جون ۲۰۰۶ء

اسلام، جمہوریت اور پاکستانی سیاستمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مسئلہ کشمیر: تازہ صورت حال اور کشمیری رائے عامہہمایوں خان 
اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقاتحافظ محمد سمیع اللہ فراز 
پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس سے وابستہ اصولی اور اخلاقی تصوراتمولانا عتیق الرحمن سنبھلی 
آلودگی، دین فطرت اور ہمپروفیسر شیخ عبد الرشید 
مسئلہ طلاق ثلاثہ اور فقہائے امتمولانا افتخار تبسم نعمانی 
غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکممفتی نایف بن احمد الحمد 
تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۱)سید جمال الدین وقار 
تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۲)اوریا مقبول جان 
اعتذارادارہ 
مکاتیبادارہ 
کسرِ کعبہ کی حضوریپروفیسر میاں انعام الرحمن 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 

اسلام، جمہوریت اور پاکستانی سیاست

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحب کے درمیان طے پانے والا ’’میثاق جمہوریت‘‘ اس وقت نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مثبت اور منفی پہلووں پر مسلسل اظہار خیال کیا جا رہا ہے، توقعات کا اظہار بھی ہو رہا ہے اور خدشات کا تذکرہ بھی جاری ہے۔
میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دو دفعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ہر بار ایسا ہوا ہے کہ ایک نے دوسرے کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں، جس کا بڑا حصہ فوج ہے، اپنے حریف کی اقتدار سے محرومی پر خوشی منائی ہے۔ ہر بار ایسا ہوا ہے کہ اپوزیشن نے یہ طے کر لیا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دینا اور ایسے حالات ہر حال میں پیدا کرنے ہیں کہ فوج مداخلت پر آمادہ ہو اور براہ راست یا بالواسطہ دخل دے کر اسے اقتدار سے محروم کر دے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے چاروں ادوار حکومت میں یہی کھیل کھیلا گیا ہے اور دونوں محترم لیڈر دو دو بار وزیر اعظم بننے کے باوجود اپنی ٹرم پوری نہیں کر پائے۔ اس مکروہ کھیل کا نتیجہ آج نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ عالم اسلام بھگت رہا ہے اور ہمارے پاس اپنے زخم چاٹنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا۔
۱۹۴۷ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسلام اور جمہوریت کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا اور اس عزم اور وعدے کے ساتھ قیام پاکستان کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچایا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی جو اسلامی اصولوں کے دائرے میں کام کرے گی اور نئے دور میں دنیا کو اسلامی اصولوں کے تحت ایک جمہوری ریاست اور فلاحی معاشرے کا عملی نمونہ دکھائے گی، لیکن قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اسلام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ مسلسل گلی ڈنڈا کھیلا جا رہا ہے اور یہ دونوں سنہری اصول ہمارے مقتدر حلقوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ مولوی لوگ جمہوریت پر صاد نہیں کریں گے اور مسٹر لوگوں کو مولوی کا پیش کردہ اسلام قبول نہیں ہوگا، اس لیے یہ نوزائیدہ ریاست پہلے مرحلے میں خدانخواستہ ناکامی کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن بحمد اللہ ایسا نہیں ہوا۔ مولوی لوگوں نے قرآن وسنت کی پاسداری کی شرط پر جمہوریت کو حکومت کی بنیاد تسلیم کر لیا اور مسٹر لوگوں نے جمہوریت کی پاسداری کی شرط پر اسلام کی بالادستی پر صاد کر دیا جس کی دستاویزی شہادت قرارداد مقاصد، تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماے کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات اور ۱۹۷۳ کے دستور پر سب کے اتفاق کی صورت میں موجود ہے جن کے ذریعے یہ بات طے پا گئی کہ حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے، لیکن وہ مملکت کی پالیسیوں کے تعین میں قرآن وسنت کے احکام کے پابند ہوں گے۔ اس طرح جس بڑی کشمکش کا خطرہ تھا، وہ ہمیشہ کے لیے ٹل گئی، لیکن اس کی جگہ پاور پالیٹکس نے لے لی اور اقتدار کے سرچشمہ پر کنٹرول کی ہوس نے اسلام اور جمہوریت دونوں کو گزشتہ نصف صدی سے اس ملک میں سوالیہ نشان بنا رکھا ہے۔
ہم نے اسلام اور جمہوریت کے لیے اس سے قبل بھی بہت اعلانات کیے ہیں، بڑے وعدے کیے ہیں، قوم کو بڑے سبز باغ دکھائے ہیں، ہم نے قرارداد مقاصد کی صورت میں قوم سے وعدہ کیا، ہر دستور میں اسلام اور جمہوریت کی پاسداری کا عہد کیا، ہر الیکشن کے موقع پر ہر سیاسی پارٹی نے اپنے اپنے انتخابی منشور میں ان دو سنہری اصولوں کو اپنا نصب العین قرار دیا اور سب سے بڑھ کر ۷۳ کے دستور میں ہم نے اسلام، جمہوریت، وفاقیت، فلاحی ریاست اور رفاہی پاکستان کے تقاضوں کو خوب صورت انداز میں سمویا۔ ۷۳ کے دستو رمیں کون سی بات نہیں ہے؟ اور اسلام، جمہوریت، صوبائی خود مختاری اور فلاحی ریاست کے تقاضوں میں ہم آہنگی اور توازن کا کون سا پہلو تشنہ ہے؟ لیکن اس دستور کا ہم نے اپنے ہاتھوں جو حشر کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ دستور ہمیں سیدھے راستے پر چلانے کے بجائے اپنے وجود اور بقا کے حوالے سے ہمارے رحم وکرم پر ہے۔ ہم ملک کے اقتدار پر مکمل کنٹرول کرنے کے بعد اس دستور کو باقی رہنے دیتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے اس غریب کی رحم کی اپیل منظور کر لی ہے اور اسے مزید کچھ دیر زندہ رہنے کا حق دے دیا ہے، خواہ اسے کئی سال ’’کومے‘‘ میں ہی گزارنا پڑیں۔
ہمیں محترم میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے مندرجات سے اختلاف نہیں ہے۔ ہم ان کے جذبے کی قدر کرتے ہیں کہ بدیر سہی، لیکن انھیں جمہوریت کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری کا خیال تو آیا، انھیں احساس تو ہوا کہ جمہوریت صرف اقتدار کے حصول کے لیے سیڑھی یا اس کے تحفظ کے لیے بیساکھی کا نام نہیں ہے، بلکہ اپنے کچھ اصول رکھتی ہے، اس کے کچھ قواعد وضوابط ہوتے ہیں، اس کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، کچھ لوازمات ہوتے ہیں اور وہ آگے بڑھنے کے لیے سیاست دانوں سے ایک مخصوص ماحول اور کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم دونوں لیڈروں کے اس ادراک اور احساس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسے خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اصولوں پر پہلے کبھی اختلاف رہا ہے؟ کیا ان دونوں پارٹیوں کے انتخابی منشوروں اور ۷۳ کے دستور میں یہ باتیں شامل نہیں ہیں؟ اگر یہ سب کچھ پہلے سے موجود ہے اور ان کے ساتھ کمٹ منٹ کا پہلے بھی کئی بار اظہار ہو چکا ہے تو انھیں ایک نئے میثاق کی شکل دینے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟
اصل بات اصولوں، میثاقوں اور الفاظ کی نہیں بلکہ طرز عمل کی ہے، سیاسی مزاج کی ہے اور مستقبل کے عزائم کی ہے۔ اگر ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہے تو یہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ ۷۳ کے دستور سے زیادہ مقدس دستاویز نہیں ہے۔ حالات کی ناہمواری انسان کو ایک رخ پر لے آتی ہے، وہ رخ کبھی مستقل نہیں ہوتا اور اصل صورت حال کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب حالات نارمل ہوتے ہیں اور پھر دیکھا جاتا ہے کہ ناہموار حالات میں ایک رخ اختیار کرنے والوں کا اصل رخ کیا ہے؟ مزاج او رجبلت کبھی نہیں تبدیل ہوتے ۔ اس پر ایک کہاوت کا حوالہ دینا شاید نامناسب نہ ہو کہ کسی بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ فطرت تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ بادشاہ کا موقف تھا کہ تربیت اور ماحول کے ساتھ فطرت تبدیل ہو جاتی ہے مگر وزیر اس سے متفق نہیں تھا اور وہ بضد تھا کہ فطرت کسی حالت میں نہیں بدلتی۔ بادشاہ نے وزیر کو قائل کرنے کے لیے چند بلیاں پالیں، انھیں اس طرح تربیت دلوائی کہ وہ بڑے ادب اور ترتیب کے ساتھ اگلے ہاتھوں میں جلتی ہوئی شمعیں اٹھائے دو پاؤں پر چلتی ہوئی دربار میں آتیں اور بادشاہ کے گرد گھیرا ڈال کر باادب کھڑی ہو جاتیں۔ وزیر کو یہ منظر دکھا کر بادشاہ نے وزیر سے دریافت کیا کہ کیا خیال ہے، فطرت تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت! اس کا جواب کل دوں گا۔ دوسرے روز وزیر چند چوہے آستین میں چھپا کر دربار میں لے آیا اور جونہی بلیاں اپنی ٹریننگ کے مطابق باادب چلتے ہوئے بادشاہ کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑی ہوئیں، وزیر نے چپکے سے چوہوں کو دربار میں کھلا چھوڑ دیا۔ بلیوں نے چوہوں کو دوڑتے دیکھا تو جلتی ہوئی شمعیں وہیں پھینکیں اور چوہوں کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ شمعیں قالینوں پر گرنے سے بہت سی جگہوں سے قالین جل گئے اور آگ کو پھیلنے سے بڑی مشکل سے روکا گیا۔ وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ حضور! یہ بلیو ں کی اصل فطرت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔
اس لیے اس ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی اصلیت اس وقت سامنے آئے گی جب دونوں لیڈر ملک میں ہوں گے (خدا کرے کہ وہ جلدی آ جائیں)، اقتدار کا چوہا ان کے سامنے ہوگا اور دونوں کی یکساں دسترس میں ہوگا۔ تب پتہ چلے گا کہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ کا کون سا جملہ ان میں سے کس کو یاد رہ گیا ہے اور کون سا لندن اور دوبئی کی فضاؤں میں تحلیل ہو چکا ہے۔ ویسے ہمارے خیال میں اتنے لمبے چوڑے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کے تکلف کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر دونوں لیڈر صرف اتنا اعلان کر دیتے کہ دونوں دستور کی پاسداری کریں گے، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں گے، ایک دوسرے کا احترام کریں گے، ایک دوسرے کو جمہوری اصولوں کے مطابق آگے آنے کا موقع دیں گے اور اقتدار میں آنے کی صورت میں ٹرم پوری ہونے تک اس کے لیے مشکلات کھڑی نہیں کریں گے تو یہ چند جملے شاید بھاری بھرکم میثاق جمہوریت سے زیادہ وزنی ثابت ہوتے۔

مسئلہ کشمیر: تازہ صورت حال اور کشمیری رائے عامہ

ہمایوں خان

۱۹۸۰ء کی دہائی کے وسط میں، جب میں بھارت میں پاکستان کا سفیر تھا، میرے لیے جموں اور کشمیر جانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ دہلی یا اسلام آباد میں سے کوئی بھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ تقریباً ۲۰ سال کے بعد مجھے واہگہ سے جموں تک زمینی اور وہاں سے سری نگر تک فضائی سفر کا موقع ملا، اور کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
میرا یہ سفر دہلی کے مرکز برائے مکالمہ ومصالحت (Centre for Dialogue and Reconciliation) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے سلسلے میں تھا جس میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سے مختلف کشمیری گروپوں کو جمع کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں باہم گفت وشنید کریں۔ یہ سیمینار کشمیریوں کے مابین باہمی مکالمہ کے فروغ اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل جاری کوششوں کا ایک حصہ تھا۔ ان کوششوں کا مقصد کشمیریوں کے مابین ایک واضح اتفاق رائے کو وجود میں لانا ہے تاکہ بھارت اور پاکستان کی طرف سے ’نیک دلی‘ کے ساتھ کشمیری عوام کی خواہشات کے احترام کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کی صداقت کو آزمایا جا سکے۔
کشمیر میں استصواب رائے کی تجویز کے خارج از بحث ہو جانے کے بعد قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی کشمیری عوام کی مرضی کیسے معلوم کی جائے؟ اب تک ساری توجہ وادی پر مرکوز رہی ہے جو کہ سابقہ ریاست کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہونے کے باوجود کل علاقے کی آبادی کے صرف پانچویں حصے پر مشتمل ہے۔ پھر جموں اور لداخ، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی کیا حیثیت ہے؟ ایک چھوٹے سے حصے پر توجہ مرکوز کرنا اور اسے خصوصی حیثیت دینا یقیناًایک امتیازی رویہ ہے۔ سیمینار کے شرکا اس پر متفق تھے کہ کشمیری عوام کی امنگوں کو پورا کرنا مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کا ایک ناگزیر عنصر ہے اور کشمیری عوام سے مراد سابقہ ریاست کے حدود میں بسنے والے تمام باشندے ہیں۔
اگلا سوال یہ تھا کہ بحیثیت مجموعی کشمیری عوام کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہے؟ اب تک مزاحمت کرنے والی کشمیری قیادت صرف وادی کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس جیسی تنظیمیں اس مفہوم میں پورے کشمیر کی نمائندہ نہیں ہیں۔ مطلوبہ کشمیری قیادت کا تعین کیسے کیا جائے؟ اس سوال کے جواب میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں لیکن کسی پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
اس بات کی ضرورت بھی محسوس کی گئی کہ دو طرفہ مکالمہ میں تنوع کے حامل کشمیری نقطہ ہائے نظر کو بھی مستقل بنیاد پر شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں موجودہ کشمیری قیادت اور بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین روز افزوں روابط کا خیر مقدم کیا گیا۔ شرکا نے دونوں ملکوں کے مابین جامع گفت وشنید کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی بھی ایک عمومی تائید کی۔ 
سیمینار کے شرکا کشمیری رائے عامہ کے ایک وسیع اور متنوع دائرے کی ترجمانی کر رہے تھے۔ یہ بات خوش کن تھی کہ بہت سے مسائل کے حوالے سے ان کے مابین اتفاق رائے موجود تھا۔ سب سے اہم نکتہ، جس پر زور دیا گیا، یہ تھا کہ تشدد کو ختم ہونا چاہیے، خواہ اس کا ارتکاب دہشت پسند عناصر کر رہے ہوں یا بھارتی سکیورٹی فورسز۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ اس بات کو موثر طور ثابت کرنا ابھی پاکستان کے ذمے ہے کہ وہ سرحد پار سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے۔ نیز بھارت کو نہ صرف سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا سدباب کرنا ہے، بلکہ ان کے ہاتھوں معصوم عوام کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی کرنی ہے۔ شرکا کا عمومی مطالبہ یہ تھا کہ بھارت کو غیر فوجی علاقوں سے پولیس کے علاوہ تمام مسلح افواج کو نکال لینا چاہیے۔
اتفاق رائے کا دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ ریاست کو ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کے نقشے کے مطابق دوبارہ متحد کر دیا جائے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ بھارت او رپاکستان کی ضمانت کے تحت ایک خود مختار کشمیر قائم ہو جائے، تاہم عملیت پسندانہ رائے یہ تھی کہ یہ صورت دونوں ملکوں میں سے کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس کے بعد بہترین متبادل صورت یہ تھی کہ زمینی صورت حال کے لحاظ سے کشمیر کے تمام علاقوں کو اس طرح یکساں بنا دیا جائے کہ اس کے اثرات کشمیریوں کے طرز زندگی پر مرتب ہوں۔ اس مقصد کے لیے ہر قسم کی پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے لوگوں کو حق دیا جائے کہ کشمیر کے کسی بھی حصے میں سفر کر سکیں، آزادانہ تجارت اور اشیا کے نقل وحمل کی اجازت دی جائے، رسمی نوعیت کی انتظامی کارروائیوں کو سادہ بنا دیا جائے تاکہ ریاست کا شہری ہونے کی بنیاد پر شناختی کارڈ کے حامل ہر شخص کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سفر اور تجارت کرنے کی آزادی ہو، اور دونوں حصوں کے مابین تمام روایتی سڑکیں بحال کر دی جائیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ منصوبے بنانے کے سلسلے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے باشندوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انھیں سہولیات فراہم کی جائیں، نیز جنگلات، پانی کے استعمال، بجلی کی پیداوار، ماحولیاتی مسائل اور اس نوعیت کے دیگر امور سے متعلق ریاست کی سطح پر ایک مشاورتی نظم قائم کر دیا جائے۔ 
اگر بھارت اور پاکستان کے مابین جامع گفت وشنید کے عمل کو پوری قوت سے آگے بڑھایا جائے اور دونوں اطراف میں باہمی تعاون کی فضا موجود ہو تو مذکورہ تمام تجاویز قابل عمل ثابت ہوں گی۔ معروضی طور پر دیکھا جائے تو سیمینار میں پیش کردہ تجاویز میں سے کوئی بھی ناقابل عمل نہیں ہے۔ بھارت اور پاکستان، دونوں لائن آف کنٹرول کی موجودہ حیثیت کو عملاً ختم کرنے کا علانیہ عزم رکھتے ہیں۔ اگر یہ عزم حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو دہشت پسندی اپنا جواز کھو دے گی۔ اس وقت کشمیر میں قریب قریب غصے کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، کیونکہ کشمیری عوام کو بے حد دکھوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مشکل ہی سے کوئی ایسا خاندان ملے گا جو دہشت پسندوں یا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے کسی عزیز یا گھر بار سے محروم نہ ہو چکا ہو۔ پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش یا اشتیاق کا کوئی اظہار نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح بھارت کے حوالے سے بھی اجنبیت اور دوری کا ایک گہرا احساس موجود ہے۔
کشمیریوں کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ امن وامان اور معمول کی صورت حال کا ایک طویل عرصہ ہے جو بیرونی مداخلت سے پاک ہو۔ اگر یہ میسر ہو جائے اور اس کے ساتھ بامعنی اقتصادی ترقی شامل ہو جائے تو دکھوں کے مداوا کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ اس سے کشمیریوں کو ٹھنڈے دل ودماغ اور سکون کے ساتھ آپس میں گفت وشنید کرنے اور اس کے نتیجے میں شاید واضح اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا کہ آخرکار وہ کیا چاہتے ہیں۔ انھیں یہ بھی احساس ہوگا کہ انھیں بعض عملی حقیقتوں کو ملحوظ رکھنا ہے اور اگر ان میں جبر کا کوئی پہلو نہیں پا یا جاتا تو ہو سکتا ہے کہ وہ انھیں گوارا بھی کر لیں۔ 
اس ساری گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کشمیر کے حل کو ایک واقعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ارتقائی عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جب تک اس مسئلے کو بھارت اور پاکستان کی باہمی مخاصمت میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ (Bargaining Issue) سمجھا جاتا رہے گا، یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ کوئی بھی پیش رفت تبھی ممکن ہوگی جب اسے ایک مشترک مسئلہ سمجھا جائے جس کا حل فریقین کو مطلوب ہو۔ اس ضمن میں پہلے قدم کے طور پر اس سے بہتر کوئی کام نہیں ہو سکتا کہ کشمیری عوام فوری طور پر جن خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا احترام کیا جائے۔ بات کو نئے رخ پر آگے بڑھانے کے لیے ڈاکٹر من موہن سنگھ کا متوقع دورۂ پاکستان ایک اچھا موقع ہوگا۔
(بشکریہ ’ڈان‘۔ ترجمہ: ابو طلال)

اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

موجودہ دور کو بجا طور پر مغربی فلسفہ وفکر اور علوم وفنون کی بالا دستی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ آج پورے کرۂ ارضی پر مغربی افکار ونظریات اورانسان وکائنات کے بارے میں وہ تصورات پوری طرح چھائے ہوئے ہیں جن کی ابتدا آج سے تقریباً دوسو سال قبل یورپ میں ہوئی تھی اور جو اس کے بعد مسلسل مستحکم ہوتے اور پروان چڑھتے چلے گئے۔ آج کی دنیا سیاسی اعتبار سے خواہ کتنے ہی حصوں میں منقسم ہو، فکر اور سوچ کے دائرے میں ایک ہی طرز فکر اورنقطۂ نظر پوری دنیا پر حکمران ہے۔ بعض سطحی اور غیر اہم اختلافات سے قطع نظر، ایک ہی تہذیب اورایک ہی تمدن کا سکہ پوری دنیا میں جاری ہے۔ مغربی تہذیب وتمدن اور فلسفہ کا یہ تسلط اس قدر شدید اورہمہ گیر ہے کہ بسا اوقات یوں دکھائی دیتا ہے کہ خود جدید مسلم فکر اور اسلامی تحریکات بھی، جو اصلاً مغربی فکر کے استیلا کے مقابلے کے لیے وجود میں آئیں، مغرب کے فکری اثرات سے بالکلیہ محفوظ نہیں ہیں اور خود ان کا طرزِ فکر بہت حد تک مغربی ہے۔
گزشتہ صدی میں عموماً اور خلافتِ عثمانیہ کے سقوط (۱۹۲۴ء) کے بعد خصوصاً، مغرب کا یہ استیلا نہ صرف سیاسی وعسکری بلکہ ذہنی وفکری دائروں میں بھی عالم اسلام پر قائم ہوا، تاہم مسلم دنیا پر مغرب کی یورش چونکہ اصلاً سیاسی تھی، اس لیے عالمِ اسلام میں اس کے خلاف پیدا ہونے والے رد عمل میں بھی اسی کا احساس غالب نظر آتا ہے۔ ڈاکٹراسرار احمد صاحب کے بقول ملتِ اسلامی کے اس تلخ احساس نے کہ یورپ نے کہیں براہِ راست تسلط اورقبضے اورکہیں انتداب وتحفظ کے پردے میں اسے اپنا محکو م بنا لیا ہے اوراسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر کے اس کی وحدتِ ملی کو پارہ پارہ کر دیا ہے، بارہا دردانگیز نالوں کی صورت اختیار کی اور اپنے شاندار ماضی کی حسرت بھری یاد، اپنی عمرِ رفتہ اورعظمت وسطوتِ گزشتہ کی بازیافت کی شدید تمنا اور گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف لوٹانے کی بے پناہ خواہش نے کبھی جمال الدین افغانی کی انقلاب پسند شخصیت کا روپ دھارا اور کبھی تحریکِ خلافت کی صورت اختیار کی، لیکن حقائق نے ہر بار جذبات وخواہشات کا منہ چڑایا اور مغرب کی سیاسی بالا دستی رفتہ رفتہ ایک تسلیم شدہ واقعہ کی صورت اختیار کرتی چلی گئی۔
مغربی فلسفہ وفکر اورتہذیب وتمدن کے مقابلے میں عالم اسلام کی جانب سے مدافعت کی کوششیں ہونا بھی ناگزیر تھا۔ اسی احساسِ تحفظ نے ’احیائے اسلام‘، ’قیامِ حکومتِ الٰہیہ‘ اور ’نفاذِ نظامِ اسلامی‘ کی تحریکیں مختلف مسلمان ملکوں میں منظم کیں، جن میں کچھ اصلاحی طریقہ کار پر گامزن ہو کر پرامن ماحول میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہیں اور کچھ تحریکوں نے شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مغرب کی ہر پالیسی کا نہ صرف انکار کیا بلکہ منظم گروہوں کی شکل میں مغربی یورش کے مقابلہ ومزاحمت کی کوشش بھی کی۔ تحفظ ومدافعت کی یہ کوششیں دو طرح کی تھیں: ایک وہ جن میں محض تحفظ پر قناعت کی گئی اور دوسری وہ جن میں مدافعت کے ساتھ ساتھ مصالحت اورکسروانکسار کی روش اختیار کی گئی۔ 
مغربی مفکرین ومستشرقین نے اسلامی تحریکات کے مزاج کا گہرا فہم حاصل کرنے اور ان کے بارے میں اپنے لائحۂ عمل کو ترتیب دینے کے لیے ان کو اپنے خصوصی مطالعہ کا موضوع بنایا اور دونوں قسم کی تحریکوں کی طبقہ بندی کر کے اس کے موافق پالیسیاں تشکیل دیں۔ 
اسلامی تحریکات کے حوالے سے مستشرقین میں تین طرز فکر پائے جاتے ہیں۔ اول، وہ جنھوں نے اسلامی تحریکات کو انتہا پسند اور ریڈیکل قرار دیتے ہوئے اُن پر تنقید کی ہے اور مغربی پالیسی سازوں کو ان کے خلاف اقدامات کی سفارشات کی ہیں۔ دوسرے، وہ طبقہ جس نے اسلامی تحریکوں اور گروپوں کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی خدمات اور اسلامی معاشروں پر ان کے اثرات کو تسلیم کیا ہے۔ تیسرا وہ طبقہ جس نے معتدل انداز میں اسلامی تحریکات اورشدت پسند گروہوں کے نقصانات اور ان کے ممکنہ خطرات کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے فوائد، مجبوریوں اور ان کے پس منظر میں کارفرما عوامل کا بھی ذکر کیا ہے اورساتھ ہی مغربی حکومتوں کو یہ تجویز دی ہے کہ ان کے تحفظات کو دور کیا جائے تاکہ امنِ عالم کے قیام میں حائل رکاوٹوں کا تدارک ہو سکے۔
اسلامی تحریکات کے بارے میں استشراقی افکار کاجائزہ اس تحقیقی ورثہ کی روشنی میں لیا جاسکتا ہے جس میں تاریخِ اسلامی، اسلامی سیاست اور معاشرت پر بحث کی گئی ہے اور اسی ضمن میں اسلامی تحریکات کا بھی ذکر کر دیاگیا ہے۔ مشہور مستشرق John L. Espositoنے اپنی متعدد تصانیف مثلاً The Islamic Threat: Myth or Reality ( آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نیویارک 1999ء) میں اسلامی تحریکات کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے مغرب کو ان کے عزائم سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی مصنف کی ایک دوسری کتاب World Religions Today (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2002ء) میں بھی انھی خیالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ Espositoکی تصنیف Unholy War: Terror in the name of Islam (آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2002ء) میں بھی اسلامی مکاتبِ فکر اورتحریکات سے متعلق استشراقی مفروضات وخدشات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 2002ء ہی میں شائع ہونے والی ان کی کتاب What Everyone Needs to Know about Islam میں بھی اسلامی تحریکات کو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔ Espositoکی ایسی ہی ایک اورتصنیف Makers of Contemporaty Isalmہے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام 2001ء میں شائع ہوئی ہے۔
Bernard Lewis طبقۂ استشراق میں اعلیٰ پایہ کے محقق شمار ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ ان کا مستقل موضوع ہے جس کے تحت انہوں نے مختلف خطوں میں قائم اسلامی ریاستوں کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کو ایک تحریک کانام دیا ہے۔ ان کی تصنیف The Emergence of Modern Turkey (آکسفورڈ پریس، 2002ء) اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اسی طرح ان کی تصنیفات Crises of Islam: The Holy War and Unholy Terrorاور The Arabs in Historyبھی قابلِ ذکر ہیں۔
امریکی مفکر Shireen T. Huntsکی کتاب The Future of Islam and The Westکو The Center for Strategic and International Studiesنے امریکہ سے شائع کیا جس میں موجودہ اسلامی تحریکوں کی اصلاح پر زوردیاگیا ہے۔ 
بعض مغربی مفکرین نے اسلامی تحریکات کو اسلامی مذہب کا المیہ قرار دیا ہے جن کے باعث اسلام کا امیج مغرب میں قابلِ قبول نہیں رہا۔ ایسی ہی ایک تصنیف Ernest Gellnerکی Islamic Dilemmas: Reforms, Nationalists and Industrialistsہے جو برلن، جرمنی سے Walter de Gruyterکے زیر اہتمام 1985ء میں شائع ہوئی۔
چند مستشرقین کے ہاں خالصتاً اسلامی تحریکات پر بھی تصانیف ملتی ہیں، مثلاً: Shaul Mishalاور Avraham Selaکی متفقہ کاوش The Palestinian Hamas ( Columbia University Press New York, 2000ء) میں فلسطینی شدت پسند تنظیم ’حماس‘ کے پس منظر اورمقاصد پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض تصانیف قومیتوں اوراسلامی ریاستوں کو بنیاد بنا کر لکھی گئیں اور ان میں سرگرم اسلامی تحریکات کے کردار کا جائزہ لیاگیا ہے جیسا کہ Arab Awakening and Islamic Revival (Transaction Publishers, New Jersey, 1996)میں اس کے مصنف Martin Kramerنے مشرقِ وسطی میں پائے جانے والے سیاسی افکار کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مغرب سے اِن تحریکوں اورقومیتوں کے تحفظات کو دورکرنے کی درخواست کی ہے۔ ایسی ہی ایک تحقیق Raywond HirnnebuschاورAnoushiravan Ehtishamiنے مشترکہ طور پر The Foriegn Policies of Middle East Statesکے نام سے کی ہے جس کو Lymme Rienner Publishers Colorado, USAنے 2002ء میں شائع کیا ہے۔ ایسی ہی ایک کاوش The Middle East and Islamic World Reorderکے نام سے Morvin E. Gettlemanاور Stuart Schearنے کی ہے جس کو Grove Press, 841 Broadway New Yorkنے 2003ء میں شائع کیا۔
ازمنہ وسطیٰ میں اسلامی تحریکات اوران کے کردار سے متعلق R. Stephen Humphreysنے اپنی تصنیف The Middle Age in a Trouble Age, Between Memory and Desire (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس لندن، 1999ء) میں سیر حاصل بحث کی ہے۔
اسلامی مکاتب فکر اور تحریکات کے بارے میں جدید استشراقی رجحانات کو سمجھنے کے لیے S.N.Eisenstadlکی کتاب Fundamentalism, Sectarianism and Revolutions (کیمبرج یونیورسٹی پریس برطانیہ، 1999ء) ایک سنگِ میل ہے۔ اسی طرح Mark Juergensmeyerکی کتاب Terror in the Mind of God (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس، لندن 2003ء) میں استشراقی سوچ واضح ہوتی ہے۔ Shaul Shayنے The Redsea Terror Triangle (The Interdisciplinary Centre, USA, 2005) میں سوڈان، صومالیہ اور یمن کی مثلث کے علاوہ دیگر خطوں میں اسلامی وجہادی گروپوں کے بارے میں بحث کی ہے۔ Dore Goldنے Hat Red's Kingdom (Renery Publishing Inc. Washington DC, 2003) میں عالمی دہشت گردی کا ذمہ دار سعودی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ Power in Movementکے نام سے Sidney Tarrowکی کتاب (کیمبرج یونیورسٹی پریس یوکے، 1998ء) میں اسلامی تحریکات کی جدوجہد کا جائزہ لیا گیا اوران کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 
اسلامی ریاستوں میں اسلامی تحریکات کے کردار کے بارے میں Arye Odedکی کتاب Islam & Politics in Kenya (Lynne Rienner Publishers Inc. USA, 2000) کا مقدمہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس ضمن میں Hugh Roberts کی کتاب The Battlefield Algeria (1988-2002) جو 6-Meard Streat Londonسے 2003ء میں شائع ہوئی)، Ceasar E. Farahکی ISLAM جو Barran's Educational Sciences Inc. NYنے 2003ء میں شائع کی، Fereydoun Hoveydaکی The Broken Cresent (Praeger Publishers, USA, 1998) اور Encyclopedia of Terrorismشائع شدہ Sage Publishers Inc. USA, 2003بھی نہایت اہم اضافے ہیں جن سے استشراقی فکر کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔
مکالمہ بین المذاہب کے حامی مستشرقین نے بھی اپنی تحریرات میں اسلامی تحریکات کے کردار کا ذکر کیا ہے اور اسلامی مملکتوں کو ان کی اصلاح کی تجاویز دیتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد بین المذاہب مکالمہ میں حائل رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ دی اسلامک فاؤنڈیشن امریکہ نے 1998ء میں ایسی ہی ایک رپورٹ Christian Mission and Islamic Dawahکے نام سے شائع کی۔
Karen Armstrongکا شمارمستشرقین کے اعتدال پسند طبقہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کو قریب سے دیکھا اور پھر اس کی حقانیت کا اقرار اپنی تحریرات میں بجا طور پر کیا ہے۔ انہوں نے Muhammad: A Western Attempt to Understand Islamمیں بھی اسلامی تحریکات کی خصوصیات ذکر کی ہیں۔یہ کتاب Victor Gollanczنے 1992ء میں لندن سے شائع کی۔ انہی اعتدال پسند مستشرقین میں سے Cragg Kennethکی Call of Minaretہے جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے نیویارک سے 1956ء میں شائع کیا تھا۔ اسی طبقہ سے Morman Daniel بھی ہے جس کی تصانیف Islam and the West: The Making of an ImageاورThe Arabs and the Medieval Europe بالترتیب آکسفورڈ سے 1960ء اور Longman Londonسے 1979ء میں شائع ہوئیں۔
Albert Houraniنے بھی اسلامی تحریکات وسیاست کا جائزہ لیا ہے- اس کی ایک تصنیف Europe and Middle East کے عنوان سے لندن سے 1980ء میں شائع ہوئی۔ اس کی دوسری تصنیفWestern Attitudes towards Islamیونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن سے 1974ء میں شائع ہوئی۔ Houraniکی کتاب Islam in European Thoughtبھی مغربی فکر کا اندازہ لگانے میں مددگار ہے۔ مؤخر الذکر کو کیمبرج یونیورسٹی پریس نے 1989ء میں شائع کیا۔
1957ء میں Princeton University Pressنے Wilfred Smithکی کتاب Islamic Movements in Modern Historyطبع کی۔1962ء میں ہارورڈیونیورسٹی پریس نے R.W.Southern کی Western Views of Islam in Middle Agesشائع کی۔ اسی طرح مشہور مستشرق Montgomery Wattکی تصنیف Islamic Fundamentalism and Modernity میں بھی، جو لندن سےKen Paulنے 1988ء میں شائع کی، اسلامی تحریکات کو بنیاد پرست اور دہشت گرد کہا گیا ہے۔ ایسے ہی خدشات وتحفظات کا اظہار اس نے اپنی کتاب Ultimate Vision and Ultimate Truthمیں کیا ہے جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے 1995ء میں شائع کیا۔
اسلامی انقلاب کے خطرے پر لکھی گئی تصانیف میں Quintan Wiktorowiczکی Islamic Activisim: A Social Movement Theory Approach (شائع کردہ Indiana University Press, 2004ء )، Will Wagnerکی How Islam Palns to Change the World (شائع کردہ Kregel Publications, USA 2004)، Zachary Abuzaکی تصنیف Militant Islam in Southeast Asia (شائع کردہ Lynne Rienner Publishers USA 2003)، Barry Rubinکی Revolutioneries and Reforms: Contemporary Isalmist Movements in the Middle East (شائع کردہ State University of New York Press USA, 2003)، Yoram Schweitzerاور Shaul Shay کی مشترکہ تحقیق The Globalization of Terror (شائع کردہ The interdisciplinary Center USA) اور Max.Taylor اور John Horganکی مشترکہ تحقیق The Future of Terrorism (شائع کردہ Frank Cass Publishers London 2000) قابل ذکر ہیں۔
امتِ مسلمہ کی طبقاتی تقسیم بھی استشراق کا ایک اہم ہدف رہا ہے چنانچہ 2003ء میں Rand Corporation USA کی طرف سے82صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں مسلمانوں کو (۱)بنیاد پرست(۲)روایت پسند(۳)جدت پسند اور(۴)سیکولر طبقوں میں تقسیم کر کے ہر ایک طبقہ کی تنظیموں کے بارے میں ایک تفصیلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور ان کے حسبِ حال پالیسیاں ترتیب دینے کی سفارشات کی گئی ہیں۔یہ رپورٹ Civil Democratic Islamکے نام سے شائع کی گئی ہے۔
اسلامی تحریکات ومکاتبِ فکر کے بارے میں قدیم وجدید استشراقی فکر ورجحانات کے دفاع میں مسلم محققین نے بھی اپنی تصانیف میں جزوی طور پر بحث کی ہے۔ اس ضمن میں سید حسین نصر نے اپنی کتاب ’’جدید دنیا میں روایتی اسلام‘‘ میں، جو ادارہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور نے 1996ء میں اردوزبان میں شائع کی، روایتی اسلام اور اس کے احیا کے لیے مصروفِ عمل تحریکات ومکاتبِ فکر پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔ تاہم یہ کتاب جدید استشراقی رجحانات کے پروان چڑھنے سے پہلے تصنیف کی گئی۔
Muhammad M. Hafeezکی تصنیف Why Muslims Rebel?قابل ذکر ہے جو Lynne Rienner Publishersنے امریکہ سے 2004ء میں شائع کی۔ اسی طرح پروفیسرخورشید احمد کی کتاب Islam and the West میں بھی، جو اسلامک پبلی کیشنز لاہور نے 1979ء میں شائع کی، جزوی طور پر مغربی افکار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ڈاکٹر غراب احمد عبدالحمیدنے ’رؤیۃ اسلامیۃ للاستشراق‘ میں جس کو دارالاصالۃ للثقافۃ والنشر والاعلام الریاض نے ۱۹۸۸ء میں شائع کیا، دین اسلام کے بارے میں استشراقی افکار پر بحث کی ہے۔ ڈاکٹر زقزوق محمود حمدلی نے ’الاستشراق والخلفیۃ الفکریۃ للصراع الحضاری‘ نامی تصنیف میں جدید مغربی استعمار اور دیگر تہذیبوں پر اس کے حملوں کے متعلق تفصیل بیان کی ہے۔ اس کتاب کو دارالمنار القاہرۃ مصرنے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا۔ ڈاکٹر اسماعیل سالم عبد العال کی تصنیف ’المستشرقون والاسلام‘ استشراقی افکار کو سمجھنے میں اہم ماخذ ہے جس کو رابطۃ العالم الاسلامی،مکہ مکرمہ نے ۱۹۹۰ء میں شائع کیا۔ ڈاکٹر دیاب محمد احمدنے ’اضواء علی الاستشراق والمستشرقین‘ میں استشراقی اہداف ومقاصد کو مرکز بحث بناتے ہوئے ان کے اندازِ فکر پر کلام کیا ہے۔اس کو دارالمنار قاہرۃ مصرنے ۱۹۹۹ء میں شائع کیا۔ زکریا ہاشم زکریاکی ’الاسلام والمستشرقون‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کو المجلس الاعلی للشؤن الاسلامیۃ، مصرنے ۱۹۶۵ء میں شائع کیا۔ اسی سلسلہ میں حسب ذیل تصنیفات بھی اہمیت کی حامل ہیں:
ڈاکٹرمصطفی السباعی، ’الاستشراق والمستشرقون‘، مکتبۃ دارالبیان، الکویت،س۔ن۔
شلبی عبدالجلیل، ’صورٌ استشراقیۃ‘، مجمع البحوث الاسلامیہ ،۱۳۹۸ھ۔
المطعنی عبدالعظیم محمد الدکتور، ’افتراء ات المستشرقین علی الاسلام‘، المکتبۃ الوہبۃ قاہرہ مصر، ۱۹۹۲ء۔
نجیب العقیقی، ’المستشرقون‘ :دارالمعارف ،قاہرہ، ۱۹۶۵ء۔
مغربی مفکرین نے اسلامی تحریکات کے لیے عموماً اور شدت پسند تنظیموں کے لیے خصوصاً ایک مخصوص رجحان کو ترقی دی کہ ایسی تحریکات انسانیت کی بقا کے لیے خطرہ ہیں لہٰذا ان کا سدّباب ضروری ہے۔ انسانی کمزوریوں کو نظر انداز کر دینے کی یہی وہ خطرناک سوچ تھی جس سے نہ صرف مستشرقین بلکہ بعض جدت پسند مسلم مفکرین نے بھی اِن تحریکات کے خلاف جانبدارانہ بلکہ متعصبانہ رویہ اپنایا۔ اگرچہ اس حقیقت سے انکار کی گنجایش نہیں کہ ان تحریکات میں بھی بعض نے خلافِ مصلحت حد سے زیادہ شدت کا مظاہرہ کیا جس کے نتائج دیگر اصلاحی تحریکات کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑے، تاہم ہمیں مغربی طرزِ فکر اوررجحان کو بھی انصاف پسندی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ زاویہ نگاہ مزید ایسے رجحانات کو جنم دینے کا ذمہ دار ہے جو امنِ عالم کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ درحقیقت دوسری جنگِ عظیم اور اس کے بعدپیدا ہونے والے حالات مغربی تسلط کی مخالف اسلامی تحریکات کے دوبارہ احیا کا باعث بنے۔ 
گزشتہ صفحات میں ذکر کی گئی کتب کے علاوہ اور بھی بہت سی استشراقی کتب سے اسلامی تحریکات ومکاتبِ فکر کے بارے میں مغربی طرزِ فکر واضح ہوتا ہے اور اسی طرزِ فکر کی روشنی میں مغربی ریاستوں کو مسلم ممالک کے متعلق پالیسیاں ترتیب دینے کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے مسلم دانشور شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے غفلت برت رہے ہیں جس سے مغرب میں اسلام کا امیج بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے اورنتیجتاً مسلم ممالک پر مغربی یورش میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہورہا ہے۔
دورِ حاضر میں مسلم امہ کا یہ المیہ ہے کہ وہ اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی اور نشاۃ کے لیے کسی مجموعی لائحہ عمل اوراجتماعی طرزِ فکر کو اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ اس کے برعکس مغرب ایک طرف اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید سے مزید برتری پیداکرتا چلا جارہا ہے اور دوسری طرف عالم اسلام کی تحریکوں اور مغرب کے فکری یا تہذیبی چیلنج کے مقابلہ کا پیغام کرنے والے گروہوں کے بارے میں متنوع اسالیب سے مصروفِ عمل ہے۔ ایسی صورتحال میں پہلے قدم کے طور پر مسلم امہ میں ذہنی وفکری بیداری کا پیدا ہونا ازبس ضروری ہے ۔ چنانچہ اولاً ہمیں ان فکری رجحانات ومیلانات کا جائزہ لینا ہوگا جو مغربی مفکرین ومستشرقین اسلامی دنیا اور اس کی تحریکات کے بارے میں اپنے ذہنوں میں رکھتے ہیں اور جن کی اصلاح ہونے کے بجائے ان میں مزید شدت آرہی ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعے نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے بعد اسلام کو ’دہشت گرد اسلام‘ اور ’امن پسند اسلام‘ کے خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ثانیاً ان فکری رجحانات کا جائزہ لے کر مغرب میں اسلام کی درست صورت گری کی جائے تاکہ مغرب کے ساتھ افہام وتفہیم کا راستہ آسان تر ہوسکے جس کے نتیجہ میں گلوبلائزیشن کے عمل کو مثبت انداز میں تقویت پہنچے۔ مزید براں مسلم دانشوروں اور حکومتوں کو اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی تحریکات کے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈے کی تحقیقی انداز میں مذمت اور ان کے مثبت پہلوؤں اورتحفظات کو اجاگر کرنے کے بعد مغربی اندازِ فکر کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 
مغربی سوچ اورفکر کا جائزہ لے کر اس کے نقائص سے تحقیقی دنیا کو روشناس کرانا اور اس کے بعد مسلم تھنک ٹینکس کو درست سمت میں پالیسی سازی کے لیے راہنمائی فراہم کرنا محققین اور علما کی بھی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد ہی اس بات کی امید کی جا سکتی ہے کہ ہم اسلام کے بارے میں مغربی سوچ اور طرزِ فکر کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے اور اسلام کی حقیقی صورت گری ممکن ہوسکے گی۔ تبھی اس قابل ہوں گے کہ مغرب کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرسکیں اور یہی ہماری نشاۃ ثانیہ کا نقطۂ آغاز ہوگا۔ ان شاء اللہ

پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس سے وابستہ اصولی اور اخلاقی تصورات

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

پاکستان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ بنا اسلام کے نام پہ۔ پر پہلے دن سے وہاں اسلامی نظامِ حکومت کے لیے اس انداز کی جدوجہد چل رہی ہے جیسے حکمرانوں کے لیے یہ نظام ایک ناقابلِ قبول چیز ہو! ابتدائی دنوں کی سخت جد و جہد کے بعد اتنی کامیابی اس سلسلہ میں ملی کہ دستور ساز اسمبلی نے’’قراردادِ مقاصد‘‘ نام کی ایک قرارداد پاس کردی۔ یہ گویا ملک کے لیے اسلامی دستور کا سنگِ بنیاد ہوا۔ مگر پھر دستور بننے میں وہ لوہے لگے کہ کہیں ۱۹۷۳ء میں جا کے یہ ہو سکا۔یعنی پاکستان کے قیام پر ایک چوتھائی صدی گزرنے کے بعد۔ یہ دستور بہر حال ایسا بن گیا کہ جو طبقہ اسلامی نظامِ حکومت کی جد و جہد کر رہا تھا، اس نے بھی ضرورت کی حد تک اسے قابلِ قبول مان لیا۔لیکن جتنی بھی حکومتیں اس دستور کے ماتحت بنیں، ان میں سے کسی کا بھی طرزِ حکومت اس طبقہ کے لیے اطمینان بخش نہیں رہا ۔ اسلامی نظام (یا نظامِ مصطفےٰ ) کے نام پر آویزش کا ایک سلسلہ حکومتِ وقت کے ساتھ آج مزید ایک چوتھائی صدی گزرجانے پر بھی برابر قائم ہے۔ اور اس آویزش میں وہ نئے نئے طریقے برتنے کا تجربہ یہ اسلام پسند طبقہ کرتا نظر آرہاہے کہ اس کے مقصد سے ہمدردی کے ساتھ یہ طریقے کسی طرح اس کے مقصد سے ہم آہنگ نہیں دکھائی دیتے۔ نظر ایسا آنے لگا ہے جیسے ،کم از کم فی الحال ،یہ لوگ اسلامی حکومت کے بارے میں اپنے اصل نظریہ کی کامیابی سے مایوس ہو چکے۔ اب مسئلہ کسی نہ کسی طرح بس برِ سرِ حکومت آجانے کا ہے۔ پس وقت ہے کہ اس اسلام پسند طبقہ کو معاملہ کے اس پہلو پر توجہ دلائی جائے۔ 
نیت نیک ہو سکتی ہے، اُس سے بحث نہیں۔ مگر ذرا غور کرنے کی بات ہے ، جنرل مشرف نے نواز شریف کا تخت اُلٹا تو اس پورے اسلام پسند طبقہ کو اس پر نہایت خوش ہوتے دیکھا گیا۔ وقت بدل گیا اور جنرل مشرف سے بات بننے کے بعد بگڑ گئی اور بظاہر وہاں پہنچ گئی کہ اب پھر بننے والی نہیں، تو اس طبقہ کے نمائندے لندن میں انھیں نواز شریف صاحب سے یکجہتی کا اظہار کرنے پہنچ رہے ہیں۔ (معلوم ہے کہ شریف برادران آج کل لندن میں ان ارادوں کے اظہار کے ساتھ فروکش ہیں کہ وہ اب پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے واپس آرہے ہیں۔)نواز شریف کا تخت اُلٹ جانے پر خوشی کا سب سے اہم باعث ،یا حوالہ، ان کی وہ مخالفِ اُسامہ و طالبان پالیسی تھی جوکارگل قصہ کے سلسلہ میں واشنگٹن سے واپسی پربالکل ایک یو(U) ٹرن کے ا نداز میں موصوف نے اپنائی۔ اور پھر یہی پالیسی جب جنرل مشرف نے امریکہ کی معاونت میں ۲۰۰۱ء میں اپنالی تو اس طبقہ کے سب عناصر نے مل کر آنے والے الیکشن کے لیے ایک مشرف مخالف محاذ ’’متحدہ مجلسِ عمل‘‘ کے نام سے بنا یا اور اسی ( امریکہ دوست اُسامہ دشمن) پالیسی کے حوالہ سے ۲۰۰۲ء میں جنرل مشرف کی مسلم لیگ کے خلاف الیکشن لڑکرکامیابی کاوہ درجہ حاصل کیا کہ دوسروں کو تو اس کا اندیشہ کیا، خود کو بھی اتنی امید نہ رہی ہو گی۔پیپلز پارٹی تک پیچھے رہ گئی۔ لیکن اس کامیابی کے فوراً بعد کیا دیکھنے میں آیا؟ یہ کہ یہ کوشش شروع ہوئی کہ امریکہ اور مغربی ممالک اِن لوگوں کو اسامہ اور طالبان کی نظر سے نہ دیکھیں۔محاذ کی قیادت نے جماعتِ اسلامی کے مرکز منصورہ میں ان ممالک کے سفرا کو اس مقصد کے لیے مدعو کیا ۔اس اجتماعِ سفرا کی جو رپورٹ اخبارات میں آئی، وہ سوائے اس کے کوئی دوسرا تأثر اس کے مقصد کے بارے میں نہیں دیتی تھی۔ تو کیا یہ ابن الوقتانہ(ان الفاظ کے لیے معذرت) طور طریقے ذرا ایک بھی بے نظیر اور نواز شریف جیسے خالص سیاسی لوگوں کے طور طریقوں سے مختلف ہیں؟ اور کیا ان خالص سیاسی لوگوں کے مقاصد کی راہ اور کاروانِ نظامِ مصطفےٰ کے مقصد کی راہ ایک بھی ہو سکتی ہے؟ اور اسی ایک راہ سے منزلیں دونوں کوالگ الگ بھی مل سکتی ہیں؟
اچھا توپاکستان جو اسلام کے نام پر بنا، اس میں’’ اسلام کی حکومت ‘‘قائم نہ ہو سکنے کا آخر وہ مسئلہ کیا ہے کہ اس حکومت کے علمبرداراپنی جد و جہد میں ہرڈھنگ آزماتے آزماتے وہاں نکل گئے ہیں جہاں اس قافلہ کے ایک سالار کو غالب کا یہ شعر حسبِ حال نظر آنے لگ گیاتھا: 
ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نا یافت 
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے 
اللہ جانے کیوں لوگوں کی نظر نہیں جاتی ،یا جان کر انجان بنا جارہا ہے ۔بات تو بالکل سامنے کی ہے! اسلام کے نام پہ بے شک یہ ملک بنا تھا۔ مگر کون سا اسلام؟ مولانا محمد قاسم نانوتوی والا؟مولانا مودودی والا؟یا سر سید اور مسٹرمحمد علی جناح والا اسلام؟ اگر یہ پہلے دو میں سے کسی کا ’’اسلام‘‘ ہوتاتو حضرت مولانا حسین احمد مدنی یہ نہ کہہ رہے ہوتے کہ پاکستان کا رقبہ تو بہت چیز ہے، ہمیں اگراس کے کسی ایک شہر اور کوچہ کے بارے میں بھی یقین ہو کہ لیگی قیادت وہاں اسلام قائم کرے گی تو ہم خیمہ بردار ہو کے چلیں، اور نہ مولانا مودودی اپنے ان لوگوں سے جو پٹھانکوٹ میں اُنھیں سمجھانا چاہ رہے تھے کہ پاکستان بننے سے تو ہمارا کام بڑا آسان ہو جائے گا پس ہم اس کی تائید کریں، یہ فرماتے کہ تم نیبو کے درخت سے آم کھانے کی توقع کرتے ہو! وہاں اسلام کی بات کرنے والوں کو پھانسیاں ملیں گی۔ (اور مولیٰنا تو واقعی پھانسی سے بس بال بال بچے)۔
پاکستان بنوانے والی اصل طاقتیں دو تھیں۔ ایک قائدِ اعظم مسٹر جناح کی ذات ،دوسرے علی گڑھ ۔ دوسرے الفاظ میں کلیدی رول ان کا تھا، باقی بس حمایت یا زینت۔ اور یہ ان دونوں کے تصورِ اسلام ہی کا قصہ تھا جس نے حضرت مدنی اور مولا نا مودودی سے وہ باتیں کہلوائیں ،( یہاں یہ نہ بھولیے کہ یہ ۱۹۴۷ ء سے پہلے کا علی گڑھ تھا ،کوئی آج کے علی گڑھ پہ نہ جائے، آج تو وہاں کی دنیا ہی بدلی ہو ئی ہے۔ پریہ بدلا ہوا علی گڑھ ہندوستان کے حصہ میں آیا ہے۔) خیر،مگر اس کو کیا کیجئے ! کہ دو ہی سال کے اندر جب پاکستان وجود میں آگیا اور مولانا مودودی کو پٹھانکوٹ سے ہجرت کرکے وہاں آنا پڑگیا تواس پاکستان نے ان سے خود ان کی بات کا یقین چھین لیا۔ اور جو کچھ وہ اس نیبو کے درخت سے آم کھانے کی کوشش میں کر سکتے تھے، اس میں کوئی دقیقہ اُٹھا کے انھوں نے نہیں رکھا۔ اسی میں ان کا ساتھ چھوڑتے ہوئے غالب کا وہ اوپر کا شعر مولانا امین احسن اصلاحی کو یاد آیا تھا۔ پر خوشی کی بات ہے کہ بالآخر(اگرچہ ذرا بعد ازوقت) مولیٰنا مودودی کو بھی احساس ہوگیا کہ وہ سراب کے پیچھے دوڑتے اور لوگوں کو دوڑاتے رہے اور اب ان کا فرض ہے کہ اس کا اظہار کردیں۔ اس قابلِ تحسین واقعہ سے ہم باہر لوگوں کو واقف کرانے کی نیکی مولانا کے ایک زمانہ کے پیرو جناب ارشاد احمد حقانی کے قلم سے انجام پائی۔یہ موصوف کے ایک قسط وار کالم کا حصہ تھا جو یکم تا ۵ نومبر۲۰۰۰ء روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔ مولانا نے اس کے مطابق اپنی جماعت کی شوریٰٗ میں اس مضمون کی ایک قرار داد پاس کرانی چاہی تھی کہ ہم پاکستان بننے کے بعد سے ایک غلط راستہ پر چلتے رہے۔ اب ضرورت ہے کہ اپنی صحیح راہ پر واپس جائیں۔مگر یہ وہ وقت (۷۲ء) تھاکہ مولانا کے قویٰ جواب دے رہے تھے۔ وہ اَمارت بھی چھوڑ چکے تھے۔ ۵۷ ء ؁ کا ماچھی گوٹھ والا رول اب وہ ادا نہیں کرسکتے تھے۔ رفقا حامی نہ ہوئے اور وہ بے بس ہوکے رہ گئے۔اللہ مغفرت فرمائے۔
الغرض مسئلہ میں ایک تویہ بنیادی عامل(فیکٹر) علی گڑھ والے اور قائدِ اعظم والے اسلام کا ہے۔ آپ اس سے تجاہل برت کر اس کو کالعدم نہیں کر سکتے۔ یہ ایک گہرا فکری عامل ہے۔ یہ پاکستان کی جڑوں میں پلایا ہوا ہے۔یہ آپ کے والے (یعنی’’ ملّا ‘‘والے) اسلام کی ہر قیمت پر مخالفت کرے گا۔ اس تصورِ اسلام کے لو گ آ پ کی جد و جہد کو اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی ایک کوشش سمجھیں گے۔ اس کے ما سوا ایک دوسرا بڑا مخالف عامل پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اور دَرآیا تھا۔ اور یہ وہ ہے جس کا کھلا اعتراف خود اس اسلامی محاذ نے منصورہ کا مذکورۂ بالا اجتماعِ سفراء بلاکر کر لیا۔یعنی پاکستان کے معاملات میں مغرب اور بالخصوص امریکہ کا فیصلہ کُن عمل دخل۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان کے ایک ابتدائی قدم نے اُسے ایسا امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا تھاکہ کوئی حکومت وہاں امریکہ کی مرضی کے بغیر جب سے نہیں بنتی اور نہیں چلتی۔مثالیں اتنی ہیں اور آئے دن دہرائی جا تی ہیں کہ اس اشارہ سے وہ یکایک ذہنوں میں آجائیں گی ۔پس علی گڑھ اور قائدِ اعظم کے تصور اسلام والے لوگ اگراز خود یا کسی دباؤ سے کچھ نرمی بھی اس مسئلہ پر برتنا چاہیں تو مغرب انھیں اجازت نہیں دینے والا۔ اور یہ غریب کہاں سے مزاحمت کاحوصلہ لا سکتے ہیں جب امریکہ دشمنی کے نعروں پر الیکشن جیتنے والے بھی اس کوشش میں لگے نظر آئیں کہ ان کے نعرے بھلا دیے جائیں؟ 
یقین ہے کہ یہ نعرے بھلا دیے جانے کی کوشش محض ایک سیاسی مجبوری کے طور پر تھی نہ کہ دل سے۔اورکسی کو اگر شبہ رہا ہو تو ابھی مارچ کے مہینہ میں کارٹونوں کے مسئلہ پر احتجاج کو ان حضرات نے کارٹونوں سے زیادہ ا مریکہ و یورپ کی سیاست کے خلاف فضا بنانے کے لیے جس زور شور سے استعمال کیا، اس کے بعدکسی کا شبہ بھی قائم نہیں رہنا چاہئے، مگر یہ بات بہر حال طے ہو جاتی ہے اور اس کے ماننے سے مفر نہیں کہ پاکستان میں فی الحال(اور یہ ’’فی الحال‘‘مختصر قسم کی چیز بظاہر نہیں) امریکہ اور یورپ کی رضا کے بغیر کوئی حکومت کا خواب دیکھے گا تو وہ خود کو دھوکہ دے گا۔اور ان کی مرضی سے آکر اسلام نافذ کرنے کا خواب دیکھنے والا اس سے بھی بڑھ کر دھوکہ کھانے کا شوقین ہوگا۔ پس ایک طرف باہرکی ان غیر مسلم طاقتوں کانفوذ اور دوسری طرف پاکستان کی تأسیس میں پلایا ہوا لبرل اسلام، اِن دو اندرونی اور بیرونی مزاحم عوامل (مزید برآں وڈیرے اور جاگیرداران) کے ہوتے ہوئے سیاست کی راہ سے اسلام کو سیاسی طاقت بنانے کی کوشش صرف اپنی قوتوں کاضیاع ہی نہیں، اسلامی جد و جہد کے نام سے وابستہ اعلیٰ اصولی اور اخلاقی تصورات کو بھی لازماً مجروح کرکے رکھ دینے والا عمل ہے۔
دنیا میں رہ کر سیاست سے مفر یقیناً نہیں ہے، خاص کر جب کہ ملک کی سیاست انتخابی ہو۔ مضائقہ جو کچھ ہے وہ (مذکورہ قسم کی صورتِ حال میں) اسلام کو اس میدان میں لے کے آ نے میں ہے۔آخر کیوں ضروری ہے کہ ہم اسلامی نظام کا علم لے کر ہی سیاست میںآئیں؟مگر نہیں ،یہاں ہمیں متحدہ مجلسِ عمل کی اکائیوں میں سے جماعتِ اسلامی کو اس سوال سے باہر رکھنا ہوگا۔ وہ اسلام کی اس تعبیر پر ایمان رکھتی ہے جو اسے مولانا مودودی سے ملی۔اوروہاں اس معاملہ میں شدت کا یہ عالم تھا کہ مصر کے کاروبارِ حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام کی شرکت کو ہمارے مفسرین نے جو بغیراس مفروضہ کے لے لیا کہ آپ نے سلطنت کے ہول سول اختیارات حاصل کر لیے تھے، اس پر مولانا نے اِن مفسرین کے بارے میں جو تبصرہ اپنی تفسیر میں رقم فرمایا ہے، اس پریقین اس کے بغیر آنا مشکل ہے کہ بعینہٖ الفاظ نقل کر دیے جائیں۔مولیٰنا کے الفاظ یہ ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ اس مقام کی تفسیر میں دورِ انحطاط کے مسلمانوں نے کچھ اسی ذہنیت کا اظہار کیا ہے جو کبھی یہودیوں کی خصوصیت تھی۔ یہ یہودیوں کا حال تھا کہ جب وہ ذہنی و اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے توپچھلی تاریخ میں جن جن بزرگوں کی سیرتیں ان کو بلندی پر چڑھنے کا سبق دیتی تھیں، ان سب کو وہ نیچے گراکر اپنے مرتبہ پر اتار لائے تاکہ اپنے لیے اور زیادہ نیچے گرنے کابہانہ پیدا کریں۔۔۔۔‘‘ (تفیہم القرآن، حاشیہ آیت ۵۵) 
پس ٹھیک ہے جماعت کو تو عذر ہو سکتا ہے۔ مگر باقی لوگوں ،خاص کرمجلسِ عمل کی سب سے بڑی اکائی جو جمعیۃ علمائے اسلام سے عبارت ہے،اس کے لیے کو ئی دقت نظر نہیں آتی۔ وہ جن بزرگوں کی دینی تشریح کے ماننے والے ہیں، وہ توایک زمانہ تک صد فی صداسلامی حکومت کے سوا سیاست کا کوئی تصورنہ رکھنے اور اس کی راہ میں ہر بازی کھیلنے والوں میں سے ہونے کے باوجود جس دن اس نتیجہ پر پہنچے کہ فی الحال یا کم پر راضی ہوجانا ورنہ تن بہ تقدیر گوشہ میں بیٹھ جا نا ہے، اسی دن وہ شرحِ صدر کے ساتھ اس پر تیار ہوئے کہ ملک (ہند) میں ایسے نظامِ حکومت کی جد وجہد کریں جس میں اسلامی احکام اگرچہ نافذ نہ ہوں، مگر مسلمانوں کواپنی انفرادی اور معاشرتی زندگی اسلام کے مطابق رکھنے،اسلام کا پیغام پھیلانے اور ان کاموں کے لیے ضروری ادارے قائم کر نے کی آزادی ہو۔اور پھریہ جدو جہد ان کی نگاہ میں ایسا فریضہ ٹھیری کہ گو وہ جانتے تھے مسلم لیگ کے اسلامی حکومت کے نعرہ کے مقابلہ میں وہ جیت نہیں پاویں گے اور بحیثیت علمائے دین کے جو وقار انھیں حاصل رہا ہے، اس کو بھی وہ خطرہ میں ڈالیں گے، ہندو سے پیسے لینے کا ذلیل الزام بھی ان پر لگا، اور ہاں مولانا مودودی کا حکومتِ الٰہیہ کی جد و جہد والا فکر بھی انھیں چیلنج کرنے کو سامنے آچکا تھا، مگران میں سے کسی بات کا خوف اور دباؤ ان کے پاؤں میں لغزش نہیں پیدا کرسکا۔ اورآج حالات ببانگِ دُہل شہادت دے رہے ہیں کہ یہ سوچ بالکل صحیح تھی۔فکرِ مودودی کے جو وارثین بھارت میں رہ گئے تھے، چالیس برس تک اسی فکر کا پرچار کرتے رہنے کے بعد عملاً اس حقیقت سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ وہاں سیاست کی راہ سے اسلام کو غالب کرنے کی جد وجہد محض اُلٹا نتیجہ پیداکرنے والا(Counter Productive) عمل ہے ۔پس پاکستان میں بھی جب حالات کی زبان مسلسل پکار رہی ہے کہ دین کو سیاست میں لانے کے لیے وقت سازگار نہیں توبغیر اسلامی نظام کے نعرے کے سیاست میں حصہ لیجئے اور اس قدر ضرور لیجئے کہ دین مخالف عناصر کوبالکل بے مہار ہونے کا موقع نہ ملے، دینی عناصر سیاسی لحاظ سے بے دست و پا نہ پائے جائیں اور اپنے علاقوں میں خدمتِ خلق کے لیے کسی درجہ کا عمل داخل سیاست کے ایوان میں رہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام اور مصر کے کارو بارِ حکومت میں شرکت کی جو بات اوپرآگئی، اُسے غورسے دیکھا جائے تو وہ بھی بالکل صاف صاف بس ایک آنے والی قدرتی آفت اور خلقِ خداکے بیچ میں کھڑے ہوجانے کا رول تھا جس کا موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو مہیّا کیا جارہا تھا۔اور اس میںیہ راز بھی تھا کہ خدمت کے اس فریضہ کی ادائیگی سے آپ کے لیے اپنے اُس کارِ نبوّت کی وسیع تر انجام دہی کی راہ اس دیارِ کفر میں کھلے گی جس کی ابتدا آپ نے جیل خانہ میں کردی تھی۔ اور پھر بات آگے بڑھ کر بچپن کے خواب ( ’’اِنّی رَأیْتُ الشَّمْسَ والْقمَرَ لی ساجِدِین‘‘) کے حقیقت کے سانچہ میں ڈھل جانے تک پہنچے گی۔ فَصَدَقَ اللہُ العظیم ۔شاہِ مصر کو اپنے ڈراؤنے خواب کی جو دل لگتی تعبیر صرف اپنے یہاں کے قیدی یوسفؑ سے ملی، اس نے اُس کے دل میں آپ کی وہ عظمت و منزلت قائم کی کہ کل تک جو قیدی تھا، اس سے بلا کسی درمیانی مرحلہ کے کہا جاتاہے ’’ اَنّکَ الْیَوْمَ لَدَےْنامَکِینُٗ اَمینُٗ ‘‘ (تم آج سے ہمارے یہاں صاحبِ منزلت اور صاحبِ اعتماد ہو !) تویہ محض تلافئ مافات نہیں تھی، شاہی خواب کے پس منظر میں یہ صاف طورپر بادشاہ کی (بادشاہانہ انداز میں) ایک درخواست بھی تھی کہ آنے والی قحط سالی کے مسئلہ سے نپٹنے کی ذمہ داری تم قبول کرلو !کیا اس پر اللہ کے نبی کو یہ جواب دے کرکہ ہاں ضرور، مگر پہلے گدّی خالی کردو، بادشاہ کے اس نہایت قیمتی اعتماد اور قدر و منزلت کو تباہ کردیناتھا (کہ اچھا ہم توکوئی مردِ خدا رسیدہ سمجھے تھے، پر آپ تو تخت و تاج کی تاک میں نکلے !) یا بے تأمل یہ پیشکش قبول کرتے ہوئے بس اس ذمہ داری کی ضرورت کے مطابق اپنے دائرۂ اختیار کی بات کرنا تھی؟ 
لاریب کہ اللہ کے نبی(علیہ الصلاۃ والسلام) کو یہ دوسری بات ہی زیبا تھی اور اسی مفہوم میں اس کو کہناتھا کہ: اِجْعَلْنی عَلیٰ خَزائِنِ الْاَرْضِ اِنِّی حَفیْظُٗ عَلیمُٗ! ہر گز ہر گز بادشاہ کا کفر اس سے مانع نہیں تھا کہ خلق خداکی ایک غیر معمولی آزمائش کو اپنی اہلیت کے بقدر ہلکا کرنے کا جو موقع اس سلطنت میں اس اعزاز و اعتماد کے ساتھ مل رہا ہے، اسے قبول کریں۔ مگر ہاں، مولانا مودودی کی مجبوری ان کا وہ فہمِ دین تھا جس کی ترجمان ان کی کتاب’’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ ہے۔ اس فہم کی رو سے واقعی حضرت یوسفؑ کو پہلے اسلامی نظامِ حکومت کااختیار مانگنا تھا، پھر چاہے خدمت کا موقع رہتا نہ رہتا۔

آلودگی، دین فطرت اور ہم

پروفیسر شیخ عبد الرشید

آج کا دور آلودگی کا دور ہے۔ اس آلودگی کی تباہ کاریوں سے دنیا کو روشناس ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ پھر بھی جگہ جگہ اور بار بار یہ کہاجارہاہے کہ حضرت انسان کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کیے جانے والے نت نئے تجربات کے باعث زمین کی فضا اس قدر زہریلی اور خطرناک ہورہی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہاتو جلد ہی فضا اس قدر مکدر ہوجائے گی کہ کرہ ارض پر حیاتیاتی زندگی کا امکان باقی نہ رہے گا۔ بعض سائنس دان تو اس حد تک مایوس ہوچکے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ کرہ ارض پر زندگی چند برس کی مہمان ہے۔ زندگی کی مختلف جہتوں میں آلودگی کا زہر جس طرح سرایت کرگیا ہے، اس کے پیش نظر کئی ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ اتنا آلودہ فضا اور کثیف حالات میں انسان کا زندہ رہ جانا ہی ایک معجزہ ہے، تاہم وہ اس معجزے کے باوجود مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ چنانچہ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انسان کو مکمل تباہی سے کیسے باز رکھا جائے؟ بظاہر یہ بڑا سیدھا سا سوال ہے لیکن اگر اس سوال کو محض تکنیکی یا سائنسی سمجھا جائے تو یہ ایک ایسی غلطی ہوگی جس کے نتائج کا تحمل شاید نہ کیا جا سکے۔ سب سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آلودگی پیدا کرنے والا انسان کس قسم کی حیاتیاتی، طبیعیاتی ،نفسیاتی اور جذباتی حالت میں ہے اور کیا آج کے انسان پر بھروسہ کیا جاسکتاہے کہ وہ زمین کو اس ممکنہ عذاب سے بچالے جو خود اسی کے ہاتھوں ظہور میں آنے ہے؟ 
تہذیب انسانی کے ہر دور میں جن باتوں کو تبدیلی کے طور پر محسوس کیاجاتاہے، ابتدا میں اکثر انہیں ترقی سمجھاجاتاہے، لیکن بعد میں انہیں مراجعت تصور کیاجاتاہے۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آجاتاہے کہ مبالغہ آمیزی شروع ہوجاتی ہے۔ آج سے پانچ چھ دہائیاں قبل نیوکلیر پاور کا پہلی بار تذکرہ ہوا تو یہ خیال کیا جانے لگا کہ اس ایجاد کی بدولت بجلی کی کوئی کمی نہیں رہے گی۔ بعض مغربی ممالک نے تو اس کے ذریعے سے پانی کو منجمد کرکے اسے افریقہ کے صحرائے اعظم تک پہنچانے کے دعوے شروع کردیے تھے۔ یہ پہلی منزل تھی، جسے ترقی کا نام دیا گیا، لیکن جب نیوکلیر پاور پلانٹ لگائے گئے تو پتہ چلا کہ انہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے پانی کی بہت بڑی مقدار درکار ہوگی اور جب یہی گرم پانی خارج ہوگا تو وہ اس قدر زہر آلود ہوچکا ہوگا کہ پانی میں رہنے والی ہر جاندارشے تباہ ہوجائے گی۔ یہ دوسری یعنی مراجعت کی منزل تھی۔ چنانچہ اس کے پیش نظر کئی ناقدین ومخالفین نے یہ مطالبہ کرنا شروع کردیا کہ نیو کلیر پاور کے ذریعے سے بجلی پیدا کرنے کاسلسلہ ختم کردیا جائے۔ یہ تیسری منزل یعنی رد عمل کی انتہا تھی، ضرورت اس امر کی تھی کہ پانی کو ٹھنڈا کرنے کا کوئی نعم البدل تلاش کر کے نیوکلیر ری ایکٹر سے جو فائدہ ہوسکتاہے، اسے تو حاصل کیاجائے مگر اس کی وجہ سے جو آلودگی پیدا ہوتی ہے، اس سے بچاجاسکے۔
اسی مسئلے کو ایک اور تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ عصر حاضر میں اگر ایک طرف علم اور سائنس عروج پر ہے تو دوسری طرف مذہبی، روحانی اوراخلاقی اقدار زوال پزیر ہیں۔ اس اخلاقی وروحانی انحطاط نے آج کے انسان کو نفسیاتی مریض بنادیاہے۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہوا کہ مادی ترقی کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگتے ہوئے انسان کے ذوق جمالیات میں تیزی سے کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔ درحقیقت انسان کی جمالیاتی حس کی کمزوری ہی ذہنی، باطنی، فضائی اور ماحولیاتی بلکہ تمام اقسام کی آلودگیوں کا کلیدی سبب ہے۔ لہٰذا اگر ہم حقیقی معنوں میں کرہ ارض کو بچانے کے خواہش مند اور آلودگی کے خاتمے کے آرزو مند ہیں تو ہمیں انسانی روح کے اس روز بروز بڑھتے ہوئے سرطان کا علاج کرنا ہوگا جس نے ہمارے دلوں سے فطرت کے حسن وجمال کی قدر وقیمت اور احترام کو ختم کر دیاہے، کیونکہ محض سائنسی معلومات اور مادی وسائل کے سہارے تسکین قلب کا حصول ممکن نہیں۔ مشہور انگریز شاعر لارڈ ٹینی سن نے اپنی ایک نظم میں کیا خوب بات کہی تھی: 
Let knowledge flow from more to more
But more of reverence in us dwell 
یعنی علم میں جتنابھی اضافہ ہوتاجائے، وہ تو اچھاہے لیکن اس سے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں احترام کا جذبہ جاگزیں ہو۔ بلاشبہ ہمارے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ممکنہ تباہی اورہولناکیوں سے محفوظ رہنے کے لیے آج کے انسان میں جمالیاتی حسن کو بیدار کرکے فطرت کے احترام کا جذبہ پیدا کریں۔ دنیا جب سے قائم ہے، دانش مندوں، مفکروں، فلسفیوں، علما، حکما اور پیغمبروں نے فطرت کے حسن وصداقت اور فضیلت کے اعتراف واحترام کے ذریعے سے ہی روح کے سرطان اورذوق جمالیات کے فقدان کا علاج کیاہے۔
لاریب! فطرت کی رنگینی حسن کامل کے جن اصولوں پر کار فرمارہتی ہے، ان کے بارے میں فکر وتدبر سے کام لیا جائے توہمارا دل دائمی احساس احترام پر مجبور ہوجاتاہے۔ صاحب بصیرت وبصارت جانتے ہیں کہ یہ کائنات جو بظاہر مادی دکھائی دیتی ہے، عملی اعتبارسے روحانی ہے۔ یہ درخشاں آسمان، زرخیز زمین، پہاڑوں کے تکیے، مہکتے ہوئے پھولوں کی گل کاریاں، شگفتہ غنچوں کی کیاریاں، بدلتے ہوئے موسم ومناظر، لہراتی ہوئی ندیاں،بل کھاتے دریا، اور شور مچاتی آبشاریں محض مفید ہی نہیں، ان کی خوبصورتی اور حسن ہمیں سرشار بھی کرتاہے۔ اسی لیے تو جان کیٹس کو کہنا پڑا کہ خوبصورت چیز دائمی مسرت کاباعث ہوتی ہے۔ فطرت کا حسن جہاں دل کو سکون اور راحت بخشتاہے، وہاں قلب ونظر کو تمام آلودگیوں اور گردوغبار سے بھی پاک کرتاہے۔ ممتاز قلمکار وکٹر ہیو گو نے اپنے عظیم شاہکار Les Miserablesمیں ایک پادری کاتذکرہ کیاہے جو اپنے علاقے کادورہ کرتے کرتے ایک ایسے مکان پر پہنچ گیا جو ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا اور وہاں سے ایک وادی نظر آتی تھی۔ جس شخص کا یہ مکان تھا، اس کے بارے میں گاؤں والوں نے پادری سے شکایت کی کہ یہ شخص اتنا غیر دیندار ہے کہ اتوار کے روز بھی گرجا گھر نہیں جاتا۔ چنانچہ پادری نے موقع پا کر اپنے میزبان سے اس سلسلے میں گفتگو کی اور پوچھا کہ تم آخر اتوار کے دن عبادت میں کیوں شریک نہیں ہوتے۔ اس پر اس شخص نے پشیمانی کا ا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’جناب! ہر رو زصبح کو جب میں اٹھتاہوں اور اپنے کی چھت سے سورج کو نکلتے دیکھتاہوں تو میرے دل سے بے ساختہ ایک آہ نکل جاتی ہے اور میں چپ چاپ کافی دیر تک قدرت کا یہ کرشمہ دیکھتا رہتا ہوں۔ ‘‘ یہ سن نے پادری نے اس شخص کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا اور بولا، میرے دوست جتنی بکواس میں کرتا رہتا ہوں، اس کے بجائے کاش میں بھی اس طرح خدا کی پرستش کرسکتا، جس جذبہ احترام کے ساتھ تم طلوع آفتاب کے منظر کو دیکھتے ہو۔‘‘ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے مجھے عالمی شہرت یافتہ شاعر فطرت ورڈز ورتھ کے یہ خوبصورت خیالات یاد آرہے ہیں :
"Nature never did betray 
The heart that loved her; 'tis her privilege,
Through all the years of this our life, to lead
From joy to joy; for she can so inform
The mind that is within us, so impress
With quietness and beauty, and so feed
With lofty thoughts, that neither evil tongues,
Rash judgements, nor the sneers of selfish men,
Nor dreary intercourse of daily life
Shall ever prevail against us, or disturb
Our cheerful faith, that all which we behold
Is full of blessing."
’’فطرت نے کبھی اس دل سے بے وفائی نہیں کی جس نے اس سے محبت کی۔ صرف فطرت ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہمیں زندگی بھر مسرتوں سے ہمکنار کرتی رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمارے دل ودماغ کو اس طرح سکون اور خوبصورتی سے متاثر کردیتی ہے اور ہمارے خیالات کو اتنا بلند کردیتی ہے کہ پھر کوئی بات بھی ہمارے اس عقیدے کو متزلزل نہیں کرپاتی کہ ہمارے گرد وپیش جوکچھ بھی دکھائی دیتاہے، ا س میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ پھر نہ تو لوگوں کی بدزبانی دل پر اثر کر پاتی ہے اور نہ خود غرض لوگوں کی طنز وحقارت۔ پھر زندگی کی بے کیفی بھی دل کو مغموم نہیں کر پاتی۔‘‘
صرف مغربی ادب ہی نہیں، خود ہماری مقدس آفاقی کتاب قرآن مجید میں غور کرنے والوں کے لیے چالیس ابواب میں فطرت اور حسن فطرت کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سورۃ رحمن میں تو دریاؤں ،سمندروں ،پہاڑوں، ریگستانوں کی جانب اور ان سب چیزوں کے درمیان جو کچھ ہے، ان کی جانب اشارہ کیا گیاہے۔ ان چیزوں کودیکھتے ہوئے انسان ۲۳ مرتبہ ’’فبایّ الآء ربکما تکذبٰن‘‘ پکار اٹھتاہے۔ سنسکرت کی ایک کہاوت ہے ’’پنڈے سو برہمن ڈے‘‘ جس کا مطلب ہے کہ جو کچھ کائنات میں ہے، وہی تمھارے جسم میں ہے۔ اسی لیے تو ہمیں بار بار یہ بتایا جاتاہے اور بالکل صحیح بتایا جاتاہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور ہاں،اگر اسلام دین فطرت ہے تو پھر احترام فطرت عین اسلام ہے۔ یہ بات ہم تمام بنی نوع انسان کو نہ سہی، صرف امت مسلمہ کو ہی باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں تو یقین جانیے کہ ہرقسم کی آلودگی میں بے حد کمی واقع ہوجائے۔ جس دین کے پیغمبر اعظمﷺ نے صفائی کونصف ایمان قرار دیاہو، اس کے پیروکاروں کا جسم ،گھر، گلیاں اور محلہ غلیظ کیوں کرہوسکتاہے؟ اگر اسلام دین فطرت ہے تو پھر کیا دھویں او رغلاظت سے فضا اور پہاڑوں، ندیوں، نالوں اور حسن فطرت کو نقصان پہنچانے والے سچے مسلمان ہوسکتے ہیں؟ ہر مسلمان کے دل میں احترام فطرت کاجذبہ جاگزیں ہونا لازم ہے۔ ہمیں اپنی تعلیم وتبلیغ میں اسلام کے اس خوبصورت پہلو کاتذکرہ خوب کرناہوگا۔ ہم سب کا فرض ہے کہ یہ جذبہ پید ا کرکے ایمان کومضبوط بنائیں اور آلودگی کا خاتمہ کریں، کیونکہ دھیرے دھیرے ہمارے جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی طرح آلودگی ہمارے ماحول کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ یہ لکڑی میں دیمک کی طرح ہمار ے ماحول کو کھوکھلا کررہی ہے۔ اسے روکنا، اس کے خلاف جہاد کرنا ہم سب کا سماجی ودینی فریضہ ہے اور اگر ہم خدانخواستہ اسے روکنے میں ناکام رہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب اس کرہ ارض پر آلودگی تو ہوگی، مگر انسان نہیں ہوگا۔

مسئلہ طلاق ثلاثہ اور فقہائے امت

مولانا افتخار تبسم نعمانی

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک دفعہ تین طلاقیں دے دے تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ اس مسئلے میں علماے اہل سنت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے۔ جمہور علما کے نزدیک یہ فعل (بیک وقت تین طلاق دینا) حرام ہے، تاہم اگر کسی نے ایسا کیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس فقہا اور محدثین کی ایک قابل لحاظ تعداد اس کی قائل ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہو گی ۔ تمام اہل علم ہمیشہ سے اس مسئلے کو ایک اختلافی مسئلے کے طور پر نقل کرتے آئے ہیں اور کسی نے اس پر اجماع کا یا اس میں اختلاف کی گنجایش نہ ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اکابر اہل علم کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں:
امام طحاوی حنفیؒ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فذہب قوم الی ان الرجل اذا طلّق امراتہ ثلاثا معا فقد وقعت علیھا واحدۃ اذا کانت فی وقت سنّتہ وذلک ان تکون طاہرا فی غیر جماع واحتجّوا فی ذالک بھذا الحدیث (شرح معانی الاثار ج ۲ ص۳۵)
’’ ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ مرد جب اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی جبکہ وقت سنت میں یعنی اس وقت دی گئی ہو کہ عورت پاک ہو اور اس سے ہم بستری نہ کی گئی ہو اور دلیل ان کی یہی حدیث ہے۔‘‘
امام صاحب کی مراد صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عہد رسالت مآب ﷺ، عہد صدیقیؓ اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔
امام عینی حنفیؒ لکھتے ہیں :
وفیہ اختلاف فذھب طاوس و محمد بن اسحاق والحجاّج بن ارطاۃ والنخعی وابن مقاتل والظاہریۃ الی ان الرجل اذا طلق امراتہ ثلاثا معا فقد وقعت علیھا واحدۃ ،واحتجّوا بحدیث ابی الصہباء۔ (عمدۃ القاری ج ۲۰ ،ص ۲۳۳ طبع جدیدمصر) 
’’اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ امام طاوس ،محمد بن اسحاق، حجاج بن ارطاۃ، نخعی، محمد بن مقاتل اور ظاہریہ اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی شمار ہوں گی اور نہو ں نے مسلم شریف کی حدیث ابی الصہباء ؒ سے استدلال کیاہے۔‘‘
امام نووی شافعی ؒ لکھتے ہیں :
قد اختلف العلماء فیمن قال لامراتہ انتِ طالق ثلاثا ..... وقال طاؤس وبعض اہل الظاہر لا یقع بذلک الاّ واحدۃ وھو روایۃ عن الحجاّج بن ارطاۃ ومحمد بن اسحاق۔ (شرح صحیح مسلم ، ج ۱۰، ص ۷۰)
’’ اس میں اختلاف ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے کاکیا حکم ہے ..... اور امام طاوس (تابعی) اور بعض اہل ظاہر اس کے قائل ہیں کہ اس طرح ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اور یہی حجاج بن ارطاۃ ؒ اور محمد بن اسحاق بن یسار المدنیؒ سے مروی ہے‘‘۔
امام رازی شافعیؒ لکھتے ہیں:
ثم القائلون بھذا القول اختلفوا علی قولین، الاوّل وھو اختیارکثیر من علماء الدین انہ لو طلقہا اثنین او ثلاثا لا یقع الاّ الواحدۃ وھذا القول ھو الاقیس لان النھی یدل علی اشتمال المنھی عنہ علی مفسدۃ راجحۃ والقول بالوقوع سعی فی ادخال تلک المفسدۃ فی الوجود وانہ غیر جائز فوجب ان یحکم بعدم الوقوع (تفسیر کبیر، ج ۶ ،ص ۱۰۳،طبع جدید)
’’پھر اس قول کے قائلین میں اختلاف ہو گیا اور ان کے دو قول ہیں۔ ایک قول جو بہت سے علماے دین کا اختیار کردہ ہے، یہ ہے کہ اگر اس نے بیک وقت دو یا تین طلاقیں دیں تو صرف ایک واقع ہوگی۔اور یہی قول قیاس کے زیادہ موافق ہے کیونکہ کسی چیز کی ممانعت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ممنوع چیز میں فساد اور خرابی کا پہلو غالب ہے، جبکہ تین طلاقوں کو واقع مان لینے سے اس مفسدہ اور خرابی کو وجود میں لانے کی کوشش ہے جو جائز نہیں، لہٰذا عدم وقوع (یعنی بیک وقت تین طلاقوں کے نہ ہونے)کا حکم لگانا واجب اور ضروری ہے۔‘‘
امام فخرالدین رازی ؒ کے اس بیان سے دو باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ مسلک زیادہ قرین قیاس ہے ۔دوسرے یہ کہ یہ مسلک شاذ مسلک نہیں بلکہ بہت سے علماے دین کا اختیار کردہ ہے۔
قاضی ابو الولیدابن رشد مالکی اندلسی ؒ لکھتے ہیں:
جمہور فقہاء الامصار علی ان الطلاق بلفظ الثلاث حکمہ حکم الطلقۃ الثالثۃ وقال اہل الظاہر وجماعۃ حکمہ حکم الواحدۃ ولا تاثیر للفظ فی ذالک (بدایۃ المجتہد ج ۲،ص،۶۱)
’’ جمہور فقہاے امصارکا کہنا یہ ہے کہ تین کے لفظ سے جو طلاق دی جائے گی، اس کا حکم تیسری طلاق کاہے، جبکہ اہل ظاہر اورایک جماعت کاقول ہے کہ اس کا حکم ایک طلاق کا حکم ہے اور تین کا لفظ یہاں غیر موثر ہے۔‘‘
اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں : 
کانّ الجمہور غلبوا حکم التغلیظ فی الطلاق سدّا للذریعۃ ولکن تبطل بذلک الرّخصۃ الشرعیّہ والرفق المقصود۔
’’ جمہور نے اس صورت میں گویا سدّ ذریعہ کے طور پر سختی کے پہلو کا زیادہ لحاظ رکھا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سے وہ شرعی رخصت اور سہولت اور نرمی فوت ہو جاتی ہے جو کہ مطلوب ہے۔‘‘
یعنی بیک وقت تین طلاقوں کو تین شمار کرلینے سے وہ رخصت وسہولت ختم ہو جاتی ہے جو متعدد ومتفرق مواقع پر دینے میں ہے۔ اس سے قاضی ابن رشد ؒ کااپنا رحجان بھی معلوم ہوتاہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کا حکم ایک ہی طلاق کاہونا چاہیے تاکہ شرعی رخصت وسہولت باطل نہ ہو۔
امام قرطبیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں آیت کریمہ ’الطلاق مرّتن‘ کے تحت لکھتے ہیں:
ذکر احمد بن محمد بن مغیث الطلیطلیّ ھذہ المسئلۃ فی وثائقہ ثم اختلف اھل العلم بعد اجماعھم علی انہ مطّلِق کم یلزمہ من الطلاق، فقال علی بن ابی طالب وابن مسعودؓ یلزمہ طلقۃ واحدۃ وقالہ ابن عباؓس،... و قال الزؓبیر بن العوامّ وعبد الرحمن بن عوفؓ وروینا ذلک کلہ عن ابن وضاّح وبہ قال من شیوخ قر طبۃ ابن زنباع شیخ ھدی ومحمد بن تقی بن مخلد ومحمد بن عبد السلام الحسنی فرید وقتہ وفقیہ عصرہ واصبغ بن الحباب وجماعۃ سواھم (الجامع لاحکام القرآن، ج ۳،ص۱۲۹،۱۳۲ طبع مصر)
’’اور امام احمد بن محمد بن مغیث طلیطلی اندلسی نے یہ مسئلہ کتاب الوثائق میں ذکر کیا ہے۔ .... پھر اہل علم اس بات پر اجماع کے بعد کہ طلاق بدعت واقع ہو جائے گی، اس میں مختلف الرائے ہوئے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوں گی ۔تو حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک طلاق کو واقع مانتے ہیں اوریہی بات حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے ارشاد فرمائی ہے اور یہی رائے حضرت زبیر بن عوّام اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کی ہے۔ یہ سب باتیں ہم نے امام محمد بن وضاّح سے نقل کی ہیں، اور یہی موقف شیوخ قرطبہ میں سے ابن زنباع شیخ ہدی، محمد بن تقی بن مخلد اور یگانہ روزگار وفقیہ دوراں محمد بن عبد السلام الحسنی اور اصبغ بن حباب اور ان کے علاوہ ایک جماعت کاہے۔‘‘ 
مشہور مفسر اور نحوی امام ابو حیاّن ’الطلاق مرّتن‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد دو الگ الگ اور متفرق اوقات میں طلاق دینا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ ’الطلاق مرّتن‘ سے میرے دل میں ہمیشہ یہی بات آتی ہے کہ طلاق دینے والا مرد اگر ایک مجلس اور ایک وقت میں دو یا تین طلاقیں دے تو ایک ہی طلاق واقع ہونی چاہیے۔ (البحر المحیط، ص۱۹۲، ج ۲)
امام نظام الدین ؒ نیشاپوری اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :
ثم من ھولاءِ من قال لو طلقہا ثنتین او ثلاثا لایقع الاّ واحدۃ وھذا ھو الاقیس واختارہ کثیر من علماء اھل البیت لان النھی یدل علی اشتمال المنھی عنہ علی مفسدۃ راجحۃ والقول بالوقوع سعی فی ادخال تلک المفسدۃ فی الوجود ( تفسیر نیشابوری علیٰ ہامش ابن جریر ص۳۶۱ ج ۲)
’’پھر ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے کہا کہ بیک وقت دو یا تین طلاقیں دینے کی صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی اوریہی قول قیاس کے سب سے زیادہ موافق ہے اور اسے کثیر علماے اہل بیت نے اختیار کیا ہے کیونکہ کسی چیز سے منع کرنا اس پر دلالت کرتاہے کہ وہ چیز کسی بڑے مفسدے اور خرابی پر مشتمل ہے اور بیک وقت تین طلاقوں کو تین شمار کرلینا اس مفسدے اور خرابی کو وجود میں لانے کاسبب ہے۔‘‘
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ حنبلی لکھتے ہیں :
وقد ثبت فی الصحیح عن ابن عباسؓ عنھما قال کان الطلاق علی عہد رسول اللہ ﷺ وابی بکرؓ وصدرا من خلافۃ عمرؓ طلاق الثلاث واحدۃ وثبت ایضا فی مسند احمد انّ رکانۃ بن عبد یزید طلق امراتہ ثلاثا فی مجلس واحد فقال النبی ﷺ ھی واحدۃ ولم یثبت عن النبی ﷺ خلاف ھذہ السنۃ بل ما یخالفھا اماّ انہ ضعیف بل مرجوح واما انہ صحیح لا یدل علی خلاف ذلک کما قد بسط ذلک فی موضعہ ٖ واللہ اعلم۔ (فتاویٰ ج ۲ ص ۸۶) 
’’مسلم شریف کی صحیح حدیث میں حضرت ابن عباسؓ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہد میں اور خلافت عمرؓ کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک ہی سمجھی جاتی تھیں۔ اور مسند احمد کی روایت سے ثابت ہے کہ حضرت رکانہ بن عبد یزیدؓ نے اپنی بیوی کو مجلس واحد میں تین طلاقیں دیں لیکن نبی ﷺنے فرمایا کہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ نبی ﷺ سے اس سنت کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہے۔اس کے خلاف جو کچھ مروی ہے، وہ یاتو ضعیف بلکہ مرجوح ہے، اور یا صحیح ہے لیکن اس سے اس کے خلاف بات ثابت نہیں ہوتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاچکا ہے۔ واللہ اعلم۔‘‘
امام حافظ ابن قیّم حنبلی نے اپنی کتب اِغاثۃ اللہفان، زاد المعاد اور اعلام الموقعین میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر بہت مفصّل، جامع اور مدلّل گفتگو کی ہے۔ چنانچہ اجماع صحابہؓ کی نسبت حافظ ابن القیم ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ، حضرت علی بن ابی طالبؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے متعلق دونوں طرح کی روایات ہیں۔ بعض میں ہے کہ وہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتویٰ دیتے تھے اور بعض روایات میں اس کے برعکس یہ ہے کہ وہ طلاق مغلظ ہونے کا فتویٰ دیتے تھے، لیکن حضرت زبییر بن عواّم، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ،عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ، طاؤس، محمد بن اسحاق، فلاس بن عمرو، حارث عکلی،داؤد بن علی اور ان کے اکثر اصحاب ،بعض اصحاب مالک ،بعض اصحاب حنفیہ اور ،بعض اصحاب احمد بن حنبل ان سب کافیصلہ یہ تھا کہ طلاق ثلاثہ کاحکم ایک طلاق کاہے۔ (اعلام الموقعین ج ۲،ص۱۴تا۳۲ )
اغاثۃ اللہفان میں لکھتے ہیں : امام ابو حنیفہؒ سے اس مسئلے میں دوروایتیں منقول ہیں۔ ایک تووہی جو مشہور ہے۔ دوسری یہ کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق ہوتی ہیں، جیسا کہ امام محمد بن الحسن الشیبانی ( ۱۳۲ھ۔۱۸۹ھ)کے تلمیذ رشید امام محمد بن مقاتل الرازی الحنفیؒ نے امام ابو حنیفہؒ سے نقل کیا ہے۔ (ص۱۵۷، طبع مصر)
امام مازری ؒ نے بھی اپنی کتاب ’’المعلم‘‘ میں محمد بن مقاتل حنفی ؒ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ طلاق ثلاثہ جو ایک ساتھ ہوں، وہ ایک رجعی طلاق کے حکم میں ہیں او ر امام ابو حنیفہؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کابھی ایک قول یہی ہے۔ 
امام حافظ ابن حجر صحیح بخاری کے ’’باب من جوزّالطلاق الثلاث‘‘ (جس نے تین طلاق کو جائز قرار دیا) کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
وفی الترجمۃ اشارۃ الی انّ من السلف من لم یجز وقوع الطلاق الثلاث۔ (فتح الباری ج ۹ ص۲۸۹) 
’’اس عنوان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سلف میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تین طلاق کے وقوع کو جائز قرار نہیں دیتے۔‘‘ 
اس رائے پر اعتراض نقل کر کے اس کے جواب میں فرماتے ہیں:
الرابع انہ مذہب شاذ فلا یعمُل بہ واجیب بانہّ نقل عن علیِِِّ وابن مسعودؓ وعبد اللہ بن عوفؓ والزبیرؓ مثلہ نقل عنہ ذلک ابن مغیث فی کتاب الوثائق لہ وعزاہ لمحّمد بن وضاّح ونقل الغنوّی ذلک عن مشائخِ قرطبۃ کمحمد بن تقی بن مخلد ومحمد بن عبد السلام الحسینی ؒ وغیرھما ونقلہ ابن المنذرعن اصحاب ابن عباسؓ کعطاء وطاوس وعمر وبن دینارِِ ویتعّجب من ابن التیّن حیث جزم باّن لزوم الثلاث لا اختلاف فیہ و انما الاختلاف فی التحریم مع ثبوت الاختلاف کما تریٰ (فتح الباری،جلد،۹،ص۲۹۰) 
’’چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق کے ایک ہونے کی بات شاذ مسلک ہے، اس لیے اس پر عمل نہ ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رائے حضرت علی،ؓ ابن مسعودؓ ،حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ اور حضرت زبیرؓ سے منقول ہے ۔اسے ابن مغیث نے اپنی کتاب الوثائق میں نقل کی ہے اور اسے امام محمد بن وضاّح کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور غنوی نے اس مسلک کو قرطبہ کے مشائخ کے ایک گروہ مثلاً محمد بن تقی بن مخلد اور محمد بن عبد السلام الحسینیؒ وغیرہ سے نقل کیا ہے۔اورابن المنذر نے اسے حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ عنہما کے اصحاب مثلاً عطا، طاؤس ،اور عمرو بن دینار سے نقل کیاہے۔ اور ابن التین پر حیرت ہے کہ انہوں نے اس یقین کااظہارکیا کہ تین طلاق کے لازم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ اختلاف صرف اس کے حرام ہونے میں ہے، حالانکہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، تین طلاق کے لازم ہونے یا نہ ہونے میں بھی اختلاف ثابت ہے ‘‘۔
محدث شہیر امام شوکانی ؒ نے مذکورہ اہل علم کے علاوہ یہی مسلک جابر بن زید ،ہادی ،قاسم ،باقر،ناصر ،احمد بن عیسیٰ،عبد اللہ بن موسیٰ بن عبد اللہ اور ایک روایت کے مطابق امام زید بن علی بن حسینؓ کا بھی نقل کیا ہے۔ (نیل الاوطار‘ جلد ۶ ص ۲۴۵)
مولانا ابو الحسنات عبد الحی فرنگی محلی تحریر فرماتے ہیں: 
والقول الثانی انہ اذا طلق ثلاثا تقع واحدۃ رجعیۃ وھذا ھو المنقول عن بعض الصحابۃ وبہ قال داود الظاہری واتباعہ وھو احد القولین لمالک ولبعض اصحاب احمد (عمدۃ الرعایہ ج ۲ ص،۷۱ مطبع انوار محمدی لکھنو)
’’( اس مسئلے میں اختلاف ہے) اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب ایک ساتھ تین طلاقیں دی جائیں تو ایک رجعی طلاق ہوگی۔اور یہ رائے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے اور اسی کے قائل امام داؤد ظاہریؒ اور ان کے اتباع ہیں۔ اور ایک قول کے مطابق یہی مذہب امام مالک ؒ اور امام احمد بن محمد بن حنبل ؒ کے بعض اصحاب کاہے۔‘‘
مفتی اعظم قطر علامہ شیخ عبداللہ بن زید آل محمود، شیخ الازہر علامہ شیخ محمود شلتوت مرحوم (الفتاویٰ ص۳۰۶)، علامہ سید رشید رضا مصریؒ (تفسیر ’ المنار‘ ج ۹ ص ۶۸۳ ) اور عہد حاضر کے جلیل القدر عرب عالم اور مفسّر شیخ جمال الدین قاسمی (الاستیناس لتصحیح انکحۃ الناس) طلاق کے مسئلہ پر نہایت مفّصل گفتگو کے بعد یہی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ جو تین طلاقیں بیک دفعہ دی جائیں، ان سے ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوگی۔
سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کافتویٰ حسب ذیل ہے : 
’’اس مسئلہ میں درست بات یہ ہے کہ اگر مرد ایک کلمہ سے اپنی عورت کو تین طلاقیں دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، ،جیساکہ امام مسلم ؒ نے اہل علم کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے، اورکئی دوسروں نے بھی اس بات کو اختیار کیا ہے اور امام محمد بن اسحاق صاحب السیرہ بھی اسی بات کے قائل ہیں اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ اور ان کے شاگرد علامہ ابن القیمّ رحمہ اللہ نے بھی یہی بات اختیار کی ہے۔‘‘ 
علماے دیوبند میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ ، مولانا محمد محفوظ الرحمن قاسمی اور مولانا عمر احمد تھانویؒ بھی طلقات ثلاث بیک مجلس کو ایک طلاق رجعی قرار دیتے ہیں۔ علماے بریلی میں سے جسٹس پیر کرم شاہ ازہری رحمہ اللہ بھی علماے مصر اور علماے جامع ازہر کے فتویٰ کے مطابق عمل کرنے کو ارجح قرار دیتے ہیں۔
ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا موقف اہل علم کی ایک بڑی تعداد نے اختیار کیا ہے۔ اصول فتویٰ کی رو سے اگر کوئی رائے ائمہ اربعہ نے اختیار نہ کی ہو لیکن وہ ضرورت اور مصلحت کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہو تو اس پر فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔ بحر العلوم عبد العلی حنفیؒ ’التحریر‘ لابن الہمام ؒ کی شرح میں فرماتے ہیں :
واما المجتہدون الذین اتبعوھم باحسان فکلھم سواء فی صلاحھم فان وصل فتویٰ سفیان بن عیینہ ؒ او مالک بن دینار یجوز الاخذ بہ کما یجوز الاخذ بفتویٰ الائمۃ الاربعۃ الاّ انہ لم یبق عن الائمۃ الاخرین نقل صحیح الا اقلّ القلیل ولذا منع من التقلید ایاّھم فان وجد نقل صحیح منھم فی مسئلۃ فالعمل بہ والعمل بفتویٰ الائمۃ الاربعۃ سواء ۔
’’وہ مجتہدین جو صحابہ کرام کے اچھے پیرو ہیں، وہ سب کے سب صلاحیتِ تقلید میں برابر ہیں (یعنی ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کی تخصیص نہیں) اگر سفیان بن عیینہ ؒ یامالک بن دینار ؒ کا فتویٰ مل جائے تو اس پر بھی اسی طرح عمل کیا جا سکتاہے جس طرح کہ ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا جائز ہے۔اتنی بات ضرور ہے کہ ائمہ اربعہ کے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال نقل صحیح کے ساتھ کم تر ہی مہیاہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے ان کی تقلید سے روکا ہے، تاہم اگر کسی مسئلے میں نقل صحیح کے ساتھ ان کی رائے مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور ائمہ اربعہ کے فتوے پر عمل کرنا دونوں برابر ہیں۔‘‘ 
فواتح الرحموت شرح مسّلم الثبوت میں بھی بحر العلوم ؒ نے یہی بات تحریر کی ہے۔ (ص ۶۳۰،طبع نول کشور ۱۸۷۸ء ) 
شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں امام محمد رحمہ اللہ کی امالی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی فقیہ کو طلاق بتہ دے دے اور اس کے نزدیک طلاق بتہ سے مراد طلاق ثلاثہ ہو، لیکن کوئی قاضی یہ فیصلہ کر دے کہ طلاق رجعی ہوئی ہے تو طلاق دینے والے فقیہ کے لیے جائز ہے کہ اپنے مسلک کے برخلاف قاضی کے فتوے پر عمل کرے اور اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ (ج ۱، ص ۳۹۰)
مولانا عبد الحی فرنگی محلیّ (م ۱۳۰۴ھ) نے اسی اصول پر حسب ذیل فتویٰ دیا ہے: 
’’ اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاقیں ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح درست نہ ہوگا مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کاہو تو کسی اور امام کی تقلید کرے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوج مفقود اورعدّت ممتدّۃ الطہرُ موجود ہے کہ حنفیہ عندالضرورۃ قول امام مالک ؒ پر عمل کرلینے کو درست رکھتے ہیں، چنانچہ ’’ردّ المحتار ‘‘ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔‘‘  (مجموعہ فتاویٰ ص ۳۴۷)
مفتی حبیب المرسلین ؒ ( دارالافتاء مدرسۃ امینیہ دہلی) فتویٰ دیتے ہیں:
’’ بوجہ شدید ضرورت اورخوف مفاسد اگر طلاق دینے والا ان بعض علما کے قول پر عمل کرے گا جن کے نزدیک اس واقعہ مرقومہ میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے تو وہ خارج از مذہب حنفی نہ ہوگا، کیونکہ فقہاے حنفیہ نے بوجہ شدّت ضرورت کے دوسرے امام کے قول پر عمل کر نے کو جائز لکھاہے۔‘‘ (بحوالہ الجواہر العالیہ، الاعظمی مدظلہ)

غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم

مفتی نایف بن احمد الحمد

سوال

 گزشتہ ہفتے میں نے اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دی تھی اور یہ ہماری شادی کے بعد کی تیسری طلاق تھی۔ چند روز کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے والے کے بارے میں علماے کرام نے بتایا ہے کہ ایسا شخص غصے کی شدت کے لحاظ سے تین قسم کے حالات سے ہو سکتا ہے:
۱۔ غصے کی ایسی حالت جس میں طلاق دینے والا وقتی طور پر آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور یہ احساس کھو بیٹھتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں دی جانے والی طلاق نافذ نہیں ہوتی۔ 
۲۔ غصے کی ایسی حالت جو اول الذکر سے کم ہو لیکن بہت ہی شدید غصے کی حالت ہو، اس کیفیت میں دی جانے والی طلاق کی بابت علماے کرام اور ائمہ عظام اختلاف کرتے ہیں کہ آیا یہ طلاق نافذ ہوگی یا نہیں ۔ جن ائمہ کرام نے اس طلاق کے نافذ نہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے، ان میں ہمارے ملک کے مفتی اعظم ابن باز، دوسرے بزرگ عالم ابن عثیمین اور سلف میں سے حافظ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ شامل ہیں۔
۳۔ مذکورہ بالا دو کیفیات سے کم درجے کا غصہ۔ اس حالت میں تمام علماے کرام کے نزدیک طلاق نافذ ہو جائے گی۔
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دو برس پہلے جب میں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق دی تھی تو میری کیفیت دوسری قسم کے غصہ کی حالت تھی اور اس وقت مجھے طلاق کے مفصل احکام کا علم نہیں تھا اور میں نے پہلی طلاق کو ایک طلاق شمار کیا تھا۔ کیا اب جبکہ مجھے اس بابت معلوم ہو گیا ہے کہ حالت دوم میں بعض علماے کرام طلاق کو نافذ نہیں مانتے تو میرے لیے یہ باور کرنا جائز ہے کہ دو برس پہلے جو میں نے پہلی طلاق دی تھی، وہ نافذ نہیں ہوئی؟ طلاق دیتے ہوئے میں نے اس فرق کو بہرحال ملحوظ خاطر رکھا تھا جسے علماے کرام طلاق شرعی اور طلاق بدعی کہتے ہیں، اور میں نے دو یا تین طلاقیں سنت طریقے کے مطابق دی تھیں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لوں مگر حلال طریقے سے اور سنت نبوی کی رو سے۔ تو کیا ایسا کرنا ازروئے شریعت میرے لیے جائز ہے؟

جواب

الحمد للہ وحدہ وبعد۔
غصے کی تین کیفیات علماے کرام نے بیان کی ہیں: (۱) ایسا غصہ جس میں انسان اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس حالت میں تمام علماے کرام کے نزدیک طلاق نافذ نہیں ہوتی۔ (۲) ایسا غصہ جس میں طلاق دینے والا شخص اپنے ہوش وحواس میں ہوتا ہے اور جو الفاظ وہ ادا کرتا ہے، وہ بھی اور اس کے نتیجے سے بھی آگاہ ہوتا ہے، اگرچہ وہ غصے میں ہی ہوتا ہے تو ایسی طلاق بالاتفاق نافذ ہو جاتی ہے۔ (۳) غصے کی تیسری حالت ایک ایسی حالت ہے کہ اس میں طلاق دینے والا اگرچہ مکمل طور پر اپنے ہوش وحواس نہیں کھو بیٹھتا مگر یہ غصہ اس پر حاوی ہو جاتا ہے اور اس کے الفاظ اور نیت کا رابطہ وقتی طور پر منقطع ہو جاتا ہے اور غصہ کافور ہو نے کے بعد اسے اپنے فعل پر ندامت ہوتی ہے اور اب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ غصے میں آپے سے باہر ہو گیا تھا۔ ایسی حالت میں جو طلاق دی جائے، اس کے نافذ ہونے یا نافذ نہ ہونے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور ہمارے نزدیک ایسی حالت میں طلاق کا وقوع پذیر نہ ہونا زیادہ راجح ہے۔ امام ابن قیم اغاثۃ اللہفان میں فرماتے ہیں کہ ’والادلۃ الشرعیۃ تدل علی عدم نفوذ طلاقہ‘۔ شریعت کے احکام اس طلاق کے عدم وقوع پر دلالت کرتے ہیں اور یہی قول ہمارے استاذ محترم ابن تیمیہؒ کا بھی ہے۔
ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ’ان غیرہ الغضب ولم یزل عقلہ لم یقع الطلاق‘  کہ اگر ایسا غصہ ہو کہ اس سے ہوش وحواس مکمل طور پر معطل نہ ہوئے ہوں تو طلاق وقوع پذیر نہ ہوگی، کیونکہ غصے کی شدت نے اس سے یہ حرکت کرائی ہوتی ہے۔ وہ بہرحال اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ اپنی بیوی سے گلو خلاصی کرا لے۔ اس حالت میں وہ کوئی صحیح فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں رہتا اور اس کا حکم اس شخص کا ہے جو طلاق دینے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے، یعنی طلاق المکرہ۔ امام ابن تیمیہؒ مزید لکھتے ہیں کہ یہ وہی حالت ہے جس میں اس کی بد دعا بھی قبول نہیں ہوتی جبکہ وہ اپنی یا مال کے لیے ہلاکت کی دعا کرتا ہو۔ اسی طرح اس حالت میں اگر وہ نذر مانتا ہے، کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی بظاہر اطاعت مقصود ہوتی ہے، تو یہ نذر بھی پوری کرنا اس پر واجب نہیں ہے۔
اسی رائے پر ہمارے معزز استاد مکرم ابن باز کا بھی فتویٰ ہے۔ یہی حکم مسند احمد، ابو داؤد اور حاکم کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’لا طلاق فی اغلاق‘ کہ اغلاق کی حالت میں طلاق نافذ نہیں ہوتی۔ لفظ اغلاق کا معنی امام احمد اور ابو داؤدؒ نے غضب (غصہ) کیا ہے۔ ابن قیمؒ کی اس موضوع پر ایک جامع تالیف موجود ہے جس میں وہ قرآن مجید کی آیات، احادیث مبارکہ اور صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؓ کے اقوال جمع کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ عدم وقوع ہی زیادہ قرین قیاس اور اصول شریعت کے موافق ہے۔ ہمارے نزدیک بھی امام ابن قیمؒ کے دلائل مضبوط اور قابل اطمینان ہیں۔ جسے توفیق ہو، وہ ان کی تالیفات سے رجوع کر سکتا ہے۔ 
بنا بریں آپ کی پہلی طلاق مذکورہ بالا اقسام میں سے اگر تیسری قسم سے تعلق رکھتی ہے اور آپ کی بیوی بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہو کہ واقعتا وہ طلاق انتہائی غصے کی حالت میں دی گئی تھی، مزید برآں اس پہلی طلاق کی توثیق مملکت کی کسی عدالت نے بھی نہیں کی ہے تو پہلی طلاق نافذ نہیں سمجھی جائے گی۔ ہاں اگر آپ کی زوجہ محترمہ آپ کے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتی ہیں یا مسلمان قاضی نے اس طلاق کی توثیق کر دی ہے تو یہ طلاق نافذ ہو گئی، کیونکہ اختلافی (شخصی) مسائل میں (حاکم) نامزد قاضی کا فیصلہ نافذ العمل ہوتا ہے (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی)۔
(بشکریہ سہ ماہی ایقاظ، ملتان۔ جولائی تا ستمبر ۲۰۰۵)

تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۱)

سید جمال الدین وقار

تبلیغی جماعت کو کارکنوں کی تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے لحاظ سے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک کہا جاتا ہے۔ یہ جماعت ہر اس ملک میں متحرک ہے جہاں مسلمان کسی بھی قابل لحاظ تعداد میں بستے ہیں۔ اس کی بنیاد ۱۹۲۰ء میں شمالی بھارت کے علاقے میوات میں رکھی گئی تھی اور اس نے عامۃ الناس کی سطح پر اسلامی تعلیمات سے آگاہی اور شعور کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چند سال قبل بمبئی میں میری ملاقات چند تبلیغی بھائیوں سے ہوئی جنھوں نے مجھے تبلیغی کام کے لیے کچھ وقت نکالنے کی ترغیب دی۔ آئندہ سالوں میں، میں نے کئی تبلیغی دورے کیے اور دور دراز دیہات اور قصبوں کا سفر کیا جہاں میں نے ایسی مسلمان برادریاں بھی دیکھیں جو اسلام کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتی تھیں۔ کچھ ایسے مسلمان بھی مجھے ملے جو اقرار شہادت کے بنیادی عقیدے یعنی ’اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ‘ سے بھی واقف نہیں تھے۔ تبلیغی بھائیوں کے زیر اثر ان مسلمانوں کو بنیادی عقائد مثلاً کلمہ شہادت، نماز اور روزے وغیرہ کے طریقے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چنانچہ مجھے اس قابل قدر کردار کا احساس ہوا جو تبلیغی جماعت مسلمانوں کے ان طبقات میں اسلامی شعور پھیلانے کے سلسلے میں ادا کر رہی ہے جن تک کسی دوسری مسلمان تنظیم نے ابھی تک رسائی حاصل نہیں کی۔
تبلیغی جماعت جس بے حد اہم کام میں مصروف ہے، میں اب بھی اس کی بے حد تحسین کرتا ہوں۔ البتہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ یہ تحریک اگر اپنے طریق کار میں چند معمولی تبدیلیاں پیدا کر لے تو یہ مسلمان کمیونٹی کے معاملات میں پہلے سے زیادہ تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم میں اس بات کو بھی جانتا ہوں کہ تبلیغی قیادت کے کچھ حلقے کسی بھی قسم کی تبدیلی کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے مخصوص مفادات پر زد پڑے گی۔
تبلیغی جماعت کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ جماعت کے کارکن بھارت کے اندر اور بیرون ملک مسلسل متحرک رہتے ہیں اور اپنے کام کے دوران میں ان کا لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد سے رابطہ قائم ہوتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ کارکنوں کے اس نیٹ ورک کو اگر بنیادی اسلامی عقائد اور اعمال کے ساتھ ساتھ عمومی معاشرتی شعور، جدید تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم اور معاشرتی ہم آہنگی کے تصورات کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جائے تو کس قدر عظیم الشان اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن جماعت کے کارکن، اس کے برخلاف، ایسا کوئی کام نہیں کرتے۔ بنیادی عقائد کی تبلیغ کے علاوہ ان کے پاس اپنی گرفت میں آنے والے سامعین کو تخیلاتی کہانیاں اور من گھڑت قصے، جن کی نسبت وہ بے بنیاد طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دیتے ہیں، بے تکان سناتے چلے جانے کے سوا کوئی کام نہیں۔ ’’فضائل اعمال‘‘ کے نام سے تبلیغی جماعت کی بنیادی نصابی کتاب جسے ممتاز تبلیغی عالم مولانا محمد زکریا نے تصنیف کیا ہے، کمزور اور موضوع روایات سے بھری پڑی ہے اور بہت سے مسلمان علما اس کے متعلق تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
’’فضائل اعمال‘‘، جسے بہت سے تبلیغی حضرات زبانی نہیں تو عملاً ضرور قرآن مجید سے زیادہ بڑی اتھارٹی سمجھتے ہیں، عمومی طور پر اس دنیا سے نفرت اور کراہت کا پیغام دیتی ہے۔ تبلیغی کارکنوں کی زبان سے یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ ’’دنیا کی مثال ایک بیت الخلا یا قید خانے کی ہے۔‘‘ وہ بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ’’ان کی گفتگو کا موضوع یا تو وہ چیزیں ہوتی ہیں جو اوپر آسمان پر ہیں اور یا وہ جو زمین کے نیچے قبر میں ہیں۔ درمیان کی دنیا کے بارے میں وہ کوئی بات نہیں کرتے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں تحریک کا عمومی جذبہ ایسا ہے جو دنیا سے بے زار رہبانیت کو فروغ دیتا ہے جس کی قرآن مجید میں صریحاً ممانعت کی گئی ہے۔
دنیا سے نفرت اور کراہت کا نتیجہ تحریک سے وابستہ افراد میں دوسرے لوگوں کی تکلیفوں کے بارے میں بے حسی کی صورت میں نکلتا ہے۔ تبلیغی کارکن جماعت کے پیدا کردہ مزاج کے باعث لوگوں کی تکالیف اور پریشانیوں کو اللہ کی طرف سے ان کے گناہوں کی سزا قرار دے کر انسانی مصائب کو کم کرنے میں ہر قسم کی ذمہ داری سے بآسانی بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ نیز اس طریقے سے معاشرتی ظلم اور جبر کے اصل اسباب سے بھی توجہ ہٹا دی جاتی ہے اور اس طرح ظلم وجبر کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط تر کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے بہت سے تبلیغی حضرات سے سنا ہے کہ وہ فلسطین میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل وغارت کو اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ صہیونی توسیع پسندانہ عزائم کے مقابلے کے لیے تبلیغی کارکنو ں کے پاس ایک ہی سادہ سا حل ہے: ’’اگر فلسطینی مسلمان نمازیں ادا کرنا، سنت کے مطابق مسواک سے دانت صاف کرنا اور تبلیغی دوروں پر باقاعدگی سے جانا شروع کر دیں تو ان کے سارے دلدر فوراً دور ہو جائیں گے۔‘‘ چنانچہ اس پر کوئی تعجب نہ ہونا چاہیے کہ جہاں اسرائیل میں دوسری اسلامی تحریکوں کو سختی سے دبایا جاتا ہے، اسرائیلی حکومت تبلیغی جماعت سے چشم پوشی کرتی ہے جو غالباً نادانستہ طور پر مسلمانوں کے مابین بے حسی اور باہمی لا تعلقی کو فروغ دے رہی ہے۔
یہ رویہ اس قدر گہرا ہے کہ بالکل مقامی سطح پر بھی، جہاں مصائب کے ازالہ کے لیے مداخلت سے کسی کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا، میں نے تبلیغی کارکنوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ اور لا تعلق پایا ہے۔ استثنائی مثالیں موجود ہیں، لیکن ان سے عمومی صورت حال ہی کی توثیق ہوتی ہے۔ میں اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے نئی دہلی کی بستی نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز کی مثال دوں گا۔ اس مرکز کے باہر جسمانی معذوروں، کوڑھ کے مریضوں اور نشے کے عادی لوگوں کا ایک جم غفیر درد انگیز طور پر بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ میں نے ایک ممتاز تبلیغی رہنما سے، جو اپنا زیادہ تر وقت مرکز میں گزارتے ہیں، پوچھا کہ تبلیغی رہنما اپنے دروازے پر پڑے تکلیف سے بے حال ان لوگوں کی مدد کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ انھوں نے مجھے یوں دیکھا جیسے میں بالکل ہی بدھو ہوں اور کہا: ’’کیسا احمقانہ سوال ہے! تم دیکھتے نہیں کہ ہم ان لوگوں کو دنیا کی سب سے قیمتی دولت سے بہرہ یاب کر رہے ہیں؟ ہم انھیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سکھا رہے ہیں جو انھیں مرنے کے بعد جنت میں لے جائیں گی۔ وہاں انھیں ہر قسم کی نعمتیں میسر ہوں گی، وہ بڑے بڑے محلات میں بے شمار خادموں کے ساتھ رہیں گے اور ہزاروں حوریں ان کے حبالہ نکاح میں ہوں گی۔ اس سے بڑی دولت انھیں کوئی کیا دے سکتا ہے؟‘‘
میں نے ان کی جوش اور غضب سے بھرپور تقریر کو اطمینان سے سنا اور پھر انھیں قرآن مجید کی چند آیات اور دو تین حدیثیں یاد دلائیں جن میں کہا گیا ہے کہ غریبوں کو آسمانی نعمتوں کا مژدہ سنانا اور جنت میں خالی تخیلاتی محل بنانا کافی نہیں بلکہ مادی لحاظ سے ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے بے لحاظی سے میری بات کاٹ دی اور کہا: ’’تم چاہتے ہو کہ ہم ان کے لیے سکول کھول لیں؟ انھیں کاروبار شروع کرنے میں مدد دیں؟ یہ سب کام مسیحی مشنریاں کرتی ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ ان سب چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم انھیں اگلے جہان کی دولت سے نواز رہے ہیں جس کے مقابلے میں وہ سب کچھ جس کی مسیحی مشنریاں پیش کش کرتی ہیں، محض ترس کھا کر کچھ مدد امداد کر دینے (pathetic pittance) کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ حقیقی دنیا میں غریبوں کے مصائب سے مکمل بے حسی کا جواز ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ ذہانت آمیز کوئی دلیل نہیں گھڑی جا سکتی۔
تبلیغی حضرات میوات کے علاقے کو، جہاں سے تحریک کا آغاز ہوا، اپنی کامیاب ترین تجرباتی زمین سمجھتے ہیں۔ میوات جو کہ میو قبیلے کا علاقہ ہے، ثقافتی لحاظ سے ایک منفرد علاقہ ہے جس میں ہریانہ کے دو ضلعوں گرگاوں اور فرید آباد اور راجھستان کے دو ضلعوں الور اور بھارت پور کے کچھ حصے شامل ہیں۔ اس علاقے میں تبلیغی جماعت ۱۹۲۰ء کی دہائی سے متحرک ہے۔ جماعت کی محنت کے نتیجے میں میو قوم میں کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ بے حد نمایاں غیر اسلامی رسم ورواج اور اعتقادات کو ترک کر چکے ہیں اور علاقے میں بہت سی مسجدیں اور مدرسے قائم ہو چکے ہیں۔ یہ سب اچھے نتائج ہیں اور بے شمار تبلیغی کارکنوں کی طویل، صبر آزما اور ان تھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
تاہم تبلیغی تحریک اگر میو قوم میں مذہبی سطح پر بعض بڑی اصلاحات لانے میں کام یاب ہوئی ہے تو سماجی سطح پر اس کی کام یابیاں کم متاثر کن ہیں۔ میو عورتیں آج بھی کھیتوں میں مویشیوں کی جگہ کام کرتی ہیں، کم وبیش تمام میو عورتیں جائیداد میں اپنے جائز حق سے محروم رہتی ہیں، جہیز کی لعنت عام ہے، میو قوم میں شرح خواندگی ۱۰ فیصد ہے اور سو میں سے صرف ۲ میو لڑکیاں خواندہ ہیں۔ پوری کمیونٹی مجموعی لحاظ سے بے حد غربت زدہ ہے۔ اس قوم کی قابل رحم حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے تبلیغی حضرات نے دنیاوی معاملات سے اپنی نفرت کی وجہ سے اسے مزید خراب ہی کیا ہے۔ حالیہ سالوں میں محدود تعداد میں کچھ این جی اوز نے تو میوات میں خواندگی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن تبلیغی کارکنوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ میوات کے تبلیغی کارکن اکثر یہ بات کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جب میو لوگ غریب اور ناخواندہ تھے تو اس وقت نیک اور پرہیزگار تھے لیکن اب جبکہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی مالی صورت حال بہتر بنا لی ہے، وہ خدا کو بھول گئے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہوگی اور مجھے اس سے کوئی اختلاف نہیں لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تبلیغی حضرات دین کو کوئی ایسی چیز سمجھتے ہیں جو بنیادی طور پر دنیا کے مخالف ہے، جبکہ یہ خیال میری رائے میں خود اسلام اور عام دنیاوی معاملات کو دیکھنے کا قطعی طور پر غیر اسلامی زاویہ نگاہ ہے۔
میرے فہم کے مطابق اسلام غریبوں کی خدمت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ انھیں اسلام کی خوبیاں اور جنت کی نعمتیں سنا دی جائیں، خاص طور پر حوریں جن سے تبلیغی حضرات کو خبط کی حد تک دل چسپی ہے، بلکہ مادی لحاظ سے بھی ان کی مدد کی جائے۔ یہ اپنے پیروکاروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے حقوق بھی پورے کریں اور بندوں کے حقوق بھی ادا کریں۔ مجھے یقیناًاعتراف کرنا چاہیے کہ تبلیغی حضرات حقوق اللہ کی تبلیغ میں زبردست خدمت انجام دے رہے ہیں، لیکن حقوق العباد کو انھوں نے مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ دوسروں کی مدد کرنے کے فضائل بیان کر دیتے ہیں، لیکن عملاً اس قسم کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دیتے۔ آپ تصور کریں کہ اگر نظام الدین دہلی مرکز میں تبلیغی حضرات ایک ماڈل سکول قائم کر لیں اور اس میں اسلامی اور عصری تعلیم دینا شروع کر دیں یا غریبوں کے لیے ایک ہسپتال قائم کر دیا جائے یا بے روزگار لوگوں کے لیے صنعتی تربیت کا کوئی مرکز بنا دیا جائے تو یہ ایک تجربہ عالمی سطح پر کن اثرات ونتائج کا حامل بن سکتا ہے۔ وہ لاکھوں تبلیغی کارکن جو ہر سال نظام الدین مرکز میں آتے ہیں، اسلام کی سماجی اخلاقیات کو عملی صورت میں دیکھیں گے اور اس سے ان کو ترغیب ملے گی کہ وہ واپس اپنے علاقوں میں جا کر اسی طرح کے منصوبے شروع کریں۔ تاہم جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ہے، نظام الدین کے تبلیغی رہنما اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان پر اپنے بالکل قریب تڑپتی اور سسکتی انسانیت کے دکھوں کا سرے سے کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ 
جہاں تک میں نے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا ہے، میں اس بات کا شدت سے قائل ہوں کہ جنت کا راستہ صرف مسلسل دعاؤں اور (تبلیغی انداز میں) مناجات کرنے میں نہیں ہے بلکہ فرض رسوم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مادی اور روحانی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنے میں ہے۔ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ غریبوں کو خیرات دے دی جائے۔ یہ طریقہ غربت کے خاتمے میں بالکل معاون نہیں بلکہ اس کو مزید پختہ کر دیتا ہے۔ غریبوں کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ ان کے ساتھ تعاو ن کر کے انھیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے سے زیادہ ضرورت مند لوگوں کی خدمت کے قابل ہو سکیں۔ لیکن یہ منطق تبلیغی جماعت کے ذہنی مزاج کے لیے بالکل اجنبی ہے۔ جیسا کہ بہت سے تبلیغی سمجھتے ہیں، اگر کوئی شخص پابندی سے تبلیغی دورے کرتا ہے، لمبی ڈاڑھی رکھ لیتا ہے، مسلسل تسبیح کے دانے گھماتا رہتا ہے اور سنت کے مطابق مسواک سے دانت صاف کرتا ہے تو جنت میں اس کا داخلہ پکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ذاتی پسند اور ناپسند کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کے چند ظاہری اعمال کی نقل کر کے وہ جنت میں اپنی جگہ پکی کر رہے ہیں۔ ایک مثال لیجیے۔ حال ہی میں مجھے پاکستان کے ایک تبلیغی مصنف کی ایک کتاب دیکھنے کا موقع ملا جس میں انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ بلند بانگ دعویٰ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پابندی سے تبلیغی جماعت کے دوروں پر نکلتا رہے تو جنت میں اس کا داخلہ یقینی ہے جہاں، دوسری لذتوں کے علاوہ، اسے تین لاکھ حوروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملے گا۔ اس طرح کی گھٹیا ذہنی رشوتیں تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے والے لوگوں کو باقاعدگی سے دی جاتی رہتی ہیں اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو اس سے جماعت کے اس قدر وسیع پیمانے پر فروغ کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔
تبلیغی حضرات کے نزدیک بنیادی فرائض کی ظاہری رسوم کی مسلسل ادائیگی سے جنت میں داخلہ یقینی ہو جاتا ہے۔ جنت جب اس طرح آسانی سے مل رہی ہو تو فطری طور پر بہت کم لوگ غریبوں اور مجبور ومقہور لوگوں کے لیے کچھ کرنے میں دلچسپی لیں گے جو کہ میری رائے میں دونوں جہانوں میں اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ ہے۔ قرآن مجید بار بار اہل ایمان سے یہ کہتا ہے کہ نجات پیغمبر ﷺ کے طریقے کی اتباع میں مضمر ہے۔ تبلیغی حضرات اس سے اختلاف نہیں کرتے لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو محض چند ظاہری اعمال تک محدود کر دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ بس ان کی پیروی کرنے سے آدمی سیدھا جنت میں جا سکتا ہے۔ چنانچہ تبلیغی پمفلٹوں اور کتابچوں میں اس بات کی اہمیت بے تکان اجاگر کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھاتے کیسے تھے، مسکراتے کیسے تھے، دھوتے کیسے تھے، دانت کیسے صاف کرتے تھے، جوتے کیسے پہنتے اور اتارتے تھے، مونچھیں کیسے تراشتے اور ڈاڑھی کو کیسے بڑھاتے تھے وغیرہ۔ یوں جیسے رسول اللہ ﷺ کی سنت کے دائرے میں صرف یہی چند شخصی اعمال آتے ہیں۔ سنت کو ان اعمال تک محدود کر کے اور اس کی محض ظاہری شکل میں محصور کر کے وہ سنت کو اس کی اصل اور حقیقی روح سے محروم کر دیتے ہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ تبلیغی قیادت میں خود تنقیدی اور خود احتسابی یا اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادگی کی کوئی علامات پائی جاتی ہیں۔ چونکہ جماعت کا طریق تبلیغ اور اس کا بنیادی نصاب یعنی ’’فضائل اعمال‘‘ اس کی تعارفی خصوصیات بن چکی ہیں اور انہوں نے جماعت کا ایک مخصوص امتیازی تشخص قائم کیا ہے، اس لیے بالکل واضح طور پر تبلیغی قیادت جماعت کے تشخص کے کمزور پڑنے کے ڈر سے اس میں کسی قسم کی تبدیلی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ اس سے مآل کار خود ان کی اتھارٹی کا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ تبلیغی کارکن اور واعظ باصرار یہ کہتے ہیں کہ یہ طریق تبلیغ کسی انسان کی ایجاد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے الہام کے ذریعے سے براہ راست بانی جماعت مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کو سمجھایا گیا۔ اس وجہ سے ان کا اصرار ہے کہ اس میں کسی تبدیلی کا مشورہ دینا اللہ کی مرضی اور حکم کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس طریقے سے وہ ہر قسم کی تنقید، اور اصلاح کی دعوت سے پیچھا چھڑا لینا چاہتے ہیں۔
اپنے بے حد مخلص اور محنتی تبلیغی بھائیوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو اسلام کے بنیادی عقائد کی تعلیم دینے کے زبردست کام میں بے شک لگے رہیں کیونکہ بہت کم مسلمان یہ ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، لیکن جیسا کہ قرآن مجید ہمیں بار بار ترغیب دیتا ہے، اپنی عقل وفہم کو بھی استعمال کیجیے اور کوئی کام صرف اس وجہ سے نہ کرنا شروع کر دیجیے کہ اسے آپ کے بڑے (تبلیغی اصطلاح میں ’’بزرگ ‘‘) کرتے ہیں۔ اس کی صحت کو قرآن مجید کی روشنی میں پرکھیے۔ اپنی رہنمائی کا ماخذ قرآن مجید کو بنائیے نہ کہ کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب کو (خواہ وہ ’’فضائل اعمال‘‘ کے مصنف کی طرح کوئی شیخ الحدیث ہی کیوں نہ ہو)۔ تب آپ پر واضح ہوگا کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا صحیح طریقہ دعا اور عبادات کا ذوق وشوق بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا بھی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، خدا کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
(ترجمہ : ابو طلال۔ بشکریہ    http://www.islaminterfaith.org)

تبلیغی جماعت اور دین کا معاشرتی پہلو (۲)

اوریا مقبول جان

عصر کی نماز کے بعد یا مغرب کی نماز سے ذرا پہلے گھروں کے دروازوں پر دستک دیتے قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی طرح کے چہرے جن کے ماتھوں پر محراب، سر پر عمامہ، ٹوپی یا رومال، لباس کی وضع قطع شریعت کے قواعد وضوابط کے مطابق اور گفتگو میں تحمل پایا جاتا ہے، آپ کو یقیناًنظر آتے ہوں گے۔ اپنے لڑکپن سے آج تک میں دین کی محنت میں لگے ہوئے لوگوں کو دیکھتا آ رہا ہوں۔ آپ چاہے ناگواری کا اظہار کریں، تمسخر اڑائیں یا توجہ سے بات نہ سنیں، ان کی جبین پر شکن تک نہیں آتی۔ یہ لوگ بلا کے ہیں۔ ایسے لگتا ہے ان کو اپنے پڑوس کی، شہر کی، ملک کی بلکہ پوری دنیا کے عوام کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ ان کا تردد ان کو جہنم کی آگ سے بچانا ہے۔ یہ اپنی محنت سے اور مسلسل گفتگو سے چند لوگوں کو قائل کر لیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ اس بیان میں شریک ہوں جو مسجد میں عموماً مغرب کی نماز کے بعد منعقد ہوتا ہے۔ پھر وہاں سے ایسے ہی چند مزید گروہ گلیوں اور محلوں میں نکل جاتے ہیں۔ اپنی اس تگ ودو اور محنت کو یہ لوگ ’’گشت‘‘ کہتے ہیں۔ یہ گشت صرف اپنی گلی یا محلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملکوں ملکوں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔
ان لوگوں کی زندگیوں کی ظاہری آب وتاب ایسے لگتی ہے جیسے عبادت کے تمام سلیقے ان کو ازبر ہیں۔ آداب نماز سے لے کر روزہ، تراویح اور اعتکاف سب اس انہماک سے ادا کرتے ہیں کہ ان پر رشک آتا ہے۔ ان کی گفتگو آخرت کے خوف سے پر اور جنت کی لذتوں سے آراستہ ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی ادارے میں کام کر رہے ہیں یا کسی کاروبار کی اساس ان کے ہاتھ میں ہے، ان کا رنگ ڈھنگ دور سے پہچانا جاتا ہے۔ لوگ ان سے محبت بے شک نہ کریں، لیکن نفرت نہیں کرتے۔ ایک طویل عرصے تک یہ ’’گشت‘‘ صرف ایک گروہ تک محدود تھا لیکن اب ایسے ہی گشت کچھ اور لوگوں نے بھی اختیار کر لیے اور اب میرے ملک میں لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے بے چین لوگ جابجا نظر آئیں گے۔
مجھے ان لوگوں کی بود وباش، فقر وغنا اور سینے کی تڑپ اچھی لگتی ہے۔ یہ لوگ کتنے دردمند ہیں کہ دوسرے کی آخرت بچانے کے لیے بے چین ومضطرب ہیں، لیکن میں اس سارے پس منظر میں ایک عجیب وغریب بات سوچتا رہتا ہوں اور پھر ان سوچوں کے بھنور سے نکل نہیں پاتا۔ یہ لوگ جس مملکت خدادا پاکستان کی گلیوں اور محلوں میں خدائے واحد کا فرمان لیے گھوم رہے ہوتے ہیں، وہاں ۱۴ کروڑ کی آبادی میں ۵ کروڑ کے قریب ایسے گھرانے بھی آباد ہیں جنھیں اتنا بھی رزق میسر نہیں کہ ان کی زندگی کی گاڑی چل سکے۔ یہ لوگ ہو سکتا ہے کسی ایسے دروازے پر دستک دے دیں جہاں ماں نے بچوں کو پانی میں نمک مرچ گھول کر سوکھی روٹی کے ساتھ پیٹ بھر کر سلایا ہو اور باپ اس فکر میں غلطاں ہو کہ کل اس گھر میں پیٹ کے ایندھن کا سامان کہاں سے آئے گا۔ ہو سکتا ہے ان لوگوں نے راہ چلتے ایک ایسے شخص کو روکا ہو کہ جو دن رات دہاڑی دار مزدوروں کے اڈے پر ہر رکتی ہوئی گاڑی کے پاس التجا والے چہرے کے ساتھ لپکا ہو، لیکن دن کا سورج ڈھلنے تک اسے مزدوری کے لیے کوئی اپنے ساتھ نہ لے کر گیا ہو۔ بوجھل قدموں سے یہ شخص اپنے گھر کی سمت کس پریشانی کے عالم میں لوٹ رہا ہوگا۔ ان بندگان خدا کی دستک ایسے دروازوں پر بھی ہو سکتی ہے جہاں چند دن پہلے کسی باپ نے بازار سے زہر خریدا اور بھوک سے بے تاب، کھانے کی آرزو میں تڑپتے بچوں کی خوراک میں ڈالا اور پھر ان کے ساتھ کھانا کھا کر موت کی نیند سو گیا ہو۔ یہ کسی بے روزگار نوجوان، کسی بے کس، محروم اور بے آسرا کے سامنے بھی اپنی بات بیان کرتے ہوں گے۔ یہ اس باپ کے سامنے بھی جاتے ہوں گے جس نے رزق حلال سے اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم وتربیت کی ہو، لیکن وہ روزگار سے اس لیے محروم رہے کہ ان کی رسائی کسی سیاست دان، کسی جرنیل یا کسی اعلیٰ افسر کی دہلیز تک نہ تھی اور آج ان کو غربت وافلاس کی زندگی میں صرف سفارش اور رشوت کے خلاف بد دعائیں ہی یاد آتی ہوں گی۔
انھی خیالوں میں گم میں ایک محفل میں جا نکلا جہاں ایسا ہی شخص لوگوں کو ترغیب دے رہا تھا کہ کیا تم نے کبھی جا کر دیکھا کہ تمھارا پڑوسی نماز پڑھتا ہے کہ نہیں۔ وہ جہنم کی آگ کی طرف جا رہا ہے اور تم اسے بچانے کے لیے کیوں نہیں دوڑتے۔ میں سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور مجھے سرکار دو عالم کی وہ احادیث یاد آنے لگیں۔ آپ نے فرمایا ’’جو اپنے بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتا ہے اور پانی پلاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے سات خندق دور فرما دیتا ہے۔ دو خندقوں کا درمیانی فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’بھوکے کو کھانا کھلانا مغفرت واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔‘‘ آپ نے ابن عباس سے فرمایا ’’جو مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا پہناتا ہے تو جب تک پہننے والے کے بدن پر اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی رہتا ہے، پہنانے والا اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے۔‘‘ ایک جگہ فرمایا ’’مسکین کو اپنے ہاتھ سے دینا بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا ’’آگ سے بچنے کی کوشش کرو، چاہے آدھی کھجور ہی دے کر کرو۔‘‘ حضرت عائشہ کہتی ہیں ’’میرے پاس ایک سائل آیا۔ میں نے اسے کچھ دینے کو کہا۔ پھر بلایا اور دیکھا کہ اسے کیا دیا۔ آپ نے فرمایا، تم یہی چاہتی ہو نا کہ گھر میں جتنا آئے اور جتنا خرچ ہو، اس کا تمھیں علم ہو۔ فرمایا جی ہاں۔ فرمایا، حساب کتاب کے پھیر میں نہ پڑو۔ گن گن کر نہ دو، ورنہ اللہ تمھیں بھی گن گن کر دے گا۔‘‘
میں خواب دیکھنے والا شخص ہوں۔ خواب دیکھتا رہتا ہوں کہ شاید ایک دن ایک ایسا ’’گشت‘‘ بھی نکلے گا، اپنے کندھوں پر اپنا مال ودولت لادے ہوئے، اور مسجدوں کے دروازے سے نکل کر گھروں پر دستک دیں گے: ہے کوئی بھوکا، ہے کوئی نادار، ہے کوئی مسکین، ہم سے کھانا کھالو اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا لو، ہماری پوشاک پہن لو اور ہمیں اللہ کی حفاظت میں جانے دو۔ ہمارے ہاتھ سے بغیر گنے سب کچھ لے لو تاکہ اللہ ہمیں بے حساب عطا کرے۔ عصر کے بعد، مغرب سے پہلے، ماتھوں کے محراب، سروں پر عمامے اور کندھوں پر مال ومتاع لادے کوئی ایک گشت تو ایسا نکلے!
(بشکریہ روزنامہ جنگ۔ ۲۵ جون ۲۰۰۵)

اعتذار

ادارہ

(الشریعہ کے مئی ۲۰۰۶ کے شمارے میں ’’غامدی صاحب کے اصولوں کا ایک تنقیدی جائزہ‘‘ کے زیر عنوان حافظ محمد زبیر صاحب کا مقالہ شائع ہوا تھا جس میں نقل کردہ اقتباسات کے حوالہ جات ہماری کوتاہی کی وجہ سے درج نہ کیے جا سکے۔ مصنف اور قارئین، دونوں سے بے حد معذرت کے ساتھ یہ حوالہ جات یہاں شائع کیے جا رہے ہیں۔ مدیر)

ص ۲۵
ْ’قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے ۔ ...... سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں ۔‘‘
ماہنامہ اشراق، مارچ ۲۰۰۴، ص ۱۱

ص ۲۶
’’بائبل تورات ،زبور، انجیل اور دیگر صحف سماوی ....... آلات موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔‘‘ 
ایضاً، ص ۱۶

ص ۲۶
’’اے خداوند .....میں تیری مدح سرائی کروں گا۔‘‘
ایضاً، ص ۱۸

ص ۲۶
’’تو ایسا ہوا .....خداوند کی ستایش کی کہ وہ بھلا ہے ۔‘‘
ایضاً، ص ۱۷

ص ۲۶، ۲۷
’’جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے .....کلام کے اصل مدعا سے تجاوز ہو گا۔‘‘
ایضاً، ص ۱۲

ص ۲۷
’’اور ان حاشیوں پر .....(فرشتے) بنے ہوئے تھے ۔‘‘
اشراق، جون ۲۰۰۰، ص ۳۴

ص ۲۷
’’اور الہام گاہ میں ......دس دس ہاتھ اونچے بنائے ۔‘‘
ایضاً

ص ۲۷
’’اس میں کوئی شبہ نہیں ......نبی ﷺ نے انھیں دجال (عظیم فریب کار) قرار دیا ہے ۔‘‘
اشراق، جنوری ۹۶، ص ۶۱

ص ۲۷
’’اور خداوندکا کلام ....اور اس کے خلاف نبوت کر ۔‘‘
اشراق، اکتوبر ۱۹۹۰، ص ۵

ص ۲۷، ۲۸
’’اپنے اس علاقے سے ....انھی کے قبضے میں ہیں۔‘‘
ایضاً، ص ۱۰

ص ۲۹
’’جاندار چیزوں .......منسوب کر دیا گیا ہوگا۔‘‘
تدبر قرآن، ج ۶، ص ۳۰۴

ص ۲۹، ۳۰
’ ’پیغمبروں کے دین میں .....استعمال کا ذکر آیا ہے۔ ‘‘
اشراق، مارچ ۲۰۰۴، ص ۱۶

ص ۳۰، ۳۱
’’ سوال یہ ہے کہ قرآن میں.....حدیث کس طرح منسوخ کر سکتی ہے۔‘‘
اشراق، نومبر ۱۹۸۹، ص ۳۶۔۳۸

ص ۳۱، ۳۲
’’سوم یہ کہ .....قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے ۔‘‘
میزان، ص ۵۲

ص ۳۲، ۳۳
’’حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد ...... حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔‘‘
اشراق، جنوری ۱۹۹۶، ص ۶۰، ۶۱

ص ۳۴
’’اورجب وہ زیتون ..... گمراہ کریں گے۔‘‘
متی، ۲۴: ۳۔۵

ص ۳۴
’’انہوں نے اس سے ......نزدیک آ پہنچا ہے ۔‘‘
لوقا، ۲۱: ۷۔۹

ص ۳۴
’’میں تیرے پاس ......کیونکر برتاؤ کرنا چاہیے۔‘‘
تیمتھیس، ۳: ۱۴، ۱۵

ص ۳۵، ۳۶
’’پر اگر یہ بات سچ ہو ..... طلاق نہ دینے پائے۔‘‘
استثنا، ۲۲: ۲۰۔۲۴، ۲۸، ۲۹

ص ۳۶
’’عن البراء بن عازب قال ..... فی الکفارکلھا‘‘
صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب حد الزنا

ص ۳۸
’’ہمارا نقطہ نظر .....دجال(عظیم فریب کار ) قرار دیا۔‘‘
اشراق، جنوری ۹۶، ص ۶۱

ص ۳۸
’’کسی طرح کسی کے فریب .... .... ساتھ ہوگی۔‘‘
تھسلینکیوں، ۲: ۳۔۱۰

ص ۳۸
’’انی انذرکموہ .... ان اللہ لیس باعور‘‘
صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب کیف یعرض الاسلام علی الصبی

ص ۳۹
’’سمعت رسول اللہ ﷺ یقول یقتل ابن مریم الدجال بباب لد‘‘
سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال

ص ۳۹
’’ارایتم ان قتلت ..... فلا یسلط علیہ‘‘
صحیح مسلم، کتاب الفتن، 
باب فی صفۃ الدجال

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادرم محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں اپنا مضمون دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس پر میں آپ کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس مضمون کے حوالے سے راقم کو ذاتی طور پر مختلف اصحاب علم کی طرف سے تبصرے بھی موصول ہوئے جن میں چند باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ان میں کچھ باتیں غلط فہمی کا نتیجہ تھیں جن کا ازالہ میں ضروری سمجھتا ہوں۔
۱۔ ’الشریعہ‘ میں میرا تعارف صحیح شائع نہ ہو سکا۔ میں نے آپ کی طرف جو خط لکھا تھا، اس میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ میں ریسرچ سنٹر، قرآن اکیڈمی میں بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کے کام کر رہا ہوں۔ مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
۲۔ بعض اہل علم نے اعتراض کیا ہے کہ مضمون میں حوالے نہیں تھے، جبکہ میں نے جو مضمون ’الشریعہ‘ میں شائع کروانے کے لیے بذریعہ ڈاک بھیجا تھا، اس میں تمام حوالہ جات باقاعدہ موجود تھے۔
۳۔ بعض اہل علم نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اہل سنت کے تصور ’شرائع من قبلنا‘ کے حوالے سے مضمون میں کوئی بحث نہیں آئی۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں نے جو مضمون ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے کے لیے بھیجا تھا، اس میں تقریباً آٹھ صفحات پر مشتمل دو ابحاث، ایک تو ’’غامدی صاحب کے تصور کتاب کا رد، شرعی دلائل (احادیث) کی روشنی میں‘‘ اور دوسری بحث ’’غامدی صاحب کے تصور کتاب اور اہل سنت کے تصور شرائع من قبلنا میں فرق‘‘ کے بارے میں تھیں جن کو مدیر ’الشریعہ‘ نے شائع نہیں کیا۔ اگر مضمون کے شروع میں مدیر ’الشریعہ‘ کی طرف سے ایک پیراگراف میں اس بات کی وضاحت آ جاتی کہ ہم نے فلاں فلاں ابحاث کسی حکمت کے تحت مضمون سے نکال دی ہیں تو اچھا تھا۔
قارئین کی معلومات کے لیے اگر یہ خط ’الشریعہ‘ میں بھی شائع ہو جائے تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
حافظ محمد زبیر
ریسرچ ایسوسی ایٹ، قرآن اکیڈمی
36/K ماڈل ٹاؤن لاہور
(۲)
محترم المقام زاہد الراشدی صاحب
سلام خلوص!
امید ہے کہ آپ خیر یت سے ہوں گے۔ طویل مدت سے ’الشریعہ‘، ’شاداب‘ کے تبادلہ میں موصول ہورہاہے۔ دیگر اسلامی جرائد بھی موصول ہوتے ہیں، لیکن الشریعہ کا فکری رنگ ہی منفرد اور جداگانہ ہے۔ میں ہرشمارہ بڑی توجہ سے پڑھتاہوں اور کئی مرتبہ اس کے روشن خیالی اور شعور انسانیت پر مبنی فکر انگیز مضامین اپنے ہم خیال مسلم دوستوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتاہوں۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے متعلق آپ کے مضامین نے بے حد متاثرکیا جو عصر حاضر کی سوچ کے غماز تھے۔ البتہ احمدیوں کے بارے میں مضامین خاصے ’’دل آزار‘‘لگے۔ بہر کیف مسیحیت کے بارے میںآپ کا نقطہ نظر اور انداز فکر قدرے فراخ دلانہ ہے۔ آج مناظرے کا دور نہیں رہا، لہٰذا ہمیں بین المذاہب یعنی انٹر فیتھ مکالمہ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ مختلف مذاہب وادیان او ر مسالک کے درمیان نہ صرف غلط فہمیوں اور کج بحثیوں کا خاتمہ ہو بلکہ باہمی رواداری ،یگانگت ،ہم آہنگی، محبت ،اخوت اور برداشت کی ثقافت کو فروغ حاصل ہو۔
مئی ۲۰۰۶ء کے سرورق پر ’’آراوافکار‘‘ کے حوالے سے عبارت اسی فکر کی نمائندہ اور ترجمان ہے۔ خاص طور پر یہ فقرے: ’’صدیوں سے مذہبی طبقے کا دائرہ کارعقائد، عبادات اور نیک بننے کی مشق رہ گیاہے۔ ان کے پاس انسانیت کی بہبود کے لیے سوچنے کی فرصت نہیں ہے۔ ‘‘ اس فکرکی جتنی بھی ترویج واشاعت کی جائے اور اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے، وہ فی زمانہ کم ہوگی۔ رب کائنات آپ کو اپنے حفظ واما ن میں رکھے۔ کارِلائقہ سے یاد فرمائیں ۔
اس شعر کے ساتھ اجازت دیں :
دین کوئی بھی اختیار کرے 
آدمی آدمی سے پیار کرے
نوٹ: ایک ضروری بات رہ گئی۔ آراوافکار کے مفکر اورآپ کے دست راست مولانا محمد عیسیٰ منصوری چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم لندن سے لندن میں ملاقات ہوئی تھی جہاں ہم دونوں نے وکٹون ٹیلی وژن پر بین المذاہب مکالمہ اور لندن میں بم دھماکہ کی صورت حال پر گفتگو اور اظہاررائے کے لیے live پروگرام میں حصہ لیا جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔ میں نے مسیحیوں او ر مولانا نے مسلم حلقوں کی نمائندگی کی۔ یہ پروگرام تین مرتبہ پورے یورپ میں دکھایاگیا ۔
والسلام
ڈاکٹر کنول فیروز
477 جہانزیب بلاک
علامہ اقبال ٹاؤن ۔ لاہور
(۳)
محترم جناب عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے ملتاہے۔ اپریل کے مہینے میں آپ نے توہین رسالت کے نتیجے میں عالم اسلام میں جو صورت حال پیدا ہو ئی ہے، اس پر نہایت سنجیدگی سے بحث کی ہے اور صورت حال کا نہایت عمدہ طریقے سے تجزیہ کیاہے، لیکن امت مسلمہ کی داخلی صورت حال اور رویے کے ضمن میں جن امورکی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے، ان پر کچھ عرض کرنا چاہتاہوں ۔
بدھ کے مجسموں کو مسمار کرنے کے واقعہ کو آپ نے سیاسی محرکات کے تحت داخل کیاہے اور اس کو اخلاقیات کے منافی قراردیاہے، حالانکہ یہ واقعہ کوئی سیاسی پس منظر نہیں رکھتا۔ ہمارے فقہا او ر علماے کرام نے تصویر سازی اور مجسمہ سازی کو حرام قراردیاہے۔ اکثریت کے نزدیک یہ حرمت علی الاطلاق ہے، لیکن جو تصویر سازی، مجسمہ سازی اور فنون لطیفہ کو اصلاً مباح قرار دیتے ہیں، ان کوبھی میرے خیال میں اس واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے نزدیک بھی اگر یہ فنون فواحش یا مشرکانہ افعال یاعقائد سے وابستہ ہوں تو پھر سد ذرائع کے طور پر انھیں حرام قرار دیاجاسکتاہے۔ گوتم بدھ کو آج بھی کروڑوں لوگ پوجتے ہیں اور اس کے مجسمے کو عبادت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پس یہ اقدام مذہبی تعلیمات کی رو سے کیا گیا، سیاست سے اس کا تعلق جوڑنا صحیح نہیں ہے۔ 
دوسری اہم بات جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے،یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک مذہبی گروہ کے پیغمبر کے بارے میں تضحیک اورتمسخر پر مبنی لٹریچر شائع ہوتاہے اور مذہبی جلسوں میں ان لوگوں کے بارے میں ناشائستہ زبان استعمال ہوتی ہے۔ یقیناًیہ ایک اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر ہمیں اپنے رویے اور اخلاقی حالت کا جائزہ لینا چاہے تاکہ افراط وتفریط سے بچا جائے اور صحیح بات کی طرف پیش رفت ممکن ہو، لیکن اگر کوئی مذہبی گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ کر رہا ہو، اس کی سرگرمیاں مسلمانوں کے دین وایمان کے لیے خطرہ ہوں، اور خود ان کے پیغمبر کی کتابوں میں اسلامی شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تضحیک اور تمسخر پر مبنی مواد موجود ہو تو کیا ایسی باتوں کی نشان دہی کو اسلام کے دفاع کے لیے استعمال کرنا بھی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوگا؟
تیسری اہم بات توہین رسالت کو رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تک محدود رکھنے سے متعلق ہے۔ یقیناًمذہبی لیڈروں کو دیگر پیغمبروں کی توہین اور گستاخی کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے اور اس حوالے سے بھی لوگوں کو متحرک کرنا چاہیے ،کیونکہ تمام انبیا کا احترام لازمی ہے اور ان میں سے کسی ایک کی توہین بھی نبوت اور رسالت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ توہین رسالت کو کسی نے بھی رسول اللہ کی ذات گرامی تک محدود اور مخصوص نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اس پر احتجاج نہ کرنے کو یہود ونصاریٰ کے ساتھ مذہبی مخاصمت کے رویے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عبدالحمید 
گاؤں سرڈھری (قلعہ) 
ضلع چارسدہ

کسرِ کعبہ کی حضوری

پروفیسر میاں انعام الرحمن

پروفیسر منیرالحق کعبی بطور مصنف ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں ۔ نثر ، تنقید ، شاعری ...... غرض اردو ادب کی تقریباََ تمام اصناف پر موصوف نے خامہ فرسائی کی ہے اور خوب کی ہے ۔ ان کا موجودہ حمدیہ کلام بعنوان ’’ حریمِ حمد ‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے ۔ کعبی جیسے شخص کا حمد کی طرف اس قدر جھکاؤ کہ پوری تصنیف منظرِ عام پر آجائے ، حیرت انگیز نہیں ہے بالخصوص اس تناظر میں کہ پچھلے چند سالوں سے ان کی طبع پٹڑی بدلتی دکھائی دیتی ہے ۔ان کے سابقہ مجموعہ ہائے کلام ’’ رگِ خواب‘‘ اور ’’ قربِ گریزاں ‘‘ کی غزلیات سے کسی بھی قاری پر آشکارا ہو جاتا ہے کہ انھوں نے غمِ دنیا کے حوادث کے مقابل غمِ یار کا خیمہ ڈال رکھا ہے اور حسنِ یار کی مالا جپنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ۔ شاید ڈھلتی عمر میں بابِ وصال وا نہ ہونے سے احساسِ زیاں نے انھیں آ گھیرا ہے اور عاقبت سنوارنے کے پیشِ نظر ہمارے شاعرنے مجاز سے حقیقت تک کی مسافت طے کر لینے میں ہی عافیت جانی ہے ۔ حریمِ حمد کے اس شعر سے صورتِ حال کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے :
جسے اندر چھپا کر بھول بیٹھا 
اسی کی جستجو کرنے لگا ہوں 
’’ قربِ گریزاں‘‘ کا درج ذیل شعر بھی کعبی کے بدلتے رجحانِ طبع کی کی چغلی کھاتا ہے ، اس کے بعد درج بالا شعر آخر کہنا ہی تھا ۔
عذاب ٹھہرا ہر اک سے یہ سلسلہ رکھنا 
خدا کے ساتھ بتوں سے معاملہ رکھنا 
حریمِ حمد کے مذکورہ شعر کی معنوی اعتبار سے بہت سی پرتیں ہیں ۔ ’’ اندر چھپا کر ‘‘ انسانی نفسیات کے ایک عمومی پہلو کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ فطرتِ انسانی ہے کہ وہ اپنی سب سے پسندیدہ اور محبوب چیز کو بہت سنبھال کر ، دھیان اور احتیاط سے ’’محفوظ‘‘ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کعبی کے اس مصرعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے سابقہ مجموعہ ہائے کلام میں غمِ یار کا بیان اصلی نہیں بلکہ مصنوعی اور بناوٹی ہے ۔ مخصوص طرزِ معاشرت یا خارجی جبر سے دب کر ہمارا شاعر ’’ نیلم آنکھوں ‘‘ کا اسیر رہا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ کعبی کی ’’ اصل ‘‘ نے حسنِ ازل کو احتیاطاً چھپا کر رکھ دیا اور ...... بھلا دیا ۔ خود کعبی نے ’’ حریمِ حمد ‘‘ میں اس کا ذکر یوں کیا ہے : 
یہ نیلم بیلم کچھ بھی نہیں اس حسنِ ازل کی بات کریں 
اگرچہ ناقدین کہہ سکتے ہیں کہ’’ انگور کھٹے ہیں‘‘ لیکن راقم کی رائے میں کعبی ’’ مجاز ‘‘ کی بے ثباتی سے آشنا ہو گیا ہے اور اسی لمحے حسنِ مطلق بھی ’’ چھو کر حصارِ جسم کو جاں تک اتر گیا ‘‘ جس سے یہ شعر سامنے آیا : 
رگ و پے میں سرایت کر رہا ہے 
خود اپنی آبرو کرنے لگا ہوں 
جی ہاں ! حسنِ ازل کی قربت سے ہی وہ خود شناسی جنم لیتی ہے جس سے انسان اپنی آبرو خود کرنے لگتا ہے ۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ایک اور لطیف نکتہ مضمر ہے کہ انسان تو خوامخواہ دوسروں کی شکایتیں کرتا پھرتا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان خود اپنی آبرو نہیں کرتا ۔ 
کعبی کے حمدیہ کلام میں بھی تغزل کا رنگ بہت گہرا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غزل ان کی محبوب ترین صنف ہے ۔ ان کی غزل میں زبان کا رچاؤ اور اظہارِ بیان کا رکھ رکھاؤ ملتا ہے ۔ ’’حریم حمد ‘‘میں تغزل کی آمیزش سے نہ صرف شعریت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اثر انگیزی بھی روٹین سے ہٹ کر ہے مثلاََ :
جلا گئی ہے مرے دشت کی ہوا مجھ کو 
نہ اور آتشِ ہجراں میں اب جلا مجھ کو 
تو بار بار بلاتا رہا مجھے لیکن 
بچھڑ کے یاد نہ عہدِ وفا رہا مجھ کو 
اگر ان اشعار کی بابت ذکر نہ کیا جائے کہ یہ حمد کے اشعار ہیں تو شاید قاری کا دھیان بھی اس سمت نہ جائے ۔ راقم کی رائے میں حمدیہ کلام میں ایسا اسلوب لائقِ تحسین ہے کیونکہ اس سے جیتے جاگتے زندہ خدا کا تصور ابھرتا ہے اور تجرد دم توڑتا دکھائی دیتا ہے ۔ ورنہ اکثر اوقات حمدیہ کلام میں خدا کی ذات کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے اس کا انسان سے کوئی تعلق ہی نہ ہو ۔ راقم کو تجرد اور ماورائیت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن صرف انھی پر فوکس کرنا ، شاید بہتر نہیں ہے ۔ یہاں یہ بیان کرنا بے محل نہیں ہو گا کہ ’’ حریمِ حمد ‘‘ میں بھی بعض مقامات پر تجرد اور ماورائیت کے سے انداز میں حمدیہ کلام موجود ہے لیکن درج ذیل شعر میں کعبی نے تغزل کی لطافت اور حمد کے تقدس کو یکساں اور کمال خوبی سے نبھایا ہے : 
تیر و نشتر ہیں ہمسفر آنکھیں 
نام تیرا سپر سپر، مولا 
اسی طرح یہ شعر بھی قابلِ غور ہے :
رت جگے اس کی ہی قسمت میں لکھے جاتے ہیں 
جان کر اپنا جسے آہِ رسا دیتا ہے
احباب جانتے ہیں کہ غزل کہنے والے غمِ یار میں غمِ دنیا بھی شامل کر لیتے ہیں جس سے تغزل کا نیا آہنگ ابھرتا ہے ۔ کعبی نے اس آہنگ کو بھی اپنے حمدیہ کلام میں جگہ دے کر معتبر بنا دیا ہے : 
ہمارا وقت ہے گویا خلا میں آویزاں 
مرے کریم ! کسی بھی افق اترتا نہیں 
’’ حریم حمد ‘‘ میں ایک دو مقامات پر تضاد سے بھی واسطہ پڑتا ہے مثلاََ :
بشر ہو اور بشر سے وہ خوف خوردہ ہو 
یقین مان وہ بندہ خدا کا بندہ نہیں

یہ میری ذات کا اک المیہ ہے کس سے کہوں 
کہ آدمی ہوں مگر آدمی سے ڈرتا ہوں 
’’ ذات کا المیہ ‘‘ کہہ کر ہمارے شاعر نے جہاں اپنی شخصیت کو گھمبیر بنا دیا ہے ، وہیں مذکورہ تضاد سے گلوخلاصی پانے کی ناتمام کوشش کی ہے ۔ یقیناََ کعبی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس نے اظہار و بیان میں تصنع ، بناوٹ اور لیپا پوتی سے کام نہیں لیا ، لہذا اس کی شخصیت کے تضاد کھل کر سامنے آسکتے ہیں ، اس لیے اس شعر سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے :
مرے خدا یہ مری شخصیت تو چاک ہوئی 
مری انائے فگاراں کو اندمال ملے 
’’ حریمِ حمد ‘‘ میں دعائیہ انداز بھی ملتا ہے جس میں خاصا اچھوتا پن ہے :
اپنی نورانیت سے بکھرا دے 
سرکشی کی تنی گھٹا ہوں، خدا 
اہلِ محفل سے بن نہ پائی کچھ 
اور محفل سے آگیا ہوں، خدا 
کعبی کے اس حمدیہ کلام میں فکری اعتبار سے ایک بات کھٹکتی ہے کہ انھوں نے اشتراکی فلسفہ کو دور سے ہی سلام بھیج دیا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں کے بیان سے پہلو تہی برتی ہے ۔ شاید کعبی کی فکری نشوونما اس عہد میں ہوئی تھی جب چہار سو اشتراکیت کے خلاف محاذ گرم تھا اور وطنِ عزیز میں بھی سرمایہ دارانہ معیشت کا طوطی بولتا تھا .... اب بھی بولتا ہے اور زیادہ شدت سے بولتا ہے ۔ گلوبلائزیشن کی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام کی موجودہ توسیع انسانیت کش ہے ۔ بہتر ہوتا ، کعبی اس پر بھی سلام بھیج دیتے ..... دور سے نہ سہی کم از کم قریب سے ہی سہی ۔ 
’’ حریمِ حمد ‘‘ کے ابھی بہت سے پہلو ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے ۔ تاریخی واقعات کی خوبصورت منظر کشی سے لے کر اچھوتی تراکیب تک ، سب کچھ اس میں جا بجا بکھرا ہوا ملتا ہے ۔ ایک اختراع سے اس شعر میں واسطہ پڑتا ہے :
کچھ مجھ کو ہی دنیا کا چلن راس نہیں ہے 
کچھ دوست مرے مجھ سے ہیں ساڑو ، مرے مولا 
لفظ ’’ ساڑو ‘‘ بڑی مہارت سے فٹ کیا گیا ہے شعر کی روانی متاثر ہوتی نظر نہیں آتی ۔ 
کعبی جب مدحِ رسالت مآب ﷺ کی طرف آتے ہیں تو شعریت چھلک چھلک جاتی ہے ، ملاحظہ کیجیے: 
کچھ اور عالمِ کیف و سرور ہوتا ہے 
رسولِ پاک ﷺ کی یادوں میں جب اترتا ہوں 
درود پڑھتا ہوں اور اس کے فیض سے کعبی 
غبار ِ نور میں ڈوبا ہوا ابھرتا ہوں 
’’ رسول پاک ﷺ کی یادوں میں اترنا ‘‘ اور ’’ غبارِ نور میں ڈوبا ہوا ابھرنا ‘‘ ......... کہنا ہی پڑتا ہے کہ ، ایں سعادت بزورِ بازو نیست ۔ 
آخر میں یہ بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ حمدیہ کلام ، بندے اور خدا کا مکالمہ ہے ....... خلوت میں مکالمہ ۔ اس پر تبصرہ کرنا ، شاید مخل ہونے کے مترادف ہے ۔ راقم یقیناََ مخل نہ ہوتا ، لیکن یہ جناب کعبی کا حکم تھا جس کی تعمیل کے ضمن میں دخل در معقولات کی جسارت کر سکا۔ 

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

  • پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۶ کو گوجرانوالہ تشریف لائے اور دیگر مصروفیات کے علاوہ کوروٹانہ میں الشریعہ اکادمی کے زیر تعمیر دینی تعلیمی مرکز میں ’’دار القرآن‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اور مغرب کی نماز کے بعد جہانگیر کالونی،کھوکھرکی گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام جامع مسجد ابو ذر غفاریؓ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں جلسہ سے خطاب کیا۔
  • حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نواسے اور جامعہ امام ولی اللہ مراد آباد (انڈیا) کے مہتمم مولانا مفتی محمد اسعد قاسم گزشتہ دنوں گوجرانوالہ تشریف لائے اور الشریعہ اکادمی میں فضلاے درس نظامی کی کلاس کو علوم قرآنی کے موضوع پر خصوصی لیکچر دینے کے علاوہ مولانا زاہد الراشدی، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر میاں انعام الرحمن، مولانا حافظ محمد یوسف اور پروفیسر محمد اکرم ورک کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں مختلف دینی وتعلیمی امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ انھوں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ۱۹؍ مئی کو جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب بھی کیا۔
  • ۷؍ مئی ۲۰۰۶ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ایک خصوصی فکری نشست میں شعبہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر حافظ محمود اختر نے ’’حفاظت قرآن اور مستشرقین‘‘کے موضوع پر اہل علم اور اساتذہ سے خطاب کیا اور تحریک استشراق اور اس کے اہداف ومقاصد کا مختصر تعارف کروانے کے علاوہ قرآن مجید کے حوالے سے مستشرقین کے ہاں پائے جانے والے مختلف زاویہ ہائے نگاہ اور اعتراضات پر گفتگو کی۔ تقریب میں ڈاکٹر ممتاز احمد اعوان (کنٹرولر امتحانات گوجرانوالہ بورڈ) بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ 
  • الشریعہ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے موقع پر دو ہفتے کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ ۲۸؍ مئی ۲۰۰۶ کو جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے علاوہ لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور لندن، مانچسٹر، گلاسگو، برمنگھم، نوٹنگھم، کراؤلی، برنلے اور دیگر مقامات میں مختلف دینی اجتماعات سے خطاب کے بعد ۹؍ جون کو جمعۃ المبارک کے موقع پر گوجرانوالہ واپس پہنچ جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔