اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں نظریہ ضرورت کا استعمالپروفیسر محمد شریف چوہدری 
غلامی کے مسئلہ پر ایک نظرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سی پی ایس انٹرنیشنل ۔ کسی نئے فتنے کی تمہید؟محمد عمار خان ناصر 
تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء ۔ ایک تنقیدی جائزہمحمد مشتاق احمد 
مصارف زکوٰۃ میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مدڈاکٹر عبد الحی ابڑو 
جہاد کے بارے میں پوپ بینی ڈکٹ کے ریمارکسمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹادارہ 

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حدود شرعیہ کا نفاذ ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور مسلم معاشرہ میں جرائم کا تعین اور روک تھام انھی حدود کے حوالے سے ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے دینی حلقوں کا یہ مطالبہ چلا آ رہا تھا کہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسلامی قوانین واحکام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ معاشرتی جرائم کی روک تھام کے لیے ان شرعی حدود کا نفاذ بھی عمل میں لایا جائے جو قرآن وسنت میں بعض سنگین جرائم کے لیے متعین صورت میں بیان کی گئی ہیں، مگر اس کی نوبت اس وقت آئی جب ۱۹۷۷ کی تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں عوام کی بے پناہ قربانیوں کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی حکومت نے ا س سمت میں پیش رفت کی اور پاکستان قومی اتحاد کی معاونت سے دیگر چند شرعی آئینی اقدامات کے علاوہ حدود آرڈیننس کے عنوان سے شرعی سزاؤں اور حدود کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا۔
حدود آرڈیننس کے نفاذ کو ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان پر عمل درآمد کی کوئی ایسی خوشگوار صورت حال اب تک سامنے نہیں آئی جسے حدود شرعیہ کے موثر نفاذ سے تعبیر کیا جا سکتا ہو اور نہ ہی معاشرہ میں جرائم کی کمی اور ان پر کنٹرول کا مقصد حاصل ہو سکا ہے، حالانکہ یہی حدود شرعیہ سعودی عرب میں نافذ ہیں اور جرائم پرموثر کنٹرول کا ذریعہ ثابت ہوئی ہیں اور انھی حدود شرعیہ کے ذریعے سے افغانستان میں طالبان نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنی حدود کار میں جرائم پر کنٹرول کا ایسا نقشہ پیش کیا تھا جس کا طالبان کے شدید ترین مخالف بھی اعتراف کرتے ہیں اور متعدد بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں میں اسے تسلیم کیا گیا ہے، لیکن پاکستان میں حدود شرعیہ کا قانونی نفاذ ان مقاصد ونتائج کا ذریعہ ابھی تک نہیں بن سکا جو مقاصد واہداف اسی دور میں افغانستان اور سعودی عرب میں عملاً حاصل ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے برعکس حدود آرڈیننس کے خلاف بین الاقوامی او رملکی سطح پر پراپیگنڈا اور لابنگ کی مہم ایک عرصہ سے جاری ہے اور حکومت پاکستان پر مختلف اطراف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ان قوانین کو سرے سے ختم کر دیا جائے یا کم از کم ان میں ایسی ترامیم کر دی جائیں جن سے اس کی برائے نام بھی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔ چنانچہ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۷؍ ستمبر ۲۰۰۶ کو این این آئی کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ اس کی طرف سے پاکستان میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں قوانین، توہین رسالت کی سزا کے قانون اور حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اس کے لیے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ پاکستانی پارلیمنٹ کے ارکان اور حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔
مغربی معاشرہ اور قوانین میں رضامندی کا زنا سرے سے جرم ہی تصور نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتناعی قانون انسانی حقوق کے منافی سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اسے سنگین ترین جرم قرار دیتا ہے اور سنگسار کرنے اور سو کوڑوں کی سخت ترین سزا اس جرم پر تجویز کرتا ہے۔ اس واضح تضاد کو مغربی سوچ کے مطابق دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حدود آرڈیننس کے اس حصے کو یا تو بالکل ختم کر دیا جائے اور اگر اسے کلیتاً ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ایسے قانونی گورکھ دھندوں میں الجھا دیا جائے کہ ایک ’’شو پیس‘‘ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحفظ حقوق نسواں بل کے عنوان سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا مسودہ پیش ہوا تو ان ترامیم کا سب سے زیادہ نشانہ زنا سے متعلق قوانین بنے اور بہت سی قانونی موشگافیوں کی آڑ میں بنیادی تبدیلیاں یہ کی گئیں کہ زنا بالجبر کے جرم کو سرے سے حدود شرعیہ کے دائرہ سے ہی نکال دیا گیا ہے اور اسے تعزیرات کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زنا بالرضا پر شرعی حد (سنگسار یا سو کوڑوں) کو باقی رکھتے ہوئے اس کے ساتھ جو تعزیری قوانین حدود آرڈیننس میں شامل کیے گئے تھے، انھیں بالکل ختم کر دیا گیا ہے جس کا عملی نتیجہ یہ ہوگا کہ رضامندی کے زنا کے کیس میں اگر چار گواہوں کی عینی شہادت شرعی قوانین کے مطابق میسر نہ آ سکے تو زنا سے کم درجہ کے جو جرائم (مثلاً دواعی زنا وغیرہ) جو اسی کیس میں ریکارڈ پر آ چکے ہیں، ان پر مجرموں کو کوئی سزا نہیں دی جا سکے گی اور وہ بالکل بری ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ حدود شرعیہ کے قوانین کے دیگر قوانین پر بالاتر ہونے کی دفعہ حذف کر دی گئی ہے اور بہت سی دیگر ایسی ترامیم بھی نئے مسودہ میں شامل کی گئی ہیں جو حدود آرڈیننس کو کلیتاً غیر موثر بنانے کے علاوہ اور کوئی افادیت نہیں رکھتیں۔
اس پر ملک بھر میں شدید احتجاج کی لہر اٹھی اور قومی اسمبلی سے باہر اور اندر اس پر سخت اضطراب کا اظہار کیا گیا۔ متحدہ مجلس عمل نے اس ترمیم شدہ مسودہ کی قومی اسمبلی میں بعینہ منظوری کی صورت میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور ملک کے دینی حلقوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا۔ اس تناظر میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کے درمیان ایک ملاقات میں طے پایا کہ تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے پیش کیے جانے والے نئے بل پر کچھ ایسے علما سے بھی رائے لے لی جائے جو عملی سیاست میں شریک نہ ہوں اور موجودہ سیاسی کشمکش میں فریق کی حیثیت نہ رکھتے ہوں اور وہ علما جو رائے دیں، اسے فریقین قبول کر لیں۔ اس مقصد کے لیے جن علما کے ناموں پر اتفاق ہوا، ان میں جسٹس (ریٹائرڈ) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، شیخ الحدیث مولانا حسن جان آف پشاور، مولانا مفتی منیب الرحمن آف کراچی، مولانا مفتی غلام الرحمن آف پشاور، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی آف لاہور اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری آف ملتان کے علاوہ راقم الحروف (ابو عمار زاہد الراشدی آف گوجرانوالہ) کا نام بھی شامل تھا۔ مجھے خود چودھری شجاعت حسین صاحب نے فون کر کے اس بات سے آگاہ کیا اور اس طرح ہم سات حضرات پر یہ ذمہ داری آ گئی کہ ہم اس نئے مسودہ کا جائزہ لیں اور اس میں جو باتیں صراحتاً قرآن وسنت سے متصادم ہوں، ان کی نشان دہی کر کے اصلاحات تجویز کریں۔
اس سلسلے میں ہمارا پہلا اجلاس ۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو قومی اسمبلی کے کمیٹی روم میں عشا کی نماز کے بعد ہوا جس میں محترم چودھری شجاعت حسین، وفاقی وزرا اور دیگر معاونین کی ایک ٹیم کے ساتھ ہمارے ساتھ اجلاس میں شریک تھے۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اس وقت بیرون ملک دورے پر تھے اور ہم نے قومی اسمبلی میں پیش ہونے والا بل اور اس پر قومی اسمبلی کی طرف سے سردار نصر اللہ خان دریشک کی سربراہی میں قائم کی جانے والی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ اسی اجلاس میں پہلی بار دیکھی تھی، اس لیے اس کے باوجود کہ چودھری شجاعت حسین صاحب اور ان کے رفقا کی طرف سے فوری طور پر اسی شب اس کے بارے میں رائے دینے کے لیے اصرار کیا جا رہا تھا، مگر ہم نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ جب تک مسودہ قانون اور ا س کے بارے میں سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کا بغور مطالعہ نہ کر لیں، ہم کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، چنانچہ یہ اجلاس کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ 
ہماری دوسری نشست ۱۰ ستمبر کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی جس میں مذکورہ ساتوں علماے کرام شریک ہوئے، جبکہ چودھری شجاعت حسین صاحب کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی، سردار نصر اللہ دریشک اور وفاقی وزارت قانون کے اعلیٰ ترین افسران (لا سیکرٹری، ایڈیشنل لا سیکرٹری اور اٹارنی جنرل) شریک تھے جس کی درج ذیل رپورٹ فریقین کے مشترکہ دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
قومی اسمبلی میں ’’تحفظ حقوق نسواں‘‘ کے عنوان سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا جو بل زیر بحث ہے، اس کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات میں طے کی جانے والی خصوصی علما کمیٹی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا حسن جان، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا اخلاق احمد اور حافظ محمد عمار یاسر نے شرکت کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھر ی پرویز الٰہی، سردار نصر اللہ دریشک اور وزارت قانون کے بعض ذمہ دار حکام نے شرکت کی۔
چودھری شجاعت حسین نے علماے کرام سے کہا کہ ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس میں قرآن وسنت کے منافی باتیں بھی شامل ہیں، اس لیے ہم نے آپ حضرت کو زحمت دی ہے کہ آپ حضرات بل کا جائزہ لے کر قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی کریں، کیونکہ ہم کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو حدود شرعیہ اور قرآن وسنت کے منافی ہو، بلکہ ہم ایسا سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ اس پر علماء کرام اور ماہرین قانون نے بل کی متعدد دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا جو ۱۰ ستمبر ۲۰۰۶ بروز اتوار صبح نو بجے سے کھانے اور نماز کے وقفے کے ساتھ رات تین بجے تک جاری رہا اور اگلے روز ۳ بجے سہ پہر تک بھی یہ مشاورت جاری رہی اور متعدد اصولی امور پر اتفاق رائے ہو گیا جس کے مطابق مندرجہ ذیل معاملات طے پائے۔
۱۔ زنا بالجبر اگر حد کی شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی۔
۲۔ حدود آرڈیننس میں زنا موجب تعزیر کی بجائے ’’فحاشی‘‘ کے عنوان سے ایک نئی دفعہ کا تعزیرات پاکستان (PPC) میں اضافہ کیا جائے گا جس کا متن درج ذیل ہے:
A man and a woman are said to commit lewdness if they willfully have sexual intercourse with one another and shall be punished with imprisonment which may extend to five years and shall also be liable to fine. 
۳۔ زنا آرڈیننس کی دفعہ تین کی جگہ مندرجہ ذیل دفعہ تحریر کی جائے گی:
In the interpretation and application of this Ordinance the injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunah shall have effect notwithstanding any thing contained in any other law for the time being in force. 
اجلاس میں شریک علماے کرام نے کہا کہ حقوق نسواں بل کے بارے میں قرآن وسنت کے حوالے سے اصولی امور پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور اب اس بل میں اصولی طور پر قرآن وسنت کے منافی کوئی بات باقی نہیں رہی، تاہم بعض ذیلی امور پر اگر ہمیں مزید وقت دیا گیا تو تفصیلی سفارشات پیش کر دی جائیں گی۔ اجلاس میں علماے کرام نے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں بعض اہم سفارشات پیش کی ہیں جو منسلک ہیں۔‘‘
اس دستاویز پر مندرجہ ذیل حضرات کے دستخط ہیں:
مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا حسن جان، مولانا زاہد الراشدی، ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اخلاق احمد، حافظ عمار یاسر، جناب چوہدری شجاعت حسین صاحب، جناب چوہدری پرویز الٰہی صاحب، جناب سردار نصر اللہ دریشک صاحب۔
اس کے ساتھ ہی علماے کرام کی خصوصی کمیٹی کی طرف سے حکومت کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کا فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں عورتوں کی مظلومیت کے حقیقی مسائل وہ نہیں ہیں جن کے حوالے سے بل مرتب کیا گیا ہے، بلکہ معروضی صورت حال میں عورتوں کے حقیقی مسائل کے بارے میں قانون سازی کی ضرورت ہے اور اگر حکومت پاکستان واقعی پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عملی پیش رفت کرنا چاہتی ہے تو اسے مندرجہ ذیل قانونی اقدامات کرنے چاہییں:
۱۔ خواتین کو عملاً وراثت سے عام طور پر محروم رکھا جاتا ہے۔ اس کے سد باب کے لیے مستقل قانون بنایا جائے۔
۲۔ بعض علاقوں میں خواتین کو ان کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
۳۔ بیک وقت تین طلاقیں دینے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور ایسی دستاویز لکھنے والے نوٹری پبلک اور وثیقہ نویس کو بھی شریک جرم قرار دیا جائے۔
۴۔ قرآن کریم کے ساتھ نکاح کی مذموم رسم کاسدباب کیا جائے۔
۵۔ جبری وٹہ سٹہ یعنی نکاح شغار کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔
۶۔ عورتوں کی خرید وفروخت اور انھیں میراث بنانے کے غیر شرعی رواج اور رسوم کا قانونی سدباب کیا جائے۔
یہ تجاویز مندرجہ ذیل علماے کرام کے دستخطوں کے ساتھ الگ یادداشت کے طور پر چودھری شجاعت حسین صاحب کو پیش کی گئیں:
مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا حسن جان، مولانا زاہد الراشدی، ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اخلاق احمد، حافظ عمار یاسر۔
اس سلسلے میں حکومتی پارٹی اور وزارت قانون کے ذمہ دار حضرات کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے راہ نماؤں مولانا فضل الرحمن، مولانا حافظ حسین احمد، جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبد المالک، مولانا سید نصیب علی شاہ، جناب اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ، سینٹر پروفیسر ساجد میر، مولانا عبد الجلیل نقوی اور دیگر حضرات کے ساتھ ہماری بات چیت ہوتی رہی اور ان حضرات نے بھی ہماری ترمیمات اور سفارشات سے اتفاق کیا، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے راہ نماؤں جناب فاروق ستار، ڈاکٹر عامر لیاقت اور جناب حیدر رضوی کے ساتھ ایک طویل نشست میں اس بل سے متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیالات ہوا اور ہم نے ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے واقفیت حاصل کی۔
بعد میں مذکورہ تین نکات کو موثر بنانے اور ان کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے علماء کمیٹی نے مزید پانچ ترامیم تجویز کرتے ہوئے حکومت سے انھیں مجوزہ بل میں شامل کرنے کی سفارش کی، چنانچہ علماء کمیٹی کے رکن مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ۱۷؍ ستمبر ۲۰۰۶ کو اسلام آباد میں محترم چوہدری شجاعت حسین صاحب سے ملاقات کر کے انھیں کمیٹی کی طرف سے درج ذیل تحریر پیش کی:
’’مورخہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۶ کو علما کمیٹی نے ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں جن تین بنیادی نکات پر دستخط کیے تھے، ان کے آخر میں یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ اصولی طور پر ان نکات پر اتفاق رائے کے بعد کچھ ذیلی امور اور ہیں جن پر اگر کمیٹی کو وقت دیا گیا تو کمیٹی ان پر اپنی رائے ظاہر کرے گی۔ نیز زبانی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ ان تین نکات کو مسودے میں سمونے کے لیے بل میں تبدیلیوں کے بعد اسے ہمیں دکھایا جائے گا، چنانچہ ۱۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو اس غرض کے لیے جب کمیٹی کو دوبارہ اسلام آباد طلب کیا گیا تو ہم نے نئے مسودے کا جائزہ لے کر یہ محسوس کیا کہ اگرچہ وہ تین نکات اس مسودے میں شامل کر لیے گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسے امور کا اضافہ کر دیا گیا ہے جن کے بعد ان تین نکات کے عملاً موثر ہونے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ اس سلسلے میں ہم نے اپنی تشویش سے حکومت کے نمائندہ حضرات کو نہ صرف زبانی طور پر آگاہ کر دیا بلکہ ان پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔ ہمیں آخر وقت تک یہ امید تھی کہ کم از کم ان میں سے چند اہم نکات پر ہماری تجویز مان لی جائے گی لیکن آخر وقت میں جو مسودہ انتہائی شکل میں سامنے لایا گیا، اسے دیکھ کر واضح ہوا کہ ان میں سے کوئی بات مسودے میں شامل نہیں کی گئی۔ اگرچہ اس وقت ہم نے زبانی طور پر اپنا یہ تاثر واضح کر دیا تھا، لیکن ان نکات کو تحریری طور پر مرتب کرنے کا وقت نہیں مل سکا تھا۔ اب ہم ذیل میں ان نکات کو تحریری شکل میں پیش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بل کو بامعنی اور موثر بنانے کے لیے ان تجاویز پر عمل کیا جائے گا:
۱۔ تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۴۹۶۔بی کا جو اضافہ کیا جا رہا ہے، اس کے عنوان اور متن میں Fornication کا لفظ طے شدہ لفظ Lewdness کے بجائے بدل دیا گیا ہے۔ اسے بدل کر Lewdness یا Siyahkari کرنا ضروری ہے کیونکہ Fornication صرف غیر شادی شدہ افراد کے ’’زنا‘‘ کو کہتے ہیں۔ اس بات سے زبانی طور پر اتفاق کر لیا گیا تھا، مگر آخری مسودے میں اس کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
۲۔ کمیٹی نے جب اپنی سابقہ سفارش میں یہ کہا تھا کہ زنا بالجبر پر بھی حد نافذ کی جائے تو اس کا مطلب واضح طور پر یہ تھا کہ حدود آرڈیننس کی دفعہ ۶ میں ’’زنا بالجبر ‘‘ موجب حد کی جو تعریف اور جو احکام درج ہیں، انھی کو بحال کیا جائے لیکن نئے مسودے میں اس کے بجائے وہاں دوسری تعریف درج کی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں سولہ سال سے کم عمر لڑکی کو نابالغ قرار دے کر اس کی مرضی کو غیر معتبر قرار دیا گیا ہے، حالانکہ شرعاً بلوغ کے لیے علامات بلوغ (Puberty) کافی ہیں اور اس کے بعد اس کی رضامندی شرعاً معتبر ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک زنا آرڈیننس کی دفعہ ۶ کو جوں کا توں بحال کر دینا ضروری ہے اور اگرموجودہ دفعہ برقرار رہے تو مجوزہ مسودے کی دفعہ ۱۲۔اے کی ذیلی دفعہ v اس طرح بنائی جائے:
With or without her consent when she is nonadult
۳۔ مجوزہ مسودے کی دفعہ ۱۲۔بی کے ذریعے جرم زنا (نفاذ حدود) آرڈیننس ۱۹۷۹ میں دفعہ ۶۔اے کا اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو ہمارے نزدیک بالکل غلط ہے اور اس سے وہ متفقہ امور غیر موثر ہو جائیں گے جن پر ہماری نشست میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ تمام فوجداری قوانین میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ اگر ملزم پر بڑا جرم ثابت نہ ہو سکے تو وہی عدالت ملزم کو کمتر جرم کی سزا دے سکتی ہے، بشرطیکہ وہ کمتر جرم اس پر ثابت ہو جائے۔ لیکن نہ جانے کیوں جرم زنا بالجبر اور زنا بالرضا کو اس اصول سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر کسی خاتون نے ملزم کے خلاف زنا بالجبر موجب حد کا مقدمہ درج کرایا ہو لیکن عدالت کے سامنے موجب حد جرم ثابت نہ ہو سکا تو عدالت اس خاتون کی فریاد رسی کے لیے ملزم کو تعزیری سزا نہیں دے سکتی۔ اس کے لیے اس کو یا دوبارہ مقدمہ دائر کرنا ہوگا یا پھر ظلم پر صبر کر کے بیٹھ جانا ہوگا۔
لہٰذا ہمارے نزدیک آرڈیننس میں دفعہ ۶۔اے کا اضافہ کرنے کی جو تجویز دی گئی ہے، وہ قطعی غیر منصفانہ اور غلط ہے اور اسے حذف کرنا ضروری ہے اور اسے حذف کرنے کے نتیجے میں جرم زنا (نفاذ حدود) آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ کی پہلی Proviso کو بحال رکھنا بھی ضروری ہے جسے مجوزہ بل میں حذف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
۴۔ مجوزہ مسودے کے پیرا گراف نمبر ۳ میں ۲۰۳۔سی کا اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ا س کی ذیلی دفعہ ۲ میں استغاثہ درج کرانے کے لیے یہ شرط لگائی گئی ہے کہ مستغیث دو عینی گواہ پیش کرے۔ اول تو یہ تعزیری جرم ہے اور اس کے لیے مناسب یہ ہوتا کہ اسے قابل دست اندازی پولیس (Cognizable) قرار دے کر اس کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے کم از کم ایس پی کے درجے کے پولیس آفیسر کو تفتیش کا اختیار دیا جاتا اور عدالت کے وارنٹ کے بغیر گرفتاری کو ممنوع کر دیا جاتا، لیکن اگر کسی وجہ سے اس کو استغاثہ (Complaint) ہی کا کیس بنانا ضروری سمجھا جائے تو دو عینی گواہوں کی شہادت پیش کرنا یہاں غیر ضروری ہے کیونکہ تعزیر کے ثبوت کے لیے دو عینی گواہ ضروری نہیں ہوتے، بلکہ ایک قابل اعتماد گواہ یا قرائنی شہادت (Circumstantial Evidence) بھی کافی ہوتی ہے، لہٰذا ہماری نظر میں اس دفعہ میں At least two eye witnesses کے بجائے Evidence available as such لکھنا چاہیے۔
۵۔ جرم زنا (نفاذ حدود) آرڈیننس ۱۹۷۹ کی دفعہ ۷ کو زیر نظر مسودے سے حذف کر دیا گیا ہے۔ اس کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک جن امور پر اتفاق رائے ہوا تھا، ان کے موثر نفاذ کے لیے مندرجہ بالا پانچ ترامیم نہایت ضروری ہیں اور ان کے بغیر ان متفقہ امور کے غیر موثر ہو جانے کا قوی خدشہ ہے، لہٰذا مذکورہ اتفاق رائے کے بعد زیر نظر مسودے سے ہمارا اتفاق ان ترمیمات پر موقوف ہے۔ امید ہے کہ مسودے کو بامعنی بنانے کے لیے یہ ترمیمات مسودے میں شامل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ہم نے زیر نظر بل کے بارے میں شروع ہی میں عرض کیا تھا کہ اس کا نام تو تحفظ حقوق نسواں بل ہے مگر اس میں ساری بحث زنا آرڈیننس سے متعلق ہے اور خواتین کے حقیقی مسائل اور حقوق کو اس میں نہیں چھیڑا گیا۔ چنانچہ ہم نے خواتین کے حقیقی مسائل سے متعلق جو سفارشات پیش کی تھیں، ان کے بارے میں بھی ہم دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین‘‘
یہاں علما کی مذکورہ کمیٹی کے حوالے سے اس اعتراض کا تذکرہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حدود آرڈیننس میں مجوزہ ترامیم کی شرعی حیثیت کے حوالے سے اس کمیٹی سے رائے طلب کرنا آئینی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے ۔ یہ اعتراض مختلف حلقوں کی جانب سے سامنے آیا ہے اور محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے احتجاجی استعفا دیتے ہوئے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ تحفظ حقوق نسواں بل پر مشاورت کے لیے حکومت نے علماے کرام کی جو کمیٹی بنائی تھی، وہ ان کے نزدیک اسلامی نظریاتی کونسل کو بائی پاس کرنے کی ایک صورت تھی جس سے ان کے خیال میں ایک آئینی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے اور وہ اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت برقرار رکھنے میں کوئی افادیت نہیں سمجھتے۔ میں چونکہ اس ’’خصوصی علما کمیٹی‘‘ کا ایک ممبر ہوں، اس لیے اس وضاحت کا حق رکھتا ہوں کہ اسے خواہ مخواہ مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایم کیو ایم اور بعض دیگر حلقوں نے علما کی خصوصی کمیٹی کو قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے متوازی قرار دے کر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کمیٹی کے ذریعے قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کو بائی پاس کیا گیا ہے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ خود ہمارے ساتھ مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کے راہ نماؤں جناب فاروق ستار اور ان کے دیگر رفقا نے یہی بات کی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ علما کی یہ کمیٹی قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کی متبادل یا اس کے متوازی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات اور پراسس کی نفی کر رہی ہے۔ اسی طرح علما کی خصوصی کمیٹی کو مشورہ کے لیے بلانے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے دائرۂ کار یا اختیارات پر کوئی اثر نہیں پڑا اس لیے کہ جیسے ہماری کمیٹی قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے متوازی یا متبادل نہیں ہے، اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کے متوازی اور متبادل بھی نہیں ہے۔ ہم نے چودھری شجاعت حسین صاحب کے کہنے پر صرف ایک نکتہ پر اپنی رائے دی ہے اور انھی کے کہنے پر وزارت قانون کے اعلیٰ افسران کو اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم جو رائے دے رہے ہیں، قرآن وسنت کی تعلیمات کا منشا وہی ہے۔ اس سے زیادہ ہمارا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہماری رائے کو کوئی آئینی اور قانونی درجہ حاصل ہے۔ یہ بل ہماری رائے سمیت دوبارہ سلیکٹ کمیٹی میں جا سکتا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن صاحب کا یہ مطالبہ اخبارات میں آ چکا ہے کہ تحفظ حقوق نسواں بل کو علما کمیٹی کی سفارشات کے ساتھ سلیکٹ کمیٹی میں دوبارہ بھیجا جائے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس پر غور کر سکتی ہے او رمیری معلومات کے مطابق کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ حکومت اس کے پاس بل نہ بھی بھیجے تو وہ اپنے کسی رکن کی تحریک پر ایسا کر سکتی ہے۔ اس لیے اس کمیٹی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے متوازی قرار دے کر اسے احتجاجی استعفا کی بنیاد بنانا میرے خیال میں درست طریق کار نہیں ہے اور محترم جاوید احمد غامدی صاحب کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
حدود آرڈیننس کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ایک اجمالی رپورٹ مذکورہ سطور میں قارئین کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔ قارئین سے استدعا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے خصوصی اوقات میں اس دعا کا بطور خاص اہتمام فرمائیں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو دین کی سربلندی، قومی وحدت، ملکی سا لمیت اور ملت کی بہتری کے لیے باہمی افہام وتفہیم کے ساتھ بہتر فیصلوں کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں نظریہ ضرورت کا استعمال

پروفیسر محمد شریف چوہدری

طب کی اصطلاح میں ’’بحران‘‘ مرض کی شدت اور بیماری کے زور کو کہتے ہیں۔ (۱) گویا نازک حالت، تعطل اور "Crisis"کو بحران کہتے ہیں۔ بحران مختلف النوع ہوتے ہیں، جیسے انتظامی، عدالتی، معاشی اور سیاسی بحران وغیرہ۔ اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو، ادارے آئین کے مطابق کام نہ کر رہے ہوں، ملک میں ابتری، انتشار، بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت ہو، معاشرے میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوجائیں اور ملکی سا لمیت خطرے میں پڑ جائے تو ایسے بحران کو سیاسی بحران کہا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایسی مقتدر قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو پھر سے ملک کو آئین کے مطابق چلاسکے۔
آزادی کے بعد اس ملک میں متعدد سیاسی بحران آئے اور کسی نہ کسی طریقے سے ان تمام بحرانوں کو آئینی خلاؤں سے پر کرنے کی کوشش کی گئی۔
۱۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد نے ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ کو آئین ساز اسمبلی کو معطل کردیا۔ آئین ساز اسمبلی نے ۲۰ ستمبر ۱۹۵۴ کو پروڈا *((PRODA کو منسوخ کردیا تھا۔ منسوخ شدہ ایکٹ کے تحت حکومت کو بدعنوان وزرا اور سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل تھا۔ اس کے ایک روز بعد اسمبلی نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵کی دفعات۹، ۱۰، ۱۰۔اے، اور ۱۰۔بی کو منسوخ کردیا۔ ان دفعات کے تحت گورنر جنرل کابینہ توڑ سکتا تھا۔ اسمبلی کے ان اقدامات کا مقصد گورنر جنرل کے اختیارات کو محدود کرنا تھا تاکہ وہ ماضی کی طرح کابینہ نہ توڑ سکے اور خواجہ ناظم الدین والی داستان نہ دہرائی جائے۔ یہ سب کچھ گورنر جنرل کے علم میں لائے بغیر ایسے وقت میں کیا گیا جب وہ دارالحکومت سے باہر تھے۔ مذکورہ آئینی ترمیم کو اسمبلی میں منظور کروانے کے لیے غیر معمولی عجلت سے کام لیا گیا اور ایک دن کے اندر اندر منظور ہو نے والی یہ ترمیم اسی روزگزٹ میں بھی شائع کردی گئی۔ یہ اقدام انتقامی کارروائی کے مترادف تھا۔ گورنر جنرل فوری طورپر کراچی واپس پہنچے اور انہوں نے بیزار وبدگمان رائے عامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی کے خلاف اقدام کرنے کافیصلہ کرلیا۔ چنانچہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴کو ایک حکم نامے کے ذریعے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرکے اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا گیا۔ (۲)
ڈیڑھ برس کے مختصر عرصے میں غلام محمد کی طرف سے کیا جانے والا یہ دوسرا اقدام تھا۔ (اس سے پیشتر وہ خواجہ ناظم الدین کی کا بینہ توڑ چکے تھے)۔ غلام محمد کے ان دونوں اقدامات نے ملک میں جمہوری اداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ (۳) 
تحلیل کی جانے والی دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین نے گورنر جنرل کے اس اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ انہوں اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ آزادی ہند ایکٹ مجریہ ۱۹۴۷کی دفعہ ۶ کی ذیلی دفعہ ۳ کی روسے قانون سازی کے لیے گورنر جنرل کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ مولوی تمیزالدین نے برطانیہ کے ایک وکیل مسڑ ڈی این پرٹ * کو بھی اپنی معاونت کے لیے بلایا۔ چیف کورٹ آف سندھ کے فل بنچ نے مقدمے کی سماعت کی اور متفقہ طور پر گورنر جنرل کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ فل بنچ نے لکھا:
’’آئین ساز اسمبلی ایک خود مختارادارہ ہے۔ اور یہ کہ اسے اس وقت تک نہیں توڑا جاسکتا جب تک کہ وہ مقصد، جس کے لیے اسمبلی وجودمیں آئی تھی، حاصل نہ کرلیا جائے۔‘‘ (۴)
چیف کورٹ آف سندھ کے فل بنچ کے فیصلے کے خلاف وفاقِ پاکستان نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کردی جس نے طویل سماعت کے بعد گورنر جنرل کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت میں فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس نے قرار دیا:
’’وہ واحد بنیاد جس پر غیر قانونی امور کو قانونی قرار دیاجا سکتا ہے، وہ ضرورتِ حالات ہے۔ .... گورنر جنرل نے ایک فوری تباہی کو روکنے کے لیے، ریاست اور معاشرے کو سقوط سے بچانے کے لیے یہ عمل کیا۔ ‘‘ (۵)
جسٹس منیر نے قرار دیا:
’’یہ امر واضح ہے کہ آزادی ایکٹ ۱۹۴۷ اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی روسے پاکستان کو جو عبوری آئین ملا، دستور ساز اسمبلی کو ایک قانون کے ذریعے اسے عبوری آ ئین میں تبدیل کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ لہٰذایہ استدلال بے معنی ہے کہ دستور ساز اسمبلی کو غیر معینہ مدت تک فرائض انجام دینے کا اختیار مل گیاہے۔ اس ادارے کو مستقل حیثیت حاصل نہیں اور وہ قابل تحلیل ہے۔ آزادی ایکٹ کے سیکشن ۸کے سب سیکشن (i) کے تحت دستور ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایکٹ کی رو سے عائد ہونے والے فرائض انجام دے۔ اس ایکٹ میں اسمبلی کو دائمی حیثیت نہیں دی گئی ۔ گورنر جنرل کو جب یہ باور ہو گیا کہ دستور ساز اسمبلی ملک کو آئین دینے میں ناکام ہوگئی ہے تو اسمبلی توڑنے کا اختیار ، جو اس سے پہلے التوا میں رکھا گیا تھا، دوبارہ مؤثر ہو گیا۔ آزادی ایکٹ کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ دستور ساز اسمبلی، آئین کی تیاری کی آڑ میں ریاست کی مقننہ کے طور پر غیر معینہ عرصے کے لیے فرائض انجام دیتی رہے، یہاں تک کہ اسے انقلاب کے ذریعے ہٹانا ضروری ہو جائے۔‘‘ (۶)
۲۔ پاکستان کے وزیر اعظم چودھری محمد علی ملک کے لیے ایسا دستور تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ۲۳مارچ ۱۹۵۶ کونافذ ہو گیا، مگراس وقت کے سیاستدانوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیے جن کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
ملک میں عوامی لیگ اور ری پبلکن کی مخلوط حکومت قائم ہوئی، مگر یہ حکومت ایک سال سے زیادہ عرصہ برسراقتدار نہ رہ سکی۔ اس کے بعد ملکی سیاست میں جوڑ توڑ اور عدم استحکام کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ فلور کراسنگ* کا معاملہ اتنا عام تھاکہ ہر نئی وزارت کچھ عرصے بعدہی عدم استحکام کا شکار ہو کر دم توڑ جاتی۔ ایک طرف خان عبدالقیوم خان (مسلم لیگ کے نو منتخب صدر) نے زورو شور سے صدر سکندر مرزا کی مخالفت شروع کر دی اور دوسری طرف ون یونٹ کے خلاف اور علاقائی خود مختاری کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ سیاست کی اس غیر یقینی کیفیت نے ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امنِ عامہ کی صورتِ حال کو بھی متاثر کیا۔ چنانچہ ملک کی اس بحرانی کیفیت میں ۸؍اکتوبر ۱۹۵۸ کو سکندر مرزا کی صدارت میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا اورایوب خان چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ اس اعلان سے وزارتیں اور اسمبلیاں ختم ہو گئیں۔ جنرل محمد ایوب خان نے۱۰؍ اکتوبر ۱۹۵۸کو کہا:
’’انجام کار یہ ذمہ داری ہمیشہ فوج پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کرے۔‘‘ (۷)
۲۷؍ اکتوبر ۱۹۵۸کو جنرل محمد ایوب خان نے ملک کی زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لی اور سکندر مرزا کو ہٹاکر خود صدر بن گئے۔ ۳۰؍ اکتوبر کو جنرل ایوب خان نے بیان دیا:
’’ لوگ اس بات پر مضطرب تھے کہ اگر تمام اختیارات دو افراد کے پاس رہے تو پالیسی میں ابہام کاامکان پیدا ہوتا رہے گا۔‘‘ (۸)
ایوب خان کے اس مارشل لا کو دو سو ((Dosso کیس میں چیلنج کر دیا گیا۔ مقدمے کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ جب ملک میں کوئی بدامنی نہیں تھی تو مارشل لا کا کوئی جوازنہ تھا، لیکن مسڑمحمد منیر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے جنرل ایوب خان کے اس اقدام کو قانونِ ضرورت Law of Necessity)) کے تحت قانونی حیثیت دے دی ۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا :
’’ ایک جیتا ہوا انقلاب یا کامیاب تختہ الٹنا بین الاقوامی طور پر آئین تبدیل کرنے کا تسلیم شدہ قانونی طریقہ ہے۔ قانون کی اس شاخ کی تعریف سول یا ریاستی ضرورت ہے۔ ..... ایک کامیاب فوجی انقلاب از خود ایک نیا نظام قانون ہوتا ہے۔ جج اور عدالتیں اس نئے قانون کی پابند ہوتی ہیں، لہٰذا اس کے خلاف عدالت کسی رٹ کی سماعت نہیں کرسکتی۔‘‘ (۹)
۳۔ ۲۵مارچ ۱۹۶۹ کو صدر ایوب خان نے صدارت سے استعفا دے کر ملک کا نظام چلانے کے لیے اقتدارجنرل یحییٰ خان کو سونپ دیا جنہوں نے آتے ہی ملک میں ایک بار پھر مارشل لا نافذ کردیا اور مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں اور وزارتیں توڑدیں۔ آرمی چیف جنرل عبد الحمید خان ،وائس ایڈمرل ایس ایم احسن اور ایئر مارشل نور خان نے اپنے عہدوں کے علاوہ نائب ناظمین اعلیٰ مارشل لا کے عہدے سنبھال لیے ۔ مغربی پاکستان میں جنرل عتیق الرحمن اور مشرقی پاکستان میں جنرل مظفر الدین کو گورنر مقرر کردیا گیا۔ (۱۰)
۲۶ مارچ کو چیف مارشل لا ایڈمسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے کہا کہ آئینی حکومت کی بحالی کے لیے وہ ساز گار ماحول مہیا کریں گے۔ مغربی پاکستان کو ۷ زونوں میں تقسیم کردیا گیا۔ پورے ملک میں صدر ایوب خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوگئی۔ (۱۱)
۳۱مارچ کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے ۲۵ مارچ سے صدر مملکت کا عہدہ سنبھا ل لیا۔ (۱۲)
مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے حکم کے تحت ملک غلام جیلانی ، ممبر قومی اسمبلی اور مسڑ الطاف گوہر، ایڈیٹر انچیف روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی کو ۲۲دسمبر ۱۹۷۱ کو گرفتار کرلیا گیا اور ۵ فروری ۱۹۷۲ کو انہیں نظر بند کردیا گیا۔ اس پر مس عاصمہ جیلانی دختر ملک غلام جیلانی اور زرینہ گوہر زوجہ الطاف گوہر نے ان کی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ مذکورہ خواتین اپنا مقدمہ سپریم کورٹ میں لے گئیں اور ایک ہی طرح کی دو رٹ پیٹشنز میں عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب و دیگر میں سپریم کورٹ نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کو ناجائز قرار دے دیا۔چیف جسٹس حمود الرحمن نے دوسو کیس میں پیش کردہ کیلسن کے نظر یے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا:
’’ میں فاضل چیف جسٹس (محمد منیر ) کا مکمل احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے کیس کے نظریہ کی تاویل میں اور اپنے سامنے پیش آمدہ حالات و واقعات پر اس کے انطباق میں غلطی کی۔ انہوں نے جس اصول کو پیش کیا، اسے بالکل حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ....مارشل لا کے نفاذ کا تقاضایہ نہیں کہ غیر فوجی عدالتیں بند ہو جائیں اور غیر فوجی (سیاسی) حکومت کا اختیار ختم ہو جائے۔ .... یہ کہنا درست نہیں کہ مارشل لاکے اعلان کے ساتھ ہی از خود لازماً مسلح افواج کے کمانڈرکو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اس دستور کو منسوخ کر دے جس کا تحفظ اس کا فرض تھا۔‘‘ (۱۳)
۴۔ ۱۹۷۳ کا آئین پاکستان کے تمام صوبو ں کا متفقہ آئین تھا اور اسے قومی اسمبلی میں موجود ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا تھا۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے۔بعد میں ان کی حکومت کی کارکردگی اور بعض پالیسیاں بڑی حد تک آئین سے متصادم رہیں جس کی وجہ سے ملک کی سیاسی وجمہوری فضا مکدر ہو گئی۔ ۱۹۷۳کے آئین کے تحت پہلے عام انتخابات مارچ ۱۹۷۷ میں منعقد ہوئے۔ حکمران جماعت (پاکستان پیپلز پارٹی) پر انتخابات کے نتائج کااعلان کرنے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں زبردست احتجاجی تحریک چلی جس کی وجہ سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ کئی ماہ پر محیط عوامی احتجاج اور حکمرانوں کے سخت رویے نے ملک کو ایک سنگین سیاسی بحران سے دوچار کردیا تو اس وقت کے بری فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۳کے آئین کو معطل کرکے ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ (۱۴)
آئین کی رو سے فوجی حکمران پر آئین توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا سکتا تھا، اس لیے فوجی حکمران نے انقلاب کے آغاز میں یقین دلایا کہ آئین کو منسوخ نہیں بلکہ اسے وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اس میں ضروری ترمیم کی جائے گی - (۱۵)
بیگم نصرت بھٹو نے آئین کی خلا ف ورزی پر فوجی حکمران کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔
سپریم کورٹ نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۷ء کو اپنے فیصلے میں بیگم نصرت بھٹو کی طرف سے دائرکردہ حبس بے جا کی درخواست متفقہ طور پر مسترد کردی۔ اس طرح ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو نافذ ہونے والے مارشل لا کو آئینی ضرورت قرار دیتے ہوئے ایک ’’مؤ ثر العمل ‘‘ حکومت قرار دیا۔ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد انوار الحق نے اپنے فیصلے کے آخر میں لکھا:
’’عدالت واشگاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرکے اقدام کو جائز قرار دیتی ہے۔ اور یہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس نے گھمبیرماورائے آئین قسم کے قومی اور آئینی بحران کے موقع پر ملک کو بچایا بلکہ اس کی طرف سے ایک سنجیدہ وعدہ بھی کیا گیا کہ آئینی تعطل کو جتنا جلد ممکن ہو سکا، ختم کردیا جائے گا۔‘‘(۱۶)
۵۔ ۱۹۸۸ء میں جنرل محمدضیاء الحق نے اپنے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجوکو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی توڑدی۔
۲۹ مئی ۱۹۸۸ کو جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کرکے قوم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ جونیجو حکومت کو ختم کیا جارہا ہے اور قومی اسمبلی کو آئین کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کے تحت تحلیل کیا جا رہا ہے۔ صدر کا موقف یہ تھا کہ قومی اسمبلی اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نفاذ اسلام کی کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوسکی اور پاکستان کے عوام کے جان ومال کا تحفظ بھی نہیں کیا جاسکا۔ (۱۷)
جنرل محمد ضیاء الحق نے ۳۰ مئی ۱۹۸۸ کو ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مکمل طور پر سیا سی دباؤ کا شکار ہو چکے تھے جس سے کرپشن، اقربا پروری اور بدنظمی عام ہوئی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال بگڑگئی۔ (۱۸)
جب تک صدر ضیاء الحق بقید حیات رہے، کسی نے بھی حکومت کو برطرف کرنے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج نہ کیا۔
۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء کو صدر ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تو یہ معاملہ عدالتوں میں اُٹھایا گیا ۔چنانچہ حاجی سیف اﷲکیس میں عدالت عالیہ لاہورنے ۲۷ ستمبر ۱۹۸۸کو اپنے فیصلے میں لکھا کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی جو وجوہات بیان کی گی تھیں‘ وہ اتنی غیر واضح‘ سطحی اور ناپید تھیں کہ قانون کی نظرمیں ان احکامات کی کوئی حیثیت نہیں بنتی۔ (۱۹) 
لاہور ہائی کو رٹ نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا ۔تا ہم حالات و واقعات کے تناظر میں تحلیل شدہ اسمبلیوں کو بحال نہ کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ اب جمہوری عمل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔لہٰذ ا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پروگرام کے مطابق ۱۶نومبر ۱۹۸۸ء کو ہوں گے اورمنتخب نمائندوں کو آئین کے مطابق اقتدار منتقل ہوگا۔ (۲۰)
۱۵؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ملک کی عدالت عظمیٰ نے حکومت اور حاجی سیف اللہ کی طرف سے دائر کردہ ایک ہی طرح کی متعدد اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بحال رکھا اور قراردیا کہ آئین اور قانون کے مطابق قومی امور کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں ہمیشہ ملک کے مفاد کو مقدم رکھتی ہیں، کیونکہ نجی مفادات اور انفرادی حقوق پر قومی مفادات کو ترجیح دینا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں تو عوام کو آئین میں دیے گئے حقوق کے مطابق جماعتی بنیادوں پر قومی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندگان منتخب کرنے کی اجازت دینا بہت ضرروی ہے۔ (۲۱)
۶۔ نومبر ۱۹۸۸ میں ملک میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں ا کثریت حاصل کر لی۔ اس طرح ا کثریتی سیاسی جماعت کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے انھوں نے ۲دسمبر ۱۹۸۸ء کوبحیثیت وزیر اعظم پاکستان حلف اٹھایا ۔ بے نظیر بھٹو کو مرکز میں ایک مضبوط حزبِ مخالف کا سامنا تھا۔ ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حزب مخالف کی حکومت تھی۔ وفاق اور صوبہ پنجاب کی حکومت کے مابین جلد ہی اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ حزب مخالف نے حکومت کی اس شدت سے مخالفت کی کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اسمبلی کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بدعنوانی کا سلسلہ شروع کردیا۔ حزب مخا لف نے بھی ایسے ہی کیا۔ اسے ’’ ہارس ٹریڈنگ ‘‘ کا نام دیا گیا۔ عوام الناس نے اس کام کی مذمت کی اور بیرونِ ملک یہ عمل تضحیک کا باعث بنا۔ اس طرح دنیابھر میں ملکی وقار کو سخت دھچکا لگا۔ (۲۲)
حکومت کی برطرفی اور اسمبلیوں کی تحلیل کے خلاف خواجہ احمد طارق رحیم نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کردی۔ بحث کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جن الزامات کے تحت اسمبلی توڑی گئی ہے، ان کا آئین کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ مقدمہ کی سماعت کے بعد ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء کوسپریم کورٹ نے حکومت بحال کرنے کی یہ درخواست مسترد کردی اور یہ فیصلہ دیا کہ حکومت کی برطرفی دفعہ ۵۸۔۲ (بی)کے مطابق ہو ئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں حکو متی برطرفی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت آئین کے مطابق کام نہیں کررہی تھی، وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کے اندرونی معاملات میں غیر آئینی مداخلت کی، سینٹ اور اعلیٰ عدالتوں جیسے باوقار اور اہم اداروں کا عوام میں تمسخر اڑا یا گیا، سیکرٹ سروس فنڈز کے کروڑوں روپے قومی اسمبلی کے ارکان پر خرچ کردئے گئے اور تحریک عدم اعتماد کے موقع پر PAFاور PIA کے جہازوں کا غیر قانونی استعمال کیا گیا اور سول سروس میں میرٹ کے بغیر بھرتیاں کی گئیں اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ عدالت نے تحریر کیا:
’’محولہ بالا حقائق کی روشنی میں صدرِ پاکستان حق بجانب تھے کہ دستور کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کا براہ راست استعمال کرتے۔‘‘ (۲۳)
۷۔ ۱۹۹۳ میں قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے ضمن میں جو واقعات رونما ہوئے، وہ ذیل میں بالا ختصار بیان کئے جاتے ہیں۔وزیراعظم دائیں بازو کے اتحاد کے سربراہ تھے جو ۱۹۹۲ء کے آخر تک کمزور ہو چکا تھا۔ اتحاد کے کئی ارکان نے قومی اسمبلی کے سپیکر کے نام استعفے لکھ کر انہیں صدر پاکستان تک پہنچا دیا۔ اخبارات میں ان استعفوں کی خوب تشہیر ہوئی۔ اس سے وزیر اعظم شدید اعصابی تناؤ کا شکار ہو گئے۔ ان حالات میں ۱۷؍ اپریل ۱۹۹۳ کو انہوں نے قوم سے خطاب کیا اور ملک کے سیاسی حالات میں بگاڑ کا ذمہ دار صدر کو ٹھہرایا اور اعلان کیا کہ وہ استعفا نہیں دیں گے، اسمبلیاں نہیں توڑیں گے، اور ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔
اس تقرر پر صدر نے بڑے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اگلے ہی روز یعنی ۱۸؍ اپریل کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ صدر نے بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا۔
اس طرح پاکستان کے عوام نے محسوس کر لیا کہ صدر کو حاصل اختیارات کی موجودگی میں صدر اور پارلیمانی نظامِ جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اس سوچ کی وجہ سے لوگوں کی ہمدردیاں معزول وزیر اعظم کے ساتھ ہوگئیں
معزول وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل ۱۸۴ (۳) کے تحت صدر کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
صدرِ پاکستان نے نواز شریف حکومت پر جو بڑے بڑے الزامات عائد کئے تھے ان میں پیداواری وسائل پر چند من پسند افراد کی اجارہ داری، اندھا دھند اقربا پروری مشترکہ مفادات کی کونسل کا عضو معطل بن کر رہ جانا، قومی مالیاتی کمیشن کی ناقص کارکردگی اور ناکام خارجہ پالیسی شامل تھے۔ (۲۴) تاہم عدالت نے قرار دیا کہ صدر پاکستان نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۲ کے اپنے خطاب میں حکومتی معاملات کی تعریف کی جبکہ ۱۸؍اپریل ۱۹۹۳ ء کو حکومتی معاملات کی تنقیص کی ۔ اس طرح صدر کے خطابات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ (۲۵) یوں عدالت نے نواز شریف حکومت کو بحال کر دیا۔
۸۔ ۵ نومبر ۱۹۹۶ء کو صدر مملکت فاروق احمد لغاری نے دستور کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کا استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو حکومت کو ختم کردیا۔ قومی اسمبلی توڑدی اور ملک معراج خالد کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کردی۔بے نظیر بھٹو کی حکومت دوسری مرتبہ تحلیل کیے جانے کی وجوہات میں سے عدلیہ کے ساتھ چپقلش اور خصوصاً چیف جسٹس آف پاکستان کی ناراضی ، صدر مملکت کے ساتھ بے نظیر بھٹو اور اس کے خاوند آصف زرداری کااہا نت آمیز سلوک ، حکمران جوڑے کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اور بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی زیادہ اہم تھیں۔
علاوہ ازیں ملک بھر میں لاقانونیت کا اس قدر دور دورہ ہو گیا کہ وزیر اعظم کے حقیقی بھائی پر مرتضٰی بھٹو کو پولیس نے ان کے آٹھ ساتھیوں سمیت اس وقت گولیاں مارکر ہلاک کردیا جب وہ اپنے گھرسے چند میڑ کے فاصلے پرتھے۔ وزیراعظم کی طرف سے اس خون ریزی کی پشت پناہی کا الزام صدر اور دیگر اہم اداروں پر لگا یا گیا۔
اس کے علاوہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتظامیہ اور عدلیہ کے بعض افسران کو ان کے عہدوں سے مقررہ مدت کے اندر تبدیل نہ کیاگیا،عدلیہ کے بعض ججوں، اعلی فوجی اور سول افسران کی ٹیلی فون کا لز غیر آئینی طور پر ٹیپ کی گئیں، رشوت ستانی اس حد تک بڑھ گئی کہ ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ (۲۶)
۵ نومبر ۱۹۹۶ ء کے صدر پاکستان کے اقدام کو برطرف وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سات ججوں پر مشتمل عدالت کے فل بنچ نے صدر فاروق احمد لغاری کی طرف سے سابقہ وزیر اعظم پرلگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا۔صد ر نے اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کیے۔ عدالت نے بے نظیر بھٹو کے وکیل مسٹراعتزاز احسن کے اس موقف کو قبول نہیں کیا کہ قومی اسمبلی توڑنے کے لئے آرٹیکل ۵۸۔۲ (بی) صرف اسی ضرورت میں استعمال ہوسکتاہے جب حالات اس قدر خراب ہو جائیں کہ ملک میں مارشل لاء لگنے کا امکان پیدا ہوجائے۔ مختلف جج صاحبان کے تقرر کے سلسلے میں آئین کے آرٹیکل ۱۹۰ اور ۲۔اے سے صرف نظر کرنے کے بارے میں خاصا مواد پیش کیا گیا۔ پھر جج صاحبان کے بارے میں بھی صدر نے وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر میں تضحیک آمیز رویے کے بارے میں خاصا مواد مہیا کیا، تاکہ جج صاحبان کے لیے خوف وہراس پیدا کیاجائے۔ پھر پارلیمنٹ میں پندرہویں ترمیم کابل پیش کیا ،تاکہ جج صاحبان سے جوابدہی کی جاسکے اور انہیں جبری رخصت پر فارغ کیا جاسکے ، بشرطیکہ بل پندرہ فیصد ارکان کی طرف سے پیش کیا جائے۔عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل طور علیحدہ کرنے کے اقدام کو بھی جان بوجھ کر مؤخر کیا گیا اور انتظامیہ کے مجسڑیٹوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ ملزموں کو تین سال تک قید کی سزا دے سکیں گے جو انصاف کے منافی تھا۔ 
عدالت نے کہا کہ اس بات کا کافی ثبوت عدالت موجود ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان، سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں ، ملٹری اور سول سروس کے اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کیں اور اس مواد کا مسودہ برائے مطالعہ مدعیہ کوبھی مہیا کیا گیا۔
مدعیہ کے خلاف بدعنوانی، اقراباپروری اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر مشتمل کافی مواد مہیا کیا گیا۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ کو عدالت نے قرار دیا کہ درج بالا وجوہات کی بنا پر ۵ نومبر کے صدر کے قومی اسمبلی کے تحلیل کرنے کے اقدام کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور اس اقدام کے خلاف مدعیہ کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔ (۲۷)
۹۔ ۱۹۹۷ء کے عام ا نتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کے سربر اہ میاں نو از شریف ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔میاں نواز شریف نے حصول اقتد ار کے ساتھ ہی جمہوریت کے خول میں مطلق العنان حکمرانی کے لیے اقدامات شروع کر دیے اور کئی ایسے اقدامات کیے جن سے قومی معیشت تباہی کی طرف رواں دواں ہو گئی۔ ملک میں کر پشن عام ہوگئی اور حکمران جماعت کے ارکان کی اکثریت اس برائی میں پیش پیش تھی۔تھوڑے ہی عرصے میں عوام خود کوبے اطمینانی اور انتشار کے ماحول میں محسوس کر نے لگے ۔
میاں نواز شریف نے اپنی ذات میں اختیارات کے ارتکاز کے عمل کو جاری رکھااور اسی تسلسل میں انہوں نے آرمی چیف جنرل پر ویزمشرف کو برطرف کردیا (جو اس وقت سری لنکا کے دورے پر تھے) اور سینیارٹی کے اصول کو ملحوظ رکھے بغیر جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔بری فوج کے سینئرجنرلز نے وزیر اعظم کے اس اقدام کو سخت نا پسند کیااور نئے آرمی چیف کے تقررکو مسترد کر دیا۔ اسی اثنا میں ہنگامی طور پر جنرل مشرف سری لنکا کے دورے سے واپس آگئے اور انہوں نے ردِعمل کے طور پر ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو دیگر آرمی آفیسرز کے تعاون سے نواز شریف حکومت کوختم کر دیا۔ وزیراعظم ،ان کے مقرر کردہ آرمی چیف جنرل ضیاء الدین، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور ان کے کئی دیگر معتمدساتھیوں کو اپنی حراست میں لے لیا گیا۔ ۱۴؍اکتوبر کو فوج کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا:
’’نواز شریف طویل عرصے سے فوج کے خلاف منظم سازشوں میں مصروف تھے۔جنرل مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور سازش کے تحت جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف قرار دیا گیا۔‘‘ (۲۸) 
و ز یر ا عظم نو ا ز شر یف کی حکو مت کے خاتمے پر ا ن کے نما ئند ے ظفر علی شا ہ نے مسلح افو ا ج کے اقدام کے خلا ف سپریم کو رٹ میں رٹ دائر کر دی ۔ اس وقت ملک میں ہنگامی حالت نافذ تھی ۔اعلیٰ عدالتوں اور عدلتِ عظمیٰ کے منصفیں (Judges) کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ ۱۹۹۹ کے نئے PCO No.1*کے تحت نئے سرے سے حلف اٹھائیں کیونکہ ۱۹۷۳ کے آئین کے بعض حصے معطل کر دیے گئے تھے جس کے تحت وہ اس سے قبل کام کر رہے تھے ۔ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی افادیت کی وضاحت یوں کی گئی کہ ملک میں بدامنی تھی اور عوام میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی تھی اور مسلح افواج کے سربراہ کے بقول ملکی حالات سدھارنے کے لیے ۱۹۷۳ کا آئین ناکام ہوچکا تھا ۔ اس لیے درج بالا نئے ضابطے کی ضرورت پیش آئی ۔ اس ضابطے میں بعض انسانی حقوق سلب کر لیے گئے جو ۱۹۷۳کے آئین میں عوام کو حاصل تھے۔ سابق وزیر اعظم کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو رٹ دائر کی گئی وہ منظو ر تو کر لی گئی مگر منصفین حضرات PCO No.1,1999کے تحت آزاد انہ فیصلے کرنے سے عاجز تھے ۔ 
PCONo.1,1999کے نفاذ کے بعد عدلیہ کے سامنے تین راستے تھے : 
۱۔ تمام منصفین حضرات اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں اور ہر پاکستانی شہری کو جو انصاف کسی بھی ذریعے سے ملتا ہے ، اس کا راستہ بند کر دیا جائے ۔ 
۲۔ نئی حکومت کے احکامات کو مانتے ہوئے، وزیر اعظم کے عہد ے کی بحالی کے لیے دائر کر دہ رٹ یا اسی طرح کی کسی دوسری رٹ کو مسترد کردیاجائے ۔ 
۳۔ معروضی حالات میں رٹ منظو ر کر لی جائے اور باقی ماندہ عدالتی ادا رتی اقدام کو بچا لیا جائے۔(۲۹) 
ان پیش آمدہ حالات میں ملکی مفادات اور عوام کے باقی ماندہ حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے اکثر منصفین حضرات نے طے کیا کہ1999 ء PCO NO.1کے حکم کے تحت نئے سرے سے حلف اٹھایا جائے تاکہ مستقبل میں جہاں تک ممکن ہو سکے جمہوری اداروں کی بحالی کے لئے کوشش جاری رکھی جائے ۔ اس سطرح نئے حلف کے تحت منصفین حضرات فوجی حکمران کے احکامات ماننے پر مجبور تھے ۔اس طرح نظرےۂ ضروریات کے تحت عدالت عظمیٰ کے منصفین حضرات نے یہ قرار دیا کہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ ء کو جو صو رت حال پیش آئی، ۱۹۷۳ کا آئین اس کا کوئی حل پیش نہیں کر سکا تھا، ا س لیے مسلح افواج نے ماورائے آئین ملکی سیاسی امور میں جو مداخلت کی ،وہ ناگزیرتھی۔ عدالت نے کہا کہ ۱۹۷۳ کا آئین بڑے قانون کی صورت میں اب بھی موجود ہے تاہم اس کے بعض اجزا ملکی ضرورت کے لیے منسوخ ہیں اور یہ کہ ملک کی اعلٰیٰ عدالتیں آئین کے تحت کام کر تی رہیں گی ۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ سپر یم کورٹ کے جج صاحبان نے ۲۰۰۰ کے حکم نمبر ۱کے تحت حلف اٹھایا ہوا ہے جس کی وجہ سے جج صاحبان اس حکم سے انحراف کرتے ہوتے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ۔اگر چہ عدالتیں بنیادی طورپر ۱۹۷۳ کے آئین کے تحت ہی قائم کی گئی تھیں، تاہم گاہے گاہے چیف ایگزیکٹو دیگر عدالتی وقانونی احکامات بھی صادر کر تے رہتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ جنرل پر ویز مشرف، جوکہ چیف آف آرمی سٹاف اور جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چےئرمین ہیں، آئینی عہدے کے حامل ہیں ،ان کی واضح اور آمر انہ طور پر بر طرفی جو سینیارٹی کے حوالے سے بے قاعدہ تھی، غیر قانونی ہو گئی ہے۔ عدالت نے مذکورہ معالات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے چیف ایگز یگٹو کو فوج کی مداخلت کے دن یعنی ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ سے لے کر تین سال کا عرصہ دیا تاکہ وہ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کر لیں ۔
عدالت نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو کو ایک تاریخ مقرر کرنا ہو گی جو اوپر بیان کردہ تین سال کی مدت کے بعد ۹۰ دن سے زیادہ کی تاخیرسے نہ ہو، تاکہ اس تاریخ کو قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے عام انتخابات کرائے جائیں ۔ (۳۰)

حوالہ جات

(۱) لویئس معلوف ، المنجد، ص ۲۵
(۲) (PLD 1955, Vol VII, Page 142, 143 (Sind و صفدر محمود ، ’’پاکستان۔ تاریخ و سیاست‘‘،ص 53،54
(۳) صفدر محمود ، ’’پاکستان۔ تاریخ و سیاست‘‘،ص 54
(۴) PLD 1955 V. II, 106 Sind
(۵) Ibid
(۶) PLD 1955 FC 435 Vol. 1 
(۷) سید نور احمد ’’،مارشل لا سے مارشل لا تک‘‘،ص۵۱۹
(۸) ایضاً، ص ۵۲۲
(۹) PLD 1958 SC 533 Vol 1
(۱۰، ۱۱، ۱۲) رضی الدین رضی، ’’پاکستان، ۵۳ سال‘‘، ص ۴۴۹، ۴۵۰
(۱۳) PLD 1972, SC 130, 183, 187, 190
(۱۴) Dr. Tanzeel-ur-Rahman, "Islamization of Pakistan Law", P.4
(۱۵) اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۷ جولائی ۱۹۷۷
(۱۶) PLD 1977, vol. xxlx SC 725
(۱۷) The Daily Dawn, Karachi, 30 May 1988
(۱۸) Ibid, 31 May 1988
(۱۹) PLD 1988 Lahore 725
(۲۰) Ibid
(۲۱) PLD 1989 SC 166
(۲۲) عابد تہامی، ’’انتخابات ۱۹۹۰ کا وائٹ پیپر‘‘ ص ۲۳
(۲۳) PLD 1990 Lahore 507
(۲۴) PLD 1993 SC 753
(۲۵) PLD 1993 SC 894
(۲۶) زاہد حسین انجم، ’’الیکشن ۱۹۷۷‘‘، ص ۲۹ تا ۳۷
(۲۷) PLD 1998 SC 471
(۲۸) روزنامہ جنگ لاہور، ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۹، روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۹
(۲۹) PLD 2000 Part II SC 1215
(۳۰) PLD 2000 Part II SC 1213, 1214

حواشی

* PRODA: Public and Representative Offices Disqualification Act, 1949

غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں شائع شدہ روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے مضمون میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں ایک سوال غلامی کے بارے میں بھی ہے جس میں انھوں نے انتہائی استہزا اور تمسخر کے انداز میں اسے موضوع بحث بنایا ہے، تاہم چونکہ یہ بھی ایک اہم سوال ہے جو جدید تعلیم یافتہ ذہنوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے، اس لیے ا س کے بارے میں کچھ ضروری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔
غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید وفروخت ہوتی تھی، انھیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں ہزاروں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ غلامی کے جواز اور عدم جواز پر امریکی دانش وروں میں صدیوں تک بحث جاری رہی حتیٰ کہ شمال اور جنوب کی تاریخی خانہ جنگی کے اسباب میں بھی ایک اہم مسئلہ غلامی کا تھا۔ یہاں تک کہ ۱۸۶۵ء میں امریکہ میں قانونی طور پر غلامی کے خاتمہ کا فیصلہ کیا گیا۔ برازیل میں ۱۸۸۸ء میں غلامی کو ممنوع قرار دیا گیا۔ نیپال نے ۱۹۲۶ء میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا اور ۱۹۴۹ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا بھر میں غلامی کی مکمل ممانعت کا اعلان کیا جس کے بعد اب دنیا میں غلامی کی کوئی صورت قانونی طور پر باقی نہیں رہی۔
قدیم دور میں غلامی کی دو صورتیں ہوتی تھیں۔ ایک یہ کہ کسی بھی بے سہارا شخص کو طاقت ور لوگ پکڑ کر قیدی بنا لیتے تھے اور پھر اسے غلام بنا کر بیچ دیتے تھے، جیسا کہ ابتداے اسلام میں حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔ دونوں آزاد گھرانوں کے آزاد افراد تھے، لیکن سفر کی حالت میں انھیں تنہا پا کر کچھ لوگوں نے قیدی بنا لیا اور غلام کی حیثیت سے آگے فروخت کر دیا۔ یہ غلامی ان حضرات کے لیے خوش قسمتی کا باعث بنی کہ ایک مکہ مکرمہ میں اور دوسرے مدینہ منورہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور بالآخر آزادی کے ساتھ ساتھ دونوں صحابیت کے شرف سے بھی ہم کنار ہوئے۔ اسے ’’بیع الحر‘‘ یا آج کی اصطلاح میں ’’بردہ فروشی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسلام نے اس کی مکمل ممانعت کر دی اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی آزاد شخص کو غلام بنانے یا اسے فروخت کرنے کو قطعی طور حرام قرار دے دیا، جبکہ مغربی ممالک میں یہ بردہ فروشی اس کے بعد ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جاری رہی اور اسے قانونی تحفظ حاصل رہا۔ 
غلامی کی دوسری صورت یہ تھی کہ باہمی جنگوں میں جو لوگ قیدی بنتے تھے اور انھیں قتل کرنا، چھوڑ دینا یا فدیہ لے کر آزاد کرنا فاتحین کی مصلحت میں نہیں ہوتا تھا، انھیں غلام بنا لیا جاتا تھا اور باقاعدہ قید خانوں میں ڈالنے کے بجائے افراد اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا جنھیں گھر کے دوسرے درجے کے افراد کا درجہ حاصل ہوتا تھا، ان کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور ان مین جو خواتین ہوتی تھیں، ان کے ساتھ جنسی تعلق کا ان کے مالکوں کو حق حاصل ہوتا تھا۔ یہ جنگی قیدیوں کے بارے میں مختلف عملی صورتوں میں سے ایک صورت اور آپشن سمجھا جاتا تھا اور اس کا عام رواج تھا۔
اسلام نے اس آپشن کو ختم کرنے کے بجائے باقی رکھا، البتہ اس صورت میں غلام یا لونڈی بن جانے والوں کے حقوق کا تعین کیا، ان کے ساتھ معاملات کو باقاعدہ قوانین وضوابط کی شکل دی، ان کے حقوق وفرائض کی وضاحت کی اور مختلف حوالوں سے مثلاً اجر وثواب کے حصول کے لیے، بعض گناہوں کے کفارات میں اور بعض جرائم کی سزاؤں میں ان کی آزادی کے مختلف راستے کھولے۔ اسلام نے اس دور میں جبکہ پوری دنیا میں غلاموں کو جانوروں کی طرح سمجھا جاتا تھا، ان کے لیے سہولت اور حقوق کی کیا صورتیں پیدا کیں، ان کا ہلکا سا اندازہ دو تین امور سے لگایا جا سکتا ہے:
  • زید بن حارثہؓ جنھیں آزاد حالت میں پکڑ کر غلام بنا لیا گیا تھا اور فروخت کر دیا گیا تھا، بالآخر مکہ مکرمہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بنے اور آپ نے انھیں آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اس دوران ان کے اہل خاندان کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو وہ انھیں لینے کے لیے مکہ مکرمہ آئے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہؓ کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا، مگر زید بن حارثہؓ نے خاندان والوں کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا۔
  • مسلم شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر حکم دیا کہ یہ غلام تمھارے بھائی ہیں، جو خود کھاؤ انھیں وہی کھلاؤ، جو خود پہنو ، وہی انھیں پہناؤ اور ان کی طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ لو۔
  • ایک صحابی نے اپنی لونڈی کو اس بات پر تھپڑ رسید کیا کہ وہ بکریاں چرا رہی تھی اور اس کی بے پروائی کی وجہ سے بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کو اس طرح تھپڑ مارنے پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا تو اس صحابی نے لونڈی کو آزاد کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمھیں لپیٹ میں لے لیتی۔
اس طرح کے بیسیوں واقعات اور روایات پیش کی جا سکتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ان غلاموں اور لونڈیوں کو کس طرح زندگی کی سہولتوں سے بہرہ ور کیا، ان کے لیے علم کے دروازے کھولے اور انھیں زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، حتیٰ کہ خاندان غلاماں کے حکمرانوں کی ایک پوری تاریخ ہے اور علم وفضل اور حکمت ودانش کے ساتھ ساتھ دولت واقتدار میں وافر حصہ لینے والے مسلم مشاہیر کی تاریخ مرتب کی جائے تو ایسے غلاموں کی ایک بڑی فہرست سامنے آئے گی جن کے لیے یہ غلامی ہی ان سعادتوں کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوئی، لیکن اس سب کچھ کے باوجود جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی یہ بات بہ طور حکم کے نہیں بلکہ مختلف آپشنوں میں سے ایک آپشن کے طور پر تھی اور میری طالب علمانہ رائے کے مطابق اسے برقرار رکھنے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس زمانے میں باقاعدہ قید خانے اس انداز سے نہیں ہوتے تھے کہ ان میں ہزاروں افراد کو منظم طور پر سالہا سال تک قید میں رکھا جا سکتا، اس لیے جن قیدیوں کو قید میں رکھنا ضروری ہوتا تھا، ان کے لیے عملی صورت یہی ممکن تھی کہ انھیں تقسیم کر دیا جائے اور وہ ریاست کے قیدی بننے کے بجائے افراد اور خاندانوں کے قیدی رہیں۔
جن لوگوں نے زندگی بھر قید میں رہنا ہے، خود ان کے لیے بھی بہتر صورت یہ تھی کہ انھیں قید خانوں میں ڈالنے کے بجائے افراد اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ وہ قیدی ہونے کے باوجود زندگی کی مناسب سہولتوں اور حقوق سے کسی حد تک بہرہ ور ہو سکیں۔ اس کی عملی شکل آج کے دور میں دیکھنی ہو تو جیل خانوں میں بند قیدیوں اور اچھا کردار رکھنے والے قیدیوں کو پیرول پر مختلف خاندانوں میں نیم قیدیوں کی صورت میں تقسیم کیے جانے والے قیدیوں کا موازنہ کر لیا جائے۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ خود ان قیدیوں کے لیے بہتر صورت کون سی ہے۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ اعتراض قیدی خواتین کے ساتھ جنسی تعلق کو روا قرار دیے جانے پر کیا جاتا ہے، لیکن اس حوالے سے دیکھا جائے کہ ایک ایسی خاتون جس کی واپسی کے اس دور میں تمام راستے مسدود تھے اور اس نے عمر بھر قیدی ہی رہنا تھا، اس کے لیے ایک عورت کے طور پر کیا صور ت مناسب اور بہتر تھی۔ اسلام نے اس زمانے کے عالمی عرف کے مطابق اس کو ایک آپشن کے طور پر قبول کیا، لیکن اس کے ساتھ حقوق ومفادات کا ایک ایسا نظام بھی قانونی طو رپر قائم کر دیا کہ اس جنسی تعلق اور اولاد کی صورت میں وہ عورت آزادی اور دیگر حقوق کی مستحق بھی قرار پاتی ہے۔ 
چنانچہ میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اسلام نے غلام اور لونڈی بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس دور کے عالمی عرف کے مطابق اسے جنگی قیدیوں کے لیے ایک آپشن کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے احکام وقوانین کا ایک پورا نظام فراہم کر دیا جیسا کہ آج کے عالمی عرف کے مطابق جنگی قیدیوں کے بارے میں جنیوا کنونشن کو عالم اسلام نے بھی قبول کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان وفلسطین سمیت جن مقامات پر جہاد کے عنوان سے جنگیں ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں، وہاں مجاہدین نے کسی قیدی کو غلام یا لونڈی کا درجہ نہیں دیا اور انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دیے جانے والے مجاہدین نے بھی جنگی قیدیوں کے بارے میں عالمی عرف اور قوانین کا عملاً احترام کیا ہے۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی دور میں یہ عالمی عرف بھی تبدیل ہو گیا اور پہلے کی طرح کے حالات دوبارہ پیدا ہو گئے تو اسلام کا یہ آپشن بطور آپشن کے باقی رہے گا اور اس سلسلے میں قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے احکام دوبارہ نافذ العمل ہو جائیں گے۔
اس لیے محترم آصف محمود ایڈووکیٹ اور دیگر دوستوں سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اسلام کے کسی حکم یا قانون کے بارے میں مغربی پراپیگنڈے متاثر ہو کر استہزا اور طنز کا لہجہ اختیار کرنے کے بجائے اس کے پس منظر سے واقفیت حاصل کریں اور اسلامی احکام کو مغربی فلسفہ وثقافت اور مغربی معاشرہ کے معروضی تناظر پر پرکھنے کے بجائے ان کے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ویسٹرن سوسائٹی کو تہذیب وثقافت اور سولائزیشن کا حتمی معیار تصور نہ کیا جائے اور اسلامی قوانین واحکام کو انسانی سوسائٹی کے حقیقی مسائل اور ضروریات کے حوالے سے دیکھا جائے تو قرآن وسنت کا کوئی بھی حکم ناقابل فہم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

سی پی ایس انٹرنیشنل ۔ کسی نئے فتنے کی تمہید؟

محمد عمار خان ناصر

مولانا وحید الدین خان کا شمار بلاشبہ اس وقت عالم اسلام کی چند بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مولانا محترم نے دین کے صحیح تصور، اس کے اجزا اور عناصر کے باہمی تعلق، دین کی حقیقی روح اور اس کے مطالبات کے صحیح رخ کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ امت میں پیدا ہونے والے فکری وعملی رویوں اور بالخصوص معاصر دنیا میں مسلمانوں کے فکری اور ذہنی مزاج کے تجزیے کی خدمت جس خوبی ، گہرائی او ربصیرت کے ساتھ انجام دی ہے، اس میں کسی کو ان کا ثانی قرار دینا مشکل ہے۔ ان کی فکری اور دعوتی جدوجہد لگ بھگ نصف صدی کے عرصے کو محیط ہے، اور اپنے موقف اور استدلال پر استقامت اور اس کے فروغ کے لیے ان تھک محنت کے نتیجے میں پوری دنیا میں ان کا ایک وسیع حلقہ فکر وجود میں آ چکا ہے۔ نہ صرف مسلم امہ میں ان کی شخصیت دعوت اسلام کا عنوان سمجھی جاتی ہے، بلکہ غیر مسلم حلقوں میں بھی وسیع پیمانے پر ان کے ذریعے سے اسلام کا پیغام پہنچا ہے۔ 
تاہم تمام اہل فکر کی طرح مولانا محترم کی شخصیت اور طرز فکر کے بہت سے پہلو بھی ارباب فکر ونظر کے ہاں موضوع بحث رہے ہیں، جن میں سے ایک پہلو کی طرف ہم ان سطور میں توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ مولانا کے زاویہ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب ولہجہ اور اسلوب ’رایی صواب یحتمل الخطا ورایہم خطا یحتمل الصواب‘ کے ذہنی رویے کے بجائے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے اور وہ اپنے زاویہ نگاہ کو ’ایک نقطہ نظر‘ سمجھنے کے بجائے ’واحد درست طرز فکر‘ قرار دینے پر اصرار میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ یہ طرز فکر ایک عمومی فکری دائرے کے اندر رہے تو انسانی نفسیات میں کسی حد تک اس کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ اس ذہنی رویے نے اب ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے ہماری رائے میں نہ صرف مولانا کی پوری جدوجہد کی افادیت پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ خود دین کے حوالے سے ایک بے حد خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایک عرصے کی عمومی دعوت اور ذہن سازی کے بعد مولانا نے چند سال قبل اپنے فہم کے مطابق دعوت اسلام کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے سی پی ایس انٹرنیشنل کے نام سے ایک فورم تشکیل دیا ہے جس میں شامل افراد کی ایک مخصوص ٹیم براہ راست مولانا محترم سے ذہنی اور فکری تربیت حاصل کرتی ہے۔ ایک تازہ تحریر میں مولانا محترم نے دعوت اسلام میں اس ٹیم کا کردار اور اس کے ’’فضائل ومناقب‘‘ یوں بیان فرمائے ہیں:
’’ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ سی پی ایس کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے اس کو اخوان رسول کا لقب دیا تھا۔ اصحاب رسول کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ تھے بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح انسان تھے۔ اسی طرح اخوان رسول بھی کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ ہوں گے بلکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوت حق کے اس ربانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے جس پر رسول اور اصحاب رسول کھڑے ہوئے تھے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی تحریکیں اٹھی ہیں مگر وہ اخوان رسول کا درجہ نہیں پا سکتیں۔ اس لیے کہ اخوان رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پا سکتے ہیں جو ما انا علیہ واصحابی کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکیں رد عمل کی تحریکیں تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو کر قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ خصوصیت صرف سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک میں پائی جاتی ہے۔
تاریخ میں اہل حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گئے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیح کا حواری بننا، پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب میں شامل ہونا۔ اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوان رسول کے گروپ کا حصہ بننا ہے۔ اس کے بعد جو چیز ہے، وہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تاریخ کا آخری مبارک موقع ہے۔ جس نے اس موقع کو پالیا، اس نے سب کچھ پا لیا اور جس نے اس موقع کو کھو دیا، اس نے سب کچھ کھو دیا۔‘‘  (ماہنامہ تذکیر، ستمبر ۲۰۰۶، ص ۴۲)
ہم مولانا محترم کے تمام تر شخصی احترام اور ان کی کاوشوں کی قدر وقیمت کے پورے اعتراف کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مذکورہ دعویٰ ایک بے حد سطحی، خطرناک اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔ مولانا محترم نے ا س پیشین گوئی کے لیے جس روایت کو ماخذ بنایا ہے، وہ حسب ذیل ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا: ’وددت انا قد راینا اخواننا‘ (میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتے) صحابہ نے کہا، یا رسول اللہ، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’انتم اصحابی واخواننا الذین لم یاتوا بعد‘ (تم تو میرے اصحاب ہو، ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے)۔ (مسلم، رقم ۳۶۷)
ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں کسی مخصوص گروہ کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں فرمائی۔ آپ نے اپنے دور کے اہل ایمان کو اپنے اصحاب جبکہ اپنے بعد آنے والے اہل ایمان کو اپنے بھائی کہا ہے۔ یہاں کسی مخصوص گروہ کا ذکر اور اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا مقصود ہی نہیں۔ اس سادہ بیان کو کسی مخصوص گروہ کے بارے میں پیشین گوئی قرار دے کر اس گروہ کی علامات اور خصوصیات کا تعین اور پھر پورے یقین اور دعوے کے ساتھ سی پی ایس انٹر نیشنل کو اس کا مصداق قرار دینا محض مولانا محترم کی ذہنی اختراع ہے۔ اپنے لائحہ عمل کی صحت اور اپنی تیار کردہ ٹیم کی صلاحیتوں کے بارے میں مولانا محترم کا ایمان ویقین کتنا ہی پختہ کیوں نہ ہو، اس کا مذکورہ تحریر میں نظر آنے والے ادعا کی حد تک پہنچ جانا ایک بے حد خطرناک بات ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقدس اور خدائی انتخاب کے زعم کے ساتھ اٹھنے والی اس طرح کی تحریکیں بالعموم کسی نہ کسی مذہبی فتنے پر ہی منتج ہوتی ہیں۔ اول تو عام فکری، سماجی یا سیاسی تحریکوں میں بھی دعوت فکر دینے والی شخصیت، آہستہ آہستہ اصل فکر کی جگہ لے لیتی ہے اور بجاے خود تعلق اور وابستگی کا معیار بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر کام دینی ومذہبی نوعیت کا ہو تو اپنی حکمت عملی اور جماعت کے بارے میں ’تقدس‘ اور ’الٰہی انتخاب‘ کے غرے میں مبتلا ہو جانا بھی ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ ان دونوں چیزوں کو وجود میں لانے کے لیے کسی خاص تگ ودو کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن اگر مولانا وحید الدین خان کی سطح کے راہنما بھی خود انگلی پکڑ کر پیروکاروں کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دینے لگیں تو: ’اب کسے رہنما کرے کوئی‘۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
لا یقلدن احدکم دینہ رجلا، فان آمن آمن، وان کفر کفر، وان کنتم لا بد مقتدین فاقتدوا بالمیت، فان الحی لا یؤمن علیہ الفتنۃ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم ۸۷۶۴)
’’تم میں سے کوئی شخص دین کے معاملے میں اپنی باگ کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ میں نہ دے دے کہ اگر وہ ایمان لائے تو یہ بھی ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر کرے تو یہ بھی کفر پر راضی ہو جائے۔ اور اگر تمھیں ضرور کسی کی اقتدا ہی کرنی ہے تو اس کی کرو جو دنیا سے رخصت ہو چکا ہے، کیونکہ کوئی زندہ شخص اس بات سے مامون نہیں کہ وہ کسی بھی وقت فتنے میں مبتلا ہو جائے۔‘‘
اگر خدا نخواستہ، خدا نخواستہ سی پی ایس انٹرنیشنل کسی نئے مذہبی فتنے کا پیش خیمہ ہے اور امت مسلمہ اور بالخصوص پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مولانا کے معتقدین کا دین وایمان کسی نئے امتحان سے دوچار ہونے والا ہے تو ہم اس سے پناہ مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنے اور مولانا اور ان کے معتقدین کے ایمان کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں: اللہم انا نستودعک دیننا وامانتنا وخواتیم اعمالنا۔ آمین

تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء ۔ ایک تنقیدی جائزہ

محمد مشتاق احمد

حدود قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کی جانب سے ’’تحفظ قانون نسواں بل ‘‘ کے نام سے جو بل قومی اسمبلی میں ۲۱ اگست ۲۰۰۶ ء کو پیش کیا گیااس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے ممبران قومی اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ حکومتی ارکان نے ان کے اس اقدام کو قرآن و سنت اور آئین کی توہین قرار دیا ، جبکہ متحدہ مجلس عمل کے اراکین اس بل کو حدود اللہ میں تبدیلی قرار دے کر اپنے تئیں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کررہے تھے ۔بات اصل میں وہی ہے جو اس کتابچے کے پیش لفظ میں کہی گئی ہے کہ فریقین معاملے کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ نہیں لے رہے ۔ ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کررہے ۔ ہمارے خیال میں دونوں فریق قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کرنا چاہتے ہیں مگر حدود قوانین کے پیچیدہ امور کے متعلق قرآن وسنت کے تفصیلی احکام سے بے خبری کے باعث ایک دوسرے پر تنقید کررہے ہیں ۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اس ترمیمی بل کی کئی دفعات ہماری تحقیق کی رو سے صحیح ہیں اور حدود قوانین کو اسلامی قانون سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان میں تجویز کردہ یہ ترامیم ضروری ہیں ۔ دوسری طرف اس ترمیمی بل کی چند شقیں ہمارے نزدیک قابل اعتراض ہیں اور اگر ان کو قانونی شکل دے دی گئی تو حدود کا پورا نظام متاثر ہوسکتا ہے ۔ یہاں تفصیل کی گنجائش تو نہیں البتہ اس لیے اس سلسلے میں مختصر اشارات دیے جاتے ہیں ۔ پہلے بل کی مثبت دفعات لے لیجئے : 
۱۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے حد زنا آرڈی نینس اور حد قذف آرڈی نینس کی وہ دفعات جو تعزیر سے تعلق رکھتی ہیں، انہیں حدودآرڈی نینس سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کیا جائے گا ۔ (بل کی دفعات ۲ تا ۹ ) اس پر شرعی لحاظ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہمارے نزدیک یہ ایک مستحسن امر ہے ۔ دراصل حدود قوانین میں شامل تعزیری سزائیں اسلامی قانون کے بجائے انگریزوں کے وضع کردہ ’’مجموعۂ تعزیرات ہند ‘‘ (جو پاکستان میں اب ’’مجموعۂ تعزیرات پاکستان‘‘ کہلاتا ہے ) سے ماخوذ ہیں ، بلکہ اکثر تو مجموعۂ تعزیرات کی دفعات کو بعینہ اسی طرح درج کردیاگیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون ساز اداروں اور شعبۂ قانون سے وابستہ بہت سے افراد کا موقف یہ ہے کہ جو قوانین قرآن وسنت سے ’’متصادم‘‘ نہیں ہیں وہ از خود صحیح ہیں ۔ اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ اسلامی قانون کے قواعد عامہ نظر انداز کردیے جاتے ہیں بلکہ ’’عدم تصادم ‘‘کو ’’مطابقت‘‘ کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے ۔ مزید برآں پاکستان میں حدود قوانین کے تحت جو سزائیں اب تک نافذ کی گئی ہیں، وہ ساری کی ساری تعزیری ہیں اور ان میں تقریبا تمام سزائیں مجموعۂ تعزیرات پاکستان سے لی گئی ہیں ۔ پس اگر خامی ہے تو مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ہے نہ کہ حدود میں لیکن اس کے باوجود مورد الزام حدود قوانین ٹھہرتے ہیں ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تعزیری سزاؤں کو مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں ہی رکھا جائے ۔ 
اسی طرح ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ حدود قوانین نے جرم کو مستوجب حد اور مستوجب تعزیر میں تقسیم کرکے جو دوہرے معیار قائم کیے ہیں، وہ اسلامی قانون حدود کی صحیح تعبیر پر مبنی نہیں ۔ مثلاً قرآن وسنت اور فقہا کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا یا تو مستوجب حد ہے یا اگر وہ مستوجب حد نہیں تو پھر وہ زنا نہیں ۔ اگر الف الزام لگائے کہ ب نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ نصاب شہادت پر جرم ثابت کرے ، بصورت دیگر الف پر قذف کی حد جاری ہوگی۔ (ملاحظہ ہو : سورۃ النور ، آیت ۴ و ۱۳ ) پس اگر الف اپنے دعوے کے ثبوت میں قرائن اور واقعاتی شہادتوں کا انبار بھی لگائے تو ا س سے جرم زنا ثابت نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ثابت ہوگا اور اس پر حد قذف عائد ہوگی ۔ اس کے برعکس حد زنا آرڈی نینس میں قرار دیا گیا ہے کہ بعض حالات میں چار گواہ پیش نہ کرنے کے باوجود ایسا ہوسکتا ہے کہ مدعی کو قذف کی سزا نہ دی جائے۔ ایسی صورتوں میں ریکارڈ پر موجود شہادت اور ثبوت کی بنیاد پر عدالت مدعا علیہ کو مناسب تعزیری سزا سنا سکتی ہے۔ گویا یہ جرم زنا مستوجب تعزیر ہوجائے گا۔ آرڈی نینس نے زنا مستوجب تعزیر کی جو صورتیں ذکر کی ہیں، ان پر فقہا کی اصطلاح میں لفظ زنا کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ۔ اسی طرح حد قذف آرڈی نینس میں قذف مستوجب تعزیر کی جو صورتیں ذکر ہوئی ہیں، انہیں فقہا کی اصطلاح میں جرم قذف کہا ہی نہیں جاسکتا ۔ یہی بات سرقہ مستوجب تعزیر ، حرابہ مستوجب تعزیر اور شرب خمر مستوجب تعزیر کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے ۔ 
دراصل حدود قوانین کا مسودہ بنانے والے بھی اس الجھن کا شکار ہوگئے تھے کہ حد کے اثبات کے لیے درکار نصاب شہادت پورا ہونا عام حالت میں ممکن نہیں ہوتا ، جبکہ جرم کے اثبات کے لیے عام قانون شہادت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ یقینی ہوتا ہے کہ مدعا علیہ نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ تو کیا اس صورت میں مجرم کو آزاد چھوڑ دیا جائے گا ؟ چنانچہ انہوں نے جرم کے ثبوت کے لیے دوہرا معیار قائم کردیا کہ اگر ایک معیار پر ثابت ہوا تو حد کی سزا دی جائے گی اور اگر دوسرے معیار پر ثابت ہوا تو تعزیر کی سزا دی جائے گی ۔ اس کے برعکس صحیح طریقہ یہ ہے کہ جرم زنا کو صرف مستوجب حد قرار دیا جائے اور اس کے لیے ایک ہی معیار ثبوت ہو ۔ باقی رہیں بے حیائی کی دیگر اقسام تو ان کو الگ جرائم قرار دے کر ان کے لیے الگ معیار ثبوت مقرر کردیا جائے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے اور وہ اس جرم کے درکار نصاب شہادت پورا نہ کر سکے تو اس کی جانب سے اور کسی ثبوت کو قبول نہ کیا جائے ، بلکہ اسے قذف کا مرتکب ٹھہرایا جائے۔ یہی اصول حد سرقہ ، حد حرابہ ، حد قذف اور حد شرب کے لیے بھی ہے ۔ 
تعزیرات کو حدود قوانین سے ختم کرنے کے اثرات کے بارے میں ایک شبہہ یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اس طرح معاشرے میں بے حیائی کی راہ کھل جائے گی کیونکہ زنا کا جرم مستوجب تعزیر نہیں رہے گا اور حد کے لیے درکار نصاب شہادت کا پورا ہونا عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا ۔ ہمارے نزدیک یہ شبہ بے بنیاد ہے ۔ اولاً تو زنا سے کم تر بے حیائی ویسے بھی تعزیری جرم ہے ، لیکن اسے زنا مستوجب تعزیر نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۴کے تحت نازیبا حرکات پر سزا دی جاسکتی ہے اور یہ جرم قابل دست اندازئ پولیس ہے۔ ثانیاً حدود اور بالخصوص حد زنا کے متعلق شریعت کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان جرائم کا تذکرہ ہی نہ ہو ، حتی الامکان اس پر پردہ ڈالا جائے۔ البتہ اگر کوئی جوڑا اتنا ہی بے حیا ہو کہ وہ کھلے عام زنا کا ارتکاب کرے (ظاہر ہے کہ چار عینی گواہ کامیسر ہونا عام حالات میں صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب زنا کا ارتکاب کھلے عام کیا جائے ) تو پھر ان کو لازماً حد کی سزا دی جائے اور کھلے عام دی جائے ۔ پس زنا مستوجب تعزیر کی قسم ختم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی شخص کسی پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ یہی شریعت کا مقتضی ہے۔ ثالثاً تعزیری جرائم کو حدود قوانین سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کیا جارہا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ امور بدستور جرائم ہی رہیں گے، البتہ کاروائی کے لئے حدود کا مخصوص ضابطہ لاگو نہیں ہوگا ۔ اس کے ساتھ لازمی تھا کہ حد قذف آرڈی نینس میں قذف کی تعریف سے ’’نیک نیتی پر مبنی الزام ‘‘ کا استثنا بھی حذف کردیا جاتا، کیونکہ اس استثنا کی وجہ سے حد قذف کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور اس قانون سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں ۔ 
۲ ۔ اسی طرح تعزیرات سے متعلق جرائم میں کوڑوں کی سزا ختم کردی جائے گی ۔ یہ بھی حکومت کے جائز اختیار کا استعمال ہے ۔ کیونکہ ان جرائم میں جرم کی تعریف ، اس کے اثبات کے طریق کار اور اس کے لئے سزا کا تعین جیسے سارے امور حکومت کے اختیار میں ہیں ۔ 
۳ ۔ زنا کے مقدمے کے متعلق قرار دیا گیا ہے کہ اس میں پولیس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہوگا ، استغاثہ براہ راست متعلقہ جج کے پاس دائر ہوگا اور وہی ملزم کی گرفتاری اور دیگر امور سے متعلق کاروائی کا مجاز ہوگا ۔ (بل کی دفعہ۹) ہمارے نزدیک یہ ترمیم بھی ضروری ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس ان قوانین کا حد درجہ غلط استعمال کرتی ہے اور اس کا سارا طریق کار حدود کے باب میں شریعت کے نظام سے متصادم ہے ۔ اس ترمیم پر ایک شبہہ یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اس طرح پولیس بے حیائی کے روک تھام میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکے گی ، حالانکہ روک تھام سے متعلق پولیس کے اختیارات بدستور موجود ہیں ۔ صرف اتنا ہوجائے گا کہ پولیس کسی کو چار عینی گواہوں کی عدم موجودگی میں زنا کے الزام کے تحت گرفتار نہیں کرسکے گی ، اور پولیس کی زیادتیوں کے سدباب کے لیے یہ نہایت ضروری ہے ۔ 
۴ ۔ قذف کے متعلق قرار دیا گیا ہے کہ اگر عدالت میں زنا کا الزام غلط ثابت ہوجائے تو قذف کے لیے نئے استغاثے کی ضرورت نہیں ہوگی ، بلکہ زنا کا الزام لگانے والے اور گواہوں کے خلاف قذف کی کاروائی کی جاسکے گی ۔ (بل کی دفعہ۲۲ ) قذف آرڈی نینس میں اس شق کا شامل کرنا بھی ہماری تحقیق کے مطابق فقہا کی تصریحات کی رو سے نہایت ضروری ہے ۔ 
قذف کے ماسوا تمام حدود کو فقہاء نے خالص ’حق اللہ‘ کہا ہے ۔ قذف البتہ ’حق مشترک‘ ہے ، اگرچہ ا س میں بھی حق اللہ غالب ہے ۔ پس حق اللہ کے غالب ہونے کی وجہ سے اسے حد قرار دیاگیا ہے اور اس پر حد کے دیگر اوصاف کا اطلاق کیا گیا ہے ۔ تاہم چونکہ اس میں حق العبد بھی مغلوب شکل میں موجود ہے، اس لیے اس پر حق العبد کے چند اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ان اثرات میں ایک اہم اثر یہ ہے کہ اس کے مقدمے کی کاروائی کے لئے مقذوف کی جانب سے کاروائی کا آغاز ضروری ہے ، بشرطیکہ مقذوف خود زندہ ہو ۔ اگر کسی نے کسی مردہ شخص پر زنا کا الزام لگایا تو اس کے ورثا کاروائی کا آغاز کریں گے ۔ اگر کسی نے ایک زندہ شخص پر زنا کا الزام عائد کیا اور وہ مقذوف کاروائی شروع کرنے سے پہلے فوت ہوگیا تو اب اس کے ورثا کاروائی شروع نہیں کرسکتے ۔ 
تاہم یہ اصول اس صورت میں ہے جب قاذف قذف کا ارتکاب قاضی کے سامنے نہ کرے ۔ اگر اس نے قذف کاارتکاب قاضی کے سامنے کیا تو قذف کی کاروائی کے لئے مقذوف کی جانب سے دعویٰ ضروری نہیں ہے ۔ چنانچہ امام سرخسی نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی شخص پر زنا کا الزام لگایا گیا اور عدالت میں چار گواہ پیش کیے گئے تو ان گواہوں میں ہر ایک کی گواہی تنہا قذف ہے لیکن چاروں کی گواہی مل کر ملزم کے خلاف حجت بن جاتی ہے ۔ پس اگر یہ حجت پوری نہ ہو تو عدالت گواہوں کو بھی قذف کی سزا دے گی اور اس کے لیے مقذوف کی جانب سے از سر نو مقدمے کا اندراج ضروری نہیں ہوگا۔
۵۔ ترمیمی بل کی دفعہ۲۴میں قرار دیا گیا ہے کہ قذف کا مقدمہ اگر مستغیث واپس لے تو مقدمہ از سر نو شروع نہیں کیا جائے گا ، نہ ہی تعزیری سزا دی جائے گی ۔ اسی طرح بل کی دفعہ ۱۶ میں قرار دیا گیا ہے کہ زنا کا ملزم اقرار جرم پھر جائے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی خواہ اس کا کچھ حصہ پہلے سے جاری ہوچکا ہو ۔ ہمارے نزدیک یہ بات قرآن وسنت کے عین مطابق ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حد کے مقدمے میں قضا یعنی عدالتی کارروائی (Trial) کی تکمیل سزا سنائے جانے پر نہیں ، بلکہ استیفا یعنی سزا کے جاری کرنے ( Enforcement) پر ہوتی ہے ، اور سزا کی استیفاء اس کے مکمل طور پر نافذ ہونے پر ہوتی ہے ۔ پس عدالتی کارروائی (Trial) کا اختتام اسی وقت ہوگا جب سزا مکمل طور پر نافذ ہوجائے۔ اسی وجہ سے سزا کے مکمل نفاذ سے پہلے اگر گواہ گواہی سے پھر جائیں ، یا جب جرم صرف اقرار سے ثابت ہو اور ملزم اقرار سے رجوع کرے ، تو حد کی سزا یا اس کا بقیہ حصہ نافذ نہیں کیا جائے گا ۔ ایسی صورت میں مقدمے کی کاروائی از سر نو شروع نہیں کی جائے گی ، بلکہ حد کا مقدمہ اسی وقت ختم ہوجائے گا ، کیونکہ ایسی صورت میں ’شبہہ‘ پیدا ہوجاتا ہے اور ’شبہہ‘ کی وجہ سے حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ’شبہہ‘ سے مراد ’’شک کا فائدہ‘‘ (Benefit of the Doubt) نہیں ہے ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے ، بلکہ مراد امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں خطا (Mistake of Law or of Fact ) ہے جو فعل کے مرتکب کو لاحق ہوتا ہے ۔ جرم کے ثبوت کے متعلق اگر جج کے ذہن میں کوئی شک ہے تو اس کا فائدہ تو لازماً ملزم کو دینا چاہیے ، اسلامی قانون کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ تاہم امر قانونی کے سمجھنے میں خطا کو انگریزی قانون کوئی عذر نہیں سمجھتا ، جبکہ اسلامی قانون نے حدود سزاؤں میں ، جو کہ حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، اسے عذر مانا ہے اور اس کی بنا پر حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے ۔ 
۶۔ شاید اس ترمیمی بل میں سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہی محسوس کی جارہی ہے کہ اس کے ذریعے زنا بالجبر کو حد زنا آرڈی نینس سے نکال کر مجموعۂ تعزیرات پاکستان میں شامل کر دیا جائے گا ۔ (بل کی دفعہ۵ ) ہماری تحقیق کے مطابق یہ بھی نہایت صحیح اقدام ہے ، کیونکہ زنا بالجبر ہماری ناقص رائے کے مطابق حد نہیں بلکہ جرمِ سیاسۃ ہے (جسے اس بل میں تعزیر قرار دیاگیا ہے ) ۔
فقہاء کے وضع کردہ ڈھانچے میں ہر قانون کا تعلق یا تو اللہ کے حق سے ہوتا ہے ، یا بندے کے حق سے ، جسے حق العبد کہتے ہیں ۔ بعض اوقات قانون کا تعلق ریاست یا معاشرے کے حق سے ہوتا ہے جسے حق السلطان یا حق السلطنۃ کہتے ہیں ۔ عصر حاضر میں اسلامی قانون پر تحقیق کرنے والوں نے بالعموم حقوق اللہ اور حقوق السلطان کو مترادف سمجھا ہے اور اس وجہ سے بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔حق جس کا ہوتاہے اسے جرم کی معافی کا بھی اختیار ہوتا ہے ۔ اگر حقوق اللہ اور حقوق السلطان ایک ہی ہوتے تو پھر جن جرائم کو حقوق اللہ سے متعلق سمجھا جاتاہے (حدود) ان میں ریاست کے پاس معافی کا اختیارہوتا۔ اسی طرح حق کے مختلف ہونے کی وجہ سے جرم کے ثبوت اور بعض دیگرمتعلقہ مسائل (مثلاً ’شبہہ‘ کااثر) بھی تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ 
فقہاء نے تمام حدود سزاؤں کوبالعموم حقوق اللہ سے متعلق قراردیا ہے ۔ ( حد قذف کوفقہائے احناف نے بندے اور خدا کا مشترک حق قرار دیا ہے ، تاہم ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا ہے کہ ا س میں اللہ کا حق غالب ہے ۔ گویا نتیجہ یہ ہے کہ حد قذف میں بھی کسی کے پاس معافی کا اختیار نہیں ہے ۔) تعزیری سزاؤں کو احناف نے خالص حق العبد قرار دیا ہے ۔تعزیری سزا حد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ۔ایسے جرائم جن کا تعلق حق السلطان سے ہے اور جن کی سزا کی مقدار کا تعین بھی اولوالامر کے ذمے ہے ، ان کوفقہائے احناف ’’سیاسۃ‘‘ جرائم کہتے ہیں ۔ ان جرائم میں معیار ثبوت کا تعین بھی حکومت کے پاس ہے اور معافی کا اختیار بھی وہ رکھتی ہے ۔ جرم کی نوعیت کے مطابق سزا کا تعین حکومت کرتی ہے اور اس سلسلے میں ایسی کوئی قید نہیں ہے کہ سزا حد کی مقدار سے زائد نہ ہو ۔ چنانچہ بعض حالات میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ۔اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی فوجداری قانون صرف حدود سزاؤں تک ہی محدود نہیں ہے۔ جب بعض مخصوص جرائم مخصوص شرائط کے ساتھ اور مخصوص ضابطے کے تحت ثابت ہو جائیں تویہ مخصوص سزائیں دی جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے ایسا صرف استثنائی صورتوں میں ہی ممکن ہوتا ہے ۔ عام حالات کے لئے اسلامی قانون نے تعزیر اور سیاسۃ کے نظریات کے تحت نظام وضع کیا ہے ۔ ان میں بالخصوص سیاسۃ کے تحت آنے والے جرائم کے سلسلے میں ریاست کے پاس بہت سارے اختیارات ہیں ۔ ان جرائم کی تعریف ، ان کے اثبات کے طریق کار اور ان کے لئے سزاؤں کا تعین سب کچھ ریاست کے اختیار میں ہے ۔ البتہ ریاست پر یہ پابندی ہوگی کہ وہ اسلامی قانون کے قواعد عامہ کی روشنی میں قانون سازی کرے اور ان قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت نہ کرے ۔
حد زنا آرڈی نینس نے دو لحاظ سے زنا اور زنا بالجبر کو یکساں قرار دیا ہے ۔ ایک سزا کے لحاظ سے (دونوں صورتوں میں غیر محصن کی سزا سو کوڑے اور محصن کی سزا رجم ہے ۔) اور دوسرے ثبوت جرم کے لحاظ سے ( دونوں صورتوں میں حد کی سزا کے لیے ضروری ہے کہ یا تو مدعا علیہ اقرار کرے یا چار عینی گواہ اس کے جرم کی گواہی دیں ۔ ) یہ آخر الذکر بات بالخصوص تنقید کا باعث بنی ہے ۔ بعض لوگوں نے بیچ کی راہ یہ نکالی ہے کہ زنا بالجبر کو حرابہ قرار دینے کی تجویز دی ہے ۔ یہ رائے مولانا امین احسن اصلاحی نے پہلے پیش کی اور اس کی بنیاد یہ بات ہے کہ حرابہ صرف ڈکیتی تک محدود نہیں ہے ۔اس قول کے قائلین مزید قرار دیتے ہیں کہ حرابہ کی سزا میں قرآن نے تقتیل کا ذکر کیا ہے ، جس سے مراد محض قتل نہیں بلکہ عبرتناک طریقے سے قتل ہے ، جس کی ایک مثال رجم ہے ۔ گویا رجم زانی محصن کی سزا نہیں بلکہ زنا بالجبر کے مرتکب کی سزا ہے ۔حدود قوانین کے ناقدین زنا بالجبر کو حرابہ قرار دے چکنے کے بعد یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ اس کے ثبوت کے لئے میڈیکل رپورٹس ، واقعاتی شہادتوں اور قرائن سے بھی کام لیا جاسکتا ہے ، حالانکہ اسے حد قرار دے چکنے کے بعد ضروری ہے کہ اس پر حد کی تمام خصوصیات لاگو ہوں ۔ حد زنا کے سوا تمام حدود کے ثبوت کے لئے فقہاء نے دو مسلمان مرد عینی گواہوں کی شہادت ضروری قرار دی ہے ۔ گویا زنا بالجبر کو حد حرابہ قرار دینے کے بعد مدعی یا مدعیہ کو صرف اتنی سہولت ملے گی کہ اسے چار کے بجائے دو عینی گواہ پیش کرنے ہوں گے ! لیکن دوسری طرف ملزم کو وہ تمام رخصتیں بدستور میسر رہیں گی جو حد کے ملزم کو میسر ہوتی ہیں ، جن میں سب سے اہم ’شبہہ‘کا اثر ہے ۔ یہاں ایک دفعہ پھر یہ بات یاد کیجیے کہ ’شبہہ‘ سے مراد ’’شک کا فائدہ ‘‘ نہیں ہے ۔ جرم کے ثبوت کے متعلق اگر جج کے ذہن میں کوئی شک ہے تو اس کا فائدہ تو لازماً ملزم کوہر صورت میں ملے گا خواہ جرم حد کا ہو یا غیر حد کا ۔ یہاں ’شبہہ‘ سے مراد امر قانونی یا امر واقعی کے سمجھنے میں خطا (Mistake of Law or of Fact ) ہے جو فعل کے مرتکب کو لاحق ہوتا ہے ۔ اسلامی قانون نے حدود سزاؤں میں ، جو کہ حقوق اللہ سے متعلق ہیں ، اسے عذر مانا ہے۔ اس عذر کی بنا پر حد کی سزا ساقط ہوجاتی ہے ۔ جو سزائیں حقوق اللہ سے متعلق نہیں ہیں ان میں ’شبہہ‘کا یہ اثر نہیں ہوتا۔ جو لوگ حدود کے معیار ثبوت ، حدود پر ’شبہہ‘کے اثر اور اس طرح کے دیگر اصول بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں، وہ دراصل اسلامی قانون کا حلیہ بگاڑنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ، جو پہیہ نئے سرے سے ایجاد کرناچاہتے ہیں ، بحث کا کوئی فائدہ نہیں ۔ البتہ اسلامی قانون کے ڈھانچے کو ڈھائے بغیر اس مسئلے کا حل یوں نکالاجاسکتاہے کہ اسے جرم سیاسۃ قرار دیا جائے۔ اس طرح زنا بالجبر سے متعلق قانون کی خامیاں بھی دور ہوجائیں گی اور اسلامی قانون حدود کی کسی شق کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنی پڑے گی ۔ لیکن اس کے لئے ضروری یہ ہوگا کہ زنا بالجبر کو الگ مستقل جرم قرار دیا جائے اور اسے ’’زنا‘‘ کی قسم نہ قرار دیاجائے ۔ اس کے لئے زنا بالجبر کے بجائے ’’جنسی تشدد‘‘ یا اس قسم کا کوئی اور نام رکھا جائے ۔ انگریزی میں تو Rape کا لفظ ہی مناسب ہوگا ۔ 
عہد رسالت میں زنا بالجبر کے ایک مقدمے کی روداد روایات میں اس طرح بیان ہوئی ہے : 
’’رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لئے گھر سے نکلی ۔ ایک شخص نے اسے پاکر پکڑ لیا اور اس سے زبردستی اپنی حاجت پوری کی ۔ وہ چلائی تو وہ شخص بھاگ کھڑا ہوا اور ایک اور شخص وہاں سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ یہ کیا ۔ وہاں سے مہاجرین کے چند لوگ گزرے تو اس عورت نے ان سے کہا کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ یہ کیا ۔ انہوں نے جاکر اس شخص کو پکڑ لیا جس کے متعلق اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ تو اس عورت نے کہا کہ ہاں یہی ہے وہ ۔ وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے ۔ پھر جب آپ نے اس کے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا جس نے درحقیقت اس عورت کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔ آپ نے اس عورت سے کہا کہ جاؤ اللہ نے تمہاری خطا بخش دی ہے اور اس پہلے شخص سے بھی اچھی بات کہی ۔ پھر جس شخص نے زیادتی کی تھی اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کردو ۔ اور اس کے متعلق فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ توبہ سب اہل مدینہ کرتے تو ان کے لئے کافی ہوتی ۔‘‘
اس واقعے کی تفصیلات اور جزئیات کے متعلق روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔تاہم چند باتیں ایسی جو یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہیں: 
اولاً: یہ کہ ایک خاتون کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ۔ 
ثانیاً : یہ کہ خاتون نے جب زنا بالجبر کا دعویٰ کیا تو اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ چار گواہ پیش کرے ۔ 
ثالثاً : یہ کہ حدود کے اثبات کے لئے مخصوص ضابطے پر عمل نہیں کیا گیا ۔ مثلا شبھۃ کے اثر کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ۔ 
رابعاً : واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر مجرم کو رجم کی سزا سنائی گئی ۔ 
بعض لوگوں نے اس واقعے سے یہ استدلال کیا ہے کہ حدود میں واقعاتی شہادتیں بھی قبول کی جاسکتی ہیں اور حدود کے متعلق دیگر قیود بھی اٹھائی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جب حدود کی شرائط پوری نہیں کی گئیں تو یہ سزا سرے سے حد کی سزا تھی ہی نہیں ، بلکہ سیاسۃ کے تحت یہ سزا سنائی گئی۔ عہد سالت اور عہد صحابہ میں فساد کے مرتکب مختلف افراد کو اسی اصول پر عبرتناک سزائیں دی گئیں ، مثلاً عرنیین کا واقعہ ، یا لواطت کی سزا ۔ پس اسلامی قانون حدود کا ڈھانچہ ڈھادینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی پیش آمدہ تمام مسائل کا حل مل سکتا ہے ۔ 
اگر زنا بالجبر کو جرم سیاسۃ قرار دیا جائے تو اس جرم کی تعریف ، اس کے لئے معیار ثبوت کا تعین ، اور اس کے لئے سزا کا تعین ، سب کچھ حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ مثلاً حکومت زنا بالجبر کے اثبات کے لئے میڈیکل رپورٹ ، ڈی این اے ٹسٹ اور دیگر واقعاتی شہادتوں اور قرائن کو بھی قابل قبول قرار دے سکتی ہے ۔ البتہ حکومت کو قانون سازی کرتے ہوئے اسلامی قانون کے قواعد عامہ کا لحاظ رکھنا ہوگا۔چنانچہ زنا بالجبر کی جو تعریف اس بل میں پیش کی گئی ہے اس پر ہمیں یہ اعتراض ہے کہ اس کے تحت اس جرم کا ارتکاب ہمیشہ کوئی مرد ہی کرتا ہے ، (بل کی دفعہ ۵) حالانکہ ایک مفروضے کے طور پر ہی سہی ، اس کا امکان بہر حال ہے کہ اس جرم کا ارتکاب کوئی عورت کرے اور اس کا شکار کوئی مرد ہو ۔ 
۷۔ جہاں تک حد زنا آرڈی نینس میں ’’نکا ح صحیح‘‘کے الفاظ کو ’’نکاح ‘‘ میں تبدیل کرنے کی بات ہے(بل کی دفعہ۱۳ ) اس کے متعلق عرض ہے کہ اصولاً یہ بات صحیح ہے کہ نکاح ’’صحیح ‘‘نہ بھی ہو تو ملزم کو شبھۃ کا فائدہ مل جاتا ہے ۔ اس ترمیم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ دیہاتوں میں عام طور پر نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن مسلم فیملی لاز آرڈی نینس کے تحت نہیں ہوتی ، اس لئے سابقہ شوہر اپنی بیوی پر زنا کا دعویٰ دائر کردیتا ہے۔ اگر واقعی مسئلہ یہ ہے تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس میں ترمیم وقت کی ضرورت بن جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ اس آرڈی نینس کے بنائے جانے کے وقت سے علما کی جانب سے اس پر مسلسل یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے ، مگر ارباب اقتدار نے اس پر کبھی کان نہیں دھرا ۔ اب جبکہ یہ صدا ایوان اقتدار ہی سے بلند ہوئی ہے تو مسلم فیملی لاز آرڈی نینس میں ترمیم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ 
ہمارے نزدیک اس بل کی قابل اعتراض شقیں درج ذیل ہیں:
۱ ۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۱۳کے تحت قراردیاگیاہے کہ حدزنا آرڈینینس میں زنا کی تعریف (دفعہ ۴) سے وضاحت حذف کردی جائے گی۔ اس وضاحت میں قرار دیاگیاہے کہ زنا کے جرم کے لئے محض دخول کا واقع ہونا کافی ہے۔ ہمارے نزدیک حد زنا آرڈی نینس کی یہ وضاحت قرآن وسنت اور فقہائے اسلام کی تشریحات کے مطابق ہے۔ دخول سے کم تر کی بے حیائی کو شرعاً زناقرار نہیں دیاجاسکتا۔ اور دخول ہوجائے تو اس کے بعد انزال ہویانہ ہو، زنا کا جرم وقع پذیرہوجاتاہے۔ اس لئے اس وضاحت کے حذف کرنے سے زنا کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجائے گا۔
۲۔ ترمیمی بل کی دفعات ۱۹(۱)اور ۲۸(۱)کے تحت قرار دیاگیاہے کہ حدزنا آرڈینینس کی دفعہ ۲۰ اور حد قذف آرڈینینس کی دفعہ ۱۷ سے پہلاproviso ختم کردیاجائے گا ۔ ان دفعات میں قرار دیاگیاہے کہ اگر ان آرڈینینسز کے تحت مقدمہ قائم کردیا جائے مگر جج کی رائے میں مجرم نے کسی اور جرم کا ارتکاب کیاہو اور اس جرم کی سزا دینے کا اختیار وہ جج رکھتاہو تو وہ مجرم کو وہ سزا سناسکتاہے۔ہمارے نزدیک یہ ترمیم غیر ضروری ہے۔ اگر ان شقوں کو ختم کیا گیا تواس کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو مجرم جرم کی سزا پائے بغیر بری ہو جائے گا ، یا اس کے خلاف نیا مقدمہ قائم کرنا ہوگا۔ ان دونوں صورتوں کی قباحتیں واضح ہیں۔ 
۳۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۱۸ کے تحت قرار پایاگیاہے کہ حدزنا کی دفعہ کی دفعہ ۱۷ سے ’’یا دفعہ ۶‘‘ کے الفاظ حذف کردیے جائیں گے۔ آرڈینینس کی متعلقہ دفعہ رجم کے طریق کار کے متعلق ہے اور دفعہ ۶ زنا بالجبر کے بارے میں ہے جسے آرڈینینس سے نکال کر مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل کرنے کاکہاگیاہے۔ اس لئے دفعہ ۱۷ سے ان الفاظ کا حذف کرنا ضروری ہے۔تاہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ حکومت نے دفعہ ۱۷ میں رجم کے طریق کار کو قرآن وسنت کے مطابق کردینے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ اس دفعہ میں قرار دیاگیاہے کہ جب مجرم کو پتھرمارے جائیں گے تو اسی دوران میں اسے گولی ماردی جائے گی۔ ہماری ناقص رائے میں اس کے لئے قرآن وسنت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور آرڈینینس کی اس دفعہ میں ترمیم ضروری ہے۔
۴۔ لعان سے متعلق دفعات کو قذف آرڈی نینس سے نکال کر Dissolution of Muslim Marriages Act میں شامل کرنے کا کہا گیا ہے ۔ (بل کی دفعہ ۳۰ ) اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ لعان کا تعلق سزاؤں سے زیادہ تنسیخ نکاح کے طریقوں سے ہے ، اس لئے اس کے لئے مناسب جگہ وہی ایکٹ ہے ۔ دوسری طرف ترمیمی بل کی دفعہ ۲۶ میں قرا ر دیا گیا ہے کہ حد قذف آرڈی نینس میں لعان سے متعلقہ دفعہ ۱۴ کی ذیلی دفعات ۳ اور ۴ حذف کردی جائیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لعان خالصتاً تنسیخ نکاح کا ذریعہ بن جائے گا اور حد زنا و حد قذف سے اس کا تعلق بالکل ہی ختم ہوجائے گا ۔ حالانکہ لعان تنسیخ نکاح کا ایک ذریعہ صرف اسی صورت میں بنتا ہے جب شوہر اپنے دعوے کے حق میں اور بیوی اس کے خلاف قسمیں کھائے ۔ اگر عورت اس الزام کو تسلیم کرلے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے گی ، جیسا کہ حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۴ ذیلی دفعہ ۴ کا کہنا ہے ۔ اسی طرح اگر شوہر الزام لگائے مگر قسم کھانے سے انکار کرے ، یا عورت الزام مسترد کردے مگر قسم نہ کھائے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے گا ؟ قرآن کریم کا تو صریح فرمان ہے کہ شوہر قسم کھائے تو اس کے بعد عورت سے زنا کی حد صرف اسی صورت میں ٹل سکتی ہے جب وہ بھی چار مرتبہ الزام کے جھوٹا ہونے کے متعلق قسم کھائے اور پانچویں دفعہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت بھیجے ۔ (سورۃ النور ، آیت ۸ ۔ ۹ ) اسی لئے فقہا نے قرار دیا ہے کہ قسم نہ کھانے والے فریق کو اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب وہ قسم نہ کھائے یا اپنے جرم کا اقرار نہ کرے۔ یہی حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۴ ذیلی دفعہ ۳ میں قرار دیا گیا ہے ۔ اسی بنا پر لعان کا تعلق صرف تنسیخ نکاح سے ہی نہیں ، بلکہ حد زنا اور حدقذف سے بھی قائم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ہمارے نزدیک ترمیمی بل کی یہ دفعہ قرآن وسنت اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے عین متصادم ہے ۔ 
۵ ۔ ترمیمی بل کی دفعہ ۹کے تحت زنا کے مقدمے کے گواہوں کے لئے صرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ ’’بالغ ‘‘ ہوں ؛ بہ الفاظ دیگر گواہ کا مرد ہونا اور مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے ۔ ہماری ناقص رائے بھی یہ ہے کہ حد کے مقدمے میں گواہ کا عاقل بالغ مرد ہونا ضروری ہے اور حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸میں بھی یہی قرار دیا گیا ہے ۔ ترمیمی بل کی دفعہ۹ کے تحت ضابطۂ فوجداری میں یہ نئی دفعہ ۲۰۳ ۔ الف شامل کی جائے گی ۔ ترمیمی بل نے حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸ کی منسوخی کے متعلق کچھ نہیں کہا ہے ، مذکورہ دفعہ بدستور نافذ العمل رہے گی ۔ اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو صورتحال یہ ہوگی کہ ضابطۂ فوجداری کی نئی دفعہ ۲۰۳ ۔ الف کے تحت گواہ کا صرف بالغ ہونا ہی ضروری ہوگا اور حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸کے تحت اس کا بالغ مسلمان مرد ہونا ضروری ہوگا ۔ کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ضابطۂ فوجداری کی نئی دفعہ کے بعد حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ غیر مؤثر (redundant) ہوجائے گی ؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو یقیناًیہ ترمیم قرآن و سنت اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے متصادم ہے ۔ تاہم ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حد زنا آرڈی نینس ایک خصوصی قانون ( Special Law) ہے اور وہ عام قانون پر بہر حال بالادست حیثیت رکھتا ہے خواہ اس بالادستی کو صراحتاً نہ ذکر کیا جائے ۔ پس ضابطۂ فوجداری میں اس نئی دفعہ۲۰۳ ۔ الف کو شامل بھی کیا جائے تو اس کی تعبیر و تشریح حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۸کے تحت ہی کی جائے گی ۔ (’حمل المطلق علی المقید‘ کا قاعدہ بھی یہی کہتا ہے ۔ ) پس اگر غیر مسلم یا کسی خاتون گواہ کی گواہی پر مقدمہ درج کیا گیا تو اور حد زنا آرڈی نینس میں مذکور نصاب شہادت پورا نہ ہو تو اس خاتون اور غیرمسلم سمیت دیگر بالغ مسلمان مردوں کو بھی قذف کی سزا دی جائے گی ، اور اس کے لئے نئے استغاثے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ، جیسا کہ ترمیمی بل کی دفعہ ۲۲ کے تحت قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم ترمیمی بل کی یہ دفعہ حدود کے طریق کار کو تبدیل کرنے کے لئے ایک چور دروازہ ثابت ہوسکتی ہے ، بالخصوص جبکہ حکومت حدود قوانین کی دیگر قوانین پر بالادستی ختم کرنے کی (ناکام !) کوشش بھی کررہی ہے ۔ اس لئے اس دفعہ کا ختم کرنا ضروری ہے ۔ 
۶ ۔ ہمارے نزدیک ترمیمی بل کی سب سے زیادہ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ حدود آرڈی نینس کو دیگر قوانین پر جو بالادست حیثیت (overriding effect) دی گئی ہے وہ ختم کر دی جائے ۔ چنانچہ بل کی دفعات ۱۲ اور ۲۹ میں قرار دیا گیا ہے کہ حد زنا آرڈی نینس کی دفعہ ۳ اور حد قذف آرڈی نینس کی دفعہ ۱۹ حذف کردی جائیں گی ۔ ہمارے نزدیک یہ ترمیم اس وجہ سے غیر ضروری ہے کہ اس کے باوجود حدود قوانین کو خصوصی قانون (Special Law) کی حیثیت حاصل رہے گی اور تعبیر قوانین کا عام قاعدہ یہ ہے کہ خصوصی قانون کو عام قانون پر بالادستی حاصل ہوتی ہے اور تصادم کی صورت میں خصوصی قانون پر ہی عمل ہوتا ہے ۔ لیکن اس ترمیم سے مسودہ بنانے والوں کے ارادوں کا کچھ اندازہ بہر حال ہوجاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب دستور میں طے کیا گیا ہے اور حکومت کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق کی جائے گی تو پھر حدود قوانین کو دیگر قوانین پر بالادست قرار دینے میں کیا قباحت ہے ، بالخصوص جب ان قوانین سے تعزیرات ختم کر دی جائیں گی اور یہ صرف حدود پر ہی مبنی ہوں گے ؟ کیا اس طرح حکومت حدود اللہ میں تبدیلی کے امکان کو قبول کر رہی ہے؟

مصارف زکوٰۃ میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد

ڈاکٹر عبد الحی ابڑو

ماہنامہ ’’حکمت قرآن‘‘ لاہور نے اپنی اشاعت خاص (جولائی ۲۰۰۶ء) میں ’’مصارف میں ’’فی سبیل اللہ ‘‘کی مد اور مسئلہ تملیک‘‘ حصہ دوم میں مصارف زکوٰۃ کے حوالے سے ایک استفتا کے جواب میں فتویٰ کے دو اہم مراکز کے جوابات شائع کیے ہیں جو حصہ اول میں دیے گئے مضامین کے بالکل برعکس ہیں۔ اس لیے گھوم پھر کر مسئلہ پھر وہیں آجاتاہے جہاں سے شروع ہوتاہے۔ اس سے یہ احساس خود بخود ابھرتاہے کہ ہمارے برصغیر کے مفتیان کرام اپنے تمام تر اخلاص اور دینی دررمندی کے باوجود دینی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے اور ان کی اہمیت کا احساس کرکے اس کا حل ڈھونڈ نکالنے کے بجائے (بصد ادب عرض کرنے کی جسارت کی جاتی ہے) بسا اوقات محض متقدمین مولفین کی عبارتوں اور الفاظ تک ہی محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس عالم عر ب کے ارباب افتا چیزوں کو وسیع تناظر میں اور شریعت کی روح اور اس کے عمومی مقاصد ومصالح کو پیش نظر رکھ کر افتا وارشاد کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
یہاں ضروری معلوم ہوتاہے کہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مداور ’’تملیک‘‘ کے حوالے سے عرب علما کے فتاویٰ بھی قارئین کے سامنے رکھ دیے جائیں تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آجائے۔

مجلس المجمع الفقہی الاسلامی کا فیصلہ

سب سے پہلے عالم اسلام کے فتویٰ کے ایک نمائندہ ادارے ’’مجلس مجمع الفقہی الاسلامی ‘‘ کے فیصلہ کا ذکر مناسب معلوم ہوتاہے۔ اس مجلس میں پوری اسلامی دنیا کے چیدہ چیدہ علما کی نمائندگی موجود ہے۔یہ مجلس ہر سال نئے پیش آمدہ مسائل پر غور وفکر کے لیے اپنے اجلاس منعقد کرتی اور اس سلسلے میں ایک اجماعی یا اکثریتی رائے دیتی رہتی ہے۔ ’’فی سبیل اللہ ‘‘کی مد کے حوالے سے فقہی مجلس نے مورخہ ۲۷؍۴؍۱۴۰۸ھ تا ۸؍۵؍۱۴۰۵ھ کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے اپنے اجلاس میں درج ذیل فیصلہ کیا ہے:
’’المجمع الفقہی الاسلامی ‘‘ کی مجلس نے مکہ مکرمہ میں مورخہ ۲۷؍ ۴؍۱۴۰۵ھ ۔ ۸؍۵؍۱۴۰۵ ھ کوہونے والے اپنے آٹھویں اجلاس میں مصارف زکوٰۃ کی آیت میں ذ کر کردہ مصرف ’’فی سبیل اللہ ‘‘ کے معنی پر غور وخوض کیا اور بحث ومباحثہ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مسئلہ میں فقہا کی دو آرا ہیں:
۱۔آیت مبارکہ کے الفاظ ’فی سبیل اللہ‘ کا مفہوم قتال کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔یہ جمہورعلما کی رائے ہے لہٰذا ان کا کہنا ہے کہ ’فی سبیل اللہ‘ کی مد سے زکوٰۃ کے معنی صرف اللہ کی راہ میں بالفعل قتال کرنے والے مجاہدین ہی ہوں گے۔
۲۔ ’سبیل اللہ ‘ نیکی اور رفاہ عامہ کے ہر کام کو شامل ہے جس سے مسلمانوں کو دینی یا دنیوی لحاظ سے فائدہ پہنچے، جیسے مساجد کی تعمیر اور مرمت، مدارس اور سرائے، مسافر خانوں کا قیام اور سڑکوں کی تعمیر وغیرہ۔ یہ قول چند متقدمین علما کا ہے مگر اسے بہت سے متاخرین نے اختیار کیا ہے۔ تبادلہ خیالات اور دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد مجلس نے اکثریت سے درج ذیل فیصلہ کیا:
۱۔چونکہ دوسری رائے بھی علما کی ایک گروہ کی ہے اور بعض آیات مبارکہ سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے، جیسے ارشادباری ہے:
(الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون ما انفقوا منّا ولا اذی لھم اجرہم عند ربہم) (البقرہ :۲۶۲) 
نیز بعض احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤدکی روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنا اونٹ فی سبیل اللہ ( اللہ کی راہ میں وقف) کردیا اور اس کی بیوی حج پر جانا چاہتی تھی تو حضور ﷺ نے اسے فرمایا :’’ تو نے اس اونٹ پر سفر کیوں نہیں کیا، ا س لیے کہ حج بھی فی سبیل اللہ ( اللہ کی راہ میں) ہی ہے‘۔‘ (کتاب المناسک، حدیث ۱۹۸۹)
۲۔ مزید یہ کہ اسلحہ سے جہاد وقتال، اللہ کے کلمہ کا بول بالا کرنے کے لیے اور داعیان دین کی تیاری اور انہیں ان کے فرائض کی ادائیگی میں تعاون فراہم کرنے سے بھی دین کی نشرواشاعت ہی پیش نظر ہوتی ہے، لہٰذا دونوں چیزیں جہاد میں شامل ہیں، جیساکہ امام احمد او ر نسائی نے حضرت انسؓ سے روایت کیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’مشرکین سے اپنے مال، جان، زبان، ہرذریعے سے جہاد کرو۔ ‘‘ (مسند احمد حدیث ۱۱۸۳۷، نسائی حدیث ۳۰۹۶، ابو داؤد، حدیث ۲۵۰۴)
۳۔ او رجیسا کہ نظریہ وعقیدہ کے میدانوں میں اہل الحاد، یہود نصاریٰ او ردیگر دشمنا ن دین اسلام سے برسر پیکار ہیں اور انہیں بھر پور مادی اور معنوی پشت پناہی حاصل ہے، لہٰذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ان کا اسی اسلحہ سے بلکہ اس سے شدید اسلحہ سے مقابلہ کریں جس سے وہ اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں۔
۴۔مزید یہ کہ اسلامی ممالک میں جنگ اور دفاع کے لیے الگ شعبے اور وزارتیں قائم ہیں اور ہر ملک میں اس کے لیے بجٹ میں رقم مخصوص کی جاتی ہے،جبکہ دعوت دین کے میدان جہاد کے لیے اکثر اسلامی ممالک کے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی جاتی۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر مجلس نے بھاری اکثریت سے یہ طے کیا کہ دعوت الی اللہ اور اسے قوت وطاقت بہم پہنچانے والے امور اور سرگرمیاں (فی سبیل اللہ ) کے قرآنی الفاظ میں شامل ہیں۔
اس فیصلے پر مجلس کے ایک ممبر، سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ محمد بن ابراہیم نے یہ اضافہ فرمایا :’’ یہاں ایک ضروری چیز ہے جس پر رقم کی زکوۃ خرچ کی جاسکتی ہے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ اور دین کے حوالے سے شکوک وشبہات رفع کرنے کے لیے مالی قوت فراہم کرنا۔ بلاشبہ یہ بات جہاد میں شامل ہے بلکہ سب سے بڑی اللہ کی راہ (اعظم سبیل اللہ ) ہے‘‘۔
سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کے ممبر الشیخ عبداللہ جبر ین سے فقہی مجلس کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا : 
’’ان معروف علما نے بالکل ٹھیک کیاہے اوردرست رائے دی ہے۔ اس سے مسلمانوں کی مشکلات حل ہوں گی، دعوت وارشاد کا کام کرنے والوں کو تائید ومدد حاصل ہوگی، دین کی دعوت کو فروغ ملے گا اور مشرکین کا زور ٹوٹے گا۔
بلاشبہ سبیل اللہ سے مراد وہ راستہ ہے جو اللہ کی طرف لے جاتاہے جیساکہ ارشاد ہے:
(یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام)(المائدہ :۱۶)
یعنی اللہ تعالیٰ وہ راہ دکھاتاہے جو اس پر چلنے والے کو سلامتی (جنت ) کی طرف لے جاتی ہے ،چنانچہ ہر وہ نیک عمل جو اللہ کے قریب کردے اور اس کی رضا مندی اور جنت کی طرف لے جائے، وہ سبیل اللہ کی قبیل سے ہے۔ اللہ سبحانہ نے مصارف زکوٰۃ کی آیت میں پہلے ان لوگوں کے اوصاف گنوائے جو اپنی ذاتی ضرورت کی بنا پر زکوٰۃ کے مستحق ہیں جیسے فقیر ، نادار، مقروض، مولفۃ القلوب اور مسافر وغیرہ۔ پھر باقی مصارف کو ’فی سبیل اللہ‘ کے عمومی الفاظ سے ذکر کردیا ۔اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو بھی ’’اپنے راستہ میں ‘‘قرار دیا ہے۔
(ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا وسعۃ) (النساء :۱۰۰)
بلاشبہ اللہ کے دین کی دعوت، دین کی خوبیان بیان کرنے اورپھیلانے، اہل الحاد اور باطل پرستوں کا رد اور کفار ومنافقین کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ اورتوڑ، یہ باتیں اللہ کی مدد کرنے اوراس کے پسندیدہ دین کی نشرواشاعت کرنے میں شامل ہیں۔ اگر یہ محاذ بے توجہی کا شکار ہوجائے اور لوگ اس پر خرچ نہ کریں اور اسے آگے نہ بڑھائیں او رداعیان حق کی کفالت کا انتظام نہ کریں تو ان مدّات پر زکوٰۃ کی رقم لگانا ضروری ہوجاتاہے ،بلکہ ان مدّات پر زکوٰۃ کی رقم دینا بعض دیگر مدات (جیسے مکاتب، مولفۃ القلوب اور مسافر) سے زیادہ اہم ہوجاتاہے۔ ان مدات میں قرآن مجید اور دینی کتب کی طباعت واشاعت، کیسٹوں اور انٹر نیٹ کے پروگرامات کی تیاری وغیرہ شامل ہیں (جن کے متعلق سائل نے پوچھا ہے (فتاویٰ علماء البلد الحرام ،مرتب :خالد الجریسی ،موسسہ الجریسی الریاض ۱۹۹۹۔ص۲۶۷۔۲۷۲)

جامعۃ الازہر کا فتویٰ

جامعۃ الازہر کی فتویٰ کمیٹی سے پوچھا گیا کہ مصر کے ایک علاقہ میں جہاں مسلمان بڑی تعدا د میں بستے ہیں اوروہاں مساجد کی قلت ہے، ایک مخیر شخص زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں؟ اس استفتا کا جواب اس وقت کے شیخ الازہر عبد المجید سلیم نے دیا جو درج ذیل ہے:
’’مسجد وغیر ہ کی تعمیر اورا س طرح کے دیگر رفاہ عامہ کے ایسے کاموں کے لیے بعض فقہا کی رائے میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے جن میں تملیک نہیں ہوتی۔ ان فقہا نے اس کے جواز کے لیے آیت کے لفظ (وفی سبیل اللہ) کے عموم سے استدلال کیاہے، اگر چہ ائمہ اربعہ کی رائے یہ نہیں ہے۔ مگر جو رائے ہم اختیار کررہے ہیں، وہ تفسیر رازی میں یوں مذکور ہے :
’’یہ جان لو کہ ’وفی سبیل اللہ‘ کے ظاہر الفاظ سے مال زکوٰۃ کا صرف قتال کرنے والے مجاہدین تک محدود کردینا لازم نہیں آتا، اسی لیے قفّال نے اپنی تفسیر میں بعض فقہا کی یہ رائے نقل کی ہے کہ وہ مردوں کی تکفین وتدفین ،قلعوں اور مساجد کی تعمیر وغیرہ جیسے کاموں پر خرچ کرنے کو جائز قراردیتے ہیں، اس لیے کہ (وفی سبیل اللہ) کے الفاظ میں عموم پایاجاتاہے اوراس میں یہ تما م چیزیں شامل ہیں ‘‘۔ (بدائع الصنائع کے مولف امام کاسانی حنفی نے بھی ’’سبیل اللہ ‘‘کا مفہوم نیکی کے تمام کام ‘‘بیان کیاہے)۔
’’ابن قدامہ المغنی میں پہلے تویہ بیان کرتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے جن مصارف کی صراحت فرمائی ہے، ان کے علاوہ کسی اور مد جیسے مساجد، پلوں اور سٹرکوں کی تعمیر پر زکوٰۃ کی رقم نہیں لگائی جاسکتی ‘‘پھر کہتے ہیں :’’مگر حضرت انس اور حضرت حسن بصری ؒ کہتے ہیں کہ پلوں اور سٹرکوں کی تعمیر پر جو رقم خرچ کی جائے گی، وہ تو دیرپا رہنے والی زکوٰۃ اور صدقہ جاریہ ہے، مگرپہلی رائے زیادہ درست ہے ،اس لیے کہ (انما الصدقات للفقراء والمساکین) میں ’انما‘ حصر اور اثبات کے لیے ہے، اس سے مذکورہ مصارف کا اثبات اور ان کے علاوہ دیگر کی نفی ہوتی ہے‘‘۔ ابن قدامہ کی عبارت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حضرت انسؓ اور حسن بصریؒ رفاہ عامہ کے کاموں (مساجد او ر سٹرکوں اور پلوں کی تعمیر وغیرہ) پر زکوٰۃکی رقم کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ ابن قدامہ نے اس کا جو رد کیاہے وہ وقیع نہیں ،اس لیے کہ رفاہ عامہ کے ان کاموں کا مصارف زکوٰۃ میں شامل ہونا ’وفی سبیل اللہ‘ کے الفاظ کے عموم کی وجہ سے خود اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتاہے۔ اسی لیے کتاب ’’الروض النضیر‘‘ کی شرح کے مولف نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں جن فقہا نے میت کی تکفین وتدفین اور مسجد کی تعمیر (جیسے رفاہ عامہ کے کاموں) پر زکوٰۃ کے مال میں سے خرچ کرنے کی اجازت دی ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ چیزیں سبیل اللہ کی صنف میں شامل ہیں، اس لیے کہ سبیل اللہ کا مفہوم ہر نیک کا م کو شامل ہے ،اگر چہ آغاز اسلام میں بکثرت پیش آنے کی وجہ سے وہ اپنے وسیع تر مدلولات کے فقط ایک ہی فرد یعنی جہاد وقتال کے لیے زیادہ بولا جانے لگا تھا ، جیسا کہ اس طرح کی کئی مثالیں ہیں مگر اس معنی ومفہوم نے حقیقت عرفی کی حیثیت اختیار نہیں کرلی، چنانچہ اس لفظ کا اپنا اصل مفہوم باقی ہے اوراس میں ان تمام اقسام کی نیکی کے کام شامل ہیں جس کا مصلحت عامہ یا خاصہ تقاضا کرتی ہو، الا یہ کہ کوئی مخصوص دلیل اس میں استثناء کردے۔‘‘
حاصل کلام یہ کہ ہمیں جو رائے زیادہ راجح نظر آتی ہے، وہ وہ رائے ہے جو بعض فقہا نے دی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر اور اس طرح کے دیگر نیکی اوررفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کی جاسکتی ہے اور ایسا کرنے سے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے او راسے پورا ثواب ملتاہے۔ (فتاویٰ الذکوۃ، بیت الذکوۃ کویت ۱۹۸۸۔ع ،ص ۱۵۰ ۔۱۵۱ بحوالہ الفتاویٰ الاسلامیۃ ۔الازہر)

فتویٰ کمیٹی کویت کی رائے

سوال :زکوٰۃ کا ایک مصرف ’’فی سبیل اللہ‘‘ہے ، کیا اس کا مفہو م صر ف جہاد بمعنی قتال اور مجاہدین کو سازو سامان کی فراہمی تک محدود ہے یا اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جس میں دین کا بھلا ہو؟
جواب: کمیٹی کی رائے ہے کہ ’’سبیل اللہ ‘‘سے مراد نیکی کی راہ ہے۔ بعض علماے متاخرین کی رائے میں نیکی کا ہر کام مصارف زکوٰۃ میں شامل ہے، مگر کتاب اللہ او رسنت رسول اللہ ﷺ کا جو شخص جائزہ لے گا، اسے یہ نظر آئے گا کہ یہ لفظ جہاد ہی کے حوالے سے استعمال ہوا ہے مگر جہاد جیسا کہ اسلحہ سے ہو سکتا ہے، معاشرہ کی ضرورت کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے ذریعے بھی ہوسکتاہے۔ فتویٰ کمیٹی نے اس حوالے سے پوچھے جانے والے تمام استفسارات کے بارے میں اسی رائے کو اختیار کیاہے، چنانچہ ہر وہ سرگرمی جو دعوت دین یا دفاع اسلام کے حوالے سے ہو، چاہے اسلحہ کے ذریعے سے ہو یاکسی اور ذریعے سے، وہ ’’فی سبیل اللہ ‘‘ اور مصارف زکوٰۃ میں شامل ہے۔ (فتاویٰ الزکوٰۃ حوالہ مذکورہ ،ص ۱۶۰ لجنۃ الفتویٰ وزارۃ الاوقاف والشوؤن الاسلامیۃ ،الکویت ،فتویٰ نمبر ۸؍ ۸۲)۔

جہاد کے بارے میں پوپ بینی ڈکٹ کے ریمارکس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہ نما پوپ بینی ڈکٹ شانزدہم نے ۱۲؍ ستمبر کو جرمنی کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی آف ریجنز برگ میں کم وبیش ڈیڑھ ہزار طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں جو ریمارکس دیے، ان پر دنیاے اسلام میں ایک بار پھر احتجاج واضطراب کی لہر اٹھی ہے اور ان ریمارکس کو توہین آمیز قرار دے کر پاپاے روم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان گستاخانہ ریمارکس پر معافی مانگیں۔ پاپاے روم کے ا س خطاب کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ مغرب نے مختلف سائنسی اور سماجی علوم کو بنیاد بنا کر خدا کی راہ نمائی اور مذہب کو ایک طرف کر رکھا ہے جو درست نہیں ہے، کیونکہ مغرب جب خدا کو ایک طرف کر کے ثقافتوں کے مابین مکالمے کی بات کرتا ہے تو دنیا دوسری ثقافتوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے عقیدہ وایمان کی نفی کی جا رہی ہے، اس لیے ایسی عقل جو خدا کی کی راہ نمائی سے بے بہرہ ہو اور جو مذہب کو محدود ثقافتی دائرے میں محصور کر دیتی ہو، وہ ثقافتوں کے مابین مکالمہ شروع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پوپ بینی ڈکٹ نے قرآن کے تصور جہاد کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا اور چودھویں صدی کے ایک بازنطینی مسیحی حکمران عمانویل دوم پیلیو لوگس کے ایک مکالمہ کے حوالے سے ایسی باتیں کہہ دیں جو نہ صرف یہ کہ جہاد کے جذبہ وتصور کو غلط رنگ میں پیش کرنے کے مترادف ہیں۔ مذکورہ مکالمے میں مسیحی حکمران نے کہا تھا :
’’مجھے دکھاؤ کہ محمد نے نئی چیز کیا پیش کی ہے؟ تمھیں صرف ایسی چیزیں ملیں گی جو بری اور غیر انسانی ہیں، جیسا کہ محمد کا یہ حکم کہ جس مذہب کی انھوں نے تبلیغ کی ہے، اسے تلوار کے ذریعے سے پھیلایا جائے۔‘‘
ان ریمارکس پر عالم اسلام کے سخت احتجاج کے جواب میں پاپاے روم نے یہ وضاحت پیش کی ہے کہ ان کی تقریر کے جن الفاظ سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، وہ ان کے اپنے نہیں ہیں اور نہ ان کے ذاتی خیالات کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ یہ عمانویل دوم کے الفاظ ہیں جنھیں ان کے لیکچر میں محض ایک اقتباس کے طور پر نقل کیا گیا ہے، تاہم پوپ کا خطاب اس تاویل کو قبول نہیں کرتا۔ ان کے خطاب کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:
’’اس لیکچر میں، میں صرف ایک نکتے پر، جو کہ بذات خود مکالمہ کے حوالے سے بنیادی اہمیت نہیں رکھتا، بحث کرنا چاہوں گا جسے ایمان اور عقل کے مسئلے کے تناظر میں، میں دلچسپ خیال کرتا ہوں اور جو موضوع سے متعلق میرے خیالات کے لیے نکتہ آغاز کا کام دے سکتا ہے۔
پروفیسر خوری کے مدون کردہ ساتویں مکالمے میں، بادشاہ جہاد کے موضوع کو چھیڑتا ہے۔ بادشاہ کو یقیناًسورہ ۲:۲۵۶ کے بارے میں معلوم ہوگا جو کہتی ہے کہ ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ یہ ابتدائی دور کی سورتوں میں سے ہے جب محمد ابھی طاقت سے محروم اور خطرے کی زد میں تھے۔ تاہم فطری طور پر بادشاہ کو وہ احکام بھی معلوم ہوں گے جو مقدس جنگ سے متعلق بعد کے حالات میں دیے گئے اور جو قرآن میں درج ہیں۔ اہل کتاب اور مشرکین کے بارے میں تجویز کیے گئے طرز عمل کے مابین امتیاز جیسی تفصیلات میں الجھے بغیر، وہ ذرا بے لحاظی سے مذہب اور تشدد کے مابین عمومی تعلق کا مرکزی سوال اپنے شریک مکالمہ کے سامنے ان الفاظ میں رکھ دیتا ہے: ’’مجھے دکھاؤ کہ محمد نے آخر نئی چیز کیا پیش کی؟ تمھیں بس ایسی چیزیں ملیں گی جو بری اور غیر انسانی ہیں، جیسا کہ اس کا یہ حکم کہ جس مذہب کی اس نے تبلیغ کی ہے، اسے تلوار کے ذریعے سے پھیلایا جائے۔‘‘
بادشاہ تفصیل کے ساتھ بدلائل اس بات کی وضاحت کو جاری رکھتا ہے کہ تشدد کے ذریعے سے ایمان کو پھیلانا کیوں ایک غیر معقول بات ہے۔ تشدد خدا کے مزاج اور روح کی فطرت سے لگا نہیں کھاتا۔ ’’خدا خون سے خوش نہیں ہوتا اور عقل کے مطابق عمل نہ کرنا خدا کی فطرت کے مخالف ہے۔ ایمان روح سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ جسم سے۔ جو شخص بھی کسی کو ایمان تک لے جانا چاہتا ہے، اسے کسی تشدد یا دھمکی کے بغیر، عمدہ طریقے سے بات کرنے اور درست طریقے سے استدلال کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، .... کسی عقل پسند روح کو قائل کرنے کے لیے کسی کو مضبوط بازو یا کسی قسم کے ہتھیاروں یا کسی شخص کو موت کے خوف میں مبتلا کرنے کے کسی دوسرے ذریعے کی ضرورت نہیں۔‘‘
اس استدلال میں تشدد کے زور پر تبدیلی مذہب کے خلاف فیصلہ کن بیان یہ ہے کہ عقل کے مطابق عمل نہ کرنا خدا کی فطرت کے خلاف ہے۔ مکالمے کے تدوین کار تھیوڈور خوری نے اس پر تبصرہ کیا ہے کہ ’’بادشاہ کے لیے، جو ایک بازنطینی تھا جس کی ذہنی تربیت یونانی فلسفے کے تحت ہوئی تھی، یہ بیان کسی استدلال کا محتاج نہیں۔ لیکن مسلم تعلیمات کی رو سے خدا (عقل واستدلال سے) مکمل طور پر ماورا ہے۔ اس کا ارادہ ہماری categories میں سے کسی کا پابند نہیں، حتیٰ کہ عقلی طر ز عمل کا بھی نہیں۔ یہاں خوری نے معروف فرانسیسی ماہر اسلامیات R. Arnaldes  کی تحریر کا حوالہ دیا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ابن حزم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ خدا خود اپنے کہے ہوئے الفاظ کا بھی پابند نہیں، اور کوئی چیز اس کو پابند نہیں کرتی کہ وہ حق کو ہم پر واضح کرے۔ اگر خدا کی مرضی ہوتی تو ہمیں بت پرستی کو بھی اختیار کرنا پڑتا۔‘‘
اس اقتباس سے واضح ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ نے عمانویل دوم کے مکالمہ کا صرف اقتباس پیش نہیں کیا بلکہ سیاق اور سباق میں اپنے تبصرے کے ساتھ اس کی تائید بھی کی ہے، اس لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ کے بیان کی جو وضاحتیں پیش کی جا رہی ہیں اور جن توجیہات کے ذریعے ان کے خطاب کے اس حصے کو گول کر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ محض لیپا پوتی ہے اور اصل بات وہی ہے کہ پاپاے روم نے اسلام کے تصور جہاد کو اپنے خطاب کا ہدف بنایا ہے اور وہی بات مذہب کے نام پر کی ہے جو مغرب کے سیاست دان اور حکمران لا مذہبیت اور سیکولر ازم کے نام پر کر رہے ہیں۔
جہاں تک پاپاے روم یا عمانویل دوم کی اس بات کا تعلق ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو تلوار کے ذریعے سے پھیلانے کا حکم دیا تھا تو یہ اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق دونوں کے یکسر منافی ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے یا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی کسی شخص کو زبردستی کلمہ پڑھانے کا حکم نہیں دیا۔ قرآن کریم نے تو صراحت کے ساتھ اس بات کا حکم دیا ہے کہ ’لا اکراہ فی الدین‘، دین کے قبول کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ ’من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر‘، جس کا جی چاہے، ایمان لائے اور جس کا جی چاہے، کفر اختیار کرے۔ ایمان یا کفر میں سے کوئی راستہ اختیار کرناخالصتاً کسی بھی شخص کا ذاتی اختیار ہے اور اس کے لیے جبر کی کوئی بھی صورت اختیار کرنے کو اسلام جائز نہیں سمجھتا، لیکن کسی فرد کا اسلام قبول کرنا یا نہ کرنا اور بات ہے، اور انسانی سوسائٹی میں اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بغاوت اور ظلم وجبر کے خلاف صف آرا ہونا اور عدل وانصاف کی آسمانی تعلیمات کے فروغ کے لیے جہاد کرنا اس سے بالکل مختلف امر ہے اور اسی کو جہاد کہتے ہیں۔ اسلام کے نزدیک جہاد کا یہی تصور ہے اور یہ جہاد بنی اسرائیل میں بھی موجود رہا ہے۔ قرآن کریم نے بیت المقدس کی فتح کے لیے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی جنگ اور جالوت کے مقابلے میں طالوت اور حضرت داؤد علیہ السلام کی جس جنگ کا ذکر کیا ہے، وہ جہاد ہی تھے اور بائبل نے بھی ان جنگوں کے واقعات قدرے مختلف انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہ جنگیں شریعت موسوی کی بالادستی اور اس دور کے ظالموں، جابروں اور غاصبوں کو زیر کرنے کے لیے تھیں۔
الغرض کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہ نماز پوپ بینی ڈکٹ کے یہ ریمارکس خلاف حقیقت ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور چند ماہ قبل جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والی صورت حال کے تسلسل کو باقی رکھنے کی ایک افسوس ناک کوشش بھی ہے جس کی پاپاے روم کے منصب پر فائز کسی شخصیت سے قطعاً توقع نہیں تھی۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو مزید مشتعل کرنے کی بات ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پاپاے روم بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتوں کے مابین مکالمہ کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی اشتعال انگیزی کے ذریعے اس کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کر رہے ہیں۔ کیا پوپ بینی ڈکٹ خود بھی اپنے اس غیر منطقی اور غیر معقول طرز عمل پر نظر ثانی اور اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟

مکاتیب

ادارہ

(۱)

Prof. Mian Ina'am ur Rahman,
Assalam o alaikum wa Rahmatullah
I am wirting these lines to express my appreciation of your paper in al-Shariah, August 2006. Even though some of the concepts are not quite clear to me, e.g. Quran majeed ka wahdati rujhan (p.19), I broadly agree with your stand. You have a good point in the last para on page 19. It deserves further elaboration. What attracts me most is not the conceptual but the prescriptive implications of this paper, the operational implications.
I wish to have some feedback on what I have been writing in FIKR O NAZAR, Islamabad, under the general title of Maqasid al-Shariah. 3 papers appeared in June 2004, December 2005 and June 2006 respectively. Three more are in the pipeline.

With warm regards
Muhammad Nejatullah Siddiqi
mnsiddiqi@hotmail.com
(۲)
محترم جناب مدیر ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’الشریعہ‘ ماشاء اللہ علمی بحث ومکالمہ کے لیے ایک بہترین فورم ہے جس میں اہل علم حضرات مختلف جدید وقدیم موضوعات پر بحث ومباحثہ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گراں قدر علمی وفکری مقالات بھی پیش فرماتے ہیں۔ ان میں حضرت رئیس التحریر مدظلہ، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کی نگارشات قابل ذکر ہیں۔ لیکن بسا اوقات اس علمی فورم میں علمی وقار ومتانت سے بے خبر ایسے ’’اہل علم‘‘ شرکت کرتے نظر آتے ہیں جن کے انداز تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ وہ مکالمہ اور مجادلہ میں فرق سے ناواقف ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ اس مکالمہ گاہ کو روایتی مناظرہ بازی اور جدال ونزاع سے محفوظ رکھا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ادارہ پر اعتماد میں اضافہ کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مضمون کی تحریر من وعن شائع کی جائے، البتہ زبان وبیان کے حوالے سے نوک پلک کی درستی میں ادارہ حق بجانب ہے، تاہم خیال رہے کہ دونوں فریقوں کی زبان کو شایستہ بنایا جائے۔
گزشتہ شماروں میں بعض حضرات نے مجھے ’’مولوی، حضرت مولانا ‘‘اور ’’مدرس دار العلوم کراچی‘‘ کے القاب سے یاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ میں جامعہ میں پڑھنے والا ایک طالب علم ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’الشریعہ‘ کو مادی وروحانی وسائل کی فراوانی کے ساتھ مزید دینی وعلمی خدمات کی توفیق سے نوازے۔ آمین
محمود خارانی
جامعہ دار العلوم کراچی ۱۴
(۳)
بخدمت جناب محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے بعد عرض ہے کہ آپ کا ماہنامہ ہمارے مدرسے میں آ رہا ہے جس کوپڑھنے کا خادم مدرسہ کو بھی موقع ملا، مگر آپ حضرات کے بارے میں اس لیے فکر ہے کہ آپ کے ماہنامے میں کوئی اور تبلیغ سے اختلاف کرے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے، مگر اگست کے شمارے میں مولانا محمد یوسف صاحب نے ’الشریعہ‘ کے سرپرست کے حوالے سے جو مضمون لکھا ہے، اسے پڑھ کر بڑی ہی حیرت ہوئی۔ اور آخر میں حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے اظہار خیال نے تو کمال ہی کر دیا۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ مصروف عوام الناس آپ کی ایسی باتوں سے فکرمند تو ہوتے ہوں گے۔ جن لوگوں نے اس کو پڑھ کر تبلیغ سے دوری اختیار کی ہوگی، ان لوگوں کی دنیا وآخرت کا معاملہ آپ ہی کی وجہ سے خراب ہوگا۔ اس کی قیامت میں اللہ پاک کے ہاں آپ کی پیشی ہو سکتی ہے۔ آپ حضرات احساس ذمہ داری کے ساتھ تبلیغ اسلام میں وقت لگا لیتے تو کبھی ایسی باتیں اپنے رسالے میں شائع نہ کرتے۔ ہماری تو سب حضرات کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی محنت کو سیکھنے کے لیے ہم سب کی جان، مال اور وقت کو قبول فرمائیں۔ الحمد للہ ۳ ستمبر سے رائے ونڈ مرکز میں علماے کرام کا جوڑ ہو رہا ہے، آپ بھی اس میں شامل ہو کر شفقت فرماویں۔ 
آپ نے بڑی بڑی کتابیں پڑھی ہیں، مگر ’’فضائل اعمال‘‘ کو پڑھ کر تنہائی میں بیٹھ کر غور وفکر تو کریں۔ اب تو ’’فضائل اعمال‘‘ کا بے شمار زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ آپ حضرات دعوت وتبلیغ کے کام میں معاون بننے کی بجائے اس کی مخالفت کے لیے اپنے رسالے کو استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ کی یہی تبلیغ ہے؟ 
دعوت وتبلیغ کی برکت سے الحمد للہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں اسلامی انقلاب آ رہا ہے جس کی وجہ سے اچھے خاندانوں کے لوگ اپنی اولاد کو مدرسوں میں داخل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ حضرات کے مدرسے آباد ہو رہے ہیں، ورنہ پہلے تو مدرسوں میں غریب لوگوں کے بچے یا جسمانی طور پر معذور بچے ہی داخل ہوتے تھے۔ آپ کبھی طالب علموں سے پوچھ کر دیکھیں۔ الحمد للہ تبلیغ والے ہی مدرسوں میں داخل کرانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
آپ حضرات ہی بتائیں، جتنی نافرمانیاں سرعام ہو رہی ہیں، سڑکوں پر عورتوں کی تصویریں عام نظر آ رہی ہیں، عورتیں بے پردہ ہو کر بازاروں اور فیکٹریوں میں آ جا رہی ہیں، کیا ان لوگوں کو سمجھانے کے لیے مدرسے کی جماعت بنا کر تبلیغ کے لیے جانا آپ کی سمجھ میں نہیں آتا؟ اس وقت ۶؍ ارب انسان ہیں جس میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔ ان سب مسلمانوں کے ذمے، جن میں سب لوگ شامل ہیں، غیر مسلموں کو تبلیغ کر کے مسلمان بنانا فرض عین ہے۔ اگر ہماری تبلیغ کے بعد غیر مسلم، مسلمان نہیں ہوتے تو قیامت میں ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا، ورنہ ہم سب سے تبلیغ نہ کرنے کی بازپرس ہوگی۔ سب انبیاے کرام نے اپنے گھروں سے نکل کر ہی تبلیغ کی ہے، بلکہ اس تبلیغ میں تکلیفیں بھی آئی ہیں۔ 
یہ ساری باتیں اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپ حضرات کی خدمت میں عرض کی ہیں۔ جب تک آپ حضرات تبلیغ میں وقت نہیں لگائیں گے، ایسے ہی مخالفت کرتے رہیں گے جو آپ کی دنیا وآخرت خراب ہو جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس وقت کاغذ ختم ہونے کو ہے، ورنہ اور بھی باتیں ہوتیں۔ باقی باتیں قرآن وحدیث سے پڑھ کر فکر فرماویں۔ آپ حضرات کے لیے اللہ پاک سے ہم لوگ دعا بھی کرتے رہیں گے اور آپ کو بتاتے بھی رہیں گے۔
خادم مدرسہ مشتاق احمد
مدرسۃ الحسنین للبنات 122/B
گلستان کالونی فیصل آباد
(۴)
محترم جناب مدیر اعلیٰ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج شریف؟
الحمد للہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ پاکستان کے دیگر دینی وعلمی رسائل وجرائد میں منفرد صفات وخصوصیات کاحامل جریدہ ہے جس میں متنوع قسم کے علمی وفکری مضامین ومقالات علمی ذوق کے حامل قارئین کی پیاس بجھاتے ہیں۔ خاص طور پر مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ’’کلمہ حق‘‘ اور دیگر مقالات ومضامین تو حرز جاں بنانے کے قابل ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے متجددین کی فکری غلطیوں کی نشان دہی کے لیے ’الشریعہ‘ کا کارنامہ لائق صد تحسین ہے، خاص طور پر غامدی صاحب محترم کے نظریات کا رد تو ’الشریعہ‘ کا جرات مندانہ اقدام ہے جس کے ذریعے سے میرے جیسے بہت سے قارئین کو غامدی صاحب کے نظریات وافکار سے آگاہی حاصل ہوئی۔
البتہ بعض اوقات ’الشریعہ‘ میں ایسے مضامین بھی شائع ہو جاتے ہیں جو ’’وحدت امت کے داعی‘‘ کے بجائے مزید فکری انتشار کا باعث بنتے ہیں اور بعض تو تضییع اوقات کا بھی سبب بنتے ہیں۔ ایسے مضامین اول تو شائع نہ کیے جائیں، اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ادارے کی طرف سے ایک نوٹ لکھا جائے تاکہ عام قارئین کو اصل حقیقت حال معلوم ہو جائے اور ادارہ کی رائے بھی۔
اللہ تعالیٰ مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین
محمد اصغر غفرلہ
جامعہ اسلامیہ امدادیہ۔ فیصل آباد

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ سال رواں (شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ تا رجب ۱۴۲۷ھ ۔ ستمبر ۲۰۰۵ء تا اگست ۲۰۰۶) میں اکادمی کی سرگرمیوں کی ایک مختصر رپورٹ حسب ذیل ہے:

اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز

  • ۱۹۹۹ ء سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین پر اکادمی کی تین منزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 
  • کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں چار دیواری کی بنیادی بھر دی گئی ہیں اور مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کے لیے ایک بلاک کی تعمیر کا کام تیزی سے ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد وہاں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی چار سالہ کلاس شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
  • کھوکھرکی گوجرانوالہ کے مخیر بزرگ حاجی مہر عبد العزیز صاحب نے جہانگیر کالونی میں ایک کنال رقبہ پر دو منزلہ جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ تعمیر کر کے اس کا انتظام الشریعہ اکادمی کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس کا انتظام اکادمی چلا رہی ہے۔ مولانا مجاہد اختر (فاضل درس نظامی) کو مسجد ابوذرؓ کا خطیب اور امام مقرر کیا گیا ہے۔ وہ خطابت وامامت کے ساتھ محلہ کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں اور علاقہ کے نوجوانوں کے لیے فہم دین کورس بھی جاری ہے۔

تعلیمی سرگرمیاں

  • فضلاے درس نظامی کے لیے ایک سالہ خصوصی تربیتی کورس میں اس سال درج ذیل آٹھ علماے کرام شریک ہوئے:
    ۱۔ مولانا مطیع اللہ فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، ۲۔ مولانا عبد القادر فاضل دار العلوم کراچی، ۳۔ مولانا عبید اللہ فاضل دار العلوم کراچی، ۴۔ مولانا مسعود فاضل دار العلوم کراچی، ۵۔مولانا محمد ارشد فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور، ۶۔ مولانا عمر فاروق فاضل جامعہ خالد بن ولید وہاڑی، ۷۔ مولانا محمد احمد فاضل جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، ۸۔ مولانا محمد سلیمان فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد۔
  • مذکورہ طلبہ نے ایک سالہ کورس میں شامل مضامین : حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب ، انسانی حقوق کا بین الاقوامی چارٹر، تاریخ اسلام ، تقابل ادیان ومذاہب ، سیاسیات، معاشیات اور نفسیات کا تعارفی مطالعہ، حالات حاضرہ ، انگریزی وعربی بول چال اور کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ مطالعہ اور تحقیق وتصنیف کی تربیت حاصل کی اور مختلف عنوانات پر تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے۔
  • علاقہ کے عوام کے لیے تین ماہ کے دورانیے پر مشتمل ’’فہم دین کورس‘‘ تین بار مکمل ہوا جس میں مجموعی طور پر ۱۱۲ ؍افراد نے شرکت کی۔
  • عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس مسلسل جاری ہے جس میں ۱۵؍ افراد شریک ہیں اور سورۃ المائدہ تک ترجمہ قرآن کی تعلیم مکمل ہو چکی ہے۔
  • طالبات کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم اور دیگر ضروریات دین پر مشتمل کورس جاری ہے جس میں اس سال ۱۳ طالبات شریک ہیں، جبکہ اس کے علاوہ تین ماہ کے ’’فہم دین کورس‘‘ میں چالیس خواتین نے شرکت کی۔
  • اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے اسکولوں اور کالجوں کی سالانہ تعطیلات میں ڈھائی ماہ کے دورانیے میں ۶؍ افراد پر مشتمل کلاس کو درس نظامی کے درجہ اولیٰ کا نصاب پڑھایا۔

دعوت وابلاغ

  • علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
  • اردو زبان میں اسلامی ویب سائٹ www.alsharia.org  کام کر رہی ہے جس پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف اہم عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • حالات حاضرہ کے حوالے سے اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے معلوماتی اور فکر انگیز ہفتہ وار کالم روزنامہ اسلام کراچی میں ’’نوائے حق‘‘ اور روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ 

علمی وفکری نشستیں

  • اس سال عالم اسلام کی موجودہ صورت حال، اسلامائزیشن اور دیگر علمی وفکری مسائل پر مولانا زاہد الراشدی کے ہفتہ وار خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مولانا راشدی نے مختلف موضوعات پر بائیس لیکچر دیے جنھیں کیسٹ میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔ 
  • ۳ ؍جنوری ۲۰۰۶ء کو ورلڈاسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل مولانا مشفق الدین اپنے ر فقا مولانا شمس الضحٰی اور مولانا بلال عبد اللہ کے ہمراہ الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے۔ اس موقع پر ایک خصوصی فکری نشست کااہتمام کیا گیا جس سکول وکالج، دینی مدارس کے اساتذہ اور دیگر اہل علم نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی مولانا عیسیٰ منصوری نے ’’زوال امت کے اسباب‘‘ جیسے فکر انگیز موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور دینی و عصری علوم سے دوری نیز دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو نظر انداز کرنے کو زوال امت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ 
  • ۶؍ جنوری ۲۰۰۶ء کو الشریعہ اکادمی میں بھارت کے معروف دانش ور ڈاکٹر یوگندر سکند ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں سرکردہ علماے کرام اور اساتذہ وطلبہ نے شرکت کی اور بھارت کی مجموعی صورت حال اور خاص طور پر مسلمانوں کے حالات کے حوالے سے ڈاکٹر یوگندر سکند کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
  • پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۶ کو گوجرانوالہ تشریف لائے اور دیگر مصروفیات کے علاوہ کوروٹانہ میں الشریعہ اکادمی کے زیر تعمیر دینی تعلیمی مرکز میں ’’دار القرآن‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اور مغرب کی نماز کے بعد جہانگیر کالونی،کھوکھرکی گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں جلسہ سے خطاب کیا۔
  • حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نواسے اور جامعہ امام ولی اللہ مراد آباد (انڈیا) کے مہتمم مولانا مفتی محمد اسعد قاسم گزشتہ دنوں گوجرانوالہ تشریف لائے اور الشریعہ اکادمی میں فضلاے درس نظامی کی کلاس کو علوم قرآنی کے موضوع پر خصوصی لیکچر دینے کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر میاں انعام الرحمن، مولانا حافظ محمد یوسف اور پروفیسر محمد اکرم ورک کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں مختلف دینی وتعلیمی امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ 
  • ۷؍ مئی ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ایک خصوصی فکری نشست میں شعبہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر حافظ محمود اختر نے ’’حفاظت قرآن اور مستشرقین‘‘کے موضوع پر اہل علم اور اساتذہ سے خطاب کیا اور تحریک استشراق اور اس کے اہداف ومقاصد کا مختصر تعارف کروانے کے علاوہ قرآن مجید کے حوالے سے مستشرقین کے ہاں پائے جانے والے مختلف زاویہ ہائے نگاہ اور اعتراضات پر گفتگو کی۔ 
  • ۱۱؍جولائی ۲۰۰۶ کو اکادمی کے زیر اہتمام ایک علمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ادارۂ علوم اسلامیہ پنجاب کے استاذ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے ’’فقہاے اربعہ کے سنت سے استنباط مسائل کے اسالیب‘‘ کے عنوان پر علما اور طلبہ سے خطاب کیا۔ 
  • ۱۱؍ اگست ۲۰۰۶ بروز جمعۃ المبارک الشریعہ اکادمی میں خصوصی تربیتی کورس برائے فضلاے درس نظامی کی اختتامی تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر شہر کے علماء اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں مہمان خصوصی مولانا عبد الرؤف فاروقی کے علاوہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی، اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف اور چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر خصوصی تربیتی کورس کے فضلا کو سندیں اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

رفاہ عامہ

  • الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۶۰ تا ۸۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
  • رمضان المبارک (نومبر ۲۰۰۵) کے دوران میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف کی سربراہی میں اکادمی کے عملہ کا ایک گروپ جس میں الشریعہ فری ڈسپنسری کے انچارج ڈاکٹر محمود احمد بھی شامل تھے، زلزلہ زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بالاکوٹ گیا اور زلزلہ سے متاثر ہونے والے افراد اور خاندانوں کو میڈیکل ایڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے کچھ امدادی رقوم تقسیم کیں۔