ستمبر ۲۰۰۶ء

عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالاتچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہحافظ محمد زبیر 
حدود آرڈینینس ۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقفسید منظور الحسن 
حدود اللہ اور حدود آرڈیننس ۔ جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا مکتوب گرامیڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی 
محترم جاوید غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
ویڈیو کیمرے کی فقہی حیثیتادارہ 

عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں ہم نے روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب کے پیش کردہ سوالات میں سے ایک کا مختصراً جائزہ لیا تھا۔ آج کی محفل میں ہم اس قسم کے سوالات کے حوالے سے چند اصولی گزارشات پیش کریں گے اور اس کے بعد باقی ماندہ سوالات میں سے اہم امور پر کچھ نہ کچھ عرض کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا اور پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب ہم ایک مسلمان کے طورپر اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا خالق ومالک، رازق ومدبر اور حکیم وحاکم یقین کرتے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور احکام وقوانین میں اس کی طرف سے مجاز اتھارٹی سمجھتے ہیں تو اس یقین وایمان کی رو سے ہم اس امر کے پابند ہو جاتے ہیں کہ ان کی طرف سے جو حکم بھی آئے اور جو بات بھی کہی جائے، اسے حتمی تصور کریں اور اگر کوئی بات ہماری سمجھ میں نہ آتی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحیح اور برحق مانتے ہوئے سمجھ میں نہ آنے کو اپنی عقل کی کوتاہی پرمحمول کریں۔ بات وہاں بگڑتی ہے اور اشکال وہیں پیدا ہوتا ہے جب کچھ لوگ یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہماری عقل اور سمجھ کسی بات کے صحیح اور حتمی ہونے کا واحد معیار ہے۔ کوئی بات اس کے دائرے میں آئے گی تو ہم قبول کریں گے اور اگر کوئی بات ہماری سمجھ اور عقل کے دائرے میں نہیں آ رہی تو نہ صرف یہ کہ اس کو تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اس کی نفی کرنا اور اس کا مذاق اڑانا بھی ضروری سمجھیں گے۔
عقل ایک عمدہ صلاحیت اور قدرت کے عطا کردہ ایک بہترین آلہ کا نام ہے جس کے ذریعے سے ہم ارد گرد کے ماحول کو سمجھتے ہیں، اپنی ضروریات کا ادراک حاصل کرتے ہیں، اپنے نفع ونقصان کو پہچانتے ہیں اور علم ودانش میں ارتقا حاصل کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک آلہ ہے جو حاصل شدہ معلومات میں سے ایک اچھی ترتیب اور عمدہ نتیجہ نکالنے کے کام آتا ہے۔ خود اس کے اندر سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایک کمپیوٹر کی سی سمجھ لیجیے کہ اس میں جو پروگرام فیڈ کریں گے، وہ اس کے دائرے میں کام کرے گا، اپنی طرف سے کسی پروگرام کا اضافہ نہیں کرے گا۔ آپ اسے جو پروگرام مہیا کریں گے، اسی کے مطابق اس سے کا م لے سکیں گے اور اگر آپ چاہیں کہ فیڈ کیے ہوئے پروگرام سے ہٹ کر کمپیوٹر اپنی طرف سے بھی آپ کو کچھ دے تو کوئی عمدہ سے عمدہ کمپیوٹر بھی ایسا نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح کی ایک مثال ملک شیک بنانے والی مشین کی بھی ہے۔ اس کے اندر صرف یہ صلاحیت ہے کہ جو کچھ اس میں ڈالا جائے، اسے مکس کر کے آپ کو ان چیزوں کا جو س پیش کر دے۔ اپنی طرف سے کوئی چیز وہ اس میں شامل نہیں کرے گا۔ آپ نے جتنی چیزیں اس میں ڈالی ہیں اور جس مقدار میں ڈالی ہیں، وہ ان کے مطابق آپ کو نتیجہ دے گا اور اگر آپ کی خواہش ہو کہ وہ اپنی طرف سے بھی اس میں کوئی چیز شامل کر دے تو یہ آپ کا بھول پن ہوگا۔
بالکل یہی صورت حال عقل کی ہے۔ وہ ایک عمدہ صلاحیت اور بہترین آلہ ہے۔ اس کو جو معلومات، مشاہدات، مدرکات اور محسوسات فراہم ہوں گے، وہ ان کے مطابق نتائج فراہم کرے گی۔ معلومات ومشاہدات کا دائرہ محدود ہوگا تو نتیجہ بھی محدود ہوگا اور جوں جوں معلومات ومشاہدات اور محسوسات ومدرکات کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا، نتیجہ بھی مختلف ہوتا چلا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ جوں جوں انسان کے مشاہدات اور معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی عقل کے فیصلے بھی بدلتے جا رہے ہیں۔ ایک دور تھا جب انسان کی زبان سے صادر ہونے والی گفتگو کے بارے میں یہ محاورہ زبان زد عوام تھا کہ ’اذا تلفظ تلاشی‘، جب کوئی بات منہ سے نکل جاتی ہے تو معدوم ہو جاتی ہے، اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا اور اسی وجہ سے عقل کی بنیاد پر ہر بات کا فیصلہ کرنے والے حضرات مسلمانوں کے اس عقیدہ پر معترض ہوا کرتے تھے کہ قیامت کے روز انسان کی باتوں کا بھی حساب ہوگا اور اقوال کو بھی میزان پر تولا جائے گا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ جب ایک چیز کا وجود ہی باقی نہیں رہا اور وہ فضا میں تحلیل ہو گئی ہے تو ا س کا وزن کیسے ہوگا اور وزن کے لیے وہ قابو میں کیسے آئے گی؟ ان کے اس اعتراض کا درست یا غلط ہونا اپنی جگہ پر، مگر یہ اس دور کے معقولات ومشاہدات کی بنیاد پر تھا جب انسانی مشاہدے کی رو سے الفاظ منہ سے نکل کر معدوم ہو جایا کرتے تھے، لیکن اب تو منہ سے نکلتے ہی ایک ایک لفظ ریکارڈ ہو جاتا ہے، محفوظ ہو جاتا ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ سنا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انسان کے اعمال کی بات ہے کہ جب یہ ریکارڈ میں نہیں آتے تھے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ انسان سے کوئی عمل صادر ہو کر فضا میں تحلیل ہو گیا ہے اور اسے دوبارہ وجود میں لانا مشاہدہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے قرآن کریم کے اس ارشاد پر بھی اعتراض ہوتا تھا کہ انسان قیامت کے روز اپنے اعمال کو دیکھے گا، لیکن اب انسان کے قول کے ساتھ ساتھ اس کا ہر عمل ریکارڈ میں آ جاتا ہے، محفوظ ہو جاتا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے۔
اس مثال سے ہم یہ نکتہ اپنے قارئین کے ذہن میں لانا چاہتے ہیں کہ عقل کا کوئی فیصلہ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ عقل کا ہر فیصلہ اس وقت تک اسے میسر آنے والی معلومات ومشاہدات کی روشنی میں ہوتا ہے اور چونکہ معلومات ومشاہدات اور مدرکات ومحسوسات میں وسعت وتنوع کا امکان ہر لمحہ موجود رہتا ہے، اس لیے عقل کے ہر فیصلے میں تبدیلی اور تغیر کا امکان بھی ہر وقت موجود رہتا ہے اور عقل کے کسی فیصلے کو کسی وقت بھی آخری اور فائنل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
پھر اس حوالے سے ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لینی چاہیے کہ عقل عام جسے ’’کامن سنس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نہ زمانے کے لحاظ سے ایک رہتی ہے اور نہ علاقے کے اعتبار سے ہی اس میں یکسانی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ عقل محض ایک آلہ ہے اور ایک کمپیوٹر ہے جو اس میں فیڈ کیے ہوئے پروگرام کے مطابق ہی نتیجہ دے گا او رپروگرام کی یہ فیڈنگ سوسائٹی کرتی ہے۔ ایک بچہ جب سوچنے سمجھنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کے کمپیوٹر کی خالی سی ڈی میں ارد گرد کا ماحول اپنا پروگرام فیڈ کرنا شروع کر دیتا ہے جو اس کے سن بلوغ تک پہنچتے پہنچتے مکمل ہو جاتا ہے اور پھر عام طور پر وہ ساری زندگی اسی فیڈ کیے ہوئے پروگرام کے مطابق گزار دیتا ہے۔
ایک انسان کے ذہن کے کمپیوٹر میں پروگرام کی فیڈنگ کا یہ کام سب سے پہلے گھر کی چار دیواری میں ماں باپ کی حرکات وسکنات کی صورت میں ہوتا ہے اور وہی بچے کی ذہنی نشوونما میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ارشاد میں یوں بیان فرمایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے (یعنی خالی کیسٹ اور نیو سی ڈی ہوتا ہے) اسے اس کے ماں باپ یہودی بناتے ہیں، عیسائی بناتے ہیں اور مجوسی بناتے ہیں، یعنی اس خالی کیسٹ اور سی ڈی میں کسی پروگرام کی فیڈنگ کا کام سب سے پہلے ماں باپ کرتے ہیں۔ پھر بچہ اسی سانچے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ یہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ مسیحی ماحول میں پرورش پانے والا بچہ یقیناًیہودی ماحول میں تربیت حاصل کرنے والے بچے سے مختلف ہوتا ہے اور ہندو خاندان میں جوان ہونے والے بچے کی نفسیات مسلمان خاندان میں جنم لینے والے بچے سے قطعاً مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے کی نفسیات اور افتاد طبع افریقی بچے سے مختلف ہوگی اور عرب ماحول میں نشوونما حاصل کرنے والے نوجوان کی نفسیات اور معقولات چینی ماحول میں نشوونما پانے والے نوجوان سے الگ ہوگی۔
یہ تنوع اور اختلاف اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ہر انسان کی عقل نہ صرف یہ کہ میسر آنے والی معلومات اور مشاہدات کی پابند ہے بلکہ اپنے اپنے ماحول کی بھی اسیر ہے اور ان دوباتوں کے موجود ہوتے ہوئے یہ بات کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’’عقل عام‘‘ کا کوئی ایسا معیار بھی ہو سکتا ہے جو تمام زمانوں اور تمام علاقوں کے لیے یکسانی کا حامل ہو اور جسے پوری نسل انسانی کے لیے کسی ضابطہ وقانون اور فلسفہ ونظام کی بنیاد بنایا جا سکے۔
آج مغرب کے پاس اپنے فکر وفلسفہ کو دنیا سے منوانے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہی ’’عقل عام‘‘ اور ’’کامن سنس‘‘ ہے لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ جس عقل عام او رکامن سنس کو واحد عالمی معیار قرار دے کر دنیا سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ صرف مغرب کی عقل عام ہے اور اسی کا کامن سنس ہے، اس کے معلومات ومشاہدات کا دائرہ باقی دنیا سے مختلف ہے، اس کے مدرکات ومحسوسات کی سطح باقی دنیا سے الگ ہے اور اس کے تاریخی پس منظر اور تجربات کا ماحول دوسری دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا مگر وہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی، عسکری قوت اور معیشت ومیڈیا کی بالادستی کی قوت پر اپنا مخصوص ’’کامن سنس‘‘ پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے ۔ میڈیا، لابنگ اور ذہن سازی کے تمام ہتھیار اور ذرائع اس کے کنٹرول میں ہیں اور وہ منہ زور ہاتھی کی طرح دنیا کی ہر ثقافت، فکر اور فلسفہ کو روندتا چلا جا رہا ہے۔
ا س لیے ہم اگر اسلامی احکام وقوانین کو ان کے اصل تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں مغرب کے پھیلائے ہوئے فکر وفلسفہ کے جال کا ادراک حاصل کرنا ہوگا، اس کے وسیع تر پروپیگنڈے کے فریب سے نکلنا ہوگا اور اس ابدی حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ انسانی عقل کا اصل مقام کیا ہے اور عقل عام کی اصل حدود اور دائرہ کار کیا ہے ، اس لیے کہ اگر ہم اپنے عقائد اور بنیادی احکام کے فیصلے اس عقل خاص یا عقل عام کی بنیاد پر کرنے بیٹھ جائیں تو ہر سو سال کے بعد عقائد میں تبدیلی لانا ہوگی اور ہر صدی کے بعد احکام وقوانین میں رد وبدل کرنا ہوگا۔ پھر مختلف علاقوں کے لیے مختلف قوانین ہوں گے اور یہ تصور باقی نہیں رہے گا کہ عقائد واحکام کا کوئی ایسا درجہ اور معیار بھی ہے جو عقل کے آئے دن بدلتے ہوئے فیصلوں سے ماورا ہے اور سب زمانوں کے لیے یکساں طور پر قابل قبول ہے۔
ہمیں عقل اور عقل عام کی افادیت اور کارفرمائی سے انکار نہیں ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن وہ اپنے دائرۂ کار میں رہے گی تو نعمت ہوگی اور اسے اس کے حدود سے نکال کر وحی سے بالاتر قرار دے دیا جائے گا اور وحی کی تعبیر وتشریح اور تفہیم وتوضیح میں بھی اسے حتمی معیار اور اتھارٹی تصور کر لیا جائے گا تو یہی نعمت آزمایش اور عذاب کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے اصولی گفتگو کے آغاز میں ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہیں گے کہ ان سوالات کا ضرور سامنا کریں اور انھیں سمجھنے اور سمجھانے کی ضرور کوشش کریں لیکن اس سے پہلے اپنے ایمان ویقین کی بنیاد کا ضرور جائزہ لے لیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو اپنی عقل یا دنیا کی عقل عام پر پرکھنا ضروری ہے؟ اور کیا یہ راستہ فطرت کا راستہ نہیں ہے کہ جو بات سمجھ میں آ جائے، اس پر خدا کا شکر ادا کریں اور جو بات ہم نہ سمجھ سکیں، اس پر یہ کہتے ہوئے ایمان قائم رکھیں کہ جس طرح بہت سی باتیں پہلے سمجھ میں نہیں آتی تھیں مگر اب سمجھ میں آ رہی ہیں، اسی طرح مشاہدات ومعلومات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی ہماری سمجھ میں آ جائیں گی؟

مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد ۔ چند سوالات

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال پورے ہو چکے ہیں۔ ماہنامہ ’ترجمان القرآن‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں ایک مفصل رپورٹ میں مجلس کی کاردکردگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کی ترتیب بالکل ایسے ہے جیسے سرکاری ترجمانی کا حق ادا کیا جا رہا ہو۔ رپورٹ پڑھ کر میں نے ’ترجمان القرآن‘ کے مدیر کے نام خط لکھا اور رپورٹ کے بارے میں چند سوالا ت اٹھائے۔ مذکورہ جریدہ نے میرا خط شائع نہیں کیا۔ میں نے وجہ دریافت کی تو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ غالباً ارباب ترجمان اپنے قارئین کو اندھے، بہرے اور گونگے خیال کرتے ہیں۔ وہ اپنے صفحات قارئین کے لیے صرف اتنا ہی کھولنا چاہتے ہیں کہ بحث کا کوئی راستہ پیدا نہ ہو۔ بہر صورت وہ اپنی پالیسی کے مالک ہیں۔ میں اپناخط معمولی تصرف کے ساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں۔
تازہ شمارے میں ’’مجلس عمل کی پارلیمانی جد و جہد کے چار سال‘‘ ملاحظہ کیے۔ ’ترجمان‘ کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا اس پرچے میں پروپیگنڈے اور یک طرفہ رپورٹ کی سطح کی چیزوں کے لیے گنجایش موجود ہے؟ میں پینتالیس سال سے ’ترجمان‘ کا قاری ہوں۔ یہ ماہنامہ یقینی طور پر ایک علمی، دینی اور نظریاتی پرچہ ہے۔ اس کا مقام رہنمائی کا ہے۔ اگر کسی وجہ سے پروپیگنڈے اور رپورٹ نوعیت کی چیزوں کو جگہ دینا ناگزیر ہو تو ان کو کھلے اور عام مباحثے کی دعوت کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں تو صورت یہ ہے کہ ایک سو سولہ صفحات کے پرچے میں قارئین کے خطوط کے لیے دو صفحے ہیں۔ تین سطروں سے گیارہ سطروں پر مشتمل چھ خطوط ان دو صفحات میں کھپائے گئے ہیں۔ معاف فرمائیے، اسے نرم ترین الفاظ میں قارئین کے استحصال کی بد ترین مثال ہی کہا جا سکتا ہے۔ پرچے کی توسیع اشاعت کی لگا تار اپیلیں سر آنکھوں پر، مگر پرچے کو کم از کم معیار اور مقصدیت پر قائم و استوار کرنا تو ارباب ترجمان کی ذمہ داری ہے۔ بھرتی کی خاطر صفحات سیاہ کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں ہونا چاہیے۔
اس تمہید کو چھوڑتے ہوئے آٹھ صفحات کی مفصل اور چار سالہ کارکردگی رپورٹ پر مفصل تبصرے سے آپ کی تنگ دامانی کے پیش نظر گریز کی خاطر صرف چند سوالات پیش کر دینا چاہتا ہوں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ مجلس میں چار بڑے قائدین، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، پروفیسر سینیٹر ساجد میر اور قاضی حسین احمد کے ما بین چار سال بعد بھی نمائشی یکجہتی کے سوا کیا سامنے آیا ہے؟ قاضی صاحب محترم ان کو جمع کر کے ٹوکرے تلے یکجا کرتے کرتے بوڑھے ہو گئے ہیں۔ (۲ جون کومحترم قاضی صاحب نے گوجرانوالہ کے عام جلسہ میں فرمایا کہ ان کی ٹانگیں قبر میں ہیں)۔ مجلس عمل کے جس اتحاد کی بات رپورٹ میں بڑے کرو فر کے ساتھ کی گئی ہے، آئندہ چند مہینے میں اس کی حقیقت سامنے آنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے؟ ۱۹۶۳ء کے سی اوپی، پھر پی ڈی ایم، ڈی اے سی، پھر بھٹو دور میں یو ڈی ایف، پی این اے، ضیاکے عہد میں ملی یکجہتی کونسل اور شریعت محاذ، بے نظیر دور میں آئی جے آئی کو بنتے بگڑتے ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا ہے۔ ہر بار آخر دم تک اتحاد کے پختہ تر ہونے کے اعلانات سامنے آتے رہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر چار سال بعد اتحاد کے نام پر لوگوں کودھوکہ دینے کا سلسلہ تواتر سے جاری رہا اور جاری ہے۔ نہ معلوم ایسے ایسے تماشے ہمیں دیکھنے کو کب تک ملیں گے۔ کیا ان تجربات سے اعلیٰ کردار اور نظریہ اور مسائل کی جانب پیش رفت ہوئی ہے یا ترقی معکوس؟ کیا ترجمان ایسے کھلے مباحثے کا اہتمام کر سکتا ہے جس میں ہم اتنے طویل سیاسی عمل کا بالکل اسی طرح جائزہ لیں جس طرح مولا نا مرحوم نے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں مسلمانوں کی تاریخ کا لیا ہے؟ اگر ایسا اہتمام آپ کریں تو یہ عظیم خدمت ہو گی۔ بحث و مباحثے سے سٹیٹس کو اور جمود ٹوٹے گا ، ذہن کھلیں گے، راہیں پیدا ہوں گی، سفر پیچھے کے بجائے منزل کی جانب استوار ہو گا اور واقعتاسفر ہوگا۔ صرف ہو گا ہی نہیں، ہوتا نظر بھی آئے گا۔
چار سال میں پبلک کے مسائل پر ہماری پارلیمانی پارٹی نے، جو تاریخی لحاظ سے ہماری سب سے بڑی اور سب سے زیادہ باصلاحیت نمائندگان پر مشتمل پارٹی ہے، کوئی ترجیحات طے کیں اور ان کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہے؟ وردی کے سوال پر قریباً سال بھر بینچ بجانے کے سوا کیا کیا اور نتائج کیا رہے؟ آغا خان بورڈ جیسے قوانین کو جس طرح آنکھیں بند کر کے تحفظ دیا گیا، آخر اس کی ذمہ داری کس پر آئے گی؟ کہا جائے گا کہ جرنیل نے دھوکہ دیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ دھوکہ کھانے پر فخر کرنے کا کوئی مقام ہے؟ جرنیلوں کو ہم نے کبھی دیکھا نہیں؟ ضیا کی وردی میں تو ہم کابینہ میں بیٹھ کر بھی دیکھ چکے تھے۔
علما و فضلا اور ڈاکٹروں پر مشتمل اتنی بڑی پارٹی چار سال میں کیا کارنامہ انجام دے سکی؟ قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز ہونے کے لیے بھی ہمیں ۲۵ مئی ۲۰۰۴ء تک انتظار کرنا پڑا۔ اس کامیابی کے لیے کیا قیمت ادا کرنا پڑی؟ ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا طعنہ تاریخ میں پہلی بار ہمارے حصے ہی آنا تھا۔ کیا اپوزیشن ہمیں اپنا حصہ سمجھتی ہے؟
اتنی بھاری بھرکم پارلیمانی پارٹی نے کوئی ایک دو پارلیمینٹیرین ایسے تیار کیے ہوں جو ہاؤس پر پورے عرصے میں چھائے محسوس ہوتے ہوں؟ جو بزنس رولز پر کمانڈ کے ساتھ ساتھ پورے ہوم ورک کے ساتھ ہاؤس میں اپنا مقام تسلیم کرائیں؟ میری مراد حاجی سیف اللہ، حمزہ، خواجہ صفدر، ملک اختر جیسے کسی ایک کی ہے۔
اس مرحلے پر یہ سوال بھی محل نظر ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مجلس عمل کے نمائندوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے خرچ سے انتخابی مہم چلا کر منتخب ہوا ہو۔ لوگوں یا جماعتوں نے ان کی انتخابی مہم کے اخراجات بھی برداشت کیے اور اپنی توانائیاں اور قیمتی اوقات بھی قربان کیے۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں شاید ہی کوئی ایسا نمائندہ ہوگا جس نے جیت کی خوشی میں مبارکباد دینے کا منہ لہی میٹھا اپنی جیب سے کرایا ہو۔ ان میں ایسے درویش بھی منتخب ہوئے کہ جب وہ اپنے کاغذات نامزدگی اور ان کے ساتھ شامل جائیداد اور اثاثوں کے گوشواروں کی پڑتال کے لیے ریٹرننگ افسروں کے سامنے پیش ہوئے تو افسران اثاثوں سے خالی گوشواروں کو دیکھ کر حیران ہو گئے اور اپنی حیرانی دور کرنے کے لیے طرح طرح کے سوالات کرتے رہے۔ امیدواروں کے جوابات سے ریٹرننگ افسران کی حیرانی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا رہا۔ آخر کار چشم فلک نے ایسا منظر بھی دیکھا کہ سراپا درویش قسم کے لوگوں کی بڑی تعداد قانوں ساز اداروں میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ ایسے درویشوں کو اپنی نمائندہ حیثیت میں قومی خزانے سے مشاہرے وصول کرنے کا کیا حق ہے؟ درویشی کا تقاضا یہ نہیں کہ یہ لوگ دیگر جماعتوں کے لوگوں سے مختلف اور مثالی طرز عمل اختیار کرتے؟ وہ اپنے قیام وغیرہ کا انتظام کسی نہ کسی طرح فیصل مسجد ہی میں کر لیتے، اس طرح کم سے کم اخراجات میں اپنے فرائض ادا کرتے اور قومی خزانے پر بوجھ نہ ڈالتے؟ کم سے کم اخراجات کا انتظام ان کی جماعتوں کی طرف سے کیا جاسکتا تھا۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ وہ یہ مشاہرے وصول کر کے ایک فنڈ کی شکل میں جمع کر کے کم سے کم اخراجات کے بعد بچنے والی رقوم کو پبلک مقاصد کے لیے خرچ کر دیتے۔
رپورٹ کے صفحہ ۵۳ پر جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں، ان کے ساتھ یہ بھی بتا دیا جاتا کہ قریباً پینسٹھ ارکان قومی اسمبلی اور چھبیس سینیٹرز نے چار سال کے عرصے میں غریب مملکت کے قومی خزانے سے کس قدر مجموعی مشاہرہ وصول کیا۔ ارکان نے ہاؤس میں مجموعی دورانیے میں سے کس نسبت سے حاضری دی اور کتنا وقت فلور پر بات کی۔ اس طرح فی منٹ گفتگو کے لیے خزانے سے کتنی ادائیگی ہوئی۔
وردی کو سب سے بڑا مسئلہ بنایا گیا، یہ بہر صورت عوام کا مسئلہ نہیں۔ سیاسی لیڈرز کے لیے بھی یہ مسئلہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب وردی والے صاحب براہ راست اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی گرفت قائم کر لیتے ہیں۔ عوام کے چند مسائل میں سرسری طور پر ترجیحات قائم کی جائیں تو اردو کو سرکاری سطح پر دستوری میعاد گزرنے کے باوجود رواج نہ دینا، انصاف کی فراہمی میں کورٹ فیس کا خاتمہ، امن و امان، مہنگائی وغیرہ ہیں۔ 
سیاسی جد و جہد میں عوامی مسائل پر عملی اور موثر جد و جہد اہم ترین ہوتی ہے۔ اس پر مناسب سنجیدہ ترجیحات کے ساتھ موثر لائحہ عمل،تسلسل اور تواتر سے جد و جہد کی جاتی ہے۔ مگر ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔ مثلاً چینی اور سیمنٹ کی بلا جواز اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کو ہی لے لیں۔ ہمارے لیڈرز کے طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ مسائل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ چینی چالیس روپے کے بجائے ایک ہزار روپے کلو بھی ہو تو قاضی حسین احمد اور فضل الرحمن صاحب کے لیے مسئلہ نہیں ہوگی۔ وہ اس مسئلہ پر عوام کو میدان میں نہیں لائیں گے، منافع خور جو مرکزی کابینہ میں بیٹھے ہوں گے، ان کے خلاف دھرنا اور گھیراؤ کی بات آخر کیوں نہیں ہو تی؟ ان کے خلاف قومی اسمبلی میں کوئی ہنگامہ ہو گا اور نہ ہی تواتر سے ڈیسک بجا کر ان کا کافیہ تنگ کیا جائے گا۔
نظریاتی اعتبار سے شریعت یا دستور کی بالا دستی کے بجائے پارلیمنٹ کی بالا دستی کا ڈھنڈورا خوب پیٹا گیا۔ کیا ہمارے پاریلیمینٹیرینزنہیں جانتے کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی بالکل ہی لا یعنی بات ہے۔ مملکت کے ہر ادارے کو دستور میں متعینہ دائرے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ادارہ بھی بالا دست نہیں ہو سکتا۔ بالا دستی صرف اور صرف دستور کی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آئندہ جو صورت در پیش ہے، اس میں ایسے سمجھوتوں اور میثاقوں کی بات ہو رہی ہے جس میں آرٹیکل ۲۔الف، شریعت کورٹس، اسلامی حدود اورِ ’’بی بی‘‘ ’’بیبا‘‘ کے مزید وزیر اعظم بننے پر پابندی کو چلتا کر کے ہماری قومی تاریخ کے بدعنوان ترین وزرائے اعظم کو دوبارہ تخت اقتدار پر بٹھانے کے راستے کھولے جائیں۔مجلس عمل کے نمائندگان، ’’بفضلہ تعالیٰ ‘‘ کرپشن کے الزامات سے بچے ہوئے ہیں مگر ملک کو دیوالیہ کر دینے والوں کی واپسی کے لیے ہماری بے چینی بڑی تعجب خیز ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سمجھوتوں کی سیاست پر نظر ثانی کر کے اصولوں کی بنیاد پر اعلیٰ کردار کی مدد سے واضح ترجیحات اور موثر لائحہ عمل کے ساتھ مثالی نوعیت کی جد و جہد کی ابتدا کی جائے۔ اس کے لیے سیر حاصل، عام اور کھلی بحث کی شدید ضرورت ہے۔
اس مرحلہ میں ایک سوال مجلس کے بجائے جماعت کے حوالے سے پیش خدمت ہے کہ موروثیت کی روایت کس اصول کے تحت قائم کی گئی؟ محترم امیر جماعت کی بیٹی، قیم جماعت کی زوجہ محترمہ کا قومی اسمبلی کے لیے کس میرٹ پر انتخاب ہوا؟ علیٰ ہذالقیاس ضلعی ناظم کے طور پرمحترم قاضی صاحب اپنے بیٹے کے لیے یا اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر کتنے ہفتے نوشہرہ میں قیام پذیررہے؟ اس موقع پر جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کے تمام امور ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں، لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہو کرہمارے جدید امیج کومرتب کر چکے ہیں۔ 
آخر میں دینی مدارس کے سلسلے میں مجلس نے جوکردار ادا کیا ہے، اس کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔
ایسے ہی سوالات کارکنوں اور لوگوں کے ذہنوں میں جاگزیں ہیں۔ کوئی موقع ایسا نہیں کہ ان پر کھل کر بات ہو سکے۔ ترجمان میں ان سوالات کی وضاحت کے ساتھ کھلے عام مباحثے کا اہتمام کرایا جائے، ورنہ رپورٹ کی اشاعت پر معذرت کر کے آئندہ اس طرح کی کوتاہی نہ کرنے کا یقین دلایا جانا چاہیے۔ ’ایشیا‘ اور ’ترجمان‘ میں بہر صورت فرق باقی رکھا جانا چاہیے۔ 

غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ

حافظ محمد زبیر

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر دور اور ہر قوم میں اپنے انبیا و رسل بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لیے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ۔اس وحی کے نزول کے دو طریقے ہیں : 
۱) بعض اوقات یہ وحی لفظاً ہوتی ہے یعنی اس میں الفاظ بھی اللہ کے ہوتے ہیں اور معنی بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ ’وحی لفظاً‘ تحریری صورت میں ہی انبیا پر نازل ہوتی تھی یا بعد میں اسے تحریر کی شکل دے دی جاتی تھی۔ وحی لفظاً کی مثالیں صحف ابراہیم ،تورات ،انجیل ،زبور اور قرآن وغیرہ ہیں۔
۲) اکثر اوقات یہ وحی معناً نازل ہوتی یعنی اس میں الفاظ اللہ کے نہیں ہوتے تھے، لیکن پیغام اللہ ہی کی طرف سے ہوتا تھا۔ مثلاً حضرت جبرائیل کا آپ کو نمازوں کے اوقات، اسلام ،ایمان ،احسان اور قیامت کی علامات کے بارے میں تعلیم دینا، حضرت ابراہیم کو خواب میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دینا،اللہ تعالیٰ کا کسی نبی کے دل میں کوئی بات ڈال دیناوغیرہ 
وحی کی پہلی قسم کو وحی متلو کہتے ہیں یعنی یہ وہ وحی ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے جبکہ وحی کی دوسری قسم کو وحی غیر متلو کہتے ہیں۔ بعض اوقات علما وحی متلو کو ’وحی جلی‘ اور وحی غیر متلو کو ’وحی خفی‘ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ وحی متلو ’قرآن‘ ہے جبکہ ’سنت وحی غیر متلو ہے۔ صحابہ کرام نے وحی کی ان دونوں قسموں کو محفوظ کیا اور امت تک پہنچایا۔قرآن کی روایت کو ’قراآت‘ اور سنت کی روایت کو ’حدیث‘ کہتے ہیں ۔یعنی سنت (وحی خفی) کو جب کو ئی صحابی اللہ کے رسول سے اخذ کر کے آگے نقل کرتا ہے تو صحابی کے اس نقل کرنے کو ’حدیث‘ کہتے ہیں۔سنت اگر وحی خفی ہے تو حدیث اس وحی کی روایت ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سنت اور حدیث میں کچھ فرق نہیں ہے۔ حدیث میں اللہ کے رسول پر اتاری جانے والی وحی کے حوالے سے جو کچھ بیان ہو رہا ہے، وہ سنت ہے ،یہی وجہ ہے کہ حدیث کی امہات الکتب میں سے اکثر کے نام سنن سے شروع ہوتے ہیں، مثلاً سنن ابی داؤد ،سنن نسائی ،سنن ابن ماجہ وغیرہ ۔

غامدی صاحب کے نزدیک سنت کی تعریف

غامدی صاحب اپنی کتاب اصول و مبادی میں سنت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی ﷺ نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔قرآن میں اس کا حکم آپ کے لیے اس طرح بیان ہوا ہے :
ثُمَّ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (النحل۱۶:۱۲۳)
’’پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اورمشرکوں میں سے نہیں تھا ۔‘‘
اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے ،وہ یہ ہے :
۱۔اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔ ۲۔ملاقات کے موقع پر’ السلام علیکم‘ اور اس کا جواب۔ ۳۔چھینک آنے پر ’الحمد للہ ‘ اور اس کے جواب میں ’یرحمک اللہ‘۔ ۴۔نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت۔ ۵۔مونچھیں پست رکھنا۔ ۶۔ زیر ناف کے بال مونڈنا۔ ۷۔بغل کے بال صاف کرنا۔ ۸۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا۔ ۹۔بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۱۰۔ناک ،منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۱۔استنجا۔ ۱۲۔حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔ ۱۳۔حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۴۔غسل جنابت۔ ۱۵۔میت کا غسل۔ ۱۶۔تجہیز و تکفین۔ ۱۷۔تدفین۔ ۱۸۔عید الفطر۔ ۱۹۔عید الاضحی۔ ۲۰۔اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔ ۲۱۔نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات۔ ۲۲۔زکوٰۃ اور اس کے متعلقات۔ ۲۳۔نماز اور اس کے متعلقات۔ ۲۴۔روزہ اور صدقہ فطر۔ ۲۵۔اعتکاف۔ ۲۶۔قربانی۔ ۲۷۔حج وعمرہ اور ان کے متعلقات۔
سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے،یہ اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآ ن ہی کی طرح ہر دور میں امت کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے، لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے اور نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے ۔‘‘ (میزان:ص۱۰)
ہمار ے نزدیک غامدی صاحب کا یہ تصور سنت بھی غلط ہے اور اس کے اطلاق میں بھی ان سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنی بحث کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں ہم ان کے تصور سنت کی غلطیوں کو واضح کریں گے۔ دوسرے حصے میں ہم سنت کے ذریعہ روایت یعنی ’تواتر عملی ‘ پر بحث کریں گے۔تیسرے حصے میں ہم ان کے اس اصول کی اطلاقی غلطیوں کی نشاندہی کریں گے کہ کہاں کہاں انھوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصول کی مخالفت کی ہے ۔ 
غامدی صاحب کا یہ تصور سنت بوجوہ غلط ہے۔ ہم اس تصور سنت کی غلطی پر دو اعتبارات سے بحث کریں گے۔ پہلی بحث میں ہم عقلی، منطقی اور شرعی دلائل کی روشنی میں غامدی صاحب کے تصور سنت کا جائزہ لیں گے۔دوسری بحث میں ہم غامدی صاحب کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ میں بیان کردہ ان کے اصولوں کی روشنی میں ان کے تصور سنت کا جائزہ لیں گے اور اس بات کو واضح کریں گے کہ ان کی کتاب ’’اصول و مبادی‘‘ درحقیقت تناقضات کا پلندہ ہے جس میں بیان کردہ اصولوں میں سے ہر ایک اصول ان کے کسی دوسرے اصول کا رد کر رہا ہوتا ہے ۔ 
تمام اہل سنت کے نزدیک ’سنت‘ کی تعریف میں اللہ کے رسول ﷺ کے اعمال کے ساتھ ساتھ آپ کے اقوال اور تقریرات بھی شامل ہیں، اسی لیے اصول فقہ کی کتب میں جب علمائے اہل سنت، سنت پر بطور مصدر شریعت بحث کرتے ہیں تو سب اسی بات کا اثبات کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول وﷺکے اعمال کے علاوہ آپ کے اقوال اور تقریرات بھی مصدر شریعت ہونے کی حیثیت سے سنت کی تعریف میں شامل ہیں۔ جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ کے جمیع اقوال اور تقریرات سنت نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک سنت وہ ہے جس کا تعلق عمل سے ہو۔ غامدی صاحب اصول و مبادی میں لکھتے ہیں :
’’دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے ،یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں ‘‘۔  (میزان: ص۶۵)
جس طرح غامدی صاحب اللہ کے رسو لﷺ کے اقوال اور تقریرات کو سنت نہیں مانتے، اسی طرح وہ اللہ کے رسولﷺکے جمیع اعمال کو بھی سنت نہیں مانتے۔ وہ صرف انہی اعمال کو سنت مانتے ہیں جو عملی تواتر سے امت میں چلے رہے ہوں اور ان کے بارے میں امت میں کوئی اختلاف نہ ہو۔ اگر اللہ کے رسول ﷺ کا کوئی عمل حدیث سے ثابت ہو مگر تواتر عملی سے ثابت نہ ہو تو وہ عمل بھی ان کے نزدیک سنت نہیں ہے۔ مثلاً رفع الیدین کو وہ اس لیے سنت ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ یہ حدیث سے ثابت ہے، لیکن پوری امت کا اس پر عمل نہیں ہے ۔ رفع الیدین سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے غامدی صاحب فرماتے ہیں :
’’میرے نزدیک صرف وہی چیز سنت کی حیثیت رکھتی ہیں جو صحابہ کرام کے اجماع سے ہم تک منتقل ہوئی ہو۔ ہم انھی چیزوں پر اصرار کرسکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر لوگوں کو توجہ بھی دلا سکتے ہیں۔جن امور میں صحابہ کرام کا اجماع نہیں ہے، انھیں نہ سنت کی حیثیت سے پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ان پر عمل کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق رفع یدین بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن پر صحابہ کرام کا اجماع نہ ہو سکا، اس وجہ میں اسے سنت نہیں سمجھتا۔ اس کے بعد چاہے ساری دنیا متفق ہو کر اسے سنت قرار دینے لگے تو میرے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘ (ماہنامہ اشراق : جون ۲۰۰۲،ص۲۹)
غامدی صاحب کے اس تصور سنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ احادیث میں بیان شدہ اللہ کے رسول ﷺ کی ہزاروں سنن ستائیس اعمال پر مشتمل اس فہرست تک محدود ہو کر رہ گئیں جس کو غامدی صاحب کے حوالے سے ہم اوپربیان کر چکے ہیں ۔
غامدی صاحب نے سنت کی تعریف میں یہ لکھا ہے کہ سنت صحابہ کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے اور ہر دور میں امت کے اجماع سے ثابت قرار پاتی ہے ۔
ہم غامدی صاحب سے یہ کہتے ہیں کہ سنت کے ثبوت کی بحث تو بعد میں کریں گے، پہلے خود ’سنت کی تعریف‘ تو صحابہ اور امت کے اجماع سے ثابت کر دیں۔ غامدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ کسی چیز کے سنت بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابہ اور امت کے اجماع سے ثابت ہو۔ہم کہتے ہیں کہ اپنے اسی اصول پر غامدی صاحب اپنی بیان کردہ سنت کی تعریف کو پرکھ لیں، خود غامدی صاحب کی اس بات سے ہی ان کے تصور سنت کا رد ہو رہا ہے۔کیونکہ جب کسی چیز کے سنت بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابہ اور امت کے اجماع سے ثابت ہو تو سنت کی تعریف کے لیے توبدرجہ اولیٰ یہ بات ضروری ہونی چاہیے کہ وہ بھی صحابہ اور امت کے اجماع سے ثابت ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب کی بیان کردہ یہ تعریف سنت، نہ توصحابہ کے اجماع سے ثابت ہے اور نہ امت کے اجماع سے ، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کی یہ تعریف، صحابہ کی سنت کی اجماعی تعریف کے خلاف ہے۔ جب تعریف سنت ہی اس معیار پر پوری نہیں اتر رہی جو کہ سنت کے ثبوت کے لیے غامدی صاحب نے مقرر کیا ہے تو اگلی بحث کرنا ہی فضول ہے۔ 
الفاظ و معانی کا رشتہ لازم و ملزوم کا ہے۔ہر زبان میں یہ طریقہ کار ہے کہ اہل زبان اپنے احساسات، جذبات، معانی، مفاہیم اور افکار کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کچھ الفاظ مقرر کرتے ہیں۔ اس کو اہل علم یوں تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں لفظ کو اہل زبان نے فلاں معنی کے لیے وضع کیا ہے۔ جب اہل زبان ایک لفظ ایک خاص معنی یا تصور کی ادائیگی کے لیے متعین کر لیتے ہیں تو لفظ کے اس معنی کو لغوی مفہوم کہتے ہیں۔مثلاً عربی زبان میں لفظ ’أب‘ ایک خاص معنی یعنی ’باپ ‘کی ادائیگی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔لیکن آج کل کے زمانے میں کوئی عرب شاعر یا ادیب یہ بات کہے کہ میں جب ’أب ‘ کا لفظ اپنی نثر یا نظم میں استعمال کروں گا تو اس کا معنی میرے نزدیک ’بیٹا‘ہو گا تو یہ جائز نہیں ہے۔ تمام اہل زبان اس کی مخالفت کریں گے کیونکہ اس سے زبان میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اسی طرح اہل علم بعض اوقات ان وضع شدہ الفاظ کو اپنے مختلف تصورات کی ادائیگی کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں جس کو اصطلاحی مفہوم کہتے ہیں۔ لفظ ’اصطلاح‘ کا مادہ ’صلح‘ہے۔یعنی اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ اہل علم یا اہل فن کے ایک طبقے کی اس بات پر صلح ہو گئی ہے کہ آئندہ جب وہ یہ لفظ استعمال کریں گے تو ان کی مراد کوئی مخصوص تصور ہو گا ۔اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اصطلاح فرد واحد کی نہیں ہوتی بلکہ جماعت کی ہوتی ہے ۔فرد واحد کی تعبیر کو شاذ کا نام تو دیا جاسکتا ہے، اصطلاح نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً علما نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ جب ہم لفظ ’کتاب اللہ ‘بولیں گے تو اس سے ہماری مرادقرآن ہو گی۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں جب یہ لفظ اپنی تحریروں میں استعمال کروں گا تو اس سے میری مراد ’کتاب مقدس‘ ہوگی تویہ جائز نہیں ہے،کیونکہ اس سے ذہنی اور فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ لفظ سنت کا بھی ایک لغوی مفہوم ہے اورایک اصطلاحی مفہوم ہے۔ جس طرح سنت کے لغوی مفہوم کی مخالفت جائز نہیں، اسی طرح سنت کے اصطلاحی مفہوم کی مخالفت کر کے اس سے ایک نیا مفہوم مراد لینا بھی جائز نہیں ہے ۔غامدی صاحب نے سنت کا لغوی مفہوم ’پٹا ہوا راستہ بیان کیا ہے۔ گویا لفظ سنت کالغوی مفہوم بیان کرتے وقت تو انھوں نے اہل زبان کے ہی بیان کردہ مفہوم کو لیا ہے، لیکن جب سنت کی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہیں تو اہل فن کے مقرر کردہ اصطلاحی مفاہیم کو نظر انداز کرتے ہوئے بالکل ایک نیا مفہوم مراد لیتے ہیں۔ غامدی صاحب کے حلقہ احباب کے علاوہ اگر امت مسلمہ کے کسی فرد سے یہ سوال کیا جائے کہ سنت سے کیا مراد ہے یا جب لفظ سنت بولتے ہیں تو اس وقت تمہارے ذہن میں کیا تصور اجاگر ہو تا ہے تو اس کا جواب یقیناًیہی ہو گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع اعمال، اقوال اور تقریرات یا آپ کی ساری زندگی۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب بھی لفط’ سنت‘ استعمال ہوتا ہے تو اس وقت ہر مسلمان کے ذہن میں ایک ہی تصور آتا ہے اور وہ محمد ﷺ کا تصور ہوتاہے نہ کہ حضرت ابراہیم کا ،اور سنت کا یہ اصطلاحی تصور اتنا عام ہو گیا ہے کہ وہ اس کے لغوی تصور پر بھی غالب آ گیا ہے، اس لیے اس کی مخالفت جائز نہیں ہے ۔اگر اصطلاحی مفاہیم کی مخالفت جائز ہے تو پھر یہ صرف غامدی صاحب کے لیے بلکہ ہر کسی کے لیے جائز قرار پائے گی ۔اگر کل کو کوئی یہ کہے کہ ’سنت سے میری مراد دین آدم کی وہ روایت ہے...‘ تو یہ بھی جائز ہو گا اور کوئی دوسرا یہ کہے کہ’ سنت سے میری مراددین موسوی کی وہ روایت ہے... ‘ تو یہ بھی جائز ہو گا۔ اس طرح امت مسلمہ کو سوائے ذہنی اور فکری انتشار کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔اس طرح ہر آدمی سنت کا اپنا مفہوم لے کر بیٹھا ہو گا اور زبان کا جو مقصد تھا کہ الفاظ کو استعمال کر کے دوسروں تک اپنے تصورات کو پہنچایا جائے، وہ مقصد فوت ہو جائے گا۔
اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے اہل علم حضرات نے اگر ایک لفظ کو ایک خاص تصور کی ادائیگی کے بطور اصطلاح مقرر کر لیا تھا تو ہمارے پاس بھی یہ حق ہے کہ ہم بھی اپنے لیے اصطلاحات وضع کریں ، تو ہم اس کا انکا ر نہیں کرتے ۔ غامدی صاحب اپنے تصورات کی ادائیگی کے لیے ضرور اصطلاحات بنائیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ غامدی صاحب اپنے تصورات اور اپنی مراد واضح کرنے کے لیے سلف صالحین کی اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ہوتا یہ ہے کہ غامدی صاحب کی مرادتو اپنی ہوتی ہے اور اس کے لیے اصطلاحات علما کی استعمال کر لیتے ہیں جس سے مغالطے پیدا ہوتے ہیں۔ اب سنت کا لفظ اہل علم میں، اللہ کے رسول ﷺ کے حوالے سے مخصوص ہے۔اب اگر غامدی صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ ’سنت‘ کا تعلق در اصل حضرت ابراہیم سے ہے تو انھیں چاہیے کہ اپنے اس تصور کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کوئی نئی اصطلاح وضع کریں۔ اپنے اس تصور کی ادائیگی کے لیے لفظ ’سنت ‘ کو استعمال نہ کریں ۔جب کچھ الفاظ اصطلاحی طور پر ایک خاص تصور کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہو جائیں تو ان الفاظ کو استعمال کر کے اپنی مرضی کا مفہوم مراد لینا علمی خیانت ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب علما کی طرف سے غامدی صاحب پر یہ تنقید ہوتی ہے کہ غامدی صاحب سنت کو نہیں مانتے تو جواب میں غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہم تو سنت کو مآ خذ دین میں شمار کرتے ہیں اور سنت سے ان کی مراد وہ ستائیس چیزیں ہوتی ہیں جنہیں ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ غامدی صاحب کو چاہیے کہ جب بھی وہ لکھیںیا بات کریں تو یوں نہ کہیں کہ ’ہمارے نزدیک اصل دین قرآن اور سنت ہے ‘بلکہ وہ یوں کہیں کہ ہمارے نزدیک ’اصل دین قرآن اور سنت ابراہیمی ہیں‘۔ کیونکہ لفظ سنت ،محمد وﷺ کے تصور کے حوالے سے امت مسلمہ میں رائج ہو چکا ہے، اس لیے مجرد اس لفظ کو استعمال کر کے حضرت ابراہیم کی سنت مراد لینا صحیح نہیں ہے ۔
غامدی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کے نزدیک سنت وہ ہے جس کا منبع حضرت ابراہیم ہوں۔ آپ نے جن ستائیس سنن کو بیان کیا ہے، پہلے ان کو حضرت ابراہیم تک تواتر عملی سے ثابت تو کریں ۔کیونکہ خود آپ کے بیان کردہ اصول کے مطابق سنت خبر سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ تواترعملی سے ثابت ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی شے کو اخذ کرنے کا ذریعہ یا تو براہ راست مشاہدہ ہے یا بالواسطہ مشاہدہ۔ یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی بیان کردہ سنن کا حضرت ابراہیم سے براہ راست مشاہدہ نہیں کیا۔ رہی دوسری صورت یعنی بالواسطہ مشاہدہ تو اس کا ذریعہ خبر ہے۔ غامدی صاحب خبر سے ثابت کر دیں کہ یہ حضرت ابراہیم کی سنن ہیں تو ہم پھر بھی مان لیں گے ۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ غامدی صاحب خبر کے ذریعے بھی حضرت ابراہیم کی طرف اپنی بیان کردہ سنن کی فہرست کی نسبت ثابت کرنے سے عاجز اور قاصرہیں۔ غامدی صاحب نے یہ لکھ تو دیا ہے کہ سنت کامنبع و سرچشمہ حضرت ابراہیم ہیں اور سنت تواتر عملی سے ثابت ہوتی ہے، لیکن ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کی طرف ان اعمال کی نسبت تواتر عملی سے کیسے ثابت کریں گے ؟ چلیں تواترعملی نہ سہی، خبرصحیح سے ثابت کر دیں کہ ان اعمال کو حضرت ابراہیم نے بطوردین جاری کیا تھا۔ جب تک غامدی صاحب اپنی بیان کردہ سنن کی فہرست کے بارے میں یہ ثابت نہ کر دیں کہ ان اعمال کو حضرت ابراہیم نے دین کی حیثیت جاری کیا، اس وقت تک اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتاکہ وہ ان اعمال کو دین ابراہیمی کی روایت کے نام سے پیش کریں، کیونکہ یہ اعمال ان کی تعریف کے مطابق اسی وقت سنت بنیں گے جب ان کی نسبت حضرت ابراہیم سے صحیح ثابت ہو جائے۔ اور حضرت ابراہیم کی طرف ان اعمال کی نسبت صحیح ثابت کرنے کا واحد ذریعہ اب ان کے پاس خبر ہے اور خبر سے ان کے نزدیک سنت ثابت نہیں ہوتی بلکہ سنت تو ان کے نزدیک تواتر عملی سے ثابت ہوتی ہے۔ غامدی صاحب کی بیان کردہ سنن کی نسبت حضرت ابراہیم سے ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ جب کسی عمل کے بارے میں یہ ثابت کرنا ہی ممکن نہیں ہے کہ ان اعمال کوحضرت ابراہیم نے بطور دین جاری کیا تھا، تو پھر کسی عمل کے بارے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ سنت ابراہیمی ہے ۔ صرف تین اعمال ایسے ہیں جن کی نسبت احادیث میں حضرت ابراہیم کی طرف کی گئی ہے۔ ایک قربانی کا عمل ہے ۔حدیث میں قربانی کے عمل کے بارے میں یہ الفاظ ہیں: 
سنۃ أبیکم ابراہیم (سنن ابن ماجہ)
’’یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے ۔‘‘
لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں دو راوی ’عائذ اللہ‘ اور’ ابوداؤد‘ ضعیف ہیں بلکہ’ ابو داؤد‘ کو تو بعض ائمہ جرح وتعدیل نے کذاب بھی کہا ہے۔
دوسرا عمل جس کی حضرت ابراہیم کی طرف نسبت کی گئی ہے، ختنہ ہے اور تیسرا مونچھوں کا تراشناہے۔ مؤطا امام مالک کی ایک روایت ہے:
عن سعید ابن المسیب أنہ قال کان ابراہیم أول الناس ضیف الضیف و أول الناس اختتن وأول الناس قص الشارب (مؤطا امام مالک )
’’حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا، حضرت ابراہیم وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے مہمان نوازی کی ،اور ختنہ کیا اور مونچھوں کو تراشا۔‘‘
لیکن یہ روایت مقطوع ہونے کے علاوہ ان صحیح روایات کے بھی خلاف ہے جن میں آپ نے ختنے اور مونچھوں کے تراشنے کو انسانی فطرت قرار دیا ہے ۔ہم یہاں یہ بھی واضح کر دیں کہ غامدی صاحب کے تصور سنت کا اصل مأخذ ڈاکٹر جواد علی کی کتاب ’المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘ ہے ۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ غامدی صاحب کے لیے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس کتاب کو ہی بنیاد بنا کر اپنی بیان کردہ ستائیس سنتوں کو دین ابراہیمی کے شعائر کی حیثیت سے ثابت کر سکیں ۔
مذکورہ بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کی تعریف سنت ،مجرد تعریف ہی ہے، اس کا کوئی مسمیٰ نہیں ہے جس پر اس تعریف کا اطلاق کیا جا سکے۔ اگر غامدی صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو ستائیس چیزیں ہم نے بیان کی ہیں، وہ اس تعریف کا مسمیٰ ہیں تو ہم ان سے یہ سوال کریں گے کہ پہلے کسی شرعی دلیل سے ثابت تو کیجئے کہ ان اعمال کامنبع حضرت ابراہیم ہیں۔ اہل سنت کے شرعی دلائل سے نہ سہی، اپنے مزعومہ شرعی دلائل سے ہی ثابت کر دیں کہ ان اعمال کا آغاز حضرت ابراہیم سے ہوا ہے ۔ اس فہرست میں بیان کردہ تمام اعمال نہ سہی، کچھ کے بارے میں تو ثابت کر دیں کہ ان کوحضرت ابراہیم نے جاری کیا۔
غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنت کی تعریف میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ ایک تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تاریخی حقیقت تو یہ کہتی ہے کہ غامدی صاحب کو سنت کی تعریف میں حضرت ابراہیم کی بجائے حضرت آدم کا نام شامل کرنا چاہیے۔ غامدی صاحب کی بیان کردہ اکثر و بیشتر سنن وہ ہیں جو حضرت آدم کے زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔ مثلاً غامدی صاحب کی بیان کردہ دو سنن قربانی اور تدفین کو ہی لے لیں ۔ ان سنن کی تاریخ اس بات کی طرف اشارہ کر تی ہے کہ ہم ان کی نسبت حضرت آدم کی طرف کریں۔ قرآن کے مطابق قربانی اور تدفین کی سنن کی ابتدا حضرت آدم کے زمانے ہی سے ہو گئی تھی۔ قرآن میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
إِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ (المائدہ:۲۷)
’’جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی‘‘ 
اسی طرح آگے یہ ذکربھی موجود ہے کہ جب نوع انسانی میں پہلا قتل ہوا، اس وقت سے تدفین کی ابتدا ہوئی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (المائدہ:۳۱)
’’پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اسے بتائے کہ کیسے وہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپائے۔ اس نے کہا افسوس مجھ پر کہ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش کو چھپاتا،تو وہ ہو گیا ندامت کرنے والوں میں سے۔‘‘
ان آیات سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ قربانی اور تدفین ،سنت ابراہیمی نہیں ،بلکہ سنت آدم ہیں۔ اسی طرح غامدی صاحب کا نکاح و طلاق، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب، حیض و نفاس کے بعد غسل، غسل جنابت اور اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ کرنے کو سنت ابراہیم کہنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ معاذاللہ حضرت ابراہیم سے پہلے انبیا میں زن و شو کے تعلقات کے لیے نکاح و طلاق کا کوئی تصور نہ تھا، حیض و نفاس کی حالت میں انبیا اپنی بیویوں سے مباشرت کرتے تھے اور مباشرت کے بعد غسل کا بھی کوئی حکم ان کی شریعت میں موجود نہ تھا۔ حضرت ابراہیم سے پہلے گزر جانے والے انبیا کی امتوں میں جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا جاتا تھااور نہ حیض و نفاس کے بعد عورتیں غسل ہی کرتی تھیں۔ مزید برآں پچھلے انبیا میں نہ نماز تھی نہ روزہ نہ حج نہ زکوٰۃ۔ اگر یہ سب کچھ پچھلے انبیا کی شریعتوں میں نہیں تھاتو پھر ان کی شریعت کیا تھی جس کے بارے میں قرآن نے ہمیں حکم دیا ہے:
قُلْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَالنَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ (آل عمران:۸۴)
’’آپ کہہ دیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو شریعت ہم پر نازل کی گئی، اس کو بھی مانتے ہیں اور جو حضرت ابراہیم، حضرت اسمعیل، حضرت اسحق، حضرت یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل کی گئی، اس کو بھی مانتے ہیں اور جو شریعت حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کو دی گئی، اس کو بھی مانتے ہیں اور جو ان کے علاوہ دوسرے انبیا کو دی گئی، اس کو بھی مانتے ہیں ۔‘‘
ہماری اس تنقیح پر اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ان احکامات کے بارے میں ہمارا بھی نقطہ نظر یہی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم سے ماقبل شریعتوں میں بھی موجود تھے تو پھر غامدی صاحب کی یہ بیان کردہ سنن،سنن ابرہیمی نہ رہیں گی بلکہ سنن آدم ہوں گی ۔ غامدی صاحب کوچاہیے کہ جس عمل کی ابتدا جس نبی سے پہلی مرتبہ ثابت ہو رہی ہے، اس عمل کی نسبت اسی نبی کی طرف کریں اور اس کو اس نبی کی سنت کے نام سے پیش کریں۔ پھر دیکھیں کہ حضرت ابراہیم کے حوالے سے جو سنن انہوں نے بیا ن کی ہیں، ان میں سے کتنی ان کی تعریف سنت کا صحیح مصداق بنتی ہیں۔
آخر میں ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ اپنی سنت( ستائیس چیزوں) کو وحی شمار کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں اور یقیناًان کا جواب یہی ہو گا کہ ہمارے نزدیک سنت( ستائیس چیزیں) وحی نہیں ہے تو پھرہمارا سوال ہے کہ جب آپ کے نزدیک آپ کی سنت وحی نہیں ہے تو پھر وہ دین کیسے بن گئی؟ اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سنت (ستائیس چیزیں) وحی ہے تو ہم یہ سوال کریں گے کہ اس کی دلیل کیا ہے کہ یہ وحی ہیں؟ اور یہ وحی کس پیغمبر پر اتری تھی ؟پھر اس کی دلیل کیا ہے کہ یہ فلاں پیغمبر پر اتری تھی؟
غامدی صاحب نے اپنی بیان کردہ تعریف سنت کے ثبوت کے لیے درج ذیل آیت کو بطور دلیل بیان کیا ہے :
ثُمَّ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (النحل۱۶:۱۲۳)
’’پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ حضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں جو با لکل یکسو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘
غامدی صاحب بحث ’سنت‘ کی کر رہے ہیں اور دلیل ایک ایسی آیت کو بنا رہے ہیں جس میں لفظ ’ملت ‘استعمال ہوا ہے، حالانکہ یہاں پر’ملت ابراہیم ‘ سے مراد ہرگز سنت ابراہیمی (وہ ستائیس چیزیں جو کہ غامدی صاحب نے بیان کی ہیں) نہیں ہے۔ ملت کا لفظ قرآن میں معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس آیت میں ’ملت ابراہیم ‘ سے مراددین اسلام کی وہ اساسی تعلیمات ہیں جو کہ حضرت ابراہیم کی شخصیت میں نمایاں تھیں یعنی ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرنااور اللہ کا انتہائی درجے میں فرمانبردار ہو جانا۔ہماری اس تفسیر کی تائید درج ذیل قرائن سے ہو رہی ہے :
۱) شرک سے اجتناب اور اللہ کی فرمانبرداری، یہ حضرت ابراہیم کی وہ امتیازی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے وہ باقی تمام پیغمبروں میں نمایاں ہیں۔ علاہ ازیں حضرت ابراہیم کی قرآن میں جہاں بھی مدح بیان کی گئی ہے، انہی دو اوصاف کے حوالے سے بیان کی گئی ہے۔
۲) ملت ابراہیم کا یہ مفہوم نظم قرآن سے بھی واضح ہو رہا ہے،کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں بھی اور اس کے علاوہ بھی قرآن میں جہاں کہیں حضرت ابراہیم کی ملت کی اتباع کا حکم ہے ،وہاںیہ حکم شرک کے بالمقابل یا اطاعت کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہو رہا ہے :
وَقَالُواْ کُونُواْ ہُوداً أَوْ نَصَارَی تَہْتَدُواْ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (البقرۃ :۱۳۵)
اس آیت میں اللہ کے رسول ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ ان یہود و نصاریٰ سے کہہ دیں کہ ہم تو حضرت ابراہیم کی پیری کرتے ہیں جو کہ یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے ۔یعنی ان کو بتا دیں کہ ہم تودین ابراہیمی پرہیں ۔اور دین ابراہیمی کیا ہے ؟اللہ کے بارے میں یکسو ہو جانا اور اس کے ساتھ شرک نہ کرنا۔
قُلْ صَدَقَ اللّہُ فَاتَّبِعُواْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (آل عمران :۹۵)
اس آیت میں بھی یہودیوں سے خطاب کر کے فرمایا جارہا ہے کہ اپنی بدعات (مثلاً اونٹ کے گوشت کو حرام قرار دیناوغیرہ) کو دین ابراہیم کے نام سے پیش نہ کرو، بلکہ حضرت ابراہیم کے اس دین کی پیروی کرو جو کہ بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے لیے یکسوہو جاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
وَمَنْ أَحْسَنُ دِیْناً مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ للہ وَہُوَ مُحْسِنٌ واتَّبَعَ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً (النساء :۱۲۵)
اس آیت مبارکہ میں اہل کتاب اور مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ تمہاری خواہشات سے کچھ نہیں حاصل ہوگا۔ اصل چیز عمل ہے اور سب سے اچھا دین اس کا ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ کے احکامات کے سامنے اس طرح جھکا دیا جیسا کہ حضرت ابراہیم نے جھکا دیا تھااور اللہ کے معاملے میں یکسو ہوگیا۔حضرت ابراہیم کا اصل دین نہ یہودیت تھا نہ عیسائیت، بلکہ ان کا اصل دین اسلام اللہ کی فرمانبرداری اور اطاعت تھا، اس لیے جو اللہ کا مطیع اور فرمانبردار ہے اور اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، وہ دین ابراہیمی پر ہے اور جو اللہ کا مطیع اور فرمانبردار نہیں ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، وہ دین ابراہیم پر نہیں ہے۔ 
وَمَن یَرْغَبُ عَن مِّلَّۃِ إِبْرَاہِیْمَ إِلاَّ مَن سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدِ اصْطَفَیْْنَاہُ فِیْ الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِیْ الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (البقرۃ : ۱۳۰، ۱۳۱)
و من یرغب عن ملۃ ابراہیم الا من سفہ نفسہ ‘ سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم ملت ابراہیم کی اتباع سے جزئیات میں ان کی اتباع مراد لیں تو اس کا مطلب ہو گا کہ جن انبیا نے جزئیات میں حضرت ابراہیم کی اتباع نہیں کی، معاذ اللہ وہ بے وقوف ہیں۔حضرت ابراہیم کی ملت کی اتباع سے مراد یہاں بھی ان کے اس رویے کی پیروی ہے جو انہوں نے اللہ کی اطاعت کے معاملے میں پیش کیا، یعنی اللہ کے لیے انتہائی درجے میں فرمانبرداری اختیار کرنا۔آگے جا کر اسی کو ’الدین ‘ کہا گیا ہے، کیونکہ دین بھی دراصل اطاعت ہی کو کہتے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (البقرہ: ۱۳۲)
چونکہ دین بھی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کو کہتے ہیں جیسا کہ ’ولا تموتن الا و انتم مسلمون ‘ سے ظاہر ہو رہا ہے، اسی لیے اکثر مفسرین نے ملت کا ترجمہ دین یعنی اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کیا ہے ۔
ان سب آیات کا سیاق و سباق یعنی نظم قرآنی اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ ملت ابراہیمی کی اتباع سے مرادہر قسم کے شرک سے اجتناب اور اللہ کے لیے انتہائی درجے میں فرمانبردار ہو جانے میں حضرت ابراہیم کے اسوہ کی پیروی کرنا ہے ۔
۳) اسی معنی کو جلیل القدر مفسرین مثلاً امام طبری ، امام قرطبی وغیرہ نے اپنی تفاسیر میں اختیار کیا ہے ۔
۴) غامدی صاحب کی تعریف کے مطابق سنت، اعمال کا نام ہے اور عقیدہ اس میں شامل نہیں ہوتا جبکہ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ملت میں عقیدہ بھی شامل ہے جیسا کہ درج ذیل آیت سے معلوم ہو رہا ہے: 
أَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلَہاً وَاحِداً إِنَّ ہَذَا لَشَیْْءٌ عُجَابٌ ۔ وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْہُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَی آلِہَتِکُمْ إِنَّ ہَذَا لَشَیْْءٌ یُرَادُ ۔ مَا سَمِعْنَا بِہَذَا فِیْ الْمِلَّۃِ الْآخِرَۃِ إِنْ ہَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ (ص: ۵تا۷)
۵) لفظ ملت کا ترجمہ ’دین ‘ تو کیا جاسکتا ہے(جیسا کہ امام راغب اصفہانی نے المفرادات میں، ابن الاثیر الجزری نے النہایہ میں، علامہ ابن الجوزی نے تذکرۃ الأریب میں، ابن المنظور الافریقی نے لسان العرب میں اور ابو بکر السجستانی نے غریب القرآن میں لکھا ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کا اصل معنی بھی اطاعت اور فرمانبرداری ہی ہے، لیکن ملت کا ترجمہ’سنت ‘ کسی طرح نہیں بنتا۔
۶) اگر ملت ابراہیمی سے مراد وہ ستائیس اعمال لے بھی لیے جائیں جو کہ غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین ابراہیمی کی بنیادی عبادات نماز اور مناسک حج وغیرہ بھی محفوظ نہ تھیں چہ جائیکہ باقی اعمال محفوظ رہے ہوں۔ جب دین ابراہیمی ہی محفوظ نہ تھا تواللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ کواس کی اتباع کا حکم دینا کچھ معنی نہیں رکھتا ۔
مذکورہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملت اور سنت میں فرق ہے ۔لفظ ملت کا ترجمہ’ سنت‘ کرنا عربی زبان سے جہالت اور قرآنی اصطلاحات سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔

غامدی صاحب کے تصور سنت کی تردید ان کے اپنے اصولوں کی روشنی میں

غامدی صاحب نے استنجاکرنے، بڑھے ہوئے ناخن کاٹنے، ناک،منہ اور دانتوں کی صفائی، مونچھیں پست رکھنے، زیر ناف کے بال مونڈنے اور بغل کے بال صاف کرنے کوسنت ابراہیمی میں شمار کیا ہے،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں انسانی فطرت میں شامل ہیں، ان کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف کرنے کامطلب یہ بنتا ہے کہ حضرت ابراہیم سے پہلے لوگوں کے ہاں نہ توکسی قسم کے استنجے کا تصور تھا، نہ ہی وہ اپنی مونچھیں پست رکھتے تھے، نہ زیر ناف کے بال مونڈتے تھے، نہ بغل کے بال صاف کرتے تھے اور نہ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی کرتے تھے۔یہ تصور قطعاً غلط ہے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ جسم کی صفائی سے متعلق یہ سارے احکامات فطرت انسانی کا حصہ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
الفطرۃ خمس أو خمس من الفطرۃ الختان و الاستحداد و نتف الابط و تقلیم الأظافر و قص الشارب (صحیح بخاری)
’’فطرت پانچ چیزیں ہیں یا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں، ختنہ کرنا،زیر ناف کے بال مونڈنا،بغل کے بال اکھیڑنا،ناخنوں کو کاٹنا،اور مونچھوں کو پست کرنا۔‘‘
اس کے علاوہ علما بھی جب ان احکامات کو بیان کرتے ہیں تو ’سنن الفطرۃ ‘ کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ مثلاً السید سابق اپنی کتاب’ فقہ السنہ ‘اور شیخ محمد بن ابراہیم التویجری اپنی کتاب ’مختصر الفقہ الاسلامی ‘ میں اس بحث کو اسی عنوان کے تحت لے کر آئے ہیں۔ جب ثابت ہو گیا کہ یہ اعمال انسانی فطرت کا حصہ ہیں تو ان اعمال کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف کرناصحیح نہیں ہے۔ غامدی صاحب کو چاہیے کہ ان اعمال کو’ سنت ابراہیمی‘ کے تحت بیان کرنے کی بجائے اپنے اصول ’دین فطرت کے حقائق ‘کے تحت بیان کریں ۔غامدی صاحب کے بیان کردہ اصول فطرت کی رو سے بھی یہ بات درست نہیں کہ ان اعمال کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف کی جائے۔غامدی صاحب اصول و مبادی میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’پانچواں اصول یہ ہے کہ وہ چیزیں جو محض بیان فطرت کے طور پر آئی ہیں، وہ بھی سنت نہیں ہیں‘‘۔ (میزان:ص۶۶)
غامدی صاحب کے اس اصول سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک فطرت کی بنیاد پر ثابت شدہ اعمال کو سنن کہنا صحیح نہیں ہے اور یہاں وہ خود اپنے اس بنائے ہوئے اصول کی مخالفت کر رہے ہیں اور جسم کی صفائی کے احکامات کو، جو کہ بیان فطرت ہیں، بیان سنت بنا کر پیش کررہے ہیں۔ اس سے ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی طرح اپنی تعریف سنت کے ثبوت کے لیے کھینچ تان کر کوئی مسمیٰ نکال لائیں۔ 
علاوہ ازیں غامدی صاحب نے قرآن پر تدبر کے جواصول بیان کیے ہیں، ان میں پہلا اصول ’عربی معلی ‘ہے جس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ اہل زبان کے محاورہ کی مخالفت جائز نہیں ہے اور قرآن جن پر نازل ہوا، اسے انہی کی زبان کے محاورے میں سمجھنا چاہیے۔ غامدی صاحب کے نزدیک جب قرآن، جو کہ دین ہے اور قطعی الدلالۃ ہے، اس پر تدبر کے لیے اہل زبان کے محاورے کی پابندی ضروری ہے تو سنت جو کہ قرآن ہی کی طرح دین ہے اور قطعی الدلالۃ ہے اور اس پر مزید یہ کہ وہ قرآن سے بھی پہلے ہے، تو اس کو سمجھنے کے لیے اہل زبان(صحابہ کرام) کے محاورے کی پابندی کیوں ضروری نہیں ؟ تصور سنت کی تفہیم میں خود غامدی صاحب اہل زبان کے محاورے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔بیسیوں احادیث ایسی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل زبان (صحابہ کرام)کے محاورے میں سنت سے مراد اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے، نہ کہ حضرت ابراہیم کی، جبکہ غامدی صاحب نے اہل زبان(صحابہ کرام) کے محاورے کے برعکس سنت کے مفہوم میں حضرت ابراہیم کا تصور بھی ڈال دیا۔

سنت اور تواتر عملی 

اہل سنت کے نزدیک سنت سے مراد وحی خفی ہے اور اس کی روایت حدیث کہلاتی ہے یعنی اس سنت کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ’حدیث ‘ہے ، جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک سنت وہ ستائیس چیزیں ہیں جن کی فہرست ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور یہ سنت ہم تک تواتر عملی سے پہنچی ہے۔ ہمارے نزدیک غامدی صاحب کے تصور تواتر عملی میں درج ذیل غلطیاں ہیں:
غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ کا وہ عمل جو تواتر عملی سے ہم تک پہنچاہو، سنت ہے ،اور سنت دین ہے، گویا کہ ان کے نزدیک تواتر عملی سے ایک عمل دین بن جاتا ہے اوراللہ کے رسول ﷺ کا ایک دوسراعمل جو تواتر عملی سے منقول نہ ہو بلکہ خبر واحد سے مروی ہو،وہ دین نہیں ہے۔غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ کے کسی عمل کے دین بننے میں اصل حیثیت تواتر عملی کی ہے۔گویایہ تواتر عملی ہی ہے جو کہ آپ کے کسی عمل کو دین بنا دیتا ہے اور کسی دوسرے عمل کو دین نہیں بناتا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب آپؐ کے کسی عمل کے دین بننے کے لیے اصل معیار تواتر عملی ٹھہرا تو معاذ اللہ تواتر عملی کی حیثیت آپؐ سے بڑھ کر ہو گئی جو اللہ کے رسول ﷺ کے بعض اعمال کو دین بنا دیتا ہے اور بعض کو دین نہیں بناتا۔ نتیجتاً اصل شارع تولوگ ہوئے ،نہ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ۔اللہ کے رسول وﷺکے جس عمل کو لوگوں نے تواتر سے نقل کر دیا، وہ دین بن گیا اور جس عمل کو تواتر سے نقل نہ کیا، وہ دین نہ بن سکا،یعنی اصل حیثیت اللہ کے رسول ﷺکے اعمال کی نہیں ہے بلکہ اصل حیثیت لوگوں کے آپؐ کے اعمال پر عمل کی ہے ۔آپؐ کے جس عمل پر لوگوں نے تواتر سے عمل کیا ہے، وہ دین ہے اور جس پر تواترسے عمل نہیں کیا، وہ دین نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اور چیز ہے اور اس کو آگے نقل کرنے کے ذرائع اورچیز ہیں ۔دونوں میں فرق ہے ۔دین کو روایت اور نقل کرنے کے ذرائع ،نہ تو دین ہیں اورنہ ان کو کسی چیز کے دین قرار دینے کے لیے معیار بنایا جا سکتا ہے۔ تواتر عملی دین کو پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے، نہ کہ کسی چیز کے دین بننے کا معیار ،اگر غامدی صاحب کا یہ نقطہ نظر مان لیاجائے کہ تواتر عملی سے ایک چیز دین بن جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ صحابہ کے لیے دین اور تھا اور ہمارے لیے دین اور ہے کیونکہ غامدی صاحب کے بقول ہمارے لیے تو اللہ کے رسول ﷺ کے وہ اعمال دین قرار پائیں گے جو کہ تواتر عملی سے نقل ہوئے ہوں جبکہ صحابہ کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا ہر عمل دین ہو گاکیونکہ وہ تو اللہ کے رسول ﷺ کے ہر عمل کا براہ راست مشاہدہ کر رہے تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ایک عمل جو کہ خبر واحدسے ثابت ہے، غامدی صاحب کے نزدیک وہ ہمارے لیے دین نہیں ہے کیونکہ وہ تواترعملی سے ثابت نہیں ہے، تو کیا وہ عمل صحابہ کے لیے بھی دین نہیں ہوگاجو کہ دیکھتی آنکھوں اس کا مشاہدہ کر رہے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ تواتر عملی کسی چیز کو دین ٹھہرانے کا کوئی معیار نہیں ہے۔ دین وہ ہے جسے اللہ اور اس کا رسول ﷺ دین قرار دیں، چاہے وہ خبر واحدسے ہمیں ملے یاقولی یا عملی تواتر سے۔’ذریعے‘ سے کوئی چیز دین نہیں بنتی ،بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے دین بنانے سے ایک چیز دین بنتی ہے اور بعد میں کسی ذریعے سے ہم تک پہنچتی ہے ۔یعنی دین پہلے موجود ہے، پھر وہ ذریعہ ہے جس سے وہ ہم تک پہنچا ہے۔جبکہ غامدی صاحب کے بقول ذریعہ پہلے ہے اور دین بعدمیں ہے۔ ذریعے نے ہی کسی چیز کو دین بنانا اور کسی چیز کو دین سے خارج کرنا ہے۔ 
جس زمانے میں بیٹھ کر غامدی صاحب تواترعملی کی بات کر رہے ہیں، اس سے بدعات تو ثابت ہو سکتی ہیں لیکن دین کسی طور ثابت نہیں ہو سکتا۔ خلافت راشدہ کے بعد سے امت مسلمہ کا سواد اعظم جس کو دین کے نام سے پیش کرتا رہا ہے یا کررہا ہے، اسے ہر گز دین کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ شرک و بدعات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ نوع انسانی کی، اس لیے یہ سمجھنا کہ بدعات تو اٹھارویں یا انیسویں صدی کی ایجاد ہیں ،محض خیال باطل ہے ۔
غامدی صاحب کے نزدیک سنت کی روایت کا ذریعہ تواتر عملی ہے۔ ہم غامدی صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جس زمانے میں آپ موجود ہیں، اس کے تواتر عملی کو توآپ ثابت کر دیں گے ،لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کو جاری ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں،ہرصدی میں اللہ کے رسول ﷺ کی ہر ایک سنت کے حوالے سے تواتر عملی کو آپ کیسے ثابت کریں گے؟ کسی مسئلے کے بارے میں یہ جاننے کے لیے کہ یہ امت میں تواتر سے چلا آرہا ہے ،اس کا واحد ذریعہ خبر ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ جس خبر واحد سے جان چھڑانے کے لیے غامدی صاحب نے تواتر عملی کا فلسفہ گھڑا تھا ،خود تواترعملی کا ثبوت اس خبرکے بغیر ممکن نہیں ہے۔کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غامدی صاحب کے بقول جس طرح سنن تواتر عملی سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں، اسی طرح بدعات بھی تواتر عملی سے ہی نقل ہوتی رہی ہیں ۔اب ایک عمل کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے کیا جائے گا کہ وہ سنت ہے یا بدعت ؟ اس کاجواب دیتے ہوئے غامدی صاحب فرماتے ہیں :
’’ تواتر ایک ٹھوس حقیقت ہے ،یہی کسی عمل کے محکم اساس پر قائم ہونے کی دلیل ہے ۔بے شک بہت سی بدعات رائج ہو گئیں، بے عملی بڑھ گئی ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس امت کی ساری تاریخ کا واضح ریکارڈ موجود ہے ۔حضور کا زمانہ ،صحابہ کا دور اور تابعین کے عہد سے لے کر آج تک کیا کچھ اصل ہے، کیا کچھ اختراع کیا گیا، یہ سب امت کے سامنے ہے۔‘‘ (ماہنامہ اشراق:نومبر۱۹۹۹،ص۵۳)
غامدی صاحب کے بقول جب کسی چیز کے بارے میں یہ اختلاف ہو جائے گا کہ یہ سنت ہے یا بدعت تو امت مسلمہ کی تاریخ اس بارے میں فیصلہ کرے گی کہ یہ عمل واقعتا اللہ کے رسولﷺ کے زمانے سے چلا آرہا ہے یا بعد کے کسی زمانے کی ایجاد ہے۔ غامدی صاحب کی حالت تو اس شخص کی سی ہے جس کے بارے میں عربی زبان میں ایک کہاوت معروف ہے: فر من المطر و قام تحت المیزاب (بارش سے بچنے کے لیے بھاگا اور پرنالے کے نیچے آ کے کھڑا ہو گیا)۔
غامدی صاحب خبر واحد سے بھاگے تھے اور تاریخ ان کے گلے پڑ گئی ،جو ایسی اخبار پر مشتمل ہے جن کی نہ تو کوئی سند ہے، نہ اسماے رجال اور نہ اس کے پرکھنے کے لیے اصول الروایۃموجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی چودہ صدیوں کی تاریخ میں کسی عمل کے بارے میں تواتر عملی کو ثابت کرنا بغیر خبر کے ممکن نہیں ہے ۔جن ستائیس چیزوں کے بارے میں غامدی صاحب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں تواتر عملی سے ملی ہیں ،ان مسائل کو وہ ذرا مذاہب اربعہ کی کتابیں کھول کردیکھیں تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ ائمہ کے مابین ان مسائل میں کس قدر اختلاف موجود ہے۔مثال کے طور پر نماز کو ہی لے لیں، ارکان اسلام میں سب سے اہم رکن اور اس کی ہیئت تک میں اختلاف موجود ہے ۔ہاتھ چھوڑے جائیں یا باندھے جائیں؟ اگر باندھے جائیں تو کہاں باندھے جائیں؟ رکوع میں جاتے وقت او ر اس سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ جلسہ استراحت کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ تشہد میں تورک کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ یہ اختلافات آج کے دور کی پیدوار نہیں ہیں بلکہ یہ اختلافات ائمہ أربعہ سے چلے آرہے ہیں اور مذاہب اربعہ کی ہر دور کی کتب فقہ میں ان مسائل کے بارے میں تفصیلی ابحاث موجود ہیں جن کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ائمہ أربعہ نے ان مسائل میں اختلاف تواتر عملی کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اپنے مؤقف کی تائید کے لیے خبر کو پیش کیاجس یہ ثابت ہوتا ہے کہ اوائل اسلام میں بھی دین کے ثبوت کے لیے تواتر عملی کوئی دلیل نہ تھی، بلکہ اصل دلیل خبر تھی ۔جہاں تک مالکیہ کے اصول ’تعامل اہل مدینہ‘ کا معاملہ ہے جسے امین احسن اصلاحی صاحب نے’ تدبرحدیث‘ میں تواتر عملی کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اصول کی نسبت امام مالک سے ثابت ہی نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ مالکیہ کے اصول ’تعامل اہل مدینہ ‘ اور فکر اصلاحی کے تصور ’تواتر عملی ‘میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جس تعامل کو وہ حجت سمجھتے ہیں، اس سے ان کی مرادمدینہ کے صحابہ کا تعامل ہے نہ کہ بعد کی نسلوں کا ۔
آج تواترعملی سے یہ بات ثابت ہے کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا نماز کا حصہ ہے،وتر کی نماز عشا کی نماز کاحصہ ہے نہ کہ تہجد کی نماز کا،نماز تراویح اور ہے اور نماز تہجد اور ہے ۔کیا غامدی صاحب ان سب اعمال کوایسے ہی مانتے ہیں جیسا کہ تواترعملی سے ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کس بنیاد پر ؟خبر واحد کی بنیاد پر یا تاریخ کی بنیاد پر ؟ 

غامدی صاحب کا اپنے اصول سے انحراف

جس طرح ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ غامدی صاحب کا اصول سنت غلط ہے، اسی طرح اس اصول کے اطلاق میں بھی غامدی صاحب سے بعض مسائل میں غلطی ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر غامدی صاحب ڈاڑھی کو سنت میں شمار نہیں کرتے جیسا کہ ان کی بیان کردہ سنن کی فہرست سے واضح ہے،حا لانکہ ڈاڑھی حضرت ابراہیم سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کی سنت رہی ہے۔ دور جاہلیت میں اہل عرب ڈاڑھی رکھتے تھے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ڈاڑھی رکھی ،اس کا حکم بھی دیا اور تمام صحابہ کی ڈاڑھی تھی ۔ ڈاڑھی غامدی صاحب کی تعریف سنت پر سو فی صد پورا اترتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تمام انبیا کی سنت رہی ہے۔ یہ دین ابراہیم کی وہ روایت ہے جس پردور جاہلیت میں بھی اہل عرب قائم تھے اور آپ نے دین ابراہیمی کی اس روایت کو عملاً برقراررکھا اور اس کا امت کو حکم بھی جاری فرمایا۔ بعد میں یہ سنت صحابہ کرام کے اجماع سے ثابت ہوئی اور امت کے عملی تواتر سے ہم تک منتقل ہوئی۔ اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے: 
خالفوا المشرکین وفروا اللحی و أحفوا الشوارب (صحیح بخاری)
’’مشرکین کی مخالفت کرو، ڈاڑھیوں کو چھوڑ دو اور مونچھوں کو پست کرو۔‘‘
ابن حجر عسقلانی ’خالفوا المشرکین‘  کی شرح میں لکھتے ہیں :
فی حدیث أبی ھریرۃ عند مسلم خالفوا المجوس و ھو المراد فی حدیث ابن عمر فانھم کانوا یقصون لحاھم ومنھم من کان یحلقھا
’’حضرت ابوہریرہ کی حدیث جو مسلم میں ہے، اس میں ’خالفوا المشرکین‘ کی جگہ ’خالفوا المجوس‘ کے الفاظ ہیں اور اس حدیث میں بھی یہی مراد ہے کیونکہ مجوسیوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی ڈاڑھیاں کاٹتے تھے اور ان میں سے بعض اپنی ڈاڑھیاں مونڈتے تھے ۔‘‘
ابن حجر کی اس تشریح اور تاریخ و سیر کی کتب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنی ڈاڑھیوں کو چھوڑتے تھے ۔ 
مسلم کی روایت میں الفاظ ہیں: 
جزوا الشوارب و أرخوا اللحی خالفوا المجوس (صحیح مسلم)
’’مونچھوں کو پست کرو اور داڑھی کو چھوڑ دو۔ مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺ کے ان فرامین سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دین ابراہیمی کی اس روایت کو بطور دین اس امت میں جاری کیا اور ڈاڑھی منڈانے کو مجوسیوں کی تہذیب قرار دیا۔ 
ایک دوسری مثال لیجیے۔ صحابہ کرام اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت کے سر کے بال اس کے ستر میں داخل ہیں اور تواتر عملی سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ عورتیں ہمیشہ سے ایک بڑی چادر لے کر گھر سے باہر نکلتی ہیں جس سے وہ اپنے سارے جسم کو ڈھانپ لیتی ہیں ۔لیکن غامدی صاحب عورت کے ہاتھ ،پاؤں اور چہرے کے ساتھ ساتھ سر کے بالوں کوبھی ستر شمار نہیں کرتے ۔دوپٹے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’اصل میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان کی تہذیب و ثقافت کیا ہے اور انھیں کن حدود کا پابند رہ کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔دوپٹا ہمارے ہاں مسلمانوں کی تہذیبی روایت ہے، اس بارے میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ دوپٹے کو اس لحاظ سے پیش کرنا کہ یہ شرعی حکم ہے ،اس کا کوئی جواز نہیں۔ البتہ اسے ایک تہذیبی شعار کے طور پر ضرور پیش کرنا چاہیے۔ اصل چیز سینہ ڈھانپنا اور زیب و زینت کی نمائش نہ کرنا ہے۔ یہ مقصد کسی اور ذریعے سے حاصل ہو جائے تو کافی ہے ۔اس کے لیے دوپٹا ہی ضروری نہیں ہے ۔‘‘ (ماہنامہ اشراق:مئی ۲۰۰۲،ص۴۷)
غامدی صاحب کس سادگی سے کہہ رہے ہیں کہ دوپٹے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ سبحان اللہ عما یصفون۔ حالانکہ دوپٹہ تو سنت کی اس تعریف سے بھی ثابت ہوتاہے جو غامدی صاحب نے اختراع کی ہے۔ عورت کے ہاتھ ،پاؤں اور چہرے کے بارے میں تو علما کا اختلاف ہے کہ یہ عورت کے ستر میں داخل ہیں یا نہیں ،لیکن عورت کے سر کے بالوں کے بارے میں امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ عورت کا ستر ہیں اور عورت کے لیے ان کو چھپانا لازم ہے۔ علاوہ ازیں امت مسلمہ میں تواترعملی سے یہ بات ثابت ہے کہ مسلمان عورتیں ،صحابیات کے زمانے سے لے آج تک جب بھی کسی کام سے گھر سے باہر نکلتی ہیں توایک بڑی چادر لے کر باہرنکلتی ہیں جس سے اپنے سارے جسم کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ اس تواتر عملی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام غزالی لکھتے ہیں :
لسنا نقول أن وجہ ا لرجل فی حقھا عورۃ کوجہ المرأۃ بل ہو کوجہ الأمرد فی حق الرجل فیحرم النظر عند خوف الفتنۃ فقط و ان لم تکن فتنہ فلا، اذ لم تزل الرجال علی ممر الزمان مکشوفی الوجوہ و النساء یخرجن منتقبات فلو استووا لأمر الرجال با لتنقب أو منعن من الخروج (احیاء العلوم،کتاب النکاحِ ، باب آداب المعاشرۃ)
’’ ہم یہ نہیں کہتے کہ مرد کا چہرہ عورت کے لیے ستر ہے جیسا کہ عورت کا چہرہ مرد کے لیے ستر ہے ،بلکہ مر د کا چہرہ (عورت کے لیے) ایسا ہی ہے جیسا کہ بے ریش بچے کا چہرہ مرد کے لیے ہے ۔یعنی اگر فتنے کا اندیشہ ہوگا تو اس (مرد)کی طرف دیکھنا حرام ہو گا اور اگر فتنہ نہ ہو تو پھر اس ( مرد ) کی طرف دیکھنا جائز ہے، کیونکہ ہمیشہ سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ مرد ہر زمانے میں کھلے چہرے کا ساتھ باہر نکلتے ہیں ،جبکہ عورتیں نقاب پہن کر باہر نکلتی ہیں۔ اگر مرد بھی اس مسئلے میں عورتوں کے برابر ہوتے تو ان کو نقاب پہننے کاحکم دیا جاتا یا عورتوں کو باہر نکلنے سے منع کر دیا جاتا۔‘‘
یہاں امام غزالی ،عورت کے بال تو چھوڑیے ،نقاب یعنی چہرے کے پردے کے بارے میں اپنے زمانے کے مشاہدے کے سا تھ ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ وہ تواتر عملی سے ثابت ہے۔ اسی تواتر عملی کو علامہ ابو حیان اندلسی نے ’البحر المحیط‘ میں، ابن حجر عسقلانی نے ’فتح الباری ‘ میں اورامام شوکانی نے ’نیل الأوطار‘ میں نقل کیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ عورت کے بال بھی ستر میں داخل ہیں۔ اس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے اور صحابیات کے زمانے سے لے کر آج کل کے بگڑے ہوئے اور بے عمل مسلمان معاشروں میں بھی یہ دوپٹہ تواترعملی سے ثابت ہے ۔تہذیب کا مسئلہ آج کل کا مسئلہ توہو سکتا ہے لیکن آج سے چودہ صدیاں پہلے مروجہ معنوں میں تہذیب کا کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا ۔اس وقت صحابیات کا اپنے سراور چہرے کو ڈھانپ کر رکھنا تہذیبی روایت نہیں تھی، بلکہ وہ اس پر عمل ،اسے اللہ کا دین سمجھ کرکرتی تھیں نہ کہ تہذیبی روایت!

خلاصہ کلام

غامدی صاحب کا تصور کتاب ہو یا تصور سنت، اس کے پیچھے ایک ہی بنیادی محرک نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی طرح دین اسلام کی ایسی جامع تعبیر پیش کی جائے جو تمام مذاہب سماویہ کو ایک بنا دے ۔اسی تصور کے تحت انھوں نے لفظ’کتاب‘ کے مفہوم میں تورات، انجیل اورزبورکو بھی شامل کر دیا [غامدی صاحب نے کتاب کا یہ مفہوم اپنے استاذ امام امین احسن اصلاحی صاحب سے لیا ہے۔ لفظ کتاب کے اس نادر مفہوم کو غامدی صاحب کی تفسیر’ البیان ‘اور ان کے استاذ امام کی تفسیر’ تدبر القرآن‘ میں ’ذلک الکتاب لا ریب فیہ‘ کی تشریح میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ ’اصول ومبادی‘ کے حوالے سے بھائی طالب محسن نے غامدی صاحب کی کتاب کی جو تعریف بیان کی ہے، اس میں ان کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔غامدی صاحب نے ’اصول ومبادی‘ میں کسی جگہ کتاب کی تعریف بیان نہیں کی۔ انہوں نے اصول و مبادی کے آغاز میں قرآن کی تعریف بیان کی ہے جس کو بھائی طالب محسن نے کتاب کی تعریف کے طور پر پیش کر دیا۔ غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کتاب الٰہی کا ایک حصہ ہے، کل کتاب نہیں ہے۔ کتاب کے مفہوم میں ان کے نزدیک تورات ،انجیل اور زبور وغیرہ بھی شامل ہیں۔غامدی صاحب کے اس تصور کتاب کو ’اصول ومبادی ‘ کے صفحہ ۴۷ پر’ دین کی آخری کتاب‘ کے عنوان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔] اور اسی تصور کے تحت انھوں نے ’سنت ‘کی نسبت حضرت ابراہیم کی طرف کی ،کیونکہ حضرت ابراہیم ہی وہ واحدشخصیت ہیں جن کی طرف اپنی نسبت کرنے میں یہودی ،عیسائی اور مسلمان فخر محسوس کرتے ہیں۔غامدی صاحب نے کتاب وسنت کی اصطلاحات کا اہل سنت کے ہاں معروف معنی لینے کی بجائے اپنا نیا معنی متعارف کروایا تا کہ وہ مذاہب سماویہ کو ایک جامع تصور اور فکر کے تحت جمع کر سکیں۔ لیکن ہمیں افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ غامدی صاحب نے مذاہب سماویہ کو اکٹھا کرنے کے چکرمیں امت مسلمہ کو تفرقے میں ڈال دیا۔ وہ امت جو آپ ؐسے لے کر آج تک اس تصور پر متفق تھی کہ کتاب سے مراد قرآن ہے جو آپؐ پر نازل ہوا اور سنت سے مراد آپؐ کی سنت ہے جو بذریعہ وحی خفی آپؐ کو ملی ،غامدی صاحب نے وحدت مذاہب سماویہ کے مقصد کے تحت کتاب وسنت کی ایسی تعریف بیان کی جو امت مسلمہ کے اس اجماعی تصور کے مخالف ہے جو آپؐ کے زمانے سے لے کر آج تک ان کے ہاں معروف ہے۔
غامدی صاحب اپنی فکر کو عالمی فکربنانے کے لیے کوشاں ہیں ،جبکہ صورت حال یہ ہے کہ شاید یہودی اور عیسائی تو ان کے تصورات کتاب و سنت کو تسلیم کر لیں، لیکن پورا عالم اسلام توکیا ،خوف خدا رکھنے والا کوئی ایک عالم بھی ان کے اس تصور کتاب وسنت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گاجو کہ چودہ صدیوں سے امت میں رائج تصور کے خلاف ہے۔ غامدی صاحب کا خلوص اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہود و نصاریٰ بھی غامدی صاحب کے تصور کتاب وسنت کو اسی وقت قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گے جب غامدی صاحب اپنے اصولوں کی طرح فروع میں بھی ایسے تصورات پیش کریں جو کہ ان کے لیے قابل قبول ہوں اور غامدی صاحب خود نہ سہی، لیکن ان سے مستفید ہونے والے سکالرز بخوبی یہ فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں اور نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ غامدی صاحب کی سر پرستی میں شائع ہونے والے انگریزی رسالے Rennaisance  میں ہم جنس پرستی کو فطرت انسانی قرار دیا جا رہا ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَن تَرْضَی عَنکَ الْیَہُودُ وَلاَ النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ (البقرۃ :۱۲۰)
’’اے نبی ﷺ یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کریں ۔‘‘
لہٰذا غامدی صاحب کو چاہیے کہ مذاہب سماویہ کو جمع کرتے کرتے امت مسلمہ میں انتشار پیدا نہ کریں ۔اگر وہ مذاہب سماویہ کو اکٹھا کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس بنیاد پر اکھٹا کریں جو کہ خود قرآن نے پیش کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْہَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران:۶۴)
’’اے نبی ﷺ کہہ دیں، اے اہل کتاب، آؤایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں بعض ،بعض کو رب نہ بنا لیں اللہ کو چھوڑ کر،پس اگر تم پھر جاؤ گے (یعنی یہ ہمارے تمہارے درمیان جو اتحاد کی بنیاد ہے، اگر تم اس بنیاد پر ہم سے اتحاد کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گے) تو گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں ۔‘‘

حدود آرڈینینس ۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

سید منظور الحسن

حدود کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا جزو لازم ہیں۔ جان، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی یہ سزائیں قرآن مجید نے خود مقرر فرمائی ہیں۔ چنانچہ ان کی حیثیت پروردگار عالم کے قطعی اور حتمی قانون کی ہے۔ عالم اور محقق ہوں یاقاضی اور فقیہ، ان میں ترمیم و اضافے یا تغیر و تبدل کاحق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ شریعت کے دیگر اجزا کی طرح یہ بھی ابدی، اٹل اور غیر متبدل ہیں۔ زمانہ گزرا ہے اور مزید گزر سکتا ہے، تہذیب بدلی ہے اور مزید بدل سکتی ہے،تمدن میں ارتقا ہوا ہے اور مزید ہو سکتا ہے، مگر ان کی قطعیت آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قائم تھی۔ ان کا انکار قانون خدا وندی کا انکار ہے اور انھیں چیلنج کرنا حکم الٰہی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ان کی تعمیل ہمارے ایمان کا تقاضا اور ان کے نفاذ کی جدوجہد ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں من و عن نافذ کریں۔ وہ اگر اس سے گریز کرتے ہیں تو انھیں آگاہ رہنا چاہیے کہ:
’’جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں۔‘‘  (المائدہ)
حدود اللہ کے بارے میں یہ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے۔ جہاں تک ان کی تعبیر و تشریح کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک اس کا حق ہر صاحب علم کو حاصل ہے۔ اس معاملے میں جو چیز فیصلہ کن ہے، وہ کسی تعبیر کا قدیم ہونا یا مشہور و مقبول ہونا نہیں ہے، بلکہ مبنی بر دلیل ہونا ہے۔ عقلی اور نقلی دلائل ہی کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ ان کی بنا پر کسی رائے کے رد وقبول کا فیصلہ کیا جائے۔ سلف وخلف کے علما نے حدود اللہ اور دیگر احکام الٰہی کی تعبیر و تشریح کا جو کام گزشتہ چودہ سو سال میں کیا ہے، وہ بلاشبہ گراں قدر اور وقیع ہے ، مگراس کے باوجود بہرحال انسانی کام ہے اور انسانوں میں سے صرف پیغمبروں ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ لوگ ان کی بات کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ باقی انسانوں کے کام سے، خواہ وہ ابو حنیفہ،مالک، شافعی، احمد بن حنبل ، ابن تیمیہ ، غزالی، شاہ ولی اللہ ، فراہی اور اصلاحی جیسے جلیل القدر ائمۂ امت ہی کیوں نہ ہوں، اختلاف کیا جا سکتا اور ان کی آرا کے مقابل میں نئی رائے کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
’’جرم زنا کا آرڈی نینس۱۹۷۹ء ‘‘ بھی حدود اللہ کی تعبیر و تشریح پر مبنی ایک انسانی کاوش ہے۔ اس کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس کی بعض دفعات شریعت کے مطابق نہیں ہیں۔ لہٰذا اس کی تدوین جدید ہونی چاہیے اور اسے ایک الگ ضابطے کے طور پر قائم رکھنے کے بجائے مجموعۂ تعزیرات پاکستان اور ضابطۂ فوج داری کا حصہ بنا دینا چاہیے۔ ان کے نزدیک اس میں پانچ بنیادی مسائل ہیں جن پر قرآن و سنت کی روشنی میں از سر نو غور ہونا چاہیے۔
ٰٓایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس میں زنا اور زنا بالجبرکی سزا میں فرق قائم نہیں کیا گیا۔ دفعہ ۵ زنا کی سزا کو بیان کرتی ہے اور اس کے تحت درج ہے کہ اس جرم کا مرتکب اگر ’’محصن‘‘ یعنی شادی شدہ ہے تو اسے سنگ سار کر کے ہلاک کر دیا جائے گا اور اگر ’’غیر محصن‘‘ یعنی غیر شادی شدہ ہے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ بعینہٖ یہی سزا دفعہ ۶ کے تحت زنا بالجبرکے زیر عنوان بیان کی گئی ہے۔ گویا زناکی سزا میں اگر کوئی فرق قائم ہے تو وہ ازدواجی حیثیت کی بنا پرہے، اس کے بالرضا یا بالجبر ہونے کی بنا پر نہیں ہے۔
غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ زنا اور زنا بالجبر، دونوں الگ الگ جرم ہیں اور شریعت کی رو سے ان کی سزا بھی الگ الگ ہے۔ ان میں وہی فرق ہے جوچوری اور ڈکیتی میں ہے۔ زنا میں مجرم سے ایک جرم کا صدور ہوتاہے، جبکہ زنا بالجبر کا مجرم دو جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ایک زنا اور دوسرا ظلم و جبر۔یہ دوہرا جرم زنا بالجبر کو زنا کے مقابلے میں زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت میں ان دونوں کے لیے الگ الگ سزامقرر کی گئی ہے۔زنا کی سزا سو کوڑے ہے جو سورۂ نور میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ: ’’زانی مرد ہو یا عورت، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘ جہاں تک زنا بالجبر کا تعلق ہے تویہ اور اس نوعیت کے دیگر سنگین جرائم کی سزائیں سورۂ مائدہ میں ’محاربہ‘ اور ’ فساد فی الارض‘ کے جامع عنوانات کے تحت بیان کی گئی ہیں۔انھی میں سے ایک سزا عبرت ناک طریقے سے قتل ہے۔ ’رجم‘ یعنی لوگوں کی ایک جماعت کا مجرم کو پتھر مار کر ہلاک کرنا بھی اسی سزا کی ایک صورت ہے۔
زنا اور زنا بالجبر کے جرائم کی نوعیت اور ان کی سزا کا فرق اتنا بدیہی ہے کہ جب اس آرڈی نینس کے مصنفین نے خود ان کی تعزیری سزائیں طے کی ہیں تو ان میں فرق قائم کیا ہے ۔ چنانچہ دیکھیے، دفعہ ۱۰ کے تحت درج ہے کہ زنا کی تعزیری سزا قید بامشقت ہو گی جس کی حد ۱۰ سال تک ہے اور زنا بالجبر کی تعزیری سزا قید بامشقت ہو گی جس کی حد ۲۵ سال تک ہے۔مزید براں یہ بھی درج ہے کہ جب زنا بالجبر اجتماعی آبرو ریزی کی صورت اختیار کر جائے تو مرتکبین میں سے ہر ایک کو سزا ئے موت دی جائے گی۔
اس آرڈی نینس میں دوسرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ سزا میں ثبوت کی بنیاد پر فرق کرتا ہے۔آرڈی نینس کی دفعات ۸ اور ۹ زنااور زنا بالجبر کے ثبوت کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ ان جرائم کے ثبوت کے لیے اگرچار مسلمان مردگواہ میسر ہوں تو حدنافذ ہوگی یعنی سو کوڑے یا سنگ ساری کی سزا دی جائے گی اور اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہو گی تو تعزیر نافذ ہو گی یعنی قید کی سزا دی جائے گی۔گویا مثال کے طور پر اگر کسی نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے خلاف چار گواہ میسر آ گئے ہیں توجرم پورا ثابت قرار پائے گا اور مجرم پر حد کی سزا نافذ کر کے اسے سنگ سار کر دیا جائے گااور اگر گواہی دینے والوں کی تعداد چار سے کم ہے یعنی دو یا تین ہے تو ثبوت جرم مکمل نہیں سمجھا جائے گا، لہٰذا اس پر حد کے بجائے تعزیر نافذ ہو گی اور اس کی سزا کچھ مدت کی قید بامشقت قرار پائے گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جرم کے ثبوت کے درجات ہیں ۔جرم اگر کم درجے میں ثابت ہو گا تو سزا کی مقدار کم ہوگی اورزیادہ درجے میں ثابت ہو گا تو سزا کی مقدارزیادہ ہو گی۔
غامدی صاحب کے نزدیک ثبوت جرم کے لیے شریعت نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھہرائی ہے۔ چنانچہ اسلامی قانون میں جرم ان تمام طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جو اخلاقیات قانون میں مسلمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اخلاقیات قانون کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جرم یا ثابت ہوتا ہے یا ثابت نہیں ہوتا ۔ ثبوت اور عدم ثبوت کے درمیان کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ یعنی جرم کبھی پچاس فی صد، ستر فی صد یا نوے اورننانوے فی صد ثابت نہیں ہوتا۔ ہمیشہ سو فی صد ثابت ہوتا ہے یا بالکل ثابت نہیں ہوتا۔کوئی جج اگر کسی مجرم پر سزا نافذ کرتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ مقدمہ پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے۔ مقدمہ اگر پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچا ، اس میں ابہام یا شک و شبہ پایا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جرم ثابت نہیں ہوا اور ملزم سزا کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نہ حد نافذ ہو گی نہ تعزیر۔سوال یہ ہے کہ اگر جرم ثابت نہیں ہوا تو پھر تعزیر کیوں اور اگر ثابت ہو گیا ہے تو پھر حد کیوں نہیں؟ چنانچہ عقل و فطرت اور دین و شریعت کی رو سے اس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ ثبوت اور عدم ثبوت کے درمیان کسی حالت کا تصور کیا جائے اور اس بنا پر یہ قانون بنایا جائے کہ اگر جرم اتنا ثابت ہو تو حد نافذ ہو گی اور اتنا ثابت ہو تو تعزیر کی سزا دی جائے گی۔ 
جہاں تک سورۂ نور کی آیات ۴۔۵ میں چار گواہوں اور سورۂ نساء کی آیت ۱۵ میں چار مسلمان گواہوں کی شرط کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ یہ شہادت کا کوئی عمومی قانون نہیں ہے، بلکہ دو استثنائی صورتوں کا بیان ہے۔ایک صورت وہ ہے جسے اسلامی شریعت میں’ قذف‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگائے تو اسے کہا جائے گا کہ اس الزام کی تائید میں چار عینی گواہ پیش کرو ۔ اس سے کم کسی صورت میں الزام ثابت نہیں ہو گا۔حالات و قرائن اور طبی معاینہ جیسی شہادتوں کی اس معاملے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ نہ انھیں طلب کیا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا۔ الزام لگانے والا اگرچار گواہ پیش نہیں کرتا تو اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت قرار دے دیا جائے گا۔ قذف کے اس قانون سے اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی حیثیت عرفی مسلم ہے اور وہ ایک شریف آدمی کے طور پر پہچانا جاتاہے تو اسے توبہ و انابت کا موقع دیا جائے اور معاشرے میں رسوا نہ کیا جائے۔چار گواہوں کی شرط کی دوسری صورت ان عورتوں سے متعلق ہے جو قحبہ گری کی عادی مجرم ہوں۔ حکومت ان سے نمٹنے کے لیے چار مسلمان گواہوں کو طلب کرسکتی ہے جو اس بات کی گواہی دیں گے کہ فلاں زنا کی عادی ایک قحبہ عورت ہے اور ہم اسی حیثیت سے اسے جانتے ہیں۔ ان دو مستثنیٰ صورتوں کے سوا اسلامی شریعت ثبوت جرم کے لیے عدالت کو کسی خاص طریقے کا پابند نہیں کرتی۔
تیسرابنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ آرڈی نینس گواہوں کے معاملے میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ چنانچہ اس کی دفعہ ۸ کے الفاظ ’’چار بالغ مسلمان مرد‘‘ سے واضح ہے کہ اس کی رو سے جرم زنا اسی صورت میں لائق حد قرار پائے گاجب جرم کے عینی گواہ بالغ مرد ہوں اور مسلمان ہوں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جرم میں نہ عورت کی گواہی قبول کی جائے گی اور نہ غیر مسلم مرد کی۔
غامدی صاحب کے نزدیکیہ چیز بھی اخلاقیات قانون کے خلاف ہے۔ شریعت اسلامی اس سے پاک ہے کہ اس طرح کی غیر عقلی اور خلاف عدل باتوں کو اس کی نسبت سے بیان کیا جائے۔ اس کی رو سے جرم ان تمام طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جو علم و فن اور تہذیب و تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہیں اور جنھیں انسان کے اجتماعی ضمیر نے ہمیشہ قبول کیا ہے ۔ چنانچہ حالات و قرائن ، طبی معاینہ یا اس نوعیت کے دیگر شواہد کی بنا پر اگر جرم کے ارتکاب اور مجرم کا پوری طرح تعین ہو جاتا ہے تو جرم ثابت قرار پائے گا اور مجرم سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔تاہم قذف کے معاملے میں چار گواہوں اور قحبہ عورتوں کے معاملے میں چار مسلمان گواہوں کی شرط کا استثنا بہرحال قائم رہے گا۔
اس آرڈی نینس کے مولفین کی توجہ شاید اس بات کی طرف نہیں ہوئی کہ جرم کے وقت گواہ کا موجود ہونا سرتاسر ایک اتفاقی امر ہے۔کسی جرم کے موقع پر کوئی مردبھی موجود ہو سکتا ہے اور کوئی عورت بھی، مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور غیر مسلم بھی، بچہ بھی ہو سکتا ہے اور بوڑھا بھی اور ایک فرد بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ افراد بھی اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ مظلوم اور مجرم کے علاوہ کوئی فرد بشر موجود ہی نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کا قانون یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی معصوم بچی ماں کے سامنے درندگی کا شکار ہوئی ہو اور عدالت ماں کی گواہی محض عورت ہونے کی بنا پر رد کر دے یا کسی پاک دامن کی آبرو ریزی کا گواہ مذہباً عیسائی ہو اور اس کی گواہی غیر مسلم ہونے کی وجہ سے قبول نہ کی جائے ؟ اسلام اس سے بری ہے کہ اس پر اس طرح کی تہمت لگائی جائے۔ قذف اور قحبہ عورتوں کی سرکوبی کے معاملے کے سوا یہ گواہوں کے حوالے سے کوئی شرط عائد نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک ثبوت جرم کی اصلاًایک ہی شرط ہے اور وہ عدالت کا اطمینان ہے۔ یہ اطمینان اگر کسی عورت کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی غیر مسلم کی گواہیسے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا ، کسی بالغ کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا، کسی بچے کی گواہی سے ہوتا ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا ، یہاں تک کہ اگر کوئی فرد بطور گواہ میسر نہیں ہے اور عدالت فقط میڈیکل رپورٹ کی بنا پر مطمئن ہو جاتی ہے تو جرم ثابت قرارپائے گا اور مجرم پر پوری سزا نافذ ہوگی۔ یہی اخلاقیات قانون کا تقاضا ہے اور یہی شریعت اسلامی کا منشا ہے۔
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اس آرڈی نینس میں جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کی رعایت کا جو اصول شریعت میں ثابت ہے ، اسے قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن مجید سے واضح ہے کہ چوری اور زنا کے جرائم میں قطع ید اور سو کوڑوں کی سزائیں درحقیقت ان جرائم کی انتہائی سزائیں ہیں۔یہ صرف انھی مجرموں کے لیے ہیں جن سے جرم بالکل آخری درجے میں سرزد ہو اور وہ اپنے حالات کے لحاظ سے کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں۔ چنانچہ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے توجرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کی رعایت سے ان سزاؤں میں تخفیف کر سکتی ہے۔ یہ اصول سورۂ نور کی آیت ۳۳ اور سورۂ نساء کی آیت ۲۵ سے معلوم ہوتا ہے۔سورۂ نور میں قرآن مجید نے ان لونڈیوں کے لیے اللہ کی رحمت اور مغفرت کا اعلان کیا ہے جن کے مالک انھیں پیشہ کرنے پر مجبور کرتے تھے ۔ سورۂ نسا میں زنا کی مرتکب ان لونڈیوں کی سزاعام عورتوں کے مقابلے میں آدھی مقرر کی گئی ہے جنھیں ان کے مالکوں نے عقد نکاح میں لا کرپاک دامن رکھنے کی پوری کوشش کی تھی۔گویا ایک موقع پر مجبوری کو تسلیم کرتے ہوئے پوری سزا معاف کردی گئی ہے اور دوسرے موقع پر ناقص اخلاقی تربیت کا عذر مانتے ہوئے سزا میں کمی کر دی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کے ان مقامات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حالات کی رعایت سے سزا میں تخفیف شریعت کا عین منشا ہے۔
پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ اس آرڈی نینس میں شریعت کی مقرر کردہ بعض سزاؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔ 
غامدی صاحب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی آیات ۳۳۔ ۳۴ میں ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ کے زیر عنوان جو سزائیں بیان ہوئی ہیں ، وہ شریعت کا حصہ ہیں اور انھیں لازماً اس قانون میں شامل ہونا چاہیے۔ ان آیات میں جرائم کے لیے ’ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کے معنی اللہ اور رسول سے جنگ کرنے اور زمین میں فساد برپا کرنے کے ہیں۔ یہ ایک جامع تعبیر ہے اور اس کا اطلاق قتل و غارت گری، زنا بالجبر، اجتماعی آبرو ریزی، ڈکیتی ، دہشت گردی اور اس نوعیت کے ان جرائم پر ہوتا ہے جو معاشرے میں فساد کا باعث ہوں اور ریاست کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ان جرائم کے لیے شریعت نے چار سزائیں مقرر کی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت ناک طریقے سے قتل کیا جائے، دوسرے یہ کہ انھیں عبرت ناک طریقے سے سولی کی سزا دی جائے، تیسرے یہ کہ انھیں اس طرح زندہ رکھا جائے کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیںیعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں کاٹا جائے اور چوتھے یہ کہ انھیں جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ سزائیں بھی اسی طرح شریعت کا حصہ ہیں جس طرح قتل، زنا، چوری اور قذف کی سزائیں شریعت کا حصہ ہیں۔ خاص زنا کے حوالے سے دیکھیں تو اس کی اصل سزا توسورۂ نور کے مطابق سو کوڑے ہی ہے ، لیکن کوئی شخص اگر زنا بالجبر کا ارتکاب کرے یا بدکاری کو پیشہ بنا لے یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئے اور شرفا کی عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جائے تو وہ فساد فی الارض کا مجرم اور محاربہ کی انھی سزاؤں میں سے کسی سزا کا مستحق قرار پائے گا۔رجم یعنی لوگوں کے ایک گروہ کا مجرم کو پتھرمار کر ہلاک کرناعبرت ناک طریقے سے قتل ہی کی ایک صورت ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے بعض عادی مجرموں پر رجم کی جو سزا نافذ کی، وہ اصل میں فساد فی الارض ہی کی سزا تھی ۔ اسے کوئی الگ سزا تصور کرنا قرآن و سنت کے مسلمات اور حدیث کے نظائر کے خلاف ہے۔
حدود اللہ اور اس کے جملہ مباحث کے حوالے سے یہ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے۔ ملک کے اہل دانش اور ارباب حل و عقد کے استفسار پر انھوں نے اسی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ان کا کوئی حالیہ موقف نہیں ہے ، وہ اسے پندرہ بیس سال سے بیان کر رہے ہیں۔ اس کی تفصیل ان کی تصانیف میں ’’حدود و تعزیرات‘‘، ’’رجم کی سزا‘‘، ’’قانون شہادت‘‘ اور’’ اخلاقیات‘‘ کے زیر عنوان دیکھی جا سکتی ہے۔غامدی صاحب کے اس موقف کو بعض مذہبی حلقوں نے ہدف تنقید بنایاہے اور اخبارات و جرائد میں مختلف مضامین شائع کیے ہیں۔انھی میں سے ایک مضمون مولانا زاہد الراشدی کا ہے جو ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔مولانا زاہد الراشدی دیوبندی مکتب فکر کے نمائندہ عالم دین ہیں۔ روایتی علما میں شاید وہ واحد شخصیت ہیں جو اگر چہ بلند آہنگ ہیں، مگر تہذیب اور شایستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔بالعموم مکالمے اور اصولی گفتگو تک محدود رہتے ہیں اورمناظرے سے گریز کرتے ہیں۔تنقید بھی کرتے ہیں، اختلاف بھی کرتے ہیں اور قلم رواں ہو تو طنز و تعریض بھی کرتے ہیں، مگر نہ محرکات طے کرتے ہیں اور نہ کفر کے فتوے صادر کرتے ہیں۔ مختلف نقطۂ نظر کے حامل مسلمان کو مسلمان کہتے ہیں اور اس سے میل جول کو جائز سمجھتے ہیں۔ کسی پر نقد و تبصرہ مقصود ہو تو ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس کی بات کو اسی کے ماخذ سے اور اسی کے مفہوم کے مطابق لیا جائے۔ اس بنا پر ہمارا احساس یہ ہے کہ ان کا وجود مذہبی حلقے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ 
مولانا کے بارے میں ہمارے اس تبصرے پر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ان اوصاف میں ایسی کون سی خاص بات ہے؟ یہ تو وہ بنیادی اخلاقیات ہیں جوہر مسلمان میں ہونی چاہییں، بلکہ مسلمان تو بڑی بات ہے ، انھیں توہر انسان کے طرز عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں رومی کے اس شعر کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ: 
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کزدام و دد ملولم و انسانم آرزوست
بہرحال، مولانا کا یہی طرز عمل اور یہی مقام و مرتبہ ہمارے لیے اس امر کا داعی ہوا ہے کہ ان کے مضمون کامطالعہ کیا جائے اور اگر کوئی اشکال یا اختلاف ہوتو بصد احترام ان کی خدمت میں پیش کیا جائے۔
مولانا نے اپنے مضمون میں حدود آرڈی نینس کی نوعیت ، اہمیت اور تاریخی پس منظر کو بیان کرنے کے بعد دو طبقات کی نشان دہی کی ہے جو اس آرڈی نینس پر اعتراض رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے حدود اللہ کے نفاذ کے خلاف ہے۔ یہ طبقہ ان قوانین کو موجودہ زمانے کے لحاظ سے غیر ضروری ،بلکہ غلط قرار دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو ان کے اسلامی ہونے کا تو قائل ہے، مگر عملاًاسلام کا نام لے کر مغرب کے موقف اور ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہا ہے۔ اس طبقے کے بارے میں مولانا نے لکھا ہے :
’’دوسرا طبقہ وہ ہے جو ان حدود کے اسلامی ہونے کا قائل ہے، لیکن اسے شکایت ہے کہ ان حدود کی تعبیر و تشریح کے لیے ’’حدود آرڈی نینس‘‘ مرتب کرنے والوں نے ان حضرات کے موقف اور تعبیرات کو معیار تسلیم کرنے کی بجائے امت مسلمہ کے جمہور فقہاے کرام کی تعبیرات کو کیوں بنیاد بنایا ہے اور حدود شرعیہ بلکہ اسلامی احکام و قوانین کی جدید تعبیر و تشریح کرنے والے ان دانش وروں کے نقطۂ نظر کو توجہ کے قابل کیوں نہیں سمجھا؟ ...کسی بھی سلیم العقل اور صاحب انصاف شخص کو یہ صورت حال پیش آ جائے کہ ایک طرف امت کے جمہور فقہا کی تعبیرات ہوں اور دوسری طرف چند دانش ور حضرات اپنی تعبیرات کو اس کے مقابلے پر پیش کر رہے ہوں تو ایک انصاف پسند شخص امت کے چودہ سو سالہ تعامل اور تمام دینی و علمی مکاتب فکر کے جمہور علما کی اجتماعی تعبیرات کو چند دانش وروں کی آرا پر قربان کرنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہیں ہو گا۔ ایسے اصحاب دانش کی حالت انتہائی قابل رحم ہے جو مولوی پر یہ الزام لگاتے ہوئے نہیں تھکتے کہ وہ ضدی ہے، ہٹ دھرم ہے اور دوسروں کے نقطۂ نظر کا احترام نہیں کرتا، لیکن خود ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل اور آج کے جمہور علما ے امت کے اتفاقی موقف کے سامنے چند افراد اس بات پر مصر ہیں کہ قرآن و سنت کے احکام و مسائل میں ان کی تعبیرات و تشریحات کو ہر حال میں قبول کیا جائے اور صرف انھی کو معیار حق قرار دے کر احادیث نبویہ اور فقہ اسلامی کے پورے ذخیرے کو ان کے سامنے ’’سرنڈر‘‘ کرا دیا جائے، ورنہ وہ مغرب کے ساتھ ہیں اور سرے سے اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کو غیر ضروری قرار دینے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔‘‘ 
مولانا کی اس تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض اہل دانش اس پر مصر ہیں کہ قرآن و سنت کے احکام و مسائل میں انھی کی تعبیرات کو ہرحال میں قبول کیا جائے۔ یہ اصرار عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ احکام شریعہ کی تعبیر و تشریح میں قرین عقل و انصاف یہی ہے کہ عصر حاضر کے کسی صاحب دانش کی رائے کے مقابلے میں انھی آرا کو قبول کیا جائے جو امت کے چودہ سو سالہ تعامل کا نتیجہ ہیں اور جن پر قدیم و جدید دور کے جمہورعلما و فقہا کا اتفاق ہے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ مولاناکی اس تقریر کا مصداق کون کون لوگ ہیں، تاہم انھوں نے چونکہ جناب جاوید احمد غامدی کا ذکر بھی اسی طبقے کی نسبت سے کیا ہے، اس لیے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں بھی ہماری وضاحت سامنے آ جائے۔ 
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن و سنت کی تعبیر کا مسئلہ ہو یا کسی ایسے معاملے میں اجتہاد کا جس میں شریعت خاموش ہے، یہ مسلمانوں کے منتخب نمائندے ہیں جن کے فیصلے سے کوئی رائے اسلامی ریاست میں قانون کا درجہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کی ریاست میں شوریٰ یاپارلیمنٹ کے علاوہ کسی کو قانون سازی کا حق حاصل نہیں ہے۔ اصحاب علم کو پارلیمنٹ کی اختیار کردہ کسی تعبیر سے اختلاف تو ہو سکتا ہے اور وہ اس کا اظہار کر سکتے اور رائے عامہ کو اس کے لیے ہموار بھی کر سکتے ہیں، مگر ان کے لیے اس کا کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کو معیار حق قرار دیں اور اس کے نفاذ پر اصرار کریں اور غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری طریقوں کو اختیار کر کے اس کے نفاذ کی جدوجہد کریں۔ غامدی صاحب نے ان طریقوں کو نہ کبھی صحیح سمجھا ہے اور نہ کبھی اختیار کیا ہے ۔ اس کے برعکس انھوں نے ہمیشہ ان کی مذمت کی ہے اور انھیں ہر لحاظ سے ناروا قرار دیا ہے۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک اگر پارلیمنٹ ان کی رائے کے بالکل برعکس قانون سازی کرتی ہے اور مثال کے طور پر شہادت کے باب میں جنس اور مذہب کی بنیاد پر تفریق قائم کرتی اور عورت اور غیر مسلم کی گواہی قبول کرنے سے انکار کرتی ہے، زنا کے جرم میں حد کا نفاذ اسی صورت میں جائزٹھہراتی ہے جب چار مسلمان مرد عینی گواہوں کے طور پر پیش ہوں، زنا اور زنا بالجبر کی سزا میں کوئی فرق نہیں کرتی اور ان میں سے ہر جرم کے لیے سنگ ساری ہی کی سزا کو قرآن و سنت کا منشا قرار دیتی ہے تو اس کی اختیار کردہ یہی تعبیرات ریاست کا قانون قرار پائیں گی اور شہریوں پر ان کی تعمیل واجب ہو گی۔ مگر اس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ ان قوانین کے نفاذ کے بعد ان سے نظری اختلاف کا حق بھی یک قلم ختم ہو جائے گا۔ نقطۂ نظر کا اظہارہر شخص کا فطری حق ہے ۔ ہر صاحب علم کونہ صرف یہ حق حاصل ہے، بلکہ اس کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ اگر وہ کسی قانون کو خلاف دین سمجھتا ہے تو اس سے برملا اختلاف کرے اوررائے عامہ کو اس کے لیے ہموار کرے۔
مولانا نے اس طبقے کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ اسلام کا نام لے کر مغرب کے موقف اور ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر مولانا کا روے سخن ہماری طرف ہے تو ہمارا احساس یہ ہے کہ مولانا کے ذہن میںیہ تاثر ہمارے کام کی نوعیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ہمارے خیال میں اسلامائزیشن کے حوالے سے ہمارے اور روایتی مذہبی طبقے کے مابین ایک بنیادی فرق ہے۔ روایتی مذہبی طبقہ ملک میں اسلامائزیشن کے عمل اور اس میں اپنے کردارکو سیاسی زاویے سے دیکھتا ہے۔ چنانچہ اسے اپنی رائے کے اظہاراور لائحۂ عمل کے تعین میں اپنے سماجی تشخص ، اپنی مذہبی شناخت ، روز مرہ سیاست میں اپنے کردار اور اس طرح کے مختلف خارجی عوامل کو ملحوظ رکھنا پڑتا اور اس بنا پربہت سی چیزو ں کے بارے میں رد و قبول اور ترک و اختیار کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
ہمارا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلامائزیشن کے عمل کو ہم خالصتاً دین کی شرح و وضاحت اور اس کی دعوت کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک قومی و ملی مصالح کا لحاظ دعوت دین کے پہلو سے توضروری ہے، مگر اس کے سوا کسی اور پہلو سے انھیں ملحوظ رکھنا خود دین کے لیے ضرر رسانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہماری رائے حکومت کی حمایت یا مخالفت پر منتج ہوتی ہے، کسی طبقے کی خوشی یا ناراضی کاسبب بنتی ہے، کسی تحریک کو تقویت دینے یا کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف اور صرف فہم دین اور اس کا ابلاغ ہے۔ علما کی ذمہ داری ہمارے نزدیک یہی ہے کہ وہ دین میں بصیرت پیدا کریں اور اپنی قوم کو ’انذار‘ کریںیعنی اسے حیات اخروی کی تیاریوں کے لیے بیدار کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں:
’’جو بدعت و ضلالت کے تہ بہ تہ اندھیروں میں اپنے چراغ کی لو تیز کر کے سر راہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز ہو کر لوگوں کو حق کی راہ دکھاتے ہیں ۔وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور کن چیزوں کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ان کی ساری دل چسپی بس حق ہی سے ہوتی ہے اور وہ اسی کے تقاضے دنیا کو بتانے کے لیے اپنے دل و دماغ کی ساری قوتیں صرف کر دیتے ہیں ۔وہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگتے ، بلکہ اپنے پروردگار سے جو کچھ پاتے ہیں ، بڑی فیاضی کے ساتھ ان کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ۔ چنانچہ ہر دور میں وہ ہستی کا ضمیر ، وجود کا خلاصہ اور زمین کا نمک قرار پاتے ہیں اور اس طرح غربت کے اس مقام پر فائز ہو جاتے ہیں جس کے بارے میں پیغمبر کا ارشاد ہے کہ : ’بدأ الاسلام غریباً، ثم یعود غریباً کما بدأ، فطوبی للغرباء الذین یصلحون اذا فسد الناس‘ (اسلام کی ابتدا ہوئی تو وہ اجنبی تھا ۔ وہ پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا ۔ پس مبارک ہیں وہ اجنبی جو لوگوں کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑے ہوں جب وہ فساد میں مبتلا ہو جائیں )‘‘ (جاوید احمد غامدی، قانون دعوت ۳۴)
ہمیں امید ہے کہ مولانا ہماری ان معروضات پر ضرور غور فرمائیں گے۔ مولانا دین کے عالم اور داعی ہیں ، اگر التفات فرمائیں تو چلتے چلتے چند طالب علمانہ سوال ان کی اوران کے توسط سے دیگر علما کی خدمت میں پیش کرنے کی اجازت چاہیں گے۔ 
ایک سوال یہ ہے کہ کیا دین کے ایک داعی کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ دین و شریعت اور ملک و ملت کے بارے میں جس موقف کو مبنی بر حق سمجھتا ہے ،اسے کسی آمیزش اور کسی خوف وطمع میں مبتلا ہوئے بغیر بلا کم و کاست بیان کرے؟
ہمیں یقین ہے کہ مولانا اس سوال کا مثبت جواب دیں گے۔مولانا کا اپنا طرز عمل بھی یہی ہے۔ہمارے طرز عمل میں اس سے اگر کوئی مختلف چیز پائی جاتی ہے تو امید ہے کہ مولانا اس کی نشان دہی کریں گے۔ 
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا دین کی تعبیر و تشریح کے معاملے میں عقل و نقل کی بنا پر اختلاف کی گنجایش ہے؟
ہمیں یقین ہے کہ مولانااس سوال کا جواب بھی اثبات میں دیں گے ، کیونکہ اگر انھوں نے اس کاجواب نفی میں دیا تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ امت کے جلیل القدر علما نے اپنے اسلاف اور معاصرین سے اختلاف کا جو طرز عمل اختیار کیے رکھا، وہ سراسر غلط تھا۔مولانا کے لیے یہ کہنا ظاہر ہے کہ بہت مشکل ہو گا۔البتہ ،ہو سکتا ہے کہ اس کے جواب میں وہ یہ کہیں کہ علما کی منفرد آرا سے تو اختلاف کی گنجایش ہے، مگر ان آرا سے اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہے جن پر جمہور علما متفق ہیں۔ اگر وہ یہ کہیں گے تو اس پر ہمارا سوال یہ ہو گا کہ اختلاف کا اصول اگر عقل و نقل ہے اور اس اصول کی بنا پر احناف شوافع سے، مالکیہ حنابلہ سے ، دیوبندی بریلوی سے اوراہل حدیث شیعہ سے اختلاف کر سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اسی اصول کی بنا پر ان سب سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا؟ 
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا دین و اخلاق کی رو سے یہ جائز ہے اور کیا کسی صاحب علم کے شایان شان ہے کہ وہ کسی مصنف پر تنقید کے لیے قلم اٹھائے اور اس کی تحریر کو دیکھنا بھی گوارا نہ کرے،اس کی تنقیدات شواہد پر نہیں، بلکہ تاثرات اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوں اور وہ دلائل پیش کرنے کے بجائے تبصروں پر اکتفا کرے ؟
اس کے جواب میں ہمیں یقین ہے کہ مولانا یہی کہیں گے کہ یہ رویہ نہ دین و اخلاق کی رو سے جائز ہے اور نہ علما کے شایان شان ہے۔ چنانچہ ہم مولانا جیسے صاحب علم اور سنجیدہ فکر سے یہی توقع رکھتے ہیں اور ایک داعی کی حیثیت سے اسی کو ان کے شایان شان سمجھتے ہیں کہ وہ غامدی صاحب کی تالیفات میں سے ان کے موقف کو نقل کر کے یہ بتائیں گے کہ ان کی آرا میں عقل و نقل کے اعتبار سے کیا غلطی پائی جاتی ہے؟ اس ضمن میں اگر وہ قرآن کی آیت نقل کرتے ہیں، حدیث کا حوالہ دیتے ہیں، لغت کے نظائر رقم کرتے ہیں، عقل و فطرت سے استدلال کرتے ہیں توانھیں سننا اور ان کی روشنی میں اپنی آرا پر نظر ثانی کرنا ہم پر واجب ہے، لیکن اگر وہ گمان اور تاثر ہی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں تو پھرہم سب کے لیے پروردگار کی یہ ہدایت ہے:
’’ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجرات۴۹:۱۲ )

حدود اللہ اور حدود آرڈیننس ۔ جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی کا مکتوب گرامی

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

باسمہ تعالیٰ
اسلام آباد
۱۴؍ اگست ۲۰۰۶
گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی، زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟
آپ کا موقر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ بلا مبالغہ پاکستان کے فکری افلاس کے تپتے ہوئے صحرا میں زلال صافی ہے جو جرعہ کشان علم وتحقیق کی سیرابی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اگر کبھی اس میں درد تہ جام کی مقدار زیادہ ہو جائے تو بھی ہم تشنگان محبت اسے اسی ذوق وشوق سے پی جاتے ہیں، تاہم خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔
آپ نے الشریعہ کے جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں نیاز مند کو بھی یاد فرمایا اور اپنے علمی مقام ومنصب، فکری بلند پروازی، بین الاقوامی امتیاز اور استاذ حدیث ہونے کے تقاضوں کے برعکس ’’صحافتی طریقہ واردات‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ثقاہت کو لابی کے مفادات پر قربان کر دیا۔ اگر آپ اسی شمارے کے سرورق پر شائع ہونے والے اقتباس یا صفحہ ۲۶ پر موجود ’’صدق جدید‘‘ کے اقتباس کو درخور اعتنا سمجھتے تو یقیناًآپ کا طرز عمل مختلف ہوتا۔ مجھے معلوم ہے کہ انتخابات کی آمد آمد ہے اور لابی سے غیر مشروط وفاداری مجبوری اور ضرورت ہے، لیکن کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ایک دیرینہ نیازمند کو مصلوب کر کے اپنے قدوقامت میں اضافہ کریں؟ اللہ نے آپ کو پہلے سے دراز قامتی سے نوازا ہوا ہے۔ اگر آپ ایسے مفکر، محقق، محدث اور فقیہ کی طرف سے میری حقیر کاوش پر علمی تنقید ہوتی تو مجھے اپنے نتائج بحث کو ازسرنو جانچنے اور ان میں اصلاح کرنے کا موقع ملتا اور میں اسے انتہائی خوش دلی سے خوش آمدید کہتا، کیونکہ میں جن اسلاف کے دامن سے وابستہ ہوں، انھیں اپنی غلطی تسلیم کرنے اور اپنی تحقیقات سے رجوع کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ میں بلاناغہ مرشد تھانویؒ کی ’’تربیت السالک‘‘ کا مطالعہ کر کے اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہتا ہوں، لیکن آپ نے اپنے علمی خانوادے کی تابندہ روایات کے بجائے زرد صحافت والوں کی راہ کو پذیرائی بخشی، فالی اللہ المشتکیٰ۔
مولانا، کیا یہ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ آپ نے ایک دوست کے ساتھ اپنے مکالمے کی روداد لکھی، ان کی اوٹ پٹانگ گفتگو نقل کی اور ’’کلمہ حق‘‘ کے آخر میں میرا نام لکھ کر یہ تاثر دیا کہ یہ سب کچھ میری ہفوات ہیں، جبکہ اس موضوع پر آپ کی میری کبھی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ نیز میری تالیف کی ایک ایک سطر گواہ ہے کہ میں نے کہیں بھی کتاب وسنت، اقوال صحابہ، ائمہ مجتہدین، فقہاے امت اور اسلام کی نامور علمی شخصیات کا دامن نہیں چھوڑا۔ میری کتاب تمام تر ’’منقول‘‘ پر مشتمل ہے۔ البتہ فقہی اقوال واختلافات کی خوب صورتی اور افادیت یہی ہے کہ پیش آمدہ حالات کی تاریکی کو سورج کی کسی بھی کرن سے دور کیا جا سکتا ہے۔
بدم گفتی وخور سندم عفاک اللہ نکو گفتی
جواب تلخ مے زیبد لب لعل شکر خا را
تاہم اگر ایسا کسی غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں حتی المقدور اسے دور کرنے کی کوشش کروں۔ نیز آپ کی تحریر پر اعتماد کر کے کچھ لوگوں نے مجھے دراب پٹیل اور عاصمہ جہانگیر سے بریکٹ کیا ہوگا، میرا یہ حق ہے کہ ان کی غلط فہمی دور کروں، اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ میرے اس مکتوب کو ’’الشریعہ‘‘ میں شائع کر کے ممنون فرمائیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں نے فکری، فقہی اور جدید مسائل پر سوچنے کی ذمہ داری دو ایک افراد کے سپرد کر دی ہے اور باقی لاکھوں فضلا اعتماد کی مسرتوں سے سرشار ہو کر دماغی آسودگی کے مزے لوٹتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ حدود، اللہ نے مقرر کی ہیں اس لیے حدود آرڈیننس لازماً کتاب وسنت پر مبنی ہے، اسی اعتماد کا شاخسانہ ہے۔ میں نے بھی جب تک خود اس کا مطالعہ نہیں کیا تھا، یہی سمجھتا تھا کہ اہل علم کا تیار کردہ قانون ہے، کتاب وسنت کے مطابق ہی ہوگا۔ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پاکستان کا بڑا دینی طبقہ اسی اعتماد کی پر کیف فضا میں محو خرام ہے۔
حدود آرڈیننس پر تنقید کرنے والے افراد دو طرح کے تھے۔ ایک وہ طبقہ جو حدود آرڈیننس کی خرابیوں کو اجاگر کر کے سابقہ قانون فوج داری بحال کروانا چاہتا ہے، تاکہ وہ اس ملک میں یورپ اور امریکہ کی طرح فری سیکس (free sex) کا کلچر پروان چڑھا سکے۔ چونکہ وہ صاف الفاظ میں اپنے اس مقصد کا اظہار نہیں کر سکتا تھا، اس لیے انھوں نے اس کے لیے حدود آرڈیننس کا سہارا لیا اور اسے منسوخ کر کے سابقہ قوانین بحال کرنے کی مہم چلائی۔ یہ مہم بلاشبہ شرف انسانیت، انسان کے فطری شرم وحیا اور عزت وغیرت کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے لیکن بعض اہل علم نے حدود آرڈیننس کو قرآن وسنت کا قانون قرار دے کر ایسے افراد کو موقع فراہم کیا کہ وہ اس کی آڑ میں اسلامی حدود اور اللہ کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کریں۔
دوسرا طبقہ ایسے لوگوں کا تھا جو ناجائز طور پر حدود کے مقدمات میں ماخوذ ہوئے یا جو لوگ قانون کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے، وہ اس پر انگشت بدنداں تھے کہ اگر حدود آرڈیننس اللہ کا قانون ہے تو اس کے نفاذ سے عدل قائم کیوں نہیں ہوتا؟ اس میں بے گناہ کو سزا کیوں ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے مجرم کیوں چھوٹ جاتے ہیں؟ کیا اللہ کا قانون اپنی تاثیر کھو چکا ہے؟
اس پس منظر میں، میں نے فیصلہ کیا کہ حدود آرڈیننس کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تاکہ اسلام دشمن، اسلام کو گالی دینے کے لیے حدود آرڈیننس کی آڑ نہ لے سکیں اور اسلامی نظام عدل کے بارے میں شک میں مبتلا ہونے والوں کے ایمان کی حفاظت کی جائے۔ لیھلک من ہلک عن بینۃ ویحییٰ من حی عن بینۃ۔ میں نے اپنے مطالعے کے نتائج بے کم وکاست پیش کر دیے۔ مجھے معلوم تھا کہ اسلام کے نام پر سیاست کا بازار گرم کرنے والی لابی اسے پسندنہیں کرے گی او ر مجھے افسوس ہوا کہ ایک ٹی وی چینل نے اسے ناپسندیدہ طریقے سے اپنی ناشایستہ مہم کا حصہ بنایا لیکن میرے سامنے سیدنا صدیق اکبرؓ کا ارشاد تھا کہ ’’اینقص الدین وانا حی‘‘ لہٰذا میں نے لومۃ لائم کے خوف کے بغیر وہ بات کہہ دی جسے میں حق سمجھتا تھا۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
میرے نتائج یہ تھے کہ حدود آرڈیننس کی ایک سو ایک دفعات میں سے صرف اٹھارہ دفعات کا تعلق حدود سے ہے اور ان اٹھارہ میں سے صرف چار دفعات کتاب وسنت کے مطابق ہیں۔ درحقیقت صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ فلاں فلاں سزائیں کتاب وسنت میں ہیں، اس لیے یہ قانون کتاب وسنت پر مبنی ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس قانون کے تحت جس فرد کو آپ سزا دینے جا رہے ہیں، وہ کتاب وسنت کی رو سے اس جرم کا مرتکب بھی ہے یا نہیں؟ حدود آرڈیننس کے تحت شرعی نکاح کرنے والوں پر حد زنا جاری کرنا ٹھیک اسی طرح ہے جیسے اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گردی کا مجرم قرار دے کر سزاے موت دی جائے۔ کیا آپ سزا کے اس جواز سے متفق ہیں؟
مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اپنے ’’کلمہ حق‘‘ میں دلیل سے تہی دامن لوگوں کی دلیل کا سہارا لیا ہے۔ بالعموم جب کوئی فریق دلیل کی بازی ہار جاتا ہے تو وہ اجماع اور تعامل امت کی دہائی دیتا ہے۔ اگر اجماع سے آپ کی مراد امت کا اجماع ہے تو میں نے امت کے اجماع کے خلاف دانستہ ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور اگر آپ جنرل ضیاء الحق کے دور میں حدود آرڈیننس مدون کرنے والوں کے اجماع کو اجماع امت قرار دیتے ہیں تو مجھے معاف فرمائیں، میں اس کے ماننے سے ابا کرتا ہوں۔ اگر آپ کو ناگوار نہ گزرے تو میں حدود آرڈیننس کی چند دفعات کے بارے میں مختصراً عرض کروں کہ کیا میں نے اجماع کے خلاف کہا یا آپ کا اجماع کا دعویٰ بے بنیاد ہے؟
۱۔ میں نے لکھا ہے کہ وہ تمام دفعات جن کا تعلق تعزیرات سے ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ نہیں ہیں بلکہ تمام امت کا اجماع ہے کہ تعزیری سزائیں مفوض الیٰ رای الامام (دور حاضر کے مطابق مقننہ یا عدلیہ کے سپرد) ہیں۔ اس بنا پر میں نے کہا کہ حدود آرڈیننس کی ایک سو ایک میں سے تراسی دفعات کا کتاب وسنت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے، انھیں خدائی قوانین قرار دینا غلط ہے۔ آپ ہی فرمائیں کہ میری رائے اجماع کے مطابق ہے یا حدود آرڈیننس کا preamble جو تعزیرات کو بھی کتاب وسنت کی سزائیں قرار دیتا ہے؟
۲۔ جہاں تک حدود کی دفعات کا تعلق ہے تو حد زنا دفعہ ۴ میں دی گئی زنا کی تعریف پورے فقہی لٹریچر میں آج تک کسی نے نہیں کی۔ یہ تعریف تاریخ میں پہلی بار حدود آرڈیننس میں آئی ہے جس کی بنا پر تقریباً ایک درجن سے زائد ایسے نکاح ہیں جو مختلف فقہی مکاتب فکر کے نزدیک شرعی نکاح ہیں لیکن حدود آرڈیننس کی رو سے زنا ہیں۔ تمام فقہا کا اجماع ہے کہ جو نکاح کسی بھی مکتب فکر کے نزدیک جائز ہو، وہ زنا موجب حد نہیں ہے، جبکہ حدود آرڈیننس کی دفعہ ۴، اس اجماع کے خلاف ہے۔
۳۔ زنا بالجبر کو بالعموم فقہا ’’اکراہ‘‘ کے باب میں زیر بحث لائے ہیں، کتاب الزنا میں نہیں۔ اس لیے اس کا ثبوت اور اس کی سزا اسی حوالے سے متعین ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ، حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے عدالتی فیصلے اور متعدد فقہا کی تصریحات اسے زنا بالرضا سے الگ جرم قرار دیتی ہیں۔ اس کا معیار ثبوت اور اس کی سزا مختلف ہے۔ رہی یہ بات کہ اس پر حد جاری ہوگی یا تعزیر، اس کا دار ومدار فقہا کے اس اختلاف پر ہے کہ حرابہ کی سزا حد ہے یا تعزیر؟ تاہم حدود آرڈیننس میں زنا بالجبر کے معیار ثبوت اور اس کی سزا میں ظالم ومظلوم کا عدم امتیاز قرآن، سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے۔
۴۔ زنا کے اقرار کے بعد انکار کرنے پر یا گواہوں کی تعداد کم ہونے پر ازسرنو تحقیق کرنا اور تعزیری سزا دینا کتاب اللہ، سنت نبوی اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ کیا سنت نبوی، اجماع صحابہ اور تمام فقہا اس امر پر متفق نہیں ہیں کہ جس طرح اقرار معتبر ہے، اسی طرح انکار معتبر ہے؟ کیا قرآن کی نص نہیں کہ چار گواہ نہ ہوں تو تہمت لگانے والوں پر حد قذف جاری کرو؟ آخر وہ کون سا تعامل امت ہے جس کا آپ نے ’’کلمہ حق‘‘ میں حوالہ دیا ہے؟
۵۔ سنگ سار کرنے کی سزا سنت نبوی سے صراحتاً ثابت ہے۔ اس پر جو بحث کی گئی ہے ، وہ بہت مختصر اور اس حوالے سے ہے کہ اس کی اصل قرآن میں موجود ہے۔ مولانا، آپ کو اندازہ نہیں کہ کچھ لوگ اس پر کس قدر سیخ پا ہیں کہ ہم رجم سے جان چھڑانا چاہتے تھے، لیکن ڈاکٹر ہاشمی نے حضرت عمر کے خطبے میں جس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کی نشان دہی کر کے ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ لیکن مولانا، مجھے آپ پر حیرت ہے کہ آپ، جنھوں نے مولانا مفتی محمود کے حوالے سے رجم کا دفاع کرتے ہوئے اپنے ایک اخباری کالم میں لکھا تھا کہ اس میں مجرم کے بھاگ کر جان بچانے کے مواقع ہوتے ہیں، اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا کہ حدود آرڈیننس میں یہ ہے کہ مجرم کو آخر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے۔ کیا یہ دفعہ اجماع امت کے منافی نہیں ہے؟
۶۔ کیا قرآن، سنت اور اجماع امت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اگر تہمت لگانے والے قرآن کا مقرر کردہ ثبوت نہ پیش کر سکیں تو ان پر عدالت حد قذف جاری کر دے؟ جبکہ حدود آرڈیننس کے تحت ایسے ملزم کے خلاف ازسرنو تحقیق کر کے اسے تعزیری سزا دی جائے گی اور اگر وہ کئی سال جیل میں رہنے کے بعد عدالت سے ’’باعزت‘‘ بری ہو جاتا ہے اور تہمت لگانے والوں کو سزا دلوانا چاہتا ہے تو ازسرنو عدالت میں کیس لے جائے۔ حدود آرڈیننس کی یہ دفعہ کون سے اجماعی تعامل اور کس فقیہ کی تعبیر وتشریح کے مطابق ہے؟
۷۔ راقم کی معروضات میں سے زیادہ سے زیادہ جن امور سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، وہ چند اصولی مباحث ہیں جو کتاب کے باب اول میں ہیں۔ ان میں، میرے تمام مباحث کا دار ومدار ’’منقول‘‘ پر ہے۔ ان مباحث میں، میں نے ائمہ مجتہدین، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ، مولانا انور شاہ کاشمیری اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کی آرا کو ترجیح دی ہے۔
شنیدم ہر چہ از پاکان امت
ترا با شوخی رندانہ گفتم
اگر ان اساطین امت کی آرا اجماع کے خلاف تھیں تو میرے لیے ایسے کسی ’’اجماع‘‘ کو ماننا ممکن نہیں جس میں ایک شخص رائے دے، دو خاموش رہیں اور پھر وہ رائے ساری امت کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دلیل قطعی قرار پائے۔ میں اپنی آخرت کو ان ’’مخالفین اجماع‘‘ سے وابستہ کرنا اپنے لیے باعث سعادت اور موجب مغفرت سمجھتا ہوں۔ آپ بھی اگر لابی کا چشمہ اتار کر علم وتحقیق کی جو نعمت وافر مقدار میں اللہ نے آپ کو دی ہے، اس کی نظر سے دیکھیں توآپ کو طفیل ہاشمی، دراب پٹیل اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھ نہیں، بلکہ امام الہند شاہ ولی اللہ اور خاتم المحدثین انور شاہ کاشمیری کے پیچھے مودب کھڑا نظر آئے گا۔
ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کا
یہ وہم کہیں تجھ کو گنہ گار نہ کر دے
تاہم اگر وہ سب کچھ جو باب اول میں لکھا گیا ہے، سراسر غلط بھی ہو، تب بھی حدود آرڈیننس کی دفعات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، ان کا بڑا حصہ بہرحال قرآن، سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے لیکچر کے بعد، جسے اسلام آباد سے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کیا ہے اور جس میں مولانا نے حدود آرڈیننس کی کئی خرابیوں کی نشان دہی اور اصلاحات تجویز کرنے کے بعد کہا ہے کہ تعزیرات حدود کا حصہ نہیں ہیں او ریہ اللہ کا قانون نہیں بلکہ مقننہ اور عدلیہ کا بنایا ہوا قانون ہے، نیز ایسا کوئی زنا نہیں ہوتا جو موجب تعزیر ہو، آپ کی لابی کی رائے بھی تبدیل ہو جانا چاہیے، کیونکہ اب تو
لو، وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ ونام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
مولانا، میری معروضات میں اگر کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو تو معاف فرما دیں۔ آپ صاحب علم ہیں اور میں ہمیشہ سے آپ کا نیاز مند ہوں۔ آپ میری غلطیوں کی اصلاح کیا کریں۔ دھکا دے کر نکال دینا اور کسی دوسری لابی کی طرف منسوب کر دینا اس ذات ستودہ صفات صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں جس کی نظر کرم کے بغیر کہیں آسودگی ہے نہ جائے پناہ۔ دعاؤں میں یاد رکھیں۔
نیاز کیش
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
مکان ۱۰۴، گلی ۱۰، گلشن خداداد
E-11/1، (گولڑہ شریف) اسلام آباد

محترم جاوید غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے جولائی ۲۰۰۶ کے ادارتی صفحات میں حدود آرڈیننس پر ملک میں ایک عرصہ سے جاری بحث ومباحثہ کے حوالے سے حدود آرڈیننس پر معترض حلقوں کے موقف پر اظہار خیال کرتے ہوئے راقم الحروف نے اپنے دو محترم دوستوں، محترم جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کا بھی تذکرہ کیا تھا اور اس بات پر دکھ کا اظہار کیا تھا کہ حدود آرڈیننس کے حوالے سے ان حضرات کا جو موقف پبلک کے سامنے آ رہا ہے، وہ ان حلقوں کی تقویت کا باعث بن رہا ہے جو حدود آرڈیننس کی تکنیکی خامیوں یا فقہی کمزوریوں کو دور کرنے کے بجائے سرے سے پاکستان میں شرعی قوانین کے نفاذ ہی کے خلاف ہیں اور اسی وجہ سے وہ حدود آرڈیننس کو منسوخ کرانے کے درپے ہیں۔ راقم الحروف نے اپنے اس مضمون کا اختتام ان جملوں پر کیا تھا کہ:
’’جو لوگ اسلام کا نام لے کر مغرب کے موقف اور ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں، ان سے شکوے کا حق ہم ضرور رکھتے ہیں کیونکہ جسٹس(ر) دراب پٹیل اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھ جب ہم محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کو ایک ہی صف میں کھڑ ادیکھتے ہیں تو بہرحال ہمیں تکلیف ہوتی ہے ۔‘‘
مجھے خوشی ہے کہ دونوں بزرگوں نے اس ’’تکلیف‘‘ کا نوٹس لیا ہے جس سے میری گزارشات کا ایک مقصد بحمد اللہ تعالیٰ پورا ہو گیا ہے۔ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ ان حضرات کا موقف وہ نہیں ہے جو بعض ذرائع ابلاغ کی مخصوص پلاننگ کی وجہ سے عام حلقوں میں سمجھا جانے لگا ہے مگر میں یہ چاہتا تھا کہ اس کی وضاحت کسی دوسرے کو نہیں، بلکہ خود ان حضرات کو کرنی چاہیے۔ چنانچہ میرا تیر نشانے پر لگا ہے اور دونوں حضرات نے اپنے موقف او رپوزیشن کی وضاحت کی ضرورت محسوس فرمائی ہے جس پر میں اپنے ان دونوں بزرگ دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے حسب روایت خود کچھ نہیں لکھا مگر ان کے معتمد رفیق کار جناب منظور الحسن نے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کے اگست ۲۰۰۶ کے ادارتی صفحات میں میری گزارشات پر اظہار خیال کیا ہے جو چونکہ جاوید غامدی صاحب کے ترجمان ’’اشراق‘‘ کے اداریہ کے طور پر شائع ہوا، اس لیے میں اسے غامدی صاحب کی طرف سے ہی تصور کر رہا ہوں۔
منظور الحسن صاحب ایک صاحب علم، صاحب مطالعہ اور فاضل دوست ہیں اور غامدی صاحب کے زیر سایہ علمی خدمات میں مصروف ہیں، مگر ابھی چند روز قبل ان کے ساتھ یہ المناک سانحہ پیش آیا ہے کہ غامدی صاحب کے علمی مرکز ’’المورد‘‘ ماڈل ٹاؤن لاہور کے قریب رات کے اندھیرے میں ان پر فائرنگ ہوئی ہے جس سے شدیدزخمی ہو کر وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اگرچہ حملہ آوروں کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا مگر یہ حرکت جس نے بھی کی ہے، انتہائی مذمت کے قابل ہے اور ہم منظور الحسن صاحب کے ساتھ اس المناک سانحہ میں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت کاملہ وعاجلہ سے نوازیں اور ان کے حملہ آوروں کو بے نقاب کر کے ان کے قانونی انجام تک پہنچائیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 
منظور الحسن صاحب کا مذکورہ مضمون اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب کا تفصیلی مکتوب گرامی آپ ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے میں ملاحظہ کر رہے ہیں اور ان دونوں مضامین کی اشاعت سے میرا مقصد ایک حد تک پورا ہو گیا ہے۔
میں ان دنوں مدارس دینیہ کے سالانہ اجتماعات کی وجہ سے مسلسل اسفار میں ہوں، اس لیے ان دونوں مضامین پر تفصیلی گفتگو کا حق کسی اور موقع کے لیے محفوظ رکھتے ہوئے سردست صرف اس حوالے سے کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب منظور الحسن صاحب نے لکھا ہے اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا موقف ان کی کتابوں میں موجود ہے جسے دیکھے بغیر ان کی کسی رائے پر جرح کرنا درست نہیں ہے۔ مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ کتابوں کی دنیا پبلک میڈیا کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ پبلک میڈیا میں کتابوں کے حوالے نہیں دیکھے جاتے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کس موقع پر کن کے سامنے کون سی بات کہہ رہے ہیں، کون سے تنازعے میں کس فریق کے ساتھ کھڑے ہیں، اور کسی مسئلہ پر عمومی کشمکش کے تناظر میں آپ کی بات کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں الیکٹرانک میڈیا کے ایک چینل نے حدود آرڈیننس پر جس کج بحثی کا اہتمام کیا، ا س کے بارے میں خود ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی صاحب کا تاثر یہ ہے کہ :
’’مجھے افسوس ہوا کہ ایک ٹی وی چینل نے اسے ناپسندیدہ طریقے سے اپنی ناشایستہ مہم کا حصہ بنایا۔‘‘
اس ٹی وی چینل نے ہمارے ان دو محترم بزرگوں کے موقف کو جس انداز سے پیش کیا، ہمارے لیے اصل تکلیف کا باعث وہی تھا اور اگر ان دوستوں کو ہماری یہ تکلیف کسی لابی کے ساتھ ہمدردی یا اس کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا سبب نظر آتی ہے تو وہ ملک کے کسی شہر میں جا کر کسی گلی میں کھڑے ہو جائیں اور مذکورہ ٹی وی چینل دیکھنے والے آٹھ دس افراد کو روک کر ان سے ان کا تاثر معلوم کریں کہ وہ حدود آرڈیننس کے حوالے سے عاصمہ جہانگیر اور ہمارے ان محترم دوستوں کے موقف میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
جہاں تک حدود آرڈیننس کے بارے میں ہمارے موقف کا تعلق ہے تو وہ بھی یہی ہے کہ حدود اللہ جو قرآن وسنت کی طے کردہ ہیں، قطعی طور پر ناقابل ترمیم ہیں اور قیامت تک کسی کو اس کا حق حاصل نہیں ہے، مگر حدود سے ہٹ کر حدود آرڈیننس کی باقی تمام باتوں پر نظر ثانی ہو سکتی ہے۔ فقہی مباحث کا دروازہ کھلا ہے اور ضرورت کے مطابق اجتہاد واستنباط کی گنجایش بھی موجود ہے، البتہ اس فرق اور وضاحت کے ساتھ کہ اجتہاد کے اصول وقواعد وہی ہوں گے جو امت مسلمہ کے اجماعی تعامل کے ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور اجتہاد واستنباط کے مسلمہ قواعد واصول کی نفی کرتے ہوئے نئے اصول وضوابط کا دروازہ کھولنے کو ہم فتنے کا دروازہ سمجھتے ہیں اور گمراہی کا راستہ تصور کرتے ہیں۔
حدود آرڈیننس ہوں یا کوئی بھی مسئلہ اور قانون، مسلمات کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث ومباحثہ ہمارے نزدیک نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وقت کا ایک ناگزیر تقاضا اور ضرورت بھی ہے جس کی طرف ہم روایتی علمی حلقوں کو مسلسل توجہ دلاتے رہتے ہیں او رمختلف حوالوں سے بعض دوستوں کی ناراضی کا خطرہ مول لیتے ہوئے بھی اس کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں، البتہ اس کے ساتھ ہم پورے شعور کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری زبان اور قلم سے کوئی ایسا جملہ نہ نکلنے پائے جو اسلامی تعلیمات کی نفی کرنے والوں اور مسلمان ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا راستہ روکنے والوں کی تقویت کا باعث ہو اور دوسرے دوستوں سے بھی ہمارا یہی تقاضا ہوتا ہے۔
اپنے گھر کے نقشے میں رد وبدل اور ضرورت کے مطابق ترمیم واضافہ کے لیے رائے دینا اور اس کے لیے کوشش کرنا تمام بھائیوں کا یکساں حق ہوتا ہے لیکن اگر دشمن اس گھرپر حملہ آور ہو تو پہلے گھر کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ کوشش اسی گھر کے لیے ہوتی ہے جو جیسا کیسا بھی ہے مگر موجود ہے۔ گھر کو دشمن کے حملے کا سامنا ہو تو ترمیم اور رد وبدل کے نقشے نہیں پھیلائے جاتے بلکہ اس کے تحفظ کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، البتہ کسی دوست کو اسلام پر، اسلامی احکام وقوانین پر، اسلامی ثقافت وتمدن پر، اسلامی اقدار وروایات پر اور مسلمانوں کے اسلامی تشخص وامتیاز پر دشمن کی یلغار کی ہمہ گیری اور سنگینی کا پوری طرح ادراک واحساس نہ ہو تو ہم اس کے لیے اقبال کی زبان میں یہ دعا ہی کر سکتے ہیں کہ
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

مکاتیب

ادارہ

(۱)
برادرِ مکرم جناب عمار خان ناصر 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ شمارے میں جناب پروفیسر عبدالماجد نے میرے کالم ’’اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات‘‘ پر تبصرہ فرمایا جو اس لحاظ سے میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے کہ ہمارے قارئین کس باریک بینی سے ’الشریعہ‘ کامطالعہ کرتے اور ہر قابل بحث بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ میں جناب پروفیسرعبدالماجد کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے کالم کو بغور پڑھنے کے بعد اپنا تبصرہ ارسال فرمایا۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ’استشراق‘ میرے زیرمطالعہ ہے اور دیگر مستشرقین کی تحریرات کے علاوہ اسپوزیٹو کی تحریرات بھی میری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔یہ بات تسلیم ہے کہ جان ایل اسپوزیٹو طبقۂ مستشرقین میں قدرے معتدل درجہ کے محقق ہیں، لیکن اس کے باوجود اسلامی تاریخ اور اس کے حقائق کے حوالے سے اسپوزیٹو کی بہت سی ایسی تحریرات ایک مستقل مقالہ کی صورت میں جمع کی جاسکتی ہیں جو قابل گرفت ہیں۔ میں ان شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر انھیں قارئین کے سامنے پیش کروں گا۔ پروفیسر عبدالماجد صاحب نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے :
’’۔۔۔ڈاکٹر اسپوسیٹو نے تو امریکہ اور مغرب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ چند اسلامی تحریکات کے طرزِ عمل کی بنیاد پر اسلام یا تمام مسلمانوں پر انتہا پسندی اوردہشت گردی کا لیبل نہیں لگانا چاہیے۔۔۔‘‘۔
اس عبارت میں پروفیسر موصوف نے خود اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر اسپوزیٹو نے ’’چند اسلامی تحریکات‘‘ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور میری مراد بھی یہی تھی کہ اسپوزیٹو نے ایک سے زائد جہادی گروپس کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ مزید گزارش ہے کہ ایک لمحہ کے لیے تمام ’اعتدال پسندانہ حکمتوں‘سے قطع نظر، محض ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ حالیہ صیہونی وصلیبی یلغار سے قبل، مسلمانوں کی طرف سے خصوصاً، کبھی بھی تاریخِ اسلامی میں کسی جہادی جماعت کے طرزِ عمل کو نشانۂ تنقید نہیں بنایاگیا اور نہ ایسے کسی موقف کی کلی یا جزوی تائیدکی گئی ہے بلکہ اس کے برعکس جہاد کے لیے ہرممکنہ تعاون کی کوشش کی گئی، لیکن بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ استعماری یلغار کے منحوس اثرات سے امت کی فکری بنیادیں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں سب سے بڑی نعمت فکری بنیادوں پر ثابت قدمی اورسب سے بڑی ذمہ داری اغیار کی عدمِ تقلید ہے۔ ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہوجانا چاہیے کہ مائیکل ہارٹ نے محمدﷺکو تاریخ کے سو بڑے آدمیوں میں سرفہرست رکھا ہے، بلکہ اس کی وجوہات اور پس پردہ مقاصد پر بھی غور کرنا چاہیے۔
حافظ محمدسمیع اللہ فراز
شعبہ علومِ اسلامیہ 
ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، لاہور
(۲)
مکرمی حافظ محمد عمار خان صاحب، مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ جملہ اراکین مجلس ادارت ومشاورت کے ہمراہ بخیریت ہوں گے۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب قارون اور قورح کے موضوع سے اکتاہٹ کے اظہار میں اسے لایعنی اور علمی تفاخر پر مبنی بحث قرار دے چکے ہیں، لیکن حیرت ہے کہ اگست ۲۰۰۶ ء کے شمارے میں پھر اسی باسی کڑھی میں ابال آیااور مارچ والے مضمون کی گالیوں اور طعنوں کا اعادہ کیاگیاہے۔ بدقسمتی سے میں تو جو شیلے مقالہ نگار کے زیر عتاب تھا ہی، اس بار علامہ محمود خارانی صاحب کو بھی تختہ مشق بنایا گیاہے اور افسوس کہ شرفا کی پگڑیاں اچھالنے کے بعد اس سلسلہ بحث کے لیے ’الشریعہ‘ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے گئے ہیں تاکہ محترم جنگجو بزرگ مصنف کی ٹوہر ( اکڑ، انا) بنی رہے۔ یہ شخصیت پرستی نہیں تو اور کیاہے ؟
اگر اس لایعنی اور غیر معقول وبے محل بحث کی اشاعت محترم ڈاکٹر صاحب کی انا کی تسکین کے لیے ناگزیر ہوچکی تھی تو گالیوں کے ہمراہ یہ بھی لکھ دیاہوتا کہ بائبل میں قارون کے خزانے کی کنجیوں کا چمڑے کی ہونا اور چمڑے کی کنجیوں کا تین سو اونٹوں یا خچروں پر لادے جانا فلاں جگہ لکھاہے، لیکن یاد رکھیے، قیامت کاسورج طلوع ہو جائے گا، آسمان لپیٹ دیے جائیں گے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ نے لگیں گے، لیکن عزت مآب ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی مدظلہ چمڑے کی کنجیاں اوران کا تین سو اونٹوں یا خچروں پر لادے جانا بائبل میں نہیں دکھا سکتے، نہیں دکھا سکتے، نہیں دکھا سکتے،اور بس۔ 
مذکورہ مذموم مضمون ’’قورح ،قارون: ایک بے محل بحث‘‘ میں محترم مصنف نے کون سا کدو میں تیر مارا ہے؟ صرف کوڑھ پر کھاج کے سوا کچھ بھی نہیں، چنانچہ مذکورہ جنگ نامہ کی ابتدائی سطر میں فرماتے ہیں: ’’ اس لیے کوئی حوالہ ضروری نہیں سمجھاگیاتھا ۔‘‘ پھر پانچویں سطر میں ہی کتاب گنتی باب ۱۶ کی نشان دہی کا اعتراف کرتے ہیں اور مزید یہ کہ مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں دعویٰ کرتے ہیں: ’’زبو رہی بائبل کی وہ کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ‘‘ لیکن اپریل کے شمارے میں جب احقر نے زبور میں تحریف کثیرثابت کرکے ان کے مضحکہ خیز دعوے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تو اب اگست ۲۰۰۶ء کے شمارہ میں درج جنگ نامہ میں فرماتے ہیں: ’’ البتہ ا س میں بھی چند مقامات پر تحریف ہوئی ہے ‘‘۔ مارچ کے شمارے میں فرمایا تھا کہ: ’’ یہی وہ زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی‘‘ لیکن جب میں نے عظیم سکالر صاحب کی علمیت کا بھانڈا سر بازار پھوڑتے ہوئے مروجہ زبو ر کے بہت سے لکھاری ثابت کردیے تو اب جنگ نامہ میں فرماتے ہیں ’’ اور پھر زبو رکے سلسلہ میں ایک اہم با ت یہ ہے کہ وہ ساری کتاب زبور جو بائبل میں شامل ہے، وہ سب داؤد علیہ السلام سے منسوب نہیں، بائبل کے اردو ترجمہ میں تو اس کا ذکر نہیں۔ ‘‘ حالانکہ اردو بائبل میں بھی ہر مزمور کے سرنامہ میں اس کے مصنف کا نام درج ہے۔ اندریں حالات کیا میں نے غلط کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب کو بائبل کھول کر دیکھنے کی توفیق میسرنہیں اور خیالات کے گھوڑے خوب دوڑاتے ہیں؟
حیرت ہے، مسلمان ڈاکٹر صاحب زبو ر میں درج حمد وثنا کے ترانوں سے بہت ہی زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ ’’تیرے نتھنوں کے دم کے جھو کے سے پانی کی تھاہ دکھائی دینے لگی‘‘ (زبور۱۸:۱۵) ’’اس کے نتھنوں سے دھواں اٹھا اور اس کے منہ سے آگ نکل کر بھسم کرنے لگی، کوئلے اس سے دہک گئے‘‘( زبور ۱۸:۸) ’’وہ کروبی پر سوار ہوکر ا ڑا بلکہ تیزی سے ہوا کے بازووں پر اڑا ‘‘ ( زبور ۱۸:۱) ’’اے خداوند !جاگ، تو کیوں سوتا ہے‘‘ (زبور ۴۴:۲۳) حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب مزمور میں لکھاہے: ’’خداوند نے مجھ سے کہا تومیرا بیٹاہے، آج تو مجھ سے پیدا ہوا ‘‘ (زبور ۲:۸) قرآ ن سے متصادم ان ترانوں کو تنزیل الٰہی کی سند دینے والے جنگجو مصنف کو، جبکہ وہ قبر میں لاتیں لٹکائے بیٹھے ہیں، ایسے مشرکانہ ترانوں سے محظوظ ہونے کی بجائے قرآن پاک کی آیات مقدسہ سے محظوظ ہوکر اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے تھی، لیکن چونکہ وہ اپنی فطرت سے مجبور ہیں، اس لیے ہمیں ان سے اب کوئی شکایت نہیں۔ ہمیں تو پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کی خدمت میں اپیل کرنی ہے کہ خواہ مخواہ کسی موضوع کو فضول یا لایعنی نہ کہہ دیاکریں۔ اگر کہہ ہی بیٹھے تو کم از کم اپنے کہے کی لاج رکھ لیا کیجئے۔ جس بحث کو آپ بار بار لایعنی اور بے محل فرماتے رہے، پھر اسی بحث کے تحت لکھے گئے مذموم جنگ نامہ کو شائع کرکے ’الشریعہ‘ کے تقدس کو پامال کیوں کردیا؟ اپنے ہی اصولوں کی دھجیاں بیچ چورا ہے کیوں بکھیر دیں؟ ایک ہم فرقہ جنگجو کی انا کی تسکین کے لیے کسی دوسرے کے شیشہ دل کی کتنی کرچیاں کر ڈالیں۔ اس کا احساس ہے آپ کو؟ مجھے احساس ہے کہ آپ جواب نہیں دیں گے، بلکہ شاید میرا خط بھی شامل اشاعت نہ کیا جائے، لیکن میرا یہ خط آپ بھول نہیں پائیں گے۔ ان شاء اللہ ۔
تمام احباب تک آداب اورسلام ۔
محمد یاسین عابد 
علی پور چٹھہ ۔ ضلع گوجرانوالہ
(۳)
بخدمت گرامی قدر علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
’الشریعہ‘ کے تازہ شمارے میں تبلیغی جماعت کے حوالے سے محترم مولانا محمد یوسف صاحب کا مضمون شائع ہوا۔ مولانا موصوف کامضمون کافی متوازن تھا اور احقر کے دل کی آواز اور ترجمان تھا۔ مولانا یوسف صاحب کے مضمون کی تائید میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں:
۱۔ آج فضا یہ بن چکی ہے کہ جو شخص تبلیغی جماعت کی اصلاح کی بات کرتا ہے، اسے جماعت کامخالف سمجھ لیا جاتا ہے۔
۲۔ تبلیغی کارکن بکثرت ضعیف وموضوع روایات پیش کرتے ہیں اور سامعین میں کئی علما ومفتی صاحبان موجود ہوتے ہیں، وہ اصلاح نہیں کرتے۔ جماعت کی مجموعی کارکردگی بہت اچھی ہونے کے باوجود احقر ایسے صاحبان کی بدولت جماعت میں نہیں جاتا۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ میں کسی تبلیغی کارکن نے بیان کیا کہ فلاں نیک کام کرو گے تو جنت میں ۴۵ ہزار حوریں ملیں گی اور اس بات کو حدیث بنا کر پیش کیا۔ ایک صاحب نے اپنے بیان کا آغاز اس جملے سے کیا کہ ’’صحابہ کرام ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔‘‘
۳۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جماعت میں کم یا زیادہ ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو علماے کرام کے کام کو بنظر حقارت دیکھتا ہے۔ ہمارے استاد محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب فیصل آباد کے ایک مدرسہ میں دورۂ تفسیر کے طلبہ کو سبق پڑھا رہے تھے کہ جماعت والے آئے اور کہا کہ کیا آپ نے کوئی دین کا کام بھی کیا ہے؟ ایک تبلیغی نے احقر کے متعلق کہا، وہ دین کا ٹھیکیدار بن کر مدرسہ میں بیٹھا ہوا ہے، وقت نہیں لگاتا۔ غالباً چھ سات سال پہلے کی بات ہے، تبلیغی مرکز فیصل آباد میں وفاق المدارس کے امتحانات کے لیے آئے ہوئے نگران حضرات کو جمع کیا گیا۔ ایک صاحب کارگزاری بیان کرنے لگے۔ مولانا عبد الرحمن شاہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ محمودیہ جھنگ نے بیان رکوا کر جھنگ کی آپ بیتی سنائی کہ فلاں مسجد میں مولوی صاحب نے درس قرآن شروع کیا، جماعت والوں نے بند کرا دیا کہ یہ فتنہ ڈال رہا ہے۔ یہ کیا ہے؟ 
احقر نے چنیوٹ چھوڑنے سے دو ماہ پہلے روزانہ درس قرآن شروع کیا۔ جماعت والوں نے بہت مخالفت کی۔ اگر درس قرآن کے حامی صبر وتحمل سے کام نہ لیتے تو سر پھٹول ہو جاتی۔ ایسا ہی ایک واقعہ مولانا محمد ابراہیم صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ مولانا چنیوٹی مرحوم کے سمجھانے کے باوجود جماعت والوں نے درس قرآن نہ سنا۔ المیہ یہ ہے کہ سارا دین چھ نمبروں، گشت اور سہ روزوں اور چلوں میں منحصر سمجھ لیا گیا ہے۔ احقر کے درس قرآن کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ بزرگوں نے عشا کے بعد مشورہ کرنے کا کہا ہوا ہے۔ درس قرآن سے ہمارا مشورہ متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ احقر کے درس قرآن کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ استاذ مکرم مولانا چنیوٹی مرحوم ہمیشہ جماعت والوں کو ’ہی‘ اور ’بھی‘ کا فرق سمجھایا کرتے تھے کہ تبلیغی کام ہی دین کا کام نہیں ہے، یہ بھی دین کا کام ہے۔
آخر میں یہ عرض ہے کہ تبلیغی کام بہت شاندار کام ہے۔ دوسرے حضرات جس شخص کو دس سال میں دین دار نہیں بنا سکتے، یہ حضرت ہفتہ چلہ میں بنا لیتے ہیں۔ شاندار نتائج سے انکار نہیں، لیکن مذکورہ کوتاہیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ رائے ونڈ میں مقیم تبلیغی بزرگ بالخصوص جماعت کے ترجمان مولانا طارق جمیل صاحب کیا اس طرف بھی توجہ فرمائیں گے؟
مشتاق احمد
مدرس جامعہ اسلامیہ کامونکی

ویڈیو کیمرے کی فقہی حیثیت

ادارہ

(ویڈیو کیمرے سے بنائی جانے والی تصویر کا مسئلہ ہمیشہ سے اختلافی رہا ہے۔ اہل علم کا ایک گروہ اسے ناجائز قرار دینے پر مصر ہے جبکہ دوسرا طبقہ فی نفسہ اس کے مباح ہونے کا قائل ہے۔ اس ضمن میں شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے نقطہ نظر کی وضاحت پر مبنی ایک تحریر یہاں شائع کی جا رہی ہے۔ مدیر)

استفسار

گرامی قدر حضرت والد صاحب دام مجدہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کچھ عرصہ سے یہ بات گردش کر رہی ہے کہ آپ شادی کی کسی ایسی تقریب میں شریک تھے جہاں ویڈیو کیمرہ سے تصویریں بنائی جا رہی تھیں۔ اس میں آپ کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ آپ نے ان کو منع نہیں کیا۔ اس سے کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حضرت کے نزدیک ویڈیو کیمرہ سے بنائی گئی تصویر کی گنجایش ہے۔ براہ کرم اس بارے میں اپنے نظریہ کی وضاحت کسی سے لکھوا کر اپنے دستخط یا کم از کم اپنی مہر ثبت فرما کر بھیجیں تاکہ اس کے مطابق ساتھیوں کو تصویر کے بارے میں آپ کے نظریہ سے آگاہ کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ صحت وعافیت کے ساتھ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ آمین۔
(مولانا) عبد القدوس قارن
مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا جواب

میری لاعلمی میں کسی نے ایسی حرکت کی ہے۔ مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں۔ باقی رہا مسئلہ فوٹو لینے کا تو ویڈیو کیمرہ سے یا خالی کیمرہ سے فوٹو لینا ناجائز ہے۔ میں اس کام کو حرام سمجھتا ہوں۔
ابو الزاہد محمد سرفراز خان صفدر