دسمبر ۲۰۰۶ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کا ایک جائزہمفتی محمد تقی عثمانی 
تین دن آرزوؤں اور حسرتوں کی سرزمین میںمولانا محمد عیسٰی منصوری 
اسلامی پردہ کا مفہوم، اس کی روح اور مقصدمولانا عتیق الرحمن سنبھلی 
حدود کی بحث اور علمائے کرامخورشید احمد ندیم 
قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد: ایک تنقیدی مطالعہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
مکاتیبادارہ 
دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ورکشاپادارہ 

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کا ایک جائزہ

مفتی محمد تقی عثمانی

حال ہی میں ’’تحفظ خواتین‘‘ کے نام سے قومی اسمبلی میں جو بل منظور کرایا گیاہے، اس کے قانونی مضمرات سے تو وہی لوگ واقف ہوسکتے ہیں جو قانونی باریکیوں کا فہم رکھتے ہوں، لیکن عوام کے سامنے اس کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس نے خواتین پر جو بے پناہ مظالم توڑ رکھے تھے، اس بل نے ان کا مداواکیاہے اور اس سے نہ جانے کتنی ستم رسیدہ خواتین کو سکھ چین نصیب ہوگا۔ یہ دعویٰ بھی کیا جارہاہے کہ اس بل میں کوئی بات قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہے۔
آئیے ذراسنجیدگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ یہ دیکھیں کہ اس بل کی بنیادی باتیں کیا ہیں؟ وہ کس حد تک ان دعووں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں؟ پورے بل کا جائزہ لیاجائے تو اس بل کی جوہری (Substantive) باتیں صرف دو ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ زنا بالجبر کی جو سزا قرآن وسنت نے مقرر فرمائی ہے اور جسے اصطلاح میں ’’حد‘‘ کہتے ہیں، اسے اس بل میں مکمل طور پر ختم کردیاگیاہے۔ اس کی رو سے زنا بالجبر کے کسی مجرم کو کسی بھی حالت میں وہ شرعی سزا نہیں دی جاسکتی، بلکہ اسے ہر حالت میں تعزیری سزا دی جائے گی۔
دوسری بات یہ ہے کہ حدود آرڈیننس میں جس جرم کو زنا موجب تعزیر کہاگیاتھا، اسے اب ’’فحاشی‘‘ (Lewdness) کا نام دے کر اس کی سزا کم کردی گئی ہے اور اس کے ثبوت کو مشکل تر بنادیاگیاہے۔
ا ب ان دونوں جوہری باتوں پر ایک ایک کرکے غور کرتے ہیں:
زنا بالجبر کی شرعی سزا (حد) کو بالکلیہ ختم کردینا واضح طور پر قرآن وسنت کے احکام کی خلاف ورزی ہے، لیکن کہا یہ جارہاہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد مقرر کی ہے، وہ صرف اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب زنا کا ارتکاب دو مرد وعورت نے باہمی رضا مندی سے کیاہو، لیکن جہاں کسی مجرم نے کسی عورت سے اس کی رضامندی کے بغیر زنا کیاہو، اس پر قرآن وسنت نے کوئی حد عائد نہیں کی۔ آئیے پہلے یہ دیکھیں کہ یہ دعویٰ کس حد تک صحیح ہے؟
(۱) قرآن کریم نے سورۂ نور کی دوسری آیت میں زنا کی حد بیان فرمائی ہے:
اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا ماِءَۃَ جَلْدَۃٍ۔
’’جو عورت زنا کرے ،اور جو مرد زنا کرے، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگواؤ۔‘‘ (النور:۲)
اس آیت میں ’’زنا‘‘کا لفظ مطلق ہے جو ہر قسم کے زنا کو شامل ہے۔ اس میں رضا مندی سے کیا ہوا زنا بھی داخل ہے اور زبردستی کیا ہوا زنا بھی،بلکہ یہ عقل عام (Common sense)کی بات ہے کہ زنا بالجبر کا جرم رضامندی سے کیے ہوئے زناسے زیادہ سنگین جرم ہے، لہٰذا اگر رضامندی کی صورت میں یہ حد عائد ہو رہی ہے تو جبر کی صورت میں اس کا اطلاق اور زیادہ قوت کے ساتھ ہوگا۔
اگر چہ اس آیت میں ’’زناکرنے والی عورت‘‘کا بھی ذکر ہے، لیکن خود سورۂ نور ہی میں آگے چل کران خواتین کو سزاسے مستثنیٰ کردیاگیاہے، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو،چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
وَمَن یُکْرِہہُّنَّ فَإِنَّ اللَّہَ مِن بَعْدِ إِکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (آیت ۳۳)
’’اور جو ان خواتین پر زبردستی کرے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبردستی کے بعد (ان خواتین کو) بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘ 
اس سے واضح ہوگیا کہ جس عورت کے ساتھ زبردستی ہوئی ہو، اسے سزا نہیں دی جاسکتی، البتہ جس نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، اس کے بارے میں زنا کی وہ حد جو سورۂ نور کی آیت نمبر ۲ میں بیان کی گئی تھی، پوری طرح نافذ رہے گی۔
(۲) سوکوڑوں کی مذکورہ بالا سزا غیرشادی شدہ اشخاص کے لیے ہے۔ سنت متواترہ نے اس پر یہ اضافہ کیاہے کہ اگر مجرم شادی شدہ ہو تو اسے سنگسار کیا جائے گا اور نبی کریم ﷺ نے سنگساری کی یہ حد جس طرح رضامندی سے کیے ہوئے زنا پر جاری فرمائی، اسی طرح زنا بالجبر کے مرتکب پر بھی جاری فرمائی۔ چنانچہ حضرت وائل بن حجرؓ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز پڑھنے کے ارادے سے نکلی۔ راستے میں ایک شخص نے اس سے زبردستی زنا کا ارتکاب کیا۔ اس عورت نے شور مچایا تو وہ بھاگ گیا۔ بعد میں اس شخص نے اعتراف کرلیا کہ اسی نے عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا تھا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر حد جاری فرمائی اور عور ت پر حد جاری نہیں کی۔ امام ترمذی ؒ نے یہ حدیث اپنی جامع میں دو سندوں سے روایت کی ہے اور دوسری سند کو قابل اعتبار قراردیاہے۔ (جامع ترمذی، کتاب الحدود، باب ۲۲، حدیث ۱۴۵۳، ۱۴۵۴)
(۳) صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک باندی کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا تو حضرت عمرؓ نے مردپرحد جاری فرمائی اورعورت کو سزا نہیں دی، کیونکہ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی تھی۔ (صحیح بخاریؒ ،کتاب الاکراہ، باب نمبر ۶)
لہٰذا قرآن کریم، سنت نبویہ علیٰ صاحبہا السلام اور خلفاے راشدین کے فیصلوں سے یہ بات کسی شبہ کے بغیر ثابت ہے کہ زنا کی حد جس طرح زضا مندی کی صورت میں لازم ہے، اسی طرح زنابالجبر کی صورت میں بھی لازم ہے اور یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ قرآن وسنت نے زنا کی جو حد (شرعی سزا) مقرر کی ہے، وہ صرف رضامندی کی صورت میں لاگو ہوتی ہے، جبر کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
سوال یہ ہے کہ پھر کس وجہ سے زنا بالجبر کی شرعی سزا کو ختم کرنے پر اتنا اصرار کیا گیاہے؟ اس کی وجہ دراصل ایک انتہائی غیر منصفانہ پروپیگنڈا ہے جو حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت سے بعض حلقے کرتے چلے آرہے ہیں۔ پروپیگنڈا یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت اگر کوئی مظلوم عورت کسی مرد کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرائے تو اس سے مطالبہ کیا جاتاہے کہ وہ زنا بالجبر پر چار گواہ پیش کرے اورجب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکتی تو الٹا اسی کو گرفتارکرکے جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو عرصہ دراز سے بے تکان دہرائی جارہی ہے اور اس شدت کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اسے سچ سمجھنے لگے ہیں اوریہی وہ بات ہے جسے صدر مملکت نے بھی اپنی نشری تقریر میں اس بل کی واحد وجہ جواز کے طورپر پیش کیاہے ۔ جب کوئی بات پروپیگنڈے کے زور پر گلی گلی اتنی مشہور کردی جائے کہ وہ بچے بچے کی زبان پر ہو تو اس کے خلاف کوئی بات کہنے والا عام نظروں میں دیوانہ معلوم ہوتاہے، لیکن جو حضرات انصاف کے ساتھ مسائل کاجائزہ لینا چاہتے ہیں، میں انہیں دل سوزی کے ساتھ دعوت دیتا ہوں کہ وہ براہ کرم پروپیگنڈے سے ہٹ کر میری آئندہ معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں۔
واقعہ یہ ہے کہ میں خود پہلے وفاقی شرعی عدالت کے جج کی حیثیت سے اور پھر سترہ سال تک سپریم کورٹ کی شریعت ایپلٹ بنچ کے رکن کی حیثیت سے حدود آرڈیننس کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی براہ راست سماعت کرتا رہا ہوں۔ اتنے طویل عرصے میں میرے علم میں کوئی ایک مقدمہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں زنا بالجبر کی کسی مظلومہ کو اس بنا پر سز اد ی گئی ہو کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکی، اور حدود آرڈیننس کے تحت ایسا ہونا ممکن بھی نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے تحت چارگواہوں یا ملزم کے اقرار کی شرط صرف زنا بالجبر موجب حد کے لیے تھی، لیکن اسی کے ساتھ دفعہ ۱۰ (۳) زنا بالجبر موجب تعزیر کے لیے رکھی گئی تھی جس میں چار گواہوں کی شرط نہیں تھی، بلکہ اس میں جرم کا ثبوت کسی ایک گواہ، طبی معائنے اور کیمیاوی تجزیہ کار کی رپورٹ سے بھی ہوجاتاتھا۔ چنانچہ زنا بالجبر کے بیشتر مجرم اسی دفعہ کے تحت ہمیشہ سزا یاب ہوتے رہے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو مظلومہ چار گواہ نہیں لاسکی، اگر اسے کبھی سزا دی گئی ہو تو حدود آرڈیننس کی کون سی دفعہ کے تحت دی گئی ہوگی؟ اگر یہ کہا جائے کہ اسے قذف (یعنی زنا کی جھوٹی تہمت لگانے) پر سزا دی گئی تو قذف آرڈیننس کی دفعہ ۳ استثنا نمبر ۲ میں صاف صاف یہ لکھاہواموجود ہے کہ جو شخص قانونی اتھارٹیز کے پاس زنا بالجبر کی شکایت لے کرجائے، اسے صرف اس بنا پر قذف میں سز ا نہیں دی جاسکتی کہ وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکا؍کرسکی۔ کوئی عدالت ہوش وحواس میں رہتے ہوئے ایسی عورت کو سزا دے ہی نہیں سکتی۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اسی عورت کو رضامندی سے زنا کرنے کی سزا دی جائے، لیکن اگر کسی عدالت نے ایسا کیا ہو تو اس کی یہ وجہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خاتون چار گواہ نہیں لاسکی، بلکہ واحد ممکن وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عدالت شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ عورت کا جبر کا دعویٰ جھوٹاہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت کسی مرد پر یہ الزام عائد کرے کہ اس نے زبردستی اس کے ساتھ زنا کیا ہے اوربعد میں شہادتوں سے ثابت ہو کہ اس کا جبر کا دعویٰ جھوٹاہے اوروہ رضامندی کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوئی تو اسے سزایاب کرنا انصاف کے کسی تقاضے کے خلاف نہیں ہے، لیکن چونکہ عورت کو یقینی طور پر جھوٹا قراردینے کے لیے کافی ثبوت عموماً موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایسی مثالیں بھی اکا دکا ہیں، ورنہ ۹۹ فیصد مقدمات میں یہ ہوتاہے کہ اگرچہ عدالت کو اس بات پر اطمینان نہیں ہوتا کہ مرد کی طرف سے جبر ہوا ہے لیکن چونکہ عورت کی رضامندی کا کافی ثبوت بھی موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایسی صورت میں بھی عورت کو شک کا فائدہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
حدود آرڈیننس کے تحت پچھلے ۲۷ سال میں جو مقدمات ہوئے ہیں، ان کا جائزہ لے کر اس بات کی تصدیق آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ میرے علاوہ جن جج صاحبان نے یہ مقدمات سنے ہیں، ان سب کا تاثر بھی میں نے ہمیشہ یہی پایا کہ اس قسم کے معاملات میں جہاں عورت کا کردار مشکوک ہو، تب بھی عورتوں کو سزا نہیں ہوتی، صرف مرد کو سزا ہوتی ہے۔
چونکہ حدود آرڈیننس کے نفاذ کے وقت ہی سے یہ شور بکثرت مچتا رہاہے کہ اس کے ذریعے بے گناہ عورتوں کو سزاہورہی ہے، اس لیے ایک امریکی اسکالرچارلس کینیڈی یہ شور سن کر ان مقدمات کا سروے کرنے کے لیے پاکستان آیا۔ اس نے حدود آرڈیننس کے مقدمات کا جائزہ لے کر اعداد وشمار جمع کیے اور اپنی تحقیق کے نتائج ایک رپورٹ میں پیش کیے جو شائع ہوچکی ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج بھی مذکورہ بالا حقائق کے عین مطابق ہیں۔ وہ اپنی رپورٹ میں لکھتاہے:
Women fearing conviction under section 10(2) frequently bring charges of rape under 10(2) against their alleged partners.The FSC finding no circumstantial evidence to support the latter charge, convict the male accused under section 10(2). The women is exonerated of any wrong doing due to reasonable doubt rule." (Charles Cannedy: The Status of Women in Pakistan in Islamization of Laws, P. 74) 
’’جن عورتوں کو دفعہ ۱۰(۲) کے تحت (زنا بالرضا کے جرم میں) سزا یاب ہونے کا اندیشہ ہوتاہے، وہ اپنے مبینہ شریک جرم کے خلاف دفعہ ۱۰(۳) کے تحت (زنا بالجبر کا) الزام لے کر آجاتی ہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ کو چونکہ ایسی کوئی قرائنی شہادت نہیں ملتی جو زنا بالجبر کے الزام کو ثابت کرسکے، اس لیے وہ مرد ملزم کو دفعہ ۱۰(۲) کے تحت (زنا بالرضا ) کی سزا دے دیتاہے، اور عورت ’’شک کے فائدے ‘‘والے قاعد ے کی بنا پراپنی ہر غلط کاری کی سزا سے چھوٹ جاتی ہے۔‘‘
یہ ایک غیر جانبدار غیر مسلم اسکالر کا مشاہدہ ہے جسے حدود آرڈیننس سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ان عورتوں سے متعلق ہے جنہوں نے بظاہر حالات رضامندی سے غلط کاری کا ارتکاب کیا، اور گھر والوں کے دباؤ میںآکر اپنے آشنا کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کرایا۔ اس سے چار گواہوں کا نہیں، قرائنی شہادت (Circumstantial evidence)کا مطالبہ کیاگیا اور وہ قرائنی شہادت بھی ایسی پیش نہ کرسکیں جس سے جبر کا عنصر ثابت ہوسکے۔ اس کے باوجود سزا صرف مرد کو ہوئی اور شک کے فائدے کی وجہ سے اس صورت میں بھی ان کو کوئی سز ا نہیں ہوئی ۔ 
لہٰذا واقعہ یہ ہے کہ حدود آرڈیننس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی رو سے زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کو چار گواہ پیش نہ کرنے کی بنا پر الٹا سزا یاب کیا جاسکے۔ البتہ یہ ممکن ہے اور شایدچند واقعات میں ایسا ہوا بھی ہو کہ مقدمے کے عدالت تک پہنچنے سے پہلے تفتیش کے مرحلے میں پولیس نے قانون کے خلاف کسی عورت کے ساتھ یہ زیادتی کی ہو کہ وہ زنا بالجبر کی شکایت لے کر آئی، لیکن انہوں نے اسے زنا بالرضا میں گرفتار کرلیا۔ لیکن اس زیادتی کا حدود آرڈیننس کی کسی خامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس قسم کی زیادتیاں ہمارے ملک میں پولیس ہر قانون کی تنفیذ میں کرتی رہتی ہے، اس کی وجہ سے قانون کو نہیں بدلا جاتا۔ ہیروئن رکھنا قانوناً جرم ہے، مگر پولیس کتنے بے گناہوں کے سر ہیروئن ڈال کر انہیں تنگ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہیروئن کی ممانعت کا قانون ہی ختم کردیاجائے۔
زنا بالجبر کی مظلوم عورتوں کے ساتھ اگر پولیس نے بعض صورتوں میں ایسی زیادتی کی بھی ہے تو فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلوں کے ذریعے اس کا راستہ بند کیاہے، اور اگر بالفرض اب بھی ایسا کوئی خطرہ موجود ہو تو ایسا قانون بنایا جاسکتاہے جس کی رو سے یہ طے کر دیا جائے کہ زنا بالجبر کی مستغیثہ کو مقدمے کا آخری فیصلہ ہونے تک حدود آرڈیننس کی کسی بھی دفعہ کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا، اور جو شخص ایسی مظلومہ کو گرفتار کرے، اسے قرار واقعی سزا دینے کا قانون بھی بنایا جاسکتاہے، لیکن اس کی بناپر ’’زنا بالجبر‘‘ کی حد شرعی کو ختم کردینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لہٰذا زیر نظر بل میں زنا بالجبر کی حدِشرعی کو جس طرح بالکلیہ ختم کردیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے واضح طور پر خلاف ہے اور اس کا خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

فحاشی

زیر نظر بل کی دوسری اہم بات ان دفعات سے متعلق ہے جو ’’فحاشی‘‘ کے عنوان سے بل میں شامل کی گئی ہیں۔ حدود آرڈیننس میں احکام یہ تھے کہ اگر زنا پر شرعی اصول کے مطابق چار گواہ موجود ہوں تو آرڈی ننس کی دفعہ ۵ کے تحت مجرم پر زنا کی حد (شرعی سزا) جاری ہوگی، اور اگر چار گواہ نہ ہوں مگر فی الجملہ جرم ثابت ہو تو اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ اب اس بل میں حدود آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے تحت زنا بالرضا کی حد شرعی تو باقی رکھی گئی ہے جس کے لیے چار گواہ شرط ہیں لیکن بل کی دفعہ ۸ کے ذریعے اسے ناقابل دست اندازی پولیس قرار دے کر یہ ضروری قراردے دیاگیاہے کہ کوئی شخص چار گواہوں کو ساتھ لے کر عدالت میں شکایت درج کرائے۔ پولیس میں اس کی ایف آئی آر (FIR) درج نہیں کی جاسکتی ،اور اس طرح زنا قابل حد ثابت کرنے کے طریق کار کو مزید دشوار بنادیاگیاہے۔ اسی طرح چار گواہوں کی غیر موجودگی میں زنا کی جو تعزیری سزا حدود آرڈیننس میں تھی، اس میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:
(۱) حدود آرڈیننس میں اس جرم کو ’’زنا موجب تعزیر‘‘ کہا گیا تھا۔ اب زیر نظر بل میں اس کا نام بدل کر ’’فحاشی‘‘ (Lewdness)کردیاگیاہے۔ یہ تبدیلی بالکل درست اور قابل خیر مقدم ہے کیونکہ قرآن وسنت کی رو سے چار گواہوں کی غیر موجودگی میں کسی کے جرم کو زنا قراردینا مشکل تھا، البتہ اسے ’’زنا‘‘سے کم تر کوئی نام دینا چاہیے تھا۔ حدود آرڈیننس میں یہ کمزوری پائی جاتی تھی جسے دور کرنے کی سفارش علما کمیٹی نے بھی کی تھی۔
( تاہم قومی اسمبلی کے منظور کردہ ترمیمی بل کے اردو ترجمہ میں، جو سینٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ۱۸ ؍نومبر ۲۰۰۶ کو جاری کیا گیا ہے، بدستور ’’زنا‘‘ کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ ترمیمی بل کی شق نمبر ۶ کے تحت ’’ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء‘‘ میں شامل کی جانے والی نئی دفعات میں دفعہ ۴۹۶۔ب کا اردو ترجمہ یوں درج ہے: ’’زنا: غیر منکوحہ مرد اور عورت اگر رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کریں تو وہ زنا کے مرتکب ہوں گے۔‘‘ مدیر)
(۲) حدود آرڈیننس میں اس جرم کی سزا دس سال تک ہوسکتی تھی، بل میں اسے گھٹا کر پانچ سال تک کردیاگیاہے۔ بہرحال چونکہ یہ تعزیر ہے، اس لیے اس تبدیلی کو بھی قرآن وسنت کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔
(۳) حدود آرڈیننس کے تحت ’’زنا‘‘ ایک قابل دست اندازی پولیس (Congnizable) جرم تھا، زیر نظر بل میں اسے ناقابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے دیاگیاہے۔ چنانچہ اس جرم کی ایف آئی آر تھانے میں درج نہیں کرائی جاسکتی، بلکہ اس کی شکایت (Complaint) عدالت میں کرنی ہوگی او ر شکایت کے وقت دوعینی گواہ ساتھ لے جانے ہوں گے جن کا بیان حلفی عدالت فوراً قلم بند کرے گی، اس کے بعد اگر عدالت کو یہ اندازہ ہو کہ مزید کارروائی کے لیے کافی وجہ موجود ہے تو وہ ملزم کو سمن جاری کرے گی اور آئندہ کارروائی میں ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے ذاتی مچلکہ کے سوا کوئی ضمانت طلب نہیں کرے گی، اور اگر اندازہ ہو کہ کارروائی کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے تو مقدمہ اسی وقت خارج کر دے گی۔
اس طرح ’’فحاشی‘‘ کے جرم کو ثابت کرنا اتنا دشوار بنا دیاگیاہے کہ اس کے تحت کسی کو سزا ہونا عملاً بہت مشکل ہے۔
اول تو اسلامی احکام کے تحت زنا اور فحاشی کا جرم معاشرے اور اسٹیٹ کے خلاف جرم ہے، محض کسی فرد کے خلاف نہیں، اس لیے اسے قابل دست اندازی پولیس ہونا چاہیے۔بلاشبہ اس جرم کو قابل دست اندازی پولیس قرار دیتے وقت یہ پہلو مدنظر رہنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں پولیس کا جو کردار رہاہے، اس میں وہ بے گناہ جوڑوں کو جا و بیجاہراساں نہ کرے۔ اس بارے میں فیڈرل شریعت کورٹ کے متعدد فیصلے موجود ہیں جن کے بعد یہ خطرہ بڑی حد تک کم ہوگیا تھا اور ستائیس سال تک یہ جرم قابل دست اندازی پولیس رہاہے اور اس دوران اس جرم کی بنا پر لوگوں کوہراساں کرنے کے واقعات بہت ہی کم ہوئے ہیں، لیکن اس خطرے کا مزید سدِباب کرنے کے لیے یہ کیا جا سکتا تھا کہ جرم کی تفتیش ایس پی کے درجے کا کوئی پولیس آفیسر کرے، اور عدالت کے حکم کے بغیر کسی کو گرفتار نہ کیاجائے۔ ان مقدمات سے یہ رہاسہا خطرہ ختم ہو سکتا تھا۔
دوسرے شکایت کرنے والے پر یہ ذمہ داری عائد کرنا کہ وہ فوراً حد کی صورت میں چار اور فحاشی کی صورت میں دو عینی گواہ لے کر آئے، ہمارے فوجداری قانون کے نظام میں بالکل نرالی مثال ہے۔ہمارے پورے نظام شہادت میں حدود کے سوا کسی بھی مقدمے یا جرم کے ثبوت کے لیے گواہوں کی تعداد مقررنہیں ہے،بلکہ کسی چشم دید گواہ کے بغیر صر ف قرائنی شہادت (Circumstantial evidence) پر بھی فیصلے ہوجاتے ہیں۔چنانچہ زیرنظر جرم میں طبی معائنے اور کیمیاوی تجزیہ کی رپورٹیں شہادت کا بہت اہم حصہ ہوتی ہیں۔ شرعاً تعزیر کسی ایک قابل اعتماد گواہ پربھی جاری کی جاسکتی ہے اور قرائنی شہادت پر بھی۔ لہٰذا تعزیر کے معاملے میں عین شکایت درج کراتے وقت دو گواہوں کی شرط لگانا فحاشی کے مجرموں کو غیر ضروری تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
اسی طرح ایسے ملزم کے لیے یہ لازم کردینا کہ اس سے ذاتی مچلکے کے سواکوئی اور ضمانت طلب نہیں کی جاسکے گی، عدالت کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہے۔ مقدمے کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور اسی لیے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۹۶ کے تحت عدالت کو پہلے ہی یہ اختیار دیاگیا ہے کہ وہ حالات مقدمہ کے تحت اگر چاہے تو صرف ذاتی مچلکے پر ملزم کو رہا کر دے ،اور اگر چاہے تو اس سے دوسروں کی ضمانت بھی طلب کرے۔ہلکے سے ہلکے جرم میں بھی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے، لیکن ’’فحاشی‘‘ جیسے جرم پر عدالت سے یہ اختیار سلب کرلینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر مقدمے کی کافی وجہ موجود نہ ہو تو عدالت مقدمہ خارج کردے گی، سوعدالت کو مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۰۳ کے تحت پہلے ہی یہ اختیار حاصل ہے۔اسے اس بل کا دوبار ہ حصہ بنانے کا مقصد غیر واضح ہے۔
(۴) حدود آرڈیننس کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف زنا موجب حد کا الزام ہو، اور مقدمے میں حد کی شرائط پوری نہ ہوں، لیکن فی الجملہ جرم ثابت ہوجائے تو اسے دفعہ ۱۰(۳) کے تحت تعزیری سزا دی جاسکتی تھی، لیکن زیر نظر بل کی رو سے ضابطہ فوجداری میں دفعہ ۲۰۳ سی کا جو اضافہ کیا گیا ہے، اس کی شق نمبر ۶ میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو زنا موجب حد کے الزام سے بری ہوگیا ہو، اس کے خلاف فحاشی کا کوئی مقدمہ درج نہیں کرایاجاسکتا۔
اب یہ بات ظاہر ہے کہ زنا موجب حد کے لیے جو سخت ترین شرائط ہیں، وہ بعض اوقات محض فنی وجوہ سے پوری نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت میں جبکہ مضبوط شہادتوں سے فحاشی کا جرم ثابت ہو تو اس پر نہ صرف یہ کہ زنا کا مقدمہ سننے والی عدالت کوئی سزا جاری نہیں کرسکتی، بلکہ اس کے خلاف فحاشی کی کوئی نئی شکایت بھی درج نہیں کی جا سکتی۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسے شخص کے خلاف فحاشی کا مقدمہ دائر کرنے پر کلی پابندی عائد کر دینا فحاشی کو تحفظ دینے کے سوا اور کیاہے؟
اسی طرح مجوزہ بل کی دفعہ ۱۱۲ ۔اے میں یہ بھی کہا گیاہے کہ اگر کسی شخص پر زنا بالجبر (موجب تعزیر یعنی ریپ) کا الزام ہو تو اس کے مقدمے کو کسی بھی مرحلے پر فحاشی کی شکایت میں تبدیل نہیں کیاجا سکتا۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے خلاف عورت نے زنا بالجبر کا الزام عائد کیا ہو، اور جبر کے ثبوت میں کوئی شک رہ جائے تو ملزم بری ہوجائے گا اور ا س کے خلاف فحاشی کی دفعہ کے تحت بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکے گی۔
جس زمانے میں زنا بالرضا کوئی جرم نہیں تھا، اس زمانے میں زنا بالجبر کے ملزمان اپنے دفاع میں یہ موقف اختیار کرتے تھے کہ زنا بے شک ہوا ہے، لیکن عور ت کی رضا مندی سے ہوا ہے، چنانچہ اگر عورت کی رضا مندی کا عدالت کو شبہ بھی ہو جاتا تو وہ ملزم کو بری کر دیتی تھی۔ حدود آرڈی ننس میں زنا بالجبر کے ملزم کے لیے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہی تھی، کیونکہ عورت کی رضامندی کے باوجود زنا جرم تھا اور جو عدالت زنا بالجبر کے مقدمے کی سماعت کررہی ہے، وہی اس کو زنا موجب تعزیر کے تحت سزا دے سکتی تھی، لیکن اس نئی ترمیم کے بعد تقریباً وہی صورت لوٹ آئی ہے کہ اگر ملزم دھڑلے سے یہ کہے کہ میں نے عورت کی مرضی سے زنا کیا تھا اور عورت کی مرضی کا کوئی شبہ پید اکر دے تو کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ وہ عدالت جو اس کا یہ اعتراف سن رہی ہے، وہ تو اس لیے اس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی کہ مذکورہ بالا دفعہ نے اس کا یہ اختیار سلب کرلیا ہے کہ وہ زنا بالجبر کے مقدمے کو کسی وقت فحاشی کی شکایت میں تبدیل کرے،اور اگر اس کے خلاف از سرِنو فحاشی کا مقدمہ دائر کیاجائے تو اس امکان کے بارے میں دفعہ کے الفاظ مجمل ہیں، لیکن اگر کوئی اور وجہ بھی موجود نہ ہو تو دائر نہ کرسکنے کی یہ وجہ بھی کافی ہے کہ اس کے لیے ضروری قرار دیا گیاہے کہ کوئی شخص دو عینی گواہوں کے ساتھ جاکر عدالت میں استغاثہ (Complaint) دائر کرے، اوریہاں دو عینی گواہ موجود نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایساشخص جرم سے بالکلیہ بری ہوجائے گا اور اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں کوئی نئی کارروائی بھی نہیں ہوسکے گی۔
سوال یہ ہے کہ جس فحاشی کو جرم قراردیاگیاہے، وہ واقعتا کوئی جرم ہے یا نہیں؟اگر جرم ہے تو اس کو تحفظ دینے اور مجرم کا اس کی سزا سے بچاؤ کرنے کے لیے یہ دنیا سے نرالے قواعد کیوں وضع کیے جا رہے ہیں؟

حدود آرڈ ننس میں کچھ مزید ترمیمات 

(۱) نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق جب کسی شخص کے خلاف عدالتی کارروائی کے نتیجے میں حد کا فیصلہ ہوجائے تو اس کی سزا کو معاف یا کم کرنے کا کسی کا اختیار نہیں ہے۔ چنانچہ حدود آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق ۵ میں کہا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کے باب ۱۹ میں صوبائی حکومت کو سزا معطل کرنے، اس میں تخفیف کرنے یا تبدیلی کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے ،وہ حد کی سزا پر اطلاق پذیر نہیں ہوگا۔ زیر نظر بل کے ذریعے حدود آرڈیننس میں ایک اور اہم اور سنگین تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ حدود آرڈیننس کی اس دفعہ ۲ شق ۵کو ختم کردیاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عدالت کسی کو حد کی سزا دے دے توحکومت کو ہر وقت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سزامیں تبدیلی یا تخفیف کرسکے۔ یہ ترمیم قرآن وسنت کے واضح ارشادات کے خلاف ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْراً أَن یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ (الاحزاب :۳۶)
’’جب اللہ اور اس کا رسول ؑ کوئی فیصلہ کردیں تو کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ پھر بھی اس معاملے میں ان کا کوئی اختیار باقی رہے۔‘‘ 
اور آنحضرت ﷺ کا وہ واقعہ مشہور ومعروف ہے جس میں آپ ؑ نے ایک ایسی عورت کے حق میں سفارش کرنے پر جس پر حد کا فیصلہ ہوچکاتھا، اپنے محبوب صحابی حضرت اسامہؓ کو تنبیہ فرمائی، اور فرمایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی بھی چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ (صحیح بخاری ،کتاب الحدود،باب ۱۲،حدیث ۶۷۸۸)
اس بنا پر پوری امت کا اجماع ہے کہ حد کو معاف کرنے اور اس میں تخفیف کا کسی بھی حکومت کو اختیار نہیں ہے ۔ لہٰذا بل کا یہ حصہ بھی صراحتاً قرآن وسنت کے خلاف ہے۔
(۲) حدود آرڈیننس کی دفعہ ۳ میں کہاگیاتھا کہ اس آرڈ یننس کے احکام دوسرے قوانین پر بالا رہیں گے، یعنی اگر کسی دوسرے قانون اور حدود آرڈیننس میں کہیں کوئی تضادہو تو حدود آرڈی ننس کے احکام قابل پابندی ہوں گے۔زیر نظر بل میں اس دفعہ کو ختم کردیاگیاہے ۔ 
یہ وہ دفعہ ہے جس سے نہ صرف بہت سی قانونی پیچیدگیاں دور کرنا مقصود تھا، بلکہ ماضی میں بہت سی ستم رسیدہ خواتین کی مظلومیت کا سدِ باب اسی دفعہ کے ذریعے ہواتھا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عائلی قوانین کے تحت اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ طلاق اس وقت تک موثر نہیں ہوتی جب تک اس کا نوٹس یونین کونسل کے چیئرمین کو نہ بھیجا جائے۔ اگرچہ شرعی اعتبار سے طلاق کے بعد عدت گزار کر عورت جہاں چاہے، نکاح کرسکتی ہے ،لیکن عائلی قوانین کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس نہ جائے، قانوناً وہ طلاق دینے والے شوہر کی بیوی ہے اور اسے کہیں اور نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اب ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ شوہر نے طلاق کا نوٹس یونین کونسل میں نہیں بھیجا، اور عورت نے اپنے آپ کو مطلقہ سمجھ کر عدت کے بعد دوسری شادی کرلی۔ اب اس ظالم شوہر نے عورت کے خلاف زنا کا دعویٰ کردیا، کیونکہ عائلی قوانین کی رو سے وہ ابھی تک اسی کی بیوی تھی۔ جب اس قسم کے بعض مقدمات آئے تو سپریم کورٹ کی شریعت بنچ نے حدود آرڈی ننس کے دوسرے امور کے علاوہ اس دفعہ ۳ کی بنیاد پر ان خواتین کو رہائی دلوائی اوریہ کہاکہ آرڈی ننس چونکہ شریعت کے مطابق بنایاگیاہے، اور شریعت میں اس عورت کا دوسرا نکاح جائز ہے، اس لیے اس کے نکاح کے بارے میں عائلی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ قانون دوسرے تما م قوانین پر بالا ہے۔ 
اب اس دفعہ کو ختم کرنے کے بعد، اور بالخصوص آرڈیننس میں نکاح کی جو تعریف تھی، اسے بھی بل کے ذریعے ختم کردینے کے بعد ایک مرتبہ پھر خواتین کے لیے دشواری پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو گیاہے ۔
علما کمیٹی میں ہم نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور بالآخر اس بات پر اتفاق ہواتھا کہ اس کی جگہ مندرجہ ذیل دفعہ لکھی جائے :
"In the interpretation and application of this Ordinance, the injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah shall have affect, notwithstanding any thing contained in any other law for the time being in force." 
یعنی :’’اس آرڈی ننس کی تشریح اور اطلاق میں اسلام کے وہ احکام جو قرآن کریم اور سنت نے متعین فرمائے ہیں، بہرصورت موثر ہوں گے، چاہے رائج الوقت کسی قانون میں کچھ بھی درج ہو۔‘‘
لیکن اب جو بل قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیاہے ، اس میں سے یہ دفعہ بھی غائب ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیداہونے کا اندیشہ ہے۔
(۳) قذف آرڈی ننس کی دفعہ ۱۴میں قرآن کریم کے بیان کیے ہوئے لعان کا طریقہ درج ہے، یعنی اگر کوئی مرد اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور چار گواہ پیش نہ کرسکے تو عورت کے مطالبے پر اسے لعان کی کارروائی میں قسمیں کھانی ہوں گی اور میاں بیوی کی قسموں کے بعد ان کے درمیان نکاح فسخ کردیاجائے گا۔ قذف آرڈی ننس میں کہاگیاہے کہ اگر شوہر لعان کی کارروائی سے انکار کرے تو اسے اس وقت تک حراست میں رکھا جائے گا جب تک وہ لعان پر آمادہ نہ ہو۔ زیر نظر بل میں یہ حصہ حذف کردیاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر لعان پر آمادہ نہ ہو تو عورت بے بسی سے لٹکی رہے گی ۔نہ اپنی بے گناہی لعان کے ذریعے ثابت کرسکے گی اور نہ نکاح فسخ کراسکے گی۔
نیز قذف آرڈیننس میں کہاگیاہے کہ اگر لعان کی کارروائی کے دوران عورت زنا کا اعتراف کرلے تو اس پر زنا کی سزا جاری ہوگی۔ زیر نظر بل میں یہ حصہ بھی حذف کردیاگیاہے، حالانکہ اعتراف کرلینے کے بعد سزائے زنا کے جاری نہ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں، جبکہ لعان کی کارروائی عورت کے مطالبے پر ہی شروع ہوتی ہے اور اسے اعتراف کرنے پر کوئی مجبور نہیں کرتا۔ لہٰذا بل کا یہ حصہ بھی قرآن وسنت کے احکا م کے خلاف ہے ۔
(۴) زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ میں کہا گیاتھا کہ اگر عدالت کی شہادتوں سے یہ بات ثابت ہو کہ ملزم نے کسی ایسے عمل کا ارتکاب کیاہے جو حدود آرڈیننس کے علاوہ کسی اور قانون کے تحت جرم ہے تو اگر وہ جرم عدالت کے دائرہ اختیار میں ہو تو وہ ملز م کو اس جرم کی سزا دے سکتی ہے ۔ یہ دفعہ عدالتی کارروائیوں میں پیچیدگی ختم کرنے کے لیے تھی، لیکن زیر نظر بل میں عدالت کے اس اختیار کو بھی ختم کردیاگیاہے ۔
زیر نظر بل میں صورت حال یہ ہے کہ زنا سے ملتے جلتے تمام تعزیری جرائم کو حدود آرڈیننس سے نکال کر تعزیرات پاکستان میں منتقل کردیاگیاہے اور حدود آرڈیننس میں صرف زنا بالرضا موجب حد کا جرم باقی رہ گیاہے ،لہٰذا اس ترمیم کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر کسی مرد پر زنا موجب حد کا الزام ہو لیکن شہادتوں کے نتیجہ میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ مرد نے عورت پر زبردستی کی تھی یا زنا ثابت نہ ہو لیکن عورت کو اغوا کرنا ثابت ہوجائے تو عدالت ملزم کو ریپ کی سزا دے سکے گی نہ اغوا کرنے کی، اور عدالت یہ جانتے بوجھتے اسے چھوڑ دے گی کہ اس نے عورت کواغوا کیاتھا اور اس پر زبردستی کی تھی۔ اس کے بعد یا تو ملزم بالکل چھوٹ جائے گا یا اس کے لیے از سرِ نو اغوا کی نالش کرنی ہوگی، اور عدالتی کارروائی کا نیا چکر نئے سرے سے شروع ہوگا۔
قانون سازی بڑا نازک عمل ہے، اس کے لیے بڑے ٹھنڈے دل ودماغ اور یکسوئی اور غیر جانب داری سے تمام پہلوؤں کوسامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب پروپیگنڈے کی فضا میں صرف نعروں سے متاثر اور مرعوب ہوکر قانون سازی کی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ اس قسم کی صورت حال کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ پھر عدالتیں نئے قانون کی تعبیر وتشریح کے لیے عرصہ دراز تک قانونی موشگافیوں میں الجھی رہتی ہیں۔مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ ان مظلوموں کی داد رسی میں رکاوٹ پید اہوتی ہے۔

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ چند جزوی خامیوں کو چھوڑ کر جن کا مفصل ذکر پیچھے آگیاہے، زیر نظر بل کی اہم خرابیاں یہ ہیں :
(۱) زیر نظر بل میں ’’زنا بالجبر‘‘ کی حدکو جس طرح بالکلیہ ختم کردیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے احکام کے بالکل خلاف ہے۔ خواتین کے ساتھ پولیس کی زیادتی کا اگر کوئی خطرہ ہو تو اس کا سدِباب اس طرح کیا جاسکتاہے کہ زنا بالجبر کی مستغیثہ کو مقدمے کی کارروائی عدالت میں پوری ہونے تک حدود آرڈیننس کی کسی بھی دفعہ کے تحت گرفتار کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا جائے۔
(۲) جب ایک مرتبہ زنا کی حد کا فیصلہ ہوجائے تو صوبائی حکومت کو سزا میں کسی قسم کی معافی یا تخفیف کا اختیار دینا قرآن وسنت کے بالکل خلاف ہے، لہٰذا زیر نظر بل میں زنا آرڈیننس کی دفعہ ۲۰ شق (۵) کو حذف کرکے حکومت کو سزا میں تخفیف وغیرہ کا جو اختیار دیاگیاہے، وہ قرآن وسنت کے منافی ہے۔
(۳) ’’زنا بالرضا موجب حد‘‘ اور ’’فحاشی‘‘کو ناقابل دست اندازی پولیس قراردے کر ان جرائم کو جو مختلف تحفظات دیے گئے ہیں، وہ ان جرائم کو عملاً ناقابل سزابنا دینے کے مترادف ہیں۔
(۴) عدالتوں پر یہ پابندی عائد کرنا کہ شہادت کے مطابق مختلف جرائم سامنے آنے پر وہ دوسرے جرائم میں سزا نہیں دے سکتے، مجرموں کی حوصلہ افزائی ہے، یا اس کے نتیجے میں مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوں گے اورعدالتی پیچیدگیاں بھی پیداہوں گی۔
(۵) ’’قذف‘‘ آرڈی ننس میں ترمیم کر کے مرد کو یہ چھوٹ دینا کہ وہ عورت کے مطالبے کے باوجود لعان کی کارروائی میں شرکت سے انکار کرکے عورت کو معلق چھوڑ دے، قرآن حکیم کے حکم کے منافی ہے۔
(۶) ’’قذف آرڈی ننس‘‘ میں یہ ترمیم بھی قرآن وسنت کے منافی ہے کہ عورت کے رضا کارانہ اقرار جرم کے باوجود اسے سزا نہیں دی جاسکے گی۔
ارکان پارلیمنٹ اوراربابِ اقتدار سے ہماری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ ان گزارشا ت پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے بل کی اصلاح کریں، اور قوم کو اس مخمصے سے نجات دلائیں جس میں وہ مبتلا ہوگئی ہے۔

تین دن آرزوؤں اور حسرتوں کی سرزمین میں

مولانا محمد عیسٰی منصوری

بھارت کے ممتاز عالم دین، اسکالر اور مفکرِ اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی کے نواسے اور بہت سی صفات میں آپ کے جانشین مولانا سید سلمان الحسینی حسب معمول برمنگھم کی سالانہ سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے یکم جون ۲۰۰۶ء لندن پہنچے۔ اس بارآپ کاسفر دہلی سے براستہ استنبول تھا۔ استنبول میں معروف اسلامی رہنما نجم الدین اربکان نے جو موجودہ دینی ذہن رکھنے والی حکومت کے ایک لحاظ سے سرپرست ورہبر ہیں۔دنیا بھر کی دینی تحریکات وشخصیات کوسلطان محمدالفاتح کی فتح قسطنطنیہ (استنبول)کی سالانہ تقریب وجشن کی مناسبت سے مدعو کیا تھا۔۲۹؍مئی ۱۴۵۶ء کوسلطان محمدفاتح نے عیسائیت کے سب سے بڑے مستحکم قلعے پر اسلام کاپرچم لہرایا تھا ۔یاد رہے اتاترک کے آئین کی رو سے اللہ تعالیٰ اوررسول اللہ ا کے نام پر کوئی تقریب نہیں کی جاسکتی۔اس لیے جب سے ترکی میں دینی ذہن رکھنے والی حکومت برسراقتدار آئی ہے، اس کی کوشش ہے کہ سلطان فاتح کے ساتھ ترکی قوم کووابستہ کیا جائے۔
نجم الدین اربکان نے اس تقریب کی پور ی ایک نشست تقریباً (اڑھائی گھنٹہ)موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ کے لیے لائحہ عمل پیش کیا کہ موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ کو سیاسی ،اقتصادی ،عسکری ،تہذیبی طورپر کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔مثلاً انہوں نے کہا ہمارے پاس اتنے مالی وسائل نہیں ہیں کہ امریکہ کی طرح بحری بیڑے بنا سکیں۔مگر ہم ایسے میزائل ضرور بناسکتے ہیں جو ان بحری بیڑوں کوتباہ کرسکتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔غرض فاتح استنبول کی یاد میں اس تقریب کوترکی رہنما نجم الدین اربکان نے ترکی قوم کواسلام کی درخشاں تاریخ وتہذیب سے وابستہ کرنے کاذریعہ بنایا۔مولانا سلمان الحسینی مجھے باربار کہتے رہے کہ آپ کوترکی کی اس تقریب میں ضرور ہونا چاہیے تھا۔اب اس کی تلافی یہی ہے کہ واپسی میں میرے ساتھ استنبول چلیں تاکہ وہاں کے علما، مشائخ ،اسکالر،دانشوروں اور مفکرین اور ملت کے احیاء کاجذبہ رکھنے والے حضرات سے مل کر معلوم کرلیں کہ وہ حضرات سخت پابندیوں کی فضا میں کس طرح خاموشی سے علمی ،فکری ،تصنیفی ،دعوتی اور ہرنوع کاتعمیری کام کررہے ہیں۔اس طرح لندن کے ابراہیم کمیونٹی کالج میں دینی وعصری تعلیم کی یکجائی کاجو تجربہ ہورہا ہے ‘اس میں اُن کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں ۔مولانا سلمان الحسینی صاحب کے حکم واصرار پر بندہ اور ابراہیم کالج کے لیکچرار اور نائب مدیر مولانا شمس الضحیٰ صاحب انٹرنیٹ پر ٹکٹ بک کرکے ۵جون بروزبدھ سہ پہر ساڑھے چار بجے ٹرکش ایئرویز سے روانہ ہوکر استنبول کے وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے استنبول ائرپورٹ پر پہنچے ۔یہ ائر پورٹ اپنی وسعت ،شان وشوکت اور نظافت میں یورپ وامریکہ کے کسی ائر پورٹ سے کم نظر نہیں آیا۔مولانا شمس الضحیٰ کہنے لگے گویا ہم لندن ہیتھرو کے چینل فور(۴)پرہیں ۔جہاں کوئی مسلمان نظر نہیں آتا۔مولانا سلمان نے فرمایا یہ سبھی مسلمان ہیں ۔صرف اتاترک کے انقلاب کااثر ہے ۔باہر نکلے تو مولانا سلمان الحسینی ایک ترکی نوجوان سے اردو میں گفتگو کرنے لگے ۔پتہ چلا اُن ترکی نوجوان کانام اسماعیل ہے ۔چند سال پہلے ندوہ میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور مولانا کے شاگرد ہیں ۔تھوڑی ہی دیر میں اُن کے دو رفقاء محمدالفاتح اور محمدصفرگاڑی لے کر آموجود ہوئے ۔الغرض ہم تین ترکی میزبانوں کی رفاقت میں ائرپورٹ سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کرکے اسماعیل صاحب کے گھر پہنچے ۔رات کے بارہ بج چکے تھے ۔نمازپڑھی اور کھانا کھاکر سوگئے۔

استنبول کاکائی فاؤنڈیشن

دوسرے روز ۶جون ۲۰۰۶ء کونوبجے کے قریب اپنے میزبان اسماعیل ندوی صاحب کے ہمراہ ترکی کے معروف عالم دین مفکر اور نقشبندی شیخ ‘شیخ مصطفی الجواد کے قائم کردہ ادارے کائی (Caye)فاؤنڈیشن پہنچے ۔شیخ مصطفی جواد نے یہ ادارہ ترکی کے ذہین اورغریب طلباء کواستنبول یونیورسٹی شعبہ الہٰیات اور دیگر شعبوں میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کروانے کے لیے بطور دارالاقامہ (ہاسٹل)وقف کیا ہے ۔یہاں کوشش کی جاتی ہے کہ طلباء کوعربی زبان اوربنیادی دینی علوم میں مہارت پیدا ہوجائے۔ان کااصل کام طلباء کو دینی ذہن وفکر اور اسلامی تمدن وطرز حیات سے وابستہ کرنا ہے ۔کیونکہ اتاترک کے انقلاب کے وقت سے حکومت کی بنیادی پالیسی حکومتی مناصب وعہدوں پر لبرل واسلام بیزار ذہن رکھنے وا لوں کی ترجیح رہی ہے ۔شیخ مصطفی الجواد کی کوشش ہے کہ دینی ذہن رکھنے والے طلباء میں علمی وتحقیقی طورپر اتنی زبردست قابلیت وصلاحیت پیداکریں کہ طلباء محض اپنی اہلیت (میرٹ)کی بنیاد پر حکومت کے اعلیٰ مناصب وعہدوں میں جگہ پاسکیں۔کائی فاؤنڈیشن کی سات منزلہ عمارت نہایت مستحکم کشادہ اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہے ۔شیخ کے صاحبزادے شیخ محمود نے جو انجینئرنگ پروفیسر ہیں‘بتایا کہ یہ عمارت علاقے کی تمام عمارتوں سے زیادہ مستحکم اور جدیدتر سہولتوں سے آراستہ اور زلزلہ پروف ہے ۔ہم نے اس کی تعمیر میں نہایت باریک بینی سے جدید تعمیری قواعد کالحاظ رکھا ہے ۔تاکہ حکومت کسی تعمیری نقص کابہانہ بناکر ادارے کوبند نہ کرسکے۔عمارت کی بالائی منزل شیخ اور اُن کے دونوں صاحبزادوں کی رہائش اور بقیہ چھے منزلیں غریب ذی استعداد طلباء کے لیے وقف ہیں۔چند سال پہلے ترکی حکومت نے فیصلہ کیا کہ حکومت کے تمام شعبوں حتیٰ کہ افتاء شعبے میں بھی خواتین کوترجیحی مناصب پرفائز کیاجائے گاتوشیخ مصطفی نے کائی فاؤنڈیشن کاایک حصہ طالبات کے لیے مخصوص کردیا۔

دارالحکمت، استنبول کاایک علمی،تحقیقی و تصنیفی ادارہ

کائی فاؤنڈیشن میں شیخ مصطفی الجواد کے مہمان خانے میں سامان رکھ کر جناب اسماعیل ندوی کے ہمراہ استنبول کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔راستے میں مولانا سلمان کے ایک دوست واسکالر جناب عمر فاروق کوبطور گائیڈ ورہبر ساتھ لیا۔جناب عمرفاروق ایک علمی ادارے دارالحکمت کے ڈائریکٹر ہیں۔یہ ایک تصنیفی ،تحقیقی وتربیتی ادارہ ہے جہاں مختلف دینی موضوعات پر ریسرچ اور تصنیفی کام ہوتا ہے ۔اکیڈمک جنرل ریسرچ کے تحت بلند پایہ معیاری کتب کی طباعت کی جاتی ہے ۔ان کاموں میں علماء اور اسکالر کی ایک ٹیم مصروف رہتی ہے ۔اس ادارے نے مولانا سلمان الحسینی کی مرتب کردہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے مقدمۂ علوم حدیث پر تدوین وتحقیق اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فارسی رسالے ’’الفوزالکبیر‘‘ کے عربی ترجمہ اور تدوین وتحقیق کردہ رسالے بھی شائع کیے ہیں نیز ’’دارالحکمت ‘‘کالج یونیورسٹی کے طلباء کے لیے وقتاً فوقتاً مختصر دینی کورس اور سیمینارز منعقد کرکے انہیں اسلام سے وابستہ رکھنے کے لیے کوشاں ہے ۔عمر فاروق صاحب اور اُن کی اہلیہ چند سال اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں گزارچکے ہیں ۔اس لیے اردو بھی سمجھ لیتے ہیں اور برصغیر کے حالات سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں سے خوب مانوس رہے ۔

آیا صوفیہ دنیائے عیسائیت کاعظیم روحانی ومذہبی مرکز

ترکی کے تاریخی آثار کو د یکھنے کی ابتدا سب سے مشہور جامعہ آیا صوفیہ سے کی۔ آیاصوفیہ قسطنطنیہ (استنبول)کے سلطان محمدفاتح کے ہاتھوں فتح ہونے تک عیسائیوں کادوسرا بڑا مذہبی مرکزرہا ہے ۔پانچویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا دوبڑی سلطنتوں مشرقی اور مغربی میں تقسیم ہوگئی تھی۔آیا صوفیہ مشرقی عیسائیت یعنی ہولی آرتھوڈکس چرچ کاسب سے بڑا مذہبی مرکز تھا، جبکہ مغربی عیسائیت یعنی کیتھولک چرچ کامرکزروم (اٹلی)رہا ۔درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد صدیوں تک عیسائیت ‘عابدوں ،زاہدوں اور تارک دنیا درویشوں کامذہب تھا ۔جوترکِ دنیا کرکے صومعون عبادت گاہوں اور غاروں میں عبادت وریاضت کرتے تھے تاآنکہ تیسری صدی عیسوی میں رومن بت پرست شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کرکے اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر آناً فاناً پورے یورپ کابلکہ دنیا کاسب سے بڑا مذہب بنادیا۔تاریخی حقیقت یہی ہے کہ تلوار یاطاقت سے پھیلنے والا کوئی مذہب ہے تو وہ عیسائیت ہے نہ کہ اسلام اسی نے استنبول فتح کیا تھا جواس وقت بزنطیہ(Bazantia)کہلاتاتھا اور اسے اپناپایۂ تخت بنایا اور اس کانام اپنے نام پر قسطنطنیہ رکھا۔ اُسی نے روم (اٹلی)کے چرچ کی بنیاد رکھی جو بعد میں مغربی کیتھولک عیسائیت کاعالمی مرکز بنااور اس کا مذہبی پیشوا پوپ آج بھی کیتھولک عیسائیت کاسب سے بڑا مذہبی پیشوا ہے مگرآیا صوفیہ کو اس لحاظ سے روم (اٹلی)کے کلیسا سینٹ پیٹر پرفوقیت حاصل ہے کہ اس کی بنیاد روم کے کلیسا سے پہلے یعنی ۳۱۰ عیسوی میں پڑی۔اس کی تعمیر لکڑی سے ہوئی تھی جو آگ لگنے سے جل گیا تو اس جگہ قیصر جسٹینن نے ۳۲۲ عیسوی میں عظیم الشان پختہ تعمیر کی ۔جس وقت یہ چرچ (آیا صوفیہ) تعمیرہوا۔ دنیا کی سب سے عظیم الشان عمارت تھی حتیٰ کہ جب جسٹینن پہلی بار اس میں داخل ہوا تو اس کی زبان پر یہ مغرورانہ الفاظ آگئے کہ سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا (تعمیر وتقدس میں بیت المقدس)پر ایک ہزار سال تک آیا صوفیہ کلیسا کے طورپر ہی نہیں بلکہ پوری عیسائی دنیا کے مذہبی وروحانی مرکز کے طورپر مشہور رہی ۔حتیٰ کہ سلطان محمدفاتح نے فتح قسطنطنیہ کے موقع پر اس میں ظہر کی نماز پڑھی ۔اس وقت سے یہ جامعہ آیا صوفیہ کہلائی پھر صدیوں تک کی صیہونی صلیبی سازشوں کے نتیجے میں اتاترک نے ۱۹۳۴ء اسے بطور مسجد بند کرکے ایک میوزم بنادیااور جہاں نماز پڑھنا قانوناً ممنوع قراردیا۔اب یہاں غیر ملکی سیاح نیم برہنہ خواتین گھومتی رہتی ہیں، حتیٰ کہ محراب ومنبر میں اپنے اپنے کیمروں سے تصاویر کھینچتی پھرتی ہیں ۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔

آیا صوفیہ ایک گہری صلیبی سازش کی زد میں 

اتاترک کے انقلاب کے بعد سے اُن کے جانشین یورپ کی خوشامد ودریوزہ گری میں لگے ہیں اور اُس کی چوکھٹ پر ناک رگڑ رہے ہیں کہ مہربانی فرما کر ہمیں اپنی برادری یورپین یونین میں شامل کرلو اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے کوتیار ہیں اور یورپ شرطوں پر شرطیں عائد کرکے ترک قوم کی تذلیل کاحظ ومزہ اٹھارہا ہے ۔اس سفر میں معلوم ہوا کہ اب یورپ کی ایک اور تازہ شرط یہ ہے کہ آیا صوفیہ اسے واپس کیا جائے تاکہ اس میں دوبارہ عیسائیت کی دعوت واشاعت کاعالمی مرکز بناسکیں۔ اب یہ دعویٰ دنیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر گونج رہا ہے اور انٹرنیٹ پر بھی تفصیلات موجود ہیں اور اس کے لیے دنیا بھر میں دستخطی مہم چل رہی ہے ۔اس تحریک کوپس پردہ امریکہ ویورپ کے حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔یہی نہیں کہ یورپ کے مطالبات توآگے تک ہیں ۔مثلاً مغربی دنیا کامطالبہ ہے کہ اگر یورپین یونین میں شامل ہونا ہے تو ہمیں مساجد کے میناروں والا استنبول قبول نہیں ہوسکتا ہے کہ ان میناروں کومنہدم کرنے کے لیے یورپ کاذخیرہ ذہن جومکمل طورپر صیہونی کنٹرول میں ہے ۔ان میناروں کوڈھانے کی کوئی تخریبی کارروائی کاآغاز کرکے ورلڈ ٹریڈسنٹر کی طرح اس کاالزام کسی اسامہ کے سرمنڈ ھ دے کیونکہ استنبول پہاڑوں پرآباد ہے ۔ہربلندی پر مساجد کے اونچے اونچے مینار نظر آتے ہیں ۔ترکی مساجد میں ایک دونہیں پورے چار مینار ہوتے ہیں جوکفر کے کلیجے کو چھید کر رکھ دیتے ہوں گے ۔مغرب کے اس مطالبے سے وہاں کے دینی ذہن رکھنے والے دوست کافی فکر مند وپریشان تھے ۔ہم نے کہا آپ حضرات بھی اسپین ،مسجد قرطبہ ،الحمراء اور دیگر بے شمار مسلم دور کی عمارات کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کامطالبہ عالمی طورپر بلند کریں۔ بقول اقبال:
ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

جامعہ سلطان احمد

جامعہ آیا صوفیہ دیکھنے کے بعد مولانا سلمان نے کہا ظہر کاوقت قریب ہے ۔توپ کاپی سرائے جانے سے قبل نماز ظہر پڑھ لیتے ہیں ۔آیا صوفیہ سے نکلتے ہی سامنے مسجد سلطان احمدہے ۔یہ مسجد سلطان احمد نے سترہویں صدی عیسوی ۱۶۱۶ء میں عین آیا صوفیہ کے سامنے تعمیر کروائی تھی ۔چونکہ ترکی کی سب سے نمایاں عمارت عیسائیوں کے کلیسا کے طورپر تعمیر ہوتی تھی۔ سلطان محمدنے حکم دیا کہ ایک ایسی مسجد تعمیر کی جائے جو آیا صوفیہ سے زیادہ بلند اور پرشکوہ ہو۔چنانچہ اس مسجد کی تعمیر نے واقعی آیا صوفیہ کوگردکردیا۔یہ مسجد کیا ہے۔ترکی فن تعمیر کاایک عجوبہ ہے ۔اس میں داخل ہوتے ہی انسان اس کے شکوہ جاہ وجلال اور حسن وجمال میں کھو جاتا ہے اس طرح قدرت نے سلطان احمد کے ذریعے آج کی اہم ترین ضرورت کا انتظام کردیا ہے ۔ کیونکہ یہ جگہ ترکی کی اہم ترین تاریخی آثار اور تفریح کی جگہ ہے یہیں آیا صوفیہ توپ کاپی سرائے اور بحر فاسفورس وغیرہ غیرہ ہیں یہاں پر ہر وقت ہزار ہا سیاح ہوتے ہیں آیا صوفیہ کے میوزم بن جانے کے بعد مسلمان سیاحوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ نماز کہا ں پڑھیں؟ مسجد سلطان احمد میں ظہر کی نماز ادا کرکے مسجد کے امام سے ملاقات کی جو حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی اور تبلیغی جماعت سے نسبت کی بنا پر اسلام کے داعی ہیں ۔ آیا صوفیہ اور مسجد سلطان احمد کے درمیان وسیع پُرفضا میدان کے ایک قہوہ خانے میں کافی پی کر تازہ دم ہوئے ۔ اور ساتھ میں واقع ترکی کے مشہور میوزیم توپ کاپی دیکھنے روانہ ہوئے ۔ 
ترکی زبان میں سرائے محل کو اور کاپی دروازے کو کہتے ہیں۔یعنی توپ دروازہ محل باز نطینی دور میں سینٹ رومانوس دروازہ تھا اور فتح کے بعد سلطان احمد فاتح اسی دروازسے داخل ہوئے تھے بعد میں محل تعمیر ہوا تو سلطان فاتح کے دورسے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید تک عثمانی سلاطین کی رہائش گاہ رہا اور آج کل ترکی کا سب سے بڑ ا موزیم ہے یہ میوزیم اسلامی دنیا کا سب سے اہم موزیم ہے اس میں داخل ہوتے ہی قصرمحمد فاتح کی عمارت نظر آتی ہے اس کے صحن کے بیچوں وبیچ فرش پربڑا سا سوراخ ہے جو عرصے سے خالی پڑاہے اس میں کبھی خلافت عثمانیہ کا سرخ ہلالی پرچم لہراتا تھا جو دنیامیں مسلمانوں کے غلبے اور عظمت و شوکت کی علامت تھا اس سے یورپ لرزہ براندام رہتا تھا ۔ اس کے اترنے کے بعد ۱۹۲۴ء سے ملت اسلامیہ کی حیثیت ایک ایسے ریوڑ کی ہوگئی ہے جس کا کوئی رکھوالا نہ ہو اب شاید حضرت مہدی ہی اس خلاء کو پُر کرسکیں ۔ اس کے بعد سلطان عبدالحمید کے افسر مہمانداری کا دفتر ہے پھر نسبتاً کچھ بڑا ۔ سلطان کی ملاقات کا کمرہ اور اس سے متصل سلطان کی خواب گاہ جہاں پرانے طرزکی مسہری بچھی ہے ‘ بڑی حیرت ہوئی ۔دنیا کے سب سے بڑے حکمران کی خواب گاہ اس قدر چھوٹی اور سادہ اس کے اندازِ تعمیرمیں ٹھاٹھ باٹھ کا شائبہ تک نہیں اس کے مقابلے میں دنیا کے چھوٹے چھوٹے بادشاہوں مغرب کے لارڈوں (جاگیرداروں) کے محل اس سے کہیں زیادہ شان و شوکت والے ہیں ۔ یہی نہیں آج کے سعودی ،کویتی حکمرانوں کے پاس اس سے کہیں زیادہ عالیشان پُر شکوہ محل یورپی ملکوں کے ہر بڑے شہرمیں موجودہیں ۔ مگرکیا کریں انگریز نے ہم لوگوں کو اپنے سلاطین کو گالی دینا سکھا دیا ہے ۔ توپ کاپی دنیاکا عظیم ترین نواردات کا میوزیم ہے یہاں سینکڑوں سال کے نواردات محفوظ ہیں ۔ دنیا بھر کے خصوصاً یورپ کے حکمران عثمان خلفاء کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نہایت بیش قیمت تحفے بھیجا کرتے تھے جس طرح آج کے سعودی و کویتی حکمران ملکۂ برطانیہ کی خدمت میں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم لوگ جلدی جلدی میوز یم کے کمروں سے گزرے جہاں سلاطین عثمانیہ کے لباس ، اسلحہ، زرہیں ،برتن ،بیش قیمت ہیرے جواہرات ، ایران کے شیعی بادشاہ اسمٰعیل صفوی کا ہیرے جواہرات سے مرصع تخت وغیرہ وغیرہ دیکھتے ہوئے تبرکات کے کمرے میں پہنچے جہاں سرورِ دوعالم ا کا جُبہ مبارکہ آپ کی دو تلواریں ، آپ کا علم ( جھنڈا) جو بد رمیں استعمال ہوا تھا۔موئے مبارک ، دندان مبارک،مقوقس شاہِ مصر کے نام آپ کا مکتو ب گرامی ، مہر مبارک ، خلفاء راشدین ، حضرت خالد بن ولیدص ،حضرت جعفر طیار ص حضرت عمار بن یاسر کی تلواریں ، بیت اللہ کا لکڑی کا دروازہ حجرِ اسود کا سونے کا خول ، کعبہ شریف کا قفل اور چابیاں ، میزابِ رحمت کے ٹکڑے وغیرہ وغیرہ ہیں ۔ زیارات سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی و دل شاد کیا ۔ یہاں ہمہ وقت ایک قاری نہایت خوش الحانی سے تلاوت قرآن میں مصروف رہتا ہے ۔ 

عثمانی سلطنت کی سادگی و جفاکشی 

توپ کاپی سرائے دیکھ کر دو باتیں خاص طور پر محسوس کیں پہلی یہ کہ خلافتِ عثمانیہ کی واحد سلطنت تھی جن کی مساجد‘ شاہی محلات سے بیسیوں گُنا زیادہ پُرشکوہ ،عالشان اور مستحکم ہیں ۔ عثمانی سلاطین کا یہ محل ( قصر) اپنی شان و شوکت ،بلندی اور تعمیر کے اعتبار سے مساجد سے بدرجہا کم بلکہ مساجد کے مقابلے میں بے حیثیت محسوس ہوتا ہے ۔توپ کاپی سرائے کاایک حصہ سلاطین کے اہل خانہ کی رہائش گاہ رہا ہے ۔جوحرم کہلاتا ہے ۔حسب عادت حرم کے نام پر یورپین اقوام اسلام کوبدنام کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں جبکہ یورپ کے معمولی سے بادشاہ ہی نہیں جاگیردار وں (لارڈز)کے محلوں کے سامنے یہ دنیا کی سب سے بڑی امپائرکے محلات بے حیثیت نظر آتے ہیں ۔توپ کاپی سرائے کی دوسری بات یہ محسوس ہوئی کہ عثمانی سلاطین کی زندگیاں عام طورپر پروقار مگر سادگی کی حامل تھیں ۔اُن میں زیادہ نمودونمائش طمطراق اور کروفر نہیں تھا۔توپ کاسرائے کی حیثیت پرانے زمانے کے وسیع مکان یا حویلی کی ہے ۔اس کی تعمیر میں کہیں محلاتی بلند ی یا شان وشوکت نظر نہیں آتی ۔توپ کاپی کے آخری حصے میں چھوٹا صحن بحیرۂ فاسفورس کے کنارے کھلی جگہ پر ہے ۔یہاں سے عمر فاروق صاحب نے گولڈن ہارن(شاخِ زریں)کاوہ کنارہ دکھایا جن پرسلطان محمدفاتح نے اپنے جنگی جہاز چلاکر دوسری جانب سمندر میں اتارے تھے۔ یہ واقعہ کتابوں میں بارہا پڑھاتھا مگر اب آنکھوں سے دیکھا کہ بحیرۂ فاسفورس اورشاخِ زریں کے درمیان تقریباً دس میل طویل بلند وبالا پہاڑوں کاسلسلہ ہے ۔ان پہاڑوں پر سے راتوں رات جہازوں کو چڑھا کر دوسری جانب سمندر میں پہنچا دینا ‘اس قدر محیر العقول ہے جس کے تصور سے پسینہ آجاتا ہے ۔توپ کاپی دیکھنے کے بعد آیا صوفیہ مسجد سلطان احمداور بحر فاسفورس کے درمیان پرانی شہر پناہ(فصیل)پر سیاحوں سے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ ہے۔وہاں خالص ترکی کھانے کھائے اور ترکی چائے پی کر عمرفاروق کے ساتھ اُن کے دارالحکمت میں تھوڑی دیر قیلولہ کرکے عصر کی نماز پڑھ کر حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مزار کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے ۔جوترکی میں ایک مسلمان کے لیے اہم جگہ ہے ۔

میزبانِ رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر

عصر کی نماز پڑھ کر حضرت ابوایوب انصاریؓ کی زیارت کے لیے پہنچے ۔یہ استنبول کی واحد جامع ہے جس میں وسیع صحن ہے۔ مزارِ مبارک پر ہروقت ترکوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ۔مرد ،عورتیں، بچے ،بوڑھے سب باچشم تر فاتحہ پڑھنے چلے آرہے ہیں۔ یہاں آکر محسوس ہوا کہ ترکی کے حقیقی حکمران حضرت ابوایوب انصاریؓ ہیں ‘جن کی دلو ں پر حکومت ہے۔ حضرت معاویہؓ کے دور میں جب قسطنطنیہ پر پہلا حملہ یزید بن معاویہؓ کی سرکردگی میں ہوا۔اس لشکر میں آپ شریک تھے۔ نوے سال سے زیادہ عمر تھی ‘شدید بیمارہوگئے۔وصیت فرمائی میری نعش کودشمن کی سرزمین میں جتنی دور لے جانا ممکن ہو لے جاکر دفن کرنا۔ یہاں سب کے دلو ں پر عجیب رقت طاری تھی ۔مولانا سلمان صاحب کہنے لگے :سوچئے نوے سال عمر ہے۔ اولاد پوتے پڑپوتے سب راہ دیکھ رہے ہیں ۔دیارِ رسول(ا) اور قبرِ رسول(ا) کی کشش اپنی جگہ پر مگر حضرت ابوایوب انصاریؓ وصیت فرمارہے ہیں کہ دشمن کی سرزمین میں دور سے دور دفن کیا جائے۔پتا نہیں قبر کانشان رہے گا نہیں رہے گا؟کوئی پئے فاتحہ آئے گا؟یہ قبر ہرمسلمان کوایک پیغام دے رہی ہے ۔یہاں آکر محسوس ہوا کہ اللہ کے نبی(ا) کے اس صحابی نے کمالی ظلم وجبر کے سخت ترین حالات میں بھی ترکوں کارشتہ اسلام میں محمدرسول اللہا سے ٹوٹنے نہیں دیا۔عثمانی سلطنت کی رسم تاج پوشی اسی جامعہ میں ہوتی تھی ‘وہ اس طرح کہ بانئ سلطنت عثمان خان کی تلوار نئے سلطان کی کمر میں باندھ دی جاتی۔ اب یہ پورا علاقہ ہی ایوبی کہلاتا ہے ۔باہر نکلے تو پولیس کی کار پرایوبی پولیس لکھانظر آیا ۔سامنے چوراہے پر اتاترک کامجسمہ تھا جو ایک ہاتھ میں یورپین ہیٹ اٹھائے گویا ہیٹ پہننے کی دعوت دے رہا تھا۔

جامع سلطان بن محمدفاتح میں

حسبِ پروگرام عشاء کی نماز کے لیے جامع فاتح پہنچ کر پہلے سلطان محمدفاتح کی قبر پر فاتحہ پڑھی ۔قبر کی لوح پر نہایت سفید چمکدار سلطان فاتح کاعمامہ رکھا ہوا ہے ۔معلوم ہوا کہ ترکی سلاطین کادستور تھا کہ اُن کی قبر کی لوح پر اُن کاعمامہ رکھ دیا جاتا۔عمامہ اس قدر جاذبِ نظر تھا کہ چشمِ تصور میں سلطان کی عظمت وشوکت گھوم گئی ۔اس کے بعد ہم لوگ جامع میں داخل ہوئے جہاں سب سے پہلے جامع فاتح کے امام شیخ عثمان نے جومولانا سلمان صاحب کے واقف تھے ‘نہایت پرتپاک استقبال کیا ۔ان کی اقتداء میں عشا ء کی نماز پڑھی ۔نماز کے بعد ان کی تلاوت سے محظوظ ہوئے ۔اُن کے استاد اور ترکی کی معروف علمی ودینی شخصیت شیخ امین سراج سے ملاقات ہوئی۔شیخ امین سراج ترکی کے ممتاز عالم دین اور سکالر ہیں ۔وہ اسی جامع سلطان فاتح میں بخاری شریف کادرس دیتے ہیں۔جامع کے موجودہ امام صاحب سمیت ان کے بے شمار شاگرد ترکی میں دینی وملی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔آپ مفکر اسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ؒ کے عقیدت مندوں میں ہیں۔ فرمایا کمالی دور کے جبروالحاد کے بعد ترکی طلباء کی پہلی کھیپ جامعہ ازہر میں پڑھنے کے لیے گئی ۔اُس میں ‘میں بھی تھا۔ وہاں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ ۱۹۵۱ء میں تشریف لائے ۔اُس وقت آپ کی عمر ۳۸سال تھی ۔آپ نے ترکی طلباء سے ملاقات کرنے اور ترکی احوال جاننے کی خواہش ظاہر کی تو ہم لوگ خدمت میں حاضر ہوئے ۔اُس وقت سے اب تک حضرت مولانا رحمتہ اللہ علیہ سے محبت ویقین اور عقیدت کارشتہ قائم ہے ۔حضرت مولاناؒ کی بہت سی باتیں سناتے رہے ۔شیخ سراج نے نہایت تفصیل سے جامع فاتح کامعائنہ کروایا۔تاریخی معلومات بہم پہنچاتے رہے ۔فرمایا اس جامع کے فرش کاقالین سلطان عبدالحمید کے دور کابنا ہوا ہے ۔تقریباً سوسال ہوگئے مگر نہایت شفاف اور عمدہ حالت میں ہے ۔فرش کے اس قالین پر بعینہٖ گنبد کی ڈیزائن بنائی گئی ہے۔جامع میں آیاتِ قرآنی کاایک کتبہ سلطان عبدالحمید کے ہاتھوں کالکھا ہوا ہے، دوسرا سلطان مراد کے ہاتھوں کالکھاہوا۔اس کے بعد تالاکھول کرمسجد کی بالکنی میں اُس جگہ لے گئے ‘جہاں سلطان فاتح اپنے مخصوص لوگوں کے ساتھ نماز اداکرتے تھے ۔پھر سلطان کی مخصوص ضیافت گاہ میں جہاں سلطان فاتح باہر سے آئے ہوئے وفود اور مہمانوں کوشرفِ باریابی بخشتے تھے ۔اسی جگہ شیخ امین سراج نے ہم لوگوں کے لیے ترکی مٹھائیوں، فروٹ اور مشروبات سے ضیافت کااہتمام کیا تھا۔فرمایا :اسی جگہ میرے والد محترم نے مجھے کمالی جبرواستبداد کے دور میں عربی کی ابتدائی صرف ونحو کی کتابیں پڑھائیں اور قرآن پاک حفظ کروایا۔اُس وقت یہ کام ہم اس طرح چھپ چھپ کرکرتے تھے گویا سنگین جرم کررہے ہوں۔

ترکی کے علما ،اسکالرز اور دانشوروں سے ایک اہم نشست

اسی نشست میں ترکی کے مشہور عالم شیخ حمدی ارسلان سے ملاقات ہوئی ۔آپ بھی جامعہ ازہر سے فارغ ہیں اور جامعہ سلطان فاتح میں درس دیتے ہیں ۔ترکی کے صدر وزیراعظم اورحکومتی عہدیداروں سے ذاتی تعلقات رکھتے ہیں ۔وسیع النظر عالم ہیں اور دنیا کے سیاسی تمدنی احوال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ترکی کے متعلق بڑی اہم معلومات اُن سے حاصل ہوئیں۔ آپ قدم قدم پر اپنے کیمرے سے تصاویر بھی لیتے رہے ۔فرمایا میری خواہش تھی کہ کل آپ حضرات کوترکی کے قدیم کیپٹل کے آثار دکھانے لے جاتا۔جوقدیم دارالسلطنت رہا ہے اور بہت سی تاریخی عمارت کے علاوہ بہت سے عثمانی سلاطین وہاں مدفون ہیں۔اور ترکی کی سب سے بڑے گنبد والی مسجد وہاں ہے اور میں نے ائرکنڈیشنڈ بس کاانتظام بھی کرلیا ہے ۔مگر افسوس ہمارے پاس وقت نہیں تھا ۔اسی محفل میں ترکی کے معروف اسکالرومصنف جناب ڈاکٹر خلیل ابراہیم سے ملاقات ہوئی۔آپ جامعہ ازہر کے فاضل بڑے محقق او ربہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اب استنبول یونیورسٹی کے شعبۂ الہٰیات کے پروفیسر ہیں۔شیخ حمدی ارسلان کہنے لگے :مجھے رشک آتا ہے کہ آپ حضرات برصغیر میں آزادی سے دینی جامعات ومدارس قائم کرسکتے ہیں۔بندہ نے عرض کیا مجھے توآپ حضرات پہ رشک آرہا ہے کہ اتنی جکڑبندیوں ،سخت گیری اور پابندیوں کے باوجود آپ حضرات جوعلمی تصنیفی وتحقیقی کام کررہے ہیں اور عوام کے ذہنوں تک رسائی کے لیے جدید ذرائع ابلاغ اخبارات، رسائل، سی ڈی وغیرہ کوجس مہارت وقابلیت سے دین کی نشرواشاعت کے لیے استعمال کررہے ہیں ‘ہم توبرصغیر میں اس کاعشر عشیر بھی نہیں کرپارہے ۔غرض یہ مبارک نشست عشاء کی نماز کے بعد سے رات ساڑھے گیارہ بجے تک چلتی رہی ۔یہ محفل ترکی کی عظیم علمی ودینی شخصیات سے ملاقات اور ترکی کے جدید احوال ومعلومات کے لحاظ سے ہمارے سفر کاحاصل تھی۔ یہاں سے روانہ ہوکر رات بارہ بجے کے قریب شیخ مصطفی الجواد کے گھر یعنی کائی فاؤنڈیشن پہنچے۔جہاں شیخ کے صاحبزادے شیخ محمود نے استقبال کیا اور نہایت پرتکلف دعوت کی ۔رات اُن کے مہمان خانے میں آرام کیا۔صبح کائی فاؤنڈیشن کے طلباء کے ساتھ ناشتہ کیا ۔ناشتے پر طلباء مولانا سلمان الحسینی سے علمی سوالات پوچھتے رہے۔ یہ ناشتہ بھی نہایت پرتکلف تھا ۔اس سے اندازہ ہواکہ شیخ مصطفی الجواد نے جونقشبندی سلسلے کے جلیل القدر مشائخ میں ہیں۔ عصری علوم کے طلباء کو دین کی طرف مائل کرنے کے لیے نہ صرف فا ؤنڈیشن کی رہائش فائیوسٹار ہوٹل جیسی دی بلکہ کھانے پینے اور دیگر لوازمات کا بھی اعلیٰ معیاری انتظام کیا۔یہ سب صرف اس لیے کہ یہ طبقہ جوکل ملک کی باگ ڈور سنبھالنے اور انتظام پرفائز ہونے والا ہے ‘وہ اسلام بیزاری کے بجائے دینی ذہن کے ساتھی اپنی منزل پر پہنچے ۔اس میں برصغیر کے اہل علم وفضل کے لیے بڑی عبرت ونصیحت ہے ۔کاش کہ ہم نے پاکستان وبنگلہ دیش میں کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا پر توجہ دی ہوتی ۔

دارالحکمت میں ترکی کے اخباری نمائندے اور علماء کے وفد سے گفتگو

کائی فاؤنڈیشن میں ہی ترکی میزبان اسماعیل ندوی اور اُن کے دوست فاتح صاحب لینے آگئے تھے ۔اُن کے ساتھ روانہ ہوکر دارالحکمت پہنچے۔ مولانا شمس الضحیٰ علمی ودینی کتب کی تلاش میں عمر فاروق صاحب کے ساتھ مختلف کتب خانے دیکھنے چلے گئے ۔بندہ مولانا سلمان الحسینی کے ہمراہ دارالحکمت میں رہا ۔جہاں مختلف علماء اور اخباری نمائندے ملنے آتے رہے ۔انہی میں علامہ شیخ یوسف قرضاوی کی تنظیم اتحاد العلماء العالمی کے منتظم حضرات بھی تھے ‘ جو مولانا سلمان صاحب کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرتے رہے ۔اُن کااصرار تھا کہ تنظیم کاسالانہ اجلاس تین دن بعد استنبول میں ہورہا ہے ۔آپ حضرات اس کے لیے رک جائیں اور بندہ ترکی روزنامہ ’’اِکت (Akit)کے دینی ذوق رکھنے والے نمائندے توزان قسلق(Kaslaq)سے محو گفتگو رہا ۔اُن سے ترکی کے سیاسی حالات کے متعلق بیش قیمت سیاسی معلومات حاصل ہوئیں۔ اُن کااخبار روزانہ تقریباً دو لاکھ تیس ہزار چھپتا ہے ۔جس کانام Yenesafak(شفق جدید )ترکی وزیراعظم جناب طیب اردگان کی پارٹی کاروزنامہ’’ زمان‘‘ (Zaman)ایک لاکھ دس ہزار اور فضیلت پارٹی کا’’ملی گزٹ‘‘(Mille Gazatte)تیس ہزار ۔سب سے زیادہ حیرت یہ معلوم کرکے ہوئی کہ نورسی مشائخ کے صوفیا کا (Yen Asia) (نیا ایشیا) چھ لاکھ اور دوسرا اخبار اُن کاتقریباً اڑھائی لاکھ روزانہ چھپتا ہے ۔ان نامساعد حالات میں جہاں اقتدار اعلیٰ مذہب دشمن لوگوں کے پاس ہو ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوج اورعدلیہ اسرائیلی ہیں ۔وہاں تصوف کے سلسلے کے مشائخ کرام اور علما ومفکرین ‘خاموشی وحکمت کے ساتھ عصری تقاضوں کوملحوظ رکھ کر نئی نسل کے لیے جو کام کررہے ہیں ‘وہ ہمارے لیے سبق آموز ہی نہیں‘ قابل تقلید بھی ہے ۔اسی طرح ترکی کے مرکز ی بازار میں جگہ جگہ اخبارات کی دکانوں پر ترکی کے مشائخ تصوف اور علماے کرام اور ہمارے شیخ مصطفی الجواد کے آڈیو ویڈیو ،سی ڈیز نظر آئیں ۔جب کہ برصغیر میں ابلاغ کے ان جدید شعبوں میں جن کے ذریعے سے ہرمسلمان بلکہ ہرانسان کے دل ودماغ پر دستک دی جاسکتی ہے اور اسلام کا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ ہمارا کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔پوری نئی نسل ہمارے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے اُن کی فکری ونظریاتی غذا کاکوئی انتظام ہم نہیں کرسکے،بلکہ ہم اب تک جدید الیکٹرانک میڈیا کے حلت وحرمت کی بابت کوئی فیصلہ نہیں کرپائے۔ لیکن جوچیز بالاتفاق حلال وطیب ہے یعنی پرنٹ میڈیا اس میں ہماری کیا کارکردگی ہے ۔اللہ ہی ہمیں عقل وہوش نصیب فرمائے ۔آمین۔

مجلس جامع سلیمانیہ اور سلیمان اعظم کے مزار پر

ظہر کی نماز بعد اسماعیل ندوی مولانا سلمان کو لے کر ائرپورٹ روانہ ہوگئے ۔جہاں شام چھے بجے مولانا کی دہلی کے لیے فلائٹ تھی ۔بندہ اور مولانا شمس الضحیٰ صاحب مختصر سا قیلولہ کرکے تاریخی آثار دیکھنے نکل پڑے ۔پہلے چہارشبہ محلے کے مرکزی بازار کے فروٹ اور میوہ جات کے پاس سے ہوتے ہوئے ایک سادہ سے ترکی قہوہ خانے میں ترکی چائے کے ساتھ ترکی کباب کھائے ۔عمرفاروق صاحب نے بتایا کہ ترکی میں ہرنوع کے میوہ جات وفروٹ بکثرت ہوتے ہیں جو نہایت اعلیٰ کوالٹی اور نہایت ارزاں ہیں ۔لندن میں غریب خانے پر بندہ کے ناشتے میں ترکی زیتون وپنیر لازماً ہوتا ہے ۔چند منٹ کے فاصلے پر جامع شہزادہ بشیر کی زیارت کی جو ترکی کی دیگر شاہی مساجد کی طرح نہایت پرشکوہ اور حسین وجمیل تھی پھرچند منٹ چل کر عصر کی نماز جامع سلیمانیہ میں پڑھی۔جامعہ سلیمانیہ استنبول کی سب سے بڑی اور عالیشان جامع ہے جو سلیمان اعظم نے تعمیر کروائی تھی ۔سلیمان اعظم کے دور میں خلافتِ عثمانیہ اپنی وسعت ،قوت اور خوشحالی وترقی کے اوجِ کمال کو پہنچ گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس جامع کی تعمیر میں شرکت کے لیے ایران کے شیعی حکمران شاہِ طہماسپ نے بھاری رقم اور قیمتی جواہرات بھیجے تھے ۔سلیمان اعظم نے رقم فقراء میں تقسیم کرادی اور بیش قیمت جواہرات سنگریزوں کے ساتھ دیواروں میں چنوا دے کیونکہ سلیمان اعظم کے نزدیک وہ بے نمازی اور فاسق تھا ۔اُس نے اہل سنت پر بے پناہ مظالم کیے او راُن کی مساجد کومسمار کیا۔اس لیے سلیمان اعظم کی حمیت وغیرت نے اُس کی رقم مسجد میں لگانی گوارا نہیں کی۔ ہمارے میزبان عمرفاروق صاحب نے اس خط کامضمون سنایا جو سلیمان اعظم نے شاہِ ایران کولکھا تھا جس کامضمون کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے یا شارب الیل والنہار ویاامام الزیغ والضلال (اے دن رات شراب پینے والے گمراہی وکج روی کے امام)جامع سلیمانیہ کے ساتھ ہی سلیما ن اعظم کی قبر پر فاتحہ پڑھی ۔سلیمان اعظم کے مزار کے قریب جامع سلیمانیہ کے معمارریتان کامزارہے جو فن تعمیر کاامام مانا گیا ہے۔ اس کی تعمیر کردہ تین سوساٹھ یادگاریں اُس کے بعد بھی محفوظ ہیں جس میں جامع سلیمانیہ سب سے بڑا شاہکار ہے۔تاریخ میں باالاتفاق مورخین اسے دنیا کاسب سے بڑا معمار تسلیم کیا جاتا ہے ۔

ترکی کے نورسی ونقشبندی مشائخ تصوف 

سلیمان اعظم کی قبر کے ساتھ ہی نورسی اور نقشبندی کے سلسلے کے بہت سے مشائخ مدفون ہیں ۔ترکی اور وسط ایشیاء میں زیادہ تر نقشبندی کے سلسلے کی خالدی کردنی شاخ نے کام کیا جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے سلسلے میں دہلی کے شاہ غلام علی نقشبندیؒ کے خلیفہ تھے ۔یہیں پرشیخ محمدزاہد کی قبر ہے جن کاچند سال پہلے انتقال ہواتھا ۔یہ ترکی کے موجودہ وزیراعظم طیب اردگان اور اُن کے رہبر اور سیاسی رہنما نجم الدین اربکان کے شیخ تھے ۔یہیں عالم اسلام کی بے مثال ہستی شیخ محمدضیاء الدین غاموش ہناوی کی قبر ہے ۔جورموز الاحادیث کے مصنف ہیں ۔غرض سلیمانِ اعظم کی قبر کے ساتھ اولیاء کرامت کاعظیم خزانہ مدفون ہے ۔ہم نے ان سب بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھی۔آج کل تصوف کاانکار واستہزاء ایک فیشن بن گیا ہے ۔مگر ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ وسط ایشیاء میں کمیونزم کی کالی آندھی ہویا اتاترک کے جبرواستبداد کے طوفان کے سخت حالات میں ان قوموں کوصرف تصوف ہی نے اسلام پر قائم رکھا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ تصوف کے سلسلے نہ ہوتے تو اُندلس کی طرح ترکی سے بھی اسلام ختم ہوگیا ہوتا۔نقشبندی نورسی تیجانی ،حلیمیہ وسلیمانیہ سلسلوں کی خانقاہوں نے اتاترک کے استبدادی دور میں بھی زیرزمین دینی واخلاقی رہنمائی جاری رکھی ۔ان سلاسلِ تصوف کے مشائخ نے اخلاقی ،سماجی ،تعلیمی میدانوں میں رہنمائی کی اور مثالی تعلیمی ادارے اسلامی ہوسٹل،کارخانے نشرواشاعت کے ادارے اور کمپنیاں قائم کیں۔نقشبندی سلسلے کے رہنما شیخ سعید کُردی، شیخ عاطف اور شیخ اسعد نے قیدوبند کی صعوبتوں اور تختہ دار کی پروانہ کرتے ہوئے دین کادامن تھامے رکھا۔شیخ سعید کُردی اور اُن کے دوسو کے قریب مریدین شہادت سے سرفراز ہوئے ہزاروں گھر منہدم کیے گئے۔ 
آٹھویں دہائی میں جب نجم الدین اربکان نے بیت المقدس کی بازیابی کے لیے ریلی نکالی تو اتاترک کی فوج نے تین ہزار سے زیادہ لوگوں کو تختہ دار پر چڑھادیا اور بے شمار لوگوں کو جیل میں ٹھونس دیا۔ پھر ۱۹۸۰ء میں ایک لاکھ تیس ہزار لوگوں کو جن میں بہت بڑی تعداد جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تھی ۔دینی ذہن رکھنے کے جرم میں گرفتارکیاگیا ۔انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ جن میں استنبول وانقرہ یونیورسٹیوں اور دیگر کالجوں کے پروفیسروں کی بڑی تعداد شامل تھی لیکن نورسی نقشبندی سلیمانیہ سلسلے برابر اپنا کام کرتے رہے۔ انہوں نے رفاہی سوسائیٹیاں قائم کیں ۔اسلامی بنیاد پر غیر سودی بینک اور سوسائیٹیاں بنائیں۔ اسلامک مالیاتی بینک ،برکہ بینک فیصل فنانس کارپوریشن جیسے غیر سودی بینکوں کی شاخیں پھیلادیں ۔پورے ترکی میں حفظ قرآن کے مکاتب کاجال پھیلادیا۔جامع سلیمانیہ کے ساتھ ہی ترکی کاسب سے بڑا تاریخی کتب خانہ سلیمانیہ ہے جہاں بے شمار نادر مخطوطات محفوظ ہیں۔ کہا جاتاہے کہ یہ دنیا میں عربی فارسی مخطوطات کاسب سے بڑا ذخیرہ ہے ۔اسے سرسری طورپر بھی دیکھنے کے لیے بھی کئی ہفتے درکار ہیں ۔حسرت کے ساتھ واپس لوٹے شاید کبھی فرصت میں حاضر ہوسکیں۔جامع سلیمانیہ سے چند منٹ کے فاصلے پر جامع سلطان بایزید ہے ۔یہ بھی ترکی کی جامع کی طرح نہایت ہی پرشکوہ اور فن تعمیر کانادر نمونہ ہے۔ جامع بایزید کے سامنے کھلا صحن غیر معمولی طورپر وسیع ہے ۔جس میں بلامبالغہ لاکھوں آدمی آسکتے ہیں ۔یہاں ہروقت ایک میلہ سا لگارہتا ہے ۔اس میدان کے کنارے عثمانی دور کاایک عظیم الشان گیٹ(دروازہ )ہے جس پر عربی میں لکھی عبارت سے معلوم ہوا کہ یہاں عثمانی دور میں عسکری وفوجی تربیت کاادارہ تھا۔اب یہاں استنبول یونیورسٹی ہے اور کسی باحجاب خاتون کواندر جانے کی اجازت نہیں۔ جامع بایزید کے متصل ہی سلطان محمدفاتح کا تعمیرکردہ مسقف بازار، گرینڈ مارکیٹ(Grand Market)ہے جو ۱۴۸۱ء کاتعمیر کردہ نہایت خوبصورت اور منقش محرابوں کی شکل میں ہے ۔اس کی چھت نہایت پختہ ومنقش ہے ۔ یہ ترکی مصنوعات کااہم مرکز ہے ۔اس میں ۳۲۰ دکانیں،۶ غسل خانے ،۵ مساجد اور پینسٹھ گلیاں ہیں ۔یہاں ہم نے تقریباً آدھ گھنٹہ گزارا۔مولانا شمس الضحیٰ صاحب نے ایک ترکی حقہ اور بندہ نے پشمینی چادریں خریدیں۔

ترکی مساجد کی خصوصیات

پوری دنیا میں ترکی کی مساجد سے زیادہ عالیشان ،بلند وبالا ،پرشکوہ مساجد کسی ملک میں نہیں ہوں گی ۔سول انجینئرنگ کے اس دور میں اس معیار کی تعمیر کے تصور سے بڑے بڑے انجینئروں کوپسینہ آجائے گا۔یہ مساجد چار نہایت ضخیم ستونوں پر قائم ہیں ۔اُن کاقطر عموماً تیس سے چالیس فٹ کے قریب ہے ۔اس کے ستونوں کے اوپر نہایت عظیم الشان بلند بڑے گنبد کے ساتھ چھے سے بارہ تک معاون گنبد ہوتے ہیں ۔اس طرح مسجد کی تقریباً پوری چھت گنبدوں پر مشتمل ہوتی ہے اور چھت کی بلندی چھے منزلہ عمارت کے برابر ہوتی ہے ۔اس میں سینکڑوں روشن دان اور کھڑکیاں ہوتی ہیں ۔دن کے وقت پوری مسجد اس طرح روشن رہتی ہیں کہ مزید کسی خارجی روشنی کی احتیاج نہیں رہتی ۔دوسرے ان گنبدوں کی تعمیر میں یہ کمال رکھاگیا ہے کہ وہ قدرتی طورپر آلہ مکبرالصوت (لاؤڈ سپیکر)کاکام دیتی ہے ۔خطیب کی آواز مسجد کے ہرگوشے میں صاف اور واضح سنائی دیتی ہے ۔ان گنبدوں کے اندرونی حصوں میں اسی طرح دیواروں پر اسی طرح حسین ودلکش میناکاری ہوتی ہے کہ انسان اس کے حسن وجمال میں گم ہوجاتا ہے ۔چاروں ستونوں اور گنبد کے جوڑوں کی جگہ خلفائے راشدین کے اسمائے گرامی واضح خط میں نمایاں لکھے ہوئے ہیں۔بعض مساجد میں مزید عشرہ مبشرہ،ؓ حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کے اسماے گرامی بھی ہوتے ہیں۔ عثمانی دور کی ہرمسجد کے دالان میں چھوٹے گنبدوں پر مشتمل بے شمارکمرے ہوتے ہیں جو کسی وقت تعلیم وتعلم کی عظیم یونیورسٹیوں اورخانقاہوں کاکام دیتے تھے ۔مگر اب ان کاکوئی تعلیمی یادینی استعمال نہیں ۔البتہ بعض میں حکومت نے ان میں سرکاری انتظامی شعبے قائم کررکھے ہیں یا وہ بند پڑے ہیں ۔مساجد کے چاروں طرف سبزہ زار ہوتا ہے جس میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ کااجتماع ہوسکتا ہے ۔ترکی کی ہرمسجد میں فرض نمازوں کے بعد امام نہایت خوش الحانی سے قرآن پاک پڑھتے ہیں اور تقریباً تمام ہی مُصلّی نہایت مؤدب ہوکرسنتے ہیں ۔یہ تلاوت اتاترک کے انقلاب کے بعد سے ترکوں کو اسلام سے وابستہ رکھنے کاذریعہ رہا ہے ۔ہرمسجد کے ممبر نہایت ہی بلند وبالا تقریباً ایک یا دو منزلہ عمارت کے برابر ہیں ۔جب خطیب کھڑا ہوتا ہے تو عظمت وشوکت اور رعب طاری ہوجاتا ہے اور ہرشخص خطیب کویکساں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ عثمانی سلاطین نے اپنے دفن کے لیے عالیشان تاج محل تعمیر کرنے کے بجائے وہ ان ہی عظیم الشان مساجد کے زیر سایہ چھوٹے چھوٹے اور معمولی ہجروں میں آرام فرماہیں۔

قلعۂ رومیل حصار

استنبول میں کئی بار بحیرۂ فاسفورس پر بنائے گئے عظیم الشان پل سے گزرنا ہوا جو یورپ کو ایشیاء سے بذریعہ روڈ ملاتا ہے۔ یہ ایک معلق پل ہے جس کے دونوں کناروں پر دودوآہنی ستون ہیں ۔دوستون ایشیاء میں دویورپ ہیں ۔اس کوہلالی شکل میں نکلے ہوئے دولوہے کے مضبوط ستونوں نے سنبھالا ہواہے ۔اس پل کی لمبائی ایک ہزار چوہتر (۱۰۷۴)اور چوڑائی ۴۰ء ۳۳میٹر اوریہ پل سمندر سے ۶۴میٹر بلند ہے ۔اس برج پر سے گزرتے ہوئے عمر فاروق صاحب نے سلطان محمدفاتح کاتعمیر کردہ عظیم الشان قلعہ رومیل حصاربتایا جو سلطان بایزید یلدرم کے تعمیرکردہ قلعہ حصار کے بالکل سامنے یورپ کے ساحل پر واقع ہے ۔قلعہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ فضا سے محمد (ا)لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔خواہش کے باوجود وقت کی کمی کے باعث اندر جاکر نہیں دیکھ سکے ۔

ترکی قوم پر تصوف کے اثرات

رات کاکھاناایک کُردی ریسٹورنٹ میں کھایا ۔کُردی کھانوں کایہ ریسٹورنٹ ایک کُردی گاؤں کانظارہ پیش کررہا تھا۔دنیا میں کھانے اپنی لذت اور اقسام کے تنوع کے لحاظ سے فائق ان ہی ملکوں کے ہیں جو صدیوں تک عالمی امپائر رہے ہیں ۔جیسا کہ مغربی دنیا میں اٹلی کے کھانے او رایشیاء مشرق میں ترکی کھانے ‘کھانے کے بعد نمازِ عشاء چہارشنبہ کی جامع میں پڑھی ۔یہ محلہ قدیم زمانے سے نقشبندی ونورسی سلاسل تصوف کامسکن رہا ہے ۔موجودہ سب سے بڑے شیخ محمود آفندی بسترِ علالت پرزندگی کے آخری لمحات میں بتائے جاتے ہیں ۔اُن سے ملاقاتیں بند تھیں ۔اس محلے میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ گویا صدیوں پرانے کی خالص خانقاہی ماحول میں آگئے ہوں ۔لوگوں کالباس حلیہ سب ہی متشرع خواتین بلکہ بچیاں تک پورے حجاب میں ہمیں استنبول میں یہ واحد مسجد ملی جواو پر نیچے تک پوری طرح بھری ہوئی تھی ۔اور تمام مُصلّی پوری داڑھی میں اور شرعی لباس میں تھے ۔بندہ چشم تصورمیں صدیوں پرانے دور میں پہنچ گیا۔جب ترکی میں اسلام کاغلبہ تھا اور ترکوں نے اسلام کاپرچم اٹھایا ہوا تھا۔

مفکرِ اسلام مولانا ندویؒ اور مولانا سلمان الحسینی کی مقبولیت

ترکی میں عصر حاضر کے مفکرین میں سے زیادہ مقبولیت ،محبوبیت اور رسوخ مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کانظر آیاکیوں کہ حنفیت اور تصوف ترکوں کے رگ وپے میں پیوست ہے ۔کسی غیر حنفی یا سلفی مفکر کاوہاں جگہ بناپانا دشوار ہے۔موجودہ حکومت کے بڑے بڑے عہدیدار اپنی ابتدائی تعلیم میں حضرت مولانا کی کتابیں قصص النبیین منشورات ومختارات پڑھے ہوئے ہیں ۔ایک ترکی فاضل صالح قراجہ نے جو ندوہ میں بھی پڑھ چکے ہیں ۔حضرت مولانا کی تقریباً تمام ہی کتب کاترکی زبان میں ترجمہ کردیاہے ۔حضرت مولانا کی کتابوں کے ترکی ایڈیشن اردو سے بھی کہیں زیادہ طبع ہوئے ہیں۔ افسوس کہ ہماری یوسف صالح قراجہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔وہ سفر میں تھے ۔مولانا سلمان صاحب سے انہوں نے فون پر گفتگو کی اور اپنے حاضر نہ ہوسکنے پر افسوس کااظہار فرمایا۔ہمارے مکرم مولانا سلمان الحسینی کی ترکی وعلمی وفکری حلقے میں بے پناہ محبوبیت ومقبولیت دیکھی۔بڑے بڑے سکالر ومفکر ین اور علمی اداروں کے ذمہ داران ملنے آتے رہے ۔ایک ترکی عالم نے کہا: مولانا سلمان صاحب کاعربی تقریر کالہجہ خالص عربی ہے ۔کوئی عجمی اس لہجے میں تقریر کرہی نہیں سکتا۔یقیناًمولانا کی رگوں میں عربی خون ہے۔ کیوں نہ ہو ۔آپ کی شخصیت میں ساداتِ حسنی وحسینی کامبارک ا متزاج ہے ۔بندہ نے مولانا سلمان صاحب سے کہا :آپ نے مردہ لوگوں میں بہت وقت گزارلیا ۔اب باقی زندگی میں زیادہ توجہ زندہ اقوام ترک عرب وسط ایشیاء پر دیجیے ۔ترکی کے تمام طبقات بڑے بڑے علماء اور نوجوانوں میں مولانا سے جو والہانہ محبت وتعلق اور قدرومنزلت دیکھی۔ انگلینڈ وامریکہ کے برصغیر (گجرات)لوگوں میں اس کاعشرِ عشیر بھی نظر نہیں آیا۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ برصغیر کی مٹی کی خاصیت ہے کہ جتنے کنکر اُتنے شنکر۔گویا شخصیت یا پیرپرستی رگوں میں پیوست ہے اور مولانا کاطرز زندگی پیر کے بجائے ایک عالم ربانی کا ہے۔

بہ صدحسرت لندن واپسی

ہم لوگوں نے آخری رات عمر فاروق صاحب ڈائریٹر دارالحکمت کے گھر آرام کیا ۔صبح ساڑھے چار بجے نمازفجر پڑھ کر ائرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ائرپورٹ پر کرغزستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو تبلیغی جماعت میں پاکستان جاتے رہتے ہیں ۔کچھ اردو بھی بول لیتے ہیں ۔گھنٹہ بھر ائرپورٹ کے ریسٹورنٹ میں ناشتے کے دوران کرغزستان کے مسلمانوں کے احوال پرگفتگو رہی۔معلوم ہوا کہ وسط ایشیا کے ملکوں میں کمیونزم سے آزادی کے بعد عام لوگوں اور نئی نسل میں اسلام کی طرف کثرت سے رجوع ہے مگر ان کو دین سکھانے اور تعلیم دینے والوں کی اشد کمی ہے ۔صبح ساڑھے آٹھ بجے ترکش ائرپورٹ سے روانہ ہوکر لندن کے وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے ہیتھرو پورٹ پر اترے ۔

ترکوں کے مستقبل پر امید وبیم کے سائے

ترکی میں گزرے تین دن بندہ کی زندگی کا اہم ترین موڑہے۔ شدت سے احساس ہورہا ہے کہ ترکی کاسفر بہت پہلے ہونا چاہیے تھا ۔یہاں ملی ودینی کام کرنے والوں کے لیے عملی نمونے اورمثالیں ہیں ۔ترکی دوبارہ انگڑائی لے کر اٹھ رہا ہے۔ ہم نے ترکی کوامید وبیم کے درمیان چھوڑا۔اتاترک کے جس ملک میں عربی میں اذان دینا جرم تھا ‘آج وہاں دوملین سے زیادہ حفاظ قرآن ہیں اور نئی نسل اسلام کے متعلق پرعزم ایمان وایقان کی دولت سے مالامال ہے۔ کبھی اندیشہ سراٹھاتا ہے کہ فوج اورعدلیہ پوری طرح دونمہ یا اسرائیلی ہے ۔آنِ واحد میں سب کو کچل کر کسی نئے اتاترک کو لے آئے گی ۔ہم نے بہت سے ترک نوجوانوں سے پوچھا: اس فوج سے نجات کی کوئی صورت ہے ؟ان کاجواب خاموشی تھا، لیکن چہروں پر کرب والم صاف جھلکتا تھا ۔صحیح احادیث میں قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد سب سے پہلے قسطنطنیہ (ترکی)فتح کریں گے ۔شاید ہماری قسمت میں ابھی مزیدانقلابِ گردشِ دوراں باقی ہے ۔مگرایمان وہ طاقت ہے جو ہرحال میں امید کی جوت جلائے رکھتی ہے ۔
عجب کیا ہے کہ یہ بیڑہ غرق ہوکرپھر اچھل جائے
کہ ہم نے انقلاب چرخِ گردوں یوں بھی دیکھے ہیں
عالمی حالات پر نظر رکھنے والے صاف محسوس کررہے ہیں کہ دنیائے کفر خاص طورپر صیہونی ،صلیبی گٹھ جوڑ سے اسلام کی جنگ اپنے آخری راؤنڈ میں ہے۔ مغرب فلسفہ و فکرکے میدان میں شکست کھاچکا ہے ۔اس کی قابل فخر چیزیں فرد کی آزادی، انسانی حقوق ،سماجی انصاف اور معاشرہ کی حریت کا ملمع نائن الیون نے اتاردہا ہے ۔اب اس کے پاس صرف ظلم وجارحیت کاسہارا رہ گیا ہے ۔جو ان شاء اللہ چند سالوں میں افغانستان کے پہاڑوں اور عراق کے ریگزاروں میں دفن ہوجائے گا اور دنیا پرا سلام کے امن وسلامتی ،انسانیت کے احترام اور فلاح وبہبودی کاسور ج طلوع ہو کررہے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اسلامی پردہ کا مفہوم، اس کی روح اور مقصد

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

مسلم خواتین کے لیے پردہ(اس پورے معنیٰ میں کہ چہرہ بھی چھپاہو) ضروری ہویا نہ ہو ،اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے بہتر ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں نظر آتی۔ مسلم معاشرہ کے عادات و اطوارکے لیے مستند ترین معیار نبئ اکرم ﷺ کے دورِ مبارک کا معاشرہ ہے۔ اس معاشرہ میں ہمیں مردوں اور عورتوں کوالگ الگ(Segregated) رکھنے کا واضح رویّہ ملتا ہے۔جماعت کی نماز کے لیے مسجد میں عورتوں کو آنے کی اجازت تو رکھی تھی پر ان کے لیے زیادہ ثواب آپؐ گھر کے اندر کی نماز میں بتاتے۔مسجد میں عورتیں آتیں تو مردوں کی صف میں نہیں کھڑی ہو سکتی تھیں،ان کی صفیں مردوں کی پشت پر ہوتی تھیں۔نمازکے خاتمہ پرمسجد سے نکلنے کے سلسلہ میں ان کے لیے ارشاد تھاکہ مردوں کے ساتھ مخلوط ہوکر نہ نکلیں۔ عید کے موقع پر خود فرمایا جا تا تھا کہ عورتوں بچوں کو بھی ساتھ لیکرنکلو۔ لیکن وہاں بھی عورتوں کا حصہ مردوں والے حصہ سے جدا ہو تا اورنماز کے بعد خطبہ ارشاد فرماکر عورتوں کی طر ف الگ تشریف لیجاتے، اور وہاں مخصوص طورپران کے مناسبِ حال کچھ وعظ فرماتے ۔ 
علیحدگی (Segregation)کا یہ اہتمام، جس میں عورتوں کی صنف کے لیے بہر حال ایک تکلف اور قید و پابندی کی صورت ہے ، بے وجہ اوربے ضرورت نہیں ہو سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی لا ئی ہوئی شریعت میں بے ضرورت تکلفات اور پابندیوں کی صاف ہمت شکنی پائی جاتی ہے۔ اور کیسے نہ ہو، جبکہ آپ کو رسالت کا منصب دینے والے رب نے صاف اپنی کتابِ پاک میں فرمارکھا ہے۔ ’’اللہ کو تمھارے لیے آسانی منظور ہے وہ تمھارے حق میں سختی نہیں چاہتا۔‘‘(البقرہ۔۲:۱۸۵)۔ ارد گرد پھیلے ہوئے خداپرستی کے نمونوں میں لوگ دیکھتے آئے تھے کہ اپنے جسم وجان و نفس پر تشدُّد اور اس سلسلہ کے تکلفات کاقربِ خدا میں کچھ خصوصی دخل سمجھا جاتا ہے۔پس بعض مسلمانوں کا کچھ اس ڈھنگ کا رجحان آپ نے کبھی دیکھا یا علم میں آیا تو جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے آپ نے سختی سے تنبیہ فرمائی کہ یہ میرا طریقہ نہیں ہے۔اور اللہ کواس کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اس کی عائد کردہ فرائض سے کچھ اور آگے جانے کی ہمت کھاؤ۔ اسی سلسلہ کی ایک حدیثِ پاک کے یہ الفاظ یاد رکھنے کے ہیں: اِنّی لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَہُودِیَۃِ وَلا بِالنَّصْرانِیَہ وَلٰکِنّی بُعِثْتُ بِالْحَنِیفِیَۃِ السّمْحََہِ (میں یہودیت یانصرانیت دے کر نہیں بھیجا گیا ،میں سادہ و سہل ملّتِ حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔مسند احمد) 
تو وہ کیا بات ہے کہ شریعتِ اسلامی نے اپنے اس مزاج کے باوجود عورتوں کے معاملہ میں کچھ ایسی قیود و حدودروا رکھیں جو انھیں مردوں کی صنف سے کچھ فاصلہ کا پابند بنائیں؟ اس کا جواب ہمیں خود قرآنِ پاک سے ملتا ہے۔قرآن کی ایک سورت (۲۴)سورۂ نور کے نام سے ہے۔اس سورہ کا اہم موضوع مسلم معاشرہ کی جنسی(Sexual) طہارت و پاکیزگی ہے۔ اس پاکیزگی کی جو اہمیت ہمارے خالق و مالک اللہ ربُّ العزت کی نظر میں ہے اس کا اظہار سورۂ مبارکہ کے بالکل آغاز ہی میں ہوجا تا ہے، کہ اس سلسلہ کی ناپاکی کے آخری حد(زنا) تک پہنچ جانے والے مرد وعورت کے لیے سو کوڑے جیسی سخت سزاکا تعیّن فرمایا گیا۔اور یہ سزا بھی خفیہ نہیں ،بلکہ برسرِ عام دیئے جانے کا حکم ہوا ۔سو اسی مطلوبہ پاکیزگی کے مقصد سے اس سورہ میں وہ ہدایات مسلم معاشرہ کو دی گئی ہیں جن کے ذریعہ ممکن حد تک یہ معاشرہ خود کو جنسی لغزشوں سے پاک رکھ سکے۔اس سلسلہ کی ہدایتوں میں ایک بیان یہ آتا ہے کہ ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کے ساتھ ہو نا چاہئے۔یہ نہیں کہ رشتہ یا کسی دوسری نوعیت کا قریبی تعلق ہے تو بس آئے اور یوں ہی باقاعدہ و با معنیٰ اجازت یابی کے بغیر گھر میں داخل ہوتے چلے گئے۔ یہ بیان جو سورہ کی آیت ۲۷ سے شروع ہوکر آیت ۳۱ تک گیا ہے۔ اس کے احکام کا خلاصہ یوں کیا جاسکتاہے :
(۱) اہلِ ایمان جب ایک دوسرے کے گھر جائیں تو سلام اور اجازت حاصل کیے بغیر گھر میں داخل نہ ہوں۔ (۲) اگر (جواب نہیں ملتا) اور اندازہ ہوتاہے کہ شاید گھر میں کوئی ہے نہیں تو (دروازہ چاہے کھلا بھی ملے) تو اندر نہ جائیں۔یا اگرجواب اندر سے وقتی معذرت خواہی کا آئے تو (برا نہ منائیں )لوٹ آئیں۔ (۳) اجازت کے بعد داخلہ کا ادب سکھاتے ہوئے فرمایا گیا :اہلِ ایمان کو زیبا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں ذرا جھکی رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے پاکیزگی کا راستہ ہے۔ (۴) اس کے بعد گھر والیوں کے لیے یہی حکم ہوتا ہے:مؤمن عورتیں اپنی نگاہیں ذرا جھکی رکھیں،شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اپنی کوئی زینت ظاہر نہ ہونے دیں، سوائے اس کے جو ناگزیر ہے،اوراپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ (۵) ( البتہ) جو لوگ خواتینِ خانہ کے محرم ہیں ،باپ ہیں ،بھائی ہیں،بیٹے،بھتیجے ،بھانجے وغیرہ، ان کا معاملہ الگ ہے۔ ان کے سامنے نے پر زیب و زینت کے اظہار والی یہ پابندیاں نہیں ہیں۔ (گویا اوپر والی پابندیاں نا محرموں کے تعلق سے تھیں)۔مزید،وہ خدّامِ خانہ جو عورتوں کی طرف رغبت کی عمر سے گزرچکے،یا وہ بچے جو اس معاملہ میں ابھی بے شعوری کی عمر کے ہوں یا مؤمن خواتین ،ان سب کا یہی حکم ہے، کہ ان کے ساتھ وہ نامحرموں والی پابندیاں نہیں ۔
یہ بات کہ ان احکامِ و ہدایا ت کا مقصد معاشرہ کو ممکن حد تک جنسی لغزشوں سے تحفظ دینا ہے ان کے الفاظ سے پوری طرح ظاہر ہے۔’’ نگاہوں کو نیچا رکھنا ، شرمگاہوں کی حفاظت کرنا اورزیب و زینت کا اظہار حتّیٰ الامکان نہ ہونے دینا‘‘ یہ الفاظ مقصدِ احکام کے سلسلہ میں بالکل صاف طور سے جنسی پاکیزگی مقصود ہونے کا تعین کرتے ہیں۔اور احکام کی روح بالکل واضح طور پر یہ ہے کہ نامحرم مردوں اور عورتوں میں حالات کے مطابق ممکن حد تک ایک فاصلہ کی صورت رہنی چاہئے۔اُس وقت کے مدینہ میں عام طور پر گھر ایسے نہیں تھے کہ آنے جانے والوں کے لیے زنانخانہ سے بالکل الگ جگہ ہو۔ ایسے میں معاشرتی تعلقات کے تقاضوں کا لحاظ رکھتے ہوئے بس ایک علامتی ’’فاصلہ ‘‘ ہی ممکن تھا (نظریں حتّیٰ الامکان نہ ملیں)سو اس کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔پس یہ جنسی طہارت و پاکیزگی کا مسئلہ ہے جس کے پیشِ نظر اللہ کا نازل کیا ہوا دین مسلم معاشرہ کی دونوں صنفوں کے درمیان حالات اور( Situation (کے مطابق فاصلہ رکھے جانے کو ضروری قرار دیتا ہے۔ 
الغرض ان قرآنی احکام کی اصل روح دونوں صنفوں کے درمیان فاصلہ رکھنے کی ٹھیری ،جو بھی اس کی عملی شکل سچوایشن کے مطابق ہو سکتی ہو۔مثلاً گھر سے باہر کسی ضرورت سے نکلنا ہے، جس میں وہ فاصلہ صنفِِ مخالف سے نہیں برقرار رکھا جا سکتا جو گھر میں رہتے ہوئے ہوتاہے، تو خوش قسمتی ہے کہ اس صورتِ حال کی عملی شکل کے لیے ہمیں زوجۂ نبئ اکرمؐ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کے ایک بیان کی روایت ملتی ہے۔ فرمایا : مؤمن عورتیں فجر کے وقت اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کر کے لوٹتیں تو واپسی میں بھی ایسا اُجالا نہ ہوتا کہ پہچان لی جا ئیں (بخاری:۵۷۸۔ وقتِ فجر) تو ایک مؤمن عورت کی شان منہ اندھیرے نکلنے میں بھی یہ ہوئی کہ خود کو لپیٹ لپاٹ کر نکلنے کی شکل میں مردوں سے فاصلہ کی ایک علامتی صورت بہرحال پیدا کرے۔پس مؤمن عورتیں ،بے ضرورت شدّت پسندی کے بغیر ،جس قدر بھی اس فاصلہ کے اصول کو برت سکتی ہوں وہ لائقِ تحسین ہوگا ۔اور نقاب لینا، یعنی چہرہ کو بھی مستور رکھنا، اسی فاصلہ کے اصول کو برتنے کی ایک مکمل شکل ہے۔ اس کے ضروری ہونے نہ ہونے کی بحث میں پڑے بغیر اتنا پورے اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری خواتین میں جو کوئی خاتون ایسا کرتی ہے زمانہ کی ’’خلافِ فاصلہ‘‘ ریت کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی ہمت کے لیے لائقِ داد اور قابلِ تحسین ہے۔
لیکن ’’فاصلہ ‘‘کی اس مکمل شکل کا اہتمام کرتے ہوئے ایک خاتون برطانیہ جیسے کسی ’’فاصلہ ‘‘نا آشنا ملک میں پبلک نوکری کے لیے نکل پڑے، تو اس نے نقاب کا مفہوم سمجھ کر نقاب نہیں پہنا، بس اپنے گھرانے کا ایک محترم دستور جانتے ہوئے اس کی پابند ہوئی۔ پردہ کی ایسی پابند کوئی خاتون اگر اپنے حالات میں کسی پبلک جاب کے لیے مجبور ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ شرعاً اسے اس کی اجازت ہے، تو شریعت جب اِس ’’واقعی فاصلہ‘‘ کی پابندی اس پر سے اُٹھاسکتی ہے تو نقاب جواِس فاصلہ کی محض ایک علامتی شکل ہے اس کی پابندی سے تو وہ بدرجۂ اَولیٰ مستثنیٰ ہو جانی چاہئے۔ پھرچہرہ کا پردہ یوں بھی ائمّۂ فقہاء میں ایک اختلافی معاملہ ہے۔ ہم احناف کے اصل مذہب میں تو ہاتھ پاؤن کی طرح چہرہ کے لیے بھی رخصت ہے۔ یہ تو بعد میں زمانہ کا فساد دیکھ کر ہمارے علماء نے اس رخصت کو برقرار رکھنے میں مضائقہ سمجھا،اوروہی ہمارے یہاں شرعی مسئلہ بن گیا۔ پس جس کسی خاتون کو مجبوری ہے اور باہر نکل کر نوکری کرنا ہے تو اس کے لیے بے معنیٰ ہے کہ نقاب پوشی کی وجہ سے خود بھی پریشانی میں پڑے اورجوفضا اس وقت پورے مغرب میں اسلامی شعائر و علامات سے الرجی کی بنی ہوئی ہے اس کی بناپر اپنے دین اور اپنی ملت کے خلاف بھی فتنہ انگیزوں کو ایک نیا بہانہ مہیّا کردے، جیساکہ ان دنوں ایک ایسے واقعہ کی بنا پر ہو رہا ہے۔ 
پردہ کا مسئلہ تو خود اسلامی دنیا میں بھی مغرب کے عروج کے بعد سے ایک متنازع مسئلہ بن گیا ہے۔حتّیٰ کہ بڑی تعداد ایسے گھرانوں کی ہوچکی ہے جو بنیادی دینی فرائض کے ماننے اور اداکرنے والے ہیں مگر خواتین کے لیے مردوں سے فاصلہ کا تصور ان کے یہاں سے نکل چکا ہے۔ مناسب ہے کہ دو لفظ یہاں اس سلسلہ میں اور کہہ دئے جائیں ۔ اس چیز میں علاوہ اور باتوں کے کافی دخل اس بات کا ہے کہ لوگ ’’جنسی پاکیزگی‘‘ کو دو ایسے الفاظ کا مجموعہ جان کر جن کے معنیٰ معلوم ہیں خود سے اس کا مفہوم طے کر لیتے ہیں، (اسلام سے پوچھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے) اور اس مفہوم میں پاکیزگی کے لیے ان کو کوئی ضرورت ان پابندیوں کی معلوم نہیں ہوتی جن کا عنوان پردہ ہے۔جبکہ وہ جنسی پاکیزگی جو اسلام کو مطلوب ہے وہ اس کے عقیدۂ توحید کی طرح ،اس کی عبادات کی طرح اپنا ایک خاص مفہوم رکھتی ہے محض الفاظ کے معنیٰ معلوم ہونے سے وہ نہیں معلوم ہو سکتا۔ اسلام کی مطلوبہ پاکیزگی کا مفہوم جاننے کے لیے نیک نیتوں کو صرف اس حدیثِ پیمبر ﷺ پر غور کرلینا کافی ہو جانا چاہئے۔ فرمایا :آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں،ان کا زنانظر(میں چھپی شہوت) ہے۔کان بھی زنا کرتے ہیں ، ان کا زنا آواز پر(لذّت لیتے ہوئے) لگناہے۔ زبان بھی زنا کرتی ہے،اس کازنا ( شہوت آلود) بات چیت ہے۔ الخ (صحیح بخاری) کیا جنسی نا پاکی کا یہ تصور ہوتے ہوئے مسلم خواتین و حضرات کے درمیان اس فاصلہ کی ضرورت میں کلام کیا جا نا چاہئے جس سے پردہ عبارت ہے؟

حدود کی بحث اور علمائے کرام

خورشید احمد ندیم

حدود آرڈیننس اور اس ضمن میں اٹھنے والی بحث میرے لیے ایک سیاسی نہیں ‘سنجیدہ علمی و مذہبی مسئلہ ہے اور میں نے اسے ہمیشہ اس زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ مذہبی سیاست دانوں کے بیانات سے مجھ پر کبھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حدود آرڈیننس میں کیا چیز اسلامی ہے اور تحفظ حقوق نسواں قانون میں کیا غیر اسلامی۔ جب میں نے سنجیدہ اہل علم کی تحریروں اور بیانات سے روایتی علما کا موقف سمجھا ہے بعض ایسے امور سامنے آئے ہیں جن کی کوئی توجیہہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں، میں سوالات آج کے کالم میں زبر بحث لانا چاہتا ہوں۔
۱۔ ہمارے مذہبی طبقات کا یہ موقف تواتر کے ساتھ ہمارے سامنے آیا ہے کہ حدود آرڈیننس عین اسلام ہے اور اس میں تبدیلی حدود اللہ میں تبدیلی ہے۔ اس مقدمے کے حق میں جو دلائل پیش کیے جا رہے ہیں‘ ان سے صرف نظر کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دین کے وہ علما جن کی علمی بصیرت پر یہ لوگ اعتماد کرتے ہیں وہ خود اس مقدمے سے متفق نہیں ہیں۔ ان میں ایک مولانا تقی عثمانی ہیں۔ مولانا علما کے اس وفد کے سرخیل ہیں جو تحفظ حقوق نسواں کے قانون پر حکومت کے ساتھ شریک مذاکرات رہا۔ مولانا محترم نے کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز میں اس موضوع پر ایک لیکچر دیا۔ اسے ا ب کتابچے کی صورت میں شائع کر دیا گیا ہے۔ مجھے یہ لیکچر براہ راست سننے کا موقع ملا اور اب پڑھنے کا بھی۔ مولانا کے اپنے ادارے کے ترجمان ’’البلاغ‘‘ نے اکتوبر کے شمارے میں اسے شامل اشاعت کیا ہے۔ 
ان قوانین میں کس نوعیت کی ترمیم ممکن ہے ، اس کے بارے میں مولانا کا کہنا ہے’’جہاں تک اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم یا آپ کے عطا فرمودہ قانون کا تعلق ہے، وہ تو یقیناً اتنا مقدس ہے کہ اس پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں، لیکن جب اس حکم کو ایک مدون قانون کی شکل دی جاتی ہے تو یہ ایک انسانی عمل ہے جس میں غلطیوں کا بھی امکان رہتا ہے۔ قانون کی تسوید(Drafting) ایک انتہائی نازک عمل ہے۔ اس میں ممکنہ صورت حال کا پہلے سے تصور کر کے الفاظ میں اس کا احاطہ کرنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ انسانی عقل محدود ہونے کی بنا پر بعض اوقات ہر صورت حال کا احاطہ کرنے سے قاصر رہتی ہے اور اس طرح مسودۂ قانون میں کمزوریوں کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔’’حدود آرڈیننس‘‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس میں بھی تسوید کی غلطیاں ہو سکتی ہیں‘ اس میں بھی اس نقطۂ نظر سے بعض امور قابل اصلاح ہو سکتے ہیں اور جب تک اللہ اور اللہ کے رسولﷺکے حکم میں کوئی تبدیلی نہ ہو، اس میں بھی ترمیم و اصلاح کا عمل ہمیشہ جاری رہ سکتا ہے اور جاری رہنا چاہیے ، بشرطیکہ یہ عمل معروضی تنقید کے ذریعہ ہو کسی عناد کا نتیجہ نہ ہو۔
ایک دوسرے مقام پر مولانا تقی عثمانی نے یہی بات ان الفاظ میں کہی:’’اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے صریح احکام تو ہر تنقید سے بالاتر ہیں،لیکن ان احکام کو قانونی شکل دینے کے لیے جو مسودہ تیار کیا جاتا ہے وہ چونکہ ایک انسانی عمل ہے اس لیے اس میں اصلاح و ترمیم کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے ، حدود کے قوانین اگرچہ علما شریعت اور ماہرین قانون کی مشترک کاوش کے نتیجے میں بنے ہیں اور ان پر مختلف مرحلوں پر اور مختلف دائروں میں طویل غورو فکر ہوا ہے۔ اس کے باوجود نہ انہیں غلطیوں سے پاک کہا جا سکتا ہے نہ ان میں اصلاح و ترمیم کا دروازہ بند سمجھنا چاہیے۔‘‘اپنے اس لیکچر میں مولانا نے حدود آرڈیننس میں بعض تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔
اب میری گزارش یہ ہے کہ حدود آرڈیننس پر سنجیدہ اہل علم جو تنقید کر رہے ہیں اس کا تعلق اس مسودہ قانون سے ہے جو ’’انسانی عمل ہے، جس میں غلطیوں کا امکان رہتا ہے‘‘۔ وہ اصولی طور پر وہی بات کہہ رہے ہیں جو مولانا فرما رہے ہیں۔ جو لوگ اس مدون قانون میں تبدیلی کو حدود اللہ میں تبدیلی قرار دیتے ہیں‘ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں کہ کیا ان کے اس موقف کا اطلاق مولانا تقی عثمانی صاحب پر بھی ہوتا ہے اور اگر نہیں ہوتا تو کس اصول پر؟ اگر رسوخ فی العلم رکھنے والا کوئی دوسرا آدمی یہی بات کہے تو وہ دین کے مخالف کیسے ہے؟
۲۔ تحفظ حقوق نسواں کے ابتدائی مسودہ قانون پر علما کمیٹی کا اعتراض یہ تھا کہ’’زنا بالرضا کی صورت میں اگر حد کی شرائط پوری نہ ہوں تو مجرم کو بالکل آزاد چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ اس صورت میں اگر بدکاری کا ثبوت گواہوں وغیرہ سے ہو جائے تو اس پر تعزیری سزا جاری ہونا ضروری ہے۔ حدود آرڈیننس میں اس کو زنا موجب تعزیر (Zina Liable to Tazir) قرار دیا گیا ہے اس میں یہ ترمیم ممکن ہے کہ اس کو زنا کانام دینے کی بجائے بدکاری یا سیہ کاری وغیرہ کا کوئی نام دیا جائے لیکن ایسے مجرموں کو کسی بھی سزا سے آزاد چھوڑنا عملاً زنا بالرضا کی قانونی اجازت کے مترادف ہو گا، کیونکہ حد تک شرائط تو شاذونادر ہی کسی مقدمے میں پوری ہوتی ہیں اور اس ترمیم سے ایسی صورت میں تعزیر کاراستہ بالکل بند ہو جائے گا۔‘‘
اس بنیاد پر علما کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ زنا کی ایک دوسری قسم اس قانون میں شامل کی جائے جسے ’’فحاشی‘‘ کہا جائے اور اس کے لیے پانچ سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جائے ۔ یہ تجویز موجودہ قانون میں شامل کر لی گی ہے۔
علمائے کرام کی خدمت میں، میرا مودبانہ سوال یہ ہے کہ کیا ایک جرم بیک وقت حد ہو سکتا ہے اور تعزیر بھی؟ حد کی تعریف علما نے یہ کر رکھی ہے کہ یہ وہ جرم ہے جس کی سزا قرآن یا سنت نے متعین کر دی ہے ۔ اگر زنا کی سزا قرآن و سنت نے طے کردی ہے تو کسی دوسرے کو کیا یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس میں ترمیم کرے ؟ کیا زنا کو فحاشی کا عنوان دینے سے جرم کی نوعیت بدل جائے گا؟ اگر سود، مارک اپ کا نام دینے کے باوجود سود ہی رہتا ہے تو زنا ’’فحاشی‘‘ کے عنوان سے ’’زنا‘‘ کیوں نہیں رہتا؟ علما کمیٹی کے مطابق فحاشی کی تعریف یہ ہے: ’’ اگر ایک مرد اور عورت جو میاں بیوی نہیں ہیں، بالرضا جنسی تعلق قائم کرتے ہیں تو یہ فحاشی ہے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ فحاشی ہے تو پھر زنا کیا ہے؟
علما نے اس بات کی ضرورت اس لیے محسوس کی ہے چونکہ حدود کی شرائط شاذو نادر کسی مقدمے میں پورا ہوتی ہیں۔ اس جرم کے لیے تعزیراً بھی سزا ہونی چاہیے۔ اس پر مذکورہ بالا سوالات کے ساتھ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر دیگر حدود میں اسی طرح فقہا کے بیان کردہ طریقہ ثبوت کے مطابق، جرم ثابت کرنا مشکل ہو جائے تو ان پر بھی تعزیراً سزا دی جا سکتی ہے؟ کیا اس کے بعد حد اور تعزیر کا کوئی فرق عملاً باقی رہ جائے گا؟ پھر یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زنا کی ایک متعین سزا قرآن مجید میں بیان کی تو کیا معاذ اللہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ کل حد کے طور پر اس مقدمے کو ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا؟ میرے نزدیک سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک حد کی سزا کو محض لفظی کھیل کے سہارے تبدیل کرنا ‘کیا حدود اللہ میں تبدیلی نہیں ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا تقی عثمانی نے خود حدود آرڈیننس پر جو اعترض کیا ہے وہ یہی ہے کہ ’’زنا موجب تعزیر کیا ہوتی ہے‘‘۔وہ لکھتے ہیں:’’میرے ناقص مطالعے کی حد تک قرآن کریم و سنت کی روشنی میں ’’زنا موجب تعزیر‘‘ کوئی چیز نہیں ہوتی۔ قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا یا تو موجبِ حد ہے یا پھر وہ زنا نہیں ہے۔ اس اعتبار سے مجھے اس بات کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ ایک شخص کے خلاف زنا موجب حد ثابت نہ ہو پھر بھی اسے زانی یا زانیہ کہا جائے۔ حدود آرڈیننس میں صورت حال یہ ہے کہ جہاں حد زنا کی شرائط پوری نہ ہوں، پھر بھی اسے زنا کہہ کر ہی تعزیر دی جاتی ہے۔ شرعی اعتبار سے یہ بات قابل اصلاح ہے۔ ایسی صورت میں ملزم کے جرم کو زنا نہیں کہا جا سکتا، اسے زنا سے کمتر کوئی اور جرم قرار دیا جا سکتا ہے، مثلاً فحاشی یا سیہ کاری وغیرہ، لیکن اسے زنا قرار دینا درست نہیں‘‘۔
کیا مولانا اس پر مطمئن ہیں کہ زنا کو فحاشی کا عنوان دینے سے وہ زنا نہیں رہے گا اور اس سے ان کا وہ اعتراض رفع ہو جائے گا جو انہوں نے مذکورہ بالا اقتباس میں اٹھایا ہے؟
اس ساری بحث کا تعلق ایک طالب علمانہ اشتیاق سے ہے۔ عملاً صورت حال یہ ہے کہ تحفظ حقوق نسواں کا قانون جوہری طور پر حدود آرڈیننس ہی کا نیا نام ہے۔ میں یہ نہیں جان سکا کہ جنرل پرویز مشرف صاحب اور ان کے ہم نوا کس کامیابی پر اظہار مسرت کررہے ہیں اور مذہبی طبقات کس تبدیلی پر ناراض ہیں؟

قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد: ایک تنقیدی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’قدامت پسندی‘‘ ایک مبہم اصطلاح ہے ،اس کی حدود قیود اور خصوصیات کے متعلق کوئی ایک رائے نہیں پائی جاتی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ ، زندگی کے کسی ایک پہلو کے متعلق بے لچک رویے کا مظاہرہ کر رہا ہو اور کسی دوسرے پہلو کے حوالے سے اس کا رویہ نرمی اور لچک لیے ہوئے ہو ۔ لیکن اس امر سے شاید ہی کسی کو انکار ہو گا کہ ماضی کے ساتھ انسان کا فطری لگاؤ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی پیش آمدہ اور ممکنہ تبدیلی کو فوراََ قبول نہیں کرتا بلکہ اس کی راہ میں عموماََ مزاحم ہوتا ہے ۔ اس لیے ایک خاص ذہنی سطح کے لوگ جوخود بھی طبعاََ جمود پسند ہوتے ہیں ، انسان کے عمومی جمودی رجحان کو ہائی جیک کرکے لوگوں کی اکثریت کے نمائندے اور قائد بن بیٹھتے ہیں اور قدامت پسند کہلوانا پسند کرتے ہیں ۔ 
مسلمانوں کے جو مختلف گروہ اسلام کے تصورِ اجتہاد پر بات کرتے رہتے ہیں ، ان میں ایک گروہ قدامت پسندوں کا بھی ہے۔ یہ گروہ اجتہاد کی ایسی تعریف کرتا ہے جس میں اجتہاد کے علاوہ اور سب کچھ پایا جاتا ہے ۔ اگر قدامت پسندوں کی داخلی تقسیم پر نظر دوڑائی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض گروہ تعفن پھیلانے کی حد تک جمود کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں ۔ سرِ دست ہم ایسے گروہوں سے تعرض نہیں کریں گے ۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر قدامت پسندوں کا ایسا گروہ ہے ، جو اگرچہ نظری اعتبار سے جمودِ مطلق کا منکر ہے لیکن اپنی ذہنی افتادِ طبع کے باعث جمودِ مطلق کاعملاََ طواف کیے جا رہا ہے ۔ ایک معاصر قدامت پسند محمد تقی عثمانی نے اپنی تالیف ’’ تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ کے بین السطور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد کوئی مجتہدمطلق جنم نہیں لے سکتا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف، تقلید میں جمود اور غلو کو قابلِ مذمت خیال کرتے ہیں اور اس کے باوجود کچھ ایسے خیالات رکھتے ہیں : 
’’کسی امام یا مجتہد کی تقلید صرف اس موقع پر کی جاتی ہے جہاں قرآن و سنت سے کسی حکم کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو ، خواہ اس بنا پر قرآن و سنت کی عبارت کے ایک سے زائد معنی نکل سکتے ہوں ، خواہ اس بنا پرکہ اس میں کوئی اجمال ہو ، یا اس بنا پر کہ اس مسئلے میں دلائل متعارض ہوں ، چنانچہ قرآن و سنت کے جو احکام قطعی ہیں ، یا جن میں کوئی اجمال و ابہام ، تعارض یا اسی قسم کی کوئی الجھن نہیں ہے وہاں کسی امام و مجتہد کی تقلید کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ ( تقلید کی شرعی حیثیت ، ص ۱۰، ۱۱ ) 
اس کا مطلب یہ ہو اکہ قطعی احکام میں بھی تقلید کی’’ گنجایش‘‘ موجود ہے اگرچہ ایسی تقلید کی ’’ ضرورت ‘‘ نہیں ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں بھی تقلید کی گنجایش نکال لی گئی ہے تو پھر تقلیدِ محض اور کسے کہتے ہیں ؟ جمود اور غلو کی اور کیا صورتیں ہو سکتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسی گنجایش نکال لینا ہی تقلیدِ محض ہے ۔ چلیے ، یہاں یہ فرض کیے لیتے ہیں کہ تقی صاحب کی منشا وہ نہیں ہے جو ہم اخذ کر رہے ہیں ، حقیقت میں وہ قطعی احکام میں تقلید کے قائل نہیں ہیں ۔ اندریں صورت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ’’ قطعی احکام کا تعین ‘‘ کون کرے گا ؟ کیا یہ ذمہ داری بھی ’’ فقیہِ شہر ‘‘ کی ہو گی کہ وہ پاپائیت کے سے انداز میں خدا کا نمائندہ بن کر ’’ عوام ‘‘ کے لیے قرآن و سنت کے قطعی احکام کا تعین کرے کہ لیجیے اب بغیر تقلید کے، ان احکام کی اطاعت کر لیجیے ؟ امرِ واقعہ یہ ہے کہ قطعی احکام کے تعین میں بھی اختلاف کی خاصی گنجایش موجود ہے ، اس لیے قرآن و سنت کے احکام کی ایسی قطعی تقسیم کافی مشکل ہو گی جو مجتہد اور عام لوگوں کے اختیارات الگ الگ کر سکے ۔ تقی صاحب نے جس ’’ دشواری ‘‘ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کافی مبہم اور غیر واضح ہے ، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی حکم سمجھنے میں ایک فر د کو دشواری محسوس ہو اور دوسرے فرد کے محسوسات اس کے بالکل الٹ ہوں ، اس لیے یہ معاملہ اپنی نوعیت میں ’’اضافیت ‘‘ کی سرحدیں چھو لیتا ہے ۔اس سلسلے میں سب سے اہم گزارش یہ ہے کہ اگر قرآن و سنت کے کسی حکم کے ایک سے زائد معنی نکلتے ہیں ، اجمال ہے ، تعارض ہے یا ابہام ہے، تو غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ شارع نے ایسا ’’ کیوں ‘‘ کیا ہے ؟ اگر شارع نے ایسی دشواری رکھی ہے تو اس کے پیچھے لازماََ کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ کیا اس حکمت کے مصداق کوئی خاص مقدس لوگ ہیں ؟ کیا اس حکمت کا مصداق کوئی خاص مقدس زمانہ ہے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ تقی صاحب کی فقہی بصیرت subjectivity سے مالامال ہے ، اس لیے ان کی نظر اپنے موقف کے ان داخلی تضادات پر نہیں گئی ۔ بہرحال ، اگر کوئی غیر جانبدار شخص مسلکی تعصبات سے بالاتر ہوکر ان کی تالیف کا جائزہ لے تو غالباََ یہی نتیجہ اخذ کرے گا کہ تقی صاحب فکری سطح پر status quo کے خواہش مند ہیں ۔ اگرکوئی ان کی خواہش کے محرک کو جاننے کی کوشش کرے گا تواسے وہ بھی اسی تالیف میں مل جائے گا ۔ وہ محرک ، بنیادی طورپر ان نتائج سے خوف زدگی سے عبارت ہے جو status quo ٹوٹنے کے بعد رونما ہوں گے ۔’’ تقلید کی شرعی حیثیت ‘‘ کے مولف ایک علمی شخصیت ہیں ، اس لیے مدرسے کے خول سے باہر تانک جھانک لیتے ہیں۔ اس تانک جھانک نے اتنا اثر ضرور دکھایا ہے کہ وہ ’’طے شدہ اصولوں کے دائرے ‘‘میں رہتے ہوئے اجتہاد کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرگئے ہیں ۔ڈاکٹر محمود احمد غازی کے بھی ایسے ہی خیالات ہیں ، ملاحظہ کیجیے :
’’جہاں تک اجتہاد کی پہلی سطح کا تعلق ہے اس کو اجتہادِ مطلق کہا جاتا ہے ۔ اس کے اجتہاد کرنے والے کو مجتہدِ مطلق کہتے ہیں ۔ مجتہدِ مطلق کا کام تقریباََ ختم ہو گیا ۔ جب فقہا نے یہ لکھا کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا ، تو ان کی مراد یہی تھی کہ اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو گیا ۔ دراصل اب اس کی ضرورت نہیں رہی ۔ اس لیے کہ جو کام اجتہادِ مطلق کے ذریعہ کرنا مطلوب تھا وہ سارا کا سارا کیا جا چکا ۔ اب دوبارہ اجتہادِ مطلق کی مشق کرنا انگریزی محاورہ کے مطابق پہیہ کو دوبارہ ایجاد کرنے کے مترادف ہے ۔ اس لیے یہ دروازہ عملاََ بند ہو چکا۔‘‘ ( محاضراتِ فقہ ، ص ۳۳۷، ۳۳۸) 
ڈاکٹر صاحب نے اس عبارت سے قبل ، اجتہادِ مطلق کی تردید میں کافی دلچسپ نکات بیان کیے ہیں۔ ہم ان نکات کی تردید میں الجھے بغیر گزارش کریں گے کہ آخر ان ’’ محاضرات ‘‘ کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔ انگریزی محاورے کے مطابق پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کی انھیں یہ کیا سوجھی ؟ ۔ ڈاکٹر صاحب یہ سامنے کی بات نظر انداز کر گئے ہیں کہ ہر نئی نسل ماضی کی نسلوں کے تجربات پر انحصار نہیں کرتی ، بلکہ اسے خود ان تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ محاضرات کے روپ میں خود ڈاکٹر صاحب بھی ان تجربات سے گزرے ہیں ، اب اگر مجتہدِ مطلق کے سے مراحل سے گزرنے کی ان میں سکت نہیں ، تو اس کا یہ حل نہیں کہ وہ سرے سے اس کے انکاری ہی ہو جائیں ، انھیں کم از کم نظری اعتبار سے، اجتہادِ مطلق کی ہمیشگی کو تسلیم کر لینا چاہیے ۔جناب محمد تقی صاحب عثمانی اور جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے مانندجناب ابوعمار زاہد الراشدی کا بھی یہی موقف ہے ۔ زاہد صاحب لکھتے ہیں کہ : 
’’قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کے اصول وضع کرنے کا ایک دور تھا ، جب دو چار نہیں بلکہ بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے ، مگر ان میں سے پانچ چھ کو امت میں قبول حاصل ہوا اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے ۔ اب کسی نئے فقہی مذہب کے اضافے کی گنجایش نہیں ہے ، اس لیے نہیں کہ اس کا دروازہ کسی نے بند کر دیا ہے یا اس کی صلاحیت و اہلیت ناپید ہوگئی ہے ، بلکہ اس لیے یہ کام ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں رہی اور ان مسلمہ فقہی مذاہب کے اصول و قوانین میں وہ تمام تر گنجایشیں اور وسعتیں موجود ہیں جن کی روشنی میں ہر دور کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ ، نومبر ۲۰۰۶ ، ص ۵ )
زاہد صاحب کے اس اقتباس کا پہلا فقرہ ہی کافی عجیب و غریب ہے ۔ اگر ان کی یہ بات مان لی جائے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کے اصول وضع کرنے کے زمانے لد گئے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے دور میں قرآن و سنت کی کیا معنویت باقی ہے ؟ ۔ حقیقت یہ ہے کہ زاہد صاحب کا یہ فقرہ ایک پوری مدرسی ذہنیت کی نمایندگی کر رہا ہے جس کے مطابق قرآن و سنت کا ’’ نچوڑ ‘‘ ایک خاص زمانے کے خاص لوگوں نے نکال لیا ہے اور یہ عمل خدا کی منشا کے عین مطابق ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا طرزِ فکر، دین (قرآن و سنت) کی آفاقیت کے منافی اور بے ادبی کے مترادف ہے ۔ زاہد صاحب جب یہ لکھتے ہیں کہ ’’۔۔۔ مسلمہ مذاہب کے اصول و قوانین میں وہ تمام گنجایشیں اور وسعیتں موجود ہیں جن کی روشنی میں ہر دور کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے ‘‘ تو ہمارے جیسا قرآن و سنت کا طالب علم حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ’’ فقیہِ شہر‘‘ نے مسلمہ مذاہب کے اصول و قوانین کو کیسے اور کیونکر قرآن و سنت کے متوازی ہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھا کر کھڑا کر دیا ہے؟ یعنی ماخوذ کو ماخذ کے سر پر سوار کر دیا ہے اورلا محدود کو محدود میں سمو دیا ہے ، آخر کیسے؟ زاہد صاحب کے مذکورہ اقتباس سے ایک واضح مطلب برآمد ہو رہا ہے کہ ہر دور میں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کے اصول وضع کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ایک خاص زمانے میں جو تعبیر و تشریح اور اصولِ اجتہاد طے کیے جا چکے ہیں ، وہ ہر زمانے کی ضرورتوں پر محیط ہیں ۔ لہذا اب زیادہ سے زیادہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ طے شدہ تعبیر و تشریح اورطے شدہ اصولِ اجتہاد کے دائرے میں رہتے ہوئے ( جسے انھوں نے ’’ روشنی ‘‘ سے تعبیر کیا ہے ) ہر زمانے کے مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس نقطہ نظر میں جس قدر سادگی پائی جاتی ہے اس کے پیشِ نظر اس پر علمی بحث کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ 
زیرِ بحث اقتباس کا یہ جملہ بھی اہم ہے کیونکہ اس میں ایک روایتی موقف کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ’’بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے مگر ان میں سے پانچ چھ کو امت میں قبول حاصل ہوا اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے ‘‘ ۔ یہاں امت میں قبول سے مراد غالباََ تعاملِ امت ہے ، جس کی طرف توجہ دلانا اکثر قدامت پسند، فرضِ عین خیال کرتے ہیں ۔ اسی فقرے کا دوسرا حصہ ایک بار پھر مدرسی ذہنیت کی چغلی کھا رہا ہے ، ’’اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے ‘‘ ۔ ہم زاہد صاحب سے استفسار کریں گے کہ کیا یہ بات واقعی ایسے ہی ہے جس طرح وہ فرما رہے ہیں ؟ ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات کچھ اس طرح کہنی چاہیے کہ بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے مگر ان میں سے پانچ چھ کو تاریخ نے قبول کیا اور باقی تاریخ کی نذر ہو گئے یا یہ بات اس طرح کہی جا سکتی ہے کہ بیسیوں فقہی مذاہب وجود میں آئے مگر ان میں سے پانچ چھ کو امت میں قبول حاصل ہوا اور باقی امت میں مقبول نہ ہو سکے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اہلِ مدرسہ جب تعاملِ امت کو تاریخ سے مکمل لاتعلق اور الگ انداز میں لیتے ہیں تو گڑ بڑ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعاملِ امت ( یا امت میں قبول حاصل ہونا ) میں تاریخی عوامل کی کارفرمائی نہیں ہوتی ؟ کیا تعاملِ امت ، تاریخ سے ماورا عمل ہے ؟ یعنی، کیا یہ زمان و مکان کی حدود و قیود میں واقع نہیں ہوتا ؟ اگر بعض مذاہب تاریخ کی نذر ہو گئے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے تاریخ کی نذر ہونے میں تاریخی عوامل کا خاطر خواہ کردار ہے ( جیسا کہ زاہد صاحب تسلیم بھی کر رہے ہیں ) ، اسی طرح جن مذاہب کو قبول حاصل ہوا ، ان کی قبولیت میں بھی تاریخی عوامل کا ایک خاص کردار ہے( زاہد صاحب یہ پہلو قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں ) ۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تاریخی عوامل ، ہر زمانے اور ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتے ، بلکہ ان میں تنوع اور تغیر پایا جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ قدامت پسند اہلِ مدرسہ ، جن کی نمائندگی یہاں زاہد صاحب کر رہے ہیں، ہمیشہ پورا سچ قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور تعاملِ امت میں کارفرما تاریخی عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ تاریخی عوامل اور تکوینی پہلووں سے مکمل چشم پوشی ، قدامت پسندوں کی جمود پسندی کا ایک بڑا سبب ہے ۔ 
اسی بات کو ایک اور رخ سے دیکھنے کی ضرورت ہے جس سے اسلام کے حرکی اور اجتہادی نظریے کا وہ پہلو نمایاں ہو جاتا ہے جس کی طرف ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔ قرآن مجید کے مطابق تمام انسان پہلے امتِ واحدہ تھے جو بعد میں قبائل اور قوموں میں تقسیم ہو گئے ( البقرۃ ۲:۲۱۳، ہود ۱۱: ۱۱۸، یونس ۱۰: ۱۹) ۔ پھر مختلف قوموں میں نبی مبعوث ہوئے جنھوں نے لوگوں کواللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں نے پیغام قبول کرتے ہوئے اس پر عمل بھی کیا ( المائدہ ۵: ۴۸، البقرۃ ۲: ۶۲، الفاطر ۳۵: ۲۴، الرعد ۱۳: ۷) ۔اس امر میں کسی کو کلام نہیں کہ مرورِ ایام سے’’ پیغام اور عمل‘‘ اصل اور مقصود نہج سے ہٹتے چلے گئے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے نبیوں کی بعثت جاری رکھی ، جس کا سلسلہ محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ پر آ کر ختم ہوا ۔ اہم بات یہ ہے کہ مختلف قوموں کے پاس مختلف زمانوں میں جو پیغمبر آتے رہے ہیں ، ان کے پیغام ایک جیسے تھے ۔ یہاں منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بار پیغام بھیج دیا گیا پھر اسی قوم میں دوبارہ پیغام بھیجنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ۔ ظاہر ہے اس کا جواب یہی ہے کہ اس قوم کے فکروعمل ( تعامل ) میں بگاڑ پیدا ہو جاتا تھا ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک بار پیغام مل گیا تو پھر بگاڑ’’ کیوں‘‘ پیدا ہوتا ہے ؟ ۔ قدامت پسند اس ’’ کیوں ‘‘ کا جواب دینے سے جی کتراتے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں( اسلام سے قبل ) اس کیوں کے جواب کی اتنی ضرورت نہیں تھی ، کیونکہ بگاڑ کی صورت میں خدا پیغمبر بھیج دیتا تھا ، اب چونکہ کوئی پیغمبر نہیں آئے گا ، اس لیے اب امتِ مسلمہ کو خود اس ’’کیوں ‘‘ کا جواب تلاش کرنا پڑے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی خاتم ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ کی قوم کا بھی ایک تعامل تھا ، جو کسی گزرے ہوئے نبی کی تعلیمات پر مبنی صحیح فکر و عمل کا بگڑاہوا روپ تھا اور صحیح فکرو عمل کے بگاڑ میں مرورِ ایام کا بنیادی کردار تھا ۔ اب ذرا مرورِ ایام کو تحلیل کرنے کی کوشش کیجیے ، اس میں سے تکوینی پہلواور تاریخی عوامل وغیرہ برآمد ہوں گے ۔ تعاملِ امت کو حرفِ آخر سمجھنے والے ، کیا وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے کہ کس قرآنی نص یا صحیح فرمانِ رسول ﷺ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کی امت کا تعامل ، مرورِ ایام کی منفیت سے بے نیاز رہے گا ؟۔ حالانکہ اہم بات یہ ہے کہ نبوت کے خاتمے کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا اور لوگ چونکہ مرورِ ایام سے بگاڑ کا شکار ہوتے رہیں گے ، اس لیے اسلام میں خاتمیت کے تصور کے تحت ، اجتہادِ مطلق ایسا متحرک اصلاحی عنصر بن جاتا ہے جو تعامل ( وغیرہ ) پر نظر ثانی کر کے بگاڑ کا قلع قمع کر دیتا ہے ۔ یوں سمجھیے کہ اسلام میں اجتہادِ مطلق کا وہی کردار ہے جو اسلام سے قبل کسی قوم میں بھیجے گئے دوسرے نبی کا ہوتا تھا ۔ دوسرے نبی کا بنیادی کردار یہی ہوتا تھا کہ وہ پہلے نبی کے پیغام کا احیا کر دیتا تھا ( جسے قوم نے بگاڑ لیا ہوتا تھا ) ۔ حیرت ہے ، قدامت پسند اہلِ مدرسہ ایسے اجتہاد کے منکر ہیں اور الٹا تعاملِ امت کو حجیت کے دائرے میں عملاََ لائے ہوئے ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ قدامت پسند ہی ہیں جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ چونکہ لوگوں کا سنتِ رسول ﷺ پر عمل نہیں رہا تھا ( یعنی فکر و عمل میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا ) اس لیے علمِ حدیث کی داغ بیل ڈالی گئی ۔اس کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ ایک خاص دور میں تعامل میں بگاڑ پیدا ہوا ، اس کے بعد ایسے بگاڑ کی کو کوئی گنجایش موجود نہیں ، ’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ‘‘ ۔ قدامت پسندوں کے تصورِ اجتہاد میں بنیادی تضاد یہی ہے کہ وہ ایک طرف تعاملِ امت اور اجماع وغیرہ ( جن کا تاریخ سے گہرا تعلق ہے ) پر اس قدرزور دیتے ہیں جس سے قرآن ( جو تاریخ سے ماورا ہے ) کی بالادستی مشکوک ہو جاتی ہے اور دوسری طرف تاریخی و تکوینی عوامل کی نفی کرکے اپنے تئیں تعاملِ امت اور اجماع وغیرہ کو تاریخ سے ماورا کرنے کی احمقانہ کوشش کرتے ہیں، اسی لیے ان کے ہاں مذکورہ بگاڑ کی گنجایش نہیں نکلتی ۔ اگر قدامت پسند، تعاملِ امت اور اجماع وغیرہ کو کلیدی حیثیت دینے پراس قدر مصر ہیں تو انھیں چاہیے کہ آدھے کے بجائے پورے سچ کو قبول کریں اور جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینِ اسلام کے بجائے تاریخی اسلام (Historical Islam) سے وابستگی کا اعلان کریں ۔( تاریخی اسلام اور دینِ اسلام کی بحث کے لیے ماہنامہ الشریعہ نومبر ۲۰۰۶ میں ہمارا مضمون ’’ اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد ‘‘ ملاحظہ کیجیے )۔
اب یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت باقی ہے کہ قدامت پسند، اجتہادِ مطلق سے اتنا کیوں بدکتے ہیں ؟ ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی خاص نفسیاتی سرحدیں ہیں ، جنھیں عبور کرنے سے وہ معذور ہیں ۔ ابھی چند روز پیشتر ہماری نظر سے ایک تحریر گزری جس میں بڑے فخریہ انداز میں بتایا گیا تھا کہ کسی’’ حضرت‘‘ کا چند عرب نوجوانوں سے ٹاکرا ہوا ، انھوں نے حضرت سے کہا ، ہم سلفی ہیں ، آپ کون ہیں ؟ حضرت نے جواب دیا ، حنفی ہوں ۔ اس کے بعد بھی یہ مکالمہ چلا ۔ کیونکہ ہم زاہدالراشدی صاحب کو قدامت پسندوں کے نمائندے کے طور پر لے رہے ہیں اس لیے اس سلسلے میں بھی ان کی ایک تحریر کا اقتباس نذرِ قارئین کیے دیتے ہیں : 
’’میں ایک متصلب اور شعوری حنفی ہوں اور اپنے دائرہ کار میں اپنے فقہی اصولوں کی پابندی ضروری سمجھتا ہوں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کرنا بھی میرے لیے مشکل ہے کہ جس طرح گلوبلائزیشن کے بڑھتے ہوئے عمل نے مختلف ادیان کے حوالے سے مشترکہ عالمی سوسائٹی کی تشکیل کی راہ ہموار کر دی ہے اسی طرح مسلم ممالک کے درمیان آبادی کے روزافزوں تبادلہ نے فقہی مذاہب کے حوالے سے بھی مشترکہ سوسائٹیاں قائم کر دی ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں سینکڑوں جگہ ایسا ماحول موجود ہے جہاں حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور ظاہری مکاتبِ فکر کے حضرات مشترکہ طور پر رہتے ہیں ، اکھٹے نمازیں پڑھتے ہیں اور مل جل کو دینی تقاضے پورے کرتے ہیں ۔ انہیں فقہی اختلافات کے حوالہ سے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے چلنا ہے ؟ اس کی وضاحت آج کی مستقل ضرورت ہے۔ ہمارے فقہا نے اس کی حدود بیان کی ہیں لیکن ہماری اس طرف توجہ نہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (عصرِ حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابلِ عمل صورتیں / شیخ زایداسلامک سینٹر جامعہ پنجاب لاہور / ص ۳۵ ) 
کیونکہ قدامت پسند گروہ داخلی اعتبار سے کم از کم پانچ چھ بڑے گروہوں میں منقسم ہے ، اس لیے کوئی متصلب حنفی ہے، متصلب مالکی ہے، کوئی متصلب شافعی ہے ، متصلب حنبلی ہے اور کوئی متصلب سلفی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سارے گروہ ’’ شعوری ‘‘ بھی ہیں ۔ اب کوئی بھی انصاف پسند انسان ان ’’ شعوری ‘‘ گروہوں سے یہ توقع نہیں کر سکتا کہ وہ ’’اپنے شعور کی سرحدیں‘‘ کراس کر جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اجتہادِ مطلق کے لیے ( کم از کم اسے نظری سطح پر تسلیم کرنے کے لیے بھی ) نہ تو سلفی حنبلی شافعی ہو ناضروری ہے اور نہ ہی حنفی مالکی ہونا ، بلکہ اجتہادِ مطلق کے لیے ان سرحدوں کو کراس کر کے ’’ امتی ‘‘ ہو نا انتہائی ضروری اور ناگزیر ہے ۔ نفسیاتی اکائیوں میں منقسم قدامت پسندوں کوکم از کم وہ حدیث مبارک یاد رکھنی چاہیے جس کے مطابق نبی خاتم ﷺ قیامت کے روز شفاعت کے لیے سجدہ ریز ہوں گے تو اللہ کے حکم سے سر اٹھا کر فرمائیں گے ’’یا رب امتی امتی‘‘ ( صحیح بخاری ، کتاب التوحید ، ۳۶) اگر کسی روایت میں یارب سلفی سلفی ، یارب حنفی حنفی وغیرہ کے الفاظ موجود ہیں تو اہلِ علم سے درخواست ہے ہمیں مطلع کرکے شکریے کا موقع دیں ۔
زاہد الراشدی صاحب کی تحریر کا جو اقتباس ہم نے نقل کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ وہ ایک مخمصے میں گرفتار ہیں ۔سچ یہ ہے کہ ہر صاحبِ فکرغیر روایتی قدامت پسند ایسے ہی مخمصے کا شکار ہے ۔ اگر ایسے قدامت پسند ، کسی فقہی دبستان سے لا محدود وابستگی کو حدود میں لے آئیں تو ایسے مخمصے سے چھٹکارا پا سکتے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ، صرف اور صرف اپنے آپ کو متصلب اور شعوری امتی سمجھنا اور کہلوانا ہو گا ۔ مذکورہ اقتباس پر دوبارہ نظر ڈالیے اور آخری سطروں پر غور کیجیے ، زاہد صاحب گلوبلائزیشن کو تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک امر واقعہ ہے ، لیکن اس کے حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں ، زاہد صاحب انھیں صرف فقہی ( قانونی ) تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ مسئلہ وہی ہے جو ہم نے اوپر بین السطور ڈسکس کیا کہ قدامت پسند حلقہ، تاریخی و تکوینی عوامل کی ماہیت ، سماج پر ان کے اثرات وغیرہ سے یکسر نابلد ہے اور کسی بھی معاملے کے محض قانونی و لفظی پہلووں کو پیشِ نظر رکھتا ہے ۔اس لیے یہ حلقہ ’’ کیوں ‘‘ کا خاطر خواہ احاطہ کرنے میں مکمل ناکام ہے ۔ محمد تقی صاحب عثمانی کو بھی ان کی حنفیت نے اس ’’ کیوں ‘‘ پر غور و فکر کرنے سے روکا ہوا ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں کہ : 
’’ فقہا کرام نے محسوس فرمایا کہ لوگوں میں دیانت کا معیار روز بروز گھٹ رہا ہے ، احتیاط اور تقوی ٰ اٹھتے جا رہے ہیں ، ایسی صورت میں اگر تقلیدِ مطلق کا دروازہ چوپٹ کھلا رہا تو بہت سے لوگ جان بوجھ کر اور بہت سے غیر شعوری طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔‘‘ ( تقلید کی شرعی حیثیت ، ص ۶۱ ) 
( خیال رہے تقلیدِ مطلق سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مختلف معاملات میں مختلف مجتہدین کی پیروی کر سکتا ہے ) ذرا غور فرمایے کہ فقہا کے محسوسات کیا ہیں ؟ کہ دیانت گھٹ رہی ہے ، احتیاط اور تقویٰ اٹھ رہے ہیں ، ذرا پھر غور فرمایے کہ فقہا نے ان امراض کا حل کیا نکالا ہے؟ اب زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ اس حل پر داد دے دیجیے ۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ تقی صاحب اس حل پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں : 
’’لیکن اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے بعد کے فقہا پر جو اپنے اپنے زمانے کے نبض شناس تھے اور جنھیں اللہ تعالیٰ نے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات پر نگاہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی تھی ، انھوں نے بعد میں ایک زبردست انتظامی مصلحت کے تحت ’’ تقلید‘‘ کی مذکورہ دونوں قسموں میں سے صرف ’’ تقلیدِ شخصی ‘‘ کو عمل کے لیے اختیار فرما لیا اور یہ فتویٰ دے دیا کہ اب لوگوں کو صرف ’’ تقلیدِ شخصی ‘‘ پر عمل کرنا چاہیے ، اور کبھی کسی امام اور کبھی کسی امام کی تقلید کے بجائے کسی ایک مجتہد کو معین کرکے اسی کے مذہب کی پیروی کرنی چاہیے ‘‘ ( تقلید کی شرعی حیثیت ، ص ۶۰ ، ۶۱ )
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تقی صاحب تسلیم کر رہے ہیں کہ فقہا اپنے اپنے زمانے کے نبض شناس تھے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں، زمانہ کیا ہوتا ہے اور یہ کہ وہ بدلتا بھی رہتا ہے ، لیکن نجانے وہ کیوں اس امر پر مصر ہیں کہ فقہی مذاہب کے اصولوں کی تشکیل کے بعد زمانہ بدلنا بند ہو گیا ہے ۔ یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقی صاحب جس انتظامی مصلحت کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں کیا وہ مستقل بالذات تھی ؟ یا زمانے کی ضرورت تھی ؟ ۔ آخر تقی صاحب تقلیدِ شخصی پر اس پہلو سے غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ بعض محرکات کا نتیجہ ہے اور وہ محرکات ایک خاص زمانے کی پیداوار تھے ، لہٰذا تقلیدِ شخصی ، بالذات اصول نہیں ہے ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ عوامل ابھی تک موجود ہیں جن کی وجہ سے ’’ تقلیدِ شخصی‘‘ کا رویہ اختیار کیا گیا ، تو کیا صحیح اسلامی رویہ یہ ہے کہ تقلیدِ شخصی کے جواز کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دی جائیں یادین کی غایت یہ ہے کہ ان عوامل کی بیخ کنی کے لیے سرگرمی دکھائی جائے جن کی وجہ سے تقلیدِ شخصی کو اختیار کرنا پڑا ؟ ، تاکہ ان عوامل و محرکات کی بیخ کنی کے عمل کے دوران میں اور نتیجے کے طور پر بھی دین کا حرکی پہلو ہمیشہ متحرک رہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تقی عثمانی صاحب ان امور کو بہت مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں ، وہ تو اس بات کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ تلقین بھی فرما رہے ہیں کہ کسی عام مقلد کو تقلید کرتے وقت’’ دلائل‘‘ طلب نہیں کرنے چاہییں، پھر اس پر مصر ہیں کہ ایسا کرنا ’’تقلیدِ محض ‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا ۔اس سلسلے میں تقی صاحب نے کافی دلچسپ دلائل دیے ہیں ، مثلاً :
’’حضرت سلیمان بن یسار ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ حج کے ارادے سے نکلے ، یہاں تک کہ جب مکہ مکرمہ کے راستہ میں نازیہ کے مقام تک پہنچے تو ان کی سواریاں گم ہو گئیں ، اور وہ یوم النحر ( ۱۰ ذی الحج ) میں ( جبکہ حج ہو چکا تھا ) حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے اور ان سے یہ واقعہ ذکر کیا ، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم وہ ارکان ادا کرو جو عمرہ والا ادا کرتا ہے ( یعنی طواف اور سعی ) اس طرح تمھارا احرام کھل جائے گا ، پھر اگلے سال جب حج کا زمانہ آئے تو دوبارہ حج کرو ، اور جو قربانی میسر ہو ، ذبح کرو ‘‘ ( موطا امام مالک ؒ ، ص ۱۴۹، ہدی من فاتہ الحج ) 
یہاں بھی نہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے مسئلے کی دلیل پوچھی اور نہ حضرت عمرؓ نے بتائی ، بلکہ حضرت عمرؓ کے علم و فہم پر اعتماد کرکے عمل فرمایا ، اسی کو تقلید کہتے ہیں ‘‘ ( تقلید کی شرعی حیثیت ، ص ۳۶ ) 
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سے متعارض آثار بھی بطور دلیل پیش کیے جا سکتے ہیں ، پھر لازماََ تطبیق کی کوئی صورت نکالنی پڑے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ تقی صاحب نے اس روایت سے جو معنویت اخذ کی ہے ، اسے زیادہ سے زیادہ ان کا’’ فہم ‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے ، جو حجت نہیں ہو سکتا ۔ اس جملہ معترضہ سے قطع نظر یہاں ہم ان کی توجہ ایک بنیادی نکتے کی طرف مبذول کرانا چاہیں گے کہ کیا واقعی اسی نوعیت کی تقلید ، ائمہ اربعہ و دیگر مجتہدین کی، کی جانی چاہیے ؟ کیا صحابہ کرامؓ اور دیگر مجتہدین کے درجات میں عملی طور پر کوئی فرق نہیں ہے ؟ ۔معلوم ہوتا ہے کہ تقی صاحب کی رائے کے مطابق ایسا کوئی فرق موجود نہیں ہے ۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بنیادی فرق موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا ۔ وہ بنیادی فرق ’’دلائل کے مطالبات ‘‘ کا ہے ۔ اور یہی فرق عملی طور پر ، تقلیدِ محض اور تقلید کی اس سطح کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دیتا ہے جس تقلید کی گنجایش ہمیشہ موجود رہی ہے اور ہمیشہ موجود رہے گی ۔اگر اس فرق کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جاتا ، یعنی اگر دلائل کا تقاضا نہیں کیا جاتا تو پھر تقلید ، جائز سطح سے بلند ہوتے ہوتے دینی عقائد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ( کیونکہ دلائل کی عدم موجودگی کے باعث ایک خاص مجہولی رویہ پنپنا شروع ہو جاتا ہے ) اور نتیجے کے طور پر معاشرے کی اکثریت ، عقائد سے شعوری وابستگی کے بجائے تقلیدی وابستگی پر قانع ہو جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی کئی صدیوں سے مسلم معاشرے کی یہی حالت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ قدامت پسندوں کی نظر اس حالت کی ’’ وجوہ ‘‘ پر نہیں ہے۔ بہرحال ، تقی عثمانی صاحب کے استدلال کا ایک اور نمونہ ملاحظہ کیجیے : 
’’حضرت مصعب بن سعد ؒ فرماتے ہیں کہ میرے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ) جب مسجد میں نماز پڑہتے تو رکوع اور سجدہ پورا تو کر لیتے مگر اختصار سے کام لیتے ، اور جب گھر میں نماز پڑہتے تو رکوع سجدہ اورنماز ( کے دوسرے ارکان) طویل فرماتے ، میں نے عرض کیا ، ابا جان ! آپ مسجد میں نماز پڑہتے ہیں تو اختصار سے کام لیتے ہیں اور جب گھر میں پڑہتے ہیں تو طویل نماز پڑہتے ہیں ؟۔۔۔حضرت سعدؓ نے جواب دیا کہ بیٹے ! ہم ( لوگوں کے ) امام ہیں ، لوگ ہماری اقتدا کرتے ہیں ( یعنی لوگ ہمیں طویل نماز پڑہتے دیکھیں گے تو اتنی لمبی نماز پڑھنا ضروری سمجھیں گے ، اور جا و بیجا اس کی پابندی شروع کر دیں گے ) ‘‘( مجمع الزوائد للہیثمیؒ ، ج ۱ ص ۱۸۲، باب الاقتداء بالسلف ) 
اس روا یت سے معلوم ہوا کہ عام لوگ صحابہ کرامؓ کے صرف اقوال ہی کی تقلید نہیں کرتے تھے ، بلکہ بڑے صحابہؓ کا صرف عمل دیکھ کر اس کی بھی تقلید کی جاتی تھی، اور ظاہر ہے کہ عمل دیکھ کر اس کی اقتدا کرنے میں دلائل کی تحقیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسی لیے یہ حضرات اپنے عمل میں اتنی باریکیوں کا بھی لحاظ رکھتے تھے ‘‘ (تقلید کی شرعی حیثیت، ۳۷) 
اس روایت پر ذرا غور فرمائیے ، کیا اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ تقلید کے اثبات کے لیے اس سے ’’ اصول ‘‘ اخذ کر لیے جائیں؟ حقیقت میں یہاں پھر فقیہِ شہر کی بصیرت ، گل کھلا رہی ہے۔ جناب تقی صاحب ایک رسمی معاشرتی رویے کی نشاندہی کو اصولی و قانونی حوالے سے دیکھ رہے ہیں اور خرد کو جنوں اور جنوں کو خرد کہے جا رہے ہیں ۔اس تنقیدی مطالعے کے اختتام پر ابو عمار زاہدالراشدی کی تحریر کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے اور غور کیجیے کہ وہ کس قدر گومگو کی حالت میں گرفتا رہیں :
’’اجتہاد کے حوالے سے جو کام اس وقت ہمارے خیال میں سب سے زیادہ ضروری ہے ، بد قسمتی سے وہی سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے اور وہ ہے اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں کے وہ فیصلے اور ضوابط جنہیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ حاصل ہے اور جن کی بنیاد پر متعدد اسلامی احکام و قوانین کی عالمی سطح پر نہ صرف مخالفت ہو رہی ہے بلکہ عالمی ادارے مسلم حکومتوں پر ان اسلامی احکام و قوانین کی مخالفت میں مسلسل دباؤ ڈالتے جا رہے ہیں ، مگر ان بین الاقوامی قوانین کے بارے میں ہمارے علمی حلقوں اور دینی اداروں کا کوئی مشترکہ موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ۔ ‘‘ ( عصرِ حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابلِ عمل صورتیں / ایضاً )
ہم زاہد صاحب سے گزارش کریں گے کہ علمی حلقوں اور دینی اداروں کا مشترکہ موقف دیوانے کا خواب ہے ۔ جو علمی حلقے اور دینی ادارے ’’تقلیدِ شخصی ‘‘ کی تنگنائے کے اسیر ہوں وہ مشترکہ موقف کی طرف کیسے اور کیونکر بڑھ سکتے ہیں ؟ امرِ واقعہ یہ ہے کہ بات ’’ تقلیدِ شخصی ‘‘ سے بھی بہت آگے بڑھی ہوئی ہے ۔زاہد صاحب کے اقتباس کے حوالے سے ایک بنیادی سوال کرکے ہم قدامت پسندوں کے تصورِ اجتہاد پر بات ختم کرنا چاہیں گے ۔ وہ سوال یہ ہے کہ فقہی مذاہب کے دائروں میں رہتے ہوئے کیا اس سطح کا اجتہاد ممکن ہے ، جس کا تقاضا یہ اقتباس کر رہا ہے ؟

حاصل بحث

قدامت پسندوں کا تصورِ اجتہاد مکمل طور پر غلط نہیں ہے ۔ قدامت پسند حلقہ ، بیسیوں فقہی مذاہب کے وجود کو تسلیم کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حلقے کے نزدیک بھی دین کی تعبیر اور اس کا معاشرے پر اطلاق stereotype نہیں ہے کیونکہ دین کی تعبیر و اطلاق اگر stereotype ہوتے ، تو صدرِ اسلام سے اب تک بلکہ قیامت تک ، فقط ایک ہی مذہب کا اسلامی سماج میں اثرونفوذ ممکن ہوسکتا ۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوا ۔ اہم بات یہ ہے کہ دین کی ایسی تعبیری و اطلاقی proliferation اس بیج سے مشابہ ہے جواگرچہ اپنے اندرکئی امکانات لیے ہوئے ہوتا ہے ، لیکن وہ اس عمل کا محتاج ہوتا ہے کہ انسانی ہاتھ اسے مَس کریں ، زمین میں بوئیں ، دیکھ بھال کریں اور خدا بھی اس انسانی عمل کی مدد پر آمادہ ہو ، یعنی سورج کی کرنیں اور بارش کی رم جھم وغیرہ اپنا کردار ادا کر رہے ہوں ، تو پھر بیج کے امکانات ، بتدریج وجود میں آجاتے ہیں ۔ یہاں یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ بیج ارتقا کے مراحل طے کرکے تناور درخت نہیں بنتا بلکہ ارتقا کے بجائے محض اپنے امکانات ( جو پہلے سے ہی اس کے اندرموجود ہوتے ہیں ) کو سامنے لاتا ہے۔ دین کی تعبیری و اطلاقی proliferation کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس کے اندرپہلے سے موجودامکانات، انسانی عمل اور خدائی مدد سے وجود میں آجاتے ہیں ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ دین کی تعبیری و اطلاقی proliferation کے عمل سے انسان کو خوف زدہ ہو کر گریز نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ اس عمل میں وہ تنہا نہیں ہوتا بلکہ خدا کی مدد ہر لمحے اس کی شریک کار ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر امکانات کے حامل بیج کو حضرت انسان بونے کے بجائے ویسے ہی پڑا رہنے دے تو بیج کے امکانات بیج کے اندر ہی دفن ہو جاتے ہیں ۔ بالکل یہی صورتِ حال دین کے ساتھ ہے۔ اگر دین کا حامل ہونے کے باوجود حضرت انسان اس کی تعبیری و اطلاقی حالتوں کو پیشِ نظر نہیں رکھتا ، یعنی اسے انسانی عمل سے وابستہ نہیں کرتا ، تو دین کے تعبیری و اطلاقی امکانات، کوئی اظہار پائے بغیر ختم ہوجاتے ہیں، کیونکہ یہ خودرو جھاڑیوں سے مشابہ نہیں ہیں جو محض تکوینی عمل سے اپنے اندر کے امکانات کو وجود بخشتی رہتی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ متقدمین اس نزاکت سے بخوبی آگاہ تھے۔ بیسیوں فقہی مذاہب کا وجود اس امر پر دال ہے کہ متقدمین دین کو خود رو جھاڑی کے مانند خیال نہیں کرتے تھے بلکہ مذکورہ بیج کے مماثل سمجھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعبیری و اطلاقی proliferation کرنے میں پہل کی، اور ان کے قدم آگے بڑھانے پر خدا نے بھی ان کو راہ دکھائی : وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْن (العنکبوت ۲۹: ۶۹ )
آج کے قدامت پسند، دین کی تعبیری و اطلاقی proliferation کے انکاری نہیں ہیں کیونکہ یہ امرِ واقعہ ہے ، اس لیے فقہی مذاہب کی سب سے زیادہ اطاعت انھی کے ہاں پائی جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قدامت پسند ، فقہی مذاہب کی فقط مظہری تسلیمیت (phenomenal confession) کے قائل ہیں ، ان کی نظر واقعات کے اس تسلسل (continuity of incidents) پر نہیں ہے ، جن کی وقوع پذیری ، مربوط نامیاتی تعلق اورنموسے،اس مظہر کی مجموعی تشکیل ہوئی ہے، اورنتیجے کے طور پر دین کے چند تعبیری و اطلاقی امکانات سامنے آئے ہیں ۔ ہمیں حیرت ہے کہ قدامت پسندوں کی تیکھی نظروں سے یہ حقیقت کیسے چھپی رہ گئی کہ مختلف فقہی مذاہب کسی اچانک حادثے) Big Bang ( کا نتیجہ نہیں ہیں ، بلکہ ایک واقعاتی صورتِ حال (a given situation) کے چیلنج کے جواب میں اختیار کی گئی انسانی بصیرت کے باعث، جس میں خدائی مدد بھی شامل رہی، منصۂ شہود پر آئے ہیں ۔ اگر وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں توپھر ان کے جامد رویے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی نظراس واقعاتی صورتِ حال کے فقط ظواہر(appearances) پر ہے ، انھوں نے اس کے باطن میں جھانکنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف ایک انسان کے باطن میں جھانکنے کے لیے جس درجے کی متانت ، سنجیدگی ، تعمق ، بصیرت اور مشاہداتی قوت درکار ہوتی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ بہت سے انسانوں کے باہمی تعلق سے جنم لی گئی صورتِ حال کے باطن تک رسائی کے لیے کس درجے کی ذہنی قابلیت درکار ہو گی۔ اندریں صورت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قدامت پسندوں میں ایسی ذہنی قابلیت نہیں پائی جاتی ؟ اگر اس سوال کے جواب میں ’’ہاں‘‘ کہا جائے تو ہمارے خیال میں یہ بہت زیادتی ہوگی ۔ قدامت پسند حلقہ ، ذہنی قابلیت کے اعتبار سے بانجھ نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ فقہی مذاہب کی مظہری تسلیمیت (phenomenal confession) کو اوڑھنا بچھونا بنا چکا ہے ۔ وہ ایک غیر مستقل واقعی صورتِ حال کے سحر کا شکار ہے۔ قدامت پسند حلقہ ’’پہل‘‘ کرنے کے بشری عمل سے خوف زدہ ہے ۔ وہ موجودہ واقعاتی صورتِ حال کے چیلنج کے جواب میں قدم آگے بڑھانے کے بجائے ، دین کی اسی تعبیری و اطلاقی proliferation کو کافی خیال کرتا ہے ، جو درحقیقت ایک خاص واقعاتی صورتِ حال کے چیلنج کا جواب تھی ، یقیناًہماری مراد فقہی مذاہب سے ہے ۔ قدامت پسند حلقہ یہ غور کرنا پسند نہیں کرتا کہ جس واقعاتی صورتِ حال کے باطن سے مختلف فقہی مذاہب کی تشکیل ہوئی ، وہ صورتِ حال آخر کن معنوں میں اتنی مختلف اور متغیر تھی کہ ایک فقہی دبستان کے بجائے مختلف دبستان وجود میں آئے۔ پھروہ اصول آخر کیونکر یکساں اور غیر متغیر ہوسکتے ہیں جن کی بنیاد پرارتقائی مراحل طے کر کے فقہ کی تدوین ہوئی۔ آخر کیسے ایک خاص واقعاتی صورتِ حال کے چیلنج کے جواب میں تشکیل پائے گئے’’ اصول‘‘ اتنے مستقل اور ابدی ہو سکتے ہیں کہ ان کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بہت مختلف واقعاتی صورتِ حال کے چیلنج کا جواب دے دیا جائے ؟یہ لحاظ کیے بغیر کہ کسی دوسری واقعاتی صورتِ حال کے باطن میں کیا کچھ پوشیدہ ہے ۔ لہٰذا ، معلوم ہوتا ہے کہ قدامت پسند حلقہ ، ایک فکری مغالطے کا شکار ہوکر اپنی ذہنی قابلیت کو خوامخواہ ضائع کر رہا ہے ۔اس حلقے کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ فقہی مذاہب کی اصولی حیثیت ، ایک خاص واقعاتی صورتِ حال میں، درحقیقت قرآن و سنت کی تعبیر و اطلاق کی ہے اور یہ لازمی امر ہے کہ کسی بھی تعبیری واطلاقی حالت سے ٹھوس غیر متغیر اصول اخذ نہیں کیے جا سکتے ۔ اس لیے لامحالہ، قرآن وسنت کی تعبیری و اطلاقی proliferation کی ہمیشگی و تسلسل کوتسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم و مکرم مولانا عمار خان ناصر صاحب، 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے۔ 
آپ نے احسان فرمایا کہ دعوت وتبلیغ سے متعلق چند اہم مضامین کو، جو مختلف اخبارات میں شائع ہو جانے کے بعد وقت کی گرد میں گم ہورہے تھے، الشریعہ کے پچھلے کچھ شماروں میں شائع کرکے محفوظ کردیا اور اِنھیں اپنے قارئین تک پہنچانے کا بندوبست فرمادیا۔ آپ نے مزید احسان فرمایا کہ مولانا محمد یوسف صاحب، ناظم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا مقالہ ’’دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ‘‘ الشریعہ کے شمارہ اگست ۲۰۰۶ء میں شائع فرمایا۔ یہ آپ کی بے پایاں محبت ہے ۔ کوئی تعلق ہو تبھی آدمی ایسی کھکھیڑ اُٹھاتا ہے ورنہ راہ چلتوں کو کلمۂ نصیحت بھلا کون کہتا ہے؟ اِسی طرح اگلے شمارے میں کسی مشتاق احمد نامی صاحب کا خط شائع ہوا، اگرچہ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ طوطیِ پسِ آئینہ کون ہے۔ 
میں اِس مقالے کو آپ کا نمائندہ مقالہ تصور کرتے ہوئے آپ سے مخاطِب ہوں۔ آپ نے اپنے عظیم المرتبت والد مولانا زاہدالراشدی صاحب اور یکتائے روزگار دادا، استادِمحترم حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب کے اقوال بھی پیش کیے۔ (یہاں آپ کی ذات سے حفظِ مراتب کی شان دار مثال وجود میں آگئی۔ کاش کوئی اِس اہم اخلاقی قدر کو آپ سے سیکھنے کی نیت کرے۔) مفتی محمد شفیع صاحب اور مفتی زین العابدین صاحب کے حوالے بھی تحریر فرمائے گئے۔ یہ نور علیٰ نور ہے۔ پھر اِس ساری بات کو مولانا سعید احمد خاں مہاجر مدنی رحمۃاللہ علیہ جیسے اِس دور کے نادر مجسمۂ اِکرام واَخلاق عالمِ ربّانی کے اقوال پر ختم کرکے گویا ’ختٰمہ مِسک‘ والا کام کیا گیا۔ سخن کوتاہ، یہ ایک اچھا مقالہ ہے جس میں تنقید بھی ہے اور ’تنبیہ الغافلین‘ کا پہلو بھی۔ 
عرض ہے کہ آپ حضرات علمائے کرام ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ جو کمی دیکھیں، ہمیں نہ صرف متوجہ کرنے بلکہ ٹوکنے اور اِس سے بھی بڑھ کر ہمیں ہاتھ سے پکڑ کر سیدھا کرنے میں عنداللہ مامور ہیں۔ بلکہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے الفاظ میں، اگر آپ حضرات ایسا نہ کریں گے تو عنداللہ گناہ گار ہوں گے۔ واللہ ہمیں کسی ذمہ دار نے یہ نہیں بتایا کہ علما کو درسِ حدیث چھوڑ کر ’’فضائلِ اعمال‘‘ پڑھنے کا حکم دیا جائے۔ اگر کسی گرم شِتاب نے کہیں ایسا کیا ہے تو نری جَہالت کی ہے۔ نصاب کی کتب پر اِکتفا تو عام احباب ہی کے لیے ہے۔ ایک خط میں مولانا محمد الیاسؒ نے علما کے لیے خاص طور سے ’’عربیت، صحابہؓ کے کلام، اعتصام بالکتاب والسنۃ، اور نشرِدین کی تحریص کے مضامین جمع کرنے کی انتہائی ضرورت‘‘ پر زور دیا ہے۔ اِسی طرح ایک جگہ تحریر فرمایا کہ ’’۔۔۔اہلِ علم خاص طور سے کتاب الاعمال، کتاب العلم والاعتقادات یا کتاب السنۃ یا کتاب الجہاد، کتاب المغازی، کتاب الفتن، کتاب الرقاق اور کتاب الامر بالمعروف مطالعے میں رکھیں۔‘‘ اِسی طرح مولانا محمد یوسفؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’۔۔۔پستی کا واحد علاج، فضائلِ تبلیغ، فضائلِ نماز، فضائلِ ذکر، فضائلِ قرآن، فضائلِ صدقات، حکایاتِ صحابہؓ، جزاء الاعمال عام اوقات میں عمومی مذاکرہ میں رکھی جائیں اور اِن کی تعلیمِ خصوصی کا فارغ اوقات میں ضرور اہتمام رکھا جائے۔ اور رمضان کے مہینے میں فضائلِ رمضان اور حج کے زمانے میں فضائلِ حج کی تعلیم کا اہتمام مزید بڑھالیا جائے۔ البتہ شخصی طور پر حسبِ استعداد وذوق حضرتؒ [مولانا الیاس] کی سوانح وملفوظات وغیرہ کو مطالعے میں رکھیں یا اِس کے علاوہ اور کتبِ حدیث وفقہ وسیرت اپنے ذاتی مطالعے میں رکھی جائیں۔۔۔۔‘‘ یاد رہے کہ مولانا محمد یوسفؒ نے یہ سب کچھ پڑھنا عوام کے لیے تجویز کیا ہے، اور اُن کے لیے یہی مناسب بھی ہے کہ اجتماعی تعلیم میں اِن کتابوں سے آگے نہ بڑھیں۔ خواص یعنی طبقۂ علما کے لیے اِزدیاد کا اندازہ اِس فہرست کو دیکھ کر بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ مولانا سعید احمد خاں صاحبؒ نے بھی ایک خط میں تحریر فرمایا ہے کہ دعوت کا سمجھنا قرآن کی تفسیر، احادیث، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم و سیرتِ صحابہؓ کو پڑھے بغیر ممکن نہیں۔ 
یہ بات آپ حضرات کے علم میں ہے کہ مولانا محمد الیاسؒ کے نزدیک امت کے دو ہی طبقے ہیں: علما اور عوام۔ اور امت کے اِنھی طبقوں کے درمیان جوڑ ہی اُن کے کام کا اہم ترین مقصد ہے، اور اِسی کے لیے وہ اپنی جان اور صلاحیتوں کو ایندھن کرتے رہے۔ اپنے ایک خط میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کو تحریر فرمایا کہ: ’’۔۔۔آپ جیسے اہلِ حق کی نگرانی کا میں سخت محتاج ہوں۔ اور اپنی نگرانی کا آپ حضرات مجھے ہر وقت محتاج خیال کریں، کہ اِس میں کی خیر پر مجھے جمنے کی تاکید فرماویں اور اِس میں کے شر سے مجھے جھنجھلاہٹ سے منع کردیں۔۔۔۔‘‘ علما کا کون سا طبقہ تھا جس کی طرف مولانا الیاسؒ نے توجہ میں کمی کی ہو؟ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک روز میں نے [مولانا الیاسؒ سے] عرض کیا کہ حضرت! ندوہ کے لوگوں نے اہلِ دین کی طرف ہمیشہ عقیدت کا ہاتھ بڑھایا مگر اُن کی طرف سے اِس کے جواب میں محبت کا ہاتھ نہ بڑھا۔ اِن کو ہمیشہ بیگانگی اور غیریت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ خدا کا شکر ہے، آپ نے ہمارے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور ہمارے ساتھ یگانگت کا معاملہ کیا۔ مولانا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ کی جماعت تو اہلِ دین کی جماعت ہے۔ میں تو علی گڑھ والوں کو بھی چھوڑنے کا قائل نہیں۔ اُن سے بھی بُعد اور وحشت صحیح نہیں۔‘‘ اِسی کا نتیجہ ہوا کہ مولانا کی دعوت وتحریک میں باہم مختلف الخیال مدارسِ دینیہ کے ساتھ ساتھ انگریزی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ، اور تجارت پیشہ، ملازمت پیشہ اور ہر طرح کے کاروباری مسلمان دوش بدوش ہیں۔ کوئی دوسرے سے متوحش نہیں۔ مولانا مرحوم ہر ایک کے امتیازِخصوصی کی خوب داد دیتے اور تعریف فرماتے تھے۔ کسی کی دینداری کی، کسی کی سلیقہ مندی کی، کسی کی حاضردماغی اور تجربہ کاری کی۔ اُن کے نزدیک ہر ایک کی فطری صلاحیت دین کے کام میں لگنی چاہیے تھی۔ 
ذات خدا کی بے عیب ہے۔ ہم تو کام کرنے والے نہیں، کام کو بگاڑنے والے لوگ ہیں۔ ہمارے جسم کا ریشہ ریشہ رُوآں رُوآں آپ حضرات علمائے کرام کا احسان مند ہے۔ ہم دراہم و دنانیر کے بندے ہر آن، ہر گھڑی، ہر سانس، اللہ کی توفیق اور آپ حضرات کی رہنمائی کے محتاج ہیں۔ ہم میں کا کوئی بے وقوف اگر کسی حماقت کا مرتکب ہوتا ہے یعنی علما کی بے توقیری و بے اِکرامی کربیٹھتا ہے تو آپ اپنے بڑوں کے اُسوہ پر چلتے ہوئے نادانیوں سے صرفِ نظر اور اللہ سے دعا ہی میں اضافہ فرماویں۔ ایک کارگزاری میں معلوم ہوا کہ پچھلے دنوں آپ کے شہر میں چند سادہ مسلمانوں کی ایک جماعت ایک بڑے محدث، عالمِ دین کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اُن کے ایک ساتھی نے حضرت سے کہا کہ ’’آپ کو بھی دین کا کام کرنا چاہیے۔‘‘ مقام تو رونے کا تھا لیکن اِس پر ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا کہ اُن عالمِ دین کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ اِس مقام پر پہنچ گئے کہ اُن کے سامنے ایسی نالائقی کی بات کی گئی۔ اللہ ہر ایک سے اُ س کی حیثیت کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ ہر عالمِ دین ایسے مقام پر نہیں ہوتا کہ ایسا سخت جملہ اُس کے روبرو کہا جائے۔ اِس واقعہ میں افسوس کا جو پہلو ہے، وہ تو ظاہر ہے لیکن اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ علما کے سامنے ہماری جَہالت پورے طور پر آشکارا ہوگئی۔ یعنی پہلے اگر وہ کسی حیثیت میں ہم لوگوں کے بارے میں مطمئن ہوگئے تھے تو اب اُن پر یہ کھل گیا کہ یہ لوگ کتنے محتاجِ توجہ و نگرانی ہیں۔ اِس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ دعا میں اضافے کا اہتمام اور آپ حضرات سے دعا کی اِلتجا کا مذاق بھی ہم نالائقوں کو مولانا محمد الیاسؒ کے ملفوظات ومکاتیب سے ملتا ہے۔ اپنے ایک خط میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کو تحریر فرمایا کہ: ’’۔۔۔اِسی اثر کی بنا پر سائل و طالبِ عاجز ہوکر آپ کی بارگاہ کی طرف ملتجی ہوں کہ ۔۔۔ باستقلال و طمانیتِ تامہ اِس کام پر جمنے اور چالو ہونے کے لیے بارگاہِ ایزدی میں ملتجی و داعی بخشوع و خضوع بہت استقلال سے رہیں اور اِس کے لیے پوری ہمت صرف فرماویں۔۔۔ نیز ظاہری کوئی تدبیر اِس کی تثبیت و تنشیط کی ذہن میں آوے، اِس میں سعی کریں۔۔۔‘‘ اللہ کی توفیق سے دعوت کا یہ کام جتنا اب تک ہوا، حضرات علمائے کرام ہی کی سرپرستی میں اور توجہات کے جلو میں ہوا۔ آئندہ بھی اِس کا یہی چلن رہے گا کیوں کہ یہ چلن اللہ کے ہاں مقبول ہوچکا ہے۔ 
آپ ’الشریعہ‘ والے حضرات کی اس حکمتِ عملی کو کہ مختلف اصحابِ فکر ودانش اپنی اپنی آرا وافکار کا اظہار فرماتے رہیں، کچھ ظاہربیں لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ آپ دعوت وتبلیغ کے خلاف لکھ/لکھوارہے ہیں حالانکہ اِن افکار اور نقاطِ نظر پر جو تنقیدی مضامین اور خطوط وغیرہ موصول ہوتے ہیں، ان کو بھی آپ من وعن شائع فرماتے ہیں۔ عرض ہے کہ پایۂ وثاقت سے گرے ہوئے ایسے اعتراضات کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے۔ اگرچہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ہر تحریر کو شائع نہیں کرنا چاہیے۔ کیا معلوم کہ چند تحریریں جو آپ کسی خاص ترتیب میں شائع کرنے کے بعد معاملات کو ایک دھڑے پر لے جانا چاہ رہے ہوں، اپنی فرادہ فرادہ حیثیت میں کسی سطح بین کے لیے فوری نقصان کا سبب بن جائیں۔ جن کمیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، وہ زیادہ تر اِنفرادی نوعیت کی ہیں۔ اِن شاء اللہ اِن کو دور کرنے کی بات بھی اِسی طور سے چلائی جائے گی۔ آپ کے خانوادے کی دعوت کے کام سے محبت کی وجہ سے ہم امید کرتے ہیں کہ آپ آئندہ بھی نہ صرف قلمی طور پر اپنی توجہات سے نوازتے رہیں گے بلکہ علیٰ الترتیب السابق ہمارے نکلے ہوئے لوگوں کو اپنی براہِ راست نگرانی سے فیض یاب بھی فرماتے رہیں گے، کہ اِس گرم اِختلاط کے بغیر نہ آپ تک ہماری کمیاں پورے طور پر پہنچ سکتی ہیں اور نہ ہی اِن کا انسداد پورے طور پر ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے دین کو سیکھنے کے لیے گھروں کو چھوڑتے ہیں، ’’نکلنے‘‘ کی اِس ایک خوبی کے علاوہ ہر ہر چیز میں ہر لحظہ آپ حضرات کی کامل، ذاتی توجہ کے محتاج ہیں۔ دین کی طلب سے زمانہ علی العموم خالی ہے۔ چوں کہ یہ نکلے ہوئے لوگ بھی مادّیت والے جراثیم کی فضا کے عمومی اثرات سے بچے ہوئے نہیں ہیں، اِس لیے آپ حضرات کے رحم، شفقت اور بلاواسطہ نگرانی کے اور بھی زیادہ محتاج ہیں۔ دعوت ایک عملی کام ہے۔ کوئی عملی کام گھر بیٹھے یا کتابوں سے یا صرف علم حاصل کرلینے سے نہیں آتا۔ غلطی کام کرنے والے ہی سے صادر ہوتی ہے۔ اَز خرداں خطا و اَز بزرگاں عطا۔ آپ سے بڑی لجاجت سے عرض ہے کہ آپ حضرات ہماری اصلاح وبہتری کی ہر ممکن کوشش فرماتے رہیں اور اللہ سے ہمارے راہِ مستقیم سے بچل جانے سے پناہ بھی مانگتے رہیں۔ اللہ ہمیں حضرات علمائے کرام کے مقام کو پہچاننے اور اُن کا شایانِ شان اِکرام کرنے والا بنادے اور ہماری کسی نالائقی کی وجہ سے ہمیں اُن کی برکات وتوجہات سے محروم نہ فرمائے۔ آمین۔ 
حافظ صفوان محمدچوہان
D-62، ٹی این ٹی کالونی ، ہری پور
(۲)
محترم مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الشریعہ ستمبر ۲۰۰۶ء کے شمارہ میں ایک تحریر ’’مجلس عمل کی سیاسی جدوجہد۔ چندسوالات‘‘نظر سے گزری جس میں محترم چوہدری محمد یوسف ایڈوکیٹ صاحب نے مجلس عمل کی چار سالہ کارکردگی اور تاریخی خدمات پر اظہار اطمینان کرنے کے بجائے سوالات کی بوچھاڑ کردی ہے۔ خیر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دوسرے ناقدین کا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔
پہلا سوال انہوں نے یہ کیا ہے کہ ’’مجلس عمل میں چار بڑے قائدین ،مولانا فضل الرحمن ،مولانا سمیع الحق ،پروفیسر سنیٹر ساجد میر اور قاضی حسین احمد کے مابین چار سال بعد بھی نمائشی یکجہتی کے سوا کیا سامنے آیا ہے؟‘‘ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مجلس عمل میں کوئی نمائشی یکجہتی نہیں بلکہ مجلس عمل کے قائدین معاملہ فہم اور حالات پر گہری نظر رکھنے والے پر مغزمذہبی وسیاسی رہنما ہیں۔ وہ مجلس عمل کو ہرگز ٹوٹنے نہیں دیں گے۔
جناب ایڈوکیٹ صاحب لکھتے ہیں: ’’چار سال میں پبلک کے مسائل پر ہماری پارلیمانی پارٹی نے، جو تاریخی لحاظ سے ہماری سب سے بڑی اور سب سے زیادہ باصلاحیت نمائندگان پر مشتمل پارٹی ہے، کوئی ترجیحات طے کیں اور ان کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیاہے ؟‘‘ اگر ایڈوکیٹ صاحب سرحدحکومت کی چار سالہ کارکردگی پر ایک نظر ڈال لیتے تو انھیں اس سوال کا جواب مل جاتا۔ سرحد حکومت نے صوبے اور عوام کے حقوق کے لیے وفاق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرکے وسائل کو عوام کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کیاگیا۔ سرحد کے میگا پروجیکٹ کو وفاقی حکومت سے منظور کروایا گیا جو سرحد حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو فعال کرنا، روزگار کے مواقع کی فراوانی، امن وامان کا قیام، سماجی بہبود، شریعت ایکٹ کی منظوری، معاشی اصلاحات کمیشن، تعلیمی اصلاحات کمیشن، سرکاری دفاتر میں نظام صلوٰۃ کا قیام، شراب، جوا اور فحاشی پر پابندی، حسبہ ایکٹ کی منظوری، اسلامی بینکاری کا اجرااور حکومتی معاملات میں شفافیت اور میرٹ کے کلچر کا فروغ انتہائی احسن اقدامات ہیں۔
جہاں تک پرویز مشرف کی وردی اورسمجھوتے کی بات ہے تو یہ مجلس عمل خصوصاً مولانا فضل الرحمن پر محض ایک الزام ہے۔ پرویز مشرف جیسے سیکولر اور فوجی حکمران کو قوم کے سامنے کھڑا کر کے یہ کہلوانا کہ ’’میں دسمبر ۲۰۰۴ء کے آخر میں وردی اتاردوں گا‘‘ مجلس عمل کی بہت بڑی کامیابی او رسیاسی فتح ہے ۔ اگر مشرف نے وعدہ کرکے وردی نہیں اتاری تو اس کا الزام مجلس عمل پر لگانا اور فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دینا محض افترا، ضداور عناد پر مبنی ہے۔ حقیقت کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
موصوف نے فرمایا کہ کوئی دو پارلیمنٹیرین ایسے تیار ہوجاتے جو ہاؤس پر پورے عرصے میں چھائے محسوس ہوتے ہوں، تو عرض یہ ہے کہ مجلس عمل کے تمام پارلیمنٹرین اور بالخصوص اس کے قائدین محترم قاضی حسین احمد صاحب، مولانا فضل الرحمن صاحب، محترم لیاقت بلوچ صاحب اور حافظ حسین احمد صاحب خوب چھائے رہے ہیں اور ان قائدین کا رعب اور دبدبہ اسمبلی کے اندر اور باہر حکمرانوں کے خلاف قائم رہا۔
رہی یہ بات کہ کون اپنے پیسوں یا لوگوں اور جماعتوں کے اخراجات برداشت کرکے اسمبلی میں پہنچا تو اس کی فکر ایڈووکیٹ صاحب کو کیوں ہے؟ کوئی جیسے بھی اپنی ہمت واستطاعت، تقویٰ یا جماعتی اخراجات پر اسمبلی میں پہنچتاہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے نہ کہ اعتراضات کے انبار لگا کر اسے مایوس کرنے کا سبب بننا چاہیے۔
آخر میں گزارش ہے کہ متحدہ مجلس عمل اس پر فتن دور میں امت مسلمہ، بالخصوص اہل پاکستان کے لیے نعمت خداوندی ہے۔ اسلامی نظا م کے نفاذ، حقیقی عدل کے قیام اورفرقہ واریت کی روک تھام کے لیے بقدر استطاعت اس سے تعاون کرنا چاہیے۔
حافظ خرم شہزاد 
کامونکی، ضلع گوجرانوالہ
(۳)
جناب مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم !
آپ کی محنت اور خلوص کی بدولت ’الشریعہ ‘وہ مقام حاصل کر چکاہے کہ اگر نہ ملے تو کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ ’الشریعہ‘ طبقہ علما اور خواص کو نئی جہتوں سے آشنا کروا رہاہے۔ سخت تنقیدی خطوط ابھی الشریعہ میں جگہ پاتے ہیں جو معیاری صحافت کے اصولوں کی پاسداری کا ایک اچھا نمونہ ہے۔ تاہم ایک کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ طبقہ علما، عوام کی معاشرتی محرومیوں اور مسائل کو قابل اعتنا نہیں سمجھتا۔ کیا انھیں انتہائی غربت کے بوجھ تلے انسانیت سسکتی دکھائی نہیں دیتی؟ کیا چوری، ڈکیتی، طلاقیں، جسم فروشی اور بے امنی سب اسی کی وجہ سے نہیں ہیں؟ لیکن افسوس، ایم ایم اے اور دیگر علما کو اسلام تو خطرے میں نظر آتاہے، لیکن انسان اور مسلمان نہیں۔ کبھی ان لوگوں نے غربت، بے روز گاری کے خلاف جلسہ کیاہو، جلوس نکالا ہو، کوئی تحریر لکھی ہو یا کوئی بیان دیاہو؟ 
میں بالمشافہہ مولانا زاہد الراشدی صاحب سے دو مرتبہ درخواست کرچکا ہوں کہ ’الشریعہ‘ میں ان مسائل کو بھی جگہ دیں۔ انھوں نے فرمایا کہ ’’اس طرح کے مسائل پر لکھنے کے لیے وقت اور مواد نہیں ہے۔ البتہ آپ لکھیں، ہم جگہ دیں گے۔ ‘‘ لیکن ہم مولانا صاحب کے قلم کی سی تاثیر کہاں سے لائیں؟ مطلب یہ ہوا کہ ان کی نگاہ میں بھی یہ مسئلہ غیر اہم ہے، ورنہ وقت اور مواد، دونوں میسر ہو سکتے ہیں۔ بہرحال میری طبقہ علما اور اصحاب قلم سے درخواست ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کو بھی اپنی تحریروں اور تقریروں کا موضوع بنائیں کیونکہ غریب جسے دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، اس کا نہ ایمان ہوتاہے اور نہ عقیدہ۔ اس سے اگر پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو اس کا جواب ہوگا: چار روٹیاں۔ 
عبد الحفیظ قریشی 
ڈائریکٹر کیوز ریز، پیپلز کالونی ، گوجرانوالہ
(۴)
مکرمی مدیر الشریعہ 
السلام علیکم !
نومبر ۲۰۰۶ء کے شمارے میں اقبالیات کے حوالے سے ایک سے بڑھ کر ایک مضامین پڑھنے کو ملے، لیکن مسلم سجاد صاحب کا مکتوب پڑھ کر میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ آنجناب ’ترجمان القرآن‘ کے مدیر ہیں یا نائب مدیر؟ اگر تو وہ نیابت پر اکتفا کریں تو یہ مکتوب انہوں نے یقیناًاپنے مدیر کی رضا مندی سے لکھا ہوگا، دوسری صورت میں انہیں محمد یوسف ایڈووکیٹ صاحب کی تحریر اپنے مدیر کی خدمت میں پیش کرکے ان کے تاثرات سے اپنے قارئین کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے ۔
کچھ ایسا محسوس ہوتاہے کہ مسلم صاحب اپنا ’’رد عمل‘‘ حق نصیحت ادا کرتے ہوئے غالباً ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے بھی کئی گنا زیادہ بلند ’’مینا رتقدس‘‘ پر تشریف فرماہیں، جبھی تو وہ یہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ ’’بہت صاف بات تھی جو آپ کو سمجھنا چاہیے تھی‘‘۔ یہ کیا بوا لعجبی ہے کہ جناب مسلم صاحب ۱۰۰ سے زیادہ صفحات پر مشتمل اپنے رسالے میں اپنے ایک قاری کو صرف ۴ صفحات دینے پر آمادہ نہیں، لیکن ۵۰ سے بھی کم صفحات کے حامل ’الشریعہ‘ میں پہلے سے شائع شدہ ۸ صفحات کے مضمون کے چھپنے کے خواہشمند ہیں! ایک سیاسی جماعتی اتحاد کی کارکردگی رپورٹ کیا آسمانی صحیفہ ہے کہ اس کے متعلق ایک ووٹر، شہری اور قاری کو تبصرہ کرنے سے روکا جا رہا ہے؟ کیا ارباب ’ترجمان‘ بتاسکتے ہیں کہ صحافت اور ادارت کا یہ کون سا اعلیٰ اسلوب ہے جس کا مظاہر ہ کیا جارہاہے؟
اگر مسلم صاحب ناراض نہ ہوں تویہ کہوں گا کہ اگر یوسف صاحب کو آپ کے بقول ’’ابال‘‘آیا تھا تو آپ کے رد عمل میں ہونے والی تاخیر کی وجہ سے آپ کے مکتوب کو ’’باسی کڑھی میں ابال‘‘ بآسانی قرار دیاجاسکتاہے ۔
محمد عمر فاروق 
۱۹ ۔ گورونانک پورہ، گوجرانوالہ
(۵)
محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی!
الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں محترم قاری شجاع الدین صاحب کا خط زیر نظر ہے۔ میں نے اگست کے شمارے میں مولانا محمد یوسف صاحب کا مضمون کئی بار پڑھا۔ مجھے تو اس مضمون میں تبلیغی جماعت کی تنقیص نظر نہیں آئی۔ خود قاری صاحب کی تمثیل کے بموجب حافظ یوسف صاحب تو تصویر ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قاری شجاع الدین صاحب جیسے بزرگوں کی توجہ کے لیے چند سوالات پیش کرتا ہوں۔ ہمارے علاقہ کے دو معروف میڈیکل کالجز ہیں، نشتر ہسپتال ملتان اور قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور۔ یہاں کے پروفیسر حضرات تقریباً ساٹھ فی صد معروف تبلیغی حضرات ہیں۔ کیا ان سب حضرات میں سے کوئی ایک بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ اوقات میں آؤٹ ڈور میں کبھی پورا وقت حاضر رہا ہو؟ غریب مریض جن کے ٹیکس سے حکومت چلتی ہے، وہ تو ان حضرات کی توجہ سے محروم رہتا ہے، جبکہ جنھیں بے دین اور کمیونسٹ کہا جاتا ہے، وہ ایمان داری سے ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ تبلیغی بھائی، تیس چالیس سال کی تبلیغی سرگرمیوں کے بعد بھی اپنی اولاد کو (جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں) اسلام کی دی ہوئی آزادی کے مطابق اپنے شریک حیات کے انتخاب کا حق دیتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بہنوں اور بیٹیوں کو خدا کے حکم کے مطابق میراث میں سے حصہ دیتے ہیں؟ 
جماعت میں تو شہر شہر امیر جماعت بننے کے لیے سازشیں ہوتی ہیں۔ برادریاں اور گروپ بنتے ہیں۔ الغرض دین اور تبلیغ کے نام پر عجب بے ہنگم طوفان برپا ہے ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
ڈاکٹر طاہر مسعود
فاطمہ کلنک۔ کہروڑ پکا
(۶)
محترم زاہد الراشدی صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الشریعہ کا تازہ شمارہ ملا ۔شکریہ۔ اس بار تو آپ نے اقبال نمبر شائع کردیا۔ ان دنوں خطبات اقبال پر بحث چل رہی ہے۔ ابتدا ’جریدہ‘ اور ’ساحل‘ (کراچی) نے کی تو لاہور سے اقبال اکادمی کے سہیل عمر صاحب کو ۱۰۵ صفحات کا کتابچہ ’’میارا بزم بر ساحل کہ آنجا‘‘ شائع کرنا پڑا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر خداکا شکر ادا کیا کہ ابھی علمی بحث کرنے والے دانشور باقی ہیں۔ اتنے میں ’الشریعہ‘ آگیا۔ اب اتفاق دیکھئے کہ ہر چند الشریعہ اس بحث کا حصہ نہیں، لیکن موضوع ایک ہی ہے۔ آپ نے ا س موضوع کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کیا اور نہایت اعلیٰ علمی مضامین کو جگہ دی ہے۔
کلمہ حق میں آپ نے لکھاہے کہ :
’’علامہ محمد اقبال نے اجتہاد کے بند ہونے کے حوالے سے اپنے خطبے میں جوکچھ کہاہے، وہ اسی خلا کی نشان دہی ہے لیکن وہ خود مجتہد اور فقیہ نہیں تھے اور نہ ہی اجتہاد اور فقہ سے ان کا کبھی علمی واسطہ رہاہے۔ اس لیے ایک مفکر کے طورپر خلا کی نشان دہی اور اسے پر کرنے کی ضرورت کا احساس دلانے کی حد تک ان کی بات بالکل درست ہے مگر اس کے عملی پہلوؤں، ترجیحات اور دائرہ کار کا تعین چونکہ ان کے شعبہ کاکام نہیں تھا، اس لیے اس باب میں ان کے ارشادات پر گفتگو کی خاصی گنجائش موجود ہے اور یہ گفتگو اس موضوع کا تقاضا بھی ہے‘‘۔
ڈاکٹر وحید عشرت صاحب کو اقبال کے حوالے سے ایسی باتیں سخت ناپسند ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’علامہ سید سلیمان ندوی کی ذہنی اور علمی صلاحیت تھی ہی نہیں کہ وہ خطبات کے گہرے مطالب کا ادراک کرسکیں‘‘۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ خط آپ نے بھی پڑھ لیا ہوگا۔ اس پرزیادہ گفتگو کیا کی جائے۔ آپ نے بروقت یہ نمبر شائع کیا ہے۔ دیکھئے ڈاکٹر وحید عشرت صاحب آپ کے بارے میں کیا تحریر فرماتے ہیں۔ اور یہ موضوع کہاں تک جائے گا او ربحث میں کون کون شریک ہوں گے اور اگر یہ موضوع چل نکلا تو اقبال اکادمی کو کتب لکھنے اور شائع کرانے پر خصوصی گرانٹ منظور کروانی پڑے گی۔
جاوید اختر بھٹی
۱/۵۱۷، ریلوے ر وڈ، ملتان

دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ورکشاپ

ادارہ

۱۴ نومبر ۲۰۰۶ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی۔ پہلی نشست کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی، دوسری نشست مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جبکہ تیسری نشست کی صدارت کے فرائض اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے انجام دیے۔ ورکشاپ سے خطاب کرنے والوں میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ جامعہ اسلامیہ کامونکی کے مہتمم مولانا عبدالرؤف فاروقی، پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے امیر مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا مشتاق احمد، پروفیسر حافظ منیر احمد، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر انعام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے گزشتہ سال کی رپورٹ اور آئندہ سال کے پروگرام کی تفصیل پیش کی۔ ورکشاپ کی تیسری نشست دینی مدارس کے اساتذہ کے درمیان باہمی مشاورت کے لیے مخصوص تھی جس میں اساتذہ نے ورکشاپ میں مختلف حضرات کی طرف سے کی جانے والی گفتگو کی روشنی میں تبادلہ خیالات کیا اور متعدد سفارشات پیش کیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
  • دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے ایک مستقل تربیتی نظام کی ضرورت ہے جس کا اہتمام دینی مدارس کے وفاقوں اور ملک کے بڑے دینی اداروں کو کرنا چاہیے۔ اس نظام میں ایسا جامع کورس ترتیب دیاجائے جو فکری، روحانی، اخلاقی، علمی اور فنی حوالوں سے اساتذہ کو ضروری تقاضوں سے باخبر کرنے اور ان کے مطابق ان کی عملی تربیت پر مشتمل ہواور اس میں تعلیمی اور فنی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ حالات زمانہ اور مستقبل کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا گیاہو۔
  • دینی مدارس کے مہتمم حضرات کو توجہ دلائی جائے کہ وہ کسی استاذ کے انتخاب کے لیے اپنی موجودہ اور روایتی ترجیحات کا از سرِنو جائزہ لیں اور ادارہ سے وابستگی اور علمی استعداد اور ذوقِ تدریس کے ساتھ ساتھ فکری رحجانات اور اخلاقی ودینی معیار کا بھی لحاظ رکھیں اور اجتماعی وملی سوچ اور وسیع تر دینی مفادات کو ترجیح دی جائے۔
  • بڑے دینی مدارس میں سال کے مختلف حصوں میں اساتذہ کے لیے مختصر دورانیے کے ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا جائے جن میں انہیں تعلیم وتدریس کے فنی تقاضوں اور دینی وفکری تربیت کی ضروریات کی طرف توجہ دلائی جائے اور جدید تحقیقات ومعلومات سے انہیں آگاہ کیا جائے۔
  • دینی مدارس اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو صرف دینی مدرسہ کی چار دیواری تک محدود نہ رکھیں بلکہ ارد گرد بسنے والے عام مسلمانوں کو بھی اپنے تعلیمی نظام میں شریک کریں اور ان کے لیے ترجمہ قرآن کریم، عربی گریمراور فہم دین کورس کا اہتمام کریں۔
اس موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے اعلان کیا گیاکہ اس سال اکادمی میں دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تین ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ ورک شاپ میں شریک ہونے والے اہل علم کے بیانات اور اساتذہ کے مذاکرے کی تفصیلی روداد بعد میں شائع کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

’’فہم دین کورس‘‘ کی مختلف کلاسز 

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام عوام الناس کی دینی واخلاقی تربیت کے حوالے سے ’’فہم دین کورس‘‘ کے عنوان سے ایک تعلیمی سلسلہ مستقل طور پر جاری ہے۔ اس سلسلے کے تحت اب تک خواتین وحضرات کے لیے متعدد کورسز مکمل کروائے جا چکے ہیں جن میں شریک ہونے والی خواتین کی تعداد ۴۰ کے قریب جبکہ مرد شرکا کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ ان تعلیمی کورسز کے فوائد وثمرات کے پیش نظر اس سلسلے کو وسیع تر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس سال رمضان المبارک میں شہر کی مختلف مساجد کے ائمہ اور خطبا کے ساتھ مشاورت کی روشنی میں اور ان کے تعاون سے ۲۳ مساجد میں ’’فہم دین کورس‘‘ کی کلاسز کا انعقاد کیا گیا۔ ان مساجد اور ائمہ وخطبا کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔جامع مسجد فاروقیہ، گرجاکھ (مولانا عبدالواحد رسول نگری) ، ۲۔جامع مسجد حدیبیہ ، زاہد کالونی (مولانا محمد طارق بلالی)، ۳۔جامع مسجد مریم، راناکالونی (مفتی حسین احمد)، ۴۔جامع مسجد ابو ذرؓ، جہانگیر کالونی (مولانا مجاہد اختر)، ۵۔جامع مسجد سکینہ حمیدیہ، پیپلز کالونی (مولانا مفتی محمد نعمان)، ۶و ۷۔ مسجد خدیجۃ الکبریٰ، الشریعہ اکادمی وجامع مسجد گنبد والی،ہاشمی کالونی (مولانا محمد یوسف) ، ۸۔حمیدیہ مسجد، سرفراز کالونی (مولانا عبدالرحمن) ، ۹۔جامع مسجد مکی، کوہلو والہ (حافظ محمد منیر) ، ۱۰۔جامع مسجد خالد بن ولید، اسد کالونی (مولانا محمد داؤد خان نوید) ، ۱۱۔جامع مسجد قبا، کھیالی اڈا (مولانا عبدالحمید)، ۱۲۔جامع مسجد فیصل، آفتاب مارکیٹ (مولانا عبدالکریم)، ۱۳۔ جامع مسجد سعید، فیض عالم ٹاؤن (قاری امتیاز احمد)، ۱۴۔ جامع مسجد حمیدیہ صفدریہ، لوہیانوالہ (مولانا قاری محمد ادریس)، ۱۵۔جامع عثمان غنیؓ، غازی پورہ (مولانا محمد ابراہیم خلیل)، ۱۶۔ جامع مسجد تقویٰ، ڈی سی روڈ (مولانا سیف اللہ)، ۱۷۔جامع مسجد توحیدیہ، محمد نگر کالونی، کھیالی (حافظ محمد زکریا)، ۱۸۔جامع مسجد دارالسلام، کھیالی اڈا (مولانا عبدالوکیل)، ۱۹۔جامع مسجد خاتم النبیین، شہزادہ شہید کالونی (مولانا انعام الرحمن)، ۲۰۔ جامع مسجد زبیدہ حنیف، عرفات کالونی (قاری محمد اکرم زبیری)، ۲۱۔ دارالعلوم انوریہ، اجمل ٹاؤن (مولانا مفتی غفران اللہ)، ۲۲۔جامع مسجد رشیدیہ، برتن والا بازار (قاری عقیل احمد) ۔
اس کورس کی ضرورت اور افادیت کو محسوس کرتے ہوئے اس سلسلے کو وسیع پیمانے پر عام کرنے اور زیادہ سے زیادہ عوام کو اس سے فائدہ پہنچانے کے لیے ایک منظم پروگرام کی ترتیب زیر غور ہے۔ اسی ضمن میں اکادمی کے زیر اہتمام مساجد کے ائمہ اور خطبا کی تربیت کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں تجربہ کار اور سینئر علما ان کی راہنمائی کریں گے اور ائمہ وخطبا عوام کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات، مشوروں اور تجاویز سے بھی استفادہ کر سکیں گے۔