بیسویں صدی کے وسط میں بہت سے ممالک نے طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی مگر کچھ ریاستوں کی جھولی میں یہ آزادی پکے ہوئے پھل کی طرح آ گری جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ایسی ریاستوں میں کمزور ادارہ سازی کے ماحول میں شروع ہونے والے سیاسی عمل میں سول قیادتیں قومی ضرورتوں کو پورا کرنے میں نا کام رہیں اور سیاسی رہنماؤں کو status quo بدلنے کے لیے طاقت پر انحصار کرنا پڑا ۔مثال کے طور پر پاکستان میں سیاسی اداروں کے بر عکس فوج مربوط، منظم اور طاقتور ادارے کے طور پر طاقت کی علامت بن کر ابھری۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے عشرے میں ہی فوج نے یہاں اِقتدار اعلیٰ پر براہِ راست قبضہ کرنے کی کوشش کے بجائے سیاسی عمل کی راہنمائی کرنے والے ادارے کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔سٹیفن پی کوہن کے الفاظ میں ’’کچھ بری افواج اپنی قوم کی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ معاشرے میں اپنے مقام کا تحفظ کرتی ہیں اور بعض کسی مقصد یا تصور کا دفاع کرتی ہیں۔ پاکستان کی بری فوج تینوں کام کرتی ہے۔ جس روز سے پاکستان وجود میں آیا ہے، یہ داخلی امن و امان کے قیام میں مدد دینے اور پاکستان کی قابل نفوذ اوراکثر غیر واضح سرحدوں کے تحفظ میں مصروف رہی ہے۔ اس عرصے میں اس نے پاکستان میں اپنی طاقت اور خاص مقام استعمال کر کے اپنے لیے کافی ہتھیاروں ،وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی یقینی بنا لی ہے۔ مزید برآں اس نے خود کو ہمیشہ تصور پاکستان کا خاص اظہار تصور کیا ہے اور چند افسران اس نقطہ نظر کے بھی حامی ہیں کہ معاشرہ جہاں فوج کے مقررہ معیار سے نیچے گرے، اس کی اصلاح یا درستی میں بھی یہ فعال کردار ادا کرے۔،،
مذکورہ بالاخیالات کی روشنی میں ہم آئندہ سطور میں پاکستان کے ابتدائی عشرے، ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۸ تک کے دور میں فوج کے سیاسی کردار کا مختصراً جائزہ لیں گے۔
حصول پاکستان کی تحریک ایک سیاسی اور عوامی تحریک تھی، فوج کا جدوجہد پاکستان میں کو ئی کردار نہیں تھا، مگر حکومت برطانیہ کے ملازم ہندوستانی آرمی افسر اگست ۱۹۴۷ میں راتوں رات ایک قومی آرمی کے آزاد افسر بن گئے۔ پہلے دِن سے ہی ان فوجی افسران نے سیاسی اور سول معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ بانی پاکستان کی زندگی میں ہی فوج کے سیاسی عزائم نمایاں ہونے لگے جس پر انہوں نے بار بارتنبیہ بھی کی۔ قائداعظم کی بلند وبالا شخصیت کے پیش نظر کوئی جرنیل اور بیوروکریٹ خواہش کے باوجود انہیں چیلنج کرنے کی جرأت نہ کر سکا اور ان کی حیات مستعار کا ایک سال سیاست دانوں، فوج اور نوکر شاہی کے درمیان امن وامان کی کیفیت میں گزر گیا۔ آزادی کے فوراً بعد فوج کا کردار دفاع اور سلامتی کے پیشہ وارانہ میدان تک محدود رکھا گیا۔ سول حکام اگر مدد کے لیے بلاتے تو فوج ان کی مدد کرتی تھی مگر فوج کو نظم و نسق کی بحالی کے لیے استعمال کرنے سے کئی خرابیاں پیدا ہونے لگی تھیں۔ فوج کا مہاجرین کو فسادات کی آگ سے بچانے اور ان کی آباد کاری میں فعال کردار تھا۔ اس کردار کی وجہ سے فوجی زعما نے فوج کو ملک میں نجات دہندہ کے طور پر شناخت دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ کو گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے فوج کے سربراہ کو جموں و کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حُکم دیا مگر فوجی سربراہ نے حکم نہ مانا اور ۲۸؍ اکتوبر کو سپریم کمانڈر آکن لیک نے لاہور پہنچ کر انھیں حکم واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔ قائد اعظم کے سیاسی تدبر کے برعکس فوجی حکمت عملی سے کام لیا گیا تو ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوج اتار دی، پھر اچانک اسی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا کہ اگر دستے کشمیر نہ بھیجے گئے تو پاکستان کا نقصان ہو گا۔ یہ وہی تدبرتھا جس کا اظہار فوجی قیادت سے بہت پہلے سیاسی مدبر نے کیا تھا، چنانچہ مئی ۱۹۴۸ء میں فوجی دستے کشمیر میں اتارے گئے۔ تاخیر کے باعث ہندوستان کو کامیابی ہوئی جس کی بنا پر فوج سول حکومت کے پاکستانی ہندوؤں اور برطانویوں کے اور پنجابی بنگالیوں کے خلاف ہو گئے۔ ان حالات میں مضبوط فوج کا تصور نمایاں ہوا۔ مسلم لیگ کے اخبار ’ڈان‘ نے اداریے لکھے اور روٹی کی بجائے بندوق پر زور دیا اور ایک بڑی اور مسلح فوج کا مطالبہ کیا تاکہ ارض مقدس کا دفاع کیا جاسکے۔ حالات دگرگوں تھے۔ قائداعظم کی وفات کے وقت فوج حیدرآباد میں مارچ کر رہی تھی۔ بھارت کو دشمن نمبر ایک قرار دے کر عوام کو ہیجان میں مبتلا کر دیا گیا۔
قائد اعظم کے بعد لیاقت علی خان کے نام پر عنان اقتداردر حقیقت سیکرٹری جنرل اور پلاننگ کمیٹی کے ہاتھ میں آ گئی۔ حمزہ علوی کے خیال میں یہ سب لیاقت علی خان کے لیے بھی موافق تھا کیونکہ وہ ذمہ داریاں نبھانے سے حتی المقدور کتراتے تھے۔ پلاننگ کمیٹی کے چوہدری محمد علی اپنی کتاب ’’ظہور پاکستان‘‘ میں اپنے وژن کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ افواج پاکستان کو منظم کیا جائے اور اسے اسلحہ سے لیس کیا جائے۔ قومی وسائل، جن کی معاشی تعمیر نو اور ترقی کے لیے فوری ضرورت تھی، دفاع کی جانب منتقل کیے گئے جس پر نصف اور بعض اوقات قومی بجٹ سے بھی زیادہ صرف کرنا پڑا۔ عوام نے بڑی خوشی کے ساتھ ان اخراجات کو برداشت کیا۔ لیاقت علی خان نے کہا: ’’ ہم ایک دن بھوکے رہ سکتے ہیں، مگر ہم ایک منٹ کے لیے بھی غلام بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے‘‘۔ انہوں نے ۸؍اکتوبر ۱۹۴۸ کو قوم سے خطاب میں کہا کہ ’’پاکستان کا دفاع ہماری پہلی ترجیح ہے جس نے حکومت کے تمام دوسرے امور پر برتری حاصل کر لی ہے ۔ ہم ملک کے دفاع پر کسی قسم کے اخراجات سے دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ اسی وژن نے دفاع کے نام پر امریکی اسلحہ پر انحصار کی ضرورت کو جنم دیا اور پاکستان کے مستقبل اور فوج کو امریکہ سے وابستہ کر دیا۔
لیاقت علی خان نے ۱۹۴۹ میں کشمیر کے محاذ پر جنگ بندی کروا کے سیاسی قوت کو مضبوط کرنے کی طرف توجہ دی لیکن فوج کے سینئرافسران کی بڑی تعداد جنگ بندی کے حق میں نہ تھی۔ زرینہ سلامت کے الفاظ میں ’’سیاسی حکومت کی جانب سے کشمیر میں جنگ بندی قبول کرنے کو فوج نے میدان میں اسے فتح سے محروم کرنے کے مترادف سمجھا ۔‘‘ جنوری ۱۹۵۱ میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہو رہی تھی۔ مسلم لیگی راہنما چاہتے تھے کہ نیا کمانڈر انچیف پاکستانی ہونا چاہیے، چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ۱۹۵۰ کے آخر میں جنرل ایوب خان کو کمانڈرانچیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جو نہ تو سب سے سینئر تھے اور نہ ہی سب سے بہتر تھے۔ جنرل ایوب کی بطور کمانڈرانچیف نامزدگی کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ انہی دنوں میں ان سے سینئر دو جرنیل اچانک ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ وہی ایوب خان تھے جن کے بارے میں سردار شوکت حیات خان نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ’’تقسیم ہند کے وقت باؤنڈری فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بریگیڈیئر دگمبر سنگھ ہندوستان کی طرف سے اور کرنل محمد ایوب خان، ہر دو پنجاب میں اپنے اپنے ملک کے نمائندوں کی حیثیت سے جنرل ریس کے احکامات کے تحت کام کر رہے تھے۔ میں جنرل ریس کو فلسطین میں بریگیڈیئر کمانڈر کی حیثیت سے جانتا تھا۔ بعد میں وہ برما میں ڈویژن کی کمانڈ کرنے چلے گئے تھے۔ جنرل ریس نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا: ’’ شوکت، تم لوگوں پر کیا چیز حاوی ہو گئی ہے کہ ایک طرف انڈیا نے اپنے نمائندے کے طور پر ایک بہترین سپاہی کا چناؤ کیا ہے جبکہ دوسری طرف تم لوگوں نے جس شخص کو چنا ہے، اسے تو میں نے برما سے واپس بھیج دیا تھا۔ برما میں جب اس کا کمانڈر مارا گیا تو اس نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ۔ ایسے آدمی سے تم کیا توقع کر سکتے ہو؟ جو کچھ اس نے ماضی میں کیا، اس کے بعد میں اس کی فراست پر کیسے اعتماد کر سکتا ہوں؟‘‘
سعید شفقت کے مطابق ایوب خان کی کیرئیر ہسٹری فیلڈ کمانڈ کے بجائے سٹاف تقرری میں انتظامی تجربے کو ظاہر کرتی ہے۔ اپنی تقرری کے وقت وہ انتظامی مہارتوں کے علاوہ سول قیادت کی عزت کرنے پر یقین رکھتا تھا اور کسی بھی طرح سے کشمیر کی جنگ سے منسلک نہیں تھا۔ میجر جنرل شیر علی کو تقسیم ہند کے بعد جنرل فرینگ میسروی نے کہا تھا کہ افسران کو ترقی دیتے ہوئے اونچے عہدے کے لیے صحیح آدمی کو منتخب کیا جائے۔ جب برطانوی جائیں تو وہ لوگ آگے لائے جائیں جو سیاسی خواہشات سے آزاد ہوں، مگر جب وقت آیا تو جنرل ایوب خان جو صرف چار سال میں لیفٹیننٹ کرنل سے جنرل بنے تھے، کمانڈر انچیف بن گئے۔ جنرل شیر علی کے مطابق اگر لیفٹیننٹ جنرل افتخار خان کمانڈر انچیف بنتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ وہ فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرتے۔ تاہم ایوب خاں نے بھی کمانڈر انچیف بننے کے بعد فوج کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی۔
کئی لوگ لیاقت علی خان کی پالیسیوں سے نا خوش تھے ۔ منیر احمد کے مطابق ممتاز دولتانہ نے لیاقت علی خان کے خلاف ایک گروپ بنایا جسے فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اسی دور میں حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی سے ناراض فوجی افسران کے ایک گروہ نے لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوئی۔ میجر جنرل اکبر خان اس کے کرتا دھرتا تھے۔ جنرل ایوب خان نے اس سازش کا بر وقت پتہ لگا کر حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ یہ سازش ہی واضح کر تی ہے کہ فوج سیاست میں ملوث تھی ۔میجر جنرل شیر علی خاں پٹوری لکھتے ہیں کہ ا یوب نے اس سازش کا سراغ اپنی پسند کے لوگوں کو آگے لانے کے لیے لگایا تھا اور وہ ایسے لوگوں کو آگے لانے میں کامیاب ہو گیا جو ایوب کی کمانڈ کے تحت تھے۔ اس سازش کو بے نقاب کرنے کے بعد ایوب خاں نے خود کو حکومت کا محافظ سمجھنا شروع کر دیا اور حکومتی امور ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنے لگا۔ اسی سازش کی دریافت نے اسے موقع فراہم کیا کہ وہ بیوروکریٹک زعما اسکندر مرزا اور غلام محمد کے ساتھ قریبی تعلقات پیدا کرے۔ بعد میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔
۱۶؍ اکتوبر ۱۹۵۱ کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں جلسہ عام کے دوران میں قتل کر دیا گیا۔ اس پر اسرار قتل نے ایوب خان کو سیاستدانوں سے بر گشتہ کر دیا۔ وہ اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’میں کراچی میں کابینہ کے کئی اراکین سے ملا۔ کسی نے لیاقت علی خان کا ذِکر تک نہ کیا اور نہ ہی میں نے ان سے ہمدردی اور افسوس کا کوئی لفظ سنا ۔ میں حیران تھا کہ یہ لوگ اس قدر سنگ دل وبے حس اور خود غرض بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘
ایک منصوبے کے تحت لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اس بہانے سے کہ اس قتل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان پاکستان پر حملہ نہ کر دے، مسلم لیگ کے ڈپٹی لیڈر سردار عبدالرب نشتر کو میت کے ہمراہ کراچی جانے سے روک دیاگیا اور کہا گیا کہ ان کا بطور گورنر، پنجاب میں مقیم رہنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ دوسری طرف گورنر سرحد خواجہ شہاب الدین کو ساتھ ملا کر خواجہ ناظم الدین کو قائل کر لیا گیا کہ وہ گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم بن جائے ۔ عائشہ جلال کے الفاظ میں ’’پہلے فوجی اقتدار سے سات سال پہلے سیاسی طاقت پٹڑی سے اتر گئی اور غیر منتخب بیوروکریٹ جانشینوں نے سیاسی منصب سنبھال لیے۔‘‘ شیر باز مزاری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کا ملکی امور پر کنٹرول کمزور پڑ گیا۔ فوج اور بیورو کریسی منظم ادارے تھے، لہٰذا ان کا اثرورسوخ بڑھا۔ فوج کا ادارہ کسی کو جواب دہ نہ تھا۔ غلام محمد، اسکندر اور ایوب خان ریاستی طاقت کے مالک بن گئے ۔ لیاقت علی کی وفات پر افسوس کرنے والے اور ان کے سیاسی جانشینوں کی مذمت کرنے والے ایوب خان جلد ہی شراکت اقتدار کے مزے لوٹنے لگے۔ روایتی سیاستدانوں کے نمائندہ شریف النفس وزیراعظم خواجہ ناظم الدین بھی سول اور فوجی ٹیکنوکریٹس کے لیے زیادہ دیر قابل قبول نہ رہے تو انھیں منظر سے ہٹانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے جن میں سے ایک ۱۹۵۳ میں احمد یوں کے خلاف تحریک بھی تھی۔ لاہور میں حالات انتہائی خراب ہو گئے تو وزیراعظم کی زیر صدارت حالات کے جائزہ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ سکندر مرزا اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ گورنر پنجاب آئی آئی چندریگر کا فون آیا۔ اس نے وزیر اعظم سے کہا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ اس کے پاس موجود ہے۔ دولتانہ نے کہا، سر ہم تمام کنٹرول کھو چکے ہیں۔ ’’اس پر وزیر اعظم کچھ نہ کر پائے تو فوج اقدام کے لیے تیار تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ لاہور میں مارشل لا لگا دیا جائے۔‘‘
۱۱؍ فروری ۲۰۰۶ء کو ڈان میں کرامت اللہ غوری نے لکھا ہے کہ طاقت کی یہ ناپاک صف بندی کس طرح ظالمانہ طور پر کام کر رہی تھی، اس کا حا ل مجھے ٹوکیو میں ہمارے سفیر قمر الاسلام نے بتایا جو خود پرانے آئی سی ایس ہیں اور وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ ان کے بقول ۱۹۵۳ میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کابینہ کا اجلاس جاری تھا اور گرما گرم بحث ہو رہی تھی کہ کیبنٹ سیکرٹری اسکندر مرزا جاری اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ دس منٹ کے بعد وہ اجلاس میں واپس آئے اور بڑے سکون سے میٹنگ کے شرکا کو بتایا کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ انہوں نے کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان سے بات کی ہے جو اگلی صبح شہر میں مارشل لا لگانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس کے بعد بحث ختم ہو گئی، نہ ہی وزیراعظم اور نہ ہی کسی دوسرے شخص نے اسکندر مرزا کے من مانے فیصلے اور گستاخانہ رویے کو چیلنج کیا۔ اسی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر مبشر حسن لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا نے مزید بتایا کہ انڈین آرمی ایکٹ کے تحت، جسے پاکستانی حالات کے مطابق ڈھال لیا گیا تھا، فوج کے ہر کمیشنڈ آفیسر کا فرض ہے کہ جب سول انتظامیہ ناکام ہو جائے تو وہ خود اختیار سنبھال لے۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ اسکندر مرزا کی طرح کے آفیسر اور جنرل اعظم کی طرح کے جرنیل سیاسی حکومت سے بالا جو چاہیں، کرسکتے ہیں اور اپنی کارروائی کو قانون کے مطابق سمجھتے ہیں۔
سیاستدان اور بیوروکریٹ باہم دست و گریباں تھے جس کا فائدہ اٹھا کر فوج نے سیاسی قیادت سے بالا بالا امریکہ سے تعلقات استوار کرنے شروع کر دیے۔ دھیر ے دھیرے امریکہ کا اثرورسوخ بڑھنے لگا اور اسی آڑ میں سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونے لگی۔ انہی دنوں جب بریگیڈےئر میاں غلام جیلانی کو امریکہ میں ملٹری اتاشی مقرر کیا گیاتو امریکہ بھیجتے وقت کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے انہیں بلاکر ہدایات دیں۔ مشاہد حسین واکمل حسین نے اپنی کتاب Pakistan: Problems of Governance میں ان ہدایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایوب خان نے بریگیڈےئر غلام جیلانی سے کہا کہ تمہاری بنیادی ذمہ داری پینٹاگون کے ساتھ فوجی امداد کے حوالے سے تعلقات استوار کرنا ہے۔ تم ان امریکیوں سے براہ راست ڈیل کرنا اور پاکستانی سفیر کو اعتماد میں نہ لینا۔ ہم اس قسم کے حساس معاملات میں سویلین پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ سیاسی قیادت پر بداعتمادی کے اس ذہن کے ساتھ ۶مارچ ۱۹۵۳ کو لاہور میں مارشل لا لگ گیا۔ یوں فوج کو پہلی دفعہ براہ راست سول معاملات چلانے کا موقع ملا ۔ لاہور دو ماہ تک مارشل لا کے زیر سایہ رہا، مگر حیرت ہے کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود فوج واپس بیرکوں میں نہیں گئی بلکہ اس نے لاہور میں صفائی مہم شروع کردی۔ عمارتوں کو رنگ و روغن کیا جانے لگا، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردی گئیں اور فوج نے، جس کا کام محض امن وامان کی بحالی تھا، اپنی حدود سے تجاوز کرکے عوام میں یہ تاثر پھیلایا کہ فوج ہی اچھا نظم ونسق قائم کرسکتی ہے۔ احمد یہ فسادات کے حوالے چیف جسٹس منیر کی انکوائری رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ایجنسیوں نے مذہب اور مذہبی گروپوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جس سے ایسی جذباتی صورت حال نے جنم لیا جس پر قابو نہ پایا جا سکا۔ اس طرح فوج کو ریاستی امور میں مداخلت کا موقع مل گیا۔ حالات خراب ہونے پر گورنر جنرل غلام محمد کی صدارت میں ہنگامی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے وزیراعظم پر الزامات لگائے اور ان کی توہین کی ۔بالآخر ۱۶؍ اپریل ۱۹۵۳ کو فوج کے کمانڈر انچیف کی آشیر باد سے گورنر جنرل نے وزیراعظم کو اس وقت برطرف کر دیا جب چند دن قبل اسمبلی نے بجٹ منظور کرکے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا ۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ ناظم الدین جنرل ایوب خان کو نوکری میں توسیع دینے پر راضی نہیں ہو رہے تھے۔ حسین شہید سہروردی اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین فوج کے سائز کو قومی وسائل سے زیادہ بڑھانے کے مخالف تھے اور انہوں نے بجٹ میں فوجی اخراجات میں تخفیف کی تھی، اسی لیے انہیں بجٹ کے چند دن بعد برطرف کردیاگیا۔
خواجہ ناظم الدین کے بعد گورنر جنرل نے امریکہ سے پاکستان آئے ہوئے محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنایا جو اس سے پہلے کینیڈا اور پھر امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں تیزی سے بہتری آئی۔ ماہرین سیاسیات کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی قوتوں کے عروج اور سول ملٹری بیوروکریسی کے غلبے کی بڑی وجہ امریکی عنصر تھا۔ اکتوبر ۱۹۵۳ میں پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے کیبنٹ گورنمنٹ کی رسمی منظوری کے بغیر امریکہ کا غیر رسمی دورہ کیا حالانکہ انہی دنوں وزیراعظم اور وزیر خارجہ امریکہ کے دورے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ امریکی اور پاکستانی فوج کے زعما میں طویل گفت وشنید ہوئی۔ شیریں طاہر خیلی کے مطابق جنرل ایوب خاں نے ’’مناسب قیمت‘‘ پر امریکہ سے ایسی ڈیل کی کوشش کی جس کے مطابق پاکستان مغرب کے اتحادی کا کردار ادا کر سکے۔ امریکی تعاون حاصل کرنے کے لیے ایوب خان اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ایک امریکی اہلکار کو کہا کہ Our Army can be your Army if you want، یعنی اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج بن سکتی ہے۔ اس بات کا حوالہ Dennis Kux نے بھی دیا ہے۔ معاملہ طے ہوگیا۔ ۲۵ فروری ۱۹۵۴ کو امریکی صدر آئزن ہاور نے پاکستان کے لیے امدادکا اعلان کیا۔ ۱۹؍مئی ۱۹۵۴ کو امریکہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس سے پاکستانی فوج کو ہتھیار اور فوجی تربیت حاصل ہوئی۔ اس معاہدے سے فوجی زعما کو نیا اعتماد ملا اور وہ خود کو پاکستانی سیاست میں مستحکم قوت سمجھنے لگے۔
ستمبر ۱۹۵۴ء میں جب گورنر جنرل غلام محمد دارالحکومت سے باہر ایبٹ آباد گئے ہوئے تھے، ۲۰ ستمبر کو اسمبلی نے یکایک پر وڈا کا قانون منسوخ کر دیا اور ۱۹۳۵ کے ایکٹ کے تحت گورنر جنرل کے، کابینہ کو برطرف کرنے کے اختیارات ختم کردیے اور ترامیم اسی روز گزٹ میں شائع کر دیں۔ سٹیفن پی کوہن اپنی کتاب ’’پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم‘‘ میں ایک واقعہ اس حوالے سے لکھتا ہے کہ ایک انتہائی سینئر سابق جنرل نے جو ان واقعات میں کلیدی کردار ادا کر چکے تھے، سیاستدانوں کے ساتھ سابقہ پیش آنے کا اپنا قصہ سنایا جس کی بنا پرفوج براہ راست مداخلت کی طرف راغب ہوئی۔ وہ کہتا ہے ’’میں ان کے (وزیراعظم بوگرہ) کے دفتر گیا۔ اس زمانے میں، میں صرف میجر جنرل تھا۔ میں بیٹھ گیا، وہ نوجوان اور ناتجربہ کار تھے مگر بنگالی ہونے کی وجہ سے یہاں تک پہنچ گئے تھے۔ میری طرف مڑ کر بولے جنرل سر ، جنرل سر ، آپ کو پتا ہے کیا ہوا؟ نہیں پتا کیا ہوا؟ میں نے کہا نہیں۔ (انھوں نے کہا) میں بتاتا ہوں کیا ہوا۔ دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کو بیشتر اختیارات سے محروم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب وہ ایبٹ آباد سے آئیں گے تو ہنگامی حالت نافذ کردیں گے اور مداخلت کے لیے فوج کو استعمال کریں گے، کیا آپ ان کی بات مانیں گے؟ ذرا سوچیے، ملک کا وزیراعظم اور وزیر دفاع آرمی کے ایک معمولی میجر جنرل سے اتنے حساس سیاسی معاملات پر مشورہ کر رہا ہے۔ مجھے چیف کی طرف سے کوئی بریفنگ نہیں ملی تھی۔ میں نے کہا کہ جناب اگر یہ حکم محکمانہ توسط سے کمانڈر انچیف کو پہنچے گا تو وہ تعمیل کریں گے۔ اس صورت میں یہ قانونی حکم ہوگا۔ اگر حکم آپ سے پوچھے بغیر آیا تو غیر قانونی ہوگا اور وہ عمل نہ کر سکیں گے۔ اگر آپ ہم سے کہیں گے کہ آجاؤ تو ہم تعمیل کریں گے۔ اس پر اس نے فون اٹھایا اور میری موجودگی میں وزیر قانون سے بات کی۔ کہنے لگے، نہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ جنرل .....کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے انٹیلی جنس والوں سے بھی بات کی۔ میں نے اس شخص کی طرف دیکھا اور سوچا، یہ بچوں کی طرح ہے اور ہمارے ملک کا وزیراعظم ہے۔ مجھے اتنی ٹھیس لگی کہ میں باہر نکل آیا، اپنے دفتر گیا اور سیکیورٹی فون پر کمانڈر انچیف سے رابطہ کیا کہ سر، دیکھیں کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ اسی قسم کا آدمی ہے۔ مزہ چکھاتے ہیں اسے۔‘‘
محمد علی بوگرہ آئینی ترمیم کے بعد اگلے روز دورے پر امریکہ روانہ ہو گئے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھا کر اپنے قریبی فوجی افسروں کی مدد سے اپنے منصوبے کو آخری شکل دی اور وزیراعظم کو دورے سے واپس بلا لیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہوائی اڈے پر فوجی دستے وزیراعظم کے منتظر تھے۔ جب بوگرہ کا طیارہ اےئر پورٹ پر پہنچا تو بظاہر ان کے استقبال کے لیے جنگی لباس میں فوجی کھڑے تھے۔ وہاں مختصر ہجوم سے انہوں نے خطاب کیا اور پھر اپنی نئی نویلی اہلیہ کے ہمراہ کیڈلک کار کی طرف بڑھے۔ وہ کار میں بیٹھ گئے مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پاکستانی جرنیلوں نے ان کی بیگم کو کندھا مار کر پرے کردیا اور خود ان کے دائیں بائیں ہو گئے۔ بیگم سے کہا، تم دوسری کار میں گھر جاؤ، ہم اسے گورنر جنرل کے پاس لے جا رہے ہیں۔ چوہدری محمدعلی کی بیان کردہ روایت کے مطابق وزیراعظم کو غلام محمد کے سامنے لایاگیا تو گورنر جنرل نے تکیے کے نیچے سے پستول نکال لیا اور جب تک وزیر اعظم نے استعفا دینے اور اسمبلی توڑنے کی تجویز نہ مان لی، گورنر جنرل اسے قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دیتا رہا جبکہ پردے کے پیچھے جنرل ایوب خان سٹین گن لیے کھڑا تھا۔ گویا غلام محمد کے اس اقدام میں بھی انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ کو ایمرجنسی نافذ کرکے بوگرہ ہی کی قیادت میں نئی کیبنٹ آ ف ٹیلنٹ تشکیل دی گئی۔ سول اور ملٹری بیورو کریٹس نے باہمی گٹھ جوڑ سے کمزور اور منقسم سیاستدانوں پر بالادستی حاصل کرلی۔ فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان وردی سمیت وزیر دفاع اور میجرجنرل سکندر مرزا وزیر داخلہ بن گئے۔ سیاسی دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا سول ملٹری انقلاب تھا جسے کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ یہ درحقیقت کمانڈر انچیف کا پس چلمن رہ کر سویلین مارشل لا تھا جس کی قیادت وہ خود ہی کر رہے تھے۔ یوں فوج نے بالواسطہ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل ایوب کے وزیردفاع بنتے ہی اونٹ کا سرخیمے میںآگیا اور انھیں بطور وزیردفاع فوجی افسروں کی تعیناتی، ٹرانسفر، پروموشن اور ریٹائرمنٹ کے اختیارات حاصل ہو گئے۔ ان کی حیثیت اتنی مضبوط ہو گئی تھی کہ وہ جنوری ۱۹۵۵ میں ریٹائر ہونے والے تھے مگر انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کی مدد کے بدلے ان سے مدت ملازمت میں چار سال کی توسیع حاصل کرلی۔ جب سول حکومتیں فوج ہی پر انحصار کرنے لگتی ہیں تو فوج اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد اور ایک گروپ سے دوسرے گروپ کو منتقل کرنا شروع کر دیتی ہے۔
غلام محمد کے فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج کیاگیا تو وہاں چیف جسٹس محمد منیر کمانڈر انچیف سے کم نہ نکلے اور حکمران ٹولے کے حق میں فیصلہ کرکے من مانی کو جائز قرار دے دیا۔ امریکی محقق ایلن میگراتھ اپنی کتاب Destruction of Democracy میں لکھتا ہے کہ نہ تو پاکستان کے عوام تعلیم کی کمی کی بنا پر اور نہ ہی سیاستدان مبینہ بدنظمی اور کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کے خاتمے کے ذمہ دار تھے۔ اس کی ذمہ داری اسکندر مرزا، غلام محمد اور جسٹس منیر پر عائد ہوتی ہے جس نے آمرانہ سرگرمیوں کے لیے آئینی جواز فراہم کیا۔ فیڈرل کورٹ کے فیصلے کے بعد دوسری دستور ساز اسمبلی منتخب کی گئی۔ اسی دوران میں گورنر جنرل غلام محمد کی صحت بگڑ گئی تو اسکندر مرزا نے ایک سیاسی چال چل کر ان سے استعفا لے لیا اور خود گورنر جنرل بن کر چوہدری محمدعلی کو، جنہوں نے غلام محمد کو مستعفی ہونے پر راضی کیا تھا، بطور انعام وزیراعظم بنادیا۔ عائشہ جلال کہتی ہیں کہ برطانوی ہائی کمشنر نے چوہدری محمد علی کی نامزدگی کو Deplorable departure from the established parliamentary norms یعنی مسلمہ پارلیمانی روایات سے افسوسناک انحراف قرار دیا تھا۔ چوہدری محمد علی نے نئے آئین میں اسلام پر زور دینے کی کوششیں شروع کیں تو اسکندر مرزا نے ۱۹۵۵ء میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے فوجی فکر وفلسفہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا کھلا اظہار کیا اور کہاکہ We cannot run wild on Islam, it is Pakistan first and Pakistan last. (ہم اسلام کے بارے میں جنونی نہیں بن سکتے۔ اول وآخر پاکستان ہی کو اہمیت حاصل ہے) تاہم نیا آئین منظور ہونے کے بعد بھی گورنر جنرل اس پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور اس وقت تک ٹال مٹول سے کام لیتے رہے جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہ کرائی گئی کہ وہی پہلے صدر مملکت ہوں گے۔ دو جنرل مطلق اقتدار کی طرف ایک دوسرے کا سہارا لے کر بڑھ رہے تھے کہ میجر جنرل اسکندر مرزا نے گورنر جنرل سے صدارت تک کی ترقی میں نئے گُر سیکھ لیے۔ اسی تجربے کی روشنی میں انہوں نے وزراے اعظم کو اس تیزی سے بھگتانا شروع کیا کہ اگر وہ چند ماہ مزید یہ جنگی مشقیں جاری رکھتے تو ملک کا کوئی قابل ذکر سیاستدان نہ رہ جاتا جو پاکستان کا سابق وزیراعظم نہ رہ چکا ہوتا۔ ٹوٹتی بنتی حکومتوں سے عوام تنگ آ گئے اور نئے انتخابات کا مطالبہ شروع ہوگیا۔ وہ انتخابات جو ۱۹۵۷ء میں متوقع تھے، ان کو مارچ ۱۹۵۹ء تک ملتوی کیا جاتا رہا۔ خان عبدالقیوم خاں کے مطابق مرکزی حکومت نے محض ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی شکل اختیار کرلی تھی جو بیروزگار سیاستدانوں کو روزگار فراہم کرتا تھا۔ انتخابات سے خائف اسکندر مرزا نے ایوب خان سے مل کر جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا منصوبہ تیار کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کراچی آر ڈبلیو ڈی فلاور نے ۲۱؍مئی ۱۹۵۸ کو لندن خط بھجوایا کہ اسکندر مرزا کچھ عرصہ تک اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے او ریہ خیال اس کے ذہن میں اس وقت آیا جب دسمبر ۱۹۵۷ء میں چندریگر حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس سازش میں شریک ہونے کے باوجود ایوب خان نے یہ کوشش کی کہ دیکھنے والوں کو یہی تاثر ملے کہ یہ اسکندر مرزا کا ذاتی فعل ہے۔ احتیاط پسند ایوب نہیں چاہتا تھا کہ اس پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد ہو۔ شاید وہ یہ گنجائش بھی باقی رکھنا چاہتا تھا کہ اگر منصوبہ ناکام ہو جائے تو اسکندر مرزا کے اقدام کو ناجائز قرار دے کر فوج کی مدد سے امن عامہ بحال کر دے۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ منصوبے کی کامیابی کی صورت میں اسکندر مرزا اپنی آئینی حیثیت کھو بیٹھیں گے، لہٰذا ان سے چھٹکارا مشکل نہیں ہوگا۔
ان دنوں یہ خیال بھی تھا کہ سیاسی و معاشی بدحالی فوج کے اجتماعی اداراتی مفاد کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ جون ۱۹۵۸ میں آرڈیننس کے ذریعے سے ایسے بیانات و اقدامات پر پابندی لگا دی گئی جو فوج کے لیے نقصان دہ ہوں۔ ایوب نے انہی دنوں ملک بھر کا دورہ کرکے مقامی کمانڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ بدقسمتی سے ستمبر ۱۹۵۸ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی میں اجلاس کے دوران میں ڈپٹی سپیکر شاہد علی خاں کرسی لگنے سے دم توڑ گئے۔ یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ اس واقعہ کے بعد ایوب نے چیف آف جنرل سٹاف کو سول انتظامیہ سے اختیارات لینے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ کئی اور عوامل بھی کارفرما تھے، تاہم ۳؍اکتوبر کو فوج کا اقتدارسنبھالنے کا منصوبہ تیار تھا۔ صرف ایوب، اسکندر مرزا اور امریکی سفیر James Langley اس منصوبے سے آگاہ تھے۔ اسی سفیر نے اسکندر مرزا کو کہا تھا کہ وہ تمام اختیارات حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنائے، فوج اس کی حمایت کرے گی اور اگر اسکندر نے ایسا نہ کیا تو ایوب خان قدم اٹھائیں گے۔ اےئر فورس اور نیوی کے کمانڈرز انچیف کو تمام انتظامات مکمل کرنے کے بعد مطلع کیاگیا۔ وزیراعظم فیروز خاں نون کو اس منصوبے کے بارے میں تب پتہ چلا جب اسے صدر کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ زیادہ تر سیاستدانوں کو صبح کے اخبارات سے تبدیلی کا علم ہوا۔
ایوب خان نے جب یہ دیکھا کہ اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر نوکرشاہی حکومت کر رہی ہے اور یہ جان لیا کہ اقتدار تو بندوق کی نالی کے نیچے ہے تو اس نے اقتدار پر خود قبضہ کرلیا۔ درحقیقت پہلے عشرے میں سیاستدانوں نے بیوروکریٹس کے اشاروں پر ذاتی اقتدار کے لیے جمہوری اصولوں کو پامال کیا اور جنرل ایوب نے بیورو کریٹس کی حوصلہ افزائی کرکے جمہوریت کو جڑ پکڑنے کا موقع ہی نہ دیا۔ جب تک سول حکومت کی پشت پر عوام ہوں گے، فوج اپنے پورے جاہ و جلال اور اسلحہ کے ہوتے ہوئے بھی حکومت کے احکام بجا لاتی رہے گی مگر جب حکومتیں عوامی تائید سے محروم ہو جائیں تو پھر فوج اور اس کے اسلحے کی بن آتی ہے اور فوج آسانی سے غیر مقبول حکومتوں کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں پہلے عشرے میں عوامی حکومت قائم ہی نہ ہونے دی گئی۔ سیاسی انتشار کے باعث فوج سول معاملات میں الجھ گئی۔ مجبور حکومتوں کو سنگین فطری یا انسان کی پیداکردہ آفات کے مواقع پر جو پاکستان میں بڑھتے ہی چلے گئے، فوج کو باربار مدد کے لیے طلب کرنا پڑا حتیٰ کہ فوجی افسران نے سیاستدانوں کو امن وامان کی ذمہ داریاں سنبھالنے ہی نہ دیں کیونکہ انہیں سیاستدانوں پر قطعی اعتماد نہ تھا۔ تاریخ کا یہ اہم سبق ہے کہ اگر آپ ڈنڈا بار بار استعمال کریں گے تو ڈنڈا خود اقتدار سنبھال لے گا۔ یہ ہمیشہ سے ڈنڈے کی تاریخ رہی ہے۔
نامراد لوگ ڈنڈے اور ڈسپلن کو ہی کامیابی سمجھ کر اپنی آزادی اس کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کی لغزشوں اور سول ملٹری بیوروکریٹس کی بداعمالیوں کے نتیجے میں جمہوریت کا بوریا بستر گول ہوا تو عوام نے بھی اسے جی آیاں نوں کہا۔ ممتاز ماہر عمرانیات ایرک فروم نے درست کہا ہے کہ آزادی کا حصول اور اس کے بعد اس کو قائم رکھنا ایک دشوار اور کشمکش سے بھرپور عمل ہے۔ بعض لوگ اور بعض گروہ یا قومیں اس سے گھبرا کر اپنی آزادی اپنی رضا سے ایک شخص یا ایک جماعت کے حوالے کر دیتے ہیں، اس طرح انہیں فیصلہ کرنے کی زحمت سے نجات مل جاتی ہے اور وہ حکم ماننے میں ایک گونہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۵۸ میں پاکستانی قوم نے بھی اقتدار واختیار فرد واحد کو سونپ کر خود فریبی کی راہ اختیار کرلی تھی اور اسی خود فریبی کی سزا وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم قومی فلاح ، ملکی بقا اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے ملک کے سیاسی نظام کو اس جونک سے آزاد کرانے کے لیے اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ڈیل اور ڈھیل کی سیاست کرنے کے بجائے سیاسی اداروں اور عوامی قیادت کی بالادستی کے اصول کو مشعل راہ بناکر سیاست کریں۔ یہی بانی پاکستان کی جدوجہد کی حقیقی منزل ہے۔ فوج کے سیاسی کردار کا خاتمہ ہی قائد اعظم کے جمہوری اور فلاحی پاکستان کی بنیاد بنے گا۔
برا ہمسایہ کتنا بڑا عذاب ہوتا ہے، اس کا تجربہ محلوں اور آبادیوں میں رہنے والوں کو آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ:
قال ما زال جبرئیل یوصینی بالجار حتی ظننت انہ سیورثہ
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ جبریل، پڑوسی کے حق کے بارے میں مجھے برابر وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ وہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔‘‘
اسلام میں شفعہ کے حق کی بنیاد جائیداد کے ساتھ الحاق اور ہمسایگی پر رکھی گئی ہے۔ رواج کی بنیاد پر شفعہ کے حق کو بیع اور معاہدے کی آزادی پر ایک پابندی خیال کرتے ہوئے کمزور حق قرار دیا جاتا تھا۔ جب شفعہ کے قانون کو اسلامی احکامات کے مطابق بنانے کا سوال اٹھا تو یہاں بھی اسے کمزور حق کے طور پر ہی زیر بحث لایا گیا۔ لہٰذا اسے مسدود کرنے کے لیے ایسے قانونی شکنجے تیار کیے گئے جن سے یہ حق عملاً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہمسایگی کے حقوق میں سے ایک حق شفعہ بھی ہے۔ اسے کمزور حق گرداننا قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے۔ قانون شفعہ کو اسلامائز کرتے ہوئے اس قریب الوراثت حق کو کمزور کرنے کے لیے علما ججوں (مولانا جسٹس محمد تقی عثمانی او جسٹس پیر کرم شاہ) نے جو ’’خدمت‘‘ انجام دی، وہ کوئی جج شاید انجام نہ دے سکتا۔ یہ سب کچھ اسلامائزیشن کے نام پر ہوا۔ قانون شفعہ کی ایک دفعہ کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے ہم دیگر دفعات کی بحث کو سر دست الگ رکھتے ہیں۔ یہ دفعہ ۱۲ ہے۔ سب سے پہلے اس دفعہ کا انگریزی متن ملاحظہ فرمائیں:
Right to revoke sale:- Where the vendor has stipulated in the contract of sale that it is subject to revocation by him within a period, not exceeding sixty days, specified in such contract, the right of pre-emption shall not be exercised until such period has expired.
''معاہدہ بیع کی تنسیخ کا حق-: جب کوئی بائع بیع کے معاہدہ کو، منسوخی بیع کے حق سے مشروط کردے تو اس حق کے استعمال کے لیے رکھی گئی میعاد کے اندر حق شفعہ بروئے کار نہیں لایا جا سکے گا۔ البتہ بیع منسوخ کرنے کی شرط کے لیے میعاد ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ہو گی۔''
اس دفعہ میں بیع منسوخ کرنے کا حق اور اس کے لیے ساٹھ دن کی میعاد کی شرعی حیثیت کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ فقہ کی اصطلاع میں اس حق کو خیار شرط کہا جاتا ہے۔ عدالت میں اس شرط کی شرعی حیثیت پر سیر حاصل بحث نہیں ہوئی، البتہ شرط کے لیے دو ماہ کی میعاد پر مفصل بحث ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب تنزیل الرحمن نے بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنی کتاب ’’مجموعہ قوانین اسلام‘‘ کی جلد ۶، صفحہ ۲۰۳۲ سے درج ذیل اقتباس نقل کیا ہے:
’’خیار شرط میں تین دن کی تعیین نصاً ثابت ہے، جس کے سبب امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ اس کی تعیین تین یوم کرتے ہیں۔ عام فقہا کا بھی یہی مسلک بیان کیا جاتا ہے، البتہ صاحبین امام ابو یوسف و محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کا اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک حبان ابن منقذ الانصاری سے مروی حدیث مرفوع میں تین یوم کا ذکر اتفاقاً آیا ہے۔ چنانچہ صاحبین اپنے قول کی بنیاد ابن عمر کے قول (حدیث موقوف) پر رکھتے ہیں جس میں ابن عمر نے مدت کی تعین دو ماہ تک فرمائی اور اس مدت کے انقضا پر خیار شرط کی اجازت دی۔ راقم الحروف کے نزدیک بیع کا خیار شرط کے تعلق سے زیادہ دنوں معلق رہنا تمدنی تقاضوں کے لحاظ سے بھی مناسب نہیں معلوم ہوتا، لہٰذا تین یوم کی مدت نصاً ثابت قرار دی جانی چاہیے۔‘‘
اس کے مطابق وفاقی شرعی عدالت نے اس دفعہ میں خیار شرط میں تین دن سے زائد میعاد کو خلاف شریعت قرار دیا۔ فیصلہ کی تفصیل کے لیے پی ایل ڈی ۱۹۹۱ ایف ایس سی ۸۰ بر صفحہ ۱۰۲ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی۔ اپیل کا فیصلہ شریعت اپیلیٹ بنچ کے فل بنچ نے کیا۔ اس بنچ میں پانچ جج شامل تھے۔ یہ فیصلہ پی ایل جے ۱۹۹۴ سپریم کورٹ ۲۲۱پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی نے فیصلہ لکھتے ہوئے خیار شرط کے لیے میعاد کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے لیے ساٹھ دن کی میعاد کو شریعت کے مطابق قرار دیا اور اس بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔
وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے اپیلیٹ بنچ کے فیصلوں میں، زیر بحث مسئلے سے متعلق حدیث کا متن نقل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ یہ حدیث حبان بن منقذ انصاری کی ہے۔ ہمارے نزدیک مسئلے کی نوعیت واضح کرنے کے لیے حدیث کا متن سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ہم اس کا متن درج کر کے کلام کریں گے۔
عن محمد بن یحیی بن حبان قال ھو جدی منقذ بن عمرو کان رجلا قد اصابتہ آمۃ فی راسہ فکسرت لسانہ وکان لا یدع علی ذالک التجارۃ وکان لا یزال یغبن فاتی النبی فذکر ذالک لہ فقال لہ اذا انت بایعت فقل لا خلا بۃ ثم انت فی کل سلعۃ ابتعتھا بالخیار ثلاث لیال فان رضیت فامسک وان سخطت فارددھا علی صاحبھا (سنن ابن ماجہ ج ۲،ص۷۸۹، حدیث نمبر ۲۳۵۵)
’’منقذ بن عمرو کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے زبان متاثر ہو گئی تھی لیکن وہ اس کے باوجود خرید و فروخت سے باز نہیں آتے تھے اور مسلسل دھوکہ کھاتے تھے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے ان سے کہا کہ جب تم سودا کیا کرو تو کہا کرو کہ دھوکہ نہیں چلے گا۔ پھر تمہیں ہر خریدے ہوئے سودے میں تین دن تک اختیار ہوگا۔ اگر تمہیں پسند آئے تو رکھ لو اور اگر پسند نہ ہو تو بائع کو واپس کر دو۔‘‘
حدیث کا متن بہت واضح ہے۔ ایک خاص شخص کو، اس کی معذوری کی بنا پر،خیار شرط کی اجازت دی گئی۔ یہ ایک استثنائی صورت تھی۔ اس کے لیے بھی تین دن کی میعاد رکھی گئی۔ اس اجازت کو عام اصول کے طور پر اختیار کر کے باقاعدہ قانون بنانے کی گنجائش کس طرح نکل سکتی ہے؟ پھر حدیث میں، مخصوص حالات میں سودے کو منسوخ کرنے کے لیے تین دن کی میعاد رکھی گئی ہے۔ امام ابو حنیفہ،امام شافعی اور دیگر فقہا بھی تین دن کی میعاد کے ہی قائل ہیں۔ اسے ساٹھ دن تک کھینچ لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس سے معاملات میں غیر یقینی پن کی راہ نہیں کھلتی؟ جسٹس تنزیل الرحمن صاحب کا یہ کہنا کہ نص سے ثابت شدہ میعاد سے زائد میعاد تمدنی تقاضوں کے مطابق معلوم نہیں ہوتی، اس دلیل کا کیا جواب ہے؟ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ کے فیصلے میں مولانا تقی عثمانی صاحب نے جسٹس تنزیل الرحمن کے بیان کردہ دلائل پر قریب قریب سکوت ہی اختیار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا ہے کہ قرآن کی کسی آیت اور حدیث میں تین دن سے زائد میعاد کی ممانعت نہیں، لہٰذا دو ماہ کی میعاد درست ہے۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ حدیث جو اس مسئلے کے ہر پہلو پر جامع ہے، اس کے متن سے باہر دو ماہ کی میعاد کی ممانعت کیسے تلاش کی جا سکتی ہے؟ متعلقہ حدیث میں درج میعاد کو نظر انداز کرنے کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر اس حوالے کے ساتھ کوئی استدلال موجود نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں معاملہ طے کرنے کے ساتھ اسے لکھنے کا ترجیحی حکم قرآن مجید میں موجود ہے۔ معاہدوں کی پابندی پر زور تو اسلام کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ حدیث کے واضح الفاظ سے ہٹ کر قانون کی تعبیر و تشریح، ہمارے ہاں رائج اصول تعبیر سے بہر حال تجاوز ہے۔ اس سے محدود فقہی سوچ کو راہ مل سکتی ہے مگر مملکت کے دستور اور عدالتوں کی جانب سے اختیار کردہ اصول تعبیر و تشریح میں اس کی کوئی گنجائش مشکل ہی سے نظر آتی ہے۔
قانون شفعہ کی دفعہ نمبر ۳ کے الفاظ یہ ہیں:
Interpretation:- In interpretation of the provisions of this Act, the court shall seek guidance from the Holy Qur'an and Sunnah.
’’اس قانون کی تشریح اور اطلاق میں عدالت، قرآن اور سنت سے رہنمائی لے گی۔ ‘‘
در اصل ہمارے ہاں عدالتوں میں بالعموم موثر اور طاقت ور طبقات کی خدمت کے نقطہ نظر سے فیصلے دینے کا رجحان کافی مضبوط ہے۔ اس رجحان کے تحت ہی شفعہ جیسے مضبوط حق کو کمزور حق تعبیر کرتے ہوئے مسدود کرنے کے لیے کئی فیصلے کیے گئے ہیں۔ اس کی پوری ایک تاریخ ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کے مکتب کی رائے تو پورے فقہی ذخیرے کے بارے میں اسی قسم کی ہے۔ ایک حوالہ بطور نمونہ پیش خدمت ہے:
’’افسوس ہے کہ ہمارے علما اورمفسرین نے بھی عوام کے متعلق یہی رویہ اختیار کیا اور ساری مسلم تاریخ ملوکیت کے استبداد، جاگیر داروں کے استحصالِ محنت اور ان طبقوں کے مفاد کی حمایت کرنے والے اسلام پسند اور دوسرے دانشوروں کی کی آئینہ دار ہے۔ ‘‘ (اسلامی انقلاب کا عہد نامہ، از الطاف جاوید)
ہمارے ملک میں ہندو رواج اور شریعت کے ملے جلے رجحانات کی بنا پر شفعہ کا قانون، ۱۹۱۳ء سے رائج تھا۔ ۱۹۷۲ء میں بھٹو صاحب نے مارشل لا ریگو لیشن نمبر ۱۱۵ کے پیرا گراف نمبر ۲۵ کی رو سے مزارع کو فائق ترین حق شفعہ دیا۔ ظاہر ہے، یہ حق جاگیر داری اور زمینداری سے مغلوب ماحول میں کیسے ہضم ہو سکتا تھا۔ چنانچہ سید کمال کے کیس میں مزارع کے حق شفعہ کے ساتھ کم و بیش پورے قانون شفعہ کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا گیا۔ اس طرح مزارع اور رشتے داری کی بنیاد پر حاصل حق شفعہ کو خلاف شریعت قرار دیا گیا۔
ہم یہاں متعلقہ فیصلوں کے بارے میں اظہار خیال نہیں کرنا چاہتے، مگر صوبائی حکومتوں کے طرز عمل کا ذکر کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ موثر طبقات کس طرح اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس بارے میں حکومت پنجاب کا ذکر بطور خاص اہم ہے۔ میاں نواز شریف اس زمانے میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ لاہور کے نواح میں میاں نواز شریف اراضی کی بڑی بڑی خریداریاں کر رہے تھے۔ شفعہ کے حق سے ان کو تحفظ کی ضرورت تھی۔ چنانچہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کس طرح فائدہ اٹھایا، اس کا اندازہ حالات کے سرسری تذکرے ہی سے ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے مروجہ قانون شفعہ کو خلاف شریعت قرار دیتے ہوئے ۳۱ جولائی ۱۹۸۶ء تک اسے شریعت کے مطابق بنانے کی ہدایت کی۔ بصورت دیگر، رائج قانون غیر موثر ہو جانا تھا۔ حکومت پنجاب نے ۱۹۸۶ء سے ۱۹۹۱ء تک شفعہ کے بارے میں کوئی قانون نہ بنایا۔ میاں نواز شریف کی جانب سے اراضی کی خریداریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا۔ ان خریداریوں کو شفعہ سے تحفظ دینے کی یہ بہترین صورت تھی کہ قانون میں خلا رہنے دیا جائے۔ چنانچہ قانون سازی میں قریباً پانچ سال کا خلا قائم رکھا گیا۔ اس دوران میں قانون نہ بنانے کے مسئلے پر احتجاج ہوا، مگر پنجاب کی حکومت نے اس کی پروا نہ کی۔
حقوق کا خاتمہ اور اسے مسدود کرنے کی کوششوں میں اجتہادی کاوشوں کا ممد و معاون ہونا کچھ لوگوں کے نزدیک قابل تحسین ہو گا، مگر حکومت پنجاب کا طرز عمل کس قدر مفاد پرستانہ اور مجرمانہ رہا، وہ بالکل واضح ہے۔ ارباب عدالت و شریعت کو اس صورت حال کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کا کچھ بھی شعور و احساس ہوتا تو لوگوں کی اس طرح حق تلفی نہ ہونے دیتے۔ قانون میں خلا کی کبھی گنجائش نہیں ہوتی۔ عدالتی نظائر اس کے سد باب کے لیے بہت واضح ہیں۔ اگر ہمارے علما جج اس اصول کو بروئے کار لاتے تو لوگ حقوق سے محروم نہ ہوتے۔ قانون کے خلا کی صورت میں قانون عامہ اسے پر کرتا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ایسی صورت میں برطانوی قانون عامہ کو اختیار کیا جاتا تھا، مگر الٰہ آباد کے جسٹس محمود اس وقت بھی اسے اسلامی تعلیمات سے پر کرنے کے لیے واضح موقف رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے کوئین ایمپریس بنام پوہپی وغیرہ (۱۸۹۱، الٰہ آباد ۱۷۱) میں باقی ججوں سے اختلافی فیصلہ لکھا۔
تقسیم کے بعد تو ہمارے ہاں قانون کے خلا کو اسلامی تعلیمات سے پر کرنے میں کوئی رکاوٹ ہی نہیں تھی۔ چنانچہ جسٹس محمد افضل ظلہ نے نظام خان بنام سرکار کے کیس میں بڑی سیر حاصل بحث کر کے اس اصول کو واضح کیا ہے۔ موصوف اس وقت لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے۔ ان کا یہ فیصلہ پی ایل جے ۱۹۷۶ء لاہور کے صفحہ نمبر ۵۹۰ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جناب جسٹس ظلہ صاحب نے اپنے فیصلے میں کم و بیش ایک سو سال کے کیسوں کے پورے سلسلے کو تسبیح کی طرح پرو کر بنیادی اصول اخذ کیا ہے۔ کاش ہمارے علما جج صاحبان نے جسٹس افضل ظلہ صاحب کے اس فیصلے سے استفادہ کیا ہوتا۔ اگر ایسا ہوتاتو شاید لوگوں کی محرومی دور کرنے کی کوئی صورت پیدا ہو سکتی۔ جسٹس ظلہ صاحب کا فیصلہ انتہائی فاضلانہ ہے ۔ معلوم نہیں، علما جج دوسرے ججوں کے فیصلے پڑھنا اپنی شان کے خلاف نہ سمجھتے ہوں۔ ویسے بھی کئی بار ایسا ہوا کہ ہمارے بعض علما نے پڑھے بغیر ہی بڑی بڑی دستاویزات کی تائید کر دی۔ اس میں سترھویں آئینی ترمیم اور حدود کے سلسلہ مذاکرات میں علما کمیٹی کا سمجھوتہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اس سمجھوتے کی تفصیلات جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بیان فرمائی ہیں۔ ان کے مطابق علما و فقہاے اسلام جمع ہوئے مگر حضرت جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب بیرون ملک دورہ پر تھے۔ علماے کرام نے ان کے بغیر رائے دینے سے معذرت کر دی۔ عثمانی صاحب کا انتظار ہوا، وہ تشریف لائے تو سمجھوتے پر دستخط ہو گئے۔ سمجھوتے کی شق نمبر ۲ کی زبان اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اسے پڑھے بغیر دستخط کیے گئے۔ یہ شق حسب ذیل ہے:
’’۲۔ حدود آرڈنینس میں زنا موجب تعزیر کی بجائے فحاشی کے عنوان سے ایک نئی دفعہ کا تعزیرات پاکستان (PPC) میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا متن درج ذیل ہے:
A man and a woman are said to commit lewdness if they willfully have sexual intercourse with one another without being married, and shall be punished with imprisonment which may extend to five years, shall be liable to fine.
متن کے بارے میں عجیب و غریب صورت حال ہے۔ مجوزہ دفعہ کا یہ متن ’الشریعہ‘ میں شائع شدہ رپورٹ، معارف اسلامی کے شائع کردہ کتابچے اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کی کتاب’’حدود آرڈیننس اور تحفظ نسواں بل‘‘ میں اسی طرح درج ہے۔ سمجھوتے کی فوٹو کاپی میرے سامنے ہے۔ اس میں بھی متن میں کوئی فرق نہیں۔ کاپی کے آخر پر علماے کرام کے دستخط بھی ہیں۔ اب دفعہ کے دو سطری مسودے میں زبان کی واضح غلطی ہے۔ لفظ being married اور shall be کے درمیان لفظ and زائد ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسودے پر پڑھے بغیر دستخط کیے گئے۔ اگر اسے پڑھا جاتا تو اس بدیہی غلطی کو درست کرا لیا جاتا۔ سمجھوتے کے مسودے کے اردو حصے کے بارے میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ان کا لکھا ہوا ہے۔ اس میں شامل انگریزی سطورکے بارے میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ چوہدری شجاعت یا جناب وصی ظفر صاحب کی لکھی ہوئی ہوں گی۔ بہرحال مسودے کی دوسری جگہ رپورٹس میں زبان کی یہ غلطی موجود نہیں۔
سمجھوتے کا موثر حصہ پانچ سطروں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے دو سطریں اردو اور دو انگریزی میں ہیں۔ انگریزی سطریں سادہ زبان میں ہیں۔ ان میں کوئی فنی اور مشکل زبان بھی نہیں۔ اب انتہائی فضیلت رکھنے والے علما نے جن انگریزی سطور والی شق کو سمجھوتے کے طور پر قبول کیا ہے، ان کے بارے میں یہ گمان تو نہیں کیا جا سکتا کہ وہ زنا بالرضا کو محض فحاشی قرار دے کر اسے پانچ سال کی تعزیر کے تحت لانے پر متفق ہو رہے تھے، مگر یہ گمان کرنا کہ وہ sexual intercourse کا مطلب نہیں سمجھ سکے، بڑا مشکل ہے۔ مگر ان کی یہ بہت بڑی پھسلن ہے۔ اتنے بڑے مرتبے کے لوگوں کی پھسلن ہی تھی کہ خورشید ندیم صاحب کو یہ لکھنے کی جسارت ہوئی کہ شادی کے بغیر رضامندی کے ساتھ جنسی عمل اگر زنا نہیں اور محض فحاشی ہے تو علماے کرام وضاحت کریں کہ زنا کیا ہوتا ہے۔ بہرحال اگر علما جج صاحبان اس خوش گمانی کی اجازت دیں کہ وہ دیگر ججوں کے فیصلوں کو پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں تو جسٹس محمد افضل ظلہ جیسے ججوں کے فیصلوں کو پڑھیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ایسے فیصلوں کو لا جرنلز سے منتخب کر کے اردو میں منتقل کر کے دینی حلقوں کے لیے پیش کروں تاکہ ان کو اندازہ ہو سکے کہ اجتہادی ضروریات کیا ہوتی ہیں۔
مگر مشکل یہ ہے کہ علما عدالت میں جج ہوں یا ایوان اقتدار میں کسی درجہ میں شریک ہو جائیں تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک انعام خیال کرتے ہیں۔ وہ اسے ایک بھاری ذمہ داری خیال کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس میں حکومت کا منشا جس قدر پورا کرنا ممکن ہو، اس کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔علما کمیٹی کے مذاکرات، سترہویں آئینی ترمیم کے موقع پر واضح طور پر ایسا ہی ہوا۔ اس کے علاوہ سود کے کیس میں حکومت کی جانب سے نظر ثانی کی درخواست پر جو کچھ ہوا، اس کا میں خود تذکرہ کرنے کے بجائے سود کے خلاف فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس وجیہ الدین کا بیان نقل کر دینا کافی خیال کرتا ہوں:
’’ربا کے فیصلہ میں حکم یہ تھا کہ آخر جون ۲۰۰۱ء تک سودی نظام ختم کر دیا جائے۔ اس کے باوجود کہ حکومت نے ڈیڑھ پونے دو سال بغیر کچھ کیے گزار دیے تھے، موجودہ جج صاحبان جن میں مولوی تقی عثمانی بھی شامل تھے، کے سامنے جب نظر ثانی کی درخواست لگی، تو انہوں نے ایک سال کا وقت اور دے دیا، یعنی ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک۔ اس وقت کے اخبارات میں ان کے جو آبزرویشن آئے، وہ یہ تھے کہ جی ہم مسلمان ہیں، ہم سود کے حق میں فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں، زیادہ سے زیادہ ہم آپ کو تھوڑا سا ٹائم دے سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ پھر انہوں نے اطمینان سے سال بھر کا وقت دے دیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ نظر ثانی کی درخواست کو خارج تک نہیں کیا۔ اس کو التوا میں رکھا۔‘‘ (میزان، صفحہ نمبر ۱۷۰)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈیڑھ سال کی دی ہوئی میعاد کے اندر عدالت کے حکم کی تعمیل میں کچھ بھی نہ کرنے کے بعد میعاد کس جواز پر مانگی جا سکتی تھی اور کس بنیاد پر یہ میعاد دی جا سکتی تھی؟ اس بارے میں مولانا تقی عثمانی صاحب کی عنایت خسروانہ کیا ایک نہایت فاضل عالم اور اسی علم و فضل کے ناتے سے سپریم کورٹ تک پہنچنے والے جج کے شایان شان ہے؟ گیارہ سال کی طویل عدالتی معرکہ آرائی کے بعد ایک فیصلہ آتا ہے۔ اس کے بعد بھی ڈیڑھ سال میعاد دی جاتی ہے۔ سماعت کے گیارہ سال کے عرصہ میں اگر حکومت چاہتی تو سودی نظام کے متبادل نظام لانے کے اقدامات کر سکتی تھی۔ نظریاتی کونسل اس بارے میں عدالت میں کیس آنے سے پہلے بھی اپنی سفارشات پیش کر چکی تھی۔ ضیا ء الحق کے دور میں پروفیسر خورشید احمد نے بطور چیئر مین اقتصادی پلاننگ کمیشن اچھا خاصا کام کیا تھا۔ اس کے بعد سال بھر کی نئی میعاد، درخواست نظر ثانی کو نمٹائے بغیر دے دینا کتنے بڑے اجر و ثواب کاباعث ہوا، اس کا حساب تو آخر کار ہو گا۔
ججوں کی ذمہ داری حکومتوں کو ان کی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں میں رعایت اور سہولت دینے کی نہیں، بلکہ کوتاہیوں اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کو چیک کرنے کی ہے۔ وہ مملکت کے آئین اور نظریے کے محافظ ہیں۔ اس حیثیت سے ان کو اپنی صلاحیتوں اور بصیرتوں سے بھر پور کام لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں جناب جسٹس ظلہ صاحب کے ایک دو فیصلوں کا کچھ تذکرہ موقع کی مناسبت سے کرنا چاہتاہوں۔
قانون کے خلا کی تکمیل میں قرآن و سنت کے احکام کو موثر کرنے کا کام قصاص و دیت کے حوالے سے ظلہ صاحب نے کمال طور پر انجام دیا۔ اس میں اس وقت کے حکمرانوں کی، اسلامی احکامات سے فرار کی تمام چال بازیاں ناکام ہو گئیں۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ تعزیرات پاکستان میں قتل و جرح سے متعلقہ دفعات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ان کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے قصاص و دیت کے احکامات کی پوری طرح وضاحت کر دی گئی۔ مثبت طور پر قانون سازی کے لیے حکومت کو ایک میعاد دی گئی۔ میعاد میں توسیع اور عدالتی حکم پر نظر ثانی کی کئی درخواستوں کے ذریعے سے حکومت نے قانون سازی کے بجائے وقت گزاری سے کام لیا۔ ایک مرحلہ پر حکومت نے قصاص و دیت آرڈیننس جاری کیا، مگر اسے پارلیمنٹ سے منظور نہ کرایا۔ اس طرح وہ ساقط ہو گیا۔ عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے آرڈنینس کے بار بار کے اجرا کے بعد اسے غیر موثر ہونے دیا گیا۔ آخر کار ظلہ صاحب نے اپنے فیصلے میں قطعی طور پر یہ قرار دیا کہ مزید دی ہوئی میعاد میں اگر موثر قانون نہ بنایا گیا یا آرڈنینس جاری کیا گیا مگر اسے پارلیمنٹ سے عدم منظوری کی بنا پر غیر موثر ہونے دیا گیا تو قصاص و دیت کے بارے میں قرآن و سنت میں درج احکامات موثر ہو جائیں گے۔ آرڈنینس ان احکامات کے بارے میں معاون اور رہنما کے طور پر کام آئیں گے۔ ظلہ صاحب کے اس فیصلے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مملکت کی اعلیٰ ترین عدالت کے ساتھ مذاق کا کھیل آخر کار انجام کو پہنچا اور قصاص و دیت کے قوانین کو کتاب قانون میں شامل کیا گیا۔
جناب ظلہ صاحب نے اس طرح کے احکامات کئی دوسرے کیسوں میں بھی صادر فرمائے۔ ان میں سے ایک کیس انکم ٹیکس کمشنر بنام سائمن اے جی تھا۔ اس کی رپورٹ پی ایل ڈی ۱۹۹۱، سپریم کورٹ ۳۶۸ پر ہے۔ اس کے صفحہ نمبر ۳۷۲ پر ظلہ صاحب نے لکھا:
’’اس کیس میں اٹھنے والے تمام سوالات قوانین کی تعبیر سے متعلق ہیں۔ نظام خان کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ (اوپر حوالہ آ چکا ہے) یہ قرار دے چکی ہے کہ جب تک موجودہ قوانین کو اسلامی احکامات کے مطابق نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک عدالتیں مروجہ قوانین کی تشریح، تعبیر اور اطلاق میں اپنی صوابدید کی حد تک اسلامی فلسفے اور اس کے قانون عامہ اور اصول فقہ کے مطابق فیصلہ کریں گی۔ اس فیصلے کو کئی دیگر فوجداری، مالیاتی قوانین سے متعلقہ معاملات میں کنفرم کیا گیا ہے۔ اس کے لیے دستور کا آرٹیکل ۲۲۷ عدالتوں کو مروجہ قوانین کی تعبیر، تشریح اور اطلاق میں قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کا پابند بناتا ہے۔‘‘
بہر حال اس اصول کو ایک مسلمہ اصول کے طور پر وسیع پیمانے پر اختیار کیا جانا چاہیے کہ قانون میں خلا کی صورت میں عدالتیں قرآن و سنت کے احکامات کو موثر طور پر نافذ کریں گی۔ تکمیل خلا کا یہ ایک ایسا اصول ہے جس کے بغیر سوسائٹی اپنے تحفظ کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں پا سکتی۔ نظام خان کے کیس سے جسٹس ظلہ کی چند سطور مزید ملاحظہ فرمائیے:
Gaps remain and will always remain, since no one can foresee every way in which wickedness of man may disrupt the order of society,.. must we wait until Parliament finds time to deal with such conduct? I say my Lords that if the common law is powerless in such an event, then we should no longer do her reverence. But I say that her hand is still powerful and that it is for Her Majesty judges to play the part. (PLD 6791 Lah 631)
''خلا رہیں گے، اور ہمیشہ رہیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ آدمی کی بدمعاشانہ ذہنیت معاشرے کے سکون کو برباد کرنے کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہے، کوئی بھی پیشگی طور پر اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ کیا ہمیں اس بات کا انتظار کرنا ہو گا کہ پارلیمنٹ فرصت حاصل کر کے صورت حال کے بارے میں قانون بنائے؟ میرا خیال ہے کہ اگر قانون عامہ اس بارے میں بے بس ہے تو ملکہ معظمہ کے جج کسی طرح بے بس نہیں، بلکہ پوری طرح با اختیار اور ذمہ دار ہیں۔‘‘
برطانوی قانون عامہ خلا کی صورت میں بے بس ہو تو جج بے بس نہیں ہوتے، ہمارے جج کیسے بے بس ہو سکتے ہیں؟ خلا کی تکمیل کے لیے قرآن و سنت کی پیروی کا اصول عدالتوں کی جانب سے قانون سازی کا راستہ، صراط مستقیم کی طرح ہے جس کے لیے اللہ تعالی کی مدد اور ہدایت کی دعا ہر مسلمان دن میں پینتیس بار طلب کرتا ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اس میں فقہ کی روشنی میں قرآن و سنت تک پہنچنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ یقینی طور پر گھوڑے کو چھکڑے کے پیچھے باندھنے والی بات ہے۔ اس میں ایسا ہو سکتا ہے کہ فقہ کی چکا چوند میں قرآن و سنت تک پہنچنے سے پہلے ہی آنکھیں چندھیا جائیں، جیسا کہ قانون شفعہ کی دفعہ نمبر ۱۲ کی بحث میں ہم واضح کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اصول قانون میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے کہ ضابطے اور قانون، ان کی تعبیر و اطلاق، حقوق دینے کے لیے ہیں، حقوق سے لوگوں کو محروم کرنے کے لیے نہیں۔ یہ دادرسی فراہم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ دادرسی سے محروم کرنا مقصود ہو تو تمام تر عدالتی اور قانونی نظام لوگوں کے لیے بیکار اور محض ظلم بن جاتا ہے۔
دستور میں شریعت کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں کسی بھی قانون کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے تو ایک میعاد کے بعد اسے غیر موثر کر سکتی ہے، لیکن عدالتوں کو ظلہ صاحب کے نظائر کی روشنی میں اس امر کا بہر صورت لحاظ رکھنا چاہیے کہ اس طرح پیدا ہونے والا خلا قرآن و سنت کے احکام سے پر ہو۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت خلا پر اصرار کرے اور معاشرے کو ظلم کا شکار بننے کے لیے چھوڑ دے۔
’’قرآن اکیڈمی‘‘ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ محمد زبیر صاحب کے قلم سے جناب جاوید احمد غامدی کی کتاب ’’اصول و مبادی‘‘ کے بعض اصولی تصورات پر تنقید کا سلسلہ گزشتہ کچھ عرصے سے ماہنامہ’ ’الشریعہ‘ ‘ میں جاری ہے۔ ان میں سے بعض مضامین ’’قرآن اکیڈمی‘‘ کی طرف سے ’’فکر غامدی‘‘ کے زیر عنوان ایک مجموعے کی صورت میں بھی شائع کیے گئے ہیں۔ علمی مباحث میں نقد وتنقید کی روایت کا زندہ رہنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے زیر بحث تصورات کی تنقیح اور مختلف اطراف کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ لہٰذا ہم ’’الشریعہ‘‘ یا بعض دیگر جرائد میں غامدی صاحب کی آرا پر سامنے آنے والی علمی تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس حسن ظن کے ساتھ اس ضمن میں اپنی معروضات پیش کر رہے ہیں کہ ناقدین نے خیر خواہی اور اصلاح کے جس جذبے کے ساتھ اپنی تنقیدات پیش کی ہیں، اسی طرح ہماری گزارشات پر بھی غور فرمائیں گے اور اگر ان میں کوئی کمزوری پائیں تو علمی اسلوب میں اس کی نشان دہی کریں گے۔
فطرت کا مفہوم اور اس کی رہنمائی کا دائرہ
حافظ محمد زبیر صاحب کے تنقیدی مضامین پر تبصرے کا آغاز ہم ان کے مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور فطرت کا تنقیدی جائزہ‘‘ سے کر رہے ہیں جو’’ الشریعہ‘‘ کے فروری ۲۰۰۷ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے جو نکات اٹھائے ہیں، ان کو ایک ترتیب سے زیر بحث لایا جائے تو پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کے مابین فرق کو جاننے کے لیے کوئی اساس اور بنیاد موجود ہے؟
جناب جاوید احمد غامدی نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر و شر کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے اور یہ فطری شعور اس دین کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے جووحی کے ذریعے سے اسے ملا ہے۔ چنانچہ شریعت کے اوامر و نواہی دین فطرت کے عین مطابق اور اسی کی اساس پر مبنی ہیں۔ ’’اصول ومبادی میں لکھتے ہیں:
’’پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتا ہے جو انسانی فطرت میں روز اول سے ودیعت ہیں اور جنھیں قرآن معروف اور منکر سے تعبیر کرتا ہے۔ شریعت کے جو اوامر ونواہی تعین کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ ان معروفات ومنکرات کے بعد اور ان کی اساس پر قائم ہیں۔ انھیں چھوڑ کر شریعت کا کوئی تصور اگر قائم کیا جائے گا تو وہ ہر لحاظ سے ناقص اور قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہوگا۔‘‘ ( ۵۱)
غامدی صاحب نے نفس انسانی میں ودیعت کیے جانے والے اس فطری شعور کے حق میں سورۂ شمس کی آیت ’ونفس وما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواہا‘ سے استدلال کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ قرآن نے(سورۂ شمس کی) ان آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے دل ودماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔‘‘(اخلاقیات ۱۱)
علماے امت کا موقف بھی یہی ہے۔
’’معارف القرآن‘‘ کے مصنف مولانامفتی شفیع اس نکتے کی تشریح میں لکھتے ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر اور بھلے برے کی پہچان کے لیے ایک استعداد اور مادہ خود اس کے وجود میں رکھ دیا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘ یعنی نفس انسانی کے اندراللہ تعالیٰ نے فجور اور تقویٰ دونوں کے مادے رکھ دیے ہیں۔‘‘(معارف القرآن ۸؍۷۵۱)
مولانا مودودی مذکورہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’الہام کا لفظ ’لہم‘ سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔ ’لَہَمَ الشَّيءَ وَالْتَہَمَہ‘ کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور ’اَلْہَمْتُہُ الشَّيءَ‘ کے معنی ہیں میں نے اس کو فلاں چیز نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتاردی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیرشعوری طور پر بندے کے دل ودماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی وپرہیز گاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات ومیلات رکھ دیے ہیں، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کر تا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی، اچھے اخلاق واعمال اور برے اخلاق واعمال یکساں نہیں ہیں، فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (برائیوں سے اجتناب) ایک اچھی چیز ۔ ‘‘ (تفہیم القرآن ۶؍۳۵۲)
فاضل ناقد کی تمہیدی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں نفس انسانی میں ایک ’فطری رجحان‘ کے پائے جانے کی حد تک اس بات سے اتفاق ہے۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے :
’’اسلام کے دین فطرت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے بندوں کو جس فعل کے بھی کرنے کا حکم دیا ہے، فطرت سلیمہ اس فعل کے کرنے کی طرف ایک فطری رجحان اپنے اندر محسوس کرتی ہے اور جس فعل کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہمیں روک دیا ہے، فطرت سلیمہ بھی اس فعل سے ابا کرتی ہے۔ احکام الٰہی فطرت انسانی کے مطابق تو ہیں لیکن فطرت انسانی سے ان کا تعین نہیں ہو سکتا۔‘‘ (فکر غامدی ۱۴)
اس تحریر میں فاضل ناقد نے اسلام کو دین فطرت قرار دیا ہے اور بیان کیا ہے کہ احکام الٰہی فطرت انسانی کے مطابق ہیں اور فطرت میں وحی کے احکامات اور ممنوعات کا شعور ودیعت ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ فطرت انسانی میں اوامر و نواہی کے شعور اور اوامر کی طرف اس کے میلان اور نواہی سے اس کے ابا کو وحی سے مقدم طور پر تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ کم از کم اس نکتے کی حد تک ان کی اور غامدی صاحب کی بات میں اساسی لحاظ سے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔
اس کے بعد اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا یہ شعور اور احساس عملاً خیر اور شر کے مابین امتیاز قائم کرنے میں کس حد تک انسان کے لیے کارآمد ہے؟ آیا انسان کی فطرت اس کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتی یا اس کے برعکس، وحی کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر ہر لحاظ سے مکمل رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہے یا ان دونوں کے بین بین کوئی صورت حال ہے؟
غامدی صاحب کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں دو چیزوں کا شعور ازل ہی سے ودیعت کر دیا گیا ہے۔ ایک اللہ کی ربوبیت کا اقرار ہے اور دوسری خیر و شر یعنی نیکی اور بدی کا شعور ہے اور ان دونوں معاملوں میں انسان کا فطری علم اور شعور اس کی بنیادی رہنمائی کی خدمت بخوبی سر انجام دیتا ہے۔ چنانچہ وہ ’’میزان‘‘ کے باب ’’ایمانیات ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’دین کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ دنیا کا ایک خالق ہے۔ اس نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ چنانچہ انسان کو یہاں اس نے ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ اس مدت کے پورا ہو جانے کے بعد یہ دنیا لازماً ختم کر دی جائے گی اور اس کے زمین وآسمان ایک نئے زمین وآسمان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پھر ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی۔ تمام انسان وہاں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے عقیدہ وعمل کے لحاظ سے انھیں جزا یا سزا دی جائے گی۔
دین اس حقیقت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے لیے، ظاہر ہے کہ اس کا مبرہن ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ انسان کی تخلیق کے پہلے دن ہی سے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کر رکھاہے کہ کوئی شخص علم وعقل کی بنیاد پر اس کا انکار نہ کرے اور لوگوں کے لیے یہ حقیقت ایسی واضح رہے کہ اس کے منکرین قیامت کے دن اپنا کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش نہ کر سکیں۔
یہ اتمام حجت کس طرح ہوا ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ خدا کی ربوبیت کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اس عہد کا ذکر قرآن ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اس لیے یہ واقعہ تو اس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی حقیقت اس کے صفحۂ قلب پر نقش اوراس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اس کی یاددہانی کی جائے تو وہ اس کی طرف اس طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب تھا جو اس کے اندر ہی موجود تھا۔ اس نے اسے پالیا ہے تو اس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ فرمایا ہے:
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ، وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ، اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، شَہِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْٓا: اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ، اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ؟ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ، وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۷۲۔۱۷۴)
’’اور یاد کرو، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود اُن کے اوپر گواہ بنا کر پوچھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے جواب دیا: ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی تھے یا اپنا عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر آپ کیا ان غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟ (یہ ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے) اور ہم اسی طرح اپنی آیتوں کی تفصیل کرتے ہیں، (اِس لیے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو) اور اس لیے کہ وہ رجوع کریں۔‘‘
یہی معاملہ خیروشر کا ہے۔ اس کا شعوربھی اسی طرح انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’ونفس وما سواھا، فالھمھا فجورھا وتقوھا‘ ( اور نفس گواہی دیتا ہے اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے سجھادی)۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت ’اِنَّا ھدینہ السبیل‘ (ہم نے اُسے خیروشر کی راہ سجھا دی) اور ’ھَدَیْنٰہُ النجدین‘ ( ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے پروردگار نے ایک حاسۂ اخلاقی بھی اس کے اندر رکھ دیا ہے جو نیکی اور بدی کوبالکل اسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ ہمارے نفس کا یہ پہلو کہ وہ ایک نفس ملامت گر بھی ہے اور دل کے پردوں میں چھپی ہوئی اس کی زبان ایک واعظ وناصح کی طرح برائی کے ارتکاب پر ہم کو برابر ٹوکتی اور سرزنش کرتی رہتی ہے، اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیروشر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کو جھٹلانے کی جسارت کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی اس شہادت کے بعد جزاوسزا کو جھٹلانا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ فرمایاہے:
لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ، اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ؟ بَلٰی، قَادِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ، بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ، یَسْءَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ، فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ، وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ اَیْْنَ الْمَفَرُّ؟ کَلَّا، لَا وَزَرَ، اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَءِذِ الْمُسْتَقَرُّ، یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ، بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ، وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ.(القیٰمہ۷۵:۱۔۱۵)
’’نہیں،میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتاہوں، اور نہیں، میں (تمھارے) اِس نفس لوامہ کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ کیاانسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم تو اس کی پورپور درست کر سکتے ہیں۔ (نہیں، یہ بات نہیں)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔ پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟ لیکن اُس وقت ، جب دیدے پتھرائیں گے اور چاند گہنائے گا اور سورج اور چاند، (یہ دونوں) اکٹھے کر دیے جائیں گے، تو یہی انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ کر جاؤں ہر گز نہیں، اب کہیں پناہ نہیں! اُس دن تیرے رب ہی کے سامنے ٹھیرنا ہو گا۔ اُس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ (نہیں، وہ اِسے نہیں جھٹلا سکتا)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے۔ ‘‘‘‘ (ماہنامہ اشراق، جنوری ۲۰۰۶، ۲۵۔۲۷)
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیا جانے والا یہ فطری شعور کسی خارجی رہنمائی کے بغیر بھی ازخود اپنے اظہار کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ چنانچہ جب جنت میں ممنوعہ پھل کھانے کے نتیجے میںآدم و حوا کے ستر ان پر کھل گئے تو انھوں نے فوراً اپنے آپ کو پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ قرآن مجید سے واضح ہے کہ ایسا انھوں نے کسی باقاعدہ ’حکم‘ کی تعمیل میں نہیں، بلکہ شرم وحیا کے اس فطری احساس کی بنا پر کیا تھا جو اللہ نے ان کی فطرت میں ودیعت کر رکھا تھا۔ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۲ کی تفسیر میں اسی بات کی وضاحت کی ہے۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:
’’’...وَطَفِقًا یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّۃ‘ کے اسلوب بیان سے اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہورہا ہے جو اس اچانک حادثے سے آدم وحوا پر طاری ہوئی۔ جوں ہی انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہو کر رہ گئے ہیں، فوراً انھیں اپنی ستر کی فکر ہوئی اور جس چیز پر ہاتھ پڑ گیا اسی سے ڈھانکنے کی کوشش کی، چنانچہ کوئی چیز نہیں ملی توباغ کے پتے ہی اپنے اوپر گانٹھنے گوتھنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر کا احساس انسان کے اندر بالکل فطری ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں محض عادت کی پیداوار ہیں، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ جس طرح توحید فطرت ہے، شرک انسان مصنوعی طورپر اختیار کرتا ہے، اسی طرح حیا فطرت ہے، بے حیائی انسان مصنوعی طور پر اختیار کرتاہے۔‘‘ (تدبرقرآن۳/۲۳۶)
مولانا مودودی نے بیان کیا ہے:
’’انسان کے اندر شرم وحیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اولین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقا سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اول روز سے انسان میں موجود تھی۔‘‘ (تفہیم القرآن۲/۱۵)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں متعدد مقامات پر مختلف زاویوں سے یہ بات بیان کی ہے کہ نیکی اور بدی کی اساسات فطرت انسانی میں راسخ ہیں اور انسان شریعت اور مذہب سے مقدم طور پر ان سے شناسا ہوتا ہے۔ ’باب اقتضاء التکلیف المجازاۃ‘ کے زیر عنوان انھوں نے اس مسئلے پر بحث کی ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال پر جزا وسزا ملنا کیوں ضروری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے چار اسباب بیان کیے ہیں۔ ایک سبب وہ ساخت ہے جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ساخت بذات خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اعمال صالحہ کو انجام دے۔ دوسرا سبب ملاء اعلیٰ کی جہت سے ہے، چنانچہ جب کوئی انسان اچھاکام کرتا ہے تو فرشتوں کی جانب سے اس کے لیے بہجت اور سرور کی شعاعیں نکلتی ہیں اور جب وہ برا کام کرتا ہے تو ان سے نفرت اور بغض کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ مجازات عمل کا تیسرا سبب شریعت کا نزول ہے جس کی پسندیدگی کا جذبہ اللہ کی طرف سے انسانوں کے دلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ چوتھا سبب انبیا کی بعثت او ر ان کی طرف ہونے والی وحی کا مشخص اور ممثل ہو جاناہے ۔ یہ اسباب بیان کر کے انھوں نے لکھا ہے:
’’...پہلی دو جہتوں سے مجازات عمل تو عین وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا ہے اور فطرت الٰہی میں تم کسی قسم کی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ لیکن یہ صرف بر واثم کے اصول وکلیات میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات وحدود میں، اور یہ فطرت ہی وہ دین ہے جو زمانوں کی تبدیلی سے تبدیل نہیں ہوتا اور جس پر تمام انبیا ے کرام کا اجماع واتفاق ہے۔ ... (دین فطرت کی) اس مقدار پر مواخذہ اور داروگیر انبیا سے قبل بھی ثابت ہے اور ان کی بعثت کے بعد بھی۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الاول، باب اقتضاء التکلیف المجازاۃ)
’’ اتفاق الناس علیٰ اصول الارتفاقات‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے بیان کیا ہے کہ ارتفاقات یعنی انسانی سماج کی تشکیل اور اس کی بقا اور تہذیب کے اصول تمام بنی نوع انسان کے مابین ہمیشہ سے مسلم اور متفق علیہ رہے ہیں۔اس اتفاق کا سبب ان کے نزدیک فطرت سلیمہ ہے۔ لکھتے ہیں:
’’جاننا چاہیے کہ اقالیم معمورہ کا کوئی شہر یا دنیا کی کوئی قوم جو معتدل مزاج اور اخلاق فاضلہ کی حامل ہے، آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک ، ان ارتفاقات سے خالی نہیں ہو سکتی۔ ان ارتفاقات کے اصول سب کے نزدیک نسلاً بعد نسلٍ اور طبقہ در طبقہ مسلم چلے آ رہے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگ ہمیشہ شدید انکار کرتے رہے ہیں۔ بنی نوع انسان ان ارتفاقات کی انتہائی شہرت کی بنا پر انھیں بدیہی امور خیال کرتے ہیں۔ ان ارتفاقات کی ظاہری صورتوں اور ان کی جزئیات کے معاملے میں لوگوں کا اختلاف تمھارے لیے ہماری بات کو تسلیم کرنے مانع نہ بنے۔ مثلاً مردوں کی بدبودار اور برہنہ لاشوں کو چھپانے پر ساری دنیا کا اتفاق ہے، گو اس کی صورتیں مختلف ہیں۔ کچھ لوگ مردوں کو زمین میں دفن کرنا پسند کرتے ہیں اور کچھ انھیں جلا دیتے ہیں۔ اسی طرح نکاح کی تشہیر اور لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر کے بدکاری سے اس کو ممتاز کرنے پر بھی انسانوں کا اتفاق ہے۔ پھر اس کی صورتوں میں اختلاف ہے، پس بعض نے گواہوں اور ایجاب وقبول اور ولیمہ کو پسند کیا اور بعض نے دف بجانے اور گانا گانے کو اور ایسے بڑھیا لباس پہننے کو جو صرف شادی بیاہ کی بڑی تقریبات ہی میں پہنے جاتے ہوں۔ زانیوں اور چوروں کو سزا دینے پر بھی اتفاق ہے، لیکن اس کے طریقے میں اختلاف ہے۔ بعض نے سنگسار کرنا اور ہاتھ کاٹ دینے کا طریقہ اختیار کیا اور بعض نے سخت پٹائی کرنے، تکلیف دہ قید اور کمر توڑ دینے والے جرمانے عائد کرنے کا۔ ... اور یہ خیال نہ کرنا چاہیے کہ سب لوگ ان چیزوں پر کسی سبب کے بغیر یوں متفق ہو گئے جیسے اہل مشرق ومغرب سب ایک ہی طرح کا کھانا کھانے پر متفق ہو جائیں۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی احمقانہ بات ہو سکتی ہے؟ بلکہ فطرت سلیمہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگ اپنے مزاجوں کے اختلاف اور اوطان کے باہمی فاصلوں اور ادیان ومذاہب کے اختلاف وتنوع کے باجود ان امور پر کسی ایسی فطری مناسبت ہی کی وجہ سے متفق ہوئے ہیں جو ان کی صورت نوعیہ سے پھوٹتی ہے۔ اس اتفاق کا سبب وہ حاجات بھی ہیں جو بنی نوع انسان کو بکثرت پیش آتی ہیں اور وہ اخلاق بھی جن کو افراد کے مزاج میں پیدا کرنے کا تقاضا ان کی صورت نوعیہ کی صحت کرتی ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الثالث، باب اتفاق الناس علیٰ اصول الارتفاقات)
اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’مبحث البر والاثم‘‘ کے عنوان کے تحت انھوں نے بیان کیا ہے کہ نیکی کے قوانین اللہ ہی کی طرف سے لوگوں کے دلوں میں الہام کیے گئے ہیں:
’’اور جس طرح ارتفاقات کو اہل بصیرت نے مستنبط کیا اور لوگوں نے اپنے دلوں کی گواہی کی بنا پر ان کی اقتدا کی اور روے زمین کے سب لوگوں نے یا ان لوگوں نے جن کا کوئی اعتبار ہے، ان پر اتفاق کر لیا، اسی طرح بر (نیکی) کے بھی قوانین ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں الہام کیے ہیں جنھیں نور ملکی کی تائید حاصل ہے اور جن پر فطرت کا رنگ غالب ہے، ایسے ہی جیسے شہد کی مکھیوں کے دلوں میں وہ چیزیں الہام کی گئی ہیں جو ان کی صلاح معاش کے لیے ضروری ہیں۔ پس ان لوگوں نے ان طریقوں کو اختیار کیا، ان پر چلے ، دوسروں کی رہنمائی کی اور انھیں ان کے اپنانے کی ترغیب دی، پس لوگوں نے ان کی پیروی کی اور زمین کے تمام اطراف میں، علاقوں کے مابین دوری اور ادیان کے اختلاف کے باوجود، تمام اہل ملل ان پر متفق ہو گئے جس کی وجہ ایک فطری مناسبت اور انسانوں کی نوع کا تقاضا تھا۔ ان طریقوں کے اصولوں پر اتفاق کے بعد ان کی صورتوں میں اختلاف مضر نہیں، اسی طرح کسی ایسے ناقص (فطرت والے) گروہ کا گریز بھی مضر نہیں جن پر اگر اصحاب بصیرت غور کریں تو انھیں کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ ان کا مادہ ہی انسانوں کی صورت نوعیہ کے منافی ہے اور اس کے احکام کے تابع نہیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے انسان کے جسم میں کوئی زائد عضو ہو اور جس کو کاٹ دینا اس کے باقی رکھنے سے بہتر ہو۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث الخامس، مبحث البر والاثم)
صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی یہی بات بیان کی ہے:
’’اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے، جیسا کہ سورۂ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’اَلَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَيءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی‘۔ ’’جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی‘‘ (آیت۵۰)۔مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آجاتا ہے۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے، اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتاتھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے۔ ان ایجادات واکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا، وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکروکاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کر لی۔ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے، اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیروشر کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیروشر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے، اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم ودانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے، کیونکہ جن اجزا سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے، ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔(تفہیم القرآن۶/۳۵۲)
اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ وحی سے مقدم طور پر فطری رہنمائی کا وجود اکابر علماے امت کے نزدیک اسی طرح مسلم ہے، جیسا کہ جناب جاوید احمد غامدی نے اسے بیان کیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خالق کی معرفت اور خیر و شر کا شعور انسان کی فطرت میں مسلم ہے تو وہ کیا ضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کا سلسلہ شروع کیا؟ غامدی صاحب کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خیر و شر کے مبادیات کا کامل شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کو براہ راست ودیعت کر رکھا تھا،مگر ان کے لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں انسان کو مزید رہنمائی کی ضرورت تھی۔مزید براں اشخاص، زمانے اور حالات کے فرق کی وجہ سے ان لوازم و اطلاقات اور جزئیات و تفصیلات میں اختلافا ت کا پیدا ہو جانا قدرتی امر تھا۔ اس اختلاف کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں بھیجنے کے بعد وحی کا سلسلہ جاری فرمایا اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے ان کی ہدایت کا سامان کیا۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے باب ’’اخلاقیات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’(فطرت میں ودیعت) خیر و شرکے اس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبرو ں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ ان پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے ، یہ ہدایت اس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم ، سب اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔
روایتوں میں ایک تمثیل کے ذریعے سے یہی بات اس طرح سمجھائی گئی ہے کہ تم جس منزل تک پہنچنا چاہتے ہو، اس کے لیے ایک سیدھا راستہ تمھارے سامنے ہے جس کے دو نوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اندر آجاؤ اورسیدھے چلتے رہو۔ اس کے باوجود کوئی شخص اگر دائیں بائیں کے دروازوں کا پردہ اٹھانا چاہے تو اوپرسے ایک منادی پکار کرکہتاہے : خبردار ، پردہ نہ اٹھانا۔ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ فرمایا ہے کہ یہ راستہ اسلام ہے ، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، دروازے اس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، اوپر سے پکار نے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر بندۂ مومن کے دل میں ہے اور راستے کے سرے پر پکارنے والا قرآن ہے :
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ، وَیُبَشِّرُ الْمُْؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷:۹)
’’بے شک ، یہ قرآن اُس راستے کی رہنمائی کرتاہے جو بالکل سیدھا ہے اور اپنے ماننے والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ‘‘ (۱۲)
اس اقتباس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کو کیا مقام حاصل ہے اور اس کے تقابل میں وحی کی کیا حیثیت ہے۔ فطرت کی ہدایت اور وحی کی ہدایت میں یہی وہ باہمی تعلق ہے جسے امت کے جلیل القدر علما نے بھی بیان کیا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:
’’ انبیا کی بعثت اصلاً اور بالذات اگرچہ عبادات کے رسوم اور طریقے سکھانے کے لیے ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ بسا اوقات فاسد معاشرتی رسوم کا خاتمہ اور ارتفاقات کی بعض صورتوں پر لوگوں کو آمادہ کرنا بھی بطور مقصد کے شامل ہو جاتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے کہ مجھے گانے بجانے کے آلات کو ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور یہ کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ ... اس باب میں تمام کے تمام انبیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو طریقہ لے کر آئے، وہ یہ تھا کہ اس قوم کے ہاں کھانے پینے، لباس، تعمیر، زیب و زینت، نکاح اور زوجین کے باہمی معاملات، بیع وشرا کی جو بھی صورتیں موجود ہوں اور گناہوں سے روکنے اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے جو بھی طریقے رائج ہوں، اگر وہ کلی رائے کے اعتبار سے عائد ہونے والی ذمہ داری کے موافق ہوں تو ان میں سے کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹانے یا اس کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،بلکہ ضروری ہے کہ اس قوم کو ان کے ہاں رائج طریقوں ہی کی پابندی کی ترغیب دی جائے اور اس معاملے میں ان کی رائے کی تصویب کی جائے اور اس میں جو مصالح پائے جاتے ہیں، وہ ان پر واضح کیے جائیں۔ البتہ اگر کوئی چیز اس کے موافق نہ ہو اور اس کو بدلنے یا ختم کر دینے کی ضرورت ہو، یا تو اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی باہمی اذیت کا سبب بنتی ہے یا دنیا کی لذتوں میں کھو جانے اور احسان کے طریقے سے اعراض کا باعث ہے یا ایسی غفلت پیدا کرتی ہے جس سے دنیا اور آخرت کے مصالح برباد ہو جاتے ہیں، تو پھر بھی اس قوم کے مانوس طریقوں سے بالکلیہ باہر نکل جانا درست نہیں، بلکہ اس کو تبدیل کر کے انھی کے ہاں موجود کسی نظیر کو اپنانا چاہیے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، المبحث السادس، باب اقامۃ الارتفاقات واصلاح الرسوم)
مولاناامین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے:
’’انسان انبیاے کرام کی ہدایت کا محتاج اس وجہ سے نہیں ہوا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز یا ان کے شعور سے عاری تھا، بلکہ اس وجہ سے ہوا کہ اس راہ میں اس کو اس کی بعض کمزوریوں کے سبب سے بہت سے مغالطے پیش آ سکتے تھے، نیز مبادی فطرت کے تمام لوازم اور ان کے سارے مقتضیات کو سمجھنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں تھا ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لیے نبی و رسول بھیجے۔ ان نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات چونکہ انھی مبادی پر مبنی ہیں جو انسان کے اندر ودیعت ہیں، اس وجہ سے جو سلیم الطبع تھے ، انھوں نے نبیوں کی ہر بات کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھا۔ صرف ان لوگوں نے ان کی مخالفت کی جنھوں نے اپنی فطرت مسخ کر ڈالی تھی، اگرچہ اپنے دلوں کے اندر وہ بھی رسولوں کی صداقت و حقانیت کے معترف تھے۔‘‘ (تدبرقرآن۶/۹۴)
مولانا شبیر احمد عثمانی نے لکھا ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ساخت اور تراش شروع سے ایسی رکھی ہے کہ اگر وہ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہے تو کر سکے اور بداء فطرت سے اپنی اجمالی معرفت کی ایک چمک اس کے دل میں بطور تخم ہدایت کے ڈال دی ہے کہ اگر گردوپیش کے احوال اور ماحول کے خراب اثرات سے متاثر نہ ہو اور اصلی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو یقیناًدین حق کو اختیار کرے، کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ ’’عہدالست‘‘ کے قصہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ ہر بچہ فطرۃ (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے بعدہ، ماں باپ اسے یہودی، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو ’’حُنفاء‘‘ پیدا کیا۔ پھر شیاطین نے اغوا کر کے انھیں سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا۔ بہرحال دین حق، دین حنیف اور دین قیم وہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی فطرت پر مخلی بالطبع چھوڑ دیا جائے تو اپنی طبیعت سے اسی کی طرف جھکے۔ تمام انسانوں کی فطرۃ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی بنائی ہے جس میں کوئی تفاوت اور تبدیلی نہیں۔ فرض کرو اگر فرعون یا ابوجہل کی اصلی فطرت میں یہ استعداد اور صلاحیت نہ ہوتی تو ان کو قبول حق کا مکلف بنانا صحیح نہ ہوتا۔ جیسے اینٹ پتھر یا جانوروں کو شرائع کا مکلف نہیں بنایا۔ فطرت انسانی کی اسی یکسانیت کا یہ اثر ہے کہ دین کے بہت سے اصول مہمہ کو کسی نہ کسی رنگ میں تقریباً سب انسان تسلیم کرتے ہیں، گو ان پر ٹھیک ٹھیک قائم نہیں رہتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ’’یعنی اللہ سب کا مالک حاکم، سب سے نرالا، کوئی اس کے برابر نہیں‘‘، کسی کا زور اس پر نہیں، یہ باتیں سب جانتے ہیں۔ اس پر چلنا چاہیے۔ ایسے ہی کسی کے جان ومال کو ستانا، ناموس میں عیب لگانا، ہر کوئی برا جانتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کو یاد کرنا، غریب پر ترس کھانا، حق پورا دینا، دغا نہ کرنا، ہر کوئی اچھا جانتا ہے۔ اس (راستہ) پر چلنا وہ ہی دین سچا ہے۔ (یہ امور فطری تھے مگر) ان کا بندوبست پیغمبروں کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے سکھلا دیا۔‘‘ (تفسیر عثمانی۵۲۸)
اعتراضات کا جائزہ
غامدی صاحب کے موقف اور دلائل کی تفصیلی وضاحت کے بعد اب اس پر فاضل ناقد کے اعتراضات کا جائزہ لیجیے:
فاضل ناقد کا موقف یہ ہے کہ فطرت، وحی کے ذریعے سے ملنے والی تعلیمات کو سمجھنے کی حد تک بنیاد کا کام تو دیتی ہے، لیکن بذات خود کسی بھی درجے میں کوئی ایسا ذریعۂ ہدایت نہیں ہے جسے من جانب اللہ تصور کیا جائے، بلکہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے روز اول ہی سے انسان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے جب سے آدم کو اس دنیا میں بھیجا ہے، اس دن سے ہی اس کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرما دیا ہے۔ ... اس انتہائی اہم موقع پر جب کہ حضرت آدم کو اور ان کی آنے والی ذریت کوجنت سے اتار کر اس دنیامیں بھیجا جا رہا ہے، اس وقت انھیں صرف ایک ہی چیز کی پیروی کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور وہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ہے اور دونوں جگہ قرآن کے الفاظ ’منی ھدی‘ اور اس کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ اس ہدایت سے مراد کوئی فطری ہدایت نہیں بلکہ اللہ کی آیات اور اس کی طرف سے نازل کردہ وحی کی رہنمائی مراد ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو ا کہ پہلے ہی دن سے اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے حضرت آدم اور ان کی آنے والی ذریت کو جو رہنمائی دی جا رہی ہے، وہ وحی کی رہنمائی ہے اور جس نے بھی اللہ کی دی ہو ئی ا س وحی کی رہنمائی سے استفادہ کرنے سے انکار کیا تو وہی لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں ۔‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۴۰)
فاضل ناقد نے انسان کے فطری علم کے کسی بھی درجے میں رہنما ہونے کی نفی پر دو مزید دلائل بھی پیش کیے ہیں:
ایک یہ کہ یہ بات سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۷۸ کے خلاف ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ان کی ماؤں کے پیٹوں میں سے اس حال میں نکالا کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ آیت یہ ہے:
وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْْءًا.(النحل۱۶ :۷۸)
’’اللہ تعالیٰ نے تم کو تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے ۔‘‘
دوسرے یہ کہ یہ مفہوم مسلم کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل ہوئی کہ ’اللھم آت نفسی تقواھا‘۔ ’’پروردگار، میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما ‘‘۔ اس پر انھوں نے لکھا ہے کہ اگر ’فجور‘ اور ’تقویٰ ‘ انسانی فطرت میں داخل تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ا للہ سے مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
فاضل ناقد کے ان استدلالات کے جواب میں ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ بنی آدم کے لیے روز اول سے سلسلۂ وحی جاری کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان کا فطری علم کسی بھی درجے میں اس کی رہنمائی نہیں کر سکتا اور یہ کہ انسان ہر معاملے میں ’وحی‘ ہی کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ ہم اوپر کی سطور میں مختلف دلائل اور اکابر اہل علم کے اقتباسات کی روشنی میں اس نکتے کی تفصیلی وضاحت کر چکے ہیں۔
۲۔ سورۂ نحل کی جس آیت ’اخرجکم من بطون امہتکم لا تعلمون شیئا‘ سے فاضل ناقد نے فطری رہنمائی کی نفی پر استدلال کیا ہے، اس کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں انسان کے اندرون یعنی اس کے وجدان اور اس کے نفسی ، روحانی اور فطری وجود کا مسئلہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے۔یہاں اس کا بیرون زیر بحث ہے جس سے وہ اپنی عقل، اپنے حواس اور اپنی سماعت و بصارت کے ذریعے سے متعلق ہوتا ہے۔اس مقام پر مخاطبین کو اللہ کے ان انعامات کی یاددہانی کرائی گئی ہے جن سے وہ اللہ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کے توسط ہی سے آگاہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلۂ بیان میں جو آیت ۶۵ سے شروع ہو کر آیت ۸۳ پر مکمل ہوتا ہے، اس بارش کا ذکر کیا ہے جو بنجر زمین میں روئیدگی پیدا کرتی اور اس کے ثمر آور ہونے کا باعث بنتی ہے، ان چوپایوں کا ذکر کیا ہے جن سے دودھ جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے، کھجوروں اور انگوروں جیسے پھلوں کا ذکر کیا ہے جو لذت کام و دہن کا سامان کرتے ہیں،شہد کی مکھی کا ذکر کیا ہے جو اپنے رب کے حکم سے پھلوں کا رس چوستی اور صحت بخش مشروب پیدا کرتی ہے، بیویوں، بیٹوں اور پوتوں کا ذکر کیا ہے، رزق کا ذکر کیا ہے، فضا میں اڑتے ہوئے پرندوں کا ذکر کیا ہے، گھروں کا ذکر کیا ہے جو چین اور سکون حاصل کرنے کے لیے انسان کی آماج گاہ ہیں، جانوروں کی کھال اور اون کا ذکر کیا ہے جن سے اشیاے ضرورت تیار ہوتی ہیں۔انھی انعامات کی یاددہانی کراتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں سے نکالا توتم اپنے گرد و پیش میں بکھرے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بے پناہ انعامات سے ناواقف اور بے گانہ تھے۔ پھر اللہ نے تمھیں سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائیں اور ان کے ذریعے سے تم اس قابل ہوئے کہ گرد و پیش کے انعامات سے مستفید ہو سکو۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں ایسی کوئی چیز زیر بحث ہی نہیں ہے جس کا تعلق انسان کے نفسی و روحانی وجود سے ہو۔ نہ ایمان و عقیدے کا ذکر ہے، نہ فضائل اخلاق کا تذکرہ ہے، نہ اس کے رذائل کا بیان ہے،اور نہ حلال و حرام ، معروف ومنکر ، نیکی و بدی، فجور و تقویٰ اور خیر و شر کا حوالہ ہے۔ اس لیے اس سے خیر وشر کے اس فطری الہام کی نفی ثابت کرنا درست نہیں ہے جس کا ذکر سورۂ شمس کی آیت ’فالہمہا فجورہا وتقواہا‘ میں کیا گیا ہے اور جس کے وجود کو ایک ’فطری رجحان‘ کی حد تک خود فاضل ناقد بھی تسلیم کرتے ہیں۔
مولانا شبیر احمد عثمانی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’یعنی پیدایش کے وقت تم کچھ جانتے اور سمجھتے نہ تھے، خدا تعالیٰ نے علم کے ذرائع اور سمجھنے والے دل تم کو دیے جو بذات خود بھی بڑی نعمتیں ہیں اور لاکھوں نعمتوں سے متمتع ہونے کے وسائل ہیں۔ اگر آنکھ، کان،عقل وغیرہ نہ ہو تو ساری ترقیات کا دروازہ ہی بند ہو جائے۔ جوں جوں آدمی کا بچہ بڑا ہوتا ہے، اس کی علمی و عملی قوتیں بتدریج بڑھتی جاتی ہیں۔ اس کی شکر گزاری یہ تھی کہ ان قوتوں کو مولیٰ کی طاعت میں خرچ کرتے، اور حق شناسی میں سمجھ بوجھ سے کام لیتے، نہ یہ کہ بجائے احسان ماننے کے الٹے بغاوت پر کمر بستہ ہو جائیں اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر اینٹ پتھروں کی پرستش کرنے لگیں۔ یعنی جیسے آدمی کو اس کے مناسب قویٰ عنایت فرمائے، پرندوں میں ان کے حالات کے مناسب فطری قوتیں ودیعت کیں۔...حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ’’یعنی ایمان لانے میں بعضے اٹکتے ہیں، معاش کی فکر سے، سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا۔ کمائی کے اسباب کہ آنکھ، کان، دل وغیرہ ہیں، اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھرمیں آخر کس کے بھروسا رہتے ہیں۔‘‘... اگر خدا تعالیٰ آنکھ، کان اور ترقی کرنے والا دل و دماغ نہ دیتا، کیا یہ سامان میسر آ سکتے تھے۔...یعنی دیکھو! کس طرح تمھاری ہر قسم کی ضروریات کا اپنے فضل سے انتظام فرمایا اور کیسی علمی و عملی قوتیں مرحمت فرمائیں جن سے کام لے کر انسان عجیب و غریب تصرفات کرتا رہتا ہے، پھر کیا ممکن ہے کہ جس نے مادی اور جسمانی دنیا میں اس قدر احسانات فرمائے، روحانی تربیت و تکمیل کے سلسلہ میں ہم پر اپنا احسان پورا نہ کرے گا۔‘‘ (تفسیر عثمانی ۳۵۷)
اس آیت کی تشریح میں علامہ ابن کثیر ، مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ یہاں انسان کو ملنے والی وہ صلاحیتیں مراد ہیں جو اس کے خارج کو اس پر آشکارا کرتی اور جن کے ذریعے سے وہ اپنے گرد وپیش میں بکھری ہوئی اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۳/ ۱۳۲۔ تدبر قرآن ۴/ ۴۳۲۔ تفہیم القرآن۲/ ۵۹۹) چنانچہ یہاں انسان کی پیدایش کے وقت اس علم کی نفی ہوئی ہے جو انسان کو حواس اور مشاہدات کے ذریعے سے خارجی دنیا کے بارے میں حاصل ہوتا ہے، اس کے فطری علم کی یہاں ہر گز نفی نہیں کی گئی۔
فاضل ناقد نے دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ غامدی صاحب کی رائے صحیح مسلم کی ایک روایت کے خلاف ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے حسب ذیل روایت نقل کی ہے:
کان یقول ... اللھم آت نفسي تقواھا وزکھا أنت خیر من زکاھا.( مسلم، رقم ۲۷۲۲)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ، تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ عنایت فرما دے اور اس کو پاک کر دے۔ بے شک، تو پاک کرنے والوں میں بہترین پاک کرنے والاہے ۔ ‘‘
روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ دعا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس کے تقوے اور اس کی پاکیزگی کی طلب میں پروردگار کے حضور میں پیش کی ہے۔فاضل ناقد نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ استدعا اس چیز کے لیے کی جاتی ہے جو میسر نہ ہو۔ اگر نفس کا تقویٰ انسان کو فطری طور پر ودیعت ہوتا تو آپ اسے اللہ تعالیٰ سے ہر گز طلب نہ کرتے۔ لکھتے ہیں:
’’اگر ’فجور‘ اور’ تقویٰ‘ انسانی فطرت میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس تقویٰ کو مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ (فکر غامدی۲۹)
اس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ دعا سے اس چیز کی عدم دستیابی لازم آتی ہے جس چیز کے لیے دعا مانگی جا رہی ہے۔ بلا شبہ ناحاصل کے لیے دعا مانگی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم حاصلات کے لیے بھی پروردگار کے حضور میں دست دعا بلند کرتے ہیں۔ اس سے مقصود اس حاصل میں ازدیاد اور اس کا دوام و استمرار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر صالح مسلمان صراط مستقیم پر گا م زن رہنے کے باوجود دن میں پانچ مرتبہ ’اھدنا صراط المستقیم‘ کی دعا مانگتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دعا انسان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ا س کے پروردگار نے سکھائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون صراط مستقیم پرگام زن ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ان کی زبان پر یہ دعا جاری رہتی تھی۔
کیا فطرت مستقل ماخذ دین ہے؟
فطرت اور وحی کے باہمی تعلق کے حوالے سے ان بنیادی مباحث کی وضاحت کے بعد اب آئیے اس سوال کی طرف کہ کیا فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذ دین کی حیثیت حاصل ہے؟ اس سوال کا جواب اگر اثبات میں ہے تو پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فطرت کا تعین کیسے ہوگا اور اگر اس ضمن میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو اسے کیسے رفع کیا جائے گا؟ ہم نے اوپر کے صفحات میں جو بحث کی ہے، اس کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے معاملے کو محض فطرت کی رہنمائی پر منحصر نہیں رکھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انبیا علیہم السلام کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے۔ان انبیاے کرام نے دین فطرت کی تصویب وتائیدکی ہے اور انسانوں کو اس کے حقائق کی جانب متوجہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان اختلافات کو بھی رفع کیا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے فہم میں پیدا ہو ئے تھے یا پیدا ہو سکتے تھے۔ چنانچہ انبیا کی رہنمائی کی موجودگی میں فطرت مستقل ماخذ دین کی حیثیت نہیں رکھتی۔ فطرت کی تعیین انبیا کی تائید وتصویب ہی سے ہوتی ہے اور اس کی تعیین کے لیے وحی کی رہنمائی سے آزاد کوئی الگ اور مستقل معیار موجود نہیں ہے۔ یہی موقف ہے جسے جناب جاوید احمد غامدی نے بیان کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’پہلی چیز (یعنی دین فطرت) کا تعلق ایمان و اخلاق کے بنیادی حقائق سے ہے اور اس کے ایک بڑے حصے کو وہ اپنی اصطلاح میں معروف و منکر سے تعبیر کرتا ہے، یعنی وہ باتیں جو انسانی فطرت میں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور وہ جن سے فطرت ابا کرتی اور انھیں برا سمجھتی ہے ۔قرآن ان کی کوئی جامع و مانع فہرست پیش نہیں کرتا ،بلکہ اس حقیقت کو مان کر کہ انسان ابتدا ہی سے معروف و منکر ،دونوں کو پورے شعور کے ساتھ بالکل الگ الگ پہچانتا ہے ، اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معروف کو اپنائے اور منکر کو چھوڑدے ... اس معاملے میں اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو ذریت ابراہیم کا رجحان فیصلہ کن ہو گا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے پیغمبر انھی میں آئے ہیں اور معروف و منکر سے متعلق ان کے رجحانات کو گویا انبیا علیہم السلام کی تصویب حاصل ہو گئی ہے ۔ ‘‘(اصول و مبادی ۴۸۔ ۴۹)
انبیا علیہم السلام کی طرف سے ذریت ابراہیم کے رجحانات کی تصویب کا عمل آخری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہوا ہے۔ اس کے بعد فطرت کے تعین میں اصل معیار کی حیثیت اس ’تصویب‘ ہی کو حاصل ہے اور اس کو جاننے کے لیے قرآن مجید کو حتمی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’(دین فطرت کے)اس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ ان پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے ، یہ ہدایت اس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم ، سب اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔‘‘ (اخلاقیات۱۲)
مذکورہ اقتباسات سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک فطرت کے تعین کے سلسلے میں فیصلہ کن اتھارٹی کی حیثیت انبیا ہی کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غامدی صاحب نے ’’اصول ومبادی‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآن مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیا ہے، لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذ دین کے طور پر پیش نہیں کیا، ورنہ وہ ’’مبادی تدبر قرآن‘‘، ’’مبادی تدبر سنت‘‘ اور ’’مبادی تدبر حدیث‘‘ کی طرح ’’مبادی تدبر فطرت‘‘ کا بھی باقاعدہ عنوان قائم کرتے اور فطرت اور اس کے تقاضوں کی تعیین کے اصول وضوابط بیان کرتے۔
تاہم فاضل ناقد کا خیال ہے کہ غامدی صاحب وحی کی تصویب سے بے نیاز ہو کر فطرت کو ایک الگ اور مستقل بالذات ماخذ دین قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے جو مفروضات قائم کیے ہیں، ان پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس نکتے کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے جو فاضل ناقد کے لیے غلط فہمی کا باعث بنا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ ، فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ.(الانعام۶:۱۴۵ )
’’ کہہ دو ،میں تو اس وحی میں جو میری طرف آئی ہے ،کسی کھانے والے پر کوئی چیز جسے وہ کھاتا ہے ،حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سؤر کا گوشت ،اس لیے کہ یہ سب ناپاک ہیں یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ۔‘‘
قرآن مجید کی اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چار چیزوں کے علاوہ کھانے کی کوئی بھی چیز حرام نہیں ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت بھی ثابت ہے۔ دونوں حکم بظاہر متعارض معلوم ہوتے ہیں اور علماے امت مختلف زاویوں سے ان کے مابین تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کی رائے میں قرآن کی بیان کردہ چار چیزیں ہی حرام ہیں اور ان کے علاوہ باقی کسی چیز کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے صحیح بخاری میں یوں منقول ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت کو حرمت پر محمول نہیں کرتے تھے، اس لیے کہ ان کے خیال میں یہ بات ’قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما‘ کے منافی تھی۔ (بخاری، رقم۵۲۰۹۔ المستدرک، رقم۳۲۳۶)
اسی رائے کو بعد میں فقہاے مالکیہ نے اختیار کیا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہونے والے جانوروں کو حرمت پر نہیں، بلکہ کراہت پر محمول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جمہور فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ کھانے کی اشیا میں ممانعت صرف ان چار چیزوں میں منحصر نہیں، بلکہ بہت سی دیگر اشیا بھی حرام اور ممنوع ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے بیان کردہ حصر کا صحیح محل واضح ہوئے بغیر تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ جناب جاوید احمد غامدی نے اسی اشکال کو حل کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قرآن کی بیان کردہ حرمت کا دائرہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حرام قرار دیے جانے والے جانوروں کا دائرہ، دونوں بالکل الگ الگ ہیں اور قرآن مجید نے جس دائرے میں حرمت کو چار چیزوں میں منحصر قرار دیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حرمت کے دوسرے دائرے میں بھی کوئی چیز ممنوع قرار نہ پائے۔ ’’اصول ومبادی‘‘ میں اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو جانور پیدا کیے ہیں، ان میں سے بعض کھانے کے ہیں اور بعض کھانے کے نہیں ہیں۔ یہ دوسری قسم کے جانور اگر کھائے جائیں تو اس کا اثر چونکہ انسان کے تزکیہ پر پڑتا ہے ، اس لیے ان سے ابا اس کی فطرت میں داخل ہے۔ انسان کی یہ فطرت بالعموم اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھاناچاہیے۔ اسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب، سانپ ،بچھو، اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔وہ جانتا ہے کہ گھوڑے ،گدھے ،دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی۔چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی ان جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ انسان کو اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ اس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور ان کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہاعقل وفطرت کی رہنمائی میں کر لینا ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے ،لیکن درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے، پھر اسے کیاکھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو ان کا کیا حکم ہونا چاہیے؟ انھی جانوروں کا خون کیا ان کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اسے حلال وطیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر خدا کے سوا کسی اورکے نام پر ذبح کردیے جائیں تو کیا پھربھی حلال ہی رہیں گے؟ ان سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اسے بتایاکہ سؤر، خون،مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ’قل لا أجد فی ما أوحی‘ اور بعض جگہ ’انما‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں ...بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم اگر چاہیں تو ممنوعات کی اس فہرست میں بہت سی دوسری چیزیں بھی اس علم کی روشنی میں شامل کر سکتے ہیں۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اسے بیان فطرت کے بجائے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی ان حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیاجائے۔‘‘ (۳۷۔۳۹)
مذکورہ اقتباس سے واضح ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں اصل بنیاد کی حیثیت قرآن مجید کے بیان کردہ اصول ’احل لکم الطیبات‘ (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) کے مطابق ان کے خبیث یا طیب ہونے کو حاصل ہے۔ ان طیبات اور خبائث سے انسان اپنی فطرت کی رو سے بالعموم واقف رہا ہے، البتہ ان میں سے ان چیزوں کی شریعت نے وضاحت کر دی ہے جن میں انسان کے لیے اپنی فطرت کی رہنمائی میں فیصلہ کرنا ممکن نہیں تھا، جبکہ باقی جانوروں کے بارے میں انسان کے فطری علم پر اعتماد کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ اس کی فطرت ہی کے سپرد کر دیا گیا۔
غامدی صاحب کا یہ نقطۂ نظر اپنے بنیادی نکات کے لحاظ سے جمہور اہل علم کے موقف سے کسی طرح مختلف نہیں:
سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ سورۂ مائدہ کی آیت ’اُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبٰتُ‘ (تمھارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) اور سورۂ اعراف کی آیت’ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآئِثَ ‘ (یہ پیغمبر ان کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھیراتا ہے) میں طیبات اور خبائث سے مراد کیا ہے۔ اس سوال کے ظاہر ہے کہ دو ہی جواب ہو سکتے ہیں:
۱۔ ان سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں جو حلت و حرمت کے حوالے سے شریعت میں بیان ہوئی ہیں۔
۲۔ان سے مراد وہ چیزیں ہیں جنھیں انسان کی فطرت پسند کرتی یا جن سے وہ ابا کرتی ہے۔
امت کے جلیل القدر اہل علم نے اس سوال کے جواب میں بالعموم دوسری رائے کو اختیار کیا ہے اوریہ واضح کیا ہے کہ طیبات اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں جنھیں انسانی فطرت طیب اور خبیث سمجھتی ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں:
’’ویحل لہم الطیبات: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ طیبات سے مراد وہ اشیا ہیں جن کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، مگر یہ بات دو پہلووں سے بعید ہے۔ ایک یہ کہ اگر اس کا معنی یہ ہوتا تو پھر الفاظ یہ ہوتے کہ ’ویحل لہم المحلات‘( اور پیغمبر ان کے لیے حلال چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے) اور یہ محض تکرار ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ معنی لینے سے آیت فائدے سے خالی ہوجاتی ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جن اشیا کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے، وہ کیا ہیں اور کتنی ہیں۔ لازم ہے کہ طیبات سے مراد وہ چیزیں ہوں جو طبیعت کو اچھی لگیں اور جن کو کھانے میں لذت کا فائدہ حاصل ہو۔ منافع میں اصل چیز حلت ہے۔ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے ،وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اس کو ناپسند کرے تو وہ حرام ہے، سوائے اس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔... میں کہتا ہوں کہ خبائث سے مراد ہر وہ چیز ہے جو طبیعت کو ناپاک کرے اور نفس کو آلودہ کرے اور اس کولینا تکلیف کا سبب بنے۔‘‘ (تفسیر کبیر۱۵/ ۲۴)
امام رازی نے یہی بات اپنی تفسیر میں ایک اور مقام پر قدرے مختلف الفاظ میں بیان کی ہے۔لکھتے ہیں:
’’یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں طیبات سے مراد (اللہ تعالیٰ کی) حلال کردہ چیزیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ آیت اس طرح ہوتی :’قل احل لکم المحلات‘ ( کہہ دو تمھارے لیے حلال چیزیں حلال کی گئی ہیں) اور یہ معلوم ہے کہ یہ کمزور (جملہ) ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ طیبات کو لذیذ اور پسندیدہ چیزوں پر محمول کیا جائے۔ لہٰذا جملے کا مفہوم یہ ہو گا:’احل لکم ما یستلذ و یشتہی‘ ( تمھارے لیے ہر لذیذ اور پسندیدہ چیز حلال کی گئی ہے)۔پھر یہ جان لو کہ لذیذ ہونے اور پاکیزہ ہونے میں اچھے اخلاق والے لوگوں ہی کا اعتبار کیا جائے گا۔ کیونکہ اہل بادیہ تمام حیوانات کے کھانے کو پاکیزہ سمجھتے تھے اور اس کی تائید یہ آیت کرتی ہے کہ ’زمین میں جو کچھ ہے اس نے تمھارے لیے ہی پیدا کیا ہے۔‘‘(تفسیر کبیر۱۱/ ۱۴۲)
علامہ آلوسی نے بیان کیا ہے:
’’ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث: پہلی چیز یعنی طیبات کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو طبیعت کو پاکیزہ لگیں جیسے چربی۔ اور دوسری چیز یعنی خبائث سے مراد وہ اشیا ہیں جو طبیعت کو ناپاک لگیں جیسے خون۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو نفس کو پاکیزہ لگے اور طبیعت کو لذت دے، وہ حلال ہے اور ہر وہ چیز جو نفس کو ناپاک لگے اور طبیعت اس کو ناپسند کرے ، وہ حرام ہے سوائے اس کے کہ الگ سے کوئی دلیل ہو۔‘‘ (روح المعانی۹/۸۱)
صاحب ’’معارف القرآن‘‘ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:
’’لغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے آیت کے اس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری، مفید اور پاکیزہ ہیں، وہ انسان کے لیے حلال کی گئیں، اور جو گندی قابل نفرت اور مضر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔... اب یہ بات کہ کون سی چیزیں طیبات یعنی صاف ستھری، مفید اور مرغوب ہیں اور کون سی خبائث یعنی گندی، مضر اور قابل نفرت ہیں، اس کا اصل فیصلہ طبائع سلیمہ کی رغبت و نفرت پر ہے۔‘‘ (معارف القرآن ۳/۴۳)
صاحب ’’تفہیم القرآن‘‘ نے لکھا ہے کہ ہر چیز طیب ہے اور حلال ہے سوائے ان چیزوں کے جنھیں شریعت نے ناپاک اور حرام قرار دیا ہے اور جنھیں انسانی فطرت ناپاک تصور کرتی ہے:
’’حلال کے لیے ’’پاک‘‘ کی قید اس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیا کے ’’پاک‘‘ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو چیزیں اصول شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں، یا جن چیزوں سے ذوق سلیم کراہت کرے ، یا جنھیں مہذب انسان نے بالعموم اپنے فطری احساس نظافت کے خلاف پایا ہو، ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن ۱؍۴۴۴)
حلت وحرمت کے باب میں شریعت کے اسی بنیادی اصول کے تحت قرآن مجید نے بھی خبائث کا مصداق قرار پانے والی بعض چیزوں کی وضاحت کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض چیزوں کو متعین کیا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کی بیان کردہ چار چیزوں کا تعلق ہے تو وہ ایک مخصوص دائرے میں حصر کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور ان پر اضافے کی کوئی گنجایش نہیں، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف جس دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے، وہ چونکہ خبائث کی حرمت کے اسی عمومی اصول پر مبنی ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، اس لیے اسی اصول پر اگر انسان اپنی فطری ناپسندیدگی کی بنا پر بعض ایسی چیزوں پر حرمت کا حکم لگائیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا تو یہ کسی صورت میں دین کے خلاف متصور نہیں ہو گا، بلکہ بعینہٖ شارع کے بیان کردہ اصول پر عمل قرار پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علما و فقہا نے جانوروں کی حلت و حرمت کے معاملے میں طیبات و خبائث ہی کو اصل الاصول قرار دیا ہے اور اس باب میں انسانی طبائع کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی ہی کو معیار مانتے ہوئے بہت سے ایسے جانوروں کو بھی حرمت کے دائرے میں شامل کیا ہے جن کی حرمت قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ اس ضمن میں اگر کوئی اختلاف واقع ہوتا ہے تو شارع کی طرف کوئی واضح صراحت میسر نہ ہونے کی بنا پر وہ اجتہادی اختلاف قرار پائے گا جس کی رخصت اور گنجایش خود صاحب شرع کی طرف سے رکھی گئی ہے۔
ذیل میں فقہ کے مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ اصحاب علم کی آرا نقل کی جارہی ہیں۔ امید ہے کہ ان کے مطالعے سے ہماری بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔
امام شافعی لکھتے ہیں:
’’اہل عرب بہت سی چیزوں کو ان کے خبیث ہونے کی وجہ سے حرام اور بہت سی چیزوں کو ان کے طیب ہونے کی وجہ سے حلال سمجھتے تھے، چنانچہ جن چیزوں کو وہ طیب سمجھتے تھے، ان میں سے بعض کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی کو ان کے لیے حلال قرار دیا گیا، اور جن چیزوں کو وہ خبیث سمجھتے تھے، وہ ان کے لیے حرام کر دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ بس وہی چیز حرام ہے جس کو نام لے کر حرام کہا گیا ہو اور جس کی حرمت پر کوئی نص نہ ہو، وہ حلال ہے تو اسے پاخانہ اور (زخم سے نکلنے والے) کیڑوں کے کھانے اور پیشاب پینے کو حلال کہنا ہوگا، کیونکہ ان کے حرام ہونے پر کوئی نص نہیں، بلکہ یہ چیزیں ’خبائث‘ کے اندر شامل ہیں جنھیں اہل عرب حرام سمجھتے تھے اور ان کے حرام سمجھنے ہی کی وجہ سے (شریعت میں بھی) انھیں ان کے لیے حرام کہا گیا۔ پس اہل عرب کتے، بھیڑیے، شیر اور چیتے کا گوشت نہیں کھاتے تھے جبکہ بجو کا گوشت کھا لیتے تھے، اس لیے بجو حلال ہے۔ اسی طرح وہ چوہے، بچھو، سانپ، چیل اور کوے کو نہیں کھاتے تھے ، پس سنت میں (جو بعض چیزوں کو حرام کہا گیا ہے) وہ قرآن کے اس حکم کے موافق ہے کہ اہل عرب جن چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں وہ حلال، اور جن کو حرام سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔‘‘ (الام ۲/۲۶۳، ۲۶۴)
علامہ کاسانی حنفی نے بیان کیا ہے:
’’شریعت نے انھی چیزوں کو حلال کیا ہے جو انسانی طبع کے لیے خوش گوار ہیں، نہ کہ ان کو جن سے وہ گھن کھاتی ہے، اسی لیے فراوانی کی حالت میں اس چیز کو غذا نہیں بنایا گیا جو طبع کے لیے ناگوار ہو، بلکہ اس چیز کو غذا ٹھہرایا گیا ہے جو حددرجہ خوشگوار اور مرغوب ہے۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۸)
پانی کے بعض جانوروں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے، اور مینڈک، کیکڑا اور سانپ وغیرہ بھی خبائث میں سے ہیں۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۵)
خشکی کے جانوروں کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’جو جانور خشکی پر رہتے ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن میں سرے سے خون نہیں، کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بہنے والا خون ہے۔ (پس جن میں سرے سے خون نہیں) جیسا کہ ٹڈی، بھڑ، مکھی، مکڑی، بغاثہ، گبریلا، پسو اور بچھو وغیرہ تو ان میں سے ٹڈی کے علاوہ باقی چیزوں کا کھانا حلال نہیں کیونکہ یہ خبیث ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ سلیم طبیعتیں ان سے اجتناب کرتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں جن میں بہنے والا خون نہیں، جیسے سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں، کیڑے مکوڑے ، زمین کے جانور مثلاً چوہا، چیچڑی، سیہی، گوہ، یربوع اور نیولا وغیرہ۔‘‘ (بدائع الصنائع ۵/۳۶)
امام ابن قتیبہ نے لکھا ہے:
’’بعض حرام چیزیں ایسی ہیں جن کی حرمت پر نہ قرآن میں کوئی آیت اتری ہے اور نہ سنت میں کوئی نص ہے۔ ان میں لوگوں کو ان کی فطرت پر اور اس طبیعت پر چھوڑ دیا گیا ہے جن پر انھیں پیدا کیا گیا ہے، جیسے انسان کا گوشت، بندر کا گوشت، سانپ، چھپکلی کی مختلف قسمیں اور چوہا وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز سے نفوس گھن کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں یہ اصول بتا دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں، اور یہ تمام چیزیں فطرت کی رو سے خبیث ہیں۔‘‘ (تاویل مختلف الحدیث ۱۸۱)
ابن قدامہ حنبلی نے بیان کیا ہے:
’’ان جانوروں کے علاوہ جن جانوروں کو اہل عرب حلال سمجھتے ہوں، وہ حلال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے، یعنی ان چیزوں کو جنھیں اہل عرب طیب سمجھتے ہیں۔ اور جن چیزوں کو اہل عرب خبیث سمجھتے ہوں، وہ حرام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو خبیث سمجھی جانے والی چیزوں میں حشرات مثلاً کیڑے، گبریلے کی مختلف نسلیں، چھپکلی کی مختلف قسمیں، گرگٹ، مختلف قسم کے چوہے، بچھو اور سانپ وغیرہ شامل ہیں۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ۱۱/۶۴)
یہاں تک کہ ابن حزم، جنھوں نے کسی بھی چیز کو خبیث قرار دینے کے لیے شارع کی طرف سے نص کو ضروری قرار دیا ہے (المحلی ۸/۴۲) اور اپنی کتاب’ ’المحلیٰ‘‘ میں مختلف جانوروں کی خباثت کے بارے میں پوری محنت سے نصوص جمع کرنے کی کوشش کی ہے ، بعض جانوروں کے خبیث ہونے کے بارے میں انھیں بھی انسانی فطرت اور رجحان ہی پر انحصار کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’رہے بچھو اور سانپ تو کسی ذی فہم کو اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ خبیث ترین چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رسول ان پر خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ جبکہ چوہوں کے شکار کے لیے تمام اہل اسلام بلیاں اور مہلک چوہے دان رکھتے رہے ہیں اور انھیں مارنے کے بعد انھیں کوڑا کرکٹ کی جگہوں پر پھینک دیتے ہیں۔ پس اگر ان کا کھانا حلال ہوتا تو مسلمانوں کا ایسا کرنا گناہ ہوتا اور مال کو ضائع کرنے کے زمرے میں آتا۔‘‘ (المحلی ۸/۴۷)
اس تفصیل سے واضح ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں طیبات اور خبائث کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں، البتہ ان کے مصداق کی تعیین کے ضمن میں، بعض فقہا کی رائے کے برعکس، منصوص جانوروں تک حرمت کو محدود رکھنے کے بجائے انسانوں کی فطرت سلیمہ اور ان کے ذوق اورمزاج کی روشنی میں ممانعت کے اس دائرے میں توسیع کے قائل ہیں اور ان کی یہ رائے جمہور فقہا کے مسلک کے عین مطابق ہے۔ یہ وہ بحث ہے جس سے فاضل ناقد نے محض اپنے سوء فہم کی بنیاد پر درج ذیل مفروضات قائم کیے ہیں:
۱۔ غامدی صاحب فطرت انسانی کو شریعت سے الگ اور اس کے متوازی مستقل ماخذ دین قرار دیتے ہیں۔
۲۔ انھوں نے انسانی فطرت کو حلال وحرام کا اختیار تفویض کر کے اسے شارع بنا دیا ہے اور اس طرح نعوذ باللہ اسے اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
۳۔ انھوں نے ہر انسان کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اب اوپر کی سطور میں ہماری بحث کی روشنی میں ان الزامات اور مفروضات کا جائزہ لیجیے:
یہ بات درست ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید نے ایک مخصوص دائرے میں جانوروں سے متعلق صرف چار چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، جبکہ ان کے علاوہ باقی تمام چیزوں کی حلت و حرمت کا فیصلہ فطرت انسانی پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن ا س سے یہ اخذ کرنا کہ فطرت کو حلت وحرمت کے باب میں مستقل بالذات ماخذ دین قرار دیا جا رہا ہے، کسی طرح درست نہیں۔ یہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے اختیار کا نہیں، بلکہ حلال وحرام کے باب میں شریعت کے بیان کردہ اصول یعنی طیبات اور خبائث کے مصداق کی تعیین کا مسئلہ ہے اور جمہور فقہا نے اس باب میں حلال اور حرام جانوروں کی فہرست تیار کرنے میں نصوص کے علاوہ انسانی فطرت سے بھی پوری پوری رہنمائی لی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ فطری علم کی روشنی میں طیبات وخبائث کی تعیین، تحلیل وتحریم کے زمرے میں آتی ہے اور یہ بات انسان کو شارع کے منصب پر فائز کرنے کے مترداف ہے، بدیہی طور پر سوء فہم ہے۔ یہ چیز اگر فطرت کے مستقل ماخذ دین قرار پانے یا انسان کے تحلیل وتحریم کے منصب پر فائز ہونے کو مستلزم ہے تو اس جر م میں جمہور فقہا بھی غامدی صاحب کے ساتھ پوری طرح شریک ہیں۔
یہی کج فہمی اس الزام میں بھی کارفرما ہے کہ غامدی صاحب نے عام انسانوں کو تو حلال وحرام کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیا ہے، مگر نعوذ باللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ہم واضح کر چکے ہیں کہ جس دائرے میں قرآن نے چار چیزوں کی حرمت بیان کی ہے، اس پر اضافہ کوئی نہیں کر سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشادات میں ان محرمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ اس سے مختلف ایک دوسرے دائرے میں بعض جانوروں کی حرمت کو واضح کیا ہے۔اس ضمن میں آپ کے ارشادات اور ان کے علاوہ بہت سے دوسرے جانوروں کی حرمت کے بارے میں فقہا کے فیصلے، دونوں خبائث کی حرمت کے اس اصول پر مبنی ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، لہٰذا قرآن کی بیان کردہ حرمتوں پر اضافے کا حق رسول اللہ کے لیے نہ ماننے اور عام انسانوں کے لیے تسلیم کرنے کا اعتراض بالکل بے معنی ہے۔
فاضل ناقد نے سب سے بڑھ کر دل چسپ نکتہ جو پیدا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کوطیب و خبیث کے تعین کا اختیار دینے کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانوں کے مختلف گروہ اپنے اپنے فطری میلان کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف نتائج پر پہنچیں تو ان میں سے ترک و اختیار کا فیصلہ کس اصول کی بنا پر کیا جائے گا؟ فاضل ناقد نے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی اس سوال کا ایک جواب وضع کیا ہے اور اسے جناب جاوید احمد غامدی کی نسبت سے بیان کر دیا ہے۔لکھتے ہیں:
’’غامدی صاحب کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں انسانی فطرت سے حلال و حرام کا تعین ہو گا،لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اختلاف فطرت کی صورت میں کس کی فطرت معتبر ہوگی؟ ...غامدی صاحب اس مسئلے کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی جانورکے بارے میں انسانی فطرت کی آرا مختلف ہو جائیں توجمہور کی رائے پر عمل کیا جائے گا۔ غامدی صاحب اصول و مبادی میں لکھتے ہیں :
’’اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے ،لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘۔(میزان:ص۳۷)
غامدی صاحب کے اس سنہری اصول کی روشنی میں دنیا کے انسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے سؤر تک کو اپنی فطرت سے حلال کر رکھا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں المورد کا کوئی ریسرچ اسکالر یہ تحقیق پیش کر دے کہ قرآن نے جس سؤر کو حرام قرار دیا ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا سؤر ہے۔ رہا آج کا سؤر جس کی مغرب میں باقاعدہ فارمنگ کی جاتی ہے،وہ فطرتاً حلا ل ہے۔ اہل مغرب کو تو چھوڑیے،مسلمانوں کو دیکھ لیں، ان کی اکثریت کے ہاں حلال و حرام کا کیا معیارہے جسے غامدی صاحب اپنے اصول فطرت میں اختلاف کی صورت میں بطور دلیل پیش کر رہے ہیں ۔‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۳۹)
اسلوب تنقید کا یہ نادر نمونہ ارباب ذوق نے کم ہی ملاحظہ کیا ہو گا کہ کسی مصنف کی تحریر پر تنقیدی نکتہ اٹھایا جائے اور از خود اس کا مفروضہ جواب وضع کرکے طنز و تعریض کی بوچھاڑ کر دی جائے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ تنقید غامدی صاحب کی تحریر کو سمجھے بغیر لکھی گئی ہے، مگر اس مقام کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ سمجھنا تو دور کی بات ہے، یہ تو اس کو پڑھے بغیر ہی لکھی گئی ہے۔ غامدی صاحب کا یہ جملہ کہ ’’دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘ ان کی جس بحث سے اٹھایا گیا ہے، وہ ایک طویل اقتباس کی صورت میں ہم سابقہ صفحات میں پیش کر چکے ہیں۔ اس اقتباس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکیزہ اور غیر پاکیزہ جانوروں کی تعیین کا فیصلہ جس دائرے میں انسانی فطرت پر چھوڑا گیا ہے، وہ بالکل الگ ہے جبکہ قرآن مجید نے جن چیزوں کی حرمت کو قطعی طور پر بیان کر دیا ہے، وہ ایک بالکل الگ دائرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دائرے میں تو کسی حد تک انسانوں کے مابین اختلاف کی گنجایش موجود ہے اور فقہی اختلافات میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے انسانوں کے ہاں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن قرآن مجید کی حرام کردہ چیزوں کے دائرے میں اختلاف کی قطعاً کوئی گنجایش نہیں۔ اس بحث میں سے سیاق وسباق کو کلی طور پر نظر انداز کر کے مذکورہ جملہ اٹھا لینا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قرآن مجید کی حرام کردہ چیزوں میں بھی انسانی فطرت اپنے تئیں فیصلہ کر سکتی ہے، علم وعقل ، دیانت اور انصاف کا خون کیے بغیر ممکن نہیں، لیکن فاضل ناقد کو داد دیجیے کہ وہ ضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ یہ سب کچھ کر گزرے ہیں۔
بحث کے آخر میں فاضل ناقد نے ’’غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف ‘‘کی سرخی قائم کی ہے اور اس کی مثال کے طور پر ڈاڑھی کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا حوالہ دیا ہے اور یہ تضاد بیان کیا ہے کہ ایک جانب غامدی صاحب فطرت کو دین قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ڈاڑھی جیسی فطری چیز کو دائرۂ دین میں شامل ہی نہیں کرتے۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے:
’’جس طرح غامدی صاحب کا اصول فطرت غلط ہے، اسی طرح بعض مقامات پر اس اصول کی تطبیق میں انھوں نے اپنے ہی وضع کردہ اس اصول سے انحراف بھی کیا ہے ۔اس کی ایک مثال ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، اس میں ڈاڑھی بھی شامل ہے ۔کسی چیز کی فطرت سے مراد اس کی وہ اصل تخلیق ہے جس پر اس کو پید اکیا گیا ہے۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس حالت پر پید اکیا ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چہرے پر ڈاڑھی کے بال ہوتے ہیں جبکہ عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، وہ یہ ہے کہ ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کی تخلیق میں یہ فطری فرق رکھا ہے۔ ڈاڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے، لیکن غامدی صاحب نے اپنی ہی فطرت اور اپنے اصول فطرت دونوں کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے ڈاڑھی کو دین سے خارج قرار دیا۔ ‘‘ (الشریعہ، فروری ۲۰۰۷، ۴۲۔ ۴۳)
اس مثال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فاضل ناقد ’فطرت‘ اور ’سنت‘ کے مفہوم اور ان کے الگ الگ دائروں کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو سمجھنے سے بالکل قاصر رہے ہیں۔ وہ مقدمہ تو یہ قائم کر رہے ہیں کہ ’’ڈاڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے‘‘ اور اس سے نتیجہ یہ اخذ کر رہے ہیں کہ ڈاڑھی دین کا ایک حکم ہے اور پھر غامدی صاحب پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انھوں نے ’’اپنے اصول فطرت کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے ڈاڑھی کو دین سے خارج قرار دیا ہے۔‘‘ ڈاڑھی کے ایک فطری چیز ہونے سے غامدی صاحب نے ہر گز انکار نہیں کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فطری چیز کو شریعت نے باقاعدہ دینی رسم کی حیثیت دی ہے؟ چونکہ یہ بحث حقیقت میں ڈاڑھی کو فطرت تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے نہیں،بلکہ اس کو ایک دینی مفہوم میں ایک ’سنت‘ قرار دینے سے متعلق ہے، اس لیے ہم اس حوالے سے اپنا موقف، ان شاء اللہ سنت کی بحث میں واضح کریں گے۔
۱۱ جون ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے علما اور ائمہ وخطبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی جبکہ مولانا داؤد احمد، مولانا حافظ محمد یوسف اور مولانا عبد الواحد رسول نگری نے عوام الناس میں دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔
اس نشست کا اہتمام گزشتہ سال الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی دو درجن سے زائد مساجد میں ۳۰ روزہ فہم دین کورس کے کامیاب سلسلے کے تناظر میں کیا گیا۔ اس سلسلے کو مربوط اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ایک ’’مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز‘‘ قائم کی گئی ہے جس کا امیر مولانا داؤد احمد، استاذ حدیث مدرسہ مظاہر العلوم گوجرانوالہ کو منتخب کیا گیا ہے۔
تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا داؤد احمد نے کہا کہ ہر داعئ حق کو نتائج کی پروا کیے بغیر خلوص اور استقامت کے ساتھ دین حق کا پیغام عامۃ الناس تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروے کار لانی چاہییں اور یہ خیال کبھی ذہن میں نہیں لانا چاہیے کہ استفادہ کرنے والوں کی تعداد تھوڑی ہے یا زیادہ۔ انھوں نے کہا کہ یقیناًائمہ اور خطبا کو بہت سے مسائل اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انھیں دین کی نصرت اور رضاے الٰہی کے حصول کے جذبے کے ساتھ پوری لگن سے دعوت واصلاح کا کام کرتے رہنا چاہیے۔
الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے فہم دین کورس کے سلسلے کے آغاز اور اس کے ثمرات ونتائج پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ۱۹۹۹ میں الشریعہ اکادمی میں ترجمہ قرآن مجید کی کلاس کے آغاز کے بعد یہ ضرورت سامنے آئی کہ عام لوگوں کے لیے مختصر دورانیے کے کورسز بھی ہونے چاہییں، چنانچہ ۲۰۰۳ میں فہم دین کورس کا سلسلہ شروع کیا جس کی اب تک چھ کلاسز منعقد کی جا چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے شہر کے دیگر علماے کرام کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی اور گزشتہ رمضان المبارک میں تقریباً ۲۵ مساجد میں اس کورس کا اہتمام کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے کو باہمی تعاون اور مشاورت کے ساتھ مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مدرسہ اشرف العلوم کے مدرس مولانا عبد الواحد رسول نگری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو دین سے دور ہیں اور دوسرے وہ جو دین سے بے زار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دونو ں طبقوں کا ذہنی پس منظر اور نفسیات الگ الگ ہیں اور علما اور خطبا کو اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے معاشرے میں دعوت دین کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی بے علمی اور بے فکری اور علما کی کوتاہی کی وجہ دین سے دور ہے اور ایسے لوگوں تک پہنچ کر انھیں دینی تعلیمات سے روشناس کرانا نسبتاً آسان ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں مختصر دورانیے کے کورسز کو ایک مفید اقدام قرار دیا اور کہا کہ ایسے کورسز سے دین سے دور اور دین سے بے زار، دونوں طبقوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔
اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی اختتامی گفتگو میں مولانا عبد الواحد رسول نگری کی بات کی تائید کی اور اس کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں موجود دونوں طبقوں کے دین سے دور ہونے کی اصل وجہ بے خبری ہے، البتہ دین سے دور طبقے میں بے خبری کا قصور وار خود وہ طبقہ ہے جبکہ دین سے بے زار طبقے کے معاملے میں بے خبری کی ذمہ داری علما اور ائمہ وخطبا پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دین سے لوگوں کی دوری کو ختم کرنے کے لیے دونوں جانبوں سے بے خبری کا علاج کرنا ہوگا۔
تقریب میں شریک ہونے والے ائمہ وخطبا نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس کار خیر کو پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں اب تک شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں، جن میں خواتین کی تعلیم وتربیت کے ۱۵ مراکز بھی شامل ہیں، اس نوعیت کی کلاسز شروع ہو چکی ہیں۔ الشریعہ اکادمی میں اس وقت فہم دین کورس کی تین کلاسز جاری ہیں جس میں ۱۰۰ کے قریب نوجوان، بزرگ اور خواتین شریک ہیں۔
اکادمی کے زیر اہتمام لینگویج کورسز
گزشتہ دنوں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ۴۰ روزہ انگلش لینگویج کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں تین درجن کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ یہ کورس کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔
۲۳ جون ۲۰۰۷ کو مرکزی جامع مسجد ہی میں عربی بول چال کورس کا آغاز کیا گیا جو ۲۶ جولائی تک جاری رہے گا۔ اس کورس میں بھی تین درجن کے قریب طلبہ شریک ہیں۔ اس کورس کے اختتام پر دونوں کورسز میں شریک ہونے والے طلبہ کو کامیابی کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف ان کورسز میں معلم کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔