اگست ۲۰۰۷ء

مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی سیاسی جماعتیںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
عدالتی فیصلہ اور استاد منگوپروفیسر میاں انعام الرحمن 
جماعتی زندگی کا مفہوم اور اس کی اہمیتمولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ 
اسلام اور دولت کی گردشمولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ 
پاکستان میں تاریخ نویسی کے ابتدائی رجحاناتپروفیسر شیخ عبد الرشید 
لال مسجد کا سانحہ اور حنفی فقہمحمد مشتاق احمد 
مباحثہ و مکالمہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دور جدید کی اجتہادی ضروریات اور تقاضےجسٹس (ر) تنزیل الرحمن 
امہات المومنین کے لیے حجاب کے خصوصی احکامڈاکٹر سید رضوان علی ندوی 
مکاتیبادارہ 
عربی اور انگلش لینگویج کورسز کی تقریبِ تقسیم اسنادادارہ 

مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی سیاسی جماعتیں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے خلاف سرکاری فورسز کے مسلح آپریشن نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کوشش جاری تھی کہ کسی طرح یہ تصادم رک جائے اور خونریزی کا وہ الم ناک منظر قوم کو نہ دیکھنا پڑے جس نے ملک کے ہر فرد کو رنج و صدمہ کی تصویر بنا دیا ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوا، بہت برا ہوا اور بہت برے طریقے سے ہوا۔ اس سے کچھ لوگوں کو ضرور تسکین حاصل ہوئی ہوگی جو حکومت کی رٹ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت اور رعب ودبدبہ مسلط کرنا بھی ضروری سمجھ بیٹھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ طاقت اور اسلحہ کا بے دریغ استعمال کیے بغیر اور آگ اور خون کا کھیل کھیلے بغیر شاید حکومت کی رٹ کا وقار قائم نہیں رہے گا۔ چند افراد ضرور ایسے ہوں گے، لیکن بحیثیت مجموعی پوری قوم غم زدہ ہے، افسردہ ہے، مضطرب اور بے چین ہے کہ بہت سے بے گناہوں کے لاشے تڑپے ہیں، بچوں اور عورتوں کا خون بہا ہے اور یہ سب کچھ اللہ کے گھرمیں ہوا ہے اور ایک دینی درس گاہ میں ہوا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ایک سرکاری چلڈرن لائبریری پر جامعہ حفصہ کی طالبات کے قبضہ کے ساتھ جب اس تنازع کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد ایک مبینہ قحبہ خانہ اور پھر مساج پارلر کے خلاف کارروائی نے اس معاملہ کو آگے بڑھایا تھا تو ہم نے اسی وقت یہ عرض کر دیا تھا کہ ایک مسلمان ملک کے اندر حکومت وقت کے خلاف اس قسم کے تصادم کے ماحول اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور مقاصد کتنے ہی نیک اور اچھے کیوں نہ ہوں، ان کے لیے اس طرز کی جدوجہد کو سند جواز فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اس پر ملک بھر کے جمہور علماے کرام کا کم وبیش اجماع منعقد ہو گیا تھا، مگر اس کی پروا کیے بغیر معاملات کو اسی رخ پر آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف ملک کی سنجیدہ دینی قیادت نے حکومت پر مسلسل زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے، جائز مطالبات منظور کرنے کی طرف توجہ دے، ان اسباب وعوامل کو دور کرنے کی کوشش کرے جن کے رد عمل میں شدت کی یہ صورت سامنے آئی ہے اور مذاکرات کے ذریعے سے مسئلے کو حل کرنے کا راستہ نکالے، لیکن حکومت نے بھی اس کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس نے ان جائز مطالبات میں سے کسی ایک کو بھی قابل اعتنا نہیں سمجھا جن کی بنیاد پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ شدت کی اس انتہا تک جا پہنچی تھی۔ 
ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ اگر حکومت اسلامی نظام کے نفاذ، اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کو دوبارہ تعمیر کرنے، حدود شرعیہ میں کی گئی ترامیم پر نظر ثانی اور فحاشی کے مبینہ مراکز کو بند کرنے میں سے کسی ایک مسئلے کی طرف بھی سنجیدگی سے متوجہ ہو جاتی تو اس سلسلے میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے رویے میں پائی جانے والی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا اور ہم لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی اس بات سے بھی متفق ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے طریق کار سے اختلاف کرنے والے ان جائز مطالبات کے لیے صحیح طریق کار سے جدوجہد کیوں نہیں کرتے؟ مولانا عبد العزیز اور غازی عبد الرشید شہید کے طریق کار سے ہم نے بھی اختلاف کیا تھا اور اب بھی ہم اسے غلط ہی سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان ملک میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا، قانون کو ہاتھ میں لینا اور مسلح تصادم کا ماحول پیدا کرنا ہمارے نزدیک شرعاً اور اخلاقاً کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے، لیکن مولانا عبد العزیز کے اس سوال کا آخر کیا جواب ہے کہ ان کے طریق کار سے اختلاف کرنے والوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور فحاشی ومنکرات کے سدباب کے لیے صحیح طریق کار پر مبنی کون سی جدوجہد کا اہتمام کیا ہے؟ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات کو اس رخ تک پہنچانے میں جہاں اسلامی نظام کے معاملے میں حکومت کی سرد مہری کار فرما ہے، وہاں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کی داعی دینی سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں کہ ان کی بے عملی اور تغافل نے وہ خوف ناک خلا پیدا کر دیا ہے جس کو پر کرنے کے لیے تشدد اور بغاوت کی تحریکات آگے بڑھ رہی ہیں اور یہ قانون فطرت ہے کہ خلا جس قدر گہرا ہو، اس کی جگہ لینے والی قوتیں اسی قدر شدت اور تیزی کے ساتھ لپکتی ہیں اور بسا اوقات آندھی او رطوفان کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہیں۔
جہاد افغانستان کے بعد یہ بات حکومت اور دینی سیاسی جماعتوں، دونوں سے توجہ کی طالب تھی کہ جن ہزاروں افراد نے پاکستان سے جا کر افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف عملی جنگ لڑی ہے، وہ صرف اسلحہ چلانے کا ہی عملی تجربہ نہیں رکھتے بلکہ اسلام کی بالادستی اور نفاذ اسلام کے مخلصانہ جذبے سے بھی سرشار ہیں۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے اور وہ ملک کے ہر حصے میں موجود ہیں۔ انھیں ملک وقوم کا قیمتی اثاثہ سمجھتے ہوئے نہ حکومت نے ان کے جذبات و رجحانات کو اسلام اور پاکستان کے لیے مثبت رخ پر قائم رکھنے کی کوئی پالیسی اپنائی اور نہ ہی دینی سیاسی جماعتوں نے انھیں اپنانے اور اپنی جدوجہد میں شریک کرنے کی طرف توجہ دی بلکہ انھیں اپنا حریف اور اپنے لیے خطرہ تصور کیا گیا اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے جو نیا ماحول کھڑا کیا گیا، وہ ان کی کردار کشی، توہین، طنز واستہزا، اور تحقیر وحوصلہ شکنی سے عبارت تھا۔ پھر اس فضا میں ان کے سامنے افغانستان میں امریکی فوجیں اتریں، طالبان کی حکومت کو قوت کے ساتھ تہس نہس کر دیا گیا اور پاکستان میں دینی شعائر اور اسلامی روایات واقدار کو پامال کرنے کی پالیسیاں آگے بڑھنے لگیں تو ان کا غصہ اور نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور وہی غصہ ونفرت مجتمع ہو کر لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ ہم نے حکومت وقت کے ساتھ مولانا عبد العزیز اور غازی عبد الرشید کے تصادم اور محاذ آرائی کے طرز عمل کو غلط قرار دیا ہے اور فی الواقع اسے غلط سمجھتے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی شدید دکھ ہے کہ ان بھائیوں نے حکومت کے ساتھ ساتھ خود اپنی دینی وعلمی قیادت سے بھی بغاوت کی اور ان کی مشاورت وہدایات کو قبول نہ کیا، لیکن اس کا یہ پس منظر بھی ہمارے سامنے ہے کہ اسلامی نظام اور دینی شعائر واقدار کے بارے میں حکومتی حلقوں اور اداروں کی منافقانہ پالیسی کا آخری جذباتی رد عمل یہی ہو سکتا تھا اور غازی برادران کے دل میں یہ بات یقین کے درجے میں بیٹھ چکی تھی کہ دینی سیاسی جماعتوں نے اپنے لیے معروضی سیاست اور اقتدار کی اکھاڑ پچھاڑ کو ہی آخری منزل سمجھ لیا ہے اور ان سے نفاذ اسلام کے لیے کسی موثر جدوجہد کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ 
ہمارے نزدیک یہ دو عوامل ہیں جنھوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو حکومت کے خلاف ایک مسلح مورچہ بنا دیا اور بات لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف سرکاری آپریشن پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ملک بھر میں ہونے والے ہنگاموں اور خود کش حملوں نے لال مسجد کی اس بغاوت کا دائرہ دور دور تک وسیع کر دیا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے کر لیجیے کہ ۱۴؍ جولائی کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سرگودھا میں ایک نوجوان نے بینک ڈکیتی کے دوران میں زخمی حالت میں گرفتار ہونے کے بعد یہ بتایا ہے کہ اس نے بینک پر ڈاکہ اس لیے ڈالا ہے تاکہ رقم حاصل کر کے لال مسجد کا بدلہ لینے اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد منظم کرنے کے لیے کام کر سکے، یعنی اس نے ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے بینک ڈکیتی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے، بہت بڑا المیہ ہے اور اس قسم کے المیے مایوسیوں سے جنم لیا کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو ان کے جائز مطالبات اور جذبات کا صحیح جگہ سے جواب نہیں ملتا تو وہ اس کی تسکین کے لیے متبادل ذرائع اختیار کرتے ہیں اور یہ متبادل ذرائع ضروری نہیں کہ صحیح بھی ہوں۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کا وجود اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور اس کے دستور میں اسلامی نظام کی عمل داری اور اسلامی معاشرے کے قیام کی ضمانت دی گئی تھی۔ جب ایک مسلم نوجوان اس سلسلے میں حکومت کی سرد مہری اور حکومتی اداروں کا منفی طرز عمل دیکھتا ہے تو اس کی نگاہیں بے ساختہ دینی جماعتوں کی طرف اٹھتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں اور حکومتی طرز عمل کا رخ تبدیل کرانے کے لیے کس سنجیدگی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ اگر اسے دینی سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور تحریک میں اپنے جذبات کی تسکین کا سامان مل جائے تو وہ وہاں رک جائے گا اور خود کو ان کے حوالے کر دے گا، لیکن اگر اسے وہاں بھی امید کا کوئی پہلو دکھائی نہ دے اور ہر طرف وقتی مفادات اور مصلحتوں کا ہی ماحول ملے تو پھر اس کے لیے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے اور اسلام کی بالادستی اور فحاشی وبے حیائی سے معاشرہ کو پاک کرنے کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے اور یا پھر اس کے لیے اپنا راستہ خود نکالے اور جو کچھ وہ اس کے لیے کر سکتا ہے، ا س کی منصوبہ بندی کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے ہزاروں نوجوان جو نفاذ اسلام کے مخلصانہ جذبہ سے بہرہ ور ہیں اور اسلحہ کی ٹریننگ بھی رکھتے ہیں، گزشتہ ایک عشرے کے دوران میں اسی تجربے سے گزرے ہیں اور اب وہ اس تجربے کے آخری مرحلے میں ہیں جس کی ایک جھلک لال مسجدمیں پوری قوم نے دیکھ لی ہے اور اگر حکومت اور دینی جماعتوں نے اب بھی اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیا اور ان مخلص او رپرجوش نوجوانوں کے جذبات کو مثبت رخ دینے کی کوئی معقول کوشش نہ کی تو لال مسجد اس قضیہ کی انتہا نہیں ہوگی بلکہ خدا نخواستہ ابتدا ثابت ہو سکتی ہے۔
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے تنازع میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہدا کے لیے ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت انھیں جوار رحمت میں جگہ دیں۔ ہمیں سرکاری فورسز کے ان نو جوانوں سے بھی گہری ہمدردی ہے جنھوں نے اپنی جانیں پیش کیں۔ وہ ڈیوٹی پر تھے اور فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام شہدا کو جوار رحمت میں جگہ دیں، زخمیوں کو صحت عطا فرمائیں، پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازیں اور ہم سب کو بحیثیت قوم اس سانحہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ ملک وقوم کے مستقبل کی بہتر صورت گری کی توفیق دیں۔ آمین ۔

عدالتی فیصلہ اور استاد منگو

پروفیسر میاں انعام الرحمن

۲۰ جولائی ۲۰۰۷ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل کورٹ ۱۳ رکنی بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں عدلیہ کا افتخار بحال کر دیا۔ پاکستان میں عدالتی افتخار کی زبوں حالی دوچار مہینوں کا قصہ نہیں بلکہ کم ازکم نصف صدی پر محیط داستان ہے ۔ پچاس کی دہائی میں سندھ ہائی کورٹ کے باعث افتخار فیصلے کو بے افتخار کرنے کا ’’کارنامہ‘‘ جسٹس منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ نے سرانجام دیا جس کے نتیجے میں عدلیہ نہ صرف انتظامیہ کی رکھیل بن کر رہ گئی بلکہ ابن الوقتی ایک قومی قدر کا روپ دھار گئی ۔مولوی تمیزالدین کے مذکورہ کیس سے لے کرسپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے تک کی طویل تاریخ ، جس میں اسٹیبلشمنٹ چھائی رہی اور ابن الوقتی کو فروغ دیتی رہی ، درحقیقت ایک فریب خوردہ قوم کی حسرت و یاس کی تاریخ ہے ۔ ایسی الم ناک تاریخ کی حامل قوم جب ۲۰ جولائی کے عدالتی فیصلے پر شکرانے کے نوافل ادا کرنے اور مٹھائیاں بانٹنے میں مگن ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کا دل اس یقین سے معمور ہے کہ اب سر اٹھا کر چلنے کا وقت آ گیا ہے تو ہمیں بے اختیار’’ منگو‘‘ یاد آگیا ہے ۔
سعادت حسن منٹو (۱۹۱۲۔۱۹۵۵) نے ’’نیا قانون‘‘ میں ۱۹۳۵ کے انڈین ایکٹ کے حوالے سے ’’ منگو‘‘ کی فریب خوردگی کو بہت مہارت سے واضح کیا ہے۔ منگو ٹانگے والے کو ادھر ادھر سے سن گن ملی تھی کہ نیا دستور آنے والا ہے جس کے نتیجے میں حالات بدل جائیں گے اور وہ اپنی سرزمین پر سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو جائے گا۔ نیا دستور آنے کے بعداستاد منگو نے جب سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کی تو اس غریب کی خوب درگت بنائی گئی۔ سعادت حسن منٹو نے استاد منگو کی فریب خوردگی کی داستان کا انجام اس طرح کیا ہے : 
’’لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا:
’’وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے ...... اب نیا قانون ہے میاں ...... نیا قانون!‘‘
اور بے چارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کے مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ نیا قانون، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
’’نیا قانون، نیا قانون، کیا بک رہے ہو ...... قانون وہی ہے پرانا .......‘‘
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!‘‘
سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ کا حالیہ فیصلہ، جسے تاریخ ساز قرار دیا جا رہا ہے، ’’نیا قانون‘‘ ہے؟ اور کیا ہم سب استاد منگو ہیں؟ جواب آنے والا کل دے گا۔

جماعتی زندگی کا مفہوم اور اس کی اہمیت

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

بلاشک وشبہ مذہب اسلام نے جماعتی زندگی پر بڑا زور دیاہے اور جماعتی زندگی کے ترک کو اسلامی زندگی کے ترک سے تعبیر کیاہے جس کا نتیجہ سوائے خسران اور عذاب جہنم کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ (معاذ اللہ) اور حدیث ’من شذ شذ فی النار‘ (ترمذی، ۲/۲۹ ومشکوۃ ۱/۳۰) کا یہی مطلب ہے اوردوسری حدیث میں واشگاف الفاظ میں رسول برحق حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ :
فانہ لیس احد یفارق الجماعۃ شبرا فیموت الا مات میتۃ جاہلیۃ (متفق علیہ)
’’جو شخض بھی جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا اوراسی حالت میں اس کی وفات ہوگئی تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘
اورظاہر ہے کہ ایسی زندگی اسلامی زندگی کے سراسر مخالف ہے، کیونکہ اسلامی زندگی کی روح ہی یہ ہے کہ مومن کی حیات وموت، اس کی عبادت اورعمل صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لیے ہو اور بس۔ اس کا جو قدم بھی اٹھتاہو، اپنے ذوالمنن کے شوق دیدار کے لیے اٹھے، اوراس کے لبوں سے جب بھی کوئی بات نکلے توصرف حق تعالیٰ کی فرمانبرداری کے لیے۔ اورکیوں نہ ہو، اس کو تو سبق ہی یہ ملاہے: ’قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین‘۔
یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ اسلام کی نگاہ میں جماعتی زندگی کا معنی اور مطلب کیا ہے اور اسلام جماعتی زندگی کس زندگی کو کہتا ہے؟ اسلامی تعلیم کی رو سے جماعتی زندگی یہ نہیں کہ باہم مل کر تفریح طبع کے لیے کوئی کلب بنا لیا جائے اور فرصت کے اوقات میں وہاں جمع ہوکر خوش گپیاں ہانکی جائیں اوردل کی امنگیں نکالی جائیں یا اتفاق کرکے کوئی اکھاڑا اور ورزش گاہ تجویز کرلی جائے جہاں صبح وشا م اکٹھے ہوکر ورزش کی جائے یا کشتی لڑی جائے یا اصلاحی نام پر کوئی ادارہ یاانجمن بنالی جائے اور صلاح مشورہ سے اپنے مزعومہ اور مفروضہ دنیوی اغراض ومقاصد کو بروئے کار لایا جائے، یا کوئی کمیٹی ترتیب دی جائے جس کے ذریعے ووٹوں کی دنیا میں اپنے مقصد پنہاں کو عملی جامہ پہنایا جائے، یا قرآن وسنت اور فقہ اسلامی سے مستغنی ہوکر اپنے خود تراشیدہ اور خانہ ساز اصول کے تحت کوئی سوسائٹی وضع اور اختراع کرلی جائے جس میں ملکی، قومی،سیاسی، اقتصادی، معاشی، اور معاشرتی مفاد کو انجام دینے کی سعی اور کوشش کی جائے یا اسی قسم کی کوئی اوراجتماعی صورت اختیار کرلی جائے جس میں ز ندگی کے لائحہ عمل پر غور وخوض کیا جائے۔ اگرچہ ان تمام صورتوں میں نظر بہ ظاہر اجتماعی زندگی تو موجودہے لیکن اسلامی نقطہ ہائے نظر سے یہ اس اجتماعی زندگی کی مصداق ہرگز نہیں جو اسلام کو مقصود و مطلوب ہے بلکہ اسلام یہ چاہتاہے کہ امت مسلمہ کی یک جہتی واجتماع، اس کا اتفاق واتحاد، اوراس کانظم وضبط محض خداتعالیٰ کی رضاجوئی اوراس کی خوشنودی کے لیے ہو، اورجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کے لیے ہو، قرآن وحدیث کی سربلندی کے لیے ہو، خلافت راشدہ کے قیام اوراس کی بقا کے لیے ہو، سلف صالحین کے بہترین طرز زندگی کے احیا کے لیے ہو، اور ملت کے ایک ایک فردکی کوشش وکاوش، سعی وعمل، تپش وخلش اور سوز وگداز جو ان کے قلب عشق آمیز کی گہرائیوں سے ابھر کر لب آتش نوا تک آپہنچا ہو اورجس کی بدولت جذب واثر کی دنیا رقص کرتی دکھائی دے، صرف اور صرف اطاعت خدا اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو، کتاب وسنت کے لیے ہو، اسلا م کی رفعت اور کامیابی کے لیے ہو۔ 
جس وقت اور جس قدر یہ آرزو بلند اور پاکیزہ تھی، اس وقت یہ ا مت مسلمہ اور اس کا ایک ایک فرد بہمہ تن رضائے خداوندی، پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورتبلیغ اسلام میں منہمک تھا، مگر ان کی تبلیغ وسعی محض زبا ن کی شرینی اورقلم کی روشنائی ہی کی رہین منت نہ تھی بلکہ اس میں خون جگر کی سرخی اوردل کی سوز ش بھی شامل تھی۔ وہ باوجود اختلاف استعداد کے اسلام کے صاف وشفاف چشمہ سے مستفید ہوکر سب عالم کومنور کرنے کے درپے تھے۔ ایک بجلی تھی جو سب میں کوند رہی تھی، ایک بے قرار روح تھی جو سب میں تڑپ رہی تھی، سیماب کی طرح نہ ٹھہرنے والا دل تھاجس نے سب کو بے قرار کر دیا تھا۔ وہ بے سروسامان تھے مگر منظم حکومتیں ان سے لرزتی تھیں، تاج وتخت کے مالک ان سے تھراتے تھے۔ وہ تھوڑے تھے مگر غالب و منصورتھے۔ وہ پیدل تھے مگربرق رفتار تھے۔ وہ بعض دفعہ اکیلے ہوتے مگرہزاروں پر بھاری رہتے تھے۔ نور توحید کاجذبہ، مخلوق خدا کی ہدایت اوراصلاح کاولولہ اور کائنات کی رہنمائی کی فکر ہر ایک قلب میں پیوستہ تھی جس کے سبب خداتعالیٰ کے نام کی سربلندی، اطاعت رسول کاجذبہ، مخلوق کی صحیح ہمدردی اورہر کام میں خداتعالیٰ کی رضا طلبی کا جوش ان میں کام کر رہا تھا۔ وہ جو کچھ بھی تھے، جہاں بھی تھے اورجیسا کچھ بھی کیا کرتے تھے، ان کے ہر کام سے مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور دنیا کی درستی تھی اور بس۔ ان کی دوستی اور مودت بھی محض خداتعالیٰ کے لیے ہوتی تھی اور ان کی عداوت ود شمنی بھی صرف خداکے لیے ہوتی تھی۔ وہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا مجسم پیکر تھے۔ ان کی یہ صفت تھی کہ :
رہ حق میں تھی دوڑاوربھاگ ان کی
فقط حق پہ تھی جس سے تھی لاگ ان کی 
بھڑکتی نہ تھی خود بخودآگ ان کی
شریعت کے قبضے میں تھی باگ ان کی 
جہاں کردیا نرم نرما گئے وہ
جہاں کردیا گرم گرما گئے وہ 
کفایت جہاں چاہیے واں کفایت
سخاوت جہاں چاہیے واں سخاوت 
جچی اور تلی دشمنی اور محبت
نہ بے وجہ الفت، نہ بے وجہ نفرت 
جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی 
رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی 
اسلام میں جس اتفاق واتحاد اور جماعتی زندگی کو ملحوظ رکھا گیاہے، وہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیا ن فرمائی ہے:
واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا (آل عمران ؛۳،۱۰۳)
’’اورتم اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑواور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی اس مضبوط اور متین رسی کو جو قرآن مجید اور دین قیم کے نام سے موسوم ہے، پوری قوت اور طاقت کے ساتھ پکڑو۔ یہ عروہ وثقیٰ اورمحکم رسی ٹوٹ تو سکتی نہیں، لا انفصام لھا، ہاں حرماں نصیبوں کے ہاتھوں سے چھوٹ سکتی ہے۔ اگر مسلمان سب مل کر اجتماعی قوت اور امکانی طاقت سے اس کو پکڑ لیں گے تو کبھی کسی باطل اور طاغوتی طاقت سے بفضلہ تعالیٰ ان کو کوئی گزند اور تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ کوئی شیطان صفت اپنی شیطنت اور شرانگیزی میں کبھی کامیاب ہوسکے گا اورانفرادی زندگی صالح ہونے کے علاوہ امت مسلمہ کی اجتماعی اور قومی قوت بھی بڑی مضبوط اور ناقابل اختلا ل ہوجائے گی اورقرآن وسنت سے تمسک کرنے کی برکت سے تمام بکھری ہوئی قوتیں جمع ہو جائیں گی اور مردہ قوموں کوابدی زندگی اور حیات تازہ حاصل ہوگی۔ آہستہ آہستہ جو اس کیف سے معمور اورشراب حق کے نشہ سے مخمور ہوگا، اس کے دل سے اسلام کی اجنبیت دور اوربے گانگی کافور ہو جائے گی۔ صدائے حق کی کشش اور نوائے صدق کی سریلی بانسری ضرور منیب دلوں پر اثر کرے گی۔ کان والے اسے سنیں گے اورجو سنیں گے سر دھنیں گے۔ اسلام کی رفعت اور سر بلندی کے لیے وہ اپنے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں پہن کر اور اپنے پاؤں میں زنجیروں کے بوجھل حلقے ڈال کر اوراپنے نرم ونازک جسم کو چور چور کروا کر بلکہ اکثر اوقات دار ورسن کے نیچے کھڑے ہوکر بھی وہ ایسی لذت محسوس کرتے ہیں جو شاہ ہفت اقلیم کو سلطنت کا سنہری تاج پہن کر بھی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہ اپنی بقاکا راز ہی اسی میں سمجھتے ہیں کہ :
فنافی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے 
جسے جینا نہیں آتا، اسے مرنا نہیں آتا
(تبلیغ الاسلام، حصہ اول، ص ۳۳ تا ۳۷)

اسلام اور دولت کی گردش

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

فرمایا: اللہ نے تقسیم مال کا یہ حکم اس لیے دیا ہے ’کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم‘، تاکہ یہ دولت تمہارے آسودہ حال لوگوں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس کی گردش معاشرے کے انتہائی طبقے تک ہونی چاہیے۔ ’دولۃ‘ کے لفظ سے یہ اصول بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی نظام معیشت میں کسی خاص طبقہ میں ارتکاز دولت ہر گز پسندیدہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام (concentration of weath) کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ وجہ ظاہر ہے کہ جب دولت کا دوران صرف ایک طبقہ تک محدود ہو جاتا ہے اورباقی طبقات محروم ہو جاتے ہیں توپھر اس کے نتیجے میں امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہو جاتے ہیں۔ جب کبھی ملک میں اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں توپھر وہاں کمیونز م اور سوشلزم کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام بھی ملعون ہے، مگر سوشلزم اس سے بھی قبیح ہے۔ مطلق العنان ملوکیت بھی اسی قبیل سے ہے۔ کسی ملک کا بادشاہ یا ڈکٹیٹر اپنے آپ کوغیر مسؤل سمجھتاہے اوران کے ہاں آمد وخرچ کا حساب کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام میں شخصی ملکیت کی اجازت ہے، مگر یہ ملکیت عارضی اور بطورامانت ہوتی ہے۔ اللہ جس کو دولت دیتاہے، اس کو آمد وخرچ کے قوانین کا بھی پابند بناتا ہے۔

ارتکازِ زر کی ممانعت 

جس مالک الملک نے انسانوں کو ارتکازِ زر کی اجازت نہیں دی، اس نے اپنے براہ راست قبضہ قدرت کی چیزوں کو اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ کوئی ادنیٰ واعلیٰ ان سے محروم نہیں رہتا، مثلاً ہوا، فضا ، سورج ، چاند، ستارے، بارش، دریا، سمندر وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو اس نے مخلوق میں کسی کے قبضے میں نہیں دیا۔ تمام انسان، جانور، پرندے اورکیڑے مکوڑے ان چیزوں سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں۔ سانس لینے کے لیے ہوا کی ہر جاندار کو ضرورت ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی سب کی ضرورت ہے، پانی بھی تمام جانداروں کی بنیادی ضرورت ہے، لہٰذا اللہ نے یہ چیزیں ہر ایک کے لیے فری مہیا کی ہیں۔ اسی طرح دولت بھی چند ہاتھوں میں محدود ہو کر نہیں رہنی چاہیے۔ جب تک دولت کا دوران (circulation) صحیح طریقے سے ہوتا رہے گاتو دنیا میں توازن قائم رہے گا، ورنہ یا تو نظام سرمایہ داری آ جائے گا یا پھر رد عمل کے طور پر سوشلزم آئے گا، حالانکہ یہ دونوں نظام ملعو ن ہیں۔

شخصی ملکیت کا احترام 

ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہر شخص کو دولت کمانے اور خرچ کرنے کی کھلی چھٹی دیتا ہے جس سے ارتکازِ زر پیدا ہوتا ہے تو دوسری طر ف سوشلزم شخصی ملکیت کابالکل ہی انکار کر دیتا ہے۔ اسلام کا نظام معیشت ان دونوں کے درمیان اعتدال کے ساتھ چلتاہے۔ اسلام کسی شخص کی ذاتی ملکیت کا اسی طرح احترام کرتا ہے جس طرح کسی کی جان کا احترام کرتا ہے۔ اسلام اگرقاتل کا سر قلم کر دیتا ہے تو مال چوری کرنے والے کا بھی ہاتھ کاٹ پھینکتاہے۔ ’لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفسہ‘، کسی مسلما ن کا مال دوسرے کے لیے حلال نہیں جب تک مالک اپنی مرضی سے کسی کو نہ دے۔ غرضیکہ مال کی شخصی ملکیت بھی انسا نی جان کی طرح محترم ہے۔ البتہ اسلام نے اکتسابِ زر پر ضرور پابندی عائد کی ہے تاکہ نہ کوئی مضر پیشہ اختیار کیا جائے اورنہ چوری، ڈکیتی، رشوت، قمار بازی، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے ذریعے مال حاصل کیا جائے۔ مخرب اخلاق کاروبار جیسے فوٹو گرافی، فلم سازی، موسیقی، سٹہ بازی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔مطلب یہ کہ صرف حلال ذرائع سے ہی دولت کمانے کی اجازت ہے۔
اگراسلام نے جائز ذرائع سے دولت کما نے کی اجازت دی ہے توساتھ ساتھ ایسے مال کے حقوق ادا کرنے کا بھی پابند بنایا ہے۔ اگر مال نصاب کو پہنچ گیا ہے تو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دو، صدقہ فطر ادا کرو، قربانی دو، حج اور عمرہ کے لیے خرچ کرو، غربا ومساکین کو صدقہ خیرات دو۔ اگریہ حقوق اداکیے جائیں تو ارتکازِ زر کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مال خرچ کرنے سے دوفوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک طرف مستحقین کی حاجت برآری ہوتی ہے اوردوسری طرف خرچ کرنے والے سے بخل کا مادہ دور ہو کر اس میں اخلاق حسنہ پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ نے تقسیم مال کی ایک اور صورت بھی لازمی قرار دی ہے اور وہ ہے وراثت کی تقسیم۔ مال دارآدمی کے مرنے کے بعد جائیداد میں سے پہلے قریبی رشتہ داروں کو حصہ ملتاہے اوراگر وہ موجود نہ ہوں تو دور کے رشتہ دار حصہ داربن جاتے ہیں۔ اسلا م نے یہ تما م طریقے ارتکاز دولت کو روکنے کے لیے رکھے ہیں۔ الغرض اسلام کا نظام معیشت ہی بہترین نظا م ہے جو ارتکاز کو روک کر مال کو زیادہ سے زیادہ پھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
(معالم العرفان فی دروس القرآن، سورۃ الحشر ۵۹: ۷)

پاکستان میں تاریخ نویسی کے ابتدائی رجحانات

پروفیسر شیخ عبد الرشید

علمِ تاریخ انسانی معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی افعال کا آئینہ دار ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین اور مفید علوم میں ہوتا ہے۔ یہ محض ماضی کے دلچسپ اور یادگار واقعات کی جستجو ہی کا نام نہیں جیسا کہ ہیروڈوٹس نے کہا تھا، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم انسانی تہذیب کے عہد بہ عہد ارتقا کی تصویر دیکھتے ہیں۔ یہ انسانی جدوجہد کی داستان پیش کرتی ہے۔ اگر تاریخ انسانی ز ندگی کے مختلف شعبوں میں گزشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک نہ پہنچاتی تو انسانی تمدن کا کارواں کبھی رواں دواں نہ ہو پاتا اور زمانہ قبل از تاریخ کی تاریک اور کٹھن منزل پر ہی ٹھہرا ہوا ہوتا۔ مرقوم تاریخ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے توسط سے مختلف اقوام و افراد ماضی کے دریچے سے اپنے کردہ ونا کردہ اعمال و افعال پر تنقیدی نظر ڈال کر حال و مستقبل کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور ماضی کی روشنی سے حال کو منور کرکے اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکتے ہیں۔ 
تاریخ ماضی اور حال کے درمیان وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر انسان عہدِ رفتہ سے ناتا جوڑ سکتا ہے۔ یہ ماضی، حال اور مستقبل کی وحدت کا نام ہے۔ سپین کے دانشور ویویز (VIVES) نے کہا تھا کہ جو قوم تاریخ سے بے بہرہ ہے، اس کے بوڑھے بھی بچے ہیں۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ کو محفوظ کر لیتی ہے، وہ گو یا بقائے دوام کاسامان مہیا کرتی ہے۔
پاکستان جیسی نئی قائم ہونے والی ریاست میں قومی تاریخ لکھنے کا سوال خاصا پیچیدہ رہا ہے۔ ایک طرف تو یہاں ریاست ان لوگوں نے قائم کی جو ایک مختلف تاریخی و ثقافتی ورثے کے مالک تھے اور جن کے آباو اجداد نے جنوبی ایشیا میں ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ دوسری طرف وہ ملک جس کو پاکستان کہا جاتاہے، اس نے مسلمانوں کے ایک نئے ثقافتی کردار کو اپنانے سے پہلے ایک ایسی تہذیب قائم کر لی جو بڑی اہمیت کی حامل تھی، اس لیے پاکستان میں تاریخ نویسی کے ابتدائی رحجانات کا جنوبی ایشیا میں تاریخ نویسی کی روایت کے بڑے کینوس سے الگ کر کے جائزہ لینا اسے سمجھنے میں دشواری پیدا کرے گا۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مختصراً یہ دیکھ لیا جائے کہ انڈو مسلم تاریخ نویسی نے یہاں کیا ترقی کی اور آزادی کے بعدکے محققین پر کیا اثرات مرتب کیے تاکہ پاکستان میں تاریخ نویسی کے رحجانات کو سمجھا اور پرکھا جا سکے کیونکہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ نویسی کی پرانی روایت کا تسلسل بعد میں بھی جاری رہا ہے۔ اس سلسلے میں تقسیم ہند سے پہلے کی تاریخ نویسی کو تین ادوار میں تقسیم کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا ابتدائی دور، پھر انڈو مسلم دور، اور پھر نو آبادیاتی دور۔
(i) ابتدائی دور: ابتدائی دور جو گیارھویں صدی تک پھیلا ہوا ہے، اس دور کے تاریخ نویس غیر ملکی تھے مثلاً یونانی، چینی سیاح اور عرب وفارس کے مسلم مورخین۔ ابتدائی دور کے تاریخ لکھنے والوں کی تحریریں حقائق پر مبنی بیانیہ تھیں۔ یونانی و چینی تحریریں محدود اور خاص واقعات و مواد سے متعلق نظر آتی ہیں، مثلاً یونانی تحریروں کا تعلق اسکندر اعظم کی مہمات سے ہے جبکہ چینی سیاحوں کی تحریروں کا تعلق ان علاقوں میں بُدھ ازم کی حالت سے ہے۔ ان تحریروں میں دی گئی دیگر معلومات مفید تو ہیں مگر ثانوی حیثیت کی حامل ہیں جبکہ اس دور کے بارے میں لکھنے والے مسلم مورخین کی تحریریں فنِ تاریخ نویسی کے حوالے سے زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ہیئت و مواد کے اعتبار سے متنوع اور یہاں کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان دنوں تاریخ نویسی کا طریقہ Descriptive reporting or narration free from any personal opinion یعنی مورخ کی ذاتی رائے اور تجزیے سے مجرد محض خبر اور حکایہ پر مبنی تھا۔
(ii) انڈو مسلم دور : برصغیر میں تاریخ نویسی کا آغاز و ارتقا مسلمانوں کی آمد کے بعد ہی ہوا۔ سلطنت دہلی کے قیام کے بعد یہاں فن تاریخ نویسی کو فروغ ملا۔ خبر اور حکایہ کے ساتھ ساتھ عہد بہ عہد تاریخی حالات اور طبقاتی تقسیم، سیرت و انساب کے حوالے سے تاریخ نویسی ہوئی۔ یہ تمام طریقے تیرھویں صدی میں ہی استعمال ہونے لگے۔حسن نظامی نیشا پوری کی ’’تاج المآثر‘‘ اس کی ایک مثال ہے۔ تاریخ نویسی کے حوالے سے طبقات ناصری، فتح نامہ سندھ، چچ نامہ، تزک بابری، اور آئین اکبری انڈومسلم عہد کی تاریخ نویسی کے نمائندہ کام ہیں۔ درباری مورخین کے ذریعے عصری تاریخ لکھنے کا رواج یہاں مغلوں کے دور میں ہوا۔ میر علی شیرقانی کی ’’تحفۃ الکریم‘‘ اس دور کی تاریخ نویسی کا آخری نمونہ ہے۔ 
(iii) نوآبادیاتی دور : حقیقی استعماری قبضے سے بہت پہلے ہی غیر ملکی مصنفین جن میں زیادہ تر سیاح، عیسائی مبلغین اور وہ سرکاری عہدیدار تھے جنہوں نے مغلیہ عہد میں ہندوستان کا دورہ کیا، انہوں نے یہاں کے بارے میں لکھا، مگر لسانی مشکلات، قابل اعتبار افراد و دستاویزات تک رسائی میں مشکلات اور مذہبی تعصبات نے ان کی لکھی ہوئی تحریروں کی قدرو قیمت کو کم کیا۔ نو آبادیاتی دور میں جو تحریری مواد سامنے آیا، وہ زیادہ تر عیسائی مشنریوں یا نو آبادیاتی منتظمین اور پالیسی میکرز کا تحریر یا جمع کردہ تھا۔ اس دور میں تاریخ نویسی کا غالب رحجان یہ تھا کہ تاریخ کے ذریعے نو آبادیاتی حکمرانوں کو رعایا کے لیے مہربان حکمران ثابت کیا جائے۔ چونکہ انگریزوں کی آمد سے قبل مسلمان یہاں حکمران تھے، لہٰذا انہیں برا بھلا کہنے کا رحجان نمایاں نظر آتا ہے۔استعماری حاکموں نے اقتدار کے استحکام کے لیے ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کا جو فلسفہ اپنایا، اس دور میں تاریخ نویسی بھی اسی طرزِ فکر کی مظہر رہی۔ ہندو مسلم اختلافات، جن کو مغل عہد کی تاریخ نویسی نے بڑی حد تک ختم کر دیاتھا، ان کو پھر ہوا دی گئی۔ اس طرح انگریزوں نے تاریخ سے تعمیر کے بجائے تخریب کا، دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا، اور مختلف فرقوں میں محبت و دوستی کے بجائے نفرت و دشمنی کے جذبات پیدا کرنے کا کام لیا۔ اس دور کی تاریخ نویسی کے مضر اثرات آج تک باقی ہیں۔ برطانوی مورخین نے، جن میں ایلیٹ کانام بھی آتاہے، ہندووں پر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ سفیدفام قوم نے انہیں ظالمانہ، پریشان کن اور ایذارساں غلامی سے، جو ان پر وحشی اور غیر متمدن مسلمانوں نے مسلط کر رکھی تھی، آزاد کرایا۔ قوم پرست مارکسی دانشوروں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایلیٹ کے پیش لفظ سے کافی اقتباسات لیے ہیں کہ فرقہ پرستانہ تاریخ نویسی کے بیج برطانیہ نے بوئے، اس میں فرقہ پرست مصنفین نے کھاد ڈالی اور دونوں فرقوں کے غریب عوام کی قسمت پر اس کی فصل کاٹی۔
نو آبادیاتی عہد میں تاریخ نویسی کا دوسرانمایاں رجحان غیر جانب داری اور معروضیت objectivity کے نام پر مقامی مورخین کی مذمت کرنے کا تھا، حالانکہ مقامی مورخین کا رویہ مقامی عوامل سے مشروط تھا اور یہی عوامل اصل میں مقامی تاریخ کا تانا بانا بننے والے تھے۔ اس کے برعکس غیر ملکی مورخین نے تاریخ کے عمل کو مخصوص زاویے اور اپنی ہی عینک سے دیکھا اور اپنی تربیت و تجربے کے پس منظر میں تشریحات ڈھونڈیں۔ ان کا مقامی سماجی تہذیبی صورت حال کا فہم ناکافی تھا لہٰذا ان کی تحریریں نتائج کے اعتبار سے خاص رنگ لیے ہوئی تھیں۔ 
انگریزوں کی، تاریخ کو نو آبادیاتی نظام کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی سے پیدا ہونے والے عدم توازن کو درست کرنے کے لیے کئی مقامی اور مسلمان مورخین نے پہلے معذرت خواہانہ انداز میں اور پھر زیادہ آزاد و مثبت تحریروں سے تاریخ نویسی شروع کی۔ اس عمل کا آغاز سر سید احمد خاں نے ابو الفضل کی ’’آئین اکبری‘‘ کا ایڈیشن ۱۸۵۵ء میں، ضیاء الدین برنی کی ’’تاریخ فیروز شاہی‘‘ ۱۸۶۲ء میں اور ’’تزک جہانگیر ی‘‘ ۶۴۔۱۸۶۳ء میں شائع کر کے کیا۔ پھر ۱۸۷۰ میں خطبات احمدیہ لکھی۔ عزیز احمد کے خیال میں یہ جدید مسلم تاریخ نویسی کا نقطہ آغاز تھا۔ (۱) انگریز عہد میں مسلمان حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا ردعمل مسلمانوں میں پیدا ہوا تو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، رائل سوسائٹی آف بنگال، ندوۃ العلماء اعظم گڑھ، اور دائرۃ المعارف حید ر آباد دکن نے تاریخی مواد کے تنقیدی ایڈیشن شائع کر کے انڈو مسلم تاریخ نویسی کا احیا کیا اور نوآبادیاتی عہد کی تاریخ اور تاریخ نویسی کا مسلم نقطہ نظر سے جائزہ لینے کی طرح ڈالی۔ 
تاریخ نویسی کے مذکورہ رجحانات کے پس منظر میں ہی تقسیم ہند ممکن ہوئی۔ پاکستان میں تاریخ لکھنے والے تقسیم سے پہلے انڈو مسلم تاریخ نویسی کی نشاۃ ثانیہ کی تحریک کے علمبردار تھے، لہٰذا تقسیم ہند کے ساتھ ہی تاریخ نویسی کی پرانی روایات کا ورثہ بھی تقسیم ہوا۔ نمایاں فرق یہ واقع ہوا کہ فرقہ پر ستانہ تاریخ نویسی نے قوم پرستانہ تاریخ نویسی کا روپ دھار لیا۔ تقسیم شدہ عوام کی تاریخ بھی برطانوی حکومت کی ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ پالیسی کا ثمر ہے جو تاریخ دانوں کے درمیان آج بھی ورثے کی حیثیت سے ثابت اور قائم ہے۔ جدوجہد آزادی کے دوران میں فرقہ پرست مورخ تاریخ کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتے تھے، لیکن ان کا مرکزی خیال یہی ہوتا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں ر ہ سکتے او ر نہ کبھی رہے تھے اور اگر انہیں ایک ساتھ رکھا گیا تو وہ آگ اور پانی کی طرح رہیں گے۔ آگ پانی کو اڑا دیتی ہے یا پھر پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ الفاظ کا ذخیرہ اورانتخاب مختلف تھا، لیکن ہندو اور مسلم فرقہ پرست ایک ہی زبان بولتے تھے۔ بپن چند نے فرقہ پر ستانہ تاریخ نویسی کے تاریخی متن کو بہترین انداز میں جانچا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد فرقہ پرستوں نے آسانی سے قوم پرست مورخین کا لبادہ اوڑھ لیا کیونکہ قوم پرست مورخ بھی حقائق کے انتخاب میں خاص احتیاط سے امتیاز برت کر مرضی کے نتائج اخذ کرنے کے وہی طریقے اور اصول استعمال کرتے ہیں جو فرقہ پرست مورخین کرتے تھے۔ 
پاکستان کے ابتدائی مورخین میں تقریباً سبھی اس گزری تحریک اور تاریخ کا حصہ تھے۔ کچھ نے اس تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ اس کا مثبت پہلو یہ تھا کہ وہ تاریخ کے عینی شاہد تھے۔ اس طرح وہ خود مآخذ تاریخ تھے، مگر ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ ان کے ہاں اس perspective کی کمی تھی جو تاریخ نویسی میں وقت اور فاصلہ فراہم کرتا ہے۔ شروع ہی سے پاکستانی مورخین کی یہ کوشش رہی کہ وہ برٹش انڈیا کی تقسیم کی وضاحت کریں، اس کو سمجھائیں اور اساس پاکستان کا جواز پیش کریں، اس لیے نظریے کو بے پناہ اہمیت دی گئی۔ احمد حسن دانی کے بقول:
Pakistan has been so much overwhelmed with ideological considerations that other aspects of life are left to take care of themselves. 
’’پاکستان میں نظریاتی پہلووں کا لحاظ اس قدر غلبہ اختیار کر گیا ہے کہ زندگی کے دوسرے پہلووں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔‘‘
اسی لیے یہاں مورخ ایسی پوزیشن اختیار کرتے ہیں جو ایک مستقل اور منطقی کہانی بیان کرتی ہے ۔ 
قیام پاکستا ن کے ابتدائی تین سالوں میں تاریخی مواد اخبارات اور میگزینوں کے مضامین کی شکل میں سامنے آیایا پھر تقریری ادب، کمیٹی رپورٹس اور حکومتی اداروں کی شائع کردہ دستاویزات کے ذریعے ظاہر ہوا۔ اس سے سرکاری طور پر تصور پاکستان کی وضاحت ہوتی رہی۔ انگریز عہد میں سول و ملٹری افسران کی علم و تالیف سے انہماک کی جو روا یت شروع ہوئی تھی، اسی رجحان کی تقلید میں پاکستان میں وزارت خزانہ کے ممتاز حسن، آئی بی ڈویژن کے ایس ایم اکرام، ڈپٹی سیکرٹری قدرت اللہ شہاب اور ڈائریکٹر انفارمیشن مجید ملک متحرک رہے۔ ۱۹۴۹ء میں ڈائریکٹر آف فارن پبلسٹی کے ذریعے Pakistan: the struggle of a nation شائع ہوئی۔ سرکاری سرپرستی میں ہی ۱۹۵۰ء میں رچرڈ سائمنڈ کی The making of Pakistan سامنے آئی۔ اسی سال R.E.M Wheelerکی کتاب Five thousand years of Pakistan کو پذیرائی ملی۔ پھر The Cultural Heritage of Pakistan کامنصوبہ بنا جو بعد ازاں ۱۹۵۵ میں شائع ہوا۔ یہ تاریخ نویسی کے حوالے سے سرکاری کاوشیں تھیں۔ ان سالوں میں خالصتاً علمی وتحقیقی تاریخ نویسی کا فقدان نظر آتاہے۔ حکومتی حلقوں کی اشاعتوں کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی سطح پر تاریخ نویسی کے لیے ادارے قائم کیے گئے تاکہ سرکاری نقطہ نظر کے عین مطابق تاریخ لکھوائی جا سکے۔ سندھی ادبی بورڈ ، پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی، دی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان وغیرہ کا قیام عمل میں آیا۔ 
ابتدائی دہائیوں پر نظر دوڑائیں تو ملکی و غیر ملکی مورخین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو موضوع بنایا۔اس سے سماجی، تہذیبی، معاشی اور دیگر پہلو تشنہ رہ گئے۔ ڈاکٹرا یس اے رحیم نے A Social History of Bengal لکھ کر سماجی تاریخ نویسی کا آغاز کیا، لیکن یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ثقافتی اور روحانی تاریخ کے حوالے سے ایس ایم اکرام نے قابل قدر کام کیا۔ ان کا ذہن دینی تھا اور انہیں تصوف سے دلچسپی بھی تھی، لہٰذا انہوں نے آبِ کوثر، موجِ کوثر، رودِ کوثرکے علاوہ History of Muslim civilization in India اور Muslim India and Birth of Modern Pakistan تحریر کی۔ چونکہ اس دور میں مسلم سوشل ہسٹری میں کوئی اور مورخ نہ تھا لہٰذا یہاں شیخ اکرام اس طرز کی تاریخ نویسی کے بانی قرار پائے۔ 
پاکستان میں تاریخ نویسی کے حوالے سے ایک اور رجحان صحافیانہ تاریخ نویسی کا ہے۔ سید حسن ریاض کی ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ اس کی ایک مثال ہے۔ ایسی تحریروں میں تحقیق سے زیادہ اسلوب پر زور رہا۔ سلسلہ وار تاریخ نویسی کے حوالے سے اس دورمیں تین بڑے کام نظر آتے ہیں۔ ایک A History of the Freedom Movement ، دوسرا آٹھ جلدوں پر مشتمل تاریخِ سندھ اور پھر چار جلدوں پر مشتمل کراچی یونیورسٹی کی شائع کردہ A Short History of Pakistan ایک اچھا آغاز تھا مگر معاونین کے ذریعے مرتب کی جانے والی کتب کی ساری خامیاں ان میں موجود تھیں۔ طرز تحریر میں ہم آہنگی کا فقدان تو تھا ہی، فکری جرات کی بھی کمی تھی۔ یہ ریفرنس ورک ہونا چاہیے تھا مگر مورخین کے ہاں validity حاصل نہیں کر پایا۔ ان میں بار بار دہرائے جانے حوالہ جات کی بوریت بھی نمایاں ہے۔ یہ وقت کے تقاضوں کو بھی پورا نہ کر پائیں۔ تاہم اشتیاق حسین قریشی، عزیز احمد، عبد الحمید، خالدبن سعید، حفیظ ملک، معین الحق وغیرہ کی کتب بھی ساٹھ کی دہائی میں یکے بعد دیگرے شائع ہوئیں۔ ان محققین کے ہاں یہ رجحان نمایاں دکھائی دیتاہے کہ وہ گزشتہ جنوبی ایشیا کی ایک ہزار سال کی تاریخ کے بارے میں خیالات پیش کرتے ہیں، وحدت کو تلاش کرتے ہیں اور بڑی نرم گفتاری سے منظر کے تنوع کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 
شروع میں پاکستان میں تاریخ نویسوں نے عصری تاریخ کی بجائے قدیم دور کی تاریخ کو موضوع بنایا۔ یہ برطانوی روایتِ تاریخ نویسی کا واضح اثر تھا۔ ہر لکھنے والا کا مقصد یہ تھا کہ ماضی کو پرشکوہ ثابت کیا جائے اور پھر اپنے سارے قومی تصورات اور کارناموں کو تاریخ کے ذریعے ثابت کیاجائے اور تاریخ کو اپنی موجودہ سیاسی اور قومی ضرورتوں کے قالب میں میں ڈھال کر اپنے over-emotionalاحساسِ ِ تفاخر کو تسکین فراہم کی جائے۔ اس طرح تاریخ نویسی ہمارے ہاں واقعہ کی ایسی تعبیر نو بن کر رہ گئی جو ان کے نظریات اور تصورات پر صادق آتی ہے۔ گویا مورخین نے تاریخ کو پراپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ 
یہاں کے مورخین کے لیے ایک مشکل سوال انڈیا میں مسلمانوں کی حکمرانی کی نوعیت سے متعلق نظر آتاہے کہ آیا مسلمانوں نے ایسی اسلامی ریاست قائم کی جو شریعت کے مطابق تھی یا انہوں نے ایسی مسلم حکومتیں قائم کیں جن کے پیچھے سیاسی طورپر باشعور اور مربوط اقلیت تھی جو ایسی اکثریت پر حکمرانی کر رہی تھی جن کا مذہب ان کے مذہب سے مختلف تھا؟ یا وہ محض اقلیتوں کی حکومتیں تھیں جو اپنے مفادات کے لیے حکمرانی کر رہی تھیں، لیکن انڈیا میں مسلم معاشرے کے ساتھ ایک مذہبی الحاق رکھتی تھیں؟ غیر مسلم اکثریت کا مسلم حکمرانی کے خلاف ردعمل کیا رہا؟ ہندوستان کے مسلمان اپنا علیحدہ تشخص رکھتے تھے یا وہ ہندوستانی آبادی کا اٹوٹ انگ تھے؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے مورخین کو قدرتی طور پر انڈیا میں مسلمانوں کی موجودگی کی نوعیت کی وضاحت کرنا پڑتی تھی کہ وہ کون تھے؟ کیا انہوں نے ایک مربوط معاشرے کو تشکیل دیا؟ اگر ایسا تھا تو کس چیز نے انہیں مربوط رکھا؟ کیا یہ سیاسی مفادات تھے، معاشی محرکات تھے یا مذہبی وفاداریاں تھیں؟
مسلمان انڈیا میں فاتحین کے طور پر آئے اور مختلف مفادات نے ان کے اندر اس کام کی تحریک پیدا کی کہ وہ شہری مراکز میں ایک حکمران اشرافیہ کے طور پر آباد ہوئے۔ مسلم معاشرے کی قوت کا ایک بڑا ذریعہ ہجرت تھی یا صدیوں پر محیط تبدیلی مذہب کا عمل۔ یہ لوگ مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے، مختلف زبانیں بولتے تھے مگر آہستہ آہستہ ایک مضبوط اور واضح شناخت کے رشتے میں بندھ گئے۔ پاکستانی تاریخ دانوں کے ڈین ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مسلم معاشرے کو Community of purpose قرار دیتے ہیں جو ایمان ، اقدار اور زندگی کے بارے طرز فکر کے حوالے سے واحد تشخص کی حامل تھی۔ وہ ان کے کارناموں، ترقی اور زوال اور جدوجہد کی تصویر کشی کرتے ہیں جس کی انتہائی منطقی شکل ایک علیحدہ مسلم ریاست یعنی پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔ (۲) اسی دور کے بارے میں لکھتے ہوئے عزیز احمد سلطنت دہلی کو قانونی حوالے سے عالمی سطح پر عباسی خلافت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں عباسی خلفا کی authority تسلیم کی جاتی تھی۔ اس حوالے سے استثنا خلجیوں میں قطب الدین مبارک (۲۰۔۱۳۱۶) ہے جس نے اپنے لیے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا۔ ان کے خیال میں نظریاتی طورپر بھی اس عہد میں نظام کو چلانے کے لیے شریعت کا قانون نافذ تھا۔(۳) تاہم جامعہ ملیہ دہلی کے ڈاکٹر ایس عابد حسین جنوبی ایشیا کے سارے بر صغیر کو ایک کلچرل یونٹ قرار دیتے ہیں جس میں اسلام نے لائق تحسین اور مثبت کردار ادا کیا۔ وہ عزیز احمد کے تصور کے برعکس کہتے ہیں کہ سلطنتِ دہلی کو اسلامی ریاست کہنا ایک افسانے سے کم نہیں۔ (۴) جبکہ ڈاکٹر حفیظ ملک یوں رقم طراز ہیں کہ:
One might say that the Ghaznavide Punjab including the north western frontier areas and the Islamized Sindh was the first Pakistan established by Muslims of diverse racial strains in the border provinces of India. (5)
’’یہ کہا جا سکتا ہے کہ غزنویوں کے زیر نگیں پنجاب، اور اس کے ساتھ شمال مغربی سرحدی علاقے اور اسلام کے زیر اثر آ جانے والے سندھ پر مشتمل علاقہ پہلا پاکستان تھا جو متنوع نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے انڈیا کے سرحدی صوبوں میں قائم کیا۔‘‘
اس مکتبہ فکر کے مورخین کا خیال یہ ہے کہ پاکستان مسلم معاشرے کی تاریخ کا ایک منطقی نتیجہ تھا، چنانچہ ریاست کی ابتدا اور قوم پرستی کی علامات کو گیارھویں صدی میں ہی دیکھا جا سکتا ہے` لیکن بہت سے پاکستانی تاریخ نویس تاریخ کی اس توضیح و تشریح سے اتفاق نہیں کرتے، مثلاً ایس ایم اکرام کا خیال ہے کہ پاکستانی مورخین نئی ریاست کے آغاز و جواز کے تلاش میں زیادہ ہی قدیم دور میں چلے گئے۔ کچھ نے تو اساس پاکستان کے لیے البیرونی تک کا حوالہ دے دیا، مگر اکرام کے بقول بے شک مسلم علیحدگی کی بنیاد اسی وقت تیار ہو گئی تھی جب اسلام برصغیر میں داخل ہوا اور پھر ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک پل کی فراہمی کی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں، تاہم عملی مقاصد کے لیے تصور پاکستان میں آہستہ آہستہ آنے والی شفافیت اور احساس انگریزوں کے عہد میں نمایاں ہوا۔ حفیظ ملک کے برعکس ایس ایم اکرام سندھ میں عربوں کی حکمرانی کو مقامیت سے ایک ساجھے داری قرار دیتے ہیں جس میں مسلم حکمرانوں نے سلطنت کے دفاع اور امن و امان کی طرف توجہ دی جبکہ سول انتظامیہ کا چارج ہندو عمال کے پاس ہی رہا جو علاقہ کے روایتی سول سرونٹ تھے ۔
اسی حوالے سے ایک اور پاکستانی مورخ ڈاکٹر عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ پاکستان، انڈیاپر برطانوی قبضے کے بعد کی قوتوں کی پیداوار ہے۔ (۶) کے کے عزیز کا خیال ہے کہ مسلم قومیت کا تصور اور علیحدہ قومیت کا تصور ۱۸۵۷ء کے بعد کے مظاہر ہیں جن کا آغاز لوگوں کی چھوٹی سی تعداد سے ہوا۔ آہستہ آہستہ مسلم ثقافت اور زندگی کے مختلف پہلو برصغیر میں مل گئے اور مسلم انڈیا کا تصور قائم ہوا، جبکہ وہ پاکستان کی ناگزیریت کو وہ حکومت خود اختیاری کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ مسلم قومیت کے تصور کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ مسلم نیشنلزم کا تصور علاقائی سے زیادہ معروضی، اور سیاسی سے زیادہ نفسیاتی تھا جبکہ ہندو نیشنلزم ثقافتی سے زیادہ علاقائی اور مذہبی سے زیادہ تاریخی تھا۔ (۷) اسی طرح سیاسی تجزیہ نگار خالد بن سعید تاریخ کے بہت سے ’’اگر مگر‘‘ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ پاکستان اولین طور پر مسلم اضطراب کی پیداوار تھا جس کا مقصد انڈین وفاق کے ڈھانچے میں رہ کر ایک ثقافتی و سیاسی خود مختاری قائم کرنا تھا۔ بعد ازاں پاکستان کا قیام ان کے اس جرات مندانہ دعوے کی پیداوار تھا کہ مسلمان چونکہ ایک علیحدہ قوم ہیں، اس لیے ان کی ایک خود مختار ریاست ہونی چاہیے۔ وہ اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ یہ تاریخ میں ہندوؤں کی مخصوص مسلم دشمنی کا نتیجہ تھا۔ ہندوؤں کی مسلم دشمنی ان کے خیال میں جزوی طور پر Muslim Ethnocentricity اور کچھ حد تک ہندوؤں کی مذہبی رسومات کی پیداوار تھی۔ وہ ۱۸۵۷ سے پہلے کی تاریخ میں جائے بغیر بھی ان مورخین کے قریب پہنچ جاتے ہیں جو پاکستان کے قیام کی نشانیاں ہندومسلم اختلافات کی صدیوں پرانی تاریخ میں دیکھتے ہیں، لیکن خالد بن سعید کو اپنی مذکورہ بات کا بھی یقین نہیں ہے کیونکہ وہ مذکورہ بیان کو perhaps یعنی شاید کے لفظ سے مشروط کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نے ۱۹۴۶ کے کابینہ مشن پلان کو قبول کیا جس میں پاکستان کی اسکیم کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ (۸)
پاکستانی مورخین میں سے کم از کم ایک مورخ ایسا بھی تھا جس نے ہندو مسلم عداوت کا ذمہ دار برطانوی تاریخ نویسوں کو ٹھہرایا۔ ۱۹۵۵ کی پاکستان ہسٹری کانفرنس میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد ناظم نے کہا کہ ’’بلاشبہ تاریخ ایک ایسا ہتھیار ہے جو قوموں کی سوچ کو خراب کرنے اور تبدیل کرنے کے لیے کثرت سے استعمال کیا جاتاہے۔ تاریخ ہند کو ایک خاص نقطہ نظر سے لکھ کر انگریزوں نے مسلم حکمرانوں کے اعمال کو کچھ اس طرح پیش کیا کہ ہمیں اپنے ماضی پر شرمندگی ہونے لگی۔ ان کی لکھی تاریخ نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں، جو کہ صدیوں تک مسلم بادشاہوں کی حکمرانی میں گرم جوشی سے اکٹھے رہ رہے تھے، ان میں نفرت کے اتنے شدید احساسات پیدا کردیے کہ مختصر سے عرصے میں ہی انہیں دشمنوں میں بدل دیا گیا۔‘‘ (۹)
پاکستان کے ابتدائی مورخین تاریخ نویسی کے حوالے سے فکری جمود کا شکار رہے۔ مختلف مورخین نے مختلف مواد اور دلائل سے نتیجہ ایک جیسا ہی اخذ کیا، مثلاً عزیز احمد، اشتیاق حسین قریشی، خالد بن سعید اور حفیظ ملک نے ساٹھ کی دہائی کے شروع میں باہمی مشاورت کے بغیر تحقیقی کام کیا۔ انفرادی طورپر مختلف تحقیق کے باوجود وہ ایک ہی رجحان کے علمبردار رہے اور انہوں نے مسلم قوم پرستی اور قیام پاکستان کے حوالے سے اتفاق رائے قائم کیا۔ اسی طرح اکثر مصنفین کے نتائج ہی نہیں، دلائل بھی ایک جیسے تھے۔ بیشتر وہ کتابیں جو ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کے عرصہ کا احاطہ کرتی ہیں، ان میں اکثر پاکستانی محققین جو پہلے سے متعین شدہ مقدر کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں، وہ تمام ڈاکٹر امبید کر کی کتاب سے ایک ہی مخصوص پیرا گراف رقم کرتے ہیں کہ یہ جدید ہندوستانی تاریخ کی عجیب حقیقت ہے کہ مسلمان پراسرار احساسات کے اسیر ہو کر ہندو سیاسی لہر میں ضم ہونے کے بجائے ایک متوازی راستے پر چلے ۔ یہ پر اسرار اعزاز اور خفیہ ہاتھ کوئی اور نہیں بلکہ ان کا پہلے سے متعین شدہ مقدر تھا جس کی علامتی شکل پاکستان تھی۔ (۱۰) اس عہد کا تذکرہ کرنے والی کتب میں شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، سید احمد شہیدکا خصوصی اور توصیفی ذکر ہوتاہے۔ اس کے فوری بعد کی تاریخ سرسید احمد خان کے گرد گھومتی ہے جنہیں ڈاکٹر محمود حسینThe early architect of Pakistanقرار دیتے ہیں (۱۱) جبکہ چوہدری خلیق الزماں انہیں مسلم نیشنل ازم کا بانی کہتے ہیں، لیکن ڈاکٹر ظفر الاسلام مختلف رائے دیتے ہیں کہ اگر علیحدگی پسندی سے مراد مسلمانوں کا حق خود ارادیت تھا یا اس کے معنی مسلم قوم کا خود کو ایک خود مختار ریاست کی صورت میں منظم کرنے کا بالواسطہ حق تھا تو ایسا کوئی تصور سر سید کے ذہن میں نہیں تھا۔ اس کے برعکس اگر علیحدگی پسندی سے مراد مذہب، ثقافت اور بنیادی اختلافات ہیں تو ان معنوں میں سر سید علیحدگی پسندی کے چیمپین تھے لیکن ان معنوں میں کوئی بھی مسلمان،قطع نظر اس سے کہ اس کا تعلق کس طبقے سے تھا، لازمی طور پر علیحدگی پسند تھا۔ (۱۲)
اس دور کے تاریخ نویسوں نے محمد علی جناح پر لکھتے ہوئے ان کی زندگی اور کارناموں کا معروضی تجزیہ کرنے کے بجائے عقیدت کے اظہار میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کی۔ لہٰذا محمد علی جناح کے حوالے سے کئی سوال تشنہ رہ گئے۔ مثلاً جناح نے کب پاکستان کے حق میں فیصلہ کر لیا؟ ایس ایم اکرام کا خیال ہے کہ ۱۹۴۶ کے وسط میں کانگرس کے کابینہ مشن کے حوالے سے "bad faith" کے بعد انہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا۔ (۱۳) مگر آغا خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ As late as 1946 Jinnah had no clear idea of his goal. یعنی ۱۹۴۶ء تک بھی جناح کا ذہن اپنے ہدف کے حوالے سے واضح نہیں تھا۔ ڈاکٹر وحید الزماں کا خیال ہے کہ شروع میں علامہ اقبال، مولانا محمد علی، ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح سب قوم پرست تھے۔ بعد میں کانگرسی رویے کی وجہ سے آزاد کے علاوہ تینوں راہنماؤں نے رخ بدل لیا۔ بہر حال اس حوالے سے تاریخ تا حال ایک مستند تحقیق کی طلب گار ہے۔
پاکستانی محققین جب ریاست پاکستان کی اساس کی تلاش میں دور تک نکلے تو اس نے تاریخ پاکستان کی جہتوں کے حوالے سے کئی سوال اٹھائے۔ مثلاً کیا پاکستانی تاریخ، ہندوستانی تاریخ سے الگ ہے یا اس کے ساتھ منسلک؟ یہ تاریخ کتنی پرانی ہے اور اس کا آغاز کب ہوا؟ ان علاقوں کی تاریخ کا کیا کردار ہے جو پاکستان اور پاکستان کی قومی تاریخ کو تشکیل دیتے ہیں؟ پاکستان کی تاریخ صرف مقامی اہمیت رکھتی ہے یا قومی؟ اس کا ایک جواب اشتیاق حسین قریشی نے یوں دیا کہ کچھ ادوار کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کو آزادانہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے مگر دیگر ادوار میں یہ علاقائی تاریخ کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ (۱۵) قریشی کے جواب نے تاریخ کے طلبہ کی تشفی کے بجائے انہیں مزید الجھا دیا۔ در حقیقت انڈومسلم تاریخ نویسی کی روایت کے علمبردار مورخین نے ساری توانائیاں سرکاری موقف کو سچ کر دکھانے میں صرف کر دیں اور اس سوال کی طرف توجہ نہ دی کہ مختلف سماجی و تہذیبی و لسانی اکائیوں کو ایک مشترکہ قومیت میں کیسے ضم کر دیا جائے۔ اس حوالے سے کیتھ کیلارڈ اور wyne wilcox جیسے غیر ملکی مصنفین کے کام اہمیت کے حامل ہیں۔ 
ابتدائی عشروں میں تاریخ نویسی کا ایک اور رجحان نمایاں رہا کہ کچھ مخصوص افراد کی بہت زیادہ تعریف و توصیف کی جائے اور کچھ luminaries کی حیثیت کم کی جائے ۔ سوانح نگاری میں ’’ہیرو ورشپ‘‘ کا تڑکہ لگایا گیا۔ اس سے تاریخ کی شکل بگڑی اور وہ غیر انسانی ہوگئی۔ جدوجہد آزادی میں کردار ادا کرنے والوں کو یہاں یا تو مداح ملے یا عیب گو، مگر ان کے کردار کی تاریخ لکھنے والا کوئی نظر نہیں آیا۔ شخصیات کے بارے میں لکھتے ہوئے پر جوش مبالغہ آرائی حاوی رہی۔ ایسی تاریخ نویسی سے نہ تو کوئی تحریک پیدا ہوئی نہ ہی تبدیلی کے عمل کو جاننے کے شوق کی تسکین ہو سکی۔ ایسی تاریخ نویسی میں توجہ معمولی کردار نگاری پر مرکوز رہی اور درپیش حقیقی مسائل نظر انداز ہو گئے۔ مورخ کی حیثیت ایک راہنما کی سی ہوتی ہے۔ قاری اس سے محض قصے سننے کا خواہش مند نہیں ہوتا۔ چنانچہ مورخ کو محض و قائع نگار نہیں ہونا چاہیے۔ قصہ گوئی اور داستان طرازی کے عنصر نے تاریخ نویسی کو منفی طور پر متاثر کیا۔ حقیقی تاریخ محنت، عرق ریزی اور تدبر کا تقاضا کرتی ہے۔ تاریخی بحث مباحثہ میں اس بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ کوئی بھی آدمی، چاہے وہ جتنا ہی عظیم اور بزرگ کیوں نہ ہو، دیوتا نہیں بن سکتا۔ اس کی انسانی کمزوریاں اس کے ساتھ لگی رہیں گی اور وہ غلطیاں کرتا رہے گا۔ اگر اکبر اور اورنگزیب نے غلطیاں کی ہیں تو گاندھی اور جواہر لال نہرو، اور مولانا آزاد اور مولانا محمد علی نے بھی کی ہیں۔ اگر سوامی دیانند سرسوتی نے غلطیاں کی ہیں تو سرسید نے بھی کی ہیں اور جناح نے بھی کی ہوں گی۔ ہمیں ان کی اچھی باتوں کو یاد رکھنا ہے، لیکن ان کی غلطیوں کی کوئی تاویل کیے بغیر، غلطی مان کر نظر انداز کر دینا چاہیے۔ اپنے راہنماؤں کی غلطیوں کا خمیازہ ہم پہلے ہی بہت بھگت چکے ہیں۔ اب ان سے سبق لے کر سارے مسائل کو نئے انداز اور نئے حوصلے کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ مگر افسوس! ہمارا مورخ لکیر کا فقیر رہا۔ ہماری تاریخ نویسی تاریخ کے فہم کے بجائے تاریخ کی من پسند تعبیر کی کوشش نظر آتی ہے۔سرکاری سطح پر درباری مورخین یا سرکاری اداروں کے ملازمین نے ریاستی و نظریاتی تاریخ کے ٹاسک کو پورا کرنا اپنا فریضہ سمجھا۔ 
ڈاکٹرمحمود حسین، معین الحق، ریاض الاسلام، احمد حسن دانی، شریف المجاہد، رفیق افضل، ڈاکٹر صفدر محمود سب روایتی مکتبہ فکر کے پیروکار رہے۔ عائشہ جلال نے نئے راستے کی تلاش میں پرانی فکر کو ترک کیا مگر وہ کیمبرج یونیورسٹی میں اپنے مقالے کے نگران Dr. Anil Seal کے روایتی انداز میں پھنس کر رہ گئیں۔ ان کی تحقیق بھی کوئی انقلابی تبدیلی ثابت نہ ہوئی۔ سرکاری سر پرستی اورریاستی جبر، دونوں ہی سچی تاریخ لکھنے کی راہ میں حائل رہے لہٰذا ہمارے ہاں آزاد اور غیر جانبدار تاریخ نویسی کا فقدان نظر آتا ہے۔ کسی نے بھی ریاستی نظریات کوچیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مکھی پر مکھی مارنے کو تاریخ نویسی قرار دے دیا گیا۔ جو تاریخ لکھ رہے تھے، وہ خود تحریک پاکستان سے وابستہ رہے یا سرکاری انتظامیہ کا حصہ تھے لہٰذا تحقیق میں جانبداری نمایاں رہی۔ ایک جانبدار شخص کی لکھی ہوئی تاریخ کو تاریخ کہنا ہی زیادتی ہے، بالخصوص جب تاریخ نویسی میں مذہبی تقاضے در آئیں تو مسئلہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے۔ مذہب کو مقدس جان کر لکھنے والا جذبات کی عینک لگا کر حقائق کو توڑتا مروڑتا ہے، چنانچہ جو مورخ ملک، قوم، عقیدے یا طبقے کی جانبداری کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ مواد کے انتخاب اورالفاظ کے استعمال میں غیر محسوس اونچ نیچ کے ذریعے ڈھکے چھپے انداز میں اپنی پسندیا نا پسند کا اظہار کر دیتے ہیں۔ 
پاکستان میں تاریخ نویسی بطور فن کے مسلسل اور باقاعدہ بحران کا شکار رہی ہے۔ یہاں تاریخ نویسی کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ثابت ہوا کہ لکھنے والوں نے لکھتے وقت حکومت یا عوام کو خوش کرنے کو اولیت دی۔ تاریخ نویسی میں یہاںCommand performance یا Commanded conclusionsکی مشکل بھی پیش رہی۔ تاہم کلی طور پر نہ سہی، کئی مصنفین نے جزوی طور پر پاکستان کی جدید تاریخ لکھناشروع کی۔ اس حوالے سے ایک معتبر نام حمزہ علوی کا ہے۔ حسن گردیزی، فیروز احمد، اعجاز احمد، محمد وسیم، اسکندر حیات اور ڈاکٹر مبارک علی نے بھی اس کام کو آگے بڑھایا۔ ان محققین نے اپنے اپنے حصے کا چراغ جلایا ہے، تاہم پوری تاریخ یا پورے دور کو تا حال جدیدانداز سے نہیں دیکھا گیا۔ باوجود اس کے کہ کچھ نصابی تاریخ نویس دھڑا دھڑ لکھ رہے ہیں، مثلاً کے علی،ایس ایم شاہد، اصغر علی جعفری، فاروق ملک وغیرہ، مگر کچھ لوگ لکھنے کے لیے پڑھتے ہیں، یعنی پڑھتے کم ہیں اور لکھتے زیادہ ہیں۔ یوں کہہ لیں نگلتے کم ہیں اور اگلتے زیادہ ہیں۔ ہماری تاریخ کئی دہائیوں سے ایسے ہی بے رحم ہاتھوں میں سسکیاں لے رہی ہے۔ در حقیقت ہمارے یہاں تاریخ نویسی کا عمل معیار اور مقدار، دونوں حوالوں سے اطمینان بخش نہیں رہا۔ ایسی صورت حال میں تاریخ نویسی کا کوئی نمائندہ مثالی کارنامہ نظر نہیں آتا۔ یہاں کی صورت حال دیکھ کر ہملٹن گِب کی ۱۹۱۴ء میں کہی ہوئی بات یاد آتی ہے جو انہوں نے عربوں کی تاریخ نویسی کے بارے میں کہی تھی کہ:
I have not seen any book written in Arabia for Arabs themselves which has clearly analysed what Arab culture means to the Arabs.
’’مجھے عرب دنیا میں خود عربوں کے لیے لکھی گئی ایسی کوئی کتاب دکھائی نہیں دی جو واضح طور پر اس بات کا تجزیہ کرتی ہو کہ عربوں کے لیے عرب ثقافت کیا معنی رکھتی ہے۔‘‘
یہ ریمارکس ۲۰۰۷ء میں پاکستان کی تاریخ نویسی پر بھی صادق آتے ہیں، اس لیے ہمیں سچی تاریخ لکھنے کی جلد از جلد کوشش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر Bernard Lewis نے ۱۹۶۳ء میں آل پاکستان ہسٹری کانفرنس کو پیغام میں کہا تھا کہ:
We live in a time when great energies are devoted to the falsification of history, to flatter, to deceive, or to serve a variety of sectional purposes. No good can come of such distortions even when they are inspired by unselfish motives. Men who are unwilling to confront the past will be unable to understand the present, and unfit to face the future. A great responsibility, therefore, falls on historians, whose moral and professional duty is to seek out the truth concerning the past and to to explain it as they see it. (16)
’’ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جب تاریخ کو جھٹلانے، خوشامد، دھوکہ دہی یا مختلف قسم کے گروہی مقاصد کے فروغ کے لیے بے انتہا توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں۔ اس طرح تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں سے، چاہے وہ کتنی ہی بے غرضی سے کیوں نہ کی جائیں، کوئی خیر برآمد نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ ماضی کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، وہ نہ تو حال کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ مستقبل ہی کا سامنا کرنے کے اہل ہیں۔ چنانچہ تاریخ نویسوں پرایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جن کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ماضی کے بارے میں سچ کو دریافت کریں اور جس طرح اس کو سمجھیں، اس کو بیان کریں۔‘‘
دراصل ایک قوم ویسی ہی تاریخ لکھتی ہے جس کی وہ اہل ہوتی یا خواہش کرتی ہے۔ اپنے احساسِ تفاخر کے لیے ماضی کی غلط تعبیر بد قسمتی کے سو ا کچھ نہیں کیونکہ اگر تاریخ مثالوں کے ذریعے سے سکھاتی ہے تو پھر لازم ہے کہ تاریخ پوری دیانت داری سے کسی قوم کی کامیابیوں اور ناکامیوں، اچھائیوں اور برائیوں، اور اس کے ہیروز اور باغیوں کا ذکر کرے۔ سچی تاریخ قوم کے لیے آب حیات کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک مفکر نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ اگر کوئی نیم حکیم غلط نسخہ تجویز کر دے تو مریض کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ یہ ایک فرد کا نقصان ہوتاہے۔ لیکن اگر تاریخ کی کتب میں ایسا مواد شامل کردیا جائے جو نہ صرف ذہنوں کو بگاڑے بلکہ ’ہم چو مادیگرے نیست‘ کا احساس پیدا کرے، اپنے سوا دوسروں سے نفرت کی تعلیم دے، عدم رواداری سکھائے، انتقامی جذبات بھڑکائے، نسلی غرور میں مبتلا کر دے تو ایسی تاریخ عظیم تباہی لاتی ہے۔ یہ پوری نسل کی تباہی ہوتی ہے۔ امن و امان اورسماجی زندگی کا سکون درہم برہم ہو کر رہ جاتاہے۔ سموئیل بٹلر نے کہا تھا کہ خدا ماضی کو نہیں بدل سکتا، مورخ بدل سکتے ہیں۔

References

1. Aziz Ahmed, Islamic Modernism in India and Pakistan, (1857-1964) (karachi:1967) p.39
2. I. H. Qureshi, The Muslim Community of the Indo-Pakistan, (Hague:1962) p.304
3. Aziz Ahmed, Studies in Islamic Culture in the Indian Environment, (Oxford:1964) p.9
4. S. Abid Hussain, The National Culture of India, (Newyark:1961) p.208.
5. Hafeez Malik, Moslem Nationalism in India and Pakistan, (washington:1963) p.12
6. Abdul Hamid, Muslim separatism in India: A brief survey, (Lahore:1967) p.ix
7. K. K. Aziz, The making of Pakistan, (London:1967) p.209.
8. K. B. Sayeed, Pakistan, the formative phase 1857-1948 (London:1968) p.8.
9. The proceedings of the Pakistan History conference (Karachi:n.d) p.59.
10. B.R. Ambedkar, Pakistan or the partition of Inida, (Bombay:1946) p.333-4.
11. Mahmud Hussain (Ed) History of freedom movement, vol.1, p.10.
12. Zafar ul Islam, Proceeding of Pakistan History Conference, (Karachi:1956) p.171-72
13. S. M. Ikram, Modern Muslim India and birth of Pakistan, (Lahore:1965) p.2.
14. Agha Khan, Memoris, (London:1954) p.296.
15. I. H. Q. op.cit, (preface)
16. Ahmed Hasan Dani (Ed), Historical writings on Pakistan, vol.II (Islamabad:1973) p.4

لال مسجد کا سانحہ اور حنفی فقہ

محمد مشتاق احمد

لال مسجد کے سانحے کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ علم کی بحث جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک موضوع یہ ہے کہ لال مسجد کے خطیب اور مہتمم اور دیگر متعلقہ افراد شریعت کی تعبیر کے معاملے حنفی فقہ کے پیروکار تھے، تو کیا ان کا طرز عمل فقہ حنفی کی رو سے درست تھا؟ اگر ہاں تو دیگر حنفی علما نے کیوں ان کی تائید نہیں کی؟ اور اگر نہیں تو حنفی ہوتے ہوئے انہوں نے حنفی فقہ کے قواعد سے روگردانی کیسے کی؟ یہ اور اس قسم کے دیگر کچھ سوالات روزنامہ ’’جناح‘‘ کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب نے اٹھائے ہیں۔ فاضل کالم نگار کے نزدیک حنفی فقہا کی رائے یہ رہی ہے کہ افراد کو نہی عن المنکر کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں ہے اور اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس طرح معاشرے میں انارکی اور انتشار پھیلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حنفی فقہا، باوجود اس کے کہ موسیقی کے آلات کے استعمال کو ناجائز قرار دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے موسیقی کے آلات توڑ ڈالے تو وہ اسے تاوان ادا کرنے کا پابند ہے۔ اسی طرح ’’قانون ہاتھ میں لینے‘‘ کو حنفی فقہا ناجائز قرار دیتے ہیں۔ ہم ان تینوں امور کے متعلق حنفی فقہ کی جزئیات کی کچھ وضاحت پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر لال مسجد والوں کے طرز عمل کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ نیز ان امور کے ساتھ کچھ اور امور بھی متعلق ہیں جن پر فاضل کالم نگار نے بحث نہیں کی ہے۔ جب تک وہ امور بھی زیر بحث نہ لائے جائیں، لال مسجد والوں کے طرز عمل یا زیادہ صحیح الفاظ میں ’’رد عمل‘‘ کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ 

نہی عن المنکر کے لیے طاقت کا استعمال 

حنفی فقہا جب عام افراد کو نہی عن المنکر کے معاملے میں طاقت کے استعمال سے روکتے ہیں تو وہ اس حکم کی علت یہ نہیں ذکر کرتے کہ اس طرح معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے۔ یقیناًانارکی پھیلنا ایک بڑا شر ہے جس سے معاشرے کو بچانا چاہیے لیکن یہ ایسا وصف نہیں ہے جسے اصطلاحی مفہوم میں ’’علت‘‘ کہا جائے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس حکم کی ’’حکمت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ حنفی فقہا اس حکم کی علت یہ ذکر کرتے ہیں کہ اگر آپ کسی شخص سے کوئی کام جبراً لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے کہ آپ کو اس شخص پر ’’ولایت‘‘ (Authority) حاصل ہو۔ یہ ولایت دو طرح سے وجود میں آتی ہے۔ کبھی تو بعض افراد کو بعض دیگر افراد پر، مثلاً باپ کو نابالغ بیٹے پر، شریعت کے کسی حکم کی رو سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی باہمی معاہدے کے نتیجے میں کسی کو ولایت حاصل ہوجاتی ہے، مثلاً عقد وکالت (Contract of Agency) کے نتیجے میں وکیل (Agent) کو اصیل (Principal) کی نمائندگی کے لیے ولایت حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے وکیل کو اگر خرید و فروخت کے لیے ولایت دی گئی ہو تو وہ عقد وکالت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے اصیل کے لیے خرید و فروخت کرسکتا ہے۔ قاضی اور مفتی کا کام اس لحاظ سے تو ایک ہی ہوتا ہے کہ دونوں کسی پیش آمدہ مسئلے میں شریعت کا حکم متعین کرتے ہیں، لیکن ان کے فیصلوں میں اصل جوہری فرق یہی ہے کہ مفتی کی رائے کے پیچھے الزامی قوت (Binding Force) نہیں ہوتی، جبکہ قاضی کی رائے ریاستی جبر کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے جو مفتی کو حاصل نہیں ہوتی۔ پس دین کا علم اور فہم رکھنے والا شخص کسی برے کام کو برا تو کہہ سکتا ہے اور اس برائی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش بھی اس کا فرض ہے، لیکن اس برائی کی جبراً روک تھام کے لیے اگر اس کے پاس ولایت نہیں ہے تو وہ زبردستی اسے نہیں روک سکتا۔ وہ صرف انہی لوگوں کو جبراً اس برائی سے روک سکتا ہے جن پر اسے ولایت حاصل ہو۔ دیگر لوگ، جن پر اسے ولایت حاصل نہ ہو، اگر اس برائی کا ارتکاب کر رہے ہوں تو اسے صاحب ولایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہ انہیں جبراً روکے۔ میری ناقص رائے میں حنفی فقہا کی رائے کی یہی صحیح تعبیرہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ولایت حاصل ہو، وہ اس برائی کو نہ روکنا چاہیں یا وہ اسے برائی ہی نہ کہیں تو کیا کیا جائے گا؟ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جس سے دیگر سنگین نوعیت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جو لوگ برائی کی روک تھام چاہتے ہیں، انہیں ولایت حاصل نہیں ہے اور جنہیں ولایت حاصل ہے، وہ برائی کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں۔ 

قانون ہاتھ میں لینے پر سزا اور جرمانہ 

جناب آصف محمود صاحب کے مطابق حنفی فقہ کا اصول یہ ہے کہ اگرچہ موسیقی کے آلات کا استعمال حرام ہے، لیکن اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے آلات موسیقی توڑ ڈالے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کا تاوان ادا کرے۔ ہماری ناقص رائے میں فقہ حنفی کی یہ تعبیر درست نہیں ہے۔ آصف محمود صاحب جانتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں مال دو طرح کا ہے: مال متقوم اور غیر متقوم۔ مثلاً شراب لوگوں کے نزدیک خواہ مال ہو، لیکن شریعت کی اصطلاح میں مال نہیں ہے ، اس لیے اسے مال غیر متقوم کہا جاتا ہے، یعنی شریعت کے نزدیک اس مال کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ جس مال کی قیمت نہ ہو، اس کا ضمان (تاوان) بھی ادا نہیں کیا جاتا، اس لیے اگر کسی مسلمان کے پاس شراب ہو اور کوئی دوسرا مسلمان اسے بہادے تو حنفی فقہا کے نزدیک بھی اس شراب کا ضمان نہیں ادا کیا جائے گا۔ البتہ اگر اس نے شراب کا برتن بھی توڑ ڈالا اور وہ برتن محض شراب ہی کے لیے نہیں تھا، بلکہ دیگر جائز مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا تو اس برتن کی قیمت ادا کرنی لازم ہوگی۔ اسی طرح اگر موسیقی کے آلات توڑ ڈالے تو آلے کی کوئی قیمت نہیں ادا کی جائے گی، البتہ اگر مثال کے طور پر وہ آلہ لکڑی سے بنایا گیا ہو تو اس لکڑی کی قیمت ادا کر دی جائے گی۔ 
باقی رہا یہ سوال کہ ایسا کرکے اس شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے یا بہ الفاظ دیگر ولایت نہ رکھنے کے باوجود اس نے جبراً ایک برے کام کی روک تھام کی ہے تو اس پر حاکم اس کی تادیب اور سرزنش کرسکتا ہے کیونکہ ایسا کرکے اس نے حاکم کے اختیارات میں مداخلت ( سرخسی کے الفاظ میں افتیات علی رأی الامام) کی ہے۔ اس قسم کی تادیبی کارروائی کے لیے حکمران کو جو اختیار حاصل ہے، اسے حنفی فقہ کی اصطلاح میں ’’سیاسۃ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ حنفی فقہ کا ایک نہایت اہم قاعدہ ہے جس کی وضاحت بہت ضروری ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ یہاں اس کی کچھ تفصیل کی جائے ۔ 

معاشرے سے فساد کے خاتمے کے لیے حکمران کا اختیار اور اس کی حدود 

حکمران کے فرائض میں ایک اہم فریضہ معاشرے کو فساد اور انتشار سے بچانے کا ہے۔ اس ضمن میں شریعت نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو مناسب تادیبی سزا سنائے۔ جرم کی مناسبت سے اس سزا میں کمی بیشی اور تخفیف یا معافی کا اختیار بھی حاکم کے پاس ہے اور ثبوت جرم کا طریق کار بھی وہی وضع کرے گا۔ بہت سے امور ایسے ہیں جنہیں شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے، لیکن ان کے لیے کوئی دنیوی سزا قرآن یا سنت میں مقرر اور متعین نہیں کی گئی ہے ۔ ایسے امور میں قانون سازی کا اختیار سیاسۃ کے قاعدے کے تحت حکمران کو حاصل ہے۔ ابن عابدین نے سیاسۃ کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے کہ اس سے مراد حکمران کو شریعت کا عطا کردہ وہ اختیار ہے جس کے تحت وہ معاشرے سے فساد کے خاتمے کے لیے ان امور میں مناسب سزا سنا سکتا ہے جن کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہو۔ چنانچہ اس قاعدے کے تحت حنفی فقہا نے قرار دیا ہے کہ لواطت یا ہم جنس پرستی پر زنا کی حد لاگو نہیں ہوتی، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا کہ اس شنیع کام کے مرتکب کو عبرت ناک طریقے سے سزائے موت دی جائے۔ اس بنا پر حنفی فقہا نے قرار دیا ہے کہ اس طرح کے عادی مجرم کو سیاسۃً سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جب عہد رسالت میں ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر بھاری پتھر سے کچل دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح کی سزا سنائی تھی تو حنفی فقہا اسے حد یا قصاص قرار دینے کے بجائے سیاسۃ قرار دیتے ہیں۔ 
یہاں یہ واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ سیاسۃ کا یہ اختیار مطلق نہیں ہے کہ فساد کے خاتمے کے نام پر حکمران اپنی مرضی سے اپنے مخالفین کو سزائیں سناتا رہے۔ حکمران کا یہ اختیار شریعت کے قواعد عامہ کے ذریعے مقید اور محدود کردیا گیا ہے، چنانچہ سزا سناتے وقت حاکم کو ان قواعد کا لازماً لحاظ رکھنا ہوگا۔ مثلاً جرم کی نوعیت کیا تھی؟ کیا ملزم کو صفائی کا موقع دیا گیا؟ کیا انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے؟ نیز کہیں سزا جرم کی مناسبت سے زیادہ شدید تو نہیں ہے؟ موجودہ دور میں دستور اور فوجداری قانون کے جو مقتضیات ہیں، ان کو پورا کرنا بھی سیاسہ شرعیہ میں شامل ہے۔ ابن عابدین اور دیگر حنفی فقہا نے صراحت کی ہے کہ سیاسہ کی دو قسمیں ہیں : سیاسہ عادلہ جس کا شریعت حکم دیتی ہے، اور سیاسہ ظالمہ جس کو شریعت حرام ٹھہراتی ہے ۔ 
یہاں ہم ان چند مباحث کے متعلق بھی اپنی رائے واضح کرنا چاہتے ہیں جو موضوع زیر بحث سے براہ راست متعلق ہیں لیکن جن سے جناب آصف محمود صاحب نے تعرض نہیں کیا۔ ہماری ناقص رائے میں ان پر بحث کیے بغیر اس معاملے کی محض ادھوری تصویر ہی پیش کی جاسکتی ہے اور اس معاملے کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ 

نہی عن المنکر اور حکومت کی ذمہ داری 

یہ ایک معلوم اور مسلم حقیقت ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ریاست اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے تو وہ گویا اپنا مقصد وجود کھو بیٹھتی ہے ۔ جب اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی ہونے لگے تو کون سے مراحل سامنے آتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں اس کی بھی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ پہلے تو لوگ اس فریضے کی ادائیگی میں سستی کا اظہار کرنے لگتے ہیں، پھر بتدریج برائی کو برائی سمجھنے کا احساس ہی مرجھا جاتا ہے اور پھر بالآخر وہ مرحلہ آجاتا ہے جب برائی کی دعوت کھلے عام دی جاتی ہے اور اچھائی سے لوگوں کو زبردستی روکا جانے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشاد ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ اس طرح کے معاشرے پر ایسا فتنہ لے آتا ہے کہ اس معاشرے کے دانشور بھی اس کا حل تلاش نہیں کرپاتے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چند لوگوں کے جرم کی وجہ سے معاشرے کو عمومی عذاب نہیں دیا کرتا ، یہاں تک کہ لوگ کھلے عام برائی کا ارتکاب دیکھیں اور اس کی روک تھام پر قادر ہوتے ہوئے بھی اس کو نہ روکیں ۔ جب ایسی حالت ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ان مجرموں کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کو بھی عمومی عذاب دیتا ہے۔ یہ عذاب ضروری نہیں کہ قدرتی آفت کی صورت میں ہی ہو۔ سورۃ الانعام آیت ۶۵ کے مطابق عذاب کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں کٹ مرنے لگتے ہیں ۔ 
یہ تو اس معاملے کا اخلاقی اور معاشرتی پہلو ہوا۔ جہاں تک اس مسئلے کے قانونی پہلو کا تعلق ہے، اسے فقہا بغاوت اور خروج کے مباحث میں ذکر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ معاشرے میں انتشار پھیلانے سے گریز کریں، اس لیے کہا گیا ہے کہ اگر انہیں حاکم کا کوئی حکم پسند نہ بھی ہو تو وہ اطاعت کی روش اختیار کریں، الا یہ کہ حاکم کوئی ایسا حکم دے جو شریعت سے متصادم ہو۔ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ خلافِ شریعت حکم میں کسی کی اطاعت کرے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لازماً بغاوت ہی کرے۔ خلافِ شریعت حکم کی اطاعت سے انکار اور ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اس وجہ سے اگر اسے مشکلات پیش آئیں تو انہیں خندہ پیشانی سے سہنا اور ثابت قدم رہنا بھی ایمان کے مقتضیات میں شامل ہیں ۔ 
البتہ بعض امور ایسے ہیں جن کے ارتکاب پر حاکم کا ہٹانا لازم ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر حاکم نے کفر کا ارتکاب کیا تو وہ حکومت کا حق کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی قانونی وجہ بھی بالکل سیدھی سادھی ہے۔ اسلامی قانون کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ غیر مسلم کو مسلمانوں پر ولایت عامہ حاصل نہیں ہے۔ نیز حدود اور قصاص کے معاملات میں غیر مسلم کی گواہی ناقابل قبول ہے، چنانچہ حدود اور قصاص کے مقدمات میں غیر مسلم قاضی نہیں بن سکتا۔ حاکم کے فرائض میں ایک اہم فریضہ حدود اللہ کا نفاذ ہے ۔ اس لیے غیر مسلم اسلامی ریاست کا حاکم نہیں ہوسکتا۔ فقہا نے اس امر پر تو اختلاف کیا ہے کہ اگر حاکم یا قاضی فاسق ہو جائے (مثلاً وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے) تو کیا اسے حکومت اور قضا سے ہٹانا واجب ہے اور کیا اس کے فیصلے نافذ ہوں گے ؟ تاہم اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کفر کی صورت میں حاکم یا قاضی کی معزولی واجب ہو جاتی ہے۔ اب یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کفر کا ارتکاب جیسے قول کے ذریعے کیا جاتا ہے، اسی طرح بعض افعال کے ارتکاب پر بھی کسی شخص پر کفر کا حکم لاگو ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر مسلمان کے کسی قول یا فعل کی کئی تعبیرات ممکن ہوں تو اس تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جس کے تحت اس کی طرف کفر کی نسبت نہ ہو۔ تاہم اگر کسی قول یا فعل کی ایسی تاویل ممکن نہ ہو اور وہ ہر لحاظ سے کفر کے زمرے میں آتا ہو تو اس قول کے قائل یا اس فعل کے مرتکب پر کفر کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے جن میں ایک اہم حکم یہ ہے کہ اگر وہ حاکم یا قاضی ہو تو اس کی معزولی واجب ہو جاتی ہے۔ 

فسق یا کفر کی صورت میں خروج اور بغاوت 

اگر حاکم کے فسق کی وجہ سے یا اپنے فرائض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اس کی معزولی جائز ہو جاتی ہے تو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے کیسے معزول کیاجائے؟ اگر تو اسے ہٹانے کے لیے پر امن راستے کھلے ہیں تو ظاہر ہے انہی میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہوگا، لیکن اگر پر امن ذرائع سے ایسے حاکم کا ہٹانا ممکن نہ ہو تو کیا اسے جبراً ہٹایا جا سکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں کیا اس کے خلاف بغاوت کی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں فیصلے کے لیے ایک اہم عامل یہ ہے کہ کیا بغاوت کرنے والے اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ حکمران کی قوت سے ٹکرا سکیں؟ نیز حکمران کے ہٹانے میں جو خونریزی ہوگی، کیا وہ حکمران کے برقرار رہنے کے شر سے کم ہے یا زیادہ؟ ہر بغاوت کے موقع پر ان دونوں سوالات پر اہل علم کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں جب بھی حکمران کے خلاف خروج ہوا ہے تو حکمران کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں کچھ نے بغاوت اور خروج کی راہ اختیار کی اور کچھ نے اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے یہ راہ اختیار کی کہ حاکم کے ظلم کو ظلم کہتے ہوئے اور اس کے غیر شرعی احکام کو نہ مانتے ہوئے اس کے ظلم و ستم کو سہتے رہے۔ تاہم اگر حاکم کے کفر کی وجہ سے اس کی معزولی شرعاً واجب ہو چکی ہو اور پر امن ذرائع سے اس کا ہٹانا ممکن نہ ہو تو اس کے خلاف خروج اور بغاوت لازم ہو جاتی ہے۔ 
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد دیگر ائمۂ اہل بیت کے خروج کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یا تو ان کے نزدیک حاکم کی معزولی واجب ہو چکی تھی یا کم ازکم جائز ہوچکی تھی اور ان کے اجتہاد کے مطابق اس کے ہٹانے کے سلسلے میں جو خونریزی متوقع تھی، وہ اس شر کی بہ نسبت کم تھی جو اس حاکم کے حکمران رہنے کی صورت میں وقوع پذیر ہورہا تھا۔ دوسری طرف جن اہل علم نے خروج اور بغاوت کی راہ اختیار نہیں کی، ان کے نزدیک حاکم کی معزولی واجب نہیں ہوئی تھی۔ (اس نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا تھا) اور ان کے اجتہاد کے مطابق یا تو پر امن ذرائع سے تبدیلی ممکن تھی یا خروج کی صورت میں ہونے والی خونریزی حاکم کے شر سے زیادہ تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر جائز و ناجائز میں حاکم کی اطاعت کا درس دیتے رہے اور ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی مدد کرتے رہے۔ یاد ہوگا کہ امام ابو حنیفہ نے بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفا کے خلاف خروج میں عملی شرکت نہیں کی لیکن کئی مواقع پر ان کی ہمدردیاں باغیوں ہی کے ساتھ تھیں اور انہوں نے ان کی مالی مدد بھی کی۔ وہ ظالم حکمرانوں کے ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہے اور اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انہیں سزائیں بھی دی جاتی رہیں ۔ 
یہی اختلاف رائے آج کل کے اہل علم میں بھی پایا جاتا ہے۔ جو لوگ خروج اور بغاوت کی راہ اختیار کرتے ہیں، وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ حکومت اپنا جواز کھو بیٹھی ہے اور پر امن ذرائع سے اس کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ پس اصل سوال یہ نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کے پیروکاروں نے حنفی فقہ کے اصولوں سے کیسے روگردانی کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی اور اصلاحِ احوال کے پر امن ذرائع پر لوگوں کا اعتماد کیوں ختم ہوگیا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومت جمہوری اصولوں کے بجائے جبر اور طاقت سے قائم کی گئی ہے، اس لیے جو لوگ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ جمہوری اصولوں کے بجائے طاقت اور جبر ہی کے ذریعے تبدیلی لائی جا سکتی ہے؟ 

باغیوں کے ساتھ سلوک 

سرخسی اور دیگر حنفی فقہا نے تصریح کی ہے کہ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں اور معلوم نہ ہوپا رہا ہو کہ کون حق پر ہے تو اصلاحِ احوال کی کوشش تو لازم ہے مگر کسی متحارب گروہ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جب تک کہ یہ یقین نہ ہو کہ وہ گروہ حق پر ہے۔ چنانچہ اگر یہ معلوم ہو کہ حکمران ہی حق پر ہے اور اس کے خلاف خروج کرنے والے باطل پر ہیں تو حکمران کا ساتھ دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ بغاوت کے احکام تبھی لاگو ہوں گے جب حکومت کے خلاف خروج کرنے والوں نے کسی خاص خطۂ زمین پر قبضہ کر لیا ہو اور وہاں اپنی حکومت اس طور پر قائم کرلی ہو کہ مرکزی حکمران کا وہاں کوئی عمل دخل نہ ہو ، باغیوں کی اپنی فوج ہو اور وہ مرکزی فوج کو باغیوں کی سرزمین (دارالبغی) میں داخل ہونے سے روکے رکھے۔ حکمران باغیوں کی بغاوت کچلنے کے لیے اور معاشرے میں امن کے قیام کے لیے باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرسکتا ہے لیکن اس فوجی کارروائی میں اور اس میں جو دشمنوں کے خلاف کی جاتی ہے، کئی فروق ہیں ۔ 
حنفی فقہا نے بغاوت کے باب میں تقریباً تمام احکام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے اخذ کیے ہیں ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف خواہ کوئی کتنی ہی تنقید کرے، لیکن جب تک اس نے مسلح جنگ شروع نہ کی ہو، اس کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ کوفہ کی جامع مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمعے کا خطبہ دیتے تھے تو کئی لوگ ان کے سامنے ان کو برا بھلا کہتے تھے، لیکن آپ نے واضح کیا کہ آپ لوگوں کا نعرہ تو صحیح ہے لیکن اس سے آپ جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ غلط ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے دی گئی ساری مراعات آپ کو حاصل رہیں گی جب تک آپ لوگ ہم سے جنگ نہ کریں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے حنفی فقہا نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا کہ باغی اگر میدان جنگ چھوڑ کر فرار ہونا چاہے تو اس کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے، الا یہ کہ وہ کسی اور گروہ کی طرف جا کر دوبارہ جنگ کی آگ بھڑکانا چاہے۔ باغیوں میں اگر کوئی ہتھیار ڈالے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ محض بغاوت کی بنا پر سزائے موت نہیں دی جاسکتی، بلکہ جنگ میں کسی کو قتل کرنے پر بھی سزائے موت نہیں دی جاسکتی، الا یہ کہ اس نے جنگ سے پہلے یا جنگ کے دوران میں یا قید ہونے کے بعد کوئی ایسا جرم کیا ہو جس کی بنا پر وہ سزائے موت کا مستحق ہو چکا ہو۔ باغی عورتوں کو صرف ایک صورت میں قتل کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جنگ کے دوران میں کوئی باغی عورت کسی پر حملہ کرے اور حملے کی زد میں آنے والے شخص کے پاس اپنی جان بچانے کے لیے اور کوئی راستہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ اور کسی صورت میں باغی عورتوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ جو سزا سنائی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ انہیں اس وقت تک قید میں رکھا جائے جب تک بغاوت مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔ اس کے بعد ان کو رہا کرنا پڑے گا۔ باغیوں سے حاصل ہونے والا اسلحہ اور مال اس وقت تک سرکاری تحویل میں ہوگا جب تک بغاوت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔ اس کے بعد ہر شخص کو اس کا مال واپس لوٹایا جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کے بعد سارا مال ایک بڑے میدان میں رکھ دیا تھا اور ہر شخص نے اپنا مال پہچان کر اور اس کا ثبوت دے کر واپس لے لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے فقہاے احناف نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا کہ باغیوں کے ساتھ توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ 
اس ساری بحث کے بعد لال مسجد کے سانحے میں حکومت کے طرز عمل کے متعلق حنفی فقہ کی رو سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا لال مسجد والوں کو باغی اور لال مسجد کے احاطے کو دارالبغی کہا جاسکتا تھا؟ اگر ہاں تو حکومت نے ان باغیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، کیا وہ صحیح اور جائز تھا؟ اور اگر لال مسجد والوں کا جرم اتنا سنگین نہیں تھا کہ اسے بغاوت قرار دیا جاسکے، تب اس سے زیادہ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ حکومت نے جو کچھ کیا، اسے سیاسہ عادلہ کہا جائے یا سیاسہ ظالمہ؟ 

مباحثہ و مکالمہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جدید افکار ونظریات اور آرا وتعبیرات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات واحکام کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات، شکوک وشبہات اور علمی وفکری اعتراضات کے بارے میں ہمارے دینی حلقوں کا عمومی رویہ نظر انداز کرنے اور مسترد کر دینے کا ہے جس سے ’الشریعہ‘ کو اختلاف ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں کے ارباب فکر ودانش اس طرف توجہ دیں، مباحثہ میں شریک ہوں،اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کریں، جس موقف سے وہ اختلاف کر رہے ہیں، اس کی کمزوری کو علمی انداز سے واضح کریں اور قوت استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی برتری کو واضح کریں، کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کر کے اس کے حق میں چند دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں کہ رائے عامہ کے سامنے آپ کا موقف واضح ہو گیا ہے اور آپ کی بات کو قبول کر لیا جائے گا۔ آج کا دور تقابلی مطالعہ کا دور ہے، تجزیہ واستدلال کا دور ہے اور معروضی حقائق کی تفصیلات وجزئیات تک رسائی کا دور ہے۔ آپ کو یہ سارے پہلو سامنے رکھ کر اپنی بات کہنا ہوگی اور اگر آپ کی بات ان میں سے کسی بھی حوالے سے کمزور ہوگی تو وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔ 
اسی مقصد کے تحت الشریعہ کے صفحات پر ’’مباحثہ ومکالمہ‘‘ کا یہ آزادانہ فورم قائم کیا گیا ہے جس کے تحت شائع ہونے والی تحریروں سے ’الشریعہ‘ کا اتفاق ضروری نہیں ہے اور اس میں کسی بھی علمی موضوع پر لکھی جانے والی کوئی بھی تحریر شائع کی جا سکتی ہے جو علمی اسلوب اور افہام وتفہیم کے لہجے میں مناظرانہ انداز اور طعن وتشنیع کے اسلوب سے ہٹ کر لکھی گئی ہو۔ اس ضمن میں روایتی مناظرانہ مسائل کے بجائے اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل ومشکلات کے حوالے سے جدید عنوانات پر لکھی گئی تحریروں کو ترجیح دی جائے گی، بلا وجہ تکرار سے گریز کیا جائے گا اور کسی بھی موضوع پر ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے کسی مضمون یا مواد کو دوبارہ کسی اور عنوان سے شائع نہیں کیا جائے گا۔
علمی مباحثہ ومکالمہ ہمیشہ سے ہماری ضرورت رہا ہے اور آج کے دور میں معلومات اور خیالات کی وسعت وتنوع کے ماحول میں اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اس لیے ہمیں امید ہے کہ اہل علم اس سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ ’الشریعہ‘ سے تعاون فرماتے رہیں گے۔

دور جدید کی اجتہادی ضروریات اور تقاضے

جسٹس (ر) تنزیل الرحمن

(زرعی یونیورسٹی پشاور میں ۹ دسمبر ۱۹۸۱ء کو پڑھا گیا۔)

اجتہاد کا لفظ جہد سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی ایسی کوشش کے ہیں جس میں مشقت شامل ہو۔ اجتہاد اپنے اصطلاحی معنی میں فکر واستنباط کے ذریعے حکم شرعی معلوم کرنے کا نام ہے۔ اجتہاد اپنے شرعی معنی میں اس مربوط اورمنظم طریقہ استنباط کا نام ہے کہ جس کسی مسئلے کے بارے میں قرآن وسنت کی نص موجود نہ ہو، اس میں قرآن وسنت کی تعلیمات میں مضمر اصولوں کو سامنے رکھ کر اصول قیاس کے تحت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر حکم شرعی معلوم کیا جائے۔
یہ چیز ہمیں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں جسے حدیث معاذ کہاجاتاہے، زیادہ وضاحت اور قطعیت کے ساتھ ملتی ہے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل کویمن کا گورنر مقررفرمایا تو ان سے پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی معاملہ فیصلے کے لیے لایا جائے گا تو تم اس کا فیصلہ کیسے کروگے؟حضرت معاذ نے جواب دیا کہ میں مقدمات کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ ’’لیکن اگر تمہیں قرآن مجید میں کوئی ایسا حکم نہ ملے جس سے رہنمائی حاصل کرسکو تو اس صورت میں کیا کرو گے؟‘‘ ’’میں ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کروں گا‘‘ ’’اگر سنت بھی اس مسئلے میں خاموش ہوتو؟‘‘ ’’میں اس مسئلے کا فیصلہ اپنے اجتہاد سے کروں گا‘‘، معاذ بن جبلؓ نے جواب دیا۔
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس مسئلہ میں قرآن کریم یاسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہو، اس میں اجتہاد جائز نہیں بلکہ مردود ہے،البتہ جس کسی مسئلے کے حکم میں قرآن وسنت خاموش ہوں، ان میں اجتہاد نہ صرف جائز بلکہ محمود ہے۔
اجتہاد کی دو قسمیں ہیں: ایک اجتہاد مطلق (Absolute Ijthad) اور دوسری اجتہاد اضافی (Relative Ijtihad)۔ کسی ایسے مسئلے میں حکم شرعی معلوم کرنا جس کی کوئی نظیر یا صورت نہ تو قرآن وسنت میں موجود ہو اور نہ اجتہاد کے ذریعے پہلے کبھی معلوم کی گئی ہو، اجتہاد مطلق میں داخل ہے جبکہ اجتہاد اضافی سے کسی ایسے مسئلے میں اجتہاد کرنا مراد ہے جس کی نظیر یا صورت پہلے سے کسی مسئلہ میں قیاس کے ذریعے معلوم ہو اور پہلے مسئلہ کے حکم پر قیاس کرکے اس دوسرے مشابہ مسئلہ میں حکم لگا دیاجائے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں تین چار صدی تک ایسے فقہا موجود رہے ہیں جو اجتہاد مطلق کی صلاحیت وقابلیت سے آراستہ تھے، لیکن بعد کے ادوار میں، منظم مکاتب فقہ کے فکری تسلط کے باعث مطلق اجتہاد کی صلاحیت ختم ہوگئی اور اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہوگیا اور اس کی جگہ تقلید یعنی ائمہ فقہ کی قدیم آرا کی غیر مشروط اتباع نے لے لی۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مطلق اجتہادکا دروازہ درحقیقت سیاسی اسباب کی بنا پر بند کیا گیا تھا تاکہ مطلق العنان بادشاہ اور حکمران اپنے مستبدانہ اقدامات کے لیے اسلام کے نام پر قانونی جواز حاصل کرکے مسلم معاشرے میں انتشار اور افراتفری کی فضا پید انہ کر سکیں۔ گویا اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ رب العزت کے دین کو بدعات وجدت پسندی اور ذاتی رجحانات وخواہشات کی آلائش سے پاک رکھاجائے، تاکہ اسلام کے قانونی نظام کی بقا اور دوام واستحکام کی ضمانت حاصل ہو سکے جسے اپنی تشکیل اور نشوونما کے ابتدائی دور میں تنازعات اور گہرے اختلافات کی وسیع خلیج سے گزرنا پڑا تھا۔
اسلام کی تاریخ میں جو اسباب دروازۂ اجتہاد کے بند ہونے اور تقلیدی رویے کے اپنائے جانے کا باعث بنے، وہ بڑی حد تک اسلام میں بے جا عقلیت پسندی کے رجحانات، اسلامی تصوف پر مسیحیت کے اثرات اور خاص طور پر بغداد کی تباہی کے سبب پیداہوئے تھے۔ ان اسباب نے اسلام کی فکری نشوونما کو تقریباً مفلوج بنا کر رکھ دیاتھا۔ البتہ بعد کے ادوار میں بھی کچھ ایسے افراد پیداہوئے جو اپنی ذاتی حیثیت میں اضافی اجتہاد کا فریضہ انجام دیتے رہے لیکن یہ عمل صرف ان کے اپنے اپنے مذاہب فقہ کی حدود کے اندر رہا،یعنی ان مسائل کی حد تک جو فقہی مذاہب کے بانیوں نے غیر حل شدہ چھوڑ دیے تھے۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں اجتہاد کا عمل مختلف مذاہب کی قانونی آرا کے تقابلی مطالعے اور متفرق مسائل کے انتخاب وترجیح کی صورت میں بھی جاری رہا اور اس طرح معاملے کے کسی خاص پہلو پر غور وفکر کے ذریعے اسلامی فقہ کے دائرے میں جو وسعت پیدا ہوئی، اس سے اضافی اجتہاد کے لیے بھی مواقع پیدا ہوتے رہے۔
گزشتہ دس صدی کے دوران میں صرف ایک ممتاز فقیہ ایسا پیدا ہوا جو بجا طور پر یہ حق رکھتاتھا کہ مجتہد مطلق ہونے کا دعویٰ کرے اور اس نے یہ دعویٰ کیا یعنی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (متوفی ۷۲۸ھ)۔ براعظم پاکستان وہند کی حالیہ تاریخ میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا نام نامی بھی بجا طور پر اس کا مستحق ہے کہ ابن تیمیہ کے بعد بحیثیت مجتہد ان کا تذکرہ کیا جائے۔ شاہ صاحب نے اس ضرورت پر زور دیا کہ نئے زمانے اور بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی فکر کے بنیادی سرچشموں کی از سر نو تعبیر وتشریح کی جانی چاہیے۔ پاکستان میں ڈاکٹر محمد اقبال (متوفی ۱۹۳۸ء ؁) اگر چہ خود مجتہد یا عالم دین نہ تھے، لیکن اپنے دور میں اجتہاد کے سب سے بڑے داعی تھے اور آج کل انہیں ان تمام لوگوں کا پیشرو سمجھاجاتاہے جو پاکستان میں اجتہاد کی تبلیغ اور وکالت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ہمارا آج کا مسلم معاشرہ بے شمار سیاسی، معاشی اورمعاشرتی مسائل سے دوچار ہے جنہیں صرف اس صورت میں حل کیا جا سکتاہے جبکہ ہم اجتہاد سے کام لیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جن کے متعلق قرآن مجید یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی براہ راست اور واضح نص موجود نہیں۔ ایسے مسائل کے ضمن میں ہم موجودہ تجارتی لین دین اور اس سے متعلقہ امور کا ذکر کرسکتے ہیں جن میں بیمہ، ذاتی ملکیت کا حق، قومی ملکیت میں لے لینے کا تصور، جدید مالی قوانین اورمحاصل، نظام حکومت، اسمبلیوں کے لیے عوامی نمائندوں اور سربراہ مملکت کے انتخاب کا طریقہ،مغرب کے جمہوری معمولات کے سیاق و سباق کے حوالے سے بالغ رائے دہی کا نظام، بین الاقوامی قانون سے متعلق مسائل جیسے بودو باش سے تعلق رکھنے والے معاملات اور اس طرح بہت سے دوسرے مسائل۔
اجتہاد کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے کسی صورت اور حالت میں قرآن وسنت کے احکام کے خلاف نہ ہونا چاہیے۔ اسے لازمی طور پر اسلامی مقاصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ۔ جو افراد یا جماعتیں انفرادی طورپر یا اجتماعی صورت میں اجتہاد سے کام لیں، انہیں نہ صرف یہ کہ دینی علوم اور ان کے اصول وکلیات سے مکمل طورپر آگاہ ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صاحبان تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل ہوں تاکہ وہ دینی مسائل میں استنباط واستخراج کا فریضہ اپنی ذاتی پسند و ناپسند اور نفسیاتی خواہشات واحساسات کے تقاضوں سے بالاتر رہ کرانجام دے سکیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اجتہاد کی وہ کون سی حدود ہیں جن کا اسلامی معاشرے میں بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق متعلقہ قوانین میں ترمیم واصلاح کے دوران ملحوظ رکھا جانا ضروری ہے؟بالفاظ دیگر وہ کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے اسلامی نظام اجتہاد کو ہمارے جدید معاشرے میں بروئے کار آنا چاہیے؟ جیسا کہ سب اہل علم جانتے ہیں ،اجتہاد کے ذریعے جو بات جاننے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ قانون کیا ہے؟گویا اجتہاد کے ذریعے قانون میں ترمیم نہیں کی جاتی بلکہ اس کے ذریعے قانون سے آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔چنانچہ اصول اجتہاد کے تحت وہ تمام معاملات جن کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور ہدایات واضح اور قطعی ہیں،ان میں کسی ترمیم اور تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح جن معاملات پر کتاب وسنت کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہوچکا، ان سے انحراف ممکن نہیں کیونکہ صحابہ کرام شاہدین اول ہیں۔انہی کی روایت کے ذریعے ہم تک قرآن پہنچا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض تھے اور علوم نبوت کے براہ راست حامل اور شارح تھے اور جو علم صحابہ کرامؓنے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیااور اس کی تعبیر وتشریح کی، وہ معلم کتاب کی منشا ومراد ہے۔ 
البتہ وہ مسائل ومعاملات جن کے بارے میں کتاب وسنت کی عبارات مختلف یا ایک سے زائد معنی کی محتمل ہیں اور ان کی تعبیر وتشریح میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے،ان کے متعلق امت کے فقہا وعابدین ماحول، مقتضیات اور مملکت کے مفاد کے پیش نظر کسی ایک تعبیر وتشریح کو ترجیح دے سکتے ہیں یا کوئی جدید تعبیر وتشریح اختیار کرسکتے ہیں اور جن مسائل کے بارے میں اصل ہدایات تو کتاب وسنت میں موجود ہیں، لیکن تفصیلات اور جزئیات موجود نہیں، ان کے بارے میں کتاب و سنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے احکا م وضع کیے جا سکتے ہیں اور اس طرح وہ مسائل جن کا کتاب وسنت یا اسلامی فقہی ادب میں کوئی ذکر نہیں ہے، عہد حاضر کے جدید مسائل ہیں، ان کے متعلق اجتہاد کے ذریعے قوانین وضع کیے جاسکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ اجتہاد کے ذریعے وضع کیے جانے والے قوانین کتاب وسنت کی روح اور منشا کے خلاف یا منافی نہ ہوں۔
لہٰذا نہ صرف یہ کہ موجودہ دور میں اجتہاد کا جواز موجود ہے بلکہ اس سے کام لیا جانا ضروری ہے کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ہم ترقی پذیر بنیادوں پر اسلامی معاشرے کی تجدید واحیا اور تنظیم نو کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔ جس چیز کی ہمیں آج کے دور میں ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ہم صرف اسلامی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں خارجی قوتوں اور مغرب کے ذہنی اور ثقافتی غلبے سے متاثر ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ ان اچھائیوں اور برائیوں کا اپنے اندر ادراک اور شعور پیدا کریں۔ یہاں تما م متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جب ہم اجتہاد کے عمل اور طریقے کی پیروی کریں تو ہمیں نص کی جانب سے بے توجہی نہ برتنی چاہیے اور نہ قرآن وسنت کے باقاعدہ علم سے بے بہرہ ہونے اور اسلامی قانون اور فلسفہ قانون کے اصولوں سے لاعلم ہونے کی غلطی کرنی چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام پاپائیت پر یقین نہیں رکھتا، لیکن وہ ہر عمومی علم رکھنے والے شخص کو نہ یہ حق دیتاہے اور نہ دے سکتاہے کہ وہ اجتہاد کا اہم اور محنت طلب فریضہ اپنے ہاتھ میں لے۔ اجتہاد کا دروازہ بلاشبہ کھلا ہے لیکن داخلے کا حق صرف ان لوگوں کو حاصل ہے جو اجتہاد کی تمام شرائط پوری کرتے ہوں، یعنی علم دین بھی رکھتے ہوں اور پارسائی کی زندگی بھی بسر کرتے ہوں۔
میں اس سے پہلے اجتہاد کی دو اقسام، ایک مطلق اور دوسری اضافی کا ذکر کرچکاہوں ۔اگر ہم گزشتہ صدی کے اسلامی ادب میں قانون سازی کے حالیہ مضمرات کا مطالعہ کریں جس کا آغاز اکثر اسلامی ممالک میں اس صدی کے ربع اول میں ہوا تو ہمیں بہت سی ایسی قانونی دفعات ملیں گی، خصوصاً عائلی قوانین جن میں اضافی اجتہاد سے کام لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ترکی، پاکستان اور ایران کے قوانین ہیں جن کی رو سے ہر ملک کے اپنے اپنے قوانین نکاح میں بعض جزئی اختلافات کے ساتھ ضروری قرار دیا گیاہے کہ طلاق کا اندارج یا توثیق ریاست کی مقرر کردہ کسی ہیئت (اتھارٹی) سے کروائی جائے۔تعدد ازواج کے معاملے میں بھی عراق، شام، مراکش، اردن، پاکستان اور کچھ دیگر اسلامی ممالک میں مردوں کے اس بلاقید اختیار پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں کہ وہ بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہیں،تاہم تیونس کے قانون میں تعدد ازواج پر مکمل پابندی لگا د ی گئی ہے۔ اس معاملے میں تیونس کا قانون دیگر مسلم ممالک کے مقابلہ میں منفرد ہے۔
مصر میں تمام طلاقیں، سوائے اس طلاق کے جو دخول سے پہلے دی گئی ہو یا وہ جس کا معاوضہ لے لیا گیاہو یا وہ تین طلاقیں جوتین طہر میں دی گئی ہو ں، ۱۹۲۹ء کے قانون کی رو سے رجعی قرار دے دی گئی ہیں۔ سوڈان میں ایکٹ ۱۹۳۵ء کے مطابق ایک وقت میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک رجعی طلاق قرار دے دیا گیا ہے۔ شام میں بھی ایکٹ ۱۹۵۳ء کی رو سے ایسا ہی قانون اپنا لیا گیاہے جیسامصر میں رائج ہے۔ عراق، مراکش اور اردن میں بھی انہی خطوط پر قانون بنائے گئے ہیں، تاہم لبنان اور انڈونیشیا میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں کو غیر رجعی سمجھا جاتاہے اور مرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ حلالہ کے بغیر اس عورت سے دوبارہ نکاح کر لے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی یہی صورت رائج ہے۔ پاکستان میں عائلی قوانین کے آرڈی نینس مجریہ ۱۹۶۱ء کے تحت طلاق سوائے اس صورت کے جبکہ اس سے رجوع کر لیا گیا ہو، یونین کمیٹی کے چیئرمین کو خاوند کی جانب سے جس نے طلاق دی ہے، قطع نظر اس امر کے کہ ایک طلاق دی ہے یا دو یا تین یا زیادہ طلاقیں اور یہ کہ ایک وقت میں دی ہیں یا مختلف اوقات میں،طلاق کا نوٹس ملنے کی تاریخ سے نوے دن گزر جانے کے بعد موثر ہوتی ہے۔
قانون وراثت میں روایتی قانون کے مطابق یتیم پوتے پوتیاں اپنے دادا کی وراثت سے محروم رہتے ہیں، لیکن مصر کے قانون انتظام و صیت مجریہ ۱۹۴۶ء کے تحت لازمی میراث کا طریقہ رائج کیا گیا ہے جس کے مطابق یتیم پوتوں اور پوتیوں کو اپنے دادا کی میراث میں اتنے حصے کا مستحق قرار دیا گیا ہے جتنا حصہ ان کے والدین کو زندہ ہونے کی صورت میں ملتا۔ تاہم یہ حصہ کل میراث کے ایک تہائی حصے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ لاز می میراث کا یہ طریقہ شا م نے ۱۹۵۳ء میں، تیونس نے ۱۹۵۷ء میں، مراکش نے ۱۹۵۸ء میں اور عراق نے ۱۹۵۹ء میں اپنایا۔ تاہم شامی اور مراکشی قوانین کے مطابق لازمی میراث کا یہ طریقہ صرف فوت شدہ بیٹے کی اولاد تک محدود ہے۔ فوت شدہ بیٹی کی اولاد پر ا س قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ۔اس کے برخلاف پاکستان میں عائلی قوانین کے آرڈیننس مجریہ ۱۹۶۱ء کی رو سے دادا کی میراث میں یتیم پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے حصے کے متعلق قرار دیاگیاہے کہ اگر جانشینی کا آغاز ہونے سے پہلے مورث کا کوئی بیٹا یا بیٹی وفات پاچکی ہو تو اس بیٹے یا بیٹی کی اولاد جو آغاز جانشینی کے وقت زندہ موجود ہو، حسب مراتب اس حصے کے مساوی حصہ وصول کرلے گی جتنا حصہ اس بیٹے یا بیٹی کو ملتا اگر وہ زندہ ہوتے۔ اس معاملے میں پاکستان کا قانون دیگر اسلامی ممالک کے قانون سے بالکل مختلف ہے ۔
اوقاف کے معاملے میں، جن میں وقف علی الاولاد بھی شامل ہے، مصر کے قانون وقف مجریہ ۱۹۴۶ء کی رو سے بنیادی تبدیلیاں بروئے کار لائی گئی ہیں، یہاں تک کہ اگروقف خیراتی ہو تو یہ عارضی اور مستقل دونوں صورتوں میں جائز ہے، لیکن اگر وقف خیراتی نہ ہو تو مستقل طور پر اسے وقف کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،چنانچہ وقف علی الاولاد کی مدت، حیات واقف کو مستثنیٰ کرتے ہوئے صرف دونسلوں یا ساٹھ سال تک جو بھی پہلے ختم ہو، محدود کردی گئی ہے۔ تاہم کسی مسجد کے وقف یا مسجد کے حق میں وقف کو، اگر وہ محدود مدت کے لیے ہو تو اسے ناجائز قرار دے دیا گیاہے۔یہ ضروری ہے کہ ایسا وقف مستقل بنیادوں پر کیا جائے۔ لبنان میں بھی اوقاف کی قانونی حیثیت یہی ہے جبکہ بہت سے دوسرے ممالک میں جہاں مسلمان آباد ہیں، اوقاف کا روایتی قانون رائج ہے۔
آپ کی خدمت میں یہ مثالیں پیش کرنے سے میرا مقصد ان اختلافات کا اندازہ کرانا ہے جو مسلم ممالک کی قانون سازی میں نمایاں ہو رہے ہیں، اگر چہ ان میں سے کوئی بھی ملک نص یعنی قرآن وسنت کی ظاہری عبارت کو ترک کرنے کا دعوے دارنہیں ہے۔ اس صورت حال سے بخوبی عہدہ برآہو نے اور اجتہاد کے میدان میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے واحد حل یہ ہے کہ مسلم فقہا کا ایک عالمی ادارہ قائم کیا جانا چاہیے جس میں عالم اسلام کے نمایاں صلاحیت رکھنے والے محققین اور فقہا کو نمائندگی حاصل ہو۔
الحمد للہ کہ اس سلسلے میں اجتماعی کوششوں کا آغازہو چکاہے۔ سب سے پہلے اس حقیر نے موتمر عالم اسلامی کی عالمی کانفرنس منعقدہ ۱۹۶۷ء بمقام کراچی میں مسلم فیملی لاز پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے ایک مسلم ورلڈ جیورسٹس کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ (ملاحظہ ہو شمارہ مارننگ نیوز، کراچی ۵؍ جولائی ۱۹۶۷ء ) اس تجویز کی باز گشت بارہ سال بعد بمقام فیض (مراکش) میں ہونے والی اسلامی وزراے خارجہ کانفرنس منعقدہ مئی ۱۹۷۹ء میں سنائی دی جس میں مسلم ماہرین قانون کی ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن کے قیام کی سفارش کی گئی۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو پاکستان میں منعقد ہونے والے شریعت سیمینار میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اس تجویز کو پیش کیا کہ انٹر نیشنل اسلامک لا کمیشن قائم کیاجائے۔اس تجویز کو ’’اعلان اسلام آباد‘‘ میں شامل کیاگیا۔ بعد ازاں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقدہ ۲۵ تا ۲۹؍ جنوری میں اس تجویز کو منظور کیا گیا جوا ’’اعلان مکہ‘‘ میں موجودہے۔ اس کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل بھی کی گئی۔ اس کمیٹی نے اپنے متعدد اجلاسوں میں اس تجویز کو مفصل قانونی شکل دے دی ہے جو امید ہے کہ آئندہ منعقد ہونے والی اسلامی وزراے خارجہ کانفرنس میں منظور ہو جائے گی اوراس طرح بین الاقوامی اسلامی کمیشن کی تشکیل عمل میں آجائے گی۔ راقم الحروف کو بحیثیت چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل اس مسودہ کو دیکھنے اور رائے دینے کا موقع ملا ہے۔ امیدہے کہ مجوزہ اقدامات کے رد عمل آنے سے عالم اسلام کی ایک اہم ضرورت پوری ہو جائے گی اورہم مستقبل قریب میں ایک ایسے بین الاقوامی اسلامی معاشرہ کی تعمیر وتشکیل میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا قیام اسلام کا حقیقی منشا ومقصود ہے۔
ایسا کمیشن جدید دور میں ادارہ اجماع کے اغراض ومقاصد پورے کرے گا اور فقہی ذکاوت کے ذریعے قبولیت عام کی ضمانت مہیا کرے گا اور امت کی اجتماعی خواہش کے لیے قابل قبول بھی ہوگا۔اس عمل میں قرآن وسنت کی تعلیمات کی حدود میں رہتے ہوئے اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اجتہاد کے طریقہ پر عمل پیرا ہوکر قوانین کو وسیع تر بنیادوں پر تمام مسلّمہ فقہی مذاہب کے اسلامی قانون کے ذخیرۂ کتب ومواد پر مبنی ہونا چاہیے اور ان قوانین کی تدوین کے لیے کسی ایک فقہی مسلک پر انحصار نہ کرنا چاہیے۔
ہمیں یقین ہے کہ اجتہاد کا عمل اپنا شاندار کردار ادا کرے گا اور جدید دور میں اسلام کی ذہنی وفکری نشاۃ ثانیہ میں براہ راست اور بھر پور حصہ لے گا۔ صرف اجتہاد ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم جدید تہذیب کے چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں اس وقت جو جمود پایا جاتا ہے، وہ ختم ہوجائے گا اور اس کی جگہ ایک نئی قوت حیات او ر بالقوہ نشوونما بروئے کا ر آجائے گی۔ اجتہاد امت مسلمہ کے جذباتی اتحاد کے احیا میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں بلاشبہ ساری دنیا کے مسلمان ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے اور یہ وہ چیز ہے جو ہمارا بنیادی مقصد ہے یعنی عالم اسلام کا اتحاد۔

امہات المومنین کے لیے حجاب کے خصوصی احکام

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

مسلمان معاشرے کا ایک اہم مسئلہ پردہ ہے۔ خواتین سے متعلق اس اہم مسئلے میں مسلمان (مرد اور عورتیں دونوں) افراط وتفریط کا شکار ہیں، یعنی ایک طرف انتہا پسندانہ (Extremist) نقطہ نظر ہے اور دوسری طرف مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے یا اس سے صرف نظر کرنے کا رجحان ہے۔ یہ مسئلہ سارے مسلمان ممالک کا ہے اور ہر ملک کے مسلمانوں میں اس موضوع پر نقطہ ہائے نظر کا اختلاف ہے، لیکن برصغیر کا ایک اسلامی ملک پاکستان اور دوسرا غیر اسلامی ملک جہاں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں یعنی بھارت یا انڈیا، وہاں ا س بارے میں بڑے انتہا پسندانہ نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ برصغیر کا دوسرا مسلمان ملک یعنی بنگلہ دیش بڑی حد تک اس اختلاف سے محفوظ ہے۔ وہاں عام طور پر مسلمان عورتیں روایتی پردہ نہیں کرتی ہیں، اگرچہ وہ خاصی دین دار ہوتی ہیں۔ اس لیے ہماری یہ تحریر پردے کے قرآنی احکام، ان کی حقیقی یا غیر حقیقی تفسیر وتاویل اور پاکستانی معاشرے کی منظر کشی اور تجزیے پر مبنی ہے۔
یہ بات قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے والے ہر شخص پر آشکارا ہے کہ اس میں صرف عقیدۂ توحید وآخرت اور عبادات و اخلاقیات سے متعلق ہی احکام خداوندی نہیں، بلکہ اس میں ہماری زندگی کے ہر پہلو سے متعلق احکام ہیں اور انھی میں ہماری اجتماعی زندگی یعنی Social Life یا رہن سہن سے متعلق احکام بھی ہیں۔ خواتین کا پردہ اجتماعی زندگی ہی کا ایک پہلو ہے اور قرآن نے اس پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے، بلکہ اس پرخاصی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
پردے کے احکام قرآن کریم کی دو سورتوں، سورۂ احزاب اور سورۂ نور میں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں محققین تفسیر کے اقوال کے مطابق علی الترتیب ۵ھ اور ۶ھ میں نازل ہوئیں، لیکن سورۂ احزاب کی بعض آیات جیسے آیات ۲۸، ۲۹ جنھیں آیات التخییر بھی کہا جاتا ہے، قدیم ترین مفسر امام طبری کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قصہ ایلاء (طلاق کی ایک قسم) کے بعد نازل ہوئیں ، اور یہی بات حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں کہی ہے اور انھوں نے قصہ ایلاء وتخییر سن ۹ھ میں بتایا ہے۔ علامہ شبلی نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اس مسئلے پر گفتگو کریں، اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ عربوں میں اسلام سے قبل پردے کا وجود نہ تھا۔ عورتیں میلوں ٹھیلوں (سوق عکاظ، سوق ذو المجاز وغیرہ) میں آزادانہ شرکت کرتیں اور جنگ کے موقعوں پر مردوں کے ساتھ ہوتی تھیں۔ لڑائی میں تو حصہ نہ لیتی تھیں لیکن دف بجا بجا کر فوجی ترانے گاتیں اور مردوں کی ہمت بڑھاتی تھیں، جیسا کہ غزوۂ احد کے موقع پر ابوسفیان کی بیوی ہند اور دوسری عورتوں نے کیا او رجن کا گانا سیرت النبی کی کتابوں میں موجود ہے جس کے ذکر کا یہاں موقع نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عربوں کی سوسائٹی ایک مخلوط (Mixed) سوسائٹی تھی اور اس میں عدم اختلاط (Segregation) کا وجود نہ تھا، بلکہ پوری طرح یہ ایک غیر مخلوط Segregated معاشرہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یثرب (مدینہ) ہجرت کرنے اور وہاں اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی سوسائٹی کے وجود میں آنے کے بعد رفتہ رفتہ زندگی کے مختلف معاملات، شادی، طلاق، عدت، میراث، وصیت یعنی خاندان سے متعلق احکامات، حرام وحلال کھانے (گوشت)، حرمت شراب وقمار، چوری اور قتل عمد (Pre-meditated murder) اور قتل خطا کی سزا ودیت (Blood Money) اور تجارت وغیرہ سے متعلق احکام کے بعد یکے بعد دیگرے پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں پردے کے احکام نازل ہوئے۔ پردے کے لیے عربی لفظ حجاب ہے جس کے معنی چھپنا، چھپانا، آڑ، اوٹ اور دیوار اور پردہ ہیں۔ قرآن مجید میں حجاب کا لفظ ان مختلف معانی میں آیا ہے، لیکن عام طور پر حجاب یا پردہ سے مراد خواتین کا غیر مردوں کے سامنے اپنے آپ کو چھپانا یا Cover کرنا ہے اور یہاں ہم اسی پر گفتگو کریں گے۔ 
اس ضمن میں یاد رکھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ مرد اور عورت، دونوں ہی اللہ کی مخلوق ہیں، اس کے بندے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ وما ربک بظلام للعبید (سورۃ فصلت: آیت۴۶) اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ضمن میں جو احکام قرآن پاک میں بیان کیے ہیں اور جن کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض احادیث میں فرمائی ہے، ان میں عورتوں پر ظلم کاشائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ 
دوسری بات یہ کہ اسلام ’’دین وسط‘‘ ہے،یعنی معتدل دین جس میں نہ تو افراط Extremism)) کو پسند کیا گیا ہے اور نہ تفریط Laxity)) کو، بلکہ ہر معاملے میں میانہ روی کوبہتر سمجھا گیا ہے ،حتیٰ کہ صحیح احادیث کی رو سے نفلی عبادات میں بھی میانہ روی کاحکم دیا گیا ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ وعفیف chaste)) سوسائٹی قائم کرنا چاہتاہے جس میں مردوزن دونوں ہر قسم کی بری نظر اور بد کرداری بلکہ بدنامی سے محفوظ رہیں۔ پردے کے تمام احکام اس پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
پردے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں پردے کے کچھ احکام تو ایسے ہیں جن کا تعلق امہات المومنین یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے اور دوسرے احکام وہ ہیں جو عام مسلمان خواتین سے متعلق ہیں اور بعض حکم ایسے ہیں جن میں دونوں مشترک ہیں۔ ازواجِ مطہرات کے پردے سے متعلق سورۃ احزاب کی ایک آیت نمبر ۳۲ ہے جس کاترجمہ یہ ہے:
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاۃَ وَآتِیْنَ الزَّکَاۃَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ إِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً 
’’اور اپنے گھروں میں رہو، اور جیسے عہد جاہلیت اولیٰ میں عورتیں زیب وزیب کے ساتھ باہر نکلتی تھیں، ایسے نہ نکلا کرو اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیاکرو، اور اللہ او ر اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت (النبی) تم سے آلودگی کو دور کردے اور تم کو بہت اچھی طرح پاک وصاف کر دے۔‘‘
اس سے قبل کی چار آیتوں یعنی آیات ۲۸ تا ۳۱ میں جو احکام ہیں، وہ خاص ازواجِ مطہرات سے متعلق ہیں اور کسی طرح بھی عام خواتین پر ان کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کے بعد جو آیت ۳۳ ہے، اس کاتعلق بھی خاص اہل بیت النبی یا ازواجِ مطہرا ت سے ہے، کیونکہ اس میں ہے:
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلَی فِیْ بُیُوتِکُنَّ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ وَالْحِکْمَۃِ إِنَّ اللَّہَ کَانَ لَطِیْفاً خَبِیْراً 
’’اور یاد رکھو اللہ کی ان آیات اور حکمت ودانائی کی ان باتوں کو جو تمھارے گھر میں تلاوت کی جاتی اور بتائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باریک بیں اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
لیکن بعض مفسرین نے قدیم زمانے سے مذکورہ آیت نمبر ۳۲ کے پہلے جملے ’وقرن فی بیوتکن‘ (اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو) کا اطلاق عام مسلمان خواتین پر کر کے عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں محبوس کر دیا، حالانکہ اسی آیت کے آخری ٹکڑے میں بہت وضاحت کے ساتھ مذکورہے کہ ’’اللہ تم اہل بیت سے آلودگی دور رکھنا اور تم کوپاکیزہ رکھنا چاہتا ہے۔‘‘ اور قدیم وجدید تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد امہات المومنین (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات) اور سیدۃ فاطمہؓ، حسنؓ وحسینؓ اور سیدنا علیؓ ہیں۔ 
یہاں اس بات کی توضیح بے محل نہ ہوگی کہ کوئی شک نہیں کہ یہ اور اس سے قبل کی دیگر آیات امہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے اس آخری جملے کی وضاحت کرتے ہوئے اس میں اپنے مذکورہ بالا ’’اہل بیت‘‘ کوبھی شامل کیا تھا اور یہ اس صحیح حدیث سے ثابت ہے جسے دس صحابہؓنے روایت کیا ہے جن میں دو ازواج مطہرات، حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ بھی شامل ہیں۔ 
عورتوں کو چار دیواری میں رکھنے کے دفاع میں جو کچھ بھی کہا جائے وہ اپنی جگہ، لیکن اس کا حکم قرآن میں نہیں ہے اور ازواج مطہرات پر قیاس کرتے ہوئے اس حکم کو تمام مسلمان خواتین کے لیے عام کرنا کسی طرح درست نہیں، کیونکہ سورۃ احزاب کی انہی آیتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ ازواج مطہرات میں سے اگر کوئی بدکرداری کرے تو ان کو آخرت میں دگنی سزا دی جائے گی اور اگر وہ اطاعت شعاری اور نیکوکار ی کریں گی تو ان کو دگنا اجر دیا جائے گا (سورۃ احزاب ،آیت ۳۰،۳۱) جبکہ عام مسلمانوں کو کسی گناہ کی سزا دگنی دینے کا ذکرقرآن میں نہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہو گئی کہ دگنی سزا وجزا کے پیش نظر سورۃ احزاب کی ان مذکورہ آیات کا تعلق عام خواتین سے نہیں، اس لیے ان آیا ت کا اطلاق ان پر کرنا درست نہیں۔
اسی سورۃ احزاب کی آیت نمبر ۵۹ کااطلاق بھی غلط طور پر عام مسلمان خواتین پر کیا گیا ہے۔ ہر چند کہ اس میں کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوں، لیکن آیت قرآنی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے متعلق ہے اور اس کی یہی تفسیر قدیم عرب مفسرین نے کی ہے، بلکہ اس آیت کا شان نزول بھی یہی بتایا گیا ہے کہ حضرت عمرکی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی آیت نازل فرما دے جس میں لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر جانے اور بیٹھنے کی ممانعت ہو۔ آٹھ سطروں کی اس طویل آیت کے ترجمہ سے قبل یہاں اتنا کہنا ضروری ہے کہ غزوۂ احزاب (یعنی غزوہ خندق) کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کانکاح حضرت زینب بنت جحش (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی زاد بہن) سے ہوا تو آپ نے اس موقع پر دعوت ولیمہ کی۔ بہت سے صحابہ بن بلائے آپ کے گھر میں داخل ہوگئے اور بعض کھانا (گوشت وروٹی) کھانے کے بعد اندر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں جو فطری شرم وحیا اور لحاظ تھا، اس کی بنا پر آپ لوگوں کی طرف پشت کیے ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ حضور اس طرز عمل سے ناخوش تھے، لیکن آپ نے کچھ کہنا پسند نہیں فرمایا اور اس وقت تک پردے کی آیت نہیں اتری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مشکل کو آسان فرما دیا۔ سورۃ احزاب کی یہ آیت اتری جس کا ترجمہ ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَن یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَیْْرَ نَاظِرِیْنَ إِنَاہُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ یُؤْذِیْ النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِیْ مِنکُمْ وَاللَّہُ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ
’’اے اہل ایمان! نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہیں چلے جایا کرو، نہ کھانے کا وقت تکتے رہو، ہاں اگر تمھیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھا لو تو چلے جاؤ، بیٹھ کر باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمھارا یہ عمل نبی کو تکلیف دیتاہے مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے، اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتاہے۔ نبی کی بیویوں سے اگر تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا وکرو۔ یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے۔‘‘ (سورۃ احزاب ،آیت ۵۳)
یہ آیت اپنے طرز خطاب اور اپنے سبب نزول کی روشنی میں واضح طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق ہے، لیکن اس کے آخری جملے ’’اورجب ان (ازواج مطہرات)سے کچھ مانگا کرو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو‘‘ کاحکم بعد کے مفسرین نے ساری خواتین کے لیے عام کر دیا۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
لندن ۲۴ جون ۲۰۰۷ء
بخدمت محترم مولانا راشدی زید مجدہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
مولانائے محترم، آج کے جنگ میں محترم مفتی محمد رفیع صاحب کا فتویٰ رشدی ملعون کے بارے میں جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘ کے حوالے سے چھپا ہے جو ہر مسلمان کو نہ صرف اس کے قتل کا اختیار دیتا ہے بلکہ اس کے اجر میں جنت کی بشارت کے ذریعہ ترغیب بھی۔ مفتی صاحب میرے علم کی حد تک کسی سیاسی محاذ سے وابستہ نہیں ہیں اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے۔ (ورنہ آج کل آپ کے یہاں کی تمام مذہبی بولیوں میں سیاست درآئی نظر آتی ہے اور اس لیے وہ سنجیدگی سے لیے جانے کی مستحق نہیں رہ جاتیں) محترم مفتی صاحب کے اس فتوے کے سلسلہ میں، جو بلاقیدِ زمان و مکان ہے، یعنی ساکنانِ برطانیہ بھی اس کے دائرۂ نفوذ میں آجاتے ہیں، مجھے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ برطانیہ میں اگر کوئی مجھ سے اس فتوے کے حوالہ سے مسئلہ پوچھتا ہے اور میں کمزوری یا خود رائی سے اس کی تائید میں جواب نہ دے سکوں تو میرا کیا حکم ہے؟ 
میرے پاس حضرت مفتی صاحب کا ای میل یا فون وغیرہ نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ براہِ کرم میرے لیے اس نہایت اہم اور عجلت طلب معاملہ میں مفتی صاحب سے جواب حاصل کرکے جلد از جلد بھجوانے کی کوشش سے ممنون فرمائیں۔ آپ کے رابطہ پر مفتی صاحب مجھے براہِ راست بھی جواب دے سکتے ہیں۔ الغرض عجلت کا طالب ہوں، آپ سے بھی اور حضرت مفتی صاحب سے بھی۔ والسلام
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی 
(۲)

دار الافتاء، دار العلوم کراچی کی طرف سے جواب 

الجواب حامداً ومصلیاً
سائل جو کہ عالم دین ہیں اور غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں، اگر وہ سلمان رشدی کے قضیہ میں فتویٰ دینے سے جان کا خطرہ محسوس کرے ہیں، یا ناقابل برداشت مضرت کا خطرہ محسوس کرتے ہیں، یا سائل مذکورہ قضیہ میں کوئی اختلاف رائے رکھتے ہیں، اور وہ رائے قرآن وحدیث کی صریح وصحیح نصوص کے خلاف نہ ہو تو اس صورت میں سائل کے لیے مذکورہ قضیہ میں سکوت اختیار کرنے کی گنجایش ہے۔
قال النووی فی شرح مسلم: ثم ان الامر بالمعروف والنہی عن المنکر فرض کفایۃ اذا قام بہ بعض الناس سقط الحرج عن الباقین واذا ترکہ الجمیع اثم کل من تمکن منہ بلا عذر ولا خوف الخ (عون المعبود ۱۱/۳۳۰)
وفی المرقاۃ للملا علی قاری: وشرطہما (الامر بالمعروف والنہی عن المنکر) ان لا یودی الی الفتنۃ کما علم من الحدیث (۸/۸۶۲)
وفی التعلیق الصبیح للشیخ مولانا محمد ادریس الکاندھلوی: فان لم یستطع ذلک بلسانہ لوجود مانع کخوف فتنۃ او خوف علی نفس او عضو او مال بقلبہ الخ (۵/۳۱۳)
فی التلویح علی التوضیح فی بحث الرخصۃ والعزیمۃ: کما فی الامر بالمعروف فانہ فرض بالدلائل الدالۃ علیہ فیکون ترکہ حراما ویستباح لہ الترک اذا خاف علی نفسہ (۲/۶۸۹)
وفی نور الانوار: وترک الخائف علی نفسہ الامر بالمعروف عطف علی المکرہ ای اذا ترک الخائف علی نفسہ الامر بالمعروف للسلطان الجائز جاز لہ ذلک الخ (۱۷۰)
وفی الحاشیۃ علیہ: ای بشرط ان یکون کارہا لذلک بقلبہ
وفی شرح القواعد الفقہیۃ: وتجویز السکوت علی المنکر اذا کان یترتب علی انکارہ ضرر عظیم کما تجوز طاعۃ الامیر الجائر اذا کان یترتب علی الخروج علیہ شر اعظم (بتقدیم الشیخ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ ص ۱۴۷)
کذا فی المقالات الفقہیۃ للشیخ المفتی محمد رفیع العثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ ص ۳۱۱) واللہ تعالیٰ اعلم
(۳)
لندن ۱۱؍جولائی ۲۰۰۷
مولانائے محترم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آج تازہ الشریعہ کا کلمۂ حق پڑھا۔ بالکل حق ہے۔ ضرورکچھ ہونا چاہیے،لیکن جن دانشوروں سے آپ کا خطاب ہے، میں نہیں جانتا انھیں کوئی دلچسپی آپ کے انکارِ مُنکَر کے تصور سے ہوگی۔ مگر آپ نے بات اُٹھائی ہے تو عمل درآمدکی کوئی راہ ضرور سوچیں اور قدم اُٹھائیں۔ شریعہ کاؤنسل کے حوالہ سے بھی یہ آپ کے کرنے کا کام بنتاہے۔ میرے ذہن میں ایک بات آئی ہے ،شاید قابلِ غور ہو۔ اور سوچتاہوں کاش یہ بات لال مسجد برادران کا قضیہ علم میں آنے پر ذہن میں آگئی ہوتی تو آپ سے عرض کرتا کہ ان کو اس راہِ عمل کی طرف متوجہ کیجیے۔ یہ راہِ ہے پکیٹنگ(Picketing) کی راہ، جو بالکل اس انداز پر ہو جیسے ہندوستان میں کبھی کانگریس کے والینٹیر شراب کی دوکانوں اور شراب خانوں وغیرہ پر اس سوچ کے ماتحت کرتے تھے کہ اس سے گھر برباد ہوتے ہیں۔ یہ پکیٹنگ مناسب وعظ و تذکیر کے ساتھ ہو، سو فی صد پرامن ہو، منظم ہو، جن جگھوں پر کی جائے، وہاں تشدد کا سامنا ہو تو ادنیٰ جوابی تشدد کے بغیر اُسے سہا جائے، گورنمنٹ کو اعتراض ہو تو بلا مزاحمت گرفتاری قبول کی جائے۔ موجودہ حالات میں کہ گورنمنٹ کو کوئی دلچسپی فواحش و منکرات کے روکنے سے نہیں ہے، معاشرہ کے اہلِ حس کی طرف سے کچھ کرنے کی یہی راہ شاید ہو سکتی ہے ۔مگر بڑی مختلف الجہات منصوبہ بندی کرنا پڑے گی، تب کہیں کوئی مؤثر صورت ابھر نے کی امید کی جاسکے گی۔ 
افسوس، لال مسجد کا قضیہ ایسی بری شکل میں تمام ہوا کہ کسی نے بھی غالباً نہ سوچاہو۔ اناّللہ و انّا الیہ راجعون۔ اور اس کے نتیجے میں مدارس کے حق میں بنائی گئی مخالف و معاند فضا کو کس قدر تقویت مل سکتی ہے؟ اسے تو آپ حضرات ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ کاش برادران نے یہ دیکھنے کے بعدکہ ان کے خلاف اقدام کی گھڑی سامنے آکر کھڑی ہو چکی ہے، مدارس پر اثرات کے خیال سے نہ سہی، مسجد ہی کے تقدّس اور طالبات و طلبا کی حفاظت ہی کے خیال سے گرفتاری دے دینے کو حصولِ شہادت کے مساوی سمجھ لیا ہوتا۔ بلکہ اس اقدام میں جو پاکستانی فوجی استعمال ہونے جارہے تھے، جو سب کے سب مسلمان تھے، اور کسی کے بھی متعلق غالباً نہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ علما یا مدارس مخالف ذہن کا تھا، میں تو سمجھتاہوں ان کا بھی حق تھا کہ اس سنگین آزمائش سے انھیں بچانے کی خاطر اور ان کی جانیں بچانے کی خاطر ہی ترکِ مزاحمت کو ترجیح دے دی جاتی۔ (افسران کے بارے میں بدگمانی کی گنجائش ہو تو ہو لیکن جو محض سپاہی ہیں، ان کا معاملہ تو جدا ہے) کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان میں سے دس بارہ کی جانیں بھی اس قضیے کی نذر ہوئیں جبکہ وہ ہرگزفریق نہ تھے۔ افسوس ہم لوگوں کی قسمت میں ’’اے کاش کہ، اے کاش کہ‘‘ ہی رہ گیا ہے۔ 
مجھے نہیں معلوم آپ حضرات ان فوجیوں کے مارے جانے کو بھی کوئی اہمیت دے رہے ہیں،مگر میرے نزدیک یہ آپ کے اورفوج کے درمیان ایک ایسا بَل ڈال دینے والا واقعہ ہے جس کی طرف سے فکر کی جانی چاہیے۔ جس دن کرنل ہارون الاسلام کے مسجد کی فائرنگ سے مار ے جانے کی خبر سنی، دل نے کہا تھا اب اللہ خیر ہی کرے۔ اور پھر تو ایک کی جگہ دس ہوگئے۔ اللہ ان سب کی مغفرت کرے اور اس کے برے اثرات سے اپنے دین کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ آپ شاید محسوس کریں کہ حکومت کے بارے میں ایک لفظ میں نے اس قصہ میں نہیں لکھا، تو مولانا اُس کے بارے میں کس امید پر لکھوں؟ آپ حضرات جو کہانی آخری رات میں اپنی کوششوں اور پراسرار ناکامی کی سنا رہے ہیں، اس کے بعد کسی کہنے سننے سے حکومت پر اثر کی کوئی کیا توقع کرسکتا ہے؟ اور کسی فائدہ و اثر کی توقع کے بغیر کہنا سننا ایک فعلِ عبث ۔ہاں آپ حضرات اہلِ پاکستان کی بات دوسری ہو سکتی ہے۔
اچھا مولانا مجھے اپنے استفتا کا جواب مل گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو بھی بھیجا گیا ہے، کہ آپ نے بھی کاپی کی فرمائش کی تھی۔ مگر شاید میری کم فہمی کا نتیجہ ہو کہ جواب اور اس کی دلیل میں مجھے کوئی تعلق،ما نحن فیہ کو دیکھتے ہوئے، نظر نہ آیا۔ آپ کی نظر میں تعلق ہو تو براہ کرم مجھے ضرور بتائیں۔ بالکل تکلف نہ فرمائیں۔ والسلام 
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی 
(۴)
محترم جناب مدیر الشریعہ 
السلا م علیکم !امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
میں مدیر ’اشراق‘جناب سید منظور الحسن صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے غامدی صاحب پر میری تنقید کے تعاقب میں بحث کو آگے بڑھایا ہے ۔میں نے اپنے اصل مضمون میں یہ لکھا تھا کہ غامدی صاحب کے بنیادی مصادر شریعت چار ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
۱) دین فطرت کے بنیادی حقائق، ۲) سنت ابراہیمی، ۳) نبیوں کے صحائف، ۴) قرآن۔
جناب سید منظور الحسن صاحب نے میرے مضمون پر تعاقب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’ ’فطرت‘ ‘ غامدی صاحب کے نزدیک کوئی مستقل ماخذ دین نہیں ہے۔جناب منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں:
’’غامدی صاحب نے ’’اصول مبادی ‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآن مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیاہے‘لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذ دین کے طور پر پیش نہیں کیا۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ‘جولائی ۲۰۰۷‘ص۳۸)
اس بیان سے پہلے سید منظور الحسن صاحب کا دعوی تھا کہ غامدی صاحب نے ’اصول و مبادی‘ میں ’فطرت کے حقائق ‘ کو ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر بیان کیا ہے ۔جناب سید منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں:
’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔(ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)
۱) پہلی بات تو یہ ہے کہ سید منظور الحسن صاحب مجھ پر کج فہمی کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو غامدی صاحب کے حوالے سے میں نے وہی بات بیان کی ہے جو کہ منظور الحسن صاحب نے بھی لکھی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں ۔جب میں ’فطرت کے حقائق ‘ کو غامدی صاحب کا مأخذ دین لکھوں تو مجھے منظور الحسن صاحب کج فہم کہتے ہیں لیکن میں سید منظور الحسن صاحب یہ استفسار کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کا اپنے اس فہم کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جس میں انہوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں؟
۲) دوسری بات یہ ہے کہ سید منظور الحسن صاحب کی مذکورہ بالا عبارت کہ جس میں انہوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں‘قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہے ۔قطعی الثبوت تو اس لیے کہ منظور الحسن صاحب کی یہ عبار ت‘ غامدی صاحب کے ماہنامہ اشراق میں کہ جس کے وہ خود مدیر بھی ہیں‘ ان کے ذاتی نام سے شائع ہوئی ہے۔اور قطعی الدلالت اس لیے کہ اس عبارت کا ایک ایک لفظ اپنے مفہوم کو بغیر کسی اشتباہ کے واضح کر رہا ہے۔منظور الحسن صاحب کی عبارت یہ ہے :
’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘۔ (ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)
اگر کسی اردو جاننے والے سے اس عبارت کا مفہوم پوچھا جائے تو وہ یہی بتائے گا کہ ’مصادر ‘ کا معنی ’مصادر ‘ ہے۔ ’قرآن‘ سے مراد’ قرآن ‘ہے۔’فطرت ‘ سے مراد ’فطرت‘ ہے ۔’سنت ابراہیمی ‘سے مراد ’سنت ابراہیمی‘ ہے۔’قدیم صحائف‘ سے مراد ’قدیم صحائف‘ہے‘لہذا منظور الحسن صاحب کی یہ عبارت اس مسئلے میں نص قطعی ہے کہ ان نزدیک غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں۔
۳) تیسری بات یہ ہے کہ جناب منظور الحسن صاحب نے اپنی اس عبارت کی نسبت جناب غامدی صاحب کی ہے۔ منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں : 
’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔(ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)
جناب منظور الحسن صاحب نے واضح لکھا ہے کہ غامدی صاحب کی’ میزان‘ کی عبارت کو کوئی صاحب صرف ان کا فلسفہ نہ سمجھے بلکہ یہ ان کے مصادر شریعت ہیں۔جبکہ اسی رسالے کے شروع میں کہ جس میں منظور الحسن صاحب کی مذکورہ بالا عبارت شائع ہوئی ‘یہ عبارت بھی موجود ہے:
’’یہ مضمون استاذ گرامی کے افادات پر مبنی ہے اور انھی کی رہنمائی میں تحریر کیا گیا ہے‘‘۔ (ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)
ماہنامہ ’اشراق‘ کی یہ عبارتیں وضاحت کرتی ہیں کہ منظور الحسن صاحب نے یہ عبارت لکھتے وقت اپنے استاد محترم سے نہ صرف بذریعہ ’میزان‘ تحریری رہنمائی لی بلکہ قولی رہنمائی بھی لی۔
۴) چوتھی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’۲۰۰۴ء‘میں منظورا لحسن صاحب کی یہ عبارت ’اشراق‘ میں شائع ہوئی کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے لیکن ابھی تک جناب غامدی صاحب کی طرف سے کوئی ا یسی تردید نہیںآئی کہ جس میں انہوں نے یہ لکھا ہو کہ میرے شاگرد رشید نے جومیرے چار مآخذ دین گنوائے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا شاگرد رشیدمیری کتاب ’میزان‘ کی عبار ت کو سمجھ نہیں سکا اور اس کوسمجھنے میں وہ کج فہمی کا شکار ہوا ہے۔
۵) پانچویں بات یہ کہ جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اس عبارت کا مفہوم اپنے استاد محترم کے درج ذیل اصول کی روشنی میں اگر متعین کریں تو نہ وہ خود کج فہم رہیں گے اور نہ مجھ پر کج فہمی کاالزام عائد کر سکیں گے۔ جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’ہم جو کچھ بولتے اور لکھتے ہیں ‘اس اعتماد کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہیں کہ دوسرے اس سے وہی کچھ سمجھیں گے جو ہم کہنا چاہتے ہیں،دنیا میں ہر روز جو دستاویزات لکھی جاتی ہیں ‘جو فیصلے سنائے جاتے ہیں‘جو احکام جاری کیے جاتے ہیں ‘جو اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں اور جن علوم کا ابلاغ کیا جاتا ہے‘ان کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال اگر پیدا ہوجائے کہ ان ا لفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر قطعی نہیں ہے تو ان میں سے ہر چیز بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ چناچہ یہ نقطہ نظر نری سو فسطائیت ہے جس کے لیے علم کی دنیا میں ہر گز کوئی گنجائش پیدا نہیں کی جا سکتی‘‘۔(میزان:ص۳۳)
غامدی صاحب کے اس اصول کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے جناب منظور الحسن صاحب کی یہ عبارت:
’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔
اس مسئلے میں نص قطعی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں کہ جن میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔
۶) جہاں تک آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ میں ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘کی تعیین کا مسئلہ ہے کہ ان کی تعیین کسی طرح ہو گی ؟ اس کو ان شاء اللہ غامدی صاحب کے ہی اصول و مبادی میں موجود مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں ایک مستقل مضمون میں واضح کروں گا۔اصحاب المورد کا مسئلہ یہ ہے کہ جب چاہتے کسی مسئلے میں امت کی اتفاقی رائے کو نظر انداز کر کے اہل سنت کے بالمقابل ایکمنفرد رائے قائم کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فقہا کی شاذ آرا کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کر لیتے ہیں۔جن فقہا کے جناب منظور الحسن صاحب نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیر کرتے وقت حوالے دیے ہیں اگر ان فقہا کا فہم ان کے نزدیک حجت ہے تو مسئلہ رجم‘حضر ت عیسیٰ بن مریمؑ کی آمد ثانی‘عورت کے دوپٹے‘مجسمہ سازی‘ مرتد کی سزا اور قرا ء ات قرآنیہ کے بارے میں ان فقہاء کے فہم پر یہ لوگ اعتماد کیوں نہیں کرتے؟جہاں تک دلیل کی بات ہے تو جناب منظور الحسن صاحب نے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی کہ جس یہ ثابت ہوتا ہو کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیرمیں انہوں نے جن فقہا کی آرا بیان کی ہیں، ان کے دلائل یہ ہے۔ میں ان شاء اللہ واضح کروں گا کہغامدی صاحب کی فکر اور ان فقہا کی آرا میں کیا فرق ہے کہ جن کے حوالے جناب منظور الحسن صاحب نے بیان کیے ہیں اور یہ بھی ثابت کروں گا کہ آپ نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی جو تفسیر فقہا کے اقوال کی روشنی میں بیان کی ہے، وہ تفسیر اس تفسیرسے بالکل مختلف ہے جو کہ آپ کے مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں سامنے آتی ہے۔ 
۷) آخر میں ‘ میں جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر آپ واقعتااس بحث کو کسی نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں تو اس ادھر ادھر کی تأویلات میں پڑکر بحث کو طویل کرنے ا ور الجھانے کی بجائے درج ذیل تین آپشنز پر غور کریں:
الف) اگر تو غامدی صاحب ’الشریعہ‘ کے کسی شمارے میںیہ لکھ دیں کہ ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں جناب منظور الحسن صاحب نے میری نسبت سے جو چار مصادر دین بیان کیے ہیں‘اس میں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور میں ان کی اس عبارت سے متفق نہیں ہوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔
ب) یاجناب سیدمنظورا لحسن صاحب خود یہ لکھ دیں کہ میری ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں شائع شدہ عبارتمنسوخ ہے‘ پہلے میرا خیال یہ تھا کہ غامدی صاحب کے مصادر دین چار ہیں لیکن اب مجھ پرواضح ہوا ہے کہ’فطرت‘ ان کے مصادر دین میں سے نہیں ہے۔ 
ج) یا سید منظور الحسن صاحب مجھے کم از کم غامدی صاحب کے بارے میں اتنالکھنے کی اجازت دیں جتنا کہ خود انہوں نے لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ 
’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔‘‘
اور چوتھی اور آخری صورت وہ ہے کہ جو جناب منظور الحسن صاحب عملا کر رہے ہیں کہ اس بحث کوا تنا طویل کر دو اور الجھا دو کہ قارئین کے ذہن منتشر ہو جائیں اور اصل نکتے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔ اللہ تعالی ہم سب کی حق بات کی طرف رہنمائی فرمائے۔آمین
حافظ محمد زبیر 
ریسرچ ایسوسی ایٹ ‘قرآن اکیڈمی ‘لاہور
hmzubair2000@yahoo.com
(۵)
مکرمی مولوی محمد طارق صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
۱۷؍ مئی کو آپ نے جناب جاوید احمد غامدی کے نام جو خط لکھا، اس کی کاپی آپ کی طرف سے ای میل کے ذریعے سے مجھے بھی بھیجی گئی تھی۔ اس خط میں برادرم شبیر احمد میواتی صاحب کے حوالے سے میری طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ میں نے بذات خود غامدی صاحب سے ’’غامدی‘‘ نسبت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواباً فرمایا کہ ’’مجھے اصلاحی نام بہت اچھا لگتا تھا اور میں امین احسن کے تتبع میں اسے اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتا تھا لیکن مدرسۃ الاصلاح سے فارغ التحصیل نہ تھا اس لیے اس نام کو استعمال کرنے کا مجاز نہ تھا۔ لہٰذا اصلاحی کے مترادف کے طور پر میں نے غامدی لفظ کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا‘‘، جبکہ یہ بات میں نے شبیر میواتی صاحب کے سامنے غامدی صاحب کی نسبت سے نہیں بلکہ ایک عام اندازے اور قیاس کے طور پر ذکر کی تھی۔ میرا گمان تھا کہ شاید میواتی صاحب کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی اور انھوں نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر اس انداز میں کر دیا ہوگا جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں تحریر کیا ہے، لیکن کل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے قطعی طور پر اس بات کی تردید کی اور حلفاً کہا کہ انھوں نے میرے، غامدی صاحب سے براہ راست یہ بات دریافت کرنے اور ان کے جواب دینے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مجھے ’’غامدی‘‘ نسبت کی تحقیق کرنے سے نہ کبھی دلچسپی رہی ہے اور نہ اس موضوع پر غامدی صاحب سے میری کوئی گفتگو ہی ہوئی ہے، اس لیے اس روایت کو متصل بنانے کے لیے ازراہ کرم کوئی اور سند وضع فرمائی جائے۔
جناب خالد جامعی اور ’ساحل‘ کے دیگر رفقا کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔
محمد عمار خان ناصر 
۹ جون ۲۰۰۷ 

عربی اور انگلش لینگویج کورسز کی تقریبِ تقسیم اسناد

ادارہ

۲۱ جولائی ۲۰۰۷ بروز ہفتہ الشریعہ اکادمی میں اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے انگلش اور عربی لینگویج کورسز میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کے مابین تقسیم اسناد کی ایک تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث مولانا داؤداحمد شریک ہوئے۔ 
اکادمی کے تحت چالیس روز اور ایک ماہ کے دورانیے پر مشتمل ان کورسز کا اہتمام دینی مدارس کے طلبہ کے لیے کیا گیا تھا جس میں اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے معلم کے فرائض سر انجام دیے جبکہ مدرسہ نصرۃ العلوم، مدرسہ اشرف العلوم ، مدرسہ انوار العلوم، مدرسہ مظاہر العلوم، مدرسہ نصر العلوم اور دیگر مدارس کے طلبہ ان کورسز سے مستفید ہوئے۔ 
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لینگویج کورسز کے نگران اور استاذ مولانا حافظ محمد یوسف نے کہا کہ الشریعہ اکادمی کے تمام تعلیمی وتربیتی اور فکری پروگراموں کا مقصد علما کو دور جدید کے تقاضوں اور ضروریات سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ دین کے ابلاغ کا فریضہ بہتر سے بہتر انداز میں انجام دے سکیں، اور لینگویج کورسز کا اہتمام بھی اسی غرض سے کیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اکادمی کے زیر اہتمام اب تک اس طرح کے مختصر دورانیے کے لینگویج کورسز کی ایک درجن کے قریب کلاسیں وقتاً فوقتاً منعقد کی جا چکی ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث مولانا محمد سرفرا زخان صفدر کے ارشادات کے حوالے سے انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے اور دین کی دعوت وتبلیغ میں آج کی اس بین الاقوامی زبان سے استفادہ کرنے کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کیا۔
اس موقع پر ان کورسز میں شریک ہونے والے طلبہ میں سے مدرسہ نصرۃ العلوم کے حافظ نعیم نے عربی زبان میں جبکہ الشریعہ اکادمی کے حسن علی نے انگریزی زبان میں مختصر طور ان کورسز کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ کورس میں شرکت سے پہلے وہ ان زبانوں میں گفتگو کرنے کو بہت مشکل خیال کرتے تھے، لیکن اب انھیں اعتماد ہے کہ یہ کوئی زیادہ مشکل چیز نہیں اور تھوڑی سی محنت اور توجہ سے اس صلاحیت کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مولانا حافظ محمد یوسف نے بتایا کہ ان طلبہ نے اگرچہ ابتدائی سطح پر ان زبانوں میں اظہار خیال کیا ہے، لیکن انھوں نے یہ صلاحیت اسی کورس کے دوران میں حاصل کی ہے اور ان شاء اللہ مزید محنت سے یہ طلبہ اپنی اس صلاحیت میں مزید نکھار پیدا کرتے چلے جائیں گے۔
مہمان خصوصی مولانا داؤد احمد نے اپنے خطاب میں الشریعہ اکادمی کی کوششوں اور مساعی کو سراہا اور کہا کہ انھیں اس تقریب میں طلبہ کی عربی اور انگریزی گفتگو سن کر بے حد خوشی ہوئی ہے۔ انھوں نے اکادمی کے پروگراموں اور سرگرمیوں میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی دعا کی۔ مولانا داؤد احمد نے عربی اور انگریزی میں تقریر کرنے والے طلبہ کو اپنی طرف سے نقد رقم کی صورت میں انعام بھی دیا۔
تقریب کے آخر میں انگلش اور عربی لینگویج کورسز میں شریک ہونے والے طلبہ کو اسناد جبکہ اول اور دوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے۔ انگلش لینگویج کورس میں مدرسہ نصر العلوم، عالم چوک گوجرانوالہ کے طالب علم فاخر احسان نے اول جبکہ الشریعہ اکادمی کے طالب علم حسن علی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ عربی لینگویج کورس میں مدرسہ انوار العلوم کے فداء الرحمن پہلے جبکہ اسی مدرسے کے محمد خالد آف کرک دوسرے انعام کے حق دار قرار پائے۔
تقریب کا اختتام اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی مختصر گفتگو اور دعا پر ہوا۔