یکھ کر قائدا عظم نے پوچھ لیا کہ آپ لوگ کیسے ہیں؟ اس بے تکلفی سے اس گروپ کے ایک افسر کرنل اکبر خاں (بعد میں راولپنڈی سازش کیس والے میجر جنرل اکبر خاں) کو حوصلہ ملا اور انہوں نے دفاعی حکمت عملی پر اپنے خیالات کی وضاحت شروع کر دی۔ جوشِ بیان میں انہوں نے ایسے معاملات پر جو ایک جمہوری نظام میں کسی سول حکومت کی ذمہ داری ہوتے ہیں، یہ مشورہ دینا شروع کر دیا کہ دفاعی ملازمتوں کا انتظام کس طرح چلانا چاہیے۔ ابھی کرنل اکبر نے بات پوری نہیں کی تھی کہ قائداعظم نے ان کی گفتگو درمیان سے ہی قطع کر دی۔ اپنی انگلی اٹھا کر انہوں نے اکبر خاں پر کڑی نظر ڈالی اور دھیمے لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا کہ’’ یہ نہ بھولیے کہ آپ لوگ جو مسلح افواج میں ہیں، عوام کے خادم ہیں۔ قومی پالیسی آپ لوگ نہیں بناتے۔ یہ ہم شہری لوگ ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض ہے کہ جو ذمہ داری آپ کو سونپی جائے، اسے پورا کریں۔‘‘ 
قائداعظم فوجی افسران کے رویے کا مسلسل مشاہدہ کر رہے تھے اور بھانپ گئے تھے، چنانچہ انہوں نے ہر موقع پر سول اداروں اور سول قیادت کی بالادستی کی پر زور تلقین کی۔ وہ سول و ملٹری ملازمین کو پیشہ وارانہ سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے حامی تھے، مگر ابتدائی دنوں میں ہی مسلمان فوجی افسران کی بدمستی و من مانی کی شکایات ملنے لگیں۔ قائد اعظم کے خدشات کو تقویت اس وقت ملی جب ایوب خاں کو مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری دی گئی۔ سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو رپورٹ پیش کی کہ ایوب خاں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور اس کا رویہ پیشہ وارانہ نہیں ہے۔ قائداعظم نے رپورٹ کی فائل پر لکھا کہ ’’میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔‘‘ ابتدائی مہینوں میں قائداعظم کو ملٹری افسران کی سول اتھارٹی کی تابعداری کے حوالے سے ایک اور تجربہ ہوا۔ میجر جنرل شاہد حامد کے مطابق ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم نے کمانڈر انچیف سرڈگلس گریسی کو حکم دیا کہ افواج پاکستان کو جموں و کشمیر بھیجا جائے اور سری نگر اور درہ بانہیال پر قبضہ کر لیا جائے۔ جنرل گریسی نے گورنرجنرل کے احکامات کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ جنرل گریسی کے پرائیویٹ سیکرٹری ولسن کے مطابق ماؤنٹ بیٹن نے گریسی کو فون کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے فوج کو کشمیر کی جانب روانہ کیا تو وہ یقین کر لے کہ اسے’’ نائٹ ہُڈ‘‘ کا خطاب نہیں ملے گا۔ گریسی نے اس کی مشروط اطاعت کی ۔ ‘‘ جنرل گریسی کی حکم عدولی نے ملک میں فیصلہ سازی کے عمل پر سوالیہ نشان لگادیا۔ جنرل گریسی کے گورنر جنرل کے احکامات سے انکار نے فوج کے تابعداری نظام کا پول بھی کھول دیا۔ ایسی فوج جس کی روایت میں سول حکومت کی وفاداری شامل ہو، وہ سیاسی مداخلت نہیں کرتی کیونکہ فوجی تنظیم کی اساس تابعداری ہے۔ ہر رینک اپنے سے اوپر والے کی اطاعت کرتاہے۔ یہ سلسلہ اعلیٰ فوجی مناصب تک جا پہنچتا ہے جہاں military top brass سول اتھارٹی کی مطیع ہوتی ہے، یعنی فوج کا مطلب ہی حکم بجا لانا ہے ۔ ان معنوں میں جنرل گریسی نے سربراہ مملکت کے حکم کی تعمیل نہ کر کے فوج کے مستقبل کے ارادوں کو آشکارا کر دیا۔ 
فوج کی پیشہ وارانہ امور کے بجائے دیگر امور میں دلچسپی کے حوالے سے ایک اورواقعہ ایوب خاں نے خود نوشت سوانح عمری’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں درج کیا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں جی او سی تھے جب یکم جنوری ۱۹۴۸ء کو وہاں کے طلبہ اپنے مطالبات کے لیے سخت احتجاج کر رہے تھے۔ انہوں نے اسمبلی کی عمارت پر حملہ کرنا چاہا۔ ایوب خاں نے فوجی یونٹ کی مددسے اسمبلی کو گھیرے میں لے لیا اور طلبہ کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے سے روکا ۔ اسی واقعہ کی وضاحت Brain Cloughleyنے اپنی کتاب میں یوں کی ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایوب خاں کو احساس ہوا کہ سیاستدان ہنگامی صورتحال میں فوج کی مدد کے بغیر اپنا تحفظ نہیں کر سکتے۔ ایوب خاں نے جی او سی کی حیثیت سے وہاں کے اپوزیشن لیڈر محمد علی بوگرہ سے یہ الفاظ کہے کہ Are you looking for a bullet?کیا تم گولی کا انتظار کر رہے ہو؟ اسی ایک جملے کے نفسیاتی تجزیے سے اندازہ ہو جاتاہے کہ فوج کے عام افسر ۱۹۴۸ء میں ہی سیاستدانوں پر غلبہ پا چکے تھے۔
باوجود یکہ پاکستان کی آزادی میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اس آزادی کے تحفظ کے لیے پاکستان کو ایک فوج کی ضرورت تھی، خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کی ناکامی نے سکیورٹی کو پاکستان کی اولین ترجیح بنا دیا تھا ۔ میجر جنرل شیر خاں کی ہدایت پر قدرت اللہ شہاب نے ۴۸۔۱۹۴۷ کی کشمیر جنگ کے بارے میں تحقیق کی تو ظاہر ہوا کہ کشمیر کی جنگ کے دوران میجر یحییٰ خاں اور لیفٹیننٹ کرنل اعظم خاں محاذ سے بھاگ گئے تھے اور انہوں نے اپنی رجمنٹ کے جوانوں تک کو بھی اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ایسی کمزور فوج کو مضبوط بنانے کا احساس ملک بھر میں پیدا ہوا چنانچہ سول حکمرانوں نے ابتدائی سالوں میں ملک کا ستر فیصد بجٹ دفاع پر خرچ کرنا شروع کر دیا۔
مذکورہ واقعات اور فوجی افسران کے رحجانات ہی تھے جنہوں نے بابائے قوم کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ ۲۵ مارچ ۱۹۴۸ کو مشرقی بنگال کے گزٹیڈ افسروں سے خطاب کرنے گئے تو انہوں نے اسی پس منظر میں سرکاری ملازمین کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا اور فرمایا ’’دوسرانکتہ مختلف محکموں میں عوام الناس کے ساتھ آپ کے رویے اور برتاؤ کا ہے۔ آپ جہاں بھی ہوں، پرانے تاثر کو ذہن سے نکال دیجیے۔، آپ حاکم نہیں ہیں، آپ کا حکمران طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ کا تعلق خدمت گاروں کی جماعت سے ہے۔ عوام الناس میں یہ احساس پیدا کر دیجیے کہ آپ ان کے خادم اور ان کے دوست ہیں۔‘‘ قائداعظم کی یہ تقریرسول اور ملٹری افسران کے لیے ضابطہ اخلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ان کی حدود کا تعین ہے اور سیاست سے دور رہنے کی تلقین و پابندی بھی۔ 
جنرل گریسی سے ایوب خاں تک فوجی افسران کی اہلیت و کارکردگی، عزم اور عزائم دیکھنے کے بعد جب بانی پاکستان ۱۴؍جون ۱۹۴۸ء کو پہلی اور آخری دفعہ سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر افسران کو فراموش کردہ فرض شناسی یاد دلائی اور’’ایک دو بہت اعلیٰ عہدے کے افسران‘‘ کی لاپرواہی کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب میں انھوں نے ان افسران کو خبردار کیا کہ ان میں سے بعض افسران پاکستان سے کیے ہوئے اپنے حلف کے مضمرات سے آگاہ نہیں ہیں۔ پھر انہوں نے دوران تقریر ان فوجی افسران کو یاد دہانی کے لیے ان کا ’’حلف‘‘ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اسے سمجھیں۔ انہوں نے فوجی افسران کے حلف کی یادداشت کو تازہ کرنے کے فوری بعد فرمایا کہ ’’جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ جذبہ ہی اصل اہمیت کا حامل ہے، میں چاہوں گا کہا کہ آپ اس آئین کا مطالعہ کریں جو اس وقت پاکستا ن میں نافذ ہے اور اس کے حقیقی آئینی اور قانونی تقاضوں کا ادراک کریں۔ جب آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آپ ڈومینین کے آئین کے وفادار رہیں گے، میں چاہتاہوں کہ آپ اسے یاد رکھیں اور وقت ملنے پر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کا مطالعہ کریں جسے پاکستان میں نافذ کرنے کے لیے قبول کر کے، گورنر جنرل کی منظوری سے موافق بنایا گیا ہے۔ یہی قانونی پوزیشن ہے۔‘‘ قائداعظم کا فوجی افسران سے خطاب بڑا واضح اور غیر مبہم ہے جس میں تکرار کے ساتھ آئین اور حلف کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ چونکہ قائداعظم کی زندگی ہی میں فوج نے آئین اور حلف سے ماورا سرگرمیاں شروع کردی تھیں، اس لیے آئین پسند گورنر جنرل کو خود انہیں آئین اور حلف کی اطاعت کی یاد دہانی اور تاکید کرنا پڑی مگر سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ مسلح افراد کا کردار قائداعظم کے ارشادات و فرمودات کے بالکل برعکس رہا۔
گورنر جنرل اور بابائے قوم سے وفاداری کاایک اور مظاہرہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۴۸ کو بھی دیکھنے کو ملا۔ جب شدیدبیماری کے عالم میں بابائے قوم کو آرمی کی ایمبولینس میں ایئر پورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس لے جایا رہا تھا تو انتہائی ڈسپلن اور مثالی کارکردگی والی فوج کی ایمبولینس مختصر راستے میں ہی خراب ہو گئی اور وفادار فوج کوئی متبادل انتظام نہ کر پائی اور قائداعظم کسمپرسی کے عالم میں برلب سڑک آرمی ایمبولینس میں ہی دم توڑ گئے۔ یہ المناک واقعہ قائداعظم کے ساتھیوں اور سول ملٹری ملازمین کی بے حسی اور بانی پاکستان سے محبت کے فقدان کا نمایاں مظہرہے۔ وہ قائداعظم جو بار بار زعما کو یہ یاد کراتے رہتے تھے کہ ’’مجھے یقین ہے کہ جمہوریت ہمارے خون میں شامل ہے۔ یقیناًیہ ہماری ہڈیوں کے گودے میں ہے۔ صدیوں کے ناموافق حالات نے ہمارے خون کی گردش کو سرد کر دیا ہے۔ خون منجمد ہو چکا ہے اور ہمارے جسم کی شریانیں کام نہیں کر رہیں۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ خون دوبارہ گردش کرنے لگا ہے۔ اب یہاں عوام کی حکومت ہو گی۔‘‘ قائداعظم آشنا تھے کہ فوج فکر، ذہن، مزاج اور فطرت کے لحاظ سے نوآبادیاتی فوجی روایات کی امین ہے۔ اسے مزاج ، فطرت اور سٹرکچر کے اعتبار سے آزاد پاکستان کی فوج بنانے کی ضرورت ہے۔ جو بانی پاکستان آقائی ذہنیت کو برا بھلا کہہ کر عوام کی حکمرانی کا درس دیتے تھے، انہیں آرمی ایمبولینس میں سڑک پر عوام کے سامنے تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا اور پھر ان کی وفات کے بعد ان کے افکار کو بھی ان کی میت کے ہمراہ تابوت میں بند کر کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے افکار و نظریات نے ریاست میں ڈیکوریشن پیس کی حیثیت حاصل کر لی اور پھر سول ملٹری بیوروکریٹ یا طالع آزما جنرل نے جیسے چاہا، قائداعظم کے ویسے ہی سرکاری اقوال نشر ہونے لگے۔ قائداعظم کی زندگی میں ہی اور پھر ان کی وفات کے بعد بھی فوج نے قائد کے تصورات کی بجائے ان کے خد شات کو سچ کر دکھایا ۔ ۱۹۵۱ء کی راولپنڈی سازش سے لے کر اب تک فوج کی مداخلت، آئین اور حلف سے انحراف قائداعظم کی روح کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ 
افکار قائداعظم کے برعکس حکمرانی کا عزم لے کر بیرکوں سے نکلے ہوئے فوجی افسران جب بنگلوں میں پہنچے تو واپسی کا راستہ ہی بھول گئے۔ گویا اپنے فرض کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ورنہ کیا مشرقی پاکستان علیحدہ ہوتا؟ سیاچن اور کارگل کی ہزیمت ہمیں اٹھا نا پڑتی؟ قائداعظم کی آنکھیں بند ہونے کے بعد جرنیلوں اور ان کے بڑھائے ہوئے سیاسی مہروں نے قومی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو اہمیت دی۔ اقتدار پر بالواسطہ اور بلاواسطہ قبضوں کا سلسلہ جاری ہو گیا اور پھر اپنے قبیلے کے دیگر ساتھیوں یعنی اعلیٰ افسران کی ہمدردیوں اور وفاداریوں کے لیے بے پناہ مراعات کا بازار گرم ہوا۔ قومی اداروں کی سربراہی سے لے کر غیر ملکی سفارتی عہدوں تک کو اپنے ساتھی جرنیلوں یادیگر فوجی عہدیداران کے حوالے کر دیاگیا۔ جرنیلوں اور وردی کی چھتری تلے سانس لینے والے عوامی حمایت سے محروم ابن الوقت ٹولے نے ملی مفادات کا سودا نہایت سستے داموں شروع کر دیا۔ اس روش اور تسلسل و دوام کے باعث ہر طرف مایوسیوں، ناامیدیوں اور غیر یقینی کے مہیب سائے پھیل گئے اور اب تو یہ صورتحال ہے کہ الامان و الحفیظ۔
گزشتہ چھ دہائیوں سے قائداعظم کے تصورات اور ان کا پاکستان نو آبادیاتی نظام کی باقیات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ حکمران ٹولے کو تو اپنے مفادات سے فرصت نہیں مگر قائداعظم کی بے چین روح چودہ کروڑعوام کی حرکت کی منتظر ہے جن کی حکمرانی کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔ جب تک پاکستان میں جمہوریت حقیقی معنوں میں بحال نہیں ہو جاتی، فوج بیرکوں میں واپس جا کر اپنے حلف اور آئین کی حدود کی پابند نہیں ہو جاتی، سول اداروں اور سویلین قیادت کی بالادستی قائم نہیں ہو جاتی، قائداعظم کی روح کو قرار نہیں آسکتا۔ کیا ہم اتنے بے حس اور اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ بابائے قوم کے پاکستان کو آزاد کرانے کے لیے اٹھ کھڑے نہیں ہو سکتے؟ کیاکارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ہے؟ 
قائداعظم نے ہمیں انگریز آقاؤں کی غلامی سے نجات دلائی لیکن قائداعظم کے پاکستان میں بسنے والے ۱۴کروڑ عوام میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں لارڈ میکالے کے فکری سانچے میں ڈھلنے والے آقائی ذہنیت کے حامل فوجی طالع آزماؤں سے نجات دلاسکے۔ جب تک وطن عزیزمیں فوج کی سیاست میں مداخلت اور حکمرانی جاری رہے گی، قائداعظم کا پاکستان معرضِ وجود میں نہیں آسکے گا۔ فوجی طالع آزماؤں نے بانی پاکستان اور شہدائے پاکستان کی جمہوری کاوشوں سے حاصل کردہ پاکستان کو اپنی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا۔ کیا موجودہ پاکستان قائداعظم کا پاکستان ہو سکتا ہے؟ سادہ الفاظ میں کیا قائداعظم کے پاکستان میں فوج کا کوئی سیاسی کردار ہو سکتاہے؟ یہ سوال ہمارے تاریخی ارتقا کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ 

سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت

ڈاکٹر محمد سعد صدیقی

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں فکری نشست سے خطاب۔)

الحمد للہ وکفیٰ وسلام علی ٰعبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلو علیھم اٰیاتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم۔ صدق اللہ العظیم
جناب صدر محترم! میرے بہت عزیز بھائی اور ساتھی ڈاکٹر عبد اللہ صاحب، برادر عزیز جناب اکرم ورک صاحب، اساتذہ کرام و معزز حاضرین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے لیے یہ بڑی خوش قسمتی اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر مجھے اس علمی ادارے میں حاضری کا شرف بخشااور آپ حضرات سے ملنے اور آپ حضرات کی زیارت کاموقع مرحمت فرمایا۔ لیکچراور گفتگو تو ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد تو کسی علمی ادارے میں آنا، کسی علمی ادارے کو دیکھنا اور احباب سے ملاقات و گفتگو کرنا ہوتا ہے، اس لیے کہ احباب سے ملاقات اور علمی احباب سے ملاقات بجائے خود ایک علمی مجلس ہوتی ہے اور بجائے خود ایک ثواب کا اور ایک عبادت کا کام ہے۔ باقی یہ کہ میں کیا گفتگو کروں گا؟ میں جو گفتگو کروں گا، وہ یقیناًپہلے سے آپ حضرات کے علم میں ہوگی۔ شاید ہی کوئی ایسی بات ہو جو آپ حضرات کے لیے نئی ہو یا شاید ہی کوئی ایسی بات ہو جو آپ حضرات کے علم میں اضافے کا باعث ہو۔ جہاں تک موضوع کا تعلق ہے، تو سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت پر گفتگو ہو گی، اس کے ضمن میں سنت سے استنباط اور استخراج مسائل کے فقہا کے جو اسالیب ہیں، اس پر بھی تھوڑی سی گفتگو ہو گی ۔
سنت کے حوالے سے اس طرح کی گفتگو اور اس طرح کا مواد آپ کو بے شمار کتابوں میں ملے گااور وہ یقیناًآپ حضرات نے پڑھ رکھا ہو گااور آپ کے علم میں ہوگا، لیکن اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اور جن حالات کا ہمیں سامنا ہے، ایک علمی ادارے سے وابستگی اور دین سے وابستگی کی وجہ سے ان حالات میں ہماری ذمہ داریاں کچھ بڑھ گئی ہیں۔ تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی اعتبار سے جس طریقے سے دین اسلام کو اور دین اسلام کی اقدار وروایات کو جس طرح تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور گلوبلائزیشن کی شکل میں پوری دنیا کی سطح پر ایک فتنہ جو ہمارے سامنے موجود ہے، ہمیں اس فتنے کا احساس، ادراک اور علم بھی ہونا چاہیے اور اس فتنے کے تدارک کے لیے بھی ہمیں کچھ سوچنا چاہیے۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اورمشکل یہی ہے ۔
ابھی پچھلے دنوں ریڈیو کے ایک سیمینار میں شریک تھا۔ اس میں، میں نے یہ بات کہی کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس وقت جاگتے ہیں جب کوئی فتنہ پوری امت مسلمہ کے اندر جڑ پکڑ چکاہو اور وہ فتنہ امت مسلمہ کو، اس کے ایک طبقے کویا ایک جگہ کے لوگوں کو ایسی جگہ پر پہنچا چکا ہو جہاں سے واپسی بڑی مشکل نظر آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بروقت فتنے کا ادراک نہیں کر سکتے اور اس کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس وقت جو سب سے بڑا فتنہ ہمارے سامنے ہے، اس فتنے کا ادراک ہمیں ہونا چاہیے اور اس کے ادراک کے ساتھ ساتھ اس کے تدارک کی جو تدابیر ہیں، ان سے بھی ہمیں آگاہ ہونا چاہیے ۔ وہ فتنہ کیا ہے ؟وہ فتنہ یہ ہے کہ مذہب پرستی اور مذہبی بنیادوں پر انسانوں کی شناخت اور ان کا امتیاز ختم ہو جائے۔ کسی کا کوئی مذہب نہ ہو۔ نہ کوئی مسلمان ہو ،نہ عیسائی ہو ،نہ سکھ ہو، نہ ہندو ہو۔ کسی کا کوئی مذہب نہ ہو اور کوئی انسان اس قسم کا ٹائیٹل اپنے اوپر چسپاں کر نے والا نہ ہو،بلکہ انسانیت کی بنیادوں پر سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے والے اور ایک دوسرے کے نظریات اور عقائدوافکار کا احترام کر نے والے اور رواداری کاسبق پڑھنے والے ہوں۔
میں ایک دفعہ ایک مجلس میں تھا تو وہاں یہ بات سامنے آئی، بعض لوگوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اس وقت اتحاد امت کے حوالے سے جو فکر امت میں پیدا ہو رہی ہے، یہ بڑی مستحسن چیز ہے تو میں نے اس پر یہ عرض کیا کہ معاف کیجئے گا، جو چیز آپ کو مستحسن نظر آرہی ہے، مجھے تو اس میں سے فتنے کی بو آرہی ہے۔ ہمارے ایک دوست کہنے لگے !صاحب آپ کیا کسی فتنے کی بو میں پڑ گئے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ میں نے پھر وہی عرض کیا کہ جناب مجھے تو اس سے فتنے کی بو آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کس فتنے کی بو آرہی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس فتنے کی بو آرہی ہے کہ جب ہم اتفاق و اتحادکا سبق پڑھ لیں گے تو اس کے معنی یہ ہو ں گے کہ کوئی بھی شخص آپ کے سامنے بیٹھ کر جیسے چاہے دین کا حلیہ بگاڑے، آپ نہیں بولیں گے، کیونکہ آپ نے اتحاد واتفا ق کا سبق سیکھا ہوا ہے۔آج وہ بات ہمارے سامنے موجود ہے۔ آج اگر آپ کے سامنے کوئی دین کا حلیہ بگاڑتاہے اور آپ بولتے ہیں تو فوراً آپ پر فرقہ پر ستی ، دہشت گردی ،انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ فسادات کے پھیلانے کا الزام لگ جاتا ہے۔ یہ فتنہ آج ہمارے درمیان موجود ہے اور پنپ رہا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر انسانوں کی جوشناخت ہے، مذہبی بنیادوں پرانسانوں کی جو تہذیب ہے اور مذہب کی بنیادوں پر انسانوں کی جو ثقافت تعمیر ہوتی ہے، اسے ختم کیا جائے اور انسان کی کوئی بھی ثقافت، کوئی بھی تمدن، کوئی بھی معاشرت مذہب کی بنیادوں پر قائم نہ ہو۔
یہ فتنہ ہے۔ اس فتنے کے ادراک اور تدارک کا معاملہ جب آتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے تدارک میں سنت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔آپ اسلام کی بنیاد پر اپنے آپ کو دوسری قوموں سے ممتاز اور نمایاں کرنا چاہتے ہیں، آپ اگر اسلامی ثقافت وتہذیب کو رائج کرنا چاہتے ہیں، اسلام کے تمدن اور اسلامی معاشرت کو رائج کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو سنت کا سہارا لینا پڑے گا۔ سنت کا سہارا لیے بغیر نہ آپ اسلام کی شناخت پیدا کر سکتے ہیں نہ اسلامی تہذیب وتمدن پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسلامی معاشرت پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں سنت کی عظمت اور سنت کی اہمیت کا ادراک ہونا چاہیے۔ اس وقت اس حوالے سے جو فتنہ ہمارے سامنے آرہا ہے، اس میںیہی بات ہمارے سامنے آرہی ہے کہ سنت کی حیثیت اور سنت کی عظمت کم کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ قرآن ایک مکمل کتاب ہے ، ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور حیات ہے۔ہمیں اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اوراس قرآن کو دیکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے سنت کے متعلق آپ کی معلومات کو تازہ کر نا ہے اور اس پر پڑی ہوئی گرد کو ہٹانا ہے تاکہ سنت کے حوالے سے ہمارے اندر صحیح فکر پیدا ہو۔ 
سنت کی جو تعریف علماے اصولیین، ماہرین اصول فقہ نے کی ہے، ان میں سے علامہ آامدی ’’الاحکام فی اصول الاحکام‘‘ میں سنت کی تعریف یہ بیا ن فرماتے ہیں کہ ’’سنت کا اطلاق ان تمام امور پر ہوتا ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں یا وہ تمام دلائل جو آپ سے قولاًیا عملًا ثابت ہیں، لیکن وہ قرآن نہیں ہیں۔‘‘ یہ بات ذرا قابل غور ہے۔ تعریف کا آخری جز یہ بتلاتا ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً اورعملًا ثابت ہیں، لیکن وہ قرآ ن نہیں ہیں۔اس کا معنی یہ ہوئے کہ ہم اسے ا س واسطے چھوڑ نہیں سکتے کہ یہ آپ سے ثابت تو ہیں آپ کا قول اور عمل تو ہیں، لیکن چونکہ قرآن نہیں ہیں، اس لیے ہمیں اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں اس کی عظمت اور اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ علامہ آمدی کی تعریف کا یہ جز اسی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔
اسی بات کی طرف اشارہ ہمیں ایک اور تعریف میں ملتا ہے جو علامہ خضری بک نے کی ہے ۔وہ فرماتے ہیں کہ سنت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کا نام ہے اور اس کے آخر میں انہوں نے ایک بہت اچھی، نمایا ں اور ممتاز بات کہی: ’ویقابلہ البدعۃ‘ کہ اس کے مقابلہ میں جو لفظ آتاہے، وہ بدعت کا لفظ ہے ۔بعض اوقات ’تعرف الاشیاء باضدادھا‘ چیز کو اس کی ضد اور الٹ سے سمجھا جاتا ہے۔علامہ خضری بک کے ا س جملہ سے سنت کی اہمیت واضح ہو رہی ہے کہ دین کا حصہ وہ چیز بن سکتی ہے جو جنا ب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً، عملًا یا فعلاً ثابت ہو۔ اگر ان تینو ں میں سے کسی طرح سے بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے تووہ دین کا حصہ نہیں بن سکتی۔ اگر بنے گی تو بدعت کہلائے گی۔ اس کے معنی یہ کہ دین کا حصہ بننے میں یا دین کی تدوین میں سنت کی کتنی اہمیت ہے ۔
یہاں میں ایک اور بات واضح کر دوں کہ آج کے دورکے جدید مفکرین اپنی ربع صدی کی تحقیقا ت کا جو نتیجہ بیان کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سنتیں ہیں، ان کی تین نوعیتیں ہیں ۔ایک آپ کے وہ اعمال و افعال اور اقوال ہیں جو آپ نے بحیثیت ایک انسان کے سر انجام دیے۔ آپ کی ذاتی عادتیں ہیں مثلاًآپ اس طرح چلتے تھے، اس طرح کھاتے تھے، اس طرح پیتے تھے، اس طرح مسکراتے تھے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو ملت ابراہیمی کا تسلسل تھیں اوراس دور کی تہذیب وثقافت اور تمدن و معاشرت میں موجود تھیں یا ملت ابراہیمی کے تسلسل کے طور پر آپ کو القا کی گئیں اور وحی الٰہی کے ذریعے بتلائی گئیں۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو آپ نے بحیثیت ایک نبی ہو نے کے اپنی نبوی اور رسالت کی زندگی میں سر انجام دیں۔ بقول ان کے میری ربع صدی کی تحقیقات کے مطابق کل بیالیس (۴۲) سنتیں ہیں جن کو آپ نے بحیثیت نبی ہونے کے سرانجام دیا اور صرف ان سنتوں کی اقتدا اور پیروی ہمارے لیے ضروری ہے، باقی کسی چیز کی پیروی ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ یہ ایک جدید فکرہے۔ اس فکر جدید کا اگر آپ کہیں سلسلہ ملانا چاہیں اور اس کی جڑتلاش کرنا چاہیں تو مجھے یوں محسوس ہوتاہے کہ علامہ اقبال ؒ نے اپنے چھٹے خطبے میں ایک بات کہی ہے کہ اصل میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سنت ہے، وہ بعض مخصوص تہذیبی روایا ت و اقدار کا مظاہرہ ہے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاص تہذیب اور خاص ثقافت کے اندر رہے، لہٰذا آپ نے وہ کام کیے۔ ہم چونکہ اس تہذیب سے باہر ہیں، لہٰذا ہمارے لیے ان چیزوں میںآپ کی اقتدا اور پیروی ضروری نہیں ہے۔ یہ کچھ اشارہ ہے جو ان کے چھٹے خطبے میں ہے ۔غالباً اسی اشارے سے یہ فکر پیدا ہوئی۔ بہرحال اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھیں کہ کیا وہ تہذیب وثقافت اور تمدن جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر مبارک کے تریسٹھ برس گزارے ہیں، جس دن آپ اس دنیا میں تشریف لائے تھے، جیسی تہذیب اس دن تھی، ویسی ہی تہذیب تریسٹھ برس کے بعد اس دن بھی تھی جس دن آپ اس دنیا سے پردہ فرما گئے؟ ایسا ہر گز نہیں بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے نے جو انقلاب انسانیت کے اندر برپا کیا ہے، اس انقلاب کی مثال تاریخ انسانیت کے اندر ملناممکن نہیں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی زمانے میں اور نہ ہی آپ کے بعد۔چودہ سو برس سے زائد توگزر چکے ہیں، آئندہ پتہ نہیں کتنے گزریں گے ۔
ہم تو بحیثیت مسلمان ہونے کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ان چیزوں کو مانتے ہی ہیں ۔ ایک ایسا شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی نہیں ہے، انسانی تہذیب وثقافت میں تبدیلی کرنے والی شخصیتوں کے تذکرے لکھتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انسانی تاریخ میں سو آدمی ایسے ہیں جنہوں نے انسانی تہذیب وثقافت میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں اور ان سو آدمیوں میں پہلا نمبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتا ہے، حالانکہ وہ خودعیسائی ہے لیکن اس نے حضرت عیسیٰ ؑ کو پانچویں نمبر پر رکھا ہے۔ ’’The Hundred‘‘ کے نام سے اس نے جو کتاب لکھی ہے، اس میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نمبر ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ یہ بات تو بالکل خلاف واقعہ، جھوٹ اور غلط ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تہذیب میں آنکھ کھولی تھی، وہ اس دن بھی ویسی ہی تھی جس دن آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔یہ بات سراسر بہتان ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تہذیب وثقافت میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ وہ تبدیلیاں کیسے کی ہیں؟ وہ تبدیلیاں آپ نے اپنے قول وعمل سے کی ہیں۔ آپ کا وہی قول وعمل آج ہمارے لیے حجت ہے اور ہمارے لیے ایک آئینی اور دستوری حیثیت رکھتا ہے ۔
سیدنامعاذبن جبلؓ کا واقعہ تو مشہور ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجاتو پوچھاکہ تم فیصلہ کیسے کرو گے؟ حضرت معاذبن جبلؓ ؓنے کہا کہ کتاب اللہ سے کروں گا۔آپ نے پوچھا: ’فان لم تجد‘، اگر تم کتاب اللہ میں نہ پاؤ؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ پھر سنت سے کروں گا۔آپ ذرا غور فرمائیں کہ یہاں مسئلہ زیر بحث کیا ہے۔ کیا صرف معاذبن جبلؓ کی زندگی گزارنے کا معاملہ زیر بحث ہے کہ معاذ، تم زندگی کیسے گزاروگے؟ بات زندگی گزارنے کی نہیں ہو رہی تھی، بلکہ آئینی حیثیت کی ہو رہی تھی، بات قضا اور عدالت کی ہو رہی تھی، بات دستور وقانو ن کی تدوین کی ہو رہی تھی، بات قانونی نظائر بنانے اور مہیا کرنے کی ہو رہی تھی۔ ’بم تقضی‘ پوچھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، ’بم تحیی‘ نہیں پوچھا تھا ۔ اس لیے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طے ہو چکا تھا کہ قانون بنانے، اس کی تدوین کر نے، اس کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے کوئی قاضی، کوئی عدالت، کوئی قانون ساز ادارہ اگر کام کرے گا تو اس کا پہلا ماخذ کتاب اللہ ہو گا اور دوسرا ماخذ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو گی ۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ نے ایسا کر کے دکھایا ۔
سنت کے حوالے سے جب ہم فقہا کی تعلیما ت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں امام ابوحنیفہ ؒ کے ہاں ایک بڑی خوب صورت تقسیم ملتی ہے۔ ایک کو وہ سنت ہدیٰ کہتے ہیں اور ایک کو سنت ز وائد۔اس سے ہمیں مسئلہ حل ہوتا ہوا ملتا ہے کہ دیکھیے، ایک معاملہ ہے سنت کی اتباع اور پیروی کا،اور ایک معاملہ ہے قانو ن سازی کا۔ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ معاملات ہیں ۔میری اور آپ کی انفرادی زندگی گزارنے کا طریقہ یا سنت کی اتباع اور پیروی، یہ علیحدہ معاملہ ہے اور قانون سازی علیحدہ معاملہ ہے۔ بعض حضرات فقہا نے جب سنت کی تعریف کی ہے تو اس میں آپ کی عادات واوصاف کو بھی شامل کیا ہے ۔ بلاشبہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور عادتیں قانون سازی کے حوالے سے وہ درجہ اور حجت نہیں رکھتیں اور اس کی وجہ بھی یہ نہیں کہ خدانخواستہ اس کی عظمت کم ہوئی ہے بلکہ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بنیادی اصول بتلایا اور وہ یہ ہے کہ لولا ان اشق علیٰ امتی لامرت بالسواک عند کل صلوٰۃ ’’اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلاہونے کا خوف نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔‘‘ یہ ایک بنیادی اصول ہے جو ہمیں سنت سے مل رہا ہے اور قانون سازی میں استعمال ہوتا ہے۔اگر آپ ان چیزوں کو قانون سازی کے دائرے میں لے آئیں اور کہیں کہ صاحب، ہمارے ملک میں وہی لباس پہنا جائے گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہنا کرتے تھے، اگر کوئی اس کے علاوہ لباس پہنے گا تو ہم اسے سزا دیں گے،اور ہمارے ملک میں وہی چیز کھائی جائی گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے تھے، اگر کوئی شخص اس کے علاوہ کوئی چیز کھائے گا تو ہم اسے سزا دیں گے تو یہ قانون سازی انسانوں کو مشقت اور تکلیف میں مبتلا کر د ے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو مشقت میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس حوالے سے یہ قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ لیکن قانون کی تشکیل کے دائرہ میں نہ آنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اس کی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے اور اس کی پیروی اور اتباع کی فضیلت بہرحال طے شدہ ہے۔ یہ ہمارے لیے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اورزندگی گزارنے کے لیے ایک ماخذاور مصدر کی حیثیت بہرحال رکھتا ہے۔ اس لیے یہ بات کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جو تہذیبی روایات کے نتیجے میں ہمارے سامنے آئی ہیں، کچھ وہ ہیں جو آپ کی عادات مبارکہ ہیں، ان کو بھی نکال دو،ا ن کو بھی نکال دو۔ باقی رہ گئیں بیالیس سنتیں، ان کو لے کر بیٹھے رہو۔کیوں ؟اس لیے تاکہ ہمیں تہذیبی آزادی مل جائے، تاکہ ہمیں تمدنی آزادی مل جائے، تاکہ ہمیں معاشرتی آزادی مل جائے، ہم تہذیب وتمدن اور معاشرت کو جس انداز سے چاہیں، آگے لے کرچلنا شروع ہو جائیں۔
چنانچہ جب ہم سنت کے حوالے سے اس بات کو سنتے ہیں تو ہمیں ایک اور بحث سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ وہ یہ کہ جب ہم سنت کی آئینی اور دستوری حیثیت کو سمجھنا چاہیں گے تو ہمیں قرآن اور سنت کا باہمی تعلق بیان کرنا، سوچنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ سنت کتاب اللہ کے لیے مؤید ہے۔ جو قرآن بیا ن کرتا ہے، سنت اس کی تائید کر تی ہے۔ یہ عام اور سلیس سی بات ہے۔ دوسرایہ کہ سنت بیان قرآن ہے۔سنت کے بیا ن قرآن ہونے کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ سنت نے بعض اوقات ایسا حکم دیا جو سرے سے کتاب اللہ میں موجو د نہیں ہے۔ہمارے لیے اس حکم کی پابندی بھی لازمی اور ضروری ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ یہ بات قرآن میں موجو د نہیں ہے، لہٰذااس حکم کو ہم نہیں مانتے ۔
حضرت عمران بن حصینؓ کے پاس ایک آدمی آیا۔ کہنے لگا کہ جناب ہمارے سامنے صرف کتاب اللہ کی بات کریں، سنت کی بات نہ کریں۔ ہم صرف کتاب اللہ کو مانتے ہیں اور کتاب اللہ ہی سننا چاہتے ہیں۔ حضر ت عمران بن حصینؓ نے کہا کہ تم بڑے احمق شخص ہو۔ ہم تو ایسے آدمی کو بہت بڑا اسکالر سمجھتے ہیں جو اس طرح کی بات کرے۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے اس کا صحیح علاج کیا۔ وہ ایک دم پریشان ہو گیا کہ میں نے تو بڑی علمی، تحقیقی اور اسکالروں والی بات کی ہے اور عمران بن حصینؓ مجھے احمق کہہ رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ میں احمق کیسے ہو ں؟ حضرت عمران بن حصینؓ نے کہا کہ فجر کے دو فرض پڑھتے ہو؟ اس نے کہا کہ پڑھتا ہوں۔ فرمایا، ظہر وعصر کے چار فرض پڑھتے ہو؟ اس نے کہا کہ جی پڑھتا ہوں۔ فرمایا دکھلاؤ کہاں آیاہے کتاب اللہ میں کہ فجر کے وقت دو فرض پڑھنا اور ظہر و عصر میں چار فرض پڑھنا۔ یہ یقیناًحماقت کی بات ہو گی کہ ہم یہ نعرہ لگائیں کہ ہم تو صرف کتاب اللہ کو پڑھیں گے اور کتاب اللہ پر عمل کریں گے، کیونکہ سنت کے بغیر کتاب اللہ کے کسی حکم پر تو درکنار، حکم کی کسی جزئی پر عمل نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ سنت بیا ن قرآن ہوتی ہے۔سنت اس اجمال کی تفصیل کرتی ہے جو کہ قرآن نے بیان کیا ہے۔مثلاًقرآن نے کہا کہ ’اقیموا الصلوٰۃ، نماز قائم کرو۔ کیسے کریں ؟سنت نے کر کے دکھلا دیا کہ ایسے۔ اس لیے ایک تابعی یا صحابی کہا کرتے تھے کہ قرآن کے تو کسی حکم پرتو ’لم‘ اور ’کیف‘ کا سوال ہو سکتا ہے، لیکن سنت کے کسی حکم پر یہ سوال نہیں ہو سکتا۔
یہاں پر ایک اور بات کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک جدید فکر ہمارے ہاں رائج ہو رہی ہے اور اس کا پرچار بھی کیا جارہا ہے کہ قرآن پاک کو اس پس منظرمیں سمجھا جائے جس پس منظر میں وہ نازل ہوا ہے۔ جس کو ہم شان نزول کہتے ہیں، وہ اس پر پس منظر کا اطلاق کرتے ہیں اس لیے کہ اگر وہ شان نزول کہیں تو پکڑے جاتے ہیں۔ مثال کے طوریہ کہ ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اوردلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم نے کہا: ’فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ وثلٰث وربٰع‘ حالانکہ اگراس آیت کو اس کے پس منظر میں دیکھاجائے جس میں یہ نازل ہوئی ہے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ چار شادیوں کی اجازت ہر قسم کے حالات کے لیے نہیں ہے۔ او ر وہ مخصوص حالات کیا ہیں؟ جی یہ آیت تو غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی تھی، اس لیے یہ حکم آیا تھا۔ عورتیں بیوہ ہو گئی تھیں، لہٰذایہ حکم آیا کہ ایک ایک مرد چار چارشادیاں کر لے۔ اگر اس وقت بھی وہ حالات پیدا ہو جاتے ہیں تو ٹھیک ہے، چار نکاح کی اجازت ہے اوراگر وہ حالات پیدا نہیں ہوتے تو پھر چار نکاح کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بات یا د رکھیں کہ شان نزول کسی آیت مبارکہ کے حکم کو سمجھنے میں مددگار تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ حکم کی علت نہیں ہوتا۔ اگر آپ شان نزول کے ساتھ حکم کو مقید کر دیں اور آپ کہیں کہ آیت کا یہ حکم اس پس منظر کے ساتھ مخصوص ہے جس میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو پھر یہ دعویٰ کہاں گیاکہ قرآن ایک عالمگیر کتاب ہے، قرآن قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے دستور حیا ت ہے؟ یہ دعویٰ تو ختم ہو گیا۔ اس لیے قرآن کا بیان شان نزو ل نہیں ہوا کر تابلکہ قرآن کا بیا ن سنت ہوا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم فقہا کے اسالیب اجتہاد کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ چارچیزیں ہیں جن پر سب فقہا کا اتفاق ہے۔ بعض حضرات اور تذکرہ نگار امام شافعی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ اجماع کے قائل نہیں تھے، لیکن یہ بات درست نہیں۔ وہ اجماع کے قائل تھے، یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اجماع کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں، وہ بڑی کڑی اور سخت ہیں جیسا کہ اجتہاد کے لیے بڑی کڑی اور سخت شرائط ہیں۔ مثلاً علما یہ کہتے ہیں کہ اجتہاد کے لیے یہ بھی شرط ہے، یہ بھی شرط ہے۔ اس پر بعض پڑھے لکھے حضرات کہہ دیتے ہیں کہ مولویوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا ہے، حالانکہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ یہی بات امام شافعی ؒ کے ہاں نظر آتی ہے کہ وہ بھی اجماع کے قائل تھے، لیکن جیسی کڑی شرائط انہوں نے اجماع کے لیے عائد کی ہیں، ان شرائط کا سامنے آنا اور پید ا ہونا بڑا مشکل ہو گیا ہے۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ چار چیزیں تو بالکل متفق علیہ ہیں۔ کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اجماع اور قیاس۔ کتاب اللہ سے بھی اخذ مسائل اور استنباط مسائل کے کچھ اصول ہیں۔ یوں نہیں کہ آپ کے سامنے کتاب اللہ کی کوئی بھی آیت آجائے اور آپ اس سے جو جی چاہیں، اخذ کر لیں۔ اسی طرح سنت سے بھی احکام کے استنباط کے کچھ اصول ہیں اور ان میں قرآن سے استنباط مسائل کی بہ نسبت زیادہ توسع اور زیادہ تحقیق ہے۔ 
سنت کے معاملے میں امام ابو حنیفہ ؒ اور امام مالک ؒ اس کے قائل ہیں کہ جب آپ کے سامنے سنت آئے تو پہلے آپ اس کا نص دیکھیں گے، پھر ظاہر دیکھیں گے، اور اگر ظاہر اور نص ایک دوسرے کے مقابل آرہے ہوں تو نص کو ترجیح ہو گی، ظاہر کو ترجیح نہیں ہو گی۔ ظاہر وہ ہے جو مراد کلام سے فوری طور پر ظاہر ہو جائے۔ ’ما ظھر المراد بہ للسامع بنفس السماع‘۔ یہ ظاہر ہے اور ’ما سیق الکلام لاجلہ‘، فحوائے کلام اور مقصود کلام کو نص کہتے ہیں ۔لیکن امام شافعیؒ اورامام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک ظاہر کلام کو نص کلام پر ترجیح ہو گی۔ ان کے نزدیک پہلا مرتبہ ظاہر کلام کاہے، پھر نص کلام کا۔ 
اسی طرح سنت سے استنباط مسائل کے حوالے سے ایک مسئلہ تطبیق بین الروایتین کا آتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا موضوع ہے اور مستقل نشست کا مقتضی ہے، کہ ایک ہی مضمون کی دو روایتیں ہیں اور دونوں مختلف صورت حال بتلا رہی ہیں، اس کا حکم کیا ہو گا اور ان میں کیسے ترجیح دی جائے گی۔ امام شافعی ؒ نے اس کے لیے جو اصول بنایا ہے، وہ یہ ہے کہ جو روایت سند کے اعتبار سے اصح ہے، وہ راجح ہو گی اور جو روایت سند کے اعتبار سے کم تر ہے، وہ مرجوح ہو گی ۔امام مالک ؒ کا اصول یہ ہے کہ پہلے تو ان میں تطبیق کی کوشش کی جائے گی، اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو اس روایت کو ترجیح ہو گی جس پر اہل مدینہ کا تعامل ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے اس سے ذرا مختلف ہے۔ امام ابوحنیفہ تطبیق بین الروایتین کے قائل تو ہیں ہی، اور اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو ان کے نزدیک ترجیح کا اصول یہ ہے کہ جس مضمون سے متعلق وہ روایت ہے، اس مضمون کو پہلے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اگروسیع تر تناظر سے ہمیں کوئی ہدایت مل رہی ہے تو وسیع تر تناظر جس روایت کو ترجیح دے رہا ہو، اس کو ترجیح دی جائے گی۔ مثال کے طور پر نماز میں رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین کرنا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے اور نہ کرنا بھی ثابت ہے۔ امام شافعی ؒ نے اپنے اصول کے مطابق جو روایت سند کے اعتبار سے اصح ملی، اس کو انہوں نے ترجیح دے دی اور اس کے مطابق عمل کیا۔اب سوا ل یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ نے ایسا اصول کیوں نہ بنایاکہ وہ بھی سنداً اصح روایت کو راجح قرار دیتے؟ امام ابوحنیفہ ؒ نے یہ اصول اس لیے نہیں بنایا کہ ان کے اور امام شافعیؒ کے زمانے میں بڑا فرق ہے۔ امام ابو حنیفہ بعض حضرات کے نزدیک تابعی ہیں، لیکن ان کے تبع تابعی ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن اساتذہ سے انہوں نے استفادہ کیا، وہ تابعی تھے اور اس سے یہ بھی پتہ چلاکہ امام ابو حنیفہ ؒ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو واسطے تھے، ایک تابعی کا اور ایک صحابی کا ۔لہٰذا صحت سند کا معاملہ وہا ں زیادہ زیر بحث نہیں آتا، کیونکہ واسطے ہی صرف دو ہیں۔ ظاہر ہے کہ ’الصحابۃ کلھم عدول‘ صحابہ پر تو آپ جرح وتعدیل چلا نہیں سکتے، یہ تو میری اور آپ کی مجال نہیں۔ جن کو اللہ اور  اس کے رسول نے عدول قرار دے دیا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ’لقد رضی اللہ عن المؤمنین ‘ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم‘ فرمادیا، میں اور آپ کون ہوتے ہیں جرح و تعدیل کرنے والے؟ صرف تابعین ہی باقی رہ گئے، لہٰذا امام صاحب کے ہاں صحت سند کا معاملہ اتنانازک نہیں۔ اسی لیے جب وہ اس عبادت (نماز) کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں تو وہ نماز کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ نماز کا تدرج ہمیں بتلا رہا ہے کہ اس میں حرکات آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں۔ شروع میں نماز میں چلنا بھی جائز تھا، شروع میں گفتگو بھی جائز تھی، شروع میں نماز میں ہنسنا بھی جائز تھا، پھر یہ سب کچھ منع ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیاکہ جو نماز میں ہنسے ہیں، وہ جائیں، وضو بھی کریں اورنماز بھی دوبارہ پڑھیں۔ اس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ رکوع میں جاتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے رفع یدین کرنے کا معاملہ پہلے کا ہے اور نہ کرنے کا معاملہ بعد کا ہے، اس لیے کہ جوں جوں نماز میں وقت گزرتا گیا، احکام نازل ہوتے گئے، توں توں نماز میں سکون آتاگیا۔ یہ وہ وسیع تر تناظرہے۔ 
اسی طرح مثلاً اس مسئلے میں کہ امام کے پیچھے قراء ت فاتحہ کرنی چاہیے یا نہیں، امام صاحب نے کہا کہ نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ یہ دین کے وسیع تر تناظر کے خلاف ہے۔ دین کا وسیع تر تناظر امام کی اتباع کا حکم دیتا ہے اور امام کی اتباع اس میں ہے کہ ’لا تحرک لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقراٰنہ فاذا قرانہ فاتبع قراٰنہ ثم ان علینا بیانہ‘ تو اتباع قرآن ’’تحریک لسان‘‘ کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اتباع قرآن ’لاتحرک بہ لسانک‘ کے ساتھ ہے۔ اس لیے دین کے وسیع تر تناظر میں اتباع امام سورۃ فاتحہ کے پڑھنے میں نہیں ہے بلکہ سورۃفاتحہ کے نہ پڑھنے میں ہے۔ 
لیکن ایک اصولی اوربنیادی بات طے شدہ ہے اور اس کو معاشرے میں پھیلاناہے کہ اسلام کی تہذیب وتمدن اور اسلام کی ثقافت کو زندہ کرنا اور زندہ رکھنا، یہ آج ہم سب کی بڑی اور اہم ذمہ داری ہے اور اگر آج ہم نے اس ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو یقین جانیے، روزقیامت میں اور آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی جواب دینے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس ذمہ داری کو ہم بذریعہ سنت ادا کر سکتے ہیں۔سنت کی اہمیت ، سنت کی عظمت ،سنت کی دستوری اور آئینی حیثیت کو جتنا بھی آپ اجاگر کر سکتے ہیں، کریں ۔یہ نہ سوچیں کہ یہ باتیں تو بہت کہی گئی ہیں، بہت سنی گئی ہیں ،بہت پڑھی اور لکھی گئی ہیں۔ کوئی بات نہیں، قرآن پاک نے بھی تو ایک بات کو بار بار بیان کیا ہے۔ آپ بھی اس بات کو بار باربیان اور واضح کیجیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ہمیں اپنی زندگیوں کے اندر بھی زندہ کرنا ہے اوراپنی قانون سازیوں میں بھی زندہ کرنا ہے۔حق تعالیٰ شانہ سنت کی اہمیت اورسنت کی عظمت کو سمجھنے کی ہمت اور توفیق نصیب فرمادے۔ آمین

غیر مسلم جج کی بحث اور مسلمان ججوں کا کردار

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

اجتہاد کی عام فہم تعریف کریں تو اسے ’’ماہرین قانون و شرع کی، متعینہ اصولوں کی روشنی میں، مسائل اور احکام معلوم کرنے کی پر خلوص اور انتہائی کاوش کا نتیجہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح یہ منصب یقینی طور پر علماے کبار اور ماہرین کا ہے۔ اس پر ہمیں ان کا منصب ہر لحاظ سے تسلیم ہے۔ وہ اس بارے میں کسی اجارہ داری کا دعویٰ کریں یا نہ کریں، ہم ان کی یہ حیثیت بلا شرکت غیرے مانتے ہیں۔ اس تسلیم و رضا کے ساتھ ساتھ سوال، بحث اور جائزے کا حق بھی اہل حق تسلیم کریں گے۔ اس طرح اجتہادی مسائل کی دو سطحیں ہیں: علمی اور طالبانہ۔ علمی سطح پر یہ حق اہل علم و فن آپس میں استعمال کر سکتے ہیں، لیکن طالب علمانہ سطح پر یہ حق ہر پڑھے لکھے شخص کو حاصل ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس میں طالب علمانہ جستجو کی حدوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس مضمون میں میرے پیش نظر طالب علمانہ جستجو کے سوا کچھ نہیں۔ 
’الشریعہ‘ کے اپریل ۲۰۰۷ء کا کلمہ حق دیکھا۔ چند سطور کا خلاصہ درج کرتا ہوں:
’’اصولی طور پر کسی غیر مسلم کا ملک کی عدالت عظمیٰ کا سربراہ بننا بہر حال محل نظر ہے۔ خاص طور پر اس پہلو سے کہ چیف کو شریعت کورٹ اپیلٹ بنچ کی سربراہی بھی کرنا ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کا اختیار ایک غیر مسلم جج کے ہاتھ میں دے دینا شرعی اصولوں کے مطابق درست نظر نہیں آتا۔‘‘
مولانا زاہد الراشدی صاحب کے اس کلمہ حق کی تائید سینیٹر مولانا سمیع الحق، ممبر قومی اسمبلی قاضی حسین احمد کے بیانات میں پائی جاتی ہے۔ ’’امیر شریعہ‘‘ کے یہ جملے میرے لیے خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ کلمہ حق پر میرے کلمات نا حق سہی کہ میرے پیش نظر تو صرف یہ ہے کہ انصاف کی روشنی دور دور تک پھیل جائے۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ کار خیر مسلم جج کے ہاتھوں سے ہو یا غیر مسلم سے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرات و استقامت کے پیش نظر حسبہ بل کا حشر کرنے اور وردی پوش کے گناہوں کی توثیق کے تمام گناہ معاف۔ ا ن کی جرات کو پوری وکلا برادری سلام و نیاز پیش کر رہی ہے۔ اس موقع پر ایک اصولی بحث کا حوالہ بے وقت کی راگنی معلوم ہوتا ہے۔
مسلمان ججوں نے جو کارنامے انجام دیے ہیں، وہ ہماری تاریخ میں ’’سنہری الفاظ ‘‘سے لکھے جاتے ہیں۔ پاکستان کو آئینی انحراف کے راستے پر ڈالنے کا تمام تر اعزاز جسٹس منیر کو ہی دینا پڑے گا۔ یہ ہلال پاکستان یا نشان حیدر سے کسی طرح کم نہیں ہو گا۔ مزید برآں یہ بھی واضح ہے کہ نظریاتی انحراف بلکہ (بقول ارشاد احمد قریشی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، سابق صدر اسلامی جمعیت وکلا، پاکستان) ارتداد کی فرد جرم ڈاکٹر سید نسیم حسن شاہ پر عائد ہو گی۔ یہ ارتداد انہوں نے حاکم خان کیس کے فیصلہ میں پوری صراحت سے کیا ہے۔ اگر اس ارتداد کو دیکھنا ہو تو نسیم حسن شاہ کے فیصلہ کا سرسری طور پر پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ یہ دونوں ما شاء اللہ مسلمان تھے۔ ان سے مسلمانی چھیننے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہو سکتا۔ اگر کبھی دستور کے آرٹیکل ۶ کو پامال کرنے کا سوال اٹھا اور کوئی جرنیل اس کی زد میں آیا تو جرنیلوں کے ساتھ ساتھ اس کی وردی تلے کابینہ میں بیٹھنے والے پی این اے کے منسٹرز کو بھی کٹہرے میں لانا انصاف کا تقاضا ہو گا۔ ان میں سے بعض اب بھی زندہ ہیں۔ زندہ حضرات میں پروفیسر غفور احمد، پروفیسر خورشید احمد، چوہدری رحمت الہٰی جماعتی مناصب پر فائز ہیں۔ یہ تینوں حضرات نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں۔ چوہدری رحمت الہٰی صاحب کا تو مجھے اچھی طرح علم ہے کہ وزارت سے باہر آ کر انہوں مرکزی شوریٰ کو درخواست دی کہ اب ان کے اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے، لہٰذا ان کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ وزیر کے طور پر ان کی کار کردگی قیم یا نائب امیر جتنی بھی نہیں تھی، اس لحاظ سے وزارت سے واپس آکر تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بر حق تھا۔ وجہ یہ ہے کہ جماعت کے امیر اگر وردی پہن لیں تو پوری شوریٰ گھر بھیجی جا سکتی ہے۔ سید مودودی مرحوم و مغفور نے بھی تو انکوائری کمیٹی کو گھر بھجوانے کے لیے بلڈوزر چلایا تھا۔ اسی روایت کی پیروی میں قاضی حسین احمد نے بھی اپنے خلاف جماعت کے بزرگوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا اسی طرح سامنا کیا تھا۔ الزامات میں دستور اور شوریٰ کے فیصلوں کی بار بار خلاف کا الزام شامل تھا۔ مرکزی مجلس شوری نے الزامات کی تحقیق کے لیے کمیٹی قائم کی مگر محترم قاضی حسین احمد امارت سے استعفا دے کر نئے انتخاب کروا کر دوبارہ منتخب ہو گئے۔ یہ بنیادی سوال ہے کہ الزامات پر فیصلہ انکوائری رپورٹ پر مرکزی شوریٰ نے کرنا ہے یا نئے انتخابات میں رائے دہندگان نے کرنا ہے؟ ایک اخباری رپورٹ ہے کہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے بھی قاضی حسین احمد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک راجہ ظہیر نے پیش کی، مگر وہ ’’وردی اور سوٹے‘‘کی مدد سے واپس کروا دی گئی۔ 
بات ہو رہی تھی وردی تلے کابینہ میں بیٹھنے والوں میں سے جو اللہ کے حضور پہنچے ہوئے ہیں، ان کی تصویر یا لاشوں کو پھانسی دینے میں کچھ حرج نہیں ہوگا۔ کم از کم ان کی قبروں پر پھانسی کا نشان ہی نصب کر دیا جائے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ انصاف ہوتا نظر بھی آنا لازم ہے۔ اسی طرح ایسے سیاست دان جنہوں نے جرنیلوں کو آؤٹ آو ٹرن ترقیاں دے کر فوجی تسلط کی راہ ہموار کی، وہ بھی گردن زدنی ہیں۔ میرا منشا یہ ہے کہ آئین سے انحراف کی راہیں بنا کردینے کو بھی تعبیری انحراف اور وائیولیشن قرار دیے بغیر انصاف ہوتا نظر نہیں آئے گا۔اس طرح جسٹس منیر اور نسیم حسن شاہ پر آرٹیکل ۶ کی وائیولیشن کی فرد جرم عائد کرنا پڑے گی۔ جب تک اسی طرح کا دو ٹوک انصاف نہیں ہو گا، ہماری تاریخ کی سمت درست نہیں ہوگی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی صاحب کردار غیر مسلم، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چیف سیکریٹری ہوتا تو کیا ہمای تاریخ اسی رخ پر جاتی؟ اسی طرح جسٹس منیر کی جگہ کارنیلیس یا کوئی اور غیر مسلم جج ہوتا تو ہماری آئینی تاریخ مختلف نہ ہوتی؟ مسلم اور غیر مسلم کی بحث سے زیادہ اہمیت کردار کی ہے۔ فقہی اور اصولی مباحث کی کوئی حد اور موقع بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ بے موقع فقہی بحث عملی زندگی سے دوری اختیار کرنے والے علماے کرام کے لیے علمی تفریح تو ہو سکتی ہے مگر موقع کی نزاکت کا تقاضا کچھ اور ہی ہو گا۔ یہ کہنا بجا کہ اصولی طور پر اسلامی مملکت کا چیف جسٹس غیر مسلم نہیں ہو سکتا، مگر میری یہ آرزو ہے کہ ۱۹۵۵ء میں منیر کی جگہ، فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس کارنیلیس ہوتے۔ میرا منشا مسلمان کو گرانا نہیں۔ مسلمان کو گرانے کے لیے اس کے کرتوت ہی کافی ہیں، تاہم اچھے مسلمان ججوں کی مثالیں بھی ہماری عدلیہ میں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ مملکت خداد پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سر عبدالرشید کے وقار کا حلف دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس محمد رستم کیانی کا لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی کا دور بھلایا نہیں جا سکتا۔ مگر اس طرح کے لوگ تو گنے چنے ہیں۔ غیر مسلموں میں جتنے بھی ہوں گے، وہ اقلیت سے متعلق ہونے کی وجہ سے اپنے تشخص اور وقار کا تحفظ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ویسے بھی دور حاضر میں اعلیٰ منصبی روایات کا سرچشمہ تو بہر حال مغرب ہی ہے۔ کسی مسلم جج کے کم عیار ہونے کی مثال میرے علم میں نہیں، مگر بہت سے مسلمان ججوں کے کرتوت بھی دنیا جانتی ہے۔ ہماری تاریخ بھی بڑی عجیب ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے چیف جسٹس بننے سے انکار کر دیا اور حکمرانوں کے عتاب کا نشانہ بنے، مگر یہ ستم ظریفی بھی ہماری ہی تاریخ کا حصہ ہے کہ ان کے شاگرد اول امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے چیف جسٹس کا عہدہ قبول کر لیا۔ 
کردار کو چھوڑ کر ایمان اور عقیدے، مسلم اور غیر مسلم کی بحث، مجتہدین کا شغل بیکار اور تفریح بے لذت یا پر لذت تو ہو سکتی ہے، مگر یہ مباحث اپنی افادیت کے لحاظ سے قابل غور ہیں۔ ایمان و عمل جدا جدا نہیں ہو سکتے۔ یہ inseparable  ہیں۔ علما نے ان کو سخت اجتہادی کاوشوں سے الگ الگ کر کےseparable بنا یا ہے۔ مروان بن حکم کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک بدر فرمایا تھا۔ جب اہل علم سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مروان بن حکم کے کردار کے محاسن و معائب واضح فرمائیں تو علماے کرام ان کو عزیمت و رخصت کے درمیان کھڑا کر دیتے ہیں۔ جب یہ سوال کیا جائے کہ رخصت و عزیمت کے مابین کوئی حد فاصل بھی تو قائم کی جائے تو جواب ارشاد ہوتا ہے کہ یہ ہمت کی بات ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ گدھے اور گھوڑے میں فرق نہ کیا جائے۔ 
کیا ہمارے مسلمان جرنیلوں اور ججوں نے سیناریٹی کے خلاف اپنی تقرری کو کبھی ٹھکرایا؟ اس کی بھی ہماری عدالتی تاریخ میں صرف ایک مثال ہے اور وہ ڈاکٹر جاوید اقبال کی ہے۔ ان کے بارے میں صرف ایک حوالے سے میری منفی رائے مثبت ہو گئی۔ اپنی خود نوشت’’اپنا گریباں چاک‘‘ میں انہوں نے اس کی پوری تفصیل درج کی ہے۔ آج تک کسی نے اس کی تردید نہیں کی۔ مگر یہ اکلوتی مثال ہے۔ وگرنہ جسٹس اسلم ریاض جیسے لوگ چیف بن گئے اور وکلا برادری ان کو مجسٹریٹ درجہ سوئم کے طور پر یاد کرتی رہی۔ ککے زئی برادری کے ججوں کی کرپشن کی وجہ سے بوبا کمپنی مشہور ہوئی۔ پلاٹ کیس میں جسٹس ٹوانہ نے تمام ججوں کے کردار کو عیاں کر دیا ہے۔ جسٹس ٹوانہ نے پلاٹ کیس کی سماعت کے دوران ، پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ طلب کیا۔ ریکارڈ ملاحظہ کرتے ہوئے جب ریٹائرڈ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے پلاٹ والی فائل سامنے آئی تو اسے دیکھ کر ایک طرف رکھتے ہوئے طنز اور حسرت بھرے لہجے میں کہا، ’’یہ تو شاہ صاحب کی فائل ہے‘‘۔
جسٹس ٹوانہ کے ساتھ ان کے برادر ججوں نے کیا کیا؟ وہی جو پنجاب کے اعلیٰ ترین سیشن جج ملک کاظم علی کے ساتھ مجاہد ختم نبوت جناب نوید انور کی قیادت میں ، ہم نے کیا۔ ایک مرحلے پر ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ کسی دیگر ضلع میں سیشن جج تعینات کیے جائیں تو ان کا طرز عمل اتنا ہی معیاری ہو گا جتنا کہ گوجرانوالہ میں تعیناتی کے دوران رہا، تو ان کا بر جستہ جواب تھا: کبھی نہیں۔ وہ دیانت داری کے معیار کو قائم رکھنے کی روش پر مایوس ہو گئے ہیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے نوید انور نوید اور اس کے ساتھیوں سے کوئی شکایت نہیں، مگر جماعت کے ارکان وکلا، جو بار کونسل تک میں موجود اور موثر ہیں، ان کے بارے میں مجھے ہمیشہ گلہ رہے گا کہ وہ مشنری ہونے کے دعوے دار ہیں، انہوں نے آزمائش کے اس دور میں نوید انور نوید کا ساتھ کیوں دیا۔
جسٹس کار نیلیس کا چند سالہ دور ایک طرف، پاکستان کی پوری عدالتی تاریخ دوسری طرف رکھ دی جائے تو کارنیلیس کا پلڑا بھاری رہے گا۔ مولانا تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ کے شریعت کورٹ کے فیصلوں کو میں نے دیکھا ہے۔ وہ سب ایک طرف اور کار نیلیس کا کنٹری بیوشن دوسری طرف۔ ان دونوں میں معیار کے لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ مسلمانوں کو اسلامی قانون و شریعت کی تعبیر و تشریح کی اجارہ داری کا استحقاق جتلانا بجا مگر محض اس کے لیے کسی صلاحیت کا بھی کوئی معیار لازم ہے یا نہیں؟ کلمہ حق میں کبھی علما ججوں کی تعبیری کجیوں پر بھی بات ہونی چاہیے۔ 
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں دو نام ایسے سیاہ ہوئے ہیں کہ ہماری برادری اورپروفیشن ان کو مرفوع الذکر خیال کرتے ہیں۔ پہلا نام تو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ دوسرا نام سید جسٹس نسیم حسن شاہ کا ہے۔ انہوں نے حاکم خان کیس میں فیصلہ کر کے بقول دوسرے آئینی ارتداد کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے دستور پاکستان کے بنیادی اصولوں (قرار داد مقاصد، آرٹیکل 2-A ) کو زیرو کر دیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کو اس کا اختیار تھا، جیسے تخلیق آدم کے وقت سے آدم و ابلیس کو نیکی و فساد کا اختیار دیا گیا۔ اختیار کا بے جا اور غلط استعمال ہے جس سے عزت و ذلت، فرازی و رسوائی نصیب ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مولوی تمیز الدیں کیس میں جسٹس منیر کے ایک فیصلے سے ہماری سیاسی تاریخ بر باد ہو کر رہ گئی ہے۔ کلمہ حق میں جسٹس منیر کے فیصلے کا ذکر ہے، مگر امیر شریعہ جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کو علم ہونا چاہیے کہ مولوی تمیز الدین کیس میں فیصلہ دینے والا فل بنچ تھا۔ بنچ کے دیگر ارکان کی سیناریٹی کے لحاظ سے تشکیل اس طرح تھی: 
محمد منیر، چیف جسٹس
اے ایس ایم اکرم
اے آر کار نیلیس
محمد شریف 
ایس اے رحمان۔
اس بنچ میں چیف جسٹس سمیت تمام جج مسلمان تھے۔ ایک ہی جج، اے آر کار نیلیس غیر مسلم تھے۔ یہ اعزاز مسلم چیف جسٹس کو ہی حاصل ہوا کہ آئین کی عمارت منہدم کر دینے والا فیصلہ صادر کرے۔ تمام مسلمان ججوں نے چیف کے لکھے فیصلے کی تائید کی۔ اختلافی فیصلہ واحد غیر مسلم جج کو نصیب ہوا۔ کار نیلیس کے اختلافی فیصلے کی شروعات کو ایک غیر مسلم کے کلمہ ناحق کے طور پر ہی ملاحظہ فرما لیں۔فیصلہ کی رپورٹ پی ایل ڈی ۱۹۵۵ء فیڈرل کورٹ ۲۴۰ بر صفحہ نمبر ۳۱۹ پر موجود ہے۔
It is proper that, realizing the grave issues which are involved in this case, I should commence with an expression of my sincere regret at being unable to agree with the view on one part of the case, which has commended itself to my Lord the Chief Justice and my learned brothers, in consequence of which the appeal has been allowed. It will be my principle concern in this judgement to indicate with such clarity and brevity as may be possible to me, the reasons which compelled me to come to a different conclusion. The resolution of a question affecting the interpretation of important provisions of the interim constitution of Pakistan in relation to very high matters which are involved, entails a responsibility going directly to oath of office which the constitution requires of a Judge, namely to bear true faith and allegiance to the constitution of Pakistan of as by law established and faithfully to perform the duties of the office to the best of the incumbent's ability, knowledge and judgment."
چیف جسٹس منیر کا فیصلہ صفحہ نمبر ۲۴۰ سے شروع ہو کر ۹ا۳ کے نصف پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ ۸۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ جسٹس کار نیلیس کا اختلاف صفحہ ۳۱۹ سے صفحہ ۳۷۲ تک پھیلا ہوا ہے۔ کار نیلیس کا اختلافی فیصلہ ۵۳ صفحات کا ہے، جب کہ دیگر مسلمان ججوں نے چیف سے اتفاق کیا ہے۔ سب سے زیادہ مختصر اتفاق جسٹس محمد شریف کا ہے ۔ اس تقدس مآب اتفاق کے الفاظ یہاں درج کر دینا چاہتا ہوں۔ یہ الفاظ بھی آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں:
Muhammad Sharif, J -- I agree with my Lord the Chief Justice.
اس طرح فل بنچ کا یہ فیصلہ چیف کا لکھا ہوا، چار اور ایک کی اکثریت سے کیس طے کیا گیا بلکہ تہ کر دیا گیا۔ جسٹس منیر کا نام پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کے ماتھے کے سیاہ داغ کے طور پر ریکارڈ ہو چکا ہے۔ اس سے اتفاق کرنے والے کا ذکر میں نے کر دیا ہے۔ تاریخ سے بڑا منصف کون ہے؟ فیڈرل کورٹ کا یہ فیصلہ سندھ چیف کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل میں کیا گیا۔ سندھ چیف کورٹ میں مولوی تمیزالدین خان نے رٹ دائر کی تھی۔ مولوی تمیزالدین خان ۲۴ اکتوبر ۱۹۵۴ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے سپیکر تھے۔ گورنر جنرل نے اسمبلی توڑنے کا اعلان جاری فرمایا۔ اس اعلان کو مولوی صاحب نے سندھ چیف کورٹ میں کالعدم قرار دلوانے کے لیے رٹ درخواست پیش کی۔ رٹ دائر کرنے کے لیے مولوی تمیز الدین رکشے میں برقعہ پہن کر عدالت میں گئے۔ یہ رٹ درخواست فل بنچ نے سماعت کے بعد منظور کی۔ بنچ میں درج ذیل جج شامل تھے:
کونسٹینٹائن، چیف جسٹس
ویلانی،
محمد باچل 
محمد بخش جج ۔
شعبہ قانون سے متعلقین جانتے ہیں کہ کسی بھی بنچ میں عام طور پر چیف جسٹس کی موجودگی بڑی اہم ہوتی ہے۔ چیف کا ذہن ہی غالب آتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ چیف سے ہٹ کر باقی جج کوئی فیصلہ کریں۔ سندھ چیف کورٹ کے چیف جسٹس غیر مسلم تھے۔ ان کے ساتھ ایک اور سینئر جج بھی غیر مسلم تھے ۔ اس طرح سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ متفقہ تھا۔ کورٹ نے مولوی تمیزالدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے گورنر جنرل کے دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا حکم غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا۔ سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کے آخری الفاظ تبرک کے طور پر درج کرتا ہوں، البتہ یہ ایک فقہی مسئلہ ہو گا کہ ایک غیر مسلم چیف جسٹس کے الفاظ، خواہ وہ کتنے ہی صائب ہوں، تبرک قرار دیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ بہر حال میں ان کے انگریزی الفاظ بطور تاریخ کی امانت کے یہاں نقل کرنا اپنے لیے اعزاز خیال کرتا ہوں:
''In view of all these reasons, I allow the petition. A writ of mandamus as prayed will be issued against all the respondents. The appointment of respondents 4-5-7-8 and 10 being illegal, a writ of quo warrant will be issued against them. I further direct that the respondents do bear the petitions costs.''
کارنیلیس کا چیف جسٹس منیر سے اختلافی نوٹ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ کارنیلیس عیسائی ہوتے ہوئے پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ہاں محبوب ومحمود ہیں۔ اہل مدرسہ اور ارباب شریعہ کچھ ہی کہتے رہیں، مجھے تو کارنیلیس کے لیے حدی خوانی بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کروں گا۔رہا کارنیلیس کے لیے مغفرت کی دعا کا سوال تو میرے دل سے دعا تو نکلتی رہے گی۔ اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں مجھے کچھ کہنے کا منصب حاصل نہیں۔ اس کے بر عکس جسٹس منیر کے مسلمان کے ہونے کے باوجود اس پر سہ حرف بھیجتا رہوں گا۔ منیر کے نام کے ساتھ لفظ جسٹس لکھنا میرے نزدیک اس لفظ کی توہین ہے۔ کارنیلیس کا یہ فیصلہ ’’افضل الجہاد کلمۃ حق‘‘ کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کی روایت کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے صدر مشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ویمن پروٹیکشن ایکٹ کی حمایت پر مستعفی شدہ رکن جناب محترم جاوید غامدی صاحب نے صدر جناب سید مشرف کے سامنے سکوت اختیار کیا۔ یہ سکوت ’’تفقہ کی معراج ‘‘ہو سکتا ہے۔ تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ کے فیصلوں کو میں دیکھا ہے۔ ان کے تمام فیصلوں پر کار نیلیس کی سڈنی کانفرنس کی ایک تقریر بھاری ہے۔ میں کار نیلیس کے فیصلوں کا ’’ڈائجسٹ ‘‘تیار کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔
میں دوبارہ کہہ دوں تو کچھ مضائقہ نظر نہیں آتا کہ کیا ہم اپنی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے پر اجارہ چاہتے ہیں؟ ویسے دیکھا جائے تو اسلامی مملکت میں اعلیٰ عدالتی منصب پر پہنچ کر کسی غیر مسلم نے شاید ہی کبھی تعبیر و تشریح کی ڈنڈی ماری ہو۔ یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ غیر مسلموں نے اسلامی مملکت کے بڑے مناصب پر زبر دست خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں بات کردار، وفاداری، کنوکشن اور کنٹری بیوشن کی ہے۔ جسٹس کارنیلیس کے درجن سے زاید فیصلے اجتہادی درجے کے ہیں۔ تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ کے فیصلوں میں اجتہادی روح بے جان سی نظر آتی ہے۔ اتنی بے جان کہ کار نیلیس کے سامنے طفل مکتب کی سی بات ہو۔ میرے نقطہ نظر سے اس پہلو سے فنی اہلیت کو اہمیت دینے میں ہماری جانب سے بخل اور تعصب ہو رہا ہے۔ یقینی طور پر میری یہ رائے طالب علمانہ درجے میں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کلمہ حق میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ کلمہ حق ہی ہو گا مگر صورت حال کے تناظر میں بے موقع اور بے جوڑ ہے۔
عملی دانش کی مثال کے طور پر ایک کیس کا حوالہ بر موقع ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس محمد افضل ظلہ رہے ہیں۔ ان کی قانونی مہارت، نظریاتی یکسوئی، دیانت و امانت، غرض کچھ بھی متنازعہ نہیں۔ شہرت بھی بہت اچھی رہی۔ نظام احمد کیس میں انہوں نے ایک صدی کے عدالتی فیصلوں کو ٹریس کرتے ہوئے، الہٰ آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمود کے ایک دیرینہ فیصلے پر انحصار کیا اور ’’تکمیل خلا کا اصول‘‘ اختیار کیا۔ انہوں نے اس اصول کا اطلاق کرتے ہوئے یہ قرار دیا کہ جن امور میں قانون موجود نہیں، ان میں شریعت موثر و نافذ ہے۔ میرے نزدیک یہ بہت بڑا اجتہادی فیصلہ ہے۔ ہماری عدالتی تاریخ کا یہ سب سے پہلا بڑا اجتہادی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر حاکم خان کیس میں، جناب ظلہ صاحب نے خود کو بنچ سے باہر رکھ کر کمزوری کا اظہار کیا اور ایک سید زادے کی سربراہی میں بنچ تشکیل دے کر آئینی ارتداد کی راہ ہموار کر دی، حالانکہ کیس کی آئینی اہمیت کے پیش نظر چیف جسٹس خود کو باہر رکھ کر بنچ تشکیل نہیں دے سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دستور پر قرار داد مقاصد میں درج اصولوں کی بالا دستی کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ قرار داد مقاصد کے دستور پر بالا دست دستاویز کی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان کو دار الاسلام تسلیم کرنے میں تحفظات کا جواز ہے، مگر کسی کو اس کی پروا نہیں۔
میرا منشا یہ ہے کہ اس صورت حال میں مسلم اور غیر مسلم کی بحث غلط ہے، موقع کی نزاکت کے خلاف ہے۔ یہاں شریعت کورٹ کے کیسوں پر اپیل کا سوال بھی نہیں۔ اصل میں عدلیہ کا وجود، آزادی اور خود مختاری خطرے میں ہے۔ اس موقعہ پر قائم مقامی کے حوالے سے اسلامی مملکت میں چیف کے تقرر کا سوال بے وقت کی راگنی ہے۔ آپ میرے نقطہ نظر کو کلمہ حق پر کلمہ نا حق کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ سوال بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں عشروں سے بیٹھے ہوئے مجتہدین اسلام، آج یہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ کیا اس پہلو سے انہوں نے کبھی دستور میں کوئی ترمیم پیش کی؟ تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی لگوانی بڑی اچھی بات ہے۔ میں اسے ایم ایم اے اور موجودہ حکومت کا کارنامہ خیال کروں گا۔ یہ اجتہادی بصیرت و بصارت کی معراج ہے، مگر فکر میں جامعیت، بے لاگ اصولیت اور تواتر لازم ہیں۔ کیا اس تکرار منصبی کا اطلاق ہر پہلو پر ہو گا؟ ۱۹۸۵ء اور اس سے بھی پہلے سے سینیٹ میں بیٹھے ہوئے مجتہدین کیا اس مسئلے پر کسی معاملے میں خود پر اطلاق کریں گے؟
اس مرحلے میں ڈاکٹر حمید اللہ کے ایک اور حوالے پر انحصار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خطبات بہاولپور کے صفحہ نمبر ۱۱۶ پر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام میں کسی معین طرز حکومت کو لازم قرار نہیں دیا گیا بلکہ عدل و انصاف کو لازم قرار دیا گیا ہے، چاہے اس کو کوئی بھی انجام دے۔ اگر آج حضرت ابو بکر، حضرت عمر یا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم زندہ ہوں تو میں بخوشی انہیں سارے آمرانہ اختیارات سونپنے کے لیے آمادہ ہوں، کیونکہ مجھے ان کی خدا ترسی پر پورا اعتماد ہے۔ اس کے برخلاف اگر آج یزید زندہ ہو تو میں اس کو انگلستان کے مہر لگانے والے بادشاہ کے برابر بھی اپنا حکمران بنانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ کیریکٹر کی اہمیت کو الگ رکھ کر محض فنی مباحث علمی تفریح تو ہو سکتی ہے مگر دین سے اس کا کوئی تعلق جوڑنا دور کی کوڑی لانے والی بات ہے۔ میں اسے نہیں جانتا، نہ ہی مانتاہوں۔ سر حقتل سے حبیب جالب مرحوم، 
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو 
میں نہیں جانتامیں نہیں مانتا
اوپر جسٹس کار نیلیس کا حوالہ آ گیا ہے تو ذکر کر تا چلوں کہ وہ پاکستان کے چیف جسٹس رہے مگر ان کی پورے ملک میں کوئی جائداد نہیں تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یحییٰ خان کے دور میں وفاقی وزیر قانون بھی رہے مگر پھر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے ایک کمرے میں زندگی گزاری۔ فروری ۱۹۶۸ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ کافی طویل العمر ہوئے۔ یکم مئی ۱۹۰۳ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ۲۱ دسمبر ۱۹۹۱ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ آخری ایام میں علالت کی خبریں باہر آئیں تو ان کے اونچے کردار کے حوالے سے وکلا برادری میں محض ان کی قدر دانی کے طور پر یہ مطالبہ ہونے لگا کہ کم از کم ایسے شخص کے بیماری کے اس مرحلہ میں علاج ہی حکومت کو کرانا چاہیے۔ چنانچہ حکومتی ذمہ داروں نے وکلا طبقے کے اس مطالبے کے پیش نظر جسٹس کارنیلیس کو سرکاری طور پر علاج کی پیش کش کی تو انہوں نے کہا کہ پنشن میں جس قدر علاج کرانا ممکن ہے، وہ کرا رہے ہیں۔ اس سے زاید کے وہ مکلف ہیں اور نہ ہی خواہش مند۔ قومی خزانے سے علاج پر خرچ کروانے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ اس طرح کی عزیمت کوئی کہاں سے لائے گا؟ یہاں پلاٹ کیس میں کون سا جج ہے جس نے بہتی گنگا سے ہاتھ نہیں دھوئے؟ جسٹس عبد المجید ٹوانہ کا فیصلہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یقینی طور پر جسٹس ٹوانہ جیسا جج کوئی دوسرا نہیں ہو گا۔ ہماری عدلیہ میں ذرا یہ بھی بتائیے کہ جسٹس ٹوانہ کے ساتھ اس کے ہم نشین ججوں نے کیا کیا؟
بات طویل ہو رہی ہے۔ میں نے اپنے چھتیس سالہ وکالت کے کیریر میں بیسیوں سیشن ججوں کو دیکھا ہے، مگر میں انتہائی دکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ ان میں سے اچھی شہرت کے پانچ سات ہی جج دیکھے ہیں۔ وہ سب کے سب ہمارے ہاں کی دستوری اقلیت سے متعلق تھے۔ البتہ ایک مسلمان سیشن جج دیکھا ہے جو ایک استثنا ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس جیسا جامع الصفات سیشن جج پنجاب کی سر زمین نے نہیں دیکھا ہو گا۔ مگر اس کو بھی کبھی مرزائی قرار دیا گیا اور کبھی شیعہ۔ اس کو اپنے تئیں رسوا کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے ہمارے دوست انٹی قادیانی تحریک اور تحریک مسجد نور کے ایک سرخیل تھے۔ وہ اب شہر کے بڑے قبرستان میں آسودۂ خواب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرے۔ ملک کاظم علی ان دنوں کہا کرتے تھے کہ مجھے نوید انور نوید سے کوئی گلہ نہیں، مگر اسلامی جمعیت وکلا کے ان دوستوں سے گلہ ہے جو حق و صداقت کا پرچم لہرائے رکھتے ہیں مگر اس موقعہ پر بار کے ساتھ یکجہتی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ اس موقع پر ہماری بار کے جملہ راست ذہن سینئیرز، دل سے ملک کاظم علی سے اندرون کھاتہ ہمدردی کا اظہار کرتے تھے مگر حالات کے جبر کے سامنے بے بس تھے۔ میں ان کے نام ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ ان میں جناب چوہدری محمود بشیر، ملک عبدالباسط شامل تھے۔
اس گفتگو سے میرا منشا یہ نہیں کہ جسٹس کارنیلیس کو میں مسلمان کہہ رہا ہوں یا مسلمان قرار دے رہا ہوں۔ میرے اختیار میں ہوتا تو میں مسلمان کو کافر بنانے کا فریضہ انجام دے کر اپنی نجات کو یقینی بنا لیتا۔ جسٹس کارنیلیس سے اکثر سوال کیا جاتا تھا کہ وہ اسلامی حدود اور اسلامی اقدار کو اس قدر مستحسن جانتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے؟ وہ جواب میں کہا کرتے تھے کہ وہ آئینی مسلمان ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں حلف اٹھانے کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ یہ ایک الگ موضوع ہے۔
حدود اللہ کے تحفظ کا مسئلہ کھڑا کرنے والوں نے بھی دستور کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ کیا ان کا حلف کارنیلیس کے حلف کے برابر ہو سکتا ہے؟ جسٹس کا لفظ کارنیلیس کا سابقہ ہو گیا ہے۔ وہ جسٹس کی علامت بن گئے ہیں۔ وہ سرا پا جسٹس تھے۔ رہا اجر اور بخشش کا سوال تو یہ عقیدے کے مسائل ہیں۔ ان کے ساتھ کردار کی بلندی ہو تو کیا بات ہے۔ کردار کی بات ہو تو عقیدے اور مسلک کو بیچ میں لانے سے کمزور کرداروں کو تقویت دینا بھی اچھی تفریح ہو سکتی ہے۔ یہ علمی اشغال ہیں۔ اس درجے اور میدان کے لوگوں کی دانست کی بات ہے۔ میں ایسے پہلوؤں پر کچھ کہنے کا مجاز ہی نہیں ہوں۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
لندن، ۷ اپریل ۲۰۰۷ء 
محترم مولیٰنا راشدی دام لطفہ، 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
پچھلے چار مہینے ہندوستان میں گزرے۔ گزشتہ ہفتے واپسی ہوئی تو یہاں مارچ کا الشریعہ دیکھا۔ ’’اسلام کے نام پر انتہا پسندی‘‘کا جو قصہ ’’ کلمۂ حق ‘‘میں رقم کیا گیا ہے، اس سے بہ صد رنج تصدیق ہوئی کہ روزنامہ جنگ وغیرہ سے جو صورت اور نوعیت اس قصہ کی سامنے آر ہی ہے، وہ ٹھیک ہی ہے۔مگر معاملہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اور اس کے بارے میں آپ کا جو شدید احساس و اضطراب تحریر میں نمایاں ہے، اس کو دیکھتے ہوئے’’ کلمۂ حق‘‘ کا حق ادا ہوتا نظر نہیں آیا۔ یہ اگر واقعۃً ’’افسوسناک انتہا پسندی‘‘ ہے تو پھر صرف ’’افسوسناک‘‘ کہہ کے چھوڑ دینے سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے قلم انتہا پسندی کے دباؤ میں آیا ہواہے اور پورے اظہارِحق کا یارا نہیں ہورہا۔ کیا اسے مایوس کن علامت کہنے کی اجازت دیں گے؟ اگر ’الشریعہ‘ اور شریعہ کونسل کا سکریٹری جنرل بھی صاف یہ نہ کہے گا کہ یہ شریعت کے نام پراٹھائے جانے والا قدم شرعی ہے یاغیر شرعی، توپھر اور کون اپنے ذمہ اس اظہارِ حق کا حق سمجھے گا؟
آپ نے وفاق المدارس کی پوری قیادت کے اسلام آباد آنے اور بھر پور کوشش کے بعد ناکام لوٹ جانے کا بھی ذکر فرمایا ہے جس کا مطلب یہ کہ اس قیادتِ علیا نے اپنے لئے بے بسی کی حیثیت کو قبول کرلیا۔ یہ اور زیادہ اضطراب انگیز بات ہے۔ آخر یہ لا ل مسجد کے خطیب کون بزرگ ہیں جو شریعت کی بابت اپنے فہم کے مقابلہ میں کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں؟ مگر وہ شاید زیادہ قابلِ الزام نہ ہوں اس لئے کہ ان کا جومطالبہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذکاہے، اس سے بقول آپ کے ’’ ملک بھر کے دینی حلقوں نے اصولی طور پر اتفاق کا اظہار کیا ہے۔‘‘ اس اصولی اتفاق کی سند ملنے کے بعد وہ اگر سمجھیں کہ وہ جو کر رہے ہیں، ٹھیک ہی کر رہے ہیں، تو کچھ ز یادہ دوش انھیں کیوں کر دیا جاسکتا ہے ؟ مولانا، کیا واقعی آپ بھی سمجھتے ہیں کہ جس سیاق و سباق میں یہ مطالبہ کیا جارہا تھا، اُس سیاق و سباق میں بھی اسے اصولی اتفاق کی سند مل جانی چاہئے تھی؟ سیاق و سباق سے میرا مطلب، حکومت کے خلاف غصہ میں بچوں کی ایک لائبریری پر قبضہ (جسے پتہ نہیں کون سی اسلامی شریعت جائز رکھتی ہے؟) اور اس قبضہ سے دستبرداری کے لئے مطالبہ کہ اسلامی نظامِ شریعت کا نافذ کیا جائے، جیساکہ آپ کی تحریر بتا رہی ہے۔ایک غیر اسلامی فعل سے باز آنے کے لئے رکھی گئی اسلامی نظام نافذ کئے جا نے کی شرط کو بھی اگر ملک بھر کے دینی حلقے ’’اصولی طورپر ‘‘اتفاق کی حقدار مان سکتے ہیں توپھر لال مسجد کے خطیب صاحب کا شکوہ عبث ہے۔ ’’اسلامی نظام‘‘ کے آوازہ کا ایسا ماحول لوگوں نے پاکستان میں بنادیا ہے کہ صحیح یا غلط جس اندازسے بھی یہ آواز کوئی اٹھادے نمائندگانِ دین کو صحیح اور بجا کہتے ہی بنتی ہے۔
من ازبیگانگاں ہر گز نہ نالم
کہ بامن آنچہ کرد آں آشنا کرد 
اس بے تکلفی اور گستاخی کی معافی۔ مارچ کے شمارے میں آپ کے یہاں کی تازہ مطبوعات میں ’’ایک علمی و فکری مکالمہ‘‘ کا اشتہار ہے۔کیا میں اس سے مستفید ہو سکتا ہوں؟ 
والسلام
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی 
(۲)
لندن ۹ ۔اپریل ۲۰۰۷ء
بخدمتِ محترم مولیٰنا سمیع الحق صاحب زید مجدہم ۔جامعہ حقانیہ ۔اکوڑہ خٹک ۔پاکستان
مولانائے محترم،السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
خداکرے مزاج بعافیت ہو۔میں گزشتہ ہفتہ تک کئی ماہ سے انڈیا میں تھا۔ یہاں آتے ہی لال مسجد کی کہانی جنگ سے معلوم ہونا شروع ہوئی ۔جس کی تصدیق کی ضرورت تھی تو وہ ،بصد رنج، مولانا زاہدالراشدی کے الشریعہ سے حاصل ہوگئی۔ کل اس پر ایک عریضہ مولانا راشدی کو ای میل کیاہے۔ الشریعہ میں وفاق المدارس کی اعلیٰ قیادت کے اسلام آباد جانے کا بھی ذکر تھا اور اسمائے گرامی میں حقانیہ کے دوبزرگوں کا بھی نام نظر آرہا تھا۔اس حوالہ سے خیال ہو رہا تھا کہ وہ ای میل کیوں نہ آپ کی سمت بھی بڑھادیا جائے۔ابھی فیصلہ نہ کرپایا تھا کہ آج کے جنگ میں مولاناسلیم اللہ خاں صاحب مد ظلہٗ کا بیان پڑھا جس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وفد کے شرکا میں مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مولوی عبد العزیز صاحب کے شیخ بھی ہوتے تھے۔ پر وہ محترم اس رشتہ کا لحاظ و پاس دکھانے کو بھی تیار نہ ہوئے۔یہ پڑھ کر ضروری معلوم ہوا کہ اپناعریضہ بلا تأخیر آپ حضرات کی خدمت میں پیش کروں۔اس اضافہ کے ساتھ کہ امام لال مسجد کے اس رویہ کے بعد تومحض اتنا بیان بھی، جو مولانا سلیم اللہ خاں صاحب کے نام سے آیا ہے، کافی نہیں سمجھاجانا چاہئے ۔ اس کے بعد تو آپ حضرات کی پوری قیادت کی طرف سے ان صاحب کا بالکل واضح الفاظ میں ’’برادری باہر‘‘((Ex-communicate کیا جانا چاہئے۔ورنہ ان کے خودسرانہ رویّہ کے ان اثرات سے بچاؤ ممکن نہیں ہوگا جن اثرات کا اشارہ مولانا سلیم اللہ خاں صاحب نے دیا ہے۔ 
والسلام 
عتیق
(۳)
محترم ومکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض گزارش یہ کہ بندہ اپنے مقام پر بخیر عافیت ہے، اور امید ہے کہ حضرت والا بھی خیرو عافیت سے ہوں گے۔ میں تقریباً ڈیڑھ سال سے مجلہ ’’الشریعہ ‘‘ کا پابندی سے مطالعہ کررہاہوں۔ واقعتا آپ فارسی کی اس کہاوت کے مصداق ہیں جس میں کہاگیاہے :’’ پسر نمونہ پدراست‘‘۔ ......
ویسے تو میرے پاس ہندو پاک کے علاوہ سعودیہ ،کویت وغیرہ سے بھی بے شمار رسائل اردو ، عربی انگریزی وگجراتی میں موصول ہوتے ہیں، مگر ان تمام میں سب سے زیادہ دلچسپ ومعلومات افزا بندہ کو ’’الشریعہ ‘ ’لگا۔ ’’الشریعہ‘‘ کا ہر ماہ بڑی شدت سے انتظارہوتاہے، مگر مجھے بہت دیر سے ملتاہے۔ کبھی بے تاب ہوجاتاہوں تو وقت نکال پر انٹر نیٹ پر بیٹھ جاتاہوں او ر alsharia.org پر جاکر اہم مضامین کا مطالعہ کرلیتاہوں۔ .....
آج بتاریخ ۲۹؍ جمادی الاخریٰ ۴۴۷ا ھ بروز چہار شنبہ بعد صلوٰۃ ظہر کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا تاکہ باوجود اپنی کم علمی مائیگی کے اعتراف کہ’’الشریعہ‘‘ کے بارے میں اولاً کچھ گزارشات وآرا تحریر کروں اور ثانیاً برصغیر میں موجود امت مسلمہ علما وعوام کو درپیش فکری وفقہی وعلمی مسائل کے بارے میں چند تجاویز پیش کروں ۔......
(الف )’’الشریعہ ‘‘کے سلسلے میں چند تجاویز:
(۱) الشریعہ ایک علمی معیاری رسالہ ہے مگر ضروری نہیں کہ ا س کے قارئین علما ومحققین ہی ہوں بلکہ طلبا اور عوام بھی ضرور اس کو پڑھتے ہوں گے، لہٰذا ہر مضمون نگار کا مختصر تعارف او ر کس مکتبہ فکر سے اس کا تعلق ہے، مضمون کے شروع ہی میں دے دیا جائے تاکہ طلبا وعوام یا جدید تعلیم یافتہ کا وہ طبقہ جو ’’دینی اور اسلامی علوم‘‘ میں پختگی نہیں رکھتے، متاثر نہ ہونے پاوے، اس لیے کہ جس طرح لان یھدی اللہ بک رجلا خیر لک من حمر النعمجہاں ذکر کیاگیا، وہاں یہ بھی کہا ’’ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ‘‘ ....
(۲) الشریعہ میں خطوط تو ماشاء اللہ آزاد انہ شائع ہوتے رہے ہیں، چاہے مرسلِ نے تنقید کی ہو یا تحسین ،مگر کچھ خطوط جواب طلب ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے جوابات بھی شامل اشاعت ہونے چاہییں۔
(۳) علما نے محققانہ انداز میں انگریزی ماہ کے اسما کو شرکیہ قراردیاہے لہٰذا یا تو انگریزی مہینوں کے نام سرے سے نہ ہوں اور اگر ہوں تب بھی ضمناً سرِ ورق پر اسلامی مہینوں ہی کے نام ہونے چاہیے۔ ہم ایک مجلہ اپنے ادارے سے شائع کرتے ہیں، اس میں صرف اسلامی مہینوں کے نام پر اکتفا کرتے ہیں۔یہ چند تجاویز جو ذہن میں گردش کررہی تھی، اس کو ’’الدین النصیحۃ‘‘ کے پیش نظر صفحہ قرطاس پر بکھیر دی گئی امید ہے کہ توجہ فرمائیں گے ۔
(ب) برصغیر میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل :
(۱) مسلمان کے لیے اس کا دین سب سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دور حاضر میں دشمنان اسلام نے اسلام کے مقابلہ میں ’’الغزو السلاحی‘‘ میں شکست کھانے کے بعد ’’الغزو الفکری ‘‘ کا آغاز کیا جس میں وہ بڑی حد تک اپنے آپ کو کامیاب سمجھ رہاہے۔ اس کے لیے اس نے اسلامی ممالک میں کہیں بعث پارٹی ،کہیں ’’القومیۃ العربیۃ‘‘ وغیرہ کوقائم کیا۔ برصغیر میں بھی جب اس نے دیکھا کہ شاہ عبد العزیز صاحب کے فتواے جہاد کی وجہ سے مسلمانوں میں جہاد کی روح بیدار ہوچکی ہے اور پھر ۱۸۵۷ء تک تو اس نے جہا دکی ایک منظم صورت اختیار کرلی ہے، تب ہی اس کو اپنی شکست کے آثار محسوس ہونے لگے تھے، لہٰذا اس نے کچھ مسلمانوں کو اپنے اعتماد میں لے کر اسلام متصادم عقائد کی دعوت کے لیے کھڑا کیا۔ کسی کو دولت کی لالچ دے کر، کسی کو بڑے بڑے القاب دے کر کھڑا کیا اور یوں بے شمار باطل فرقے کھڑے کرنے میں کامیاب ہوا، مثلاً نیچر یت، قادیانیت، بریلویت، غیر مقلدیت، پرویزیت۔ اس کے لیے اس نے برصغیر میں انگریز ی اور عصری علوم کے کالجز بنائے۔ مسلمان طلبا اس میں گئے جبکہ ان کے پاس دین کا ذرا برابر بھی شعور نہ تھا۔ نتیجتاً وہ انہی کے رنگ میں رنگ گئے اور الحاد اور زندقہ کا بازار گرم ہوگیا او ردیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کا کافی بڑا طبقہ صحیح اسلامی فکرو عقائد سے محروم ہوگیا۔ لہٰذا آپ کی نگرانی میں مرتب ومہذب سلسلہ وار ایک ایسا مضمون شائع ہو جس میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں عقائد اہل سنت والجماعت اعتدال کے ساتھ شامل ہوں اور انداز مثبت ہو۔
(۲) اسی طرح ایک ایسا مضمون شائع ہو جس میں عقائد سے متعلق مروجہ باطل نظریات کی تردید ہو،مثلاً نظریہ ارتقا کا بطال، نظریہ وحدۃ ادیان کا ابطال، نظریہ انکار حدیث کا ابطال ، نظریہ تجدد دین کا صحیح مفہوم اور اس کی حدود اور اس سے متعلق منفی پہلو وں کے نقصانا ت، الحاد کے اسباب ومضمرات اور اس کا ابطال، استعمار اور عالمگیریت کے منفی پہلو کا اثبات، مغربیت پسندی کا ابطال وغیرہ وغیرہ۔
(۳) برصغیر کے مدارس کے طلبا وعلما کے لیے ’’الغزو الفکری‘‘ کا مکمل تعارف، اس کا تاریخی پس منظر اور اس کی صحیح ترتیب مثلاً الغزو الفکری عہد نبوی صلی اللہ علیہ السلام میں، الغزو الفکری بصورت ارتداد عہد صدیقی میں، الغزو الفکری عہد فارقی میں، الغزو الفکری بصورت خوارج عہد عثمانی میں، الغزو الفکری بصورت روافض وخوارج عہد مرتضوی میں، الغزو الفکری عہد بنو امیہ میں بصورت قدریہ وجبریہ وغیرہ، الغزو الفکری عہد بنی عباس میں بصورت اعتزال، الغزو الفکری عہد عثمانیہ میں بصورت تنصیر (یعنی نصرانی بنانے کی سازش ) اور بصورت تغریب وقومیت عربیہ وترکیہ اور استشراق، الغزو الفکری دو ر حاضر میں بعد سقوط خلافت اسلامیہ بصورت الکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور بصورت تجدد اور اباحیت پسندی اور قیام فرق باطلہ اور بصورت انٹر نیٹ وکثرت فلم سازی وغیرہ ۔
(۴) اسی طرح برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اردو زبان میں ’’نوازل فقہیہ معاصرہ ‘‘ یعنی جدید مسائل کو ایک عمدہ ترتیب کے ساتھ یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو عوام الناس کے لیے جس میں صرف جائز وناجائز بغیر دلیل بتایا جائے۔ ایک علما کے لیے دلائل کے ساتھ۔ سرزمین عر ب پر اس سلسلہ میں کافی کام ہو چکاہے، مگر برصغیر میں ابھی کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ اس کے لیے اولاً پیش آمدہ مسائل کو جمع کرکیاجائے، مثلاً طہارت ،صلوٰۃ، زکوٰۃ ،حج ،قربانی، نکاح، معاملات وغیرہ ابواب قائم کیے جائیں اور پھر پوری گہرائی سے اس کا مطالعہ کیاجائے یاپھر اس کے جوابات تیار کیے جائیں اورمعتبر فقہا کی طرف اس سلسلے میں رجوع کیاجائے ۔.....
(مولانا) محمد حذیفہ وستانوی
Madrasa Isha'atul Uloom, Akkalkuwa
Distt. Nandurbar (M.S) INDIA
(۴)
جناب زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم! امید ہے بخیریت ہوں گے۔
’الشریعہ‘ کا فروری کا شمارہ ملا۔ یقیناًبہت سے موضوعات دلچسپی اور علم میں اضافے کا موجب ہوتے ہیں، لیکن ایک ایسا جریدہ جو مذہبی خیالات کا حامل ہو، اس میں یکایک پیپلز پارٹی کے متعلق (بلکہ اس کے خلاف) مواد شامل کر دیا جائے تو کوئی بھی شخص یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرے گا کہ ایجنسیاں گویا ’الشریعہ‘ میں بھی آ ٹپکی ہیں۔ آج کے دور میں کوئی بھی مسئلہ کلر بلائنڈ ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا اور نہ اس پر لکھا جا سکتا ہے، اس لیے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک عام آدمی کی بھی رسائی ہے۔ اس کے علاوہ بھٹو کی جاں نثار ٹیم ابھی باقی ہے جنھوں نے صرف مشاہدہ ہی نہیں، عملی کام بھی کیا ہے۔ یاد ہوگا کہ آپ نے ضیاء الحق کو ’شہید‘ لکھا تھا جس پر میں نے احتجاج کیا تھا۔ اب مجھے سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ آپ بھی ضیا کی باقیات میں سے ہیں جس نے ایک عام مولوی کو بھی خاص بنا دیا اور ماشاء اللہ نام نہاد ملا دین کی ترویج کے نام پر سیاسی فوائد سے خوب بہرہ ور ہو رہے ہیں۔
ذو الفقار علی بھٹو بھی یقیناًایک انسان تھا جو خوبیوں اور خامیوں کاحامل تھا، لیکن یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس قوم کے لیے اس کی بے شمار خدمات ہیں جن میں چیدہ چیدہ یہ ہیں: ۱۹۷۳ء کا آئین، مزدوروں کے لیے سوشل سکیورٹی سسٹم، متعدد میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کا قیام، کامرہ کمپلیکس، کرپشن سے پاک حکومت، ۹۰ ہزار جنگی قیدیوں کی واپسی، ایٹم بم کے حصول کے لیے کام کا آغاز، صوبائی ونسلی منافرت سے پاک معاشرہ، بلکہ حنیف رامے کے بقول زیڈ اے بھٹو کا یہی کارنامہ سب کارناموں پر بھاری ہے کہ اس نے عام آدمی کو شعور دیا۔ ’الشریعہ‘ کے مضمون نگار کا یہ کہنا کہ لوگ بھٹو کی موت کے بے حد tragic ہونے کے سبب سے اس کے گرویدہ ہو گئے، درست نہیں۔ موت تو ضیاء الحق کو بھی آئی، لیکن آج اس کا نام لیوا کوئی نہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ’الشریعہ‘ جیسے خوبصورت میگزین کو سیاسی معاملات بالکل ڈسکس نہیں کرنے چاہییں، اس کے لیے متعدد دوسرے سیاسی میگزین موجود ہیں۔ اگر ایسا ضروری بھی ہو تو غیر جانبدارانہ رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ موضوع کوئی بھی شخصیت ہو، اس کا خوب صورت تجزیہ کر کے نتیجہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بے نظیر بھٹو کا ذو الفقار علی بھٹو سے کوئی موازنہ نہیں۔ بے نظیر عہدے داران کی لیڈر ہے جبکہ بھٹو قائد عوام تھے۔
آپ نے اداریے میں یورپ کی روشن خیالی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو میر ے خیال میں جانبدارانہ ہے۔ یورپ کی روشن خیالی صرف فری سیکس تک محدود نہیں۔ تعلیمی، سماجی اور سیاسی حوالوں سے اس کی ترقی اور روشن خیالی قابل تعریف ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمیں اپنے کلچر اور اقدار کے مطابق روشن خیالی کو فروغ دینا چاہیے۔اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔
محمد سعید اعوان
اروپ۔ گوجرانوالہ
(۵)
واجب الاحترام جناب مدیر ماہنامہ الشریعہ 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے موقر رسالہ میں رنگ رنگ کے آرا وافکار کے حامل مضامین سے محظوظ ہونے کا موقع ملتارہتاہے۔ مارچ ۲۰۰۷ ؁ ء میں حافظ محمد ابراہیم شیخ صاحب، حافظ محمد زبیر کے مضمون شائع شدہ ماہ فروری۰۷ ؁۲۰ء پر غیر مودبانہ ہونے کا لیبل لگا کر خود بھی بے اعتدالی کا شکار ہوئے ہیں۔ حافظ محمد زبیر صاحب نے محترم غامدی صاحب پر اپنے تنقیدی جائزہ میں کوئی خلاف حقیقت بات نہیں لکھی ہے، بلکہ جابجا اقتباسات وحوالہ جات دیے ہیں۔ اگر غامدی صاحب کے کرم فرماؤں کو ان تنقیدوں پر اعتراض ہے تو اپنے ممدوح سے ہاتھ جوڑ کر التجا کریں کہ براہ کرم دین اسلام مکمل ہوچکاہے، اس کے لیے مزید نئے اصول وقوانین وضع نہ کیجیے جس سے امت محمدیہ ؑ میں وحدت کے بجائے انتشار واضطراب کو فروغ ملے۔
یہودیوں ،عیسائیوں اور دیگر کفار کو قرآن کریم پر محض اس لیے ناراضگی اور شکایت ہے کہ اس میں ان کے اعمال اور کرتوتوں کی قلعی کھول دی گئی ہے ۔بھلا اس اظہار حقیقت پر ناراضگی کیوں؟ وہ خود ،قرآن کا شکریہ ادا کرکے اپنی اصلاح کریں۔ محمد زبیر صاحب نے بھی غامدی صاحب کی اپنی تحریروں اورکتابوں کا حوالہ دیا ہے ۔کیا حافظ ابراہیم صاحب یہ کہہ کر جھوٹ کا ارتکاب کریں گے کہ غامدی صاحب نے ایسا نہیں کہاہے ؟
قاری محترم، آپ خود انصاف کیجیے کہ حافظ محمد زبیر نے غامدی صاحب کی طرف صرف چار مآخذ دین کی نسبت کتاب ’میزان‘ کی فصل ’اصول ومبادی‘ صفحہ ۴۷ تاصفحہ ۵۲ کی روشنی میں کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بقول آپ کے علمائے اسلام کے بیان کردہ ماخذ دین سے اتفاق بھی صفحہ ۹ تا ص ۱۱ میں بیان ہواہے ۔یہ بات تو غامدی صاحب کی غیر مستقل مزاجی یا فکری انتشار واضطراب کی مظہر ہے۔ ماہنامہ الشریعہ ستمبر ۲۰۰۶ء ؁ میں بھی غامدی صاحب کے تصور سنت کے تنقیدی جائزہ میں ان کے، اپنے وضع کردہ اصولوں سے انحراف کی باحوالہ مثالیں دی گئی ہیں۔ اس پر حافظ محمد ابراہیم صاحب نے کسی برہمی کااظہار نہیں کیا۔گویا انہیں بھی حافظ محمد زبیر صاحب کی تنقیدوں سے اتفاق ہے، ورنہ اختلاف کا موقع ضائع نہ جانے دیتے۔
آخر میں حافظ محمد زبیر کو خداخوفی کی تلقین کی گئی ہے۔ بے شک یہ ایک اچھی نصیحت ہے جسے بصد شکریہ قبول کرنا چاہیے۔ قرآنی تعلیم بھی یہی ہے۔ ہم سب کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی شخص بھی اس سے بے نیاز نہیں۔ خصوصاً قرآن وحدیث کے ابدی وزریں اصولوں سے انحراف کرنا، جمہور علمائے اسلام سے ہٹ کر اور انہیں ناسمجھ وکم وفہم ٹھہرا کر آئے دن اسلامی تعلیمات کی حیرت انگیز تشریح کرنا کوئی ترنوالہ نہیں جسے نگلنا آسان ہو۔ سب کو خوف الٰہی دامن گیر رہناچاہیے ۔ فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ اویصیبھم عذاب الیم۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عجب اورتکبر سے محفوظ رکھے اورراہ حق پر گامزن رہنے کی توفیق دے۔
رحیم اللہ وارثی
غواڑی، بلتستان، پاکستان

’دشتِ وصال‘ پر ایک نظر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

’ رگِ خواب‘، ’قربِ گریزاں‘ اور ’حریم حمد‘ کے بعد منیر الحق کعبی کا نیا مجموعہ کلام ’دشتِ وصال‘ کے نام سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ اس شعری مجموعے میں اگرچہ تخیل اور اسلوب کی چند نئی جہتیں پر پرزے نکالتی محسوس ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود کعبی کے شعری سبھاؤ کی روایتی پرچھائیاں دشت سے لے کر وصال تک پھیلتی چلی گئی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے :
تازہ ہوائے صبح پھر دل کو خطاب کر گئی 
باغ کی ہر کلی کھلی ، کھل کے گلاب کر گئی
یاد کے شاخسار پر گل جو کھلے بکھر گئے 
خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی 
تھل کے ہر ایک ذرے میں پنوں کا عکس دیکھ کے 
سسی وصال کے لیے خود کو کباب کر گئی 
وصال کے لیے خود کو کباب کرنے کی ترکیب اچھوتی ضرور ہے، لیکن قدرے غیر سنجیدہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس غیر سنجیدگی اور اچھوتے پن کے باوجود اس میں دلکشی اور واقعیت پسندی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ کباب، مسلسل جھلسنے سے بنتا ہے۔ تھل اور کباب کے ذکر سے واقعیت پسندی کا اظہار ہو رہا ہے اور دلکشی اس طرح پیدا ہوئی ہے کہ کعبی نے ’ ہجر و فراق ‘ کی جاں گسل کیفیت کو مسلسل جھلسنے سے تعبیر کر کے کچھ ایسی رمزیت میں پیش کیا ہے کہ غور کرنے پر فقط ’ دشتِ وصال ‘ ہی سے پالا پڑتا ہے۔ مذکورہ بالا پہلا شعر اور دوسرے تیسرے شعر کے پہلے مصرعے، غزل کا روایتی سبھاؤ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں تکلف، ٹھاٹھ، وضع داری اور شایستگی کے وہ تمام اسالیب جھلملا رہے ہیں جن کی مدارات ایک زمانے تک ہماری تہذیب کا خاصہ رہی ہے، لیکن دیگر مصرعے جہاں ایک طرف تکلف سے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں، وہاں دوسری طرف ان میں ایسی برجستگی امڈتی چلی آئی ہے جو غزل سے وابستہ روایتی تہذیب سے متصاد م ہوتے ہوئے بھی شایستگی اور اظہار کے کلچرل اسالیب کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ آخر ’’ خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کر گئی ‘‘ کو اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ 
اس مجموعہ کلام میں کعبی نے نہایت کامیابی سے بعض آفاقی سچائیوں کا برجستہ اظہار کیا ہے ۔ مثلاً:
اپنے اندر جو کھو گئے تنہا 
گھر کے باہر بھی ہو گئے تنہا
انسان کے تارک الدنیا ہونے کے کئی پہلو اور ان گنت کیفیات ہیں ۔ اس شعر میں کعبی نے ان تارک الدنیا لوگوں کی پھیکی اور بے رونق زندگیوں کی عکاسی کی ہے جو معاشرے سے بظاہر ربط و تعلق رکھتے ہیں لیکن حقیقتاً اتنے خود پسند یا دروں بیں (introvert) ہوتے ہیں کہ انتہائی ناگزیر سماجی تقاضوں کی بھی قطعاً پرواہ نہیں کرتے ۔ بقول کعبی، ایسے لوگ مجلسی ہونے کے باوجود تنہا ہوتے ہیں۔ اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پانے والے بھی کسرِ کعبہ کی اس عدالت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہیں، کیونکہ زندگی ’میں ‘ نہیں بلکہ ’تو‘ ہے۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’ بھی ‘‘ نے معنویت کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ ایک اور آفاقی سچ ملاحظہ فرمائیے:
پھول مہکا گئے چمن کعبی 
خار خود کو چبھو گئے تنہا 
جہاں یہ کڑوا سچ موجود ہے کہ پھول کے ساتھ خار بھی ہوتے ہیں، وہاں یہ سچائی بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ پھول کی خوشبو چہار سو پھیل کر ان گنت نفوس کو لبھاتی رہتی ہے جبکہ خار، پھول کی مہکار کے مانند مجلسی نہیں ہوتا، فقط تنہا ہوتا ہے۔ جی ہاں ! خار تنہا ہی کسی کو چبھتا ہے۔ کوئی خار بیک وقت ایک سے زیادہ لوگوں کو نہیں چبھ سکتا۔ کعبی نے نہایت بلیغ شعری پیرایے میں خیر ، نیکی اور اسی قبیل کی دیگر اقدار کو پھول اور پھول کی مہکار سے تشبیہ دی ہے کہ خیر، مجلسی ہوتا ہے، اس میں خارو شر کے مانند ’ میں ‘ نہیں ہوتی بلکہ یہ سر تا پا ’ تو ‘ ہی ہوتا ہے۔ ’ تو ‘ کے ایسے مطلق اثبات سے ہی ’’خیر ‘‘خود توسیعی کے ناتمام عمل سے مسلسل گزرتا رہتا ہے۔ اگر مذکورہ دونوں شعر بطور قطعہ لیے جائیں تو معنویت کی مزید پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ایک شعر ملاحظہ کیجیے، یہ چند نئے شیڈز کے ہمراہ مذکورہ مستور معنویت کا تشریحی نوٹ معلوم ہوتا ہے :
وہ اپنی ذات کے خفاش خانے میں ہی مرتا ہے 
کوئی جگنو چمکتا دیکھ لیتا ہے تو ڈرتا ہے 
پہلے مصرعے میں ’’ ہی ‘‘ نے تشریح کی تشریح کر دی ہے۔ ایک اور شعر میں کعبی نے ’’ میں ‘‘ پر زبردست چوٹ کی ہے:
بہت گمان تھا مجھ کو انا کی وحدت پر 
میں اپنی ذات کے ٹکڑوں میں بٹ گیا پھر بھی 
ایک غزل کے یہ اشعار بھی قابلِ غور ہیں:
وہ آسمان پہن کر نکل تو آیا تھا 
بھلا دیا کہ زمین اس کا اپنا سایا تھا
تمام عمر انا کے حصار میں گزری 
عذابِ ہجر کو خود ہی گلے لگایا تھا 
ہر ایک شخص گھٹن کا شکار تھا پھر بھی
عجیب شور مرے شہر نے مچایا تھا 
پہلے دو شعر اثباتِ ذات (Self Assertion) کی اسی منفیت کے غماز ہیں جس کا ذکر اوپر ہو چکا۔ تیسرے شعر کے پہلے مصرعے کا پہلا ٹکڑا ’’ ہر ایک شخص‘‘ عمومیت کا حامل ہے ، لیکن یہ کسی معنی کا اظہار کرنے کے بجائے قدرے سوالیہ دکھائی دیتا ہے۔ دوسرا ٹکڑا ’’ گھٹن کا شکار تھا‘‘ معنی کی ایک پرت کھولتا ہے۔ اس کے بعد تیسرا ٹکڑا ’’ پھر بھی ‘‘ معنوی اکائی کی تشکیل کرتے ہوئے معانی کی امکانی جہتوں کو سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ دوسرا مصرعہ جہاں پہلے مصرعے کی تکمیل کرتا ہے، وہاں ’’عجیب شور‘‘ گھٹن کے مقابل آ کر ایک نفسیاتی حقیقت کا اشاریہ بن جاتا ہے۔ شعر گوئی کے اس عمل کو ’’ گیسٹالٹ نفسیات ‘‘ (Gestalt Psychology) کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق ’’ کُل ، اپنے اجزا کے مجموعے کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے ۔‘‘ جس طرح غزل کے ہر شعر کی انفرادیت کے باوجود پوری غزل ایک خاص موڈ اور ایک خاص زاویے کو منعکس کرتے ہوئے ’’کل‘‘ کی حامل ہوتی ہے، اسی طرح غزل کا ہر شعر بھی ایسا کُل ہو تا ہے جو اپنے اجزا کے مجموعے کے مقابلے میں معنویت کی زیادہ پرتیں سامنے لاتا ہے۔ ایک اور شعر دیکھیے :
پتی پتی اس کے ہونٹوں کا سایا محسوس 
پھول اسی کا نقش اتاریں کس سے بات کریں
’’ پتی پتی ‘‘ پہلا ٹکڑا ہے جس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسرا ٹکڑا ’’ اس کے ہونٹوں کا ‘‘ نہ صرف تشبیہ اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے توسط سے معنویت کی ایک پرت کھل جاتی ہے۔ تیسرا ٹکڑا ’’ سایا محسوس ‘‘ جہاں دوسری پرت کھولتا ہے، وہاں پہلے مصرعے کی معنویت کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مصرعے کا پہلا ٹکڑا ’’ پھول اسی کا ‘‘ کوئی نئے معنی پیدا نہیں کرتا۔ دوسرا ٹکڑا ’’نقش اتاریں ‘‘ دو سطحوں پر معانی دیتا ہے۔ ایک تو پہلے ٹکڑے کے ساتھ مل کر اور دوسرا اپنے سے قبل کے چاروں ٹکڑوں کے ساتھ مل کر۔ دوسرے مصرعے کا آخری ٹکڑا ’’کس سے بات کریں‘‘ اس مصرعے کو نئے معانی پہناتا ہے اور اپنے سے قبل کے پانچ ٹکڑوں کے ساتھ مل کر معنوی اعتبار سے قدرے مختلف ہو جاتا ہے۔ اب اگریہاں اجزا کے مجموعے کے بجائے کل کی معنویت سامنے لائی جائے تو وہ بلاشبہ زیادہ بلیغ اور گہری ہو گی ۔
بعض مقامات پر کعبی نے ان نفسیاتی عوارض کی طرف اشارہ کیا ہے جو کسی بھی ناہموار سماج میں ناسور کی طرح پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً :
ہم تو حیرت سے پتھر بنے رہ گئے 
حسرتوں نے بھی ارماں نکالے بہت 
اس شعر میں ایسا نہیں کہ دوسرے مصرعے نے پہلے مصرعے کی تکمیل کی ہے بلکہ حقیقت میں دونوں مصرعے ایک دوسرے کا تکملہ معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ حیرت سے پتھر بننے کے عمل نے انتہائی شدت پیدا کی ہے جس سے مطلوب معنویت تک قاری کی رسائی آسان تر ہو جاتی ہے۔ جہاں تک حسرتوں کے ارمان نکالنے کا تعلق ہے، وہ اتنے ناگفتنی ہیں کہ حیرت سے فقط پتھر ہی بنا جا سکتا ہے۔ ’’ پتھر بنے رہ گئے ‘‘ سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ جب حسرتیں ارمان نکالنے پر اتر آئیں تو ان کے تدارک کی خاطران کے مقابل کسی بھی قسم کی فعالیت کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ حسرتیں دائرہ در دائرہ پھیلتی نہیں رہنی چاہییں تاکہ فرد اور سماج اپنے اپنے مقام سے ہٹنے نہ پائیں۔ 
کعبی کے کلام میں ’’ گلاب ‘‘ بکثرت موجود ہے، لیکن یہ مختلف اشعار میں اس طرح برتا گیا ہے کہ اس کو کوئی قطعی معنی نہیں دیے جا سکتے ۔ غور کیجیے: 
اسے دیکھا تو لوٹ آئیں بہاریں 
گلابوں کا ابھی موسم نہیں تھا 
گلاب اس کے لبوں سے مل کر شراب ٹھہرے 
اب اس کی ہر سانس انگبیں تھی ہم ایسے خوش تھے 
زیرِ لب ہی رہ گئے مرجھا کے حرفوں کے گلاب 
پھر سے تشنہ رہ گئی ہے داستان ِ اضطراب 
تم گلابوں کے ہم سفر کعبی 
زندگی وادئِ مغیلاں ہے 
اس شعر کو دیکھیے : 
گلاب اب بھی کھلے ہیں لیکن کوئی بتائے 
وہ اڑتی پھرتی سفید تتلی کدھر گئی ہے 
’’ کدھر گئی ہے ‘‘ کے بغیر بھی شعر کی معنویت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ گلاب کے مقابل سفید تتلی ، تلمیح معلوم ہوتی ہے، جس طرح نیلم بھی کلامِ کعبی کی ایک بڑی تلمیح ہے۔ اگر کعبی کی گلابوں کی ہم سفری کو پیشِ نظر رکھا جائے تو گلاب کا کھلنا ایک مخصوص ذہنی و دلی کیفیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ کیفیت ’’اڑتی پھرتی سفید تتلی‘‘ کی یاد دلا دیتی ہے۔یہ یاد کبھی تو خانہ خراب سوچ کا خانہ خراب کرتی ہے اور کبھی کعبی کی زندگی کی وادئ نیلم کو وادئ مغیلاں میں ڈھال دیتی ہے ۔ کوئی ہے جو غزالِ دشتِ غزل کو اس کی ذرا خبر کر دے؟ عام طور پر لوگ کسی پیارے کی یاد کے سہارے ساری زندگی بِتا دیتے ہیں ۔ کسی کے نزدیک یاد بیساکھی کی حیثیت رکھتی ہے تو کسی کے ہاں اس کا مقام ’’ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ‘‘ جیسا ہوتا ہے ، لیکن دشتِ وصال کے شاعر کو یہ کم بخت یاد صرف تنہا ہی نہیں کر گئی بلکہ اس نے کیا ستم ڈھادیا ہے ، ملاحظہ کیجیے: 
مرے اندر کی محفل مر گئی ہے 
تمھاری یاد تنہا کر گئی ہے 
اسی غزل کا یہ شعر بھی قابلِ غور ہے :
فریب ایسے دیے ہیں زندگی نے 
مری معصومیت اب ڈر گئی ہے 
پہلے مصرعے میں ’’ ایسے ‘‘ اور دوسرے مصرعے میں ’’ اب ‘‘ نے معنوی لحاظ سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہنے دی ۔ 
کعبی کے اس مجموعے کے یہ دو شعر غالب کے ایک مشہور شعر کی یاد تازہ کر دیتے ہیں ۔ ذرا یاد داشت پر دستک تو دیجیے :
اُگے ہیں نور کے اشجار ہر سو 
ستارے خاک میں ایسے ملے ہیں 
ملی ہیں دھڑکنیں مٹی میں شاید 
ہوا ایسے ہی دیوانی نہیں ہے 
انسان کی خلائی تسخیر پر تیکھا طنز ملاحظہ کیجیے :
ہر ستارہ بجھا بجھا کعبی 
کہکشاں کس نے اب سنبھالی ہے 
ثقہ ناقدین کی رائے ہے کہ معاملہ بندی لکھنو کے شاعروں پر ختم ہے۔ ایسے شعرا کے ہاں عموماً لمبی ردیف ملتی ہے جو ترنم، غنائیت اور موسیقیت کو مہمیز عطا کرتی ہے ۔ کعبی کے ہاں معاملہ بندی میں دشتِ وصال جلتا نظر آتا ہے :
دل رک گیا مرا بھی نظر وہ بھی جھک گئی 
خاموش حادثوں کی یہی تو اٹھان تھی 
ٹھہری تو ہر نگاہ بدن میں اتر چلی 
یہ بھی نہیں کہ چل پڑی تو بے دھیان تھی 
طویل ردیف کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے: ’’ ہے اسے دیکھنا اسے سوچنا‘‘، ’’ہے چلو دیکھیں تو‘‘، ’’ہوتا جا رہا ہے ‘‘، ’’کبھی ہم ایسے خوش تھے‘‘۔ لمبی ردیف، غزل کی معنویت کو عام طور پر پابند کر دیتی ہے ، ذرا دیکھیے :
زمیں پاتال سے اٹھ کر مہ و مریخ پر پہنچی 
فرشتوں میں وہی بوڑھی کہانی رقص کرتی ہے 
کہیں کوئی محبت سے بھرا انساں نہیں ملتا 
دلوں کی دھڑکنوں میں بد گمانی رقص کرتی ہے 
ہرے پتے بھلا کب تک صبا کے ہاتھ میں رہتے 
پسِ ہر شاخ میں نقلِ مکانی رقص کرتی ہے 
اس قسم کی غزل میں معنوی تحدید کے باوجود کچھ ایسی کشش اور آرایش بہر حال جھلملاتی رہتی ہے جو قارئین ، بالخصو ص سامعین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھتی ہے۔ کعبی کا یہ شعر معاشرتی رویوں کی مدافعت میں جھنجھناہٹ کا آہنگ لیے ہوئے ہے:
ٹھیک ہے خود کشی حرام سہی 
عصمتِ نفس تو بچالی ہے
لیکن یہ جھنجھناہٹ اس شعر کے انتہائی سطحی فہم سے برآمد ہوتی ہے۔ تھوڑا غور کرنے پر عیاں ہوتا ہے کہ یہاں خود کشی سے مراد ان جائز خواہشات اور حسرتوں کو دبا کر رکھنا ہے جن کی تکمیل آج کے دور میں عصمتِ نفس کے عوض ہی ہو سکتی ہے ۔ ’دشتِ وصال ‘ کے کئی فنی و فکری پہلو طشت از بام آنے کے لیے پہلو پر پہلو بدل رہے ہیں، لیکن ہم طوالت کے خوف سے کعبی کے اس شعر پر بات ختم کرتے ہیں : 
ہَوا چاکِ گریباں سے ہے گزری
مرے اندر کا منظر بولتا ہے

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’پرویز صاحب کا فہم قرآن‘‘

غلام احمد پرویز صاحب کے فہم دین اور ان کے پیش کردہ افکار پر علمی حلقوں کی جانب سے مختلف نوع کی تنقیدیں سامنے آ چکی ہیں۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اپنے ایک خطاب میں مدرسہ فراہی کے مخصوص ذوق کے تناظر میں پرویز صاحب کے اس طریق تفسیر کی خامیاں واضح کی تھیں جس کے تحت وہ قرآنی الفاظ کا مدعا ومفہوم طے کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کے تنقیدی زاویہ کو خورشید احمد ندیم صاحب نے اپنے ایک مضمون میں مزید مثالوں سے واضح کیا۔ یہ تنقید اہل علم میں دلچسپی سے پڑھی گئی اور پرویز صاحب کے فکر سے متاثر بعض حضرات کے لیے بھی، جن میں زیر نظر کتابچہ کے مرتب جناب شکیل عثمانی بھی شامل ہیں، تنبہ کا باعث بنی۔ 
دار التذکیر، اردو بازار، لاہور نے غامدی صاحب کے مذکورہ خطاب اور خورشید ندیم صاحب کے مضمون کو ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کیا ہے جس میں فکر پرویز کے حوالے سے شکیل عثمانی صاحب اور احسن تہامی صاحب کی تاثراتی تحریریں بھی شامل ہیں۔ خورشید احمد ندیم صاحب کے مضمون میں درج بعض مثالوں کے حوالے سے طلوع اسلام اور اشراق میں مزید بحثیں بھی شائع ہوئی تھیں۔ اگر ان سب تحریروں کو یکجا کر کے ایک مجموعے کی شکل دی جائے تو قارئین کے لیے طرفین کے موقف اور استدلال کو سمجھنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔
صفحات: ۴۸۔ قیمت: ۲۴ روپے۔
(عمار ناصر)

’’قیادت اورہلاکت اقوام ‘‘ / ’’توحید اورشرک‘‘

زیر نظر دونوں کتابیں الفوز اکیڈمی کی شائع کردہ ہیں۔ ’’قیادت اور ہلاکت اقوام‘‘ کے زیر عنوان خلیل الرحمن چشتی صاحب نے زلزلوں اوردیگر آفات سماوی سے قوموں کی ہلا کت کے متعلق الٰہی ضابطے قرآن مجید کی روشنی میں موثر اور عام فہم انداز میں پیش کیے ہیں۔ قوموں کی ہلاکت میں فاسق وفاجر قیادتوں کا کتنا عمل دخل ہوتاہے، یہ نکتہ بھی واضح اورمدلل انداز میں لکھاگیاہے۔ 
’’توحید اور شرک‘‘ کے زیر عنوان کتاب میں محمد خان منہاس اور خلیل الرحمن چشتی نے توحیداورشرک کی مختلف اقسام کو واضح، عام فہم اورمدلل انداز میں تحریرکیاہے۔ یہ کتاب کسی خاص فرقہ کے خلاف نہیں بلکہ عام فہم علمی انداز میں اپنا سوز دروں دوسروں تک عام کرنے کی عمدہ کوشش ہے۔ دونوں کتابیں اس قابل ہیں کہ درس قرآن کے حلقوں میں اور عوامی سطح پر انھیں عام کیا جائے۔ 
ناشر:الفوز اکیڈمی گلی نمبر ۱۵ ،پولیس فاونڈیشن ۴؍۱۱ Eگولڑہ ،اسلام آباد 
(مولانا مشتاق احمد)

’’تحقیق مسئلہ ایصال ثواب‘‘

’’ایصال ثواب‘‘ کے مسئلے میں ایک گروہ نے اگر افراط کا شکا ر ہوکر دین میں بدعات کو داخل کر دیا ہے تو دوسرے گروہ نے تفریط کا شکار ہو کر اس کا سرے سے انکار ہی کردیا ہے ۔ زیر نظر مجموعہ میں قاری جمیل الرحمن اختر صاحب نے مسئلہ ایصال ثواب کے متعلق شیخ الحدیث مولانامحمد سرفراز خان صفدر صاحب ،حضرت مولانا منظور احمد نعمانی ؒ اور مولانا امین صفدر اوکاڑوی کے علمی مقالات کو جمع کیا ہے جس سے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ ایک مفید مجموعہ بن گیا ہے۔
۱۲۸ صفحات پر مشتمل یہ کتاب انجمن خدام الاسلام رجسڑڈ حنفیہ قادریہ باغبانپورہ لاہور نے شائع کی ہے ۔ 
(محمد یاسر الدین)

’’دلائل وجود باری تعالیٰ ملاصدرا کی نظر میں‘‘

فلسفہ میں الٰہیات ایک مستقل موضوع ہے۔ برصغیر کے مدارس میں جن فلاسفہ کی کتب شامل نصاب رہی ہیں، ان میں ایک ملاصدرا بھی ہیں جو ایران کے رہنے والے تھے۔ ڈاکٹر ناصر زیدی صاحب فلسفہ میں تخصص رکھتے ہیں اور اس موضوع پر ان کے متعدد مقالہ جات شائع ہوچکے ہیں۔ زیر نظر مقالہ میں انہوں نے برہان حرکت، برہان حدوث، برہان امکان اوربرہان صدیقین کے عنوانات قائم کرکے الٰہیات کے متعلق ملاصدرا کے نظریات تحریر کیے ہیں۔ یہ کتاب فلسفہ کے طلبا کے لیے مفید کتاب ہوسکتی ہے، تاہم اس پر ناقدانہ رائے فلسفہ کا کوئی استاذ ہی دے سکتا ہے۔ 
ناشر: البصیرہ اسلام آباد 
(مولانا مشتاق احمد)

’’خطبات درخواستی ‘‘ /’’فیوضات درخواستی مع مجربات درخواستی ‘‘

زیر تبصرہ کتب مولانا شفیق الرحمن درخواستی کے علمی،تحقیقی اور اصلاحی افادات پر مشتمل ہیں جنھیں مولانا حماد اللہ درخواستی نے مرتب کیا ہے۔ ’’خطبات درخواستی‘‘ کے نام سے پہلے مجموعے میں ہر خطبہ آیات قرآنی واحادیث نبوی سے مزین ہے۔ علمی انداز کے ساتھ ساتھ عوامی انداز کی بھر پور جھلک بھی خطبات میں نمایاں ہے۔ اس کے صفحات ۴۵۰ اور قیمت ۲۸۰ روپے ہے۔ دوسرا مجموعہ ’’فیوضات درخواستی‘‘ کے نام سے مسائل تصوف وسلوک اور عملیات وتعویذات پر مبنی افادات پر مشتمل ہے۔ اس کے صفحات ۲۷۳ ہیں۔ 
ان مجموعوں کو مکتبہ درخواستی، جامعہ عبداللہ بن مسعودؓ خانپور ،رحیم یار خان نے شائع کیاہے ۔ 
(ادارہ)

’’مرزا غلام احمد قادیانی کا فقہی مذہب ،حنفیت یا غیر مقلدیت ‘‘

زیر نظر کتاب میں مولانا عبد الحق خان بشیر نے جامع اور مدلل انداز میں ترک تقلید کو گمراہی ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کے گمراہ کن افکار واعمال کو بھی ترک تقلید کا نتیجہ ثابت کیاہے اور ان کی اپنی تحریروں سے ان کے ترک تقلید کے مسلک کو ثابت کیاہے ۔
صفحات :۲۰۸، قیمت ۸۰روپے۔ ناشر: حق چار یار اکیڈمی مدرسہ حیات النبی، گجرات ۔ 
(عبد العزیز)

’’تذکرۃ المفسرین ‘‘ 

زیر نظر کتاب مولانا قاضی زاہد الحسینی ؒ کی مرتب کردہ ہے جس میں پہلی صدی ہجری سے موجودہ دور تک عرب وعجم میں پھیلے ہوئے چھ سو سے زائد مفسرین کے مختصر حالات جمع کیے گئے ہیں۔ علوم القرآن اور علم تفسیر سے اشتغال رکھنے والے علما اور طلبا کے لیے مفید ہے۔ 
ناشر: دارالارشاد اٹک شہر ۔قیمت ۲۲۰ روپے 
(عبد العزیز)

’’نماز تراویح اور مذاہب اہل حدیث‘‘

زیر نظر کتاب میں مولانا عبد الحق خان بشیر نے نے تراویح کی حیثیت اور تعداد رکعات کے بارے میں جمہور اہل سنت والجماعت کے موقف کو دلائل سے واضح کیاہے اور فقہ حنفی کی روشنی میں تراویح کے احکام ومسائل بیان کیے ہیں۔ کتاب اپنے موضوع کے اعتبارسے جامع ہے اور اہل علم حضرات کے لیے مفید ہے، تاہم مناظرانہ انداز سے احترازکیا جاتا تو بہتر تھا۔ 
(محمد یاسرالدین)

’’سوانح شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ‘‘

زیر تبصرہ کتاب میں مولانا عبد القیوم حقانی نے حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی سوانح حیات کے ہر ہر پہلو کو مختلف ابواب اور عنوانات کے تحت نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیاہے۔ کتاب کی نمایاں خصوصیت حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒ کا طویل مقدمہ ہے۔ موقع محل کی مناسبت سے عمدہ اشعار اورحوالہ جات بھی درج کیے گئے ہیں۔
القاسم اکیڈمی نوشہرہ کی شائع کردہ اس کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے۔ 
(ادارہ)

’’اظہار الغرور فی کتاب آئینہ تسکین الصدور‘‘

شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ نے مسئلہ حیات النبی پر ’تسکین الصدور‘کے نام سے مبسوط تصنیف لکھی جس پر اکابر علماے دیوبند کی تصدیقات موجود ہیں۔ اس کے جواب میں جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ کے رہنما مولوی شیر محمد جھنگوی صاحب نے ’آئینہ تسکین الصدور‘ لکھ کر حضرت شیخ الحدیث کی مذکورہ تصنیف کو بے وقعت بنانا چاہا اوراس مہم کو کامیاب کرنے کے لیے بیسیوں مغالطے دیے۔ مولانا حافظ عبدالقدوس صاحب قارن نے ’اظہار الغرور‘ کے نام سے ان مغالطوں کاجواب دیاہے جو موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے لائق مطالعہ ہے۔ 
ناشر: عمر اکادمی نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ 
(مولانا مشتاق احمد)

’’اسلاف کاخوف خدا اور فکر آخرت ‘‘

زیرنظر کتاب میں ڈاکٹر منور حسین چیمہ نے خوف خدا اور فکر آخرت جیسی نہایت اہمیت کی حامل صفات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب میں رسول کریم ﷺ ،صحابہ کرامؓ ،تابعین اور اولیا وصلحاے امت کے خوف خدا اور فکر آخرت پر مبنی سبق آموز واقعات درج کیے گئے ہیں۔ نامعلوم وجہ سے فہرست درج کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
ناشر: اسلامک اکیڈمی گکھڑ۔ ہدیہ: ۴۰ روپے۔ 
(ادارہ)

’’اسلامی آداب زندگی ‘‘

پیش نظر کتاب جناب محمد منصور الزمان صدیقی بانی وچیئرمین صدیقی ٹرسٹ کراچی کے تحریر فرمودہ ۵۵رسائل کا مجموعہ ہے جن میں انہوں نے حسن معاشرت، انابت الی اللہ، صراط مستقیم، کبائر سے اجتناب اور دیگر کئی موضوعات پر قرآنی آیات، احادیث نبویہ، سبق آموز واقعات، حکیمانہ اقوال اور فقہاے کرام کی آرا جمع کردی ہیں۔ کتاب کا اسلوب عام فہم اور سلیس ہے۔ زندگی کے ہر پہلو سے متعلق رہنمائی اور ہدایات سے معمور یہ کتاب تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔
ناشر: القاسم اکیڈمی جامعہ ابو ھریرہؓ خالق آباد نوشہر ہ 
(حافظ مطیع اللہ عثمانی )

’’کشکول معرفت‘‘

پیش نظر کتاب مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی کے ان علمی ودینی مکاتیب کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مولانا عبد القیوم حقانی کے نام لکھے۔ مکتوبات کا مرکزی مضمون تزکیہ وتصوف اور احسان ہے ۔خطوط کی ہر ہر سطر سے دل سوزی ٹپکتی ہے۔ 
صفحات: ۴۵۰۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔ ناشر: القاسم اکیڈمی نوشہرہ ۔ 
(ادارہ)

’’ رہنمائے خوشخطی‘‘

زیر نظر کتاب خوشخطی سیکھنے کے خواہشمند طلباء وطالبات کے لیے بطور خاص تیار کی گئی ہے۔ خطاط مولانا محمد اسلم زاہد سید الخطاطین حضرت سید نفیس الحسینی مدظلہ العالی کے شاگر دخاص ہیں اور کتاب حضرت شاہ صاحب کی تقریظ سے مزین ہے۔ 
ناشر:مکہ کتاب گھر الکریم مارکیٹ حق سٹریٹ اردو بازار لاہور 
(مولانا مشتاق احمد)

’’انصاف فی حدود الاختلاف‘‘

مولانا سید خلیل حسین میاں صاحب نے ا س کتاب میں ان اسباب کی نشاندہی کی ہے جو کہ افتراق وانتشار کاباعث بنتے ہیں مثلاً عدم تحمل، دوسروں کی تحقیر وتذلیل، دوسروں کی پردہ دری، غیبت، الزام تراشی، خود پسندی، اور تکبروغیرہ۔ مصنف نے ان میں سے ہر ایک کی مذمت کے متعلق نصوص شرعیہ کو جمع کیا گیاہے۔ یہ کتاب خاص طورپر علما ے کرام کے لیے لکھی گئی ہے اوراس میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کے افادات جابجا درج کیے گئے ہیں۔ کتاب اردو میں ہے جبکہ نام عربی میں اور وہ بھی نادرست۔ انصاف کی جگہ الانصاف لکھنا چاہیے تھا تاکہ نام عربی قواعد کے مطابق ہوتا۔ 
ناشر: القاسم اکیڈمی خالق آباد نوشہرہ 
(مولانا مشتاق احمد)

الشریعہ اکادمی کی مطبوعات کی تقریب رونمائی

ادارہ

۳۱ مارچ ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا زاہد الراشدی کے مضامین کے دو مجموعوں کی اشاعت کے موقع پر ان کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ مضامین کے یہ دو مجموعے ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ اور ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئے ہیں۔ تقریب رونمائی سے پروفیسر غلام رسول عدیم، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر محمد شریف چودھری، پروفیسر محمد اکرم ورک اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کے علاوہ جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانش ور جناب نادر عقیل انصاری نے بھی خطاب کیا۔ 
پروفیسر غلام رسول عدیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا زاہد الراشدی کی تحریر میں منفرد قسم کی شستگی اور شائستگی پائی جاتی ہے اور علماے کرام کو ان کے اسلوب نگارش کی پیروی کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ان مضامین میں مناظرانہ اسلوب سے ہٹ کر افہام وتفہیم کا علمی انداز اختیار کیا گیا ہے جو مخاطب کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ 
جناب نادر عقیل انصاری نے مضامین کے ان مجموعوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں مولانا راشدی نے مخالف فریق کے احترام کے ساتھ خالص علمی انداز میں تنقید وتبصرہ کر کے اختلاف رکھنے والوں کو بھی بہت سے امور میں اپنے موقف پر نظر ثانی پر آمادہ کیا ہے اور آج اس نوعیت کے مکالموں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسی طریقہ سے ہم متنازعہ امور میں حق کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ 
پروفیسر محمد شریف چودھری نے کہا کہ مولانا راشدی نے ان مضامین میں مغربی فکر وفلسفہ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور مسلم اصحاب فکر ودانش کو توجہ دلائی ہے کہ وہ مغرب کی فکری یلغار سے آگاہی حاصل کریں اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے نئی نسل کو فکری گمراہی سے بچانے کی کوشش کریں۔ 
پروفیسر محمد اکرم ورک نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مولانا زاہد الراشدی نے جس متانت اور سنجیدگی کے ساتھ طعن وتشنیع اور تحقیر واستہزا سے ہٹ کر مخالف فریق سے افہام وتفہیم کے لہجے میں بات کی ہے، اس ر وایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں اپنے جدید دانش وروں کی اس مجبوری کو بخوبی سمجھتا ہوں کہ وہ مغرب سے متاثر پود سے مخاطب ہیں اور انھیں مغرب کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کا جواب دینے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، لیکن میری ان سے ایک ہی گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کو مغرب کی مرعوبیت سے بچانے کی فکر کریں اور مغرب کے فکری اور علمی اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے خود اپنے علمی ڈھانچے اور مسلمات کو سبوتاژ کرنے سے گریز کریں۔
تقریب میں بتایا گیا کہ مولانا زاہد الراشدی گزشتہ پینتالیس سال سے مسلسل مختلف اخبارات وجرائد میں لکھ رہے ہیں اور ان کے کم وبیش ایک ہزار مضامین کو جمع کیا جا چکا ہے جو آج کے دور کے اہم مسائل اور مشکلات کے حوالے سے ہیں اور ان مضامین کو مختلف عنوانات کے تحت کتابی شکل میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شائع کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں علماے کرام، اساتذہ، پروفیسر صاحبان اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن میں حفظ قرآن کی کلاس کا افتتاح

واپڈا ٹاؤن کینال ویو گوجرانوالہ کے عقب میں باقر کوٹ کے قریب الشریعہ اکادمی کے نئے تعمیر کردہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن میں حفظ قرآن کریم کی کلاس کا آغاز ہو گیا ہے جس میں قرآن کریم حفظ کے ساتھ مڈل تک اسکول کی تعلیم بھی دی جائے گی۔ کلاس کی افتتاحی تقریب میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ اسکول کی تعلیم بھی ضروری ہے جس کی طرف دینی مدارس کو بطور خاص توجہ دینی چاہیے۔

دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انگلش لینگویج کورس

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں چالیس روزہ انگلش لینگویج کورس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کلاس روزانہ نماز عصر کے بعد ہوتی ہے جس میں اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی زبان کی بنیادی تعلیم دے رہے ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے جسے سیکھنا دعوت اور تعلیم کے دینی مقاصد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

حضرت قاری محمد انور کے اعزاز میں استقبالیہ

حفظ قرآن کریم کے بزرگ استاذ حضرت قاری محمد انور صاحب، جو ایک عرصہ تک گکھڑ میں حفظ قرآن کریم کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور گزشتہ اٹھائیس برس سے مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں، ۲؍ مئی ۲۰۰۷ بروز بدھ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لا رہے ہیں جہاں شام پانچ بجے ان کے شاگرد مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مولانا راشدی نے ۱۹۶۰ء میں گکھڑ میں حضرت قاری محمد انور صاحب سے قرآن کریم حفظ مکمل کیا تھا۔