اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ شمارے میں روزنامہ جناح اسلام آبادکے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے حوالے سے چند سوالات شائع کیے گئے جن کا تعلق دورحاضر کے معروضی حالات، مغربی فکرو فلسفہ کی یلغار اور بین الاقوامی میڈیا کے پھیلائے ہوئے شکوک وشبہات کے ماحول میں اسلام کے مختلف احکام وقوانین کی تفہیم کے بارے میں نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی الجھنوں سے ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ گزارش کی تھی کہ ان سوالات پر ایک تبصرہ ’الشریعہ ‘ کے زیر نظر شمارے میں پیش کیاجائے گا، لیکن جب اس کے بعد ان سوالات کا جائزہ لیاگیاتو محسوس ہوا کہ سرسری تبصرہ سے بات نہیں بنے گی بلکہ ان میں سے ہر سوال کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جانا ضروری ہے، اور اس کے ساتھ ان سوالات اور شکوک وشبہات کے جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں جنم لینے کے اسباب کا تجزیہ بھی اس موضوع کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس لیے ہماری کوشش ہوگی کہ اس بحث کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور ایسے سوالات اور ان کے اسباب ومحرکات کا ترتیب کے ساتھ جائزہ لیاجائے جس کے آغاز کے طورپر ان میں سے صرف ایک سوال کے بارے میں ہم اپنی گزارشات اس شمارے میں پیش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ملک کے دینی حلقوں، علمی مراکز اور قرآن وسنت کی تعلیمات سے تعلق رکھنے والے ارباب وعلم دانش سے گزارش کریں گے کہ وہ ان سوالات کو نظر انداز کرنے اور نئی نسل کو اس کے حال پر چھوڑ دینے کی بجائے اس بحث میں شریک ہوں اور ان اشکالات وشبہات کے ازالہ کے لیے اپنا علمی ودینی فریضہ اداکریں۔ آئندہ شمارے میں ہم ان شکوک وشبہات اور سوالات واعتراضات کے حوالے سے ایک اصولی بحث کریں گے اور اس کے بعد ا ن سوالات کا ترتیب وار جائزہ لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ رئیس التحریر)
جناب نبی اکرم ﷺ کی گیارہ شادیاں اور قرآن کریم میں مسلمانوں کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ایک عرصہ سے مغربی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اعتراض وطعن کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آجاتاہے کہ جب ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو عورت کو بیک وقت چارشادیاں کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ حدود آرڈیننس پر گزشتہ دنوں چھیڑی جانے والی بحث کے دوران مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوالات میڈیا کے ذریعے اٹھائے گئے ہیں اور ان پر لوگ اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں جب ایک موقع پر مغربی پاکستان اسمبلی میں عائلی قوانین پر بحث ہورہی تھی تو اسمبلی کی ایک خاتون ممبرنے یہ سوال کیا تھا کہ مرد کو چار بیویاں کرنے کا حق ہے تو عورت کو چار خاوند کرنے کا حق کیوں نہیں ہے؟ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ بھی اسمبلی کے رکن تھے او ر ان کے جواب دینے کا مخصوص انداز ہوتاتھا۔ انہوں نے مذکورہ خاتون کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’بیگم صاحبہ!آپ بیس کریں، آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ممانعت تو قرآن کریم کا حکم ماننے والوں کے لیے ہے۔ نہ ماننے والوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے ‘‘۔
چند روز قبل ایک قومی اخبار میں یہی سوال سامنے آنے پر مولانا ہزاروی ؒ کا یہ جواب ذہن میں تازہ ہوگیا، مگر یہ سوالات جس انداز سے نیشنل میڈیا میں اٹھائے جارہے ہیں اور انہیں اسلامی احکام وقوانین کے بارے میں شکوک وشبہات پھیلانے کا ذریعہ بنایا جارہاہے، اس کے پیش نظر ان سوالات کا قدرے سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں سوالات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے :
۱۔مسلمانوں کو چار سے زائد شادیاں کرنے کاحق قرآن کریم میں کیوں دیاگیاہے ؟
۲۔جب قرآن کریم نے بیک وقت چار سے زائد نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی تو جناب نبی کریم ﷺ کی کل گیارہ اور بیک وقت نو شادیاں کیوں تھیں؟
۳۔مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجاز ت ہے تو عورت کو ایک سے زیادہ نکاح بیک وقت کرنے کا حق کیوں نہیں دیاگیا؟
جہاں تک چارشادیاں کرنے کی اجازت کاتعلق ہے، یہ بلاشبہ قرآن مجید میں موجودہے لیکن اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر اور مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ حکم سورۃ النساء کی آیت نمبر ۳میں ا س طرح ہے کہ ’’اگر تم خوف کھاؤ کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکوگے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں، ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین، اور چار چار۔ اور اگر تم خوف کرو کہ انصاف نہیں کرسکوگے تو پھر ایک ہی کافی ہے ۔‘‘
بخاری شریف کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اس کا پس منظر یہ بیان کیاہے کہ جاہلیت کے دور میں بہت سے لوگ اپنے خاندان کی یتیم اور بے سہارا بچیوں کو ان کے حسن یا مال کی وجہ سے اپنی بیوی بنالیتے تھے اور ان کے ساتھ انصا ف نہیں کرتے تھے۔شادیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی، کوئی بھی شخص جتنی شادیاں چاہتاتھا، کر لیتاتھا اور اس طرح عورتیں خاص طورپر یتیم لڑکیاں ظلم او ر حق تلفی کا نشانہ بنتی تھیں۔ اس پراللہ تعالیٰ نے اس آیت کی رو سے دو پابندیاں عائد کر دیں: ایک یہ کہ خاندان کی کسی یتیم لڑکی کو بیوی بنانے کی صورت میں اگر اس کے حقوق پورے نہیں کرسکتے او ر انصا ف مہیا نہیں کرسکتے تو اس کے ساتھ شادی مت کرو، اوردوسری یہ کہ چار سے زیادہ بیویاں بیک وقت رکھنے کی ممانعت کردی گئی۔ اس طرح بنیادی طور پر یہ حکم چار تک شادیاں کرنے کے آرڈر کے طور پر نہیں بلکہ چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت کے طورپر ہے اور اسے بھی آیت کریمہ میں مشروط کردیاگیاہے کہ اگر انصاف اور حقوق کے تقاضے پورے کرسکو تو اس کی اجازت ہے، ورنہ ایک پر ہی قناعت کرو۔
ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت کو اگر معاشرتی مسائل اور ضروریات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اسے سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے اور یہ مرد اور عورت دونوں کے حوالے سے ہے۔ مرد کے حوالے سے اس لیے کہ بسا اوقات ایک مرد اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ایک عورت پر قناعت نہیں کرتا تو اس کے لیے یہ راستہ رکھا گیاہے کہ وہ ناجائز صورتیں اختیار کرنے کے بجائے باقاعدہ نکاح کرے تاکہ جس عورت کے ساتھ وہ یہ تعلق قائم کرے، اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی بھی مرد کو کسی بھی عورت کے ساتھ جنسی تعلق کی اس وقت تک اجازت نہیں دیتا جب تک وہ اس عورت کے مالی اخراجات اور جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی پرورش اور اخراجات کی ذمہ داری باقاعدہ طور پر قبول نہ کرے۔ اسلام مغرب کے موجودہ فلسفہ اور کلچر کی طرح جنسی تعلقات کو اس طرح آزاد نہیں چھوڑتا کہ مرد تو اپنا جنسی تقاضا پورا کرکے چلتا بنے اور عورت اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تنہا رہ جائے ۔
عورت کے حوالے سے اس لیے کہ معاشرے میں بسااوقات ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ عورت کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا کہ وہ یا تو تنہائی کی زندگی گزارے او ر یا کسی شادی شدہ مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بن کر اپنی زندگی کو بامقصد بنالے۔ اس صورت میں اسلام نے جائز نکاح کا راستہ بند کرکے بہت سے ناجائز راستے کھولنے کے بجائے ایسی عورت کو زندگی بسر کرنے کا باوقار راستہ دیاہے، اور ظاہر ہے کہ نکاح تو عورت کی اجازت اورمرضی سے ہی ہوتاہے اور اگر کوئی عورت اس کے لیے سوچ سمجھ کر تیار ہوتی ہے تو اس کی معاشرتی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔
جناب نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ سوال اس طرح ہے کہ جب قرآن کریم نے چار سے زیادہ شادیوں کی ممانعت کردی او ر اس کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے بہت سے صحابہ کرامؓ کو چار سے زائد بیویوں سے دست برداری کاحکم دیاتو جن کی چار سے زائد بیویاں تھیں، انہوں نے باقی بیویوں کو الگ کردیا مگر خود نبی اکرم ﷺ نے اپنی چار سے زائد بیویوں کو فارغ نہیں کیا حتیٰ کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے وصال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔ سوال یہ ہے کہ جس قانون کی دوسرے مسلمانون سے پابندی کرائی گئی، خود نبی اکرم ﷺ نے ا س پر عمل کیوں نہیں کیا اور چار سے زائد بیویاں مسلسل اپنے نکاح میں کیوں رکھیں؟
اس کے جواب میں عرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار سے زیادہ بیویاں قرآن کریم کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے بعد نہیں کیں بلکہ ان میں سے اکثر اس سے پہلے اس دور سے آپ کی بیویاں چلی آرہی تھیں جب شادیوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی، البتہ چار کی تعداد کی پابندی عائد ہو جانے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے زائد بیویوں کو الگ نہیں کیا بلکہ دو مزید نکاح بھی کیے اور یہی سب سے بڑا نکتہ اعتراض ہے۔ اس کی وجہ سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن کریم کے دو دیگر حکموں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک حکم سورۃ االاحزاب کی آیت نمبر ۵ میں ہے جس میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطّہرات کو تمام مسلمانوں کی مائیں قرار دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ان میں سے ہر خاتون ’’ام المومنین‘‘کہلاتی ہے۔ اوردوسرا حکم اسی سورۃ کی آیت نمبر ۵۳ میں ہے جس میں کہا گیاہے کہ رسول اللہ ﷺکی کسی بیوی کے ساتھ ان کے بعد کوئی مومن نکاح نہیں کرسکتا۔ گویا ازواج مطہرات کے لیے مومنوں کی ماں ہونے کا لقب محض اعزاز میں نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ عملی پہلو بھی ہیں۔ اس صورت میں یہ الجھن سامنے آرہی تھی کہ باقی جن لوگوں نے چار سے زائد بیویوں کو فارغ کردیاتھا، ایسی خواتین کے لیے نئے نکاح میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر ازواج مطہرات نبی اکرم ﷺ کے گھر سے فارغ ہونے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی تھیں، اس لیے خود ان کے وقار،مستقبل اور تحفظ ومفاد کا تقاضا تھا کہ انہیں فارغ نہ کیاجائے اوروہ بدستور نبی اکرم ﷺ کے نکاح میں رہیں۔
یہاں ایک بات اور پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب بنی اکرم ﷺ کی ایک سے زیادہ شادیوں کا تعلق (نعوذ باللہ) جنسی جذبے اور خواہش سے نہیں بلکہ دینی ومعاشرتی مصالح سے تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے۲۵ سال سے ۵۰ سال تک کی عمر ایک بیوہ خاتون ام المومنین حضر ت خدیجہ الکبریٰؓ کے ساتھ بسر کی جو کسی بھی انسان کی جنسی خواہش اور جذبے کی اصل عمر ہوتی ہے۔ اس دوران حضرت خدیجہ آپ کے نکاح میں رہیں اور حضرت ابرہیمؓ کے علاوہ باقی ساری اولاد بھی انہی کے بطن سے ہوئی، جبکہ عمر میں وہ نبی اکرم ﷺ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔اس کے بعد حضرت سودہ بنت زمعہؓ آنحضرت ﷺکے نکاح میں آئیں اور پھر حضرت عائشہؓ سے نکاح ہوا۔ چنانچہ حضرت سودہؓ کے بعد جتنے نکاح بھی ہوئے، ان کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی دینی ومعاشرتی مصلحت موجود نظر آتی ہے جبکہ حضرت عائشہؓ سے نکاح کی مصلحت ان کی عظیم دینی وعلمی جدوجہد کے حوالہ سے دیکھی جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتاہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کی گھریلو زندگی اور سنت نبوی کا چار دیواری کے اندر کا علم محفوظ رکھنے اور پورے تفقہ وتیقن کے ساتھ امت تک پہنچانے کے لیے کسی ایسی خاتون کا جناب نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں شامل ہونا ضروری تھا جو ذہین وفطین ہونے کے ساتھ ساتھ عمر کے اس مرحلہ میں ہو جسے تعلیم وتعّلم کی عمر کہاجاتاہے تاکہ وہ پورے اعتماد واطمینان کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی ذاتی اور خاندانی زندگی اور چاردیواری کے اندر کے ارشادات ومصروفیات کا علم حاصل کرے اور امت تک پہنچائے۔ اسی لیے حضرت عائشہؓ کا نکاح جناب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بچپن میں ہواجو تعلیم وتعلّم کا فطری دور ہوتاہے اور نو سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزار کرحضرت عائشہؓ نے جوکچھ سیکھا، اس کے بعد کم وبیش نصف صدی تک وہ امت کو سکھاتی اور پڑھاتی رہیں ۔اس لیے یہ شادی اور اس کا بچپن میں ہونا امت کی بڑی علمی اوردینی ضرورت کے لیے تھا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی باقی شادیوں کی دینی ومعاشرتی مصلحتوں تک بھی رسائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔
اس پس منظر میں جناب نبی اکرم ﷺ کا چار سے زیادہ بیویوں کو بدستور اپنے نکاح میں رکھنا دینی ومعاشرتی مصالح کے پیش نظر تھا اور خود ان معزز خواتین کے احترام اور مفاد کا تقاضا تھا، ا س لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی نبی اکرم ﷺ کو بطور خاص اجازت مرحمت فرمادی تھی۔
تیسراسوال یہ ہے کہ مرد چاربیویاں کرسکتاہے تو عورت چار خاوند کیوں نہیں کرسکتی؟اس کا بھی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیاجائے تو اس کی وجہ کو سمجھا جاسکتاہے ۔
خاندان کو نہ صرف اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے سوسائٹی کا بنیادی یونٹ قراردیاہے بلکہ دنیا کے ہر مہذب فلسفہ میں خاندان کی اہمیت کو تسلیم کیاگیاہے۔ خاندان کے قیام واستحکام کی بنیاد نسب کے تحفظ پر ہے اور نسب کے تحفظ پر ہی خاندان کی تشکیل اور بقا کا دارومدار ہے،کیونکہ جب تک نسب کا تعین اور تحفظ نہ ہو، ان رشتوں کا تعین بھی نہیں ہوسکتا جن سے ایک خاندان تشکیل پاتاہے۔ ایک مرد جتنی زیادہ عورتوں سے جنسی تعلق رکھے، جائز وناجائز کی بحث سے قطع نظر اگر وہ اپنے اس جنسی تعلق کو تسلیم کرتاہے تو نسب کے تعین میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور نسب کے ساتھ ساتھ متعلقہ رشتوں کا تعین بھیّ آسان ہوجاتاہے لیکن عورت ایک مرد سے زیادہ لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے گی تو پیدا ہونے والے بچے کے نسب کا تعین مشکل ہوجائے گا۔
یہ مسئلہ جاہلیت کے دور میں بھی تھا جب زنا کی کھلی اجازت تھی، لیکن ان لوگوں نے اس مسئلہ کا حل نکال رکھا تھا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے دورمیں عام طور پر بہت سی عورتیں متعدد مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیتی تھیں، لیکن بچہ پیدا ہونے کی صورت میں وہ عورت ایسے مردوں کا تعین کرکے انہیں طلب کرتی تھی اور سب کی موجود گی میں ان میں سے کسی ایک کو مخاطب کرکے کہتی تھی کہ یہ بچہ تمہارا ہے۔کسی شخص کو اس فیصلے سے انکار کی جرات نہیں ہوتی تھی اور اسے بچے کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی تھی، جبکہ اس سے زیادہ اشتباہ کی صورت میں قیافہ شناس کو بلایا جاتاتھا جو عورت کی طرف سے جنسی تعلق کے حوالے سے نامزد کیے جانے والے مردوں میں سے قیافہ کی بنیاد پر کسی ایک کا تعین کردیتاتھا اور اس مرد کو بچے کے باپ کے طورپر ذمہ داری قبول کرنا پڑتی تھی۔
آج مغرب کو بھی اس صورت حال کا سامناہے کہ شادی کے بغیر بچوں کی پیدایش بڑھتی جارہی ہے اور بہت سے بچو ں کے باپوں کا تعین ممکن نہیں رہا، مگر مغرب نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ ’’سنگل پیرنٹ‘‘کے قانون کے تحت باپ اور نسب کے تعین کو ہی غیر ضروری قراردے دیاہے اور بچے کی پیدایش کی ذمہ داری میں ماں کو تنہا چھوڑدیاہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ عورت پر صریح ظلم ہے کہ جنسی تعلق میں تو مرد اس عورت کے ساتھ برابر کا شریک ہو مگر اس کے نتائج بھگتنے کے لیے عورت کو اکیلا چھوڑدیاجائے۔ مغرب کو آج ’’فیملی سسٹم‘‘ کی تباہی اور رشتوں کی پامالی کے حوالے سے جس بحران کا سامناہے، اس کا سب سے بڑا سبب ’’زنا‘‘ہے کہ مغرب نے مرد اور عورت کے جنسی تعلق کے حوالے سے آسمانی تعلیمات سے دستبردار ہوکر فیملی سسٹم کی تباہی کا دروازہ خود کھولا ہے اور اس کے نتائج کو روکنے کااس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
اس لیے اگر خاندان کو انسانی سوسائٹی کے بنیادی یونٹ کی حیثیت حاصل ہے اور اس کا تحفظ وبقا ضروری ہے تو اس لیے نکاح وطلاق کے وہی قوانین فطری اور ناگزیر ہیں جوقرآن پاک پیش کرتاہے اور سابقہ آسمانی تعلیمات بھی انہی کی تائید کرتی ہے ا س لیے کہ ان کی بنیاد فطرت پر ہے۔
دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ
مولانا محمد یوسف
حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ کسی ایک انسانی شعبہ میں دینی جدوجہد اور محنت آپ کو زندگی کے دوسرے شعبوں سے قطعاً غافل نہ کرسکی۔ آپ نے ایک ہی وقت میں مبلغ، معلم، مجاہد، قاضی، شارع، حاکم و فرماں روا، سماجی کارکن، ماہر اقتصادیات، معلم اخلاق اور ماہر نفسیات کی حیثیت سے امت کی راہنمائی فرمائی۔ ایک طرف اگر آپ نے داعی کی حیثیت سے بھٹکی اور گم کردۂ راہ انسانیت کو پستی اور ذلت کے گڑھے سے نکال کر ایمان اور اخلاق وکردار کی بلندیوں پر فائز کیا تو دوسری طرف سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کا بوجھ بھی اٹھایا۔ آپ نے محروم لوگوں کو کما کرکھلایا، مہمانوں کی مہمان نوازی کی، حق کے معاملات میں دوسروں سے بھر پور تعاون کیا اور بہت سے غریب اور مقروض انسانوں کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی۔ دین کے معاملے میں آپ نے ایسا معتدل رویہ پیش کیا کہ خالق کی عبادت آپ کو مخلوق کی خدمت سے بے نیاز نہ کرسکی۔ آپ نے امت کو بھی یہی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
ان لجسدک علیک حقا وان لعینک علیک حقا وان لزوجک علیک حقا وان لزورک علیک حقا (صحیح بخاری)
’’تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘
جب نبی مکرم نے انسانی فلاح وبہبود کے لیے حیات انسانی کے تمام دائروں کو اپنی محنت اور تگ ودو کامیدان بنایا تو آپ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بدیہی طورپر آپ کی تمام ترجدوجہد اور محنت کا تسلسل قائم رکھنے کی ذمہ داری اس امت پر عائد ہوتی ہے۔ اس صورت میں کسی ایک خاص شعبے ہی میں کام کرنے والا فرد یا جماعت حضور ﷺ کی وراثت کا حق ادا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اعتدال کی راہ یہ ہے کہ امت آپ ﷺ کی محنت اور تگ ودو کے تمام پہلوؤں کو لے کر آگے بڑھے نہ یہ کہ انسانی زندگی کے کسی ایک شعبہ سے متعلق آپ کی تعلیمات تک محدود ہو کر رہ جائے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ جو فرد یاجماعت جس دائرہ میں کام کررہی ہے، وہ یہی گمان کیے ہوئے ہے کہ دین کا کام بس اسی کے ہاتھوں انجام پا رہا ہے اور بس۔ حضورﷺ کی ہمہ گیر کاوشوں کو ہم اپنے اپنے دائرے میں محدود کرکے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہی حضورﷺ کے نائب ہیں ۔
دین کی خدمت چاہے جہاد کی صورت میں ہو یا دعوت وتبلیغ کی صورت میں، تصنیف وتالیف کی شکل میں ہو یا تعلیم وتدریس کے رنگ میں،حضور ﷺ کی ہمہ گیر تگ ودو کو کسی ایک دائرے میں محصور کرنا اور خود کوہی آپ کا وارث قرار دینا یقیناًبے اعتدالی کی راہ ہے۔ جب دین کے کسی ایک شعبہ میں غلو اور بے اعتدالی آئے گی تو وہ صرف اس شعبے کے لیے نہیں، بلکہ تمام شعبہ جات کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جب بے اعتدالی کی جڑ مضبوط ہونے لگتی ہے تو یہ رویہ امت میں اجتماعیت کے بجائے انفرادیت کو جنم دیتاہے اور دینی حلقے اس صورت میں آگے بڑھنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کو بھی خدمت دین ہی خیال کرنے لگتے ہیں ۔
دعوت وتبلیغ دین کی محنت کا ایک وسیع میدان ہے اور اس میدان میں تبلیغی جماعت اصلاح وتربیت کا عظیم فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ جماعت کی محنت کے اثرات کا مشاہد ہ ہر ذی شعور انسان کھلی آنکھوں سے کرسکتاہے کہ جن لوگوں کے لیل ونہار نائٹ کلبوں کے اسٹیج پر لہوو لعب کی محفلوں میں گزرتے تھے، آج وہ منبر رسول ﷺ پر بیٹھے خود کو وارث انبیا کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ الحمد للہ جماعت کی دعوت مسجدوں اور گلی محلوں سے آگے نکل کر کرکٹ کے میدانوں اور سینماؤں تک پہنچ گئی ہے۔ اللھم زد فزد۔یہ جماعت کی محنت کا ایک روشن اور قابل تقلید پہلو ہے جس سے فائدہ اٹھانے اور رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ راقم الحروف یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ ہر انسانی کوشش اور محنت کی طرح تبلیغی تحریک بھی خامیوں اور کوتاہیوں سے مبرا نہیں اور اس میں بے اعتدالی کے بعض ایسے پہلو پائے جاتے ہیں جن کی طرف توجہ دلانے اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔
مثلاً دعوت کے عظیم کام کے ساتھ ساتھ اگر دین کے معاشرتی پہلو کی طر ف مقدور بھر توجہ دی جائے تو یہ ہر طرح سے مناسب ہوگا۔ جماعت سے منسلک افراد انفرادی سطح پر کسی نہ کسی حد تک یہ کام کرتے بھی ہیں، لیکن جس طرح حالیہ زلزلے میں زلزلہ زدہ علاقوں میں جماعت نے منظم طور پر جماعتی نظم کے تحت متاثرہ افراد کے ساتھ عملی تعاون کا فریضہ انجام دیا ہے، وہ انتہائی قابل قدر اور قابل تقلید ہے اور اسی رخ پر رفاہی کاموں میں شرکت کے عمل کو جماعتی سطح پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بس ایک فیصلے کی ضرورت ہے۔ الحمد للہ نہ افراد کی کمی ہے اور نہ وسائل کی۔ یہ کام خواہ محدود سطح پر ہی ہو، لیکن بہر حال توجہ کا متقاضی ہے۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سیکڑوں تبلیغی مراکز کے انتظام میں غربا اور مستحق افراد کے لیے فری ڈسپنسریوں ،بے روزگاروں کے لیے صنعتی تربیتی مراکز اوراسلامی وعصری تعلیم کے لیے اسکولوں اور کالجوں کا قیام کچھ مشکل نہیں، بشرطیکہ اس کام کو بھی دین کا کام سمجھ لیاجائے۔ ایسی عبادتیں جو حقوق العباد کی ادائیگی سے غافل کردیں، کیسی ہی سرور انگیز اور تسلی بخش کیوں نہ ہوں، قرب الٰہی کا وسیلہ نہیں بن سکتیں۔ طبیعت کے مبالغوں کو قرب الٰہی نہیں سمجھنا چاہیے۔ دعوت سے منسلک افراد میں انفرادی سوچ کے بجائے اجتماعی سوچ کو پروان چڑھانا چاہیے۔ آخر آ پ کا امت سے تعلق صرف دعوت وتبلیغ کے حوالے سے تو نہیں، تعلقات کے کچھ اور بھی پہلو ہیں ۔
اس کے ساتھ ساتھ راقم الحروف یہ گزارش کرنا بھی مناسب سمجھتا ہے کہ تبلیغی جماعت سے یہ توقع وابستہ کرنا بھی درست نہیں کہ جماعت دعوت کے میدان میں بھی کام کرے اور خدمت خلق، جہاد اور سیاست وحکومت کی کشمکش کے میدان میں بھی بھرپور کردار ادا کرے۔ تمام تر کاموں کی ذمہ داری جماعت پر ڈالنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ۔آخر تبلیغی جماعت ہی تو حضورﷺ کی نائب نہیں، بلکہ پوری امت حضورﷺ کی نائب ہے۔ اگر جماعت کسی ایک دینی شعبہ میں متحرک کردار ادا کررہی ہے تو دوسرے شعبوں میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے باقی طبقات کو بھی قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ جب درج بالا تمام کاموں کی توقع جماعت سے کی جاتی ہے تو مجھے استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی بیان کردہ ایک مثال یاد آجاتی ہے جس کا حوالہ وہ عموماً دینی مدارس کے حوالے سے دیا کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں اگر ایک گھر میں پانچ چھ بیٹے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک بیٹا ایسا ہو جو اپنا کام تندہی سے کرے اور دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھائے تو آہستہ آہستہ گھر کے تمام افراد اسی سے اپنی ساری توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ اس کو ہمارے ہاں عموماً ’’کاما پُتر ‘‘کہا جاتاہے اور یہ اس کا اعزاز ہوتاہے۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید امت مسلمہ میں تبلیغی جماعت کی حیثیت بھی اس کامے پُتر کی ہے جس سے ساری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توقع وابستہ کرلی جاتی ہے۔
تبلیغی جماعت کے رویے میں بے اعتدالی کا ایک اور پہلو بھی بے حد باعث تشویش اور قابل اصلاح ہے، اور وہ ہے خدمت دین کے دیگر شعبوں کو ناقص، کم تر اور بے فائدہ سمجھنے کا رویہ۔ تبلیغی جماعت کی جدوجہد اور تگ ودو خدمت دین کے مختلف اور متنوع شعبہ جات میں سے ایک ذیلی شعبہ ہے۔ دین کے کسی بھی شعبے کی اہمیت کو اس انداز سے بیان کرنا کہ دیگر شعبوں کی اہمیت کم ہوتی نظر آئے یا دھندلا جائے، یقیناًبے اعتدالی پر مبنی رویہ ہے۔ علماے حق نے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے متعلق ہوں، اس رویے کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ بانی جماعت مولانا محمد الیاس ؒ نے اس تحریک کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے کیسا معتدل رویہ اختیار فرمایا، اس کا ا ظہار درج ذیل عبارت سے بخوبی ہوتاہے۔ فرماتے ہیں :
’’ہماری اس تحریک کا اصل مقصد ہے مسلمانوں کو ماجاء بہ النبی ﷺ سکھانا یعنی اسلام کے پورے علمی وعملی نظام سے امت کو وابستہ کردینا۔ یہ تو ہے ہمارا اصل مقصد ،رہی یہ قافلوں کی چلت پھرت اور تبلیغی گشت، سویہ اس مقصد کے لیے ابتدائی ذریعہ ہے اور کلمہ ونما ز کی تعلیم وتلقین گویا ہمارے پورے نصاب کی الف، ب، ت ہے ۔‘‘ (ملفوظات مولانا محمد الیاس، مرتبہ مولانا محمد منظور نعمانی)
بانی جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کے اس فرمان کی روشنی میں راقم کو نہایت دکھ ہوتاہے جب تبلیغی احباب ابتدائی ذریعے ہی کو کامل دین سمجھتے ہیں اور تبلیغی گشت، قافلوں کی چلت پھرت، اور چلّہ اور چار مہینوں کو ہی سارے حروف تہجی قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ رویہ نہ صرف تبلیغی جماعت کے لیے بلکہ دیگر دینی حلقوں کے لیے بھی مضرہے۔ بالخصوص عامۃ الناس میں اس رویے کا پیدا ہوجانا اور بھی تشویش کا باعث ہے، اس لیے کہ کوئی صاحب علم اس قسم کا رویہ اپناتا ہے تو وہ غور وفکر کا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور صحیح بات سامنے آنے پر بے اعتدالی کو چھوڑ کر معتدل رویہ اختیار کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا جبکہ عامۃ الناس جس رویے کو دین سمجھتے ہوئے اپناتے ہیں، اس میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کی اصلاح بہت مشکل ہو جاتی ہے۔
استاذ محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے دوران سبق میں قرآن کریم کی آیت ’ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر‘ کے تحت یہ واقعہ سنا یا کہ حضرت مولانا مفتی زین العابدین ؒ جو تبلیغی جماعت کے اکابر میں سے تھے، ایک بار ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ حضرت، میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتاہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ تبلیغ کا کام امت پر فرض عین ہوچکاہے۔ استاذ محترم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مفتی صاحب کی طرف غور سے دیکھا اور عرض کیا کہ حضرت، مجھے آپ سے یہ توقع نہ تھی کہ آپ یہ بات ارشاد فرمائیں گے۔ کیا آپ نے تفسیر مظہری، ابن کثیر اور روح المعانی کا مطالعہ نہیں فرمایا؟ یہ مفسرین اور ان کے علاوہ دیگر مفسرین کرام قرآن کی اس آیت (ولتکن منکم امۃ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تبلیغ کا کام پوری امت پر بحیثیت امت فرض کفایہ ہے۔ اگر یہ فرض عین ہوتا تو بیوی کو شوہر سے اور غلام کوآقا سے اجازت لینے کی ضرورت نہ تھی۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لیے مسلمانوں میں سے ایک مخصوص جماعت کو اس منصب پر مامور کیا گیاہے۔فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب میری یہ بات سن کر خاموش ہوگئے۔ اصحاب علم کا یہی رویہ ہوتا ہے کہ جب ان کے سامنے صحیح بات آتی ہے تو وہ مجادلہ نہیں کرتے۔
ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ترمذی شریف پڑھایا کرتاتھا ۔تبلیغی جماعت کے ایک ضعیف العمر ساتھی روزانہ میرے ساتھ بیٹھ کر سبق سنا کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے حضرت، آپ بھی جماعت میں کچھ وقت لگائیں۔ میں نے عرض کیا باباجی! یہ طلبا اتنی دور دراز سے علم حاصل کرنے آئے ہیں۔ اگر میں جماعت میں چلا گیا تو ان کو سبق کون پڑھائے گا؟ باباجی کہنے لگے استاذ جی فکر نہ کریں، ان کو اللہ تعالیٰ پڑھائیں گے۔ میں نے عرض کی، باباجی! اللہ تعالیٰ اس طرح براہ راست نہیں پڑھایا کرتے۔
استاذ محترم جماعت کے مثبت پہلووں کی تحسین بھی فرمایا کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ عزیزو! یہ بڑا عظیم کام ہے۔ تبلیغی جماعت کے احباب بعض ایسے علاقوں تک بھی دین کی دعوت لے کر پہنچے ہیں جہاں تک ہم نہ پہنچ سکے، لیکن اس کام میں غلو بڑا نقصان دہ ہے۔
ملتان سے ایک عالم دین تشریف لائے اور استاذ محترم سے پوچھا کہ جماعت کے ساتھ وقت لگانا کیسا ہے؟ حضرت شدید بیماری کی حالت میں تھے اور بولنا بھی دشوار تھا۔ یہ بات سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ’ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین‘۔ (اس سے اچھی کس کی بات ہوسکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، اچھے عمل کرے اور کہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں) ۔
بعض احباب جماعت کی محنت کو کشتی نوح کے مانند قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو اس میں سوار ہوجائے گا، بچ جائے گا اور جو رہ جائے گا، ڈوب جائے گا۔ کیا عوام میں اس قسم کے رویے کا پیدا ہوجانا خطرے سے خالی ہے؟ بعض دفعہ تو ایسی تکلیف دہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ الشریعہ اکادمی میں ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک ایک تاجر نے ایک دن مجھ سے سیرت کے موضوع پر کسی ایسی کتاب کے بارے میں استفسار کیا جس میں نبی کریم ﷺ کے شب وروز کے معمولات لکھے ہوں۔ میں نے ان کو عارف باللہ ڈاکٹر عبد الحی عارفی ؒ (خلیفہ مجاز مولانا اشرف علی تھانویؒ ) کی کتاب ’’اسوہ رسول اکرمﷺ‘‘ مطالعہ کے لیے دی۔ وہ صاحب کتاب گھر لے گئے، مطالعہ کیا، اس کے بعد انہوں نے وہ کتاب اپنی مسجد کی تبلیغی جماعت کے امیر صاحب کو دکھائی۔ امیر صاحب اس کتاب کی ورق گردانی کرتے ہی بول اٹھے کہ یہ کیا ظلم ہے، اس کتاب میں آپﷺ کے معمولات میں گشت کا تو کہیں ذکر ہی نہیں۔ پھر خود ہی منصف کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ مولوی ہی کام خراب کرتے ہیں۔ جب تک یہ صحیح نہیں ہوں گے، کام نہیں بنے گا۔ دیکھو آپﷺ کے معمولات میں گشت کا کہیں ذکر نہیں کیا۔
اس ضمن میں بانی جماعت حضرت مولانا الیاس ؒ کا ایک واقعہ یہاں نقل کرنا چاہوں گا جو شاید ہمارے عمومی رویے کی اصلاح کا سبب بن سکے۔ یہ واقعہ مولانا محمد رفیع عثمانی نے نقل کیا ہے اور اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا الیاس شدید علیل تھے اور میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ میرے والد محترم حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ حضرت کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ اس ملاقات کے موقع پر حضرت مولانا الیاس ؒ نے فرمایا کہ مفتی صاحب، میں تو آپ کا انتظار کررہاتھا۔ میں پریشانی میں مبتلا ہوں اور آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں۔ پھر فرمایا کہ دعوت وتبلیغ کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا، وہ وسیع پیمانے پر پھیلتا جارہاہے۔ اس پر میں اللہ سے ڈرتاہوں کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج تو نہیں (استدراج سے مراد ہے ڈھیل دینا، یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو بھی ابتدا میں ڈھیل دے دیتے ہیں) حضرت مفتی محمد شفیع ؒ نے فرمایا، حضرت یہ ڈھیل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور اعانت ہے۔ مولانا الیاس ؒ نے پوچھا، حضرت مفتی صاحب ! آپ کس بنیا د پر فرمارہے ہیں کہ یہ استدراج نہیں بلکہ اعانت ہے؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا، حضرت جب باطل کو ڈھیل دی جاتی ہے تو اس کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ اس کے دل میں خوف کا یہ احساس پیدا نہیں ہوتا۔ آپ کے دل میں اس احساس کا پیدا ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کام کا وسیع پیمانے پر پھیل جانا استدراج نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت ہے۔ یہ سن کر مولانا الیاس ؒ کا چہرہ کِھل اٹھا۔
دعوت وتبلیغ سے یا کسی بھی دینی شعبہ سے منسلک افراد کی طرف سے جب بھی کوئی غیر معتدل رویہ سامنے آتا ہے تو مجھے مولانا سعید احمد خان صاحب کی شخصیت شدت سے یاد آتی ہے۔ اس رجل مومن نے پوری زندگی دعوت الی اللہ کے عظیم مشن میں کھپا دی۔حرم پاک کو اپنا دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ پھر اس راہ وفا میں خود ہی نہیں تڑپے اوروں کو بھی تڑپایا اور عمر بھر انسانیت کی اصلاح کے لیے کوشش فرماتے رہے۔ ان کے دو تین واقعات میں یہاں نقل کرنا چاہوں گا۔ شاید یہ واقعات ہمارے دل میں یہ احساس پید اکردیں کہ دین کے سبھی شعبہ جات قابل قدر ہیں اور کسی بھی دینی شعبہ کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ مولانا عیسیٰ منصوری حفظہ اللہ اپنے کتابچے ’’مولاناسعید احمد خان شخصیت ،احوال اور دینی خدمات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا کے مزاج میں عجیب جامعیت تھی۔ آپ کسی بھی دینی شعبے کی ناقدری یا اس کی اہمیت کم کرنے کو برداشت نہیں فرماتے تھے۔ فرماتے اگر اخلاص ہو تو دین کا کوئی کام بھی چھوٹا نہیں ہے۔ ساتھیوں کے بیان میں اگر کوئی ایسی بات محسوس فرماتے تو فوراً تنبیہ فرماتے۔ ایک بار ایک مولوی صاحب نے دعوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر علم یا ذکر کے شعبے کا اس طرح ذکر کر دیا جس سے ان کے دعوت سے کم تر ہونے کا پہلو نکل سکتا تھا۔ فوراًبلا کر فرمایا کہ بعض مقررین حضور ﷺ کی سیرت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ کے فضائل میں حضرات انبیاء علیہم السلام سے تقابل کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر حضورؐ کی سیرت وفضیلت کے بیان میں کسی بھی نبی میں نقص کا شائبہ بھی پیدا ہوا تو اس کے یہ معنی ہوا کہ نعوذ باللہ ہمارے نبیؐ ناقص نبیوں کے سردار وامام تھے۔ چاہئے کہ ہر نبی کا کمال وفضیلت ثابت کر کے پھر یہ ثابت کریں کہ ہمارے نبی ایسے کاملین اور فضیلت مآب گروہ کے سردار اور امام ہیں۔ اسی طرح بعض مقررین دعوت کی اہمیت اس طرح بیان کرتے ہیں جس سے علم یا ذکر کی تنقیص مترشح ہوتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ علم وذکر کی پوری اہمیت وفضیلت بیان کریں پھر کہیں کہ ایسے اوصاف والے لوگ دعوت میں لگیں تو نور علیٰ نور ہو جائے گا۔ دعوت کے کام کے اصل حق دار تو یہی لوگ ہیں۔‘‘
اس واقعے میں نہ صرف جماعت سے وابستہ افراد کے لیے بلکہ ہر دینی شعبہ کے ہر کارکن کے لیے غور وفکر کے بے حد سامان موجود ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر تنقید کو تنقیص ہی سمجھا جاتاہے۔ کیا مجال کہ کوئی ہماری جد وجہد اور دائرہ کار پر کوئی تنقید ی رائے دے یا اس کی کوئی خامی بتائے۔ یہ رویہ ہرگز درست نہیں۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۶ء کے شمارے میں سید جمال الدین وقار صاحب کے مضمون ’’تبلیغی جماعت اوردین کا معاشرتی پہلو‘‘ کا شائع ہونا تھا کہ مختلف حلقوں میں چہ میگوئیوں شروع ہو گئیں اور مختلف احباب نے اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اس پر تبصرہ کیا۔ تبلیغی مرکز گوجرانوالہ سے جماعت سے وابستہ دو عالم دین میرے پاس تشریف لائے اور گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں علما کے جوڑ میں شرکت کی دعوت دی جسے راقم الحروف نے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا۔ بعد ازاں مذکورہ مضمون کے حوالے سے بحث چل پڑی اور خاصی طول پکڑ گئی۔ دونوں احباب نے اس سلسلے میں ’الشریعہ‘ کا موقف دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ ایک فورم ہے جہاں مختلف اصحاب فکرو دانش اپنی اپنی آرا وافکار کا اظہار کرتے ہیں، چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ الشریعہ میں شائع ہونے والی ہر تحریر سے ادارہ متفق ہو، اسی لیے ان آرا وافکار پر جو تنقیدی مضامین اور آرا موصول ہوتی ہیں، ان کو بھی من وعن شائع کردیا جاتاہے ۔ ضروری نہیں کہ ہر تنقید حقیقت پر ہی مبنی ہو، مگر یہ تو ایک حقیقت ہے کہ تنقیدی آرا کسی بھی کام اور جدوجہد کی کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور بہتر منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
مولانا منصوری نے اپنے مندرجہ بالا کتابچہ میں ہی حسب ذیل واقعہ نقل کیا ہے:
’’حضرت مولانا کی تواضع اور کسرِ نفسی کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی تنقید بھی قبول فرماتے۔ اس دو رمیں یہ چیز بالکل نایاب ہو گئی ہے۔ چند سال پہلے کی بات ہے، لندن تبلیغی مرکز کے خصوصی کمرے میں بندہ ملاقات کے لیے پہنچا۔ دیکھا مولانا کی پاکستانی جماعت کے رفقا اورانگلینڈ کے متعدد اہل شوریٰ تشریف فرما ہیں اور کوئی چیز پڑھی جا رہی ہے۔ سنا تو پتہ چلا کہ کسی بیاض (کاپی) میں سے مبشرات پڑھے جا رہے ہیں یعنی کسی جماعت نے حضور اکرم ﷺ کی خواب میں زیارت کی۔ خواب میں حضرت مولانا کو حضور کے ہمراہ دیکھا وغیرہ وغیرہ۔ چند منٹ بعد بندہ نے عرض کیا حضرت آپ کی مجلس میں اس طرح مبشرات سننا سنانا مناسب نہیں۔ آپ یہ مبشرات بعض بزرگوں کے لیے خلفا کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ بزرگ الٹے سیدھے خواب دیکھتے ہیں اور انہیں چھاپ کریہاں ہمیں ابتلا میں ڈالتے ہیں۔ سنا ہے حضرت مولانا الیاسؒ نے دعا مانگی تھی اے اللہ ہمارے اس کام کو مبشرات اور کرامات پہ مت چلانا۔ یہ سننا تھا کہ اسی وقت حضرت مولانا نے بیاض بند کر دی۔ فرمایا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان مبشرات سے دل کو تقویت پہنچتی ہے مگر یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے بلکہ زیادہ اہم ہے۔ اس سے کئی فتنے پیدا ہو سکتے ہیں اس لیے عمومی طور پر مبشرات کے سننے سنانے سے احتیاط کرنی چاہئے۔
اسی طرح ایک بار انگلینڈ کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر ڈیوزبری میں مختلف شہروں کی مساجد والی جماعتوں (روزانہ ڈھائی گھنٹے فارغ کرنے والے) احباب جمع تھے۔ ان میں حضرت مولانا نے بیان شروع فرمایا۔ کچھ دیر کے بعد فرمایا ہمیں اپنی قربانی کی مقدار کو بڑھانا چاہئے۔ روزانہ اڑھائی گھنٹے سے بڑھا کر آٹھ گھنٹے فارغ کرنے چاہئیں۔ بندہ بیان کے درمیان بول پڑا، حضرت یہ آ پ رہبانیت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اگر ایک شخص روزانہ آٹھ گھنٹے فارغ کر لے، اس کے ساتھ عصر سے اشراق تک جمعرات کا اجتماع، مہینے کے تین دن، سال کا چلہ، جماعتوں کی نصرت یہ سب ملا کر نصف سے زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ رہبانیت ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے اگر یہ واقعہ ہمارے ساتھ بھرے مجمع میں پیش آتا تو ہمارا کیا رد عمل ہوتا؟ بندہ کم از کم اپنی بابت کہہ سکتا ہے کہ میرا نفس تو اسے برداشت نہ کرتا۔ نہ جانے کیا کہہ دیتا۔ مگر حضرت مولانا نے مجھ جیسے معمولی طالب علم کی بات توجہ سے سنی اور قبول فرمائی۔ بعد میں مجھے اپنی اس حماقت پر سخت ندامت وافسوس ہوا کہ مجھے یہ اشکال تنہائی میں عرض کرنا چاہئے تھے مگر واہ مولانا سعید احمد خان، کیا بے نفسی کی انتہا ہے کہ پورے سکون وبشاشت سے اشکال سن رہے ہیں اور قبول فرما رہے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کیا مولانا کے بعد اس کی مثال مل سکے گی؟
اس کوہ کن کی بات گئی کوہ کن کے ساتھ‘‘
راقم الحروف باربار یہ سوچتا ہے کہ ہم ایسے معتدل رویے پر قائم کیوں نہیں رہتے اور غلو کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟ ہمارا رویہ تو یہ ہونا چاہیے کہ دین کے کسی بھی شعبے میں کام کرنے والا کارکن اپنے دائرے میں کام کرتے ہوئے دین کے دوسرے شعبہ جات میں کی جانے والی محنت کی حوصلہ افزائی کرتارہے اور حتی الوسع اس میں حصہ ڈالنے کی کوشش کرے۔ امید اور خوف کے ساتھ اپنے کام میں مگن رہے اور کوئی بھی اپنی مقبولیت کا یقینی دعویٰ نہ کرے اس لیے کہ مقبولیت کا یقینی دعویٰ اس جہان میں کیا ہی نہیں جاسکتا۔ یہ دار العمل ہے اور یہاں کے اعمال کا نتیجہ آخرت میں ظاہر ہوگا جو دار الجزا ہے۔
معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید
پروفیسر میاں انعام الرحمن
مسلم دانش وروں کے علاوہ غیر مسلم اہلِ قلم کے ہاں بھی آج کی مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی میدانوں میں پس ماندگی اور زبوں حالی دلچسپی کا باعث اور موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ لیکن ایسے صائب الرائے افراد انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی پس ماندگی کے اسباب تلاش کرتے کرتے اس کے تہذیبی انحطاط تک جا پہنچیں ۔اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ سوشلزم کے زوال کے بعد مغربی دانش وروں کے ایک مخصوص حلقے نے پچھلے تقریباََ ایک عشرے سے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے تصادم کا نظریہ گھڑ کر ایک طرف مسلم دنیا کی سیاسی و معاشی پس ماندگی کی ان وجوہات کو چھپانے کی کوشش کی ہے جن کے ڈانڈے مغربی استحصالی رویے میں پیوست ہیں اور دوسری طرف مسلم دنیا میں داخلی اعتبار سے ایسے منفی رویے کی آبیاری کی ہے جس کی وجہ سے مسلم دنیا اپنے تہذیبی زوال سے آگاہ ہونے اور اس کی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ اپنا کر انتہائی کھوکھلے انداز میں مغرب کے مقابل آ کھڑی ہوئی ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تہذیب اساسی اعتبار سے، دنیا کی کسی بھی تہذیب سے زیادہ بہتر انداز میں ،ایک خاص علمی روایت پر استوار ہے ۔ اس لیے اسلامی تہذیب کی موجودہ صورتِ حال کے صحیح اور کماحقہ ادراک کی کوئی بھی کوشش مسلم علمی روایت کے عمیق جائزے کے بغیر نامکمل اور ادھوری ہی سمجھی جا سکتی ہے ۔ لیکن تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ، جس کے اثبات کے لیے اب واقعاتی شواہد پیدا کیے جا رہے ہیں ، مسلم علمی روایت کے بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تجزیے کے بجائے جانبدارانہ اور ردِ عمل پر مبنی ایسا تہذیبی رویہ پروان چڑھا رہا ہے جو کئی پہلوؤں سے اسلامی علمی روایت سے مغایرت alienation کا حامل ہے ۔ درج ذیل سطور میں ہم اسلامی علمی روایت کی روشنی میں مسلم علمی روایت کا تنقیدی جائزہ لیں گے تاکہ امت کے تہذیبی زوال کی اساس کسی حد تک سامنے آ سکے ۔
مسلم علمی روایت کے تنقیدی مطالعے سے قبل اسلامی علمی روایت کا تعین ناگزیر اور ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ اسلامی علمی روایت دو ستونوں پر استوار ہے۔ ان میں سے ایک ستون قرآن مجید اور دوسرا ستون سنتِ رسول اللہ ﷺ ہے ۔ ان دو ستونوں کے علاوہ دیگر ایسے عناصر، جو بنیادی طور پر تاریخی آثار اور قرآن و سنت کی تعبیرات سے عبارت ہیں، اپنی نوعیت میں اساسی نہیں بلکہ اضافی ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اضافی عناصر اہمیت و افادیت کے اعتبار سے لائقِ اعتنا نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قرآن و سنت جب سماجی سطح پر آکر ایک منفرد تہذیب کی تشکیل وشناخت میں اساسی کردار ادا کرتے ہیں تو اپنی نوعیت میں اساسی سطح سے اتر کر اضافی سطح پر آ جاتے ہیں ، کیونکہ سماج میں ان کا اثرو نفوذ بعینہٖ نہیں ہو سکتا بلکہ تعبیر و تشریح کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسلامی تہذیب اپنے عملی احوال میں قرآن سنت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس تہذیب کی عمارت براہ راست قرآن و سنت ( اسلامی علمی روایت ) پر استوار نہیں ہوتی، بلکہ اس کی تعبیر و تشریح ( مسلم علمی روایت ) پر قائم ہوتی ہے۔ چونکہ قرآن و سنت کی تعبیر، اضافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاص زمانے اور ایک خاص سماج میں ظہور پذیر ہوتی ہے اس لیے وہ اس مخصوص زمانے اور مخصوص سماج کی سیاسی ، معاشی ، عسکری اور نفسیاتی ضروریات کو بطریقِ احسن پورا کرتی ہے ۔زمانی ارتقا اور مکانی تبدیلیوں کے فطری عوامل کے باعث ، مسلم علمی روایت (قرآن و سنت کی تعبیر ) کو اسلامی علمی روایت ( قرآن و سنت ) کے ساتھ ایک مسلسل اور زندہ تعلق قائم رکھنا پڑتا ہے تاکہ زمانی ارتقا اور مکانی تبدیلیوں کے بوجھ تلے دب کر مسلم علمی روایت خلط ملط نہ ہو سکے اور مسلم تہذیب کا ارتقا، مسلم علمی روایت کے ارتقا کی بنیاد پر جاری و ساری رہ سکے ۔ لیکن اگر مسلم علمی روایت ( قرآن و سنت کی تعبیر ) ، اسلامی علمی روایت (قرآن و سنت) سے اپنا زندہ ربط و تعلق منقطع کر لے ، تو وہ نہ صرف داخلی لحاظ سے بے روح ہو جاتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ اسلامی علمی روایت کی قائم مقام بن جاتی ہے اورپھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ، مسلم علمی روایت کو اسلامی علمی روایت کی روشنی میں مسلسل پرکھنے اور ارتقا پذیر رکھنے کے بجائے اساسی تسلیم کر لیا جاتا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ اسلامی تہذیب، کسی خاص زمانے کی تعبیر و تشریح کو قرآن و سنت کے مساوی و متوازی کھڑا کر کے ، اسلامی علمی روایت سے زندہ تعلق کھو بیٹھتی ہے اور زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ آج کی اسلامی تہذیب ، اگرچہ مسلم علمی روایت پر قائم ہے لیکن یہ روایت ، اسلامی علمی روایت سے روگردانی کے باعث ، زمانی ارتقا اور مکانی تبدیلیوں کا ساتھ نہیں دے سکی ، اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ مردہ روایت ، اسلامی علمی روایت کی قائم مقام بن چکی ہے ۔ اب اگر کوئی فرد اسلامی علمی روایت سے زندہ تعلق قائم کرنے کی بات کرتا ہے تو اس کی کوشش کو فکری انتشار پھیلانے کا الزام دیا جاتا ہے ۔
قرآن مجید کی ترتیب سے استشہاد
نبی خاتم ﷺ کی بعثت سے لے کر آپ ﷺ کے وصال تک کے زمانے میں اسلامی علمی روایت اور مسلم علمی روایت کے درمیان مذکورہ فرق دکھائی نہیں دیتا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید نازل ہو رہا تھا اور چونکہ قرآن مجید ایک ہی وقت میں نازل نہیں ہوا بلکہ تقریباََ ۲۳برس کے عرصہ میں درجہ بدرجہ نازل ہوا ، اس لیے مسلم سماج کا قرآن مجید کی نزولی ترتیب کے ساتھ براہ راست زندہ تعلق موجود تھا ۔ یہی بات سنت رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بھی ہے کیونکہ آپ ﷺ اس سماج میں خود موجود تھے ۔ اس طرح کہ عہدِ نبوی ﷺ کی اسلامی تہذیب نہ صرف اسلامی علمی روایت پر قائم تھی بلکہ اس کا اس روایت کے ساتھ زندہ تعلق بھی موجود تھا ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ نبی خاتم ﷺ نے وصال سے کچھ عرصہ قبل جبریل ؑ کے ساتھ قرآن مجید کا جو دور کیا ، اس میں قرآن مجید کی ترتیب، نزولی ترتیب سے مختلف ہے ۔( اس ترتیب کو ہم آئندہ سطروں میں ’’ حتمی ترتیب ‘‘ کا نام دیں گے ) ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن مجید کی آیات وہی ہیں جو درجہ بدرجہ نبی خاتم ﷺ پر نازل ہوئیں تو پھر ان کی ترتیب بدلنے میں آخر کیا حکمت پنہاں ہے؟ آخر نزولی ترتیب کو ہی برقرار کیوں نہیں رکھا گیا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب ، اسلامی علمی روایت اور مسلم علمی روایت کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتا ہے ۔
اگر قرآن مجید کی نزولی ترتیب کو مدِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ :
(۱) قرآنی احکامات ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں ۔
(۲) تمام آیات کسی خاص پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، اس لیے خاص سیاق کی حامل ہیں ۔
(۳) نزولِ آیات کا خاص سیاق ، ایک مخصوص زمانے، مخصوص علاقے، مخصوص عوامل اور مخصوص ثقافت کے ارد گرد ہی گھومتا ہے ۔
اگر نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب کو مدِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ :
(۱) قرآنی احکامات میں ارتقا کا عنصر کلیدی نہیں ہے بلکہ امدادی ہے ۔
(۲) آیات کا خاص سیاق بھی امدادی ہے ، کلیدی نہیں ہے ۔ خاص سیاق سے ہٹ کر بھی آیات کی تفہیم ممکن ہے ۔
(۳) خاص سیاق ، ایک مخصوص زمانے مخصوص علاقے مخصوص عوامل اور مخصوص ثقافت کے ارد گرد ہی گھومتا ہے، اس لیے اس کے اثبات کے لیے نزولی ترتیب ناگزیر ہو جاتی ہے۔ لیکن چونکہ قرآن مجید ، نبی خاتم ﷺ کے زمانے سے نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب کے مطابق تلاوت کیا جاتا ہے ، اس لیے خاص سیاق اور اس کے لوازمات بے اصل ہو جاتے ہیں ۔
(۴) قرآن مجید کی حتمی ترتیب جہاں اس طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ نزولی ترتیب اور اس کے متعلقات کی حیثیت امدادی ، اضافی اور تاریخی عناصر کی ہے ، وہاں دوسری طرف اس امر پر بھی شاہد ہے کہ کسی بھی خاص زمانے، خاص علاقے، خاص عوامل اور خاص ثقافت کے تناظر میں فہمِ قرآن کی کوشش اگرچہ درست ہے ، لیکن حتمی نہیں ہے ۔ حتمی حیثیت صرف قرآن مجید کی حتمی ترتیب کے متن کی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نبی خاتم ﷺ نے الہیاتی حکمت کے مطابق ، قرآن مجید کو نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب میں اس لیے ڈھالا تاکہ نزولی ترتیب کے ساتھ منسلک علائق قرآن مجید کی آفاقیت اور معنویت کو محدود نہ کر سکیں ۔یہیں سے اسلامی علمی روایت( قرآن و سنت ) اور مسلم علمی روایت( قرآن و سنت کی تعبیر ) میں فرق بھی واضح ہو جاتا ہے ۔ آپ ﷺ کے عہد میں چونکہ قرآن خاص سیاق میں نازل ہوا تھا اور وہ سیاق، خاص زمانی و مکانی اور ثقافتی تقاضوں سے عبارت تھا ، اس لیے قرآنی آیات کو مخصوص زمان و مکان اورمخصوص ثقافت سے مبرا کر نے کے لیے آپ ﷺ نے خدائی حکم کے مطابق قرآن مجید کو حتمی ترتیب دی ۔ اس طرح قرآن مجید کے لیے ممکن ہو سکا کہ وہ نزول آیات کے خاص سیاق سے بالاتر ہوکر زمان و مکان کے تسلسل اور ثقافتی متغیرات پر غالب ہوسکے ۔ افسوس ! ہم مسلمان حکمتِ نبوی ﷺ کے برعکس ،( دورِ نبوی ﷺ تو کجا ) دورِ نبوی ﷺ کے بعد کے علائق کوبھی ، جن کی حیثیت اب سراسر تاریخی آثار کی ہے ، قرآن مجید کی حتمی ترتیب کے متن کے حتمی فہم کا مقام دیے بیٹھے ہیں ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگ مسلم علمی روایت ( قرآن و سنت کی تعبیر ) اور اسلامی علمی روایت ( قرآن و سنت ) کے درمیان فرق کرنے کے روادار نہیں ہیں ۔ یہی عدم رواداری ہمارے تہذیبی زوال کا بنیادی سبب ہے ، کیونکہ ہم لوگ خاص زمانے خاص علاقے اور خاص ثقافتی متغیرات سے چمٹے ہوئے ہیں، حالانکہ زمانہ بدل چکا ہے اسلام نئے خطوں میں قدم رکھ رہا ہے جس سے ثقافتی تنوع کی نئی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم علمی روایت ( قرآن و سنت کی وہ تعبیر جو معاصر سماجی و ثقافتی تقاضوں سے لگا نہیں کھاتی ) پر استوار تہذیب سے چمٹے رہنے اور اسے ہی اسلامی قرار دینے کے بجائے اسلامی علمی روایت ( قرآن و سنت ) سے زندہ تعلق قائم کیا جائے ، تب ہی ہم معاصر تقاضوں کے مطابق مسلم علمی روایت کی تشکیلِ نو کرکے صحیح معنوں میں تہذیبی بیداری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم مسلم علمی روایت کو اسلامی روایت سمجھنے پر مصر رہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ مسلم علمی روایت( اپنے مخصوص پس منظر کے باعث ) ہر زمانے ہر علاقے اور ہر ثقافت کے تقاضوں سے نبھا نہیں کر سکتی۔ نتیجے کے طور پر ( مسلم علمی روایت کے بجائے ) اسلامی علمی روایت کو ہی فرسودہ اور دقیانوسی قرار دے کر مسترد کر دیا جائے گا ۔
فہمِ قرآن میں حتمی ترتیب کی اہمیت
فہمِ قرآن کے لیے مسلمانوں نے جن علوم و فنون کی داغ بیل ڈالی ، ان میں سرِ فہرست تفسیر نویسی ہے ۔ نبی خاتم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے ادوار میں تفسیر نویسی کی ایسی مثال نہیں ملتی ، جو ہمارے ہاں رائج ہو چکی ہے ۔ اگرچہ بعض قرآنی آیات کی معنویت کی بابت اکابر صحابہؓ کی آرا موجود ہیں ، لیکن یہ آراء جزوی اور بکھری ہوئی ہیں ، ان میں قرآنی آیات کی درجہ بدرجہ تشریح و توضیح اس انداز میں نہیں کی گئی ، جس طرح آجکل کے مفسرین کرتے ہیں ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کی تفسیر بالرائے یا تفسیر بالروایت کی طرف توجہ کیوں نہیں دی ؟ حالانکہ تفسیر بالروایت کرنے کی صورت میں انھیں سنت و احادیث تک براہ راست رسائی کی سہولت حاصل تھی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے قرآن کی تفسیر کرنے سے عمداََ احتراز کیا ، کیونکہ آنے والے ا دوار میں ایک تو ان کی تفسیر کو قرآنی متن کے متوازی سمجھنے کا احتمال موجود تھا ، دوسرا تفسیر نویسی اصولاََ ممکن ہی نہیں تھی ۔
دوسرے نکتے کی وضاحت یہاں ضروری معلوم ہوتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر قرآن مجید کی فقط نزولی ترتیب ہی رائج ہوتی تو تفسیر نویسی ممکن اور سہل کام تھا ، کیونکہ قرآن مجید مسلم سماج کی تشکیل و ارتقا کے ساتھ ساتھ بتدریج نازل ہو رہا تھا ، اس لیے نزولی ترتیب میں وہ خاص نظم تلاش کیا جا سکتا تھا جو تفسیر نویسی کا انتہائی ناگزیر لازمہ ہے ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں ایسا نظم نہیں پایا جا تا، جس کے پیچھے کسی زندہ سماج کی تشکیل و ارتقا کارفرما ہو اور حتمی ترتیب میں ایسے نظم کی غیر موجودگی ، قرآن کی کسی بھی ایسی تشریح کوعملاً غیر ممکن بنا دیتی ہے جو محض اس کے نزول کے سیاق میں ترتیب وار کی گئی ہو۔ اس لیے اول تو ایسے مذہبی حلقوں کی کوششیں جو قرآن مجید کی حتمی ترتیب کے متن کی تفسیر ’’ نظم ‘‘ میں کرنے کا خواہش مند ہے ، کافی عجیب و غریب اور بے اصل معلوم ہوتی ہیں۔ دوم ، ایسے مذہبی حلقے جوکسی نظم کی غیر موجودگی کے اعتراف کے باوجود تفسیر نویسی پر خواہ مخواہ تلے ہوئے ہیں ، اسلامی علمی روایت کی اساس سے ناواقف معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً، قصہ آدم و ابلیس کو ہی لیجیے ۔ یہ قصہ کسی نظم کے بغیر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بکھرا ہوا ہے ، اس کی تفسیر کرتے ہوئے اگر سورۃ بقرہ کی آیات کو ہی مدِ نظر رکھا جائے گا تو اس واقعے کے بہت سے پہلو نگاہوں سے اوجھل رہنے کے باعث خدائی منشا واضح نہیں ہو سکے گی اور اگر سورۃ بقرہ میں ہی رہتے ہوئے دیگر قرآنی مقامات سے اس واقعے کے متعلقات سے استفادہ کیا جائے گا تو پھر قرآن مجید کی ترتیب وار تفسیر کا جواز باقی نہیں رہتا ۔ اس مثال کے علاوہ دیگر قرآنی موضوعات پر نظر دوڑائیے ، اسی قسم کی صورتِ حال سے واسطہ پڑے گا ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب بنفسہٖ اور اس کی ساخت و نوعیت ، اس امر پر شاہد ہیں کہ قرآن مجید میں نظم کے بجائے وحدت کا عامل کارفرما ہے ۔ قرآن مجید کا یہ وحدتی رجحان ، قرآنی آیات کو مختلف زاویوں سے ایک لڑی میں ضرور پروتا ہے لیکن انھیں ارتقائی نظم سے بہرہ مند ہر گز نہیں کرتا ۔قرآن مجید کی حتمی ترتیب ، اپنے موضوعاتی بکھراؤ کے سبب ، ایک ہی موضوع کو ارتقائی انداز میں دیکھنے کے بجائے ایسے وحدتی رخ میں دیکھنے کا بنیادی سامان فراہم کرتی ہے جس میں کسی زمانے، کسی علاقے اور کسی ثقافت کی مقتضیات کو بآسانی سمویا جا سکتا ہے ۔ اس لیے قرآن مجید سے جو قرآنی نظامِ فکر اخذ کیا جا سکتا ہے ، ضروری نہیں کہ وہ ہر زمانے ، ہر علاقے اور ہر ثقافت میں یکساں اور یک رنگ ہی ہو ، بلکہ یہ ایک ہی زمانے ایک ہی علاقے اور ایک ہی ثقافت میں بھی مختلف اور امتیازی نوعیت کا ہو سکتا ہے ۔
خیال رہے کہ قرآن مجید کا وحدتی رجحان کوئی نیا مظہر نہیں ہے ، بلکہ قرآن مجید کے نزول کے ساتھ ہی اس کا وحدتی رجحان بھی واضح ہوتا گیا ۔ ایسا ہر گز نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی موضوع کے متعلق تمام احکامات بتدریج نازل کر دیے اور ان کے درمیان کسی دوسرے موضوع کے متعلق کوئی آیت نہ اتاری ۔مثال کے طور پر یہ نہیں ہوا کہ سب سے پہلے نماز کے متعلق تمام آیات نازل کر دی گئیں ، اس کے بعد جہاد کے متعلق اور پھر اس کے بعد سود ( وغیرہ ) کے متعلق تمام احکامات دے دیے گئے، بلکہ ایسا ہوا کہ ایک موضوع کے متعلق حکم کے بعد کسی دوسرے موضوع کے متعلق آیات نازل کی گئیں، اس طرح ایک ہی موضوع کے متعلق احکام ، دیگر موضوعات کے متوازی ، ارتقائی منازل طے کرتے رہے ۔ موضوعاتی احکامات کی اس ترتیب سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی سماج کی تشکیل ، تبدیلی اور ارتقا کے پیچھے کوئی ایک عامل کارفرما نہیں ہوتا ، بلکہ کئی عوامل بیک وقت اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس لیے قرآن مجید کے نزول کے وقت بھی کسی ایک عامل کے متعلق تمام احکام کے بجائے مختلف النوع عوامل کے متعلق متفرق احکامات نازل ہوتے رہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نزولِ قرآن کے وقت موضوعاتی ارتقا کی مذکورہ ترتیب ، قرآن مجید کے وحدتی رجحان پر دال ہے ۔ یہی وحدتی رجحان ، قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں بھی جھلملا رہا ہے ۔
جس مذہبی حلقے کے نزدیک قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں’’ نظم ‘‘موجود ہے اس کے مطابق اسی نظم کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآن مجید کا فہم ممکن ہے اور اس سے اصول بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن مجید کی حتمی ترتیب کے نظم سے ایسے اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں جو کسی سماج ( بلکہ ہر سماج ) کے تقاضوں کو نبھانے پر قادر ہوں تو پھر قرآن مجید اسی ترتیب سے نازل کیوں نہیں کیا گیا ؟ آخر قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں ایسا کون سا عجیب و غریب نظم پنہاں ہے جو ہر دور کے لیے اصول اخذ کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے لیکن عہدِ نبوی ﷺ میں یہ ایسے اصول فراہم کرنے سے قاصر تھا ؟ اور اسی لیے نزولی ترتیب اور حتمی ترتیب میں فرق روا رکھا گیا ؟حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں اول تو ایسا نظم موجود ہی نہیں ،( نزولی ترتیب میں ایسا نظم موجود ہے، کیونکہ اس کے پیچھے ایک زندہ سماج موجود تھا ) ، لیکن ایسا نظم اگر طوعاً و کرہاً ، حتمی ترتیب سے منسوب بھی کر دیا جائے تب بھی اس نظم سے ایسے اصول اخذ نہیں کیے جاسکتے جو ایک زندہ سماج کے تقاضوں سے نمٹنے پر قادر ہوں ۔ درحقیقت کسی زندہ سماج کے تناظر میں ہی نظم تشکیل پاتا ہے اور زندہ سماج کہیں پڑاؤ نہیں ڈالتا ، بلکہ اس کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے ۔ اس لیے ایک مستقل سماجی تقاضے کے پیشِ نظر ، نزولی ترتیب میں موجود نظم کو تغیر آشنا کرنے کے لیے قرآن مجید کی حتمی ترتیب کا اجرا کیا گیا ۔
قرآن مجید کی موضوعاتی اور حتمی ترتیب
بعض اہلِ علم نے فہمِ قرآن کے سلسلے میں قرآن مجید کو موضوع وار ترتیب دیا ہے۔ اگرچہ ایسے طریقہ کار کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ، لیکن اس سے قرآن مجید کی حتمی ترتیب کی حکمت کا مکمل احاطہ نہیں ہوتا ۔یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عہدِ نبوی ﷺ میں قرآن مجید کی نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب کو اپنایا گیا تو اسے موضوعاتی اعتبار سے ترتیب کیوں نہ دیا گیا ؟ آخر موضوعاتی بکھراؤ میں اللہ رب العزت نے کیا حکمت رکھی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ :
(۱) قرآنی موضوعات کا انتخاب بنفسہٖ کسی شخص، کسی ادارے، کسی زمانے، کسی علاقے، کسی ثقافت یا دیگر عوامل سے اثر پذیر ہونے کے سبب ، حتمی کے بجائے اضافی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یوں ، موضوعاتی بکھراؤ ، موضوعاتی چناؤ کے لحاظ سے تنوع کا باعث بنتا ہے ، یہ تنوع قرآنی امکانات کا اشاریہ بن کر قرآن کے آفاقی پہلوؤں کا گواہ بن جاتا ہے ۔
(۲) اگر قرآن مجید کی حتمی ترتیب کے بجائے موضوعاتی ترتیب ہوتی ، تو قاری کسی موضوع کی تلاوت کرکے اسی موضوع کے سیاق میں قرآنی حکمت دریافت کرنے کی کوشش کرتا ۔ ایسی کوشش پورے قرآنی سیاق سے محرومی کے باعث ، قرآنی منشا تک رسائی کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہ ہو سکتی ۔ لیکن قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں ایک ہی موضوع سے متعلق آیات کے درمیان والی آیات موضوع کے مکمل ادراک کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے وحدتی رجحان کو موضوع میں سمونے کا سبب بنتی ہیں ۔ یہ وحدتی رجحان ، ایک موضوع کا دیگر موضوعات سے ربط و تعلق قائم کرکے فہمِ قرآن کا بنیادی تقاضا پورا کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر جہاد و قتال سے متعلق آیات کو اگر کتاب الجہاد کے عنوان سے ایک الگ باب میں جمع کر دیا جائے اور فقط انھی آیات کو پیشِ نظر رکھ کر جہاد وقتال کے متعلق احکام اخذ کیے جائیں تو پورے قرآنی سیاق سے غفلت کے باعث بھٹکنے کا احتمال موجود رہے گا ،کیونکہ قرآن مجید کا وحدتی رجحان ایسی تخصیص کی نفی کرتا ہے ۔ لیکن بر عکس صورت میں جہادوقتال کے قرآنی احکامات ان تمام پہلوؤں سمیت سامنے آ سکیں گے جس حد تک بشر ی استعداد میں ممکن ہے ۔
فقہ اور قرآن مجید کی حتمی ترتیب
اگر قرآن مجید کی حتمی ترتیب کی حکمت کو ذہن میں رکھتے ہوئے فقہ کی مسلم روایت پر نظر ڈالی جائے تو کئی سوالات پیداہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کی سطروں میں واضح کیا، نزولی ترتیب کے بجائے حتمی ترتیب کا اجرا ، قرآن کو نزولِ قرآن کے خاص سیاق سے الگ کرنے کی علامت بنتا ہے اور یہ کہ وہ خاص سیاق ، ایک خاص ثقافت خاص علاقے اور خاص زمانے کے ارد گرد گھومتا ہے ۔ اگر فقہ ، قرآن و سنت کے ایسے فہم پر موقوف ہے جس کی بنت و بافت اسی زمین پر ایک خاص علاقے ایک خاص زمانے اور ایک خاص ثقافت میں ہوئی ہے تو پھر کسی خاص زمانے، خاص علاقے اور خاص ثقافت کی فقہ ، ہر زمانے، ہر علاقے اور ہر ثقافت کے تقاضوں کو کیونکر محیط ہو سکتی ہے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ فقہ کسی خاص ثقافتی سیاق میں ہی ترتیب پاتی ہے۔ چونکہ یہ خاص ثقافتی سیاق ، اپنی اصل میں اضافی ہے ، اس لیے فقہ بھی اضافی ٹھہرتی ہے ۔ جہاں تک قرآن و سنت کا تعلق ہے، وہ اپنی جگہ پر بطور اسلامی علمی روایت مستقلاً موجود رہتے ہیں ، صرف ان کا خاص ثقافتی فہم ہی مرورِ ایام کے ساتھ ، امدادی اور اضافی ہوتا چلا جاتا ہے ، اگرچہ کسی خاص وقت تک سماجی تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے باعث یہ خاص ثقافتی فہم ، قرآن و سنت کی تعبیر بن کر تہذیب اسلامی کی شناخت بنتا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ آئمہ اربعہ کی خدمات اسی دائرے میں آتی ہیں ۔
اگر ائمہ اربعہ کی خدمات کی انسانی محدودیتوں کو نظر انداز کر دیا جائے جائے اور اصرار کیا جائے کہ ان کے اخذ کردہ اصول، قرآن و سنت کی تعبیر اور ان کی فقہی آرا حتمی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئمہ اربعہ نے قرآن و سنت کی ایسی ’’اصولی اور معروضی تعبیر ‘‘ کر دی ہے جس کی معنویت قرآن و سنت کے متوازی ، ان کے امکانات پر محیط اور ہمیشگی کی حامل ہو؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ دور جس میں فقہ ترتیب دی گئی ، دورِ نبوی ﷺ سے زیادہ اہم اور مقدس ہے ، کیونکہ ایسی ہی کسی حتمی تعبیر سے گریز کی خاطر قرآن کو اس کے نزول کے خاص سیاق سے الگ کیا گیا تھا ۔ اگر مذکورہ سوال کا جواب نفی میں ہے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آئمہ اربعہ بشر تھے ، سماج میں رہتے تھے اور ان کی ذہنی ساخت کی تشکیل میں ان کے ہم عصر مخصوص ثقافتی ماحول کا بہت عمل دخل تھا ۔ اس لیے ان کی تعبیروتشریح ، ان کے زمانے علاقے اور خاص ثقافت کی انعکاس ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک خاص دور میں ائمہ اربعہ کی سماجی مقبولیت خود اس بات کی آئینہ دار ہے کہ ائمہ اربعہ سماجی مقتضیات سے بخوبی آگاہ تھے ، اپنے وقت کے زمانی احوال اور ثقافتی متغیرات پر ان کی گہری نظر تھی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ائمہ اربعہ سماجی تقاضوں سے مکمل غافل رہ کر ایسی فقہ ترتیب نہیں دے سکتے تھے جو اسلامی علمی روایت کی زندہ علامت بن کر تہذیبِ اسلامی کے تسلسل کو برقرار رکھ سکتی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب فقہ کی مسلم روایت ، اپنے مخصوص ثقافتی سیاق کے باعث ، اسلامی علمی روایت کی نمائندگی کے منصب سے دستبردار ہو کر اضافی سطح پر آچکی ہے اور اپنی عملی افادیت کھو بیٹھی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے ماحول کا گہرا مطالعہ کیا جائے اور ماضی کی فقہی روایت کو امدادی حیثیت میں لیتے ہوئے قرآن و سنت کی تعبیروتشریح آج کے ثقافتی متغیرات اور سماجی مقتضیات کے تناظر میں کی جائے کہ ایسی زندہ علمی روایت ہی تہذیبِ اسلامی کے تسلسل کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے ۔
قرآن مجید کی حتمی ترتیب سے ماخوذ ایک بنیادی اصول
اگر ہم تہذیبِ اسلامی کا تعلق مردہ علمی روایت کے بجائے زندہ علمی روایت سے قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہم عصر ماحول سے مکمل باخبری اور واقفیت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی حتمی ترتیب میں پنہاں ایک بنیادی اصول کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاصر ثقافتی سیاق میں اس اصول کی آمیزش سے نہ صرف پیچیدہ مسائل سے بطریقِ احسن نمٹا جا سکتا ہے بلکہ قرآن مجید کی حتمی ترتیب کی معنویت مزید اجاگر ہوسکتی ہے ۔
ابھی تک یہ اصول مسلمہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک ہی موضوع پر قرآنی احکامات ، اپنی نزولی ترتیب کے اعتبار سے جن مراحل سے گزرے ہیں ، وہ مراحل بعینہ ، مستقل نوعیت کے حامل ہیں اور ایک ہی موضوع پر آخری حکم ، حتمی حکم کا درجہ رکھتا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ اصول اتنا درست نہیں ہے جتنا سمجھا جا تا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی حتمی ترتیب نے نزولی ترتیب کے احکامات کا ’’ ارتقائی نظم ‘‘ گڈ مڈ کر دیا ہے۔ اب حتمی ترتیب میں ایک ہی موضوع پر احکامات ، اس ترتیب کے ساتھ نہیں پائے جاتے جس ترتیب کے ساتھ یہ نازل ہوئے تھے ۔ نزول کے وقت چونکہ وہ خاص سماج مخاطب تھا ، اس لیے اس کے مخصوص تقاضوں کے مطابق ایک خاص ترتیب کے ساتھ احکامات نازل ہوئے اور بتدریج آخری حکم دے دیا گیا ۔ بعد میں نزولی ترتیب کے خاتمے اور حتمی ترتیب کے اجرا سے ، ارتقا و تدریج کے اس اصول کو بھی خیر باد کہہ دیا گیا۔ جیسا کہ اوپر کی سطروں میں ذکر ہوا، حتمی ترتیب میں ارتقا کے بجائے وحدتی رجحان دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وحدتی رجحان اپنے موضوعاتی بکھراؤ کے جلو میں ایک ہی موضوع کے متعلق مختلف احکامات کو ارتقاوتدریج کے بجائے نئے زمانی احوال ، سماجی مقتضیات اور ثقافتی متغیرات کے حوالے سے دیکھتا ہے ۔ اس کاایک مطلب یہ ہے کہ کسی موضوع پر کوئی آخری حکم ، سابقہ احکامات کی تنسیخ نہیں کرتا ، کیونکہ قرآن کی حتمی ترتیب کے مطابق کسی حکم کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آخری حکم ہے۔ آخری حکم نزولی ترتیب کے ساتھ منسلک ہے جبکہ ہم حتمی ترتیب کے مکلف ہیں ۔ قرآن مجید کی حتمی ترتیب سے ماخوذ اس اصول کے تحت ممکن ہے کہ :
(۱) ایک ہی موضوع سے متعلق تمام احکامات کی ارتقائی درجہ بندی کے بجائے نئے زمانی احوال ، سماجی مقتضیات اور ثقافتی متغیرات کے تناظر میں ترجیحی درجہ بندی کر لی جائے ۔
(۲) ترجیحی درجہ بندی میں ایک ہی موضوع سے متعلق تمام احکامات میں سے کوئی ایک حکم بھی منسوخ نہ کیا جائے ۔ ایک ہی موضوع کے ہر حکم کا اپنا محل تسلیم کیا جائے ، جس کا سماج میں نفاذ ، اس موضوع کے علاوہ دیگر موضوعات کی بابت سماجی مقتضیات کے پیشِ نظر کیا جائے ۔
(۳) ترجیحی درجہ بندی میں ہر حکم کا اپنا محل تسلیم کرنے کے علاوہ ،ایک ہی موضوع کے تمام احکامات کی مجموعی منشا کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ در حقیقت اسی مجموعی منشا کا حصول ، ترجیحی درجہ بندی کے جواز کو تقویت دیتا ہے اور اس مجموعی منشا کے حصول کی خاطر ہی احکامات کی درجہ بندی میں ترجیحات کے لحاظ سے ردو بدل بھی کیا جا سکتا ہے ۔
(۴) ایک ہی موضوع پر تمام احکامات کی مجموعی منشا کے حصول میں قرآن مجید کے وحدتی رجحان یعنی قرآنی سیاق سے بھی غفلت نہ برتی جائے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک قرآن مجید کی حتمی ترتیب کا اجرا نہیں ہوا تھا اس وقت تک مذکورہ اصول سے واقفیت اور اس سے اخذ واستنباط بھی ممکن نہیں تھا ۔ لیکن جب قرآن مجید کی حتمی ترتیب کا اجرا ہو گیا تو یہ اجرا اپنی ذات میں خود اس بات کا شاہد بن گیا کہ عہدِ نبوی ﷺ کا مسلم سماج تغیر آشنا ہو گیا ہے اور چونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر نیا سماج اپنے پیش رو سماج جیسے مراحل سے اور اسی ترتیب سے گزرے ، اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ پیش رو سماج کی بابت جو احکامات بتدریج نازل ہوئے ہوں یا اپنائے گئے ہوں، وہ اسی ترتیب کے ساتھ جانشین سماج کے لیے لازم قرار دیے جائیں ۔ نبی خاتم ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ اور صحابہ کرامؓ کے ادوار میں مسلمانوں کی عسکری فتوحات کے ساتھ ہی نبوی ﷺ عہد کی اسلامی تہذیب ، اپنے مخصوص ثقافتی سیاق سے نکل کر نئے زمانی احوال ، سماجی مقتضیات اور ثقافتی متغیرات سے ہم کنار ہوئی ، اس لیے ان ادوار کے سنجیدہ مطالعے سے ایسے نظائر و شواہد دستیاب ہو سکتے ہیں جو مذکورہ اصول کی اسلامیت اور افادیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر سکیں ۔ اس سلسلے میں ایک مثال یہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ، قحط کی وجہ سے ، ہاتھ کاٹنے کی حد ساقط قرار دی تھی ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت عمر فاروقؓ نے محض ایک خارجی مظہر سے دب کر ایک حد کو ساقط قرار دے دیا ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا سمجھنا قرینِ قیاس نہیں ہے ۔ حضرت عمرؓ کسی خارجی مظہر سے دب کر ایک صریح حد کو ساقط قرار نہیں دے سکتے تھے۔ قرینِ قیاس یہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے قحط کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی حد کو ساقط قرار دیتے وقت ، قرآن مجید کے وحدتی رجحان ( یعنی ایک حکم کو پورے قرآنی سیاق میں سمجھنا ) کو پیشِ نظر رکھا ۔ اگر غور کیاجائے تو فاروقِ اعظمؓ کا یہ فیصلہ ہمارے اخذ کردہ مذکورہ بالا اصول سے بھی ایک قدم بڑھ کر ہے ، کیونکہ انھوں نے احکامات کی ترجیحی درجہ بندی کرکے بر محل حکم کے نفاذ کے بجائے قرآن مجید کے محض وحدتی رجحان سے استفادہ کیا۔
یہاں پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ فاروقِ اعظمؓ کا یہ فیصلہ استثنائی، ہنگامی اور عارضی نوعیت کا تھا جسے ہم خوامخواہ پھیلا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہم گزارش کریں گے کہ فاروقِ اعظمؓ نے یہ فیصلہ ایک ایسے خارجی مظہر ( قحط ) کے پیدا کردہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا تھا جو اپنی نوعیت میں عشروں اور صدیوں پر محیط نہیں ہوتا ۔ جس حد تک اس مظہر ( قحط ) کے مسائل پھیلے ہوئے تھے ، اسی حد تک ایک استثنائی و ہنگامی حکم بھی جاری کر دیا گیا اور وہ بھی قرآن مجید کے وحدتی رجحان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جاری کیا گیا ۔ لہٰذا ایسے مظاہر جو اپنی نوعیت میں برسوں نہیں ، بلکہ کئی عشروں اور کئی صدیوں پر محیط ہوتے ہیں (سماجی، ثقافتی وغیرہ وغیرہ ) ان کے پیدا کردہ مسائل کو حل کرنے کے لیے استثنائی و ہنگامی حکم نہیں بلکہ اصولی حکم جاری کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ نئے زمانی احوال ، سماجی مقتضیات اور ثقافتی متغیرات کا حقیقت پسندانہ سامنا کرنے کے لیے ، کسی موضوع پر قرآنی احکامات کی ترجیحی درجہ بندی کر کے ، پورے قرآنی سیاق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ، برمحل حکم کا نفاذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر قرآنی حکم ، اصولی حکم ہوتا ہے۔
حرفِ آخر
اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ سیاسی و معاشی میدانوں میں مسلمانوں کی موجودہ بد حالی درحقیقت مسلم تہذیبی زوال کا منطقی نتیجہ ہے اور تہذیبی زوال کی تہہ میں ایک علمی روایت سے ایسی غیر مشروط وابستگی موجود ہے جس پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اسلامی علمی روایت اور مسلم علمی روایت میں فرق نہیں کیا جاتا ۔ تہذیبِ اسلامی کا وہ طبقہ ، جو اپنے تئیں اسلام کا صحیح نمائندہ ہے ، مسلم علمی روایت کو ہی اسلامی علمی روایت سمجھنے پر مصر ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی و معاشی میدانوں میں مسلمانوں کی ترقی و خوش حالی کے لیے زوال پذیر تہذیبی رویے کی اصلاح انتہائی ناگزیر ہے اور یہ اصلاح ، مردہ علمی روایت کو چیلنج کیے بغیر نا ممکن ہے ۔صحیح احادیث کے مطابق قرآن مجید کی نزولی ترتیب کو بدل دیا گیا تھا ، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سنتِ رسول اللہ ﷺ میں پوشیدہ حکمت کو تلاش کیا جائے اور اس حکمت کے مطابق اسلامی علمی روایت ( قرآن و سنت ) سے براہ راست تعلق قائم کیا جائے ،زوال پذیر تہذیبِ اسلامی کی پشت پر موجود مسلم علمی روایت کو اساسی و بنیادی حیثیت دینے کے بجائے امدادی و اضافی حیثیت میں لیا جائے ۔ قرآن مجید کی حتمی ترتیب کی حکمت کے مطابق، آج کے زندہ سماج کے تقاضوں اور ثقافتی متغیرات کے تناظر میں ، اصولِ تفسیر اور اصولِ فقہ پر نظر ثانی کر کے ایسی زندہ مسلم علمی روایت قائم کی جائے جواسلامی علمی روایت ( قرآن و سنت ) کی نمائندہ بن کر ہماری زوال پذیر تہذیب کو عروج آشنا کر سکے۔
اچھے استاد کے نمایاں اوصاف
پروفیسر شیخ عبد الرشید
لگ بھگ ڈیڑھ ہزار سال قبل افلاطون نے کہاتھا کہ بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے بہترین نظام تعلیم ضروری ہے، لیکن دوسری طر ف کسی بھی معاشرے کاتعلیمی نظام اس معاشرے کے مجموعی ثقافتی معیار سے مشروط ہے، چنانچہ مختلف معاشروں کے ثقافتی معیار کے مطالعے کے بعد ممتاز مورخ ایچ۔ جی ویلز یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ ’’انسانی تاریخ، تعلیم اور تباہی کے مابین روز بروز ایک دوڑ بنتی جارہی ہے۔‘‘
کسی بھی نظام تعلیم میں خود تعلیم کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور نصاب تعلیم اس نظام کے مقاصد کی تکمیل کاتحریری ذریعہ ہوتاہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ متعلم کی شخصیت پر سب سے قوی اور فوری اثر نہ نظام تعلیم کا مرتب ہوتاہے اور نہ اسس نصاب کا۔ اس جادو کاسرچشمہ استاد کی ذات ہے۔ کوئی بھی انسان بالخصوص نوخیز انسان جس قدر گہرا اثر خود انسان سے قبول کرتاہے، ایسا اثر وہ کسی اور ذریعے سے قبول نہیں کرتا اور انسانوں میں متاثر کرنے کا کام شعوری طور پر استاد ہی انجام دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ اور متحرک معاشرے استاد کو ایک ممتاز اور محترم فرد تصور کرتے ہیں۔مسلم معاشرے میں استاد نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔ قدیم یونان اور چین میں تو استاد کی گویا پوجا ہوتی تھی۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے بعد سے استاد مغربی معاشروں میں بھی بڑی قدر ومنزلت کا حامل ہوگیا۔ جرمنی میں بھی استاد کی بے حد تکریم ہے۔ استاد ہر کہیں واجب الاحترام ہے۔ اس کے کام اور مرتبے کا ہرکوئی معترف ہے، مگر اس کے رتبے کی پہچان اگر کہیں کم ہے تو وہ ہماراملک ہے۔
استاد کی تحقیرسامراجی حکمت عملی کا اہم جز وتھی، مگر قیام پاکستان کے بعدبھی ہماری سیاسی قیادت ودانش کو نہ فرصت ملی اور نہ توفیق نصیب ہوئی کہ معماران قوم کو بھی کوئی مقام دیاجائے۔ چنانچہ استاد کو بے مقام کرکے ہم خود بحیثیت قوم بے وقار ہوکر رہ گئے ہیں۔ قوم اور حکمرانوں کا رویہ اپنی جگہ، مگر استاد کی بدحالی اور تذلیل کی اصل وجہ خود ہمارا استاد ثابت ہوا۔ اس نے اپنے خلاف ہونے والی تقریباً دو سو سالہ سازش کو اس کے صحیح تناظر میں نہیں دیکھا۔ اگر دیکھا تو اسے سنجیدگی کا مستحق خیال نہیں کیا جو اس کے لیے ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ کاسبب بن سکتی۔ حالات نے استاد کو اس کے مقام سے ناآشنا کرنا چاہا تو وہ خود اپنے مقام سے بیگانہ ہوگیا اور اب تو ایسا لگتاہے کہ اسے خود آشنائی کے لیے بھی کافی وقت درکار ہوگا۔
استاد کے معاشرتی مرتبے کی بحالی کے لیے تعلیم وتدریس کے میدان میں اچھے اور برے یا کامیاب اور ناکام استاد کا ایک واضح تصور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ اچھے استاد کے لیے ترقی کرنے اور اپنی پوری قامت کو پہنچنے کے معیار اور ضوابط مقرر کیے جائیں۔ ایک طرف تو تعلیمی پالیسی سازوں کو اساتذہ کی شرائط ملازمت،ان کی سہولتوں اور مراعات، ترقی اور اعزاز کے معاملات کے حوالے سے موثر اور مثبت اقدامات اٹھانے ہیں تو دوسری طرف استاد کو بھی خود آگاہ اور مقام آشنا ہونا ہوگا۔ لازم ہے کہ استاد خود بھی محاسبہ کریں کہ کیا وہ خود اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے صحیح معنوں میں عہدہ برآ ہورہے ہیں۔
ہم یہاں مختصراً اچھے استاد کی چند خصوصیات کا تذکرہ کریں گے جنہیں دیکھ کر استاد خود اندازہ لگا سکتاہے کہ کیا وہ استادہے یا نظام تعلیم کا ایک بیکار پرزہ؟ اس حوالے سے ہمارے پاس ایک کامل راہنمائی معلم انسانیت حضرت محمد ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے جو سب کے سب معلم تھے۔ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۱۵۱ کی روشنی میں دیکھیں تو واضح ہوتاہے کہ معلم کاسب سے بڑا منصب تدریس ہے، کیونکہ اس نے لوگوں کو کتاب کی علمی وضاحتیں دینی ہوتی ہیں، حکمت سکھانا ہوتی ہے۔ حکمت دراصل اسی کتاب کو لوگوں پر applyکرنے کانام ہے۔ یہ کتاب کی عملی شکل ہے۔ پھر تزکیہ نفس کرناہے۔حضورﷺ نے فرمایا کہ’’مجھے معلم اخلاق بنا کر بھیجا گیاہے‘‘۔ تعمیر کردار کے لیے معلم سمعی اور بصری دونوں صورتوں کو استعمال میں لاتاہے۔ اچھی تدریس کی اولین شرط یہ ہے کہ استاد مطمئن ہو اور اس کی عزت نفس محفوظ ہو۔ تعلیم محض نصابی کتابیں پڑھانے اور طالب علموں کے ذہنوں میں بعض معلومات جاگزیں کرنے ہی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک تخلیقی عمل ہے جس میں استاد کی شخصیت، اس کا وقار، اس کی علمیت اور اس کا اپنے پیشے کے ساتھ آزادانہ شغف مرکزی اہمیت رکھتاہے۔استاد کو جب اور جہاں یہ احساس ہوا کہ وہ ایک حقیر ملازم ہے یا ایسے لوگ جو علم وذوق میں اس کے برابر نہیں، ا س پر حکمران ہیں، ا س کی روح فناہوجاتی ہے۔ عمل تدریس عزت نفس اور ایک خاص احساس ووقار یا احساس تفاخر کے بغیر ممکن نہیں ۔
درس وتدریس کے لیے سب سے اول چیز کتاب ہے۔ جو علم بھی آپ متعلم تک پہنچانا چاہتے ہیں، اس کتاب یا نصاب سے استاد کی گہری وابستگی اور اس سے پوری واقفیت لازم ہے۔ پیغمبرآخرالزمان ﷺ اپنی کتاب کو عملی صورت تھے۔ تعلیم وتدریس کا سارا عمل کتاب کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ جس قوم کے استاد اچھی اورعمدہ کتاب پیدا کرنے سے قاصر ہوں، وہ تعلیم وتدریس کے میدان میں پس ماندہ اور غیروں کی دستِ نگر ہوکررہ جاتی ہے۔استاد اصل میں صاحب کتاب ہوتاہے، کیونکہ کتاب زندگی کے حقائق کو جاننے اور اس جانکاری کو دوسروں تک پہنچانے کانام ہے تاکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ کتا ب علم کی حفاظت، ترسیل اورتوسیع کانام ہے۔ کتاب ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے پہلی نسلوں کی محنت وکاوش، دانش وبنیش اور حکمت وبصیرت نئی نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔لیکن جب یہ عمل رک جاتاہے تو اس کے نتیجے میں درحقیقت زندگی کاعمل رک جاتاہے۔ اچھی کتاب نہ لکھ سکنا محض کوتاہی نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ خود علمی کتابیں نہ لکھ پانا دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔استاد کسی قوم کی نظریاتی سرحدوں کامحافظ ہوتاہے مگر افسوس کہ آج کے استاد کو ٹیوشن کے سرطان نے اس قدر ناکارہ بنا دیا ہے کہ تحقیق وتحریر سے اس کاتعلق شرمناک حد تک کمزور ہوچکاہے۔
اچھے استاد کی دوسری اہم صفت غوروفکر ہے، کیونکہ سوچے اور غور کیے بغیر اور فکر کی نئی راہیں تراشے بغیرتدریس مہمل ہوجاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے قبل بھی غار حرا میں تشریف لے جاتے اور غور وفکرکرتے تھے۔ یہ کسی بھی معلم کے لیے لازمی ہے۔غور وفکر کے بغیر کسی نے زمانے کو کچھ نہیں دیا۔ عقل صرف تدبر وتفکر سے بڑھتی ہے۔ اس کے بغیر کوئی استاد اچھا استاد نہیں بن سکتا۔ معلم انسانیت کی زندگی کا یہ معمول تھا ۔اسی غور وفکر سے آپ ﷺ نے لوگوں سے ان دیکھے خدا کو تسلیم کروا کے زمانے کی تقدیر بدل دی۔ ہر اچھے استاد کے لیے اس سنت رسول کی اتباع ضروری ہے۔ بڑا استاد مسلسل تفکر ،تحقیق اور اشاعت میں مصروف عمل رہتاہے مگر آج ہمارا استاد ٹیوشن کے جبر میں کولہو کے بیل کی طرح جت گیا ہے۔ اب اس کے پاس غور وفکر اورمطالعہ کتا ب کے لیے وقت ہی نہیں۔
فکر وتدبر کے ساتھ کام کی لگن کے بغیر بھی اچھے استاد کا مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اکرم ﷺ کے ذمے جب پروردگار عالم نے کام لگایا تو پھر آپ نے پوری لگن سے کام کیا۔ شب وروز کی پروا نہیں کی۔ معاشی مجبوریوں، ذاتی خواہشات، بھوک اور دھوپ کونہیں دیکھا۔ مسائل ووسائل کی شکایت نہ کی، یہاں تک کہ سفر طائف کے موقع پر حضرت زید بن حارثہؓ کو ہمراہ پیدل گئے، نہ کہ مشن کی تکمیل کے لیے وسائل کے حصول تک کام روک دیا۔ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کے رسول ﷺ کویہ علم ہوا ہو کہ فلاں شخص اللہ کی بات سننا چاہتاہے اور آپ ﷺنے اسے کل پر ٹال دیاہو۔ چنانچہ اچھے استاد کے لیے ضروری ہے کہ اس میں لگن یعنیDevotionہو۔
لگن کے بغیر استقامت بے ثمر رہتی ہے۔ چنانچہ استاد کے لیے استقامت واستحکام کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ آج رویہ کچھ اور ہے اور کل کچھ اور ہے۔ آج آپ کے علم کے بڑے متلاشی اور ہر لمحہ مصروف عمل ہیں، مگر پھر سال سال بھر کتا ب کوہاتھ نہیں لگاتے۔معلم ہونا پیغمبروں کا منصب ہے۔ رب العزت نے سب سے زیادہ عزت ،احترام اور توقیر اہل علم کودی ہے۔اسوہ حسنہ پرنظر ڈالیں تو عیاں ہوگا کہ حالات نے آپﷺ کو مشن سے روکنے کے لیے کتنا جبر کیا، دباؤ ڈالا، پریشان کیامگر آپ کے پائے استقامت میں ذرا لغزش نہیں آئی۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر تم میرے ایک ہاتھ پر چاند اوردوسرے ہاتھ پر سورج لاکر رکھ دو تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں آؤں گا‘‘۔ یہ استحکام واستقامت کاعمل ہے۔
اچھا استادہونے کے لیے ایک خوبی یہ ہے کہ آپ کو time managment آتی ہو۔ دنیا میں اسوہ حسنہ کے علاوہ کہیں یہ مثال نہیں ملتی کہ اتنے کم وقت میں کسی نے اتنی بڑی تبدیلی لائی ہو۔ آپﷺ نےtime کو manageکیا، انرجی کو manageکیا، human resources کو manage کیا۔ چنانچہ اچھا استاد بننے کے خواہش مندوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ وقت کے استعمال کی صلاحیت پیدا کریں۔ وقت کو ضائع کیے بغیر ہی کم وقت میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہاہے کہ اگر آپtime managmentنہیں جانتے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے رسول ﷺکی حیات مبارکہ سے آپ کچھ نہیں سیکھا۔جی ہاں،ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھائے بغیر آپ علم نہیں بانٹ سکتے، اچھے استاد نہیں بن سکتے کیونکہ اس طرح آپ کی ترجیحات ضائع ہوجاتی ہیں ۔
اچھے استاد کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ متعلم کی صلاحیتوں کا ادراک حاصل کرنے کے بعد اس کے ٹیلنٹ کو مثبت انداز میں اجاگر کرے۔ استاد اپنے طالب علم کی ضرورتوں کاتعین کرے اور پھر جہاں ہے، وہاں سے مطلوبہ تعلیمی حاصل تک پہنچنے میں اس کی مدد کرے۔ استاد متعلمین کے تنوع کو ملحوظ رکھ کر، ان کے اکتساب کو تقویت دے کر، تعلیمی حاصلات کو مخصوص اطلاقات میں ڈھال کر اور تاحیات قابل استعمال تعلیمی مہارتوں کو ترتیب دے کر یہ مقصد حاصل کرتا ہے۔ اچھا استاد مثبت زاویے کا حامل ہوتاہے۔ سادہ الفاظ میں اچھا استاد اچھا مردم شناس ہوتاہے۔ وہ شخصیت کی نشوونما میں رکاوٹیں پیدا نہیں کرتا ۔وہ منفی فکر کاحامل نہیں ہوتا۔آنحضرت ﷺکی حیات طیبہ سے ظاہر ہوتاہے کہ مردم شناسی کی اسی صفت سے آپ نے دنیا کا سب سے بڑا معاشرتی انقلاب برپاکیا۔ وحشی وجنگلی معاشرے کو سنجیدہ، بردبار اور بااخلاق بنا دیا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوا کہ آپ نے کسی پر اعتراض کرنے کے بجائے اس کے جوہر خاص کو پروان چڑھایا۔ ہر فر د کے پوشیدہ ٹیلنٹ کو تبدیلی کے لیے استعمال کیا۔ حضرت انس بن مالکؓ دس سال آپ ﷺ کے خادم رہے۔ انہوں نے بھی برملا کہا ’’دس سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کے رسول ﷺنے کسی کام پر مجھے ڈانٹاہو۔ ‘‘ہر اچھے معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ منفی اپروچ کو ترک کرکے یہ دیکھے کہ متعلمین میں سے کس میں کیا خوبی ہے اور اس کو ابھارے ۔نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کی مثبت قوتیں ابھار کرہی ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل کی۔ سیرت طیبہ کی روشنی میں دیکھیں کہ مدینہ پہنچنے کے بعد آپ کی حیات مبارکہ غزوات کی نذر ہے، مگر تلواروں کے سائے تلے حضرت حسان بن ثابتؓ جیسے صحابی ؓ بھی موجود ہیں جنہوں نے کبھی تلوار کو ہاتھ نہیں لگایا، مگر رحمت للعالمین کی زبان مبارک سے کبھی نہ نکلا کہ حسانؓ تم تلوار نہیں اٹھاتے۔ بلکہ معلم انسانیت نے یہ دیکھا کہ حضرت حسانؓ میں شاعری کا جوہر موجود ہے تو اسے لوگوں میں جو ش وجذبہ پیدا کرنے، امید دلانے اور قوت ارادی بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ اچھے استاد کے لیے سیرت پاک سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ وہ مثبت انداز میں اپنے شاگردوں کے جو ہرتلاش کرکے انہیں جلا بخشے۔ استاد کو اس قابل ہونا چاہے کہ وہ نصاب کو متعلم کی حقیقی زندگی سے جوڑ کر اور معاشرتی معاملات کی آگاہی پیدا کرکے نصاب کے ساتھ بچوں کا انفرادی تعلق قائم کرے۔
ایک اچھے استاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حقائق کی باز آفرینی پر توجہ دینے کے بجائے مسئلہ حل کرنے کی مہارتیں پیدا کرنے پر زور دے۔ استاد کو جستجو کے عمل سے متعلق مہارتوں اورتعین قدر کے عمل سے متعلق مہارتوں کے ذریعے سے متعلم کی سرگرم شرکت کو فروغ دینا چاہیے۔
ایک اچھے استاد کی ایک اور نمایاں صفت جس کا اداراک ہمیں سیرت طیبہ ﷺ کے ذریعے سے بھی ہوتاہے، یہ ہے کہ معلم کو تکبر وامتیاز کا حامل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ ﷺنے کبھی امتیازی رویے کو نہیں اپنایا، نہ بیٹھنے کے لیے جگہ مخصوص کی، نہ لباس مخصوص، نہ خوراک مخصوص، نہ الگ تھلگ بیٹھنے کا طریقہ۔ ظاہر ہے جب تک استاد طلبہ سے گھلے ملے گا نہیں، اس کی ذہنی مطابقت نہیں ہوگی، ذہنی لگاؤ نہیں ہوگا تو مطلوبہ سطح پر مکالمہ بھی نہیں ہوسکے گا ۔بغیر گھلے ملے استاد صحیح معنوں میں علم مہیا نہیں کرسکتا۔ استاد کا متعلمین سے mixupہونا ضروری ہے۔ امتیاز علم دشمن رویہ ہے ۔
اچھا اور بڑا استاد خود اعتماد ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کو کامیابیوں کی کنجی سمجھا جاتاہے۔ ایک استاد اسی صورت میں کامیاب قوم کی تعمیر کرسکتاہے جب وہ اس میں خود اعتمادی بانٹ سکے، لیکن کچھ بانٹنے سے پہلے اس کا استاد کے پاس ہونا بھی ضروری ہے۔ پر اعتماد استاد کی زندگی ابہام سے پاک ہوتی ہے۔ آپ نے جو سیکھا ہے، اگر اس سے متعلق خود کنفیوژڈ ہیں تو پھر اپ اسے دوسروں کو بھی نہیں سکھا سکتے ۔
خود اعتماد استاد ہی طلبہ میں سوال کرنے کی جرات پیدا کرسکتاہے۔ سوال وجواب کی صلاحیتوں کو پیدا کیے بغیر کوئی قوم وقت کے تقاضوں کامقابلہ نہیں کرسکتی۔ سوال علم کی ماں ہے مگر صدا فسوس کہ آج سوال ہی ہم سے چھین لیاگیاہے۔ اس سے علم کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ سوال وجواب اللہ کے رسول اللہ ﷺ کا وصف تدریس تھا۔ نبی کریمﷺ وعظ فرمارہے ہوتے، جمعہ کا خطبہ دے رہے ہوتے تو لوگ کھڑے ہو کرسوال پوچھتے اور آپ جو اب دیتے۔آج سیکھنے سکھانے کے عمل میں ہم دوسروں کے دست نگر ہیں کیونکہ ہم سے سوال چھین لیاگیاہے ۔نالائق استاد سوال کو گستاخی سمجھتاہے حالانکہ یہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ مبارک تھا۔سوال کا مطلب ہے کہ اس میں متعلم کی طلب، توجہ اور مکمل حاضری شامل ہے۔
اچھا استاد اپنے شاگردوں کا’’ محبوب ‘‘ہوتاہے۔ استاد کا انداز حیات اور اس کی گفتار وکردار طالب علم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ استاد کی عادات، اظہار، اعتدال، عالی ظرفی، وقار ومتانت اور علم وتحقیق ہی اسے محبوب بنا سکتے ہیں۔ اگر استاد کی شخصیت میں محبوبیت کا فقدان ہو تووہ اچھا استاد نہیں بن سکتا۔ محبوب راہنما واستاد ہی تعلیم وتطہیر کافریضہ بحسن وخوبی ادا کرسکتاہے، چنانچہ استاد کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے postureکو، اپنے مزاج کو، اپنے ڈھنگ کو بھی متوازن رکھے۔
اچھا استاد وعدے کا پکا اورپاسدار ہوتاہے۔یہی چیز اسے لوگوں میں محترم بناتی ہے۔ وہ امین وصادق ہوکر ہی انقلاب کا داعی ہوسکتاہے۔ اگر استاد معاشرے میں معززنہ ہوگا تو اس کابانٹا ہوا علم تاثیر کا حامل نہ ہوگا۔ایک اچھا استاد غیبت کرنے والا، جھوٹ بولنے والا، دروغ گو، کھوکھلے دعوے کرنے والا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اپنے کردار کا محاسبہ کیے بغیر اچھا معلم نہیں بنا جاسکتا۔ بدکردار استاد معاشرے میں صلاح وفلاح پھیلانے کے بجائے فساداور مایوسی پھیلانے والا بن جائے گا۔ اچھا استاد ہمیشہ آسانیاں پیدا کرنے والااور علم کو خوشخبری کے انداز میں دینے والا ہوتاہے۔جب تک آپ طلبہ کی ضرورتوں کاخیال نہیں رکھیں گے، آپ بڑے معلم نہیں بن سکتے ۔استاد کو تبدیلی کا مقابلہ کرنے اور اس پر دسترس حاصل کرنے میں شاگردوں کی مدد کے قابل ہونا چاہیے۔ بلوغت اور بے روز گاری کے خلاف طلبہ کی تگ ودواساتذہ سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ انہیں کمانے، زندہ رہنے اورسماجی تحفظ کے مٹتے ہوئے گوشوں، نسلی ومذہبی تشدد، معلوماتی انقلاب یاسرمایہ دارانہ معاشروں میں موجو د طمع سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کرے۔
اچھا استاد ہمیشہ اچھا طالب علم رہتاہے۔ وہ ہمیشہ نئے علم اور نئی روشنی کو اپنانے والا ہوتا ہے۔ خندق کھودنا اہل فارس کاطریقہ تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے سے اسے اختیار کیا۔ ایک شخص آیا اور اس نے آپ ﷺ کو پاجامہ پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے پسند کیاحالانکہ عرب پاجامہ استعمال نہیں کرتے تھے۔ آپ نے یمن کی طرف بعض صحابہ کرامؓکو بھیجا کہ جاؤ اور قلعوں پر چڑھنے کی ترکیب سیکھ کر آؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے علاوہ دیگر علوم کو حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
بڑے استاد کی ایک اورمثالی صفت قوت برداشت ہے۔ وہ رد عمل ظاہر نہیں کرتا۔ استاد جتنا reactionary ہوگا، ہ علم میں اتنا ہی چھوٹا ہوگا ۔استاد اقدار کے تصادم سے نبردآزما ہوسکتاہے۔ اساتذہ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ غفلت کرنے والے بچوں کے ساتھ کس طرح کام کرنا ہے۔ غور کریں کہ لوگ مشرک ہیں، بتوں کو پوجتے ہیں، چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ فوری reactکرتا اور نافرمانوں کی گردنیں توڑ دیتا، مگر اللہ عالی ظرف ہے اس لیے اللہ کے رسول ﷺ نے کبھی reactنہیں کیا اور کسی سے ذاتی بدلہ نہیں لیا۔ شاگرد گستاخ ہوسکتاہے، مگر بڑا ستاذ عالی ظرف ہوتاہے۔ معاف اور درگزر کرنا ہی اس کے بڑے پن کا ثبوت ہے۔
مذکورہ بالا صفات وخصوصیات کے حامل اچھے استاد پید اکیے بغیر کوئی بھی نظام تعلیم اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر ایک طرف اساتذہ کی تربیت، ان کی مراعات اور باعزت مقام حکومت اور عوام کی ذمہ داری ہے تو دوسری طرف خود استاد پر بھی بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ آج مادی طمع وحرص کے شکار معاشرے میں استاد خود زمانے کی روکا شکار ہوکر معمار قوم کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ سرمایہ دارانہ نظام اور زوال پزیر معاشرے میں استاد کو پہلے خود آشنا ہوکر اپنی اصلاح کرنی ہے، اس کے بعد ہی وہ تعمیر کردار وسیرت کا فریضہ انجام د ے سکتاہے۔ استاد خود کوپیغمبروں کی میراث معلمی کے وارث کہتے ہیں، لہٰذا انہیں معلم انسانیت وفخر انسانیت کے اسوہ حسنہ سے راہنمائی حاصل کرکے اپنی کردار سازی کرنی ہے۔ پیغمبروں کا وارث ہونے کا دعوے دار استاد ہی اگر سیرت طیبہ کا پیروکار نہ ہو تو اس سے زیادہ نالائق اور کون ہوسکتا ہے۔
مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
مولانا مرحوم کی تفسیر ’تدبّر قرآن‘ کا حوالہ الفرقان میں باربار آیاہے۔مولانا کو والد مرحوم سے ایک قدیم تعلق تھا۔ عمر میں بھی دونوں کی بس ایک سال کا فرق تھا۔ تدبر کی پہلی ہی جلد نکلی تو مولانا کی طرف سے ہدیہ ہمارے ہاں آئی اور تہدیہ کے الفاظ تھے: ’’ہدیہ اخلاص بخدمت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب زاد لطفہ‘‘۔ پھر مزید جلدیں بھی آتی رہیں۔ راقم سطور کو الفرقان میں جو لکھنا لکھانا ہوتاتھا، جس کا سلسلہ ۱۹۵۳ء سے شروع ہوا، اس میں اکثر قرآنی آیات بھی کسی استدلال واستشہاد میں آتیں اور ضرورت ہوتی کہ آیت جس مفہوم کے ساتھ اپنے ذہن میں آئی ہے اس کی توثیق کسی تفسیر سے بھی کر لی جائے۔ اس عمل میں کہیں کہیں الجھاؤ بھی درپیش ہوجاتا یا تشنگی رہتی۔ مولانا کی تفسیر آئی تو ایسی ضرورت کے موقع پر اس کے استعمال سے یہ مرحلہ نسبتاً آسان ہونے لگا ۔حضرت والد ماجد کا سلسلہ درس قرآن بھی اس زمانہ میں چل رہاتھا۔ آپ سے بھی یہی احساس سننے میں آیا کہ بہت سے مشکل مقامات کی گرہ کشائی میں اس سے بڑی مدد ملی ہے۔ ادھر کئی سال سے ’محفل قرآن‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ فہم قرآن اس کم علم کے قلم سے بہت ڈرتے ڈرتے محض والد ماجد کی خواہش کے احترام میں چل رہاہے۔ اس سلسلہ میں بھی یہ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ مولانا اصلاحی کی کتاب نہ ملی ہوتی تو قرآنی مشکلات کے آگے اس سلسلہ کو جاری رکھنا شاید اس سے زیادہ ہمت طلب ہوتا جتنا اب تک ثابت ہوتارہا ۔ اور اس لیے اگر اس سلسلہ میں کچھ خیر ہے تو اس میں مولانا کا بھی حصہ ہے اور دعاہے کہ اللہ اس کے لیے مرحوم کو بہترین جزا دے۔ اسی کے ساتھ کتاب میں کچھ باتیں ایسی بھی نظر پڑتی رہیں کہ مولانا کی وفات پر جو تعزیتی سطور الفرقان میں لکھی گئیں، ان میں بھی ان کی کتاب کے بارے میں یہ لکھے بغیر نہیں رہا جاسکا کہ کاش فلاں فلاں قسم کی باتیں اس میں نہ ہوتیں،کہ اس کے نہایت مفید پہلووں سے استفادہ کا حلقہ وسیع تر ہوسکتا اور جو ’خذ ما صفا ودع ماکدر‘ کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لیے کوئی خطرہ اس میں نہ سمجھا جاتا۔
ان فلاں فلاں باتوں میں سے سب سے نمایاں بات مسئلہ رجم پر ظاہر کئے گئے خیالات ہیں جو سورہ نور کی آیت حد زنا کے ذیل میں آئے ہیں۔ اس مقام کو کئی بار پڑھا اور اس میں کوئی مضبوط استدلال نہ دیکھتے ہوئے یہ بات ایک معمہ بنی رہی کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے مولانا کو امت کے (بجز خوارج ) ایک مسلمہّ اور سنت رسول ﷺ وخلفائے راشدینؓ سے ثابت مسئلہ میں اشکال ہی نہیں، شدّومد سے اختلاف پر آماد ہ کیا؟ پھر لطیفہ یہ کہ اس اختلاف کا اظہار مولانا نے رجم کو رد کرنے کے عنوان سے نہیں بلکہ ان لوگوں کے مقابلے میں اسے ثابت کرنے کے عنوان سے کیا ہے جو قرآن سے اس کی دلیل مانگتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ رجم کے منکر نہیں، البتہ اس رجم کے قائل ہیں جو انہیں قرآن میں (سورہ مائدہ کی ایک آیت میں) ملتاہے اور سنت سے ثابت جس رجم کی بات کی جاتی ہے، مولانا اس کی اصل حقیقت بھی وہی ٹھہراتے ہیں جسے وہ قرآن میں پاتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں وہ عہد نبویﷺ کے ایک واقعہ رجم پر گفتگو کرتے ہوئے،جو ماعز اسلمیؓ کے نام سے آتاہے، جو شکل اس کی بیان کرتے ہیں، وہ ان کے خیال میں سورہ مائدہ کی آیت پر منطبق ہوجاتی ہے۔ رہیں اس سلسلہ کے کچھ اور واقعات کی روایتیں، ان کے بارے میں مولانا یہ فرما کر آگے بڑھ گئے ہیں کہ :’’آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں رجم کے ایک آدھ اور واقعات جو پیش آئے، ان کی تفصیلات روایات میں نہیں ملتیں ۔ .....اگر ان کے مقدمات کی صحیح نوعیت معلوم ہوسکتی تو ان شاء اللہ یہ بات واضح ہوجاتی کہ ان کے واقعات کی نوعیت بھی وہی ہے جو ماعز کے واقعہ کی ہے۔‘‘ (جلد چہارم، طبع اول)
رجم کا انکار تو تھا ہی، ماعز اسلمیؓ کے واقعہ کی جو نوعیت مولانا نے بیان فرمائی، وہ خود کچھ کم نرالی اور وحشت انگیز نہ تھی۔ پھر بغیر کسی متعین حوالہ کے مجرد یہ کہہ کر کہ ’’کتابوں میں جو روایات ملتی ہیں ان میں .....‘‘ حالانکہ اس واقعہ کی متعدد روایات حدیث میں سے کسی بھی اس طرح کی بات کا، جو مولانا بے نام کی کتابوں کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں، کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔
یہ بحث تدبرقرآ ن کی چوتھی جلد میں آئی ہے جو ۱۹۷۶ء میں نکلی۔ یہ وہ سال تھا کہ اسی میں راقم کا آب ودانہ لکھنو سے لندن منتقل ہوا۔ یعنی یہ جلد جب لکھنو آئی ہوگی تو وہ زمانہ میرے لندن میں ہونے کا تھا۔یاد نہیں یہاں آکر کب میں نے تدبر کی جلدیں پاکستان سے منگوائیں اورکب رجم کے اس قصہ پر نظر پڑی۔ لیکن ایک بات ذہن میں اس معا ملہ کے حوالہ سے یہ پڑی رہی کہ مولانا نے حدیث کے میدان میں بھی کچھ خدمت کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے مزید تحقیقی گفتگو اس کے لیے اٹھا رکھی ہے۔ پس انتظار رہا کہ وہ دن آئے۔ پھر تفسیر کی تکمیل سے مولانا کی فراغت کے کچھ عرصہ بعد یہ بات علم میں آگئی کہ ’تدبر حدیث‘ کا بھی ایک سلسلہ مولانا نے شروع کر دیاہے ۔ مگر کوئی ایسا رابطہ مولانا یا ان کے حلقہ سے نہ رہتاتھا کہ رفتار کار یا تکمیل کا علم ہوتا۔ اب گزشتہ جنوری میں لکھنو جانا ہوا جہاں ایک اردو میلہ لگا ہوا تھا، ایک دن ادھر جانا ہوا تو ایک بک اسٹال پر مولانا کی کتاب ’تد بر حدیث‘ نظر آئی۔ یہ موطا امام مالکؒ کے منتخب ابواب کی تشریح پر مشتمل بتائی گئی تھی۔شوق سے اٹھا کے ورق گردانی کی کہ اس پر و ہ بحث بھی شاید آئی ہو ،اور وہ نکل آئی۔ کتاب ویسے ہی لینی ہی تھی، اب تو لازم ہوئی ۔مگر متعلقہ حصہ پڑھنے سے جو نتیجہ نکلا، اس کے لیے کوئی تعبیر ،بصد افسوس ،اس کے سوا نہیں ملتی کہ مولانا نے تو خود ہی اپنے اوپر حجت تمام کرلی۔
مسئلہ سے متعلق موطاکی تمام روایتیں اس کتاب میں آئی ہیں اور ان سے نہ تو ماعز اسلمیؓ کے بارے میں مولانا کے بیان کی ذرہ برابر تائید ہوتی ہے اور نہ اس خیال کی جو کہ عہد نبویﷺ میں پیش آنے والے دیگر واقعات رجم کی بابت مولانا نے ظاہر فرمایاتھا، بلکہ یہاں تمام تر مولانا کی تردید کا (نہیں، مولانا کی خیالات کی تصحیح کا) سامان ہے۔لیکن کوئی حد حیرت کی نہیں رہتی کہ مولاناان سب روایات سے بھی اپنے اسی خیال کے ساتھ باطمینان گزرتے چلے گئے ہیں !پھر یہ کتاب تصنیف نہیں بلکہ مولانا نے اپنے حلقہ تدبر قرآن وحدیث میں موطا کے درس کا سلسلہ قائم فرمایا تھا، یہ انہیں دروس پر مبنی کتاب ہے۔ تو کیا مولانا کے حلقہ درس کے ذہین وفطین اور نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بھی کوئی ایسا نہ تھا جو اس تناقض کو محسوس کرتا اور مولانا کو توجہ دلانے کی جرات کرجاتا؟ یا پھر اللہ کو یہ منظورتھا کہ خود مولانا ہی کے ذریعہ موطا جیسی معتبر کتاب کے حوالہ سے وہ روایتیں سامنے آجائیں جن سے رجم کی شرعی حقیقت میں مولانا کی تفسیر سے پیدا شدہ شکوک کا ازالہ ہو۔
تفصیل میں نہیں جانا، بس ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ’تدبر قرآن‘ سے استفادہ کیاہے یا کرتے ہیں، اتنا کہنا ہے کہ مولانا کا جو کہناوہاں یہ ہے کہ رجم کی سزا فقط ان عادی مجرموں کے لیے ہے ’’جو معاشرہ کی عزت وناموس کے لیے خطرہ بن جائیں‘‘ ورنہ عام زنا کی سزا فقط وہی سو کوڑے والی ہے‘ ’’قطع نظر اس کے کہ مرتکب جرم شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ‘‘، موطاکی تمام روایتیں اس سے اختلاف کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ماعز اسلمیؓ جن کی تصویر تدبر قرآن میں، اللہ مولانا کو معاف کرے، ایک ننگ ملت، ننگ دین ،عادی مجرم کے طور پر آئی ہے ،ان کے واقعہ کی روایت بھی اس تصویر کا شائبہ تو کیا دیتی، بالکل اس کے برعکس تصویر دکھاتی ہے۔ خود مولانا کے ترجمہ کا دیکھ لینا کافی ہے :
’’سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں آیا۔ اس نے کہا کہ گنہ گار بندہ کمینہ سے زنا کا گناہ صادر ہوا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کہ اس کا میرے سوا کسی اور سے بھی ذکر کیا ہے؟اس نے کہا نہیں ۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا، تو اللہ سے توبہ کر اور اللہ کے پردہ میں چھپ کہ اللہ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتاہے، لیکن اس کا دل اس پر نہ ٹھکا۔ پھر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی بات کہی جو حضرت ابوبکرؓ سے کہی تھی ۔حضرت عمرؓ نے بھی اس کو اسی طرح کا جواب دیا جو حضرت ابوبکرؓ نے دیا تھا ۔اس پر بھی اس کا دل نہ ٹھکا ۔یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میںآیا اور ان سے کہا کہ اس بندہ کمینہ نے زنا کیاہے۔سعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ۔تین مرتبہ اس نے کہا اور ہر مرتبہ حضورﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ۔جب وہ بہت مصر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر والوں کے پاس آدمی بھیجا اور پوچھا کہ یہ شخص مریض تو نہیں یا اس کو جنون تو نہیں؟ گھر والوں نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ یہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ یہ کنوارہ ہے یا شادی شدہ ؟لوگوں نے کہا کہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ نے حکم دیا تو اس کا رجم کردیا گیا ۔‘‘ (ص ۲۱۳)
اس کی بھی صراحت یہ روایت کررہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رجم کا حکم کرنے سے پہلے ان کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی تحقیق فرمائی۔ تو رجم کی بنیاد شادی شدہ ہونا ٹھیری اور گنہگار کی جو تصویر یہاں سامنے آرہی ہے، اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت کہاں۔ یہ موطا کی روایت نمبر ۲ ہے۔ آگے پانچویں نمبر کی روایت جس کا تعلق ایک ایسے کیس سے ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کی سزا مذکور ہوئی ہے، وہاں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے حکم کی تفریق اور کھل کر سامنے آتی ہے۔ مرد کو جو کنوارا جوان تھا، کوڑوں کی سزا ملی اور عورت جو شوہر والی تھی، اسے رجم کیا گیا ۔یہ عورت عادی مجرم تھی یا کچھ اور؟ اس کا فیصلہ روایت کے ترجمے کے یہ الفاظ کردیتے ہیں (جن کو پڑھنے سے یہ جان لینا چاہیے کہ یہ مقدمہ حضورﷺ کے پاس زانی کا باپ اور زانیہ کا شوہر لائے تھے) ’’آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں۔اگر وہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کریں ۔اس عورت نے اعتراف کیا اوررجم کردی گئی ۔‘‘(ص ۲۱۸)
موطا کی ان تمام ہی روایتوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی ایک سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ رجم کی سزا پانے والا خطا کار کوئی عادی قسم کا مجرم تھا۔ کئی ایک تو ان میں خود عورتیں نظر آرہی ہیں جن کے ناموس کے حوالہ سے کوئی مجرم معاشرہ کا عضوِ فاسد بنتاہے۔
’تدبر قرآن‘ تک بات دوسری تھی۔مولاناکو کسی غلط فہمی کے شبہے یا کسی خاص تاثر کے امکان کا فائدہ دے کر رہا جاسکتاتھا۔ اب اس ’تدبر حدیث‘ سے معاملہ کی جو صورت سامنے آتی ہے، وہ سنجیدگی سے تقاضاکرتی ہے کہ اس سبب کی تلاش کی جانی چاہیے جو مرحوم کو یہاں تک لیے چلا گیاہے۔اسلام پر مغرب کے حملوں سے خم کھانے والی کوئی شخصیت ہوتی تو سوچ لیا جاتا کہ یہ اسی مرعوبیت کا شاخسانہ ہے، مگر مولانا کی تفسیر کی آٹھ جلدوں میں کہیں، شاید کہیں بھی اس تاثر کی گنجایش نہیں ملتی،نہ ہی اس سوچ کی گنجایش اس تفسیر کے پڑھنے والے کو ملتی ہے کہ خدانخواستہ خوفِ خدا سے دل خالی رہاہو اور تفسیر کا مشغلہ کسی کج فکری کی خدمت کو اپنانا ہو۔ پھر یہ سنت ثابتہ سے معارضہ اوراس پر اصرار ،آخر کیاہے؟ اور یہ تلاش ایسے لوگوں کا کام ہے جو مولانا سے کافی قریب رہ کر مستفید ہوئے ہوں۔اس زمرہ کا سب سے نمایاں نام ’تدبر حدیث‘ کے مرتب خالد مسعود کا تھا ،مگر وہ اب اس دنیا میں نہیں۔ دوسرا ایسا نام ہمارے علم میں ڈاکٹر اسرار صاحب کا ہے اورتدبر قرآن کی متعلقہ جلد کی اولین اشاعت بھی انہیں کے ادارہ انجمن خدام القرآن لاہورسے ہوئی ہے،کیا وہ اس کام کی ضرورت سمجھیں گے؟ کاش کوئی عذر مولانا کے حق میں ہاتھ آجائے۔ (۱)
حاصل مطالعہ
یہاں تک جو کچھ لکھا گیا، وہ کچھ خوشگوار چیز نہ تھی۔ ہم نے مولانا کی تفسیر سے طالب علمانہ استفادہ کیاہے اوراسی باعث اس کتاب ’تدبر حدیث‘ کے حوالہ سے نہایت قدرِ ضرورت پر اکتفا کرتے ہوئے اور جو بہت کچھ کہنے کا تھا، اس سے بہ تقاضائے ادب اعراض کیاہے، مگر اس ناخوشگوار کام کے ضمن میں روایات موطا کے مطالعہ سے ایک اس چیز پر دماغ متنبہ ہوا ہے کہ وہی اس مطالعہ کا حاصل ٹھہرتی ہے۔پتہ چلا کہ وہ تمام مرد اور خواتین جن سے بہ تقاضائے بشریت یہ گناہ ہوگیا، ان میں سے کوئی ایک بھی کسی کی رپورٹ پر پکڑ کے نہیں لایا گیا تھا ،بلکہ بعض تو خود احساس گناہ سے مغلوب ہوکر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تھے تاکہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی پوری سزاپا کے آخرت کے مواخذہ کی طرف سے مطمئن ہوجائیں۔اور حاضری ہی لکھانے پر اکتفا ان میں سے کسی نے نہیں کیا تھا کہ پاک نہادی کا درہ جم جائے۔آنحضرت ﷺ شبہات کے پہلو نکال کر چھوڑ دینے کی کوشش فرماتے تھے اور یہ ہر شبہ کو رد کرکے ’’پھانسی ‘‘پانے پر اصرار کرتے تھے ۔کیا چیز اللہ اللہ نبوت محمدی میں تھی! کیا شان اس فیض نگاہ کے معجزات کی تھی! مگر کون ہم نام لیواؤں کا حال دیکھ کے یقین کرے گا کہ یہ ’’دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں‘‘ والا حال جو اس کے فیض یافتہ گنہگاروں کا بھی کتابوں میں آیا ہے، وہ حق ہے؟ اللھم صلی علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم تسلیما!
(۱) یہاں اس بات کا اظہار مناسب ہوگا کہ مولانا سے تعلق رکھنے والے ایک لاہوری دوست (مصطفی صادق صاحب ) نے دو تین سال پہلے لندن کی ایک ملاقات میں حضرت والد ماجد کے بارے میں بتایا کہ اس مسئلہ پر آپ کا بھی ایک خط مولانا اصلاحی کو پہنچا تھا ۔اس کا کوئی جواب مولانا اصلاحی نے دیا ہو ،اس کا علم ان کو نہ تھا ۔
(بشکریہ ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنؤ)
قورح، قارون: ایک بے محل بحث
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
(زیر نظر مضمون کے ساتھ اس سلسلہ بحث کو ختم کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
دسمبر ۲۰۰۵ ء کے ’الشریعہ‘ میں میرا ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کا مضمون ’’قرآن کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں‘‘ شائع ہو اتھا جس میں ضمناً قارون کو بائبل (توراۃ) کا قورح بتایا گیا تھا اور اس کے لیے کوئی حوالہ ضروری نہیں سمجھا گیا تھا، کیونکہ عصر حاضر کے متعدد مترجمین ومفسرین قرآن مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ اور عبد اللہ یوسف علی نے اپنی تفاسیر میں قارون کو بائبل کا قورح کہا ہے اور یہی عبدالوہاب النجار ازہری علما نے اپنی کتاب قصص الانبیاء میں لکھا ہے۔ (ص ۱۹۲) البتہ میں نے توراۃ کی کتاب ’’گنتی‘‘کے اصحاح ۱۶ کی نشان دہی صرف اس مقصد کے لیے کردی تھی کہ اس میں قورح کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ یاد رہے کہ اس اصحاح میں ۵۰ فقرے یا آیات ہیں،اور میں نے حوالے کے لیے کسی فقرے کی نشان دہی نہیں کی تھی۔ مقصود صرف یہ دکھانا تھا کہ قورح کا نام کتاب گنتی باب ۱۶ میں آیاہے۔
میرے اس مضمون کے مذکورہ بالا ضمنی نقطے (قارون بائبل کا قورح ہے) کے ردّ میں ایک صاحب (محمد یاسین عابد) کا مضمون ’’کیا بائبل کا قورح ہی قرآنی قارون ہے‘‘ الشریعہ کے فروری ۲۰۰۶ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ میں نے جواباً ایک مضمون ’’بائبل کا قورح ہی قرآن کا قارون ہے‘‘ (الشریعہ، مارچ۲۰۰۶ء) لکھنا ضروری سمجھا کیونکہ اس مضمون میں ایک طرف میر ی تشہیر تھی اور دوسری طرف مستند اور محترم علماے کرام اور مفسرین عظام کی تجہیل وتغلیط اور اپنی شہرت واظہار علم کا پہلو نمایاں تھا۔ اگر وہ یہ مضمون صرف مجھے بھیجتے تو قرآنی حکم کے مطابق ’..... قالوا سلاما‘ (الفرقان:۶۳) اور ’سلام علیکم ......‘ (القصص :۵۵) کہہ کر میں خاموش ہوجاتا یا اپنے نقطہ نظر کی توضیح ایک خط میں کردیتا۔
اگر یہ سلسلہ یہیں ختم ہوجاتاتو بہتر تھا، لیکن مذکورہ بالا مضمون نگار صاحب نے ایک اور تنقیدی وتردیدی مضمون ’’قورح ،قارون اور کتاب زبور‘‘ لکھ ڈالا جو الشریعہ کے شمارہ اپریل ۲۰۰۶ میں اشاعت پزیر ہوا جس کو پڑھ کربہت افسوس ہوا اور محسوس ہوا کہ یہ صاحب مناظرہ بازی کے شوقین اور مناظرہ بازوں کاانداز رکھتے ہیں، یعنی فریق مخالف کے الفاظ اور جملوں سے غلط استخراج معانی اور الفاظ کی غلط صورت گری کرکے اشتعال انگیزی ۔مولانا اسماعیل شہیدؒ اور بعد میں مولانا قاسم ناناتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کی عبارت کے ساتھ مناظرہ بازوں نے یہی کیاہے ۔
اس انداز بیان کی ایک جھلک موصوف کے شمارہ اپریل کے مضمون کے چند جملوں سے لگا ئی جاسکتی ہے جویہ ہیں: ’’لیکن افسوس کہ میرے اس جملے سے ڈاکٹر صاحب کے پندار کو سخت چوٹ لگی اور انہوں نے مارچ ۲۰۰۶ء کے شمارے میں اس غلطی کی نشان دہی پر میرے انداز کو جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہوا قرار دیتے ہوئے نہ صرف مجھے بائبل پر قرآن سے زیادہ اعتماد کرنے کا طعنہ دیاہے بلکہ لمبی زبان والا، یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز جیسی گالیوں سے بھی نوازا ہے‘‘۔
میرا جوابی مضمون مارچ کے شمارے میں ہے۔ ہر انصاف پسند انسان اسکو پڑھ کریہی کہے گا کہ میں نے ان مضمون نگار صاحب کو کہیں بھی یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز نہیں کہاہے۔ البتہ میں نے ان کے بائبل پر زیادہ اعتماد کا اشارہ ضرور دیاتھا اوران کو بائبل کا حافظ لکھا تھا ،کیونکہ ان کا پہلا تنقیدی مضمون اور پھر دوسرا بھی (اپریل ۲۰۰۶ء) بائبل کے مختلف کتابوں کے حوالوں سے بھرا ہوا تھا۔ معلوم نہیں اس میں کون سی غلط بیانی اور تنقیص یا گالی ہے! میں قارئین کی یاد دہانی کے لیے عرض کرتاہوں کہ موصوف نے قورح کے شجرہ نسب اور دیگر اوصاف پر ایک صفحہ سے زیادہ سیاہ کیا تھا۔ بھلا اس کا میرے مضمون ’’قرآن کا نظریہ مال ودولت‘‘ سے کیا تعلق؟ یہ تعالم (اظہار علمیت) نہیں تو کیاہے ؟
پھر موصوف کے بائبل پر حد سے بڑ ے ہوئے اعتماد کے سلسلے میں، میں نے اس قورح کے شجرہ نسب سے متعلق بائبل کے متضاد ومتناقض بیانات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ بائبل کی کتاب خروج میں وہ ان کے مطابق اضہار بن قہات کا بیٹا ہے، جبکہ اسی بائبل کی کتاب ۱۔ تواریخ ۶: ۲۲،۲۳ میں قورح عمینداب کا بیٹا ہے (قہات کا بیٹا عمینداب، عمینداب کا بیٹا قورح) اس موقع پر میں نے لکھاتھا کہ ’’کیا بائبل کے حافظ یاسین عابد صاحب کی نظر سے بائبل کا یہ باب اور یہ فقرہ نہیں گزرا یا انہوں نے جان بوجھ کر تغافل کیاہے‘‘۔ اب بتایا جائے کہ ان الفاظ میں کون سی گالی ہے؟ گالی تو اسے کہتے ہیں جو حضرت ابوبکرؓ نے عمرو بن سہیل کو اس کی رسول اللہ سے بدتمیزی اور گستاخانہ مطالبے پر صلح حدییبہ کے موقع پر دی تھی۔مجھے تو ایسا لگتاہے کہ مناظرہ بازی کے شوقین یہ مضمون نگار صاحب الفاظ کی نزاکت اور ان کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ۔اگر قارون وقورح سے متعلق یہ سب باتیں ’الشریعہ‘ جیسے موقر مجلے کے صفحات پر نہ آتیں تو میں ہر گز ان کی باتوں کا جواب نہ دیتا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یاسین عابد صاحب نے اپنے جوابی حالیہ مضمون ( اپریل) میں بائبل کے اس متناقض بیان کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی۔ کرتے بھی کیسے، انہوں نے تو اپنے فروری ۲۰۰۶ء کے مضمون میں بڑے دھڑلے سے قورح کا نسب نامہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک لکھتے ہوئے اس کو اضہاربن قہات کا بیٹا لکھا تھا، جبکہ اسی بائبل کی ایک دوسری کتاب ۱۔ تواریخ کے مطابق وہ عمینداب کا بیٹا تھا۔
قرآن نے کہا ہے: ان قارون کان من قوم موسیٰ (قارون ،موسیٰ کی قوم میں سے یعنی اسرائیلی تھا) ہمارے قدیم مستند ائمہ تفسیر طبری، قرطبی، زمخشری وغیرہ نے لکھا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی قورح بن یصہر بن لاوی بن یعقوب تھا۔ بات ختم ہوئی کہ یہ ائمہ تفسیر توراۃ (بائبل) سے بخوبی واقف تھے۔مزید یہ کہ ہمارے عصر حاضر کے لائق اعتنا ثقہ مفسرین نے بھی یہی لکھا ہے۔ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو بائبل کو کھنگالنے کی کیاضرورت ہے اور اگر کھنگالتے ہیں تو ٹھیک طرح سے اور دیانت داری کے ساتھ کھنگالیے۔ ایسے ہی ایک سیاق میں، میں نے لکھا تھا کہ انہوں نے مجھے تو یہ طعنہ دیا تھا کہ میں نے کبھی بائبل کھول کر بھی نہیں دیکھی بلکہ سنی سنائی باتیں لکھ دی ہیں، ’’کیا اب میرا یہ کہنا درست ہوگا کہ موصوف نے کبھی بائبل کھول کر دیکھی ہی نہیں، یا دیکھی ہے تووہ جان بوجھ کر غلط بیانی کررہے ہیں اور قارئین کودھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘
اب خدارا بتایا جائے کہ اس میں کون سی گالی ہے جس پر انہوں نے دہائی دی ہے؟ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل کے اسی شمارے میں جس میں یاسین عابد صاحب نے گالیوں کی بے دہائی دی ہے، مولوی محمود خارانی صاحب کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے اس ناچیز کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ ان صاحب کو یہ بات بہت بری لگی ہے کہ میں نے یاسین عابد صاحب کو ’’بائبل کا حافظ ‘‘کہاہے۔ وہ یقیناًبائبل کا بہت وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ یہ بات ان کے پہلے اور دوسرے مضمون (فروری واپریل ) اور پھر تیسرے خط نما مضمون (غیر شائع شدہ) سے آشکاراہے کہ ان مضامین میں انہوں نے بائبل کی مختلف کتابوں کے بکثرت حوالے دیے ہیں بلکہ اپنے تیسرے خط نما مضمون میں (جو انتہائی انفعالی اور مبالغانہ انداز میں لکھا گیاہے) تو آنجناب نے فارسی، عربی،بلکہ گورگھی بائبل کے حوالے بھی دیے ہیں۔ اب ایسے شخص کو اگر بائبل کاحافظ نہ کہا جائے تو کیا کہاجائے؟ اس لیے دارالعلوم کورنگی کے ان مولوی محمود خارانی صاحب (جن کو صاحب مضمون نے حضرت مولانا محمود خارانی صاحب کے نام سے یاد کیاہے) کی شکایت بیجا ہے۔ موصوف نے مجھے جو فرمان نبویﷺ یاد دلایاہے کہ ’’مومن کے ساتھ اچھا گمان رکھو ‘‘ تو کیا موصوف نے اس ناچیز کو کافر سمجھ رکھاہے کہ انہوں نے یاسین عابد صاحب کو مجھ سے بدگمانی بلکہ مجھ پر زبان طعن دراز کرنے کی اجازت دیدی۔ کیا انہوں نے یاسین عابد صاحب کا یہ جملہ نہیں پڑھا کہ’’ ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب بہادر نے کبھی بائبل کھول کر بھی نہیں دیکھی‘‘۔ کیا یہ بدگمانی جائز ہے ؟ مزید یہ کہنا کہ ’’ڈاکٹر صاحب نے شاید قرآنی قارون کو پیش نظر رکھ کر خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں‘‘ کیا یہ بد گمانی نہیں؟ اور کیا یاسین عابد صاحب کے پاس وحی آگئی تھی کہ میں نے بائبل کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھی اور قورح کے بارے میں خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں؟ محمود خارانی صاحب بتائیں کہ یہ سب لانبی زبان کی باتیں نہیں ہیں توکیاہیں۔ (۱)
(۱) اس مضمون کے لکھنے کے بعد ۱۷؍ مئی کو مجھے مکرر تقاضے پر الشریعہ کا فروری کا شمارہ ملا جس میں دیکھا کہ مجلہ کے ادارہ نے یہ سب جارحانہ جملے حذف کر دیے تھے اور ان کے مضمون کے زبان کے پہلو سے نوک پلک درست کر دیے تھے اور غالب کا ایک ٹوٹا پھوٹا طنزیہ مصرع بھی حذف کر دیا تھا۔ مولوی محمود خارانی مدرس دار العلوم کراچی نے چونکہ یہ جارحانہ جملے نہیں پڑھے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے مطعون کیا۔ سامحہ اللہ)
میں نے اپنے مارچ ۲۰۰۶ء کے جوابی مضمون میں بتایا تھا کہ مولانا عبد الماجد دریابادی ،مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور عبداللہ یوسف علی نے اپنی تفاسیر میں قارون کو بائبل کا قورح ہی کہاہے۔ ان مایہ ناز علمائے تفسیر ومحققین کے حوالوں کے بعد یاسین عابد صاحب کو خاموش ہوجانا چاہیے تھا مگر’’ ملّا آں باشد کہ خاموش نشود‘‘۔ اب انہوں نے اپریل کے شمارے میں میری حرف گری کرتے ہوئے ایک نیا مسئلہ زبور سے متعلق کھڑا کردیاہے اور انہوں نے قورح کی توصیف میں جو کچھ لکھا تھا اور اس بارے میں بائبل کے جو غلط حوالے دیے تھے، وہ بھول گئے ہیں ،او ر موضوع کا رخ چابک دستی سے دوسری طرف پھیر دیا ہے، لیکن میں قارئین کی توجہ اس اصلی مضمون کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے قورح پر بحث کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
’’وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پرایمان رکھتاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ قورح نے مصر میں موجود اپنے گھر بار،اور شہری حقوق وسہولیات کوچھوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سربراہی میں ہجرت کی اور جنگلوں میں مارے مارے پھرنا قبول کرلیا، تمام قوم بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی موسیٰ علیہ السلام کے زیر فرمان ہی ہوتی تھی ‘‘( گنتی ۹:۲۳)
میں نے اس پر گرفت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بائبل کی اس کتاب گنتی میں قورح کے مصر میں اپنے گھر بار اور شہری حقوق وسہولیات چھوڑنے کا مطلقاً ذکر نہیں اور یہ بھی عرض کیاتھا کہ اگر قورح حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا ہوتا تو مصر میں اس کے شہری حقوق وسہولیات چہ معنی دارد؟ اسرائیلی تو وہاں غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کررہے تھے۔ پھر قورح کو حضرت موسیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے یہ حقوق کیسے مل گئے؟ جس پر مضمون نگار صاحب نے کم فہمی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ گنتی (بائبل) کے اس حوالے سے ان کا مقصد صرف آخری جملہ تھا، لیکن مضمون مذکورہ بالا میں ساری عبار ت کے بعد ہی بائبل کی کتاب گنتی کا حوالہ تھا، اس لیے عبارت کا پہلا جز یعنی قورح کا مصر کے شہری حقوق وسہولیات چھوڑنا اسی کتاب گنتی سے ماخوذ سمجھا جائے گا جس کے موصوف انکاری ہیں۔ یہی سہی ،پھر یہ بتایا جائے کہ قورح کے بارے میں ان کی یہ معلومات بائبل کی کتاب سے ماخوذ نہیں تو کہاں سے ان کو ان باتوں کا علم ہوا؟ اور پھر صحرائے سینا میں جنگل کہاں سے آگئے جہاں قورح جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا تھا؟ اگر وہاں جنگلات ہوتے تو اللہ تعالیٰ قرآن اور بائبل دونوں کے مطابق وہاں سایہ کے لیے بادل کیوں بھیجتا؟ (وظللنا علیکم الغمام ) ایسے ہی موقع کے لیے شاعر نے کہاہے :
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
یہ تو مرے ناقد ومعترض کی بائبل فہمی ہے جس کا ان کا بہت ادعا ہے اور جس کے وہ بکثرت حوالے دیتے ہیں، خواہ ناقص ہی ہیں۔موصوف کی قرآن فہمی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے فروری کے مضمون میں ذیلی عنوان قارون کے تحت لکھا تھا ’’ قرآن عزیز کے مطابق قارون قوم موسیٰ سے تھا۔ .... قرضوں کا لین دین کرتاتھا اور سود در سود منافع خوری کے حساب کے لیے منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں پر مبنی ایک بڑی جماعت کا نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔‘‘ (القرآن ۲۸:۷۶)
بائبل کی کتاب گنتی کے ایک غیر متعلق مضمون میں غلط حوالے پر میری گرفت کرنے والے مضمون نگار صاحب یہ تو بتائیں کہ سورۃ القصص ۲۸: ۷۶ کی مذکورہ بالا آیت میں قارون کے ’’سود در سود منافع خوری، منشیوں، خزانچیوں، مسلح پہرے داروں، سپاہیوں اور عاملوں پر مبنی نیٹ ورک ‘‘ کا ذکر انہوں نے کہاں سے نکال لیا؟ اب بتایاجائے کہ قرآن کریم کی ایک آیت کا ذکرکرکے ’’خیالات کے گھوڑے‘‘ کون دوڑارہا ہے؟ میں یا فاضل ناقد ؟قرآن میں تو صرف اتنا ہے: واٰتینا ہ من الکنوز ماان مفاتحہ لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ (اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں ہی اٹھاتے ہوئے ایک طاقتور جماعت (بوجھ سے )جھکی جاتی تھی) ۔
عجیب لغو ولایعنی بحث شروع کردی ہے ان صاحب نے۔ قورح کا شجرہ نسب، اس کے کارنامے،اس کے ساتھ داتن بہرام اور اس کے ساتھی، ۲۵۰ آدمیوں کی موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بغاوت، بائبل کی مختلف کتابوں کے حوالے، آخر اس سب کا میرے اصلاحی ودعوتی مضمون ’’اسلام کا نظریہ مال ودولت قصہ قارون کی روشنی میں ‘‘سے کیا تعلق ہے؟
جہاں تک زبور کا مسئلہ ہے، میں اس پر اس وقت تفصیل سے بحث کرنا نہیں چاہتا، لیکن اتنا عرض کروں گا کہ قرآن کریم نے انبیائے بنی اسرائیل پر نازل کردہ صرف تین کتابوں کا ذکر کیاہے: توراۃ ،زبور ،انجیل۔ سب مسلمانوں کا ان تین کتابوں کے وجود پر ایمان ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ ان میں مختلف عہود میں تحریف کی گئی ہے، کچھ کم کرکے، کچھ بڑھا کر اور کچھ بدل کر۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری کتاب قرآن کے بارے میں فرمایا ہے: ’مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ‘ (المائدہ :۴۸) یعنی قرآن تصدیق کرنے والا ہے سابقہ کتب آسمانی کی اور ان پر نگران ہے، جس کامقصد جمہور علما کے نزدیک یہ ہے کہ توراۃ وزبور کی جن باتوں کی قرآن تصدیق کرتاہے، وہ مان لی جائیں۔ (آیت بالا میں ’الکتاب‘ کی تفسیر علماے تفسیر نے کتب آسمانی کی ہے) زبور ایک ایسی کتاب ہے جس میں توراۃ کی پانچ کتابوں (پیدائش ،خروج ،احبار ،گنتی ،تثنیہ) کے برخلاف جن میں بیشتر باتیں تاریخ اوراحکام سے متعلق ہیں، زیادہ تر مناجا تیں ہیں ،اللہ کی حمدو ثنا کے نغمے ہیں، اس لیے یہ بڑی حد تک تحریف سے پاک ہے ،البتہ اس میں بھی چند مقامات پر تحریف ہوئی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی توراۃ کی مذکورہ بالا کتابوں میں، جن میں نوح اور لوط علیہما السلام کی طرف انتہائی گندی باتیں منسوب کی گئی ہیں اور جس کی کتاب خروج میں حضرت ہارون علیہ السلام کو گائے کے بچھڑے کا بت بنانے اور اس کی پوجا کرنے والا بتایا گیاہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔
ہم ان تحریفات کے سبب اس پوری توراۃ کا انکار نہیں کرتے بلکہ جہاں جہاں اس کے بیانات قرآن کے مطابق ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت کا استدلال کرتے ہیں۔ اسی طرح زبور کا جو بیان قرآن کی تصدیق کرتاہے ،یا اس سے قرآنی مجمل کی کوئی تفصیل معلوم ہوتی ہے، ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور پھر زبو رکے سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ ساری کتاب زبور جو بائبل میں شامل ہے، وہ سب داؤد علیہ السلام سے منسوب نہیں۔ بائبل کے اردو ترجمہ میں تو اس کا ذکرنہیں، نہ فارسی، عربی اور گورمکھی بائبل میں اس کا ذکرہوگا، لیکن اس مستند انگریزی بائبل میں جسے Authorised King James Version کہا جاتاہے، اس کے نیویارک کے طبع شدہ ایڈیشن میں عہد قدیم کی کتاب Pslams (زبور) کی پانچ فصول کے بارے میں ہے کہ ان میں سے صرف پہلی کتاب یا فصل کی تصنیف داؤد علیہ السلام سے منسوب کی جاتی ہے، یعنی مزمور ا تا ۴۱۔ باقی میں سے دوسری بنی قورح کی، تیسری آصف کی، چوتھی عہد قیدو بند سے قبل کی مجہول المولف اور پانچویں اس (بابلی) عہد قیدوبند سے واپس کے بعد کی تصانیف ہیں۔ (Holy Bible, New York, page viii)
جو حوالے جناب معترض نے ز بور کے دیے ہیں اس استدلال کے لیے کہ زبور عہد قید وبند کے بعد کی لکھی ہوئی ہے، وہ تو خود عیسائی اہل کتاب، جب کہ ابھی عرض کیا گیا، تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک حوالہ مزمور ۱۴:۷ کا وہ ہے جوبائبل کے ماننے والوں کے نزدیک حضرت داؤد علیہ السلام کی زبان سے ہے اور جس میں بنی اسرائیل کی اسیری کا ذکر ایک سطر میں ہے۔ ہو سکتاہے کہ یہ جملہ الحاقی ہو یا اس زمانے سے متعلق ہو جب داؤد علیہ السلام کے خلاف ان کے بیٹے نے بغاوت کی تھی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ یروشلم چھوڑ کرچلے گئے تھے اور ان کے دیگر ساتھی اسیر ہوگئے تھے۔ ابی سلوم نے یروشلم پر قبضہ کرلیاتھا۔ (۲۔سموئیل: ۱۵،۱۶)
بہرحال ہمارا اس موضوع سے تعلق نہیں۔ موضوع یہ تھا کہ زبور میں جہاں داتن اور ابیرام کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکرہے ( جو خروج مصر کے بعد سینا میں پیش آیا) وہاں قورح کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے توراۃ کی کتاب استثنا (Deutronomy) ۱۱: ۶ کا حوالہ بھی دیا تھا کہ وہاں داتن اور ابیرام کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکرہے لیکن ان کے ساتھ قورح کا ذکر نہیں ۔اس طرح بائبل کی دوکتابوں میں جہاں بنی روبن میں سے داتن اور ابیرام کو زمین میں دھنسائے جانے کا ذکر ہے، وہاں بنی لاوی میں سے قورح کانا م نہیں۔ اس کے برخلاف کتا ب گنتی ۱۶:۳۱،۳۲ میں اس واقعہ میں قورح کا نام بھی شامل ہے۔ اس طرح بائبل کی کتابوں کے بیانات باہم متضاد ہیں اور شہادتیں یہ ہیں کہ سینا میں کچھ اسرائیلوں کے زمین میں دھنسائے جانے کے وقت قورح ان میں شامل نہ تھا جس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ مصر میں زمین میں دھنسایا جاچکاتھا اور جسے قرآن کریم نے قارون کے نام سے یادکیاہے۔ اگر یاسین عابد صاحب اپنے پیشرو محمد اسلم رانا صاحب کی تقلید میں اس کو ہٹ دھرمی کرتے ہوئے نہیں مانتے تو نہ مانیں، عہد حاضر کے انتہائی مشہور ومستند مذکورہ بالا مفسرین قرآن نے تو یہی کہا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر زبور محرّف ہے تو بائبل کی کتاب گنتی کا غیر محرّف ہونا کہاں سے ثابت ہے کہ اس پر یہ مضمون نگار صاحب اتنا اعتماد کررہے ہیں؟ یہ بھی بائبل کی دیگر کتب کی طرح تحریف شدہ اور ساقط الاعتبار ہے اور اس کے حوالے سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ قورح کو مصر میں نہیں بلکہ سینا میں زمین میں دھنسایا گیا۔
یہ بحث بائبل کے بکثرت مطالعہ کرنے والے ایک صاحب کے اعتراضات کی بنا پر کافی طویل ہوگئی۔ بہرحال شاید اس میں قارئین کی دلچسپی کے لیے بعض مفید باتیں بھی آگئی ہیں۔ اب آخر میں عرض ہے کہ مصنفین سے بلکہ مشاہیر مصنفین سے کسی نہ کسی سبب سے ا غلاط ہو ہی جاتی ہیں۔ ایک نیک نیت اور صاحب لیاقت ناقد ایسی غلطی پر طنز وتشنیع او رمصنف کی تشہیر اختیار نہیں کرتا ہے ۔ ایسا ایک کم ظرف انسان ہی کرتاہے جس کو اپنا نام چھپوانا مقصودہوتاہے۔ سلیم الفطرت ناقد ادب ولیاقت وحسن ظن کے ساتھ مصنف کو ذاتی طور پر یا بطورتحریر مطلع کرتاہے جیسا کہ چند سال قبل ’’تجدید واحیا ے دین‘‘ کے مطالعہ کے دوران میں نے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک تاریخی غلطی دیکھی تھی جو انہوں نے شاہ ولی اللہ صاحب جیسے عظیم وعبقری مصنف سے نقل کی تھی، جو یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد کسی خلیفہ نے اپنی قیادت میں حج نہیں کرایا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ان دو عظیم مصنفین کے ناموں کے سبب لو گ اس غلط بات کا اعادہ کرتے رہیں گے، اس لیے میں نے نو دس سال قبل ایک مضمون اس موضوع پر لکھا جو اعظم گڑھ انڈیا میں دارالمصنفین کے مشہور ومعروف رسالے میں چھپا اور جس میں نے مستند کتب تاریخ طبری، یعقوبی، مسعودی، ذہبی اور سب سے بڑھ کر امام بخاری کے استاد خلیفہ بن خیاط کی تاریخ کے حوالوں سے ثابت کیا کہ شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے تتبع میں مولانا مودودیؒ کی با ت درست نہیں۔ حضرت عثمان کے بعد پانچ اموی خلفا اور تین عباسی خلفا نے اپنی قیادت میں حج کرایا جن کے نام حضرت معاویہ،عبدالملک بن مروان، ولید بن مالک، سلیمان بن عبد المالک، ہشام بن عبد الملک، ابو جعفر المنصور العباس، المہدی العباسی، ہارون الرشید۔ اور اس مشہور ترین عباسی خلیفہ نے تو نو بار مکہ مکرمہ جاکر حج کی قیادت کی۔ میرا یہ مضمون ’’بعض مشاہیر مصنفین کی ایک اہم تاریخی غلطی ‘‘ کے عنوان سے میری کتاب ’’تحقیقات وتاثرات‘‘ ص ۳۱۰،۳۱۸ میں موجود ہے۔ (مطبوعہ کراچی ۲۰۰۰ء) جہاں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔
لیکن میں نے اس فاش غلطی کی نشان دہی اور تصحیح کرتے ہوئے یہ نہیں لکھا کہ مولانا مودودی صاحب اور شاہ ولی اللہ صاحب ؒ نے کبھی تاریخ اسلام کی کوئی کتاب کھول کر نہیں دیکھی یا یہ کہ انہوں نے خیالات کے گھوڑے دوڑائے ہیں کہ یہ آداب تنقید کے خلاف ہے اور طنزوتشنیع کا پہلو رکھتی ہے ،بلکہ میں نے ان دونوں کی طرف سے عذرداری ہی کی ہے کہ ان دونوں عظیم مصنفین ومحققین کا میدان فکرو تحقیق تفسیر وحدیث وفقہ وغیرہ دینی علوم ہیں، اس لیے ان سے یہ سہو ہوا ۔
یہاں میںیہ بھی عرض کردو ں کہ معترض نے غلط کہا، میرا زندگی بھر کا مطالعہ بائبل کا نہیں بلکہ تفسیر قرآن، اسلامی تاریخ وتمدن اور عربی زبان وادب واسلامی ثقافت کا ہے۔البتہ میں نے اردو وانگریزی بائبل پر نظر ضرور ڈالی ہے ،بلکہ تنقید ی نظر ڈالی ہے اور نوٹ لکھے ہیں۔ خاص طور پر بائبل کی ا بتدائی پانچ کتابوں پر جنھیں توراۃ (Torah)کہا جاتاہے او ر کتاب سلاطین پر، اور یہ بھی صرف قر آن میں مذکور انبیا کے حالات زندگی معلوم کرنے کی غرض سے ۔میں نے اپنے آپ کو بائبل کا ایک اسٹوڈنٹ نہیں کہتاہوں، البتہ میں بائبل کی کتاب زبور میں جو مناجات ہیں یا اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے جو ترانے ہیں، ان سے بہت محظوظ ہوتاہوں اور میں سمجھتاہوں کہ یہ تنزیل الٰہی ہیں۔ صحیح حدیث نبوی میں بھی ان اثر انگیز فریادوں،دعاؤں اور مناجاتوں کا ذکرہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا ،ان کے جانے بغیر، خوش الحانی سے قرآن پڑھنے پر ان کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا: ’اعطیت مزمارا من مزامیر داود‘ (انہیں داؤد علیہ السلام کے ترانوں میں سے ایک ترانہ دیاگیاہے) ( صحیح بخاری)مزید یہ کہ قرآن کریم میں ’ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون‘ (ہم نے زبور میں یہ لکھ دیاہے نصیحت/ ذکر کرنے کے بعد کہ زمین کے وارث (حکمران ) میرے نیک بندے ہوں گے) (الانبیاء ۱۰۵) زبور ،۳۷:۳۶ میں ہے ’’صادق زمین کے وارث ہوں گے‘‘۔ اوراس سے قبل سطر ۱۱ میں ہے ’’لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے ۔‘‘
’الشریعہ ‘ ایک موقر علمی مجلہ ہے۔ا س کو عام لوگوں کے علاوہ اہل علم ودانش زیادہ پڑھتے ہیں، اس لیے اس قدر تفصیل سے یہ سب کچھ لکھنا پڑا ،تاکہ موضوع اور اٹھائے ہوئے اعتراضات سے متعلق تمام پہلو واضح ہوجائیں۔ وما توفیقی الا باللہ۔
لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقے کے لیے جنگی صورت حال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالم گیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دار الحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا، لیکن یہ بات طے نظر آ رہی ہے کہ بہانہ کوئی بھی ہو، لبنان پر حملے کا پروگرام طے تھا۔ البتہ اس بار امریکہ نے خود کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اپنے ’’لے پالک‘‘ اسرائیل کو آگے کر دیا ہے، جبکہ باقی سب وہی کچھ ہو رہا ہے جو اس سے قبل افغانستان اور عراق میں ہو چکا ہے اور نتیجہ بھی وہی سامنے آ رہا ہے جو وہاں برآمد ہوا تھا کہ اس بہانے نیٹو کی فوج کو لبنان میں اتارنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے اور روزنامہ جنگ کراچی ۲۴؍ جولائی ۲۰۰۶ کی خبر کے مطابق ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے اس انداز سے یہ اطلاع دنیا تک پہنچائی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل لبنان میں نیٹو کی فوجیں تعینات کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ گویا یہ بھی امریکہ اور اسرائیل کا لبنان اور عالم عرب پر احسان ہوگا کہ وہ وہاں خود قبضہ کرنے کے بجائے نیٹو کی فوج بھیج کر اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔
لبنان، شام اور ایران سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ شکایت ہے کہ وہ ان فلسطینی حریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک نہیں ہو رہے بلکہ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو اسرائیل کی ننگی جارحیت اور کھلی دہشت گردی کے مقابلے میں ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں، فلسطینیوں کے لیے باوقار آزادی اور خود مختاری سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہو رہے اور اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ دے کر دنیا کو اپنے وجود اور زندگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ اسی بنا پر لبنان کے عوام کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسرے ممالک کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ صورت حال دنیا بھر کے ہر مسلمان کے لیے پریشان کن ہے، اضطراب انگیز ہے اور اذیت ناک حد تک تکلیف دہ ہے، لیکن مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ابھی تک اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اجتماعی طور پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر سکیں او رمل بیٹھ کر فلسطین اور لبنان کے عوام کو کم از کم الفاظ کی صورت میں ہی یہ تسلی دے سکیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، وہ مظلوم ہیں اور ہم اگر ان کے لیے عملاً کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم دعائیں ضرور دے رہے ہیں۔
اس صورت حال میں ہم اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہم دردی اور ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زبانی جمع خرچ اور گول مول باتیں کرنے کے بجائے اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلا کر فلسطینی عوام اور ان کے ساتھ لبنان کے عوام کو اس وحشیانہ دہشت گردی سے بچانے کے لیے جرات مندانہ موقف اختیار کریں، کیونکہ مسلم ممالک کے حکمران ہونے کے ناتے سے ان کی ملی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری یہی بنتی ہے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’الشریعہ‘ ما شاء اللہ فکری اعتبار سے کافی اہم رول ادا کر رہا ہے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بنیادیں فراہم کر رہا ہے اور مسالک اور مذاہب کے مابین افہام وتفہیم کو فروغ دے رہا ہے۔
جون ۲۰۰۶ کے شمارے میں ڈاکٹر کنول فیروز نے بجا کہا ہے کہ’’یہ دور مناظرے کا نہیں بلکہ انٹر فیتھ مکالمہ (Interfaith dialogue) کا ہے تاکہ مختلف مذاہب وادیان اور مسالک کے درمیان نہ صرف غلط فہمیوں اور کج بحثیوں کا خاتمہ ہو بلکہ باہمی رواداری، یگانگت، ہم آہنگی، محبت اور برداشت کی ثقافت کو فروغ حاصل ہو۔‘‘
اسی حوالے سے راقم نے بھی انتہا پسندی، بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ پر کافی لکھا ہے۔ "Interfaith relationship: Islamic Perspective" کے عنوان سے ایک مضمون HSSRD کے رسالہ Science-Religion Dialogue میں شائع ہوا ہے جو ہماری ویب سائٹ www.hssrd.org پر بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں اردو میں ایک تفصیلی مقالہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس ۲۰۰۶ کے لیے لکھا گیا تھا جسے سرحد کی طرف سے پہلا انعام بھی دیا گیا۔ اگر آپ چاہیں تو راقم ’الشریعہ‘ میں اشاعت کے لیے بھیج سکتا ہے۔
جون ہی کے شمارے میں محمد سمیع اللہ فراز صاحب کا مضمون ’’اسلامی تحریکیں اور مغربی تحقیقات‘‘ مستشرقین کی کتب کے overview پر مشتمل ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے جن کتابوں کے نام پبلشرز اور سن اشاعت کی تفصیلات کے ساتھ درج کیے ہیں، ان کا خود مطالعہ نہیں کیا، ورنہ وہ مشہور اسکالر اور اسلام اور عیسائیت کے مابین مکالمہ اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کرنے والے مستشرق John L. Esposito کی تقریباً ساری اچھی کتابوں کے نام گنوانے کے بعد یہ نہ لکھتے کہ ’’انھوں نے اسلامی تحریکات کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مغرب کو ان کے عزائم سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ اگر وہ صرف ان کی کتاب "The Islamic Threat: Myth of Reality" کا مطالعہ کرتے تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اسپوسیٹو نے تو امریکہ اور مغرب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ چند اسلامی تحریکات کے طرز عمل کی بنیاد پر اسلام یا تمام مسلمانوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا لیبل نہیں لگانا چاہیے بلکہ اسلام اور عالم اسلام کے اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مذکورہ کتاب کے چند جملے ملاحظہ ہوں:
The selective analysis fails to tell the whole story, to provide the full context for Muslim attitudes events and actions, or fails to account for the diversity of Muslim practice. While it sheds some light, it is a partial light that obscures or distorts the full picture." (p. 1973)
آگے لکھتے ہیں:
Selective and therefore biased analysis adds to our ignorance rather than our knowledge, narrows our perspective rather than broadening, reinforces the problem rather than opening the way to new solutions." (p. 173)
اسپوسیٹو نے اسی صفحہ پر پروفیسر برنارڈ لیوس کے طرز فکر سے سخت اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برنارڈ لیوس نے اپنی تحریروں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے متعصبانہ رویہ اختیار کیا ہے جو مغرب اور امریکہ کے تعصب میں مزید اضافہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ (صفحہ ۱۷۳، ۱۷۴)
کتاب کے آخری پیرا گراف میں اسپوسیٹو نے لکھا ہے:
"Our challenge is to better understand the history and realities of the Muslim World. Recognizing the diversity and many faces of Islam counters our image of a unified Islamic threat. It lessens the risk of creating self-fulfilling prophecies about the battle of the West against a radical Islam." (p. 215)
’’ہمارے (امریکہ اور مغرب کے) لیے یہ چیلنج ہے کہ ہم عالم اسلام کی تاریخی اور حقائق کو بہتر انداز میں سمجھیں۔ اسلام کی تعبیرات میں تنوع اور اس کے مختلف (وسیع النظر) پہلوؤں کو سمجھنا ہی کسی یک رنگ اسلامی خطرے کے بارے میں ہمارے تصور کو ختم کر سکتا ہے اور اس سے مستقبل میں انتہا پسند اسلام کے ساتھ مغرب کے تصادم کے بے بنیاد نظریات گھڑنے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔‘‘
جان اسپوسیٹو نے Muslim and the Westکے نام سے ایک کتاب ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کے ساتھ مل کر مرتب کی ہے۔ یہ کتاب بھی مسلمانوں اور اہل مغرب کے مابین غلط فہمیوں کو کم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم کوشش ہے۔
ان سطور سے راقم کا مقصود مستشرقین کا دفاع نہیں، کیونکہ بالعموم ان کی تحریروں سے واقعی تعصب اور عناد کی بو آت ہے۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمام مستشرقین کو ایک نظر سے دیکھنا صحیح نہیں، بلکہ قرآنی آیات کی روشنی میں اہل کتاب یعنی مسیحیوں میں مسلمانوں سے مودت اور ہمدردی رکھنے والے بھی ہیں جن کے نقطہ نظر کی تعریف کرنی چاہیے۔
پروفیسر عبد الماجد
چنار روڈ، مسلم ٹاؤن، مانسہرہ
(۲)
جناب رئیس التحریر ماہنامہ ’الشریعہ‘
سلام مسنون۔ مزاج گرامی؟
موجودہ حالات میں ’الشریعہ‘ کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے، اس لیے کہ معاصر مذہبی رسالہ جات زیادہ تر پرانے واقعات کو دہرانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ تحقیقاتی کام کم ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ، جن میں نوجوان طبقہ خاص طور پر شامل ہے، مذہبی ٹائٹل کے حامل رسالوں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ لیکن مجھے اس بات پر تکلیف ہوئی ہے کہ جولائی کے شمارے میں حدود آرڈیننس پر تبصرے کے دوران میں آپ نے تعریفی طور پر جنرل ضیاء الحق کو نعوذ باللہ ’شہید‘ لکھ دیا۔ وہ شخص جس نے اس ملک کے قانون، آئین اور اسلامی روح کو برباد کیا، جو اپنے ہی ملک کے شہریوں پر ظلم کرتا رہا اور جو لسان، مذہبی اور علاقائی تقسیم کا چیمپئن تھا، اسے شہید اور پھر رحمۃ اللہ علیہ کس بنیاد پر کہا جاتا ہے؟
کبھی میر جعفر بھی حکومت میں ہوتے ہوئے لالچیوں اور سازشیوں کا لیڈر تھا۔ آج میسور (انڈیا) میں ٹیپو سلطان اور حیدر علی کا مقبرہ ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی آماج گاہ ہے، لیکن چند کلومیٹر دور میر جعفر کی قبر چند ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کے سوا کچھ نہیں اور کوئی وہاں نہیں جاتا۔ جنرل ضیاء الحق فیصل مسجد کے باہر دفن ہے، لیکن وہاں چڑیوں اور کووں کا بسیرا ہے۔ خود ضیا کے حامی، جماعت اسلامی اور نواز شریف وغیرہ اس کا نام لینا چھوڑ گئے ہیں۔
آپ کے ہاتھ میں قلم ہے، لیکن اسے انفرادی خواہش اور پسندیدگی کی نذر نہ کیجیے بلکہ واقعات کو بیان کر کے فیصلہ عوام پر چھوڑ دیجیے۔ خدا آپ کا حامی وناصر ہو۔
محمد سعید اعوان
موضع اروپ۔ ضلع گوجرانوالہ
(۳)
محترمی ومکرمی ،السلام علیکم
امیدہے بخیر وعافیت ہوں گے۔
برادرِمکرم شبیر احمد خان میواتی کے وسیلہ سے گزشتہ چند ماہ سے ’’الشریعہ‘‘سے استفادہ کا موقع مل رہاہے۔ کم علمی کے سبب مندرجات پر اظہار رائے کا اہل تو میں خود کو نہیں سمجھتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ دینی اور علمی جرائد میں الشریعہ کونہ صرف بے تعصبی اور وسعت فکر کے حوالے سے انفرادیت حاصل ہے، بلکہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے لیے جس تحمل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی الشریعہ ہی میں نظر آتاہے ۔یہ تحمل اور حوصلہ جملہ فکری مباحث کے لیے شرطِ اول ہے لیکن مجھے تو علمی اور دینی حلقوں میں کم کم نظر آیاہے ۔
سید امتیاز احمد
۱۰۷۔ عرفان چیمبرز
۱۳۰ ؍ ٹمپل روڈ ۔ لاہور
ذکر ندیم
پروفیسر میاں انعام الرحمن
بیسویں صدی سامراجی اقوام کے غلبے کے خلاف بغاوت کی صدی تھی۔ بغاوت اور انقلاب کے لیے محکوم اقوام کو جس سطح کے جوش و جذبے اور اعتماد کی ضرورت تھی، ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے سے اسی سطح کے جوش و جذبے اور حریت پسندی کو محکوم اقوام کا شعار بنا دیا۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف کا اردو ادب بھی ایسی تخلیقی کاوشوں کا آئینہ دار ہے۔ اسی صدی کے دوسرے نصف میں نو آزاد اقوام کے سامنے اپنی آزادی کی بقا کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کی دریافت کا مہیب مسئلہ آ کھڑا ہوا تو ادیبوں اور شاعروں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے ایک بار پھر اپنا کردار نہایت سرگرمی سے ادا کیا۔ اردو ادب میں جن شعرا اور ادبا نے اس سلسلے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں، احمد ندیم قاسمی ان میں بہت بڑا اور نہایت معتبر نام ہے۔ واضح ترقی پسند رجحانات کے باوجود احمد ندیم قاسمی اپنے ہم عصر ترقی پسندوں کے مانند خارجیت کے اسیر نہیں رہے۔اس لیے ندیم کی شاعری اور نثر میں حقیقت نگاری کے ہمراہ تخیل کی طلسمی فضا بھی موجود ہے ۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے موضوعات ، اور پھر جس طرح انھوں نے ان موضوعات کے ساتھ انصاف کیا ، اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ جہاں مقتضیاتِ فن سے آگاہ تھے، وہاں انھیں ادیب اور شاعر کے منصب کے سماجی تقاضوں کا بھی بھر پور ادراک حاصل تھا۔ ندیم جانتے تھے کہ نوآزاد اقوام کی بقا اور ان کی مقامی ثقافت کی دریافت کے لیے جوش و جذبے کی نہیں بلکہ ہوش، متانت اور تحمل کی ضرورت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ندیم کی شاعری اور افسانے ، نعروں میں نہیں ڈھل سکے۔ المیہ یہ ہے کہ سنگ زنی کرنے والے یار لوگ، شاعری اور نثر کی اس سطح کو ہی معیار مانے ہوئے ہیں جو نوآبادیاتی دور کی پیداوار اور ضرورت تھی، حالانکہ اب اسے اعزاز کے ساتھ دفنا دیا جانا چاہیے ۔
احمد ندیم قاسمی کے مخالفین انھیں ترقی پسندوں کی صف میں کھڑا کرکے ان کی تخلیقات کو ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں، اس لیے دنیا اور زندگی میں کوئی فرق قائم کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ندیم کی شاعری اور افسانوں میں دنیا نہیں بلکہ زندگی کا بیان ہے۔ زندگی سے یہی رغبت ان کے تخلیقی رویے کی اصل روح ہے ۔ دیہات اور اس سے وابستہ ایک خاص ثقافت حقیقت میں زندگی کی علامات ہیں ۔ یہ علامات ندیم کے قاری کو ڈھونڈنی نہیں پڑتیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زندگی ہر دم ، شہیدِ التفات نہیں رہتی۔ یہ درد اور چوٹیں بھی پہنچاتی ہے۔ انسان کو آنسوؤں کے مزار پر بھی لا بٹھاتی ہے ۔ ایسے مزار کی مجاوری کے لیے ترقی پسند ہونا شرط نہیں، انسان ہونا کافی ہوتا ہے ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ احمد ندیم قاسمی جیسا ترقی پسند انسان ، انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال اور پھر اس استحصال کو فنکارانہ سطح پر داد وتحسین کی خاطر فنی معانی پہنائے جانے پر قدرے تلخ ہو کر کچھ یوں کہہ سکتا ہے :
کب تک میں روایات کی بات کرتا
فاقوں میں کرامات کی بات کرتا
تم زخم کو بھی پھول سمجھ لیتے ہو
کب تک میں کنایات کی بات کرتا
زندگی اور زندگی کے حقائق کو دھیمے، متین، سنجیدہ اور شائستہ لہجے میں بیان کرنے والا اردو ادب کا یہ عظیم شاعر اور ادیب ۱۰ جولائی ۲۰۰۶ کے سورج کی شعاعوں سے الجھتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
دن شعاعوں سے الجھتے گزرا
رات آئی تو کرن یاد آئی
’’انکار رجم: ایک فکری گمراہی‘‘
محمد عمار خان ناصر
شریعت کی مقرر کردہ سزاؤں میں ’رجم‘ کی حیثیت اور نوعیت کیا ہے؟ یہ سوال معاصر علمی بحثوں میں ایک اہم بحث کا عنوان ہے۔ برصغیر کے جلیل القدر عالم اور مفسر مولانا حمید الدین فراہی علیہ الرحمہ نے قرآن مجید کی تاویل وتفسیر کے باب میں قرآن کے الفاظ کے قطعی الدلالت ہونے اور تاویل وتفسیر کے تمام معاون ذرائع مثلاً احادیث وآثار اور تاریخی روایات پر قرآن کے اپنے الفاظ کی حاکمیت کو ہر حال میں قائم رکھنے کے جن علمی اصولوں کو اختیار کیا تھا، اس کے ایک لازمی نتیجے کے طور پر ان کے نتائج فکر نہ صرف فروعی امور میں بلکہ بعض بے حد اہم اور بنیادی نوعیت کے مسائل میں بھی عام فکری رجحانات سے مختلف قرار پائے۔ زنا کی سزا کا مسئلہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید نے زنا کی سزا صریح طور پر اور کسی قسم کی تخصیص کے بغیر صرف سو کوڑے بیان کی ہے، جبکہ روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زنا کے بعض مجرموں کو رجم کرنے اور شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کی بنیاد پر زانی کی سزا میں فرق کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اس ضمن میں بنیادی ماخذ کی حیثیت اس روایت کو حاصل ہے: ’البکر بالبکر جلد ماءۃ ونفی سنۃ والثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم‘ (کنوارا مرد اور کنوری عورت زنا کریں تو ان کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔ شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو ان کو سو کوڑے لگائے جائیں اور رجم کر دیا جائے)۔
مولانا فراہی رحمہ اللہ کے اصول کے مطابق چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول وفعل کے ذریعے سے قرآن مجید کے مدعا میں کسی قسم کا کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے، بلکہ آپ کے تمام استنباطات اور اجتہادات قرآن ہی پر مبنی اور اسی کے تحت ہوتے ہیں، اس وجہ سے انھوں نے رجم کی سزا کا ماخذ قرآن مجید ہی میں متعین کرنے کی کوشش کی اور یہ رائے ظاہر کی کہ رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے (جس کی ایک صورت مولانا کی رائے میں ’رجم‘ بھی ہے)، سولی چڑھانے، ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ اس تناظر میں مولانا کی یہ رائے زیر بحث مسئلے میں ایک پہلو سے احناف ہی کی رائے کی توسیع ہے۔ احناف اپنے اصول کے مطابق رجم کی روایات کی کثرت اور شہرت کی بنا پر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کے تو قائل ہیں اور سورۂ نور کے حکم ’فاجلدوا کل واحد منہما ماءۃ جلدۃ‘ کو صرف غیر شادی شدہ زانیوں کے حق میں قابل عمل مانتے ہیں، تاہم وہ اس پر ’البکر بالبکر جلد ماءۃ ونفی سنۃ‘ میں بیان ہونے والے اضافے یعنی ایک سال کی جلا وطنی کو سزا کا لازمی حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں قرآن نے جس سزا کے بیان پر اکتفا کیا ہے، وہی اصل سزا ہے اور اس پر کوئی اضافہ کرنا قرآن کے نسخ کو مستلزم ہے جو خبر واحد سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک زانی کو جلا وطن کرنا محض ایک صواب دیدی سزا ہے جو قاضی اگر مناسب سمجھے تو حالات کی رعایت سے مجرم کو دے سکتا ہے۔ مولانا فراہی چونکہ قرآن سے باہر کی کسی بھی چیز سے، چاہے وہ خبر مشہور ہی کیوں نہ ہو، قرآن کے حکم میں تبدیلی کے قائل نہیں، اس لیے انھوں نے اسی اصول کا اطلاق روایت کے دوسرے حصے یعنی ’الثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم‘ پر کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے، جبکہ رجم کی سزا اس صورت میں دی جائے گی جب مجرم زنا کے ساتھ ساتھ فساد فی الارض کا بھی مرتکب ہو۔
یہ اس بحث کا اصل علمی پس منظر ہے۔ جہاں تک آیت محاربہ کو رجم کی سزا کا ماخذ قرار دینے کا تعلق ہے تو اس رائے پر یقیناًبہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن میں دو سوال بنیادی نوعیت کے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا آیت محاربہ اپنے الفاظ، سیاق وسباق اور علت کی رو سے رجم کا ماخذ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اور دوسرا یہ کہ کیا رجم سے متعلق احادیث اور روایات اس توجیہ کو قبول کرتی ہیں؟ یہ سوالات علمی استدلال کے ساتھ زیر بحث لائے جا سکتے ہیں اور مولانا فراہی کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس بحث کے علمی نکات پر اپنا نقطہ نظر تو ہم کسی مناسب موقع پر تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے، یہاں ہم صرف اس نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی نقطہ نظر پر تنقیدی گفتگو اسی وقت تک ’علمی بحث‘ کے دائرے میں رہتی ہے جب تک اس کو اس کے اصل علمی پس منظر میں دیکھا جائے اور اس کے استدلال کی صحت یا سقم کو دیانت دارانہ طریقے سے متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر علمی مباحث میں طعن وتشنیع اور تفسیق وتضلیل کا رویہ در آئے تو تنقید فکر ونظر کی آبیاری کرنے کے بجائے محض ’بغیا بینہم‘ کا ایک نمونہ بن کر رہ جاتی ہے۔
بہرحال مولانا فراہی کی مذکورہ رائے کو صاحب ’تدبر قرآن‘ مولانا امین احسن اصلاحی نے زیا دہ وضاحت کے ساتھ موضوع بحث بنایا تو فطری طور پر علمی حلقوں میں ایک بحث پیدا ہو گئی اور طرفین سے مباحثہ واستدلال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی تناظر میں فراہی اسکول کے معروف عالم مولانا عنایت اللہ سبحانی نے ’’حقیقت رجم‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں انھوں نے مولانا فراہیؒ کے نقطہ نظر کے حق میں دلائل وشواہد پیش کیے۔ ’’انکار رجم: ایک فکری گمراہی‘‘ کے عنوان سے زیر نظر کتاب ڈاکٹر ابو عدنان سہیل صاحب نے مولانا سبحانی کی اسی تصنیف کے جواب میں لکھی ہے۔ مصنف نے بحث کے اہم نکات کے حوالے سے جمہور اہل علم کے موقف کے حق میں دلائل پیش کیے ہیں اور بعض مقامات پر منفرد توجیہات کرنے کوشش بھی کی ہے۔ لب ولہجہ اور طرز استدلال بالعموم متوازن ہے، تاہم موضوع اصولی نوعیت کے علمی مباحث اور متعلقہ علمی مواد پر جس سطح کی گرفت کا متقاضی ہے، ا س کے لحاظ سے کتاب میں بہتری کی کافی گنجایش موجود ہے۔ اسی طرح مخالف استدلالات پر جن متنوع پہلوؤں سے تنقید کی جا سکتی ہے، ان سب کا احاطہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مجموعی اعتبار سے ایک عام قاری کتاب کے مطالعے سے اختلافی نکات کا مناسب تعارف حاصل کر سکتا ہے۔
۱۲۸ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہ قدوسیہ، رحمان مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت ۵۰ روپے ہے۔