مغرب، توہین رسالت اور امت مسلمہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
یورپ کے بعض اخبارات کی طرف سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی پر عالم اسلام میں اضطراب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان کی کم وبیش تمام دینی وسیاسی جماعتوں نے ۳؍ مارچ کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے جس کی تیاریاں ملک بھر میں ہر سطح پر جاری ہیں۔ قوم کا مطالبہ یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا اہتمام کرنے والے اخبار کے ملک ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں اور مغربی میڈیا کی اسلام دشمن مہم اور سرگرمیوں کا اسلامی سربراہ کانفرنس کی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ وزیر اعظم جناب شوکت عزیز نے ایک بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے مسئلے کا او آئی سی کے فورم پر جائزہ لیا جائے گا۔
ڈنمارک کے اخبار ’’جلینڈ پوسٹ‘‘ نے جناب سرور کائنات ﷺ کے یہ گستاخانہ کارٹون محض اتفاق کے طورپر شائع نہیں کیے تھے بلکہ اس کے لیے کار ٹونسٹوں میں باقاعدہ مقابلہ کرایا گیا اور دعوت دے کر بہت سے خاکے بنوائے گئے اور ان میں سے بارہ منتخب خاکے شائع کیے گئے۔ پھر اسی پر بس نہیں، ان توہین آمیز کارٹونوں پر مسلمانوں کاردعمل دیکھ کر بھی فرانس، نار وے، اسپین اور دوسرے ملکوں کے اخبارات نے ان خاکوں کودوبارہ شائع کیا اور بہت سی انٹرنیٹ سائٹس پر ان کی تشہیر کی گئی۔ یہ واضح طور پر مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے اور ان کے رد عمل کی سطح اور کیفیت کوجانچنے کی ایک منظم کوشش ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمان بجا طورپر اپنے ایمانی جذبات اور غیرت وحمیت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ان کی رد عمل کی شدت میں اضافہ ہو رہاہے۔
جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو وہ اپنے ذہن سے وحی اور پیغمبر دونوں کو اتار چکاہے اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب کے پاس نہ وحی اصل حالت میں موجود ہے اور نہ ہی پیغمبروں کے حالات وتعلیمات کاکوئی مستند ذخیرہ اسے میسر ہے۔ اس لیے اس نے سرے سے ان دونوں سے پیچھا ہی چھڑا لیا ہے اوراب وہ مسلمانوں سے یہ توقع اور پر زور مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھی وحی اور پیغمبر کو اپنے ذہن سے اتار دیں اور اپنے جذبات اور احساسات کے دائرے میں انہیں کوئی جگہ نہ دیں، لیکن مغرب یہ توقع اور مطالبہ کرتے ہوئے یہ معروضی حقیقت بھول جاتاہے کہ مسلمانوں کے پاس یہ دونوں چیزیں اصلی حالت میں موجود ومحفوظ ہیں۔ قرآن کریم بھی اصلی حالت میں ہے اور جناب نبی کریمﷺ کے حالات زندگی، تعلیمات اورارشادات بھی پورے استناد اور تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کے پاس موجود ہیں، اور صرف لائبریریوں کی زینت نہیں بلکہ یہ دونوں چیزیں پڑھی جاتی ہیں، پڑھائی جاتی ہیں، لکھی جاتی ہیں ،شائع ہوتی ہیں اوردنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک سے محروم نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں سے مغرب کی یہ توقع اور مطالبہ کہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دست بردار ہوجائیں گے، ایک سراب کے پیچھے بھاگنے کے سوا کوئی معنویت نہیں رکھتا۔ ورلڈ میڈیا، بین الاقوامی لابیوں ،مغربی فکروفلسفہ کی برتری کا مسلسل ڈھنڈورا پیٹنے والے نام نہاد مسلمان دانشوروں اور مغرب نواز مسلمان حکومتوں کی تمام تر منفی کارروائیوں ،پروپیگنڈے اور پالیسیوں کے باوجود دنیا بھر کے عام مسلمان آج بھی جناب نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ رکھتے ہیں اور اس کمٹمنٹ کوکمزور کرنے کی کوئی کوشش کسی بھی حوالے سے کامیاب نہیں ہو رہی جو جناب نبی کریم ﷺ کے اعجاز کاآج کے دور میں کھلا اظہارہے۔
بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ڈنمارک کے جس اخبار نے جناب نبی کریم ﷺ کے گستاخانہ خاکے اور کارٹون شائع کرکے دنیائے اسلام کے غیظ وغضب کودعوت دی ہے، اس اخبار کے مالکان نے مسلمانوں کے اس غصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے اپنے طورپر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اخبار میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھی اتنے ہی خاکے اور کارٹون شائع کیے جائیں گے جتنے جناب نبی کریم ﷺ کے حوالے سے شائع کیے گئے ہیں۔ اگر ڈنمارک کے گستاخ رسول اخبار کے مالکان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا حضرت عیسیٰ کے گستاخانہ خاکے شائع کرکے صورت حا ل کو بیلنس کرسکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے اور وہ شدید غلط فہمی کا شکارہیں۔ اس سے مسلمانوں کے غصے میں کمی نہیں ہوگی بلکہ ان کے رنج وغصہ میں اضافہ ہوگا، اس لیے کہ مسلمان سیدنا حضرت عیسیٰ کابھی اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسے سیدنا محمد ﷺ کی عقیدت واحترام ان کے دل میں ہے، اور جس طرح سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ان کے لیے ناقابل برداشت ہے، اسی طرح سیدنا حضرت عیسیٰ بلکہ اللہ تعالی کے کسی بھی سچے پیغمبر کی شان اقدس میں گستاخی ناقابل برداشت ہے اور قرآن وسنت میں اسی بات کاحکم دیاگیاہے۔ البتہ اس سے یہ دلچسپ صورت حال ضرور پیداہوجائے گی کہ مسیحی کہلانے والے لوگ حضرت عیسیٰ کی شان میں گستاخی کررہے ہوں گے اور حضرت محمد ﷺ کی امت کے غیرت مند لوگ حضرت عیسیٰ کے ناموس و تحفظ کاپرچم اٹھائے اس بے ہودگی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہوں گے۔
ہم اس حوالہ سے پاکستان کی سیاسی ودینی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے تمام تر سیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ’قومی مجلس مشاورت‘ کی صورت میں متحد ہوکر مغرب سے دوٹوک کہہ دیا ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ کی حرمت وناموس کے مسئلہ پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی اور مغرب کو بہرحال اپنے گستاخانہ اور معاندانہ طرز عمل سے دست بردار ی کاکوئی واضح راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ’قومی مجلس مشاورت‘ نے ۳؍ مارچ کوملک گیر ہڑتال کا جو اعلان کیا ہے، اسے منظم طریقے سے کامیاب بنانے کی ضرورت ہے اور وقت کا یہ تقاضاہے کہ سارے ملک میں ہر سطح پر’’ قومی مجلس مشاورت ‘‘کے مطالبات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے اور ہر جماعت اور ہر طبقہ کوساتھ لے کر چلنے کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ مظاہروں کو ہرقیمت پر، پرامن رکھا جائے او ر اس بات سے ہر وقت چوکنا رہا جائے کہ کوئی شرپسند عنصر اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھا کر تحریک کارخ تشدد کی طرف نہ موڑ سکے ،کیونکہ تحریکیں تشدد کا رخ اختیا ر کر لیں تو ناکام ہو جایا کرتی ہیں۔
نسلی و مذہبی منافرت اور یورپی و عالمی قوانین
آغا شاہی
یورپی اخبارات میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلامؑ کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز کارٹونوں نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو مشتعل اور غضب ناک کردیا ہے۔ متعلقہ اخبارات کے مدیران آزادی اظہار کو اس ناپاک جسارت کا جواز قرار دیتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے خیال میں یہ فعل ’’جلتی پر تیل‘‘ انڈیلنے کے مترادف ہے۔ مذکورہ کارٹون ڈنمارک کے روزنامہ ’’جلینڈ پوسٹنز‘‘ میں شائع ہوئے۔ مبینہ طورپر اس اخبار کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ’’حساب برابر ‘‘ کرنے کے لیے جتنی تعداد میں رسول خداکے کارٹون چھاپے گئے ،اتنی ہی تعداد میں حضرت عیسیٰ کے کارٹون چھاپے جائیں گے۔ ان کارٹونوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تضحیک کاپہلو نمایاں ہو گا۔ یہ (حل یا طریق معذرت) مسلمانوں کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں،کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ کو بھی خدا کا پیغمبر اور نبی مانتے ہیں۔
آزادئ اظہار رائے کاحق لامحدود ہرگز نہیں اور شہری وسیاسی حقوق پر عالمی قانون (International Covenant on Civil and Political rights-ICCPR) کے ذریعے اس حق کو محدود کیا گیا ہے۔ امنِ عامہ اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے مذکورہ معاہدے کا احترام ضروری ہے۔ان توہین آمیز کارٹونوں کو دیکھ کرکسی بھی مسلمان کے غم وغصے کا عروج پر پہنچ جانا فطری سی بات ہے۔ دنیا کارٹونوں کی اس بات کو ’’تہذیبوں کے تصادم ‘‘(Clash of Civilisations) کا تمہیدی منظر قرار دے رہی ہے، یعنی ’’مغرب بمقابلہ اسلام‘‘ کے دور کا (ایک بار پھر)آغاز ہو چکا ہے۔
زیر بحث کارٹون پیغمبر اسلام ؑ سے یا دوسرے لفظوں میں اسلام سے نفرت کااظہار ہیں۔ ان کارٹونوں کو شائع کرکے ’’ہمہ قسم کے نسلی امتیاز (یاتعّصبات) کے خاتمے پر عالمی کنونشن‘‘کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے ۔یہ کنونشن نسلی برتری، نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب کو ابھارنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتاہے۔ اس کی رو سے اقوام متحدہ کی ہر رکن ریاست پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کے قابل تعزیر اقدامات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ ان کارٹونوں کو شائع کرکے دراصل ایک عالمی قانون کی نفی اور خلاف ورزی کی گئی ہے۔ آزادی اظہار کی آڑ میں عقیدہ اسلام کے حاملین یعنی مسلمانوں کے جذبات کو جس طرح مجروح کیا گیا ہے، اس کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ ان ملکوں میں موجود اسلامی تنظیمیں اور مسلمان قانونی ماہرین متعلقہ ملکوں کی بااختیار عدالتوں سے ’’محکم فیصلہ ‘‘(Ruling)حاصل کریں بلکہ ترجیحاً ’’انسانی حقوق کی یورپی عدالت‘‘ (European Court of Human Rights) سے رابطہ کریں تاکہ مسلمانوں کے زخموں کا کسی حد تک مداوا ہوسکے۔
CCPR اور ICERD جیسے معاہدوں سے ثابت ہو جاتاہے کہ آزادی اظہار رائے کا مطلب بے لگام آزادی ہرگز نہیں، بلکہ اس کی حدود وقیود کا باقاعدہ تعین کیا گیا ہے۔ان معاہدوں پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی واضح اکثریت نے دستخط کررکھے ہیں اور یورپی عدالتیں ان حدود وقیودکی توثیق کرتی ہیں۔ ICERDپر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور اسے مانیٹر کرنے کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ’’نسلی تعصبات کے خاتمے کی کمیٹی‘‘کے نام سے موسوم ہے۔ قانون کی رو سے نسلی برتری یا نسلی تعصب یا نسلی برتری کے نام پر نفرت پھیلانے کو مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔نسلی تفاخر کے نتیجے میں پید ہونے والی نسلی منافرت تشدد کو جنم دیتی ہے ،لہٰذا یہ فعل قانوناً ممنوع ہے اوراس کی سزا اظہار رائے کی آزادی سے ہم آہنگ ہے۔ اس حوالے سے صرف موزوں اور مناسب قانون سازی ہی کافی نہیں ،بلکہ قانون کا موثر نفاذبھی ضروری ہے ۔جو شہری آزادی اظہار کے حق سے استفادہ کرتے ہیں ،ان پر بعض خصوصی فرائض اورذمہ داریاں (خود بخود ) جاری ہو جاتی ہیں۔ (CERD کی عمومی سفارش xv)
اسلامی عقائد کے حامل افراد (مسلمان) جن کی توہین کی گئی ہے ،وہ گوروں کے اس طبقے سے مختلف طبقہ ہیں جس نے توہین کا آغازکیا یا جو توہین کے ذمہ دار ہیں، جسے ICERD اور CERD جرم قرار دیتے ہیں۔ شہریوں کو جو بنیادی آزادیاں اور انسانی حقوق ICCPR کے توسط سے حاصل ہیں، ’’انسانی حقوق کی کمیٹی ’’ان سے متعلقہ قوانین کی مفصل اور سیر حاصل توجیہ وتوضیح کرتی ہے۔ اس کمیٹی نے ’’فاریسن بنام فرانس‘‘ کیس میں دیے جانے والے عدالتی فیصلے کی توثیق کی تھی۔ اس عدالتی فیصلے کے تحت ’’یہودی مخالف کی دل جوئی اور انہیں سہارا دینے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بیانات کے اجرا پر پابندی عائد کر دی جائے جو یہودمخالف ہوں یا جن سے یہودیوں کے جذبات کوٹھیس پہنچتی ہو ۔ اس طرح یہودیوں کو مذہبی منافرت کی دفعہ (۲) ۲۰ کے پس منظر میں کار فرما اصول بھی مذکور ہ پابندی کی حمایت کرتاہے ۔آزادی اظہار کے حق سے استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعض فرائض اور ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لی جائیں ‘‘۔
’’ انسانی حقوق کی کمیٹی‘‘ (HRC)نتیجہ اخذ کرچکی ہے کہ اس نوعیت کی پابندی ICCPR کی دفعہ ۱۹ کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ یورپی عدالتیں یہودیوں کو تو حق دیتی ہیں کہ ان کے خلاف بیانات جاری نہ کیے جائیں اور بڑے پر جوش انداز میں یہ اہتمام کیا جاتاہے کہ ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔پھر مسلمانوں کو یہ حق دینے میں لیت ولعل سے کیوں کام لیاجاتاہے ؟’’انسانی حقوق کی عالمی عدالت‘‘ کے فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
’’ اظہار رائے کی آزادی کا اطلاق ان معلومات ونظریات پر بھی برابر ہوتاہے ،جو ریاست میں انتشار یاعوام کے کسی طبقے میں اشتعال کا سبب بن سکتے ہوں۔ اجتماعیت اور برداشت کے یہی تقاضے ہیں ،جن کے بغیر کسی معاشرے کو جمہوری معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘ (ہینڈی سائڈکیس)
ڈائی چنڈ ودیگر بنام آسٹریا، کرتاس بنام ترکی، بیلڈٹ ٹرامز بنام ناروے جیسے مقدمات میں یورپی عدالتوں نے صحافیوں کو اشتعال انگیز حد تک مبالغے کی اجازت دے دی، تاہم ایک یورپی عدالت نے ’’ونگروو بنام برطانیہ‘‘نام کے مقدمے میں مذکورہ بالا مقدمات کے فیصلوں سے مختلف فیصلہ بھی دیا،جس کے تحت ’’جب دفعہ (۲)۱۰ کے تحت سیاسی تقاریر اور قابل اعتراض ومتنازعہ سیاسی مباحث پر پابندی عائد نہ کی جاسکے تو عوامی مفاد کے پیش نظر آزادی اظہار کے حق کومحدود کیا جاسکتاہے، بالخصوص جو مباحث ذاتی ،اخلاقی یا مذہبی عقائد سے متعلق ہوں‘‘۔
’’اوٹوپریمنگر انسٹی ٹیوٹ بنام آسٹریا‘‘ نام کے مقدمے میں بھی اسی اصول کی پیروی کرتے ہوئے عدالت نے لکھا کہ ’’دفعہ ۹ کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے، اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بد نیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جاسکتاہے۔جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات، اقوال یا افعال کو تحمل، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کوصد فی صد یقینی بنایا جائے‘‘۔
اگر کوئی کسی دوسرے کے مذہبی عقائد کی مخالفت کرے یا انہیں جھٹلائے تو عدالت ان پر پابندی عائد کرسکتی ہے کہ وہ ممکنہ حد تک ایسی گفتگو سے پرہیز کرے جو کسی دوسرے عقیدے یا مذہب کے ماننے والے کی دل آزاری کا باعث بنتی ہو۔ ’’ڈیوبوسکا اورسکپ بنام پولینڈ ۴۰‘‘ کیس میں اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عدالت نے لکھا کہ:
’’جن باتوں کو مذہب یا عقیدے کی رو سے مقدس یا قابل تعظیم سمجھا جاتاہو ،ان کی متشدد اور اشتعال انگیز تصویر کشی کو دفعہ ۹ کے تحت حاصل شدہ حقوق کی نفی اور خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔حکومت کا یہ مثبت فرض یا مثبت ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کے پختہ مذہبی عقائد کے تحفظ کااہتمام کرے اور انہیں ہر قسم کے حملوں سے بچائے ۔قانون کے تحت حاصل شدہ کسی بھی مذہبی حق کا استعمال ،اگر کسی فرد کے عقائد کی توہین کرتاہو تو اس کی حدود کا تعین کرنے کے لیے ریاست کی مداخلت جائز ہو گی۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے باہمی تعلقا ت میں مذہبی عقائد کی آزادی کے حق کے احترام کو بھی یقینی بنائے اور عوام اور ریاستی حکام کے باہمی مراسم کے تناظر میں بھی آزادی مذہب کے حق کو محترم جانے۔اس ریاستی فرض کا ادراک برطانیہ میں اقلیتوں کے مذاہب کے فروغ میں (یورپی)کنونشن کو ممد بنا سکتاہے۔مطلب یہ کہ مذکورہ فروغ کے عمل میں (یورپی )کنونشن کو اہم کردار سونپا جاسکتاہے ‘‘۔ (دی اوٹو پریمنگر کیس)
انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی معاہداتی تنظیموں (CERD اور HRC ) اور یورپی عدالتوں کے علاوہ فرانس، جرمنی، آسٹریا، اٹلی اور بعض دوسرے ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں کے منظور شدہ قوانین نے ایک مخصوص فلسفہ قانون کومتشکل کرنے میں اہم کردار اداکیا ۔ ان ممالک کی قوانین کی روسے ’’ہولو کاسٹ‘‘(ہٹلر کے ہاتھوں جرمنی میں تقسیم یہودیوں کا قتل عام) سے انکار اور اسے خلاف واقعہ قرار دینا جرم ہے۔ (اس طرح اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کرکے اس حق کو محدود کردیا گیا ہے) اندریں حالات پیغمبر اسلام سے نفرت (نعوذباللہ )پر مبنی مواد یا تصاویر (کارٹونوں) کی اشاعت کامتعلقہ ممالک کی حکومتوں، قانون ساز اسمبلیوں اور عدالتوں نے نوٹس کیوں نہیں لیا؟(بے نیازی،سرد مہری اور لاتعلقی) کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں سے کمتر سمجھا جاتاہے ۔کیا یہ امتیاز عدم مساوات کی نشاندہی نہیں کرتا؟
اگر اشتعال انگیز اور نفرت آمیز تصاویر کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے اور انہیں نظر انداز کردیا جائے تو نتیجتاً انتہائی سنگین اور متشدد تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے کے دورانیے میں روانڈا اور بوسنیا کے انکوائری کمیشنوں او ر ہیگ اور اروشا میں ’’جرائم کے عالمی ٹربیو نلز ‘‘نے کئی مفصل شواہد ریکارڈ کیے جن سے ثابت ہوتاہے کہ نفرت پر مبنی خیالات واحساسات کا اظہار زبان سے کیا جائے یا تحریر سے یا تصویر کشی کا سہارا لیا جائے اور میڈیا ان خیالات اور احساسات کوپھیلانے اور عام کرنے میں بھر پور (مگر منفی)کردار ادا کرے تو ہم انہیں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کی علامات قرار دے سکتے ہیں۔اگر یورپی ممالک نے اپنے میڈیا کے توسط سے کیے جانے والے نفرت کے اظہار کی روک تھام نہ کی تو مغربی اور اسلامی تہذیبوں کے تصادم کے جانبدارانہ اور متعصبانہ نظریات سچ ثابت ہوجائیں گے اور اس طرح ان نظریات کے داعی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہریں گے ،لہٰذا آزادی اظہار کے حق کا استعمال کرتے وقت ضروری ہے کہ اسے اخلاقی حدود وقیود میں رکھا جائے۔ یہی ’’روشن خیال اعتدال پسندی ‘‘کااولین تقاضاہے ۔عوامی مفاد کے پیش نظر بھی ایسا کرنا ضروری ہے ۔
محولہ بالا فلسفہ ہائے قوانین کی روشنی میں یورپی ممالک میں موجود سماجی، فلاحی اور معاشرتی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ریاستی حکام، قانون ساز اسمبلی اور عدالتوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائیں تاکہ یورپی یونین میں مقیم ڈیڑھ کروڑ مسلمان تارکین وطن توہین سے بچ جائیں اور ان کا مذہبی تقدس بھی مجروح نہ ہو۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم راس مسن سے خصوصی درخواست کی جائے کہ وہ انسانی حقوق کے قوانین کے حوالے سے اپنے عالمی فرائض سے عہدہ برآہوں ۔امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یورپی اخبارا ت زیر بحث کارٹونوں کی اشاعت کی مذمت کرچکے ہیں۔مزید برآں امریکی اور برطانوی اخبارات نے ان کی دوبارہ اشاعت سے اجتناب برتنے کا جو عندیہ دیا ہے ،وہ بھی خوش آئند ہے ۔یہ طرز عمل اسلامی دنیا کے مذہبی جذبات کے احترام کے مترادف ہے۔
مغرب میں بعض اوقات یہ سوال اٹھایا جاتاہے کہ اسلامی اقدارمغر ب کی معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟ ہاں! اساسی اعتبارسے دونوں ایک ہیں، لیکن دونوں میں بعض نمایاں اور واضح اختلافات بھی پائے جاتے ہیں ۔مثلاً مغربی معاشرے میں شہریوں کواظہار رائے کی مادرپدر آزادی حاصل ہے، وہ دوسروں کے عقائد کا جس طرح چاہیں، مضحکہ اڑا سکتے ہیں،لیکن اسلامی معاشروں میں اس چیز کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی حقوق کے متعدد معاہدوں میں مسلمان ممالک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔شہری ،سیاسی ،اقتصادی ،سماجی اور ثقافتی حقوق کے عالمی معاہدات ،عورتوں کے ساتھ منفی امتیاز کے امتناع کامعاہد ہ ،ہر قسم کے نسلی امتیاز (تعصبات)کے خاتمے کاعالمی معاہدہ، بچوں کے حقوق کاعالمی معاہدہ اور بعض دیگر معاہداتی دستاویزات کے ذریعے ’’انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیے‘‘کے پس پردہ کارفرما اصولوں کوقانونی ضوابط کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔اسی طرح ریاستوں کو پابند کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے انتظامی ،قانونی اور تعزیری قوانین کے نفاذ میں بھی عالمی معیار ہی کوپیش نظر رکھیں ۔
یہ درست ہے کہ بعض ممالک ان دستاویزات کی کئی شقوں کے بارے میں تحفظات کاشکار ہیں ۔ان میں مغرب، ایشیا ،افریقہ ،لاطینی امریکہ کے کچھ ممالک شامل ہیں۔ ان معیارات پر عمل درآمد کے وقت بعض ممالک اپنے فرائض کی کماحقہ ادائیگی میں قاصر رہتے ہیں۔ یہ CERD یا HRC جیسے نگران اداروں اور یا پھر ان مانیٹرنگ کمیٹیوں کا کام ہے جن کا انتخاب جغرافیائی اعتبار سے مساویانہ ہونا چاہیے۔
صرف یہ کہہ دینا اختلافات کو ہوا دینے اور سنگین تر کرنے کے مترادف ہے کہ دونوں تہذیبوں اور دونوں ثقافتیں ہم آہنگی کے فقدان کا شکار ہیں۔ اس نوعیت کے اظہار رائے میں اس مسئلے کاحل مضمر نہیں۔ مسلمان ریاستوں پر یہ تنقید بے جا اور غیرحقیقت پسندانہ ہے کہ وہ مغربی اقدار سے مکمل سمجھوتہ نہیں کر رہیں۔دو مختلف تہذیبوں کے ساتھ ان کی تاریخی وابستگی کوپیش نظر رکھا جائے تو مطالبہ احمقانہ نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر اگر مغرب مسلمان ممالک سے یہ توقع کرے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کو کاملاً قبول کر لیں اور اس بات کو پیش نظر نہ رکھیں کہ وہ آزادی ان کے مذہبی شعور واحساس کو کتنے شدید دھچکوں سے دوچار کرتی ہے ،حتیٰ کہ وہ ایسی ہستیوں کی توہین بھی برداشت کرلیں جو ان کے نزدیک مقدس ترین اور حد درجہ قابل احترام ہیں تو ناقدین آگاہ رہیں کہ کوئی اسلامی ریاست اس نوعیت کی آزادی سے استفادہ نہیں کرے گی اور پھر مغربی معاشرت میں بھی اس قسم کی آزادی تضادات کا شکارہے اور مغربی ممالک نے اس حوالے سے دو ہرے معیار اپنا رکھے ہیں۔
اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کے چیلنج سے نمٹنا مقصود ہے تو مسلمان دنیا کوچاہیے کہ اپنے جائز غم وغصے کومتشدد انداز میں ظاہرکرنے کی بجائے مغرب کے ساتھ دانشورانہ مباحث کی راہ اپنائے۔ مسلمانوں کی اپنے نبی ﷺ کے ساتھ وابستگی اور عقیدت کسی سے ڈھکی چھپی ہرگز نہیں، جنہوں نے متعدد ستم اٹھائے، کئی صعوبتیں برداشت کیں ،لیکن اپنے نیک مقاصد کوترک نہ کیا اور بالآخر مکہ میں ایک فاتح کے طورپر داخل ہوئے اور انتقام کی راہ سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے بدترین دشمنوں کوبھی معاف کر دیا۔ ایک عظیم الشان فاتح ہو کر بھی انہوں نے عفو درگزر کی ایسی مثال قائم کردی جس کی ماضی قریب یا بعید میں کوئی نظیر دستیاب نہ تھی۔ لہٰذا امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دلی،ذہنی اور جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے وقت ان کی سنت کو ترک نہ کریں اور اگر انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں توہین آمیز اور لڑنے مرنے پر اکسانے والے حملے کیے جائیں تو بھی وہ اپنی صفوں میں اتحاد اور نظم وضبط کی کمی نہ آنے دیں۔
(بشکریہ روزنامہ ’پاکستان‘ لاہور)
عظمتِ رسول ﷺ اور انسانی حقوق
ابو محمد عبادہ
’’موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد(ﷺ)اس دُنیاکے حکمران (رہنما ) بنیں۔‘‘
یہ مشہور مغربی مفکر جارج برناڈ شا کا قول ہے اور یہ نبی اکرم ﷺ کی ذات والاصفات کے بارے میں غیر متعصب اورغیر مسلم محققین اور مفکرین کی بے شمار آرا میں سے ایک ہے۔ جارج برناڈ شا اُن لوگوں میں سے ہے جونبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی نبوت پر ایمان نہیں لائے، پھر بھی وہ آپ ﷺ کی عظمت کو تسلیم کرتا دکھائی دیتا ہے۔آپ ﷺ کی سچائی اور صداقت کااعتراف صرف عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کے دانشور اور مفکر جو اسلام کے ماننے والے بھی نہیں ہیں، وہ بھی حضور ﷺ کی عظمت و رفعت کابرملا اعتراف کرنے اور آپ ﷺ کی حمد وتعریف پر مجبور ہیں۔کارلائل، نپولین،والٹر، روسو، ویلز، ٹالسٹائی، گوئٹے، لین پول اور دیگر بے شمار دانشور آپ ﷺ کی شان میں رطب اللسان ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقوق انسانی یا آزادی صحافت کی آڑ میں،عالمی سطح پر ایک معتبر اور تسلیم شدہ ہستی، بے داغ کرداروالی شخصیت اور انسان کامل کا سوقیانہ انداز میں ذکر اورکسی بھی استہزائی پیرایے میں اس پر اظہار خیال کیا جاسکتاہے ؟ اورکیا کسی ایسی قبیح حرکت کو محض چند نام نہاد اصطلاحوں کے پردے میں سند جواز دی جا سکتی ہے ؟ بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ ہرمذہب وفکر ونظریہ کے غیر متعصب عالمی دانشور اس شخصیت کو انسانیت کانجات دہندہ ، بہترین انسان اور رہنما تسلیم کرنے میں ہچکچا تے نہ ہوں اورایسی شخصیت نبی کی ہو، اربوں انسان اس کے پیروکار ہوں اور اس ذات گرامی سے غیر مشروط وابستگی ، عشق اور شیفتگی رکھتے ہوں؟
عظمتِ رسول ﷺ کا تصور امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔ مسلمانوں کا یہی جذبہ اور اپنے نبی ﷺ سے والہانہ لگاؤ ہی غیرمسلم اقوام کے دلوں میں کانٹا بن کر چُبھتا چلا آرہا ہے۔غیر مسلم اقوام کسی نہ کسی طریقے اور مختلف حیلوں اور بہانوں سے امت مسلمہ کے افراد کے دلوں میں حُبِّ رسول ﷺکوکم سے کم کرنے کے درپے رہتی ہیں۔ دُور نہ جائیے، گزشتہ چند سالوں کے عالمی واقعات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آ ج کے مہذب دور میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ اور دین اسلام کے بارے میں ایک نیا عالمی انسانی اور مذہبی روّیہ تخلیق کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ غیر مسلم ذرائع ابلاغ اسلام کے خلاف میڈیائی جارحیت سے مسلح نظر آتے ہیں۔
آج کادانشور یہ کہہ رہاہے کہ انسانی حقوق ، انسانوں کی برابری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی برادری اور انسانوں کے مابین تفریق کو ختم کرنے کا مسئلہ ہے۔کسی دوسرے انسان کے حقوق کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قدر وقیمت اس کے انسانی اوصاف کی بناپرہونی چاہیے نہ کہ اس کی شخصیت کی بنا پر۔اس میں ظاہری حد بندیوں،اختلافات اور نظریاتی کشمکش کی عمل داری نہیں ہونی چاہیے۔ حقوق انسانی کے علم برداروں کی یہی دلیل برملا تقاضاکرتی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ دُنیا کی سب سے بلند ، اعلیٰ اور بہترین ہستی ہیں اورآپ کے انسان کامل اور سب سے بہترین انسان ہونے پر دُنیاکااجماع اور اتفاق ہے تو پھروہ کون سی بات ہے جو مخالفین اور اسلام دُشمنوں کوآپ ﷺ کی توہین پر آمادہ کرتی ہے؟ اور کیاایسے بدبخت اشخاص کسی قسم کی رعایت کے مستحق ہوسکتے ہیں؟ظاہرہے کسی کا استحقاق ملحوظ خاطرنہ رکھنے والوں کا نہ کوئی استحقاق ہوسکتاہے اور نہ ہی کوئی حق۔ایسے افراد ملعون ہوتے ہیں اورانسانیت کے نام پردھبہ۔
اس ضمن میں اپنوں کی کوتاہیوں اور بھول پن کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے لیے خوشی، غمی اور اپنے جذبات کے اظہار کا بھی ایک طریق کار ہے جو ہمیں تعلیمات اسلام اور نبی پاک ﷺ کے عمل اوراسوہ مبارکہ سے حاصل ہوا ہے۔ اس کابرملاتقاضاہے کہ امت مسلمہ اپنے نقطہ نظر کوپیش کرتے وقت حکمت اور موعظہ حسنہ سے کام لے اور بہترین انداز اور طریقہ اختیار کرے۔ یہی سنت رسول ﷺ اور حکمِ رسول ﷺ ہے۔ مسلم ممالک کی حکومتوں ، دانش مندوں ، اہلِ علم و فکر اور مقتدر طبقات کی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ وہ انسان کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عزت اور تقدس مآبی پر انگشت نمائی کرنے والوں کے ہوش، نہایت حکمت اور تدبر سے ٹھکانے پرلانے کا اہتمام کریں۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ آج علم اور دلیل کی دُنیا اور جمہوریت کا دور ہے۔ ایسے میں ہم مسلمانوں کو جوش کے ساتھ ساتھ ہوش کی بھی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی کو مغرب اور غیر مسلم دُنیاکے سامنے پیش کرتے وقت اعلیٰ اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرناہوگا۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے۔ اسلام میں حقوق انسانی کا جس انداز میں خیال رکھاگیا ہے ،دوسرے مذاہب اور نظریات اور نام نہادخود ساختہ اصطلاحات اس سے عاری دکھائی دیتی ہیں۔ مادر پدر آزادی نہ انسان کاحق ہے اور نہ ہی حیوانوں جیسی آزادی سے اس کو منزلِ مقصود حاصل ہو سکتی ہے۔اسلام سلامتی ، خیر خواہی ، محبت واخوت اور امن وسکون کا دین ہے۔ تعلیمات قرآن اور نبی پاک ﷺ کی سیرت مطہرہ اس کا عملی مظہر ہیں۔ ذات رسول ﷺ جسے خالقِ کائنات نے تمام جہانوں اور سب دنیاؤں کے لیے رحمت قرار دیا ہے ، وہ بنیادی کلید ہے جو گلوبلائزیشن کے دَور سے گزرتی ہوئی انسانیت کے لیے راہبری و رہنمائی کا کام دے سکتی ہے۔
طباعتِ قرآن میں رسمِ عثمانی کا التزام
حافظ محمد سمیع اللہ فراز
کلماتِ قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں۔ کیا مصاحف کی کتابت وطباعت میں رسمِ عثمانی کے قواعد وضوابط کی پابندی واجب ہے اور کیا رسمِ قرآنی اور رسمِ قیاسی کے مابین یہ فرق و اختلاف باقی رہنا چاہیے ؟ اس سوال کے حوالے سے علماےِ رسم اور مورخین کے ہاں دو زاویہ ہائے فکر پائے جاتے ہیں:
جمہور علما کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآنی رسم کی قدامت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس میں کسی تبدیلی کی گنجایش نہیں اور طباعتِ مصاحف میں اِسی کی پابندی لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ث نے رسم عثمانی کو اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اور صحابہ کا اتفاق اُسی معاملہ پر ممکن ہو ہے جو اُن کے ہاں متحقق ہو کر واضح ہو چکا ہو۔ (۱)
فکر کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ عوام کے لیے رسمِ عثمانی کے مطابق لکھے ہوئے مصاحف میں قراء تِ قرآن کے لحاظ سے کئی مفاسد ہیں، اس لیے عوامی سطح پر اس رسم الخط کو تر ک کر دینا چاہیے، البتہ خواص کے لیے اس کی گنجایش باقی رہنی چاہیے۔
ذیل میں ہم ان دونوں نقطہ ہائے نظر اور ان کے استدلالات کا ایک مطالعہ پیش کریں گے۔
رسمِ عثمانی کا اِلتزام
رسمِ عثمانی کے مُجمع علیہ ہونے میں کسی کا اختلاف منقول نہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ مصاحفِ عثمانیہ کی کتابت کرتے ہوئے بارہ ہزار ۱۲۰۰۰ صحابہ ثنے اتفاقِ رائے سے اِس رسم کو صحیح اور درست قرار دیا(۲)۔ مصرکے شیخ القرا ء محمد بن علی حداد نے اپنے رسالہ’’النصوص الجلیلۃ‘‘ میں رسمِ عثمانی کے اتباع کو بارہ ہزار صحابہ کرامثکے اجماع سے ثابت کیا ہے۔ (۳)
رسول اللہا کے ارشاد کے مطابق خلفاے راشدین ثکی سنت بھی قابلِ اتباع ہے اور اس کی پیروی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ دلیل مذکور کی بنیاد پر چونکہ رسمِ عثمانی صحابہ ث کا مجمع علیہ ہے، لہٰذا اِس کی اتباع اور اقتدا کا حکم تمام دیگر نظریات کے مقابلہ میں راجح ہے۔ علامہ ابوطاہر السندی ؒ رسمِ عثمانی پر لوگوں کے تعامل کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’۔۔۔ وتقلدت الأمۃ رسمہا ، واشتہرت کتابتہا بالرسم العثماني، وأجمع الصحابۃ رضی اﷲ عنہم علی ذلک الرسم ولم ینکر أحد منہم شیئا منہ وإجماع الصحابۃ واجب الإتباع۔ ثم استمرّ الأمر علی ذلک، والعمل علیہ فی عصور التابعین والأئمۃ المجتہدین، ولم یر أحد منہم مخالفۃ وفی ذلک نصوص کثیرۃ لعلماء الأئمۃ‘‘۔(۴)
یعنی امت نے اسی رسم کی تقلید کی ہے اور اسی میں مصحف کی کتابت کا عام رواج ہوا۔ صحابہ کرام ثکا اس رسم پر اجماع ہوا اور ان میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیااور صحابہ کرامث کااِجماع واجب الاتباع ہے۔ پھر یہی طریقہ رائج رہا اور تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے ادوار میں اسی پر عمل رہا اور کسی نے اس معاملہ میں اختلاف کا خیال بھی نہیں کیا۔ اس پر علماے امت کے بہت سے اقوال موجود ہیں۔
رسول اللہا کی زیر نگرانی ہونیوالی کتا بت ہی صحابہ کرام ث کے لیے قابلِ عمل تھی ۔اُنہی خصوصیاتِ رسم کے ساتھ عہدِ صدیقی اور پھر عہدِ عثمانی میں مصاحف تیار کروائے گئے۔ چنانچہ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں کے لیے کتابتِ مصحف کا معیار رسمِ عثمانی تھااور اکثر صحابہث ،تابعینؒ اور تبع تابعینؒ نے ہمیشہ رسمِ عثمانی کی موافقت کو ہی معیار سمجھا۔ابن قتیبہؒ لکھتے ہیں:
’’ولولا اعتیاد الناس لذلک فی ھذہ الأحرف الثلاثۃ (الصلوٰۃ، الزکوٰۃ والحیٰوۃ) وما فی مخالفۃ جماعتھم لکان أحب الأشیاء إلی أن یکتب ھذا کلہ بالألف‘‘۔(۵)
یعنی اگر ان تین کلمات صلوٰۃ، زکوٰۃ اور حیٰوۃ کا واؤ کے ساتھ املا لوگوں میں رائج نہ ہوتا اور ان کے اتفاق کی خلاف ورزی کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ان کلمات کو الف سے لکھنا زیادہ پسند کرتا۔
ایک عرصہ تک اِسی طرح معاملہ چلتا رہا یہاں تک کہ علماے لغت نے فنِ رسم کے لیے ضوابط کی بنیاد رکھی اور قیاساتِ نحویہ و صرفیہ اِس غرض سے وضع کر دیے گئے تاکہ نظامِ کتابت اور تعلیمی سلسلہ میں کسی غلطی یا شبہ کا احتمال باقی نہ رہے۔ قواعدِ ہجا ، قواعدِ املا ، علم الخط القیاسی و الاصطلاحی، یہ وہ سب نام تھے جو اِن قواعد کے لیے وضع کیے گئے ۔ لوگوں نے عام لکھنے میں کلمات کے پرانے ہجا کو رفتہ رفتہ ترک کر دیا، لیکن مصاحف میں موجود الفاظ اپنی اُسی ہیئت و صورت میں رہے جس میں اُنہیں عہدِ عثمان صمیں لکھا گیا تھا۔
ِ مذاہب اربعہ کا موقف
مذاہبِ اربعہ کے تمام فقہاؒ نے مصحف کی کتابت اور طباعت میں رسمِ عثمانی کے التزام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس کی مخالفت کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ اِس پر علما کا اِجماع منقول ہے کہ رسمِ عثمانی کی مخالفت جائز نہیں: ’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماءِ الأئمۃ‘‘ (۶)۔ علامہ الحدادؒ کے بقول علما کا ہمیشہ رسمِ عثمانی پر اجماع رہا ہے اور اِس کی مخالفت کو اجماع سے روگردانی تصور کیاہے:
’’وما دام قد انعقد الإجماع علی تلک الرسوم فلا یجوز العدول عنہا الی غیرہا، إذ لا یجوز خرق الإجماع بوجہ‘‘۔(۷)
علامہ جعبریؒ نے ’روضۃ الطرائف فی رسم المصاحف فی شرح العقیلۃ‘ میں ائمۂِ اربعہ کا یہی موقف نقل کیا ہے۔(۸)
مکاتب اربعہ کے فتاویٰ کی تفصیل حسب ذیل ہے
۱۔ امام مالک ؒ کا مسلک:وقت کے گزرنے کے ساتھ کتابتِ مصحف میں جب رسمِ عثمانی سے مختلف کلمات کا دخول شروع ہوا تو امام مالکؒ (۹۵ھ۔۱۷۹ھ) سے اس ضمن میں استفتا کیا گیا جس کو علامہ دانی ؒ نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’۔۔۔ فقیل لہ : أریت من استکتب مصحفًا الیوم أتری أن یکتب علیٰ ما أحدث الناس من الھجاء الیوم ؟ فقال: لا أری ذلک ، ولکن یکتب علی الکتبۃ الاولیٰ‘‘۔(۹)
یعنی امام مالک ؒ سے پوچھا گیا کہ کہ کیا کوئی شخص لوگوں میں مروّج ہجا پر مصحف کی کتابت کر سکتا ہے تو آپؒ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں، بلکہ اسے پہلے طریقے پر ہی لکھنا چاہیے۔ امام مالک ؒ کے اِ س قول کے متصل بعد علامہ دانی ؒ نے لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے اِس قول سے کسی نے اختلاف نہیں کیا: ’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماء الامۃ‘‘۔امام سخاوی ؒ نے امام مالک ؒ کے قول پر ’’والذی ذہب الیہ مالک ہو الحق‘‘ کے الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔(۱۰)
۲۔ رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ (۱۶۴ھ۔۲۴۱ھ) کا موقف بیان کرتے ہوئے علامہ زرکشیؒ لکھتے ہیں:
’’تحرم مخالفۃ مصحف الإمام فی واوٍ أو یاءٍ أو ألفٍ أو غیر ذلک‘‘۔(۱۱)
ڈاکٹر عبد الوہاب حمّودہ ،امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’فإذا عرفنا أن الإمام مالکاً ولد سنۃ ۹۳ھ وتوفی سنۃ ۱۷۹ھ علی الصحیح، وأن الإمام أحمد ولد سنۃ ۱۶۴ھ وتوفی سنۃ ۲۴۱ھ فہمنا أن الأمۃ فی القرنین قد أدرکت مخالفۃ الرسم العثمانی لقواعد کتاباتہم ، ورغبوا فی کتابۃ المصاحف علی القواعد الکتابیۃ، فاستفتوا الإمام مالکا فلم یفتہم بجواز ذلک ، وما علینا إلا اتباعہم والإقتداء بہم‘‘۔(۱۲)
یعنی ہم جانتے ہیں کہ امام مالک ؒ ۹۳ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹ھ میں وفات ہوئی اور امام احمد ؒ ۱۶۴ھ میں پیدا جبکہ۲۴۱ھ میں فوت ہوئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں ہی لوگوں نے قواعدِ کتابت میں رسمِ عثمانی کی مخالفت شروع کر کے عام قواعدِ کتابت پر مصاحف کی کتابت کی طرف رغبت کی۔جب امام مالکؒ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے عام قواعدِ کتابت کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا۔ اب ہمارے اوپر ان کا اتباع اور ان کے قول کی پیروی لازم ہے۔
۳۔ شافعی فقہا کا مسلک یہ ہے:
’’وجاء فی حواشی المنہج فی فقہ الشافعیۃ مانصہ: کلمۃ الربا تکبت بالواو والألف کما جاء فی الرسم العثمانی، ولا تکتب فی القرآن بالیا أو الألف لأن رسمہ سنۃ متبعۃ‘‘۔ (۱۳)
یعنی ’ربوا‘ کا لفظ اسی طرح واؤ اور الف سے لکھنا چاہیے جیسے رسم عثمانی میں لکھا جاتا ہے۔ اس کو یا، یا الف سے نہیں لکھنا چاہیے کیونکہ رسم عثمانی کی پیروی ہمیشہ سے کی جا رہی ہے۔
۴۔ احناف کی رائے یہ ہے:
’’وجاء فی المحیط البرہانی فی فقہ الحنفیۃ مانصہ: إنہ ینبغی ألّا یکتب المصحف بغیر الرسم العثمانی‘‘۔(۱۴)
یعنی رسم عثمانی سے ہٹ کر مصحف کی کتابت درست نہیں۔
مذکورہ بالا اقوال اس بات کے شاہد ہیں کہ مسالک اربعہ کے تمام فقہا رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں متفقہ موقف رکھتے ہیں۔
التزامِ رسم پر سلفؒ کے اقوال
علامہ عبد الواحدبن عاشر الاندلسیؒ اپنی تصنیف ’’تنبیہ الخلّان علی الأعلان بتکمیل مورد الظمآن‘‘کا آغاز درجِ ذیل خطبہ سے فرماتے ہیں:
’’الحمد ﷲ الذی رسم الآیات القرء انیۃ علی نحو ما في المصاحف العثمانیۃ، الواجب اتباعہا في رسم کل قراء ۃ متواتر عن خیر البریۃ‘‘۔(۱۵)
قولِ باری تعالیٰ (وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ (۱۶)) کی تفسیر میں علامہ زمخشریؒ لکھتے ہیں:
’’وقعت اللام فی المصحف مفصولۃ عن ھٰذَا خارجۃ عن أوضاع الخط العربی وخط المصحف سنۃ لا تغیر‘‘۔(۱۷)
یعنی مصحف میں حرفِ لام(ل) ،کلمہ ’ھٰذا‘ سے علیحدٰہ لکھا گیا ہے جو عام رسم الخط کے خلاف ہے، لیکنِ مصحف کے رسم الخط کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔علامہ سیوطی ؒ نے امام بیہقیؒ (م۴۵۸ھ) کا ’’شعب الایمان‘‘ میں وارد قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’من کتب مصحفاً فینبغی أن یحافظ علی الہجاء الذی کتبوا بہ ہذہ المصاحف، ولا یخالفھم فیہ ولا یغیر مما کتبوا شیئا، فإنہم کانوا أکثر علماً، وأصدق قلباً ولساناً، وأعظم أمانۃ مِنّا فلا ینبغی أن نظن بأنفسنا استدراکا علیھم‘‘۔(۱۸)
یعنی جو شخص بھی مصحف لکھے تو اسے چاہیے کہ وہ سلف صحابہث و تابعینؒ کے ہجا کا لحاظ رکھے، اُن کی مخالفت نہ کرے ، کسی چیز کو اُن کی کتابت کے ساتھ تبدیل نہ کرے، کیونکہ وہ علم، قلب ولسان کی سچائی اور ایمانداری میں ہم سے بدرجہا بڑھ کر ہیں۔
محمد غوث الدین ارکاٹی ؒ نے رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں مُلّا علی القاری ؒ کا حسبِ ذیل قول نقل کیا ہے:
’’والذی ذہب الیہ مالک ہو الحق، إذ فیہ بقاء الحالۃ الأولی، إلی أن تعلَّمہا الطبقۃ الأخری بعد الأخری، ولا شک أن ہذا ہو الأحری، إذ فی خلاف ذلک تجہیل الناس بأولیۃ ما فی الطبقۃ الأولی‘‘۔(۱۹)
علامہ نظام الدین نیشاپوریؒ التزامِ رسم کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’إن الواجب علی القراء والعلماء وأہل الکتاب أن یتبعوا ہذا الرسم فی خط المصحف، فإنہ رسم زید بن ثابت، وکان أمین رسول اﷲ ﷺ وکاتب وحیہ، وعَلِم من ہذا العلم ، بدعوۃ النبی ﷺ ما لم یعلم غیرہ، فما کتب شیئا من ذلک إلا لعلّۃ لطیفۃ وحکمۃ بلیغۃ‘‘۔(۲۰)
یعنی مصحف لکھنے کے لیے قرّ ا اور علما پر اِ س رسم کا اتباع لاز م ہے کیونکہ یہی وہ رسم ہے جس کو امینِ رسول اور کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتصنے اختیار کیا تھا اور وہ رسول اللہ ا کے ارشاد کے مطابق ہر کسی کی نسبت اس سے مکمل طور پر واقف تھے۔چنانچہ انہوں نے جوبھی لکھا، وہ کسی لطیف علت اور بلیغ حکمت کی بنیاد پر ہی لکھاہے۔
علامہ ابو طاہر السندی نے رسمِ عثمانی کے التزام کی چار وجوہ بیان فرمائی ہیں:
’’الراجع من ذلک قول الجمہور، وذلک لوجوہ: ۱۔إن ہذا الرسم الذی کتب بہ الصحابۃ القرآن الکریم حظي بإقرار الرسول ﷺ، واتباع الرسول ﷺ واجبٌ علی الأمۃ۔ ۲۔أجمع علیہ الصحابۃ ولم یخالفہ أحد منہم ،وکان ہذا الانجاز الکبیر الأمۃ لقولہﷺ:(علیکم بسنتیوسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی) ۔ ۳۔ أجمعت علیہ الأمۃ منذ عصور التابعین، وإجماع الأمۃ حجۃ شرعیۃ، وھو واجب الاتباع لأنہ سبیل المومنین، قال تعالیٰ: (وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِیرًا)۔ ۴۔ للرسم العثمانی فوائد مہمۃ، ومزایا کثیرۃ، خاصۃ أنہ یحوی علی القراء ات المختلفۃ، والأحرف المنزلۃ ، ففي مخالفتہ تضییع لتلک الفوائد وإہمال لہا‘‘۔(۲۱)
یعنی جمہور کا مذہبِ التزام راجح ہے اور اس کی حسبِ ذیل وجوہ ہیں:
اولاً، رسول اللہا کی تقریر کے باعث صحابہ کرام ثنے اسی رسم میں قرآن مجید کی کتابت کی اور رسول اللہ ا کا اتباع امت پر واجب ہے۔ ثانیاً، اسی رسم پرعہدِ خلفا میں جماعت صحابہث کا اجماع منعقد ہوا ،کسی ایک صحابی سے بھی اس کی مخالفت منقول نہیں۔چنانچہ خلفاے راشدین کا اتباع بھی امت پر واجب ہے کیونکہ رسول اللہا کا ارشاد ہے کہ ’’تم پر میری اور میرے بعد میرے خلفاءِ راشدین مہدیین کی سنت لاز م ہے‘‘۔ ثالثاً،زمانۂِ تابعینؒ سے امت کا اسی رسم پر اجماع ہے ۔ امت کا اجماع حجتِ شرعی اورمسلمانوں کے لیے واجب العمل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول اللہ اکی نافرمانی کی اور مومنین کے راستے سے ہٹ کر چلاتو ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے اور اس کو جہنم میں ڈالیں گے،اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔رابعاً، رسمِ عثمانی کے بہت سے فوائد ہیں، خصوصاً یہ کہ اس میں مختلف قراء ات اور منزل من اللہ حروف شامل ہو سکتے ہیں۔ اس رسم کی مخالفت سے یہ تمام فوائدمتروک ہو جاتے ہیں۔
التزامِ رسمِ عثمانی کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ کردیؒ لکھتے ہیں:
’’فخلاصۃ ما تقدم أن الواجب علینا اتباع رسما المصحف العثماني وتقلید أئمۃ القراء ات خصوصاً علماء الرسم منہم ، والرجوع إلی دواوینہم العظام کالمقنع لأبی عمرو الدانی والعقیلۃ للشاطبی، فإن ائمۃ القراء ات المتقدمین قد حصروا مرسوم القرآن الکریم کلمۃ کلمۃ علی ہیءۃ ما کتبہ الصحابۃ فی المصاحف العثمانیۃ، ونقلوا ذلک بالسند المتصل عن الثقات العدول الذین شاہدوا تلک المصاحف‘‘۔(۲۲)
یعنی رسمِ مصحفِ عثمانی کے ساتھ ساتھ ائمۂِ قراء ات خصوصاً علمایرسم کا اتباع ہم پر واجب ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں ہم ان کی عظیم تصانیف کی طرف رجوع کریں جیسے علامہ دانی ؒ کی المقنع اور علامہ شاطبی ؒ کی تصنیف العقیلہ وغیرہ۔بے شک متقدمین ائمۂِ قراء ات نے قرآنی کلمات میں سے ایک ایک کلمہ کارسم اور اس کے احکام بیان کیے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام ثنے مصاحفِ عثمانیہ میں اِن کلمات کو کتابت فرمایا۔ مزید برآں قرّ ا نے ثقہ وعادل اور مصاحفِ عثمانیہ کے عینی شاہدین سے سندِ متصل کے ساتھ اِس رسم کو نقل فرمایا ۔
فقہا اور مفسرین کے علاوہ اہلِ لغت نے بھی ہمیشہ رسمِ عثمانی کے التزام کو اختیار کیا ہے اور اسی کا حکم دیا ہے ۔ ڈاکٹرلبیب السعید نے ’’دار الکتب والوثائق القومیۃ قاہرہ‘‘ میں موجودعلامہ ابو البقاء العکبریؒ کے مخطوط ’’اللباب فی علل البناء والإعراب‘‘ کے ورق:۳۰ سے اُن کا ایک اقتباس نقل کیا ہے کہ اہلِ لغت کی ایک جماعت بھی یہی سمجھتی ہے کہ کلمہ کی کتابت اُس کے تلفظ کے مطابق ہونی چاہیے لیکن قرآنی رسم اس سے مستثنیٰ ہے :
’’ذھب جماعۃ من أہل اللغۃ إلی کتابۃ الکلمۃ علی لفظہا إلا فی خط المصحف ، فإنہم اتبعوا فی ذلک، ما وجدوہ فی الإمام ۔ والعمل علی الأول‘‘۔(۲۳)
رسمِ عثمانی کے التزام کے بارے میں محقق مناع القطان کی رائے حسبِ ذیل ہے:
’’والذی أراہ أن الرأي الثانی ہو الرأي الراجح، وأنہ یجب کتابۃ القرآن بالرسم العثمانی المعہود في المصحف۔۔۔ولو أبیحت کتابتہ بالاصطلاح الأملاءي لکل عصر لأدی ہذا إلی تغییر خط المصحف من عصر لآخر، بل إن قواعد الإملاء نفسہا تختلف فیہا وجہات النظر في العصر الواحد، وتتفاوت في بعض الکلمات من بلد آخر‘‘۔(۲۴)
یعنی میرے خیال میں التزامِ رسمِ عثمانی کی رائے راجح ہے اور اب قرآن مجید میں رسمِ عثمانی کے مطابق کتابت ہونی چاہیے۔ اگر مروّجہ املائی کتابت کے ساتھ قرآن مجید لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو ہر زمانہ میں قرآن مجید کا رسم دوسرے زمانہ سے مختلف ہو گا، بلکہ قواعدِ املائی خود ایک ہی زمانہ میں مختلف جہات سے متغیر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک شہر کے مصاحف کے کلمات دوسرے شہر کے مصاحف سے مختلف ہوں گے۔
مذکورہ اقوال کے علاوہ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ جس طرح دیگر اسلامی علوم اورورثہ کی حفاظت مسلم معاشرہ پر ضروری ہے، اسی طرح قرآن مجید سے منسوب ایک رسم اور طرزِ کتابت کی حفظ وصیانت بطریقِ اولیٰ لازمی امر ہوگا۔ (۲۵)
دورِ جدید کے علما کے فتاویٰ جات
مصری تحقیقی جریدے ’’المنار‘‘ نے ۱۹۰۹ء میں محمد رشید رضا کا فتویٰ شائع کیا جس میں ملا صادق الایمانقولی القزانی نے،جو کہ روسی ممالک میں طباعتِ مصاحف کے سلسلہ میں رسمِ مصاحف کی کمیٹی کے تفتیشی سربراہ تھے، حسبِ ذیل استفتا کیا:
’’ھل یجب اتباع الرسم العثمانی فی کتابۃ المصحف؟ أم ھل تجوز مخالفتہ للضرورۃ التی من أمثلہا: کلمۃ (ء اتٰن) فی الآیۃ ۳۶ من سورۃ النمل، حیث کُتبتْ فی المصحف العثمانی بغیر یاء بعد النون۔ وکلمات: (الأعلام)و(الأحلام)و(الأقلام)و(الأزلام)و(الأولاد)، حیث کُتبت ایضًا فی بعض المصاحف بحذف (الألف) بعد اللام؟‘‘۔(۲۶)
یعنی کیا مصحف کی کتابت کے دوران رسمِ عثمانی کی اتباع واجب ہے ؟کیا کسی ضرورت کے تحت اس کی مخالف جائز ہے؟ مثلاً:کلمہ (ء اتٰن) مصحفِ عثمانی میں نون کے بعد بغیر یاء کے لکھا ہے۔ اسی طرح دیگر کلمات مثلاً: (الأعلام) و(الأحلام) و(الأقلام) و(الأزلام) و(الأولاد)وغیرہ بعض مصاحف میں الف کے بعد لام کے حذف کے ساتھ مرسوم ہیں۔
اس کے علاوہ سائل نے محولہ بالا الفاظِ قرآنی میں الف کے بارے میں یہ وضاحت پیش کی کہ روسی شہر پیٹرزبرگ (بترسبورج) کے’’مکتبۂِ امبراطوریہ‘‘ میں محفوظ مصحفِ عثمانی میں اِن تمام الفاظ(الأعلام)،(الأحلام)، (الأقلام)، (الأزلام)اور(الأولاد) میں ’الف‘ محذوف ہیں۔(۲۷)
رسمِ مصحف کے متعلق صفر ۱۳۶۸ھ کے مجلّہ الازہر ۱۹۳۷ء میں صادر ہونے والے مصری فتویٰ میں حسبِ ذیل الفاظ بھی تھے:
’’أن المصاحف وخاصۃ فی العصر الحدیث مضبوطۃ بالشکل التام، ومذیلۃ ببیانات إرشادیۃ تیسّر للنّاس إلی حدّ ما قراء ۃ الکلمات المخالفۃ فی رسمہا للإملاء العادیّ، ثم إن رسم المصحف العثمانی لا یخالف قواعد الإملاء المعروفۃ إلا فی کلمات لا یصعب علی أحد إذا لقنہا أن ینطق بہا صحیحۃ‘‘۔(۲۸)
یعنی دورِ حاضر میں خصوصاً تمام مصاحف حرکات واعراب کے لحاظ سے مکمل ہیں اورعام املا سے مخالف کلماتِ قرآنیہ کے بارے میں لوگوں کی آسانی کے لیے ممکنہ وضاحتی بیانات سے پُر ہیں۔ مزید برآں مصحفِ عثمانی کا رسم سوائے چند کلمات کے عام قواعدِ املا کے موافق ہے،تو اِن چند کلمات کا کسی سے سیکھ کر ادا کرنا کچھ مشکل نہیں۔
علامہ محمد بن حبیب اللہ الشنقیطیؒ لکھتے ہیں:
’’ والذی اجتمعت علیہ الأمۃ: أن من لا یعرف الرسم المأثور یجب علیہ أن لا یقرأ فی المصحف ، حتی یتعلم القراء ۃ علی وجہہا ، ویتعلم مرسوم المصاحف‘‘۔(۲۹)
یعنی اِ س بات پر علماے امت کا اتفاق ہے کہ جو شخص قدیم رسمِ قرآنی سے واقفیت نہ رکھتا ہو، وہ مصحف سے دیکھ کر تلاوت نہ کرے یہاں تک کہ وہ قراء ت کے ساتھ ساتھ مصاحف کے رسم کے بارے میں بھی تعلیم حاصل کرے۔
حافظ احمد یار ؒ جامعۃ الازہر کی مجلسِ فتویٰ کا ذکران الفاظ میں کرتے ہیں:
’’الازہر کی مجلس فتوی کی طرف سے ۱۳۵۵ھ میں (بذریعہ مجلۃ الازہر) یہ فتویٰ جاری ہوا تھا کہ رسمِ عثمانی کی پابندی کے بغیر قرآن کریم کی طباعت ناجائز ہے ۔اس کے بعد سے طباعتِ مصاحف میں اس التزام کے بارے میں ایک تحریک سی پیدا ہوگئی ہے‘‘۔(۳۰)
مفتیٔ ہند مولانا محمد غنیؒ (معدنی) نے ایک استفتا کاجواب حسبِ ذیل الفاظ سے ارشاد فرمایا:
’’فإن الکتابۃ بخلاف المصاحف العثمانیۃ بدعۃ مذمومۃ وفعل شنیع باتفاق الأمۃ ‘‘۔(۳۱)
یعنی مصاحفِ عثمانیہ کے خلاف (مصاحف کی )کتابت، باتفاقِ اُمت قابلِ مذمت بدعت اور برا کام ہے ۔
الغرض علماے سلف کی طرح دورِ جدید کے جیّد علما ومحققین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ دورِ حاضر میں مصاحف کی کتابت وطباعت کے دوران رسمِ عثمانی کا اتباع ہی لازمی وضروری ہے ۔
رسم عثمانی کے عدم التزام کا موقف
عربی زبان سمیت دنیاکی ہر زبان ارتقا کا سفر جاری رکھتے ہوئے اپنے اندر کئی تبدیلیوں کی متحمل رہتی ہے اور اس کا رسم الخط بھی جدّت کا متقاضی رہتا ہے۔ مرورِ زمان کے ساتھ زبانو ں اور ان کے رسم الخط کی تبدیلی کالوگوں کے مزاج وفہم پر اثر انداز ہونا ایک لازمی امر ہے۔ اِ س پہلو کے پیش نظر بعض اہل علم نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ مصاحف کی طباعت و کتابت میں رسمِ عثمانی کی پابندی کو ترک کرتے ہوئے بعد کے ادوار میں منضبط ہونے والے عربی قواعدِ املا پر عملدرآمد ہونا چاہیے، کیونکہ کیونکہ قرآن کی تلاوت میں لوگوں کی آسانی کے لیے قدیم رسمِ قرآنی میں تبدیلی لازم ہے۔
علماے سلف میں سب سے پہلے سلطان العلماء العز بن عبد السلامؒ (م۶۶۰ھ) نے اسی بنیاد پر رسمِ عثمانی سے اجتناب کی تلقین کی(۳۲)۔علامہ العزبن عبدالسلامؒ کے اِ س موقف کو علامہ قسطلانی ؒ (۳۳)اور علامہ الدمیاطی ؒ (۳۴) کے علاوہ علامہ زرکشی ؒ نے اِن الفاظ میں ذکر کیاہے:
’’قال الشیخ عزالدین بن عبد السلام : لا تجوز کتابۃ المصحف الآن علی الرسوم الأولیٰ باصطلاح الأئمۃ لئلا یوقع فی تغییر الجھال‘‘۔ (۳۵)
یعنی اب قرآن مجید کی کتابت ائمۂِ رسم کے اختیار کردہ رسم الخط پر جائز نہیں کیونکہ اس سے جاہل لوگوں کے سنگین غلطی میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ علامہ عزالدین بن عبد السلامؒ امت کے معاملہ میں تیسیر وسہولت کے قائل تھے۔ جیسا کہ علامہ غانم نے اس کا ذکر کیا ہے:
’’ولیس غریبا علی الإمام العز مثل ھذا الرأي الذی تفرد بہ فھو صاحب نظریۃ المصالح، فالشریعۃ ’’کلہا مصالح ، إمّا تدرا مفاسد أو تجلب مصالح‘‘، وقد أداہ اجتہادہ أن فی مذہبہ مصلحۃ وتیسیراً علی الأمۃ‘‘۔(۳۶)
یعنی امام عزالدین بن عبد السلامؒ کی یہ منفرد رائے باعث تعجب نہیں کیونکہ وہ نظریۂ مصالح کے علمبردار ہیں جس کی رو سے شریعت تمام کی تمام مصالح پر مبنی ہے، خواہ وہ مفاسد کو دور کرنے کا معاملہ ہو یا کسی مصلحت کے حصول کا۔انہوں نے اپنے مذہب کے مطابق مصلحت اور امت پر آسانی کے پیش نظر اجتہاد ی موقف اختیارکیا ہے۔ تاہم علما میں کوئی قابلِ ذکر نام ایسا نہیں جس نے اِس رائے سے اتفاق کیا ہو۔ چنانچہ رسمِ عثمانی سے پرہیز اور اس کے عدمِ التزام کا نظریہ صرف علامہ عزالدین بن عبد السلام کے ایک قول کے سہارے پر کھڑا ہے جو کہ علماءِ امت کے اجماع کے مقابلے میں متروک العمل ٹھہرتا ہے۔
مذکورہ زاویہ نگاہ کے حامل بعض افراد نے قدرے اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسم عثمانی کی خلاف ورزی کو ’ضروری‘ کے بجائے صرف ’جائز ‘قرار دیا ہے۔ اِس ضمن میں سب سے پہلے قاضی ابو بکر الباقلانیؒ نے مستعمل طریقۂِ املا میں مصاحف کی کتابت کے جواز کا فتویٰ دیا۔ ان کے نزدیک کسی دلیلِ قطعی سے امّت کے لیے کوئی متعین رسم الخط مخصوص ومشروع نہیں کیا گیا۔ علامہ زرقانی ؒ نے الانتصار کے حوالے سے قاضی ابوبکر الباقلانی ؒ کادرجِ ذیل قول نقل کیا ہے:
’’وأما الکتابۃ فلم یفرض اﷲ علی الأمۃ فیہا شیئا، إذ لم یأخذ علی کُتّاب القرآن وخُطّاط المصاحف رسماً بعینہ دون غیرہ أوجبہ علیہم وترک ما عداہ۔۔۔ وکان الناس قد أجازوا ذلک وأجازو أن یکتب کل واحد منہم بما ہو عادتہ ، وما ہو أسہل وأشہر وأولیٰ، من غیر تاثیم ولا تناکر، علم أنہ لم یؤخذ فی ذلک علی الناس حدٌّ مخصوص کما أخذ علیہم فی القراء ۃ والأذان۔ والسبب فی ذلک أن الخطوط إنما ھی علامات ورسوم تجری مجری الإشارات والعقود والرموز، فکل رسم دالٌّ علی الکلمۃ مفیدٍ لوجہ قراء تہا تجب صحتہ وتصویب الکاتب بہ علی أی صورۃ کانت۔ وبالجملۃ فکل من ادّعی أنہ یجب علی الناس رسم مخصوص وجب علیہ أن یقیم لحجۃ دعواہ۔ وانی لہ ذلک‘‘۔ (۳۷)
علامہ زرقانی، مذکورہ رائے پر مناقشہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ رائے کئی وجوہ سے قابلِ قبول نہیں۔ مثلاً علامہ باقلانی ؒ کی رائے کے مقابلہ میں سنت اور اجماعِ صحابہث کے علاوہ جمہور علما کے اقوال موجودہیں۔قاضی ابو بکر ؒ کا یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ یہ سنت سے ثابت نہیں، کیونکہ رسول اللہ انے کتّابِ وحی کو اسی رسم الخط کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابت صنے جمعِ ابی بکرص اور پھر جمعِ عثمانی میں اسی رسم کے موافق قرآن کی کتابت کی جس کو وہ عہدِ نبوی میں استعمال کرتے تھے۔ مزید برآں اس رائے کے خلاف اجماعِ صحابہ ث کا انعقاد ہو چکا ہے اور اجماعِ صحابہث کے خلاف کسی بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔(۳۸)
عبد العزیز دباغ ؒ نے قاضی ابوبکرؒ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’قاضی ابو بکر کا یہ کہنا کہ رسم الخط کے اتباع کا وجوب نہ کتا ب اللہ سے ثابت ہے، نہ کلام رسول سے، نہ اجماع سے، نہ قیاس سے،(لہٰذا اختیار ہے کہ جس طرح چاہے لکھے)،صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:جو کچھ بھی تم کو رسول ادیں، وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، اس سے باز آؤ۔ اور یہ واضح ہو چکا کہ رسم الخط توقیفی ہے ،صحابہ ثکا وضع کردہ نہیں(لہٰذا رسول اکا دیا ہوا ہے اور اس کا لینا واجب ہے)۔ اور اگر یہ شبہ کرو کہ حضرت ؐنے اس طریق پر کتابتِ قرآن کا حکم نہیں فرمایا ،تو آپ کے زمانہ میں صحابہ ثکا اس طریق پر لکھنا اور حضرت ؐ کا اس کو قائم وبرقرار رکھنا ہی ]سنتِ تقریری کے ذریعے[حکم کے درجہ میں ہے‘‘۔ (۳۹)
جامعۃ الازہر کی مجلسِ فتویٰ نے بھی علامہ ابو بکر الباقلانی ؒ کی رائے کو ضعیف قرار دیتے ہوئے کتابتِ مصحف میں رسمِ عثمانی کے التزام کا حکم دیا ہے:
’’أما ما یراہ أبو بکر الباقلانی من أن الرسم العثماني لا یلزم أن یتبع فی کتابۃ المصحف فھو رأي ضعیف۔ لأن الأئمۃ في جمیع العصور المختلفۃ درجوا علیٰ التزامہ في کتابۃ المصحف، ولأن سدّ ذرائع الفساد مہما کانت بعیدۃ أصل من أصول الشریعۃ الإسلامیۃ التي تبني الأحکام علیہا وما کان موقف الأئمۃ من الرسم العثماني إلا بدافع ہذا الأصل العظیم مبالغۃ في حفظ القرآن وصونہ‘‘۔(۴۰)
یعنی ابو بکر الباقلانی ؒ کی کتابتِ مصحف میں رسمِ عثمانی کا اتباع لازم نہ ہونے کی رائے ضعیف ہے کیونکہ تمام ادوار میں علماے امت نے کتابت مصحف کے لیے رسمِ عثمانی کے التزام کو ہی ترجیح دی ہے۔ ممکنہ فساد کے اسباب کا تدارک ہی شریعت کا اصل الاصول ہے، جس پر احکام کا مدار ہے۔ رسمِ عثمانی کے بعینہ التزام کے بارے میں ائمہ کا موقف بھی قرآن کی حفظ وصیانت کے اسی مقصدِ عظیم کے لیے ہے ۔
قاضی ابو بکر الباقلانی ؒ کے علاوہ علامہ ابن خلدون نے بھی رسمِ عثمانی کی مخالفت کو جائز قرار دیا ہے۔مقدمہ میں رقمطراز ہیں:
’’ولا تلتفتن فی ذلک إلی ما یزعُمہ بعض المغفّلین من أنہم کانوا محکمین لصناعۃ الخط، وأن ما یُتخیل من مخالفۃ خطوطہم لأصول الرسم لیس کما یُتخیّل، بل لکلہا وجہ۔۔۔الخ‘‘۔ (۴۱)
لیکن علماے رسم نے علامہ ابن خلدون کی رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا۔ علامہ المارغنی ؒ لکھتے ہیں:
’’لا یجوز لأحد أن یطعن في شئ مما رسمہ الصحابۃ فی المصاحف، لأنہ طعن في مجمع علیہ، ولأن الطعن في الکتابۃ کالطعن في التلاوۃ وقد بلغ التہور ببعض المؤرخین الی أن قال في مرسوم الصحابۃ ما لا یلیق بعظیم علمہم الراسخ وشریف مقامہم الباذخ فإیاک أن تغتر بہ‘‘۔ (۴۲)
قاضی ابو بکر الباقلانی ؒ اور علامہ ابن خلدون کے اقوال کی بنیا د پر بعض علما کا موقف ہے کہ خواص اور اہلِ علم کے لیے تو اس کا التزام ضروری ہے لیکن عوام کے لیے رسمِ عثمانی کی بجائے مروّجہ رسم میں مصاحف کی کتابت وطباعت جائز ہے۔ (۴۳)
علامہ ابو طاہر السندیؒ اس نظریہ کے قائلین کا موقف نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وذھب بعض المتأخرین وبعض المعاصرین الی وجوب کتابۃ المصاحف للعامۃ بالقواعد الإملائیۃ، ولکن تجب المحافظۃ عندھم علی الرسم العثماني القدیم کأثر من الآثار الإسلامیۃ النفیسۃ الموروثۃ عن السلف الصالح، فمن ثَمّ تکتب مصاحف لخواص الناس بالرسم العثماني‘‘۔ (۴۴)
یعنی بعض متاخرین اور دورِ حاضر کے محققین نے املا کے عام قواعد کے تحت مصاحف کی کتابت کو ضروری قرا ردیا ہے،لیکن ان کے نزدیک قدیم رسمِ عثمانی کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ وہ ماثور اور پرانے اسلامی آثار میں سے سلفِ صالح کی ایک نفیس علامت ہے۔ چنانچہ خاص لوگوں کے لیے رسمِ عثمانی کے مطابق ہی مصاحف لکھے جائیں۔
علامہ عبد العظیم الزرقانی ؒ اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’وہذا الرأي یقوم علی رعایۃ الاحتیاط للقرآن من ناحیتین:
۱۔ ناحیۃ کتابتہ فی کل عصر بالرسم المعروف فیہ إبعاد للناس عن اللبس والخلط فی القرآن۔
۲۔ وناحیۃ إبقاء رسمہ الأول المأثور، یقرؤہ العارفون بہ ومن لا یخشی علیہم الإلتباس‘‘۔(۴۵)
غالباً اسی نظریہ سے متاثر ہونے اور اسی رفعِ التباس کی بنا پر ہی اہلِ مشرق(ایشائی ممالک) میں رسمِ عثمانی کی عملاً خلاف ورزی کا رواج ہو گیا ہے، جبکہ اہلِ مغرب (افریقہ) میں رسمِ عثمانی کا التزام تاحال موجود ہے کیونکہ وہ مسلکِ مالکی کے پیروکار ہیں اور اس بارے میں امام مالک ؒ کا واضح قول ثابت ہے اور افریقہ اور مغرب میں زیادہ تر فقہ مالکی کا اتباع کیا جاتا ہے۔ (۴۶)
اہل مشرق (خصوصاً برصغیر پاک وہند)میں کتابتِ مصاحف کے حوالے سے رسمِ عثمانی کی خلاف ورزی کی مثالیں زیادہ ملتی ہیں جس کی بڑی وجہ نقل صحیح کا التزام کرنے کے بجائے حافظہ و قیاس سے کام لینا ہے۔ پیشہ ورانہ عجلت بھی اس کاباعث بنتی ہے جس کابڑاسبب کاتبین کی رسمِ عثمانی سے ناواقفیت اور کتابت کی ماہرانہ نگرانی اور پڑتال کا فقدان ہے۔ مصاحف کی تصحیح کرنے والے حضرات بھی رسم کی اغلاط سے یا تو خود بے خبر ہوتے ہیںیا رسم کے بجائے حرکات کی اغلاط پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ نظری حد تک لوگ ہمیشہ رسمِ عثمانی کے التزام کے قائل رہے ہیں، بلکہ محتاط کاتب نقل صحیح کی پابندی بھی کرتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ منقول عنہ نسخہ میں ہی اغلاط موجود ہوں۔(۴۷)
دورِ حاضر میں رسمِ عثمانی کے بجائے رسمِ املائی میں کتابتِ مصاحف کے جواز کی سب سے بڑی وجہ عوامی سہولت بیان کی جاتی ہے، لیکن جن لوگوں نے دورِ حاضر میں عوام کی سہولت کی خاطر جدید رسمِ املائی کے مطابق مصاحف کی کتابت و طباعت کو ضروری قرار دیا ہے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ التباس و اشتباہ عوام کے بجائے پڑھے لکھے طبقہ کے مسائل میں سے ہے کیونکہ عوام کے لیے کسی استاد سے زبانی طور پر قرآن سیکھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر عام آدمی رسمِ املائی کو بھی غلط طریقہ پر ادا کر سکتا ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ احمد یارؒ لکھتے ہیں:
’’عوام کے بجائے عرب ممالک کے خواندہ لوگوں کے لیے رسم الخط کی ثنویت (روز مرہ میں رسمِ قیاسی اور تلاوت میں رسمِ عثمانی سے واسطہ پڑنا) التباس اور صعوبت کا باعث بنتی ہے ۔ ورنہ دنیا میں لاکھوں (بلکہ شاید) کروڑوں ایسے مسلمان ہیں جو اسی رسم عثمانی کے مطابق لکھے ہوئے مصاحف سے اپنے علاقے میں رائج علاماتِ ضبط کی بنا پر ہمیشہ درست تلاوت کرتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ’’عوام‘‘ کا نام تو محض ایک نعرہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ورنہ ضرورت تو پڑھے لکھے عربی دانوں کو رسمِ قرآن سے شناسا کرنے کی ہے ۔ رسمِ قرآنی کو ترک کر دینا اس کا کوئی علاج نہیں بلکہ اس کے مفاسد بہت زیادہ ہیں جبکہ رسمِ عثمانی کے التزام میں متعدد علمی اور دینی فوائد کا امکان غالب ہے‘‘۔(۴۸)
لہٰذا مناسب یہ ہے کہ عوام الناس کو رسمِ عثمانی اور اس کے رموز وفوائد اور خصوصیات سے روشناس کرایا جائے اور سرکاری سرپرستی میں اس کے التزام کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ (۴۹)
رسمِ عثمانی کے متعلق مذکورہ دونوں نظریہ ہائے عدمِ التزام کا ردّ کرتے ہوئے علامہ السندیؒ لکھتے ہیں:
’’أما ما ذہب إلیہ أصحاب المذہبین الآخرین ، فیمکن الرد علیہم:
۱۔ فیہما مخالفۃ لإجماع الصحابۃ والتابعین وأہل القرون المفضلۃ۔
۲۔ القواعد الإملائیۃ العصریۃ عرضۃ للتغییر والتبدیل فی کل عصر، وفی کل جیل، فلو أخضعنا رسم القرآن الکریم لتلک القواعد لأصبح القرآن عرضۃ للتحریف فیہ۔
۳۔ الرسم العثماني لا یُوقع الناس في الحیرۃ والإلتباس، لأن المصاحف أصبحت منقوطۃ مشکلۃ بحیث وُضعت علامات تدل علی الحروف الزائدۃ، أو الملحقۃ بدل المحذوفۃ، فلا مخافۃ علی وقوع الناس فی الحیرۃ والإلتباس‘‘۔(۵۰)
یعنی مؤخر الذکر دونوں مذاہب اس لیے ناقابل قبول ہیں کہ اوّلاً، رسمِ عثمانی کی مخالفت میں صحابہث ،تابعینؒ اور قرون مقدّسہ کے اجماع کی مخالفت لازم آتی ہے۔ ثانیاً،جدید قواعدِ املائیہ ہر زمانہ اور ہر نسل میں تغیروتبدل کا شکار رہے ہیں۔ اگر ہم قرآنی رسم کو اِن قواعد کے مطابق لکھنے کی اجازت دے دیں تو اس سے قرآن میں تحریف کا باب کھل جائے گا۔ ثالثاً،التباس اور لوگوں کی پریشانی کا باعث رسمِ عثمانی نہیں کیونکہ اب مصاحف منقوط ہیں اور ایسی علامات وضع ہو چکی ہیں جو کہ زائدیا محذوف حروف کے بدلے اضافی حروف پر دلالت کرتی ہیں۔لہٰذا اب لوگوں کی پریشانی اور التبا س کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
مفتی محمد شفیع ؒ عوام الناس کی اس مشکل کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’الغرض اوّل تو یہ مشکلات محض خیالی ہیں۔ ان کو مشکل تسلیم کرنا ہی غلطی ہے اور بالفرض تسلیم بھی کیا جائے تو ہر مشکل کا ازالہ ضروری نہیں۔ یوں تو نماز روزہ وغیرہ ،ارکانِ اسلام سب ہی کچھ نہ کچھ مشکل اپنے اندر رکھتے ہیں‘‘۔ (۵۱)
رسمِ عثمانی کے مخا لف متجددین
علماے سلف میں سے جن لوگوں نے رسمِ عثمانی کے التزام اور عدمِ التزام کے معاملہ میں جمہور علما کی رائے سے اختلاف کیا ہے، انہوں نے اپنا موقف علم و استدلال کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کیا ہے اور رسمِ عثمانی پر طعن وتشنیع کی روش نہیں اپنائی۔ لیکن بد قسمتی سے بعض متجددین نے رسمِ عثمانی میں خامیوں کی تلاش شروع کی اور اس کو ناقص قراردینے کے ساتھ صحابہ کرام ثکی طرف بھی ناگفتہ بہ باتیں منسوب کی ہیں۔(۵۲) اِن متجددین میں دو نام سرِ فہرست ہیں:
مصری متجدد عبد العزیز فہمي نے ’’الحروف اللاتینیۃ لکتابۃ العربیۃ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کو مطبعۂ مصر نے ۱۹۴۴ء میں قاہرہ سے شائع کیا۔مذکورہ کتاب میں مصنف نے رسمِ مصحف پر کثرت سے اعتراضات کیے ہیں اور رسمِ مصحف کو ’’بدائیۃ سقیمۃ قاصرۃ‘‘(ص۲۱) (ابتدائی درجے کا، بیمار اور ناقص) جیسے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔صفحہ ۲۳ پر رسمِ عثمانی کو غیرمعقول قرار دیتے ہوئے ’’سخیف‘‘ (بعید از عقل؍کمزور)کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کے الفاظ ہیں:
’’ أقرر بأنی لست مکلفًا باحترام رسم القرآن، ولست الغی عقلی لمجرد أن بعض الناس أو کلہم یریدون إلغاء عقولہم، ولا یمیزون بین القرآن العظیم کلام اﷲ القدیم وبین رسمہ السخیف الذی ھو من وضع المؤمنین القاصرین‘‘۔(۵۳)
یعنی مجھے اعتراف ہے کہ میں رسم قرآنی کے احترام کا مکلف نہیں ہوں، اور اگر بعض یا سب لوگوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے تو میں ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ کلام الٰہی کے مابین جو قدیم ہے اور اس کے رسم الخط کے مابین فرق نہیں کرتے جسے ناقص اور کوتاہ صلاحیت کے اہل ایمان نے تشکیل دیا ہے۔
مزید برآں عبد العزیز فہمي نے رسمِ عثمانی کو نعوذ باللہ ایک بیماری قرار دیا ہے جس نے جدید عربیت کے حُسن کو تباہ وبرباد کر دیا ہے ۔ اس کے الفاظ ہیں:
’’إنہ سرطان أزمن، فشوہ منظر العربیۃ، وغشّی جمالہا ، ونفّر منہا الولی القریب والخاطب الغریب، وإذ أقول (سرطان) فإنی أعنی ما أقول ، کالسرطان حسّا ومعنی‘‘۔(۵۴)
یعنی یہ مزمن سرطان ہے جس نے عربی زبان کے ظاہری حسن وجمال کو بد شکل بنا دیا ہے اور اس سے دوستوں اور دشمنوں، دونوں کو متنفر کردیا ہے۔ میں نے اس کے لیے سرطان کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس سے میری مراد سرطان ہی ہے، کیونکہ یہ ظاہری اور معنوی ہر لحاظ سے ایک سرطان ہے۔
رسمِ مصحف کے جدید معترضین میں سے دوسرا بڑا نام ابن الخطیب محمد محمد عبد اللطیف کا ہے جس نے ’’الفرقان‘‘ نامی کتاب تصنیف کی۔جس کوپہلی بار دارالکتب المصریہ نے قاہرہ سے ۱۹۴۸ء میں شائع کیا۔ موصوف لکھتے ہیں:
’’لما کان أہل العصر الأول قاصرین فی فن الکتابۃ ، عاجزین في الإملاء، لأمیتہم وبدواتہم، وبعدہم عن العلوم والفنون ، کانت کتابتہم للمصحف الشریف سقیمۃ الوضع غیر محکمۃ الصنع، فجاء ت الکتبۃ الأولی مزیجاً من أخطاء فاحشۃ ومناقضات متباینۃ في الھجاء والرسم‘‘۔(۵۵)
یعنی عصرِ اول کے لوگ ،اپنے اَن پڑھ اور بدوی ہونے کے لحاظ سے، فنِ کتابت سے قاصر اور علوم وفنون سے بے بہرہ تھے۔ مصحف میں کی گئی ان کی کتابت، وضع کے اعتبار سے سقیم اور مہارت کے اعتبار سے غیر محکم ہے۔ لہٰذا پہلی کتابت کے ہجا ورسم میں فاحش اغلاط اور متباین مناقضات شامل ہیں۔
ڈاکٹر لبیب السعید، ابن الخطیب کا ایک اقتباس یوں نقل کرتے ہیں:
’’(إنہ) یقلب معانی الألفاظ ، ویشوھہا تشویہا شنیعاً، ویعکس معناہا بدرجۃ تکفّر قاریہ، وتحرّف معانیہ، وفضلاً عن ہٰذا ، فإن فیہ تناقضاً غریباً وتنافراً معیباً لا یمکن تعلیلہ، ولا یستطاع تأویلہ‘‘۔ (۵۶)
یعنی یہ رسم الفاظ کے معانی کو بدلنے کا سبب ہے ، شکل و صورت کے لحاظ سے بُرا، معنی کو اِس حد تک بدلنے والا کہ اس کا پڑھنے والا کافر ٹھہرے اور اس کے معنی بدل جائیں۔ مزید برآں اس رسم میں عجیب وغریب قسم کا تناقض و اختلاف پایا جاتا ہے جو اتنا معیوب ہے کہ اس کی توجیہ وتاویل کسی طرح ممکن نہیں۔
جولائی ۱۹۴۸ء میں صدرجامعۃالازہر کی زیر نگرانی تین علما کی قائمہ کمیٹی نے اکتالیس (۴۱)صفحات پر مشتمل ایک فیصلہ صادر فرمایا جس میں مذکورہ کتب پر پابندی عائد کرنے اور ان کو ضبط کرنے کاحکم دیا گیا۔کیونکہ وہ اسلامی اصول جن پر احکام کا مدار ہے، ان کی پاسداری اور اِ س کی مخالفت کا سدِّ باب ضروری ہے۔(۵۷)
حواشی
(۱) القسطلانی،لطائف الاشارات لفنون القرء ات: ۱؍۲۸۵
(۲) غانم قدوری،رسم المصحف :ص۱۹۹۔۔۔و۔۔۔الکردی: تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۰۳
(۳) ’’اجمع المسلمون قاطبۃ علی وجوب اتباع رسم مصاحف عثمان ومنع مخالفتہ (ثم قال) قال العلامۃ ابن عاشر ووجہ وجوبہ ما تقدم من اجماع الصحابۃ علیہ وھم زہاء اثنی عشر الفاً والإجماع حجۃ حسبما تقرر فی اصول الفقہ (النصوص الجلیلۃ:ص۲۵)‘‘۔(مفتی محمد شفیعؒ :جواہر الفقہ:۱؍۸۵)
(۴) صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۸
(۵) ابن قتیبہؒ الدینوریؒ ،ابو محمد عبد اللہ بن مسلم(م۲۷۶ھ): ادب الکاتب:ص۲۵۳،ط۲،دارِ احیاء التراث العربی ، بیروت، ۱۹۷۰ء
(۶) السیوطیؒ : الاتقان فی علوم القرآن: ۴؍۱۴۶،ط۱،مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی،قاہرہ،۱۹۶۷ء،تحقیق:محمد ابوالفضل ابراہیم) ۔۔۔صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۸۔۔۔’’والفقہاء مجمعون ، أو کالمجمعین علی ہذا الرسم‘‘۔(الجمع الصوتی الاول:ص۲۹۸)
(۷) الحدادؒ :محمد بن علی بن خلف الحسینی: إرشاد الحیران إلی معرفۃ ما یجب فی رسم القرآن:ص۴۱،مطبعۃ المعاہد بالجمالیۃ، قاہرہ، ۱۳۴۲ھ
(۸) احمد بن المبارک: الإبریز: ص۵۹، ط۱، المطبعۃ الازہریۃ،مصر،۱۳۰۶ھ۔۔۔ الکردی:تاریخ القرآن:ص۱۰۴۔۔۔التھانوی:اظہار احمد ،الاستاذ الجلیل(م ۱۴۱۲ھ):ایضاح المقاصد شرح عقیلۃ اتراب القصائد فی علم الرسم:ص۱۱،قراء ت اکیڈمی، لاہور۔ س ۔ن۔۔۔ابو طاہر السندی،صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۷۹
(۹) الدانی:ابو عمرو عثمان بن سعیدؒ (م ۴۴۴ھ): المقنع فی رسم مصاحف الامصار:ص۹ ۔۱۰،تحقیق: محمدالصادق قمحاوی، مکتبۃ الکلیات الازہریۃ، قاہرہ
(۱۰) الزرقانی ،مناہل العرفان:۱؍۳۷۲
(۱۱) مرجعِ سابق۔۔۔الزرکشی،البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۷۹
(۱۲) حمودہ،عبدالوہاب: القراء ات واللہجات:ص۱۰۲،ط۱،مکتبۃ النہضۃ المصریۃ،قاہرہ،۱۳۶۸ھ؍۱۹۴۸ء
(۱۳) الزرقانی،مناہل العرفان:۱؍۳۷۲
(۱۴) مرجعِ سابق
(۱۵) الشیخ عبد الواحد بن عاشر الاندلسیؒ :تنبیہ الخلان علی الاعلان بتکمیل مورد الظمآن :ص۱،ط۱،دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ۱۴۱۵ھ؍۱۹۹۵ (نوٹ:مذکورہ کتاب علامہ المارغنیؒ کی تصنیف ’’دلیل الحیران‘‘ کے آخر میں بھی منسلک ہے)
(۱۶) سورۃ الفرقان:۷
(۱۷) جار اللہ ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشریؒ (م۵۳۸ھ) : الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التأویل: ۳؍۲۰۹، ط۲، المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ، القاہرۃ، ۱۹۵۳ء
(۱۸) الاتقان فی علوم القرآن:۴؍۱۴۶۔۔۔البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۷۹۔۔۔الکردی :تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۰۳ ۔۔۔لطائف الاشارات لفنون القراء ات:۱؍۲۷۹
(۱۹) محمد غوث ناصر الدین محمد نظام الدین النائطی الارکانی: نثر المرجان فی رسم نظم القرآن:۱؍۱۰، مطبعۃ عثمان پریس،حیدرآباد دکن،۱۳۱۳ھ
(۲۰) غرائب القرآن ورغائب الفرقان:۱؍۴۰۔۔۔الزرکشی،البرہان فی علوم القرآن:۱؍۳۸۰میں بھی اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
(۲۱) صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۸۰و۱۸۱
(۲۲) تاریخ القرآن وغرائب رسمہ وحکمہ:ص۱۱۱
(۲۳) الجمع الصوتی الاول:ص۲۹۸
(۲۴) مباحث فی علوم القرآن:ص۱۴۹
(۲۵) ’’یہ’حفاظتِ ورثہ‘ والی بات جذباتی ہی نہیں اپنے اندر ایک تہذیبی بلکہ قانونی اہمیت بھی رکھتی ہے۔ برسبیل تذکرہ مصر کے ایک ناشر کے خلاف رسمِ قیاسی کے ساتھ لکھا ہوا ایک مصحف چھاپنے پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے ناشر کے خلاف فیصلہ دیا اور نسخہ کی ضبطی کاحکم جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک ’نقطۂِ توجہ‘ یہ لکھا کہ((آثارِ سلف کی حفاظت ترقی یافتہ اقوام کا فریضۂ اولین ہے))۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز شیکسپئر (یا دوسرے قدیم شعراء مثل چوسروغیرہ) کا کلام انہی کے زمانے کے ہجاء وغیرہ کے ساتھ چھاپنا ضروری خیال کرتے ہیں اور وہ کسی طابع یا ناشر کو اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتے حالانکہ تین چار سو سال میں انگریزی زبان بدل کر کچھ سے کچھ ہو چکی ہے تو پھر قرآن کے بارے میں یہ اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟‘‘۔(قرآن وسنت چند مباحث(۱):ص۹۵و۹۶)
(۲۶) الجمع الصوتی الاول:ص۳۰۲
(۲۷) فتاویٰ امام محمد رشید رضا:۲؍۷۸۹ تا۷۹۴۔۔۔بحوالہ:مرجعِ سابق
امام محمد رشید رضا نے پانچ نکات پر مشتمل جو جواب صادر فرمایا اس کامتن یوں ہے:
’’(۱) أن الاسلام یمتاز علی جمیع الادیان بحفظ أصلہ منذ الصدر الأول، وأن التابعین وتابعیہم وائمۃ العلم أحسنوا باتّباع الصحابۃ فی رسم المصحف، وعدم تجویز الکتابتہ بما استحدث الناس من فنّ الرسم ، وإن کان أرقی مما کان علیہ الصحابۃ، إذ لو فعلوا لجاز أن یحدث اشتباہ فی بعض الکلمات باختلاف رسمہا وجہل أصلہا۔
(ب) وأن الاتباع فی رسم المصحف یفید مزید ثقۃ واطمئنان فی حفظہ کما ہو، وفی إبعاد الشُبہات أن تحوم حولہ، وفی حفظ شئ من تاریخ الملۃ وسلف الأمۃ کما ہو۔
(ج) وأنہ کنصّ الفتویٰ لو کان لمثل الأمۃ الإنکلیزیۃ ہذا الأثر لما استبدلت بہ ملک کسری وقیصر، ولا أسطول الألمان الجدید الذی ہو شغلہا الشاغل الیوم۔
(د) وأن ما احتج بہ العز بن عبد السلام لما رآہ من (عدم جواز کتابۃ المصاحف الآن علی المرسوم الاول خشیۃ الالتباس، ولئلا یوقع فی تغییر من الجہّال) لیس بشئ ، لأن الاتباع إذا لم یکن واجباً فی الأصل وھو ما لا ینکرہ فترک الناس لہ لا یجعلہ حرامًا أو غیر جائز لما ذکرہ من الالتباس۔
(ھ) وأن الحلّ لکل العُقد فی مشکلات الرسم التی تواجہ السائل ہو فی الرجوع إلی طبعۃ المصحف الصّادرۃ فی سنۃ ۱۳۰۸ھ من مطبعۃ محمد أبی زید بمصر، فقد توقف علی تصحیح ہذہ الطبعۃ وضبطہا الشیخ رضوان بن محمد المخلانی أحد علماء ہذا الشأن وصاحب المصنفات فیہ، والذی وضع للطبعۃ مقدمۃ شارحۃ ونافعۃ‘‘۔
(۲۸) نفس المصدر:ص۳۰۳
(۲۹) محمد بن حبیب اللہ الشنقیطیؒ : إیقاظ الأعلام لوجوب اتباع رسم المصحف الإمام:ص۱۶، ط۱، مطبعۃ المعاہد بالجمالیۃ قاہرہ،مصر،۱۳۴۵ھ
(۳۰) قرآن وسنت چند مباحث(۱):ص۹۷
(۳۱) بحوالہ:جواہر الفقہ از مفتی محمد شفیعؒ :۱؍۹۳
(۳۲) قاضی عبد الفتاح نے الشیخ حسین والی اؒ ور احمد حسن زیات ؒ کو بھی اِسی نظریہ کے قائلین میں شمار کیا ہے۔۔۔۔ملاحظہ ہو:القاضی عبدالفتاح: تاریخ المصحف الشریف:ص۸۲، مطبعۃ المشہد الحسینی، القاہرۃ
(۳۳) القسطلانی :شہاب الدین احمد بن محمدبن ابی بکر: لطائف الاشارات لفنون القراء ات: ۱؍۲۷۹،المجلس الاعلیٰ للشؤن الاسلامیہ، قاہرہ، ۱۹۷۲ء
(۳۴) الدمیاطی البناء،اتحاف فضلاء البشر:ص۹
(۳۵) مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:الزرکشیؒ ،بدرالدین محمد بن عبد اللہ بن بہادر(م۷۹۴ھ): البرہان:فی علوم القرآن :۱؍۳۷۹،دار احیاء الکتب العربیۃ ،قاہرہ، ۱۹۵۷ء:
(۳۶) غانم قدوری الحمد: رسم المصحف دراسۃ لغویۃ تاریخیۃ: ص۲۰۱،ط۱، اللجنۃ الوطنیۃ للأحتقال، بغداد، عراق، ۱۴۰۲ھ؍ ۱۹۸۲ء
(۳۷) الزرقانی:الشیخ محمد عبد العظیم : مناہل العرفان فی علوم القرآن: ۱؍۳۷۳۔۳۷۴،دار احیاء الکتب العربیۃ عیسیٰ البابی الحلبی،قاہرہ،۱۹۴۳ء
(۳۸) مرجعِ سابق
(۳۹) احمد بن المبارک: الإبریز: ص۱۱۶، ط۱، المطبعۃ الازہریۃ،مصر،۱۳۰۶ھ
(۴۰) الدکتور احمد مختار عمر،الدکتور عبد العال سالم مُکرم:معجم القراء ات القرآنیۃ:۱؍۴۲و۴۳،ط۱، انتشارات اسوہ (التابعۃ لمنظمۃ الاوقاف والشؤون الخیریۃ)، ایران،۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱ء
(۴۱) ابن خلدونؒ :عبد الرحمن المغربی(م۸۰۸ھ): کتاب العبر ودیوان المبتداء والخبرمسمّیٰ بتاریخ ابن خلدون:۱؍۷۴۷وما بعد، دارالکتاب،بیروت،۱۹۵۶ء:
(۴۲) المارغنیؒ التونسی،الشیخ ابراہیم بن احمد : دلیل الحیران علیٰ مورد الظمآن فی فنّی الرسم والضبط:ص۲۶،ط۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت، ۱۴۱۵ھ؍۱۹۹۵ء
(۴۳) جیسا کہ علامہ الدمیاطی ؒ نے اِس رائے کو اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’ورأی بعضہم قصر الرسم بالاصطلاح العثمانی علی مصاحف الخواصّ، وإباحۃ رسمہ للعوامّ، بالاصطلاحات الشائعۃ بینہم‘‘۔ (اتحاف فضلاء البشر:ص۹)
(۴۴) السندیؒ ، ابو طاہر عبد القیوم: صحفات فی علوم القراء ات: ص۱۸۰،ط۱، المکتبۃ الامدادیہ ،مکہ مکرمہ، ۱۴۱۵ھ
(۴۵) الزرقانی، مناہل العرفان:۱؍۳۸۵
(۴۶) ملخص از: احمد یارؒ ، پروفیسرحافظ:قرآن وسنت۔ چند مباحث:ص۸۵،شیخ زاید اسلامک سنٹر،جامعہ پنجاب لاہور،جون ۲۰۰۰ء
(۴۷) مرجعِ سابق
(۴۸) نفس المصدر:ص۸۷
(۴۹) اس پر حافظ احمد یار مرحوم ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ مگر جدید اور قیاسی املاء کے عادی خواندہ لوگوں کے لئے رسمِ قرآنی میں کیسے سہولت پیدا کی جائے ؟ اس سوال کا ایک جواب تو دقت نظر سے اختیار کردہ علاماتِ ضبط کا نظام ہے۔ دوسرا علاج اس کا الازہر والوں نے ۱۳۶۸ھ میں ایک دوسرے فتوی کی صورت میں دیا جس کی رو سے یہ جائز قرار دیا گیا کہ اصل متن تو رسمِ عثمانی کے مطابق ہی رہے مگر نیچے ذیل(فٹ نوٹ) کے طور پر ’’مشکل‘‘ کلمات کو جدید املاء یا رسمِ معتاد کی شکل میں الگ بھی لکھ دیا جائے۔ چنانچہ عبدالجلیل عیسیٰ کے حاشیہ کے ساتھ ’’المصحف المیسر‘‘ اسی اصول پر علماء الازہر کی نگرانی میں تیار ہو کر شائع ہوا تھا۔یہ بھی اس مسئلہ کا ایک عمدہ حل ہے ۔ تاہم غالباً پاکستان میں اس کی ضرورت نہیں یہ پڑھے لکھے عربوں کا مسئلہ کا حل ہے۔ہمارے ہاں رسمِ عثمانی کا مکمل التزام درکار ہے‘‘۔ (نفس المصدر:ص۹۷و۹۸)
(۵۰) السندی ابو طاہر،صفحات فی علوم القراء ات:ص۱۸۲
(۵۱) حضرت مولانا محمد شفیع ؒ :جواہر الفقہ:۱؍۷۶،ط۱، مکتبہ دارالعلوم کراچی،جمادی الاولیٰ۱۳۹۵ھ
(۵۲) اِ س کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ غانم قدّوری لکھتے ہیں:
’’۔۔۔فإن طائفۃ من المحدثین تنسب إلی العلم أطلقت ألسنتھا تصف الرسم بما نجل الرسم والصحابۃ الذین کتبوہ عن مجرد ذکرہ، وھو إن دل علی شء، فإنما یدل علی الجہالۃ فی العلم والبلادۃ في الذہن والقصور في الادراک، إن لم یدل علی سوء النیۃ وخبث القصد والعداء لکتاب اﷲ العزیز‘‘۔(رسم المصحف:ص۲۱۱۔۲۱۲)
(۵۳) مرجعِ سابق
(۵۴) مرجعِ سابق
(۵۵) الفرقان:ص۵۷۔۔۔بحوالہ:مرجعِ سابق
(۵۶) لبیب السعید:الدکتور: الجمع الصوتی الاول للقرآن(المصحف المرتل): ص۲۹۳، ط۲، دارالمعارف القاہرۃ،س۔ن
(۵۷) غانم قدوری:رسم المصحف:ص۲۱۲۔۔۔و۔۔۔الجمع الصوتی الاول:ص۳۰۱
بائبل کا قورح ہی قرآن کا قارون ہے
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
محمد یاسین عابد صاحب نے ’الشریعہ‘ کے فروری ۲۰۰۶ کے شمارے میں میرے ایک مضمون’’قرآن کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ (الشریعہ، دسمبر ۲۰۰۵) کو تنقید سے نوازا ہے اور متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ افسوس کہ ان کا اندازبیاں بڑا جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہواہے ۔وہ فرماتے ہیں: ’’غالباً ڈاکٹر صاحب نے کبھی بائبل کھول کر نہیں دیکھی اور سنی سنائی اور غیر مستند معلومات کی بنیاد پر مذکورہ عبارت تورات کی طرف منسوب کر دی۔‘‘
اب میں تو کوئی جارحانہ اسلوب اختیار نہیں کرتا،ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ کبھی کراچی آئیں اور میرانسخہ بائبل دیکھیں جو بیسیوں تنقیدی حواشی سے بھرا ہوا ہے۔ بائبل جس کو وہ بہت مستند اور لائق اعتماد کتاب قرار دے رہے ہیں، اس کے کچھ عجائب وغرائب شرافت ونبوت ہی کے منافی نہیں ، انسانیت کی پیشانی پر کلنک کاٹیکہ ہیں۔ ساتھ ہی یہ نسخہ ایسے حواشی سے بھرا ہو ا ہے جو بعض انبیاء علیہم السلام اور خاص طور پر موسیٰ علیہ السلام وفرعون کے قصے کے حوالے سے قرآنی بیانات سے متعلق ہیں۔ پہلی قسم کے حواشی سے قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود نے توراۃ میں تحریف کی ہے ،اور دوسرے قسم کے حواشی سے توراۃ کے بارے میں قرآن کے بیان ’’مصدق لما بین یدیہ‘‘ کی تصدیق ہوتی ہے۔
جناب ناقد نے یہودی قورح کے دفاع میں جو کچھ لکھا ہے اور جس طرح خود بائبل کے بیانات سے تجاہل برتاہے، اس کی امید کسی یہودی ہی سے کی جاسکتی تھی۔ اس سب کی تردید تو اپنی جگہ آئے گی،لیکن پہلا سوال یہ ہے کہ جناب ناقد نے اپنے مضمون کی ابتدا میں محمد اسلم رانا مرحوم کے پندرہ سال قبل شائع ہونے والے مضمون کو، جو قارون وقورح سے متعلق ہے، اپنی تنقید کی بنیاد بنایا ہے، جو ان کے بیان کے مطابق کسی ’’المذاہب‘‘میں چھپا تھا۔ یہ ظاہر نہ ہوسکا کہ قورح کے متعلق جوبیانات موصوف کے مضمون میں ہیں، یا اس میں بائبل کے جو حوالے ہیں، وہ مرحوم اسلم رانا صاحب کا فیضان قلم ہے ،یا جناب ناقد کی اپنی تحقیق انیق ہے۔ بہرحال انھوں نے جو سوالات اٹھائے، ان کی وضاحت ضروری ہے جو ترتیب وار عرض ہے:
ا۔ جناب ناقد کا اعتراض یہ ہے کہ میں نے قارون کو توراۃ کاقورح سمجھ رکھا ہے ،جو ان کی دانست میں غلط ہے۔ اس بارے میں عرض ہے کہ قارون کو قورح میں نے ہی نہیں سمجھ رکھاہے، بلکہ ہمار ے تمام قدیم مفسرین اور عصر حاضر کے بعض ممتاز پاکستانی وہندوستانی مترجمین ومفسرین نے بھی یہی لکھا ہے۔ جس قورح کا شجرہ نسب جناب ناقد نے بائبل سے نقل کرنے میں بڑی سر مغزی کی ہے ،یا مرحوم اسلم رانا کے مذکورہ بالا مضمون سے حرف بحرف نقل کیا ہے ،یہی شجرہ نسب ہمارے قدیم ترین عظیم مفسر، تیسری صدی ہجری کے امام طبری نے اپنی تفسیر میں سورۃ قصص کی متعلقہ آیت کے ضمن میں قارون کا دیا ہے: ’’قارون بن یصہر بن قاہث بن لاوی بن یعقوب‘‘اور یہی اپنی مشہور ومعروف تاریخ کی پہلی جلد میں قارون کے ذکر میں بیان کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے صحابی رسول ﷺ اور مشہور مفسر قرآن عبداللہ ابن عباسؓ اور ان کے شاگردوں مجاہد وغیرہ کے اقوال نقل کیے ہیں ،اور وضاحت کی ہے کہ یہ قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ اور ان کے شاگرد تابعین کے بیانات (یعنی قارون ہی توراۃکا قورح ہے) اس لیے مستند ہیں کہ ان کا ماخذ ان یہودی علما کے اقوال وبیانات ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، جیسے عبد اللہ بن سلام، کعب بن مالک، اور وہب بن منبہ وغیرہ۔ مزید یہ کہ انہی تابعین میں ایک مشہور تابعی ابن جریج (عبد اللہ بن عبد العزیز) ہیں جو امام ابو حنیفہ ؒ کے معاصر تھے اور جن کے دادا جریج ایک رومن عیسائی تھے۔ انہوں نے قارون کا وہی شجرہ دیاہے جو قورح کا ہے۔
یہی بات مفسر زمخشری اور قرطبی وغیرہ نے لکھی ہے ،اور بائبل کے بیانات کے مطابق قورح ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ قدیم عرب مفسرین ومورخین کے علاوہ عہد حاضر کے انگریزی مترجم ومفسر قرآن عبد اللہ یوسف علی، مولانا عبد الماجد دریابادی (انگریزی تفاسیر) اور مولانا مودودی نے بھی قارون کو بائبل کا قورح لکھا ہے۔
اب کہیں یاسین عابد صاحب یہ اعتراض نہ کر بیٹھیں کہ توراۃ کے شجرۂ نسب میں قورح کے باپ کا نام اضہار اور اس کے دادا کا نام قہات ہے، جبکہ دونوں کے نام طبری وغیرہ اسلامی ماخذ میں علی الترتیب یصہر اور قاہث ہیں۔ اس بے بنیاد ممکنہ شبہہ کے جواب میں عرض ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام توراۃ کی کتاب پیدایش میں مسلسل چھ اصحاح ( ۱۱ تا۱۶) میں ’ابرام‘ مذکور ہے اور طرفہ تماشایہ کہ اصحاح ۱۷:۵ کے بعد سے وہ ننانوے سال کی عمر میں ’’ابرام‘‘سے ’’ابراہام‘‘ ہوگئے اور اللہ نے ان کا یہ نام بدلا۔ علاوہ ازیں بائبل میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام اضحاق، یونس علیہ السلام کا نام یوناہ اور یحییٰ علیہ السلام کا نام یوحنا ہے، اور انگریزی بائبل میں تو یہ نام بہت ہی مختلف ہیں۔ لوط، یعقوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کے نام علی الترتیبLot, Jacob, Joseph, Moses, Aaron لکھے ہیں۔اب یاسین عابد صاحب بتائیں کہ کیا قرآن میں مذکور انبیا اور بائبل میں مذکور یہ انبیا ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟ ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ قارون وقورح کے شجرۂ نسب کے ایک ہی ثابت ہونے کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ قارون بائبل کاقورح ہے۔ ’قارون‘ نام، شمعو ن، شیرون کے اوزان پر عبرانی نام ہی معلوم ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے حضرت ابراہیم کے والد کانام قرآن میں آذر (سورۃالانعام، آیت ۷۴) اور بائبل کی کتاب پیدایش میں تارح ہے، جن کے مابین توفیق علما نے اس طرح کی ہے کہ ایک ان کا اصلی نام ہوگااور ایک عرف یا لقب، اسی طرح قارون اور قارح بھی ایک ہی شخص کے دو مختلف نام ہوں ، خاص طورپر یہ کہ ان کا شجرہ نسب ایک ہی ہے۔ یہی معاملہ قرآن کے طالوت (سورۃ البقرۃ۲۴۳) اور بائبل کے ساؤل کا ہے۔
قرآن کریم کے صریح بیانات کے مطابق توراۃ واناجیل اربعہ وغیرہ (بائبل ،عہد قدیم وعہد جدید) تحریف شدہ کتابیں ہیں: ’فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِأَیْْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ ہٰذَا مِنْ عِندِ اللّہِ لِیَشْتَرُواْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً‘ (البقرۃ،۷۹) یعنی ’’ہلاکت ہے ان (یہودیوں) کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ لیتے ہیں، پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس طریقے سے کچھ پیسے حاصل کرسکیں۔‘‘ اور دوسری جگہ ہے: ’یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہ‘ (النساء،۴۶) یعنی ’’وہ لوگ جو اپنے آپ کو یہودی کہنے لگے، ان میں سے کچھ لوگ (اللہ کے) کلمات ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ یہ بھی ممکن ہے کہ قورح کے بارے یہودیوں نے بائبل میں تحریف کی ہو۔
قارون اور قورح کے ایک ہی شخص ہونے کے بارے میں مزید ایک بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مصر کے بادشاہ کا لقب قرآن وبائبل میں ’فرعون‘ مذکور ہے ۔یہ مصری لقب جو مصر کے تمام بادشاہوں کا لقب تھا،اصل میں ’’پر+عو‘‘ یا ’’فر+عو‘‘ دو لفظوں سے مرکب تھا ، جس کا معنی ہے ’’عظیم محل ‘‘یا قصر اعظم۔ انگریزی نام Pharoahمیں لفظ کی اصل مصری صورت بڑی حد تک باقی ہے۔ لفظ فرعون کی یہ تشریح مصر قدیم سے متعلق کتابوں اور خاص طورپر موسسہ فرانکلین کی طرف سے شائع ہونے والی یک جلدی ضخیم انسائیکلوپیڈیا ’الموسوعۃ العربیۃ المیسرۃ‘ میں ہے جو ممتاز مصری مورخین ومحققین وماہرین آثار کے قلم سے ہے۔ اس میں لفظ کی مذکورہ بالا تشریح کے بعد لکھا ہے کہ یہ لفظ ’’پرعو‘‘ شاہی قصر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ پھر خود مصر کے بادشاہوں کے لیے استعمال ہونے لگا، جس طرح ’’الباب العالی‘‘ (بلند دروازہ، Sublime Porte) کا اطلاق ترکی سلاطین پر ہوتاہے۔ (المو سوعۃ العربیۃ المیسرۃ، قاہرہ ۱۹۶۵ء، ص ۱۲۹۰)
۲۔ قورح کی فراوانی دولت سے متعلق میں نے ایک اقتباس بائبل کا حوالہ دے کر نقل کیا تھا۔ اس پر جناب ناقد صاحب کا ارشا د ہے: ’’یہ عبارت بھی گنتی باب ۱۶ میں نہیں ہے بلکہ ہمیں تو پوری کوشش کے باوجود پوری بائبل میں کہیں نہیں مل سکی۔ غالباً ڈاکٹر صاحب نے کبھی بائبل کھول کر نہیں دیکھی اور سنی سنائی اور غیر مستند معلومات کی بنیاد پر مذکورہ عبارت تورات کی طرف منسوب کر دی۔‘‘
میری عربی، انگریزی واردو تصانیف پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں سنی سنائی معلومات درج کرنے کا خوگر نہیں۔ یاسین عابد صاحب بھی میری دو اردو کتب ’’ تحقیقات وتاثرات‘‘ اور ’’خانوادہ نبوی وعہد بنی امیہ ‘‘میں میرے انداز تحقیق کو دیکھ سکتے ہیں۔ میرا زیر بحث مضمون دروس قرآن کے ضمن میں ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کی کاوش ہے۔ یہ قارون (قورح) سے متعلق کوئی تحقیقی مقالہ نہیں اور اہل علم میں قارون کے متعلق جو باتیں معروف ہیں (ان میں یہ بھی ہے کہ وہی بائبل کا قورح ہے) میں نے بغیر حوالے کے لکھ دی تھیں، کیونکہ بنیادی طورپر اس لیکچر (درس قرآن) میں آنے والے عام تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اب اگر مضمون نگار صاحب نے اپنے انتہائی محدود مطالعے اور صرف بائبل یا توراۃ (جو قرآن کے مطابق تحریف شدہ ہے) پر کلی اعتماد کرتے ہوئے میری بات کو سنی سنائی اور غیر مستند سمجھا ہے تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ قورح کی فراوانی دولت کا بیان پہلی صدی عیسوی کے ممتاز یہودی مورخ یوسفوس (Josephus) نے اپنی مشہور کتاب Antiquities of the Jewsمیں کیا ہے جس کو مرحوم مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنی انگریزی تفسیر ماجدی (جلد ۳، ص ۳۵۳) میں نقل کیا ہے۔ یہ اقتباس درج ذیل ہے :
"Corah, an Hebrew of principal account, both by his family and by his wealth, saw that Moses was in an exceedingly great dignity, and was uneasy at it, and envied him at that account (he was of the same tribe with Moses, and of kin to him) being particularly grieved, because he thought he better deserved that honourable post on account of his great riches, and as not inferior to him in his birth."
’’قورح ایک ممتاز حیثیت کا یہودی تھا، اپنی خاندانی حیثیت سے بھی اور اپنی دولت کے سبب سے بھی۔ اس نے دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو انتہائی بلند عظمت حاصل تھی۔ وہ اس بات سے ناخوش تھا اور اس وجہ سے اس نے حسد کرنا شروع کردیا (وہ موسیٰ کے قبیلے ہی سے تھااور ان کا ایک قرابت دار تھا) اس کو خاص طور پر شکایت یہ تھی کہ وہ اپنی بے انتہا دولت کے سبب اور اس وجہ سے بھی کہ وہ خاندانی وجاہت میں موسیٰ سے کم نہ تھا، اس معزز منصب کا زیادہ مستحق تھا جو موسیٰ کو حاصل تھا۔‘‘(Antiquities iv.2:2)
یوسفوس کے اس بیان میں قورح کی فراوانی دولت کی طرف واضح اشارہ ہے اور وہ یہ بھی یقین کے ساتھ کہتاہے کہ خاندانی وجاہت کے ساتھ وہ اپنی کثیر دولت کے سبب اپنے آپ کو اس عالی مقام (نبوت )کا زیادہ اہل سمجھتاتھا جو موسیٰ علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اس اقتباس میں قورح کی فراوانی دولت کا واضح ومکر ر ذکر ہے۔ یاد رہے کہ قدیم یہودی تاریخ کے بارے میں یوسفوس انتہائی مستند ماخذہے۔ اس کا پورا نام فلا فیوس یوسفوس تھا اور اس کا زمانہ ۳۷ء تا ۹۵ء ہے۔ یہودیوں نے اس کو ۶۶ء میں فلسطین کے شہر جلیلی Galili)) کا گورنر مقر ر کیا تھا۔ اس کے رومن حکومت سے اچھے تعلقات تھے۔ یہ رومابھی گیاتھا ،اور اس کو پورے رومنRoman)) شہری حقوق حاصل تھے۔ اس نے مذکورہ بالا کتاب کے علاوہ یہودیوں اور ان کی جنگوں کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ وہ یہودیوں کا ایک مذہبی رہنما (کاہن) اور مورخ وسیاستدان تھا۔اس نے یہودیوں کی مدافعت میں بہت کچھ لکھا اور ان کی تعریف میں رطب اللسان رہاہے۔ (الموسوعۃ العربیۃ المیسرۃ ،ص ۱۹۹۲)
اس سب کے پیش نظر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ یہودی مورخ اپنے ہم قوم یہودیوں کا دشمن تھا۔یوسفوس کی یہ کتاب آسانی سے دستیاب نہیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مولانا عبدالماجد دریابادی مرحوم کو جنہوں نے کتاب کا یہ اقتباس اپنی انگریزی تفسیر میں محفوظ کر لیا ہے۔ تما م انگریز ی تفاسیر میں ان کی یہ انگریزی تفسیر اس حیثیت سے ممتاز ہے کہ اس میں بیسیوں ایسی کتابوں کے حوالے ہیں جو ان کے ذاتی مکتبہ میں تھیں۔ اب یاسین عابد صاحب بتائیں کہ نزول قرآ ن کے پانچ سو سال پیشتر کے اس یہودی مذہبی رہنما اور مورخ نے بھی قرآنی قارون کو ذہن میں رکھ کر سنی سنائی اور غیر مستند معلومات نقل کی تھیں؟
جہاں تک تین سو بار بردار جانوروں پر قارون (قورح) کے خزانوں کی کنجیاں لادنے کاتعلق ہے تو یہودی دائرۃالمعارف Jewish Encyclopaedia(جلد ۷ ص ۵۵۶) میں مذکورہے کہ’’قورح کے خزانون کی کنجیاں تین سو خچروں پر لادی جاتی تھیں‘‘ (تفسیر ماجدی ، انگریزی vol. III, p. 353، تفہیم القرآن ،جلد سوم،ص۶۶۲)
میرا جومضمون قارون سے متعلق ’’الشریعہ ‘‘میں شائع ہوا تھا، وہ دروس قرآن کے ضمن میں ٹیپ سے نقل کردہ Transcribed)) ایک لیکچر تھا جو ہمارے دفتر کے ایک سیکرٹری نے ٹیپ سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا تھا۔ ان کے سہو قلم سے تین سو خچروں کے بجائے تین سو اونٹ کتابت ہوگیااور چونکہ توراۃ کا ذکر اوپر چل رہاتھا، اس وجہ سے اسی کانام بجائے جیوش انسائیکلوپیڈیا کے انہوں نے لکھ دیا۔ بہر حال مصنف اس پر معذرت خواہ ہے، لیکن کتابت کی اس غلطی کے باوجود یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ مذکورہ بالادو اہم یہودی حوالوں کے پیش نظر قورح بے انتہا دولت کا مالک تھا ،خواہ اس کے خزانوں کی کنجیاں تین سو خچروں پر لادی جائیں یا تین سو اونٹوں پر، اور خواہ اس کا ذکر جیوش انسائیکلو پیڈیا میں ہو اوربائبل میں نہ ہو، کیونکہ قرآنی تاکیدات کے پیش نظر بائبل ایک تحریف شدہ کتاب ہے۔ پھر اہل علم سے یہ بات بھی پوشیدہ نہیں کہ یہودی مذہب اور تاریخ سے متعلق بعض انتہائی اہم بیانات وتفاصیل توراۃ کی شرح تلمود میں موجود ہیں جو یہودیوں کے نزدیک ایک مقدس کتاب ہے۔
جوبات میں نے Josephusکی مذکورہ بالا کتاب کے پیش نظر قورح سے متعلق لکھی تھی، وہی بات برصغیر کے عظیم عالم ومفسرّ قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی نے سورۃ القصص کی متعلقہ آیت ۷۶ پر اپنے تفسیری حاشیے نمبر ۸ میں کہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’وہ حضرت موسیٰ وہارون کی خداداد عزت ووجاہت کو دیکھ کر جلتا اور کہتا کہ آخر میں بھی ان ہی کے چچا کا بیٹاہوں۔یہ کیا معنی کہ وہ دونوں تو نبی اورمذہبی سر دار بن جائیں ،مجھے کچھ بھی نہ ملے ۔ کبھی مایوس ہوکر شیخی مارتا کہ انہیں نبوت مل گئی تو کیا ہوا، میرے پاس مال ودولت کے اتنے خزانے ہیں جو کسی کو میسر نہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اس کی ناپاک سرشت کے اور واقعات بھی، جن کاتعلق موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس کے حسد سے تھا، طبری ، زمخشری، رازی اور قرطبی سے نقل کیے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ قارون بائبل کاقورح ہی تھا۔
۳۔ میرے مضمون میں قورح سے متعلق بیانات پر اعتراضات کے بعد، جن کا جواب دیا جا چکاہے، موصوف نے قورح کی شخصیت پر ایک صفحہ سیاہ کیا ہے۔ سب سے پہلے تو توراۃ کے حوالوں کے ساتھ اس کے باپ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا شجرہ نسب حضر ت یعقوب علیہ السلام تک دیا ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ قورح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس کی چنداں ضرورت نہ تھی، کیونکہ ہمارے سب قدیم مفسرین ومورخین نے لکھاہے کہ قارون (قورح) موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ یاسین عابد صاحب چونکہ قارون اور قورح کو دو علیحدہ علیحدہ اشخاص سمجھتے ہیں، تو اب وہ قارون کا شجرہ نسب بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ثابت کریں، یا پھر یہ ثابت کریں کہ مورخ ومفسر امام طبری نے ،جن کے زمانے میں بغداد میں کافی یہود آباد تھے او ر جن سے مسلمانوں کامیل جول تھا، قارون کاوہ شجرہ غلط نقل کیا ہے جو بالکل قورح کے شجرہ نسب کی طرح ہے اور لاوی بن یعقوب علیہ السلام سے جاملتاہے۔ وہ تو ہرگز ان دونوں میں سے کوئی بات ثابت نہیں کرسکیں گے ،لیکن میں بائبل کے ان حافظ صاحب کو دکھاتاہوں کہ اس قورح کے شجرہ نسب میں خود بائبل میں کتنا تضاد ہے۔
موصوف نے قورح کا جو شجرہ نسب دیا ہے، وہ توراۃ کی کتاب خروج سے لیا گیا ہے۔ اس میں وہ اضہار بن قہات کا بیٹا ہے، لیکن اسی بائبل کی کتاب ۱۔ تواریخ، ۶:۲۲،۲۳ میں ہے: ’’قہات کا بیٹا عمینداب۔ عمینداب کا بیٹا قورح‘‘۔ لیجیے، توراۃ کی کتاب خروج میںیہ قورح، اضہار بن قہات کا بیٹاتھا،اب دوسری کتاب ۱۔ تواریخ میں عمینداب کا بیٹاہو گیا۔ کیا بائبل کے حافظ یاسین عابد کی نظر سے بائبل کا یہ باب اور یہ فقرہ نہیں گزرا، یا انہوں نے جان بوجھ کر تغافل کیا ہے؟ پھر یہ کہ موصوف نے قورح کے شجرہ نسب کے لیے بائبل کی کتاب خروج کے علاوہ ۱۔تواریخ ۲:۱ کاحوالہ بھی دیا ہے۔ اس مقام پر اضہار اور قہات بن لاوی یعنی قورح کے باپ کا بالکل ذکر نہیں۔ اس اصحاح کے فقرہ ۲ میں ’’دان، یوسف اور بنیمین، نفتالی، جد اور آشر‘‘ کاذکر ہے۔ اس فقرے سے پہلے فقرے میں ہے: ’’یہ بنی ا سرائیل ہیں۔ روبن، شمعون، لاوی، یہوداہ،اشکار اور زبولون۔‘‘ اس طرح ۱۔تواریخ ۲:۱،۲ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کا ذکر ہے۔ پھر ہر بیٹے کی نسل کا ذکر ہے، اور بنی لاوی کا ذکر، جن میں سے قورح تھا، اصحاح۶میں ہے۔
اب جناب ناقد، بائبل کے حافظ بتائیں کہ بائبل سے سنی سنائی باتیں کون نقل کررہاہے؟ میں یاموصوف؟ اگر وہ انصاف پسند انسان ہیں تو یقیناًیہاں وہ مشہور مصرع پڑ ھیں گے:’’ میں الزام ان کو دیتاتھا، قصور اپنا نکل آیا‘‘۔اور قورح کے باپ کے بارے میں بائبل کے بالکل متضاد بیان پر میں کہوں گا، وصدق اللہ العظیم: ’یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہ‘ یعنی یہ (یہودی) کلمات کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ توراۃ بلکہ پوری بائبل میں بیسیوں اور مواقع پر میں تحریف ثابت کر سکتاہوں،لیکن یہاں بائبل پرقرآن سے زیادہ اعتماد کرنے والے ناقد صاحب سے کہوں گا کہ وہ اس موضوع پر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی بے نظیر کتاب’’اظہار الحق‘‘ کی پہلی جلد میں دوسرا باب’’ فی اثبات التحریف‘‘ ص۳۳۵۔۵۰۸ پڑھ لیں (جدید عربی ایڈیشن، تحقیق الاستاذ عمر الدسوقی) ان کو عربی نہ آتی ہو تو اس کاترجمہ مولانا تقی عثمانی کے قلم سے بہ عنوان ’’بائبل سے قرآن تک ‘‘ پڑھ لیں، اگر چہ مجھے علم نہیں کہ انہوں نے اس کاپور ا ترجمہ کیا ہے یا ناقص۔
۴۔ قورح (سب مسلمان اہل علم کے نزدیک قرآن کاقارون) سے وہ بہت زیادہ حسن ظن رکھتے ہیں ،اور اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں : ’’ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان رکھتا تھا، یہی وجہ تھی کہ اس نے مصر میں اپنا گھربار اور شہری حقوق وسہولیات چھوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کی او ربحر قلزم کو عبور کیا۔ تمام بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی حضر ت موسیٰ کے زیرفرمان ہی ہوتی تھی۔‘‘ (گنتی ۹:۲۳)
جو حوالہ موصوف نے بائبل کی کتاب گنتی کادیا ہے ،اس میں کہیں بھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قورح کی مصر سے ہجرت کا ذکر نہیں، نہ اس کے مصر میں شہری حقوق وسہولیات چھوڑنے اور نہ بحر قلزم عبور کرنے اور جنگلوں میں مارے مارے پھرنے کا ذکر ہے۔ اس مقام (گنتی ۹:۲۳) پر تو صرف یہ درج ہے کہ ’’وہ (بنی اسرائیل) خداوند کے حکم سے قیام کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے کوچ کرتے تھے۔‘‘ بلکہ اس پورے اصحاح یا باب میں مصر سے براہ بحر قلزم ہجرت بنی اسرائیل کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اب لمبی زبان والے جناب ناقد صاحب یہ بتائیں کہ سنی سنائی باتیں کون کر رہاہے اور کیا اب میرا یہ کہنا درست ہوگا کہ موصوف نے کبھی بائبل کھول کر دیکھی ہی نہیںیا دیکھی ہے تو وہ جان بوجھ کرغلط بیانی کررہے ہیں اور قارئین کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ یاپھر یہ علامہ صاحب یہ تو بتائیں کہ قورح، جو ان کے بقول حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لایا اور پکا اسرائیلی تھا ، اس کو مصر میں شہری حقوق کیسے مل گئے؟ اسر ائیلی تو مصر میں مبتلائے عذاب (Persecuted) تھے۔ فرعون کے دربار میں اس کے اعلیٰ مقام کا ذکر تو ہمارے مفسرین ومورخین نے کیا ہے، اس بنیادپر کہ یہ قورح وہی قارون تھا جو اپنی قوم کے خلاف فرعون کے ساتھ ہو گیا تھا، لیکن شہری حقوق حاصل ہونے کا کیا ثبوت ہے؟
۵۔ جناب ناقد بائبل (توراۃ) کی کتاب خروج ۳۲:۲۸ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’قورح، داتن، ابیرام،اون اور ان کے دوسرے ساتھی بھی ہر عمل میں اپنی قوم کے ساتھ تھے۔ بچھڑے کی پوجا کے واقعے میں یہ اشخاص شرک میں مبتلا ہونے والے گروہ کے خلاف اور حضرت موسیٰ وہارون کے ساتھ تھے۔ اس واقعے میں بنی لاوی نے تمام مشرکین کو قتل کیا تھا۔ (خروج ۳۲:۲۸) ‘‘
اس کے فوراً بعد تحریر کرتے ہیں: ’’اسی وجہ سے بنی لاوی کو بنی اسرائیل میں ایک ممتاز حیثیت حاصل ہو گئی تھی (گنتی ۸:۱۴) اور وہ خدا کے چنے ہوئے لوگ ٹھہرے۔ یہاں تک قورح ایک گم نام شخص ہے۔‘‘
اب میں پھر بائبل کے ان بزعم خود حافظ صاحب سے کہتاہوں کہ انہوں نے سنی سنائی باتیں لکھی ہیں، اور بائبل کھول کر بھی نہیں دیکھی (بلکہ شاید بغیر کھولے بھی نہیں) یہ انہیں کے الفاظ میں نے دہرائے ہیں۔ اگر ان کے پاس واقعی بائبل ہے تو وہ اسے کھول کردیکھیں۔ کتاب خروج کے مندرجہ بالا باب اور فقرے میں سرے سے قورح وداتن وغیرہ کانام ہی نہیں بلکہ اس پورے باب (اصحاح ) میں کہیں ان کا نام نہیں، یہ بات تو علیحدہ رہی کہ انہوں نے ان مرتدین ومشرکین کی مخالفت کی تھی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔
میں ان کی او رقار ئین کی اطلاع کے لیے وضاحت کیے دیتاہوں کہ کتاب خروج ۳۲:۲۸ میں صرف یہ لکھا ہے:
’’اور بنی لاوی نے موسیٰ کے کہنے کے موافق عمل کیا۔ چنانچہ اس دن لوگوں میں سے قریبا تین ہزار مرد کھیت آئے‘‘۔
اس کا اظہار بھی ضروری ہے کہ اس سے قبل لکھا ہے:
’’اور اس( موسیٰ) نے ان (بنی لاوی ) سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدایوں فرماتاہے کہ تم اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گھوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو‘‘۔
یاسین عابد صاحب ان حوالوں سے کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ وہ قارئین جن کی نظر سے کبھی بائبل نہیں گزری، وہ تو اس سے مرعوب ہوجائیں گے اور دھوکہ کھا جائیں گے اور ایسے بہت سے ہیں، لیکن وہ جن کی نظر بلکہ تنقیدی نظر اس تحریف شدہ کتاب پر ہے، وہ اس سے دھوکہ نہیں کھا ئیں گے۔ اس موقع پر مجھے پندرہ سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے ،کہ کراچی ٹیلی ویژن کے ایک مشہور خطیب اور میلاد خواں نے میرے ایک تحقیقی مضمون پر، جو شجرہ خاندان نبوت سے متعلق تھا، ایک تنقیدی مضمون لکھا جس میں ہفت روزہ تکبیر کے قارئین کو مرعوب کرنے کے لیے کچھ عربی کتابوں کے جھوٹے حوالے بھی لکھے۔ پھر اس کا جواب میں نے اسی ہفت روزے میں شائع کیا تو انہوں نے اپنے ہمہ دانی کے زعم میں تاریخ بنی امیہ سے متعلق کچھ سوالات اٹھائے جن میں ناصبیت کارنگ تھا، اور اسی طرح کا جارحانہ انداز بیاں اختیار کیا جو یاسین عابد صاحب کا ہے، اورپھر ساتھ ہی مزید جھوٹے حوالے ۔ میں نے اس کا بھی مفصل ومدلل جواب دیا، الحمد للہ کہ اہل علم نے میری تحریروں کو پسند کیا۔ بعض بزرگ میرے پاس تشریف بھی لائے۔ اس طرح وہ تحریری مناظرہ ایک کتابی شکل اختیار کرگیا اور دو سال قبل ’’خانوادہ نبوی وعہد بنی امیہ ‘‘ کے نام سے میرے یہاں سے ہی اشاعت پزیر ہوا۔ اب یہ ایڈیشن تقریباً ختم ہو چکاہے۔
۶۔ آخر میں موصوف نے قارون کی دولت پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اس نے اپنی دولت کی حفاظت، قرضوں کے لین دین اور سودکے حساب کتاب کے لیے منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں کا ایک پورا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ (۲۸:۷۶) ‘‘
مضمون نگار صاحب بائبل کے انداز حوالہ جات سے متاثر ہیں، چنانچہ انھوں نے اس عبارت کے لیے سورۃ القصص کی آیت نمبر ۷۶ کا حوالہ بائبل کے انداز پر دیا ہے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کے حوالے سورتوں کے نام اور آیات کے نمبروں سے ہوتے ہیں۔ یہی وہ اسلوب ہے جو اہل علم میں رائج ہے ۔اسی اسلوب پر عصر کی مشہور مجمع اللغۃ العربیہ(عرب لسانیات اکیڈمی) کی ضخیم کتاب ’’معجم الفاظ القرآن الکریم‘‘(دوجلدیں) مرتب کی گئی ہے۔ بہرکیف ان کی بیان کردہ تفصیلات کا مذکورہ آیت میں کوئی ذکر نہیں۔ پھر یہ خیالی گھوڑے کس لیے دوڑائے گئے ہیں؟
انہوں نے اس موقع پر پھر دہرایا ہے کہ قارون کاذکر بائبل میں نہیں۔ کوئی شک نہیں کہ قارون کانام نہیں لیکن قورح اور قارون اسی طرح تقریبی مشابہت رکھتے ہیں جس طرح مصری تاریخ کا’’ فرعو‘‘ اور بائبل اور قرآن کا’’فرعون‘‘۔ ایسی قریبی مشابہت بنی اسرائیل کے بہت سے قرآنی اور توراتی ناموں میں بھی نظر آتی ہے۔ دونوں جگہ مکمل یکسانیت نہیں ۔ہم قارون اور قورح کے ایک ہی شجرہ نسب اور تقریباً دو ہزار سال قبل کے یہودی مورخ یوسفوس کی کتاب کے حوالے سے ثابت کر چکے ہیں کہ قارون اور قورح ایک ہی شخص ہے۔ اب آخر میں بائبل کے نئے حوالوں سے، جن سے یاسین عابد صاحب یا تو غافل ہیں یا انہوں نے قصداً ان کو چھپا یا ہے ، ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ قورح، موصوف کے بیان کے برخلاف، صحرائے سینا میں نہیں بلکہ مصر میں اپنے محل کے ساتھ زمین میں دھنسا دیاگیا ،جس کی تصدیق قدیم مصری تاریخ کے ماہرین اور علماے آثار قدیمہ کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔
بائبل (توراۃ ) کی پانچویں کتاب التثنیہ یا استثنا Deuteronomy)) میں ہے کہ جب بنی اسرائیل مصر سے نکل کر سینا میں دشت نوردی کررہے تھے تو اس دور میں حضرت موسیٰ کے مخالفین ’’داتان اور ابیرام کو جو الیاب بن روبن کے بیٹے تھے ...... سب اسرائیلیوں سمیت زمین نے اپنا منہ پسار کران کے گھرانوں، خیموں اور ہرذی نفس جو ان کے ساتھ تھا، نگل لیا۔‘‘(استثنا ۱۱:۶) یہاں ان زمین میں دھنسائے جانے والوں میں قورح کانام نہیں ،جبکہ کتاب گنتی ۱۶:۳۱،۳۲ میں قورح کانام ہے۔ یہ اسی طرح کا ایک تضاد ہے جس کاذکرہم قورح کے باپ کے نام کے سلسلے میں کر چکے ہیں ، اور اس کاسبب یہ ہے کہ بابل کے کلدانی بادشاہ نبو خذ نصر نے (بائیل کا نبو کدنضر) جو عربی کے اثر سے اردو میں بخت نصر مشہور ہے، یروشلم کو اپنے دوسرے حملے ۵۸۶ قبل مسیح میں بالکل تباہ کردیا تھا، ہیکل سلیمانی کو مسمار کر دیاتھا اور توراۃ کے سارے نسخے جلا دیے تھے۔ تقریباً پچاس سال بعد ایران کے پہلے ہخا منشی (اکمینی) بادشاہ کو روش (بائبل خوروس، کتاب عزرا، انگلش Cyrus) نے یہودیوں کو فلسطین واپس جانے اور دوبارہ ہیکل (معبد) بنانے کی اجازت دی جو دوسرے ہخامنشی شاہ ایران خوشایارخوش (بائیبل، عزرا: ارتخششتا، یونانی و انگریزی Xraxes) کے زمانے میں ۵۱۵ قبل مسیح میں بن سکا اور اسی عہد میں عزرا کاہن نے اپنی یادداشت سے توراۃ (بائیبل عہد قدیم )کو دوبارہ لکھا جس کی وجہ سے اس میں کافی اغلاط اورتضادات پائے جاتے ہیں۔ پھر موجودہ بائبل میں تو اس کے بعد بھی تحریف ہوئی ہے جس کی تفصیل کی یہاں گنجایش نہیں، لیکن اس موضوع اور یہودی تاریخ پر ڈاکٹر احمد شلبی (مصری) کی بہترین کتاب ’الیہودیۃ‘ (قاہرہ، ۱۹۸۴ ) دیکھی جاسکتی ہے۔
بہر حال قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس طرح بائیبل کی کتاب استثنا میں داتن اور ابیرام کے ساتھ قور ح کے زمین میں دھنسائے جانے کاذکر نہیں ،اسی طرح بائبل کی ایک دوسری اہم کتاب زبور میں، جہاں داتن اور ابیرام کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکر ہے، وہاں بھی قورح کانام نہیں۔ زبور ہی بائبل کی وہ کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور بنی اسرائیل کے اظہار بندگی کے ترانے ہیں اور ان کے لیے اپنے گناہوں کا اعتراف بھی ان ترانوں میں ہے جن کو بآسانی حفظ کیا جا سکتاہے۔ یہی وہ زبو ر ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطاکی گئی تھی۔
زبور کے مزمور ۱۰۶ میں ہے: ’’ انہوں (بنی اسرائیل ) نے خیمہ گاہ میں موسیٰ اور خدا وند کے مقدس مرد ہارون پر حسد کیا ۔ سو زمین پھٹی اور داتن کو نگل گئی اور ابیرام کی جماعت کو کھاگئی ۔‘‘ (مزمور ۱۰۶:۱۶،۱۷) زبور کی تصریح (یہی مزمور، فقرات ۶تا ۱۵) کے مطابق یہ واقعہ سینا میں پیش آیا ،اور حسد کرنے والے روبن بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام اور قورح (قارون) لاوی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اسی لیے داتن اور ابیرام ودیگر جو اولاد روبن سے تھے، موسیٰ علیہ السلام سے ان کی نبوت کے سبب حسد کرتے تھے۔
قورح کے خسف فی الارض (زمین میں دھنسائے جانے) کا واقعہ اس سے قبل مصر میں ہو چکا تھا۔ قرآن کریم نے کتاب استثنا اور زبور کی روایت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مصر میں تھے کہ قارون (قورح ) اور اس کامحل زمین میں دھنسائے گئے ۔ ورنہ سینا میں تو سارے اسرائیلی خیموں میں رہتے تھے۔ وہاں قورح نے کون سا محل اور کہاں تعمیر کیا تھا؟ اسی لیے بائبل کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں داتن اور ابیرام کے گھروں کاذکر نہیں، بلکہ خیموں کاذکر ہے۔
مصر میں قارون (قورح) اور اس کے محل کے زمین میں دھنسنے کاذکر توراۃ کی ایک قدیم شرح مدراش (Midrash) کی روایت میں بھی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ایک بہت بڑا خسف فی الارض رعمسیس اور پتوم میں ہوا جو مصر کے مشہور شہر تھے۔ اس حادثے میں بنی اسرائیل بھی ہلا ک ہوئے۔ (مقالہ قارون، تعلیقہ، دائرۃ المعارف الاسلامیہ ، پنجاب یونیورسٹی (جلد۱۶/۱) بقلم جناب عبد القادر) اس شہر رعمسیس (یا بر رعمسیس ) اور بتوم کا ذکر عظیم مصری مورخ وماہر علم الآثار سلیم حسن کی کتاب ’’مصر القدیمۃ‘‘ (جلد ۶) میں بھی ہے۔ اردو دائرۃ المعارف الاسلامیہ ،پنجاب یونیو رسٹی میں مقالہ ’قارون‘ پر تعلیقہ (نوٹ)لکھنے والے عبدالقادر صاحب کاCommentory on the Bible, Peake 1952 کے حوالے سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ قارون کے بارے میں دو الگ الگ کہانیوں کو کسی بعد کے مرتب نے یکجا کر دیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس قسم کے دو حادثے ہوئے تھے۔ مرور زمانہ کے باعث قورح (قارون) کی کہانی داتن اور ابیرام کے حادثے کے ساتھ جوڑدی گئی۔
یہ ہے وہ بائبل اور قورح سے متعلق اس کے متضاد بیانات جن کو یاسین عابد صاحب نے مستند مانا ہے اور صرف کتاب گنتی وخروج کے حوالے دے کر قارئین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہم نے قدیم وجدید عرب وغیر عرب مفسرین کے اقوال اور بائبل کی دوسری کتابوں (استثنا اور زبور) کے حوالوں سے ثابت کردیا ہے کہ قرآن کاقارون ہی بائبل کا قورح تھا۔ جناب ناقد کی غلط بیانیوں کابھانڈا بھی پھوٹ گیا ہے ،اور ساتھ ہی بائبل جس کو ’کتاب مقدس‘ کانام دیا جاتاہے، اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی جناب پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب!
آ پ پر سلا متی ہو !
ماہنامہ ’الشریعہ‘ جنوری ۲۰۰۶ ء میں آ پ کا فکر انگیز مضمون’’ قرآ نی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ پڑھا۔ یقین جا نیے اس قسم کے مضا مین کو میں اپنے لیے فکر ی غذا تصور کر تا ہوں۔ داخلی انتشار کے اس پرآشوب دورمیں مسلم مذ ہبی فکر کے حوالے سے حق کی تلا ش جتنی ضروری ہے، اسی قدر مشکل بھی ہے۔ گروہی اور مسلکی تعصبا ت کے اند ھیر وں میں حق کے اجا لے کی سحر شب گز یدہ بن گئی ہے۔ اس کے با وجو د تلا ش حق فر ض عین ہے۔ اس عظیم سفر کی ہر تکلیف کلفت نہیں، نعمت ہے۔ اپنا یہ عقیدہ ہے کہ جادۂ مستقیم کا طالب ہر حال میں کامیاب ہے، خواہ اسے منزل نہ ملے۔ دوسرے لفظوں میں حق کی تلاش ہی اصل منزل ہے۔ زیر بحث مضمون کے بعض نکات سے اگرچہ مجھے اختلاف ہے، لیکن میں آپ کے’’سفر‘‘کو مبارک تصور کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اصابت اور لغزش، ہر دو صورتوں میں آپ کو اجر دے۔
قرآن کی علمیاتی اساس میں آپ نے غیب کی تشریح یوں کی ہے:
’’یہاں غیب سے مراد’’نامعلوم ‘‘ہے، لیکن اس کا مطلب لاادریت بھی ہر گز نہیں۔ نامعلوم ہوناایک اور چیز ہے اور نہ جان سکنا چیزے دیگر است۔ نہ جان سکنے کی روش اپنانا ایک منفی رویہ ہے اور یہ تشکیک کے قریب ترین ہے جس کی قرآن ابتدا ہی میں نفی کرتاہے۔ اس کے برعکس نامعلوم ہونا ایک مثبت رویہ ہے جس میں جان سکنے کی خواہش اور یقین دونوں پائے جاتے ہیں۔‘‘
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ بالغیب سے ’’نامعلوم‘‘مراد لے کر ایما ن بالغیب کا مطلب’’نامعلوم پر ایمان‘‘ہوگا، جیسا کہ آپ نے لکھا بھی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ’بالغیب‘ پر داخل ’’با‘‘ کو ظرفیت کے مفہوم میں لینے کے بجائے آپ نے ’بالغیب‘ کو مفعول کیوں مان لیا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ ایمان بالغیب سے ’’نامعلوم پر ایمان‘‘مرادلے کر آیت میں اس کا مفہوم کیا بنتا ہے؟ اور تیسری بات یہ کہ خود’’نامعلوم‘‘کی وضاحت کیا ہے؟ یہاں میں تیسرے اور دوسرے سوال کی نوعیت پر بحث کرتا ہوں۔ نامعلوم کو غیب کا مترادف قراردے کر آپ ایک سانس میں دوباتیں کہہ ڈالتے ہیں۔ وہ یوں کہ غیب نامعلوم بھی ہے اور اس کا مطلب لاادریت بھی نہیں۔ آپ کے نامعلوم کا چہرہ کچھ کچھ ’’ادریت‘‘کے غازے سے سرخ ہے۔ میرے خیال میں آپ اردو زبان کی تنگ دامنی کا گلہ کررہے ہیں۔
کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیان کے لیے
آپ کا یہ شکوہ اس وقت اور پرشکوہ لگتا ہے جب آپ لکھتے ہیں: ’’نہ جان سکنے کی روش اپنانا ایک منفی رویہ ہے اوریہ تشکیک کے قریب ترین ہے۔‘‘(ایضاً ص۲۰)
’’سکنے‘‘کے لفظ سے ایک قسم کی معذوری ٹپکتی ہے۔ اگر ایساہی ہے تو پھر یہ رویہ کس طرح ایک منفی رویہ قراردیا جا سکتا ہے؟ اگر میں کچھ نہیں سیکھ سکتا تو میرا یہ رویہ منفی کس طرح ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ شاید ’’نہ جاننے کی روش اپنانا‘‘ اس مفہوم کے لیے درست تعبیر ہو۔ یوں لگتا ہے کہ آپ کی اس پیچیدگی نے آپ کو ’یومنون بالغیب‘ کا ترجمہ’’جو غیب پر ایمان لاتے ہیں‘‘ کرنے پر مجبور کیا اور بعد میں آپ کو وضاحت کرنا پڑی کہ ’’امکانات کو چھونے کو خواہش اور سکت ایمان بالغیب ہے۔‘‘ اگر میں آپ کی بات سمجھ سکا ہوں تو غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے واقعات کے متعلق Positivelyسوچنا اور شک میں نہ مبتلا ہو جانا، ہی اس کا بالغیب ہے۔آپ کے ایمان بالغیب کی یہ تعبیر صرف ’’ایمان بالغیب‘‘میں مقید ہونے کا نتیجہ ہے ،حالانکہ یہ ایک طرف اس سورۃ سے پہلی سورہ ’الفاتحہ کے الفاظ ’الحمد اللہ رب العلمین الر حمن الر حیم ملک یو م الدین‘ کے ساتھ منسلک ہے تودوسری جانب اس کا تعلق اسی سورہ میں مذکور ایمان کی تفصیلات وجزئیات سے ہے۔ میں یہاں صرف ایک مثال پیش کروں گا جو بنی اسرائیل کی ظاہر پرستی سے متعلق ہے: ’’وَإِذْ قُلْتُمْ یَا مُوسَی لَن نُّؤْمِنَ لَکَ حَتَّی نَرَی اللَّہَ جَہْرَۃً‘‘ (البقرہ، آیت ۵۵)
اس لیے ایمان بالغیب کا تعلق اللہ پر ایمان سے لے کر یوم آخرت تک، تمام چیزوں سے ہے۔آپ کی بات بذات خود درست ہے، لیکن ایسا رویہ اپنانا متقین کی صفا ت میں سے ایک ہے، نہ کہ مجردایمان بالغیب کا تقاضا ۔
قرآنی علمیات کے رہنمایانہ منہاج کے حوالے سے آپ نے حضرت آدمؑ اور فرشتوں کے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق ایمان بالغیب کے اس تصور سے نہیں جسے آپ نے پیش کیا ہے۔ اس میں بھی آپ سے لغزش ہوئی ہے جس کی نشان دہی میں ابھی کروں گا۔ آپ یقیناًمیرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ یہ سورہ، بنی اسرائیل کے لیے ایک چارج شیٹ ہے اور اس میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ حضرت آدمؑ اور فرشتوں کے اس واقعہ سے پہلے اور بعد میں بنی اسرائیل کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ا ٹھیک اس واقعے سے پہلے کی آیت یہ ہے : ’’ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً ثُمَّ اسْتَوَی إِلَی السَّمَاء فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْم‘‘۔ کیا فرشتوں والا Positiveرویہ اپنانے کے لیے ضروری نہیں کہ سب سے پہلے ایمان بالغیب میں پوشیدہ اس عظیم المرتبت خداکی وحدانیت کا اقرارکیا جائے؟ مطلب یہ ہے کہ زندگی اور موت کے مسئلے پر غور کیا جائے اور کائنات کی تخلیق کے متعلق سوچا جائے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ انسان اعتراف کر لے کہ اے خدا! میں نے اگرچہ تجھ کو نہیں دیکھا، لیکن میری عقل تسلیم کرتی ہے کہ تو ہی بلا شرکتِ غیرے اس کائنات کا ر ب ہے اور علم کے سارے خزانے تیرے ہی پاس ہیں۔
اب ذرااس واقعے کے بعد کی آیات (۴۰،۴۶) پر غور کیجیے۔ آیت ۴۰ میں بنی اسرائیل کو’’َ أَوْفُواْ بِعَہْدِیْ‘‘ یاد دلایا گیا ہے۔ آیت ۴۱ میں اس چیز پر ایمان لانے کو کہا گیا ہے جسے خدائے عزوجل نے ’’أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ‘‘ کہا ہے ۔آیت نمبر۴۲ میں کتمان حق سے منع کیا گیا ہے۔ آیت نمبر۴۳میں نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے او رپھر آیت نمبر۴۶ میں ’’أَنَّہُمْ إِلَیْْہِ رَاجِعُونَ‘‘ کی یاددہانی کرائی گئی ہے ۔ میاں صاحب! بنی اسرائیل کویہاں آیت ۴۰ تا۴۶میں براہ راست جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا یہی باتیں ان متقین کی صفات نہیں ہیں جن کاتذکرہ سورۃ البقرۃ کے بالکل ابتدائی آیات میں ہوا ہے: ’’الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَo والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُون‘‘۔
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ان صفات کی حامل متقی شخصیت یہی ملکوتی رویہ اپنائے گی اور حق کے سامنے سرنگوں (Surrender)ہوگی۔
جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا، قرآنی علمیات کے رہنما یا نہ منہاج میں آپ سے لغزش ہوئی ہے۔رہنمایانہ منہاج کے لیے آپ نے حضرت آدم ؑ اور فرشتوں کے واقعے سے متعلق آیات کا انتخاب کیا ہے۔ پہلی آیت یہ ہے:
’’وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَءِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُون‘‘
یہاں ایمان بالغیب کی تعبیر امکانات کو چھو نے کی خواہش اور سکت کے نظریے سے Pre-Minded ہوتے ہوئے آپ نے لکھا ہے: ’’خلیفہ کے بارے میں فرشتوں کی یہ جانکاری کی وہ زمین میں فساد اور خونریزی برپا کرے گا ،خداہی کی عطا کردہ تھی۔‘‘ (ایضاً ص ۲۱)اوراس کے لیے آپ نے آیت نمبر۳۲کے الفاظ ’’لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا‘‘سے استدلال کیا ہے۔ اگر آیت نمبر ۳۰ میں ’’إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ‘‘ کے الفاظ نہ ہوتے تو آپ کا مذکورہ استدلال درست ہوتا ۔ا س آیت سے صریحاً واضح ہے کہ فرشتوں نے لفظ ’’خلیفہ‘‘کی بنا پرایک امکانی بات کی جو ادھورے سچ کے مترادف تھی، یعنی وہ انسانی تخلیق کی مکمل اسکیم سے واقف نہیں تھے ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے۔ اگر اللہ نے فرشتوں کو بتادیا تھا کہ انسان زمین میں فساد اور خون ریزی کرے گا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے تو پھر ’’إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ‘‘ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ شاید آپ اس کا جواب یہ دیں کہ انہیں انسان کے اسی خاص پہلو کے متعلق بتایا گیا تھا۔ میری گزارش ہوگی کہ اس مفروضے کی بنیاد کیا ہے؟اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ ان کے ساتھ مذاق تو نہیں کررہا تھاکہ آدھی بات بتا دی اور آدھی رہنے دی۔صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو زمین پر انسان کے خلیفہ بنائے جانے سے آگاہ کیا۔ ’خلیفہ‘ (یعنی صاحب اختیار) کے لفظ سے فرشتوں نے ایک امکانی بات اخذ کی جو معاملے کے سارے پہلووں کو محیط نہ تھی، یعنی یہ کہ یہ صاحب اختیار مخلوق زمین میں فساد برپا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ نے فرشتوں کے نہ جاننے کو جاننے میں تبدیل کرنے کے لیے پہلے حضرت آدمؑ کو ان کی ’’صالح ذریت‘‘کی فہرست دکھائی (یا ان نیک بندوں کی صورتیں دکھائیں )پھر ان نیک بندوں کی بابت فرشتوں سے دریافت کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو توان لوگوں کے متعلق، جو سب کے سب نیک اور متقی ہوں گے، تمھاری کیا رائے ہے؟ فرشتوں نے اللہ کی مکمل سکیم کی نوعیت کو سمجھنے سے معذوری ظاہر کی اور شک کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ اے خدا! جس امکانی بات کا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اسے کل سمجھتے ہوئے ہم نے ٹھوکر کھائی۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ امکانی بات کرنا بذات خود غلط نہیں، بلکہ اچھی چیز ہے لیکن مزید امکانات کا اندازہ کرنے کے بعد صرف اپنے’’امکانی علم‘‘پر ہٹ دھرمی اختیار کرنا اور اس پر اڑے رہنا غیر مستحسن رویہ ہے۔ اب اللہ نے حضرت آدمؑ سے کہا کہ ان لوگوں سے فرشتوں کا تعارف کرا دیں۔ اس کے بعد اللہ نے کہا کہ اب کہو، کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ غیب کا علم میرے پاس ہے، اور میں اس چیز کو بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو او رجو تم چھپاتے ہو۔ (۲،۳۳)
میاں صاحب ! ’’وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ‘‘ کے بارے میں آپ کی رائے بہت صائب ہے یعنی یہ کہ ’’اس وقت تک ابلیس نے اپنے انکاراور گھمنڈ کو چھپایاہوا تھا‘‘، لیکن اس آیت مبارکہ میں ’’الاسماء‘‘سے علوم و فنون مراد لینا ، جو قتل و خونریزی کو مغلوب کرنے والے ہوں گے، میرے خیال میں قرآن پاک کے Contextکے خلاف ہے۔آپ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ’’االأَسْمَاء کُلَّہَا‘‘ سے علوم وفنون مراد لینے کی کیا دلیل ہے؟ا ن علوم وفنون کو ان امکانات تک پھیلانا جو مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ فساداور خونریزی کی نئی نئی صورتوں کے ظہور کے جواب میں مسیحائی کردارادا کریں گے، ایک پر تکلف بات لگتی ہے۔ اگر آپ ’’اسماء‘‘کے لیے استعمال کی جانے والی ضمائر پر غورکریں تو واضح ہوگا کہ اس سے مراد ذریت آدم ہی کے نام ہو سکتے ہیں۔
قرآنی علمیات سے روگردانی کے ضمن میں حضرت ابراہیم ؑ اور قربانی کے واقعے کی بحث کافی فکر انگیز ہے۔اس سے قطع نظر کہ ذبیخ اسماعیلؑ تھے یا اسحق، آپ نے ’’باپ کے فیضان نظر‘‘ کا بہت پر حکمت مقام دریافت کیا ہے جس کاتعلق علم سے زیادہ متقین کے رویہ سے ہے۔ اس سلسلے میں آپ کے دلائل کافی مضبوط اوردعوتی مزاج کے حامل ہیں۔ابن ابراہیم ؑ کے بجائے ابراہیمؑ ہی کی شخصیت کو نمایاں کرنا یہاں قرآن پاک کا مطمح نظر دکھائی دیتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ آپ ’’مدبرین‘‘ کی تحقیق و تفسیر پر تبصرہ کرتے ہوئے دعوتی مزاج کی بلندی کو برقرارنہ رکھ سکے۔ ’ذبیح کون‘ کی بحث کوامکانی فساد سے تعبیر کرنامیرے خیال میں ضرورت سے زیادہ سخت تبصرہ ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے فراہی مکتب فکر کونسلی تفاخر جیسی بیماری میں مبتلا بتایا ہے جبکہ یار لوگ انھیں ’’اغیار دوستی‘‘ کا طعنہ دیتے ہیں۔
زاہد تنگ نظرنے مجھے کافر جا نا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
اللہ ہمیں پندار کا صنم کدہ ویراں کرنے اور حق کے کوئے ملامت کا طواف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ کا خیر اندیش
یوسف خان جذاب
GHS، نارشکر اللہ، بنوں
(۲)
بخدمت گرامی قدر مخدومی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مد ظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الشریعہ جنوری ۲۰۰۶ء کاشمارہ پڑھنے کاموقع ملا۔ ’’آرا وافکار ‘‘ کے تحت محترم میاں انعام الرحمن صاحب کامضمون پڑھا،بہت کوفت ہوئی۔ ابتدائی پانچ چھ صفحات لکھنے کے بعد میا ں صاحب پٹڑی سے اتر گئے ہیں اور سارا زور قلم اس پر صرف کیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کوذبیح قرار دینا قرآنی علمیات سے روگردانی ہے۔ انہوں نے سطحی قسم کی باتیں تحریر کرکے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اللہ ماننے سے انکار کیا ہے۔مزید فرمایا ہے کہ حضرت اسماعیل کو ذبیح ماننے سے معترضین کو پھبتی کسنے کاموقع ملتا ہے کہ اسلام دعویٰ تو عالمگیریت کاکرتاہے، لیکن اصلاً اسماعیلی ہے ۔نیز یہ کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اللہ قرار دینا یہودیانہ رویہ ہے۔
مخدومی! یہ سمجھ نہیں آئی کہ میاں صاحب کو حضرت اسماعیل کوذبیح اللہ قرار دینے پر اعتراض کیا ہے؟ اس سے دین اسلام کے وقار پر کیا حرف آتاہے؟ اگر اقبال نے یہ کہہ دیا ’’ سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی ‘‘ تو کس جرم کاارتکاب کیا ہے؟
محترم میاں صاحب کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ مولانا فراہی ؒ اور مفتی محمد شفیع ؒ سمیت اکثر مفسرین نے ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہی کو قرار دیا ہے اور اس پر آثار وقرائن بھی ذکر کیے ہیں۔ وہ دور نہ جائیں، معارف القرآن ہی دیکھ لیں ۔ آثار وقرائن حضرت اسماعیل ہی کو متعین کرتے ہیں اور اس سے اسلام کی عالمگیریت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ معترضین سے مرعوب ہو کر اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح ہونے سے انکار کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حضرت سلمان فارسیؓ پر کسی یہودی نے اعتراض کیا کہ سنا ہے تمھیں تمھارا پیغمبر ﷺ استنجا کرنے کا طریقہ بھی بتاتاہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے فخریہ طور پر کہا کہ ہاں، ہمیں انہوں نے استنجا کاطریقہ بھی بتایا ہے۔ (جامع ترمذی) میاں صاحب سے معذرت کے ساتھ، اگر ان جیسا کوئی مرعوبیت کاشکار شخص ہوتاتو یہی کہتا کہ نہیں نہیں، خدا کی قسم! حضورﷺ نے ہمیں کوئی ایسی بات ارشاد نہیں فرمائی ۔ محترم میاں صاحب سے گزارش ہے کہ مستشرقین ودیگر کفار کے اعتراضات کے جواب میں گھبرا کراپنااصل موقف چھوڑ دینا اوریہود ونصاریٰ سے موافقت کے راستے تلاش کرنا دین کی کوئی خدمت نہیں ہے۔
میاں صاحب نے’’حرف آخر‘‘ کے زیر عنوان ایک حدیث نقل کی ہے: ’’اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب ‘‘۔ میرا ان سے سوال ہے کہ کیا حضور ﷺ کا یہ فرمان مطلق ہے یا اس میں کوئی قید بھی ہے؟ مفسرین اور محدثین کیا فرماتے ہیں ؟اگر وہ اس سوال کا جواب تلاش کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے موقف پر نظر ثانی پر مجبور ہو جائیں گے۔
میاں صاحب سے یہ بھی التماس ہے کہ آج کے دور میں فکری انتشار بہت زیادہ ہے، ایسے میں مزید انتشار پیدا کرنا، خواہ وہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ ہو، دین کی کوئی خدمت نہیں ہے۔ اس سے احتراز فرمائیں۔اور بے شک کم لکھیں، لیکن علمی پختگی کے ساتھ لکھیں۔ اپنے فکری انتشار پر پختہ فکر علما سے گفتگو کریں ۔
مخدومی! آپ سے بھی گزارش ہے کہ آرا وافکار کے زیر عنوان فکری انتشار میں اضافہ کرنے والے مضامین شائع نہ کریں۔ حدود قیود متعین فرمائیں۔ آپ کایہ طرز فکر ’’جماعت کولازم پکڑو‘‘ (الحدیث) کے منشا کے خلاف ہے ۔واللہ اعلم بالصواب ۔
میاں صاحب کو کوئی بات ناگوار گزرے تومعذرت خواہ ہوں۔
(مولانا) مشتاق احمد
استاذ جامعہ عربیہ، چنیوٹ
(۳)
گرامی قدر نقوی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ میں تکفیر شیعہ پر جوبحث چل رہا ہے، اس میں میرے موقف پر آپ کاتبصرہ بصورت خط شائع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ:
۱۔لاہور میں علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر صاحب (ادارہ منہاج الحسین) سے میرا رابطہ تھا۔ ’’الشریعہ ‘‘میں مذکورہ مضمون لکھنے سے پیشتر میں کئی ماہ تک ان کو خط لکھتا اور فون کرتا رہا کہ جن تین امور کی وجہ سے مولانا سرفراز صفدر صاحب اور دیگر بعض سنی علما اہل تشیع کی تکفیر کرتے ہیں، اگر وہ وضاحت کردیں کہ یہ سارے شیعہ کے اجتماعی مسائل نہیں ہیں تو میرا موقف مضبوط ہو جاتا کہ سارے اہل تشیع کی تکفیر نہیں کی جاسکتی،لیکن علامہ صاحب ٹالتے رہے اور انہوں نے جواب نہیں دیا اور بالآخر میں نے اس کے بغیر ہی مضمون ’’الشریعہ‘‘ کو بھجوادیا۔ میر ی اب بھی یہ خواہش ہے کہ آپ اہل تشیع کاکوئی ذمہ دار عالم اس بات کی تصدیق کردے تاکہ میرا کیس مضبوط ہوجائے۔ (یاد رہے کہ میرا یہ مضمون تھااس مضمون پر جو اس سے پہلے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے لکھا تھا اور جس میں مذکورہ تین نکات کاذکر تھا)۔
۲۔ اگر آپ یہ کنفرم کردیں کہ آپ کی جماعت کے پیش نظر پاکستان میں فقہ جعفریہ کانفاذ نہیں تھا اور نہیں ہے بلکہ آپ اہل تشیع کے دیگر جائز قانونی حقوق کے لیے کوشاں تھے اور ہیں تو مجھے کیا پڑی ہے کہ اس موقف کو آپ کے سر منڈھوں جو درحقیقت آپ کا موقف نہیں ہے اور بقول آپ کے ایجنسیوں کاموقف ہے؟
۳۔میں ایک سیدھا سادہ کھلے دل کامسلمان ہوں اور کسی خاص مسلک سے وابستہ نہیں ہوں، بس طبیعت صلح جو ہے، اتحاد امت کا درد دل میں ہے کہ شیعہ سنی منافرت کم ہوجائے اور امت ایک دوسرے کے قریب آجائے۔
والسلام۔ مخلص
(ڈاکٹر) محمدامین
سینئر ایڈیٹر، اردو دائرہ معارف اسلامیہ
جامعہ پنجاب۔ لاہور
(۴)
محترم جناب ڈاکٹر امین صاحب
السلام علیکم ، مزاج گرامی
ماہنامہ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ میں آپ کے مضمون کی وضاحت میں ہمارے خط کی اشاعت کے بعد آپ کاگرامی نامہ موصول ہوا۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ :
تکفیر کے ذیل میں آپ نے جو کچھ فرمایا، ہم نے اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ جن عقائد کو بنیاد بنا کر تکفیر کی بحث کی گئی ہے، وہ شیعہ عقائد کاحصہ نہیں ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں مرتب ہونے والے مختلف ضابطہ اخلاق، بالخصوص متحدہ مجلس عمل کے اعلامیہ وحدت، اسلام آباد میں ہماری شمولیت اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہم ان مسائل میں واضح، روشن اور دوٹوک ہیں۔
اسی بنا پر ’’شیعہ سنی تنازع کا حل‘‘ کے ذیل میں تنازع کے وجوہ اور علل واسباب پر ہم نے عرض کیا تھاکہ ہمارے خلاف یہ موقف پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے جاری کیا گیا اوربعد میں سپاہ صحابہؓ کی زبان سے دہرایا جاتارہا اور تاحال دہرایا جارہاہے۔ اس ضمن میں آپ نے جن دو گروہوں کے بر سر پیکار ہونے کا ابتدا میں ذکر کیا ہے اور آخر میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اب دونوں گروہ ایک دوسرے کے آدمی مارے جارہے ہیں‘‘، بہتر ہوگا کہ ان دونوں گروہوں کی شناخت پر پوری توجہ دی جائے تاکہ کہیں ایسانہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دیا جائے اور پھر نادم ہونا پڑے۔
جہاں تک تحریک جعفریہ کے اہداف کاتعلق ہے تو شاید آپ تک ہمار ا موقف نہیں پہنچ سکا۔ بار ہا واضح کرچکے ہیں کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ (تحریک جعفریہ) کا مقصد پاکستان کے تمام عوام پر فقہ جعفریہ کو مسلط کرنا ہرگز نہیں بلکہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر پاکستان کے شیعہ عوام کے لیے فقہ جعفریہ کا نفاذ اور ان کے قانونی حقوق کاتحفظ ہی ہدف ہے۔
وحدت امت کے قیام اور شیعہ سنی منافرت کے خاتمے کے حوالے سے آپ نے جن خیالات کااظہار فرمایا ہے، ہم انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آپ کی جدوجہد لائق تحسین ہے ۔ہم سنجیدہ اور متین کوششوں پر تعاون پر آمادہ ہیں۔
نیک خواہشات کے ساتھ
والسلام
سید عبد الجلیل نقوی
مسؤل روابط
قائد تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
(۵)
محترم ومکرم حضرت مولانا دامت الطافکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
........
میں تقریباً تین ماہ کے بعد گزشتہ ہفتہ لندن واپس پہنچا ہوں۔ ’’ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘ کے مطابق آنے کے ساتھ ہی ڈنمارک کی چھوڑی ہوئی پھلجڑی کا منحوس نظارہ ہے۔ اور پھر وہی رد عمل جس کے بارے میں اس بار تو ذرا شبہہ کی گنجایش نہ ہونی چاہیے تھی کہ عمل سے مقصود ہی اس رد عمل کا حصول ہے۔ سب سے زیادہ افسوس حماس کے پایہ تخت غزہ کے رد عمل کا ہے اور جس طرح وہاں کے رد عمل کی خبروں کو نمایاں تر کیا جا رہا ہے، اس سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے عمل کا اصل نشانہ فلسطین ہی تھا۔ اور وہ کامیاب رہا۔
.........
(مولانا) عتیق الرحمن (سنبھلی)
لندن
(۶)
گزشتہ دنوں ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ فروری ۲۰۰۶ء کاشمارہ موصول ہوا ۔جناب پروفیسر اکرم وِرک صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دعاؤں میں یاد رکھا اور مجھے اعزازی شمارہ ارسال کیا۔ اسا ل اللہ لہ کل مایحبہّ ویرضاہ۔
یوسف خان جذاب کا مضمون پسند آیا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ’’ماہنامہ الشریعہ اور جناب جاوید احمد غامدی ‘‘ کے نام سے جو مضمون آصف محمود ایڈوکیٹ صاحب نے تحریر کیاہے ،اس میں انہوں نے بڑی عمدہ بات کہی ہے کہ’’شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور ‘‘ کے مصداق ہمیں بلا جواز تنقید نہیں کرنی چاہیے ۔جاوید احمد غامدی صاحب کے جو افکار ونظریات ہیں، وہ اسلاف میں بہت سے بزرگوں کے بھی رہے ہیں، اس لیے غلام احمد قادیانی کے ساتھ ان کی مطابقت اور مماثلت کے حوالے سے گفتگو کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ فاضل دوست کی یہ مثبت سوچ ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے حدود آرڈیننس کو ’’صحیفہ جہالت ‘‘قرار دیاہے۔ قانون کے ماہر کے لیے ایسی سخت زبان استعمال کرنا ناقابل فہم ہے۔ میں اپنے فاضل دوست سے بحیثیت مجموعی اتفاق کرتاہوں، تاہم ایک نقاد کا فرض بنتاہے کہ جب وہ کسی فکر اور زاویہ نگاہ کو تنقید کانشانہ بنائے تو پہلے دیانت دارانہ طریقے سے اس فکر کی وضاحت کرے اور پھر دلائل کی روشنی میں اس کی درستی یا نادرستی کو واضح کرے۔ فاضل دوست کے مذکورہ الفاظ ایک غیر علمی اور غیر سنجیدہ رویہ پر دلالت کرتے ہیں۔ حدود آرڈیننس میں جہاں کہیں سقم پایا جاتاہے، اگر فاضل دوست ان مقامات کی نشاندہی کرتے اور اس میں حذف واضافہ تجویز کرتے تویہ ان کی علمی خدمت ہوتی۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی وساطت سے فاضل دوست اگر اب بھی اس سلسلے کو شروع کریں اور حدود آرڈیننس کی تمام دفعات کاقرآن وسنت کی روشنی میں شرعی جائزہ لے کر واضح کر دیں تو راقم الحروف اور دیگر احباب ان کے ممنون ہوں گے۔
عبد الغفار
لیکچرر اسلامیات
تعارف و تبصرہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’الشرح الثمیری علی مختصر القدوری‘‘
پانچویں صدی ہجری کے حنفی بزرگ امام ابو الحسن احمد بن ابی بکر القدوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ’’المختصر للقدوری‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت کے اس مقام سے نوازا ہے کہ یہ حنفی فقہ کے متن کے طور پر سب سے زیادہ پڑھائی جانے والی کتاب ہے اور جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ امام قدوریؒ نے حنفی فقہ کے مسائل اور جزئیات کو اس میں سمو دیا ہے، اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ درس نظامی کے نصاب میں اسے فقہ حنفی کی تعلیم کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہے اور ہزاروں مدارس میں اس وقت بھی یہ کتاب زیر درس ہے۔
ہمارے محترم اور فاضل دوست حضرت مولانا ثمیر الدین قاسمی فاضل دیوبند نے، جو ایک عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں، سالہا سال کی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ اردو میں ’’قدوری‘‘ کی شرح مندرجہ بالا عنوان کے ساتھ تحریر کی ہے جو چار ضخیم جلدوں میں اٹھارہ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں انہوں نے نہ صرف قدوری کے مسائل کی آسان اردو میں تشریح کی ہے بلکہ قرآن و سنت اور آثار صحابہؒ سے ان مسائل کے دلائل اور مآخذ کو بھی حسن ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسائل کو نمبر وار ترتیب کے ساتھ درج کر کے ان کے سمجھنے میں مزید آسانی پیدا کر دی ہے۔
مولانا ثمیر الدین قاسمی کے ساتھ ہمارا پرانا تعلق ہے اور میں نے مانچسٹر میں ان کی قیام گاہ پر انہیں اس علمی خدمت میں کئی بار سراپا منہمک دیکھا ہے۔ اس دور میں بھی انہوں نے اس کا زیر ترتیب مسودہ متعدد بار دکھایا اور میری ہمیشہ دعا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کام کو مکمل کرنے کی توفیق دیں۔ اپنے مشمولات کے حوالہ سے یہ کتاب صرف قدوری کی شرح نہیں ہے بلکہ فقہ حنفی کے مسائل و جزئیات اور ان کے دلائل و مآخذ کا اردو زبان میں عظیم الشان ذخیرہ ہے جو طلبہ، اساتذہ اور تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
ہمارے ایک اور محترم دوست الحاج عبد الرحمٰن باوا نے ’’ختم نبوت اکیڈمی لندن‘‘ کی طرف سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے اور صحت، خوب صورتی اور معیار کا یکساں لحاظ رکھا ہے۔ پاکستان میں یہ کتاب اسلامی کتب خانہ ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دار الکتاب، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور سے طلب کی جا سکتی ہے۔
’’اذکار سیرت‘‘
معروف ماہر تعلیم پروفیسر سید محمد سلیم مرحوم کے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف مضامین کا مجموعہ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز ، اے۔۴/۱۷ ناظم آباد ۴، کراچی ۱۸ نے شائع کیا ہے جس میں مختلف عنوانات کے تحت سیرت طیبہ کے حوالے سے مفید معلومات پیش کی گئی ہیں۔ ۲۴۰ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت درج نہیں ہے۔
’’مقالات سیرت‘‘
فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کے سیرت نبوی کے موضوع پر مختلف مضامین کو ان کے لائق فرزند مولانا قاری خلیل احمد تھانوی نے مرتب کیا ہے اور اسے ادارۃ اشرف التحقیق دار العلوم الاسلامیہ، کامران بلاک ، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے۔ پونے دو سو صفحات کی مجلد کتاب کی قیمت درج ہے۔
’’تعلیمات اسلام‘‘
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ اعظم حضرت مولانا شاہ مسیح اللہؒ نے اسلامی تعلیمات کو تعلیم و تدریس کے لیے سوال و جواب کی صورت میں مرتب فرمایا ہے جو عقائد و عبادات سے لے کر معاملات و اخلاق تک تمام ضروری پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا یہ گراں قدر مجموعہ مولانا وکیل احمد شیروانی کی نگرانی میں مکتبہ فیض اشرف، بیت الاشرف، ۷۸۔ اے ماڈل ٹاؤن، لاہور نے شائع کیا ہے جو سکولوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے بطور خاص مفید ہے۔ اس کے پانچ حصے ایک جلد میں یکجا شائع کیے گئے ہیں اور قیمت درج نہیں ہے۔
’’مفتی محمودؒ سے ملیے‘‘
کراچی کے جناب مولانا قطب الدین عابد نے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے افکار و خیالات اور ارشادات و تعلیمات کو خوب صورت ترتیب کے ساتھ اس کتاب میں جمع کیا ہے جن میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے حالات وخدمات کے ساتھ ساتھ ان کے اکیس کے لگ بھگ بھی شامل ہیں جو انہوں نے مختلف اوقات میں اہم جرائد کو دیے اور یہ انٹرویوز بلاشبہ اس دور کی دینی جدوجہد اور قومی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔
ساڑھے چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مفتی محمود اکیڈمی، کراچی نے شائع کی ہے جس کی قیمت اڑھائی سو روپے ہے اور اسے جمعیۃ پبلیکیشنز متصل مسجد پائلٹ ہائی اسکول، وحدت روڈ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
الشریعہ اکادمی میں فکری نشست
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل مولانا مشفق الدین اپنے ر فقا مولانا شمس الضحٰی اور مولانا بلال عبد اللہ کے ہمراہ ۳ ؍جنوری ۲۰۰۶ء کو الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے۔ اس موقع پر ایک خصوصی فکری نشست کااہتمام کیا گیا جس سکول وکالج، دینی مدارس کے اساتذہ اور دیگر اہل علم نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت ایچی سن کالج لاہور کے پروفیسر جناب ظفر اللہ شفیق صاحب نے فرمائی۔ افتتاحی کلمات میں الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیااور اکادمی کے قیام کو مولاناعیسیٰ منصوری کے ساتھ اپنی فکری رفاقت کا نتیجہ قرار دیا۔ مہمان خصوصی مولانا عیسیٰ منصوری نے ’’زوال امت کے اسباب‘‘ جیسے فکر انگیز موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور دینی و عصری علوم سے دوری نیز دعوت وتبلیغ کے فریضہ کو نظر انداز کرنے کو زوال امت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ پروفیسر ظفر اللہ شفیق صاحب نے صدارتی خطبے میں اس بات پر زور دیاکہ امت مسلمہ کے زوال کے اسباب کے تدارک کے لیے بھر پو ر عملی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ پر وقار تقریب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے استاذ حدیث مولاناعبد المالک شاہ کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پزیر ہوئی۔
نماز مغرب کے بعد الشریعہ اکادمی کے اساتذہ اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے پرنسپل جناب محمد مشفق الدین اور ان کے رفقا جناب بلال عبد اللہ اور شمس الضحی کے درمیاں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف نے اکادمی کے اساتذہ پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کے ہمراہ معزز مہمانوں کو اکادمی کے نظام اور نصاب تعلیم ، اہداف اور طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ یہ جوان فکر اساتذہ پر مشتمل یہ ٹیم ان دنوں برصغیر پاک وہند کے ایسے اداروں کا دورہ کر رہی ہے جو درس نظامی کے روایتی نصاب کی بجائے قدیم اور عصری علوم کے امتزاج پر مبنی نئے نصابی تجربات کر رہے ہیں ۔ ابراہیم کمیونٹی کالج لندن اپنے ادارے کے لیے ایسا نصاب مدون کرنا چاہتا ہے جو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو تاکہ اس کے ذریعے سے ایسے علما اور مبلغین پیدا کئے جاسکیں جو اقوام مغرب میں بہتر انداز میں دعوت وتبلیغ کاکام کر سکیں۔
(رپورٹ:فضل حمید چترالی)