’الشریعہ‘ کی سترہویں جلد کا آغاز
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بحمد اللہ تعالیٰ زیر نظر شمارے کے ساتھ ہم ’الشریعہ‘ کی سترہویں جلد کا آغاز کر رہے ہیں۔ آج سے کم وبیش سولہ سال قبل اکتوبر ۱۹۸۹ء میں ’الشریعہ‘ نے ماہوار جریدے کے طور پر اپنا سفر شروع کیا تھا اور اتار چڑھاؤ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ دینی وفکری ماہنامہ اپنی موجودہ شکل میں قارئین کے سامنے ہے۔
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اس ترجمان کی ابتدا اس عزم کے ساتھ ہوئی تھی کہ دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات واحکام کو جدید اسلوب اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی، عالم اسلام کے علمی ودینی حلقوں کے درمیان رابطہ ومفاہمت کے فروغ کی راہ ہموار کی جائے گی، اسلام دشمن لابیوں اور حلقوں کے تعاقب اور نشان دہی کا فریضہ انجام دیا جائے گا اور دینی حلقوں میں فکری بیداری کے ذریعے سے جدید دور کے علمی وفکری چیلنجز کا ادراک واحساس اجاگر کیا جائے گا۔ ان مقاصد کی طرف ہم کس حد تک پیش رفت کر پائے ہیں، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ ہمارے لیے یہ بات بہرحال اطمینان بخش ہے کہ یہ اہداف ومقاصد بدستور ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں اور ہم اپنی بساط اور استطاعت کی حد تک ان کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں۔
اس دوران میں ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ پیش آمدہ مسائل پر دینی حلقوں میں بحث ومباحثہ کاماحول پیدا ہو اور کسی بھی مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے فریق کا موقف اور دلائل بھی حوصلہ اور اطمینان کے ساتھ سننے اور پڑھنے کا مزاج بنے، کیونکہ اس کے بغیر کسی مسئلہ پر صحیح رائے اور نتیجہ تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تحقیق، مطالعہ، مباحثہ اور مکالمہ کی روایت ابھی تک جڑ نہیں پکڑ سکی اور چند شخصیات کے استثنا کے ساتھ عمومی ماحول یہی ہے کہ دلائل کی روشنی میں رائے قائم کرنے کے بجائے رائے قائم کر کے اس کے لیے دلائل تلاش کیے جاتے ہیں۔ ہماری کوشش رہی ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ رہے گی کہ دینی حلقوں، بالخصوص علماء کرام اور طلبہ کو دنیا کے معروضی حالات اور حقائق سے آگاہی حاصل کرنے اور آج کے معاصر علمی وفکری حلقوں کے موقف، دلائل اور طرز استدلال سے شناسا ہونے کے لیے آمادہ کیا جائے اور انھیں اس ضرورت کا احساس دلایا جائے کہ آج کی دنیا سے بات کرنے کے لیے آج کی زبان اور اسلوب پر دسترس ناگزیر ہے اور ہم ماضی کے اسلوب اور طرز استدلال کے ذریعے سے آج کی دنیا تک اسلام کا پیغام اور تعلیمات پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
یہ بات بھی ہمارے ایجنڈے کا حصہ چلی آ رہی ہے کہ جدید اسلوب اور طرز استدلال کی طرح ابلاغ کے جدید ذرائع اور تکنیک تک دینی حلقوں اور علماء کرام کی رسائی بھی انتہائی ضروری ہے اور ہم اس ضرورت کی طرف دینی حلقوں کو مسلسل توجہ دلا رہے ہیں۔
ہم وہی بات کہہ رہے ہیں جو تین صدیاں قبل حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فرمائی تھی کہ آنے والے دور میں دین کو صحیح طور پر پیش کرنے کے لیے عقلی استدلال کے ہتھیار سے کام لینا ہوگا اور فکری جمود کے دائرے سے نکل کر کھلے دل ودماغ کے ساتھ مسائل کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب نے یہ بات تین سو سال قبل کے ماحول میں فرمائی تھی اور ہم اسی بات کو تین سو سال کے بعد آج کے حالات اور تناظر میں دینی حلقوں اور ارباب علم ودانش کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ممکن ہے بعض دوستوں کو ہمارا کہنے کا انداز حضرت شاہ صاحب سے مختلف دکھائی دے، مگر مقصد اور ہدف کے اعتبار سے ہم وہی کچھ عرض کر رہے ہیں جو تین صدیاں قبل امام ولی اللہ دہلویؒ پورے شرح وبسط کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں۔
ہمارا طریق کار یہ رہا ہے کہ بعض مسائل کو ہم از خود چھیڑتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہمارا موقف بھی وہی ہو جو کسی مسئلہ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں پیش کیا گیا ہے، مگر ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں کے ارباب فکر ودانش اس طرف توجہ دیں، مباحثہ میں شریک ہوں،اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کریں، جس موقف سے وہ اختلاف کر رہے ہیں، اس کی کمزوری کو علمی انداز سے واضح کریں اور قوت استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی برتری کو واضح کریں، کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کر کے اس کے حق میں چند دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں کہ رائے عامہ کے سامنے آپ کا موقف واضح ہو گیا ہے اور آپ کی بات کو قبول کر لیا جائے گا۔ آج کا دور تقابلی مطالعہ کا دور ہے، تجزیہ واستدلال کا دور ہے اور معروضی حقائق کی تفصیلات وجزئیات تک رسائی کا دور ہے۔ آپ کو یہ سارے پہلو سامنے رکھ کر اپنی بات کہنا ہوگی اور اگر آپ کی بات ان میں سے کسی بھی حوالے سے کمزور ہوگی تو وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔ ہم جب کسی مسئلے پر بحث چھیڑتے ہیں تو امکانی حد تک اس کے بارے میں تمام ضروری پہلووں کو اجاگر کرنا ہمارا مقصد ہوتا ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے کسی موقف کے حق میں یا اس کے خلاف موصول ہونے والا کوئی مضمون یا مراسلہ اشاعت سے رہ نہ جائے اور اس بحث کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔
اس صورت حال سے بعض دوستوں کو الجھن ہوتی ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں، مگر ہمارے خیال میں یہ الجھن عام طور پر دو وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک اس وجہ سے کہ بہت سے دوست ہمارے اس طریق کار اور مقصد کو سمجھ نہیں پاتے جس کا سطور بالا میں تذکرہ ہو چکا ہے اور دوسرا اس وجہ سے کہ ہمارے خاندانی پس منظر کے باعث بہت سے دوست ’الشریعہ‘ کو ایک مسلکی جریدہ کے طور پر دیکھنے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ جہاں تک ہمارے مسلک ومشرب کا تعلق ہے، ہم نے سولہ برس قبل ’الشریعہ‘ کے پہلے شمارے میں ہی یہ بات دوٹوک طور پر واضح کر دی تھی کہ ہم اہل السنۃ والجماعۃ میں سے ہیں اور اہل سنت کے مسلمات کی پابندی کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم فقہی مذہب کے لحاظ سے حنفی ہیں اور فروع واحکام میں حنفی مذہب کے اصول اور تعبیرات کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ مسلک ومشرب کے حوالے سے دیوبندی ہیں اور اکابر علماء دیوبند کثر اللہ جماعتہم کی جدوجہد اور افکار سے راہ نمائی حاصل کرنا اپنے لیے باعث سعادت تصور کرتے ہیں، لیکن ’الشریعہ‘ کو مسلکی ترجمان کے طور پر ہم نے کبھی پیش نہیں کیا۔ مسلک کی ترجمانی کے لیے ملک میں درجنوں جرائد موجود ہیں اور ہم بھی اس مقصد کے لیے ان سے حتی الوسع تعاون کرتے ہیں، مگر ہمارا عملی میدان اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری تگ وتاز کا دائرہ فقہی اور مسلکی کشمکش نہیں، بلکہ مغرب کے فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کی وسیع تر یلغار کے تناظر میں اسلامی تعلیمات واحکام کو جدید زبان اور اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ اس کا مطلب فقہی اور مسلکی جدوجہد کی ضرورت سے انکار نہیں بلکہ یہ ایک تقسیم کار ہے کہ دینی جدوجہد کا یہ شعبہ ہم نے اپنی جدوجہد کے لیے مختص کر لیا ہے اور اسی میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنا چاہتے ہیں۔
بعض دوستوں نے یہ شکوہ کیا ہے کہ ’الشریعہ‘ میں بسا اوقات ایک ہی مسئلہ پر متضاد مضامین شائع ہوتے ہیں اور بعض مضامین اہل سنت، حنفیت اور دیوبندیت کے حوالوں سے روایتی موقف سے متصادم ہوتے ہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے، مگر اس کی وجہ وہی ہے جس کا سطور بالا میں ہم تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہم علمی وفکری مسائل میں ارباب علم ودانش کو بحث ومباحثہ کے لیے کھلا ماحول اور فورم مہیا کرنا چاہتے ہیں اور دینی حلقوں میں باہمی مکالمہ کا ذوق بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ طریق کار ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی جاری رہے گا، تاہم اب اسے قدرے محدود اور معین ومشخص کیا جا رہا ہے، اس طور پر کہ ’الشریعہ‘ کے ہر شمارے کے ایک تہائی صفحات اس طرح کے کھلے مباحثے کے لیے مخصوص کیے جا رہے ہیں جن میں کسی بھی اہم مسئلہ پر مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کیے جائیں گے اور کسی بھی نقطہ نظر کی حمایت یا مخالفت میں موصول ہونے والا ہر وہ مضمون شامل اشاعت ہوگا جو طعن وتشنیع اور مناظرانہ موشگافیوں سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے سنجیدہ اور علمی اسلوب میں تحریر کیا گیا ہو۔ زیر نظر شمارے سے اس سلسلے کو ’’مباحثہ ومکالمہ‘‘ کا مستقل عنوان دیا جا رہا ہے اور یہ بات اصولاً واضح رہنی چاہیے کہ اس عنوان کے تحت شائع ہونے والے کسی مضمون سے ادارہ کامتفق ہونا ضروری نہیں۔
ان گزارشات کے ساتھ ’الشریعہ‘ کی اشاعت کے سولہ سال مکمل ہونے اور سترہویں جلد کے آغاز پر میں ان رفقا کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جن کی کاوش اور محنت کا ’الشریعہ‘ کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں بہت بڑا حصہ ہے۔
’الشریعہ‘ کی ادارت اور ترتیب وغیرہ کی تمام تر ذمہ داری عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے سنبھال رکھی ہے اور وہ بحمد اللہ تعالیٰ پوری محنت اور ذوق کے ساتھ اسے نباہ رہے ہیں۔ عزیز موصوف کو اس سلسلے میں پروفیسر محمد اکرم ورک، مولانا حافظ محمد یوسف اور پروفیسر میاں انعام الرحمن کی پرخلوص رفاقت اور پروفیسر محمد یونس میو، پروفیسر حافظ منیر احمد، جناب شبیر احمد میواتی اور پروفیسر حافظ سمیع اللہ فراز کی مسلسل مشاورت حاصل ہے، جبکہ الشریعہ کی کمپوزنگ، طباعت اور اسے انٹرنیٹ اور ڈاک کے ذریعے سے قارئین تک پہنچانے میں عزیزم ناصر الدین خان سلمہ، عبد الرزاق خان، مولانا فضل حمید اور حافظ محمد آصف مہر کی محنت قابل ذکر اور قابل داد ہے۔
میں ان سب حضرات کی محنت اور قارئین کی طرف سے حوصلہ افزائی کا معترف ہوں اور سب کا شکریہ ادا کرتے ہوے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے ذریعے سے اسلام اور ملت اسلامیہ کی علمی وفکری خدمات جاری رکھنے کی توفیق دیں اور اپنے اہداف ومقاصد میں کامیابی سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
رینڈ کارپوریشن کی حالیہ رپورٹ
ڈاکٹر یوگندر سکند
"Three Years After: Next Steps in the war on Terror" (تین سال بعد: دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آئندہ مراحل)، یہ رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین دستاویز کا عنوان ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں سے بحث کی گئی ہے اور اس میں مناسب تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ رینڈ کارپوریشن دائیں بازو کا ایک تحقیقی ادارہ ہے جس کے امریکی حکومت اور امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ادارہ دنیا پر امریکی غلبے کے حوالے سے مشہور ہے اور، جیسا کہ اس دستاویز سے بھی نمایاں طور پر اس بات کا اظہار ہوتا ہے، اس کی تحقیقی کاوشوں کا ہدف بھی اسی مقصد کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ یہ امریکا کے موثر ترین نو قدامت پسند اور صہیونیت کے حامی تھنک ٹینکس میں سے ہے اور اس کی مطبوعات دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت، جو اس دستاویز کا موضوع ہے، بنیادی ایشوز پر امریکی حکومت کی پالیسیوں کی عکاس بھی ہوتی ہیں اور ان کی تشکیل میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔
اگر کوئی شخص دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا زاویہ نظر سمجھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اس دستاویز کا مطالعہ ناگزیر ہے، جو اپنے آپ کو ’’متعدد اعلیٰ ترین اور تازہ مطالعات کا حاصل‘‘ قرار دیتی ہے۔ سرسری نظر ڈالنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ رپورٹ دہشت گردی کے اسباب کے ایک نہایت غلط اور ناقص فہم پر مبنی ہے۔ چنانچہ اصل اسباب کو قصداً نظر انداز کرتے ہوئے اس میں جو حل تجویز کیے گئے ہیں، ان سے صورت حال کے مزید الجھنے اور زیادہ پیچیدہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔
دستاویز کے مصنفین رینڈ کے خود ساختہ ماہرین ہیں جو امریکی حکومت کے محکموں سے قریبی طور پرمتعلق ہیں اور ان میں سے بعض یہودی پس منظر کے حامل ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق دہشت گردی کی واحد قسم جو غور وفکر اور توجہ کی مستحق ہے، صرف وہ ہے جسے ذرائع ابلاغ میں عام طور پر ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ امریکی ریاستی دہشت گردی کا تو ذکر ہی کیا جس کا وحشیانہ اظہار آج عراق میں ہو رہا ہے، اس دستاویز میں لگے بندھے خیالات کا اظہار کرنے والے ماہرین دہشت گردی کی دوسری مختلف شکلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اسلامی دہشت گردی کو دہشت گردی کی واحد شکل سمجھتے ہیں اور اسے امریکی مفادات کے لیے ایک بنیادی چیلنج بھی قرار دیتے ہیں۔
اسلامی دہشت گردی کی تشخیص میں بھی رینڈ کے خود ساختہ ماہرین ایک ناقابل معافی جہالت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بھی نرم الفاظ ہیں، ورنہ اس کے لیے دھوکے کا لفظ زیادہ بہتر ہے۔ متعدد مسلم ممالک میں بے اطمینانی کے اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی اسباب کو نظر انداز کرتے ہوئے، جن میں امریکی حمایت کے بل بوتے پر فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور مسلم ممالک میں جابر پٹھو حکمرانوں کی امریکی حمایت بھی شامل ہیں، یہ ماہرین اسلامی تشدد پسندی کو محض ایک نظریاتی مظہر سمجھتے ہیں۔ دستاویز کے ایڈیٹر داؤد ہارون ، جو امریکی حکومت کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ہیں اور اس وقت رینڈ کارپوریشن کے ساتھ سینئر فیلو کی حیثیت سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ ایک نظریاتی جنگ ہے جس میں اسلامی تشدد پسندی کا کردار وہی ہے جو کسی زمانے میں امریکی تصورات کے مطابق کمیونزم ادا کر رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تشدد پسندی کا نظریہ عملی حالات واثرات سے بالکل مجرد ہے اور اس کا کوئی تعلق ان سماجی حقائق سے نہیں ہے جو اس کو پیدا کرنے اور اسے تسلسل دینے کے ذمہ دار ہیں۔ مسلم بے اطمینانی کے تمام اسباب اسلام کے ایک غلط اور گمراہ کن فہم کا نتیجہ ہیں اور امریکی پالیسیوں کا نہ اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ رد عمل میں پیدا ہونے والی اسلامی انتہا پسندی کی ذمہ دار ہیں۔ اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکی بالادستی کی مخالف اور بائیں بازو کی قوتوں کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ نے اسلامی گروپوں کی امداد اور حمایت کی جو پالیسی اختیار کی تھی، وہ اب طاق نسیاں کی نذر ہو گئی ہے کیونکہ سابقہ دوست اب دشمن بن گئے ہیں۔
مسلم بے اطمینانی کے اصل وجوہ پر بحث کرنے کے بجائے، جس کے نتائج میں ایک حد تک اسلامی تشدد پسندی بھی شامل ہے، اس دستاویز کے مصنفین کے تجویز کردہ حل امریکی غلبے اور صہیونی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ وہ اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ امریکی پالیسی بنیادی طور پر درست ہے اور امریکا کے لیے خود احتسابی یا مسلم دنیا اور اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ بات باعث حیرت نہیں کہ دستاویز میں مسلم بے چینی کے ممکنہ اسباب کے تحت درج ذیل حقائق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا: اسرائیلی مظالم، عراق پر امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں جن کی وجہ سے لاکھوں بچے موت کی وادی میں جا پہنچے، سالہا سال تک اسلامی گروپوں کی حمایت کے بعد افغانستان پر امریکی بمباری ، عراق پر امریکی اور برطانوی فوجوں پر حملہ اور اس پر کا قبضہ۔ اس طرح کی کسی چیز کا کوئی ذکر نہیں اور مسلم رد عمل کو محض ایک نظریاتی انحراف اور بے راہ روی قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تشدد پسندی کی توجیہ اس خلاف حقیقت تناظر میں کرنے کے باعث مصنفین نے مسئلے کے صرف دو حل پیش کیے ہیں۔ ایک، اسلام مخالف بحث ومباحثہ کے فروغ کے ذریعے انتہا پسند اسلام کا نظریاتی سطح پر مقابلہ اور دوسرا ہر طرح کی میسر طاقت کا بھرپور استعمال کر کے انتہا پسند مسلمانوں کا خاتمہ۔
پہلا حل رینڈ کارپوریشن کے ایک ماہر چیری بنارڈ نے، جو بش کے اعلیٰ سطحی معاون اور عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی اہلیہ ہیں، اپنے مقالے ’’اسلام میں جمہوریت: اسلامی دنیا میں جدوجہد۔ امریکہ کے لیے حکمت عملی‘‘ میں پیش کیا ہے۔ یہ مقالہ بھی اسی بنیادی مفروضے پر مبنی ہے کہ امریکی پالیسیاں مسلم بے اطمینانی یا مخالفانہ رد عمل کو جنم دینے کی ذمہ دار نہیں ہیں اور اس کے بجائے انتہا پسند اسلام کی اصل وجوہ اسلام کی چند مخصوص تعبیرات میں پائی جاتی ہیں ، جسے انھوں نے ’’اسلام کی داخلی کشمکش‘‘ کا نام دیا ہے۔ بینارڈ نے مضمون کے آغاز میں جارج بش کے اس قول کا مثبت انداز میں حوالہ دیا ہے کہ ’’فی الحقیقت ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عنوان ہی غلط رکھا ہے۔ اس کو نظریاتی انتہا پسندوں کے خلاف جدوجہد کہنا چاہیے جو آزاد معاشروں کے قیام پر یقین نہیں رکھتے اور دہشت گردی کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘‘
بینارڈ نے ایک بہت بڑا اور پرتخیل منصوبہ پیش کیا ہے جس کی امریکا کو پیروی کرنی چاہیے تاکہ اسلام کے ایک ایسے ورژن کو فروغ دیا جا سکے جو امریکی ہدایات کا فرماں بردار ہو۔ وہ اس قسم کے اسلام کو ’ماڈرنسٹ’ یعنی جدیدیت پسند اسلام کہتی ہیں اور اس سے ان کی مراد ایسا اسلام ہے جو مغربی پروٹسٹنٹ ازم سے معمولی طور پر ہی مختلف ہے اور سرمایہ دارارانہ نظام میں مطمئن رہ سکتا ہے۔ یہ نکتہ ان کے اس جملے سے، جو زیادہ گہرے تجزیے پر مبنی نہیں، واضح ہے کہ ’’جدیدیت ہی وہ چیز ہے جس نے مغرب کے لیے مفید کردار ادا کیا۔‘‘ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ جن جدیدیت پسندوں کی حمایت کا وہ مشورہ دے رہی ہیں، ان کا اثر ورسوخ صرف اشرافیہ میں ہے اور عوامی سطح پر انھیں کوئی مقبولیت یا پیروی حاصل نہیں، بینارڈ تجویز کرتی ہیں کہ امریکہ کو جدیدیت پسندوں کے کاموں کی مختلف شکلوں میں طباعت کے لیے امداد دینی چاہیے مثلاً ویب سائٹس، نصابی کتب، پمفلٹس اور کانفرنسز وغیرہ۔ ان کی رائے میں ’’امریکہ کو جدیدیت پسندوں کو مثالی نمونے اور راہنما کے طور پر مقبول بنانا چاہیے اور ان کے پیغام کے ابلاغ کے لیے مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کرنے چاہییں۔‘‘ ظاہر ہے کہ بینارڈ امریکہ کو جن جدیدیت پسندوں سے تعاون کا مشورہ دے رہی ہیں، انھیں امریکی تعاون اس وقت تک ہی حاصل رہے گا جب تک کہ ان کے غیظ وغضب کا رخ اسلام پسندوں کی طرف رہے گا، لیکن اگر وہ امریکی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیں گے تو انھیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ تیسری دنیا کی بائیں بازو کی قوتوں کی مثال سے ظاہر ہے جنھیں کچل دینے میں امریکی تعاون اور سازباز بھی حصہ دار ہے۔
دستاویز میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دوسرا حل عسکری قوت کا استعمال تجویز کیا گیا ہے۔ یہ بھی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں، امریکہ بالکل معصوم ہے اور اسلامی تشدد پسندی محض مذہب کے ساتھ جنونی لگاؤ کا نتیجہ ہے۔ بش حکومت کا معیاری موقف بھی یہی ہے۔ دستاویز میں اس موقف کو سابق امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف ڈیفنس اور ورلڈ بینک کے حالیہ صدر پال ولفووٹز نے پوری قوت سے پیش کیا ہے، جو عراق پر امریکی حملے کے بنیادی منصوبہ سازوں میں سے ایک ہیں۔ امریکہ کے ظالمانہ امپریلسٹ ماضی، افریقی غلامی کے داغ، مقامی باشندوں کی امریکی نوآباد کاروں کے ہاتھوں تباہی، اور نام نہاد تیسری دنیا میں بلامبالغہ لاکھوں انسانوں کی ہلاکت جس کا امریکہ بنیادی طور پر ذمہ دار ہے، ان تمام حقائق سے آنکھیں چراتے ہوئے ولفووٹز یہ معصومانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق پر حملہ نہ قبضے کی غرض سے ہے اور نہ امریکہ کی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے ، اس کے بجائے یہ ایک اصولی جنگ ہے اور اس کا محرک آزادی اور جمہوریت کے ساتھ وابستگی کا وہ تصور ہے جس نے امریکی تاریخ کے آغاز ہی سے امریکہ کو متحرک کیے رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’’امریکی قوم شر کے مقابلے کے لیے ہمیشہ میدان میں رہی ہے۔‘‘ اسے ناواقفیت کہہ لیجیے یا صریح دھوکہ، لیکن اگر ولفووٹز کو یہ توقع ہے کہ ان کا یہ دعویٰ امریکہ کے دامن سے سنگین جرائم کا داغ دھو سکتا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امریکی پالیسیاں بہت بڑی حد تک مسلم بے اطمینانی کی ذمہ دار ہیں، لیکن ولفو وٹز اس کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ اس کا سبب ’’دہشت گردانہ جنونیت‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ نتیجتاً وہ عراق پر امریکی حملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نمایاں طور پر اسی طرح جائز اور برحق قرار دیتے ہیں جس طرح سفید فام مغربی آباد کار امریکہ کی سیاہ فام آبادی پر حملہ کرنے اور ان کو محکوم وغلام بنانے کو قرار دیتے تھے۔ ان آباد کاروں کے نزدیک بھی یہ ایک مہذب مشن تھا اور پال وولفووٹز کے الفاظ میں امریکہ بھی ’’ایک منصفانہ اور پر امن دنیا‘‘ کی تشکیل کے لیے دہشت گردوں کے جبر، موت اور مایوسی کے مقابلے میں زندگی، امید اور آزادی کا وژن پیش کر رہا ہے ۔ وہ بش کی عراق پالیسی کا ذکر ’آزادی کی طاقت کی کہانی‘ کے الفاظ میں کرتے ہیں اور عراق میں امریکی فوجیوں کو ’’غیر معمولی بہادر جوان امریکی‘‘ قرار دیتے ہیں ’’جو اپنی زندگیوں کو اس لیے خطرے میں ڈال رہے ہیں تاکہ دوسرے لوگ آزادی سے مستفید ہو سکیں اور تاکہ خود ہمارے اپنے لوگ زیادہ حفاظت سے زندگی بسر کر سکیں‘‘ ۔
ولفووٹز کو اصرار ہے کہ جمہوریت عراقیوں پر نافذ کرنی چاہیے اور اگر وہ مزاحمت کریں تو انھیں موت کی دھمکی دے کر اسے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ گویا عراق پر امریکی حملہ ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا کوئی واسطہ سستے تیل کے حصول یا وسیع تر مسیحی بنیاد پرست صہیونی ایجنڈے سے نہیں۔ کم از کم ولفووٹز ہمیں یہی باور کرانا چاہتے ہیں۔ وہ امریکی حملے کو یوں پیش کرتے ہیں جیسے اس کا محرک جمہوریت کے فروغ کا ایک بے پایاں جذبہ ہے۔ تاہم اس نکتے پر ان کی خاموشی ہرگز باعث حیرت نہیں کہ امریکہ دنیا کی بعض بدترین غیر جمہوری حکومتوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔
عراق امریکی قابض فوجوں کی موجودگی کو انسانی واخلاقی جواز دینے کی غرض سے وہ ایک نا معلوم عراقی خاتون کا حوالہ دیتے ہیں جس نے مبینہ طور پر ایک جمہوری معاشرے کے روزوشب کو دیکھنے کے لیے امریکہ کا دورہ کیا اور وائٹ ہاؤس میں صدر بش سے ملاقات کے دوران میں کہا کہ ’’اگر امریکی افواج قربانی نہ دیتیں تو عراقی خواتین کو کبھی جمہوریت سے متعلق جاننے کا موقع میسر نہ آتا۔‘‘ یہاں نہ ان ہزاروں عراقیوں کا کوئی ذکر ہے جنھیں امریکی پابندیوں کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے، نہ دس سال پر محیط عراق ایران جنگ میں عراق کی امریکی حمایت کا ، اور نہ ان ہزاروں عراقیوں کو جو امریکی حملے کے بعد سے اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ ولفووٹز ’’عراق میں امریکی فوجیوں کے عظیم کارناموں‘‘ کا ذکر تو بڑی فصاحت وبلاغت سے کرتے ہیں جو ان کے بیان کے مطابق اسکول قائم کر رہے ہیں، لوگوں کوان کے گھروں میں آباد کر رہے ہیں، حتیٰ کہ صرف پانچ پانچ ڈالر کی سائیکلیں عراقی بچوں میں تقسیم کر رہے ہیں، لیکن امریکی قبضے کے نتیجے میں مسلسل ہلاک ہونے والے ہزاروں عراقیوں سے متعلق انھوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔
یہ بات نہیں کہ رینڈ رپورٹ کے مصنفین، جو سب کے سب اچھے عہدوں پر فائز اور پوری ط رح باخبر ہیں، اتنے ہی سادہ لوح، جاہل یا نرے احمق ہیں جتنے کہ وہ اپنی تحقیقی کاوشوں سے نظر آتے ہیں۔ بالکل واضح ہے کہ ان تجزیہ اور تجویز کردہ حل امریکی اور صہیونی غلبے کا تسلسل قائم رکھنے اور امریکی واسرائیلی مفادات کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب سے پھوٹنے والی تشدد پسندی اور دہشت گردی بہرحال ایک بہت نازک سوال ہے، لیکن رینڈ رپورٹ کے مصنفین اس معاملے کو صرف مسلم گروہوں تک محدود کرتے ہیں جو کہ سراسر حقائق کے منافی ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ مذہبی انتہا پسندی مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور اگر ہم اس کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں اس طرح کے تمام گروہوں کی طرف توجہ مبذول کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کے علاوہ مسیحی، ہندو، یہودی اور دوسرے گروہ بھی ہیں جو مذہب کے نام پر نفرت اور دہشت پھیلا رہے ہیں۔ اسی طرح ریاستی دہشت گردی کو بھی، جس کو رینڈ رپورٹ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا عنوان دے کر جائز قرار دیتی ہے، مساوی درجے کا سنگین خطرہ سمجھنا ہوگا اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مزید برآں مذہبی انتہا پسندی کو محض نظریاتی اصطلاحات میں نہیں سمجھا جا سکتا، جیسا کہ رینڈ رپورٹ میں کیا گیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی کوششوں اور مغربی بالادستی کے نمائندہ سرمایہ دارانہ نظام کے تناظر میں اس کے پیچھے کار فرما پیچیدہ معاشی، ثقافتی اور سیاسی وجوہ و عوامل بھی زیر غور آنے چاہییں ۔ تب ہی ہم درست سوالات اٹھانے اور ان کے صحیح جواب دینے کے قابل ہوں گے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا کام ہے جو رینڈ کارپوریشن کے ماہرین اور اس قبیل کے لوگوں کو نہیں سونپا جا سکتا۔
تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہؒ کی خدمات
عاصم نعیم
بیسویں صدی مسلمانوں کے عروج و انحطاط کی مختلف داستانوں کو سمیٹتے ہوئے رخصت ہوچکی ہے۔ موجودہ صدی اسی تسلسل میں متعدد نئے منظر نامے پیش کر رہی ہے۔ نو آبادیاتی دور کے بعدمسلم دنیا اپنے دینی اور تہذیبی تشخّص کی حفاظت کے لیے جو کاوشیں کر رہی ہے، وہ مقدار اور معیار میں کم ہوتی محسوس ہو رہی ہیں ۔تہذیبوں اور تمدنوں کاتصادم بالکل عیاں ہو چکا ہے۔ اندریں حالات مسلم امّہ ایک ہمہ جہت بحران کا شکار ہے۔ سیاسی ،معاشی ،تعلیمی ،سماجی ،اور عسکری میدانوں میں اپنے نظریات وافکار کے بقا اور احیا کے احساس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔تعلیم وتربیت اور ثقافت کے مسائل کے ساتھ ساتھ قیام عدل کے لیے فقہ وقانون ،عدالتی طریق کار اور نظام عدل کو موثر طور پر فعال بنانے ،قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور ان کے موثر نفاذ کے مسائل کو بنیادی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
عامّتہ المسلمین جہاں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تشکیل دینے میں مصروف ہیں، وہیں ادارتی سطح پر وہ اپنے تعلیمی ،سیاسی ،اقتصادی،قانونی ،اور عدالتی نظام کو بھی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔مسلم اہل دانش اس مقصد کے لیے اجتہاد وبصیرت اور اپنی باثروت روایات سے کام لے کر پیش آمدہ چیلنجوں کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ (۱) ان میں قرآن وسنت کے مصادرِ اصلیہ کے ساتھ ساتھ صحابہؓ اور ازمنہ وسطیٰ کے ائمہ مجتہدین اور علما، فقہا اور اصحاب دانش کے لازوال علمی سرمایوں میں ہمارے لیے معاونت وراہ نمائی کا بیش بہا ذخیرہ موجود ہے۔یہ علمی سرمایہ ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہے ،جس کا آغاز تاریخی طور پر دیکھا جائے تو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مسعود سے ہوتاہے۔آپؑ کے عہد میں اس وقت کی موجود دنیامیں نظام ہائے حیات بالکل مختلف تھے۔صاحب قرآن ؑ نے ہدایت رّبانی کے نچوڑ اور صحیفہ فطرت ،قرآن حکیم کی روشن تعلیمات سے اور اپنے حسنِ عمل سے عقائد وافکار، معاشرت،معیشت ،قانون وسیاست، تعلیم وتربیت غرض یہ کہ ہر شعبہ حیات میں جو تاریخی اور مثالی عظیم انقلاب برپا کیا، وہ کسی بھی صاحب علم ودانش سے مخفی نہیں۔ اغیار بھی حضورؑ کے مشن کی عظیم کامیابی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم روحانی اعتبار سے بھی اور دینوی اعتبار سے بھی پوری تاریخ عالم میں سب سے کامیاب شخصیت ہیں۔(۲)
اس تمہید سے مقصود یہ ہے کہ قرآن حکیم اور سنت رسولؑ میں جو راہ نمااور زریں اصول موجود ہیں،وہ قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لیے ہر شعبہ حیات میں کامل راہ نمائی کے لیے کافی ووافی ہیں۔ہاں زمانے کی گردش، مختلف تہذیبوں اور تمدنوں کے امتزاج یا تصادم سے نئے ابھرنے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے حضورؑ کے فرمودہ طریق کے مطابق اجتہاد سے کام لینا ہو گا۔(۳)
احادیث کے معتبر ومستند مجموعوں میں بکثرت ایسی روایات ملتی ہیں کہ حضورؑ نے نہ صرف ذاتی اجتہاد سے ایک مسئلے کو واضح فرمایا، بلکہ علت ومعلول کے باہمی ربط اور ان وجوہ واسباب کی نشان دہی بھی فرما دی جو اس مسئلے میں بنیاد واساس کی حیثیت رکھتے ہیں۔(۴) یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ آپ کے عہد میں سر زمین حجاز کے باشندے تہذیب وثقافت اور معاملات ومعاشرت کے ضمن میں فطری سادگی کے حامل تھے، لہٰذا پیچیدہ مسائل کا بہت کم سامنا ہوا ۔تاہم سلطنت اسلامی کی روز بروز وسعت کے ساتھ جب بے شمار ممالک اور علاقے اسلام کی نورانیت سے منور ہو گئے اور مختلف ومتنوع تہذیبوں وتمدنوں سے تعلق رکھنے والے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو نئے پیچیدہ مسائل سامنے آئے جنہیں یا خلافت راشدہ میں اجتماعی طور پر صحابہ کرام کی مشاورت سے حل کیا گیا یا پھر انفرادی سطح پر فتوے دیے گئے۔ (۵) مختلف وجوہ واسباب کی بنا پر کبار صحابہؓ کے فتووں میں کہیں کہیں اختلاف بھی نظر آتا ہے۔(۶) یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عہد نبوی یا خلافت راشدہ کے دور میں بلکہ عہد عباسی کے ابتدائی دور تک اسلامی قانون کا سرکاری سطح پر تدوین نہیں ہوئی ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سلطنت اسلامی کا دائرہ وسیع ہوتا چلاگیااور اس دوسرے مرحلے میں پہلے سے کہیں ذیادہ پیچیدہ مسائل سامنے آئے جنہیں حل کرنے میں ائمہ اربعہ یعنی امام اعظم امام ابو حنیفہ، ؒ امام مالکؒ ،امام شافعیؒ ،اور امام احمد بن حنبل ؒ کے علاوہ امام جعفر صادقؒ ، امام سفیان ثوریؒ ،عبد الرحمن ابن ابی لیلیؒ ،لیث بن سعدؒ ،اسحاق بن راہویہؒ ، عبد الرحمن اوزاعیؒ اور داود ظاہریؒ وغیرھم کے اسما قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں اور شب وروز محنت اور ان تھک کوششوں سے فقہ اسلامی کے پودے کی آب یاری کی۔ تاہم مذاہب فقہ میں سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت فقہ حنفی کو حاصل ہوئی ۔چنانچہ ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے امام ابو حنیفہ ؒ کا تعارف کراتے ہوئے تحریر کیا ہے:
Abu Hanifa (d-767) founder of the Hanafi school of law, to which almost 80 percent of the Muslims in the world adhere. (7)
ڈاکٹر صبحی محمصانی نے فقہ حنفی کی ابتدا کا ذکر اور امام کا مختصر تعارف ان الفاظ میں پیش کیا ہے :
’’مذہب حنفی کوفہ میں پیدا ہوا جس کے بانی امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ ہیں جوامام اعظم کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ کی علمی زندگی کی ابتدا علم کلام کے مطالعے سے ہوئی۔ پھر آپ نے اہل کوفہ کی فقہ اپنے استاذ حماد بن ابی سلیمان (م ۱۲۰ھ) سے پڑھی ۔عملی زندگی کے لحاظ سے آپ ریشمی کپڑوں کے تاجر تھے۔علم کلام اور پیشہ تجارت نے آپ میں عقل ورائے سے استصواب کرنے ،احکام شرعیہ کو عملی زندگی میں جاری کرنے اور مسائل جدیدہ میں قیاس واستحسان سے کام لینے کی صلاحیت تامہّ پیدا کر دی تھی ۔‘‘ (۸)
کوفہ کا شہر عہد صحابہؓ میں وقیع علمی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ اور حضرت علیؓ کے تلامذہ کا مستقر تھا۔اسی شہر میں ۸۰ ھ میں امام ابو حنیفہ ؒ کی پیدائش ہوئی اور ۱۵۰ھ میں بغداد میں وفات پائی ۔(۹) آپ کی پرورش ایک خالص اسلامی گھرانے میں ہوئی ۔ (۱۰) الدکتور محمد یوسف موسیٰ نے آپ کی ابتدائی زندگی کے حالات اور تجارت میں آپ کی امانت ودیانت کا ذکر کرنے کے بعد علم فقہ کی طرف آپ کے میلان کی مختلف روایات بیان کی ہیں ۔(۱۱) امام ابو حنیفہ ؒ کی پوری زندگی ایک طرف زہد وتقویٰ سے مزینّ ،اخلاق فاضلہ سے آراستہ اور امانت ودیانت کی آئینہ دار ہے(۱۲) تو دوسری طرف علم وتحقیق،تدوین فقہ اور شب وروز نئے مسائل میں غور وفکر اور بحث وتمحیص اور اجتہادی مساعی کی عکاسی کرتی ہے اور بقول ڈاکٹر صبحی محمصانی وفورِعلم کی بنا پر انہیں امام اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔(۱۳) خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد (۱۴) اور خیر الدین زرکلی نے الاعلام (۱۵) میں امام شافعی ؒ کے مختلف اقوال ذکر کیے ہیں کہ لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ ؒ کے محتاج ہیں۔ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے صدر الائمہ الموفق المکّی کے حوالے سے محمد بن ابی مطیع کے والد کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے کوئی چار ہزار مشکل سوالات مرتب کیے جو مختلف فنون وواقعات سے متعلق تھے۔امام صاحب نے رفتہ رفتہ ان کے تمام سوالات کے کافی وشافی جوابات دے دیے۔ (۱۶) ابن خلدون نے مقدمہ میں امام صاحب کی اجتہادی بصیرت کوان الفاظ میں ہدیہ تحسین پیش کیا ہے : ’’ اہل عراق کے امام اور مذہبی پیشوا ابو حنیفہؒ النعمان بن ثابت،جن کا مقام فقہ میں اتنا ارفع اور اعلیٰ ہے کہ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکا۔‘‘( ۱۷)
فقہ اسلامی کی تدوین کی ضرورت
امام ابو حنیفہ ؒ کے زمانہ سے قبل جلیل القدر تابعین حضرت علقمہ ؒ ،حضرت اسودؒ ،حضرت حمادؒ ،حضرت ابراہیم نخغیؒ وغیرہم اور اہل علم صحابہ کرام کے ہاں علم حدیث کی طرح فقہی مسائل کے استخراج واستنباط اور اجتہاد کو بھی اہمیت حاصل تھی اور فقہ واجتہاد کے بہت سے مسائل اور احکام مدوّن بھی ہو چکے تھے، مگر یہ باقاعدہ اور منظم تدوین نہ تھی اور نہ اسے ایک مستقل فن Science)) کی حیثیت حاصل تھی اور نہ ابھی تک استدلال واستنباط مسائل کے قواعد مقرر ہوئے تھے۔فقہ واجتہاد جو اپنے وسیع اور ہمہ گیرنظام اور جامع فن ہونے کی وجہ سے جزئیات مسائل پر حاوی ہے ،اس کو باقاعدہ ایک دستور اور قانون کے مرتبہ تک پہنچانے کے لیے ابھی بہت سے مرحلے باقی تھے ۔ہجرت کا ایک سو بیسواں سال تھا ۔امام ابو حنیفہؒ کے استاذ حمادؒ وفات پاچکے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب تمدن میں وسعت کی وجہ سے عبادات ومعاملات میں کثرت مسائل کے واقعات پیش آنے لگے ۔تعلیم وتعّلم میں ترقی اور تنوّع ،تجارت کا فروغ ،ملکی تعلقات اور بین الاقوامی مسائل ومعاملات میں بے انتہا وسعتوں کے پیش نظر استفتا واستفسارِمسائل کی کثرت ہونے لگی ۔سرکاری قضاۃ وحکام شرعی کے قضایاوفیصلوں میں غلطی کے پیش نظر امام ابو حنیفہؒ کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ احکام ومسائل کے کثیر اور وسیع جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دے کر ایک فن بنایا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا دستور العمل مرتب کر دیا جائے جس میں تمام چیزوں کی رعایت ہو۔یہ کام فقہ اسلامی کی مکمل تدوین اور اصولوں کی تعیین کے بغیر ممکن نہیں تھا۔چنانچہ امام ابو حنیفہؒ کی مجتہدانہ طبیعت اور متقیانہ مزاج نے ان کوخود اس فن کی ترتیب پر آمادہ کیا۔ظاہر ہے فقہ اسلامی کی تدوین اور ترتیب میں فقہ واجتہاد کے تمام پہلو شامل ہونے تھے، لہٰذا یہ ایک پر خطر اور حزم واحتیاط کا کام تھا۔
مجلس اجتہاد کی تشکیل اور اجتہادِ اجتماعی کا طریقہ کا ر
امام ابو حنیفہ ؒ نے دیگر مجتہدین کے برعکس اجتہاد واستخراج کا یہ پر خطر کام انفرادی واستبدادی اندازمیں تنہا انجام نہیں دیا، بلکہ اس مقصد کے لیے اپ نے اپنے خاص الخاص تلامذہ کو، جو حدیث وفقہ میں ماہر ہونے کے ساتھ امام صاحب کے فیضِ صحبت کے باعث زاہد وعبادت گزار اور انتہائی متقی لوگ تھے ،منتخب کر کے ایکمجلس اجتہاد تشکیل دی جو حریت فکر اور اظہار رائے میں اپنی مثال آپ تھی۔ (۱۸)
الامام الموفق المکی کے مطابق امام ابو حنیفہ ؒ کے شاگرد اور فیض یافتہ افراد کی تعداد یوں تو ہزاروں سے متجاوز ہے، تاہم بقول ابن حجرؒ ان میں آٹھ سو زیادہ مشہور ہوئے اور ان آٹھ سو میں سے ساٹھ کے قریب افراد خاص علمی مرتبے کے حامل اور اجتہاد کے درجے پر فائز تھے ۔امام ابو حنیفہ ؒ ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور انہیں پر مشتمل مجلس اجتہاد وفقہ انھوں نے قائم کی۔ ان میں یہ لوگ ممتاز تھے : ابو یوسفؒ ،زفر، ؒ داود الطائیؒ ،اسد بن عمرؒ ، یوسف بن خالد ؒ التمیمی، یحییٰ بن ابی زائدہ ؒ ،حسن بن زیادؒ ،محمد بن حسنؒ ،عافیہ بن یزید الاودیؒ ،قاسم بن معن ؒ ،عبداللہ ابن مبارکؒ ،نضر بن عبد الکریم ؒ ،عبد الرزاق بن ہمامؒ وغیرہم ۔
مشہور محدث وکیع بن الجراحؒ کے حالات میں، جو امام ابو حنیفہ ؒ کے شاگرد اور امام شافعی ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ کے استاد تھے، خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر چند اہل علم وکیعؒ کے پاس جمع تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا : امام ابو حنیفہ ؒ نے فلان مسئلے میں غلطی کی ہے ۔وکیع بولے : ابو حنیفہ ؒ کیسے غلطی کر سکتے ہیں؟ جس شخص کے ساتھ قیاس ودرایت میں ابویوسف ؒ وزفر، ؒ حدیث میں یحییٰ بن زائدہ ،حفص بن غیاث ،حبان اور مندل ،لغت وعربیّت میں قاسم بن معن اور زہدوتقویٰ میں داود الطائی او ر فضیل بن عیاض کے رتبے کے لوگ ہوں ،وہ کیسے غلطی کر سکتا ہے اورکرتا بھی ہے تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنے دیتے ہیں ؟
امام ابو حنیفہ ؒ کو کار اجتہاد اور تدوین فقہ وقانون کے لیے جن جن علوم کے ماہروں کی ضرورت تھی، انھوں نے فقہ اسلامی کے مختلف ابواب ومباحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہایت کامیابی سے ان علوم میں مہارت رکھنے والے افراد کو نہ صرف جمع کیا بلکہ سالہا سال ان کی علمی اور مادی سر پرستی کرکے امت کو ایک بے مثال مجموعہ قوانین وفقہ کا تحفہ دیا۔ڈاکٹر محمد حمیداللہ لکھتے ہیں :
’’ایک اور مشکل یہ تھی کہ فقہ، زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہے اور قانون کے ماخذوں میں قانون کے علاوہ لغت، صرف ونحو،تاریخ وغیرہ ہی نہیں، حیوانات ،نباتات بلکہ کیمیا کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔قبلہ معلوم کرنا جغرافیہ طبعی پر موقوف ہے۔ نماز اور افطار وسحری کے اوقات علم ہیئت وغیرہ کے دقیق مسائل پر مبنی ہیں۔ رمضان کے لیے رؤیت ہلال کو اہمیت ہے اور بادل وغیرہ کے باعث ایک جگہ چاند نظر نہ آئے تو کتنے فاصلے کی رویت اطراف پر موثر ہو گی وغیرہ وغیرہ۔مسائل کی طرف اشارے سے اندازہ ہو گا کہ نماز روزہ جیسے خالص عباداتی مسائل میں بھی علوم طبعیہ سے کس طرح قدم قدم پر مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار،تجارت، معاہدات ،آب پاشی ،صرافہ ،بنک کاری وغیرہ کے سلسلے میں قانون سازی میں کتنے علوم کے ماہروں کی ضرورت ہو گی۔امام ابو حنیفہ ہر علم کے ماہروں کو ہم بزم کرنے اور اسلامی قانون یعنی فقہ کو ان سب کے تعاون سے مرّتب ومدون کرنے کی کو شش میں عمر بھر لگے رہے اور بہت کچھ کامیاب ہوئے‘‘۔(۱۹)
آج کے دور میں علوم کی مختلف شاخوں نے اپنی مستقل حیثیت اختیار کر لی ہے اور ان میں تخصص کے لیے ساری عمر صرف کرنا پڑتی ہے،لیکن فقہ اسلامی کے طلبہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ ان میں سے کئی ایک علوم مثلاً معاشیات، سیاسیات ،قانون بین الاقوام وغیرہ براہ راست علم فقہ کے ابواب ہیں۔ ان علوم سے متعلق جو قوانین مدون کیے گئے ہیں، ان کے لیے صرف کتاب ،سنت ،اجماع اور قیاس سے ہی کام نہیں لیا گیا بلکہ قانون سازی کے لیے دیگر علوم سے بھی بھر پور استفادہ کیا گیا۔ (۲۰)
الامام الموفق المکی ،امام ابو حنیفہ ؒ کے مجموعہ قوانین کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’وہ مجموعہ نحو اور حساب کے ایسے دقیق مسائل پر مشتمل تھا جن کو سمجھنے کے لیے عربی زبان وادب اور الجبرا وغیرہ میں مہارت تامّہ کی ضرورت تھی۔‘‘ (۲۱)
موفق، امام ابو بکر الجصاص کی تالیف ’شرح جامع صغیر‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ میں نے مدینۃ السلام (بغداد) میں ایک بہت بڑے نحوی حسن بن عبد الغفار کو اس کتاب کے بعض مسائل سنائے جن کا تعلق نحو ولغت کے ذریعے استخراج مسائل سے تھا تو جیسے جیسے وہ مسائل سنتے جاتے تھے، حیرت سے میری طرف دیکھتے ۔ آخر میں بولے،ان نتائج کا استنباط وہی کر سکتا ہے جو علوم نحو میں خلیل اور سیبویہ کاہم پلّہ ہو۔ (۲۲)
طریقہ بحث وتحقیق
امام ابو حنیفہ ؒ کی مجلس فقہ واجتہاد کے ارکان کے ناموں کی تلاش کے لیے آپ کے سوانح نگاروں نے بلاشبہ سخت جگر کاوی کی ہے۔ آپ کی تدوین فقہ کے تیس سالوں میں ہزاروں نہیں تو سیکڑوں طالب علموں نے ان سے کسب فیض کیا ۔ان میں سے بعض غیر معمولی قابلیت کے حامل تلامذہ کو امام اپنی مجلس فقہ میں شامل کر لیتے تھے جبکہ اکثریت ایک خاص مدت تک امام ابو حنیفہ ؒ کے طریقہ استدلال اور منہج اجتہاد میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنے شہروں کو روانہ ہو جاتی تھی ،جیسا کہ شیخ محمد ابو زہرہ نے لکھا ہے :
لقد کان لابی حنیفہؒ تلامذۃ کثیرون منھم من کان یرحل الیہ ویستمع امرا ثم یعود الی بلدہ بعد ان یاخذ طریقتہ ومنھاجہ ومنھم من لازمہ۔
’’امام ابو حنیفہؒ کے بہت سے شاگرد تھے۔ ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو آپ کے پاس آکر کچھ عرصہ گزارتے، آپ کا طریقہ استنباط سیکھتے، اسے اپنا کر واپس وطن لوٹ جاتے ، اور ان میں سے کچھ نے آپ کی صحبت اختیار کر لی تھی ۔‘‘
مذکورہ حضرات مختلف علوم وفنون کے ماہر ،غیر معمولی قابلیتوں اور علمی حیثیتوں کے مالک تھے ۔ (۲۳)
مجلس میں مسائل پر بحث وگفتگو کے طریقے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے الموفق لکھتے ہیں :
کان یلقی مسئلۃ مسئلۃ یقلبھم ویسمع ماعندھم ویقول ماعندہ ویناظرھم شھرا او اکثر من ذلک حتی یستقر احد الا قوال فیھا۔ (۲۴)
’’ایک ایک مسئلہ کو پیش کرتے، لوگوں کے خیالات کو الٹتے پلٹتے ،اراکین مجلس کی آرا اور دلائل سنتے۔اپنی رائے اور دلائل سے اہل مجلس کو آگاہ کرتے اور ان سے مناظرہ کرتے ۔کبھی ایک ایک مسئلہ پر بحث ومناظرہ کا سلسلہ ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت تک چلتا تاآنکہ مسئلے کا کوئی پہلو متعین ہو جاتا۔‘‘
بامقصد اور آزادانہ بحث
امام ابو حنیفہؒ نے مشاورت کو بامقصد ،بحث ومناظرہ کو آزادانہ اور مجلس اجتہاد کو بے تکلف بنانے کی شعوری کوشش کی تھی تاکہ ادب آداب اور عقیدت ولحاظ کے باعث قانون سازی میں کسی قسم کا سقم نہ رہ جائے ۔ مشہور محدث عبد اللہ ابن مبارک کہتے ہیں :
’’میری موجودگی میں ایک مسئلہ بحث کے لیے پیش ہوا۔ مسلسل تین دن تک ارکان مجلس اس پر غور وخوض اور بحث ومباحثہ کرتے رہے ۔‘‘
کوفہ کے اہل علم امام ابو حنیفہ ؒ کے قانون سازی اور حل مسائل کے اس اچھوتے انداز کو حیرت واستعجاب سے دیکھتے اور پسند کرتے تھے ۔ (۲۵)
مشہور محدث اعمش نے مجلس کے طریق کار کو بیان کرتے ہوئے کہا: جب اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے تو حاضرین اس مسئلے کو اس قدر گردش دیتے ہیں اور الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ بالآخر اس کاحل روشن ہوجاتا ہے ۔ (۲۶)
ہم عصر علمی مجالس سے استفادہ
امام ابو یوسف کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ جب کوئی مسئلہ زیر تحقیق ہوتا تو کوفہ کی دوسری علمی مجالس سے بھی مراجعت کی جاتی کہ آیا اس مسئلے میں ان کے پاس کوئی حدیث ہے ۔ابو یوسف کہتے ہیں کہ مجھے تلاش سے جو احادیث ملتیں، میں لے کر امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو وہ بتاتے کہ ان میں سے فلاں حدیث صحیح ہے اور فلاں صحیح نہیں ہے، اور ہم نے جو رائے اختیار کی ہے، وہ حدیث صحیح کے مطابق ہے ۔میں پوچھتا کہ آپ کو ان احادیث کا کیسے علم ہوا ؟تو جواب دیتے کہ کوفہ میں جتنا علم ہے، وہ سارا میرے پاس ہے۔ (۲۷)
اہم عصری مباحث وموضوعات پر اجتہاد
امام ابو حنیفہؒ کی مجلس اجتہاد میں بعض اہم عصری موضوعات زیر تحقیق لائے گئے۔ امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب الفرائض اور کتاب الشروط وضع کیں۔قانون بین المالک، جو تاریخ کا حصہ سمجھا جاتاتھا، اس کو تاریخ سے الگ کرکے مستقل فقہی چیز قرار دیا گیااور کتاب السیر مرتب ہوئی جس میں صلح اور جنگ کے قوانین مدون ہوئے۔ اس طرح ایک ضخیم مجموعہ قوانین تیار ہو ا جو متعدد کتب کی شکل میں اس دور میں موجود رہا۔بعد میں ان تالیفات کو امام محمد بن حسن شیبانی نے مزید منقح کرکے مدون کیا اور یہی مجموعے فقہ حنفی کی اساسی کتب ہیں۔
اہم اصولِ اجتہاد
امام ابو حنیفہؒ کی قائم کردہ مجلس اجتہاد کا طریق اجتہاد تقریباً وہی تھا جو اصحاب رسول ؑ نے اختیار کیا تھا ۔ اس مجلس کے طریق میں بھی صحابہ کرامؓ کے اختیار کردہ اصول کار فرما نظر آتے ہیں ۔ڈاکٹر صبحی محمصانی اس طریق کا ر کے ضمن میں امام صاحب کا اپنا ایک قول نقل کرتے ہیں :
اذا لم یکن فی کتاب اللہ ولا فی سنۃ رسول اللہ نظرت فی اقاویل اصحابہ ولا اخرج عن قولھم الی غیرھم فاذا انتھی الامر الی ابراھیم والشعبی وابن سیرین والحسن وعطاء وسعید بن جبیر فقوم اجتھدوا فاجتھد کما اجتھدوا۔ (۲۸ )
’’ اگر کتاب اللہ اور سنت رسول ؑ دونوں میں مسئلہ نہ مل سکے تو اقوال صحابہؓ سے اخذ کرتا ہوں۔ جس کا قول چاہتا ہوں، لے لیتا ہوں اور جس کا قول چھوڑنا چاہوں، ترک کر دیتا ہوں اور ان کے اقوال سے کسی دوسرے کے قول کی طرف تجاوز نہیں کرتا، لیکن جب معاملہ ابراہیم نخعی ،شعبی ،ابن سیرین ،حسن بصری ،عطا اور سعید بن جبیرتک پہنچتاہے تو وہ اجتہاد کرنے والے لوگ تھے، ہمیں بھی ان کی طرح اجتہاد کرنے کا حق حاصل ہے ۔‘‘
اس طرح علامہ عبد البر کی ’’ الانتقاء ‘‘ میں نیز موفق المکی کی ’’ المناقب ‘‘ میں مذکور ہے:
’’آپ معتبر قول کو لیتے، قبیح سے دور بھاگتے، لوگوں کے معاملات میں غوروفکر کرتے ۔جب لوگوں کے احوال اپنی طبعی رفتار سے جاری رہتے تو قیاس سے کام لیتے ۔مگر جب قیاس سے کسی فساد کا اندیشہ ہوتا تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ استحسان سے کرتے۔ جب اس سے بھی معاملات بگڑ تے نظر آتے تو مسلمانوں کے تعامل کی طرف رجوع کرتے۔ جس حدیث پر محدثیں کا اجماع ہوتا، اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ پھر جب تک مناسب سمجھتے، اس پر اپنے قیاس کی بنیاد کھڑی کرتے ۔پھر استحسان کا رخ کرتے ۔ قیاس اور استحسان میں سے جو زیادہ موافق ہوتا، اس کی طرف رجوع کرتے ۔سہل کہتے ہیں : امام ابو حنیفہؒ کا علم عوام کی سمجھ میں آنے والا علم ہے۔‘‘
نیز اسی کتاب میں ہے :
’’ابو حنیفہؒ ناسخ منسوخ احادیث کی بہت چھان بین کرتے ہیں۔جب کوئی حدیث مرفوع یا اثر صحابی آپ کے نزدیک ثابت ہو جاتا تو اس پر عمل کرتے۔ آپ اہل کوفہ کی احادیث سے خوب آگاہ تھے اور ان پر بڑی سختی سے عامل رہتے تھے۔‘‘
گویا مجلس اجتہاد میں پیش آمدہ مسائل کا حل پہلے قرآن وسنت سے تلاش کیا جاتا ۔سنت دوسرا بڑا ماخذ ہے جس پر مدار استنباط تھا۔ قرآن حکیم شریعت کا اصل الاصول اور اس کا سر چشمہ ہے جس کا ثبوت قطعی ہے جب کہ حدیث کا ثبوت ظنّی ہے۔ جو اوامر قرآن میں ہوں، وہ ’’فرض ‘‘ اور جو ’’حدیث ‘‘ سے ثابت ہوں، ان کو ’’واجب ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ دلائل میں اسی تقدیم وتاخیر کے قائل تھے۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ ہم پہلے کتاب اللہ سے استدلال کرتے ہیں، پھر سنت نبوی ؑ سے، پھر قضایا صحابہؓ سے۔ صحابہؓ جس بات پر متفق ہوں، ہم اس پر عمل کرتے ہیں ۔اگر صحابہؓ میں اختلاف پایا جاتا ہو تو ہم علت جامعہ کی بنا پر ایک حکم کو دوسرے حکم پر قیاس کرتے ہیں ۔یہاں تک کہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔‘‘(۳۰)
امام ابو حنیفہؒ نے علوم نبوی ؑ کے خزانے سے کما حقہ فائدہ اٹھایا۔اخذ وقبولِ حدیث کے اصول متعین فرمائے ۔فقہ الحدیث میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مہارت تامّہ عطا فرمائی تھی۔آپ کے جلیل القدر شاگرد اور محدث امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں:
’’مارایت احدا اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقہ من ابی حنیفہؒ .....وکان ھو ابصر بالحدیث الصحیح منی‘‘ (۳۱)
’’میں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو حدیث سمجھنے اور اس سے فقہی جزئیات اخذ کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ صحیح حدیث کی مجھ سے زیادہ بصیرت رکھنے والے تھے ۔‘‘
علاوہ ازیں مجلس اجتہاد میں صحابہ خصوصاً سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ، سیدنا علی،ؓ قاضی شریح، ابراہیم نخعی اور دیگر ہم عصر فقہا ومجتہدین کے فیصلوں اور قضایاکو کافی اہمیت دی جاتی ۔
اس طرح قانون سازی کے سلسلے میں مذکورہ بالا اجتماعی اجتہادی کاوشوں کی بنا پر جو قانونی سرمایہ وجود میں آیا ،اس کی مثال دنیا کی دیگر اقوام میں عنقا ہے۔ سیکڑوں متون (texts)، ہزاروں شروح وحواشی کے علاوہ وقائع اور حوادث وفتاویٰ کی حیثیت وہی ہے جو اج کل عدالتوں میں نظائر precedents)) کی ہے۔
آج عالم اسلام جن فکری، تہذیبی،تعلیمی اور قانو نی مسائل سے دور چار ہے، ان کے حل کے سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کا اجتماعی اجتہاد کا طریق کار چراغ راہ کا کام دے گا ۔قر آن وسنت ،اقوال صحابہؓ اور قدیم علمی فقہی سرمایہ کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے اسلام کی نمائندہ کونسلیں پیش آمدہ مسائل پر غورفکر کریں۔مسائل کے فنی اور شرعی پہلووں پر خوب غوروفکر کرکے مسائل کا حل سامنے لائیں۔ اس کام کے لیے اللہ رب العزّت سے دعا واستعانت ،خلوص نیت اور عزم صمیم کی ضرورت ہے ۔
حوالہ جات
(۱) ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۹ سے ۲۲ مارچ ۲۰۰۵ منعقد ہونے والا اجتماعی اجتہاد پر بین الاقوامی سیمینار اسی مقصد کے لیے بلایا گیا تھا۔
( ۲)
Micheal Heart: "The 100 - A Rankin of The Most Influential Persons in History", New York ,1978, P. 33
( ۳) علامہ محمد الخضری نے اپنی کتاب ’’ تاریخ التشریع الاسلامی ‘‘میں حضور ؑ کے ذاتی اجتہاد ات کی مختلف مثالیں پیش کی ہیں۔ (محمد الخضری :تاریخ التشریع الاسلامی ،طبع مصر ، ۱۹۶۰م،ص۲۶تا ۳۹)
(۴) یہ شواہد بھی موجود ہیں کہ حضور ﷺ نے بعض صحابہؓ کو اپنے عہد مسعود میں اجتہاد کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (ڈاکٹر حمید اللہ : ’’امام ابو حنیفہؒ کی تدوین قانون اسلامی‘‘ ،کراچی ،N.Dََََََِص ۱۳)
( ۵) ڈاکٹر صبحی محمصانی :’’فلسفۃ التشریع فی الاسلام‘‘ ،بیروت ،۱۹۶۱۔ص۳۳ ،۳۴
(۶) ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں، شاہ ولی اللہ نے ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ میں اور عصر حاضر میں علامہ محمد الخضری نے صحابہ کرامؓ کے فتووں میں اختلاف کاذکر کیا ہے اور ان کے اسباب پر روشی ڈالی ہے ۔ملاحظہ ہو :ابن خلدون ،مقدمہ (اردو ترجمہ )،ص ۴۶۹۔ شاہ ولی اللہ :حجۃ اللہ البالغۃ(اردو ترجمہ )،لاہور ،حصہ اول ،ص ۳۷۵۔ محمد خضری:تاریخ التشریع الاسلامی ،مصر ۔۱۹۶۰م ص۱۱۷ تا ۱۲۷۔
( ۷)
Dr. Hamidullah :"Introduction to Islam", Lahore, 1974, P. 267
( ۸) صبحی محمصانی :’’فلسفہ التشریع فی الاسلام ‘‘،بیروت ،۱۹۶۱،ص ،۴۱۔
( ۹) خیرالدین زرکلی :’’ الاعلام‘‘ ،الجزء التاسع ،ص ۴۔
( ۱۰) ابو زہرہ : ’’ابو حنیفہؒ حیاتہ وعصرہ وآراء ہ وفقہہ‘‘ ( اردو ترجمہ ) المکتبہ السلفیہ،لاہور ۱۹۶۲،ص ۴۶۔
( ۱۱) الدکتور محمد یوسف موسیٰ :’’ محاضرات فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘ ،الجزء الثالث ،ص ۳۶۔
( ۱۲) المصدر السابق۔
(۱۳) فلسفۃ التشریع فی الاسلام ،ص۴۲۔
( ۱۴) ج ۱۳،ص ۳۴۶۔
( ۱۵) ج ۹ ص ۵۔
(۱۶) امام ابو حنیفہ ؒ کی قانون تدوین اسلامی ،ص ۳۴۔
( ۱۷) ابن خلدون :مقدمہ (اردو ترجمہ ) کراچی ،ص ۴۶۸۔
(۱۸) ابو زہرہ : ص ۲۲۱۔
( ۱۹) امام ابو حنیفہؒ کی سیاسی زندگی ، (پیش لفظ)۔
( ۲۰) محمد طفیل ہاشمی : ’’امام ابو حنیفہؒ کی مجلس تدوین فقہ‘‘ ، علمی مرکز وملت پبلی کیشنز،اسلام آباد ۱۹۹۸، ص۹۰۔
( ۲۱ ) الموفق المکی الامام : ’’مناقب الامام ابی حنیفہ‘‘ؒ ،دائرۃ المعارف حیدر اباد(س ن) ،۲/۱۲۷۔
( ۲۲) المصدر السابق :۲/ ۱۳۸۔
( ۲۳) الشیخ ابو زہرہ : ’’ابو حنیفہؒ حیا تہ وعصرہ‘‘ ،(مترجم اردو) ،المکتبہ السلفیہ ،لاہور،۱۹۶۲ ،ص ۱۸۲ ۔
( ۲۴) الموفق المکی : المصدر السابق ،۲/۱۳۳ ۔
( ۲۵) المصدر السابق ، ۱/۵۴۔
( ۲۶) کردری : مناقب اما م ابو حنیفہؒ ،۲/۳۰۔
( ۲۷) الموفق المکی : ۲/۱۵۲ ۔
( ۲۸) صبحی محمصانی :’’ فلسفۃ التشریع فی الاسلام‘‘ ،۱۹۶۱،ص ۴۲۔
( ۲۹) ابن عبد البر :’’ الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الفقہاء‘‘، ص ۱۴۳۔
( ۳۰) عبد الوہاب الشعرانی : ’’المیزان الکبریٰ ‘‘،طبع مصر ،۱۳۴۴ھ ص ۶۱۔
( ۳۱) الدکتور ابو یوسف موسیٰ :’’ محاضرات فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘ (۳) ،ص ۶۶۔
قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
دنیا کی کوئی فکر، کوئی فلسفہ یا کوئی نظامِ حیات ، معاشرتی سطح پر اپنے نفوذ کی خاطر متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ یہ آدھا سچ ہے ۔ بقیہ آدھا سچ یہ ہے کہ متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ اگر حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ نظامِ حیات یا فلسفہ اپنے مخصوص اور منفرد منہج سے ہٹ کر محدودیت اور تنگ نظری کو فروغ دینے والی معاشرتی کہاوتوں کو بھی، جن کے پیچھے اصلاً نفسیاتی عوارض کار فرما ہوتے ہیں، اپنی بنیادی صداقتوں میں شمار کرنے لگتا ہے اور انہیں ازلی سچ گردانتے ہوئے اپنی علمیات (Epistemology) سے کچھ اس طرح خلط ملط کرتا ہے کہ نہ صرف جھوٹ اور سچ میں تفریق مشکل ہو جاتی ہے، بلکہ وہ نظام حیات فی نفسہ اپنی ڈگر سے ہٹ جاتا ہے ۔ اگر قرآن کا موضوع انسان ہے اور انسان معاشرے میں ہی زندہ رہ سکتا ہے تو قرآنی علمیات بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس طرح ہماری آئندہ گفتگو کم از کم دو جہتوں میں منقسم ہو گی: (ا) قرآنی علمیات (ب) قرآنی علمیات سے روگردانی ۔
سب سے پہلے ہم قرآنی علمیاتی اساس کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں فرماتے ہیں :
الم o ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ o الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ o (البقرہ: ۱۔۳)
’’ الف، لام، میم ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ نہیں کوئی شک اس (کے کتابِ الہٰی ہونے ) میں۔ ہدایت ہے (اللہ سے ) ڈرنے والوں کے لیے۔ جو ایمان لاتے ہیں غیب پر، قائم کرتے ہیں نماز اور اس میں سے جو رزق ہم نے دیا ہے، خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصریح فرمائی ہے:
(۱) کتابِ الٰہی میں شک کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔
(۲) یہ متقین ( اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ) کے لیے ہدایت ہے ۔
(۳) اس کے بعد اللہ رب العزت متقین کے گروہ کو متعین کرتے ہیں کہ حقیقت میں متقین کون لوگ ہیں؟ یعنی کن صفات کے حامل لوگوں کے لیے ’الکتاب‘ ہدایت کا سر چشمہ ثابت ہو سکتی ہے ؟ ان میں ’’ ایمان بالغیب ‘‘ کو اللہ رب العزت سب سے پہلی صفت یا ناگزیر لازمہ قرار دیتے ہیں ۔ اس کے بعد اقامتِ صلوۃ اور انفاق کا ذکر کرتے ہیں ۔
اب ذرا غور فرمائیے کہ ’’الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ‘‘ کے بعد حرفِ عطف ’ و ‘ موجود ہے ۔ یہ حرفِ عطف اشارہ کر رہا ہے کہ ایمان ، غیب کے ساتھ مخصوص ہے۔ آیت کا بعد والا حصہ یعنی اقامتِ صلوۃ اور انفاق اپنی اپنی جگہ الگ اہمیت رکھتے ہیں (کیونکہ ان کے درمیان بھی حرفِ عطف موجود ہے)، ان کا ایمان کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں بنتا، البتہ متقین کی صفات کے ذیل میں ان کا مقام دوسری اور تیسری سطح پر ضرور آتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ متقین کی پہلی صفت ایمان بالغیب ہے اور انہی کے لیے یہ الکتاب ( جس میں کوئی شک نہیں) ذریعہ ہدایت ہے ۔
قرآن کی ان ابتدائی آیات کا فہم قرآن کی جس علمیاتی اساس کی جانب اشارہ کرتا ہے، وہ کچھ یوں ہے :
(۱) قرآنی علمیاتی اساس تشکیک کی نفی کرتی ہے ، یعنی علم کی بنیاد شک پر نہیں رکھی جا سکتی ۔
(۲) علمیاتی اساس ’’ لا ریب ‘‘ یعنی شک نہ کرنے میں پنہاں ہے ۔
(۳) جس علم میں شک نہ کیا جا سکے، ایسا علم صرف متقین کے لیے ہدایت ہے ( سب کے لیے نہیں ) ۔
(۴) متقین وہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اگر مذکورہ چاروں نکات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لاریب اور بالغیب میں گہرا تعلق ہے ۔ لاریب یعنی شک نہ کرنے کی صراحت کے بعد ، ایمان بالغیب کا ذکر ( وہ بھی کچھ اس طرح متصل الفاظ کے ساتھ کہ درمیان میں کہیں بھی حرفِ عطف نہیں آتا) خاصا معنی خیزہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شک نہ کرنے کے باوصف ایسے انسان کا ذہنی سانچہ کس قسم کا ہونا چاہیے جو متقین میں شامل ہوکر ہدایت پانا چاہتا ہے؟ قرآن اس کا پہلا جواب ایمان بالغیب سے دیتا ہے ۔ یہاں غیب کے وہ معنی مراد نہیں جومختلف مذہبی حلقوں میں معروف ہیں ۔ یہاں غیب سے مراد ’’نامعلوم ‘‘ہے، لیکن اس کا مطلب لا ا دریت بھی ہرگز نہیں ۔ نامعلوم ہونا ایک اور چیز ہے اور نہ جان سکنا چیزے دگر است ۔ نہ جان سکنے کی روش اپنانا ایک منفی رویہ ہے اور یہ تشکیک کے قریب ترین ہے جس کی قرآن ابتدا ہی میں نفی کرتا ہے ۔ اس کے برعکس نامعلوم ہونا ایک مثبت رویہ ہے جس میں جان سکنے کی خواہش اور یقین دونوں پائے جاتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ( الکتاب میں ) تشکیک کرنے کے بجائے ( یعنی وہ امکانات جو مستور ہونے کے باعث شک میں ڈال دیتے ہیں، حالانکہ خدا کے ہاں موجود ہیں ) نامعلوم یعنی امکانات کو چھونے کی خواہش اور سکت ، ایمان بالغیب ہے۔ اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ قرآنی علمیاتی اساس کسی بھی قسم کی فکری موضوعیت یا تشکیک کے بجائے ’’نامعلوم پر ایمان‘‘ یعنی امکانات کو چھونے کی سکت پر موقوف ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دنیا کی کوئی فکر، کوئی فلسفہ یا کوئی نظامِ حیات ، قرآنی علمیاتی اساس کی مانند نامعلوم پر قائم نہیں ہے، حتیٰ کہ ریاضی جیسی مجرد فکر بھی ’’ فرض کیا ‘‘ سے شروع ہوتی ہے یعنی اس میں بھی موضوعیت در آتی ہے ۔
قرآنی علمیات کا راہنمایانہ منہاج
قرآنی علمیات کی اساس کی دریافت کے بعد اب ہم اس کا راہنمایانہ منہاج (Directive Discourse) تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں :
وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ o ( البقرۃ : ۳۰)
’’اور یاد کرو جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ یقیناًمیں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ ۔ تو انھوں نے کہا تھا کہ کیا تو مقرر کرے گا زمین میں اس کو جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خون ریزی کرے گا؟ جبکہ ہم تسبیح کرتے ہیں تیری حمدو ثنا کے ساتھ اور تقدیس کرتے ہیں تیری ۔ اللہ نے فرمایا یقیناًمیں جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے۔‘‘
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کو اس بات کا علم کیسے ہوا کہ خلیفہ زمین میں فساد اور خون ریزی برپا کرے گا ؟ کیا فرشتے بھی ایک حد تک ’ علیم ‘ ہیں ( خدا سے کم تر درجے میں ہی سہی )؟ اس آیت سے متصل آیات جہاں اس نکتے کی وضاحت کرتی ہیں، وہاں اس امر پر بھی دال ہیں کہ ان کو متصل پڑھنے سے ہی قرآنی منشا زیادہ وضاحت کے ساتھ مشخص ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُوْنِیْ بِأَسْمَاء ہَؤُلاء إِن کُنتُمْ صَادِقِیْن o قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْم o (البقرہ: ۳۱، ۳۲)
’’اور سکھائے اللہ نے آدم ؑ کو نام سب چیزوں کے ، پھر پیش کیا ان کو فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ مجھے نام ان کے ، اگر ہو تم سچے۔ انھوں نے عرض کیا پاک ہے تیری ذات، نہیں ہمیں علم مگر اسی قدر جتنا تو نے سکھایا ہمیں ۔ بے شک تو ہی ہے سب کچھ جاننے والا ، بڑی حکمت والا ‘‘
آیت نمبر ۳۲ میں یہ الفاظ کہ ’’ نہیں ہمیں معلوم مگر اسی قدر جتنا تو نے سکھایا ہمیں ‘‘ صاف بتا رہے ہیں کہ فرشتے ادنیٰ درجے میں بھی علیم نہیں ہیں ۔ خلیفہ کے بارے میں فرشتوں کی یہ جان کاری کہ وہ زمین میں فساد اور خون ریزی برپا کرے گا، خدا ہی کی عطا کردہ تھی ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ فرشتوں نے کسی ’شک ‘ کا اظہار نہیں کیا بلکہ اپنے معلوم کی مدد سے ایک ’یقینی اور امکانی‘ بات کی( یقینی ان معنوں میں کہ علم خدا کا عطا کردہ تھا اور امکانی ان معنوں میں کہ ابھی وقوع نہیں ہوا تھا ) کہ خلیفہ بھی آخر رب ذوالجلال کی تسبیح و تقدیس کرے گا اور وہ ہم پہلے ہی کر رہے ہیں۔ پھر چونکہ وہ فساد اور خون ریزی بھی کرے گا، لہٰذا اس کی تخلیق میں رب کی کیا حکمت ہے ؟ اس کے بعد آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے عطا کردہ علم کے یقینی و امکانی اظہار پر فرشتوں سے ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا ( کہ تشکیک کے بر عکس یقینی اور امکانی علم کا اظہار خدا کے ہاں مقبول ہے ) ۔ آیت پر غور فرمائیے :
قَالَ یَا آدَمُ أَنبِئْہُم بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُون o (البقرہ: ۳۳)
’’ اللہ نے فرمایا ، اے آدم ؑ بتاؤ ان کو نام ان کے ، پھر جب بتا دیے آدم ؑ نے فرشتوں کو نام ان سب کے ، تو فرمایا : کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ بیشک میں ہی جانتا ہوں سب راز آسمانوں کے اور زمین کے بھی اور جانتا ہوں ہر اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپا رہے ہو ‘‘
اس آیت میں کہیں بھی ناراضی کا شائبہ نہیں ملتا، سوائے ان آخری الفاظ کے ’’ اور وہ بھی جو تم چھپا رہے ہو ‘‘۔ اگر ان الفاظ کے مخاطب فرشتے ہیں تو اس کی مزید صراحت اگلی آیت میں ہو جاتی ہے :
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَءِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْن o (البقرہ: ۳۴)
’’ اور جب حکم دیا ہم نے فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم ؑ کو ، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے ‘‘
یقین سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ امکانی بات یہ ہے کہ جب فرشتے فساد اور خون ریزی کا تذکرہ کر رہے تھے تو فرمانِ ربانی کے مطابق ’’ جو تم ظاہر کرتے ہو ‘‘ کے مصداق ابلیس بھی ان کا ہم نوا تھا۔ اس وقت تک ابلیس نے اپنے انکار اور گھمنڈ کو چھپایا ہوا تھا ، اسی چھپانے کو اللہ رب العزت نے آیت ۳۳ میں ’’ اور وہ بھی جو تم چھپا رہے ہو ‘‘ کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے ۔ آیت ۳۴ میں یہ نکتہ اہم ہے کہ ابلیس کا انکارکرنا اور اس کا گھمنڈ کرنا اسے دیگر فرشتوں سے ( عمومیت کے دائرے سے ) الگ کر دیتا ہے ۔
طوالت سے بچنے کی خاطر اس بحث کو یہیں منقطع کر کے ہم اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں ۔ ذرا غور کیجئے کہ اللہ رب العزت پہلے فرشتوں کی زبان سے ’’ فساد اور خون ریزی ‘‘ کا ذکر کرتے ہیں، پھر اس کی نفی کرنے کے بجائے آدم ؑ کو سب چیزوں کے نام سکھلا کر فرشتوں سے مخاطب ہوتے ہیں کہ کیا تم یہ نام بتا سکتے ہو؟ پھر آدم ؑ کو حکم دیتے ہیں کہ فرشتوں کو یہ سارے نام بتا دو۔ اس آگاہی کے بعد فرشتے کوئی سوال نہیں کرتے بلکہ خدائی حکم کی تعمیل میں آدم ؑ کو سجدہ کرتے ہیں، سوائے ابلیس کے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات کی متصل تلاوت ایک بہت واضح اشارہ کر رہی ہے کہ خلیفۃ الارض اگرچہ فساد اور خون ریزی برپا کرے گا، لیکن اسی فساد اور خون ریزی کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کے پاس ’’ الاسماء کلھا ‘‘ کا ہتھیار بھی ہو گا ، اسی لیے فرشتے ( خدائی پروگرام کے مطابق ) مزید سوال کرنے کے بجائے چپ سادھ لیتے ہیں ۔ ہماری رائے میں قرآنی علمیات کا راہنمایانہ منہاج یہی ہے کہ انسان ’’فساد اور خون ریزی کو مغلوب کرنے والے علوم و فنون ‘‘ کی عظیم عمارت قائم کرے ۔ اس کی مزید تصریح اس آیت سے ہو جاتی ہے :
مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً (المائدہ: ۳۲)
’’ جس شخص نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا، الا یہ کہ قصاص میں یا زمین میں فساد کا ارتکاب کرنے کی پاداش میں اس کی جان لی جائے ‘‘۔
یہاں اس امر کی وضاحت بر محل ہو گی کہ قرآنی علمیات میں راہنمایانہ منہاج کی باقاعدہ موجودگی، مجرد علمیات (Abstract Epistemology) کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ در حقیقت ، مجرد علمیات اور تشکیک کے بجائے یقین اور امکان کے دائرے میں آنے والے علوم و فنون ہی راہنمایانہ منہاج کی چھتری تلے قابلِ قبول گردانے جائیں گے۔
راہنمایانہ علمیاتی منہاج کی ثانوی جہتیں
قرآنی علمیات کے راہنمایانہ منہاج کے مختصر ذکر کے بعد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ثانوی جہتوں پر بھی سرسری نظر ڈال لی جائے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ فساد اور خون ریزی کا باقاعدہ تذکرہ ہونے سے ان کو براہ راست مغلوب کرنے والے علوم و فنون ’’ یقین ‘‘ کے دائرے میں آئیں گے ( جیسا کہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر فساد اور خون ریزی کے ذکر کے ساتھ ان پر غالب آنے کے لوازمات کا بھی ذکر موجود ہے ) ، جبکہ فساد اور خون ریزی کی ایسی پرتیں جو قرآن مجید میں اگرچہ کھولی نہیں گئیں لیکن چونکہ امکانی سطح پر موجود ہیں ، لہٰذا ان پر غلبہ پانے والے علوم و فنون منطقی طور پر ’’امکان ‘‘ کے دائرے میں شمار ہوں گے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ قرآنی راہنمایانہ علمیاتی منہاج کی ثانوی جہتیں بنیادی طور پر ان امکانات سے عبارت ہیں جو مرورِ زمانہ سے فساد اور خون ریزی کی نئی صورتوں کے ظہور کے جواب میں مسیحائی کردار ادا کریں گے ۔ مثلاً ، خون ریزی کے حوالے سے ایٹمی ، کیمیائی اور دیگر ہتھیاروں کو دیکھ لیجئے ۔ اسی طرح خود کش حملوں کو دیکھیے کہ کیا یہ دفع فساد یا دفع خون ریزی کے لیے اس امکانی علم یا امکانی فن کے دائرے میں آتے ہیں جو فساد اور خون ریزی کی نئی صورتوں کے ظہور کے بعد راہنمایانہ علمیاتی منہاج کی ثانوی جہت گردانے جاسکتے ہیں، یا ایسے خود کش حملے بنفسہ ، فساد اور خون ریزی کی امکانی صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا ظہور ہیں ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات کچھ ایسے ہی ہے جیسے ہمیں قرآن مجید میں جہاد وقتال سے متعلق آیات ملتی ہیں جو قرآن مجید سے ناآشنا فرد کے لیے جنگ سے متعلق ہی شمار ہوں گی کہ جنگ اور جہاد وقتال کی ظاہری صورت میں زیادہ فرق موجود نہیں، لیکن قرآن مجید کا فہم رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جنگ اور جہاد وقتال کی نہ صرف ظاہری صورت میں کافی فرق ہے بلکہ جہاد وقتال کی داخلی یا باطنی صورت ، جنگ سے یکسر مختلف ہے ( بقول شخصے ، جنگیں پہلے اذہان میں جنم لیتی ہیں ) ۔ لہذا جنگ اور جہاد وقتال کی داخلی ، باطنی اور ذہنی حالتوں میں جو فرق پایا جاتا ہے، وہ اپنی نوعیت میں زیادہ بنیادی ہے کہ اسی کی وجہ سے ظاہری صورتوں میں فرق رونما ہوتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود کش حملوں کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اسی بنیادی فرق کا لحاظ رکھنا شاید زیادہ سود مند ثابت ہو گا ۔
قرآنی علمیات سے روگردانی
اب ہم دیکھیں گے کہ معاصر مسلم رویہ فکری و عملی اعتبار سے قرآنی علمیات سے ہم آہنگ ہے کہ نہیں ؟ بنظرِ غائر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ خارجی دنیا کے جبر اور داخلی معاشرتی تقاضوں کے باعث مسلمانوں میں مختلف النوع رویے سامنے آ رہے ہیں۔ اب کوئی جدت پسند ہے تو کوئی روایت پسند ،اور ان دو انتہاؤں کے درمیان مزید رویے معلق ہیں جنھیں بمشکل ہی روایت پسند یا جدت پسند ٹھہرایا جا سکتا ہے۔اگرچہ اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ مسلمانوں کی اس داخلی فکری تقسیم کے ڈانڈے ماضی کے نوآبادیاتی نظام اورمغرب کے حالیہ متعصب رویے میں پنہاں ہیں، لیکن اس تقسیم میں جہاں جہاں قرآنی علمیات سے روگردانی شامل ہوئی ہے، وہاں صورتِ حال زیادہ سنگین ہو جاتی ہے ۔
مسلمانوں کی داخلی تقسیم کئی جہتوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ امہ کا تصور مفقود تو نہیں لیکن کم از کم دھندلا ضرور ہے ۔ روایت پسند مسلم گروہ نے بعض خامیوں اور کمیوں کے باوجود ، مسلم ذہن سے امہ کا تصور محو نہیں ہونے دیا ۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ جدت پسند مسلم گروہ نے بحیثیت مجموعی ، امہ کے تصور سے انکار نہیں کیا ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ روایت پسند گروہ ، تصورِ امت کے متشکل ہونے میں علاقائی ، جزوی اور معروف تقاضوں کو حائل ہونے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ۔ جدت پسند گروہ ان تقاضوں کی اہمیت اور ناگزیریت کو سمجھتے ہوئے ان پر گفت و شنید چاہتا ہے ۔ دونوں گروہوں کے موازنے سے یہ عجیب بات بھی سامنے آتی ہے کہ جدت پسند گروہ داخلی اعتبار سے اتنا منقسم نہیں جتنا کہ روایت پسند گروہ ۔ حالانکہ اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا کہ جدت پسندوں کی آزاد روی تقسیم در تقسیم کا سبب بنتی اور روایت پسندوں کا استقلال ، وحدتی رجحان کا باعث ہوتا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ہماری رائے میں روایت پسندوں کے ہاں مسلسل تقسیمی عمل میں ’’جوازات کی حامل ہٹ دھرمی ‘‘ کا کردار بنیادی ہے ۔ اس ہٹ دھرمی کے باعث ہی کوئی شخص یا کوئی چھوٹا سا گروہ ، بڑے گروہ سے بغاوت کرتے ہوئے الگ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد دونوں کا ملاپ ناممکن ہوجاتا ہے، کیونکہ نئے الگ ہونے والے چھوٹے گروہ کی بنیادی ساخت بھی ہٹ دھرمی میں گندھی ہوتی ہے۔اگر اس میں لچک کا عنصر ہوتا تو بڑے گروہ سے الگ ہی کیوں ہوتا ؟ہماری رائے میں سنیوں کی داخلی تقسیم اسی نوعیت کی ہے۔ بنیادی عقائد میں یکسانی کے باوجود ، وحدتی رجحان کی بجائے تقسیمی عمل کی شدت کو آخر کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ اسلامی تعلیمات پر شخصی و علاقائی خصائل کی ملمع کاری کے بعد تعلیمات و اقدار کے صرف اسی ایڈیشن کو عین اسلام قرار دینا ہٹ دھرمی کے اعصابی خلل کے سوا اور کیا ہے ؟ ہر روایت پسند گروہ کی ذہنی ساخت اور افتادِ طبع ایسی ہے کہ وہ اپنے فہمِ اسلام کو ہی عین اسلام سمجھتے ہوئے ، اسی کے مطابق تصورِ امہ کے متشکل ہونے کا تمنائی ہے۔ صاف الفاظ میں اس کا مطلب یہی ہے کہ صرف وہی اسلام کا سچا پیروکار ہے۔ لہٰذا ہر گروہ کا ایک طرف امہ کے تصور پر زور اور دوسری طرف کسی بھی دوسرے گروہ (جس کی ساخت کسی دوسری شخصیت یا علاقے کی پروردہ ہو) کو accommodate کرنے سے انکار ، کتنا بڑا تضاد ہے؟ ہماری رائے میں امہ کے تصور کے متشکل ہونے کے بنیادی تقاضے جدت پسندوں کی نظر میں ہیں کہ وہ نہ صرف علاقائی و شخصی اثرات کو بنیادی اسلامی تعلیمات سے الگ کر کے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اسلامیانے کی ناگزیریت کو بھی سمجھتے ہیں ۔
روایت پسند گروہ کی دو بڑی شاخوں اہل الرائے اور اہلِ حدیث کو بنظرِ غائر دیکھیں تو اہلِ حدیث زیادہ جامد اور بے لچک محسوس ہوتے ہیں ۔ مخالف شاخ انھیں عام طور پر لفظ پرست ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ (اس طعنے کی صداقت پر ہمارے زیادہ تحفظات نہیں ہیں) دلچسپ بات یہ ہے کہ نام نہاد اہل الرائے شاخ بھی، جو اپنے تئیں الفاظ کے بجائے ان کے فہم پر زور دینے کی دعوے دار ہے ، حقیقتاً لفظ پرست ہے۔جی ہاں ! اکابر ین کے فہمِ اسلام کی پرستش اس کے ایمان کا جزو لاینفک ہے۔ زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ شاخ ، اکابرین کے اس فہمِ اسلام کی پیروی کرتی ہے جو لفظوں میں زندہ ہے ، یعنی یہ شاخ بھی اپنی اپروچ میں اہلِ حدیث شاخ سے مختلف نہیں ہے ۔ چھوٹے پیمانے اور نچلی سطح پراہل الرائے کی شاخ میں بظاہرزندگی کا رنگ نظر آتا ہے اور اسلام کی نامیاتی خصوصیت کے اظہار کی امنگ بھی، لیکن وسعتِ نظری سے کام لیتے ہوئے اگر وسیع تر تناظر اور اعلیٰ سطح پر اس شاخ کی اپروچ کو جانچا جائے تو یہ اہلِ حدیث شاخ سے بھی زیادہ لفظ پرست محسوس ہوتی ہے ، کیونکہ اہلِ حدیث شاخ بہر حال قرآن و حدیث کے الفاظ کی پیروی کرتی ہے جبکہ نام نہاد اہل الرائے شاخ، اکابرین کے الفاظ کو تقدس کا جامہ پہنانے پر مصر ہے ۔فہم دوستی سے مغایرت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج کی اہل الرائے شاخ اپنی درخشندہ روایت کے برعکس معروف کی منکر ہے ۔ کسی ستم ظریف نے صحیح کہا ہے کہ’’ بدی ہمیشہ مذہب کے لبادے میں مستور ہوکر نیکی کا منہ چڑانے آ موجود ہوتی ہے‘‘۔ ( چاہے مکے کو بھلا کر مدینے کی گلیوں میں خاک چھاننے کے خواہش مندوں کی شکل میں ہو یا دنیا کو تج دے کر بستر بند اٹھائے آخرت میں کامیابی کی اسناد بانٹنے والے خدائی فوجداروں کے روپ میں ) روایت پسند گروہ کی ایسی مخدوش داخلی حالت کے پیشِ نظر جدت پسند گروہ سے اصلاحِ احوال کی امیدیں مزید بڑھ جاتی ہیں ۔
اس سارے عمل میں عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی مذکورہ داخلی تقسیم ایک وحدتی رجحان بھی رکھتی ہے، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ وحدتی رجحان قرآنی علمیات سے روگردانی سے عبارت ہے۔ روایت پسند ہوں کہ جدت پسند ، دونوں گروہ اپنے اپنے مخصوص انداز میں ایسے تاریخی و خارجی جبر اور معاشرتی لوازمات کومسلم فکر و عمل میں شامل کر رہے ہیں جو قرآنی علمیات سے براہ راست متصادم ہیں۔ معاشرت اور کلچر کا لحاظ حدود سے متجاوز ہونے کے باعث معاصر مسلم رویہ نفسیاتی عوارض کا شکار ہو کر قرآنی علمیات سے کس قدر دور ہوتا جا رہا ہے، اس کی فکری وواقعاتی شہادت کے لیے ہم قربانی سے متعلق واقعہ کا رائج الوقت فہم بطور کیس سٹڈی (Case Study) پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ شدید باہمی اختلاف رکھنے والے گروہ بھی ، اس واقعے کی قرآنی علمیات کے بر عکس تعبیر کرنے میں کس قدر ہم خیال ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ اور قربانی کا واقعہ
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ o فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنo وَنَادَیْْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمُ o قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْن o (الصافات: ۱۰۲۔۱۰۵)
’’کہا ، اے میرے بیٹے، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں ،سوچ کر بتاؤ ، تمھاری رائے کیا ہے ؟ بیٹے نے کہا، والد محترم! آپ وہ کام کر گزریے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب سرِ تسلیم خم کر دیا ان دونوں نے اور لٹا دیا اسے ماتھے کے بل ، ندا دی ہم نے اسے، اے ابراہیم ؑ ، بلا شبہ سچ کر دکھایا تم نے اپنا خواب۔‘‘
ان آیات کی تشریح و تعبیر میں متقدمین کے اسلوب سے جداگانہ روش اختیار کرتے ہوئے متاخرین کے ہاں وہ انتہا پسندی نظر آتی ہے جو یہودیوں کے تاریخی نسلی رویے کے متوازی چلتے ہوئے قرآنی علمیاتی نہج کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ شبلی نعمانی ؒ کے مطابق ( سیرت النبی ﷺ ج ۱ ، ص ۹۲) اگر ذبیح حضرت اسماعیل ؑ ہیں تو اقبال ؒ کے ہاں بھی حضرت اسماعیل ؑ ہی ذبیح قرار پاتے ہیں :
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آداب ِ فرزندی
یہاں ’فیضانِ نظر‘ اور ’آدابِ فرزندی‘ کی تراکیب اور الفاظ کی نشست و برخاست میںِ اقبال نے اپنی فکر کی اس جہت کے اظہار کی کوشش کی ہے جس کے سبب اقبال کو قرآن فہمی کے اعتبار سے حکیم الامت کہا جاتا ہے ، لیکن دوسرے مصرعے میں ’’ اسماعیل ؑ ‘‘ کے نام سے اقبالی فکر کا وہ پہلو بری طرح مجروح ہوتا ہے جسے قرآنی کہا جاتا ہے اور جس کی بنیاد پر بعد میں ’’ اہلِ قرآن ‘‘ کا ایک گروہ بھی سامنے آیا ۔
شبلی ؒ اور اقبال ؒ کے موقف سے مماثل رائے مفتی محمد شفیع ؒ کی ہے ۔ (ملا حظہ کیجئے معارف القرآن جلد ۷ ، ص ۴۵۸) یہی رائے پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کی ہے۔ ( دیکھئیے ضیاء القرآن جلد ۴ ، ص ۲۱۱) سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ (تفہیم القرآن جلد ۴ ، ص ۳۰۰)، ابوالکلام آزاد ؒ (ترجمان القرآن جلد ۳ ، ص ۲۶۳) اور عبدالماجد دریاآبادی (تفسیر ماجدی ص ۹۰۱) بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ شبیر احمد عثمانی ؒ کی تفسیرِ عثمانی (ص ۵۹۹) اور حافظ صلاح الدین یوسف کے تفسیری حاشیے ’احسن البیان‘(ص ۱۲۶۳ ) کے مندرجات بھی یہی ہیں ۔ ا لبتہ خواجہ احمدالدین امرتسری کے مطابق (تفسیر بیان للناس جلد ۶ ، ص ۳۳) ذبیح حضرت اسحاق ؑ تھے ۔ ہم زیادہ حوالوں سے گریز کرتے ہوئے امین احسن اصلاحی کی ’’ تدبرِ قرآن ‘‘ (جلد اول، صفحہ ۳۳۰) سے یہ اقتباس نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، کیونکہ معروف معاصر تفاسیر میں اسے متاخر (latest) ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ملا حظہ کیجئے :
’’یہ مسئلہ ہمارے اور یہود کے درمیان ایک بڑا نزاعی مسئلہ ہے ۔ یہود نے خانہ کعبہ اور مروہ کی قربان گاہ سے حضرت ابراہیم ؑ کا تعلق بالکل کاٹ دینے کے لیے واقعہ قربانی میں بھی اور ان کی سرگزشت ہجرت میں بھی نہایت بھونڈی قسم کی تحریفات کر دی ہیں اور اس طرح انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس بیٹے کی قربانی کی، وہ حضرت اسحاق ؑ ہیں نہ کہ حضرت اسماعیل۔ جس جگہ قربانی کی، وہ جبل یروشلم ہے نہ کہ مروہ۔ خدا کی عبادت کے لیے انھوں نے جو گھر بنایا، وہ بیت المقدس ہے نہ کہ بیت اللہ ۔ انھوں نے جس جگہ ہجرت کے بعد سکونت اختیار کی، وہ کنعان ہے نہ کہ جوارِ خانہ کعبہ ۔ ان بیانات کی تصدیق یا تردید کا واحد ذریعہ چونکہ تورات ہی ہے اور تورات میں یہود نے اپنے حسبِ منشا، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، تحریف کر ڈالی ، اس وجہ سے اصل حقائق سے پردہ اٹھانا بڑا مشکل کام تھا، لیکن ہمارے استاذ مولانا فراہی ؒ نے یہود کی ان تمام تحریفات کا پردہ خود تورات ہی کے دلائل سے اپنے رسالہ ذبیح میں بالکل چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ انھوں نے تورات ہی کے بیانات سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے وطن سے نکلنے کے بعد حضرت اسحاق ؑ کی والدہ کو تو کنعان میں چھوڑا اور خود حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کے ساتھ بیر سبع کے بیابان میں قیام کیا۔ یہ جگہ ایک غیر آباد جگہ تھی، اس وجہ سے انھوں نے یہاں سات کنوئیں کھودے اور درخت لگائے ، یہیں ان کو خواب میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم صادر ہوا اور وہ حضرت اسماعیل ؑ کو لے کر مروہ کی پہاڑی کے پاس آئے اور اس حکم کی تعمیل کی۔ اسی پہاڑی کے پاس انھوں نے حضرت اسماعیل ؑ کو آباد کیا ، پھر یہاں سے لوٹ کر وہ بیر سبع گئے اور اپنے قیام کے لیے ایسی جگہ منتخب کی جو خانہ کعبہ سے قریب بھی ہو اور جہاں سے وقتاً فوقتاً حضرت اسحاق ؑ کو دیکھنے کے لیے بھی جانا آسانی سے ممکن ہو سکے۔
مولانا ؒ نے یہ ساری باتیں تورات کے نہایت ناقابلِ تردید دلائل سے ثابت کر دی ہیں۔ ہر سوال پر اصل کتاب کے اقتباسات پیش کرنے میں طوالت ہے، اس وجہ سے ہم نے صرف خلاصہ بحث اپنے الفاظ میں پیش کر دیا ہے ۔ جو لوگ تفصیل کے طالب ہوں، وہ مولانا کے مذکورہ رسالہ کا مطالعہ کریں ۔ ‘‘
ہم نے حمیدالدین فراہی ؒ کی اصل تحریر سے عمداً اجتناب کیا ہے کہ کہیں ہم پر ان کے موقف کو بگاڑنے یا نہ سمجھنے کا الزام نہ دھر دیا جائے ۔ امین احسن اصلاحی ؒ ان کے شاگردِ رشید ہیں، اس لیے یہ احتمال باقی نہیں رہتا کہ انھوں نے حمیدالدین فراہی ؒ کو سمجھنے میں خطا کی ہو۔
اس واقعہ کی مذکورہ تصریح ان سوالات کو جنم دیتی ہے :
(۱) قربانی سے متعلق قرآنی آیات میں حضرت اسماعیل ؑ کا نام کہیں نہیں آیا ، نہ ہی اس بارے میں کوئی مستند حدیث موجود ہے ۔
(۲) حضرت اسماعیل ؑ کا نام اسرائیلیات کی مدد سے ’’ تحقیق ‘‘ کر کے شامل کیا گیا ہے ۔
(۳) کیا اسرائیلیات کو انھی حدود کے اندر استعمال کیا گیا ہے جو قرآن و سنت نے مقرر کی ہیں ؟
(۴) قرآن کے مطابق قرآن، سابقہ آسمانی کتب کی تصدیق کرتا ہے ، لیکن سابقہ آسمانی صحائف میں تحریف ہو چکی ہے ، لہٰذا قرآن ہی کسی حکم کے بارے میں اساس ، پیمانہ اور اتھارٹی قرار پاتا ہے ۔ مثلاً اگر کسی آسمانی کتاب میں زیرِ بحث واقعہ حضرت ابراہیم ؑ کے بجائے کسی اور نبی سے منسوب کیا جائے تو قرآن اس کی تکذیب کرے گا اور حضرت ابراہیم ؑ کی طرف منسوب کرنے پر تصدیق کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی آسمانی صحیفے میں حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے کے بجائے کسی اور شخص کو ’’ ذبیح ‘‘ کہا جائے تو قرآن اس کی تکذیب کرے گا اور اس کے برعکس ہونے پر اس کی تصدیق ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تورات یا کسی اور سابقہ آسمانی صحیفے کی مدد سے حضرت اسحاق ؑ یا حضرت اسماعیل ؑ کو ذبیح ثابت کرنا کیا ’’ اسرائیلیات کے جائز استعمال ‘‘ کے دائرے کے اندر اندر آتا ہے ؟ اس بحث کے نتیجے میں قرآن ’’ اساس ‘‘ قرار پاتا ہے یا کوئی اور آسمانی کتاب ؟
(۵) ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذبیح کو( اسرائیلی روایات کے ذریعے ) اسماعیل ؑ سے منسوب کرنے کے پیش نظر یہ باور کرانا مقصود ہے کہ اگر ذبیح ، اسحاق ؑ ہوتے تو وہ ابراہیم ؑ کو کوئی مختلف جواب دیتے؟ یقیناًنہیں ۔ پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن اپنے اسلوب میں بیٹے کے معاملے میں بیٹے کے جواب ( آدابِ فرزندی ) پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ بیٹا کون ہے ، اس کی حیثیت قرآن کے نزدیک اضافی ہے ۔ آخر ہم ایک اضافی چیز کو کھینچ تان کر یقین کے زمرے میں کیوں لانا چاہتے ہیں ؟
(۶) ذبیح کون ہے، اس کو ثابت کرنا ایک طرف رہا ، بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بحث قرآنی علمیات کے راہنمایانہ منہاج کے مطابق بھی ہے ؟
(۷) کیا اس بحث ( یعنی حضرت اسحاق ؑ یا حضرت اسماعیل ؑ کا تذکرہ ذبیح کے طور پر کرنا ) میں وہ فسادی شائبہ نہیں ملتا جس پر قابو پانے کے لیے ہی اللہ رب العزت نے خلیفۃالارض کو ’’الاسماء کلھا ‘‘ سے نوازا تھا؟ ذبیح کی نسبت اسحاق ؑ کی طرف کرنا یہودیوں کی مجبوری ہوسکتی ہے کہ وہ نسل پرست ہیں ، آخر ہم مسلمانوں کی کیا مجبوری ہے ؟ ہمارے لیے تو اسحاق ؑ بھی اسی طرح محترم ہیں جس طرح اسماعیل ؑ ہیں ، بلکہ ہمارا ایمان تو اسحاق ؑ کو تسلیم کیے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتا ۔
(۸) اس بحث کا بنیادی محرک کیا ہے ؟ کیا قرآن کے کسی حکم کا فہم مطلوب ہے یا کچھ اور ؟ کیا یہ بحث کئے بغیر قرآنی منشا مستور رہتی ہے ؟ حقیقت یہی ہے کہ اس بحث کے پیچھے بنیادی طور پر ’’جواب دینے کی نفسیات ‘‘ کار فرما ہے کیونکہ ’’مدبر ‘‘ کے اپنے الفاظ بھی اس کی صاف چغلی کھا رہے ہیں کہ ’’ یہ مسئلہ ہمارے اور یہود کے درمیان ایک بڑا نزاعی مسئلہ ہے ‘‘ ۔
(۹) جب اسرائیلیات کی رو میں بہہ کر ’’ مدبرین ‘‘ قربانی جیسے مسئلے پر یہودیوں کے ’’ فریق ‘‘ بن کر سامنے آتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ’’ باپ کے فیضانِ نظر اور آدابِ فرزندی‘‘ سے توجہ ہٹ جاتی ہے بلکہ پیغام کی عمومیت ختم ہونے سے قربانی جیسے مسئلے کی بنفسہ قدرو قیمت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ کیا قربانی اسی چیز کا نام ہے کہ ہم عمومیت کے دائرے سے نکل کر اپنے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچ لیں جو قربانی کی اصل روح کو تج دے کر محض تفاخر کا باعث بن جائے؟ ( ابلیس کے گھمنڈ کی مانند کہ وہ بھی فرشتوں کی عمومیت کے دائرے سے باہر ایک الگ نفسانی دنیا بسا بیٹھا ) ۔
اگر ہم اسرائیلیات کی مدد لینے کے بجائے قرآنی علمیات کے راہنمایانہ منہاج کے تحت زیرِ نظر قرآنی واقعہ پر غور و فکر کریں تو مترشح ہو گا کہ :
(۱) باپ( ابراہیم ؑ ) کا تذکرہ باقاعدہ اس کے نام کے ساتھ ہوا ہے ۔
(۲) بیٹے کا ذکر اس کا نام لیے بغیر عمومیت کے انداز میں ہوا ہے کہ کوئی خاص بیٹا مراد نہیں ، بلکہ ابراہیم ؑ کا کوئی بھی بیٹا ہو سکتا ہے ۔
(۳) اگر یہاں اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ میں سے کوئی ایک بیٹا خصوصیت کے ساتھ مراد ہوتا تو قرآن مجید میں ’’بیٹے ‘‘ کی عمومیت کے بجائے اس بیٹے کا نام بھی لازماً موجود ہوتا، کیونکہ ہمیں قرآن مجید میں دیگر اہم مقامات پر ’ اسماعیل ؑ ‘ کا باقاعدہ نام کے ساتھ تذکرہ ملتا ہے ۔
(۴) مستشرقین کا قرآن مجید پر ایک مستقل اعتراض یہ ہے کہ اس میں تکرار موجود ہے ۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ الکتاب میں اگر بعض احکامات کا اعادہ موجود ہے تو یہاں اسماعیل ؑ یا اسحاق ؑ کا باقاعدہ نام لینے میں کیا چیز مانع تھی ؟ کیا ایک لفظ کا اضافہ خدا کے لیے مشکل تھا ؟ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ’’ خاص حکمت ‘‘کے تحت ہی بیٹے کا ذکر عمومیت کے انداز میں کیا ہے ۔
(۵) زیرِ نظر واقعہ کے اسلوب سے جو نکتہ زیادہ وضاحت کے ساتھ مشخص ہو کر سامنے آتا ہے، اس کے مطابق قرآنی منشا ’’ باپ کے فیضانِ نظر اور آدابِ فرزندی ‘‘ کے زیادہ قریب ہے نہ کہ یہودیوں کے نسلی تفاخر کی تردید میں انھی کی تقلید مقصود ہے ۔
(۶) ان آیات کے قرآنی اسلوب میں ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر خدا کے ہاں بیٹے کا تشخص مطلوب ہوتا تو بیٹے کا نام لازماً موجود ہوتا ۔ مثلاً قرآن کا یہ کہنا کہ ’’ندا دی ہم نے اسے اے ابراہیم ! بلاشبہ سچ کر دکھایا تم نے اپنا خواب ‘‘ کچھ اس طرح سے بھی ہو سکتا تھا ، ’’ندا دی ہم نے اسے اے ابو اسماعیل‘‘ یا ’’اے ابو اسحاق‘‘۔اس طرح کے اسلوب میں باپ اور بیٹا، دونوں کا نام سامنے آسکتا تھا لیکن قرآن نے کسی خاص حکمت کے تحت ہی بیٹے کو مشخص نہیں کیا۔ ہمیں وہ حکمت تلاش کرنی چاہیے نہ کہ بیٹے کو مشخص کرنے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں ۔
(۷) حضرت ابراہیم ؑ کا بیٹے سے استفسار کرنا ’’فانظر ما ذا تری‘‘ کہ ’’سوچ کر بتاؤ تمھاری رائے کیا ہے ؟‘‘ کافی اہم معلوم ہوتا ہے ۔ پھر بیٹے کے اس جواب کے بعد کہ ’’آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘ ، ابراہیم ؑ کا بیٹے کو لٹا دینا اور اس کے بعد اللہ رب العزت کا یہ فرمانا کہ ’’اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا‘‘ ، ایک اہم نکتہ سامنے لاتے ہیں کہ خواب کو سچ کر دکھانے میں بیٹے کا کردار بنیادی ہے کہ اس نے ’فانظر ما ذا تری‘ کے جواب میں سرِ تسلیم خم کیا ، لیکن اللہ رب العزت مخاطب ابراہیم ؑ کو ہی کرتے ہیں کہ تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے آخر بیٹے کو مخاطب کر کے کیوں نہیں کہا کہ تو نے خواب ( یا اپنے باپ کا خواب ) سچ کر دکھایا ؟ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے کے بجائے باپ کی طرف متوجہ رکھنا چاہتے ہیں کہ کہیں ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ بیٹا اور اس کا عمل اس واقعہ میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں ۔ باپ کی طرف ہماری توجہ مرکوز رکھنے کی خاطر ہی اللہ رب العزت نہ صرف باپ کو مخاطب کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد آیت ۱۰۹ میں ابراہیم علیہ السلام کا باقاعدہ نام لینے کے علاوہ تمام ضمیریں بھی صرف انھی کو مشخص کرتی ہیں۔ ہماری نظر میں اقبال ؒ جب یہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی ‘‘ تو قرآن کے ایک واضح اور مشخص نکتے کو مجرد بنا ڈالتے ہیں ۔ مکتب کی کرامت پر وہ طنز کرتے ہوئے فیضانِ نظر کا کچھ یوں ذکر کرتے ہیں جیسے وہ ( فیضانِ نظر ) باقاعدہ باپ کے ساتھ مشخص نہ ہو بلکہ عمومیت کی حامل کوئی ترکیب ہو جس سے مراد باپ کے علاوہ بھی کوئی اور ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ قرآنی اسلوب کے قرائن بڑی وضاحت کے ساتھ فیضانِ نظر کو محض باپ کے ساتھ منسلک کرتے ہیں ۔ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے نہایت لطیف اور بلیغ پیرایے میں بیٹے کے آدابِ فرزندی کے فروغ کے لئے باپ ( نسلی تعلق کے لحاظ سے نہ کہ کوئی معنوی باپ جیسے استاد وغیرہ ) کے کردار کو اجاگر کر کے باپ بیٹے کے دائمی( نسلی) رشتے میں ذمہ داری کے مدارج کے ذیل میں ( خاص طور پر بیٹے کی تربیت کے حوالے سے ) باپ کو بنیادی ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ اقبال اس تعلق کو ، جو نسلی اعتبار سے ذمہ داری کے ذیل میں مشخص ہو کر سامنے آیا ہے ، عمومیت کا جامہ پہنا دیتے ہیں اور پھر دوسرے مصرعے میں اسماعیل ؑ کا نام لے کر قرآنی منشا کے برخلاف عمومیت کو مشخص کر لیتے ہیں۔
(۸) ’’و ترکنا علیہ فی الاخرین‘‘ (الصافات: ۱۰۸) پر غور کرنے سے ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے ۔ قرآن نے ’’ الاخرین ‘‘ کے ذکر سے ایک امکانی بات کی گنجائش چھوڑدی کہ’’ الاخرین ‘‘ (پچھلے لوگوں میں) جن کے ہاں قربانی پائی جائے گی، ان کی نسبت سے ان کے جدِ امجد کو تلاش کرکے ذبیح کو مستقبل میں مشخص کیا جا سکے گا ۔ اس سے ایک تو یہ قرآنی منشا ظاہر ہورہی ہے کہ ذبیح لازماً مشخص ہو ، دوسرا یہ کہ قرآن اس امکانی علم کی طرف بھی توجہ دلا رہا ہے جو وقت آنے پر مشہود ہو کر نہ صرف ذبیح کون ؟کی بحث چھیڑے بلکہ بحث کو منطقی انجام تک بھی پہنچا دے ۔ لیکن ٹھہریے ، ذرا توقف کر کے ایک بار پھر قرآنی اسلوب پر غور فرمائیے کہ قرآن مجید نے ’’وترکنا علیہ فی الاخرین‘‘ میں نہایت بلیغ انداز میں ’’علیھما ‘‘ کے بجائے ’’علیہ‘‘ کو ترجیحاً استعمال کر کے حقیقت میں اس بحث کے لیے ہر قسم کی گنجائش مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ ’’علیہ‘‘ سے مراد ابراہیم ؑ ہیں، لہذا ’’الاخرین‘‘ سے مراد بھی ابراہیم ؑ کے پچھلے لوگ ہیں نہ کہ ابراہیم ؑ اور ذبیح دونوں کے ۔ اسی لئے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے بھی قربانی کے واقعہ کو ’’سنتِ ابراہیمی ؑ ‘‘ کا نام دیا ہے نہ کہ سنتِ اسماعیلی کا۔ لہذا ’’و ترکنا علیہ فے الاخرین‘‘ میں مضمر قرآنی منشا یہی ہے کہ پچھلے لوگ ابراہیم ؑ کے بیٹے (اسماعیل ؑ ہوں یا اسحاق ؑ) کے بجائے خود ابراہیم ؑ سے ، اپنا تعلق جوڑیں (بالخصوص قربانی کے حوالے سے)۔ اس واضح قرآنی منشا کے بعد کہ مستقبل (الاخرین) میں بھی ذبیح کے بجائے ابراہیم ؑ کو ہی قربانی کے واقعہ میں مرکز و محور سمجھا جائے ، ذبیح کون کی بحث کرنا، کیا امکانی فساد کی صورت پذیری نہیں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں کہیں ذبیح کو مشخص کرنے کی گنجائش نکلتی تھی، وہاں قرآن نے ’’سکوتِ حکیمانہ‘‘ کا اظہار کیا ہے ۔ ’’سلم علی ابراہیم‘‘ ۔
(۹) اگر ہم روحِ قربانی پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اسحاق ؑ یا اسماعیل ؑ میں سے کسی ایک کے نام کا باقاعدہ ذکر ایسے نظامِ تناسبات کو سامنے نہیں لا سکتا تھا جس میں مختلف انسانی گروہوں کے نفسیاتی مدارج کو ملحوظِ خاطر رکھ کر اسلام کی عالمگیریت کی ایک زندہ علامت ( سنتِ ابراہیمی ؑ ) قائم ہوسکتی ۔ کون نہیں جانتا کہ حج اسلام کی عالمگیریت کا مظہر ہے اور حج اور قربانی میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ یہ تعلق ، قربانی کو کسی نسلی تعصب کا شکار بنانے کے بجائے آفاقی معنی پہنانے کا اشارہ کرتا ہے ۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْْتِ أَن لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْْئاً وَطَہِّرْ بَیْْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْقَائِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ o وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ o (الحج:۲۶،۲۷)
’’اور جب مقرر کی تھی ہم نے ابراہیم ؑ کے لئے جگہ اس گھر کی اس ہدایت کے ساتھ کہ نہ شریک بنانا میرے ساتھ کسی چیز کو اور پاک رکھنا میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے، قیام کرنے والوں کے لئے اور رکوع وسجود کرنے والو ں کے لیے۔ اور اعلان کر دو انسانوں میں حج کا ، آئیں گے وہ تمھارے پاس پیدل چل کر اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو چلے آرہے ہوں گے تمام دور دراز راستوں سے ‘‘
مقامِ غور و فکر ہے کہ اللہ تعالی نے یہاں بھی حضرت ابراہیم ؑ کو باقاعدہ مشخص کیا ہے ۔ اب اگر ان آیات اور قربانی کے واقعہ میں قرآنی منشاکو سورۃ آل عمران کی اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اسلام کی حقانیت اور عالمگیریت کی چند نا گزیر جہتیں منکشف ہوتی ہیں :
قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْہَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ o (آل عمران ، آیت ۶۴)
’’ کہہ دیجئے اے اہلِ کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں کوئی اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو اپنا رب نہ قرار دے پھر اگر وہ اعراض کریں تو تم ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم نے تو ( اللہ ) کی فرمانبرداری اختیار کر لی ‘‘ ۔
اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے ایک دوسرے مقام پراگرچہ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ دونوں کا باقاعدہ نام لے کر طواف اور اعتکاف کا حکم جاری کیا ہے لیکن اس حکم میں کہیں بھی ’’ حج ‘‘کا ذکر نہیں کیا اور جہاں کہیں حج کی طرف اشارہ ملتا ہے وہاں قطعیت کے ساتھ صرف ابراہیم ؑ کا نام ملتا ہے ۔ غور فرمائیے :
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّاءِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُود o (البقرہ: ۱۲۵)
’’اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو مرکز لوگوں کے لئے اور امن کی جگہ اور ( حکم دیا کہ ) بناؤ مقامِ ابراہیم ؑ کو نماز پڑھنے کی جگہ اور تاکید کی ہم نے ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کو ، یہ کہ پاک رکھنا تم دونوں میرے اس گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے ‘‘ ۔
احباب جانتے ہیں کہ بیت اللہ میں طواف و اعتکاف اور رکوع و سجود ، اس سطح پر اسلام کی عالمگیریت کے مظاہر نہیں ہیں جس سطح پر حج ایک بڑا مظہر ہے ۔
( ۱۰) حج اور قربانی جہاں اسلام کی عالمگیریت کے بڑے مظاہر ہیں وہاں ایک خاص پہلو سے ان کی نوعیت دعوتی بھی ہے ۔ حج اور قربانی ، مدعی نہیں بلکہ داعی ہیں ۔جب ہم غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں تو اسلام کے نظری پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کی عملی مثالیں بھی پیش کرنی پڑتی ہیں ۔ وحدتِ انسانی اور عالمگیریت ، اسلام کی امتیازی صفات میں سے ایک ہیں۔ اب جہاں ہم اس صفت کے نظری پہلوؤں پر روشنی ڈالتے رہتے ہیں وہاں اس کی چند عملی مثالیں پیش کرنا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایامِ حج صرف مسلمانوں کے لئے ہی اہمیت نہیں رکھتے ، بلکہ اتنے بڑے مظہر کو پوری دنیا بڑی دلچسپی سے دیکھتی ہے ۔ اس طرح یہ مظہر خود اپنی ذات میں داعی بن جاتا ہے ۔ یہی صورتِ حال قربانی کی ہے ، یہ عمل بھی پوری مسلم دنیا میں وسیع پیمانے پر منعقد ہوتا ہے، غیر مسلم اسے بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ لہذا جب ہم قربانی کے واقعہ میں ذبیح کون کی بحث چھیڑتے ہیں تو قربانی اپنی نوعیت کے لحاظ سے داعی کے منصبِ جلیلہ سے اتر کر مدعی کی انتہائی پست سطح پر آ جاتی ہے ۔کیا یہ دین کی خدمت ہے ؟
(۱۱) اگر ہم قرآنی اساطیری سطح سے قربانی پر غور کریں تو یہ ’’ فدیہ ‘‘ معلوم ہوتی ہے: ’’وفدینا بذبح عظیم‘‘، ان خون ریزیوں کا فدیہ جو ’’ویسفک الدماء‘‘ کے مصداق انسان نے اس زمین پر آکر برپا کرنی تھیں۔ قرآنی اساطیری سطح سے خود قربانی کا واقعہ ہی اس کا شاہد ہے ۔ ظاہر ہے خدا کا مقصود کسی انسان کو قربان کرنا نہیں تھا بلکہ اس سلیقے سے قربانی کے مظہر کو پیش کرنا خدائی مطلوب تھا کہ قربانی کرنا انسانی نفسیات کا لازمہ بن جائے تا کہ خون ریزیوں کا ’’ فدیہ ‘‘ جاری و ساری رہے ۔ اس طرح قربانی وہ ’’ علم و فن ‘‘ ہے جو خون ریزیوں کو مغلوب کر سکتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم قربانی کو خون کے فدیہ کے مقام سے گرا کر خون ریزی میں بدلنا چاہتے ہیں ؟ ۔ ذبیح کون ؟ کی بحث خون کے فدیہ کی طرف لے جائے گی یا خون ریزی کی طرف ؟
(۱۲) قرآن مجید کی یہ آیت بھی ہماری رائے کو تقویت دیتی ہے:
یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِیْ إِبْرَاہِیْمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاۃُ وَالإنجِیْلُ إِلاَّ مِن بَعْدِہِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَo ....... مَا کَانَ إِبْرَاہِیْمُ یَہُودِیّاً وَلاَ نَصْرَانِیّاً وَلَکِن کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن o (آل عمران: ۶۵۔۶۷)
’’اے اہلِ کتاب ، کیوں حجت بازی کرتے ہو تم ابراہیم ؑ کے بارے میں جبکہ نہیں نازل ہوئی تورات اور انجیل مگر ابراہیم ؑ کے بعد۔ کیا تم نہیں سمجھتے ؟ ......نہ تھا ابراہیم ؑ یہودی اور نہ نصرانی، بلکہ تھا وہ سب سے لا تعلق، اللہ کا فرمانبردار، اور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے۔‘‘
یہاں منطقی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ابراہیم ؑ کو ’اسماعیلی‘ بنانا چاہتے ہیں ؟ ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید کا دل پذیر اسلوب صحیح راہ کی اس طرح نشاندہی کرتا ہے :
أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِیْ قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ o (البقرہ: ۱۳۳)
’’ کیا تھے تم حاضر اس وقت جب قریب آیا یعقوب ؑ کی موت کا وقت ۔ جب پوچھا تھا اس نے اپنے بیٹوں سے کہ کس کی عبادت کرو گے تم میرے بعد ؟ ان سب نے کہا عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے آباؤ اجداد ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے معبود کی ، جو الہ واحد ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں ‘‘
ذرا غور فرمائیے کہ کیا اس آیت میں اللہ تعالی نے چار جلیل القدر نبیوں کے نام گنوائے ہیں ۔ کیا صرف یعقوب ؑ کے نام سے کام نہیں چل سکتا تھا ؟ یا پھر آباؤ اجداد کا ذکر انھیں مشخص کئے بغیر بھی ہو سکتا تھا ۔۔۔۔تیرے معبود کی اور تیرے آباؤ اجداد کے معبود کی ۔۔۔۔لیکن قرآن نے یہاں یہ اسلوب نہیں اپنایا بلکہ عمومیت ’’ ابائک ‘‘ کے ساتھ باقاعدہ نام بھی لئے ہیں ۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک الگ بحث ہے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قربانی کے واقعہ میں بیٹے کا تشخص خدا کے ہاں ا تنا ہی ضروری ہوتا جتنا ہمارے ہاں سمجھ لیا گیا ہے تو کیا اللہ رب العزت بیٹے کو باقاعدہ مشخص نہ کرتے ؟ یا پھر کم از کم کوئی واضح اشارہ ہی ضرور فرمادیتے ۔ خود قرآن مجید اپنے آپ کو ’تبیانا لکل شء‘ اور ’تفصیلا لکل شء‘ قرار دیتا ہے جس میں ہر ضروری پہلو کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم لوگ قرآنی الفاظ اور روح قربانی کی پیروی میں بیٹوں ( نسلوں ) کی بحث میں الجھے بغیر ابراہیم ؑ پر فوکس کریں کہ دونوں بیٹے انھی کے تھے اور دونوں ہی جلیل القدر پیغمبر تھے ۔ قربانی کے واقعہ میں قرآنی اسلوب در حقیقت خاندانی نظام کی بقا اور خاندانی نظام میں باپ بیٹے کے تعلق میں ذمہ داری کے ذیل میں باپ کے فیضانِ نظر کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے ہمیں اسی فیضانِ نظر کی کھوج لگا کر عالمی سطح پر خاندانی نظام کے دوام اور اس سے وابستہ تقدس کی حفاظت کرنی چاہیے ۔
حرفِ آخر
جوں جوں وقت گزرتا گیا ہے ، ہم مسلمانوں کے ہاں قرآن و سنت کے فہم اوراس پر عمل کے حوالے سے تاریخی و خارجی جبر اور معاشرتی تقاضوں کا لحاظ حدود سے متجاوز ہوتا گیاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ لحاظات اپنے مقام سے ہٹتے ہوئے ہمارے لیے نفسیاتی عوارض کی شکل اختیار کرتے گئے ہیں ۔ قربانی کے مسئلے ہی کو لیجئے اور غور کیجئے کہ ہم نے قرآنی علمیات سے صریحاً پہلوتہی کرتے ہوئے اس میں حضرت اسماعیل ؑ کا نام اس طرح شامل کر دیا ہے کہ اب یہ نام قربانی کے حوالے سے ہمارے ہاں بنیادی صداقتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ معاشرے میں کسی فرد سے پوچھ لیجیے، وہ قربانی کے ذکر میں ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کو اس طرح ڈسکس کرے گا جیسے اسماعیل ؑ کا نام قرآن نے باقاعدہ اس واقعہ میں لیا ہو ۔ اور تو اور، سکولوں اور کالجوں کی نصابی کتب میں بھی اسماعیل ؑ کا تذکرہ اسی انداز میں ہوتا ہے۔ مقامِ غور و فکر یہ ہے کہ ایسی افراط و تفریط بنیادی طور پر اس حلقے کی پیدا کردہ ہے جو اپنے ’’تدبر ‘‘ کے دائرے کو قرآنی قرار دینے پر اس قدر مصر ہے کہ حدیث کی حجیت کو طوعاً وکرہاً ہی تسلیم کرتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایسے’’ مدبرین‘‘ محض اسرائیلیات کے بل بوتے پر( تاریخ و معاشرت اور کلچر کے بے جا اثبات کا شکار ہو کر) ایسا علمی و فکری رویہ پروان چڑھارہے ہیں جس سے قرآنی علمیاتی منہج اور قرآنی منشا پسِ پشت چلے گئے ہیں، حالانکہ نبی خاتم ﷺ کا مستند ارشاد موجود ہے کہ اہلِ کتاب کی نہ تصدیق کرو، نہ تکذیب۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ذبیح کون کی بحث میں مبتلا لوگوں کا طرِ عمل سورۃ البقرۃ میں گائے کے واقعہ میں یہودیوں کے طرزِ عمل سے مشابہ ہے۔ یہودی بھی خوامخواہ کی بحث کر رہے تھے کہ گائے کی عمر کتنی ہو ؟ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ قرآن نے یہ فرما کر ’’آخر ذبح کر دیا انہوں نے اسے ، اگرچہ نہ لگتا تھا کہ وہ ایسا کریں گے ‘‘ یہودی رویے پر گرفت کی ہے ۔ اب اگر ہم بھی ذبیح کون کی لایعنی بحث کے بعد( بلکہ اسی بحث کی اساس پر ) قربانی کر ہی لیتے ہیں تو غور فرمائیے قرآن کی نظر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں بہتر سمجھا، وہاں اسماعیل ؑ کا ذکر باقاعدہ نام لے کر کیا ، مثلاً بیت اللہ کی تعمیر کے ذکر میں ان کا نام موجود ہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ اگر قربانی کے واقعہ میں بھی ان کا نام شامل ہوتا تو معترضین کو پھبتی کسنے کا موقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالمگیریت کا کرتا ہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے۔ اسی طرح اگر اسحاق ؑ کا نام شامل ہوتا تو یہودیوں کی نسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔ قرآن نے نہایت حکیمانہ اسلوب میں بیٹے کا ذکر عمومیت کے انداز میں کر کے توازن اور جامعیت کی روش اپنائی ہے ۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیرت کے مورخین بھی ( بشمول شبلی نعمانی) نبی خاتم ﷺ کا نسلی تعلق حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ الگ ابواب اور فصلیں باندھتے ہیں حالانکہ قرآن نے کسی بھی مقام پر آپ ﷺ کو ذریتِ اسماعیل ؑ کے حوالے سے مخاطب نہیں کیا، بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کو ہی پیشِ نظر رکھا ہے۔ مثلاً سورۃ آل عمران میں ہے کہ
إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ وَہَذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوا (آیت ۶۸)
’’بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ابراہیم ؑ کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے پیروی کی ان کی، نیز یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔‘‘
بہر حال ! یہودیوں کی طرز پر نسلی ( نفسیاتی) عوارض کا شکار ہو کر کسی خاص بیٹے کو ذبیح قرار دینے سے ( چاہے اسماعیل ؑ کو ثابت کیا جائے یا اسحاق ؑ کو ) نہ صرف قرآنی متن اور قرآنی منشا سے تصادم ہوتا ہے بلکہ دینِ اسلام کی عالمگیریت ( اور عالمگیریت کی بنیادی اکائی یعنی خاندانی نظام )بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں ۔ہم درود شریف پر اپنی بات کو ختم کرتے ہیں کہ اس کی معنویت پر غور و فکر گہری بصیرت سے نواز سکتا ہے:
اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی ابراہیم انک حمید مجید۔
آفتاب عروج صاحب کے خیالات پر ایک نظر
محمد شکیل عثمانی
ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۲۰۰۵ میں اہل تشیع کی تکفیر کے سلسلے میں آفتاب عروج صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف غلام احمد پرویز صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور منیر رپورٹ سے استدلال، بحیثیت مجموعی طبقہ علما کی مذمت اور صرف قرآن کو اتحاد ملت کی اساس قرار دینا اس گروہ کی خاص تکنیک ہے۔
آفتاب عروج صاحب نے منیر رپورٹ کے حوالے سے علما پر یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا ہے کہ وہ فسادات پنجاب (۱۹۵۳) کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے مسلمان کی متفقہ تعریف پیش نہیں کر سکے تھے۔ منیر رپورٹ سیکولر اور نام نہاد روشن خیال اعتدال پسندوں، منکرین سنت ، قادیانیوں اور مستشرقین کی بائبل ہے۔ اسلام، اسلامی ریاست اور علما پر جب بھی انھیں اعتراض کرنا ہوتا ہے، وہ اسی رپورٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میرے سرہانے دو کتابیں رکھی رہتی ہیں، ایک لیڈی چیٹرلیز لور (ایک فحش ناول) اور دوسری منیر رپورٹ۔
منیر رپورٹ کے مرتبین کا کہنا ہے کہ دو علما بھی ایسے نہ تھے جو مسلمان کی تعریف پر متفق ہوں اور اگر وہ اپنی طرف سے مسلمان کی تعریف کریں جو ان تعریفوں سے مختلف ہوں جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو انھیں متفقہ طور پر خارج از اسلام قرار دیا جائے گا اور اگر وہ علما میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علما کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔ یہ عذر پیش کر کے مرتبین نے اپنی طرف سے مسلمان کی کوئی تعریف پیش کرنے سے جان چھڑا لی ہے، حالانکہ اسی رپورٹ میں اسلام، اسلامی ریاست اور فنون لطیفہ کے بارے میں فاضل جج صاحبان نے اپنی آرا بیان کی ہیں۔ اگر وہ مسلمان کی تعریف بھی بیان کر دیتے تو اہل علم کو رہنمائی ملتی۔ فاضل مرتبین نے علما سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ۵ مارچ ۱۹۵۳ کو لاہور کے بپھرے ہوئے عوام کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جانا چاہیے تھا، خواہ لوگ ا ن کی تکا بوٹی کر ڈالتے، جبکہ خود مرتبین نے مسلمان کی تعریف اس رپورٹ میں شامل کرنے سے اس بنا پر تامل کیا کہ ’’ہم باتفاق خارج از اسلام قرار پائیں گے۔‘‘
اب آئیے اس افسانے کی طرف کہ دو علما بھی مسلمان کی تعریف پر متفق نہ تھے۔ اس موضوع پر جناب نعیم صدیقی اور جناب سعید ملک نے اپنی کتاب ’’فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ‘‘ میں عمدہ بحث کی ہے۔ یہاں اس کا ایک اقتباس نقل کریں گے:
’’صحت، ریاست اور بغاوت کی تعریف مختلف اہل علم نے مختلف الفاظ میں کی ہے مگر یہ اختلافات زیادہ تر تعبیر کے اختلافات ہیں۔ ایسا ہی حال ’’مسلمان‘‘ کی تعریف کا بھی ہے کہ ایک ہی حقیقت کو مختلف اہل علم نے مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے۔ ان کے درمیان حقیقت شے میں نہیں، انداز بیان میں اختلاف ہے۔
ایک شخص کہتا ہے کہ جو کوئی قرآن اور ما جاء بہ محمد (جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں) کو مانتا ہے، وہ مسلمان ہے۔ دوسرا کہتا ہے جو خدا کی توحید، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء سابقین کی نبوت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی، قرآن اور آخرت کو مانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو واجب الاطاعت تسلیم کرے، وہ مسلمان ہے۔ تیسرا کہتا ہے مسلمان وہ ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع قبول کر لے۔ چوتھا کہتا ہے جو توحید اور انبیا اور کتب الٰہی اور ملائکہ اور یوم آخر کو مانے، وہ مسلمان ہے۔ پانچواں کہتا ہے مسلمان ہونے کے لیے ایک شخص کو خدا کی توحید اور انبیا اور آخرت پر ایما ن اور خدا کی بندگی اختیار کرنی چاہیے اور ہر اس چیز کو ماننا چاہیے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ چھٹا کہتا ہے توحید، نبوت اور قیامت کو ماننا اور ضروریات دین (مثلاً احترام قرآن اور وجوب نماز، وجوب روزہ، وجوب ح مع الشرائط کو تسلیم کرنا مسلمان ہونا ہے۔ ساتواں کہتا ہے کہ جو پانچ ارکان اسلام اور رسالت محمدیہ کو تسلیم کر لے، اس کو مسلمان مانتا ہوں۔ آٹھواں کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے جو ضروریات دین کو تسلیم کرے، میرے نزدیک وہ مسلمان ہے۔ (مندرجہ بالا تعریفوں کے لیے ملاحظہ ہو منیر رپورٹ صفحہ ۲۱۵ تا ۲۱۷)
ان مختلف تعریفات کا تقابل اور تجزیہ کر کے دیکھیے۔ کیا ان کے درمیان مسلمان کی نفس حقیقت میں کوئی فرق ہے؟ ضروریات دین وہی تو ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں۔ اسی چیز کے لیے دوسرے الفاظ ما جاء بہ محمد ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مان لینے میں قرآن، توحید، رسالت، آخرت ، ملائکہ، انبیا اور کتب آسمانی سب کا مان لینا آپ سے آپ شامل ہو جاتا ہے اور یہی کچھ قرآن کو مان لینے کا نتیجہ بھی ہے۔ کوئی شخص خواہ قرآن کو مان نے کا اعلان کرے یا یہ کہے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت مان لی یا ایک ایک چیز کا الگ الگ نام لے کر اس کے ماننے کا اقرار کرے، تینوں صورتوں میں لازماً ایک ہی اسلام کو قبول کرنے کا اعلان واقرار ہوگا اور محض کلمہ لا الہ الا الہ محمد رسول اللہ کو مان لینے کا حاصل بھی اس سے ذرہ برابر مختلف نہ ہوگا۔ لہٰذا ان آٹھوں آدمیوں نے مختلف الفاظ میں جس حقیقت کو بیان کیا ہے، وہ بعینہ ایک حقیقت ہے۔ مسلمان کے تصور اور اس کے معنی میں ان کے درمیان ایک بال کے برابر بھی فرق نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں، ان آٹھوں آدمیوں میں سے کسی ایک کی بیان کی ہوئی تعریف دنیا کے کسی عالم دین کے سامنے رکھ دیں، وہ بلا تکلف کہہ دے گا یہ مسلمان کی صحیح تعریف ہے۔ خود ان آٹھوں آدمیوں سے پوچھ کر دیکھیے، ان میں سے ہر ایک تسلیم کرے گا کہ دوسرے کی بیان کردہ تعریف غلط نہیں ہے۔ (ص ۱۲۰ تا ۱۲۲)
محترم آفتاب عروج صاحب کا یہ ارشاد کہ صرف قرآن ہی اتحاد ملت کی اساس ہے، پرویز صاحب کے دعوے کی صدائے بازگشت ہے جنھوں نے فرمایا کہ ’’بے شک آیات قرآنی کے معنی سمجھنے میں بھی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ اختلافات چونکہ الفاظ وعبارات کے نہ ہوں گے بلکہ صرف فہم کے ہوں گے اس لیے مزید غور وفکر سے مٹ جائیں گے۔‘‘ (مقام حدیث جلد اول ص ۱۹۷) گزشتہ پچھتر سال کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ’’قرآنی فکر‘‘ کے علم برداروں کے تعبیری اختلافات بجائے مٹنے کے بڑھے ہیں۔ مثلاً دیکھیے قرآنی فکر کے علم بردار ایمان بالرسل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی پر ایمان کافی ہے۔ جزوی ایمان چاہیے۔ ایمان بر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ضروری نہیں۔ (ایک اسلام) واضح رہے کہ برق صاحب نے اس کتاب سے لاتعلقی کا آخر وقت تک اظہار نہیں کیا اور ’’دو اسلام‘‘ سے بھی ان کا اظہار لا تعلقی محض دفع الوقتی تھا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر ڈاکٹر عبد العزیز ساحر نے ’’ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے خطوط‘‘ کے دیباچے میں بڑی نفیس بحث کی ہے۔
جناب غلام احمد پرویز اور حافظ اسلم جیراج پوری کے نزدیک رسول پر محض ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ اطاعت بالمشافہہ ہوتی ہے اور اب کوئی زندہ نبی نہیں ہے جس کی بالمشافہہ اطاعت کی جائے۔ اب اطاعت مرکز ملت کی ہوگی۔ (اسلامی نظام ص ۱۲۲۔ مقام حدیث جلد اول ص ۱۹)
مولوی احمد الدین امرتسری لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ پر ایمان تو ضرور لانا چاہیے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ رسول خدا قرآن مجید کا تمام فہم نہیں رکھتے تھے اور یہ کہ حضور سے قرآن کے فہم میں بکثرت غلطیاں ہوئیں۔ (برہان القرآن)
یہی حال ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتاب، ایمان بالآخرۃ، صلوٰۃ، روزے، درود وغیرہ کی تعبیر وتشریح میں ہے۔ چند سال پہلے علامہ محمد حسین عرشی، جو پچاس کی دہائی میں طلوع اسلام کے صفحات پر پرویز صاحب کی خدمات قرآنی کو خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے، پرویز صاحب کی کتاب مفہوم القرآن کی اشاعت کے بعد ۲۰ جون ۱۹۸۴ کو محمد اقبال سلمان کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
’’.... لفظ آدم پر مفصل مقالہ صحت یاب ہو کرلکھیں ...... آپ نے پرویز صاحب کامفہوم القرآن شاید نہیں دیکھا۔ میرے خیال میں ان کو ایسی جسارت نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کے مطالعے کے لیے قاری کو اپنی بصیرت کی بھی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے اپنی رائے اور میلان کو خواہ مخواہ گھسیڑ دیا ہے۔‘‘ (نوادرات عرشی مرتبہ ڈاکٹر تصدق حسین راجا، ص ۸۸)
علامہ تمنا عمادی جو ۵۰ کی دہائی میں پرویز صاحب کو علامہ پرویز لکھتے تھے اور جن کی قرآنی بصیرت پر طلوع اسلام کو بڑا اعتماد تھا، ۶۰ کی دہائی میں پرویز صاحب کی تصنیف لغات القرآن کے سب سے بڑے ناقد بن گئے۔ ماہر القادری لکھتے ہیں:
’’علامہ تمنا عمادی نے غلام احمد پرویز کی لغات القرآن پر بڑی کس کر تنقید کی۔ ان کے کئی مضامین فاران میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس موضوع پر نہ جانے کتنے مضامین غیر مطبوعہ ہی رہے۔ علامہ نے اپنے مضامین میں اعلیٰ علمی استدلال کے ساتھ ثابت کیا کہ لغات القرآن کا لکھنے والا نہ قرآنی علوم سے واقف ہے اور نہ عربی زبان وادب سے باخبر ہے۔ قرآن کی یہ عجیب لغت ہے جس میں قرآن ہی کی مخالفت کی گئی ہے۔‘‘ (ماہنامہ فاران، فروری ۱۹۷۳)
قرآنی فکر کے علم بردار دو اداروں، طلوع اسلام اور بلاغ القرآن کے تعبیر قرآن کے اختلافات ایک مستقل مضمون کے متقاضی ہیں۔ کسی مناسب موقع پر ان شاء اللہ ان پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
ناقدین کی خدمت میں (۱)
طالب محسن
(دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون ’’اسلام اور تجدد پسندی‘‘ کے جواب میں ہمیں ’المورد‘ کے ایسوسی ایٹ فیلو جناب طالب محسن اور ’دانش سرا‘ گکھڑ منڈی کے رفیق محمد عثمان صاحب کی طرف سے تحریریں موصول ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر مزید بحث مباحثے کے لیے یہ صفحات حاضر ہیں۔ مدیر)
(۱)
استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وآرا پر بہت سی تنقیدیں لکھی گئی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی۔ عام طور پر یہ تنقیدیں محض دشنام طرازی، طعن وتشنیع اور تضحیک واستہزا پر مبنی ہوتی ہیں۔ کچھ اندیشوں اور خدشات کو بنیاد بنا جاتا ہے۔ کچھ اندازے قائم کیے جاتے ہیں جو سراسر سوء ظن پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ مقاصد طے کیے جاتے ہیں جن کا کوئی ثبوت کسی قول وتحریر میں نہیں ہوتا۔ اور اس طرح صاحب تنقید اپنے لیے قلمی جہاد کا جواز فراہم کرتااور نوک قلم سے اپنے ہی علم وتقویٰ کا خون کر ڈالتا ہے۔
’المورد‘ میں، چھپنے والی ان تنقیدوں کو غور سے پڑھا جاتا ہے اور اگر کوئی صحیح تنقید ہو تواسے شکر کے جذبے کے ساتھ قبول بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی تنقیدوں کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چنانچہ ہم بالعموم ان تنقیدوں کے جواب میں خاموش رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تنقیدوں میں کوئی قابل جواب نکتہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ ہماری اصولی پالیسی یہ ہے کہ اگر کوئی علمی تنقید ہو تو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اس لیے کہ یہ تنقید علمی نکات کی تنقیح میں معاون ہوتی اور بہت سی باتیں سمجھنے اور سمجھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ میں استاد محترم کو برس ہا برس سے جانتا ہوں، وہ اپنی غلطی کو مان لینے میں پس وپیش نہیں کرتے اور ان کی طرف سے اس طرح کا ردعمل بھی کبھی سامنے نہیں آیا کہ انھوں نے جو کچھ کہہ دیا ہے، وہ حرف آخر ہے اور ان کے افکار وآرا میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی یا اس میں اصلاح کی گنجایش نہیں ہے۔چنانچہ ہم نے انھیں سچی تنقید کا خیر مقدم کرتے ہی دیکھا ہے۔باقی رہیں سوء ظن اور الزام تراشی پر مبنی تحریریں تو ان کے بارے میں وہ خاموشی ہی کو اولیٰ سمجھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تنقیدیں اس سے بہتر کسی سلوک کی مستحق نہیں ہوتیں۔
ہمارے ہاں، بالعموم مختلف رائے رکھنے والے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ بالعموم اسی کے حق میں نکلتا ہے، اس لیے کہ اس طرح کی تنقیدیں تنقید کرنے والوں کی علمی بے مایگی کا ثبوت ہوتی ہیں اوراپنے اندر موجود صحیح نکات کو بھی اکارت کر دیتی ہیں۔میں جب یہ سوچتا ہوں کہ ممکن ہے یہ تنقید کرنے والے اپنے تعصب کی وجہ سے قلم زن نہ ہوئے ہوں، بلکہ حق ہی کو سمجھنا اور سمجھانا چاہتے ہوں تو میرے دل میں ان کے لیے ایک ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سطور ایسے ہی ناقدین کے لیے لکھ رہا ہوں۔ میرے پیش نظر یہ ہے کہ ایسے ناقدین کو تجویز کروں کہ حقیقی علمی تنقید کیا ہوتی ہے اور اس کے مشمولات کیا ہوتے ہیں۔
ہمارا موضوع دین ہے۔ دین میں حق وناحق کا فیصلہ نصوص کے فہم سے ہوتا ہے۔ نصوص کے فہم میں غلطی دو سبب سے ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اصول غلط ہو جس کی روشنی میں نص کے معنی طے کیے جا رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اصول تو ٹھیک ہو، لیکن اس کے اطلاق میں غلطی ہو رہی ہو۔ چنانچہ دین سے متعلق موضوعات میں تنقید واصلاح کا دائرہ بہت معین ہو جاتا ہے۔ امت میں رائج علمی مکاتب فکر کے اصولوں کے تحت کسی رائے پر تنقید کا دائرہ اور بھی محدود ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بحث صرف کسی نحوی، کلامی، تفسیری یا فقہی اصول کے اطلاق کی غلطی واضح کرنے پر موقوف ہوتی ہے۔ استاد محترم غامدی صاحب کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ استاد محترم نے اصول میں بھی تحقیقی کام کیا ہے اور مولانا فراہی علیہ الرحمۃ کے منہج استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے مآخذ کے فہم کے قواعد کو نئے سرے سے مرتب کیا ہے۔ اب ناقدین کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ اگر انھیں استاد محترم کے کسی نقطہ نظر میں غلطی محسوس ہوتی ہے تو وہ یہ دیکھیں کہ جس نص پر یہ رائے مبنی ہے، اس کے سمجھنے میں کیا غلطی ہوئی ہے اور اگر انھیں محسوس ہوکہ یہ نتیجہ کسی غلط اصول کے سبب سے ہے تو انھیں چاہیے کہ اس اصول کی غلطی متعین کریں اور اسے واضح کرنے کے لیے قلم اٹھائیں۔
استاد محترم کے ناقدین اگر یہ رویہ اختیار کریں تو مجھے قوی امید ہے کہ وہ اپنے اور ہمارے لیے خیروفلاح کا باعث بنیں گے اور آخرت میں بھی بہتر اجر کے حق دار قرار پائیں گے۔
طالب محسن
’المورد‘۔ 51-K
ماڈل ٹاؤن ۔لاہور
ناقدین کی خدمت میں (۲)
حافظ محمد عثمان
(دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون ’’اسلام اور تجدد پسندی‘‘ کے جواب میں ہمیں ’المورد‘ کے ایسوسی ایٹ فیلو جناب طالب محسن اور ’دانش سرا‘ گکھڑ منڈی کے رفیق محمد عثمان صاحب کی طرف سے تحریریں موصول ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر مزید بحث مباحثے کے لیے یہ صفحات حاضر ہیں۔ مدیر)
’الشریعہ‘ کے دسمبر کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلام اور تجدد پسندی‘ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں مغربی تہذیب کے حوالے سے تین رویوں کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے دوسرے رویے پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’دوسرے وہ حلقہ فکر جو فکری مرعوبیت کا شکار ہو گیا اور ا س نے مغربی تہذیب اور اس کے اصولوں کی ’بڑائی‘ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور وہ اس چیز کا علم بردار بن گیا کہ اپنے نظام فکر وعمل کو بدل کر اسے اس نئی اور غالب تہذیب سے ہم آہنگ کر دے۔‘‘
اس دوسرے نقطہ نظر کے حاملین میں ڈاکٹر صاحب نے جاوید احمد غامدی صاحب کو بھی شامل کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک غامدی صاحب مغربی تہذیب سے مرعوب ہیں اور مغربی تہذیب کے فکری چولے کو اسلام پر فٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اگر اس دعوے کے حق میں کچھ دلائل وشواہد پیش کر دیتے تو قارئین بھی بہتر طور پر ان کے دعوے کا تجزیہ کر پاتے اور ڈاکٹر صاحب سے اختلاف رکھنے والوں کو بھی دلائل کی بنیاد پر بات کرنے میں آسانی ہوتی، لیکن افسوس ہے کہ انھوں نے سارا مضمون ایک جذباتی اور تاثراتی کیفیت میں لکھا ہے اور اس میں استدلال نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ میرا گزشتہ کئی سالوں سے غامدی صاحب سے تعلق ہے، ان کی کم وبیش تمام تحریریں میں نے پڑھ رکھی ہے، اور ان کی فکر کے امتیازی خط وخال سے بھی میں آگاہ ہوں۔ غامدی صاحب دین وشریعت کی تعبیر وتشریح میں رائج علمی آرا سے تو بے شک بہت سے اختلافات رکھتے ہیں، لیکن ان کے زاویہ نگاہ میں مغرب سے مرعوبیت یا مغرب پرستی کا کوئی شائبہ بھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ اس کے برعکس جب میں فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کی سطح پر مغرب کے پیدا کردہ چیلنج اور پھر ان کے حوالے سے غامدی صاحب کی آرا وافکار کا جائزہ لیتا ہوں تو وہ اسلامی شریعت اور اسلام کی تہذیبی اقدار کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے بالکل یکسو دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی فکر، نظام حیات کے کسی بھی دائرے میں، خواہ وہ سیاست ہو یا معیشت، معاشرت ہو یا قانون، انسانی عقل وتجربہ سے بالاتر کسی ذریعہ ہدایت کو ماخذ ماننے کے لیے تیار نہیں، جبکہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں ان تمام دائروں سے متعلق قرآن وسنت کی ہدایات کی نہ صرف باقاعدہ تشریح کی ہے بلکہ مسلم دانش وروں میں پھیلے ہوئے بہت سے غلط افکار (مثلاً سود کا جواز، اسلامی حدود کو سنگین اور وحشیانہ سمجھتے ہوئے ان سے دست برداری، مرد اور عورت کی ہر پہلو سے مساوی قانونی حیثیت، مقاصد شریعت کو ابدی جبکہ متعین شرعی قوانین کو وقتی اور عارضی قرار دینا وغیرہ) کی واضح طور پر تردید کی ہے اور فطرت انسانی اور علم وعقل کی روشنی میں اسلامی شریعت کے احکام وہدایات کا دفاع کیا ہے۔
اپنی کتاب ’مقامات‘ کے مضمون ’تہذیب کی جنگ‘ میں معاصر تہذیبی جنگ کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں:
’’یہ تہذیب اگرچہ پچھلے تین سو سال سے روبہ زوال ہے، اس کا فطری ارتقا بند ہو چکا ہے، اس پر مسلمانوں کی اسلام سے عملی بے پروائی کے اثرات بھی نمایاں ہیں، امتداد زمانہ سے جاہلیت کے بہت سے اجزا بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں اور یہ بلاشبہ بہت کچھ اصلاح کی متقاضی ہے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ بہرحال میری تہذیب ہے۔ میں اس میں ہر وقت اصلاح کے لیے تیار ہوں، لیکن اس کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اختیار کر لوں، یہ میرے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مغربی تہذیب اس وقت دنیا کی غالب تہذیب ہے اور میری قوم کے کارفرما عناصر اس سے اس قدر مرعوب ہو چکے ہیں کہ ان کی ساری جدوجہد اب اس کو پوری طرح اپنا لینے ہی میں لگی ہوئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ انھیں یہ بات اب بہت آسانی کے ساتھ نہیں سمجھائی جا سکتی کہ دین اگر اپنی تہذیبی شناخت سے محروم ہو جائے تو اس کی حیثیت پھر آفتاب کی سی ہوتی ہے جو آسمان پر نمودار تو ہوا لیکن گہرے بادلوں کے پیچھے سے اپنی شعاعیں ہماری زمین تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔‘‘ (ص ۹۰)
اسی مضمون میں آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
’’مجھے ان سب باتوں پر اصرار ہے اور میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اسلام کی جنگ اگر تہذیب کے میدان میں ہار دی گئی تو پھر اسے عقائد ونظریات کے میدان میں جیتنا بھی بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس وجہ سے میں اپنے ان دوستوں کی خدمت میں جو اردو اور شلوار قمیض اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر میرے اصرار کو دیکھ کر چیں بہ چیں ہوتے ہیں، بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں صرف فکر مغرب ہی کو نہیں، اس تہذیب کو بھی اپنے وجود کے لیے زہر ہلاہل سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میں جس طرح اس کے فکری غلبہ کے خلاف نبرد آزما ہوں، اسی طرح اس کے تہذیب استیلا سے بھی برسر جنگ ہوں۔ میں نہیں جانتا اس معرکہ میں فتح کس کی ہوگی، لیکن یہ میرے ایمان کا تقاضا ہے کہ میں اسی طرح پوری قوت کے ساتھ اس سے لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔‘‘ (ص ۹۱)
میں نے غامدی صاحب سے جب بھی یہ پوچھا کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا طریقہ کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اس کا طریقہ نہ انقلاب ہے نہ انتخاب، بلکہ یہ ہے کہ آپ عوام کی تربیت کریں اور ان کا ذہنی وفکری شعور بلند کریں ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کے صحیح اور پائیدار نفاذ کا طریقہ یہ ہے کہ اسلام کو تہذیب بنا کر نافذ کریں۔ اسلام کو زبردستی قانون بنا کر نافذ نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی گیا تو اس کے نتائج نہ اچھے ہوں گے اور نہ دیرپا۔
میری ناقص رائے میں جو صاحب علم مغرب کے فکری وتہذیبی استیلا کے جواب میں مذکورہ رویے کا حامل ہو، اس کو مغرب سے ذہنی مرعوبیت کا طعنہ دینا نہ قرین انصاف ہے اور نہ قابل فہم۔ جہاں تک شریعت کی تعبیر وتشریح کا تعلق ہے تو اس میں علمی اختلاف، جیسا کہ خود ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا ہے، کوئی نئی اور معیوب بات نہیں۔ اس صورت حال میں ڈاکٹر صاحب سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ اگر انھوں نے غامدی صاحب کی آرا وافکار میں مغرب پرستی کی بو پائی ہے تو ازراہ کرم میری طرح کے عام قارئین کی سہولت کے لیے وہ قابل اعتراض نکات کو واضح طور پر متعین فرمائیں اور ان پر تنقید کر کے نہ صرف ان کا علمی نقص واضح کریں، بلکہ اس بنیادی سوال پر بھی روشنی ڈالیں کہ آیا علمی اختلافات کے دائرے میں ان کے لیے کوئی گنجایش نہیں اور کیا وہ ہر حال میں مغربی فکر وتہذیب سے مرعوبیت ہی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں؟
محمد عثمان
سلطان پورہ۔ گلی نمبر ۵۔ گکھڑ منڈی
مکاتیب
ادارہ
محترم جناب رئیس التحریر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا مجلہ ملتا ہے۔ عمدہ مضامین ہوتے ہیں جو حق پسندی، خود اعتمادی، اپنی اقدار پرپختگی کا درس دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ دسمبر ۲۰۰۵ء کے سمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان کے مقالے ’’ڈارون کا تصور ارتقا اور اقبال‘‘ میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ بڑی ناانصافی برتی گئی ہے۔ میں نے پہلے بھی نوٹ کیا ہے کہ آپ کے مجلے میں مسلمانوں کے اس محبوب شاعر ومفکر اور پاکستان کے اولین محسن کے بارے میں ناروا انداز فکر کا پرچار کیا گیا ہے۔ کافی پہلے لندن میں بیٹھے ہوئے ایک ’’دیوبندی مولانا‘‘ نے اپنے ایک مضمون نما خط میں اقبال کو ’’سر محمد اقبال اور .....‘‘ کے طنز سے یاد کیا تھا۔ اب ان تازہ مضمون نگار صاحب نے ان کو ڈارون (Darwin) کا ہم نوا بلکہ مقلد بتانے کی کوشش کی ہے۔
کیا دیوبندی مکتب فکر کے لیے ضروری ہے کہ علامہ اقبال کے خلاف مہم جاری رکھی جائے؟ شاید آپ کو معلوم ہو کہ بیسویں صدی کے عظیم مفکر اسلام، داعی الی اللہ، محقق اور اہل اللہ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے اقبال کو شاعر الاسلام کے لقب سے دنیاے عرب میں معروف کرایا۔ ان کی عربی کتاب ’’من روائع اقبال‘‘ میں، جو اس ناچیز نے دمشق سے ۱۹۵۷ء میں شائع کرائی تھی اور جو اردو میں ترجمہ ہو کر ’’نقوش اقبال‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے، مولانا مرحوم کا وہ مقالہ موجود ہے جو شاعر الاسلام کے نام سے انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں پڑھا تھا۔ غضب خدا کا! وہ بندۂ خدا جس کی ساری شاعری، سارا سوز وتڑپ اسلام اور اس کی سربلندی کے لیے تھا، جس کا ماخذ علم قرآن تھا، جس نے قرآنی آیات اور جملوں کو اپنے اشعار (مثنوی، اسرار خودی ورموز بے خودی) میں اس طرح سمو دیا ہے کہ ایک غیر حافظ قرآن یا غیر مولوی کو ان کا سمجھنا بھی مشکل ہے، اسی شاعر قرآن واسلام کو ایک دینی مدرسہ سے شائع ہونے والا مجلہ ڈارون کا پیرو وہم نوا بتاے۔ ان ہذا الا افک مبین۔
ڈاکٹر آصف صاحب کے ذہن میں اقبالؒ کے یہ اشعار تو ہوں گے:
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جوہر کردار
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر کہتا رہا:
در دل مومن مقام مصطفی است
آبروے ما ز نام مصطفی است
محمد عربی کابروئے ہر دو سرا است
کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر او
تو پھر کیا قرآن اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ’’تصور ارتقا‘‘ کی تعلیم دی ہے جس کا سہرا ملحد ومادہ پرست ڈارون کے سر ہے؟ پھر یہ کہ مغربی فکر وتہذیب پر جتنی کڑی اور برمحل تنقید علامہ اقبال نے کی ہے، اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔
یہ باتیں تو میں نے تمہیداً اس افترا کے رد عمل میں کہی ہیں جو ڈاکٹر آصف صاحب نے علامہ اقبال پر کیا ہے، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے نقاط کے جواب میں عرض ہے کہ:
۱۔ وہ کس طرح یہ فرماتے ہیں کہ ’’اقبال کی فکر کا بنیادی نکتہ (یہاں صحیح ’نقطہ‘ ہے) اس کا فلسفہ خودی ہے، تاہم اگر بنظر عمیق دیکھا جاے تو معلوم ہوگا کہ ان کی فکر پر اول تا آخر فلسفہ ارتقا کی چھاپ ہے، یہاں تک کہ تصور خودی بھی اسی بنیادی اور بڑے فلسفے کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘
حیرت ہے کہ وہ کسی بھی دلیل کے بغیر کس طرح یہ بے جا الزام لگا رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے تو اپنے فلسفہ خودی کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ کو کہا ہے:
خودی کا سر نہاں لا الٰہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الٰہ الا اللہ
یا پھر:
نقطہ نورے کہ نام او خودی است
زیر خاک ما شرار زندگی است
ڈارون کے یہاں ’’نقطہ نور‘‘ کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ وہ تو ظلمت حیوانی کا نقیب تھا اور مغرب کی آج کی فحاشی اور جنسی ہوس وآزادہ روی ڈارون کے فلسفہ ارتقا کی مرہون منت ہے کہ جب انسان بندر (چمپانزی) سے ترقی کر کے انسان بنا ہے تو اس میں وہی خصائص ہونے چاہییں جو بندر میں ہوتے ہیں۔
اس موقع پر جو حوالہ ڈاکٹر آصف صاحب نے ارتقاے خودی کے ضمن میں اسرار خودی سے دیا ہے، اس کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ارتقا تو زندگی کے ہر مرحلے میں بلکہ نطفہ سے پیدایش طفل اور پھر طفولت سے بلوغت وکہولت تک جاری وساری ہے۔ انسان جاہل ہوتا ہے، پڑھ لکھ کر عالم بنتا ہے، خطیب بنتا ہے، مصنف بنتا ہے، مخترع بنتا ہے وغیرہ۔ ڈارون ا س ارتقا کی نشان دہی کے لیے مشہور نہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ آگے چل کر وہ تضاد بیانی کا شکار ہوتے ہیں جب یہ فرماتے ہیں کہ: ’’اقبال اور ڈارون کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک تمام مادہ کی حقیقت روحانی ہے۔‘‘ (مزید تضاد کے لیے ملاحظہ ہو ص ۴۰، ۴۱۔۴۳)
مضمون کے آخر میں پروفیسر انعام الرحمن صاحب نے بھی ایسا ہی ظلم اقبالؒ پر روا رکھا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔ وہ فرماتے ہیں:
’’اقبال نے جہاں جمود زدہ مسلم فکر میں حرکت پیدا کر کے مسلم معاشرے کی مردہ رگوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی، وہاں نطشے اور ڈارون کے افکار کی اسلای تعلیمات سے تطبیق کی کوشش میں مسلم معاشرے کی روایتی فکر کو بری طرح مجروح کیا۔‘‘
علامہ اقبال کے خلاف ایسا زہر آلود اور جاہلانہ جملہ آج تک نہیں پڑھا۔ تقسیم ہند سے قبل ملحدانہ فکر رکھنے والے یا لادین ترقی پسند مصنفین اقبال کی فکر کے ڈانڈے نطشے، بائرن، ہیگل، کارل مارکس وغیرہ سے ملاتے تھے اور ان کی اس تمام شاعری سے آنکھیں بند کر لیتے تھے جس میں قرآنی حقائق کی ترجمانی ہے۔ مولانا رومی سے اخذ واقتباس ہے، فکر فرنگ پر بے لاگ کڑی تنقید ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے پیغام سے محبت کا بے پناہ اظہار ہے، یا پھر میاں انعام الرحمن صاحب کا یہ مفتریانہ جملہ میں نے اب پڑھا ہے۔ کیا انھوں نے علامہ مرحوم کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادہ سے خطاب‘‘ نہیں پڑھی؟ ضرب کلیم میں اب پڑھ لیں، اور خاص طور سے یہ اشعار:
تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا
ہیگل کا صدف گہر سے خالی
ہے اس کا طلسم سب خیالی
دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد وبراہیم
اے پو زعلی ز بوعلی چند
دل در سخن محمدی بند
چوں دیدہ راہ بیں نداری
قائد قرشی بہ از بخاری
(ابو علی سینا بخارا کا رہنے والا تھا)
اب جہاں تک ڈارون کا تعلق ہے تو علامہ اقبالؒ نے پیام مشرق میں یورپ کے بہت سے فلسفیوں اور سائنس دانوں، ہیگل، کارل مارکس، شوپن ہار، نیٹشہ، آئن سٹائن وغیرہ کے بارے میں اشعار وقطعات لکھے ہیں، لیکن انھوں نے ڈارون کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے اور جہاں تک نیٹشہ کا تعلق ہے، وہ فرماتے ہیں:
حریف نکتہ توحید ہو سکا نہ حکیم
نگاہ چاہیے اسرار لا الٰہ کے لیے
اور اس کے بارے میں ان کا یہ فارسی مصرع تو بہت مشہور ہے : قلب او مومن دماغش کافر است۔
اور جہاں تک ان کی انگریزی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam کا تعلق ہے تو اس میں صرف دو جگہ ڈارون کا نام ہے اور دونوں جگہ تنقیدی انداز میں۔ ڈارون کے نیچرل ہسٹری کے بارے میں ڈاکٹر آصف نے اس کے Concept of Mechanism کا ذکر تو انگریزی اقتباس میں دے کر کیا، لیکن اس کے فوراً بعد علامہ اقبال کا دوسرا جملہ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس Concept (نظریہ) کے حامی نہیں تھے، نقل نہیں کیا جو یہ ہے:
And the battle for and against mechanism is still being fiercely fought in the domain of biology. (p. 41)
اپنی پوری کتاب میں علامہ اقبال نے کہیں بھی ڈارون کے نظریہ ارتقاء حیوانی کو قبول (endorse) نہیں کیا ہے۔ یہ علمی دیانت داری کے خلاف بات تھی کہ ڈاکٹر آصف صاحب نے اقبال کے جملہ مکملہ کو نہیں لکھا۔ یہی نہیں، وہ آگے چل کر اسی کتاب میں نیٹشہ اور ڈارون دونوں کے بارے میں اپنی رائے کا بے لاگ اظہار اس طرح کرتے ہیں:
Yet Neitzsche was a failure; and his failure was mainly due to his intellectual progenitors such as Schopenhauer, Darwin, and Lange whose influence completely blinded him to the real significance of his vision. (p. 195)
(اس کے باوجود نیٹشہ ایک ناکام شخص تھا اور اس کی ناکامی کا سبب اس کے فکری مربی تھے جیسے شوپنہار، ڈارون اور لینج جن کے اثرات نے اس کو اس کی بصیرت کی امتیازی شان سے اندھا کر دیا)۔
آگے اسی صفحہ پر نٹشہ پر مزید کڑی تنقید ہے۔ علاوہ ازیں اہل نظر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اقبال کی بنیادی فکر وفلسفہ ان کے نو فارسی واردو دواوین میں ہے، ان کی انگریزی نثری کتاب میں نہیں۔
امید ہے کہ ’الشریعہ‘ ایسے مضامین کی اشاعت سے گریز کرے گا جو حقائق مسخ کر دیں۔
خاکسار
(ڈاکٹر) سید رضوان علی ندوی
5۔ گلی P خیابانِ سحر فیز6
ڈیفنس کراچی
(۲)
گرامی قدر مکرمی جناب مولانا عمار خان صاحب زید ت درجاتکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
بلاطلب استحقاق آپ کاموقر جریدہ مسلسل کئی ماہ سے مل رہا ہے۔ یہ آپ کا کرم بالائے کرم ہے۔ جزاک اللہ تعالیٰ۔ بوجوہ رسید کی اطلاع کر سکا ن ہی ا س نعمت غیر مترقبہ کا شکریہ ادا کر سکتا۔ معذرت ومغفرت کی درخواست ہے۔
متفق علیہ نکات پر امت کو مجتمع کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کی اشاعت سے فکری انتشار بڑھے گا۔ براہ کرم آپ اس کو چوراہا یا دھوبی گھاٹ بنائیے۔ آپ کا قلم، آپ کی جملہ توانائیاں امت کی امانت ہیں جسے آپ امت مسلمہ کے مجموعی مفاد میں استعمال کیجیے۔ اللہ آپ کے قلم کو رواں اور ہمت کو جواں رکھے۔ آمین
بہرکیف یہ تاثر ہے جو عرض کر دیا۔ امید ہے کہ خاطر عاصر پر گراں نہ گزرے گا۔
والسلام علیکم
حبیب الرحمن ہاشمی
جامع مسجد نشتر میڈیکل کالج
ملتان
۱۳؍ اکتوبر ۲۰۰۵
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’تاریخ ختم نبوت‘‘
تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں قادیان، پنجاب سے مرزا غلام احمد کی نبوت کا فتنہ پیدا ہوا تو علماء حق نے تحریر وتقریر کے ذریعے سے پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ کم وبیش پون صدی کی محنت کے بعد ۱۹۷۴ء میں آئینی سطح پر مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس جدوجہد میں یوں تو برصغیر کے طول وعرض میں علما اور اہل حق شریک رہے، لیکن علماء لدھیانہ کی خدمات اس ضمن میں خاص طور پر ناقابل فراموش ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس فتنہ کی نشان دہی کی۔ ۱۸۸۴ء میں جب مرزا صاحب نے ’’ براہین احمدیہ ‘‘ تحریر کی تو مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی اور مولانا عبد العزیز لدھیانوی نے اس کتاب میں مرزا صاحب کے فاسد عقائد کی نشان دہی کی اور دور اندیشی سے کا م لیتے ہوئے بر وقت بلکہ قبل از وقت ان کے خلاف کفر کا فتوی جاری کیا۔ بعض دوسرے علماء کرام نے مرزا قادیانی کے نظریات سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ابتداءً فتواے تکفیر سے گریز کیا لیکن بعد میں یہ حضرات بھی مرزا ئیوں کے کفر پر متفق ہو گئے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کفر کا فتوی سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے دیا تھا۔ علماے لدھیانہ کے تاریخی کردار کی وضاحت کے لیے اسی خاندان کے چشم وچراغ جناب ابن انیس حبیب الرحمن صاحب نے ۱۹۹۷ء میں ایک کتاب ’’سب سے پہلا فتوی تکفیر علماء لدھیانہ نے دیا ‘‘تحریر کی جس میں فتواے تکفیر اور علماء لدھیانہ کی جدوجہد کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تاہم کچھ دوسرے لوگوں نے اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی اور مذکورہ کتاب کے جوا ب میں ڈاکٹر بہاؤ الدین صاحب نے ۲۰۰۱ میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا فتوی غیر مقلد علما نے دیا تھا ۔زیر تبصرہ کتاب اسی کا جواب ہے جس میں مولف موصوف نے محققانہ انداز میں دلائل کے ساتھ بہاؤ الدین صاحب کے دعووں کا رد کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب تحریر مناظرانہ ہے اور کہیں کہیں سخت کلامی بھی در آئی ہے جس سے گریز مناسب تھا ۔ تاہم تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ مجموعی طور پر ایک مفید کاوش ہے جس کے لیے مولف داد کے مستحق ہیں۔
بہترین ورق ،مضبوط جلد اور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ ۴۸۴ صفحات کی یہ کتاب رئیس الاحرار اکادمی خالصہ کالج فیصل آباد نے شائع کیا ہے ۔قیمت درج نہیں ۔
(محمد شفیع خان عقیل)
’’خطبات شورش‘‘
شورش کاشمیری مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ شعر وادب، تاریخ و صحافت ،مذہب و سیاست، اور تصنیف وتالیف کی دنیاؤں کے بھی شہسوار تھے، لیکن خطابت کے شعبے میں اللہ تعالی نے انہیں خصوصی مہارت عطاکر رکھی تھی ۔ شورش ایک وسیع المطالعہ خطیب تھے۔ منفرد اسلوب بیاں اور علمی وادبی لطائف ان کی خطابت کے نمایاں محاسن تھے۔ انھیں مشکل سے مشکل بات بھی فصاحت وبلاغت کے ساتھ بیان کرنے کی خداداد قدرت حاصل تھی۔ انہیں اپنی فکر اور رائے کی صحت پرکامل یقین تھا اور وہ اپنے کمال خطابت سے متضاد ومتخالف نظریات رکھنے والے سامعین کے ہجوم کو وحدت کے رشتے میں پرو کر انہیں فکروخیال کی کسی بھی مخصوص رو میں بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ موقع ومحل کی مناسبت سے خطیبانہ نکتے بیان کرنا اور الفاظ کے زیر وبم سے عوامی جذبات کو شعلوں میں تبدیل کر دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور ان کے شدید ترین مخالفین بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔
زیر نظر کتاب میں شیخ مجیب الر حمن بٹالوی صاحب نے شورش مرحوم کی بعض معرکہ آرا تقاریر کو بڑے سلیقے سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ یہ ایک محنت طلب کا م تھا جس سے موصوف عمدگی سے عہدہ برآ ہوئے ہیں۔ ان خطبات کے مطالعے سے آج کے قاری کو شورش کے انداز خطابت، مختلف النوع خیالات کو بیان کرنے کی صلاحیت اور مترادفات وتشیہات کے استعمال پر ان کی قدرت کا ایک حد تک اندازہ ہو سکے گا۔
کتاب دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ اور عمدہ کاغذ پر طبع ہوئی ہے اور اسے احرارفاوندیشن پاکستان نے شائع کیا ہے ۔
(فضل حمید چترالی)
کوروٹانہ (عقب واپڈا ٹاؤن، گوجرانوالہ) میں عظیم دینی تعلیمی مرکز کا قیام
ادارہ
اس مرکز کے لیے کھیالی گوجرانوالہ کے جناب محمد بشیر اور ان کے فرزند جناب ثناء اللہ طیب جنجوعہ نے آٹھ کنال زمین وقف کی ہے اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کو متولی اور منتظم کی حیثیت سے تمام اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔ یہ معاملہ حضرت مولانا مفتی محمد اویس، مولانا محمد نواز بلوچ، جناب عثمان عمر ہاشمی اور جناب ڈاکٹر محمد نواز صاحب آف کھیالی کے مخلصانہ تعاون، توجہ اور محنت سے پایہ تکمیل کو پہنچا، جس پر ہم مذکورہ سب حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اس مرکز میں علاقہ کے عوام کے لیے جامع مسجد خورشید اور فری ڈسپنسری کے علاوہ مندرجہ ذیل شعبوں کا قیام پیش نظر ہے:
- مدرسہ طیبہ برائے تحفیظ القرآن، جس میں پرائمری پاس بچوں کو حفظ قرآن کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ مڈل کا باضابطہ امتحان دلایا جائے گا۔
- شریعہ کالج، جس میں مڈل پاس طلبہ کو بی اے تک عصری تعلیم کے ساتھ موقوف علیہ تک درس نظامی کے مضامین کی تعلیم دی جائے گی۔
- اسلامک سنٹر، جس کے تحت عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے علمی، تحقیقی اور دعوتی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔
احباب سے درخواست ہے کہ اس عظیم دینی وتعلیمی منصوبہ کی تکمیل اور کامیابی کے لیے خصوصی دعا فرمائیں، اپنے مفید مشوروں اور راہ نمائی سے نوازیں اور درمے، قدمے، سخنے تعاون فرمائیں۔