اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
علامہ محمد اقبالؒ جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کے وہ عظیم فکری راہ نما تھے جنھوں نے اس خطے پر برطانوی استعمار کے تسلط اور مغربی فکر وثقافت کی یلغار کے دور میں علمی، فکری اور سیاسی شعبوں میں ملت اسلامیہ کی راہ نمائی کی اور ان کی ملی جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مغرب کے فکر وفلسفہ اور تمدن وثقافت سے مرعوب ہونے اور اس کے سامنے فکری طور پر سپر انداز ہونے سے محفوظ رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انھوں نے تہذیب مغرب کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ بے لچک وفاداری، اپنے ماضی کے ساتھ وابستگی اور اپنی اسلامی شناخت کو باقی رکھنے کا سبق دیا اور پھر اس اسلامی شناخت کے جداگانہ وجود کے لیے ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کی طرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی عملی راہ نمائی کی جس کے نتیجے میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔
یہ اسلام کے اعجاز کا اظہار تھا کہ جب یورپ کو مذہب کے ساتھ ریاست کا تعلق ختم کیے ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا، صدیوں سے چلی آنے والی اسلامی خلافت کے مرکز ترکی نے ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اس تصور کو قبول کر کے سیکولر ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور کم وبیش ساری دنیا میں مذہب کو ریاستی معاملات سے بے دخل کر نے کا عمل تیزی سے جاری تھا۔ اس طوفانی دور میں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے اس آندھی کے مخالف سمت سفر کا آغاز کیا اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے صرف دو عشروں کے بعد اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نیا ملک قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جسے بلاشبہ علامہ محمد اقبالؒ کی فکری راہ نمائی کا کرشمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
علامہ محمد اقبال ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانش ور اور شاعر تھے جنھوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ وہ پیغمبر اور معصوم نہیں تھے کہ ان کی ہر بات کو الہام اور وحی کے طور پر آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے اور نہ ہی اس دور کے معروضی حالات جامد وساکت تھے کہ ان کی بنیاد پر قائم کی جانے والی کسی رائے اور موقف کوحتمی قرار دے دیا جائے، البتہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انھوں نے اپنی دانست اور علمی بساط کی حد تک امت مسلمہ کو ملی معاملات میں بھرپور راہ نمائی مہیا کرنے کی کوشش کی اور بہت سے امور میں امت کے مختلف طبقات نے اس راہ نمائی سے عملی فائدہ اٹھایا۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اجتماعی زندگی کے جن میدانوں کو اپنی فکری تگ وتاز کی جولان گاہ بنایا، ان میں ملت اسلامیہ کی تہذیبی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا وہ فکری خلا بھی تھا جو مسلمانوں کے علمی وسیاسی زوال اور اس کے پہلو بہ پہلو مغرب کے سائنسی وصنعتی عروج اور دنیا پر اس کی سیاسی وعسکری بالادستی کے پس منظر میں بہت زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگا تھا۔ مسلمانوں کے دور عروج میں جہاں وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات یعنی قرآن وسنت کے علوم کی تحقیقات وتشریحات اور انسانی معاشرت کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ان کے انطباق کا علمی سفر مسلسل جاری تھا، وہاں سائنسی وعمرانی علوم میں ارتقا اور پیش رفت بھی گاڑی کے دوسرے پہیے کا کردار ادا کر رہی تھے لیکن بدقسمتی سے اندلس کے مغرب کے سامنے سپر انداز ہو جانے کے بعد قائم ہونے والی دو بڑی مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت کو عمرانیا ت اور سائنس وٹیکنالوجی کے ساتھ وہ دل چسپی نہیں تھی جو معاصر اقوام کے ساتھ زندگی کے سفر میں برابری اور توازن قائم رکھنے کے لیے ضروری تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم ’’ون ویلنگ‘‘ کرتے ہوئے جتنی دیر چل سکے، چلتے رہے اور جب اس مسابقت کا دوسرا فریق بہت زیادہ آگے نکل گیا تو ہم آہستہ آہستہ لڑھکتے ہوئے غلامی کے کھڈے میں جا گرے۔
یہ بھی اسی المیہ کا ایک حصہ ہے کہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے انسانی زندگی اور معاشرت کے ساتھ انطباق کے حوالے سے بھی ہم نے اس وقت تک ہو جانے والے علمی کام پر قناعت کر لی اور مزید پیش رفت کی رفتار اس قدر کم کر دی کہ اس کے مقابل دوسری طرف نظر آنے والی تیز رفتاری کے سامنے وہ بالکل جمود اور سکتہ کا منظر پیش کرنے لگی۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اجتہاد کے بند ہونے کے حوالے سے اپنے خطبے میں جو کچھ کہا ہے، وہ اسی خلا کی نشان دہی ہے لیکن وہ خود مجتہد اور فقیہ نہیں تھے اور نہ ہی اجتہاد اور فقہ سے ان کا کبھی عملی واسطہ رہا ہے، اس لیے ایک مفکر اور فلسفی کے طور پر خلا کی نشان دہی اور اسے پر کرنے کی ضرورت کا احساس دلانے کی حد تک ان کی بات بالکل درست ہے، مگر اس کے عملی پہلووں، ترجیحات اور دائرۂ کار کا تعین چونکہ ان کے شعبہ کا کام نہیں تھا، اس لیے اس باب میں ان کے ارشادات پر گفتگو کی خاصی گنجایش موجود ہے اور یہ گفتگو اس موضوع کا تقاضا بھی ہے۔
بعض روایات کے مطابق علامہ محمد اقبالؒ نے اس حوالے سے علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور دیگر اہل علم سے جو توقعات وابستہ کر لی تھیں اور ا س سلسلے میں بعض رابطوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے، میرے خیال میں اس کا پس منظر یہی تھا اور اس ضمن میں ایک روایت مجھ تک پہنچی ہے جس کا اس مرحلہ پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ صاحب ۱۹۴۴ سے ۱۹۸۲ تک خطیب رہے اور اس کے بعد سے یہ ذمہ داری میرے سپرد ہے۔ وہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگرد تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا دار العلوم دیوبند کی انتظامیہ سے اختلاف ہوا اور شاہ صاحبؒ نے دار العلوم سے الگ ہو جانے کا فیصلہ کیا تو علامہ محمد اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاہ صاحب لاہور آ جائیں کیونکہ فقہ اسلامی کی تجدید کا جو کام ان کے ذہن میں ہے، وہ ان کے خیال میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور وہ یعنی علامہ اقبالؒ مل کر کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے کہنے پر لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے اس مقصد کے لیے مسجد اور اس کے ساتھ ایک علمی مرکز تعمیر کرایا گیا جو لاہور کے ایک تاجر خواجہ محمد بخش مرحوم نے، جو آسٹریلیا میں تجارت کرتے تھے، علامہ اقبال کے کہنے پر تعمیر کیے۔ اسی حوالے یہ آسٹریلیا مسجد اور اس کے ساتھ ’’آسٹریلیا وقف بلڈنگ‘‘ کہلاتا ہے ، مگر علامہ انور شاہ کاشمیری اس کے لیے تیار نہ ہوئے او رمولانا مفتی عبد الواحدؒ کے بقول اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحبؒ کے لاہور میں ڈیرہ لگانے کی صورت میں دار العلوم دیوبند کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا جو وہ کسی حالت میں نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے لاہور آنے سے انکار کر دیا اور پھر ان کے کہنے پر انھی کے ایک شاگرد حضرت مولانا عبد الحنان ہزارویؒ کو آسٹریلیا مسجد کا خطیب مقرر کیا گیا۔ یہ حالات کے جبر کا ایک پہلو تھا کہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ لاہور آنے پر آمادہ نہ ہوئے، ورنہ اپنے وقت کی یہ دو عبقری شخصیات مل کر اس کام کے لیے بیٹھ جاتیں تو آج کی علمی اور فقہی دنیا کا منظر بالکل مختلف ہوتا۔
میرا یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علماے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے، چنانچہ اجتہاد کے بارے میں اپنے خطبہ میں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے کی بات کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ کسی جدید مسلم مجلس آئین کی قانون سازی کے بارے میں جس کی ترکیب کم از کم موجودہ حالات میں ایسے ہی اشخاص سے ہو سکتی ہے جنھیں زیادہ تر قانون اسلام کی باریکیوں کا علم نہیں ہے۔ ایسی مجلس آئین ساز قانون کی تشریح کرتے وقت بڑی سخت غلطیوں کی مرتکب ہو سکتی ہے۔ ہم کسی طرح ایسی تشریحی غلطیوں کے امکانات کی مکمل پیش بندی یا کم از کم انھیں گھٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ۱۹۰۶ء کے ایرانی دستور میں دنیاوی امور سے واقف علماے مذہب کی ایک علیحدہ کمیٹی بنا دی گئی ہے جسے مجلس کے عمل قانون سازی کی نگرانی اور دیکھ بھال کا اختیار ہوگا۔ میری رائے میں یہ خطرناک التزام شاید ایرانی نظریہ قانون کی رو سے ضروری سمجھ کر کیا گیا ہے۔ ا س نظریہ قانون کی رو سے بادشاہ ملک وسلطنت کا محض امین ہے جو درحقیقت امام غائب کی ملک ہے۔ علما، امام غائب کے نمائندوں کی حیثیت سے پوری زندگی کی نگرانی اور دیکھ بھال اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ امام غائب کے اس سلسلہ جانشینی کی غیر موجودگی میں وہ کس طرح نیابت امام کا حق ثابت کر سکتے ہیں، بہرحال ایران کا دستوری نظریہ چاہے کچھ ہی ہو، یہ التزام خطرے سے خالی نہیں۔ اگر حنفی ممالک میں اس تجربہ کو دہرایا بھی جائے تو وہ محض عارضی اور وقتی ہونا چاہیے۔ ۔ علما کو خود مجلس آئین ساز کا نہایت اہم اور مرکزی عنصر ہونا چاہیے تاکہ قانون سے متعلقہ مسائل پر آزادانہ مباحث کی معاونت وراہ نمائی کر سکیں۔ غلط تشریحات کو روکنے کا موثر علاج صرف یہی ہے کہ اسلامی ممالک میں قانون کے رائج الوقت نظام تعلیم کی اصلاح کی جائے، اس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور اس کی تحصیل کے ساتھ جدید اصول قانون کا گہرا مطالعہ بھی شامل کر دیا جائے۔‘‘
خطبہ اجتہاد کے اس اقتباس کے دیگر بہت سے پہلوؤں سے قطع نظر یہاں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک عملی اجتہا دکا تعلق ہے اور قرآن وسنت کی جدید تعبیر وتشریح کا سوال ہے، وہاں علامہ اقبالؒ علماے کرام ہی کو اس کا بنیادی کردار سمجھتے ہیں اور اسلامی علوم سے بے بہرہ افراد پر مشتمل پارلیمنٹ سے قرآن وسنت کی تشریح میں بڑی سخت غلطیوں کے ارتکاب کے خطرہ سے وہ نہ صرف پوری طرح آگاہ ہیں بلکہ اس کے علاج کے طور پر علماء کرام کو مجلس آئین ساز کے ’’نہایت اہم اور مرکزی عنصر‘‘ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
جہاں تک ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا تعلق ہے کہ اجتہاد کے لیے اصول وضوابط ازسرنو وضع کیے جائیں، اس ضمن میں علامہ محمد اقبالؒ اپنے مذکورہ خطبہ میں فرماتے ہیں:
’’اس مقالے میں مجھے اجتہاد کے پہلے درجے یعنی اجتہاد مطلق کے متعلق کچھ کہنا ہے۔ اہل سنت اس درجہ اجتہاد کے نظری امکانات کے تو قائل ہیں لیکن جب سے مذاہب فقہ کی ابتدا ہوئی ہے، عملی طور پر اسے اس لیے نہیں مانتے کہ مکمل اجتہاد کے لیے جن قیود وشرائط کی حصار بندی کر دی گئی ہے، ان کا کسی ایک فرد واحد میں مجتمع ہونا قریب قریب ناممکن ہے۔‘‘
میرے خیال میں اگر اس مسئلے کا ایک اور پہلو سے جائزہ لے لیا جائے تو شاید اہل سنت کے موقف پر اس اعتراض کی ضرورت باقی نہ رہے۔ وہ یہ کہ ’’اجتہاد مطلق‘‘ کا دروازہ بند ہو جانے کا تعلق اہلیت وصلاحیت کے فقدان یا شرائط کے مجتمع نہ ہونے سے نہیں بلکہ ضرورت مکمل ہو جانے سے ہے، اس طور پر کہ جس طرح ہر علم اور فن میں بنیادی اصول وضوابط طے ہونے کا تاریخ میں ایک بار ہی موقع آتا ہے اور جب وہ ایک بار طے ہو جاتے ہیں تو پھر وہ علم ہمیشہ کے لیے انھی بنیادی ضوابط کے حصار کا پابند ہو جاتا ہے اور اس کے لیے بنیادی اصول بار بار وضع نہیں کیے جاتے۔ کسی بھی علم وفن کو دیکھ لیجیے، اس کے چند اساسی قوانین ایسے ہوتے ہیں جو متبدل نہیں ہوتے اور اس علم اور فن کا تمام تر ارتقا انھی اساسی قوانین کی روشنی میں ہوتا رہتا ہے۔ ان اساسی قوانین کی دوبارہ تشکیل کا دروازہ اس لیے بند نہیں ہوتا کہ کسی نے اسے بند کر دیا ہے یا اب کسی میں اس کی صلاحیت نہیں رہی، بلکہ اس دروازے کے بند ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اسی طرح قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح اور اجتہاد کے اصول وضع ہونے کا ایک دور تھا جب دو چار نہیں بلکہ بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے مگر ان میں سے پانچ چھ کو امت میں قبول حاصل ہوا اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے۔ اب کسی نئے فقہی مذہب کے اضافے کی گنجایش نہیں ہے، اس لیے نہیں کہ اس کا دروازہ کسی نے بند کر دیا ہے یا اس کی صلاحیت واہلیت ناپید ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ کام ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں رہی اور ان مسلمہ فقہی مذاہب کے اصول وقوانین میں وہ تمام تر گنجایشیں اور وسعتیں موجود ہیں جن کی روشنی میں ہر دور کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ کے مذکورہ خطبہ کے حوالے سے ایک اور بات کو پیش رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس خطبے کا بیشتر حصہ ترکی کی فکری اور دستوری نشاۃ ثانیہ کے پس منظر میں ہے جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا یہ خیال اس خطبے میں صاف طور پر جھلکتا ہے کہ شاید یہ اجتہاد کا عمل تھا جس کے ذریعے ترکی اسلام اور مسلمانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتا تھا، لیکن وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کا یہ خیال اور تاثر درست نہ تھا، اس لیے کہ جدید ترکی کا یہ عمل اسلام میں اجتہاد کا نہیں بلکہ اس سے انقطاع اور یورپ کی طرح مذہب کو ریاستی معاملات سے کلیتاً بے دخل کر دینے کا تھا جس کا رد عمل خود ترکی میں سامنے آ چکا ہے اور جس کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ یورپی یونین کی جس رکنیت کے لیے ترکی نے یہ ساری قربانیاں دی تھیں، پون صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اس کے لیے ابھی تک ایک موہوم خواب ہی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس مرحلے میں اس تاریخی حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب علماے کرام کو نئی ریاست کی دستوری حیثیت کا تعین کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے ماضی کی روایات سے بے لچک طو رپر بندھے رہنے کے بجائے وقت کے تقاضوں اور علامہ اقبالؒ کی فکر کا ساتھ دیا جس کی واضح مثال قرارداد مقاصد اور تمام مکاتب فکر کے ۲۲ سرکردہ علماے کرام کے ۳۱ متفقہ دستوری نکات میں خلافت عثمانیہ کے خاندانی اور موروثی نظام کی بحالی پر زور دینے کے بجائے عوام کی رائے اور مرضی کو حکومت کی تشکیل کی بنیاد تسلیم کرنے کی صورت میں موجود ہے۔ اسی طرح عقیدۂ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کو مرتد کا درجہ دے کر فقہی احکام کے مطابق گردن زدنی قرار دینے کے بجائے علامہ اقبالؒ کی تجویز کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے کر ان کے جان ومال کے تحفظ کے حق کو تسلیم کرنا بھی ملک کے علما کا ایک ایسا اجتہادی فیصلہ ہے جس کے پیچھے علامہ محمد اقبالؒ کی فکر کارفرما دکھائی دیتی ہے، جبکہ ۷۳ء کے دستور میں پارلیمنٹ کو قرآن وسنت کے اصولوں کی پابندی کی شرط پر قانون سازی کی حتمی اتھارٹی تسلیم کیے جانے کو بھی اسی تسلسل کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
آخر میں علامہ اقبالؒ کے خطبہ اجتہاد کے حوالے سے ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ماضی کے اجتہادات کو حتمی نہ سمجھا جائے اور ان کے بارے میں نظر ثانی کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔ اگرچہ اس بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں، کیونکہ اس بحث کی خاصی گنجایش موجود ہے کہ ماضی کے کون سے اجتہادات میں نظر ثانی کی ضرورت ہے اور کون سے اجتہادات میں یہ ضرورت موجود نہیں ہے، مگر ایک بات کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس ’’خطبہ اجتہاد‘‘ پر بھی تو پون صدی گزر چکی ہے۔ اس پون صدی میں دنیا کے ماحول اور عالم اسلام کے حالات میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، ان پلوں کے نیچے سے بہت سے مزید پانی بہہ چکا ہے اور یقیناًآج کے معروضی حالات اور ضروریات کا نقشہ وہ نہیں ہے جو پون صدی پہلے کا تھا۔ اس لیے کیا ضروری ہے کہ ہمارے ذہنوں کی سوئیاں ۱۹۳۰ء پر ہی رکی رہیں اور کیا ہم ۲۰۰۶ کے عالمی تناظر اور بین الاقوامی ماحول میں اپنی ضروریات اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہیں لے سکتے؟
لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
اس ماہِ اگست کی ۱۲ تاریخ تھی، ایک فون کسی انگریزی بولنے والے کا آیا۔ میں اپنی سماعت کی کمزوری سے، جو غیر زبان کے معاملے میں زیادہ ہی کمزور پڑجاتی ہے ( خاص کر ٹیلیفون پر) اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھ پایا کہ کوئی مجھ سے ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے جاننا چاہتا ہے۔ جب پتہ نہ ہو کہ کون شخص ہے اور کیا تعلق اس کا اس تفتیش و تحقیق سے ہے، تو معذرت کے سوا اور کیا مناسب؟ پس اُدھر سے اصرار کے باوجود معذرت کرکے پیچھا چھڑایا۔ دوسرے دن مفتی برکت اللہ صاحب کا فون آیا کہ لاس اینجلز ٹائمز (امریکہ) کے نمائندہ کو میں نے آپ کا فون نمبر دیا تھا۔ وہ مجھ سے موجودہ حالات پر علماء و ائمّہ کے خیالات جاننے کے سلسلہ میں ملا تھا۔ میں نے اس سے گفتگو کے ضمن میں گذشتہ ماہ کی ابراہیم کمیونٹی کالج والی ۸؍ جولائی کی نشست کا اور اس میں آپ کے خطاب کا ذکر کیا جس کی رپوٹ جنگ میں بھی نکل چکی ہے۔ اس پراس نے خواہش ظاہر کی کہ آپ سے بھی ملے۔ آج اس نے مجھے فون کرکے بتایا کہ آپ اسے وقت دینے کو تیار نہیں ہوئے۔میرے خیال میں توبات کرنا اچھا ہے ۔
اب یہ معلوم ہوجانے پر کہ کون صاحب ہیں، مجھے کوئی عذر نہ رہا ۔مفتی صاحب کو اپنے عذر کا قصہ بتاکر کہا کہ ٹھیک ہے، وہ صاحب اب آنا چاہیں تو فلاں سے فلاں وقت کے درمیان آجائیں۔ اگلے ہی دن صبح ۸ بجے فون آگیا کہ وہ ساڑھے دس بجے آرہے ہیں۔ آئے تو بارہ بجے، جبکہ میرا دیا ہوا وقت ختم ہو چکا تھا، تاہم خوش آمدید کہا اور آدھے گھنٹے کی گنجایش ان کے لیے نکالی، وہ تو اگرچہ زیادہ ہی کے موڈ میں تھے۔ میں نے ۸ جولائی کی میٹنگ اور اپنے خطاب کی تصدیق کی۔ موصوف کی اصل جستجو ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے، مجھے گذشتہ دن کے فون ہی سے معلوم ہو چکی تھی۔اس لیے خود ہی پیش قدمی کرکے کہا کہ ’’جہادی‘‘ کارروائیوں کے نام سے جو کچھ یہاں میڈیا میں آتا ہے،خاص کر برطانیہ کے حوالہ سے، وہ اگر سچ مچ واقعات ہیں،جبکہ ثابت اکثر غلط ہو رہے ہیں، تو بلاشبہ افسوسناک اور قابلِ مذمت۔ اور ہم یقیناً چاہیں گے ایسے واقعات کا سدِّ باب ہو اور جو کچھ ہمارے کرنے کا ہو گا، وہ ہم ضرور کرنا چاہیں گے۔ اور یہی جاننا کہ ہم کیا اس سلسلہ میں کر سکتے ہیں، ۸ جولائی کی ہماری میٹنگ کا اصل مقصد تھا۔ مگرصورتِ حال یہ ہے ،اور یہی اُس دن کی میٹنگ میں میں نے کہا تھا، کہ ہماری حکومت نے ہمارے کچھ کرسکنے کے لیے مشکل ہی سے گنجایش چھوڑی ہے۔
یہاں ایسے لوگوں کو اپنے خیالات پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی جو اپنے ملکوں سے صرف اس لیے بھاگے تھے کہ وہاں کے ماحول کے اعتبار سے ریڈیکل ازم پھیلا نے کے ملزم بن رہے تھے۔ ’’اسلامی خلافت‘‘ ان کا نعرہ تھا جس کی رو سے سارے عالم پر اسلامی قانون کا پرچم لہرائے اور کفر سرنگوں ہو۔ یہ قصہ تقریباً بیس سال پہلے شروع ہوا اور کسی نہ کسی شکل میں اب تک چلتا رہا ہے۔ اور ہماری مشہورِ عالم فنسبری پارک مسجد کا نام تو تم نے ضرور سن رکھا ہوگاجس کا ایک خود ساختہ امام تمھارے ملک میں ٹرائل کے لیے مطلوب ہے۔ اکتوبر ۱۰۰۲ء میں افغانستان پر تمھارے حملے کے بعد سے وہ برابر ’’جہادی‘‘ خطبات اس مسجد میں دیتا رہا۔ ایم آئی فائیو کے مخبر اطلاعات بھی پہنچاتے رہے مگر مسجد کی انتظامیہ تک سے نہیں کہا گیا کہ اس کو روکیں۔ پھر ایک وقت خود ہی کسی مصلحت سے اس مسجد کو لاک کیا تو اس شخص کو اس دن تک جس دن تمھارے یہاں سے مطالبہ پر اسے گرفتار کیا گیا، پولیس پروٹیکشن کے ساتھ چھوٹ دی جاتی رہی کہ مسجد کے سامنے کی سڑک بلاک کرکے وہاں خطبہ دے اور نماز پڑھائے۔ مسجد کے علاوہ برٹش میڈیا میں اس کواتنا کوریج دیا گیا کہ خواہ مخواہ ایک ہیروکی حیثیت حاصل کرے۔ Mr Frammolino! پلیز، بتاؤ ان حالات کے اس پس منظر میں کہ بالکل جھوٹے جواز بناکر عراق پر چڑھائی کی گئی ہو، ہزارہا بے گناہ، عورتوں بچوں تک کی تفریق کے بغیر، دن رات وہاں بمباری سے مارے جارہے ہوں ، آبادیاں قبرستانوں میں بدلی جا رہی ہو ں، پھر افغانستان کے ایسے ہی مظالم کی یاد الگ اس سے تازہ ہورہی ہو، اور فلسطین کے مظالم تو ایک معمول کا مسئلہ، بتاؤ کہ ایسے میں کچھ مسلم نوجوانوں کا غم و غصہ اگر اُس انتہا پسندی میں تبدیل ہو جس کی یہ مذکورہ بالا افراد تبلیغ کرتے رہے تھے تواس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو قابو کرو لیکن ان نوجوانوں کو اشتعال دلانے والی اپنی روش کے سلسلہ میں بے نیازی اور بے پروائی کا یہ عالم کہ ساری دنیا کے مقابلہ میں تنہا برطانیہ اور امریکہ ہیں جو اسرائیل کو اپنے کمزور پڑوسی لبنان اور لبنانیوں پر قیامت توڑے جانے کے لیے یو این او میں تحفظ دینے پرذرا نہیں شرما رہے ۔ اس روش سے بازآنے کے بجائے جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ صرف یہ کہ اس کے ردِّ عمل کو قطعًا بے جواز اورخالص اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی ٹھیرا کرایسے نئے نئے سخت قانون وجود میں لا ئے جارہے ہیں جن پر عملدرآمد اس اشتعال کے حلقہ کو وسیع تر کیے دے رہا ہے۔ پوری مسلم آبادی ان قوانین کی زد میں آ پڑی اور احساسِ تحفّظ سے محروم ہوئی جارہی ہے۔اس Draconian قانون سازی کے لیے کہا جاتا ہے کہ’’ رولز آف دی گیم چینج‘‘ ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ وہ استدلال ہے جو اپنے نوجوانوں کے اشتعال کو حدود میں رکھنے کی ہماری کوششوں کو اور بھی بے اثر کردے۔ ’’گیم‘‘ کے قواعد وضوابط کو تبدیل کرنا کسی کااجارہ دارانہ حق تو نہیں ہو سکتا ہے۔ قابو سے باہر جانے کو بجا سمجھنے والے نوجوان بھی پلٹ کر ہم سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور جمہوری نظام کے حدود و قیود کے حوالہ سے آپ جو کچھ کہتے ہیں، سب بجا ۔مگر کچھ حالات ایسے بھی ہوجاتے ہیں کہ’’ رولز آف دی گیم ‘‘چینج کردینا پڑیں! اور سچ یہ ہے کہ جب تک یہ رولز آف دی گیم چینج ہونے کی بات اپنے پرائم منسٹر کی زبان سے نہیں سنی تھی، تب تک یہ سمجھنے میں دقت ہو رہی تھی کہ مسلمانوں کا کوئی طبقہ سیوسائڈ بومبنگ جیسے وہ اقدامات کیسے روا رکھ رہا ہے جس میں بے گناہ بھی نشانہ بنتے یا بن سکتے ہیں۔ پرائم منسٹر بلیر کے اس اعلان نے یہ دقّت حل کردی ۔ اندازہ ہوا کہ ہو نہ ہو، یہ بالکل اسی طرح رولز آف دی گیم میں چینج جائزسمجھنے کا نتیجہ ہے جس طرح مسٹر بلیر نے اسے جائز سمجھا ہے۔ مسٹر بلیر نے جب اسے جائز سمجھ لیا تو اس پر عملدرآمد کا راستہ روکنے کو شہری آزادی کی پہریدار انجمنیں جو زور لگا سکتی تھیں، لگاکے رہ گئیں۔ برطانوی عدلیہ جو کچھ مزاحمت کر سکتی تھی، کرکے ناکام ہوگئی۔ ہاؤس آف لارڈز کے پاس جتنی پاور اس کی راہ میں حائل ہونے کی تھی، سب آزما کے ہار گیا۔ پرائم منسٹر کسی کے روکے نہ رکے۔ہم اماموں اور علماء کے پاس وہ کون سااختیا ر واقتدار ہے کہ ہمارے روکے یہ دوسری طرف کی ’’رولز چینجڈ‘‘ کی سوچ رُک کے رہ جائے ،جبکہ پرائم منسٹر اپنی روش میں تبدیلی کی سوچ کو تیار نہ ہوں؟ ہم برطانیہ کے اندر رہنے والے کسی شخص کے لیے روا نہیں رکھتے کہ حکومت کی کسی پالیسی پر احتجاج میں تشدّد کی حد تک چلا جائے۔ جو ایسا کرے گا، جرم کرے گا، مگر جب اس کے اسباب کے تجزیہ کا سوال آئے گا تو حکومت کی پالیسی کو زیرِ بحث نہ لایا جانابے انصافی ہوگی!
یہ باتیں جس دن مسٹر فرامولینو سے کی جا رہی تھیں، اس سے دو دن قبل برطانیہ کے مسلم نمائندگان، بشمول مسلم پارلیمینٹیرینز، کا کھلا خط بنام پرائم منسٹر اسی مسئلہ پر شائع ہوا تھا اور دوسرے دن اس پر پرائم منسٹر کے کابینی ساتھیوں کا نہایت تلخ ردِّعمل آگیا تھا۔ یہ خط اس لحاظ سے بہت اہم تھا کہ پرائم منسٹر کے اس مسلسل اصرار کے باوجود کہ اس معاملہ میں ان کی خارجہ پالیسی کی طرف بھی انگلی اُٹھانا تشدد اور دہشت گردی کو جواز دینا ہے، ملک کے سات مسلم پارلیمینٹیرینز میں سے پورے چھ نے مسلم رائے عامہ سے ہم آواز ہو کر اس اصرار کو بالکل صاف طور سے، اگرچہ دانشمندانہ ڈھنگ سے، مسترد کردیاتھا۔ خط پرحکومت کا رد عمل اور جو کچھ نت نئے ’’حفاظتی‘‘ قوانین پر عملدرآمد کی صورت میں مسلسل ہورہا ہے، وہ اگر ایک طرف اس ملک میں مسلم کمیونٹی کے مستقبل پر چھاتے ہوئے خطرات کا بھر پور اظہار کرتا ہے، جس پر نہایت سنجیدہ ہو نے کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف یہاں کے مسلم پارلیمینٹیرینز کی مسلم رائے عامہ کے ساتھ ہم آہنگی ایک بڑی نیک فال ہے۔ ان حضرات نے یہ قدم یقینًا بہت دورتک سوچ کر اُٹھایا ہوگا۔ اللہ اس راستہ کی تمام ضرورتوں کے ساتھ ان کی مددفرمائے اور ملّی اکائیوں کے نمائندہ حضرات نے ان کی تائید میں اپنے دستخطوں سے جس یکجہتی اور یک زبانی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کو استقامت نصیب ہو۔ آمین
علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید
عصر حاضر کے عالم اسلام میں حکیم الامت علامہ اقبال اپنی بصیرت حکیمانہ، تبحر علمی، وسعتِ فکر، لطافت خیال اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کی بنا پر ایک منفرد مقام اور مسند امتیاز وافتخار کے حامل ہیں۔ ملت اسلامی کی فکری وادبی تاریخ میں کوئی ایسا شاعر اور مفکر دکھائی نہیں دیتا جس کی فکر اقبال کی طرح جامع اور ہمہ گیر ہو۔ اپنے ہمہ جہت افکار کی وجہ سے ان کے بارے میں اتنا کچھ کہا اور لکھا گیاہے کہ وہ ایک پورے کتب خانے کا سرمایہ ہوسکتاہے۔ ان کا فلسفہ اور شاعری لاتعدار ارباب قلم کا موضوع نگارش بنا، لیکن تاحال ان کے تصور تاریخ پر کوئی جامع کام سامنے نہیں آیا۔ علامہ اقبال کا کلام انسانی تاریخ کا آئینہ دار ہے اور ان کی تالیفات بڑی حد تک انسان کے فکر وعمل کا درست تجزیہ ہیں۔ ’’فکر انسانی کی تشکیل نو‘‘ میں پروفیسر محمد عثمان رقمطراز ہیں کہ:
’’علامہ اقبال کی زندگی کے آخری سالوں میں جہاں علمی دنیا پر پروفیسر وائٹ ہیڈ اور آئن سٹائن کی تحریروں کے باعث زمان ومکان کی حقیقت وماہیت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہی تھی وہاں کارل مارکس اور بعض نامور پورپی تاریخ دانوں کی بدولت نظریہ تاریخ کا موضوع بھی خاص اہمیت کرگیا تھا ۔۔۔چنانچہ علامہ کے تاریخ کے اسلامی تصور پر بھی گراں قدر خیالات کا اظہار کیا‘‘(۱)
اس مضمون میں ہم علامہ اقبال کے تصور تاریخ کو اختصار سے بیان کرنے کی ناچیز سعی کریں گے۔
سادہ الفاظ میں انسانی معاشرے میں پیش آنے والے واقعات اور حوادث ،اور انسان کے اعمال وافعال کے سلسلے کو انسانی تاریخ کہتے ہیں اور جب ہم لفظ تاریخ مجر د استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد انسانی تاریخ ہوتی ہے۔ تاریخ کا لغوی معنی تحریرکرنا، قلم بند کرنا، رجسٹر میں اندراج کرنا وغیرہ ہے، او ر اصطلاحی معنوں میں یہ عہد گزشتہ کی داستان ہے جس کا تعلق انسان سے ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی زیادہ تخصیص سے کہتاہے What we call histroy is the histroy of man in civilized society.(2) یعنی تاریخ کا نقطہ آغاز وہ دور ہے جب انسان نے ایک مہذب معاشرے کے فرد کی حیثیت اختیار کی۔ تاریخ منبع علوم ہے۔ عمرانی علوم کی ایسی کوئی شاخ نہیں جس کا سلسلہ نسب تاریخ سے نہ ملتاہو۔ یہ تاریخ ہی ہے جس نے انسانوں کے اجتماعی تجربات کو اپنے سینے میں محفوظ رکھا۔
ممتاز دانشور ومورخ البدر حسین الاہدل علم تاریخ کے حوالے سے کہتاہے کہ
’’یہ بڑا مفید علم ہے۔ اس کے ذریعے سے خلف کو سلف کے حالات معلوم ہوتے ہیں اور راست باز لوگ ظالموں سے ممتاز ہوجاتے ہیں،مطالعہ کرنے والے کو یہ فائدہ ہوتاہے کہ وہ عبرت حاصل کرتاہے اور گزشتہ لوگوں کی عقل ودانش کی قدر پہچانتاہے اور بہت سے دلائل کا پتہ لگالیتاہے۔ اگر یہ علم نہ ہوتاتو تمام حالات، مختلف حکومتیں، حسب ونسب اور سبھی علل واسباب نامعلوم رہتے اور جاہلوں اور عقل مندوں کے مابین تمیز ہی باقی نہ رہتی۔‘‘ (۳)
یہی نہیں کہ مطالعہ تاریخ اسلاف کے بارے میں معلومات فراہم کرتاہے بلکہ انسان کا مرقوم ماضی تحقیق ودانش کے لیے ایک چیلنج ہوتاہے۔ سیسرو نے کہا تھا کہ تاریخ زمانہ کی مشاہد، صداقت کی روشنی اور زندگی کی ملکہ ہے لہٰذا اس کا مطالعہ غوروفکر کا متقاضی ہے۔ جرمن مفکر ہیگل کا کہنا ہے کہ ’’فلسفہ تاریخ یہی ہے کہ تاریخ کا مطالعہ غوروفکر کے ساتھ کیا جائے۔‘‘ (۴) فلسفہ تاریخ کا بانی ابن خلدون بھی یہی بات زور دے کر کہتاہے۔
علم تاریخ کی اس اہمیت وافادیت کے پیش نظر قرآن مجید نے اس پر خاص زور دیاہے اور بار بار ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم اپنے سے پہلی قوموں کے حالات اور ان کے عروج وزوال کے اسباب پر غور کریں اور ان سے سبق وعبرت حاصل کریں، کیونکہ ہمارا حال ہمار ے ماضی کا مجموعہ برائے عمل ہے اورہمارا ماضی سمجھنے کے لیے پھیلا ہواہے۔ اسی حوالے سے ابن خلدون لکھتاہے کہ ’فالماضی اشبہ بالاتی من الماء بالماء‘ (۵) یعنی عہد گزشتہ، عہد آئندہ سے اس قدر مشابہ ہے کہ پانی بھی اس قدر پانی سے مشابہ نہیں ہوتا ‘‘۔
قرآن مجید میں تاریخ کو ’عبرۃ لاولی الالباب‘ اور ’موعظۃ للمتقین‘ کے گراں پایہ اور موزون ترین خطابات سے سرفراز کیاگیاہے۔ ایک آفاقی الہامی کتاب ہونے کے ناتے قرآن مجید کا ایک اپنا نظریہ تاریخ ہے۔ قرآن کریم کا تصور تاریخ ہی تھا جس کے زیر اثر ابن اسحاق، طبری اورمسعودی جیسے شہرۂ آفاق مورخ پیداہوئے اور جس کی بدولت مسلمانوں نے اپنے آخری دور میں ابن خلدون جیسے فلسفی مورخ کو جنم دیا۔ علامہ اقبال کو بھی قرآن حکیم سے گہرا شغف تھا۔ ان کی فکر کا منبع ومرکز بھی قرآن حکیم ہی ہے۔ اس کتاب مقدس نے اپنے پیروکاروں کے خیالات وافکار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جیسا کہ فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر صاحب (علامہ اقبال) اپنی میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں قیام فرماتھے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کی قیام گاہ پر ایک نئے ملاقائی آئے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ اتنے میں انہو ں نے ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال کردیا۔ کہنے لگے: آپ نے مذہب، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ اور فلسفہ وغیرہ علوم پر جو کتابیں اب تک پڑھی ہیں، ان میں سب سے بلند پایہ اور حکیمانہ کتاب آپ کی نظر میں کون سی گزری ہے؟ ڈاکٹر صاحب اس سوال کے جواب میں کرسی میں سے اٹھے اور نووارد ملاقاتی کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا کہ تم ٹھہرو، میں ابھی آتاہوں۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلے گئے۔ دو تین منٹ بعد واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ اس کتاب کو انہوں نے اس شخص کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے فرمایا ’’ قرآن مجید‘‘۔ (۶)
یہ بات بلا تامل لکھی جاسکتی ہے کہ فکر اقبال کا سب سے بڑا ماخذ قرآن حکیم ہی ہے۔ قرآن پاک سے بڑا صحیفہ دانش وفکر اور رہنمائے صراط مستقیم اور کوئی نہیں۔ اس کتا ب الٰہی کا ورق ورق الٹیے تو یہ ماضی کی گم کردہ راہ قوموں، جابر وقاہر بادشاہوں، فرعونوں، ہامانوں، عاد وثمود، آل شعیب، اہل مدین، قوم لوط، بنی اسرائیل اور ان کی گمراہیوں کے قصے بار بار دہراتی ہے اور اس لیے دہراتی ہے کہ محمد ﷺ کو ہادی ورہبر ماننے والی قوم گزشتہ قوموں کی غلطیوں سے عبرت پکڑے اور سیدھی راہ پر چلنے کا سلیقہ سیکھے۔ مسلم مفکرین قرآنی تصور تاریخ سے بہت متاثر ہوئے۔ علامہ اقبال ان مسلم مفکرین میں سے ہیں جو فلسفہ تاریخ کے بانی علامہ ابن خلدون کے تاریخی شعور کے حوالے سے اپنے خطبات میں یہ کہہ گئے کہ ’’بہ نگاہ حقیقت دیکھا جائے تو ابن خلدون کا مقدمہ سرتاسر اس روح سے معمور ہے جو قرآن کی بدولت اس میں پیدا ہوئی۔ وہ اقوام وامم کے عادات وخصائل پر حکم لگاتاہے تو اس میں بھی زیادہ تر قرآن کریم سے ہی استفادہ کرتاہے‘‘۔ اقبال کی اپنی فکر خود قرآن مجید ہی سے متاثر تھی، چنانچہ انہوں نے قومی زندگی کے لیے تاریخ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی صحت مند تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تعمیر کرنے والے اپنی تاریخ، اپنے ماضی سے پوری طرح باخبر نہ ہوں اور اس کی صحت مند روایات کو تعمیر نو کے ڈھانچے میں اچھی طرح محفوظ نہ کرلیں۔
اقبال کے تصور تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خیال رہے کہ وہ کوئی پروفیشنل مورخ یا فلسفئ تاریخ نہ تھے۔ بنگالی دانشور ڈی ایم اظرف اپنے ایک مضمون "Iqbal and the process of history" کی ابتدا میں لکھتے ہیں:
Iqbal is not a philosopher of history in the technical sense of the term. For he has not attempted an explanation of the process of history as had been done by Ibne khuldun, Kant, Herder, Hegel, Comte, Karl Marks and Spengler. Yet his writings in prose and poetry make it abundantly clear that he has a single principle which is the key to unlock the door of the mystery of historical process."(7)
بلا شبہ اقبال تکنیکی معنی میں فلاسفر آف ہسٹری نہیں تھے مگر ان کی تاریخ فہمی سے انکار ممکن نہیں۔ تصور تاریخ کے حوالے سے ان کا کوئی کام جامع صورت میں موجود نہیں، مگر اقبال کی نثرو نظم میں جابجا اس تصور کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ وہ کچھ عرصہ تاریخ پڑھاتے بھی رہے۔ ایم اے کرنے کے بعد علامہ اقبال بی او ایل کے سال اول اور سال دوم کی جماعتوں کو J .R. Seeleyکی کتاب Expantion of England پڑھانے کے علاوہ ہندوستان اور انگلستان کی تاریخ کے متعلق نوٹس لکھواتے تھے اور انھوں نے Stults W.کی کتاب کا اردو ترجمہ کیا اور اس کا خلاصہ بھی لکھا۔ (۸) علامہ اقبال نہ صرف معلم تاریخ رہے بلکہ ممتحن تاریخ بھی رہے۔ خود لکھتے ہیں کہ ’’ایف اے کے امتحان کے پرچے مضمون تاریخ یونان وروم کے دیکھ رہاہوں۔ سامنے بنڈل رکھا ہواہے ‘‘(۹) علم تاریخ سے علامہ اقبال کی دلچسپی تاریخ کا معلم اور ممتحن ہونے کے علاوہ مورخ کی حیثیت سے بھی ظاہر ہوئی۔ فقیر وحید الدین لکھتے ہیں کہ علامہ نے اردو زبان میں تاریخ ہند لکھی تھی جو ۱۴؍۱۹۱۳ء میں مڈل کی جماعتوں کو پڑھائی جاتی تھی۔ اس کتاب کا خلاصہ امرتسر کے ایک پبلشرنے ۱۹۱۴ء میں شائع کیا تھا۔ رسمی صورت میں تاریخ پڑھانے سے ۱۹۰۵ء میں قطع تعلق ہوا، جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے، لیکن غیر رسمی صورت میں وہ تمام عمر تاریخ کے فلسفے، کسی قوم یا ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار اور پہلوؤں سے متعلق اظہار خیال کرتے رہے۔ ماحول اور محرکات مختلف ہونے کی وجہ سے اظہار خیال کی صورتوں میں تبدیلی رونما ہوتی رہی اور اقبال اپنے کلام اور کام میں تاریخ کے معلم، مورخ اور فلسفی ہونے کی جھلکیاں دکھاتے رہے۔ فلسفہ تاریخ اور اس کے فنی تقاضوں کے حوالے سے علامہ کی وہ تحریر یں خاص طورپر قابل ذکر ہیں جو ان کی ذاتی ڈائری میں ملتی ہیں۔ علامہ نے اپنی ذاتی ڈائری ۱۹۱۰ء میں لکھی تھی او ر ’’شذرات فکر اقبال‘‘ کے نام سے اردو میں بھی چھپ چکی ہے ۔
علامہ نے اپنی ڈائری میں تاریخ کی تعریف ان خوبصورت الفاظ میں کی ہے کہ ’’تاریخ ایک طرح کا ضخیم گرامو فون ہے جس میں قوموں کی صدائیں محفوظ ہیں۔‘‘ (۱۰) اقبال کا خیال ہے کہ ماضی کے واقعات وحوادث کو محض تاریخ واردیکھنے یا ترتیب وار لکھنے کا نام تاریخ نہیں ہے بلکہ واقعات وحوادث کے اسباب وعلل کو سمجھنے اور ان کے ربط باہمی کو جاننے اور ان کی روشنی میں قوموں کے عروج وزوال کے اصول اخذ کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے، اسی لیے وہ لکھتے ہیں:
’’تاریخ محض انسانی محرکات کی توجیہ وتفسیر ہے، لیکن جب ہم اپنے معاصرین بلکہ روز مرہ زندگی میں گہرے دوستوں اور رفیقوں کے محرکات کی بھی غلط توجیہیں کر بیٹھتے ہیں تو جو لو گ ہم سے صدیوں پہلے گزرے ہیں، ان کے محرکات کی صحیح تعبیر وتوجیہ اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے، لہٰذا تاریخ کی روداد کو بڑے احتیاط سے تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘ (۱۱)
انفرادی نقطہ نظر سے تاریخ کی اہمیت زیادہ ترعلمی ونظری ہے، لیکن قومی زاویے سے تاریخ بقاکی ضامن اور استحکام وتسلسل کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کے چوتھے لیکچر ’’اسلامی ثقافت کی روح‘‘ میں اقبال نے تاریخ کی اہمیت عیاں کرنے کے لیے اس حقیقت کا بڑے موثر انداز میں اظہار کیاہے کہ قرآن کریم نے جو علم کے تین ذرائع بتائے ہیں، ان میں سے ایک تاریخ ہے۔ قرآن مجید جب باربار یہ فرماتاہے کہ ’سیرو فی الارض ثم انظرو کیف کان عاقبۃ المکذبین‘ تو اس بات کا اعلان کررہا ہوتاہے کہ گزرے ہوئے واقعات اور بیتی ہوئی سرگزشتیں علم وبصیرت کا منبع ہیں۔ علامہ کے خیال میں تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں دیکھنے سے انسان اپنے آپ کو جانتا پہچانتاہے اور اس کے ربط سے اعلیٰ مقاصد ونصب العین حاصل کرتاہے اور ان تک پہنچنے کا راستہ پاسکتاہے۔ مورخ ابو بکر شبلی (متوفیٰ ۹۴۶ھ) کا قول تھا کہ ’’عام لوگ کہانی سن کر اپنا دل بہلاتے ہیں، اس کے برعکس خواص ان کہانیوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔‘‘ (۱۲) اسی پس منظر میں اقبال نے اپنے خطبات میں تاریخ کے اسلامی تصور پر گراں قدر خیالات کا اظہار کیا ہے۔قرآن حکیم نے تاریخ کو ’’ایام اللہ‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ اس کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ اقوام کا محاسبہ انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے کیاجاتاہے۔ مزیدیہ کہ انہیں بداعمالیوں کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور اس کے لیے قرآن بار بار تاریخ کا حوالہ دیتاہے۔ اقبال کہتے ہیں :
’’عالم اسلام میں تاریخ کی پرورش جس طرح ہوئی، وہ بجائے خود ایک بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ یہ قرآن کا بار بار حقائق پر زور دینا اور اس کے ساتھ ساتھ پھر اس امر کی ضرورت کہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات صحت کے ساتھ متعین ہوں، علیٰ ہذا مسلمانوں کی آرزو کہ اس طرح ان کی آئندہ نسلوں کو اکتساب فیض کے دوامی سرچشمے مل جائیں، یہ عوامل تھے جن کے زیر اثر ابن اسحاق، طبری، مسعودی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں‘‘(۱۳)
یعنی نہ صرف یہ کہ قرآن تاریخی واقعات بیان کرتاہے بلکہ وہ ہمیں تاریخی انتقاد کے بنیادی اصول بھی عطا کرتاہے جن پر عمل پیرا ہوکر مسلمانوں نے نہ صرف تاریخ نویسی میں عظیم سرمایہ جمع کیا بلکہ اس سے کا م لے کر جمع حدیث اور اسماء الرجال کے وہ علوم پیدا کیے جو صدیوں سے ان کے لیے ہدایت اور فیضان کا سرچشمہ ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’اے مسلمانو! جب کوئی جھوٹا شخص تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی خوب چھان بین کر لیا کرو‘‘۔ (۴۹:۶)
اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ فہمی کے غیر جانبدار مطالعے سے دو تصورات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تمام زندگی کا مبدا ومنبع ایک ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: ’’ اور ہم نے تمھیں نفس واحد سے پیدا کیا ‘‘۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام سے قبل عیسائیت نے دنیا کو پیغام مساوات دیاتھا، لیکن اہل کلیسا وحدت انسانی کے تصور کو پوری طرح محسوس نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ مساوات ان کے ہاں مجرد فکر کی شکل میں رہی۔ اس اصول کو اگر کسی ثقافت نے عملاً سچ کردکھایا تو وہ مسلمان ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس امر کا نہایت گہرا احساس کہ زمانہ ایک حقیقت ہے لہٰذا زندگی مسلسل اور مستقل حرکت سے عبارت ہے، زمانے کا یہی تصور ابن خلدون کے نظریہ تاریخ میں خصوصی دلچسپی کا سبب ہے۔ ابن خلدون کے نظریہ تاریخ میں مندرجہ بالااسلامی نظریات تاریخ پوری طرح جلوہ گرہیں۔ وہ بھی قرآنی تصور کے زیر اثر اقوام عالم کی اجتماعی زندگی کاجائزہ لیتے ہوئے واقعات نقل کرنے والوں کے شخصی خصائل وعادات کو نظر انداز نہیں کرتا۔ وہ بھی ملتوں کی حیات وممات کا قائل ہے۔ قرآن کی طرح ابن خلدون بھی کائنات کو متحرک، متغیر اور ارتقا پذیر سمجھتاہے۔ وہ افلاطون اور زینو کی طرح وقت کو بے حقیقت قرار نہیں دیتا اور نہ ہی وہ بعض یونانی فلاسفروں کی طرح یہ مانتاہے کہ وقت ایک ہی دائرے میں حرکت کرتارہتاہے۔ اس حوالے سے اقبال کہتے ہیں کہ یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمیں ابن خلدون کی فکری اپج سے انکار ہے۔ اسلامی تہذیب وتمدن نے اپنے اظہار کے لیے جو راستہ اختیار کیا، اس پر نظر رکھیے تو یہ کسی مسلمان ہی کا کام ہوسکتاتھا کہ تاریخ کا تصور بطور ایک مسلسل اور مجموعی حرکت کے کرتا۔ گویا ہمیں ابن خلدون کے نظریہ تاریخ سے دلچسپی ہے تو اس کی وجہ بھی ابن خلدون کا وہ تصور ہے جو اس نے تغیر کے باب میں قائم کیاہے اور یہ تصور بڑا اہم ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تاریخ چونکہ، زمانے کے اندر، ایک مسلسل حرکت ہے، لہٰذا یہ ماننا ضروری ہے کہ اس کی نوعیت فی الواقع تخلیقی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ وہ حرکت نہیں جس کا راستہ پہلے سے متعین ہو۔ اب اگر چہ ابن خلدون کو مابعد الطبیعیات سے چنداں دلچسپی نہ تھی بلکہ ایک طرح سے وہ اس کا مخالف تھا، بایں ہمہ اس نے زمانے کا تصور جس رنگ میں پیش کیا، اس کے پیش نظر ہم اس کا شمار برگساں کے پیشروؤں میں کریں گے۔ (۱۴) عزیز احمد رقمطراز ہیں:
’’تاریخ میں حرکت واقعتا آگے بڑھنے کی حرکت ہے۔ اقبال، نطشے کے نظریہ تواتر تاریخی کو باطل قراردیتے ہیں، اگرچہ وہ جرمن فلسفی کی فکر کے بعض عناصر سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اقبال کے نزدیک تاریخ ترقی پذیر زندگی کے نمونے پر تیار ہوتی ہے اور زندگی میں تواتر کے عمل کے لیے نہ کوئی جگہ ہے او رنہ وہ کوئی معنی رکھتاہے۔‘‘ (۱۵)
رموز بے خودی کے ایک باب میں اقبال نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے اور اس کو ذہن نشین کرانے کے لیے ایک پرزور اورروشن تمثیل سے کام لیا ہے۔ فرماتے ہیں، جو مقام ایک فرد کی زندگی میں حافظے کا ہے، وہی قوم کی زندگی میں تاریخ کو حاصل ہے۔ اگر حافظے میں خلل واقع ہو جائے تو فرد اپنا دماغی توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ وہ پگلا اور دیوانہ کہلاتاہے۔ اسی طرح جو قوم اپنی تاریخ سے ناآشنا ہوتی ہے، جس نے ماضی سے اپنا رشتہ توڑ لیا، جو اپنی روایات سے بیگانہ ہوگئی، وہ بحیثیت قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی، اسے کبھی عظمت ورفعت نہیں حاصل ہوتی۔ عزیز احمد لکھتے ہیں کہ تاریخ بھی ایک قوم کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے جو اسے محفوظ وزندہ رکھتی ہے اور شناخت کرنے کی حس کا تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ (۱۶) لیکن بقول برگساں ’’حافظہ محض ماضی بعید کی یادوں کو تازہ کرنے کا عمل نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حافظے سے مراد ماضی کا ہمارے ساتھ شامل ’’حال ‘‘ہونا اور ہمارے حال کو متاثر کرنا ہے۔ (۱۷) اقبال بھی یہی کہتے ہیں :
سرزند از ماضئِ تو حالِ تو
خیزد از حالِ تو استقبالِ تو
مشکن از خواہی حیاتِ لازوال
رشتہءِ ماضی از استقبال وحال
یعنی تیرا حال تیرے ماضی سے پھوٹتاہے اور حال سے استقبال سر نکالتاہے، اگر تو حیات لاوزال کا خواہاں ہے تو پھر اپنے ماضی کا رشتہ اپنے حال واستقبال سے قطع نہ کر۔ اس طرح تاریخ، اولاد آدم کا اجتماعی حافظہ بن جاتی ہے۔ یعقوبی نے نویں صدی عیسوی میں اپنی تاریخ کا منفرد نام رکھ کر تمام ہم عصروں پر سبقت لے لی۔ اس کی تاریخ کا نام تھا: ’’مشاقت الناس لزمانہم‘‘ یعنی انسان نے اپنے آپ کو زمانے کے سانچے میں کس طرح ڈھالا؟ تاریخ دراصل یہی بتاتی ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتارہا۔ جو لوگ تقاضائے زمانہ کے مطابق اپنے آپ کو نہ بدل سکے، ان کوزمانے نے مٹادیا۔ علم تاریخ کی اس اہمیت کے پیش نظر امام شافعی ؒ نے کہاتھا کہ علم تاریخ ذہن انسانی کو جلا دیتاہے۔ (۱۸) ابن جوزی کے نزدیک تاریخ اور سوانح حیات دل ودماغ کے لیے مفرح اور روحانی غذا ہیں ۔ (۱۹) رموز بیخودی میں اقبال بتاتے ہیں کہ تاریخ کوئی فرضی داستان یا افسانہ نہیں ہے، یہ خود آگاہی اور کار کشائی کی ضمانت دیتی ہے۔ وہ یوں بیان کرتے ہیں:
چیست تاریخ اے از خود بیگانہ
داستانے؟ قصہ؟ افسانہ؟
ایں ترا از خویشتن آگہ کند
آشنائے کارو مرد رہ شو
ضبط کن تاریخ را پائندہ شو
از نفسہائے رمیدہ زندہ شو
یا پھر یوں فرماتے ہیں :
زندہ فرد از ارتباطِ جان وتن
زندہ قوم از حفظِ ناموسِ کہن
مرگِ فرد از خشکئ رودِ حیات
مرگِ قوم از ترکِ مقصودِ حیات
قوم روشن از سوادِ سرگزشت
خود شناس آمد ز یادِ سرگزشت
سرگزشتِ او گر از یارش دود
باز اندر نیستی گم می شود
یعنی اقبال اپنے ذہن ووجدان کے ذریعے سے ماضی کو حاضر میں پیوست کردینا چاہتے تھے تاکہ زندگی کی وحدت میں قوت وتاثیر پیدا ہو اور اس کی جڑیں زیادہ گہری اور مضبوط ہوجائیں۔ اقبال اپنی کاوش کو کھوئے ہووؤں کی جستجو سے تعبیر کرتے ہیں، اس لیے کہ ہم ایک سے زیادہ زمانوں کی مخلوق ہیں، جن میں ماضی کی بیسیوں صدیاں سوئی ہوئی ہیں :
میں کہ میری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہووؤں کی جستجو
ڈاکٹر یوسف حسین کے خیال میں زندگی کے لق ود ق بیابان میں مسافر حیات جن منزلوں سے گزرچکاہے، ان کی یاد کبھی کبھی اس کے دل کو گدگداتی ہے او رغم منزل کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس طرح ماضی او ر مستقبل کا رشتہ ایک دوسرے سے جڑ جاتاہے :
کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی تھی جو سینے میں ،غم منزل نہ بن جائے
یوسف حسین کا کہناہے کہ ’’تاریخ عالم سب سے زیادہ محسوس شکل ہے جس میں زندگی کی حقیقت ہمارے شعور پر بے نقاب ہوتی ہے۔ یہ فطرت اور زمانے کا قطعی فیصلہ ہے۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ہم قوموں کی زندگی کا تصور ان کی تاریخ سے الگ رہ کر صحیح طور پر کرسکیں۔‘‘ (۲۰)
نومبر ۱۹۲۹ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سپاس نامے کا جواب دیتے ہوئے اقبال نے اپنے تصورتاریخ کو یوں بھی بیان کیا کہ:
’’ایک دوسری بات جس پر میں زور دینا چاہتاہوں، ہمارا انکشاف ماضی ہے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو صرف اپنے ماضی سے محبت کرتے ہیں۔ میں تو اپنے مستقبل کا معتقد ہوں۔ ماضی کی ضرورت مجھے اس لیے ہے کہ میں حال میں ہوں۔ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ سرچشمہ تہذیب وشائستگی کو سمجھا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آج دنیائے اسلام میں کیا ہورہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں چاہتاہوں کہ آپ ماضی کو سمجھیں۔ چونکہ ہم جدید تہذیب وشائستگی کے اصولوں سے ناواقف ہیں، اس لیے ہم علوم جدیدہ کو حاصل کرنے میں دیگر اقوام سے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں چاہتاہوں کہ آپ ان گم گشتہ رشتوں پر نظر ڈالیں جن کے ذریعے ہم ماضی ومستقبل سے وابستہ ہیں۔‘‘ (۲۱)
علامہ اقبال کے مذکورہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر منور مرزا نے درست کہاہے کہ :
’’تاریخ کی حیثیت اہل نظر افراد کے لیے ایک لائحہ عمل،ایک جولانگاہ امکان، ایک تازیانہ عبرت اور ایک جرات آموز درس ہے تاکہ آدمی ہر لحظہ اپنے کردار اور اپنے رویے کا جائزہ لیتارہے،، دم بدم دیکھتارہے کہ وہ ترقی ہے ،ٹھہراؤ کا شکار ہے، یا زوال کے رخ رواں ہے۔ اگر اس طرح آدم خود آگاہ رہے تو یقیناًپھر وہ خو ب سے خوب تر کی خواہش سے محروم نہیں رہ سکتا۔ زندہ تمنا حرکت پر آمادہ کیے رکھتی ہے۔ اگر زمان کو ایک زندہ حقیقت کے طورپر تسلیم اور قبول نہ کیا جائے تو حضرت علامہ کا فلسفہ خودی سرتاسر بے مدار ہوکر رہ جاتاہے۔‘‘ (۲۲)
یقیناًتکمیل خودی کسی بے نمو وبے حرکت آفاق میں بے معنی بات ہے۔ انسانی خودی اپنے وجود کو استقلال بخشنے کے لیے تاریخ کی کشمکش میں سے گزرتی ہے۔ انسانی خودی کا زمانے سے جو تعلق ہے، اس کا اظہار تاریخ میں ہوتاہے ۔علامہ اقبال نے اپنے فارسی کلام میں یہ ’’اسرار ورموز‘‘بڑی چابک دستی سے سمجھائے ہیں کہ تاریخ تجھے خود آگاہ کرتی ہے اور تیرے خنجر خودی کے لیے فساں کاکام دیتی ہے۔ وہ ایسی شمع ہے جو امتوں کے لیے ستارے کاکام دیتی ہے، ماضی کو سامنے لابٹھاتی ہے اور اس طرح ماضی کا رشتہ حال سے اور پھر حال کے واسطے سے استقبال سے جوڑ دیتی ہے۔
’’اسلام کا فلسفہ تاریخ‘‘ نامی کتاب کے مصنف عبدالحمید صدیقی نے جنوری ۱۹۴۹ء میں ایک رسالہ ’’سلسبیل ‘‘کی اشاعت خاص میں علامہ اقبال سے یہ تصور منسوب کیا کہ ’’تاریخ خود کو دہراتی ہے۔‘‘ یہ بیان درست نہیں کیونکہ علامہ اقبال کے نزدیک عمل تاریخ ایک خاص منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ ایک نقاد محمد عثمان رمز، اقبال کے فلسفہ تاریخ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ :
’’اقبال کے فلسفہ تاریخ کی صحیح روح یہ تعلیم دیتی ہے کہ تاریخ کسی قوم کے اجتماعی ذہن کا اظہار ہے۔ یہ ایک مسلسل تخلیقی قوت ہے جس کی مدد سے ہم زندگی، قوانین اور اقدار کی قدروقیمت کا تعین کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہ قوت جامد نہیں۔ عزیز احمد کے خیال میں اقبال کے فلسفہ تاریخ میں ’’تاریخ اپنے عمل حرکت میں، زندگی کی طرح، ایک ایسے مستقبل کی سمت بڑھنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے جس کی تعمیر میں وہ سخت جدوجہد کرتی ہے ۔.....اس عمل میں وہ ان اقدار کا تحفظ کرتی ہے جنہوں نے ثقافت کی بنیادی شکل متعین کی ہے ۔..... ثقافت کے سفر دراز میں ان اقدار کو تازہ اور زند رکھنا چاہیے‘‘۔(۲۳)
ڈاکٹر محمد شمس الدین صدیقی کا خیال ہے کہ گویا اقبال کے خیال میں تاریخ کی حرکت اس سمت میں ہے کہ صفات حسنہ سے متصف افراد سے عبارت ایک وسیع معاشرہ وجود میں آئے جو سارے عالم انسانیت کے لیے ایک ایسی مثال قائم کردے کہ اس کی تقلید ہر قوم کرنے لگے۔ عالم انسانیت کی تعمیر بالآخر ایک ایسے نظریے کی بنیاد پر عمل میں آئے گی جو انسان کو محض حیوان ناطق نہیں قراردیتا بلکہ اشر ف المخلوقات مان کر اسے خلیفۃ الارض کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتاہے۔ (۲۴) اقبال انسان کو مجبور نہیں بلکہ مختار مانتے ہیں، اس لیے تاریخ کے مطالعے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ تقدیر کے روایتی مفہوم میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ اپنے خطبات میں اقبال کہتے ہیں کہ ’’دراصل تقدیر عبارت ہے اس زمانے سے جس کے امکانات کے انکشافات ابھی باقی ہیں۔‘‘ اقبال پوری تاریخ کو حق وباطل کی آویزش کے پس منظر میں دیکھتے ہیں:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
یعنی انسانی تاریخ خیروشر کی کشمکش ہے، تاہم ان کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی امن وسلامتی سے ہم کنار ہوسکتی ہے، جب وہ شر کی قوتوں پر غالب آکر حق وخیر کی بنیاد پر اپنی تعمیر کرے۔ شمس الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ’’اقبال نے تاریخ کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ جو قوم یاجو معاشرہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نیابت کرنے کی نیت یااہلیت نہیں رکھتا، وہ فنا ہوجاتاہے۔‘‘ (۲۵) علامہ اقبال کو اعتماد کامل ہے کہ تاریخ کا عمل آخر انسان کو راہ راست پر ضرور لے آئے گا۔ تاریخ کی حرکت بے مقصد، بے منزل اور اٹکل پچو نہیں ہے۔ ازروئے قرآن اللہ تعالیٰ نے کائنات اور انسانوں کو تفریحاً کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا جیسا کہ سورۃ انبیا میں ہے : ’وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لٰعبین‘۔
علامہ کا خیال ہے کہ عمل تاریخ ایک خاص منزل کی جانب رواں ہے۔ علامہ اقبال کا تصور تاریخ اخلاقی اطلاقیت کا حامل ہے۔ اقبال کے تصور تاریخ کا مطالعہ واضح کرتاہے کہ جس طرح کارل مارکس کے نظریہ تاریخ کو تاریخ انسانی کی مادی تعبیرکا نام دیاگیاہے، اسی طرح علامہ اقبال کے نظریہ تاریخ کو بآسانی تاریخ انسانی کی اخلاقی تعبیر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مشہور مفکر ڈایونی سیوس نے کہاتھا کہ تاریخ حکمت ہے جو مثال سے سکھاتی ہے۔ اقبال نے بھی اخلاقی تعبیر کے لیے تاریخ سے ا ستفادہ کیا۔ ان کا کلام تاریخی تلمیحات، استعارات اور اشارات سے پرُہے۔ اسکندرو چنگیز، خسرو پرویز اور محمود وایاز ایسے نام اس کا ثبوت ہیں۔ کئی شخصیات، مقامات اور واقعات براہ راست ان کی شاعری کی بنیاد بنے۔ انھوں نے فاطمہ بنت عبداللہ، عبدالرحمن اول، بلال حبشی، سلطان ٹیپو، ہارون الرشید، طارق بن زیاد کو موضوع بنایا۔ مولائے یثرب، صدیق اکبر، مجدد الف ثانی کو موضوع بناکر حکیمانہ شاعری کی، نیز کئی مقامات، ساحل، نیل، کنارہ دریائے کبیر، خاک کا شغر، خاک بخارا، خاک نجف، سر زمین حجاز، سرزمین سمر قند وبدخشاں، مسجد قرطبہ، مسجد قوت الاسلام، قسطنطنیہ، صقلیہ، بغداد اور دہلی ایسے حوالے ان کے کلام میں عام ہیں۔ ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ میں تاریخی حالات وواقعات سے ہی استدلال پیش کیاگیاہے۔
تاریخ اسلام سے ان کو خاص دلچسپی تھی۔ اس کا واضح ثبوت علامہ اقبال کا وہ خطبہ صدارت ہے جو ۱۳؍جون ۱۹۳۲ء کو ’’انقلاب‘‘ میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کا مضمون ۱۹۲۳ء میں شروع ہوا لیکن یونیورسٹی میں ہندو عنصر غالب ہونے کی وجہ سے یہ توجہ سے محروم رہا۔ ۱۹۲۹ء میں جب پروفیسر جے، ایف، بروس تاریخ کے پروفیسر کی حیثیت سے یونیورسٹی میں آئے تو انہوں نے ہندووں کے زیر اثر سینٹ میں یہ تجویز پیش کی کہ اسلامی تاریخ کو بی اے کے کورس سے خارج کردیاجائے۔ یہ تجویز کثرت رائے سے منظور ہوگئی تو مسلمانان پنجاب نے احتجاج کیا۔ اسی سلسلے میں ۱۱؍جون ۱۹۳۲ء کو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ لاہور منعقد ہواجس کی صدارت سر محمد اقبال نے کی اور خطبہ صدارت میں بی اے پاس کورس سے اخراج کے حوالے سے گفتگو کے بعد تاریخ کے مضمون کے حوالے سے کہا کہ :
’’مسٹر بروس کا استدلال یہ ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو ہندوستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ میرے نزدیک یہ دعویٰ غلط ہے کہ کسی قوم کی تاریخ کو اس قوم کی تاریخ نہ سمجھا جائے، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ تاریخ اجتماعی حیثیت سے انسانی روح کی ایک حرکت ہے۔ روح انسانی کا کوئی ماحول نہیں بلکہ تمام عالم اس کا ماحول ہے۔ اگر اسے کسی قوم کی ملکیت سمجھا جائے تویہ تنگ نظری کا ثبوت ہے۔ ....جب میں اٹلی گیا تو مجھے ایک شخص پرنس کتانی ملا۔ وہ اسلامی تاریخ کا بہت دلدادہ ہے۔ اس نے تاریخ پر اتنی کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر روپیہ خرچ کیا ہے کہ کوئی اسلامی سلطنت اس کے ترجمے کا بندوبست بھی نہیں کرسکتی۔ اس نے لاکھوں روپے صرف کرکے تاریخی مواد جمع کیاہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اسلامی تاریخ سے دلچسپی کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ عورتوں کو مرد بنادیتی ہے۔ ‘‘(۲۶)
اقبال تاریخ کی اہمیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ وہ تاریخ کو فلسفہ پر ترجیح دیتے ہیں۔ سید نذیر نیازی ’’مکتوبات اقبال‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ جب علامہ نے ۴؍جون ۱۹۲۹ء کو خط میں انہیں یہ مشورہ دیا کہ ’’بہتر ہو کہ آپ کسی اچھے ہنر کی تلاش میں ولایت جائیں‘‘تو نذیر نیازی نے جواب میں عرض کیا ’’کسی سائنس یا صنعت کی تحصیل تو اب میری استطاعت سے باہر ہے، فلسفہ تاریخ کا موضوع کیا تصوف اسلام سے بہتر نہیں رہے گا؟‘‘ اس کے جواب میں علامہ اقبال نے تحریر فرمایا کہ ’’میں تصوف پر تاریخ کو ترجیح دیتاہوں ‘‘۔ غلام قادر فصیح نے جب اپنا تاریخی نوعیت کا رسالہ شائع کرنا شروع کیا تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ تک لکھا کہ ’’ میرے نزدیک یہ رسالہ نہایت مفید ہے اور ہر مسلمان کو اس کا پڑھنا ضروری ہے۔ عام مسلمانوں میں اخلاق حسنہ پیدا کرنے کے لیے اس سے اچھا ذریعہ اور کوئی نہیں کہ اس قسم کے تاریخی رسالے شائع کیے جائیں جن سے ان کو اسلاف کے حالات معلوم ہوں اور ان کے طرز عمل کا ان پر اثر پڑے۔ قوموں کی بیداری کا اندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ ان کو اپنی تاریخ سے کہاں تک دلچسپی ہے۔ (۲۷) کلام اقبال میں وہ خود تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام کہتے ہیں کہ تاریخی حوادث سے نتائج اخذ کرنے میں ان کی بصیرت اتنی عمیق اور مستحکم ہے کہ انہوں نے مستقبل کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ بہت جلد اہل نظر کے سامنے مجسم ہوگیا۔ (۲۸) طویل تاریخی واقعات کو ایک یا چند اشعار میں پیش کرنے میں بھی علامہ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی سامراج نے جب کشمیر کو گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کردیا تو علامہ نے فرمایا:
باد صبا اگر بہ جنیوا گزر کنی
حرفے زما بہ مجلس اقوام باز گوی
دہقاں وکشت وجوی وخیاباں فروختند
قومے فرو ختند وچہ ارزاں فروختند
برصغیر پاک وہند میں آج کون ایسا ہے جو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے واقف نہ ہو۔ علامہ نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں ان کے متعلق جو یہ ایک شعر کہاہے، وہ تاریخ کے سینکڑوں صفحات پر بھاری ہے:
جعفر از بنگال وصادق از دکن
ننگِ آدم ،ننگ دین، ننگِ وطن
غلام قادر روہیلہ کی فتح اور تیمور یوں کی شکست کا بیان کسی تاریخ میں پڑھ کر ممکن ہے قاری بھول جائے، لیکن بانگ درا میں شامل نظم بعنوان ’’غلام قادر روہیلہ ‘‘کو شاید فراموش کرنا ناممکن ہے۔ واقعہ کربلا کو علامہ اقبال نے ’’رموز بے خودی ‘‘ میں جس طرح تاریخی حقیقت کو برقرار رکھتے ہوئے انتہائی دلنشیں اور موثر صورت میں پیش کیاہے، وہ تاریخ اور شاعری کے حسین امتزاج کی ایک لاجواب کوشش ہے۔ یہ معنوی اعتبار سے قصیدہ کے شعر ہیں لیکن ان میں مبالغہ بالکل نہیں ہے، تاریخی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔
علامہ اقبال کے نظریہ تاریخ، فلسفہ تاریخ، تاریخ نویسی اور معلم تاریخ کے کردار کے مذکورہ پہلوؤں کے مختصر جائزے کے بعد کہاجاسکتاہے کہ ڈی ایم اظرف کایہ خیال کہ اقبال فنی مفہوم میں فلسفئ تاریخ نہیں ہیں کیونکہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ اقبال نے فلسفہ تاریخ کے حوالے سے وسیع یا جامع کام نہیں کیا اور تصور تاریخ کے حوالے سے محض ایک خاکہ پیش کیاہے، تاہم کئی دانشور اقبال کے تصور تاریخ کے حوالے سے دوسری رائے رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین نے اس حوالے سے ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع شدہ مضمون میں لکھاہے کہ ’’عمل تاریخ کی سمت اور غرض وغایہ کے بارے میں اقبال کے خیالات نہایت واضح ہیں۔‘‘ قطع نظر اس بحث سے کہ حقیقی تکنیکی اور صحیح فنی مفہوم میں علامہ اقبال فلسفئ تاریخ ہیں یا نہیں، یہ بات بغیر کسی تردد کے کہی جاسکتی ہے کہ وہ گہرے تاریخی شعور کے مالک فلسفی تھے۔ جرمن فلسفی کارلائل نے کہا تھا کہ ہمیں ماضی کوزیادہ سے زیادہ تلاش کرنا چاہیے۔ تما م انسانوں کو لازم ہے کہ وہ ماضی کو علم کا ایک حقیقی سرچشمہ تصور کریں جس کی روشنی میں دانستہ یا نا دانستہ حال ومستقبل کی تعبیر وتعمیر ہوسکتی ہے۔ اقبال نے یہی بات سمجھانے کے لیے نظم ونثر میں بنی اسرائیل کی پختہ خیالی اور اپنی تاریخ سے محکم وابستگی کی داد دی ہے اور مثال کے طور پر بیان کیاہے کہ بنی اسرائیل کے ابتدائی زمانے کی تمام معاصر قومیں اور تہذیبیں مٹ گئی ہیں، مگر یہودی ہیں کہ بے پنا ہ آلام ومصائب برداشت کرنے کے باوجود چارہزار سال سے زندہ وسلامت ہیں اور وقت کا فنا آفریں ہاتھ ان کو مٹا نہیں سکا۔ اقبال کے نزدیک ان کا استقرار اور بقا کا راز اپنی تاریخ کے ساتھ بے پناہ شیفتگی اور وابستگی میں مضمر ہے۔ ’’رموز بے خودی‘‘ میں یہ باتیں نظم میں بیان کی ہیں اور اپنے ایک مضمون ’’قومی زندگی‘‘ میں جو ۱۹۰۶ء کے ’’مخزن ‘‘ میں شائع ہوا، انہوں نے اس تاثر کو بہ طرز نثر بیان کیا اور دونوں مقامات پر مقصود مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ دیکھنا، کہیں اپنی تاریخ نہ بھول جانا ،کہیں اپنے ماضی سے غافل نہ ہوجانا، کیونکہ جو قومیں تاریخ کو فراموش کردیتی ہیں، تاریخ انہیں فراموش کردیتی ہے:
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
حوالہ جات
(۱) فکر اسلامی کی تشکیل نو ،پروفیسر محمد عثمان ،سنگ میل لاہور ،ص ۱۴۴۔۱۴۳
(۲) A Study of History (abridged edition), vol .1, USA, p.6
(۳) الاعلان بالتوبیخ،اردو ترجمہ ،مرکزی اردو بورڈ ،لاہور ،ص ۸۹
(۴) Philosophy of History, Dower Publications, N.Y., p.8
(۵) مقدمہ ،المکتبہ التجاریہ ،شارع محمد علی ،مصر ،ص ۱۰
(۶) رو ز گار فقیر ،فقیر وحیدا لدین ،کراچی ،۱۹۹۶ء
(۷) اقبال ریویو ،جلد ۳،شمارہ ۳،اکتوبر ۱۹۶۲ء ،ص ۲۶
(۸) مطالعہ اقبال ،گوہر شاہی بزم اقبال لاہور ،ص ۵۷۔۴۷
(۹) اقبال نامہ ،مرتبہ شیخ عطاء اللہ ،شیخ محمد اشرف ،لاہور ،ص ۹،۸
(۱۰) شذرات فکر اقبال ،مترجم ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ،مجلس ترقی ادب ،لاہور ،ص ۱۴۰
(۱۱) ایضا ،ص ۱۳۰
(۱۲) سرگزشت تاریخ ،امتیاز محمد خان،کراچی،ص،۲۲۱
(۱۳) تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ،مترجم سید نذیر نیازی ،بزم اقبال ،لاہور ،ص ۲۱۴۔۲۱۳
(۱۴) فکر اسلامی کی تشکیل نو ،ایضا ،ص ۱۴۷
(۱۵) برصغیر میں اسلامی جدیدیت ،عزیز احمد ،سنگ میل ،لاہور ،ص ۲۰۸
(۱۶) ایضاً
(۱۷) Masterpieces of the World Philosophy, N.Y., p. 768
(۱۸) سرگزشت تاریخ ،ایضا ،ص ۲۳۲
(۱۹) ایضاً
(۲۰) روح اقبال ،یوسف حسین خان ،اعظم پریس ،حیدر اباد ،دکن ،ص ۔
(۲۱) گفتار اقبال ،محمد رفیق افضل ،دانش گاہ پنجاب ،لاہور ،ص ۱۰۵۔۱۰۴
(۲۲) برہان اقبال ،منور مرزا ،اقبال اکادمی ،لاہو ر،ص ۱۷
(۲۳) برصغیر میں اسلامی جدیدیت ،ایضاً
(۲۴) نقوش،اقبال نمبر ،شمارہ ،۱۲۱،ستمبر ۱۹۷۷ء ،لاہور ،ص ۲۳۰
(۲۵) ایضاً ،ص ۲۲۷
(۲۶) روزنامہ انقلاب ،لاہور ،۱۳؍جون ۱۹۳۲ء
(۲۷) اقبال نامہ ،ایضاً، جلد دوم ،ص ۲۶۴
(۲۸) سہ ماہی ،اقبال ،جلد ۵۱،شمارہ ،۴،اکتوبر ،دسمبر ۲۰۰۴ء ،ص ،۵
نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان
جدید مغربی مفکرین میں نطشے ایک بہت بڑا نام ہے۔ اقبال نے اپنے کلام اور خطبات میں نطشے کے افکار وتصورات کا کئی جگہ ذکر کیاہے۔خاص طور پر نطشے کا نظریہ بقائے دوام یعنی تکرارِ ابدی Eternal Recurrence)) اقبال کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبال کے خیال میں اس نظریے کے ابتدائی خط وخال ہربرٹ اسپنسر (Spencer, Herbert 1820-1903) کے ہاں ملتے ہیں(۱)۔ ہر برٹ اسپنسر مادی نظریہ ارتقا کے بانیوں میں شامل ہے۔ یہی وہ مفکر ارتقا ہے جس کی فراہم کی ہوئی فکری بنیادوں پر چارلس ڈارون (1809-1882) نے اپنے نظریہ ارتقا کی بنیاد رکھی۔ ڈارون کا نظریہ ارتقا مادیت پسندجدید مغربی ذہن کا محبوب تصور ہے۔ اقبال جب نطشے کے تصورِ تکرار ابدی کو ہربرٹ اسپنسر کی ابتدائی فکر کی ترقی یافتہ صورت قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نطشے کا تصور مغربی مادی فکری روایت کی ہی ترقی یافتہ صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نطشے جدید مغربی ذہن کا حقیقی نمائندہ بن کر سامنے آتاہے۔ چنانچہ اقبال نطشے کے تصور بقائے دوام یعنی تکرار ابدی کا جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نطشے کا نظریہ تکرار ابدی کیاہے؟ نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے اہم ترین نکات کو مختصراً یوں بیان کیا جاسکتاہے:
۱۔ کائنات میں توانائی کی مقدار محدود ہے اور توانائی کے مراکز بھی محدود ہیں۔
۲۔ مکان کا تصور محض ذہنی اختراع ہے، چنانچہ کائنات کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی خلائے محض میں واقع ہے۔
۳۔ زمانے کا وجود خارجی اور حقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ زمانی عمل لامتناہی بھی ہے، چنانچہ کائنات میں توانائی کی محدود مقدار کے ہوتے ہوئے لامحدود زمانی عمل کامطلب یہی ہے کہ کائنات میں ہمیشہ یا ابدی طورپر واقعات وحوادث کی تکرار ہوتی رہتی ہے اور ایک جیسے واقعات اپنے آپ کو دہراتے رہتے ہیں۔ گویا کائنات کے اندر ایک میکانکی عمل کارفرما ہے۔ نطشے کا نظریہ تکرار ابدی اسی میکانکی عمل کا فلسفیانہ اظہار ہے۔ فریڈرک کوپلسٹن (Frederick Copleston) نظریہ تکرار ابدی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"The theory is presented as an empirical hypothesis, and not merely as a disciplinary thought or test of inner strength. Thus, we read that the principle of conservation of energy demands the eternal recurrence. If the world can be looked at as a determinate quantum of force of energy and as a determinate number of centres of force, it follows that the world process will take the form of successive combinations of there centres, the number of these combinations being in principle determinate, that it, finite. And in an infinite time every possible combination would have realized at some point. Further, it would be realized an infinite number of time." (2)
فریڈرک کو پلسٹن کی رائے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نطشے کی نظر موجودہ کائنات سے ماورا واقعا ت پر نہیں بلکہ اسی کائنات میں حوادث وواقعات کے میکانکی عمل پر مبنی تکرار ابدی پر ہے۔
خطبات میں اقبال کی نطشے کے نظریہ تکرار ابدی پر زیادہ تر تنقید ٹسناف (R.A. Tsanoff) کی کتاب (The Problem of Immortality) کے پانچویں باب’’تکرار ابدی کا نظریہ ‘‘( The Doctrine of Eternal Recurrence)کے حوالے سے ملتی ہے۔ علامہ اقبال کی نجی لائبریری میں اس کتاب کا ایک نسخہ موجود تھا۔ اس نسخہ کو دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ اقبال نے اس کتاب کے مذکورہ پانچویں باب کے آخر میں نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے متعلق چند تنقیدی اشارات ثبت کیے ہیں۔
۱۔ توانائی کا غلط تصور (Wrong view of energy)
۲۔ زمان کا غلط تصور ۔دوری یا مستقیم (Wrong view of time__circular or straight)
۳۔ لامتناہیت کا غلط تصور ۔لامتناہیت کو دوری ہونا چاہیے۔(Wrong view of infinity__ Infinite process must be periodic)
۴۔ نطشے کا تضاد۔ آرزوئے دوام اور تکرار دوام کا تضاد (Nietzsche inconsistent__ Eternal aspiration and Eternal Recurrence inconsistent)
۵۔ بدترین قسم کا تقدیر پرستی (Involves Fatalism of the wrost type) (۳)
اقبال کے ان تنقیدی اشارات کی وضاحت ان کے خطبات اور خصوصاً چوتھے خطبے میں ملتی ہے۔
سائنسی اصطلاح میں توانائی سے مراد قوتِ کار ہے۔ فلسفیانہ زبان میں اقبال کے نزدیک توانائی خدا کی تخلیقی فعالیت کا نام ہے۔ چونکہ خدا کی تخلیقی فعالیت مسلسل اور لامتناہی ہے، اس لیے کائنات میں توانائی کی مقدار کو متناہی اور محدود قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اقبال کے نزدیک سینہ کائنات سے صداے دما دم کن فیکون بلند ہورہی ہے اور ہر لحظہ حوادث وواقعات جدت وندرت کے نئے پیراہن کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ نطشے مقام کبریا سے آشنا نہ تھا، اس لیے وہ زمانے کے ظاہری اور خارجی لامتناہی تسلسل میں تکرار ابدی کے نظریہ کو ہی پیش کرسکتاتھا کیونکہ بقول فریڈرک کو پلسٹن:
"According to Nietzsche, if we say that the universe never repeats itself but is constantly creating new forms, this statement betrays a hankering after the idea of God. For the universe itself is assimilated to the concept of a creative deity. And this assimilation is excluded by the theory of the eternal recurrence." (4)
اقبال کہتے ہیں کہ نطشے کی نگاہ، کائنات میں زمان کے خارجی پہلوتک ہی محدود رہی اور زمان کی اس باطنی حالت تک رسائی حاصل نہ کرسکی جس میں زمان کی ساخت دوری ( Periodic) نہیں بلکہ ایک ایسے خطہ کی سی ہے جو مسلسل کھینچا جارہاہے۔چنانچہ ایک ایسی کائنات جس میں مقدار توانائی محدود اور زمانی حوادث وواقعات کا تسلسل لامحدود ہو، تکرار حوادث ناگزیرعمل بن جاتاہے کیونکہ محدود توانائی آخر کب تک جدت وندرت کو قائم رکھتے ہوئے تخلیقی عمل کو نباہ سکتی ہے۔ اقبال رقمطراز ہیں :
"In his view of time, however, Nietzsche parts company with Kant and Schopenhaver. Time is not a subjective form, it is a real and infinite process which can only be conceived as 'peridic'. Thus, it is clear that there can be no dissipation of energy in an infinite empty space. The centres of this energy are limited in number and their combination perfectly calculated. There is no beginning or end of his ever active energy, no equilibrium, no first or last change. Since time is infinite, there fore, all possible combinations of energy centres have already been exhausted. There is no new happening in the universe; whatever happens now has happened before an infinite number of times and will continue to happen an infinite number of times in the future." (5)
نطشے کے نظریہ تکرار ابدی پراقبال کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نطشے کے ہاں ایک تسلسل کے مسلسل آگے بڑھنے اور نئے سے نئے مراحل میں قدم رکھنے کے تصور کے بجائے ایک جیسے واقعات کے تکرار کا تصور کار فرما ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جیسے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد بعینہ اسی قسم کے دوسرے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں اور مابعد پھر اسی قسم کے واقعات اپنے آپ کو دہراتے ہیں۔ یہی حال شخصیات کا ہے۔ ایک شخصیت اپنا عرصہ حیات ختم کرکے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی ہے، پھر اسی قسم کی دوسری شخصیت جنم لیتی ہے اور یوں تکرار کا یہ عمل کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی سطح پر چلتارہتاہے۔اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ:
"Eternal Recurrence is not eternal creation, it is eternal repetition."(6)
اقبال کے ہاں بقائے دوام کے تصور کا مطلب ایک جیسے واقعات کا تکرار نہیں بلکہ شخصی حیات اور تاریخی تسلسل کا نئے سے نئے مراحل اور ایک سطح سے دوسری بلند ترسطح میں قدم رکھناہے۔ خودی کا سفر ہمیشہ بلندیوں کی طرف جاری رہتا ہے۔ موت خودی کے ارتقائی مراحل میں محض ایک مرحلہ ہے۔ موت کے بعد بھی خودی نہ صرف اپنا تشخص برقرار رکھے گی بلکہ اس کا ارتقائی سفر بھی جاری رہے گا۔ یوں اقبال تاریخ کے ارتقائے دوام اور شخصی بقائے دوام کا ایسا تصور پیش کرتاہے جس کا تسلسل موت کے ظاہر ی حادثے سے بھی نہیں ٹوٹتا۔
یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ
می کنی تاچند با ما آنچہ کردی پیش ازیں
بجانم رزم مرگ وزندگانی است
نگاہم بر حیاتِ جاودانی است
ضمیر زندگانی جاودانی است
بچشمِ ظاہری بینی، زمانی است
بپایاں نارسیدن زندگانی است
سفر مارا حیاتِ جاودانی است
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شام زندگی، صبح دوامِ زندگی
موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
خوگر پرواز کو پرواز میں ڈرکچھ نہیں
موت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیں
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتانہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتاہے فنا ہوتانہیں
اقبال کے تصور ارتقاکی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے مادی اور سطحی اندازِ نظر کو مابعد الطبیعیاتی نقطہ نظر میں بدل کر اس کے دل سے موت کا خوف زائل کر دیتاہے اور اس کی روح کو حیات جاوید کی تڑپ سے یوں آشنا کردیتاہے کہ اس کے بدن کی مشت خاک مانع پرواز نہیں بنتی۔ اقبال خطبات میں رقمطراز ہیں:
"Philosophically speaking, therefore, we can not go further than this that in view of the past history of man, it is highly improbable that his career should come to an end with the dissolution of his body." (7)
چونکہ نطشے کی نظر صرف مادی دنیا تک محدود ہے، اس لیے حیات بعد الموت کے حوالے سے مابعد الطبیعیاتی تصور کی اس کے ہاں گنجائش نہیں۔اس کی نظر صرف حیات ارضی پر ہے۔ کولیئرز انسائیکلوپیڈیا(Collier's Encyclopedia)میں درج ہے :
"In fact, Nietzsche urges man to remain faithful to the earth, not to entertain other worldly hopes which constitute a slander of this earth." (8)
پروفیسر سید وحید الدین اپنی کتاب ’’اقبال اورمغربی فکر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’نٹشے کی ارضیت کسی قسم کی مصالحت کو قبول نہیں کرتی۔ وہ تو غیب کا سرے سے انکار کرتی ہے۔‘‘ (۹)
یہی وجہ ہے کہ اقبال اور نطشے کاتصورِ بقائے دوام ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ اقبال روحانی ارتقا (Spiritual Evolution) پر یقین رکھتاہے جب کہ نطشے ایسے حیاتیاتی ارتقا (Biological Evolution)کی بات کرتاہے جسے انسان کے معنوی فروغ او رشخصی بقا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ فریڈرک کو پلسٹن ،نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے متعلق لکھتاہے:
"The theory also excludes, of course, the idea of personal immortality in a beyond." (10)
اقبال ،ڈاکٹر نکلسن کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’نٹشے بقائے شخصی کا منکر ہے۔ جو لوگ حصول بقاکے آرزو مند ہیں، وہ ان سے کہتاہے ،کیا تم ہمیشہ کے لیے زمانے کی پشت کا بوجھ بنے رہنا چاہتے ہو۔ اس کے قلم سے یہ الفاظ اس لیے نکلے کہ زمانے کے متعلق اس کا تصور غلط تھا ۔‘‘ (۱۱)
نٹشے کا المیہ یہ ہے کہ اس کی نظر اس دنیا کے پیچ وخم میں الجھ کر رہ گئی اور مابعد الطبیعیاتی حقائق تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ اس کی نگاہ میں یہ دنیا سمندر حیات کے لیے آخری کنارہ ہے، چنانچہ اس کے نزدیک بقائے دوام کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کائنات میں واقعات وحوادث کا ایک دوری (Periodic)تسلسل کار فرما ہے اور فوق البشر (Superman) بھی اس تکرار مسلسل کی زد میں ہے۔ وہ مٹتا، پیدا ہوتا، پھر جنم لیتا، فنا ہوتا اور بار بار ایک ہی رنگ وروپ میں جلوہ نما ہوتادکھائی دیتاہے ۔
اقبال کے نزدیک یہ ارتقا اور بقائے دوام کا درست تصور نہیں، کیونکہ اگر خودی اپنے بے مثل نقش (یعنی اپنے تشخص) کو قائم رکھ کر آگے نہ بڑھ سکے تو ایک ابدی چکر میں اس کے باربار ظہور سے کیافائدہ؟
ہو نقش اگر باطل ،تکرار سے کیاحاصل
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی
ایک ایسا فوق البشر جس کا ظہور باربار ہوچکاہو اور جس کی آئندہ بھی باربار پیدائش یقینی ہو،اس کی خودی یقیناًاس لذت یکتائی سے محروم رہتی ہے جو علامہ اقبال کے نزدیک مرکزی نکتہ ہے آرزوئے بقائے دوام کا۔ (۱۲)
اقبال خطبات میں لکھتے ہیں:
"Such is Nietzsche's eternal recurrence. It is only a more rigid kind of mechanism." (13)
مختصر یہ کہ اقبال کے نزدیک بقائے دوام ایسے ابدی چکر کا نام نہیں جو گردش مدام کے ناقابل برداشت اور سوزِ آرزو سے بیگانہ میکانکی عمل کو ظاہر کرے بلکہ بقائے دوام سے مراد خودی کی وہ ارتقائی لگن ہے جس کے باعث وہ اپنی ہستی کی وحدت، انفرادیت اور یکتائی کی صفات اور خوبیوں سمیت ہر لحظہ مستقبل کے لامحدود امکانات کی طرف اپنی اندرونی بہجت عمل کی بدولت قدم آگے بڑھاتی اور حیات کے بلند تر مدارج طے کرتی ہوئی نعرہ مستانہ کی زندہ تصویر بنی نظر آتی ہے:
ایں یک دو آنے، آںیک دوآنے
من جاو دانے، من جاو دانے
حوالہ جات
1- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", Sh. Muhammad Ashraf, Lahore: 1962, p:113
2- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy" (vol:11) Image Book, Doubleday, New York: April 1985, p. 415.
3۔ مظفر حسین، مضمون ’’اقبال کا تصور بقائے دوام‘‘مشمولہ ’’متعلقات خطبات اقبال‘‘ :سید عبداللہ ،اقبال اکادمی پاکستان، لاہور:۱۹۷۷ ص۲۱۷۔
4- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy", p:416
5- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p:114,115.
6- As Alione, p:142
7- As Alione, p:122,123.
8- Bernard Johnston (Ed),"Collier's Encyclopedia", Macmillan Educational Company, New York: 1991, p:532.
9۔وحید الدین ،پروفیسر سید:’’اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی ،سرینگر :سن ندارد،ص:۳۳۔
10- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy" vol:11, p:416
11۔محمد اقبال ’’اقبال نامہ (حصہ اول) ‘‘مرتبہ:شیخ عطاء اللہ، شیخ محمد اشرف ،لاہور:سن ندارد ،ص:۳۶۵۔
12۔مظفر حسین ،مضمون ’’اقبال کا تصور بقائے دوام‘‘مشمولہ’’متعلقات خطبات اقبال‘‘ مرتبہ :سید عبداللہ ،ص:۲۰۳۔
13- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p:115.
اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن
انسانی زندگی گونا گوں پہلووں سے عبارت ہے اور ان تمام پہلووں پر تاریخ کی بسیط چادر تنی ہوئی ہے ۔ صرف اسی ایک فقرے کو بغور دیکھیے کہ اس کے دو ٹکڑے ہیں۔ ’’ اور ‘‘ نے ان ٹکڑوں میں ربط اور معانی پیدا کیے ہیں ۔ اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا بے معنی ہے تو اس کا ذمہ دار ’’ اور ‘‘ سے پہلے والا ٹکڑا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ہی دوسرے ٹکڑے کی تخلیق ممکن ہوئی ہے ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسرا ٹکڑا ’’ تخلیق ‘‘ ہوتے ہوئے بھی، پہلے ٹکڑے سے الگ، اپنی ذات میں کوئی آزاد معنی نہیں رکھتا ۔ اسی طرح اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا ہمیں نئے مفاہیم سے روشناس کراتا ہے تو اس کا کریڈٹ بھی اصلاً ’’اور ‘‘ سے پہلے والے ٹکڑے کو ملنا چاہیے کہ اس نے بہت فراخی سے بامعنی بنیاد فراہم کی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف اسی فقرے یا مجموعی طور پر کسی بھی تحریر کے لیے مخصوص نہیں ہے ، بلکہ اس کا دائرہ کار گفتگو اور اعمال تک پھیلا ہوا ہے ۔مثلاً ، اگر کوئی فر د دورانِ گفتگو میں ، اپنے ہی بیان کیے ہوئے نکات بھول جائے تو خالی الذہن ہونے اور بے بنیاد ہو جانے کے باعث اس کی آئندہ گفتگو مجہول اور انتہائی بے معنی ہو جائے گی ۔ اگر کوئی فرد، بھول اور نسیان کا شکار نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود اس کی بات دانش و حکمت سے تہی اور بے معنی معلوم ہو تو سمجھ لیا جانا چاہیے کہ اس کی گفتگو کی بنیاد ہی انتہائی ناقص ہے اور اس ناقص بنیاد پر وہ کوئی حکیمانہ نکات اٹھانے سے معذور اور قاصر ہے۔ یہی بات فرد کے اعمال کی بابت بھی سچ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی زندگی کا ’’حال‘‘ اپنے ماضی سے جدا اور الگ وجود نہیں رکھتا۔ اپنے متصل ماضی کے ساتھ حال کا گہرا اور با معنی تعلق ہوتا ہے۔ ماضی کے ساتھ اسی تعلق اور تعلق کی نوعیت سے انسانی زندگی کے ’’حال‘‘ کی نہ صرف تعمیر ممکن ہوتی ہے بلکہ حال کے رخ اور سمت کا تعین بھی ماضی سے ہوتا ہے ۔
اگر مذکورہ گفتگو پر گہری نظر ڈالی جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں : (۱) حافظہ ، جس کا معکوس بھول اور نسیان ہے ۔ (۲) معقول بنیاد، جس کا معکوس ناقص اور لایعنی بنیاد ہے ۔ اب اگر انہی نکات کو توسیع دیتے ہوئے، گروہی زندگی پر منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گروہی زندگی کے اعمال، گفتگو اور تحریری سرمایے کے معیار و ساخت میں ’’حافظے اور معقول بنیاد‘‘ کی حیثیت کلیدی ہے۔ جہاں تک حافظے کا تعلق ہے، کسی گروہ کی تاریخ اس کا حافظہ ہے اور معقول بنیاد اس کی تاریخ کا سرِ آغاز ہے ( اگر وہ دستیاب ہو سکے ) ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ گروہی زندگی کے اعمال ، گفتگو اور تحریری سرمائے میں اگر کوئی گڑ بڑ پائی جائے تو موردِ الزام ، تاریخ ( اور سرِ آغازِ تاریخ) کو ہی ٹھہرایا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے یہی عوامل کار فرما ہیں۔ اسی طرح اگر گروہی زندگی کے اعمال مثبت جہات لیے ہوئے ہیں، گفتگو میں ادب آداب اور شائستگی کے اسالیب مستور ہیں اور تحریری کاوشیں حسن وخوبصورتی اور تخیل آفرینی کی بوقلمونی سے مالا مال ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی ’’تاریخ اور سرِ آغازِ تاریخ ‘‘ کو دیا جانا چاہیے۔
اب اگر ہم دنیا کی مختلف تہذیبوں کی گروہی زندگی پر سرسری نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ان کے ’’حال‘‘ کی تعمیر و بنیاد کے پیچھے ان کا اجتماعی حافظہ (تاریخ) کارفرما ہے ۔ مغرب کی موجودہ مادی ترقی اور سیکولر اخلاقیات، صنعتی انقلاب کی مرہونِ منت ہے اور صنعتی انقلاب کے پیچھے روشن خیالی کی تحریکات جیسے ٹھوس عوامل موجود ہیں۔ اب اکیسویں صدی کا مغرب، اگر دنیا کی راہنمائی کرنے کی استعداد رکھتا ہے تو اس کا کریڈٹ بجا طور پر اس کی تاریخ اور اس کے سرِ آغازِ تاریخ کو ملنا چاہیے۔ یہ نکتہ اگرچہ قابلِ بحث ہو گا کہ مغرب کا سرِ آغازِ تاریخ کیا ہے؟ اپنے موضوع کے بنیادی نکتے پر توجہ مرکوز رکھنے کی خاطر ہم یہاں اس بحث سے صرف نظر کریں گے۔ لیکن اگر مغرب دنیا کی راہنمائی کرنے کا ’’ دعویٰ ‘‘ کرتا ہے اور دنیا کی دیگر تہذیبیں اس کے دعوے کی بابت تحفظات رکھتی ہیں تو ان تحفظات کی ضرب، مغربی تہذیب کے حال کے بجائے اس کی تاریخ پر پڑنی چاہیے کیونکہ اس کے حالیہ دعوے کی بنیاد اس کی اپنی تاریخ پر ہے۔ اب ذرا غور کیجیے کہ کیا مغرب کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے یا اس میں کہیں کہیں سچائی کی لہریں بھی بل کھاتی دکھائی دیتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ مغرب کا تہذیبی برتری کا دعویٰ مکمل طور پر غلط نہیں ہے کیونکہ اس کی بعض تہذیبی اقدار ایسی مثبت جہات کی حامل ہیں جن کے متعلق دیگر تہذیبوں نے انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کی۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ مغربی تہذیب کی بنیاد ( یعنی اس کی تاریخ اور سرِ آغازِ تاریخ ) مکمل طور پر اگرچہ لایعنی اور منفی نہیں ہے، لیکن مکمل طور پر بامعنی اور مثبت بھی نہیں ہے ۔
اب ہم ایک دوسری تہذیب کی گروہی زندگی پر سرسری نظر ڈالیں گے جسے ’اسلامی تہذیب‘ کہا جاتا ہے ۔ اس تہذیب کی صورتِ حال انتہائی عجیب و غریب ہے۔ یہ تہذیب ایک طرف داخلی و خارجی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا شکار ہے تو دوسری طرف دنیا کی راہنمائی کرنے کی بھی دعوے دار ہے۔ مذکورہ بالا اصول کے مطابق، اس کی اس متضاد حالت کی بنیاد اس کی اپنی تاریخ میں مضمر ہے۔ اس تہذیب کی تاریخ دو عملی پر مشتمل ہے جو متوازی اور یکساں طور پر اس کے حال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’’ دو عملی ‘‘کیا ہے ؟ ہماری رائے میں اس تہذیب کے حال کی بنیاد میں ایک طرف ’’ تاریخی اسلام ‘‘ کارفرما ہے اور دوسری طرف ’’ دینِ اسلام ‘‘ اس کے حال کی تعمیر کر رہا ہے۔ اس لیے مذکورہ دو عملی یا اس کے حال میں موجود تضاد، حقیقت میں تاریخی اسلام اور دینِ اسلام کی باہمی آویزش کا نتیجہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ البتہ قابلِ بحث ہے کہ کون سا اسلام اس تہذیب کی ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ دار ہے اور کون سا اسلام اس کے راہنمائی کے دعوے کے پیچھے کارفرما ہے ۔ سرِ دست ہم اس نکتے پر بحث نہیں کریں گے ۔
جہاں تک اسلامی تہذیب کے ’’ حال‘‘ کی تعمیر کرنے والی تاریخ کے تعین کا تعلق ہے، وہ حال کی متضاد صورتِ حال سے متعین ہو کر، دو عملی کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو عملی کی صورتِ حال کیونکر پیدا ہوئی؟ اس سوال کا ایک سطری جواب یہ ہے کہ تاریخی اسلام (Historical Islam) کو دینِ اسلام کے متوازی اور یکساں مقام سے نواز اگیا، شاید (بلکہ یقینا) دینِ اسلام سے بھی بڑھ کر مقام دیا گیا۔ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی اسلام (Historical Islam) سے کیا مراد ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مختلف زمانوں، مختلف خطوں، مختلف ثقافتوں، مختلف اداروں اور مختلف افراد کی تعبیرات و تشریحات اور تاریخی عمل (Historical Process) وغیرہ سے درجہ بدرجہ اسلام کی جو صورت سامنے آتی رہی، وہ صورت زمانی ترتیب سے ارتقا پذیر ہوتے ہوئے تاریخی اسلام (Historical Islam) کی تشکیل کا باعث بنی۔ یہ تعبیرات و تشریحات اور تاریخی عمل وغیرہ ، اگرچہ کہیں کم کہیں زیادہ ، دینِ اسلام سے مَس کرتے ہیں، لیکن ان کی بنت و بافت میں کلیدی حصہ ، زمانی و مکانی عْرف اور افراد کے فہم کا ہے ۔ یہ بات بحث طلب نہیں ہے کہ زمانی و مکانی عْرف نہ صرف تغیر پذیر رہتا ہے بلکہ افراد کے فہم کی تشکیل میں بھی اس کا بنیادی کردار ہوتا ہے ، لہٰذا افراد کا فہم بھی غیر متغیر اور ابدی نہیں رہتا۔ اب ذرا غور کیجیے کہ اگر اسلامی تہذیب کسی بھی زمانے میں اور کسی بھی خطے میں اپنا ’’حال‘‘ تاریخی اسلام (Historical Islam) کی بنیادپر تعمیر کرے گی تو اس کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا؟ ظاہر ہے، اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ کسی مخصوص زمانی و مکانی عْرف کو زبردستی اس تہذیب کے حال پر مسلط کیا جائے گا اور حال کے زمانی ومکانی عْرف سے صرفِ نظر کیا جائے گا، اقدار کے آفاقی، کلی اور ابدی نظام کے بجائے کسی ( زمانے یا شخص) کے فہمِ اسلام کو (جو ابدی نہیں ہو سکتا، بلکہ اضافی اور تغیر پذیر ہوتا ہے) ابدی گردانتے ہوئے اسلامی تہذیب کے حال پر منطبق کیا جائے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاصر اسلامی تہذیب کی تعمیر میں تاریخی اسلام (Historical Islam) کے بنیادی کردار اور تاریخی اسلام کی منفیت نے اس تہذیب کے ’’حال‘‘ کو المیے سے دوچار کر دیا ہے۔ اسلامی تہذیب کے ’’حال‘‘ کی بنیادوں میں اب کہیں تصوف کی روایات ہیں، کہیں ائمہ اربعہ و جمہور فقہا کی فنی موشگافیاں ہیں اور کہیں بادشاہوں و سلاطین کی وہ پالیسیاں ہیں جن پر اسلامیت کا ٹھپہ لگایا گیا۔ ان تمام سلسلوں کا تعلق، حقیقت میں تاریخی اسلام (Historical Islam) کے ساتھ ہے، جبکہ دینِ اسلام کا وجود ان سے الگ تھلگ قائم ہے ۔
اب اس سوال کو لیجیے کہ اسلامی تہذیب، مغربی تہذیب (اور دیگر تہذیبوں) سے کن معنوں میں مختلف ہے ؟ کیونکہ اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر، دیگر تہذیبوں کے مانند، اپنی تاریخ پر ہوئی ہے، اس لیے لامحالہ ہمیں اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر کرنے والی اس تاریخ کا سراغ لگانا ہو گا جو تاریخ ہوتے ہوئے بھی تاریخ کے روایتی تصور سے مختلف اور ممتاز ہو ۔ اب اگر تاریخی اسلام (Historical Islam) کو اسلامی تہذیب کے حال کی بنیاد تسلیم کر لیا جائے (اور وہ حقیقتاً ہے بھی) تو پھر دیگر تہذیبوں سے اسلامی تہذیب کو ممیز کرنا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ اس نکتے کی صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے، لیکن طوالت سے بچنے کی خاطر ہم فقط یہی کہنے پر اکتفا کریں گے کہ تاریخی اسلام (Historical Islam) اور دیگر تہذیبوں کی تاریخ (History) کے مابین ساختیاتی اعتبار سے کوئی بنیادی فرق قائم کرنا مشکل کام ہے، کیونکہ ہر دو کے ہاں تاریخی ارتقا (Historical Evolution) کا اصول کارفرما ہے ۔ جب کوئی اصولی اور بنیادی فرق موجود ہی نہیں ہے تو پھر ہر دو تہذیبوں کے حال کا فرق اور ایک دوسرے پر برتری کا دعویٰ بھی غیر اہم اور بے معنی ہو جاتا ہے ۔ یہاں منطقی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلامی اور غیر اسلامی تہذیبوں کے درمیان کوئی اساسی فرق موجود نہیں ہے تو پھر مغربی تہذیب خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر کیوں گامزن ہے ؟ اور اسلامی تہذیب انحطاط و زوال کا کیونکر شکار ہے؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ جس طرح آج کی مغربی تہذیب اپنے متصل ماضی سے منسلک ہے، اسی طرح اسلامی تہذیب بھی اپنے متصل ماضی سے جدا نہیں ہے۔ متصل ماضی سے تعلق کا یہ اصول دونوں تہذیبوں کو اساسی اعتبار سے یکساں قرار دیتا ہے ، لیکن ظواہر میں فرق اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی ارتقا کے دوران میں تاریخی عوامل کے مقابل میں اپنایا گیا رویہ دونوں تہذیبوں کے ہاں منفرد اور جدا جدا رہتا ہے۔ یکساں تاریخی عوامل کے مقابل میں دونوں تہذیبوں نے کس قسم کے رویے کا اظہار کیا اور منفرد تاریخی عوامل کے مقابل میں کیا طرزِ عمل اختیار کیا؟ یہ ایک طویل بحث ہے اور سرِ دست ہمارے بنیادی موضوع سے خارج ہے ۔
بہرحال، موجودہ زمینی حقائق کے مطابق اسلامی تہذیب کا مذکورہ داخلی تضاد اسے مغربی تہذیب (اور دیگر تہذیبوں) سے ممیز کرتا ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوا، یہ تضاد یا دو عملی، بنیادی طور پر تاریخی اسلام اور دینِ اسلام کی باہمی آویزش کا نتیجہ ہے ۔ ہم یہ کہنے کی جسارت تو نہیں کر سکتے کہ اپنے آغاز سے لے کر دورِ حاضر تک یہ تہذیب ’’دو عملی‘‘ کا شکار رہی ہے، لیکن یقیناًپچھلی کئی صدیوں سے یہ دو عملی ایک تہذیبی قدر کی صورت اختیار کر چکی ہے۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے ’’حال‘‘ کی تعمیر میں ایک طرف ( تاریخی جبر سے ماورا) دینِ اسلام کی آفاقی اقدارسر گرمِ عمل ہیں، مثلاً صبر ، شکر ، ایثار ، عدل، احسان، رحم دلی، خیر خواہی، تقویٰ، دیانت، امانت، ایفائے عہد، اخلاص، تواضع، شرم و حیا، توبہ و استغفار اور توکل علی اللہ وغیرہ، اور دوسری طرف اس تہذیب کا ’’حال‘‘ تاریخی اسلام (Historical Islam) کی جولان گاہ بنا ہوا ہے ، مثلاً بے صبری، عجلت، ناشکری، خود غرضی، ظلم، بد خواہی، بے خوفی، بد دیانتی، خیانت، عہد شکنی، بغض و عناد، ریا، خود ستائی، غصہ، بے حیائی، لہوو لعب، غرور و تکبر، حسد، بہتان، جھوٹ، رشوت خوری اور بد اخلاقی وغیرہ جیسی اقدار اس تہذیب کے عملی احوال کی نمائندہ بن گئی ہیں۔ ہمیں اعتراف کر لینا چاہیے کہ اسلامی تہذیب کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جھوٹ، ملاوٹ، رشوت خوری اور بد دیانتی جیسی منفی اقدار سرایت کر گئی ہیں، کیونکہ یہ اعتراف اس حقیقت کی نفی نہیں کرتا کہ اس تہذیب کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے کہیں کونے کھدرے میں سچ، خلوص، دیانت اور صبروشکر جیسی آفاقی اور غیر متغیر اقدار بھی سر اٹھاتی رہتی ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک ایسی تہذیبی قدر کو جنم دیتی ہے جسے ہم نے دو عملی یا تضاد کا نام دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہی تضاد ، داخلی اعتبار سے اسلامی تہذیب کے لیے اور خارجی اعتبار سے عالمِ انسانیت کے لیے، مثبت جہات کا اشاریہ بن گیا ہے ۔ خیال رہے کہ یہ تضاد بنیادی طور پر دینِ اسلام کا پیدا کردہ ہے، اس کے بر عکس تاریخی اسلام (Historical Islam) اسلامی تہذیب کی انفرادی و گروہی زندگی کو ( دیگر تہذیبوں کی تاریخ کے مانند) تاریخی جبر کا مطیع کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
بحث کے اس مقام پر اب واضح ہو رہا ہے کہ اصولی اعتبار سے، اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر کرنے والی تاریخ، مغربی تہذیب (اور دیگر تہذیبوں) کے حال کی تعمیر کرنے والی تواریخ سے کن معنوں میں مختلف ہے ۔ اس بنیادی نکتے کی تنقیح سے نہ صرف اسلامی تہذیب کی دو عملی یا تضاد کو ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے قدری نظام کو بھی ساختیاتی اعتبار سے دیگر تہذیبوں سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی زمانے اور کسی بھی خطے میں اسلامی تہذیب کے حال کو تعمیر کرنے والی تاریخ، دینِ اسلام ہونا چاہیے۔ دینِ اسلام سے مراد تاریخی اسلام نہیں، بلکہ قرآن و سنت ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ اسلامی تہذیب اپنے حال کی تعمیر میں، مغربی تہذیب (اور دیگر تہذیبوں) کے بر خلاف زمانی ارتقا پر مبنی تاریخ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، کیونکہ ایسی تاریخ میں اگرچہ کچھ نہ کچھ حکمت و دانش کے اسرار و رموز پوشیدہ ہو سکتے ہیں، لیکن یہ اسرار و رموز، تاریخی عمل میں انسانی کردار کے مختلف اسالیب کا اظہار ہونے کی وجہ سے، ابدی صداقتوں اور غیر متغیر جہات کے حامل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ان کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا کوئی بھی ’’حال‘‘ اپنی ساخت کے لحاظ سے ناقص اور یک رخا ہی ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب اپنے ’’حال‘‘ کی تعمیرتاریخی اسلام کے بجائے ہمیشہ دینِ اسلام کی بنیاد پر قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ( موجودہ دو عملی یا تضاد اسی کوشش کا اظہار ہے) یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر کرنے کے اعتبار سے دینِ اسلام، تاریخی اسلام اور دیگر تہذیبوں کی تاریخ سے کن معنوں میں مختلف ہے؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کا غیر متغیر انداز میں، کئی صدیوں سے سندِ مسلسل کے ساتھ ہم تک پہنچنا، اسے دیگر تاریخی بنیادوں (تاریخی اسلام وغیرہ) سے نہ صرف بہت ممتاز کر دیتا ہے بلکہ انتہائی ٹھوس انداز میں آشکارا کر دیتا ہے کہ قرآن مجید، تاریخی عمل میں انسانی کردار کے مختلف اسالیب کا اظہار نہیں ہے، یعنی تاریخ کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ تاریخ کو درست سمت میں گامزن کرنے کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔ اس کے بر عکس ، تاریخی اسلام و دیگر تہذیبوں کی تواریخ ، حقیقت میں تاریخ کی پیداوار ہیں، اس لیے متغیر اور غیر ابدی ہیں۔ اب ذرا غور کیجیے کہ جو نام نہاد بنیاد، خود تاریخ کی پیداوار ہو، وہ کسی ایسے حال کی تعمیر کیونکر کر سکتی ہے جو تاریخی جبر سے ماورا ہو؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر میں سے دینِ اسلام کے کردار کو منہا کر دیا جائے تو نہ صرف اسلامی تہذیب بلکہ عالمِ انسانیت بھی تاریخی قوتوں کی اس طرح مطیع ہو جائے گی جس طرح کسی مشین کے کل پرزے ہوتے ہیں ۔
یہاں پر یہ دلچسپ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا قرآن مجید، جو دینِ اسلام کی بنیاد ہے، خود تاریخ کی پیداوار نہیں ہے؟ یہ سوال بلاشبہ بہت منطقی اور بر محل معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے تاریخ کی پیداوار ہونے کے دو نمایا ں پہلو ہو سکتے ہیں : (۱) قرآن مجید، اپنے سے قبل کی تاریخ کا نتیجہ ہے۔ (۲) قرآن مجید، اپنے نزول کے زمانے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، اس کا جواب خدا، رسول، ملائکہ اور آخرت وغیرہ جیسے مباحث کے بغیر ادھورا اور نامکمل رہے گا۔ چونکہ یہ مباحث سرِ دست ہمارے موضوع سے خارج ہیں، اس لیے اتنا عرض کرنا کفایت کرے گا کہ قرآن مجید کا اعجاز پہلے سوال کی نفی کردیتا ہے اور پھر قرآن مجید کے بعد کی تاریخ میں کسی ایسی ہی کتاب کی عدم موجودگی، جو اس تاریخی سلسلے کو جاری و ساری رکھتی، اس امر پر دال ہے کہ قرآن مجید، تاریخ کی پیداوار نہیں ہے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے، وہ قدرے اہم معلوم ہوتا ہے کیونکہ خود مسلم مفسرین، مکی ومدنی آیات کی تقسیم اور شانِ نزول وغیرہ پر خاصا زور دیتے ہیں جس سے یقیناًقرآن مجید اپنے نزول کے زمانے اور حالات سے مخصوص ہو جاتا ہے۔اس کے باوجود ایک اہم نکتہ قرآن مجید کو اس کے نزول کے سیاق سے بالاتر کرکے اس کی ابدیت پر مہرِ تصدیق ثبت کردیتا ہے۔ مسلم مفسرین کی آرا اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن نبی پاک ﷺ کے زمانے میں ہی قرآن مجید کی ترتیب کا بدل دیا جانا اور اس بدلی ہوئی ترتیب کے ساتھ قرآن مجید کا ہم تک پہنچنا ، قرآن مجید کو اپنے نزول کے زمانے اور ضروریات سے ماورا کر دیتا ہے۔ ( مزید تفصیل کے لیے ماہنامہ الشریعہ اگست ۲۰۰۶ میں ہمارا مضمون ’’ معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید‘‘ ملاحظہ کیجیے) ۔
ابتدائی سطروں میں ہم نے ’’حافظے اور معقول بنیاد ‘‘ کی بات کی تھی اور گزارش کی تھی کہ کسی قوم یا تہذیب کا حافظہ ، اس کی تاریخ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ہی اس کے حال کی تعمیر ہوتی ہے۔ تاریخ سے کٹ کر کوئی قوم یا تہذیب ، اپنے حال کی تعمیر کر ہی نہیں سکتی۔ غور طلب مقام ہے کہ اسلامی تہذیب کی تا ریخ ، یعنی دینِ اسلام کی ثقاہت وابدیت کا کوئی دوسری تہذیب مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس تہذیب کے حال کی تعمیر کرنے والی یہ قوت یعنی دینِ اسلام اٹکل پچو نہیں ۔ یہ نہ صرف تاریخی عمل کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ اس میں زمانی و مکانی آلایشوں کی شمولیت کا ایک فی صد بھی امکان نہیں ہے ، حالانکہ مغربی تہذیب (اور دیگر تہذیبوں کی تاریخ) کا اس نقص سے بچ نکلنا نا ممکن امر ہے۔ایک طرف حفظِ قرآن کی روایت ہمیں بے تاریخ ہونے کے کسی بھی خدشے سے بے نیاز کر دیتی ہے اور دوسری طرف علمِ حدیث میں تعدیل و جرح کے اصول ، خود تاریخ کو کسی بھی قسم کے بگاڑ کا شکار ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ اگر مسلمان ہونے کی حیثیت سے بات کی جائے تو وہ تاریخ ، جس کی بنیاد پر (ہر زمانے اور ہر خطے میں) اسلامی تہذیب کے حال کی تعمیر ہونی ہے، اس کی حفاظت کا ذمہ خود خدا نے اٹھایا ہو تو وہ کیونکربگاڑ کا شکار ہوکر اس تہذیب کے حال کی غلط تعمیر کر سکتی ہے؟ بلاشبہ اسلامی تہذیب کو اپنے حال کی تعمیر کے لیے، دنیا کی کسی بھی تہذیب سے بہت بڑھ کر ، بہت ہی مضبوط، ٹھوس اور پائیدار بنیاد حاصل ہے جو تاریخی جبر سے ماورا ہے ۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس تہذیب کی تاریخ کا سرِ آغاز بھی انتہائی بامعنی ہے : ’الست بربکم‘ (اعراف ۷: ۱۷۲)
بہر حال ، جب دینِ اسلام کو اسلامی تہذیب کے ’’حال ‘‘کی بنیاد تسلیم کر لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی اسلام (Historical Islam) کا کیا مقام ہے؟ اگر دیگر تہذیبوں کی تواریخ صرف منفی اقدار کو جنم نہیں دیتیں توکیا تاریخی اسلام (Historical Islam) صرف منفی اقدار کا حامل ہے؟ یقیناًنہیں،کیونکہ تاریخی ارتقا (Historical Evolution) اور تاریخی عمل کے دوران میں دینِ اسلام کا کردار ہمیشہ موجود رہا ہے ، چاہے یہ بہت بنیادی نوعیت کا ہو جس طرح ہمارے اسلاف کے ہاں تھا، یا یہ دوعملی یا تضاد پیدا کرنے تک محدود ہو، جس طرح معاصر اسلامی تہذیب میں کارفرما ہے۔ تو کیا پھر غزالیؒ ، ابن تیمیہؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، ائمہ اربعہ، جمہور فقہا اور صوفیا کرام ؒ وغیرہ کا ہماری تہذیب کے ’’حال‘‘ کی تعمیر میں کوئی کردار ہو سکتا ہے؟ہماری نظر میں ان کا کردار ’’پیشوائیت‘‘ والا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ عملی طور پرتسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہماری تہذیب کے ’’حال‘‘ کے ساتھ ان کا تعلق ’’ہم سفری‘‘ کا ہے ۔ وہ ہمارے ہم سفر ہیں اور ہم ان کے ہم سفر ہیں، ہم ایک دوسرے کے پیشوا ہرگز نہیں ہیں۔ ہم سفری کے اثبات اور پیشوائیت کی نفی کی یہ منطق بظاہر عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ دو مختلف زمانوں میں ہوتے ہوئے ہم لوگ کیسے ہم سفر ہو سکتے ہیں؟ اور پھر وہ لوگ تو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اس لیے ان کی بابت ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے پیشوا ہیں یا نہیں ہیں، لیکن یہی بات معکوس انداز میں کیسے کہی جا سکتی ہے ؟ ہم گزارش کریں گے کہ اوپر کی سطروں میں واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی تہذیب اپنے حال کی تعمیر میں’’ تاریخ کا تعین‘‘ کرتے وقت ارتقا پر مبنی زمانی ترتیب کی تاریخ کو ملحوظ نہیں رکھتی، بلکہ اس کی بنیاد اصولاً اور اصلاً دینِ اسلام پر ہوتی ہے ۔ اب اگر کسی بھی دور میں اسلامی تہذیب اپنے حال کی تعمیر، دینِ اسلام پر قائم کرتی ہے تو وہ کسی بھی دوسرے دور میں کسی ایسی ہی تہذیب کی ہم سفر قرار پاتی ہے، کیونکہ دونوں کے ’’حال ‘‘ کی تعمیر کی پشت پر یکساں اصول موجود ہوتے ہیں۔یہ یکساں اصول یعنی قرآن و سنت، ایک طرف زمان و مکان کا لحاظ کیے بغیر، ہم سفر تہذیبوں کو ملت یا امت کے عظیم اجتماعی دھارے سے منسلک کر دیتے ہیں اور دوسری طرف کسی کی پیشوائیت کی ہر گنجایش کا بھی خاتمہ کر دیتے ہیں۔
اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ آج ہمارے سامنے دو بنیادی سوال سینہ تانے کھڑے ہیں کہ کیا معاصراسلامی تہذیب کے حال کی تعمیروبنیاد، دینِ اسلام پر ہے، جس طرح ہمارے اسلاف نے اپنے زمانے میں اسلامی تہذیب کے حال کی بنیاد، دینِ اسلام پر رکھی تھی؟ اور کیا ہم نے تاریخی اسلام (Historical Islam) کو اپنے اسلاف کے مانند ہم سفری کے درجے میں رکھا ہے یا پھر اسے پیشوائیت کی مسند پر براجمان کر دیا ہے؟ ہمارے جوابات ہمیں مغربی تہذیب و دیگر تہذیبوں سے ممتاز کر کے داعیانہ مقام بھی عطا کر سکتے ہیں اور انہی تہذیبوں کی ہم سفری کے’’ شرف ‘‘ سے بھی نواز سکتے ہیں۔
اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی
(’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ میں) اقبال نے اسلامی قانون کے بنیادی مآخذکا بھی جائزہ لیا ہے۔ اسلامی مآخذ کاپہلا ماخذ قرآن حکیم ہے۔ اس میں تفصیلی قوانین کی جگہ اصول وکلیات زیادہ ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے انسانی فکر کے لیے پوری گنجائش رکھی ہے۔ چنانچہ مسلم فقہا نے ان اصولوں کی بنیادپر ایک نظام قانون وضع کیا جو قدرقیمت کے لحاظ سے کسی طرح بھی رومی قانون سے کم نہیں بلکہ فائق ہے، لیکن یہ بہر حال انسانی تشریحات ہیں، اس لیے ہم اس کو حرف آخر نہیں کہہ سکتے ہیں۔اگر عہد حاضر کے مسلمان قرآن مجید کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی نظام کی نئی تشریح کریں تو وہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے، اور اس عمل پر متقدمین کے کام اور ان کی آرا کو حائل نہیں ہونا چاہیے۔ (۱)
اسلامی قانون کا دوسرا ماخذ حدیث ہے۔ حدیث کے بارے میں ہر دور کے علما میں اختلاف رہاہے، اس لیے اقبال نے اس نزاع سے بچتے ہوئے صرف ان احادیث تک اپنی بات محدود رکھی ہے جن کی حیثیت قانونی ہے یعنی جن کاتعلق معاملات زندگی سے ہے۔اس سلسلے میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نبی ﷺنے قانون سازی کے عمل میں عربوں کے کن عادات ورسوم کو باقی رکھا اور کن عادات ورسوم میں جزئی ترمیمات کے بعد ان کو اسلامی قانون کا درجہ دیا۔ اس سلسلے میں اقبال نے شاہ ولی اللہ کے حوالے سے لکھاہے کہ جو پیغمبر بھی آتاہے، وہ کار رسالت کی انجام دہی میں مخاطب قوم کی عادات، طریقے اور نفسیات کا پورا لحاظ رکھتاہے۔ اس اعتبار سے وہ جو قوانین بناتاہے، وہ دائمی نہیں ہوتے بلکہ اسی قوم کے ساتھ مختص ہوتے ہیں۔ ان کو جوں کاتوں دوسری قوموں پر نافذ نہیں کیا جاسکتاہے، مثلاً جرائم کی سزا وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے فقہ اسلامی کی تدوین میں اس نوع کی حدیثوں سے بہت کم تعرض کیاہے۔ انہوں نے استحسان (۲) کا جو اصول وضع کیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ احادیث کی طرف ان کی توجہ زیادہ کیوں نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ قانون سازی کے عمل میں حالات زمانہ پر غور وفکر نہایت ضروری ہے۔ مخصوص قسم کے حالات میں بنائے گئے قانون کو اس سے مختلف حالات میں نافذ کرنا قانون کے مقصد وغایت کو نظر انداز کرنا ہے۔(۳)
بعض علما کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ ؒ کے عہد میں حدیث کے مجموعے مرتب نہیں ہوئے تھے اورمعاملات کی بہت سی حدیثیں ان تک نہیں پہنچی تھیں، اس لیے انہوں نے احادیث سے بہت کم تعرض کیاہے۔یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ امام مالکؒ اورزہری ؒ کے قانونی مجموعے موجود تھے۔ امام ابو حنیفہؒ خود بھی حدیث کے جید عالم تھے۔ اگر وہ چاہتے تو حدیث کا ایک مجموعہ تیار کر سکتے تھے۔ اقبال کاخیال ہے کہ حدیث کے باب میں امام ابوحنیفہؒ کاطرز عمل بالکل درست تھا۔ احادیث دراصل نبی ﷺ کے اجتہادا ت ہیں۔ ہم ان کی مدد سے یہ جان سکتے ہیں کہ آپﷺ نے وحی کی تشریح کس طرح کی۔ (۴)
اسلامی قانون کاتیسرا ماخذ اجماع ہے۔ اقبال نے لکھا ہے کہ علما نے اس سلسلے میں نظری بحثیں تو بہت کیں لیکن اس خیال کو ایک مستقل ادارے کی شکل میں تبدیل نہ کرسکے۔ اجماع کے سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا صحابہؓ کا اجماع ہر دور میں قابل اتباع ہے؟ اقبال کا خیال ہے کہ جن امور کا تعلق واقعات (facts) سے ہو مثلاً معوذتین جزو قرآن ہیں یا نہیں، ان میں صحابہؓ کی اتباع واجب ہے کیونکہ صحیح حالات سے وہی لوگ واقف ہو سکتے ہیں، لیکن جن امور کاتعلق قانون سے ہے، ان میں صحابہؓ کا فیصلہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے واجب الاطاعت نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق کسی حکمی آیت کی تشریح سے ہے اور یہ تشریح اپنے عہد کے حالات اور تقاضوں کے لحاظ سے ہوگی۔ اقبال نے تائید میں کرخی ؒ کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے لکھاہے کہ جن امور کا تعلق قیاس سے نہیں ہے، ان میں صحابہؓ کی سنت واجب العمل ہے لیکن قیاسی امور میں یہ واجب نہیں ہے۔ (۵)
اقبال نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ اجماع قرآن کا ناسخ ہے۔ اجماع تو درکنار، حدیث رسول ﷺ کو بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔(۶) اجماع سے مراد علما کے ایک بڑے گروہ کاکسی شرعی معاملے میں اتحاد رائے ہے۔اقبال کے نزدیک عہد حاضر میں اجماع کی صحیح ترین صورت عوامی نمائندوں کی مجلس ہے، لیکن اس کے ساتھ قانون دان علما کی ایک جماعت بھی ہو جو وضع قانون میں مجلس کی مدد کرے اور اس کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی نگران بھی ہو۔ (۷)
اسلامی قانون کا چوتھا ماخذ قیاس (Reason) ہے یعنی مماثلت علت کی بنیاد پر قانون سازی۔اصول قیاس کا سب سے زیادہ استعمال امام ابوحنیفہؒ نے کیاہے۔ اقبال نے لکھاہے کہ اس کی وجہ اس عہد کے سیاسی اور سماجی حالات تھے۔ انہوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ اسلام کے مفتوحہ ممالک میں جو سماجی اور معاشی حالات ہیں، ان کے بارے میں حدیث سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ چنانچہ انہوں نے قیاس سے کام لیا اور حالات زمانہ کے لحاظ سے نئے احکام نکالے۔ یہ طرز عمل ایک لحاظ سے درست تھا اور ایک لحاظ سے غلط۔ انہوں نے اصول قیاس پر ارسطو کی منطق کی مدد سے اسلام کاایک مکمل نظام قانون بنا ڈالا۔ جو معاملات ابھی تک پیش نہیں آئے تھے، ان کے لیے بھی قوانین بنا ڈالے ۔اس بے روح میکانکی عمل نے اسلامی قانون کے ارتقا کو متاثر کیا اور بعد کے فقہا کی تخلیقی آزادی کاراستہ بالکل مسدود ہو گیا۔ (۸)
امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ دونوں نے امام ابو حنیفہؒ کے اصول قیاس پر تنقیدکی ہے جو ان کے قومی مزاج کاخاصہ تھا۔ انہوں نے تصور کے بجائے عملی واقعات کواہمیت دی۔اس کے برخلاف ایرانی مزاج تجریدی تھا، وہ واقعہ سے زیادہ تصور کو اہمیت دیتاتھا۔ فقہاے حجاز نے عملی واقعات کو دائمی حیثیت دی اور قیاس سے اجتناب کیا۔ ان کا یہ طرز عمل درست نہ تھا،کیونکہ قیاس کی بنیاد عملی واقعات (concrete)کے مطالعے پر ہے اور یہ ایک درست طریقہ ہے یعنی استقرائی طریقہ۔ اس میں حالات سے ہم آہنگی اور فکری آزادی دونوں چیزیں موجود ہیں جب کہ استخراجی طریقہ میں یہ دونوں عناصر ناپید ہیں، لیکن جس طرح علماے حجاز نے عملی واقعات پر مشتمل احادیث کو دائمی حیثیت دی اور بایں طور اسلامی قانون کو ترقی اور حرکت سے محروم کر دیا، اسی طرح فقہاے عراق نے امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کو ہر پہلو سے مکمل قرار دے کر مزید قیاس کا دروازہ بند کر دیا۔ (۹)
اقبال کا خیال ہے کہ متن وحی کے اندر رہتے ہوئے قیاس کا حق جس طرح متقدمین علما کو حاصل تھا، اسی طرح عہد حاضر کے علما وفضلا کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ علما کا یہ کہنا کہ اجتہاد کا دور ختم ہو چکا ہے، محض افسانہ ہے ۔اس خیال کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلامی قانون ایک مدون شکل (crystalized legal thoughts) میں موجو د ہے ،اور اس کی دوسری وجہ علما کی کاہلی ہے جو روحانی انحطاط کا لازمی نتیجہ ہے۔ اسی کاہلی کی وجہ سے انہوں نے متقدمین فقہا کو بت کادرجہ دے رکھا ہے اور ان کی تشریحات وآرا سے بال برابر ہٹنا خلاف عقیدت ٹھہرایا ہے، لیکن عہد جدید کے دانشور اپنی عقلی آزادی کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دسویں صدی ہجری کے نامور فقیہ سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر اس افسانہ (یعنی یہ کہ اب اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے)کے قائلین کاخیال ہے کہ متقدمین علما کو اجتہاد کے زیادہ مواقع اور آسانیاں دستیاب تھیں تو یہ ایک لغو خیال ہے۔ ہر شخص معمولی غورفکر سے دیکھ سکتاہے کہ متقدمین کے مقابلے میں اس عہد کے علما کے لیے اجتہاد زیادہ آسان ہے۔ قرآن وسنت پر مشتمل جو عظیم تفسیر ی اور خبری ذخیرہ اس وقت موجو دہے، وہ پہلے کے لوگوں کو حاصل نہ تھا۔اس دور کا مجتہد اس وسیع علمی ذخیرے کی مدد سے کہیں زیادہ آسانی کے ساتھ اجتہاد کے فریضے سے سبکدوش ہو سکتاہے۔ (۱۰)
اقبال کی آرا پر تبصرہ
اسلامی قانون کے چاروں مآخذ کے بارے میں اقبال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ کلی طور پر صحیح نہیں ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قرآن مجید کتاب اصول ہے اور اس میں معاملات زندگی کے متعلق احکام کی تفصیلی صورتیں کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں، جیسا کہ اقبال نے سمجھاہے کہ قرآن مجید کی اصلی غایت خدا اور کائنات کا ادراک وعرفان ہے، اس لیے مسائل حیات سے اس میں زیادہ تعرض نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی ذہن اور اس کے مختلف سماجی ادارات دونوں ارتقا پذیر ہیں، اس لیے کوئی ایسا مجموعہ قوانین نہیں بنایا جاسکتاتھا جو ہر دور کے مختلف النوع تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اسی لیے زیادہ تر اصولی احکام دیے گئے ہیں ۔مفصل قوانین کی تعداد نہایت قلیل ہے۔
یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ قر آن میں بعض اصولی احکام کی تفصیل کیوں کی گئی ہے؟ جس طرح نصوص قرآن کی مدد سے نبیﷺ نے بہت سے تفصیلی احکام وقوانین بنائے، اسی طرح ان اصولی احکام کی تفصیلی صورت بھی آپؑ بنا سکتے تھے۔ دوسرے بہت سے علما کی طرح اقبال بھی اس کی حقیقی وجہ سمجھنے سے قاصر رہے۔
قرآنی احکام کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک قسم ان احکام کی ہے جن کاتعلق عقائد اور عبادات سے ہے ،اور دوسری قسم میں وہ احکام آتے ہیں جن کاتعلق اجتماعی معاملات سے ہے۔ عقائد کے متعلق جو احکام قرآن مجید میں مذکور ہیں، وہ مفصل بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تعلق ناقابل تغیر کائناتی حقائق سے ہے ،لیکن عبادات کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں کلی اور جزئی دونوں طرح کے احکام ملتے ہیں اور ان میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مثلاً عبادات میں نما ز کو لیں۔ قرآن مجید میں نماز کی تفصیلی صورت مذکور نہیں ہے، لیکن وضو کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ بات بظاہر بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ یہ کام تو نبی ﷺ بھی کرسکتے تھے اور احادیث میں وضو کی تفصیل موجود ہے ۔ قرآن میں حکم وضو کی تفصیل سے دراصل روح عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک عمل تطہیر ہے جس سے جسم اور نفس دونوں کی پاکی حاصل ہوتی ہے۔قرآن مجید میں فرمایا گیاہے:
إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنکَرِ (سورۃ عنکبوت: ۴۵)
’’ بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے‘‘۔
روح عبادت کو قرآن مجید کی اصطلاح میں تقویٰ کہا گیاہے ۔روزے کے ذکر میں ہے: ’’ اے ایمان والو، تم پر اسی طرح روزہ فرض کیاگیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر یہ فرض تھا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘(سورۃ بقرۃ: ۱۸۳) حج کے ذکر میں ہے: ’’ اللہ تک نہ تو ان کا گوشت پہنچتاہے اور نہ ان کا خون بلکہ اس تک جو چیز پہنچتی ہے وہ تمھارا تقویٰ ہے۔‘‘ (سورۃ حج:۳۷)
نماز کے بعد زکوٰۃ کو لیں۔ زکوٰۃ کانصاب قرآن مجید میں غیر متعین ہے، لیکن مصارف زکوٰۃ متعین کر دیے گئے ہیں۔ نصاب زکوٰۃ کے عدم تعین کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق انسان کی اقتصادی حالت سے ہے اور اقتصادی حالت ہر دور میں بدلتی رہتی ہے۔ اس کا کوئی ایسا نصا ب متعین نہیں کیاجاسکتاتھا جو ہر دور کے انسانوں کی معاشی حالت کے مطابق ہو ۔ مصارف زکوۃ کے تعین کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حالات و ظروف زمانہ کی تبدیلی کابرائے نام ہی اثر ان پر پڑ سکتاہے، پھر بھی تعین میں وسیع الاطلاق الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مثلاً مصارف زکوٰۃ کی ایک مد ’’فی سبیل اللہ‘‘ ہے جس میں بے حد وسعت اور گنجائش ہے۔ مصارف زکوٰۃ کے تعین کی دوسری وجہ سماج کے کمزور طبقات یعنی غرباو مساکین وغیرہ کے حقوق کاتحفظ ہے۔ اس معاملے کو اللہ نے وحی کاجز اسی لیے بنایا تاکہ آئندہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو سکے ۔
اب غیر تعبدی احکام وقوانین کی طرف آئیں۔ عائلی قوانین کی تفصیل ہم کو سورۃ بقرۃ اور دوسری سورتوں میں ملتی ہے۔ اس تفصیل کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ یہاں عورتوں کے حقوق کا تحفظ مقصود ہے جو مردوں کے مقابلے میں بہر حال سماج کا ایک کمزور طبقہ ہے ۔ قرآن مجید میں عائلی زندگی سے متعلق جو احکام مذکور ہیں، وہ ہر اعتبارسے تفصیلی نہیں ہیں اور یہ بھی خالی از علت نہیں۔جن عائلی معاملا ت کاتعلق حالات کی تبدیلی سے تھا، ان کو غیر متعین حالت میں رکھا گیا ہے ،مثلاً مہر اور متاع کا تعین۔ معلوم ہے کہ مہر کاتعلق شوہر کی مالی استطاعت سے ہے اور یہ استطاعت ہر مرد میں یکساں نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی ہر دور کے لیے اس کی کوئی متعین صورت ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر آج کے معاشی حالات کے لحاظ سے مہر کی رقم دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ مقرر کی جائے توچند ہی سال کے بعد یہ رقم نہایت قلیل معلو م ہوگی۔یہی معاملہ متاع کا ہے۔ طلاق کے بعد عورت کی دل بستگی اور آیندہ کی زندگی میں اس کو پیش آنے والے معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے مرد پر لازم کیا گیاہے کہ وہ اس کو مالی مدد دے۔کسی دورمیں علما نے فتویٰ دیا تھا کہ مطلقہ عورت کا متاع ایک جوڑا کپڑا ہے۔ ممکن ہے کہ اس دور کے اقتصادی حالت کے لحاظ سے متاع کی یہ شکل مناسب رہی ہو، لیکن موجودہ دور میں اس کو مناسب کون کہہ سکتاہے ؟عائلی زندگی سے متعلق دوسرے احکام کی بھی یہی نوعیت ہے۔
اس گفتگو سے ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ قرآن مجید میں جن معاملات زندگی سے متعلق تفصیلی احکام دیے گئے ہیں، وہ ناقابل تغیر ہیں اور جہاں یہ تفصیل نہیں ہے، وہاں بالقصد تفصیل سے گریز کیا گیا ہے تاکہ ان امور میں حالات ومقتضیات زمانہ کے لحاظ سے تفصیلی احکام بنائے جائیں۔ اسی کانام اجتہاد ہے۔ اس سلسلے میں نبی ﷺ کے اجتہادات کی حیثیت نظائر کی ہے۔ نصوص قرآن اور نبی ﷺ کے اجتہادات کو سامنے رکھ کر مماثلت علت کی بنیاد پر نئے مسائل کا حل نکال لینا آسان ہے۔ اس پر مزیدگفتگو ہم آگے کریں گے ۔
اسلامی قانون کے دوسرے ماخذ یعنی حدیث پر اقبال نے جو بحث کی ہے، وہ مفید ہے لیکن جامع نہیں ہے ۔یہاں حدیث کے سلسلے میں چند اصولی باتوں کاتذکرہ مناسب ہو گا۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن وسنت دو علیحدہ چیزیں ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔قرآن مجید اصل اور سنت اس کی فرع ہے، دوسرے لفظوں میں سنت قرآن مجید کے اصول وکلیات کی شرح وتفسیر ہے۔
یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس شرح وتفسیر کاتعلق معاملات سے متعلق احکام سے ہے ۔عقائد کے معاملے میں قرآن مجید کسی شرح ووضاحت کا محتاج نہیں ہے، وہ بالکل واضح اور مفصل ہیں ۔عقائد سے متعلق جب بھی کوئی اختلاف واقع ہو گا تو صرف قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے گااور اس کا فیصلہ واجب العمل ہو گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْْءٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ (سورۃ شوریٰ :۱۰)
’’ اور جس بات میں بھی تمھارا اختلاف ہو، اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے‘‘۔
دوسری جگہ فرمایا ہے:
وَمَا أَنزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ (سورۃ نحل:۶۴)
’’ اور ہم نے تم پر کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ جن امور میں وہ اختلاف کرتے ہیں، ان کی اصل حقیقت ان پر واضح کردو۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید صرف مسلمانوں کے ہی اختلافات میں حکم نہیں ہے بلکہ عقائد سے متعلق دوسرے فرقوں کے مذہبی اختلافات کے تصفیہ کابھی واحد ذریعہ یہی کتاب ہے۔ عقائد کی تشریح وتوضیح میں احادیث کو صرف تائید کے طور پر لایا جاسکتاہے۔ جہاں قرآن وحدیث کے بیان میں تعارض واقع ہوگا، وہاں اصل یعنی قرآن مجید کا حکم ہی قابل حجت ہوگا اور حدیث کے بارے میں سکوت اختیار کرنا ہوگا۔ اس وقت عقائد کے متعلق مسلمانوں کے سارے مذہبی اختلافات اصل وفرع کے اس تعلق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس میں علماء سو کی غلط تاویل وتشریح کا بھی دخل ہے۔
یہ بات کہ سنت کی حیثیت قرآن کے مجمل احکام یا نصوص قرآن کی شرح وتفصیل کی ہے، کچھ ہماری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ تمام صالح علما وفقہا نے یہی بات لکھی ہے ۔اس سلسلے میں علامہ شاطبی ؒ لکھتے ہیں:
’’سنت اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے قرآن حکیم ہی کی طر ف رجوع ہونے والی ہے۔وہ یعنی سنت قرآن حکیم کے مجمل کی تفسیر یامشکل کا بیان یا مختصر کی تشریح ہے ۔اس پر اللہ تعالی کا یہ قول دلیل ہے : ’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم‘ (ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے تاکہ جو ان کی طرف بھیجا گیا ہے، اس کو ان لوگوں پر واضح کردو) پس سنت میں کوئی ایسی بات نہیں ملے گی جس کی اجمالی یا تفصیلی بنیاد قرآن حکیم میں موجود نہ ہو ....... قرآن مجید میں ہے : ’وانک لعلی خلق عظیم‘ ( تم عظیم خلق کے مالک ہو ) حضرت عائشہؓ نے خلق کی وضاحت میں فرمایا کہ رسول ﷺ کا خلق قرآن مجید ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے تمام اقوال وافعال اور اقرار سب قرآن مجید کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، کیونکہ خلق کاتعلق انہی امور سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو ’تبیانا لکل شئی‘ (سورۃ نحل:۸۹) فرمایا ہے، اس سے بھی سنت کا فی الجملہ قرآن میں ہونا لازم آتاہے ........اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو قبول کرنے میں توقف ضروری ہے۔‘‘(۱۱)
سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں دیکھیں کہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ زکوٰۃ دو (واتو االزکوۃ ) لیکن کس مقدار میں اور کب دی جائے؟ اس کی تعیین نبی ﷺ کے قول وفعل نے کی۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو، لیکن مال مسروقہ کی کس نوع میں اور کس مقدار پر ہاتھ کاٹا جائے اور یہ ہاتھ کہاں تک کٹے،اور کن حالات میں یہ حکم نافذالعمل ہے؟ ان امور کی تفصیل وتعیین نبیﷺ نے کی۔
یہاں ایک اہم سوال اٹھتاہے کہ نبی ﷺ کی تشریحات نصوص یعنی اجتہادات کی حیثیت دائمی ہے یعنی ناقابل تغیر اور ہر دور کے حالات میں خواہ وہ عہد نبویﷺ کے حالات سے یکسر مختلف ہوں،کسی ردوبدل کے بغیر واجب التعمیل ہیں؟ کم نظر علما کا خیال ہے کہ اجتہادات نبوی ﷺ دائمی ہیں اور ان میں کوئی ترمیم واضافہ جائز نہیں ہے۔اس سلسلے میں قول حق یہ ہے کہ نبی ﷺ کے وہ اعمال جو عبادات اور اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں، ناقابل تغیر ہیں، لیکن معاملات سے متعلق احکام کی حیثیت دائمی نہیں ہے۔ حالات اور ظروف زمانہ کے لحاظ سے اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا نبی ﷺ کے اجتہادات میں مقامی حالات اور عربوں کی عادات ونفسیات کاکوئی لحاظ رکھا گیاہے؟ اس موضوع پر شاہ ولی اللہ نے نہایت عمدہ بحث کی ہے اور اس کا کچھ حصہ اقبال نے بھی نقل کیاہے جیسا کہ بیان ہوا۔شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’ اگر تم رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی گہرائیوں کو سمجھنا چاہو تو پہلے عرب امیّوں کے حالات کی تحقیق کرو جن میں آپ ﷺ مبعوث ہوئے تھے۔ وہی لوگ دراصل آپ کی شریعت کا تشریعی مادہ ہیں۔ اس کے بعد اپ کی اصلاح کی کیفیت پر نظر ڈالو جو ان مقاصد کے تحت تشریعی، تیسیر احکام ملت کے باب میں آپ نے انجام دی‘‘۔ (۱۲)
حجۃ اللہ البالغہ میں ہی وہ مزید لکھتے ہیں :
’’ ان احکام ومراسم میں جو باتیں صحیح اور سیاست ملیہ کے اصول وقواعد کے موافق ہوتیں، ان میں یہ حضرات انبیا کوئی تبدیلی نہیں کرتے بلکہ اس کی طرف دعوت دیتے اور ان کی اتباع پر قوم کو ابھارتے ہیں، اور جو باتیں بری ہوتی ہیں یا ان میں تحریف داخل ہو چکی ہوتی ہے، ان میں وہ بقدر ضرورت ترمیم کرتے ہیں او رجن امور میں اضافہ کی ضرورت سمجھتے ہیں، ان میں اضافہ کرتے ہیں ‘‘ ۔( ۱۳)
ان اقتباسات سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ کے بہت سے اجتہادات مقامی نوعیت کے تھے اور ایک خاص قوم (عربوں) کی عادات ورسوم کی رعایت پر مبنی تھے۔ اس کے علاوہ بعض اجتہادات میں وقتی مصالح کا لحاظ بھی شامل تھا ۔جب صورت واقعہ یہ ہے تو پھر یہ قول کہ نبی ﷺ کے تمام اجتہادات دائمی ہیں، کیوں کر صحیح ہو سکتاہے۔
علما جب ناسخ ومنسوخ کے مسئلے پر بحث کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت نے شریعت موسوی کو منسوخ کردیاہے۔ جب سوال ہوتاہے کہ آخر اللہ نے خود اپنی بنائی ہوئی شریعت کو منسوخ کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیا جاتاہے کہ بنی اسرائیل کو جو احکام دیے گئے تھے، وہ ان کے تمدنی حالات اور ان کی مخصوص عادات و نفسیات کے مطابق تھے ۔چونکہ عربوں کے تمدنی کوائف اور ان کی عادات ورسوم قوم یہود سے مختلف تھے، اس لیے قانون موسوی میں ترمیم واضافہ ناگزیر تھا۔ یہ بالکل صحیح جواب ہے اور حقائق پر مبنی ہے۔پھر علما کس طرح کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے جملہ اجتہادات میں ادنیٰ تغیر بھی ممکن نہیں ہے؟ کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ جو سماجی ومعاشی اور تہذیبی احوال عہد نبوی ﷺ میں تھے، وہی احوال وکوائف آج بھی ہیں اور جو قومی عادات ورسوم اور نفسیات عربوں کے تھے، وہی ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے بھی ہیں ؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہوگا تو پھر یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ معاملات کے متعلق نبی ﷺ کے کل اجتہادات دائمی نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان میں ہر ملک کے حالات ومقتضیات کے لحاظ سے ضروری حد تک ترمیم و اضافہ نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ عین سنت نبی ﷺ کی پیروی ہو گی۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کی درج ذیل آیت واضح رہنمائی کرتی ہے:
وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (سورۃنحل:۴۴)
’’اور ہم نے تمھاری طرف ذکر (قرآن حکیم) نازل کیا ہے تاکہ جو چیز لوگوں کی طرف نازل کی گئی ہے، تم ان کو ان کے سامنے کھول کر بیان کردو ،اور توقع ہے کہ وہ غور کریں گے ‘‘۔
علماے اسلام نے سنت کے اثبا ت میں اس آیت کو کثرت سے نقل کیاہے لیکن اکثر نے ’ولعلھم یتفکرون‘ کے جملے کو نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے یا تو اس جملے کا صحیح مطلب نہیں سمجھا اور یا اپنے نقطہ نظر کے خلاف پاکر اس سے چشم پوشی کی ہے۔مذکورہ آیت سے بالکل واضح ہے کہ کار رسالت میںیہ بات داخل تھی کہ آپﷺ اپنے عہد کے تمدنی حالات اورمخاطب قوم کی نفسیات وعادات کا لحاظ کرتے ہوئے آیات کی قولی اور عملی تشریح کریں اور بعد کے لوگ ان تشریحات رسول ﷺ (اجتہادات) کی روشنی میں اپنے عہد کے حالات اور تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے جہاں ضروری ہو، وہاں اجتہاد کریں ۔یہی مطلب ہے ’ولعلھم یتفکرون‘ کا ۔
صحابہ رضی اللہ عنھم نے ’ولعلھم یتفکرون‘ کاصحیح مطلب سمجھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد متعدد نئے اجتہادات کیے۔ مثلاً نبوی عہدمیں عورتوں کو اجازت تھی کہ وہ مسجد وں میں جاکر عبادت کریں، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد میںیہ اجازت منسوخ کردی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس حالت کو دیکھتے جو عورتوں نے ا ب پیدا کردی ہے توان کو مسجدوں میں جانے سے روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں۔ (۱۴) اسی طرح نبی ﷺ کے عہد میں نص قرآنی کے مطابق کتابیہ عورتوں سے نکاح کی اجازت تھی، لیکن خلیفہ ثانی نے اس اجازت کومعطل کردیا۔ معلوم ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک نشست میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق خیال کیا جاتا تھا، لیکن عہد فاروقی میں ان کو طلاق بائنہ قرار دے کر نافذ کر دیا جاتا تھا۔ عہد نبویﷺ اور عہد صدیقیؓ میں یہ معمول تھا کہ مفتوحہ زمین مجاہدین میں تقسیم کردی جاتی تھی، لیکن عہد فاروقی میں جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے مفتوحہ اراضی کو مجاہدین میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔
یہ چند مثالیں میں نے دکھانے کے لیے نقل کی ہیں کہ عہد صحابہؓ میں رسول اللہﷺ کے اجتہادات میں بقدر ضرورت تغیر کو جائز سمجھا جاتاتھا اور اس کی وجہ بدلے ہوئے حالات تھے۔ تاریخی طورپر ثابت ہے کہ خلیفہ ثانی کے اجتہادات کو جماعت صحابہؓ کی تائید حاصل تھی۔ اگر احکام نبوی میں تبدیلی خلاف ایمان ہوتی تو صحابہؓ کرام اس پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔
خلیفہ ثانی کے ان اجتہادات کے پیش نظر علماے حق نے اسلامی قانون سازی میں اس بات کو ایک مسلمہ اصول کی حیثیت سے تسلیم کیاہے کہ معاملات سے متعلق شریعت کے جزئی احکام حالات اور ظروف زمانہ کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں، اور یہ ایک بالکل فطری بات ہے ۔قاضی بیضاوی نے لکھاہے:
وذلک لان الاحکام والا یات نزلت لمصا لح العباد وتکمیل نفوسھم فضلا من اللہ ورحمتہ وذلک یختلف باختلاف الاعصار والاشخاص کاسباب المعاش فان النافع فی عصر واحد یضر فی غیرہ (۱۵)
’’ جوا ز نسخ یہ ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے بندوں کے مصالح اور ان کے نفوس کی تکمیل کے لیے احکام مقرر ہوئے اور آیتیں نازل ہوئیں۔ یہ مصالح اشخاص اور ازمنہ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، جیسے اسباب معاش وغیرہ ۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جو چیز نافع ہوتی ہے، دوسرے زمانہ میں وہی چیز مضر بن جاتی ہے‘‘۔
اس سلسلے میں عہد حاضر کے معروف ہندی عالم مولانا قاری محمد طیب صاحب مرحوؒ م کے خیالات بھی ملاحظہ ہوں:
’’ان قواعد کلیہ میں جو ضوابط عبادات اور عقائد کے بارے میں ہیں، ان کی عملی جزئیات بھی شریعت نے خود متعین کر دی ہیں، اس لیے ان میں تغیر وتبدیل یا کسی تشکیل جدید کاسوال پید انہیں ہوتا، البتہ معاملاتی ،معاشرتی اور سیاسی واجتماعی امور میں چونکہ زمانے کے تغیرات سے نقشے ادلتے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے شریعت نے ان کے بار ے میں کلیات زیادہ بیان کی ہیں اور ان کی جزئیات کی تشخیص کو وقت کے تقاضوں پر چھوڑ دیا ہے جن میں اصول وقواعد کلیہ کے تحت توسعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے‘‘۔(۱۶)
چوتھی صدی ہجری تک مذکورہ تشریعی اصول کے مطابق اجتماعی امور سے متعلق احکام شریعت میں، خواہ ان کا تعلق نبی ﷺ کے اجتہادات سے ہو اور خواہ صحابہؓ کے اجتہادات سے، حالات زمانہ کے لحاظ سے برابر تغیر وتبدل کا عمل جاری رہا اور قیاس کے اصول پر نئے احکام وضع کیے گئے۔موجودہ مکاتب فقہ کاوجود اس تغیر کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ لیکن چوتھی صدی ہجری کے بعد علما اور فقہا کے رویے میں واضح تبدیلی ملتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف نبی ﷺ اور صحابہؓ کے اجتہادات کو دائمی حیثیت دی بلکہ فقہا (ائمہ اربعہ) کے اجتہادات یعنی قیاسی احکام میں بھی کسی تبدیلی کو خارج از بحث قرار دیا۔
ایک زمانہ تھا کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے معاملات سے متعلق مستند احادیث کی موجودگی میں قیاس سے کام لیا اور حدیث سے صرف نظر کر گئے۔ مثال کے طورپر نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق پانچ وسق سے کم غلے اور پھلوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے (بخاری) لیکن امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہر قسم کی زمینی پیداوار میں خواہ پانچ وسق سے کم ہو، زکوٰۃ واجب ہے ۔اگر آج کوئی عالم دین یہ کہنے کی جرات کرے کہ نبی ﷺ نے زکوٰۃ کا جو نصاب مقرر کیاتھا، اس میں معاشی حالات کے بدل جانے کی وجہ سے تبدیلی کی ضرورت ہے تو سب سے پہلے فقہ حنفی کے پیرو ہی تکفیر کی تلوار لیے اس غریب عالم کے پیچھے دوڑ پڑیں گے۔
اصحاب علم جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے زکوٰۃ کاجو نصاب بنایا تھا، وہ اس عہدکے معاشی حالات کے مطابق تھا اور اسی کو پیش نظر رکھ کر آپ ﷺ نے حد غنا کا تعین کیا تھا۔ مثلاً یہ کہ اگر کسی مسلمان کے پاس ۲۰ مثقال سونا/ ۲۰۰ درہم چاندی ہو تو وہ غنی سمجھا جائے گا اور اس پر زکوٰۃ عائد ہو گی۔ چاندی کو بنیاد بناکر غلے، پھلوں اور جانوروں وغیرہ کانصاب مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے بالکل ظاہر ہے کہ تمام اجناس زکوٰۃ میں قدر وقیمت کے لحاظ سے مساوات تھی۔ پانچ وسق غلہ یا پھل باعتبار قیمت ۲۰۰ درہم چاندی کے مساوی تھے، لیکن بعد کے ادوار میں نہ صرف سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فرق پیدا ہوا بلکہ دوسری اجناس زکوٰۃ کی قدرو قیمت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی اور بایں طور چاندی اور دیگر اجناس زکوٰۃ میں باعتبار قدر (value) جو توازن عہد نبویﷺ میں تھا، وہ باقی نہیں رہا۔
مثال کے طورپر نبی ﷺ کے عہد میں پانچ وسق غلہ یا پھل رکھنے والے شخص کوغنی سمجھا جاتاتھا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی تھی، لیکن آج کے دور میں پانچ وسق کو حد غنا قرار نہیں دیا جاسکتاہے۔ اس مقدار میں غلہ یا پھل رکھنے والا شخص غنی کے بجائے مفلس سمجھا جاتا ہے۔ حد غنا میں اس فرق کی وجہ غلے کی قیمت میں کمی اور دوسری اشیاے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
اسلامی قانون کا تیسراماخذ اجماع ہے، یعنی اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کرنا۔ یہ دراصل اجتماعی اجتہاد ہے جو قرآن وسنت کی نصوص کی روشنی میں انجام پاتاہے ۔ اس کے متعلق اقبال نے جن خیالات کا اظہارکیاہے، وہ فکر انگیز ہیں ۔سنت کی طرح اجماع بھی زمانی ہے، یعنی آیندہ حالات کے لحاظ سے اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن یہ تبدیلی ایک دوسرے اجماع ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ کوئی انفرادی اجتہاد کسی اجماع کو منسوخ نہیں کرسکتا ہے ۔اقبال نے ان امور سے کوئی تعرض نہیں کیا ہے۔
اس دور میں اجماع کی مختلف صورتیں ممکن ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ امیر المسلمین کی نگرانی میں علما کی ایک مجلس یہ کام کرے جس میں شریعت کے ماہرین کے ساتھ جدید فلسفہ قانون کے علما بھی شامل ہوں۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ مسلم عوام کے ذریعے منتخب مجلس یہ فریضہ انجام دے ، لیکن یہ اطمینان بخش صورت نہیں ہے کیونکہ عوامی نمائندوں کی اکثریت اسلامی قانون اور اس کے اصول استخراج سے ناواقف ہوتی ہے۔ مناسب تر صورت یہ ہے کہ اسلامی قانون کے ماہر علما کی مجلس اس کام کو انجام دے اور عوامی نمائندوں کی مجلس ضروری بحث ومباحثہ کے بعد اس کی منظوری دے ۔اگر مباحثہ کے درمیان میں کوئی مفید قانونی نکتہ ابھر کر سامنے آئے تو اس کو مجلس قانون کے پاس مزید غور وفکر کے لیے بھیجا جا سکتاہے۔ اقبال نے موخر الذکر صورت کو ترجیح دی ہے۔
اسلامی قانون کاچوتھا ماخذ قیاس (۱۷) ہے جو مماثلت کے اصول پر مبنی ہے۔یہ اجتہاد ہی کا دوسرا نام ہے اور کثیر الوقوع ہے۔ معلوم ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد اصول قیاس پر ہے۔ دوسرے مکاتب قانون کے علما، حدیث کی موجودگی میں قیاس کے قائل نہیں ہیں۔وہ ہر حال میں سنت کی پیروی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔اس سلسلے میں اقبال نے فقہا ے حجا ز اور فقہاے عراق کے طرز فکر پر جو تنقید کی ہے، وہ بالکل صحیح ہے ۔
عام حالات میں نصوص قرآ ن وسنت کی پیروی لازمی ہے۔ پچھلے اجتہادات میں خواہ ان کا تعلق نبیﷺ کے اجتہاد سے ہو اور خواہ صحابہؓ اور تابعین کے اجتہادات سے،حذف واضافہ صرف اسی صورت میں جائز ہے جب حالات زمانہ شدت کے ساتھ اس کے متقاضی ہوں۔ البتہ نئے مسائل میں جن کے بارے میں اسلامی شریعت خاموش ہو، اصول قیاس پر عمل کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ان مسائل میں اجتہاد نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتاہے۔
فقہا نے اصول قیاس سے جو تجاوزکیا (یعنی استدلال) وہ راقم کے خیال میں صحیح نہیں ہے ۔استحسان کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھاہے کہ وہ تحریف فی الدین ہے۔ (۱۸) حقیقت یہ ہے کہ استصلاح جیسے اصول کااستعمال کرکے کسی بھی حرام کو بلطائف الحیل حلال بنایا جاسکتاہے۔ شرعی احکام کو ہر حال میں منصوصات پر مبنی ہونا چاہیے۔نصوص قرآن سے باہر کوئی قانون سازی جائز نہیں ہے۔
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قیاسی احکام حالات اورظروف زمانہ کے تابع ہیں اور ان کی تبدیلی سے وہ بھی تبدیل ہوجائیں گے یا یوں کہہ لیں کہ ان کی اطلاقی صورتیں بدل جائیں گی۔ اس سلسلے میں حنفی فقہا کارویہ ماضی کی طرح آج بھی قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے حنفی فقہ کو، جو زیادہ تر قیاسی اور استدلالی احکام پر مشتمل ہے،ناقابل تغیر سمجھ لیاہے۔یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ دین کے مہمات امور میں انفرادی قیاس جائز نہیں ہے۔ضروری ہے کہ اسلامی قانون کے ماہر علما کی ایک بڑی جماعت یہ کام انجام دے۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ قیاس کوئی مستقل ماخذ قانون نہیں ہے۔وہ دراصل اجتماعی اجتہاد (اجماع) کی قانونی اساس ہے جس پر نئے احکام متفر ع ہوتے ہیں۔
اقبال نے اسلامی قانون کے فروعی مآخذ مثلاً استحسان، استصلاح (۱۹) یا مصالح مرسلہ اور عرف ورواج وغیرہ کاذکر نہیں کیا ہے۔ممکن ہے کہ وہ ان فروعی ماخذ کے قائل نہ رہے ہوں۔
اسلامی قانون کے ماخذ کی نسبت اس تفصیلی گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مستقل بالذات ماخذ قانون کی حیثیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے اور وہ دائمی یعنی ناقابل تغیر ہے ۔دیگر مآخذ قانون کی یہ حیثیت نہیں ہے ۔وہ احوال ظروف زمانہ کے تابع ہیں یعنی قابل تغیر جیسا کہ بیان ہوا۔ جب صورت واقعہ یہ ہے تو پھر علما کا یہ کہنا کہ عہد حاضر میں اجتہاد مطلق ممکن نہیں ہے، کیونکر صحیح ہو سکتاہے؟ اجتہاد ہر دور میں فرض کفایہ ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کی بحث پوری طرح مدلل ہے۔ یہ با ت صحیح ہے کہ اس دور میں ایسے علما اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں جو ائمہ اربعہ کی سی نظر اور علم رکھتے ہوں۔ اس کی تلافی اس طرح ممکن ہے کہ کسی ایک عالم کے بجائے اسلامی قانون کے فاضل علما کی ایک جماعت یہ کام کرے، بالکل اسی طرح جیسے امام ابوحنیفہؒ نے اپنے عہد میں یہ کام کیا تھا۔ یوں بھی اجتہاد مطلق کے لیے ضروری ہے کہ وہ انفرادی کے بجائے اجتماعی ہو کیونکہ اس میں خطا کا امکان بہت بعید ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ علماے سلف نے اجتہاد مطلق کے لیے کڑی شرطیں محض اس لیے رکھی ہیں تاکہ موجودہ فقہی دبستانوں کا تسلط باقی رہے اور ائمہ اربعہ کے اجتہادات سے ہٹ کر کسی نئے اجتہاد کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔یہ بھی اسلاف پرستی کی ایک شکل ہے جس میں اس وقت مسلمانوں کا سواد اعظم مبتلا ہے۔ اسی کو رانہ تقلید نے ان کے قوائے فکریہ کو مفلوج بنایا اور اسلامی قانون کی ترقی رک گئی۔
گزشتہ صفحات میں ہم نے اسلامی قانون کے مآخذ کے بارے میں اقبال کے خیالات کاجو تنقیدی جائزہ لیا ہے، اس سے بالکل واضح ہو گیا کہ وہ ان مآخذ کے بارے میں ایک واضح تصور رکھتے ہیں، لیکن اسلامی قانون کے اولین ماخذ یعنی قرآن مجید کے متعلق ان کے خیالات بہت واضح نہیں تھے۔ مثلاً ان کا خیال ہے کہ قرآن مجید کے بعض احکام مقامی نوعیت کے ہیں اور ان کا اطلاق بعد کے زمانوں پر نہیں ہوتا۔اس سلسلے میں انہوں نے جرائم کی ان سزاؤں کا ذکر کیا ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں۔ انہوں نے لکھاہے کہ یہ سزائیں عربوں کے مزاج اور ان کے مخصوص تمدنی حالات کے تحت مقرر کی گئی تھیں، اس لیے مستقبل کی مسلم اقوام پر ان کو جوں کاتوں نافذ کرنا صحیح نہ ہوگا۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
Shari'at values (ahkam) resulting from this application (e.g., rules relating to penalties for crimes) are in a sense specific to that people, and, since their observance is not an end in itself, they can not be strictly enforced in the case of future generations. (20)
اقبال کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں، جیسا کہ ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں، جن معاملات زندگی کے متعلق کوئی قانون واضح لفظوں میں دے دیا گیا ہے، اس کی حیثیت مقامی نہیں ہے۔ اس کا اطلاق مستقبل کی جملہ اقوام عالم پر بھی ہوگا، البتہ اس کے نفاذ میں اصول تدریج (۲۱) کالحاظ رکھا جائے گا۔ ہلکی سزاؤں کے بعد سخت سزائیں ۔مثال کے طور پر قرآن مجید میں زنا کی ایک سزا قید وبند ہے۔ (۲۲) اس سے زیادہ سخت سزا کوڑوں کی ہے۔ (سورۃنور:۲) اور اس فعل شنیع کے مکرر ارتکاب کی صورت میں سخت ترین سزا رجم کی ہے، یعنی سنگ ساری ہے اوریہ اجتہاد رسول ﷺ ہے۔
اس نوع کی بعض فکری لغزشوں کے باوجود میں کہوں گا کہ اقبال قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے اس عہد میں اجتہاد کی طرف مسلمانوں کے ارباب علم وفکر کو متوجہ کیا جب قوم کے اکثر علما وفقہا نے اس اہم ضرورت کی طرف سے مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کررکھی تھی۔ وہ اس لحاظ سے بھی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں جرات فکر کا مظاہرہ کیا اور کسی خوف طعن وتشنیع کے بغیر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس جرات اظہار کی وجہ سے ان سے بعض فکری خطائیں سرزد ہوئیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لیکن اس سے مسلمانوں کے فکری جمود کو توڑنے میں بہت مدد ملی۔ سر سید علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کی تقلیدی روش کے خلاف جو اعلان جہاد کیا تھا، اقبال کی کوشش اسی کی صدائے باز گشت ہے۔ (۲۳)
اقبال زندگی کاحر کی تصور رکھتے تھے اور یہ تصور قرآن مجید سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ونثر دونوں میں مسلمانوں کو حرکت وعمل کی دعوت دی ہے۔ اجتہاد بھی ایک فکر ی حرکت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقبال تقلید کے مخالف تھے جیسا کہ زیر بحث خطبے سے بالکل واضح ہے۔ اپنی مشہور نظم ’’ جاوید نامہ‘‘ میں انہوں نے لکھا ہے:
زندہ دل خلاق اعصار ودہور
جانش از تقلید گردد بے حضور
اے بہ تقلیدش اسیر، آزاد شو
دامن قرآں بگیر آزاد شو
لیکن اقبال یہ بھی کہتے ہیں کہ زمانہ انحطاط میں تقلید ہی بہتر ہے اور اسی ذریعے سے ملت کی شیرازہ بندی ممکن ہے۔ اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ عہد زوال میں بالغ نظر علما تقریباً ناپید ہوتے ہیں، اس لیے عالمان کم نظر کا اجتہاد دین وایمان کی تباہی کا موجب ہوگا۔ان حالات میں محفوظ تر طریقہ یہی ہے کہ اسلاف کی مکمل اقتداکی جائے۔جاوید نامہ کے اشعار ذیل ملاحظہ ہوں:
مضمحل گردد چو تقویم حیات
ملت از تقلید می گیرد ثبات
راہ آبا رو کہ ایں جمعیت است
معنئ تقلید ضبط ملت است
در خزاں اے بے نصیب از برگ وبار
از شجر مگسل بامید بہار
پیکرت دارد اگر جان بصیر
عبرت از احوال اسرائیل گیر
زانکہ چوں جمعیتش از ہم شکست
جز براہ رفتگاں محمل نہ بست
نقش بر دل معنئ توحید کن
چارۂ کارِ خود از تقلید کن
اجتہاد اندر زمانِ انحطاط
قوم را برہم ہمی پیچد بساط
ز اجتہادِ عالمانِ کم نظر
اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر
لیکن یہ وہی دلیل ہے جو اجتہاد کے منکرین ہر دور میں دیتے آئے ہیں۔ اقبال نے اسی خطبے میں اس دلیل کی تردید کی ہے ۔ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
For fear of further disintegration, which is only natural in such a period of political decay, the conservative thinkers of Islam focused all their efforts on the one point of preserving a uniform social life for the people by a jealous exclusion of all innovations in the law of shariat as expounded by the early doctors of Islam ........ but they did not see, and our modern ulama do not see that the ultimate fate of a people does not depend so much on organisation as on the worth and power of individual men. (24)
’’مزید سماجی انتشار کے خوف سے، جو سیاسی زوال کے زمانے میں ایک فطری امر ہے، اسلام کے تقلید پرست علما نے اپنی ساری توجہ صرف اس بات پر مرکوز کر دی کہ کس طرح مسلمانوں کی سماجی زندگی کی وحدت کو انتشار سے محفوظ رکھا جائے۔اس غرض کے لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ فقہا ے سلف نے اسلامی شریعت کی جو تشریح کردی ہے، اس سے سر مو انحراف نہ کیا جائے اور نئے خیالات سے پرہیز کیا جائے، لیکن وہ یہ بات نہ سمجھ سکے اور عہد حاضر کے ہمارے علما بھی اس کو نہیں سمجھتے کہ کسی قوم کی تقدیر کافیصلہ سماج کی تنظیم سے کہیں زیادہ افراد کی لیاقت اور ان کی فکری قوت پر منحصرہے۔‘‘
زمانہ انحطاط میں اجتہاد کے جس خطرے کا ذکر اقبال نے ’’جاوید نامہ‘‘ کے اشعار میں کیا ہے، اس کا تعلق ا نفرادی طریقہ اجتہاد سے ہے۔ اجتماعی اجتہاد کی صورت میں عالمانِ کم نظر کے اجتہاد کے نقصانات سے بچا جاسکتاہے۔
کسی زوال پذیر قوم کی تجدیدواحیا کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اس میں ایک ایسی جماعت ہو جس کی قوت فکریہ نہ صرف بیدار ہو بلکہ وہ نئے حالات ومسائل کافکر کی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو جیسا کہ اقبال کا بھی خیال ہے۔ آج دنیا میں مسلمان نہ تعداد کے اعتبارسے کم ہیں اور نہ مادی اسباب ووسائل کے لحاظ سے کسی قوم سے ہیچ وپوچ ہیں۔ لیکن ذہنی وفکری اور اخلاقی قوت کے اعتبارسے وہ بہت سی قوموں سے بلاشبہ فروتر اور کم مایہ ہیں، اور یہ دونوں چیزیں بڑی حد تک تقلید اعمیٰ کے ہی برگ وبار ہیں۔ اس لیے دور انحطاط میں تقلید کی حمایت کامطلب عمل انحطاط کو مزید مستحکم اور مستمر بنانا ہوگا۔ تقلید عوام کے لیے بے شک جائز ہے، لیکن قوم کے اصحاب علم کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔
(مصنف کی کتاب ’’خطبات اقبال: ایک مطالعہ‘‘ سے ماخوذ)
حوالہ جات
(۱)
The Reconstruction of Religious Thought In Islam: The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.169
(۲) فقہا نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ مسئلہ کے نظائر میں جو حکم موجود ہے، اس کو کسی قوی وجہ سے چھوڑ کراس کے خلاف حکم لگانا۔ (منہاج الاصول ) اس کا مقصد مشکل کو چھوڑ کر آسان صورت اختیار کرناہے۔اس میں ظاہری قیاس کو ترک کرکے اس چیز کو اختیار کیا جاتاہے جو لوگوں کی ضرورتوں کے زیادہ موافق ہوتی ہے۔ (المبسوط ج ۱۰، فی الاستحسان)
(۳)
The Principle of Movement In the Structure of Islam, p.172
(۴) ایضاً ص ۱۷۳
(۵) ایضاً ص ۱۷۵
(۶) ایضاً ص ۱۷۴
(۷) ایضاً ص ۱۷۵
( ۸) ایضاً ص ۱۷۷
(۹)ایضاً ص ۱۷۷،۱۷۶
(۱۰) ایضاً، ص ۱۷۸
(۱۱) الموافقات، علامہ شاطبی، ج۴، المسئلۃ الثالثۃ
(۱۲) حجۃ اللہ البالغۃ، ج۱، باب ماکان علیہ حال اہل الجاہلیۃ
(۱۳) ایضاً ج۱ ،باب اسباب نزول الشرائع الخاصۃ
(۱۴)دیکھیں ،بخاری ج۱، باب خروج النساء الی المسجد
(۱۵) تفسیر بیضاوی ص ۹۸
(۱۶) فکر اسلامی کی تشکیل جدید (مقالات سیمینار، منعقدہ ۱۹۷۶ء جامعہ اسلامیہ دہلی) خطبہ مولانا قاری محمد طیبؒ ،ص ۴۴
(۱۷) فقہا نے لکھا ہے کہ دو مسئلوں میں اتحاد علت کی وجہ سے جو حکم اس مسئلے کا ہے، وہی حکم دوسرے مسئلے کا قرار دینا قیاس ہے ۔ اس کی تعریف یوں بھی کی گئی ہے کہ جب فقہا فرع (نیا مسئلہ) کا حکم اصل (سابقہ فیصلہ) سے نکالتے ہیں تو ا س کو قیاس کہتے ہیں۔ (دیکھیں حسامی ص ۹۱)
(۱۸) حجۃ اللہ البالغۃ ج ۱، ص ۱۲۰
(۱۹) فقہا کی اصطلاح میں صرف ضرورت او رمصلحت کو بنیاد بنا کر مسائل استنباط کرنے کا نام ہے، خواہ شریعت کی کوئی اصل اس کی شہادت نہ دے اور نہ ہی وہ اس کو لغو کہے، لیکن وہ حکم مصالح پر مبنی ہو اور عقل ا س کو قبول کرتی ہو۔
(۲۰)
The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.172
(۲۱) اسلامی شریعت میں اصول تدریج کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے مفصل کی وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ پھر جب لوگ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے تو اس وقت حلال وحرام کے احکام نازل ہوئے۔اگر اول دن ہی یہ حکم نازل ہوتا کہ لوگو، شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے ۔اسی طرح اگر ابتدا میں زنا سے اجتناب کاحکم نازل ہوتا تو لوگ کہہ اٹھتے کہ ہم اس سے ہر گز باز نہ آئیں گے۔ (دیکھیں ،بخاری ،باب تالیف القرآن)
(۲۲)دیکھیں،سورۃ نساء :۱۵ ۔ اس قید وبند کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔ اس کا تعین حالات اور جرم کی نوعیت کے اعتبار سے ہوگا۔ بہت سے علما نے لکھا ہے کہ سور ہ نور میں بیان کردہ سزا نے سورۃ نسا کی سزا ئے زنا کو منسوخ کردیاہے، لیکن راقم سمجھتاہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہواہے۔قرآن مجید میں بیان کردہ کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا ہے۔ مخصوص حالات کی وجہ سے وہ صرف معطل ہوجاتاہے، اور جوں ہی حالات اس کے موافق ہوتے ہیں، وہ حکم دوبارہ نافذ ہوجاتاہے ۔ایک ناموافق اور ناپختہ مسلم سماج میں اسلامی قانون کے معطل احکا م کی طرف مراجعت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اصول تدریج کے مطابق پہلے اسلام کے ابتدائی دور کے احکام، جو بعد میں معطل ہوگئے تھے ،نافذ ہوں گے اور پھر آہستہ آہستہ دور آخر کے قوانین کی تنفیذ ہوگی۔ اصول تدریج کی عدم رعایت ہی کی وجہ سے آج اکثر مسلم ملکوں میں اسلامی شریعت کا بڑا حصہ غیر نافذ العمل ہے۔
(۲۳) بلاشبہ اسلامی عقاید کی تفہیم میں سرسید سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اجتہادی مساعی نے مسلمانوں کے فکری جمود کو توڑ نے میں نمایاں رول ادا کیا ہے، اور اس کے اثرات ان کے بعد کے اہل علم کی تحریروں میں صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔
(۲۴)
The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.151
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی و محترمی مدیر الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ستمبر کے شمارے میں آپ نے محمد یوسف صاحب کی ایک تحریر شائع کی جو ’ترجمان القرآن‘ میں شائع نہیں کی گئی تھی۔ مدیر کی حیثیت سے آپ اپنے فیصلے میں آزاد تھے، تاہم کچھ عرض ہے۔
ایک مدیر کی حیثیت سے یقیناًآپ کو ایسے افراد سے سابقہ پیش آتا ہوگا جو کسی رسالے کو کچھ لکھ کر بھیجتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ایسی چیز لکھ دی ہے جو رسالے کو لازماً شائع کرنی چاہیے۔ جب شائع نہ ہو تو وہ اپنی تحریر پہ غور نہیں کرتے، بلکہ مدیر کو قصور وار اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ جب تحریر کی نوعیت جوابی ہو اور شائع نہ ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ رسالے کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں، ان کی بات اتنی مدلل اور مسکت ہے۔ ایک وکیل کی حیثیت سے محمد یوسف صاحب کو جاننا چاہیے کہ بالکل کیس نہ ہو، جب بھی تفصیلی بلکہ دلیل کی کمی پوری کرنے کے لیے زیادہ تفصیلی جواب دیا جاتا ہے۔
بہت صاف بات تھی جو آپ کو سمجھنا چاہیے تھی۔ ’ترجمان‘ اس موضوع پر بحث نہیں چلانا چاہتا تھا، اس لیے چار صفحے کی یہ تحریر شائع نہیں کی۔ اگر آپ دلچسپی رکھتے تھے تو انصاف کا تقاضا تھا کہ لیاقت بلوچ صاحب کا اصل مضمون بھی مکمل شائع کرتے جس پر یوسف صاحب کو یہ ابال آیا۔ یوں آپ کے قارئین کی حق تلفی نہ ہوتی۔
تاخیر اس لیے ہوئی ہے کہ میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ کوئی رد عمل نہ دوں، لیکن پھر سوچا کہ مدیر ہونے کے ناتے کچھ حق نصیحت ادا کرنا دینی فریضہ ہے، وہ تو ادا کر دوں۔
مسلم سجاد
نائب مدیر ماہنامہ ’ترجما ن القرآن‘
۵۔اے، ذیلدار پارک، اچھرہ، لاہور
(۲)
محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
’الشریعہ‘ کے اگست ۲۰۰۶ کے شمارے میں مولانا حافظ محمد یوسف صاحب کا مضمون ’’دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ‘‘ پڑھنے کو ملا۔ ماشاء اللہ تعریف کے پردے میں تنقید کا اچھا انداز ہے۔ حافظ صاحب سے گزارش ہے کہ ہر موضوع پر اظہار خیال کے لیے رسائل وجرائد کا سہارا لینا مناسب نہیں ہوتا۔ اس میں اگر چند خوبیاں ہوتی ہیں تو کئی جہتوں سے دین کا نقصان ہوتا ہے۔ تبلیغ کا کام اب کسی محلے تک محدود نہیں کہ اس کو کسی رسالے میں مضمون لکھ کر ترقی یا تنزل کی طرف موڑا جا سکے۔ تبلیغ کے کام میں خوبیاں غالب ہیں اور خامیاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو خامیاں ہیں، وہ انفرادی ہیں، اجتماعی نہیں۔ اور انفرادی بھی اس سطح کی نہیں کہ ان پر گرفت کرتے ہوئے آدمی کا قلم اتنی دور نکل جائے۔
جناب حافظ صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت مفتی زین العابدین صاحبؒ استاذی المکرم مولانا سرفراز صفدر مدظلہ کے پاس دوران سبق حاضر ہوئے اور یوں فرمایا کہ تبلیغ کا کام فرض عین ہو چکا ہے، جس پر حضرت نے فرمایا کہ آپ سے اس بات کی توقع نہیں تھی تو حضرت مفتی صاحب خاموش ہو گئے۔ گزارش ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے یہ بات کس انداز سے فرمائی ہوگی اور حضرت شیخ صاحب نے کیا جواب دیا ہوگا اور مفتی صاحب مرحوم کی خاموشی کا انداز کیا ہوگا، یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال آپ کا اس واقعے کو نقل کرنا مناسب نہیں۔ تبلیغ کا کام فرض کفایہ ہے یا فرض عین، یہ ایک علمی بحث ہے۔ اگر فرض کفایہ ہی کا درجہ ہے تو بھی میں اور آپ یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہو سکتے کہ یہ فرض کفایہ ہے۔ ہم سب کو یہ کام کم از کم اتنی محنت سے ضرو رکرنا چاہیے کہ امت کا ہر فرد یہ جان لے کہ یہ کام فرض کفایہ کا درجہ رکھتا ہے اور میں اس کو زندگی میں ایک مرتبہ ضرور کروں گا۔
دوسری بات جو آپ نے فرمائی کہ ایک صاحب کو کتاب ’’اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ دی گئی اور اس پر جماعت کے امیر صاحب نے اعتراض کیا تو عرض یہ ہے کہ یہ بات بھی اول تو نقل کرنے کی نہیں تھی، دوسرے یہ کہ یہ ہماری اپنی کمزوری اور نادانی ہے کہ جس آدمی کو ہم کوئی کتاب دیتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں کتاب سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں۔ کیا آپ درجہ متوسطہ کے کسی طالب علم کو اونچے درجے کی کتاب دے سکتے ہیں؟ جماعت کے عام احباب کے لیے فقط ’’فضائل اعمال‘‘ اور ’’فضائل صدقات‘‘ ہی مناسب ہیں اور ان کے ساتھ علماے کرام کا قریبی تعلق ازحد ضروری ہے۔
ایک واقعے پر بات کو ختم کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ رائے ونڈ میں حاجی عبد الوہاب صاحب کا عربوں میں بیان تھا تو بیان کے دوران میں ایک نوجوان عربی کھڑا ہوا اور یوں گویا ہوا جیسے کوئی جارح کسی پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس نے بڑی سخت زبان استعمال کی اور تبلیغ کے کام پر خوب اعتراض کیے۔ حاجی صاحب نے سن کر جواب دیا کہ ایک مصور نے تصویر بنا کر چوک میں لٹکا دی اور نیچے لکھا کہ اس میں غلطیوں کی نشان دہی کریں۔ شام کوگیا تو دیکھا کہ تصویر کا حشر نشر ہو چکا ہے۔ بہت پریشان ہوا۔ پھر اسے خیال آیا اور اس نے ایک نامکمل اور ادھوری تصویر بنا کر اسی چوک میں لٹکا دی اور نیچے لکھا کہ اس کو مکمل کر دیں۔ شام کو دیکھنے کے لیے گیا تو تصویر جوں کی توں موجود تھی۔ پس بات یہ ہے کہ کسی کام میں غلطیاں تو ہم سب کو نظر آتی ہیں لیکن ہمارا اپنا حال اس پٹھان والا ہے کہ ’’خوچہ، کلمہ تو ہم کو بھی نہیں آتا۔‘‘
قاری شجاع الدین
ٹھاکر میرا۔ پڑہنہ۔ مانسہرہ