جون ۲۰۰۷ء

عالمی تہذیبی کشمکش کی ایک ہلکی سی جھلکمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاحمحمد رفیع مفتی 
مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیتپروفیسر میاں انعام الرحمن 
قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہحافظ محمد زبیر 
مکاتیبادارہ 

عالمی تہذیبی کشمکش کی ایک ہلکی سی جھلک

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے ۵ مئی سے ۲۳ مئی ۲۰۰۷ء تک برطانیہ کے مختلف شہروں میں احباب سے ملاقاتوں، دینی اجتماعات میں شرکت اور مختلف اداروں میں حاضری کاموقع ملا اور متعدد نشستوں میں اظہار خیال بھی کیا۔ اس دوران میں اپنی دلچسپی کے خصوصی موضوع ’’مسلمانوں اورمغرب کے درمیان تہذیبی کشمکش‘‘ کے حوالہ سے بھی مطالعہ اورمشاہدات میں پیش رفت ہوئی اوراسی پہلو سے کچھ گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہاہوں۔
سفر کے آغاز میں ہی ۵؍مئی کو روزنامہ نوائے وقت لاہور میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ ’’مغرب کو اسلام سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی اقدارپر ڈٹے رہناچاہیے اوریہ بات ثابت کرنی چاہیے کہ مغرب اپنی اقدار پر یقین رکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلامی دنیا کو دکھانا چاہیے کہ ہم اپنی اقدار ہر ایک پر لاگو کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے اس نظریے پر دفاعی انداز اختیار کرلیتے ہیں جس کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی مغرب کے رویے کا رد عمل ہے۔‘‘ لیکن جب لندن پہنچا تو روزنا مہ جنگ لندن میں ۷؍مئی کو یہ رپورٹ پڑھنے کو ملی جس کے مطابق چرچ آف انگلینڈنے دعویٰ کیاہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے حکومت کی تباہ کن پالیسیوں نے برطانوی مسلمانوں کو انتہا پسند بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار آبزرور کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والی رپورٹ میں چرچ نے عراق میں کی جانے والی غلطیوں کی مذمت کی اورکہا کہ دنیا بھر میں برطانیہ کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے اور یورپ میں وہ تنہا کھڑاہے اوراس کی وجہ امریکہ کے ہر حکم کی بجاآوری ہے۔ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ قیادت کی تبدیلی سے فکرونظر کی تبدیلی بھی واقع ہوگی۔ آرچ بشپ آف انگلینڈڈاکٹر روون ولیمزنے رپورٹ کی توثیق کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ عراق پر ناجائز تسلط اورحکومت کی نامناسب اورناانصافی پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے برطانیہ دہشت گردوں کی بھرتی کا سرگرم حصہ بن گیا ہے۔ 
۱۰؍مئی کو روزنامہ جنگ لندن نے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ہاؤس آف کامنز میں لیبر لیڈر کی حیثیت سے آخری بار سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عراق جنگ کے ضمن میں غلطیوں پر معافی مانگنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ جائے جو عراق کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ پیٹرلف نے ان سے سوال کیاتھا کہ عراق کی جنگ سے پیدا شدہ صورت حال سے نہ صرف آپ (بلیئر) پر بلکہ پورے سیاسی عمل پر بھر وسے کو ٹھیس پہنچ چکی ہے، اس لیے وزیر اعظم کو عراق کے معاملہ میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنا چاہیے اور اقتدار چھوڑنے سے قبل معاملہ کی مکمل انکوائری کرانا چاہیے۔
اسی روزبرطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئرنے اعلان کیا کہ وہ ۲۷؍جون سے وزارت عظمیٰ چھوڑ رہے ہیں اور ان کے بارے میں ۱۰؍مئی کو روزنامہ جنگ لندن میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وہ وزارت عظمیٰ سے سبک دوشی کے بعد بین المذاہب مکالمہ کے لیے کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خبر کے مطابق وہ ایک گلوبل فاؤنڈیشن قائم کرناچاہتے ہیں تاکہ تین مذاہب (عیسائیت، یہودیت اور اسلام) کے درمیان زیادہ مفاہمت پیدا کی جاسکے، کیونکہ ان کے نزدیک کوئی ادارہ متحرک طورپر انٹر فیتھ ڈائیلاگ کاکام نہیں کررہا۔ یہ فاؤنڈیشن لندن میں قائم ہوگی اورکلنٹن فاؤنڈیشن کی طرز پر کام کرے گی۔
دوسری طرف برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر اور مستقبل کے متوقع وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا ایک انٹرویو روزنامہ جنگ لندن نے ۱۲؍مئی کو شائع کیاہے جس میں انہوں نے بالسال ہیتھ میں ایک مسلمان فیملی کے ساتھ ۲۴گھنٹے گزارنے کے بعد اپنے تاثرات کا تفصیل کے ساتھ اظہار کیاہے جس کے اہم نکات یہ ہیں:
  • اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح مسلمانوں کو قومی دھارے سے دور کر رہی ہے۔
  • مسلمانوں کی فیملی اقدار بہت مضبوط ہیں۔ اس فیملی کے ساتھ ملنے کے لیے روزانہ توسیع شدہ فیملی کے جتنے لوگ آئے، اتنے رشتہ دار اُن (کیمرون) سے ملنے کے لیے سال بھر میں نہیں آئے۔
  • اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح مسلمانوں کو بہت ناگوار گزرتی ہے اورجب بھی میڈیا یا سیاست دان اس کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • آئر لینڈ میں آئی آر اے دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اگروہاں کیتھولک دہشت گرد یا پروٹسٹنٹ دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کی جاتی تو بہت تباہی ہوتی اوراب ہم جو کررہے ہیں، وہ اسی کے مساوی ہے۔
  • حکومت نے اسلامی دہشت گردوں کی اصطلاح ختم کرنے کا اعلان کیاتھا، لیکن کوئی متبادل اصطلاح سامنے نہیں لائی گئی جسے میڈیا استعمال کرسکے۔
  • مسلمان اس بات پر بھی برہم ہیں کہ دہشت گردوں کے حوالہ سے جس قدر چھاپے مارے گئے، ان میں سے کئی کی اطلاع قبل از وقت میڈیا کو دی گئی۔
  • مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ خیال ہے کہ ۱۱/۹ اور ۷/۷ کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ اگر پانچ یا دس فیصد مسلمانوں کی بھی یہ سوچ ہے تو یہ ایک مسئلہ ہے جس سے نمٹنا پڑے گا۔
  • * بیرون ملک بالخصوص مصر، شام اور اردن سے آنے والے علما نوجوان نسل کو انتہا پسندی کی ترغیب دے رہے ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کے لیے زیادہ کام نہیں ہوا۔
  • ان کے نزدیک معاشرہ میں ادغام ’’ٹو وے سٹریٹ‘‘ ہے۔ ہم اقلیتی طبقہ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجموعی برطانوی معاشرہ میں مدغم ہونے کے لیے بہت محنت کریں، لیکن ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسا اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک انہیں مدغم کرنے کے لیے دل کشی نہیں ہوگی۔ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر معاشرہ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور معاشرہ میں شراب نوشی، منشیات، سماج مخالف رویہ اورغیر مہذبانہ طرز زندگی زیادہ دل کشی کاباعث نہیں بن سکتے۔ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
اس کے ساتھ برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر محترمہ ملیحہ لودھی کے ان ریمارکس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے جو روزنامہ جنگ لندن ۱۲؍مئی ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق انہوں نے برٹش مسلم فورم کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں جہاں تک تہذیبوں کے ملاپ کا تعلق ہے تویہ دو طرفہ عمل ہے جبکہ انگریز کمیونٹی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہیں کررہی۔ میں نے ایک برطانوی وزیر سے سوال کیا کہ ایک انگریز نے اوسطاً ایک سال میں کتنے مسلمانوں کو اپنے گھر کھانے پر بلایا ہوگا؟ ایک کو بھی نہیں، تو پھر انٹگریشن کیسے ہوگی؟ یک طرفہ سلسلہ کہیں نہیں چل سکتا۔ اگر برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ برطانوی مسلمان برطانوی معاشرہ میں اپنی پہچان رکھتے ہوئے اس میں گھل مل جائیں تو اس کے لیے صرف مسلمانوں پر توجہ دینا ہی کافی نہیں ہوگا، اہل برطانیہ کو بھی اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے برطانیہ میں مسلمانوں کے غیر مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، مغرب اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار کے درمیان کشمکش، برطانوی لیڈروں کے اس حوالہ سے خیالات وتاثرات میں تنوع اور مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے مستقبل کے حوالہ سے امکانات، خدشات اور توقعات کی جو صرف دویا اڑھائی ہفتے کے مطالعہ اورمشاہدہ کے دوران سامنے آئی ہے۔ اسی سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ اس سلسلہ میں علماے کرام اوراہل دانش کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہم کن لائنوں پر چل کر اس صورت حال میں اسلام کی صحیح نمائندگی اور مسلمانوں کی بہتر خدمت کی موثر صورتیں اختیار کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ملّی ذمہ داریاں اوردینی فرائض بہتر طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح

محمد رفیع مفتی

کسی نبی کی سیرت، اس کے افعال و اعمال اور اس کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے اگر اس بنیادی حقیقت ہی کو ملحوظ نہ رکھا جائے کہ وہ خدا کا نبی ہے اور اس کی ذمہ داریاں، عام آدمی کے مقابلے سے کہیں زیادہ ہیں تو وہ حکمت جو اس کے مختلف کاموں میں پائی جاتی ہے، وہ ہر گز سمجھی نہیں جا سکتی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازداجی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دو نکاحوں کے علاوہ جتنے نکاح بھی کیے، ان کی وجہ بشری تقاضے نہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بشری اور اپنی نبوت و رسالت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے چار مختلف حیثیتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا تھی۔ آپ کی پہلی حیثیت ایک بشر کی تھی، دوسری نبی کی، تیسری خاتم النبیین کی اور چوتھی حیثیت رسول کی تھی۔آپ پر ان سب حیثیتوں کے اعتبار سے ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔یہ ذمہ داریاں آپ کی ازدواجی زندگی سے بھی ایک خاص تعلق رکھتی تھیں اور آپ کی ان ذمہ داریوں میں آپ کی ازواج مطہرات کو ایک خاص کردار بھی ادا کرنا تھا۔ اس ساری صورت حال نے آپ کے ہاں ان وجوہ اور ان مقاصد کو جنم دیا جن کی بنا پر آپ نے مختلف نکاح کیے۔

بحیثیت بشر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشری ضروریات کے تحت دو نکاح کیے۔ پہلا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اور دوسرا، ان کی وفات کے بعد، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے پچیس سال کی عمر میں نکاح کیا۔ یہ ایک بیوہ خاتون تھیں اور عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رفاقت کا زمانہ پچیس سال کا ہے۔ ان پچیس برسوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شباب کا سارا زمانہ گزر گیا، لیکن اس میں آپ کے ہاں کسی دوسری شادی کا کوئی خیال بھی نہیں پایا جاتا۔ آپ نے اسی عرصے میں اعلان نبوت کیا اور مکہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ آپ کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ ستایا بھی گیا اور لالچ بھی دیا گیا۔ ایک موقع پر آپ کو یہ پیش کش بھی کی گئی کہ اگر آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں یا کچھ مصالحانہ رویہ اختیار کرلیں، تو آپ کو عرب کی سب سے حسین خاتون جو آپ کو پسند ہو اس سے بیاہ دیتے ہیں۔ آپ اس طرح کی پیش کشوں سے، ایک بے نیاز آدمی کی طرح گزر جاتے تھے۔ نہ خدا کے انتخاب میں کوئی خامی تھی کہ آپ کے پاے ثبات میں لغزش آتی اور نہ آپ کی ازدواجی زندگی کسی تشنگی کا شکار تھی کہ اس طرح کی پیشکش کوئی اثر دکھاتی۔
پہلی شادی کے پچیس سال بعد، جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ پریشان کن مسئلہ پیدا ہوا کہ آپ کی صاحبزادیاں ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہما تنہا رہ گئیں۔ گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ رہا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سن رسیدہ خاتون سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بھی پچاس سال تھی اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی عمر بھی پچاس سال تھی۔ یہ ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھیں۔ انھوں نے بھی اسلام کے راستے میں دوسرے مسلمانوں کی طرح تکالیف اٹھائی تھیں۔ مکہ کے حالات جب ان پر تنگ ہو گئے تو یہ اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کر گئیں۔ کچھ عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں، چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ان کی تالیف قلب بھی تھی۔

بحیثیت نبی

جیسے کہ اوپر بیان ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریوں میں آپ کی ازواج مطہرات کو بھی شریک کیا گیا تھا، تاکہ وہ نبوت کے کام میں آپ کی ممدومعاون بنیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ واقعتہً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کا ایک بڑا حصہ ان ازواج مطہرات ہی کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ یوں آپ کی سب ازواج مطہرات اس ذمہ داری میں شامل تھیں، مگر خاص کار نبوت میں معاونت کے حوالے سے جو خاتون آپ کے نکاح میں آئیں، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے ساتھ نکاح دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب نہ تھا بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے کار نبوت میں اپنے رسول کی معیت و معاونت کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو منتخب فرمایا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے خواب میں تم دو دفعہ دکھائی گئیں اور کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ 
چنانچہ، یہ کہنا بالکل درست ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کے لیے اللہ تعالیٰ کا انتخاب تھیں۔ منصب نبوت میں ایک خاص معاونت کے لیے کون سی خاتون موزوں ہو سکتی ہے، ظاہر ہے کہ اس بات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی پانے کے بعد، امت کی تعلیم و تربیت کے لیے اتنا زیادہ کام کیا، جتنا آپ کی تمام ازواج نے مل کر بھی نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ’واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ‘ کا مجسم نمونہ بنا دیا۔ آپ سے ۲۲۱۰روایات مروی ہیں۔ آپ فقیہ بھی تھیں اور مفسر و مجتہد بھی ۔ اکابر صحابہ آپ سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما بھی آپ سے مسائل کے بارے میں استفسار کیا کرتے تھے۔
اس کے بعد ہم آپ کے ان نکاحوں کی طرف آتے ہیں، جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے۔ آپ چونکہ نبی ہونے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے اسوہ یعنی نمونہ ہیں، لہٰذا ہم نے آپ کے ان نکاحوں کو جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے آپ کے حیثیت نبوت میں کیے گئے نکاحوں میں شمار کیا ہے۔ ان نکاحوں کا پس منظر اس طرح سے ہے:
تین ہجری میں مسلمانوں کو جنگ احد لڑنا پڑی۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور اپنے پیچھے کئی یتیم بچے اور بیوائیں چھوڑ گئے۔ یہ ان شہدا کے لواحقین تھے، جنھوں نے اپنے خون سے تاریخ اسلام کا ایک اہم باب رقم کیا تھا۔ اسلام نے مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا بے پناہ جذبہ پیدا کر دیا تھا۔ ایثار و قربانی کے اسی جذبے کی بنا پر کئی لوگوں نے ان یتیم بچوں اور بیواؤں کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان کی کفالت کرنے لگے۔ اس موقع پر سورۂ نسا نازل ہوئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے ان سرپرستوں کو مخاطب کرکے، ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور ان کے لیے وہ صورت تجویز کی، جس سے وہ عدل و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے، یتیموں کی سرپرستی کی اس عظیم ذمہ داری سے، بخوبی عہدہ برآ ہو سکتے تھے۔ فرمایا:
’’اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے، تو ان عورتوں (یتیموں کی ماؤں) میں سے، جو تمھارے لیے جائز ہوں، ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اگر ڈر ہو کہ ان کے مابین عدل نہ کر سکو گے ، تو ایک ہی پر بس کرو۔‘‘ (النساء، آیت ۳)
اسلام نے یتیموں اور بیواؤں کو معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنا دینے کے لیے ایک بڑا حکیمانہ حل پیش کیا، لیکن کسی بیوہ سے نکاح کرنا اور اس کے یتیم بچوں کی ذمہ داری ، باقاعدہ اپنے سر لے لینا، کوئی آسان کام نہ تھا۔ خصوصاًاس صورت میں ، جبکہ دوسروں کے حقوق ، انصاف کے ساتھ ادا کرنا بھی لازم تھا۔ لہٰذا یہ ضروری ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس معاملے میں اقدام کریں اور آپ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کی اس معاشرتی ذمہ داری میں مسلمانوں کے لیے اسوہ بنیں۔ اور آپ کا یہ نکاح کرنا ان مسلمانوں کے لیے ترغیب کا باعث بنے، جو یتیموں کے معاملے میں بے انصافی کا خوف رکھتے ہیں لیکن کسی سبب سے اس اقدام سے گھبراتے ہیں۔ چنانچہ، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بیوہ خواتین سے نکاح کیا۔ یہ خواتین حضرت حفصہ، حضرت زینب اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ ان سے نکاح کی تفصیل درج ذیل ہے:
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ جنگ احد میں ان کے خاوند شہید ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فکر مند ہوئے اور انھوں نے چاہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عثمان رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک، ان کو اپنے نکاح میں قبول کر لے، لیکن ان دونوں حضرات نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر ان کی خاموشی سے رنجیدہ خاطر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایتاً، حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے رویے کا ذکر کیا۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ میں خود حضرت حفصہ کو اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ظاہر ہے سیدنا عمر اور بنت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی تھی۔ چنانچہ حضرت حفصہ آپ کے نکاح میں آ گئیں۔
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ ان کی شادی طفیل بن حارث رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد، کسی وجہ سے انھوں نے طلاق دے دی۔ پھر ان کا نکاح عبداللہ بن جحش سے ہوا۔ کچھ ہی عرصہ بعد جب جنگ احد ہوئی تو یہ اس میں شہید ہو گئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک بار پھر بیوہ ہو گئیں۔ چنانچہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔ زینب بنت خزیمہ کے آنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چار ازواج مطہرات ہو گئیں۔ تعدد ازواج کے بارے میں سورۂ نساء میں جو قانون نازل ہوا تھا اس کے مطابق اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزید کوئی نکاح نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن چند ماہ کے بعد، جب حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا انتقال کر گئیں،تو آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ آپ کسی اور بیوہ کو سہارا دے سکیں۔
چنانچہ ۴ ہجری میں آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حبالۂ عقد میں لے آئے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ مکہ میں جب مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہوا تو یہ بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ حبشہ چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ رہ کر واپس مکہ آگئیں۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت شروع ہوئی، تو یہ اپنے خاوند ابو سلمہ کے ساتھ مدینہ چل پڑیں، لیکن ان کے خاندان نے انھیں ہجرت کرنے سے روک دیا۔ سسرال والوں نے ان کا بیٹا بھی چھین لیا۔ چاروناچار ان کے خاوند کو تنہا ہجرت کرنا پڑی۔ ام سلمہ نے ایک سال تک جدائی کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پھر ان کے خاندان والوں نے ان پر رحم کیا اور ہجرت کی اجازت دے دی۔ سسرال والوں نے بھی ان کا بیٹا انھیں واپس کر دیا۔ چنانچہ ایک سال کے بعد ان کا گھرانا مدینہ میں پھر سے یکجا ہو گیا۔ ۳ ہجری میں جنگ احد ہوئی۔ ابو سلمہ اس میں زخمی ہو گئے اور کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد، زخموں کے بگڑ جانے کی وجہ سے، شہید ہو گئے۔ ام سلمہ بیوہ ہو گئیں اور ان کے چار بچے باپ کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسلام کی خاطر، ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے دوران میں جن سخت آزمایشوں سے گزری تھیں اور پھر جن حالات سے دوچار ہوگئی تھیں، ان سب کا خیال کرتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، اور ان کی وہ اولاد، جو ابو سلمہ سے تھی، اب انسانیت کے مربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ پرورش پانے لگی۔

بحیثیت خاتم النبیین

آخری نبی ہونے کے حوالے سے آپ کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ دین و شریعت کو ہر طرح سے مکمل کر دیں۔ یہ تکمیل آپ کو علم کے اعتبار سے بھی کرنا تھی اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ دین کے نام پر جو غلط تصورات عرب معاشرے میں رائج تھے، ان کی اصلاح بھی آپ کے ذمہ تھی اور وہ باطل رسوم و رواج، جو عربوں کے ہاں اخلاقی اقدار بن چکے تھے، ان کا قلع قمع کرنا بھی آپ ہی کا فرض تھا۔ عربوں کے ہاں دین کے نام پر جو غلط رسوم و رواج اور تصورات پائے جاتے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ متبنی (منہ بولے بیٹے) کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھتے تھے۔ کسی چیز کے بارے میں حلال و حرام کا تصور جب ایک دفعہ قائم ہو جائے تو پھر اس کے خلاف سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس باطل تصور کو توڑنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اس نوعیت کا کوئی موقع میسر آئے اور آپ آگے بڑھ کر خود اس رسم کا عملاً قلع قمع کر دیں تاکہ اس باطل تصور کی ہمیشہ کے لیے اصلاح ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو عملاً توڑنے کا موقع آپ کو، آپ کے متبنی حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کی شکل میں مہیا کر دیا ، اور آپ کو یہ حکم دیا کہ آپ ان سے نکاح کریں۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نکاح کرنے میں متردد تھے لیکن خدا کے پیش نظر یہ تھا کہ وہ اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے سے ہدایت کو اس کی آخری شکل میں مکمل کر دے۔ 
اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ آپ یہ نکاح کریں، تاکہ آپ کے عمل سے عربوں کے ، متبنی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھنے کے تصور کا خاتمہ ہو جائے، اور جو دین فطرت آپ لوگوں کو دے رہے ہیں، اس میں کوئی غیر فطری بات شامل نہ ہونے پائے۔
ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا قَضَی زَیْْدٌ مِّنْہَا وَطَراً زَوَّجْنَاکَہَا لِکَیْْ لَا یَکُونَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ أَزْوَاجِ أَدْعِیَاءِہِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَراً. (الاحزاب۳۳:۳۷) 
’’پس جب زید نے اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا تو ہم نے اس کو تم سے بیاہ دیا، تاکہ تم مومنوں کے لیے، ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں، جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق کاٹ لیں، کوئی تنگی باقی نہ رہے۔‘‘
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے حکم سے یہ بات ، ازخود، نکلتی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاحوں کی حد عام مسلمانوں کی طرح چار ازواج تک نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کی مختلف حیثیتوں کے حوالے سے جو ذمہ داریاں آپ پر ڈالی گئی تھیں، جو عظیم کام آپ کو انجام دینے تھے، جس ماحول میں آپ کو اپنا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچانا تھا اور جس صورت حال سے آپ کو سابقہ پیش آنے والا تھا، وہ سب اس کے متقاضی تھے کہ آپ کے لیے چند دوسرے معاملات کی طرح، نکاح کے معاملے میں خصوصی قانون نازل ہو، تاکہ آپ اپنا مشن زیادہ خوبی سے انجام دے سکیں۔
چنانچہ جب نکاح کا وہ قانون جو سب مسلمانوں کے لیے نازل ہوا تھا، زینب بنت جحش کے ساتھ نکاح کے موقعے پر آپ کے لیے ناکافی ثابت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے چار نکاحوں کی تحدید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے آپ کو زینب بنت جحش سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ ہم تمھیں اس نکاح کا حکم اس لیے دے رہے ہیں تاکہ تمھارا یہ نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے ایسے نکاح کے جوازکی مثال بنے اور ان کے لیے اس طرح کا نکاح کرنے میں کوئی (طبعی یا معاشرتی) رکاوٹ باقی نہ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نکاح کی یہ وہ حکمت ہے جو خود پروردگار عالم نے بیان کی ہے۔ اس ایک نکاح کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو براہ راست حکم دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے لیے نکاح کا خصوصی قانون بھی نازل کر دیا۔ یہ قانون سورۂ احزاب کی آیات ۵۰ تا ۵۲ میں بیان ہوا ہے۔ اس میں خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے وہ دائرہ متعین کر دیا، جس کے اندر آپ نکاح کر سکتے تھے، اور وہ حکمت بھی بیان کر دی، جس کی بنا پر آپ کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا تھا۔ ارشاد باری ہے:
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْْتَ أُجُورَہُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّا أَفَاء اللَّہُ عَلَیْْکَ وَبَنَاتِ عَمِّکَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِکَ وَبَنَاتِ خَالِکَ وَبَنَاتِ خَالَاتِکَ اللَّاتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَأَۃً مُّؤْمِنَۃً إِن وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِیُّ أَن یَسْتَنکِحَہَا خَالِصَۃً لَّکَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْ أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ لِکَیْْلَا یَکُونَ عَلَیْْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْماً. تُرْجِیْ مَن تَشَاء مِنْہُنَّ وَتُؤْوِیْ إِلَیْْکَ مَن تَشَاء وَمَنِ ابْتَغَیْْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْْکَ ذَلِکَ أَدْنَی أَن تَقَرَّ أَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْْنَ بِمَا آتَیْْتَہُنَّ کُلُّہُنَّ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوبِکُمْ وَکَانَ اللَّہُ عَلِیْماً حَلِیْماً. لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَاء مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْأَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ وَکَانَ اللَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ رَّقِیْبا. (الاحزاب۳۳:۵۰۔۵۲) 
’’اے نبی، ہم نے تمھاری ان بیویوں کو تمھارے لیے جائز کیا جن کے مہر تم دے چکے ہو اور تمھاری ان مملوکات کو بھی تمھارے لیے حلال کیا جو اللہ نے بطورِ غنیمت عطا فرمائیں اور تمھارے چچا کی بیٹیوں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیوں اور تمھارے مامووں کی بیٹیوں اور تمھاری خالاؤں کی بیٹیوں میں سے بھی ان کو حلال ٹھہرایا جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی اور اس مومنہ کو بھی جو اپنے تئیں نبی کو ہبہ کر دے، بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ خاص تمھارے لیے ہے، مسلمانوں سے الگ۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان پر، ان کی بیویوں پر اور لونڈیوں کے باب میں، فرض کیا ہے، (یہ اجازت تمھیں اس لیے دی گئی ہے )تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ تم ان میں سے جن کو چاہو دور رکھو اور اگر تم ان میں سے کسی کے طالب بنو جن کو تم نے دور کیا ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ اس بات کے زیادہ قرین ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور اس پر قناعت کریں، جو تم ان سب کو دو اور اللہ جانتا ہے، جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا بردبار ہے۔ ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ دوسری بیویاں کر لو، اگرچہ ان کا حسن تمھارے لیے دل پسند ہو، بجز ان کے جو تمھاری ملکیت ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔‘‘
ان تین آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح کا جو قانون بیان کیا گیا ہے اس کے نمایاں پہلو یہ ہیں:
۱۔ آپ کی وہ ازواج ، جن کے مہر آپ ادا کر چکے ہیں، وہ بلااستثنا آپ کے لیے جائز ہیں۔
۲۔ وہ ملک یمین، جو بطور ’فے‘ آپ کو حاصل ہوں، اگر ان میں سے کسی سے آپ نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں۔
۳۔ آپ کے لیے قریبی رشتے کی خواتین کے ساتھ، جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ، نکاح کرنا جائز ہے۔
۴۔ اگر کوئی مومنہ، اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے ، اور آپ اس کو نکاح میں لینا چاہیں، تو آپ کو اس کی اجازت ہے۔
۵۔ نکاح کا یہ قانون صرف آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ آپ (اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے) کسی تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔
۶۔ حقوق زوجیت کے معاملے میں آپ کو عام مسلمانوں کی بہ نسبت یہ رعایت ہے کہ آپ پر بیویوں کے درمیان عدل واجب نہیں۔
۷۔ اگر آپ کسی بیوی کو اپنے سے الگ رکھنے (یعنی ازدواجی تعلق سے معزول کرنے) کے بعد دوبارہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہیں، توآپ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ پر کوئی پابندی نہیں۔
۸۔ آپ ان آیات میں بیان کردہ دائرے سے باہر کوئی نکاح نہیں کر سکتے، البتہ ملک یمین آپ کے لیے جائز ہے۔
۹۔ آپ کے لیے ان ازواج کو دوسری ازواج سے بدلنا جائز نہیں، خواہ وہ آپ کے لیے کتنی ہی دل پسند ہوں۔
ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دائرۂ نکاح کی یہ تحدید جس طرح سے کی گئی ہے، وہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں نکاح کے عمومی مقاصد، ہرگز پیش نظر نہیں، بلکہ کچھ دوسری مصلحتیں ہیں جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعدد ازواج کا یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا ہے۔ ان آیات سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عام مسلمانوں کی طرح یہ جائز نہیں کہ آپ محرمات کے علاوہ جس خاتون سے چاہیں نکاح کرلیں۔ آپ کے لیے حلت نکاح کا عام دائرہ دو شرائط لگا کر انتہائی محدود کر دیا گیا۔ پہلی شرط یہ کہ وہ خاتون آپ کی قریبی رشتہ دار ہو اور دوسری یہ کہ اس نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ لیکن یہ دائرہ، چونکہ ان سب حکمتوں کو سمیٹنے کے لیے کافی نہ تھا جو رسول اللہ کے ان نکاحوں میں پیش نظر تھیں تو آپ کے لیے مال فے سے حاصل ہونے والی لونڈیوں کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا بھی جائز قرار دیا گیا۔ لہٰذا آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ اگر آپ کسی دینی یا سیاسی مصلحت کے پیش نظر مال فے میں سے حاصل ہونے والی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنا چاہیں تو کر لیں۔ اور اس عورت سے نکاح کرنا بھی آپ کے لیے جائز قرار دیا گیا، جو اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے۔ ان آیات میں آپ کو، عام مسلمانوں سے ہٹ کر، حقوق زوجیت کے معاملے میں بہت سہولت دی گئی ہے۔
پھر مزید یہ کہ ’لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج ولو اعجبک حسنھن‘ کے الفاظ بھی اپنے سیاق و سباق میں اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ کے نکاحوں سے، نکاح کے عام مقاصد پیش نظر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کر دی کہ اس بیان کردہ دائرے سے باہر جتنی عورتیں بھی ہیں، وہ آپ کے لیے سرے سے حلال ہی نہیں اور نہ ان بیویوں کو کچھ دوسری عورتوں سے بدلنا آپ کے لیے جائز ہے، خواہ وہ عورتیں آپ کو بہت دل پسند ہوں۔ یہ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں جس حکمت کو ، اصلاً ملحوظ رکھا ہے، وہ نہ اس دائرے سے باہر کسی عورت میں پائی جاتی ہے اور نہ ان بیویوں کو دوسری بیویوں سے بدلنے کے بعد باقی رہتی ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیش نظر یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رسولوں کے لیے بہت سی عورتیں اکٹھی کر دے، اور نہ اس نے نکاح کے عمومی مقاصد ہی کی خاطر یہ قانون نازل فرمایا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ رسول کا معاملہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ نسوانی حسن سے رغبت کے بجائے نفرت رکھتا ہے۔ وہ نخل فطرت کے بہترین ثمر ہوتا ہے۔ خدا اس کو مرد بناتا ہے تو عورت کی طرف طبعی رغبت بھی اس کی فطرت میں رکھتا ہے۔ البتہ نبی چونکہ روحانی اور اخلاقی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے، لہٰذا یہ بات اس کی شان سے بہت فروتر ہے کہ کسی عورت کا فطری اور طبعی طور پر دل پسند ہونا اس کی زندگی میں ایسی اہمیت اختیار کر جائے جس کی بنا پر وہ اپنی ذمہ داریوں ہی سے غافل ہوجائے۔ یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس ذات علیم و حکیم کی نگاہ میں آپ کے نکاح کے مقاصد، اس کے عمومی مقاصد سے بہت مختلف تھے۔
جہاں تک اس قانون کی حکمت کا تعلق ہے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ’لکیلا یکون علیک حرج‘ کے الفاظ سے یہ بتا دیا ہے کہ اس قانون سے اس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی تنگی کو دور کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے راستے میں وہ کون سی تنگی محسوس کر رہے تھے جسے دور کرنے کے لیے نکاح ہی کے قانون کو وسعت دینا ضروری تھا؟ اس سوال کا جواب بھی اسی آیت میں موجود ہے۔ اس میں ضمیر خطاب کا مصداق ’النبی‘ کا وہ لفظ ہے، جس سے ان آیات کی ابتدا ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی تھے اور نبی بھی۔ ان آیات میں چونکہ آپ کو ان دونوں حیثیتوں سے مخاطب بنانا مقصود تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ’النبی‘ کا لفظ، جو آپ کی بنیادی حیثیت کو واضح کرتا تھا، اس سے خطاب فرمایا اور یہ بتایا کہ اے نبی، یہ قانون ہم نے اس لیے نازل کیا ہے،تاکہ تمھیں اپنی (نبوت و رسالت کی) ذمہ داریاں ادا کرنے میں، کوئی دشواری نہ ہو۔ یہ تھی وہ حکمت جس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا۔
اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کے مطالعے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس قانون کے نازل ہونے کے بعد آپ نے جتنے نکاح بھی کیے، چونکہ وہ زیادہ تر رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں معاونت کا پہلو رکھتے تھے، لہٰذا ہم نے انھیں ان نکاحوں میں شمار کیا ہے جو آپ نے بحیثیت رسول اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دعوتی یا سیاسی مصالح کے تحت کیے ہیں۔

بحیثیت رسول

رسول کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مقدر کر دیا گیا تھا کہ آپ کو جزیرہ نماے عرب میں سیاسی غلبہ حاصل ہو۔ اس غلبے کے حصول کے لیے شرک کے علم برداروں سے جنگ ناگزیر تھی۔ لیکن جنگ، رسول کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی نفسیات انسان کے لیے قبول اصلاح کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ناگزیر جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتقامی نفسیات کو محبت، خیر اور بھلائی کے جذبوں میں بدل دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس سلسلے میں آپ نے عربوں کی معاشرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ہر وہ اقدام کیا جس سے آپ کو ذرا بھی اصلاح کی توقع ہوئی۔
آپ کی انھی کوششوں میں یہ تدبیر بھی شامل تھی کہ آپ مختلف قبائل میں نکاح کے ساتھ ان کے ساتھ رشتہ داری پیدا کرلیں۔ یہ تدبیر، دراصل، آپ نے عرب کی مخصوص معاشرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی۔ آپ جس ملک میں غلبۂ دین کی یہ جدوجہد کر رہے تھے، وہاں قبائلی طرز کی معاشرت اپنی خاص روایات کے ساتھ موجود تھی۔ ان روایات میں جہاں بہت کچھ غلط تھا، وہاں بعض ایسے پہلو بھی تھے جو اپنے اندر بہت خیر رکھتے تھے۔ انھی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ عرب رشتۂ مصاہرت کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کے ہاں دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے مابین قربت و محبت کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ داماد سے جنگ کرنا اور محاذ آرائی کرنا ان کے ہاں بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ان حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تدبیر ممکن تھی کہ آپ مختلف خاندانوں میں نکاح کرکے عداوتوں کو ختم کر دیں اور ان سے پختہ تعلقات قائم کرلیں۔ ظاہر ہے کہ اس غرض کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکاح کیے وہ محض سیاسی اور ملی مصالح کے تحت کیے تھے۔ ان سے نکاح کے عام مقاصد آپ کے پیش نظر ہی نہ تھے۔
آپ کی ازدواجی زندگی کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ سیاسی اور ملی مصالح کے پیش نظر آپ نے چار خواتین، حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن سے نکاح کیا۔ ان خواتین کے ساتھ آپ کے نکاح کرنے کی تفصیل اس طرح سے ہے:
ان میں سے پہلی خاتون حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ہیں، جو ۵ ہجری میں امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔ یہ قبیلہ بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی تھیں۔ اس قبیلے کا پیشہ راہ زنی تھا۔ انھوں نے وہ حق قبول کرنے سے انکار کر دیا جو خدا کا رسول لایا تھا۔ ۵ ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنو مصطلق کے لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ ان سے مقابلے کے لیے صحابہ کو لے کر نکلے۔ جنگ ہوئی، اللہ اور اس کا رسول غالب رہے۔ بنو مصطلق کی ایک کثیر تعداد گرفتار ہوئی۔ ان اسیران جنگ میں جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ جس صحابی کے حصے میں آئیں، ان سے انھوں نے مکاتبت کر لی، لیکن آزادی کے لیے جورقم چاہیے تھی، وہ نایاب تھی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس رقم کے لیے آپ کے در سخاوت پر دستک دی۔ میدان جنگ میں غالب رہنے والا میدان سخاوت میں غالب تر تھا۔ آپ نے نہ صرف زرمکاتبت ادا کر دیا بلکہ انھیں اپنی طرف سے پیغام نکاح بھی دیا۔ جو یریہ رضی اللہ عنہا نے اسے قبول کر لیا اور آزاد ہونے کے بعد آپ کی زوجیت میں آگئیں۔
پیغمبر کی نگاہ بہت دور رس ہوتی ہے۔ جویریہ حریم رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئیں۔ مسلمانوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے اور یہ کہا کہ یہ اب رسول اللہ کے سسرالی رشتہ دارہیں۔انھیں کوئی قیدی بنائے تو کیسے، یہ لوگ تو قابل احترام ہیں۔ اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ قبیلہ بنو مصطلق کے سبھی لوگ مسلمان ہو گئے۔ رسول اللہ کی تلوار نے جس سرکش مدمقابل کو مغلوب کر دیا تھا، آپ کے اخلاق نے اسے آپ کا ہم رکاب بنا دیا۔
۶ ہجری میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں۔ یہ رشتے میں آپ کے چچا کی پوتی تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ، تو اس وقت یہ بھی اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ ہجرت کر گئیں۔ وہاں ان کے شوہر نے عیسائیت اختیار کر لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ میں پڑی ہوئی اس بے سہارا خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حبشہ کے حکمران نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام حبیبہ سے کر دیا۔ ان کا والد ابو سفیان ایک عرصے سے مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنی زوجیت میں لے آئے تو عرب معاشرے کی اس اخلاقی خوبی نے اپنا کام دکھایا اور ابو سفیان کی دشمنی کا زور ٹوٹ گیا۔ اب وہ اپنے داماد کے مقابل میں آنے سے گریز کرنے لگا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مسلمانوں کا یہ سب سے بڑا مدمقابل حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ جہاں دلیل اور استدلال کارگر نہیں ہوا، وہاں نبی کی وہ سیاسی تدبیر جو ا س نے اخلاقی برتری کے ساتھ اختیار کی ، کامیاب رہی۔
۷ ہجری میں حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔
مسلمانوں کے ساتھ کفار کی جتنی جنگیں بھی ہوئیں، ان سب میں یہود، خفیہ یا علانیہ شامل ہوتے رہے۔ حالانکہ قرآن مجید کے مطابق یہود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پہچانتے تھے جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ مگر کدورت اور حسد جب حد سے گزر جاتے ہیں تو پھر استدلال بے کار ہو جاتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷ ہجری میں ، یہود کی شرارتوں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے خیبر کا رخ کیا۔ خدا کا رسول ، جس کے لیے غلبہ مقدر تھا، اس نے خیبر فتح کر لیا۔ یہودی مغلوب ہو گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ تلوار جسم کو مغلوب کرتی ہے، دل کو نہیں۔
حضرت صفیہ خیبر کے اسیران جنگ میں شامل تھیں اور یہود کے ایک بڑے سردار کی بیٹی تھیں۔ جب قیدی تقسیم کیے گئے، تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ آپ نے اس بات کو خلاف احسان و مروت سمجھا کہ سردار کی بیٹی کو لونڈی بنا کر رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے انھیں آزاد کر دیا اور ان کی مرضی سے ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔ آپ چاہتے تو انھیں زندگی بھر لونڈی کی حیثیت سے رکھ سکتے تھے، لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں کیا، بلکہ انھیں نہایت عزت کا مقام دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آ گئیں ، تو اس کے بعد یہود، مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا وہ خاتون ہیں، جنھوں نے اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا۔ ان کی پہلی شادی حویطب بن عبدالعزیٰ سے ہوئی تھی۔انھوں نے انھیں طلاق دے دی۔ پھر ان کی شادی ابورہم بن عبدالعزی سے ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں۔ ان کی ایک بہن ام الفضل لبابۃ الکبریٰ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت میمونہ اپنی بہن ام الفضل کے پاس آ گئیں اور اپنے آیندہ نکاح کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اختیار دے دیا کہ جہاں مناسب سمجھیں، ان کا نکاح کر دیں۔ ۷ ہجری میں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے، تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی زوجیت میں قبول کر لیا۔
اس نکاح میں فریضۂ رسالت کے حوالے سے کیا حکمت مضمر تھی؟ اسے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ۷ ہجری کے اس دور کو ذہن میں لایا جائے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کی پیش کش کو قبول فرمایا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب قریش مکہ کا زور اصلاً ٹوٹ چکا تھا، لوگوں کے اسلام لانے میں اب ایک ہی رکاوٹ باقی رہ گئی تھی اور یہ رکاوٹ وہ بدگمانیاں تھیں جو قریش کے سرداروں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بارے میں ایک عرصے سے لوگوں میں پھیلا رکھی تھیں۔ اب یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور میل جول کا کچھ بھی موقع مل گیا تو ان کی وہ بدگمانیاں ختم ہو جائیں گی۔ قریش ہر اعتبار سے اس بات کے خواہاں تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کے مابین کوئی ربط و ضبط پیدا نہ ہو۔ انھوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط میں خاص طور پر یہ لکھوایا تھا کہ مکہ کا کوئی رہنے والا اگر بھاگ کر مدینہ چلا گیا تو مسلمان اسے لازماً واپس کر دیں گے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال یہ چاہتے تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں میں ربط و ضبط کی صورت پیدا ہو۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے خاندان والے مکہ کے با اثر لوگوں میں سے تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپ کے بھانجے تھے۔ اہل نجد کا سردار زیاد بن مالک الہلالی آپ کا بہنوئی تھا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ ازواج مطہرات میں داخل ہوئیں، تو کچھ ہی عرصہ بعد خالد بن ولید بھی اسلام لے آئے اور اہل نجد جنھوں نے ایک زمانے میں اتنا سنگین جرم کیا تھا کہ ستر مسلمان مبلغین کو اپنے علاقے میں دعوت دین کے لیے بلا کر دھوکے سے قتل کر دیا تھا، ان کے لیے اب اپنی دشمنی اور مخالفت پر قائم رہنا مشکل ہو گیا۔ وہ اب رسول اللہ کے قرابت دار تھے۔ پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ انھوں نے اپنی وفاداریاں اسلام اور اہل اسلام کے لیے خاص کر دیں۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آنے والی آخری خاتون تھیں۔

مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیت

پروفیسر میاں انعام الرحمن

مسلم تاریخ کے بیشتر ادوار میں مسلم تہذیب، اسلامی شناخت سے بہرہ مند رہی ہے اور اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ہمیشہ قرآن اور سنت رہے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ( قرآن و سنت) اگرچہ مسلم تہذیب میں موجود ہیں، لیکن ان کی اہمیت کافی حد تک دھندلا سی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب میں جب قرآن ا ور سنت کی اہمیت، عملی طور پر پہلے جیسی نہیں رہی تو پھر وہ کون سے عناصر ترکیبی ہیں جن پر مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے؟ دوسرے لفظوں میں وہ کون سے عناصر ہیں جنھوں نے قرآن ا ور سنت کی اہمیت کم کر کے ان کی جگہ لے لی ہے؟ یہاں منطقی طور پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ درج ذیل سطور میں انہی دو سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے، گزارش یہ ہے کہ مسلم تہذیب، تاریخ کے کسی بھی دور میں غیر متغیر نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت اگر قرآن ا ور سنت کے ساتھ منسلک رہی ہے تو قرآن و سنت بہت واضح طور پر ’’زمانی و مکانی عُرف کے اثبات‘‘ کی طرف توجہ مبذول کراتے رہے ہیں اور زمانی و مکانی عرف کا یہی اثبات، مسلم تہذیب کے داخل کو ثقافتی اعتبار سے متغیر اور تنوع آشنا کرتا رہا ہے۔ 

قرآن اور سنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے تعلق کی نوعیت 

مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت سے منسوب جعلی ٹھپوں کو کھرچنے سے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آخر مسلم تہذیب میں قرآن اور سنت کی اہمیت دھندلا کیوں گئی ہے؟ اس سوال کا جواب ان عناصر ترکیبی کو بے نقاب کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہو گا جو عملی طور پر اسلامی شناخت کی مسند پر براجمان ہو چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم تہذیب میں قرآن اورسنت کی اہمیت کے دھندلانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کا قرآن اور سنت کے ساتھ کوئی تعلق موجود نہیں رہا، کیونکہ زوال پذیری کے باوجود امتِ مسلمہ میں یہ تعلق موجود اور قائم و دائم ہے۔ قرآن مجید پڑھا پڑھایا جاتاہے۔ لاکھوں کی تعداد میں حفاظ موجود ہیں اور سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اربوں کی تعداد میں قرآن مجید کے نسخے شائع ہوتے ہیں۔ اسی طرح سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی حساسیت پائی جاتی ہے۔ اس بظاہر خوش نما منظر کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس ’کیوں‘ کا جواب یہ ہے کہ قرآن اور سنت کے ساتھ محض ’’تعلق‘‘ کا موجود ہونا کافی نہیں ہے،بلکہ عملی اور نتائجی اعتبار سے اس تعلق کی ’’نوعیت‘‘ زیادہ اہم اور کلیدی ہو جاتی ہے کیونکہ قرآن او رسنت کبھی بھی خود (بنفسہٖ) کوئی تبدیلی یا انقلاب نہیں لا سکتے۔ یہ در حقیقت قرآن او رسنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے تعلق کی’ نوعیت‘ ہے جو تبدیلی کا باعث بنتی ہے یا انقلاب برپا کرتی ہے اور مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کرتی ہے ۔ اس لیے قرآن اور سنت کو ماننے والے اگر کسی دور میں زوال کا شکار ہو جائیں تو لا محالہ قرآن اور سنت کے ساتھ ان کے’ ’تعلق کی نوعیت‘‘ کو جانچا جانا چاہیے۔ قرآن اور سنت کو اپنی (نام نہاد فکری و عملی) زندگی میں اساس تسلیم کرنے والی امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے، لہٰذا اس کے زوال کا کھوج لگانے کے لیے قرآن او رسنت کے ساتھ اس کے’’ تعلق کی نوعیت‘ ‘ کا سراغ لگانا انتہائی ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ 
اگر ہم قرآن اور سنت کے ساتھ مسلم تہذیب کے موجودہ تعلق کی نوعیت کو گہری نظر سے دیکھیں تو یہ لاتعلقی سے عبارت نظر آتی ہے۔ جی ہاں ! لاتعلقی پر مبنی تعلق، یہی اس وقت قرآن او رسنت کے ساتھ تعلق کی نوعیت ہے۔یہ لا تعلقی اس طبقے میں سب سے زیادہ ہے جو خود کو دینِ اسلام کا ’’واحد نمائندہ‘‘ سمجھنے پر مصر ہے اور اسلامی نظام واسلامی انقلاب کے نعرے لگانا جس کا اوڑھنا بچھونا بن چکا ہے۔ اس طبقے کے ہاں رائج تعلیمی و تربیتی نظام، اس کے کارکنوں اور راہنماؤں کی نفسیات کچھ اس طرح تشکیل کرتا ہے کہ ان کے لیے فہمِ قرآن ایک ایسا خواب بن کر رہ جاتا ہے جس کی تعبیر کم از کم اس دنیا میں ممکن نہیں ہوتی۔ اول تو قرآن مجید اس خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھایاہی نہیں جاتا جس طرح فقہ کے اسباق کچے اذہان میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر قرآن مجید کی تدریس کی نوبت آ ہی جاتی ہے تو فقہ کی ’’روشنی‘‘ میں قرآن سے فیض اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سارا عمل انتہائی عجیب و غریب ہے اورلازمی طور پر قابلِ گرفت ہے۔
اپنی بات کی وضاحت ہم ایک مثال سے کریں گے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے اکثر ممالک میں پارلیمانی نظام نافذ ہے۔ اس نظام کی روح کے مطابق پارلیمنٹ اعلیٰ ترین ادارہ قرار پاتی ہے جس کے سامنے انتظامیہ(کابینہ) جواب دہ ہوتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے استحکام کی وجہ سے انتظامیہ (کابینہ) مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی کیونکہ کابینہ (انتظامیہ) اس سیاسی جماعت کی بنتی ہے جس کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہو اور کابینہ کے ممبران لا محالہ اپنی سیاسی جماعت کے بااثر افراد ہوتے ہیں، اس لیے وہی پارلیمنٹ کو بھی کنٹر ول کرتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ نظری طور پر پارلیمنٹ کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن عملاً کابینہ کے پاس ہی انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات آ جاتے ہیں۔ اسے اصطلاحاً کابینہ کی آمریت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی کہ مخلوق ( کابینہ )، خالق ( پارلیمنٹ ) کو کنٹرول کر لیتی ہے(خیال رہے کہ کابینہ ، پارلیمنٹ کے ممبران میں سے بنتی ہے) بلکہ اگر وزیرِ اعظم اپنی سیاسی جماعت کا بھی قائد ہو اور اسے جماعت پر پورا کنٹر ول حاصل ہو تو پھر فردِ واحد کی حکومت قائم ہو جاتی ہے اور پھر parliamentary کے بجائے prime ministerial نظام قائم ہو جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار کی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ مختصر یہ کہ مرورِ زمانہ سے، حالات کے دھارے میں بہہ کر ایک ایسا نظام جو پارلیمنٹ کی بالادستی سے شروع ہوتا ہے، فردِ واحد کی حاکمیت پر منتج ہوجاتا ہے، لیکن اگر باریک بین سیاسی پنڈت اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں تو نہ صرف پارلیمنٹ کی بالادستی کا’’ تصور‘‘ قائم رہتا ہے بلکہ اس کی عملاً صورت پذیری کے لیے بھی، مرورِ زمانہ سے تشکیل پانے والے بے قابو مظاہر کو حد کے اندر لایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے برطانیہ میں یہ بحث موجود ہے کہ prime ministerial نظام کو parliamentary نظام میں ڈھالنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہییں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسلم تہذیب میں فقہ کی روایت، کابینہ کے کردار سے مشابہ ہے جو اصلاً مخلوق ہے لیکن اب خالق کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ قرآن او رسنت ماخذ ہیں اور فقہ ان سے ماخوذ ہے ۔ اگر ماخوذ، اپنے ماخذ کو کنٹرول کرنا شروع کر دے تو کیا یہ عجیب معاملہ نہیں اور قابلِ گرفت نہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ اب مسلم تہذیب میں قرآن او رسنت کا مطالعہ فقہ کی روشنی میں کیا جاتاہے؟ اگر نظری طور پرقرآن او رسنت کو اساس مانا بھی جاتا ہے تو کیا یہ جھوٹ ہے کہ عملی اعتبار سے فقہ کو ہی اساس تسلیم کر لیا گیا ہے؟ اسی لیے مسلم تہذیب کے خاص طور پر قدامت پسند حلقے قرآن اور سنت کا مطالعہ ایک خاص فقہی زاویے سے کرتے ہیں، یعنی پہلے ایک خاص فقہی ذہن بنا کر اس کے بعد قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ 
بحث کے اس مقام پر یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن او رسنت کے ساتھ ہمارے تعلق کی ایسی نوعیت کیونکر ہے؟ اور ہمارے نام نہاد دینی راہنما، تعلق کی ایسی نوعیت پر تنقید کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ دوسرے سوال کا بہت آسان اور سیدھا جواب یہ ہے کہ نام نہاد دینی راہنماؤں کے نزدیک، تعلق کی ایسی نوعیت ہی درست اور صحیح ہے، یعنی ان کے نزدیک فقہ کی ’’روشنی‘‘ میں ہی قرآن او رسنت سے استفادہ کیا جانادینی منشا کے عین مطابق ہے۔ نام نہاد دینی راہنماؤں کے ایسے موقف سے، پہلے سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ قرآن او رسنت کے ساتھ ہمارے تعلق کی ایسی نوعیت آخر کیونکر ہے؟ ہماری رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلم تہذیب میں فکری سطح پر، اسلامی شریعت کے مآخذ کے طور پر قرآن ا ور سنت کے ساتھ قیاس، اجماع اور اجتہاد وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے حالانکہ غور کیا جائے تو ماخذ دو ہی بنتے ہیں جو ’’ بنیادی مواد‘‘ فراہم کرتے ہیں، یعنی قرآن ا ور سنت۔ جہاں تک اجماع، قیاس اور اجتہاد وغیرہ کا تعلق ہے، یہ اپنی نوعیت میں، قرآن اور سنت کے فراہم کردہ مواد کی تعبیر و تشریح اور اس سے اخذ واستنباط تک محدود ہیں ، یعنی یہ حقیقت میں مختلف ’’طریقے ‘‘ہیں جنھیں ضرورتاً اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ ان طریقوں کے علاوہ مزید نئے طریقوں کے ذریعے سے بھی قرآن او رسنت سے اخذ واستنباط اور تعبیر و تشریح وغیرہ ممکن ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نئے طریقوں کی دریافت تو درکنار، موجودہ مسلم تہذیب صدیوں پہلے کی گئی تعبیر و تشریح اور استنباط پر اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگا کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے، اس لیے قرآن اور سنت کے ساتھ اس تہذیب کے تعلق کی نوعیت،کم از کم عملی پہلو سے لاتعلقی پر استوار ہو چکی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے ذریعے سے جو نتائج اس تہذیب نے صدیوں پہلے حاصل کیے تھے، انہی نتائج کو حتمی اور نا قابلِ تغیر قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ زیادہ سے زیادہ ان ذرائع یعنی قیاس ا ور اجتہاد کو اصولی طریقے قرار دے کر مستقل اہمیت دی جا سکتی ہے۔ 

انسانی فہم کی محدودیت اور قرآن و سنت کی آفاقیت 

اہم بات یہ ہے کہ اصولی طریقوں کی تشکیل اور ان طریقوں کا اطلاق چاہے فرد کرے یا کوئی ادارہ، فہمِ انسانی پر موقوف ہے، اس لیے فہمِ انسانی کے اضافی ہونے کے ناطے، ان اصولوں اور ان کے اطلاقی نتائج کو حتمی تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فہمِ انسانی کیونکر اضافی ہے اور کیسے تشکیل پاتا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ فہمِ انسانی کی تشکیلی ساخت، اس کے اضافی ہونے پر دال ہے۔ کسی بھی انسان کا فہم اپنے زمانے، علاقے، سماج، ثقافت و دیگر عوامل سے گہرا اثر لیتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ فہمِ انسانی کی تشکیلی ساخت میں ان عناصر کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ چونکہ یہ تمام عناصر خود اضافی ہیں، اس لیے یہ کسی غیر اضافی چیز (حتمی فہم) کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ دو مختلف زمانوں، علاقوں، معاشروں، ثقافتوں وغیرہ کے افراد کا فہم تو ایک دوسرے کی نسبت سے اضافی ہوتا ہی ہے، ایک فرد کا فہم بھی بنفسہٖ اضافی ہوتا ہے۔ذرا غور کرکے بتائیے کہ دنیامیں وہ کون سا نابغہ (genius) ہے جس کا فہم تمام عمر ایک ہی سطح پر رکا رہا ہو؟ اس سلسلے میں ایک مثال کی دریافت بھی ناممکن ہو گی۔ ( خیال رہے، روبوٹ اور روبوٹ نما انسان اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیاس اور اجتہاد وغیرہ کے ذریعے سے اخذ واستنباط اور تعبیر و تشریح کرنے والے افراد اور ’نابغے‘، انسان نہیں تھے؟ کیا ان کا فہم (اور فکری ارتقا) ان کی اپنی زندگی میں ایک سطح پر رکا رہا؟ کیا ان کا فہم کسی دوسرے زمانے، علاقے، سماج اور ثقافت کی نسبت سے اضافی نہیں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد کو نابغہ روزگار تسلیم کرکے بھی، ان کے تشکیل کردہ اصول اور ان اصولوں سے حاصل کردہ اطلاقی نتائج کو، جو ان کے فہم پر موقوف ہیں، کسی طرح حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کیا کوئی ایسا ’’ انسان ‘‘ ہو سکتا ہے جو خالصتاً معروضی انداز میں قرآن و سنت کے فہم پر قادر ہو؟ ہماری رائے میں کوئی ’’انسان‘‘ اپنے مطالعے، مشاہدے، تجربے اور زمانے کے اثرات کے تحت ہی قرآن و سنت کا فہم حاصل کرتا ہے اور اس کا فہم لازماً ارتقائی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ فہم کی تشکیل میں ارتقا کے در آنے سے فہم کی اضافیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے فہم میں ( انسانی فہم کے اضافی ہونے کے ناطے) موضوعیت لازماً در آتی ہے۔ یہ موضوعیت قرآن و سنت کے متن اور دائمی منشا کو خلط ملط کر دیتی ہے، اس لیے یہ بنیادی ضرورت جنم لیتی ہے کہ فہمِ قرآن و سنت ( جو اصل متن اور دائمی منشا کا خلط شدہ روپ ہے) کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت سے براہ راست اور زندہ تعلق مستقل بنیادوں پر قائم رکھا جائے تاکہ حکمت کے ان بہتے دریاؤں سے مسلسل اور زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کیا جاسکے۔ اگر قرآن و سنت سے براہ راست تعلق کو تج دے کر ان کے متن اور دائمی منشا کے خلط شدہ روپ کو ہی ’’اساس‘‘ سمجھ لیا جائے(یعنی فہمِ انسانی کی محدودیت کا انکار کر دیا جائے) تو بات بہت بگڑ جاتی ہے، کیونکہ قرآن و سنت کی خلط شدہ صورت کسی مخصوص صورتِ حال کے چیلنج کا جواب ضرور ہو تی ہے، لیکن قرآن و سنت کے مانند آفاقی ہرگز نہیں ہوتی ۔ 
مثال کے طور پر اس جملے کو لیجیے کہ ’’موجود کتب میں قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری کا مقام ہے‘‘ ۔ کہنے کو یہ محض ایک فقرہ ہے، لیکن یہی ایک فقرہ ہمارے ذہنی جمود اور فکری زوال کی غمازی کر رہا ہے۔ یہ فقرہ کسی فرد یا افراد کے فہم کا نتیجہ تھا اور نجانے کس صورتِ حال کا جواب تھا اور کس سیاق میں کہا گیا تھا، لیکن اسے مخصوص صورتِ حال و سیاق سے اٹھا کر( فہم کی محدودیت کے باوجود) مطلق صورت میں اپنا لیا گیا جس کے نتیجے میں مسلم تہذیب کے مشاہیر کی نظر، نفسِ حدیث کے بجائے صحیح بخاری میں الجھ کر رہ گئی اور تحقیق و تنقید کے دروازے بند ہو گئے۔ یہ بہت بڑی فروگزاشت ہے کہ نفسِ حدیث کے بجائے حدیث کے کسی مجموعے کو حجت قرار دیا جائے، چاہے وہ مجموعہ صحیح بخاری ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح اللہ رب العزت کی ذات کا مثل کوئی نہیں، ہو الاول ہولآخر، اسی طرح اس کا کلام بھی بے مثل ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے بعد کسی بھی کتاب کو ایسا مقام دیا جانا، قرآن مجید کی بے مثل حیثیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ وحی متلو اور وحی غیر متلو کی بحث کے تناظر میں، اگرچہ نفسِ حدیث میں کلامِ الہٰی کی سی صفت ضرور پیدا ہو جاتی ہے، لیکن یہ صفت حدیث کے کسی بھی’’مجموعے‘‘ کو بے مثل قرار دینے کی راہ ہرگز ہموار نہیں کرتی۔ ہماری رائے میں داخلی اعتبار سے حدیث کے مجموعوں کی تشکیل و ترتیب ایک مسلسل عمل کی صورت میں جاری رہنی چاہیے تاکہ نفسِ حدیث کی حجیت برقرار رہ سکے، جبکہ خارجی اعتبار سے ان مجموعوں کی تشکیل و ترتیب، صورتِ حال کے چیلنج کا جواب ہونی چاہیے۔ چونکہ صورتِ حال یکساں نہیں رہتی، اس لیے نفسِ حدیث کے مقام کے اثبات کے ساتھ ان مجموعوں کی تشکیل و ترتیب بدلتی رہنی چاہیے ۔ 

قرآ ن و سنت کے ساتھ زندہ تعلق کے بنیادی تقاضے 

مذکورہ نکات سے یہ بات کسی قدر واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کرنے کے لیے قرآن و سنت کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کے ساتھ موجودہ لاتعلقی کو ایک زندہ تعلق میں کیسے اور کیونکر بدلا جا سکتا ہے؟ ہماری رائے میں زندہ تعلق قائم کرنے کے لیے دو بنیادی تقاضے ہیں جنہیں پوراکیے بغیر زندہ تعلق کے قیام کی خواہش ایک خواب رہے گی۔ ان میں سے پہلا تقاضا منفی ہے اور دوسرا مثبت۔ پہلا منفی تقاضا یہ ہے کہ مسلم تہذیب سے منسوب اسلامی شناخت کے جعلی ٹھپوں کو کھرچ کھرچ کر الگ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ان جعلی ٹھپوں کو کھرچنے سے پہلے ان کی شناخت اور ان کا تعین انتہائی ضروری ہے۔ یہ جعلی ٹھپے اپنے ظواہر میں دو ہیں، لیکن حقیقت میں ایک ہیں ۔ ان کی ظاہری صورت میں ایک تو وہ مقامی روایات و رواجات ہیں جن پر عملی طور پر اسلامیت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے اور دوسرا وہ قدیم فقہی ذخیرہ ہے جو موجودہ مسلم تہذیب کی غالب اکثریت کے لیے ذ ہنی و فکری لحاظ سے سرمایہ حیات بن چکا ہے۔ اپنے ظواہر میں یہ دو مختلف مظاہر ہیں، لیکن یہ حقیقت میں ایک اس طرح سے ہیں کہ چونکہ قدیم فقہی ذخیرہ موجودہ صورتِ حال کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اس لیے یہ ذہنی و فکری سطح پر تو موجود ہے لیکن زندگی کے معاصر تقاضوں کی تکمیل کے لیے، عملی سطح پرایسی مقامی روایات و رواجات پر اسلامیت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے جن کا قرآن و سنت کی منشا سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ا ن مقامی روایات کی تشکیل میں سامراجی ادوار ، تاریخ کے جبر، سماجی ناہمواریوں اور مقامی آبادیوں کی بے وقعتی کا انتہائی کلیدی کردار ہے۔ یہ روایات عملی طور پر مسلم تہذیب میں رچ بس چکی ہیں اور صحیح اسلامی شناخت کا خلا انتہائی غلط انداز میں پُر کرکے، اسلام اور مسلم تہذیب دونوں کے لیے بہت بڑے بحران کا باعث بن رہی ہیں۔ مثال کے طور پر برِ صغیر اور مشرقِ وسطیٰ کے ثقافتی تناظر میں کی گئی اسلام کاری کو لیجیے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کاری پس منظر میں چلی گئی ہے اوروہ مخصوص تناظر ( اسلام کاری کی تجدید نہ ہونے اور سامراجی ادوار کی چیرہ دستیوں کے باعث) پورے منظر پر چھا گیا ہے۔ اس منافقانہ صورتِ حال نے موجودہ مسلم تہذیب کو اضطراب سے دوچار کیا ہے، کیونکہ یہ تہذیب ذہنی و فکری لحاظ سے قدیم فقہی ذخیرے سے وابستہ ہے لیکن عملی و نتائجی اعتبار سے مقامی روایات و رواجات کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سارے عمل کو ’’ اسلامی شناخت ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ اس سارے عمل میں قرآن و سنت کا براہ راست عمل دخل اور اثرو نفوذ کہیں بھی نظر نہیں آتا ۔ 
قرآن و سنت کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے کے منفی تقاضے سے عہدہ برآ ہونے کے بعد اس کے دوسرے یعنی مثبت تقاضے کو پورا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ دوسرا تقاضا کیا ہے؟ یہ دوسرا تقاضا زمانی و مکانی عرف کا اثبات ہے جس کی طرف ہم نے اس مضمون کی ابتدائی سطروں میں اشارہ کیا تھا۔ زمانی و مکانی عرف کیا ہے؟ یہ اپنی حقیقت میں ’’صورتِ حال‘‘ ہے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صورتِ حال کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر تو درکنار، موجودہ مسلم تہذیب، نفسِ صورتِ حال کے فہم سے یکسر عاری ہے۔ اس لیے اس کا قرآن و سنت کے ساتھ تعلق ، لاتعلقی پر استوار ہو چکا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ قرآن حکیم کے حروف اور الفاظ ( الہٰی کلام ہونے کے باوجود) سماج کو سدھار نہیں سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حروف و الفاظ میں بنفسہٖ ایسی خاصیت نہیں رکھی گئی کہ وہ خود کار انداز میں انسانوں پر اثر انداز ہو سکیں ۔ انسانوں پر ان کی اثراندازی انسانوں کے اس فہم پر موقوف ہے جو صورتِ حال کے تناظر میں کیا گیا ہو۔ یعنی قرآنی حروف و الفاظ کی ، صورتِ حال کے ساتھ تعلق داری (relationship)، ان کو مجرد و مجہول حالت سے نکال کر موثر اور فعال صورت میں لے آتی ہے، جسے زندہ تعلق کا نام دیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صورتِ حال کے ساتھ قرآن و سنت کی ایسی تعلق داری کیسے اور کیونکر ممکن ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ صورتِ حال کا فہم و ادراک ایسی تعلق داری کو ممکن بناتا ہے۔ ائمہ اربعہ کا یہی کارنامہ ہے کہ انہوں نے صورتِ حال کا فہم حاصل کر کے، قرآن و سنت کا اپنے سماج کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر دیا۔ اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کی عظمت ان کے اس فہم میں پوشیدہ نہیں ہے جس کا اظہار ان کے اصولوں اور ان اصولوں کے اطلاقی نتائج میں نظر آتا ہے، بلکہ حقیقت میں ان کا’’ عمل ‘‘ ان کی اصل عظمت کا آئینہ دار ہے کہ انھوں نے صورتِ حال سے چشم پوشی اختیار نہیں کی اور ثمر آور نتائج حاصل کر کے اپنے وقت کی مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند کر دیا۔ شریعت کی ابدیت اور آفاقیت خارج از بحث ہے، لیکن اگر تعبیر وتشریح کے فقہی دائرے میں ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کے فہمِ اسلام کو عین اسلام قرار دینے پر بے جا اصرار کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا اپنے زمانے اور ماحول کے اثرات سے آزاد اور بلند تھے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ لوگ اپنے عہد کی ثقافت اور معاشرتی اقدار سے نا بلد تھے یعنی معاشرے سے کٹے ہوئے مجردِ محض تھے۔ اگر بات کچھ ایسی ہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے افراد جو خود معاشرے سے الگ تھلگ رہتے ہوں، معاشرتی سدھار کی خاطر معاشرتی تقاضوں (صورتِ حال) کو کیونکر مدِ نظر رکھ سکتے ہیں؟ کیا ان کا فہم اور تفقہ صرف اور صرف لفظی، ذہنی اور کتابی دنیا کے لیے نہیں ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہا کی بابت ایسی رائے رکھنا بہتانِ عظیم ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی تارک الدنیا نہیں تھا۔ وہ سب معاشرے میں رہتے تھے اور معاشرے پر نظررکھے ہوئے تھے۔ آج کی مسلم تہذیب کو بھی ان کے ’’فہم‘‘ کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ان کے ’’عمل‘‘ کی پیروی کرنی چاہیے۔ 
المیہ یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجودہ مسلم تہذیب، صورتِ حال سے کٹی ہوئی ہے، اس لیے اس کا فہم اور تفقہ صرف اور صرف لفظی، ذہنی اور کتابی ہے۔ یہ ان معنوں میں لفظی، ذہنی اور کتابی ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے ادراک کے بجائے ماضی کی صورتِ حال اور اس صورتِ حال سے جنم لینے والے فہم سے خود کو وابستہ کیے ہوئے ہے۔ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ خود قرآن، الہامی کلام ہونے کے باوجود انسانوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا جب تک اسے ( معاصر ) صورتِ حال سے جوڑا نہ جائے۔ پھر اگر اسلامی شناخت کا معیار قرآن کے بجائے اس کے صورتِ حال سے کٹے ہوئے فہم کو قرار دیا جائے تو اس سے جنم لینے والی خرابیوں اور نتائج کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

حافظ محمد زبیر

جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ میں پیش کردہ مختلف اصولی تصورات، مثلاً ’تصور کتاب‘،’تصور سنت‘ اور ’تصور فطرت‘ کا علمی وتنقیدی جائز ہ ہم اپنے سابقہ مضامین میں تفصیلاً لے چکے ہیں۔ اسی ضمن میں ہم ان کے’ تصور قرآن ‘کی کجی کو بھی واضح کرنا چاہیں گے۔ اس عنوان کے تحت ایک ایک کر کے درج ذیل ابحاث پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا علمی جائزہ لینا ہمارے پیش نظرہے :
۱) قراآت متواترہ کی حیثیت
۲) کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے ؟
۳) نظم قرآن کا تصور
۴) تفسیر قرآن میں اسرائیلیات کا مقام
۵) سبع مثانی کا مفہوم ومصداق
۶) زبان کی ابانت 
۷) عربی معلی 
اس مضمون میں ہم قراء ات متواترہ کے بارے میں اہل سنت اور غامدی صاحب کے مؤقف کا ایک علمی ‘ تحقیقی اور تقابلی جائزہ پیش کریں گے۔

قراء ات متواترہ اور اہل سنت کا موقف

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور شریعت اسلامیہ میں اصل الأصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ اسلامی کے ہر دورمیں فقہا و علما نے استنباط احکام کے لیے اسے اپنا مرجع و مصدر بنایا۔ اس کی بہت سی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سے زائد قراء ات کے ساتھ نازل ہوا اور پھر انھی قراء ات کے ساتھ امت میں نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ان میں سے بعض قراء ات ایسی ہیں جو آج بھی بعض ممالک اسلامیہ میں عوام الناس کی سطح پر رائج ہیں، مثلاً روایت حفص ‘روایت قالو ن‘ روایت ورش اور روایت دوری،جبکہ بعض قراء ات ایسی ہیں جو امت کے خواص میں نقل در نقل چلی آرہی ہیں اور امت کے فقہا‘ علما‘ مفسرین ‘ محدثین‘ مجتہدین اور قرا کا ان قراء ات کے قرآن ہونے پر اتفاق ہے۔
علماے امت نے قراء ات کی دو قسمیں بیان کی ہیں :
۱۔قراء ات متواترہ: یہ وہ قراء ات ہیں جن میں درج ذیل تین شرائط پائی جائیں :
الف ) جو آپ ؐ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو اور أئمہ قراء کے ہاں مشہور ہو۔
ب) جو مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط کے مطابق ہو۔
ج) جولغات عرب میں سے کسی لغت کے مطابق ہو۔
۲۔ قراء ات شاذہ : اگر کسی قراء ت میں ان تین شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو اسے قراء ت شاذہ کہتے ہیں ۔
قرآن سے احکام مستنبط کرتے ہوئے قرآن کی قراء ات متواترہ کو دلیل بنانے پر مذاہب اربعہ کے جمیع فقہا کا اتفاق ہے، لیکن قراء ات شاذۃ کے بارے میں اختلاف ہے۔ احناف اور حنابلہ کا مؤقف یہ ہے کہ قراء ات شاذۃ کی اگر سند صحیح ہو تو وہ بطور حدیث حجت ہیں‘ جبکہ مالکیہ اور شوافع کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قراء ات شاذہ حدیث کی حیثیت سے بھی حجت نہیں ہیں ۔

غامدی صاحب کا نقطہ نظر

غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں قراء ات متواترہ پر مختلف اعتراضات وارد کرتے ہوئے ان کا انکار کیا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کی متواتر قراء ات فتنہ عجم سے متعلق ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے جسے وہ ’قرأت عامہ‘ کہتے ہیں۔یہ وہ قراء ت ہے جو مشرق کے اکثرو بیشتر ممالک میں’روایت حفص‘کے نام سے رائج ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قرأت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔اس کے علاوہ اس کی جو قرأتیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیںیا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں ‘ وہ سب اس فتنہ عجم کے باقیات ہیں جس کے اثرات سے ہمارے علوم کا کوئی شعبہ ‘افسوس ہے کہ محفوظ نہیں رہ سکا‘‘۔(میزان:ص۳۲)
غامدی صاحب مراکش ‘ تیونس ‘ لیبیا ‘ سوڈان ‘ یمن ‘ موریطانیہ ‘ الجزائر ‘ صومالیہ اور افریقہ کے اکثر و بیشر ممالک میں رائج قراء ات کو قرآن نہیں مانتے۔ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’قرآن وہی ہے جو مصحف میں ثبت ہے اور جسے مغرب کے چند علاقوں کو چھوڑ کر پوری دنیا میں امت مسلمہ کی عظیم اکثریت اس وقت تلاوت کر رہی ہے۔ یہ تلاوت جس قرأت کے مطابق کی جاتی ہے ‘اس کے سوا کوئی دوسری قرأت نہ قرآن ہے اور نہ اسے قرآن کی حیثیت سے پیش کیا جا سکتا ہے‘‘۔(میزان‘ ص۲۵، ۲۶)
غامدی صاحب نے قراء ات متواترہ کے بارے میں صحاح ستہ میں موجود ’’سبعۃ أحرف‘‘ کی متواتر روایات کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ہشام بن حکیمؓ اور حضرت عمرؓ کی روایت پر اعتراضات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اول یہ کہ یہ روایت اگرچہ حدیث کی امہات کتب میں بیان ہوئی ہے ‘لیکن اس کا مفہوم ایک ایسا معما ہے جسے کوئی شخص اس امت کی پوری تاریخ میں کبھی حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔امام سیوطی نے اس کی تعیین میں چالیس کے قریب اقوال اپنی کتاب ’’الاتقان ‘‘ میں نقل کیے ہیں ‘پھر ان میں سے ہر ایک کی کمزوری کا احساس کر کے مؤطا کی شرح ’’تنویر الحوالک‘‘میں بالآخر یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اسے من جملہ متشابہات ماننا چاہیے جن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا... یہی معاملہ ان روایتوں کا بھی ہے جو سیدنا صدیق اور ان کے بعد سیدنا عثمان کے دور میں قرآن کی جمع و تدوین سے متعلق حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔قرآن ‘جیسا کہ اس بحث کی ابتدا میں بیان ہوا‘ اس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ وہ براہ راست اللہ کی ہدایت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں مرتب ہوا‘ لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔‘‘ (میزان‘ ص۳۰، ۳۱)
ذیل میں ہم غامدی صاحب کے ان اعتراضات اور ان کے جوابات کا علی الترتیب ذکر کریں گے :
۱) غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق پورا فرما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں ص ۲۵ سے لے کر ۳۳ تک ’’قرأت کے اختلاف‘‘ کے عنوان سے قراء ات متواترہ پر بحث کی ہے اور ’’قرأت‘‘ کا لفظ اپنی اس بحث میں تقریباً ۳۴ دفعہ لے کر آئے ہیں اور ہر دفعہ انھوں نے اس لفظ کو ’قرأت‘ ہی لکھا ہے۔ گویا انہیںیہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لفظ ’قرأت‘ نہیں بلکہ ’قراء ت‘ہوتا ہے جس کی جمع ’قراء ات‘ہے۔
۲) غامدی صاحب تو حفاظت قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں۔وہ لکھتے ہیں :
’’لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قرأت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔اس کے علاوہ اس کی جو قرأتیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیںیا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں ‘وہ سب اس فتنہ عجم کے باقیات ہیں‘‘۔(میزان:ص۳۲)
گویا غامدی صاحب قرآن کو محفوظ نہیں سمجھتے ۔اگر قرآن مجید محفوظ ہے تو پھر یہ ’قراء ات‘امت میں بطور قرآن کیسے رائج و معروف ہو گئیں؟
  • امام المفسرین ابن جریر طبری ؒ سے کر علامہ آلوسیؒ تک ہر مفسر نے اپنی تفسیر میں ان قراء ات کا تذکرہ کیا ہے اور ان سے آیات قرآنیہ کی تفسیر و تأویل میں مدد لی ہے ۔
  • یہ قراء ات مشرق سے لے کر مغرب تک تقریباً تمام اسلامی ممالک کی عالمی شہر ت کی حامل جامعات مثلاً جامعہ ازہر‘جامعہ کویت اور مدینہ یونیورسٹی وغیرہ کے نصاب میں شامل ہیں۔
  • بریلوی ہوں یا اہل حدیث ‘دیوبندی ہوں یااہل تشیع‘ کم وبیش تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے مدارس میں یہ قراء ات سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی ہیں ۔
  • امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی تعداد غامدی صاحب کی ’قرأت عامہ‘کے مطابق قرآن نہیں پڑھتی ۔مثلاً لیبیا‘ تیونس اور الجزائر کے بعض علاقوں میں روایت ’قالون‘پڑھی جاتی ہے۔ سوڈان ‘صومالیہ اور یمن( حضر موت) کے علاقے میں روایت’دوری‘ میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ اسی طرح موریطانیہ ‘الجزائر کے اکثر وبیشتر علاقوں ‘مراکش اوربر اعظم افریقہ کے اکثر ممالک میں روایت’ورش‘ رائج ہے۔ ہمارا غامدی صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ
  • کیا ہمارے تمام مفسرین قرآن سے جاہل تھے ؟
  • کیا اللہ تعالی نے’ فتنہ عجم‘ کوامت مسلمہ میں اتنا عام کر دیا کہ کیا خواص اور کیا عوام ‘سب ہی اسے چودہ صدیوں سے قرآن سمجھ کر پڑھ رہے ہیں؟
  • کیا مذکورہ بالا تمام ممالک میں رہنے والے کروڑوں مسلمان اپنی نمازوں میں قرآن کی بجائے ’فتنہ عجم ‘ کی تلاوت کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ اکیلی روایت ’ورش‘ دنیا کے تقریباً چالیس ممالک میں رائج ہے۔
  • کیا غامدی صاحب مراکش‘لیبیا‘تیونس ‘الجزائر ‘موریطانیہ ‘سوڈان ‘صومالیہ ‘یمن ‘مغربی ممالک اور براعظم افریقہ کے کروڑوں مسلمانوں کو امت مسلمہ میں شامل نہیں سمجھتے؟
  • کیا عالم عرب و عجم کے تمام معروف قرا کی مختلف’ قراء ات‘ میں آڈیو اور ویڈیوکیسٹس ’مشرق‘ میں عام نہیں ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امت مسلمہ میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی روایت‘روایت حفص ہے لیکن امت کی ایک معتد بہ تعداد میں روایت قالون ‘ورش اور دوری بھی رائج ہے اور ان’ قراء ات‘ کا امت مسلمہ میں رائج ہونا ہی ان کے قرآن ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے‘ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (الحجر:۹)
’’بے شک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے تو ایک ایسی چیز جو قرآن نہیں ہے، وہ امت مسلمہ میں بطور قرآن کیسے رائج ہو سکتی ہے؟
غامدی صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جس طرح وہ صرف اسی قراء ت کے قائل ہیں جو مشرق کے عوام الناس میں رائج ہے اور مغرب میں پڑھی جانے والی قراء ات کے انکاری ہیں، اسی طرح مغرب میں بھی بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف اسی قراء ت کو حق سمجھتے ہیں جو ان کے علاقوں میں پڑھی جاتی ہے اور غامدی صاحب کی’قرأت عامہ‘ان کے نزدیک قرآن نہیں ہے‘ بلکہ وہ اپنے ہاں رائج قراء ت کو ہی ’قرأت عامہ ‘کہتے ہیں ۔ 
۳) غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے جو کہ مصاحف میں ثبت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’ہمارے مصاحف‘‘ سے غامدی صاحب کی کیا مراد ہے؟ ’المورد‘ کے تصدیق شدہ مصاحف یا امت مسلمہ کے مصاحف؟ اگر تو ان کی مراد ’المورد‘ کے مصاحف ہیں تو پھر بھی مانتے ہیں کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے ‘لیکن اگر ان کی مراد امت مسلمہ کے مصاحف ہیں تو وہ جس طرح روایت حفص میں ہمارے ممالک میں موجود ہیں، اسی طرح روایت قالون ‘روایت ورش ‘روایت دوری کے مطابق یہ مصاحف لاکھوں کی تعداد میں متعلقہ ممالک میں باقاعدہ ان ممالک کی حکومتوں کی زیر نگرانی ایسے ہی شائع کیے جاتے ہیں جیسے کہ غامدی صاحب کا ’قرأت عامہ ‘ کا مصحف ۔ اب تو’ مجمع الملک الفھد ‘ نے بھی لاکھوں کی تعداد میں روایت دوری ‘قالون اور ورش کے مطابق مصاحف کومتعلقہ ممالک کے مسلمانوں کے لیے شائع کیا ہے۔ مختلف قراء ات کے رسم الخط کے مطابق طبع شدہ یہ مصاحف ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ جو مصاحف امت مسلمہ میں رائج ہیں، وہ ایک سے زائدقراء ات پر مشتمل ہیں او ر غامدی صاحب کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ ہمارے مصاحف میں ایک ہی قرا ء ت ثبت ہے ۔
۴) قراء ات قرآنیہ کے نقل کرنے میں دس امام ایسے ہیں جنہیں بہت شہرت حاصل ہوئی اور مابعد کے زمانوں میں یہ قراء ات‘ انہی أئمہ کے ناموں سے معروف ہو گئیں۔ان أئمہ کے نام درج ذیل ہیں :امام نافعؒ (متوفی۱۶۹ھ)‘ امام ابن کثیر مکیؒ (متوفی۱۲۰ھ)‘ امام ابو عمرو بصری ؒ (متوفی۱۵۴ھ)‘ امام ابن عامر شامیؒ (متوفی۱۱۸ھ)‘ امام عاصمؒ (متوفی ۱۲۷ھ)‘امام حمزہ ؒ (متوفی۱۸۸ھ)‘امام کسائیؒ (متوفی۱۸۹ھ)‘امام ابو جعفرؒ (متوفی ۱۳۰ھ)‘ امام یعقوبؒ (متوفی ۲۲۵ھ)‘ امام خلفؒ (متوفی۲۰۵ھ)۔ ان أئمہ کی قراء ات ’قراء ات عشرۃ‘کہلاتی ہیں اور ان سے ان قراء ات کو نقل کرنے والے ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں، لیکن ہر اما م کی قرا ء ت بعدازاں اس کے دو شاگردوں سے معروف ہوئی۔ ان شاگردوں کی اپنے امام سے نقل، قراء تِ قرآن کی ’روایت‘کہلاتی ہے۔ پس ہر امام کے دو شاگردوں کے اعتبار سے قرآن کی کل بیس روایات ہوئیں۔ ان بیس روایات میں سے چار روایات ایسی ہیں جو کہ امت مسلمہ کے مختلف علاقوں میں عوامی سطح پررائج ہیں جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، جبکہ باقی چودہ روایات قرا کی ایک بہت بڑی تعداد سے نقل در نقل چلی آ رہی ہیں اور ان تمام قراء ات کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک باقاعدہ اسناد موجودہیں۔ غامدی صاحب ان بیس کی بیس روایات قرآنیہ کے منکر ہیں اور انھیں فتنہ عجم قرار دیتے ہیں۔ انھی بیس روایات میں سے ایک روایت’روایت حفص‘ ہے اور حفص‘ اما م عاصم کے شاگرد ہیں۔ کیا ہی عجب حسن اتفاق ہے کہ’روایت حفص‘لفظ بلفظ وہی ہے جسے غامدی صاحب ’قرأت عامہ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے قرآن کہتے ہیں۔ اب غامدی صاحب اگر اس روایت کا انکار کریں تو اپنی ہی ’قرأت عامہ‘کے بھی انکاری ہو ں گے اور اگر وہ اس روایت حفص کو مان لیں تو باقی انیس روایات کو ماننے سے انکار کیوں؟ اگر ’قرأت عامہ‘سے غامدی صاحب کی مراد عوام الناس کی قراء ت ہے تو روایت حفص‘ روایت ورش ‘روایت قالون اور روایت دوری بھی تو عوام الناس ہی کی قراء ات ہیں‘ ان کو ماننے سے غامدی صاحب کیونکر انکار کر سکتے ہیں؟ غامدی صاحب کے نزدیک دین یا تو قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے یا عملی تواتر سے ‘جبکہ قرآن کی مندرجہ بالاروایات أربعہ قولی تواتر سے بھی ثابت ہیں اور عملی تواتر سے بھی ‘اس کے باوجود غامدی صاحب ان روایات کو قرآن ماننے سے انکاری ہیں۔ 
۵) غامدی صاحب کے نزدیک قراء ات متواترہ کے بارے میں مروی وہ تمام روایات جو صحاح ستہ میں موجود ہیں‘ سنداً اور معناًدونوں اعتبارات سے ناقابل قبو ل ہیں۔ سنداً اس لیے کہ ان تمام روایات کی سند میں ابن شہاب زہری ہیں جو أئمہ رجال کے نزدیک مدلس و مدرج ہیں، اور معناًا س لیے کہ ان احادیث کے معنی و مفہوم کا آج تک تعین نہیں ہو سکا۔
غامدی صاحب کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ قرآن کو حدیث کی دلیل سے ثابت کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ قرآن اپنے ثبوت کے لیے کسی حدیث کا محتاج نہیں ہے۔ غامدی صاحب جس کو ’قرأت عامہ‘کہتے ہیں، کیا وہ حدیث سے ثابت ہے؟ قرآن کا اجماع اور تواتر کے ساتھ امت میں نقل ہونا ہی اس کے ثبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے‘اور’قراء ات عشرہ‘ تواتر اور اجماع کے ساتھ ثابت ہیں۔مشہور مفسر اور اندلسی عالم ابن عطیہ ؒ لکھتے ہیں :
و مضت الأعصار و الأمصار علی قراء ات الأئمۃ السبعۃ بل العشرۃ و بھا یصلی لأنھا تثبت بالاجماع ( المحرر الوجیز‘ابن عطیۃ‘جلد۱‘ص۹)
’’قراء ات سبعہ بلکہ عشرہ بھی ہر زمانے اور ہر شہر میں رائج رہی ہیں اور ان کی نماز میں تلاوت کی جاتی ہے کیونکہ یہ اجماع امت سے ثابت ہیں ۔‘‘
آج بھی مدارس و جامعات اسلامیہ کے ہزاروں طلبا ان قراء ات کو اپنے شیوخ سے نقل کر رہے ہیں ۔ان میں سے بعض قراء ات تو مغرب و افریقہ کے بلاد اسلامیہ میں اسی طرح رائج ہیں جس طرح ہمارے ہاں روایت حفص ‘ اور ان کا تواتر کے ساتھ امت میں پڑھا جانا ہی ان کے قرآن ہونے کے ثبوت کے لیے قطعی دلیل ہے۔
۶) غامدی صاحب نے ’’سبعۃ احرف‘‘ کی روایات پر اعتراض یہ کیا ہے کہ اس کے معنی و مفہوم کے تعین میں علما کے تقریباً چالیس اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے غامدی صاحب نے امام سیوطیؒ کا حوالہ نقل کیا ہے، لیکن کاش وہ امام سیوطیؒ کی کتاب ’الاتقان‘ کھول کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا کر لیتے ۔حقیقت یہ ہے کہ امام سیوطی ؒ نے چالیس نہیں بلکہ سولہ اقوال اپنی کتاب میں بیان کیے ہیں‘ البتہ ابن حبانؒ کے حوالے سے امام سیوطی ؒ نے پینتیس اقوال کا تذکرہ کیا ہے۔ ان پینتیس اقوال کو غامدی صاحب نے ایک صحیح متواتر روایت کے انکار کی دلیل بنایا ہے۔ اس ضمن میں ہم غامدی صاحب سے درج ذیل سوال کرنا چاہیں گے:
پہلی بات تو یہ ہے کہ کیابظاہر پینتیس نظر آنے والے یہ اقوال کیا واقعتاً پینتیس ہی ہیں؟ اگر ہم غور کریں تویہ درحقیقت سات اقوال ہیں: ایک قول تو یہ ہے کہ سبعۃ احرف سے مراد مضامین قرآن ہیں۔ پھر اس میں آگے اختلاف ہے کہ کون سے مضامین مراد ہیں۔ دوسراقول یہ ہے کہ سبعہ احرف سے مراد سات لغات ہیں۔ پھر آگے اس میں اختلاف ہے کہ کن قبائل کی لغات مراد ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ کی سات قراء ات ہیں۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات حروف تہجی ہیں۔ پانچواں قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے سات نام ہیں ۔چھٹا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات قسم کے اعراب ہیں۔ ساتواں قول یہ ہے کہ اس سے مراد حروف کی ادائیگی کی مختلف کیفیات ہیں۔ اسی لیے امام سیوطی ؒ نے ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد ابن حبانؒ کا قول نقل کیا ہے ۔
و ھی أقاویل یشبہ بعضھا بعضا (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’یہ اقوال ایک دوسر ے سے ملتے جلتے ہیں ۔‘‘
اس کے بعد امام سیوطیؒ نے امام مزنی المرسیؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے :
وقال المرسی ھذہ الوجوہ أکثرھا متداخلۃ (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’مرسی نے کہا ہے کہ یہ اقوال ایک دوسرے میں پیوستہ ہیں ۔ ‘‘
باہم متشابہ اور متداخل اقوال کو غامدی صاحب نے چالیس اقوال سمجھ لیا اور اس بنا پر سبعہ احرف کی متواتر روایت کا انکار کر دیا۔
دوسری بات یہ کہ بالفرض ہم مان لیں کہ یہ چالیس اقوال ہیں جیسا کہ غامدی صاحب کا کہنا ہے تو اگر قرآن کی کسی آیت کی تفسیر میں پینتیس یا چالیس اقوال نقل ہو جائیں تو کیا اس بنیاد پر غامدی صاحب قرآن کی اس آیت کا انکار کر دیں گے کہ اس آیت کے معنی و مفہوم کے تعین میں چالیس قوال نقل ہوئے ہیں؟ چالیس تو چھوڑیے، اگر ہم بدعتی فرقوں مثلاً باطنیہ‘ روافض اور صوفیا کی تفاسیر کا مطالعہ کریں تو ہمیں ایک ایک آیت کی تفسیر میں ستر ستر اقوال بھی ملتے ہیں تو کیا ہم صرف اس بنا پر قرآن کی اس آیت کو ماننے سے انکار کر دیں گے؟
سب سے اہم اور تیسری بات تو یہ ہے کہ یہ کیسے ثابت ہو گا کہ یہ پینتیس اقوال مختلف پینتیس علما کے ہیں۔ بعض افراد نے ان اقول کو اپنی کتابوں میں نقل تو کر ہی دیا ہے، لیکن ان کے قائلین کو کوئی آج تک نہ جان سکا، جیسا کہ امام سیوطی نے امام مزنی المرسی کے حوالے سے نقل کیا ہے :
وقال المرسی ھذہ الوجوہ أکثرھا متداخلۃ و لا أدری مستندھا ولا عمن نقلت (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’’مرسی نے کہا ہے کہ یہ اقوال ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور میں نہیں جانتا کہ ان کی سند کیا ہے یا کس سے یہ منقول ہیں؟‘‘
ان اقوال کی باہمی مشابہت و مماثلت دیکھنے کے بعد اندازہ یہی ہوتاہے کہ دو چار نامعلوم اور گم نام افراد نے سبعہ احرف کی تشریح میں مختلف احتمالات پیش کیے تھے جنہیں بعد میں آنے والوں نے مستقل اقوال کی حیثیت سے نقل کر دیا۔
چوتھی بات یہ ہے کہ ان پینتیس اقوال میں سے اکثر و بیشتر کی تردید خود سبعہ احرف کی روایات سے ہو رہی ہے کیونکہ اکثرو بیشتر اقوال کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان اقوال کی رو سے’سبعۃ أحرف‘کا تعلق قرآن کے مضامین یا معانی سے ہے جبکہ’سبعۃ أحرف‘کی اکثرو بیشترروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ’سبعۃ أحرف‘ کا تعلق الفاظ سے ہے۔ مثلاً حضرت ہشام بن حکیمؓ اور حضرت عمرؓ میں آپس میں قراء ت کا اختلاف ہوا توحضرت عمرؓ‘ حضرت ہشامؓ کو ان کی چادر سے کھینچتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اورآپ ؐ سے کہا کہ میں نے اس (یعنی ہشام بن حکیمؓ ) کو سورہ فرقان ان حروف کے ساتھ پڑھتے سنا ہے جن حروف کے ساتھ آپؐ نے مجھے یہ سورت نہیں پڑھائی ۔آپ ؐ نے حضرت عمر سے کہاکہؓ اسے چھوڑ دواور ہشامؓ سے کہا کہ تم پڑھو۔ حضرت ہشام نے اس قراء ت کے مطابق پڑھا جو حضرت عمر نے ان سے سنی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؐ نے کہا کہ یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے۔ پھر آپؐ نے کہا کہ اے عمر،ؓ اب تم پڑھو۔ حضرت عمر نے اس سورت کواس قراء ت کے مطابق پڑھا جس پر آپ ؐ نے انھیں پڑھایا تھاتو آپ ؐ نے کہا کہ یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس ان میں سے جو بھی تمہیں آسان لگے، اس کے مطابق پڑھ لو۔ (صحیح بخاری ‘کتاب فضائل القرآن‘باب أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف)
اسی لیے امام سیوطیؒ ‘امام مزنی ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
و أکثرھا معارضۃ لحدیث عمر وہشام ابن حکیم الذی فی الصحیح فانھما لم یختلفا فی تفسیرہ و لا أحکامہ و انما اختلفا فی قراء ۃ حروفہ (الاتقان:جلد۱‘ص۴۹)
’’ان میں سے اکثر اقوال حضرت عمرؓاور ہشام بن حکیمؓ کی حدیث کے خلاف ہیں جوکہ صحاح میں ہے ۔ حضرت عمرؓ اور ہشام بن حکیمؓ کا اختلا ف قرآن کی تفسیریا اس کے احکام میں نہ تھا بلکہ ان دونوں حضرات نے قرآن کے حروف کے پڑھنے میں آپس میں اختلاف کیا تھا۔‘‘
جب خود روایت کے الفاظ سے ہی اس کے معنی کے تعین میں وارد اقوال کی تردید ہو رہی ہو تو ان اقوال کو اس روایت کی تشریح و توضیح کے ضمن میں پیش کرنا اور ان میں اختلاف کی بنیاد پر روایت ہی کورد کر دیناکون سی عقل مندی ہے؟
پانچویں بات یہ کہ جہاں تک سبعہ احرف کے معنی و مفہوم کے تعین کی بحث ہے تو اس بارے میں فقہا و علما کے بنیادی اقوال دو ہی ہیں :
پہلا قول وہ ہے جو علما میں امام رازی کے حوالے سے معروف ہوا کہ سبع احرف سے مراد سات وجوہ ہیں جو قراء ات کے تمام اختلافات کو محیط ہیں اور وہ وجوہ اختلاف درج ذیل ہیں: اسماء کا ختلاف (یعنی تذکیر و تأنیث اور جمع و افراد وغیرہ )، تصریف افعال کا اختلاف(ماضی ‘مضارع اورأمر وغیر ہ)‘ وجوہ اعراب کا اختلاف ‘نقص و زیادت کااختلاف‘تقدیم و تأخیر کا اختلاف ‘اختلاف ابدال ‘اختلاف لغات(یعنی لہجات کا اختلاف)۔ یہی قول امام مالکؒ ‘ قاضی ابو بکر باقلانیؒ ‘ابن قتیبہ دینوریؒ ‘ علامہ ابن الجزریؒ وغیرہ سے کچھ اختلاف کے ساتھ منقول ہے ۔
دوسرا قول علما میں ابن جریر طبری ؒ کے حوالے سے معروف ہوا، وہ یہ کہ سبع احرف سے مراد مختلف عرب قبائل کی سات لغات ہیں جن میں تھوڑا بہت اختلاف موجود تھا۔اسی قول کو امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ ‘سفیان بن عیینہؒ ‘ابن وہبؒ ‘احمد بن یحییؒ ، امام طحاویؒ ‘امام ابو حاتم السجستانی ؒ ‘امام بیہقیؒ ‘علامہ ابن جوزیؒ ‘علامہ ابن لأثیر الجزریؒ ‘ابن عبد البرؒ اور شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ وغیرہ نے کچھ اختلاف کے ساتھ اختیار کیا ہے ‘بلکہ ابن عبد البرؒ نے تو اسے جمہور علما کا قول قرار دیا ہے۔
ان دونوں اقوال میں بھی قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے قائلین اس بات پر متفق ہیں کہ ’سبعۃ أحرف‘ سے مراد قرآن کے الفاظ کو سات طرح سے پڑھنا ہے۔پہلے قول کے قائلین کا کہنا یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کو پڑھنے کے سات قسم کے اختلافات ہیں، جبکہ دوسرے گروہ کا مؤقف یہ ہے کہ اس سے مراد سات لغات میں قرآن کو پڑھنا ہے ۔
ہم ان دونوں اقوال میں موجود اختلاف کا انکار نہیں کرتے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اختلاف‘ اختلاف تضاد نہیں ہے بلکہ اختلاف تنوع ہے کیونکہ دونوں گروہوں کے اقوال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کی ایک سے زائدقراء ات ہیں جن کے مطابق قرآن کو پڑھنا صحیح ہے، جبکہ غامدی صاحب قرآن کی ایک سے زائد قراء ات کو نہیں مانتے ۔ ان دو کے علاوہ جتنے بھی اقوال ہیں، ان کی نہ تو کوئی سندہے‘ نہ ہی ان کے قائلین کی کسی کو خبر ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کا علمی وزن رکھتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اقوال پر بحث کرنا صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے۔ 
۷) غامدی صاحب نے سبعۃ احرف والی روایات کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ ا ن کا کہنا یہ ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں ایک راوی ابن شہاب زہری ؒ ہے جسے وہ مدلس ا ور مدرج قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں : 
’’ لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ صحاح میں یہ اصلاً ابن شہاب زہری کی وساطت سے آئی ہیں ۔أئمہ رجال انھیں تدلیس اور ادراج کا مرتکب تو قرار دیتے ہی ہیں‘ اس کے ساتھ اگر وہ خصائص بھی پیش نظر رہیں جو امام لیث بن سعد نے امام مالک کے نام اپنے ایک خط میں بیان فرمائے ہیں تو ان کی کوئی روایت بھی ‘بالخصوص اس طرح کے اہم معاملات میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ وہ لکھتے ہیں : ....اور ابن شہاب سے جب ہم ملتے تھے تو بہت سے مسائل میں اختلاف ہو جاتا تھا اور ہم میں سے کوئی جب ان سے لکھ کر دریافت کرتا تو علم و عقل میں فضیلت کے باوجود ایک ہی چیز کے متعلق ان کا جواب تین طرح کا ہوا کرتا تھا جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض ہوتا اور انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس سے پہلے کیا کہہ چکے ہیں۔میں نے ایسی ہی چیزوں کی وجہ سے ان کو چھوڑا تھا‘جسے تم نے پسند نہیں کیا‘‘۔ (میزان‘ ص۳۰، ۳۱)
اب ہم امام ابن شہاب زہری ؒ کے بارے میں أئمہ جرح و تعدیل‘أئمہ محدثین اور أئمہ فقہا اور معاصر علما کی آرا نقل کرتے ہیں:
امام ابن حجرؒ (متوفی ۸۵۲ھ) ؒ لکھتے ہیں: ابن شہاب فقیہ اور’الحافظ‘ہیں، ان کی بزرگی اور حافظے کی پختگی پر محدثین کا اتفاق ہے۔ (تقریب:جلد۲‘ص۲۰۷) امام ذہبی ؒ (متوفی ۷۴۸ھ) لکھتے ہیں: محمد بن مسلم ’الحافظ‘اور ’الحجۃ‘ہیں ۔ ( میزان الاعتدال:جلد۴‘ص۴۰) امام ابن حبانؒ (متوفی ۲۵۴ھ) لکھتے ہیں: انھوں نے دس صحابہ کی زیارت کی ہے اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے حدیث کے حافظ تھے اور احادیث کے متون کو بیان کرنے میں سب سے اچھے تھے اور فقیہ اور فاضل تھے۔ (کتاب الثقات:جلد۳‘ص۴) امام احمد العجلیؒ فرماتے ہیں: تابعی اور ثقۃ تھے۔ (تاریخ الثقات:ص۴۱۲) حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کہا کہ تم ابن شہابؒ کو لازم پکڑو کیونکہ گزری ہوئی سنن کے بارے میں ان سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں ہے۔ (کتاب الجرح و التعدیل:ص۱۲) ابن القاسمؒ نے کہا ہے: میں نے امام مالکؒ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ابن شہابؒ باقی رہ گئے اور ان کی کوئی مثال اس دنیا میں نہیں ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد۴‘ ص ۱۴۰) امام احمدؒ کی رائے یہ ہے: لوگوں میں حدیث کے اعتبار سے سب سے بہتر اور سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ ہیں۔ (أیضا:ص ۱۴۱) امام ابو حاتم الرازی ؒ کی رائے میں حضرت أنسؓ کے أصحاب میں سب سے زیادہ ’ثابت‘امام زہریؒ ہیں۔ (ایضاً) ْ قتادہ ؒ کی رائے یہ ہے کہ گزشتہ سنن کے بارے میں ابن شہابؒ سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ (ایضاً) یحییٰ بن سعیدؒ کی رائے میں کسی ایک کے پاس بھی وہ علم نہیں رہا جو ابن شہاب ؒ کے پاس ہے۔ (ایضاً) سعید بن عبد العزیزؒ کی رائے میں وہ تو علم کا ایک سمندر ہے۔ (أیضا:ص۱۴۲) سفیان ثوری ؒ کی رائے میں امام زہری ؒ اہل مدینہ میں سب سے بڑے عالم ہیں ۔ (أیضا:ص ۱۴۰) عمروبن دینار ؒ کی رائے یہ ہے کہ حدیث کی سند بیان کرنے میں‘ زہریؒ سے بڑھ کر میں نے کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (أیضا:ص ۱۴۰) ابو ایوب سختیانی ؒ کی رائے میں نے ان سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ (تذکرۃ الحفاظ:جلد۱‘ص۱۰۹) امام لیثؒ بن سعد فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے۔ (أیضا:ص۱۰۹) أبو صالح ‘امام لیث بن سعدؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ابن شہاب زہریؒ سے زیادہ جامع العلوم کسی عالم کو نہیں دیکھا۔ (أیضا: ص۱۱۰) امام نسائی ؒ نے کہا کہ سب سے بہتر اسناد جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، وہ چار ہیں:زہریؒ ‘حضرت علی بن حسینؒؓ سے ‘وہ حسین بن علیؓ سے ‘وہ حضرت علیؓسے ‘وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور زہریؒ ‘عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے‘ وہ ابن عباسؓسے ‘وہ حضرت عمرؓسے، اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب الکمال: جلد۶‘ ص۵۱۲) سفیان بن عیینہؒ ‘عمرو بن دینار ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حدیث کی سند بیان کرنے میں زہری ؒ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔(ایضاً) محمد بن سعد ؒ نے کہا :محدثین کا کہنا ہے کہ زہری ثقہ راوی ہے اور کثرت سے علم رکھنے والا ‘احادیث کو جاننے والا اور احادیث کو نقل کرنے والا ہے۔ (ایضاً) مکحولؒ نے کہاکہ زمین کی پشت پر گزری ہوئی سنت کے بارے میں زہری ؒ سے بڑھ کر کوئی عالم باقی نہیں رہا۔ (ایضاً) ابو بکر الھذلی ؒ کہتے ہیں کہ میں حسن بصریؒ اور ابن سیرینؒ کے ساتھ بیٹھا، لیکن میں نے زہری ؒ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا۔ (ایضاً) امام دارمیؒ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معینؒ سے کہا کہ زہری ؒ آپ کوسعید بن مسیب ؒ سے زیادہ محبوب ہے یا قتادہ؟ تو انھوں نے کہا دونوں۔ میں نے پھر کہا کہ وہ دونوں آپ کو زیادہ محبوب ہیں یا یحییٰ بن سعید تو یحییٰ بن معین ؒ نے کہا :یہ سب ثقہ راوی ہیں ۔ (ایضاً) علی بن مدینیؒ نے کہا کہ حدیث کا علم امت محمد میں چھ افراد نے محفوظ کیا۔ أہل مکہ میں سے عمرو بن دینار ؒ نے اور اہل مدینہ میں ابن شہاب الزہریؒ نے.... (تہذیب الکمال‘جلد۱۲‘ص۸۴) 
امام ابن شہاب زہریؒ کی تعدیل و توصیف سے اسماء الرجال کی کتب بھری پڑی ہیں۔ غامدی صاحب کو امام زہری ؒ کے بارے میں جلیل القدر معاصرو متأخرفقہا‘ تابعین اور محدثین کے یہ اقوال تو نظر نہ آئے اور اگرکچھ نظر آیا تو وہ امام لیث بن سعدؒ کا وہ قول ہے جو ابن قیم ؒ نے اپنی کتاب ’اعلام الموقعین‘میں نقل کیا ہے ۔اس قول کے بارے میں ہماری رائے درج ذیل نکات پر مشتمل ہے :
پہلی بات تو یہ ہے کہ’اعلام الموقعین‘اسماء الرجال کی کتاب نہیں ہے۔ ہم غامدی صاحب کو یہ مشورہ دیں گے کہ امام زہری ؒ کی شخصیت پر اگر بحث کرنی ہے تو اسماء الرجال کی کتب میں موجود أئمہ جرح و تعدیل کے اقوا ل کی روشنی میں کریں۔
دوسری بات یہ کہ امام لیث بن سعد ؒ کا وہ خط جس کا غامدی صاحب نے حوالہ دیا ہے، تقریباً تین صفحات پر مشتمل ہے۔ غامدی صاحب نے اس خط میں سے اپنے کام کی تین چار سطریں نکال لیں، حالانکہ اگر اس خط کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام لیث بن سعدؒ نے جو اتنا لمبا چوڑا خط امام مالک ؒ کو لکھا ہے، اس کا موضوع امام زہریؒ کی شخصیت نہیں ہے بلکہ اس کا موضوع امام لیث بن سعدؒ اور امام مالکؒ کے درمیان ایک مسئلے میں علمی اختلاف ہے اور وہ یہ کہ امام لیث بن سعدؒ کے نزدیک ’ عمل اہل مدینہ‘کے خلاف فتویٰ دینا جائز ہے ‘جبکہ امام مالکؒ اس کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ اس پر امام لیث بن سعدؒ نے امام مالکؒ کو خط لکھا جس میں مدینہ کے علما کے باہمی اختلاف اور ان کی آرا کے کمزور پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان علماے مدینہ میں ایک ابن شہاب زہریؒ بھی تھے۔ یہ تو ایک فقہی اختلاف ہے جس کی کچھ عبارت کوجناب غامدی صاحب نے درمیان سے اٹھا لیا اور اسے امام لیث بن سعدؒ کی ‘ابن شہاب زہریؒ پر تنقید کے عنوان سے پیش کر دیا حالانکہ امام لیث بن سعدؒ نے امام زہریؒ کے علم حدیث میں مقام و مرتبے کو بیان کرتے وقت اسی مبالغے کاا ظہار کیا ہے جو کہ تمام علماے جرح و تعدیل سے منقول ہے۔امام لیث ؒ فرماتے ہیں :
وقال أبو صالح عن اللیث بن سعد ما رأیت عالما قط أجمع من ابن شھاب ولا أکثر علما منہ .۔۔۔ (تہذیب الکمال: جلد۶‘ ص۵۱۲)
’’أبو صالحؒ ‘ امام لیث بن سعد ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ابن شہاب زہری ؒ سے زیادہ جامع العلوم کسی عالم کو نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑے کسی عالم کو دیکھا ہے ....‘
کتبت من علم محمد بن شہاب الزہری علما کثیرا (وفیات الأعیان:جلد۴‘ ص۱۲۷)
’’میں نے امام ابن شہاب الزہریؒ کے علم میں سے بہت سے کو لکھا ۔‘‘
تیسری بات یہ کہ غامدی صاحب کے بقول امام زہریؒ کے بارے میں امام لیث بن سعد ؒ نے یہ اعتراض کیا کہ ایک ہی مسئلے میں بعض اوقات ان کے فتاویٰ جات مختلف ہوتے ہیں ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی مسئلے میں امام مالکؒ ‘امام ابو حنیفہؒ ‘ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ جیسے جلیل القدر فقہا کی بھی ایک سے زائد آرا منقول ہوتی ہیں کیونکہ فتویٰ حالات کے مطابق ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخص کو دیکھ کر مفتی ایک مسئلے میں ایک فتویٰ دیتا ہے اور بعض اوقات دوسرے شخص کو اس کے حالات کے مطابق بالکل اس کے برعکس فتویٰ دیتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روک دیا، جبکہ ایک بوڑھے شخص کو اس کی اجازت دے دی ۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک عالم ایک مسئلے میں ایک فتویٰ دیتا ہے اور بعد میں اس کی رائے تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے بالکل برعکس فتویٰ دیتا ہے، جیسا کہ امام شافعیؒ کے بارے میں معروف ہے کہ ان کی ایک قدیم رائے ہے اور ایک جدید رائے ہے۔ 
چوتھی بات یہ ہے کہ امام لیث بن سعد ؒ نے امام زہریؒ پر جو جرح کی ہے، وہ ان کے فتاویٰ جات کے اعتبار سے ہے نہ کہ ان کی حدیث بیان کرنے کے اعتبار سے۔ اگر وہ حدیث کے معاملے میں بھی ایسا ہی کرتے کہ کبھی ایک روایت کو کچھ الفاظ کے ساتھ اور کبھی اس کے بالکل برعکس الفاظ کے ساتھ نقل کرتے تو امام لیثؒ اس کا ضرور تذکرہ فرماتے۔ جتنی جرح نقل کر کے غامدی صاحب امام زہری ؒ کی شخصیت کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں، اتنی جرح تو أئمہ رجال کے ہاں حدیث کے مسئلے میں امام ابو حنیفہ ؒ پر بھی موجود ہے، لیکن اس جرح کے باوجود امام ابو حنیفہؒ کی ایک فقیہ کی حیثیت سب کے نزدیک متفق علیہ اور مسلم ہے، اس لیے امام زہری ؒ کے فتاویٰ پر جرح سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ حدیث میں بھی مجروح ہوں۔ 
پانچویں بات یہ ہے کہ غامدی صاحب نے امام زہری ؒ کے بارے میں امام لیث بن سعدؒ کی جو ایک رائے نقل کی ہے، اگر کسی ایک شخص کی رائے پر ہی کسی کے علمی مقام و مرتبے کے تعین کا انحصار ہے تو ایسی آرا توہرفقیہ اور محدث کی ذات یا اس کی کتب کے بارے میں موجود ہیں، تو کیا اس وجہ سے ان کے تمام علمی کام اور مرتبے کا انکار کر دیا جائے گا؟
۸) جناب غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات قبول نہ کرنے کی جوتین وجوہات بیان کی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ تدلیس کرتے ہیں۔ غامدی صاحب جن أئمہ رجال پر اعتماد کرتے ہوئے امام زہری ؒ کو تدلیس اور ادراج کا مرتکب قرار دے رہے ہیں، وہی أئمہ رجال امام زہریؒ کی روایات کو قبول کرتے ہیں۔ صحاح ستہ کے مؤلفین نے امام زہری ؒ سے روایات لی ہیں اور أئمہ جرح وتعدیل نے ان پر صحیح کا حکم بھی لگایا ہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ أئمہ محدثین ورجال کے نزدیک امام زہریؒ کی روایات مردود نہیں بلکہ مقبول ہیں۔امام زہریؒ کی ’سبعۃ أحرف‘کی جس روایت پر غامدی صاحب تنقید کرہے ہیں اور اس کو مردود قرار دے رہے ہیں، یہ صحیح بخاری کی روایت ہے جس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ علم حدیث میں غامدی صاحب کا مقام و مرتبہ کیا ہے یا ان کی خدمات کیا ہیں جس کی بنیاد پر وہ صحیح بخاری کی روایات کو مرود د کہہ رہے ہیں؟ امام بخاری ؒ کہہ رہے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے اور ان کی رائے کو قبول کیا جائے تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ وہ حدیث کے امام ہیں۔ اسی طرح اگر امام دار قطنیؒ ‘صحیح بخاری کی روایات پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ وہ اس کے اہل بھی ہیں اور فن حدیث اور اس کی اصطلاحات کی روشنی میں ہی روایات پر بحث کرتے ہیں، لیکن غامدی صاحب جیسے محقق اگر صحیح بخاری کی روایات کو مردود کہنے لگ جائیں توعلم دین کا اللہ ہی حافظ ہے، کیونکہ نہ تو وہ فن حدیث اور اس کی اصطلاحات سے ’کماحقہ‘ واقف ہیں اور نہ ہی وہ اس کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں احادیث کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند مزید پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے :
پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف تدلیس کوئی ایسا عیب نہیں ہے جس کی وجہ سے کسی راوی کی روایات کومردود قرار دیا جائے۔ امام ابن صلاحؒ فرماتے ہیں:
أن التدلیس لیس کذبا وانما ھو ضرب من الایھام بلفظ محتمل (مقدمہ ابن الصلاح:جلد۱‘ص۱۴)
’’تدلیس جھوٹ نہیں ہے۔ یہ تو محتمل الفاظ کے ساتھ ایہام کی ایک قسم ہے۔ ‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ امام زہریؒ کی تدلیس وہ تدلیس نہیں ہے جس معنی میں متأخرین اس کو تدلیس کہتے ہیں بلکہ وہ ارسال ہی کی ایک قسم ہے کہ جس کو بعض متقدمین نے تدلیس کہہ دیا۔ شیخ ناصر بن احمدالفہد لکھتے ہیں :
لم أجد أحدا من المتقدمین وصفہ بالتدلیس غیر أن ابن حجر ذکر أن الشافعی و الدارقطنی وصفاہ بذلک والذی یظھر أنھما أرادا الارسال لا التدلیس بمعناہ الخاص عند المتأخرین أو أنھم أرادوا مطلق الوصف بالتدلیس غیر القادح .... و ھو من أھل المدینۃ و التدلیس لا یعرف فی المدینۃ (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۰ تا ۶۱) 
’’میں نے متقدمین میں سے کسی ایک کو بھی نہیں پایا جس نے امام زہریؒ کو تدلیس سے مو صوف کیا ہو‘صرف ابن حجر نے لکھاہے کہ امام شافعی ؒ اور امام دارقطنی ؒ نے ان کو تدلیس سے موصوف کیا ہے۔اور صحیح بات یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ امام زہریؒ ارسال کے مرتکب تھے نہ کہ اس معنی میں تدلیس کے جس معنی میں یہ متأخرین میں معروف ہے، یا ان کا مقصد امام زہری ؒ کو مطلقاً ایسی تدلیس سے موصوف کرنا تھا جو کہ عیب دار نہ ہو ... امام زہریؒ اہل مدینہ میں سے ہیں اور اہل مدینہ میں تدلیس معروف نہ تھی ۔‘‘
تیسری بات یہ کہ امام زہری ؒ سے تدلیس شاذو نادر ہی ثابت ہے ‘امام ذہبی ؒ لکھتے ہیں :
کان یدلس فی النادر (میزان الاعتدال: جلد ۴‘ ص ۴۰)
’’وہ شاذ و نادر ہی تدلیس کرتے تھے ۔‘‘
باقی ابن حجرؒ کا یہ کہنا کہ امام زہریؒ تدلیس میں مشہور تھے ‘صحیح نہیں ہے کیونکہ متقدمین میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کی۔ شیخ ناصر بن حمدالفہد لکھتے ہیں :
و یعسر اثبات تدلیس الزھری (التدلیس الخاص) فضلا عن أن یشتھر بہ (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۲) 
’’امام زہریؒ کے بارے میں تدلیس (تدلیس خاص ) کو ثابت کرنا ہی مشکل ہے چہ جائیکہ یہ دعویٰ کیاجائے کہ وہ تدلیس میں مشہور تھے ۔‘‘
امام صنعانیؒ نے بھی ابن حجر ؒ پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ انھوں نے امام زہری ؒ کا شمار مدلسین کے تیسرے طبقے میں کیوں کیا ہے۔ امام صنعانیؒ لکھتے ہیں :
فما کان یحسن أن یعدہ الحافظ ابن حجر فی ھذہ الطبقۃ بعد قولہ أنہ اتفق علی جلالتہ و اتقانہ (توضیح الأفکار:جلد۱‘ص۳۶۵)
’’یہ بات اچھی نہیں ہے کہ ابن حجر ؒ نے اما م زہریؒ کو تیسرے طبقے میں شمار کیا، جبکہ خود ابن حجر کاامام زہری ؒ کے بارے میں یہ قول موجود ہے کہ ان کے علمی مقام اور حافظے کی پختگی پر محدثین کا اتفاق ہے ۔‘‘
چوتھی بات یہ کہ امام زہری ؒ کی وہ روایات جن میں سماع کی تصریح موجود ہے وہ تو قابل قبول ہیں ہی ‘اس کے علاوہ ان کی وہ روایات بھی مقبول ہیں جو کہ ’عنعنہ‘ کے ساتھ ہوں۔ابراہیم بن محمد العجمی فرماتے ہیں :
و قد قبل الأئمۃ قولہ عن (التبیین لأسماء المدلسین:ص۹)
’’اور أئمہ محدثین نے ان کے ’عن‘کے ساتھ روایات کو قبول کیا ہے ۔‘‘
امام بخاریؒ اور اما م مسلم ؒ نے ان کی ’عن‘کے صیغہ کے ساتھ روایات کو قبول کیا ہے۔ شیخ ناصر بن احمد الفہد لکھتے ہیں :
و أما رد حدیثہ الا عند ذکر السماع فلا أظنک تجد ذلک عند أحد من الأئمۃ المتقدمین (منہج المتقدمین فی التدلیس: ص۶۰تا۶۱) 
’’اور جہاں تک اس بات کا معاملہ ہے کہ صراحت کے ساتھ سماع کے علاوہ ان(یعنی امام زہریؒ ) کی روایت قبول نہ کی جائے تو میرا نہیں خیال کہ أئمہ متقدمین میں سے کسی کا یہ مؤقف رہا ہو۔ ‘‘
۹) غامدی صاحب نے امام زہریؒ پر ادراج کا الزام بھی لگایا ہے، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس قسم کے ادراج کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ بات تو صحیح ہے کہ کسی حدیث کے متن میں اپنی طرف سے جان بوجھ کر کچھ اضافہ کر دینا حرام ہے، لیکن ادراج کی ایک قسم وہ بھی ہے جو جائز ہے۔ وہ یہ کہ کوئی راوی احادیث کے غریب الفاظ کی تشریح میں کچھ الفاظ اس طرح بیان کرے کہ وہ حدیث کا حصہ معلوم ہوں۔ امام زہری ؒ کے ادراج کی نوعیت بھی یہی ہے، جیساکہ اما م سیوطیؒ کی درج ذیل عبارت سے واضح ہو رہا ہے ۔امام سیوطیؒ لکھتے ہیں :
و عندی ما أدرج لتفسیر غریب لا یمنع ولذلک فعلہ الزھری وغیر واحد من الأئمۃ (تدریب الراوی:جلد۱‘ص۲۳۱) 
’’اور میرے نزدیک جو کسی غریب الفاظ کی تشریح کے لیے ادراج کیا جائے تو وہ ممنوع نہیں ہے جیسا کہ امام زہری ؒ اور دوسرے أئمہ حدیث سے مروی ہے ۔‘‘
غامدی صاحب جس تدلیس اور ادراج کی بنیاد پر امام زہریؒ کو مجروح قرار دے رہے ہیں، وہ تدلیس اور ادراج تو بعض صحابہ سے بھی ثابت ہے، مثلاً حضر ت ابوہریرہؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وغیرہ سے جیسا کہ اما م سیوطی ؒ نے ’تدریب الراوی‘میں اور امام صنعانیؒ نے’ توضیح الأفکار‘ میں اس کی مثالیں بیان کی ہیں ‘تو کیا اس بنیاد پر صحابہ کی روایات کو مردود کہیں گے؟ واقعہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کی آرا کا علمی جائزہ لینے کے بعدیہ محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ’تدلیس‘ اور’ ادراج‘ جیسی اصطلاحات کا نام سنا ہوا ہے۔ جہاں تک ان اصطلاحات کی مفصل اور عمیق ابحاث کا تعلق ہے ‘وہ اس کے لیے وقت نہیں نکال پائے‘ اسی لیے وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ایسی متفق علیہ روایت کو مردود کہنے کی جرات کر رہے ہیں جو جملہ محدثین اور أئمہ رجال کے نزدیک صحیح ہے۔ 
۱۰) غامدی صاحب نے ’سبعۃ احرف‘ کی روایات کا ا س بنا پر انکار کیا ہے کہ ان روایات کے مرکزی راوی امام زہری ؒ ہیں جن کی روایات ان کے نزدیک مردود ہیں۔ اگر ہم غامدی صاحب کویہی روایات امام زہری ؒ کے طریق کے علاوہ کسی اورثقہ راوی کے طریق سے پیش کر دیں تو کیا وہ ان راویات کو مان لیں گے؟ ذیل میں ہم امام زہری ؒ کے طریق کے علاوہ بعض دوسرے طرق سے چند صحیح روایات بطور مثا ل ایک سے زائد قراء ات کے اثبات کے لیے تحریر کر دیتے ہیں۔صحیح بخاری کی ایک روایت ہے :
حدثناأبو الولید حدثنا شعبۃ قال عبد الملک بن مسیرۃ أخبرنی قال سمعت نزال بن سبرۃ قال سمعت عبد اللہ یقول.... (صحیح بخاری‘کتاب الخصومات‘ باب ما یذکر فی الأشخاص والخصومۃ)
سنن نسائی کی ایک روایت ہے :
أخبرنی یعقوب بن ابراہیم قال حدثنا یحیی عن حمید عن أنس عن أبی بن کعب قال ..... (سنن نسائی‘کتاب الافتتاح‘باب جامع ما فی القرآن)
اسی طرح سنن نسائی کی ایک اور روایت ہے :
أخبرنی عمرو بن منصور قال حدثنا أبو جعفر بن نفیل قال قرأت علی معقل بن عبید اللہ عن عکرمۃ بن خالد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن أبی بن کعب قال ..... (أیضاً)
اسی طرح کی بیسیوں روایات ایسی ہیں کہ جن سے قرآن کی ایک سے زائد قراء ات کا اثبات ہوتا ہے اور ان کی سند میں امام زہری ؒ موجود نہیں ہیں ‘غامدی صاحب نے اپنی کتاب میں ان روایات پر کوئی تبصرہ نہیں فرمایا‘کیا یہ روایات بھی ان کے نزدیک مردود ہیں ؟اگر ہیں تو کن اصولوں کی روشنی میں؟
اگر غامدی صاحب نے ’سبعۃ احرف‘ کی روایات پر بحث کرنی ہے تو پھر ایک سے زائد قراء ات کے اثبات میں مروی ان تمام روایات کا بھی جواب دیں جن کی سند میں امام زہریؒ موجود نہیں ہیں۔ 

غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف

غامدی صاحب نے اپنی تحقیقات میں بہت سی ایسی احادیث سے استدلال کیا ہے جن کے مرکزی راوی اما م زہری ؒ ہیں۔ ان احادیث میں سے دو کا بطور مثال ہم یہاں ذکر کریں گے:
۱) غامدی صاحب اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں اسلام کے شورائی نظام کا یہ اصول بیان کیا ہے کہ مسلمان اپنے معتمد لیڈروں کی وساطت سے شریک مشورہ ہوں گے۔ اس کے لیے انھوں نے صحیح بخاری کی اس روایت سے استدلال کیا ہے جس کے مطابق غزوہ حنین کے موقع پر جب مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہوازن کے قیدی رہا کرنے کی اجازت دی تو آپ ؐ نے فرمایا کہ : ’انی لا ادری من اذن فیکم ممن لم یأذن فارجعوا حتی یرفع الینا عرفاء کم أمرکم‘ (رقم:۷۱۷۶) ’’میں نہیں جان سکا کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ۔پس تم جاؤ اور اپنے لیڈروں کو بھیجو تا کہ وہ تمہاری رائے سے ہمیں آگاہ کریں ۔‘‘(میزان:ص۱۱۸تا۱۱۹)
اس حدیث کی سند میں بھی وہی راوی یعنی ابن شہاب زہری موجود ہے جس کی روایات کو غامدی صاحب مردود قرار دے چکے ہیں۔ اس حدیث کے اور طرق بھی موجود ہیں لیکن ان میں بھی ابن شہاب ؒ موجود ہیں گویا کہ اس روایت کا انحصار ابن شہابؒ پر ہی ہے۔ غامدی صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا رد کرنے کے لیے اصول تو بنا لیتے ہیں لیکن جب اپنی فکر واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خود بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ 
۲) اسلام کے شورائی نظام کی مذکورہ بحث میں ہی غامدی صاحب نے یہ اصول واضح کرنے کے لیے کہ امامت و سیاست کا منصب ریاست میں موجود مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں سے اس گروہ کا استحقاق قرار پائے گا جسے عام مسلمانوں کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہو، حضرت عمر کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :
من بایع رجلا من غیر مشورۃ المسلمین فلا یبایع ھو ولا الذی بایعہ تغرۃ أن یقتلا (بخاری‘رقم۶۸۳۰)
’’جس شخص نے اہل ایمان کی رائے کے بغیر کسی کی بیعت کی ‘اس کی اور اس سے بیعت لینے والے ‘دونوں کی بیعت نہ کی جائے ۔اس لیے کہ اپنے اس اقدام سے وہ گویا اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں گے ۔‘‘ (میزان: ص۱۲۱‘ ۱۲۴‘ ۱۲۵)
اس روایت کے مرکزی راوی بھی امام زہریؒ ہیں جو کہ ’مدلس‘ او ر ’مدرج‘ ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ’عنعنہ‘ سے روایت کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود غامدی صاحب ان کی روایت کو قبول کر رہے ہیں ‘آخر کس بنیاد پر ؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ غامدی صاحب کی کتاب’ میزان‘کا کوئی ایک باب بھی ایسا نہیں جس میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال نہ کیا ہو۔ غامدی صاحب کی کتاب میزان (مطبوعہ ۲۰۰۲) درج ذیل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے:
۱) قانون سیاست : اسلام کے شورائی نظام کے اصول و مبادی بیان کرتے ہوئے اس باب میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال کیا ہے۔ میزان:ص۱۲۴‘بخاری : ۶۸۳۰اور ص۱۱۸‘بخاری :۲۱۷۶ ملاحظہ فرمائیں ۔
۲) قانون معیشت : اسلامی شریعت میں بیع کی ناجائزاقسام کا تعارف کرواتے ہوئے اس باب میں غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایات سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان: ص۱۴۷ ‘بخاری :۲۱۳۱اور بخاری :۲۱۴۰۔ علاوہ ازیں ص۱۷۱‘بخاری :۶۴۶۷بھی دیکھیں ۔
۳) قانون دعوت: اس باب میں غامدی صاحب نے چند دعوتی اصول بیان کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان :ص۲۲۴‘بخاری :۲۲۰۔
۴) قانون جہاد: غامدی صاحب نے اس باب میں قتال کا اجر وثواب بیان کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ملاحظہ ہومیزان:ص۲۵۴‘بخاری :۲۷۸۷۔
۵) حدودو تعزیرات: حدود و تعزیرات کے بیان میں غامدی صاحب نے قتل خطا کے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے امام زہری ؒ کی ایک روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان:ص۲۹۷‘بخاری: ۱۴۹۹ ۔
۶) خورونوش: اس باب میں غامدی صاحب نے مردار کی کھال وغیرہ سے نفع اٹھانے کو جائز قرار دیتے ہوئے امام زہریؒ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہومیزان:ص۳۲۰‘مسلم:۳۶۳۔
۷) رسوم وآداب: دین اسلام میں رسوم وآدا ب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے غامدی صاحب نے امام زہری کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہومیزان:ص۳۲۵‘مسلم:۲۵۷۔
۸) قسم اور کفارہ قسم: اس باب میں نذر کا کفارہ بیان کرتے ہوئے غامدی صاحب نے امام زہریؒ کی روایت سے استدلال کیاہے۔ملاحظہ ہومیزان؛ص۳۳۷‘ابوداؤد:۳۲۹۰۔
ثابت ہوا کہ غامدی صاحب کی کتاب کے ہر باب کی بنیاد امام زہریؒ کی روایات پر ہے جو ان کے بقول مدلس اور مدرج ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ اس اعتبار سے ہم غامدی صاحب سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ واضح کریں کہ ایسے ’مدلس‘اور ’مدرج‘راوی کی بیان کردہ روایات کی بنیاد پر قائم ان کے تصور دین کی اصل حقیقت کیا ہے؟ 
سچ تو یہ ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک کسی حدیث کو قبول کرنے یا رد کرنے کی اصل بنیاد اصول حدیث نہیں بلکہ ان کی اپنی فکر ہے۔ جس حدیث سے ان کے افکار و نظریات کی تائید ہوتی ہو، وہ ان کے نزدیک صحیح ہے اور جو حدیث ان کے مؤقف کے خلاف ہو، وہ مردودہے ۔ہماری گزارش تو صرف اتنی ہے کہ اگر غامدی صاحب اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی پاسداری کر لیں تو شاید اہل سنت کی شاہراہ کے بہت قریب آ جائیں۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
گرامی قدر جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیکم 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!
ماہنامہ الشریعہ باقاعدگی سے اعزازی طور پر موصول ہوتا ہے جس کے لیے سراپاسپاس ہوں۔ گزشتہ چند شماروں میں دور حاضر میں اجتہاد کی ضرورت پر ایک انتہائی وقیع بحث کا آغاز ہوا تھا، لیکن یہ بحث بتد ریج جدلیاتی اور طنزیہ رخ اختیار کرتی ہوئی شخصیات کی آرا کی توضیح وتشریح پر ختم ہو گئی۔ مجھے قوی امید تھی کہ اس علمی موضوع پر گراں قدر، تحقیقی اور فکر ودانش سے بھرپور مقالات آئیں گے جن سے استفادہ کا موقع ملے گا لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔
کبھی کبھی مجھے ایسا احساس ہونے لگتا ہے، جو ممکن ہے غلط ہو، کہ ماہنامہ الشریعہ جس قدر اہم، وقیع، علمی اور تحقیقی مجلہ ہے، اس کے معیار، مقام، اثرات، اور محبوبیت کا کار پردازانِ الشریعہ کو کماحقہ علم یا احساس نہیں جس کی وجہ سے اس میں بعض دفعہ متوقع معیار برقرار نہیں رہتا۔ ممکن ہے میری توقعات کی خامی ہو۔
دور حاضر میں اجتہاد کی ضرورت کے عنوان پر میرا خیال تھا کہ :
۱۔ یہ نقطہ نظر اب از کار رفتہ ہو چکا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔غالباً عملی طور پر اسلامی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا بھی نہیں بلکہ جس درجے کے اجتہاد کی جس وقت اور جن مسائل میں ضرورت پیش آئی، اسلامی قانون کے ماہرین نے امت مسلمہ کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ حیرت انگیزبات یہ ہے کہ ماضی قریب کے وہ علما جو بہت شدت سے تقلیدکی تلقین کرتے نظر آتے ہیں، اپنی علمی تالیفات میں کسی نہ کسی درجے میں اجتہاد کے ذریعے مسائل کا حل پیش کرتے رہے ہیں۔ غالباً ان اساطین امت کے پیش نظر امت کی بھلائی کا یہ پہلو تھا کہ عام مسلمانوں کے لیے ائمہ فقہ کی متعین کردہ شاہراہ کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائے تا کہ معاشرہ مذہبی بدنظمی کا شکار نہ ہو جائے اور نئے پیش آمدہ مسائل میں امت کی رہنمائی کی جائے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ اور مفتی محمدشفیع عثمانیؒ کی تالیفات سے اس کی بکثرت مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ارتداد کا دروازہ بند کرنے کے لیے علامہ محمد اقبال ؒ کی کاوش اور اس حوالے سے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ’’حیلہ ناجزہ‘‘ علمی حلقوں میں معروف ہے۔
۲۔ترجیح اقوال یا مختلف فقہی مذاہب میں سے ’’ایسر المذاہب‘‘ کے اختیار میں عرب علما نے بہت پیش رفت کی ہے بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ایسے تمام مسائل میں جن میں نصوص سے متعین رہنمائی نہیں ملتی اور ان پر ائمہ مذاہب کی تحقیقات موجود نہیں ہیں، عرب ممالک میں موجود فقہی تحقیقات کے اداروں نے اجتہاد کے عام اصول مثلاً مصلحت عامہ، استحسان، مصالح مرسلہ اورمقاصد شریعہ کے تحت اجتہادات کیے ہیں۔ ان اجتہادات سے دوسرے متوازی اجتہادات کے ذریعے اختلافات بھی کیے گئے ہیں جن کی تفصیل مختلف فقہی مو ضوعات پر تحریر کی گئی عرب علما کی تالیفات میں دست یاب ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کے نتیجے میں اسلامی ادبیات فقہ کی لائبریری میں تازہ ہوا کا جھونکا داخل نہیں ہو سکا، البتہ یہ بات درست ہے کہ مذکورہ اجتہادات اصول اور قواعد کے دائر ہ کا ر میں رہتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
میرے خیال میں اجتہاد پر بحث کے آغاز میں بحث کی حدود اور دائرہ کا ر متعین کرنا ضروری تھا اور چند بنیادی سوالات طے کر لیے جانے چاہیے تھے، مثلاً:
۱۔ کیا اجتہاد کے ذریعے نص کے حکم شرعی کو منسوخ یا معطل کیا جا سکتا ہے؟
۲۔ اگر نہیں تو کیا غیر منصوص مسائل میں نصوص کی روشنی میں اجتہاد کی راہ تراشی جائے گی یا آزادانہ اجتہاد کا طرز عمل اختیار کیا جائے گا؟
۳۔ اس سلسلے میں حضرت معاذ بن جبلؓ کی مشہور حدیث میں ’ولا آلو جہداً‘ کا کیا مطلب ہے؟ کیا ا س سے قانونی دانش کا آزادانہ استعمال مراد ہے؟
۴۔ قواعد فقہیہ یا اصول کلیہ جو اجتہاد کے طے شدہ سانچے ہیں اور ریاضیاتی کلیات کی طرح ہیں، کیا وہ قواعد واصول غلط ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ متبادل درست کلیات دریافت کیے جائیں گے یا انہیں سانچوں کو برقرار رکھا جائے گا؟
۵۔ اگرچہ دور حاضر میں وسائل اجتہاد کی فراہمی ماضی کی بہ نسبت آسان ہو گئی ہے تاہم کثیر الجہاتی مسائل کے حل میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی شرکت سے شورائی اجتہاد کی راہ اختیار کرنے کا طریق کا رکیا ہوگا؟ جب کہ معاشی مسائل پر کیے گئے اجتہادات کے بارے میں عرب علما کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کے بینکر ز اور ماہرین معاشیات نے علما کو نامکمل معلومات فراہم کر کے سودی نظام کو مشرف باسلام کر والیا ہے۔
میری گزارشات کا ماحصل یہ ہے کہ :
۱۔ طے شدہ مسائل اگر کو ئی عملی مشکل پیدا نہیں کر رہے تو ان کی از سرنو سرجری کی ضرورت نہیں ہے۔
۲۔ اجتہادی کا وشوں کو نصوص اور قواعد کلیہ کے دائرہ کا ر میں رکھنا ضروری ہے۔ مکمل آزادانہ اجتہاد کو نہ تو قبولیت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اسے اسلامی قوانین کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
۳۔ شوق اجتہاد میں یہ امر ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ انسان کی علمی محدودیت اس سے کوئی ایسا فیصلہ نہ کر وا دے جو انسانیت کی تباہی پر منتج ہو اور دوسری طرف پہیا دوبارہ ایجاد کرنا ایک بے مصرف عمل ہے۔
۴۔ حقیقی مسائل کے حل کے لیے اجتہادی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے جو سرکاری اثرات سے آزاد، گروہی، فرقی اور مسلکی تعصبات سے ماورا، امت مسلمہ کے علمی اور تحقیقی اثاثے کے قدردان اور عقیدت وتحقیق میں توازن قائم کرنے کے حامل ہوں۔
انڈیا میں مولانا مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم کا ادارہ اس سلسلے میں خاصا متحرک رہا اور اس نے عرب اداروں میں ہونے والی تحقیقات سے بھی برصغیر کے اہل علم کو آگاہ کیا۔ کیا پاکستان میں الشریعہ کے مدیر اعلیٰ اور الشریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر اس طرف توجہ فرما کر ممنون فرمائیں گے ؟
(ڈاکٹر) محمد طفیل ہاشمی
مکان نمبر۱۰۴،سٹریٹ ۱۰،
گلشن خداداد، E-11/1، اسلام آباد 
(۲)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔ 
مئی کے شمارے میں جناب چوہدری محمد یوسف صاحب کا فکر انگیز مضمون پڑھا۔ چوہدری صاحب نے یقیناًکئی اہم نکات اٹھائے ہیں اور پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے کئی مسلم اور غیر مسلم ججوں کے فیصلوں اور کردار کے متعلق اظہارِ رائے کیا ہے ۔ یہ موضوع اگرچہ حساس اور تفصیل طلب ہے ، تاہم میں مختصراً چند ہی نکات پیش کرنے پر اکتفا کروں گا ۔ 
۱ ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کئی غیر مسلم ججوں، اور بالخصوص جسٹس کارنیلیس نے قانون کی بالادستی یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی بحرانوں میں بعض مسلمان ججوں کا کردار قابل تعریف نہیں رہا۔ لیکن اس سے مسئلۂ زیر بحث پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا پاکستان میں مسلمان ججوں کا ریکارڈ اچھا رہا ہے یا غیر مسلم ججوں کا؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی قانون کی رو سے غیر مسلم جج، جو نہایت ہی اعلیٰ کردار کا حامل ہو ، عدلیہ کا سربراہ ہو سکتا ہے؟ قانونی فقہی اصطلاح میں، کیا غیر مسلم جج کو مسلمانوں کے مقدمات، بالخصوص قصاص، حدود اور قرآن و سنت کی تعبیر کے معاملات میں ولایت عامہ حاصل ہے؟ پاکستان کا دستور صریح الفاظ میں خواہ اس بات سے نہ روکتا ہو، لیکن آخر دفعہ ۲ (الف) بھی تو دستور کا حصہ ہے جس کے تحت قرار داد مقاصد کو دستور کا عملی حصہ بنادیا گیا ہے، اور قرارداد مقاصد میں طے کیا گیا ہے کہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور حکومت کے پاس جو اختیار ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب نے حاکم خان کیس کے فیصلے کی بنا پر جسٹس نسیم حسن شاہ کو ’’آئینی ارتداد‘‘ کا مرتکب قرار دیا ہے کیونکہ اس فیصلے میں قرداد مقاصد کی بالادستی، یا بہ الفاظ دیگر اسلامی شریعت کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کیاگیا تھا۔ حاکم خان کیس کا فیصلہ میرے نزدیک بھی ایک نہایت غلط فیصلہ تھا، لیکن اس فیصلے میں کم از کم ایک حقیقت کا تو اعتراف کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ آئین کی دفعہ ۲ (الف) اور دفعہ ۴۵ میں تصادم ہے، البتہ کہا گیا کہ اس تصادم کو پارلیمنٹ ہی دور کرسکتی ہے ۔ 
۲ ۔ چوہدری صاحب نے، معلوم نہیں کیوں ، ’’فقہ‘‘ کو طنز و تشنیع کا ہدف بنادیا ہے، حالانکہ وہ خود قانون دان ہیں اور ایک قانونی اصول ہی کی بالادستی کے لیے دیگر وکلا کے ساتھ جدوجہد کررہے ہیں۔ اگر وہ خود اپنی ’’فقہِ قانون ‘‘ یا ’’فقہِ دستور‘‘ کے ایک جزئیے کے نفاذ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں تو پھر ’’فقہِ شریعت ‘‘ کے ایک اہم جزئیے کے نفاذ کے لیے آواز بلند کرنے پر اعتراض چہ معنی دارد؟ 
۳ ۔ غیر مسلم ججوں، بالخصوص جسٹس کارنیلیس، نے اسلامی قانون کی تعبیر میں اہم کردار ادا کیا ہوگا، لیکن کیا اسے اصطلاحاً اجتہاد کہا جا سکتا ہے؟ قانونی اصطلاح کا یوں غیر محتاط استعمال ایک قانون دان کو زیب نہیں دیتا ۔ 
۴۔ چوہدری صاحب نے حسبہ بل کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی ضمناً تنقید کا نشانہ بنایا ہے، حالانکہ میری ناقص رائے میں اس بل کے متعلق سپریم کورٹ کے دونوں فیصلے درست تھے۔ محض اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے کوئی چیز اسلامی نہیں ہو جاتی، نہ ہی کسی قانون کے مطابقِ اسلام ہونے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ اسے مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے منظور کروایا ہے۔ 
تلخ نوائی کے لیے معافی کا خواستگار ہوں ۔ 
محمد مشتاق احمد 
لیکچرر ، شعبۂ قانون ، کلیۂ شریعہ و قانون 
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 
(۳)
برادرم محترم حافظ عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ مئی ۲۰۰۷ میں جناب محمد سعد صدیقی صاحب کا مضمون بعنوان ’’سنت کی دستوری وآئینی حیثیت‘‘ پڑھا۔ اس سے متعلق چند باتیں جو دوران مطالعہ ذہن میں آئیں، قارئین کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ میں دین سیکھنے کا شوق رکھتاہوں او رقرآن مجید کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں، امید ہے آپ راہ نمائی فرماتے رہیں گے۔
محترم ڈاکٹر صاحب نے پورے مضمون یا خطاب میں قرآن مجید سے استشہاد نہیں کیاجو بہت ہی حیرانی کی بات ہے اور سنت کی حیثیت کو متعین کرنے کے لیے علامہ آمدی کی رائے نقل کردی ہے۔میر ی نا چیز رائے میں یہ رائے کمزور ہے۔سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ قرآن اس کی تائید نہیں کرتا۔ دوسرے، خود علما ہی ایسی تعریف کرگئے ہیں جو مطابق قرآن ہے۔اس معاملہ میں اما م اہل سنت عبدالشکو ر لکھنوی کی یازدہ نجوم اور تاریخی مضامین، مولا نا سید سلیما ن ندوی کا مقالہ ’سنت‘ ،حنیف ندوی کی کتاب ’عقلیات ابن تیمیہ‘ تو قابل ذکر ہیں ہی، خود امام شاطبی کی رائے اس قابل ہے کہ نقل کی جائے: ’’سنت اپنے مضمون میں کتا ب کی طرف راجع ہوتی ہے اور وہ قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل (اس کی مثال میں نما زپیش کی ہے کہ ’اقیموا الصلوۃ‘ مجمل ہے اور سنت اس کی تفصیل بتاتی ہے)، اس کی مشکل کی وضاحت اور مختصرکی تفصیل ہے۔ یہ اس لیے کہ حدیث قرآن کا بیان ہے او راس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم‘ (النحل، ۶۴) لہٰذا سنت میں کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی جس کی اجمالی یا تفصیلی دلالت قرآن کریم میں نہ ہو۔ قرآن میں ہے: ’وانک لعلی خلق عظیم‘ او رسید ہ عائشہ ؒ نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ آپ کا خلق قرآن ہے او ر آپ کے خلق کو اسی پر محدو دکیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا قول، فعل ا ور تقریر سب کچھ قرآ ن کی طرف راجع ہے۔ (الموافقات ۴: ۲۴تا۲۷) آپ بہت ذی علم ہیں۔ یقیناً’’الموافقات ‘‘آپ نے پڑھ رکھی ہوگی۔ یہ ساری بحث پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ عصر حاضر کے نامورعالم دین ڈاکٹرالطاف احمد اعظمی نے اپنی کتا ب ’’خطبات اقبا ل پر ایک تبصرہ‘‘ میں یہی نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
محترم ڈاکٹرصاحب نے ایک صحابی یا تابعی کے حوالے سے جو جملہ لکھا ہے، ہم جیسے محبین قرآن مجید کے لیے اسے ہضم کرنا سخت مشکل ہے کہ قرآن کے کسی حکم پر تو ’لم‘ اور ’کیف‘ کا سوال پید ا ہوسکتاہے، مگر سنت پر نہیں ۔اے کاش !ہم قرآن کریم کے مقام سے آگاہ ہوجا ئیں۔ الطارق:۱۳، آل عمر ان:۴، الانعام: ۱۱۴ و۱۵۵، الاعراف:۲، ہود:۱، وغیرہ بے شمار آیات صاف بتا رہی ہیں کہ یہ قول کسی صحابی یا تابعی کا نہیں بلکہ کسی دشمن قرآن نے گھڑ کر مشہور کیاہے۔ جب واضعین حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا کرنے سے نہ چوکے تو صحابہ کو کیسے معاف کر سکتے ہیں۔ یہ قول بھی اسی قبیل سے ہے جس میں حضرت علی پر افتر اکیا گیا ہے کہ ابن عباس کو حکم فرمایا کہ خوارج سے مناظرہ میں قرآن کی بجائے سنت سے استدلا ل کریں کیونکہ قرآن کے کئی پہلو ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن میں ہے کہ ’انہ لقول فصل ‘۔
آخر میں عرض ہے کہ الشیخ الاستاذ السید محمد علی کاندھلوی نے اپنی بے نظیر اور منفر د تفسیر ’معالم القرآ ن‘ میں بھر پور طور پر دین کا ماخذ قرآ ن کو اور شارع صرف اللہ تعالیٰ کو بتایاہے۔ میری ناچیز رائے میں حق یہی ہے کہ قرآن سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
محمد امتیاز عثمانی
امتیا ز پائپ سٹور، I-I 153,154
سردار عالم خان روڈ، راولپنڈی 
(۴)
محترم جناب مولانا زاہدالراشدی، حفظہ اللہ ورعاہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔
باعث تحریر آنکہ بندہ کا گزشتہ کئی سالوں سے الشریعہ کے ساتھ ایک قاری کی حیثیت سے تعلق ہے۔ شمارہ اپریل ۲۰۰۷ سے ہمیں اچھی طرح اس کی قیمت ادا کرنی پڑی ہے کہ دو ناقابل تسخیر اور بلند قامت شخصیات کے درمیان کچے کھانے کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ہمارے بہت سے قس بن ساعدہ، زیاد بن ابی سفیان قسم کے خطبا گہری خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ اجتہاد وتقلید، طلاق ثلاثہ اور تبلیغی جماعت وغیرہ کے موضوعات پر کوئی بھی اختلافی بیان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور رگ مذہبیت پھڑک اٹھتی ہے۔ ان عظیم شخصیات میں سے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی جیسے عمل کی حد تک حنفی بھی خاموش دکھائی دیتے ہیں جو سلفیت کو سفلیت کانام دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے اور آداب تحریر بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ پر حق تولیت کے موضوع پر حصہ لینے میں صرف جناب عطاء اللہ صدیقی، (محدث، نومبر، دسمبر ۲۰۰۳) حافظ محمد زبیر (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷ ) اور جناب حسن مدنی ( محدث، مارچ، اپریل ۲۰۰۷) ہی میدان میں کیوں ؟ ہمارے خیال میں ان حضرات گرامی قدر نے عقلی و نقلی، معروضی حقائق، تاریخی واقعات وغیرہ دلائل سے ثابت کیا کہ مسجد اقصیٰ کا تمام احاطہ مسلمانوں کا ہے اور حق تولیت صرف انہیں کا ہے۔ یہود کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شرارتوں اور نالائقی کی وجہ سے امامت و سیادت کے منصب سے تحویل قبلہ کے ذریعے معزول کر دیا۔
جناب عمار صاحب نے فرمایا ہے کہ :
۱۔ قرآن و سنت کی رو سے کسی مذہبی گروہ کو اس کے قبلہ اور مرکز عبادت کی تولیت سے محروم کرنے کا معاملہ ایک واضح نص کا متقاضی ہے۔ اس کے بغیر محض عقلی استدلال کی بنیاد پر کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ (الشریعہ، ستمبر اکتوبر ۲۰۰۳)
۲۔ اثریاتی تحقیق کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے کوئی آثار دریافت نہیں ہو سکے۔ خود فلسطین کے مسلم راہ نما، اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے سے قبل تک ان حقائق کو تسلیم کرتے رہے ہیں اور انہیں جھٹلانے کی جسارت کبھی نہیں کی ۔(الشریعہ، مارچ ۲۰۰۷)
۳۔ عالم عرب کا اجماعی موقف، متعدد اکابر علماے دین و مفتیان شرع متین کی تائید و نصرت، مسلم اور عرب میڈیا کا تسلسل کے ساتھ اسے دہرانا کتمان حق اور تکذیب آیات الٰہیہ کے زمرے میں آتا ہے۔ (ایضاً، ص۳۰)
۴۔ اصل مسجد اقصیٰ، ہیکل سلیمانی ہی ہے مگر اس کا محل وقوع معلوم نہیں۔ اس وقت مسلمان جس مسجد کو مسجد اقصیٰ کہتے ہیں، وہ اس جگہ پر ہے جہاں سیدنا عمر نے نماز پڑھی تھی۔ (الشریعہ، مارچ، اپریل ۲۰۰۷) اور موجودہ مسجد اقصیٰ، قرآن مجید کی ذکر کردہ مسجد اقصیٰ کی اصل عمارت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود توسیعی طور پر مسجد ہی کے حکم میں ہے۔ اس میں نماز کی وہی فضیلت ہے جو صحیح احادیث سے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ثابت ہے۔ (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۷) 
۵۔ مخالف کی ساری باتیں اور دلائل اصل ہدف پر صادق نہیں آتے۔
جناب والا! جہاں تک ہم نے دونوں فریقوں کے نقطہ ہائے نظر اور ایک دوسرے کی تردید میں دلائل پڑھے ہیں، ان کی روشنی میں ہمیں پہلے جو کچھ اشکال تھا، وہ بھی ختم ہو گیا اور یقین ہو گیا کہ مسجد اقصیٰ صرف اور صرف مسلمانوں کی ہے ۔ یہود کا اس میں کوئی حق نہیں۔ جمہور مقالہ نگاروں نے قرآن و حدیث اور ان دونوں سے ماخوذ اجتہادات، عقلی دلائل، تمام مسلمانوں کے اتفاق و دیگر حقائق کی روشنی میں اسی چیز کو ثابت کر دیا ہے۔ ان حضرات نے عمار صاحب کے ایک ایک نقطہ نظر اور شبہات کی تردید فرمائی ہے۔ کم از کم ہمارے لیے اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں کہ محترم عمار صاحب کا موقف غلط ہے اور ان کے دلائل کمزور ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ موصوف کی خوبی ہے کہ وہ کسی بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کبھی اپنی ہار نہیں مانتے۔ مثلاً دیکھیے کہ آپ اور آپ کے ہم نوا عقل اور فہم کا خوب ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود یہاں بڑے دھڑلے کے ساتھ فرماتے ہیں کہ محض عقلی استدلال کی بنیادپر کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا، حالانکہ عقل و قیاس تو ہمارے دین کے مآخذ اربعہ میں سے ایک ہے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ کتاب و سنت سے متصادم نہ ہو۔ ہمیں تو خود عمار صاحب کے بیان کردہ دلائل سے مسلمانوں کے اجماعی موقف کی تائید ملی۔ آپ اندازہ کریں کہ اگر اثریاتی تحقیق کے نتیجہ میں مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے آثار دریافت نہیں ہوئے تو عمار صاحب! آپ ناراض کیوں ہیں؟ یہود کا زور اسی پر ہے کہ اس کے نیچے آثار ثابت کریں اور مسجد کوگرائیں۔ مگر الحمد للہ وہ ناکام ہو چکے۔ یہ ناکامی خود مسلمانوں کی کامیابی ہے۔ یہودیوں کو کوئی شواہد نہ ملنے سے سبحان اللہ مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟ فرض کریں اگر یہودیوں کو کوئی آثار ملے تو عمار صاحب آپ کا موقف کیا ہو گا؟ مجھے یقین ہے پھر تو یہودی جشن منائیں گے اور آپ کہیں گے کہ ہیکل کے نشانات مل گئے۔ میرے خیال میں اس امر کو کوئی بھی بندہ سمجھ سکتا ہے۔ آپ جیسے دانشوروں سے حقیقت مخفی نہیں ۔ 
نہلے پہ دہلا یہ کہ خود فلسطین کے مسلم راہنماؤں نے اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر قبضہ سے قبل تک ان حقائق کو جھٹلانے کی جسارت کبھی نہیں کی۔(الشریعہ، مارچ ۲۰۰۷) سوال یہ ہے کہ یہ تسلیم و اذعان کہاں ہے؟ نیز کوئی فریق یا مالک مکان اس وقت تک مکان کی ملکیت کے دلائل جمع نہیں کرتا جب تک کوئی منکر فریق سامنے نہ آئے۔ کیا آپ اپنے مکان پر کسی کے دعویٰ کرنے سے قبل عدالت میں وکیل کھڑا کرکے اپنی ملکیت کے دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں؟ منحوس حکومت اسرائیل کے وجود سے قبل مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ پر اپنا حق تولیت ثابت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ۔ اسی طرح جس طرح اگر آپ آب صافی میں پتھر پھینک کر ابال نہ لاتے تو پیشگی طور پر حسن مدنی وغیرہ کو اتنے دلائل لانے اور تردید کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ویسے انہوں نے یا کسی مقالہ نگار نے مسلمانوں کے حق تولیت میں دلائل دیے تھے تو یہودیوں کے خلاف دیے تھے، مگر ناراضگی آپ نے مول لی ۔ فیاللعجب العجاب۔
آپ جانتے اور تسلیم کرتے ہوں گے کہ لفظ ’مسجد‘ مسلمانوں کے لیے جبکہ بیعۃ، کنیسہ، معبد وغیرہ اصطلاحات یہود و نصاریٰ کے لیے ہیں۔ قرآن بھی ’المسجد الاقصٰی‘ اور حدیث بھی ’المسجد الاقصٰی‘  کہتی ہے۔ ساری امت بھی مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار مسلمانوں کو ہی سمجھتی ہے، تو آخر آپ کو اور کیا چاہیے؟ فماذا بعد الحق الا الضلال۔ آپ کو سارا اصرار اجماع و اتفاق کو توڑنے میں ہے اور شاذ و خلاف اجماع معمولی سی باتوں میں بڑا مزہ آتا ہے۔ آپ جیسی فہم و فراست سے اللہ تعالیٰ ہی ہمیں بچائے۔ ہمیں ہماری اپنی حالیہ ناسمجھی پر کفایت ہے۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدیٰ ویتبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولیٰ ...
جہاں تک حسن مدنی صاحب کا تعلق ہے کہ انہوں نے لکھا کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بہت سے حصے خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کی کوئی شرعی فضیلت نہیں۔۔۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبہ صخرہ پر کو ئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر دے رہے ہیں (محدث، مارچ۲۰۰۷) تو واقعی بظاہر اس عبارت سے تسلیم واذعان کی تصویر دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے بعد مدنی صاحب نے کئی مضامین کے ذریعے اس کی وضاحت کر دی کہ میرا مدعا ہرگز وہ نہیں ہے جو عمار صاحب نے اخذ کیا ہے بلکہ یہ تو یہود کے لیے ایک الزامی اور علیٰ سبیل التنزل للخصم کے طور پر ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین‘ ۔ اسی طرح ’قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین‘ وغیرہ قرآنی ونبوی نصوص ہیں اور روز مرہ کے محاورے ہیں۔ یہ طریقہ غیر معروف نہیں ہے۔ بہرطور ہر صاحب متن اپنی بات کو دوسروں سے بہتر سمجھ سکتا ہے ۔اھل مکۃ ادریٰ بشعابھا یا اھل البیت ادریٰ بما فیہ۔
عمار صاحب بھی احاطہ ہیکل کے اندر کے کسی حصے کو یقینی طور پر اس کی بنیاد معلوم نہ ہونے کے باوجود مسجد اقصیٰ قرار دیتے ہیں، نیز حالیہ مسجد کو توسیعی طور پر مسجد اقصیٰ ہی کی فضیلت دے چکے ہیں تو ہمارے خیال میں آپ بھی امت کے اجماعی موقف میں لاشعوری طور پر شریک ہیں۔ اگر یہ مسجد ہماری نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں کیوں لے گئے؟ کیا یہودیوں کے مخصو ص مرکز عبادت میں مسلمانوں کے لیے نماز پڑھنے کو افضل قرار دینا اس صورت میں کچھ وزن رکھتا ہے کہ یہ مرکز عبادت خود مسلمانوں کی اپنی ملکیت نہ ہو؟ کیا اس بات کو تسلیم کرنے کے بعد یہودی مسلمانوں کو اس میں گھسنے دیں گے؟ اگر یہودی اپنے دعویٰ میں حق بجانب ہیں تو کہیں ہمیں بھی اقامت ہیکل کی فنڈنگ مہم میں تو حصہ نہیں لینا پڑے گا؟ 
اذا کنت لا تدری فتلک مصیبۃ
وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم
عمار وہم نوا کے اصول ونظریہ کے مطابق آج اگر وشوا ہندوپریشد ودیگر تنظیمیں بابری مسجد ودیگر مساجد کو اس بنیاد پر گرا دیں کہ یہاں ہمارے رام پیدا ہوئے تھے اور بفرض محال کوئی کافر کعبہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لیے آئے کہ یہاں کسی زمانے میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ کا راج تھا تو شاید مسلمانوں کے مزاحمت کرنے کو عمار صاحب تکذیب آیات اللہ قرار دیں گے۔
چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی
آخرکعبہ بھی تو جناب ابراہیم علیہ السلام نے بنایاہے۔ کیا ان کی اولاد صرف مسلمان ہی ہیں؟ کیا مسلمانوں ہی کے نزدیک وہ محترم شخصیت ہیں یا یہود ونصاریٰ کے ہاں بھی محترم شخصیت ہیں؟ اگر وہ بھی کعبہ پر دعویٰ کریں تو عمار صاحب کیا فرمائیں گے؟ کیا عمار صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ بیک وقت پوری امت گمراہی پر ہو اور صرف ایک شخص غیر نبی حق پر ہو؟ لاتجتمع امتی علی ضلالۃ۔
خطوط و مراسلات سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جناب حسن مدنی صاحب ودیگر ہم نوا آداب اختلاف کو سمجھتے ہیں اور زبان سے کوئی وقار کے منافی بات نہیں نکالتے، مگر عمار صاحب ودیگر اشراقی اپنے مؤدب ہونے کے دعویٰ کے باوجود اختلافی بات یا رائے سننے پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور اپنے دعوے کو خود توڑ ڈالتے ہیں۔ الشریعہ کے شمارے خصوصاًشمارہ اپریل اس کے گواہ ہیں۔ یہ حضرات اور ان کا نمائندہ لٹریچر صرف اپنے آپ کو مہذب، فاضل، عالم اور مدبر جبکہ پوری امت کو جاہل، نادان اور ناسمجھ قرار دیتے ہیں اور ان پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے ہیں۔ روایت پسند، قدامت پسند وغیرہ کے الفاظ زبان زد ہیں۔ احادیث نبویہ کے سرمایہ اور اقوال سلف کو خس وخاشاک کے ڈھیر، اختلاف وافتراق کا شاخسانہ اور من گھڑت قرار دینا کوئی نئی اور غیر معروف بات نہیں رہی۔ اس کی مثالیں ماہنامہ طلوع اسلام، اشراق اور ظفر اقبال خان کے ’اسلامائزیشن‘ میں مل جاتی ہیں۔ ہاں قرآن کریم کی آیات کا سہارا تحریف وتاویل کے بعد بھی نایاب ہو جائے تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ احادیث کا سہار الیتے ہیں بلکہ فقہا وسلف کے غیر معروف اقوال اور ضعیف احادیث تک اپنے مطلب کے لیے پیش کردیتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں راہ ہدایت پر استقامت دے اور امت کے ذہین وفطین حضرات کو شاذ آرا واقوال پر ڈٹ جانے کی بجائے صحیح فہم وفراست سے نوازے۔ انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء۔
رحیم اللہ وارثی
غواڑی، بلتستان ،شمالی علاقہ جات 
(۵)
محترم حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب مدظلہ العالی 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
حضرت والا! راقم الحروف کا آپ کے ساتھ خاندانی تعلق حضرت والد صاحب ؒ اور حضرت امام اہل سنت مدظلہ العالی سے شروع ہوا اور الحمدﷲ آج تک ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ العزیز میدان حشر میں بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ راقم ذاتی طور پر ۱۹۷۲ء سے آپ کے مضامین کا قاری اور ارشادات کا سامع ہے اور آپ ہی کی جہد اور محنت سے ہم لوگ مذہبی، سیاسی اور نظریاتی طور پر راہ سعادت پر گامزن ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حسن خاتمہ کی درخواست کرتے ہیں اور قبولیت کی امید بھی رکھتے ہیں ۔
جناب والا! میں اس خط کی وساطت سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘، جس کا میں روز اول سے قاری ہوں، اس کے متعلق کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ پاک وہند میں الحمد ﷲ بہت سے دینی جرائد طبع ہو رہے ہیں۔ ان کا اپنا ایک حلقہ ہوتا ہے اور وہ اپنے حلقہ متعلقین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ’’الشریعہ ‘‘کے اجرا کا مقصد بھی یہی ہے اور اس کے قارئین بھی اسی نظریے سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔آپ نے اس کو ایک فورم قرار دیا ہے اور آپ اس کے سر ورق پر تحریر فرماتے ہیں کہ مضمون نگار حضرات کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں ہے۔ا س سلسلے میں میرا سوال یہ ہے کہ جس مضمون سے آپ کا اتفاق نہیں ہے، اس کی اشاعت کی کیا ضرورت ہے اور اپنے حلقہ احباب تک اس کو پہنچانے کا کیا داعیہ ہے؟ ’الشریعہ‘ نام، حضرت والا کی ذات، امام اہل سنت کا خاندان اور پھر ہر رطب ویابس کی اشاعت چہ معنی دارد؟ اگست۲۰۰۶ء سے مئی ۲۰۰۷ء تک کے شماروں کو اجمالی نظر سے دیکھیں تو نقشہ کچھ اس طرح ہے :
ان شماروں میں عالمی تبلیغی جماعت نشانہ بنی رہی اور دور تک بات گئی اور بالآخر متعدد بزرگوں نے ناکردہ گناہوں کی تحریری معافیاں مانگیں اور برادر محترم محمد صفوان صاحب کے مضمون نے ان کی مہم کو ختم کیا۔ پھر انہی شماروں میں سے ایک میں میرے اور آپ کے دادا استاد حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مد نی ؒ نشانہ بنے۔ پھر ان شماروں میں سے ایک میں موجودہ حکومت کو خوش اور مطمئن کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ایک مضمون شائع کیا گیا۔ ایک ایسا شخص جس نے ساری گزری ہوئی زندگی ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے مطالعہ میں گزاری، جب اس نے ترجمان کے ایک مضمون کے جواب میں مضمو ن لکھا تو انہوں نے اس کو شائع نہیں کیا، اس کو بھی ’الشریعہ‘ میں جگہ ملی۔ صورت حال یہاں تک پہنچی کہ ایک قاری نے لکھا کہ ’’الشریعہ ‘‘ایک پلیٹ فارم ہے، مگرفرق یہ ہے کہ پلیٹ فارم پر لکھا ہوتا ہے کہ یہاں تھوکنا منع ہے، مگر اس پلیٹ فارم پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں تھوکا جائے۔ بے شمار لوگ جناب کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایک لکھنے والے کو خوش کرنے کے لیے آپ اس کا لکھا ہوا شائع کر دیتے ہیں مگر یہ احساس نہیں کیا جاتا کہ ہم جیسے کتنے ہی لوگ جو آپ کے خوشہ چین ہیں اور آپ کے ساتھ اور آپ کے خاندان کے ساتھ گہری محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، ہمارے جذبات کس قدر مجروح ہوتے ہیں۔ اس لیے اس سلسلے پر نظر ثانی کی جائے۔ 
مئی ۲۰۰۷ء کے شمارے میں چوہدری محمد یوسف صاحب کا مضمون انتہائی گھٹیا ہے جس میں انہوں نے آپ کو تنقید کا نشانہ اس طرح بنایا ہے کہ گویا ’’الشریعہ‘‘ ان کی ذاتی ملکیت ہے اور آپ ان کے ذاتی ملازم ہیں اور غالباً آپ نے ان کی مرضی کے خلاف لکھ دیا ہے۔ پھر انہوں نے مسلم پر غیر مسلم کو ترجیح دینے کی بھرپور محنت کی ہے۔ اسی مضمون میں انہوں نے فقہ حنفی کے ائمہ مجتہدین حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اور حضرت امام ابو یوسف قاضی ؒ پر بھی تنقید کی ہے۔ حضرت سیدنا عثما نؓ اور سیدنا مروان بن الحکمؓ پر بھی تنقید کے نشتر چلائے ہیں۔ میں تو مختصراً یہ کہتا ہوں کہ چوہدری محمد یوسف صاحب کے نزدیک ایک وہ خود اور انبیا علیہم السلام تنقید سے بالا ہیں، باقی سب نشانے پر ہیں۔ ’’ایک وہ خود‘‘ کا لفظ اس لیے میں نے پہلے لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کو کوئی حکم یا کوئی اد ا کسی نبی کی پسند نہ آئے اور ’الشریعہ‘ کا فورم ان کی (چوہدری صاحب کی)یہ خدمت بھی کر گزرے۔
اسی مضمون میں انہوں نے جناب نوید انور نوید مرحوم کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ کاش کہ وہ کسی انصاف کے آئینے میں نوید بھائی کا مقابلہ کر کے دیکھتے۔ جس شخص نے ایک مشکل ترین وقت میں علماے حق کے لیے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور آپ جیسے عظیم المرتبت لوگوں نے ان کی قیادت میں گرفتاریاں دیں، حضرت درخواستی ،ؒ حضرت انورؒ ،مفتی عبد الواحدؒ ،حضرت امام اہل سنت مدظلہ العالی، حضرت صوفی صاحب مدظلہ العالی اور پاکستان کے جمیع مشائخ، علما ،طلبا اور دین دار لوگوں کی دعائیں اور توجہات ان کی پشت پر تھیں، اس شخصیت کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ اور آپ سے کیا شکوہ! وہ نوید انور نوید مرحوم جس کی جوان اور نازک پیٹھ پر پولیس کے برسنے والے ڈنڈوں اور قید وبند کی صعوبتوں نے جامع مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کو حکومتی چنگل میں جانے سے بچایا اور مجھ جیسے کتنے ہی لوگوں نے حضرت امام اہل سنت سے استفادہ کیا اور آج آپ اسی مدرسے کے شیخ الحدیث ہیں اور اسی مسجد نور میں بیٹھ کر بخاری شریف پڑھا رہے ہیں، حضرت! آپ نے تو چوہدری یوسف کی خوشنودی کے لیے نوید بھائی کی روح کو قبر میں تڑپا دیا۔ (ہم تو وہ لوگ ہیں کہ تاریخ نے یہ بھی عجوبہ قلم بند کیا ہوا ہے کہ نوے سالہ قدیم قادیانی مسئلہ حل کرنے والے ذو الفقار علی بھٹو مرحوم جب دنیا سے گئے تو مسلمان بھی اپنے علما کی قیادت میں مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے اور قادیانی بھی۔ ہم اپنے محسنوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔زندہ مثال ڈاکٹر عبد القدیر حفظہ اللہ کی ہے )
انتہائی معذرت کے ساتھ امید ہے کہ آپ اس خط کے مندرجات سے ناراض نہیں ہوں گے اور اپنی توجہات اور دعاؤں سے محروم نہیں فرمائیں گے ۔
حسین احمد قریشی 
خطیب مرکزی جامع مسجد، بھوئی گاڑ
تحصیل حسن ابدال، براستہ فاروقیہ، ضلع اٹک