اسلام کی تشکیل نو کی تحریکات اور مارٹن لوتھر
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۷ء کے شمارے میں ہم نے گزارش کی تھی کہ اکبر بادشاہ اور اس کے بعد ہمارے ہاں دین کی تشکیل نو (Reconstruction) کی جتنی تحریکیں بھی اٹھی ہیں، ان پر مارٹن لوتھر کی اس تحریک کے اثرات ہیں جس کے تحت اس نے مسیحیت کے قدیم تعبیر ی وتشریحی نظام کو مسترد کرکے پروٹسٹنٹ مکتب فکر کی بنیاد رکھی تھی اور جو آگے چل کرمذہب سے انحراف اور انسانی سوسائٹی سے مذہب کی لاتعلقی کی شکل اختیار کرگئی۔ ہمارے بہت سے مسلم دانشوروں نے مارٹن لوتھر کی اس تحریک کے پس منظر اور نتائج کی طرف نظر ڈالے بغیر اس کے نقش قدم پر چلنے کو ضروری خیال کرلیا اور اب جب کہ مغرب اس کے تلخ نتائج کی تاب نہ لاتے ہوئے واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے، ہمارے یہ دانش ور اب بھی اسی کی پیروی میں اسلام کی تعبیر وتشریح کے روایتی فریم ورک کو توڑدینے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح کا روایتی فریم ورک اس قدر مضبوط ومستحکم ہے کہ اس چٹان کے ساتھ سر ٹکرانے والوں کو ابھی تک اپنے زخموں کو سہلانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے، مگر مارٹن لوتھر بننے کا شوق ہمارے بعض دانش وروں کے حوصلہ کو پیہم مہمیز کرتا چلا آرہا ہے۔ خدا بخش اورینٹل لائبریری (انڈیا) کی شائع کردہ کتاب ’’اسلامی تہذیب وثقافت‘‘ کی جلد اول میں اس حوالے سے مولانا سید سلیمان ندویؒ کا ایک مکتوب گرامی ابھی چند روز قبل نظر سے گزرا ہے جس سے ہماری مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ یہ خط ماہنامہ ’ندیم‘ کے ستمبر ۱۹۳۹ء کے شمارے سے نقل کیاگیاہے اور ’ندیم‘ کے مدیر کے ادارتی نوٹ سمیت یہ مکتوب قارئین کی خدمت میں اس ماہ کے ’کلمہ حق‘ کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے۔ راشدی)
کیا اسلام میں تجدید کی ضرورت ہے؟
’’یورپ کی ’نشاۃ ثانیہ‘ یعنی اس کی ترقی کا موجودہ دور پوپوں کے استیصال اورعیسوی مذہب کی تجدید واصلاح کے بعد شروع ہواہے۔ اسی بنا پر نوجوان مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیاہے جو مسلمانوں کی ترقی کے لیے بھی اسی راستہ کو اختیار کرنا چاہتاہے، اور خیال پیدا ہوتا جاتاہے کہ علما کے استیصال اوراسلام کی تجدید کی ضرورت ہے۔ ’’علماے سو‘‘ کے فتنوں کو ہر زمانہ میں روکا گیا اور اس دور میں بھی ان کے مضر اثرات سے مسلمانوں کو بچانے کی ضرورت ہے، لیکن ’’تجدید اسلام‘‘ کے مسئلہ پر غور کرنے کے لیے اسلام اور عیسائیت کے فرق پر پہلے غور کرنا چاہیے۔ اسلام نے اپنی بنیاد ہمیشہ کے لیے استوار رکھی ہے۔ا س کے ساتھ اس میں ایسی لچک بھی رکھی گئی ہے کہ اس کی بنیاد کو ہلائے بغیر ہم اس سے اپنے زمانہ کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔
ذیل کے مکتوب میں اسی موضوع پر خیالات ظاہر کیے گئے ہیں جو ہمارے نوجوان دوستوں کے پڑھنے کے لائق ہیں۔ حضرت الاستاذ نے یہ مکتوب ہندوستان کے ایک شہرۂ آفاق نامور مسلمان اہل علم کے خط کے جواب میں لکھا تھا۔میں نے اس کی نقل اپنے پاس رکھ لی تھی۔ آج پرانے مسودوں میں اس پر نظر پڑی۔ اب وہ نوجوان دوستوں کے استفادہ کے لیے ان کی خدمت میں پیش ہے‘‘۔ ’’ر‘‘
مخدوم محترم دام لطفہ
السلام علیکم! والا نامہ نے سرفرازی بخشی۔ میں دو ماہ سے خانگی پریشانیوں میں مبتلا ہوں، اس لیے جواب میں قدرے تاخیر ہوئی ہے۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی، جمعیۃ العلماء کا مستقل صدر نہیں، بلکہ اس کے اجلاس کلکتہ کا چند روزہ صدر تھا جس کا زمانہ، اجلاس کے اختتام کے ساتھ ختم ہوگیا۔
بہرحال آپ نے ایک مفید تحریک مستقبل کی طرف توجہ دلائی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے میرا خطبہ صدارت جو ان دنوں اخبارات میں چھپ رہاہے، ملاحظہ فرمایاہے یا نہیں۔ میں نے اس فقہی انقلاب اور اس کے لیے علما کی تیاری پر بہت کچھ لکھا ہے۔ خطبہ کی ایک کاپی بھیجتا ہوں، کم از کم ابتدائی حصے ملاحظہ فرمالیجیے۔
تاریخ فقہ اسلامی پر معلوم نہیں، آپ نے کس کی کتاب دیکھی ہے؟ ’تاریخ التشریع الاسلامی‘ جو محمد الخضری کی تصنیف ہے، وہ تو اس قدر مختصر نہیں۔ اس کے تو شاید تین چار سو صفحے ہوں گے، البتہ تقطیع چھوٹی ہے۔ میں نے اس کتاب کا دار المصنفین کی طرف سے ترجمہ کرایاہے۔ ترجمہ مکمل ہوگیاہے، شاید ایک سال کے اندر شائع ہوجائے۔
یورپ کے اثرات نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دماغی توازن میں فرق ضرور پیدا کیاہے، مگر اس کی اصلاح وتدارک کے لیے آپ کیا چاہتے ہیں؟ ایک نسخہ تو نسخ اسلام کا ہے جو بابی تحریک ہے۔ دوسرا نسخہ تجدید نبوت کا ہے جو قادیانیوں نے اختیار کیاہے۔ تیسرا نسخہ ابطال شرعیت احادیث کا ہے جو اہل القرآن نے تجویز کیاہے۔ ’وکل یدعی وصلا للیلیٰ‘
مجھے آپ کے خیالات سے براہ راست واقفیت نہیں، گو آپ کے رسالہ اجتہاد کا فحوائے مضمون بھی اپنے دوست مولوی عبدالماجد صاحب سے سن چکاہوں۔ آپ نے خلیل خالد بے کے جواب میں سید سجاد حیدر صاحب کو جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی دیکھ چکا ہوں۔ مسلم یونیورسٹی کے نصاب علوم مشرقی پر جو آپ نے تبصرہ کیاہے،اس کا بھی مطالعہ کیاہے، تاہم آپ کے کسی ایک واحد مرکزی خیال سے واقفیت نہیں جس سے یہ تمام مختلف شاخیں پھوٹتی ہیں۔
لیوتھر کی تجدید، مذہب سے زیادہ سیاست کے زیر سایہ کامیاب ہوئی، مگر مجھے نہیں معلوم کہ موجودہ یورپین اقوام میں پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک کے درمیان کیا ارتقائی فرق ہے۔ انگلستان بیشتر پروٹسٹنٹ ہے، فرانس بیشتر کیتھولک ہے، اٹلی غالب تر کیتھولک ہے، اور سب شاہراہ ترقی پر ہیں۔ اب اسلام میں کس قسم کی تجدید کی ضرورت ہے، موازنہ کے ساتھ فرمائیے ۔
اسلام کا مذہب چار چیزوں سے مرکب ہے: عقائد، عبادت، معاملات، اخلاق۔ عقائد کو عجمیت سے، اخلاق کو صوفیت سے پاک کیا جا سکتا ہے، معاملات میں گزشتہ مسائل کی تنقیح یا کسی امام کی رائے کی بمصلحت زمانہ ترجیح ہوسکتی ہے، عبادات میں آپ کیا ترمیم چاہتے ہیں؟
اصل یہ ہے کہ ترمیم، تنسیخ کا خیال اسی وقت آسکتاہے جب اسماعیلیوں کے خیال کے مطابق مذہب کے محفل ’’دروغ مصلحت آمیز‘‘ یقین کیا جائے، اور میرا تو یہ اعتقاد نہیں۔ میں قرآن کے حرف حرف کو لفظی پابندی کے ساتھ قبول کرتاہوں۔ آیت میراث میں جو اصول مرعی ہے، اس کو تسلیم کیجیے تو پھر حصص کو کیوں تسلیم نہ کیجیے؟ اس قسم کی ترمیم وہی لوگ کرسکتے ہیں جو مذہب ووحی کی واقعیت کے قائل نہ ہوں، صرف ظاہری پردہ کے طورپر مذہب کو تسلیم کرنا چاہتے ہوں۔ اہل القرآن کی تاویلات ملاحظہ کیجیے اوراس کی فرقہ کی باطنیت پر ماتم کیجیے، علامہ مشرقی کا تذکرہ دیکھیے اور اس زہر میں ملے ہوئے قند کو ملاحظہ کیجیے۔ معاف کیجیے، ان تمام گمراہیوں کی جرات سید صاحب نے بے معنی تفسیر وتاویل کرکے دلائی ہے۔ مذہب کا بھرم اعتقاد میں ہے، جب اعتقاد گیا تو وہ تاویلات کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں تو صر ف ایک چیز کی دعوت دے سکتا ہوں۔ اسلام کو ہر حیثیت سے اپنے عہد اول کی سادگی اور عملیت پر لوٹ آنا چاہیے اور اس عجمی تصوریت اور تصوفی تعطل کے عقیدہ کو پارہ پارہ کردیناچاہیے۔ اگر آپ نے میرا رسالہ ’اہل السنہ‘ ملاحظہ فرمایاہے تو میرا تخیل اقرب الی الفہم ہوگا۔
معاملات اور فقہ کے باب میں جو جمود ہے، وہ بے شک دو ر ہونا چاہیے۔ معاملات اور فقہ کی بہت سی چیزیں اسلام نے رائے امام پر محمول کردی ہیں۔ اب امامت کے فقدان اور سلاطین وحکام کے جہل نے اس سے ان کو مستفید ہونے نہ دیا۔ ٹرکی میں جو مدنی قوانین بن رہے ہیں، وہ تھوڑے تغیر سے اسلامی رنگ اختیار کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ تعدد ازدواج کو روکتے ہیں مگر یہ کہہ کر کہ یہ تمدن کے خلاف ہے۔ یہ فسق ہے۔ یوں کہیے کہ تعدد ازدواج کی اجازت بقید عدل ہے، اور چونکہ عدل مفقود ہے، اس لیے اب اس کی ممانعت کی جاتی۔ آپ غلامی کا ابطال کرتے ہیں کہ یہ انسانیت اور قانون یورپ کے خلاف ہے۔ آپ اس کو یوں کرسکتے ہیں کہ جنگ کے قیدیوں کے ساتھ تین برتاؤ کیے جاسکتے ہیں:قتل، غلامی، اور آزادی۔ امام وقت ان تینوں میں سے ایک اختیار کرسکتا ہے، اور برائے امام آزادی کا حکم عام جاری کرسکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے بہت سی باتوں میں اپنی رائے سے یا معاصر اقوام کے قانون سے فائدہ اٹھایا، وہ اب تک ہماری فقہ میں موجود ہے۔ آپ ان کو نکال سکتے ہیں، جیسے ذمیوں کے احکام ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کثرت طلاق کو دیکھ کر ایک مجلس کی تین لفظی طلاق کو تین مستقل طلاق قرار دے لی اور جو اب تک فقہ حنفی میں معتبر ہے۔ شارب خمر کی حد مختلف خلفاے راشدین نے مختلف قرار دی۔ اور بھی مثالیں ہیں، مگر ان مثالوں کا یہ نتیجہ نہیں کہ ہم قانون وراثت نکال دیں، وضو چھوڑ دیں، نماز کم کر دیں، روزے رخصت کریں۔ یہ تو وہی اسماعیلیت ہے جو چل نہ سکی اور معلوم ہوگیا کہ یہ اتباع مذہب نہیں، ابطال مذہب ہے۔
طول نفس کو معاف کیجیے۔ آپ کے خیالات کی تہ کو پاؤں تو کچھ عرض کروں۔
والسلام
۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۴۴ھ
مسجد أقصیٰ کی تولیت ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تاریخی و تحقیقی جائزہ
حافظ محمد زبیر
’المورد‘ کے اسسٹنٹ فیلواور ماہنامہ’ الشریعہ ‘کے مدیر جناب محمد عمار خان ناصرصاحب کی طرف سے ماہنامہ ’اشراق‘ جولائی و اگست ۲۰۰۳ میں ’’مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون شائع ہوا۔ چونکہ محترم عمار صاحب نے اپنے اس مضمون میں امت مسلمہ کے عام مؤقف کے بالکل برعکس ایک نئی رائے کا اظہار کیا تھا، اس لیے مختلف علمی حلقوں کی طرف سے ان کو مختلف قسم کی علمی اورجذباتی تنقیدی آرا کا بھی سامنا کرناپڑا۔ عمار صاحب نے ماہنامہ ’اشراق‘ مئی وجولائی ۲۰۰۴ کے شماروں میں ان تمام تنقیدی آرا کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہمارے علم کی حد تک کسی ناقد نے بھی عمارصاحب کی اس اصولی غلطی کی نشاندہی نہیں کی جو کہ ان کے مضمون کی کل بنیاد ہے۔ عمار صاحب کے اس طویل مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد أقصیٰ کی تولیت کا شرعی حق یہود کو حاصل ہے، اگرچہ تکوینی طور پر یہ مسجد سینکڑوں سال سے مسلمانوں کی تولیت میں ہے۔ مسجد أقصیٰ کی تولیت پر یہود کے شرعی حق کی کل دلیل ‘عمار صاحب کے نزدیک وہ اسرائیلیات ہیں جن کو وہ کتاب مقدس کے بیانات کہتے ہیں۔ ان اسرائیلی روایات سے محترم عمار صاحب نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مسجد اقصیٰ یعنی ہیکل سلیمانی کو حضرت سلیمان نے اپنے زمانے میں جنات سے تعمیر کروایا تھا۔ یہ ہیکل یہودیوں کا قبلہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ ان کا مقام حج ہے۔ یہی ان کی قربان گاہ اورمر کز عبادت ہے۔ اس کی طرف رخ کر کے وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ نظریہ ہی غلط ہے کہ مسجد أقصیٰ یہودیوں کا قبلہ یا مقام حج یا نماز کے لیے ایک سمت ہے۔ قرآن و سنت تو کیا، کسی ایک اسرائیلی روایت سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے یہود کا قبلہ مقرر کیا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کاقبلہ ’مسجد حرام ‘ رہا ہے۔ تمام انبیا مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ہیں اور یہیں آ کر فریضہ حج ادا کرتے رہے ہیں۔ مسجد أقصیٰ کواپنا قبلہ قرار دینا یہودیوں اور عیسائیوں کی اپنے دین میں اختراع ہے۔ مسجد أقصیٰ کی حیثیت مسلما نوں کے ایک بابرکت مقام اور مسجد کی سی ہے۔مسجد أقصیٰ یہودیوں کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اس لیے اس کی تولیت کا حق بھی مسلمانوں ہی کو حاصل ہے ۔ مسجد أقصیٰ کا مسئلہ چونکہ ایک اصولی مسئلہ ہے، اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس پر اصولی انداز میں بحث ہونی چاہیے ۔عمار صاحب سے اس مسئلے کی تحقیق میں جو بنیادی غلطی ہوئی، وہ یہ کہ انھوں نے اسرائیلیات کی روشنی میں قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ (۱) ا گر وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اسرائیلی روایات کوسمجھنے کی کوشش کرتے تو ان کے نتائج اس سے بہت مختلف ہوتے جو کہ وہ بیان کر رہے ہیں ۔
(۱) محترم عمار صاحب نے تحقیق کا یہ انداز و اسلوب جناب غامدی صاحب سے سیکھا ہے غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں تفصیل سے اپنے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ قرآن کو سابقہ صحف سماویہ کی روشنی میں سمجھنا چاہیے ۔
مسجد اقصیٰ کی فضیلت
مسجد أقصیٰ کے درج ذیل فضائل قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں :
۱) مسجد أقصیٰ بابرکت زمین میں ہے:
قرآن میں چارمقامات پر سرزمین شام کو بابرکت زمین کہا گیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت ملک شام‘ موجودہ شام سے بہت وسیع تھا۔موجودہ فلسطین بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ مسجد أقصیٰ شام کی اسی بابرکت سرزمین میں واقع ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
و أورثناالقوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الأرض و مغاربھا التی بارکنا فیھا (الأعراف:۱۳۷)
’’اور ہم نے اس قوم کو کہ جس کوکمزور بنایا گیا تھا‘ اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنایا کہ جس سرزمین میں ہم نے برکت رکھ دی ہے۔ ‘‘
اس آیت مبارکہ میں حضرت سلیمان کے دور میں موجود بنی اسرائیل کی اس عظیم سلطنت کی طرف اشارہ ہے جو کہ اس زمانے کے شام اور اس کے گردو نواح پر مشتمل تھی ۔
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
و نجیناہ و لوطا الی الأرض التی بارکنا فیھا للعالمین (الأنبیاء:۷۱)
’’اور ہم اس کو (یعنی حضرت ابراہیم) اور حضرت لوط کو نجات دی ایک ایسی سرزمین کی طرف کہ جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت رکھ دی ہے۔‘‘
اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’العالمین‘ سے واضح ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین و شام کی برکات کسی خاص جماعت، قوم یامذہب کے ماننے والوں کے لیے نہیں ہیں جیسا کہ یہودیوں کا یہ خیال ہے کہ اس سرزمین کی برکات ان کے لیے مخصوص ہیں بلکہ اس سرزمین کی برکت تمام اقوام ‘مذاہب اور جماعتوں کے لیے ہیں ۔
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
و لسلیمن الریح عاصفۃ تجری بأمرہ الی الأرض التی بارکنا فیھا (الأنبیاء:۸۱)
’’اور حضرت سلیمان کے لیے ہم نے تیز و تند ہوا کومسخر کر دیا تھا جوان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی کہ جس میں ہم نے برکت رکھ دی ہے ۔‘‘
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
و جعلنا بینھم و بین القری التی بارکنا فیھا قری ظاہرۃ (سبا:۱۸)
’’اور ہم نے ان (یعنی قوم سبا)کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان کہ جن میں ہم نے برکت رکھ دی ہے‘ کچھ نمایاں بستیاں بنائی تھیں ۔‘‘
اس آیت مبارکہ کے الفاظ ’القری‘ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ برکت صرف فلسطین کی بستی میں نہیں رکھی گئی بلکہ ان تمام بستیوں میں رکھی گئی ہے جو کہ سرزمین شام پر واقع ہیں ۔
۲) مسجد أقصیٰ کے ارد گرد کی سرزمین بھی بابرکت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
سبحن الذی أسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الأقصی الذی بارکنا حولہ (الاسراء:۱)
’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو ایک رات میں مسجدحرام سے مسجد اقصی تک کہ جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھ دی ہے ۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد أقصی کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد کی سرزمین یعنی فلسطین و شام کا علاقہ بھی بابرکت ہے۔
۳) مسجد أقصیٰ ارض مقدسہ میں ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدہ:۲۱)
’’اے میری قوم کے لوگو!داخل ہو جاؤاس مقدس سرزمین میں کہ جس کواللہ تعالی نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ۔‘‘
قتادہ کے نزدیک ارض مقدسہ سے مراد ’شام‘ ہے جبکہ مجاہد اور ابن عباس کے ایک قول کے مطابق ’کوہ طور اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ‘مراد ہے ۔اسی طرح سدی اور ابن عباس کے دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد ’أریحا‘ ہے ۔زجاج نے کہا اس سے مراد’دمشق اور فلسطین ‘ ہے ۔بعض مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد ’اردن کا علاقہ‘ ہے۔امام قرطبی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ قتادہ کا قول سب کو شامل ہے ۔ امام قرطبی کے اس قول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں شام میں فلسطین‘دمشق اور اردن کا علاقہ بھی شامل تھااسی طرح کوہ طور اور اس کے ارد گرد کا علاقہ حتی کہ أریحا کا شہر بھی شام کی بابرکت سرزمین کی حدود میں تھا ۔
۴) بیت اللہ کے بعد دوسری مسجد :
مسجد أقصیٰ روئے زمین پربیت اللہ کے بعد دوسری مسجد ہے کہ جس کو عبادت الہی کے لیے تعمیر کیا گیا۔حضرت ابو ذر غفاری سے روایت ہے :
سألت رسول اللہ ﷺ عن أول مسجد وضع فی الأرض قال المسجد الحرام قلت ثم أی قال المسجد الأقصی قلت کم بینھما قال أربعون عاما (۱)
’’میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی آپ نے جواب دیا مسجد حرام ‘میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی تو آپ نے فرمایا مسجد اقصی ‘ میں نے کہا ان دونوں کی تعمیر کے دوران کل کتنا وقفہ ہے تو آپ نے کہا چالیس سال ۔‘‘
۵) مسجد أقصیٰ کی طرف شد رحال کی مشروعیت :
مسجد أقصیٰ ان تین مساجد میں شامل ہے کہ جن کا تبرک حاصل کرنے کے لیے یا ان میں نماز پڑھنے کے لیے یا ان کی زیارت کے لیے سفر کو مشروع قرار دیا گیا ہے ۔آپ کا رشاد ہے :
لا تشد الرحال الاالی ثلاثۃ مساجد مسجدی ھذا و مسجد الحرام و المسجد الأقصی (۲)
’’تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا قصد کر کے سفر کرنا جائز نہیں ہے میری اس مسجد کا یعنی مسجد نبوی کا ‘مسجد حرام کا اور مسجد أقصیٰ کا۔‘‘
۶) مسجد أقصیٰ کو انبیاء نے تعمیر کیا :
مسجد اقصیٰ ان مساجد میں سے ہے کہ جس کو جلیل القدر انبیاء نے تعمیر کیا ۔طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
أن داؤد ابتدأ ببناء البیت المقدس ثم أوحی اللہ الیہ انی لأقضی بناؤہ علی ید سلیمان (۳)
’’حضرت داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر کے لیے بنیادیں رکھیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان کے ہاتھوں مکمل کرواؤں گا۔‘‘
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمروؓ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں :
أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سال اللہ عز وجل خلالا ثلاثۃ ... سأل اللہ عز وجل حین فرغ من بناء المسجد أن لا یاتیہ أحد لا ینھزہ الا الصلاۃ أن یخرجہ من خطیئتہ کیوم ولدتہ أمہ (۴)
’’حضرت سلیمان نے جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالی سے تین باتوں کی دعا کی ...‘‘
۷) مسجد أقصیٰ میں نماز پڑھنے کی فضیلت :
صحیح حدیث میں مسجد أقصیٰ میں نماز پرھنے کی بہت زیادہ فضلیت بیان ہوئی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں :
أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سال اللہ عز وجل خلالا ثلاثۃ ... سأل اللہ عز وجل حین فرغ من بناء المسجد أن لا یاتیہ أحد لا ینھزہ الا الصلاۃ فیہ أن یخرجہ من خطیئتہ کیوم ولدتہ أمہ (۵)
’’حضرت سلیمان نے جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالی سے تین باتوں کی دعا کی ...جب وہ مسجد بنا کر فارغ ہو گئے تو اللہ تعالی سے سوال کیا کہ جب بھی کوئی شخص اس مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے آئے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو کرنکلے جیسے کہ اس کی ماں نے اس کو جنا ہو۔‘‘
۸) مسجد أقصیٰ سے احرام باندھ کر حج کرنے کی فضیلت :
مسجد أقصیٰ سے حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھ کر مسجد حرام کی طرف نکلنے کی بہت زیادہ فضیلت حدیث میں آئی ہے۔أم المؤمنین حضرت أم سلمہؓ آپ ؐ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا:
من أھل بحجۃ أو عمرۃ من المسجد الأقصی الی المسجد الحرام غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و ما تأخر أو وجبت لہ الجنۃ شک عبداللہ أیتھماقال (۶)
’’جس نے بھی مسجد اقصی سے مسجد حرام تک لیے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے یا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ عبد اللہ کو شک گزرا کہ آپؐ نے ان دونوں میں کون سے الفاظ فرمائے ہیں ۔‘‘
۹) مسجد أقصیٰ میں نماز پڑھنے کی نذر ماننا جائز ہے :
فتح مکہ کے موقع پر ایک شخص نے آپ ؐ سے آ کر سوال کیا :
یا رسول اللہ انی نذرت للہ ان فتح اللہ علیک مکۃ ان أصلی فی بیت المقدس رکعتین قال صل ھا ھنا ثم أعاد علیہ فقال صل ھا ھنا ثم أعاد علیہ فقال صل ھاھنا ثم أعاد علیہ فقال شانک (۷)
’’اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے ہاتھوں مکہ فتح کروا دیا تو میں بیت المقدس میں دورکعت نماز پڑھوں گا۔آپ ؐ نے فرمایا یہاں ہی پڑھ لے اس نے پھر آپؐ کے سامنے اپنی بات کو دھرایا آپ ؐ نے فرمایا یہاں نماز پڑھ لے اس نے پھر اپنی بات کو دھرایاآپ ؐ نے فرمایا یہاں نماز پڑھ لے اس نے پھر اپنی بات کودھرایاتو آپ ؐ نے فرمایا تمہارا معاملہ ہے (یعنی جہاں تو چاہے پڑھ لے میں نے تو تیری آسانی کی خاطر تجھے یہ مشورہ دیا تھا)۔ ‘‘
اس کے علاوہ بھی روایات ہیں کہ جن سے مسجد اقصیٰ کی برکت و فضیلت کا اظہار ہو تا ہے لیکن طوالت کے خوف سے ہم صرف انہی روایات پر اکتفا کرتے ہیں ۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیر وتاریخ
محترم عمار صاحب نے اپنے مضمون میں مسجد أقصیٰ کی تاریخ بیان کرتے ہو ئے اپنی تحقیق کی کل بنیاد اسرائیلی روایات کو بنایا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ جس میں مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر کا تذکرہ ہے، اس کو حاشیہ میں بیان کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمار صاحب کی اس نادر تحقیق کے اصل اور فیصلہ کن مصادرکون سے ہیں ؟
قرآن و سنت کی روشنی میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر و تاریخ کا تعین کرنے میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی درج ذیل روایت کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ حضرت ابوذر سے روایت ہے :
سألت رسول اللہ ﷺ عن أول مسجد وضع فی الأرض، قال المسجدالحرام، قلت ثم أی؟ قال المسجد الأقصی، قلت کم بینھما قال أربعون عاما (۸)
’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ نے جواب دیا: مسجد حرام۔ میں نے پھر سوال کیا: اس کے بعد کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے کہا: ان دونوں کی تعمیر کے دوران کل کتنا وقفہ ہے؟ آپ نے کہا: چالیس سال ۔‘‘
اس روایت سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں :
۱) اس زمین پر سب سے پہلی مسجد جو کہ اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گئی ‘مسجد حرام ہے ۔
۲) دوسری مسجد جو کہ اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کی گئی ‘مسجد أقصیٰ ہے ۔
۳) ان دونوں مساجد کی تعمیرکے درمیان چالیس سا ل کا وقفہ ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کس دور میں ہوئی؟اگر بیت اللہ کی تعمیر کا زمانہ متعین ہو جائے تو مسجد أقصیٰ کی تعمیر کازمانہ از خود متعین ہو جائے گا، کیونکہ صحیح حدیث کے مطابق مسجد أقصیٰ کی تعمیر بیت اللہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد ہوئی۔ بیت اللہ کی تعمیر کے بارے میں آرا مختلف ہیں جن میں سے دو ہی آرا دلائل کی روشنی میں قوی ہیں :
الف) ایک رائے یہ ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی تعمیرحضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوئی تھی۔ قرآنی نص سے یہ بات ثابت ہے کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
واذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت وا سمعیل (البقرۃ:۱۲۷)
’’ اور جب حضرت ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور حضرت اسمٰعیل بھی ۔‘‘
اگر ہم حضرت ابراہیم کی تعمیر کو بیت اللہ کی پہلی تعمیر مانیں تو مسجد أقصیٰ کے پہلے مؤسس حضرت ابراہیم ہوں گے۔
ب) دوسری رائے یہ ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم کے زمانے میں ہوئی۔ اگر اس قول کو صحیح مانیں تو مسجد أقصیٰ کے مؤسس حضرت آدم قرار پائیں گے۔ ہمارے نزدیک صحیح قول یہی ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم نے کی۔ حضرت ابراہیم نے آکر اس کی تجدید کی ہے۔ ہماری اس رائے کی بنیاد درج ذیل دلائل پر ہے :
۱) اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا کے لیے نماز کو مشروع قرار دیا تھا جس کے لیے ایک قبلہ کا ہونا ضروری تھا۔ لہٰذ ایہ ثابت ہوا کہ حضرت آدم کے دین میں نماز کا مشروع ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے لیے حضرت آدم کوئی قبلہ بھی تعمیر کریں۔
۲) اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ حضرت ابراہیم نے سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر کی تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا بھی اقرار کیا جائے کہ حضرت ابراہیم سے ماقبل اسلامی شریعتوں میں حج کا کوئی تصور نہ تھا جو کہ غلط ہے ۔لہٰذا یہ ثابت ہو اکہ حضرت ابراہیم سے پہلے مختلف انبیا کے ہاں حج کا تصور اس بات کو ملتزم ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے ایک قبلے کا وجود مانا جائے۔
۳) حضرت ابراہیم جب حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو سرزمین مکہ میں آباد کر نے کے لیے وہاں چھوڑنے گئے تو اس وقت انھوں نے دعا مانگی جس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
ربنا انی أسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم (ابراہیم:۳۷)
’’اے میرے پروردگار! بے شک میں نے اپنی اولاد کو آباد کیا ایک ایسی سرزمین میں جو کہ کھیتی والی نہیں ہے، تیرے حرمت والے گھر کے پاس۔‘‘
اس دعا کے الفاظ ’عند بیتک المحرم‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی اس دعا کے وقت بیت اللہ کی بنیادیں موجود تھیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم سے پہلے تعمیر ہو چکا تھا۔
۴) اس قرآنی مؤقف کے شواہد بعض ضعیف روایات سے بھی ہمیں ملتے ہیں، مثلاً امام بیہقی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں:
بعث اللہ جبرئیل الی آدم وحواء فأمرھما ببناء الکعبۃ فبناہ آدم ثم أمر بالطواف بہ و قیل لہ أنت أول الناس وھذا أول بیت وضع للناس (۹)
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو حضرت آدم وحوا کی طرف بھیجا اور ان کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ حضرت آدم نے بیت اللہ کو تعمیر کیا، پھر حضرت آدم کو بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا اور حضرت آدم سے کہا گیا کہ تو پہلا آدمی ہے اور یہ پہلا گھر ہے جو کہ لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے ۔‘‘
۵) علامہ ابن حجر نے بھی اسی رائے کو ایک روایت کی بنیاد پر ترجیح دی ہے ۔ابن حجر لکھتے ہیں :
و یؤید قول من قال: أن آدم ھو الذی أسس کلا من المسجدین فذکر ابن ھشام فی کتاب التیجان أن آدم لما بنی الکعبۃ أمرہ اللہ بالسیر الی بیت المقدس وأن یبنیہ فبناہ و نسک فیہ وبناء آدم للبیت مشھور وقد تقدم قریبا حدیث عبد اللہ بن عمرو أن البیت رفع زمن الطوفان حتی بواہ اللہ لابراہیم (۱۰)
’’اور ان لوگوں کے قول کی تائید جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے مسجد حرام اور مسجد أقصیٰ دونوں کو تعمیر کیا‘ اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو ابن ہشام نے کتاب التیجان میں نقل کیا ہے کہ حضرت آدم نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ بیت المقدس کی طرف جائیں اور اس کی بنیاد رکھیں تو انھوں نے جاکر اس کو تعمیر کیا۔ اور بیت اللہ کی جو تعمیر حضرت آدم کے ہاتھوں ہوئی، وہ معروف ہے۔حضر ت عبد اللہ بن عمرو کی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ بیت اللہ کو طوفان نوح کے دوران اٹھا لیا گیا تھا، بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت ابراہیم کاٹھکانہ بنایا ۔‘‘
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی طرح مسجد اقصیٰ کی بھی کئی دفعہ تعمیر ہوئی۔ طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ ہیں :
أن داؤد ابتدأ ببناء البیت المقدس ثم أوحی اللہ الیہ انی لأقضی بناؤہ علی ید سلیمان (۱۱)
’’حضرت داؤد نے بیت المقدس کی تعمیر کے لیے بنیادیں رکھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں مسجد أقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان کے ہاتھوں مکمل کرواؤں گا۔‘‘
اسی طرح نسائی کی ایک روایت ہے :
أن سلیمان بن داؤد لما بنی بیت المقدس سأل اللہ عزوجل خلالا ثلاثہ (۱۲)
’’جب حضرت سلیمان نے بیت المقدس کی تعمیرمکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کی دعا کی۔‘‘
ان روایات میں مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر کے علاوہ‘جو کہ حضرت آدم نے کی تھی‘ ایک دوسری تعمیر کا بھی تذکرہ ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم اور حضرت سلیمان کے درمیان زمانی وقفہ ایک تاریخی روایت کے مطابق تین ہزار سال جبکہ دوسری روایت کے مطابق ڈیڑھ ہزار سال ہے ۔
ج) ایک تیسری رائے جو کہ محترم عمار صاحب نے حدیث ابو ذر کے حوالے سے اپنے مضمون کے حاشیے میں بیان کی ہے۔ عما ر صاحب لکھتے ہیں :
’’اس روایت پر یہ اشکال ہے کہ تاریخ کے مسلمات کی رو سے مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی اور ان کے اور سیدنا ابراہیم علیہما السلام کے مابین‘ جو مسجد حرام کے معمار تھے‘ کئی صدیوں کا فاصلہ ہے جبکہ روایت میں دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان صرف چالیس کا فاصلہ بتایا گیا ہے۔ علمائے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی اور مذکورہ روایت میں اسی کا ذکر ہے ‘جبکہ حضرت سلیمان نے صدیوں بعد اسی جگہ پر ہیکل سلیمانی کو تعمیر کیا۔ اس لحاظ سے ان کی حیثیت ہیکل کے اولین بانی اور مؤسس کی نہیں ‘بلکہ تجدید کنندہ کی ہے ۔(۱۳)
محترم عمار صاحب نے اس رائے کی نسبت علمائے حدیث کی طرف کی ہے، حالانکہ علمائے حدیث میں سے کسی ایک کی بھی یہ رائے نہیں ہے جو کہ عمارصاحب بیان کر رہے ہیں۔ یہ عمار صاحب کی اپنی رائے ہے کہ جس کی نسبت انھوں نے علمائے محدثین کی طرف کر دی ہے اور جن کتابوں کے وہ حوالے دے رہے ہیں، ان میں یہ بات اس طرح موجود نہیں ہے جس طرح کہ وہ اس کو بیان کر رہے ہیں ۔
عمار صاحب سے پہلی غلطی تو یہ ہوئی کہ انھوں نے اس رائے کی نسبت علمائے محدثین کی طرف کر دی حالانکہ یہ رائے صرف ابن قیم اور ابن کثیر کی ہے۔ کیا دو پر جمع کا اطلاق ہوتا ہے ؟
دوسری غلطی عمارصاحب نے یہ کی کہ جب دیکھا کہ مسئلہ حدیث کاہے تو ابن قیم اور ابن کثیر کو علمائے محدثین بنا کر پیش کر دیا، حالانکہ مقدم الذکر کا اصل میدان عقیدہ و فقہ ہے اور مؤخر الذکر کا تفسیر و تاریخ‘ ان میں سے کوئی ایک بھی علما میں بطور محدث اس طرح معروف نہیں ہے جس طرح مؤلفین صحاح ستہ یا ان کے اساتذہ وغیرہ ۔
عمار صاحب سے تیسری غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے ابن قیم اور ابن کثیر کی رائے کو بھی ان حضرات کے اپنے الفاظ میں پیش نہیں کیا۔ ابن قیم نے اپنی رائے بیان کرتے ہوئے جو الفاظ بیان کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں :
والذی أسسہ ھو یعقوب ابن اسحاق (۱۴)
جبکہ ابن کثیر نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں :
وان أول من جعلہ مسجدا اسرائیل علیہ السلام (۱۵)
جبکہ محترم عمار صاحب نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ یہ ہیں :
’’علمائے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی‘‘۔ (۱۶)
محترم عمار صاحب نے امام ابن قیم کے الفاظ ’أسس‘ اور امام ابن کثیر کے الفاظ ’جعل‘ کا ترجمہ ’’تعین کرنا‘‘کیا ہے۔ اس کو ان جلیل القدر علما کی آرا میں تحریف نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟
چوتھی غلطی عمار صاحب سے یہ ہوئی کہ انھوں نے حدیث میں موجود الفاظ ’وضع‘ کو نظر انداز کر دیا جس کا معنی لغت میں ’’تعین کرنا‘‘ نہیں ہوتا۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر جیسے علما کے یہ شایان شان نہیں ہے کہ ان کی طرف اس بات کی نسبت کی جائے کہ انھوں نے حدیث میں وارد شدہ الفاظ ’وضع‘سے مراد بیت المقدس کی ’’تعیین‘‘ لی ہے۔
عمارصاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بیت المقدس کی تعمیر پہلی دفعہ حضرت سلیمان نے ہی کی اور وہ یہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح بیت المقدس کی تعمیرکے بارے میں وارد شدہ اسرائیلی روایات ‘جن پر انھوں نے اپنے مؤقف کی بنیاد رکھی ہے ‘کو صحیح ثابت کر دیا جائے، چاہے انھیں اس کے لیے صحیح احادیث کی من گھڑت تأویل اور علماے سلف کی آرا میں تحریف ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ ہمارے’ تحریف ‘کے الفاظ شاید عمارصاحب کو ناگوار گزریں، لیکن انھوں نے اپنے مضمون میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے علما کے عمومی مؤقف کے بارے میں جس قدر سخت لب ولہجہ اور اسلوب اختیار کیا ہے، اس کی بھی ایک جھلک ذرا قارئین ملاحظہ فرما لیں۔ عمار صاحب لکھتے ہیں :
’’یہ نکتہ اب اہل علم کے لیے ایک کھلے سوال کی حیثیت رکھتا ہے کہ عالم عرب کا یہ کم و بیش اجماعی مؤقف‘جس کو متعدد اکابر علمائے دین و مفتیان شرع متین کی تائید و نصرت حاصل ہے اور جس کو مسلم اور عرب میڈیاتسلسل کے ساتھ دہرا رہا ہے ‘کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟‘‘(۱۷)
عمار صاحب اپنے ایک اجتہادی مؤقف پر اس قدرمصر ہیں کہ علما کے کم و بیش اجماع کو کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عمار صاحب مذکورہ بالا عبارت میں جو سوال اہل علم سے کر رہے ہیں، وہی سوال اگر وہ اپنے آپ سے بھی کر لیتے تو ان کو اس کا جواب مل جاتا۔ عمار صاحب مولانا وحید الدین خان صاحب پر تنقید کرتے ہوئے ماہنامہ ’الشریعہ ‘ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا کے زاویہ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب و لہجہ اور اسلوب ’رأیی صواب یحتمل الخطا و رأیھم خطا یحتمل الصواب‘ کے ذہنی رویے کے بجائے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے اور وہ اپنے زاویہ نگاہ کو ایک نقطہ نظر سمجھنے کے بجائے ’واحد درست طرز فکر ‘قرار دینے میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں‘‘۔ (۱۸)
ایک اور جگہ ماہنامہ اشراق ‘جنوری ۲۰۰۷‘ ص۷۱ پر محترم عمار صاحب لکھتے ہیں :
’’اگر علمی مباحث میں طعن و تشنیع اور تفسیق و تضلیل کا رویہ در آئے تو تنقید فکر ونظر کی آبیاری کرنے کے بجائے محض ’بغیا بینھم ‘کا ایک نمونہ بن کر رہ جاتی ہے‘‘۔
ہم عمار صاحب سے سوال کرتے ہیں، کیا یہ اصول تنقید صرف ان کے لیے ہے جو آپ یا آپ کی طرح کے آزاد خیال مفکرین کی آرا پر تنقید کرنا چاہے یا آپ کو بھی علما کے بارے میں لکھتے ہوئے اپنے قلم کو لگام دینی چاہیے؟
بہر حال خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا بحث سے درج ذیل نتائج ثابت ہوتے ہیں:
۱) مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کے مؤسس حضرت آدم ہیں ۔
۲) ظاہر نصوص سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد حرام کی دوسری تعمیر حضرت ابراہیم کے ہاتھوں ہوئی جبکہ مسجدا قصیٰ کی دوسری تعمیر کی بنیاد حضرت داؤد نے رکھی اور مکمل حضرت سلیمان کے عہد میں ہوئی۔ اس عرصے کے درمیان میں کسی اور تعمیر کا تذکرہ صحیح نصوص میں نہیں ملتا۔
یہ تو مسجد أقصیٰ کے حوالے سے ہماری کچھ ضمناً گفتگو تھی جس کا مقصد عمار صاحب کے مضمون سے پیدا شدہ ایک غلط فہمی کا ازالہ تھا۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔
مسجد اقصیٰ کی تولیت مسلمانوں کا حق ہے
مسجد أقصیٰ کی تولیت مسلمانوں کا شرعی حق ہے جس کے درج ذیل دلائل ہیں :
۱) مسجد أقصیٰ کی تعمیر مسلمان انبیا کے ہاتھوں ہوئی۔ سب سے پہلے اسے حضرت آدم نے تعمیر کیا جو کہ مسلمان تھے۔ اس کے بعد حضرت داؤد نے اس کی بنیاد رکھی۔ پھر حضرت سلیمان نے اس کو مکمل کیا ۔اس لیے اس مسجد پر اسی قوم کا حق ہے جو کہ مسلمان ہو۔ جب تک عیسائی اور یہودی مسلمان تھے، اس وقت تک اس عبادت گاہ پر ان کا حق قائم تھا، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد جو بھی یہودی اور عیسائی آپ پر ایمان نہیں لاتا، وہ کافر ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ان الذین یکفرون باللہ و رسلہ ویریدون أن یفرقوا بین اللہ ورسلہ ویقولون نؤمن ببعض ونکفر ببعض ویریدون أن یتخذوا بین ذلک سبیلا أولئک ھم الکفرون حقا (النساء: ۱۵۰)
’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے درمیان کوئی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں، یہی لوگ پکے کافر ہیں ۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو بھی یہودی اور عیسائی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لے کر آئے، وہ پکا کافر ہے، اور کافر مسلمانوں کی بنائی ہوئی عبادت گاہ کا کیسے وارث ہو سکتا ہے؟ یہ توایسے ہی ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی مسجد بنائی اور اس کی بعد میں آنے والی نسلوں میں سے کوئی یہودی ہو گیا تو کیا اب اس مسجد کو یہودیوں کی عبادت گاہ بنا کر اس یہودی کے کنٹرول میں دے دیا جائے گا؟ مسجد اقصیٰ پر اس وقت یہودیوں کا حق تھا جب تک وہ مسلمان تھے۔ آج بھی اگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے ہیں تو ہماراان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، ہم مسجد اقصیٰ کی تولیت ان کے سپرد کر دیں گے۔ لیکن اگر وہ اپنے نبی حضرت موسیٰ اور اپنے باپ حضرت ابراہیم کے دین سے بھی پھر جائیں تو کس بنیاد پر ان کو مسجد اقصیٰ کا وارث قرار دیا جائے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین ان أولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین آمنوا واللہ ولی المؤمنین (آل عمران:۶۷)
’’حضرت ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی‘ لیکن وہ ایک یکسو مسلمان تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ بے شک حضرت ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق ولایت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس (کی قوم میں سے اس)کی پیروی کی اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ جو (اس نبی پر ) ایمان لائے۔ اللہ تعالی اہل ایمان کا والی ہے۔‘‘
حضرت ابراہیم کی طرح ‘حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان اور بنی اسرائیل کے تمام انبیا کے اصل ورثا اور جانشین مسلمان ہیں نہ کہ یہود و نصاریٰ۔ اگر حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی بھی تھی تو اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ اب یہ مسجد کافروں کی عبادت گاہ بن گئی ہے؟ حضرت سلیمان کے دور میں موجود بنی اسرائیل مسلمان تھے، لہٰذا اس بنیاد پر اس مسجد کے وارث بھی تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور کینہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ ؐپر ایمان نہ لانے کی وجہ سے آج کل کے یہودیوں کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، بلکہ ان کے کفر پر امت کااجماع ہے ،لہٰذا مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اس پرایک کافر قوم کا حق کیسے جتایا جا سکتا ہے ؟
بفرض محال اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ مسجد اقصیٰ پر یہود کا حق ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے جو بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکاری ہو، وہ حضرت موسیٰ اور تورات کا بھی انکاری ہے کیونکہ دونوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمداور ان کی علامات کی خبر دی ہے۔ لہٰذا ایسا یہودی جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے کے ساتھ تورات اور حضرت موسیٰ کی بات بھی ماننے سے انکار کر دے، وہ تو اپنے دین‘ اپنے نبی اور اپنی کتاب کا بھی انکاری ہے اور ایسا یہودی مسجد اقصیٰ کاوارث کیسے ہو سکتا ہے ؟
۲) تمام انبیا ‘بشول انبیائے بنی اسرائیل ‘کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اس لیے یہودیوں کا قبلہ بھی ‘ازروئے دین اسلام‘ شروع سے ہی ‘بیت اللہ ہے۔ تمام انبیا بیت اللہ کی طرف ہی رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی کا حج کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ’ ’ہیکل سلیمانی‘‘ان کا قبلہ ہے ۔یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ایک ہی وقت میں دو متوازی قبلوں کاوجود خود مقصد قبلہ کے خلاف ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حج کی آواز لگائی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وأذن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلی کل ضامر یأتین من کل فج عمیق (الحج:۲۷)
’’اور (اے ابراہیم) لوگوں میں حج کا اعلان عام کر۔ وہ تیرے پاس آئیں گے پیدل اوردبلے اونٹوں پراور ہر دور کے راستے سے آئیں گے۔ ‘‘
اگر یہ مان لیا جائے کہ بیت اللہ کے بالمقابل فلسطین میں حضرت سلیمان نے ایک علیحدہ قبلہ بنایا تو درج ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں :
۱) کیا قرآن کی آیت میں موجود الفاط ’الناس‘ میں بنو اسرائیل داخل نہیں ہیں؟
۲) اگر بنو اسرائیل کے آبا و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب کا قبلہ بیت اللہ ہی تھا تو ان کی بعد میں آنے والی نسلوں کا قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اس کی کیا دلیل ہے کہ باپ (یعقوب) کا قبلہ بیت اللہ تھا اور بیٹوں (بنو اسرائیل) کا قبلہ بیت المقدس تھا؟ کیا بنو اسرائیل اپنے باپ حضرت یعقوب کے دین پر نہ تھے؟
۳) کیا تمام انبیا کا دین‘ دین اسلام نہیں ہے؟ کیا حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت نہیں کی تھی ’ووصی بھا ابراہیم بنیہ ویعقوب یبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون‘؟ اگر تمام انبیا کا دین ایک ہی ہے جیساکہ قرآن و حدیث سے واضح ہوتا ہے تو پھر یہ کہنے کی کیا گنجایش رہ جاتی ہے کہ حضرت سلیمان سے پہلے انبیا کی نماز اورحج کے لیے قبلہ کی حیثیت بیت اللہ کو تھی، جبکہ حضرت سلیمان کے بعد نماز اور حج کے لیے بیت المقدس کو بنیادی حیثیت حاصل تھی ؟
۴) تقریباً تمام مناسک حج مقامات کے ساتھ خاص ہیں، مثلاً طوا ف ‘صفا اور مرو ہ کی سعی ‘مقام ابراہیم پر نفل پڑھنا‘ منیٰ کا قیام ‘میدان عرفات اور مزدلفہ کا قیام وغیرہ۔ بیت المقدس کو اگر بنی اسرائیل کا قبلہ مان لیا جائے تو بیت المقدس کے حج کرنے کا کیا مطلب ہے۔ دوسرے الفاظ میں بنو اسرائیل کا حج کیا تھا ؟
۵) بنو اسماعیل کا حج تو زمانہ جاہلیت میں بھی کسی نہ کسی بگڑی ہوئی شکل میں موجود تھا، لیکن کیا یہودی بھی آپ کے زمانے میں بیت المقدس کاحج کرتے تھے یا آج کرتے ہیں؟ اگر نہیں ‘تو کیوں ؟
۶) اگربیت المقدس ہی قبلہ تھا تو یہود ونصاریٰ میں پھر قبلے کی تعیین میں اختلاف کیوں ہوا؟ یہود حق پرتھے یا نصاریٰ؟ اصل قبلہ قبۃ الصخرہ ہے یا بیت المقدس کا مشرقی حصہ ؟
۷) اگر عمار صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہود کا قبلہ صحیح ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود یہود میں بھی تو اس قبلے کی تعیین میں اختلاف ہے کہ یہ صخرہ ہی ہے یاصخرہ کے قریب کوئی جگہ ہے۔ یہ کیسا قبلہ ہے کہ جس کے صحیح مقام کا آج تک تعین ہی نہ ہو سکا؟
۸) عمار صاحب کتاب مقدس کی کوئی ایک بھی واضح اور صریح نص پیش کر سکتے ہیں کہ جس میں یہ بیان ہوا ہو کہ اللہ تعالی نے بیت المقدس کو یہود کا قبلہ مقرر کیا تھا ؟
۹) اگر عمار صاحب یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ’وما أنت بتابع قبلتھم‘ میں اس بات کا اثبات کیا ہے کہ وہ یہود کا قبلہ ہے تو ہم یہ کہتے ہیں پھر ’ما ولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا‘ میں کس کے لیے قبلے کا اثبات ہے ؟
۱۰) اللہ تعالیٰ نے صرف یہود کے قبلے کا اثبات نہیں کیا بلکہ نصاریٰ کے قبلے کا بھی اثبات کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض‘، تو کیا کل تین قبلے ہیں ؟
۱۱) حقیقت یہ ہے کہ قبلہ ایک ہی ہے جو کہ بیت اللہ ہے ‘باقی رہا قرآن کامسجد اقصیٰ یا اس کے مشرقی حصہ کو قبلہ کہناتو یہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے اعتبار سے کہا ہے نہ کہ خود اپنی طرف سے ان کے لیے کسی علیحدہ قبلے کو مقررکرنے کا اثبات کیا ہے، جیسا کہ ’لکم دینکم ولی دین‘ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے لیے علیحدہ دین کا اثبات تو کیا ہے لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دین کو‘ ان کے لیے مقرر کیا ہے اور پسندبھی کیا ہے؟
واقعہ یہ ہے کہ عمارصاحب ہیکل سلیمانی کو یہود کا قبلہ قرار دینے پر مصر ہیں اور اس کے لیے انھوں نے دلیل حضرت سلیمان علیہ السلام کی اس دعا کو بنایا ہے جو کہ بیت المقدس کے فیوض وبرکات کے حوالے سے کتاب مقدس میں بیان ہوئی ہیں۔ بیت المقدس کی برکات و فضائل سے کس کو انکار ہو سکتا ہے، لیکن کیا کسی مقام کی برکات و فضائل کا بیان اس کے قبلہ ہونے کی ایک کافی دلیل ہے؟ یہ کیسا قبلہ ہے کہ جس کے قبلہ ہونے کے بارے میں کوئی ایک بھی واضح نص قرآن وسنت تو کیا، کتاب مقدس میں بھی موجود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت نہ تو حرم کی ہے اور نہ ہی یہ یہودیوں کا قبلہ رہا ہے۔ بیت المقدس کواپنا قبلہ قرار دینا یہودیوں کی اختراع ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کی آزمایش کے لیے ان کو وقتی طور پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا جس کا تذکرہ بہت ساری روایات میں ملتا ہے۔ اس حکم خداوندی کی رو سے بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا جو حکم آپ ؐ پر نازل ہوا تھا، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ پہلی مسلمان امتوں کا قبلہ بیت المقدس تھا بلکہ اس کی اصل وجہ مسلمانوں کی آزمایش تھی، جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے:
وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ (البقرۃ ۱۴۳)
اس کے بعداللہ تعالیٰ نے اس عارضی قبلے کو منسوخ قرار دے کر اصل قبلہ یعنی بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کاحکم جاری فرمایا۔
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وما أنت بتابع قبلتھم (البقرۃ:۱۴۵)
’’اور اے نبی! آپ ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں ۔‘‘
قرآن مجید کی یہ نص اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ کے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی وجہ یہودیوں کی اتباع نہیں تھی بلکہ آپ کو اللہ کی طرف سے یہ ایک حکم تھا۔ امام ابن کثیراس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
وانہ لا یتبع أھواءھم فی جمیع أحوالہ ولا کونہ متوجھا الی بیت المقدس لکونھا قبلۃ الیھود وانما ذلک عن أمر اللہ۔
’’آپ کسی بھی معاملے میں یہودیوں کی اتباع نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کا بیت المقدس کی طرف رخ کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ یہ یہود کا قبلہ ہے، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے آپ کو حکم تھا۔ ‘‘
یہودیوں نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعدقبۃ الصخرہ کی طرف رخ کر نماز پڑھنے کا آغاز کیا جبکہ عیسائیوں میں قسطنطین دی گریٹ (۲۷۲ ء تا۳۳۷ ء) و ہ پہلا عیسائی بادشاہ گزرا ہے جس نے بیت المقدس کی مشرقی جانب نماز پڑھنے کی بدعت کا آغاز کیا۔
امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں :
’’ان کاکہنا ہے کہ مشرق کی طرف نماز پڑھنے کی بدعت کا آغاز قسطنطین دی گریٹ نے کیا جبکہ نصاریٰ کے انبیا اور ان کے متبعین میں سے کسی ایک نے بھی مشرق کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے کعبہ کے علاوہ کسی مقام کو بھی شریعت اسلامیہ میں نماز کے لیے جہت نہیں بنایا۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور ان سے ماقبل کے تمام انبیا کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور خود حضرت موسیٰ بھی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ ان کاکہنا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ خیمہ عہد کو عرب کی طرف رخ کر کے نصب کرتے تھے اور صحرا میں اس خیمہ کی طرف رخ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب حضرت یوشع بن نون نے بیت المقدس کو فتح کر لیا تو خیمہ کو صخرہ پر نصب کیا۔ پس بنی اسرائیل خیمہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ جب بیت المقدس ویران ہوا اور خیمہ بھی چھن گیا تو یہود صخرہ کی طرف رخ کر نماز پڑھنے لگے کیونکہ یہ خیمہ کی جگہ تھی اور سامرۃ (یہودسے علیحدہ ہونے والا ایک فرقہ ) وہاں پر موجود ایک پہاڑ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے کیونکہ تابوت سکینہ اس پر موجود تھا۔‘‘ (۱۹)
امام ابن قیم لکھتے ہیں :
’’اہل کتاب کا اپنے قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا یہ وحی سے یا اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنا قبلہ آپس کے مشورے اور اجتہاد سے مقرر کیا۔ جہاں تک نصاریٰ کامعاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل یا اس کے علاوہ کسی کتاب میں ان کوکہیں بھی مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم کبھی نہیں دیااور وہ اس بات کا خود بھی قرار کرتے ہیں اور اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کا قبلہ وہی ہے جو کہ بنو اسرائیل کا قبلہ ہے اور وہ صخرہ ہے اور ان کے شیوخ اور بڑوں نے مشرق کو قبلہ مقرر کیا اور وہ اپنے ان کبار شیوخ کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح نے ان کو تحلیل و تحریم اور تشریع احکام کا اختیار تفویض کیا تھا اور جس چیز کو انھوں نے حلال یا حرام قرار دیا،ا س کو حضرت مسیح نے بھی آسمانوں پر سے حلال یا حرام قرار دے دیا۔ وہ یہود سے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی رسول کی زبانی مشرق کو قبلہ نہیں بنایا اور مسلمان بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مشرق کو قبلہ نہیں بنایا۔ جہاں تک یہود کے قبلے کا تعلق ہے تو یہ بات تو واضح ہے کہ تورات میں کہیں بھی صخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم نہیں بیان ہوا ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ جہاں سے بھی نکلتے، تابوت کو نصب کرتے اور اس کی طرف رخ کر نماز پڑھتے تھے۔ جب وہ بیت المقدس میں آئے تو انھوں نے اس تابوت کو صخرہ پر نصب کیا اور اس کی طرف رخ کر نماز پڑھی۔ پس جب تابوت کو اٹھا لیا گیا تو وہ صخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے کیونکہ یہ تابوت کی جگہ تھی۔ جہاں تک سامرہ (یہودیوں سے علیحدہ ہونے والا ایک گروہ) کا تعلق ہے تو وہ ارض شام میں موجود ایک پہاڑ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ وہ اس کی تعظیم کرتے تھے اور اس کا قصد بھی کرتے تھے اور میں نے اس پہاڑ کو دیکھا ہے، وہ شہر ’نابلس ‘ میں ہے اور میں(یعنی ابن قیم) نے جب اس فرقے کے علما سے بحث کی اور ان سے کہا کہ کہ تمہارا قبلہ باطل اور بدعت ہے تو انھوں نے کہاکہ ان کے دین میں اس قبلہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہی صحیح قبلہ ہے اور یہودیوں نے قبلہ کے تعین میں خطا کھائی ہے، اللہ تعالیٰ نے تورات میں اسی پہاڑ کے استقبال کا حکم دیا ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے اس پہاڑ کے استقبال کے بارے میں ایک نص پیش کی جس کے بارے میں اس کا گمان یہ تھا کہ یہ تورات کی آیت ہے تو میں نے کہا، یہ کہنا تورات کے بارے میں قطعی خطا ہے، کیونکہ تورات بنو اسرائیل پر نازل ہوئی اور وہ اس کے اول مخاطبین ہیں اور تم ان کی ایک فرع ہواور تم نے تورات ان سے حاصل کی ہے اور یہ نص جو کہ تم پیش کر رہے ہو، اس تورات میں نہیں ہے جو کہ بنوا سرائیل کے پاس ہے ا ور میں نے اس تورات کو دیکھا ہے اور اس میں یہ نص موجود نہیں ہے تو وہ (سامری عالم)مجھ سے کہنے لگا، تم ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ نص ہماری خاص تورات میں ہے۔‘‘ (۲۰)
۳) امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کی اس رائے کی تائید قرآنی نصوص ‘احادیث مبارکہ اور بعض تابعین وتبع تابعین کی آرا سے بھی ہوتی ہے۔
الف) اس رائے کی تائید میں چند ایک قرآنی دلائل درج ذیل ہیں :
بنی اسرائیل کی غلامی کے زمانے میں ‘جبکہ وہ ابھی تک قوم فرعون کے ظلم سے آزاد نہیں ہوئے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا تھا :
واجعلوا بیوتکم قبلۃ وأقیموا الصلوۃ (یونس:۸۷)
’’اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بناؤ اور نماز قائم کرو۔‘‘
یہاں بنی اسرائیل کو کس قبلے کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟ کیا بیت المقدس کی طرف کہ جس کی بنیاد بقول عمار صاحب سینکڑوں سال بعد حضرت سلیمان کے دور میں رکھی جانی تھی؟ یہ آیت مبارکہ اس مسئلے میں نص قطعی کا درجہ رکھتی ہے کہ بنی اسرائیل کو بھی اپنی نمازوں میں جس قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ بیت اللہ ہی ہے‘ کیونکہ اس آیت میں قبلہ کا لفظ مطلقاً استعمال کیا گیا ہے یعنی مراد وہ قبلہ ہے جو کہ اس وقت اور اس سے ماقبل کی اقوام میں بطور قبلہ معروف تھا اور وہ سب کے نزدیک بیت اللہ ہی ہے۔ امام طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں صحابہ و تابعین کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
عن مجاھد قال قال ابن عباس فی قولہ تعالی واجعلوا بیوتکم قبلۃ یقول وجھوا بیوتکم مساجدکم نحو القبلۃ ألا تری أنہ یقول فی بیوت أذن اللہ أن ترفع۔
’’حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے ’واجعلوا بیوتکم قبلۃ‘ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اپنے گھروں یعنی مساجد کو قبلہ رخ بناؤ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’فی بیوت أذن اللہ أن ترفع‘‘‘ (اس آیت مبارکہ میں مساجدکے لیے ’بیوت‘ کا لفظ استعمال ہواہے )
عن سعید ابن جبیر عن ابن عباس واجعلوا بیوتکم قبلۃ یعنی الکعبۃ۔
’’حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ’واجعلوا بیوتکم قبلۃ ‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ قبلہ سے مراد ’’کعبۃ‘‘ ہے ۔‘‘
عن مجاہد بیوتکم قبلۃ قال نحو الکعبۃ حین خاف موسی ومن معہ من فرعون أن یصلوا فی الکنائس الجامعۃ فأمروا أن یجعلوا فی بیوتھم مستقبلۃ الکعبۃ یصلون فیھا سرا
’’حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’واجعلوا بیوتکم‘ سے مراد ہے کہ اپنے گھروں کو کعبہ کے رخ بناؤ۔ جب موسیٰ اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے اپنی عبادت گاہوں میں اکٹھے ہو کر نماز پڑھنے میں فرعون سے خوف محسوس کیا تو انھیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں کو کعبہ کے رخ بنا لیں اور ان میں چھپ کے نمازپڑھیں۔‘‘
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ولئن أتیت الذین أوتوا الکتب بکل آیۃ ما تبعوا قبلتک وما أنت بتابع قبلتھم وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض ولئن اتبعت أھواءھم من بعد ما جاء ک من العلم انک اذا لمن الظالمین (البقرۃ ۱۴۵)
’’اور اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانی ہی کیو ں نہ لے آئیں، وہ آپ کے قبلے کی پیروی ہر گز نہ کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں اور ان میں بعض ‘ان کے بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والا نہیں ہے اور اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آ گیا تو تب آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے ۔‘‘
اس آیت مبارکہ کے انداز خطاب سے معلوم ہو رہا ہے کہ اہل کتاب سے بھی اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ بیت اللہ کو اپنا قبلہ بنائیں جوکہ تمام انبیا کا قبلہ رہا ہے، لیکن اہل کتاب کی ضد اور اسلا م دشمنی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس ہر قسم کی نشانی لے آئیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ بیت اللہ ہی اصل قبلہ ہے‘ اہل کتاب کا بھی اور مسلمانوں کا بھی‘ تو پھر بھی یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔
’وما أنت بتابع قبلتھم‘ میں ’قبلتھم‘ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو ان کا قبلہ بنایا ہے۔ اس کی دلیل آیت کایہ اگلا ٹکڑاہے: ’وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض‘ کیونکہ اس بات پر تو اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین قبلے نہیں بنائے، جبکہ آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تین قبلوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک مسلمانوں کا قبلہ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قبلہ مقرر کیا ہے جیسا کہ اسی آیت مبارکہ کے سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے۔ دوسرا عیسائیوں کا اور تیسرا یہودیوں کا قبلہ ہے جنھوں نے اپنی خواہش اور آزادمرضی سے بیت المقدس کی مشرقی جانب اور قبۃ الصخرہ کو قبلہ بنا لیا تھا۔ امام ابن جریر طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
وما لک یا محمد سبیل اتباع قبلتھم وذلک أن الیھود تستقبل بیت المقدس لصلاتھا وأن النصاری تستقبل المشرق فأنی یکون لک السبیل الی اتباع قبلتھم مع اختلاف وجوھھا
’’اے محمد! آپ کے لیے ان کے قبلے کی پیروی کرنا جائز نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے کہ یہوداپنی نماز میں بیت المقدس کی طرف جبکہ نصاریٰ اس کے مشرقی حصے کی طرف رخ کرتے ہیں ۔اے نبی! آپ کیسے ان کے قبلے کی پیروی کریں گے، جبکہ خود ان میں آپس میں قبلے کے تعین میں اختلاف ہے۔ ‘‘
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم (البقرۃ :۱۴۶)
’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یعنی اہل کتاب) وہ اس (یعنی بیت اللہ کے قبلہ ہونے ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔‘‘
امام ابن جریر طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
یعرف ھؤلاء الأحبار من الیھود والعلماء من النصاری أن البیت الحرام قبلتھم و قبلۃ ابراہیم وقبلۃ الأنبیاء قبلک کما یعرفون أبناءھم
’’ یہود و نصاریٰ کے علما یہ جانتے ہیں کہ مسجد حرام ان کا قبلہ ہے اور یہی حضرت ابراہیم اور آپ سے پہلے تمام انبیا کا قبلہ تھا، جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں بعض مفسرین نے ’یعرفونہ‘ کی ’ہ‘ ضمیر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹایاہے لیکن ’ہ‘ ضمیر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانا قرآن کے سیاق وسباق کے خلاف ہے ۔
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون (البقرۃ:۱۴۶)
’’اور ان میں سے ایک گروہ حق بات (یعنی بیت اللہ ہی کے اصل قبلہ ہونے) کو جانتے بوجھتے چھپا رہا ہے۔‘‘
امام ابن جریر طبری ’وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
وذلک الحق ھو القبلۃ التی وجہ اللہ عزوجل الیھا نبیہ محمدا ﷺ یقول فول وجھک شطر المسجد الحرام التی کانت الأنبیاء من قبل محمد یتوجھون الیھا فکتمھا الیھود والنصاری فتوجہ بعضھم شرقا وبعضھم نحو بیت المقدس ورفضوا ما أمرہم اللہ بہ
’الحق‘سے مراد قبلہ ہے جس کی طرف رخ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ مسجد حرام کی طرف اپنا رخ پھیر لیں جس کی طرف آپ سے پہلے تمام انبیا رخ کرتے تھے۔ پس یہود و نصاریٰ نے اصل قبلے(یعنی بیت اللہ ) کو چھپا لیا اور کسی نے مشرق کی طرف رخ کیا اور کسی نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایااور انھوں نے اس کا انکار کیاجس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔‘‘
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
الحق من ربک فلاتکونن من الممترین (البقرۃ:۱۴۷)
’’یہ (یعنی بیت اللہ کا قبلہ ہونا) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے‘ پس آپ (بیت اللہ کے ہی قبلہ ہونے میں) شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جائیں۔‘‘
امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
أی فلا تکونن من الشاکین فی أن القبلۃ التی وجھتک نحوھا قبلۃ ابراھیم خلیلی علیہ السلام وقبلۃ الأنبیاء غیرہ
’’اے نبی! آپ اس بارے میں بالکل بھی شک میں مبتلا نہ ہوں کہ جس قبلہ کی طرف ہم نے آپ کا رخ کیا ہے، وہی حضرت ابراہیم اور ان کے علاوہ تمام انبیا کاقبلہ ہے ۔‘‘
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقوا الخیرات (البقرۃ:۱۴۸)
’’اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ اس کی طرف اپنے آپ کو پھیرنے والا ہے پس تم (اے مسلمانو)نیکیوں میں سبقت لے جاؤ۔‘‘
امام طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
أی قد بینت لکم أیھا المؤمنون الحق وھدیتکم القبلۃ التی ضلت عنھا الیھود و النصاری وسائر الملل غیرکم فبادروا بالأعمال الصالحۃ شکرا لربکم
’’اے اہل ایمان! میں نے تمہارے لیے حق بات کو واضح کر دیا تھا اور اس قبلے کی طرف تمہاری رہنمائی کی ہے جس سے یہود و نصاریٰ اور تمہارے علاوہ تمام مذاہب بھٹک گئے تھے، پس تم اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے نیکی کے کاموں میں جلدی کرو۔ ‘‘
ب) بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ بیت المقدس یہود کا قبلہ نہیں ہے بلکہ ان کا قبلہ بھی بیت اللہ ہی تھا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں :
کنا عند ابن عباس فذکروا الدجال أنہ قال مکتوب بین عینیہ کافر فقال ابن عباس لم أسمعہ ولکنہ قال أما موسی کأنی أنظر الیہ اذا انحدر فی الوادی یلبی (۲۱)
’’ہم ابن عباس کے پاس تھے کہ لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا کہ آپ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا تو ابن عباس نے کہا، میں نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، بلکہ میں نے آپ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے کہ جہاں تک حضرت موسیٰ کا معاملہ ہے تو گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی میں تلبیہ کہتے ہوئے اتر رہے ہیں ۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انبیاے بنی اسرائیل بھی حج کرنے کے لیے بیت اللہ کا ہی قصد کرتے تھے۔ علامہ ابن حجر اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
و فی الحدیث أن التلبیۃ فی بطون الأودیۃ من سنن المرسلین
’’اور اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وادیوں کے درمیان میں تلبیہ کہنا رسولوں کی سنت ہے ۔‘‘
ایک دوسری روایت میں حضرت یونس بن متی کا بھی تذکر ہ ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے :
عن ابن عباس أن رسول اللہ مر بوادی الأزرق فقال أی واد ھذا قالوا ھذا وادی الأزرق فقال کأنی أنظر الی موسی وھو ھابط من الثنیۃ ولہ جؤار الی اللہ عزوجل بالتلبیۃ حتی أتی علی ثنیۃ ھرشاء فقال أی ثنیۃ ھذا قالوا ثنیۃ ھرشاء قال کأنی أنظر الی یونس بن متی علی ناقۃ حمراء جعدۃ علیہ جبۃ من صوف خطام ناقتہ خلبۃ قال ھشیم یعنی لیف وھو یلبی (۲۲)
’’حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر وادی أزرق سے ہوا تو آپ نے سوال کیا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ نے کہا، یہ وادی أزرق ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا گویا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گھاٹی سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہ رہے ہیں۔ پھرآ پ ہرشاء کی گھاٹی پر آئے اور آپ نے پوچھا، یہ کون سی گھاٹی ہے؟ صحابہ نے کہا، یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے تو آپ نے فرمایا، گویا کہ میں یونس بن متیٰ کودیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک سرخ موٹی تازی مضبوط گوشت والی اونٹنی پر سوار ہیں اور انھوں نے اون کا ایک جبہ پہن رکھا ہے‘ ان کی اونٹنی کی لگام کجھور کے درخت کی چھال کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں ۔‘‘
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیا بیت اللہ کاحج کرتے تھے ۔ عمار صاحب بنو اسرائیل کے کسی ایک نبی کے بارے میں یہ ثابت کردیں کہ اس نے بیت المقدس کا حج کیا ہو۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ، جن پر تورات نازل ہوئی‘ ان کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اگرعمار صاحب یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے دور میں بنو اسرائیل کا قبلہ تبدیل ہو گیا تھا توا س کی کیا دلیل ہے کہ پہلے ان کا قبلہ بھی وہی تھا جو کہ تمام انبیا کا تھا، پھر حضرت سلیمان کے دور میں ان کا قبلہ بیت المقدس قرار پایا؟ أمر واقعہ یہ ہے کہ یہود نے اپنے اصل قبلہ ‘جو کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا‘ سے انحراف کرتے ہوئے اپنے مشورے اور اجتہاد سے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر لیا تھا جیسا کہ امام طبری ‘امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے ۔
اسی طرح بعض صحیح احادیث میں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت ایک عام مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اگربیت المقدس یہودیوں کا قبلہ اور عبادت گاہ ہے تو وہاں نماز پڑھنے کی کیا تک بنتی ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری طرز عمل یہ تھاکہ آپ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی یہودیوں کی مخالفت کرتے تھے، چہ جائیکہ آپ مسلمانوں کو ان کے قبلے اور عبادت گاہ میں جا کر نمازپڑھنے کی ترغیب دلائیں۔
ج) بعض تابعین اورتبع تابعین کی آرا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرون ثلاثہ میں یہ رائے بہت عام تھی کہ تمام انبیا کا قبلہ بیت اللہ ہی رہا ہے اور بیت المقدس کو قبلہ قرار دینا یہودیوں کی ایک اختراع تھی اور یہودیوں کی اسی اختراع کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے آزمایش بناتے ہوئے بیت المقدس کو کچھ عرصہ کے لیے ان کاعارضی قبلہ قرار دیا ۔ان میں سے چند ایک اقوال یہ ہیں :
عن السدی: ’’ یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘‘ یعرفون الکعبۃ أنھا ھی قبلۃ الأنبیاء کما یعرفون أبناءھم وروی عن قتادۃ والربیع بن أنس والضحاک نحو ذلک
’’حضرت سدی سے روایت ہے کہ ’یعرفون کما یعرفون ابناءھم‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ یہ بات کہ کعبہ ہی تمام انبیا کا قبلہ ہے‘ اس طرح جانتے ہیں جس طرح کہ وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ قتادہ‘ ضحاک اورربیع بن أنس سے بھی اسی قسم کا مفہوم مروی ہے ۔‘‘
عن الربیع قولہ تعالی ’الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘ عرفوا قبلۃ البیت الحرام ھی قبلتھم التی أمروا بھا کما عرفوا أبناءھم
’’حضرت ربیع سے روایت ہے کہ آیت مبارکہ ’الذین آتیناھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون أبناءھم‘سے مراد ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ مسجد حرام ہی وہ قبلہ ہے جس کے استقبال کا ان کو حکم دیا گیا ہے جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں ۔‘‘
عن الربیع ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ یقول فلا تکونن فی شک من ذلک فانھا قبلتک وقبلۃ الأنبیاء قبلک
’’حضرت ربیع سے مروی ہے، وہ ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ کے بارے میں کہتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ اے محمد! آپ اس بارے میں کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوں کہ کعبہ ہی آپ کا بھی اور آپ سے پہلے انبیا کا بھی قبلہ تھا۔‘‘
عن أبی العالیۃ قال: قال اللہ لنبیہ ’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘ فیقول لا تکونن فی شک یا محمد ان الکعبۃ ھی قبلتک وکانت قبلۃ الأنبیاء قبلک
’’حضرت أبو العالیہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا ہے ’ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد! آپ اس بارے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں کہ کعبہ ہی آپ کا بھی قبلہ ہے اور آپ سے پہلے تمام انبیا کا بھی قبلہ تھا۔‘‘
عن أبی العالیۃ ’ولکل وجھۃ ھو مولیھا‘ قال للیھود وجھۃ ھو مولیھا وللنصرانی وجھۃ ھو مولیھا وھداکم اللہ أنتم ایتھا الأمۃ القبلۃ التی ھی القبلۃ وروی عن مجاھد أحد قولیہ والضحاک وعطاء والسدی والربیع نحوذلک
’’حضرت ابو العالیہ ’ولکل وجھۃ ھو مولیھا‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہود کے لیے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتے ہیں، اسی طرح عیسائیوں کے لیے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتے ہیں، اور اے امت مسلمہ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس قبلے کی طرف رہنمائی کی ہے جو کہ اصل قبلہ ہے ۔اس آیت کی تفسیر میں امام مجاہد کے دو قوال میں سے ایک قول یہی ہے۔ اس کے علاوہ ضحاک ‘عطا‘ سدی اورربیع سے بھی اس قسم کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ‘‘
د) دلیل استصحاب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہود کااصل قبلہ بیت اللہ ہی ہے ۔ڈاکٹر وہبہ الزحیلی استصحاب کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وعند الأصولیین ھو الحکم بثبوت أمر أو نفیہ فی الزمان الحاضر أو المستقبل‘ بناء علی ثبوتہ أو عدمہ فی الزمان الماضی‘ لعدم قیام الدلیل علی تغییرہ (۲۳)
’’أصولیین کے نزدیک‘ زمانہ حال یا مستقبل میں ‘کسی حکم کے ثبوت یا عدم ثبوت کی بنیاد ‘ماضی میں اس حکم کے ثبوت یاعدم ثبوت پر رکھنا‘ جبکہ اس حکم کے تبدیل ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو‘ استصحاب کہلاتا ہے ۔‘‘
قرآنی نصوص ‘احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد بنو اسرائیل اور بنو اسماعیل کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانے میں بیت اللہ کو منسوخ کر کے ‘بیت المقدس کو بنو اسرائیل کا قبلہ مقرر کیا گیاتو اس پر واجب ہے کہ وہ اس بات کی دلیل پیش کرے کہ بیت اللہ کو بنو اسرائیل کے لیے بطور قبلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کیا اسرائیلیات(کتاب مقدس) میں اس نسخ کی کوئی دلیل ہے؟
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا تو عارضی طور پر قبلہ مقرر کیا گیا، لیکن یہ یہود کا قبلہ کبھی بھی نہیں رہا۔ قرآن و حدیث تو کیا، اسرائیلیات (کتاب مقدس) میں بھی کوئی ایک بھی ایسی نص نہیں ہے کہ جس سے یہ واضح ہو تا ہوکہ اللہ تعالیٰ نے یہود کے لیے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا،بلکہ قرآنی آیات ‘بہت ساری روایت ‘تاریخی حقائق اور أئمہ سلف کی آرا اس مؤقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں کہ یہود کا قبلہ بیت اللہ ہی تھا۔ جب یہ ثابت ہوا کہ بیت المقدس نہ تو یہود کی عبادت گاہ ہے اور نہ ہی یہ ان کا قبلہ ہے تو یہ دعویٰ بھی باطل ہے کہ بیت المقدس پر یہودیوں کا حق ہے، بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ بیت المقدس ’وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا‘ کے مطابق مسلمانوں کی عبادت گاہ اور سابقہ قبلہ ہے، اس لیے وہی اس کی تولیت کا بھی شرعی حق رکھتے ہیں۔
دوسروں کے مؤقف میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور اپنے مؤقف کے اثبات کے لیے ایک دلیل بھی پیش نہ کر سکنا‘ اگر اہل فن کے ہاں تحقیق اسی کو کہتے ہیں تو واقعتا عمار صاحب کا مضمون ایک تحقیقی مقالہ ہے ‘کیونکہ عمار صاحب نے اپنے پورے مضمون میںیہی کام کیا ہے۔ میں نے عمار صاحب کے مضمون کا کئی دفعہ بغور مطالعہ کیا لیکن اس طویل مضمون میں مجھے سوائے حضرت سلیمان کی دعا کے کوئی اور عبارت ایسی نظر نہیں آئی کہ جسے عمار صاحب نے بیت المقدس کو یہود کا قبلہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا ہو۔ عمار صاحب سے گزارش ہے کہ انھوں نے علما کے مؤقف کا رد تو بہت اچھا کر دیا ہے، اب ذرا اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی دلیل پیش کریں۔ دوسروں کے مؤقف کا رد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا مؤقف ثابت ہو گیا ہے۔
حوالہ جات
۱) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب ذکر أی مسجد وضع أولا
۲) صحیح بخاری‘کتاب الجمعۃ‘باب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ
۳) فتح الباری مع صحیح بخاری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا
۴) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب فضل المسجد الأقصی والصلاۃ فیہ
۵) أیضا
۶) سنن أبی داؤد‘کتاب المناسک ‘باب فی المواقیت
۷) سنن أبی داؤد‘کتاب الأیمان والنذور‘باب من نذر أن یصلی فی بیت المقدس
۸) صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ
۹) دلائل النبوۃ ‘امام بیہقی‘جلد ۲‘ص۴۵ ورواہ ابن کثیر فی تفسیرہ و اللفظ لہ
۱۰) صحیح بخاری مع فتح الباری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا
۱۱) فتح الباری مع صحیح بخاری ‘کتاب أحادیث الأنبیاء ‘باب قول اللہ تعالی و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا
۱۲) سنن نسائی‘کتاب المساجد‘باب فضل المسجد الأقصی والصلاۃ فیہ
۱۳) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۳۶
۱۴) زاد المعاد‘امام ابن قیم‘ص۹
۱۵) قصص النبیین‘امام ابن کثیر‘جلد ۱‘ص۱۶۶
۱۶) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۳۶
۱۷) ماہنامہ اشراق:جولائی ۲۰۰۳‘ص۴۱
۱۸) ماہنامہ الشریعۃ:اکتوبر۲۰۰۶‘ص۲۵
۱۹) الرد علی المنطقیین‘امام ابن تیمیہ ‘ص ۲۸۹و۲۹۰
۲۰) بدائع الفوائد ‘امام ابن قیم ‘جلد ۴‘ص۱۷۱
۲۱) صحیح بخاری ‘ کتاب الحج‘باب التلبیۃ اذا انحدر فی الوادی
۲۲) صحیح مسلم ‘کتاب الایمان ‘باب الاسراء برسول اللہ الی السموات و رواہ الامام احمد فی مسندہ و اللفظ لہ
۲۳) أصول الفقہ الاسلامی ‘الدکتور وہبہ الزحیلی ‘جلد ۱‘ص۸۵۹
مسجد اقصیٰ کی بحث اور حافظ محمد زبیر کے اعتراضات
محمد عمار خان ناصر
مسجد اقصیٰ کی تولیت کی شرعی حیثیت کے حوالے سے ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں ’الشریعہ‘ اور ’اشراق‘ کے صفحات پر جو بحث چلتی رہی ہے، برادرم حافظ محمد زبیر صاحب نے کم وبیش تین سال کے وقفے کے بعد اس کو دوبارہ چھیڑا ہے اور بحث وتنقید کے بعض نئے پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسجد اقصیٰ سے بنی اسرائیل کے حق تولیت کی نفی اور امت مسلمہ کے حق تولیت کے اثبات کے حوالے سے مختلف اطراف سے جو شرعی، قانونی یا تاریخی استدلالات سامنے آئے تھے، ہم نے ’الشریعہ‘ کے اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں ان کا مفصل تنقیدی جائزہ لیا تھا، تاہم فاضل ناقد کی رائے میں کسی بھی ناقد نے ہماری ’’اصولی غلطی‘‘ کی نشان دہی نہیں کی۔ ان کی رائے میں اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا مسجد اقصیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کا قبلہ مقرر کیا گیا تھا یا نہیں۔ فاضل ناقد نے اس نکتے کو ہمارے استدلال کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے مخالف نقطہ نظر کے استدلالات کا ’’رد تو بہت اچھا کر دیا ہے‘‘ لیکن خود اپنے موقف کے حق میں مثبت طور پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ایسے دلائل وشواہد جمع کیے ہیں جن سے ان کے خیال میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو بنی اسرائیل کا قبلہ مقرر کیے جانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کو یہ حیثیت انھوں نے ازخود اپنے اجتہاد سے دے دی تھی۔
ہمیں افسوس ہے کہ فاضل ناقد سرے سے ہمارے موقف اور استدلال ہی کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہم نے اپنی تحریر میں مسجد اقصیٰ کے بنی اسرائیل کی عبادت گاہ اور قربان گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا قبلہ ہونے کا بھی ذکر کیا ہے اور اسی بات کے درست ہونے پر اطمینان رکھتے ہیں، تاہم واقعہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار بنی اسرائیل کوقرار دینے میں اس کا ’قبلہ‘ ہونا محض ایک اضافی بات کی حیثیت رکھتا ہے، اس پر ہمارے موقف کی بنیاد یا اس کے حق میں ہمارے استدلال کا انحصار ہرگز نہیں ہے۔ یہ بات اگر فرضاً درست تسلیم کر لی جائے کہ یہ مسجد ان کا ’قبلہ‘ نہیں تھی تو بھی ہمارے موقف یا استدلال میں سرمو کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، اس لیے کہ اس مسجد کو بنی اسرائیل کی عبادت گاہ، قربانی اور دیگر عباداتی رسوم کی ادائیگی کے لیے مقدس مقام اور روحانی مرجع ومرکز مقرر کیے جانے سے، جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں، فاضل ناقد کو بھی اختلاف نہیں، اور اسی پر ہمارے استدلال کی بنیاد ہے۔ فاضل ناقد ہمارے استدلال کا بنیادی مقدمہ اپنے ذہن سے طے کر کے اس کی دلیل ہماری تحریروں میں ڈھونڈھتے رہے اور ان کے بقول اس کے لیے انھیں ان تحریروں کو ’’کئی دفعہ بغور‘‘ پڑھنے اور صرف پڑھنے کی زحمت اٹھانا پڑی۔ اگر وہ تھوڑی سی معروضیت سے کام لینا گوارا کرتے تو انھیں ہمارا مقدمہ استدلال بحث کے آغاز ہی میں بالکل واضح اور غیر مبہم الفاظ میں لکھا ہوا مل جاتا۔ ہم نے لکھا ہے:
’’قرآن وسنت کی رو سے کسی مذہب کے ماننے والوں کو ان کی کسی عبادت گاہ، بالخصوص قبلہ اور مرکز عبادت کے حق تولیت سے محروم کرنا ایک ایسا نازک معاملہ ہے جو شارع کی جانب سے ایک واضح نص کا متقاضی ہے۔ اس کے بغیر اس معاملے میں محض عقلی استدلال کی بنیاد پر کوئی اقدام کیا ہی نہیں جا سکتا۔‘‘ (الشریعہ، ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳، ص ۴۱)
اس اقتباس میں ’’کسی عبادت گاہ، بالخصوص قبلہ اور مرکز عبادت‘‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ حق تولیت کے حوالے سے ہمارے موقف کی بنیاد کسی مخصوص مقام کے کسی خاص مذہبی گروہ کی ’’عبادت گاہ‘‘ ہونے پر ہے، جبکہ اس کا ’قبلہ‘ ہونا اضافی طور پر اس کو ایک خصوصی حیثیت دے دیتا ہے۔ اب جہاں تک کسی ’عبادت گاہ‘ کے حق تولیت کا تعلق ہے تو فاضل ناقد نے اس ضمن میں بحث کو سرمو آگے نہیں بڑھایا بلکہ ان کی سوئی بھی سابقہ ناقدین کی طرح ایک ہی نکتے پر اٹکی ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’حضرت ابراہیم کی طرح حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان اور بنی اسرائیل کے تمام انبیا کے اصل ورثا اور جانشین مسلمان ہیں نہ کہ یہود و نصاریٰ۔ اگر حضرت سلیمان نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی بھی تھی تو اس سے یہ کیسے لازم آتا ہے کہ اب یہ مسجد کافروں کی عبادت گاہ بن گئی ہے۔ حضرت سلیمان کے دور میں موجود بنی اسرائیل مسلمان تھے لہٰذا اس بنیاد پر اس مسجد کے وارث بھی تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض اور کینہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ ؐپر ایمان نہ لانے کی وجہ سے آج کل کے یہودیوں کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے بلکہ ان کے کفر پر امت کااجماع ہے، لہٰذا مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اس پرایک کافر قوم کا حق کیسے جتایا جا سکتا ہے ؟‘‘
واقعہ یہ ہے کہ اس پورے استدلال پر ہم اپنی تحریر میں تفصیلی تنقید کر کے اپنی بساط کی حد تک اس کی خامی کو مختلف پہلووں سے واضح کر چکے ہیں۔ یہ تنقید ’الشریعہ‘ کے اپریل؍مئی ۲۰۰۴ کے شمارے کے تیس صفحات (ص ۶ تا ۳۵) پر پھیلی ہوئی ہے۔ فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں ازراہ عنایت یہ تسلیم فرمایا ہے کہ ہم نے ’’علما کے مؤقف کا رد بہت اچھا کر دیا ہے‘‘۔ ہم نہیں سمجھ سکے کہ اگر ان کے پیش کردہ اس استدلال کا بھی ہم ’’بہت اچھا رد‘‘ کر چکے ہیں تو انھوں نے اسے دوبارہ کیوں پیش فرما دیا؟ اور اگر ہم اس استدلال کا ’’بہت اچھا رد‘‘ نہیں کر سکے تو پھر انھوں نے ہمارے اٹھائے ہوئے تنقیدی نکات سے تعرض کیوں نہیں کیا اور تنقید کے نقص یا کمزوری کو واضح کرنے کے بجائے محض استدلال کو دہرا دینے پر اکتفا کیوں کی ہے؟
اس تناظر میں ہم مسجد اقصیٰ کے زمانہ تعمیر اور اس کے قبلہ مقرر کیے جانے یا نہ کیے جانے کے حوالے سے فاضل ناقد کی اٹھائی ہوئی بحثوں سے اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے سردست ان سے کوئی تعرض نہیں کر رہے۔ فاضل ناقد اگر اصل نکتہ اختلاف کے تصفیے کے بعد، ان ضمنی نکات پر بحث کو آگے بڑھانا چاہیں گے تو ہم ان کے حوالے سے بھی اپنی گزارشات تفصیل کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ البتہ ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ ’’تاریخی وتحقیقی جائزے‘‘ میں فہم واستنباط اور تحقیق وتنقید کے جو نادر نمونے پیش کیے گئے ہیں، ان کو داد سے بالکل محروم رکھنا یقیناًناانصافی ہوگی۔ چنانچہ چند معروضات محض اس احساس کے تحت پیش کی جا رہی ہیں کہ فاضل ناقد ہمارے گریز کو خدا نخواستہ اپنی محنت اور کاوش کی ناقدری پر محمول نہ کر لیں۔
(۱) صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کی تاسیس کے مابین زمانی فاصلے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ، مسجد حرام کے چالیس سال بعد بنائی گئی تھی۔
فاضل ناقد نے اس روایت کو مسجد اقصیٰ کا زمانہ تعمیر متعین کرنے میں بنیادی ماخذ قرار دیا ہے اور اس ضمن میں تین آرا نقل کی ہیں:
۱۔ اگر مسجد حرام کا بانی حضرت ابراہیم کو تسلیم کر لیا جائے تو مسجد اقصیٰ کے بانی بھی حضرت ابراہیم قرار پائیں گے۔
۲۔ اگر مسجد حرام کا پہلا معمار حضرت آدم کو مانا جائے تو مسجد اقصیٰ کے موسس بھی وہی قرار پائیں گے۔ فاضل ناقد نے قرائن وشواہد کی روشنی میں اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔
۳۔ مسجد حرام کے بانی تو حضرت ابراہیم ہیں، جبکہ مسجد اقصیٰ کی تاسیس حضرت یعقوب نے کی۔
ہم نے اپنی تحریر میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ روایت سے پیدا ہونے والے ایک تاریخی اشکال کے تناظر میں اس تیسری رائے کا ذکر ان الفاظ میں کیا تھا:
’’اس روایت پر یہ اشکال ہے کہ تاریخ کے مسلمات کی رو سے مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی اور ان کے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مابین‘ جو مسجد حرام کے معمار تھے‘ کئی صدیوں کا فاصلہ ہے جبکہ روایت میں دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان صرف چالیس کا فاصلہ بتایا گیا ہے۔ علمائے حدیث کے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما دی تھی اور مذکورہ روایت میں اسی کا ذکر ہے ‘جبکہ حضرت سلیمان نے صدیوں بعد اسی جگہ پر ہیکل سلیمانی کو تعمیر کیا۔اس لحاظ سے ان کی حیثیت ہیکل کے اولین بانی اور مؤسس کی نہیں ‘بلکہ تجدید کنندہ کی ہے۔‘‘
اب فاضل ناقد نے مذکورہ تین آرا میں سے پہلی دونوں رایوں کو تو ’’دلائل کی روشنی میں قوی‘‘ قرار دیا ہے، لیکن آخری رائے کی درستی کا امکان تک تسلیم کرنے سے اس قدر نفور کا اظہار کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ ’علماے حدیث‘ میں سے کسی ایک کو بھی اس کا قائل تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، بلکہ اس کی بے وقعتی واضح کرنے کے لیے اس کو اختیار کرنے والے دو جید صاحبان علم، ابن قیم اور ابن کثیر رحمہما اللہ کو بھی ’علماے حدیث‘ کی صف سے نکال باہر کیا ہے۔ اس دوسری بات کے حق میں انھوں نے جو استدلال فرمایا ہے، اس سے تو اہل علم کسی تبصرے کی آمیزش کے بغیر براہ راست زیادہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، البتہ پہلی بات کے بارے میں ہم، محض اپنی کند ذہنی کی وجہ سے، فاضل ناقد سے یہ استفسار کرنا چاہیں گے کہ ازراہ کرم اس بنیادی فرق کی وضاحت فرما دیجیے جو پہلی توجیہ کو تو ’’دلائل کی روشنی میں قوی‘‘ بنا دیتا ہے، جبکہ تیسری توجیہ کو سرے سے قابل التفات ہی نہیں رہنے دیتا۔ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ جب مسجد حرام کا بانی حضرت ابراہیم کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے چالیس سال بعد بننے والی مسجد اقصیٰ کے موسس کے طور پر حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام، تینوں کے نام امکان کے درجے میں بالکل یکساں قرار پاتے ہیں اور جب تک کوئی یقینی قرینہ ان میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کے حق میں نہ پایا جائے، قیاس اور تخمین کی حد تک تینوں میں سے کسی بھی صورت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حضرت ابراہیم کے اس مسجد کا بانی ہونے کے حق میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ وہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل دونوں کے جد امجد تھے، اس لیے انھوں نے ان دونوں مقدس مقامات عبادت کی تاسیس خود ہی فرما دی ہوگی۔ دوسری طرف حضرت اسحاق یا حضرت یعقوب کے بانی ہونے کے حق میں یہ قرینہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ مسجد اقصیٰ چونکہ خاص طور پر بنی اسرائیل ہی کی ایک قومی عبادت گاہ تھی، اس لیے اس کی تاسیس بھی آل ابراہیم کی اسی شاخ کے کسی بزرگ یعنی حضرت اسحاق یا حضرت یعقوب نے فرمائی ہوگی۔ ابن قیمؒ اور ابن کثیرؒ نے مذکورہ امکانات میں سے دوسرے امکان کو ترجیح دی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ جیسے پہلے قیاس کے حق میں کوئی نص موجود نہیں، اسی طرح ابن قیمؒ اور ابن کثیرؒ بھی اپنے پاس کوئی قطعی دلیل نہیں رکھتے۔ فاضل ناقد سے ہمارا سوال یہ ہے کہ مسجد حرا م کا بانی حضرت ابراہیم کو قرار دینے کی رائے کو ’’دلائل کی روشنی میں قوی‘‘ تسلیم کرنے کے بعد مسجد اقصیٰ کے بانی کے حوالے سے پیدا ہونے والے یکساں درجے کے مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کی نفی کے لیے اتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت انھیں آخر کیوں پیش آگئی؟ کیا اس نکتے کا زیر بحث مسئلے یعنی مسجد اقصیٰ کی تولیت سے کوئی خاص تعلق ہے؟ حضرت ابراہیم کے بجائے حضرت یعقوب کو مسجد اقصیٰ کا بانی تسلیم کر لینے سے صورت حال میں آخر کون سا جوہری فرق پیدا ہو جاتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ محض خامہ فرسائی اور تنقید برائے تنقید کا شوق فاضل ناقد کو اس لاطائل بحث میں الجھا دینے کا سبب بن گیا ہے؟
(۲) فاضل ناقد نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ہم نے ابن قیمؒ اور ابن کثیرؒ کی مذکورہ رائے کی کی تعبیر اس درجہ غلط کی ہے کہ وہ اس کے لیے ’’تحریف‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس ’تحریف‘ کی تفصیل کرتے ہوئے فاضل ناقد نے بتایا ہے کہ ابن قیمؒ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ کا بانی قرار دیتے ہوئے ’اسسہ‘ (انھوں نے اس کی بنیاد رکھی) کے الفاظ استعمال کیے ہیں، اور ابن کثیرؒ نے اس بات کو ’جعلہ مسجدا‘ (انھوں نے اس کو مسجد قرار دیا) کے الفاظ سے بیان کیا ہے، جبکہ ہم نے اس مفہوم کی تعبیر ’’مسجد اقصیٰ کے مقام کی تعیین کرنے‘‘ سے کر دی ہے۔ فاضل ناقد نے قارئین کی ذہانت کو اپنی ذہانت پر قیاس کرتے ہوئے ’’کسی مسجد کی بنیاد رکھنے‘‘ یا ’’کسی جگہ کو مسجد قرار دینے‘‘ اور ’’مسجد کے مقام کی تعیین کرنے‘‘ کے مابین پائے جانے والے زمین وآسمان کے فرق پر روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بہرحال فاضل ناقد کی ’دقیقہ رسی‘ کو تسلیم کرنے سے کوئی چارہ نہ پاتے ہوئے ہم صرف اتنا اضافہ کرنا چاہیں گے کہ علماے سلف کی رائے میں اس ’’تحریف‘‘ کا ارتکاب علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے بھی کیا ہے، جنھیں علماے حدیث کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے فاضل ناقد کے نزدیک غالباً ان کا ’حنفی‘ ہونا ہی کافی ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں:
والجواب علی ما اختارہ ابن القیم ان تعیین مکان المسجد الاقصی کان من ید اسحاق علیہ الصلاۃ والسلام فانہ کان غرز وتدا ہناک کما فی التوراۃ۔ (فیض الباری، ۴/۳۷۲)
’’ابن قیم کی اختیار کردہ توجیہ کی رو سے اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ کی تعیین اسحاق علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاتھوں کر دی گئی تھی، چنانچہ تورات کے مطابق انھوں نے اس جگہ پر ایک میخ گاڑ دی تھی۔‘‘
فاضل ناقد نے مزید فرمایا ہے کہ حدیث میں وارد ہونے والے لفظ ’وضع‘ کا معنی ازروے لغت ’تعین کرنا‘ نہیں ہو سکتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ فاضل ناقد ’تعین کرنے‘ کا مفہوم کیا سمجھتے ہیں، البتہ ہم نے ’تعیین کرنے‘ کے الفاظ اس جگہ کو مسجد کے طور پر مقرر کر دینے کے مفہوم میں استعمال کیے ہیں اور اس کے لیے ’وضع‘ کا لفظ عربی زبان میں بالکل موزوں ہے۔ امام اللغہ زمخشری ’ان اول بیت وضع للناس‘ (آل عمران، ۹۶ ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ومعنی وضع اللہ بیتا للناس انہ جعلہ متعبدا لہم (الکشاف، ص ۱۸۳)
’’وضع اللہ بیتا للناس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ قرار دیا۔‘‘
زیر بحث توجیہ کی رو سے حدیث میں وارد ہونے والے لفظ ’وضع‘ کا مطلب بھی یہی ہوگا کہ حضرت اسحاق یا حضرت یعقوب علیہما السلام نے اس مقام کو عبادت گاہ کے طور پر متعین کر دیا تھا۔ مسجد اقصیٰ کا بانی حضرت یعقوب علیہ السلام کو قرار دینے پر ابن قیمؒ اور ابن کثیر ؒ تو فاضل ناقد کے ہاتھوں ’علماے حدیث‘ میں شامل ہونے کے شرف سے محروم ہو ہی چکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ زمخشری علماے لغت کے زمرے میں شامل رہتے ہیں یا نہیں۔
(۳) ابن قیمؒ اور ابن کثیرؒ کی رائے کی جو تعبیر ہم نے اپنے الفاظ میں کی ہے، فاضل ناقد نے اسے ’’تحریف‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی گرمئ گفتار کا باقاعدہ جواز بھی پیش فرمایا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں ان کے سخت لہجے پر ناگواری محسوس نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہم نے بھی مسجد اقصیٰ کی تولیت کے بارے میں اپنے ایک اجتہادی موقف کے مقابلے میں ’’علما کے کم و بیش اجماع کو کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ سے تعبیر ‘‘ کیا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ہماری تحریر میں سے جو اقتباس نقل کیا ہے، اس کا پورا پس منظر ہم یہاں واضح کیے دیتے ہیں۔
یہ پیرا گراف جس بحث کے سیاق وسباق میں آیا ہے، وہ ’الشریعہ کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ کے شمارے کے ص ۶۷ پر ’’عالم عرب کا موقف چند علمی واخلاقی سوالات‘‘ کے عنوان سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے آغاز میں ہم نے لکھا ہے:
’’مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے مذکورہ دونوں نقطہ ہائے نظر کی کمزوری ہم واضح کر چکے ہیں، تاہم اختلاف کے باوجود یہ ماننا چاہیے کہ ان کی غلطی اصلاً علمی ہے اور غلط فہمی کے اسباب بھی بڑی حد تک قابل فہم ہیں۔ لیکن بے حد افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس باب میں امت مسلمہ کے رویے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس کی مشکل ہی سے کوئی علمی یا اخلاقی توجیہ کی جا سکتی ہے۔‘‘
اس ناقابل توجیہ رویے کی تفصیل کرتے ہوئے ہم نے لکھا ہے:
’’اس وقت امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے والے مذہبی وسیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور ماہرین تاریخ کی اکثریت سرے سے ہیکل سلیمانی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک ہیکل کا وجود محض ایک افسانہ ہے جو یہود نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنے کے لیے گھڑ لیا ہے۔‘‘
اس موقف کے ترجمان رہنماؤں کے بیانات نقل کرنے کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے لکھا ہے:
’’قرآن وسنت کی تصریحات، مسلمہ تاریخی حقائق، یہود ونصاریٰ کی مذہبی روایات، مسلمانوں کے تاریخی لٹریچر اور مسلم محققین کی تصریحات کی روشنی میں نہ اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجایش ہے کہ مسجد اقصیٰ دراصل ہیکل سلیمانی ہی ہے، نہ اس دلیل میں کوئی وزن ہے کہ اثریاتی تحقیق کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے کوئی آثار دریافت نہیں ہو سکے اور نہ ہی اس حسن ظن کے لیے کوئی قرینہ ہے کہ مذکورہ موقف کے وکلا شاید حقائق سے بے خبر ہیں یا کوئی غلط فہمی انھیں لاحق ہو گئی ہے۔ خود فلسطین کے مسلم رہنما اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر صہیونی قبضے سے قبل تک ان تاریخی حقائق کو تسلیم کرتے رہے ہیں اور انھیں جھٹلانے کی جسارت انھوں نے کبھی نہیں کی۔‘‘ (ص ۶۹)
یہ وہ بحث ہے جس کا اختتام ہم نے درج ذیل سوال پر کیا ہے:
’’یہ نکتہ اب اہل علم کے لیے ایک کھلے سوال کی حیثیت رکھتا ہے کہ عالم عرب کا یہ کم و بیش اجماعی موقف‘ جس کو متعدد اکابر علماے دین و مفتیان شرع متین کی تائید و نصرت حاصل ہے اور جس کو مسلم اور عرب میڈیاتسلسل کے ساتھ دہرا رہا ہے ‘کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟‘‘ (ص ۷۰)
اس تفصیل سے واضح ہے کہ جہاں تک مسجد اقصیٰ پر بنی اسرائیل کے حق تولیت کے منسوخ ہو جانے کی رائے کا تعلق ہے، ہم نے اس رائے سے اختلاف کے باوجود اسے ایک ’’علمی غلطی‘‘ کہا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے اسباب کو بھی قابل فہم قرار دیا ہے۔ البتہ عالم عرب کے موجودہ سیاسی ومذہبی راہ نماؤں نے پوری ’روشن ضمیری‘ کے ساتھ ہیکل سلیمانی کی تاریخی حیثیت یا اس کے محل وقوع کے بارے میں مذہبی وتاریخی مسلمات کا انکار کرنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے، اس کی سنگینی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ موقف ’’کتمان حق اور تکذیب آیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں‘‘۔ اب اسے چاہے فاضل ناقد کی ذہانت کا کمال سمجھ لیا جائے یا ان کی دیانت داری کا کہ انھوں نے ہمارے اس تبصرے کو مذکورہ پوری بحث اور بالخصوص اس کے پہلے پیرا گراف سے کاٹ کر اہل علم کے اس موقف کے ساتھ نتھی کر دیا ہے جسے ہم خود ایک ’’علمی غلطی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ علماے سلف کی آرا میں ہمارے قلم سے صادر ہونے والی جس ’تحریف‘ کی انھوں نے نشان دہی کی ہے، اس پر وہ یقیناًداد کے مستحق ہیں، لیکن خود اپنے اس ’معصومانہ تسامح‘ کے بارے میں وہ کیا ارشاد فرمائیں گے؟
(۴) فاضل ناقد نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ صخرۂ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر لینا محض یہود کی اپنی ’اختراع ‘ ہے جسے اللہ تعالیٰ یا اس کے نبیوں کی طرف سے سند تصدیق حاصل نہیں۔ اس دعوے کی تائید میں انھوں نے امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کی عبارات پیش کی ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں بھی موضوعیت ان پر اتنی غالب ہے کہ انھوں نے دونوں بزرگوں کی عبارات پر پوری طرح غور کیے اور ان کے مدعا اور منشا کو ٹھیک طرح سے سمجھے بغیر انھیں اس دعوے کا مدعی ظاہر کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ ان عبارات میں مسجد اقصیٰ کے بنی اسرائیل کا شرعی لحاظ سے مستند قبلہ ہونے کی نفی نہیں کر رہے، بلکہ ’کعبہ‘ کے تقابل میں، جسے اللہ تعالیٰ کے براہ راست حکم کے تحت روز اول سے قبلہ مقرر کر دیا گیا تھا، مسجد اقصیٰ کے ’قبلہ‘ قرار پانے کے تاریخی عمل اور اس کے مختلف مراحل کو بیان کر رہے ہیں۔ ان کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دراصل براہ راست صخرہ کو قبلہ بنانے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ بنی اسرائیل کے لیے قبلہ کی حیثیت خیمہ اجتماع کو حاصل تھی جس میں مقدس اشیا اور تبرکات پر مشتمل تابوت کو رکھا جاتا تھا۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے بعد اس تابوت کو صخرۂ بیت المقدس کے مقام پر رکھ دیا گیا اور بنی اسرائیل اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ بعد میں تاریخی حوادث کے نتیجے میں تابوت ضائع ہو گیا تو اس جگہ یعنی صخرہ کو، جس پر تابوت رکھا گیا تھا، قبلے کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ کی بات بس اتنی ہے اور اس سے مسجد اقصیٰ کے مستند شرعی قبلہ نہ ہونے کا جو نتیجہ فاضل ناقد نے اخذ کیا ہے، وہ دونوں بزرگوں کے کلام سے صریح تجاوز پر مبنی اور سراسر موضوعیت کا شاخسانہ ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ بنی اسرائیل میں انبیا کا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد رکے بغیر مسلسل جاری رہا ہے، اس لیے خیمہ اجتماع کو ان کا قبلہ مقرر کرنے، پھر مسجد اقصیٰ میں صخرہ کی جگہ پر اس کو رکھنے اور تابوت کے ضائع ہو جانے کے بعد صخرہ کو قبلے کی حیثیت دینے کا یہ سارا عمل انبیا کی رہنمائی میں اور ان کی تائید ہی سے مکمل ہوا۔ اس لحاظ سے اس عمل کو پورا شرعی استناد حاصل ہے اور ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ میں سے کوئی بزرگ بھی اس کی نفی نہیں فرما رہے۔ چنانچہ دیکھیے، ابن تیمیہؒ نے کعبہ کو حضرت ابراہیم اور ان سے پہلے کے انبیا کا قبلہ تو قرار دیا ہے، لیکن ان کے بعد کے انبیا کے لیے کعبہ ہی کے ’قبلہ‘ ہونے کی، جیسا کہ فاضل ناقد کا اصرار ہے، نہ کوئی تصریح کی ہے اور نہ اشارہ۔ جبکہ ابن قیمؒ نے تو اس بات کی باقاعدہ تصریح کی ہے کہ بنی اسرائیل اور انبیاے بنی اسرائیل کے ’قبلہ‘ کی حیثیت مسجد اقصیٰ ہی کو حاصل رہی ہے۔ ’ہدایۃ الحیاریٰ‘ میں لکھتے ہیں:
وما صلی المسیح الی الشرق قط وما صلی الی ان توفاہ اللہ الا الی بیت المقدس وہی قبلۃ داود والانبیاء قبلہ وقبلۃ بنی اسرائیل (ص ۱۶۷)
’’مسیح علیہ الصلاۃ والسلام نے کبھی مشرق کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھی۔ وہ اپنے قبض کیے جانے تک بیت المقدس ہی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے جو حضرت داؤد کا اور حضرت مسیح سے پہلے آنے والے انبیا اور بنی اسرائیل کا قبلہ تھا۔‘‘
(۵) فاضل ناقد نے بنی اسرائیل کے لیے مسجد حرام ہی کے قبلہ مقرر کیے جانے کے حق میں یہ استدلال کیا ہے کہ سورۂ بقرہ، آیت ۱۳۲ کے مطابق حضرت یعقوب نے اپنی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو ’ملت ابراہیم‘ یعنی دین اسلام کی پیروی کی وصیت فرمائی تھی۔ گویا فاضل ناقد کے نزدیک دین اسلام یا ملت ابراہیم کی پیروی میں اس قبلے کی پیروی بھی لازمی طور پر شامل ہے جس کا حکم ان کے خیال میں حضرت ابراہیم اور ان سے پہلے تمام انبیا کو دیا گیا تھا۔
فاضل ناقد نے یہ استدلال پیش کرتے ہوئے کس قدر گہرے غور وفکر سے کام لیا ہے، اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے کے لیے ہمیں ان کے اس مضمون کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جس میں انھوں نے جناب جاوید احمد غامدی کے ’تصور سنت‘ کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ غامدی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دین اسلام کے مآخذ میں ’سنت‘ سے مراد دین ابراہیمی میں مقرر کیے جانے والے اعمال ورسوم کی وہ روایت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید واصلاح اور بعض اضافوں کے ساتھ دین کی حیثیت سے امت مسلمہ میں جاری فرمایا۔ ان کی رائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلاً حضرت ابراہیم ہی کے دین وملت اور اس کے احکام ورسوم کی پابندی کا حکم دیا گیا تھا اور اس کے لیے انھوں نے سورہ نحل کی آیت ۱۲۳ : ’ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا‘ سے استدلال کیا ہے۔ (اصول ومبادی، ص ۱۰) فاضل ناقد نے اس استدلال پر تنقید کرتے ہوئے ’الشریعہ‘ کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’ملت ابراہیم‘ کی پیروی سے شرائع واحکام کی پیروی مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۳۰ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ ملت ابراہیم کی اتباع نہیں کرتے، وہ بے وقوف ہیں۔ فاضل ناقد لکھتے ہیں:
’’ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم الا من سفہ نفسہ‘ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم ملت ابراہیم کی اتباع سے جزئیات میں ان کی اتباع مراد لیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ جن انبیا نے جزئیات میں حضرت ابراہیم کی اتباع نہیں کی، معاذ اللہ وہ بے وقوف ہیں۔ حضرت ابراہیم کی ملت کی اتباع سے مراد یہاں بھی ان کے اس رویے کی پیروی ہے جو انھوں نے اللہ کی اطاعت کے معاملے میں پیش کیا، یعنی اللہ کے لیے انتہائی درجے میں فرمانبرداری اختیار کرنا۔‘‘ (الشریعہ، ستمبر ۲۰۰۶، ص ۱۸)
فاضل ناقد کی اس تنقید سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن ان کی اس رائے کو سامنے رکھتے ہوئے مسجد حرام کو بنی اسرائیل کا قبلہ مقرر کرنے کے حق میں سورۂ بقرہ کی آیت ۱۳۲ سے ان کے استدلال کا جائزہ لیجیے تو یہ دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے کہ اس آیت میں حضرت یعقوب کی طرف سے اپنی اولاد کو جس چیز پر کاربند رہنے کی وصیت کا ذکر ہے، وہ اس سے پچھلی آیت میں مذکور وہی ’ملۃ ابراہیم‘ ہے جس کے مفہوم کو فاضل ناقد مذکورہ اقتباس میں صرف توحید اور اطاعت اور فرماں برداری کے رویے تک محدود قرار دے چکے ہیں، لیکن جب خود انھیں مسجد حرام کو بنی اسرائیل کا قبلہ قرار دینے کے حق میں استدلال کی ضرورت پیش آئی ہے تو اسی ’ملۃ ابراہیم‘ کا سکڑا ہوا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور نماز اور حج کے لیے قبلہ ومرکز مقرر کرنے جیسے شرعی احکام بھی اس کے اندر شامل ہو گئے ہیں۔ کیا فاضل ناقد اپنی ان ’محققانہ اداؤں‘ پر غور کرنا پسند کریں گے؟
فاضل ناقد کے ’’تاریخی وتحقیقی جائزے‘‘ میں نادر نکات اور اچھوتے استنباطات کا استقصا یہاں مقصود نہیں، ورنہ ان کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ ابھی داد طلب ہے۔ ہم اس امید پر گفتگو کو یہاں ختم کر رہے ہیں کہ آں محترم محض ہماری ضمنی طور پر پیش کردہ گزارشات کو موضوع سخن نہیں بنائیں گے بلکہ اصل نکتہ اختلاف یعنی مسجد اقصیٰ کی تولیت کی شرعی حیثیت کے حوالے سے بھی علما کے استدلال پر ہماری تنقید کو، جو ان کی نظر عنایت کی منتظر ہے، اپنی فاضلانہ توجہ سے نوازیں گے۔
اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
جناب وحید الدین خان کا علمی تفاخر
پروفیسر میاں انعام الرحمن
بھارت کے مذہبی اسکالر جناب وحید الدین خان کا نام ہم نے سنا ہوا ہے، لیکن ان کی فکر سے استفادہ کرنے کا ہمیں کبھی موقع نہیں ملا۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ماہنامہ تذکیر لاہور کا شمارہ ۱، جلد ۲۰، جنوری ۲۰۰۷ عنایت کیا۔ اس شمارے میں ’’ ایک علمی برائی ۔۔ دعویٰ بلا دلیل‘‘ کے زیرِ عنوان مراسلت کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ اس مراسلت کے مطالعے سے ہمیں حیرت ہوئی کہ کوئی مذہبی اسکالر علمی برائی کے رد میں علمی بڑائی کا خود پسندانہ اظہار اس حد تک بھی کر سکتا ہے۔ وحید الدین صاحب کا متشددانہ اصرار ہے کہ ’دارالدعوۃ ‘ کی اصطلاح صرف ان کے’ مجتہدانہ ذہن‘ کی پیداوار ہے۔ نہ تو ان سے قبل اور نہ ہی ان کے بعد یہ اصطلاح کسی بھی ذی شعور کے ذہن میں آزادانہ طور پر آسکتی ہے۔ اب دنیا بھر میں جو شخص بھی یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے، وہ درحقیقت وحیدالدین صاحب کا خوشہ چین ہوتا ہے۔ یہ مراسلت ۲۰۰۶ کی ہے۔ جناب وحید الدین کے علمی تفاخر وخود پسندی کے رد کی خاطر اور ریکارڈ کی درستی کے لیے ہم گزارش کریں گے کہ ’دارالدعوۃ‘ کی یہی اصطلاح ہم نے اپنی ایک تحریر مطبوعہ اپریل ۲۰۰۴ میں استعمال کی تھی، لیکن ہم یہ دعویٰ ہر گز نہیں کرتے کہ اس کے بعد جن لوگوں نے یہ اصطلاح اپنی تحریروں میں برتی ہے، انھوں نے اسے لازماً ہماری تحریر سے چرایا ہے۔ البتہ ہم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہماری تحریر میں اس اصطلاح کا در آنا عالمگیریت کی اٹھان اور موضوع کے خاص سیاق کے سبب سے تھا، اس لیے اس کا جناب وحیدالدین کی ’’فکر‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے دوست پروفیسر محمد اکرم ورک کا ایم فل کا مقالہ ’’صحابہ کرامؓ کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ‘‘ جب کتابی صورت میں آ رہا تھا تو انھوں اس پرکچھ لکھنے کا حکم صادر کیا۔ ہم نے ’’عہدِ زر میں عہدِ زریں کی دعوت‘‘ کے عنوان سے چند سطریں قلم بند کیں جو اسی کتاب کے صفحہ ۱۳ تا ۱۹ میں شائع ہو ئیں۔ اس تحریر میں ایک مقام پر ’دارالدعوۃ ‘ کی اصطلاح، خیالات کی رو کے ساتھ خودبخود سامنے آئی۔ ملاحظہ کیجیے :
’’ سرد جنگ کے خاتمے اور نائن الیون کے واقعہ کے بعددنیا میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک طرف اگر امریکہ یک قطبی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے تو دوسری طرف قومی ریاست جرمِ ضعیفی کی سزاوار ٹھہر کر مرگِ مفاجات کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اندریں صورت عالمی سطح پر نئی فکری صف بندی راہ پا رہی ہے ۔ تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ گھڑ کر تہذیبِ اسلامی پر دہشت گردوں کی تہذیب کا لیبل چسپاں کر کے ’ مارکیٹ اکانومی ‘ کے دیوتا کو گلوبل کردار سونپا جا رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کے نام پر پوری دنیا کو ایسی فکر کے زیرِ نگیں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا اخلاقیات، زندگی کی اعلیٰ قدروں اور انسانیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یوں سمجھیے کہ ایک عہدِ زر، بد ترین عہدِ زر کو جنم دینے والا ہے۔ اب یہ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ نوعِ انسانی نے فیصلہ کرنا ہے کہ زندگی کے کسی اعلیٰ آدرش سے اپنی وابستگی ظاہر کرے یا پھر غلامی کے نئے ایڈیشن کو چپ چاپ قبول کر لے۔
مذکورہ بالا صورتِ حال یہ واضح کرنے کو کافی ہے کہ ریاست کا روایتی تصور آخری دموں پر ہے، عالمگیریت قدم بڑھا رہی ہے، لہٰذا موجودہ دور میں دارالحرب اور دارالاسلام کی روایتی بحثیں بھی اہمیت کھو چکی ہیں:
مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیحِ روز وشب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ!
نئے حوادث ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ اب پوری دنیا کو ’وحدت ‘ کی صورت میں دیکھنا ہوگا، اس لیے نہ تو اسے دارالحرب قرار دے سکتے ہیں اور نہ ہی دارالاسلام۔ بہتر یہی ہے کہ ہم دنیا کو ’دار الدعوۃ‘ قرار دیں کہ ہمارا دین عالمگیر ہے، ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین ہے اور ہمارا رب، رب العالمین ہے۔ اس تناظر میں پروفیسر محمد اکرم ورک کی کتاب ’’ صحابہ کرامؓ کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ‘‘ بہت بر وقت سامنے آئی ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ شاعری کی طرح نثر میں بھی ’ توارد ‘ واقع ہو سکتا ہے۔ اس لیے صحیح علمی رویہ یہ ہے کہ انسان تفاخر کے بجائے تواضع اپنائے اور کسی بھی دوسرے انسان کے ذہنی امکانات کا انکار کرنے سے پرہیز کرے۔
حضرت مدنیؒ اور تجدد پسندی
مفتی رشید احمد علوی
ویسے تو عنوان زدہ کلمات بذات خود ایک مزاح ہیں، لیکن کبھی قارئین کسی حقیقت تک رسائی کے لیے ایسے مزاح کی زحمت برداشت کرلیا کرتے ہیں۔ البتہ جب حضرت مدنی جیسی نابغۂ روزگار ہستیوں کے افکار سے من مرضی کے مفہوم ومعنی اخذ کیے جانے لگیں تو اس وقت اس قسم کے مزاح کو تحریر میں لانے کے لیے قارئین کرام سے بصد احترام معذرت ہے ۔
بات اصل میں یہ ہے کہ حضرت مدنی کا ہندوستان میں بسنے والوں کے لیے ایک قومی نظریہ تھا۔ آپ ہند میں دو قومی نظریہ کے علمبردار یا قائل نہ تھے، اور آپ کا فرمان یہ تھا کہ ہندوستان میں بسنے والے خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ایک ہی قوم کے افراد ہیں۔ اس نقطۂ نظر کی وجہ سے بہت سے لوگوں کوحضرت مدنی کے ایمان وعمل کے بارے میں دریدہ دہنی کا موقع ملا۔ یہ الگ بحث ہے کہ حضرت مدنی کا نقطہ نظر درست تھا یانہیں، لیکن پاکستان بننے کے بعدجب پہلا قومی شناختی کارڈ یا پہلا پاسپورٹ بنایا گیا توحضرت مدنی کے مخالفین کایہ عمل اپنے ہی منہ پر طمانچہ تھا، کیونکہ جو لوگ اب تک یہ دعویٰ کرتے چلے آ رہے تھے کہ قومیں مذہب سے بنتی ہیں، وہی اب پاکستان میں آکر لوگوں سے مخاطب تھے کہ ہم سب ایک قوم ہیں اور یہاں کوئی ہندویا سکھ یا عیسائی نہیں ہے۔ اس طرح اپنے افکار کی تغلیط خود اپنے ہی ہاتھوں کر دی گئی۔ اس کے باوجود آج تک ہم اس مخمصے میں بحیثیت قوم پھنسے ہوئے ہیں کہ قوم مذہب کی بنیاد پر ہوتی ہے یا وطن کی بنیاد پر؟ اور ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا مضمون ’’مطالعہ پاکستان‘‘ تضادبیانیوں کی وجہ سے ہمارے ذہنوں کو بھی متضاد افکار کا ملغوبہ بنا رہا ہے جس کا نمونہ کسی بھی یونیورسٹی یا کالج کے طلبا بلکہ اساتذہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ سب اسی فکری تضاد کا شکار ہیں۔ اسی فکری تضاد کی ایک زندہ مثال ماہنامہ ’الشریعہ ‘کے لکھنے والوں میں بعض اہل علم ودانش، مفکرین اور گرامی قدرپروفیسر حضرات ہیں۔
معاملہ یوں ہے کہ مولانا عبد الباری ندوی نے، جن کا حضرت مدنی سے اصلاح باطن کا تعلق تھا، اپنے ساتھ پیش آنے والے کچھ حالات بیان کیے اور ان کے پیش نظر کچھ سوالات حضرت کی خدمت میں ارسال کیے جو اصلاح احوال کے لیے تھے۔ بقول مولانا عبد الباری ندوی حالات یوں تھے کہ: ’’اثنائے سفر میں ایک واقعہ پیش آیا کہ بھوپال اسٹیشن پرکچھ کھانا لینے کے خیال سے ڈبہ سے باہر آیا، سامنے ہی ایک خوانچہ دکھائی دیا جس میں تین بڑی بڑی المونیم کی پتیلیاں بند رکھی تھیں۔ بیچنے والاسامنے نہ تھا۔ قرینہ سے مسلمان سمجھا اور ایک پتیلی کے صرف ڈھکن کو ہاتھ لگادیا۔ اتنے میں وہ آگیا تو ہندو تھا۔ کہا کہ اب تو سب خراب ہوگیا، اور سب کے دام آپ کو دینا پڑیں گے ...... اور جو کچھ اس نے مانگا، دے دیا اور پوریاں وغیرہ جو کچھ تھیں، وہ اسی جگہ مسلمانوں کو تقسیم کردیں ۔‘‘
اس واقعہ کے بعد جو خیالات مولانا ندوی کے ذہن میں پیدا ہوئے، وہ یوں ہیں کہ آئندہ میں بھی ہر قسم کی اشیا کی خریدو فرخت صرف مسلمانوں سے ہی کیا کروں، اور غیر مسلموں سے، چاہے وہ ہندوہوں یا انگریز، مستقل بنیادوں پر قطع تعلق کر لینا چاہیے۔ اس پس منظر میں کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوئے جو اپنے شیخ ومربی کی خدمت میں یہ کہہ کر ارسال کردیے کہ’’جیساارشاد ہوگا، اسی کے مطابق ان شاء اللہ عمل کروں گا، لہٰذا نفس واقعہ اور حال عرض کردینے کے بعد جو خطرات و سوالات دل میں پیدا ہورہے ہیں، عرض کرتا ہوں‘‘۔ ان سوالات کا خلاصہ ذیل میں عرض کیا جاتا ہے ۔
۱۔ مشرکین کا نجس ہونا تو نص سے ثابت ہے، اس مفہوم کو صرف معنوی نجاست کہنے کی بجائے اس کو ظاہری نجاست بھی سمجھنا چاہئے، اور ہر قسم کے مشرکین سے، خواہ ہندو ہوںیا انگریز، ان سے ہر لحاظ سے اور ہر قسم کی قطع تعلقی کر لی جائے ۔
۲۔ کافروں کے ساتھ ترک موالات کے ساتھ ساتھ ترک معاملات بھی کیا جانا چاہیے ۔
۳۔ یہ قطع تعلقی بجائے چند ایام کے یا چند معامالات کے، ہمیشہ کے لیے ہونی چاہیے۔
پہلا سوال چونکہ خالص فقہی نوعیت کا ہے، لہٰذاحضرت مدنی نے اس کا جواب بھی خالص فقہی انداز میں نے عنایت فرمایا۔
دوسرے سوال میں چونکہ مولانا ندوی اسٹیشن پر پیش آمدہ واقعہ سے دل برداشتہ تھے، اس لیے انتقام کی اجازت پر مشتمل تھا، لہٰذا ایک مصلح کو اس کا جواب جیسا دینا چاہئے تھا، وہ جواب آپ نے بطریق احسن دیا۔
تیسرا، چوتھا، پانچواں اور چھٹا سوال اس زمانے میں چلنے والی تحریک ’ترک موالات‘ کی مناسبت سے تھا جس کا جواب ایک زیرک اور مدبر، دانشمندوحکیم سے جیسی امید کی جاسکتی تھی، اسی طرح دیا گیا۔
اس سوال میں تمام کفار، خواہ وہ ہندو ہوں یا انگریز، سب کے ساتھ ترک موالات کا مطالبہ کیا گیا تھا،جبکہ تحریک ترک موالات میں صرف انگریزوں کے ساتھ قطع تعلقی کی جارہی تھی، جس کے جواب میں حضرت مدنی نے فرمایا:
۱۔ ’’احکام سیاسیہ ایک حالت نہیں رکھتے۔ کبھی زہر علانیہ دینے کا موقعہ ہوگا، اور کبھی شکر کا شربت پیش کرنا ہوگا۔‘‘
۲۔ بجائے جذبات میں کوئی ایسا شدید فیصلہ کرنے کے جس سے وقتی مصالح اور دائمی فوائد سے محرومی ہوجائے، ’’ضروریات اسلامیہ اور وقتیہ کا لحاظ رکھتے ہوئے الانفع فالانفع پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ ‘‘
اور اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’انگریزوں کے ساتھ معاملہ سیاسی غیر مذہبی نہیں بلکہ مذہبی ہے، البتہ وہ اکبرالاعداء اور اقوی الاعداء اور اضرّ الاعداء ہیں، ان کی اسلامیت سے ناامیدی ہے ۔‘‘ جبکہ ہندوؤں کے بارے میں ایسی ناامیدی ہرگز نہیں ہے، کیوں کہ اکثر ہندوستان میں آباد اقوام میں سے لوگ مسلمان ہوئے ہیں، اگرچہ چند معروضی حالات کی وجہ سے اس میں رکاوٹ آگئی ہے۔ لہٰذا فرمایا’’مانحن فیہ ایسا نہیں ‘‘بلکہ مکتوب کے ابتدائی حصے میں حضرت مدنی نے تفصیل کے ساتھ ان معروضی حالات کا تجزیہ کیا ہے جن کی وجہ سے ہندو ؤں کے نزدیک مسلمان ہونا اتنا نفرت کا باعث بن گیا۔ اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
’’تاریخ بتلاتی ہے کہ ہند میں ابتداء اً جب مسلمان آئے، عام طور سے اہل ہند بدھ مذہب رکھتے تھے اور ترک چھوت چھات تو درکنار، بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے ..... اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی۔ خاندان کے خاندان مسلمان ہوگئے۔ مغربی پنجاب خصوصاً سندھ میں مسلمانوں کی زیادتی کا بڑا راز یہی ہے۔ ‘‘
اور انگریزوں کے بارے میں چونکہ سائل کو یہ شبہ تھا کہ شاید ایک وقت آئے گا جب ہم ان سے ترک موالات کے مسئلہ میں نظر ثانی کرلیں گے اور ان کے ساتھ تمام معاملات میں تعلقات قائم کر لیے جائیں گے، تو اس کی وضاحت میں حضرت مدنی نے فرمایا:
’’اگر وہ [انگریز] اسلامی دنیا پر مظالم گزشتہ سے تلافی اور آئندہ کے لیے دست بردار ہوجائیں تو ترک موالات وغیرہ میں تخفیف ضرور ہوگی، البتہ تابقاء کفر مصالحت کی بنا پرنہ موالات تامہ ہوگی اور نہ معادات‘‘ ۔
۴۔ مسئلہ چھوت چھات جس کی وجہ سے مولاناندوی کو ذاتی طور پر ایک تلخ تجربہ ہوچکا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے حضرت مدنی کویہ مکتوب لکھا اورجو کچھ مکتوب میں مندرج ہوا،وہ اس مکالمہ کا باعث بنا تھا جس کے جواب میں حضرت مدنی نے فرمایاکہ :
’’اگرچہ انگریز وہ معاملہ چھوت چھات کا نہیں کرتے، مگر اسلام کے بدترین اوراعلیٰ ترین دشمن ہیں ، بخلاف ہنود کے۔ یہ ہمارے پڑوسی ہیں اور پڑوسی اگرچہ کافر ہو، پڑوسی پر حق رکھتا ہے، کما وردفی الحدیث، ان کے ساتھ ہمارا خون ملا ہوا ہے، رشتہ اور قرابت داری ہے، یا آبا کے ساتھ یا جدّات کے ذریعے سے۔ ان کے ساتھ ہندوستان میں ہم کو مجبوراً رہنا اور درگزر کرنا ہے، بغیر میل جول جس قدر بھی ممکن ہو، ہندوستان میں گزرکرنا عادت مستحیل ہے ، اس لیے ضروریات زندگیہ اس طرف تخفیف ضرور پیدا کریں گی، انگریز سے ہم کو نہ یہ تعلقات ہیں، نہ مجبوریت ‘‘۔
اس بیان سے ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک مصلح یا ایک فقیہ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرہ میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل اس انداز میں پیش کرے جس سے مسائل حل ہوں، اور لوگوں کا زندگی گزارنے کا عمل درست سمت میں احسن طریقہ سے چلتا رہے، اور حضرت مدنی نے اپنے اس جواب میں اس کا پوری طرح اظہار فرمایا۔
تحریر میں حضرت مدنی نے تاریخی مثالیں دیتے ہوئے اس سے پہلے کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’عوام ہند کی ذہنیت ہمیشہ سے تارکین دنیا کی پرستش کرنے والی واقع ہوئی ہے، خصوصاً ہندو ذہنیت جس قدر سادھواور فقیر کی پرستش کرتی ہے، وہ اظہر من الشمس ہے۔ یہ ذہنیت بہت جلد شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک پھیل گئی اور وہ اس میں کامیاب ہوگئے۔ چونکہ اسلامی قوت کا قوت سے ان کو مقابلہ کرنے میں باوجود مساعئ عظیمہ کا میابی نہیں ہوئی، اس لیے اسی طریقے پر ان کی جدجہد محصور ہوگئی، اسی کو انہوں نے آلۂ کار مدافعت بالقویٰ کا بھی بنانا چاہا‘‘۔
اور ہندؤں میں تہذیبی تبدیلی کے جوحالات سامنے آئے، اس کی نشان دہی اور اس کا حل بتاتے ہوئے حضرت مدنی نے فرمایا:
’’پادشاہان اسلام نے اولاً اس طرف توجہ ہی نہیں کی، بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابلہ کرتے رہے ،مگر شاہان مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا، خصوصاً اکبر نے اس خیال اور اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنا چاہااور اگر اس جیسے چند بادشاہ اور بھی ہوجاتے یا اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہوجاتی اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیاتھا۔‘‘
پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت مدنی کا یہ قول تفرد نہیں اور نہ ہی اس بات میں حضرت مدنی اکیلے اور تنہا ہیں ،بلکہ اگر ’الشریعہ‘ کی مجلس ادارت کے رکن رکین تاریخ کی کتب پر نظر ڈالتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ اکبر کو بدنام کرنے والے صرف ’’دوقومی نظریہ ‘‘کے علمبردار تھے، نہ کہ ہندوستانی قومیت کے علمبردار، اوراس مسئلے پرتاریخ میں بہت سے افراد ایسے مل جائیں گے جو اکبر کی پالیسیوں کو اس کے سیاسی منظر نامہ میں دیکھ کر درست قرار دیتے رہے ہیں، اور ہندوستان میں سیکولرازم کا اولین علمبردار جلال الدین اکبر کوقراردیتے رہے ہیں جو مسلمانوں میں پہلے حکمران ہیں جوتمام ادیان کو ساتھ لے کر ہندوستان پر حکمرانی کرنے کے قائل تھے۔ آج اس بات کوصدیاں بیت جانے کے بعد اور مسلمانوں کا بٹوارہ کیے جانے اور تاریخ کے سب سے بڑے قتل عام کے بعد بعض روشن خیال اور مغرب کے پروردہ مفکرین سیکولرازم کی طرف متوجہ ہونا اپنے لیے سعادت دارین سمجھتے ہیں، اور حضرت مدنی کے مکتوبات میں سے کچھ کلمات کو توڑ مروڑ کراپنی مصنوعی روشن خیالی کے چہرے پر سجانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اس مملکت کا حصول اس سوچ سے یکسرمختلف تھا۔ ا ور حقیقت حال تو یہ ہے کہ نہ اکبر کی تجدد پسندی پر کوئی اجماع ہے اور نہ حضرت مدنی نے کسی اجماع کی مخالفت کی۔ یہ صرف کور باطنی کی وجہ سے یا نگاہ حقیقت بین سے محرومی کی وجہ سے اور اجماع کے مفہوم سے نا آشنائی کی وجہ سے یا اس بات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کہ تاریخ میں اجماع نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ ایک فقہی اصطلاح ہے، یا نظریۂ قومیت سے ناآشنائی کی وجہ سے، یا ہندوستان کی قدیم تاریخ کی وجہ سے، یا روشن خیالی وتجدد پسندی کے شوق میں بے بہرہ ہوجانے کی وجہ سے ہے کہ ’رکن رکین ‘کو حضرت مدنی کا اجماع کے خلاف ہونا اور اکبر کی پالیسیوں کا خلاف اجماع ہونا نظر آرہا ہے۔
جہاں تک اکبر کی مذہبی پالیسیوں کا تعلق تھا، اس پر حضرت مدنی نے واضح الفاظ میں لکھا کہ مسئلہ چھوت چھات پر اکبر جیسا زیرک ودانا حکمران کیوں قابو نہ پاسکا، کیونکہ ’’ادھر تو اکبر نے نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بد ظنی ہوئی‘‘ اس لیے کہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا جتنا اس کو بنا دیا گیا۔ اس کو دین الہٰی کہا گیا اور اس کے بارے میں مسلمانوں میں بداعتقادی کی وجہ سے یا مغلوں سے ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے یا سیاسی حالات سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو خوب بدنام کیا گیا، اور اسی پس منظر میں حضرت مدنی فرماتے ہیں: ’’اگرچہ بدظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے‘‘۔ یہ تو اپنوں کا حال تھا کہ مسلمان حکمرانوں کی پالیسیوں کو دیکھ کر درست رائے قائم کرنے کی بجائے الٹا اس کو مورد طعن وتشنیع بنایا جانے لگا، اور دوسری طرف ہندوؤں میں جو مسئلہ چھوت چھات کا تھا اور اس کو ختم کرنے کی کوشش اکبر نے کی، ’’ادھر برہمنوں کے غیظ وغضب میں اپنی ناکامی دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا‘‘ اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں کی منافرت بین الاقوام کی پالیسیوں، سیواجی کی تاریخی نفرت انگیزی، سکھوں کی مسلم دشمنی کی تاریخ، وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے ہندوؤں میں چھوت چھات کا مسئلہ اور زیادہ بڑھا اور ہند میں آباد اقوام میں نفرت بڑھتی چلی گئی ۔
اگر ’معزز رکن رکین‘ مولانا نجم الدین اصلاحی کا حاشیہ دیکھ لیتے تو شایدروشن خیالی کے من میں چھپے ہوئے تجدد پسندی کے بھوت کو وہ اس طرح رام نہ کرتے جیسے انہوں نے کیا ہے، مگر محترم کو تو گلوبل بننے کی فکر دامن گیر ہے ،اور اس شوق کوبھی پورا کرنابہت تھا کہ بازار سے گلوب کو لے کراپنے سامنے رکھتے اورایک نظر میں کئی ممالک کو دیکھتے رہتے اور یوں گلوبل بن جاتے۔ ا ورہاں جس گلوبل دنیا کے محترم دعوے دار ہیں، وہ کم ازکم اس تیسری دنیا میں تو بیسیوں برس دورتک کہیں نظر نہیں پڑتی ۔
البتہ یہ گلوبل ازم کا نعرہ صرف ہم جیسے ناہنجار لوگوں کا مقدر ہے، جہاں تعلیم کی بجائے جہالت ،روزگار کی بجائے فقر وفاقہ، صحت کی بجائے آئے دن نئی نئی بیماریاں، محبتوں کی بجائے نفرتوں کے انبار، ترقی کی بجائے تنزلی، سچ کی بجائے جھوٹ، قانون کی بجائے لا قانونیت، انصاف کی بجائے ظلم، روشنی کی بجائے اندھیرے، سائنس کی بجائے پتھر کا دور، جمہوریت کی بجائے فرد واحد کا مختار کل ہونا مقدر بن چکا ہے اور جہاں ہمارارونابھی U.N.O. کے بڑے بڑے بے روح ہالوں میں صدابصحرا ہونے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ کشمیر وفلسطین، اندلس وفلپائن، بوسنیا وفرانس، عراق و افغانستان کے حالات کو ایک نظر ہی دیکھ کر اندازہ کریں کہ جس سوچ کے وہ حامل ہیں، کیا وہ حقیقت کی دنیا یا زمینی حقائق سے بھی موافقت رکھتے ہیں یا گلوبلائزیشن کی سوچ سوائے ایک سہانے خواب کے کوئی معنی بھی رکھتی ہے؟ یہ نعرہ دنیا کی حاکم قوتوں نے ہم غریب لوگوں کو انتشار میں مبتلا رکھنے کے لیے تراشا ہے ۔
اسی لیے تو اکبر کی پالیسیوں کا معاشرتی اثر ہمیں نظر نہیں آتا، البتہ اس سے دور اور بہت ہی دور ’’اکبر کی پالیسیوں کو تجدد پسندی کا نام دینے والے اس کے’ ’اجماعی مخالفین‘‘تفہیم سے دوری کے باعث یہ اہم نقطہ بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ریاستوں اور حکومتوں کے اقدامات کے اثرات دیرپا اور مطلق نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی عناصر زیادہ گہرے اور زیادہ دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ ایک ریاست کے اندر حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اورحکومتوں کے بدلنے کے ساتھ حکومتوں (یا مقتدرہ شخصیات) سے منسلک اقدامات بھی ترک کردیے جاتے ہیں اور اس پر کوئی خاطر خواہ رد عمل بھی سامنے نہیں آتا‘‘ لیکن گلوبلائزیشن کے علمبردار محترم اپنے اس کلام میں بھول گئے کہ جہاں معاشرت پنپتی ہے، وہاں معاشرتی اکائی افراد ہوتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی آبیاری کرتے ہیں، اور اسی میں چھوٹے چھوٹے گروہ اور جماعتیں اور محفلیں ہوتی ہیں جو معاشرت کی ایک اکائی کا درجہ رکھتی ہیں، جبکہ محترم نے اپنے مضمون کے آخر میں نہ جانے تبلیغی جماعت پر اپنے دانت کیوں تیز کیے ہیں۔ ہزار اختلاف کے باوجود جو شخص بھی معاشرتی اقدارپر نظررکھتاہے، وہ جانتاہے کہ یہ جماعت معاشرتی طورپر کیاکام سرانجام دے رہی ہے، اور ان کے اس عمل کے نتیجے میں معاشرے میں کیا کیا تبدیلیاں اور اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اگر موصوف کی اس پہلو پر نظر ہوتی تو ان کے خون کا دوران تبلیغی جماعت کے نام پر اتنا تیز نہ ہوتا ۔ اور آخری بات یہ ہے کہ حضرت مدنی کی تجددپسندی میں تبلیغی جماعت نے کیا رکاوٹ پیدا کردی ہے جو اس عنوان کے تحت اس کو ذکر کرنا پڑا؟ اگر موصوف اس پر کوئی خامہ فرسائی فرمائیں تو ’الشریعہ‘ کا باقاعدہ قاری ہونے کے ناتے سے مشکور ہوں گا۔
در جواب آں غزل
امجد علی شاکر
ضرورت سے زیادہ پڑھنا اپنے ساتھ ظلم وزیادتی ہے اورضرورت سے زیادہ لکھنا دوسروں سے، اس لیے راقم کا مطالعہ خاصا محدود ہے۔ سوئے اتفاق کہ جناب زاہد الراشدی خان صاحب کے رسالہ الشریعہ کا فروری ۲۰۰۷ء کا شمارہ دیکھنے کا اتفا ق ہوا۔ اس میں ’مباحثہ ومکالمہ‘ کے ذیل میں حضرت قبلہ پروفیسر میاں انعام الرحمن زیدہ مجدہ کا مضمون نظر پڑا۔ ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔ مولانا احسن اصلاحی نے ڈاکٹر اسرار احمد سے پوچھا: ’’آپ محاضرات قرآنی کے نام پر مختلف الخیال لوگ بلا لیتے ہیں، اس کا مقصد ومنشا کیاہے؟‘‘ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا: ’’حضرت! میں مختلف الخیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتاہوں۔‘‘ مولانا امین احسنؒ نے فرمایا : ’’ڈاکٹر صاحب! یہ کام تو پاکستان ریلوے ایک مدت سے سرانجام دے رہاہے۔‘‘
پہلے تو راقم یہ سمجھتا تھا کہ ’الشریعہ‘ ریلوے پلیٹ فارم ہے جس پر ہر طرح کے لوگ آتے جاتے نظر آتے ہیں۔ اب مضمون دیکھ کر پتا چلا کہ یہ صرف ریلوے کا پلیٹ فارم ہی نہیں، ۱۹۴۶ء کے مشرقی پنجاب کا ریلوے پلیٹ فارم ہے۔ اس کی مجلس ادارت ومجلس مشاورت میں جس قسم کے عبقری اور نابغہ جمع ہیں، ان سے اسی رویے کی توقع تھی۔ ممکن ہے کہ قارئین ساٹھ سال پرانی تاریخ بھلا بیٹھے ہوں، وہ مولانا حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ کی سوانح کی کوئی کتاب پڑھ لیں۔ انہیں پتہ چل جائے گا کہ ۱۹۴۶ ء کے مشرقی پنجاب کے ریلوے پلیٹ فارم کی کیا تاریخ ہے۔ انہیں پروفیسر میاں انعام الرحمن کے تاریخی کردار کو جاننے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔
۱۹۴۶ء کے مشرقی پنجاب کے ریلوے پلیٹ فارموں پر کچھ نوجوانوں نے عاقبت فراموش کرکے جس نیم فطری لباس میں ڈانس فرمایا تھا، میاں انعام الرحمن نے یہ مضمون لکھ کر خود کو ویسے ہی نیم فطری لباس میں دکھادیاہے۔ ایک با ر کی ملاقات میں ہم نے سمجھا تھا کہ یہ کچھ نہ کچھ پڑھتے بھی ہیں، یہ مضمون دیکھ کر پتا چلا کہ وہ صرف لکھتے ہیں۔ میاں انعام الرحمن کی ذات بابرکت کی عقیدت مندی اور ارادت مندی میں وہ ہم سے پیچھے نہیں۔ ہمیں ان کی یہ ادا بے حد پسند آئی ہے کہ انہوں نے بلوغت کے لیے وقت کا انتظار نہیں کیا۔ وہ ماشاء اللہ فقہ وکلام اور تاریخ وفلسفہ پر لکھتے ہیں اوران علوم کے ماہرین سے اختلاف کرتے ہیں اورکمال کی بات یہ کہ ان علوم میں مطالعہ کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وہ شاید کسب کے زیادہ قائل ہی نہیں۔ شاعر تلامیذ الرحمن ہوسکتے ہیں تو پروفیسر میاں انعام الرحمن کیوں نہیں؟ وہ سیاسیات کے لیکچرر ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ خود کو پروفیسر لکھتے ہیں، حالانکہ پروفیسر بننے کے لیے ابھی ایک مدت درکار ہے۔ ممکن ہے کہ انہیں تمام عمر پروفیسر بننے کا موقع نصیب نہ ہو، لیکن کیا ضروری ہے کہ وہ محکمے کے فیصلے کا انتظار کرتے رہیں۔ وہ فقہ وکلام پر بغیر علم کے مسند ہوسکتے ہیں، حالانکہ ان بیچاروں نے ان علوم پر ابتدائی کتب بھی نہیں پڑھی، تو کیا پروفیسر نہیں بن سکتے ۔وہ اپنی ذات کی عقیدت میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ ہم جیسے عقیدت مندوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیاہے۔ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ پروفیسر (نہ ہونے کے باوجود) لکھ دیاہے، مگر حضرت مدنی قدس سرہ کے نام کے ساتھ شیخ الحدیث یا کوئی دوسرا سابقہ تو کجا، مولانا لکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
میاں انعام الرحمن علم سیاسیات کے استاذ ہیں، مگر ان دنوں فقہ وکلام پر ماہرانہ مضامین لکھ رہے ہیں۔ ہم انہیں پڑھتے نہیں کہ عقیدت میں کمی نہ ہو جائے۔ سوئے اتفاق کہ یہی مضمون پڑھا (وہ بھی پورا نہیں)، ابھی تک صدمے سے باہر نہیں آسکے۔ صدمہ یقیناًاپنی جہالت کے ادراک کا بھی نہیں، جملہ فقہائے مت کی کم علمی پر دکھ ہوا کہ کسی فقیہ کو اجماع اور تفرد کا مفہوم نہیں سوجھا جو میاں انعام الرحمن سمجھ پائے ہیں۔ ہم ان بزرگوں کے اتباع میں یہ سمجھ سکے تھے کہ اجماع، عقائد واحکام میں ہوتاہے، مگر اب پتا چلا کہ یہ اجماع خبروں میں بھی ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی سنا تھا کہ اجماع اہل علم کا معتبر ہوسکتاہے، مگر اب پتا چلا کہ اجماع میاں انعام الرحمن کی سطح کے لوگوں کا معتبر ہوسکتاہے۔ پھر ایک اور بات کا علم بھی ہواکہ اکبر کے بارے میں ایک خاص تعبیر پر ایمان لانا عقائد کا حصہ ہے نہ کہ تاریخ کا۔ ویسے تو ہمارے مسلم لیگی رضاکاروں نے عقائد کے سلسلے کو ہمیشہ آگے بڑھا کر اسلام کو خوب ترقی دی ہے۔ مثلاً ۱۹۴۶ء میں ایمان کی صفات میں ایک اور صفت کا اضافہ ہوا تھا:
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آمرحوم
پروفیسر منور مرزا زندہ تھے تو انہوں نے یوم اقبال پر ایک جلسہ میں برسرِجلسہ یہ تجویز پیش کی کہ ایمان کی صفات میں ’واقبالہ وجناحہِ‘ کا اضافہ کر دیا جائے۔ ہمارے ایمان کی کمزوری کہ یہ سن کر کانپ اٹھے۔ راوی ثقہ تھے۔ انکار کی ہمت نہ پڑی، مگر یقین بھی نہ آیا۔ پروفیسر صابر لودھی سے تصدیق چاہی کہ وہ جلسے میں شریک تھے اور منور مرزا کے سابقہ کولیگ بھی تھے۔ انہوں نے لفظ بلفظ تصدیق بھی فرما دی۔ پھر منور مرزا کے داماد صلاح الدین ایوبی سے تحقیق کی تو انہوں نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تائید میں دلائل دینا شروع کر دیے۔ ہم ان کی عظمت پر ایمان لے آئے اوریہ بھی مانتے بنی کہ وہ واقعی شخصیت پرست نہیں۔ اگر وہ زیادہ اصرار کرتے تو ہم یہ بھی مان سکتے ہیں کہ شخصیت پرست ہم ہیں۔ جیسے ایک شاعر نے کہا تھا :
گرنازنیں کہے سے برامان گئے ہوتم
میری طرف تو دیکھیے، میں نازنیں سہی
میاں انعام الرحمن کے بارے میں سنا ہے کہ انہوں نے تقلید کے استرداد میں ایک مضمون رقم فرمایا ہے (وہ مضمون الشریعہ کے دسمبر کے شمارے میں شائع ہواہے) اب قول سعدی یہ برآمد ہواہے کہ ائمہ فقہ کی بجائے میاں انعام الرحمن کی تقلید موزوں رہے گی، اسی لیے انہوں نے اجماع اور تفرد کے فیصلے کرنا شروع کردیے ہیں۔ میاں انعام الرحمن کی تقلید میں ایک آسانی یہ بھی رہے گی کہ کوئی ان کی بات کا جواب نہ دے سکے گا، کیونکہ ایسے لوگوں کے جواب میں دانا ؤں نے خاموش رہنے کی نصیحت فرمائی ہے۔
ریلوے پلیٹ فارموں پر عموماً لکھا ہوا دکھائی دیتاہے کہ یہاں تھوکنا منع ہے، مگر الشریعہ کے پلیٹ فارم پر تو جو شخص جی چاہے اور جہاں جی چاہیے، تھوک سکتاہے حتیٰ کہ چاند پر تھوکنے کی ممانعت بھی نہیں، اسی لیے میاں انعام الرحمن کا مضمون بے تکلف چھاپ دیا گیا ہے۔ جناب زاہد الراشدی خان کو چاہیے کہ ایسے مضمون چھاپنے کے بعد مصنف کے چہرے کو دیکھ لیا کریں۔ اس عمل کے بعد لکھنے والوں کے چہرے یقیناًچمک اٹھتے ہیں۔
اکبر کی سیاسی پالیسی اوربدعات پر کسی نے بھر پور تحقیق نہیں کی۔ محمد حسین آزاد نے ’’دربار اکبری‘‘ لکھی تو وہ افسانہ وافسوں سے زیادہ نہیں۔ آزاد کی گپ بازی اردو تحقیق میں مسلمہ ہے۔ ملا عبدالقادر بدایونی کی ’’منتخب التواریخ‘‘ میں بہت سی روایات محلِ نظر ہیں۔ ’’رود کوثر‘‘ میں اکبر کی تائید ملتی ہے ۔دراصل اکبر کے بارے میں مستند ماخذ تین ہیں: ابو لفضل کی ’’آئین اکبری‘‘، حضرت مجدد الف ثانی کی تحریریں یعنی ان کے مکتوبات اورجہانگیر کی تزک۔ان تینوں مآخذ کی بنیاد پر مستند واقعات اور امور کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ بہرحال اب تک جو کچھ سامنے آیاہے، اس کے مطابق اکبر کے بارے میں دو باتیں بنیادی نوعیت کی ہیں:
۱۔منفی امور: اکبری بدعات اور ہر قسم کی مشرکانہ رسوم وعادات کی سرکاری سرپرستی۔ اس حوالے سے ہمارے تمام حاکم اکبر کے مقلد ہیں۔ کبھی کسی حاکم نے مزار کو غسل دیتے ہوئے شرک اوربدعت کے حوالے سے سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ شیعہ کو خوش کرنے کے لیے بعض دانشور علما نہ صرف حضرت امیر معاویہؓ پر تنقید کرنا جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کی مجالس عزا میں شریک ہونا بھی عیب نہیں سمجھتے۔ اب تو خیر سے لیاقت بلوچ نے کرسمس کیک کاٹ کر اکبری بدعات کی تقلید میں ایک قدم اور آگے بڑھا دیاہے۔
۲۔مثبت امور: اکبر نے ہندوستان میں امن قائم کیا، مسلمانوں اورہندوؤں کے مابین موالات اورقرب پیدا کیا، اس طرح دونوں مذاہب میں مکالمے کی صورت پید ا ہوئی۔ ہمار ے ہاں بڑے بڑے باکمال لوگ پائے جاتے ہیں۔ وہ تلک لگواسکتے ہیں، مندر میں عبادت کے لیے گھنٹی بجانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے جیسا کہ امیر المومنین ضیاء الحق صاحب نے کیا تھا۔ دیوی کے سامنے پرارتھنا کرسکتے ہیں جیسا کہ بشریٰ رحمن نے کیا تھا۔ کرسمس کا کیک کاٹ سکتے ہیں جیساکہ لیاقت بلوچ نے کیا تھا۔ مگر ایک بات سخت ناپسند کرتے ہیں۔ وہ ہے ہندو اور مسلم میں مکالمہ اور قرب۔ اس میں بہت خطرے ہیں۔ اب اگر لاکھوں ہندو مسلمان ہو گئے تو اسلام پر قبضہ ہوسکتاہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت مدنی کلکتہ میں مسجد ناخدا میں ہوتے تھے تو سینکڑوں لوگ مسلمان ہوتے۔ ماشاء اللہ مسلمانوں کو نسلی قوم بنایا گیا تو ہندوؤں میں یہ رویہ ختم ہوا اور اسلام محفوظ ہوا ۔
حضرت مدنی ؒ نے ایک خط میں لکھا تھا :
’’اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا ،بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کردیاتھا مگر ادھر تو اکبر نے نفس دین اسلام میں کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بدظنی ہوئی، اگر چہ بہت سے بدظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ ادھر برہموں کے غیظ وغضب میں اپنی ناکامی دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا‘‘الخ۔
اس پیراگراف کا مفہوم بڑا سادہ ساہے کہ حضرت مدنی اکبر کی پالیسی کے منفی پہلو کی تردید اور مثبت پہلو کی تائید کررہے ہیں۔ یہی تفرد ہے جناب پروفیسر میاں انعام الرحمن کی نظر میں۔
آخر میں مجھے مولانا محمد مالک کاندھلوی ؒ کا ایک واقعہ یاد آرہاہے۔ واقعے کا تعلق بھی ریلوے سے ہے،اسی لیے اس کا ذکر بے جا نہ ہوگا۔ مولانا محمد مالک ؒ کراچی جانے کے لیے ریل میں سوار ہوئے۔ ایک ہم سفر نے آپ کو پہچان لیا اور بڑے تپاک سے ملا۔ تعارف کراکرکہا: ’’راستے میں آپ سے تبادلہ خیال رہے گا ۔‘‘ حضرت پریشان ہوگئے۔ بڑی عاجزی سے کہا : ’’میرے خیالات تو لے لیجئے گا، مگر اپنے خیالات سے مجھے محروم ہی رکھیے گا۔‘‘ پھر مخاطب کی آرزدگی کا سوچ کر فرمایا: ’’میاں بات یہ ہے کہ میرے خیالات تو قرآن وسنت سے مستنبط ہیں اور آپ کے خیالات مغرب سے آئے ہیں‘‘۔
میاں انعام الرحمن صاحب سے تو یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ انہوں نے مغرب کو کہاں پڑھا ہوگا؟ وہ تو خود مفکر ہیں۔ دوسروں کی تحریریں اور افکار تھوڑا ہی پڑھتے ہیں۔ ان کے افکار دوسرے لوگ پڑھیں اور ان کا اتباع کریں۔
زاہد الراشدی خان سوچتے ہوں گے کہ ہم نے ان کے نام کے ساتھ مولانا نہیں لکھا۔ ہم یہ جرات کیسے کرسکتے ہیں؟ ان کے استاذ الاساتذہ شیخ مدنی ؒ تو ان کے رسالے میں مولانا ہیں نہیں، زاہد الراشدی خا ن مولانا کیسے ہوں گے؟ زاہد الراشدی خان کو دو روایات سنا نے کو جی چاہتاہے۔ ایک تو انہوں نے ضرور سنی ہوگی۔ مولانا عبیداللہ اکثر یہ واقعہ سناتے تھے۔ ہم نے متعدد دفعہ مولانا سے یہ واقعہ سنا تھا۔ فرماتے تھے کہ حضرت لاہوری ؒ فرماتے تھے:
’’لوگ کہتے ہیں بینا سارے، اندھا کوئی کوئی۔ میں کہتاہوں اندھے سارے، بیناا کوئی کوئی۔ میرے بزرگ حضرت مدنیؒ اور حضرت رائے پوری (قدس اللہ اسرارہما) بینا ہیں، باقی ساری دنیا اندھی۔ یہ بزرگ ایک بات کہہ دیں اور ساری دنیا اس کے مخالف ہوجائے ، میں ان بزرگوں کی بات مان لوں گا، ساری دنیا کی بات چھوڑ دوں گا۔‘‘
زاہد الراشدی خان! کیا یہ بات سچ یا جھوٹ! کیا آپ نے یہ قول نہیں سنا؟ کیا آپ اس بات کی تردید فرما سکتے ہیں؟
اب اردو کے ایک نقاد افسانہ نگار اور انگریزی کے استاذ کا قول بھی سن لیجئے۔ یہ شخص تھے پروفیسر محمد حسن عسکری اعلی اللہ عقائدہ۔ اس مرد درویش نے ایک اصول مقرر کیاتھا کہ دین کا علم صرف دین کے مستند نمائندوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دین میں صرف مستند نمائندوں کی رائے معتبر ہے۔ پھر اس مرد درویش نے کہا کہ حضرت تھانوی ؒ اور حضرت مدنی قدس اللہ اسرارھم دین کے مستند نمائندے تھے،انہی کا فرمان معتبر اور مستند ہے۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن تو یہ بات نہیں سمجھ سکتے، کیا زاہد الراشدی خان بھی نہیں سمجھ سکتے؟ اگر بھول گئے ہوں تو اپنے والد محترم اور چچا محترم سے پوچھ لیں کہ کیا دین میں غیر عالم کا قول معتبر ہو سکتا ہے؟ جناب !دین تو بڑی بات ہے، ہم تو شاعری میں بھی غیر عالم کا قول معتبر نہیں سمجھتے۔
میاں انعام الرحمن (پروفیسر نہ لکھ سکنے پر معذرت خواہ ہوں) نے اپنے مضمون میں سے پڑوسیوں کی تعبیر کرتے ہوئے اس پر تمام گلوب کو قیاس فرمایاہے۔ اس قیاس پر ہمیں توایک اصطلاح یاد آرہی ہے ’’قیاس مع الفارق‘‘۔ میاں انعام الرحمن ان قدیم اصطلاحوں کو سمجھنے کے لیے دماغ پر زور نہ ڈالیں کہ یہ ماضی کا قصہ ہیں اور ان جیسے ائمہ فکر کے لیے ماضی کے علوم کی کچھ ضرورت نہیں ہوتی۔ میاں صاحب اگر بضد ہوں تو زاہد الراشدی خان سے اس کامفہوم ومعنی پوچھ لیں۔
بقیہ مضمون ہم پڑھ نہیں سکے کہ ہم میں زیادہ صبر بھی نہیں۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں اوسط عمر کچھ زیادہ نہیں۔ بہرحال مضمون ان کی علوفکر کی دلیل ہوگا، یقیناًبہت علمی ہوگا، ہم جیسوں کو استفادہ کرنا چاہیے۔ ہماری کم نصیبی کہ استفادہ نہیں کرتے، وغیرہ وغیرہ۔ ہم ان کی عقیدت میں مبتلا ہیں اور ان کے عقیدت مند جیسے کہ وہ خود ہیں، اس طرح سوچ سکتے ہیں۔ بہرحال یہ چند سطریں محض ان کی عقیدت مندی میں لکھ دی ہیں، ورنہ من آنم کہ من دانم۔ امید ہے میرے لکھے کو وہ ناپسند نہیں کریں گے۔
اسلام کے نام پر انتہا پسندی کا افسوس ناک رجحان
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
کم وبیش ایک ماہ قبل اسلام آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد امیر حمزہؓ نامی ایک چھوٹی سی مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر شہید کر دیا اور ایک دوسری مسجد کی شہادت کی کارروائی بھی شروع کی جبکہ بعض دیگر مساجد کو مسمار کرنے کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ اس پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماے کرام نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ مسجد گرائے جانے کے دوسرے روز سیکڑوں علماے کرام مسجد امیر حمزہؓ کے ملبہ پرجمع ہو گئے، وہاں ملبے پر نماز باجماعت ادا کی اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے آپس میں چندہ کر کے اس کی تعمیر نو کا اعلان کر دیا۔ ان علماے کرام کا موقف یہ تھا کہ مسجد قدیم دور سے چلی آ رہی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے بارے میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا موقف درست نہیں ہے، اس لیے شرعاً اس مسجد کی اسی جگہ دوبارہ تعمیر ضروری ہے، چنانچہ انھوں نے سی ڈی اے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مسجد دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس پر سی ڈی اے اور علماے کرام کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر اس دوران میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے قائم کردہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے ساتھ واقع ایک سرکاری لائبریری پر، جو بچوں کے لیے ایک عرصہ سے قائم ہے، قبضہ کر لیا اور مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے فرزند اور جامعہ حفصہ کے مہتمم مولانا عبد العزیز کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ قبضہ احتجاجی طور پر کیا گیا ہے اور جب تک گرائی جانے والی مسجد دوبارہ تعمیر نہیں کی جاتی اور جن دیگر مساجد کو گرانے کے نوٹس دیے گئے ہیں، وہ نوٹس واپس نہیں لیے جاتے، چلڈرن لائبریری کا قبضہ واگزار نہیں کیا جائے گا۔ نوجوان باپردہ طالبات کی ڈنڈا بردار فورس نے لائبریری کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے آمد ورفت کے لیے بند کر دیا۔ اس پر حکومتی حلقے اور اعلیٰ انتظامی افسران بھی حرکت میں آئے اور بظاہر یہ صورت نظر آنے لگی کہ حکومت بہرحال اس قبضہ کو ختم کرانے کے لیے اقدام کرے گی، جبکہ اس کی مزاحمت طالبات کی طرف سے ہوگی جو ہزاروں کی تعداد میں جامعہ حفصہؓ کے ہاسٹل میں موجود ہیں اور اس طرح تصادم کی ایک افسوس ناک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ طالبات کی طرف سے اپنے مطالبات میں اسلامی نظام کے مکمل اور فوری نفاذ کو شامل کرنے سے اس تحریک کو ملک گیر شکل مل گئی۔ مولانا عبد العزیز کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں سے دینی مدارس کے طلبہ اور دینی کارکنوں نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کا رخ کرنا شروع کیا اور ہزاروں افراد وہاں جمع ہو گئے۔
جہاں تک اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کے بارے میں جامعہ حفصہ کی طالبات کے موقف کا تعلق ہے اور اسلامی نظام کے مطالبہ کی بات ہے، اس سے ملک بھر کے دینی حلقوں نے اصولی طور پر اتفاق کا اظہار کیا، لیکن وفاقی دار الحکومت میں سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں، طلبہ اور بالخصوص طالبات کے تصادم کے جو امکانات واضح نظر آنے لگے تھے، ان سے ملک بھر میں پریشانی اور اضطراب کا پیدا ہونا بھی ایک فطری امر تھا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماے کرام نے حکومتی حلقوں سے مذاکرات کے ذریعے سے اس مسئلہ کو حل کرانے کی مقدور بھر کوشش کی اور مساجد کی حد تک حکومت سے اپنا موقف منوانے میں وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ اس دوران میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد آئی اور مولانا سلیم اللہ خان، مولانا حسن جان، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ اور مولانا انوار الحق حقانی سمیت سرکردہ علماے کرام نے اس مسئلہ کو حل کرانے میں سرگرم کردار ادا کیا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسئلہ کے حل میں یہ رکاوٹ موجود رہی جو تا دم تحریر موجود ہے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے دوسرے مطالبات کی منظوری تک، جن میں اسلامی نظام کا مکمل اور فوری نفاذ سرفہرست ہے، سرکاری لائبریری کا قبضہ واگزار کرنے سے انکار کر دیا اور مولانا عبد العزیز اس بات پر مصر چلے آ رہے ہیں کہ ملک میں مکمل شرعی نظام کے نفاذ تک وہ اس ماحول کو ختم نہیں کریں گے جسے سنجیدہ حلقے سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں اور طالبات کے تصادم کے شدید خطرے کا باعث سمجھ رہے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ باشعور دینی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
اسی دوران میں یہ واقعہ بھی رونما ہوا کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر محترمہ ظل ہما عثمان کو قتل کر دیا گیا۔ ان کو قتل کرنے والا شخص پکڑا گیا ہے اور اس نے برملا یہ کہا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اس لیے قتل کیا ہے کہ وہ عورت کی حکمرانی کو جائز نہیں سمجھتا اور اس طرح بے پردہ پھرنے کو پسند نہیں کرتا، اس لیے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس سے اسلام آباد کے حالات سے ذہن میں پیدا ہونے والی تشویش دوچند ہو گئی ہے کہ اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے ملک کے اندر اس طرح تصادم کا ماحول پیدا کرنے اور قوت کے استعمال کا رجحان ہمارے ہاں کیا کیا گل کھلا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس ملک اور قوم کی حفاظت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔
یہ شخص اس سے قبل بدکاری کے الزام میں کئی عورتوں کو قتل کر چکا ہے اور اس کا اعلان ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح بے پردہ عورتوں کو قتل کرتا رہے گا۔ اس طرز عمل کو جنون اور نفسیاتی مرض کے سوا کسی اور عنوان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی طرح بھی اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص شریعت کے خلاف ہونے والے کسی عمل پر خود فیصلہ کرنے بیٹھ جائے اور ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو عین بدکاری کی حالت میں دیکھے تو کیا وہ اسے قتل نہیں کرے گا؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور قانون کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔
بہرحال اسلام آباد میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم کا ماحول ہو یا گوجرانوالہ میں بے پردگی کے عنوان سے خاتون صوبائی وزیر کے قتل کا افسوس ناک سانحہ ہو، اس انتہا پسندی پر افسوس کا اظہار ضروری ہے اور اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب نفاذ اسلام کے تمام دستوری راستے بند کر دیے گئے ہوں اور پیش رفت کے بجائے ’’ریورس گیئر‘‘ کا ماحول قائم کر دیا گیا ہو اور مغربی ثقافت کے فروغ کے لیے تمام ریاستی وسائل استعمال ہو رہے ہوں، وہاں اس قسم کی افسوس ناک انتہا پسندی کو جنم لینے سے آخر روکا بھی کیسے جا سکتا ہے؟
(۲۲ فروری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
واجب الاحترام جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناتے آپ کا عمدہ اور معیاری رسالہ زیر مطالعہ رہتا ہے۔ اس وقت میں فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہونے والے حافظ محمد زبیر صاحب کے مضمون: ’’غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ ان پر غور فرمائیں گے۔
میری پہلی شکایت تو آپ سے ہے کہ آپ نے اپنے رسالے میں مذکورہ مضمون کو کیسے جگہ دے دی جبکہ مذکورہ مضمون،کم از کم میری ناقص رائے میں، نہ آپ کے رسالے کے معیار پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی تنقید کے علمی، اخلاقی اور دینی تقاضے پورا کرتا ہے۔ ایسا مضمون آخر کیوں آپ کے رسالے میں جگہ پاگیا جس میں واشگاف الفاظ میں دوسروں کی نیتوں پر حملہ کیا گیا ہے، جبکہ آپ بھی یہ تسلیم کریں گے کہ نیتوں کا علم تو صرف اور صرف رب کائنات ہی کو ہو سکتا ہے؟ ذرا اس جملے کو دوبارہ پڑھیے جس پر صاحب مضمون نے اپنے مضمون کا اختتام کیا ہے:
’’تعجب ہے اس انداز فکر پر! جب چاہتے ہیں اپنے مزعومہ افکار کی تائید کے لیے اصول وضع کر لیتے ہیں اور اپنی خواہش نفس کی تکمیل کے لیے جب چاہتے ہیں، اپنے ہی وضع کر دہ اصولوں کی بھی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔‘‘ (ص۴۳)
مجھے دوسری شکایت خود صاحب مضمون سے ہے۔ غامدی صاحب پرحافظ صاحب ایک چھوڑ، دس تنقیدیں کریں، لیکن تنقید میں علمی، اخلاقی اور دینی اصولوں کو پیش نظر رکھنا ان کا دینی فریضہ بنتا ہے۔ ان کے مضمون میں دینی اصولوں کو پیش نظر نہ رکھنے کی مثال میں اوپر دے چکا ہوں، جبکہ علمی و تحقیقی تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی مثالیں پیش خدمت ہیں:
حافظ صاحب نے غامدی صاحب کے مآخذ دین کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’غامدی صاحب کے مآخذ دین، علی الترتیب، درج ذیل ہیں:
۱۔ دین فطرت کے بنیادی حقائق
۲۔ سنت ابراہیمی
۳۔نبیوں کے صحائف
۴۔ قرآن مجید‘‘ (ص۳۳)
یہ بات بغیر کسی حوالے کے درج کر دی گئی ہے اور اس میں دو بنیادی علمی غلطیاں پائی جاتی ہیں:
صاحب مضمون نے پہلی غلطی تو غامدی صاحب کے مآخذ دین شمار کرنے میں کی ہے۔ محترم غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’اصول و مبادی‘‘ کے ابتدائی تین صفحات (۹ تا ۱۱) میں اپنے مآخذ دین خود بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہی قانون و حکمت وہ دین حق ہے جسے ’’اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے مآخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا ہے اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے:
۱۔ قرآن مجید
۲۔ سنت‘‘ (ص ۹)
ان کی دوسری غلطی ’’ترتیب‘‘ کی غلط بیانی ہے۔ غامدی صاحب کے ہاں تو قرآن مجید پہلے نمبر پر ہے اور اسے پہلے نمبر پر ہی ہونا چاہیے، جبکہ حافظ صاحب کی ترتیب میں بے چارہ قرآن چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ محض ترتیب کی گڑ بڑ سے غلطی ہائے مضامین کا ایک پہاڑ کھڑا ہو سکتا ہے۔
حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’غامدی صاحب کے اصل اصول یہی چار ہیں، جبکہ ان چار کے علاوہ بھی غامدی صاحب کے کچھ اصول ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر غامدی صاحب استدلال کرتے ہیں، لیکن ان کو مستقل ماخذ دین نہیں سمجھتے۔ یہ اصول درج ذیل ہیں:
۵۔ حدیث
۶۔ اجماع
۷۔ امین احسن اصلاحی جنھیں وہ امام کہتے ہیں۔‘‘ (ص ۳۳)
غامدی صاحب کے حوالے سے حافظ صاحب کے اس فہم پر صرف ’’انا للہ‘‘ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ’اصول و مبادی‘ کا جو حوالہ میں نے اوپر نقل کیا ہے، اس سے یہ بات ایک عام قاری بھی اخذ کر سکتا ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین صرف اور صرف دو ہیں، چار یا سات نہیں، جبکہ اجماع ان کے ہاں دین کی منتقلی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی طرح حدیث کے حوالے سے بھی غامدی صاحب کا موقف واشگاف الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے، نہ اسے دین قرار دیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِ آحاد جنھیں بالعموم ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا، اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔
اس دائرے کے اندر، البتہ اس کی حجت ہر اس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس سے انحراف پھر اس کے لیے جائز نہیں رہتا، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اس میں بیان کیا گیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ۔‘‘ (ص۱۱)
کیا غامدی صاحب کے مذکورہ بیان سے وہ نتیجہ نکلتا ہے یا کھینچ تان کر نکالا جا سکتا ہے جو حافظ صاحب نے بیان کیا ہے کہ ’’ان چار کے علاوہ بھی غامدی صاحب کے کچھ اصول ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر غامدی صاحب استدلال کرتے ہیں‘‘ اور ان میں ایک ’بے چاری ‘ حدیث بھی ہے؟ حافظ صاحب، خدارا! کچھ تو خوفِ خدا کیجیے اور خدا کی بارگاہ میں جواب دہی کا کچھ تو احساس کیجیے۔ کسی کی واشگاف الفاظ میں لکھی ہوئی رائے کو اپنے الفاظ میں سموتے ہوئے آپ کو ذرا خیال نہ آیا؟ ان کی رائے آپ کے نزدیک درست ہے یا غلط، اس پر بحث کرتے رہیے، لیکن خدارا ! پہلے ان کی بات کو تو باحوالہ اور درست نقل کیجیے اور پھر اس پر جتنی چاہے، تنقید کیجیے۔
حافظ صاحب کی ایک بڑی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ایسی آرا کی نسبت بھی بلاتحقیق غامدی صاحب کی طرف کر رہے ہیں جو انھوں نے خود بیا ن نہیں کیں۔ مثلاً ص ۳۷ پر انھوں نے بعض آرا کا ذمہ دار اس بنیاد پر غامدی صاحب کو ٹھہرایا ہے کہ یہ المورد کی سرکاری ویب سائٹ (www.urdu.understanding-islam.org) پر جاری کی گئی ہیں، جبکہ صحیح صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ ویب سائٹ جناب معز امجد صاحب کی نگرانی میں کام کر رہی ہے اور اس میں درج آرا کے ذمہ دار بھی معز امجد صاحب ہیں۔ المورد سے وابستہ اہل علم نہ غامدی صاحب کی تمام آرا کے پابند ہیں اور نہ ان کی بیان کردہ آرا لازماً غامدی صاحب کے نقطہ نظر کی ترجمان ہوتی ہیں۔
مجھے قوی امید ہے کہ حافظ صاحب اپنی آئندہ تنقیدات میں محتاط رویہ اپنائیں گے۔
حافظ محمد ابراہیم شیخ
A3 -۱۷۳، PGECHS، لاہور
(۲)
مکرم ومحترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بلا استحقاق چند ماہ سے ’الشریعہ‘ باصرہ نواز ہو رہا ہے۔ عزیزم مولوی محمد عمار خان ناصر کی محنت دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ ہمارے مذہبی حلقے میں غالباً آپ پہلے فرد ہیں جنھیں علمی وفکری مسائل پر بحث ومکالمہ کا ایک آزاد فورم قائم کرنے کی توفیق ہوئی ہے۔ بے شمار احباب کے تحفظات بلکہ اعتراضات کے باوجود ناچیز محسوس کرتا ہے کہ اس قسم کے فورم کی بہرحال ضرورت تھی۔ مخالفانہ نقطہ نظر کو یکسر رد کر دینا اور اپنے مبلغ علم ہی کو قطعیت کا درجہ دینا ان اہل نظر کو زیب نہیں دیتا جو فکر ولی اللٰہی کے وارث ہیں۔ دلیل کا جواب دلیل ہی سے دینا چاہیے، لٹھ ماری سے نہیں۔ آپ کو لکھنے والے بھی خوب میسر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولوی ناصر صاحب کے شباب اور آپ کی شیخوخت کو نظر بد سے بچائے اور امت کو خوب مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
(مولانا) محمد اسلم شیخوپوری
جامع مسجد توابین، سیکٹر ۶
گلشن معمار، کراچی
(۳)
مکرمی مدیر ’الشریعہ‘
السلام علیکم
تازہ ترین پرچہ کل ۲ فروری کی دوپہر موصول ہوا اور دو نشاط بخش نشستوں میں حرف حرف دیکھنے کی سعادت میسر آئی۔ ساری تحریریں ہی پربہار اور عطر بیز ہیں۔
دامانِ نگہ تنگ وگل حسن تو بسیار
گل چینِ بہار تو ز داماں گلہ دارد
مگر فکری غذا ’’روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں جوہری فرق‘‘ ، ’’سید حسین احمد مدنی اور تجدد پسندی‘‘ اور ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ نے بہم پہنچائی۔ تنقیدی جائزہ پڑھ کر بے ساختہ کہہ اٹھی:
خامۂ آزادگاں جو کچھ لکھے، آزاد ہے
ملک ناپرساں میں کوئی پوچھنے والا نہیں
اخویم حافظ محمد زبیر صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی ناقدانہ نگارشات گاہے بگاہے ’الشریعہ‘ کے اوراق میں باصرہ نواز ہوتی رہتی ہیں۔ آں محترم سے نیازمندانہ گزارش ہے کہ بلاغ مبین کے لیے تکمیل وتصحیح کے بعد ان ابحاث کو جلد از جلد نذر ناظرین کرنا چاہیے۔ مع ہذا ’المورد‘ کے کاتبین کرام سے بھی عاجزانہ عرض ہے کہ اتنے سنگین الزامات کے بعد ’’جواب ناقداں باشد خموشی‘‘ پر عمل مناسب نہیں۔ رہے سیدنا حسین احمد قرشی مدنی رحمہ اللہ اور علم دار حسین، شاہ انعام الرحمن لدھیانوی سلمہ کے افادات طیبات تو ’الشریعہ‘ کے ناشر ومدیر اور مجلس ادارت کے اعیان روشن ضمیر، سب کے لیے ایسا پرکار ومایہ دار تجزیہ پیش کرنے پر اعماق قلب سے دعاگو ہوں۔
بر آناں رب ما رحمت فشاند
شمیم از قعر وعمق دل بخواند
ایک ہندو زادہ سائیں حافظ محب رسول محدث کروڑی علیہ الرحمۃ والرضوان (فاضل دیوبند) کی تیسری پشت میں اس ’خدا کی بندی‘ کا وجود بھی ہندو مسلم میل جول کے حاصلات پر شاہد عدل ہے۔ یوم یک جہتئ کشمیر مناتے ہوئے یاد رکھیے، اس وقت قضیہ کشمیر کا پرامن تصفیہ برصغیر میں ’احیاے دعوت‘ کی شاہ کلید ہے۔
کلمہ حق میں مولانا حافظ محمد عبد المتین خان زاہد مدظلہم رقم طراز ہیں: ’’دوسری صورت نکاح موقت کی تھی جس میں کوئی مرد اور عورت مناسب معاوضے پر ایک مقررہ وقت کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے تھے اور مدت گزر جانے کے بعد ان کا یہ نکاح متعہ ختم ہو جایا کرتا تھا۔ اسے اسلام نے ناجائز قرار دے دیا اور اب اس کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
اگر یہ بات صحیح ہے اور یقیناًصحیح ہے تو ورلڈ اسلامک فورم، تنظیم اسلامی، مجلس تحفظ حدود اللہ اور متحدہ مجلس عمل کے ایجنڈے پر سرزمین پاک میں ’متعہ اجازت ناموں‘ کی منسوخی سرفہرست ہونی چاہیے۔ گر یہ نہیں تو بابا ’باقی‘ کہانیاں ہیں۔
شمیم فاطمہ تبسم
الزہرا۔ چاہ عمر۔ کروڑ لعل عیسن
(۴)
محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید، خواہش اور دعا ہے کہ ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں۔
روایتی مدارس کے حاملین کے ہاتھوں جب ’الشریعہ‘ جیسا آزادئ فکر کا حامل اور تعصب سے پاک رسالہ نکلتے دیکھتا ہوں تو بے حد تعجب ہوتا ہے۔ ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو حق کو صرف اپنے مسلک، جماعت یا مدرسے میں منحصر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کی بات یا دلیل کو ماننا تو دور، سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، اور دوسری طرف آپ جو اپنے رسالے میں بلا تبصرہ چھاپنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’قدامت پسندوں کا تصور اجتہاد‘‘ پر مثبت طور پر غور کرنا چاہیے۔ انداز اگرچہ جارحانہ ہے لیکن فکری جمود کو توڑنے کے لیے شاید جارحیت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ محترم زاہد الراشدی کا جوابی مضمون ان کی دلیل توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ سیکڑوں سال پرانی باتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بہتر تھا کہ آج کے تجدد پسندوں پر علمی انداز میں حملہ کیا جاتا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب بھی اکبر کے دور کا تجدد چاہتے ہیں تو حوالہ دے کر ثابت کیا جاتا۔ اس میں شک نہیں کہ آج کے دور کے متجددین، دین میں تحریف کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس بہانے سے اجتہاد کا جائز دروازہ بھی بند نہ کرنا چاہیے، نہ ایسی کڑی شرائط لگانی چاہییں کہ اجتہاد کے دروازے کو تو کھلا سمجھا جائے، لیکن عملاً کسی کو مجتہد ماننے سے انکار کیا جائے۔
میرے خیال میں رئیس التحریر کے کالم کا نام ’’کلمہ حق‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ کلمہ حق سے تو کسی مسلمان کو اختلاف نہ ہونا چاہیے۔ ہر محقق اپنے خیال میں حق ہی لکھتا ہے، لیکن اس کو ایسا دعویٰ نہ کرنا چاہیے، کیونکہ یقینی طور پر حق تو صرف اللہ اور رسول کے اقوال ہیں۔ انسان تو غلطی بھی کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کو استقامت نصیب فرمائے اور دیگر دینی اداروں کو بھی آپ کی تقلید کی توفیق عطا فرمائے تاکہ سب لوگ جو دین کی کسی بھی نوعیت کی خدمت سے وابستہ ہوں، ایک دوسرے کی مخالفت کے بجائے ایک دوسرے کی قدر کریں اور تعاون کریں۔ نیکی میں تعاون ہی دین داروں کا شیوہ ہے۔ مخالفت تو زرپرست دکاندار ایک دوسرے کی کرتے ہیں کیونکہ وہاں ایک کا منافع دوسرے کا نقصان شمار ہوتا ہے۔
نصیر خان
طالب علم پی ایچ ڈی
کلیہ معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی
دینی مدارس کے نظام ونصاب کے موضوع پر فکری نشست
ادارہ
۳۔ ۴۔ ۵ فروری ۲۰۰۷ کو جامعہ سید احمد شہیدؒ لکھنو (انڈیا) میں برصغیر کے دینی نصاب ونظام کے حوالے سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (پاکستان) میں اس سمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست ممتا زماہر تعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم کی زیر صدارت ۳؍ فروری ۲۰۰۷ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی جس میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف، جامعہ عربیہ گوجرانوالہ کے ناظم مولانا ضیاء الرحمن، گورنمنٹ کالج قلعہ دیدار سنگھ کے پروفیسر محمد اکرم ورک، گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ، پروفیسر محمد زمان چیمہ اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کا موجودہ نظام ۱۸۵۷ء کے بعد وجود میں آیا تھا۔ اس سے قبل اس خطے میں دینی اور عصری علوم کی تقسیم موجود نہیں تھی اور سب لوگ ایک ہی طرز کا نصاب پڑھتے تھے جس میں فارسی زبان، عربی زبان، فقہ اسلامی اور دیگر ضروری علوم وفنون شامل تھے۔ دفتری اور عدالتی زبان فارسی تھی جبکہ عدالتوں میں فقہ حنفی نافذ تھی، اس لیے یہ نصاب قومی اور سرکاری ضرورت بھی تھا لیکن جب عدالتوں میں برطانوی قانون نافذ کر دیا گیا اور فارسی کے بجائے انگریزی، دفتری اور عدالتی زبان قرار دے دی گئی تو درس نظامی کا یہ نصاب قومی ضروریات کے دائرے سے نکل گیا۔ اس موقع پر کچھ ارباب دانش نے دینی علوم کی حفاظت اور اگلی نسل تک دین کو پہنچانے کے لیے درس نظامی کے اس نصاب کی پرائیویٹ سطح پر تعلیم وتدریس کا اہتمام کیا اور رضاکارانہ بنیادوں پر اس کا نظام قائم کیا جس کے تحت جنوبی ایشیا کے طول وعرض میں ہزاروں مدارس کام کر رہے ہیں۔
دینی مدارس کے اس نظام کی بنیاد تحفظات پر تھی اور اس کے اہداف میں اساسی طور پر یہ امور شامل تھے کہ: ۱۔ دینی علوم کی حفاظت ہو، ۲۔ عام مسلمان کا دین کے ساتھ تعلق قائم رہے اور ۳۔ اگلی نسلوں تک دینی علوم وروایات بحفاظت منتقل ہوتی رہیں۔ نو آبادیاتی دور میں ان دینی مدارس نے اپنے اہداف میں شاندار کامیابی حاصل کی اور اس خطہ کے ممالک کی آزادی کے بعد بھی دینی مدارس کی ان خدمات کا تسلسل کامیابی کے ساتھ جاری ہے، مگر آزادی کے بعد اور عالمی سطح پر میڈیا کا دائرہ وسیع تر ہوتے چلے جانے کے بعد دینی مدارس کے اس تحفظاتی ماحول اور طریق کار کو ناکافی سمجھا جا رہا ہے اور بہت سے نئے تقاضے ایسے سامنے آئے ہیں جن کو پورا کرنے کی انھی مدارس سے توقع کی جا رہی ہے۔ مثلاً پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں اسلامی نظام وقوانین کے نفاذ کے حوالے سے مطلوبہ رجال کار کی فراہمی اور عدالتی، دفتری اور انتظامی ضروریات کے لیے ضروری افراد کی تیاری ایک اہم اور ناگزیر تقاضا بن چکی ہے، لیکن چونکہ مسلم ممالک کے ریاستی تعلیمی نظام اس ضرورت کو پورا نہیں کر رہے، بلکہ بعض جگہ ریاستی نظام ہائے تعلیم اس کے برعکس دفتری، عدالتی اور انتظامی ماحول کو برقرار رکھنے کا باعث بن رہے ہیں، اس لیے مسلم امہ کا باشعور طبقہ اس ملی ضرورت کی تکمیل کے لیے دینی مدارس ہی کی طرف دیکھ رہا ہے اور عمومی طور پر دینی مدارس سے یہ توقع وابستہ کر لی گئی ہے۔
اسی طرح میڈیا کا دائرہ متنوع اور وسیع تر ہو جانے کے بعد مغرب اور عالم اسلام کے درمیان فکری جنگ، تہذیبی کشمکش اور ثقافتی تنازعات کے حوالے سے اسلام کے بنیادی احکام اور قرآن وسنت کی اساسی تعلیمات کے بارے میں شکوک وشبہات اور اعتراضات کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کشمکش میں مغرب کی فکری وثقافتی یلغار کے مقابلہ، اسلامی تعلیمات کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کے ازالہ اور آج کے گلوبل ماحول میں اسلامی احکام وتعلیمات کو موثر طور پر پیش کرنے کے لیے رجال فکر اور رجال فن کی تیاری ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ اختیار کر چکی ہے جو مسلمان ممالک کے کسی اور ادارے کی ذمہ داریوں میں ابھی تک شامل نہیں ہے۔ اس لیے یہ توقع بھی دینی مدارس سے وابستہ کر لی گئی ہے اور دینی مدارس سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے رجال فکر اور رجال فن کی تیاری کو اپنے پروگرام میں شامل کریں۔
اس کے ساتھ ہی آج کے عالمی اور گلوبل ماحول میں اسلام کی دعوت وتبلیغ اور پوری دنیا میں نسل انسانی تک اسلام کی دعوت اور قرآن وسنت کی تعلیمات کو خالصتاً دعوتی انداز میں پہنچانا بھی ہماری دینی وملی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ حضرات کی ہر سطح پر ضرورت ہے اور عام طور پر باشعور مسلمان دینی مدارس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس ضرورت کا احساس کریں اور اس کی تکمیل کو اپنے اہداف اور پروگرام میں شامل کریں۔
اس لیے جہاں تک دینی مدارس کے اس نظام کے ان تحفظاتی اہداف کا تعلق ہے جن کے لیے یہ نظام ۱۸۵۷ء کے بعد وجود میں آیا تھا ، اس میں تویہ بعض خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود کامیابی کے ساتھ پیش رفت کر رہا ہے، لیکن آج کے حالات کی روشنی میں اس نظام سے جو نئی توقعات وابستہ ہو گئی ہیں، ان کے حوالے سے بہرحال ایک بہت بڑا خلا موجود ہے اور دینی مدارس کے ارباب حل وعقد کو یہ خلا پر کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
پروفیسر غلام رسول عدیم نے اپنے تفصیلی خطاب میں دینی مدارس کے موجودہ نظام ونصاب کے مختلف پہلووں پر اظہار خیال کیا اوراس بات پر زور دیا کہ تعلیمی معیار اور طلبہ کی ذہنی وفکری تربیت کے حوالے سے موجودہ صورت حال تسلی بخش نہیں ہے اور متعدد اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مدارس کے قیام کے سلسلے میں کوئی منظم پروگرام اور منصوبہ بندی موجود نہیں ہے اور مدارس قائم کرنے والے اپنا نصاب، تربیتی نظام اور معیار قائم کرنے میں کسی ڈسپلن کے پابند نہیں ہیں جس کا نقصان سب کو نظر آ رہا ہے۔ اس کے لیے دینی مدارس کے وفاقوں کو سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے مدارس کی فہرست بنائی جائے، ان کے کوائف جمع کیے جائیں اور دیکھا جائے کہ کون سا مدرسہ کس دائرے میں اور کس سطح پر کام کر رہا ہے۔ پھر ان مدارس کی درجہ بندی کی جائے، ہر طالب علم کو دورۂ حدیث تک پہنچانا ضروری نہیں۔ اس طرح درجہ بندی کی جائے کہ امامت وخطابت اور اس طرح کی دیگر ضروریات کے لیے الگ معیار قائم کیا جائے اور اس کو کافی سمجھا جائے جبکہ اس کے اوپر کی سطح کے لیے طلبہ کی ذہانت اور ذوق کے مطابق مختلف علوم وفنون کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے اور جو ضروریات ملی طور پر محسوس کی جا رہی ہیں، ان کے مطابق مستقل طور پر ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جائے۔
نصاب میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس طرح نہیں کہ اس میں زیادہ سے زیادہ مضامین گھسیڑ دیے جائیں، بلکہ اس طور پر کہ تخصص کے الگ الگ شعبے بنائے جائیں ا ور ہر شعبہ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا نصاب مرتب کیا جائے اور یہ کام ماہر اساتذہ اور متعلقہ علوم کے متخصصین کے ذریعے انجام دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے معیار کو سخت کیا جائے، ملی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس امر کا اہتمام کیا جائے کہ اس سطح پر کام کرنے والے علما کو عالمی زبانوں، بالخصوص انگریزی پر عبور حاصل ہو اور وہ حالات زمانہ سے واقف ہوں۔
مولانا محمد یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس کی درجہ بندی کی جائے اور الگ الگ تعلیمی مراحل قائم کیے جائیں تاکہ ایک مرحلہ تک تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم اس سطح پر خدمات انجام دینے کا اہل سمجھا جائے اور اس سے اگلے مرحلہ تک اسے زبردستی نہ لے جایا جائے۔ اسی طرح علماے کرام، ائمہ اور خطبا میں عوامی سطح پر کام کرنے کا ذوق پیدا کیا جائے اور اس کے لیے ان کی تربیت کی جائے، کیونکہ ہمارے ائمہ اور خطبا جہاں جاتے ہیں، ان کا وہاں کے عوام اور ان کی دینی ضروریات سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ وہ پہلے سے ایک طے شدہ ذہن لے کر جاتے ہیں اور ارد گرد کے ماحول اور ضروریات کو سمجھے بغیر اپنا ایجنڈا چلانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔
مولانا ضیاء الرحمن نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمارے مدارس کے طلبہ میں انقیاد وتسلیم کا جذبہ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں اور فکر ونظر میں وسعت وترقی کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دینی مدارس کے درمیان مشاورت اور رابطہ کا ایسا نظام موجود ہونا چاہیے کہ سب ایک دوسرے کے کام کی نوعیت سے واقف ہوں تاکہ کسی کام میں خواہ مخواہ تکرار نہ ہو اور کوئی ضروری کام رہ نہ جائے۔
چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ مدارس کے نظام ونصاب میں بہتری پیدا کرنے کے لیے عرصہ دراز سے بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن عملی طور پر اس سمت میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو رہی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی عملی قدم اٹھائے بغیر محض بحث ومباحثہ کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہو تا چلا جائے گا، اس لیے اب اس بحث کو عملی طور پر نتیجہ خیز بنانے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔
پروفیسر محمد زمان چیمہ نے کہا کہ مسلمانوں کے ز وال کی اصل وجہ جہالت اور لا علمی ہے اور ہم بحیثیت قوم نہ اپنے تاریخی وعلمی ورثے سے واقفیت کی ضرورت کا کوئی احساس رکھتے ہیں اور نہ زمانے کی نبض پر ہمارا ہاتھ ہے۔ اس لیے اس رویے میں تبدیلی پیدا کیے بغیر کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
مقررین اور شرکا نے جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے کردار کو سراہتے ہوئے فکری ونظری بیداری کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمات پر بطور خاص خراج تحسین پیش کیا اور جامعہ سید احمد شہید لکھنو کے سربراہ مولانا سید سلمان الحسینی کی دینی وتعلیمی مساعی کی تحسین کرتے ہوئے ۳۔۴۔۵ فروری کو منعقد ہونے والے بین الاقوامی تعلیمی سیمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے اظہار کے ساتھ اس کی کامیابی کے لیے دعا کی۔