جنوری ۲۰۰۷ء

تجدد پسندوں کا تصور اجتہادمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس اور جدید تعلیمڈاکٹر محمد امین 
’تحفظ نسواں ایکٹ‘ کتاب و سنت کے تناظر میںڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی 
علامہ اقبال کا تصور اجتہاد اور علمائے کرامیوسف خان جذاب 
حدیث نبوی میں ’اخوان‘ کا مصداقریحان احمد یوسفی 
ذبیح حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق؟برہان الدین ربانی 
مکاتیبادارہ 
مولانا صفی الرحمن مبارک پوریؒعاصم نعیم 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 

تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بخاری شریف میں ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے، حتیٰ کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ (صحرائی جانور) کے بِل میں گُھسا ہے تو تم بھی ضرور گھسو گے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ! کیا پہلی امتوں سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ’تو اور کون ہے‘؟
اس حدیث مبارک کی تشریح میں محدثین کرام نے مختلف پہلو ذکر کیے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ یہود ونصاریٰ نے جس طرح توراۃ، انجیل اور زبور میں تحریفات کا راستہ اختیار کیا اوراللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں میں معنوی تبدیلیوں اور خدائی احکام کو اپنی خواہش کے سانچے میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ان کے الفاظ تک بدل ڈالے اور آسمانی تعلیمات سے انحراف کی جو صورتیں انہوں نے اختیار کیں، مسلمانوں میں بھی ایسے گروہ ہوں گے جو اس ڈگر پر چلیں گے اور قرآن وسنت کی تعلیمات کو اپنی خواہش یا فہم ودانش کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسی طرح کی صورتیں اختیار کریں گے۔ چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے لیے بیسیوں گروہ آئے جنہوں نے قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نت نئے معانی پہنانے کی کوشش کی اور یہود ونصاری ٰ کی یاد تازہ کردی۔ البتہ قرآن وسنت کے الفاظ میں ردوبدل کی سہولت انہیں کبھی حاصل نہیں رہی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت اپنے ذمہ لے کر اس کے ساتھ اس کی عملی تشریح کے طورپر جناب نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت کو بھی قیامت تک محفوظ رکھنے کا اہتمام کر دیا۔ اس لیے مسلمانوں میں ایسے گروہوں کا سارا زور معنوی تحریف پر صرف ہوتاچلا آرہاہے اور علامہ اقبالؒ کے بقول ’’خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں‘‘ کے مصداق قرآنی تعلیمات ایسے گروہوں کی تحریفی تلبیسات کا مسلسل شکار ہوتی چلی آرہی ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام کا حصہ ہے کہ امت مسلمہ کی غالب اکثریت اوراجتماعی دھارے نے اپنے لیے ’’اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ کا ٹائٹل اختیار کرکے اس تحریف وتلبیس کے راستے میں بھی مضبوط اور ناقابل شکست دیوار کھڑی کررکھی ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورجماعت صحابہ کو دین کی تعبیر وتشریح کا حتمی معیار تسلیم کرلینے کے بعد کسی ایسی تحریف وتلبیس کا راستہ کھلا نہیں رہ جاتاجس پر چل کر یہود ونصاریٰ کی طرح قرآن وسنت کو من مانے معانی اور خود ساختہ تعبیرو تشریح کا جامہ پہنایا جاسکے۔ البتہ یہ کشمکش مسلسل جاری ہے اور قیامت تک اسی طرح چلتی رہے گی۔ 
اس پس منظر میں ہمارے’’ تجدد پسند‘‘ دانش وروں کی فکری وعلمی کاوشوں پر نظر ڈالی جائے تو اس کا ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آتاہے جس کا ہم آج کی محفل میں مختصر تذکرہ کرنا چاہ رہے ہیں اوروہ یہ کہ پندرہویں صدی عیسوی میں مغرب میں نصاریٰ کے بعض علما نے، جن میں جرمن مسیحی راہ نما مارٹن لوتھر سرفہرست ہیں، پاپائے روم کے خلاف بغاوت کی اور پاپائیت کے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے بائبل کی تعبیرو تشریح کا ایک نیا سسٹم قائم کیا جس کی بنیاد پر پروٹسٹنٹ فرقہ وجود میں آیا اور پاپائے روم کے کیتھولک فرقہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کے پروٹسٹنٹ فرقہ کی یہ کشمکش بائبل کی تعبیرو تشریح اور مسیحی تعلیمات کے سوسائٹی پر عملی اطلاق کے حوالہ سے مسلسل چلی آرہی ہے۔
ہمارے بعض دانش ور دوستوں کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ ہم آخر کیوں ایسا نہیں کرسکتے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے اب تک صدیوں سے چلے آنے والے فریم ورک کو چیلنج کرکے اس کی نفی کریں اورمارٹن لوتھر کی طرح قرآن وسنت کی نئی تعبیرو تشریح کی بنیاد رکھیں چنانچہ انہوں نے بھی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کے جذبہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کی’’ قدم بہ قدم ‘‘پیروی کا راستہ اختیار کیا اور قرآن وسنت کی تعبیر نو کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام مارٹن لوتھر کی وفات کے فوراً بعد اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوگیا۔ لوتھر کی وفات ۱۵۴۶ عیسوی میں ہوئی، جبکہ اکبر بادشاہ کی ولادت کاسن ۱۵۴۲ عیسوی ہے۔ گویا عالم اسلام میں لوتھر کے نقش قدم پر چلنے کے لیے جلال الدین اکبر، لوتھر کی زندگی میں ہی جنم لے چکاتھا۔
اکبر بادشاہ کی ابتدائی زندگی ٹھیٹھ مذہبی تھی، مگر درباری قسم کے علما اور دانش وروں کی مذبوحی حرکات نے اس کے دل میں یہ خیال پیداکیا کہ دین اسلام کو ایک ہزار سال ہوچکے ہیں اور اس کی تعبیرو تشریح پرانی ہوگئی ہے جس کی تجدید ضروری ہے اور اب کوئی ایسا ’’مجتہد مطلق‘‘ سامنے آنا چاہیے جو دین کی نئی تعبیرو تشریح کے لیے اتھارٹی کی حیثیت اختیار کرے اور اس کی بات کو دین کے معاملے میں فیصلہ کن تصور کیاجائے، چنانچہ اس نے اس مقصد کے لیے سب سے پہلے علما ے امت کے اس اجتہادی نظام کو چیلنج کیا جس نے دین کی تعبیرو تشریح کو ایک مربوط نظام سے وابستہ کیا ہوا تھا اور جس کی موجود گی میں دین کے کسی حکم کی کوئی ایسی تشریح ممکن نہ تھی جسے مارٹن لوتھر کی تعبیرات وتشریحات کی طرح ’’ری کنسٹرکشن‘‘ قراردیاجاسکے، چنانچہ اس نے اپنے لیے اجتہاد مطلق کا منصب ضروری خیال کیا اور خود اس کے ایک درباری عالم ملا عبدالقادر بدایونی نے ’’منتخب التوریخ ‘‘میں اس محضر نامے کا یہ متن نقل کیا ہے جس پر ملک بھر کے علماے کرام سے جبراً دستخط کرائے گئے، اور جنہوں نے دستخط کرنے سے گریز کیا، وہ ملا عبداللہ سلطان پوری ؒ اورملا عبد النبی گنگوہی ؒ کی طرح جلاوطنی اور شہادت کے مقام سے سرفراز ہوئے۔ اکبر بادشاہ کو ’’مجتہد مطلق ‘‘قراردینے کا محضر نامہ ملا عبدالقادر بدایونی کے بقول یہ ہے کہ :
’’خدا کے نزدیک سلطان عادل کا مرتبہ مجتہد کے مرتبہ سے زیادہ ہے اورحضرت سلطان کہف الانام امیر المومنین ظل اللہ علی العالمین ابو الفتح جلال الدین محمد اکبر بادشاہ سب سے زیادہ عدل والے، عقل والے اورعلم والے ہیں۔ اس بنیادپر ایسے دینی مسائل میں جن میں مجتہدین باہم اختلاف رکھتے ہیں، اگر وہ اپنے ثاقب ذہن اور رائے صائب کی روشنی میں بنی آدم کی آسانیوں کے پیش نظر کسی ایک پہلو کو ترجیح دے کر اس کو معین کر دیں اور اس کا فیصلہ کریں تو ایسی صورت میں بادشاہ کا فیصلہ قطعی اوراجماعی قرارپائے گا اوررعایا اور برایا کے لیے اس کی پابندی حتمی وناگزیر ہوگی۔‘‘
اس کے بعد جلال الدین اکبر نے ملا مبارک، ابوالفضل اور فیضی جیسے ارباب علم ودانش کی معاونت ومشارکت سے اسلام کی جو ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کی، وہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ اس تعبیر نو کی بنیاد اسلام کو محدود ماحول سے نکال کر مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے، مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اوراسلامی احکام وقوانین کو تقلید وجمود کے دائرے سے نکالنے کے تصور پر تھی اور خود اکبر بادشاہ کے درباری عالم ملا عبدالقادر بدایونی کی تصریحات کے مطابق اس کا عملی نقشہ کچھ یوں تھا کہ:
  • سورج کی پوجا دن میں چار وقت کی جاتی تھی ۔ 
  • بادشاہ کو سجدہ کیاجاتاتھا ۔ 
  • کلمہ طیبہ میں لاالٰہ الا اللہ کے ساتھ ’’اکبر خلیفۃ اللہ‘‘ کہنا لازمی کردیاگیاتھا۔ 
  • بادشاہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں سے درج ذیل عہد لیاجاتا تھا کہ ’’میں اپنی خواہش، رغبت اوردلی شوق سے دین اسلام مجازی اور تقلیدی سے علیحدگی اورجدائی اختیار کرتاہوں اور اکبر شاہی دین الٰہی میں داخل ہوتاہوں اور اس دین کے اخلاص کے چاروں مرتبوں یعنی ترک مال، ترک جان، ترک ناموس وعزت اور ترک دین کو قبول کرتاہوں۔‘‘
  • بادشاہ کے مرید آپس میں ملتے تو ایک ’’اللہ اکبر‘‘کہتا اور دوسرا جواب میں ’’جل جلالہ‘‘ کہتا۔ یہی ان کا سلام وجواب ہوتاتھا ۔
  • خط کے آغاز میں ’’اللہ اکبر‘‘ لکھنے کا رواج ڈالا گیا۔ 
  • سود اور جوئے کو حلا ل قرار دیاگیا، شاہی دربار میں جواگھر بنایا گیا اور شاہی خزانہ سے جواریوں کو سودی قرضے دیے جاتے تھے۔
  • شراب کی محفلوں میں فقہاے کرام کا مذاق اڑایاجاتا اور اکبر بادشاہ کا درباری ملا فیضی اکثر شراب پیتے وقت کہتاکہ یہ پیالہ میں فقہا کے ’’اندھے پن‘‘ کے نام پر پیتا ہوں ۔
  • ڈاڑھی منڈوانے کا حکم دیاگیا اور ڈاڑھی کا مذاق اڑانے کا رواج عام ہوا۔
  • غسل جنابت کو منسوخ کردیاگیا۔
  • ایک سے زیادہ شادی کو ممنوع قرار دیاگیا۔
  • سولہ سال سے کم عمر لڑکے اورچودہ سال سے کم عمر لڑکی کانکاح ممنوع قراردیاگیا۔
  • حکم صادر ہوا کہ جوان عورتیں جو کوچہ وبازار میں نکلتی ہیں، باہر نکلتے وقت چاہیے کہ چہرہ یا کھلا رکھیںیا چہرے کو اس وقت کھول دیاکریں۔
  • زنا کو قانوناً جائز قراردیاگیا اور اس کے لیے باقاعدہ قحبہ خانے بنائے گئے ۔
  • بارہ سال کی عمر تک لڑکے کا ختنہ کرانے کو ممنوع قراردیاگیا۔
  • مردہ کو دفن کرنے کے بجائے یہ حکم تھا کہ خام غلہ اور پکی اینٹیں مردہ کی گردن میں باندھ کر اس کو پانی میں ڈال دیاجائے اور جس جگہ پانی نہ ہو، جلا دیاجائے یا چینیوں کی طرح کسی درخت سے مردہ کو باندھ دیاجائے۔
  • سور اور کتے کے ناپاک ہونے کا مسئلہ منسوخ قراردیاگیا۔ شاہی محل کے اندر اور باہر یہ دونوں جانور رکھے جاتے تھے اور صبح سویرے ان کے دیکھنے کو بادشاہ عبادت خیال کرتا تھا۔
  • شیر اور بھیڑیے کا گوشت حلال کردیاگیا جبکہ گائے، بھینس، گھوڑے، بھیڑ اور اونٹ کا گوشت حرام قراردیاگیا۔
  • حکم صادر ہوا کہ کوئی ہندو عورت اگر کسی مسلمان مرد پر فریفتہ ہوکر مسلمانوں کا مذہب اختیار کر لے تو اس عورت کو جبراً وقہراً اس کے گھر والوں کے سپرد کیاجائے ۔
  • یہ حکم صادر ہوا کہ علوم عربیہ کی تعلیم ختم کردی جائے اور نجوم، طب، حساب اورفلسفہ کی تعلیم کو عام کیا جائے۔ عربی پڑھنا عیب سمجھا جانے لگا اور فقہ، تفسیر اورحدیث پڑھنے والے مردود ومطعون ٹھہرائے گئے۔ ملا عبدالقادر بدایونی کے بقول ان اقدامات کے نتیجے میں مدرسے اور مسجدیں سب ویران ہوئے، اکثر اہل علم جلا وطن ہوئے اور ان کی اولاد ناقابل جو اس ملک میں رہ گئی ہے، پاجی گیری میں نام پیدا کررہی ہے۔
  • ایسے حروف جو عربی زبان کے ساتھ مخصوص ہیں، مثلاً ث، خ، ع، ص، ض، ط، ظ، ان کو بول چال سے بادشاہ نے خارج کردیا ۔
  • ملا عبد القادر بدایونی نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے بارے میں اکبر بادشاہ کے ایک خطاب کا یہ حصہ نقل کیا ہے کہ آخر اس بات کو عقل کس طرح مان سکتی ہے کہ ایک شخص بھاری جسم رکھنے کے باوجود یکایک نیند سے آسمان پر چلا جاتاہے اور راز ونیاز کی نوے ہزار باتیں خدا سے کرتاہے، لیکن اس کا بستر اس وقت تک گرم ہی رہتاہے۔ تعجب ہے لوگ اس دعویٰ کو مان لیتے ہیں اور اسی طرح شق القمر وغیرہ جیسی باتوں کو بھی مان لیتے ہیں۔
  • احمد، محمد، مصطفی وغیرہ نام بیرونی کافروں اور اندرونی خواتین کی وجہ سے بادشاہ پر گراں گزرنے لگے۔ اپنے خاص لوگوں کے نام اس نے بدل ڈالے، مثلاً یار محمد خان اور محمد خان کو وہ ’رحمت‘ ہی کے نام سے پکارتاتھا ۔
  • علماے سو اپنی تصنیفات میں خطبہ سے بچنے لگے۔ صرف توحید اور بادشاہی القاب کے ذکر پر قناعت کرتے تھے۔ ان کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک زبان قلم پر لاتے۔
  • نماز، روزہ اور حج ساقط ہوچکے تھے اور دیوان خانہ میں کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ علانیہ نماز اداکرسکے۔
  • نماز، روزہ اور وہ ساری چیزیں جن کا تعلق نبوت سے ہے، ان کا نام’’تقلیدات ‘‘رکھا گیا یعنی یہ سب حماقت کی باتیں ٹھہرائی گئیں اور مذہب کی بنیاد عقل پر رکھی گئی۔
  • اسلام کی ضد اور اس کے توڑ پر ہر وہ حکم جو کسی دوسرے مذہب کا ہوتا، اس کو بادشاہ نص قاطع اور دلیل قطعی خیال کرتے۔ بخلاف اسلامی ملت کے کہ اس کی ساری باتیں مہمل، نامعقول، نوپیدا اور عرب مفلسوں کی گھڑی ہوئی خیال کی جاتیں۔
  • جس کسی کو اپنے اعتقاد کے موافق نہ پاتے، وہ بادشاہ کے نزدیک کشتنی، مردوداور پھٹکارا ہوا شمار ہوتا تھا اور اس کا نام ’’فقیہ ‘‘رکھ دیا جاتا تھا۔
مارٹن لوتھر نے پاپائیت اور ملوکیت کے خلاف بغاوت کی تھی اور اس کے کچھ واضح اسبا ب بھی تھے۔ پاپائے روم کو بائبل کی تعبیرو تشریح میں فیصلہ کن اتھارٹی کا درجہ حاصل تھا اور بات دلیل کی بجائے شخصیت کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ پوپ کو خدا کا نمائندہ تصورکیا جاتاتھا اور اب بھی تصور کیا جاتا ہے۔ مغرب میں اندلس کی اسلامی معاشرت اوتعلیم کے نتیجے میں فکری بیداری پیدا ہوئی اور سائنسی علوم نے آگے بڑھنا شروع کیا تو کلیسا اس کی راہ میں مزاحم ہوا ۔پاپائیت نے بادشاہ اور جاگیردار کے ساتھ مل کر ظلم وجبر کی تکون قائم کردی اور سائنس کی ترقی کو کفر کے مترادف قراردیا۔ بادشاہ اور جاگیر دار کے مظالم کے خلاف عوام کا ساتھ دینے کے بجائے پوپ نے ظلم وجبر کا ساتھی بننے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے بغاوت پیدا ہوئی۔ پوپ کی طرف سے بائبل کی شخصی اور جانبدارانہ تعبیرو تشریح کی مزاحمت کے لیے مارٹن لوتھر آگے بڑھا اور جب دیکھا کہ پاپائیت اپنے عوام دشمن اورعلم دشمن طرز عمل میں کوئی تبدیلی پید اکرنے کے لیے تیار نہیں تو اس نے علم بغاوت بلند کرکے پاپائیت کی نفی کردی اور پروٹسٹنٹ فرقہ کی بنیاد رکھی جو مسیحیت کی تشکیل جدید اور بائبل کی نئی تعبیرو تشریح کی اساس بنی۔ مغرب کی معروضی صورت حال ایسی ہی تھی اور مغر ب کی یہ ضرورت تھی کہ وہاں یہ تبدیلی آئے، لیکن ہمارے مہربانوں نے یہ دیکھے بغیر کہ مغرب کے اس عمل کے لیے پائے جانے والے اسباب ہمارے پاس موجود ہیں یانہیں اورہماری معروضی صورتحال اس کی متقاضی ہے یا نہیں، صرف اس شوق میں کہ چونکہ مغرب نے اپنے مذہب کی تشکیل نو کی ہے اورمسیحیت کی تعبیروتشریح کے قدیمی فریم ورک کو مسترد کردیاہے، اس لیے ہمیں بھی یہ کام ضرور کرنا ہے اورجیساکہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ پڑوسی کا منہ سرخ ہو تو اپنا منہ تھپڑ مار مار کر سرخ کرلیا جائے، ہم نے اپنے ہی منہ پر تھپڑ برسانا شروع کر دیے جو اب تک مسلسل برستے چلے جا رہے ہیں۔
ہمار ے جدت پسندوں نے دو مفروضوں پر اپنی فکری کاوشوں کی بنیاد رکھی۔ ایک یہ کہ انہوں نے مسیحیت کے پاپائی سسٹم کی طرح اسلام کی تعبیرو تشریح میں فقہا کے قائم کردہ فریم ورک کو بھی پاپائیت قرار دے دیا، حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پاپائیت میں فائنل اتھارٹی شخصیت کو حاصل ہے اور اسے خدا کا نمائندہ تصورکیاجاتاہے جبکہ اسلام میں خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے اپنے پہلے خطبہ میں اس بات کی یہ کہہ کر نفی کر دی تھی کہ میں قرآن وسنت کے مطابق چلوں گا تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کردو۔ یہ فرما کر حضرت صدیق اکبرؓنے شخصیت کے بجائے دلیل کی بالادستی کا اعلان کیا اور جب حضرت ابو بکر صدیق کو کسی نے خلیفۃ اللہ کہہ کرپکارا تو انہوں نے فوراً ٹوک دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں۔ اس ارشاد کا مطلب بھی پاپائیت کے اس تصور کی نفی تھا کہ کوئی شخص خود کو خدا کا نمائندہ کہہ کر دین کی تعبیرو تشریح میں حتمی اتھارٹی قرار دینے لگے۔
پھر جن ائمہ کرام کے فقہی اصولوں پر سب سے زیادہ تنقید کی جاتی ہے، ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کی بات کو صرف اس لیے قبول کیا جائے کہ وہ بات امام ابو حنیفہ ؒ نے کہی ہے یا امام شافعیؒ نے کہی ہے یا امام مالکؒ نے کہی ہے یا امام احمد بن حنبل ؒ کا یہ قول ہے۔ اگر کوئی شخص تقلید کا یہ معنی سمجھتاہے تو وہ سرے سے اجتہاد اور تقلید کے مفہوم سے واقف نہیں ہے، اس لیے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کی بات کو قبول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دلیل، قبول کرنے والے کے نزدیک زیادہ وزن رکھتی ہے اور امام شافعی ؒ کی بات کو ان کے پیروکار ترجیح دیتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی ذہن کار فرما ہوتاہے کہ ا ن کی دلیل دوسروں سے زیادہ وزنی ہے۔
جب ہر امام کے پیروکار یہ کہہ کر ان کی بات کو قبول کرتے ہیں کہ ان کی بات صحیح ہے مگر اس میں خطا کا احتمال بھی موجود ہے اور جب یہ منظر سب کے سامنے ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے سامنے بیٹھ کر ان کے شاگرد ان سے اختلاف کررہے ہیں اور دلیل کی بنیاد پر ان کے قول کے بجائے اپنے استدلال کو ترجیح دے رہے ہیں تو اس سارے عمل کو پاپائیت کے مترادف قراردینے والے دوست یا تو پاپائیت کے مفہوم سے آگاہ نہیں ہیں اور یا پھر اجتہاد اور تقلید کے مسلمہ فریم ورک کے ادراک سے محروم ہیں، اس لیے کہ پاپائے روم کی بات کو قبول کرنے کی بنیاد ان کی شخصیت ہے اور ائمہ مجتہدین کے ا رشادات کو قبول کرنے کی اساس ان کی دلیل اور استدلال ہے۔ اتنی واضح سی بات اگر کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تو اس میں اجتہاد اور تقلید کے فریم ورک کا کیا قصور ہے؟
اس حوالے سے ہمارے جدت پسندوں کا دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے لیے اس کی تعبیر وتشریح کے پرانے فریم ورک کو چیلنج کرنا اور اس کی نفی کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ مارٹن لوتھر نے ایسا ہی کیاتھا جبکہ دین کی تعبیرو تشریح کے پرانے فریم ورک نے جسے اجتہاد اور تقلید کے نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے، کبھی پاپائیت کی طرح وقت کی ضروریات کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کرنے سے انکار نہیں کیا اور جب بھی ضرورت پیش آئی ہے، اجتہاد اور تقلید کے نظام میں ایسی لچک اورگنجائش موجود رہی ہے کہ وقت کے تقاضوں کو اس میں سمویا جا سکے اور چودہ سو سال کے طویل دور میں کسی ایسے مرحلے کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی کہ اجتہاد اور تقلید کے روایتی نظام نے قرون مظلمہ کی پاپائیت کی طرح علم کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہو، سائنس کے ارتقا کی مخالفت کی ہو، جاگیردار اور بادشاہ کی طرفداری اس طرح کی ہو کہ پورے کا پورا سسٹم ظلم وجبر کا پشت پناہ بن گیا ہو۔ افراد کی بات الگ ہے، ظالم حکمرانوں کو افراد ضرور ایسے ملتے رہے ہیں جو دین کے نام پر ان کے ظلم وجبر کو سند جواز فراہم کرتے رہے ہیں، لیکن پاپائیت کی طرح دین کی تعبیرو تشریح کا پورا نظام ظلم و جبر کا ساتھی بن گیا ہو، اس کی ایک مثال بھی پوری تاریخ اسلام میں پیش نہیں کی جاسکتی، جبکہ اس کے برعکس اسلام کے مجتہدین نے حق کی خاطر ،عوام کے حقوق کی خاطر، اور ظلم وجبر کے خلاف ہر دو ر میں جیلیں آباد کی ہیں، پھانسی کے تختے کو چوما ہے اور ظلم وجبر کا حوصلہ واستقامت کے ساتھ مقابلہ کیاہے۔ اس لیے دین کی تعبیر وتشریح اور اجتہاد وتقلید کے روایتی نظام کو کسی بھی حوالہ سے پاپائیت سے تشبیہ دینا درست نہیں ہے اور ایسا کرنا صریحاً ظلم اور ناانصافی کے زمرے میں آتاہے مگر ہمارے جدت پسند مہربان پورے زور کے ساتھ اسے پاپائیت قراردینے پر مصرہیں، صرف اس لیے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے روایتی نظام اورفریم ورک پر پاپائیت کی پھبتی کسے بغیر اسے چیلنج کرنے اور اسے مسترد کرکے دین کی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کا نعرہ لگانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کہنے کی گنجائش بلکہ ضرورت ہے، اور ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً ہم اس پر اظہار خیال کرتے رہیں گے۔ سرِدست جناب نبی اکرم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی روشنی میں کہ’’تم یہود ونصاریٰ کی قدم بہ قدم پیرو ی کروگے ‘‘ اس کے صرف ایک پہلو کی طرف ہم قارئین کو توجہ دلا رہے ہیں کہ مارٹن لوتھر نے جو کچھ مسیحیت کی تعبیر نو کے لیے ضروری سمجھا، اس سے قطع نظر کہ ہمارے ہاں اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں اورہمارے ہاں وہ اسباب جنہوں نے مارٹن لوتھر کو اس کام کے لیے مجبور کیاتھا، پائے بھی جاتے ہیں یا نہیں، اس کی پیروی کو ہر حال میں ضروری تصورکیا جارہاہے۔ کیا’’قدم بہ قدم پیروی‘‘ کی ا س سے بہتر کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟

دینی مدارس اور جدید تعلیم

ڈاکٹر محمد امین

حیدر آباد سے شائع ہونے والے ماہنامہ بیداری کے مدیر شہیرجناب محمد موسیٰ بھٹو صاحب نے اپنے جریدے کے ستمبر کے شمارے میں مدیر الشریعہ جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کی شخصیت پر قلم اٹھایا ہے اور اپنے مخصوص اسلوب میں (جس میں وہ شخصیات کو اہم مسائل پر ان کے موقف کے حوالے سے زیربحث لاتے ہیں) دینی مدارس میں اصلاح اور بہتری کے ضمن میں مولانا زاہد الراشدی (اور بعض دیگر اہل علم) کے اس موقف سے اختلاف کیا ہے جس کی رو سے وہ دینی مدارس میں جدید تعلیم کے شمول کے حامی ہیں۔ چونکہ ہم بھی کئی برسوں سے (تحریک اصلاح تعلیم ٹرسٹ کے تحت) پاکستان کے نظام تعلیم و تربیت میں جدید تعلیم میں اصلاح کے علاوہ) دینی مدارس کے نظام میں عصری تقاضوں کے حوالے سے اصلاح و بہتری کے لیے نہ صرف سوچ رہے ہیں بلکہ جو کچھ ہم سے ہوسکے عملاً کر بھی رہے ہیں، اس لیے جو موضوع موسیٰ بھٹو صاحب نے چھیڑا ہے، اسے آگے بڑھاتے ہوئے ہم بھی اپنی کچھ معروضات اہل فکر و نظر کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔
دینی مدارس میں جدید علوم کی تعلیم دی جائے یا نہ دی جائے؟ اس سے فائدہ ہوگا یا نقصان؟ اور اگر دی جائے تو کس سطح پر ، کتنی اور کیسے دی جائے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا آج دینی مدارس چلانے والے علماء کرام اور دینی موضوعات و مسائل پر سوچنے والے دینی اسکالرز کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مغرب کا دباؤ

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس بحث یا مسئلے کا فوری محرک مغرب کا دباؤ ہے جو بظاہر مطالبہ یہ کر رہا ہے کہ دینی مدارس میں جدید تعلیم دی جائے کیونکہ اس کی رائے میں دینی مدارس میں جو دینی تعلیم اس وقت دی جاتی ہے اور جس طرح دی جاتی ہے اس سے انتہا پسندی اور دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ اس لیے مدارس کے ماحول میں روا داری اور کھلاپن پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں کھپ سکیں۔ یہ مغرب کا ظاہری موقف ہے لیکن متعدد عوامل سے اندازہ ہوتا ہے کہ بباطن اس کی خواہش یہ ہے کہ دینی مدارس کو غیر موثر کر دیا جائے اور ہوسکے تو ختم ہی کر دیا جائے کیونکہ وہ ایسی شخصیت پیدا کرتے ہیں جو مغربی تہذیب کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرتی۔ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران مغرب کا یہ دباؤ بلاسوچے سمجھے آگے دینی مدارس تک منتقل کر دیتے ہیں اور جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے کہ حکومت پاکستان نے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے نصابات کی تبدیلی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور مزید کیے جا رہے ہیں اور دینی تعلیم کے وفاقوں کے سربراہوں کے ساتھ ان کے مذاکرات اور مباحثات ہوتے رہتے ہیں۔ ان مذاکرات کا عمومی رخ یہی ہوتا ہے کہ حکومت اپنے مطالبات منوانے پر زور دیتی ہے اور اہل مدارس کا رویہ مزاحمت کا ہوتا ہے۔ تاہم پچھلے دنوں، ہماری معلومات کی حد تک، مدارس کی اعلی رابطہ کمیٹی نے حکومت کے سامنے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ دینی مدارس ان طلبہ کو جو میٹرک پاس نہیں ہیں، میٹرک پاس کروانے کا اہتمام کریں گے۔ لیکن ہمارا مشاہدہ یہ ہے اور بڑے مدارس کی اکثریت نے اپنے طلبہ کے لیے شام کے وقت میٹرک کے علاوہ ایف اے اور بی ا ے کے مضامین کی تدریس اور امتحانات کی تیاری کا اہتمام بھی شروع کر دیا ہے۔

مخلصانہ مساعی

اب ذرا دوسری طرف آئیے۔ کئی علماء کرام اور دینی اسکالرز جو موجودہ حالات میں دینی مدارس کے کردار کو زیادہ موثر بنانے کے خواہاں ہیں۔ ماضی میں یہ سوچتے رہتے ہیں اور اب بھی سوچتے ہیں کہ مدارس کے نظام تعلیم و نصاب میں عصری حوالے سے اصلاح و تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور کم از کم یہ تو ہونا ہی چاہیے کہ علماء کرام جدید مغربی افکارو علوم کی کنہ و ہیئت سے واقف ہوں کیونکہ جب تک وہ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھیں گے ان کا رد بھی نہیں کر سکیں گے۔
دوسروں کو چھوڑیے خود ہم نے ۲۰۰۰ء میں لاہور میں دینی وفاقوں کے ذمہ داران کے ساتھ مل کر ۱۸ ماہ کی محنت سے دینی مدارس کے نظام تعلیم کے حوالے سے ایک اصلاحی پیکج بنا کر ان سے منظور کروایا اور متبادل نصاب بھی بنا کر پیش کیا۔ اس کے بعد ہم نے ۲۰۰۴ء سے دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس میں طرق تدریس کے علاوہ انگریزی زبان اور مغربی فکرو تہذیب اور علوم کا تعارفی مطالعہ بھی شامل ہے۔ اندریں حالات جب ہم نے مدارس میں جدید تعلیم کی قبولیت اور مدارس کے اپنے زیر اہتمام میٹرک، ایف اے، بی اے کے امتحانات دلوانے کا رحجان دیکھا تو ہمیں تشویش ہوئی۔ چنانچہ ہم نے پچھلے سال مولانا زاہد الراشدی صاحب کو تجویز دی کہ آیئے مل کر لاہور میں دینی مدارس کا ایک کنونشن منعقد کرتے ہیں اور یہ مسئلہ وہاں زیر بحث لاتے ہیں کہ دینی مدارس کے جدید علوم کو اسی صورت میں جیسے کہ وہ اس وقت پاکستان کے جدید تعلیمی اداروں میں پڑھائے جا رہے ہیں، اپنا لینے کے نتائج کیا نکلیں گے؟ کیونکہ ہمارے نزدیک دینی مدارس کی اس جدید روش میں بہت سے خطرے پنہاں ہیں اس لیے کہ ہمارے ہاں جدید تعلیم مغربی فکرو تہذیب کا محض چربہ ہے او رمغرب کی فکر اپنی اصل میں ملحدانہ ہے لہٰذا مغرب میں سارے علوم کی اٹھان اور ان کا مواد و ہیئت الحادی اور غیر اسلامی ہے۔ ملحدانہ فکر پر مبنی ان علوم نے جدید تعلیم کے راستے مسلم فکر اور مسلم معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور مسلمانوں کی دین سے دوری اور ان کے بے کرداری کا سب سے بڑا سبب یہی جدید تعلیم ہے لہٰذا ہمارے نزدیک یہ بہت خطرناک امر ہے کہ دینی مدارس نے انہی جدید علوم کو اپنے مدارس میں پڑھانے اور ان کا امتحان دلوانے کا اہتمام شروع کر دیا ہے۔ مولانا زاہدالراشدی صاحب نے، جن کی ان معاملات پر خوب نظر ہے، بلکہ وہ خود بھی فارغ التحصیل علماء کرام کے لیے ایک سالہ کورس منعقد کرتے ہیں، جس میں جدید علوم کا تعارفی مطالعہ انہیں کرواتے ہیں، ہماری اس تجویز کو قبول کر لیا لیکن عملاً کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ پھر ہم نے چند ماہ پیشتر دینی مدارس کے سارے وفاقوں کے سربراہوں اور ناظمین اعلیٰ کو ایک خط لکھا اور اس صورت حال میں مضمر خطرناک پہلوؤں کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے انہیں اس موضوع پر مل بیٹھنے اور اس کاحل سوچنے کی دعوت دی اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر اصحاب وفاق چاہیں تو ہم تحریک اصلاح تعلیم ٹرسٹ کی طرف سے جدید علوم کی ایسی کتب مدون کر کے دے سکتے ہیں جن میں مغرب کی ملحدانہ فکر کا زہر نہ ہو اور وہ ٹھیٹھ اسلامی نقطۂ نظر پر مبنی ہوں۔ اس کے جواب میں وفاق المدارس العربیۃ کے ناظم اعلیٰ جناب مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے ہمیں ایک مدافعانہ قسم کا جواب دیا اور اس کی کاپیاں سارے وفاقوں کے صدور و ناظمین کو بھجوائیں، جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ معاملے کی خطرناکی اور گہرائی تک ان کی نظر نہیں پہنچی۔ دریں اثناء ہمارے بعض شرکاء کار نے ہمیں ڈرایا کہ اگر و فاقوں نے سچ مچ ہمیں یہ کام کرنے کا کہہ دیا تو اس کام کے لیے جو وسیع مادی وسائل درکار ہیں وہ ہمیں میسر نہیں ہیں (اور شاید وفاق بھی وہ مہیا نہ کر سکیں) مزید یہ کہ ہم خود ایک دوسرے بڑے دینی پراجیکٹ میں مصروف تھے،چنانچہ ان حالات میں ہم نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ اب موسیٰ بھٹو صاحب نے یہ موضوع چھیڑا ہے تو ہم نے مناسب سمجھا کہ اس معاملے کو دوبارہ اٹھائیں تاکہ اس کے فکری اور عملی پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آسکیں۔

عصری تقاضے

ہمارے نقطۂ نظر سے مغرب کے دباؤ سے قطع نظر دینی مدارس کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ عصری تقاضوں کے حوالے سے موثر علماء کیسے تیار کیے جائیں؟ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس چیز کا تعین کر لیا جائے کہ یہ ’’عصری تقاضے‘‘ کیا بلا ہیں اور ان کی کیا اہمیت ہے؟ کیونکہ بہت سے علماء کرام یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو قرآن و حدیث پڑھانا ہے، ہمیں عصری تقاضوں سے کیا لینا؟ دیکھیے ! دین نام ہے اس ہدایت کا ہے جو اللہ تعالیٰ بندوں کو اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے عطا فرماتا ہے تو گویا دین کا ہماری دنیوی زندگی سے گہرا ربط اور تعلق ہے بلکہ دین ہے ہی زندگی گزارنے کا لائحہ عمل تاکہ انسان دنیا کی یہ زندگی اللہ کے احکام کے مطابق اس کی عبادت و اطاعت میں گزارے تاکہ آخرت میں اس کی خوشنودی سے بہرہ ور ہوسکے۔
پیغمبر کتاب کی جو تبیین کرتا ہے وہ بھی اس ہدایت کو معاشرے کے زندہ حقائق سے مربوط کرنے کاہی ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ لہٰذا دین کس مجرد ہدایت کا نام نہیں جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ ہو بلکہ زندہ مسلم معاشرہ ہی دین کا ہدف اور نمائندہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ مدنی معاشرہ اسلام کے استحکام اور اشاعت کا سبب بنا کیونکہ وہ صحیح اسلام کا نمائندہ تھا اور آج چونکہ صحیح اسلامی فرد اور معاشرہ موجود نہیں اس لیے غیر مسلم اسلام سے متاثر نہیں ہوتے حالانکہ ہمارے پاس وہی قرآن و سنت موجود ہیں جو صحابہ کرامؓ کے پاس تھے۔ خلاصہ یہ کہ دین کو عصری حوالے کے بغیر پیش کیا ہی نہیں جاسکتا۔
یہاں ہمیں دینی مدارس چلانے والے علماء کرام کی فطانت سے توقع ہے کہ وہ دو چیزوں میں فرق کریں گے ، ایک ہے تقدس اور دوسرے ہے قدامت۔ قرآن و سنت میں تقدس قدامت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہمارے دین کا مآخذ ہیں اور ان کی نصوص ناقابل تغیر ہیں۔ ان کے علاوہ جتنے علوم ہیں وہ محض اپنی قدامت کی وجہ سے ’مقدس‘ نہیں ہوسکتے بلکہ ان کی اہمیت کی وجہ ان کی افادیت ہی ہوسکتی ہے اور اس افادیت میں زبان و مکان کے تغیر سے کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ ہم چند مثالوں سے اپنی بات کی وضاحت کریں گے:
۱۔ دینی مدارس میں جو فلسفہ پڑھایا جاتا ہے وہ یونانی فلسفہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ یونانی فلسفہ مسلمانوں کے لیے چیلنج تھا۔ آج یونانی فلسفے کی بجائے مغربی فلسفہ ہمارے لیے چیلنج ہے تو ہم یونانی فلسفے کی بجائے مغربی (یورپی و امریکی) فلسفہ کیوں نہ پڑھیں پڑھائیں؟
۲۔ برصغیر میں مسلم نظام تعلیم کے انگریزوں کے ہاتھوں خاتمے کے وقت ذریعۂ تعلیم فارسی زبان تھی اور اس وقت صرف و نحو اور دوسرے علوم فارسی میں پڑھائے جاتے تھے۔ آج فارسی زبان ہمارے ہاں غیر متداول ہوگئی ہے تو ہم کیوں اصرار کریں کہ اسے ہی ذریعۂ تعلیم ہونا چاہیے اور یہ ضروری ہے کہ صرف و نحو کی کتابیں فارسی ہی میں رہیں۔ پہلے ہم اپنے بچوں کو فارسی پڑھائیں اور پھر فارسی میں لکھی گئی صرف و نحو کی کتابیں!
یہ دو مثالیں ہم نے محض بطور نمونہ مشتے از خروارے دی ہیں ورنہ ایسی چیزوں کی فہرست کافی طویل ہے جو مدارس میں عصری حوالے سے تبدیل کیے جانے کے لائق ہیں اور قرآن و سنت کی طرح مقدس اور ناقابل مس (Untouchable) نہیں ہیں کہ ہم ان کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ بلکہ ہم تو عرض کرتے ہیں کہ مدارس میں علوم القرآن و علوم السنہ کے نصابات میں بھی تغیر کی ضرورت ہے اور ان کے طریق تدریس میں بھی اور ہم کوئی نئی بات نہیں کر رہے۔ اہل علم ہمیشہ ان باتوں پر غور کرتے رہے ہیں ، مثلاً علامہ ابن خلدون نے اپنے مشہور عالم ’مقدمہ‘ میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ مبحث بھی چھیڑا ہے کہ قرآن حکیم کی تعلیم بچے کو کس عمر میں دینی چاہیے؟ عربی زبان کی باقاعدہ تعلیم سے پہلے یا بعد؟ پھر دونوں صورتوں کے بارے میں تفصیل دی ہے کہ اسلامی دنیا کے کن ممالک میں پہلی صورت پر ، عمل ہوتا ہے اور کن ممالک میں دوسری صورت پر، اور دونوں کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟
تو بات عصری تقاضوں کی ہورہی تھی کہ کبھی عصری تقاضا یہ تھا کہ مدارس میں یونانی فلسفہ اور اس کا رد پڑھایا جائے، آج عصری تقاضا یہ ہے کہ یونانی فلسفے کی بجائے (یا اس کے ساتھ) مغربی فلسفہ اور اس کا رد پڑھایا جائے۔ کبھی عصری تقاضا یہ تھا کہ فارسی ذریعۂ تعلیم ہو، آج عصری تقاضا یہ ہے کہ فارسی ذریعۂ تعلیم نہ ہو بلکہ پاکستان میں اردو ہو، برطانیہ میں انگریزی ہو اور ایران میں فارسی ہو وغیرہ۔ آج عصری تقاضے کیا ہیں ہم چند اہم امور کی طرف اشارات پر اکتفا کرتے ہیں:
۱۔ مسلمان پہلے غالب تھے، آج مغلوب ہوگئے۔ (ایک ضمنی بات۔ ہمارے بس میں ہو تو دینی مدارس کے آخری سالوں میں ایک نئے مضمون کا اضافہ کریں جس میں یہ مسئلہ تفصیل سے زیربحث آئے کہ مسلمان امت کو زوال کیوں آیا اور وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ اور یہ کہ ہمارا تعلیمی نظام اس کا کس حد تک ذمہ دار ہے؟)
۲۔ مغربی فکر اور تہذیب اور اس کے علوم جو لادینیت اور الحاد پر مبنی ہیں آج دنیا پر غالب آگئے ہیں۔
۳۔ مسلم معاشرہ مغربی فکر و تہذیب کے اثرات قبول کر رہا ہے۔ اس کا نظام تعلیم، نظام قانون، نظام معیشت ، طرز معاشرت غرض سب کچھ تغیر کی زد میں ہے۔
۴۔ مغرب کا تصور دین ہم سے مختلف سے لیکن مغرب کے تہذیبی اور سیاسی غلبے کی وجہ سے وہ ہمارے تصورِ دین کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
مندرجہ بالا صرف چند کلیات ہیں۔ ان کے تقاضے کیا ہیں مثلاً علماء کرام اگر مغرب کی ملحدانہ فکر و فلسفے کا رد کرنا چاہتے ہیں اور مسلم معاشرے کو اس کے اثرات بد سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ان کا مطالعہ کیا جائے اور انہیں سمجھا جائے۔ یہ علوم انگریزی میں ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ انگریزی زبان سیکھی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا علماء کرام اس نصابی تغیر کے لیے تیار ہیں؟
فقہ کی مثال لیجیے۔ ائمہ اربعہ نے جب فقہی احکام مرتب کیے تھے تو اس وقت کے حالات اور اس وقت کے مسائل ان کے پیش نظر تھے۔ آج نہ وہ حالات ہیں اور نہ وہ مسائل۔ آج عصری تقاضا یہ ہے کہ آج کے حالات اور آج کے مسائل پر غور کیا جائے اور ان کا فقہی حل دریافت کیا جائے۔ کیا دینی مدارس نے اس تغیر کو قبول کیا ہے اور جدید مسائل پر غور وفکر کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے؟

جدید تعلیم کے نصاب کی اہمیت

یہ باتیں ہم نے صرف اس لیے کی ہیں کہ علماء کرام اس بات پر غور فرمائیں کہ عصری تقاضوں کی وجہ سے دینی مدارس کے نظام و نصاب تعلیم میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس اصولی اور عمومی بحث کے بعد اب آئیے دینی مدارس میں جدید علوم کی تدریس کے معین سوال کی طرف۔
  • کیا دینی مدارس کے طلبہ کو مغربی فکرو علوم کا تعارفی مطالعہ اور انگریزی زبان پڑھانی چاہیے؟ ہمارا جواب ہے ، ’’ہاں‘‘۔ 
  • کیا دینی مدارس کو اس غرض سے وہ کتابیں پڑھائی جائیں جو جدید تعلیمی اداروں میں میٹرک، ایف اے ، بی اے ، ایم اے میں مروج ہیں۔ ہمارا جواب ہے ’’بالکل نہیں‘‘۔
ممکن ہے آپ کہیں کہ ہمارے جواب میں تضاد ہے۔ ہم کہتے ہیں با لکل نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مسئلے کو پوری طرح سمجھا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کی ملحدانہ اور غیر اسلامی فکر و تہذیب اس وقت دنیا پر غالب ہے۔بدقسمتی سے مسلم معاشرے خصوصاً مسلم حکمرانوں کی کمزوری سے آج کے مسلم معاشرے میں مروج جدید تعلیم اسی مغربی ملحدانہ اور غیر اسلامی فکر پر مبنی ہے۔ اب اگر دینی مدارس نے بھی اسی الحادی مغربی فکر و فلسفے کے تحت مرتب کی گئی کتب کو اپنے ہاں پڑھانا شروع کر دیا تو لامحالہ جلد یا بدیر وہ بھی انہی ساری خرابیوں کا شکار ہوجائیں گے جنہوں نے ہماری جدید تعلیم بلکہ ہمارے معاشرے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے اور اس کے اسلامی افکار و اقدار کو متزلزل اور مضمحل کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بات جو ہم کہہ رہے ہیں کہ غلط اور غیر اسلامی نصاب تعلیم انسانی شخصیت کو مسخ کر دیتا اور معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے، ممکن ہے عام لوگ نہ سمجھیں لیکن دینی مدارس کے اہل حل و عقد کو ضرور یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کیونکہ وہ خود معلم ہیں اور جانتے ہیں کہ جیسی تعلیم ہوتی ہے ویسی ہی ذہنیت اور شخصیت اور ویسے ہی افراد بنتے ہیں اور یہ کہ قوموں کے عروج و زوال اور ان کے بناؤ اور بگاڑ میں تعلیم اور نصاب بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں خدا کے لیے معاملے کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔ 
خلاصہ یہ کہ دینی مدارس کو میٹرک، ایف اے ، بی اے کی مروجہ کتب نہیں پڑھانی چاہئیں بلکہ ان کی جگہ انہیں خود ایسی کتب مرتب کرنی اور کروانی چاہئیں جو مغربی فکر و تہذیب کے زہر سے آلودہ نہ ہوں۔ اگر وہ اس کا ارادہ اور ہمت کر لیں تو یہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ عملاً اس کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ جدید علوم اپنے طلبہ کو اپنے نظام کے اندر رہ کر پڑھائیں اور اسے حکومتی ڈگری سے متعلق نہ کریں تو وہ پھر بالکل آزاد ہیں کہ جو کتب چاہیں وہ اپنے ہاں لگائیں اور پڑھائیں، حکومت پاکستان کو اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے توخوش ہونا چاہیے کہ دینی مدارس جدید علوم پڑھائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مدارس اپنی خصوصی حیثیت کے پیش نظر میٹرک، ایف اے، بی اے کی اپنی مرتب کردہ کتب حکومت پاکستان سے منظور کروا لیں۔ ان کتب کو اس طریقے سے مرتب کیا جاسکتا ہے کہ وہ حکومتی نصاب کے خلاف بھی نہ ہوں لیکن ان میں مغربی تہذیب کا زہر بھی نہ ہو اور وہ اسلامی تقاضوں کے بھی مطابق ہوں (یہ ایک فنی کام ہے اور پیشہ ورانہ مہارت کا تقاضا کرتا ہے اور ہم اپنی اس پیشکش پر قائم ہیں کہ ہم مدارس کے لیے یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مقاصد تعلیم میں وسعت کا مسئلہ

دینی مدارس میں جدید تعلیم کے حوالے سے یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا دینی مدارس اپنے مقاصد تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ دوسرے لفظوں میں کیا اب بھی وہ صرف مساجد اور مدارس کے لیے علماء تیار کرنا چاہتے ہیں یا معاشرے کو اسلامی خطوط پر چلانے کے لیے اہم شعبوں کے ماہرین پیدا کرنا بھی ان کے پیش نظر ہے؟ اس سوال کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کا پس منظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
دیکھیے! انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کر لیا تو بتدریج مسلمانوں کا نظام تعلیم ختم کر دیا اور اپنا نظام تعلیم نافذ کر دیا۔ اس پر اہل فکر و نظر پریشان ہوگئے کہ ہندوستان کا حشر کہیں اندلس جیسا نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ جیسے تیسے ہو بنیادی دینی علم کو زندہ رکھا جائے تاکہ مسجدیں آباد رہیں اور مسلمان نکاح و طلاق اور غم و خوشی کے روزمرہ کے امور میں دین سے جڑے رہیں۔ چنانچہ علماء کرام نے درختوں کے نیچے بیٹھ کر اور کچی مٹی کے بنے حجروں میں بیٹھ کر قرآن و سنت اور فقہ کی تعلیم دینی شروع کی اور چونکہ قوم اس وقت ہزیمت خوردہ، منتشر اور مفلس تھی اس لیے اس کام سے دنیا وابستہ نہ تھی بلکہ علماء کرام کو ایثار سے کام لیتے ہوئے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ کام کرنا پڑا (جس کے لیے قوم کے سرہمیشہ علماء کے اس احسان کے سامنے جھکے رہیں گے)۔ یہ اس وقت کے حالات کے دباؤ کا نتیجہ تھا کہ علماء کرام نے یہ تعلیمی پروگرام شروع کیا اور بعد میں جب مسلمانوں نے ’جدید تعلیم‘ کے اپنے ادارے کھولنے شروع کیے تو دیوبند کے بانیوں خصوصاً مولانا رشید احمد گنگوہی کا خیال ابتداءً یہ تھا کہ وہ اپنے تعلیمی پروگرام کو کچھ مختصر کر کے اپنے طلبہ کو یہ موقع دیں گے کہ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جدید تعلیم کے لیے چند سال فارغ کر سکیں لیکن غاصب انگریز کے خلاف جذبات اس وقت اتنے شدید تھے اور دونوں طرف کی تعلیم کے علمبرداروں کے درمیان سیاسی، سماجی، دینی اور معاشرتی حوالوں سے خلا اتنا زیادہ تھا کہ تعلیمی تبادلے کے اس پروگرام پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ چنانچہ دینی تعلیم دنیوی علوم سے کٹ کر اور جدید تعلیم مغربی فکر وتہذیب کے سانچے میں ڈھل کر آگے بڑھتی رہی۔ ندوہ اور جامعہ ملیہ کی صورت میں باہم انجذاب کی کچھ کوشش ہوئی جو کامیاب نہ ہوسکی اور بدقسمتی سے یہ دونوں تعلیمی دھارے آج تک متوازی انداز میں کام کرتے چلے آرہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ نظام تعلیم کی وحدت کا انتظام کرتے اور اسلامی تعلیم اور جدید علوم کی مناسب انداز میں یکجائی کا اہتمام کرتے لیکن انہوں نے اس ضمن میں کچھ نہ کیا۔ عوام اور اسلامی قوتوں کے دباؤ پر انہوں نے صرف اتنا کیا کہ جدید نظام تعلیم میں جومغربی فکر و تہذیب پر مبنی تھا، کچھ سطحی قسم کی پیوند کاری ’دینیات‘ کی تعلیم کے اضافے سے کی جو حسب توقع غیر موثر ثابت ہوئی۔ دینی مدارس اور دینی تعلیم ان کا درد سر نہ تھی، چنانچہ نہ کبھی حکومت نے دینی مدارس کی سرپرستی کی ، نہ ان کے لیے بجٹ مختص کیا، نہ کبھی ان کے نصابات کی اصلاح کے لیے کچھ کیا اور یوں نہ صرف مدارس سے سرد مہری اور لاتعلقی کا رویہ رکھا بلکہ الٹا مغربی حکومتوں کے زیر اثر اوراپنی سیاسی مصلحتوں کی خاطر انہوں نے دینی مدارس کی مخالفت کی۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ارباب دینی مدارس نے بھی اس امر پر غور نہ کیا کہ عہد غلامی میں انہوں نے دینی تعلیم کو صرف مساجد و مدارس تک محدود رکھنے کی جو روش اپنائی تھی اب ایک آزاد مسلم معاشرے میں اس میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔ علماء کرام اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے نظام تعلیم میں ہمیشہ وحدت رہی ہے۔ دین و دنیا کی الگ الگ تعلیم کا تصور اسلامی دور حکومت میں کبھی بھی نہیں رہا۔ ماضی میں مسلمان معاشرے میں ’دینی مدارس‘ نہیں محض ’مدارس‘ ہوتے تھے جو دینی تعلیم بھی دیتے تھے اور ان علوم کی تعلیم بھی دیتے تھے جن کی مسلمانوں کو دنیا میں ضرورت تھی۔ چنانچہ مسلمانوں کے مدارس میں دینی تعلیم میں تخصص کے علاوہ سائنسی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی (جیسے طب (میڈیکل) ، ہندسہ (انجینئرنگ) ، ہیئت (اسٹرانومی اور سپیس سائنس)، کیمیا (کیمسٹری)، حساب (ریاضی و الجبرا وغیرہ) ۔ اسی طرح ان مدارس میں سماجی و عمرانی علوم کی تعلیم بھی دی جاتی تھی (جیسے فلسفہ، منطق، تاریخ، جغرافیہ، ادب وغیرہ)۔ زبانیں بھی یہاں سکھائی جاتی تھیں چنانچہ عربی کے علاوہ مقامی زبانیں جیسے فارسی، ترکی وغیرہ کی تعلیم بھی عام تھی بلکہ فارسی تو برصغیر میں ذریعۂ تعلیم بن گئی تھی۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کے مدارس سے نہ صرف دین کے متخصص علماء تیار ہو کر دینی شعبے کی خدمت کرتے تھے بلکہ زندگی کے سارے شعبوں کو چلانے کے لیے مردان کار یہیں سے تیار ہو کر نکلتے تھے۔ حکومت چلانے والے منتظم، انصاف کرنے والے جج (قاضی)، مالی شعبے کے ٹیکس کلیکٹر، شعبۂ تعمیرات کے لیے انجینئر، دھاتوں کو سونے میں بدلنے والے کیمیا گر اور علم الافلاک کے ماہر منجم سب انہی مدارس سے نکلتے تھے۔ بلکہ ان مدارس کی ایک بڑی اور بنیادی خوبی یہ تھی کہ مذکورہ بالا شعبوں کے یہ سارے متخصصین دینی علوم کے ماہر اور آج کی زبان میں عالم دین بھی ہوتے تھے۔ گویا یوں کہیے کہ ابتدائی اورعمومی تعلیم کی بنیاد سب کے لیے دینی تھی اور تخصص کے لیے حسب ذوق و ضرورت کچھ لوگ دینی علوم میں سند لیتے تھے، کچھ سائنسی علوم میں اور کچھ عمرانی علوم میں۔ 
اور آج پھر دینی مدارس کے سامنے سوال یہ ہے کہ ان کا مقصد تعلیم کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف مسجد و مدرسے کے امام و معلم پید اکرنا یا معاشرے کے لیے درکار دوسرے شعبوں کے ماہرین بھی پیدا کرنا۔ موسیٰ بھٹو صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ دینی مدارس کو مسجد و مدرسے تک محدود رہنا چاہے جیسا کہ ہمارے دینی مدارس کی موجودہ پالیسی ہے۔ ہم اس رائے کو صحیح نہیں سمجھتے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:

دین و دنیا کی تعلیم کی علیحدگی کے نقصانات 

۱۔ اس پالیسی نے مسلم معاشرے میں دین و دنیا کی تفریق کے تصور کو مستحکم کیا ہے۔ معاف کیجیے گا اسی کو سیکولرزم کہتے ہیں اور یہ سیکولرازم بالبداہت خلاف اسلام ہے۔ ہم مغربی تہذیب کو الزام دیتے ہیں کہ وہ سیکولزم کی علمبردار ہے اور اس نے بے دینی پھیلائی ہے اور ہم اس امر پر غور نہیں کرتے کہ ہم خود دین کے نام پر جو سیکولرزم پھیلا رہے ہیں کیا اس کا اس کا نتیجہ بے دینی نہیں نکلا؟ اور کیا مسلمانوں کے زوال کا ایک سبب یہ نہیں کہ ہمارے علماء و صلحاء نے مساجد و مدارس اور خانقاہوں میں ڈیرہ لگا کر سیاست اور اجتماعی زندگی کو بے دینوں کے حوالے کر دیا اور یوں صدیوں سے ہمارا سیاسی نظام برائے نام خلافت کا لبادہ اوڑھ کر منہاج نبوت اور منہاج خلافت راشدہ سے دور رہا اورآج بھی ہے۔
۲۔ اس پالیسی نے مسلم معاشرے کو مسٹر اور ملا میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس تقسیم کے منفی اثرات بہت دوررس اور گہرے ہیں۔ اس سے مسلم معاشرہ ہی تقسیم نہیں ہوا بلکہ اس کا بنیادی نقصان یہ ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے مسلم شخصیت میں وحدت نہیں پیدا ہو پاتی اور یہ علمی و فکری انتشار کو جنم دیتی ہے جو ہماری بے کرداری کا بنیادی سبب ہے۔ موجودہ نفسیات نے یہ ثابت کیا ہے (اور اسلامی علم النفس بھی یہی کہتا ہے) کہ انسانی اعمال کا منبع اس کی فکر ہوتی ہے۔ فکر منظم ہو کر نیت ، ارادے اور عزم کے ذریعے عمل کو جنم دیتی ہے، عمل کا دوام عادات بناتا ہے اور جیسی عادات ہوتی ہیں ویسی ہی شخصیت وجود میں آتی ہے۔ لہٰذا فکر میں یکسوئی اور وحدت شخصیت کی جان ہوتے ہیں۔ آپ دین و دنیا میں تفریق کو قبول کر کے اورمسلمانوں کو جدید تعلیم کے لیے مغربی فکر کے حوالے کر کے ( جس کا تصورِ دین و دنیا اسلام کے بالکل الٹ ہے) مسلم شخصیت کو تباہ کرنے کی بنیاد رکھ دیتے ہیں، لہٰذا ہم اس معاملے میں بالکل یکسو ہیں کہ ہماری بے کرداری کا بنیادی سبب فکری عدم یکسوئی ہے اور ہماری فکری عدم یکسوئی کا سبب ہمارے نظام تعلیم کی ثنویت اور دوئی ہے جس کے کچھ ذمہ دار ہمارے دینی مدارس بھی ہیں، فھل من مدکر؟ 
۳۔ اس پالیسی نے مسلم معاشرے میں مغرب پرست سیکولر حکمرانوں کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے اور وہ معاشرے کو بڑی آسانی سے بگٹٹ اپنی مرضی کے مطابق سیکرلر بنیادوں پر چلائے بلکہ بھگائے جا رہے ہیں کیونکہ دینی عناصر اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کا ر پیداہی نہیں کر رہے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے میڈیا کو اسلامی انداز میں چلانے کے لیے جو آدمی درکار ہیں کیا دینی مدارس وہ آدمی پیدا کر رہے ہیں؟ آج کے معاشرے میں اسلامی انداز میں نظام معیشت چلانے کے لیے جو ماہرین درکار ہیں کیا دینی مدارس وہ اشخاص پیدا کر ہے ہیں؟ اور یہی حال زندگی کے دوسرے شعبوں کا ہے خصوصاً نظام تعلیم، نظام قانون، قضا، انتظامیہ وغیرہ کا، کہ آپ ان شعبوں کے ماہرین پیدا ہی نہیں کر رہے۔ اس قحط الرجال کا نقصان یہ ہے کہ آج اگر دینی عناصر کو پاکستان میں اقتدار مل بھی جائے تو وہ صحیح اور موثر نظام حکومت چلا کر نہیں دکھا سکتے (جس کا مظاہرہ حال ہی میں دو صوبوں میں دینی عناصر کو اقتدار ملنے کی صورت میں ہوا ہے اور جس کے نتائج سے مایوسی پیدا ہوئی ہے)۔
۴۔ اگر علماء کرام معاف فرمائیں تو ہم عرض کریں گے کہ ثنویت پر مبنی اس نظام تعلیم سے معاشرے میں علماء کرام کی بے توقیری ہوئی ہے۔ جاگیر دار اپنی مسجد کے مولوی صاحب کو کمیں سمجھتے ہیں اور دیگر اہل حرفہ موچی، ترکھان، لوہار کی طرح مولوی صاحب کو بھی سالانہ ایک دو من گندم دے کر فارغ کر دیتے ہیں اور بعض دیہات میں تو ابھی تک مولوی صاحب شام کے وقت گھر گھر جا کر روٹی مانگ کر لاتے ہیں اور یوں بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور سرمایہ دار مولوی صاحب کو معمولی ملازم سمجھتے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں مسجد کے مولوی اور خطیب زیادہ سے زیادہ دس گیارہ گریڈ کے ملازم ہوتے ہیں جب کہ افسر کا گریڈ ۱۷ سے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے افسر مولوی صاحب کو ادنی درجے کا ملازم سمجھنے میں حق بجانب ہیں اور یہ تاثر لینے میں بھی حق بجانب ہیں کہ مولوی بننا اسی سطح کے لوگوں کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمارے مدارس اندھوں، لنجوں، ناداروں (جو غریب والدین اپنے بچوں کو پال نہیں سکتے یا سکولوں میں تعلیم نہیں دلوا سکتے، وہ انہیں مدرسہ بھجوا دیتے ہیں) اور نالائقوں (جو سکولوں میں کسی وجہ سے چل نہیں سکتے ) کی آماجگاہ رہے ہیں اور قوم کے کھاتے پیتے لوگ اپنے ذہین بچوں کو یہاں بھجوانا پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ اہل دین کی دنیاوی شوکت سے یہ محرومی معاف کیجئے گا، خود دین کے استخفاف کا سبب بنی ہے اور معاشرے پر اس کے برے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔
اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ مولوی صاحب مانگنے والے بن گئے ہیں۔ کوئی بھی سرمایہ دار یا مرفہ الحال شخص جب مولوی صاحب کو آتے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ مولوی صاحب چندہ مانگنے کے لیے آئے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ علماء مسجد اور مدرسے کے لیے مانگنے جانتے ہیں اپنی ذات کے لیے نہیں لیکن بقول اقبال ۔۔۔مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج۔ اورلینے والے ہاتھ کا نیچے ہونا اور دینے والے ہاتھ کا اوپر ہونے کا فلسفہ بہر حال ایک خاص نوع کی ذہنیت اور رویے کو جنم دیتا ہے اور بعض لوگ تو اس امر کو بھی مدارس کی بے برکتی کی ایک وجہ گردانتے ہیں کہ مولوی صاحب کو سرمایہ دار سے مانگتے ہوئے اس سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے کہ اس کی کمائی حلال کی بھی ہے یا نہیں، ان کو توبہر حال مسجد اور مدرسے کو چلانے کے لیے فنڈز درکار ہوتے ہیں۔
دینی تعلیم کو مسجد اور مدرسے تک محدود رکھنے کے یہ چند بڑے نقصانات جو ہم نے گنوائے ہیں (امید ہے کوئی صاحب ہمارے نیک نیتی پر مبنی اس نا گزیر تجزیے کی بناء پر ہمیں علماء کرام اور دینی مدارس کے استخفاف کا مرتکب قرار نہیں دیں گے) وہ اس قابل ہیں کہ ہمارے دینی مدارس کے اہل حل و عقد ان پر غور فرمائیں اور ان کی بنیاد پر جس استدلال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اس کا وزن کو محسوس کریں۔

علماء کرام کے خدشات

ہمارے علم میں ہے کہ علماء کرام کی ایک خاصی بڑی تعداد خصوصاً پرانے اور بزرگ علماء ہماری اس تجویز کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ اس کی وجہ ان کے بعض خدشات ہیں اور وہ اپنے موقف کو صحیح سمجھنے کے لیے بعض دلائل بھی رکھتے ہیں۔ ہم خواہ مخواہ بحث کو طول دینا نہیں چاہتے لیکن جو نقطۂ نظر ہم پیش کر رہے ہیں، اس کے اثبات کے لیے ان خدشات و دلائل کا ذکر اور رد ناگزیر ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کے حق میں علماء کرام جو دلائل اور خدشات رکھتے ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱۔ اگر ہم نے اپنے طلبہ کو انگریزی اور جدید علوم پڑھانے شروع کر دیے تو مسجدیں اور مدرسے ویران ہو جائیں گے اور علماء کی اکثریت دفتروں اور اسکولوں میں ملازمت کرلے گی۔
۲۔ ہم پہلے ہی مانگ تانگ کر اور رو پیٹ کر گزارہ کر رہے ہیں، اگر ہم نے جدید علوم بھی پڑھانے شروع کر دیے تو لا محالہ اخراجات بڑھیں گے اور ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ 
۳۔ یہ حکومتوں کا کام ہے کہ وہ اس سطح کے آدمی تیار کرے۔ ہم اگر اس کام میں لگ گئے تو جو کام ہم کر رہے ہیں وہ بھی متاثر ہو گا اور کمزور ہو جائے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دلائل نہیں محض خدشات ہیں اور خدشات بھی ٹھوس نہیں محض خوف پر مبنی ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ:
۱۔ اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ دینی مدارس کے طلبہ کے انگریزی اور جدید علوم پڑھنے سے مدرسے اور مسجدیں ویران ہو جائیں گی کیونکہ جتنے طلبہ اس وقت سالانہ دینی مدارس سے فارغ ہوتے ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سب مساجدو مدارس میں کھپ نہیں سکتے لہٰذا ان میں سے بعض دیگر شعبوں میں چلے جاتے ہیں، بعض بے روزگار رہ جاتے ہیں اور بعض جدید تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کی ایک تعداد اگر مساجد و مدارس کا رخ نہ بھی کرے تو ان شاء اللہ مسجدیں و مدارس پھر بھی آباد رہیں گے۔
۲۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مسلم معاشرے میں مغرب کی مادہ پرستی نے خاصا غلبہ حاصل کر لیا ہے اور اعلیٰ معیار زندگی کی دوڑ، راتوں رات امیر بن جانے کا جنون، بیرون ملک جانے کا خبط، تعلیم میں کمرشل ازم کا غلبہ وغیرہ ان سارے رحجانات سے دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کا متاثر ہونا بہت اچنبھے کی بات نہیں کہ وہ بھی بالآخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود ان قباحتوں سے بچنے کی کوشش کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ تاہم تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ کہ جائز ذرائع سے اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کوئی جرم نہیں۔ لہٰذا دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام کے لیے اگر مدارس و مساجد سے ہٹ کر اچھی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی کوئی صورت بنے تو اسے بالآخر مذموم کیوں سمجھا جائے؟ دین کے لیے ایثار و قربانی بوقت ضرورت بلا شبہ محمود ہے۔ ہمارے علماء کرام یہ ایثار ماضی میں کرتے آئے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن علماء کرام کے اعلی تعلیم یافتہ ہونے سے اگر موجودہ مساجد کمیٹیاں اس امر پر مجبور ہوتی ہیں کہ وہ مساجد کے ائمہ و خطباء کی تنخواہیں بڑھائیں تو یہ بھی وقت کی ضرورت ہے اور علماء کرام اس کے مستحق ہیں۔ پھر جیسا کہ ہم نے سعودی عرب میں دیکھا کہ یونیورسٹیوں کے علوم اسلامیہ کے سارے پروفیسر مسجدوں کے خطیب ہیں۔ اسی طرح کا کلچر ہمیں پاکستان میں بھی پروان چڑھانا چاہیے کہ اعلی تعلیم یافتہ علماء کرام خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہوں، مساجد کی خطابت (بلکہ امامت بھی) انہی کے پاس ہونی چاہیے۔ اس سے علماء کا وقار بھی بڑھے گا، ان کی آمدنی بھی بڑھے گی اور مساجد کا کردار بھی پہلے سے زیادہ موثر ہو جائے گا جو ہماری فوری دینی اور معاشرتی ضرورت ہے۔ 
۲۔ مقاصد تعلیم میں توسیع سے بلاشبہ مدارس کے اخراجات بڑھیں گے لیکن جو قوم اس وقت بھی دینی مدارس کو کروڑوں نہیں بلکہ کئی ارب روپے سالانہ امداد دیتی ہے، جب وہ دیکھے گی کہ دینی مدارس کا کردار معاشرے کے لیے زیادہ موثر اور وسیع ہوگیا ہے تو وہ یقیناًمدارس کی اضافی ضروریات بھی پوری کرے گی۔ الحمدللہ! کہ مدارس کی اکثریت معاشرے کے اعتماد کی حامل ہے اور لوگ محض ثواب کی خاطر مدارس کی امداد کرتے ہیں۔ قوم کھلی آنکھوں سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ اگر دینی مدارس اپنے مقاصد تعلیم میں توسیع کا فیصلہ کریں تو قوم انہیں مایوس کرے گی۔
دوسری بات یہ کہ پچھلی دو تین دہائیوں میں معاشرے کے رجحان میں یہ تبدیلی محسوس کی گئی ہے کہ اب نادار لوگوں کے علاوہ (جو اپنے بچے مجبوراً دینی مدارس میں بھجواتے تھے) ، اب بعض متوسط طبقے کے اور بعض کھاتے پیتے گھروں کے بچے بھی دینی مدارس میں آنے لگے ہیں جو کسی مجبوری سے نہیں بلکہ اپنی خوشی و مرضی سے مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا اس امر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ مدارس میں ’مفت تعلیم‘ کے تصور پر بھی نظرثانی کی جائے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کے لیے باقاعدہ فیس مقرر کی جائے بلکہ درمیان کے راستے بھی سوچے جاسکتے ہیں مثلاً ایسے کھاتے پیتے والدین کو مدرسے کے وقف کی رکنیت دے دی جائے (اور ایسی رکنیت کو عام کر دیا جائے) والدین مدرسے کے آمد و خرچ سے آگاہ ہوں اور ہر ماہ یا ہر سال اپنی مالی حیثیت کے مطابق مدرسہ کے وقف کی مدد کرتے رہیں تاکہ مدرسہ کے اخراجات پورے ہوتے رہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہٰذا جب مدارس اپنے منہاج میں تبدیلی کریں گے تو سب متعلقہ لوگ اس پر سوچیں گے اور ذرائع آمدنی کے حصول کے لیے بھی کئی دوسرے راستے ان شاء اللہ سامنے آئیں گے اور خدانخواستہ یہ صورت نہیں بنے گی کہ دینی مدارس مالیات نہ ہونے کی وجہ سے کام بند کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں اس ضمن میں کامیاب تجربے ہوئے ہیں۔
۳۔ تعلیم خواہ دینی ہو یا دنیوی اور خواہ ابتدائی سطح کی ہو یا اعلیٰ سطح کی بلاشبہ حکومت کی، ذمہ داری ہے لیکن ہماری تیرہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ علماء نے کبھی بھی اس کے لیے حکومتوں پر انحصار نہیں کیا اور وہ معاشرے کی مدد سے کمیونٹی کو متحرک کر کے ہمیشہ مسلم عوام کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرتے رہے ہیں اور مسلمان علماء و صلحا نے پرائیویٹ سیکٹر میں ہزاروں مدارس اور خانقاہیں قائم کر کے تعلیمی و تربیتی نظام کو قائم و دائم رکھا ہے۔ خود برصغیر کی تعلیمی روایت بھی یہی ہے کہ یہاں حکومتی سرپرستی سے محروم ہونے کے باوجود مسلم ملت نے دیوبند، ندوہ، علی گڑھ، جامعہ ملیہ، انجمن حمایت اسلام، اسلامیہ کالج پشاور غرض ایک پورا تعلیمی نظام اور نیٹ ورک قائم کیا اورچلایا۔ اب بھی اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو علماء کرام کو حکومت کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے اور اس کے لیے حکومت پر انحصار کرنا ہی نہیں چاہیے۔ جس طرح وہ مساجد و مدارس کے لیے حکومتی مدد کے بغیر آج تک افراد کار مہیا کرتے آئے ہیں اگر وہ ہمت کر کے اپنا دائرہ کار امت کے مفاد میں وسیع کر لیں تو وہ ان شاء اللہ اس کو بھی کامیابی سے چلالیں گے جیسے کہ ہمارے اسلاف ماضی میں کرتے آئے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی نیا کام نہیں بلکہ اسلاف کی پیروی میں سابقہ کامل و شامل تعلیمی منہج کا احیا ہی ہے۔
یہ بھی محض خدشہ ہے کہ منہج کی توسیع سے دینی مدارس کا موجودہ نظام کمزور ہوجائے گا۔ ہم دینی مدارس کے موجودہ نظام میں، جس سے مقصود دین کے متخصص عالم پیدا کرنا ہے، کسی بنیادی تبدیلی کی تجویز نہیں دے رہے بلکہ اس میں ایک خاص نوع کی توسیع کی بات کر رہے ہیں مثلاً یوں سمجھیے کہ اگر اس وقت دینی مدارس مڈل پاس طلبہ کو داخلہ دیتے ہیں جو آٹھ سال میں شہادۃ عالمیہ (علوم اسلامیہ و عربیہ میں ایم اے) کرتے ہیں تو اس سسٹم کو علی حالہ باقی رکھا جائے البتہ طلبہ کا ایک اور گروپ ہو جو ثانویہ خاصہ میں دوسرے طلبہ کے ساتھ سارے اسلامی مضامین پڑھنے کے ساتھ ایک اضافی مضمون مثلاً معاشیات کا پڑھے۔ اسی طرح عالیہ میں دوسرے اسلامی مضامین کے ساتھ وہ اسلامی معاشیات کا مضمون بھی پڑھے۔ پھر عالمیہ میں دو سال لگا کر وہ اسلامی معاشیات پڑھے (مغربی معاشیات کا تقابلی مطالعہ بھی اس کا جزو ہوگا) اور اسلامی معاشیات میں وہ شہادۃ عالمیہ حاصل کرے۔ اسی طرح انگریزی، اردو، قانون، تربیت اساتذہ، ابلاغ عامہ، فلسفہ وغیرہ میں دینی مدارس شہادہ عالمیہ کروا سکتے ہیں اور حکومت سے اپنی سند منظور کروا سکتے ہیں۔ اور حکومت کو یہ سند اصولاً خوشی سے منظور کرنی چاہیے کیونکہ اس کی تو خواہش اور مطالبہ ہی یہ ہے کہ دینی مدارس جدید تعلیم دیں۔
ہم ارباب دینی مدارس کی خدمت میں مزید عرض کرتے ہیں کہ علوم کے تین بڑے شعبے ہیں: ۱۔ دینی علوم ۲۔سماجی یا عمرانی علوم اور ۳۔ سائنسی علوم ۔علماء کرام اس وقت پہلے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ وہ دوسرے شعبے یعنی سماجی علوم میں سے بھی بعض اہم تخصصات ہاتھ میں لے لیں کیونکہ یہ علوم بھی درحقیقت اسلامی ہی ہیں کیونکہ یہ مسلم شخصیت کی تکوین میں اہم حصہ لیتے ہیں اور مسلم معاشرے کو اسلام کے مطابق چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں مثلاً اگر علماء کرام اچھے ذہن کے اساتذہ تیار کر یں تو وہ سارے پاکستان کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ اگر وہ اسلامی ذہن رکھنے والے میڈیا کے افراد تیار کر دیں تو عوام کے ذہنوں کو اسلام پر عمل کے لیے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ قانون کے شعبے کو ہاتھ میں لیں تو ایسے جج اور وکلاء تیار کر سکتے ہیں جو اسلامی فقہ اور جدید قانون میں بیک وقت ماہر ہوں گے۔ وقس علی ذلک۔ اور یہ کوئی نیا کام نہیں بلکہ یہ کام وہ پہلے ہی جزوًا کر رہے ہیں مثلاً سماجی علوم میں سے لغت، ادب، فلسفہ، منطق، قانون (فقہ) وہ پہلے ہی پڑھا رہے ہیں ہم ان میں چند ایک مضامین کے محض اضافے کی بات کر رہے ہیں اور ان میں تخصص کروانے کی بات کر رہے ہیں۔

صحیح نظام تعلیم کی اہمیت

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم علماء کرام کی خدمت میں عرض کریں گے کہ اگر وہ غور فرمائیں تو وہ بھی ہماری طرح اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ امت زوال کے موجودہ گرداب سے اس وقت تک نہیں کل سکتی جب تک وہ اپنے نظام تعلیم کو صحیح نہیں کر لیتی اور اس کا نظام تعلیم اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے سارے نظام تعلیم کو اسلامی بنیادوں پر استوار نہیں کر لیتی اور مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات نہیں حاصل کر لیتی۔ صحیح اسلامی نظام تعلیم سے ہماری مراد دینی مدارس کا نظام نہیں بلکہ ایک موحد نظام تعلیم ہے جس میں دینی علوم (عصری تقاضوں کے مطابق ۔۔۔ جن کا کچھ ذکر پہلے ہوچکا ) کے علاوہ دنیوی علوم کی تعلیم بھی اسلامی تناظر میں اور مغربی فکر کو رد کر تے ہوئے ، شامل ہو۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ:
۱۔ دینی علوم کی موجودہ تعلیم میں عصری ضرورتوں کے مطابق ضروری تبدیلیاں لائی جائیں۔
۲۔ سماجی علوم (معاشیات، سیاسیات، قانون، ابلاغ عامہ، فلسفہ، تاریخ وغیرہ) از سرنو اسلامی بنیادوں پر مرتب کیے جائیں۔
۳۔ سائنسی علوم (کیمیا، طبیعیات، حیاتیات، علم الافلاک وغیرہ) اور ٹیکنالوجی کو اسلامی ذہن کے ساتھ فروغ دیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی اسلامی تناظر میں اساتذہ کی تدریب اور طلبہ کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور تعلیمی اداروں کے ماحول کو بدلا جائے۔
مندرجہ بالا کام انتہائی مشکل اور وسیع کام ہے اور اس کے لیے وسیع مادی وسائل اور اسلامی ذہن کی بہترین افرادی قوت درکار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہماری مغرب کی گماشتہ حکومتوں کو یہ کام کرنے کا احساس نہیں تو کیا پرائیویٹ سیکٹر خصوصاً علماء کرام بھی اس کے لیے متحرک نہ ہوں اور وہ ٹھنڈ سے پیٹوں برداشت کرتے رہیں کہ قوم جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی اور زوال کے گڑھے میں ڈبکیاں کھاتی رہے؟
ہم سمجھتے ہیں کہ بہرحال دینی مدارس کے اہل حل و عقد کو اس کام کے کرنے کا دوسروں سے بڑھ کر احساس ہونا چاہیے اور اگر وہ اس کی اہمیت کا ادراک کر لیں تو یقیناًقوم اس کام کے کرنے میں ان کا ساتھ دے گی۔ ہم کہتے ہیں کہ چلیے وہ اس سارے پراجیکٹ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتے تو کم از کم ان چند مضامین کی کتب ہی نئے سرے سے مدون کر لیں جنہیں وہ اپنے طلبہ کو میٹرک، ایف اے اور بی اے میں پڑھانا چاہتے ہیں اور اپنے نظام میں عصری ضرورتوں کے مطابق وہ چند تبدیلیاں ہی کر لیں جن کی طرف سطور بالا میں ان کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ ھذا ما عندنا والعلم عند اللہ۔

’تحفظ نسواں ایکٹ‘ کتاب و سنت کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

حال ہی میں حکومت پاکستان نے حدود آرڈیننس کے دو قوانین، حد زنا اور حد قذف میں ترمیم کرکے ’تحفظ نسواں بل‘ کے عنوان سے ایک نیا قانون متعارف کروایا۔ اس قانون کو کتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک خصوصی علماء کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ بعد میں یہ بل مختلف مراحل طے کرتا ہوا قانون ساز اداروں سے پاس ہوگیا، تاہم اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک بہت بڑا انزاع پیدا ہوگیا کہ یہ قانون کتاب وسنت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ حدود آرڈیننس کی طرح اس قانون کے بارے میں اختلاف نے بھی سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے کوشش کی ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس قانون کا جائزہ لیا جائے، تاہم ہمیں یقین ہے جس طرح پاکستان میں حدود آرڈیننس مکمل طور پر ناکام ہوگیا، زیر بحث قانون بھی اس طرح ناکام رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن آف لا کا بہت چرچا رہا اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے کئی قوانین میں ترامیم کی گئیں اورکئی نئی دفعات متعارف کروائی گئیں، متعدد نئے ادارے وجود میں آئے جس سے یہ سمجھاجانے لگا کہ متعلقہ قوانین کتاب وسنت سے ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسلامیان پاکستان اس انتظار میں رہے کہ اب معاشرہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی برکات سے مستفید ہوگا اور ہر طر ف امن وعافیت، رفاہیت وخوش حالی اور عدل وانصاف کا دور دورہ ہوجائے گا، لیکن جب معاشرتی زوال کی رفتار میں کمی آنے کے بجائے اسلامی اور انسانی اقدار کی پامالی کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں تو اسلامی قوانین کی اثر آفرینی کے بارے میں شکوک وشبہات پیداہونے شروع ہوئے جو آگے چل کر ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئے۔ اس صورت حال کے حقیقی اسباب کا کھوج لگانے کے بجائے اسلام کے نام پر نافذ کیے گئے قوانین، بالخصوص حدود آرڈیننس اور قانون شہادت وغیرہ کے حامیوں اور مخالفوں کے متحارب کیمپ معرض وجو دمیں آگئے اور دو طرفہ زور آز مائی شروع ہوگئی۔
امر واقعہ یہ ہے کہ جس سیاق میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہوا تھا، اس سے اسلام کی بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور آئندہ بھی اس طرح اسلامی قوانین کے نفاذ کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی قوانین پورے اسلامی نظام کے وجود کا ایک حصہ ہیں اور اپنا الگ فلسفہ، اساسیات، اصول اور منہاج رکھتے ہیں۔ ان کی اثر آفرینی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں پورے اسلامی نظام کی تمام اساسیات، مناہج اوراصول کے ساتھ نافذکیا جائے۔ دوسری طرف اینگلو سیکسن لا جو پاکستان کو وراثت میں ملا ہے، اپنا الگ فلسفہ، اصو ل اور مبادی رکھتاہے۔چونکہ دونوں قسم کے قوانین کا بلڈ گروپ الگ الگ ہے، اس لیے ان میں باہم پیوندکاری ممکن نہیں اور اگر زبردستی پیوند کاری کی کوشش کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوتاہے جو حدود آرڈیننس وغیرہ کے بارے میں نکلا۔ اسلا می قوانین کا شجرہ طیبہ اینگلو سیکسن لا کی سرزمین پر کبھی بار آور نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر اسلامی قوانین کی اساس عدل ہے، جبکہ اینگلو سیکسن لا کی ’’قانون کی بالادستی‘‘ ہے۔ اس کی وضاحت مرحوم جسٹس گل محمد، سابق چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ اس طرح کرتے تھے کہ اگر بالفرض یورپ کے کسی ملک کی پارلیمنٹ یہ قانون بنا دے کہ جس کسی کا قد چھ فٹ سے زائد ہو، اسے سزائے موت دے دی جائے تو اسلام ایسی قانون ساز ی کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ قانون کی بالاتری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے بہرطور نافذ کر دیا جائے۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار ایسے قوانین ہیں جو عدل کے سراسر خلاف ہیں، لیکن دنیا بھر کی عدالتیں انہیں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں ۔ویٹو کے اختیارات اس کی بدترین مثال ہے۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے یہ فرق بہت نمایاں ہوجاتاہے کہ اسلام مرد کو انتظامی برتری (النساء ۴:۳۴) اور عورت کو احترامی برتری (النور ۲۴:۴) کے اعزاز سے نوازتے ہوئے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرہ کار میں دوسرے پر فوقیت دیتاہے، لیکن اینگلو سیکسن لا مرد وزن کی ہمہ وجوہ مساوات کا قائل ہے۔ اس لیے اینگلو سیکسن لا کے حوالے سے عورت کی گواہی اور دوسرے کئی قوانین پر خواتین کا اعتراض بجا ہے۔ اگر یہ قوانین مکمل اسلامی نظام کے تناظر میں نافذ کیے جاتے تو اسلام کا نقطہ نظر یہ سامنے آتا ہے کہ عورت نہ صرف ثقہ، سچی، امانت دار اورقابل اعتماد ہوتی ہے بلکہ اس قدر دانش مند اور سمجھ دار بھی کہ ان میں کسی کم فہم اور دینی اعتبار سے کمزور عورت میں بھی قدرت نے یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ دانش مندسے دانش مند مرد کو بآسانی متاثر کرلیتی ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر ۳۰۴، تشریح از حکیم الاسلام قاری محمد طیب، خطبہ ’’فضیلۃ النساء‘‘) البتہ اس کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اسے عدالتوں اور کچہریوں میں خجل خوار ہونے سے بچایا جائے۔ (ہدایہ، کتاب الشہادۃ، ۳:۱۱۵) اس پس منظر میں کیا کسی مسلمان خاتون کو اس پر اعتراض ہوگا کہ اسے ناشائستہ مقدمات میں گواہی سے کیوں محروم رکھا جاتاہے؟ بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ہر مسلمان خاتون کا سر فخر سے بلند ہوگا کہ اسلامی معاشرے میں اس کی عزت واحترام مر دسے کہیں بڑھ کر ہے۔ لیکن جب ہم اینگلو سیکسن لا کے جسم میں اسلامی قانون کا کوئی عضو لگانا چاہتے ہیں تو وہ اسے قبول کرنے سے ابا کردیتاہے اوراس کا الزام اسلام کی نتیجہ خیزی پر آتاہے۔ طالبان کے افغانستان اور سعودی عرب میں اسلامی قوانین کی کامیابی اور اثر آفرینی کی وجہ صرف اور صرف یہ رہی کہ ان دونوں ممالک میں اسلامی قوانین کی پیوند کاری نہیں کی گئی بلکہ وہ اسلام جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور قرن بہ قرن اس میں اجتہاد کے ذریعے ارتقا جاری رہا، اسے بتمام وکمال نافذ کرنے کی سعی کی گئی جس کی بنا پر اس کی اثر آفرینی سے دشمن بھی انکار نہیں کرسکتے۔
تحفظ نسواں بل کا جائزہ لینے کے لیے علما کی جوخصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، اس کی رپورٹ کمیٹی کے ایک ممبر مولانا زاہد الراشدی نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ اکتوبر ۲۰۰۶ء میں شائع کی جس سے معلوم ہوا کہ علماے کرام نے حد زنا اور حد قذف کی بیالیس دفعات کی مجوزہ چوالیس ترامیم میں سے صرف تین کے بارے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ * بعد کے ایک زیادہ منضبط جائزے میں جو کمیٹی کے ایک دوسرے رکن مولانا محمد تقی عثمانی کے قلم سے روزنامہ جنگ اور نوائے وقت میں قسط وار شائع ہو ا اور جسے بعد میں الشریعہ نے بھی شائع کیا، اس بل پر چھ اہم اعتراضات کیے گئے جن کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی بالادستی قرآن کی قطعی نصوص سے ثابت ہے۔ جب ایک مرتبہ زنا کی حد کا فیصلہ ہوجائے تو حکومت کو اس کی معافی یا تخفیف کا اختیار نہیں ہے۔ زیر نظر بل میں زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق (۵) کو حذف کرکے حکومت کو سز ا میں تخفیف کا جو اختیار دیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے خلاف ہے ۔
۲۔زنا بالجبر، زنا کی ایک قسم ہے، اسے حدود سے نکال کر تعزیرات میں شامل کرنا کتاب وسنت کے خلاف ہے۔
۳۔ زنا بالرضا موجب حد اور فحاشی کو ناقابل دست اندازی پولیس قرار دے کر ان جرائم کو تحفظ دیاگیاہے۔ اسلامی احکام کے تحت فحاشی کاجرم معاشرے اور ریاست کے خلاف جرم ہے۔ اس کا ثبوت اس قدر دشوار بنا دیاگیاہے کہ اس کے تحت کسی کو سزا نہیں ہو سکتی ۔
۴۔حدود آرڈیننس میں اگر حد زنا کے لیے مطلوبہ ثبوت موجود نہ ہو تا لیکن اغوا یا عصمت دری کا جرم ثابت ہوجاتا تو حد زنا دفعہ ۱۰ کے تحت تعزیری سزا دی جا سکتی تھی،اب کوئی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ زیر نظر بل نے عدالت سے یہ اختیار واپس لے لیاہے ۔گویا فحاشی کو تحفظ دیاگیا ہے ۔
۵۔ قذ ف میں ترمیم کرکے مرد کو یہ چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ چاہے تو عورت کے مطالبے کے باوجود لعان کی کارروائی میں شرکت سے انکار کردے۔ یہ ترمیم قرآن حکیم کے منافی ہے۔
۶۔ قذف آرڈیننس میں یہ ترمیم بھی کتاب وسنت کے منافی ہے کہ عورت کے رضا کا رانہ اقرار جرم کے باوجود اسے سزا نہیں دی جائے گی۔
علما کمیٹی کے ان چھ اختلافی نکات کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی پیش کردہ باقی ترامیم سے علماے کرام متفق ہیں جو بجائے خود ایک خوش آئند بات ہے، البتہ پچھلے سالہا سال سے بالعموم اور پچھلے کچھ عرصے سے بالخصوص پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں اور متعدد دینی شخصیات جس تسلسل سے حدود آرڈیننس کو خدائی قانون اور ناقابل ترمیم قرار دیتی رہیں اوراس کے بعد جب مکالمے کا موقع آیا تو اپنے سابقہ موقف سے دست کش ہوکر جس طرح ترامیم کے لیے آمادہ ہوگئیں، اس پر ’بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بو العجبی ست‘۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ علماے کرام کی طرف سے اس نوعیت کی Sweeping statements کی وجہ سے عوام اور دینی جذبات رکھنے والے نیک دل مسلمانوں کے حسن ظن کو، جو روایتی علما پر بے پناہ اعتماد کرتے ہیں، ٹھیس پہنچتی ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دیگر دینی شخصیات سے ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ دینی مسائل پر غور وفکر اور تبصرہ کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی کو ملحوظ رکھا کریں اور دینی مسائل پر گروہی، فرقی اورانتخابی سیاست کی آلودگیوں سے اپنا دامن بچا کررکھیں تو اس سے جہاں علما کے وقار پر آنچ نہیں آئے گی، وہاں ان پر اعتبار اور اعتماد کی روایت بھی متاثر نہیں ہوگی۔ ذاتی طورپر ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ علمائے کرام نے حدود آرڈیننس کو اس کے اصل تناظر میں دیکھنا شروع کردیاہے اور اب حدود آرڈیننس نہیں بلکہ حدود اللہ الہامی قوانین قرار پائی ہیں۔
علماے کرام کی خصوصی کمیٹی نے اپنی چھ اضافی سفارشات میں خواتین کو وراثت سے عملاً محروم رکھنے،زبردستی نکاح کر دینے، بیک وقت تین طلاقیں دینے، قرآن سے نکاح، وٹہ سٹہ اور عورتوں کی خریدوفروخت کے مذموم رسوم ورواج کے سدِباب کے لیے قانون سازی کی سفارش کی۔ اگر زیر نظر بل واقعتا ’’تحفظ نسواں بل‘‘ ہوتا ،حکومت اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی این جی اوز واقعتا خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مخلص ہوتیں تو ہمارے خیال میں ان تمام سفارشات کو بل کا حصہ بنا کر فوراً نافذ کردیاجاتا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی سفارش ایسی نہیں جن کے بارے میں کسی اختلاف کی گنجائش ہو، لیکن اس سلسلے میں حکومتی حلقوں اور این جی اوز کی طر ف سے کسی سرگرمی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ NGOs کا معاملہ تو قابل فہم ہے کہ اگر خواتین کے نوے فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں تو این جی اوز چلانے کے لیے مسائل کہاں سے آئیں گے اورکس بناپر بیرونی فنڈز حاصل کرنے کی راہیں وا رکھی جائیں گی، لیکن اس سلسلے میں حکومت کی سردمہری ناقابل فہم ہے۔ اگر حکومت واقعتا بے حیائی اور فحاشی کو تحفظ دینے کے بجائے خواتین کے حقیقی مسائل حل کرنے میں مخلص ہوتی تو اسے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا ۔
علما کمیٹی نے اگر چہ دیدہ ریزی سے زیر نظر بل کا جائزہ لے کر ان دفعات کی نشاندہی کی ہے جو ان کے خیال میں کتاب وسنت کے متصادم ہیں، لیکن ہمارے خیال میں زیر بحث بل میں مزید کئی ایسی دفعات ہیں جو صراحتاً قرآن وسنت کے خلاف ہیں۔ ذیل میں ان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
۱۔حدود آرڈیننس میں حد زنا، دفعہ ۴ میں زنا کی تعریف یوں کی گئی تھی :
A man and a woman are said to commit Zina if they willfully have sexual intercourse without being validly married to each other.
’’کسی مرد اورعورت کو زنا کا مرتکب کہا جائے گا، اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ نکاح صحیح میں ہوئے بغیر جماع کریں۔‘‘
اس تعریف کی وجہ سے خواتین کے لیے یہ دقت پید اہوگئی تھی کہ دیہی علاقوں میں نکاح اور طلاق کو رجسٹرڈ نہیں کروایا جاتا اور زبانی طلاق کے بعد نکاح کرنے والی خاتون کو اس کا سابقہ شوہر حدود آرڈیننس کی مذکورہ بالا دفعہ کی آڑ میں ظلم وستم کا نشانہ بناتا تھا۔ اس لیے مذکورہ بالا دفعہ سے validly (صحیح) کے الفاظ خارج کردیے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت کا نکاح صحیح ہو یا فاسد یا باطل، بہر طور ان کا جنسی تعلق زنا قرار نہیں پائے گا اور مذکورہ بالا قسم کی خاتون کو ظلم سے بچا یاجاسکے گا۔
یہ وجہ اگر چہ درست ہے، لیکن اس کے لیے تبدیلی مسلم فیملی لاز میں کرنے کی ضرورت تھی تاکہ زبانی طلاق کو بھی طلاق سمجھا جائے۔ حد زنا آرڈیننس میں مذکورہ تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ زنا کے الزام میں ماخوذ جوڑے کے مقدمے کی باگ ڈور اس عورت کے ہاتھ میں آجاتی ہے جو شریک جرم ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر چار چشم دید گواہوں کے باوجود عورت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ شریک مرد کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے تو خواہ وہ کسی دوسرے کی منکوحہ ہو، نئے نکاح کا کوئی گواہ ہو نہ کوئی ثبوت، محض نکاح کا دعویٰ ہی اسے سزا سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ یہ نکاح باطل قرارپائے گا جس کی بنا پر دونوں شریک مجرموں کو شک کا فائدہ ملے گا اور زیرنظر بل کی دفعہ ۵ (اے) کے تحت عدالت اس جوڑے کو فحاشی وغیرہ پر تعزیری سزا بھی نہیں دے سکے گی۔ اور اگر خاتون شریک جرم مرد کو سزا دلوانا چاہتی ہو تو وہ عصمت دری کا الزام عائد کرکے خود بچ سکتی ہے او ر مرد کو سزا دلوا سکتی ہے۔ خاتون کو صرف اس صورت میں سزا ملنے کا امکان ہے جب وہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہے اور گواہوں کی گواہی کو بے چون وچرا تسلیم کر لے جس کاامکان نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فقہاے اسلام میں سے کسی نے بھی زنا موجب حد کی وہ تعریف نہیں کی جو حدود آرڈیننس میں تھی یا جو زیر بحث بل میں ہے، بلکہ علامہ کاسانی نے تمام امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے زنا موجب حد کی ایک جامع ومانع تعریف کی ہے جویہ ہے:
’’زنا اس حرام جماع کو کہتے ہیں جو کسی زندہ، قابل شہوت عورت کی اگلی شرم گاہ میں اسلامی ریاست میں ایسے شخص سے اپنے قصد اور اختیار سے واقع ہوا ہو جس نے اسلام کے احکام اپنے ذمے لازم کر لیے ہوں۔ یہ جماع حقیقت ملک، حقیقت نکاح، شبہ ملک اور شبہ نکاح سے خالی ہواور جس موقع پر ملک یا نکاح کا شبہ ہوسکتاہو، وہ شبہ اشتباہ سے بھی خالی ہو۔‘‘ (بدائع الصنائع، ۷/۳۳)
۲۔عصمت دری سے متعلق دفعات کو حدود آرڈیننس سے نکال کر مجموعہ تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۳۷۵، ۳۷۶ کے طورپر شامل کیا گیاہے ۔دفعہ ۳۷۵میں عصمت دری کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’’کسی مرد کو عصمت دری کا مرتکب کہاجائے گا جب وہ کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں سے کسی حالت میں جماع کرے:
۱۔ اس کی مرضی کے خلاف۔
۲۔ اس کی رضامندی کے بغیر۔
۳۔ اس کی رضامندی سے جب کہ رضامندی اس کو ہلاک یا ضرر کاخوف دلاکر حاصل کی گئی ہو۔
۴۔ اس کی مرضی سے جب کہ مرد جانتاہو کہ وہ اس کے نکاح میں نہیں ہے او ر عورت نے رضامندی کا ا ظہار اس وجہ سے کیا ہو کہ عورت یہ باورکرتی ہے کہ اس مرد کے ساتھ اس کا نکاح ہواہے۔
۵۔عورت کی رضامندی سے یا اس کی رضامندی کے بغیر جب کہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔‘‘
اس دفعہ کے بارے میں علما کمیٹی کا اعتراض یہ ہے کہ اسے حدود میں شامل کیاجانا چاہیے تاکہ اس میں حکومت کو سزا کا اختیار نہ رہے۔ گویا علما کمیٹی کے نزدیک یہ دفعہ درست ہے، البتہ اس کا مقام تبدیل کرکے اسے مجموعہ تعزیرات پاکستان کے بجائے حدود آرڈیننس میں رکھاجائے، جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دفعہ اپنے متن اور نتائج کے اعتبار سے قرآن وسنت کے اساسی عائلی نظام سے متصادم ہے، مگر اس کا تذکرہ کہیں سننے میں نہیں آیا۔
یورپ اور امریکہ کے قوانین کی رو سے کوئی شوہر اپنی بیوی کی مرضی کے خلاف یا اس کی رضامندی کے بغیر اس سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتاہے تو بیوی، شوہر کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ کرکے اسے سزا دلوا سکتی ہے۔ اسلام میں میاں بیوی کے تعلقات میں عصمت دری کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر چہ قرآن کی رو سے میاں بیوی میں مودت ومحبت کا رشتہ ہوتاہے (الروم ۳۰:۲۱)، انہیں ایک دوسرے کے جذبات واحساسات کاخیال رکھنا چاہیے (النساء ۴:۴۹) لیکن قرآن کے حوالے سے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ (البقرہ ۲:۱۸۷) مخصوص ایام کے علاوہ شوہر پر اپنی بیوی سے مقاربت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ (البقرہ ۲:۲۲۲) جن ایام میں پابندی ہے، اس کا تعلق بھی فوجداری قوانین سے نہیں ہے۔ جب کہ زیر بحث دفعہ میں مرد اور عورت کا اطلاق میاں بیوی پر بھی ہوتاہے اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی شوہر اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر اپنی خواہش کی تکمیل نہیں کرسکے گا۔ اگر وہ ایسا کرتاہے یا بیوی کسی وجہ سے شوہر کو سزا دلوانا چاہتی ہے تو بہت آسانی سے شوہر کی خواہش کی تکمیل کے بعد اس کے خلاف عصمت دری کے ثبوت عدالت میں پیش کرکے اسے سزائے موت یا دس سے پچیس سال کی سزائے قید دلا سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ مرد کے لیے فطری خواہش کی تکمیل کے جائز ذرائع پر پابندی عائد کردی گئی ہے، البتہ ناجائز ذرائع سے خواہش کی تکمیل کا کوئی گواہ نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اگر شوہرپر مقدمہ کرنے کے بعد بیوی اپنے کیے پر پشیمان ہوکر یہ اعتراف کرتی ہے کہ اس نے غلط مقدمہ قائم کیاتھا تو ا س کا کوئی مداوا زیر نظر بل میں دریافت نہیں ہوسکا، کیوں کہ عصمت دری کا مقدمہ ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہے۔ نیز اس دفعہ کے مطابق سولہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی عمل بہر طور عصمت دری ہے، خواہ اس کی رضامندی سے ہو ،جس کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی بیوی سولہ سال سے کم عمر کی ہے تو وہ جوڑا اپنی جائز خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرسکتا۔ اگر چہ نکاح کے مقاصد کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد ان کا نکاح کیا جائے لیکن ایک تو یہ کہ بلوغ کا تعلق جسمانی تبدیلیوں اور تخلیقی صلاحیت کے آغاز سے ہے نہ کہ سولہ سال کی عمر سے۔ دوسرے یہ کہ بعض حالات میں والدین کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو سولہ سال پورے ہونے سے پہلے کسی کی حفاظت میں دے دیں۔ مثلاً ایک شخص کینسر کا مریض ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ سال بھر زندہ نہیں رہے گا، وہ اپنی پندرہ سالہ لڑکی کا واحد نگران ہے ،کیا یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی بچی کو معاشرے کے درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے بجائے مرنے سے پہلے کسی مناسب مرد سے اس کا نکاح کردے؟ لیکن موجودہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اس دفعہ میں ایک پہلو ایسا ہے جس کے تذکرے بلکہ تصور سے ہی ایک مسلمان کے دل ودماغ کرچی کرچی ہوکربکھر جاتے ہیں۔ اکثر مولفین حدیث اور سیرت نگاروں کے مطابق سیدہ عائشہؓ کی رخصتی کے وقت ان کی عمر نوسال تھی۔کیا یہ قانون بنانے والوں نے غور نہیں کیا کہ اس دفعہ کی روسے انہو ں نے اپنے مرکز ایمانی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں لاکھڑا کیا ہے؟ کیا اس کے بعد میدان حشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ خشمگین کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا آپؑ کی شفاعت کی امید کی جاسکتی ہے؟ کیا عرصہ محشر میں سیدہ عائشہؓ گریباں گیر نہیں ہوں گی؟ اتنی بڑی جسارت کے بعد اگر آسمان گر پڑے، زمین کا جگر شق ہوجائے اور فضا سے وہ آگ برسنا شروع ہو جائے جو پوری انسانی تاریخ میں انبیاے کرام کی توہین پر برسی ہے توکسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
حدود آرڈیننس، حد زنا کی دفعہ ۶ (۱) کا آغاز ان الفاظ سے ہوتاہے :
’’کسی شخص کو عصمت دری کا مرتکب کہا جائے گا اگر وہ مرد یا وہ عورت کسی ایسی عورت یا مرد سے، جیسی بھی صورت ہو، جس کے ساتھ وہ مرد یا وہ عورت نکاح صحیح میں نہ ہو، مندرجہ ذیل حالات میں سے کسی میں جماع کرے.....‘‘
اس دفعہ کی رو سے نکاح کی صورت میں عصمت دری کا مقدمہ قائم نہیں ہوسکتاتھا۔ اب اس میں سے نکاح کی قید یا شرط نکال دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قرآن وسنت کی قطعی نصوص سے متصادم ہوگئی ہے۔
علما کمیٹی نے ا س دفعہ پر صرف یہ اعتراض کیاہے کہ عصمت دری زنا کی قسم ہے، اس لیے موجب حد جرم ہے،اسے تعزیر میں رکھنا درست نہیں، البتہ اس میں یہ دقت پیش آتی ہے کہ زنا کے ثبوت کے لیے کتاب وسنت کی رو سے چار مسلمان عادل چشم دید گواہ ہونے ضروری ہیں جن کی عدم موجودگی مظلوم خواتین کے لیے گوناگوں مشکلات کا باعث بنتی رہی ہے۔ اس کا جواب یہ دیاگیا کہ ’’کوئی ایک مقدمہ بھی ایسا نہیں جس میں زنا بالجبر کی کسی مظلومہ کو اس بنا پر سزا دی گئی ہو کہ وہ چار گواہ نہیں پیش کرسکی بلکہ اگر عورت کا کردار مشکوک ہو، تب بھی عورتوں کو سز ا نہیں ہوتی ۔عورت کو شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیاجاتاہے‘‘ لیکن کیا مظلومہ کو انصاف ملتاہے اور اس کی داد رسی ہوتی ہے ؟درحقیقت ججوں کے او رسول سوسائٹی کے معیار انصاف میں زمین وآسمان کافرق ہے۔ جب کوئی جج کسی ایسے ملزم کو جو آٹھ دس سال جیل میں گزار چکا ہو،باعزت بری کرتاہے تو وہ یہ سمجھتاہے کہ اس نے مظلوم کی داد رسی کردی اور حق وانصاف کا بول بالا ہوگیا، لیکن باعزت بری ہونے والے شخص اور سول سوسائٹی کانقطہ نظر بالکل مختلف ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے زندگی کے آٹھ دس سال چھین لینے کا کون ذمہ دارہے؟ اس کی عزت اور نیک نامی کو جو دھبہ لگ گیاہے، وہ کیسے دھل سکتاہے ؟اس کی زندگی بھر کا اثاثہ مقدمات کی نذر ہوگیا، وہ اسے کیسے واپس مل سکتاہے؟ اس کا گھر، خاندان تباہ ہو گیا، بچے دربدرہوگئے اور وہ باعزت ہونے کے باوجود اپنے گھر، خاندان او رسماج میں ذلیل ہوگیا۔ اس انصاف کے بجائے اگر اسے بے گناہ ہونے کے باوجود سنگ سار کردیاجاتا تو وہ اس ذلت کی زندگی سے تو نجات پاسکتاتھا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیامیں جتنے ظلم عدالتوں کے کٹہروں میں انصاف کے نام پر ہوتے ہیں، اتنے عالمی جنگوں میں بھی نہیں ہوئے۔ انصاف فراہم کرنے والوں کو اگر کبھی خود حصول انصاف کے مراحل سے سابقہ پڑے توشاید انہیں محسوس ہوکہ بڑے بڑے ائمہ، قاضی بننے کے بجائے جیلوں میں مرنے کو کیوں ترجیح دیتے تھے۔
الغرض عصمت دری کو زنا کی قسم قراردینے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ :
۱۔ قرآن حکیم کی سورۂ نور کی آیت نمبر ۲ میں زنا کی حد بیان کی گئی۔ اس آیت میں زنا کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے۔ اس میں زنا مندی سے کیا ہوازنا بھی داخل ہے اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی۔
۲۔ ترمذی کی حدیث نمبر ۱۴۵۴ کے مطابق مدینہ منورہ میں نماز کو جانے والی ایک عورت کی عصمت دری کی گئی۔ عورت نے شور مچایا تو وہ شخص بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے اعتراف کرلیا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے رجم کروادیا۔
آئیے، اب ان دلائل کا جائزہ لیتے ہیں:
۱۔پہلی دلیل کا تعلق اصول فقہ سے ہے کہ زنا کا لفظ مطلق ہے اور اس میں رضامندی اورجبر دونوں قسم کے زنا شامل ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ زنا کا لفظ مطلق نہیں، بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے اور اصطلاحات کبھی مطلق نہیں ہوتیں۔ یہ لفظ خاص ہے اور اس کا مفہوم متعین ہے جس میں دوطرفہ آزادانہ رضامندی کا عنصر ضروری ہے، جیساکہ الکاسانی نے البدائع ۷:۳۳ میں اور ابو عبداللہ قرطبی نے الجامع لاحکام القرآن ۱۲:۱۵۹ میں اس کی تصریح کی ہے۔ اس سے عصمت دری مراد لینا اس لیے بھی غلط ہے کہ بالعمو م مفسرین نے سورہ نور کی مذکورہ بالا آیت کے بارے میں کہاہے کہ اس میں سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں کیے گئے وعدے کی تکمیل ہے۔ گویا قانونی الفاظ میں سورۃ النور کی آیت ۲ کو سورہ النساء کی آیت ۱۵ کے ساتھ ملاکر پڑھیں گے جو یہ ہے:
وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوتِ حَتَّیَ یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً
’’تمہاری عورتو ں میں سے جو بے حیائی کا ارتکاب کرے تو اس پر اپنے میں سے چارگواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کردو تاآنکہ وہ فوت ہوجائیں یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے۔‘‘ 
اس آیت میں ان عورتوں کا ذکر ہے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہیں، نہ کہ ان خواتین کا جو بدکاری کا شکار ہوتی ہیں، لہٰذا سورہ نور میں وہی خواتین مراد ہوں گی جو اپنی رضامندی سے جرم زنا کا ارتکا ب کرتی ہیں۔
قرآن حکیم نے جہاں خواتین کے ساتھ جبر اور زبردستی کا ذکر کیاہے وہاں’’زنا‘‘ کالفظ استعمال نہیں کیا بلکہ وہاں ’بغاء‘ (بغی) پر ’اکراہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ سورہ النور میں ہے: وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاء (۲۴:۳۳) (اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو) اگر مجبوری کی حالت میں کسی مرد کے سامنے بے بس ہوجانا اور اسے اپنے اوپر اختیار دے دینا ’’زنا‘‘ ہوتا تو آیت کے الفاظ یوں ہوتے: ’ولا تکرھوا فتیاتکم علی الزنا‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ عصمت دری قرآن کی اصطلاح میں زنا نہیں، بلکہ بغی ہے جس کی سزا سورہ المائدہ کی آیت ۳۳ میں مذکور ہے۔
۲۔ جس حدیث سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصمت دری کے مرتکب شخص کو بھی سنگساری کی سزا دی، اس لیے عصمت دری بھی زنا کی قسم ہے ،یہ استدلال بھی درست نہیں ہے۔ اب تک کی جستجو کے مطابق یہ حدیث، چار مستند کتابوں میں آئی ہے: مسند احمد بن حنبل (۶:۳۹۹)، نسائی، سنن کبریٰ (۴:۳۱۴)،ابو داؤد، حدیث نمبر ۴۳۷۹ اور ترمذی، حدیث نمبر ۱۴۵۴ ۔
اس حدیث کا سلسلہ سند یوں ہے: 
وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسرائیل > محمد بن عبداللہ بن الزبیر (امام احمد بن حنبل) 
وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسرائیل >  محمد بن یوسف الفریابی > محمد بن یحییٰ بن فارس نیشاپوری (ابو داؤد ۔ ترمذی)
وائل بن حجر > علقمہ > سماک > اسباط بن نصر >  عمر و بن حماد بن طلحہ > محمد بن یحییٰ الحرانی (نسائی)

پوری حدیث یوں ہے:
’’عہد نبوی میں ایک عورت نماز پڑھنے گھر سے نکلی، راستے میں ایک شخص نے زبردستی اس سے اپنی خواہش پوری کی۔ عورت چیخی چلائی، اتنے میں ایک شخص وہاں سے گزرا، اس نے عورت کا ماجرا سن کر مجرم کا تعاقب کیا۔ پھر مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گزری تو وہ بھی واقعہ سن کر مجرم کے پیچھے بھاگے اور انہوں نے پہلے تعاقب کرنے والے شخص کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا۔ عور ت نے بھی تصدیق کی کہ یہی مجرم ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا، یہ نہیں بلکہ اصل مجرم میں ہوں۔ آپ نے عورت کو گھر بھیج دیا۔ پہلے پکڑے جانے والے شخص کی دل جوئی کی۔‘‘
اصل مجرم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس کے بارے میں ترمذی اور ابوداؤد میں ہے کہ اسے رجم کردیاگیا اور مسند احمد بن حنبل اور سنن کبریٰ میں ہے کہ آپ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ ایسی توبہ کریں تو سب کے لیے کافی ہوجائے۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل فیصلہ کیا تھا؟ یہ جاننے کے لیے اس حدیث کی سند پر غور کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ ابتدائی تین درجوں میں اس حدیث کا ایک ایک راوی ہے اور وہ ہیں وائل بن حجر، علقمہ اور سماک۔ چوتھے درجے میں اس کے دو راوی ہیں، ایک اسرائیل اور دوسرے اسباط بن نصر۔ اسباط بن نصر کی روایت نسائی کی سنن کبریٰ میں ہے جس کے متن میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصمت دری کا اعتراف کرنے والے کو سزا نہیں دی، بلکہ اس کی توبہ قبول کرلی گئی۔ اسرائیل کی جو روایت مسند احمد بن حنبل میں ہے، وہ نسائی کے مطابق ہے اور جو ترمذی میں ہے، وہ یہ ہے کہ اعتراف جرم کرنے والے کو رجم کی سزا دی گئی۔ ابو داؤ دکا جو نسخہ ہمارے ہاں متداول ہے، اس کی روایت ترمذی سے ہم آہنگ ہے، لیکن اس کا جو نسخہ حافظ ابن القیم کے زیر استعمال تھا (دیکھئے الطرق الحکمیہ:۵۸)اس کی روایت مسند احمد اور سنن نسائی کے مطابق ہے ۔ اس لیے روایت کے داخلی مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ عصمت دری کے جرم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرابہ قرار دیتے ہوئے گرفتاری سے قبل توبہ کرنے والے کو سورہ المائدہ کی آیت ۳۴ کے تحت معافی دے دی تھی۔ درایت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس حدیث کے اس متن کو د رست تسلیم کیاجائے جس میں توبہ اور معافی کا ذکر ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جن افراد کو رجم کروایا، ان کے نام یاآثار واحوال بکثرت روایات میں موجود ہیں جب کہ مذکورہ بالا شخص اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اگر اسے رجم کروایا گیاہوتا تو مسلمانوں کا ایک جم غفیر اس کارروائی میں شریک ہوا ہوتا اور دوسرے واقعات کی طرح اسے بھی روایت کرتا اوریہ حدیث اپنی سند اور متن دونوں حوالوں سے تواتر یا کم ازکم شہرت کے درجے کو پہنچ گئی ہوتی۔ 
مزید برآں عصمت دری پر رجم کی سز ا کو اس حدیث سے ثابت کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خبرواحد ہے اور عصمت دری کی حد کسی قطعی الثبوت وقطعی الدلالت نص سے ہی ثابت ہوسکتی ہے۔
روایات کے تعارض کے باوجود ان تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں کہ:
۱۔جس شخص کو مظلوم خاتون نے بطور مجرم شناخت کیاتھا، وہ اگر چہ بے گناہ تھا لیکن اتفاقی شواہد کی بناپر اسے سزائے رجم کا حکم سنایاگیا اور یہ تحقیق نہیں کی گئی کہ وہ محصن ہے یا غیر محصن۔
۲۔جب اس مجلس میں اصل مجرم نے اعتراف جرم کیا تو اس کے بارے میں بھی تحقیق نہیں کی گئی کہ وہ محصن ہے یا غیر محصن۔ اگر یہ روایت درست ہے کہ اس کے بارے میں رجم کا فیصلہ کیاگیا تو اس کے محصن ہونے کی تحقیق کے بغیر کیاگیا اور اگر مسند احمد اور نسائی کی روایت، جسے حافظ ابن القیم نے ترجیح دی ہے، درست ہے تو اس سے واضح ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصمت دری کو حرابہ قرار دیا اور جب ایک شخص نے خود اعتراف کرکے اپنے آپ کو عدالت کے روبرو پیش کردیا تو آپ نے آیت حرابہ (المائدہ ۵:۳۴) کے تحت اس کی سزا معاف کردی۔
نیزعقل عام کا تقاضا یہ ہے کہ عصمت دری، زنا بالرضا سے زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے اس پر وہی سزا دینا جو زنا بالرضا پر ہے، قرین انصاف نہیں بلکہ جس طرح ڈاکے کی سزا چوری سے زیادہ سنگین ہے، عصمت دری کی سزا زنا بالرضا سے زیادہ سنگین ہونی چاہیے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی (احکام القرآن ۲:۹۵) نے ان فقہا اور قاضیوں کی عقل کا ماتم کیاہے جو ڈاکے کو توحرابہ قراردیتے ہیں، لیکن عصمت دری کو حرابہ قرارنہیں دیتے ۔وہ لکھتے ہیں:
’’میرے ایام قضا میں ایک قافلے پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا اور ایک عورت کو زبردستی اٹھا کرلے گئے۔جب وہ پکڑے گئے اور مقدمہ میری عدالت میں پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ نے جن مفتیوں کی آزمائش میں مجھے مبتلا کردیاتھا، میں نے ان سے رائے لی تو وہ کہنے لگے، چو ں کہ مال نہیں لوٹاگیا، اس لیے یہ حرابہ نہیں ہے، عصمت دری میں حرابہ نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون، کیا تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ عصمت دری کا حرابہ ڈاکے سے زیادہ سنگین ہے۔ لوگ اپنے سامنے اپنا مال تو لٹتا دیکھ سکتے ہیں، لیکن اپنی بیوی یا بیٹی کی عزت پامال ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ اگر اللہ کی مقررکردہ سزا سے زیادہ سزا دی جاسکتی تو عصمت کے ان لٹیروں کو دی جاتی۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو جاہل مفتیوں اور قاضیوں سے بچا کر رکھے۔‘‘
حدود آرڈیننس کے مولفین نے عصمت دری کو اگر چہ زنا کی قسم قرار دیتے ہوئے اس کے لیے معیار ثبوت وہی مقرر کیاتھا جو زنا کا ہے، لیکن انہیں اس جرم کی سنگینی کا بھی احساس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کنوارے مجرم کے لیے بھی سو کوڑوں سے زائد سزا، جو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے، تجویز کرتے ہیں، البتہ عصمت دری کو زنا قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ تنہا عورت کو بے آبرو کرنے والے غنڈے بدمعاشوں کو قانونی تحفظ فراہم ہو جاتاہے کیوں کہ زنا کا معیار ثبوت ایساہے جو شاید دست یاب نہ ہوسکے اور اگر گواہ میسر آبھی جائیں تو تزکیۃ الشہود کی بھٹی میں ہی بھسم ہوجائیں گے اور عصمتوں کے لٹیرے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ عصمت دری کو زنا قرار دینے سے کئی اور قانونی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ مثلاً کیا جو عورت عصمت دری کا شکار ہوئی ہے، اسے زانیہ کہنا درست ہے ؟کیا کسی مرد ہ عورت یا کسی جانورسے بدفعلی کرنا بھی موجب حدہے؟ اس لیے کتاب وسنت کی تصریحات کی ر وشنی میں ہماری رائے یہ ہے کہ عصمت دری، زنا کی قسم نہیں بلکہ اس سے زیادہ گھناؤنا اور سنگین فعل ہے، یعنی حرابہ ۔عصمت دری کے زنانہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جرم موحب حد نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا معیار ثبوت اور اس کی سزا وہ نہیں جو زنا کی ہے جس میں ثبوت کے لیے چار چشم دید مسلمان مرد گواہوں کی شرط ہے جو تزکیۃ الشہود کے معیار پر پورے اتریں اور سزا میں کنوارے اور شادی شدہ میں امتیاز ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جرم ان تمام ذرائع سے ثابت ہوجائے گا جن سے جرائم ثابت ہوتے ہیں۔
حرابہ کی سزا قرآن حکیم نے مقرر کر دی ہے اور وہ چار سزائیں ہیں جو سورہ المائدہ آیت ۳۳ میں مذکورہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ قاضی جرم کی نوعیت، شدت اور حالات کو جانچتے ہوئے ان میں سے کوئی ایک سزا دے دے اور ان میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ اس لیے تحفظ نسواں بل میں عصمت دری کو تعزیر ی جرم قراردینا قرآن حکیم کی روسے غلط ہے۔ اسے جرائم حدود میں رکھاجائے اور حدود آرڈیننس میں اس کے ثبوت اور سزا کے حوالے سے تبدیلی کردی جائے۔
تحفظ نسواں بل میں عصمت دری کو تعزیری جرائم میں شامل کیاگیاہے۔ یہ جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہے۔ اس قانون کی تدوین کے دوران اس امر پر بھی غور نہیں کیا گیا کہ اگر کسی شخص پر عصمت دری کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہو اور عدالت میں مدعیہ کا جھوٹ ثابت ہوجائے یا عصمت دری ثابت نہ ہو سکے تو جھوٹا الزام عائد کرنے پر کیا سزا دی جائے گی؟ جہاں تک قذف کی خود کار سزا کا تعلق ہے، وہ جرم زنا کے عدم ثبوت سے وابستہ ہے نہ کہ عصمت دری کے عدم ثبوت سے۔ موجودہ دفعہ سے اس امر کا اندیشہ بڑھ گیاہے کہ سیاسی اور دیگر نوعیت کے مخالفین کے خلاف بے بنیاد جنسی الزامات عائد کرکے ان کو سزائیں دلوانے یا ان کا مستقبل تاریک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوجائے گا ۔اب صحت مند انتخابی مہم چلانے کے بجائے مخالف امیدوار کو عصمت دری کے مقدمے میں ملوث کرکے اس سے بآسانی اس طرح نجات حاصل کی جاسکے گی جس طرح ملائشیا کے ڈپٹی پرائم منسٹر انور ابراہیم کو ان کی اسلامی خدمات کا صلہ دیتے ہوئے نہ صرف منظر سے ہٹا دیاگیا بلکہ ہمیشہ کے لیے بے آبرو کر دیا گیا۔ کرایہ داروں سے مکان خالی کرانے اور سینئر افسران سے ان کی سیٹ خالی کرانے کے لیے مذکورہ دفعہ اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ اس امر کا بھی اندیشہ ہے کہ گھریلو خادمائیں اس دفعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر گھر کو یرغمال بنا لیں اور اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں گھر کے کسی مرد پر عصمت دری کا الزام عائد کرکے ہر گھر کاسکون غارت کر دیں۔ اسلام نے اس کا علاج بھی ساتھ ساتھ دیاہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں ثبوت جرم کے لیے قابل اعتماد ثبوت ہونا ضروری ہے، اور الزام غلط ثابت ہونے پر حد قذف کی خود کار سز ا موجود ہے۔
علما کمیٹی نے فحاشی کی روک تھام کے لیے یا دوسرے لفظوں میں حدود آرڈیننس میں زنا موجب تعزیر کی دفعہ کے متبادل کے طور پر مندرجہ ذیل دفعہ تجویز کی تھی:
A man and woman are said to commit lewdness if they willfully have sexual intercourse with one another and shall be punished with imprisonment which may extend to five years and shall also be liable to fine.
’’ایک مرد اور عورت اگر اپنی آزادانہ رضامندی سے باہمی جماع کرتے ہیں تو انہیں فحاشی کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور انہیں پانچ سال تک سزائے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔‘‘
تحفظ نسواں بل میں اس تجویز کی زبان بہتر کرکے میاں بیوی کو اس جرم سے خارج کردیاگیاہے تاہم قانون سازی کی اس ساری سرگرمی میں اس اصل جرم کا کہیں ذکر نہیں ہے جس کے بارے میں موثر قانون سازی کی ضرورت تھی اور جو بنیادی خرابی ہے جسے اسلام بیخ وبن سے اکھاڑ دینا چاہتاہے، اور وہ ہے ’’فحاشی اور بے حیائی کی اشاعت ‘‘۔
اسلامی احکام کی رو سے معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کی اشاعت ایک سنگین جرم ہے جس کے بارے میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرے اور اشاعت فاحشہ کے مجرموں کو سنگین سزا دے۔ اسلام جہاں چار دیواری کا تحفظ کرتاہے اورلوگوں کے گناہ تلاش کرنے کے لیے ان کے گھروں میں جھانکنے اور ان کی نجی زندگی کی ٹوہ لینے سے سختی سے منع کرتاہے، وہاں وہ معاشرے کو پاک صاف رکھنے کے لیے فحاشی کی اشاعت پر پابندی عائد کرتاہے۔ زنا کے ثبوت کے لیے چار چشم دید گواہوں کی شرط بھی درحقیقت کھلم کھلا فحاشی کے ارتکاب کو روکنے کے لیے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر چار گواہ موجود نہیں ہیں تو زنا جرم نہیں یا اس کے جرم ہونے کی شد ت کم ہوجاتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چار گواہ موجود نہیں تو زنا گناہ ہونے کے باوجود ’’فحاشی کی اشاعت‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔ قرآن حکیم نے سورہ النور میں عصمت وعفت کے تحفظ کے قوانین بیان کرتے ہوئے ان قوانین کا مقصد یہی بیان کیا کہ مسلم معاشرے میں فحاشی کی اشاعت نہ ہو ۔قرآن کہتاہے :
إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ(النور۲۴:۱۹)
’’جو لوگ اہل ایمان میں فحاشی کی اشاعت کو پسند کرتے ہیں، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔‘‘
حیرت کی بات ہے کہ جن گونا گوں طریقوں سے سرکاری سرپرستی میں بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت ہوتی ہے، اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوتی بلکہ اسے میڈیا کی آزادی کے عنوان سے تحفظ دیا جاتا ہے۔ بے حیائی کی اشاعت جو قرآن کریم کی رو سے اصل برائی ہے، اس کے سدِ با ب کے لیے حدود آرڈیننس میں کوئی دفعہ تھی، نہ تحفظ نسواں ایکٹ میں ہے۔
حدود آرڈیننس اور حقوق نسواں ایکٹ کے گہرے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ جس طرح اسلامی قانون جرم وسزا کے نفاذ کے بے پایاں شوق کے نتیجے میں مناسب غوروفکر کے بغیر حدودآرڈیننس نافذ کردیاگیاتھا اور اس میں بہت سی دفعات کتا ب وسنت سے متصادم تھیں، اسی طرح اس کی ترمیم وتنسیخ کے جذبہ فراواں کے تحت جلد بازی اور افراتفری میں تحفظ نسواں بل پاس کردیاگیاہے جس کی کئی ایک دفعات کتا ب وسنت کے خلاف ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قانون سازی دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ اسلامی حوالے سے اس کے لیے کتاب وسنت کے مکمل علم اور ائمہ مجتہدین کی کاوشوں سے آگاہی کے علاوہ معاشرتی روایات، تمدنی ارتقا، فلسفہ قانون، سابقہ قوانین کے اثرات ونتائج اور مجوزہ قوانین کے متوقع اثرات کے بارے میں گہری بصیرت درکار ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ تحفظ نسواں ایکٹ کی کئی ایک دفعات کے کھلم کھلا کتاب وسنت سے متصادم ہونے کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے کیسے ’’مشرف باسلام‘‘ کرلیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بقول علامہ اقبال ؂
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
اگر اس ملک کی ہمہ مقتدر شخصیت اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف یہ بات غلط منسوب کر رہی ہے تو کونسل کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ 
نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں 
فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا


* یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ تین دفعات کے بارے میں علما کمیٹی اور چودھری شجاعت حسین صاحب اور ان کے رفقا کے درمیان اتفاق ہوا ہے، جبکہ دوسری بہت سی دفعات کے بارے میں بھی علماء کرام نے متعلقہ رپورٹ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان کے حوالے سے اپنی رائے الگ پیش کی ہے۔ (راشدی)

علامہ اقبال کا تصور اجتہاد اور علمائے کرام

یوسف خان جذاب

اقبال بیسو یں صد ی کے بہت بڑ ے مفکر، فلسفی، شاعر اور مجتہد تھے۔ بیسویں صدی کے ذکر سے یہ مقصد نہیں ہے کہ اُن کی فکر اسی ایک صدی میں مقید تھی۔ یہ بات اُ ن کی ذات کے متعلق تو کہی جا سکتی ہے، لیکن جہا ں تک اُ ن کی فکر کا تعلق ہے تو شا ید جمو د کے اس دور میں بھی اُ ن کی پرو از میں کو تا ہی نہیں آ ئی ہے۔ اجتہاد کے حو الے سے اقبا ل کی فکر کی حکمر انی ان کے دور تک محدود نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک ان کی فکر کو صحیح معنوں میں سمجھا نہیں گیا جو بلاشبہ مسلم امہ کے لیے ایک المیہ ہے ۔ 
ماہنامہ ’الشریعہ‘ نو مبر ۲۰۰۶کے شمار ے میں، اقبا ل کی فکر کے حو الے سے کئی مضا مین سا منے آ ئے ہیں۔ مذکور ہ شمارے کے نصف سے زیاد ہ صفحا ت میں فکر اقبا ل سے متعلق عمو ماً اور اُن کے اجتہاد ی نقطہ نظر سے متعلق خصو صاً لکھا گیا ۔ رئیس التحر یر جنا ب زا ہد الر اشد ی صا حب نے بھی ’کلمہ حق‘ کو اقبا ل کے تصور اجتہا د کے حوالے سے ’’چند ضروری گذارشات‘‘ کے لیے مختص کیا ہے اور نہا یت خو بصورتی سے علامہ اقبا ل کی فکر ی، فلسفیا نہ، دانشورانہ اور شا عرانہ حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انگریز ی استعمار کے دور میں اس فکر ی خلا کی نشا ند ہی کی ہے جو مسلما نو ں کے جمود کی وجہ سے پید ا ہو گیا تھا۔ یہ مو لا نا صا حب کی و سیع النظری ہے کہ وہ اس خلا کے وجود کے معتر ف ہیں، ور نہ ایسے لو گو ں کی کمی نہیں ہے جو کسی فکر ی خلا کے وجود کے ہی سر ے سے انکار ی ہیں۔ تا ہم مو لا نا صاحب کا کہنا ہے کہ چونکہ اقبال خود مجتہداور فقیہ نہ تھے اور نہ ہی اجتہاد اور فقہ سے ان کا عملی علاقہ رہا تھا، اس لیے وہ اجتہاد کے عملی پہلوؤں کے حوالے سے اقبال کی آرا پر اپنے تحفظا ت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا صاحب نے چند امور کی نشان د ہی کی ہے جو بحث طلب ہیں۔ ذیل میں ہم جنا ب زاہد الراشد ی صا حب کے پیش کردہ ان نکا ت پر ایک نظر ڈالیں گے۔
۱۔ اجتہاد مطلق کا دروازہ بند کیے جانے سے متعلق اقبال کے اعتراض کے جواب میں مو لا نا صا حب کا ارشاد ہے کہ اس کا تعلق اہلیت و صلا حیت کے فقدان سے نہیں بلکہ ضرورت مکمل ہو جا نے سے ہے اور دیگر علو م و فنو ن کی طر ح اجتہاد کے اصول و ضو ابط بھی، جو اسا سی نو عیت کے ہو تے ہیں، طے ہو چکے ہیں اور غیر متبد ل ہیں۔ اس کے خلاف یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دین میں جو چیز بھی ابدی اور اٹل نو عیت کی ہو تی ہے، اس کے لیے قر آن پا ک یا سنت نبو ی سے صراحت پیش کر نا ہوگی۔ کیا مو لا نا صا حب اجتہاد مطلق کے متعلق ایسی کوئی تصریح پیش کر سکتے ہیں؟ ظاہر بات ہے کہ اجتہا دی فیصلے چونکہ قیاسی اور استنبا طی ہو تے ہیں، اس لیے ان کی حتمیت پر اصرار نہیں کیا جا سکتا ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک مسئلے کے حل کے با ر ے میں اربا ب علم متفق ہو جا ئیں، لیکن ہر حال میں یہ اتفا ق ضروری نہیں۔ دوسر ے لفظو ں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن اصو ل و ضوابط کو مو لا نا صا حب نے ’’اساسی قوانین‘‘ کہا ہے، انہیں یہ بنیا دی حیثیت کس نے دی ہے ؟ اگر وہ فرمائیں کہ تا ریخ نے ثابت کر دیاہے تو اس ضمن میں یہ پو چھا جا ئے گا کہ ان پا نچ چھ فقہی مذاہب کے علا وہ دیگر بیسیوں فقہی مذ اہب کے پیر و کاروں کے سا تھ، جو اُ ن کے بقول تار یخ کی نذر ہو گئے، اللہ تعا لی کیا معا ملہ فر ما ئیں گے؟ انہوں نے بھی تو ان اجتہادات سے انحر اف کیا تھا۔ یہ سو ال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ان اجتہا دات کا اقرار یا انکار صرف تا ریخ کا معاملہ نہیں کہ فلا ں فقہی مذہب عملی لحا ظ سے دوام حا صل کر گیا اور فلا ں نا کا م ہو گیا، بلکہ یہ ہمار ی اُ خروی زند گی سے بھی متعلق ہے۔ ممکن ہے مو لا نا صا حب اس دور کو فقہی قو انین کی تشکیل کا عبو ری دور قرار دے کر دیگر مذ اہب کے پیروکاروں کے لیے نجات کی راہ نکا ل لیں مگر میری ا لجھن یہ ہے کہ یہی دور حتمی کیو ں ہے؟ اسلا م میں اجتہاد کا وجود اسے ایک متحر ک (Dynamic) مذہب ثا بت کرتا ہے اور اس تحرک کی بنا پر ہی اسلام تمام زمانوں کے لیے ہے۔ اجتہا د کو فقط ایک دور تک محدود کرنا، اس کی حر کت کو جمود میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے ۔ شا ید الطا ف احمد اعظمی صا حب نے اس لیے لکھا ہے کہ :
’’ قیا سی احکا م حا لات اور ظروف ز ما نہ کے تا بع ہیں اور ان کی تبدیلی سے وہ بھی تبدیل ہو جائیں گے یا یو ں کہہ لیں کہ اُن کی اطلا قی صور تیں بدل جا ئیں گی۔ اس سلسلے میں حنفی فقہا کا رویہ ما ضی کی طر ح آ ج بھی قابل اعترا ض ہے۔ انہو ں نے حنفی فقہ کو، جو زیا دہ تر قیا سی اور استد لا لی احکام پر مشتمل ہے، نا قابل تغیرسمجھ لیا ہے۔‘‘ (۱) 
اگر بقول مو لانا صا حب ان اسا سی قو انین کی حیثیت اب نا قا بل تغیرہے اور ان کی تشکیل کا فقط ایک ہی دور تھا تو خود حضور نبی کریم ؐ اور صحا بہ کرامؓ کے دور ہی میں ان اصو ل اور ضو ابط کو طے کیوں نہیں کر دیا گیا، کیو نکہ وہ بہر طور دین کو بہتر طر یقے سے سمجھ سکتے تھے۔ 
۲۔ رئیس التحر یر نے لکھا ہے کہ اقبا ل نے اجتہا د کا خطبہ دیتے وقت ترکی کی جد ید یت کو سامنے رکھا تھا۔ گزارش یہ ہے کہ کو ئی بڑے سے بڑا لکھا ری بھی اپنے ما حو ل سے اوپر اُ ٹھ کر نہیں لکھتا۔ بیسو یں صدی کے ربع اول میں تر کی اند ھی تقلید سے اپنے آ پ کو آ زاد کر نے کے لیے تگ ودو کر رہا تھا۔ اقبال نے تر کی کی اس کاو ش کو بنظر تحسین دیکھا کیو نکہ اقبا ل کے مطابق مرد مو من اپنی خود ی کو اسی وقت مستحکم کر سکتا ہے جب اس میں حر یت اور آ زادی کاجذبہ بد رجہ اتم مو جو د ہو اور وہ روایا ت کے شکنجوں کو توڑ سکتا ہو۔ ترکی اس وقت بلا شبہ اس اند ھی تقلید کے بت کدو ں کو پا ش پا ش کر رہا تھا۔ تر کو ں کے اس اقدام کو اقبال نے یو ں سر اہا ہے: 
’’دراصل یہ صر ف تر ک ہیں جو امم اسلا میہ میں قد امت پر ستی کے خو اب سے بیدار ہو کر شعور ذات کی نعمت حا صل کر چکے ہیں۔ یہ صرف ترک ہیں جنہو ں نے ذہنی آ زادی کا حق طلب کیاہے اور جو ایک خیالی دنیا سے نکل کر اب عا لم حقیقت میں آ گئے ہیں۔‘‘ (۲)
اقبا ل مسلما نو ں کی نشاۃ ثانیہ کے خواہاں تھے اور نشاۃ ثانیہ کے لیے اند ھی تقلید سے آزاد ہو نا نا گزیر ہے۔ تر کی اس وقت قدامت پسند ی کے خلاف لڑرہا تھا اور اقبال کے مطابق قدامت پسندی اور روایت پر ستی ہی مسلم امہ کے زوال کاسبب تھی، چنا نچہ تر کو ں کی، فر سو دہ ر وایات سے بغا وت اور ان کی عقلی پیش رفت ان کے خیا لی دنیا سے نکل کر عا لم حقیقت میں ٓآنے کے متر ادف تھی۔ اقبال کا خطبہ اجتہا د محض ترکی کی جد یدیت کی نقالی نہیں ہے۔ انہو ں نے تر کی کے مشہور شا عر ضیا سے، جس کا حو الہ بار بار خطبہ اجتہاد میں آیا ہے، جہا ں ضرو ری تھا اختلا ف بھی کیا ہے۔ اقبال ترکی کی جد ید یت کے کہاں کہاں خلا ف تھے، طوالت کے خو ف سے اس بحث سے صرف نظر کیا جا تا ہے۔ اقبال اس اجتہا د کے حق میں تھے جس میں اسلا می روح سر ایت کر چکی ہو۔ تر کی اس وقت لا کے صنم کدو ں کو تو ڑ چکا تھا، تا ہم الا کے معبد تعمیر نہیں کر سکا تھا ۔ اس لیے اقبال نے اس خد شے کا اظہار کیا :
’’آ زاد خیا لی کی یہی تحر یک اسلام کا نا ز ک تر ین لمحہ بھی ہے۔ آ زاد خیا لی کا رجحان با لعمو م تفر قہ اور انتشار کی طر ف ہو تا ہے، لہٰذا نسلیت اور قو میت کے یہی تصورات جو اس وقت دنیا ئے اسلام میں کارفرما ہیں، اس وسیع مطمح نظر کی نفی بھی کر سکتے ہیں جس کی اسلا م نے مسلما نو ں کو تلقین کی ہے ۔ ‘‘ (۳) 
تر کی کی جس لا د ینیت کو مو لا نا صا حب اور الطا ف احمد اعظمی صا حب (۴) اقبا لی فکر کے شجر ۂ طو بیٰ کے بر گ و بار قرار دیتے ہیں، اقبا ل نے پیشگی طور پر اس کی اطلاع دے کر ان کے اس خیا ل با طل کی بسا ط الٹ دی تھی ۔ چنا نچہ لکھتے ہیں :
’’پھر اس کے علا وہ یہ بھی خطر ہ ہے کہ تمہا ر ے مذ ہبی اور سیا سی رہنما حر یت اور آ زاد ی کے جو ش میں، بشر طیکہ اس پر کو ئی روک عا ید نہ کی گئی، اصلا ح کی جا ئز حدود سے تجاوز کر جا ئیں۔‘‘ (۵) 
اقبا ل تر کی کی ایسی کسی پیش رفت کو قبول کر نے کے حق میں نہ تھے جس سے وہ اسلا می روحانیت سے محروم ہو جائیں۔ جا وید نا مہ کے مند رجہ ذیل اشعار ملا حظہ ہو ں جن میں ترکی کی اس بے مہار آزادی کو ہد ف تنقید بنا یا گیا ہے : 
مصطفی کو از تجدد می سرود
گفت نقشِ کہنہ را باید زدود 
نو نگر دد کعبہ را رخت حیات 
گر زافر نگ آ یدش لات ومنات 
تُر ک را آہنگ نو در چنگ نیست
تازہ اش جز کہنہ افرنگ نیست 
سینہ او را دمے دیگر نبود
در ضمیرش عالمے دیگر نبود 
لاجرم باعالم موجود ساخت 
مثل مو م از سو ز ایں عا لم گداخت 
طرفگی ہا در نہاد کائنات
نیست از تقلید تقویم حیات 
زندہ دل خلاق اعصار ودہور 
جانش از تقلید گردد بے حضور
چوں مسلماناں اگر داری جگر 
در ضمیر خویش ودر قرآں نگر 
صد جہانِ تازہ در آیات او ست 
عصرہا پیچیدہ در آنات او ست 
یک جہانش عصر حاضر را بس است 
گیر اگر در سینہ دل معنی رس است 
بندۂ مومن زآیات خدا ست 
ہر جہاں اندر بر او چوں قبا ست 
چو ں کہن گردد جہانے در برش
می دہد قرآں جہانے دیگرش (۶)
یہ با ت ذہن میں رہنی چاہیے کہ کما ل اتا ترک کے نا م کے سا تھ اقبا ل نے ’’ایدہُ اللہ بنصرہ العز یز‘‘ لکھا تھا (۷) مگر جب اس کی جد ید یت دا ئرہ اسلا م سے متجا وز ہو نے لگی تو اسے آ ڑے ہا تھو ں لیا۔ چنا نچہ اگر اقبا ل تر کو ں کی آ ج کی لا دینیت کا مشا ہد ہ فر ما تے تو ان کو بھی ویسے ہی ہد ف تنقید بناتے جیسا کہ انہوں نے مصطفی کو بنا یا۔ اقبا ل کے سامنے اس وقت فقط ترکو ں کی قد امت پسند ی اور روایت پسند ی کے خلاف بغا وت تھی اور انہو ں نے اُ ن کے اسی پہلو کو خر اج تحسین پیش کیا ہے ۔ 
۳۔ مو لا نا صا حب نے تیسرا نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ اقبال کے خطبہ اجتہا د پر پو ن صدی گز ر چکی ہے اور اب دنیا نئے حالات سے گزر رہی ہے، اس لیے ہمیں اپنے مسائل کو نئے حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ 
اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ جو طبقہ ما ضی کے اجتہا دات کو حتمی تصور کر تا ہے، وہ جدید عا لمی تنا ظر اور بین الاقوامی ماحو ل میں اپنی ضر ور یا ت اور تر جیحات کا از سر نو جا ئز ہ کیسے لے سکتا ہے ؟ عباسی دور میں مر تب شدہ فقہی اصو لوں اور جزئیات میں محصور رہ کر جو ’’اجتہاد‘‘ بھی کیا جائے گا، اس کا حشر اس کا نفر نس سے مختلف نہیں ہو گا جو گز شتہ سال بھا رت میں ایک مذ ہبی ادارے نے منعقد کی تھی ۔ اس میں ٹیلی ویژن اور تصویر سے متعلق علما کی ’’اجتہا دی‘‘ آ را کی ایک جھلک ’الشریعہ‘ کے گز شتہ شما روں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ علما ابھی تک اجتہاد کے متعلق اقبال کے مو قف کو نہیں سمجھ سکے۔ تا ریخ کو ئی سیلاب نہیں ہے جو ہنگا می طور پر غا ر ت گر ی کر کے گزر گیا اور بس۔ اس کی کڑ یا ں حا ل اور مستقبل میں پیو ست ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم ما ضی سے چشم پوشی نہیں کر سکتے۔ خصو صاً اس صور ت میں جب کہ ہم نے حال تو در کنار، ما ضی کے مسا ئل کا حل بھی نہ ڈھو نڈا ہو ۔ اگر ہم حال کے مسا ئل پر واقعی غور و فکر کر نا چا ہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اقبال کے اس خطبے کا از سر نو جا ئز ہ لینا ہو گا اور اس کے متعلق اپنے مو قف پر نظر ثا نی کر نا ہو گی۔ الطا ف احمدا عظمی صا حب نے اقبال کے دوسر ے خطبو ں کا بہت سخت تنقیدی جا ئز ہ لیا ہے ، تا ہم اس خطبے میں وہ ا قبا ل سے بڑ ی حد تک متفق دکھا ئی دیتے ہیں۔ میر ی نظر میں عصرحا ضر کا سب سے بڑا تقا ضا یہ ہے کہ علما اجتہاد کا بند دروازہ دوبارہ کھو لنے کے لیے تگ دود کر یں۔ اسی صورت میں وہ اس فکر ی خلا کو پُر کر نے میں کا میا ب ہو سکیں گے جو مسلسل بڑ ھتا جا رہا ہے۔ جب تک یہ قدم نہیں اُ ٹھا یا جاتا، ہم کولہو کے بیل کی طر ح اقبا ل کے خطبہ اجتہاد ہی کا طو اف کرتے رہیں گے ۔ 

حوالہ جا ت

۱۔ اعظمی ، الطا ف احمد، ’’خطبا ت اقبال ۔ایک مطا لعہ‘‘ ( دارالتذکیر لا ہور،۲۰۰۵ ؁ء ) ص:۲۳۸
۲ ۔ نذ یر نیا زی ، سید ( متر جم )، ’’تشکیل جد ید الٰہیات اسلا میہ‘‘ ، طبع دو م ( بزم اقبا ل ، لا ہور ، ۱۹۸۳) ص : ۲۵۰
۳۔ ایضاً ، ص ص :۲۵۱، ۲۵۲
۴۔ اعظمی ، الطا ف احمد، ’’خطبا ت اقبال۔ ایک مطا لعہ‘‘ ، ص :۲۱۷
۵ ۔ نذ یر نیا زی ، سید ( متر جم)، ’’تشکیل جد ید الٰہیا ت اسلا میہ‘‘ ، ص :۲۵۲
۶۔ محمد اقبال، ’’جا وید نا مہ‘‘ ، طبع ہفتم ، ( شیخ غلا م علی اینڈ سنز ، لا ہور، ۱۹۷۸ ء ) ص:۶۶
۷۔ سلیم چشتی ، پر و فیسر، ’’شر ح جا وید نا مہ‘‘، طبع اول ( عشرت پبلشنگ ہا وس ، لا ہور ،۱۹۵۶ ء ) ص ۶۰۱

حدیث نبوی میں ’اخوان‘ کا مصداق

ریحان احمد یوسفی

’’الشریعہ‘‘ کے اکتوبر ۲۰۰۶کے شمارے میں برادرم عمار ناصر صاحب کاایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے مولانا وحید الدین خان صاحب کی ایک تحریر کے حوالے سے ان پر گرفت کی، جس میں مولانا وحیدالدین خان صاحب نے اپنے تشکیل کردہ دعوتی فورم سی پی ایس انٹرنیشنل پر گفتگو کی ہے۔
عمار صاحب کی تنقید مولانا پر دو پہلووں سے ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے مسلم کی اس روایت کاغلط مطلب سمجھا ہے جو مولانا نے نقل کی ہے۔ زیر بحث اصل روایت، اس کے حوالہ جات اور ترجمہ درج ذیل ہے۔واضح رہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایات سنداً صحیح ہے۔
عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَقَالَ:السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ، وَاِنَّااِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لاَحِقُوْنَ.وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَیْنَا اِخْوَانَنَا. قَالُوْا: أَوَلَسْنَا اِخْوَانَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ، وَاِخْوَانُنَا الَّذِیْنَ لَمْ یَأْتُوْا بَعْدُ.  (مسلم ، رقم۲۴۹۔ابن خزیمہ،رقم ۶۔بیہقی،رقم۷۰۰۱۔احمد،رقم۹۲۸۱۔ابو یعلیٰ،رقم ۶۵۰۲) 
’’ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک موقع پر) قبرستان تشریف لائے اور آپ نے( مُردوں کے لیے دعا کرتے ہوئے) فرمایا:اے مومنین کی جماعت،تم پر سلامتی ہو،اوربے شک، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمھارے پیچھے آنے ہی والے ہیں۔(پھر آپ نے فرمایا:)میری بڑی خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم)نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول،کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟آپ نے فرمایا:تم لوگ تو میرے ساتھی اور رفیق ہو،ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی آئے ہی نہیں ہیں۔‘‘ 
مولانا نے اس روایت سے یہ سمجھا ہے کہ اس میں اصحاب رسول کے علاوہ بھی ایک خاص گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو بعد کے زمانے میں آئے گا۔عمار صاحب کی تنقید یہ ہے کہ اس روایت میں کسی خاص گروہ کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے، بلکہ اپنے بعد آنے والے اہل ایمان کو اپنے بھائی کہا گیا ہے۔
عمار صاحب کی دوسری تنقید یہ ہے کہ مولانا نے اس گروہ کا مصداق سی پی ایس انٹرنیشنل کو قرار دیا ہے ۔اس دوسری بات کا جواب تو خیر مولانا کے ذمہ ہے ۔ میرے علم کی حد تک عمار صاحب کی یہ تنقید مولانا تک پہنچ چکی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے ’’الرسالہ‘‘ کے کسی شمارے میں وہ اپنا نقطۂ نظر بیان کردیں گے۔ البتہ، ان کی پہلی تنقید چونکہ فہم حدیث سے متعلق ہے ، اس لیے اس بارے میں ،میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں۔
میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر اس حدیث کے الفاظ کی نسبت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہے تو اس کے متن کا بغور مطالعہ اسی نتیجے تک پہنچاتا ہے جس تک مولانا وحید الدین خان صاحب پہنچے ہیں۔یعنی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے عام مسلمانوں کی نہیں، بلکہ ان میں سے کچھ خاص لوگوں کی پیش گوئی کی ہے۔ میری بات کے دلائل حسب ذیل ہیں:
اس روایت میں حضور پاک نے بات کا آغاز یہاں سے کیا ہے کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتے اور آخر میں حضور فرماتے ہیں کہ ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان ’’اخوان‘ ‘کی خصوصیت صرف اتنی ہے کہ وہ حضور کے بعد ایمان لے کر آئیں گے تو حضور کی اس خواہش کی معنویت واضح نہیں ہوپاتی کہ آپ انھیں دیکھ سکیں۔ اس لیے کہ حضور پاک کو یہ بات بھی معلوم تھی کہ آپ کو ایک روز دنیا سے رخصت ہونا ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ بہرحال اس کے بعد بھی لوگ ایمان لائیں گے۔ اس لیے مجرد طور پر یہ بات کہ اپنے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ایمان لانے والوں کو حضوردیکھ لیں، اپنی معنویت پوری طرح واضح نہیں کرپاتی، سوائے اس کے کہ ان ’’اخوان‘‘ کی خصوصیت صاحب ایمان ہونے کے علاوہ مزید کچھ اور بھی ہو۔
پھر عقل عام کی بات یہ ہے کہ حضور کے بعد ایمان لے کر آنا کسی طورپر بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں کہ حضورایسے لوگوں کے دیدار کے مشتاق ہوں۔ معلوم بات ہے کہ حضور پاک کی زندگی ہی میں اسلام کو وہ عظمت حاصل ہو گئی تھی کہ لوگ جوق در جوق ایمان لارہے تھے۔ خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار میں اسلام کو وہ عروج واقتدار حاصل ہوچکاتھا کہ مسلمان ہوجانا آخرت ہی نہیں، بلکہ دنیامیں بھی نفع کا باعث تھا۔ ایسے میں لوگوں کا اسلام قبول کرلینا یا مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوجانا ان میں کوئی ایسی خصوصیت پیدا نہیں کرتا ہے کہ حضوران کے دیدار کے مشتاق ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضور نے اخوان کی تعیین یہ کہہ کر نہیں کی کہ یہ لوگ وہ ہیں جو میرے بعد ایمان لائیں گے، بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ یہ اسلوب خود ایک نوعیت کے تخصص کو پیدا کردیتا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ ان بعد میںآنے والوں کو حضور نے اپنے اور صحابۂ کرام کے ساتھ یہ کہہ کر منسلک کیا ہے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضور کے صحابہ ہر گز ہرگز عام لوگ نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے نصرت دین کی ایک انتہائی غیر معمولی خدمت لی ہے۔ جب یہ بات واضح ہے تو پھرآپ سے آپ یہ بات نکلتی ہے کہ ’’ہمارے بھائیوں‘‘ کے اس اعلیٰ ترین خطاب کے حق دار کوئی عام لوگ نہیں ہوں گے، بلکہ دین کی خدمت سرانجام دینے والا یہ کوئی خاص گروہ ہی ہوگا۔
رہا سوال یہ کہ اخوان سے مراد کون لوگ ہیں تو یہ ایک ایسی بحث ہے جس میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں۔ تاہم میرے نزدیک بلاشک و شبہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ اخوان رسول، صحابۂ کرام کی طرح ایک خصوصی حیثیت کا گروہ ہے۔ تاہم میری طالب علمانہ رائے میں گروہ کا لفظ استعمال کرنے سے غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ زیادہ درست الفاظ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں میں سے وہ لوگ ہوں گے جو ہر طرح کے حالات میں صحیح دین پر قائم رہنے والے اور لوگوں کو اسی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔ ان کا زمانہ ایک ساتھ ہونا ضروری نہیں اور یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ دنیا میں بھی ایک ہی گروہ کی حیثیت سے متعارف ہوں۔ 
میری اس رائے کی تائیدروایت کا اگلا حصہ کرتا ہے۔میں اسے ذیل میں نقل کررہا ہوں:
فَقَالُوْا:کَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ یَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْأَنَّ رَجُلاً لَہٗ خَیْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَۃٌ بَیْنَ ظَہْرَیْ خَیْلٍ دُھْمٍ بُھْمٍ، أَلاَ یَعْرِفُ خَیْلَہٗ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ. قَالَ: فَاِنَّھُمْ یَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنَ الْوُضُوْءِ، وَأَنَا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ. أَلاَ لَیُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِیْ کَمَا یُذَادُ الْبَعِیْرُ الضَّالُّ، أُنَادِیْھِمْ: أَلاَ ھَلُمَّ! فَیُقَالُ: اِنَّھُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ. فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا.
’’پھر اُنھوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول، آپ کی امت کے جو لوگ ابھی آئے نہیں ہیں، آپ ان کو (قیامت میں)کیسے پہچانیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:اگر انتہائی سیاہ رنگ کے گھوڑوں کے درمیان کسی آدمی کے ایسے گھوڑے موجود ہوں جن کی پیشانیاں اور پاؤں سفید ہوں توآپ کا کیا خیال ہے ،کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان نہیں پائے گا؟ صحابہ(رضی اللہ عنہم) نے جواب دیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!آپ نے فرمایا: یہ لوگ اس حال میں آئیں گے کہ وضو کے سبب سے ان کی پیشانیاں اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے۔اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا۔ البتہ، یہ بات بھی جان لو کہ کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح واپس دھکیل دیا جائے گا،جس طرح ایک بھٹکے ہوئے اونٹ کو دھکیل دیا جاتا ہے۔ میں ان کو پکار پکار کر بلا رہا ہوں گا۔پھر مجھ سے کہا جائے گاکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے آپ کے بعد (دین میں) تبدیلی کردی تھی۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) اس پر میں ان لوگوں سے کہوں گا: بربادی ہو تمھارے لیے،بربادی ہو۔‘‘
اس میں بتایاگیا ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے اعضا، وضو سے روشن ہوں گے اور اس موقع پر کچھ لوگ اور بھی ہوں گے جنھوں نے دین میں تبدیلی کردی تھی اور انھیں حوض سے دھکیل دیا جائے گا۔روایت کے یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کا زمانہ حضورکے بعد کا وہ دورہوگا جب دین کے نام پر کھڑے ہوئے لوگ اصل دین میں تبدیلی کر چکے ہوں گے۔ یہ لوگ دین کی حقیقت اور اصل تعلیم پر پردے ڈال دیں گے۔ ایسے میں کہ جب دین کے نام پر دوسری چیزیں رائج ہوچکی ہوں، اصل دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا نصرت دین کا سب سے بڑا کام ہے۔دین کی تعلیمات بدلنے کی یہ کوشش مختلف زمانوں میں کی گئی ہے، اس لیے ہر دور کے ایسے لوگ اس خوش خبری میں شامل ہیں جو صحیح دین پر قائم رہے اور اسے ہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے۔ اس آخری زمانے میں چونکہ یہ سانحہ بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے اور اب اصل دین لوگوں کے سامنے پیش کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، اس لیے اس زمانے کے صلحا اس خوش خبری کے سب سے بڑھ کر حق دار ہیں۔ یہ مضمون کم و بیش وہی ہے جو امام مسلم نے ’فطوبی للغرباء‘ والی روایت میں بیان کیا ہے ۔
یہ ناکارہ وحید الدین خان صاحب کی طرح صاحب نگاہ اور صاحب قلم ہے اور نہ عمار صاحب کی طرح صاحبعلم ہے، مگر امید ہے کہ اس عاجز کی بات واضح ہوگئی ہوگی۔

ذبیح حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق؟

برہان الدین ربانی

پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے پر تاثیر قلم سے وقتاً فوقتاً علمی وفکری تحریرات صفحہ قرطاس پر منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح کی ایک تحریر ’’قرآنی علمیات اور مسلم رویہ‘‘کے عنوان سے الشریعہ، جنوری ۲۰۰۶ء ؁میں پڑھنے کو ملی جس میں ذبیح کون کی بحث کے حوالے سے پروفیسر صاحب نے مسلم اہل علم پر تنقید کی ہے۔ پروفیسر صاحب کا موقف یہ ہے کہ اگر ذبیح کو قرآن نے مشّخص نہیں کیا تو ہم کیوں ایک اضافی چیز کو کھینچ تان کر یقین کے زمرے میں لانا چاہتے اور اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح کے طور پر متعین کرنا چاہتے ہیں۔ 
گویا بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ہمیں ’ذبیح کون‘ کی بحث میں پڑنا چاہیے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’ذبیح کون‘ کی بحث سے مقصود حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کے مقابلے میں برتر ثابت کرنا نہیں اور نہ ہی کوئی مسلمان اس بات کا تصور کرسکتاہے، بلکہ اس بحث سے مقصود حقائق کو واضح کرنا ہے۔ متعلقہ قرآنی آیات کے منشا کو درست طور پر سمجھنے کے لیے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیہما السلام۔ 
اب جب ہم قرآن مجید پر غور کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ قرآن نے ذبیح کانام نہیں لیا لیکن جو اسلوب اختیار کیاہے، اس سے حضرت اسماعیل ہی ذبیح قرار پاتے ہیں۔ قرآن مجید کی متعلقہ آیات حسب ذیل ہیں:
رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ ۔ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ ۔ وَنَادَیْْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَاء الْمُبِیْنُ ۔ وَفَدَیْْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ ۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ ۔ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَبَشَّرْنَاہُ بِإِسْحَاقَ نَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ وَبَارَکْنَا عَلَیْْہِ وَعَلَی إِسْحَاقَ وَمِن ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ مُبِیْنٌ (صافات آیات ۱۰۰ تا ۱۱۳)
’’اے پروردگار بخش دے مجھے نیکوں میں سے (کوئی بیٹا)۔ پس ہم نے بشارت دی اس کو ایک لڑکے کی جو نہایت بردبار تھا۔ پس جب پہنچا اس کے ساتھ تگ ودو کی عمر کو تو اس نے کہا اے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا، اے ابا جان آپ کرڈالیں جس چیز کا آپ کو حکم دیاگیاہے۔ آپ مجھے پائیں گے، اگر اللہ نے چاہا، صبر کرنے والوں میں سے۔ پس جب وہ دونوں مطیع ہوگئے (اللہ کے حکم کے) اور گرادیا اس کو پیشانی کے بل ا ور ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم، تحقیق تو نے سچ کر دکھایا خواب۔ بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک یہ بات البتہ صریح آزمائش ہے۔ اور ہم نے اس کو ذبح عظیم عطا کیا۔ اور ہم نے چھوڑا اس پر پچھلوں میں۔ سلامتی ہوابراہیم پر۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہے۔ او ر ہم نے بشارت دی اس کو اسحاق کی جو کہ اللہ کا نبی اور نیکوں میں سے ہوگا اور برکت نازل کی ہم نے اس پر اور اسحاق پر۔ اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے ہیں اور کچھ ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر صریح طورپر ۔‘‘
پروفیسر صاحب نے آیت ۱۰۵ تک لکھ کر یہ کہاہے کہ متاخرین کے ہاں وہ انتہا پسندی نظر آتی ہے جو یہودیوں کے نسلی رویے کے متوازی چلتے ہوئے قرآنی علمیاتی نہج کو تہس نہس کردیتی ہے۔ اگر پروفیسر صاحب آیت ۱۰۷ سے ۱۱۳ تک کا بھی مطالعہ کرتے تو انھیں مفسرین پر تنقید کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ ان آیات میں قرآن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مختصر سوانح پیش کررہاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو بت پرستی سے روکا اور انہیں وحدانیت کی تبلیغ کی، پھر آپ نے اپنی بت پرست قوم کو چھوڑ کر ترک وطن کا راستہ اختیار کیا۔ اس سارے واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ’رب ھب لی من الصالحین‘ کے الفاظ سے دعا کی جس کے بدلے میں پروردگار نے ’غلٰم حلیم‘ کی خوشخبری سنائی۔ پھر جب بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش آئی اور انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس آزمایش میں کامیابی پر ذات خداوندی نے ذبح عظیم عطا فرمایا۔ بیٹے کی قربانی کی آزمایش اور اس پر انعام واکرام کے ذکر کے متصل بعد دوسری بشارت کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے کہ ’وبشرنہ باسحق نبیا من الصالحین‘۔ گویا ان آیات میں دو بیٹوں کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ پہلی خوشخبری ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے بعد بیٹے کا نام لیے بغیر دی گئی۔ اس کے بعد واقعہ قربانی کا ذکر کیاگیا جو کہ اسی غلامِ حلیم کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعے کے متصل بعد دوسری بشارت اسحاق علیہ السلام کے متعلق دی گئی ۔ یعنی قرآن نے بشارت اول کو ذبیح کے ساتھ منسلک کیا ہے جبکہ بشارت ثانی کا ذکر قربانی کے واقعے کے بعد کیا، جس سے واضح ہے کہ قربانی کا واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ 
مزید قابل غور امر یہ ہے کہ پہلی بشارت ’غلٰم حلیم ‘ کے جبکہ دوسری بشارت ’نبیا من الصالحین‘ کے الفاظ سے دی گئی۔ سورۃ ہود میں یہ دوسری بشارت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
وَامْرَأَتُہُ قَآءِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاہَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاء إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ (ہود، ۷۱) 
یعنی غلام حلیم کے ساتھ کسی قسم کا وعدہ نہیں، نہ نبی صالح ہونے کا اور نہ آگے نسل چلنے کا، جبکہ بشار ت ثانی (اسحاق ) کے ساتھ نبی صالح ہونے اور اگلی نسل، دونوں کا وعدہ کیاگیا۔ 
علاوہ ازیں پہلی بشارت حضرت ابراہیم کی دعاکے نتیجے میں دی گئی جبکہ دوسری بشارت دعا کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اس پر ابراہیم علیہ السلام نے ان الفاظ میں تعجب ظاہر کیا:
أَبَشَّرْتُمُونِیْ عَلٰی أَن مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ (الحجر، ۵۴) 
اس طرح حضرت سارہ کے الفاظ تھے :
یَا وَیْْلَتٰی أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَہَذَا بَعْلِیْ شَیْْخاً إِنَّ ہَذَا لَشَیْْءٌ عَجِیْبٌ (ہود ۷۲)
اب اگر ان بشارتوں کو خدائی قانون ’لا تبدیل لکلمٰت اللہ‘ کے تحت سمجھا جائے تو ’ذبیح کون‘ کی بحث بڑی عمدگی سے حل ہوسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر ذبیح حضرت اسحاق کو مانا جائے تو یہ خدائی قانو ن کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ رب العزت اس سے پہلے ان کی نسل آگے چلنے اور نبی صالح ہونے کا وعدہ فرما چکے ہیں، پس اسحاق علیہ السلام کو نبوت دینے اور نسل کے جاری کرنے سے پہلے ہی قربان کر دینے کا حکم دینا اس سے پہلے کیے گئے دونوں وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے کا حکم حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی سے متعلق تھا۔
پروفیسر صاحب سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اسرائیلیات کو انہی حدود میں استعمال کیاگیاہے جو قرآن وسنت نے مقرر کی ہیں؟ تو گزارش ہے کہ واقعی اس معاملے میں مفسرین نے احتیاط برتی ہے اور اسرائیلیات کو انہی حدود میں استعمال کیاہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’حدثو عن بنی اسرائیل ولا حرج‘ میں مقررفرمائی ہیں، یعنی ایسی روایات جو قرآن وسنت کی تائید کرتی ہیں اور عقل سلیم کے منافی بھی نہیں، ان کو مفسرین تائید کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح قرار دینے میں بھی قرآنی اسلوب کو ہی مد نظر رکھا گیاہے، جبکہ اسرائیلیات کو صرف تائید کے طورپر استعمال کیاگیاہے۔
پروفیسر صاحب کا یہ اعتراض بھی ہے کہ اگر قربانی کے واقعے میں اسماعیل علیہ السلام کا نام شامل ہوتا تو معترضین کو پھبتیاں کسنے کا موقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالمگیریت کا کرتاہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے۔ اسی طرح اگر اسحاق علیہ السلام کا نام ہوتا تو یہودیوں کی نسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔ لیکن اگر غور کریں تو قرآن نے حضرت اسماعیل کی بشارت صرف ’غلام حلیم ‘ کے الفاظ سے دی ہے جبکہ حضرت اسحاق کی بشارت ’نبیا من الصالحین ‘ کے الفاظ سے دی ہے۔ یعنی حضرت اسماعیل پہلے پیدا ہوئے اور نبوت کی بشارت بعد میں ملی، جبکہ اسحق علیہ السلام پیدا بعدمیں ہوئے اور نبوت کی بشارت پہلے ملی۔ ان میں سے ہر دو حضرات کی اپنی اپنی خصوصیت ہے۔ ذبیح ہونا حضرت اسماعیل کی خصوصیت ہے، جبکہ پیدائش سے پہلے نبوت کی بشارت مل جانا اسحاق علیہ السلام کی خصوصیت ہے۔ قرآن نے معترضین کو پھبتی کسنے کا موقع ہی نہیں دیا کیونکہ نبوت کی بشارت کا مل جانازیادہ اونچا مقام ہے، نہ کہ نبوت کے بغیر محض ذبیح ہونا۔ اس کے بعد بھی اگر معترضین پھبتیاں کسیں تو ہمیں ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پھبتیاں کسنے والوں نے تو انبیاے کرام کو بھی نہیں چھوڑا۔ 
الشریعہ، جولائی ۲۰۰۶ء میں پروفیسر صاحب نے لکھاہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کا قول منقول ہے اور اکثر علما کا یہی قول ہے، اور کچھ لوگ اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح ہونے کے قائل ہیں۔ گزارش ہے کہ ہم وہ روایتیں لینے کے مکلف نہیں جن میں اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کا ذکر ہے کیونکہ یہ بات قرآنی منشا سے متصادم ہے۔ حضرت ابن عباسؓ اور ان لوگوں کی اکثریت جن سے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کی روایتیں مروی ہیں، ان سے اسماعیل کے ذبیح ہونے کی روایتیں بھی موجود ہیں، اور قرآنی منشا بھی یہی ہے اور اسی پر متقدمین ومتاخرین کا ایک جم غفیر متفق ہے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرمی مدیر ’الشریعہ‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
’الشریعہ‘ کے دسمبر ۲۰۰۶ء کے شمارے میں میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’قدامت پسندوں کا تصور اجتہاد‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ میاں صاحب کی تحریریں ندرت او ر تازگی کی وجہ سے ہمیشہ ہی لائق توجہ ہوتی ہیں، مگر ان کے موضوعات میرے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث نہیں ہوتے، اس وجہ سے میں ان کو زیادہ توجہ نہیں دے سکا۔ اس مضمون کی کاٹ کے حوالے سے ایک دوست کے توجہ دلانے پر مضمون کو پڑھا تو ان کی جرات وجسارت کا اعتراف کرنا پڑا۔ الشریعہ کی مجلس ادارت کے رکن اول ہوتے ہوئے ادارہ کے رئیس التحریر کے انداز فکر اور اس حلقے کے انتہائی محترم بزرگوں پر موصوف نے جس طرح تنقید کی، اس سے موصوف کے والد مرحوم کی یاد تازہ ہو گئی۔ مرحوم کا دبنگ طرز عمل جانا پہچانا ہے۔ میاں صاحب نے سپوت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اپنے حلقے اور ماحول میں تنقید کی جسارت کبھی خوشگوار نہیں رہی۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔ یقیناًیہ انہی کا حصہ ہے۔ مضمون میں میاں انعام صاحب نے جتنا بے لاگ طرز اختیار کیا ہے، وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے بعض جملوں کا اعادہ کیا جائے۔ اس کے بغیر ان کی تحریر کا بانک پن قاری پر واضح نہیں ہو سکتا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میرا منشا تحریر میں احترام کی حدود سے تجاوز کو کھلے لائسنس کے طور پر لینا نہیں، بلکہ تحریر کے پس منظر میں حریت فکر کو اجاگر کرنا ہے۔ اس میں بھی ادارہ ’الشریعہ‘ نے جس تحمل اور بر دباری سے اتنے جری مضمون کو پرچے میں جگہ دی ہے، وہ تحسین و داد کا جس قدر مستحق ہے، وہ اپنے مقام پر آئے گی۔ میاں انعام صاحب کے چند جملے ملاحظہ کیجیے:
’’جناب تقی صاحب ایک رسمی معاشرتی رویے کی نشان دہی کو اصولی و قانونی حوالے سے دیکھ رہے ہیں اور خرد کو جنوں اور جنوں کو خرد کہے جا رہے ہیں۔‘‘
’’زاہد الراشدی صاحب کی تحریر کا جو اقتباس ہم نے نقل کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ وہ ایک مخمصے میں گرفتار ہیں۔‘‘
’’دیکھنے کی ضرورت باقی ہے کہ قدامت پسند، اجتہاد مطلق سے اتنا کیوں بدکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی خاص نفسیاتی سرحدیں ہیں، جنہیں عبور کرنے سے وہ معذور ہیں۔‘‘
’’قدامت پسند اہل مدرسہ، جن کی نمائندگی زاہد صاحب کر رہے ہیں، ہمیشہ پورا سچ قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور تعامل امت میں کار فرما تاریخی عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘‘
’’زاہد صاحب کا یہ فقرہ ایک پوری مدرسی ذہنیت کی نمائندگی کر رہا ہے۔‘‘
یہ جملے نمونے کے طور پر ہیں۔ میاں انعام صاحب نے اپنے نقطہ نظر کو پورے زور سے پیش کیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو یقیناً خیالات کی رو پیرایہ اظہار اختیار نہ کر پاتی۔ ان کا ذہن پورے طور پر سامنے نہ آتا۔ اس میں اصل قدر اور وزن کی چیز خیالات ہیں۔ ظاہری رکھ رکھاؤ اور سوچ و فکر میں سے کس کو ترجیح حاصل ہے، اس بارے میں دو آرا کی گنجائش نہیں۔ سوچ اور فکر کو ترجیح بھی حاصل ہے اور اسے راہ دینا ہی چاہیے۔ خاص طور پر آپس داری میں تو اس کی رعایت کوئی احسان والی بات بھی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ اقبال نے شاید ایسے ہی مواقع پر کہا ہے: 
رمزیں ہیں محبت کی گستاخی و بیباکی
ہر رمز نہیں بیباک، ہر عشق نہیں گستاخ
ادارے نے اسی جذبے کے تحت انعام صاحب کو اظہار کا پورا موقع دیا ہے۔ ادارہ ان کے مضمون کو ایڈٹ کر کے ایسے جملوں کو نرم کر سکتا تھا۔ یہ ادارے کا فطری حق تھا۔ ہرپرچے کی تحریر کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ اسے استوار رکھنے کا ادارہ مجاز ہوتا ہے، مگر ادارے نے ایسا کرنا مناسب خیال نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ اس سے زور بیان میں کمی کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔ پھر سوچ اور فکر کے بیان میں لکھنے والے کے ذہن اور بیان میں بعد بھی پیدا ہو سکتا تھا۔ چنانچہ ادارے نے لکھنے والے کے منصب میں کسی طرح مداخلت نہیں کی۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ لکھنے والے کی ہمت افزائی ہوتی ہے۔ اس میں وہ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کا داعیہ اپنے اندر خود ہی محسوس کرتا ہے۔ اسے ایسی چھوٹی موٹی کوتاہیوں کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ انعام صاحب اپنی تحریروں میں اتنی جریت کے عادی نہیں۔ موضوع کے لحاظ سے وہ اپنی بات گرد و پیش کے ماحول میں سخت بیزاری کے تحت رد عمل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں بات کو روایتی رکھ رکھاؤ سے پیش کرنے میں دعوت فکر کمزور پڑ جاتی ہے۔ بعض اوقات ذہنی جمود کو توڑنے کے لیے مخاطب کو ذہنی صدمہ سے دوچار کر کے ذہن کو بیدار کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس طرح میں انعام صاحب کی جرات و جسارت کی کھل کر داد دیناچاہتا ہوں۔ میں ان کے لکھنے کی آزادی کا دفاع کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ مگر یہاں دفاع کی ضرورت کیسے ہوئی؟ ادارہ تو پہلے ہی اس کا اہتمام کر رہا ہے۔ 
اس سلسلے میں ادارے کی جانب سے جس مربیانہ شفقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس کی داد دینے کے ساتھ ساتھ افادیت کا ذکر کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں۔ میں ۱۹۹۲ء سے الشریعہ کا قاری ہوں۔ اس عرصہ میں یہ پرچہ جن مراحل سے گزرا ہے، وہ میرے سامنے ہے۔ اسی آزادی کا ثمر ہے کہ اس میں لکھنے والوں کی بھرمار ہے۔ مجھ جیسا شخص بھی جسے لکھنے کے لیے یکسوئی میسر نہیں، ادارے کی جانب سے حوصلہ افزا محبت کی وجہ سے کبھی کبھی لکھنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی پرچے میں خطوط کے صفحات لکھنے والوں کے لیے بہترین نرسری ہوتے ہیں۔ اس طرح قاری ادارے کے خیالات اور بیان میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔ یہ شراکت اور حصہ داری ہی کام میں وسعت کا سبب بنتی ہے۔
میرے لیے ادارے کے ذمہ داران کی جانب سے ہمیشہ ہی بلند حوصلگی کا جو مظاہرہ ہوا ہے، وہ میرے لیے حیران کن ہے۔ میں اپنے ماحول سے بیزار اور ماحول مجھ سے بیزار رہا ہے، مگر یہاں مجھے جو محبت اور شفقت ملی، اس کا عشر عشیر بھی اپنے حلقے میں مل جاتا تو شاید اب تک میں پر سکون موت کی وادی میں ہوتا۔ ماحول کی ناسازی نے مجھے ماحول کا فسوں توڑنے کے لیے آمادہ کیا اور میں اس کے لیے ہمیشہ بر سرپیکار رہا۔ اقبال کے شعر کو ہمیشہ میں نے حرز جاں بنائے رکھا:
حدیث بے خبراں ہے زمانہ با تو بساز
زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز
ایسی شفقت (انعام صاحب کے کہنے کے مطابق) ’’مدرسی ذہنیت‘‘ والوں کی جانب سے کمال و جمال کی انتہا ہے۔ در اصل یہ کیفیت مدرسی کے بجائے مدرسانہ مزاج کا خاصہ ہے جو جدید پڑھے لکھے طبقے کے ہاں بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ وہاں بالعموم دنیاوی کشش نسبتاً زیادہ زور آور ہوتی ہے۔ اس کا تلخ مظاہرہ حال ہی میں ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے رویے سے ہوا۔ بے شک اس کی مجلس ادارت میں بیٹھے ہوئے لوگ، جدید تعلیم کے اعلیٰ ترین مدارج طے کیے ہوئے ہیں، مگر تنگ بینی و تنگ نظری کا ایسا مظاہرہ ہوا کہ سیاسی لحاظ سے بھی یہ بہت بے جوڑ محسوس ہوا۔ 
’الشریعہ‘ اور ’ترجمان‘ کا موازنہ ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، مگر بعض اوقات مذاق سچ ہو جاتا ہے۔ اس موازنے میں کچھ ایسے ہی آثار نظر آتے ہیں۔ دونوں کی عمر معلوم کرنے والی بات ہے۔ فرق کا اندازہ ایک اور اڑھائی کا ہے۔ سرکولیشن میں بھی بعد المشرقین معلوم ہوتا ہے۔ لکھاری بھی ایک جانب پرانے علما تھے اور دوسری جانب نہایت پڑھے لکھے اور جدید تعلیمی اداروں سے تعلیم کی ڈگریاں سجائے اور روشن خیال اور قلم و قرطاس کے دھنی۔ وسائل بھی بظاہر اسی تفاوت کے ساتھ۔ موسس کے لحاظ سے ترجمان، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے بین الاقوامی مفکر سے منسوب، جب کہ ادھر مولانا سرفراز خان صاحب صفدر کو دینی خدمات کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں سے اتر کر گوجرانوالہ میں بسیرا کیے ہوئے نصف صدی ہونے کو ہے۔ دونوں کی ضخامت میں بھی ایک اور تین کا تناسب ہے۔ بعض باتیں مشترک بھی ہیں۔ ’الشریعہ‘ میں تمام تر محنت مولانا زاہد الراشدی کی نظر آتی ہے۔ انہوں نے گھر کے افراد اور احباب کے ساتھ سفر شروع کیا، ان کی تربیت انہی کی ذمہ داری قرار پائی۔ دوسری طرف سید مرحوم کا خلوص و ایثار بنیادی اثاثہ تھا اور اپنے ساتھیوں کو تیار کرنا تھا۔ بہر حال میں تاریخ کے بجائے تازہ صورت حال پر بات کروں گا۔ 
ہوا یوں کہ جون ۲۰۰۶ء کے ’ترجمان‘ کے شمار ے میں ’’مجلس عمل کی پارلیمانی پارٹی کی جدوجہد‘‘ کے عنوان سے محترم جناب لیاقت بلوچ صاحب کا ایک مفصل مضمون شائع ہوا۔ ظاہر ہے کہ یہ موضوع کوئی علمی نوعیت کا نہیں، نہ اس میں عقیدے یا نظریے کو لمبا چوڑا دخل ہے۔ پارلیمانی جدوجہد کوئی ایسی بھی نہیں کہی جا سکتی کہ اس پر کلام نہ ہو سکتا ہو۔ چنانچہ میں نے اس کے حوالے سے ایک خط میں چند سوالات کی وضاحت چاہی۔ میرا خط ’ترجمان‘ میں جگہ نہ پا سکا۔ ارباب ’الشریعہ‘ کی مہربانی سے اسے جگہ مل گئی۔ ایک مہینے کے سکوت کے بعد نائب مدیر ترجمان القرآن جناب مسلم سجاد صاحب نے میرے سوالات کی اشاعت پر اعتراض کرتے ہوئے مدیر الشریعہ کو نصیحت فرمائی کہ ان کے ہاں چھپی ہوئی چیز کے بارے میں نقد چھاپنے سے پہلے لیاقت صاحب کا مضمون چھاپنا چاہیے تھا۔ مسلم صاحب کی نصیحت ’الشریعہ‘ میں شائع کر دی گئی۔ سوچنے کی بات ہے کہ ’ترجمان القرآن‘ جیسے پرچے کے ترجمان کس طرح دوہرے معیار کی بات کرتے ہیں۔ اپنے ہاں تو وہ چھاپی ہوئی چیز پر اپنے دیرینہ قاری کو کسی درجے میں جگہ دینے کو تیار نہیں، مگر دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ ان کو جگہ دی جائے۔ اس سے زیادہ معقول بات تو یہ ہو سکتی تھی کہ ترجمان کی جانب سے میرے شائع شدہ مضمون کا جواب بھجوایا جاتا۔ بہر حال ارباب ترجمان عرش نشیں ہیں، مرضی کے مالک ہیں، مگر ان کی من مرضی اپنے نتائج پیدا کرنے سے تو رک نہیں جائے گی۔ ایک اور بات اس مرحلہ میں ذکر کردوں کہ میرے مضمون کو روزنامہ پاکستان نے ’الشریعہ‘ سے نقل کر دیا۔ کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ مسلم سجاد صاحب اجازت دیں تو ان کا خط روزنامہ پاکستان کو بھی اشاعت کے لیے بھجوا دیا جائے؟ 
میں ذکر کر رہا تھا ارباب ’ترجمان‘ کے جامد رویے اور اس کے نتائج کا۔ مجھے دکھ ہے کہ اتنا بڑا پرچہ اشتہارات، اشارات، اور کتابوں پر تبصروں کے بعد چھپی ہوئی تحریروں سے اپنا پیٹ بھر کر گزارا کرتا ہے۔ ان کو لکھنے والے ہی نہیں ملتے۔ مسلم سجاد صاحب خرم مراد صاحب کے بھائی تو ہیں مگر خرم صاحب مرحوم کا نعم البدل اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہو جاتا تو شاید آج محترم جناب خورشید احمد صاحب کو اپنی ضعیفی کے باوجود بے شمار ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اشارات گھسیٹنے نہ پڑتے۔ معلوم نہیں، ان کے اشارات میں پاگل پن کے درجے کی جذباتیت کو کون داخل کرتا ہے۔ ترجمان کے تازہ شمارے میں مولانا محمد تقی عثمانی صاحب تو لکھتے ہیں کہ حقوق نسواں کے حوالے سے متنازعہ بل کے قانونی مضمرات کو قانونی باریکیوں کا فہم رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی سے غور کی دعوت دیتے ہیں، مگر محترم پروفیسر خورشید صاحب اشارات کا عنوان ہی ’’حدود اللہ کے خلاف اعلان جنگ‘‘ قائم کرتے ہیں۔ ان کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کے پہرے میں محصور چھوٹی سی ریلی میں کی گئی تقریر نقل کر دی گئی ہو۔ بہرحال یہاں اشارات پر گفتگو مقصود نہیں۔ یہ اندیشہ بھی ہے کہ مسلم صاحب اشارات پر دو چار جملے ہو جانے پر ناراض ہو کر یہ مطالبہ داغ دیں کہ ان سے پہلے اشارات نقل کیے جائیں۔
میرے مضمون کے حوالے سے میرے ایک عزیز خرم شہزاد صاحب نے اٹھائے ہوئے سوالات کے جوابات دیے ہیں۔ مجھے ان کے احساسات کی قدر ہے۔ میں ان کے خط پر یہاں بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خیال تھا کہ ان کو خط لکھوں مگر معلوم ہوا کہ خط کے نیچے درج پتہ کامونکی کا ہے اور وہ کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔ ان کا کراچی کا پتہ معلوم نہیں ہو سکا۔ در اصل میرے خط کا منشا مجلس عمل کی کار کردگی کو زیر بحث لانا نہیں تھا۔ میں نے بنیادی سوال یہ اٹھایا تھا کہ ترجمان القرآن ایک علمی، دینی، نظریاتی پرچہ ہے۔ اسے رہنما کی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں پروپیگنڈے کی سطح کی چیزوں کی گنجائش نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ادارے نے اس کی ضرورت کسی مجبوری کے تحت محسوس کی ہے تو پھر اسے کھلے عام مباحثے کی دعوت کے ساتھ پیش کرنا چاہیے تھا۔ میں نے اپنے خط میں صاف لکھا تھا کہ ترجمان کو ایک ہفت روزے کی سطح پر نہیں آنا چاہیے۔ میرے عزیز خرم صاحب میرے مضمون کا دوسرا پیرا دیکھ لیں تو مہربانی ہو گی۔ باقی مجلس عمل کی پارلیمانی کارکردگی کے بارے میں خرم صاحب کے خیالات کو ’الشریعہ‘ میں جگہ دی گئی ، اس پر میں خرم صاحب اور ادارہ دونوں کا شکر گزار ہوں۔ 
’ترجمان‘ کو لکھ کر میں ان کے جامد رویے کی جانب توجہ دلانا چاہتا تھا۔ میرے خط کا مقصد ایک دیرینہ قاری کے طور پر خیرخواہی تھا۔ میرے لیے یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ترجمان اپنے حلقے میں لکھنے والوں کی نرسری تیار کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ ’ترجمان‘ کی کثرت اشاعت تو ماشا ء اللہ روز افزوں ہے، مگر اس کا معیار محل نظر ہے۔ در اصل نقد اور تنقید کو جگہ نہ دی جائے تو حرکت اور زندگی کی علامات معدوم ہو جاتی ہیں۔ ’الشریعہ‘ میں ان کی پرورش کی جاتی ہے۔ نتیجہ سامنے ہے کہ پچھلے چند سالوں میں لکھنے والوں کی کھیپ تیار ہے۔ ان کے ساتھیوں میں نوجوانوں کی پوری ٹیم ہے۔ مجھے تو ان نوجوانوں کی نیاز مندی میں بھی لطف محسوس ہوتا ہے۔
بات ہو رہی تھی نقد و تنقید کی۔ بڑا عجیب رویہ ہے۔ صدر مملکت، وزیر اعظم ہر روز فرماتے ہیں کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہو سکتی۔ یہ قومی ادارے ہیں۔ ان کا احترام لازم ہے۔ یہ مقدس گائے کے درجے میں ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیانات پڑھ کر سلطان راہی یاد آ جاتے ہیں۔ معمولی نوعیت کے تھانے کی سطح کے کیسوں کا خیار بلوغ کی طرح نوٹس لیا جاتا ہے، مگر وہ مقدمات جن سے ہر شہری کا حق متاثر ہوتا ہے، ان میں کوئی قابل ذکر نکتہ بھی نہیں، عشروں سے محروم توجہ ہیں۔ ’’انصاف ہر ایک کے لیے‘‘ کی کانفرنس کے باوجود کورٹ فیس سے متعلقہ اپیل کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کیا بنا ہے اور کیا بنے گا۔ اسمبلی کی مدت پوری ہو رہی ہے مگر قومی اسمبلی کے ارکان کے سند کیس کا فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ چار سال سے یہ لوگ قومی خزانے سے کروڑوں کے معاوضے اور مراعات لے رہے ہیں، مگر ان کی اہلیت کا مسئلہ سپریم کورٹ میں بدستور معرض التوا میں ہے۔ اردو کو ۱۹۸۸ء تک سرکاری سطح پر رواج دینے کا عمل مکمل ہو جانا لازم تھا مگر اس دستوری تقاضے کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ میری معلومات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں طویل مدت سے پڑی ہیں۔ کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ سود کی لعنت کے بارے میں مقدمات بھی دفن معلوم ہوتے ہیں۔ یہ ادارے عام آدمی کو کچھ نہ دے سکیں تو اشتہاری مہم جیسی کارکردگی سے کیا فائدہ؟ پھر بات کی جائے تو تنقید سے بالا تر ہونے کا استحقاق جتلایا جائے۔
صدر اور ان سے نیچے کے لوگ کہتے ہیں کہ مثبت اور تعمیری تنقید ہونی چاہیے۔ منفی اور غیر تعمیری تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ مثبت اور منفی قابل تقسیم کیسے ہو گئے؟ مثبت اور منفی پہلو مل کر ایک اکائی بنتے ہیں۔ ان کی تقسیم کس طرح ممکن ہے؟ تخریب کے بغیر تعمیر کیسے ہو گی؟ تخریب اور تعمیر تو لازم ملزوم ہیں۔ لگتا ہے کہ ارباب حل و عقد تنقید کا معنی ہی نہیں جانتے۔ اس سے مراد کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کرنا ہوتا ہے۔ اچھائیاں اور برائیاں دونوں بیان کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ تعریف اور قصیدہ گوئی کے ماہر ہوتے ہیں اور کچھ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی آزادی رہنی چاہیے۔
تنقید روکنے کے بارے میں ارباب اقتدار کا رویہ اوپر ذکر ہو چکا، جماعتوں کو دیکھا جائے تو وہاں بات دو ہاتھ اور بھی آگے ہے۔ وہ کہتے ہیں اطاعت کی جائے۔ کام کیا جائے۔ صم بکم عمی فہم لا یرجعون کا معیار اختیار کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے ماحول میں کیا تنقید کے لیے قبرستان کا رخ کرنا چاہیے کہ شاید وہاں پر دفن مردے تنقید پر عذر نہ کریں؟
ادارہ ’الشریعہ‘ کو مبارک باد کرکے اپنی بات کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ یقیناًانہوں نے انعام صاحب ہی نہیں، ان جیسے کئی اور لکھنے والوں کے حوصلوں کا جلا بخشنے کا سامان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے منصب کی شان کو بلند کیا ہے۔ ارباب ’ترجمان القرآن‘ عرش سے نیچے اتر کر معروضی حالات کو دیکھنا گوارا کریں تو ’الشریعہ‘ جیسے چھوٹے سے پرچے سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ان کی اپنی صوابدید ہے۔ کسی جبر کا کوئی سوال نہیں۔ 
چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ
عابد کالونی۔ کھوکھرکی۔ گوجرانوالہ
(۲)
محترم ومکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب ،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اللہ پاک کی ذات عالی سے امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔
عرض ہے کہ آپ کے موقر جریدے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے شمارہ اکتوبر ۲۰۰۶ء میں مشتاق احمد نام کے کسی صاحب کا خط شائع ہواہے جو مدرسہ الحسنین للبنات کا خادم ہونے کا مدعی ہے۔ صاحب موصوف نے بزعمِ خود حضرات علمائے کرام کو ان کی ذمہ داریاں سمجھائی ہیں اور دعوت وتبلیغ کے کام کو اپنے خیالات کے لیے بطور ہتھیار اور ڈھال کے استعمال کیا ہے ۔خط کے مندرجات بھی کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ کوئی خادم مدرسہ تو درکنار، ایک عام دینی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی ایسا نہ لکھے گا ۔اللہ پاک محفوظ رکھے ۔آمین! گزارش ہے کہ نہ تو اس نام کے کوئی صاحب مدرسۃ الحسنین للبنات میں کسی حیثیت میں کسی خدمت پر مامور ہیں اور نہ اس خط کے مندرجات کو دعوت اور تبلیغ کے کام سے کوئی تعلق ہے ۔یہ تحریر بظاہر لکھنے والے کے اپنے احساسات وخیالات کی ترجمانی ہے، نہ کہ دعوت وتبلیغ کے مبارک کام کی جو عام مسلمان کا بھی اکرام کرنے کا داعی ہے، چہ جائیکہ علماء کرام!
اللہ پاک آپ حضرات کی دینِ متین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کوبہت ہی قبول فرمائے اور آپ کی توجہات سے ہمیں محروم نہ فرمائے ۔آمین!
(مولانا) طارق جمیل
۱۲۲؍بی، گلستان کالونی، فیصل آباد
(۳)
گرامی قدر جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
سلام مسنون مزاج گرامی؟
مجھے آپ سے دلی ہمدردی ہے کہ آپ ’’فکر اسلامی‘‘ کے ایک بحر ناپیدا کنار سے اتر کر فقہ کی تنگنائے میں شناوری کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اخبارات اور ’الشریعہ‘ سے علما کا موقف معلوم ہوا تو حیرت ہوئی کہ تحفظ نسواں ایکٹ کی اصل خرابیوں کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ اس پر چند معروضات لکھ کر ’نوائے وقت‘ کو ارسال کیں تاکہ علما کی فوری توجہ حاصل کر سکیں، لیکن وہاں جس قطع وبرید اور اقساط سے طبع ہو رہی ہیں، اس سے ان کی افادیت کم ہو گئی ہے۔ مزید برآں ’الشریعہ‘ جن حلقوں میں اور جس سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے، وہ روزناموں کو کہاں نصیب! اس لیے سوچا کہ آپ کو ارسال کر دوں، اگر طبع ہو سکیں تو زہے نصیب۔ دعاؤں میں یاد رکھیں۔
(ڈاکٹر) محمد طفیل ہاشمی 
ہاؤس ۱۸۹، سٹریٹ ۱۹، گلشن خدادا د 
ای الیون ون ۔ اسلام آباد 
(۴)
مکرمی ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمدردی کا شکریہ! مگر میرے سامنے فقہ کی تنگنائے سے کہیں زیادہ مغربی فلسفہ وثقافت کا وہ طوفان ہے جو اسلام کی تعبیر وتشریح کے روایتی فریم ورک کو توڑ کر مسلم معاشرہ میں اپنے اثر ونفوذ کو وسیع کرنے میں پوری قوت کے ساتھ مصروف ہے، اس لیے میں کسی ایسی وسعت اور روشن خیالی کا ساتھ دینے کے لیے خود کو تیار نہیں پاتا جو مغرب کے اس ایجنڈے میں کسی حوالے سے بھی پیش رفت کے لیے معاون بن سکتا ہو۔ باقی ’الشریعہ‘ آپ کا اپنا جریدہ ہے۔ جب چاہیں، آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ شکریہ!
ابو عمار زاہد الراشدی

مولانا صفی الرحمن مبارک پوریؒ

عاصم نعیم

عالم اسلام کے معروف عالم دین، نامور سیرت نگار، محدث، مدرس، مصنف، مورخ، مناظر اور ادیب مولانا صفی الرحمن مبارک پوریؒ یکم دسمبر ۲۰۰۶ کو اپنے آبائی قصبے حسین پور (مبارک پور، اعظم گڑھ، انڈیا) میں بعمر ۶۴ برس انتقال فرما گئے۔ جناب صفی الرحمن مبارک پوری کی پیدایش ۱۹۴۲ء کے وسط میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم مبارک پور کے مدرسہ دار التعلیم اور مدرسہ احیاء العلوم میں ہوئی۔ بعد ازاں مدرسہ فیض عام، میو (یو پی) میں عربی زبان وقواعد اور تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ وغیرہ شرعی علوم میں مہارت حاصل کی اور ان مضامین کے امتحانات میں امتیازی حیثیت میں کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۶۱ء میں ضلع الٰہ آباد اور پھر ناگ پور میں درس وتدریس اور تقریر وخطابت کا مشغلہ اختیار کیا۔ ہندوستان کے مختلف شہروں کے مختلف مدارس میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ۱۹۷۸ء میں سیرت پر ان کی مشہور کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ کو عالمی ایوارڈ ملا تو عرب کے علمی حلقوں میں متعارف ہوئے جس کی بنا پر جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ کے ذیلی شعبے مرکز السیرۃ النبویہ میں بطور محقق کام کرنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں وہ مکتبہ دار السلام، ریاض سے وابستہ ہو گئے اور وہیں صحیح مسلم کی عربی شرح ’منۃ المنعم‘ تصنیف کی۔
مولانا مرحوم کی عالم گیر شہرت کی اصل وجہ ان کی مایہ ناز تصنیف ’’الرحیق المختوم‘‘ ہے جسے ۱۹۷۸ء میں رابطۃ العالم الاسلامی کے زیر اہتمام مقالات سیرت کے مقابلے میں پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ یہ کتاب اصلاً انھوں نے عربی زبان میں لکھی اور بعد ازاں خود ہی ا س کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو عربی اور اردو، ہر دو زبانوں میں انشا وتحریر کا عمدہ ذوق اور سلیقہ عطا کیا تھا۔ قدیم وجدید مصادر سیرت سے اخذ وانتخاب اور تحقیقی وتنقیدی صلاحیتوں سے بھی مالامال تھے۔ بایں وجہ ’’الرحیق المختوم‘‘ نے اردو ادبِ سیرت میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کتاب کا شمار اردو زبان کی محقق، مستند اور شاہکار کتب سیرت میں ہوتا ہے۔ مرحوم کی دیگر تصانیف میں ’صحف یہود ونصاریٰ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارتیں‘، ’تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب‘، ’تاریخ آل سعود‘، ’قادیانیت اپنے آئینے میں‘، ’فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری‘، ’انکار حدیث کیوں؟‘ اور بلوغ المرام کی عربی واردو شرح ’اتحاف الکرام‘ اہم ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو ان کی دینی ودعوتی خدمات کا اچھا صلہ عطا فرمائیں۔ آمین

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

  • الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۲۰۰۶۔۲۰۰۷ کے تعلیمی وتربیتی پروگرام کے تحت علما، اساتذہ اور طلبہ کے لیے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار تربیتی لیکچرز کے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں پہلا لیکچر ۱۶؍ دسمبر بروز ہفتہ کو ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے تاریخی وفکری پس منظر کے حوالے سے دیا گیا۔ جس میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے علما اور طلبہ شریک ہوئے اور موضوع سے گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے سوالات اٹھائے۔ تربیتی لیکچرز کے اس سلسلے کے لیے ہفتے کے دن مغرب کی نماز کے نصف گھنٹہ بعد کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ 
  • علما واساتذہ کی علمی وفکری تربیت اور پیش آمدہ مسائل پر سنجیدہ بحث ومباحثہ کو فروغ دینے کے لیے اکادمی کے زیر اہتمام ایک ہفتہ وار مذاکراتی نشست کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں تعلیم وتدریس اور دیگر سماجی ومعاشرتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل فکر متعین عنوانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس سلسلے میں ابتدائی مشاورتی اجلاس ۱۶؍ دسمبر کو اکادمی میں منعقد ہوا جس میں اس نشست کے لیے ہفتے کے دن بعد از نماز عشا کا وقت مقرر کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔
  • الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام کوروٹانہ (عقب واپڈا ٹاؤن) گوجرانوالہ میں مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن میں قرآن کریم حفظ وناظرہ کی کلاس شروع کر دی گئی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مڈل تک اسکول کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ قاری محمد آصف مہر صاحب کو کلاس کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔
  • میرپور، ڈھاکہ کے ’دار الرشاد‘ کے مہتمم مولانا سلمان ندوی ۲۴؍ نومبر ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور ایک خصوصی نشست میں علما اور اساتذہ کے ساتھ تعلیمی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ احباب نے ان سے بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے نصاب ونظام اور طریق کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ 

انا للہ وانا الیہ راجعون

  • الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف کی والدہ محترمہ طویل علالت کے بعد ۲۱؍دسمبر بروز جمعرات انتقال فرما گئیں۔ مرحومہ بے حد نیک، شب زندہ دار اور صابر وشاکر خاتون تھیں۔ 
  • حافظ محمد عاطف صاحب کے نانا محترم محمد غلام رسول ولد محمد قطب دین مرحوم ۱۱ ؍دسمبر بروز پیر انتقال کر گئے۔ مرحوم صوم وصلوۃ کے پابند اور دین دار بزرگ تھے۔ 
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحومین کی مغفرت فرمائیں، درجات بلند فرمائیں اور ان کے سایہ شفقت سے محرومی پر پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ آمین۔