حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’حدود آرڈنینس‘‘ ایک بار پھر ملک بھر میں موضوع بحث ہے اور وہ لابیاں از سر نو متحرک نظر آرہی ہیں جو اس کے نفاذ کے ساتھ ہی ا س کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی تھیں اور قومی اور عالمی سطح پر حدود آرڈنینس کے خلاف فضا گرم کرنے میں مسلسل مصروف چلی آرہی ہیں۔ اس سے قبل ہم متعدد بار اس مسئلے کے بارے میں معروضات پیش کرچکے ہیں، لیکن موجودہ معروضی صورت حال میں ایک بار پھر اس سوال کا جائزہ لینا ضروری ہو گیاہے کہ ’’حدود آرڈنینس ‘‘کیاہے ؟ اس کے نفاذ کی مخالفت میں کون کون سے طبقے پیش پیش ہیں اور وہ اس کے خاتمہ کے لیے کیوں سرگرم عمل ہیں؟
’’حدود‘‘ اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے اور حدود کا لفظ ان سزاؤں پر بولا جاتاہے جو مختلف معاشرتی جرائم میں قرآن وسنت میں طے کی گئی ہیں۔ سزاؤں کا وہ حصہ جن کے تعین اور ان میں کمی بیشی میں اسلامی حکومت ،مقننہ او ر عدلیہ کو اختیار حاصل ہے، تعزیرات کہلاتاہے لیکن چند سزائیں طے شدہ ہیں جن میں کمی بیشی یا معافی کا حکومت ،مقننہ یا عدلیہ میں سے کسی کو شرعاً اختیار حاصل نہیں ہے، اور یہ ’’حدود ‘‘کہلاتی ہیں۔ مثلاً چوری کی سزا قرآن کریم نے ہاتھ کاٹنا بیان کی ہے اور جناب نبی کریم ﷺ نے بھی قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ میں یہ بات طے شدہ ہے کہ جب کسی عدالت میں کسی شخص پر چوری کا الزام ثابت ہوجائے تو عدالت اس بات کی پابند ہے کہ اسے وہی سزا دے جو قرآن وسنت نے بیان کی ہے۔ اسے تبدیل کرنے، معاف کرنے یا اس میں لچک پیدا کرنے کا عدالت کو اختیار نہیں ہے ۔
معاشرتی جرائم کی یہ سزائیں قرآن کریم سے پہلے توراۃ اور بائبل کے احکام میں بھی شامل رہی ہیں اور اسلام نے ان سزاؤں کو باقی رکھ کر دراصل بائبل کے احکام کے تسلسل کو بحال رکھاہے، اس لیے اگر آج کے عالمی ماحول میں ہاتھ کے کاٹنے اور سنگسار کرنے کی سزاؤں کو سخت اور معاذاللہ وحشیانہ قراردیا جا رہا ہے تو یہ الزام صرف قرآن کریم پر یا شریعت اسلامیہ پر عائد نہیں ہوتا بلکہ بائبل بھی اس ’’جرم ‘‘ میں برابر کی شریک ہے اور اسے اس میں قرآن کریم پر سبقت حاصل ہے۔
جہاں تک پاکستان میں ان ’’حدوداللہ ‘‘کے نفاذ کا تعلق ہے، اس کا مطالبہ تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی ہورہا تھا کہ یہ نفاذ اسلام کا ایک اہم تقاضا تھا، لیکن اس کی عملی نوبت جنرل ضیاء الحق شہید ؒ کے دور صدارت میں آئی اور انہوں نے ایک آرڈیننس کی صورت میں اسے ملک میں نافذ کردیا جو ’’حدود آرڈیننس‘‘ کہلاتاہے اور مسلسل مخالفت اور اعتراضات کا ہدف ہے۔ اس کی متعدد دفعات کو نہ صرف وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا گیا ہے بلکہ اس کی منسوخی کے لیے قومی اسمبلی میں باقاعدہ بل لانے کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق شہیدؒ کے نافذ کردہ اس حدود آرڈیننس پر پاکستان میں اور عالمی سطح پر دو طبقوں کو اعتراض ہے اور وہی ا س کے خاتمے کے لیے مسلسل تگ ودو کررہے ہیں۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے’’حدود اللہ ‘‘ کے نفاذ کے خلاف ہے۔ وہ چور کا ہاتھ کاٹنے، زانی کو سنگسار کرنے، جھوٹی تہمت پر کوڑے لگانے یا قصاص میں عضو کے بدلے عضو کاٹنے کو بھی غلط سمجھتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی بیان کردہ سزاؤں کو اس دور کے قبائلی معاشرہ کی ضرورت سمجھتے ہوئے آج کے دو ر میں ان کے نفاذ کو غیر ضروری بلکہ غلط قراردیتاہے اور یہ طبقہ اس معاملے میں مغرب کے فکرو فلسفہ سے مکمل طور پر متفق اور ہم آہنگ ہے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو ان حدود کے اسلامی ہونے کاقائل ہے، لیکن اسے شکایت ہے کہ ان حدود کی تعبیرو تشریح کے لیے ’’حدود آرڈیننس ‘‘ مرتب کرنے والوں نے ان حضرات کے موقف اور تعبیرات کو معیار تسلیم کرنے کی بجائے امت مسلمہ کے جمہور فقہاے کرام کی تعبیرات کو کیوں بنیاد بنایا ہے اور حدود شرعیہ بلکہ اسلامی احکام وقوانین کی جدید تعبیر وتشریح کرنے والے ان دانش وروں کے نقطہ نظر کو توجہ کے قابل کیوں نہیں سمجھا؟ اس پر یہ حضرات اس قدر سیخ پا ہیں کہ سرے سے حدود آرڈیننس کو منسوخ اور ختم کرانے کے لیے پہلے طبقہ کے شانہ بشانہ جاکھڑے ہوئے ہیں، حالانکہ ان حضرات کی یہ شکایت بجائے خود محل نظر ہے اور اپنی تعبیرات کو ہر حال میں امت سے قبول کرانے کے لیے ا ن کی ضد اور ہٹ دھرمی کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک دوست سے میرا اس مسئلہ پر مکالمہ ہوا۔ان صاحب کا کہنا تھا کہ کیا حدود کی تعبیر وتشریح میں فقہائے امت کی تعبیرات حرف آخر ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کی تعبیرات حرف آخر ہیں؟ اس پر وہ چپ ہوگئے۔ میں نے گزارش کی کہ کسی بھی سلیم العقل اور صاحب انصاف کو یہ صورت حال پیش آجائے کہ ایک طرف امت کے جمہور فقہا کی تعبیرات ہوں اور دوسری طرف چند دانش ور حضرات اپنی تعبیرات کو اس کے مقابلے پر پیش کررہے ہوں تو ایک انصاف پسند شخص امت کے چودہ سو سالہ تعامل اور تمام دینی و علمی مکاتب فکر کے جمہور علما کی اجتماعی تعبیرا ت کو چند دانش وروں کی آرا پر قربان کرنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہیں ہوگا ۔ایسے اصحاب دانش کی حالت انتہائی قابل رحم ہے جو مولوی پر یہ الزام لگاتے ہوئے نہیں تھکتے کہ وہ ضدی ہے، ہٹ دھرم ہے اور دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام نہیں کرتا، لیکن خود ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل اور آج کے جمہور علماے امت کے اتفاقی موقف کے سامنے چند افراد اس بات پر مصر ہیں کہ قرآن وسنت کے احکام ومسائل میں ان کی تعبیرات وتشریحات کو ہر حال میں قبول کیاجائے اور صرف انہی کو ’’معیار حق‘‘ قرار دے کر احادیث نبویہ ؑ اور فقہ اسلامی کے پورے ذخیرے کو ان کے سامنے ’’سرنڈر ‘‘ کرا دیاجائے، ورنہ وہ مغرب کے ساتھ ہیں اور سرے سے اسلامی احکام وقوانین کے نفاذ کو غیر ضروری قرار دینے والوں کی صف میں کھڑے ہیں ۔
یہ بات درست ہے کہ حدود آرڈیننس کا وہ حصہ جس کا تعلق تطبیق ونفاذ کی عملی صورتوں سے ہے، حرف آخر نہیں ہے اور موجودہ عدالتی نظام کے پس منظر میں ان میں سے بعض باتوں پر نظر ثانی ہوسکتی ہے لیکن یہ یکطرفہ بات ہے، اس لیے ’’حدود‘‘ کے نفاذ کو جس عدالتی نظام کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے، وہ بجائے خود محل نظر ہے اور نیچے سے اوپر تک اس کی ہر سطح اور ماحول چیخ چیخ کر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہاہے۔ حدود آرڈیننس کے نفاذ سے جو مشکلات او ر شکایات عملی طور پر سامنے آئی ہیں، ان میں سے بعض کا تعلق آرڈیننس کی بعض شقوں سے ہوسکتاہے، لیکن ان میں سے بیشتر شکایات اور مشکلات کا تعلق موجودہ عدالتی سسٹم اور اس کے پیچ درپیچ نظام سے ہے اور یہ شکایات صرف حدود کے حوالے سے نہیں بلکہ ملک کا ہر قانون اس عدالتی سسٹم کی پیچیدگی اور تہہ درتہہ الجھنوں کا نوحہ کناں ہے، مگر ہمارے یہ دانش ور اس سارے ملبہ کو حدود آرڈیننس پر ڈال کر اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل توہین رسالت ؑ کی سزا کے قانون کے حوالہ سے سوال اٹھا تھا کہ اس کاغلط استعمال ہورہاہے، اس لیے اسے ختم کردیاجائے۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ کون سا قانون ملک میں ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہورہا؟ اگر کسی قانون کو ختم کردینے کے لیے صرف یہی جواز کافی ہو کہ ا س کے غلط استعمال ہونے کا امکان موجود ہے تو ملک کے پورے قانونی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا ہوگا، اس لیے کہ ملک میں کوئی قانون بھی ایسا نہیں ہے جس کا غلط استعمال نہ ہو رہاہو اور جس کے غلط استعمال کا امکان موجود نہ ہو مگرا س کاتعلق قانون سے نہیں بلکہ قانونی نظام اور معاشرتی ماحول سے ہوتاہے۔
اس پس منظر میں ہمیں ان حضرات سے کوئی شکوہ نہیں ہے جو ا س حوالہ سے مغرب کی نمائندگی کررہے ہیں اور سرے سے حدود کے نفاذ ہی کے مخالف ہیں، اس لیے کہ ان کا موقف واضح ہے لیکن جو لوگ اسلام کا نام لے کر مغرب کے موقف اور ایجنڈے کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں، ان سے شکوے کا حق ہم ضرور رکھتے ہیں کیونکہ جسٹس(ر) دراب پٹیل اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھ جب ہم محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کو ایک ہی صف میں کھڑ ادیکھتے ہیں تو بہرحال ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔
بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت، ترجیحات اور تقاضے
پروفیسر محمد اکرم ورک
(مرکزِ تحقیق ،فیصل آباد کے زیر اہتمام دوسرے قومی سیرت سیمینار منعقدہ ۳۔۴ جون ۲۰۰۶ کے لیے لکھا گیا۔)
بسم اللّٰہ الرحمن الر حیم۔
الحمدللّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلا م علی جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصا علی سید الرسل وخاتم النبین وعلی اٰلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین،اما بعد!
مرکزِ تحقیق ،فیصل آباد کے زیر اہتمام دوسرے قومی سیرت سیمینار میں میری گفتگو کا عنوان ہے ’’باہمی تعلقات کے لیے بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت وضرورت، ترجیحات اور تقاضے ‘‘ ۔سب سے پہلے تو میں مرکزِ تحقیق کے منتظمین اور ذمہ داران کو مبارک باد پیش کرنا چاہوں گا جنھوں نے آج کے معروضی حالات اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اس اہم موضوع پراس پروقار تقریب کا انعقاد کیاہے، اوران تما م احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ جیسے طالب علم کو اس اہم اور فکر انگیز موضوع پر اظہارِ خیال کاموقع فراہم کیا۔
معزز حاضرین!
اربابِ دانش سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ گلوبلائزیش(Globalization) کے اس دورمیں بین المذاہب مکالمہ (Inter-Faith Dialogue) کی ضرورت و اہمیت پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے،باہمی مکالمہ ہی وہ واحد آپشن ہے جس سے کسی بھی مذہب کا داعی مخاطب کو اپنی دعوت کی طرف متوجہ کرسکتا ہے ، باہمی مکالمہ دعوت کا ایک ایسا اسلوب ہے جس کے ذریعے مخاطب کو زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبورکیا جا سکتاہے، گفتگو کایہ ایسا اسلوب ہے جس میں متکلم اور سامع کے درمیان براہ راست گفتگو ہوتی ہے اور حقائق پوری طرح نکھر کر سامنے آتے ہیں، اب یا تو مخاطب مدِّ مقابل کے موقف کو قبول کرلیتاہے یا پھر دلائل کی بنیاد پر رد کر دیتاہے، یہ مکالمہ افراد کے درمیان بھی ہوسکتاہے، تہذیبوں اور مختلف مذاہب کے درمیان بھی۔
سیرت طیبہﷺ کی روشنی میں بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت
بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپﷺ کی امت آخری امت ہے اس لئے امت اجابت ہونے کی حیثیت سے دنیا کے تمام انسانوں تک پیغامِ الٰہی کا پہنچانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے ۔قرآن و حدیث کے متعدد نصوص سے واضح طور پرامت محمدیہﷺ پر انفرادی اور اجتماعی سطح پریہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ شاہانِ عالم کے نام رسول اللہ ﷺکے دعوتی و تبلیغی خطوط جہاں معاصر مذاہب اور تہذیبوں سے آپ ﷺ کے مکالمہ کی ایک خوب صورت مثال ہیں وہی یہ خطوط اس بات کی بھی دلیل ہیں کہ اسلام اصلاً دینِ دعوت ہے اور اس کی دعوت کا دائرہ کار تمام عالم کو محیط ہے ،اس لئے اس کے عالمی پیغام کو دوسروں تک منتقل کرنا مسلمانوں کادینی فریضہ ہے۔ مذاہبِ عالم میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف عالمگیر سطح پر دعوت وتبلیغ کا حکم دیاہے بلکہ دوسری تہذیبوں، قوموں اور افراد کے ساتھ گفتگو اور مکالمے کے باقاعدہ اصول بھی بیان کیے ہیں ۔قرآن مجید نے ایک داعی کے لئے مکالمے کے جو بنیادی اصول بیان کئے ہیں وہ یہ ہیں :
(اُدْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ) (النحل ،۱۶،۱۲۵)
’’آپ ﷺلوگوں کو اپنے پروردگارکی طرف حکمت اوراچھی نصیحت سے بلائیے اوران کے ساتھ پسندیدہ طریقہ سے بحث کیجئے۔‘‘
اسلام کی یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جو اسے تمام الہامی اور غیر الہامی مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔ علامہ سید سلمان ندویؒ (م ۱۹۵۳ھ) لکھتے ہیں:
’’یہ نکتہ کہ کس طرح لوگوں کو سچائی قبول کرنے کی دعوت دینی چاہیے دنیامیں پہلی دفعہ محمد رسول اللہﷺ کی زبان وحی ترجمان سے اداہوا، وہ مذہب بھی جو الہامی اور تبلیغی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے صحیفوں نے ان کے لیے تبلیغ کے اہم اصول کی تشریح کی ہے، لیکن صحیفہ محمدیﷺ نے نہایت اختصار لیکن پوری تشریح کے ساتھ اپنے پیرووں کو یہ بتایا کہ پیغامِ الٰہی کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان کو قبولِ حق کی دعوت کس طرح دی جائے۔‘‘(1)
مذا ہبِ عالم میں عملی طور پر صرف عیسائیت اور اسلام ہی تبلیغی مذاہب ہیں ،دیگر تمام مذاہب کا دائرہ کار کسی خاص علاقے یا نسل تک محدود ہے ،جبکہ عیسائیت کی عالم گیر دعوت اور اشاعت بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیمات کے منافی ہے کیونکہ ان کی بعثت خاص بنی اسرائیل کی طرف ہوئی تھی۔حضرت عیسیٰ ؑ کا بیان ہے:
’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجاگیا ۔‘‘ (انجیل متّی ،۱۵:۲۴)
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب بارہ نقیب مقرر فرمائے اور ان کو مختلف علاقوں کی طرف دعوت وتبلیغ کے لیے روانہ فرمایا تو بطور خاص ان کوتلقین فرمائی :
’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔‘‘ ( انجیل متی، ۱۰:۶)
الغرض یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے اپنے پیروکاروں کو نہ صرف دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کا حکم دیا ہے بلکہ دیگر مذاہب اور تہذیبوں کے ساتھ مکالمے کے بنیادی اصولوں کی تعلیم بھی دی ہے ۔ داعی اعظم ﷺنے مختلف اقوام اور تہذیبوں کے ساتھ جو مکالمہ فرمایا ،سیرتِ طیبہ سے اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ایک طرف حضورﷺنے عرب کی مشرکانہ تہذیب کے نمائندہ افراد ، سردارانِ قریش اور ان کے وفود سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مکالمہ کیا ، اور دوسری طرف ورقہ بن نوفل سے لے کر نجران کے عیسائی علماء سے آپ ﷺکا مکالمہ گویا عیسائیت سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مکالمہ تھا، اسی طرح مدنی دور میں میثاق مدینہ ،جس کے بڑے فریق یہودی قبائل تھے،یہود سے مکالمہ ہی کی ایک صورت تھی۔
ہم زبانی ،بین المذاہب مکالمے کا بنیادی اصول
حضورﷺ کے نزدیک مکالمہ بین المذاہب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ نے مختلف صحابہ کرامؓ کودوسری قوموں کی زبانیں سیکھنے کا حکم دیا ،کیونکہ دعوت وتبلیغ اور باہمی مکالمہ میں تاثیر اور قوت اسی وقت پیداہوسکتی ہے جب پیغام کی زبان آسان،نرم اورقابل فہم ہو،ہم زبانی سے اُنسیت میں اضافہ ہوتاہے،اجنبیت دور ہوجاتی ہے اور گفتگو کا مقصد آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکتاہے ۔اسی ضرورت کے پیشِ نظر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن ثابتؓ (م ۴۴ھ) کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا ،تاکہ یہود سے انہی کی زبان میں گفتگو کی جاسکے اور انہی کی زبان میں ان کے خطوط کا جواب دیاجاسکے۔حضرت زید بن ثابتؓ کا بیان ہے:
’’فتعلّمت کتابھم مامرّت بی خمس عشرۃ لیلۃ حتی حذقتہ وکنت اقراء لہ کتبھم اذا کتبوا الیہ واجیب عنہ اذا کتب‘‘(2)
’’پس میں نے ان کی زبان میں لکھنا سیکھ لیا۔ ابھی پندرہ دن نہیں گزرے تھے کہ میں اس میں ماہر ہو گیا۔ جب یہودی کوئی خط آپ ﷺ کی طرف لکھتے تو میں آپ ﷺ کو پڑھ کر سنا دیتا اور اگر آپ ﷺ کو جواب لکھنا ہوتا تو میں وہ لکھ دیتا۔‘‘
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ایک ایرانی عورت حضرت ابو ہریرہؓ (م ۵۸ھ) کی خدمت میں استغاثہ لے کر آئی کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب مجھ سے میرا بیٹا بھی چھینا چاہتاہے اس عور ت نے یہ ساری گفتگو فارسی زبان میں کی اور ابو ہریرہؓ نے بھی اس سے اسی زبان میں گفتگو کی اور پھر آپؓ نے بچہ عورت کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔(3)
ان واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ نے دوسری قوموں کی زبانیں صرف اس غرض سے سیکھ رکھی تھیں تاکہ ان سے براہ راست تبادلہ خیال کرکے اس کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کے بعض اجزا کادوسری زبانوں میں ترجمہ بھی کیا تھا تاکہ عربی زبان سے ناواقف لوگ اسلام کی حقیقی روح اور تعلیمات سے محروم نہ رہ جائیں ۔چنانچہ علامہ سرخسیؒ (م ۴۹۰ھ) لکھتے ہیں:
’’روی ان الفرس کتبوا الی سلمانؓ ان یکتب لھم الفاتحۃ بالفارسیۃ فکانوا یقرء ون ذالک فی الصلوۃ حتیٰ لانت السنتھم للعربیۃ‘‘ (4)
’’بیان کیا جاتاہے کہ بعض نو مسلم ایرانیوں نے حضرت سلمانؓ کی خدمت میں لکھا کہ ان کے لیے سورۃ الفاتحہ کو فارسی میں نقل کردیاجائے ،چنانچہ وہ لوگ (اسی ترجمہ کو)نماز میں پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ عربی سیکھ گئے۔‘‘
اسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ایک اوربڑے فقیہ نے اپنی کتاب ’’النہایۃ حاشیۃ الھدایۃ ‘‘ میں مزید تفصیل درج کی ہے کہ حضرت سلمان فارسیؓ (م ۳۳ھ) نے رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے یہ کام انجا م دیا اور ان کے ترجمے کا ایک جز بھی نقل کیاہے ،’’بنام خداوند بخشا یندہ مہربان ‘‘ یہ بسم اللہ کا ترجمہ ہے ۔(5)
شاہانِ عالم کی طرف بھیجے جانے والے نبوی سفراء کا معجزانہ طور پر انہیں قوموں کی زبان میں گفتگو کرنے لگ جانا بھی دعوت وتبلیغ اور مکالمے میں زبان کی یکسانیت کی اہمیت کو واضح کرتاہے۔(6)
ا س کے علاوہ جن صحابہ کرامؓ کو رسول اللہﷺ نے مختلف قوموں کی طرف داعی اور مبلغ بنا کر روانہ فرمایا اس میں بھی یہ چیز آپ ﷺ کی حکمتِ عملی کا حصہ نظر آتی ہے کہ وہ مبلغ اسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں بصورتِ دیگروہ اس قوم کی زبان، رسم ورواج اور کلچر سے آگاہ ہوں ۔ بہر حال آپﷺ کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ آپﷺ کی نظر میں بین المذاہب مکالمے کو اس قدر اہمیت حاصل تھی کہ آپ ﷺ نے اس مقصد کے لئے صحابہ کرامؓ کی باقائدہ تربیت فرمائی۔
اسلام کی ترجیح : امن اور مکالمہ
سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب بھی آپﷺ کو جنگ اور امن میں سے کسی ایک پہلو کو اختیار کرنے کا موقع ملا تو آپﷺنے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ،یہی وجہ ہے کہ صلح حدیبیہ 6 ھ کے موقع پر آپﷺ نے جنگ پر امن کو ترجیح دی اور ایسی شرائط پر بھی صلح کو قبول کر لیا جن سے بظاہر مسلمانوں کی پسپائی کا واضح تاثر ملتا تھا ،اگرچہ ان شرائط کے قبول کرنے سے مسلمانوں کی دل شکنی ہوئی اور صحابہؓ نے اس پر احتجاج بھی کیا، لیکن آپ ﷺ نے جنگ پر امن کو ترجیح دی کیونکہ آپﷺ اپنے نورِ بصیرت سے دیکھ رہے تھے کہ امن کی صورت میں جب اسلامی اور مشرکانہ تہذیب کے درمیان آزادانہ ماحول میں مکالمہ ہوگا تو قریش اور دیگر قبائل کو مسلمانوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اوریہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب مسلمان اور قریش باہم ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر ملنے لگے اور انہیں ایک دوسرے کے موقف کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملا تو صرف دوسال کے عرصہ یعنی فتح مکہ 8ھ تک اتنے کثیر لوگ مسلمان ہوئے جتنے پہلے تمام عرصے میں نہیں ہوئے تھے ۔امام زہری ؒ (م ۱۲۵ھ) کا بیان ہے:
’’فما فتح فی الاسلام فتح قبلہ کان اعظم منہ،انما کان القتال حیث التقی الناس ،فلما کانت الھدنۃ ،ووضعت الحرب وآمن الناس بعضھم بعضا ،التقوا فتفاوضوا فی الحدیث المنازعۃ، فلم یکلم احد بالاسلام یعقل شیئا الادخل فیہ، ولقد دخل فی تینک السنتین مثل من کان فی الاسلام قبل ذلک او اکثر‘‘(7)
’’صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام میں اتنی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی ۔لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوکر رہتی تھی ،لیکن جب صلح ہوگئی ،جنگ موقوف ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے سے بے خوف ہوگئے باہم ملے جلے باتیں ہوئیں تو کوئی عقل مند ایسا نہیں تھا جس سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی اور اس نے قبول نہ کرلیا۔چنانچہ جتنے لوگ ابتداء سے اب تک مسلمان ہوئے تھے صر ف ان دو برسوں میں ان کے برابر بلکہ ان سے زیادہ تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے۔‘‘
یہاں ضمناً ایک اور بات کا ذہن نشین رہنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں اسلام کی امن پسندی پر استدلال کے لئے صلح حدیبیہ کا حوالہ جس انداز سے دیا جاتا ہے اس سے اس عظیم تاریخی واقعے کی حیثیت محض ایک منفی سمجھوتے کی سی ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ کوئی بھی تاریخی واقعہ یک دم وقوع پذیر نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا ایک پورا پس منظر ہوتا ہے۔صلح حدیبیہ کو بھی اگر اس کے تاریخی پسِ منظر میں دیکھا جائے تو صاف معلوم ہو تا ہے کہ سن 6 ھ سے قبل کے واقعات اسلام کے متعلق ہر قسم کے مفعولی تاثر کو ختم کر چکے تھے، اس پسِ منظر میں صلح کا معاہدہ مسلمانوں سے زیادہ خود قریش کی ضرو رت تھا، یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لئے مسلمانوں سے مشہور بیعت’’ بیعتِ رضوان‘‘ لی اور مسلمان جنگ کے لئے تیار ہو گئے تو قریش نے عافیت اسی میں جانی کہ صلح کے موقع کو ضائع نہ کیا جائے، تاہم آپﷺ نے جن شرائط پر صلح کی اس سے آپﷺ کی امن پسندی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
معزز حاضرین!
اسلام میں دعوت اصل ہے اور جہاد ضرورتاََ،جہاد کی اگر اجازت ہے تو وہ صرف اسلامی تہذیب و تمدن کے دفاع اور استحکام کے لئے ہے،اس لئے لا محالہ اسلام کی ترویج و اشاعت کا تمام تر انحصار صرف دعوت و تبلیغ اور باہمی مکالمہ پر ہے اس لئے ایک سچے داعی کی حیثیت سے ہمارے لئے بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت واہمیت کو تسلیم کرنا دینِ اسلام کا بنیادی تقاضہ بن جاتا ہے۔جب اسلام کی ترویج واشاعت کا تمام تر انحصار دعوت و تبلیغ اور باہمی مکالمہ پر ہی ہے تو اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ باہمی مکالمہ اور امن وامان کا ماحول اسلام کی ضرورت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب بھی دلائل کی بنیاد پر گفتگو ہو گی تو میدان ہمیشہ اسلام اور اہلِ اسلام کے ہاتھ ہی رہے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُون) (التوبۃ ،۹:۳۳)
’’وہ اللہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو کیسا ہی ناگوار ہو۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں اکثرمفسرین نے یہی لکھا ہے کہ اسلام کا غلبہ تمام ادیان پر عقل واستد لال کی رو سے تو مطلق ہے اور وہ کسی زمانہ اور وقت کے ساتھ مخصوص نہیں البتہ مادی غلبہ اہلِ اسلام کی اہلیت اور صلاحیت کے ساتھ مشروط ہے ،کیونکہ آزادانہ مباحثے اور مکالمے میں آخر کار جو چیز باقی رہے گی وہ سچائی ہے جبکہ کامل اور بے داغ سچائی اسلام کے علاوہ کسی او ر کے پاس نہیں ہے ،اسلام کے پاس طاغوت کو شکست دینے کے لیے دلائل وبراہین کی ہرگز کمی نہیں ہے اور مکالمے کی میز پر یہی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔
معزز حاضرین !
حقیقت یہ ہے کہ جب دلیل ہار جائے تو انسان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتاہے توہین آمیز خاکوں سمیت اہل مغر ب کی اسلام کے خلاف موجودہ آویزش در اصل دلیل کی شکست کا اعتراف ہی تو ہے اس وقت جبکہ مغر ب دلیل کی زبان میں اسلام کا مقابلہ کرنے سے پہلو تہی کر رہاہے اور اپنی برتر ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مسلمانوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں کرنا چاہتا ہے ، مسلمان اہلِ دانش کا کام یہ ہے کہ وہ اہلِ مغرب کو مکالمے کی اس کی میز پر کھینچ لائیں جہاں انہیں مدِّ مقابل پر فیصلہ کن برتری حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ میدان ہے جس میں اسلام کی کامیابی کے امکانات سو فیصد ہیں بشرطیکہ ہم اسلام کو صحیح طور پر اپنے مخاطبین کے سامنے پیش کرسکیں۔
اس موقف کی ایک دلیل وہ مکالمہ بھی ہے جو نجران کے عیسائی علماء اور حضورﷺ کے درمیان ہوا ، جب عیسائی علماء حضور ﷺ کے دلائل کے سامنے بالکل عاجز آ گئے تو انھوں نے جزیہ دینے کی شرط پر آپ ﷺکے ساتھ صلح کرلی۔ عیسائی علماء کا دلیل اور استدلال کو چھوڑ کر جزیہ پر صلح کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس حقیقت کو جان چکے تھے کہ اسلام کا مقابلہ مکالمے اور استدلال کی زبان میں ممکن نہیں ۔
اہل علم واقف ہیں کہ ولیم میور نے جب Life of Muhammad لکھ کررسول اللہ ﷺ کے مقام اور مرتبہ کو کم کرنے کی کوشش کی تو علامہ شبلی نعمانی ؒ (م ۱۹۱۴ء) نے اپنے قلم کو جنبش دی، اپنے شعورکو مجتمع کیا اور اپنے فہم وادراک کو کام میں لاتے ہوئے’’ سیرت النبی ﷺ ‘‘جیسی معرکۃ الآراء کتاب سے مستشرق موصوف کا منہ بند کر دیا۔دورِ حاضر میں’’ضیاء النبیﷺ ‘‘ کی صورت میں پیر محمد کرم شاہ الازھری ؒ ( م ۱۹۹۸ء) نے بھی یہی خدمت انجام دی ہے۔
عصر حاضر میں اسلام کا مکالمہ کس مذہب سے ہے؟
اس وقت مختلف سطحوں پر بین المذاہب مکالمے کی ضروت و اہمیت پر زور دیا جارہا ہے جون ؍۲۰۰۴ء میں اوسلو (ناروے ) میں پہلی بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی جس میں گورنمنٹ آف ناروے اور نارویجن چرچ کی دعوت پر مولانا محمد حنیف جالندھری ،مفتی منیب الرحمن، ریاض حسین نجفی اور بشپ سموئیل عزرایاہ وغیرہ نے شرکت کی۔ عالمی سطح کی اس بین المذاہب کانفرنس میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور محبت کی فضا کو فروغ دینے پر زور دیا’’اعلانِ اوسلو‘‘کے تحت پاکستان میں بھی ’’ورلڈ کونسل آف ریلیجنز برائے عالمی امن وعدل اجتماعی ‘‘کے زیر اہتمام ۱۶؍ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری ہال، اسلام آبا د، میں پہلی بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ۔اس کے بعد سے یہ سلسلہ مسلسل جاری وساری ہے۔ یقیناًیہ ساری کوششیں لائقِ صد تحسین اور قابلِ قدر ہیں ،لیکن اس ساری تگ ودو کے مثبت اور دور رس نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم بعض باتیں طے کرلیں سب سے پہلی بات تو ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ آج کی عالمی صورتِ حال میں اس مکالمے کے اصل فریق کون ہیں؟اور دوسرا، یہ کہ اس مکالمے کاایجنڈا کیاہے؟اس طرح ہمارے لئے یہ ممکن ہو گا کہ ہم علمی حلقوں میں اپنا موقف بہتر طور پر پیش کرسکیں ۔
معزز حاضرین!
فی الوقت دنیا میں اسلام کے علاوہ عیسائیت،یہودیت،ہندو مت،بدھ مت، جین مت وغیرہ ہی کو دنیا کے بڑے اور زندہ مذاہب کی صف میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔وحی ،الہام اور خدا پریقین رکھنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق انھی مذاہب سے ہے، اپنی غیر فطری اور غیر عقلی تعلیمات کی وجہ سے ان مذاہب کا ماضی میں بھی انسانی سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے کوئی زیادہ تعلق نہیں رہا ہے، لیکن عقل پرستی (Rationalism) کے موجودہ دور میں مذہب کا لوگوں کی ذاتی زندگی سے عمل دخل بھی بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہو رہا ہے۔ اور اس وقت عملی طور پر مسلمانوں کے علاوہ انسانوں کی غالب اکثریت لا دین اور سیکولر ہے اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کے بعد اس وقت بلا امتیاز رنگ ونسل پوری دنیا میں مغربی سیکولر ازم مقبول ترین مذہب کی حیثیت اختیا کر چکا ہے ،تو غلط نہ ہوگا۔ اس وقت جبکہ دنیا کے تمام مذاہب ایک تاریخی یاد گار کی حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں، یہ کہنا درست معلو م ہوتا ہے کہ دورِ حاضر میں مغربی فکرو فلسفہ کی بنیاد پر پروان چڑھنے والا سیکولر ازم ہی اسلام کا اصل مدِّ مقابل ہے۔
حالات کے سرسری جائزے سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت مغرب اور مسلمانوں کے درمیان جو علمی ،فکری اور تہذیبی کشمکش جاری ہے اس کے اصل فریق مغرب کے مذہب سے منحرف سیکولر حلقے اور مذہب پر پختہ یقین رکھنے والے مسلمان ہیں ،جبکہ عیسائی علما اس مکالمے کے اصل فریق نہیں ہیں کیونکہ مغرب کے عیسائی رہنماجس مذہب کی نمائندگی کرتے ہیں اس کا مغرب کی اجتماعی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، اس لئے موجودہ کشمکش میں عیسائی علماء سے مکالمہ کی افادیت محدود ہے۔
اس واضح حقیقت کے باوجود ہمیں عیسائیت اور دیگر مذاہب سے گفتگو اور مکالمے سے انکار نہیں ہے تاہم روایتی عیسائی حلقے سے ہماری گفتگو اس موضوع پر ہونی چاہیے کہ عیسائی مذہبی رہنما اپنے معاشرے کو وحی الہٰی اور آسمانی تعلیمات کی طرف واپس لانے کے لیے کیا کردار اد اکرسکتے ہیں ؟ جبکہ وہ اصولی طور یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور انسان کی اجتماعی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت جبکہ پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی بنی نوع انسان کی وحی الٰہی اور مذہب کی طرف واپسی کی کوشش کررہے ہیں، سوال یہ ہے کہ مغرب کے مذہبی حلقے اس حوالے سے مسلمانوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں ؟۔
مسلمانوں کو اپنے عیسائی مخاطبین پر یہ حقیقت واضح کرنی چاہیے کہ وہ دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں جو الحاد اور لادینیت کے خوفناک طوفان کے اندر گھری ہوئی ہے اور الحادو لا دینیت کے اس عالم گیر طوفان کے خلاف مسلمان، مسیحی اور دیگر مذہبی علماء ایک دوسرے کے فطری اتحادی ہیں۔ عیسائی علما ء کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اگر و ہ واقعی وحی اور آسمانی تعلیمات کی صداقت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور انسانی معاشرے پر اس کی علمبرداری کے خواہش مند ہیں تو انہیں سیکولر حلقے کی تائید کی بجائے وحی اور آسمانی تعلیمات کے معاشرتی کردار کی کوشش کرنی چاہیے۔
روایتی مذہبی حلقے سے مکالمے کے بنیادی اصول
بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ نسلِ انسانی کی فلاح اور بہتری کے لئے ہم مسیحیت کے ساتھ مکالمہ میں مشترک صفات پہ زور دیں ،دینِ ابراہیمی کی مشترک روایت حضرت عیسیٰؑ اور مریم علیہا السلام کا احترام اور ہمارے مشترک سماجی بندھن وغیرہ عیسائیت کے ساتھ مکالمے کی بنیاد بن سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میںآپﷺ کے شاہانِ عالم کے نام خطوط ہمارے لئے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ہرقل اور دیگر عیسائی حکمرانوں سے رسول اللہﷺ کا بذریعہ خطوط جو مکالمہ ہوا اس میں درج ذیل آیت مقدسہ کا مکرر استعمال ہمارے لئے قابلِ توجہ ہے:
(قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً )(آل عمران ،۳:۶۴)
’’آپﷺ کہہ دیجیے کہ اے اہلِ کتاب ایسے قول کی طرف آ جاو جو ہم میں اور تم میں مشترک ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘
اسی طرح شاہانِ عالم کے نام خطوط لے جانے نبوی سفراء جن کی رسول اللہﷺ نے خاص اسی مقصد کے لئے تربیت فرمائی تھی، نے جس طرح اپنے مخاطبین سے مکالمہ کیاوہ اسلوب بھی ہمارے لئے بین المذاہب مکالمے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ حضورﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہؓ (م ۳۰ھ) کو مقوقس ،شاہِ مصر کی طرف دعوتی خط دے کر روانہ فرمایا،ابنِ اثیر(م ۶۳۰ھ) نے حضرت حاطبؓ اور شاہِ مصرکے درمیان ہونے والے مکالمے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب شاہِ مصر نے حضرت حاطبؓ سے یہ کہا کہ اگر تمہارے صاحب اللہ کے رسول ہیں تو پھر تمہارے نبیﷺ نے اس وقت اپنی قوم کے خلاف بد دعا کیوں نہ کی جب ان کی قوم نے ان کو ان کے اپنے شہر سے نکالا ؟تو حضرت حاطبؓ نے فرمایا: عیسیٰؑ بن مریم کی نسبت توآپ خود کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول تھے پھر جب ان کو ان کی قوم نے سولی دینے کا ا رادہ کیا تو انہوں نے ان کو بددعا کیوں نہ دی ؟ یہاں تک کہ اللہ نے ان کوآسمان پر اٹھالیا۔ مقوقس اس برجستہ جواب سے بڑا متاثر ہو ااور کہنے لگا :
’’احسنت!انت حکیم جاء من عند حکیم ‘‘(8)
’’تم نے اچھا جواب دیا تم حکیم ہو او ر حکیم کے پاس سے آئے ہو ۔‘‘
امام ابنِ قیم ؒ ( م ۷۵۱ھ) نے مقوقس اور حضرت حاطبؓ کے باہمی مکالمے کی جو روایت نقل کی ہے وہ حسب ذیل ہے:
حاطبؓ:’’(اس زمین پر )تم سے پہلے ایک شخص (فرعون) گزرا ہے جو اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ سمجھتا تھا ۔اللہ نے اسے آخر واوّل کے لیے عبرت بنا دیا ۔پہلے تو اس کے ذریعے لوگوں سے انتقام لیا پھر خود اس کو انتقام کا نشانہ بنا یا لہٰذا دوسروں سے عبرت پکڑو ،ایسانہ ہو کہ دوسرے تم سے عبرت پکڑیں ۔‘‘
مقوقس :’’ہمارا ایک دین ہے جسے ہم چھوڑنہیں سکتے جب تک کہ اس سے بہتر دین نہ مل جائے ۔‘‘
حاطبؓ:ہم تمھیں اسلام کی د عوت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام ماسوا (ادیان) کے بدلے کافی بنا دیا ہے ۔دیکھو ! اسی نبیﷺ نے لوگوں کو (اسلام کی) دعوت دی تو اس کے خلاف قریش سب سے زیادہ سخت ثابت ہوئے، یہود نے سب سے بڑھ کر دشمنی کی اور نصاریٰ سب سے زیادہ قریب رہے ۔میری عمر کی قسم! جس طرح موسیٰ ؑ نے عیسیٰ ؑ کے لیے بشارت دی تھی،اسی طرح حضرت عیسی ؑ نے محمد ﷺ کے لیے بشار ت دی ہے ،اور ہم تمھیں قرآنِ مجید کی دعوت اسی طرح دیتے ہیں جیسے تم اہلِ تورات کو انجیل کی دعوت دیتے ہو ۔جو نبی جس قوم کو پاجاتاہے وہ قوم اس کی امت ہوجاتی ہے اور اس پر لازم ہوجاتاہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کرے او ر تم نے اس نبی کا عہد پالیا ہے ،اور پھر ہم تمھیں دینِ مسیح سے روکتے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اسی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘
مقوقس : میں نے اس نبی ﷺ کے معاملہ پرغور کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ کسی ناپسندیدہ بات کا حکم نہیں دیتے اور کسی پسندیدہ بات سے منع نہیں کرتے وہ نہ گمراہ جادوگر ہیں نہ جھوٹے کاہن ،بلکہ میں دیکھتاہوں کہ ان کے ساتھ نبوت کی یہ نشانی ہے کہ وہ پوشیدہ کو نکالتے ہیں اور سرگوشی کی خبر دیتے ہیں ،میں مزید غورکروں گا۔‘‘(9)
حضر ت حا طبؓ (م ۳۰ھ) اور مقوقس کے باہمی مکالمہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ر سول اللہ ﷺ نے جن اصحابؓ کو دوسری قوموں کی طرف دعوت وتبلیغ کے لیے ر وانہ فرمایا،ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور خاص طور پر اس بات کا اہتمام فرمایا کہ جو صحابیؓ جس قوم کی طرف جائے ایک تو وہ اس قوم کی زبان سے اچھی طرح واقف ہو، دوسرا، وہ ان کے کلچر اور رسم ورواج سے واقف ہو، تیسرا ،وہ ان کے دین سے جس کو وہ اختیار کیے ہوئے ہیں آگاہ ہو اور چوتھا یہ کہ وہ اس سر زمین کے پورے جغرافیہ سے بھی مکمل واقفیت رکھتاہو ،تاکہ باہمی مکالمہ میں اسے ان معلومات کی بنا پراپنے مخاطب پر علمی برتری حاصل رہے ۔ ہم نے اختصار کے پیشِ نظر محض ایک مثال ذکر کی ہے اگر تمام نبوی سفراء کے احوال کاتفصیلی جائزہ لیا جائے تو بین المذاہب مکالمے کے لئے کئی راہنمااصول اخذ کئے جا سکتے ہیں۔(10)
مغرب کے تحفظات پر مکالمے کا اسلوب
جو لوگ خدا ،رسول اور آخرت پر اعتقاد رکھتے ہوں ان کے ساتھ مکالمہ نسبتاً آسان ہے، اگر چہ اہل مغرب کا اب بھی چرچ کے ساتھ کمزور سا تعلق باقی ہے لیکن مغرب کی اکثریت بالخصوص اہلِ یورپ عیسائیت کی بنیادی تعلیمات سے دست بردار ہو چکے ہیں اس لئے مسلمان مبلغین کو مغرب میں تمام خرابیوں کی ذمہ داری عیسائیت کے سر نہیں ڈال دینی چاہیے،بلکہ ان کے ساتھ مکالمے میں ان کے موجودہ نظریات ہی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے ،جیسا کہ میں نے عرض کیا موجودہ علمی اور فکری کشمکش میں اسلام کے ساتھ مکالمے کا اصل فریق اور مدِّ مقابل مغرب کا موجودہ دانش ور اور سیکولر طبقہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمارا مکالمہ اسی وقت مفیدہوسکتا جب ہم مغربی فکر وفلسفہ کے تاریخی ارتقا، پس منظر اور اس کے اصل فکری سر چشموں سے آگاہی رکھتے ہوں اور مغربی افکار کا تنقیدی جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس حوالے سے جن پہلووں پر خصوصی غور وفکر کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں۔
ایک تو اس پہلو کا جائزہ لیناضروری ہے کہ مغرب مسیحیت کو چھوڑ کر موجودہ سیکولر ازم تک کیوں اور کیسے پہنچا؟اس لئے ہمارے لئے اس تاریخی حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ کہ سولہویں صدی تک مغرب میں قدیم عیسائیت ہی غالب تھی،طاقت اور اختیار پوپ کے ہاتھ میں تھا۔ مارٹن لوتھر (Martin Luther) (م ۱۵۴۶ء) وہ پہلا شخص تھا جس نے پوپ کے اختیار کو چیلنج کیا اور ساتھ ہی عقلِ انسانی کو وحی کی تعبیر کاواحد ذریعہ قرار دیا ، یہی وہ دور ہے جس کے بعد مغربی معاشرے پر عیسائیت کی گرفت آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگی، لیکن جس فکر نے بالآخر عیسائیت کو مکمل پسپائی اور شکست پر مجبور کیا وہ اٹھارویں صدی عیسوی میں پروان چڑھنے والی تحریکِ تنویر(Enlightenment Movement)اورتحریکِ رومانیت (Romanticism) ہے۔مغرب کی موجودہ روشن خیالی کی تحریک کا یہ وہ مختصر پس منظر ہے جس کا پوری تفصیل کے ساتھ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا پہلو جس کا جائزہ لینا ضروری ہے وہ تحریکِ استشراق (Orientalism) ہے۔ اہلِ مغرب میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی ان بے شمار غلط فہمیوں کو ہم ا س وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک تحریکِ استشراق کے مقاصد ،محرکات اور عالمِ مغرب پر اس کے اثرات کا بھر پور تجزیہ نہ کرلیں، کیونکہ بد قسمتی سے مستشرقین کی مرتب کردہ تاریخ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر سمجھی جاتی ہے۔اس وقت بھی پوری دنیا میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ اسلام کی جو تصویر کشی کی جارہی ہے اس کا بڑا ماخذ مستشرقین کی وہی تحقیقات ہیں جن کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ۔
مغرب کے ساتھ باہمی مکالمہ کی صورت میں تیسری بات جس کا لحاظ رکھنا ضرو ری ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن وحدیث سے راہنمائی تو ضرور لینی چاہیے تاہم مغرب کی نفسیات کے مطابق ہمیں سب سے پہلے اسلامی تعلیمات کے عقلی جواز پر بات کرنا ہوگی اور مغرب کے موجودہ سماجی علوم کے ساتھ تقابلی مطالعہ کے بعداسلامی احکام کی افادیت پر دلائل پیش کرنا ہوں گے اور اسلامی تعلیمات کی سماجی اور معاشرتی اہمیت واضح کر نا ہو گی۔بدقسمتی سے اسلامی احکام کے اسرار وحکم پر حضرت شاہ ولی اللہ ؒ (م ۱۱۷۶ھ) کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے بعد کوئی بھی قابلِ قدر کتاب سامنے نہیں آئی۔
مغرب، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو تحفظات رکھتا ہے وہ دو طرح کے ہیں۔ مغرب کے پہلی قسم کے تحفظات تو وہ ہیں جن کا تعلق اسلامی تاریخ اورنظامِ معاشرت سے ہے۔ اسلامی تعلیمات کا یہ وہ حصہ ہے جس کا براہِ راست ٹکراو مغرب کے موجودہ طرزِ معاشرت سے ہے۔ دوسری قسم کے تحفظات وہ ہیں جن کا تعلق دین کی اساس اور بنیاد سے ہے۔ مغرب کے ساتھ ہمارا مکالمہ اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک ہم کھلے ذہن اور مکمل تیاری کے ساتھ ان کے تمام تحفظات پربات کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔سب سے پہلے تو ہمیں مغرب سے اس موضوع پر مکالمہ کرنا ہو گا کہ وہ دینِ اسلام پر ایک نظامِ حیات اور طرزِ معاشرت کے طورغور کرے۔
انسانی حقوق اور اسلام
اس وقت مغرب میں مساوات ،آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے بڑی حساسیت پائی جاتی ہے بدقسمتی سے اسلام کے بارے میں یہ غلط تاثر پھیل گیاہے کہ اسلام میں بنیادی انسانی حقوق اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کو بری طرح پامال کیا گیا ، ہمیں اہلِ مغرب پر واضح کرنا ہوگا کہ اسلام تمام انسانی حقوق کا تحفظ کرتاہے اور اس کے عطا کردہ حقوق ہی فطری بنیادوں پر مبنی ہیں۔ مثلاًجب اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتاہے تو کیا یہ حرمتِ انسان کا بہترین قانون قرار نہیں پائے گا؟ اسی طرح اسلام کی بیان کردہ دوسری تمام سزائیں بھی ’’انسانی حق‘‘ کے اثبات ہی کے لیے ہیں۔ اسی طرح عورتوں کے حقوق میں بھی ان کے فطری دائرہ کار اور نفسیات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے ۔
ایک داعی کی حیثیت جو بات ہماری خصوصی توجہ کی مستحق ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ انسانی حقوق کے عالمی منشور، (Universal Declaration of Human Rights) جو بجا طور پر آج کا عالمی قانون ہے، کی تمام شقوں کو قبول کرناہمارے لیے ممکن نہیں ہے تاہم ہمیں اس بحث میں زیادہ مثبت اور تعمیری انداز میں حصہ لینا چاہیے اور اگر باہمی مکالمہ میں کسی جگہ لچک کی گنجائش موجود ہو تو اس کا لحاظ کیا جانا چاہیے۔اس حوالے سے سیرت طیبہﷺ سے کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ کئی مواقع پر رسول اللہﷺ نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی قانون ،عرف اور قبائلی رسم ورواج کا احترام کیا ۔مثلاً :
جب حضور ﷺ کا مسیلمہ کذّاب کے سفیروں سے مکالمہ ہوا تو آپﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہو ؟ انھوں نے اقرار کیا، پھر آپﷺ نے سوال کیا کہ کیاتم مسیلمہ کو بھی نبی مانتے ہو تو انھوں نے کہا :ہاں ،اس پر آپﷺ نے فرمایا: اگر سفیروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کروادیتا۔ دیکھئے اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے لیکن آپﷺ نے ان پر یہ حد جاری نہیں کی بلکہ فرمایا کہ چونکہ عالمی قانون یہ ہے کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا اس لئے میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں ورنہ میں تمہیں قتل کروادیتا۔
سن ۹ہجری میں اقرع بن حابسؓ کی زیرِ قیادت بنوتمیم کا وفد اسلام قبول کرنے کے لیے بارگاہ رسالت ﷺمیں حاضر ہوا،لیکن ان لوگوں نے قبولِ اسلام کے لیے بڑی عجیب شرط لگائی کہ آپﷺ پہلے ہمارے ساتھ مفاخرت کریںآپﷺ کا خطیب ہمارے خطیب کا اور آپ کا شاعر ہمارے شاعر کا مقابلہ کرے تب ہم اسلام قبول کریں گے ۔آپ ﷺ نے ان کے اس مطالبہ کو قبول کیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺکے حکم پر حضرت حسان بن ثابتؓ نے ان کے شاعر زبر قان بن بدر کا مقابلہ کیا اور ثابت بن قیسؓ نے ان کے خطیب عطارد ابن حاجب کا مقابلہ کیا ،بنو تمیم نے با لآ خر حضورﷺ کے شاعر اور خطیب کی برتری کو تسلیم کر تے ہوئے اسلام قبول کرلیا ۔
دیکھا جائے تو وفدِ بنی تمیم کا مطالبہ بالکل لایعنی تھا ،بالفرض اگر مسلمانوں کا شاعر اور خطیب مقابلے میں شکست بھی کھا جاتے تو پھر بھی اسلام کی حقانیت میں کوئی شک نہ تھا،لیکن اس کے باوجود آپﷺنے ان کے رسم ورواج کا احترام کیا۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوسری قوموں کے ساتھ مکالمے کی اتنی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ بنو تمیم نے جب قبولِ اسلام کی یہ عجیب وغریب شرط رکھی تو آپﷺ نے بلا جھجک اپنے ان ساتھیوں کو طلب کیا جن کی خاص اسی مقصد کے لئے تربیت کی گئی تھی۔
اسی طرح جب آپﷺ نے شاہانِ عالم کے نام دعوتی خطوط روانہ کرنے کا پروگرام بنایا تو واقفانِ حال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! حکمرانوں میں یہ اصول ہے کہ وہ ان خطوط پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے جن پر کوئی مہراور سیل(Seal) وغیرہ نہ ہو،چنانچہ اسی وقت آپﷺ نے خطوط کوُ مہر بند کرنے کے لیے مُہر بنانے کا حکم دیا ۔
رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے کردار سے کون واقف نہیں؟ اس کی شر انگیزیوں کی وجہ سے اسلام کو کئی دفعہ نقصان اٹھانا پڑا۔صحابہ کرامؓ نے بارہا اس کے قتل کا ارادہ کیا حتی کہ ایک دفعہ تو خود ان کے اپنے صاحب زادے، جو مخلص مومن تھے، نے بھی حضور ﷺسے اپنے باپ کے قتل کی اجازت طلب کی ، لیکن نبیﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ایسے کسی بھی عمل سے سختی کے ساتھ منع کر دیا اور فرمایا کہ میں اس چیز کو پسند نہیں کرتا کہ لوگ یہ کہیں کہ محمدﷺ اپنے ساتھیوں کے قتل کادیتے ہیں ۔اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو عبداللہ بن ابی سخت ترین سزا کا مستحق تھا لیکن آپﷺنے ا س سے پھر بھی در گزر فرمایا صرف اس وجہ سے کہ کہیں عام لوگوں کے ذہن میں اسلام کے بارے میں کوئی منفی تاثر پیدا نہ ہو جائے گویا آپﷺ کی نظر اصولی حکم کے نفاذ کے علاوہ اس کے نتائج اور عملی اثرات پر بھی تھی۔
ان مثالوں سے واضح ہوتاہے کہ ایک داعی کے لیے نہ صرف عالمی قانون، رسم ورواج اور عرف سے واقفیت ضروری ہے بلکہ اگر دعوت اور مکالمہ کے مثبت نتائج کی توقع ہو تو دیگر اقوام کے قوانین اور رسم ورواج کا ممکن حد تک لحاظ اور احترام بھی کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح اگر کسی اسلامی حکم کا نفاذوقتی مصلحت کے خلاف ہو تو اس کے نفاذ میں توقف بھی کیا جاسکتا ہے۔عصرِ حاضر میں مسلمان قانون دانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں مطالعہ کریں اور ان پہلوؤں کا جائزہ لیں جہاں باہمی گفتگو اور مکالمہ میں لچک کے پہلو کو مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔
اسلام کا تصورِ جہاد
اسلام کے بارے میں اہلِ مغرب کو جو غلط فہمیاں ہیں ان میں سے ایک اسلام کا تصورِ جہاد ہے ، مدنی دور میں رسول اللہ ﷺ نے چھوٹی بڑی تقریباً ستاسی (۸۷) مہمات ترتیب دیں ان تمام مہمات کے مقاصد ،محرکات اور اہداف مختلف تھے ، ان میں سے بعض مہمات انسدادی نوعیت کی تھیں تو بعض دفاعی نوعیت کی تھیں جبکہ بعض خالص دعوتی اور تبلیغی نوعیت کی تھیں، لیکن محدثین اور مسلمان سیرت نگاروں نے ان تمام مہمات کو جن میں ترتیب اور تنظیم کا معمولی سا بھی خیا ل رکھا گیا تھا کتا ب المغازی اور غزوات وسرایاکے عنوان سے ذکر کر دیا جس سے اس غلط پروپیگنڈا نے جڑ پکڑی کہ اسلام جنگ وجدال کا دین ہے۔مغرب میں یہ تاثر عام ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے اور اگر اب بھی مسلمانوں کو موقع ملا تو وہ بزورِ شمشیر اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرکے دم لیں گے۔
اسلام کے تصورِ جہاد کے حوالے سے اہلِ مغرب کے ساتھ ہمارا مکالمہ دو پہلووں پر ہونا چاہیے ، پہلی بات تو ہمیں یہ واضح کرنا ہوگی کہ ابتدائی ایک دو صدیوں میں اسلام کے اسپین ،وسطی ایشیاء اور برصغیر تک پھیلنے کی بڑی وجہ اسلامی تعلیمات کی کرشمہ سازی اور مسلمان مبلغین کی انتھک کوششیں ہیں ، دنیا کے کتنے ہی علاقے ایسے ہیں جہاں اسلامی فوجوں کا کبھی بھی داخلہ نہیں ہوا لیکن اسلام وہاں بھی موجود ہے ، انڈو نیشیا اور ملا ئیشیاپر بھلا کون سی اسلامی فوجیں حملہ آور ہوئی تھیں ؟ لیکن کیا وہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں ؟۔ اس لئے تاریخ کا کوئی بھی سنجیدہ طالب علم اس حقیقت کو تسلیم کر نے کے لئے تیار نہیں کہ اسلامی تاریخ کے کسی بھی دور میں اسلام کو دوسری اقوام پر ٹھونسنے کے لئے تلوار سے کبھی مدد نہیں لی گئی۔
اس موضوع پرعلامہ اقبالؒ کے استاذ پروفیسر ٹی ۔ڈبلیو آرنلڈ کی کتاب( The Preaching of Islam) ہمارے لئے بنیادی حوالے کی حیثیت رکھتی ہے، بدقسمتی سے جہاد کے بارے میں ہم اسلامی نقطہ نذر کو اہلِ مغر ب پر پوری طرح واضح نہیں کر سکے ، عام لوگ اب بھی اسی پرانی غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ ہمیں اہلِ مغرب کو قائل کرنا ہوگاکہ اسلام کے پھیلاؤ کی وجوہات دیگر بھی ہیں۔مثلاً ہمیں دلائل کے ساتھ بتانا ہوگا کہ بہت سے عیسائی جن سے ابتدائی دور میں اسلام کا مکالمہ ہوا وہ بھی مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی الوہیت کے قائل نہیں تھے۔ اس لئے عقائد کی یکسانیت ابتدائی دور کے مسیحیوں کے قبولِ اسلام کا بڑا سبب بنی ہے، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ (م ۲۰۰۱ء) لکھتے ہیں :
’’نجاشی فرقہ طبیعت واحد کا (یعنی مانو فرائٹ) عیسائی تھا ۔اور ان دنوں اس فرقے اور یونان کے عیسائیوں میں بڑے سخت اختلافات تھے ،آخر الذکر اس بات کے قائل تھے کہ حضرت عیسیٰ میں بوقت واحد دو طبیعتیں تھیں،انسانی اور خدائی بھی ۔ابرہہ جو (یمن میں ) نجاشی کا نائب تھا ۔حضرت عیسی ٰ کو ابن اللہ نہیں مانتاتھا بلکہ صرف مسیح اللہ ۔غالباً نجاشی کے بھی یہی عقائد ہوں گے ۔اور یہ مسلمانوں کے عقائد کے بہت مماثل ہیں ‘‘(11)
اسی طرح روم اور ایران کے لوگوں نے قیصر وکسریٰ کی نسبت مسلمانوں کے کم جارحانہ اندازِ حکمرانی اور مناسب اور قانونی ٹیکسوں کے نفاذ کو خوش آمدید کہا اور یہی چیز ان کے قبولِ اسلام کا بنیادی سبب بنی ۔
دوسرا، ہمیں اہلِ مغرب کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ جنگ ، انسانی نفسیات کا لازمی جزوہے ۔ اس لیے دنیا کی ہر تہذیب میں جنگ بہر طور موجود رہی ہے ۔ اہلِ مغرب جو اس وقت امن کے سب سے بڑے داعی ہیں ان کا موجودہ رویہ اس حقیقت کازندہ ثبوت ہے ۔ اسلام نے انسانی نفسیات کے اس پہلو سے آنکھیں بند نہیں کیں بلکہ انسان کے جنگی جنون کی تہذیب و تطہیر کرکے اس کو جہاد کے روپ میں پیش کیا ہے ، اس سلسلے میں جہاد و قتال کے اسلامی قواعدو ضوابط ، جنگی جنون کی منفیت عیاں کرنے کو کافی ہیں ۔
خلافت اور جمہوریت
اسلام کے حوالے سے مغرب میں ایک اور غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اگر مسلمان طاقت میں آگئے تو وہ پوری دنیا میں خلافت کا نظام نافذ کریں گے اور طالبان طرز کا کوئی نظامِ حکومت نافذ کرکے لوگوں کی شخصی آزادیاں اور حقوق سلب کر لیں گے۔ برطانیہ کے موجود ہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ مسلمان خلافت کا نظام واپس لانا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔
اسلامی نظامِ خلافت کے خلاف اہلِ مغرب کے اس شدید ردِ عمل کی اصل وجہ اور پسِ منظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مغرب کی اس غلط فہمی کی بڑی وجہ مغرب کا وہ دور ہے جسے قرونِ مظلمہ (Dark Ages) کہاجاتا ہے،جس میں پوپ ہی طاقت کا اصل سر چشمہ اور وہی فائنل اتھارٹی(Final Authority) تھا۔ پوپ نے ہمیشہ اربابِ حل وعقد کا ساتھ دیا اور حکمرانوں کو مذہبی تحفظ فراہم کیا،دوسری طرف عوام کو کسی قسم کے سیاسی حقوق حاصل نہ تھے ۔ اصل میں مغرب نے اسلام کے نظامِ خلافت کو بھی یورپ کے د ورِ تاریک میں اپنے ہاں پائی جانے والی مذہبی حکومتوں پر قیاس کر رکھا ہے۔ مغرب نے صدیوں کی کشمکش کے بعد جو سیاسی اور شخصی آزادیاں حاصل کیں ہیں وہ اب انہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔
اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مغرب پر یہ بات واضح کریں کہ اسلام کے تصورِ خلافت کو پاپائیت کے ساتھ کوئی نسبت نہیں کیونکہ مسلما نوں کاخلیفہ عیسائیوں کے پوپ کی طرح خدا کا نمائندہ نہیں ہے، جس کی کسی بات کو نہ تو چیلنج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی دلیل کا پابند ہے ایک دفعہ جب حضرت صدیق اکبرؓ (م ۱۳ھ) کو ایک شخص نے خلفیۃ اللہ کہا تو آپؓ نے فوراً ا س کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا خلیفہ نہیں بلکہ اس کے رسول ﷺ کا خلیفہ ہوں۔پوپ کے بر عکس مسلما نوں کاخلفیہ خدا کی بجائے رسول اللہ ﷺ کا نمائندہ ہے ، جو مطلق العنان نہیں بلکہ دلیل کا پابند ہوتاہے ، جس سے اختلاف بھی کیاجاسکتاہے، اور جو ایک خاص دائرے میں رہ کر ہی اپنے فرائضِ منصبی ادا کر سکتا ہے،چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ خلفاء راشدین سے دیگر مسلمانوں نے نہ صرف اختلاف کیا بلکہ بسااوقات ان کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور بھی کیا۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت عمرؓ (م ۲۳ھ)جب مسلمان عورتوں کے لئے مہر کی ایک خاص مقدار مقرر کرنا چاہی توایک خاتون نے ان کو بر سرِممبر ٹوک دیا اور پھر حضرت عمرؓ کو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا۔
تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان علماء نے ہمیشہ دلیل اور حق کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ مذہبی اور سیاسی حقوق کی جنگ لڑی ہے پوری اسلامی تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ ،(م ۱۵۰ھ) امام احمد بن حنبل ؒ (م ۲۴۱ھ) اور کتنے ہی جلیل القدرآئمہ نے وقت کے حکمرانوں کو چیلنج کیا اور اپنی جانوں تک کی پرواہ نہ کی۔ ہمیں مغرب کو قائل کرنا ہو گا ہمارا ماضی ان کے ماضی سے بالکل مختلف ہے ،اس لئے مغرب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا تاریک ماضی دکھا کر ہمیں ہمارے روشن ماضی سے محروم کر دے۔
اگر ہم اہلِ مغرب کو اس بات پر قائل کرلیں کہ اسلام کا معاشرتی ،معاشی اور سیاسی نظام انسانی سوسائٹی کے لئے زیادہ مفید اور بہترہے تو پھر شاید ہمارے لئے ان کے ان تحفظات کو دور کرنا مشکل نہیں ہوگا جن کا تعلق دین اور مذہب کی اساس سے ہے۔ اہلِ مغرب کے وہ تحفظات جن کا تعلق اسلام کے بنیادی اور اساسی تصو رات سے ہے وہ درج ذیل ہیں:
خدا کے وجود کا اثبات
یہاں بھی ہمیں اہلِ مغرب سے مکالمہ کرتے وقت اس ماحول کو پیشِ نظر رکھناہو گا جس میں مغربی ذہن پر وان چڑھتا ہے اور شعور کی منازل طے کرتا ہے۔ اہل مغرب، جو ہر چیز کو عقل (Reason) کی بنیاد پر پرکھنے کے عادی ہیں ان کے سامنے خدائی کتاب کی بنیاد پر اپنے دلائل شروع کرنے سے پہلے خود خدا کے وجود کو زیر بحث لانا ہوگا ورنہ مغرب کی خطرناک حدتک آزاد سوچ ہمیں غیر سنجیدہ قرار دے گی ۔ سائنسی امکان اور عقل کی بنیاد پر اگر خدا کے وجود کے لیے فطرت کے مشاہدے پر زور دیا جائے تو شاید ہمیں کامیابی حاصل ہو۔ جیسا کہ مکی عہدِ نبوت میں رسول اللہﷺ نے اہلِ مکہ کو عقل اور مشاہدہ فطرت کی بنیاد پر اسلام کی طرف متوجہ کیا تھا۔
اسلام ،عیسائیت اور یہودیت کی نئی صورت گری ہے؟
مغرب میں اسلام کے بارے صرف عوام ہی نہیں بلکہ خواص کے ذہن میں بھی یہ تصور راسخ ہے کہ اسلام کوئی مستقل دین نہیں بلکہ یہ عیسائیت اور یہودیت ہی کا نیا روپ ہے اس خیال کی ترویج میں بنیادی کردار تحریکِ استشراق کا ہے۔دوسری صدی ہجری کے مشہور عیسائی عالم یوحنا دمشقی (John of Damascus)کوتحریکِ استشراق کا بانی قرار دیا جاتا ہے ،اس نے ’’محاورۃ مع المسلم‘‘ اور ’’ارشادات النصاریٰ فی جدل المسلمین ‘‘ نامی کتب سے اسلام کے خلاف جس منفی پروپیگڈے اور قلمی مناظرے کا آغاز کیا تھا ،مغرب میں اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں ۔ پیر محمد کرم شاہ الازھری ؒ نے اپنی قابل قدر تصنیف ’’ضیاء النبی ﷺ‘‘ کی چھٹی اور ساتویں جلد میں تحریکِ استشراق کا بھر پور جائزہ لیا ہے۔
اہلِ مغرب جو سماجی ،معاشرتی اور سائنسی علوم کی معراج کو پہنچے ہوئے،میں آج بھی اسلام کے بارے میں نہ جاننا کم علمی کی دلیل نہیں ہے ، مغرب میں یہ تاثر اب بھی عام ہے کہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت ہی کی مسخ شدہ تعلیمات پر مبنی ہے اوراسلامی قوانین یہودیوں کی فقہ’’ تالمود ‘‘سے اخذ شدہ ہیں جن کا زیادہ زور ان کے ظاہری الفاظ پر ہے نہ کہ مقاصد پر۔ مشہورمستشرق ول ڈیورانٹ(Will Durant)(م ۱۹۸۱ء)نے اپنی کتاب The Age of Faithمیں،فلپ کے ہٹی(Philip K Hitti)نے اپنی کتابIslam and the West میں اور مستشرق موریس سیل(Morris S Seale)نے اپنی کتاب(Muslim Theology)میںیہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن وحدیث کا بڑا حصہ یہودی اور عیسائی روایات ہی سے ماخوذ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام اور عیسائیت کے تقابلی مطالعہ سے اہل مغرب کی ا س غلط فہمی کو دورکیا جائے۔(12)
قرآن وحی الٰہی ہے
رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے انکار کی وجہ سے مغرب میں قرآن کو آسمانی صحیفے کے بجائے محمدﷺ کی ذاتی تصنیف سمجھا جاتا ہے ۔اس غلط فہمی کی بڑی وجہ بھی ماضی کا پروپیگنڈا ہی ہے جس کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ گذشتہ کئی صدیو ں سے کئی یورپی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا جا رہا ہے لیکن ان تراجم کے اسلوب پر ایک نظر ڈالنے سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان مترجمین کے پیش نظر اسلام کا تعارف کروانے کی نسبت مسیحی جنگوؤں کو مقدس جنگ (Sacred War) کے لیے مسلمانوں کے خلاف تیار کرنا تھا ،بعد کے دور میں قرآ ن مجید کے تراجم میں یہی اسلوب کسی نہ کسی انداز میں غالب رہا ہے، اسی پروپیگنڈے کے زیر اثر مسلمانوں کو محمڈن (Muammadan) پکارا گیا اور اسی سے محمڈن لا (Muhammadan Law)کی اصطلاح وجود میں آئی ۔
قرآن مجید ہر دور کے لیے نبی کریم ﷺ کا زندہ وجاوید معجزہ ہے عہدِ رسالت میں بھی لوگوں نے قرآنِ مجید کو جب حضورﷺ کی اخترا ع قرار دیاتو آپ ﷺ نے قر آن مجید کی فصاحت وبلاغت، اس کے اسلوبِ بیان اورہر قسم کے تناقض سے مبرّا ہونے کو اس کے کلام الٰہی ہونے پر دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ عقل پرستی کے موجودہ دور میں قرآن مجید کا معجزانہ پہلو اس کی تعلیمات کے علاوہ وہ سائنسی اور تاریخی حقائق ہیں جن کو قر آن نے بیان کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قر آ نِ مجید کے اس پہلو پر توجہ دیں اور اہلِ مغرب کو یہ بتائیں کہ کتنے ہی ایسے تاریخی اور سائنسی حقائق ہیں جن تک مغرب صدیوں کی محنت او ر تجربات کے بعد پہنچاہے لیکن قرآنِ مجید نے صدیوں پہلے ان حقائق کو بیان کردیا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے ڈاکٹر موریس بوکائے کی کتاب The Bible, The Quran and Science اوراس کے بعد اس موضوع پر شائع ہونے والی دیگر کتب اس حوالے سے ہماری توجہ کی خصوصی مستحق ہیں۔
اسلامی دنیا میں مذہبی تکثیر یت کا وجود
اہل مغر ب میں اسلام کے بارے یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اقلیتو ں کے حقوق کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس لئے مغرب سے مکالمہ میں اس نکتہ کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ عہدِ رسالتﷺ اور اس کے بعد کی اسلامی دنیا بالخصوص مصر، لبنان ،انڈیا اور عثمانی ترکوں کے دور میں ہمیشہ قرآنی اصول کے مطابق لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل رہی ہے ۔اسلامی دنیا میں مذہبی تکثیر یت کا وجود ہمارے موقف کی واضح شہادت مہیا کرتاہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کی اصولی تعلیم:
(لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّّ)(البقرۃ،۲:۲۵۶)
’’دین میں کوئی زبردستی نہیں،ہدایت تو گمراہی سے صاف صاف کھل چکی ہے‘‘
کی نظری اور عملی تبلیغ اور اشاعت کی جائے۔اس کے علاوہ عہدِ رسالت ﷺ، عہدِ خلافتِ راشدہ اور مسلم عروج کے ان تاریخی معاہدات سے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے ،جن میں مذہبی آزادی کے تحفظ کا وعدہ کیا گیاہے۔
اسلام ایک حقیقی متبادل
اہلِ مغرب میں اعلیٰ ترین سطح پر اب یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ مذہب سے مکمل دستبرداری ان کے معاشرتی اور تہذیبی زوال کا باعث بن رہی ہے اور موجودہ مغربی فلسفہ ان کے تمام مسائل کا حل نہیں ہے اس وقت اہلِ مغرب جو روحانی خلا محسوس کر رہے ہیں اس کی بنا پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا فی الوقت مغربی سیکولر ازم کو ایک خاص مفہوم میں بحران کا سامنا ہے اس حوالے سے ماہنامہ’’ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ (بابت ماہ اگست ۲۰۰۵ء) میں پروفیسر میاں انعام الرحمن کاتجزیاتی مضمون ’’مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت‘‘قابل مطالعہ ہے۔ پروفیسر موصوف کا تجزیہ یہ ہے کہ آج کی عالمی صورتِ حال میں مذہب ایک بار پھراہلِ مغرب کی زندگی میں دبے پاؤں داخل ہورہاہے ، اس لئے مسلمان اہلِ علم کے لیے یہ مناسب وقت ہے کہ وہ اہلِ مغرب کے سا منے اسلام کو بہتر انداز میں پیش کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مغرب کی نفسیات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اسلام کوآج کے جدید اسلوب ،تکنیک اور زبان میں پیش کیا جائے کوئی وجہ نہیں کہ اسلا م اپنی فطری تعلیمات کی وجہ سے مغرب کے اعلیٰ ذہن کو متاثر نہ کرے۔
ضروری گزارش
کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے رجالِ کار کی تیاری بڑی اہمیت رکھتی ہے ،چونکہ اسلام کی اشاعت کا تمام انحصار دعوت وتبلیغ اور دوسری قوموں سے مکالمے پر ہے اس لیے رسول اللہ ﷺنے نہ صرف بین المذاہب مکالمے کی عملی مثال قائم کی بلکہ ایسے افراد بھی تیار کیے جو دوسری قوموں سے مکالمے کی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے اب جبکہ حالات کے جبر نے ہمیں بین المذاہب مکالمے کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے، ہمارے پاس ایسے افراد کی شدید کمی ہے جن کی مغربی فکرو فلسفہ پر تنقیدی نظر ہو اور جو اہلِ مغرب کی ذہنی ساخت ان کی نفسیات، پسِ منظراور تکنیک سے واقف ہوں،اس وقت ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو لوگ علمی رسوخ رکھتے ہیں وہ مغربی زبان وادب اور مغرب کی نفسیات سے واقف نہیں اور جو لوگ مغربی زبان اور محاورے کو جانتے ہیں وہ علمی طور پر کمزور ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس اور جامعات کے نصابِ تعلیم میں مغربی فکروفلسفہ کو بطور لازمی مضمون کے شاملِ نصاب کیا جائے ،تاکہ ایسے رجالِ کار کی تیاری ممکن ہو جو مغرب کے دا نش ور طبقے سے پورے اعتماد کے ساتھ بات کرسکیں ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یونانی فکر وفلسفہ کے عروج کے دور میں مسلمان اہل علم نے یونانی علم کلام اور فلسفہ پر مکمل عبور حاصل کیا اور پھر یونانی فکروفلسفہ کے علمی اور تحلیلی جائزے کے بعد اسلامی فکر کی برتری کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا۔ دورِ حاضر میں مسلمان اہل علم پر لازم ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی تاریخ کو دہراتے ہوئے جدید علمِ کلام اور مغربی فکروفلسفہ پر عبور حاصل کریں ،تاکہ مغربی فکر کابھر پور تنقیدی جائز ہ لے کر اربابِ دانش پر اس کی کمزوریوں اور کھوکھلے پن کو واضح کیا جا سکے۔
پاکستان میں ماہنامہ’’ ساحل ‘‘کراچی ، ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ اورسہ ماہی’’مغرب اور اسلام ‘‘ اسلام آباد ، کے علاوہ کئی دیگر رسائل میں مغربی فکر پر تنقیدات شائع ہوتی رہتی ہیں ، لیکن ان کوششوں کو زیادہ مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔میری معلومات کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ،اسلام آباد اور مولانا زاہد الراشدی کے زیر نگرانی قائم ’ الشریعہ اکادمی ‘گوجرانوالہ کے علاوہ شاید چند ہی ایسے ادارے ہوں گے جہاں پر مغربی فکروفلسفہ کا تعارفی اور تنقیدی جائزہ مستقل مضمون کے طور پر داخلِ نصاب ہو۔
ایک اور چیز جس کا ہمیں خاص طورسے لحاظ رکھنا چاہے وہ یہ ہے کہ مغرب کے ساتھ مکالمہ میں ہمارا رویہ معذرت خواہانہ اور دفاعی کی بجائے اقدامی ہونا چاہیے، ہمیں اسلام کے بنیادی عقائد اور نظریات کی ایسی تاویل سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔معروف روایت کے مطابق جب قریشی وفد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ کے سامنے مختلف آپشنز(Options) ر کھے کہ آپﷺ جو پیش کش بھی چاہیں قبول کر لیں اور دعوت وتبلیغ سے باز آجائیں تو آپﷺ نے اس وقت جو الفاظ ارشاد فرمائے وہ ذہنی مرعوبیت کے شکار لوگوں کے لئے خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں ، آپﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔
اسی طرح جب شاہِ حبشہ نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ اورعیسائی مذہب کے بارے اپنا موقف بیان کریں ، تو مسلمانوں سخت پریشان ہوئے کیونکہ سچ کہنے کی صورت میں نجاشی اور درباریوں کے ناراض کا خطرہ تھا ،لیکن آپﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ نے باہمی مشاورت کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا :
’’نقول واللّٰہ ماقال اللّٰہ وماجاء نابہ نبینا‘‘(13)
’’اللہ کی قسم ہم وہی کہیں گے جو اللہ کا حکم اور رسول اللہﷺ کی تعلیم ہے ‘‘
اس لئے ہمیں کسی قسم کی ذہنی مرعوبیت کے بغیر پورے اعتماد کے ساتھ مغرب کو قائل کرنا ہوگا کہ اسلام ہی ایک ایسا تریاق ہے جو مغرب کی تہذیب کو ہر قسم کے نقائص سے پاک کرکے زندہ وجاوید کر سکتاہے۔ مغرب کے تمام مسائل ،خاندانی نظام کی شیرازہ بندی ،بچوں میں بڑوں کا احترام پیدا کرنا،باہمی اخو ت ،نسلی تفاخر کا خاتمہ ،نفسیاتی استحکام ،احترامِ آدمیت ،تحمل ،ایڈز جیسی بیماریوں کے خلاف سماجی مدافعت وغیرہ کاحل صرف اسلام کے پاس ہے ۔
حوالہ جات
(1)شبلی نعمانی ،ؒ علامہ( م ۱۹۱۴ء) ’’سیرۃ النبیﷺ‘‘، ۴؍۹۱ (الفیصل ناشران وتاجران کتب اردو بازار ،لاہور،)
(2)احمد بن حنبل ؒ ،ابو عبداللہ الشیبانی، الامام (م ۲۴۱ھ) ’’المسند‘‘ ،حدیث زید بن ثابتؓ،ح:۱۱۰۸،۶؍۲۳۸(دار احیاء التراث العربی،بیروت،۱۹۹۱)
(3)ابو داودؒ ،سلیمان بن الاشعث بن اسحاق السجستانی (م ۲۷۵ھ) ’’سننِ ابی داود‘‘،کتاب الطلاق،باب من احق بالولد،ح:۲۲۷۷،ص:۲۳۰(دارالسلام للنشر والتوزیغ ،الریاض،۱۹۹۹ء)
(4) سرخسی ،ابو بکر محمد بناحمد بن ابی سھل ،(م ۴۹۰ھ) ’’المبسوط ‘‘ کتاب الصلوٰۃ ،۱/۳۷،(دار المعرفۃ ،بیروت ،۱۹۷۸ء)
(5) حمید اللہ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۲ء) ’’صحیفہ ہمام بن منبہ‘‘ ص ۱۹۳،(ناشر رشید اللہ یعقوب ،کلفٹن ،کراچی ،۱۹۹۸ء)
(6)ابن سعد ،ابو عبد اللہ محمد،(م ۴۵۶ھ) ’’الطبقات الکبری ‘‘ذکر بعثۃ رسول اللّٰہ ﷺ الرسل بکتبہ الی الملوک ، ۱/۲۵۸،(دار صادر ،بیروت،۱۹۸۵ء)
(7)ابن ہشام ،ابو محمد عبدالمالک(م ۲۱۸ھ) ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ امر الھدنۃ ،۳/۳۵۱ (دار احیاء التراث العربی ،بیروت، ۱۹۹۵ء)
(8)ابنِ اثیر،ابو الحسن علی بن ابی البکرمحمد ابن اثیر الجزری (م ۶۳۰ھ) ’’اسد الغابۃ ‘‘تذکرۃ حاطب بن ابی بلتعۃؓ ،۱/۳۶۲ (دار احیاء التراث العربی ،بیروت)
(9)ابنِ قیم الجوزیہ،ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر(م ۷۵۱ھ) ’’زاد المعاد ‘‘۳؍۶۹۱،۶۹۲ (موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۹۷۹ء)
(10)مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب’’صحابہ کرام کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ‘‘ صفحہ ۱۷۷۔۱۸۷ ، (ناشر ،مکتبہ جمال کرم،لاہور، ۲۰۰۴ء)
(11)حمید اللہؒ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۱ء) ’’رسول اکرمﷺ کی سیاسی زندگی ‘‘، ص:۱۲۷(دار الاشاعت ،کراچی،۱۹۸۷ء)
(12)راقم الحروف نے اپنے پی ایچ ۔ڈی کے زیرِ تکمیل مقالے ’’صحاح ستہ کی احادیث پر منکرینِ حدیث اور مستشرقین کے اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘ میں مستشرقین کے ان اعتراضات کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔
(13)ابنِ ہشام ،۱/۳۷۳
مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک
پروفیسر اختر حسین عاصم
(ڈاکٹر ہمایوں عباس (شعبہ اسلامیات جی سی یونیورسٹی) کی کتاب ’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کاتدارک تعلیمات نبوی ؑ کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی منعقدہ ۶؍ مئی ۲۰۰۶ء بمقام ہمدرد سنٹر لاہور میں پڑھا گیا۔)
جناب صدر اور حاضرین محترم!
صاحب کتاب جناب ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس نے اپنی کتاب’’مذہبی انتہا پسندی اور اس کا تدارک تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں‘‘ میں اس دور کا ایک انتہائی حساس موضوع چھیڑا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر خوب غوروفکر کیاجائے اور امت کا صاحب دانش اورصاحب علم طبقہ بالخصوص اجتماعی طور پر اس عمل میں شریک ہو۔اس موضوع کے مختلف پہلو سامنے لائے جائیں اور ایک ٹھوس لائحہ عمل تجویز کیاجائے۔یہ بات خوش آئندہے کہ ہمارے نوجوان اسکالر نے اس سلسلے میں قلم اٹھایا ہے۔ ہوسکتاہے کہ ان کی یہ تحریر اس عمل کے لیے مہمیز کا کام دے جائے۔
مصنف نے اپنی اس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیاہے ۔پہلے باب میں انہوں نے مذہبی انتہا پسندی کے مفہوم اور محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ باب اس اعتبارسے بہت اہم ہے کہ اس میں مذہبی انتہا پسندی کا مفہوم متعین کیاگیاہے ،کیونکہ جب تک بنیادی مسئلے کا تعین نہ ہو،بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔
انتہا پسندی دراصل ایک طرز عمل کا نام ہے۔ اگرکوئی شخص پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتاہے ،دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے دائرے میں اپنی رائے پر عمل کرنے دیتاہے، باہمی تعلقات اور باہمی مکالمہ پر یقین رکھتاہے ،افہام وتفہیم سے کام لیتاہے تو اس کایہ طرز عمل اس بات کی شہادت ہے کہ وہ انتہا پسند نہیں ۔لیکن اگر وہ کسی دوسری رائے کو برداشت کرنے پر بھی تیارنہیں، اگر وہ مخالفین کو زندہ رہنے کا حق دینے پر آمادہ نہیں، اگر وہ باہمی مکالمہ اور باہمی رواداری پر یقین نہیں رکھتا تو بلاشبہ اس کا یہ ر ویہ انتہا پسندانہ کہلائے گا۔
میری رائے میں اصل مسئلہ کسی عقیدے یا نظریے کا حامل ہونا نہیں، بلکہ ایک تربیت کا ہے ۔ہم نے اپنے معاشرے میں افراد کی اس سطح پر تربیت کی ہی نہیں۔ ہمیں یہ درس نہیں دیاجاتا کہ ہم دوسروں کے ساتھ رائے کے اختلاف کے باوجود معاشرتی سطح پر خوشگوار تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ ان سے انسانی سطح پر اور پھر وسیع ترا سلامی اخوت کی سطح پر باہمی احترام کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔ہمیں گھروں میں بڑوں کی طرف سے اور منبر ومحراب سے علمائے کرام کی طرف سے جب پکڑ لو ،پکڑ لو اور مار دو ماردو کا سبق ملے گا تو اس کے منفی اثرات تو لامحالہ ہمیں بھگتنے پڑیں گے۔ افہام وتفہیم کا راستہ کھلا رکھاجائے ،دوسروں کی بات کو اگر وہ دلائل کے ساتھ ہے ،سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور ایک دوسرے کو برداشت کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ انتہاپسندی سے پاک نہ ہوجائے۔
اس مسئلے کے تدارک کے حوالے سے جو یہ حکمت عملی اپنائی جاتی ہے کہ ہر قسم کی اختلافی تحریروں پر پابندی لگادی جائے ،ا س میں کچھ حدوں کی نشان دہی ضروری ہے۔ اگر تو کوئی تحریر محض دشنام طراز ی پر مشتمل ہے اور اس میں مار دو پکڑ لو کا درس ہے، اس کی زبان اخلاق سے گری ہوئی ہے تو ایسی کتابوں کی اشاعت کا کوئی جواز نہیں اور ایسی کتابوں کی اشاعت پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے۔ اس باب میں دوآرا ممکن ہی نہیں۔ لیکن شائستگی ،علمی وقار اوردیانت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھی جانے والی اختلافی تحریروں اور بحث مباحثے کی راہ کھلی رکھنی چاہیے، ورنہ معاشرے میں ایسی گھٹن پیداہوگی کہ پورا معاشرہ یا تو ایک مردہ معاشرے بن جائے گا اور یا پھر پریشر ککر کی طرح اس میں پریشر جمع ہوتا جائے گا اور پھر ایک دن ایک دم پھٹے گا اورپورے معاشرے کو انارکی Anarchy)) کا شکار کردے گا۔
صاحب صدر!
مذہبی انتہا پسندی کی دو سطحیں ہیں۔ ایک، کسی بھی دین کے اندر موجود مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان نفرت اور دشمنی اور دوسرے، مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور دشمنی۔ان میں سے ہر ایک سطح پر مسئلہ کی نوعیت کچھ مختلف ہوجاتی ہے لیکن ایک پہلو جو بڑا عجیب ہے، میں اس کی نشان دہی کرنا چاہتاہوں۔نرالا قصہ یہ ہے کہ عقلی طور پر تو مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مناقشت، نفرت یادوری زیادہ ہونی چاہیے اور ایک کلمے اور ایک دین کے ماننے والوں کے درمیان نفرت یادوری کا اصلاً تو جواز ہی نہیں ،لیکن اگر ہو تو اس میں شدت نہیں ہونی چاہیے ۔لیکن یہ عجیب قصہ ہے کہ مسلمانوں کی پوری تاریخ میں مسلمانوں نے آپس کے تنازعات میں تو شدت پسندی سے کام لیا ہے ،لیکن دوسرے ادیان ومذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ ان کا رویہ عام طورپر رواداری اور برداشت کا ہی رہاہے۔
معاشرے میں انتہا پسندی کی بڑی وجوہات کا اگر تجزیہ کیاجائے تو اس میں جہالت ایک بڑے عنصر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ دین سے بے خبری، خود قرآن وحدیث سے بے خبری۔ قرآن کی تلاوت مفہوم سمجھے بغیر کی جاتی ہے ۔اس عمل کے ثواب اور اس کی برکات سے انکار نہیں،لیکن قرآن کتاب ہدایت ہے ۔ہدایت پر عمل کرنے کے لیے پہلے اسے سمجھنا ضروری ہوتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم قرآن مجید کا مطالعہ مطالب اور مفاہیم کو سمجھ کر کریں تو اس سے کئی معاملات سلجھ سکتے ہیں اور انتہاپسندی میں کمی آسکتی ہے۔ ہمارے ہاں ہر کس وناکس حساس سے حساس مسئلے پر بڑی قطعیت سے رائے دینے کا عادی ہے ،حالانکہ اکثر ان کے پاس قرآن اور حدیث کا علم سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ اس قطعیت میں ایک بے جا ضد شامل ہوجاتی ہے۔
دوسرا عنصر برداشت اور رواداری کی عدم موجودگی ہے۔ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر برداشت سے محروم ہوتاجارہاہے، عجلت پسندی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ معمولی معمولی باتوں پر طیش میں آجانا ،ہتھیار اٹھا لینا ،مرنے مارنے پر تیار ہوجانا ہمار ا معمول بن چکاہے۔ اس رویے کی تہذیب اور اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔انسان کو مخالفانہ رائے کو حوصلے سے سننے کی تربیت کرنی چاہیے اور اس کے ساتھ اختلافی بات کو بڑے مہذب طریقے اور سلیقے سے کرنے کا فن بھی سیکھنا چاہیے۔
مصنف نے بجا طور پر نشان دہی کی ہے کہ ایک دوسرے پر کفر اور شرک کے فتوے لگانے سے انتہا پسندی کو فروغ مل رہاہے۔یہ بات اصولی طور پر طے ہوجانی چاہیے کہ تمام کلمہ گو جو رسول عربی ﷺ کو اللہ کا آخری رسول اور پیغمبر مانتے ہیں، مسلمان ہیں اور ان کے درمیان فقہی اختلافات کے باوجود کسی کو کسی پرکفر اورشرک کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے۔ جہاں تک فقہی اختلافات کا تعلق ہے، اس ضمن میں توسع سے کام لینا چاہیے۔
اس کتاب کے دوسرے باب میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نبوی تعلیمات سے جورہنمائی ملتی ہے، اسے واضح کیاگیاہے۔ اس باب میں مصنف نے ایسی بہت سی مثالیں نقل کی ہیں جن سے امت کے سلف صالحین اور بزرگوں کا اس معاملے میں طرز عمل سامنے آتاہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابن عمرؓ خارجیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ امام احمد بن حنبلؒ کا یہ قول سامنے آتاہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کسی کے پیچھے پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھے گا، وہ بدعتی ہے ۔ابن حزمؓ نے فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہؓ کا موقف او ر عمل واضح کیاہے اور مثالیں دی ہیں کہ وہ فاسق کے پیچھے بھی نمازپڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ فتاوی ٰ عام ہیں کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور اکثر ایسی صورتوں میں ہمارے علمائے کرام نماز کو لوٹانے یا دوبارہ پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔
مصنف نے تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں انسانی جان کی حرمت واضح کی ہے ۔اس حرمت کی خلاف ورزی کی صورت میں جو سخت وعید یں آئی ہیں ،ان کو بیان کیاہے۔ ایک شخص رسول اللہ ﷺ پر ایمان بھی رکھتاہو لیکن انسانی جان اور مومن کی جان کے بارے میں آپ کی اتنی صریح تعلیمات کو پس وپشت ڈالتاہو، اسے اپنے ایمان کے متعلق از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہی نہیں، اسلام تو کسی بھی دین کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کو چھیڑنے یا ان سے تعرض کرنے سے بھی سختی سے منع کرتاہے۔ انسانی جان کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عزت نفس کے تحفظ پر خصوصی زور دیتاہے ۔ایک دوسرے پر عیب لگانا، طعنے دینا، اشاروں کنایوں یا واضح لفظوں میں کسی کی اہانت کرنا، کسی کو کم قدر یا حقیر جاننا، ان سب سے سختی سے منع کرتا ہے۔ ایسا دین ،قتل وغارت گری کی کیوں کر اجازت دے سکتاہے۔
تیسرے باب میں فاضل مصنف نے اتحاد کی تلقین کی ہے۔اس باب میں انہوں نے انتشار کے مفہوم اور اس کے محرکات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔قرآن کے اندر نہ صرف اتحاد کی تلقین موجود ہے بلکہ اس کی بنیاد بھی واضح کی گئی ہے ۔حبل اللہ سے تمسک اور فرقہ واریت کی سخت ممانعت ’ولا تفرقوا‘ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ انتشار کسی بھی صورت میں پسندیدہ نہیں قراردیاگیا۔ہمیں کتاب میں ایک دلچسپ بحث ۷۳ فرقوں والی مشہور حدیث کے مفہوم سے متعلق ملتی ہے ۔مختلف علمائے امت کے موقف کی روشنی میں اس روایت کے صحیح مفہوم کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف نے مختلف ادیان کے ماننے والوں میں انتہا پسندی کے موضوع پر بھی آخر میں تین صفحات میں روشنی ڈالی ہے،لیکن لگتاہے کہ یہ پہلو مصنف کی بحث کے دائرے سے خارج تھا اور اس میں تشنگی کا احساس ہوتاہے ۔اس کتاب کی کسی اگلی اشاعت میں اس باب میں مفصل بحث آنی چاہیے۔
مجموعی طورپر مصنف کی یہ کوشش قابل قدر ہے۔کتا ب کے مختلف مباحث پر نظر ڈالنے سے یہ خوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے جن علمائے کرام کی آرا نقل کی ہیں، وہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس سے مصنف کا توسع سامنے آتاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روایت کو آگے بڑھایا جائے۔
ہم منتظر رہیں گے کہ مصنف اس سلسلے کو آگے بڑھائیں اور رواداری اور توسع کے جذبے کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر امت کے علما اس طرز عمل کو اپنالیں تو ہمارامعاشرہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔
تین طلاقوں کے بارے میں جمہور علماء کا موقف
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
(ایک مجلس میں یا ایک جملے میں تین طلاقوں کے وقوع کے بارے میں بحث ایک عرصے سے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں جاری ہے اور مختلف حضرات کے مضامین اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں۔ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاے امت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک جملے سے دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی واقع ہو تی ہیں، جبکہ مستند اہل علم کا ایک گروہ جس کی نمایاں ترجمانی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے رفقا کرتے ہیں، اس صورت میں ایک طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہے۔ اس مسئلے پر جمہور علما کے موقف کی وضاحت کے لیے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ’’عمدۃ الاثاث فی حکم الطلقات الثلاث‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتابچہ تصنیف کیا ہے جس کے باب اول میں انھوں نے جمہور کے موقف کے دلائل ذکر کیے ہیں۔ اس باب کا خلاصہ قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ فروعی فقہی اور مسلکی اختلافات اور ان پر روایتی طرز کا بحث مباحثہ ’الشریعہ‘ کے دائرۂ موضوعات میں شامل نہیں۔ ان صفحات میں تین طلاقوں کے مسئلے کی طرف توجہ اصلاً معاشرتی صورت حال کے تناظر میں دلانے کی کوشش کی گئی ہے جو اپنی سنگینی کے پیش نظر اہل علم کی توجہ اور اجتہاد کی متقاضی ہے۔ اس بحث میں مزید حصہ لینے کے خواہش مند اہل قلم اگر اس نکتے کو ملحوظ رکھیں تو بحث زیادہ مفید اور نتیجہ خیز ہوگی۔ مدیر)
۱۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا قاعدہ اور ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ دو طلاقوں کے بعد خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہے اور اسی طر ح بیوی کو حبالہ عقد اور نکاح میں نہ رکھنے کا حق بھی اسے پہنچتا ہے، لیکن اگر دو مرتبہ طلاق دے چکنے کے بعد تیسری طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں تاوقتیکہ وہ شرعی قاعدہ کے مطابق کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے اور پھر وہ اپنی مرضی سے طلاق دے اور عدت گزر جائے۔
فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْْرَہُ (البقرہ ۲۳۰)
’’پھر اگر شوہر اس کو (تیسری مرتبہ) طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، تاآنکہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔‘‘
یہاں حرف فا ہے جو اکثر تعقیب بلا مہلہ کے لیے آتا ہے جس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ دو طلاق کے بعد اگر فی الفور تیسری طلاق بھی کسی نادان نے دے دی تو اب اس کی بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے۔ اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ایک ہی مجلس اور ایک ہی جگہ میں تین طلاقیں دی جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کریمہ کی تفسیر اور مفہوم میں دفعۃً تین طلاقیں دینا بھی داخل ہے اور یہ متفرق طور پر تین طلاقوں کے لیے ہی متعین نہیں اور نہ اس میں یہ نص ہے کہ دفعۃً تین طلاقوں کو شامل نہ ہو۔
۲۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ سو اس نے کسی اور مرد سے نکاح کیا اور اس نے (ہم بستری سے پہلے) اسے طلاق دے دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے ہم بستری نہ کر لے (اور لطف اندوز نہ ہو جائے) (بخاری ۲/۷۹۱، مسلم ۱/۴۶۳، السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴)
اس حدیث میں ’طلق امراتہ ثلاثا‘ کے جملہ کی تشریح میں حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ بدر الدین عینی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ ظاہراً اسی کو چاہتا ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی اور دفعۃً دی گئی تھیں۔ (فتح الباری ۹/۴۹۵، عمدۃ القاری ۹/۵۳۷)
۳۔ حضرت عائشہؓ سے سوال کیا گیا کہ کوئی شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کے بعد اس کو تین طلاقیں دے دیتا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرا خاوند اس سے لطف اندوز نہ ہو جائے جس طرح کہ پہلا خاوند اس سے لطف اٹھا چکا ہے۔ (مسلم ۱/۴۶۳، السنن الکبریٰ ۷/۳۷۴)
اس حدیث میں بھی لفظ ’ثلاثا‘ بظاہر اسی کا مقتضی ہے کہ تین طلاقیں دفعۃً اور اکٹھی دی گئی ہوں۔
۴۔ حضرت محمود بن لبیدؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے؟ حتیٰ کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ حضرت! کیا میں اس شخص کو قتل نہ کر دوں؟ (نسائی ۲/۸۲)
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ دفعۃً تین طلاقیں دینا پسندیدہ امر نہیں ہے ورنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو اس کارروائی پر سخت ناراض ہوتے اور نہ یہ ارشاد فرماتے کہ میری موجودگی میں اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے۔ ہاں آپ نے باوجود ناراضی کے ان تینوں کو اس پر نافذ کر دیا۔ چنانچہ قاضی ابوبکر ابن العربی مذکورہ روایت کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقوں کو رد نہیں کیا بلکہ ان کو نافذ فرما دیا۔ حافظ ابن القیم نے قاضی ابن العربی کا یہ قول نقل کیا ہے اور اس کو رد نہیں کیا۔ (تہذیب سنن ابی داؤد ۳/۱۲۹ طبع مصر)
۵۔ حضرت سہل بن سعدؓ کی روایت ہے کہ حضرت عویمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور آپ نے ان کو نافذ کر دیا۔ (ابوداؤد ۱/۳۰۶)
اگر دفعۃً تین طلاقیں حرام ہوتیں اور تین کا شرعاً اعتبار نہ ہوتا اور تین طلاقیں ایک طلاق تصور کی جاتیں تو آپ ضرور اس کا حکم ارشاد فرماتے اور کسی طرح خاموشی اختیار نہ فرماتے۔
۶۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بحالت حیض اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی۔ پھر ارادہ کیا کہ باقی دو طلاقیں بھی باقی دو حیض (یا طہر) کے وقت دے دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے حضرت ابن عمر سے فرمایا کہ تجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح حکم تو نہیں دیا۔ تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت تو یہ ہے کہ جب طہر کا زمانہ آئے تو ہر طہر کے وقت اس کو طلاق دے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ تو رجوع کر لے، چنانچہ میں نے رجوع کر لیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب وہ طہر کے زمانہ میں داخل ہو تو اس کو طلاق دے دینا اور مرضی ہوئی تو بیوی بنا کر رکھ لینا۔ اس پر میں نے آپ سے عرض کیا، یا رسول اللہ، یہ تو بتلائیں کہ اگر میں اس کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے حلال ہوتا کہ میں اس کی طرف رجوع کر لوں؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور یہ کارروائی معصیت ہوتی۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴، دارقطنی ۲/۴۳۸، مجمع الزوائد ۴/۳۳۶، نصب الرایہ ۳/۲۲۰)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دے چکنے کے بعد پھر رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔
۷۔ حضرت نافع بن عجیرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت رکانہ بن عبد یزیدؓ نے اپنی بیوی سہیمہ کو بتہ (تعلق قطع کرنے والی) طلاق دی تو اس کے بعد انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور کہا، بخدا میں نے صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم، تو نے صرف ایک ہی طلاق کا ارادہ کیا ہے؟ رکانہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، میں نے صرف ایک ہی طلا ق کا ارادہ کیا ہے۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بی بی اسے واپس دلوا دی۔ دوسری طلاق رکانہ نے اس کو حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق حضرت عثمانؓ کے زمانے میں دی۔ (ابو داؤد ۱/۳۰۰، المستدرک ۲/۱۹۹، دارقطنی ۲/۳۹، موارد الظمآن ۳۲۱)
اگر لفظ ’بتہ‘ سے دفعۃً تین طلاقیں پڑنے کا جواز ثابت نہ ہوتا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رکانہ کو کیوں قسم دیتے؟ چونکہ کنایہ کی طلاق میں نیت کا دخل بھی ہوتا ہے اور لفظ بتہ تین کا احتمال بھی رکھتا ہے، اس لیے آپ نے ان کو قسم دی۔ اگر تین کے بعد رجوع کا حق ہوتا اور تین ایک سمجھی جاتی تو آپ ان کو قسم نہ دیتے۔
۸۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بحالت حیض اپنی بیوی کو بتہ (تعلق قطع کرنے والی اور یہاں مراد تین طلاقیں ہیں) طلاق دے دی ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے بالکل الگ ہو گئی۔ اس شخص نے کہا کہ عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ بھی تو ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کو رجوع کا حق دیا تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے فرمایا کہ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کر لے، مگر اس لیے کہ اس کی طلاق باقی تھی اور تیرے لیے تو اپنی بیوی کی طرف رجوع کا حق نہیں (کیوں کہ تیری طلاق باقی نہیں)۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴، مجمع الزوائد ۴/۳۳۵)
چونکہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی، اس لیے ان کے رجوع کا حق تو محفوظ تھا، مگر اس شخص نے اپنے حق رجوع کا ترکش بالکل خالی کر دیا تھا جس سے یہ صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں اس لیے حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ تم رجوع نہیں کر سکتے۔
۹۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے جب اسی قسم کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس صورت میں) مجھے رجوع کا حکم دیا تھا اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو یقیناًوہ تم پر حرام ہو گئی ہے، جب تک کہ وہ تیرے بغیر کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے اور اس طرح تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی بھی کی ہے۔ (مسلم ۱/۴۷۶، بخاری ۲/۸۰۳، السنن الکبریٰ ۷/۳۳۱، دارقطنی ۲/۴۳۶)
۱۰۔ حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک مسخرہ مزاج آدمی تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں۔ جب اس کا یہ معاملہ حضرت عمرؓ کے ہاں پیش کیا گیا اور ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں تو محض دل لگی او رخوش طبعی کے طور پر یہ طلاقیں دی ہیں ، یعنی میرا قصد اور ارادہ نہ تھا تو حضرت عمرؓ نے درہ سے اس کی مرمت کی اور فرمایا کہ تجھے تو تین طلاقیں ہی کافی تھیں۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴)
اس روایت سے ثابت ہوا کہ حضرت عمرؓ بھی ایک کلمہ اور ایک مجلس میں دی گئی طلاقوں کا اعتبار کرتے تھے، مگر چونکہ تین طلاقوں سے زائد کا شریعت میں ثبوت نہیں، اس لیے ایک ہزار میں سے تین کے وقوع کا تو انھوں نے حکم صادر فرمایا اور باقی کو لغو قرار دے دیا۔
۱۱۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے تین طلاقیں دے دیں، فرمایا کہ تین ہی طلاقیں متصور ہوں گی اور وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں تا وقتیکہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرے اور حضرت عمرؓ کے پاس جب ایسا شخص لایا جاتا تو آپ اس کو سزا دیا کرتے تھے۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴)
۱۲۔ حضرت عبد الرحمن ابن ابی لیلیٰ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے تین طلاقیں دے ے تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، یہاں تک کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۴)
ایک اور روایت میں یوں آتا ہے کہ ایک شخص حضرت علیؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ تین طلاقیں تو اس کو تجھ پر حرام کر دیتی ہیں اور باقی ماندہ طلاقیں اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کر دے۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۵)
معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ بھی ایک کلمہ اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی قرار دیتے تھے، اسی لیے تو انھوں نے فرمایا کہ تین طلاقیں تو تیری بیوی پر واقع ہو چکی ہیں اور ہزار میں سے باقی نو سو ستاونوے اپنی باقی ماندہ بیویوں پر بانٹ دے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے انتہائی خفگی اور ناراضی کا اظہار فرمایا۔
۱۳۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اب اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تیرے چچا نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے اور اب اس کی کوئی صورت نہیں بن سکتی۔ وہ شخص بولا کہ کیا حلالہ کی صورت میں بھی جواز کی شکل نہیں پید اہو سکتی؟ اس پر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے دھوکہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دے گا۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۷، طحاوی ۲/۲۹)
ایک روایت یوں آتی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس پر سکوت اختیار کیا۔ ہم نے خیال کیا کہ شاید وہ اس عورت کو واپس اسے دلانا چاہتے ہیں، مگر حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ تم خود حماقت کا ارتکاب کرتے ہو اور پھر کہتے ہو اے ابن عباس، اے ابن عباس؟ بات یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے نہ ڈرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہیں نکل سکتی۔ جب تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے تو اب تمھارے لیے کوئی گنجایش ہی نہیں۔ تمھاری بیوی اب تم سے بالکل علیحدہ ہو چکی ہے۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۱)
۱۴۔ حضرت معاویہ بن ابی عیاش انصاریؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اور عاصم بن عمرو کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں حضرت محمد بن ایاس بن بکیر تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ایک دیہاتی گنوار نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو (جس سے ابھی تک ہم بستری نہیں کی گئی) تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے فرمایا، جا کر عبد اللہ بن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ سے پوچھو۔ میں ابھی ان کو حضرت عائشہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ مگر جب ان سے سوال کر چکو تو واپسی پر ہمیں بھی مسئلہ سے آگاہ کرنا۔ جب سائل ان کے پاس حاضر ہوا اور دریافت کیا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ، فتویٰ دیجیے، لیکن سوچ سمجھ کر بتانا کہ مسئلہ پیچیدہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ ایک طلاق اس سے علیحدگی کے لیے کافی تھی اور تین طلاقوں سے وہ اس پر حرام ہو گئی ہے، الا یہ کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ اور حضرت ابن عباسؓ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔ (موطا امام مالک ۲۰۸، طحاوی ۲/۲۹، السنن الکبریٰ ۷/۳۳۵)
۱۵۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعودؓ سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو دو سو طلاق دے دی ہے، اب کیا حکم ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ تجھے کیا فتویٰ دیا گیا ہے؟ اس نے کہا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ عورت اب مجھ سے بالکل الگ اور جدا ہو گئی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ لوگوں نے سچ کہا ہے۔ (موطا امام مالک ۱۹۹)
۱۶۔ حضرت عمران بن حصینؓ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے یہ سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں ، اب وہ کیا کرے؟ حضرت عمران نے فرمایا کہ اس نے رب تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے اور ا س کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ہے۔ سائل وہاں سے چل کر حضرت ابو موسیٰ الاشعری کے پاس پہنچا اور اس خیال سے اس نے ان سے بھی سوال کیا کہ وہ شاید اس کے خلاف فتویٰ صادر فرمائیں گے، مگر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمران بن حصینؓ کی تائید کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم میں ابو نجید جیسے آدمی مزید پیدا کرے۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۳۲، مستدرک ۳/۴۷۲)
۱۷۔ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال کیا کہ ایک شخص نے ہم بستری سے قبل اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، وہ کیا کرے؟ اس پر حضرت عطاء بن یسار نے فرمایا کہ کنواری کی طلاق تو ایک ہی ہوتی ہے۔ حضرت ابن عمر نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تو قصہ گو ہے۔ ایک طلاق ایسی عور ت کو جدا کر دیتی ہے اور تین اس کو حرام کر دیتی ہیں تاوقتیکہ وہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرے۔ (مسند امام شافعی ۳۶، طحاوی ۲/۳۰)
۱۸۔ ایک شخص نے اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ پھر اس کا خیال ہوا کہ وہ اس سے نکاح کر لے۔ اس نے حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے فتویٰ طلب کیا۔ ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح نہیں کر سکتے تاوقتیکہ وہ کسی اور مرد سے نکاح نہ کر لے۔ اس شخص نے کہا کہ اس کے لیے میری طرف سے تو ایک ہی طلاق ہے (یعنی تین سے مراد ایک ہے) تو انھوں نے فرمایا کہ تم نے اپنا وہ اختیار کھو دیا ہے جو تمھارے ہاتھ اور بس میں تھا۔ (مسند امام شافعی ۳۶)
۱۹۔ حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اب کیا صورت ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تجھ پر تمھاری بیوی حرام ہو گئی حتیٰ کہ وہ تمھارے بغیر کسی اور مرد سے نکاح کرے۔ (جامع المسانید ۲/۱۴۸)
۲۰۔ حضرت مسلمہ بن جعفر الاحمسیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام جعفر بن محمد سے سوال کیا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس شخص نے جہالت میں مبتلا ہو کر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو ان کو سنت کی طرف لوٹایا جائے گا اور ا س صورت میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی، اور لوگ اس کو آپ حضرات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ معاذ اللہ تعالیٰ، ہمارا یہ قول نہیں ہے۔ جس شخص نے تین طلاقیں دے دیں، وہ تین ہی ہوں گی۔ (السنن الکبریٰ ۷/۳۴۰)
اس سے ثابت ہو اکہ اہل بیت کی طرف تین طلاقوں کے ایک ہونے کی جو نسبت کی جاتی ہے، وہ قطعاً غلط اور یقیناًبے بنیاد ہے اور حضرات اہل بیت بھی دیگر حضرات کے ہم نوا ہیں اور تین طلاقوں کو تین ہی سمجھتے اور اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔
الغرض اندرونی اور بیرونی دلائل وبراہین اور قرائن وشواہد اس امر کو متعین کر دیتے ہیں کہ آزاد مرد طلاق دے یا غلام، تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں یا دو، ان کا شرعاً اعتبار کیا جائے گا اور دو کو دو اور تین کو تین ہی سمجھا جائے گا۔ تقریباً سو فی صدی حضرات صحابہ کرام، اکثر تابعین، ائمہ اربعہ اور جمہور سلف وخلف اسی کے قائل ہیں اور ظاہر قرآن کریم اور صحیح وصریح احادیث بھی یہی کچھ بتاتی ہیں اور یہی حق وصواب ہے، لہٰذا جن بعض حضرات کے اقوال اور فتوے اس مسئلے میں جمہور کے اجماع کے خلاف نقل کیے جاتے ہیں، ان کی کوئی وقعت نہیں ہے اور وہ سب کے سب شاذ ہیں جو قابل عمل نہیں۔ چنانچہ علامہ احمد بن محمد القسطلانی الشافعی تین طلاقوں کو ایک سمجھنے والوں کے مذہب کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ مذہب شاذ اور منکر ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ (ارشاد الساری ۸/۱۵۷ طبع مصر)
اصولوں پر تنقید
طالب محسن
حافظ زبیر صاحب کا ایک طویل مضمون ’الشریعہ‘ (مئی ۲۰۰۶) میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں حافظ صاحب نے استاد محترم جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے ’’اصولوں‘‘ پر تنقید کی ہے اور بعض اطلاقی مسائل کو بھی بطور مثال زیر بحث لائے ہیں۔ ہم ان اطلاقی مسائل مثلاً رجم کی سزا، حضرت مسیح کی دوبارہ آمد اور دجال وغیرہ پر بحث کو اس وقت تک کے لیے مؤخر کر رہے ہیں جب تک اصول کی بحث مکمل نہیں ہوجاتی۔
حافظ صاحب کے مضمون کا اصولوں سے متعلق حصہ، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ استاد محترم کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ کے مندرجات پر تنقید نہیں ہے، بلکہ انھوں نے بعض غیر متعلق اقتباسات سے، جن میں سے اہم اقتباسات استاد محترم کی تحریر بھی نہیں ہیں، خود کچھ اصول اخذ کیے ہیں اور پھر ان پر تنقید کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حافظ صاحب کا مضمون واضح طور پر علمی دھاندلی کا نمونہ ہے۔ انھیں اگر استاد محترم کے اصول پر تنقید کرنا تھی تو انھیں ’’اصول ومبادی ‘‘میں بیان کردہ اصولوں پر تنقید کرنی چاہیے تھی اور اگر وہ دوسری آرا کو زیر بحث لانا چاہتے تھے تو ان آرا سے متعلق نصوص کو زیر بحث لاتے اور یہ واضح کرتے کہ استاد محترم متعلقہ نص کا مفہوم طے کرنے میں کہاں غلط ہیں۔ حافظ صاحب نے اصل میں کچھ تحقیقی نتائج کو سامنے رکھا ہے۔ ان نتائج تک پہنچنے کے اصول خود دریافت کیے ہیں اور انھیں استاد محترم کی طرف منسوب کرکے اپنے تئیں اصولی تنقید کی مثال قائم کر ڈالی ہے۔بہرحال اگر ہم ان خود دریافتہ اصولوں کا جائزہ لیں تو تین بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ تصور کتاب
۲۔ سنت کی تعریف
۳۔ مقام حدیث
حافظ صاحب کے نزدیک استاد محترم کا تصور کتاب غلط ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’غامدی صاحب کے نزدیک کتاب اللہ سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ کتاب الٰہی ہے یعنی تورات، انجیل اور صحف ابراہیم بھی اس میں شامل ہیں۔ ‘‘ ۱
ہم یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ حافظ صاحب کا استاد محترم سے منسوب کردہ یہ تصور کتاب ان کا خود ساختہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ استاد محترم نے اپنی کتاب ’’اصول ومبادی ‘‘میں کتاب اللہ سے ان کی کیا مراد ہے، واضح الفاظ میں بیان کی ہے۔لکھتے ہیں:
’’یہ وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے، اور اپنے نزول کے بعد سے آج تک مسلمانوں کے پاس ان کی طرف سے بالاجماع اس صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہی وہ کتاب ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اور جسے آپ کے صحابہ نے اپنے اجماع اور قولی تواتر کے ذریعے سے پوری حفاظت کے ساتھ بغیر کسی ادنیٰ تغیر کے دنیا کو منتقل کیا ہے۔‘‘ ۲
حافظ کہہ سکتے ہیں کہ اس اقتباس سے تو ان کی بات کی نفی نہیں ہوتی۔ اگر وہ اس سے پہلے ماخذ کے حوالے سے لکھا گیااصل الاصول پیش نظر رکھیں تو یہ بات کہنا ممکن نہیں۔ استاد محترم نے لکھا ہے:
’’دین کاتنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ انھی کی ہستی ہے جس سے قیامت تک بنی آدم کو اس کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریر وتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی رہتی دنیا تک دین حق قرارپائے‘‘۔۳
اس اقتباس کے شروع میں تنہا ماخذ اور اس کے آخری جملے میں قول وفعل اور تقریر وتصویب کے الفاظ حافظ صاحب کے دریافت کردہ اصول کی ہر پہلو سے تغلیط کر دیتے ہیں۔یہاں یہ بیان کردینا بھی مفید مطلب ہے کہ استاد محترم کے نزدیک یہود ونصاریٰ کی الہامی کتب کی افادیت کیا ہے۔ اپنی کتاب اصول ومبادی میں لکھتے ہیں:
’’الہامی لٹریچر کے خاص اسالیب، یہود ونصاریٰ کی تاریخ، انبیاے بنی اسرائیل کی سرگزشتوں اور اس طرح کے دوسرے موضوعات سے متعلق قرآن کے اسالیب واشارات کو سمجھنے اور اس کے اجمال کی تفصیل کے لیے قدیم صحیفے ہی اصل ماخذ ہوں گے۔‘‘ ۴
اس اقتباس میں صریح الفاظ میں صرف یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید کے کن موضوعات کو سمجھنے میں یہ کتب فائدہ مند ہیں۔ ان الفاظ سے جو شخص کتاب الٰہی کا ایک مختلف تصور درآمد کرتا ہے، اس کی خدمت میں یہی عرض کیا جاسکتا ہے:
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
حافظ صاحب نے قرآن ہی کی طرح سنت کی ایک تعریف بھی استاد محترم سے منسوب کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’جہاں تک سنت کا معاملہ ہے تو غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوتی بلکہ سنت سے مراد سنت ابراہیمی ہے، یعنی دین کی وہ روایت جو حضرت ابراہیم سے جاری ہوئی۔‘‘ ۵
ہمیں نہیں معلوم کہ حافظ صاحب نے یہ نتیجہ کیسے نکالا ہے۔ اس لیے کہ استاد محترم کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ سنت ابراہیمی کا ذکر صرف تاریخی پہلو کو بیان کرنے کے لیے ہے، ماخذکی حیثیت سے نہیں ہے۔ استاد محترم نے لکھا ہے:
’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایاہے۔‘‘ ۶
اس تعریف میں تجدید واصلاح اور جاری فرمانے کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ اوپر ہم استاد محترم کا ایک اقتباس نقل کرچکے ہیں جس میں واحد ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کو قرار دیا گیا ہے۔ ان دونوں عبارتوں کو ملا کر پڑھیں تو اس بات سے انکار ناممکن ہو جاتا ہے کہ استاد محترم کے نزدیک ہمارے لیے ماخذ صرف وہی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا ہو۔ یہ بات کہ وہ عمل حضور سے پہلے بھی موجود تھا، ایک اضافی اطلاع ہے، شرط یا تعریف کا حصہ نہیں ہے۔ حافظ صاحب اس بیان سے غالباً قارئین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سنت کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر امت سے ہٹ کر ہے۔ استاد محترم کے اقتباسات سے واضح ہے کہ ہم دین لینے کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ قرآن وسنت ہی کو ماخذ مانتے ہیں۔ البتہ حافظ صاحب استاد محترم کے ان بیانات میں کوئی غلطی پاتے ہیں تو ہم ان کی تنقید کا خیر مقدم کریں گے۔
تیسرا نکتہ مقام حدیث سے متعلق ہے۔ حافظ صاحب نے لکھا ہے:
’’غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا، یعنی حدیث سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا ہر گز کوئی اضافہ نہیں ہوتا جبکہ علمائے اہل سنت کے نزدیک قرآن کی طرح حدیث سے بھی دین ثابت ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت انھوں نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے۔‘‘ ۷
حافظ صاحب نے اگر اتنا ہی لکھا ہوتاکہ غامدی صاحب کے نزدیک حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا یعنی حدیث سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا تو ہم اسے نامکمل بیان قرار دیتے اور ان سے درخواست کرتے کہ وہ اصول ومبادی کے ابتدائی دو صفحات ذرا دقت نظر سے دیکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ حدیث کے بارے میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے، وہ کس پہلو سے غلط ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ اس اصول کے تحت انھوں نے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار کیا ہے‘‘۔ اس اضافے نے یہ بات واضح کردی ہے کہ حافظ صاحب استاد محترم کی بات سمجھے بغیر اس کی غلطی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس جملے کے دونوں اجزا غلط ہیں۔ یہ بھی کہ رجم کا انکار کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ وہ حدیث کے بارے میں کسی نقطہ نظر کا نتیجہ ہے۔ ہمارے ناقدین کے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ علمی تنقید کا پہلا تقاضا ہی پورا نہیں کرتے۔ حافظ صاحب پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں۔ کیا وہ یہ بات نہیں جانتے کہ جس نقطہ نظر کو غلط قرار دیا جارہا ہے، اس کی غلطی کا صحیح تعین ضروری ہے۔ اگر غلطی صحیح طور پر متعین نہیں کی گئی یا قائل کا نقطہ نظر پوری طرح نہیں سمجھا گیا تو یہ عمل علمی دیانت کے خلاف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ناقدین کچھ اسباب کے تحت ہماری تغلیط تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اس کے لیے بالعموم یہ بنیادی تقاضا پورا نہیں کرتے، جس کے باعث ان کے قلم تہمت جیسے قبیح جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔
حافظ صاحب نے رجم کو یہاں بطور مثال بیان کیا ہے، اس لیے ہم اس کو باقاعدہ موضوع بنانے کے بجائے محض یہ وضاحت کر دینا کافی سمجھتے ہیں کہ اصل سوال کیا ہے؟امت میں یہ سوال ہمیشہ سے زیر بحث ہے کہ رجم کے واقعات کا مبنی قرآن میں کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں زنا کی سزا صریح الفاظ میں بیان ہوئی ہے اور وہ سو کوڑے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے صریح حکم کو چھوڑ کر کوئی اور رائے اختیار کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی مرحوم نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا آیت محاربہ کے تحت دی ہے۔ یہ نقطہ نظر صریح طور پر رجم کی سزا کا اثبات ہے۔ اسے کسی طرح بھی انکار قرار دینا درست نہیں۔ ہم حافظ صاحب سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس نقطہ نظر کو رجم کی سزا کے انکار پر محمول کرنے کے بعد وہ کس طرح مطمئن ہیں کہ ان سے ناانصافی نہیں ہوئی جبکہ قرآن مجید کا صریح حکم ہے کہ تمھیں ہر حال میں عدل کی بات کہنی ہے، خواہ معاملہ دشمن ہی کا کیوں نہ ہو۔
اب ہم حدیث کے مسئلے کو لیتے ہیں۔ یہاں بھی استاد محترم کے نقطہ نظر کو غلط رنگ دیا گیا ہے۔ استاد محترم کے نزدیک:
’’دین کاتنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ یہ انھی کی ہستی ہے جس سے قیامت تک بنی آدم کو اس کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف انھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریر وتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے‘‘۔
ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا ہم ان سے براہ راست یہ دین نہیں لے سکتے۔ ہمارے لیے اس دین کا ماخذ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب استاد محترم ان الفاظ میں دیتے ہیں:
’’اس کے ماخذ کی تفصیل ہم اس طرح کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی وعملی تواتر سے منتقل ہوا۔‘‘ ۸
یہ جملہ ایک واضح نکتہ بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا سارا دین بے کم وکاست صحابہ کے اجماع وقولی وعملی تواتر کے ماخذ سے دستیاب ہے۔ استاد محترم کے اس بیان کی روشنی میںیہ بیان ناقص ہے کہ ان کے نزدیک حدیث سے دین ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کوئی یہ کہے کہ ان کے نزدیک دین کا کوئی مستقل بالذات جزو خبر واحد پر منحصر نہیں ہے تو یہ بات درست ہے۔چنانچہ حدیث کے مشمولات کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے:
’’دین سے متعلق جو چیزیں ان (احادیث ) میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن وسنت میں محصور اسی دین کی تفہیم وتبیین اور اس پر عمل کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔‘‘ ۹
حافظ صاحب اگر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو اس بات پر تنقید کریں اور اس کی غلطی دلائل سے واضح کریں۔ انھوں نے جو بات لکھی ہے، اس کو غامدی صاحب کا نقطہ نظر قرار دینا بات کو الجھانے کا باعث تو ہو سکتا ہے، لیکن اسے کوئی علمی خدمت قرار دینا ممکن نہیں۔
استدراک
حافظ صاحب کے مضمون کا بڑا حصہ رجم کی سزا، یاجوج ماجوج کے مصداق کے تعین اور حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے حوالے سے استاد محترم کی غلطیوں اور حافظ صاحب کے قراردادہ اصولوں سے استاد محترم کے انحراف کی وضاحت بر مبنی ہے۔ ہم نے ان بحثوں میں پڑنے سے اس وجہ سے احتراز کیا ہے کہ پہلے بنیادی باتیں طے ہوجائیں ۔ اگر ان میں حافظ صاحب استاد محترم سے موافقت کر لیتے ہیں یا غلطی واضح ہونے کی صورت میں ہم اپنی اصلاح کر لیتے ہیں تو اگلی بحثوں کے فیصل ہونے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ چنانچہ ہماری حافظ صاحب سے گزارش ہے کہ اگر وہ ہمارے مضمون کے جواب میں قلم اٹھائیں تو استاد محترم کے بیان کردہ ان بنیادی اصولوں کی غلطی بیان کرنے تک محدود رہیں تاکہ بحث ایک رخ پر چلتے ہوئے کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچ سکے۔
ایک دوسری چیز کو بھی ہم نے اپنے اس مضمون میں موضوع نہیں بنایا۔ میرے جس مضمون کے جواب میں حافظ صاحب نے یہ مضمون لکھا ہے، اس میں مرکزی بات یہ نصیحت تھی کہ تنقید لکھنے میں طعن وتشنیع اور محرکات کے درپے ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔ حافظ صاحب نے اس حوالے سے یہ لکھاہے کہ خود استاد محترم کی تحریریں بھی طعن وتشنیع سے خالی نہیں ہوتیں۔ اگرچہ اس حوالے سے یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ استاد محترم کی تنقید نگاری اور ہمارے ناقدین کے اسلوب بیان میں بہت فرق ہے۔ مزید یہ کہ استاد محترم کی تحریروں میں شاید ہی ایسی کسی تنقید کی مثال مل سکے جو سوئے ظن یا تنابز بالالقاب جیسی اخلاقی قباحت کا مظہر ہو۔ ہمارے نزدیک اصل خرابی یہ ہے۔ اس سے ہمیں بھی انکار نہیں ہے کہ تنقید وتجزیہ کرتے ہوئے قلم میں سختی آہی جاتی ہے۔ سخت تنقید اور چیز ہے اور دین کی سکھائی ہوئی اخلاقیات میں کمزوری دوسری چیز ہے۔لیکن ہم حافظ صاحب کی اس نصیحت کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ اگر استاد محترم کے قلم سے کوئی غلط بات نکلی ہے تو اس کی بھی اصلاح ہونی چاہیے۔
حوالہ جات
۱ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶ ص۲۴
۲ اصول مبادی، ص۱۰
۳ ایضا، ص۹
۴ اصول ومبادی صفحہ۵۲
۵ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶، ص۲۴
۶ اصول ومبادی،ص۱۰
۷ ماہنامہ الشریعہ مئی ۲۰۰۶، ص۲۳
۸ اصول ومبادی، ص۹
۹ اصول ومبادی، ص۱۱
’’قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ ۔ تنقیدات پر ایک نظر
پروفیسر میاں انعام الرحمن
ماہنامہ الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ کے شمارے میں ہمارے شائع شدہ مضمون ’’ قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ ‘‘ پر چند تنقیدی آرا سامنے آئی ہیں۔ مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں یوسف جذاب صاحب نے اپنے خط میں مضمون کے پہلے حصے پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے، لیکن زیادہ تر احباب کی تنقید ہمارے مضمون کے دوسرے حصے کے متعلق ہے جس میں بطور کیس سٹڈی ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث پر قرآنی سیاق میں نقد اور قرآنی منشا کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے ہم یہاں یوسف صاحب کی تنقید سے صرفِ نظر کرتے ہیں اور ’’ذبیح کون‘‘ کی بحث کی ضرورت اور افادیت پر مبنی آرا کا اختصار سے جائزہ لیتے ہیں ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے گزارش یہ ہے کہ چند احباب نے ’’قورح اور قارون ‘‘ کی بحث کے سے انداز میں ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث کو لیا ہے کہ یہ بحث لا یعنی ہے۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ خود ہمارا موقف بھی تقریباً یہی ہے ۔ اپنے مضمون میں ہم نے اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ ’’ذبیح کون ‘‘ کی بحث نہ صرف لایعنی ہے بلکہ استدلالات کے ذریعے ذبیح کو مشخص کرنے سے قرآنی متن اور قرآنی منشا بھی مجروح ہوتے ہیں ۔ اب اگر اس بات پر تنقید کی جائے کہ ہم نے ذبیح کون کی ’’بحث پر تنقید‘‘ کیوں کی ہے اور یہ کہ ایسی تنقید ’’ قورح اور قارون ‘‘ کی بحث کے مانند لایعنی ہے، تو ہماری نظر میں یہ بات انصاف پر مبنی نہیں ہے ۔ ’’قورح اور قارون‘‘ اور ’’ذبیح کون‘‘ دونوں مباحث میں محرکات اور نتائج کے اعتبار سے بنیادی فرق موجود ہے ۔ قورح اور قارون والی بحث کا محرک علمی تفاخر ہے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں (ہم خود ایسی ذہنی عیاشیوں کے قائل نہیں ہیں) ۔ جہاں تک ذبیح کون والی بحث کا تعلق ہے، اس کے محرکات و نتائج کے مطالعے کے لیے اپریل ۲۰۰۶ کے شمارے میں اسلم میر صاحب کا مضمون کفایت کرتا ہے ۔ لیکن چونکہ یہ محرکات و نتائج ہماری نظر میں قرآنی منشا سے متصادم ہیں، اسی لیے ہم نے بعض تحفظات کا اظہار کرنے کے علاوہ اپنے تئیں درست راہ کی بھی نشاندہی کی تھی ۔
جن اصحاب نے ’’ ذبیح کون ‘‘ کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے جذباتی انداز میں حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح قرار دینے پر اصرار کیا ہے، ہم شکریے کے ساتھ ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسلم میر صاحب کے مضمون پر نظر ڈالنا چاہیں گے ، لیکن اس گزارش کے ساتھ کہ ہماری نیت مناظرہ بازی کی نہیں ہے۔ اسی لیے ہم نے اب تک، تنقیدی آرا پر کسی تبصرے سے گریز کیا تھا، لیکن ا ب اپنے موقف کی وضاحت کے ارادے سے یہاں چند سطریں تحریر کر رہے ہیں ۔
اسلم میر صاحب کی تنقید کا لبِ لباب ان کے مضمون کی ان آخری سطروں میں موجود ہے :
’’اس بحث سے اس سوال کاجواب بھی مل جاتا ہے کہ کہ آیا ہم مسلمانوں کو ’ذبیح کو ن ہے؟‘ کی بحث میں پڑنا چاہیے یا نہیں۔ اگر ہم اس بحث کو اس زاویے سے چھیڑیں کہ اسحاق ؑ یا اسماعیل میں سے کسی ایک کی برتری دوسرے پر ثابت کی جائے تویہ ہر گزمستحسن نہیں ،لیکن اگر بحث اس زاویے سے ہو کہ یہودیوں کے کتمانِ حق کاپردہ چاک کیاجائے یا اس کتمانِ حق کوصحیح طور پر سمجھا جائے تو پھر یہ بحث بہت اہم ہے۔ اس کے بغیر، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، قرآن کی بہت سی آیات کی تفہیم بہت مشکل ہے۔‘‘ (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۶، ص ۵۶)
جہاں تک ہم سمجھے ہیں ، اسلم میر صاحب ( اور یوسف جذاب صاحب ) بعض قرآنی آیات کی تفہیم کے لیے یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنا ناگزیرخیال کرتے ہیں اور اس سلسلے میں قرآنی متن اور احادیث نبوی ﷺ کی منشا کو پیشِ نظر رکھنے کے بجائے تاریخی آثار اور اسرائیلیات کو اساسی انداز میں لیتے ہیں ۔ ہمیں اس بنیادی نکتے سے ہی اختلاف ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان قرآن کی موجودہ ترتیب کے مکلف ہیں کہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی خاتم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے وصال سے قبل جبریل ؑ کے ساتھ قرآن کا دور کیا تھا ۔ اب اگر نزولی ترتیب کو پیشِ نظر رکھا جائے تو بلاشبہ یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کر نے جیسے امور کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ لیکن جس قرآنی ترتیب کا ہمیں مکلف ٹھہرایا گیا ہے، اس کی معنویت کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور عالمِ انسانیت کے لیے عبرت کا سامان مہیا کرنے تک بڑھی ہوئی ہے ۔ لہٰذا قرآن جس ترتیب سے تلاوت کیا جاتا ہے، یہ ترتیب خود ایسی انتہا پسندی کے فروغ میں مانع ہے جس کا اظہار اسلم میر صاحب نے مولانا حمید الدین فراہی ؒ کے اقتباسات کی مدد سے کیا ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ ذبیح کون کی بحث کے محرکات کو اگر طوعاً وکرہاً درست بھی مان لیا جائے تو اس کے نتائج حسبِ منشا برآمد نہیں ہوتے ، کیونکہ لامحالہ حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کا تقابل و موازنہ شروع ہو جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے بہت بڑھ جاتا ہے ، لیکن ہمیں اول تو اس بحث کے محرکات کی درستی پر ہی شک ہے ۔
میر صاحب نے ہمارے دلائل کے رد میں بعض دلچسپ نکات اٹھائے ہیں۔مثلاً ہم نے عرض کیا تھا کہ اگر قربانی کے واقعہ میں بھی حضرت اسماعیل ؑ کا نام شامل ہوتا تو معترضین کو پھبتی کسنے کا موقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالم گیریت کا کرتا ہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے (کہ بیت اللہ کی تعمیر کے ذکر میں ان کا نام موجود ہے)، اسی طرح اگر اسحاق ؑ کا نام شامل ہوتا تو یہودیوں کی نسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔ میر صاحب نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ :
’’بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر کے سلسلے میں ( البقرۃ آیات ۱۲۵۔۱۲۷ ) میں اسماعیل ؑ کے ذکر میں کیا حکمت ہے ؟ کیا وہاں صرف ابراہیم ؑ کا ذکر کافی نہیں تھا ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کے ذکر پر تو یہود کو پھبتی کسنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی، لیکن اگر اللہ تعالیٰ قربانی کے واقعے میں اسماعیل ؑ کا ذکر کر دیتے تو وہ فوراً پھبتیاں کسنے لگتے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کعبے کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کا نام ذکر کرنے پر تو وہ اللہ تعالیٰ کو معاف کر دیتے لیکن قربانی کے معاملے میں معاف نہ کرتے ؟‘‘ (الشریعہ، اپریل، ص ۴۳، ۵۴)
ہم گزارش کریں گے کہ میر صاحب کے زرخیز ذہن پر یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کا جنون سمایا ہوا ہے، اسی لیے وہ ایک خاص زاویے سے ہی ہر بات کو لے رہے ہیں ۔ ہم نے ’’ معترضین ‘‘ کا ذکر کیا تھا جسے میر صاحب نے ’’یہودیوں‘‘ پر محمول کیا ، اس سے ان کے mindset کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ جہاں تک ابراہیم ؑ کے ذکر کے کافی ہونے کا تعلق ہے ، ہم نے خود اسی قسم کی مثال اپنے مضمون میں بھی دی تھی اور عرض کیا تھا کہ یہ ایک الگ بحث ہے ( الشریعہ جنوری ۲۰۰۶، ص ۳۲)
ہمارے دیگر دلائل کے رد میں بھی میر صاحب کے اعتراضات اسی نوعیت کے ہیں۔ طوالت سے بچنے کی خاطر ہم ایک بنیادی بات عرض کریں گے کہ کسی موقف کے اثبات کے لیے پیش کیے گئے دلائل اپنی حیثیت کے اعتبار سے اضافی ہوتے ہیں۔ کسی دلیل کے رد ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ موقف غلط ہو گیا۔ ہمیں تاریخ سے ایسی کئی مثالیں مل سکتی ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ کسی یکساں بات کو منوانے کے لیے مختلف اوقات میں مختلف دلائل پیش کیے گئے ۔ بات وہی ہوتی ہے لیکن مخاطب کی استعداد اور دیگر امور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دلائل مختلف ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؑ کا مکالمہ ہماری رائے کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ میرا رب زندگی اور موت دیتا ہے تو مخاطب نے بھی کہا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔ ذرا غور کیجیے کہ ابراہیم ؑ کے مخاطب کی بات سراسر غلط ہے، لیکن ابراہیم ؑ اس کی ذہنی ساخت کو سمجھتے ہوئے اپنی دلیل کے دفاع کے بجائے فرماتے ہیں کہ: فَإِنَّ اللّہَ یَأْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِب (البقرہ ۲۵۸) ’’بے شک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو مغرب سے نکال کر دکھا۔‘‘ ہم نے اپنے مضمون کا اختتام اسی لیے درود شریف پر کیا تھا کہ یہ ایک قطعی دلیل ہے جس سے ذبیح کون کی بحث کی لایعنیت واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی آنکھوں پر کسی خاص فکر کا چشمہ لگا کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو ظاہر ہے، اسے کوا سفید ہی نظر آئے گا۔
اسلم میر صاحب نے ہمارے بنیادی موقف کی تائید کی ہے لیکن اس تحفظ کے ساتھ کہ یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے اور قرآن کی بہت سی آیات کی تفہیم کے لیے ذبیح کون کی بحث ضروری ہے اور حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح ثابت کرکے ہی حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ ہم لمبی چوڑی بحث میں پڑے بغیر ابنِ قتیبہ ؒ کی تاریخ الانساب (کتاب المعارف) کے حوالے سے عرض کریں گے کہ حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب نے فرمایا تھا کہ ذبیح اسحاق ؑ تھے اور یہ کہ اکثر علما کا یہی قول ہے، البتہ کچھ لوگ اسماعیل ؑ کے ذبیح ہونے کے قائل ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ ، حضرت اسماعیل ؑ کے ذبیح ہونے پر متفق کیوں نہیں تھے؟ حالانکہ اس خاص ماحول میں صحابہ کرامؓ کا یہودیوں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ موجود تھا اور پھر قرآن مجید کی نزولی ترتیب کو مدِ نظر رکھا جائے تو واضح طور پر بہت سی آیات انھی یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ آخر صحابہ کرامؓ نے یہودیوں کے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کی خاطر یکساں رویہ کیوں نہیں اختیار کیا ؟ اور انھیں قرآن مجید کی بہت سی آیات کا فہم، کتمانِ حق کا پردہ چاک کیے بغیر کیسے حاصل ہوگیا ؟ ہم عرض کریں گے کہ عہدِ نبوی ﷺ اور عہدِ صحابہ کرامؓ کے آثار واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ اول تو اصحابؓ کسی کے ذبیح ہونے پر متفق نہیں تھے اور دوم یہ کہ انھوں نے ذبیح کو مشخص کرنے کی خاطر کسی قسم کے بحث و مباحثہ کی داغ بیل بھی نہیں ڈالی ( اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ کو ذبیح قرار دینے کی آرا ، اصل میں صحابہ کرامؓ کے راہ چلتے اقوال ہیں) ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے یہ بحث کیوں نہیں چھیڑی ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بات کرتے وقت یا کوئی بحث چھیڑتے وقت ہمیں اپنے ’’ مقام ‘‘ سے آگاہ ہو نا چاہیے ۔ اگر ہم اپنے مقام سے آگاہ نہیں ہوں گے تو لازماً مخاطب کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکیں گے ۔ ہم مسلمان ، نبی خاتم ﷺ کی امت ہونے کے ناطے آخری امت ہیں۔ اس لیے ہم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حتی الامکان اپنے مقام سے گرنے نہ پائیں ۔ نبی خاتم ﷺ کے تربیت یافتگان اپنے مقام سے گر ہی نہیں سکتے تھے اس لیے انھوں نے حق ادا کرتے ہوئے کتمانِ حق کا پردہ چاک کرنے کی ’’آڑ ‘‘ لینے کے بجائے قرآنی متن اور قرآنی منشا کو پیشِ نظر رکھا اور قرآنی آیات کے موضوعی فہم سے اجتناب کیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ آج اگر صحابہ کرامؓ کے عمل کے برعکس رویہ اپنایا جائے گا تو نہ صرف کسی کے خلاف خوامخواہ کی محاذ آرائی کی فضا پیدا ہوگی ، بلکہ قرآن مجید کا مطلوب و مقصود بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جائے گا۔
نئی نسل کے ذہنوں میں گردش کرتے حساس سوالات
آصف محمود ایڈووکیٹ
(روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب ’’ترکش‘‘ کے عنوان سے ۱۹؍ جون ۲۰۰۶ کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں بعض اہم سوالات اور اشکالات کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس وقت عالمی ماحول، مغربی تعلیم اور جدید فکر وفلسفہ کے حوالے سے بے شمار مسلمان نوجوانوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔ ان سوالات پر قرآن وسنت اور دیگر مسلمات کی روشنی میں بحث ومکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اہل علم ودانش کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کے ذہنوں میں پرورش پانے والے ان شکوک وشبہات کے ازالہ کی طرف فوری اور سنجیدہ توجہ دیں۔ ان سوالات پر ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کا تبصرہ آئندہ شمارے میں پیش کیا جا رہا ہے، اور دیگر اہل علم ودانش کو بھی اس سلسلے میں اظہار خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔ مدیر)
میرے ماموں طاہر چوہدری ایک عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ شادی بھی وہیں کی، صاحب اولاد ہیں ، آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل میں ان سے ملنے گاؤں آیا تو ان سے تفصیلی نشست رہی جس میں انھوں نے تفہیم دین کے حوالے سے چند سوالات اٹھائے۔ ان میں کچھ سوالات ایسے تھے جن پر میں نے انھیں مطمئن کر دیا، تاہم ایسے سوالات بھی تھے جن کا جواب میرے جیسے طالب علم کے پاس نہ تھا اور میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ان سوالات کو میں صاحبان علم کے سامنے رکھوں گا اور ان کے جوابات آپ تک پہنچا دوں گا۔ ہماری گفتگو ایک نجی گفتگو تھی تاہم اس نشست میں جو سوالات اٹھائے گئے، ان کی نوعیت ایسی ہے کہ میں اپنے قارئین کو بھی ان کا مخاطب بنانا چاہتا ہوں اور میں جملہ صاحبان علم سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان سوالات کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
جناب طاہر چوہدری کے سوالات کچھ یوں تھے:
۱۔ میں نے ایک اہل کتاب خاتون سے شادی کی ہے۔ میرا ایک بیٹا ہے جس کا نام علی ہے۔ علی ابھی نابالغ ہے۔ فرض کریں، اس کا نام علی نہیں، کچھ اور ہے اور وہ اہل کتاب میں سے ہے۔ ایسی صورت میں کیا میں اس کو حق وراثت سے محروم کر دوں گا؟ جب اہل کتاب سے شادی جائز ہے تو اہل کتاب بیٹے کو وراثت میں سے حصہ کیوں نہیں دیا جاتا؟
۲۔ عورت کا حق وراثت نصف کیوں ہے؟ مجھے عمومی طور پر جواب دیا جاتا ہے کہ چونکہ گھر کی معاشی ذمہ داریاں مرد کے کندھوں پر ہوتی ہیں، اس لیے عورت کا وراثت میں سے حصہ مرد کا نصف ہے۔ اگر یہ جواب درست ہے تو پھر یہ بتائیں کہ میں ایک ایسے معاشرے میں ہوں جہاں عورت معاشی ذمہ داریوں میں مرد کے شانہ بشانہ ہے۔ ہم دونوں مل کر یہ معاشی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ کیا ہمارے معاشرے میں عورت کا حق وراثت مرد کے برابر نہیں ہو جائے گا؟
۳۔ عورت کی دیت مرد کا نصف کیوں ہے؟ مجھے بتایا گیا ہے کہ چونکہ اس کی گواہی مرد کا نصف ہے اور اس کا حق وراثت مرد کا نصف ہے، اس لیے اس کی دیت بھی نصف ہے۔ یہاں ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا واقعتا وہ ناقص العقل ہے اور اس کی گواہی ادھوری ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم وراثت اور گواہی پر کفایت کرتے ہوئے یہ قانون اخذ کر لیں کہ اس کی دیت بھی آدھی ہے تو پھر اس اصول کا اطلاق دیگر معاملات پر کیوں نہیں کیا جاتا؟ مثلاً یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ عورت رمضان کے آدھے روزے رکھے گی اور آدھی نمازیں پڑھے گی؟ مزید یہ کہ اگر وہ ناقص العقل ہے، ادھوری ہے، وراثت آدھی ہے، دیت آدھی ہے تو اس نقص عقل کو جواز بنا کر یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ ا س کو جرم پر سزا بھی آدھی ملے گی؟ آپ کہتے ہیں کہ وہ ناقص العقل ہے، گواہی آدھی ہے، پھر اس کی بنیاد پر آپ دیت بھی آدھی بنا دیتے ہیں تو کیا یہ انصاف نہیں ہوگا کہ پھر اسے جرم میں سزائیں بھی آدھی دی جائیں؟ ایک صحیح عقل والا مرد گناہ کرے تو اسے بھی وہی سزا اور ایک ناقص العقل عورت گناہ کرے تو اسے بھی وہی سزا، یہ بات ناقابل فہم نہیں ہے؟
۴۔ نکاح میں عورت کی مرضی ضروری ہے، لیکن میں پاکستان آکر دیکھتا ہوں کہ اکثر نکاح بے جوڑ ہیں اور اسلام کے اصول کفو کو ان میں مد نظر نہیں رکھا گیا۔ ہمارا معاشرہ اور پھر ہمارا خاندان اس طرح کا ہے کہ یہاں لڑکیوں کو بے زبان مخلوق کی طرح بڑوں کے فیصلے تسلیم کرنا ہوتے ہیں۔ ان سے کچھ پوچھا نہیں جاتا۔ عملاً ان پر جبر ہوتا ہے اور انھیں بے بس بے زبان مخلوق کی طرح زندگی کے دن گزارنا ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے نکاحوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ زنا بالجبر کے زمرے میں آتی ہیں؟
۵۔ شادی کو اسلام نے عقد کہا ہے۔ عقد کا مطلب ہے Contract۔ اب معاہدہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اس کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اسلام میں نابالغ بچی کی شادی کا تصور موجود ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک نابالغ بچی کی شادی کیوں کی جائے؟ ا س کے بالغ ہونے کا انتظار کیوں نہ کیا جائے؟ ہو سکتا ہے وہ بالغ ہو تو اس کے احساسات کچھ اور ہوں، اس کا دل کسی اور کے لیے دھڑکے لیکن اس کو پتہ چلے کہ اس کی شادی ہو چکی ہے۔ کیا یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہیں؟ میرا سوال یہ ہے کہ اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
۶۔ اہل کتاب سے شادی جائز ہے تو دوستی کیوں منع ہے؟ دوستی ممنوع ہے تو شادی کیوں جائز ہے؟
۷۔ کیا یہ درست ہے کہ مرتد کی سزا موت ہے؟ ایک آدمی اسلام میں نہیں رہنا چاہتا تو اسے مرتد کی سزا کا خوف دلا کر ساتھ رکھنا بہتر ہے یاایسے ناسور کو کاٹ کر الگ پھینک دینا زیادہ مناسب ہے؟
۸۔ لونڈی کا تصور کیا اسلامی ہے؟ کیا آج کے دور میں لونڈی رکھی جا سکتی ہے؟ مجھے امریکہ میں سب سے زیادہ اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ لونڈی ایک زندہ وجود ہے، کوئی اس کا مالک بن جائے، اس کی مرضی کے خلاف اس سے جنسی تعلقات قائم رکھے، اسے بیچے یا رکھے، میرا دل نہیں مانتا کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہو۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں ایک پہاڑ کے اوپر ایک بستی میں رہتا ہوں۔ وہاں میری منگیتر رہتی ہے۔ ایک دن اسلامی لشکر آتا ہے، جنگ ہوتی ہے، ہم ہار جاتے ہیں، وہ جیت جاتا ہے اور لشکر کا سپہ سالار میری منگیتر کو مونگ پھلی کے پیکٹ کی طرح لونڈی بنا کر کسی سپاہی کے حوالے کر دیتا ہے تاکہ وہ اسے لے جائے، اس سے خدمت کرائے، اس سے جنسی بے گار لے۔ میں نہیں سمجھتا کہ نبی رحمت کے دین میں اس کی کوئی گنجایش ہو۔ اس بارے میں اسلام کا حقیقی موقف کیا ہے؟ یہ سوال مجھے امریکہ میں لاجواب کر دیتا ہے۔
۹۔ اسلام دین فطرت ہے اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ موسیقی ممنوع ہے۔ میں نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ راگ کو زنا کا منتر کہا گیا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ موسیقی ناجائز ہے اور یہ اخلاق کو تباہ کر دیتی ہے۔ اب میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بعض گانے قطعاً اخلاق کو متاثر نہیں کرتے بلکہ ان کو سن کر روح کو سکون ملتا ہے۔ میں آج بھی پردیس میں جب اداس ہو جاتا ہوں تو گانا گنگناتا ہوں کہ ’’ہم تو ہیں پردیس میں، دیس میں نکلا ہوگا چاند‘‘۔ میری احتیاج ہوتی ہے کہ میں اس گانے کو سنوں۔ کیا ایسا گانا بھی منع ہے؟ میرا تجربہ یہ ہے کہ موسیقی مجھے تروتازہ کر دیتی ہے اور میرے اخلاق پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
۱۰۔ مرد اگر نیک بن کر رہے گا تو اس کو جنت میں حور ملے گی۔ حور کا یہ تصور مرد کی Sexual Containment کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن ایسا ہی جذبہ عورت میں بھی ہوتا ہے تو اس کے لیے ایسا ہی کوئی تصور کیوں نہیں ہے؟ نیک مرد کو حور ملے گی، نیک عورت کے لیے کوئی انسینٹو کیوں نہیں ہے؟ کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ ہمارا مذہب مرد کو محور سمجھتا ہے اور عورت کو ایک حقیر اور تیسرے درجے کی مخلوق تصور کرتا ہے؟
۱۱۔ میں جب چھوٹا ہوتا تھا ، تب سے یہی سنتا آیا ہوں کہ مرد کو کہا گیا ہے اگر اس کی بیوی میں کوئی عیب ہے تو اس سے صرف نظر کرے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی اور خوبی بھی ہو، لیکن ایسا کوئی حکم عورت کے بارے میں نہیں ہے۔ وہ بھی تو احساسات رکھتی ہے۔ کیا صرف مرد کا حق ہے کہ اس کی بیوی خوبیوں کا مجموعہ ہو؟ کیا عورت مرد کے بارے میں کوئی معیار نہیں رکھ سکتی جس پر مرد بھی پورا اترے؟
۱۳۔ امریکہ میں دہریے اور عیسائی مجھ کو اکثر جس سوال سے لاجواب کرتے ہیں، وہ آقاے دو جہاں کے بارے میں ہے اور میری اپنی معلومات چونکہ نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے میں اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہوں اور ان کو جواب نہیں دے پاتا۔ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ ایک عام مسلمان چار شادیاں کر سکتا ہے۔ یہ اسلامی قانون ہے تو نبی کریم نے چار سے زیادہ شادیاں کیوں کیں؟ مجھے اس سوال کا شافی جواب چاہیے تاکہ میں وہاں جا کر وضاحت کر سکوں۔ یہ بات میری کنپٹیاں سلگا دیتی ہے کہ مجھ سے میرے نبی کی ذات کے بارے میں کیے گئے سوال کا جواب نہ بن پائے۔
سوالات میں نے اہل علم کے سامنے رکھ دیے۔ مجھے جواب کا انتظار رہے گا۔ جناب جاوید غامدی، مفتی تقی عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، قاضی حمید اللہ خان، مولانا حسن جان اور جناب سرفراز نعیمی اور ان کے شاگردوں میں سے کوئی صاحب کیا ہماری رہنمائی فرمائیں گے؟
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
سلام و رحمت، مزاج شریف؟
جون کے شمارے میں میثاق جمہوریت کے حوالے سے آپ کا کلمہ حق نظر نواز ہوا۔ کلمہ حق واقعی کلمہ حق ہے۔ آپ نے جس حسن توازن سے اظہار فرمایا، وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ پڑھنے کے لائق ہر تحریر کو پورے غور سے پڑھتا ہوں اور ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اس میں سے کوئی بات لائق توجہ ہو تو قلم اٹھایا جائے۔ مدت سے حسرت تھی کہ آپ کی تحریر میں سے کوئی ایسی بات پکڑ لوں، ہمیشہ ہی ناکام رہا۔ آپ کی ہر تحریر نے پہلے سے زیادہ خراج لیا اور آپ کے لیے نیازمندی کے احساسات میں اضافے کا باعث ہوئی۔ زیر بحث تحریر سے بھی میرے احساسات تو وہی رہے مگر لکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ راہ نکل آئی ہے۔
آپ نے جو کچھ بھی لکھا، درست اور سچ سچ لکھا۔ مگر ایک بات کو پس منظر میں رہنے دیا گیا جو میرے نقطہ نظر میں کھل کر سامنے آنا چاہیے تھی۔ شاید آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بات جمہوری اقدار ہی کی کافی ہے۔ دیانت داری کی بات کرنے کا زمانہ ہی نہیں رہا۔ مگر جمہوری اقدار پر ہمارے قائدین جتنا ایمان اور عمل کر سکتے ہیں، اس پر تاریخ کی شہادت موجود ہے۔ ان سے آئندہ بھی کسی خیر کی توقع، پرلے درجے کی حماقت ہے۔ آپ نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا منشا بھی یہی ہے مگر مذکورہ جمہوری اقدار سے بھی زیادہ ضروری دیانت داری ہے۔ میثاق پر دستخط کرنے والے ’’بہن ‘‘اور ’’بھائی ‘‘نے ملک کو اپنی لوٹ کھسوٹ سے دیوالیہ پن سے دوچار کرنے میں کون سی کسر اٹھا رکھی تھی؟ ایک صاحب وزیر اعظم بنے اور ان کے والد محترم حقیقی حکمران اور چھوٹے بھائی، سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ۔ محترمہ وزیر اعظم بنیں تو ان کے شوہر، والدہ، سسر اور کئی رشتہ دار مرکزی کابینہ میں وزیر بنے۔ دنیا کے کسی جمہوری ملک میں اس طرح کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ بات دیانت داری کی تھی۔ یہ اولین قدر ہے۔ کسی مذہب، دین، جماعت اور نظریے سے پہلے دیکھا یہ جانا چاہیے کہ دیانتداری کا کوئی معیاری کردار موجود ہے۔ مسلمان تو دور کی بات ہے، جو دیانت دار کے کم سے کم معیار سے نیچے ہے، اس کا دین، مذہب، عقیدہ اور نظریہ محض منافقت اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اقبال نے اسی لیے تو کہا تھا: ’چو می گویم مسلمانم بلرزم‘۔
لیکن دیانت داری کا نام تک لینے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ آپ نے بھی اس کا ذکر گول کر دیا ہے۔ سب کو یاد ہو گا کہ ’’باجی ‘‘اور ’’باجے ‘‘کے اس جوڑے سے تھوڑا عرصہ قبل، کم از کم ہماری صف اول کی (قومی) قیادت اس صفت سے مالا مال تھی۔ ۵۸ء سے پہلے کے کسی قائد، فیلڈ مارشل ایوب خان، آغا یحییٰ خان، خود ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق پر مالی بد دیانتی کا کوئی الزام نہیں لگا۔ ضیا کی شہادت پر تو اس کا اپنا مکان تک نہیں تھا۔ (چھوڑ دیجیے اس بات کو کہ ضیا کے فرزندان ارجمند نے کیا کچھ کیا، یہ حقیقت ہے کہ ان کے صاحبزادوں کو مرحوم کی شہادت سے پہلے کوئی جانتا تک نہ تھا) بھٹو صاحب کے بارے میں، میں کبھی مثبت رائے رکھنے پر قادر نہیں مگر ان پر کبھی کسی نے مالی بد دیانتی کا الزام نہیں رکھا۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج اس کم سے کم معیار پر پورا اترنے والا کوئی شخص کسی صف میں نظر نہیں آتا۔ آخر کہیں تو کوئی حد قائم کرنا پڑے گی۔
اوپر جس جوڑے کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے ما بین طے پانے والے میثاق کو کیسے ایک میثاق جیسے مقدس لفظ اور ترکیب سے موسوم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ دو دو ’’باریوں‘‘ کے بعد بھی اعتبار دلوانے کی باتیں کرنے والے کتنے سادہ ہیں اور لوگوں کو کس قدر بے وقوف بنانے پر مشاق ہیں۔ بہرحال ان کے دفاع میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے خلاف بد دیانتی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ میں یہ کہوں گا کہ ہم کسی پر کوئی تعزیر کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالت جمائے ہوئے نہیں بیٹھے کہ کم سے کم عدالتی معیار کی شہادت کی ضرورت ہو۔ رائے عامہ کی عدالت میں شہرت عامہ کو بھی سیاست میں ایک مقام ملنا چاہیے۔ طاقت ور سیاسی نظاموں میں بڑی مضبوط روایات ہوتی ہیں۔ اس امر پر بہر صورت اجماع لازم ہے کہ بددیانتی اور لوٹ مار کی شہرت عامہ کی زد میں آنے والوں کے لیے قیادت و سیادت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ آپ قوم کی جانب سے بہن اور بھائی کے اس جوڑے سے معافی کے طلب گار ہوتے۔ متحدہ مجلس عمل کے لوگوں سے بھی اپیل کی جاتی کہ وہ بھی آئندہ کے سمجھوتوں میں کم از کم اس جوڑے سے معافی ہی طلب کریں۔ ملکی معیشت اور وجود تک کو تباہ کرنے والوں کے ساتھ سمجھوتے کے امکانات کی جستجو کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے لیے گنجائش کی جستجو کرنے والے بہرحال اپنی دیانت و امانت کے بارے میں موجود امیج کو مشکوک بنائیں گے (بشرطیکہ ایسا امیج موجود ہو)۔
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
گلی نمبر ۱ عابد جہانگیر کالونی گوجرانوالہ
(۲)
محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کافی عرصہ پہلے آپ کے مجلے میں آپ کا نام پڑھ کر میں نے ایک خط کے ذریعہ دریافت کیا تھا کہ کیا آپ وہی زاہد الراشدی صاحب ہیں جو تقسیم سے قبل اور اس کے بعد بھی جماعت اسلامی کے ایک نوجوان عالم کارکن ہوتے تھے۔ آپ کا جواب نفی میں آیا تھا۔ بہرحال کچھ ماہ سے ’الشریعہ‘ میںآپ کے افکار پڑھتا رہا۔
فروری کا شمارہ جو مجھے بہت دیر سے ملا، یعنی ابھی مئی میں چند روز قبل، تو اس میں شیخ ابو زہرہ کی کتاب کے حوالے سے ’تعارف وتبصرہ‘ کالم کے تحت امام زیدؒ کا بہت ہی مختصر ذکر اور ان کے مذہب کا تعارف پڑھا۔ ساتھ ہی اس تعارف میں اپنے برادر ارشاد سید نفیس شاہ صاحب کا ذکر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ کا ان سے تعلق ہے۔ شاہ صاحب گزشتہ آٹھ نو برس سے جب بھی کراچی تشریف لاتے ہیں تو اس ناچیز کے گھر بھی قدم رنجہ فرماتے ہیں، اور وہی ۱۹۹۹ میں مجھے اپنے ساتھ مرشدی حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کے مزار لے گئے تھے۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ کو ایران جانے سے قبل امام زید اور ان کے مذہب کا علم نہ تھا۔ امام زید تو سیدنا حسینؓ سے کم مظلوم نہیں ہیں۔ شیعہ حضرات مخصوص اسباب کے تحت ان کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ ان کا بڑا ظلم ہے۔ ان کی تو لاش کو جلا کر ہشام اموی نے اس کی راکھ بکھروا دی تھی اور سر کا کوفہ ودمشق میں گشت کرایا تھا۔ یمن میں ۱۹۶۱ کے انقلاب سے قبل جن امام احمد بن یحییٰ کی حکومت تھی، وہ زیدی ہی تھے۔ اب بھی یمن میں شوافع کے ساتھ کافی بڑی تعداد زیدی مذہب کے لوگوں کی ہے۔ آپ کو پسند ہو تو میں امام زید پر ایک تفصیلی مضمون لکھ سکتا ہوں۔
میں نے آپ کے مجلے کو اپنی دو سال قبل کی کتاب ’’خانوادۂ نبوی وعہد بنی امیہ‘‘ بھیجی تھی جو شاید آپ کے مطالعے میں آئی ہو۔ یہ کتاب حضرت سید نفیس شاہ صاحب کو بہت پسند ہے۔ اس میں ناصبیوں کے پیدا کردہ مسائل کا بڑی حد تک شافی رد ہے اور فرقہ پرستی کی مذمت۔ ایک اور کتاب ’’قرآن کی روشنی میں‘‘ بھی بھیجی تھی۔ افسوس کہ تبصرے کے بجائے صرف مختصر نوٹس مجلہ میں شائع ہوئے، اور اس میں بھی غلطی یہ کہ موخر الذکر کتاب کو ساڑھے چار سو سے زائد صفحات کی کتاب کہا گیا، جبکہ اس کے صرف ۳۶۶ صفحات ہیں۔
(ڈاکٹر) رضوان علی ندوی
5۔ گلی P خیابانِ سحر فیز 6
ڈیفنس کراچی
(۳)
مکرمی ومحترمی جناب محمد عمار خان ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
امید ہے آپ ’الشریعہ‘ کی پوری ٹیم کے ساتھ بخیر وخوبی ہوں گے۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے قلیل مدت میں دینی مجلات ورسائل میں جو قابل قدر انفرادی مقام حاصل کیا ہے، اس پر مجلہ کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ جون ۲۰۰۶ کا ماہنامہ ’الشریعہ‘ راقم کے پیش نظر ہے۔ شمارہ مجموعی طور پر مفید اور دل چسپ ہے۔ رئیس التحریر کے پر مغز اداریہ میں ملک کی حالیہ سیاسی صورت حال کا نہایت حقیقی اور غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے جو عوام وخواص، ہر دو طبقات کے لیے قابل غور ہے۔ دیگر مضامین بھی اختصار اور جامعیت کی خوبیاں لیے، لائق مطالعہ ہیں۔
مولانا افتخار تبسم نعمانی کے مضمون ’’مسئلہ طلاق ثلاثہ اور فقہاے امت‘‘ کے حوالے سے چند گزارشات حسب ذیل ہیں:
نہایت حیرت ہوئی کہ مضمون نگار نے ایک نہایت اہم فقہی وعلمی مسئلے پر مناظرانہ، غیر تحقیقی اور غیر علمی انداز اختیار کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بیک دفعہ تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ فاضل مضمون نگار نے چند نامور فقہا کی کتب سے چند اقتباسات نقل کیے ہیں۔ مذکور فقہاے کرام جیسے امام طحاوی حنفی، امام عینی حنفی، امام نووی شافعی، امام رازی شافعی، قاضی ابو الولید ابن رشد مالکی، امام محمد حنفی وغیرہم تمام کے تمام فقہا طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں تین طلاق کے نافذ ہونے کے قائل ہیں۔ انھوں نے اپنی اپنی کتب میں اس رائے کو بدلائل قطعیہ ثابت کیا ہے۔ مضمون نگار نے مذکورہ فقہا کی عبارات سے جو اقتباسات نقل کیے ہیں، وہ صر ف مخالف آرا کی نقل کی غرض سے تحریر کیے گئے ہیں نہ کہ ان آرا کی حمایت وتوثیق کے لیے۔ فاضل مضمون نگار نے مذکورہ اقتباسات نقل کر کے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ فقہا بیک دفعہ تین طلاق دینے کو ایک طلاق سمجھنے کی رائے کی تحسین کرتے ہیں، حالانکہ ایسا تاثر پیدا کرنا علم وتحقیق کے اصولوں کے منافی ہے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور فقہاے کرام کی جمہوریت واکثریت اس بات کی قائل ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوں گی، جبکہ اہل ظاہر اور چند فقہا جیسے علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم اور عصر حاضر میں اہل حدیث مکتب فکر کا موقف یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی ہوگی۔ اہل قلم اہم منصب ومقام کے حامل ہیں۔ انھیں علمی وتحقیقی اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے۔
عاصم نعیم
لیکچرر شعبہ علوم اسلامیہ، یونیورسٹی آف سرگودھا
(۴)
محترم عمار خان ناصر صاحب، مدیر الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں گزشتہ دو سال سے ماہنامہ الشریعہ کا باقاعدہ قاری ہوں۔ الشریعہ معاصر جرائد میں ایک وقیع مقام رکھتا ہے اور آزادانہ بحث وتمحیص کا علم بردار ہے، لیکن مئی ۲۰۰۶ کے شمارے نے راقم کو خلجان میں مبتلا کیے رکھا، کیونکہ میں الشریعہ کے علاوہ دوسرے علمی ودینی رسائل وجرائد کو بھی دیکھتا ہوں۔ حافظ زبیر صاحب کا نام میں نے کسی جگہ پڑھا تھا اور میری یادداشت کے مطابق وہ قرآن اکیڈمی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے ہاں ان کو ’’مجلس التحقیق الاسلامی‘‘ لاہور کا ریسرچ اسسٹنٹ لکھا گیا۔ ماہ جون کے الشریعہ سے معلوم ہوا کہ یہ غلط ہے، بلکہ وہ قرآن اکیڈمی لاہور سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔
ماہ جون کے الشریعہ میں آپ کے اعتذار اور حافظ زبیر صاحب کے خط کو پڑھنے کے بعد میں نے ذاتی طور پر محسوس کیا کہ آپ نے اپنے آزادانہ بحث وتمحیص کے دعوے کے مطابق عمل نہیں کیا، بلکہ جاوید احمد غامدی صاحب کی بے جا محبت میں آپ نے حافظ صاحب کا مضمون مسخ کیا جو انصاف پر مبنی نہیں۔ میری ناقص رائے میں جو کچھ آپ نے کیا، اس کا آپ کو حق حاصل نہیں تھا۔ آپ کا حق یہ تھا کہ ۱۔ آپ مضمون سرے سے شائع ہی نہ کرتے یا مسترد کر دیتے، ۲۔ مقالہ نگار کی رضامندی سے جتنا ممکن ہوتا، مختصراً شائع کرتے، ۳۔ قسط وار مکمل مضمون شائع کرتے۔ لہٰذا راقم آپ سے ملتمس ہے کہ آپ دوبارہ اس مضمون کو کسی کتر بیونت کے بغیر من وعن شائع کیجیے ۔ فقط اعتذار شائع کر دینے سے حق ادا نہیں ہوا۔
شمس الرحمن
۸/۵۰ شکار پور کالونی، ایم اے جناح روڈ
نزد اسلامیہ کالج، کراچی ۷۴۸۰۰
(۵)
جناب محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہ مئی کے شمارے میں اکثر مضامین بہت جاندار اور علمی وقعت کے حامل ہیں۔ خاص طور پر حافظ محمد زبیر صاحب کا غامدی کے نظریات پر تحقیقی مضمون بہت ہی پسند آیا۔ غامدی صاحب کے متجددانہ نظریات کے خلاف بہت سے علما اور بزرگوں سے بہت کچھ سنا ہے، لیکن علمی انداز میں ایسی گرفت اب سے پہلے نظر سے نہیں گزری۔ اگر ممکن ہو تو حافظ زبیر صاحب کا تعارف آئندہ کسی شمارے میں ضرور شامل فرما دیں۔
قاسم رضوان
چیف انسٹرکٹر، گورنمنٹ کالج آف کامرس
علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’انکشاف حقیقت‘‘
ایک اہل حدیث عالم نے ’’احناف کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں انھوں نے بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فقہ حنفی کے بیشتر مسائل احادیث نبویہ کے خلاف ہیں، حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ فقہ حنفی کی بنیاد قرآن کریم، سنت نبوی اور آثار صحابہ پر ہے اور احناف کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد ان مآخذ پر نہ ہو۔ استنباط واستدلال یا احادیث وآثار میں ترجیحات میں اختلاف کی بات ہو سکتی ہے اور یہ ہر فقہ میں موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ فقہ حنفی یا دوسرے ائمہ کرام کی فقہیں نعوذ باللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف پر مبنی ہیں، نری جہالت اور ہٹ دھرمی کی بات ہے۔
مولانا عبد القدوس قارن، استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے زیر نظر کتاب میں اسی جہالت کو بے نقاب کیا ہے اور دلائل وتحقیق کے ساتھ مذکورہ بالا کتاب کے مصنف کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ہے۔
چار سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب عمر اکادمی، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔
’’فتنہ قادیانیت کو پکڑیے‘‘
قادیانیت کے تعاقب کے حوالے سے مختلف ارباب علم کی نگارشات کو محمد طاہر عبد الرزاق صاحب نے مرتب کیا ہے جو اس بارے میں مفید معلومات اور ہدایا ت پر مشتمل ہے۔
دو سو سے زائد صفحات کی یہ کتاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۹۰ روپے ہے۔
’’فلسفہ اذان مع فضائل ومسائل‘‘
زیر نظرکتاب مولانا شمس الحق مشتاق کی تالیف ہے جس میں انھوں نے اذان کی اہمیت ،فضائل، مسائل واحکام اور مختلف واقعات کو جمع کیا ہے۔ عام قارئین کے لیے کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا۔
ناشر: مکتبہ معہد القرآن متصل جامع مسجد اللہ والی، پرانا گولیمار، کراچی ۱۶۔ صفحات ۱۸۵۔ قیمت درج نہیں۔