ڈاکٹر یوگندر سکند کے خیالات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بھارت کے معروف دانش ور ڈاکٹر یوگندر سکند گزشتہ دنوں پاکستان آئے۔ چند روز لاہور میں قیام کیا۔ حیدر آباد اور دیگر مقامات پر بھی گئے۔ دو دن ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں قیام کیا، الشریعہ اکادمی کی ایک نشست میں سرکردہ علماے کرام اور اساتذہ وطلبہ سے بھارت کی مجموعی صورت حال، خاص طور پر مسلمانوں کے حالات پر گفتگو کی اور مختلف حضرات سے ملاقاتوں کے بعد بھارت واپس چلے گئے۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کے والد سکھ تھے اور والد ہ کا تعلق ہندو خاندان سے ہے۔ خود اپنے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں اور انسانی سوسائٹی کے لیے مذہب کے رفاہی پہلووں کے قائل ہیں، مگر خود کو کسی خا ص مذہب کے دائرے میں پابند نہیں سمجھتے، البتہ ان کے مطالعہ وتحقیق اور تحریروں کا سب سے زیادہ موضوع مسلمان ہیں اور انھوں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے، زیادہ تر اسی حوالے سے لکھا ہے۔ تبلیغی جماعت کے آغاز وارتقا اور اس کے سماجی اثرات ، ہندوستان میں بین المذاہب مکالمہ، اسلام، ذات پات اور مسلم دلت تعلقات، اور بھارت کے دینی مدارس کے عنوانات پر انھوں نے مستقل کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ ڈاکٹر یوگندر سکند نے اسلام انٹرفیتھ کے عنوان سے ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے جس پر ’’قلندر‘‘ کے نام سے ان کا ویب میگزین شائع ہوتا ہے ۔
عزیزم محمد عمار خان ناصر کا انٹر نیٹ کے ذریعے سے ڈاکٹر یوگندر سکند سے کافی عرصے سے رابطہ ہے اور ’الشریعہ‘ میں ان کی بعض تحریروں کا ترجمہ شائع ہوتا رہتا ہے۔ اسی حوالے سے وہ پاکستان آمدکے موقع پر گوجرانوالہ بھی آئے اور دو روز ہمارے مہمان رہے۔ میں نے اس دوران میں ایک نشست میں کچھ امور پر گفتگو کی جس کی روشنی میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔
یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانے میں ڈاکٹر یوگندر سکند لیفٹ کے فکری حلقے سے وابستہ ہو گئے اور انھوں نے ان کے ساتھ سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ا ن کا کہنا ہے کہ بھارت میں لیفٹ کی پارٹیاں ہمیشہ فرقہ واریت کے خلاف فعال اور متحرک رہی ہیں اور اسی کے زیر اثر انھوں نے فرقہ واریت، خاص طور پر ہندو فاشزم کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ ان کے خیالات، فکری ترجیحات اور تجزیوں میں بائیں بازو کی چھاپ صاف نمایاں ہے۔
مذہب کے بارے میں لیفٹ کے دیگر دانش وروں کی طر ح ان کا خیال ہے کہ یہ سماج کی پیداوار ہے اور اس کے صرف وہ پہلو قابل استفادہ ہیں جو انسانیت کی فلاح وبہبود سے تعلق رکھتے ہیں اور جو حقو ق العباد کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب کی ایسی تشریح نہیں ہونی چاہیے جو لوگوں کے درمیان منافرت کا باعث بنتی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی تگ ودو زیادہ تر دو پہلووں پر ہے۔ ایک یہ کہ بھارت میں مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان مفاہمت کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ مذہب کی انسانیت مخالف تشریح کا راستہ کیسے روکا جا سکتا ہے۔ بھارت کے تناظر میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان برداشت اور مفاہمت کے فروغ میں جمعیت العلماء ہند کا کردار ہمیشہ سے نمایاں چلا آ رہا ہے، جماعت اسلامی بھی اب اس رخ پر آگے بڑھ رہی ہے ، جبکہ مسلم بزرگان دین کی وہ درگاہیں اس سلسلے میں بہت نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جہاں حاضر ہونے والوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم صوفیا کا خانقاہی نظام اب خانقاہی نہیں رہا بلکہ درگاہی بن گیا ہے، لیکن مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان میل جول میں ان کا کردار بہت نمایاں ہے۔
ڈاکٹر یوگندر سکند چونکہ لیفٹ کے فکری حلقے سے متاثر ہیں، اس لیے معاشرے کی مذہبی تقسیم یا کلچر کے حوالے سے تقسیم سے زیادہ طبقاتی تقسیم پر یقین رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اصل تقسیم طبقاتی ہے، کیونکہ اعلیٰ ذات کے مسلمانوں کا طرز عمل نچلی ذاتوں کے مسلمانوں کے ساتھ وہی ہے جو ہندووں کی اعلیٰ ذات کے لوگوں کا نچلی ذاتوں کے ہندووں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہندووں میں برہمن ذات کے لوگ نچلی ذات کے ہندووں کے ساتھ رشتے ناتے نہیں کرتے، اسی طرح مسلمانوں میں مغل، سید، پٹھان اور شیخ برادریوں کے لوگ دوسری ذاتوں کے مسلمانوں کے ساتھ رشتے ناتے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طر ح اعلیٰ ذات اور طبقے کے ہندووں اور اعلیٰ ذات اور طبقے کے مسلمانوں کے سماجی مسائل ملتے جلتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس نچلی ذاتو ں کے ہندووں اور نچلی ذاتوں کے مسلمانوں کے مسائل بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا خیال ہے کہ بھارت میں ۱۵ فی صد مسلمان ہیں اور ۱۵ فیصد ہی دلت (اچھوت) ہندو ہیں۔ ان دونوں طبقوں کی مشکلات، مسائل اور پریشانیاں ایک جیسی ہیں، لیکن جس طرح برہمن ہندو مسلمانوں اور دلتوں کے درمیان میل جول اور اشتراک واتحاد میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں، اسی طرح اعلیٰ طبقے کے مسلمانوں کو بھی عام مسلمانوں اور دلتوں کا میل جول اچھا نہیں لگتا۔ بالادست طبقہ اس تفریق اور تضاد کو قائم رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس کا مفاد اسی میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلتوں یعنی نچلی ذاتوں کے ہندووں کو اب یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ ان کی پس ماندگی اور تحقیر کے اصل ذمہ دار مسلمان ہیں کیونکہ وہ بہادر لوگ تھے، انھوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا، اس لیے مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں انھیں اچھوت بنا دیا اور جان بوجھ کر پس ماندہ رکھا۔ اس طرح برہمن ہندو دلتوں کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے پوری تاریخ تبدیل کر رہا ہے۔
عالمی سطح بھی ڈاکٹر یوگندر سکند تہذیبی کشمکش اور سولائزیشن وار کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل کشمکش امیر اقوام اور غریب اقوام کے درمیان ہے۔ دولت مند اقوام وممالک ڈبلیو ٹی او اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے سے پوری دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں اور گلوبل اجارہ داری کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن دنیا کو انھوں نے اسلام اور مسیحیت کی کشمکش اور سولائزیشن وار کے تصورات میں الجھا رکھا ہے۔
مسلمانوں کے دینی مدارس کے بارے میں یوگندر کا کہنا ہے کہ ایک عرصے سے ان مدارس کے خلاف عالمی سطح پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں نائن الیون کے بعد بہت تیزی آئی ہے، اس لیے انھوں نے ایک مستقل کتاب میں اس صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور بھارت کے مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے نظام ونصاب کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کر کے یہ بات واضح کی ہے کہ بھارت میں پائے جانے والے دینی مدارس کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ ان میں دہشت گردی یا منافرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ انھوں نے اس سلسلے میں بھارت کے مسلم دینی مدارس ہی کا جائزہ لیا تھا، اس لیے اپنی کتاب میں انھی کے حوالے سے بات کی ہے اور سوسائٹی پر دینی مدارس کے مثبت اثرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
اپنے دورۂ پاکستان کے تاثرات کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ یہاں آتے ہوئے ڈر رہے تھے کہ خدا جانے انھیں کس قسم کے طرز عمل کا سامنا کرنا پڑے، لیکن پاکستان میں انھیں جس محبت اور مہمان نوازی کے ساتھ ڈیل کیا جا رہا ہے، وہ یوں سمجھ رہے ہیں جیسے اپنے ہی ملک میں ہوں اور انھیں کسی قسم کی اجنبیت کا قطعاً احساس نہیں ہو رہا، البتہ یہاں کا سسٹم اورنظام دیکھ کر انھیں افسوس ہو رہا ہے کہ اقتصادیات، تعلیم، قانون کی عمل داری اور کسی منظم سسٹم کے حوالے سے کوئی ترقی نہیں ہو رہی اور عام لوگوں کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔
ڈاکٹر یوگندر سکند جنوبی ایشیا کی نئی نسل کے دانش ور ہیں اور آج کی دنیا سے پوری طرح باخبر ہیں۔ وہ صرف حالات معلوم کر کے ان کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے، بلکہ اپنی رائے عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچا کر انھیں متاثر بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیالات اور مختلف امور پر ان کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں، مگر آج کے ان ملٹی نیشنل دانش وروں کے خیالات سے آگاہی بہت ضروری ہے، بالخصوص ان علماے کرام اور ارباب دانش کے لیے تو یہ آگاہی ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ رکھتی ہے جو آج کے گلوبل ماحول میں مسلم امہ کی راہنمائی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی درجے میں محنت اور کوشش کر رہے ہیں۔
علوم القرآن کی مختصر تاریخ و تدوین
محمد جنید شریف اشرفی
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعثت با سعادت کے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں، ان میں امت کو آیات قرآنیہ کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ان کے معانی کے بارے میں تعلیم دینا بھی شامل تھا۔ آج ہمارے پاس جس طرح قرآن صامت موجود ہے، اسی طرح قرآن ناطق یعنی آپ ﷺ کی بتلائی ہوئی تشریحات بھی اسی طرح محفوظ ہیں جس طرح آپﷺامت کو دے کر گئے تھے۔ آپ ﷺ کے بعد صحابہؓ نے اور پھر تابعین اور تبع تابعین نے قرآن مجید اور اس کی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے میں اس طرح پھیلایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ انسانی قاصر ہے۔
قرآن حکیم نے جہاں اہل عرب کو اپنے جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز کر دیا، وہاں ما فرطنا فی الکتاب شئ (الانعام /۳۸) اور ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئ و ھدی و رحمۃ و بشری للمسلمین (النحل/۸۹)کہہ کر اقوا م عالم کو علوم و معارف کے ان پوشیدہ خزانوں سے روشناس کرایا جس کے بعد کرہ ارض کی جاہل ترین قوم کا شمار مہذب ترین قوموں میں ہونے لگا اور وہ کرہ ارض کے تخت و تاج کے وارث بھی بنے۔
علوم و فنون اور معارف قرآنیہ کی نشرو اشاعت آپ ﷺ کے ارشادات مبارکہ کی بدولت ہوئی جن میں علم کے حصول اور نشرو اشاعت کو فضیلت اور برتری کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (۱) (تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا)۔ آپ ﷺکا ارشاد گرامی ہے:
’’سیکھو قرآن اور اس کو پڑھو۔ قرآن پڑھنے اور سیکھنے والے کے لیے قرآن کی مثال ایسے ہے جیسے مشک بھری ہوئی تھیلی کہ اس کی خوشبو تمام مکا ن میں پہنچتی ہے۔ اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا اور وہ اس کے سینے میں محفوظ ہے، اس تھیلی کی مانند ہے جو مشک پر باندھی گئی ہے‘‘ (۲)
آپ ﷺ کے ان ارشادات کی بدولت علمائے اسلام نے قرآن حکیم کو اپنی تحقیق کا مرکز و محور بنایا اور بہت سے علوم و فنون کی بنیادڈالی۔ قرآن حکیم اور اس سے متعلقہ علوم مثلاً اسباب نزول آیات ،جمع قرآن ، ترتیب قرآن ، علم ترجمہ ، علم تفسیر، علم الخط والرسم،علم النحو والصرف ، تلاوت وتجوید،محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ ، معرفت سور مکیہ و مدنیہ وغیرہ پر اس قدر لکھا گیا کہ کسی دوسری آسمانی کتاب پر نہیں لکھا گیا۔
آپ ﷺکے اولین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے جو خالص عرب اور اہل زبان ہونے کی وجہ سے قرآن کے اسلوب اور اس کی دلالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔ مزید یہ کہ نزول قرآن کے وقت خود صحابہ کرامؓ موجود تھے اور قرآن ان کے سامنے نازل ہو رہا تھا، لہٰذا نزول قرآن کی کیفیت، آیات کے سبب نزول اور ناسخ و منسوخ وغیرہ امور سے جس درجے میں صحابہؓ واقف تھے، بعد کا کوئی شخص ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تفسیر قرآن کے سلسلے میں نبی کریمﷺ کی احادیث کے بعد قول صحابیؓ پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔علامہ ابن تیمیہ نے لکھا ہے :
’’و حینئذ اذا لم نجد التفسیر فی القرآن ولا فی السنۃ رجعنا فی ذلک الی اقوال الصحابۃ فانھم ادری بذلک لما شاھدوہ من القران والاحوال التی اختصوا بھا ولما لھم من الفھم التام والعلم الصحیح‘‘۔ (۳)
صحیح بخاری میں حضرت ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضور ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک باغ میں تھا اور آپﷺ کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ یہودیوں کا ایک گروہ اس طرف سے گزرا۔ ان میں سے کسی نے کہا کہ آپ سے روح کے متعلق دریافت کیا جائے۔ بعض نے کہا کہ ان سے مت پوچھو۔ وہ کوئی ایسی بات فرمائیں گے جو تمھیں ناگوار گزرے گی، مگر وہ لوگ آپ کے سامنے آگئے اور کہا، اے ابو القاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے سنا اور کچھ دیر خاموش دیکھتے رہے۔ میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پس میں پیچھے ہو گیا یہاں تک کہ وحی ختم ہوئی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: یسئلونک عن الروح قل ھو امر ربی (الاسرا/۸۵) (لوگ آپ سے روح سے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے) (۴)
اس سے معلوم ہو اکہ جب آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بنفس نفیس موجود تھے اور ان سے بہتر اس آیت کے سبب نزول کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے بھی بعد میں یہ دعویٰ کیا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے:
’’عن عبداللہ قال والذی لا الہ غیرہ ما من کتاب اللہ سورۃ الا انا اعلم حیث نزلت وما من آیۃ الا انا اعلم فیم انزلت و لو اعلم احدا ھو اعلم بکتاب اللہ منی تبلغہ الابل لرکبت الیہ‘‘ (۵)
اس طرح جب بھی قرآنی آیات کو سمجھنے میں صحابہ کرام کو مشکل پیش آتی تو نبی ﷺ اس کی تبیین فرما دیتے، کیونکہ آپ پر اللہ کی طرف سے تبیین کتاب کا فریضہ عائد کیا گیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (النحل/۴۴)
مفسرین نے لتبین للناسکی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس سے مراد آپﷺ کا قرآن میں مجمل مقامات کی وضاحت اور اس میں وارد ہونے والے اشکالات کو دور کرنا ہے۔ (۶)
خلاصہ کلام یہ کہ عہد نبوی میں علوم القرآن کو نبیﷺ کے بنفس نفیس موجود ہونے کی وجہ سے تحریری صورت میں لانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور جہاں کہیں کوئی دشواری صحابہ کرام کوپیش آتی، نبی کریم ﷺ خود اس کا حل فرمادیتے۔
علوم قرآنیہ کے تدریجی ارتقا اور اس ضمن میں علمائے اسلام کی مساعی اور عرق ریزی کااگر سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں قرآن با ضابطہ طور پر جمع ہوا اور جس خط میں وہ لکھا گیا، وہ رسم عثمانی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس طرح خط کوفی ، خط نسخ ، خط ثلث، خط نستعلیق وغیرہ کی ترویج ہوئی اور کتابت نے ایک مستقل فن کی شکل اختیار کر لی (۷)۔ جب حضرت علیؓ کا دور آیا تو انہوں نے قرآن حکیم کو عجمی اثرات سے محفوظ رکھنے اور تلاوت قرآن میں سہولت کے پیش نظر ابوالاسوالدؤلی سے نحو کے قواعد مرتب کروا کر اعراب القرآن کی بنیاد ڈالی۔ اس کو ابتدائے علم اعراب قرآنی کہہ سکتے ہیں۔(۸)
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہی صحابہؓ ایک دوسرے سے معانی قرآن اور تفسیری مطالب دریافت کرتے تھے ۔ قرب رسول اور ذکاوت طبعی کے تفاوت کی بنا پر فہم قرآن میں تمام صحابہ کرام برابر نہ تھے، لہٰذا جن صحابہ کرامؓ کو معانی و معارف میں دسترس حاصل تھی، وہ دوسروں کو قرآن حکیم سمجھاتے تھے۔ ان میں خلفائے راشدین کے علاوہ عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عباسؓ، ابی بن کعبؓ ، ابو موسیٰ الاشعریؓ ، اور عبداللہ زبیرؓ شامل ہیں۔(۹)
صحابہؓ کے بعد تا بعین کا طبقہ ہے جنھوں نے مشاہیر صحابہ کرامؓ سے قرآن اور اس کے علوم و معارف کو سیکھا۔ ان میں سعید بن جبیر (م۹۵ ھ)،مجاہد بن جبر (م ۱۰۳ھ)، عکرمہ مولیٰ ابن عباس( م ۱۰۷ھ)، قتادہ بن دعامۃ السدوسی ( م۱۱۷ھ)، عبداللہ بن عامر الیحصبی (۱۱۸ھ، عطاء بن ابی مسلم خراسانی (م۱۳۵ھ) نے علم تفسیر ، علم اسباب نزول ، علم مقطوع و موصول قرآن ، علم ناسخ و منسوخ اور علم غریب قرآن کی اساس فراہم کی ۔(۱۰)
اس کے بعد علما نے باقاعدہ تفاسیر ترتیب دیں جن میں تفسیر ابن جریر طبری ، تفسیر زمخشری ، تفسیر فخرالدین رازی ، تفسیر نسفی ، تفسیر الخازن ، تفسیر ابن حیان ، تفسیر بیضاوی ، تفسیر الجلالین ،تفسیر قرطبی، تفسیر آلوسی قابل ذکر ہیں۔(۱۱)
علوم القرآن کی مختلف انواع پر مستقل تالیفات کا سلسلہ دوسری صدی ہجری میں شروع ہو چکا تھا۔ ابو عبید قاسم بن سلام (م۲۲۴ھ)نے فضائل قرآن ، ناسخ و منسوخ اور قراآت پر تالیفات رقم کیں ، علی بن مدینی ( م ۲۳۴ھ)،نے اسباب النزول پر کتاب لکھی ، ابن قتیبہ ( م ۲۷۶ھ)نے مشکل القرآن پر کتاب تالیف کی ، محمدبن خلف بن المرزبان ( م ۳۰۹) نے ’’الحاوی فی علوم القرآن ‘‘ستائیس اجزاء میں لکھی (۱۲)۔ غالباً یہ پہلی کتاب ہے جس کے عنوان میں پہلی مرتبہ علوم القرآن کی اصطلاح استعمال ہوئی لیکن اس میں علوم القرآن کی کون سی کون سی انواع تھیں، اس کے بارے میں معلومات میسر نہیں، کیونکہ یہ کتاب مفقود ہے۔ اس کا تذکرہ کتابوں ہی میں ملتا ہے ۔ابو بکر محمد بن قاسم الانباری (م۳۲۸ھ)نے ’’عجائب علوم القرآن ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا موضوع قرآن کے فضائل اور اس کا سات حروف پر نازل ہونا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں مصاحف کی کتابت اور آیات و کلمات اور سورتوں کی تعداد کا بھی ذکر ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ اسکندریہ کے مکتبہ البلادیہ میں موجود ہے (۱۳)۔ محمد بن عزیز ابو بکر سجستانی ( م۳۳۰ھ)نے ’’ غریب القران ‘‘کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب یوسف مرعشلی کی تحقیق سے بیروت سے ۱۹۸۹ میں شائع ہوئی ۔ اس دور میں احمد بن جعفر ابن المناری ( م ۳۳۶ھ)نے علوم القرآن پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ ابن الجوزی( م ۵۹۷ھ) نے ان کے متعلق لکھا ہے: ’’میں نے ابو یوسف قزوینی کی تحریر سے نقل کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ابوالحسین بن المناری جید قاریوں اور بڑے محدثین میں سے تھے۔ علوم القرآن پر ان کی ۴۰سے زائد کتب ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۲۱کتب سے تو میں واقف ہوں اور باقی کتب کے متعلق میں نے سنا ہے۔‘‘ ابن الجوزی کا کہنا ہے کہ ان کی تصنیفات میں سے ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے چند ٹکڑے میری نظر سے گزرے۔ ان میں مجھے ایسے فوائد ملے جو اس دور کی کسی دوسری کتاب میں نہیں پائے جاتے ۔(۱۴)
محمد بن علی الا دفوی ( م ۳۸۸ھ)نے ’’الاستغناء فی علوم القرآن ‘‘ تالیف کی۔ ابو بکر باقلانی ( م ۴۰۳ھ)نے ’’اعجازالقرآن‘‘کے نام سے کتاب لکھی جو کہ سید احمد صقر کی تحقیق سے ۱۹۶۴ء میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ عبدالجبار ہمدانی (م ۴۱۵ھ) نے ’’المغنی فی اعجاز القرآن‘‘ تالیف کی۔ یہ کتاب قاہرہ سے ۱۹۷۶ء میں شائع ہوئی ۔ علی بن ابراہیم ابن سعید الحوفی ( ۴۳۰ھ) نے ’’اعراب القرآن‘‘تالیف کی۔ اس کے علاوہ ’’ البرہان فی علوم القرآن‘‘ کے نام سے قرآن کی ایک تفسیر بھی لکھی جو کہ تیس جلدوں میں تھی۔ ان میں سے ۱۵ جلدیں غیر مرتب مخطوطے کی شکل میں موجود ہیں۔ دراصل یہ قرآن کی تفسیر ہے، مگر اس میں مصنف نے ابتدائے قرآن سے آخر تک ایک ایک آیت پر علوم قرآن کی روشنی میں بحث کی ہے۔ نحو ، لغت ، اعراب ، نزول ، ترتیب ، قراء ت ، معانی ،تفسیر، معقول ، غرض کوئی زاویہ تشنہ نہیں چھوڑا۔(۱۵) ابن الجوزی (م ۵۹۷ھ) نے علوم القرآن پر الحوفی کے انداز میں ’’فنون الافنان فی عجائب علوم القرآن ‘‘ لکھی۔ اس کی تحقیق ڈاکٹر حسن ضیاء الدین تمر نے کی ہے اور یہ بیروت سے ۱۹۸۷ء میں شائع ہوئی ہے۔ عبدالعزیز بن عبدالسلام ( م ۶۶۰ھ)نے’’ مجاز القرآن ‘‘تحریر کی۔ علم الدین سخاوی (م۶۴۳ھ) نے ’’جمال القراء و کمال القراء‘‘ تالیف کی۔ اس کتاب میں قراء ت کے علاوہ علوم القرآن کے دیگر مباحث کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب عبدالکریم زبیدی کی تحقیق سے بیروت سے ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی۔ ابو شامہ مقدسی کی تالیف ’’المرشد الوجیز الی علوم تتعلق بالکتاب العزیز ‘‘ہے۔ اس میں نزول قرآن اور جمع قرآن کے علاوہ قرا ء ت سے متعلق جامع اور مفصل بحث ہے ۔ طیار آلتی فولاج کی تحقیق سے ۱۹۷۵ء میں بیروت سے شائع ہوئی ہے۔ علامہ بدرالدین زرکشی ( م ۷۹۴ھ)کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے موضوع پر پہلی ایسی جامع کتاب ہے جس میں علوم القرآن کی سینتالیس انواع سے بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کی یہ خصوصیت اس کو علوم القرآن پر لکھی گئی تمام کتابوں سے ممتاز کرتی ہے۔
علامہ جلال الدین بلقینیؓ ( ۸۲۴ھ) کی کتاب ’’ مواقع العلوم من مواقع النجوم ‘‘ہے۔ اس کے چھ باب تھے جن میں علوم القرآن کی تقریباً ۱۵۰ انواع پر بحث کی گئی ہے۔ (۱۶) علامہ سیوطی نے اپنی کتاب الاتقان کے مقدمہ میں اس کتاب کاذکر کیا ہے، لیکن یہ کتاب مفقود ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی کی کتاب’’ الاتقان فی علوم القرآن‘‘ ہے۔ علامہ سیوطی نے اتقان کے علاوہ بھی علوم القرآن کی مختلف انواع پر مستقل کتب لکھی ہیں جن میں ’’تناسق الدرر فی تناسب السور‘‘، ’’لباب النقول فی اسباب النزول‘‘ ، ’’ مفہمات الاقران فی مبہما ت القرآن‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔ علامہ کی تمام تالیفات میں سے ’الاتقان‘ ایک نمایاں اور منفرد تالیف ہے۔ اس کتاب میں علامہ سیوطی نے زرکشی کی ’البرہان‘ میں مذکور انواع پر ۳۳ انواع علوم کا اضافہ کیا اور علوم القرآن کی ۸۰ ۱ نواع سے بڑی مفصل بحث کی ہے ۔ علوم القرآن کے موضوع پر اس کتاب کوایک اہم ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔اس کے بعد علوم القرآن پر جتنا بھی کام ہوا، بیشتر اس کی شرح و اختصار کے زمرے میں آتا ہے ۔
’’اعجاز القرآن ‘‘از مصطفی الرافعی ،’’ المعجزۃ الکبری ۔۔۔القرآن‘‘ از محمد ابو زہرہ ، ’’التبیان فی علوم القرآن‘‘ از طاہر الجزائری،’’ منہج الفرقان فی علوم القرآن‘‘ از محمد علی سلامہ ، ’’مناہل العرفان فی علوم القرآن‘‘ از محمد عبد العظیم زرقانی ، ’’مباحث فی علوم القرآن‘‘ از ڈاکٹر صبحی الصالح ، ’’مباحث فی علوم القران‘‘ از مناع القطان ، علوم قرآن سے متعلق موجودہ دور کی مشہور کتب ہیں۔
کرہ ارض کا وہ حصہ جو آج ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے، تاریخ میں برصغیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے اقوام عالم کی نظریں تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اس خطے پر مرکوز رہیں ۔ بالخصوص اہل عرب جن کی معیشت کا انحصار زیادہ تر تجارت پر تھا، اسلام کی آمد سے بہت پہلے اس خطے کے ساتھ تجارتی روابط قائم کر چکے تھے ۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی یہ تعلقات اسی طرح برقرا ررہے اور اس خطے میں اسلام کی ابتدائی اشاعت بھی انہیں عرب تاجروں کی بدولت ممکن ہوئی ۔ عہد خلافت راشدہ میں اسلامی سلطنت کی حدود دور دور تک پھیل گئیں اور عہد فاروقی ہی میں صحابہ کرامؓ برصغیر میں داخل ہو گئے۔
محمد بن قاسم نے جب سندھ پر حملہ کیا تو یہ وہ زمانہ تھا جب اسلامی سلطنت کی حدود ایشیا، روس ، اور اسپین تک پہنچ چکی تھیں۔ لہٰذا فطری طور پر ان علاقوں کے لوگ نہ صرف قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بلکہ انہوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے پر اپنی زندگیاں صرف کر دیں ۔ کتب اسماء الرجال میں ہمیں بہت سے سندھی مسلمانوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے تحصیل علم کی خاطر دور دراز کے سفر کیے اور سندھ میں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔عبدالر حیم دیبلی سندھی کے متعلق حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں:
’’قال العقیلی قال لی جدی قدم علینا من السند شیخ کبیر کان یحدث عن الاعمش ‘‘ (۱۷)
’’عقیلی کہتے ہیں کہ میرے دادا نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں ( بصرہ میں ) سندھ سے ایک بہت بڑے شیخ آئے جو اعمش سے حدیث کی روایت کرتے تھے ۔‘‘
سندھ کے علما کی علوم اسلامیہ میں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ الطرازی لکھتے ہیں :
’’و فی العصر العباسی نجد علماء الدیبل بالکثرۃ ومعظمھم ھاجروا الی البلاد العربیۃ والاقلیۃ بقوا فی بلاد السند وانشغلوا بنشرالعلوم الاسلامیۃ‘‘ (۱۸)
’’دور عباسی میں ہم کثرت سے ایسے علما پاتے ہیں جنہوں نے بلاد عرب کی طرف ہجرت کی اور بہت کم ایسے تھے جو سندھ میں رہے اور علوم اسلامیہ کی اشاعت میں مشغول ہوئے۔‘‘
علامہ سمعانی ؒ چوتھی صدی ہجری کے ایک ہندی عالم کی تفسیر میں دلچسپی اور اخذ روایات میں ذوق و جستجو کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ابو جعفر محمد بن ابراھیم الدیبلی (الھندی )المکی العالم المفسر یروی کتاب التفسیر عن ابی عبداللہ سعید بن عبدالرحمن المخزومی روی عنہ ابو الحسن احمد ابن فراس المکی و ابو بکر بن محمد ابراھیم بن علی ‘‘ (۱۹)
’’ابو جعفر محمد بن ابراہیم الدیبلی ہندی مکی جو عالم و مفسر تھے انہوں نے ابو عبداللہ عبدالرحمن مخزومی سے کتاب التفسیر روایت کی ہے اور ان سے ابو الحسن احمد بن ابراہیم بن فراس مکی اور ابوبکر محمد بن ابراہیم بن علی نے روایت کی ہے ۔‘‘
ڈاکٹر عبداللہ الطرازی نے سندھ اور پنجاب کی تاریخ پر مشتمل اپنی کتاب میں ایک عربی عالم ’’العراقی ‘‘(متوفی ۲۷۰ھ)کے متعلق لکھا ہے کہ ہ منصورہ کے شاندار عالم اور شاعر تھے ۔ جنہوں نے فن تفسیر میں دو شاندار کتابیں تصنیف کیں ۔ ایک ’’فی تفسیر القرآن‘‘ اور دوسری ’’ترجمۃ القرآن بالسندیہ‘‘۔(۲۰)
قاضی زاہد الحسینی اپنی کتاب ’’تذکرۃ المفرین ‘‘ میں برصغیر کے پہلے مفسر قرآن ’’الکشی ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ ’’گچھ ‘‘کے مقام پر دوسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے۔ طلب علم کے لیے ارض عرب کا سفر کیا۔ حدیث میں دو مسندیں تالیف فرمائیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی ایک تفسیر بھی لکھی جس کو ہر زمانے میں مقبولیت حاصل رہی ۔ (۲۱)
کچھ لوگوں نے ’’گچھ ‘‘ کو سمرقند کا علاقہ قرار دیا ہے، لیکن یاقوت الحموی اس کے متعلق لکھتے ہیں :
’’کس ایضا مدینۃ بارض السند مشھورۃ ذکرت فی المغازی و ممن ینسب الیھا عبد بن حمید بن نصر واسمہ عبدالحمید الکسی صاحب المسند‘‘ (۲۲)
’’کس سندھ کاایک مشہور شہر ہے جس کا ذکر مغازی میں ملتاہے اور اس شہر کی طرف عبد بن حمید بن نصر منسوب ہیں جن کا اصل نام عبدالحمید الکسی ہے جنہوں نے مسند تالیف کی ۔‘‘
جہاں تک برصغیر پاک و ہند کی مقامی زبانوں میں علوم قرآنیہ کی آبیاری کاتعلق ہے تو اس ضمن میں قاضی اطہر مبارکپوری نے اپنی کتاب’’ رجال السند و الہند ‘‘ میں عجائب الہند مصنفہ بزرگ بن شہریار کے حوالہ سے ایک روایت تفصیلاً بیان کی ہے۔
’’اکبر ملوک قشمر مھروک بن رایق (ملک الور)کتب فی سنۃ سبعین و مئتین الی صاحب المنصورۃ و ھو عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز لیسئلہ ان یفسر لہ شریعۃ الاسلام بالھندیۃ ۔۔۔وکا ن فیما حکا ہ عنہ انہ سالہ ان یفسر لہ القرآن بالھندیۃ ففسرلہ‘‘ (۲۳)
’’کشمیر کے راجہ مہروک نے ۲۷۰ھ میں منصورہ( سندھ) کے حاکم امیر عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیزکو لکھاکہ میرے لئے( ایک آدمی بھیجا جائے ) جو میرے لیے ہندی میں شریعت اسلامی کی و ضاحت کرے ۔ اس کے متعلق یہ بھی حکایت ہے کہ اس نے ہندی زبان میں قرآن مجید کی تفسیر کرنے کے لیے کہا تو اس نے کر دی ۔‘‘
خلیق احمد نظامی نے اپنی کتاب ’’حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی ‘‘میں، جمیل نقوی نے ’’اردو تفاسیر‘‘ میں، ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم شرف الدین نے ’’قرآن حکیم کے اردو تراجم ‘‘میں اور عبدالصمد صارم نے ’’تاریخ التفسیر‘‘میں مذکورہ بالا روایت سے اسی بات کو ثابت کیا ہے کہ علوم قرآنیہ کے حوالے سے برصغیر کی مقامی زبان میں لکھا جانے والا یہ اولین ترجمہ ہے ۔(۲۴)
لاہور میں قرآن و حدیث کے علوم کی اشاعت کا سہرا شیخ اسماعیل لاہوری کے سر ہے۔ تذکرہ علماء ہند میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ شیخ اسماعیل (م۴۴۸ھ)لاہوری عالم محدث اور مفسر تھے۔ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے لاہور میں علم تفسیر و حدیث کی اشاعت کی ۔(۲۵)
قاضی اطہر مبارکپوری ان کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’کان من اعاظم المحدثین و اکابر المفسرین و ھو اول من جاء بالحدیث والتفسیر الی لاہور‘‘ (۲۶)
’’یہ عظیم محدثین اور اکابر مفسرین میں سے تھے۔ یہ پہلے آدمی ہیں جو لاہور میں تفسیر و حدیث کو لائے۔‘‘
عہد تغلق میں علوم قرآنیہ کی نشرو اشاعت کے حوالے سے صاحب تفسیر ملتقط سید محمد حسن (۸۲۵ھ) کا نام، جو گیسو دراز کے لقب سے مشہور ہیں، خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے بارے میں علامہ شریف عبدالحئی فرماتے ہیں:
’’کان عالما کبیر ا ولہ مصنفات کثیرۃ منھا تفسیرالقرآن الکریم علی لسان المعرفۃ و تفسیر القرآن علی منوال الکشاف ‘‘ (۲۷)
’’یہ بہت بڑے عالم تھے جن کی تصانیف بے شمار ہیں جن میں سے ایک’’ تفسیر القرآن الکریم علی لسان المعرفۃ‘‘ اور دوسری ’’تفسیر القرآن علی منوال الکشاف‘‘ ہے ۔‘‘
اس عہد کے نامور مفسر قرآن علاء الدین بن احمد المہائمی ہیں جن کی تفسیر ’’تبصیر الرحمن و تیسیر المنان ‘‘ ہے۔ مولوی عبدالرحمن ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کی تصانیف میں سے تفسیر رحمانی بھی ہے جس کو تفسیر مہائمی بھی کہتے ہیں۔ا نہوں نے آیت مبارکہ ’الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین‘ میں بارہ کروڑ تراسی لاکھ چوالیس ہزارپانچ سو چوبیس وجوہ اعراب بیان کی ہیں۔(۲۸)
ڈاکٹر زبیر احمد رقمطراز ہیں کہ اس میں قرآنی قصص اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔۔۔نیز یہ کہ ایک آیت سے پہلے اور اس کے بعد جو آیتیں ہیں، ان میں باہمی ربط کی وضاحت بھی کی گئی ہے ۔(۲۹)
برصغیر میں علوم قرآنیہ کی فارسی اور اردو زبان میں نشرو اشاعت کا آغاز باقاعدہ طور پر بارھویں صدی ہجری میں ہوا۔ جہاں تک اردو زبان کا تعلق ہے تو اس ضمن میں جمیل نقوی اپنی کتاب ’’اردو تفاسیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’بہرحال شمالی ہند میں پہلی باقاعدہ اور معیاری اردو تفسیرنگاری کی ابتداء بارھویں صدی ہجری کے اواخر سے ہوئی ۔ شمالی ہند کی مقبول عام تفسیر شاہ مراد اللہ انصاری سنبھلی کی تفسیر ’’خدائی نعمت المعروف تفسیر مرادی ‘‘ہے (۳۰)۔شاہ مراد اللہ پہلے اردو مفسر ہیں جنھوں نے اپنی تفسیر ’’تفسیر مرادی ‘‘ میں روز مرہ زبان اختیار کی ہے۔ (۳۱)
قلی بن پادشاہ قلی (م۱۱۱۱ھ)کی کتاب ’’مجمع الفوائد ‘‘ میں ضبط الفاظ قرآنی ، اعراب قرآت مشہورہ ، ائمہ سبع اور بیان معانی و تفسیر پر مشتمل ہے اور متعلقات قرآن مجید پر اس انداز میں بحث کی گئی ہے کہ تمام ضروری باتیں سمجھ میں آجائیں۔ یہ کتاب ۱۱۱۱ہجری میں اورنگ زیب کے عہد میں تصنیف ہوئی ۔
’’انوار الفرقان و ازھار القرآن ‘‘، شیخ غلام نقشبندی لکھنوی (م۱۱۲۶ھ)کی تصنیف ہے۔ اس کے دو نسخے رام پور لائبریری میں موجو دہیں۔ اس کے مقدمے میں تفسیر کی ضرورت و اہمیت اور شان نزول پر بحث کی گئی ہے ۔
علامہ احمد بن ابی سعید الامیٹھوی المعروف بہ ملا جیون نے احکا م ا لقرآن کے موضوع پر ایک تصنیف’’ تفسیرات احمدیہ‘‘ کے عنوان سے لکھی جو کہ قرآنی احکام کے حوالے سے ایک مستند تفسیر ہے۔ اس میں قرآن حکیم سے ساڑھے چار سو آیتیں منتخب کر کے ان سے اخذ ہونے والے احکام کو شرح و بسط کے ساتھ ذکر کیا گیاہے ۔اس تفسیر کو احکام القرآن کے موضوع پر برصغیرمیں لکھی جانے والی سب سے پہلی تفسیر کا درجہ حاصل ہے۔
’’ نجوم الفرقان ‘‘، مصطفی بن محمد سعید جونپوری کی تصنیف ہے جو کہ قرآن مجید کی آیات کی تخریج کے لیے اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں لکھی گئی ۔اس کا قلمی نسخہ رام پور کی لائبریری میں موجود ہے ۔
ملاّعلی اصغر بن عبدالصمد قنوجی (م۱۱۴۰) نے اپنی تفسیر’’ ثواقب التنزیل فی انارۃ التاویل‘‘میں اعجاز القرآن سے متعلق سات مسائل پر بحث کی ہے۔ پہلا مسئلہ نزول قرآن کا ہے ،دوسرا مسئلہ جبرئیل کتنی آیات لے کر آئے ، تیسرا نزول وحی کی کیفیت ، چوتھا مکی اور مدنی آیات کے بیان میں، پانچواں ترتیب نزول ، چھٹا جمع قرآن اور ترتیب قرآن ، اور ساتواں مسئلہ ان سات حروف سے متعلق ہے جن کی بنیاد نبی اکرم ﷺ کی روایت ’انزل القرآن علی سبعۃ احرف‘ پر ہے۔ اس کے علاوہ حروف مقطعات کے متشا بہات میں سے ہونے پربڑی مدلل بحث ہے ۔
برصغیر میں علوم القرآن کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ (م۱۱۷۶ھ)کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ برصغیر میں سب سے پہلے جامع انداز میں افادہ عام کے لیے قرآنیات پر آپ ہی نے لکھا۔ (۳۲) علوم القرآن پر آپ کی کتاب’’ الفوزالکبیر فی اصول ا لتفسیر‘‘ بہت معروف کتاب ہے جس کے اردو ،عربی ، انگریزی میں بھی تراجم ہو چکے ہیں۔ علوم قرآنیہ کے حوالے سے آپکی دوسری تصنیف ’’فتح الخبیرِ ‘‘ ہے جس میں شان نزول کے حوالے سے عمدہ بحث کی گئی ہے۔’’تاویل الاحادیث ‘‘اور’’المقدمۃ السنیۃ‘‘ کے عنوان سے بھی آپ کی تصنیفات ہیں ۔ اول الذکر کتاب میں معجزات انبیا کے اسرار و رموز اور ان کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں جبکہ ثانی الذکر میں، جو کہ فارسی زبان میں ہے، ترجمہ اور تفسیر کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔
خلیق احمد نظامی نے ’’حیات شیخ عبدالحق ‘‘ اور ڈاکٹر سالم قدوائی نے ’’ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ میں ’یاد ایام‘ مصنفہ سید عبدالحئی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’میرے نزدیک ہندوستان کے ہزار سالہ دور میں حقائق نگاری میں شاہ ولی اللہ دہلوی کا کوئی نظیر نہیں۔‘‘ (۳۳)
ناصر بن حسین حسنی(م ۱۲۰۰ھ)کی تصنیف ’’الجداول النورانیہ فی استخراج آیات القرآنیہ ‘‘ تخریج آیات قرآنیہ کے سلسلے میں لکھی گئی تمام کتابوں سے خاصی مختلف ہے۔ اس کتاب میں آیت یا جزء آیت کے استخراج کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے ہے۔ کتاب کے مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف نے ایک کتاب اسی فن کی اور لکھی تھی جس میں اواخر آیات سے استخراج ہوتا تھا۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا خاندان اس اعتبار سے مسلمانانِ برصغیر کا محسن ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کا رشتہ قرآنِ پاک اور حدیث نبوی سے جوڑا ۔ آپ کے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م۱۲۲۳ھ )نے اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تدریس قرآن کا فریضہ سر انجام دیا اور تقریباًساٹھ سال تک دہلی میں درس قرآن دیتے رہے ۔
تیرہویں صدی ہجری میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیرِعزیزی کے نام سے ایک شاندار تفسیر لکھی۔ یہ ایک نامکمل تفسیر ہے جو سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کے تقریباً نصف یعنی آیت ’وعلی الذین یطیقونہ‘ تک کے حصے پر اور پھر آخر سے انتیسویں اور تیسویں پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے ۔ باقی اجزا کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ آیا شاہ صاحب نے ان کی تفسیر لکھی ہی نہیں تھی یا وہ لکھنے کے بعد ناپید ہو گئی۔ نامکمل ہونے کے باوجود اس تفسیر کے جو اجزا دستیاب ہیں، وہ علوم قرآنیہ کے بیش بہا ذخائر پر مشتمل ہیں۔ مختلف قرآنی موضوعات پر شاہ عبدالعزیز ؒ کے خیالات کوکتابی شکل میں آپ کے شاگرد شاہ رفیع الدین مراد آبادی نے مرتب کر لیا تھا جس کا نام انہو ں نے ’’الافادات العزیزیہ‘‘ رکھا۔ یہ خیالات شاہ صاحب ہی کی عبارت سے تھے جو انہوں نے شاہ رفیع الدین صاحب کو خطوط کی شکل میں لکھے تھے۔ ان میں ربط آیات، متشابہات قرآن،اسرار قصص و احکام اور لطائف نظم قرآن وغیرہ پر بحث ہے ۔
’’مقدمہ تفسیر فتح العزیز‘‘، ڈاکٹر زبید احمدنے اپنی کتاب ’’ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں‘‘ میں اس کو شاہ عبدالعزیز صاحب کی تصنیف کہا ہے، مگر شاہ صاحب کی کتابوں میں اس کا نام نہیں ملتا۔ یہ کتاب مندرجہ ذیل دس مبحثوں میں تقسیم ہے: (۱)مبحث الکلام (۲)مبحث الوحی و کیفیۃ(۳)مبحث الانزال والتنزیل(۴)مبحث التفسیر والتاویل (۵)مبحث الموضوع و شرفہ و شرف الغا نیہ (۶)مبحث نزول القرآن علی سبعۃ احرف(۷)مبحث القراءۃ المتواترۃوالمشہورۃ والشاذۃ (۸)مبحث تحریف القرآن والفرقان والمصحف والسورۃ والآیۃ (۹)مبحث فضائل القرآن (۱۰)مبحث وجہ اعجاز القرآن۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تفسیر قرآن پر ہی اکتفا نہیں فرمائی بلکہ انہوں نے سب سے پہلے برصغیر میں عوامی سطح پر درس قرآن بھی شروع کیا جس سے نہ صرف عامۃ الناس کی علوم قرآنیہ میں رغبت میں اضافہ ہوا بلکہ ان کے اعمال و کردار کی اصلاح بھی ہوئی ۔
’’نثر المرجان فی رسم نظم القرآن‘‘ شیخ محمد غوث بن ناصرالدین ارکاٹی مدراسی (م۱۲۳۸ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کے رسم الخط کی وضاحت کی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں یہ کتاب موجود ہے اور پورے قرآن کے تمام الفاظ کواس میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر لفظ کو الگ الگ کر کے دکھایا ہے کہ کس طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ’’تعداد الاسماء فی القرآن‘‘مصنفہ غلام حسین (م۱۲۴۱ھ)اکیس صفحوں پر مشتمل مختصر رسالہ ہے جس میں ان ناموں کا ذکر ہے جو قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نام انبیا کے ہیں۔’’رسالہ رسم خط کلام اللہ ‘‘ مصنفہ محمد کامل چڑیا کوٹی، اس رسالے میں قرآن مجید کے مختلف الفاظ کے رسم الخط کو واضح کیا گیا ہے ۔
’’تقریب الافھام فی آیات الاحکام ‘‘مصنفہ مفتی محمد قلی کنشوری بن محمد حسین متوفی ۱۲۶۰ھ کی کتاب ہے جو قرآنی احکام کی ایک عمدہ تفسیر ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی متوفی ۱۲۹۷ھ کی تصانیف میں علوم قرآنیہ کے حوا لے سے ’’اسرار قرآنی ‘‘ کے نام سے ایک مختصر رسالہ ہے جس میں علوم قرآنیہ کے مختلف موضوعات پر بحث کی گئی ہے ۔
’’اوضح البیان فی بیان اسامی القرآن‘‘ ، سید ابو تراب جعفری ( م۱۲۷۸ھ) کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کے ان تمام ناموں کی توجیہات بیان کی گئی ہیں جن کا ذکر امام رازی اور سیوطی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں کیا ہے۔ ’’السبع المثانی‘‘ ، سید محمد بن دالدار علی لکھنوی (۱۲۸۴ھ)کی تصنیف ہے جو کہ شیعہ عالم ہیں۔ انہوں نے یہ رسالہ قرا ء ۃ و تجوید سے متعلق لکھا ہے اور اس فن کی ضروری باتوں کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس میں پچیس ورق ہیں ۔عبدالکریم ٹونکی کا رسالہ ’’سبیل الرسوخ فی علم الناسخ والمنسوخ ‘‘ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ترتیب نزول سور کی تفصیل ہے ، دوسرے باب میں اقسام سور بہ اعتبار ناسخ و منسوخ کا بیان ہے ، تیسرے میں احکام نسخ ، اس کی قسمیں اور آیات ناسخہ و منسوخہ کا ذکر ہے ، چوتھے باب میں آیات مخصوصہ کا ذکر ہے جن سے خاص خاص احکام مستنبط ہوتے ہیں ۔ ’’آیات الاعجاز‘‘، مولانا عبدالرشید کشمیری (م ۱۲۹۸ھ) کی تصنیف ہے جو کہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل حد الاعجاز و وجوہہ پر ہے، دوسری فصل فی ما نزل من القرآن علی لسان بعض الصحابۃ، تیسری فصل فی قدر المعجزمن القرآن پر مشتمل ہے ۔
چودھویں صدی ہجری میں علامہ صدیق حسن بھوپالی متوفی۱۳۰۷ ھ کی کتابیں علوم القرآن کے حوالے سے مشہور ہیں جن میں ’’افادۃ الشیوخ بمقدارالناسخ والمنسوخ‘‘ اور ’’الاکسیر فی اصول التفسیر ‘‘ شامل ہیں۔
’’مرآۃ التفسیر‘‘،ذوالفقار احمد نقوی بھوپالی (م ۱۳۱۶ھ) کی تصنیف ہے۔ اس رسالے میں مصنف نے تفسیر اور متعلقات تفسیر کا ذکر کیا ہے ۔ یہ ایک قسم کا انڈیکس ہے جس سے مفسرین اور علم تفسیر پر جو کچھ بھی کام ہوا ہے، اس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ۔
’’الفاظ القرآن مسمی بہ نجوم الفرقان جدید لتخریج آیات القرآن‘‘ مولانا اہل اللہ فقیراللہ (م۱۳۳۱ھ ) کی تصنیف ہے۔ یہ قرآن کریم کے الفاظ کی فہرست ہے جس کی مدد سے کسی بھی آیت کو آسانی کے ساتھ تلاش کیا جا سکتا ہے ۔’’ملخص التفاسیر ‘‘سید محمد ہارون زنگی پوری ( م۱۳۳۷ھ) کی تصنیف ہے جو کہ مختلف ابواب میں منقسم ہے۔ ان ابواب کو مقدمہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔
’’مفردات القرآن ‘‘ مولانا حمید الدین الفراہی ؒ (م۱۳۴۹ھ) کی تصنیف ہے۔ اس میں مصنف نے اہم قرآنی الفاظ کے معانی بیان کیے اور ان کا صحیح مفہوم واضح کیا ہے ۔ یہ بھی بیان کیا ہے کہ قرآن مجید غریب الفاظ سے خالی، ضبط و نظم میں لاثانی، اور عربوں کے خطبوں اور ان کے اشعار و محاورات سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔ علامہ حمید الدین فراہی ؒ متوفیٰ ۱۳۴۹ ھ نے علوم القرآن کی مختلف انواع پر کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں اسالیب القرآن ، اقسام القرآن، امعان فی اقسام القرآن ، تفسیر نظام القرآن ، التکمیل فی اصول التاویل ، دلائل النظام ، مفردات القرآن وغیرہ آپکی گراں قدر تالیفات ہیں۔
’’کنز المتشابہات ‘‘ کے مصنف حافظ محمد محبوب علی ہیں یہ کتاب دائرۃ المعارف سے ۱۳۴۱ ھ میں شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے ایسی آیتوں کو جمع کیا ہے جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ اس کتاب کے شروع میں انہوں نے ایک مقدمہ لکھا ہے جو عربی اور اردو دونوں ہی زبانوں میں ہے ۔یہ کتاب حفاظ کے لیے بہت مفید ہے ۔
’’مشکلات القرآن ‘‘مولانا محمد انور شاہ کشمیری ؒ (۱۳۵۲ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں ان آیا ت کی توضیح کی گئی ہے جن کو مشکل تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ توضیحات بیشتر عربی میں اور چند جگہوں پر فارسی میں ہیں ۔ کتاب کے شروع میں تفصیلی مقدمہ مولانا محمد یوسف بنوری کا ہے جس میں انہوں نے مصنف کے حالات زندگی لکھے ہیں ۔ نیز تفسیر کے ضروری قواعد و ضوابط ، اہل حق اور اہل باطل کی تفسیروں کا فرق اور اسی قسم کی بہت سی اہم باتوں کو بیان کیا ہے ۔
’’وجوہ المثانی مع توجید الکلمات والمعانی ‘‘ مولانااشرف علی تھانوی (م۱۳۶۲ھ)کی تصنیف ہے۔ اس میں قرآن مجید کی سات قراء توں کا بیان ہے اور قرآت کے تمام اختلافات کو بیان کیا گیا ہے ۔ آخر میں اس فن سے متعلق کچھ اصول بھی بیان کر دیے ہیں ۔ اسی طر ح ’’سبق الغایات فی نسق الآیات ‘‘بھی مولانا تھانوی کی تصنیف ہے۔ یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جس میں آیات قرآنی کا ربط اور مطالب اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ سورتوں کا خلاصہ اور شان نزول بھی لکھ دیا گیا ہے ۔ ’اشرف السوانح‘ میں علوم قرآنیہ پر آپ کی تصانیف کی تعداد پچیس بیان کی گئی ہے جن میں ’’ تنشیط الطبع ‘‘، ’’وجوہ المثانی‘‘ ،’’ تجوید القرآن ‘‘، ’’جمال القرآن‘‘ ،’’ یادگار حق القرآن ‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔
جہاں تک تجوید و قرآت کا تعلق ہے، اس ضمن میں برصغیر میں کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں’’شرح سبعہ‘‘ شیخ القراء مولانا قاری ابو محمد محی الاسلام ؒ کی تصنیف ہے۔ اس میں قراء سبعہ اور ان کے رواۃ کے مختصر حالات نہایت دلچسپ پیرایے میں درج ہیں۔ اس کے بعد قرا ء ا ت سبعہ کے اصولی اور فرعی مسائل نہایت تحقیق کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ’’افضل الدرر‘‘ علامہ شاطبی کے قصیدہ رائیۃ کی نہایت نفیس اور محققانہ شرح ہے جو کہ قاری عبدالرحمن ابن محمد بشیر خاں صاحب مکی ثم الہ آبادی کی تصنیف ہے ۔ مولانا قاری ضیاء الدین صاحب ؒ الہ آبادی کی کتاب’’ خلاصۃ البیان ‘‘(عربی ) اور ’’ضیاء القراء ت‘‘(اردو) عمدہ کتابیں ہیں۔ مولانا قاری عبدالوحید صاحب الہ آبادی کی ’’ہدیۃ الوحید ‘‘ اور مولانا قاری عبدالخالق صاحب علی گڑھی کی ’’تیسیر التجوید‘‘ بھی ایک عمدہ اضافہ ہیں۔’’توضیح العشرفی طیبۃ النشر‘‘ اردو زبان میں مختصر، جامع اور محققانہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ’’المعانی الجلیلہ شرح عقیلہ ‘‘رائیہ کی شرح ہے۔ یہ دونوں کتابیں مولانا حافظ قاری عبداللہ صاحب گنگوہی ثم مرادآبادی کی تصنیف ہیں ۔قاری فتح محمد صاحب پانی پتی کی کتاب ’’عنایات رحمانی ‘‘قصیدہ شاطبیہ کی اردو شرح، ’’اسہل الموارد‘‘ قصیدہ رائیہ کی شرح ، اور’’ کاشف العسر‘‘ شرح ناظمۃ الزہر عمدہ کتابیں ہیں۔ ’’تیسیر الطبع فی اجراء لسبع‘‘( اردو) ، ’’مفید الاطفال ‘‘، اور تحفۃ الاطفال کی شرح اور اردو میں ’’مفید الاقوال‘‘ یہ تینوں کتابیں قاری محمد حسین صاحب مالیگانوی کی تصنیف ہیں۔
’’کاشف الابہام‘‘ ، یہ حمزہ اور ہشام کی ان وقفی وجوہ میں ہے جو کلمات مہموز میں بوقت وقف پیدا ہوتی ہیں ۔ ’’ضیاء البرہان فی الجواب علی خط القرآن‘‘قرآن کے رسم قیاسی پر ایک مدلل رسالہ ہے ۔ یہ دونوں کتابیں مولانا قاری ابن ضیاء محب الدین احمد صاحب الہ آبادی کی تصنیف کردہ ہیں ۔’’ احیاء المعانی‘‘ کے نام سے علم قراء ت میں ایک نہایت جامع اور مفید ترین کتاب حضرت مولانا حافظ قاری ظہیر الدین صاحب معروفی اعظمی کی تالیف ہے ۔
سر سید احمد خان ، علامہ اسلم جیراجپوری ، علامہ تمنا عمادی ، عبداللطیف رحمانی وغیرہ نے علمائے جمہور سے اختلاف کرتے ہوئے جمع و تدوین قرآن ، ناسخ و منسوخ آیات جیسے اہم قرآنی موضوعات پر جداگانہ افکار و نظریات پیش کیے۔ علامہ اسلم جیراجپوری کی ’’تاریخ القرآن ‘‘ ، ’’ارض القرآن ‘‘ اور ’’نکات القرآن‘‘ جبکہ علامہ تمنا عمادی کی’’ جمع القرآن ‘‘ اور ’’اعجاز القرآن و اختلاف قراء ات ‘‘اس موضوع پر نئی فکر کی عکا سی کرنے والی اہم کتب ہیں۔
ماضی قریب میں مولانا شمس الحق افغانی ، مولانا مالک کاندھلوی، قاضی مظہر الدین بلگرامی ،مولانا گوہر رحمن ،مولانا تقی عثمانی،مولانامفتی عبدالشکور ترمذی،مولانا عبدالشکور لکھنوی نے علوم قرآنیہ کے سلسلے میں انتہائی گراں قدر خدمات سر انجام دیتے ہوئے اس موضوع پر کتابیں تصنیف فرما کر اردو زبان میں علوم القرآ ن پر جامع کتب کے خلا کو پر کیا ہے۔
علمائے برصغیر کے تعارف اور خدمات کے باب میں نزھۃالخواطر، حدائق الحنفیۃ ، ماثر الکرام ، الثقا فۃ الاسلامیہ فی الہند،تذکرہ علمائے ہند ،علماء ہند کا شاندار ماضی ،تذکرہ مشائخ دیو بند،تذکرہ علماء پنجاب،تاریخ المفسرین،تذکرہ قاریان ہند ،ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں، وغیرہ گراں قدر تالیفات موجود ہیں جن سے علماء پاک و ہند کی وہ علمی بصیرت و حکمت آشکارا ہو تی ہے جس کا اعتراف عرب کی علمی دنیا بھی ہر دور میں کرتی چلی آ رہی ہے۔
حوالہ جات
(۱) صحیح البخاری ، کتاب فضائل القرآن ، باب خیرکم من تعلم القرآن
(۲) خطیب تبریزی، مشکوۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن
(۳) ابن تیمیہ، مقدمہ فی اصول التفسیر، ۳۰، مکتبہ العلمیۃ
(۴) بخاری، کتاب الاعتصام،
(۵) صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ
(۶)ابو حیان اندلسی ، البحر المحیط، ج:۶،ص:۵۳۴، بیروت ، ۱۹۹۲، آلوسی ، روح المعانی ،ج:۸،ص:۲۲، بیروت ۱۹۹۷
(۷)صالحہ عبدالحکیم ، قرآن حکیم کے اردو تراجم، ص۵۴، قدیمی کتب خانہ، کراچی
(۸)الزرقانی، مناھل العرفان فی علوم القرآن، ج:۱، ص:۲۸
(۹)قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص:۵۵
(۱۰)ابن ندیم ، الفہرست، ص:۵۱تا ۵۷، مصر ۱۳۴۸
(۱۱)قرآن حکیم کے اردو تراجم،ص:۵۶
(۱۲)الداؤدی ، طبقات المفسرین، ج:۱،ص:۱۴۱، تحقیق علی محمد عمر ، مصر۱۹۷۶
(۱۳)صبحی صالح ، مباحث فی علوم القرآن ، ص:۱۲۲،بیروت ۱۹۶۸
(۱۴)ابن الجوزی ، کتاب المنتظم ، ج:۶،ص:۳۸۸،حیدر آباد دکن۱۳۵۷ھ
(۱۵)قرآن حکیم کے اردو تراجم، ص: ۵۷، مناھل العرفان ،ج:۱،ص:۲۸
(۱۶)مباحث فی علوم القرآن ۱۷۶
(۱۷)ابن حجر ، لسان المیزان،ج:۴، ص:۵
(۱۸)عبداللہ الطرازی ،موسوعۃ التاریخ الاسلامی والخصارۃ الاسلامیۃ لبلادالسند والبنجاب فی العھد العرب،ج:۱،ص:۴۶۹
(۱۹)سمعانی،الانساب ،ج:۵،ص:۵۴۰
(۲۰)عبداللہ الطرازی ،موسوعۃ التاریخ الاسلامی والخصارۃ الاسلامیۃ لبلادالسند والبنجاب فی العھد العرب،ج:۱،ص:۴۶۹
(۲۱)تذکرۃ المفسرین،ص:۵۴
(۲۲)معجم البلدان، ج:۴،ص:۴۶۰
(۲۳)رجال السند والھند :ص۲۵۴، عرب وہند کے تعلقات، ص:۲۱۵
(۲۴)حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی ، ص: ۳۴، جمیل نقوی ، اردو تفاسیر ص:۲۲، عبدالصمد صارم ،تاریخ تفسیر ،ص:۴
(۲۵)مولوی رحمان ،تذکرۃ علماء ہند ، ص:۱۱۱، حدائق حنفیہ ص:۱۹۴
(۲۶)قاضی اطھر مبارکپوری ، رجال السند والھند ص۷۹
(۲۷)نزہۃ الخواطر ، ج:۳،ص۱۶۳
(۲۸)تذکرہ علماء ہند، ص۳۵، حدائق حنفیۃ ،ص:۳۱۷
(۲۹)عربی ادبیات میں پاک و ہند کا حصہ، ص:۴۵۵
(۳۰)اردو تفاسیر ، ص ۲۵
(۳۱)المرجع السابق
(۳۲)زاہد الحسینی ، تذکرۃ المفسرین ، ص:۱۷۰
(۳۳)حیات شیخ عبدالحق دہلوی، ص:۳۵،ہندوستانی مفسرین اور انکی عربی تفسیریں، ص:۳۷
بعثتِ نبوی ﷺ کے عصری مکاشفے
پروفیسر میاں انعام الرحمن
کم ہی لوگوں کو اس بات سے اختلاف ہو گا کہ اسلام کے ظہور کی صدی تاریخی ادوار کی تقسیم کے لحاظ سے زرعی دور میں شامل کی جا سکتی ہے۔ یہ ساتویں صدی کے بہت عرصہ بعد ہوا کہ صنعتی انقلاب جیسے طاقتور خارجی مظہر سے نوعِ انسانی کا واسطہ پڑا۔ اس انقلاب نے جہاں معاشی اعتبار سے ترقی کا راستہ ہموار کیا، وہاں انسانی زندگی کی ان قدروں کو بھی اتھل پتھل کر دیا جن کی بنیادیں زرعی دور کے انسانی رویوں میں پوشیدہ تھیں۔ اقدار کی تبدیلی سے طرزِ زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور پھر نئے طرزِ زندگی نے انسانی رویوں کی ایک ایسی صورت کو جنم دیا جس سے آج ہمارا اپنا عہد (اکیسویں صدی ) نبردآزما ہے۔ قرآن مجید کو ناسخِ کتب الٰہیہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی خاتم تسلیم کرتے ہوئے اگر ہم کتاب و سنت سے اس سلسلے میں راہنمائی لینے کی کوشش کریں تو یہ بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ بعثتِ نبوی ﷺ کے لیے خدائے ذوالجلال نے انسانی تاریخ کے زرعی دور اور خطہ عرب کو کیوں منتخب کیا؟ خدا غیب کا علم رکھنے والا ہے، مستقبل اس کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں۔ آخر تاریخ کے زرعی دور میں ایسی کیا بنیادی خصوصیت ہے کہ ربِ کائنات نے آخری نبی مبعوث کرنے کے لیے صنعتی و اطلاعاتی انقلاب کے ادوار پر اسے ترجیح دی؟ نبی خاتم ﷺ کی بعثت اٹھارہویں یا اکیسویں صدی کے بجائے آخر ساتویں صدی میں اور خطہ عرب ہی میں کیوں ہوئی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ آج نوعِ انسانی جن مسائل کے سامنے مضطرب اور حیران و پریشان کھڑی ہے، ان کے دیرپا اور جامع و سنجیدہ حل کی اساس ، مذکورہ سوالات کے جوابات میں پوشیدہ ہے ۔
جہاں تک زرعی دور کا تعلق ہے، اس کی ایک خصوصیت، زمین سے وابستگی اور آسمان سے شکستگی میں پنہاں ہے ۔ اس دور کا انسان کسی زرخیز خطہ زمین سے اپنے تعلق کی مضبوطی کا خواہاں رہتا تھا۔ آسمان سے شکستگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے ایسی دیو مالا تخلیق کر ڈالی جس میں اپنی کمزوری اور آسمان کی قدرت کا فراخدلانہ اعتراف تھا ۔ دیو مالائی مظاہر کی انواع سے قطع نظر ، زرعی معاشروں کی مجموعی نفسیات آج بھی اسی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔ بہر حال! زمین سے وابستگی کے آفاقی مظہر نے طرزِ معاشرت میں خاندان سے پیوستگی کو لائف سٹائل کی بنیادی قدر کے طور پر ابھارا ۔ خاندانی اقدار کی پیروی کیے بغیر کسی فرد کے لیے بھی خوشگوار بقا کا تصور محال تھا۔ کھیتوں میں محنت و مشقت کرتے پسینے میں شرابور ماں، باپ، بیٹے، بیٹیاں ، خاندان کی معاشی طاقت کی علامت سمجھے جاتے اور معاشرتی بود و باش میں خاندان کے اعلیٰ سماجی رتبے کا سبب بھی بنتے۔ یوں خاندان کی یکجائی زرعی دور کے طرزِ زندگی کا نمایاں وصف بنتی چلی گئی ۔ معاشی تگ و دو کے لیے کسی اور آپشن کی عدم موجودگی یا کمی کے باعث اولاد کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ایسے طرزِ زندگی کی بابت سوچ بھی سکے جو والدین سے جدائی ، دوری اور معاشی خود کفالت جیسی اقدار پر مبنی ہو۔ لہٰذا یہ خاندانی نظام انتہاپسندانہ رجحانات رکھتا تھا اور اس میں باپ کی حیثیت ڈکٹیٹر کی سی تھی۔ خطہ عرب میں صورتِ حال قدرے مختلف تھی۔ یہاں کی صحرائی آب وہوا نے اپنے باشندوں کی زندگی میں زراعت کے ساتھ ساتھ ایک اہم ذریعہ معاش کے طور پر تجارت کو بھی داخل کر دیا تھی ۔ زراعت و تجارت کے امتزاج نے عرب معاشرت میں خاندانی نظام کو اس طرح پنپنے کا موقع نہیں دیا کہ باپ ڈکٹیٹر بن سکے ، اگرچہ زرعی عنصر نے اپنی فطری طاقت کے باعث خاندان کو ہی طرزِ زندگی کی بنیادی قدر قرار دلوایا۔ غالباً اسی معتدل و میانہ رو خاندانی نظام سے پھوٹنی والی معاشرتی نفسیات نے صحابہ کرامؓ کے لیے شاید آسانی پیدا کی کہ وہ خاندان سے بغاوت کر کے دینِ اسلام قبول کریں اور اپنے بھائی بندوں اور خاندان کے مقابل کھڑے ہوسکیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں انتہاپسندانہ خاندانی نظام نے مقامی باشندوں کے قبولِ اسلام کی راہ میں معاشرتی و نفسیاتی رکاوٹیں کھڑی کیں۔شاید اسی لیے اس علاقے کی اکثریت ابھی تک مشرف بہ اسلام نہیں ہو سکی۔ مسلمانوں کے ہاں، بالخصوص برِ صغیر میں، حالیہ جمود کی ایک بڑی وجہ بھی خاندانی نظام کے تحفظ اور بقا کے نام پر بے لچک ’والدینی‘ رویہ ہے ، جس نے فکرِ نو کی تمام راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔ بہر حال ! خدائے ذوالجلال نے بعثتِ نبی خاتم ﷺ کے لیے جہاں زرعی دور کا انتخاب کیا، وہاں زمین کا بھی ایک ایسا ٹکڑا چنا جس میں زرخیزی کی قدرتی کمی کے باعث، ارضی وابستگی کی وہ انتہاپسندانہ روش نہیں پنپ سکتی تھی جو آسمان سے شکستگی پر ختم ہوتی تھی۔ مذکورہ الٰہیاتی حکمت کے مطابق خاتم النبیےین محمد مصطفی ﷺ نے ہجرت کا نہایت معنی خیز سفر اختیار کیا۔ ہجرت کے عمل نے جہاں واقعاتی حوالے سے زمین اور خاندان سے نسبت کی اس منفی رمق کا بھی قلع قمع کر دیا جو اسلام قبول کرنے والوں کے اذہان کے کونوں کدروں میں کہیں چھپی بیٹھی تھی، وہاں فکری لحاظ سے ایک نئے معاشرتی رویے کی بنیاد بھی رکھی کہ زمین اور خاندان سے وابستگی، انسانی زندگی کا محور نہیں ہے۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ بعثتِ نبی خاتم ﷺ کے لیے تاریخ کے زرعی دور اور خطہ عرب کا انتخاب اپنے اندر یہ الہٰیاتی پیغام رکھتا ہے کہ انسانی زندگی کی معاشرتی بود و باش میں ( غیر ارضی اساس کے ساتھ) متوازن خاندانی نظام ، شجرِ سایہ دار کی مانند ہمیشہ موجود رہے۔
چونکہ قرآن مجید نے رسالت مآب ﷺ کو رحمت للمسلمین کے بجائے رحمت للعالمین ﷺ کی انتہائی جامع صفت سے موصوف کیا ہے، اس لیے اسی صفت کی واقعاتی و مکانی تصریح کی خاطر آپ کی بعثت ایک ایسے علاقے میں کی گئی جو اسلام کی عالمگیریت میں نہ صرف رکاوٹ نہ بن سکے بلکہ اسلامی عالمگیریت کے پھیلاؤ کے چند ناگزیر تقاضوں کی طرف واضح اشارہ بھی کر سکے۔ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ اسلام کے ظہور کے وقت خطہ عرب کی کوئی نمایاں سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ یہاں بت پرستوں کی اکثریت تھی، لیکن یہودی اور عیسائی وغیرہ بھی آباد تھے ۔ روم اور ایران اس دور کی سپر پاورز تھیں۔ رومی، عیسائی تھے اور اہلِ فارس، مجوسی و آتش پرست تھے ۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ اسلام کا ظہور اگر ایران یا روم میں سے کسی ایک خطے میں ہوتا تو دوسرا خطہ اسلام کو سیاسی حریف کے طور پر لیتا اور اسلام کی دعوت ایک خطے تک ہی محدود رہتی ۔ اگر اسلام اپنی داخلی خصوصیات کے بل بوتے پر دوسرے خطے میں سرایت کر بھی جاتا تو بھی اس خطے کے لوگوں کی نفسیات میں یہ تحفظات لازماً موجود رہتے کہ اسلام کی علاقائی توسیع کے پیچھے سامراجی عزائم کارفرما ہیں۔ اس کے بعد اس خطے کی لوک داستانوں میں اسلام کو حملہ آور اور مخالف فریق کے طور پر بیان کیا جاتا، جبکہ دوسری طرف جس خطے میں اسلام کا ظہور ہوا ہوتا، اس خطے کی سلطنت مذہبی تقدس کا لبادہ اوڑھ کر نہ صرف اپنے لوگوں کا جینا حرام کر دیتی بلکہ ساری دنیا کی نا م نہاد اصلاح کا بیڑہ اٹھا کر اقوام عالم کو اپنی چیرہ دستیوں اور ریشہ دوانیوں سے تباہ حال کر دیتی ( جیسا کہ آج کل امریکہ ، انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر پوری دنیا میں فساد برپا کیے ہوئے ہے) مدینے کے یہودیوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی صورت میں اسلام کی حیثیت نسلی مذہب کی سی ہوتی۔ اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ رب العالمین نے رحمت للعالمین ﷺ کو کسی خاص حکمت کے تحت ہی خطہ عرب میں مبعوث فرمایا ۔ اس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اسلام اپنے ظہور کے فوراً بعد اہلِ کتاب کے بجائے بت پرستوں کے مقابلے میں ’’ فریق ‘‘ کے طور پر سامنے آتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد یہو د و نصاریٰ کے ساتھ اس کا ’’ تقابل و موازنہ ‘‘ شروع ہو جاتا ہے ۔ اب اگر اسلام کی ان دو حیثیتوں کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ اسلام ’ فریق ‘ ہے اور اسلام کا ’ تقابل و موازنہ ‘ کیا جارہا ہے تو ہر دو کی بابت اسلام کا داخلی جواب کافی چونکا دینے والا معلوم ہوتا ہے۔ یہ جواب ’’ اقرا ‘‘ سے شروع ہوتا ہے ۔ جوں جوں اس جواب کی تفصیلات عرش سے نازل ہوتی رہیں ، توں توں اس وقت کی مسلم سوسائٹی میں ایک رویے کی آبیاری بھی ہوتی رہی۔ اس لیے جب نزولِ وحی کا سلسلہ ختم ہوا، اس وقت تک مسلم سوسائٹی کے بدن میں ایک خاص سماجی رویہ خون کی طرح سرایت کر چکا تھا ۔
اب مذکورہ نکات کے ایک پہلو پر ذرا گہری نظر ڈالیے کہ اسلام کا ظہور ایسے خطے میں ہوا جہاں وہ نہ صرف ’فریق‘ بنا بلکہ اس نے تقابل و موازنے کی راہ بھی ہموار کی ۔ روم و ایران میں سے کسی ایک خطے میں اسلام کے ظہور کی صورت میں اسلام صرف ’فریق‘ کے طور پر سامنے آتا اور اس کے لیے تقابل و موازنے کی علمی روایت قائم کرنا قطعی طور پر نا ممکن ہوتا۔ جو بھی نام نہاد علمی روایت قائم ہوتی، اس کی بنیادوں میں الزام تراشی، قومی عصبیت اور دوسروں پر لعن طعن جیسی خصوصیات لازماً شامل ہوتیں ۔ اور اگر اسلام کا ظہور کسی ایسے خطے میں ہوتا جہاں یہ کسی بھی قوم یا فکر کا فریق بن کر سامنے نہ آتا تو پھر اسلام، محرف عیسائیت کی مانند محض چند اخلاقی تعلیمات کا عنوان ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطہ عرب میں اس وقت کی واقعاتی صورتِ حال اس امتزاج کو مہمیز دینے والی تھی جو اسلام کو مطلوب و مقصود تھا ۔ یہ امتزاج ’’ مجادلہ اور مکالمہ ‘‘ جیسی خصوصیات سے عبارت تھا اور اس کا محور ’’ اقرا ‘‘ یعنی علم تھا ۔ یوں خطہ عرب میں ، ایک خاص زمانے میں، اسلام کے ظہور کی صورت میں ایک ایسی علمی روایت کی بنیاداستوار ہوئی جو امتزاجی خصوصیات سے مالا مال تھی۔ بت پرستوں کے مقابل میں ’اقرا‘ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ان کے جہل کا حریف ایک ’ فریق ‘ ہے۔ یہ اقرا اسی طرح اپنی لفظی حیثیت سے ماورا ہوتے ہوئے ، اہلِ کتاب کی تحریفات کو رد کر کے ، تقابل و موازنے کی خالص علمی روایت کی بنیادیں استوار کرتا ہے ۔ اقرا بت پرستوں سے مجادلہ و محاکمہ کرتا ہے اور اہلِ کتاب سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہی اقرا بدر و احد میں تلوار سونت کر میدان میں آ جاتا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ جہاد بذاتِ خود مقصود نہیں، بلکہ حقیقت میں ایک ذریعہ ہے جسے ’ اقرا ‘ کی روشنی میں ہی اختیار کیا جاتا ہے ۔ یوں اقرا کبھی مجادلہ کی راہ دکھاتا ہے، کبھی محاکمہ کا طرز اپنانے کا درس دیتا ہے، اور کبھی مکالمہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، وعلیٰ ہذا القیاس ۔
اسلام کے ظہور میں ’زمانی انتخاب ‘میں کیا حکمت پوشیدہ تھی ؟ اس حکمت کے بعض عظیم پہلو اور مظاہر ، اسماء الرجال اور علم حدیث میں موجود ’’علمی اپروچ ‘‘میں تلاش کیے جا سکتے ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ مسلم معاشرے کے اجتماعی ضمیرنے خاص سماجی رویے سے شہ پا کر قرونِ اولیٰ میں ہی ، مذکورہ بالا علمی روایت کی تطبیق میں ایک ایسے علم کی بنیاد رکھی جس کے دو بڑے ستون ’حافظہ‘ اور ’تحقیق‘ تھے ۔ ان دونوں ستونوں کے پیچھے نبی خاتم ﷺ کے مبارک زمانے میں تشکیل پانے والا سماجی رویہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا ، کیونکہ ایک خاص سماجی رویے کے بغیر ، محض آلاتِ کار کے بل بوتے پر کسی ٹھوس علمی روایت کی بنیادیں استوار ہی نہیں کی جا سکتیں۔ بہرحال حافظہ انسان کی داخلی خوبی ہے اور تحقیق کا تعلق خارجی مظاہر کی بابت انسانی رویے میں پوشیدہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تحقیقی انسانی رویہ، انسان کی داخلی خوبی یعنی حافظہ پر ہی انحصار کرتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ جس انسان کا حافظہ ہی نہ ہو ، کیا وہ تحقیقی کام کر سکتا ہے، بالخصوص ایسے دور میں جب حافظے کے متبادل ذرائع مثلاً پرنٹنگ پریس، سی ڈی وغیرہ بھی موجود نہ ہوں؟اس طرح معلوم ہو تا ہے کہ ربِ کائنات نے زمان کی وسعتوں میں سے ایک خاص زمانے کا انتخاب شاید اس لیے کیا کہ انسانی دنیا میں’’حافظہ و تحقیق پر مبنی علمی روایت‘‘ کی بنیاد جڑ پکڑ سکے۔ اگر نبی خاتم ﷺ کی بعثت ساتویں صدی کے بجائے بعد کی صدیوں میں ہوئی ہوتی تو حافظے کے متبادل ذرائع کی ایجادات کے باعث ایسی علمی روایت پروان نہیں چڑھ سکتی تھی جو ایک طرف انسان کی داخلی خوبی کی مرہونِ منت ہوتی اور دوسری طرف اس خوبی کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کو اپنا شعار قرار دیتی۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ قبل از اسلام کے عربی ادب میں شاعری پربہت زیادہ زور تھا ، جبکہ بعد از اسلام کے عربی ادب میں علم حدیث کے طفیل ہی صنف نثر کو پذیرائی ملی۔ اہل علم جانتے ہیں کہ شاعری ، تحقیقی صنف نہیں ہے بلکہ عقل و منطق کے اسالیب اور تحقیقی رویے نثر میں ہی پنپ سکتے ہیں۔ ( اقبال کی شاعری کو اقبالی فکر کا محور سمجھنے والے بھی اس نکتے کو پیشِ نظر رکھیں) صنفِ شاعری میں البتہ یہ خوبی ضرور موجود ہے کہ یہ انسانی حافظے سے خاص لگاؤ رکھتی ہے۔ دیوان کے دیوان لوگوں کو ازبر ہوتے ہیں ۔ صنفِ شاعری کی یہی خاصیت انسانی حافظے کو تقویت پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ اللہ رب العزت نے انسانی حافظے کی حفاظت کا اہتمام شاعری کے بجائے ’’ حفظِ قرآن ‘‘ کی روایت سے فرمایا اور اسی روایت کو علمی اسلوب عطا کرتے ہوئے علم حدیث کے لیے کشادہ راہ ہموار کر دی۔ حفظِ قرآن، بنفسہ علمی رویہ نہیں ہے لیکن یہ ایک عظیم علمی رویے کی اساس ضرور بنتا ہے ۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ قرآنی متن کا فہم شانِ نزول کی تفہیم سے مشروط نہیں ہے، لیکن اس کے بر عکس کسی حدیثِ رسول ﷺ کے متن کے فہم میں ، اس کے سیاق و سباق سے آگاہی کافی اہم اور ناگزیر ہو جاتی ہے ۔
اس بحث کا ایک قابلِ اعتنا پہلو یہ ہے کہ ربِ کائنات نے نبی خاتم ﷺ کی بعثت کے لیے جہاں ایک خاص زمانے کو باقی ادوار پر اور ایک خاص خطے کو دیگر خطوں پر ترجیح دی، وہاں ایک خاص زبان کا انتخاب کر کے اسے بھی دائمیت سے نوازا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عربی زبان میں داخلی لحاظ سے وہ کیا خوبی ہے جو اس کے انتخاب کا سبب بنی ؟ ہماری رائے میں وہ بنیادی سبب ’’ خاص ماحول ‘‘ ہے جس میں یہ زبان پلی بڑھی اور پھلی پھولی ۔ ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے صحرائی خطہ میں خارجی مظاہر کی نہ تو کثرت ہے اور نہ تنوع۔ خارجی مظاہر کی یہی قلت اور کم یابی اس امر کا سبب بنی کہ اس زمین کے باسی اپنی توجہ کا مرکز سوسائٹی اور انسان کو بنا سکیں۔ اگرچہ جھلستا ہوا ریگستان ان کی توجہ منتشر کرنے کو موجود تھا لیکن یہ اتنا بڑا چیلنج بن کر ان کے سامنے نہیں آیا تھا کہ وہ اسے exclusively توجہ کا مرکز و محور بنا ڈالتے ۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ ریگستان کے باسیوں نے انسانی زندگی میں پانی کی قدرو قیمت کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کر لیا ۔ یوں خارجی ماحول سے ایک حد تک بے اعتنائی نے ، لسانی ارتقا کے دوران میں زبان کی بنیادی ساخت میں انسان ، سوسائٹی اور پانی کو قابلِ اعتنا بنا دیا ۔ اس لیے عربی زبان میں داخلی اعتبار سے اس خصوصیت نے جنم لیا کہ اس میں انسان، سوسائٹی اور پانی سے متعلق امور دیگر زبانوں کی بہ نسبت زیادہ فصاحت اور معنویت کے ساتھ بیان ہو سکیں ۔ چونکہ قرآن مجید کاموضوع انسان ہے اور انسان سوسائٹی ہی میں رہتا ہے اور نسل انسان کی بقا و ارتقا پانی کے بغیر محال ہے ، اسی لیے اللہ رب العزت نے اپنا وہ کلام جو قیامت تک رہنے والا ہے، عربی زبان میں نازل فرمایا۔ اگرچہ قرآن مجید میں خارجی مظاہر کا خاصا تذکرہ پایا جاتا ہے، لیکن یہ ایک تو دیگر امور کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دوسرے، جہاں کہیں ان مظاہر کا ذکر موجود ہے، وہاں انھیں انسان سے relate کیا گیا ہے ، یہ بتانے کے لیے کہ ان کی اہمیت انسان کے مقابلے میں ثانوی اور انسان ہی کی نسبت سے ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ستاروں پر ایسی کمندیں ڈالنے کے حق میں نہیں ہے جو انسان سے related نہ ہوں۔ ہماری رائے میں دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد انسانی حقوق کی تحریکوں میں مسلسل اضافہ اور فلسفہ وجودیت کا اثرو نفوذ ،در حقیقت انسان کی ایسی بے وقعتی اور بے بضاعتی کے خلاف احتجاج اور ردِ عمل ہے جس میں انسان سائنسی ایجادات کا رکھیل بن کر رہ گیا ہے اور مظاہر فطرت کی تسخیر کے بعد خود بحیثیت نوع ، مفتوح ہو گیا ہے ۔ بے وقعتی اور بے بضاعتی کے اس کرب سے چھٹکارا ایک ایسی کتاب میں موجود ہے جس کی فقط زبان ہی انسان ، سوسائٹی اور پانی سے متعلق امور بیان کرنے کا غالب رجحان رکھتی ہے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان جب تک زندہ ہے ، عربی زبان اور اس میں نازل ہونے والے شاہکار کلام یعنی قرآن مجید بھی زندہ ہے ۔
تتمہ
کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے میں پانی کے بحران کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گی۔ آج ہمارا عہد جس طرح پانی کے بحران کے سامنے بے بس کھڑا ہے، اس سے نبی خاتم ﷺ کی ریگستانی علاقے میں بعثت خاصی معنی خیز ہو جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر مسلم تہذیب میں ، چاہے اس کا تعلق کسی بھی زمانے یا علاقے سے ہو ، داخلی اعتبار سے ایسی خصوصیات لازماً ہونی چاہییں جو انسانی زندگی میں پانی کی قدرو قیمت سے مزین ہوں۔ ہمیں اس پہلو سے اپنے تہذیبی لٹریچر کا تنقیدی مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاصرمسلم رویے پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے کہ اس کے ہاں انسان، سوسائٹی اور پانی سے متعلق اپروچ درست نہج پر ہے یا نہیں ۔ ہماری رائے میں کم از کم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس حوالے سے معاصر رویہ ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر تسلی بخش ہے۔
خطبات کی روشنی میں اقبال کے افکار کا مختصر جائزہ
پروفیسر عابد صدیق
علامہ اقبالؔ نے مدراس مسلم ایسوسی ایشن کی دعوت پر ۳۰۔۱۹۲۹ء میں اِلٰہیاتِ اسلامیہ کی تشکیلِ جدید کے سلسلے کے چھہ خطبے تحریر کِیے، جن میں سے تین مدراس اور تین علی گڑھ میں پڑھے۔ میسور اور حیدرآباد دکن میں بھی بعض خطبات کا اعادہ کیا۔ پہلی بار یہ خطبے ۱۹۳۰ء میں لاہور سے شائع ہوئے۔ دوبارہ یہ خطبات بعض لفظی ترامیم اور ایک مزید خطبے کے اضافے کے ساتھ ۱۹۳۴ء میں انگلستان میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے ’’Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ کے عنوان سے چھپے۔ یہ ساتواں خطبہ حضرت علامہ نے ارسطو سوسائٹی لندن (Aristotelian Society) کی دعوت پر ۱۹۳۲ء میں پڑھا۔
علامہ اقبالؔ کے یہ خطبات اسلامی حکمت اور مغربی فلسفہ کا نچوڑ ہیں۔ اِن خطبات میں حضرت علامہ نے موجودہ زمانے کے فکری مسائل اور فلسفیانہ موضوعات پر اسلامی حکمت کے حوالے سے تنقید بھی کی ہے اور مغرب کے جدید علوم کی روشنی میں حکمتِ اسلامیہ کے بعض اہم مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اور اپنے یقین کی حد تک حضرت علامہ نے کامیاب کوشش کی ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کسی سوال کا قطعی جواب دینا فلسفہ کی حدود سے خارج اور اُس کی روح کے منافی ہے، البتہ فلسفہ موجود سوالات کو زیادہ قابلِ فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے، اور مسائل کی تفہیم میں نئے ربط اور نئی ترتیب کے ذریعے اُن کے نئے رخ اور نئی جہات کی تلاش اس کے منصب میں داخل ہے۔ چناں چہ حضرت علامہ نے خطبات کے مقدمے میں فلسفے کی حدود اور طریقِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
’..... فلسفیانہ افکار میں کوئی قطعیّت موجود نہیں ہوتی..... میرے پیش کردہ نظریات سے ممکن ہے بہتر اور مناسب نظریات پیش کِیے جائیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم فکرِانسانی کی روزافزوں ترقی کا بنظرِغائر مطالعہ کرتے ہوئے آزادانہ تنقید کا طریقِ کار اختیار کریں۔‘
حضرت علامہ نے اِن خطبات کی تیاری میں یہی طریقِ کار اختیار کرتے ہوئے انسانی فکر کا جو سرمایہ اُن تک پہنچا، اُس کی تنقید اور تنقیح کرکے مختلف فلسفیانہ مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، اور ایک مرتَّب نظامِ فکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو اسلامی اِلٰہیات کی جدید تعبیر پر مبنی ہے۔ علومِ جدیدہ کی اصطلاحات کی روشنی میں مذہبی واردات کے حوالے سے اسلامی اِلٰہیات کی یہ تشریح بذاتِ خود بہت مشکل کام تھا۔ مزید برآں یہ کہ حضرت علامہ نے اِس کام کے لیے نہایت ادَق اسلوب اختیار کیا۔ اِن خطبات کے اِس قدر مشکل انگریزی زبان میں تحریر کرنے کا سبب جب حضرت علامہ سے دریافت کیا گیا تو ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب کی روایت کے مطابق حضرت علامہ نے فرمایا:
’مسلمانوں میں دین والا آدمی جب فلسفے کی اصطلاحوں میں بات کرتا ہے تو اُس کی بات میں وقار اور وزن پیدا ہوجاتا ہے۔ مگر محض فلسفے والا آدمی جب دین کی بات کرتا ہے تو اُس کی نہ فلسفیانہ حیثیت ہوتی ہے اور نہ دینی لحاظ سے اُس میں وزن۔‘
حضرت علامہ بلاشبہہ دین والے آدمی تھے۔ وہ مغربی فلسفیانہ افکار، جدید نظریات اور سائنسی انکشافات سے قطعاً مرعوب نہ تھے، اور وہ دنیا کے تمام نظام ہائے حیات پر دینِ اسلام کی فوقیت کا یقینِ کامل رکھتے تھے۔ اور وہ دانشِ برہانی کے ذریعے ہی دانشِ قرآنی کی عظمت، فوقیت اور قطعی صداقت کے صدقِ دل سے قائل ہوئے۔ حضرت علامہ کے ارشاد کے مطابق اِن خطبات کا ترجَمہ ’تشکیلِ جدید اِلٰہیاتِ اسلامیہ‘ کے نام سے کیا گیا۔ اِس نام کی وضاحت کرتے ہوئے سید نذیر نیازی لکھتے ہیں کہ:
’’..... ’تشکیل‘ ایک نئی فکر کی تشکیل ہے۔ ’اِلٰہیات‘ عقل اور ایمان کا وہ نقطۂ اتصال ہے جس کی بناء، علم پر ہے۔ اور ’اسلام‘ محسوس حقائق کی اِس دنیا میں زندگی کا راستہ ہے۔‘‘
عنوان کی اِس تشریح سے علامہ کے اِن خطبات کے موضوع پر روشنی پڑتی ہے۔ فکر کی اِس نئی تشکیل کے مَباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ عقل کی بنیاد علم باالحواس ہے اور ایمان کی بنیاد علم بالوحی ہے۔ اور اسلام انسان کے فکری اِرتقا میں استقرائی عقل کا ظہور ہے۔ اقبالؔ عقل و فکر اور وجدان و ایمان کو ایک دوسرے کا معاون قرار دیتے ہیں۔
اسلامی فلسفے کی دنیا میں اِن خطبات کے مقام کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر اینماری شمل (Dr Annemarie Schimmel) نے Gabrial's Wing میں اور ڈاکٹر سید حسین نصر نے خطبات کے فارسی ترجَمے کے مقدمے میں اِن خطبات کو دوسری احیائے علوم الدین کہا ہے۔ یعنی جس طرح حضرت امام غزالی علیہ الرحمۃ نے احیائے علوم الدین میں اپنے زمانے کے تمام فلسفوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں پر اسلام کی برتری ثابت کی تھی، وہی کام اِس دور میں حضرت علامہ نے کیا ہے۔ مذہب کو چند غیر عقلی اعتقادات و تبرکات کا مجموعہ سمجھنے کی جس غلطی میں مادہ پرست فکر کے حامل فلسفی اکثر گرفتار ہوجاتے ہیں، علامہ نے اُن کے افکار پر کڑی تنقید کی ہے اور بتایا ہے کہ دین یا اسلام ایک فعال تمدنی قوت کا نام ہے، جو انسانی زندگی کی تمام عملی و فکری ضروریات میں اُس کی رہنمائی کا فرض ادا کرتا ہے۔ اور اِسی بحث کے دوران میں وہ وسیع پیمانے پر فلسفہ، مابعدالطبیعیات، تاریخ، نفسیات، طبیعیات اور ریاضیاتی سائنس کے مشہور نظریات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اِن مَباحث میں اُن کا رویہ آزادانہ تنقید کا ہے۔ اِن علوم کے معلوم کی نفی کرنا اُن کا مقصود نہیں بلکہ معقول تفہیم و تشریح کے ذریعے اُس کی حدود کا تعین ہے۔ تلاشِ حقیقت کے سفر میں جدید علوم کا یہ معلوم جب فکرِانسانی کو خلاؤں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو علم بِالوحی انسان کی رہنمائی کے لیے آتا ہے۔ اِس طرح حضرت علامہ ذات و کائنات کے مسائل کے حل کے لیے روحانی واردات، مذہبی تجربہ اور وجدانی حقائق سے بحث کرتے ہیں، اور مختلف عنوانات کے تحت اِن مَباحث کو اپنے ساتوں خطبوں پر پھیلاکر نوعِ انسانی کی فکری رہنمائی کی کوشش کرتے ہیں،جس کے لیے ۱۹۰۸ء میں یورپ سے واپسی کے بعد سے ۱۹۳۸ء میں انتقال تک کے پورے عرصے میں وہ مسلسل بے تاب رہتے ہیں۔ اردو شاعری، پھر فارسی شاعری، اور پھر انگریزی کے یہ خطبات-- سب اُسی حکیمانہ شعور کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی کوشش ہیں جو اقبالؔ کو مسلسل غور و تدبر اور فکر و ذکر سے حاصل ہوا۔ اِن خیالات کی ترتیب و اظہار میں حضرت علامہ نے کس قدر دکھ اُٹھایا اور کیسے کیسے یاس انگیز لمحات میں اُنھوں نے اپنے دل میں جلنے والے اِس الاؤ کو سرد ہونے سے بچانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی، اِس کا کچھ اندازہ ۱۹۰۹ء سے ۱۹۲۰ء تک کے اُن خطوط سے ہوسکتا ہے جو اُنھوں نے اِس عرصے میں اپنے دوستوں کو لکھے۔ ۱۹۰۹ء کے ایک خط میں لکھتے ہیں:
’..... وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میں ایک طوفان بپا کِیے ہوئے ہیں، عوام پر ظاہر ہوں توپھر مجھے یقینِ واثق ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہوگی۔ دنیا میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرے گی اور مجھے اپنے آنسوؤں کا خراجِ عقیدت پیش کرے گی۔‘
خیالات کے اظہار کی یہ تڑپ بالآخر ۳۰۔۱۹۲۹ء میں اِن خطبات کے لکھنے کا سبب بنی۔
اب اِن خطبات کے مَباحث کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔
پہلے خطبے ’’علم اور مذہبی مشاہدات‘‘ میں کائنات کی حقیقت، اور کائنات کی تغیرپذیری میں انسان کا منصب، کائنات اور خدا، کائنات اور انسان، انسان اور خدا کے باہمی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے اقبالؔ کائنات کے بارے میں فلسفہ اور مذہب کے رویہ کا جائزہ لیتے ہیں۔ فلسفہ اور مذہب کے مشترک اور غیرمشترک امور سے بحث کرتے ہیں۔ پھر ظاہر اور باطن یعنی مرئی اور غیرمرئی حقائق یا عالمِ محسوسات اور عالمِ اَقدار و اَرواح کے بارے میں مختلف مذاہب کا طرزِعمل بیان کرکے بتاتے ہیں کہ قرآن مطالعۂ انفس و آفاق پر کیوں زور دیتا ہے۔ پھر حقیقت تک رسائی کے ذرائع کی حیثیت سے عقل و وجدان پر بحث کرتے ہیں۔ اِن مَباحث کے ذیل میں وہ بتاتے ہیں کہ ایمان محض جذبے یا تأثر ہی کا نام نہیں بلکہ اِس میں عقل کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مذہبی اصولوں کا انحصار معقولیت پسندی پر ہے۔ لیکن دین و ایمان کو عقل کی روشنی میں دیکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اُن پر فلسفے اور عقل کے تفوق کو تسلیم کرلیا جائے۔ فکر اور وجدان ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے سے فیض یاب ہیں۔ برگساں (Bergson) کا یہ کہنا درست ہے کہ وجدان عقل ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سقراط اور افلاطون محسوسات کے علم کو غیرحقیقی خیال کرتے ہیں، اِس لیے اعیانِ نامشہود (Invisible ideas) پرستار ہیں، جب کہ اسلام باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ اشاعرہ ۱ (Asharite Thinkers) کا نصب العین اسلام کے معتقدات اور اصولوں کی یونانی جدلیات (Dialectics) کی مدد سے حمایت کرنا تھا۔ کانٹ (Kant) نے انسانی عقل کی حدود واضح کیں، جب کہ غزالی عقلیت کی بھول بھلیوں سے نکل کر صوفیانہ واردات تک پہنچتے ہیں، جن سے عقل و فکر کی محدودیت اُن پر واضح ہوئی۔ البتہ وہ اِس حقیقت کو نہ پاسکے کہ عقل و وجدان آپس میں مربوط ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام کے اساسی تصورات کو فلسفیانہ انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر انسان ترقی پذیر زندگی کی حرکت کو محسوس نہ کرے تو اُس کی روح پتھر کی مانند سخت ہوجاتی ہے، اور انجامِ کار انسان بے جان مادے کی سطح پر آجاتا ہے۔ اِس لیے حقیقتِ مطلَقہ کے کلّی اِدراک کے لیے ہمیں حسّی علم کے علاوہ علمِ باطن بھی سیکھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارے پاس کوئی ایسا مؤثر سائنسی طریقِ کار نہیں ہے جس کی وساطت سے ہم صوفیانہ شعور کے عناصرِترکیبی کا تجزیہ کرسکیں۔ جب کہ صوفیانہ مشاہدہ ہی حقیقت کے کلّی علم کے حصول کا باعث بنتا ہے۔
دوسرے خطبے کا عنوان ’’مذہبی مشاہدات کا فلسفیانہ معیار‘‘ ہے۔ اِس میں اُنھوں نے ہستی کے تین مدارج یعنی مادہ، حیات اور شعور پر مفصل بحث کی ہے۔ مادیت کی بحث میں اُنھوں نے نیوٹن (Newton)، زینو (Zeno)، اشاعرہ، ابنِ حزم، برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell)، برگساں (Bergson)، آئن سٹائن (Einstein)، اور اوس پنسکی (Ouspensky) کے تصوراتِ زمان و مکان کا ذکر کیا ہے، اور پھر قرآنی تصورِزمان و مکان کا موازنہ ارسطو، آئن سٹائن اور میک ٹیگرٹ (McTaggart) کے نظریات سے کیا ہے۔ خدا کے وجود کے بارے میں کائناتی استدلال، غائتی استدلال اور وجودی استدلال کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ ہستیِ مطلق کے یہ تینوں ثبوت لائق تنقید ہیں۔ صرف قرآنِ حکیم ظاہر و باطن کی خلیج کو پاٹ کر اور وجود کی ثَنَویت (Dualism) کو ختم کرکے اُس حقیقتِ کاملہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بیک وقت ظاہر بھی ہے باطن بھی، اوّل بھی ہے آخر بھی۔
مادے کے قدیم نظریے یعنی زمان و مکان میں اُس کے مستقل بالذات ہونے کو آئن سٹائن نے باطل ٹھہرادیا۔ اقبالؔ وہائٹ ہیڈ (Whitehead) کے اِس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں کہ فطرت کوئی جامد حقیقت نہیں بلکہ واقعات و حوادث کا ایسا مجموعہ ہے جو مسلسل تخلیقی رو کا مالک ہے۔ جب کہ نیوٹن کا نقطۂ نظر خالص مادی تھا۔ وہ مکان کو ایک آزاد خلا قرار دیتا ہے جس میں چیزیں معلق ہیں۔ زینو مکان کو لاتعداد ناقابلِ تقسیم نقاط پر مشتمل سمجھتا تھا۔ وہ حرکتِ مکانی کو ناممکن قرار دیتے ہوئے تیر کی مثال دیتا ہے کہ تیر حرکت کے دوران میں بھی جگہ کے کسی نہ کسی نقطے پر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ برگساں، ابنِ حزم، برٹرینڈرسل اور کینٹر (Cantor) وغیرہ نے زینو کے دلائل کو رد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اقبالؔ اُن کی کوششوں کو کامیاب تصور نہیں کرتے بلکہ آئن سٹائن کے نظریۂ زمان کی وضاحت کرتے ہوئے اُس کے مکان کو حقیقی تصور کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن وہ اُسے دیکھنے والے کے مطابق اضافی خیال کرتا تھا۔ اِن پیچیدہ بحثوں کے بعد وہ شعور کی تعریف کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ شعور کا کام ایک ایسا نقطۂ نوری مہیّا کرنا ہے جو زندگی کی آگے بڑھنے والی حرکت کو منور کرسکے۔ شعور زندگی کے روحانی تنوع کا نام ہے۔ یہ مادہ نہیں بلکہ ایک تنظیمی اصول اور طریقِ عمل ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سائنس حقیقتِ مطلَقہ کے جزئی اِدراک میں سرکھپاتی ہے جب کہ مذہب کلّی حقیقت کا مطالبہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ زمان و مکان کی اِن نہایت مشکل بحثوں میں وہ بتاتے ہیں کہ شعوری زندگی حیات فی الزمان ہے۔ اور مکانی زمان میں بسر ہونے والی زندگی غیر حقیقی زندگی ہے۔ وہ اِن بحثوں میں کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِی شأن اور اَنَا الدَّھر کے حوالوں سے اسلامی تصورِزمان و مکان کی وضاحت کرتے ہیں، اور فطرت کو سُنَّتُ اللّٰہ قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اِس کی نشوونما کی کوئی حد نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فطرت کا علم دراصل خدا کے طریقِ عمل کا علم ہے۔ وہ مسئلۂ زمان و مکان پر مفصل بحث کرتے ہوئے آخر میں کہتے ہیں کہ وقت کے رازِسربستہ کو حل کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ خطبے کے اختتام پر وہ فلسفے کو پستی سے نکالنے کے لیے ذکر اور قربِ الٰہی کی ضرورت بیان کرتے ہیں، جسے مذہب کی اصطلاح میں دعا کہا جاتا ہے۔ وہ فکر و ذکر کے امتزاج پر زور دیتے ہیں۔
تیسرے خطبے ’’ذاتِ الٰہیہ کا تصور اور حقیقتِ دعا‘‘ میں وہ فرد کی تعریف اور انائے مطلق کی صفات پر بحث کرتے ہوئے سورۂ اخلاص اور سورۂ نور کا حوالہ دیتے ہوئے نورِایزدی کی مطلقیت کا ذکر کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ارادۂ تکوین اور فعلِ آفرینش ایک ہی ہیں۔ اس طرح وہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کی اصل روحانی ہے۔ پھر زمان و مکان کے بارے میں وہ ملا جلال الدین دَوّانی، عین القضاۃ الھمدانی عراقی، برگساں اور پروفیسررائس (Royce) وغیرہ کے تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ زمانِ ایزدی زمانِ متسلسل سے بہتر ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مذہبی واردات عقلی معیار پر پوری اترتی ہے۔ اِس واردات کی اساس ایک تخلیقی مشیئیت ہے، جسے انائے مطلق کہا جاسکتا ہے۔ اور قرآن اِس انائے مطلق کی انفِرادیت ظاہر کرنے کے لیے اِسے ’اللہ‘ کا خاص نام دیتا ہے۔ توالد کا رجحان انفِرادیت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ چوں کہ انسانوں کے لیے توالد و تناسل ضروری ہے اِس لیے وہ افرادِکامل نہیں بن سکتے۔ فردِکامل صرف خدا ہی ہے۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ زمان و مکان، انائے مطلق کی تخلیقی سرگرمی کی فکری تعبیرات ہیں اور ہم انائے مطلق کے امکانات کو اپنے ریاضیاتی زمان و مکان کی شکل میں جزوی طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔ خدا کے لیے کائنات کوئی ایسا واقعہ نہیں جو ماقبل اور مابعد پر مشتمل ہو۔ یعنی ارادۂ تخلیق اور فعلِ تخلیق دو مختلف چیزیں نہیں۔ وہ اشاعرہ کے اِس خیال کا جائزہ لیتے ہیں کہ لاتعداد جواہر مل کر مکان کی وسعت اور تخلیق کا باعث بنتے ہیں، اور جوہری اعمال کے مجموعے کا نام شے ہے۔ مکان میں سے جوہر کے گزر کو حرکت کہا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اشاعرہ ابتدا اور انتہا کے درمیان واقع ہونے والے نقاط میں سے کسی چیز کے مرور کو اچھی طرح واضح نہیں کرسکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جوہر صفتِ حیات کے حصول کے بعد مکانی نظر آتا ہے۔ اِس کی ماہیت روحانی ہے۔ نفس عملِ خالص ہے لیکن جسم ایک دیدنی اور پیمایش پذیر عمل ہے۔ زمانِ الٰہی مرور، تغیر، تواتر اور تقسیم پذیری سے عاری ہے۔ اِس ساری بحث کے آخر میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ جہاں تک وقت کی ماہیت اور اصلیت کا تعلق ہے، میں کوئی قطعی اور درست بات دریافت نہیں کرسکا۔
پھر وہ خیر و شر کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ ہستی جس کی حرکات و سکنات مکمل طور پر مشین کی طرح ہوں، نیکی کے کام نہیں کرسکتی۔ نیکی کے لیے آزادی شرط ہے۔ خدا نے انسانی خودی کو آزادیِ عمل کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ اِس کے بعد وہ دعا کی وضاحت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خارجی دنیا سے بے زار ہوکر باطن میں پناہ لیتے ہوئے ہستیِ مطلق کا قرب حاصل کرنا دعا ہے۔ دعا کی بدولت ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ ایک دم بحرِبے کراں بن جاتا ہے۔ تلاشِ حقیقت میں فلسفہ بہت سست رفتار ہے جب کہ دعا برق خرام ہے۔
چوتھے خطبے ’’خودی، جبروقدر، حیات بعد الموت‘‘ میں حضرت علامہ خودی کی بحث کرتے ہیں اور انسان کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن کے مطالعے سے تین باتیں بالکل واضح دکھائی دیتی ہیں۔ پہلی یہ کہ انسان خدائی برگُزیدہ مخلوق ہے۔ دوسری یہ کہ انسان اپنی تمام کوتاہیوں کے باوجود زمین پر خدا کا نائب ہے۔ تیسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ انسان آزاد شخصیت کا امین ہے جسے اُس نے خطرہ مول لے کر قبول کیا تھا۔ اِس خطبے میں وہ ماضی سے رشتہ منقطع کِیے بغیر اسلامی تعلیمات کو جدید علوم کی روشنی میں بیان کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، اور پھر خودی کی وضاحت کی طرف آجاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خودی وابَستۂ مکان نہیں ہے۔ مثلاً یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ تاج محل کے حسن و جمال کے بارے میں میرا جذبۂ تحسین آگرہ سے مَسافت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ اِسی طرح زمان بھی خارجی دنیا میں ماضی، حال اور مستقبل کی صورت اختیار کرنے کے باوجود اندرونی دنیا میں ناقابلِ تقسیم ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ خلوت پسندی خودی کی یکتائی کا اظہار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شعوری تجربہ خودی کے روحانی جوہر کا صحیح سراغ نہیں دے سکتا لیکن اِس کے باوجود شعوری تجربے کی تعبیر ہی وہ شاہراہ ہے جس پر چل کر ہم خودی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ نماز یا دعا دراصل خودی کا میکانیت یا جبر سے آزادی کی طرف گریز ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ تکرارِعمل مشین کا خاصہ ہے نہ کہ انسان کا۔ اگر ہر واقعہ نیا نہیں تو ہمارے لیے زندگی میں کوئی جاذبیّت باقی نہیں رہتی۔ بقائے ذات ہمارا پیدایشی حق نہیں بلکہ ہمیں اپنی ذاتی کوششوں سے اِسے حاصل کرنا پڑے گا۔ انسان صرف اِس کے لیے امیدوار ہے۔
پانچویں خطبے ’’اسلامی ثقافت کی روح‘‘ میں حضرت علامہ اسلامی کلچر کی روح کا ذکر کرتے ہیں ، اور نبوت اور ولایت کا فرق واضح کرتے ہیں۔ ولی کا منتہائے مقصود صرف ذاتِ ربّانی سے وصال ہے لیکن نبی اِس صعود کے بعد ہدایتِ عامہ کے لیے نزول کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پیغمبرِاسلام دنیائے قدیم اور دنیائے جدید کے درمیان کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے اِلہام کے سرچشمے کی بدولت عالمِ قدیم سے متعلق ہیں، لیکن اپنی اِلہامی سپرٹ کی وجہ سے عصرِحاضر سے مربوط ہیں۔ اُن کی بدولت زندگی نے اپنی نئی سمتوں کے مناسب علوم اور نئے سرچشمے دریافت کِیے۔ دراصل اسلام کا ظہور استقرائی عقل کا ظہور ہے۔ وہ فقہ کو اسلام کا اصولِ حرکت قرار دیتے ہیں جو اُسے سب زمانوں کے لیے کافی بنادیتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ قرآن کی رو سے حصولِ علم کے تین ذرائع ہیں: باطنی مشاہدہ، مطالعۂ فطرت اور تاریخ۔ وہ بتاتے ہیں کہ جس ثقافت کا نقطۂ نظر یہ ہو، زمان و مکان اُس کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابنِ خلدون نے سب سے پہلے اسلام کی ثقافتی تحریک کی روح کو شدت کے ساتھ محسوس کرکے اُسے منظم طور پر بیان کیا ہے۔
خطبۂ ششم ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ میں حضرت علامہ اسلام کے اصولِ حرکت یعنی فقہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ ہی کو قیادتِ عالم سزاوار ہے۔ اسلام اپنے حرکی نظریۂ حیات اور تصورِتوحید کی وجہ سے تمام زمانوں کو محیط اور بنی نوعِ انسان کی وحدت کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے، اِس لیے اسلام ہی کسی قوم کو قیادتِ اقوام کا اہل بناتا ہے۔ وہ فقہی جمود کا جائزہ لیتے ہیں اور اِس کے اسباب میں عقل پرستی کی تحریکوں، راہبانہ تصوف اور سیاسی انتشار کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دین اور سیاست دو مختلف حقیقتیں نہیں بلکہ اسلام کی واحد حقیقت کے شُءُون ہیں۔ وہ عقیدۂ توحید کو بنی نوعِ انسانی کی وحدت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جو مصنوعی امتیازاتِ رنگ و نسل وغیرہ کو مٹاکر ساری انسانیت کو ملتِ واحدہ بناسکتا ہے۔ پھر وہ قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس-- یعنی اَدِلّہ شرعیہ پر بحث کرتے ہیں، جن کی وجہ سے اسلام کا ہر زمانے اور کل انسانیت کے لیے منبعِ ہدایت ہونا ممکن ہے۔
آخری خطبے ’’کیا مذہب کا امکان ہے؟‘‘ میں حضرت علامہ مشرق و مغرب کی اقوام کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے مذہب کو اِس تمام تشتت و افتراق سے نکلنے کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں اور خودی کا نصب العین واضح کرتے ہوئے خودی کی حامل جماعت کا نائبِ حق ہونا ظاہر کرتے ہیں، اور فرسودہ تصوف اور لادین اشتراکیت و قومیت کی بے سوادی اور ناکامی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ خودی کا مقصد اثباتِ ذات قرار دیتے ہیں اور نائبِ حق جماعت کا فریضہ اور زمانی نصب العین یہ بتاتے ہیں کہ وہ خدا کی وحدانیت و حاکمیت کی ترجُمانی کرتی رہے۔
سر سید احمد خان اور تاریخی افسانے
یوسف خان جذاب
ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ءکے شما رے میں ’’تا ریخی افسا نے اور اُ ن کی حقیقت ‘‘ کے عنوا ن سے میرا ایک تا ثر اتی مضمو ن شا ئع ہوا تھا جو دراصل پر وفیسر شا ہد ہ قا ضی صاحبہ کے مضمو ن (الشریعہ، مئی ۲۰۰۵) سے شروع والے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے شمارے میں ضیا ء الد ین لا ہوری صاحب نے میر ے مضمو ن کے جواب میں ایک تحریر لکھی ہے، تا ہم ان کا جوا ب میر ے مضمو ن کے فقط ایک حصے سے متعلق تھا، اسی لیے انھو ں نے اسے ’’سر سید کے بار ے میں تار یخی افسا نو ں کی حقیقت‘‘ کا عنو ان دیا ۔ اگر چہ لا ہور ی صا حب کو سید صا حب کے بار ے میں میر ی رائے سے اختلا ف ہے، تاہم مضمون کے بنیادی مدعا سے انھوں نے اتفاق ظاہر کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں
’’سر سید کے بار ے میں ایسی با تو ں کو بھی حقیقت کے روپ میں پیش کر نے کی کو شش کی گئی ہے جو خود تا ریخی افسانوں کے ضمن میں آ تی ہیں۔‘‘ ( الشر یعہ ،اکتو بر ۲۰۰۵، صفحہ۲۱)
بلاشبہ سید صا حب کی شخصیت کے گر د عقید ت کا ایک خو ل چڑھا دیا گیاہے، لیکن ایسا خول کس ’’مسلم شخصیت‘‘ کے گر د مو جود نہیں؟ یہ تو مسلما نو ں کی موروثی بیما ری ہے کہ عقید ت کے زیر اثر وہ اپنی پسندیدہ شخصیات کی اجتہا دی لغزشوں کو بھی بڑ ھا چڑ ھا کر پیش کر تے ہیں۔ یہ اس امت کا المیہ ہے ۔ ان شخصیتو ں نے خو د کبھی اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر قرار نہیں دیا۔ یہ ہم ہیں جو انھیں زمین سے اٹھا کر آ سمان پر بٹھا دیتے اُور اُ ن کی ہر با ت کو وحی کا درجہ دے دیتے ہیں ۔ عظیم شا عر رحمان با باؒ نے اس رویے کی عکاسی یوں کی ہے : ’’میں نے اُن درویشو ں کی پرواز کا مشا ہد ہ کیا ہے جو ایک قد م اُ ٹھا کر عر ش کو چھو لیتے ہیں ۔ ‘‘
میں نے اپنے مضمو ن میں صو فیا ئے کر ام کے حوالے سے اس حقیقت کی طر ف اشار ہ کیا تھا ، تاہم صو فیا ئے کر ام پر بس نہیں، ہمار ے علما ے کرا م کا حال بھی یہی ہے کہ اند ھی تقلید اور عقید ت کے گہر ے جذبات کے تحت ائمہ کر ام کی ہر با ت کو حر ف آ خر تصور کر تے ہیں اور مولانا مفتی محمد شفیع کے الفاظ میں حد یث کو بھی ’حنفی‘ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف سید صاحب ہی کی شخصیت کو بڑ ھا چڑ ھا کر پیش نہیں کیا گیا، یہ ملمع کار ی ہر بڑی مسلم شخصیت پر ہو ئی ہے۔ سید صاحب تو ماضی قریب کی شخصیت ہیں اور اُن کی شخصیت پر چڑھایا جانے والا گرد وغبار نسبتاًکم ہے۔ ور نہ جو ں جو ں ہم ما ضی میں سفر کرتے جاتے ہیں، مسلم شخصیتو ں کے گرد عقیدت وتقدس کے افسانوی ہا لے نمایا ں ہو تے چلے جا تے ہیں۔ میں دوسر ی مسلم شخصیتو ں کی ملمع کار ی کو سید صا حب کے حوالے سے وجہ جو از نہیں بنا رہا، میرا مد عا صرف یہ ہے کہ سید صاحب کا معاملہ کو ئی استثنا ئی معاملہ نہیں ۔
سیدصا حب ایک ذہین انسا ن تھے اور انسا نی دماغ سے لغز شیں اور خطا ئیں سر زد ہو تی ہیں، اس لیے انہو ں نے جو کچھ کہا اور لکھا، اسے حر ف آ خر کا در جہ نہیں دیا جا سکتا ۔ اُ ن کی با تیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی۔ تاہم ایک نقاد کا فر ض بنتا ہے کہ جب وہ کسی شخصیت پر قلم اُٹھا ئے تو پہلے اس کے موقف اور فکر کی اس کے زاویہ نگاہ سے دیانت دارانہ طریقے سے وضاحت کرے اور پھر دلائل کی روشنی میں اُس کی درستی یا نا درستی کو واضح کر ے۔ کسی کے موقف کی استدلالی غلطی کو واضح کرنے کے بجائے اس کی نیت اور ذا ت پر حملہ آور ہو نا ایک غیر علمی اور غیر سنجیدہ رویہ ہے اور نقاد کے دائر یہ کا ر سے با ہر ہے۔ کو ئی شخص کوئی کا م کس محرک کے تحت کر تا ہے، اس کا تعلق نیت جاننے سے ہے اور نیتوں سے خدا ہی واقف ہے۔ خد ا سے ڈرنے والے عا لم کبھی اس دائرے میں قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اسی لیے حضر ت مو لا نا قا سم نانوتوی نے سر سید کے خلا ف کفر کے فتو ے پر دستخط نہیں کیے۔ محترم لا ہور ی صا حب نے اپنی تنقید میں اس اصو ل کا خیا ل نہیں رکھا ۔ انہوں نے اپنے مضمو ن میں اور خصو صاً سر سید کے متعلق اپنی کتا بو ں میں اُ ن کی شخصیت کے متعلق بعض قطعی فیصلے صادر کیے ہیں ، حالانکہ انھیں کو چاہیے تھا کہ وہ سید صاحب کے مذکورہ موقف کے پس منظر میں کارفرما ان کے بنیادی فکری استدلال کو واضح کر کے اس پر تنقید کرتے اور پھر قار ی کو مو قع دیتے کہ وہ ان سے اتفاق یا اختلا ف کر ے۔
میں نے لکھا تھا کہ سید صا حب پر انگر یز وں کی وفاداری اور مجا ہد ین آزادی کی مخبر ی کا الزا م لگا نا سر اسر ظلم اور نا انصا فی ہے۔ اس کے جو اب میں لا ہور ی صا حب نے مکتو با ت سر سید سے یہ فقرے نقل کیے ہیں کہ
’’بڑا شکر خد ا کا ہے کہ اس نا گہا نی آ فت میں جو ہندو ستا ن میں ہوئی، فد وی بہت نیک نا م اور سر کار دولت مدار انگر یزی کا طر ف دار اور خیر خواہ رہا ۔‘‘ ( الشریعہ ، اکتو بر ۲۰۰۵،صفحہ ۲۱ )
پھر بتاتے ہیں کہ انہیں اس خیر خواہی کا صلہ انعا م وا کرام کی صور ت میں ملا۔ لاہور ی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ علی گڑ ھ تحر یک کا واحد مقصد انگر یز وں کی و فادار ی تھا۔ اس کے حق میں انھوں نے سید صاحب کا درج ذیل اقتباس نقل کیا ہے :
’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خد ا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطا عت اور فر ما نبر داری او ر پور ی وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سا یہ عا طفت میں ہم امن و اما ن کی زند گی بسر کرتے ہیں ۔ خدا کی طر ف سے ہمار ا فر ض ہے۔ میر ی یہ رائے آ ج کی نہیں بلکہ پچا س ساٹھ بر س سے میں اس رائے پر قا ئم اور مستقل ہوں۔ ‘‘ ( ص ۲۲)
میں نے اپنے مضمو ن میں اگر سرسید صاحب پر انگریزوں کی وفاداری کے الز اما ت کو’’ظلم اور نا انصا فی‘‘ قرار دیا تو اس سے میرا مطلب یہ تھا کہ ان الزاما ت کے حوالے سے سر سید کا موقف صحیح تناظر میں پیش نہیں کیا گیا۔ تنقید میں پس منظر کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر تنقید میں فقط ’’مجر د حقا ئق‘‘ پیش کیے گئے ہوں اور ان ’’حقا ئق‘‘ کا رشتہ تاریخی وواقعاتی سیا ق و سبا ق سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسی تنقید علمی لحاظ سے کوئی وزن نہیں رکھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر لکھنے والے والے کا اپنا ایک زاویہ نگاہ ہو تا ہے جس کے تحت وہ لکھتا ہے۔ سید صا حب بھی باقا عد ہ ایک فکر ی نظام کے تحت لکھ رہے تھے۔ انگر یزوں کے حوالے سرسید صاحب کا موقف ان کے رائے میں ایک مذ ہبی اساس رکھتا تھا، جیسا کہ ’’ہمارا مذ ہبی فر ض ہے ‘‘ اور ’’ خد ا کی طرف سے ہمارا فر ض ہے‘‘ کی قسم کے جملو ں سے واضح ہے۔ اپنی ’’تفسیر القرآن‘‘ میں وہ لکھتے ہیں :
’’ اسلام فساد اور دغا اور غدروبغا وت کی اجا زت نہیں دیتا۔ جس نے اُن کو امن دیا ہو، مسلما ن ہو یا کا فر، اس کی اطا عت اور احسان مندی کی ہد ایت کر تا ہے ۔ کا فرو ں کے سا تھ بھی جو عہد و اقرار ہوئے ہو ں، ان کو نہا یت ایما ن داری سے پورا کر نے کی تا کید کر تا ہے ۔ خود کسی پر ملک گیر ی اور فتو حا ت حا صل کر نے کو فو ج کشی اور خو نر یز ی کی اجا زت نہیں دیتا ۔ کسی قو م یا ملک کو اس غر ض سے کہ اس میں با لجبر اسلام پھیلا یا جا وے، حملہ کر کے مغلو ب و مجبور کر نے کو پسند نہیں کر تا ، یہا ں تک کہ کسی ایک شخص کو بھی اسلام قبو ل کر نے پر مجبور کر نا نہیں چا ہتا ۔ صرف دو صورتوں میں اسے تلوار پکڑ نے کی اجازت دی ہے ۔ ایک اس حالت میں جبکہ کافر اسلام کی عد اوت سے اور اسلا م کو معد وم کر نے کی غر ض سے ، نہ کسی ملکی اغر اض سے ، مسلما نو ں پر حملہ آور ہوں۔ کیو نکہ ملکی اغر اض سے جو لڑ ائیا ں واقع ہو ں، خواہ مسلما ن مسلما نو ں میں ، خواہ مسلما ن و کا فرو ں میں ، و ہ دنیا وی با ت ہے ۔ مذ ہب سے کچھ تعلق نہیں ہے ۔ دوسر ے جبکہ اس ملک یا قوم میں مسلما نو ں کو اس وجہ سے کہ وہ مسلما ن ہیں ، ان کی جان و ما ل کو امن نہ ملے اور فر ائض مذ ہبی کے ادا کر نے کی اجا ز ت نہ ہو ۔۔مگر اس حا لت میں بھی اسلا م نے کیا عمدہ طر یقہ ایما نداری کا بتا یا ہے کہ جو لو گ اس ملک میں جہا ں بطور رعیت کے رہتے ہو ں، یا امن کا علا نیہ یا ضمناً اقرار کیا ہو اور گو صر ف بو جہ اسلام ان پر ظلم ہو تا ہو تو بھی ان کو تلوار پکڑ نے کی اجا زت نہیں دی ۔ یا اس ظلم کو سہیں یا ہجر ت کر یں یعنی اس ملک کو چھو ڑ کر چلے جا ویں ۔ ہا ں جو لو گ خو د مختار ہیں اور اس میں امن لیے ہو ئے یا بطور رعیت کے نہیں ہیں، بلکہ دوسر ے ملک کے با شند ے ہیں، ان کا ان مظلو م مسلمانوں کے بچا نے کی جن پرصر ف اسلا م کی وجہ سے ظلم ہو تا ہے یا ان کے لیے امن اور ان کے لیے ادائے فر ض مذ ہبی کی آ زادی حا صل کر نے کو ، تلوار پکڑ نے کی اجاز ت دی ہے۔لیکن جس وقت کو ئی ملکی یا دنیا وی غر ض اس لڑا ئی کا با عث ہو، اس کو مذ ہب کی طرف نسبت کر نے کی کسی طر ح اسلام اجا ز ت نہیں دیتا۔‘‘ ( بحوالہ نقش سر سید، ضیا ے الدین لا ہور ی ، صفحہ ۶۹)
سید صا حب ایک دور اند یش آ دمی تھے ۔ انہیں انگر یزی استعمار کی طا قت کا علم تھا ۔ اس لیے وہ معروضی حالات میں ان کی اطا عت کا مشور ہ دیتے تھے۔ زما نہ دراز تک انگر یزی حکومت کے دوام کی خواہش سے بھی ان کا مقصد مسلما نو ں اور انگر یزوں کے در میان بے اعتمادی کی خلیج کو پا ٹنا اور فا تح ومفتو ح کے در میان اعتماد کی فضا کو بحا ل کر نا تھا ۔ انہیں مسلمانوں کی پسما ند گی کی درست وجہ معلو م تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ انہو ں نے زیا دہ زور مسلما نو ں کی تعلیم پر دیا۔ علی گڑ ھ تحریک حقیقی معنو ں میں ایک علمی تحر یک تھی۔ سید صا حب عقل پر ست تھے ۔ اس عقل پر ستی نے انہیں دور اند یش بنا دیا۔ اپنے مذ ہبی مطا لعے نے انہیں اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ کام نتیجہ رخی (Result Oriented) ہو نا چا ئیے ۔ بے نتیجہ ٹکراؤ کا کو ئی فائدہ نہیں۔ چنا نچہ اس جذ بے کے تحت انہو ں نے مسلما نو ں کو اطا عت فر نگ کا مشورہ دیا اور ان کی توجہ کا رُ خ تعلیم کی طر ف مو ڑنے کی کوشش کی۔
مولانا خلیل احمد سہارنپوری، جو دیوبندی مکتب فکر کے ایک جید عالم دین اور حدیث کی مشہور کتاب سنن ابو داؤد کے شارح ہیں، اسی طرح کے ایک اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’آپ نے انگریزوں کی نسبت اعتراض فرمایا ہے کہ ابتداے سلطنت سے انگریزوں کا مطمح نظر حرارت ایمانی کا قلوب سے سلب کرنا تھا جو انھوں نے متعدد اور مختلف طریقوں سے اپنے مقصود کے حاصل کرنے کی تدبیریں کیں اور اس میں کامیاب ہو گئے اور من جملہ ان تدبیروں کے علی گڑھ کالج کی بنا بھی ہے کہ جس کے بانی نے حب مال وجاہ کی آڑ میں ترقی دنیا کا سبز باغ دکھلا کر مسلمانوں کے دلوں سے وہ تنفر اور توحش عن النصاریٰ بالکل نکال دیا جو اسلام کے لیے روح رواں تھا۔ اس کے متعلق مجھ کو اسی قدر عرض کرنا ہے کہ آپ غور فرماویں کہ یہ قصور کس کا ہے۔ نصرانیوں کا قصور ہے یا آپ کا؟ اجی صاحب وہ تو تمھارے دین کے دشمن ہیں، وہ جو کچھ کریں تھوڑا ہے۔ اس میں تو آپ اپنی شکایت کیجیے کہ آپ نے کیوں ان کا اثر قبول کر لیا۔ اور اگر غور کر کے دیکھو تو فی الحقیقت جس زمانہ میں انگریز ہندوستان میں آتے ہیں، اس وقت اسلامی سلطنت ہندوستان میں برائے نام رہ چکی تھی اور پنجاب میں سکھوں کا نہایت تسلط ہو گیا تھا۔ اگر انگریز ان کا قلع قمع نہ کرتے تو آج تمام ہندوستان میں سکھوں کا ڈنکا بجتا۔ ان کا طرز حکومت جو کچھ تھا اور جو کچھ وہ اسلام اور اسلامیات کی مزاحمت کرتے تھے، وہ آپ سے مخفی نہیں۔ اگر خدا نخواستہ ہندوستان پر ان کی سلطنت ہو جاتی تو آج مسلمانوں سے بھنگیوں اور چماروں کی طرح بیگار لی جاتی۔
میرے خیال میں تو خدا کی رحمت مسلمانوں پر ہوئی کہ انگریز آئے اور انھوں نے سکھوں کا قلع قمع کیا اور ایک مہذب سلطنت قائم ہو گئی جس نے مذہب کی آزادی کو اپنا اولیں فرض قرار دیا۔ یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے دماغ سلطنت کے قابل نہ رہے تھے اور اگر عام مسلمانوں نے کچھ قلیل سی کوشش کی بھی ، کیونکہ تقدیر موافق نہیں تھی، کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ علاوہ ازیں آپ الزام انگریزوں کے سر لگاتے ہیں کہ انھوں نے تدبیریں کر کے ہندوستانیوں سے حرارت وغیرت ایمانی کو سلب کر دیا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ترکی ومصر میں جہاں مسلمانوں کی بڑی زور کی سلطنت تھی، وہاں کس نے غیرت ایمانی کو سلب کر دیا تھا؟ کیا ہم نے ہی تم کو یہ تعلیم کیا تھا کہ تم ہمارے برے اوصاف تو لے لیجیو او رخبردار ہمارے بھلے اوصاف کو مت چھونا۔
رہا بانی علی گڑھ کا قصہ، ا س کا جواب بھی اس ہی تقریر سے پیدا ہو سکتا ہے۔ بانی علی گڑھ کی نیت کا علم خدا ہی کو ہے کہ اس نے اس کالج کی بنا کس نیت پر ڈالی۔ اگر اس کی نیت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں سے حرارت وغیرت ایمانی سلب ہو جاوے تو اس کا محاسبہ خدا تعالیٰ شانہ کے یہاں ہے اور اگر اس کی یہ نیت نہیں تھی بلکہ اس کی نیت محض دنیاوی ترقی تھی جس طرح میں گزشتہ تقریر میں عرض کر آیا ہوں تو پھر فرمائیے کہ یہ ہمارا ظن کیا ظن فاسد نہیں ہوگا؟‘‘ (ماہنامہ الصیانہ، لاہور دسمبر ۲۰۰۲، ص ۹۱، ۲۰)
دیوبندی مکتب فکر کے ایک دوسرے جید عالم دین مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:
’’سید احمد بڑے حوصلے کا آدمی تھا، مگر انھوں نے خواہ مخواہ دین میں ٹانگ اڑا کر اپنے آپ کو بدنام کیا، ورنہ ان کو تو لوگ دنیا کا تو ضرور ہی پیشوا بنا لیتے۔ بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ....... یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، ج ۱۱، ص ۲۶۷۔ ۲۶۹)
جہا ں تک اس با ت کا تعلق ہے کہ سر سید مجا ہد ین آزادی کی مخبر ی کر تے رہے تو لا ہور ی صا حب کے دلا ئل سے یہ با ت ثا بت نہیں ہو تی۔ ان ئل سے زیا دہ سے زیا دہ یہ با ت سا منے آ تی ہے کہ سرسید مسلما نو ں کی ان مسلح کا روائیو ں کو بنظر حقار ت دیکھتے تھے ۔ خفیہ خط و کتا بت سے ہر گز یہ مطلب اخذ نہیں ہو تا کہ وہ جاسو سی کے مجر م تھے۔ وہ ہر حا ل میں انگر یزی حکو مت کے خیر خواہ تھے اور یہ وفادار ی اورخیر خواہی ، جیسا کہ اوپر بیا ن کیا گیا ، ان کی مسلما نیت اور مذ ہبیت کا ثمر ہ تھا۔ سر سید صا ف اور کھر ے انسا ن تھے۔ وہ اس با ت کو اپنی مذ ہبیت اور مسلما نی کے خلا ف تصور کر تے تھے کہ ایک طر ف حکو مت کی نو کر ی کریں اور دوسر ی طرف در پر دہ ا ن کے خلا ف سر گرم عمل ر ہیں ۔ لفظ ’’ نمک حر ام‘‘ سے واضح ہو تا ہے کہ بغاوت کرنے والے دوغلی پا لیسی اختیار کیے ہو ئے تھے۔ بد قسمتی سے دور انحطاط میں مسلما ن اغیار کو دھو کا دینے کو بھی اخلا قیا ت میں شمار کر تے ہیں۔ سر سید اس قسم کی اخلا قیا ت کی مخا لف تھے چنا نچہ لکھتے ہیں:
’’ جہاد مسلما نو ں کا ایک مذ ہبی مسئلہ ہے۔اس کے قواعد ایسے قا عد ے پر مبنی ہیں جس میں ذرا بھی دغا اور فر یب اور غدر و بغاوت اور بے ایما نی نہیں۔‘‘ ( بحو الہ افکار سر سید، از ضیا ء الد ین لا ہور ی ، صفحہ ۲۲۳)
سر سید نے جن لو گو ں کو باغیوں سے بچا یا، دو جو ہ کی بنیا د پر ان کو بچانا صحیح تھا ۔ اول یہ کہ سر سید ان کے نوکر تھے اور دوم یہ کہ یہ لو گ سول انتظا میہ سے متعلق تھے اور مسلما نو ں کے سا تھ حا لت جنگ میں نہیں تھے ، اس لیے ان پر ہا تھ اٹھا نا اسلا می جنگی اخلا قیا ت کے منا فی تھا۔ تاہم یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ سر سید احمد خان نے مجا ہد ین آ زادی کو جو گا لیا ں دی ہیں، وہ ناقابل دفاع ہیں اور اس کے لیے وہ ہ رب العزت کی بارگاہ میں جواب دہ ہو ں گے ۔
لا ہور ی صا حب نے علما کی طرف سے سر سید کی مخالفت کا سبب واضح کرتے ہوئے شیخ اکر ام کا مند رجہ ذیل پیر اگراف نقل کیا ہے:
’’ان کی سب سے زیا دہ مخا لفت اس وقت ہو ئی جب انہوں نے تہذ یب الا خلا ق جا ری کیا اور ان مذ ہبی عقا ئید کا اظہار کیا ، جنہیں عا م مسلما ن تعلیم اسلا می کے خلا ف اور ملحدانہ سمجھتے تھے۔ مثلاًشیطا ن ، اجنہ اور ملا ئیک کے و جو د سے انکار، حضر ت عیسیٰ ؑ کے بن با پ پید ا ہو نے یا زند ہ آسمان پر جا نے سے انکار ، حضر ت عیسیٰ ؑ اور حضر ت مو سیؑ کے معجز ات سے انکار وغیرہ وغیرہ۔‘‘ (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۵، ص ۲۴)
یہ درست ہے کہ مذکورہ امور سے متعلق سرسید کی را ئے جمہور علما ے کر ام سے جد ا ہے اور انہوں نے ان مخلو قا ت اور معجزا ت کے حوالے سے عقلی طور پر تاویل کی راہ اختیار کی ہیں ، تاہم شیخ اکرا م کی اس بات سے مکمل اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ علما نے سر سید کی مخا لفت فقط مذ ہبی نظر یا ت کی بنا پر کی۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ اِ ن نظریات کی بنا پر انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ اس کے علاوہ علما مغربی تعلیم کے بھی مخالف تھے۔ اُنھوں نے لوگوں کو اِس حد تک اس سے برگشتہ کیا تھا کہ وہ انگریز وں کے مادی فوائد کی چیزوں سے بھی نفرت کرتے تھے۔ اکبر الہ آبادی کی شاعری مسلمانوں کے اِ س رجحان کی غمازی کرتی ہے۔ مولانا وحیدالدین خان نے لکھا ہے کہ جب ہندوستان میں ریل کی پٹڑیاں بچھائی جانے لگیں تو اس دور کے لو گوں نے اسے لو ہے کی زنجیر یں پھیلا نے کے مشا بہ قرار دیا۔ پچھلے دنو ں میر ے ایک سا تھی نے وزیر ستا ن کے چند سفید ریشو ں کا حال بیا ن کیا کہ وہ بجلی کے تارو ں کوانگر یز وں کی چا ل با زی سمجھتے تھے اور وہ سڑ کو ں اور ہر قسم کے ترقی یا فتہ کا مو ں کے دشمن تھے۔ اکابر اور معاملہ فہم علما کا موقف ممکن ہے مختلف ہو، لیکن انگر یز ی تعلیم کے بار ے میں علما کے عمومی رویے کی عکاسی پشتو کے ان اشعار سے ہوتی ہے جو سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسر ی نسل کو منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: ’’ جو کوئی سر کار ی مدرسے میں سبق پڑ ھے گا، وہ دوزخ میں غوطے کھا ئے گا اور جو کوئی درس نظا می کا طا لب علم ہے، وہ جنت میں شہد کھا ئے گا۔‘‘
اس کے علاو ہ سرسید اپنے سیاسی نظریات کے لحاظ سے کانگرس کے سخت مخالف تھے جبکہ علما ے کر ام مذکورہ پارٹی کی لیڈ ر شپ کا دم بھر تے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی صدیقی رقم طراز ہیں :
’’ علما کی طرف سے سر سید احمد خان کی مخا لفت کی سب سے بڑ ی و جہ انڈین نیشنل کانفر نس اور کا نگر س میں مسلمانوں کی شر کت کے خلا ف سر سید احمد خان کا مو قف تھا ۔ سر سید احمد خان مسلما نو ں کو علیحدہ قو م سمجھتے تھے ۔ ۱۸۸۳ء میں بلد یا تی اداروں کی نما ئند کے مسلہ پر جد ا گا نہ انتخا ب کا پہلا نعرہ سر سید ہی نے لگا یا تھا ۔ جبکہ دیو بند کے علما ء نے وطنی قو میت کی بنیاد پر مسلما نوں کی کا نگر س میں شر کت کو از روئے اسلام جا ئز قرار دیا تھا ۔ ۱۸۸۷ء میں علما ئے لدھیا نہ نے انڈین نیشنل کا نفر نس میں مسلما نو ں کی شرکت کے حق میں علما ے کر ام سے بڑ ے پیما نہ پر فتو یٰ حا صل کیا ۔ اس فتو یٰ کی تفصیلا ت ر سالہ نعر ہ الا برار (۱۸۹۰ ) میں در ج ہیں۔ اس فتو یٰ پرسو علما ء کے دستخط ہیں " ( ا حیا ئے علو م ، لا ہو ر، نو مبر ۲۰۰۵ ء صفحہ ۲۷)
سر سید کے سب سے بڑ ے مخا لف مو لا نا ابو الکلا م آ زاد کی ۱۹ فروری ۱۹۴۹ ء کی تقر یر کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے جس میں وہ سر سید کی سیا سی فکر کا گلہ یو ں کر تے ہیں :
’’ مسلما نو ں کے اس سیاسی تعطل کے لیے اگر چہ مختلف اسبا ب جمع ہو گئے تھے لیکن اس کی سب سے بڑ ی ذمہ داری مر حو م سر سید احمد خان کی سیا سی رہنما ئی پر تھی جواس تعلیمی ادارے کے با نی اول تھے۔ انہو ں نے ۱۸۸۶ ء میں مسلما نا ن ہند کو نہ صرف کا نگر س سے علیحد ہ رہنے کا مشور ہ دیا بلکہ سیا سی حقو ق کے تما م مطا لبو ں کی مخا لفت پر آمادہ کر دیا۔‘‘( بحوالہ مو لانا آ زاد ، سر سید اور علی گڑ ھ از محمد ضیا الدین انصار ی ، صفحہ ۶۷)
سر سید کی اس سیا سی فکر کی ایک کڑ ی ترکی کی خلا فت تھی جس کے وہ مخا لف تھے ۔ ڈاکٹر علی صدیقی نے لکھا ہے:
" علما ے دیوبند کے لیے سر سید احمد خان کی مخا لفت کی ایک و جہ عثمانی خلیفہ کو عا لم اسلام کا روحا نی سر براہ ما ننے سے انکار بھی ہے۔‘‘ ( احیا ئے علوم ، لا ہو ر ، نو مبر ۲۰۰۵ء، صفحہ ۲۷ )
مند ر جہ با لا بحث سے پتہ چلتا ہے ۔ کہ سر سید کی مذ ہبی نظر یا ت کے علا وہ کچھ دیگر عو امل بھی تھے ۔ جس کی و جہ سے وہ علما ء کی نظر میں بمثل خار تھے۔ شیخ محمد اکرام کی یہ با تیں چو نکہ وز ن دار نہیں تھیں اس لیئے مو ج کوثر کے بعد کے ایڈ یشنو ں میں نہیں ملتی ہیں۔
کیا ’قارون‘ اور ’قورح‘ ایک ہی شخصیت ہیں؟
محمد یاسین عابد
’الشریعہ‘ دسمبر ۲۰۰۵ء میں ’’اسلام کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اس مضمون کے بعض مندرجات ہمارے نزدیک محل نظر ہیں جن کی وضاحت درج ذیل سطور میں کی جا رہی ہے۔
بہت سے علما کی طرح ڈاکٹر صاحب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر (القصص ۷۶۔۷۹، العنکبوت ۳۹، المومن ۲۴) قارون نامی جس سرمایہ دار کا ذکر ہے، وہ وہی شخصیت ہے جس کا نام بائبل میں (گنتی ب ۱۶ و ۲۶:۱۰، خروج ۶: ۲۱، ۱۔تواریخ ۶:۲۲) قورح بتایا گیا ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ بائبل کے معروف عالم جناب محمد اسلم رانا مرحوم نے ماہنامہ ’المذاہب‘ لاہور (جون ۱۹۹۰) میں اس کی تفصیلی وضاحت فرمائی ہے۔
ڈاکٹر ندوی اپنے مذکورہ مضمون میں لکھتے ہیں:
’’تورات میں بھی قارون کا ذکر ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر بالکل مختلف انداز سے ہے۔ اس میں اس کی فراوانی دولت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو متنبہ (Challenge) کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اپنے آپ کو اللہ کا برگزیدہ بندہ کہتے ہو اور میں بھی برگزیدہ ہوں کیونکہ مال ودولت میں تم سے زیادہ ہوں۔ (تورات، کتاب گنتی، اصحاح ۱۶)‘‘
ہماری گزارش یہ ہے کہ ’قارون‘ نام پوری بائبل میں کہیں بھی درج نہیں۔ گنتی کے باب ۱۶ میں قورح کا ذکر ضرور ہے، لیکن جیسا کہ ہم واضح کریں گے، اس کا قارون سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب قورح بن اضہار بن قہات بن لاوی بن یعقوب کو ہی قارون قرار دے رہے ہیں تو بھی تورات میں اس کی فراوانی دولت کا کوئی ذکر نیں اور نہ کبھی قورح نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مخاطب ہو کر یہ کہا کہ ’’میں مال ودولت میں تم سے زیادہ ہوں۔‘‘ معلوم نہیں ڈاکٹر صاحب نے یہ بات تورات کی طرف کیسے منسوب کر دی۔
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’تورات کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل میں قارون کے خزانے کی تفصیل میں ہے کہ ’’اس کے خزانے کی کنجیاں چمڑے کی تھیں اور تین سو اونٹوں پر لادی جاتی تھیں۔......... یہاں تورات کا بیان غلط معلوم ہوتا ہے کہ چمڑے کی کنجیوں میں اتنا وزن نہیں ہوتا۔‘‘
یہ عبارت بھی گنتی باب ۱۶ میں نہیں ہے بلکہ ہمیں تو پوری کوشش کے باوجود پوری بائبل میں کہیں نہیں مل سکی۔ غالباً ڈاکٹر صاحب نے کبھی بائبل کھول کر نہیں دیکھی اور سنی سنائی اور غیر مستند معلومات کی بنیاد پر مذکورہ عبارت تورات کی طرف منسوب کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کا قارون اور بائبل کا قورح دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ علما کو مغالطہ غالباً اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ دونوں شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں تھے، دونوں کا تعلق آپ کی قوم سے تھا، دونوں ہی خطاکار تھے اور دونوں کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں متعدد قرائن ایسے ہیں جو ہمارے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد محترم کا نام عمرام تھا (خرج ۶:۲۰) جبکہ قورح، اضہار کا بیٹا تھا۔ (خروج ۶:۲۲) اضہار، عمرام کا چھوٹا بھائی تھا اور دونوں قہات بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ (خروج ۶:۱۶۔۱۸ و ۱۔تواریخ ۲:۱) گویا قورح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان رکھتا تھا، یہی وجہ تھی کہ اس نے مصر میں اپنا گھربار اور شہری حقوق وسہولیات چھوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کی او ربحر قلزم کو عبور کیا۔ تمام بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی حضر ت موسیٰ کے زیرفرمان ہی ہوتی تھی۔ (گنتی ۹:۲۳) قورح، داتن، ابیرام،اون اور ان کے دوسرے ساتھی بھی ہر عمل میں اپنی قوم کے ساتھ تھے۔ بچھڑے کی پوجا کے واقعے میں یہ اشخاص شرک میں مبتلا ہونے والے گروہ کے خلاف اور حضرت موسیٰ وہارون کے ساتھ تھے۔ اس واقعے میں بنی لاوی نے تمام مشرکین کو قتل کیا تھا۔ (خروج ۳۲:۲۸) اسی وجہ سے بنی لاوی کو بنی اسرائیل میں ایک ممتاز حیثیت حاصل ہو گئی تھی (گنتی ۸:۱۴) اور ہو خدا کے چنے ہوئے لوگ ٹھہرے۔ یہاں تک قورح ایک گم نام شخص ہے۔
اس کے بعد ایک اہم واقعے میں قورح کی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بنی لاوی میں سے بنی ہارون کو ایک ایسا اعزاز سونپ دیا گیا جو دوسرے لاویوں کو حاصل نہیں تھا۔ (خروج ۲۸: ۲ و ۳ و ۴۰۔۴۲، ۲۹:۱۔۹، گنتی ۱۸:۱۔۷) خیمہ اجتماع کی خدمت کا حق تو لاویوں کو مل گیا، لیکن مذبح اور پردہ کے اندر کی خدمت صرف بنی ہارون انجام دے سکتے تھے۔ تورات میں ہے:
’’کہانت کی خدمت کا شرف میں تم کو بخشتا ہوں اور جو غیر شخص نزدیک آئے، وہ جان سے مارا جائے۔‘‘ (گنتی ۱۸:۷)
ہارون اور بنی ہارون کی اس عزت افزائی پر قورح حسد میں مبتلا ہو گیا اور اس نے ۲۵۰ آدمیوں کی جماعت کو اپنے ساتھ ملا کر بنی ہارون کی کہانت پر اعتراض کیا۔ اس نے کہا:
’’تمھارے تو بڑے دعوے ہو چلے۔ کیونکہ جماعت کا ایک ایک آدمی مقدس ہے اور خداوند ان کے بیچ رہتا ہے سو تم اپنے آپ کو خداوند کی جماعت سے بڑا کیونکر ٹھہراتے ہو؟‘‘ (گنتی ۱۶:۳)
بنی اسرائیل میں خاندان کی سرداری پہلوٹھے بیٹے کو ملتی تھی۔ (پیدایش ۲۵:۳۱۔۳۴، استثنا ۲۱:۱۷، خروج ۲۲:۲۹) روبن حضرت یعقوب کو پہلوٹھا ہونے کی وجہ سے سرداری کا حق دار تھا (پیدایش ۳۷:۲۲) لیکن اپنی سوتیلی ماں سے زنا کی پاداش میں ا س حق سے محروم کر دیا گیا۔ (پیدایش ۴۹:۳۔۴، ۱۔تواریخ ۵:۱۔۲) بنی روبن کو اس سے بڑی خجالت کا سامنا تھا، اس لیے وہ بنی لاوی کی تقدیس پر تو خاموش رہے لیکن جب بنی لاوی میں سے قورح کو بنی ہارون کے خلاف باغی پایا تو بنی روبن میں سے الیاب کے دونوں بیٹے داتن اور ابیرام اور پلت کا بیٹا اون بھی مخالفت میں پیش پیش ہو گئے۔ انھوں نے مصر کو دودھ اور شہد کی سرزمین قرار دیا اور حضرت موسیٰ وہارون پر اعتراض کیا کہ انھوں نے بنی اسرائیل کو دودھ اور شہد کی سرزمین یعنی کنعان میں پہنچانے کا جھانسا دے کر یہاں ویرانوں اور بیابانوں میں لا پھینکا ہے۔ (گنتی ۱۶:۱۳۔۱۴) اس پر قورح ، ابیرام، داتن اور اون کو زمین نگل گئی اور ۲۵۰ باغیوں کو آگ نے بھسم کر دیا۔ (گنتی ۱۶:۳۱۔۳۵)
اب ہم قرآن مجید کے قارون کو دیکھتے ہیں۔
قرآن مجید کے بیان کے مطابق قارون قوم موسیٰ میں سے تھا اور بے انتہا دولت کا مالک تھا۔ اس نے اپنی دولت کی حفاظت، قرضوں کے لین دین اور سودکے حساب کتاب کے لیے منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں ایک پورا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ (۲۸:۷۶) جبکہ بقیہ قوم بنی اسرائیل غلامی، مفلسی اور بیگار میں پس رہی تھی۔ قارون اپنی قوم کے خلاف ہو کر فرعون کے مصاحبوں میں شامل ہو گیا۔ وہ اپنی قوم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اور زیب وزینت والے شاہانہ لباس پہن کر اور سواریوں پربیٹھ کر غریب اسرائیلیوں کے سامنے اتراتا تھا۔ جب قوم اسے اللہ کے احسانات پر اس کا شکر ادا کرنے اور غربا پر احسان کر کے اپنی آخرت سنوارنے کا مشورہ دیتی تو وہ شیخی بگھار کر کہتا کہ یہ سب مال دولت اس نے اپنے علم اور منصوبہ بندی سے حاصل کیا ہے۔ (القصص ۷۸) قرآن کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور ہامان کے ساتھ ساتھ قارون کی طرف بھی مبعوث کیے گئے تھے۔ (۲۹:۳۹)
قارون نے کبھی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ اس نے فرعون اور ہامان کی ہم نوائی میں حضرت موسیٰ کو ساحر اور کذاب کہا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قارون کا ذکر کافروں میں کیا ہے۔ (۴۰:۳۲۔۲۵) اپنے اسی تکبر اور کفر کی وجہ سے قارون اللہ کے غضب کا شکار ہوا اور اسے اس کے سارے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ (۲۸:۸۱)
اس تقابل سے واضح ہے کہ قورح نے تو ہجرت کی، جنگلوں اور بیابانوں کی خاک چھانی، بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کے خلاف جہاد کیا، لیکن آخر بنی ہارون کی تقدیس سے حسد کا شکار ہو کر اللہ کے نبی کا گستاخ ہو گیا اور برابری کا دعویٰ کرنے لگا جس کی پاداش میں اسے جیتے جی زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اس کے برعکس قارون نہ ایمان لایا نہ اس نے ہجرت کی، بلکہ مصر ہی میں حالت کفر میں زمین میں دھنس کر آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ دونوں مجرم تھے، دونوں خداکے غضب کا شکار ہوئے اور دونوں کو زمین میں دھنسا دیا گیا، لیکن ان مشابہتوں کے باوجود بہرحال یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں تھیں۔ ان کو ایک قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور جناب جاوید احمد غامدی
آصف محمود ایڈووکیٹ
(۱)
کیا جناب جاوید احمد غامدی مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور کیا تعبیر دین میں وہ مرزا غلام احمد کی متعین کردہ راہوں کے راہی ہیں؟ جناب مولانا زاہد الراشدی جیسے جید عالم دین کی زیر نگرانی شائع ہونے والے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے مطابق اس کا جواب اثبات میں ہے۔
چھڑکے ہے شبنم آئینہ برگ گل پر اب
اے عندلیب وقت وداع بہار ہے
’’الشریعہ ‘‘کسی دوسرے درجے کے رسالے کا نام نہیں، بلکہ مبالغہ نہ ہو تو میں اسے پاکستان کے چند نمایاں ترین علمی جرائد میں شمار کروں گا۔ جناب عمار خان ناصر بڑی محبت سے ہر ماہ مجھے اس کا شمارہ بھیجتے ہیں جسے میں پورے اہتمام کے ساتھ پڑھتاہوں۔ عمار خان ناصر اس کے مدیر بھی ہیں اور یہی بات میرے لیے باعث حیرت ہے کہ جو جریدہ عمار خان ناصر جیسے سنجیدہ نوجوان کی زیر ادارت شائع ہوتاہو، جس کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی ہوں اور جس کی سرپرستی مولانا سرفراز خان اور مولانا عبد الحمید سواتی جیسی شخصیات کررہی ہوں، اس میں اتنی سطحی چیز کس طرح شائع ہوگئی جو اگر شام کو شائع ہونے والے کسی اخبار کے مدیر کو بھیجی جاتی تو وہ بھی اسے شائع کرنے کی بجائے ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کرتے۔
مذہبی طبقے کے ہاں اختلاف کبھی بھی حدود کے اندر نہیں رہ سکا۔ جہاں فہم دین کا اختلاف ہو، وہیں کفر کے فتوے سامنے آگئے۔ مولانا مودودی جیسے جید عالم دین تک کو نہیں بخشا گیا اور ایک ’مودودی سو یہودی‘ جیسے نعرے اس ملک کی سڑکوں پر لگائے گئے۔ ’’شکوہ‘‘ لکھنے پر اقبال کو دین سے خارج کردیا گیا اور قائد اعظم جیسی شخصت کو بھی ’کافر اعظم‘ کے خطابات سے نوازا گیا۔ دین کی محبت کا یہ اظہار جب اپنے جوبن پر ہوتاہے تو پھر فکری زوال اتنا شدید ہوجاتاہے کہ ہمیں ہر چیز سازش نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر اسرار عالم جیسی شخصیت دعویٰ کرتی ہے کہ لڑکی کا کار ڈرائیو کرنا یہودی سازش ہے اور ’الشریعہ‘ میں شائع ہوتاہے کہ جاوید غامدی ،مرزا غلام احمد کے راستے پر چل رہے ہیں۔
دلیل کبھی ہمارا سرمایہ ہوتی تھی اور ہمارے اہل علم کے درمیان اختلاف بھی اسی وجہ سے رونما ہوتا تھا۔ آج بھی ہم ائمہ اربعہ کے اختلافات کو پڑھیں تو گاہے دونوں جانب سے اتنے مضبوط دلائل ملتے ہیں کہ آدمی حیرت زدہ ہو کر سوچتاہے کہ کس کو اختیار کرے اور کس کو نہ کرے۔ جاوید غامدی صاحب پر یہ الزام پڑھ کر میں نے فوری طور پر صاحب مضمون کے دلائل جاننے کی کوشش کی۔ میری خوش قسمتی کہ صاحب مضمون نے اہتمام کے ساتھ لکھا کہ ان ان دلائل کی وجہ سے وہ جملہ متجددین کو مرزا قادیانی کی راہ کا راہی سمجھتے ہیں۔ ذرا یہ چارج شیٹ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے:
یہ متجددین حدود قوانین پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ سیکولر سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کی مدد کرتے ہیں۔جو تنظیمیںآزادی نسواں کی تحریکیں چلاتی ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اہل مغرب سے ہمیں مفاہمت کرنی چاہیے کیونکہ وہ اہل کتاب ہیں۔ آخر حضر ت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے بھی تو پیغمبر ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ مغرب نے اسلامی اصول اپنا لیے ہیں، اس لیے وہ غالب اور بالادست ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ حدیث اور سنت میں فرق ہے ۔یہ خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موسیقی کی حمایت کرتے ہیں ۔ان کے مطابق مسلمانوں کے انحطاط کی وجہ ان کی مادی انحطاط ہے۔
اگر اس چارج شیٹ کی وجہ سے جناب غامدی پر یہ الزام عائد کیا جا سکتاہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی راہوں کے راہی ہیں تو پھر اطمینان رکھیے آپ نے دین کی خدمت کا حق ادا کردیا۔ آج صرف جاوید احمد غامدی نہیں، اس ملک کی غالب اکثریت کے یہی خیالات ہیں۔ خود میرے جیسا طالب علم کہتاہے کہ حدود آرڈیننس صحیفہ جہالت ہے۔ میرے اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے کئی پروفیسر حضرات حدیث وسنت کے فرق سے لے کر خاندانی منصوبہ بندی تک اسی موقف کے قائل ہیں جس کی پاداش میں جاوید صاحب سمیت جملہ متجددین کو مرزا غلام احمد قادیانی کی راہوں کا راہی قرار دیا گیا ہے۔ جرم اگر یہی ہے تو اس ملک کی تقریباً ۵۰فیصد آبادی اس کا ارتکاب کرتی ہے، اور ہم جیسے طالب علم تو ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ تو کیا ہم سب غلام احمد قادیانی کے پیروکار ہیں؟ میں اپنی بات ایک بار پھر دہرادوں کہ اس ملک میں کبھی سیکولرازم آیا تو اس کے ذمہ دار اہل مذہب ہوں گے جن کا فہم دین اتنا ناقص ہوجائے گا کہ معاشرے کے سنجیدہ لوگ اسے قبول نہیں کرپائیں گے۔
(بشکریہ روزنامہ ’جناح‘ لاہور)
(۲)
(’الشریعہ‘ بحث ومباحثہ اور آرا وافکار کے تبادلہ کے لیے ایک فورم ہے جس میں مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان پر تنقید وتبصرہ شائع ہوتا رہتا ہے اور خود ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر ، مدیر اورمجلس ادارت کے دیگر ارکان کی آرا پر بھی سخت اور تیز وتند تبصرے اس کے صفحات پر چھپتے رہتے ہیں۔ بطور ایک ادارے کے’ الشریعہ‘ جناب جاوید احمد غامدی کے بہت سے افکار وخیالات سے اختلاف رکھتا ہے، تاہم قارئین جانتے ہیں کہ ’الشریعہ‘ کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرنے والی کسی بھی تنقید میں کبھی طعنہ بازی اور الزام تراشی کا پست اسلوب اختیار نہیں کیا گیا۔ ۲۰۰۱ میں مولانا زاہد الراشدی اور جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے اہل قلم کے مابین روزنامہ ’جنگ‘، روزنامہ ’اوصاف‘ اور روزنامہ ’پاکستان‘ کے صفحات پر بعض اہم مباحث پر ایک سنجیدہ علمی مکالمہ ہوا تھا جو بعد میں مزید اضافوں کے ساتھ ماہنامہ ’اشراق‘ اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں بھی شائع ہوا۔ اس مکالمے میں مولانا زاہد الراشدی کے رویے اور اسلوب تحریر کو خود جناب غامدی صاحب اور ان کی ترجمانی کرنے والے اہل قلم نے سراہا تھا اور اسے علمی بحث ومباحثہ کا ایک مثالی نمونہ قرار دیا تھا۔ ذیل میں بعض تحریروں کے اقتباسات نقل کیے جا رہے ہیں۔ غامدی صاحب کے طرز فکر پر بطور ایک ادارے کے ’الشریعہ‘ کی رائے وہی ہے جو ان تحریروں میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ’الشریعہ‘ کے صفحات پر شائع ہونے والی دیگر تنقیدوں کے ذمہ دار خود ان کے مصنفین ہیں۔ مدیر)
’’جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں۔ صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانش ور ہیں اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ..... حضرت مولانا حمید الدین فراہی برصغیر پاک وہند کے سرکردہ علماے کرام میں سے تھے۔ مولانا شبلی نعمانی کے ماموں زاد تھے۔ ان کے اساتذہ میں مولانا شبلی کے علاوہ مولانا عبد الحئ فرنگی محلی، مولانا فیض الحسن سہارن پوری اور پروفیسر آرنلڈ شامل ہیں۔ دینی درسیات کی تکمیل کے بعد انھوں نے جدید تعلیم بھی حاصل کی اور بیک وقت عربی، اردو، فارسی، انگلش اور عبرانی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ حیدر آباد دکن کے دار العلوم کے پرنسپل رہے جسے بعد میں ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ کے نام سے یونیورسٹی کی شکل دے دی گئی اور کہا جاتا ہے کہ دار العلوم کو ’’جامعہ‘‘ کی شکل دینے میں مولانا فراہی کی سوچ اور تحریک بھی کارفرما تھی۔ بعد میں حیدر آباد کو چھوڑ کر انھوں نے لکھنو کے قریب سرائے میر میں ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ کے نام سے درس گاہ کی بنیاد رکھی اور قرآن فہمی کا ایک نیا حلقہ قائم کیا جو اپنے مخصوص ذوق اور اسلوب کے حوالے سے انھی کے نام سے منسوب ہو گیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ان کے نزدیک قرآن فہمی میں عربی ادب، نزول قرآن کے دور کے عربی لٹریچر اور روایات اور اس کے ساتھ عرف وتعامل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ حدیث وسنت کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں مگر ’’خبر واحد‘‘ کو ان کے ہاں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو ’’محدثین‘‘ کے ہاں تسلیم شدہ ہے اور وہ احکام میں ’’خبر واحد‘‘ کو حجت تسلیم نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے بعض علمی معاملات میں ان کی اور ان کے تلامذہ کی رائے جمہور علما سے مختلف ہو جاتی ہے۔ مولانا فراہی کے بعد ان کے فکر اور فلسفہ کے سب سے بڑے وارث اور نمائندہ حضرت مولانا امین احسن اصلاحی تھے جنھوں نے کچھ عرصہ قبل وفاقی عدالت میں شادی شدہ مرد وعورت کے لیے زنا کی سزا کے طور پر ’’رجم‘‘ کے شرعی حد نہ ہونے پر دلائل فراہم کیے تھے اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ رجم اور سنگ سار کرنا شرعی حد نہیں ہے۔ اس کے پیچھے بھی ’’خبر واحد‘‘ کے احکام میں حجت نہ ہونے کا تصور کارفرما تھا۔ یہ ایک مستقل علمی بحث ہے کہ احکام وقوانین کی بنیاد شہادت پر ہے یا خبر پر، اور خبر اور شہادت کے نصاب ومعیار میں کیا فرق ہے؟ اس میں فقہا کے اصولی گروہ میں سے بعض ذمہ دار بزرگ ایک مستقل موقف رکھتے ہیں جبکہ جمہور محدثین اور علمی فقہا کا موقف ان سے مختلف ہے اور ہمارے خیال میں مولانا حمید الدین فراہی کا موقف جمہور فقہا اور محدثین کے بجائے ’’بعض اصولی فقہا‘‘ سے زیادہ قریب ہے۔ اسی وجہ سے ہم اسے ان کے ’’تفردات‘‘ میں شمار کرتے ہیں اور ’’تفردات‘‘ کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ ہر صاحب علم کا حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے بشرطیکہ وہ ان کی ذات یا حلقے تک محدود رہے۔ البتہ اگر کسی ’’تفرد‘ کو جمہور اہل علم کی رائے کے علی الرغم سوسائٹی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ فکری انتشار اور ایک نئے مکتب فکر کے قیام کا سبب بنتا ہے اور یہی وہ نکتہ اور مقام ہے جہاں ہمارے بہت سے قابل قدر اور لائق احترام مفکرین نے ٹھوکر کھائی ہے اور امت کے ’’اجتماعی علمی دھارے‘‘ سے کٹ کر جداگانہ فکری حلقوں کے قیام کا باعث بنے ہیں۔ بہرحال محترم جاوید احمد صاحب اور ان کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب کا تعلق اسی علمی حلقے سے ہے اور مولانا امین احسن اصلاحی کے بعد اس حلقہ علم وفکر کی قیادت غامدی صاحب فرما رہے ہیں۔‘‘
(الشریعہ مئی ۲۰۰۱، ص ۷، ۸)
’’جہاں تک غامدی صاحب کو جہاد کے بارے میں قادیانیوں کے موقف کا موید ظاہر کرنا ہے تو یہ سراسر زیادتی ہے اس لیے کہ ان کا موقف قطعاً وہ نہیں ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد کے سرے سے منسوخ ہونے کا اعلان کیا تھا بلکہ اس نے جھوٹی نبوت کا ڈھونگ ہی جہاد کی منسوخی کے پرچار کے لیے کیا تھا، جبکہ غامدی صاحب جہاد کی فرضیت اور اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں البتہ جہاد کے اعلان کی مجاز اتھارٹی کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ مگر اس بارے میں ان کی رائے امت کے جمہور اہل علم سے مختلف ہے جس پر ہم تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کر چکے ہیں۔ میر ااختلاف غامدی صاحب کے ساتھ یہ نہیں ہے۔ اپنے سابقہ مضامین میں عرض کر چکا ہوں کہ میں انھیں حضرت مولانا حمید الدین فراہی کے علمی مکتب فکر کا نمائندہ سمجھتا ہوں اور حضرت مولانا فراہی کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھی اور حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کی ہے، البتہ امت کے جمہور اہل علم کے علی الرغم ان کے تفردات کو میں قبول نہیں کرتا اور غامدی صاحب سے میں نے یہی عرض کیا ہے کہ علمی تفردات کو اس انداز سے پیش کرنا کہ وہ امت کے اجتماعی علمی دھارے سے الگ کسی نئے مکتب فکر کا عنوا ن نظر آنے لگیں، امت میں فکری انتشار کا باعث بنتا ہے اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو اسے عالمی فکری استعمار کی ان کوششوں سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جو ملت اسلامیہ کو ذہنی انتشار اور فکری انارکی سے دوچار کرنے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہیں۔‘‘
(الشریعہ، مئی ۲۰۰۱، ص ۵۸)
’’مختلف دینی اور علمی موضوعات پر ان کا ایک مستقل نقطہ نظر اور اسلوب فکر ہے جس کا اظہار ان کے مضامین کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے ہر نتیجہ فکر سے اتفاق کیا جائے اور ہم بھی جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں، ان کے فکر واسلوب سے بلاتامل اختلاف کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ مختلف پیش آمدہ دینی وملی مسائل پر دیگر مکاتب فکر کی طرح ان کے نقطہ نظر سے بھی آگاہی حاصل کی جائے اور علمی بحث ومباحثہ اور مکالمہ کی صورت میں بحث وتمحیص کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔‘‘
(الشریعہ، جون ۲۰۰۴، ص ۵۰)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
آپ کی زیر ادارت شائع ہونے والا مجلہ ’الشریعہ‘ پڑھنے کو ملتا ہے۔ یہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر بے لاگ تجزیہ اور آزادئ رائے کے ساتھ جامع تبصرہ کرتا ہے۔ اس کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ اجتہاد جیسی عظیم نعمت کے فروغ کے لیے فکری ومذہبی جمود وسکوت پر تیشہ ابراہیمی چلاتا ہے اور دلائل وبراہین کی زبان پر یقین رکھتا ہے۔
الشریعہ کے بعض مضامین ومقالات مثلاً بیت المقدس پر یہودیوں کے حق تولیت وغیرہ پر میں بھی مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کی طرح تحفظات رکھتا ہوں، لیکن بحیثیت مجموعی الشریعہ محاسن کا مجموعہ ہے جس پر آپ اور آپ کی ادارتی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امید ہے کہ فکری جمود اور تقلید کے خلاف محاکمہ کا سلسلہ آپ جاری رکھیں گے اور شریعت مطہرہ کے دائرے میں وسعت نظر کی دعوت فکر دیتے رہیں گے۔
ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کے وقوع اور موجودہ دور میں اس کے تباہ کن معاشرتی اثرات کے حوالے سے پروفیسر محمد اکرم ورک صاحب نے جو پرمغز تحریر لکھی ہے اور جسے بہت سے جویان حق نے سراہا ہے، وہ یقیناًایک جرات مندانہ اور مستحسن اقدام ہے۔ آج کی دنیا دلائل وبراہین کی زبان کو سمجھتی ہے اور دعووں کو دلائل کی روشنی میں پرکھنے کا رجحان بھی پروان چڑھا ہے۔ وراثتاً ملے ہوئے عاری از دلائل آرا کو خیر باد کہنے کی تحریک دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے۔ جو شخص جتنا زیادہ عالم اور بالغ نظر ہے، وہ مذہبی جمود اور فکری تعصب کو اتنا ہی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات اور بہتر نتائج کا پیش خیمہ ہے۔
امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کا فتح کردہ ایران اور عراق کا خطہ آج شیعہ مکتب فکر کا مرکز ہے، حالانکہ کوفہ وعراق امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ جیسے بانیان مذہب کا مسکن ومرکز تھا۔ ایسا کیونکر ہوا، یہ ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب طلاق ثلاثہ سے متعلق پیرمحمد کرم شاہ الازہری اور مولانا سلمان الحسینی کی رائے پر چیں بہ چیں ہونے والوں کے ذمے ہے۔ اسلامی تاریخ کی انتہائی معتوب ومظلوم شخصیت شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منہاج السنۃ کے مقدمے میں اس امر کی وضاحت کی ہے۔ خود ائمہ اربعہ علیہم الرحمۃ بھی اجتہاد کو تابندہ وپائندہ رکھنے کے حق میں تھے۔ ان کے اپنے واضح ارشادات اور ان کے تلامذہ امام ابو یوسف وامام محمد کے اپنے استاذ گرامی سے دو تہائی کے قریب مسائل میں اختلاف کرنا اسی وسعت نظر کا غماز ہے۔
ہفت روزہ ضرب مومن ۳۱؍اکتوبر ۲۰۰۳ کے مطابق طالبان کے دور حکومت میں سپریم کورٹ نے افغانستان کی جنگ آزادی اور بعد کی خانہ جنگی کے دوران میں لاپتہ ہو جانے والے لوگوں کے بارے میں علما سے رجوع کر کے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ ایسے لوگوں کی بیویاں چار سال تک انتظار کرنے کے بعد دوسری شادی کر سکتی ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طلاق ثلاثہ آرڈیننس تک نہ کوئی مستقل فقہی مذاہب وجود میں آئے تھے اور نہ ان کے بانیوں میں سے کوئی پیدا ہوا تھا ۔ اس آرڈیننس سے قبل ایک ہی طلاق واقع مانی جاتی تھی اور یہی اس وقت کے ائمہ مجتہدین کا مسلک تھا۔ اسی فقہی مسلک کی ترجمانی بعد میں امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم نے کی اور موجودہ دور میں اہل حدیث مکتبہ فکر اسی کا ترجمان ہے۔ اس رائے کے حاملین کو امام ابن تیمیہ کامقلد قرار دینا قرین انصاف نہیں۔ اسی طرح ائمہ اربعہ کی رائے کے برعکس ہونے کو بھی کسی فقہی مسلک کو کلیتاً مسترد کر دینے کے لیے وجہ جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ بہت سے مسائل میں امام ابو یوسف، امام محمد، امام ثوری، لیث بن سعد اور ابن حزم جیسے اہل علم نے جمہور کی رائے سے ہٹ کر رائے قائم کی ہے۔ اگر یہ اہل علم اس بنیاد پر مورد الزام نہیں ٹھہرتے تو آج کے دور میں ان کی رائے کو اختیا ر کرنے والے کیوں گردن زدنی قرار دیے جاتے ہیں؟ زیر بحث مسئلے میں امام ابن تیمیہ سے بھی بڑھ کر مختلف رائے فقہاے امامیہ نے اختیار کی ہے جن کے نزدیک اس طرح کی طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی بلکہ لغو قرار پاتی ہے جس کی شریعت میں کوئی تاثیر نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق بات کہنے اور جہاں سے حق ملے، وہاں سے لے لینے کی توفیق عطا فرمائے۔
ابو عبد اللہ نادم
غواڑی ۔ بلتستان
(۲)
واجب الاحترام مدیر ’ الشریعہ‘
سلام مسنون
’’قرآنی علمیات اور معاصرمسلم رویہ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر میاں انعام الرحمٰن صاحب کی کاوش ،اندازِ تحریر کے حوالہ سے قابلِ داد ہے، تاہم میاں صاحب کے مضمون کے Theme اور اس کی بعض جزئیات سے کلیتاً اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ذریت میں صرف سرکارِ دوعالم ﷺ بحثیت پیغمبر مبعوث ہوئے، جبکہ یہودی علما حضرت اسحٰق علیہ السلام کو ذبیح قرار دینے پر اس لیے مصر ہوئے کہ رحمتِ دوجہاں ﷺ کی آمد سے متعلق توراۃ وانجیل میں موجود بشارتوں کی نفی کی جا سکے۔ ’ذبیح کون؟‘ کی بحث مسلم فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا آغاز یہودی علما کی طرف سے ہوا اور مسلم محققین نے توراۃ وانجیل اور دیگر تاریخی وجغرافیائی شواہد سے یہ ثابت کیا کہ ذبیح درحقیقت اسمٰعیل علیہ السلام ہی تھے۔ میاں صاحب مسلم رویے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ اگر تاریخی تناظر میں یہودی شدت پسندی کا بھی ذکر فرماتے تو ان کا مضمون ایک معتدل تحقیق متصور ہوتا۔ مزید برآں حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں ’ذبیح کون؟‘ جیسی ابحاث پر قلم کشائی بذاتِ خود ’فکری تشدد پسندی‘ کے احیا کی کوشش ہے جبکہ اس سے احتراز معاصر مسلم رویہ کو بہتر ومعتدل بنانے میں معاون ہو گا۔ (اللہم ثبت قلوبنا علی دین الاسلام۔ آمین)
حافظ محمد سمیع اللہ فراز
پی ایچ ڈی سکالر، لیکچرار شعبہ علومِ اسلامیہ
ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان۔ لاہور
(۳)
باسمہ تعالیٰ
مکرمی جناب مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے ایمان وصحت کی بہترین حالت میں دین مبین کی ترقی وترویج کے کاموں میں مصروف ہوں گے۔
آپ کے زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنامہ ’الشریعہ ‘ہر ماہ باقاعدگی سے ملتا ہے۔تمام مضامین عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اور مسائل کے حل کے لیے تیر بہدف ہوتے ہیں۔ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا ہر ماہ بندہ کو شدت سے انتظار رہتاہے، لیکن بندہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتاہے کہ ابھی تک شکریہ کے طور بھی کوئی خط ارسال نہیں کر سکا۔ اس پر بندہ معذرت خواہ ہے ۔
نومبر کا شمارہ بندہ کے سامنے پڑا ہے۔ اول سے آخر تک مطالعہ کرنے کے بعد کچھ لکھنے کی جسارت کررہاہوں۔ صفحہ ۴۴ پر عبد الجلیل نقوی صاحب کا خط شائع ہوا ہے۔ اس سے پہلے شیعہ سنی مسئلہ اور اختلاف کے عوامل پر ’الشریعہ‘ میں کافی لکھا گیا ہے اور ’الشریعہ‘ نے اپنی روایت کے مطابق ہر فریق کو کھل کر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا ہے ۔عبد الجلیل نقوی صاحب نے اپنے خط میں ’’نہ مانوں‘ ‘والا رویہ اختیار کیا ہے ۔یہ مسئلہ ایجنسیوں یا متعصب گروہ کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ شیعہ مسلک کے ان مصنفین کاپیدا کردہ ہے جنھوں نے اپنی کتابوں میں اہل سنت کے اکابر پر تنقید کا بیہودہ طرز اختیار کیا ہے۔ یہ کتابیں اس وقت لکھی گئی تھیں جب ’متعصب‘ گروہ کے قائدین کے آباواجداد بھی پیدا نہیں ہوئے تھے ۔کیا محمد بن یعقوب کلینی نے ’اصول کافی‘ میں نہیں لکھا کہ کفر کی تین جڑیں ہیں:ایک شیطان، دوسرا قابیل اور تیسری (معاذاللہ) حضرت آدم؟ کیا باقر مجلسی نے اپنی کتاب ’حق الیقین ‘میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کو (معاذاللہ )شیطان سے بڑا کافر نہیں لکھا؟ کیا اسی باقر مجلسی نے اپنی کتاب ’عین الیقین ‘میں تین صحابہ یعنی مقدادؓ ،سلمانؓاور ابوذرؓکے سوا باقی تمام صحابہؓکو نعوذباللہ کافر اور مرتد نہیں لکھا؟ کیا اسی کتاب میں باقر مجلسی نے نہیں لکھا کہ امام جعفر صادقؒ نماز کے بعد جب تک خلفاے ثلاثہؓ اور پیغمبر علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ پر لعنت نہیں کرتے تھے، اپنے مصلے سے نہیں اٹھتے تھے؟ جب ایسے خیالات ظاہر اور شائع کیے جائیں گے تو ان کا رد عمل ضرور ہو گا۔ رد عمل میں دہشت گردی ،خود کش حملوں اور قتل وغارت گری سے بندہ بھی اتفاق نہیں کرتا اور نہ کوئی سنجیدہ انسان ایسے اقدامات کی حمایت کر سکتاہے ۔دیوبندی مکتب فکر کے سنجیدہ اور دانش ور افرادنے اگر اہل تشیع کے طرز عمل کے خلاف قلم اٹھایا ہے تو یہ اقدام ایجنسیوں یا ایک متعصب گروہ کے پروپیگنڈا کا نتیجہ ہر گز نہیں۔ آپ اس متعصب گروہ کو چھوڑ کر دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے کسی سنجیدہ عالم ،دانش ور اور مفتی سے ان کتابوں کے مصنفین یا ان عقائد کے حامل افراد کے بارے میں پوچھ لیں کہ اسلام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ حقیقت حال واضح ہو جائے گی۔
عبد الجلیل نقوی صاحب کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ ’نہ مانوں‘ کا رویہ چھوڑ کر حقائق کو تسلیم کریں اور اس مسئلے کے واقعی حل کے لیے مدد کریں۔ پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک اس اختلاف اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ دونوں فریق باہم اتحاد واتفاق پیدا کریں تاکہ درپیش مسائل کا یک جان ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔
امید ہے کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ مسائل ومباحث کے حوالے سے ہماری معلومات میں اضافہ کرتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ’الشریعہ‘ کو مزید ترقی نصیب فرمائے۔آمین
سید عنایت اللہ ہاشمی
نائب مہتمم دارالعلوم مصباح الاسلام
مٹہ مغل خیل ۔ شبقدر فورٹ۔ ضلع چارسدہ
(۴)
باسمہ سبحانہ
بخدمت گرامی حضرت علامہ راشدی صاحب مدظلہ
سلام مسنون
الشریعہ میں شیعہ کی تکفیر کے موضوع پر بحث جاری ہے۔ احقر کی نظر میں عملی طور پر یہ بحث بے فائدہ ہے اس لیے کہ اس پر کوئی مثبت نتیجہ مرتب ہونے کی امید نہیں ہے۔ اگر قارئین شوق رکھتے ہوں تو شیعہ سنی مسئلہ کے حل میں حکومتی انداز فکر، شیعہ سنی تنازع کی وجوہ اور اس کے سدباب کی تجاویز وغیرہ موضوعات پر قلم اٹھائیں۔ شیعہ سنی حوالے سے تاریخی وادبی بہت سے موضوعات تشنہ بحث ہیں۔ ان پر طبع آزمائی کریں۔
شیعہ سنی مسئلہ میں حکومت جس افراط وتفریط کا شکار ہے، اس کے پیش نظر کچھ لکھنا اور چھاپنا ایک مستقل مسئلہ ہے۔
(مولانا) مشتاق احمد
جامعہ عربیہ۔ چنیوٹ
تعارف و تبصرہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
’’الامام زید‘‘
۱۹۸۷ء میں علمائے کرام کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا اتفاق ہوا اور ایرانی راہ نماؤں سے مختلف امور پربات چیت ہوئی تو اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ ایران کے دستور میں زیدی فرقہ کے اہل تشیع کو اثنا عشری اہل تشیع کے ساتھ شمار کرنے کے بجائے احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے ساتھ فقہی اقلیتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ہم زیدیوں کو تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اثنا عشریوں کے ساتھ ہی سمجھا کرتے تھے مگر ایرانی دستور کی اس دفعہ نے تجسس پیدا کیا کہ اس فرق کی تحقیق کرنی چاہیے۔ چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد لندن کی ایک لائبریری میں امام زید بن علیؓ کے بارے میں مصر کے نامور محقق الاستاذ ابو زہرہ کی تصنیف نظر سے گزری تو اندازہ ہوا کہ زیدی مذہب اور اثنا عشری مذہب میں واقعتا اتنا فرق موجود ہے کہ اثنا عشری اہل تشیع کے لیے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنا آسان نہیں ہے۔
حال ہی میں مجھے پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ کی خدمت میں حاضری دینے کا موقع ملا تو انہوں نے مجھے اپنی طرف سے الاستاذ ابو زہرہ کی یہ کتاب ہدیہ کے طور پر مرحمت فرمائی اور معلوم ہوا کہ یہ کتاب اب حضرت شاہ صاحب مدظلہ کی نگرانی میں لاہور سے طبع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں امام زیدؒ کی حیات مبارکہ، جدوجہد، خدمات، علمی مقام و مرتبہ، اعتقادی و فقہی موقف اور شہادت کے بارے میں محققانہ انداز میں بحث کی گئی ہے۔
امام زید، حضرت امام زین العابدینؒ کے فرزند اور حضرت امام باقرؒ کے بھائی تھے۔ انہوں نے اموی خلافت کے خلاف خروج کیا اور شہادت سے ہم کنار ہوئے۔ زیدی فرقہ کی نسبت انہی سے ہے اور الاستاذ ابو زہرہ نے حضرت امام زیدؒ کے افکار و خیالات میں دوسرے اہل تشیع کے ساتھ جس فرق کی نشان دہی کی ہے، اس کے مطابق امام زید بن علی رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ:
- حضرت علیؓ کو دوسرے تمام صحابہ کرام پر فضیلت حاصل ہے، لیکن خلافت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا حق تھی اور ان کے نزدیک مفضول کے مقابلے میں افضل کی امامت جائز ہے۔
- حضرت علیؓ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کی وصیت اور نص نہیں کی تھی۔
- امام کے لیے عادل اور فاطمی ہونا افضل ہے، شرط نہیں۔
- امام معصوم نہیں ہوتا اور اس کے فیصلوں میں دوسرے ائمہ کی طرح خطا و صواب، دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔
- ایک وقت میں مختلف مقامات پر دو امام بھی ہو سکتے ہیں اور دونوں واجب الاتباع ہوں گے۔
- اہل بیت میں سے امام وہی ہوگا جو خود داعی ہو۔ دوسرے لفظوں میں تقیہ درست نہیں ہے۔
- امام کے غائب ہونے اور دوبارہ واپس آنے کا تصور ان کے ہاں نہیں ہے۔
- امام کا علم القائی نہیں، بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح درسی اور تعلیمی ہوتا ہے۔
- امام کے لیے معجزہ کا بھی کوئی تصور نہیں ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ زیدی فرقہ کے بارے میں یہ تحقیقی تعارفی کتاب حضرت سید نفیس شاہ صاحب مدظلہ کی نگرانی اور سرپرستی میں ’’دار النفائس‘ کریم پارک، راوی روڈ لاہور کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس سے علمائے کرام کو اس فرقہ کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
’’تعلیمات نبوی اور آج کے زندہ مسائل‘‘
معروف روحانی پیشوا اور محقق عالم دین حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے خانوادہ کے چشم و چراغ مولانا سید عزیز الرحمن کو اللہ تعالیٰ نے اس دور میں سیرت نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطالعہ و تحقیق اور عصر حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت طیبہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا خصوصی ذوق مرحمت فرمایا ہے اور وہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسوہ کو موضوع بنا کر خاصا وقیع کام کر رہے ہیں۔ ان کی ادارت میں ’السیرۃ عالمی‘ کے عنوان سے ایک ضخیم علمی شش ماہی مجلہ سال میں دو مرتبہ ارباب ذوق کی فکری و علمی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے اور اس کے علاوہ مختلف عنوانات پر ان کے مقالات حالات حاضرہ کے تناظر میں سیرت نبوی کے متنوع پہلووں کی تشریح واشاعت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
زیر نظر کتاب ان کے سات وقیع مقالات کا مجموعہ ہے جو اس موضوع پر ان کے ایوارڈ یافتہ مقالات ہیں۔ ان میں خاص طور پر انسانی حقوق، اسلامی ریاست و حکومت، عدم برداشت کا بین الاقوامی رجحان، معاشرتی احتساب، نظام تعلیم، نیا عالمی نظام اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل کو انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے جو آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔
ہم ایک عرصہ سے گزارش کر رہے ہیں کہ دینی اداروں میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں سیرت نبوی کے ازسرنو مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مولانا سید عزیز الرحمن اس سمت میں مؤثر پیش رفت کر رہے ہیں اور ہم ان کی اس جدوجہد کی کامیابی اور قبولیت کے لیے دعاگو ہیں۔
چار سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب القلم، فرحان ٹیرس، ناظم آباد نمبر ۲، کراچی ۱۸ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۲۴۰ روپے ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
ادارہ
- جمعیۃ علماء اسلام (س) کے ضلعی امیر مولانا علی احمد جامی طویل علالت کے بعد عید الاضحی سے دو روز قبل انتقال کر گئے۔ انھوں نے ساری زندگی دینی جدوجہد میں گزاری اور جمعیۃ علماء اسلام میں ہمیشہ سرگرم رہے ۔ متحدہ مجلس عمل ضلع گوجرانوالہ کے صدر رہے اور تحریک ختم نبوت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ مولانا جامی مرحوم نے تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فعال کردار ادا کیا اور متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ خوش الحان واعظ اور بے باک خطیب تھے۔ ان تھک سیاسی کارکن تھے اور دینی معاملات میں غیرت وحمیت سے بہرہ ور راہ نما تھے۔
- جمعیۃ علماء اسلام (س) کے صوبائی نائب امیر ڈاکٹر غلام محمد بھی عید الاضحی کے بعد جمعہ کے روز دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ وہ کافی عرصے سے بستر علالت پر تھے۔ وفات سے چند روز قبل ان پر تیسری بار فالج کا حملہ ہوا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر صاحب ۷۲ میں جمعیۃ علماء اسلام میں آئے اور ضلعی جمعیت کے مبلغ کی حیثیت سے سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انھوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیت کو منظم کیا، پھر انھیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اسی حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ضلع کی دینی سیاست میں انھوں نے اہم اور فعال کردار انجام دیا۔ ہومیو پیتھک معالج تھے اور جمعیت کی قائم کردہ فری ڈسپنسری میں خدمات سرانجام دیتے تھے۔ جرگہ اور پنچایت کے آدمی تھے۔ کم وبیش ربع صدی تک ضلع امن کمیٹی میں جمعیت کی نمائندگی کی۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی بڑے حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ معاملات کو ڈیل کرتے اور اکثر سرخ رو ہوتے۔ فرقہ وارانہ تنازعات کو سلجھانے میں ان کی فراست پر اعتماد کیا جاتا تھا اور مشکل معاملات ان کے سپرد کیے جاتے تھے۔ ساری زندگی تنگی وترشی میں گزاری لیکن کبھی اپنے چند مخصوص دوستوں کے سوا کسی کے سامنے اس کا اظہار نہیں کیا۔
- الشریعہ کی مجلس مشاورت کے رکن شبیر احمد خان میواتی کے بہنوئی مولانا قاری محمود احمد میواتی گزشتہ ماہ قصور میں انتقال کر گئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، تقصیرات سے درگزر فرمائے، اور پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین (ادارہ)