مئی ۲۰۰۶ء

تہذیبی چیلنج ۔ سیرت طیبہ سے رہنمائی لینے کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
یورپی یونین اور عالم اسلامشادابہ اسلام 
اسلامی تحریکات کا ہدف، ریاست یا معاشرہ؟مولانا محمد عیسٰی منصوری 
اتحاد امت کا مفہوم اور اس کے تقاضےمحمد وحید خراسانی 
غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہحافظ محمد زبیر 
مکاتیبادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 
علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کا انتقالادارہ 

تہذیبی چیلنج ۔ سیرت طیبہ سے رہنمائی لینے کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ربیع الاول کا مہینہ ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی تذکرہ اور یاد کے ساتھ منایا جاتاہے اور اگرچہ اس کا کوئی شرعی حکم نہیں، لیکن اس ماہ میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے تذکرہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام زیادہ ہوتاہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے مختلف طبقات اپنے اپنے انداز اور طریقہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، حالات مبارکہ اور ارشادات مقدسہ کے تذکرہ کے لیے تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس سال یہ تقاریب اس حوالے سے پہلے سے زیادہ اور منفرد اہمیت کی حامل ہیں کہ یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانان عالم میں اضطراب واحتجاج کی جولہر اٹھی ہے، اس کے مناظر ابھی ذہنوں میں تازہ ہیں اور ربیع الاول کے یہ اجتماعات بھی اسی تسلسل کا حصہ دکھائی دے رہے ہیں ۔
اس وقت عالمی سطح پر فکرو فلسفہ اور تہذیب وثقافت کے مختلف رویوں کے درمیان کشمکش اور تصادم کے بڑھتے ہوئے امکانات کی جوصورت حال پید اہوگئی ہے اور اس میں اسلام ایک واضح فریق کے طور پر سامنے آرہاہے، اس کے پیش نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے زیادہ سے زیادہ تذکرہ کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، اس لیے کہ اس تہذیبی اور فکری کشمکش میں قرآن کریم اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہم صحیح سمت کی طرف رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں اور فکرو فلسفہ اورتہذیب وثقافت کے ان رویوں کا سامنا کرسکتے ہیں جو اسلام کوعالمی منظر سے اس حوالے سے ہٹا دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور جن کا تقاضاہے کہ جس طرح بہت سے دوسرے مذاہب سوسائٹی کی فکری رہنمائی اور ثقافتی ومعاشرتی قیادت سے دست بردار ہوگئے ہیں، اسی طرح اسلام کو بھی معاشرتی قیادت کے منظر سے ہٹ جانا چاہیے اور دوسرے مذاہب کی طرح اپنی سرگرمیوں اور ہدایات کو شخصی اور پرائیویٹ دائروں تک محدود کر لینا چاہیے۔
آج کے عالمی منظر میں مسلمانوں کو فکروفلسفہ اورتہذیب وثقافت کے حوالے سے یہی سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے اور آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کا اس پس منظر میں مطالعہ کرنے او ر اسے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس حوالے سے بھی تذکرہ کیاجائے، اجروثواب، رہنمائی اور برکات کاذریعہ ہے۔ وہ تو سراپا رحمت وبرکت ہیں اور اجر وثواب کا سرچشمہ ہیں، لیکن ہمیں اپنی ضروریات کو دیکھناہے، اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی ہے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ پھر ان ضروریات،کمزوریوں اورکوتاہیوں کا ایک دائرہ ہمارا داخلی دائرہ ہے، اس کے تقاضے مختلف ہیں، اور ایک دائرہ عالمی اور بین الاقوامی ہے جو ہمارے داخلی دائرے سے الگ ہونے کے باوجود تیزی سے بڑھتے ہوئے گلوبل ماحول کی وجہ سے اپنے فاصلے کم کرتا جا رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس پس منظر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے ان پہلوؤں کو ترجیحی بنیاد پر سامنے لانے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے جن کا تعلق موجودہ ضروریات سے ہے، کمزوریوں سے ہے اور کوتاہیوں سے ہے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات وارشادات کے ان حصوں کو زیادہ اہمیت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوگیاہے جو آج کے عالمی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں اور جن میں ان اشکالات وشبہات کا جواب پایا جاتاہے جو آج کی دنیا کی طرف سے اسلام کے بارے میں نمایاں کیے جارہے ہیں اور جن کا جواب دینے کی مختلف اطراف سے کوششیں جاری ہیں۔ بدقسمتی سے ہم اس حوالے سے بھی افراط وتفریط کا شکار ہیں اور ہماری طرف سے ان معاملات میں دو مختلف بلکہ متضاد رویے سامنے آرہے ہیں جو کنفیوژن کا باعث بن رہے ہیں اور مسائل کے حل کی بجائے ان میں اضافے کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ مثلاً ایک رویہ یہ ہے کہ آج کی دنیا کو درپیش مسائل ومشکلات اور اس کے حل کے لیے منطقی اور فطری ضروریات کی نفی کرتے ہوئے اور ان سے آنکھیں بند کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد وتعلیمات کو اسی انداز اور ماحول میں پیش کیا جاتا ہے جس کا ہمیں اب سے دو سو سال یا تین سو سال قبل سامنا تھا۔ ہم جب آج کے ماحول اور تناظر میں تین سو سال قبل کے ماحول اور تناظر کے مطابق مسائل اور احکامات کو پیش کرتے ہیں تو اس سے منطقی طور یہ سمجھ لیاجاتاہے کہ اسلام میں معاشرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے اور وہ تبدیل ہونے والے حالات اور تقاضوں کو اپنے اندر ضم کرنے یا اپنے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا ذوق نہیں رکھتا۔ اب سے تین سو سال قبل یورپ میں مسیحیت کو اس قسم کی صورت حال درپیش تھی ۔مذہب کے علمبردار اپنے احکام وقوانین کی تعبیر وتشریح میں زمانے کے تغیرات اور ماحول کی تبدیلی کا لحاظ رکھنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو یورپ کے عوام نے فیصلہ کرلیا کہ معاشرتی ارتقا کا راستہ روکا نہیں جاسکتااور نہ ہی ان کی تمدن کی ترقی پر قد غن لگائی جاسکتی ہے، اس لیے اگر مذہب ارتقا اور ترقی کے ساتھ ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اسے اپنی جگہ کھڑا رہنے دیاجائے او ر سوسائٹی کو اپنی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب اور سوسائٹی کاباہمی رشتہ ٹوٹ گیا اور مذہب کی رہنمائی اور اس کی حدود کی پابندی سے آزادہوکر سوسائٹی نے ’’مادرپدر آزادی‘‘کاراستہ اختیار کرلیا جس کے خوفناک نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ بد قسمتی سے آج اسلام کے بارے میں بھی یہی سوچ نمایاں کی جارہی ہے اور اس تاثر کو عام کیا جارہاہے کہ اسلام میں جدیددور کے تقاضوں کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور اس لیے اسے مسجد کے دائرہ میں رہنے دیا جائے اور شخصی زندگی میں اس کے کردار کی نفی نہ کی جائے، البتہ سوسائٹی کو مذہب کی رہنمائی اور اس کے احکام وحدود کی پابندی سے آزاد کردیا جائے۔ اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے ارباب دانش جو اس صورت حال سے پریشان ہیں اور اس سوال کا اپنے اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں، ان میں سے کچھ دوست دوسری انتہا کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ان کے معاشرت وتمدن کے جدید مسائل ومشکلات اور ان کے بارے میں موجودہ انسانی سوسائٹی نے جو حل سوچ لیاہے یا ان سے نکلنے کے لیے جو راستہ طے کر لیاہے، اسی کو حتمی معیار سمجھ لیاجائے اور اس کے مطابق قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وتعلیمات کی نئی تعبیر وتشریح کرلی جائے تاکہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ قرآن وسنت کی روشنی میں کر رہے ہیں، اگرچہ وہ تعبیر وتشریح ہماری خود ساختہ ہی کیوں نہ ہو ۔
ہمارے نزدیک یہ دونوں رویے غلط ہیں اور انتہاپسندانہ ہیں۔ اصل راستہ ان دونوں کے درمیان ہے جو اگر چہ بہت نازک اور حساس ہے لیکن اس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح نئی ضروریات اور ان کے بارے میں زمانے کی سوچ کو معیار تسلیم کرکے قرآن و سنت کی اس کے مطابق نئی تعبیر وتشریح کرنا غلط اور گمراہ کن طرز عمل ہے، اسی طرح نئی ضروریات کو نظر انداز کر دینا اور ان کا کوئی نہ کوئی حل نکالنے کی ضرورت محسوس نہ کرنا بھی غلط ہے اور اسلام کے مزاج کے خلاف ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کی جمع وترتیب اور تدوین وکتابت کے بارے میں حضرت ابو بکرؓ ،حضرت عمرؓ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کے درمیان جو مکالمہ ہوا تھا ،وہ ہماری اس گزارش کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ مختلف جنگوں میں قرآنِ کریم کے حفاظ کی کثرت کے ساتھ شہادتوں کی خبر سن کر حضرت عمرؓ کو تشویش ہوئی اور انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ قرآن کریم کو مرتب انداز میں لکھ کر محفوظ کر لینا چاہیے۔ یہ ایک نئی ضرورت تھی جو حالات کے تحت پیدا ہوگئی تھی،جسے حضرت عمرؓ نے محسوس کیا اور انہوں نے خلیفۃالمسلمین حضرت صدیق اکبرؓ کے سامنے اس ضرورت کا تذکرہ کیا۔حضرت صدیق اکبرؓ نے ابتدا میں یہ کہہ کر اس کام سے انکار کردیا کہ ایک کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں ہوا تھا،میں کیسے کر سکتاہوں؟لیکن جب حضر ت عمرؓنے باربار ا س کی ضرورت واہمیت کا احساس دلایا تو اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حضرت ابو بکرؓ نے قرآن کریم کی جمع وترتیب اور تدوین وکتابت کا اجتہادی فیصلہ کرلیا، لیکن جب انہوں نے جنا ب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی کاتب حضرت زید بن ثابتؓ کو بلا کر یہ کام ان کے سپرد کرنا چاہا تو انہوں نے بھی پہلے مرحلہ میں وہی بات کہی جو حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہی تھی کہ جو کام جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں ہوا تھا وہ کام مجھے کرنے کے لیے آپؓ کیسے کہہ رہے ہیں؟ان دونوں بزرگوں نے انہیں اس کی ضرورت واہمیت کا احساس دلایا تو وہ اس کے لیے تیار ہوئے۔
ان بزرگوں کا یہ مکالمہ اور پھر فیصلہ ہمارے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتاہے اور ایک اصول اور بنیاد ہے کہ کوئی نئی اجتماعی ضرورت پیش آجائے تو اسے نظر انداز کر دینا دانش مندی نہیں ہے بلکہ اس ضرورت کو تسلیم کرنا ،اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کا حل نکالنا اہل علم کی دینی ذمہ داری ہے۔ 
کوئی ضرورت اپنے حل سے زیادہ دیر تک محروم نہیں رہتی کیونکہ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے ۔البتہ یہ ضرور ہوگا کہ اہل علم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس کا کوئی حل نکالیں گے تو وہ شرعی اصولوں کی روشنی میں ہوگا اور دین کے دائرے میں ہوگا لیکن اگر اہل علم اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو لوگ خود اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے جو ظاہر ہے کہ دینی اصولوں اور تقاضوں کے دائرہ کا پابند نہیں ہوگا اور اس سے دین سے انحراف کی حوصلہ افزائی ہوگی۔اس حوالے سے ایک اور تاریخی اور اجتہادی فیصلے کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے دونوں خلفا حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنا بیت المال کی ذمہ داری تھی اور بیت المال کے نمائندے ہر قسم کے اموال کی زکوٰۃ سرکاری طور پر وصول کیا کرتے تھے، لیکن امیر المومنین حضرت عثمانؓ نے اپنے دور خلافت میں یہ محسوس کیا کہ لوگوں کے پاس جو ذاتی اور پرائیویٹ رقم ہوتی ہے، سرکاری طورپر اس کی زکوٰۃ وصول کرنے کی صورت میں ان کی’’پرائیویسی‘‘متاثر ہوتی ہے اور لوگوں کے ذاتی معاملات میں سرکاری اہل کاروں کا تجسس بڑھتا ہے، اس لیے انہوں نے ’’اموال ظاہرہ‘‘اور ’’اموال باطنہ‘‘ کافرق کرکے لوگوں کی ذاتی اور پرائیویٹ رقوم کو زکوٰۃ کے سرکاری وصولی کے حکم سے مستثنیٰ کر دیا اور کہا کہ اس قسم کے اموال کی زکوٰۃ لوگ اپنی ذمہ داری پر خود ادا کیا کریں تاکہ ان کی پرائیویسی متاثر نہ ہو اور سرکاری اہل کار خواہ مخواہ لوگوں کی ذاتی وپرائیویٹ رقوم او ر اموال کا کھوج نہ لگاتے پھیریں۔ 
اس نوع کی بیسیوں مثالیں آپ کو اسلامی تاریخ میں ملیں گی۔ خلفاے راشدین کے دور میں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اور ان کے بعد کم وبیش ہر دور میں آپ اس کی مثالیں دیکھیں گے کہ کوئی اجتماعی ضرورت پیدا ہوئی ہے، کسی نئے معاشرتی تقاضے نے سر اٹھایاہے تو اہل علم نے اس کا بروقت نوٹس لیا ہے ،اس کاحل نکالا ہے اور شریعت اسلامیہ کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کہیں اجتہادی دائروں میں تعبیروتشریح اور تطبیق وتنفیذ کے زاویے تبدیل کرنا پڑے ہیں تو ان سے گریز نہیں کیا۔ اسی کا نام اجتہاد ہے، اسی کو زمانے کے بدلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے سے تعبیر کیا جاتاہے، لیکن اس بنیادی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ شریعت کو زمانے کے تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنا اور چیز ہے اور زمانے کے تقاضوں کاادراک واحساس کرتے ہوئے شریعت کے اصولوں کے دائرے میں ان کوپورا کرنے کی کوشش کرنااس سے بالکل مختلف امر ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، حالات مبارکہ اور ارشادات مقدسہ کوپیش کرتے ہوئے زمانے کی اس ضرورت کو سامنے رکھنا ضرور ی ہے اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو فکروفلسفہ اور تہذیب وثقافت کے جدید چیلنج سے نمٹنا کوئی زیادہ مشکل امر نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ارباب عزم وہمت اور اصحاب فہم وادرا ک کی ضرورت ہے جو آگے بڑھیں اور جدید تہذیب وفلسفہ کے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے وقت کے فکری دھارے کارخ موڑ دیں۔

یورپی یونین اور عالم اسلام

شادابہ اسلام

ہو سکتا ہے کہ ساری کوشش کے نتیجے میں محض چند ’’نرم اور مہذب الفاظ‘‘ کے علاوہ کوئی چیز وجود میں نہ آئے، تاہم یورپی یونین کے پالیسی سازوں نے،جو مسلم ممالک کے ساتھ مضبوط تر تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، اپنے سر ایک نئی ذمہ داری لے لی ہے، یعنی ایسی گائیڈ لائنز کی تیاری جو اسلام کے حوالے سے تحقیر آمیز اصطلاحات کے استعمال کو ممنوع قرار دیں۔ اس کوشش کا اصل ہدف یورپی بلاک کے سرکاری عہدے داروں کے بیانات اور دستاویزات میں ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتنا ہے جن سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو یا یہ تاثر پیدا ہوتا ہو کہ دہشت گردی کے خلاف یورپ کی جدوجہد کا ہدف خاص طور پر مسلمان ہیں۔ 
اس مہم کا آغاز گزشتہ سال دسمبر میں کیا گیا تھا اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت اور فوری نوعیت (urgency) اس اعتبار سے بڑھ گئی ہے کہ حالیہ سال کے آغاز میں متعدد یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد یورپی یونین مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ان خاکوں کی وجہ سے بہت سے مسلم ممالک میں غم وغصے کی ایک لہر پھیل گئی جس کا نتیجہ پر تشدد مظاہروں، بہت سے مظاہرین کی ہلاکت اور یورپی سفارت خانوں پر حملوں کی صورت میں نکلا۔ یورپی یونین نے ذرا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے اور بہت سے ایسے بیانات جاری کرنے کے بعد جن میں آزادئ صحافت اور آزادی رائے کے تقدس پر زور دیا گیا تھا، بالآخر اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان خاکوں سے بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یورپی یونین کے کمشنر برائے خارجہ تعلقات بینٹا فیریرو والڈنر (Benita Ferrero-Waldner) نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’’آزادی رائے کے حق پر کوئی پابندی خارج از بحث ہے ، لیکن آزادئ مذہب کا حق اور ایک دوسرے کا احترام ملحوظ رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے مابین، چاہے وہ یورپی یو نین کے اندر ہوں یا دنیا میں کہیں بھی، افہام وتفہیم کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل محنت کرنا ہوگی۔‘‘
خاکوں کی وجہ سے مسلم دنیا کے ساتھ پیدا ہونے والا یہ بحران واقعات کے اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھا جس کا آغاز گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکہ پر حملوں سے ہوا تھا اور جس کی وجہ سے مغربی دنیا کی توجہ عالم اسلا م پر مرکوز ہو گئی۔ تاہم اسلام سے متعلق آگاہی کی اس نئی فضا کے باوجود یورپ کے اندر اور باہر بہت سے یورپی لوگ ہنوز اسلام کے بنیادی عقائد تک سے ناواقف ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ مسلسل اپنے قارئین کے سامنے اسلام کی ایک بالکل سیدھی اور یک طرفہ تصویر پیش کر رہے ہیں جس سے بالعموم یہ تاثر ابھرتا ہے کہ عالم اسلام جنونیوں اور انتہا پسندوں سے بھرا ہوا ہے اور تمام مسلمان خواتین پردے میں محبوس اور محکومیت اور جبر کا شکار ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال فرانس کے بعض نواحی علاقوں میں بے اطمینانی کا شکار افریقی اور عرب نوجوانوں کی طرف سے کیے جانے والے فسادات کے بعد یورپی حکومتوں میں یورپ کی مسلم اقلیتوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کا ادراک بھی بہتر ہو رہا ہے۔ یہ اقلیتیں عام طور پر یورپی معاشرے میں غیر مساوی حیثیت کی حامل ہیں۔ 
یورپی یونین کے ذمہ دار حضرات کا کہنا ہے کہ اسلام کے حوالے سے درست اصطلاحات کی تلاش کی حالیہ کوشش ۲۵ ملکوں پر مشتمل یورپی بلاک میں داخلی طور پر جاری اس بحث ومباحثے کا ایک حصہ ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ مسلم ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کیسے استوار کیے جائیں اور یورپ میں مقیم ۲۰ ملین مسلمانوں کے ساتھ کیسے بہتر روابط قائم کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے حصول کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ یہ بات واضح کر دی جائے کہ اہل یورپ اسلام اور دہشت گردی کو مترادف نہیں سمجھتے۔ تازہ گائیڈ لائنز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت کے مابین، جو امن پسند ہے، اور مرکزی دھارے سے کٹی ہوئی اس اقلیت کے مابین، جو اپنے مقاصد کے لیے غلط طور پر اسلام کا نام استعمال کر رہی ہے، واضح طور پر فرق ملحوظ رکھا جائے۔ یورپی یونین کے ایک عہدے دار کے بقول ’’ہمارا مقصد اسلام کے حوالے سے یورپی یونین کے موقف کو واضح کرنا اور اس امر کویقینی بنانا ہے کہ دہشت گردی کا رشتہ کسی مخصوص مذہب کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔‘‘ مذکورہ عہدے دار نے مزید کہا کہ حالیہ کوشش کا مقصد ’’ایسے الفاظ کو فروغ دینا ہے جن سے غلط فہمی پیدا نہ ہو اور خیالات کی غلط ترجمانی سے بچا جا سکے۔‘‘
یورپی یونین کے واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس کوشش کے نتیجے میں ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ اور ’’بنیاد پرستی‘‘ جیسی اصطلاحات کو ترک کر دیا جائے گا جنھیں ناقدین کے بقول یورپی یونین کے عہدہ داراران مسلم دنیا میں رہنے والے یا وہاں سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ ’’عوامی سطح پر بیانات کے لیے مبینہ غیر جذباتی زبان‘‘ کی رو سے عہدہ داروں کو جہاد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بھی احتیاط برتنی ہوگی۔ اگرچہ اس وقت مسلم دنیا کی بعض انتہا پسند تنظیمیں اس لفظ کو ’’غیر مسلموں کے خلا ف جنگ‘‘ کے مفہوم میں استعمال کرتی ہیں، تاہم بہت سے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ایک ’’داخلی اور روحانی جدوجہد‘‘ ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ نئی اصطلاحات کی پابندی لازم تو نہیں ہوگی لیکن جون کے دوران برسلز میں ملاقات کے موقع پر یورپی بلاک کے قائدین اس کی تائید کر دیں گے۔
تاہم یورپی پارلیمنٹ کے برطانوی رکن سجاد کریم اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نزدیک اسے کوئی فوری اقدام نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے عہدے داروں کو اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد گروہوں سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سجاد کریم کا کہنا ہے کہ ’’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یورپ میں لوگ مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے تشدد کے بارے میں بات کر تے ہوئے اسلامی دہشت گردی کا لفظ استعمال کرتے ہیں ‘‘ حالانکہ فلسطین میں رونما ہونے والے واقعات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا باعث تو زیادہ تر فلسطینی عوام کی بے چینی اور اضطراب ہے۔ سجاد کریم کو اصرار ہے کہ ’’گزشتہ سال فرانس کے مسلم نوجوانوں کا احتجاج بھی دراصل اس حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا کہ یہ نوجوان یورپی معاشرے میں گھل مل نہیں سکے۔ اس سارے معاملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘
یورپی یونین کے عہدہ دار، جن میں کمشنر برائے خارجہ تعلقات Benita Ferrero-Waldner اور سکیورٹی پولیس چیف Javier Solana شامل ہیں، جہاں اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سیاسی سطح پر درست اصطلاحات کے استعمال سے یورپ اور مسلم ممالک کے مابین موجودہ تناؤ کو کم کرنے میں کوئی مدد ملتی ہے یا نہیں، وہاں وہ اپنے طور پر بھی اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دونوں عہدے داروں نے گزشتہ ماہ Salzburg میں یورپی یونین کے وزراے خارجہ سے کہا کہ یورپی یونین کو اقوام متحدہ، عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے ساتھ مل کر مسلم ممالک کے ساتھ اعتماد کے رشتے کو بحال کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ان کی طرف سے یورپی دار الحکومتوں کو ارسال کی جانے والی مجوزہ حکمت عملی میں بھی کہا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی مزید تائید داخلی سطح پر سخت قانون سازی کے ذریعے سے کی جانی چاہیے جس کے تحت اسلام کے بارے میں پائے جانے والے خوف کا تدارک کیا جا سکے اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ مکالمہ کی فضا کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ اقدامات اور نئی اصطلاحات کا استعمال سالوں پر محیط غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ یورپی یونین کے کارپردازان کو اعتراف ہے کہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو بحال کرنے کی جدوجہد طویل اور کٹھن ہوگی اور یورپی مسلمانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بھی صبر وحوصلہ اور ثابت قدمی سے کام لینا ہوگا۔ تاہم متفکر یورپی پالیسی ساز اس بات سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ آغاز کہیں نہ کہیں سے کرنا ہی ہوگا۔ بہت سے لوگوں کو امید ہے کہ الفاظ اور اصطلاحات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اہل یورپ کے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق فرسودہ اور بالعموم تعصب پر مبنی خیالات میں بھی تبدیلی رونما ہوگی۔ 
(بشکریہ ’ڈان‘۔ ترجمہ: ابو طلال)

اسلامی تحریکات کا ہدف، ریاست یا معاشرہ؟

مولانا محمد عیسٰی منصوری

اسلام اور قرآن کا مطلوب اسٹیٹ ہے یا انسانی بہبود کے لیے سرگرم معاشرہ؟ یہ اس وقت مسلم دنیائے فکر وفلسفہ کا ایک بڑا سوال ہے۔ دونوں میں سے جس کو بھی نصب العین قرار دیا جائے، ذہن وفکر سعی وجہد اور نتائج بالکل مختلف اور جداگانہ ہوں گے۔ نزول قرآن کے بعد تقریباً ۱۳سو سال تک یہ سوال پیدا نہیں ہوا تھا ۔یہ سوال گزشتہ صدی کے اوائل میں دنیا میں مغرب کے عالمی اقتدار، سیاسی غلبہ اور فکروفلسفے کی حاکمیت کی دین ہے ۔اس سے پہلے مسلم معاشرہ ہر دور میں قر آن وسنت اور سیرت نبویﷺ سے غذا وطاقت اور ہدایت وراہنمائی حاصل کرکے بنی نوع انسان کی فلاح وبھلائی کے نصب العین کی طرف رواں دواں رہا۔ مسلمانوں کے سیاسی عروج وزوال اور عسکری فتح وشکست سے قطع نظر مسلم معاشرے کی اندرونی توانائی اور طاقت اس کے خیر امت ہونے میں پنہاں تھی۔ اس کے خمیر میں ایسی قوت وتوانائی رکھ دی گئی تھی جو اسے انسانیت کی بہبود کے لیے جدوجہد میں مصروف رکھتی تھی او رمعاشرے کی یہ اندرونی طاقت سیاسی وعسکری شکست وزوال کا فی الفور مداوا کرکے اسے دوبارہ کارگاہ حیات میں انسانیت کی راہنمائی اور اس کی بہبود کی راہ پر گامزن کر دیتی تھی۔ رسول خدا ﷺ اور قرآن نے مسلم معاشرے میں ایسی اسپرٹ پید ا کردی تھی جو اسے دنیوی نفع وضرر سے بے نیاز ہو کر پوری انسانیت کی سرفرازی، بہتری اور نفع کے لیے سرگرم رکھتی تھی۔
قرآن حکیم نے مسلم معاشرے کو خالق کی وحدت اور انسانی اخوت ومساوات کے عقیدے پر استوار کیا تھا۔ قرآن پاک کی چھ ہزار چھ سو آیات میں سے کوئی ایک آیت بھی کسی خاص ملک وقوم، نسل یا عرب وعجم سے خطاب نہیں کرتی، بلکہ نوع انسانی سے خطاب کرتی ہے۔ قرآن کا نقطہ نظر قبائلی نہیں بلکہ عالمی ہے۔ وہ پوری انسانیت کی بہبود اور فلاح کی دعوت دیتاہے اور اس کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرناہے جو کسی نسل اور قوم کے بجائے پوری انسانیت کے نفع اور بہتری کے تصور پر مبنی ہو ۔قرآن کے نزدیک مسلم معاشرہ اسی وقت صحیح معاشرہ ہوگاجب وہ پوری نوع انسانی کی بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہو ۔قرآن کے نزدیک مسلمان خیر امت یعنی بہترین گروہ اسی لیے ہیں کہ وہ نوع انسانی کی بہبود اور فلاح کے لیے برپا کیے گئے ہیں۔ وہ انسانی سوسائٹی میں معروفات یعنی اچھائیاں اور بھلائیاں عام کرتے ہیں اور منکرات یعنی برائیوں اور ضرر سے بچاتے ہیں اور یہ سب کام کسی دنیوی غرض کے لیے نہیں بلکہ محض خالق کی خوشنودی کے لیے کرتے ہیں۔ یہی چیز مسلم معاشرے کی توانائی اور زندگی تھی جو ہر زخم کو مندمل اور ہر شکست کا مداوا کرتی رہتی تھی۔ 
نزول قرآن کے بعد تقریباً دوسوسال تک مسلم معاشرہ خدا کے ساتھ مستحکم تعلق اور بنی آدم کے ساتھ بھلائی کی بنیاد پر قائم رہا۔ ہر معاشرے کی طرح اچھے برے لوگ یہاں بھی تھے، باہم خونریزیاں بھی چلتی رہتی تھیں، اقتدار اور وسائل کے لیے رسہ کشی اور لذات وشہوات کے لیے تگ ودو بھی جاری رہتی تھی، مگر مجموعی طور پر مسلم معاشرہ اللہ ورسول ﷺکے ساتھ مستحکم تعلق اور نوع انسانی کی وحدت اور بہبود کے دو پہیوں پر آگے بڑھتا رہا۔ یہ معاشرہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہر قسم کے علوم وفنون، ایجادات واختراعات، ادارے، شعبے اور افراد مہیا کرتارہا حتیٰ کہ بنی امیہ کے زوال کے وقت جب ہر عربی بولنے والے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا جارہاتھا، عین انھی حالات میں احادیث اور دیگر اسلامی علوم کی تدوین بھی ہورہی تھی ،اجتہاد بھی ہورہاتھا اور مسلمان انسانیت کے بہتری کے لیے نئے نئے علوم وفنون کی ایجاد اور نئے نئے تجربات میں مصروف تھے۔ اسپین میں مسلم حکومتیں اکثر باہم برسرپیکار اور خانہ جنگی میں مبتلا رہیں، مگر مسلم معاشرہ برابر اپنا کام کرتارہا۔ طبیعیات، کیمسٹری، طب ،ارضیات، فلکیات،تاریخ، جغرافیہ اور انسانیت کو نفع پہنچانے والے دیگر علوم وفنون سے مالا مال کرتارہا۔ معاشرے کی یہی اندرونی روح وطاقت اسے ہر دور میں انسانی بہبود کے لیے متحرک رکھتی تھی۔بقول سر آرنلڈ کے جب کبھی مسلمانوں کی تلوار نے شکست کھائی، معاشرے میں پنہاں روح وتوانائی نے بہت جلد اس شکست کو فتح میں بدل دیا۔ تاتاریوں جیسے سفاک اورجابر دشمن سے شکست فاش کے بعد ایسا لگتاتھا کہ اب اسلام کا دم واپسیں ہے ،مگر چند ہی سالوں میں معاشرے کی اندرونی طاقت نے تاتاریوں کو حلقہ بگوش اسلام کردیا۔
مسلم معاشرے کی یہ قوت وروح ہر دور میں برقرار رہی، تاآنکہ مغرب کے مکار وعیار دشمن نے مسلم معاشرے کی اس اندرونی توانائی وقوت ہی کو ڈائنا مائٹ کردیا اور نقب لگاکراس میں پنہاں انسانی بہبود کے جوہر کو برباد کردیا اور مسلم معاشرے کو خود غرضی ،نفس پرستی ،حرص وآز، خواہشات وشہوات اور فلسفہ لذّت وہوس پرستی کے حیوانی وشیطانی خطوط پر استوار کردیا جس کی وجہ سے مسلم معاشرے کی روح نکل گئی اور اصل بنیاد منہدم ہوگئی۔ معاشرے سے انسانیت کی بہبود کی فکر وجذبہ نکلنے سے معاشرہ بے جان لاش بن کر رہ گیا۔ گزشتہ دو تین سو سال میں مسلم معاشرے نے انسانیت کی بہبود کے لیے نہ کوئی علم ایجادکیا ہے اور نہ کوئی سائنسی دریافت کی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے جہاں کہیں عسکری وسیاسی شکست کھائی، اس کا کوئی مداو انہیں ہوسکا کیونکہ معاشرے کی روح اور زندگی نکل چکی تھی۔ اب ایک شکست دوسری کی اور دوسری شکست تیسری کی راہ ہموار کرتی رہی۔ اس پے درپے شکست وریخت کے ماحول میں بیسویں صدی کے کچھ ملت کا درد رکھنے والے مفکرین نے جب دیکھا کہ پوری دنیا کا مسلم معاشرہ مغرب کی یلغار کے سامنے ہمہ جہت شکست وریخت سے دوچار ہے اور ایک طرف کمیونزم اور دوسری طرف مغربی فکروفلسفے اور تمدن وکلچر کی یلغار کے سامنے مسلم معاشرہ دن بدن سپر انداز ہوتاجارہاہے تو انہوں نے فکری ونظریاتی طور اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی۔ علمی طور پر کمیونزم کے فلسفے کا پوسٹ مارٹم کیا اور مغربی کے سیاسی واجتماعی نظریات کا تنقیدی جائزہ لے کر ان دونوں کو نوع انسانی کے بجائے محض مغرب کے طبقہ امرا واشراف کے مفادات واقتدار کے تحفظ کا ذریعہ ثابت کیا۔ مگر مسلم معاشرے کی اندرونی طاقت وروح نکلنے کی وجہ سے جو تنزل وزوال پید ا ہوگیا تھا، وہ دن بدن تیز ہوتا گیا اور مغرب کے خونی پنجے کی گرفت مزید مضبوط ہوتی رہی۔ ان حالات میں مسلم مفکرین کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کمیونزم کے نظریے اور مغربی تمدن وکلچر کے نفوذ کا اصل سبب ان کی پشت پر عظیم الشان اسٹیٹ کا ہونا ہے ۔ایک کی پشت پر رشین امپائر ہے تو دوسرے کی پشت پر طاقتور مغربی حکومتیں، جبکہ مسلمانوں کی سیاسی قوت ٹوٹ پھوٹ کر بکھر رہی تھی جو بالآخر ۱۹۲۴ میں اختتام کو پہنچ گئی۔ ان مایوسی کے حالات میں تاریخ میں پہلی بار بیسویں صدی میں بعض اسلامی مفکرین نے اسلامی اسٹیٹ کے قیام کو قرآن اور اسلام کا نصب العین قر ار دے کر پورے قرآن واسلام کو اس فکری محور کے گرد اس طرح سے گھمایا کہ قرآن کی ایک بالکل نئی تعبیر سامنے آئی جسے بجا طور پر ایک ’’سیاسی تعبیر‘‘ کہا جاسکتاہے۔ مسلم نوجوانوں کی آنکھوں میں ہزار بارہ سو سال کی اسلامی امپائر کی شان وشوکت کا نقشہ اور کانوں میں مسلم اسٹیٹ کی عظمت وبالادستی کی پرشکوہ داستانیں گونج رہی تھیں۔ انہوں نے اسلام کی اس نئی تعبیر کو درد کا درمان اور عظمت رفتہ کے حصول کا واحد طریقہ جانا، چنانچہ مسلم نوجوانوں، خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جوق درجوق ان مفکرین کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلامی اسٹیٹ کے قیام وحصول کو مقصد حیات بنایا۔اس نئے نصب العین کی خاطر ان مفکرین کو اسلام کی پوری ترتیب بدلنی پڑی، یعنی عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات او رسیاست کی ترتیب کو برعکس کرکے سیاست کو مقدم کرنا پڑا او ر اس تعبیر کے لیے انسان اورخدا کے مابین عبدیت کے گہرے رشتہ وتعلق کو حاکم ومحکوم کا رسمی رشتہ قرار دینا پڑا، جبکہ لفظ اللہ کے لفظی معنی ہی اس ہستی کے ہیں جس سے بے انتہا محبت کی جائے، جسے قرآن نے ’والذین آمنوا اشد حباّ للہ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ 
یاد رہے بیسویں صدی کے ان عظیم مفکرین نے، جن میں شیخ حسن البناء، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور فلسطین کے شیخ تقی الدین نبھانی وغیرہ شامل ہیں، اپنے کام کی ابتدا معاشرے کی اصلاح وتربیت اور اس کی توانائی وروح کی بازیافت ہی سے شروع کی تھی اور چند سال میں اس کام کے نہایت مفید نتائج سامنے آئے۔ باصلاحیت اور مخلص تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک ٹیم وجود میں آگئی، مگر حالات کے دباؤ، کام کی کٹھنائی، اس کے صبر طلب ہونے اور مغر ب کی طاغوتی طاقتوں کے ظلم وستم کی آندھیوں اور ان کی پوری دنیا پر تسلط وغلبے کے حالات نے ان مفکرین کو مختصر راستے (شارٹ کٹ) پر ڈال دیا۔ پھر ان جماعتوں اور اس فکر سے وابستہ بعض افراد نے جب دیکھا کہ یہ نصب العین (اسٹیٹ کا قیام) دنیا کے مروجہ معروف اور متداول طریقوں سے حاصل نہیں ہو پا رہا تو انہوں نے جلد بازی میں انتہا پسندی کا راستہ اختیار کیا، چنانچہ اخوان ہی سے جماعت الہجرۃ والتکفیر (جس سے احمد الظواہری اور صدر سادات کے قاتل خالد کا تعلق ہے ) جیسی انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والی جماعتیں وجود میں آئیں۔ اگر چہ بعد میں اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی نے ان سے باضابطہ طور پر اظہار لاتعلقی کیا مگر یہ نہ بھولنا چاہیے کہ یہ تنظیمیں اسی نصب العین یعنی اسلامی اسٹیٹ کے جلد حصول کی خواہش میں پید ا ہوئیں اور یہ لوگ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنمائی اور بدنامی کا اور انسانیت کو اسلام سے وحشت زدہ کرنے کا سبب بنیں۔
جب ہم اسٹیٹ کے قیام کے نصب العین کے لیے قرآن وسنت اورحضرات انبیا کی زندگیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو قرآن کی ایک آیت بھی براہ راست ہم سے اسٹیٹ کے قیام کا مطالبہ نہیں کرتی اور نہ کوئی واضح حدیث ہمیں اس کام کا مکلف بناتی ہے، البتہ قرآن نے عمل صالح پر استخلاف فی الارض کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ جب اہل ایمان کو اقتدا ر ملتاہے تو وہ نماز وزکوٰۃ کو قائم کرتے ہیں ،معروفات کو پھیلاتے ہیں اور منکرات سے روکتے ہیں اور یہ بھی کہ اہل اقتدار حکومت کے قائم ہو جانے کے بعد اگر اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق فیصلے نہ کریں تو قرآن انہیں ظالم، فاسق بلکہ کافر تک قرار دیتاہے ۔قرآن نے تین انبیاء سابقین ،حضرت یوسف ؑ ،حضرت داؤدؑ ،اور حضرت سلیمانؑ کا تذکرہ صاحبان اقتدار کے طور پر کیاہے۔ وہیں واضح طور پر یہ بتا دیا کہ یہ اقتدا ر ان کی کسی کوشش کے بغیر محض اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ مقام غورہے کہ جو قرآن سینکڑوں جگہ پر پیرایے اور اسلوب بدل بدل کر نماز ،زکوٰۃ ،اللہ کی راہ میں جان ومال کے خرچ کرنے، تقویٰ، احسان ،صبر اوردیگر اوصاف واعمال کی تلقین کرتا اور تاکیدی حکم بیان کرتاہے اور انہیں ایک مسلمان کا مقصود ومطلوب قرار دیتاہے، ایک جگہ بھی واضح طور پر اسلامی اسٹیٹ کے قیام کا مطالبہ نہیں کرتا۔
اسی طرح ہزارہا احادیث میں سے کوئی ایک حدیث بھی واضح طور پر اسٹیٹ کے قیام کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس نفسانیت اور شروفساد کے دور میں بہت سی احایث اقتدار اورحکومت کے جھمیلوں سے دور ہو کراللہ ورسول ﷺ کی اطاعت، عبادات واعمال اور معاشرے کی تعمیر میں لگ جانے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں اورقرب قیامت میں جب معاشرہ فساد کی انتہاکو پہنچ کر خیر کو قبول کرنے کی استعداد کھو دے گا، اس وقت معاشرے کی فکر کے بجائے اپنی ذات کو اللہ ورسول ﷺکے حکم اور ذکر وعبادات پر جمانے کی ہدایت کرتی ہے۔ یہ بات بھی محل غور ہے کہ اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کسی صحابی،ؓ تابعیؒ ،مجتہد ،محدث، عالم یا فقیہ اور بزرگ وولی نے قرآن وسنت او رسیرت سے اسلام کا نصب العین اسٹیٹ کا قیام نہیں سمجھا جس پر بیسویں صدی کے بعض مفکرین نے لٹریچر کے ڈھیر لگادیے۔ ہمارے نزدیک اسلام جیسے واضح نصب العین رکھنے والے مذہب کے متعلق یہ تصور ہی ناقابل فہم اور گمراہ کن ہے کہ اس کی صحیح حقیقت ومعنویت یا نصب العین بیسویں صدی تک پردۂ خفا میں رہا۔
اگر اسلام پوری انسانیت کا مذہب ہے اور قرآن ’ہدی للناس‘ اور ’بلاغ للناس‘ ہے،یعنی تمام انسانیت کے لیے پیغام ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ ’کافۃ للناس بشیرا ونذیرا‘ ہیں اور ساری نوع انسانی آپ کی امت دعوت ہے تو جس طرح ایک تاجر اپنا مال بیچنے کی خاطر بعض اوقات خرید ار کی طرف سے ناگوار باتوں کو بھی گوارا کرلیتاہے، اسی طرح داعی کو مدعو کے رویے سے صرف نظر کرکے اور صبر وتحمل کا دامن تھام کر اپنا پیغام پہنچانا ہوگا۔ یہی کام مسلم معاشرہ ہر دور میں خاموشی سے کرتارہا حتیٰ کہ برصغیر میں مسلم اسٹیٹ کے اختتام کے وقت مسلم آبادی کا تناسب بمشکل دس فیصد رہاہوگا جوایک صدی بعد کل آبادی کے ایک تہائی کے قریب جاپہنچا ۔اگر حالات نارمل رہتے اور معاشرہ اپنا کام کرتارہتا تو قیاس کہتاہے کہ مزید ایک صدی میں برصغیر کے مسلمانوں کو واضح اکثریت میں بدل جانے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی، مگر دعوتی کام کے بجائے سیاسی ذہن وفکر اور اقتدار کی خواہش نے برصغیر کے معاشرے میں منافرت، دوری اور تلخی گھول کر اسلام کے سمجھنے کے امکانات ختم نہیں تو نہایت محدود ضرور کردیے۔ اسلام جیسے آفاقی اور پوری انسانیت کے لیے پیغام رکھنے والے مذہب کو اسٹیٹ کی تنگ نائے میں بند کرنا ناقابل فہم ہے۔ جس دین کی تعریف خود پیغمبر اسلام ﷺ نے ’النصیحہ‘ یعنی خیر خواہی کے لفظ سے کی ہو اور بتایا ہوکہ یہ اللہ ورسول ﷺ، مسلمانوں اور پوری انسانیت کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا نام ہے، ا س کا اولین تقاضا انسانیت کے درمیان ہر قسم کی غلط فہمیوں کو ختم کرکے ان کو پیغام سننے کے مواقع مہیا کرناہونا چاہیے، جبکہ اسٹیٹ اور اقتدار کا لفظ ہی اقوام عالم کے درمیان تناؤ، فاصلوں اور بدگمانیوں کے ڈھیر لگا دیتاہے۔ اگر اسلام کا نصب العین کسی اسٹیٹ کا قیام ہوتا تو مسلمانوں کے اسلامی اسٹیٹ کو چھوڑ کر برصغیر، چین، انڈونیشیا او ر دنیا بھر میں پھیل کر دعوت اسلام کی تگ ودو بے معنی ہوجاتی ہے۔ برصغیر میں موجود تقریباً پچاس کروڑ مسلمانوں میں ننانوے فی صد یہاں کی مقامی آبادی سے ہیں۔ یہی حال دنیا بھر کے مسلم معاشروں کا ہے۔ یہ سب سے بڑی شہادت اور دلیل ہے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال ؒ کے دو قومی نظریے پر سوالیہ نشان قائم کر دیتی ہے، کیونکہ اسلام پوری انسانیت کا مذہب ہے نہ کہ ایک قومی یا قبائلی مذہب جو کہ جغرافیے کی تنگ نائے میں محدود ہو کر رہ جائے ۔
آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک انڈونیشیا کسی فوج یا اسٹیٹ کے بغیر مسلم ملک بنا اور دوسرا بڑا ملک بنگلہ دیش مسلم اسٹیٹ کے دور میں نہیں بلکہ برٹش امپائر کے عین دور شباب میں مسلم اکثریت کاخطہ بنا، اسلام اپنی اشاعت میں کبھی اسٹیٹ کامرہون منت نہیں رہا۔ دنیا میں مسلم اسٹیٹس بنتی بگڑتی رہیں، اس سے اسلام کی رفتار پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ وہ اپنی اندرونی توانائی واسپرٹ سے برابر نئی نئی فتوحات حاصل کرتارہا کیونکہ
؂ نشہ مے کوتعلق نہیں پیمانے سے
برصغیر میں اسلام کا نام استعمال کرکے ۵۸ سال پہلے ایک اسٹیٹ وجود میں آگئی مگر اسلام کبھی اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر نہیں اتر سکا اور نہ مستقبل میں کبھی اترنے کا امکان نظر آتاہے۔ اسلام تو خیر بہت بڑی چیز ہے، اگر اگلے ۵۸ سال میں صحیح معنی میں مغربی ڈیموکریسی اور سوشل جسٹس (سماجی انصاف ) ہی آجائے تو ہم اسے بھی اس نظریے کی کامیابی سمجھیں گے، مگر اس کا بھی دور دور تک کوئی امکا ن نظر نہیں آتا۔ غور کیاجائے تو مسلمانوں کی سوچ وفکر کا رخ انسانی بہبود اور معاشرے کی تعمیر کے بجائے اسٹیٹ کے قیام اور حصول اقتدار کی طرف مڑجاناہی موجودہ پریشانیوں کا بنیادی اور اصل سبب ہے۔ مثلاً امریکہ میں مسلمان تیزی سے اپنے قدم جماتے جارہے تھے اور عددی اعتبارسے دوسری بڑی کمیونٹی بن چکے تھے۔ مسلم معاشرت خاموشی سے اپنا کام کر رہی تھی کہ مسٹر بش کے پہلے الیکشن کے موقع پر مسلمانوں نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہر ہ کردیا جس پر صہیونی طاقتوں کے کان کھڑے ہوگئے جن کا عرصہ سے امریکہ ومغرب پر ہمہ جہت اقتدار قائم ہے کہ مسلمانوں کی یہ جرات کہ ہماری حدود میں دخل دیں، یہاں یہ طے کرنا کہ اقتدار پر کون فائز ہو، صرف ہماراحق ہے، اور اس کے بعد نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا اور امریکہ میں مسلمانوں کا وہ حشر کیا گیا کہ جان کے لالے پڑگئے ۔
مسلم معاشرہ کی اندرونی روح وتوانائی کے خاتمہ کا ایک بہت بڑا سبب تو خود اہل دین کا اعتقادی وفقہی مسالک کے جھگڑوں میں مشغول ہو کر انسانیت کے تئیں اپنے فریضے سے غافل ہو جانا ہے۔ صدیوں سے مذہبی طبقے کا دائرہ کا ر عقائد وعبادات اور نیک بننے کی مشق رہ گیا ہے۔ ان کے پاس انسانیت کی بہبود کے لیے سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ دوسرا سبب مغربی اقوام بالخصوص برطانیہ وفرانس کا عالم اسلا م پر قائم ہونے والا سیاسی اور علمی وفکری غلبہ ہے۔ برطانیہ نے برصغیر میں اپنے نظام تعلیم، افکار ونظریات اور تمدن وکلچر کے ذریعے ایک ایسی نسل پیدا کردی جس کی نشوونما خواہشات ،خود غرضی ،نفس پرستی اور حیوانیت کے خصائص پر ہوئی۔برصغیر میں برٹش امپائر پنجاب کی فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کے بل بوتے پر قائم رہا۔ اس نے ایک طبقے کو ملک وملت سے غداری کے عوض زمینیں وجاگیریں دے کر عوام پر تسلط وغلبہ بخشا۔ جب برطانیہ نے محسوس کیا کہ اس کی پروردہ نسل اس کے منشا کے مطابق اس خطے کو سنبھال سکتی ہے تو سیاسی اقتدار اس ٹولے کے حوالے کرکے واپس آگیا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ طبقہ گزشتہ ۵۸ سال سے بلاشرکت غیر ے ملک کا مالک ومختار بنا ہواہے۔ فوجی حکومت ہو یا جمہوری، اصل اقتدار انھی مراعات یافتہ غدار خاندانوں کا رہا جو ہر دور میں ملک کے وسائل کواپنی ذاتی جاگیر جان کر لوٹ کھسوٹ کرتے رہے ۔ بینکوں سے کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کرکے معا ف اور قیمتی زمینیں کوڑیوں کے دام اپنے نام الاٹ کرواتے رہے۔ پاکستا ن کے حالیہ زلزلے میں بیرونی ممالک کی امداد کا ایک بڑا حصہ یہ طبقے ہڑپ کرچکے ہیں۔ یہ اسلام اور قرآن کو اپنے لیے پیغام موت سمجھتاہے ۔ مغرب نے تقریباً ہر ملک میں ایسا طبقہ پیدا کرکے اقتدار واختیارات اور ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ سونپ رکھی ہے جو امریکہ وبرطانیہ کا خادم بن کر ان کے چشم ابرو کے اشارے پر کام کر رہا ہے۔ 
غرض مسلم معاشرے کی تباہی کا اصل وبنیادی سبب معاشرے کی روح کا نکل جانا ہے اور قرآن نے انسان کی بہبود کے لیے جو اسپرٹ پید ا کی تھی، اس سے محروم ہوجانا ہے۔ یہی مسلم مفکرین کے لیے وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ اس جاں بلب معاشرے کی روح وتوانائی کس طرح واپس لوٹے، نہ یہ کہ اقتدار اور حکومت کے ایوانوں تک علما و مفکرین کی رسائی کیسے ہو۔اول تومغرب کی پروردہ نسل کبھی خدا ورسول ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کو اقتدارتک پہنچنے نہیں دے گی۔ یہ حقیقت دن بدن واضح ہوتی جارہی ہے کہ مغرب مسلم ممالک میں جمہوریت کے نام پر عراق اور افغانستان کی طرح اپنے فرمانبردار اہلکاروں کی حکومت کا خواہاں ہے۔ بفرض محال دینی جماعتیں اگر کسی مسلم ملک میں الیکشن کے ذریعے اوپر آبھی گئیں تو عالمی طاقتوں نے، جو گزشتہ کئی صدیوں سے صہیونی شیطانوں کی غلام وآلہ کار بن چکی ہیں، انہیں بے بس وبے اثر کرنے کے لیے دوسرا انتظام کررکھا ہے۔ وہ یہ کہ دوسری جنگ عظیم کے فاتحین امریکہ وبرطانیہ وغیرہ نے اپنی فتح کو دائمی بنانے اور پوری انسانیت پر نافذ ومسلط کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو وجود بخشا،اور یو این او کے ذریعے دنیائے انسانیت پر اپنا اقتدار مستحکم کرلیا۔ دنیا کے سارے ممالک بشمول مسلم ممالک یواین او کے چارٹر پر دستخط کر کے اس بات کا عہد کر چکے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں یواین او کے مطالبات کو نافذ کریں گے اور اپنے ملکی وقومی آئین وقوانین کو بدل کر ان کے مطابق بنائیں گے ۔
یواین او کا یہ دستور اور چارٹر مغربی طاقتوں کے مفادات، خواہشات اور تمدن کے مطابق اور آسمانی تعلیمات کے متوازی بلکہ برعکس ہے۔ مثلاً اس کی ایک دفعہ یہ ہے کہ بالغ عمر کے مرد وعورت رنگ ونسل، جغرافیہ اور مذہب کی تفریق کے بغیر شادی کرسکیں گے۔ اب آپ کسی مسلمان لڑکی کو غیر مسلم سے شادی کرنے سے نہیں روک سکتے ۔ایک دفعہ یہ ہے کہ کسی مجر م کو ایسی سزا نہیں دی جائے گی جس سے اس کی تذلیل ہو یا اسے اذیت ہو، یعنی قرآن کے حدود وقصاص کے تمام قوانین یک لخت ختم۔ ایک دفعہ یہ ہے کہ مرد وعورت ہر اعتبار سے مساوی ہوں گے۔ اس سے قرآن کے تمام معاشرتی وعائلی قوانین ختم ہو جاتے ہیں، مثلاً طلاق دینے کا حق جس طرح مرد کو ہے، عورت کو بھی دینا ہوگا۔ اسی طرح قرآن کے وراثت کے تمام قوانین منسوخ ہو جاتے ہیں۔ لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ نہیں، بلکہ مساوی حق ہوگا۔ چندسال پہلے مصری عدالت نے دو لڑکوں کو جنسی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے سزادی تو اس پر حسنی مبارک کو یہ کہہ کر مغرب سے معافی مانگنا پڑی کہ ابھی معاشرے میں قرآن کا کچھ (فرسودہ) اثر باقی ہے اس لیے یہ غلطی ہوئی ،ورنہ یہ ان ملزمین کا بنیادی حق ہے۔ یو این او پہلے ہی طے کرچکی ہے کہ دنیا میں نیوکلیر پاور بننے کا حق صرف پانچ بڑی طاقتوں ہی کا ہے تاکہ مغرب کی دہشت پوری دنیا پر طاری رہے۔ غرض پوری دنیا پر اقوام متحدہ کے نام سے مغرب کا عالمی ا قتدار قائم ہوچکاہے اور یو این او کا یہ حق دنیا کے تمام ملک تسلیم کرچکے ہیں کہ اس کے آئین وقوانین اورقراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتوں پر یواین او کو فوج کشی کرکے ان حکومتوں کو ختم کرنے کا حق ہے، جیسا کہ افغانستان میں ہوچکاہے۔
موجودہ حالات میں اقوام متحدہ کے قوانین اور چارٹر کی خلاف ورزی کرنے کی جرات چین اور بھارت جیسے ملک بھی اپنے میں نہیں پاتے تو مسلم ممالک کس شمار میں ہیں؟یہ آج کی دنیا کے زمینی حقائق ہیں۔ اب ان کو سامنے رکھ کر بتائیے، اگر دینی جماعتیں کسی خطے یا ملک میں انتخابات کے ذریعے اقتدار تک پہنچ بھی گئیں تو وہ کیا کچھ کر پائیں گی اور کس طرح اسلام کا نفاذ کریں گی؟ موجودہ حالات میں ہمارے پاس واحد آپشن (راستہ) یہی رہ جاتاہے کہ قرآن واسلام نے پوری انسانیت کی بہبود کا جو پیغام اور پروگرام دیا ہے، اس سے دنیائے انسانیت کو روشناس کرائیں ،اور خود عملی نمونہ بن کر جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دعوت کا امپائر قائم کرکے تمام انسانیت کو ان کی دنیا وآخرت کی سرخروئی وسرفرازی کی یقینی راہ کی طرف بلائیں، نہ کہ اقتدار کے حصول کی دوڑ میں شامل ہوکر اقوام عالم کے حریف بن جائیں۔ پوری تاریخ شاہد عدل ہے کہ جب کبھی معاشرہ وافراد پر ایمان واسلام کا رنگ چڑھا تو خود بخود اسلامی اسٹیٹ قائم ہوگئی۔ پوری تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اسٹیٹ کے ذریعے معاشرہ وافراد میں ایمان واسلام قائم ہوا ہو۔غرض وقت کا سب سے بڑا چیلنج اور بنیادی سوال ہے، اسٹیٹ یا سوسائٹی؟ ہر مسلمان خاص طور پر مسلم مفکرین وزعما اور قرآن وسنت کا علم رکھنے والوں کے لیے یہ سوال وقت کی سب سے بڑی آزمائش اور ان کے فہم وبصیرت کا امتحان ہے۔ اس سوال کا جواب یا فیصلہ امت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کا مستقبل طے کرے گا۔

اتحاد امت کا مفہوم اور اس کے تقاضے

محمد وحید خراسانی

امت اسلام کے بنیادی اور ضروری اصولوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ مسلمان ’’ایک امت‘‘ ہیں جیسا کہ آیت کریمہ ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون‘‘ (بیشک تنہا تمھاری امت ،امت واحدہ ہے اور میں تمھارا پروردگارہوں، پس میری عبادت کرو) یا دوسری آیت شریفہ ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون‘‘ سے ظاہر ہے۔ عبارتیں دو ہیں، مگر دونوں کا مطلب یہ ہے کہ امت اسلامی ایک ہی امت ہے۔ ....... اسلام ’’امت ‘‘ تشکیل دینے کے لیے آیا ہے۔ امت کا مطلب ہے ایسی جماعت جو ایک رہبرکی پیروی کرتی ہو۔ جو جماعت ایک راہ پر گامزن نہ ہو، اس کو امت نہیں کہتے ۔قرآن کریم نے امتوں کو دین اور عمل کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ کیاہے اور ہرایک کو اپنے عمل کا جو اب دہ گرداناہے: ’’تلک امۃ قدخلت لھا ماکسبت ولکم ماکسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون‘‘۔ ......
شیخ طوسی تفسیر تبیان میں رقم طراز ہیں: ’’والامۃ اہل الملۃ الواحدۃ کقولھم امۃ موسیٰ،امۃ عیسیٰ،وامۃ محمد‘‘ امت ایک دین کی پیروی کرنے والوں کو کہتے ہیں، جیسے امت موسیٰ ،امت عیسیٰ ،امت محمدﷺ۔ اسی مقام پر لکھتے ہیں: ’’والملۃ والنحلۃ والدیانۃ نظائر‘‘ یعنی ملت، دین اور آئین کے ایک معنی ہیں۔ اور ملت کا ایک معنی جانا پہچانا اور معین راستہ ہے۔ پس ملت ابراہیمؑ کا معنی ہے وہ جانا پہچانا اور معین راستہ جس کو ابراہیم نے جملہ انسانوں اور اپنے ماننے والوں کے لیے بنایا ہے، جس سے مراد دین ابراہیم ہے ۔اس بنا پر امت اور ملت ،معنی میں مشترک ہیں اور ایک ہی نقطے پر ختم ہوتے ہیں اور امت وامام ایک ہی مادہ سے ہیں۔ پس وہ جماعت اور جمعیت جو اسلام کے نام پر ایک امام یعنی لغوی اعتبار سے ایک پیشوا کی،جو سرکاررسالت مآب ﷺ ہیں، پیروی کرنے والے ہیں ،ایک امت ہیں، اور دوسری قومیں ،جن کا پیغمبر ایک ہے، وہ بھی بذات خود امت ہیں۔ مسلمان گورے ہوں یا کالے ،سرخ پوست ہوں یا زرد پوست، مشرقی نسل کے ہوں یامغربی نژاد کے، کسی بھی زبان میں کلا م کرتے ہوں اور کسی بھی قوم و قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب ایک امت ہیں’’ ایک اسلامی امت ‘‘۔ .......
قرآن مجید میں ارشادہے: ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ‘‘۔ سیاق کے اعتبارسے اس آیت کے دو معنی کیے گیے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ آیت کا خطاب تمام انبیاے کرام کے ماننے والوں سے ہے۔ چونکہ اس آیت سے پہلے قرآن مجید نے دوسرے انبیائے کرام کاذکرکیا ہے اور اس کے بعد فرمایا: ’’ وان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون‘‘ اس کے بعد بھی اختلاف ہی کابیان ہے، یہ ارشاد فرمانے کے بعد کہ تم سب ایک امت ہو اور میں تمھارا پروردگارہوں ،تمھیں میر ی عبادت کرنا چاہیے، ارشادہوتاہے کہ انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور ان کے اس اختلاف کی بنیاد ’’بغیا بینھم‘‘ ہے، یعنی انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کی بنیاد پر اختلاف کیا۔ اگر آیت کے یہ معنی کیے جائیں تو آیت کا تعلق ’’اتحاد ادیان ‘‘ سے ہوگا، چونکہ ارشاد ہوتاہے ’’اے خدا کی عبادت کرنے والو! اے ان انبیائے کرام کے ماننے والو جن کاہم نے پہلے ذکر کیا ہے ،تم سب کے سب ایک امت ہو اور تمھارے امت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تم سب خدا کی عبادت کرتے ہو: ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون‘‘۔ عبادت، یکتا پرستی اورتوحید ،ادیان آسمانی کے اتحاد کامعیار ہے۔ آیت کے ذیل سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے ،لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ نہیں ، بلکہ قرآن مجید نے دوسرے انبیائے کرام کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کومخاطب قراردے کرارشاد فرمایا کہ ان کی حالت تویہ تھی، اب تم بتاؤ کہ تم کیسے ہو؟ تم بذات خود ایک امت ہو۔ ’’ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون‘۔‘ اور دوسری آیت میں ارشاد ہوتاہے ’’فاتقون‘‘۔ اس معنی کی بنیاد پر ایک امت ہونے کا معیار ہمارے ہاتھ آجاتاہے۔ ہم امت اسلام ہیں، اس لیے کہ موحد ،خدا پرست اور ایک پیغمبر وشریعت کے ماننے والے ہیں۔ پس مسلمان سب کے سب ’’ایک امت ‘‘ہیں۔
اسلامی اتحاد کے بارے میں تعبیریں متعدد ہیں۔ ایک تعبیر اور بھی ہے اور وہ ہے ’’اخوت اسلامی‘‘ اسلامی بھائی چارہ۔ اتحاد اسلامی یا اتحاد مسلمین کا زیادہ تر تعلق سیاسی اور اجتماعی پہلو سے ہے او ر اسلامی اخوت وبرادری کاتعلق جذباتی پہلو سے ہے۔ ( قرآن مجید) کہتا ہے کہ تمھیں جذباتی لگاؤ کے اعتبار سے ایک دوسرے کا بھائی ہونا چاہیے۔ ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ‘‘ اس میں ارشاد ہوتاہے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، خدا نے تمھارے دلوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کیا، تم ایک دوسرے کے بھائی ہوگئے۔ اخوت دلوں کے قرب اور جذبات کی ہم آہنگی کانام ہے۔ بھائی چارہ کا تعلق اسلامی جذبات سے ہے ،مسلمانوں کو میدان سیاست واجتماع ،میدان اقتصاد ،کلی مسائل، احکام وشریعت اور اپنی تقدیر میں ایک دوسرے کے شریک اور ایک امت ہونے کے علاوہ جذبات کی دنیا میں بھی ایک دوسرے کا بھائی ہونا چاہیے۔
قر آن مجید نے اس سلسلے میں تفصیل سے بحث کی ہے اور آیات کریمہ میں ایسے لطیف وظریف مضامین ہیں کہ انسان کو یہ یقین ہوجاتاہے کہ ہر وہ چیز جس سے مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو سکتاہے اور ان کے لیے مایہ سعادت وخوش بختی ہو سکتی ہے، اسے بیان کردیا گیاہے لیکن مسلمان اس سے غافل ہیں۔ ہم قرآن مجید سے کوسوں دور ہیں۔ قرآن مجید کو پڑھتے ہیں ،اس کی تفسیر بھی سنتے ہیں، لیکن میں نے آج تک کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے اسلامی اتحاد اور اسلامی اخوت میں فرق رکھا ہو اور کوئی ایسا شخص بھی نظر سے نہیں گزرا جس نے ’’مسلمانوں کے اتحاد‘‘ اور ’’تقریب مذاہب ‘‘ میں فرق رکھا ہو (جبکہ) اسلامی اتحاد ایک مسئلہ ہے اور تقریب مذاہب دوسرا مسئلہ ہے ،البتہ ان کاآپس میں ربط ہے۔ مذاہب کو ایک دوسرے کے قریب کرنا، مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کا پیش خیمہ ہے۔ 
معلوم ہوا کہ مسلمان ایک امت ہیں اور یہ چیز اسلام کے ضروریات میں سے ہے ۔ایک امت ہونے کامطلب یہ ہے کہ اپنے درمیان اتحاد قائم رکھیں۔اتحاد کیسے قائم رہے گا ؟اس کے بارے میں قرآن مجیدنے ارشاد فرمایا ہے’’واعتصموا بحبل للہ جمیعا ولا تفرقوا‘‘ یہ اتحاد نہیں ہے کہ سب مسلمان ایک صف میں کھڑے ہوں بلکہ سب ایک سلسلے سے متمسک ہوں، ایک رسی کو پکڑے رہیں اور وہ رسی خدا کی رسی ہے۔ وہ رسی کیاہے؟ تفسیریں مختلف ہیں۔ قرآن ہے ،دین ہے، اسلام ہے ،احکام ہیں اور بعض شیعہ روایات کہتی ہیں کہ اس سے ’’ولایت ‘‘ مراد ہے اور اس میں کوئی مانع نہیں ہے، اس لیے کہ اسلام کاباطن ’’ولایت ‘‘ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایک ’’اصل‘‘ سے متمسک ہو جانا چاہیے اور اصل ہے اصل توحید، اصل نبوت، اور اصل معاد (قیامت ) اور یہی ہے ہر وہ چیز جو کتاب میں ہے اور جسے رسول لے کر آئے۔ وہ مشترک جامع اصل ،عقیدہ کا اشتراک ہے۔ اسلامی اتحاد کے دو ستون ہیں۔ ایک پر عقیدہ کی عمارت اور دوسرے پر عمل کی عمارت کھڑی ہے ۔
مشترک جامع اصل سے ہماری مراد اسلام کے وہ قطعی اصول ہیں جن پر تمام مسلمانوں کااتفاق ہے ،جو کتاب وسنت سے قطعی طور پر ثابت ہیں اور تمام مسلمان ضرورتاً انہیں مانتے ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ سب مسلمان یکتا پرست ہوں، پیغمبر کو پیغمبر سمجھیں، قیامت کا عقیدہ رکھتے ہوں، نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، زکوٰۃ دیں، حج بجا لائیں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں،یعنی وہی چیزیں جو اصول وفروع کے نام سے ہمیں یاد کرائی جاتی ہیں۔ 
کہتے ہیں کہ اصول دین تین ہیں : ۱۔توحید ، ۲۔نبوت ، ۳۔قیامت۔ اور دوسری چیزیں جن میں مذاہب کے درمیان اختلاف ہے، وہ اصول مذاہب ہیں ۔ہر مذہب کے اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ہم شیعوں کے پانچ اصول ہیں جن میں تین مشترک اسلامی اصولوں کے علاوہ عدل اور امامت بھی شامل ہیں۔ معتزلیوں کے بھی مشترک اسلامی اصولوں کے علاوہ پانچ اصول ہیں اور وہ یہ ہیں: ۱۔توحید (جس کے معنی خدا کی صفتیں اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں) ۲۔عدل، ۳۔وعدہ اور وعید (جس کے معنی ہیں خدا کے لیے اپنے وعدہ اور وعید پر عمل کرنا لازمی ہے) ۴۔منزلۃ بین المنزلتین ( یعنی گناہ کبیرہ کرنے والا نہ کافر ہے اور نہ مومن) ۵۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔دوسرے مذاہب کے بھی اپنے اصول ہیں۔ 
اس بنا پر اتحاد کی پہلی شرط ،اصول سے متمسک ہونا۔ وہ اصول جن کو ’’حبل اللہ ‘‘ سے تعبیر کیاگیاہے۔ قرآن مجید سے متمسک ہونا یعنی ہر اس چیز سے متمسک ہونا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، دین سے متمسک ہونا ،یعنی اصل دین سے اور اس کے قطعی مشترکات سے وابستہ ہونا ہے، وگرنہ دین جب مجتہدوں کو دے دیاجائے حتیٰ کہ ایک مذہب کے مجتہدوں کو تو اس کے بال وپر نکل آتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اختلاف ہے لیکن اختلافی احکام ایک مذہب کے احکام ہیں، دین کے احکام نہیں ۔یہ صحیح بھی ہے اورخود دین نے اس کو جائز قرار دیاہے کہ اس قسم کے مسائل میں مجتہد حضرات اجتہاد کریں اور ان کے اختلاف کو دین نے پسندکیاہے: ’’للمصیب اجران وللمخطئ اجر واحد‘‘۔ جو مجتہد اپنے اجتہاد کے ذریعہ خدا کے واقعی حکم کو معلوم کرلے، اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو اجتہاد میں غلطی کرے، اس کے لیے ایک اجر ہے۔
یہ تھی ایک بات اورپہلا رکن ،یعنی قطعی اور مشترک اصول سے متمسک ہونا ۔ اس وقت تما م مسلمانوں کے پیغمبر، پیغمبر اسلام ہیں، سب کے سب یکتا پرست ہیں، نماز پڑھتے ہیں، سب کا قبلہ ایک ہے ،تمام اسلامی ممالک اور مختلف اسلامی مذاہب کو دیکھ ڈالیے ،آیا کعبہ کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا قبلہ ہے ؟نہیں ہے۔ سب کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کے قوانین کی پابندی کرنا چاہیے۔ سیاست، معاملات، احکام قضا، قصاص اوردیات میں اجمالی طور پر سبھی متفق ہیں۔ ہاں، جب فقہ کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو مختلف مذاہب کے فقہا کے نظریات کی بنا پر مختلف فرعیں وجود میں آتی ہیں۔ یہ ہے ایک رکن ،یعنی ’’حبل اللہ‘‘ سے متمسک ہونا،جس سے مراد ،اصل دین یعنی مسلّمات ،محکمات،قطعیات اور متفق علیہ مسائل ہیں۔
ایک رکن اور بھی ہے او ر وہ ہے ’’مشترک ذمہ داری‘‘ کو پوراکرنا۔ مسلمان جو ایک امت ہیں، ایک دین رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ مشترکہ ذمہ داری کو قبول کریں۔ میں دو حدیثیں آپ کے سامنے پیش کرتاہوں۔ سرکار رسالت فرماتے ہیں: ’’من اصبح لا یبالی بامور المسلمین فلیس بمسلم‘‘ (کافی؍ کتاب الایمان والکفرباب ۷۰ ؍حدیث ۵۔۱) ’’جو شخص یوں صبح کرے کہ امور مسلمین کو اہمیت نہ دیتاہو، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘ رسالت مآبﷺ کیا فرماتے ہیں؟ ہم نیندسے اٹھے ہیں، درس وبحث کی فکر میں ہیں، تاجر اپنی تجارت کی فکر میں ہے، مزدور کے سر میں مزدوری کا خیال ہے، سیاست دان سیاست میں الجھاہوا ہے، وہ چیز جو کسی کے دل ودماغ میں نہیں ہے، شاید پورادن یا ہفتہ دو ہفتہ یا ایک مہینہ تک،وہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ کے اس جمع عظیم کے سلسلہ میں وہ بھی ذمہ دار ہے۔قرآن واسلام یہ کہہ رہے ہیں کہ مشرق میں بسنے والے مسلمان کے کندھوں پر مغرب میں رہنے والے مسلمان کی کچھ ذمہ داریاں ہیں، چاہے کسی بھی مذہب کا ہو، مسلمان ہو،اسلام کے مسلمہ اصول کو مانتاہو ،یکتا پرست ہو، اس کا دین اسلام ہو،پیغمبر ،نماز ،قبلہ اوران مشترکات کو جنہیں ہم نے عرض کیاہے، تسلیم کرتا ہو، ایسے شخص کے سلسلے میں ہم بھی ذمہ دار ہیں۔ ذمہ داری ماننے کی شرط اس کا اہتمام ہے، ہمہ تن متوجہ رہے کہ فلاں واقعہ کا کیا ہوا اور میں اپنی ذمہ داری کو کس طرح سے نبھاؤں۔ یہ تھی ایک حدیث ۔
دوسری حدیث جو ہمیں اپنے مطلب سے نزدیک ترکرتی ہے، وہ سرکار رسالت ﷺ کی مشہور ومعروف حدیث ہے: ’’من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبہ فلیس بمسلم‘‘ (کافی ؍کتاب الایمان والکفر باب ۷۰؍حدیث ۵) ’’جو شخص دنیا کے کسی بھی گوشہ سے کسی مسلمان کی فریاد سنے جو پکار رہاہے کہ اے مسلمانو! میری فریاد سنو!اور وہ ا س کا مثبت جواب نہ دے، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
جنا ب والا!آپ کیسے مسلمان ہیں کہ ایک مسلمان آپ کو مدد کے لیے پکار رہاہے مگر آپ اس کی مددنہیں کرتے ! سرکار رسالت ﷺ ،اس سے زیادہ واضح اور کھلے لفظوں میں اور کیا فرماتے ؟
اسلامی اتحاد یعنی اللہ کی رسی کو تھامنا او ر مشترکہ ذمہ داری کو قبول کرنا، ناگزیر واجبات میں سے ہے ۔جس طرح نماز ہمارے اوپر واجب ہے، اسی طرح اس معنی میں اتحاد کہ جو میں عرض کر رہاہوں یعنی سیاسی اور اجتماعی اتحاد ،مسلمانوں کے امور کو اہمیت دینا اور اسلام وقرآن کی عائد کردہ مشترکہ ذمہ داری کو قبول کرنا بھی واجبات میں سے ہے۔ جس طرح آپ پر نماز پڑھنا ،روزہ رکھنا ،حج کرنا واجب ہے اور جس طرح کھانا کھانا واجب ہے، اسی طرح مسلمانوں کے امور کو اہمیت دینا بھی واجب ہے تاکہ اسلام کا دامن آپ کے ہاتھ سے نہ چھوٹے اور مسلمان ظلم وستم کی چکی میں نہ پسیں۔
آیا اب تک ’’ بینی وبین اللہ ‘‘ ہم نے اس فریضہ پر عمل کیاہے ؟مسلمان اس فریضہ پر عمل کررہے ہیں ؟ہر معاشرہ میں شاذ ونادر ایسے افراد پیدا ہوتے ہیں جن کا دل عالم اسلام کے لیے دھڑکتاہے ،دوسرے یا تو کانوں میں انگلیاں دھرلیتے ہیںیا ان میں سے کچھ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہم سے کیا مطلب کہ فلاں جگہ کیا بیت رہی ہے۔ مسئلہ فلسطین ،جس کے بارے میں امام مرحوم ؒ نے کھلے لفظوں میں فرمایا ہے کہ اسلامی مسائل میں سرفہرست ہے، میں نے خود لوگوں کو کہتے ہوئے سنا ہے’’عرب ،یہودیوں سے برسرِپیکار ہیں ،ہم سے کیا مطلب ہے؟‘‘ جنا ب والا! یہ عربوں اور یہودیوں کامسئلہ نہیں ہے، اسلام کا مسئلہ ہے، انہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ جمالیاہے، تین سو کلو میٹر یا اس سے کچھ زیادہ (مجھے صحیح معلوم نہیں) دوسرے قبلہ (کعبہ) سے دور نہیں ہیں، جب بھی چاہیں اس پر قبضہ جماسکتے ہیں، خاص کر ان کی اس طاقت کو دیکھتے ہوئے۔ اور وہ حکومت جو اس ملک پر حکمران ہے، دونوں امریکہ کے نوکر ہیں۔یہ ہے مسلمانوں کی حالت زار ،ہم کیوں اس کے علاج کی فکر نہیں کرتے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بچپن سے ہمارے اعتقادی مسائل میں اس کو رکھ کر ہمیں صورت سے آگاہ کرتے۔
مسئلہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں یہی چیزیں آتی ہیں۔ جب انسان ذمہ داری قبول کر لے تو وہ آنکھیں کھلی رکھتاہے کہ کہاں غلطی ہو رہی ہے، انفرادی اور اجتماعی غلطی تاکہ اس کا سدِباب کر سکے، کہاں معروف نہیں ہے تاکہ اس کا حکم دے،کمر ہمت باندھ کر اٹھ کھڑا ہو اور اتحاد کامنادی بن جائے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج چاروں طرف سے دشمن نے اسلام پرحملوں کی بھر مار کر رکھی ہے، مسلّم ہے کہ ان کا ایک ہی منصوبہ ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ اس منصوبہ کا تانا بانا اسرائیل یا امریکہ میں بنا جاتاہے تاکہ اسلام کو چاروں طرف سے کاٹ کررکھ دیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیں۔
میری گزارش یہ ہے کہ اگر مسلمان اس مشترکہ ذمہ داری کو جس کے بارے میں ،میں نے عرض کیاہے، اسلام کے عملی اصولوں کے ساتھ متمسک ہوتے ہوئے، جو بذات خود ایک ضابطہ اور اصل ہے، نبھائیں تو اس کی شرط یہ ہے کہ 
۱۔مسلمان ہوں اور کم سے کم ان بنیادی اصول کو جانیں اور ان پر عمل کریں ۔
۲۔تمام مسلمانوں کے حالات سے باخبر ہوں۔
پچھلے سال ایام حج میں البانیہ سے کچھ لوگ مقام معظم رہبری کے بعثہ میں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کمیونزم زدہ البانیائی ،ستر سال کے بعد آزاد ہوئے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ مسلمان ہیں ،اسلامی جذبات کے دیپ ان کے اندر روشن ہو رہے ہیں، لیکن اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ ایک مصیبت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی اکثریت ایسی ہے جن کا ابھی تک ختنہ نہیں ہوا ہے، حرام وواجب کا شعور سرے سے ان کے دماغ میں پیدا نہیں ہوا ہے، انہیں معلوم نہیں کہ واجب وحرام کیاہے ،یہ مصیبت ہے جس سے ہم بے خبر ہیں۔ بوسنیا ہرز گوینا میں پارٹی کانائب رئیس، جو اس ملک کا نائب صدر بھی تھا، اپنے ایک عالم سے جو عربی اچھی طرح بول لیتا تھا، اپنا درد دل بیان کررہا تھا کہ جناب ہماری فریاد کو پہنچیے۔یہ واقعہ ۱۹۹۲ء کے حج کاہے، جب جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ ایک روز آپ سنیں گے کہ انہوں نے ہمارا قتل عام کردیاہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ،جب ساری دنیا جنگ کی لپیٹ میں تھی، عیسائیوں کے مختلف فرقے ’’کیتھولک‘‘ او ’ر’آرتھوڈکس‘‘(یعنی سرب اور کروٹس)آپس میں متحد ہوگئے ،انہوں نے ہمارا قتل عام کیا لیکن مسلمانوں کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی۔
اس وقت مسلمان صومالیہ کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟علاوہ ان لوگوں کے جنہوں نے مدرسہ دیکھا ہے ،کالج گئے ہیں، جغرافیائی نقشہ کو جانتے ہیں، کیا کوئی اور یہ بتاسکتاہے کہ صومالیہ کہاں ہے ؟ صومالیہ افریقہ کے ایک کونے میں واقع ہے۔ چند ماہ پہلے میں افریقہ میں تھا، مجھے بتایا گیا کہ مسلمانوں کے دوقبیلے یا ان کی دو پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں اور انہوں نے ہر چیز کو تباہ وبرباد کردیا ۔دونوں مسلمان ہیں ،لیکن جتنی عمارتیں ،جتنے کارخانے اور کھیت تھے، سب تہس نہس ہوگئے اور اب وہ لوگ قحط کی لپیٹ میں ہیں جبکہ ہم بے خبر ہیں۔ (بعد میں امریکہ نے مداخلت کی تھی )۔
اس ذمہ داری کو نبھانے کی شرط ،دو چیزیں ہیں :
پہلی شرط یہ ہے کہ اسلام کو اجمالی طور پر پہچانیں کہ کون مسلمان ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کے حالات سے باخبر رہیں ۔
ایک بار کسی اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے پوچھا کہ میں اسلام کے بارے میں کس قسم کا مقالہ تحریر کروں ؟میں نے کہا دنیائے اسلام کا تعارف ،دنیائے اسلام کو پہچنواؤ۔ چند سال پہلے محمود شاکر نامی مصر کے ایک دانشور نے عربی زبان میں اسلامی ممالک کے بارے میں چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھیں ،ہر ملک کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب لکھی ،میں نے ان کتابوں کو مصر سے خریدا۔ایک کتاب تنزانیا کے بارے میں تھی۔ تنزانیا ایک اسلامی ملک تھا جس کے عوام مسلمان اور کچھ ان میں سے شیعہ تھے۔ بعد میں وہاں انقلاب آیا اور ایک عیسائی ان کا صدر بن گیا ،یعنی ایک اسلامی ملک نے عیسائیت کارنگ اختیار کر لیا اور مسلمانوں کو خبر تک نہ ہوئی۔قصہ یہ ہے ۔
پس اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھانے کی شرط مسلمانوں کے حالات سے آگاہی ہے۔ یہاں ایک طرف عوامی خبر رساں ایجنسیوں ،اخباروں ،مقرروں، خبر نگاروں اور ریڈیو وٹیلویژن کی ذمہ داریاں ہیں اور دوسری طرف وزارت ارشاد اور وزارت خارجہ کی ذمہ داری اہم ہوجاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے حالات کے بارے میں موثق ذرائع سے مکمل اطلاعات حاصل کریں اور دوسرے مسلمانوں کو ان سے آگا ہ کریں اور مسلمان جب باخبر ہوجائیں گے تو وہ ان کو اہمیت دیں گے، اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے اور انہیں راتوں کو نیند نہیں آئے گی۔ ایک عالم نے مجھ سے چند دن پہلے کہا کہ بوسنیا وہرز گوینا کے حالات سوچ کر مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی،یہی وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں رسالت مآب ﷺ نے فرمایا ہے: ’’من اصبح لا یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم‘‘۔ بوسنیا ہرز گوینا میں مسلمانوں کے قتل عام کی خبر سن کر مسلمانوں کو نیند نہیں آنی چاہیے اور وہ اپنی ہرچیز کو قربان کردیں ،مال وجان آبرو کیاہے؟ہرچیز کو قربان کردیں تاکہ مسلمانوں کو اس ظلم وستم سے چھٹکارا دلاسکیں۔

غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ

حافظ محمد زبیر

’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون کے جواب میں غامدی صاحب کی تائید میں لکھی جانے والی دو تحریریں نظر سے گزریں ، جن کے حوالے سے کچھ گزارشات اہل علم کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
جناب طالب محسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ انھوں نے اپنے خط میں ایک بڑی اچھی بات کہی ہے کہ غامدی صاحب پر کی جانے والی تنقیدیں عام طور پر طعن وتشنیع اور تضحیک و استہزا پر مبنی ہوتی ہیں اور صاحب تنقید اپنے لیے قلمی جہاد کا جوازفراہم کرتے ہوئے نوک قلم سے اپنے ہی علم و تقویٰ کا خون کر ڈالتا ہے ۔لیکن کاش کہ طالب محسن صاحب جناب غامدی صاحب کو بھی یہ نصیحت کر سکتے کیونکہ ان کی کتاب ’برہان‘ میں اسی نوع کی تنقیدیں جا بجا موجود ہیں ،خصوصا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور پروفیسر طاہر القادری صاحب پر تنقید کے ضمن میں دلیل و تحقیق کی بجائے زبان و ادب کے جوہر زیادہ دکھائے گئے ہیں جسے علمی تنقید و تحقیق کی بجائے ادبی تنقید کا نام دیا جائے تونامناسب نہ ہوگا ۔اگر طالب محسن صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ غامدی صاحب کے ساتھ اس قسم کی تحریروں سے زیادتی ہوئی ہے تو خود غامدی صاحب نے بھی دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے طعن و تشنیع اور تضحیک و استہزا سے کم پر اکتفا نہیں کیا ۔ اصولی طور پر طالب محسن صاحب کی بات سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ مسلم معاشرے میں بحث ومباحثے کے دوران کسی مسئلے میں حق بات معلوم کرنے کے لیے ادبی و ذاتی تنقید کی بجائے علم و تحقیق کی روشنی میں متعین دلائل کو مثبت تنقیدکی بنیاد بنایا جائے ،لیکن دوسروں کو حق بات کی نصیحت کرنے سے پہلے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی اس پر عمل پیرا ہو۔ اس لیے میرا طالب محسن صاحب اور ان کے ممدوح غامدی صاحب کو عاجزانہ مشورہ یہی ہے کہ وہ دوسروں پر برہان قائم کرنے کے لیے تضحیک و استہزا پر مبنی ادبی و اخباری کالموں کو ’برہان ‘نہ بنائیں بلکہ مسلمہ اصول تحقیق و دلائل کی روشنی میں مثبت تنقید کرتے ہوئے لوگوں کے لیے ایک نمونہ قائم کریں تا کہ ان کے فکر و فلسفہ کی مخالفت کرنے والوں کے لیے قولی حجت کے ساتھ ساتھ فعلی حجت بھی قائم ہو جائے ۔غامدی صاحب کی ’برہان‘جس قسم کی تنقیدوں سے بھری پڑی ہے، کیا یہ اصولی تنقیدیں ہیں؟قرآن کی کسی ایک آیت کے ترجمے کوبنیاد بناکریا ’مسئلہ بیعت‘ پرتنقید کرکے اگر غامدی صاحب کے متبعین یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اصولی تنقید کا حق ادا کر دیا ہے تو یہ ان کا زعم باطل ہے۔ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ جیسی تنقید انہوں نے دوسروں پر کی ہے، ویسی ہی تنقید ان پر ہو رہی ہے۔ غامدی صاحب کی موجودہ ’برہان ‘جب تک موجو د رہے گی ان کے مخالفین کو اس قسم کی ادبی، جذباتی اور بقول ان کے جزوی تنقید کا جواز فراہم کرتی رہے گی ۔

غامدی صاحب اور اہل سنت کے اصولی اختلافات

جہاں تک طالب محسن صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ غامدی صاحب پر کوئی علمی یا اصولی تنقید نہیں ہوئی تو ان کایہ کہنا قطعاً درست نہیں ہے ۔اصل مسئلہ غامدی صاحب پرعلمی و اصولی تنقیدکے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ اصول تنقید کا ہے ۔اگر غامدی صاحب علمائے اہل سنت کے ان ا صولوں ہی کو نہیں مانتے جن کی بنیاد پر تنقید ہوئی ہے توظاہرہے کہ ان کے نزدیک واقعی ابھی تک ان پر تنقید ہوئی ہی نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ جن اصولوں کی روشنی میں علما نے ان پر تنقید کی ہے، وہ ان اصولوں ہی کے قائل نہیں۔غامدی صاحب اہل سنت سے الگ ہیں، ان کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ۔اس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں :
۱) اہل سنت کے ہاں اعتزال (قرآن سنت کے نصوص سے استدلا ل کرتے وقت اہل علم کے ہاں معروف طریق کار کو نظر انداز کرنا اور اس کے برعکس کسی انداز کو اختیار کرنا)ایک طرح کی گالی ہے جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک یہی نادر انداز فخر کا باعث ہے۔اس اصول کے تحت وہ آئے روز نت نئی تحقیقات پیش کرتے رہتے ہیں ۔
۲) اہل سنت اجماع کو حجت سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف رائے دینے کو ’اتباع غیر سبیل المؤمنین‘ شمار کرتے ہیں جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ اجماع دلیل ہے لیکن حجت نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ پوری امت گمراہی پر اکٹھی ہو سکتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ گزشتہ چودہ صدیوں میں کوئی شرعی مسئلہ کسی عالم یا فقیہ کی سمجھ میں نہ آیا ہو اور پہلی دفعہ ان پر یا ان کے امام صاحب پرمنکشف ہوا ہو ۔اس اصول کے تحت انہوں نے بہت سے اجماعی مواقف کے برعکس اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
۳) اگر کسی مسئلہ میں اہل سنت کے علما کہتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل حدیث ہے تو غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا، یعنی حدیث سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہر گز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔جبکہ علمائے اہل سنت کے نزدیک قرآن کی طرح حدیث سے بھی دین ثابت ہوتا ہے ۔اس اصول کے تحت انہوں نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے۔
۴) اہل سنت کہتے ہیں کہ قرآن کی طرح حدیث بھی دین اور اللہ کی شریعت کو ثابت کرنے والی ہے کیونکہ یہ وحی خفی ہے۔ جس طرح قرآن وحی جلی ہے اسی طرح حدیث بھی وحی کی ایک قسم ہے اور اسے وحی خفی کہتے ہیں ۔لیکن غامدی صاحب حدیث کو وحی کی حیثیت دینے سے انکاری ہیں۔ غامدی صاحب کہتے ہیں حدیث وحی نہیں، ہاں حجت ہو سکتی ہے۔اس اصول کے تحت انہوں نے استخفاف حدیث کے فتنے کی بنیاد رکھی۔
۵) اہل سنت کے موقف کے مطابق اسلام کے بنیادی مآخذ کتاب اللہ ( قرآن مجید) اور سنت رسول ﷺ ہیں جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک کتاب اللہ سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ کتاب الٰہی ہے یعنی تورات ، انجیل ،اور صحف ابراہیم بھی اس میں شامل ہیں ۔ جہاں تک سنت کا معاملہ ہے تو غامدی صاحب کا مؤقف یہ ہے کہ سنت رسولﷺ کی نہیں ہوتی بلکہ سنت سے مراد سنت ابراہیمی ہے یعنی دین کی وہ روایت جو حضرت ابراہیم سے جاری ہوئی۔ 
راقم نے سطوربالا میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اب تک غامدی صاحب پرکتاب و سنت اور حدیث واجماع کے اصولوں کی روشنی میں علما نے جو تنقید کی ہے، اس کو غامدی صاحب کے پیروکار علمی تنقید شما ر کیوں نہیں کرتے ؟وجہ صاف ظاہر ہے کہ اہل سنت اور ان کے مابین اصولی اختلاف ہے اس سے بھی آگے بڑھ کران کے مآخذ دین علیحدہ ہیں ،ان کے نصوص علیحدہ ہیں ۔ اہل سنت کے ہاں کتاب و سنت حضرت محمد ﷺ سے شروع ہوتی ہے اور انہی پر ختم ہو جاتی ہے یعنی اہل سنت کے نزدیک کتاب سے مراد قرآن مجید ہے جو آپ پر نازل ہو ا اور سنت سے ان کی مراد آپؐ کی سنت ہوتی ہے ، جبکہ غامدی صاحب کی کتاب وسنت حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوتی ہے اور(ان کے بعد کے تمام اسرائیلی انبیاء کو شامل کرکے)محمد ﷺ پر ختم ہوتی ہے ۔
اہل سنت کے علما حضرت ابراہیم سے لے کر رسول ﷺ تک آنے والے تمام انبیا و رسل کو مانتے ہیں اور ان پر نازل ہونے والی اصل کتب مثلاً تورات ، انجیل اور صحف ابراہیم کو بھی کلام الٰہی مانتے ہیں لیکن جب وہ کتاب و سنت کو اپنی کتب میں بطور مآخذ شریعت بیان کرتے ہیں تو کتاب سے ان کی مراد ’قرآن مجید ‘اور سنت سے مراد ’سنت رسولﷺ‘ ہوتی ہے ۔لہٰذا اہل سنت اور فرقہ غامدیہ کا اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ اہل سنت اور اہل تشیع کا،کیونکہ دونوں کی کتاب و سنت علیحدہ ہے۔
یہاں تک ہم نے طالب محسن صاحب کی خدمت میں یہ بات پیش کی ہے کہ انہیں علما کی طرف سے غامدی صاحب پر ہونے والی تنقید ،تنقید کیوں نہیں نظر آتی۔ غامدی صاحب کے فہم دین کے اصولوں پر جامع بحث ان شاء اللہ کسی اور موقع پر کی جائے گی ۔ فی الحال ہم قدرے تفصیل کے ساتھ ان کے صرف ایک اصول پربحث کرنا چاہتے ہیں ، اور وہ ہے ان کا تصور کتاب۔

غامدی صاحب کا فلسفہ کتاب

جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے، غامدی صاحب کے وضع کردہ اصول اہل سنت کے اصولوں سے بالکل مختلف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مسائل میں غامدی صاحب نے خود اپنے وضع کردہ اصولوں سے بھی کلیتاً انحراف کیا ہے ۔اس کی بعض مثالیں ذیل کی بحثوں میں سامنے آئیں گی ۔غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں لفظ کتاب سے مراد کلام الٰہی ہے، چاہے یہ تورات و انجیل کی شکل میں ہو یاقرآن و زبور کی صورت میں۔ان کے مآخذ دین میں منسوخ شدہ آسمانی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اسی لیے فکر غامدی کی روشنی میں خود ان کی طرف سے یا ان کے مریدین کی طرف سے جب بھی کوئی نئی تحقیق سامنے آتی ہے اس میں اکثر و بیشتر کتب سابقہ سے استدلال کیا جاتاہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک سابقہ کتب سماویہ پر عمل کرنے کی علت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی نبوت میں اللہ کے بندوں کے لیے بھیجی گئی شریعت کے احکامات بہت حد تک ایک واضح سنت کی شکل اختیار کرگئے تھے اور حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک جتنی بھی شریعتیں آئیں، ان میں نسخ بہت کم ہے، اس لیے امت محمدیہ اللہ کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے ساتھ ساتھ ان تمام شرائع سابقہ کی مخاطب و متعبد ہے، بشرطیکہ کتاب مقدس کی تعلیمات محفوظ ثابت ہو جائیں۔ان کے نزدیک سابقہ شرائع کے اکثر و بیشتر احکامات اب بھی دین اسلام میں قانون سازی کا ایک بہت بڑا ماخذ ہیںَ، اگرچہ سابقہ شرائع کے بعض احکامات میں نسخ کے وہ قائل ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :
ْ’قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے ۔ دین کی ابتدا اس کتاب سے نہیں،بلکہ ان بنیادی حقائق سے ہوتی ہے جو اللہ نے روز اول سے انسا ن کی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں ۔اس کے بعد وہ شرعی احکام ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیا کی سنت کی حیثیت سے جاری ہوئے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے ۔ پھر تورات ، زبور اور انجیل کی صورت میں آسمانی کتابیں ہیں جن میں ضرورت کے لحاظ سے شریعت اور حکمت کے مختلف پہلووں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نبی ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن مجید نازل ہوا ۔ چنانچہ قرآن دین کی پہلی نہیں بلکہ آخری کتاب ہے اور دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں ۔‘‘
اسی لیے سابقہ کتب سماویہ کی تعلیمات جب ان کے خودمعین کردہ معیار صدق و کذب پر پوری اترتی ہوں تو وہ ان کتابوں کی آیات سے قرآنی آیات کی طرح کثرت سے استدلال کرتے ہیں۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اصل میں غامدی صاحب نے علت متعین کرنے میں غلطی کی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کے بعد اور قرآن کے نزول کے بعد امت محمدیہؐ سابقہ شرائع کی متعبد نہیں ہے اللہ کے رسول ﷺ کا لایا ہوا دین اور شریعت جامع اورکامل و اکمل ہے۔ بالفرض اگر پچھلی شریعتیں محفوظ بھی ثابت ہو جائیں پھر بھی ان پر عمل نہیں ہو گا الاّ یہ کہ کوئی حکم پچھلی شریعتوں میں موجودہونے کے ساتھ ساتھ ہماری شریعت میں بھی ثابت رکھا گیا ہو یا اس کی تصدیق مذکور ہو ، یعنی اس پر عمل اس وجہ سے کیا جائے گا کہ وہ ہماری شریعت میں ثابت یا مذکو رہے نہ کہ اس پر عمل پچھلی شریعت کی بنا پر ہو گا ۔ غامدی صاحب کے نزدیک حضرت ابراہیم کے بعد آنے والی تمام شریعتیں تقریباًً کامل تھیں اور ہر دور کی تہذیب و تمدن کے لیے رہنمائی کی صلاحیت رکھتی تھیں ،جبکہ ہم صرف اس پہلو سے تمام سابقہ شرائع کو کامل مانتے ہیں کہ وہ خاص ادوار کے لیے کامل ہدایت تھیں جبکہ زمان و مکان کی تخصیص کے بغیر رہتی دنیا تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے علاوہ باقی تمام شریعتیں ناقص ہیں۔ پچھلی آسمانی کتابیں اپنے مخصوص دور کے لیے تھیں اور قرآن کے آنے کے بعد ان کی تشریعی نقطہ نظر سے ضرورت بھی باقی نہیں رہی ۔
اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت اور قرآن مجید کے نزول کے بعد امت مسلمہ کے لیے اصل مآخذ و مصادرقرآن و سنت ہی ہیں ۔سابقہ کتب سماویہ اپنے اپنے ادوار میں اپنی قوموں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ تھیں ۔کتاب مقدس قانون سازی میں ہمارے لیے ماخذ ومصدر کی حیثیت نہیں رکھتی۔ہاں اس حد تک کہنا ٹھیک ہے کہ ’ حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج ‘ جیسی تعلیمات کے مصداق کے طور پر قوم بنی اسرائیل سے متعلقہ قرآنی واقعات اخبار و قصص کی تفہیم کے لیے ہم کتاب مقدس کی عبارات سے استفادہ کر سکتے ہیں لیکن کسی قرآنی واقعے کی تفہیم کے لیے کتاب مقدس سے کیے جانے والے اس استفادے کی بنا پر کوئی حتمی رائے قائم کر لینا ’لاتصدقوا اہل الکتاب و لا تکذبوھم ‘ کے منافی ہے۔ جہاں تک عقائد و احکام میں کتاب مقدس سے استدلال کرنے کا معاملہ ہے تو اس کی کوئی دلیل نقل و عقل میں نہیں ملتی ۔ 

غامدی صاحب اور سابقہ شرائع سے استدلال 

سابقہ شرائع سے استدلال کے لیے غامدی صاحب کا اصل اصول ان کی تحریروں میں اس طرح مذکور ہے: 
’’بائبل تورات ،زبور، انجیل اور دیگر صحف سماوی کا مجموعہ ہے ۔ اپنی اصل کے لحاظ سے یہ اللہ ہی کی شریعت اور حکمت کا بیان ہے ۔ اس کے مختلف حاملین نے اپنے اپنے مذہبی تعصبات کی بنا پر اگرچہ اس کے بعض اجزا کو ضائع کر دیا اور بعض میں تحریف کر دی ، تا ہم اس کے باوجود اس کے اندر پروردگار کی رشد و ہدایت کے بے بہا خزانے موجود ہیں ۔اس کے مندرجات کو اگر اللہ کی آخری اور محفوظ کتاب قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے تو فلاح انسانی کے لیے اس سے بہت کچھ اخذ و استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کتاب مقدس میں موسیقی اور آلات موسیقی کا ذکر متعدد مقامات پر موجود ہے ۔ان سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبروں کے دین میں موسیقی یا آلات موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔‘‘ 
غامدی صاحب کے مذکورہ استدلال کا تجزیہ کیا جائے تو ان کا اصول تین نکات کی صورت میں سامنے آتا ہے: 
۱) اگر کسی مسئلے کے بارے میں قرآن میں صریح راہنمائی موجود نہ ہو لیکن اشارات موجود ہوں توقرآن میں وارد شدہ ان اشارات کو بنیاد بنا کر اسی مسئلے کے بارے میں کتب سماویہ کی تفصیلات کی تصدیق کی جاسکتی ہے ۔اس اصول کے تحت غامدی صاحب نے مسئلہ موسیقی کو ثابت کیاہے ۔
غامدی صاحب کے بقول کتا ب مقدس سے موسیقی اور آلات موسیقی کا جواز معلوم ہوتا ہے اور اس کے لیے انھوں نے زبور کا حسب ذیل اقتباس نقل کیا ہے :
’’اے خداوندمیں تیرے لیے نیا گیت گاؤں گا۔دس تار والی بربط پر میں تیری مدح سرائی کروں گا۔‘‘
کتاب مقدس کا ایک اور اقتباس انھوں نے یوں نقل کیا ہے:
’’تو ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے مل گئے تا کہ خداوند کی حمد اور شکر گزاری میں ان سب کی آواز سنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور موسیقی کے سب سازوں کے ساتھ انھوں نے اپنی آواز بلند کر کے خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے۔‘‘
جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتاب مقدس کی یہ آیات محفوظ ہیں یا منسوخ نہیں ہیں تو غامدی صاحب یہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن میں موسیقی کے جواز کے بارے میں اشارات موجود ہیں اور قرآن میں موجود یہ اشارات کتاب مقدس کی مذکورہ آیات کی اس پہلو تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ آیات نہ تو منسوخ ہیں اور نہ ہی غیر محفوظ، بلکہ ہمارے لیے شریعت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ایک جگہ لکھتے ہیں: 
’’جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں قرآن مجید اصلاً خاموش ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی آیت موجود نہیں ہے جو موسیقی کی حلت و حرمت کے حوالے سے کسی حکم کو بیان کر رہی ہو ۔البتہ، اس میں بعض ایسے اشارات موجود ہیں جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے ۔ان کی بنا پر قرآن سے موسیقی کے جواز کا یقینی حکم اخذ کرنا تو بلاشبہ کلام کے اصل مدعا سے تجاوز ہو گا۔‘‘
گویا غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں ،ان کے بقول ،موسیقی کے حوالے سے وارد شدہ اشارات اس بات کی دلیل ہیں کہ موسیقی کے حوالے سے کتاب مقدس کی آیات محفوظ ہیں ۔ 
۲) اگر کسی مسئلہ کے بارے میں قرآن کے الفاظ میں سابقہ شرائع کے حوالے سے کوئی رہنمائی موجود ہو اور یہ الفاظ مجمل ہوں تو ان الفاظ قرآنیہ کی تفصیل کتاب مقدس کی آیات سے کی جا سکتی ہے۔ اس اصول کے تحت غامدی صاحب نے قرآن میں موجود لفظ ’تماثیل‘ کی بائبل کی آیات کی روشنی میں تفصیل کی ہے اور شیر ،بیل اور ملائکہ کی تصاویر کو بھی کتاب مقدس کی روشنی میں صحیح قرار دیا ہے۔بائبل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے:
’’اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے ،شیر اور بیل اور کروبی(فرشتے) بنے ہوئے تھے۔‘‘
ایک اور جگہ ہیکل کی تعمیر کے ضمن میں لکھا ہے: 
’’اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی(فرشتے)دس دس ہاتھ اونچے بنائے۔‘‘
جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ توارت کی ان آیات کے محفوظ ہونے کی کیا دلیل ہے تو وہ جواب میں فرماتے ہیں کہ قرآن میں حضرت سلیمان کے حوالے سے تماثیل کا ذکر موجود ہے۔ گویا قرآن کے اجمالی الفاظ تورات کی ان تفصیلات کی تائید کر رہے ہیں ۔
۳) قرآن کے مبہمات کی وضاحت کے لیے بھی غامدی صاحب کتاب مقدس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ اس اصول کے تحت انہوں نے قرآن میں موجود یاجوج و ماجوج کا مصداق مغربی اقوام کو قرار دیا ہے۔ یاجوج ماجوج سے متعلقہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یاجوج ماجوج کی اولاد ، یہ مغربی اقوام ، عظیم فریب پر مبنی فکر و فلسفہ کی علم بردار ہیں اور اسی سبب سے نبی ﷺ نے انھیں دجال (عظیم فریب کار) قرار دیا ہے۔‘‘
جب ہم غامدی صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جن یاجوج ماجوج کاذکر کیا ہے، اس سے مراد مغربی اقوام ہیں ،تو جواب میں غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ تورات سے اس بات کی تعیین ہوتی ہے کہ یاجوج ماجوج سے مراد مغربی اقوام ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے بائبل کا حسب ذیل اقتباس نقل کیا ہے: 
’’اور خداوندکا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ اے آدم زاد جوج کی طرف جو ماجو ج کی سرزمین کا ہے اور روش (روس) مسک (ماسکو) اور توبل(توبالسک)کا فرماں روا ہے ،متو جہ ہو اور اس کے خلاف نبوت کر۔‘‘
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
’’اپنے اس علاقے سے قدیم زمانوں میں یہی لوگ یورپ میں جا کر آباد ہوئے اور وہاں سے پھر صدیوں کے بعد تاریخ کی روشنی میں امریکہ اور آسٹریلیا پہنچے، اور اب دنیا کے سارے پھاٹک انھی کے قبضے میں ہیں۔‘‘
جب ہم غامدی صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ تورات کی یہ آیات محفوظ ہیں تو وہ جواب میں فرماتے ہیں کہ قرآن میں موجود یاجوج ماجوج کا ذکر تورات کی ان آیات کی تصدیق کر رہا ہے۔

مذکورہ اصول کا تنقیدی جائزہ

قدیم صحائف سے استدلال کا جو اصول غامدی صاحب نے وضع کیا ہے، وہ بوجوہ غلط ہے۔ 
۱) پہلی بات تو یہ ہے کہ غامدی صاحب کے بقول اشارات قرآنی سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے غامدی صاحب کی بات مان بھی لیں تو پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ فلاں مسئلے کے بارے میں قرآن میں اشارات موجود ہیں؟ کیونکہ اشارات ایک ایسی غیر واضح اصطلاح ہے کہ جو چاہے جب چاہے قرآن سے کوئی بھی مسئلہ’ اشارات ‘کی شکل میں نکال سکتا ہے۔ مثال کے طور پرصوفیا کی تفسیر اشاری دیکھی جاسکتی ہے جس میں انھوں نے ’اشارات ‘ کے نام پر قرآن سے عجیب و غریب قسم کے مسائل نکالے ہیں۔
غامدی صاحب کے نزدیک قرآن میں موسیقی کے جواز کے بارے میں اشارات موجود ہیں جبکہ ہمارے نزدیک یہ بات غلط ہے۔ قرآن میں مروجہ موسیقی کے جواز کے بارے میں کسی قسم کے اشارات موجود نہیں۔ ہیں جس قسم کے اشارات سے غامدی صاحب نے مسئلہ موسیقی میں استدلال کیاہے، اس قسم کے اشارات سے توہر مسئلہ قرآن سے نکالا جاسکتا ہے۔ غامدی صاحب کے بقول قرآن مجید کی آیات کا صوتی آہنگ اور قرآن کی آیت مبارکہ ’وسخرنا مع داود الجبال یسبحن والطیر‘ میں یہ اشارات موجود ہیں کہ موسیقی جائز ہے۔ یہ ایک نادرطرز استدلال ہے اور عقل عام بھی فیصلہ کرسکتی ہے کہ یہ نادر استدلال کس قدر بودا ہے۔کہاں قرآن کا صوتی آہنگ اور کہاں بینڈ باجے، ڈھول بانسریاں ،گٹار اور پیانو جیسے آلات موسیقی! کہاں حضرت داؤد کا خوبصورت آواز میں اللہ کی تسبیح بیان کرنا ،جس کا ذکر مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے، اور کہاں کسی عورت کا رقص وسرود کی محفلوں میں محبو ب سے متعلق جذبات کا اظہار کرنا! اگر قرآن کا صوتی آہنگ اور حضرت داؤد کاخوبصورت آواز میں اللہ کی تسبیح بیان کرنا موسیقی ہے تو ہم بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن میں موسیقی موجود ہے لیکن قرآن سے جو موسیقی غامدی صاحب ثابت کرنے چلے ہیں یا قرآن کے ان اشارات کی تطبیق میں غامدی صاحب ہمارے معاشروں میں موجود رقص وسرود کی جن محفلوں کی تائید کرنا چاہتے ہیں، ان کی تائید کسی طرح سے بھی ان اشارات قرآنی سے ثابت نہیں ہو تی ۔ان اشارات قرآنی سے یہ بھی ثابت نہیں ہو رہا کہ حضرت داؤد کے پاس ’’دس تاروں والی بربط‘‘ تھی جس پر وہ اللہ کی حمد و ثنا کیا کرتے تھے۔ قرآن نے صرف حمد و ثنا کا تذکرہ کیا ہے ،دس تاروں والی بربط کا بیان صرف کتاب مقدس کا ہے جس کے بارے میں ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ بیان محفوظ ہے یا نہیں ۔
۲) دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب نے قرآن میں وارد شدہ لفظ ’تماثیل‘ کو بنیاد بنا کرکتاب مقدس کی آیات کی تصدیق کی ہے ۔حالانکہ قرآن نے تو صرف اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانے میں اللہ کے حکم سے جنات ان کے لیے ’تماثیل‘ بنایا کرتے تھے۔ اب یہ ’تماثیل‘ کیا تھیں؟ اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔قرآن نے تماثیل کی تصدیق کی ہے، نہ کہ شیر ، بیلوں اور فرشتوں کی تصاویر کی۔ قرآن کے الفاظ میں اجمال ہے اور قرآن کتاب مقدس کی اس حد تک تو تصدیق کر رہا ہے کہ حضرت سلیمان کے دور میں تماثیل تھیں لیکن قرآن قطعاً ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کررہا جو کہ کتاب مقدس میں موجود ہیں۔ اس لیے قرآن کے اجمالی بیان سے کتاب مقدس کے اجمال کی تو تصدیق ہوتی ہے لیکن قرآن کے مجمل الفاظ کتاب مقدس کی تفصیلی آیات کی تصدیق نہیں کر رہے۔ اس لیے قرآن سے یہ بالکل بھی واضح نہیں ہوتاکہ کتاب مقدس کا یہ تفصیلی بیان محفوظ ہے یا اس میں بھی کمی بیشی ہو چکی ہے۔یہ بات تو واضح ہے کہ قرآن کے اجمال سے کتاب مقدس کا اجمال اور قرآن کی تفصیل سے کتاب مقدس کی تفصیل محفوظ ثابت ہوتی ہے لیکن قرآن کے اجمال سے کتاب مقدس کے تفصیلی بیان کو محفوظ ثابت کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے۔ قرآن میں واردشدہ لفظ ’تماثیل ‘کسی طرح بھی کتاب مقدس کے لفظ ’کروبی‘ کی تصدیق نہیں کر رہا اور نہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانے میں جنات فرشتوں کی بھی تصاویر بناتے تھے ۔ غامدی صاحب کے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی نے صاف طور پر بائبل کے مذکورہ بیان کو تحریف پر مبنی قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
’’جاندار چیزوں، بالخصوص فرشتوں کی مورتوں کا معاملہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو کس طرح جائز سمجھا۔ ..... یہ چیزیں پہلے بھی ناجائز تھیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے تورات کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ انھوں نے اسی قسم کی تماثیل بنوائی ہوں گی جن کا تعلق مجرد آرٹ سے ہے اور مذہبی تقدس کا جن کے اندر کوئی شائبہ نہیں تھا۔ لیکن جب یہود میں مورت پرستی کا رواج ہوا ہوگا تو اس قسم کی چیزیں ان کے بادشاہوں نے بنوائی ہوں گی اور ان کو سند جواز دینے کے لیے ان کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا گیا ہوگا۔‘‘
۳) تیسری بات یہ کہ قرآن میں یاجوج ماجوج کا ذکر ہے لیکن قرآن نے اس بات کو واضح نہیں کیا کہ یاجوج ماجوج کا مصداق کون سی اقوام ہیں۔ البتہ کتاب مقدس نے یاجوج ماجوج کا تذکرہ بھی کیا ہے اور ان کا تعین بھی کیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قرآن سے تو صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ کتاب مقدس میں یاجوج ماجوج کا جو تذکرہ ہے، وہ صحیح ہے لیکن قرآن ہر گز بھی کتاب مقدس کی ان آیات کی تصدیق نہیں کر رہا جو یاجوج ماجوج کی تعیین کر رہی ہیں، اس لیے اس سے اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کتاب مقدس کی یہ آیات محفوظ ہیں یانہیں یا یہ آیات کلام الٰہی ہیںیا نہیں۔ بہرحال قرآن کسی طور بھی کتاب مقدس کی ان آیات کی تصدیق نہیں کر رہا جو کہ یاجوج ماجوج کی تعیین سے متعلق ہیں ۔ 
۴) چوتھی بات یہ کہ غامدی صاحب کتاب مقدس سے استدلال کا اپنا شوق ضرور پورا کریں لیکن ہم ان سے اتنی گزارش کرتے ہیں کہ پہلے کتاب مقدس کی ان آیات کو محفوظ تو ثابت کریں جن سے استدلال کر رہے ہیں۔ چند موہوم اشارات قرآنیہ کو بنیا دبنا کرکتاب مقدس کی آیات کومحفوظ ثابت کرنا اور ان سے کسی شرعی مسئلے میں استدلال کرنا،کسی محقق کے شایان شان نہیں ہے۔غامدی صاحب کے بقول:
’ ’پیغمبروں کے دین میں موسیقی یا آلات موسیقی کو کبھی ممنوع نہیں قرار دیا گیا۔بیش تر مقامات پر اللہ کی حمد و ثنا کے لیے موسیقی کے استعمال کا ذکر آیا ہے۔ ‘‘
ہم غامدی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اس بات کی دلیل کیا ہے اور وہ جواب میں دلیل کے طور پر کتاب مقدس کی آیات پیش کر دیتے ہیں ۔جب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ کیا کتاب مقدس کی یہ آیات محفوظ ہیں تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن سے کتاب مقدس کی ان آیات کی تائید ہو رہی ہے۔ جب قرآن کتاب مقدس کی ان آیات کی تائید نہیں کر رہا تو کتاب مقدس کی یہ آیات بھی محفوظ ثابت نہیں ہوئیں ۔جب کتاب مقدس کی یہ آیات محفوظ ثابت نہیں ہوئیں تویہ بھی ثابت نہ ہوا کہ پیغمبروں کے دین میں موسیقی جائز رہی ہے لہذا غامدی صاحب کا دعویٰ باطل ہوا ۔ 
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے مذکورہ اصول کے حوالے سے ان کے استاد مولانا امین احسن اصلاحی کی رائے بھی یہاں نقل کر دی جائے۔ سجدہ تعظیمی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا اصلاحی لکھتے ہیں :
’’سوال یہ ہے کہ قرآن میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں یا بعض جگہ پچھلی شریعتوں کے جو حوالے آ گئے ہیں ، کیا وہ مجرد اتنی بات سے کہ وہ قرآن میں مذکور ہیں ، اس امت کے لیے شریعت کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں ، یا اس امت کے لیے ان کے شریعت بننے کے لیے کچھ اور شرطیں بھی ہیں ۔میرا نقطہ نظر اس طرح کے تمام واقعات اور حوالوں سے متعلق یہ ہے کہ یہ مجرد قرآن میں مذکور ہو جانے کی وجہ سے امت محمدیہ کے لیے شریعت نہیں بن سکتے ...قرآن میں حضرت آدم کے ایک بیٹے کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کو ان کے بھائی نے قتل کرنے کی دھمکی دی تو انھوں نے کہا کہ میں تو تم پر قتل کے ارادے سے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا ، خواہ تم مجھے قتل ہی کر ڈالو ، ،میں تو اللہ رب العلمین سے ڈرتا ہوں ۔حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے محض اس خدمت کے معاوضے میں کر دیا کہ وہ ایک خاص مدت تک ان کی بکریاں چرائیں ۔حضرت لوط علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ ان کی قوم کے غنڈوں نے جب ان کے مہمان کی فضیحت کرنی چاہی تو انھوں نے ان کو مخاطب کر کے کہا اگر تمھیں کچھ کرنا ہے تو میری لڑکیوں کے ساتھ کرو، خدا را میرے مہمانوں کے بارے میں8 مجھے رسوا نہ کرو ۔حضرت سلیمان کے بارے میں ہے کہ ایک مرتبہ فوج کی پریڈ کے موقع پر ان کی نماز عصر قضا ہو گئی تو انھوں نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر گھوڑوں ہی کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔سورہ کہف میں ایک نیک بندے کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اس بنا پرایک بچے کو قتل کر دیا تھا کہ انھیں یہ علم ہو گیا تھا کہ وہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کا نافرمان ہو گا، اور ایک کشتی میں اس بنا پر سوراخ کر دیا کہ انھیں اندیشہ ہوا کہ اس دیا ر کا بادشاہ کہیں اس کشتی کو قبضے میں نہ کر لے ۔یہ اور اس طرح کے جو واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور بطریق مذمت نہیں بیان ہوئے بلکہ بطریق مدح بیان ہوئے ہیں،اب بتائیے کہ کیا مجرد اس بنا پر کہ یہ واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں، یہ اس امت کے لیے قانون اور شریعت بن جائیں گے اور ایک شخص کے لیے یہ بات جائز ہو جائے گی کہ اگر وہ اپنے کشفی علم سے کسی بچے کے بارے میں یہ معلوم کر لے کہ یہ نافرمان اٹھے گا تو اسے قتل کر ڈالے یا کوئی شخص اس پر حملہ آور ہو تو اپنے آپ کو بے چون و چرا اس کے حوالے کر دے؟...ان ضمنی طور پر بیان شدہ واقعات سے اگر کوئی تعلیم نکلتی ہے تووہ اس امت کے لیے اس صورت میں ہدایت اور شریعت کا درجہ اختیار کرسکتی ہے،جب کتاب وسنت کی دوسری تصریحات سے بھی اس بات کی تائید ہو جائے کہ اس تعلیم کو اس امت کے اندر بھی باقی رکھنا شارع کو مطلوب ہے ، یا کم ازکم یہ کہ کوئی بات اس کے خلاف نہ پائی جائے لیکن اگر دوسری تصریحات اس کے خلاف ہوں تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ اس امت میں اس تعلیم کوباقی رکھنا شارع کو مطلوب نہیں ہے۔ اگر اس قسم کی کوئی تصریح خود قرآن میں ہو تو وہ تصریح اس اشارہ پر مقدم ہو گی ... اور اگر یہ تصریح قرآن کے بجائے حدیث میں ہو تو بھی اس کو تقدم حاصل ہو گا ... جو کچھ موجود ہے اس کی حیثیت محض ایک واقعہ کی ہے جو پچھلی امتوں میں سے کسی امت میں یا سابق انبیا میں سے کسی نبی کی زندگی میں پیش آیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس امت میں یہ بات بعینہ اس شکل میں مطلوب ہے یا نہیں ، تو اس کی وضاحت قرآن بھی کر سکتا ہے اور حدیث بھی کر سکتی ہے ۔قرآن کے کسی واضح حکم کو منسوخ کرنے کے لیے تو بلاشبہ حدیث ناکافی ہے لیکن پچھلی امتوں یا سابق انبیاء میں سے کسی کی تعلیم کو یا کسی روایت کو منسوخ کرنے کے لیے تو حدیث بالکل کافی ہے۔ بے شمار معاملات ہیں جن میں ہم جانتے ہیں کہ سابق انبیا کی تعلیم کچھ او ر تھی اور ہمارے نبی نے ہمیں اس کی جگہ کوئی اورہدایت فرمائی اور ہم بے چون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں ، یہ عذر نہیں پیش کرتے کہ کسی سابق نبی کی تعلیم کو حدیث کس طرح منسوخ کر سکتی ہے۔‘‘
مولانا اصلاحی کی اس عبارت سے درج ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں :
۱) کتاب مقدس کی وہ تعلیمات جو قرآن میں اشارتاً، اجمالاً یا تفصیلاً بیان ہوئی ہیں، اس وقت تک ہمارے لیے دلیل نہیں بن سکتیں جب تک کہ خود قرآن یا حدیث سے ان تعلیمات کا اثبات نہ ہو۔گویا کہ اصل دلیل قرآن و سنت ہے نہ کہ سابقہ شرائع،جبکہ غامدی صاحب سابقہ شرائع کو مستقل طور پر مآخذ دین میں سے شمار کرتے ہیں اور ان سے بھی مسائل کا اثبات کرتے ہیں ۔
۲) قرآن کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کی منسوخی کے لیے کافی ہیں ، یعنی قرآن کی کسی آیت کی تفسیریا اس کے علاوہ کسی مسئلے میں اگر کتاب مقدس اور احادیث میں اختلاف ہو جائے تو حجت احادیث ہوں گی ۔جبکہ غامدی صاحب قرآن کی کسی آیت کی تفسیر میں احادیث کے بالمقابل کتاب مقدس کی آیات کو ترجیح دیتے ہیں ، جیسا کہ بہت سارے معاملات میں ان کی آرا سے ظاہر ہے ۔
۳) بہت سے احکامات جو پچھلی شریعتوں میں جائز تھے، ہمارے لیے ان پر عمل کرنایا ان سے اپنے عمل پر دلیل پکڑنا جائز نہیں ۔جبکہ غامدی صاحب اس کے قائل نہیں ہیں کہ ایک فعل کسی شریعت میں جائز رہا ہو اور بعد میں اسے کسی دوسری شریعت میں شارع کی طرف سے ناجائز قرار دے دیا گیا ہو۔
غامدی صاحب نے جس طرح موسیقی، یاجوج ماجوج اور تصویر وغیرہ کے مسئلے میں کتاب مقدس سے استدلال کیا ہے، و ہ خود ان کے اپنے اس اصول کے خلاف ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں بیان کیا ہے۔ غامدی صاحب’ میزان‘ میں ایک جگہ تدبر قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
’’سوم یہ کہ الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب ،یہود و نصاری کی تاریخ، انبیائے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب و اشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔‘‘
اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قدیم صحائف کویہود و نصاریٰ کے اخبار و واقعات اور قصص وتاریخ سے متعلقہ قرآنی آیات کو سمجھنے کے لیے ماخذ بنایا جائے گا نہ کہ احکام و عقائد کے لیے۔ یہ نہایت موزوں موقع تھا کہ غامدی صاحب اس مسئلے پر اصولی بحث کرتے ہوئے اپنی اس عبارت میں احکام اور عقائد کا بھی تذکرہ کر دیتے لیکن ان کا یہاں پر احکام و عقائد کا تذکرہ نہ کرنا لیکن اپنی تحقیقات میں احکام اور عقائد سے متعلق مسائل کے لیے قدیم صحائف کو بنیاد بنانا ذہن میں کچھ سوالات ضرورپیدا کرتا ہے ۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ موسیقی اور تصویر کا تعلق احکام سے ہے اور یاجوج ماجوج کا تعین عقیدے کا مسئلہ ہے ۔ عقیدے اور احکام کے بارے میں غامدی صاحب کے ہاں ایک انتہاتو یہ ہے کہ حدیث سے کسی بھی حکم اور عقیدے کو ثابت نہیں کیا جاسکتا، لیکن دوسری طرف تحریف شدہ کتاب مقدس سے وہ کس سہولت و آسانی سے احکام و عقائد کا اثبات کر رہے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک حدیث سے کوئی نیا حکم یا عقیدہ توثابت نہیں ہو سکتا، البتہ وہ قرآن میں موجود کسی حکم یا عقیدے کی تفہیم و تبیین میں دلیل بن سکتی ہے۔ جبکہ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں کہ غامدی صاحب کتاب مقدس سے ایک نئے حکم (موسیقی کا جواز) کو ثابت کر رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے، قرآن کے الفاظ میں اس مسئلہ کی حلت و حرمت کے بارے میں کوئی یقینی حکم نہیں ہے۔ گویا کہ غامدی صاحب کے نزدیک کتاب مقدس صرف قرآنی آیات و احکام کی تفہیم و تبیین ہی نہیں کرتی بلکہ اس سے نئے احکام کا اثبات بھی کیا جا سکتا ہے ۔ 

غامدی صاحب کا اپنے اصولوں سے انحراف

ہم نے شروع میں واضح کیا تھا کہ غامدی صاحب کے اصول بھی غلط ہیں اور ان سے ان اصولوں کے اطلاق میں بھی غلطی ہوئی ہے ۔یہاں ہم ان کے اصول کے اطلاق کی غلطی واضح کریں گے اور ان مسائل کا تذکرہ کریں گے جو کہ ہماری شریعت میں بھی ثابت ہیں اور پچھلی شریعتوں میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے، لیکن غامدی صاحب یا تو ان کو ماننے میں متامل ہیں یا انکاری ہیں اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ قرآن میں ا ن کا ذکر واضح طور پر نہیں ملتا ۔ان مثالوں کے بیان کرنے سے مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ محترم غامدی صاحب کتاب مقدس کو دلیل صرف ان مسائل میں بناتے ہیں جو ان کے متجددانہ نظریات کے موافق ہوں ۔
۱۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا تذکرہ قرآن میں بھی موجود ہے اور بکثرت احادیث مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔ امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ اس دنیامیں اللہ کے رسول ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے واپس آئیں گے۔ دوسری طرف کتاب مقدس بھی اس بات کی تائید کرتی نظر آتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے ۔لیکن غامدی صاحب اس عقیدے کو ماننے میں اس لیے متامل ہیں کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی سے متعلقہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ ؑ کی آمدثانی کے بارے میں نہ صرف یہ کہ قرآن مجید بالکل خاموش ہے ،بلکہ اس سے جو قرائن سامنے آتے ہیں، وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ آمد کے بارے میں کچھ سوالات ضرور ذہن میں پیدا کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہ قران نے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا سے اٹھا لیے جانے کا تذکرہ کیا ہے ، وہاں حضرت عیسیٰ ؑ کے متبعین کے قیامت تک یہودپر غلبے کی پیشین گوئی بھی کی ہے۔ یہ نہایت موزوں موقع تھا کہ آپ کی آمدثانی کا تذکرہ کر دیا جاتااور اس غلبے کی پیشین گوئی بھی کر دی جاتی جس کا ذکر حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ آمد کے حوالے سے روایات میں ہوا ہے...پھر حدیث کی سب سے پہلے مرتب ہونے والی کتاب ’’موطا امام مالک‘‘ میں حضرت مسیح کی آمدثانی سے متعلق کوئی روایت موجود نہیں۔یہ چیز بڑی اہمیت کی حامل ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ امام مالکؒ کا اس سے عدم تعرض سمجھ میں نہیں آتا۔ایک روایت میں ،البتہ نبی ﷺکا خواب بیان ہوا ہے جس میں آ پ نے حضرت مسیح کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔ ہمیں یہ خیال ہوتا ہے کہ کہیں یہی مضمون بڑھتے بڑھتے حضرت مسیح کی آمدثانی میں تو نہیں بدل گیا؟ یہ قرائن اس بات کاتقاضا کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی سے متعلق احادیث کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے اور بطور خاص، قرآن کے محولہ بالا مقامات سے سامنے آنے والے عقدے کو حل کیا جائے۔جب تک ان سوالات کا قابل اطمینان جواب نہیں ملتا،اس باب میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ۔‘‘
جس عقیدے کی صرف امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ پوری عیسائی دنیا بھی قائل ہے، غامدی صاحب ابھی تک اس میں سوچ بچار کر رہے ہیں ۔یہ غامدی صاحب کی دس سال پہلے کی تحریر ہے میرے خیال میں اب تک تو ان کی طرف سے ہا ں یا ناں میں کوئی واضح موقف سامنے آجانا چاہیے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے بارے میں کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے ۔قرآن میں واضح طور پر حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا تذکرہ موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللّہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناًo بَل رَّفَعَہُ اللّہُ إِلَیْْہِ وَکَانَ اللّہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً o وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً o (النساء ۱۵۷۔۱۵۹)
’’اور ان یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر دیا، حالانکہ انھوں نے نہ تو حضرت عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی چڑھایالیکن معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیااور جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کیاوہ بھی البتہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ،ان کے پاس اس معاملے کا کوئی علم نہیں ہے سوائے گمان کی پیروی کے ، اور انھوں نے حضرت عیسیٰ کو یقیناًقتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیااور اللہ تعالی غالب ہے حکمت والا ہے ۔اور اہل کتاب میں کوئی ایسا نہ رہے گاجو حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہی دیں گے ۔‘‘
ترجمان القرآن حضرت ابن عباس ،اما م المفسرین علامہ ابن جریر طبری ، امام المتکلمین امام رازی ،امام الفقہا علامہ قرطبی اورامام اللغۃ علامہ زمخشری کے نزدیک اس آیت میں ’لیومنن بہ‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں جبکہ ’موتہ ‘ کی ضمیر کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف لوٹ رہی ہے یا ’کتابی‘کی طرف۔بہرحال یہ اختلاف تنوع کا اختلاف ہے۔ ’موتہ ‘کی ضمیر جس طرف بھی لوٹائی جائے، اس آیت سے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ قرآن فعل مضارع میں لام تاکید با نون ثقیلہ کے ساتھ اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ ہر کتابی حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات سے پہلے یا اپنی وفات سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے کر آئے گا۔ اور ہر کتابی کا مستقبل میں حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ حضرت عیسیٰ ؑ اس دنیا میں دوبارہ تشریف نہ لے آئیں ۔
کتاب مقدس کی درج ذیل آیات سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کے علاوہ خود حضرت مسیح نے بھی اپنی آمد ثانی کے بارے میں اپنے اصحاب کو بتلایا۔کتاب مقدس کے الفاظ ہیں :
’’اورجب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آ کر کہاہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہو گا؟یسوع ؑ نے جواب میں ان سے کہا خبردار!کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے۔کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘
ایک جگہ کتاب مقدس میں ہے : 
’’انہوں نے اس سے پوچھاکہ اے استاد ! پھر یہ باتیں کب ہوں گی؟اور جب وہ ہونے کو ہوں اس وقت کا نشان کیا ہے ؟۔اس نے کہا خبردار!گمراہ نہ ہوناکیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور وہ کہیں گے کہ وہ میں ہی ہوں اور یہ بھی کہ وقت نزدیک آ پہنچا ہے ۔‘‘
ایک اور جگہ ہے :
’’میں تیرے پاس جلد آنے کی امید کرنے پر بھی یہ باتیں تجھے اس لیے لکھتا ہوں ۔کہ اگر مجھے آنے میں دیر ہو تو تجھے معلوم ہو جائے کہ خدا کے گھر یعنی زندہ خدا کی کلیسامیں جوحق کا ستون اور بنیاد ہے کیونکر برتاؤ کرنا چاہیے۔‘‘
غامدی صاحب نے جس طرح مسئلہ موسیقی میں قرآن میں موجود موہوم اشارات کو بنیاد بنا کر کتاب مقدس کی آیات کی صحت کی تصدیق کی اور ان سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا کاش کہ وہ قرآن کے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کے بارے میں واضح بیان کو کم از کم اشارات کا درجہ تودے دیتے اور اس آیت کی تفسیرمیں جلیل القدر مفسرین سے نہ سہی کتاب مقدس سے ہی استفادہ کر لیتے یا صاحب قرآن کی احادیث کو بنیاد بناکرکتاب مقدس کی ان آیات کی صحت کی تصدیق کرتے ،اور حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی پر اور کہیں سے نہ سہی، انہی آیات کتاب مقدس سے استدلال کر لیتے اور ایک غلط اصول کو ہی استعمال کرتے ہوئے ایک صحیح عقیدے تک پہنچ جاتے۔ غامدی صاحب سے ہمارا سوال یہ ہے کہ اگرقرآن کے اشارات سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق ہو سکتی ہے تو قرآن میں تو حضرت عیسیؑ ٰ کی آمد کے بارے میں ان اشارات سے کہیں زیادہ قوی اشارات موجود ہیں جو کہ غامدی صاحب موسیقی کے جواز کے حق میں قرآن سے پیش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر قرآن کے بیان سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق ہو جاتی ہے توکیا صاحب قرآن کے بیان سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق نہیں ہوتی؟ اگر صاحب قرآن کے فرامین سے بھی کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق ہوتی ہے تو غامدی صاحب کو چاہیے کہ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے بارے میں مروی روایات کو بنیاد بنا کر وہ کتاب مقدس کی ان آیات کی تصدیق کریں جو حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کے بارے ہیں اور کتاب الہٰی سے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ثانی کو ثابت مانیں۔اگر ان کے نزدیک صاحب قرآن کے فرامین سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق نہیں ہوتی تو انہیں اپنے اس اصول کے بارے میں کوئی شرعی دلیل پیش کرنی چاہیے کہ قرآن کے بیان سے تو کتاب مقدس کے محفوظ اور کلام الہٰی ہونے کی تصدیق ہو جاتی لیکن صاحب قرآن کے فرامین سے کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق نہیں ہوتی ۔ 
۲۔ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ رجم بھی زنا کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے ۔شریعت محمدیہ میں بھی شریعت موسوی کی طرح زناکی مختلف صورتوں کے اعتبار سے مختلف سزائیں مقرر کی گئیں ہیں شریعت محمدیہ میں زنا کی تین سزائیں ہیں: سو کوڑے ،تغریب عام (ایک سال کی جلاوطنی) اور رجم کی سزا۔واقعے کی نوعیت اورصورت حال کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف احوال میں مختلف سزائیں بیان کی گئیں ہیں اور بعض اوقات زناکے کسی واقعے میں جبر اکراہ،ظلم وزیادتی ،قباحت اور شناعت کے بڑھ جانے کی وجہ سے دو سزاؤں کو جمع بھی کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ بعض احادیث میں زناکی حد کے طور پر دو سزاؤں کو بھی جمع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فقہ الواقع کا اختلاف ہے ۔ زنا کی سزا کے حوالے سے یہی وہ اختلاف ہے جو کہ ہمیں مختلف روایات میں ملتا ہے اور شریعت موسوی سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ زنا کی سزا کے حوالے سے فقہ الواقع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور مختلف احوال میں واقعے کی قباحت اور شناعت کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ شریعت محمدیہ اور شریعت موسوی دونوں میں زنا کی ایک مخصوص صورت کی سزا رجم بیان ہوئی ہے اور و ہ صورت یہ ہے کہ زنا کا ارتکاب کرنے والا مرد یا عورت شادی شدہ ہو۔ لیکن غامدی صاحب نے شادی شدہ زانی مرد وعورت کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں یہ قرآن سے ثابت نہیں ہے، حالانکہ شادی شدہ زانی کے لیے یہ سزا قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی ثابت ہے اورفطر ت صحیحہ وعقل سلیم سے بھی ثابت ہے۔ کتاب مقدس سے بھی شادی شدہ کے لیے رجم کی سزاثابت ہوتی ہے اوریہ حکم اب بھی کتاب مقدس میں موجود ہے ۔ چنانچہ لکھا ہے :
’’پر اگر یہ بات سچ ہو کہ لڑکی میں کنوارے پن کے نشان نہیں پائے گئے تو وہ اس لڑکی کو اس کے باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائیں اور اس کے شہر کے لوگ اسے سنگسار کریں کہ وہ مر جائے کیونکہ اس نے اسرائیل کے درمیان شرارت کی کہ اپنے باپ کے گھر میں فاحشہ پن کیا۔یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا۔اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو وہ دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے اس عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی ، یوں تو اسرائیل سے ایسی برائی کو دفع کرنا۔اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو اور کوئی دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کواس شہر کے پھاٹک پر باہرنکال لانااور ان کو تم سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں‘لڑکی کو اس لیے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہیں چلائی اور مرد کو اس لیے کہ اس نے اپنے ہمسایہ کی بیوی کو بے حرمت کیا ، یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا...اگر کسی آدمی کو کوئی کنواری لڑکی مل جائے جس کی نسبت نہ ہوئی ہو اور وہ اسے پکڑ کر اس سے صحبت کرے اور دونوں پکڑے جائیں تو وہ مرد جس نے اس سے صحبت کی ہو لڑکی کے باپ کو چاندی کی پچاس مثقال دے اور وہ لڑکی اس کی بیوی بنے کیونکہ اس نے اسے بے حرمت کیا اور وہ اسے اپنی زندگی بھر طلاق نہ دینے پائے۔‘‘
زنا کی سزاؤں میں سے رجم بھی ایک سزا ہے اس پر آسمانی کتابوں کا اجماع ہے ،چونکہ فطرت صحیحہ بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ زناکی بعض صورتوں میں بد ترین بے حیائی اور انسانیت سے خروج پایا جاتاہے۔ ا س لیے تما م مذاہب میں زنا کی سزاوں میں سے ایک سزا شدید ترین رہی ہے ۔
اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے :
عن البراء بن عازب قال مر علی النبی ﷺ بیھودی محمما مجلودا فدعا ہم فقال ھکذا تجدون حد الزانی فی کتابکم؟ فقالوا نعم، فدعا رجلا من علماءھم فقال انشدک باللہ الذی انزل التوراۃعلی موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اھکذا تجدون حد الزانی فی کتابکم؟ قال لا ولولا انشدتنی بھذا لم اخبرک، نجدہ الرجم و لکنہ کثر فی اشرافنا فکنا اذا اخذنا الشریف ترکناہ و اذا اخذنا الضعیف اقمنا علیہ الحد قلنا تعالوا فلنجتمع علی شیء نقیمہ علی الشریف و الوضیع فجعلنا التحمیم و الجلد مکان الرجم فقال رسول اللہ ﷺاللہم انی اول من احیی امرک اذ اماتوہ فامر بہ فرجم فانزل اللہ عز وجل یا ایھا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر الی قولہ تعالی ان اوتیتم ھذا فخذوہ وان افتاکم بالرجم فاحذروا فانزل اللہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون فی الکفار کلھا ۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے سے ایک یہودی کو گزارا گیاجو کوئلے سے کالا کیا گیااور کوڑے کھائے ہوئے تھاتو آپؐ نے یہودیوں کو بلا بھیجااور کہا کہ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو۔تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر آپؐ نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کوبلایااور اس سے کہا میں تمھیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تورات کو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل کیا،کیا تم اس طرح زانی کی حد اپنی کتاب تورات میں پاتے ہو؟اس یہودی عالم نے جواب دیا نہیں ،اور اگر آ پؐ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو اس کی خبر نہ دیتا،ہماری کتاب میں تو رجم کی سزا ہے، لیکن جب زنا ہمارے عزت دار آدمیوں میں پھیل گیاتو جب ہم کسی امیر آدمی کو اس جرم میں پکڑلیتے توچھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور آدمی کو اس جرم میں پکڑ لیتے تو اس پر رجم کی حد جاری کر دیتے ۔تو اس وقت ہم نے کہا کہ ہم سب جمع ہو جائیں اورایک سزا ایسی مقرر کر لیں جو کہ ہم امیر کو بھی دیں اور غریب کو بھی ،تو ہم نے منہ کو کالا کرنا اور کوڑوں کی سزا رجم کے مقابلے میں مقرر کی۔تو اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا، اے اللہ! میں سب سے پہلے تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں جس کو انھوں نے ختم کر دیا تھا۔ پھر آپؐ نے اس یہودی کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا۔ اس موقعے پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ’یا ایھا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر‘ سے لے کر ’ان اوتیتم ھذا فخذوہ‘ تک۔یہود یہ کہتے تھے کہ کہ تم محمد ﷺ کے پاس آو اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا حکم دیں تو ان کی بات مان لینااور اگر وہ تمہیں زانی کے بارے میں رجم کا فتویٰ دیں تو قبول نہ کرنا۔پھر اللہ تعالی نے یہ آیات اتاریں ’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون، ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون، ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون‘ یہ سب آیات کافروں کے بارے میں اتریں۔ 
اس حدیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں :
۱) قرآن نے ’ومن لم یحکم بما انزل اللہ‘ کی آیات نازل کرکے تورات کے حکم رجم کی تصدیق فرمائی ہے کہ تورات میں یہ حکم موجود ہے اور یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
۲) حکم رجم کو ’ما انزل اللہ‘ کہہ کرقرآن نے خود بھی حکم رجم کا اثبات کیا۔
ہم غامدی صاحب سے عرض کریں گے کہ ان کے بقول اگرچہ قرآن میں محصن زانی کے لیے رجم کی سزا نہیں ہے لیکن اس حدیث کو سامنے رکھیں تو کم از کم اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ موسیقی کے جواز کے اشارات سے زیادہ قوی اور یقینی اشارات قرآن میں رجم کی سزا کے لیے موجود ہیں۔کاش کہ غامدی صاحب اپنے اصول ہی کا اطلاق کرتے ہوئے ان اشارات قرآنی کی روشنی میں تورات میں موجود زنا کی مختلف سزاؤں میں سے ایک سزا، حد رجم کا بھی اثبات کرتے ۔جس کتاب اللہ کے غامدی صاحب قائل ہیں، اس میں اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں بھی اور آج بھی رجم کی سزا کو زنا کی حدودمیں سے ایک حد کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔اوراللہ کے رسول ﷺ کی حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تورات کی یہ آیات اس اعتبار سے محفوظ ہیں کہ زنا کی سزاؤں میں سے ایک سزا ر جم بھی ہے۔ لیکن غامدی صاحب کے نزدیک زانی چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ،دونوں صورتوں میں اس کی سزاسو کوڑے ہے۔ یہ موقف قرآن ، کتاب مقدس ، احادیث ، اجماع امت ،فطرت صحیحہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عقل کے بھی خلاف ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت کسی غیر شادی شدہ مرد کے ساتھ زناکی مرتکب ہوتی ہے تو اللہ کی نافرنی اور معصیت کی وجہ سے ان کی ایک سزامقرر کی گئی ہے، لیکن اگر کوئی شادی شدہ عور ت یا مرد زنا کا مرتکب ہوتا ہے تواب ایک طرف تو اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے، دوسرااپنی خواہش پورا کرنے کے لیے جائز راستہ ہونے کے باوجود ناجائز راستہ اختیار کیا گیا ہے، تیسراخاوند یا بیوی کے حقوق تلف ہوئے اور جذبات مجروح ہوئے، چوتھا خاندان کا شیرازہ بکھر گیا۔ ان مفسدات کی وجہ سے جرم زنا پہلی صورت سے کہیں زیادہ شنیع ہو جاتا ہے، اسی لیے دوسری صورت کی سزا مختلف رکھی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مغربی ممالک کے قوانین میں بھی، جن کی بنیاد سراسر انسانی عقل و مشاہدہ وتجربات پر ہے، زنا کی سزا کے حوالے سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں فرق کیا گیا ہے ۔
۳۔ تیسرا مسئلہ جو کہ غامدی کے اصولوں کے مطابق درست ہے لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا ہے ، دجال کی تعیین کا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک دجال کوئی شخص نہیں ہے بلکہ ایک اسم صفت ہے اور اس کا مصداق یاجوج ماجوج یعنی موجودہ مغربی اقوام ہیں۔ دجال سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: 
’’ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ نبی ﷺ نے قیامت کے قریب ، یاجوج ماجوج ہی کے خروج کو دجال کے خروج سے تعبیر کیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یاجوج ماجوج کی اولاد، یہ مغربی اقوام،عظیم فریب پر مبنی فکرو فلسفہ کی علمبردار ہیں اور اسی سبب سے نبی ﷺ نے انھیں دجال(عظیم فریب کار ) قرار دیا۔‘‘
غامدی صاحب نے دجال کے شخص ہونے کا انکار کیا حالانکہ دجال کا ایک شخص ہونا اور حضرت عیسیٰ ؑ کا اس کوہلاک کرنا واضح طور پر احادیث اور کتاب مقدس میں موجود ہے ۔کتاب مقدس میں ہے :
’’کسی طرح کسی کے فریب میں نہ آنا کیونکہ وہ دن نہیں آئے گا جب تک کہ پہلے برگشتگی نہ ہو اور وہ گناہ کا شخص یعنی ہلاکت کا فرزند ظاہر نہ ہوجو مخالفت کرتا ہے اور ہر ایک سے جو خدا یا معبود کہلاتا ہے، اپنے آپ کو بڑا ٹھہراتا ہے،یہاں تک کہ وہ خدا کے مقدس میں بیٹھ کر اپنے آپ کو خدا ظاہر کرتا ہے ۔کیا تمھیں یاد نہیں کہ جب میں تمھارے پاس تھا توتم سے یہ باتیں کہا کرتا تھا ؟اب جو چیزاسے روک رہی ہے تا کہ وہ اپنے خاص وقت پر ظاہر ہو، اس کو تم جانتے ہو ۔کیونکہ بے دینی کا بھید تو اب بھی تاثیر کرتا جاتا ہے مگر اب ایک روکنے والا ہے اور جب تک کہ وہ دور نہ کیا جائے گا روکے رہے گا ۔اس وقت وہ بے دین ظاہر ہو گا جسے خداوند یسوع اپنے منہ کی پھونک سے ہلاک اور اپنی آمد کی تجلی سے نیست کرے گا۔اور جس کی آمد شیطان کی تاثیر کے موافق ہر طرح کی جھوٹی قدرت اور نشانوں اور عجیب کارناموں کے ساتھاور ہلاک ہونے والوں کے لیے ناراستی کے ہر طرح کے دھوکے کے ساتھ ہوگی۔‘‘
اگر ہم ذیل میں دی گئی دو احادیث پر غور کریں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھی دجال کے بارے میں اسی قسم کی تعلیمات دی ہیں جو کہ کتاب مقدس میں موجود ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ صحابہ کرام کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی جیسے کہ وہ اس کے لائق ہے پھر آپ نے دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا :
انی انذرکموہ و ما من نبی الا انذر قومہ لقد انذرہ نوح قومہ و لکن سا قول لکم فیہ قولا لم یقل نبی لقومہ تعلمون انہ اعور و ان اللہ لیس باعور۔
’’میں تمہیں اس (دجال)سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو۔یقیناًحضرت نوح نے بھی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا تھا لیکن میں تمھیں دجال کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں جو کہ کسی بھی نبی نے اس سے پہلے اپنی قوم کو نہیں بتائی،تم جان لو کہ دجال کانا ہے اور(معاذاللہ) اللہ سبحانہ وتعالیٰ کانا نہیں ہے ۔‘‘
یہ حدیث دجال کے بارے میں کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق کر رہی ہے کیونکہ حدیث میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایااور حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس میں شامل ہیں ۔ایک دوسری حدیث کے، جو حضرت مجمع بن جاریہ سے مروی ہے، الفاظ یہ ہیں :
سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد ۔
’’میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم مسیح الدجال کو مقام ’لد ‘ پر قتل کریں گے۔‘‘
یہ حدیث بھی کتاب مقدس کے اس بیان کی تصدیق کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بن مریم دجال کو قتل کریں گے ۔ کتاب مقدس کی مذکورہ بالاآیات اور احادیث مبارکہ سے قطعی طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دجال ایک شخص معین کا نام ہے جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔
حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے ہمیں ایک دن دجال کے بارے میں ایک لمبی حدیث بیان فرمائی ۔اس میں آپ نے فرمایا کہ دجال ایک دن مدینہ کا رخ کرے گا لیکن اس کے لیے شہر مدینہ میں داخلہ ممکن نہ ہوگا اور وہ مدینہ کے باہر قیام کرے گا تو ایک دن اہل مدینہ میں سے ایک انتہائی نیک آدمی اس کے پاس آئے گااور وہ آدمی دجال سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو دجال ہے‘تو اس وقت دجال لوگوں سے کہے گا :
ارایتم ان قتلت ھذا ثم احییتہ اتشکون فی الامر فیقولون لا فیقتلہ فیقول حین یحییہ واللہ ما کنت فیک قط اشد بصیرۃ منی الآن قال فیرید الدجال ان یقتلہ فلا یسلط علیہ
’’بھلاتم دیکھو اگر میں اس شخص کو قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم پھر بھی میرے بارے میں شک کرو گے تو وہ لوگ کہیں گے نہیں ،تو اس وقت دجال اس نیک آدمی کو قتل کر دے گا اور جب دجال اس نیک آدمی کودوبارہ زندہ کرے گاتو وہ نیک آدمی اس سے کہے گااللہ کی قسم اب تو مجھے تیرے بارے میں حد درجے یقین ہو گیا ہے کہ توو ہی مسیح الدجال ہے۔ پس دجال اس آدمی کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن کامیاب نہ ہو گا ۔ ‘‘
یہ حدیث بھی کتاب مقدس کی درج بالاآیت کی تصدیق کر رہی ہے کہ دجال ایک بہت بڑا شعبدہ باز ہو گا۔ بہرحال احادیث ،دجال کے بارے میں کتاب مقدس کی آیات کی تصدیق کرتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کے علاوہ عیسائی دنیا بھی جس دجال کو اپنی کتابوں کے حوالے سے جانتی ہے وہ ایک معین شخص ہے نہ کہ ایک ’اسم صفت ‘یا ’یاجوج ماجوج ‘یا امریکہ۔ ہمارے خیال میں صاحب قرآن کی کتاب مقدس کی آیات کی اس تصدیق کے بعد غامدی صاحب کو شخص دجال کی آمد کا اقرار کر لینا چاہیے ....احادیث کی بنیاد پر نہ سہی ،کتاب مقدس کی آیات کی بنیاد پر ہی سہی۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں گزشتہ دو سال سے ماہنامہ’’الشریعہ ‘‘کا خریدار ہوں۔ یہ رسالہ دینی جرائد ورسائل میں خصوصی نوعیت کا حامل ہے۔اس کے مضامین میں دور جدید کے تقاضوں کا شعور جھلکتا ہے۔ روایتی مذہبی طرز فکر کے ماحول میں یہ تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کے مانند ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔
مدیر شہیر مولانا زاہد الراشدی عالمی اور بین الاقوامی حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ اس وقت مغرب اور اس کی تہذیب چو طرفہ انداز سے اسلام اور مسلمانوں پر حملہ آور ہے۔ ان حالات میں ہماری قومی دفاعی پالیسی کیا ہونا چاہیے؟ ہم کس حد تک مغربی فکروتہذیب سے اشتراک کرسکتے ہیں اور کہاں کہاں ہم ان سے بہتر ہیں؟ ان سوالات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور طبقہ علما میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد بڑھنی چاہیے جو مغربی طرز تکلم میں نئی نسل سے ہم کلام ہوں اور انہیں اسلام اور مشرقی تہذیب کی خوبیاں سمجھائیں اور اپنے دین کی جدوجہد کا قائل کریں۔
محمد عبد اللطیف الانصاری 
مکان نمبر ۱۶۲۲ ۔ اقبال کالونی 
یونٹ نمبر ۱۲ ۔ لطیف آباد ۔ حیدر آباد
(۲)
محترم ومکرم زاہد الراشدی صاحب،
تسلیمات،
میں اس شخصیت کا ازحد ممنون احسان ہوں جس نے اس فہرست میں میرا نام درج کیا جو اعزازی طور پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ وصول کرنے والوں کے لیے آپ نے ترتیب دی ہے ۔
میں ایک گنہ گار آدمی ہوں اور ہمیشہ اس تگ ودومیں رہتاہوں کہ اپنے گنہ کم کرنے کے لیے اور کچھ نہیں تو دین سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرلوں۔یقین جانیے کہ میرے جیسے دنیا پرست انسان کے لیے آپ کا جریدہ علم وآگہی ،عرفان دین، شعور انسانیت ، اور اغیار کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے واقفیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کے جریدے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی نہیں ہے، بلکہ اس میں چھپنے والے مضامین کی بنیاد جدید سائنسی اور تحقیقی مواد ہے۔خصوصاً مغرب کو مغرب کے انداز میں جواب دینے کا اسلوب بے پناہ تعریف کے قا بل ہے۔ آپ کے جریدے میں بہت سے نام ایسے نظر آتے ہیں جن کی نیاز مندی کا شرف مجھے حاصل ہے۔ میں ان شاء اللہ بہت جلد حاضر ہوں گا تاکہ آپ کا نیاز مند کہلانے کا اعزاز بھی حاصل کرسکوں۔
نیاز حسین لکھویرا 
ریزیڈنٹ ڈائریکٹر
پاکستان آرٹس کونسل۔ گوجرانوالہ
(۳)
محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا تازہ شمارہ ملا۔ اس نوازش اور کرم نوازی کا بے حد شکریہ۔ یہ مختصر سا رسالہ علمی وادبی جرائد میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مباحثہ ومکالمہ کے مضامین نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک خط میں جناب شبیر احمد میواتی صاحب نے ڈاکٹر یوگندر سکند صاحب کا ذکر کیا تھا۔ اس شمارے میں ان کے بارے میں پڑھنے کو ملا۔ ماشاء اللہ دیکھا جائے تو الشریعہ میں سب کچھ ہی پڑھنے کے قابل ہے۔ یاد فرمائی کا شکریہ!
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور سلامتی کے ساتھ قائم رکھے۔
جاوید اختر بھٹی
۱/۵۱۷ ،ریلوے روڈ ملتان
(۴)
باسمہ سبحانہ
بخدمت گرامی قدر جناب حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامی؟
چند ماہ یا شاید سال پہلے ’الشریعہ‘ میں احقر کا ایک خط چھپا تھا جس میں احقر نے کسی حوالے سے (تفصیل یاد نہیں) کہا تھا کہ اس موضوع پر جماعت اسلامی کی بعض مطبوعات پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ خط کیا چھپا، اعتراضات کا طوفان برپا ہو گیا۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بندہ کی ایک نہ سنی۔ مفتی نہ ہونے کے باوجود فتویٰ کی زبان استعمال کرتے چلے گئے۔ احقر ان کے خلوص وجذبات کے احترام میں چپ رہا۔ کئی احتجاجی خطوط بھی آئے۔ تب احقر کو اندازہ ہوا کہ آپ ’الشریعہ‘ میں مختلف افکار کے حامل مضامین شائع کر کے کس قدر تنقید کا سامنا کرتے ہوں گے۔ ایک صاحب نے تو باقاعدہ جماعت اسلامی کی مطلوبہ کتب کی فہرست بھی طلب کر ڈالی۔
اس خط کے ذریعے تمام قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ
۱۔ احقر الحمد للہ مسلک دیوبند پر پوری طرح کاربند ہے اور مولانا مودودیؒ کے متنازعہ افکار میں اکابر علماے دیوبند پر پوری طرح کاربند ہے۔ یہ بات تو آپ ذاتی طور پر بھی جانتے ہیں۔
۲۔ احقر کو ہر ماہ مفت میں ’ترجمان القرآن‘ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ ایک طالب علم ہونے کے ناتے اور کچھ پڑھوں نہ پڑھوں، لیکن تبصرۂ کتب کو ضرور پڑھتا ہوں۔ نئی نئی کتب کا علم ہوتا رہتا ہے۔ احقر نے اپنے مخصوص حالات کے سبب کوئی فہرست نہیں بنائی، نہ ہی ارادہ ہے، لیکن بعض کتب جو کہ ملکی وعالمی تناظر میں لکھی گئی ہیں، وہ بہرحال اچھی لگتی ہیں۔ نام سے ہی انداز ہ ہو جاتا ہے۔ کسی صاحب کو ضرورت ہو تو ’ترجمان القرآن‘ کے کچھ شمارے دیکھ لیں۔
آخر میں یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ’الشریعہ‘ جیسے فکری جریدہ کے ان معترض قارئین کی سخن فہمی وسخن شناسی کا یہ عالم حیران کن ہے۔ کم از کم ’الشریعہ‘ کے قارئین سے اس کی توقع نہ تھی۔
والسلام
(مولانا) مشتاق احمد
استاذ جامعہ عربیہ، چنیوٹ
(۵)
محترمی ومکرمی جناب مدیر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کی خصوصی نوازش سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے۔ رئیس التحریر کا ’کلمہ حق‘ فکر ونظر کے کئی نئے زاویے لیے ہوتا ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
حالیہ شمارے میں آپ کا مضمون یقیناًسادگی اور ندرت فکر کا نمونہ تھا۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن کی قلمی کاوشیں قابل داد ہیں، تاہم بعض مضامین میں غیر ضروری مبالغہ اور تصنع سے کام لیا جاتا ہے۔ 
خواہش ہے کہ آپ کے تحت چلنے والے مدارس کے فضلا وطلبا کی علمی مضامین بھی مجلہ کی زینت بنیں۔ مسلکی اعتدال وقت کی ضرورت ہے، تاہم اعلاے کلمہ اللہ، حق کا اظہار اور باطل کی تردید آپ کی بزرگوں کی علمی روایت ہے۔ اسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔
والسلام
عاصم نعیم
شعبہ علوم اسلامیہ۔ یونیورسٹی آف سرگودھا

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تبلیغی جماعت کا آغاز وارتقا‘‘

The Origins and Development of the Tablighi Jamaat (1920-2000)
مصنف: یوگندر سکند
صفحات: ۳۱۰+۱۲۔ قیمت ۵۹۵ روپے۔ پہلا ایڈیشن ۲۰۰۲ پیپر بیک۔ 
ناشر: 
Oriental Longman Pvt. Ltd. 1/24 Asaf Ali Road, New Delhi-110002
یوگندر سکند ہمارے ملک میں اور کسی حد تک دنیا میں ایک نوجوان ’’ماہر اسلامیات‘‘ مانے جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی ابتدا اور ترقی کے بارے میں ان کی زیر تبصرہ کتاب دراصل وہ تحقیق ہے جو انھوں نے لندن یونیورسٹی کے ایک ماتحت ادارے سے اس موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے پیش کی تھی۔ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر تاریخ جنوب ایشیا فرانسس رابنسن کا خیال ہے کہ سکند آگے چل کر بین الاقوامی منظر پر اس صدی کے نصف اول کے ایک سرکردہ ماہر اسلامیات بن کر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تبلیغی جماعت پر اب تک انگریزی میں اس سے پہلے صرف تین مصنفوں کی کاوشیں ہی عام طور سے لوگوں کے علم میں تھیں۔ یہ ڈاکٹر انوار الحق، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور خالد مسعود کی تصنیفات ہیں۔
یوگندر سکند نے تبلیغی جماعت کے بارے میں اپنی اس تحقیق کو معتبر اور مدلل بنانے کے لیے محنت شاقہ صرف کی ہے اور ان کے دل کے کسی گوشے میں تعصب کی کارفرمائی بالعموم نظر نہیں آتی۔ اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ایسے دور میں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں اور اس بنیاد کے حامل مسلم اداروں تک کے بارے میں من گھڑت باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، تبلیغی جماعت کے پھیلاؤ کی انھوں نے جو تصویر کشی کی ہے، وہ مغربی دنیا کو ہیبت زدہ کر سکتی ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ملکوں میں تبلیغی جماعت کا وجود ہے۔
مصنف نے تمہیدی صفحات کے بعد کتاب کے ابتدائی حصہ میں دکھایا ہے کہ کس طرح تبلیغ کی اس تحریک نے ۱۹۲۰ کے عشرہ میں شدھی کی شرانگیز اور زہریلی مہم کے پس منظر میں جنم لیا جو کہ برطانوی حکومت کی اس حکمت عملی کے بطن سے پیدا ہوئی تھی کہ عوام میں مذہبی بنیاد پر تفریق پیدا کی جائے۔ اس حکمت عملی کے تحت پہلی مرتبہ مذہب پر مبنی مردم شماری شروع کی گئی۔ شدھی مہم کا مقصد متحدہ پنجاب کے میوات اور دوسرے علاقوں میں ہندووں کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ دکھانا تھا کیونکہ مردم شماری ہندووں اور مسلمانوں کے مابین واضح خط فاصل کھینچ رہی تھی جو کہ پہلے رسوم ورواج کے اعتبار سے بڑی حد تک باہم خلط ملط تھے۔
تبلیغی تحریک کی بنیادیں ہندوستان میں علما کے نئے فکری، یعنی عوامی رجحانات تک پہنچتی ہیں جن کو ۱۸ویں صدی عیسوی کے آغاز سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے شروع کیا۔ یہ رجحانات مغلیہ زوال کے حالات میں عوام کے اندر اسلام کی افادیت باقی رکھنے کے لیے وجود میں آئے تھے۔ صرف انھی دو حقائق کا کتاب میں تذکرہ ظاہر کر دیتا ہے کہ مصنف نے سنجیدہ تحقیق وجستجو کی کوشش ضرور کی ہے، خواہ اس میں مکمل کامیابی نہ حاصل ہوئی ہو۔ مغربی دنیا میں اسلامی تنظیموں اور تحریکوں کے بارے میں مطالعات کا عام ڈھرہ یہ ہے کہ پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے کہ کسی کتاب، فلم یا دوسری کاوش کے ذریعہ ناظرین کو کیا پیغام دینا اور کیا ثابت کرنا ہے۔ پھر اس نہج پر لکھنے کے لیے من مانے اور قطع وبرید شدہ حقائق، واقعات یا بیانات اکٹھا کر کے ان کو بطور شواہد پیش کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ تصنیف اس راستے سے الگ ہے۔ اس میں صرف یہ کیا گیا ہے کہ مولانا الیاس کاندھلوی کا تبلیغی مشن اور تبلیغی جماعت کی سن ۲۰۰۰ تک کی معروضی روداد بیان کر دی گئی ہے اور اس کو مصدقہ بنانے کے لیے معروف اسلامی عالموں ومصنفوں کے حوالے ہر صفحہ پرموجود ہیں۔
اس کے باوجود یوگندر سکند کی اس کوشش کو بے عیب نہیں کہا جا سکتا۔ تبلیغی جماعت کی ابتدا کس سن میں ہوئی، کیا یہ ایک جماعت یا تنظیم ہے یا صرف تحریک (یہاں جماعت، تبلیغ کے لیے نکلنے والی ٹولی کو بھی کہتے ہیں) حضرت مولانا الیاس کی پیدایش کس سن میں ہوئی، ان تمام سوالات کے حوالے سے معلومات کا ابہام اتنی کدو کاوش کے بعد بھی موجود ہے۔ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ تبلیغی جماعت کا وجود ۱۹۲۰ سے ہے لیکن کئی معتبر کتابوں میں ان تبلیغی جماعتوں یا اسفار کا آغاز اس کے کئی سال بعد بتایا گیا ہے۔ ندوۃ العلماء سے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی نگرانی میں مولانا محمد یوسف کی زندگی پر شائع ہونے والی کتاب (مولف: مولانا سید محمد رابع ثانی حسنی) میں مولانا الیاس کا سن پیدایش ۱۳۰۳ ہجری اور ان کا پیدایشی نام الیاس اختر بتایا گیا ہے۔ سکند نے سن پیدایش ۱۸۸۵ اور نام اختر الیاس بتایا ہے۔ دونوں میں سے ایک یا پھر دونوں ہی مشکوک ہیں۔ مذکورہ سن عیسوی اول الذکر سن ہجری سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کیا حضرت مولانا الیاس کے اس مشن میں کامیاب ہے کہ مسلمانوں کے کردار اور ذہن کو قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھالا جائے؟ کیا وہ گزشتہ ۶۰، ۶۲ برسوں میں اس منزل کی طرف آگے بڑھی ہے؟ کیا ڈیڑھ سو یا جتنے بھی ملکوں میں اس کا وجود ہے، وہاں کے معاشرے کے کسی قابل لحاظ حصے میں اس نے اپنے اثرات چھوڑے ہیں؟ کتاب ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے۔ تاہم مصنف کی اس تحقیقی کاوش کی ستایش کی جانی چاہیے۔
(تبصرہ نگار: ریاض قدوائی۔ بشکریہ ’اردو بک ریویو‘ دہلی)

’’تذکرۃ المصنفین المعروف بہ تراجم العلماء‘‘

حضرت مولانا مفتی ابو القاسم محمد عثمان قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے۔ ان کا تعلق چھچھ کے علاقہ سے تھا اور دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلا میں سے تھے۔ آپ کے دادا حضرت مولانا فضل حق شمس آبادیؒ ترک وطن کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے اور مدرسہ صولتیہ کے بانی حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے شرف تلمذ حاصل کیا تھا۔ انھوں نے وہاں شادی بھی کر لی تھی مگر علاقہ چھچھ کے علماء کرام اور احباب کے اصرار پر واپس آئے اور شمس آباد میں دینی تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا جسے ان کے فرزند حضرت مولانا مفتی محمد عمر شمس آبادیؒ اور پوتے حضرت مولانا مفتی محمد عثمان شمس آبادیؒ نے آگے بڑھایا اور اب اس دینی وعلمی سلسلہ کو ہمارے محترم دوست حضرت مولانا قاری امداد اللہ قاسمی زید مجدہم برمنگھم برطانیہ کے معروف دینی مرکز ’’مسجد حمزہؓ‘‘ میں قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی محمد عثمان شمس آبادی نے ساری زندگی درس وتدریس میں گزاری اور انھیں پورے علاقہ میں ایک ثقہ اور معتمد مفتی کا مقام حاصل تھا۔
انھوں نے اپنے زمانہ تدریس میں درس نظامی کے نصاب میں زیر درس رہنے والی کتابوں کے مصنفین کے تعارف پر ایک کتاب تصنیف کی جو ان کی زندگی میں طبع نہ ہو سکی اور اب مولانا قاری محمد امداد اللہ قاسمی کی نگرانی میں القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ، خالق آباد، ضلع نوشہرہ نے اسے شائع کیا ہے جو بہت سے مصنفین اور علماے کرام کے ترجمہ وتعارف کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر علمی نکات کا مجموعہ بھی ہے۔
بڑے سائز کے پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
(ابو عمار زاہد الراشدی)

’’خانوادۂ نبوی وعہد بنی امیہ‘‘

ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ہمارے ملک کے ممتاز محققین میں سے ہے۔ تاریخ ان کا خصوصی موضوع ہے اور تاریخ کے مختلف عنوانات پر ان کے گراں قدر مقالات اہل علم سے داد وتحسین وصول کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انھوں نے بنو امیہ کے عہد حکومت میں خاندان نبوت کے حالات اور ان کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے اور بعض اہل علم کے پیش کردہ اشکالات واعتراضات کا جواب دیا ہے۔ بہت سے امور میں ان کے پیش کردہ نتائج سے اختلاف کی گنجایش موجود ہے مگر ان کی محنت اور تحقیق بہرحال قابل داد ہے۔ 
اڑھائی سو سے زائد صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت دو سو روپے ے اور اسے مکتبہ سید احمد شہیدؒ ، الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’قرآن کریم کی روشنی میں‘‘

یہ محترم ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مختلف مسائل اور موضوعات پر قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں دیے۔ ان موضوعات میں جہاد، پردہ، ازدواجی زندگی، بین الاقوامی معاملات، اسلام کا نظریہ مال ودولت اور آداب معاشرت جیسے اہم مسائل بھی شامل ہیں۔
ساڑھے چار سو سے زائد صفحات کا یہ مجلد مجموعہ مرکز فہم القرآن ۱۴۔۱۵ فرسٹ فلور، ڈیلا والا سنٹر، شون چورنگی بلاک ۹، کلفٹن کراچی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت دو سو پچاس روپے ہے۔

’’تفسیر گوہر بیان‘‘ (جلد اول)

جامعہ اویسیہ گوہریہ (پکا گڑھا) بونکن روڈ سیالکوٹ کے بانی علامہ محمد شاہد جمیل اویسی نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کے ترجمہ قرآن کریم ’’کنز الایمان‘‘ کے ساتھ اسی ذوق کے مطابق مختلف تفاسیر قرآن کریم سے تفسیری اقوال ونکات کی تلخیص کا مندرجہ بالا عنوان کے تحت آغاز کیا ہے۔ اس کی پہلی جلد ہمارے سامنے ہے جو قرآن کریم کے پہلے پارے پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے قرآن کریم کے حروف والفاظ اور دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے بہت سی معلومات اور اعداد وشمار بھی مرتب کر دیے ہیں۔
پہلی جلد ساڑھے چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی قیمت تین سو روپے ہے اور اسے مندرجہ بالا پتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’’اذکار سیرت‘‘

معروف ماہر تعلیم پروفیسر سید محمد سلیم مرحوم کے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف مضامین کا مجموعہ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز ، اے۔۴/۱۷ ناظم آباد ۴، کراچی ۱۸ نے شائع کیا ہے جس میں مختلف عنوانات کے تحت سیرت طیبہ کے حوالے سے مفید معلومات پیش کی گئی ہیں۔ ۲۴۰ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔

’’مقالات سیرت‘‘

فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کے سیرت نبوی کے موضوع پر مختلف مضامین کو ان کے لائق فرزند مولانا قاری خلیل احمد تھانوی نے مرتب کیا ہے اور اسے ادارۃ اشرف التحقیق دار العلوم الاسلامیہ، کامران بلاک ، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے۔ پونے دو سو صفحات کی مجلد کتاب کی قیمت درج ہے۔

’’تعلیمات اسلام‘‘

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ اعظم حضرت مولانا شاہ مسیح اللہؒ نے اسلامی تعلیمات کو تعلیم وتدریس کے لیے سوال وجواب کی صورت میں مرتب فرمایا ہے جو عقائد و عبادات سے لے کر معاملات واخلاق تک تمام ضروری پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا یہ گراں قدر مجموعہ مولانا وکیل احمد شیروانی کی نگرانی میں مکتبہ فیض اشر ف، بیت الاشرف، ۷۸۔ اے ماڈل ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے جو سکولوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے بطور خاص مفید ہے۔ اس کے پانچ حصے ایک جلد میں یکجا شائع کیے گئے ہیں اور قیمت درج نہیں ہے۔

’’مفتی محمودؒ سے ملیے‘‘

کراچی کے جناب مولانا قطب الدین عابد نے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے افکار وخیالات اور ارشادات وتعلیمات کو خوب صورت ترتیب کے ساتھ اس کتاب میں جمع کیا ہے جن میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے حالات وخدمات کے ساتھ ساتھ ان کے اکیس کے لگ بھگ انٹرویوز بھی شامل ہیں جو انھوں نے مختلف اوقات میں اہم جرائد کو دیے اور یہ انٹرویوز بلاشبہ اس دور کی دینی جدوجہد اور قومی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔
ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مفتی محمود اکیڈمی، کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے جمعیۃ پبلی کیشنز متصل مسجد پائلٹ ہائی اسکول، وحدت روڈ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’تذکار محمود رحمہ اللہ تعالیٰ‘‘

۱۹۹۶ء کے دوران بنوں میں حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی یادمیں منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالات ومضامین کو ہمارے فاضل دوست محمد فاروق قریشی نے حسن ذوق کے ساتھ مرتب کیا ہے جو حضرت مفتی صاحب کی زندگی، خدمات اور تعلیمات کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ سوا تین سو کے لگ بھگ صفحات کا یہ مجلد مجموعہ مفتی محمود اکیڈمی کراچی نے شائع کیا ہے۔ اس کی قیمت دو سو روپے ہے اور مندرجہ بالا پتہ سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

سیرت نبوی پر القاسم اکیڈمی کی مطبوعات

خیر القرون سے اب تک سیرت طیبہ پر مختلف زبانوں میں ہزاروں کتب شائع ہو چکی ہیں، لیکن اپنی کم مائیگی کا احساس ہر سیرت نگار کو دامن گیر رہتاہے اور خاتمہ کلام کے لیے اسے ’’ بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر‘‘ ہی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مولانا عبد القیوم حقاّنی ملک کے معروف مصنف ہیں اور مختلف موضوعات پر بیسیوں تصانیف ان کے حسن علم وقلم کا ثبوت ہیں۔ مولانا نے سیرت نبوی پر معروف ومتداول کتاب ’شمائل ترمذی‘ کی ضخیم شرح تقریباً ۱۶۰۰ صفحات میں تالیف کی ہے، تاہم عوام الناس کی سہولت کے پیش نظر اس کے بعض اجزا کو مستقل عنوانات کے تحت الگ شائع کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ تین کتب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ 
پہلی کتاب کا عنوان ’’جمال محمد ﷺ کا دلربا منظر ‘‘ ہے اور اس میں نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کے تمام اعضا ء کا ۲۲ احادیث کی روشنی میں مفصل ومدلل ذکر کیا گیاہے۔ ابتدا میں قاری کی سہولت کی خاطر حدیث کے متعلق چند ضروری اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے جبکہ بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا مفہوم سہل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ۲۰۶صفحات پر مشتمل مجلد کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے ۔
دوسری کتاب حصہ’’روئے زیبا ﷺ کی تابانیاں ‘‘ کے خوبصورت نام سے معنون ہے اور اس میں آپﷺ کی زلفوں،مانگ، تیل،کنگھی اور مسنون لباس سے متعلق شمائل کی ۴۸ ؍احادیث کی عالمانہ توضیح وتشریح کی گئی ہے۔ ۱۵۶ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتاب کی قیمت ۹۹ روپے ہے ۔
’’آفتاب نبوت ﷺ کی ضیا ء پاشیاں ‘‘ کے عنوان سے تیسری کتاب میں مولف نے حضور نبی کریم ﷺ کے پسندیدہ کھانے، مرغوب مشروبات، پسندیدہ پھل، کھانے پینے اور مہمان نوازی کے مسنون آدا ب کے ضمن میں شمائل کی ۱۷۷؍ احادیث کی سلیس تشریح کی ہے۔
مصنف کا انداز بیان عمدہ اور عشق نبوی ﷺ سے بھر پور ہے اور یہ کتب مجموعی لحاظ سے عوام وخواص اورطلبا، سب کے لیے یکساں مفید ہیں۔ رنگین اوردیدہ زیب سرورق نے کتب کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیاہے۔ تینوں کتب القاسم اکیڈمی ،جامعہ ابو ہریرہؓ خالق آباد نوشہرہ نے شائع کی ہیں۔
(ادارہ)

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کا انتقال

ادارہ

’الشریعہ‘ کی مجلس ادارت کے رکن پروفیسر میاں انعام الرحمن کے والد محترم اور گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانویؒ گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر کم وبیش پچھتر برس تھی اور وہ کچھ عرصہ سے صاحب فراش تھے۔
علامہ صاحب مرحوم کا تعلق علماے لدھیانہ کے اس معرو ف خاندان سے تھا جس نے برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف برصغیر کی تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا اور خطہ پنجاب میں دینی جدوجہد کی ایک عرصہ تک قیادت کی۔ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ، علامہ محمد احمد لدھیانوی مرحوم کے خالو تھے جبکہ علامہ صاحب کے والد محترم حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانویؓ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ 
علامہ صاحب مرحوم کے بڑے بھائی حضرت مولانا عبد الواسع لدھیانویؒ مجلس احرار اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں شمار ہوتے تھے، جبکہ خود علامہ صاحب نے مجلس احرار اسلام اور پھر جمعیۃ علماے اسلام کے پلیٹ فارم پر دینی وسیاسی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ ایک عرصہ تک جمعیۃ علماے اسلام گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست راست رہے۔ انھوں نے تحریک ختم نبوت اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں متعدد بار جیل یاترا کی۔ وہ ایک جری اور بے باک خطیب تھے۔ کم وبیش ربع صدی تک ضلعی امن کمیٹی کے رکن رہے، مگر وزرا اور سرکاری حکام کے سامنے بلاتکلف اظہار حق کے عادی تھے اور کسی جھجھک کے بغیر دوٹوک بات سب کے سامنے کہہ دیا کرتے تھے۔
علامہ صاحب ’الشریعہ‘ اور الشریعہ اکادمی کے پروگراموں سے خصوصی دل چسپی رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً مشوروں اور نصائح سے نوازتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔