روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں جوہری فرق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے ۲ جنوری سے ۱۰ جنوری ۲۰۰۷ تک بر طانیہ کے چند شہروں لندن، برمنگھم، نوٹنگھم، والسال، آکسفرڈ اور لیسٹر وغیرہ میں مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور متعدد اصحاب فکر ودانش سے دینی وتعلیمی مسائل پر گفتگو کی۔ ۸ جنوری کو بعد نماز عشا آکسفرڈ میں سٹینلے روڈ کی مدینہ مسجد میں احباب کی ایک نشست سے ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
مغرب نے تاریک ادوار سے نکل کر انقلاب فرانس کے ساتھ اب سے کم وبیش تین سو برس پہلے جس نئے علمی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی سفر کا آغاز کیا تھا، اسے تاریکی سے روشنی، ظلم سے انصاف اور جبر سے حقوق کی طرف سفر قرار دیا جا رہا ہے۔ مغرب نے اس عمل میں جن نئے افکار اورفکر وفلسفے کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، انھیں روشن خیالی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور ہم مسلمانوں سے بھی دنیا بھر میںیہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ ہم اس روشن خیالی کو قبول کریں اور مغرب کے اس سفر میں اس کے ساتھ شریک ہوں، مگر ہمار اروشن خیالی کا تصور مغرب کی روشن خیالی سے قطعی طور پر مختلف بلکہ متضاد ہے۔ ہماری روشن خیالی کا تاریخی پس منظر مغر ب سے الگ ہے اوراس کی تاریخ بھی مغرب سے الگ ہے۔
مغرب نے تاریکی سے روشنی کی طرف سفر انقلاب فرانس سے شروع کیا اور مغرب کے ہاں تاریک دور اورروشن دور میں فاصل انقلاب فرانس ہے۔ اس سے پہلے کا دور تاریکی، جہالت اور ظلم وجبر کا دور کہلاتاہے جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور انصاف وحقوق کا دورکہا جاتاہے، مگر ہمارے ہاں دور جاہلیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے دور کو سمجھا جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے زمانہ جاہلیت، ظلم وجبراور تاریکی کا دورکہلاتاہے، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت سے شروع ہونے والا دور علم، روشنی اور عدل کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ہماری روشن خیالی کے تصور اور تاریخ کا مغرب کی روشنی خیالی کے تصور اور تاریخ سے کوئی جوڑ نہیں بنتا۔ ہم نے مغرب سے گیارہ سوبرس پہلے روشنی کے دور میں قدم رکھا تھا اورجاہلیت کو خیرباد کہہ کر علم اورعدل کے دورکی طرف پیش رفت کی تھی۔
یہ فرق تو تاریخی حوالے سے ہے،جبکہ ہماری روشن خیالی اور مغرب کی روشن خیالی میں ایک اور جوہری فرق بھی ہے جس کو ملحوظ نہ رکھنے والے بہت سے دانشور خود بھی کنفیوژن کا شکار ہو رہے ہیں اور مسلم امہ کو بھی کنفیوژن کاشکار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ جوہری فرق یہ ہے کہ مغرب جس سفر کو تاریک دور سے روشن دور کی طرف سفر قراردیتاہے، وہ دراصل آسمانی تعلیمات سے انحراف اور وحی الٰہی سے روگردانی کرکے انسانی سوسائٹی کی خواہشات کو ہرچیز کا معیار قراردینے کا سفر ہے۔ اس طرح مغرب کے نزدیک آسمانی تعلیمات تاریکی کے دور کی علامات قرارپاتی ہیں، جبکہ انسانی سوسائٹی کی خواہشات پر مبنی فکر وفلسفہ روشنی کا عنوان اختیار کر جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورت حال اس سے قطعی مختلف ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجۃ الوداع کے خطبے میں یہ ارشاد فرمایاتھا کہ ’’جاہلیت کی تمام قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانی سوسائٹی کی خواہشات کی بالاتری کو مسترد کرتے ہوئے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی کا اعلان کر رہے تھے۔ گویا ہمارے نزدیک سوسائٹی کی خواہشات کی بالادستی، جہالت اور تاریکی کی علامت ہے جبکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی روشن خیالی اور علم کی جانب سفر تصور ہوتا ہے۔ مغرب آسمانی تعلیمات کی معاشرے پر بالادستی کوجہالت اورتاریکی قراردیتاہے، مگر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسائٹی کی خواہشات کی برتری کوجہالت اور تاریکی قراردیتے ہوئے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف رجوع کو روشنی اور علم کی علامت بتایا ہے۔ اس لیے ہمارا روشن خیالی اور دورِ علم کا تصور مغرب کی روشن خیالی اور دورِ علم کے تصور سے قطعی مختلف اور متضاد ہے، اور ہمارے لیے اس سفر میں مغرب کاساتھ دینا اسلامی عقیدے اورتعلیمات کی رو سے ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم آج بھی قرآن وسنت کی حقانیت پر بے لچک ایمان رکھتے ہیں اور نسل انسانی کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپس بلا رہے ہیں، جبکہ مغرب اسے جہالت اور تاریکی کے دور کی طرف واپسی سے تعبیر کر رہا ہے اور مسلم امہ کو اس عقیدے سے ہٹانے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔
پھر روشن خیالی اور علم کی اس بحث کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ آج کی جدید معاشرت اور تمدن وثقافت کی جتنی علامات ہیں اورجن اقدار وروایات کو جدید تہذیب کی اساس تصور کیا جاتا ہے، ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہے جو نئی ہو اور اس معاشرت وثقافت کا حصہ نہ ہو جسے ہم چودہ سو سال قبل ’’دور جاہلیت‘‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں اور جس جاہلی دور کی اقدار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے قدموں تلے روندنے کا تاریخی اعلان فرمایا تھا۔
مرد وعورت کا آزادانہ اختلاط، ہم جنس پرستی، زنا، فحاشی، عریانی، شراب، جوا، سود، کہانت، حلال وحرام کا عدم امتیاز اور ناچ گانا وغیرہ،یہ سب کی سب اقدار وہ ہیں جو ابوجہل او ر ابولہب کے دور جاہلیت کا خاصہ تھیں اور آج کی طرح اس دور میں بھی ترقی اور افتخار کی علامت تصورہوتی تھیں، مگر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام جاہلی اقدار کے خاتمے کا اعلان کیا اور ان اقدار کے خاتمے کو جاہلیت کے دور کے خاتمے سے تعبیر کیا،مگر آج مغرب انہی جاہلی اقدار کو پھر سے جھاڑ پھونک کر نئے میک اپ کے ساتھ دنیا کے سامنے جدید تہذیب وثقافت کی ترقی یافتہ اقدار کے طورپر پیش کررہاہے اور ہم مسلمانوں سے مسلسل مطالبہ کررہاہے کہ انسانی معاشرت کی جن جاہلی اقدار کو ہم چودہ سوسال پہلے پاؤں تلے روند کر آگے بڑھے تھے، انہی جاہلی روایات واقدار کو جدید تہذیب وتمدن اور ثقافت کے نام پر دوبارہ اختیار کرلیں۔
مغرب کو آج سے تین صدیاں قبل جن وجوہ کی بنا پر آسمانی تعلیمات سے دستبرداری اختیار کرنا پڑی تھی، اس میں مغرب کا اپنا ایک مخصوص پس منظر ہے اور اس نے جو کئی صدیاں ظلم وجبر کے دور میں بسر کیں، وہ بھی اس کا اپنا علاقائی تناظر ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان اسباب وعوامل کی موجودگی میں مغرب کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا جو اس نے کیا، مگر ہمار ا پس منظر یہ نہیں ہے اور ہمیں ان عوامل اور اسباب کا سامنا کبھی نہیں رہا جن کی وجہ سے مغرب کو انقلاب فرانس کے مرحلے سے گزرنا پڑا، مگر مغرب تاریخی اور زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنا مخصوص پس منظر اور علاقائی بیک گراؤنڈ ہم مسلمانوں پر بھی زبردستی مسلط کرنا چاہتاہے اور ہمیں آسمانی تعلیمات سے انحراف اوروحی الٰہی سے روگردانی کے اس سفر میں ہر قیمت پر اپنے ساتھ رکھنے پر مصر ہے جو سراسر اناانصافی اور دھونس کے مترادف ہے، اس لیے مسلمان علما ے کرام اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فکری وتہذیبی دھونس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور تاریخی حقائق کو ان کے اصل پس منظر میں سامنے لاکر مغرب پر واضح کریں کہ وہ اپنا پس منظر اور اس پس منظر میں تشکیل پانے والے فکروفلسفہ کو مسلمانوں پر بزور طاقت مسلط کرنے کی جو کوشش کر رہاہے، وہ زیادتی اور ناانصافی ہے جسے مسلم امہ کبھی اور کسی قیمت پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔
مغربی تہذیب وثقافت کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے کہ ویسٹرن کلچر اور فکر وفلسفہ کی بہت سی مروجہ اقدار دراصل وہی جاہلی اقدار ہیں جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل دور جاہلیت کی قدریں قراردے کر مسترد کردیاتھا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں یہ تاریخی اعلان فرما کر ان اقدار سے بیزاری کا اظہار فرمایاتھا کہ ’’آج جاہلیت کی تمام قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘، بلکہ بعض حوالوں سے اس دور کی جاہلیت یعنی ابوجہل اور ابولہب کی جاہلیت آج کی جاہلیت جدیدہ سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً سیکس کے فری ہونے کا مسئلہ وہاں بھی تھا اور آج بھی اس کے فری ہونے پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے، مگر ڈیڑھ ہزار سال قبل کے دور جاہلیت میں سیکس کے کئی راستے کھلے رکھنے کے باوجود کسی بچے کی ولادت پر اس کے نسب اور اس کی کفالت کی ذ مہ داری کے تعین کا سسٹم موجود تھا اور کوئی بچہ بغیر باپ کے نہیں رہ پاتا تھا۔
اس دور میں مرد اور عورت کے جنسی تعلق کی ایک صورت تو یہی تھی جسے زندگی بھر کے نکاح کی صورت میں اسلام نے بھی باقی رکھا ہے۔
دوسری صورت موقت نکاح کی تھی جس میں کوئی مرد اور عورت مناسب معاوضے پر ایک مقررہ وقت کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے تھے اور مدت گزر جانے کے بعد ان کا یہ نکاح متعہ ختم ہو جایا کرتا تھا۔ اسے اسلا نے ناجائز قرار دے دیا اور اب اس کی اجازت نہیں ہے۔
تیسری صورت یہ تھی جسے ’’استبضاع‘‘ کہا جاتا تھا کہ میاں بیوی اور خاندان کے باہمی مشورے سے کوئی عورت کسی تیسرے خاندان میں جاتی تھی اور کسی بہادر یا سخی شخص سے جنسی تعلق قائم کر کے ا سے حاملہ ہوتی تھی جس کے بارے میں تصور یہ تھا کہ اس طرح اچھی نسل حاصل ہوتی ہے۔ اس صورت میں اس بچے کا نسب اس عورت کے اصل خاوند سے ہی ثابت ہوتا تھا جس کی رضامندی اور مشورے سے وہ کسی اور شخص کے پاس گئی تھی۔
چوتھی صورت یہ تھی کہ کوئی عورت بیک وقت پانچ چھ افراد سے جنسی تعلق رکھتی ہے جس کا ایک دوسرے کو پتہ ہوتا تھا اور اگر بچہ پیدا ہو جاتا تو وہ ان سب کو اکٹھے بلا کر سب کی موجودگی میں اس بچے کو ان میں سے کسی سے منسوب کر دیتی تھی جسے قبول کرنے کا وہ پابند ہوتا تھا اور بچے کا نسب اور کفالت اس شخص کے حوالے سے ہوتا تھا۔
پانچویں صورت یہ تھی کہ بعض عورتوں اپنے مکانوں پر خاص قسم کا پرچم لہرائے رکھتی تھیں جو اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہاں معاوضہ دے کر کوئی بھی شخص آ سکتا ہے۔ ایسی کسی عورت کے ہاں بچہ ہوتا تو وہ اپنے اندازے کے مطابق متعلقہ افراد کو طلب کرتی جو سب اکٹھے ہونے کے پابند تھے۔ ایسی صورت میں قیافہ شناس بلائے جاتے تھے جو قیافے کے ذریعے سے ان افراد میں سے اس بچے کے باپ کا انتخاب کرتے تھے اور وہ اس کے نسب اور کفالت کا ذمہ دار قرار پاتا تھا۔
یہ اس دور جاہلیت میں سیکس کے فری ہونے کی صورت میں بچے کے نسب اورکفالت کے تعین کا سسٹم تھا جس کی موجودگی میں کوئی بچہ لاوارث یا سنگل پیرنٹ نہیں ہوتاتھا، لیکن آج کی جدید جاہلیت سیکس کو فری کرنے کے بعد اس کے نتائج سے نمٹنے کا کوئی نظام وضع نہیں کرسکی اور سنگل پیرنٹ کا قانون طے کرکے اس نے نسب اورکفالت کی ذمہ داری کا سرے سے پتہ ہی کاٹ دیاہے اورسیکس کے جس عمل میں مرد اور عورت دونوں برا بر کے شریک تھے، اس کے نتائج بھگتنے کے لیے عورت کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ مرد اپنا کام کر کے چلتا بنتا ہے اور اس کے نتائج سب کے سب عورت کو بھگتنا ہوتے ہیں جسے عورت کے حقوق اور اس کی آزادی اور مرد وعورت کی مساوات کا نام دے دیا گیا ہے۔
اس پر مجھے محترمہ ہیلری کلنٹن کی ایک بات یاد آگئی۔ جب وہ امریکہ کی خاتون اول تھیں تو اسلام آباد کے دورے پر تشریف لائیں اورایک گرلز کالج کے دورے کے موقع پر انہوں نے سیکنڈ ایئر کی ایک پاکستانی طالبہ سے پوچھا کہ یہاں کالج کی طالبات کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں معیاری لائبریریاں اور لیبارٹریاں میسر نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے ہم ریسرچ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ اس لڑکی نے امریکہ کی خاتون اول سے سوال کیا کہ امریکہ میں کالج کی طالبات کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کالج تک پہنچتے پہنچتے بہت سی لڑکیوں کی گود میں بچہ ہوتاہے جس کاکوئی ذمہ دار نہیں ہوتا اور وہ مصیبت میں پڑی ہوتی ہے کہ اس بچے کی پرورش کرے یا تعلیم حاصل کرے۔ اس سے آپ اندازہ کر لیجیے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے دورجاہلیت کے فری سیکس اور آج کی دور جاہلیت کے فری سیکس میں کیا فرق ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق مانع حمل ادویات اور اسقاط حمل کی تمام تر سہولتوں کے باوجود جو بچے پیدا ہو رہے ہیں، ان میں سے گزشتہ سال چالیس فیصد بچے بغیر شادی کے پیدا ہوئے۔
اسلام نے اسی وجہ سے نکاح کے سوا جنسی تعلق کی تمام صورتوں کو ناجائز قرار دیاہے اور زنا کے حوالے سے انتہائی سختی کی ہے کہ اس کے بغیر نسب، کفالت اور خاندان کا نظام ہی باقی نہیں رہتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی ۔ قیادت اور کارکردگی کا ایک جائزہ
پروفیسر شیخ عبد الرشید
جمہوریت کو رائے عامہ کی حکومت کہا جاتاہے اور موجودہ دور میں رائے عامہ کی تشکیل اور اظہار میں سیاسی جماعتوں کا کردار نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ ’’ اکثریت کی حکومت‘‘ کے اصول پر عملدرآمد سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جمہوری سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کی تقریباً وہی حیثیت ہوتی ہے جو انسانی جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی ہے۔ جس طرح جسدِ انسانی کی صحت کا دارومدار خون پر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جمہوری نظام کی کامیابی اور مستقبل کا انحصار سیاسی جماعتوں کی استعداد کار اور تنظیم و قیادت پر ہوتاہے۔ اسی لیے ماہرین سیاست جدید جمہوریت کی کامیابی کے لیے سیاسی جماعتوں کے وجود کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ منرو(Munro) کہتاہے: ’’آزاد سیاسی جماعتوں کے ذریعے حکومت دراصل جمہوری حکومت کا دوسرا نام ہے۔ سیاسی جماعت، یکساں خیالات، متفقہ منشور اور حصول اقتدار کے بعد ملک و قوم کی خدمت دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیا ں ہیں ۔‘‘
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے، تاہم ان میں سے اکثر پر سیاسی جماعت ہونے کا ’’الزام‘‘ لگانا بھی مشکل ہے اور پھر قومی سطح کی شناخت اور ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے مالا مال سیاسی جماعتیں تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ موجودہ سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی ملک کی بڑی اور وفاقی سیاسی جماعت ہونے کی دعوے دار ہے۔ آئندہ سطور میں ہم پیپلز پارٹی کی مختصر تاریخ، اس کی قیادت، اس کے اثرات و کارکردگی اور ملکی سیاست و جمہوریت میں اس کے کردار کا جائزہ لیں گے ۔
ذوالفقار علی بھٹو اپنے عہد کی اہم، غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک اور متنازعہ سیاسی شخصیت تھے۔ شروع میں وہ خود کو بھارتی شہر ی تصور کرتے تھے۔ وہ ۱۹۴۷ ء میں بھارت کے پاسپورٹ پر امریکہ گئے۔ انہوں نے متروکہ املاک کے کسٹوڈین کی عدالت میں دائر مقدمے میں اقرار کیا کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔ جولائی ۱۹۴۹ ء تک بھٹو کو پاکستانی پاسپورٹ بھی جاری نہ ہوا تھا۔ اسکندر مرزا نے جب انہیں ایوب خاں کی کابینہ میں شامل کیا تو انہوں نے جائیداد کے بارے میں اپنا دعویٰ واپس لیا۔ وہ ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ میں ممبر اور جنرل سیکرٹری رہے۔ ابتدا میں ہی انہوں نے کنونشن مسلم لیگ میں فارورڈ بلاک بنا کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی اور پھر کونسل مسلم لیگ کا ممبر بن کر وہ مسلم لیگ کے دھڑوں کو متحد کرنے کے امکانات پر بھی غور کرتے رہے۔ معاہدہ تاشقند پر اختلاف کے بعد اپنے سیاسی گارڈین ایوب خاں کی کابینہ سے ۱۹۶۶ ء میں مستعفی ہوگئے اور انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر ان پر تنقیدی حملے شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ نومبر ۱۹۶۶ ء میں بھٹو نے مجیب الرحمن کے چھ نکاتی پروگرام کی حمایت کے اظہار کے لیے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا، حالانکہ بطور وزیر خارجہ انہوں نے خود مختاری کی اسی اسکیم کو قوم دشمن قرار دیا تھا۔ لارنس زائرنگ کے مطابق ’’ بھٹو جانتے تھے کہ ایوب بالآخر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے، چنانچہ وہ خم ٹھونک کر اس شخص کے مقابل آگئے جس کی وہ آٹھ برس تک ملازمت کرچکے تھے ۔‘‘ کچھ عرصہ تک حالات کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے ایک سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ وہ کسی دوسری سیاسی جماعت، اس کی قیادت اور منشور و کارکردگی سے مطمئن نہ تھے۔ وہ ایک ایسی سیاسی جماعت بنانا چاہتے تھے جوان کے ذاتی فلسفے کی تشہیر کا ذریعہ بن سکے اور جس کے ساتھ ماضی کے واقعات اور شخصیات کا کوئی سابقہ اور لاحقہ نہ ہو۔ انہوں نے اکتوبر ۱۹۶۷ ء میں پیپلز پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔ ۳۰ نومبر سے یکم دسمبر ۱۹۶۷ء تک لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر بھٹو کی قیادت میں قومی کنونشن منعقد ہوا۔ جے اے رحیم، عبد الحفیظ پیر زادہ، شیخ عبدالرشید، یحییٰ بختیار، معراج محمد خاں، تاج محمد لنگاہ ، ممتاز بھٹو، محمود علی قصوری، حنیف رامے، حیات محمد خان شیر پاؤ، غلام مصطفی کھر، مختار رانا، خورشید حسن میر، کامریڈ غلام محمد، حامد سرفراز، ملک نوید احمد، احمد خاں وغیرہ اس میں شامل ہوگئے۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۶۷ء کو حیدر آباد میں حزب اختلاف کے راہنما میر رسول بخش تالپور کی رہائش گاہ پر پارٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی۔ بلا
شبہ پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت بھٹو ملک کے سب سے مقبول اور مسلمہ سیاسی راہنما تھے۔ ایوب خاں کے زوال میں ان کا کردار کلیدی تھا۔ ’’اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت اور عوام قوت کا سرچشمہ‘‘ کے پارٹی نعرے سے عوامی سوچ کی عکاسی ہوئی۔ اس تصور نے عام آدمی سے لے کر دانشوروں تک کو اپنے سحر میں لے لیا اور ایوب حکومت سے مایوس لوگ بھی پیپلز پارٹی کی طرف دیکھنے لگے۔ نومبر ۱۹۶۸ء میں بھٹو کو حراست میں لے لیا گیا۔ تب سے مارچ ۱۹۶۹ء تک بھٹو کی کرشماتی لیڈر شپ نے اپنے سابق مربی کے خلاف عوامی شورش کو منظم اور پارٹی کو مزید مقبول بنا یا۔ ایوب نے بھٹو کی رہائی کا حکم دے دیا تاکہ سنجیدہ مذاکرات میں حصہ لے سکیں، مگر پی پی پی کے راہنما صدر سے بھٹو کی ملاقات کے بارے متذبذب تھے کہ اس طرح ایوب کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور اقتدار کو طول ملے گا۔ ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء کو ایوب کے سبک دوش ہونے اور اقتدار جنرل یحییٰ خاں کے سپرد ہونے کا اعلان ہوا ۔ پھر جب یہ اعلان ہوا کہ عام انتخابات اکتوبر ۱۹۷۰ء میں کرائے جائیں گے تو ۲۵سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی کے لیے پہلے عام انتخابات کی مہم کا بھرپور آغازکیا۔ تین سو منتخب نشستوں کے لیے ۱۵۷۰؍ امیدوار میدان میں آگئے۔ ان انتخابات کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ یہ الیکشن نہ تو مسلمہ قانونی راہنما اصولوں کے تحت کرائے گئے اور نہ ہی ان میں حصہ لینے والی سیاسی تنظیموں کے درمیان کوئی افہام و تفہیم موجود تھی۔ یہ الیکشن ۱۹۶۲ء کا دستور منسوخ ہونے کے بعد سیاسی و فوجی ٹولے کے حکم پر کرائے گئے اور ان کا مقصد ایک نیا سیاسی نظام وضع کرنے کی بجائے ایوب خاں کے سیاسی نظام کے خاتمے کی توثیق کرنا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے پولنگ کی تاریخیں قومی اسمبلی کے لیے ۷دسمبر اور صوبائی کے لیے ۱۷ دسمبر طے ہوئیں۔ پی پی پی نے قومی اسمبلی کے لیے مشرقی پاکستان سے کوئی امیدوار کھڑا نہ کیا جبکہ مغربی پاکستان میں ۱۱۹؍ امید وار کھڑے کیے۔ بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران طلبہ، وکلا اور مخصوص شعبوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں پر انحصار کیا جو ایوب حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک میں پیش پیش تھے۔ پیپلز پارٹی کو بشیر بختیار کی پاکستان لیبر پارٹی جیسی منظم مزدور تحریک کی پشت پناہی کے علاوہ پاکستان پریس ورکرز یونین، تانگہ اور ٹیکسی ڈرائیور یونینوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ پی پی پی کی انتخابی مہم میں مقبولیت کی وجہ اس کا دلکش نعرہ ’’ روٹی کپڑا اور مکان‘‘ تو تھا ہی، مہاجروں اور پنجابیوں کی دلچسپی کی وجہ بھارت کے خلاف بھٹو کا غیر مصالحانہ رومانوی رویہ تھا۔ انتخابی مہم میں بھٹو نے بھارت کے خلاف ہزار سال تک جنگ کرنے کی باتیں کی تھیں۔ نومولود پارٹی ہونے کی وجہ سے بھٹو کو موجود پاور سٹرکچر سے مصالحت بھی کرنا پڑی۔ سوشلسٹ نظریات کے باوجود پارٹی نے سندھ میں پیروں اور وڈیروں کو ساتھ ملایا۔ اسے پیر آف ہالہ شریف اور پیر رسول شاہ آف تھرپار کر جیسے گدی نشینوں کے ساتھ ساتھ تالپوروں، جتوئیوں اور جام صادق جیسے وڈیروں کی مدد بھی لی۔ پنجاب میں نون ، گیلانی اور قریشی خاندانوں پر مشتمل جاگیردار پارٹی میں شامل ہوگئے، اسی طرح جیسے یہ وڈیرے ماضی میں یونینسٹ پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہو ئے تھے۔ پنجاب اور سندھ کے پس ماندہ دیہی علاقوں میں جاگیرداروں کی حمایت حاصل کرنے او ر وسطی پنجاب اور نہری اضلاع میں چھوٹے کاشتکاروں، مزارعوں اور بے زمین کسانوں کی توجہ حاصل کرنے کی دوہری پالیسی نے پیپلز پارٹی کی انتخابی کامیابی کو یقینی بنایا۔ الیکشن نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومتی حمایت یافتہ قیوم لیگ اور مذہبی جماعتوں کو پچھاڑ کر نمایاں کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی میں دوسری بڑی اکثریتی جماعت بن کر ابھری اور مغربی پاکستان کی ۱۳۸ میں سے ۸۱سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں خواتین اور دوسری نشستیں ملا کر اس کی سیٹوں کی تعداد ۸۸ہوگئی ۔ زیادہ کامیابی پنجاب میں ملی جہاں سے ۶۲ نشستیں ملیں۔ ایک کے سوا باقی سیٹیں سندھ سے ملیں ۔ اگرچہ مغربی پاکستان میں وہ اکثریتی جماعت تھی، مگر اسے قومی اسمبلی کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کا صرف ۵ء۱۹فیصدی یعنی ۵/۱ حصہ ووٹ ملے تھے۔
الیکشن کے بعد حالات نے ڈرامائی انداز اختیار کر لیا۔ زائرنگ کا خیال ہے کہ اگر بھٹو عاجزی و انکساری کا مظاہر ہ کرتے اور خود پر قابو رکھتے تو مجیب الرحمن ان کی ناگزیر جانشینی کے لیے راستہ ہموار کر دیتے۔ قواعد کے مطابق مجیب الرحمن حکومت کی ذمہ داریاں سنبھال لیتے تو پاکستان کے سیاسی عمل کی ابتر حالت کے پیش نظر وہ یقیناًزوال پذیر ہو جاتے اور بھٹو ان کے جانشین بن جاتے۔ اگر بھٹو صبر و تحمل کا مظاہر ہ کرتے تو وہ برسر اقتدار آ جاتے۔ اس طرح ملک ایک خوفناک خانہ جنگی اور اس قومی تذلیل سے بچ جاتا جس کا اسے ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں سامنا کرنا پڑا ۔ انوار ایچ سید کا خیال ہے کہ ’’وہ طویل عرصے سے فوج سے پینگیں بڑھا رہے تھے اور انہوں نے فوج کے ساتھ قربت کو پارٹی پر ترجیح دی۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے فوراً بعد ہی پی پی پی کی صفوں میں شگا ف پڑنا شروع ہو گئے۔ ممتاز قانون دان احمد رضا قصوری نے یحییٰ خان کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس ۳مارچ کو بلانے کا فیصلہ نظر انداز کرنے پر بھٹو کی مخالفت کی، اسی لیے بعد ازاں وہ بھٹو کے غضب کا نشانہ بھی بنے ۔
۱۶؍دسمبر ۱۹۷۱ء کوسقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو نے آرمی ہیڈ کواٹرز میں شکست خوردہ جرنیلوں سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے تقریباً ۲سال بعد اور جرنیلی جمہوریت کے تقریباً چودہ سال بعد جرنیل، اقتدار پیپلز پارٹی کے راہنما بھٹو کے سپرد کرنے پر تیار ہوگئے۔ ممتاز دانشور حمزہ علوی کے الفاظ میں ’’ستم تو یہ ہے کہ اگرچہ بھٹو (مغربی) پاکستان میں اکثریتی جماعت کا راہنما تھا، اس کے باوجود جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار پر فائز نہ ہوا ، بلکہ شکست خوردہ فوج نے اسے منصب حکمرانی سے سرفراز کیا۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو فوج نے بھٹو کا صدر کی حیثیت سے تقرر کیا۔ صدر کے ساتھ ساتھ بھٹو کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ بھی تفویض ہوا ۔ یہ دونوں عہدے اس سے قبل جنرل یحییٰ کے پاس تھے ۔ بھٹو کو انتقالِ اقتدار دراصل ایک فوجی انقلاب (coup-detat) تھا کیونکہ نو منتخب شدہ قومی اسمبلی کا اس انتقال اقتدار میں کوئی حصہ نہ تھا۔ دراصل بھٹو کو امریکہ کے حمایت یافتہ دو جرنیلوں کی پشت پناہی حاصل تھی جن کی مدد سے وہ اس رتبے تک پہنچے۔ ایک جنرل گل حسن اور دوسرا ایئر مارشل رحیم خاں تھا۔ صاف ظاہر ہے، بھٹو کو دو عہدے دیے گئے تھے لیکن تیسرا یعنی فوج کے کمانڈر انچیف کا عہدہ تو اسے کسی صورت نہیں دیا جاسکتا تھا، لہٰذا یہ جنرل گل حسن کے حصے میں آیا۔ اس تمام تر کارروائی کو امریکی حمایت حاصل تھی۔ جب یہ کارروائی ہو رہی تھی، اس وقت بھٹو اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش پر ہونے والے مباحثے میں شریک تھے۔ واشنگٹن میں بھٹو نے صدر نکسن اور سیکرٹری آف سٹیٹ راجرز سے بھی ملاقات کی اور وہاں سے کلیرنس مل جانے پر بھٹو کو فوج نے پاکستان کا سربراہ حکومت بننے کی دعوت دی۔‘‘ تاہم ایک خیال یہ بھی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے افسوس ناک اور دشوار دنوں میں ایک شکست خوردہ اور شکستہ قوم کی حکومت کی سربراہی کے لیے قومی سطح کے وہی واحد سیاسی لیڈر باقی رہ گئے تھے، چنانچہ بھٹو نے خلفشار کو روکا اورممکنہ انتشار کا سدباب کیا۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں جو تبدیلیاں ہورہی تھیں، ان کو بھٹو نے بڑی تیزی سے بھانپ لیا اور ان ممالک میں پاکستان کی حیثیت میں اضافہ کیا جبکہ کچھ مورخ یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ اگر کسی قوم کی ذلت اور کم حوصلگی سے کسی لیڈر نے کبھی فائدہ اٹھا یا ہے تو وہ بھٹو تھے۔ اقوام عالم کی جدید تاریخ میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالنے والے وہ پہلے سویلین تھے ۔ بھٹو نے یہ عہدہ حاصل کر کے پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح پر بھی سبقت حاصل کر لی۔ بھٹو نے اپنے مطلق اختیارات کو پاکستان کی تشکیل نو کے لیے کس طرح استعمال کیا، اس کا مکمل احاطہ یہاں ممکن نہیں ۔
نامور دانشور اقبال احمد کے الفاظ میں بھٹو کے کارنامے ، ملکی سیاست میں ان کی کوتاہ اندیشی کے بالکل برعکس تھے ۔ وہ صدر بن کر طاقت کے نشے میں بدمست ہو گئے اور ان کے اقتدار نے مطلق العنانی اورشخصی حکومت کا روپ دھار لیا۔ پیپلز پارٹی کی تنظیم کو محض ثانوی حیثیت حاصل ہو کر رہ گئی جس سے پارٹی تیزی سے ایک ایسا کمزور ادارہ بن گئی جس میں اختلاف رائے کو سختی سے دبا یا جاتاتھا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد پی پی پی پاکستان کے سابقہ سیاسی نقشے کو ختم کرنے میں ناکام رہی ۔ پارٹی بنانے کا کام منتخب اداروں اور باقاعدہ ڈھانچوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی بجائے سر پرستی کے انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ اس سے گروہ بندیاں شروع ہو گئیں۔ بائیں بازو کے عناصر اور بھٹو کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ بائیں بازو کے عناصر پارٹی تنظیم کی اہمیت پر زور دیتے تھے، لیکن بھٹو شخصیت پر ستی کے خواہاں تھے ۔ پیپلز پارٹی کے قائد بھٹو کی ذات کے تضادات بے وجہ نہیں تھے۔ وہ ایک عبوری طبقے کی پیداوار تھے۔ ہمہ جہت شخصیت، جاگیرداری کے پروردہ ، بورژ وا طبقے کی تعلیم کے حامل، سیاست میں فوجی آمر کی پیداوار، اور ایک خو د ساختہ سوشلسٹ۔ وہ اپنے آپ کو سو ئیکارنو اور نکرومہ، اتاترک اور جمال عبدالناصر کی طرح ہیرو کے قالب میں ڈھلا ہوا محسوس کرتے تھے، حالانکہ نہ وہ ان کی طرح نادار گھر میں پیدا ہوئے اور نہ قربانیاں دیں۔ ا قبال احمد کے خیال میں بے لگام نخوت ، نظریے کا وزن ، اقتدار کا سودا ،اور سیاسی عمل کے سلسلے میں بے بصیرتی کے حامل بھٹو نے ایسی پالیسیاں اختیار کیں جو ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئیں۔ رچرڈ نکسن کے ساتھ ان کا تقابل بالکل درست ہو گا۔ نکسن کی طرح بھٹو طاقت کے حصول کی طبعی خصوصیات رکھتے تھے اورموقع شناسی کی ایک پُر اسرار حِس بھی۔ نکسن کی طرح وہ بھی ہر قیمت پر کامیابی چاہتے تھے، لیکن اس جواری کی طرح جو داؤ پر کچھ بھی لگانا نہیں چاہتا ۔
پیپلز پارٹی بھی اپنے قائد کی طرح عبوری دور کی پیداوار تھی۔ نظریاتی موقع پرستی پر مبنی بظاہر جدید، اندروں جاگیردارانہ۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ پارٹی کی یہ متضاد کیفیت ہی بھٹو کے مربیانہ انداز کے لیے موزوں تھی۔ اسی لیے تنظیمی حوالے سے پارٹی کے چیئر مین نے سستی دکھائی اور ۱۹۷۶ء تک صوبوں کے تنظیمی دورے نہ کیے جن کے بعد ڈویژنل سطح پر کنونشن منعقد ہوئے۔ مکمل تنظیم نو آخر کار دسمبر ۱۹۷۶ء میں ہوئی، لیکن اس میں بھی انحصار مؤثر ادارہ سازی کی بجائے ذاتی وفاداریوں پر کیا گیا۔ بھٹو نے خود تمام اعلیٰ عہدیدار منتخب کیے۔ سیکرٹریٹ سے لے کر ضلعی تنظیموں بلکہ ان سے بھی نچلی سطح تک کے عہدیداروں کا تقرر اپنی پسند سے کیا۔ اس سے فیصلہ سازی مکمل طور پر مرکز کے تابع ہو گئی اور بھٹو نے بھی پیپلز پارٹی کو اسی طرح ذاتی تنظیم بنا دیا جس طرح اندرا گاندھی نے بھارتی کانگرس کو بنا دیا تھا۔ آئن ٹالبوٹ کے خیال میں بھٹو کی ذاتی ہدایا ت کے مطابق پارٹی کی تشکیل نونے ایک ایک کر کے بانی ارکان کو کنارے لگا دیا۔ تخلیقی سوچوں کی جگہ چاپلوسی نے لے لی تاکہ پارٹی کی ہائی کمان کی خوشنودی حاصل رہے، یہاں تک جے اے رحیم جیسے بانی ارکان جنہوں نے پیپلز پارٹی کی اساسی دستاویز تحریر کی تھی، ۱۹۷۴ء میں خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے لگے۔ انہوں نے پارٹی امور نمٹانے میں بھٹو کے انداز کی مخالفت کی اور ان کے انتقام کا نشانہ بنے۔ احمد رضا قصوری نے پارٹی کے فاشسٹ کردار پر نکتہ چینی کی اور گرفتار ہو کر پانچ سال سزا کے مستحق ٹھہرے۔ اسی طرح معراج محمدخاں نے تنقید کی اور جیل کی کوٹھڑی میں پہنچ گئے۔ بھٹو نے اسی طرح کے عمل کو روکنے کے لیے ۳۰ پارٹی ممبران کو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ ۲۰؍ اراکین اور شامل ہو گئے تو ایف ایس ایف کے ذریعے ان کا تعاقب کیاگیا۔ پی پی پی میں کچھ گروہی اختلافات ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ہی ہوگئے تھے۔ پنجاب کے صدر شیخ رشید اور جنرل سیکرٹری غلام مصطفی کھر کے درمیان محاذ آرائی بعد میں بھی جاری رہی۔ ۱۹۷۳ء کے شروع میں ہی شیخ رشید کے حامیوں کو پارٹی سے نکال دیاگیا۔ جورہ گئے، ان کے خلاف انکم ٹیکس کے مقدمات درج کرا دیے گئے۔ پھر قدامت پسند وزیر اطلاعات کوثر نیازی اور ترقی پسند وزیر معراج محمد خاں کے درمیان نظریاتی اختلافات تھے۔ سندھ میں جام صادق اور رسول بخش تالپور تھے، جبکہ سرحد میں ہمایوں سیف اللہ اور حبیب اللہ خان کے درمیان بنوں میں اور مردان میں عبدالصمد خاں اور عبدالرزاق خاں کے درمیان گروہ بندی تھی ۔ اس طرح کی ذاتی دشمنیاں جلد ہی باقاعدہ تصادم میں بدل گئیں۔ انوار ایچ سید کے مطابق بھٹو نے ۱۶؍اگست ۱۹۷۳ء کو اپنے نوٹ میں لکھا کہ ’’ہمارے دائیں بائیں آگے پیچھے بندوقیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کا ماٹو ہی یہی ہے۔ انتہائی معمولی باتوں کے لیے پستول نکال لو اور بے دریغ استعمال کرو‘‘۔ مزدور لیڈروں کو ان کے دفاتر میں قتل کیاگیا۔ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اور اپوزیشن کے ایک رکن کو گولی مار دی گئی۔ NAPکے عبدالصمد اچکزئی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مولوی شمس الدین اورخواجہ رفیق کا قتل ہوا۔ جماعت اسلامی کے کئی عہدیداروں کو قتل کر دیا گیا۔ ولی خاں اور اصغر خاں متعدد قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے۔ پیپلز پارٹی کی کمزوری کے باعث پورے ملک میں سیاسی تشدد کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ سیاسی قتل روز مرہ کا معمول بن گئے حتیٰ کہ پارٹی کارکنوں کے جھگڑے معمول بن گئے۔ فروری اور مئی ۱۹۷۲ء کے درمیان لاہور ، گوجر خاں ، وزیر آباد ، گوجرانوالہ اور وہاڑی میں سنگین گروہی تصادم ہوئے۔ کراچی پارٹی سیکرٹریٹ پر ناراض کارکنوں نے قبضہ کرلیا ۔ انوار سید نے پی پی پی سیکریٹریٹ کی فائلوں کی چھان بین کے بعد تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا ظاہر ہوتاہے کہ بھٹو پی پی پی کے ساتھ مخلص نہیں تھے۔ انہوں نے اس تنظیم کو محض حصول اقتدار کا ذریعہ بنایا تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بھٹو خود کو پارٹی سیاست سے برتر سمجھتے تھے اور اگرچہ خانہ جنگی کے بعدکے پاکستان میں پارٹی کارول جاری رکھنے کے لیے تیارتھے، لیکن انہوں نے پارٹی کو اپنے اجزائے ترکیبی کے محو کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس سے سماج میں بامعنی تبدیلی کے خواہاں نوجوان بھٹو سے بد دل ہونا شروع ہو گئے۔ بھٹو نے سماجی اور اقتصادی اصلاحات سیاسی بنیادیں تعمیر کیے بغیر نافذ کیں چنانچہ یہ پارٹی کے لیے حامیوں میں اضافہ کرنے کی بجائے دشمنوں میں اضافہ کرنے کا ذریعہ بن گئیں۔ فوج، جو المیہ مشرقی پاکستان کے بعد ابتری کی حالت میں تھی، بلوچستان میں سیاسی استعمال سے ایک بار پھر عوامی زندگی میں داخل ہو گئی۔ جس طرح تیز تر سماجی و اقتصادی تبدیلیوں نے ایوب خان کی کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کے تجربے کو ناکام بنایا تھا، اسی طرح عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں نے بھٹو کے عوامی جمہوری تجربے کو بھی نقصان پہنچایا۔ ڈاکٹر محمد وسیم کے خیال میں ’’حکومت کی طرف سے قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے میں ناکامی نے اس کی سیاسی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا کیونکہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر پیپلز پارٹی کے حامی زیریں طبقات پر پڑا‘‘۔
پیپلز پارٹی نے تاریخ کے اس تصور کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا کہ مستقبل کا پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کا پاکستان ہو گا مگر اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ بھٹو پاکستان کی حالت بدلنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اس کی کلیدی وجہ یہ تھی کہ وہ پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کر کے اسے ایسا سیاسی ادارہ نہ بنا سکے جس میں وہ اپنی حاکمیت کو منتقل کرتے۔ مسلم لیگ کی طرح پیپلز پارٹی بھی خود کو ایک عوامی تحریک سے ایک جدید حکومتی سیاسی جماعت میں تبدیل نہ کر سکی۔ تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کرنے کی بجائے شخصی اثرو رسوخ پر انحصار پارٹی کی مضبوطی کی راہ میں رکاوٹ بنا رہا۔ حالانکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ایک پارٹی اور اس کی قیادت کو نہ صر ف اقتدار ملا بلکہ اس کا جواز بھی حاصل ہوا جسے بنیاد بنا کر جمہوری روایات پر مبنی مستقبل کی تعمیر ماضی کی نسبت آسان تھی، مگر صد افسوس کہ پاکستان کے اس افسانوی جمہوری شہزادے کے کندھے اتنے چوڑے نہ تھے کہ وہ اس بوجھ کر سہار سکیں جو تاریخ نے ان پر ڈال دیا تھا۔ اس کے باوجود ۱۹۷۱ء کے سانحہ کے بعد شکست خورہ قوم میں خود اعتماد ی بحال کرنا، جنگی قیدیوں کی واپسی، ملک کو ایک جمہوری آئین دینا، کامیاب خارجہ پالیسی اور ایٹمی ری ایکٹروغیرہ پی پی پی کی حکومت کے حاصلات و نمایاں کارنامے ہیں ۔
۷ جنوری ۱۹۷۷ء کو ۲ ماہ میں الیکشن کرانے کا اعلان کر دیا گیا۔ بھٹو نے رفیع رضا کو اپنی انتخابی مہم کا مینیجر بناتے ہوئے انتخابات کے جلد انعقاد کا فیصلہ تو جون ۱۹۷۶ء میں ہی کر لیا تھا۔ یہ عوام کے لیے غیر متوقع بات تھی لیکن الیکشن کی فضا بنتے ہی حیران ہونا بھٹو کے لیے مقدر ٹھہرا کہ وہ اپنی مخالف جماعتوں کے فوری اتحاد پر پریشان ہو گئے۔ ان انتخابات کا جامع تجزیہ ممتاز سکالر M.G.Weinbaum نے ’’ایشین سروے‘‘ کے جولائی ۱۹۷۷ء کے شمارے میں کیا ہے۔ قطع نظر انتخابی تجزیے کے، انتظامیہ نے بھٹو کوواضح کامیابی کا یقین دلایا تھا۔ اس کے باوجود یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ دھونس اور دھاندلی کے لیے گھٹیا اور غیر قانونی ہتھکنڈے کیوں استعمال کیے گئے؟ بھٹو نے خود ایک طرف ماؤزے تنگ جیسا لباس پہننا شروع کیا اور چیئر مین کہلانے لگے، دوسری طرف ملک کے روایتی زمیندار گھرانوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے پر اترآئے۔ وہ زیادہ سے زیادہ بلا مقابلہ کا میابیاں چاہتے تھے جو ان کی غیر جمہوری سوچ کی واضح نشان دہی کرتا ہے ۔ پیپلز پارٹی کو بھاری کامیابی ملی، لیکن قومی اتحاد دھاندلی کے الزامات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آیا لیکن بھٹو نے تمام تر دباؤ کے باوجود اقتدار سے چمٹے رہنے کو ترجیح دی۔ لارنس زائرنگ کے مطابق بھٹو پر پاکستانی معاشرے میں ظلم و تشدد کرنے والی طاقتوں کو بے لگام چھوڑنے، ذاتی ہوس کے لیے قوم کو دو لخت کرنے، قومی معیشت کو تباہ کرنے ، اور ملک کے بہترین دماغوں اور جفاکش لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ یہ تاثر عام تھا کہ اگر اس شخص کو اسی طرح کام کرنے کا موقع دیا گیا تو یہی شخص، جسے خوفناک خانہ جنگی کے زخم مندمل کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا، بچے کھچے پاکستان کو بھی برباد کردے گا۔ قسمت ایک مرتبہ پھر مصروف عمل ہو گئی اور اس نے بھٹو کی جگہ پر ضیاء الحق کو لا بٹھایا ۔ ‘‘
ضیا ء الحق نے ایک سپاہی کی حیثیت سے اس شخص کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی جس نے اسے یہ عہدہ اور مرتبہ دیا تھا۔ بھٹو کے مقابلے میں ضیاء الحق نہایت پر خطر کھیل رہے تھے۔ ایک ایسا کھیل جس میں ان دونوں میں سے صرف ایک کھلاڑی ہی زندہ بچ سکتا تھا۔ ۴؍اپریل ۱۹۷۹ء میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جس طرح یہ ہوا، اس نے بھٹو کو مظلوم بنا دیا ، عوام کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہو گئیں کہ فوج اس لیے ان کو سزا دے رہی ہے کہ انہوں نے ملک کا سیاسی موسم بدل دیا۔ وہ کچلے ہوئے عوامی حقوق کی علامت بن گئے، چنانچہ بھٹو کے قتل کے معنی یہ لیے گئے کہ بھٹو کے سوشلسٹ پروگرام کی عدم تکمیل اور جمہوریت کے خاتمے کی ذمہ دار، فوج اور افسر شاہی ہے۔ بھٹو پاکستان کے پیرون (peron)بن گئے ۔ آئن ٹالبوٹ کا خیال ہے کہ ’’بھٹو کے حامی ان کو چلی کے سلواڈرو آلندے کا ہم پلہ جبکہ ناقدین انہیں ارجنٹائن کے جان پیرون کے مشابہ قرار دیتے ہیں ۔ ‘‘
ضیاء حکومت کا جبر و استبدار، جس میں سیاسی جماعتوں پر پابندی بھی شامل تھی، پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا۔ بھٹو کی وفات کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہی بیگم نصرت بھٹو نے سنبھال لی اور بے نظیر شریک چیئر پرسن بن گئیں۔ ضیاء حکومت سے ٹکر لی اور قیدو بند کی مصیبتیں برداشت کیں۔ ۲۴؍اگست ۱۹۸۵ء کو جب بے نظیر انگلینڈ سے اپنے بھائی شاہنواز کی تجہیزو تکفین کے لیے آئیں تو کارکنوں کے جوش و خروش نے ثابت کر دیا کہ پارٹی کی مقبولیت قائم ہے۔ نومبر میں وہ واپس چلی گئیں۔ ضیاء نے ۱۹۸۵ ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کے لیے جو پالیسی وضع کی، وہ یہ تھی کہ ٹائم میگزین کے بقول ’’ نہ کوئی سیاسی مہم ہو، نہ موضوع، نہ موقف، نہ قومی مسائل پر بحث‘‘۔ اس کے باوجود بے نظیر میدان میں کود پڑنے کو تیار تھیں، لیکن ایم آر ڈی نے ضیا کے بنائے قاعدوں کے مطابق ہونے والے انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئی حکومت کے بننے کے بعد بے نظیر نے دو سالہ ازخود اختیار کردہ جلا وطنی کے بعد واپس آنے کا فیصلہ کیا تو لندن سے لاہور پہنچنے پر فقید المثال استقبال ہوا۔ ہجوم دیکھ کر فرط و انبساط سے بے نظیر نے کہا تھا کہ ’’ اسی دن ہم اقتدار چھین کر لے سکتے تھے، مگر ہجوم پر تشدد نہیں پر مسرت موڈمیں تھا ‘‘۔ وطن آکر بے نظیر نے جونیجو حکومت سے پہلو بچا کر ضیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یوگو اسلاوی نیوز ایجنسی تانجگ کے نامہ نگار الیگزنڈر سٹانک نے تبصرہ کیا تھا کہ’’ جس طرح بے نظیر کے جلسوں اور جلوسوں کا انتظام کیا جارہا ہے اور جس سیاسی بالغ نظری کا اظہار ہو رہا ہے، اس سے نظر آتاہے کہ یہ تحریک محض جذباتیت پر منحصر نہیں۔ اقتدار میں طاقتور عناصر کی تسلی کے لیے بے نظیر نے اعلان کیا: ’’میں انتقام لینے کے لیے نہیں آئی ہوں ۔‘‘
بے نظیر کے وطن آتے ہی پارٹی میں تنازعات پھوٹ پڑے۔ سب سے پہلے غلام مصطفی جتوئی، جو بھٹو خواتین کی غیر موجودگی میں پارٹی کے سربراہ تھے، علیحدہ ہوئے۔ ان کے خیال میں بے نظیر تمام ’’چاچاؤں ‘‘ سے نجات حاصل کر کے خود قیادت سنبھالنا چاہتی تھیں۔ چھوڑ جانے والے چچاؤں میں حقیقی چچا ممتاز بھٹو بھی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے ووٹوں پر اتنا زیادہ انحصارکرتی ہے کہ سندھ کے مفادات کی نگہبانی نہیں کر سکتی۔ بے نظیر کو بائیں بازو کے چیلنج کا بھی سامنا تھا۔ پرانے بالشویک ملک معراج خالد، راؤرشید اور شیخ رشید وغیرہ پارٹی کے نئے امریکہ نوازرحجان سے مایوس ہو رہے تھے۔ لندن میں لیبر پارٹی کے نیل کینک سے گفتگو میں بے نظیر نے کہا تھا کہ ’’ان کے لیے یہ بڑا مسئلہ تھا کہ اپنی پارٹی کو بائیں بازو کے بدلے میانہ روی تک لائیں اور ایسا سیاسی موقف اختیار کریں جو چل جائے۔‘‘ بے نظیر نے ملک بھر کا دورہ کیا ، کارکنوں کو متحرک کر کے تنظیم نوکی اور آسانی سے مذکورہ مشکلات پر قابو پا لیا۔ وہ بآسانی پارٹی کی راہنما بن گئیں۔ نظریاتی حوالے سے انہوں نے ہوا کے مخالف رخ پر چلنے کی بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنا لیا۔ حمزہ علوی کے مطابق ۱۹۸۴ ء میں امریکہ کے دورے کے دوران بے نظیر کو موثر حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ۱۵نومبر ۱۹۸۸ء کو گارڈین نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ پی پی پی کی صفوں میں درآنے والی حقیقت پسندی کا نتیجہ مایوسی اور پارٹی نفاق تھا۔ اس کا پرانا انداز تخاطب نئی عملیت پسندی میں بدل گیا۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر رضا مندی ، امریکہ کی علاقائی ترجیحات کی تائید اور سب سے بڑھ کر فوج سے مفاہمت اور اس کی بالادستی کو تسلیم کر لینا اس کے راہنما اصول قرار پائے ۔ ‘‘ بے نظیر نے فوج کو خوش رکھنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا، حتیٰ کہ اقبال اخوند کے الفاظ میں ’’وہ ضیا کی ماتحتی میں بھی وزیر اعظم بننے پر آمادہ تھیں۔ کیا یہ ان کی حقیقت پسندی کی انتہا تھی جس کی علامات جا بجا عیاں تھیں؟‘‘
۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء کو ضیا ء الحق حادثے کا شکار ہوئے تو فوج نے انتقال اقتدار کے لیے انتخاب کی حمایت کر دی ۔ ان انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹوں کے اجرا میں آصف زرداری نے ہاتھ دکھایا۔ ممتاز صحافی حسن مجتبیٰ کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کا انتخابی ٹکٹ حاصل کر نے کے لیے ایک ہی معیار تھا کہ امید وار زرداری سے وابستگی رکھتا ہو یا پھر پارٹی فنڈ کے لیے ۲۰ لاکھ سے ۵۰لاکھ روپے مہیا کرے۔ ویسے بھی سعید شفقت کے خیال میں بے نظیر نے اپنی پارٹی کو جمہوری مزاج دینے اور مضبوط بنانے میں بہت کم دلچسپی لی۔ ساز گار فضا کے باوجود نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ پیپلز پارٹی کو اتنے ووٹ نہیں ملے کہ حکومت چاندی کے طشت میں رکھ کر انہیں پیش کر دی جاتی۔ وہ سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر پائی ۔
بے نظیر نے حقیقت پسندی سے انتخابی مہم کا اختتام کرتے وقت کہا کہ ’’ پاکستان کی موجودہ حالت میں فوج کی مکمل حمایت کے بغیر سویلین حکومت قائم کرنا بے حد مشکل ہے ۔‘‘ اب جبکہ بے نظیر نے فوج کی کھلے عام اور غیر مشروط اطاعت کی قبولیت کا اشارہ دے دیا اور امریکی مفادات کے تحفظ کا بیڑہ اٹھا لیا تو اسٹیبلشمنٹ کو اسے وزیر اعظم بنانے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ اکانومسٹ کی یکم دسمبر ۱۹۸۸ء کی اشاعت کے مطابق انتخابات کے دس روز بعد امریکی سفیر رابرٹ اوکلے سے بے نظیر کی ملاقات کے بعد اسے امریکی تائید حاصل ہوگئی۔ اس نے تمام قواعد و ضوابط کو قبول کر لیا جن کے تحت اسے کاروبار حکومت چلانا تھا۔ بے نظیر بھٹو کی کابینہ جس کا اعلان ۴دسمبر کو ہوا، فوج ، صدر اور امریکہ کی خواہش کے مطابق تشکیل پائی ۔ ان دنوں میں حد سے زیادہ فعال امریکی سفیر کے علاوہ دو سینئرامریکیوں یعنی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے دفاع رچرڈ آرمیٹج اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار رچرڈ مرفی بھی کابینہ سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دینے پاکستان آئے تھے ۔ لہٰذا صدر کی جانب سے بے نظیر یعنی پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی عوت پر کسی کو حیرت نہ ہوئی۔ بے نظیر نے جب پہلی مرتبہ ایوان اقتدار میں قدم رکھا تو وہ پاکستان کی ۳۶سالہ کم عمر ترین اور پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ وہ کسی بھی اسلامی مملکت کی پہلی سربراہ حکومت اور دنیا کی کامیاب خاتون سیاستدان تھیں، کیونکہ اندرا گاندھی اور گولڈا میئر اپنی اہمیت کھو چکی تھیں۔ پاکستانی معاشرہ ابھی نئے عہد کے لیے مکمل طور پر تیار نہ تھا۔ پھر بھی بے نظیر سے قوم اور پارٹی کارکنوں نے بھاری بھر کم توقعات وابستہ کر لیں، مگر منقسم شخصیت کی مالک بے نظیر اپنے باپ سے کم نہ نکلیں۔ وہ ایک طرف آفاقی نظریات کی باتیں کرتیں تو دوسری طرف ان کا عمل ایک محدود نظر زندگی کی غمازی کرتا تھا۔ فوج اور بیورو کریسی کے گٹھ جوڑ اور امریکہ سے بے نظیر نے جو سودے بازی کی، اس سے انہیں اور پارٹی کو کچھ حاصل نہ ہوا۔ اقتدار فوج اور بیورو کریسی ہی کے پاس رہا جن کی نمائندگی صدر غلام اسحاق خاں کر رہے تھے، البتہ بے نظیر حکومت نے مقتدر عناصر کو ’’سیاسی جواز‘‘ ضرور فراہم کیا۔ انہوں نے فوج کو’’ تمغہ جمہوریت‘‘ بھی دیا۔ انہیں فائدہ تو حاصل نہ ہوا لیکن حقیقی مقتدر قوتوں کے کرتوتوں کا خمیازہ ضرور بھگتنا پڑا کیونکہ اس کھیل میں عوام کے مسائل جوں کے توں رہے۔ عوامی خوش فہمیوں کے غبارے سے جلد ہوا نکل گئی۔ بد عنوانی ، نااہلی ، اقربا پروری اور انتقامی کارروائیوں کے الزامات نے سپنے چکنا چور کر دیے۔ ان کے مختصر دور حکومت کی محدود کامیابیوں پر ان الزامات نے سیاہی پھیر دی جو ان کی مبینہ وڈیرہ ذہنیت اور متنازعہ شوہر مسٹرٹین پرسنٹ آصف علی زرداری کی سرگرمیوں کے حوالے سے لگائے گئے۔ اس دورمیں پارٹی کو مضبوط بنانے کی طرف توجہ نہ دے کر بے نظیر نے بھٹو کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا ۔
صدر نے ۱۶؍اگست ۱۹۹۰ء کو پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کر دی تو امریکہ کے کسی حلقے سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ ذرا عمومی تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتاہے کہ اس وقت مقتدر ری پبلکن پارٹی کو یہ بات نہ بھاتی ہو کہ بے نظیر کے بیشتر حامی اور مشیر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلقات رکھتے تھے ۔ غلام اسحاق خاں نے پی پی پی کے سابق سر براہ اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیر اعظم بنا دیا۔ بہرحال بے نظیر میدان سیاست میں موجود رہیں لیکن صدر نے انہیں اس لیے تو بر طرف نہیں کیا تھا کہ تین مہینے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ دوبارہ جیت جائیں، چنانچہ انتخابات کے نتائج ظاہر ہوئے تو آئی جے آئی کو ۱۰۵نشستیں ملیں جبکہ پی پی پی کو پہلی ۹۳کی بجائے اب صرف ۴۵ نشستیں ملیں۔ تاہم غلام اسحاق خاں نے نواز شریف کو وزیر اعظم بنانے میں کوئی کردار ادا کیا تھا تو وہ جلد ہی اس پر پچھتائے۔ ۱۸؍ اپریل ۱۹۹۳ء کو انہیں رخصت کر دیا گیا۔ ۶اور ۷؍اکتوبر کو انتخابات ہوئے۔ پیپلز پارٹی کو ۸۶اور مسلم لیگ کو ۷۲سیٹیں ملیں۔ بے نظیر بھٹو ۳سال تک اپوزیشن میں رہنے کے بعد پھر وزیر اعظم بن گئیں اور ۱۹؍اکتوبر کو حلف اٹھا کر سیاسی کشمکش میں ملک کو لگنے والے زخموں کو مندمل کرنے اور مفاہمت کے دور کا آغاز کرنے کا اعلان کیا۔ عام طور پر ہر نئی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد روایتی ہنی مون کا جو موقع ملتاہے، بے نظیر کو وہ بھی نہ ملا۔ سیاسی جنگوں، سماجی و اقتصادی مسئلوں ، محاذ آرائی کے علاوہ اس بار بے نظیر اور پیپلز پارٹی کو اپنے ہی گھر اور خاندان سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی صورت میں سامنے آیا۔ وہ خود کو اپنے والد کا حقیقی وارث سمجھتے تھے اور ان کی ماں نصرت بھٹو ان کے ساتھ تھیں ۔اس تنازعے کے پس منظر میں ان کے سیاسی مخالفین نے بھی حملے تیز کر دیے۔ بے نظیر نے سابق فوجیوں اور ضیاء الحق کے ساتھیوں کو نواز نے کا سلسلہ شروع کر دیا جس کی بڑی مثال جنرل (ر) سرو پ خاں کا گورنر پنجاب کی حیثیت سے تقرر تھا۔ پی پی پی اب مبینہ طور پر زرداری کے ہاتھوں میں آچکی تھی۔ پیپلز پارٹی نے سماجی انصاف کا جو وعدہ کیا تھا، اس سے انحراف کے بعد نہ صرف اس کے ارکان پارٹی چھوڑنے لگے بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس سے الگ ہو گئی۔ مرتضیٰ بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو نے ایک اور پی پی پی بنالی اور یاد دلایا کہ ان کے والد نے والدہ کو تا حیات چیئر پرسن بنایا تھا۔ سیاسی کھیل اب ہوس اقتدار سے ہوتا ہوا زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا۔ بھٹو کا دوسرا بیٹا بھی اقتدار پر قربان ہوا۔ ۱۹۹۵ء میں صرف کراچی میں تقریباً ۲ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ مختصر یہ کہ پیپلز پارٹی نے بے نظیر کے دوسرے دور میں بھی عوام کے لیے مایوسیوں کا اعادہ کیا۔ پارٹی کی تنظیم مسلسل کمزور ہوتی گئی ۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ ۲۱ستمبر ۱۹۹۶کو وزیر اعظم کے بھائی مرتضیٰ بھٹو ہلاک ہو گئے ۔ دگرگوں حالات کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن و منتخب صدر فاروق لغاری نے ۵نومبر ۱۹۹۶ء کی شب بے نظیر حکومت اور اسمبلیاں توڑ کر نگران حکومت قائم کی اور پی پی پی کے بانی رکن ۸۰ سالہ ملک معراج خالد کو وزیر اعظم مقررکر دیا ۔ یہ نگران حکومت بلا امتیاز احتساب کا عمل پیش نہ کر سکی۔ نئے انتخابات کا عمل شروع ہوا تو پیپلز پارٹی نے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے پولنگ سے صرف چار روز پہلے صدارتی حکم کی توثیق کا فیصلہ سنا کر پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو زبردست نقصان پہنچایا۔ پارٹی کے کئی اہم لیڈر پی پی پی شہید بھٹو گرو پ یا مسلم لیگ (ن) میں چلے گئے ۔ وزیر آباد سے سابق وزیر دفاع کرنل غلام سرور چیمہ مسلم لیگ میں اور جیکب آباد سے تعلق رکھنے تمام اراکین اسمبلی غنویٰ بھٹو کے ساتھ مل گئے۔ الیکشن نتائج بہت بُرے رہے۔ پی پی پی کا ووٹر گھروں سے ہی نہ نکلا۔ اس جماعت کا اصل مسئلہ ووٹر ز کا ٹرن آؤٹ رہا، کیونکہ بار بار مایوسی سے جیالے ناراض ہو چکے تھے۔ ذلت آمیز شکست کے بعد پیپلز پارٹی کی قائد نے حیرت انگیز طور پر باوقار انداز اختیار کیا اور محاذ آرائی کے خاتمے کی پیش کش کر دی۔ انہوں نے پارٹی پر بھی توجہ دی۔ ۱۹۹۷ء کے انتخابات میں انہوں نے اس تصور کی تردید کی کہ صرف بھٹو خاندان ہی پیپلز پارٹی کو متحد رکھ سکتاہے۔ ۱۹۹۲ء میں پی پی پی کی سلور جوبلی پر خطاب کرتے ہوئے بے نظیر نے کہا کہ ۱۹۹۰ء میں، میں نے پارٹی کا نیا تنظیمی پروگرام منظور کیا۔ اس کا لب لباب یہ تھا کہ ممبر سازی کی مہم چلائی جائے اور وارڈ کی سطح تک عہدے دار منتخب کیے جائیں۔ ہم مہینوں کمیٹیاں بناتے رہے اور تاریخیں بڑھاتے رہے۔ کام پورا کرنے کے لیے نہیں، صرف شروع کرنے کے لیے ۔ ظاہر ہے ایک خلا پیدا ہوگیا۔ انجام کار تنظیم کا مطلب ہی بدل گیا۔ منتخب نمائندہ کی جگہ نامزد نمائندوں نے لے لی ۔ ایسا کیوں ہوا؟ بے نظیر نے اس کی وضاحت نہیں کی لیکن پھر مارچ ۱۹۹۹ء میں پارٹی نے انہیں تاحیات صدر منتخب کر لیا۔ ۲۰۰۲ء کے مخصوص حالات کے مخصوص انتخابات کے مخصوص نتائج میں بھی پیپلز پارٹی بغیر کپتان کے کوئی بڑا کردار ادا نہ کر سکی۔ جو کامیاب ہوئے، ان میں سے ابن الوقتوں نے فارورڈ بلاک بنا کر پیٹریاٹ نام رکھ لیا۔ وہ پارٹی ٹکٹ لے کر جیتے، پر کامیابی کے بعد قلا بازی لگالی۔ اس سے پارٹی اور اس کے امیج کو نقصان پہنچا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں امید کی کرن بن کر ابھرنے والی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی مختصر تاریخ اس کی خود غرض قیادت اور تاریک کارکردگی کی وجہ سے رجائیت سے یا سیت تک کا سفر نظر آتی ہے ۔ جس طرح اس ملک کی ایک نسل مسلم لیگی ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی ایک وسیع البنیاد مخالف تحریک اور اکلوتی غالب سیاسی جماعت بن کر ابھر ی مگر وہ بھی مسلم لیگ کی طرح اپنے تین ادوار حکومت میں خود کو عوامی تحریک سے منظم سیاسی جماعت بنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس کی قیادت کوئی کارہائے نمایاں سرانجام نہ دے سکی ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ یہاں کمزور سیاسی جماعتوں نے ادارہ جاتی بحران میں بڑا عامل ہونے کا کردار ادا کیا ہے۔ اسی چیز نے یہاں پریٹورین ازم کا راستہ ہموار کیا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک بار پھر اہم موڑ پر ہیں۔ حالات بے نظیر کے لیے ۱۹۸۸سے زیادہ مختلف نہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیابے نظیر اس مرتبہ پھر ہوس اقتدار میں فوجی زعما کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے لیے پرانی پالیسی اختیار کرتی ہیں یا نئی دانش سے نیا راستہ چننے کا جرات مندانہ قدم اٹھاتی ہیں۔ پاکستان کے عوام سب سے بڑی سیاسی جماعت سے کسی تاریخ ساز کردار اور بڑے کارنامے کی توقع کر رہے ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی سیاست میں پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کا کردار ہنوزباقی ہے۔ پہلے دونوں ادوارمیں لاڑکانہ اور ریڈکلف کی بے نظیر میں کشمکش رہی۔ کچھ لوگوں نے بے نظیر کی سیاست میں آمد کو بھٹو کو دوسرا جنم سمجھا تھا۔ وہ بھی غلط ثابت ہوا۔ اب تک بے نظیر نے بہت کچھ غلط ثابت کیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار وہ عوام کو کس طرح حیران کرتی ہیں۔
تجدد پسندانہ رجحانات اور جدیدیت کا اسلامی فلسفہ
حافظ محمد سمیع اللہ فراز
اس امر میں شبہ کی گنجایش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ رنگ بدلتا رہا ہے۔ بہت کچھ پہلے بدل چکا ہے اورمزید بدلے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمود کسی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کو یخ بستہ کر دیتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زمانی ارتقا کی ہر تبدیلی اورہرجدید چیز صحت مند ہے؟ کیا ہر تغیر باعث خیر ہے؟ کیا تاریخ کا ہر قدم عروج ہی کی طرف اٹھتا ہے؟ اور کیا ہر حرکت بلندی ہی کی سمت لے جاتی ہے؟ ان سوالات پر جب تاریخ کی روشنی میں غور کیاجاتا ہے تو اس کا جواب نفی میں ملتا ہے کہ ہر حرکت ترقی کے لیے مثبت نہیں۔ ایک نوع کی حرکت اگر آپ کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے تو دوسری قسم کی حرکت تحت الثریٰ کی پستیوں تک لے اترتی ہے۔ مطلوب نفسِ حرکت نہیں بلکہ درست سمت میں حرکت ہے۔ ترقی ایک اضافی اصطلاح ہے، ورنہ ترقی اورتنزل کا فیصلہ منزل کے لحاظ سے ہی ہوسکتا ہے۔ ہم صرف اس حرکت کو ترقی کہہ سکتے ہیں جو صحیح راستے سے ہمیں منزل کی طرف لے جا رہی ہو اور جو حرکت منزل کے برعکس سمت میں لے جائے، وہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حرکت سے پہلے سمت حرکت اورمنزلِ مقصود کا تعین ہونا چاہیے، ورنہ محض جمود کو توڑنے کے شوق میں کوئی حرکت کسی قوم کو ترقی کی بجائے تنزل کا مسافر بنا سکتی ہے۔
موجودہ معروضی حالات کو اس فلسفہ کے تناظر میں دیکھاجائے تو ہر شخص ترقی کے مقصد کی خاطر متحرک نظرآتا ہے لیکن اسے سمتِ حرکت کا علم نہیں۔ خصوصاً امت مسلمہ اور اس کی منزل میں دوری پیداکرنے کا بنیادی سبب وہ طبقہ ہے جو ہر حالت میں ترقی کا متمنی ہے، قطع نظر اس سے کہ یہ سفر شاہراہِ اسلام پر طے ہو یا پھر اسلام مخالف ٹریک پر۔ زمانی تقاضوں سے مجبوری کے باعث کسی بھی فکری اساس سے محروم اور قرآن وسنت کی تعبیرنوکا خواہاں یہ تجددپسند طبقہ اسلامی قدامت پسندی، امتِ مسلمہ کی جمہوری روایات اور قدیم مسلم علمی روایت کو تجددپسندی، روشن خیالی اور اسلام کی جدید تعبیر نو سے بدلنا چاہتا ہے۔ وہ شعوری یا پھر غیر شعوری طور پر تقلید اغیار کی دعوت دے رہا ہے۔ تقلید اگر جدید کی، کی جائے تو وہ کوئی قابل فخر چیز نہیں بن جاتی، بلکہ اس کے نقصانات علی حالہٖ قائم رہتے ہیں جن کی بنا پر نہ صرف قوم کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑجاتی ہیں بلکہ وہ قوم اپنے افکار وروایات کی درستی اورخود کو بدلنے میں لگی رہتی ہے اور دوسروں کی شاگردی کے مقام سے آگے بڑھنا کبھی اسے نصیب نہیں ہوتا۔
تجددپسندی کا بنیادی اصول
اس طبقہ کی فکری تعمیر میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ وہ فکروفلسفہ بھی شامل ہے جو ہر نئی چیز کو خوب تراور قابل احترام ولائق اختیار سمجھتاہے۔ اس طبقہ کے ذہن کو مغربی ہومیونزم (Huminism) نے بہت حد تک متاثر کیا ہے جس کی اساس ’’ ناگزیر تاریخی ترقی‘‘ (Inevitability of Progress)کا اصول ہے جس کی رو سے ’’ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے، انسان کا ورثہ روز بروز بڑھ رہا ہے، ماضی حال سے اچھا ہے اور مستقبل حال سے اچھا ہوگا، ہمارے قدم لازماً ترقی اور عروج کی طرف اٹھ رہے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں‘‘۔
اس اصول کو ہیگل کے فلسفۂ تاریخ، مارکس کی معاشی تعبیرتاریخ وغیرہ نے بڑی تقویت پہنچائی ہے۔ اسی اندازِ فکر کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی ہر چیز کو کم مایہ وحقیر اور حال کی ہر شے کو قابل قدر سمجھا جارہاہے اور ترقی کا لازمی تقاضا یہ فرض کرلیاگیا ہے کہ جدیدیت کے نام پر ہر قدیم چیز کو بدل ڈالا جائے۔ یہ فلسفہ تجدد پسند طبقہ کے اذہان پر مسلط ہے اور وہ مختلف عنوانات سے اپنی ترقی پسندی اور روشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اپنی نظریاتی حدوں کو بھی بھول جاتے ہیں اور محض فیشن کے طور پر ہر قدیم چیز پر، خواہ وہ اپنے دین سے ہی متعلق کیوں نہ ہو، ناک بھوں چڑھاتے اور تنقیدی رجحان اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔
نظریاتی لحاظ سے تجددپسندی یا ماڈرن ازم کی فکری مثال معتزلہ کے ساتھ دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے قرآن وسنت کو قبول کیا، لیکن اس کی تعبیر میں اپنی عقل وتاویل کو معیار مقررکیا۔ امت مسلمہ کے جمہوری افکار سے متصادم معتزلی طبقہ بظاہر تو ختم ہوگیا لیکن وہ فکر باقی رہی۔ ماڈرن ازم کی جدید تحریک کا آغاز یورپ میں اس وقت ہوا جب اسپین میں سائنسی طریقہ کار کو فروغ حاصل ہوا تو چرچ کی بعض تعلیمات اس کے متصادم نظر آنے لگیں اور اسی چیز نے مذہب سے بغاوت کا راستہ پیداکیا۔ چنانچہ تجدد پسندی کی ابتدا کا بنیادی محرک یہی نظریہ تھا کہ مذہب کو حالات کے مطابق بدلنا چاہیے۔ یورپ میں عیسائی اور یہودی تجدد پسندوں نے اس فکر کو فروغ دینے کی کوشش کی کہ مذہب میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے اس کی تعبیر نو کی جائے اور نئی چیزیں لوگوں میں متعارف کروائی جائیں۔ اس کی ایک مثال چرچ میں گانا ہے جو کہ انیسویں صدی کی ایجاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خدا سے متعلق انسانی اور غیر انسانی دونوں قسم کے کلام بائبل میں شامل ہیں اور وقت کے موافق مذہب کی جدید تشکیل وتعبیرہی انجیل کوسچائی کے مقام پر باقی رکھ سکتی ہے۔ چنانچہ عیسائیت کی مذہبی تاریخ نے دیکھا کہ تعبیر نو کے نام سے شروع ہونے والے تجددپسندی کے سفر نے اہل کلیسا کو مذہب سے بیگانہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی منزل بھی گم کردی۔
اسلامی تجدد پسندی
مغربی تجدد پسندی نے نہ صرف اہل کلیسا سے ان کی مذہبی روایات چھینیں بلکہ اس کا دائرۂ کار وسیع ہوتا ہوا اسلامی دنیا تک بھی پہنچ گیا۔ قطع نظر اس سے کہ حالیہ مغربی تجدد پسندی اسلامی دنیا میں اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے مصروفِ عمل ہے، یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلامی دنیا کے تجدد پسند طبقہ نے مغربی ترقی کو، جو کہ دراصل روایتی تنزل ہے، دیکھتے ہوئے اسلام کی تعبیرنو کی تحریک شروع کررکھی ہے۔ قرآن ،جو کہ اسلام کا اساسی دستور ہے، اس کی اولین تعبیر خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وعمل ہے جسے حدیث کہاجاتا ہے۔ اسی دستور کی عملی شکل آپ کی سنت پیش کرتی ہے۔ تجددپسندی کی اس تحریک نے قرآن کی تعبیرِ اول (حدیث) کو ازکارِ رفتہ خیال کیا اور اسے قدامت پسندوں کی ’جذباتی وابستگی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مسلمہ اہمیت کا انکارکیا کیونکہ تعبیرِ اول(حدیث) کی عدم موجودگی میں ہی تعبیر نو ممکن ہے۔ بعدازاں اساسی دستور میں بدعات وخواہشات کے سدّباب کے لیے فقہا کے قائم کردہ اصولِ اجتہاد کو نشانۂ تنقید بنایا تاکہ اسلام کے اساسی دستور کی تعبیر نو میں وقتی خواہشات کے دخول میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ فقہ اور قدیم اصولِ اجتہاد کے مقام کو مشکوک ثابت کیاجاسکے۔
’تجدید ‘ اور ’تجدد‘
زمانی ارتقا اورجدیدیت کے متعلق دوقسم کے ردعمل مذہبی تاریخ میں نظرآتے ہیں: پہلا ’تجدید‘ اوردوسرا ’تجدد‘۔ تجدید یہ ہے کہ زمانی تغیرات کوملحوظ رکھتے ہوئے اصل دین کو اس کی اصل شکل میں زمانہ قریب وبعید کی زبان میں مکمل استدلال کے ساتھ پیش کیاجائے، نیز تدبر واجتہاد کے ذریعے سے دین کو اپنے دور کے حالات پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ ان تمام ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے جو قدرت نے انسان کو فراہم کیے ہیں اوراسلامی بصیرت کے ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کو قرآن وسنت کی روشنی میں طے کیا جائے۔ نتیجتاً ہرزمانے میں دین کی تعلیمات اورزندگی کے بہاؤ کے مابین تعلق اوررابطہ گہرا ہوتاجاتا ہے اورزندگی کا سفر اسلام کی شاہراہ سے ہٹنے نہیں پاتا۔
’تجدد‘ اس کے مقابلے میں وہ کوشش ہے جوزمانی تقاضوں کے نام پر خود دین کو بدل ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ زندگی اور زمانے کے درمیان ربط اس طریقے پر بھی قائم ہوجاتا ہے، لیکن یہ ربط اسلام کی سرزمین پر نہیں بلکہ لادینیت کی گودمیں پروان چڑھتا ہے۔ اس میں مذہب کی تعلیمات کو اصل قرار دے کر حالات کو اس کے مطابق ڈھالنے کی بجائے زمانے کی چلتی ہوئی تہذیب کو اصل اوربہترجان کر اس کے پیدا کیے ہوئے سوالات کے مطابق مذہب کو ڈھال لیاجاتا ہے۔ مؤخر الذکر طریقہ کار کو اگر مسلمان ہرزمانے میں اختیار کرتے چلے جائیں تو اسلام نام کی کوئی چیز اپنی جگہ پر اصل حالت میں باقی نہیں رہ سکتی، بلکہ اسلام سرے سے کسی متعین مذہب ومسلک اوردستورونظام کا نام ہی نہیں رہتا۔
دین اسلام میں تجدید وجدیدیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اورمجتہدین نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ایسے اصول متعین فرما دیے جن کے تناظر میں ہر جدید مسئلہ کا حل ممکن ہے، چنانچہ قدیم اصولِ اجتہاد کے ناقدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مسائل کی نشاندہی توکریں جہاں متقدمین کے اصولِ اجتہاد ناکافی ہوگئے ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا دین ثابت ومحکم ہے اورمحض زمانے کے انداز دیکھ کر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، لیکن یہ خیال کرنا بھی غلط ہوگا کہ زمانے کے تغیرات کو دین اسلام کلی طور پر نظرانداز کردیتا ہے۔ دین اسلام انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے وہ حدود واضح کردیتاہے جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ رہے جزوی اوروقتی امور تو ان کو شریعت کے دیے ہوئے بنیادی اصولوں کی روشنی میں ہروقت اور ہرزمانے میں حل کرنے کی اجازت ہے۔ یہ کام اجتہاد کے ذریعے سے انجام پاتا ہے اور اسی کی بدولت نظامِ دین میں حرکت وارتقا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ چنانچہ دین اسلام نے اجتہاد کو قیامت تک کے جدیدمسائل کے حل کا ذریعہ بنادیا، لیکن تجدد کی اس میں کوئی گنجائش نہیں کہ دین کی بنیادوں کو ہی بدلنے کی کوشش کی جائے۔ ماضی میں جب بھی تجدد نے سر اٹھایا تو علمائے حق نے سختی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور ہر ایسی تخریبی کوشش ملت کی رائے عامہ سے ٹکرا کر آخر کار ختم ہوگئی۔ آج بھی بنیادی کشمکش جدیدیت اور تجدد ہی کے درمیان ہے اورہماری تاریخ اس کی گواہ ہے کہ دین کو متجددین کی خاطر نہ کبھی ماضی میں بدلا گیا اورنہ آج بدلا جاسکتا ہے۔ کسی صاحب اثر شخصیت کی یہ طاقت نہیں کہ زمانے کے تقاضوں کا نام لے کر اسلام کو بدل سکے۔ اس معاملے میں جو انجام اکبر بادشاہ کی کوششوں کا ہوچکا ہے، وہی انجام ان نئے متجددین کے لیے بھی مقدر ہے۔
تجددپسندانہ افکار اورمحرکات
دورِ حاضرمیں تجدد پسندانہ افکار اورماضی کی ایسی کوششوں مثلاً دین اکبری وغیرہ کا موازنہ کیا جائے تو ان میں بہت حد تک مطابقت پائی جاتی ہے۔ تجددپسندانہ رجحانات کی عکاسی عرب محقق جمال الدین زرابوزو نے ان الفاظ میں کی ہے:
...they are also trying to remove the sunna and say the system of the old muhadditheen is insufficient. Most say (as do critics of the Bible) that we need a "higher criticism" of hadith and the earlier conclusions (Ijma) and Ijtihad are not sufficient.
’’[تجددپسند] سنت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پرانے محدثین کا نظام ناکافی ہے۔ (انجیل کے نقادوں کی طرح) اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث کے لیے انتقادِ اعلیٰ کی ضرورت ہے اور سابقہ اخذ کردہ نتائج (اجماع) اور اجتہاد کافی نہیں‘‘۔
اس کے علاوہ پیغمبر کی شخصیت کو انسان اور رسول میں تقسیم کرنا، سنت کو دنیاوی حیثیت دینا، متقدمین کے اجتہاد کو قابل اصلاح قراردینا، کسی بھی چیز کی پیروی کے لیے ہر ایک کو اجتہاد کی اجازت دینا، مذہب کو وقت ،ماحول اور جگہ سے متعلق کرنا، ضعیف حدیثوں سے استدلال، مبہم اصطلاحات کا استعمال، مذہبی تعلیمات کے لیے عقل کو بنیاد بنانا، اہل السنۃ والجماعۃ کی تشریحات کی مخالفت کرنااور نادر ومتروک آرا کو جزوِ بحث بنانا تجدد پسندی کے واضح رجحانات ہیں۔ واضح ر ہے کہ دورِ حاضر کی تجدد پسندانہ تحریک کا مرکزومحور دین اسلام کی وہ تعبیر ہے جو ان کی اپنی عقل کے لیے قابل تسلیم ہو۔چنانچہ’’اسلامی شناخت کی حقیقی تعبیر نو‘‘ کی آڑ میں مذکورہ تمام افکار کو فروغ دیا جاتا ہے ۔
جدیدیت کی طرف میلان کے محرکات میں انسان کی فطری جدت پسندی قابل تنقید نہیں، بشرطیکہ وہ فطری حدود میں ہو کیونکہ دین اسلام بھی عین فطرت ہے، اسی لیے دین حنیف کو فطرۃ اللہ قرار دیا گیا، لیکن انسانی فکر ٹھوکر وہاں کھاتی ہے جہاں وہ فطرت کو اپنی عقل کے سانچے میں پرکھنے کی کوشش کرتی ہے اورجو چیز مافوق العقل محسوس ہوتی ہے، اس کو تحت العقل کرنے کی انسانی کوشش منزل کو گم کردیتی ہے۔ مثلاً دین کی بنیاد وحی ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ وحی کا فلسفہ انسانی عقل کے گرد پھیلے حصولِ علم کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتا، چنانچہ انسان جب اس وحی کو ان ذرائع علم کے ساتھ ساتھ عقلی تناظر میں پرکھنے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو یہ رجحان اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ وحی کی ایسی تعبیر کرے جو عقل کے لیے قابل قبول ہو۔ چنانچہ تہذیبی غلبہ واثر، فکرنو سے ہم آہنگی اور زمینی حقائق سے متاثر انسان کے ہاں فلسفۂ وحی کی عقلی توجیہات ضروری ٹھہرتی ہیں جو کہ تجدد کا غیرمعمولی عنصر ہے۔ نتیجے کے طور پر دین کی الٰہیاتی تعبیر اور انسانی تعبیرکے درمیان ایک بُعد واقع ہوجاتا ہے اور یہی بُعد انسانی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
جدیدیت کا اسلامی فلسفہ
خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کا علم ہر شے کو محیط ہے، زمان ومکان کی قیود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو قانون ایسے خدا کی طرف سے ہو، اس کا کسی مخصوص زمانے کے ساتھ محدود ہوجانا کیسے ممکن ہے؟ خدا کی طرف سے دیے گئے قانون کو ازکار رفتہ کہنا جہالت ہے، کیونکہ وہ توہمیشہ اتنا ہی تازہ رہے گا جتنی صبحِ نو۔ خدا کا یہ قانون بنیادی طور پر ہدایت وضلالت کی حقیقت کو واضح کرتا اور اُن اصول واقدار کو بیان کرتا ہے جن پر وقت کے تغیرات، تہذیبوں کے عروج وزوال اورماہ وسال کی آمد ورفت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اِن وجوہ کی بنا پر جدیدیت(زمانی ارتقا) کے مطابق الٰہیاتی تعلیمات کی تبدیلی کا قطعاً امکان نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو انبیا وصلحا کی سنت سے معلوم ہوتی ہے۔ ہر نبی ایسے حالات میں مبعوث ہوا جب زمانے کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور زندگی کا دریا بالکل غلط رخ پر رواں دواں تھا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے زمانے کے چلن کے مطابق مذہب کو ڈھالنے کی کوشش نہیں کی بلکہ زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی سعی میں مصروف ہوگئے اور بالآخر صبغۃ اللہ کو غالب کردیا۔ قرآن میں اس حقیقت کو یوں بیان کیاگیا : ’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘ (الصف:۹)
انبیا نے زمانے کے تقاضوں سے سمجھوتا اور اس کے ساتھ مصالحت کرنے کی بجائے ہر ہر خرابی کے خلاف جنگ لڑی۔ زمانے کے آگے جھکنے والوں کو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف جواب یہ تھا کہ ’’خدا کی قسم اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اوربائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ مہروماہ کے عوض مَیں اس دعوت کو ترک کردوں تو میں ایسا نہیں کروں گا یہاں تک کہ اللہ اس دعوت کو کامیاب کردے یا میں اس راہ میں جان سے گزرجاؤں‘‘۔ اسلام عبارت ہی سنت نبوی کی پیروی سے ہے۔ اگرزمانے کی سنت، نبی کی سنت سے متعارض ہے تو وہ شخص اپنے دعواے ایمان میں جھوٹا ہے جو نبی کی سنت چھوڑ کر زمانے کی سنت کا اتباع کرے۔
انسانی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ عظیم کارنامے ہمیشہ انہی لوگوں نے انجام دیے ہیں جو حالات کی روپر بہنے کی بجائے ان کے مقابلے کے لیے اٹھے ہیں ۔ زندگی پر ان مٹ نقوش انہوں نے نہیں چھوڑے جو مرغ بادنما کی طرح ہوا کے رخ پر مڑتے اور دوسروں کی نقالی کرتے رہے بلکہ ان لوگوں نے چھوڑے جو ہوا کے رخ سے لڑے ہیں اور زندگی کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا۔ قابل تقلید وہ نہیں جو گرگٹ کی طرح صبح وشام بدلتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خود اپنا کوئی رنگ رکھتا اور دنیا کو اپنے رنگ میں رنگتاہے۔ مسلمان دنیا میں زمانے کی پیروی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے بلکہ وہ پوری انسانیت کی فلاح واصلاح کا ذریعہ بنائے گئے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑی ذلت اورکوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ خدا کانائب، سنت نبوی کا مدعی اور دینی روایات کا امین ہونے کے باوجود جدیدیت کو اپنے دین کے مطابق بدلنے کی بجائے اپنے ہی دین کو مسخ کرنا شروع کردے۔ یہ بزدل اورکم نظر لوگوں کا طریقہ ہے جنہیں ہوائیں خس وخاشاک کی طرح اڑائے پھرتی ہیں اورجن کی اپنی بنیاد نہیں کہ وہ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہ سکیں۔ مسلمان کا یہ شیوہ ہے کہ
زمانہ با تو نہ سازد
توبازمانہ ستیز
اقبال کے حوالے سے کچھ منفی رویے
محمد عمران ہاشمی
حکیم الامت سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک دنیا کو اپنے سحر میں گرفتار کیا، انہیں قلبی تسکین مہیا کی، اور جن کے پیغام کے تنوع نے انہیں عالمگیر قبولیت بخشی۔ بغور دیکھا جائے تو حضرت علامہ کے کلام(نظم ونثر) میں بنیادی حیثیت فلسفہ کی جان، تجسس کو حاصل ہے ،اور تحقیق جس کادستِ راست ہے اور حقیقت کبریٰ تک رسائی اور اس کابرسرِعام ابلاغ ہوپانا اس ساری تحقیق وجستجو کا مدعا معلوم ہوتا ہے۔ اب اس مقصد عظیم میں حضرت علامہ ؒ کہاں تک کامیاب ہوسکے، یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر اب تک بہت کچھ لکھا جاچکاہے۔ بہت سے ناقدین اور بہت سے پیروان فکرِ اقبال نے ان خطبات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ کچھ نے مثبت رنگ اختیار کیا اور کچھ نے منفی۔ جہاں علامہ اقبالؒ کی شاعری اور نثر نے گفتگو کے کئی باب واکیے اور کئی عقدے کُشا کیے ،وہاں کئی ابواب میں تشنگی، تشکیک اور تضادات کو بھی جنم دیا۔
حضرت اقبالؒ چونکہ ایک بڑی شخصیت کے طورپر سامنے آئے ،لہٰذا انہیں فکری ،فنی ،ادبی اور نجی سطح پر بھی زیر بحث لایا گیا اور مختلف مفروضات ا ورخیالات نے جنم لیا۔حضرت اقبالؒ کے ایام جوانی اور ان میں ہونے والے مختلف واقعات کو کھنگالا گیا۔ (مے نوشی،رقص وسرود کی محافل میں شرکت، یہاں تک کہ ایک زنِ بازاری کا قتل ان سے منسوب کیاگیا)۔
ان کی نظموں ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ پر کہا گیاکہ’’شکوہ‘‘دراصل علامہؒ کی قلبی واردات اور اصل موقف ہے جب کہ ’’جواب شکوہ‘‘انہوں نے بیرونی دباؤ اور خوف کے باعث لکھی تھی اور یہ کہ ان کا پیشتر کلام دراصل مشاہیر کے کلام کی منظوم ترجمہ کردہ صورت ہے یا یہ کہ مغربی ودیگر کلاسیکی شعرا وفلاسفہ کے نظریات وخیالات سے ماخوذ ہے۔ مثال کے طور پر ’’خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے‘‘ اصل میں بھگت کبیر کے ایک دو ہے یا بیت کا صرف ترجمہ ہے ۔
یہ تو ایک سیدھی سی بات ہے کہ جب زبان غیر سے شرحِ آرزو ہوگی تو کچھ نہ کچھ اضافہ یا کمی لازم ہے۔ ایسا ہی کچھ حضرت اقبال ؒ کے ساتھ بھی ہواہے۔ چونکہ آپؒ کے خطبات انتہائی مشکل طرز کلام رکھتے ہیں، لہذا آپ کے شارحین کو یہاں چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ اپنی طرف سے تشریحات اور توجیہات پیش کرسکیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ اقبال کے ہاں مذہب کا تصور، خدا کا تصور اور دیگر کئی ایک تصورات رائج تصورات سے مختلف ہیں اور تقدیر کے متعلق یہ کہ انسان کسی بھی وقت اپنا ارادہ بدلنے پر قادر ہے۔ البتہ خدا وقت کی تمام حرکات سے واقف ہے اور نگران کے طور پر ہے ۔اب یہ ایسے تصورات ہیں جن پر ہمارے اعتقادات اور یقین وایمان کی بلندوبالا عمارت ایستادہ ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بعض اصحاب (جن میں غلام احمد پرویز بھی شامل ہیں) اپنے اپنے مقاصد کی حصول کی خاطر علامہ کے نام کو استعمال کرتے رہے ہیں ،اور تا حال ایسا ہورہاہے (اگر چہ اس کے رد میں کئی ایک فاضل علما وضاحت کر چکے ہیں) اوربعض اصحاب حضرت اقبالؒ کو مذہب بیزاری اور جدت طرازی کی دوڑ میں شامل کرنے کی خاطر انہیں سرسید احمد خان کے مکتب فکر سے منسلک کرنے میں برابر لگے ہوئے ہیں اور ’’معراج‘‘جیسے اہم مذہبی اہمیت اور تقدس کے حامل واقعہ کے منکر قراردیتے ہوئے جلد بازی سے کام لیتے ہیں، اور علامہ کے کچھ رشتہ داروں کی قادیانی ہونے کے تناظر میں علامہ کے ڈانڈے بھی قادیانیت سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، حالانکہ یہ بات طے ہے کہ علامہ اقبالؒ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے، صوم وصلوٰۃ اورتلاوت قرآن ان کے محبوب معمولات میں شامل تھے۔
اور تو اور، ایسے معاملات میں علامہ کے فرزند ارجمند ڈاکٹر جاوید اقبال بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور وہ موقع بہ موقع اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں یوم اقبال پر ان کے ایک اخباری بیان میں شراب کشید کرنے کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنے کی ترغیب پائی جاتی ہے اور وہ ایسے خیالات کا اظہار یوم اقبال کی مناسبت سے کرتے ہیں جس میں ڈھکے چھپے انداز میں اقبال کی فکر کو غلط انداز میں پیش کرنے کی جسارت پائی جاتی ہے ۔ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت تو ایسے بے شمار واقعات اور خیالات سے پُر ہے جو حضرت علامہ کے کردار کو مسخ کرنے اور انہیں سست ،کاہل ،بد معاملہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش ہیں۔ معروف بزرگ شاعر وادیب شریف کنجا ہی نے جاوید اقبال کی گوشمالی کرتے ہوئے ایک تازہ مضمون میں ان خیالات کو ایڈی پس کمپلیکس سے تعبیر کیاہے جو کافی حد تک درست ہے ۔حضرت علامہ ؒ بہرحال ایک بشر ہی تھے اور بشری تقاضوں کے مطابق ان میں ذاتی حوالوں سے کمیاں اور کجیاں ہونا کوئی غیر معمولی واقعہ بھی نہیں ہے، البتہ ان کو اس طرح سے بڑھا چڑھا کر شائع کرنا کہ ان کے اصل پیغام سے لوگوں کی نظریں ہٹ جائیں یا ملت اسلامیہ کے نام انہوں نے جو پیغام چھوڑا ہے، ا س سے ملت اسلامیہ صرف نظر کرنا شروع کردے، کوئی کار خیر نہیں۔ جاوید اقبال فرماتے ہیں کہ وہ والد کی طرف سے محبت اور پیار کے جذبات کو ترستے ہی رہے۔ وہ اپنے والد کی طرف سے کسی بھی قسم کے احسان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے آپ کو ایک سیلف میڈ شخصیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی تناظر میں جناب شریف کُنجا ہی لکھتے ہیں کہ ’’۱۹۳۸ ء میں( علامہ کے) جانہار ہوجانے کے بعد وہ کون سے وسائل تھے جن کے سہارے جاوید عازمِ انگلستان ہوئے تھے کہ بظاہر آمدنی وہی تھی جسے والد چھوڑ گئے تھے اور مذکورہ گوشوارہ کے مطابق مالی سال (۴۵۔۱۹۴۴ء) میں جاوید صاحب کو کتابوں کی مد سے ۲۳۱۷۴ روپے کی بازیافت ہوئی تھی جسے ڈاکٹر صفدر محمود نے ۱۹۷۳ ء کے حوالہ سے ایک لاکھ کے برابر بتاتا تھا اور غالباً یہی کتابوں کی آمدنی سفرِ انگلستان کو آسان کرگئی تھی۔ ‘‘جناب شریف کُنجاہی اس قضیے پر ذرا نفسیاتی اندا ز میں بات کرتے ہیں او رجاوید اقبال کے باطن میں موجود ایک ناراض بیٹے کو دراصل حضرت علامہ کی طبع کی بیٹے میں جزوی منتقلی قرارد ینے پر بھی تیار نظر آتے ہیں جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ’’جس طرح بعض بدنی کیفیات کے زیر اثر بیٹے میں باپ کا عکس موجودہوتاہے، اسی طرح بعض غیر مادی کیفیات بھی باپ سے بیٹے میں منتقل ہوجاتی ہیں۔‘‘ ’’علامہ اقبال کے والد نے بھی جب اپنے بیٹے کے اس اقدام (یعنی کثرت ازواج) کو نہیں سراہاتھا تو بیٹے (علامہ مرحومؒ ) نے اسے اپنی انا میں مداخلت جاناتھا اور یہ شگاف عمر اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلاگیاتھا جس سے ۱۹۳۸ ء میں والد کی وفات کسی مرثیہ کا باعث نہ بن سکی تھی، جب کہ اس کے بعد سرراس مسعود کی موت ایک اثر انگیز نظم کوتخلیق دے گئی تھی‘‘۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علامہ کے قریبی ساتھیوں (جو تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے) کے ساتھ اختلافات اور محاذ آرائیاں منظر عام پر لائی جارہی ہیں۔ مثال کے طور پر ’’ماہنامہ نیاز مانہ ‘‘لاہورمیں مسلسل چھپنے والے مضمون ’’یادیں یاد گاریں‘‘میں مضمون نگار معروف تاریخ دان اور شاعر سید نصیر شاہ،ڈاکٹر جاوید اقبال اور دوسرے لوگوں کے توسط سے اس رائے کا اظہار کرچکے ہیں کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ کی تخلیق کے سلسلے میں اقبال اور چودھری رحمت علی میں اچھی خاصی نوک جھونک بالواسطہ اور بلاواسطہ ہوتی رہی ہے اور جاوید اقبال اس لفظ ’’پاکستان ‘‘ کو جناب علامہ اقبال ؒ کی تخلیق قراردیتے ہیں جبکہ یہ چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا، البتہ فاضل مضمون نگارنے اسے علامہ اقبال کا براہِ راست موقف کم اور حاشیہ برداروں، پیرووں اور عقیدت مندوں کا شاخسانہ زیادہ قراردیاہے جسے انہوں نے کافی تفصیل کے ساتھ لکھاہے۔
اپنے ایک حالیہ مضمون ’’غالب کا ہے انداز بیاں اور ‘‘ میں غالب کی مدحِ شاہ کا ذکر کرتے ہوئے معروف شاعر وادیب جناب ظفر اقبال لکھتے ہیں کہ ’’میر کے علاوہ بھی کئی ایسے اساتذہ کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جو درباری اور چاپلوس نہیں تھے۔حتیٰ کہ یہ علت پچھلی صدی میں علامہ اقبال تک میں بھی موجود رہی جو والئ بھوپال وغیرہ کے وظیفہ خوار رہے جس کی چند اور دلچسپ مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنا مجموعہ کلام’’پیام مشرق‘‘والئ افغانستان غازی امان اللہ خان کے نام معنون کیا ،اور جب نادر شاہ غازی نے امان اللہ کے تخت پر قبضہ کرلیا تو علامہ نے اپنی اگلی کتاب نادر شاہ کے حضور پیش کی، جبکہ ’’ضرب کلیم‘‘ نواب آف بھوپال سے منسوب ہوئی، حالانکہ وہ بے روز گار نہیں تھے اور پیشہ وکالت کو باقاعدہ اختیار کررکھا تھا‘‘۔
جیسا کہ آغاز میں کہا گیاہے کہ چونکہ حضرت علامہ برصغیر کے منظر نامے پر ایک واضح اور نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے، اس لیے ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی ظاہر ہے، بڑی سطح پر ہی ہونا تھا۔ ویسے علامہ اقبال کوبڑی شخصیت کے طورپر ماننے سے بھی کچھ لوگ گریزاں ہیں، جیسا کہ معروف کلام نگار حسن نثار نے گوجرانوالہ میں اپنی ایک گفتگو میں علامہ کے بارے میں کہا کہ ’’ وہ کوئی بڑی شخصیت وغیرہ نہیں تھا، بس جیسے اندھوں میں کانا راجہ ہوتاہے، کچھ ایسا ضرور تھا، اور یہ جو شاہین کا تصور ہے، یہ انہوں نے معروف پشتو شاعر خوش حال خان خٹک سے مستعارلیا ہے ‘‘۔
علامہ محمد اقبال ایک عظیم مفکر تھے جن کی فکر کسی مخصوص علاقے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے خودی کا جو پیغام دیاہے، وہ ایک ابدی اور عالمگیر پیغام ہے۔ ضرورت ہے تو اسے سمجھنے اور مثبت انداز میں سمجھنے کی۔ یہاں ان کے عقیدت مندوں اور شارحین کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ ایسے خیالات اور رویوں کی جانچ پرکھ نہایت احتیاط اور دیانت داری سے کریں اور اصل حقائق کو مثبت انداز میں سامنے لائیں تاکہ اقبالؒ کا فلسفہ اور ان کی فکر اور شاعری منفی انداز میں کی گئی تنقید کانشانہ نہ بنے۔
سید حسین احمد مدنیؒ اور تجدد پسندی
پروفیسر میاں انعام الرحمن
برصغیر پاکستان و ہند کی مقتدر مسلم شخصیات میں سے سلطان محمود غزنوی( متوفیٰ اپریل ۱۰۳۰ ) اورمغل بادشاہ اکبر ( م اکتوبر ۱۶۰۵ )ایک عرصے سے متنازعہ چلے آ رہے ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر (م مارچ ۱۷۰۷ ) کو بھی بآسانی ایسی شخصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک محمود غزنوی لٹیرا ہے اور بعض کی نظر میں بت شکن۔ اسی طرح اگر ایک طرف اورنگ زیب کی پارسائی کے گن گائے جاتے ہیں تو دوسری طرف اسے ظالم بیٹا تصور کیا جاتا ہے جس نے اپنے سگے باپ کو برسوں قلعے میں محصور کیے رکھا۔ مغل بادشاہ اکبر کا معاملہ قدرے جدا ہے۔ اگر مذہبی اصطلاح ’’ اجماع ‘‘ کو مستعار لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکبر کی’’ تجدد پسندی‘‘ کے خلاف مسلمانوں کے قدامت پسند حلقے کا اجماع ہو چکا ہے اور ایسے اجماع کے بعد بظاہر مزید کسی تحقیق و رائے زنی کی گنجایش باقی نہیں رہی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری راسخ العقیدہ دینی روایت ، قدامت پسندوں کے اعتقادی و تقلیدی رویوں سے بہت زیادہ مختلف رہی ہے اور خالصتاً دینی معاملات میں بھی تحقیق و جستجو کو تج دے کر اجماع کو حرفِ آخر تسلیم کرنے کوکبھی آمادہ نہیں ہوئی، چہ جائیکہ ایسے امور میں جہاں حکمرانوں کی پالیسیوں اور اقدامات کا تحلیل و تجزیہ مقصود ہو۔ امام شافعی ؒ (م ۲۰۴ھ) اور امام احمد بن حنبل ؒ (م ۲۴۱ھ) نے واضح طور پر اجماع کے اضافی پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مخالف قول کا علم نہ ہو تو اس سے اجماع واقع نہیں ہو جاتا۔ اگر خالصتاً دینی معاملات میں اجماع حرفِ آخر نہیں تو پھر سیاسی نما مذہبی معاملات ( جن میں عزیمت کے بجائے رخصت کو پیشِ نظر رکھنا زیادہ مفید ہوتا ہے) میں کسی نام نہاد اجماع کی بابت حساسیت کم سے کم ہونی چاہیے اور خلط مبحث سے حتی المقدور گریز کرنا چاہیے۔ اسی سلسلے میں ہم سید حسین احمد مدنی ؒ (م ۱۹۵۷ء) کے اس ’’تفرد‘‘ کو یہاں نقل کرنا چاہیں گے جو اکبر کی تجدد پسندی سے متعلق ’اجماع‘ کے خلاف ہے تاکہ تجدد پسندی کے حوالے سے تصویر کے دونوں رخ سامنے آ سکیں ۔ ملاحظہ کیجیے :
’’ واقع میں ایک غیرت دار شخص کا یہ خیال بجا ہے، مگر اسی کے ساتھ چند امور قابلِ ملاحظہ ہیں۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ ہند میں ابتداء اً جب مسلمان آئے، عام طور سے اہلِ ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور ترک چھوت چھات تو درکنار ، بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے، جس طرح آج برہما، سیام، چین کھاسیا پہاڑوں وغیرہ میں رائج ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے، مغربی پنجاب خصوصاً سندھ میں مسلمانوں کی زیادتی کا راز یہی ہے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی مرحوم کا زمانہ آیا ہے تو ہندووں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور شنکر اچاریہ عام مذہب ہند کو بودھ سے نکال کر برہمنی بناتا ہے اور حکومت بودھ کی کمزوری کی بنا پر جو کہ افغانستان ، بلوچستان ، سندھ ، لاہور سے فنا کر دی گئی تھی اور وسط ہند کے بھی بودھ راجواڑے محمود مرحوم کے پے در پے حملوں سے یکسر کمزور ہوگئے تھے، شنکر اچاریہ کو عوام پر بڑی کامیابی حاصل ہو جاتی ہے ۔ چاروں طرف دبے ہوئے برہمن جن کو بودھوں نے تقریباً دفن کر دیا تھا، اٹھ پڑتے ہیں اور تھوڑی سی مدت میں پھر برہمنی مذہب اقطار ہند میں پھیل جاتا ہے، اسی کے دل دادہ ہو جاتے ہیں۔ برہمن چونکہ دیکھ رہے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے اقتدار ہی کو نہیں بلکہ مذہب کو بھی مٹا رہا ہے ، جس کی بنا پر ان کی مذہبی اور دنیاوی سیادتوں کا خاتمہ ہو جائے گا، اس لیے انھوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈا پھیلایا اور مسلمانوں کو ملیچھ کا خطاب دیا۔ گاؤ کشی اور گوشت خوری کو اس کے لیے ذریعہ بنایا۔ عوام ہند کی ذہنیت ہمیشہ سے تارکینِ دنیا کی پرستش کرنے والی واقع ہوئی ہے، خصوصاً ہندو ذہنیت جس قدر سادھو اور فقیر کی پرستش کرتی ہے ، وہ اظہر من الشمس ہے۔ یہ ذہنیت بہت جلد شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک پھیل گئی اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ چونکہ اسلامی قوت کا قوت سے ان کو مقابلہ کرنے میں باوجود مساعی عظیمہ کامیابی نہیں ہوئی ، اس لیے اسی طریقے پر ان کی جدوجہد محصور ہو گئی اور اسی کو انھوں نے آلہ کار مدافعت بالقویٰ کا بھی بنانا چاہا ۔ پادشاہانِ اسلام نے اولاً اس طرف توجہ ہی نہیں کی ، بلکہ وہ تمام باتوں کا قوت سے مقابلہ کرتے رہے ، مگر شاہانِ مغلیہ کو ضرور اس طرف التفات ہوا ، خصوصاً اکبر نے اس خیال اور اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا اور اگر اس کے جیسے چند بادشاہ اور بھی ہو جاتے یا کم از کم اس کی جاری کردہ پالیسی جاری رہنے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی اور اسلا م کے دل دادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے نہ صرف اشخاص پر قبضہ کیا تھا بلکہ عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا ، مگر ادھر تو اکبر نے نفس دین اسلام میں کچھ غلطیاں کیں جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بد ظنی ہوئی ، اگرچہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے، ادھر برہمنوں کے غیظ و غضب میں اپنی ناکامی دیکھ کر اشتعال پیدا ہوا۔ ادھر یورپین قومیں خصوصاً انگلستان کو اپنے مقاصد میں کامیابی کا ذریعہ تلاش کرنا پڑا اور سب سے بڑا ذریعہ اس کا منافرت بین الاقوام تھا اور ہے ۔ اب سیوا جی کی تاریخ اور سکھوں کی کارروائیوں اور صوبہ جات کے باغیانہ کارناموں لارڈ کلائیو کے بنگال وغیرہ میں بذریعہ ہندو قوم فتح مندیوں میں اس ہاتھ کو بہت زیادہ کھیلتے ہوئے پائیں گے ، آج ہماری مہربان گورنمنٹ اس کے ذریعے بہت زیادہ کامیاب ہو رہی ہے۔ اس بنا پر اگرچہ بڑے درجے تک برہمنوں نے مسلمانوں سے اپنی قوم کو بڑے درجے تک محفوظ رکھا مگر اس نے ان کی متحدہ قومیت کا بھی شیرازہ بکھیر دیا اور خود ان میں بھی چھوت چھات کا عقیدہ جہلا نے پیدا کر دیا حتیٰ کہ بعض بعض خاندان برہمنوں کے بھی دوسرے برہمن سے چھوت چھات کرنے لگے ۔
آپ کو معلوم ہے کہ صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے اور جس روز صلح حدیبیہ تمام و کمال کو پہنچی ہے ، اسی روز انا فتحنا الآےۃ نازل ہوتی ہے ، جس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ تعجب کرتے ہوئے استفسار فرماتے ہیں ، او فتح ھو یا رسول اللہ۔ آپس میں اختلاط ہونا ، نفرت میں کمی آنا ، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معائنہ کرنا ، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا ، یہی امور تھے جنھوں نے افلاذ اکباد قریش کو کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینے کو پہنچا دیا۔ حضرت خالد بن ولید ، عمرو ابن العاص وغیرہ رضی اللہ عنہم اس طرح حلقہ بگوش اسلام بن گئے کہ قریش کی ہستی فنا ہو گئی ۔
الغرض اختلاط باعثِ عدم تنافر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا اور تنافر باعثِ ضد اور ہٹ اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے اور وہ اسلامی ترقی میں سدِ راہ ہونے والا اور چونکہ اسلام تبلیغی مذہب ہے ، اس لیے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے، غیر کو اپنے میں ہضم کرے، نہ یہ کہ ان کو دور کرے ۔ اس لیے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملیچھ کہیں تو ہم کو ان کو یہ نہ کہنا چاہیے ۔ اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں، ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہیے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں، ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ، غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہیے ۔ اسلام پدرِ شفیق ہے، اسلام مادرِ مہربان ہے، اسلام ناصح خیر خواہ ہے۔ اسلام جالبِ اقوام ہے ، اسلام ہمدرد بنی نوع انسان ہے۔ اس کو غیروں سے جزاء سےئتہ سےئتہ مثلہا پر کاربند ہونا شایان نہیں بلکہ اس کی غرض کے لیے سدِ یاجوج ہے۔ کفر نے کبھی اسلام سے عدل و انصاف نہیں کیا، ان یظہروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ (الخ) وغیرہ شاہد عدل ہیں، مگر اسلام نے انصاف، عدل و احسان کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ چھوڑنا مناسب تھا، اگرچہ انتقامیہ جذبات بہت کچھ چاہتے تھے۔ اگرچہ بعض دنیا دار بادشاہوں نے کوئی ظلم و ستم کیا ہے تو وہ اس کے ذمہ دار ہیں، اسلام ان کا روادار نہیں۔ اب تفصیلی باتیں عرض کرتا ہوں :
(۱) مشرکین بے شک نجس ہیں، مگر علت حکم آیت حسب سلیقہ عربیہ کہ مشتق کو محکوم علیہ قرار دینا ماخذ اشتقاق کو علت قرار دینا ہے، لہٰذا علت نجاست شرک ہو گا جو کہ نجس معنوی ہے۔ اسی بنا پر اگر مشرک کو سات سمندر سے غسل دیا جائے ، تب بھی بوجہ شرک وہ نجس ہی رہے گا، حالانکہ تین مرتبہ غسل سے نجاستِ ظاہری زائل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور اسلام متفق ہیں کہ مشرک کا سور، عرق وغیرہ پاک ہے۔ آیت میں مسجدِ حرام سے صرف خانہ کعبہ یا مسجد مکہ معظمہ مراد نہیں، بلکہ تمام حدِ حرم مراد ہے۔ اس میں مشرکین داخل ہو کر یا قریب آکر تجارت کر سکتے ہیں۔ اسواقِ اربعہ میں سے کوئی بھی مجلس مکہ معظمہ بلکہ نفسِ مکہ معظمہ میں منعقد نہیں ہوتی تھی تو پھر وان خفتم عیلۃ سے کیا مناسبت ؟ متنبی کہتا ہے :
لا تشتروا العبد الا والعصا معہ ان العبید لانجاس مناکید
ترجمہ : غلام اگر خریدے تو ساتھ ہی اس کی تادیب و تعلیم کے لیے چھڑی بھی ضروری ہے، کیونکہ غلام طبیعت کے ناپاک اور بے خیر ہوتے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ یہاں بھی مراد وہ ہی نجاست معنوی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو مسجد میں باندھا، دفود مشرکین کو مسجد میں داخل فرمایا وغیرہ ۔
(۲) کفر ہمیشہ سے ایسے ہی کرتا آیا ہے۔ آنحضرت علیہ السلام اور صحابہ کرامؓ اور اسلاف کے کارنامے یاد کیجیے ، انبیاء علیہم السلام کی تذلیل کفار نے اس سے بدرجہا زائد کی، پھر کیا وہ ذلیل ہوگئے ؟
(۳) احکامِ سیاسیہ ایک حالت نہیں رکھتے۔ کبھی زہر علانیہ دینے کا موقع ہو گا تو کبھی شکر کا شربت پیش کرنا ہو گا۔ آپ کو محض انتقام کبھی لینا ہو گا اور کبھی شفقت کے ساتھ درگزر کرتے ہوئے اپنی طرف کھینچنا۔ آج موقع ہے کہ بڑے دشمن سے ترکِ موالات کیجیے اور اس کو زک دینے کے لیے غیروں کو ساتھ لیجیے، جیسے یہود بنی حارثہ کو خیبر میں، صفوان بن امیہ اور دیگر طلقاء مکہ کو حنین میں، خزاعہ کو حدیبیہ وغیرہ میں ساتھ لیا گیا ۔ ایسی ان کی تذلیلات نے ہی اسلام کو بڑی مدد پہنچائی۔ ادھر مسلمانوں کو ان سے نفرت ہوئی، ادھر ان کی اقوام کو اسلام کی طرف رغبت ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کروڑوں آدمی تھوڑی سی مدت میں مسلمان ہو گئے۔ ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی مردم شماری موجودہ کی تقریباً نصف ہے۔ اگرچہ مساوات اور عدالت آپ کے خیال کی تائید کرتی ہے، مگر جذبہ اسلامیہ تنگ دلی کی اجازت نہیں دیتا۔ مداراۃ بالاعداء مع البغض الباطنی بالفعل زیادہ ضروری اور مفید ہے اور حتی الوسع موالاۃ ممنوعہ سے بچتے رہنا چاہیے۔
(۴) ضروریاتِ اسلامیہ اور وقتیہ کا لحاظ رکھتے ہوئے الانفع فالانفع پر عمل پیرا ہو نا چاہیے اور اھونھما کو اختیار کرنا چاہیے ۔
(۵) انگریزوں کے ساتھ معاملہ سیاسی غیر مذہبی نہیں ہے بلکہ مذہبی ہے، البتہ وہ اکبر الاعداء اور اقوی الاعداء اور اضرالاعداء ہیں اور ان کے اسلامیت سے نا امیدی ہے۔ مانحن فیہ ایسا نہیں، اگر وہ اسلامی دنیا پر مظالم گزشتہ سے تلافی اور آئندہ کے لیے دست بردار ہو جائیں تو ترکِ موالات وغیرہ میں تخفیف ضرور ہو گی، البتہ تا بقاء کفر مصالحت کی بنا پر نہ موالات تامہ ہو گی اور نہ معادات۔
(۶) اگرچہ انگریز وہ معاملہ چھوت چھات کا نہیں کرتے، مگر اسلام کے بدترین اور اعلیٰ ترین دشمن ہیں، بخلاف ہنود ، یہ ہمارے پڑوسی ہیں اور پڑوسی اگرچہ کافر ہو، پڑوسی پر حق رکھتا ہے ، کما ورد فی الحدیث۔ ان کے ساتھ ہمارا خون ملا ہوا ہے، رشتہ اور قرابت داری ہے یا آبا کے ساتھ یا جدات کے ذریعے سے، ان کے ساتھ ہندوستان میں ہم کو مجبوراً رہنا اور درگزر کرنا ہے۔ بغیر میل جول جس قدر بھی ممکن ہو ، ہندوستان میں گزرکرنا عادت مستحیل ہے ۔ اس لیے ضروریاتِ زندگیہ اس طرف تخفیف ضرور پیدا کریں گی۔ انگریزوں سے ہم کو نہ یہ تعلقات ہیں نہ مجبوریت ۔
(۷) جائز بلکہ مستحسن ہے ۔
(۸) یہ بھی جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے ۔
نئے تعلیم یافتہ اس چھوت چھات میں نہ صرف قومیت متفقہ کا ضرر سمجھتے ہیں بلکہ اپنی مذہبیت کا بھی شیرازہ بکھرتا ہوا پاتے ہیں اور انسانی اخوت کے خلاف پاتے ہوئے ازالے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی سیاسی زندگی کے لیے وبالِ جان جانتے ہیں۔ گاندھی جی خود اس کے ازالے کے لیے کوشاں ہیں، مگر جو مرض قرن ہا قرن سے آ رہا ہے ، وہ اس قدر جلد کس طرح دور ہو جائے۔ تجربہ اس پر دلالت کر رہا ہے کہ چھوت چھات ہندو قوم کو روزافزوں کمی کی طرف دھکیل رہا ہے اور اسلام باوجود ہر طرح کی کمزوریوں کے ترقی کر رہا ہے۔ پس مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے غور کیجیے۔ قلتِ وقت ہونے کی بنا پر چند مرتبہ ریل میں مضمون کو پورا کیا ہے ، معاف فرمائیے گا۔
والسلام : ننگِ اکابر حسین احمد غفرلہ
۱۸ ربیع الاول ۱۳۵۰ھ ‘‘
[ مکتوبات شیخ الاسلام، مکتوب ۶۳، ص ۱۷۰ تا ۱۷۸ ]
سوال یہ ہے کہ’ ’ بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ ‘‘ کے مصداق کون لوگ تھے اور کون لوگ ہیں؟ سید حسین احمد مدنی ؒ تو اکبر جیسے چند اور بادشاہوں کے خواہاں تھے یا کم از کم اس کی پالیسیوں کے تسلسل کے خواہش مند تھے ، تو کیا خود سید مدنی ؒ تجدد پسندی کی قدامت پسندانہ تعریف کے مصداق تھے؟ سوال یہ ہے کہ آج کی گلوبل دنیا میں پڑوسی کا مصداق کون ہے ؟ اور سید حسین احمد مدنی ؒ نے پڑوسی کے حوالے سے جس ’’ حق اور مجبوری ‘‘ کا ذکر کیا ہے، کیا اب اسے گلوبل تناظر میں دیکھنا تجدد پسندی کے زمرے میں آئے گا؟ سوال یہ ہے کہ آج کی گلوبل دنیا کے ’’ بودھ ‘‘ کون ہیں اور کون سا مسلم حکمران یا مسلم طبقہ ’’ محمود ‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے یا ادا کرنے کی کوششوں میں ہے اور برہنی موقع پرستوں کے لیے فضا ہموار کر رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ سید حسین احمد مدنی ؒ نے اکبر کی مذمت کرنے کے بجائے اس کے مخالفین کو غافل اور کم سمجھ کیوں قرار دیا؟ سوال یہ ہے کہ اکبر کی پالیسیوں پر تجدد پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ’’اجماعی مخالفت‘‘ بہت بڑھ چڑھ کر کیوں کی گئی اور کیوں کی جا رہی ہے ؟
جواب یہ ہے کہ اکبر کے ’’ اجماعی مخالفین ‘‘ اس کے اقدامات کے مظہر phenomenon) ( پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں، ان کے ہاں اس مظہر کی تسلیمیت (confession) جس قدر بھر پور ہے، اس سے بہت زیادہ اس مظہر کی تفہیم (understanding) مفقود ہے۔ سید مدنی ؒ کے اس مکتوب میں اکبری اقدامات کی تفہیم بھر پور ہے اور ظاہر ہے کہ بطور مظہر کے انھوں نے ان اقدامات کو تسلیم بھی کیا ہے۔ سیدحسین احمد مدنی ؒ کے اسی مکتوب کے حاشیے میں درج، شہنشاہ بابر (م دسمبر ۱۵۳۰) کی اس وصیت سے جو اس نے شہزادہ ہمایوں (م جنوری ۱۵۵۶ ) کو کی، زیرِ بحث نکتہ واضح ہو جاتا ہے:
’’اے پسر! ہندوستان مختلف مذاہب سے پر ہے۔ الحمد للہ اس نے بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ہے ، تمہیں لازم ہے کہ تم تعصباتِ مذہبی کو لوحِ دل سے دھو ڈالو اور عدل و انصاف کرنے میں ہر مذہب و ملت کے طریق کا لحاظ رکھو ، جس کے بغیر تم ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ اس ملک کی رعایا، مراحم خسروانہ اور الطاف شاہانہ ہی سے مرہون ہوتی ہے۔ جو قوم یا ملت قوانینِ حکومت کی مطیع اور فرماں بردار رہے، اس کے مندر اور مزار برباد نہ کیے جائیں ، عدل و انصاف ایسا کرو کہ رعایا بادشاہ سے خوش رہے، ظلم و ستم کی نسبت احسان اور لطف کی تلوار سے اسلام زیادہ ترقی پاتا ہے ، شیعہ سنی جھگڑوں سے چشم پوشی کرو ، ورنہ اسلام کمزور ہو جائے گا۔ جس طرح انسان کے جسم میں چار عناصر مل جل کر اتفاق و اتحاد سے کام کرتے ہیں، اسی طرح مختلف مذاہب رعایا کو ملا جلا کر رکھو، ان میں اتحادِ عمل پیدا کرو تاکہ جسمِ سلطنت مختلف امراض سے محفوظ و مامون رہے۔ سرگزشتِ تیمور کو جو کہ اتفاق و اتحاد کا مالک تھا ، ہر وقت اپنی نظر کے سامنے رکھو ، تاکہ نظم و نسق کے معاملات میں پورا تجربہ حاصل ہو ۔‘‘
اس وصیت کے تنقیدی مطالعے سے اکبر کی پالیسیوں کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے کیونکہ اس سے وہ پس منظر نمایا ں ہو جاتا ہے جس میں ہمایوں کے بیٹے اکبر کو کاروبارِ حکومت سنبھالنا پڑا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ سید حسین احمد مدنی ؒ نے اکبر کی ’’ تجدد پسندی ‘‘ کی حمایت اتنے واضح انداز میں کیوں کی۔ جس دور میں یہ وصیت لکھی گئی ، اس وقت برصغیر پاکستان و ہند بہت وسیع خطہ تھا، لسانی، نسلی، مذہبی اور ثقافتی تنوع سے مالا مال تھا ، زرعی دور ہونے (اور تکنیکی ترقی نہ ہونے) کے باعث ایک مرکز کے تحت اتنے بڑے خطے پر کنٹرول کرنا اور امن و امان قائم کرنا آسان نہیں تھا ،بالخصوص اس صورتِ حال میں جبکہ مسلمان غالب اکثریت میں نہیں تھے ، اسی لیے بابر نے حقیقت پسندانہ پیراڈائم (paradigm) اختیار کیا ۔ آج کی گلوبل دنیا کو بابر کے ہندوستان کے مصداق سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ تکنیکی ترقی کے باعث دنیا سمٹ چکی ہے ۔اب پوری دنیا لسانی، نسلی، ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے تنوع کی حامل ہے اور مسلمان ( بابر کے ہندوستان کے مانند ) اکثریت میں نہیں ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ شہنشاہ بابر اسلام کی ترقی کن عناصر میں دیکھ رہا تھا؟ کیا انہی عناصر کی آبیاری کی ضرورت نہیں تھی اور کیا اب اس وقت بھی ضرورت نہیں ہے؟ دوبارہ غور کیجیے کہ بابر نے وصیت میں شیعہ سنی مسئلے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بابر کے زمانے کے ہندوستان میں اس مسئلے کی جو اہمیت تھی اور اس حوالے سے جس سنجیدگی کے ساتھ مصالحت و موافقت کی ضرورت تھی، اب اس مسئلے کی بالکل ویسی ہی اہمیت اور اسی سنجیدگی کی مصالحت و موافقت ، اسلام کی ترقی کے لیے گلوبل سطح پر درکار ہے۔ موجودہ عالمی حالات ہماری رائے کی ثقاہت پر شاہد ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کو سمجھے بغیر (کہ شیعہ سنی مسئلہ ہمارے تہذیبی مسلمات میں سے ہے)، قدامت پسندوں کا ایک بہت بڑا حلقہ ہمیشہ کی طرح ایسی موافقت پر ناک بھوں چڑھائے گا اور ہر طرح کی مصالحتی کوشش کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ تجدد پسندی قرار دے کر اسلام کی ترقی میں رکاوٹ بنے گا۔ اسلامی تاریخ سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی غیر جانبدار شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گا کہ مسلم ریاستوں اور حکومتوں کی شکست و ریخت میں غیر مسلموں نے شیعہ سنی جھگڑے کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس جھگڑے میں کون فاتح رہا تھا یا فاتح ہو گا، کسے شکست کی ہزیمت اٹھانی پڑی تھی یا شکست کھانی ہو گی، یہ ایک الگ مسئلہ ہے، لیکن اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ دونوں کی فتح و شکست سے قطع نظر، نقصان اسلام کا ہوا تھا اور اب بھی نقصان اسلام کا ہی ہو گا۔
اکبر کی پالیسیوں کو تجدد پسندی کا نام دینے والے اس کے ’’اجماعی مخالفین‘‘ تفہیم سے دوری کے باعث یہ اہم نکتہ بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ریاستوں اور حکومتوں کے اقدامات کے اثرات دیرپا اور مطلق نہیں ہوتے، بلکہ معاشرتی عناصر زیادہ گہرے اور زیادہ دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ ایک ریاست کے اندر حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور حکومتوں کے بدلنے کے ساتھ حکومتوں (یا مقتدر شخصیات) سے منسلک اقدامات بھی ترک کر دیے جاتے ہیں اور اس پر کوئی خاطر خواہ ردِ عمل بھی سامنے نہیں آتا۔ (اسی لیے اکبر کی تجدد پسندی کے خاتمے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، اور یہی نکتہ سید حسین احمد مدنیؒ کے پیش نظر بھی نہیں رہا۔ وہ حکومتی سطح پر ہی اکبر کی پالیسیوں کے تسلسل کے خواہاں نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ عمل سماجی سطح پر زیادہ موثر اور پائیدار ہوتا ہے) حکومتیں تو ایک طرف رہیں، ریاستیں بھی ٹوٹتی بنتی رہتی ہیں اور نتیجے کے طور پر ریاستی قوت و اقتدار کے بل بوتے پر کیے گئے اقدامات بھی طفیلی ہونے کے باعث ڈانواں ڈول رہتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی حکومت یا ریاست ’’تجدد پسندی‘‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے ’’دینِ الہٰی‘‘ نافذ کرے یا روشن خیالی کے نام پر ’’حقوق نسواں بل‘‘ پاس کرے یا اسلامی نظام کے نفاذ کا لبادہ اوڑھ کر ’’حدود آرڈیننس‘‘ جاری کرے، اس کے کوئی خاص دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔ لیکن اگر کوئی کام سماجی سطح پر کیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ مطلق، زیادہ اہم اور زیادہ دیرپا ہوتے ہیں، کیونکہ سماج کی عمر صدیوں پر محیط ہوتی ہے، اس لیے سماجی قوت کا اظہار بھی موثر اور صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک مثال دینی مدارس کی دی جاسکتی ہے کہ یہ مدارس، ریاستی و حکومتی سرپرستی سے بے نیاز ہو کر سماجی قوت کے بل بوتے پر پروان چڑھے ہیں اور مضبوطی سے قائم ہیں۔ ہمارے کہنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ قدامت پسندوں کو ایسی ’’ تجدد پسندی‘‘ سے زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہیے جو دینِ الہٰی یا حقوقِ نسواں کے نام سے ہو (کیونکہ ریاستی و حکومتی مظہر ہونے کے باعث ان کی عمر مختصر ہوتی ہے)، بلکہ قدامت پسندوں کو ان مظاہر پر گہری نظر رکھنی چاہیے جو سماجی ہونے کے باعث طویل العمر اور گہرے اثرات کے حامل ہیں۔ لیکن چونکہ قدامت پسندوں کے نزدیک تجدد پسندی کے ایک خاص معنی ہیں، اس لیے ان کی نظروں میں اکبری اقدامات جیسے مظاہرتو چبھ رہے ہیں، لیکن اعتقادی دھند میں انھیں تجدد پسندی کی وہ لہر دکھائی نہیں دے رہی جو پوری دنیا میں مذہب کا وہ ایڈیشن متعارف کروا رہی ہے جسے کمیونسٹوں نے عوام کے لیے افیون قرار دیا تھا۔ یہ لہر تبلیغ کے نام پر اٹھ رہی ہے اور فیملی سسٹم کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔ اسلام /مغرب کشمکش کے موجودہ سنگین ماحول میں فیملی سسٹم ’’معیار اور پیمانہ ‘‘ بن چکا ہے، لیکن صلہ رحمی جیسی بنیادی اسلامی قدر جو فیملی سسٹم کے لیے درحقیقت ریڑھ کی ہڈی ہے، اس تجدد پسندی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ اگر سروے کر کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو خاندانوں کی تباہی کی داستان پر مشتمل ایک مبسوط دستاویز تیار کی جا سکتی ہے۔ اہلِ مغرب کو اب زیادہ پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جو کام وہ کرنا چاہتے ہیں، ہمارے مہربان بغیر تنخواہ کے وہی کام بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ اسلام میں فیملی سسٹم، صلہ رحمی اور اجتماعی رجحانات کو فروغ دینے کے دو بڑے مظاہر عید الفطر اور عید الاضحی ہیں۔ یہ تجدیدی لہر ان مظاہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ۔ اب عیدین کے مواقع پر ایسے ’’مقدس لوگ ‘‘ ملتے ہیں جو اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، بہن بھائیوں، عزیزو اقارب وغیرہ کے ساتھ عید منانے کے بجائے گھروں سے دور تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ سید نا عمر فاروقؓ نے ایک خاص حکمت کے تحت چار ماہ کے بعد فوجیوں کی چھٹی کو لازم قرار دیا تھا، لیکن تجدد پسندی کی اس لہر نے اس حکمت کے بھی تارو پود بکھیر دیے ہیں اور ایک سال کے مٹر گشت کی طرح ڈالی ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ اگر کوئی مٹر گشت کے دوران میں کہیں آنا جانا چاہے تو ایسا کرنے کی صورت میں وہ ’’احساسِ گناہ‘‘ سے دوچار ہو جاتا ہے جیسے روزہ توڑ لیا ہو یا حج کو ادھورا چھوڑ آیا ہو ۔ سید حسین احمد مدنی ؒ نے اپنے مکتوب میں صلح حدیبیہ کا ذکر کیا ہے کہ اس عہد نامے کی دفعات بظاہر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھیں، لیکن اس کا حتمی فائدہ اسلام اور مسلمانوں کو ہی پہنچا۔ تجدد پسندی کی مذکورہ لہر کو صلح حدیبیہ کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ لہراسلام اور مسلمانوں کے بظاہر مفاد میں ہے، لیکن اس کا حتمی نقصان اسلام اور مسلمانوں کو ہو گا ۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ تجدد پسندی کی یہ لہر سماج سے اٹھی ہے اور سماج کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ سماج سے اٹھنے کے باعث یہ بہت زور آور ہے اور سماج کو لپیٹ میں لینے کے باعث اس کے اثرات بھی لازماً بہت دیرپا ہوں گے۔ اب اگر کوئی اس لہر کے مقابل آئے تو اسے انتہائی شدید ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ تجدد پسندی کی اس لہر کا بروقت محاسبہ کیوں نہ کیا گیا؟ جواب یہ ہے کہ مذہبی حلقے میں خود تنقیدی کے رویے کے نہ پنپنے سے تجدد پسندی کی یہ لہر رواج پا گئی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ایک یوتھ کنونشن میں ایک مذہبی نوجوان نے جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں جنرل موصوف کو خوب لتاڑا ۔ اس نوجوان کی تقریر مذہبی حلقے میں کافی مقبول ہو رہی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ کوئی ایسی قابلِ فخر بات نہیں ہے، کیونکہ ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں لاکھوں مذہبی نوجوان موقع ملنے پر ایسی تقریر کر سکتے ہیں بلکہ جمعے کے خطبات میں کرتے بھی ہیں ۔ وہی نوجوان اور دیگر مذہبی نوجوان، اپنے شیوخ و اکابر کے افکارواعمال کا بھی اگر اتنی ہی مستعدی سے پوسٹ مارٹم کریں جس بے باکی سے وہ حکومتی پالیسیوں اور شخصیات پر تنقید کرتے رہتے ہیں تو یہ بات یقیناًاہم اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہاں اکابر پرستی ، قصیدہ گوئی کی طرف مائل کرتی ہے، تنقید و تنقیح اور تحقیق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس حوالے سے اگر عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے متعلقین اور اپنے ماحول میں موجود لوگوں کو مخاطب کیا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ آپ کے مخالف ہو گئے ۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متعلقین کے بجائے غیروں کو مخاطب کرتے اور اپنے ماحول سے باہر کے لوگوں کے خلاف بات کرتے تو کیا آپ کے متعلقین اور آپ کا ماحول آپ کا ہم نوا اور حلیف نہ بنتا؟ اسی بات کو دوسرے رخ سے دیکھیے کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام قبول کیا، کیا ان کے قبولیتِ اسلام میں خود تنقیدی کے عمل کا کوئی کردار نہیں تھا؟ یہ درحقیقت خود تنقیدی کا عمل تھا کہ اسلام قبول کرنے والے اپنے ہی ماں باپ، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب، آبا و اجداد اور اپنے ہی قبائل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے برعکس اسی زمانے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی موجودگی کے باوجود ، جو لوگ اسلام قبول نہ کر سکے، ان کے قبولیتِ اسلام میں مانع، خود تنقیدی کے رویے کا فقدان تھا ۔ ایسے لوگ صرف اس سچ کو مانتے تھے جو غیروں کے خلاف اور اپنے ماحول کے باہر کے لوگوں کو چیلنج کرنے سے عبارت تھا۔ اب فیصلہ قدامت پسندوں کو کرنا ہے کہ وہ تجدد پسندی کی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کرتے رہیں گے اور اپنے ماحول میں قصیدہ گوئی کو فروغ دیتے رہیں گے یا سید حسین احمد مدنی ؒ کے مانند صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل کی پیروی کرتے ہوئے خود تنقیدی کے رویے کی آبیاری کریں گے۔
غامدی صاحب کے تصور ’فطرت‘ کا تنقیدی جائزہ
حافظ محمد زبیر
’المورد اسلامک انسٹی ٹیوٹ ‘کے سرپرست ‘ماہنامہ ’اشراق ‘کے مدیر اور’ آج ‘ٹی وی کے نامور اسکالر جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے دو اہم اصولوں ’سنت ابراہیمی ‘ اور ’نبیوں کے صحائف ‘ کا تنقیدی اورتجزیاتی مطالعہ ماہنامہ ’الشریعہ ‘ کے صفحات میں پیش کیا جا چکا ہے۔ بعض علم دوست ساتھیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ گزشتہ مضامین کی روشنی میں غامدی صاحب کے مآخذ دین اور اصولوں کا اجمالی تعارف بھی قارئین کو کروا دیا جائے تو بہت مفید ہوگا۔ زیر نظر مضمون میں ہم ان کے اصول ’دین فطرت کے بنیادی حقائق ‘ پرکچھ معروضات پیش کریں گے۔
غامدی صاحب کے مآخذ دین، علی الترتیب، درج ذیل ہیں :
۱) دین فطرت کے بنیادی حقائق
۲) سنت ابراہیمی
۳) نبیوں کے صحائف
۴) قرآن مجید
غامدی صاحب کے اصل اصول یہی چار ہیں جبکہ ان چار کے علاوہ بھی غامدی صاحب کے کچھ اصول ہیں جن سے ضرورت پڑنے پر غامدی صاحب استدلال کرتے ہیں لیکن ان کو مستقل مآخذ دین نہیں سمجھتے۔یہ اصول درج ذیل ہیں :
۵) حدیث
۶) اجماع
۷) امین احسن اصلاحی ‘جنہیں وہ امام کہتے ہیں ۔
غامدی صاحب کے نزدیک سب سے پہلا ماخذ جس سے دین حاصل ہوتا ہے، فطرت انسانی ہے اور یہی ماخذ ان کے نزدیک اصل الاصول یعنی باقی تمام مآخذ کی بنیاد بھی ہے، جیسا کہ ہم آگے چل کر اس کو ثابت کریں گے ۔ دین کا دوسرا ماخذ ان کے نزدیک نبیوں کی سنت ہے یعنی ایسے اعمال جن پر تمام انبیا عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ یہ اعمال حضرت ابراہیم کی زندگی میں آ کر ایک واضح شکل اختیار کر گئے تھے، اس لیے اب ان اعمال کی نسبت پچھلے انبیا کی بجائے حضرت ابراہیم کی طرف ہو گی۔ تیسرا ماخذ ان کے نزدیک نبیوں کے صحائف یعنی تورات ، انجیل اور زبور وغیرہ ہیں۔ اور دین کا چوتھا اور آخری ماخذ ان کے نزدیک قرآن مجید ہے، اسی لیے وہ قرآن کو دین کی آخری کتاب کہتے ہیں یعنی دین تو پہلے سے چلا آرہا ہے اور قرآن نے آ کر اس کی تکمیل کی ہے۔ باقی جہاں تک حدیث رسول یا اجماع امت کا معاملہ ہے‘ اس کو غامدی صاحب دین کا کوئی مستقل ماخذ نہیں مانتے۔ لہٰذا غامدی صاحب کے اصل اصول چار ہی ہیں جن پر ان کی پوری فکر استوار ہے۔ غامدی صاحب نے ان چار اصولوں کو اپنی کتاب میزان (فصل اصول و مبادی) میں ص ۴۷ سے ص ۵۲ تک تفصیلاً بیان کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام دین فطرت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ فطرت انسانی اس قابل ہے کہ اس سے دین اسلام ‘احکام الہٰی‘ اوامرو نواہی یاحلال وحرام کا تعین ہو سکتا ہے۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے بندوں کو جس فعل کے بھی کرنے کا حکم دیا ہے، فطرت سلیمہ اس فعل کے کرنے کی طرف ایک فطری رجحان اپنے اندر محسوس کرتی ہے اور جس فعل کے کرنے سے اللہ تعالی نے بذریعہ وحی ہمیں روک دیا ہے، فطرت سلیمہ بھی اس فعل سے ابا کرتی ہے۔ احکام الہٰی فطرت انسانی کے مطابق تو ہیں لیکن فطرت انسانی سے ان کا تعین نہیں ہو سکتا۔ یہی غلط فہمی جس میں آج غامدی صاحب مبتلا ہیں، ایک دور میں معتزلہ کو ہوئی۔ معتزلہ کا کہنا یہ تھا کہ عقل سے شریعت کا تعین ہو سکتا ہے۔ عقل جس چیز کو اچھا سمجھے گی، شریعت کی نظر میں بھی وہ چیز مستحسن ہے اور عقل جس کو برا سمجھے گی، شریعت کی نظر میں بھی وہ چیز بری ہے۔ معتزلہ نے جومقام انسانی عقل کو دیا تھا، غامدی صاحب اسی درجے پر فطرت انسانی کو رکھتے ہیں۔ اس دور میں امام ابو الحسن الأشعری اور امام ابو منصور ماتریدی نے معتزلہ کے اس مؤقف کا کہ عقل سے بھی اللہ کے حکم کو معلوم کیا جا سکتا ہے، سختی سے رد کیا جس کی تفصیلات اصول کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس مختصر تمہید کے بعد اب ہم اپنی اصل بحث کی طرف آتے ہیں۔
غامدی صاحب کا تصور فطرت
غامدی صاحب اپنی کتاب ’میزان‘ ( اصول و مبادی) میں لکھتے ہیں :
’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جو جانور پیدا کیے ہیں، ان میں سے بعض کھانے کے ہیں اور بعض کھانے کے نہیں ہیں۔ یہ دوسری قسم کے جانور اگر کھائے جائیں تو اس کا اثر چونکہ انسان کے تزکیہ پر پڑتا ہے ، اس لیے ان سے ابا اس کی فطرت میں داخل ہے۔ انسان کی یہ فطرت بالعموم اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھاناچاہیے۔ اسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب ،سانپ ،بچھو، اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔وہ جانتا ہے کہ گھوڑے ،گدھے ،دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اس میں شبہ نہیں اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی۔چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی ان جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ انسان کو اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ اس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور ان کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہاعقل وفطرت کی رہنمائی میں کر لینا ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے ،لیکن درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے، پھر اسے کیاکھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو ان کا کیا حکم ہونا چاہیے؟ انھی جانوروں کا خون کیا ان کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اسے حلال وطیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر خدا کے سوا کسی اورکے نام پر ذبح کردیے جائیں تو کیا پھربھی حلال ہی رہیں گے؟ ان سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اسے بتایاکہ سؤر ،خون،مردار اور خدا کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔چنانچہ قرآن نے بعض جگہ ’قل لا أجد فی ما أوحی ‘اور بعض جگہ ’انما‘ کے الفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت وحرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں ...بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں ،چنگال والے پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ ہم اگر چاہیں تو ممنوعات کی اس فہرست میں بہت سی دوسری چیزیں بھی اس علم کی روشنی میں شامل کر سکتے ہی۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اسے بیان فطرت کے بجائے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی ان حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیاجائے۔‘‘ (میزان:ص۳۷ تا۳۹)
اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’قرآن کی دعوت اس کے پیش نظرجن مقدمات سے شروع ہوتی ہے، وہ یہ ہیں:
۱۔دین فطرت کے حقائق،
۲۔سنت ابراہیمی ،
۳۔ نبیوں کے صحائف۔
پہلی چیز کو وہ اپنی اصطلاح میں معروف و منکر سے تعبیر کرتا ہے ۔یعنی وہ باتیں جو انسانی فطرت میں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور وہ جن سے فطرت ابا کرتی اور انھیں برا سمجھتی ہے ۔قرآن ان کی کوئی جامع مانع فہرست پیش نہیں کرتابلکہ اس حقیقت کو مان کرکہ انسان ابتدا ہی سے معروف و منکر،دونوں کو پورے شعور کے ساتھ بالکل الگ الگ پہچانتا ہے ،اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معروف کو اپنائے اور منکر کو چھوڑ دے:
و المؤمنون والمؤمنات بعضھم أولیاء بعض یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر
اور مؤمن مرداور مؤمن عورتیں ‘یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔یہ باہم دگر معروف کی نصیحت کرتے ہیں اور منکر سے روکتے ہیں ۔
اس معاملے میں اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو زمانہ رسالت کے اہل عرب کا رجحان فیصلہ کن ہوگا۔‘‘ (میزان:ص ۴۸‘۴۹)
المورد کے ریسرچ اسکالرجناب منظور الحسن صاحب، غامدی صاحب کے مآخذ دین کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے۔ دین کی ابتدا اس کتاب سے نہیں، بلکہ ان بنیادی حقائق سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول سے انسانی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں۔ اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے ۔ پھر تورات، زبور اور انجیل کی سورت میںآسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا گیاہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے اور قرآن مجید نازل ہواہے۔ چنانچہ قرآن دین کی پہلی نہیں ، بلکہ آخری کتاب ہے اور دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔ (ماہنامہ اشراق: مارچ ۲۰۰۴‘ ص ۱۱)
غامدی صاحب کامذکورہ بالا اصول فطرت غلط ہے اور اس کی غلطی کی درج ذیل وجوہات ہیں :
۱) کیاشریعت نے صرف چار چیزوں کو حرام قرار دیاہے؟غامدی صاحب کایہ دعویٰ ہے کہ شریعت نے کھانے کے جانوروں میں صرف چار چیزوں سؤر ‘خون ‘مرداراور خدا کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانورکو حرام قرار دیا ہے۔ یہ سارا فلسفہ غا مدی صاحب نے اپنے ایک غلط اصول (کہ حدیث کے ذریعے قرآن پر اضافہ یا اس کا نسخ نہیں ہو سکتا ) کوسیدھا کرنے کے لیے گھڑا ۔غامدی صاحب کے نزدیک گدھا حرام ہے، لیکن اس لیے نہیں کہ شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے بلکہ ان کی فطرت انھیں یہ بتلاتی ہے کہ گدھا سواری کرنے کا جانورہے نہ کہ کھانے کا‘ اس لیے یہ فطری محرمات میں سے ہے۔ غامدی صاحب کی فطرت کا اونٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ بھی تو سواری کا جانور ہے۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ آپؐ کے زمانے میں عرب میں سواری کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا جانور اونٹ تھا اور اس کے بعد گھوڑ ا‘ جبکہ گدھے کا استعمال سواری کے لیے نہ ہونے کے برابر تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ غامدی صاحب کی فطرت گدھے کو حرام اور اونٹ کو حلال قرار دیتی ہے؟ اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ اونٹ کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے تو پھر غامدی صاحب کے اس بیان کا کیا مطلب ہے کہ :
’’جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں‘‘۔(میزان:ص۳۸)
فطری محرمات کا اصول وضع کر کے غامدی صاحب نے دین میں ایک نئے فتنے کی بنیاد رکھ دی ہے، اوریہ فتنہ کس طرح آگے بڑھ رہا ہے، اس کا اندازہ المورد کے ایک ریسرچ اسکالر امیر عبد الباسط صاحب کے شراب سے متعلق ایک سوال کے جواب سے ہوتا ہے:
’’اپنے پچھلے جواب میں ہم نے (شراب کے لیے) ناپسندیدہ کا لفظ حرمت کے مقابلے میں اصطلاح کے طور پراستعمال نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ شراب پینا شرعی حرمتوں میں سے نہیں ہے بلکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بنیادی یعنی فطری حرمتوں میں سے ہے .. .آپ (سائل ) نے فرمایا کہ ہماری رائے نصوص شرعیہ کے خلاف ہے۔ اگر آپ قرآن کی کوئی ایسی آیت پیش کر دیں جس میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو واضح لفظوں میں حرام قرار دیا ہے تو ہمیں اپنی رائے سے رجوع کرنے میں ہر گز کوئی تامل نہیں ہو گا۔‘‘
یہ فتاویٰ جات غامدی صاحب کی نگرانی میں قائم شدہ المورد کی سرکاری ویب سائٹ (urdu.understanding-islam.org) پر جاری کیے جا رہے ہیں۔ کیاشراب کی حرمت کے بارے میں قرآن کے چارمختلف انداز سے تاکیدی اور صریح بیانات ’رجس‘ اور ’من عمل الشیطان‘ اور ’فاجتنبوہ‘ اور ’فھل أنتم منتھون‘ سے بھی اس کی شرعی حرمت ثابت نہیں ہوتی؟ واللہ المستعان علی ما تصفون۔
۲) غامدی صاحب کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں حلال و حرام کے تعین میں فطرت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک شریعت نے کھانے کے جانوروں میں صرف چار چیزوں کو حرام کیا ہے، اس کے علاوہ حرام جانوروں کے بارے میں ہم اپنی فطری رہنمائی کی روشنی میں ایک جامع فہرست تیار کر سکتے ہیں۔ ذرا غور کریں تو معلوم ہو گا کہ غامد ی صاحب کی مذکورہ بالا عبارات کس قدر گمراہ کن افکار پر مشتمل ہیں۔ کسی چیز کو حلال وحرام ٹھہرانے کا اختیاراصلاً اللہ کے پاس اور تبعاً اس کے رسول کے پاس ہوتا ہے۔ غامدی صاحب کا عام انسانوں کو تحلیل و تحریم کا اختیار تفویض کرنا خدائی دعویٰ کرنے کے مترادف ہے۔ غامدی صاحب کو یہ اختیار کس نے دیاہے کہ وہ عام انسانوں کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ اپنی فطرت سے جس کو چاہیں حلال بنا لیں اور جس کو چاہیں حرام ٹھہرا لیں؟ قرآن نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ تحلیل و تحریم کا اختیار کسی انسان کے پاس نہیں ہے۔ مشرکین مکہ نے جب اپنی طرف سے بعض کھانے کی چیزوں کو حرام ٹھہرا لیا تو قرآن نے ان کے اس اقدام پر تنقید کی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
و حرمو ا ما رزقھم اللہ افتراء علی قد ضلوا و ماکانوا مھتدین (الأنعام:۱۴۰)
’’اور انھوں نے اللہ کے عطا کردہ رزق کو حرام ٹھہرا لیا اللہ پر جھوٹ بولتے ہوئے۔ تحقیق وہ گمراہ ہوئے اور وہ ہدایت پانے والوں میں سے نہ تھے۔‘‘
اگر شریعت نے بقول غامدی صاحب کھانے کے جانوروں میں صرف چار کو ہی حرام قرار دیا تھا اور باقی جانوروں کی حلت و حرمت کا فیصلہ انسانی فطرت پر چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالی نے مشرکین مکہ کے اس فعل پر تنقید کیوں کی کہ انھوں نے اپنی مرضی سے بعض جانوروں کو حرام ٹھہرا لیا؟ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قل آالذکرین حرم أم الأنثیین أما اشتملت علیہ أرحام الأنثیین (الأنعام:۱۴۳)
’’اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیں کیا اللہ تعالیٰ نے دونوں مذکر (نر) کو حرام کیا ہے یا دونوں مؤنث(مادہ )کویا اس کو جو دونوں مؤنث (مادہ) کے رحم میں ہو؟‘‘
یہ آیت بھی اس بات کی صریح دلیل ہے کہ تحلیل وتحریم کا اختیار اللہ کے پاس ہے نہ کہ انسانی فطرت کے پاس۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قل ھلم شھداء کم الذین یشھدون أن اللہ حرم ھذا (الأنعام: ۱۵۰)
’’اے نبی، آپ ان سے کہہ دیں کہ تم اپنے گواہوں کو لے آؤ دجو یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام ٹھہرایاہے ۔‘‘
اگر صرف فطرت سے محرمات کا تعین جائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ مشرکین سے یہ مطالبہ نہ کرتا کہ ان جانوروں کی حرمت پراللہ کی نازل کردہ شریعت سے کوئی دلیل پیش کرو۔ ایک اور جگہ مشرکین مکہ سے خطاب ہے :
ولا تقولوا لما تصف ألسنتکم الکذب ھذا حلال و ھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب (النحل :۱۶۶)
’’اور مت تم کہو جو کہ تمہاری زبانیں جھوٹ بکتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تا کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ سکو۔‘‘
یہ آیت بھی اس مسئلے میں نص ہے کہ انسانی فطرت سے حلال و حرام کا تعین کرنا اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ غامدی صاحب نے انسانی فطرت کو تحلیل و تحریم کا اختیار تفویض کر کے اس کو شارع بنا دیا ہے اور اللہ کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اگر انسان کی فطرت کے پاس کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانے کا اختیار ہے تو انسان بھی شارع ہے، اور انسان کو شارع بنانا اللہ کے ساتھ اس کو شریک کرنے کے مترادف ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
سیقول الذین أشرکوا لو شاء اللہ ما أشرکنا و لا أباؤنا و لا حرمنا من شیء (الأنعام:۱۴۸)
’’عنقریب وہ لوگ کہیں گے جنھوں نے شرک کیااگراللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔‘‘
نفی کے سیاق میں اگرنکرہ آئے تو وہ عبارت اپنے عموم میں نص بن جاتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا آیت بھی اپنے عموم میں نص ہے یعنی کسی چیز کو بھی حرام قرار دینے کا اختیار انسان کے پاس نہیں ہے۔ ایک آیت میں اس سے بھی زیادہ صراحت سے ’من دونہ ‘کے الفاظ کے ساتھ اس مفہوم کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
و قال الذین أشرکوا لو شاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء نحن و لا آباؤنا ولا حرمنا من دونہ من شیء (النحل :۳۵)
’’اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے شرک کیا، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ داداللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے اور ہم اس کے بغیر کسی چیز کو بھی حرام نہ ٹھہراتے۔‘‘
یہ آیات اس مسئلے میں صریح نص کا درجہ رکھتی ہیں کہ شارع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور کوئی چیز اس وقت حلال ہو گی جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو حلال قرار دے اور اس وقت حرام ہو گی جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو حرام قرار دے اور انسان کے پاس کسی بھی چیز کو حرام قرار دینے کا اختیار نہیں ہے ۔
۳) غامدی صاحب کے نزدیک کھانے کے جانوروں میں انسانی فطرت سے حلال و حرام کا تعین ہو گا،لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اختلاف فطرت کی صورت میں کس کی فطرت معتبر ہوگی؟مثلاً غامدی صاحب نے موسیقی کو مباحات فطرت میں شامل کیا ہے، جبکہ علما اس کو محرمات میں شمار کرتے ہیں۔ اب کس کی فطرت کو لیں گے اور کس کی فطرت کو چھوڑیں گے؟ غامدی صاحب اس مسئلے کا حل تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی جانورکے بارے میں انسانی فطرت کی آرا مختلف ہو جائیں توجمہور کی رائے پر عمل کیا جائے گا۔ غامدی صاحب اصول و مبادی میں لکھتے ہیں :
’’اس میں شبہ نہیں کہ اس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے ،لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں عموماً غلطی نہیں کرتی‘‘۔ (میزان:ص۳۷)
غامدی صاحب کے اس سنہری اصول کی روشنی میں دنیا کے انسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد نے سؤر تک کو اپنی فطرت سے حلال کر رکھا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں المورد کا کوئی ریسرچ اسکالر یہ تحقیق پیش کر دے کہ قرآن نے جس سؤر کو حرام قرار دیا ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا سؤر ہے۔ رہا آج کا سؤر جس کی مغرب میں باقاعدہ فارمنگ کی جاتی ہے ‘وہ فطرتاً حلا ل ہے۔ اہل مغرب کو تو چھوڑیے ‘مسلمانوں کو دیکھ لیں، ان کی اکثریت کے ہاں حلال و حرام کا کیا معیارہے جسے غامدی صاحب اپنے اصول فطرت میں اختلاف کی صورت میں بطور دلیل پیش کر رہے ہیں ۔
۴) غامدی صاحب نے ہر انسان کو تو یہ حق دے دیا کہ اپنی فطرت سے حلال وحرام کی فہرست تیار کرے لیکن وہ اللہ کے رسول کا یہ اختیار ماننے سے انکاری ہیں، چنانچہ غامدی صاحب اپنی فطرت کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ قرآنی محرمات (اربعہ) کی فہرست میں جتنا چاہے، اضافہ کر لے ،لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کا یہ خیال ہے کہ آپ کے کسی فرمان سے قرآنی محرمات کی فہرست میں اضافہ نہیں ہو سکتاکیونکہ اس سے قرآن کا نسخ یا اس کے مدعا میں تبدیلی لازم آتی ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ غامدی صاحب اپنی فطرت سے قرآنی محرمات میں جو اضافہ کر رہے ہیں تو اس سے کیا قرآن کا نسخ یا اس کے مدعا میں تبدیلی لازم نہیں آتی؟ غامدی صاحب اپنی فطرت سے قرآنی حکم کے نسخ‘ اس میں اضافے اور اس کے مدعا میں تبدیلی کے قائل ہیں لیکن احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مقام دینے کے لیے تیار نہیں‘ کیوں؟ کیا انسانی فطرت کا رتبہ معاذ اللہ ‘نبوت و رسالت سے بڑھ کر ہے؟
۵) غامدی صاحب کے نزدیک انسانی ہدایت و رہنمائی کے دو بڑے ذریعے ہیں۔ ایک انسانی فطرت اور دوسرا وحی، لیکن ان میں بھی غامدی صاحب فطرت کی رہنمائی کو وحی کی رہنمائی پر مقدم رکھتے ہیں۔غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اس (یعنی دین)کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔ پھر اس کے ابو الآبا حضرت آدم کی وساطت سے اسے بتا دیا گیاکہ ...اس کی ضرورتوں کے پیش نظر اس کا خالق وقتاً فوقتاً ا پنی ہدایت اسے بھیجتارہے گا... چنانچہ پروردگار نے اپنا یہ وعدہ پورا کیااور انسانوں ہی میں سے کچھ ہستیوں کو منتخب کر کے ان کے ذریعے سے اپنی یہ ہدایت بنی آدم کو پہنچائی۔ اس میں حکمت (یعنی ایمانیات اور اخلاقیات) بھی تھی اور شریعت بھی۔‘‘ (میزان:ص۴۷)
غامدی صاحب کا یہ نقطہ نظر قرآنی آیات کے مخالف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب سے آدم کو اس دنیا میں بھیجا ہے، اس دن سے ہی اس کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرما دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یأتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم و لا ھم یحزنون و الذین کفروا و کذبوا بآیتنا أولئک أصحب النار ھم فیھا خلدون (البقرۃ :۳۸‘۳۹)
’’ہم نے کہا تم سب (یعنی آدم اور ان کی ہونے والی ذریت) اس جنت سے اتر جاؤ، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو اس پر نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور میری آیات کوجھٹلایا، وہ لوگ آگ والے ہیں اوروہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے :
قلنا اھبطا منھا جمیعا فاما یأتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی (طہ :۱۲۳)
’’ہم نے کہا تم(دونوں یعنی )سب اس جنت سے اترو، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو وہ نہ تو وہ (دنیا میں )گمراہ ہو گا اور نہ ہی (آخرت میں ) بدبخت ہو گا۔‘‘
اس انتہائی اہم موقع پر جب کہ حضرت آدم کو اور ان کی آنے والی ذریت کوجنت سے اتار کر اس دنیامیں بھیجا جا رہا ہے، اس وقت انھیں صرف ایک ہی چیز کی پیروی کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور وہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت ہے اور دونوں جگہ قرآن کے الفاظ ’منی ھدی‘ اور اس کا سیاق وسباق بتلاتا ہے کہ اس ہدایت سے مراد کوئی فطری ہدایت نہیں بلکہ اللہ کی آیات اور اس کی طرف سے نازل کردہ وحی کی رہنمائی مراد ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو ا کہ پہلے ہی دن سے اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے حضرت آدم اور ان کی آنے والی ذریت کو جو رہنمائی دی جا رہی ہے، وہ وحی کی رہنمائی ہے اور جس نے بھی اللہ کی دی ہو ئی ا س وحی کی رہنمائی سے استفادہ کرنے سے انکار کیا تو وہی لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہیں ۔
۶) غامدی صاحب کے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ’معروف ‘ اور ’منکر ‘ کا تعین شریعت نہیں بلکہ فطرت انسانی کرے گی ۔ اگر معروف و منکر شریعت کا موضوع نہیں ہے تو اللہ کے رسول ﷺ کی اس حدیث کا کیا مطلب ہے:
من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ (صحیح مسلم ‘کتاب الایمان ‘باب کون النہی عن المنکر من الایمان)
’’جو بھی تم میں سے کسی منکر کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے۔ اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل سے ۔‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منکر کو ہاتھ سے روکنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے منکرات کا تعین کر دیا ہے۔ اگرغامدی صاحب کا یہ نظریہ مان لیا جائے کہ معروف اور منکر کا تعین فطرت انسانی سے ہوگا تو شریعت اسلامیہ ایک کھیل تماشا بن جائے گی۔ ایک شخص کے نزدیک ایک فعل معروف ہو گا جبکہ دوسرے کے نزدیک وہی فعل منکر ہوگا۔ مثلاً غامدی صاحب کے نزدیک موسیقی معروف کے تحت آئے گی۔اب غامدی صاحب کوقرآ ن کا یہ حکم ہے کہ وہ امر بالمعرو ف کا فریضہ سر انجام دیں، یعنی لو گوں کوموسیقی سننے کا حکم دیں، جبکہ علما موسیقی کو منکرات میں شامل کرتے ہیں اور علما کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ وہ منکرات کو بزور بازو روکیں، یعنی غامدی صاحب کو موسیقی کے جواز کا فتویٰ دینے سے بزور بازو روکیں۔
امام رازی ‘امام جصاص ‘علامہ سید آلوسی ‘علامہ ابن حجر ہیثمی ‘علامہ مناوی ‘ملا علی القاری‘علامہ ابو حیان الاندلسی ‘امام طبری ‘امام ابن تیمیہ ‘امام شوکانی ‘علامہ ابن الاثیر الجزری‘علامہ صاوی اور علامہ عبد القادر عودہ نے واضح اور صریح الفاظ میں اپنے اس مؤقف کو بیان کیا ہے کہ معروف و منکر کا تعین شریعت سے ہو گا۔ ان علما وأئمہ کی آرا کی تفصیل کے لیے سید جلال الدین عمری کی کتاب ’معروف و منکر ص۹۸ تا ۱۱۳ کا مطالعہ فرمائیں۔
۷) غامدی صاحب عالم اسلام کے وہ پہلے نامور اسکالرہیں جنھوں نے فطرت انسانی کو مصادر شریعت میں شمار کیا اور اسے حلال و حرام کی تمیز میں میزان قرار دیا۔ امام شافعی سے لے کر امام شوکانی تک کسی بھی اصولی (اصول فقہ کے ماہر) نے اپنی کتاب میں مصادر شریعت کی بحث میں ’فطرت انسانی ‘کا تذکرہ نہیں کیا۔ علما اور فقہا نے ہر دور میں قرآن ‘ سنت‘ اجماع اور قیاس وغیرہ جیسے مآخذ شریعت کے ذریعے سے شرعی احکام تک پہنچنے کی کوشش کی ہے لیکن کسی بھی فقیہ یا عالم نے امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ’ فطرت انسانی‘ کو کبھی بھی استنباط احکام کے لیے بطور اصول یا مأخذشریعت بیان نہیں کیا۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ غامدی صاحب نئی فقہ کے ساتھ ساتھ نئی اصول فقہ بھی مرتب کرنے کا شوق پورا فرما رہے ہیں۔ غامدی صاحب اپنا یہ شوق ضرور پورا فرمائیں، لیکن علم وتحقیق کی روشنی میں۔
غامدی صاحب نے ’فطرت انسانی ‘ کو مصدر شریعت تو بنا دیا لیکن اس کی ان کے پاس دلیل کیا ہے کہ ’فطرت انسانی‘مصدر شریعت ہے؟ غامدی صاحب نے پنجاب یونیورسٹی میں اپنے ایک لیکچر کے دوران اپنے تصور فطرت کے حق میں جو دلیل بیان کی ہے، وہ سورہ شمس کی درج ذیل آیات ہیں :
و نفس وما سواھا فألھمھا فجورھا وتقواھا قد أفلح من زکھا و قد خاب من دسھا (الشمس:۷ تا ۱۰)
غامدی صاحب اس آیت کا یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں نیکی اور بدی کا علم رکھ دیا ہے۔ یہ مفہوم بوجوہ غلط ہے ۔
۱) یہ مفہوم قرآن کی واضح نص کے خلاف ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
واللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا (النحل :۷۸)
’’اللہ تعالی نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حال کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے۔‘‘
اسی لیے امام ابن قیم لکھتے ہیں:
لیس المراد بقولہ ’یولد علی الفطرۃ ‘أنہ خرج من بطن أمہ یعلم الدین لأن اللہ تعالی یقول واللہ أخرجکم من بطون أمھتکم لا تعلمون شیئا ولکن المراد أن فطرتہ مقتضیۃ لمعرفۃ دین الاسلام و محبتہ (صحیح بخاری مع فتح الباری‘کتاب اللباس ‘باب قص الشارب)
’یولد علی الفطرۃ‘ سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے دین کا علم لے کر آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا، اس حال کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے ‘‘۔بلکہ حدیث سے مراد یہ ہے کہ انسان کی فطرت دین اسلام کی معرفت اور اس کی محبت کا تقاضا کرتی ہے۔
۲) یہ مفہوم حدیث کے خلاف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
اللھم آت نفسی تقواھا و زکھا أنت خیر من زکاھا (صحیح مسلم ‘کتاب الذکر و الدعاء‘باب التعوذ من شر ما عمل )
’’اے اللہ تعالیٰ تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ (یعنی تقوی کی رہنمائی ) عنایت فرما دے اور اس کو پاک کر دے۔ بے شک تو پاک کرنے والوں میں بہترین پاک کرنے والاہے ۔ ‘‘
اگر ’فجور‘ اور’ تقویٰ ‘ انسانی فطرت میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس تقویٰ کو مانگنے کی کیا ضرورت ہے ؟آپ کی یہ دعا اس آیت کے مفہوم کو واضح کر رہی ہے کہ اس آیت میں ’تقویٰ‘ سے مراد اس کی رہنمائی اور ’فجور‘ سے مراد اس کی پہچان ہے ۔
۳) یہ مفہوم صحابہ، جلیل القدر تابعین اور تبع تابعین کی تفسیر کے خلاف ہے۔ امام طبری اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :
قولہ: فألھمھا فجورھا و تقواھا یقول: بین الخیر و الشر
’’ابن عباس ’’فألھمھا فجورھا و تقواھا‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے خیر اور شر کو واضح کر دیا ہے ۔‘‘
امام طبری نے اس آیت کی تفسیر میں یہی رائے حضرت مجاہد، حضرت قتادہ، حضرت ضحاک اور حضرت سفیان سے بھی نقل کی ہے۔ جلیل القدر مفسرین امام طبری ‘اما م قرطبی ‘امام بیضاوی ‘امام سیوطی ‘علامہ زمخشری ‘امام نسفی ‘امام شوکانی‘ امام ابن کثیراورعلامہ ابن عطیہ نے بھی اس آیت کا وہی مفہوم بیان کیا ہے جو صحابہ اور تابعین کے حوالے سے اوپر بیان ہوچکا ہے۔
غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف
جس طرح غامدی صاحب کا اصول فطرت غلط ہے، اسی طرح بعض مقامات پر اس اصول کی تطبیق میں انھوں نے اپنے ہی وضع کردہ اس اصول سے انحراف بھی کیا ہے ۔اس کی ایک مثال ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔
مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، اس میں ڈاڑھی بھی شامل ہے ۔کسی چیز کی فطرت سے مراد اس کی وہ اصل تخلیق ہے جس پر اس کو پید اکیا گیا ہے۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جس حالت پر پید اکیا ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چہرے پر ڈاڑھی کے بال ہوتے ہیں جبکہ عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیاہے، وہ یہ ہے کہ ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کی تخلیق میں یہ فطری فرق رکھا ہے۔ ڈاڑھی غامدی صاحب کے اصول فطرت سے ثابت ہے، لیکن غامدی صاحب نے اپنی ہی فطرت اور اپنے اصول فطرت دونوں کی مخالفت اختیار کرتے ہوئے ڈاڑھی کو دین سے خارج قرار دیا۔ ڈاڑھی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ا لمورد کے ایک اسکالر لکھتے ہیں :
’’ڈاڑھی انسانی فطرت ہے۔ آُ پؐ کا ارشاد ہے :
عشر من الفطرۃ قص الشارب و اعفاء اللحیۃ و السواک واستنشاق الماء و قص الأظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاص الماء قال زکریا قال مصعب ونسیت العاشرۃ الا أن تکون المضمضۃ (صحیح مسلم ‘کتاب الطہارۃ ‘با ب خصال الفطرۃ )
’’دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھوں کو کاٹنا ‘ ڈاڑھی کو چھوڑنا ‘مسواک کرنا‘ناک میں پانی چڑھانا‘ ناخنوں کو کاٹنا ‘انگلیوں کے جوڑوں کا خلال کرنا‘بغل کے بال اکھیڑنا ‘زیر ناف کے بال مونڈنا‘اور استنجا کرنا۔زکریا نے کہا کہ مصعب نے کہا کہ میں دسویں چیز بھول گیا اور میرا خیال ہے کہ وہ کلی کرنا ہے ۔‘‘
اس حدیث میں ڈاڑھی رکھنے کو فطرت قرار دیا گیا ہے ۔تمام انبیا کی ڈاڑھی تھی، اس لحاظ سے ڈاڑھی انسانی فطرت ہونے کے ساتھ ساتھ تمام انبیا کی سنت بھی ہے ۔ابن حجر ؒ ‘فطرت کی تشریح میں امام بیضاوی کا قول نقل کرتے ہیں :
قال ھی السنۃ القدیمۃ التی اختارھا الأنبیاء واتفقت علیھا الشرائع وکأنھا أمر جبلی فطروا علیھا (صحیح بخاری مع فتح الباری‘کتاب اللباس ‘باب قص الشارب)
’’امام بیضاوی کہتے ہیں کہ فطرت سے مراد وہ سنت قدیمہ ہے جسے تمام انبیا نے اختیار کیا ہے اور جس پر تمام شریعتوں کا اتفاق ہو۔ گویا کہ فطرت ایک ایسا جبلی معاملہ ہے کہ جس پر انسانوں کی پیدائش ہوئی ہے ۔‘‘
ڈاڑھی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ا لمورد کے ایک ریسرچ اسکالر لکھتے ہیں :
’’عام طور پر اہل علم ڈاڑھی رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں ‘تا ہم ہمارے نزدیک ڈاڑھی رکھنے کا حکم دین میں کہیں بیان نہیں ہوا، لہٰذا دین کی رو سے ڈاڑھی رکھنا ضروری نہیں ہے ۔البتہ اس معاملے میں اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے برعکس مردوں کے چہرے پر بال اگائے ہیں اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ڈاڑھی رکھنا اپنے لیے پسند کیا۔‘‘
یہ عبارت اس لحاظ سے قابل غور ہے کہ ایک طرف تو اس میں کس ڈھٹائی کے ساتھ اس بات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاڑھی رکھنے کاحکم دین میں کہیں بھی بیان نہیں ہوا، حالانکہ بیسیوں احادیث ایسی ہیں جن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین ‘ یہود اور مجوسیوں کی مخالفت میں مسلمانوں کو ڈاڑھی چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔کیا حدیث ‘دین نہیں ہے ؟اگر غامدی صاحب ڈاڑھی کی احادیث کو اس بنا پر رد کر رہے ہیں کہ ان کے نزدیک حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا تو ڈاڑھی تو ان کے اصول سنت سے بھی ثابت ہے اورا صول فطرت سے بھی۔ دوسری طرف المورد کے مفتی صاحب اس بات کا بھی اقرار کر رہے ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں ایک بنیادی فرق ڈاڑھی کا بھی ہے جو کہ پیدائشی اور فطری فرق ہے ۔تعجب ہے اس انداز فکر پر!جب چاہتے ہیں اپنے مزعومہ افکار کی تائید کے لیے اصول وضع کر لیتے ہیں اور اپنی خواہش نفس کی تکمیل کے لیے جب چاہتے ہیں ‘اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی بھی مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم ومکرم مدیر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
’الشریعہ‘ کے مضامین پر آرا اور تبصروں کی کثرت ظاہر کرتی ہے کہ مجلہ کے قارئین کا ایک وسیع علمی حلقہ قائم ہو چکا ہے جو وطن عزیز کے دینی ودعوتی اور قانونی ومعاشرتی، غرض ہر طرح کے مسائل پر اپنی جاندار آرا کا اظہار کرتے ہیں اور کرنا جانتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات جائزوں، تبصروں اور مراسلوں میں نقد وتنقید اور مراسلہ نگاری کی جائز حدود سے تجاوز ذہن وروح کو بہت تکلیف دیتا ہے۔
’الشریعہ‘ کے تازہ شمارہ (جنوری ۲۰۰۶) میں چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے عہد حاضر میں اردو زبان کے ایک موقر اور معیاری مجلہ کے نائب مدیر کے ساتھ اپنی ذاتی رنجش کو بنیاد بنا کر مجلہ کے معیار کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ موصوف کے مراسلہ میں وکیلانہ جذباتیت کا اظہار علمی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا۔ مراسلہ نگاری میں مضمون نگار، مبصر یا کسی ادارے سے اپنے علمی اختلافات کو سلیقے سے اور جذباتیت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے تحریر کرنا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں باہمی جذبات کے احترام اور شخصی تکریم کو ہر حال میں ملحوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
عاصم نعیم
لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ
یونیورسٹی آف سرگودھا
(۲)
محترم جناب مدیر ماہنامہ الشریعہ
’’دینی مدارس اور جدید تعلیم‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون نظر سے گزرا جس کے دل نشیں، پرخلوص اور ہمدردانہ اسلوب کے پیش نظر توقع کی جا سکتی ہے کہ مذکورہ کاوش عصر حاضر کے اس بنیادی اور نازک ترین قومی وملی اور دینی مسئلے کی طرف متعلقہ ذمہ داران کو توجہ دلانے میں کامیاب ہوگی۔ مذکورہ موضوع پر جس قدر تدبر، حوصلہ اور تفصیل کے ساتھ موصوف نے اظہار خیال فرمایا ہے، یہ انھی کے بہار آفریں قلم کا ثمر ہے۔
اس کے علاوہ مذکورہ مضمون اور ’’قدامت پسندوں کے تصور اجتہاد‘‘ کے درمیان اگر موازنہ کیا جائے تو تاثیر کے حوالے سے نمایاں فرق سامنے آتا ہے، حالانکہ دونوں کے مولفین اپنے ہی ہیں اور دونوں کی نیک نیتی اور مقاصد بھی یکساں ہیں۔ معلوم ہوا کہ کسی بھی مضمون کی اثر آفرینی میں اس کے اسلوب میں انس آفرینی کی قوت کا بہت بڑا دخل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ’’قدامت پسندوں کے تصور اجتہاد‘‘ کو ’الشریعہ‘ کے مستقل قارئین تعصب کے بجائے بے تکلفی پر مبنی آپس کی بات قرار دیتے ہیں، لیکن کوئی نووارد قاری اس کے تند وتیز جملوں سے یقیناًکوئی مثبت تاثر نہیں لیتا اور اسے بھی ’’برتن سے وہی نکلتا ہے جو اس کے اندر ہے‘‘ کا مصداق سمجھ لیتا ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ مثبت انسانی کاوش کے برآور ہونے کے لیے بھی اسلامی تعلیمات وہدایات کے مطابق طرز عمل اختیار کرنا ہی مفید وموثر ہے۔
محمود خارانی
جامعہ دار العلوم، کراچی
(۳)
مخدوم گرامی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟
الشریعہ جنوری ۲۰۰۷ کا شمارہ پڑھا۔ محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’’دینی مدارس اور جدید تعلیم‘‘ ان کے سوز دروں کا آئینہ دار تھا۔ ان کے نقطہ نظر سے موافقت یا مخالفت بڑے حضرات کا کام ہے۔ ان کے مخاطب بھی وفاق المدارس پاکستان اور دینی مدارس کے مہتمم حضرات ہیں، احقر ایسے لوگ نہیں۔ لیکن ایک بات عرض کرنے کو بے ساختہ جی چاہ رہا ہے۔ وہ یہ کہ برصغیر پاک وہند میں ہر طبقہ فکر کے علما اور دانش ور تقریباً ایک سو سال سے جدید وقدیم علوم کو نصاب میں سمونے کی مقدار، طریق کار اور نتائج کی بحثوں میں مصروف ہیں، لیکن بدقسمتی سے برصغیر میں کوئی ایسا فورم نہیں جو اسلامی دنیا کے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں کے تعلیمی تجربات سے ہمیں روشناس کرائے۔ یہ کام رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے بہترین طریقہ سے ہو سکتا ہے لیکن غالباً رابطہ کے ارباب اختیار کو کسی نے توجہ نہیں دلائی۔ میں ’الشریعہ‘ کی وساطت سے ایسے قارئین سے جو رابطہ عالم اسلامی تک بات پہنچا سکتے ہوں، گزارش کروں گا کہ وہ رابطہ کی انتظامیہ کو توجہ دلائیں کہ وہ فقہ اکیڈمی کی طرز پر ایک تعلیمی کمیٹی قائم کرے جس کا کام جدید وقدیم علوم کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی مقدار، طریق کار اور نتائج کے حوالے سے پاکستان سمیت مختلف اسلامی ملکوں میں سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد ہو۔ ہر ملک کے اہم اداروں کے نمائندے اس تعلیمی کمیٹی کے رکن ہوں اور ایک ملک کے تعلیمی تجربات دوسروں تک پہنچائے جائیں۔ اس سے مزید ذہن کھلیں گے اور ممکن ہے کچھ اہداف حاصل ہو جائیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ اس اقدام کے بغیر ہمارے مباحث پانی میں مدھانی کے سوا کچھ نہیں۔
(مولانا) مشتاق احمد
جامعہ اسلامیہ۔ کامونکی
(۴)
جناب مدیر ’الشریعہ‘!
السلام علیکم
آپ کا موقر جریدہ قریب دو سال سے مکتب زہرا میں جلوہ افروز ہو رہا ہے۔ رئیس التحریر اور دیگر بلند نظر فضلا کی دل کشا ایمان افزا تحقیقات سے ناچیز متعلمہ نے ہمیشہ استفادہ کیا۔ پرچہ فی الواقع بقامت کہتر بقیمت بہتر ہوتا ہے۔
کئی بار جی چاہا کہ بعض مشتملات پر تبصرہ کروں لیکن مشاغل خانہ داری اور مطالبات قلم کاری میں باہم ناسازگاری نے ہر دفعہ معاملہ آئندہ پر ملتوی کر دیا۔ اس مرتبہ ’الشریعہ‘ ۵؍ دسمبر کو مل گیا تھا مگر بچوں کی مسلسل بیماری اور سرمائی امتحان کی تیاری کے باعث آج ’’کرسمس ڈے‘‘ پر پڑھنے کی فرصت ملی۔ علامہ عتیق الرحمن سنبھلی، پروفیسر میاں انعام الرحمن، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، جناب خورشید احمد ندیم اور جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی کی فکر انگیز باتوں کی تحسین نہ کرنا کور ذوقی ہوگی۔ حافظ صفوان محمد چوہان اور محترم عبد الحفیظ قریشی کے خیالات تو دل کی آواز محسوس ہوئے۔ ع از دل خیزد بر دل ریزد۔
حدود آرڈی ننس ۱۹۷۹ اور ترمیمی بل ۲۰۰۶ کے حوالے سے ’الشریعہ‘ کے حالیہ شماروں میں بہت قیمتی مواد چھاپا گیا ہے۔ بالخصوص استاذ محمد مشتاق احمد صاحب، لیکچرر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا مقالہ بڑا وقیع اور پرمغز ہے۔ ابی واستاذی میر مفتی عبد الرحیم محدث کروڑی (تلمیذ ومسترشد حضرت مدنی) تغمدہما اللہ برحمتہ کہا کرتے تھے: ’’فقہ خوانی ہور شے ہے، فقہ مندی ہور شے۔‘‘ مولانا محمد مشتاق احمد اسلام آبادی بلاشبہ ’’فقیہ النفس‘‘ اور ’’فقہ مند‘‘ معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ کریں علم وعمل اور زیادہ۔
ان شاء اللہ تعالیٰ راقمہ بھی پاکستان کے شوکانی، سائیں محمد تقی عثمانی کے ترمیمی بل ۲۰۰۶ کے دردمندانہ جائزہ پر ایک طالب علمانہ تبصرہ کرنا چاہتی ہے۔ اللہ بزرگ وبرتر حق کہنے اور غلطی کی صورت میں برملا اقبال خطا کی توفیق ارزاں فرمائیں۔
اس کے ہر پہلو پہ تنقید کی گنجایش ہے
میرا فتویٰ ہی تو ہے، قول پیمبر تو نہیں
المتعلمہ، شمیم فاطمہ تبسم
الزہرا ۔ چاہ عمر۔ کروڑ۔ لیہ
(۵)
جناب رئیس التحریر راشدی صاحب
ماہ دسمبر کا شمارہ میرے سامنے ہے جس میں ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں ایک جامع تحریر پڑھ کر نقطہ نظر سے آگاہی ہوئی، لیکن کنفیوژن دور نہیں ہو سکی اس لیے کہ اس بل کی حمایت میں لکھنے والا طبقہ بھی مدلل انداز سے اس کو بہتر ثابت کر رہا ہے۔ اس بل سے عورتوں کو تو کوئی فائدہ پہنچے نہ پہنچے، لیکن حکومتی پالیسی جو Divide and rule کے اصول پر چل رہی ہے، ضرور کامیاب ہوئی ہے اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو اس بے مقصد ایشو پر لگا دیا گیا ہے۔ مجھے آپ کے طبقہ فکر کے حامی افراد سے پوچھنا ہے کہ کیا اس ملک کے بگاڑ میں زنا اور شراب کا ہی رول ہے؟ آمرانہ حکومتوں کو سپورٹ کرنا ان مذہبی جماعتوں کا ہی خاصہ رہا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی آمر کے لیے عوامی حقوق کو غصب کرنا آسان ترین ہو گیا۔ مولویوں نے کبھی بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی آلودگی، انسانی حقوق کے لیے کیوں جنگ وجدل نہیں کی؟ کبھی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ، کبھی جمعہ کی چھٹی اور کبھی نقاب جیسے بے مقصد موضوعات کو چھیڑ کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتے ہیں۔ یہی حال ’حقوق نسواں بل‘ کا ہوا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہماری خواتین کی اکثریت کو اس ایشو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ مہنگائی اور امن وامان کی صورت حال سے انھیں دلچسپی بھی ہے اور اس پر تشویش بھی۔
آپ ازراہ کرم ایسے اچھے مضامین Dawn اور The News کو بھیجا کریں تاکہ آپ سے اختلاف کرنے والے مزید تحقیقاتی میٹریل اخبا ر کو بھیجیں اور یوں سچ ابھر آئے گا۔ ’الشریعہ‘ کو پڑھنے والے پہلے ہی آپ کے ہم خیال لوگ ہیں اور یوں ہم سچائی سے دور رہتے ہیں۔
اللہ آ پ کا حامی وناصر ہو۔
محمد سعید اعوان
اروپ۔ گوجرانوالہ
تعارف و تبصرہ
مولانا مشتاق احمد
’’ قرآن کریم کا اعجاز بیان‘‘
علوم القرآن پر صدیوں سے کتابوں کی تدوین کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ زیر نظر کتاب محمد رضی الاسلام ندوی صاحب کے قلم سے معروف مصری عالمہ وفاضلہ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی کی کتا ب ’’الاعجاز البیانی للقرآن الکریم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن (۱۹۱۳۔۱۹۹۸ء) نہایت وسیع المطالعہ اور دانشور خاتون تھیں اور انہوں نے ایک سو سے زائد کتب اور بے شمارمضامین اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ موصوفہ علمی اعتبار سے بین الاقوامی شہرت یافتہ خاتون تھیں۔ وہ مصر ،مراکش اورعراق کی جامعات میں تدریسی فرائض سرانجام دیتی رہیں اور متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے مقالات پیش کیے۔ ان کی علمی خدمات کے صلے میں مصر، سعودی عرب اور کویت کی حکومتوں نے انھیں اعلیٰ سرکاری اعزازات سے نوازا۔
کتاب ایک مقدمہ اورتین مباحث پر مشتمل ہے۔ مقدمہ میں علوم قرآنی پر لکھی گئی عربی کتب کا تعارف کرایا گیا ہے۔ پہلی بحث میں قرآن مجید کے وجوہ اعجاز بیان کیے گئے ہیں۔ دوسری بحث میں، جو کہ کتاب کا خلاصہ ومحور ہے، مصنفہ نے تین فصلیں قائم کی گئی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید کے حروف، الفاظ اور اسالیب میں نہ کوئی حرف زائد ہے، نہ کوئی حرف محذوف ہے اور نہ کسی لفظ کو دوسرے لفظ کی جگہ استعمال کیا ہے۔ قرآن نے عام اسلوب سے ہٹ کر جو اسلوب اختیار کیے ہیں، ان میں بڑی بلاغت موجود ہے اوریہی قرآن کا اعجاز ہے۔ اس بحث میں مصنفہ کی محنت قابل تحسین ہے۔ کتاب کی تیسری بحث کا مترجم نے ترجمہ نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ بحث قرآن کی لفظی بحثوں پر مشتمل ہے جو اردو خواں طبقہ کے لیے مفید نہیں ہے۔ بہرحال یہ کتاب علوم قرآنیہ پر مشتمل کتب میں اہم اضافہ ہے ۔
دارالکتاب (کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور ) کے منتظمین نے اسے معیاری کاغذ اور جلد کے ساتھ شائع کیا ہے۔
’’ربوا،زکوٰۃ اور ٹیکس‘‘
صدر ایوب خان کے دور میں ڈاکٹر فضل الرحمن ادارۂ تحقیقات اسلامی کے سر براہ مقرر کیے گئے تھے۔انہوں نے بہت سے مسائل پر ایسی آرا ظاہر کیں جو کہ جمہور امت سے ہٹ کر تھیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمن خود کو مجتہد گردانتے تھے۔ ان کے موجب گمراہی اجتہادات میں سے بعض یہ تھے:
۱۔اسلام میں تجارتی سود حرام نہیں ۔
۲۔زکوٰۃ عبادت نہیں، ٹیکس ہے ۔
۳۔دینی مسائل میں مغربی مفکرین کی آرا تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
مولانا ابو الجلال ندوی مرحوم نے انہی دنوں مذکورہ نظریات کاجواب لکھا تھا جو بوجوہ شائع نہ ہوسکا۔ اب ان تحریروں کو ابو الجلال ندوی اکیڈمی کراچی نے شائع کیاہے ۔ مجموعی طورپر یہ ایک قابل قدر کاوش ہے، لیکن گہری نظر سے ناقدانہ جائزہ لیاجائے تو کئی مقامات پر مصنف کا ذہنی الجھاؤ محسوس ہوتاہے۔ مصنف کی بعض آرا بھی محل نظر ہیں۔ مثلاً صفحہ ۳۳ کے حاشیہ میں مصنف ہدایہ شیخ الاسلام علی بن ابی بکر المرغینانی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے دار الحرب میں سود کو جائز قراردیاہے اور ان کی وجہ سے کابل وسرحد کے پٹھانوں کا اخلاق بگڑ گیاہے۔ پہلے وہ صرف حربی کافر سے سود لیتے تھے، اب پاکستانی مسلمانوں سے بھی لیتے ہیں ۔ اسی طرح آیات میراث کی جو تشریحات فقہائے امت نے کی ہیں، وہ ان کے نزدیک معتبر نہیں ہیں اورقرآن وحدیث سے متصادم ہیں۔ اپنے اس دعوے کے اثبات میں انہوں نے کافی زور لگایاہے۔ تقریباً ادھی کتاب اس بحث پر مشتمل ہے۔ مسئلہ عول کو تو وہ آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ فاضل مصنف ایک طرف تو فقہا کی آرا کو معتبر نہیں سمجھتے لیکن دوسری طرف ڈاکٹر فضل الرحمن کے رد میں ہدایہ سے ہی استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ (صفحہ ۱۳۷)
کتاب کے مضامین ڈاکٹر فضل الرحمن کے نظریات کا مکمل رد نہیں کرتے اور مزید بحث ونظر کی گنجایش موجود ہے۔
ملنے کا پتہ: فضلی سنز اردو بازار لاہورکراچی/کتاب سرائے فرسٹ فلو رالحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور۔
’’اقبال اور قادیانیت: تحقیق کے نئے زاویے‘‘
علامہ اقبالؒ ان مجاہدین ختم نبوت میں سے ہیں جن کی ضرب کاری کی تاب قادیانی نہ لا سکے اور نہ آج تک قادیانیت پر ان کی تنقید کو بھلا سکے ہیں، اسی لیے وہ اقبال کی کردار کشی کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس گھٹیا مہم کے جواب میں اقبال کی عظمت اور کردار کو اجاگر کرنے کے لیے بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جن میں سے ایک کتاب اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔ محترم بشیر احمد صاحب اس سے پہلے قادیانیت، بہائیت اور فری میسنری پر گراں قدر کتب تحریر کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب مصنف نے اگرچہ کسی قادیانی کتاب کے جواب کے طور پر نہیں لکھی، لیکن اس میں اقبال کی ذات وافکار پر لگائے جانے والے بہت سے قادیانی الزامات کا جواب آ گیا ہے جس پر مصنف بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
۲۸۳ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مجلس علم ودانش، پوسٹ بکس ۶۳۰ راول پنڈی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۲۰۰ روپے ہے۔