اپریل ۲۰۰۶ء

دینی مدارس: علمی وفکری دائرے میں وسعت کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
آزادی رائے، مغرب اور امت مسلمہمحمد عمار خان ناصر 
سیرت نبوی اور ہجرت: ایک معنویاتی مطالعہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
قرآنی علمیات، یہودیوں کا کتمانِ حق اور مسئلہ ذبیحاسلم میر 
قورح، قارون اور کتاب زبورمحمد یاسین عابد 
مکاتیبادارہ 

دینی مدارس: علمی وفکری دائرے میں وسعت کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے دس روزہ تربیتی پروگرام میں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر نے ۱۲؍مارچ کو دینی مدارس کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ ان کی گفتگو کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

داخلی نصاب ونظام کے حوالے سے دینی مدارس کو ایک اورچیلنج یہ درپیش ہے کہ اسلامی ثقافت واقدار کاتحفظ ان کے اہداف میں شامل ہے، لیکن جس مغربی ثقافت اور فلسفہ سے اسلامی اقدار وثقافت کوخطرہ درپیش ہے، اس سے واقفیت کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ مغربی فکرو فلسفہ کیاہے اور مغربی ثقافت واقدار کا پس منظر کیاہے؟ اس سے دینی مدارس کے اساتذہ او رطلبہ کی غالب اکثریت ناواقف ہے اور یہ افسوس ناک صورت حال ہے کہ جس دشمن سے ہم لڑرہے ہیں، اس کی ماہیت، طریقہ کار، ہتھیاروں اور دائرہ کار سے ہمیں شناسائی تک حاصل نہیں ہے۔مغربی فلسفہ ونظام اور ثقافت واقدار کا ایک تاریخی پس منظر ہے، اس کی اعتقادی بنیادیں ہیں، اس کاایک عملی کردار ہے اور اس کاوسیع دائرۂ اثر ہے، مگر دینی مدارس کے نصاب میں اس سے آگاہی کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے، حالانکہ ہمارے سامنے اسلاف کی یہ عظیم روایت موجودہے کہ جب ہمارے معاشرے میں یونانی فلسفہ نے فروغ حاصل کیاتھا اور ہمارے عقائد کے نظام کو متاثر کرنا شروع کیاتھا توہمارے اکابر مثلاً امام ابو الحسن اشعری، ؒ امام ابو منصور ماتریدیؒ ، امام غزالیؒ ، امام ابن رشد ؒ اور امام ابن تیمیہؒ نے یونانی فلسفہ پر عبور بلکہ برتری حاصل کی تھی او ر اسی زبان اور اصطلاحات میں یونانی فلسفہ کے پیداکردہ اعتراضات وشبہات کاجواب دے کر اسلامی عقائد کی حقانیت اور برتری ثا بت کی تھی، ورنہ ایک دور میں یونانی فلسفہ ہمارے عقائد کے نظام میں اتھل پتھل کی کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہاتھا۔ اس حوالے سے دینی مدارس سے بجا طور پر یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ مغربی فکر وفلسفہ کو بطور فن اپنے نصاب کاحصہ بنائیں، اس کے ماہرین پیدا کریں اور اسی کی زبان اور اصطلاحات میں شکوک وشبہات کے ازالہ اور اسلامی عقائد وثقافت کے تحفظ ودفاع کا اہتمام کریں۔ 
دینی مدارس کو درپیش ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ عالمی ماحول تو رہا ایک طرف، ہم عام طور پر اپنے ارد گرد کے ماحول سے بھی باخبر نہیں ہوتے۔ میرے خیال میں اب ارد گرد کے ماحول اور عالمی ماحول میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہاہے اور مزید مشکل ہوجائے گا۔ یہ معلومات کی وسعت کادور ہے، ہر چیز سے باخبر رہنے کادورہے اور حالات پر نظر رکھنے کا دور ہے۔ اس ماحول میں دینی مدارس کواپنے اس طرز عمل اور ترجیحات پر نظر ثانی کرناہوگی جو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو بہت سے معاملات میں بے خبر رکھنے کے لیے ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔مثلاً:
  • معاصرمذاہب کا تعارفی مطالعہ انتہائی ضروری ہے، بالخصوص وہ چھ سات مذاہب جن کے پیروکار اس وقت دنیا میں وسیع دائرے میں پائے جاتے ہیں او ر ان کے مستقل ممالک اور حکومتیں قائم ہیں، مثلاً یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور سکھ وغیرہ۔ ان کا تعارفی بلکہ اسلام کے ساتھ تقابلی مطالعہ دینی مدارس کے فضلا کے لیے ضروری ہے ۔
  • مسلم امہ کاحصہ سمجھے جانے والے اعتقادی اور فقہی مذاہب مثلاً اہل سنت، اہل تشیع، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری، سلفی، جعفری، زیدی وغیرہ کاتعارفی مطالعہ اور ان کے اصول اور تاریخ سے واقفیت ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عصری مسلم فکری تحریکات، جو روایتی دائرے سے ہٹ کر ہیں، ان کے بارے میں ضروری معلومات سطحی اور نامکمل نہ ہوں بلکہ اصل ماخذ سے صحیح معلومات ہونی چاہییں۔
  • طب، سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ وغیرہ کی عملی کارفرمائی سے بہت سے مسائل کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔ ان سے آگاہ ہوئے بغیر فتویٰ دینا یا مسئلہ بیان کرنا شرعی اصولوں کے منافی ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ فن کو حاصل کرنا اور چیز ہے، اور اس کے بارے میں ضروری معلومات رکھنا اس سے مختلف امر ہے۔
  • عالمی اور علاقائی زبانو ں سے واقفیت اور ان پر عبور ایک مستقل مسئلہ ہے۔ دینی مدارس میں انگریزی کی تعلیم کا ایسا اہتمام کہ کوئی فاضل انگلش میں تقریر کر سکے یا معیاری مضمون لکھ سکے، سرے سے موجود نہیں ہے ۔ ہمار ی عربی، کتاب فہمی تک محدود ہے اور سالہا سال کی تعلیم اور تدریس کے بعد بھی ہم عربی زبان میں اس سے زیادہ عبور حاصل نہیں کر پاتے کہ کتاب کو سمجھ لیں اور اس کو پڑھا سکیں۔ بول چال، فی البدیہہ تقریر اورمضمون نویسی کی صلاحیت حاصل کرنا ہمارے اہداف میں شامل نہیں ہے، بلکہ اپنی قومی زبان اردو میں بھی ہماری حالت قابل رحم ہوتی ہے۔ ہمارے اکثر فضلا اچھی اردو نہیں بول سکتے اور نہ ہی اردو میں ڈھنگ کا کوئی مضمون تحریر کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا افسوس ناک خلا ہے جس نے ہمیں ابلاغ کے شعبے میں بالکل ناکارہ بنا رکھا ہے ۔
  • ابلاغ کے جدید ذرائع مثلاً کمپیوٹر، انٹر نیٹ، ویڈیو وغیرہ تک ہماری رسائی محل نظر ہے اور نہ صرف یہ کہ ز بان اور ذرائع عام طور پر ہماری دسترس سے باہر ہیں، بلکہ اسلوب کے حوالے سے بھی ہم آج کے دور سے بہت پیچھے ہیں۔ ہماری زبان ثقیل او راسلوب فتویٰ اور مناظرہ کاہوتاہے، جبکہ یہ تینوں باتیں اب متروک ہوچکی ہیں۔ آج کی زبان سادہ اور اسلوب لابنگ اور بریفنگ کاہے، مگر ہم ان دونوں سے نا آشنا ہیں جس کی وجہ سے ہم خود اپنے معاشرہ اور ماحول میں ہی بسااوقات اجنبی ہو کر رہ جاتے ہیں اور ابلاغ کی ذمہ داری پوری نہیں کرپاتے۔
  • ہمارے ہاں عمرانی اور معاشرتی علوم کاارتقا مسلم اسپین کے دور تک رہاہے۔ اس کے بعد ایسی بریک لگی ہے جیسے ہمارے ہاں معاشرت اور عمرانیات کاارتقا ہی رک گیا ہو۔ تب سے ا س شعبہ میں ہم پر جمود طاری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے اجتہادی کام کے علاوہ اس دوران میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی او ر شاہ صاحب ؒ کے بعد بھی تین صدیوں سے سناٹا طاری ہے ۔ معاشرت کاارتقا تو ظاہر ہے، رک نہیں سکتا مگر معاشرت وتہذیب کے حوالہ سے ہماری سوئی ابھی تک مسلم اسپین پر اٹکی ہوئی ہے اور ہم اس سے آگے بڑھتے نظر نہیں آرہے ۔ اس جمود کو توڑے بغیر ہم معاشرت وتمدن اور ثقافت وعمرانیات کے بارے میں دنیا کی راہ نمائی کامقام آخر پھر سے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ مگر دینی مدارس میں عمرانی علوم کے حوالے سے کوئی اجتہادی کام اور علمی پیش رفت تو رہی ایک طرف، ان علوم تک ہمارے فضلااور اساتذہ کی رسائی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔
  • دینی مدارس میں ہمارے اعتقادی اور فقہی مباحث اور اختلافات پر خوب کام ہوتاہے اوریہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہماری توانائیوں اور صلاحیتوں کا بڑ ا حصہ صرف ہوتاہے۔ مجھے اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں، لیکن اختلافات کی درجہ بندی اور تر جیحات کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں۔ بسااوقات اولیٰ اور غیر اولیٰ کے مسائل اورفروعی اختلافات کفر واسلام کے معرکے کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی اصولی اور بنیادی مسائل بھی نظر انداز ہونے لگ جاتے ہیں۔ اعتقادی مسائل اور فقہی اختلافات پر ضروربات ہونی چاہیے اور طلبہ کو ان سے متعارف کرانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ان اختلافات کی درجہ بندی اور ترجیحات بھی ان کے سامنے واضح ہونی چاہیے اور انہیں اس با ت کا علم ہونا چاہیے کہ کون سی بات کفر واسلام کی ہے اور کون سی بات اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہے، کس اختلاف پر سخت رویہ اختیار کرنا ضروری ہے او ر کون سے اختلاف کو کسی مصلحت کی خاطر نظر انداز بھی کیا جاسکتاہے ۔
  • تحقیق کے حوالے سے ہمارے ہاں صرف تین شعبوں میں کام ہوتاہے: (۱) اعتقادی وفقہی اختلافات پر خوب زور آزمائی ہوتی ہے، (۲) افتا میں ضرورت کے مطابق تحقیق ہوتی ہے، (۳) دینی جرائد میں عام مسلمانوں تک اپنے اپنے ذوق کے مطابق دینی معلومات پہنچانے کے لیے تھوڑی بہت محنت ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ امت کی اجتماعی ضروریات اور ملت اسلامیہ کے عالمی ماحول کی مناسبت سے کسی تحقیقی کام کا ہمارے ہاں کوئی تصور نہیں ہے۔ کچھ افراد اپنے ذوق اور محنت سے ایسا ضرور کررہے ہیں، لیکن بحیثیت ایک ادارہ اور نیٹ ورک کے دینی مدارس کے پروگرام میں یہ چیز شامل نہیں ہے۔
  • معلومات کی وسعت، تنوع اور ثقاہت کا مسئلہ بھی غور طلب ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر کی معلومات محدود، یک طرفہ اور سطحی ہوتی ہیں۔ الاّ یہ کہ کسی کا ذوق ذاتی محنت اورتوجہ سے ترقی پاجائے اور وہ ا س سطح سے بالا ہو کر کوئی کام کر دکھائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیق، مطالعہ اور استدلال واستنباط کے فن کو ایک فن اور علم کے طور پر دینی مدارس میں پڑھایا جائے اور طلبہ کو اس کام کے لیے باقاعدہ طور پر تیار کیاجائے۔
  • دینی مدارس کی لائبریریوں کا حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔ گنتی کے چند بڑے مدارس کے استثنا کے ساتھ عمومی طور پر دینی مدارس کی لائبریریوں میں درسی کتابوں سے ہٹ کر جو کتابیں پائی جاتی ہیں، وہ کیف مااتفق کے اصول پر کسی منصوبہ بندی اور ہدف کے بغیر ہوتی ہیں۔ ان تک طلبہ کی رسائی اوراستفادہ کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض مدارس میں تو روزانہ اخبارات کاداخلہ بھی بندہوتاہے اور طلبہ پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ اخبارات وجرائد کا مطالعہ نہیں کریں گے۔ خدا جانے اپنے طلبہ کو دنیا، اپنے ملک اورارد گرد کے ماحول سے بے خبر رکھ کر یہ مدارس انہیں کون سے ماحول میں کام کرنے کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔
  • مذاہب اورتہذیبوں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت بھی دن بدن عالمی سطح پر بڑھتی جارہی ہے اور اس کی طرف بین الاقوامی حلقے متوجہ ہورہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مکالمہ کے اصل فریق کون ہیں اورمکالمہ کا ایجنڈا کیا ہے۔یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر الگ سے گفتگو ہونی چاہیے، لیکن مذاہب کے درمیان مکالمہ جس انداز سے آگے بڑھ رہاہے، اس سے دینی مدارس کے اساتذہ اورطلبہ کابے خبر اور لاتعلق رہنا سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ اس مکالمہ کے پس منظر، ضرورت، دائرہ کار اور مضرت ومنفعت سے دینی مدارس کے اساتذہ اورطلبہ کا آگاہ ہونا ضروری ہے، بلکہ اس مکالمے کے تو اصل فریق ہی دینی مدارس ہیں اور انہیں اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

آزادی رائے، مغرب اور امت مسلمہ

محمد عمار خان ناصر

ڈنمارک کے ایک اخبار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور گستاخی پر مبنی خاکوں کی اشاعت سے عالم اسلام میں احتجاج کی جو طوفانی لہر پیدا ہوئی تھی، جذبات کا کتھارسس ہو جانے کے بعد حسب توقع مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ مذہبی قائدین کی توجہ فطری طور پر دوسرے مسائل نے حاصل کر لی ہے اور خدا نخواستہ اس نوعیت کے کسی آئندہ واقعے کے رونما ہونے تک، عوامی سطح پر پائے جانے والے مذہبی جذبات بھی بظاہر پرسکون ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی بحران میں امت مسلمہ کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کا تجزیہ، غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی، مستقبل کی پیش بینی اور اس حوالے سے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی تیاری اگرچہ ہماری روایت کے خلاف ہے، تاہم اس میں کوئی حرج نہیں کہ تازہ واقعے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وواقعات سے صورت حال کے جو توجہ طلب پہلو ابھر کر سامنے آئے ہیں، ان پر کم سے کم ایک نظر ہی ڈال لی جائے۔ 
مغرب اور عالم اسلام کے مابین پرامن تعلقات کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید، پیغمبر اسلام، یا مسلمانوں کے مذہبی شعائر کی توہین پر مبنی اس طرح کے واقعات ظہور پذیر نہ ہوں۔ اس ضمن میں بنیادی الجھن یہ ہے کہ مغربی معاشرہ چونکہ ایک خاص فکری ارتقا کے نتیجے میں مذہبی معاملات کے حوالے سے حساسیت کھو چکا ہے، نیز وہاں ریاستی نظم اور معاشرے کے مابین حقوق اور اختیارات کی بھی ایک مخصوص تقسیم وجود میں آ چکی ہے، اس وجہ سے مغربی حکومتیں قانونی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کی کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں امت مسلمہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں اختلاف رائے موجود ہے۔ ایک مکتب فکر کی رائے یہ ہے کہ معروضی حالات میں دعوتی اسپرٹ کے تحت اس طرح کے واقعات کے حوالے سے صبر واعراض سے کام لیا جائے اور اسلام کا پیغام مثبت طریقے سے مغربی دنیا تک پہنچانے پر اکتفا کی جائے۔ دوسرا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ اس ضمن میں امت مسلمہ کی حساسیت کو مغرب اور اسلام کے مابین تعلقات کے حوالے سے باقاعدہ ایشو بننا چاہیے اور مغرب کو عالم اسلام کا موقف سننے، اس پر غور کرنے اور اس کو وزن دینے پر حتی الوسع مجبور کرنا چاہیے۔ ہم اس اختلاف کو حکمت عملی کا اختلاف سمجھتے اور اس حوالے سے دونوں نقطہ ہائے نظر کے مابین تفصیلی مباحثے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ دونوں لائحہ ہائے عمل کے مضمرات پوری طرح سامنے آ سکیں۔ تاہم ہماری ناقص رائے میں دوسری اپر وچ زیادہ عملی اور امت مسلمہ کے جذبات ونفسیات کے زیادہ قرین ہے۔
اگر عالم اسلام سیاسی واقتصادی لحاظ سے اس پوزیشن میں ہوتا کہ مغرب کو اپنا موقف ’’سمجھا‘‘ سکے تو معاملہ نسبتاً آسان ہو جاتا، لیکن جیسا کہ واضح ہے، یہ حل سردست میسر نہیں۔ حالیہ واقعات نے، البتہ، مسئلے کے ایک اور پہلو کو نمایاں کیا ہے اور وہ یہ کہ مغربی معاشرے کے نمایاں اور فہیم طبقات نے، بالعموم، اس مسئلے کے حوالے سے امت مسلمہ کے ساتھ اخلاقی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں یورپی پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرارداد کو ہمارے خیال میں اہل مغرب کے عمومی زاویہ نگاہ کا ترجمان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں ذرائع ابلاغ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آزادی رائے کے حق کو انسانی ومذہبی حقوق کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے استعمال کریں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آزادی رائے کے حق کے استعمال کے نتیجے میں اگر کسی فرد یا گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے اسے عدالت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے (قرارداد کے بقول) یورپی ممالک میں نافذ موجودہ قوانین کافی ہیں۔ 
یہ رد عمل بدیہی طور پر اس رد عمل سے مختلف ہے جو مغربی دنیا نے سلمان رشدی کے معاملے میں ظاہر کیا تھا۔ غور کیا جائے تو اس کا سبب خود ہماری حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سلمان رشدی کے معاملے میں مغرب کی اخلاقی حس کو اپیل کرنے کے بجائے اس کے قانونی دائرۂ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے رشدی کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا، جبکہ حالیہ واقعے میں ہم نے عالمی فورم پر یہ مسئلہ اصلاً اخلاقی سطح پر اٹھایا۔ یہ اسی کا اثر تھا کہ بعد میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے باوجود مغربی دنیا معاملے کو اخلاقی زاویے ہی سے دیکھنے پر مجبور ہوئی اور امت مسلمہ کا موقف اور جذبات ایک حد تک اہل مغرب تک پہنچ سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اہل مغرب کی عمومی اخلاقی حس اور عالم اسلام کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کی خواہش کو، جو وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے، حکمت اور دانش کے ساتھ وسیلہ بنایا جائے تو مغربی معاشرے میں مذہبی نوعیت کی نہ سہی، سیاسی ومفاداتی نوعیت کی سہی، وہ حساسیت پیدا کی جا سکتی ہے جس کا فقدان اس وقت عالم اسلام کے احساسات وجذبات کی کماحقہ رعایت میں مانع ثابت ہو رہا ہے۔
تازہ صورت حال کا ایک اور مثبت اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اس نوعیت کے گزشتہ واقعات کی طرح، اس واقعے کے بعد بھی مغربی عوام میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں مزید جاننے اور بہتر واقفیت حاصل کرنے کے جذبے کو مہمیز ملی ہے۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم ’’کیر‘‘ (Council for American-Islamic Relationship) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ بحران کے بعد جب کونسل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرنے کی ایک مہم کا آغا زکیا تو صرف ۴۸ گھنٹے کے اندر امریکا اور کینیڈا سے ۱۶۰۰ پیغام موصو ل ہوئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ گزشتہ سال مئی ۲۰۰۵ میں امریکی فوجیوں کی جانب سے گوانتانامو بے میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات سامنے آئے تو اس موقع پر بھی ’’کیر‘‘ نے قرآن مجید کے مترجم نسخے پھیلانے کی مہم شروع کی اور ہزاروں امریکیوں نے قرآن مجید کا نسخہ حاصل کرنے کے لیے کونسل کے ساتھ رابطہ کیا۔ امت مسلمہ اور بالخصوص دیار مغرب کے مسلمانوں کو مغربی دنیا میں پیدا ہونے والے اس تجسس اور جذبہ جستجو کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمت اور دانش کے ساتھ اسلام اور پیغمبر اسلام کی اصل تصویر اہل مغرب کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ 
یہ تو وہ پہلو ہیں جن کا تعلق اسلام اور مغرب کے باہمی روابط سے ہے۔ اس کے علاوہ امت مسلمہ کی داخلی صورت حال اور رویے کے حوالے سے بھی چند امور قابل توجہ، بلکہ درست تر الفاظ میں قابل اصلاح ہیں: 
پہلی چیز ہے کہ دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر کا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ دوسرے مذہبی گروہوں کے جذبات کے احترام کے حوالے سے خود ہماری اخلاقی صورت حال کیا ہے۔ افسوس ہے کہ اس ضمن میں کوئی اچھی مثال دینے کے لیے بالعموم ماضی ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہماری تاریخ کے دور اول نے یہ منظر بھی دیکھا کہ فتح اسکندریہ کے موقع پر جب کسی مسلمان سپاہی کے پھینکے ہوئے تیر سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تصویر کی ایک آنکھ پھوٹ گئی تو اسلامی لشکر کے سپہ سالار عمرو بن العاص نے ’قصاص‘ کے لیے اپنی آنکھ پیش کر دی، اور اب دور زوال میں ہم نے اس ’’اجتماعی اخلاقیات‘‘ کا مظاہرہ بھی کیا کہ خالص سیاسی محرکات کے تحت دنیا کے ایک بڑے مذہب کے بانی گوتم بدھ کے مجسمے تباہ کیے گئے تو اسے بت شکنی کی روایت کا احیا قرار دے کر اس پر داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔ ہمارے ہاں ایک مذہبی گروہ کے ’’پیغمبر‘‘ کے بارے میں تضحیک، تمسخر اور توہین پر مبنی جو لٹریچر شائع ہوتا اور مذہبی جلسوں میں جو زبان معمول کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، وہ ہماری اخلاقی سطح کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
دوسری چیز، جو اہمیت کے لحاظ سے کسی طرح بھی پہلی سے کم نہیں، یہ ہے کہ اہل اسلام نے، کم از کم مغرب میں رونما ہونے والے واقعات پر رد عمل ظاہر کرنے کے حوالے سے، توہین رسالت کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تک محدود کر رکھا ہے۔ مغرب میں سیدنا مسیح علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کے بارے میں بھی توہین اور گستاخی کا رویہ موجود ہے اور اس کا اظہار مختلف واقعات کی صورت میں ہوتا رہتا ہے، لیکن ہمارے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ امت مسلمہ نے، امت کی سطح پر نہ سہی، انفرادی یا اداراتی سطحوں پر ہی اس حوالے سے غم وغصے کے جذبات اہل مغرب تک پہنچانے کی کوشش کی ہو۔ اللہ کے پیغمبروں کے مابین یہ تفریق اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ مذہبی وسیاسی مخاصمت ہماری نفسیات پر اس درجے میں اثر انداز ہو چکی ہے کہ ہم نے ’’اپنے‘‘ پیغمبر اور ’’ان کے‘‘ پیغمبروں کے مابین بھی حد فاصل قائم کر لی ہے۔
تیسری چیز یہ ہے کہ ہمیں توہین وتضحیک اور تنقید کے مابین فرق کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا ہوگا۔ توہین وتمسخر کا جواب تو یقیناًاعراض یا پرامن احتجاج ہے، لیکن اسلام یا پیغمبر اسلام پر کی جانے والی کوئی تنقید اگر علمی یا استدلالی پہلو لیے ہوئے ہے تو اس کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ ہماری رائے میں قرآن کے مقابلے میں کسی کا ’الفرقان‘ پیش کرنا قرآن کی توہین نہیں بلکہ اس پر تنقید ہے، اور اس پر احتجاج کرنا ایک بے معنی بات ہے۔ اپنے جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج خود قرآن نے جن وانس کو دے رکھا ہے اور اگر کوئی شخص اس چیلنج کے جواب میں کوئی کاوش کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اگر ہمارا قرآن مجید کے ایک معجز کلام ہونے کا دعویٰ محض اعتقادی نہیں ہے تو پھر کسی کو اس میں کوئی شبہہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس طرح کی کوئی بھی کوشش قرآن کے چیلنج کو مزید موکد کرنے کے سوا اور کوئی خدمت انجام نہیں دے سکے گی۔

سیرت نبوی اور ہجرت: ایک معنویاتی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ہجرت، قدیم دور سے ہی انسانی زندگی کا لازمہ رہی ہے۔ تاریخ عالم کی کسی بھی کتاب کی ورق گردانی کر لیجیے، اس میں آپ کو حضرت انسان بار بار رختِ سفر باندھتا دکھائی دے گا۔ کہیں انسان کی بے بسی کے دل دوز مناظر ملیں گے تو کہیں عزم و ہمت کی تاریخ ساز داستانوں سے واسطہ پڑے گا۔ لیکن یہ صرف انسان ہی نہیں ہے جس کے نصیب میں مسلسل سفر لکھا ہے، بلکہ ہجرت کا مظہر چرند پرند سے لے کر نباتات اور جمادات تک پھیلا ہوا ہے۔ تند و تیز ہوائیں ، نباتاتی بیجوں اور پرندوں کو زبردستی اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہیں۔ بعض جانور اور پرندے خود بھی صحرا نوردی اور جہاں گردی کا مزہ چکھتے ہیں اور ایک ماحول سے دوسرے ماحول میں ہجرت کر جاتے ہیں۔ ارضیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ دریا اپنے رخ بدل لیتے ہیں، چشمے خود پیاسے ہو جاتے ہیں، اور زمینیں کٹاؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کہیں پہاڑ اپنا وجود کھو دیتے ہیں اور کہیں نئے ٹیلے ابھر آتے ہیں۔ ساحلی علاقے سمندر بن جاتے ہیں اور سمندر میں ہی چند نئے جزیرے سر نکال کر آسمان کو تکنے لگتے ہیں۔ کہیں جنگلات معدوم ہو جاتے ہیں اور کہیں جنگلات کی تازہ بستیاں آباد ہو نا شروع ہو جاتی ہیں۔ زلزلے ، طوفان اور سیلاب، قیامت تو برپا کرتے ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ منجمد زندگی کو بھی ایسی مہاجرت سے نوازتے ہیں جس میں زمین کی زرخیزی اور انسانی عزم جیسے عناصر گھل مل کر بو قلمونی کا سماں پیدا کر دیتے ہیں۔ یوں ہجرت ، انسانی زندگی کا نہیں ، بلکہ خود زندگی کا ایک آفاقی مظہر بن جاتی ہے۔ 

مذہبی قصوں میں ہجرت کا تذکرہ 

تاریخِ عالم کے وہ ابواب جن میں مذہبی قصوں کا ذکر ہے، ہجرت کے تذکرے سے خالی نہیں ہیں۔ مذہبی قصوں میں ہجرت کی روداد، اساطیری روپ دھار لیتی ہے ۔ آدم و ابلیس کا قصہ ، جسے ہر الہامی مذہب کے قصوں میں کلیدی اہمیت حاصل ہے ، ایک خاص پہلو سے ہجرت ہی کی داستان ہے۔ قرآن کے مطابق شیطان کے بہکاوے میں آ کر آدم ؑ وحوا نے ایک غلطی کی اور اسی غلطی کی پاداش میں انھیں جنت سے نکال دیا گیا۔ چونکہ ہبوطِ آدم ؑ میں خود آدم ؑ کا اپنا اختیار شامل نہیں تھا، اس لیے زمین پر انسانی زندگی ایک پہلو سے، جلاوطنی کے مانند محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ صرف جلاوطنی بھی نہیں، کیونکہ آدم ؑ کو توبہ کرنے کی توفیق دی گئی تھی اور اللہ رب العزت نے توبہ قبول کرنے کے علاوہ آدم ؑ کو ہدایت بھی بخش دی تھی۔ (قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن / فَتَلَقَّی آدَمُ مِن رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ / ثُمَّ اجْتَبَاہُ رَبُّہُ فَتَابَ عَلَیْْہِ وَہَدَی) اس قصے میں توبہ کا عنصر، جلاوطنی کے سزا والے پہلو کو ختم کر کے جنت کی طرف واپسی کا مژدہ سناتا ہے۔ ( وَلَکُمْ فِیْ الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِیْنٍ/ قَالَ فِیْہَا تَحْیَوْنَ وَفِیْہَا تَمُوتُونَ وَمِنْہَا تُخْرَجُون ) واپسی کا یہ مژدہ نہایت اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس سے قصہ آدم و ابلیس میں جلاوطنی کے بجائے نہ صرف ہجرت کا پہلو در آتا ہے بلکہ ہجرت کی ایک بڑی خصوصیت ’’ واپسی ‘‘ نہایت وضاحت کے ساتھ مشخص ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ہجرت ، اساطیری سطح پر جلاوطنی کا نام نہیں ہے ، بلکہ اس کے ساتھ جنت کی طرف واپسی اور واپسی کی شرائط پوری کرنے کا ایک عظیم چیلنج منسلک ہے۔ وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلَی آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہُ عَزْماً کے مصداق عہد کی پاسداری کی خاطر ، گم گشتہ عزم کی بازیافت ہی اس چیلنج کا جواب ہے اور اس کے مقابل ابلیس کو قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنظَرِیْنَ إِلَی یَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ / قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّکَ مِنَ الْمُنظَرِیْنَ کے مصداق، عزم پر مسلسل وار کرنے کی مہلت بھی دے دی گئی ہے۔ قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِیْ الأَرْضِ وَلأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِیْنَ إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ / قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآءِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ۔ لہٰذا انسانوں میں سے جو کوئی پر عزم ہو گا، وہ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقَی/ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْْہِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِیْنَ کے مطابق سرخرو ہو کر جنت کا مستحق ہو گا اور جس کا عزم ( عہد شکنی کے باعث ) ابلیس کے ہاتھوں منتشر ہو گا، وہ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی / إِلاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِیْنَ کے مطابق ذلیل و رسوا ہو کر جہنم کا ایندھن بنے گا۔ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنکَ وَمِمَّن تَبِعَکَ مِنْہُمْ أَجْمَعِیْنَ / وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ أَجْمَعِیْنَ۔ لہٰذا قرآنی اساطیری تناظر میں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انسان ایک بار شکستہ عزم کے باعث ، عہد شکنی کاارتکاب کر کے، بے لباس ہو کر (بَدَتْ لَہُمَا سَوْءَ اتُہُمَا) جنت سے زمین پر اتر آیا ہے۔ اس کی دوبارہ بے عزمی اسے بے لباس کر کے تحت الثریٰ تک لے جائے گی۔ (یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْءَ اتِہِمَا) جبکہ عہد کی پاسداری کرتے ہوئے گم گشتہ عزم کی بازیافت، جو لباسِ تقویٰ کی صورت میں رونما ہو گی، یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْءَ اتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْْرٌ ، جنت کی طرف واپسی کا مژدہ سنائے گی ۔ 

سیرت نبوی میں ہجرت کی معنویت

انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سوسائٹی کی آلودگی اور اس کی تطہیر ایسا phenomenon ہے جو بار بار وقوع پذیر ہوتا رہتا ہے ۔ایک بار تطہیر کے بعد، مرورِ ایام سے مختلف اقسام کی جزوی اور وقتی آلائشوں سے ، سوسائٹی آلودہ ہوتی رہتی ہے اور اس کی بار بار تطہیر کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔سوسائٹی کی آلودگی کے پیچھے عموماََ انسان کی ( فرد اور گروہ کی سطح پر ) سرکشی (کَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَیَطْغَی ) کار فرما ہوتی ہے اس سرکشی کی بنیادی وجہ انسان کی ( فرد اور گروہ کی سطح پر ) بے نیازی ( أَن رَّآہُ اسْتَغْنَی) ہے ۔نفسی ہجرت ،فرد اور گروہ کی سطح پر انسان کو ایسی بے نیازی سے ہی بے نیاز کرنے کا کام کرتی ہے ۔ نفسی ہجرت کے طفیل ، انسان ( فرد اور گروہ کی سطح پر ) اپنے وجود کو ، سماجی بندشوں کے وقتی اور عارضی سیاق و سباق میں دیکھنے کے بجائے آغاز و انجام کے وسیع تر تناظر میں دیکھتا ہے ۔وہ اپنے آغاز سے آگاہ ہو جاتا ہے ( خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَق) ، اسے اپنے انجام کی بھی خبر ہو جاتی ہے ( إِنَّ إِلَی رَبِّکَ الرُّجْعَی ) ۔ یہ آگہی انسان کو ایسی جرات مندانہ ذمہ داری ( عزم ) سے نوازتی ہے جس کے سامنے سوسائٹی کے آلودہ عارضی بندش ، خس و خاشاک کی طرح بکھر جاتے ہیں۔
الہامی مذاہب میں اسلام آخری مذہب ہے، اس لیے اسلام کے پیغمبر کو بھی رسالت و نبوت کے خاتم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی یہ حیثیت بجا طور پر تقاضا کرتی ہے کہ تاریخِ انسانی میں ہجرت کی بے پایاں اہمیت کے پیشِ نظر ، ہجرت اپنی تمام تر معنوی ابعاد کے ساتھ قرآن و سنت میں جلوہ افروز ہو ۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی اسی خاتمیت کے پیشِ نظر ، اسلام نے نفسی ہجرت کا تسلسل (continuity) نبی خاتم ﷺ کی امت میں باقی رکھا ہے تاکہ امت کے افراد شخصی (اور گروہی) حیثیت میں، سوسائٹی کی سرکشی اور بے نیازی کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنے محدود ماحول کی قیود سے بالاتر ہوکر ، اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سماجی تطہیر کی ذمہ داری ، عزم کے ساتھ پوری کر سکیں ۔
اس سلسلے میں ہم آئندہ سطور میں نبی خاتم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہجرت کے معنوی ابعاد تلاش کرنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔

نفسی ہجرت اور گم گشتہ عزم کی باز یافت

ہجرت کی پہلی بُعد غارِ حرا میں نبی خاتم ﷺ کے استغراق و انہماک اور محویت کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ غارِ حرا میں آپ ﷺ کے تشریف لے جانے میں دو بنیادی حقائق پوشیدہ ہیں۔ اول یہ کہ سوسائٹی سے الگ ہو کر اس ’’عزم‘‘ میں پختگی پیدا کی جائے جو سوسائٹی کی روحانی واخلاقی آلودگی کے پیشِ نظر سوسائٹی سے علیحدگی کا سبب بنا ہے ۔ دوم یہ کہ زندگی کے ایسے آفاقی اصول جو سوسائٹی کی بندشوں اور آلائشوں سے بالاتر ہیں لیکن سوسائٹی کے لیے ہی ہیں، ان تک رسائی حاصل کی جائے۔ بلاشبہ ایسے اصولوں کا ادراک اپنے ماحول سے اٹھ کر ہی کیا جا سکتا ہے، اپنے ماحول کا حصہ بن کر نہیں۔ صرف اسی صورت میں انسانی زندگی کے وقتی، جزوی اور سفلی پہلوؤں کے بجائے علویت ، آفاقیت ، کلیت اور ابدیت پر مبنی حقائق منکشف ہوتے ہیں: 
’’ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ‘‘ 
اگر کوئی فرد اپنے ماحول سے اٹھ کر ( سو سائٹی کا چیلنج قبول کرتے ہوئے) اس قسم کے تجربے سے بہرہ مند ہوتا ہے اور پھر واپس سوسائٹی کا رخ نہیں کرتا یا سوسائٹی میں واپس آکر باقی ماندہ زندگی بغیر کسی سرگرمی کے گزار دیتا ہے تو اس کا اپنے ماحول سے اٹھ کر علویت و آفاقیت اور کلیت کو پا لینا چیلنج کو قبول کرنے کے بجائے لایعنیت اور لہو و لعب کے زمرے میں آتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس تجربے کے بعد سوسائٹی کی طرف فعال واپسی اسی قدر ناگزیر ہے جس قدر علویت و آفاقیت پانے کے لیے اپنے ماحول سے اٹھنا ضروری ہے۔لہٰذا چیلنج قبول کرتے ہوئے ایسے داخلی عزم کے ساتھ سوسائٹی سے علیحدگی اختیار کرنا کہ نہ صرف سوسائٹی کی طرف واپسی ہو گی بلکہ یہ واپسی ایک فعال واپسی ہوگی ، نفسی ہجرت کی ایک قسم ہے ۔ نبی خاتم ﷺ الہیاتی حکمت کے عین مطابق غارِ حرا میں نفسی ہجرت کے ایسے ہی بیش بہا تجربے سے سرفراز ہوئے ۔ جلد ہی نفسی ہجرت کے بے مثال ثمر ’’ عزم کا شخصی اظہار‘‘ شروع ہو گیا ۔محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کو حکم دیا گیا : وَأَنذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ۔ حکم کی تعمیل میں آپ ﷺ نے اپنے قرابت داروں کو دینِ حق کی دعوت دی، لیکن آپ ﷺ کے چچا ابولہب نے درمیان میں لقمے دے کر حاضرین کو منتشر کر دیا۔ اب ایک طرف نبی مکرم ﷺ کا عزم تھا اور دوسری طرف ابلیسی قوتیں اس عزم کو منتشر کرنے کے درپے تھیں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ دعوتِ حق دی۔ لوگ منہ پھیر کر اپنی راہ لینا چاہتے تھے کہ حضرت علیؓ نے (جو اس وقت طفلِ نا بالغ تھے) آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا۔ اس پر آپ ﷺ کے قرابت دار ہنستے قہقہے لگاتے چلے گئے ۔ اس کے باوجود آپ ﷺ کے عزم میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا ۔ آپ ﷺ کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور حق کی دعوت دی ۔ ابلیسی قوتوں نے، جن کا سرخیل ابولہب تھا، آپ ﷺ کے عزم کو یہ کہہ کر ملیا میٹ کرنے کی ناکام کوشش کی : تبا لک سائر الایام الہذا دعوتنا؟ ’’ تو ہمیشہ ہلاکت و رسوائی کا منہ دیکھے ۔ کیا تو نے اسی غرض سے ہم کو جمع کیا تھا ‘‘۔
نفسی ہجرت کے بعد ، اللہ رب العزت سے عہد کی پاسداری میں وَأَوْفُواْ بِعَہْدِ اللّہِ إِذَا عَاہَدتُّمْ ، نبی خاتم ﷺ نے کفارِ مکہ کے حوصلہ شکن اقدامات کے مقابل جس عزم کا مظاہرہ کیا، تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ یہ عزم در حقیقت آدم ؑ کے گم گشتہ عزم کی باز یافت ہے : فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ( مایوسی کے بجائے صبر کرنا عزم پر دلالت کرتا ہے ) چونکہ آپ ﷺ نبی خاتم ﷺ ہیں، اس لیے عزم کی اس بازیافت میں کاملیت موجود ہے ۔ اس حوالے سے نبی خاتم ﷺ کی حیاتِ مطہرہ ، بلا شبہ عظیم معجزہ ہے ۔ اس کامل عزم کی تفصیلات سیرت کی مختلف کتب میں تفصیلاً منقول ہیں ۔ یہاں ہم نبی مکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں سے صرف ایک واقعہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ 
آپ ﷺ کے معاون و پشت پناہ، مونس و غم خوار چچاحضرت ابو طالب نے جب قریش کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کرآپ ﷺ سے کہا کہ اے جانِ عم ! میرے اوپر اتنا بوجھ نہ ڈال کہ میں اٹھا بھی نہ سکوں، تو جواب میں نبی خاتم ﷺ نے جو کلمات ارشاد فرمائے ، عہد کی پاسداری کی تاریخ میں وہ بلاشبہ عزم کی معراج ہیں :
’’ قسم ہے رب العزت کی ، اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند لا کر رکھ دیں ، تب بھی میں اپنے اس فریضے سے باز نہیں آؤں گا۔ اگر آپ میری حمایت نہیں کر سکتے تو بھی پرواہ نہیں ۔ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ کام سر انجام دے رہا ہوں ، اسی کی حفاظت میرے لیے کافی ہے ۔ اللہ تعالیٰ یا تو اس کام کو پورا کرے گا یا میں اس کے لیے اپنی جان قربان کر دوں گا ‘‘۔ 
حضرت ابوطالب اس جواب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ا ن کی زبان سے بے ساختہ نکلا ، جا! کوئی شخص تیرا بال بیکا نہیں کر سکے گا۔ 
یہاں اس امر کا بیان بر محل ہو گا کہ شیطان نے آدم ؑ کے عزم پر اس ترغیب سے وار کیا تھا : قَالَ یَا آدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَیٰ/َ قَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ إِلاَّ أَن تَکُونَا مَلَکَیْْنِ أَوْ تَکُونَا مِنَ الْخَالِدِیْنَ وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ ، اور آدم ؑ ، فرشتگی و ہمیشگی اور سلطنتِ لا زوال کے چکر میں اپنے عہد سے غافل ہوگئے اور پھسل گئے۔ ا س کے برعکس نبی خاتم ﷺ خود پیش قدمی کرتے ہوئے ترغیبات کا رد ایسے اسلوب میں کرتے ہیں جس سے( رب العزت سے ایفائے عہد کی خاطر) آپ ﷺ کا عزم ،پختگی کے اعتبار سے ابدیت تک پھیلتا چلاجاتا ہے۔ (۱)

گروہی ہجرت اور اس کے بنیادی لازمے

آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں نفسی ہجرت کے بعد گروہی ہجرت کا مرحلہ آتا ہے۔ گروہی ہجرت اسی وقت ممکن تھی جب ایک باقاعدہ گروہ موجود ہوتا۔ نبی خاتم ﷺ کی مکی زندگی کے ابتدائی ایام میں چندہی صالح نفوس نے اسلام قبول کیا تھا اور تقریباً ان سب کو اپنے اپنے متعلقین کی طرف سے معاندانہ رویے کا سامنا تھا ۔ کفارِ مکہ کے ظلم و ستم کے مقابل ان نفوسِ صالح نے نبی خاتم ﷺ کے تتبع میں بے مثال ’’ شخصی عزم ‘‘ کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے صاف انکار کر دیا۔ (۲) یہ صالح نفوس ، مکہ کی مشرک سوسائٹی کے مقابل آہستہ آہستہ ایک الگ گروہی حیثیت اختیار کرتے چلے گئے ۔
ایک گروہ کے تشکیل پاتے ہی یہ بنیادی تقاضا پیدا ہوا کہ کفارِ مکہ کے خلاف شخصی عزم کے ساتھ ساتھ’’ گروہی عزم‘‘ کا بھی اظہار کیا جائے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے گروہی عزم کا’ تشکیلی مرحلہ ‘ آتا ہے جس کی خشتِ اول ، نبی خاتم ﷺ نے خود رکھی اور فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْن کے الٰہی حکم کی تعمیل میں بیت اللہ میں جاکر ببانگِ دہل کلمہ حق کہا ۔ کفارچاروں طرف سے آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑے ، حضرت حارث بن ابی ہالہ کو اس کی خبر ہوئی ، وہ دوڑے چلے آئے اور آپ ﷺ کو بچانے کی کوشش میں ’’ شہیدِ اول ‘‘ کے قابلِ رشک مقام سے سرفراز ہوئے۔ (مسند احمد)
اس خشتِ اول کے بعد صدیقِ اکبرؓ نے گروہی عزم کے تشکیلی مرحلے میں جو کردار ادا کیا ، اس کی روداد حضرت عائشہ صدیقہؓ نے یوں بیان فرمائی ہے :
’’جب رسول اللہ ﷺ کے مرد صحابہ کی تعداد اڑتیس ہوگئی تو صدیق اکبرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اصرار کیا کہ اب کھل کر اسلام کی دعوت دی جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! ابھی ہم لوگ تھوڑے ہیں ، لیکن حضرت ابوبکرؓ اصرار کرتے رہے ، جس پر رسول اللہ ﷺ نے کھلم کھلا دعوت و تبلیغ کی اجازت دے دی۔ چنانچہ مسلمان مسجد حرام کے مختلف حصوں میں بکھر گئے اور ہر آدمی اپنے قبیلے میں جا کر بیٹھ گیااور حضرت ابوبکرؓ لوگوں میں بیان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے ۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ اسلام میں سب سے پہلے خطیب ہیں جنھوں نے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف لوگوں کو علانیہ دعوت دی ۔ مشرکینِ مکہ ، ابوبکرؓ اور دوسرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور مسجد حرام کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو خوب مارا، جبکہ ابوبکرؓ کو خوب مارا گیا اور پاؤں تلے بھی روندا گیا۔‘‘ (۳)
حضرت صدیقِ اکبرؓ کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بھی گروہی عزم کے تشکیلی مرحلے میں صحابہ کرامؓ کی نمائندگی کی ۔ سیرت نگار ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مکہ میں جس شخص نے سب سے پہلے پکار کر قرآن شریف پڑھا، وہ عبداللہ بن مسعودؓ تھے۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ کے اصحابؓ نے صلاح کی کہ آج تک قریش نے بآوازِ بلند قرآن شریف نہیں سنا۔ کوئی ایسا شخص ہو جو ان کو بآوازِ بلند قرآن شریف سنائے ۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا ، میں سناؤں گا ۔عبداللہ بن مسعود نے حجرِ اسود کے پاس آکر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بآوازِ بلند سورۃ الرحمان کی تلاوت شروع کر دی ۔ قریشِ مکہ ان کی طرف دوڑے اور خوب طمانچے رسید کیے۔ عبداللہ بن مسعودؓ کی واپسی پر صحابہؓ نے ان کے چہرے پر طمانچوں کے نشان دیکھ کر کہا ، ہمیں یہی اندیشہ تھا ۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا ، میں دشمنانِ خدا سے خوف نہیں کھاتا ، کل جا کر انھیں پھر سناؤں گا ۔ اصحابؓ نے فرمایا، نہیں، بس یہی کافی ہے جو تم آج سنا آئے ہو۔
گروہی عزم کے تشکیلی مرحلے میں حضرت ابوذرؓ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ ان کے قبولِ اسلام کے بعد رسالت مآب ﷺ نے انھیں واپس اپنی قوم میں جانے اور دینِ حق کی دعوت دینے کا حکم دیا ۔ حضرت ابوذر غفاریؓ نے نبی خاتم ﷺ سے استدعا کی : 
’’ والذی نفسی بیدہ لاصرخن بھا بین ظھرانیھم‘‘ ( صحیح بخاری، حدیث نمبر ۳۸۶۱) 
’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، میں اس کلمہ توحید کا اعلان کافروں میں پورے زور سے کروں گا۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابوذرؓ نے بیت اللہ میں جا کر لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دی ۔ مشرکینِ مکہ نے آپؓ کو خوب مارا۔ حضرت عباسؓ نے (جو ابھی غیر مسلم تھے ) آپ کے اوپر لیٹ کرآپؓ کو کفار سے بچایا ۔دبنے کے بجائے ، اگلے دن حضرت ابوذرؓ نے پھر دین کی دعوت دی ۔ کفار نے آپؓ کو دوبارہ زدوکوب کیا اور حضرت عباسؓ نے مداخلت کر کے آپؓ کی جان بچائی۔ ( صحیح بخاری ، حدیث ۳۸۶۱) 
ایسے واقعات اگر ایک طرف صحابہ کرامؓ کے شخصی عزم کی پختگی پر دال ہیں تو دوسری طرف گروہی عزم کے تشکیلی مرحلے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں ۔ اس لیے جلد ہی لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنکے مصداق، مکہ میں دو گروہ آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک گروہ آبا پرستی کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھا اور دوسرا گروہ توحید ، وحدتِ انسانی ، صلہ رحمی اور ایثار جیسی خصوصیات سے مزین تھا۔ (۴)

ہجرتِ حبشہ: ایک اقدامی تجربہ

دعوتِ حق کے اس مرحلے پر آپ ﷺ نے اپنے قائد ہونے کا تاثر دینا شروع کیا، کیونکہ گروہ اور قیادت لازم و ملزوم ہیں۔ جیسے گروہ کے بغیر قیادت کا تصور محال ہے، اسی طرح قیادت کے بغیر کوئی گروہ بھی تشکیل نہیں پا سکتا ۔ چنانچہ ایک الگ گروہ کے تشکیل پاتے ہی اس کی قیادت کی ذمہ داری بھی آپ ﷺ کو سنبھالنی پڑی ۔ کفارِ مکہ کے معاندانہ ومتشددانہ رویے کے باعث، ایک قائد ہونے کے ناتے آپ ﷺ نے بھانپ لیا تھا کہ آخر کار آپ کو اپنے پورے گروہ سمیت ہجرت کرنی پڑے گی، کیونکہ آپ ﷺ سے قبل بھی بہت سے انبیا کو اس عمل سے گزرنا پڑا تھا۔ (۵) اس سلسلے میں آپ ﷺ نے ایک مدبر قائد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ، عجلت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے تجربی و اقدامی فیصلے کیے۔ نبی خاتم ﷺ نے اپنے رفقا کو دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا ۔آپ ﷺ کا یہ اقدام وسیع بنیاد پر سماجی تبدیلی (Large Scale Social Change) کا آغاز ثابت ہوا۔ نبی مکرم ﷺ نے تین سطحوں پر ان دو تجرباتی ہجرتوں کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جو مکہ کی سوسائٹی ، حبشہ کی سوسائٹی اور مہاجرین پر مرتب ہوئے ۔ 
ہجرت کے لیے حبشہ ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ اس سلسلے میں ابن ہشام نے آپ ﷺ کا انتہائی معنی خیز ارشاد نقل کیا ہے: 
’’ اگر تم سر زمین حبشہ کو نکل جاؤ تو بہتر ہے، کہ وہاں کے بادشاہ کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سر زمین صدق ہے ، یہاں تک کہ جس تنگئ حیات میں تم ہو، اس میں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے فراخی پیدا کر دے ‘‘۔ 
فرمانِ رسول ﷺ کے مطابق حبشہ کی مذکورہ حیثیت کو ، نومسلموں کی حالتِ زار کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک تو تنگئ حیات میں گرفتار مسلمانوں کے ’’ شخصی عزم ‘‘ کو شکستہ ہونے سے بچانے کی تدبیر کی، اور انھیں مصائب کے گڑھ سے نکل کر سر زمینِ صدق (۶) کی طرف چلے جانے کا حکم دیا۔ دوسرا یہ کہ آپ ﷺ نے ’’ گروہی عزم میں پختگی‘‘ پیدا کرنے اور اسے جانچنے کی راہ ہموار کی۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہجرتِ حبشہ نے مجموعی طور پر ، نومسلموں کے شخصی عزم کو شکستگی سے بچانے کے علاوہ گروہی عزم کی پختگی پر بھی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ۔ قریش نے عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص کو بحیثیت سفارت کار حبشہ بھیجا جنھوں نے نجاشی سے درخواست کی کہ ہمارے ’’مجرم‘‘ ہمارے حوالے کیے جائیں۔ نجاشی نے مسلمانوں کو بلا بھیجا کہ تم نے نصرانیت اور بت پرستی دونوں کے مخالف کون سا نیا دین ایجاد کر لیا ہے ؟ معاملہ نازک تھا، کیونکہ نجاشی کی مخالفت کی صورت میں ’’ مجرم ‘‘ کے طور پر مکہ واپسی اپنے اوپر قیامت ڈھانے والی بات تھی ۔ نجاشی اس وقت عیسائی تھا، لہٰذا بدیہی خطرہ موجود تھا کہ وہ بھڑک اٹھے اور مسلمانوں کو خود تختہ مشق بنائے یا قریش کے حوالے کر دے۔ اس بحرانی حالت میں صحابہ کرامؓ نے باہمی مشاورت کے بعد جو متفقہ فیصلہ کیا، وہ ان کے ’’ گروہی عزم ‘‘ کا آئینہ دار ہے : 
’’نقول واللہ فیہ ما قال اللہ و ما جاء بہ نبینا کائنا فی ذالک ما ھو کائن ‘‘ (مسند احمد)
’’اللہ کی قسم ! ہم وہی کہیں گے جو اللہ نے کہا ہے اور جس کی ہمارے نبی نے تعلیم دی ہے۔ اس معاملہ میں جو ہوتا ہے، ہو جائے‘‘۔
اس کے بعد حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے تاریخ ساز خطاب کیا اور کلامِ الٰہی کی آیات تلاوت کیں جنھیں سن کر نجاشی اور اس کے درباریوں پر رقت طاری ہو گئی اور انھوں نے مسلمانوں کو، سفراے قریش کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نجاشی کے دربار میں پہلے دن کی پسپائی کے بعد ، عمرو بن العاص ( جو ابھی غیر مسلم تھے ) دوسرے دن دربار میں حاضر ہوئے اور نجاشی کو مشتعل کرنے کی خاطر اس سے کہا کہ مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ان کا عقیدہ معلوم کیجیے ۔ حضرت امِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں، جس قدرفکر وتردد ہمیں اس روز لاحق ہوا، ویسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔سب صحابہؓ جمع ہوئے اور مشورہ ہوا ۔ پھر حضرت جعفر طیارؓ نے مہاجرہوتے ہوئے بھی، اجنبی سرزمین پر اپنے گروہ کی نمائندگی ( گروہ کی مشاورت سے ) کرتے ہوئے گروہی عزم کا بلا خوف اظہار کیا : ’’ قرآن مجید میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بن مریم ، اللہ تعالیٰ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کی روح ہیں ‘‘۔ ( سیرت ابنِ ہشام / المسند ) 
نجاشی نے صحابہ کرامؓ کے کلمہ حق پر لبیک کہا اور ایک تنکا اٹھا کر یوں گویا ہوا :
’’واللہ ! جو کچھ تم نے کہا ، حضرت عیسیٰ ؑ اس سے سرِ مو زیادہ نہیں ہیں ‘‘۔( سیرت ابنِ ہشام / المسند )
ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح نبی خاتم ﷺ کے شخصی عزم کو پختہ کرنے کے لیے فترۃ الوحی کا ایک دور گزرا جس کے بعد متواتر وحی کا آغاز ہوا، اسی طرح ہجرتِ حبشہ نے صحابہ کرامؓ کے گروہی عزم کو پختہ کرنے کا کام کیا اور یہ گروہی عزم اس کے بعد متواتر ہجرتِ مدینہ، غزوات، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ جیسے مراحل طے کرتا چلا گیا ۔مثال کے طور غور کیجیے کہ حبشہ میں مسلم گروہی عزم کو مسیحیت جیسی عظیم مذہبی روایت سے مکالمہ کرنا پڑا۔ اس مکالمے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور نجاشی کے قبولِ اسلام کے ساتھ ہی اسلام حبشہ میں پھیلتا چلا گیا۔ یہ مکالمہ بعد میں، ہجرتِ مدینہ کے بعد یہودیت جیسی سخت نسل پرست مذہبی روایت کے محاکمے میں بہت ممدومعاون ثابت ہوا ۔قرآن کے الفاظ پر غور فرمائیے: 
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (المائدہ۵:۸۲ )
’’ایمان والوں کی عداوت میں تم سب سے زیادہ شقی یہودیوں کو پاؤ گے، نیز مشرکوں کو ۔ اور ایمان والوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں ہم نصاریٰ ہیں، اس لیے کہ ان میں پادری اور تارک الدنیا ہیں اور اس لیے کہ ان میں گھمنڈ اور خود پرستی نہیں ہے‘‘۔
اس لیے مشرکینِ مکہ کے مصائب جھیلنے کے بعد اگر ہجرتِ حبشہ کے تجربی اقدام کے بغیر ہجرتِ مدینہ عمل میں لائی جاتی تو یہودیت جیسی سخت گیر روایت سے مسلم گروہی عزم کا براہ راست ٹکراؤ کافی مشکلات پیدا کر سکتا تھا ۔ خود مسیحیت کے ساتھ مکالمے میں بھی ایک منفی پہلو سامنے آیاتھا۔مکے کے مہاجرین میں سے عبیداللہ بن جحش ، حبشہ میں مرتد ہوگئے اور انھوں نے عیسائیت اختیار کر لی تھی ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا ۔یقیناًاس سے صحابہ کرامؓ کو شدید جذباتی اور نفسیاتی دھچکا لگا ہو گا ۔ اس دھچکے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت نظر آتی ہے ، کیونکہ نبی خاتم ﷺ کے وصال کے فوراً بعد ارتداد کا مسئلہ سامنے آیا تھا ، جس کے مقابل صدیقِ اکبرؓ کی قیادت میں صحابہ کرامؓ نے’’ گروہی عزم ‘‘ کا بے مثال مظاہرہ کیا تھا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عبیداللہ بن جحش کے ارتداد کے پیچھے، مستقبل کے سنگین مسئلے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ، صحابہ کرامؓ کی نفسیاتی تیاری اللہ رب العزت کو مطلوب و مقصود تھی۔ ارتداد کے اس واقعہ نے یقیناًصحابہ کرامؓ کے ’’ گروہی عزم ‘‘ کو کندن بنا ڈالا ۔ صحابہ کرامؓ اگر اس جذباتی و نفسیاتی دھچکے سے نہ گزرے ہوتے تو بعد میں ایک تو آپ ﷺ کے وصال کا صدمہ اور پھر اوپر سے ارتداد کا فتنہ، صحابہ کرامؓ کویقیناًمفلوج کر کے رکھ دیتا۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ہجرتِ حبشہ کی نوعیت ’’ اقدامی ‘‘ ہو جاتی ہے ۔

ہجرتِ حبشہ اور حبشی سماج

ڈاکٹر محمد حمیداللہ ، خطباتِ بہاولپور میں ’’ عہدِ نبوی ﷺ میں تبلیغِ اسلام اور غیر مسلموں سے برتاؤ‘‘ کے زیرِ عنوان فرماتے ہیں: 
’’اب چونکہ تبلیغ کی آزادی تھی، اس لیے یہ مسلمان ( مکے کے نو مسلم مہاجر ) حبشہ میں تبلیغ کرنے لگے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند سالوں وہاں کافی تعداد میں یعنی کم ازکم چالیس پچاس حبشی مسلمان ہو گئے‘‘ ۔ (ص ۳۶۱) 
ابن ہشام کی سیرت النبی ﷺ میں بھی ابنِ اسحاق کے حوالے سے رقم ہے کہ حبشہ سے بیس یا بیس کے قریب نصاریٰ آپ ﷺ کی خبر سن کر محض آپ ﷺ کو دیکھنے کے لیے مکہ آئے ۔ آپ ﷺ مسجد الحرام میں تشریف فرما تھے ۔ انھوں نے آپ ﷺ سے چند سوالات کیے ۔ قریش دور کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے ان نصاریٰ کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا اور اسلا م کی دعوت دی ۔ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور و ہ تمام لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ۔ان لوگوں نے نبی خاتم ﷺ کو ان اوصاف کے مطابق پہچان لیا تھا جو ان کی کتابوں میں مذکور تھے ۔ جب وہ مسلمان ہو کر واپس جانے لگے تو ابوجہل اور قریش کے چند لوگوں نے ان سے کہا کہ تم بڑے بیوقوف اور احمق ثابت ہوئے ہو ، تمھاری قوم نے تمھیں اس شخص کی خبر دریافت کرنے بھیجا تھا اور تم نے اس کا دین اختیار کرکے اس کی تصدیق کر دی ، تم سے زیادہ نالائق ہم نے کوئی نہیں دیکھا ۔ انھوں نے جواب میں کہا ’سلام علیکم‘ ،ہم تم سے جہالت نہیں کرتے ، ہمارے واسطے ہمارے کام ہیں اور تمھارے واسطے تمھارے کام ہیں۔ ( ۷) اس کے بعد مکے کے مہاجرین کے ساتھ نو مسلم حبشیوں نے بھی حبشہ میں دعوتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ 
مرتد عبیداللہ بن جحش کے مرنے کے بعد آپ ﷺ نے اس کی بیوی ام حبیبہؓ بنت ابی سفیانؓ سے شادی کر لی ۔ ابنِ ہشام کی سیرت النبی ﷺ کے مطابق ، آپ ﷺ نے شادی کے پیغام کے لیے حضرت عمرو بن ؟؟ ضمری کو نجاشی بادشاہ حبشہ کے پاس بھیجا تھا۔ نجاشی نے حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح نبی مکرم ﷺ کے ساتھ کر کے چار سو دینار مہر مقرر کیا۔ نکاح میں حضرت ام حبیبہؓ کے وکیل خالد بن سعید بن عاص تھے جنھوں نے ان کو حضور ﷺ کے نکاح میں دیا ۔ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نجاشی نے اوائل ایام میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا جس سے مسلمانوں کو حبشہ میں دعوت دینے میں آسانی پیدا ہوئی ا ور ان کا ’’گروہی عزم ‘‘ پختہ تر ہوتا چلا گیا ، دوسرا یہ کہ کثرتِ ازواج کے حوالے سے آپ ﷺ پر مستشرقین کے اعتراضات کا ایک جواب بھی اس نکاح سے مل جاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ اس وقت اسلام، حبشہ کے عیسائیوں میں پھل پھول رہا تھا ، ایسے حالات میں کسی مہاجر مسلم کا عیسائی ہونا اس نومسلم سوسائٹی کے لیے اچنبھے کی بات تھی ۔ اب اس ’’ مرتدِ اول ‘‘ کی بیوی کے بارے میں عمومی مسلم رویہ کیا ہو سکتا تھا؟ ظاہر ہے، ان کے لیے قدرے مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں ۔ پھر یہ احتمال بدیہی طور پر موجود تھا کہ مسلمانوں میں ایسا سماجی رویہ پروان چڑھتا جس کے سبب مستقبل میں کسی کے مرتد ہونے پر اس کی بیوی کو کوئی بھی مسلم اپنے نکاح میں لینے پر تیار نہ ہوتا اور اس خاتون کو مستقلا بیوگی کی زندگی گزارنی پڑتی ۔ آپ ﷺ نے یہ نکاح کر کے حقیقت میں مسلم سوسائٹی کو یہ عظیم پیغام دیا کہ ہر فردصرف اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ، کسی کی بد اعمالی یا بے ایمانی کی سزا کسی دوسرے نہیں دی جا سکتی ، چاہے معاملہ خاوند بیوی کا ہی کیوں نہ ہو ۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد ارتداد کا جو فتنہ اٹھا ، اس میں ایسی مسلم خواتین، جن کے شوہر مرتد ہوگئے تھے ، ان کی بابت مسلم سوسائٹی کے عمومی رویے کو پیشِ نظر رکھ کر آپ ﷺ کے حضرت امِ حبیبہؓ سے نکاح کی حکمت سمجھی جا سکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم سوسائٹی نے نبی خاتم ﷺ کے اس پیغام پر لبیک کہا ہو گا اورایسی خواتین کو نہایت تعظیم کے ساتھ، مسلمان مردوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہو گا ۔ (۸) 
نجاشی کے قبولِ اسلام سے اگرچہ مہاجرین کے لیے آسانی پیدا ہوئی اور دعوتِ حق کا کام بھی سہل ہو گیا لیکن حبشہ کی سوسائٹی میں بے چینی بھی بڑھتی چلی گئی۔ ابنِ ہشام نے ابنِ اسحاق سے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ تمام اہلِ حبش نے نجاشی سے سرکشی کی اور کہا کہ تم ہمارے دین ( مسیحیت ) سے علیحدہ ہو گئے ہو ۔ جب یہ لوگ فساد پر آمادہ نظر آئے تو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ سمیت تمام مہاجرین سے کہلا بھیجا اور ان کے لیے کشتیوں کا انتظام کر دیا کہ ان میں سوار ہو جاؤ اور میری خبر کے منتظر رہو ۔ اگر مجھے شکست ہوئی تو تم لوگ جہاں جا سکو، چلے جانا اور اگر میرا غلبہ ہوا تو یہیں رہنا ۔ نجاشی نے نہایت تدبر اور خوش اسلوبی سے فسادیوں کو سنبھال لیا اور ان کی مخالفت ختم ہوگئی۔ (۹) اس واقعہ سے اتنا ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ حبشہ کے مسیحیوں نے سماجی اور سیاسی میدان میں اسلام کی بھر پور مدافعت کی ۔ 

ہجرتِ حبشہ اور مکی سماج 

مکہ کی سوسائٹی کے لیے بھی ہجرتِ حبشہ سماجی زلزلہ ثابت ہوئی ۔ ظاہر ہے ان دنوں مکہ کی آبادی بہت زیادہ نہیں تھی ۔ اس آبادی میں سے سو (۱۰۰) کے لگ بھگ انھی کے بھائی بندوں کا علاقہ چھوڑ جانا ایسا معمولی واقعہ نہیں تھا جس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات سے اہلِ مکہ محفوظ رہ سکتے۔ ابنِ ہشام کی سیرت النبی ﷺ میں ابنِ اسحاق نے حضرت امِ عبداللہؓ بنت ابی حثمہ سے روایت کیا ہے ، وہ کہتی ہیں کہ جس وقت ہم حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا سامان کر رہے تھے اور میرے شوہر عامرؓ اس وقت کسی کام کو گئے ہوئے تھے ، یکایک عمرؓ بن خطاب میری طرف آ نکلے ۔ وہ اس وقت کفر ہی کی حالت میں تھے اور ہم کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ وہ کہنے لگے ، اے امِ عبداللہؓ ! کیا اب تمھارا کوچ ہے ؟ میں نے کہا ، ہاں ! واللہ ہم کیا کریں، جب تم ہم کو بے حد تکلیفیں اور ایذائیں پہنچاتے ہو ، اس لیے ہم خدا کے ملک میں سفر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ خدا ہمارے لیے کشادگی پیدا کردے ۔ عمرؓ بن خطاب نے کہا ، خدا تمھارا حافظ ہے ۔ میں نے دیکھا کہ عمرؓ کے دل کو ہمارے جانے سے رنج ہوا۔ پھر وہاں سے عمرؓ چلے آئے ، جب عامرؓ آئے تو میں نے ان سے کہا ، اے ابو عبداللہ ! تم نے دیکھا اس وقت عمرؓ آئے تھے اور ہمارے جانے سے وہ غمگین ہوئے ۔ عامرؓ نے کہا ، کیا تم کو امید ہو سکتی ہے کہ عمرؓ اسلام قبول کرے ۔ میں نے کہا، ہاں۔ عامرؓ نے کہا ، ہر گز نہیں ۔ اگر خطاب کا گدھا اسلام لے آئے تو میں جانوں کہ عمرؓ بھی مسلمان ہو جائے گا ۔ امِ عبداللہؓ کہتی ہیں کہ عامرؓ کا یہ کلام اس سبب سے تھا کہ وہ عمرؓ کی سختی اور ان کی اسلام دشمنی کو دیکھ کر ناامید ہو گئے تھے ۔( خیال رہے، عامرؓ اور امِ عبداللہؓ ، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے گروپ میں شامل تھے )
لہٰذا ہجرتِ حبشہ نے مکی سوسائٹی میں عمرؓ بن خطاب جیسی شخصیات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ محمد ﷺ ہمارے بھائی بندوں کو ہم سے جدا کر رہے ہیں، عمرؓ بن خطاب بر افروختہ ہوئے اور تلوار حمائل کیے نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحابؓ کے قصد سے چل پڑے۔ راستے میں ان کی ملاقات نعیم بن عبداللہ سے ہو گئی ۔ انھیں عمرؓ بن خطاب کے ارادے کا پتہ چلا تو کہا، پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمھاری بہن اور بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں ۔عمرؓ جیسی سخت اسلام دشمن شخصیت کے لیے یہ خبر بہت بڑا نفسیاتی دھچکا تھی۔ ان کا رخ بہن کے گھر کی طرف ہو گیا، جہاں وہ غصے میں بہنوئی کے ساتھ باہم دست و گریباں ہو گئے۔ بہن فاطمہ چھڑانے کو آگے بڑھیں تو عمرؓ نے ان کے سر پر ضرب لگائی ، فاطمہؓ بنت خطاب کے سر سے خون بہنا شروع ہو گیا ۔ تب ان کی بہن اور بہنوئی نے ڈٹ کر کہا ، ہاں بے شک ہم اسلام لے آئے ہیں ، دیکھیں تم ہمارا کیا کرتے ہو۔ بہن کے سر سے خون بہتا دیکھ کر عمرؓ بہت شرمندہ ہوئے ۔ ظاہر ہے یہ کوئی جائیداد کی تقسیم کا معاملہ نہیں تھاجس کی خاطر یہ لوگ اپنے بھائی بندوں سے الگ ہو رہے تھے، بلکہ یہ لوگ تو ہر دنیاوی آسائش کو تج دے کر بے آسرا و بے سروسامان ہو چکے تھے۔ عمرؓ بن خطاب کی داخلی دنیا میں مہاجرینِ حبشہ کی وجہ سے پہلے ہی اضطراب پیدا ہو چکا تھا، اسی اضطراب نے جھنجھناہٹ کی شکل اختیار کی تھی ۔ ان کا دل پسیج گیا ، وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس کی خاطر یہ لوگ اپنی جائیداد ، علاقہ اور رشتہ داریاں تک چھوڑنے کو تیار ہیں ، حالانکہ عمومی دستور یہی ہے کہ لوگ انھی اشیا کی خاطر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ مشیتِ الہٰی کے مطابق ، ابو حکم بن ہشام ( ابوجہل ) کے بجائے عمرؓ بن خطاب کے حق میں نبی خاتم ﷺ کی دعا قبول ہو چکی تھی ، کیونکہ آپ ﷺ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے تائیدِ اسلام کی دعا فرما ئی تھی ۔ عمرؓ نے کہا مجھے وہ کاغذ دو ، جس پر کلام لکھا ہے ، دیکھوں تو سہی ، محمد ﷺ پر کیا نازل ہوا ہے ؟ بہن نے انھیں غسل کرنے کو کہا تا کہ وہ پاک ہو جائیں ۔ عمرؓ نے اسی وقت غسل کیا ، بہن نے وہ کاغذ دے دیا جس پر سورۃ طہٰ لکھی ہوئی تھی ۔ عمرؓ پڑھے لکھے تھے ، دیکھتے ہی کہنے لگے ، یہ کلام اچھا ہے اور کیسا بزرگ ہے ۔ اس کے بعد عمرؓ بارگا ہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا ۔ فاروقِ اعظمؓ کے قبولِ اسلام سے کفار کمزور پڑ گئے ۔حضرت عمرؓ بن خطاب جیسی عظیم شخصیت، مسلم گروہی عزم کے مرکزی دھارے mainstream میں نہ صرف فوراً شامل ہوگئی بلکہ گروہی عزم کو اقدامی بنانے میں ممدو معاون ثابت ہوئی۔ ( ۱۰) آپؓ کے قبولِ اسلام کے بعد مسلمانوں نے کعبہ میں پہلی بارسرِ عام نماز ادا کی ۔(اوپر گزر چکا ہے کہ صدیقِ اکبر نے حرم میں سب سے پہلے خطاب کیا ) ڈاکٹر محمد حسین ہیکل کے مطابق ہجرتِ مدینہ کے بعد اسلام کو جو سیاسی اقتدار نصیب ہوا، اس کا پیش خیمہ حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام ہی ہے ۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہجرتِ حبشہ ، حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام کا پیش خیمہ ہے، اس طرح دونوں ہجرتیں ، فاروقِ اعظمؓ کی زندگی میں بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں ۔
ہجرتِ حبشہ سے مکی سوسائٹی جن اضطرابی کیفیات سے گزر رہی تھی، اس کا سماجی سطح پر اظہار ’’ معاشرتی مقاطعہ ‘‘ کی صورت میں ہوا ۔ قریش نے باہم اتفاق کرکے ایک عہد نامہ لکھ لیا کہ ہم بنی ہاشم اور بنی مطلب سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے ۔ اس وقت کے مخصوص عرب کلچر کے تناظر میں یہ ایک انتہائی اقدام تھا ( ۱۱) اور ظاہر ہے اس کے پیچھے انتہا درجے کی تلملاہٹ اور ذہنی شکستگی کارفرما تھی۔اہم بات یہ ہے کہ اس موقع پر ابولہب عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب کے سوا آپ ﷺ کے تمام قرابت داروں نے آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔ یوں ، ابولہب نے عرب کلچر کی زندہ روایات سے بھی روگردانی کرکے آپ ﷺ سے قطع تعلق اختیار کر لیا اور معرکہ خیر و شر میں،ابلیس کی مانند شر کی ابدی علامت بن گیا(۱۲) ۔ ہجرتِ حبشہ کے سماجی اثرات سے بوکھلا کر، عہد نامہ لکھ تو لیا گیا تھا اور اس پر عمل درآمد بھی ہو رہا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی مکی سماج میں اس ظلم کے خلاف ردِ عمل بھی ابھرنا شروع ہوا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ معاشرتی مقاطعہ کا عہد نامہ لکھنے میں ہی کچھ لوگ متردد تھے ۔ وہ اسے صریحاً ظلم تصور کرتے تھے ۔ جس طرح ہجرتِ حبشہ پر مکی سماج سوچ بچار پر مجبور ہو گیا تھا ، اسی طرح اب مکی سماج کے اپنے ردِ عمل نے لوگوں کو انفرادی حیثیت میں غورو فکر پر مجبور کردیا۔ اس طرح معاشرتی مقاطعہ ایک لحاظ سے ’’ داعی ‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ۔ ابنِ ہشام کی سیرت النبی ﷺ میں ہشام بن عمرو کی ان کوششوں کا تذکرہ موجود ہے جو اس نے معاشرتی مقاطعہ کے خاتمہ کے لیے زہیر بن ابی امیہ ، مطعم بن عدی ، ابوالبختری بن ہشام اور زمعہ بن الاسود کے ساتھ مل کر کیں ۔ 
حضرت ابوبکرؓ نے بھی قریش کے مظالم سے تنگ آکر نبی پاک ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی۔ اجازت مل گئی۔ صدیقِ اکبرؓ ہجرت کے ارادے سے مکہ سے ابھی دو منزل ہی باہر نکلے تھے کہ ان کی ملاقات احابیش کے سردار ابن الدغنہ سے ہوئی۔ اس نے پوچھا ،اے ابوبکر ! کہاں جاتے ہو ؟ آپؓ نے فرمایا، میری قوم نے مجھے سخت تکلیفیں پہنچائی ہیں اور نکلنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ابنِ دغنہ نے کہا ، کیوں ؟ اس کی وجہ؟ واللہ تم تو اپنی قوم کے لیے باعث زینت ہو، مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہو، بھلائی کے کام کرتے ہو اور ناداروں کو ضروریات فراہم کرتے ہو۔ تم چلو ، میں تمھیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ چنانچہ صدیقِ اکبرؓ ، ابن دغنہ کے ہمراہ مکہ واپس آ گئے ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابو بکرؓ نے پناہ واپس کر دی۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے، سیرت النبی ﷺ، ابنِ ہشام )
ہم سمجھتے ہیں کہ ہجرتِ حبشہ سے مکی سماج کو سنگین فکر لاحق ہو گئی تھی کیونکہ اس کے صاحبِ حیثیت افراد مکہ چھوڑ چھوڑ کر جا رہے تھے۔ ( ۱۳) مثلاً حضرت عثمانؓ بن عفان، حضرت زبیرؓ بن العوام ، حضرت مصعبؓ بن عمیر ، حضرت ابوسبرۃؓ بن رہم اور حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف ایسے مہاجرین تھے جن کی مکی سوسائٹی میں ممتاز حیثیت تھی اور یہ اصحابؓ حبشہ ہجرت کرنے والے پہلے مسلم گروپ میں شامل تھے ۔ ایسے میں صدیقِ اکبرؓ جیسی عظیم شخصیت کے چلے جانے سے مکی سماج ، اخلاقی دیوالیہ کا شکار ہو جاتا۔ ابنِ دغنہ کے ان الفاظ پر ذرا غور کیجیے جو اس نے صدیقِ اکبرؓ کی شان میں کہے ۔ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ان کا کردار ’’ داعی ‘‘ بن کر سامنے آیا ہے ، کیونکہ ان کا شخصی عزم کاملیت کے قریب پہنچاہوا تھا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ دوسرے صحابہؓ نے کردار کے جو مراتب ہجرت کرکے حاصل کیے، نبی خاتم ﷺ کے یا رِ غار نے وہ مراتب فقط دو منزل طے کرکے حاصل کر لیے (۱۴) المختصر، ہجرتِ حبشہ نے جہاں ایک طرف نفسیاتی کچوکے لگا کر مکی سوسائٹی کو جھنجھوڑ ڈالا ، وہاں یہ مختلف سطحوں پر شخصی و گروہی عزم کو تقویت دیتے ہوئے داعی کی حیثیت اختیار کرتی چلی گئی ۔ 
ہجرت حبشہ کے حوالے سے سطور بالا میں مذکور توضیح سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ نبی خاتم ﷺ نے خود ہجرتِ حبشہ کیوں نہیں کی؟ ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ ہجرت تجربی واقدامی تھی اور اس سے پیش نظر ہجرت مدینہ کے لیے زمین کو ہموار کرنا تھا۔ 

ہجرت مدینہ کے تمہیدی مراحل

حبشہ کی تجربی و اقدامی ہجرت کے گوناگوں اثرات پر نظر رکھتے ہوئے ، مشیتِ الٰہی کے مطابق نبی خاتم ﷺ گروہی ہجرت کے تتماتی لازمے finishing requirements پورے کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کو حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہؓ کی رحلت کے سانحات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ حضرت خدیجہؓ گھر کے اندرآپ ﷺ کی غم گسار تھیں تو حضرت ابوطالب گھر کے باہر کفار کے مظالم کے خلاف ڈھال بنے ہوئے تھے ۔ اس لیے ان دوہستیوں کے داغِ مفارقت دے جانے سے رسولِ پاک ﷺ جن مشکل حالات سے دوچار ہوئے ، اس سے آپ ﷺ کا شخصی عزم کاملیت کے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچ گیا۔ سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام میں رقم ہے کہ جب ایک گستاخ نے آپ ﷺ کے سر مبارک پر خاک ڈالی اور آپ ﷺ گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی اس کو دھونے لگی اور رونے لگی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا، بیٹی کیوں روتی ہو ؟ اللہ تمھارے باپ کا حافظ ہے ۔ اس وقت آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تک ابو طالب زندہ تھے ، قریش مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکے ۔ 
حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد ابولہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا ۔ اس نے آپ ﷺ کو ’’کنبہ بدر‘‘ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ یہ انتہائی اقدام تھا ۔ حضرت ابوطالب نے قریش کی دھمکیوں ، دباؤ اور معاشرتی مقاطعہ کے باوجود ایسا منفی قدم نہیں اٹھایا تھا لیکن ابولہب نے بغیر کسی دباؤ کے ، آپ ﷺ کی مخالفت میں اپنے طور پر یہ انتہائی قدم اٹھا لیا ۔ اس کے نتیجے میں آپ ﷺ اپنے خانوادے کی حمایت سے محروم ہو گئے ۔ کنبہ بدری کی اس دشوار اور صبر آزما میں نبی پاک ﷺ نے طائف کا سفر کیا تاکہ وہاں سے حمایت و تعاون مل سکے اور دعوتِ اسلام کا فریضہ جاری رہ سکے، لیکن وہاں آپ ﷺ پر جس طرح آوازے کسے گئے ، سنگ باری کی گئی، قلم اس کو بیان کرنے سے قاصر ہے ۔ ذرا غور کیجیے کہ ایک کنبہ بدر فرد پر ایسے حالات بیتیں تو اس پر کیا گزرتی ہے؟ یہ آپ ﷺ کا کامل شخصی عزم ہی تھا کہ آپ ﷺ نے مایوس ہونے کے بجائے اہلِ طائف کے لیے بھی دعا کی۔ یہ محض حسنِ اتفاق نہیں کہ آپ ﷺ طائف سے واپسی پر ’’ غارِ حرا ‘‘ میں ٹھہرے جہاں سے آپ ﷺ نے آدم ؑ کے گم گشتہ عزم کی بازیافت کا آغاز کیا تھا۔ پھر آپ ﷺ مطعم بن عدی کی پناہ میں مکہ واپس آئے کیونکہ کنبہ بدری کے بعدکسی کی پناہ میں آئے بغیر مکہ میں قدم رکھنا نا ممکن ہو چکا تھا۔ یہ وہی مطعم بن عدی ہے جس نے معاشرتی مقاطعہ کے خاتمے میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس کے انتقال پر مرثیہ کہا تھا ۔ خیال رہے مطعم کا انتقال کفر کی حالت میں ہوا تھا۔ مکہ واپسی پر آپ ﷺ نے حج کے موقع پر قبائلِ عرب کو اسلام کی دعوت دی ۔ خاتم الانبیاء ﷺ کی پوری مکی زندگی میں ، آپ ﷺ کے اپنے خاندان کو دعوت دینے سے لے کر قبائلِ عرب کو اسلام کی طرف راغب کرنے تک کے سارے دور میں ابولہب سائے کی طرح آپ ﷺ کے پیچھے لگا رہا اور لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ سیرت النبی ﷺ / ابنِ ہشام میں مرقوم ہے :
’’ربیعہ بن عباد سے روایت ہے کہ میں نوجوان شخص تھا اور اپنے باپ کے ساتھ حج میں شریک تھا ۔ میں نے دیکھا کہ منیٰ کے مقام پر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور قبائلِ عرب کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے بنی فلاں ! میں تمھاری طرف خدا کا رسول ہوں تم کو اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم سوا خدا کے کسی کی پرستش نہ کرو اور بت پرستی چھوڑ دو اور مجھ پر ایمان لا کر میری تصدیق کرو اور احکامِ الہی کے جاری کرنے میں میرے شریک ہو جاؤ ۔ 
جب حضور ﷺ یہ فرما چکے تو ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے سے بولا ، جو آنکھ سے بھینگا اور عدن کا حلہ پہنے ہوئے تھا کہ اے بنی فلاں ! یہ شخص تم سے کہتا ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت اپنی گردنوں سے نکال کر پھینک دو اور جنوں کی پرستش چھوڑ دو ۔ پس اس بدعت اور گمراہی جس کی طرف یہ تم کو بلاتا ہے ، ہرگز نہ مانو اور نہ اس کی بات سنو ۔ ربیعہ کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ انھوں نے کہا یہ آپ ﷺ کا چچا ابولہب بن عبدالمطلب ہے ۔‘‘ 
اس طرح ابولہب نے آپ ﷺ کی مخالفت مسلسل جاری رکھی اور کنبہ بدر کرنے کے بعد آپ ﷺ کو مکہ سے نکال کر ہی دم لیا۔ اس لیے اس کے متعلق یہ سخت وحی اتری : 
تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَہَبٍ وَتَبَّ () مَا أَغْنَی عَنْہُ مَالُہُ وَمَا کَسَبَ () سَیَصْلَی نَاراً ذَاتَ لَہَبٍ () وَامْرَأَتُہُ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ () فِیْ جِیْدِہَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (سورۃ اللھب /۱۱۱)
’’ ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابولہب کے اور نامراد ہو گیا وہ ، نہ کام آیا کچھ اس کے مال اس کا اور ( نہ ) وہ جو اس نے کمایا ، عنقریب جا پڑے گا وہ لپٹیں مارتی آگ میں ، اور اس کی بیوی اٹھائے پھرنے والی ایندھن ، اس کی گردن میں ( ہوگی ) رسی مونجھ کی ۔‘‘ 
اب ایک طرف چراغِ مصطفوی ﷺ تھا، اور دوسری طرف شرارِ بو لہبی۔ ایک طرف عزمِ کامل تھا اور دوسری طرف عزم کو شکستہ کرنے کے حیلے ۔لیکن زمین پر ابلیس کی زندہ علامت ، ابولہب ، دائیں بائیں آگے پیچھے سے حملہ آور ہونے کے باوجود آپ ﷺ کے عزم کاکچھ بھی نہ بگاڑ سکا ۔ آپ ﷺ دینِ حق کی دعوت مسلسل دیتے رہے۔ 
بہرحال حج کے موقع پر قبائل عرب کو دعوت دینے کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ بعض روایات کے مطابق مدینہ کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان ’’ جنگِ بعاث ‘‘ سے پہلے سوید بن صامت اور ایاس بن معاذ نے مکہ آ کر اسلام قبول کر لیا ۔ اس جنگ میں اوس و خزرج کے کمزور پڑ جانے سے یہودِ مدینہ نے اپنا کھویا ہوا اقتدار حاصل کر لیا ۔ اورس و خزرج اس بات سے آگاہ چکے تھے کہ یہودی انھیں کمزور کرنے کی خاطر آپس میں لڑا رہے ہیں۔ اسی دوران میں خزرج کی ایک جماعت حج کے موسم میں مکہ آئی ۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی ۔ یہ خزرجی لوگ آپ ﷺ کی ممکنہ بعثت سے آگاہ تھے کیونکہ یہودی انھیں اکثر کہا کرتے تھے کہ عنقریب ایک نبی آنے والا ہے، ہم اس کی اتباع کر کے تم لوگوں کا قلع قمع کر دیں گے ۔ انھوں نے خیال کیا، کہیں یہودی ہم سے سبقت نہ لے جائیں، اس لیے ان لوگوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر فوراً لبیک کہا ۔ ان خزرجیوں نے آپ ﷺ سے گزارش کی کہ ہماری قوم اوس و خزرج کے مابین اتنی سخت عداوت اور نفاق ہے کہ شاید ہی کسی دوسری قوم میں ہو ۔ اگر آپ ﷺ اوس و خزرج کو ایک لڑی میں پرو دیں تو پھر آپ ﷺ سے زیادہ ذی عزت شخص کوئی نہیں ہو گا ۔ مدینہ واپس جا کر ان لوگوں نے اپنے عزیزوں اور دوستوں کو قبولِ اسلام کی روداد سنائی اور اسلام لانے کی دعوت دی ۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ اوس و خزرج میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں نبی خاتم ﷺ کا تذکرہ نہ ہوتا ہو۔
پھراگلے موسمِ حج میں مدینہ سے بارہ اشخاص مکہ آئے اور آپ ﷺ کی بیعت کی ۔ سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام کے مطابق ، عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم نے حضور ﷺ سے عورتوں کی بیعت جیسی [بیعت النساء ]بیعت کی ( کیونکہ ابھی جہاد وقتال کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے )۔ نبی خاتم ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو ان کے ساتھ مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ انھیں احکامِ اسلام کی تعلیم دیں اور قرآن شریف پڑھائیں ۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت مصعبؓ ہی ان لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے کیونکہ اوس و خزرج ایک دوسرے کے امام بننے سے خوش نہیں تھے ۔ یہاں پر ہجرتِ حبشہ کا ایک اور ’’اقدامی پہلو‘‘ عیاں ہوتا ہے ۔ حضرت مصعبؓ حبشہ ہجرت کرنے والے پہلے مسلم گروپ میں شامل تھے ۔ حبشہ میں مسلمان جن نا مساعد حالات سے گزرے اور انھیں ایک اجنبی ماحول میں دعوتِ حق کا کام کرنا پڑا، اس سے ان میں صبر اور متانت جیسی خصوصیات پیدا ہوئیں اور دبے بغیر حق بات کو ، مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق کہنے کا سلیقہ آیا ۔اہم بات یہ ہے کہ حبشہ میں ایک تو نجاشی کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ تھیں، دوسرا خود عیسائیت کی مذہبی روایت بھی نرم خو تھی ۔ مدینہ میں حالات اس کے برعکس تھے ، کیونکہ ایک طرف اوس و خزرج کے مابین اختلافات موجود تھے اور دوسری طرف کینہ پرور یہودی اعلیٰ سماجی مقام کے حامل تھے۔ اس لیے اگر حضرت مصعبؓ کو ہجرتِ حبشہ کے تجربے سے گزارے بغیر براہ راست مدینہ بھیجا جاتا تو انھیں وہاں شدید مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔ نبی پاک ﷺ کسی ایسے صحابی کو بھی مدینہ جانے کا حکم دے سکتے تھے جنھوں نے حبشہ ہجرت نہیں کی تھی ۔ مصعبؓ کے انتخاب کے پیچھے یقیناًان کی ہجرتِ حبشہ ، آپ ﷺ کے پیشِ نظر تھی ۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں حضرت مصعبؓ کی کامیابیوں میں ان کی ہجرتِ حبشہ کے تجربے کا خاطر خواہ حصہ تھا۔ اسید بن حضیرؓ اور سعد بن معاذؓ جو اپنی قوم کے سردار تھے، مصعبؓ کے تدبر کی بدولت بات سننے کے روادار ہوئے اور ان کے اسلوبِ دعوت سے متاثر ہو کر اسلام لے آئے ۔ اس کے بعد ان کی پوری قوم دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی ۔ ابنِ ہشام کے مطابق سوائے بنی اوس کے چند قبائل کے، کچھ عرصہ بعد انصار میں کوئی ایسا گھرانہ باقی نہ بچا تھا جس کے سب مردو عورت مسلمان نہ ہو چکے ہوں ۔
ابنِ ہشام کے مطابق ، حضرت مصعبؓ حج کے موقع پرمدینے سے انصار کے ہمراہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے۔ تہتر (۷۳) مرد وں اور دو (۲) عورتوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اس موقع پر حضرت عباسؓ نے (جو ابھی غیر مسلم تھے ) فرمایا ، اے گروہِ خزرج ! محمد ﷺ ہمارے اندر جو وقعت اور عزت رکھتے ہیں، تم اس کو خوب جانتے ہو اور ہم ان کے مخالفین سے ان کے محافظ اور ان کو بچانے والے ہیں ۔ مگر ان کا خود یہ ارادہ ہے کہ اس شہر کو چھوڑ کر تمھارے شہر میں چلے چلیں اور تم سے مل جائیں ، اگر تم سمجھتے ہو کہ تم جس بات کی طرف ان کو بلاتے ہو، اس کو پورا کر سکو گے اور ان کے دشمنوں سے ان کو محفوظ رکھو گے تو اس کام کو کرو اور اگر تم سے یہ بات نہ ہو سکے تو بہتر ہے کہ تم اسی وقت جواب دے دو کیونکہ محمد ﷺ اس وقت ہماری حفاظت میں ہیں۔ ایسا نہ ہوکہ تم یہاں سے ان کو لے جا کر پھر ان کے دشمنوں کے سپرد کر دو ۔ ابنِ ہشام کے مطابق کعبؓ کہتے ہیں، ہم نے عباسؓ سے کہا کہ ہم نے آپؓ کی پوری گفتگو سن لی ، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی ، آپ ﷺ ارشاد فرمائیں اور خدا کے احکام کے متعلق یا اپنی ذات کے متعلق جو کچھ ’’عہد ‘‘ ہم سے لینا ہو، وہ لے لیں۔ رسول پاک ﷺ نے پہلے قرآن شریف پڑ ھ کر سنایا اور خدا کی طرف رغبت دلائی ۔ بعد ازاں فرمایا کہ میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ میری ایسی حمایت کرو گے جیسا کہ تم اپنی عورتوں اور بچوں کی حمایت کرتے ہو ۔ کعبؓ کہتے ہیں یہ سنتے ہی براء بن معرورؓ نے آپ ﷺ کا دستِ مبارک تھام لیا اور عرض کیا ، ہاں بے شک اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم آپ ﷺ کی ایسی ہی حمایت کریں گے جیسی اپنے اہل وعیال کی کرتے ہیں ۔ پھر سب نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی اور عرض کی کہ ہم جنگجو لوگ ہیں اور حرب و پیکار ہماری وراثت میں بزرگوں سے چلی آرہی ہے ۔ پھر ابوالہیثمؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے اور یہودیوں کے درمیان قدیمی عداوت ہے ، ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو غلبہ دے دے تو آپ کہیں ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کے پاس واپس نہ چلے جائیں ۔ آپ ﷺ نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا: نہیں، اس بات کا تم اطمینان رکھو ، جس سے تم لڑو گے اس سے میں لڑوں گااور جس سے تم صلح کرو گے، اس سے میں صلح کروں گا۔ تمھارا ذمہ میرا ذمہ ہے اور تمھاری حرمت میری حرمت ہے ۔ 
ابنِ ہشام کی ایک روایت کے مطابق جب مقامِ عقبہ میں انصار نبی پاک ﷺ سے بیعت کرنے کے لیے تیار ہوئے تو عباس بن عبادہ بن نضلہ انصاریؓ نے کہا، اے معشر خزرج ! تم جانتے بھی ہو کہ کس بات پر بیعت کر رہے ہو ؟ سب نے کہا، ہاں ہم جانتے ہیں ۔ کہا ، یہ اس بات کی بیعت ہے کہ ہر ایک سرخ و سیاہ آدمی سے تم کو لڑنا ہوگا۔ اگر تمھیں لگتا ہے کہ جب تمھارے مال برباد ہو ں گے اور تمھارے اشراف قتل ہو جائیں گے، اس وقت تم ان سے پھر جاؤ گے تو اسی وقت اس بیعت کو ترک کر دو۔ واللہ ! اگر اُس وقت تم نے ایسا کیا تو دنیا و آخرت کی ذلت تم کو نصیب ہو گی۔ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ چاہے کیسی ہی مصیبت تم کو پہنچے ، مال برباد ہو کہ اشراف قتل ہوں، تم اپنی بیعت پر قائم رہو گے تو پھر بسم اللہ ، بیعت کرو کیونکہ اس میں تمھارے لیے دین و دنیا کی خیر و خوبی ہے ۔ سب نے کہا، ہم ان سب باتوں کی بیعت کرتے ہیں۔ (اس بیعت کو اس لیے ’ بیعتِ حرب ‘ بھی کہتے ہیں)۔ پھر عرض کیا ، یا رسول اللہ ﷺ ! جب ہم اس عہد پر پورا اتریں گے تو ہمارے واسطے کیا بدلہ ہے؟ نبی خاتم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت ۔ بیعت کے بعد نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے لوگوں میں سے بارہ آدمی میرے سامنے پیش کرو تاکہ میں ان کو ان کی قوم پر نقیب بناؤں ۔ چنانچہ بارہ شخص آپ ﷺ کے سامنے پیش کیے گئے ، جن میں نو خزرج اور تین اوس سے تھے ۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور انصارِ مدینہ کے درمیان مذکورہ مکالمے کی کم ازکم تین سطحیں ہیں :
(ا) یہ مکالمہ درحقیقت انصار کا نبی پاک ﷺ کے ساتھ ’’عہد ‘‘ تھا جس پر انصار ہمیشہ کاربند رہے ۔ 
(ب) یہ مکالمہ قیادت (نبی پاک ﷺ )اور گروہ ( انصارِ مدینہ ) کے درمیان معاہدہ تھا جس میں فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین موجود تھا ۔ 
(ج) یہ مکالمہ میثاقِ مدینہ کا پیش رو تھا کیونکہ اس کے مندرجات میثاقِ مدینہ میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انصارِ مدینہ ’’ مکی ‘‘ نہیں تھے، اس لیے انھیں ہجرتِ حبشہ اور ہجرتِ مدینہ کی سعادت بھی نہ مل سکی، اس کے باوجود انھوں نے اس مکالمے میں ’’بے مثال گروہی عزم ‘‘ کا مظاہرہ کیا، ایسا کیونکر ہو سکا ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سوال مطالعہ سیرت کا ایک اہم اور قابلِ اعتنا پہلو ہے جو ہنوز تشنہ ہے ۔ اس سوال کا ایک جواب تو حضرت مصعبؓ کی دعوتی مساعی کے تجزیے میں پوشیدہ ہے۔ (۱۵) اور دوسرا جواب خود انصار کی ان داخلی خوبیوں سے آگاہی میں مستور ہے جو قبل از اسلام بھی ان کی ذات کا حصہ تھیں ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ :
’’لولاالھجرۃ ، لکنت امرء ا من الانصار ، و لو اندفع الناس فی شعب ، او فی واد ، والانصار فی شعب لاندفعت مع الانصار فی شعبھم‘‘ (صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہؓ / تحقیق ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؒ )
’’ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک آدمی ہوتا ، اگر لوگ ایک گھاٹی یا ایک وادی میں جاتے اور انصار ایک دوسری گھاٹی میں ، تو میں انصار کے ساتھ ان کی گھاٹی میں جاتا ‘‘ ۔
گروہی ہجرت کے تتماتی لازمے کے طور پر اس ’’ تجربی مواخات ‘‘ کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو مکہ میں سولہ افراد کے درمیان کرائی گئی۔ سیرت کی عام کتب میں اس کا تذکرہ مفقود ہے لیکن محمد بن حبیب ( المتوفیٰ ۲۴۵ھ ) کی کتاب ’المحبر‘ میں اس پر بحث کی گئی ہے (۱۶) ۔ حبشہ کی تجربی و اقدامی ہجرت کے نتائج و عواقب سے آپ ﷺ نے بھانپ لیا تھا کہ ہجرت کے ذریعے سے ایک جاری و ساری سماجی عمل میں اضطرابی لہریں تو برپا کی جا سکتی ہیں ، لیکن ایک نئے سماجی رویے کی آبیاری کے لیے ہجرت ، بنفسہٖ ناکافی ہے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے ہجرتِ حبشہ کے بعد مکی زندگی میں ہی ، گروہی عزم کو صحیح خطوط پر ایک سماجی رویے میں ڈھالنے کی خاطر ، مواخات کا کامیاب تجربہ کیا ۔ یہ تجربہ ، ہجرتِ مدینہ کے بعد ایک نئے سماج کی تشکیل میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا ۔ 

گروہی ہجرت کا واقعہ 

تجربی واقدامی اور تتماتی لوازمات کی تکمیل کے بعد آخرکار گروہی ہجرت کا وقت آ پہنچتا ہے :
وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً (بنی اسرائیل ۱۷/۸۰) 
’’ اور دعا کرو کہ اے میرے مالک ! لے جا تو مجھے جہاں بھی لے جائے صدق کے ساتھ اور نکال مجھے جہاں سے بھی نکالے صدق کے ساتھ اور بنا دے تو میرے لیے اپنی جنابِ خاص سے کسی اقتدار کو میرا مددگار ‘‘۔
خیال رہے، حبشہ کے متعلق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ سر زمین صدق ہے ، اسی طرح نبی پاک ﷺاب صدق کے ساتھ داخل ہونے کے مقام کی وضاحت کرتے ہیں :
امرت بقریۃ تاکل القری یقولون یثرب وھی المدینۃ تنفی الناس کما ینفی الکیر خبث الحدید (صحیح بخاری )
’’مجھے ایک ایسے شہر میں ( ہجرت ) کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو مغلوب کرے گا۔ اسے یثرب کہتے ہیں لیکن وہ مدینہ ہے ، برے لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو‘‘۔
ایسا نہیں کہ گروہی ہجرت کا لمحہ یک دم آ گیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے لیے نفسیاتی تیاری کافی پہلے سے ہو رہی تھی۔ آپ ﷺ کے تجربی و اقدامی فیصلوں کے علاوہ احکاماتِ قرآنی کے ذریعے مسلمانوں کو ہجرت کی فضیلت ، جواز اور حکمت سے آگاہ کر دیا گیا تھا :
وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُواْ فِیْ اللّہِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّءَنَّہُمْ فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَلَأَجْرُ الآخِرَۃِ أَکْبَرُ لَوْ کَانُواْ یَعْلَمُونَ (النحل ۱۶/۴۱) 
’’ اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی خاطر، اس کے بعد کہ ان پر ظلم ہو چکا تھا، ضرور ٹھکانہ دیں گے ہم انھیں دنیا میں بھی اچھا اور اجرِ آخرت تو بہت ہی بڑا ہے ‘‘۔
ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ہَاجَرُواْ مِن بَعْدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَاہَدُواْ وَصَبَرُواْ إِنَّ رَبَّکَ مِن بَعْدِہَا لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ (النحل۱۶/۱۱۰) 
’’ جنھوں نے ہجرت کی اس کے بعد کہ وہ آزمائش میں ڈالے گئے پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا ، بے شک تیرا رب ان آزمائشوں کے بعد یقیناًہے بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ‘‘۔
آخر کار نبی خاتم ﷺ مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ مدینہ کی طرف ہجرت کر جاؤ ، کیونکہ آپ ﷺ وہاں ’’ مستقر و متاع ‘‘ کا ظاطر خواہ انتظام کرچکے تھے ۔اب ہم گروہی ہجرت کے واقعات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف ان اثرات کا سرسری جائزہ لیتے ہیں جو مکہ اور مدینہ کی سوسائٹیوں پر مرتب ہوئے ۔ 

ہجرت کے لیے مدینہ کا انتخاب

نبی خاتم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں مدینہ کی اہمیت کے پیشِ نظر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت مدینہ منورہ میں ہی کیوں نہ ہوئی ؟ اس طرح آپ ﷺ کو ہجرت کی جاں گسل کیفیات سے بھی نہ گزرنا پڑتا ۔ہماری رائے میں جہاں تک ہجرت کا تعلق ہے یہ آپ ﷺ کی حیاتِ مطہرہ کا لازمی جزو معلوم ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے خدا کے لیے یہ امر مشکل نہ تھا کہ آپ ﷺ کو ہجرت کیے بغیر مکہ میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز فرماتا ۔ اب اگر مدینہ میں آپ ﷺ مبعوث ہوتے تو بھی اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو ہجرت کے عمل سے گزارنا تھا ( دنیا کے تاریخی و تکوینی تقاضے بھی بڑے بڑے مصلحوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرتے رہے ہیں ) ، پھر مدینہ سے آپ ﷺ کے ہجرت کرنے کے بعد آپ ﷺ کے مدینہ پر فتح پانے سے وہ حکمت ظاہر نہیں ہوسکتی تھی جو مکہ فتح کرنے سے مشہود ہوئی ۔ کیونکہ اگر مکہ مفتوح ہونے کے بجائے دارالہجرت قرار پاتا، تو آپ ﷺ ابلیس کی شیطانیت کے مقابل اولادِ آدم ؑ میں سے مخلصین کی حتمی فتح کی علامت نہیں بن سکتے تھے ( جیسا کہ بیان ہو چکا ) ۔ 
مدینہ کے بجائے مکہ میں آپ ﷺ کے مبعوث ہونے میں ایک اور حکمت پوشیدہ ہے اور یہ بھی ہجرت سے منسلک ہے ۔ مدینہ کے باسی بنیادی طور پر زراعت پیشہ تھے اور اہلِ مکہ کی اکثریت تجارت پیشہ تھی ۔ یہ بڑی واضح بات ہے کہ تجارت پیشہ لوگوں کے لیے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونا ( چاہے دلی رضامندی یا مجبوری کی صورت میں ہو ) نسبتاََ آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے مال و اسباب کے ساتھ نقل مکانی کر سکتے ہیں جبکہ زراعت پیشہ افراد ظاہر ہے زمین اٹھا کر کہیں اور نہیں لے جا سکتے ۔ پھرتجارت سے منسلک افراد عام طور پر نہ صرف نقل مکانی کے مضر اثرات پر جلد قابو پا لیتے ہیں بلکہ نئے ماحول میں اپنی سابقہ ہنر مندی کے ذریعے تیزی سے ترقی کرتے ہیں جبکہ زراعت پیشہ لوگ نہ صرف اپنی زمین سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں بلکہ نئے علاقے میں جا کر کاشت کاری ان کے لیے خاصی دوبھر ہوتی ہے ۔اس لیے اگر آپ ﷺ مدینہ میں مبعوث ہوتے تو مدنی لوگوں کو ہجرت کرنے میں کافی دشواری محسوس ہوتی ، اور مکہ کی طرف ہجرت کرنے سے مزید مسائل پیدا ہوتے کیونکہ وہاں قابلِ کاشت زمین ناکافی ہے ، اور اس پر مستزاد تجارت پیشہ لوگ وسیع پیمانے پر اپنی تجارت میں کاشت کاروں کو بھی نہ کھپا سکتے ۔ مکہ میں آپ ﷺ کے مبعوث ہونے اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے معکوس عمل وقوع پذیر ہوا ۔ زراعت پیشہ افراد کو اپنی قابلِ کاشت زمین چھوڑنے کے توبہ شکن عمل سے نہ گزرنا پڑا اور تجارت پیشہ مہاجر نئے ماحول میں بوجھ بننے کے بجائے زراعت پیشہ افراد کا ہاتھ بٹاتے ہوئے تجارت کو روز افزوں ترقی دینے لگے ۔ 
ہمارے ہاں کیونکہ عام طور پر ہجرت کے عمل کو romanticise کیا جاتا ہے اور معروضی حقائق اور انسانی فطرت کی مقتضیات سے چشم پوشی کی جاتی ہے اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں چند اہم واقعات کا ذکر کر دیا جائے ۔ 
سیرت النبی ﷺ / ابنِ ہشام کے مطابق حضرت عمرؓ اور حضرت عیاشؓ بن ابی ربیعہ نے اکھٹے ہجرت کی ۔ قباء کے مقام پر ابوجہل بن ہشام اور حرث بن ہشام ، حضرت عیاشؓ کو تلاش کرتے آ پہنچے ، یہ دونوں ان کے چچا زاد اور ماں شریک بھائی تھے ۔ انھوں نے کہا کہ تمھاری ماں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمھیں نہ دیکھے گی نہ سر میں کنگھی کرے گی اور نہ سایہ میں بیٹھے گی۔ حضرت عمرؓ نے انھیں بہت سمجھایا کہ یہ تمھیں لے جانے کے لیے ایک چال ہے ۔ مگر وہ کہنے لگے کہ اول تو مجھے ماں کی قسم پوری کرنی ہے دوسرے یہ کہ میرا مال بھی وہاں ہے اس کو لے کر چلا آؤں گا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ، تمھاری ماں کو جب جوئیں ستائیں گی تو وہ ضرور کنگھی کرے گی اور جب مکہ کی دھوپ اسے بے چین کرے گی تو وہ خودبخود سایہ میں بھاگ آئے گی اور جس مال کا تم کو خیال ہے تو سمجھو کہ تمھارا مال میرے مال کے نصف کے برابر بھی نہیں ہے جو میں چھوڑ آیا ہوں اور میں اس کا خیال تک نہیں کرتا ، حالانکہ میں قریش میں اول درجے کا مال دار ہوں ۔ المختصر ! حضرت عیاشؓ نے حضرت عمرؓ کی نصیحت نہ مانی اور ابوجہل اور حرث کے جھانسے میں آگئے ، انھوں نے مکہ لے جاکر عیاشؓ کو گھر میں قید کر لیا ۔
اسی طرح حاطبؓ بن ابی بلتعہ نے جب اہلِ مکہ کو حضور ﷺ کی روانگی کی اطلاع کا خط ایک عورت کو دے کر بھیجا اور حضرت عمرؓ نے انھیں خائن قرار دے کر آپﷺ سے ان کی گردن اڑانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا : 
یا حاطب ما حملک علی ما صنعت ؟ 
’’ حاطب ، تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ ‘‘
حاطبؓ کا جواب بہت اہم ہے :
’’ حاطبؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ایسا نہیں ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا ، بات صرف اتنی ہے کہ میں نے چاہا تھا کہ مکہ کے لوگوں پر میرا احسان ہو جائے اور اس کے بدلہ میں وہ میرے اہلِ خاندان اور میرے مال کی حفاظت کریں ، آپ ﷺ کے جتنے مہاجر صحابہؓ ہیں ان میں ایسا کوئی نہیں جس کے مکہ میں ان کی قوم میں ایسے لوگ نہ ہوں جو ان کے اہلِ و عیال اور مال کی حفاظت نہ کرتے ہوں ( جبکہ میرا وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا )‘‘ 
حضور ﷺ نے فرمایاکہ سچ کہا ، بھلائی کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نہ کہو ، بیان کیا عمرؓ نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن ماروں ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ جنگِ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں ہیں ؟ تمھیں کیا معلوم اللہ تعالی ان کے اعمال سے واقف تھا اور پھر فرایا کہ جو چاہو کرو میں نے جنت تمھارے لیے لکھ دی ہے ۔ اس پر عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور عرض کی ، اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے ‘‘ ۔ ( صحیح بخاری )
اب ذرا حاطبؓ کے ’’ جواز ‘‘ پر غور فرمائیے ۔کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ نہ صرف مکہ کے مہاجرین کو تجارت پیشہ ہونے کے ناتے مدینہ میں قابلِ انتقال اشیاء لے جانے کی سہولت حاصل تھی بلکہ پیچھے چھوڑے ہوئے مال و اسباب و عزیز رشتے داروں کی حفاظت کا بھی قدرے انتظام موجود تھا ، کیونکہ آپ ﷺ نے بھی حاطبؓ کے جواز پر فرمایا ’’ سچ کہا ، بھلائی کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نہ کہو ‘‘۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ ’’ مال و اولاد ‘‘ کے متعلق انسانی فطرت کی مقتضیات سے پوری طرح آگاہ تھے اور اس سلسلے میں خدائی احکامات کی روشنی میں ہر ممکن گنجائش دینے پر تیار تھے، جبکہ فاروقِ اعظمؓ مذکورہ دونوں واقعات میں اپنے شخصی مزاج کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ 
صدیقِ اکبر کے متعلق نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے :
’’سب سے زیادہ میں جس کی دولت اور صحبت کا ممنون ہوں ، وہ ابوبکرؓ ہیں ۔ اگر میں دنیا میں کسی کو اپنی امت میں سے اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکرؓ کو بناتا لیکن اسلام کا رشتہ دوستی کے لے کافی ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پاس اکٹھا کر دے۔’‘
لیکن یہی صدیقِ اکبرؓ جو ایک غزوہ کی تیاری کی خاطر گھر کا سارا سامان اٹھا لائے تھے اور آپ ﷺ کے استفسار پر جواب دیا تھا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں ، انھوں نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے بیٹے عبدالرحمان کو ، جو مشرکین کے ساتھ آیا تھا ، انسانی فطرت کی طرف اشارہ کر نے کی خاطر اس طرح مخاطب کیا : اے خبیث میرا مال کہاں ہے؟ عبدالرحمن نے جواب دیا :
لم یبق غیر شکۃ ویعبوب وصارم یقتل ضلال الشیب ( سیرت النبی / ابنِ ہشام ) 
’’ ہتھیار اور طرارے بھرنے والے گھوڑے اور اس تلوار کے سوا جو بوڑھے گمراہوں کو قتل کرتی ہے اور کچھ باقی نہیں رہا ۔‘‘ 
اسی طرح ابو احمدؓ نے بھی فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ سے اپنے اس مکان کے بارے میں عرض کیا جسے ابوسفیان( ان کی ہجرت کے دوران ) فروخت کر چکا تھا۔ یہ تمام واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ زراعت پیشہ لوگوں کی ہجرت سے انسانی فطرت کی مقتضیات کے پیشِ نظر کافی زیادہ پیچیدگیاں جنم لے سکتی تھیں ، اس لیے اللہ رب العزت نے خاص حکمت کے تحت ہی آپ ﷺ کو مدینہ کے بجائے مکہ میں مبعوث فرمایا اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا ۔ (۱۷)

ہجرتِ مدینہ اور مکی سماج

آپ ﷺ نے مسلمانوں کو مدینہ کوچ کرنے کا حکم ایک ایسے وقت میں دیا جبکہ مکی سماج ابھی ہجرتِ حبشہ کی پیدا کردہ اضطرابی لہروں سے پوری طرح سنبھل نہ پایا تھا۔ اس سلسلے میں ہجرتِ حبشہ اور ہجرتِ مدینہ کے درمیانی زمانے کا ’’دورانیہ‘‘ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ کسی بھی سطح پر سماجی تبدیلی کے خواہاں ہیں، انھیں اس دورانیے میں مضمر حکمت کا احاطہ کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ فرض کریں اگر ہجرتِ حبشہ کے فوراً بعد یا کچھ عرصہ بعد ہی آپ ﷺ مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیتے تو دونوں ہجرتوں کا ’’ دورانیہ ‘‘ کم ہونے کے باعث مکی سماج لازماً ’’اضطرابِ محض ‘‘ سے دوچار ہوتا۔ یہ حقیقت میں ’’ دورانیہ ‘‘ ہی ہے جس کی وجہ سے پہلی ہجرت کی اضطرابی لہریں پھیلتی چلی گئیں اور ان کے پیدا کردہ اثرات پورے امکانات سمیت منصہ شہود پر آئے۔ اگر یہ دورانیہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتا تو پہلے دھچکے کے بعد لگاتار دوسرا دھچکا فکروتردد پیدا کرنے کے بجائے سماجی حواس باختگی اور نفسیاتی بے حسی کا باعث بنتا۔اگر یہ دورانیہ زیادہ طویل ہو جاتا تو پہلے دھچکے کی پیدا کردہ اضطرابی لہریں بالکل معدوم ہو چکی ہوتیں اور دوسرا دھچکا انھیں مہمیز کرنے کے بجائے پرانے عمل کو نئے سرے سے شروع کر دیتا اور چونکہ مکی سماج اس عمل سے گزرنے کے باعث اس سے مانوس ہو چکا تھا، اس لیے اس کے لیے کوئی نئے مسائل پیدا نہ کرتا۔ لہٰذا دونوں ہجرتوں کے درمیانی زمانے کا دورانیہ آپ ﷺ کے اعلیٰ تدبر پر دلالت کرتا ہے ۔ 
سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام کے مطابق مدینہ کی طرف سب سے پہلے ہجرت کرنے والے صحابی حضرت ابو سلمہؓ تھے۔ یہ حبشہ جا کر مکہ واپس آئے تھے اور انھوں نے عقبہ کی بیعت سے ایک سال قبل انصار کے اسلام لانے کی خبر سن کر مدینہ جانے کا قصد کیا۔ یہ اپنی بیوی حضرت ام سلمہؓ اور بچے کو اونٹ پر بٹھا کرابھی روانہ ہی ہوئے تھے کہ حضرت امِ سلمہؓ کے قبیلے کے لوگوں نے انھیں آگھیرا کہ ہماری لڑکی کو کہاں کہاں لیے پھرو گے؟ یہ لوگ حضرت امِ سلمہؓ کو زبردستی چھین کر لے گئے ۔ اس پر حضرت ابو سلمہؓ کے قبیلے کے لوگ بہت خفا ہوئے ، انھوں نے بچے کو یہ کہہ کر حضرت امِ سلمہؓ سے چھین لیا کہ یہ بچہ ابوسلمہؓ کا ہے ۔ اس طرح میاں، بیوی اور بچہ ، تینوں الگ الگ ہو گئے ۔ حضرت ابوسلمہؓ مدینہ چلے گئے ۔ حضرت امِ سلمہؓ ایک سال تک بچے کے بغیر تنہا رہیں۔ پھر ایک روز ان کے چچا کے بیٹوں میں سے کسی نے انھیں روتے دیکھ کر ان کی رہائی کی کوشش کی۔ حضرت ابوسلمہؓ کے خاندان نے بچہ بھی واپس دے دیا ۔ بچہ لینے کے بعد حضرت امِ سلمہؓ تنِ تنہا مدینے کے لیے روانہ ہو گئیں۔ مقامِ تنعیم پر (مکہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک مقام) انھیں عثمان بن طلحہ ملا ۔ کہنے لگا ، قسم ہے خدا کی ، میں تمھیں تنہا نہیں جانے دوں گا ۔ اس نے اونٹ کی مہار پکڑی اور چل پڑا ۔ حضرت امِ سلمہؓ کہتی ہیں کہ مہاجرین میں سے جو مصیبت ہم کو پہنچی اور جیسا نیک دل اور بامروت میں نے عثمان بن طلحہ کو پایا، ایسا اور کسی کو نہیں پایا ۔ کہتی ہیں کہ جب ہم کسی منزل پر پہنچتے تو عثمان ، اونٹ کو بٹھا کر خود دور ہٹ جاتے ، جب میں بچے کو لے اتر آتی تو وہ اونٹ کو کسی درخت سے باندھ دیتے اور مجھ سے دور کسی درخت کے نیچے جا لیٹتے۔ جب چلنے کا وقت آتا تو وہ اونٹ کو لا کر بٹھاتے ۔ الگ ہٹ کر کھڑے ہو جاتے اور مجھ سے کہتے سوار ہو جاؤ، میرے سوار ہونے کے بعد اونٹ کی نکیل تھام کر چل پڑتے ۔ جب قبا کی بستی نظر آئی ، تو کہنے لگے تمھارے شوہر وہاں ہیں ، چلی جاؤ ، اللہ تمھیں برکت دے ۔ اس کے بعد جیسے پیدل آئے تھے، ویسے ہی پیدل مکہ کی طرف چل پڑے ۔ 
اس واقعہ کو پیشِ نظر رکھ کر ذرا تھوڑی دیر مکہ کے ان با سیوں کے متعلق سوچیے ، جنھیں ہم آج کے محاورے میں ’’خاموش اکثریت‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ سیاسی سطح پر جتنا بھی منفی ردِ عمل سامنے آیا ہو اور سیاسی فرعونوں نے جتنے بھی منفی حربے استعمال کیے ہوں، اس کے باوجود ایک بات بہت واضح ہے کہ کم از کم مکی سماج، ہجرت اور ہجرت کے اسباب کی بابت کافی حساس ہو چکا تھا اور اپنی روایتی وضع داری کی آڑ میں مہاجرین کے لیے نرم گوشہ رکھے ہوئے تھا۔ مثال کے طور پر سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام میں مذکور اس واقعہ کو لیجیے کہ غزوہ احد میں حضرت عمرؓ کا مقابلہ ضرارؓ سے ( جو ابھی کافر تھے ) ہوا، ضرارؓ نے حضرت عمرؓ کو نیزے کی ڈانڈلگا کر کہا ، اے ابنِ خطاب ! تم چلے جاؤ، میں تم کو قتل نہیں کروں گا ۔ اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ جب مسلمان ہوئے تو اپنے عظیم باپ سے کہنے لگے ، بدر کے میدان میں آپؓ میری تلوار کی زد میں آگئے تھے لیکن میں نے والد سمجھ کر چھوڑ دیا ۔ صدیقِ اکبرؓ نے جواب دیا ، بیٹا اگر تم میری تلوار کی زد میںآجاتے تو میں تمھیں کبھی نہ چھوڑتا ۔ باپ بیٹے کے اس مکالمے پر کئی پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے، لیکن عبدالرحمن بن ابوبکرؓ کے الفاظ اور عمل میں ہجرتِ مدینہ کے سماجی اثرات کی تھرتھراہٹیں پوری طرح محسوس کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح جب بنی جحش نے ہجرت کی اور عتبہ بن ربیعہ ، حضرت عباسؓ جو ( ابھی غیر مسلم تھے ) اور ابوجہل کا ان کے مکانوں کی طرف گزر ہوا تو عتبہ بن ربیعہ نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر یہ شعر پڑھا :
و کل دار و ان طالت سلامتھا
یوما ستدرکھا النکباء والحوب
’’ کوئی گھر کتنا ہی زمانہ دراز تک سلامت رہے، آخر ایک روز اس کے واسطے زوال اور ویرانی ضروری ہے ‘‘ ۔
پھر عتبہ نے کہا دیکھو ، بنی جحش کا گھر بھی رہنے والوں سے خالی ہو گیا ۔ ابوجہل نے کہا ، یہ ساری کارروائی میرے بھتیجے محمد ﷺ کی ہے ، اسی نے ہماری جماعتوں کو متفرق کیا ہے ہمارے درمیان جدائی ڈالی ہے اور تفرقہ اندازی کی ہے ۔اس باہمی گفتگو میں عتبہ بن ربیعہ کی حسرت اور ابوجہل کی تلملاہٹ صاف چغلی کھا رہی ہیں کہ ہجرتِ مدینہ سے مکی سماج متزلزل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد میدانِ بدر میں شکستِ فاش سے مکی سماج کو ایک اور زبردست دھچکا لگا ۔ اس غزوہ میں کفار کے بڑے بڑے جنگی سورما قتل ہوئے اور باقی قیدی بنا لیے گئے۔ 
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدر میں کفار کی عبرت ناک شکست کے بعد اسلامی لشکر نے (اگر اسے لشکر کہنا مناسب ہو) پیش قدمی کرکے آخر مکہ پر قبضہ کیوں نہیں کر لیا ؟ اس وقت میثاقِ مدینہ کی وجہ سے پشت پر یہود کے حملے کا خطرہ بھی فی الحال موجود نہیں تھا ۔ ہماری رائے میں مکہ کی طرف پیش قدمی نہ کرنے کی چند وجوہات یہ ہو سکتی ہیں :
(ا) اسلامی معاشرہ ابھی تشکیلی دور (Formative Phase) میں تھا اس لیے فتح مکہ کی صورت میں مکی سماج کو پیش کرنے کے لیے متبادل نظامِ اقدار(Alternative System of Norms & Values) موجود نہیں تھا۔ 
(ب) اسلام ایک عسکری قوت کے طور پر ابھی اتناطاقتور نہیں تھاکہ محض طاقت کے بل بوتے پر تادیر مکہ پر قبضہ برقرار رکھ سکتا۔
(ج) سیاسی و عسکری میدان میں شکست کھانے کے باوجود مکہ میں سماجی سطح پر اسلام مخالف خیالات و جذبات لازماً موجود ہوتے، کیونکہ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا، اور کسی کا باپ بدر میں قتل ہوا تھا یا قید ہوا تھا (۱۸) ۔ اور یہ حقیقت نوشتہ دیوار ہے کہ فاتح قوم کو اگر مفتوح قوم کا ’’سماج‘‘ قبول نہ کرے تو بغاوتیں برپا ہوتی رہتی ہیں ۔ اس لیے اندریں حالات مکہ پر قبضہ ایک پرآشوب دور کا آغاز ہوتا ، جس کا اسلامی معاشرہ اپنے تشکیلی دور میں ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔ بغاوتوں کا قلع قمع کرنے کے چکر میں اسلامی معاشرے کے اندر ( تشکیلی دور میں ہونے کی وجہ سے) ظلم و بربریت جیسے عناصر سرایت کر جاتے اور مستقبل میں اسلامی معاشرہ نظامِ اقدارکے بجائے بربریت کی علامت(Symbol of Barbarism) سمجھا جاتا ۔ 
(د) اسلام کی عسکری فتح کے خلاف اہلِ مکہ کی سماجی مدافعت(Social Resistance) بڑھتی چلی جاتی اور مسلمانوں کو بالآخر پسپائی اختیار کرنی پڑتی ، اس طرح مکہ پر قبضہ عارضی ثابت ہوتا ۔ اس سے کفار کو تقویت ملتی اور مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑتی ، جس کے نتیجے میں اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ۔ 
اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدر کے میدان میں شاندارعسکری کامیابی کے بعد مسلمانوں کی مدینہ واپسی نبی خاتم ﷺ کے اعلیٰ تدبر پر دلالت کرتی ہے۔ مکی سماج کی سیاسی قیادت نے بدر میں شکستِ فاش پر پیچ و تاب کھاتے ہوئے احد و احزاب کے میدان لگائے اور پھر شکست سے دوچار ہوئے ۔ مسلمانوں کی ان پے در پے فتوحات کے متوازی اسلامی معاشرہ بھی ارتقائی منازل طے کر رہا تھا اور گروہی عزم ’’ سماجی کردار ‘‘ میں مسلسل ڈھل رہا تھا ۔اس کے برعکس مکی سماج جو دو ہجرتوں سے پہلے ہی داخلی توڑ پھوڑ کا شکارتھا، عسکری میدان میں مسلسل پسپائی اور نامور سرداروں کے قتل ہونے سے مزید شکست خوردہ اور ذہنی خجالت کا شکار ہوتا چلا گیا۔ اس دوران میں اہلِ مکہ کو مسلم گروہی عزم کے چشم کشا سماجی کردار سے بھی مسلسل واسطہ پڑ رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے جب قحط کے زمانے میں مکہ میں غلہ بھیجنے کی پابندی اٹھا لی اور پانچ سو اشرفیاں بھی غربا کی امداد کی خاطر بھیجیں تو یقیناًاس سے مکی سماج متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔امداد بھیجنے کا آپ ﷺ کا یہ فیصلہ صرف سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گروہی عزم کا سماجی کردار بدرجہ اتم موجود تھا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی آپ ﷺ کی مدبرانہ قیادت ، مسلم گروہی عزم اور سماجی کردار کی آئینہ دار ہونے کے ناتے ایک مکمل نظامِ اقدار کی حامل تھی، اسی لیے اسے ’فتح مبین‘ کہا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غزوہ بدر کے بعد سے ۸ ہجری تک کے حالات و واقعات ، مکی سماج کے باطل نظامِ اقدار کو تہس نہس کر چکے تھے ۔ آپ ﷺ حضرت امِ حبیبہؓ سے نکاح کر چکے تھے جن کے شوہر عبیداللہ بن جحش حبشہ جاکر مرتد ہو گئے تھے اور وہ مکہ کے سردار ابوسفیانؓ کی بیٹی تھیں، اس لیے جب مسلمانوں نے نبی خاتم ﷺ کی قیادت میں مکہ کی طرف پیش قدمی کی تو اہلِ مکہ کی سیاسی قیادت ( ابو سفیانؓ ، جو ابھی غیر مسلم تھے ) بے دست و پا ہو چکی تھی کیونکہ خالد بن ولیدؓ اور عمرو بن عاصؓ جیسے حربی نابغے اسلام قبول کر چکے تھے جن کے متعلق نبی پاک ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا تھا کہ مکے نے تمھارے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑے ڈال دیے ہیں۔ لہٰذا جب مکہ فتح ہوا تو مکی سماج اسلامی نظامِ اقدار کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح تیار کھڑا تھا کیونکہ اس وقت تک خود اسلامی معاشرہ بھی اپناتشکیلی دور پورا کر چکا تھا ۔ اس لیے فتح مکہ کے موقع پر کوئی سماجی ردِ عمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی فتح مکہ کے بعد سماجی سطح پر کوئی منفی صورتِ حال پیدا ہوئی ۔ اگر ہم دیگر اقوام کی فتوحات کا فتح مکہ سے موازنہ کریں تو معلوم ہو گا کہ مفتوح قومیں سیاسی و عسکری میدانوں میں شکست کھا نے کے باوجود سماجی سطح پر فاتح قوم کے غلبے کو اکثر و بیشتر قبول نہیں کرتی تھیں، جس کی وجہ سے فاتح قوم کو بسا اوقات سماجی ہم آہنگی کی خاطر اپنی اساسی اقدار پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا تھا ، جس کے نتیجے میں وہ حقیقتاً خود مفتوح ہو جاتی تھی ۔اگر فاتح قوم سماجی ہم آہنگی کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوتی تو اس کا لازمی نتیجہ فاتح اور مفتوح، دو فریقوں کی صورت میں رونما ہوتا تھا ، جو ہمیشہ ایک دوسرے کے حریف بنے رہتے تھے ۔ لیکن فتح مکہ کے بعد ایسی کوئی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی ، فاتح و مفتوح کے کسی تصور نے جنم نہیں لیا اور نہ ہی اسلامی اساسی اقدار پر کوئی سمجھوتہ کیا گیا۔ (۱۹) 

ہجرتِ مدینہ اور مدنی سماج 

ہجرتِ مدینہ کے بعد چند برسوں کے اندر ہی مدنی سماج میں جو دیرپا انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ، تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مدینہ کسی ایک قبیلے کا شہر نہیں تھا ، اس میں اوس ا ور خزرج رہائش پذیر تھے جبکہ مکہ میں صرف قریش اور طائف میں صرف ثقیف بستے تھے۔ اسی طرح مکہ اور طائف کے برعکس مدینے کے تمام باشندے عرب نہیں تھے ، ان میں کافی بڑی تعداد میں یہودی بھی موجود تھے۔ اس لیے مسلمانوں کی ہجرتِ مدینہ سے قبل ہمیں ایک طرف اوس و خزرج باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں تو دوسری طرف یہود کے ساتھ ان کی کشمکش و چپقلش کے مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔ نسل در نسل مخاصمت کی وجہ سے اوس و خزرج اور یہود ایک دوسرے کی قیادت قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ مدینے کے ایسے بحرانی حالات میں آپ ﷺ کی تشریف آوری کو قریشِ مکہ کی دھمکیوں کے باوجود غیر جانبدارانہ انداز میں لیا گیا اور ایک چوتھا گروہ مہاجرین کے روپ میں مدنی معاشرت کے مجموعی دھارے میں شامل ہو گیا۔ سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام کے مطابق نبی خاتم ﷺ نے مدینہ تشریف آوری کے بعد اپنے دوسرے خطبے میں مسلمانوں کو خدا سے کیے گئے ’’ عہد ‘‘ کی پاسداری کا درس دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :
’’ اور خدا سے جو عہد کیا ہے، اس کو سچا کر دکھاؤ اور آپس میں اس روحِ ایمانی کے ساتھ جو تمھارے اندر داخل ہوئی ہے، ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ بے شک اللہ اس بات سے غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کا عہد توڑا جائے ‘‘ ۔
نبی پاک ﷺ نے مدنی دور کے آغاز میں جس طرح عہد پر زور دیا، اتنی وضاحت کے ساتھ یہ امر ہمیں مکی دور میں نظر نہیں آتا، مثلاً مکی دور کی یہ آیت دیکھیے :
وَأَوْفُواْ بِعَہْدِ اللّہِ إِذَا عَاہَدتُّمْ وَلاَ تَنقُضُواْ الأَیْْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِہَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّہَ عَلَیْْکُمْ کَفِیْلاً إِنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ( النحل ۱۶/۹۱)
’’ اور پورا کرو اللہ کا عہد جب بھی تم نے اس سے کوئی عہد کیا ہو اور مت توڑو قسمیں بعد ان کو پختہ کرنے کے اور جب کہ بنا چکے ہو تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ ، بے شک اللہ جانتا ہے اس کو جو تم کرتے ہو ‘‘ ۔
مدنی دور میں ’عہد‘ کے ساتھ ساتھ ’ میثاق ‘ کے لفظ کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور اس کا رسول ﷺ ’’پختہ عہد‘‘ لینے سے قبل عہد نبھانے کے لیے لازم ’’عزم‘‘ کی پختگی چاہتے تھے ۔ہجرتِ مدینہ تک کے عرصہ میں مسلمانوں کا شخصی و گروہی عزم پختہ ہو چکا تھا۔ یہ عزم ایک مرحلہ شوق طے کر کے مسلم معاشرت کے بنیادی خاکے کی تشکیل کر چکا تھا ۔ اب وقت آ گیا تھا کہ ارتقا پذیر مسلم معاشرے سے ’’ پختہ عہد ‘‘ لے لیا جائے کہ پختہ عزم اب اسے پختہ عہد سے مکمل غافل نہیں ہونے دے گا :
الَّذِیْنَ یَنقُضُونَ عَہْدَ اللَّہِ مِن بَعْدِ مِیْثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ أَن یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِیْ الأَرْضِ أُولَءِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ ( البقرۃ ۲ / ۲۷)
’’جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں ان ( رشتوں ) کو کہ حکم دیا ہے اللہ نے جن کے جوڑنے کا اور فساد برپا کرتے ہیں زمین میں ، یہی لوگ ہیں حقیقت میں نقصان اٹھانے والے۔‘‘ 
بَلَی مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ( آٰل عمران ۳/۷۶ )
’’ہاں ! جس نے پورا کیا اپنا عہد اور اللہ سے ڈرا تو بے شک اللہ محبوب رکھتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو‘‘۔
چونکہ میثاقِ مدینہ میں مسلم اور غیر مسلم دونوں گروہ شامل تھے ، اس لیے اس وحدت کے باوجود معاشرت و سیاست میں اسلامی تشخص (Islamic Identity) کی امتیازی حیثیت کا اظہار ’’ایفا‘‘ جیسی اہم قدر سے ہوتا رہا ۔ اس کے برعکس غیر مسلم تشخص (Non Muslim Identity) کا اظہار عہد شکنی سے منسلک رہا ۔ 
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّہِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ () الَّذِیْنَ عَاہَدتَّ مِنْہُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَہْدَہُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَہُمْ لاَ یَتَّقُون ( الانفال ۸ /۵۵،۵۶)
’’بے شک سب سے برے زمین میں چلنے والی مخلوق میں سے ، نزدیک اللہ کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ سو یہ ( اب ) ایمان نہ لائیں گے۔ ( خصوصاً) وہ لوگ کہ معاہدہ کیا تھا تم نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنے عہد کو ہر موقع پر اور وہ ( اللہ سے ذرا ) نہیں ڈرتے‘‘۔
الَّذِیْنَ عَاہَدتَّ مِنْہُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَہْدَہُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَہُمْ لاَ یَتَّقُون ( الانفال ۸/۵۶)
’’ ( خصوصاً ) وہ لوگ کہ عہد کیا تھا تم نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنے عہد کو ہر موقع پر اور وہ ( اللہ سے ذرا) نہیں ڈرتے‘‘ ۔
أَوَکُلَّمَا عَاہَدُواْ عَہْداً نَّبَذَہُ فَرِیْقٌ مِّنْہُم بَلْ أَکْثَرُہُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ ( البقرۃ ۲/۱۰۰)
’’ کیا ( ایسا نہیں ہوتا رہا کہ) جب بھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اٹھا کر پھینک دیا اس کو ایک گروہ نے ان ہی میں سے ، حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے ‘‘۔
بہت جلد ہی مدنی معاشرت کی ساخت میں بنیادی تبدیلی رونما ہونی شروع ہوئی ۔ میثاقِ مدینہ اور مواخات کے ذریعے مدنی معاشرے کی ایک نئی تقسیم عمل میں آئی۔ مواخات کے باعث اوس و خزرج اور مہاجر مسلمان ایک معاشرتی وحدت میں ڈھلتے چلے گئے اور میثاقِ مدینہ میں مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض کے علاوہ یہودیوں کا مقام متعین ہونے سے معاشرتی و سیاسی نظم ، تنوع آشنا ہوتا گیا۔ (۲۰) اس وقت مدینے کی دس ہزار (۱۰۰۰۰) آبادی میں مسلمان صرف پانچ سو ( ۵۰۰) کی تعداد میں تھے ۔ اس لیے Demographic Balance واضح طور پر یہودیوں کے حق میں تھا ۔ یہ یقیناًتشویش ناک صورتِ حال تھی اور ا س میں مزید نزاکت اس طرح پیدا ہوئی کہ ہجرت کے بعد کچھ عرصہ تک مہاجرین کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا، جس کا یہودیوں نے خوب منفی پراپیگنڈا کیا۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے رسولِ پاک ﷺ نے خدائی حکم کی اتباع میں مدینہ کو دارالہجرت قرار دے کر اسلام کی قبولیت کو ہجرت کے ساتھ مشروط کر دیا:
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یُہَاجِرُواْ مَا لَکُم مِّن وَلاَیَتِہِم مِّن شَیْْءٍ حَتَّی یُہَاجِرُواْ ( الانفال ۸/۷۲)
’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی ، نہیں ہے تمھیں ان کی رفاقت سے کچھ بھی (تعلق ) جب تک کہ ( نہ ) ہجرت کر آئیں وہ بھی۔ ‘‘ 
وَدُّواْ لَوْ تَکْفُرُونَ کَمَا کَفَرُواْ فَتَکُونُونَ سَوَاء فَلاَ تَتَّخِذُواْ مِنْہُمْ أَوْلِیَاء حَتَّیَ یُہَاجِرُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَخُذُوہُمْ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْْثُ وَجَدتَّمُوہُمْ وَلاَ تَتَّخِذُواْ مِنْہُمْ وَلِیّاً وَلاَ نَصِیْراً ( النساء ۴/۸۹)
’’دل سے چاہتے ہیں (یہ منافق ) کہ کاش تم بھی کافر ہو جاؤ جیسے کافر ہو گئے ہیں وہ تاکہ ہو جاؤ تم ( اور وہ ) ایک جیسے ، لہٰذا مت بناؤ تم ان میں سے کسی کو دوست جب تک کہ نہ ہجرت کریں وہ اللہ کی راہ میں ، پھر روگردانی کریں وہ ( ہجرت سے) تو پکڑو انھیں اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ تم انھیں اور نہ بناؤ تم ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مددگار ‘‘ ۔
ایمان کو ہجرت کے ساتھ منسلک کرنے کے علاوہ ترہیبی احکامات سے ہجرت کے عمل کو تیز کیا گیا :
إِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلآئِکَۃُ ظَالِمِیْ أَنْفُسِہِمْ قَالُواْ فِیْمَ کُنتُمْ قَالُواْ کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِیْ الأَرْضِ قَالْوَاْ أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللّہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُواْ فِیْہَا فَأُوْلَئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَاءتْ مَصِیْراً () إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیْعُونَ حِیْلَۃً وَلاَ یَہْتَدُونَ سَبِیْلاً (النساء ۴ / ۹۷، ۹۸) 
’’بے شک وہ لوگ کہ روح قبض کریں گے ان کی فرشتے اس حال میں کہ وہ ظلم کر رہے تھے اپنی جانوں پر ، پوچھیں گے ان سے فرشتے ، تم کیا کرتے رہے ؟ وہ کہیں گے ، تھے ہم کمزور اور بے بس اپنی سر زمین میں ۔ فرشتے کہیں گے کیا نہیں تھی اللہ کی زمین وسیع کہ ہجرت کر جاتے تم اس میں؟ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ٹھکانہ ہے ان کا جہنم اور وہ بہت بری جگہ ہے ‘‘ ۔
اس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا اور مدینے کے باہر کے نو مسلموں کے مدینہ میں بسنے سے مسلم آبادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مسلم آبادی میں اضافے کے باوجود ایک بڑا خطرہ مدینے کی وباؤں کی شکل میں موجود تھا ، مدینے کو یثرب( ہلاکت کی جگہ ) بھی غالباً انھی وباؤں کی وجہ سے کہا جاتا تھا ۔حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں :
’’ جب ہم مدینہ آئے تو یہ خدا کی سب سے زیادہ وبا والی سر زمین تھی ، انھوں نے ( اس کی وجہ بتائی ) کہ وادی بطحان ( مدینہ کی ایک وادی ) سے متعفن اور بد بودار پانی بہا کرتا تھا ‘‘ ۔ ( صحیح بخاری ) 
اب مہاجرین کے دل ایک طرف غریب الوطنی سے چھلنی تھے اور دوسری طرف وباؤں نے ان کا جینا دوبھر کر دیا تھا ۔ بلا لؓ کا جب بخار اترتا تو وہ بلند آواز سے یہ شعر پڑھتے : 
الا لیت شعری ہل ابیتن لیلۃ بواد وحولی اذخر وجلیل
وہل اردن یوما میاہ مجنۃ وہل یبدون لی شامۃ وطفیل
’’ کاش ! ایک رات میں مکہ کی وادی میں گزار سکتا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل( گھاس ) ہوتیں۔ کاش! ایک دن میں مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش میں شامہ اور طفیل ( پہاڑوں ) کو دیکھ سکتا۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ ! شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو اپنی رحمتوں سے دور کر دے جس طرح انھوں نے ہمیں اپنے وطن سے اس بیماری کی زمین میں نکالا ہے ۔‘‘ ( صحیح بخاری ) 
نبی پاک ﷺ نے مہاجرین کے قدم جمانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی :
اللھم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ او اشد اللہم بارک لنا فی صاعنا وفی مدنا وصححہا لنا وانقل حما ھا الی الحجفۃ ( صحیح بخاری )
’’ اے اللہ ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کردے جس طرح مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ، اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور اسے ہمارے مناسب کر دے ، یہاں کے بخار کو حجفہ منتقل کردے ‘‘ ۔
اس سنگین صورتِ حال میں بعض نو مسلم دینِ حق سے برگشتہ ہونے پر تلے ہوئے تھے، ان کی برگشتگی کے مضر اثرات کا تدارک بھی بہت ضروری تھا۔ ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام پر بیعت کی ، دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا ، کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے ، آپ ﷺ نے تین مرتبہ تو انکار فرمایا ، پھر کہا :
انھا تنفی الرجال کما تنفی النار خبث الحدید (صحیح بخاری)
’’ مدینہ ( برے لوگوں ) کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کا میل کچیل دور کر دیتی ہے ‘‘۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مصائب میں گھرے مہاجرین کی بابت فرمایا : 
وَمَن یُہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ یَجِدْ فِیْ الأَرْضِ مُرَاغَماً کَثِیْراً وَسَعَۃً وَمَن یَخْرُجْ مِن بَیْْتِہِ مُہَاجِراً إِلَی اللّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلی اللّہِ وَکَانَ اللّہُ غَفُوراً رَّحِیْما (النساء ۴/ ۱۰۰) 
’’ اور جو شخص ہجرت کرے گا اللہ کی راہ میں ، پائے گا وہ زمین میں ٹھکانے بہت سے اور فراخی اور جو نکلا اپنے گھر سے ہجرت کر کے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف ، پھر آ لیا اس کو موت نے تو ہو گیا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ، اور ہے اللہ بے حد معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ‘‘ ۔
رسول اکرم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:
من استطاع ان یموت بالمدینۃ فلیمت بھا فمن فات بالمدینۃ کنت لہ شفیعا یوم القیامۃ ( ترمذی، مسند احمد ) 
’’ جو شخص مدینہ میں وفات پا سکتا ہو، اسے مدینہ میں وفات پانا چاہیے اور جو شخص مدینہ میں وفات پائے گا، قیامت کے دن میں اس کی سفارش کروں گا ‘‘ ۔
خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ان احکامات سے یقیناًمسلمانوں کو بہت حوصلہ ہوا اور ہجرت کرنے اور مدینہ میں رہنے کی مزید ترغیب ملی ۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ صرف غیر مدنی نو مسلموں کو ہی مدینہ میں رہنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ مدینہ میں پہلے سے موجود مسلمانوں کو بھی ان کی نصرت پر ابھارا گیا ، جس کے نتیجے میں یہ دوطرفہ عمل تیزی سے ثمر آور ہوتا گیا : 
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّہُم مَّغْفِرَۃٌ وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ ( الانفال ۸/ ۷۴ ) 
’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی ( ان کو ) اور مدد کی ، یہی لوگ ہیں جو مومن ہیں سچے ان کے لیے ہے بخشش اور روزی عزت کی ‘‘ ۔
اس کے باوجود مکہ کے مقابلے میں مدینہ کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں تھی۔ مکہ صدیوں سے عالمِ انسانیت کا مرکز چلا آرہا تھا اور اس وقت بھی لوگوں کے اذہان میں مکہ کی یہی اہمیت جا گزیں تھی ۔ آپ ﷺ نے مدینے کی فضیلت اجاگر کرنے کے لیے دعا فرمائی : 
اللہم ان ابراہیم عبدک وخلیلک ونبیک وانی عبدک ونبیک وانہ دعاک لمکۃ وانی ادعوک للمدینۃ بمثل ما دعاک للمدینۃ ومثلہ معہ ( صحیح مسلم ) 
’’ اے اللہ ! ابراہیم ؑ تیرے خاص بندے ، تیرے دوست اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ۔ انھوں نے مکہ کی خیروبرکت کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں بھی مدینہ کی خیر و برکت کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں بلکہ اتنی ہی اور زیادہ ۔‘‘ 
اللھم اجعل بالمدینۃ ضعفی ما جعلت بمکۃ من البرکۃ ( صحیح بخاری )
’’ اے اللہ ! جتنی آپ نے مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دوگنی برکت نازل فرمائیے ‘‘ 
اور مکہ کی طرح مدینہ کو بھی آپ ﷺ نے حرم قرار دیا :
المدینۃ حرم ما بین عیر و ثور ( صحیح مسلم )
’’مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے ‘‘ ۔
ان ابراہیم حرم مکۃ وانی حرمت المدینۃ (صحیح مسلم)
’’ ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں ۔‘‘ 
ما بین لا بتیھا حرام ( صحیح بخاری ) 
’’مدینہ کے دو پتھریلے علاقے کے درمیان حرم ہے‘‘۔
اس طرح خدا اور اس کے رسول ﷺ کے واضح فرمودات سے نو مسلموں کی ہجرت کا سلسلہ جاری رہا اور غیر مسلموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے سے مدینہ میں اسلامی معاشرہ ارتقائی منازل طے کرتا چلا گیا ۔ایک اندازے کے مطابق ۲ہجری تک مسلمانوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو (۱۵۰۰ ) کے لگ بھگ ہو گئی تھی۔ (۲۱) خیال رہے کہ مکی مہاجرین کے علاوہ دیگر مہاجرین کے’’ عزم کی تشکیل اور پختگی ‘‘کا اہتمام مدینے کی مضرِ صحت آب و ہوا سے ہو گیا تھا۔ یہ سب مسلمان مدینے کی بھٹی سے گزر کر جوہر کی صورت میں سامنے آئے تھے، اس لیے کسی قسم کی شخصی میل کچیل، اسلامی معاشرے کی بنیادی ساخت میں کسی طور شامل نہ ہو سکی۔ مدینہ میں رہنے کے لیے مہاجرین کی دلی آمادگی کے بعد ، طرزِ معاشرت کا رخ متعین کرنے کے لیے عورتوں کے متعلق رویہ اس طرح سامنے آیا :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا جَاء کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ اللَّہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ وَآتُوہُم مَّا أَنفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ أَن تَنکِحُوہُنَّ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنفَقْتُمْ وَلْیَسْأَلُوا مَا أَنفَقُوا ذَلِکُمْ حُکْمُ اللَّہِ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (الممتحنۃ ۶۰/۱۰ ) 
’’ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب آئیں تمھارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو ان کی خوب جانچ پڑتال کر لو ، اللہ بہتر جانتا ہے ان کے ایمان کو ، پس اگر تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ ایمان والی ہیں تو نہ واپس کرو تم انھیں کافروں کی طرف ، نہ وہ عورتیں حلال ہیں ان کافروں کے لیے اور نہ وہ کافر مرد حلال ہیں ان عورتوں کے لیے ، اور دے دو تم ان کافروں کو جو مہر انھوں نے ادا کیے تھے اور نہیں ہے کچھ گناہ تم پر اس میں کہ نکاح کر لو تم ان سے بشرطیکہ ادا کردو تم ان کو مہر ان کے ، اور مت روکے رکھو ( اپنی زوجیت میں) کافر بیویوں کو اور مانگ لو جو (مہر) تم نے دیے تھے اور چاہیے کہ کافر بھی مانگ لیں وہ مہر جو انھوں نے ادا کیے تھے ، یہ اللہ کا حکم ہے جس کے مطابق وہ فیصلہ کر رہا ہے تمھارے درمیان ، اور اللہ ہے سب کچھ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ‘‘۔
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْْتَ أُجُورَہُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّا أَفَاء اللَّہُ عَلَیْْکَ وَبَنَاتِ عَمِّکَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِکَ وَبَنَاتِ خَالِکَ وَبَنَاتِ خَالَاتِکَ اللَّاتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَأَۃً مُّؤْمِنَۃً إِن وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِیُّ أَن یَسْتَنکِحَہَا خَالِصَۃً لَّکَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْ أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُمْ لِکَیْْلَا یَکُونَ عَلَیْْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْما ( الاحزاب۳۳/۵۰ ) 
’’ اے نبی ﷺ ! بے شک ہم نے حلال کر دی ہیں تمھارے لیے تمھاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کر دیے ہوں اور وہ لونڈیاں بھی جو تمھاری ملک میں آئیں اس ( مالِ غنیمت ) میں سے جو عطا کیا ہے اللہ نے تمھیں اور ( حلال کر دی ہیں ) تمھاری چچا زاد ، پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد جنھوں نے ہجرت کی ہے تمھارے ساتھ اور کوئی مومن عورت اگر ہبہ کرے اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ بھی چاہے ( تو حلال ہے ) اس سے نکاح کرنا ، ( یہ رعایت ) خالصتاً تمھارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ، ہمیں خوب معلوم ہے کہ کیا فرض کیا ہے ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں، ( تمھیں ان حدود سے مستثنیٰ کر دیا ) تاکہ نہ رہے تم پر کوئی تنگی اور ہے اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ‘‘ ۔
اگرچہ مہاجرین کی اکثریت نے مدینہ آکر تجارت وغیرہ شروع کر دی اور ان کے قدم جم گئے تھے لیکن انسانوں کے مزاجوں اور صلاحیتوں میں تفاوت ہونے کے باعث ایسے مہاجرین بھی مدینہ میں موجود تھے جو بالکل مفلوک الحال تھے اور انھی کے مانند مدینہ کے چند مقامی مسلمان بھی سفید پوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ ان مقامی و مہاجر لوگوں کے ’’عزم‘‘ پر کسی کو کلام نہیں تھا ۔ لیکن سوال پیدا ہوتا تھا کہ ایسے لوگوں کو’’ نو خیز اسلامی معاشرہ‘‘ کس طرح لے گا ۔ اس حوالے سے اللہ رب العزت نے اس طرح راہنمائی فرمائی : 
لِلْفُقَرَاء الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیْارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً وَیَنصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ مِن قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْْہِمْ وَلَا یَجِدُونَ فِیْ صُدُورِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا أُوتُوا وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون (الحشر ۵۹/ ۸،۹)
’’ ( نیز وہ مال ) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو نکال باہر کیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنی جائیدادوں سے ، جو تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی خوشنودی اور مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ، یہی لوگ ہیں سچے ۔ اور یہ ( ان لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو مقیم تھے دارالہجرت میں اور ایمان لا چکے تھے مہاجرین کی آمد سے پہلے ، محبت کرتے ہیں ان لوگوں سے جو ہجرت کر کے آئے ان کے پاس، اور نہیں پاتے اپنے دلوں میں کوئی حاجت تک بھی اس چیز کی جو انھیں دی جائے اور ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو اپنی ذات پر اگرچہ ہوں خود حاجت مند ، اور جو بچا لیے گئے اپنے دل کے لالچ سے ، سو وہی ہیں درحقیقت فلاح پانے والے ‘‘۔
مسلمانوں کے باہمی تعاون میں ایک لطیف توازن قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا : 
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مِن بَعْدُ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ مَعَکُمْ فَأُوْلَءِکَ مِنکُمْ وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّہِ إِنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ (الانفال ۸/ ۷۵) 
’’ اور وہ لوگ جو ایمان لائے ( ان کے ) بعداور جنھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا تمھارے ساتھ مل کر، سو یہ لوگ بھی تم میں سے ہیں اور خونی رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں اللہ کی کتاب کی رو سے، بے شک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے ‘‘ ۔
اسلامی معاشرے کے تشکیلی رویے میں ’’ عمل اور فعالیت ‘‘ کو بطورِ خاص اہمیت دی گئی کیونکہ گروہی عزم کی بازیافت کے بعد تجرد ، بے عملی ، رہبانیت اور کسی قسم کی لاتعلقی کی گنجائش باقی نہیں تھی ۔ عزم میں پختگی کے بعد ، عہد کی پاسداری کا تقاضا یہ تھا کہ سماجی فعالیت کا بھر پور مظاہرہ کیا جائے ۔ اس سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ مردوعورت میں فعالیت کے ثمرات کے لحاظ سے مساوات کا ذکر ، عسکریت کے بیان کے ساتھ کیا گیا ۔ اس طرح جہاد و قتال اور عسکریت، عمرانی مظہر ہونے کے ناتے اسلامی معاشرے کی بنیادی ساخت کا جزو لا ینفک بن گئے: 
فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُواْ وَأُخْرِجُواْ مِن دِیَارِہِمْ وَأُوذُواْ فِیْ سَبِیْلِیْ وَقَاتَلُواْ وَقُتِلُواْ لأُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّءَاتِہِمْ وَلأُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ ثَوَاباً مِّن عِندِ اللّہِ وَاللّہُ عِندَہُ حُسْنُ الثَّوَاب (اٰل عمران۳/ ۱۹۵ )
’’ پس قبول فرما لی ان کی دعا ان کے رب نے ( اور جواب دیا ) کہ بلاشبہ میں نہیں ضائع کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم میں سے، مرد ہو یا عورت ، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ سو وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی ، نکالے گئے اپنے گھروں سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور جنگ کی انھوں نے اور شہید ہوئے ، ضرور کفارہ بناؤں گا میں ان کی طرف سے ( ان عملوں کو) ان کے گناہوں کا اور ضرور داخل کروں گا میں ان کو جنتوں میں، بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں ، یہ ہے اجر اللہ کی جنابِ خاص سے اور اللہ کے پاس ہے بہترین اجر ‘‘ ۔
المختصر! ہجرت کے بعد چند برسوں کے اندر ہی مدنی سماج کو ایک نئی اور آفاقی شناخت حاصل ہوئی ۔ اس شناخت کی تشکیل میں منفی اور مثبت دونوں کرداروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ جو کردار عزم والے تھے، انھوں نے زندگی کے ہر پہلو میں ، خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری میں انتہا درجے کی پختگی کا عملی مظاہرہ کیا ۔ اس کے برعکس عہد شکنی کے مرتکب ہونے والے کردار اصلاً بے عزم تھے ، اس لیے زندگی کا ہر پہلو تو درکنار ، ایسے لوگ بقائے باہمی کے عہد کی پاسداری کر نے سے بھی قاصر رہے ۔ یوں مثبت اور منفی ہر دو کرداروں نے مدنی معاشرت کے روایتی اسلوب کو بدل کر اسے ایک نئی شناخت سے بہرہ مند کر دیا اور مدینہ نبی خاتم ﷺ کی دعاؤں کے مصداق ہو گیا ۔
اس ضمن میں صلح حدیبیہ کا واقعہ خاص طور قابل مطالعہ ہے۔ 
قریشِ مکہ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ اور پھر قریش کی اس معاہدے کی خلاف ورزی سے مدنی سماج کی اسلامائزیشن میں دومزید اہم عناصر شامل ہو گئے۔ ان دونوں عناصر کی سماج کاری (Sociality) میں کلیدی کردار ، خود سماج کے بجائے قائد کا نظر آتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ بات مسلم ہے کہ صحابہ کرامؓ، معاہدہ حدیبیہ کی بعض شقوں پر مطمئن نہیں تھے، لیکن اس معاہدے سے متعلق آپ ﷺ کے فیصلے کو قرآن مجید نے فتح مبین قرار دیا۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے سے مسلمانوں کو کم از کم دو فائدے حاصل ہوئے۔ ایک تو یہ کہ مکی سماج پر واضح ہو گیا کہ مکہ کی سیاسی قیادت کی جارحیت (بدر، احد، احزاب) کے باوجود مسلمان بنیادی طور پر امن کے خواہاں ہیں ، اس لیے اگر جنگ ان پر مسلط نہ کی جائے تو وہ خود جنگی عزائم نہیں رکھتے۔ مکہ /مدینہ باہمی چپقلش کے تناظر میں امن کا یہ پیغام مکی سماج کے لیے درحقیقت بہت بڑا پیغام تھا۔ اس معاہدے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو کفارِ مکہ کے کسی متوقع حملے سے بے نیاز ہو کر یہودیوں کی بیخ کنی کا موقع ملا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً خیبر کو فتح کر لیا گیا۔ ان دو فوائد کو پیشِ نظر رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کرنا کسی قسم کی شکست کا آئینہ دار نہیں تھا، بلکہ اس معاہدے کے پیچھے زمینی حقائق کا ادراک اور واقعیت پسندی جھلملا رہی تھی۔ اس لیے معاہدہ حدیبیہ کی بظاہر مسلم مخالف شقوں کے باوجود وقتی پسپائی کا حتمی فائدہ مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ اسی لیے آپ ﷺ کے معاہدہ کرنے کے بعد آپ ﷺ کی قائدانہ بصیرت کے اعتراف میں قرآن نے اسے ’’فتح مبین‘‘ سے تعبیر کیا ۔
جب کچھ عرصے کے بعد قریش نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قریشِ مکہ کا قائد ابوسفیان گفت و شنید اور تجدیدِ عہد کے لیے مدینہ منورہ آیا تو اسے ناکام واپس لوٹنا پڑا ۔ بعض لوگ اس واقعے کو بنیاد بنا کر اعتراض کرتے ہیں کہ جب اہل مکہ امن چاہتے تھے اور تجدیدِ عہد کے لیے تیار تھے تو آپ ﷺ نے امن کا معاہدہ دوبارہ کیوں نہیں کیا؟ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان اب عسکری اعتبار سے طاقت ور ہو چکے تھے، جبکہ امن کا خواہاں کمزور فریق ہی ہوتا ہے ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط ہے ۔ جیسا کہ ذکر ہوا، صلح حدیبیہ مسلمانوں کی کمزوری کی آئینہ دار نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے زمینی حقائق کے ادراک اور واقعیت پسندی پر مبنی آپ ﷺ کی قائدانہ بصیرت کارفرما تھی ۔ بالکل اسی طرح ابوسفیان کی ناکامی کے پیچھے نہ تو اس کی کمزوری کا ہاتھ تھا اور نہ ہی مسلمانوں کی عسکری قوت کا کوئی کردار تھا ۔ یہاں بھی آپ ﷺ نے بنیادی طور پر واقعیت پسندی اور زمینی حقائق کے ادراک کا ثبوت دیا ۔ اسے ہم Threat Perception (خطرے کی پیش بینی) کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ آپ ﷺ بھانپ لیتے ہیں کہ اہلِ مکہ کی تجدیدِ عہد کی پالیسی کے پیچھے time gaining factor اور عہد شکنی کی خواہش کارفرما ہے ، کیونکہ یہ پہلے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو چکے ہیں اور اب بھی اپنی طاقت کی بحالی کے لیے امن و معاہدہ کو بطور ’’ہتھیار‘‘ استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے بعد مسلمانوں سے حساب چکایا جا سکے ۔ ہماری اس رائے کو سیرت نگار ابنِ ہشام کے اس بیان سے مزید تقویت ملتی ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد اہلِ مکہ نے بغاوت کی اور مکہ کے مسلم گورنر عتاب بن اسید کو پہاڑوں میں روپوش ہونا پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ اس بغاوت کے پیچھے سماجی منظوری (Social Approval) موجود نہیں تھی، اس لیے یہ کوئی بڑا خطرہ بنے بغیر ہی دم توڑ گئی، لیکن یہ بغاوت بہرحال آپ ﷺ کی Threat Perception پر مہرِ تصدیق ثبت کر دیتی ہے ۔ اس طرح مدنی سماج کی اسلامائزیشن اور ریاستی پالیسی میں Retreat اور Threat Perception جیسی اقدار بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ چونکہ ان دونوں قدروں کے پیچھے بنیادی طور پر ایک ہی اصول یعنی واقعیت پسندی اور زمینی حقائق کا ادراک کارفرما نظر آتا ہے، اس لیے یہ اصول، معاشرت و ریاست کی اسلامی شناخت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید نے غزوہ موتہ میں مسلمانوں کو مزید جانی نقصان سے بچانے کے لیے پسپائی اختیار کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انھیں ملامت کرنے کے بجائے اس کی تحسین کی۔ وصال نبوی کے بعد صدیق اکبر نے بھی Threat Perception کو بروے کار لاتے ہوئے منکرین زکوٰۃ اور مرتدین کو کوئی رعایت دینے کے بجائے ان کے خلاف فوری اقدام پر اصرار کیا۔ بعد کے ادوار میں بھی جب تک اسلامی معاشرے اور ریاستی قیادت نے زمینی حقائق کے ادراک اور واقعیت پسندی پر مبنی Retreat اور Threat Perception کا بر محل مظاہرہ کیا ، اس وقت تک مسلمان مغلوب ہونے سے بچے رہے ۔ 

فتح مکہ اور ہجرت

۸ ہجری میں نبی پاک ﷺ اسی شہر میں فاتحانہ داخل ہوئے جہاں سے انھیں نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا ۔ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ واپس مدینہ تشریف لے آئے ، حالانکہ مکہ میں بیت اللہ بھی ہے اور اسے آپ ﷺ کے آبائی وطن ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ آپ ﷺ جب مکہ سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے تو فرمایا تھا :
واللہ انک لخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی اللہ ولولا انی اخرجت منک ما خرجت (ترمذی)
’’ خدا کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے ۔ اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا‘‘۔ 
سوال پیدا ہوتا ہے کہ فتح یاب ہونے کے بعد آپ مکہ میں رہائش پذیر کیوں نہیں ہوئے ؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے انصار سے ’ عہد ‘ کیا تھا کہ کامیاب ہونے کے بعد آپ ﷺ انھیں چھوڑ کر اپنی قوم سے نہیں جا ملیں گے۔ ( بیعتِ عقبہ ثانی) پھر فتح مکہ کے بعد ایک موقع پر مالِ غنیمت کی تقسیم ہوئی اور قریشِ مکہ کو نوازا گیا تو اس سے بعض انصار ملولِ خاطر ہوئے ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمھیں یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم محمد ﷺ کو لے کر اپنے گھر جاؤ؟ انصار بے ساختہ پکار اٹھے! ہمیں اور کچھ نہیں ، صرف محمد ﷺ چاہیے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہاں بھی آپ ﷺ کا مدینہ واپسی کا فیصلہ سابقہ عہد کی پاسداری کی خاطر تھا؟ اگر جواب اثبات میں دیا جائے تو یہ ایک سطحی جواب ہو گا کیونکہ آپ ﷺ نے غلبہ پانے کے بعد انصار کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عہد کیا تھا، نہ کہ ان کے ساتھ مستقل رہائش پذیر ہونے کا۔ فتح مکہ کے بعد ، مکہ میں رہتے ہوئے بھی آپ ﷺ انصار کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں تھے کیونکہ اب مکہ اور مدینہ دونوں، اسلامی ریاست کا باقاعدہ حصہ تھے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مدینہ میں رہنے کا فیصلہ آپ ﷺ کی قیادت کا ناگزیر تقاضا تھا ۔ اگر آپ ﷺ مکہ میں رہنے کا فیصلہ کر لیتے تو مہاجرین کی ایک لمبی قطار آپ ﷺ کی اتباع کے لیے تیار کھڑی ہوتی ، جس سے نہ صرف مکہ اور مدینہ میں نئے مسائل جنم لیتے بلکہ آئندہ بھی ہر زمانے کے مہاجر اپنے سابق علاقے اور املاک وغیرہ پر اپنا حق جتانے کی کوشش کرتے۔ ظاہر ہے اس کے نتیجے میں ہر دور میں شدید پیچیدگیاں پیدا ہوتیں ۔ اس سلسلے میں سیرت النبی ﷺ ابنِ ہشام میں درج یہ واقعہ کافی اہم معلوم ہوتا ہے کہ جب بنی جحش نے ہجرت کی تو ابوسفیان نے ان کا مکان بنی عامر بن لوئ کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کے ہاتھ فروخت کر دیا ۔ جب عبداللہؓ بن جحش کو اس کی خبر مدینہ میں پہنچی تو انھوں نے نبی پاک ﷺ سے عرض کیا ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ خدا اس کے بدلے تم کو جنت میں ایک محل عنایت کرے ؟ عبداللہ نے عرض کیا ، ہاں میں راضی ہوں ۔ آپﷺ نے فرمایا، بس وہ محل تمھارے لیے ہے ۔ فتح مکہ کے بعد ابو احمد نے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں اس مکان کے بارے میں سوال کیا جس کو ابوسفیان نے فروخت کر دیا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا ۔ لوگوں نے کہا اے ابو احمد ! آپ ﷺ ان چیزوں کے بارے میں جو کفار کے تصرف میں چلی گئیں، کلام کرنا پسند نہیں فرماتے ۔ پس ابواحمد بھی خاموش ہو رہے۔ 

ہجرتِ نبوی کی توسیعی معنویت 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہجرت کا واقعہ ظاہری لحاظ سے زمان ومکان میں محدود ہونے کے باوجود معنوی لحاظ سے ابدی اور آفاقی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی علاقے سے دوسرے علاقے میں ہجرت کرنا ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے اضافی ہے کہ اس کے پیچھے ارضی تقاضے کارفرما ہوتے ہیں۔ اصل ہجرت ، رویے کی ہجرت ہے: 
فَآمَنَ لَہُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّیْ مُہَاجِرٌ إِلَی رَبِّیْ إِنَّہُ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (العنکبوت۲۹ / ۲۶)
’’سو ایمان لائے اس پر صرف لوط ؑ اور انھوں نے کہا میں ہجرت کرتا ہوں اپنے رب کی طرف ، بے شک وہی ہے زبردست اور حکمت والا ‘‘ ۔
یہ درحقیقت رویے کی ہجرت ہی ہوتی ہے جو انسان کو مقابل قوتوں کو مغلوب کرنے کے لیے علاقہ چھوڑنے کی ’’حکمتِ عملی‘‘ اپنانے کا درس دیتی ہے ۔ علاقے سے ہجرت ، رویے کی غیر اضافی ہجرت کی آبیاری کا مزید سامان فراہم کرتی ہے ۔ ان معنوں میں انسان کی بہشت سے بے دخلی کوئی سزا نہیں ، بلکہ ربِ کائنات کی بیش بہا حکمت کا اظہار ہے ۔ یہ بے دخلی کسی کمی ( بے عزمی ) کی بیش تلافی (Over Compensation) کی علامت ہے اور ابلیس کی شیطانیت کو سزاوار چیلنج بھی ۔ اس تناظر میں ہم اس مضمون کے اختتام پر ان پہلووں کی طرف خاص طور پر اشارہ کرنا چاہیں گے جن سے ہجرت نبوی کا یہ معنوی اور آفاقی پہلو خاص طور پر اجاگر ہوتا ہے۔ 
۱۔ جب تک حضرت ابو طالب سردار تھے ، آپ ﷺ نے ہجرت نہیں کی، بلکہ مشیتِ الٰہی کے مطابق ابولہب کے سردار بننے کا انتظار کیا۔ اس سے نبی خاتم ﷺ کی حیاتِ مطہرہ کا ایک خاص پہلو سامنے آتا ہے، کیونکہ ابولہب کا سردار بننا اور اس کے دور میں آپ ﷺ کا ہجرت کرنا ، آپ ﷺ کی خاتمیت کا اہم تقاضا تھا۔ ابوطالب اگرچہ، معروف تاریخی روایت کے مطابق آپ پر ایمان نہیں لائے، لیکن بہرحال وہ متکبر نہیں تھے۔ اس کے برعکس ابولہب اپنی کنیت کے مصداق ایسا دہکتا ہوا شعلہ تھا جو ناحق متکبر تھا ، ابلیس کی مانند اور ابلیس کا پیرکار ۔ اگر ابلیس نار تھا تو ابولہب اسی کا معنوی مشتق اور پر تو تھا ۔ اس لیے ابولہب کے سردار بننے کے بعد نبی خاتم ﷺ کی ہجرت خاصی معنی خیز ہو جاتی ہے ۔ ابولہب کی سرداری کے دور میں آپ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے مدینہ کی حیثیت ایک پہلو سے پوری زمین کے مثل ہو جاتی ہے۔ جس طرح آدم ؑ مہاجر بنا کر زمین پر اتارے گئے تھے ، ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ مخصوص وقت تک کے لیے، اسی طرح آپ ﷺ بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ مخصوص وقت کے لیے کرتے ہیں، جہاں سے نکالے گئے تھے وہاں جانے کا سامان پیدا کرنے کے لیے، کہ ہجرت وسیع تر مفہوم میں کسی کمی کی تلافی کا ہی نام ہے ۔ آپ ﷺ کی ہجرتِ مدینہ کا مخصوص وقت فتح مکہ پر ختم ہو جاتا ہے ، لیکن کیونکہ مدینہ کی ایک حیثیت پوری زمین کے بھی مثل ہے، وہ زمین جہاں اولادِ آدم ؑ کو اپنا مخصوص وقت گزارنا ہے ، اس لیے اس وقت کے خاتمے تک، نبی خاتم ﷺ ہونے کے ناتے اولادِ آدم ؑ کی راہنمائی کے لیے آپ ﷺ اپنی مہاجرت کا تسلسل فتح مکہ کے بعد بھی مدینہ ( پوری زمین کے مثل ) میں جاری رکھتے ہیں ۔ 
۲۔ اس ضمن میں واقعہ معراج بھی قابل توجہ ہے۔ ابنِ ہشام کے مطابق واقعہ معراج کے موقع پر بعض لوگ مرتد ہو جاتے ہیں، جبکہ حضرت ابوبکرؓ ، صدیقِ اکبرؓ بن جاتے ہیں۔ اس واقعے پر کفار کے استہزا اور تمسخر کے مقابلے میں صحابہ کرامؓ انفرادی حیثیت میں شخصی عزم اور اجتماعی حیثیت میں گروہی عزم کی پختگی کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ اللہ رب العزت انھیں ایسے بے پایاں ، گراں قدر، بیش بہا اور انمول تحفے سے نوازتے ہیں جو اپنی نوعیت میں بیک وقت شخصی اور گروہی ہے ۔ ہماری مراد نماز سے ہے ۔ گروہی ہجرت سے قبل، معراج کے موقع پر نماز کی فرضیت کے احکامات کا اترنا بہت معنی خیز ہے۔ اللہ رب العزت نے رویے کی ہجرت کی طرف واضح اشارہ کرنے، اسے مطلوب و مقصود ٹھہرانے اورعلاقائی ہجرت کی اضافیت کے مقابلے میں رویے کی ہجرت کی غیر اضافیت کے پیشِ نظر ہی ہجرتِ مدینہ کے بعد نہیں بلکہ اس سے قبل نماز کی فرضیت کے احکامات نازل فرمائے ۔ حقیقت میں نماز کی پانچ وقت با جماعت فرضیت، سماج اور ہجوم کے جبر کے خلاف مخلصین کی صف آرائی ہے۔ یہ سماجی شیطانیت کی شناخت کی جیتی جاگتی علامت ہے۔ یہ سوسائٹی کے ظاہری و باطنی فواحش اور ظلم و استحصال کے مقابل ، افراد کی گروہی ہجرت ہے۔ ایسا سماج جہاں نماز کی پانچ وقت با جماعت ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جاتا ہو ، وہاں کے افراد کا دنیاوی مال و اسباب کو تج دے کر شیطانی قوتوں کے مقابل آنا اور اس مقابلے میں ’’حکمت عملی‘‘ کے طور پر بعض اوقات اپنا علاقہ تک چھوڑ جانا نا ممکن نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسے افراد سوسائٹی کے لازموں سے کنارہ کشی کا عمل ہر روز پانچ بار دہرا چکے ہوتے ہیں ۔
۳۔ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ کی مدینہ واپسی میں بھی لطیف حکمت پوشیدہ ہے ۔ فتح مکہ کے بعد آپ کی مہاجرت ظاہری اعتبار سے ختم ہوگئی تھی، اس لیے کہ جس وجہ سے آپ ﷺ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا ، وہ وجہ ختم ہو گئی ۔ باطل مٹ گیا اور حق چھا گیا۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد اسی پہلو کو واضح کرتا ہے : 
لا ہجرۃ بعد الفتح (صحیح بخاری) 
’’ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے ۔‘‘
تاہم قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح ، جو مہاجرت کے بعد ملی، درحقیقت اس فتح کی ارضی علامت ہے جو آپ ﷺ کی خاتمیت کے پیشِ نظر آپ ﷺ کے توسط سے اولادِ آدم ؑ میں سے ’’ مخلصین ‘‘ کو ابلیس کے چیلنج کے جواب میں ملنی ہے اور یہ مخلصین اس بہشتِ بریں پر دوبارہ قدم رکھیں گے ، جہاں سے انھیں ابلیس کی شیطانیت کے سبب مہاجر بنا کر زمین پر بھیج دیا گیا تھا ۔ یہ مکمل فتح ، آپﷺ کی خاتمیت کے وجوہ جواز میں سے ایک وجہ بھی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ بیت اللہ کو مشرکین سے پاک کر نے کے بعد ، اپنی مہاجرت کو جاری رکھتے ہوئے فتح مکہ کو معرکہ خیر و شر کے تناظر میں ’’ علامتی فتح ‘‘ کے طور پر لیتے ہیں اور مکہ میں مستقل طور پر نہ ٹھہرنے کا فیصلہ فرماتے ہیں، کیونکہ اگر مکہ میں قیام فرماتے تو آپ کی مہاجرت مکمل طور پر ختم ہو جاتی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے ہجرت کی اسی ابدی معنویت کو یوں واضح فرمایا :
والمہاجر من ہجر الخطایا والذنوب (ابن ماجہ)
’’اور مہاجر درحقیقت وہ ہے جو اپنے گناہوں اور خطاؤں سے کنارہ کشی کر لے ‘‘۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ، رویے میں ہجرت ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ فتح مکہ کے بعد بھی، مہاجرین کی ہجرت کا اختتام نہیں ہوا ، بلکہ یہ مہاجرت جاری ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ نبی خاتم ﷺ کی سر گزشتِ حیات ، ایک پہلو سے آدم ؑ کے گم گشتہ عزم کی بازیافت سے عبارت ہے۔ وہی عزم ، جس کی شکستگی کے سبب آدم ؑ اپنے عہد سے غافل ہو گئے تھے۔ یوں نبی خاتم ﷺ کی قیادت میں اولادِ آدم ؑ میں سے مخلصین کے ایک گروہ نے ابلیس کی شیطانیت کے مقابل، خدا سے کیے گئے عہد کی پاسداری میں مصمم عزم کا اظہار کر کے اس فتح کا علامتی اظہار کر دیا ہے جو نوعِ انسانی کے مخلصین کا حتمی مقدر ہے ۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ صحابہ کرام نے آپ کے وصال کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہجرت مدینہ سے کیا، حالانکہ بعثت نبوی، غزوہ بدر، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ وغیرہ جیسے اہم واقعات بھی موجود تھے جن سے اسلامی سنہ کا آغاز کیا جا سکتا تھا۔ صحابہ کے مابین اس ضمن میں بحث مباحثہ بھی ہوا، لیکن باہمی اتفاق سے ہجرت مدینہ کو ہی اسلامی کیلنڈر کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔ معنوی لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کے خاتمے تک سن ہجری بھی جاری ہے اور اس واقعے میں مضمر حکمت بھی تسلسل کی حامل ہے۔ لہٰذا جب تک انسان اس زمین پر موجود ہے، نبی خاتم ﷺ کی مہاجرت اسے پورے عزم کے ساتھ ابلیسی تکبر کے ساتھ نبرد آزماہونے کی دعوت دیتی رہے گی۔ 

حواشی 

(۱) فترۃ الوحی کے دوران میں آپ ﷺ انتہائی صبر آزما کیفیات سے گزر رہے تھے ۔ بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ اس قدر رنجیدہ خاطر ہوتے کہ کئی بار خود کو گرانے کے ارادے سے پہاڑ پر چڑھتے۔ اس وقت جبریل ؑ ظاہر ہوتے اور فرماتے : ’’ محمد ! بلاشبہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘‘ ۔ یہ الفاظ سن کر آپ ﷺ کا اضطراب رفع ہو جاتا اور دل مطمئن ہو جاتا ۔ 
ہمیں ایسی روایات کو قبول کرنے میں تامل ہے، کیونکہ خود کو پہاڑ سے گرانے کے ارادے کی بات عزم کی اس ’’ کاملیت ‘‘ سے لگا نہیں کھاتی جو غارِ حرا میں نفسی ہجرت کے بعد آپ ﷺ کو عطا کی گئی تھی۔ آپ ﷺ فترۃ الوحی کے زمانے میں یقیناًبے قراری کی کیفیات سے گزرے اور اسی سے آپ ﷺ کا عزم کامل ہوا اور آپ ﷺ سے عہد لیا گیا ، لیکن اس دوران بے قراری سے مغلوب ہو کر آپ ﷺ کبھی بھی خود کو گرانے کے ارادے سے پہاڑ پر نہیں چڑھے ۔ بالفرض ایسی روایات کو قابل اعتنا سمجھا جائے تو یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ فترۃ الوحی کے زمانے تک اللہ رب العزت نے آپ ﷺ سے کوئی ’’ عہد ‘‘ نہیں لیا تھا۔ شاید وحی کا انقطاع ( آپ ﷺ سے عہد لینے کے پیشِ نظر ) آپ ﷺ کے عزم کی کاملیت کی خاطر ہی کیا گیا۔ چنانچہ عہد لیے جانے سے قبل آپ ﷺ کے عزم کا مضمحل ہونا ، کسی قسم کی عہد شکنی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ اس کے برعکس آدمؑ ، شجرِ ممنوعہ کے قریب نہ جانے کا عہد کر کے ، بے عزم ہوئے اور بھولے تھے۔ فترۃ الوحی سے قبل اور بعد کی آیات پر اس حوالے سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
(۲) حضرت زبیر بن العوامؓ ، سابقون میں سے تھے اور غالباً پانچویں مسلمان تھے۔ اپنے چچا کے مظالم کا شکار ہوئے ۔ حضرت سعید بن زیدؓ کو ان کے چچازاد بھائی حضرت عمر نے، جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے، مشکیں باندھ کر خوب پیٹا ۔ حضرت عثمانؓ بھی تختہ مشق بنے۔ حضرت بلال حبشیؓ کی زبان سے جس کیفیت میں ’’ احد ، احد ‘‘ کا کلمہ حق جاری ہوا ، تاریخ کا ہر طالب علم اس سے آگاہ ہے۔ اسی طرح حضرت خبابؓ ، حضرت عمارؓ ، حضرت یاسرؓ ، حضرت صہیبؓ ، حضرت ابو فکیعہؓ ، حضرت لبینہؓ ، حضرت زنیرہؓ ، حضرت نہدیہؓ ، حضرت امِ عبیسؓ کی عزیمت کی داستانِ خونچکاں بھی تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق بھی، جنھیں قریش میں اعلیٰ مرتبہ و مقام حاصل تھا ، کفار کے جور و ستم کا نشانہ بنے ۔ 
( ۳) پروفیسر محمد اکرم ورک نے ’’ صحابہ کرامؓ کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ ‘‘ کے صفحہ ۸۴ پر اس روایت کو البداےۃ ۳/۲۹،۳۰ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ 
(۴) آبا پرستی اور اکابر پرستی ایسا مرض ہے جو نوعِ انسانی کے ہاں ہر دور اور ہر علاقے میں موجود رہا ہے اور حق بات کی قبولیت میں بنیادی رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ قرآن مجید نے اسی لیے مختلف مقامات پر اس پر سخت گرفت کی ہے ۔ (البقرہ۲/ ۱۷۰، المائدہ ۵/۱۰۴، الاعراف۷/ ۲۸، یونس۱۰/ ۷۸، الانبیاء۲۱/ ۵۲۔۵۴، لقمان۳۱/ ۲۱، الزخرف۴۳/۲۲۔۲۴ ، سبا۳۴/۴۳) قابلِ غور بات یہ ہے کہ قصہ آدم و ابلیس میں اللہ رب العزت کے اس استفسار پر کہ ابلیس کو کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا، ابلیس کا جواب اپنے اندر ہمارے لیے ایک پیغام رکھتا ہے۔ ابلیس نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم ؑ کو مٹی سے ۔ ( قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ۔ قَالَ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ / قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا لَکَ أَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ أَکُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ) ذرا غور کیجئے کہ ابلیس ، اللہ رب العزت کو خالق تسلیم کر رہا ہے اور ام کنت من العالین کے جواب میں یہی کہتا ہے کہ میں آدم ؑ سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے سڑی ہوئی مٹی سے۔ پھر ابلیس کو دوبارہ اٹھائے جانے کا بھی یقین ہے قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ اسی آیت میں وہ اللہ رب العزت کو ’’ اے میرے رب ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور پھر قسم بھی اللہ کی عزت کی کھاتا ہے: قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِیْنَ إِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کو مردود ( رجیم ) قرار دینے ، روزِ جزا تک اس پر لعنت بھیجنے (وَإِنَّ عَلَیْْکَ لَعْنَتِیْ إِلَی یَوْمِ الدِّیْنِ) اور جہنم کو اس سے اور اس کے پیروکاروں سے بھرنے کے پیچھے (َأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنکَ وَمِمَّن تَبِعَکَ مِنْہُمْ أَجْمَعِیْنَ ) آخر کون سی غلطی کارفرما ہے؟ قرآن کے مطابق اس کی غلطی، خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنا اور سجدہ نہ کرنے کا یہ جواز بیان کرنا ہے کہ میں آگ سے پیدا کیے جانے کی بنا پر آدم ؑ سے بہتر ہوں۔ قرآن ، نافرمانی اور برتری کے ابلیسی منہج کو تکبر پر محمول کرتے ہوئے اسے کفر گردانتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا فہم، ایسے آبا پرست اور نسل پرست لوگوں کے لیے سخت انتباہ ہے جو ابلیس کی مانند اگرچہ اللہ رب العزت کو خالق تسلیم کرتے ہیں، دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین رکھتے ہیں لیکن ابلیس کے تتبع میں اپنی پیدائشی حیثیت کو دوسروں پر برتری کی سند سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ ۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ پہلی وحی کے نزول کے بعد جب نبی خاتم ﷺ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓ کو نزولِ وحی کا سارا ماجرا سنایا تو حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آپ ﷺ کی جس پہلی صفت کا ذکر کیا، وہ صلہ رحمی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نسل پرستی کی تہذیب کر کے صلہ رحمی کو انتہائی پسندیدہ عمل قرار دیتا ہے۔ جہاں تک تفوق و برتری کا تعلق ہے، قرآن کے نزدیک اس کا مدار پیدایشی حیثیت کے بجائے شخصی خصوصیات پر ہے ۔ ملاحظہ کیجئے الزخرف۴۳/ ۳۲ ، الاحقاف۴۶/ ۱۹ ، آل عمران۳/ ۱۶۲۔۱۶۳ ، الانعام۶/ ۱۳۲ و۶/ ۱۶۵ ، الحدید۵۷/ ۱۰ ، النحل۱۶/۷۶ ، المومن۴۰/ ۵۸ ، القلم۶۸/ ۳۵، الحشر۵۹/ ۲۰، الزمر۳۹/ ۰۹، ہود۱۱/ ۲۴۔ 
(۵) یقیناًنبی خاتم ﷺ کے ذہنِ مبارک میں ورقہ بن نوفل کے یہ الفاظ بھی ہوں گے جو اس نے کعبہ کے نزدیک ملاقات کے موقع پر آپ ﷺ سے کہے تھے :
’’ خدا کی قسم ! آپ ﷺ اس امت کے پیغمبر ہیں اور جو ناموس موسیٰ پر نازل ہوا تھا، وہی آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے ۔ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کریں گے ، اذیتیں پہنچائیں گے، اپنے شہر سے جلاوطن کر دیں گے ، اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی لڑائیاں ہوں گی۔ اگر میں اس وقت تک بقیدِ حیات رہا تو حق کی حمایت کروں گا ۔‘‘
(۶) اس سلسلے میں یہ واقعہ بھی اہم ہے : ’’ ابنِ اسحاق کہتے ہیں، مجھ سے بعض اہلِ علم نے بیان کیا کہ حضرت حلیمہؓ جب دودھ چھڑانے کے بعد آپ ﷺ کو واپس لائیں تو اس کا سبب یہ تھا کہ حبشہ کے چند نصاریٰ نے حضور ﷺ کو حلیمہؓ کے پاس دیکھ کر کہا کہ اس لڑکے کو ہم اپنے شہر لے جاتے ہیں، کیونکہ یہ لڑکا صاحبِ ظہور معلوم ہوتا ہے ۔ پس اس شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ اسی اندیشے سے حضرت حلیمہؓ حضور ﷺ کو آپ کی والدہ کے پاس پہنچا گئیں ‘‘۔ (سیرت النبی ﷺ /ابنِ ہشام )
(۷) ا ن نصاریٰ کے بارے میں ابنِ اسحاق یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے مطابق ان کا تعلق قصبہ نجران سے تھا ۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآنی آیات ( القصص۲۸: ۵۲ تا ۵۵ ) انہی لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ابنِ شہاب زہری سے ان آیات کی نسبت سوال کیا کہ یہ کن لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں تو انھوں نے کہا ، ہم اپنے استادوں سے سنتے چلے آئے ہیں کہ یہ آیات نجاشی شاہ حبش اور اس کے لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں اور سورۃ ( مائدہ ۵:۸۳) بھی انہی کی شان میں نازل ہوئی ۔
(۸) نبی کریم ﷺ کا حضرت عائشہ کے ساتھ عقد مکی دور میں ہو گیا تھالیکن رخصتی بعد میں ہوئی ۔ اسی دور میں آپ ﷺ نے حضرت سودہؓ سے نکاح کر لیا تھا جو ایک مسلمان کی بیوہ تھیں ۔ ان کے شوہر حبشہ سے واپسی پر مکے میں انتقال کر گئے تھے ۔ تقریباً انہی ایام میں واقعہ معراج ہوا۔ سیرت ابنِ ہشام کے مطابق واقعہ معراج کے متعلق شکوک میں مبتلا ہو کر بعض نو مسلم مرتد ہو گئے تھے۔ حضرت امِ حبیبہ کے ساتھ آپ کا نکاح غالباً واقعہ معراج کے بعد مدنی دور میں ہوا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ معراج اور آپ ﷺ کے وصال کے کے درمیانی عرصے میں آپ ﷺ کا عقد حضرت امِ حبیبہؓ سے ہوا ۔ اس لیے اگر تاریخی شواہد میسر آ سکیں تو تقابلی انداز میں معلوم ہو سکتا ہے کہ واقعہ معراج کے بعد کے مرتدین کی بیویوں کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل کیا تھا۔ (کیونکہ ابھی آپ ﷺ نے حضرت امِ حبیبہؓ سے عقد نہیں کیا تھا ) اور پھر آپ ﷺ کے وصال کے بعد مرتدین کی بیویوں سے اصحابؓ نے کیا رویہ اختیار کیا۔ ( ظاہر ہے کہ اس وقت آپ ﷺ کا عقد ہو چکا تھا ) اس حوالے سے اسلامی تاریخ کے تنقیدی مطالعے کی ضرورت ہے۔ بعض شواہد کے مطابق مدنی دور میں بھی بہت سے لوگ مرتد ہو گئے تھے ۔ ایسے لوگ مدینے کی آب و ہوا کے ہاتھوں بیماری کا شکار ہوئے اور صبر نہ کرنے کے باعث اسلام سے منحرف ہو گئے ۔ انھی کے متعلق رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے:
انما المدینۃ کالکیر تنفی خبثھا و تصنع طیبھا ( بخاری و مسلم )
’’مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے جو گندگی کو نکال دیتا ہے اور پاکیزگی کو صیقل کر دیتا ہے۔‘‘
سورۃ الممتحنۃ کی آیت ۱۰ سے مذکورہ موضوع پر کام کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے ۔ 
(۹) سیرت النبی ﷺ / ابنِ ہشام کے مطابق نجاشی نے ایک کاغذ پر لکھا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندہ اور رسول ہیں اور عیسیٰ بن مریم ؑ اس کے بندہ اور رسول ہیں اور اس کی روح اور اس کے کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا۔ پھر اس کاغذ کو نجاشی نے اپنے کرتے کے اندر دائیں شانہ کے پاس رکھ لیا اور حبشیوں کے مقابلے میں جنگ کی صفیں آراستہ کیں ۔ پھر ان سے مخاطب ہو کر کہا ، اے گروہِ حبشہ ! کیا میں تم میں سلطنت کا زیادہ حق دار نہیں ہوں ؟ سب نے کہا ، بے شک ہو ۔ نجاشی نے کہا تم نے میری سیرت اور عادات کیسی دیکھیں ؟ سب نے کہا ، بہت اچھی ۔ نجاشی گویا ہوا ، پھر کیا وجہ ہوئی کہ تم مجھ سے یکدم بغاوت پر آمادہ ہوگئے ہو ؟ سب نے کہا ، چونکہ تم نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا اور تم کہتے ہو کہ عیسیؑ بندے تھے ، اسی لیے ہم تمھارے مخالف ہیں ۔ نجاشی نے کہا ، پھر تم عیسی ؑ کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ حبشیوں نے کہا ، ہم ان کو خدا کا فرزند کہتے ہیں ۔ نجاشی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ عیسیٰ نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا ، میں اس پر گواہی دیتا ہوں ۔ نجاشی نے تو اپنے دل میں اس کاغذ کی طرف اشارہ کیا تھا جو اس نے لکھ کر کرتے کے اندر رکھا ہوا تھا، جبکہ حبشیوں نے یہ سمجھا کہ اس نے ہمارے قول کی تصدیق کی ہے ۔ سب خوش ہو گئے اور ان کی مخالفت ختم ہو گئی ۔ راوی کہتا ہے کہ پھر یہ خبر حضور ﷺ کو بھی پہنچی ۔ اس کے بعدجب نجاشی شاہ حبش کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی ( غائبانہ ) نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔
(۱۰) ابنِ اسحاق کہتے ہیں ، حضرت عمرؓ کے گھر والوں میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ فرماتے تھے ، جب میں اسلام لایا تو اسی رات کو میں نے خیال کیا کہ قریش میں سے جو شخص رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ عداوت رکھتا ہو، جا کر پہلے اس کو اپنے اسلام لانے کی خبر بتاؤں۔ میں نے دل میں کہا کہ ابوجہل سے بڑھ کر کوئی شخص حضور ﷺ کا دشمن نہیں ہے ۔ چنانچہ صبح ہوتے ہی میں ابوجہل کے گھر گیا (ابوجہل ، حضرت عمرؓ کا سگا ماموں تھا) اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ابوجہل نے آکر دوازہ کھولا ، اور مجھے دیکھ کر کہا ، آؤ میرے بھانجے آؤ، خوب آئے ، کیونکر آئے؟ میں نے کہا ، میں اس واسطے آیا ہوں کہ تم کو بھی اپنے اسلام لانے کی خبر کردوں ۔ میں خدا اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور ان کی تصدیق کی ہے ۔ میرے یہ کہتے ہی ابوجہل نے دروازہ بند کر لیا اور کہا، خدا تجھ کو خراب کرے اور اس خبر کو بھی جو تو لے کر آیا ہے۔ ( سیرت النبی ﷺ / ابنِ ہشام ) 
اس سلسلے میں یہ بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ایک افواہ پھیلی کہ قریش نے نبی مکرم ﷺ اور ان کے اصحابؓ کی دل آزاری ترک کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں حبشہ سے مہاجرین واپس آنا شروع ہو گئے۔ واپسی پر انھیں معلوم ہوا کہ حالات اتنے اچھے نہیں ہیں تو کچھ واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ میں ہی رہنے لگے۔ اس افواہ کو عام طور پر ’’داستانِ غرانیق‘‘ سے منسلک کیا جاتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مستشرقین کے علاوہ بعض مسلم مصنفین نے بھی داستانِ غرانیق کو درست تسلیم کیا ہے، حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ جہاں تک حبشہ کے ان مہاجرین کا تعلق ہے جو حالات کی بہتری کا سن کر مکہ واپس آ گئے تو اس کے اسباب حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام میں تلاش کیے جانے چاہییں، کیونکہ ان کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو یکدم تقویت ملی اور کفار کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ فاروقِ اعظمؓ کے قبولِ اسلام سے کفار جس جذباتی و نفسیاتی دھچکے کا شکار ہوئے، اس سے نکلنے میں انھیں کچھ وقت لگا۔ اسی عرصے میں ان کے مظالم میں کمی واقع ہوئی ہوگی اور اس سے غلط طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہوگا کہ آپ ﷺ کاقریش کے ساتھ کوئی ’’ سمجھوتہ ‘‘ ہو گیا ہے ۔ 
(۱۱) عرب کلچر میں ’’ پناہ ‘‘ دینے کا عام رواج تھا ۔ دشمن بھی پناہ مانگتا تو وہ اس سے انکار نہیں کرتے تھے ۔ اس لیے پورے مکی دور میں ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں مشرکوں نے نو مسلموں کو پناہ دی ۔ حتیٰ کہ خود نبی پاک ﷺ بھی سفرِ طائف کے بعد ، معاشرتی مقاطعہ کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے مطعم بن عدی کی پناہ میں رہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ ایسا کلچر جس میں پناہ دینے جیسی روایات موجود ہوں اور لوگ ان پر سختی سے کاربند بھی ہوں ، وہاں معاشرتی مقاطعہ کیا ایک انتہائی اقدام نہیں تھا ؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ مکی سوسائٹی اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ اور داخلی لحاظ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی ۔ 
(۱۲) اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ حبشہ سے جو مہاجرین واپس مکہ آئے ، ان میں سے ابوسلمہ بن عبدالاسد نے اپنے ماموں حضرت ابوطالب کی پناہ لی۔ بنی مخزوم کے کچھ لوگ حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم نے اپنے بھتیجے محمد ﷺ کو تو خیر سے پناہ دے ہی رکھی ہے، مگر ہمارے بھائی ابوسلمہ کو تم نے پناہ کیوں دی ہے ؟ حضرت ابوطالب نے کہا ، وہ میرا بھانجا ہے ۔ اگر بھتیجے کو پناہ نہ دیتا تو بھانجے کو بھی پناہ نہ دیتا۔ اس پر ابولہب نے ان مخزومیوں سے کہا کہ تم ہمیشہ ہمارے بزرگ ابوطالب کو ستاتے ہو اور طرح طرح کی باتیں کہتے ہو ، اگر تم لوگ باز نہ آئے تو یاد رکھو، میں بھی ہر ایک کام میں ان کے ساتھ شریک ہوجاؤں گا۔ ابولہب کے یہ کہنے سے وہ لوگ متنبہ ہوئے اور کہنے لگے ہم کچھ نہیں کہتے، ہم جاتے ہیں ۔ اس کے بعد حضرت ابوطالب نے چند شعر کہے ، جن میں ابولہب کی تعریف کی ہے اور اسے حضور ﷺ کی امداد پر آمادہ ہونے کو کہا ہے۔ ( سیرت النبی ﷺ / ابنِ ہشام ) 
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرتِ حبشہ سے ابولہب بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور وہ معاشرتی مقاطعہ سے قبل ، کم ازکم قبائلی عصبیت کی بنا پر اپنے قبیلے کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار ہو سکتا تھا،لیکن معاشرتی مقاطعہ میں اپنے قبیلے کے مقابل کھڑے ہو کر اس نے آپ ﷺ کے ساتھ بالواسطہ تعلق و حمایت کی راہ بھی مسدود کر دی ۔
(۱۳) عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہجرت کرنے والے مسلمان مکی سماج کے بے حیثیت لوگ تھے، اسی لیے انھیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ ہمیں اس سے اختلاف ہے کیونکہ جو مسلمان سب سے زیادہ پسے ہوئے تھے، مثلاً حضرت یاسرؓ ، حضرت بلالؓ اور حضرت عمارؓ وغیرہ، انھوں نے ہجرت نہیں کی ۔ اس کی وجہ ان کی بے سروسامانی بھی ہوسکتی ہے لیکن ہماری نظر میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اصحابؓ کے ہجرت کرنے سے مکی سماج میں بھونچال نہیں آسکتا تھا، کیونکہ اس وقت کے مخصوص مکی کلچر میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس کے برعکس صاحبِ حیثیت افراد کی ہجرت سے ایک تو مکی سماج کو زبردست دھچکا لگا ، دوسرا خود یہ اصحابؓ بھی ہجرت کی سنگلاخ راہوں سے گزر کر کندن بن گئے۔ حقیقت میں کفارِ مکہ کی دست درازیاں جب صاحبِ حیثیت لوگوں تک پہنچیں تو آپ ﷺ نے ان اصحابؓ کے شخصی عزم کو شکستگی سے بچانے اور گروہی عزم میں پختگی لانے کی خاطر ہجرت کا حکم دیا۔ وہ اصحابؓ جو سماجی اعتبار سے بے حیثیت ہونے کے باوجود کفار کے مظالم کے خلاف ڈٹے ہوئے تھے ، وہ تو ہجرت کے بغیر ہی شخصی عزم کی دولت سے مالامال تھے ۔
(۱۴) یہاں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ صدیقِ اکبرؓ نے ہجرت کی بھی اور نہیں بھی کی ۔ اس طرح وہ مہاجرین اور غیر مہاجرین، دونوں گروہوں میں بیک وقت شامل کیے جا سکتے ہیں ۔ 
(۱۵) پروفیسر محمد اکرم ورک کی تحقیقی کاوش ’’ صحابہ کرامؓ کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ ‘‘ یقیناًایک قابلِ تحسین کام ہے اور اس میں حضرت مصعبؓ کی دعوتی مساعی کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، لیکن جو پہلو اس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے، اس حوالے سے اس میں تفصیلی تجزیہ مفقود ہے ۔
(۱۶) پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی نے ’’عہدِ رسالت ﷺ میں مواخاۃ کا ادارہ‘‘ کے زیرِ عنوان اپنے مقالے میں اس کا ذکر کیا ہے ۔ ان کے مطابق درج ذیل اصحابؓ کے مابین مواخات کرائی گئی تھی : 
حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب اور رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثؓ ۔
حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بن الخطاب ۔
حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ۔
حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود۔ 
حضرت عبیدہ بن حارثؓ اور حضرت بلال بن رباحؓ۔
حضرت مصعب بن عمیر ؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص۔ؓ 
حضرت عبیدہ بن جراحؓ اور حضرت سالم مولی ابی حذیفہؓ ۔
حضرت سعید بن زیدؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ ۔
اس موقع پر حضرت علیؓ نے نبی خاتم ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ نے ان سب کے درمیان تو مواخات کرا دی ہے ، میرا بھائی کون ہو گا؟ میں تو اکیلا رہ گیا ہوں ۔ چونکہ حضرت علیؓ ، سرکارِ دوعالم ﷺ کے ساتھ رہتے تھے ، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھارا بھائی ہوں۔( ملاحظہ کیجئے، شش ماہی السیرۃ عالمی، / شمارہ ۶ / نومبر ۲۰۰۱) 
(۱۷) اسلام کے تصورِ ہجرت کے ایک عجیب و غریب اطلاق کی مثال ہمیں بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ملتی ہے ۔ برِ صغیر میں تحریکِ خلافت کے دوران میں بعض علما نے ایک فتویٰ جاری کیا جس کے مطابق مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ ہندوستان سے ہجرت کر جائیں ۔ چنانچہ بیس ہزار کے لگ بھگ مسلمان، جن میں زیادہ تر سندھ اور پنجاب جیسے زرعی علاقوں سے سے تھے، اپنی جائیدادوں کو اونے پونے بیچ کر افغانستان کی طرف روانہ ہوئے ۔ یہ فتوی ہر پہلو سے اسلامی تصورِ ہجرت سے مغایرتalienation کا حامل تھا، اس لیے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ تھا ۔ نہ تو ہجرت سے قبل افغانستان میں ’’مستقر و متاع‘‘ کا انتظام کیا گیا تھا اور نہ ہی سندھ اور پنجاب کے مسلمانوں کی پیشہ وارانہ صلاحیت ( زراعت سے وابستگی ) کو ملحوظِ خاطر رکھا گیاتھا ۔ اس لیے اس نام نہاد تحریکِ ہجرت کے انتہائی مضر اثرات برآمد ہوئے اور نامساعد حالات کا شکار مسلمان ، جانی و مالی نقصان اٹھا کر مزید مشکلات میں گھِر گئے ۔ 
(۱۸) مرد تو ایک طرف رہے ، بدر میں شکست کے بعد قریش کی عورتیں بھی منتقم المزاج ہو چکی تھیں۔ حضرت عمیرؓ کی مشرک ماں حناس ، صفوان بن امیہ کی بیوی برزہ ، عمرو بن عاص کی بیوی ریطہ ، ابوسفیان کی بیوی ہند، خالد بن ولید کی بہن اور ابوجہل کے بھائی حارث بن ہشام کی بیوی فاطمہ ، ابوجہل کی بھتیجی اور عکرمہ بن ابوجہل کی بیوی امِ حکیم بنت حارث وغیرہ احد کے میدان میں لشکر کفار کے ساتھ آئی تھیں ۔ 
(۱۹) اس کے برعکس برِ صغیر کے مسلم دورِ حکومت میں ہمیں کبھی فاتح و مفتوح کا تصور ملتا ہے اور کبھی اسلام کی اساسی اقدار پر سمجھوتے کے روح فرسا مناظر سے سامنا ہوتا ہے ۔ پہلے رویے کی مثال اورنگ زیب کا دور ہے جبکہ دوسرا رویہ اکبر کے دور میں سامنے آیا۔
(۲۰) میثاقِ مدینہ کا حوالہ دے کر عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست ہجرتِ مدینہ کے بعد قائم ہو چکی تھی۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے ، کیونکہ اس سے یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ہجرتِ مدینہ کے وقت تک اسلامی معاشرہ تشکیل پا چکا تھا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک اگرچہ مسلم گروہی عزم پختہ ہو چکا تھا اور مختلف حوالوں سے اپنا اظہار بھی کر رہا تھا لیکن ہجرتِ مدینہ کے وقت تک اسلامی معاشرہ بہرحال قائم نہیں ہوا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہجرتِ مدینہ کے بعد، ریاست اور معاشرہ ، بیک وقت اور متوازی انداز میں ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے تکمیل آشنا ہوئے۔ اس لیے یہ بات طے کرنا خاصا مشکل ہو گا کہ ہجرتِ مدینہ کے بعد معاشرتی حدود کہاں ختم اور ریاستی حدود کہاں شروع ہوئیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ باہم شیر و شکر ہیں ، اس لیے ہم یہ کہنے میں شاید حق بجانب ہیں کہ آپ ﷺکے وصال تک ( یا کم از کم فتح مکہ تک ) اسلامی معاشرے اور ریاست کا ارتقا مسلسل جاری رہا اور ان کے خط و خال آہستہ آہستہ واضح ہوتے گئے۔ 
خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی معاشرے اور ریاست کی یکجائی قائم رہی۔ اس لیے جو لوگ فاروقِ اعظمؓ کے دور کی فتوحات کو ریاستی توسیع کے طور پر لیتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں ۔ یہ فتوحات درحقیقت ، بیک وقت ریاستی و سماجی توسیع سے عبارت ہیں۔مثلاً عہدِ فاروقی میں فلسطین کی فتح کو اگرچہ ریاستی توسیع میں شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن حضرت عمرؓ جس ’’ شان و شوکت ‘‘ سے وہاں تشریف لے گئے، اسے سماجی توسیع کے علاوہ آخر اور کیا نام دیا جائے گا؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے اگر مصر کو فتح کرکے ریاست کو وسیع کیا تھا تو فاروقِ اعظمؓ نے ان کی رپورٹ کے انداز پر شدید برہمی کا اظہار کر کے سماجی توسیع کی نیو رکھی اور جلد ہی ان کا ایلچی عمرو بن عاصؓ کی نصف جائیداد ضبط کرنے کے احکامات لے کر مصر پہنچ گیا۔ عمرو بن عاصؓ نے ’’ خراب زمانے ‘‘ کا شکوہ کیا کہ ایک معزز شخص سے یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو خلیفہ کے ایلچی نے ریاستی توسیع کے متوازی سماجی توسیع کی علامت بن کر کہا :
’’ اگر یہ دور نہ ہوتا جس سے تمھیں اتنی نفرت ہے تو تم اپنے گھر کے آنگن میں اپنی بکری کے پاؤں کے پاس اکڑوں بیٹھے ہوتے ، اگر اس کا دودھ زیادہ ہوتا تو تم خوش ہوتے اور اگر قلیل ہوتا تو تمھیں فکر مندی دبوچ لیتی ۔‘‘
فاتح مصر عمرو بن عاصؓ کو آخر ایک موقع پر کہنا پڑا کہ میری مثال تو اس شخص کی سی ہے جو گائے کے سینگ پکڑے کھڑا ہو ، مگر اس کے دودھ سے کوئی اور ہی مستفید ہو رہا ہو، کیونکہ ان کے ہاتھوں میں مالیات کا کنٹرول نہیں تھا۔ فاروقِ اعظمؓ کا ایلچی ایک خط لے کر فاتح عراق ، سعدؓ کے پاس بھی پہنچا، جس میں لکھا تھا :
’’ میں نے سنا ہے کہ تم نے ایک شاندار محل تعمیر کر لیا ہے اور اس میں لوگوں کے اور اپنے درمیان دروازہ بنا لیا ہے ۔اس میں سے نکل آؤ اور آئندہ کبھی دروازہ لگا کر لوگوں کو نہ روکنا، نہ ان کے حقوق پامال کرنا ۔ دروازہ لگانے سے تمھارا مقصد یہ ہے کہ لوگ تم سے ملنے کے لیے اس وقت کا انتظار کریں جب تک کہ تم ان سے ملنے کے لیے تیار نہ ہو جاؤ ۔‘‘
مذکورہ اقتباسات کی روشنی میں ذرا غور کر کے بتائیے کہ عہدِ فاروقی کی فتوحات کیا محض ’’ریاستی توسیع‘‘ کے زمرے میں شامل کی جا سکتی ہیں یا ان کے متوازی’’ سماجی توسیع‘‘ بھی جھلملا رہی ہے ؟ ہاں، یہ ضرور تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد ریاست اور معاشرہ دو الگ الگ دھاروں میں بٹتے چلے گئے اور ہم مسلمان آج تک انھی کے درمیان ربط و تعلق قائم کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ایک ’’ امیر المومنین ‘‘ نے اپنی اسلامیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے سائیکل پر سواری کو رواج دینے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ایک عدد ’’ قصرِ صدارت ‘‘ کی بنیاد بھی رکھ دی ، جس کی غلام گردشوں سے گزرنا ، ظاہر ہے ، کسی عام بندے کے حقوق میں شامل نہیں تھا ۔ 
(۲۱) بیسویں صدی میں یہودیوں نے بھی فلسطین میں Demographic Balance کو اپنے حق میں کرنے کے لیے دنیا بھر کے یہودیوں کو اس خطے میں آباد کرنا شروع کیا جس سے ان کی عددی اقلیت ، اکثریت میں بدلتی چلی گئی ۔ اس آباد کاری کی کامیابی کے پیچھے ان کے مواخاتی رویے کو بہت عمل دخل حاصل ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے خلاف چیختی چلاتی مسلم دنیا کو اپنے رویے پر نظر ثانی کر کے اس گم گشتہ مواخات کو تلاش کرنا چاہیے جو اسلامی معاشرے اور ریاست کی اساس ہے۔ اسلامی نظامِ اقدارصرف ’’ مسلمین ‘‘ کے لیے نہیں ہے۔ اسلام کا خدا رب العالمین ہے ، اسلام کا نبی رحمت للعالمین ﷺ ہے اور اسلام کی اساسی کتاب ، قرآن بھی عالمین کے لیے ہے : إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْن ( ص ۳۸/ ۸۷) ’’ نہیں ہے یہ قرآن مگر ایک یاد دہانی تمام جہان والوں کے لیے ‘‘ ۔


تصحیح 

الشریعہ کے اپریل ۲۰۰۶ء کے شمارے میں میاں انعام الرحمن صاحب کے مقالہ ’’سیرت نبوی اور ہجرت: ایک معنویاتی مطالعہ‘‘ میں ’’اے اللہ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، اور امیہ بن خلف کو اپنی رحمتوں سے دور کر دے‘‘ کے الفاظ میں ایک دعا غلطی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو گئی ہے۔ (ص ۳۴ ، سطر ۴) یہ الفاظ حقیقت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں۔ ادارہ اس فروگزاشت پر معذرت خواہ ہے۔ (مدیر)

قرآنی علمیات، یہودیوں کا کتمانِ حق اور مسئلہ ذبیح

اسلم میر

جناب پروفیسر میاں انعام الرحمن میرے چند پسندیدہ لکھنے والوں میں سے ہیں۔ میں ان کی فکر انگیز تحریروں کا بے تابی سے انتظار کرتاہوں، اگر چہ بعض اوقات ان کی تحریر کی تیزی وتندی کھلتی ہے۔ ان کے بعض استدلالات سے اختلاف کے باوجود میں ان کامداح ہوں۔ ایسی ہی ایک فکر انگیز تحریر ’’قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ‘‘ کے زیر عنوان الشریعہ کے جنوری ۲۰۰۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے بعض مندرجات سے اتفاق نہ ہونے کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ انعام الرحمن صاحب نے اس میں بعض بہت ہی لطیف نکات اور سوالات اٹھائے ہیں ۔
میں یہاں اس تحریر کے پہلے حصے سے جو ’’قرآنی علمیات ‘‘سے متعلق ہے، تعرض نہیں کروں گا ۔اس حصے میں انعام صاحب نے سورۃ بقرۃ کے بعض اجزا کی جو تشریح کی ہے، وہ میرے خیال میں سورۃ بقرۃ کے مجموعی نظم اور سیاق وسباق سے لگاّنہیں کھاتی، تاہم اس کو چھیڑنے سے بحث اپنے موضوع سے ہٹ جائے گی۔ ان سطور میں، میں انعام صاحب کے مضمون کے صرف دوسرے حصے یعنی ’ذبیح کون ہے؟‘ کو موضوع بحث بنا ؤں گا ۔
(۱) انعام صاحب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’ذبیح کون ہے؟‘ کی بحث کابنیادی محرک کیاہے؟کیا اس سے قرآن کے کسی حکم کافہم مطلوب ہے؟کیایہ بحث کیے بغیر قر آنی منشا مستور رہتی ہے؟ 
میرے خیال میں ذبیح اور اسی ضمن میں مروہ اور موریا ،بیت اللہ اور بیت ایل کی بحث قرآن کی بعض آیات اور خاص طور پر سورہ بقرۃ کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنے کے لیے نہ صرف مفید بلکہ ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں امام فراہی ؒ کی تحقیق ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔سورۃ بقرۃ اور قرآن کی بعض دیگر آیات کی تفہیم کے لیے یہود کی تحریفات اور کتمان حق کاپردہ چاک کرنا ضروری ہے ۔اگر ان تحریفات اور کتمان حق کاپس منظر قرآن کے قاری کے ذہن میں نہ ہو تو وہ نہیں سمجھ سکتا کہ اللہ جل شانہ یہود پر حق کو مسخ کرنے اور چھپانے کا الزام بار بار کیوں عائد کرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان کے حاسدانہ رویے پر ان کواتنی سختی سے کیوں مخاطب کرتے ہیں۔ کم از کم میرا ذا تی تجربہ تو یہی رہاہے ۔ میں تقریباً گزشتہ ڈھائی سال سے سورۃ بقرۃ کا انتہائی غور سے مطالعہ کررہاہوں ۔جب تک میں نے یہود کی تحریفات اور کتمانِ حق کی اصل حقیقت اور پس منظر کو نہیں سمجھ لیاتھا، مجھے سورۃ بقرۃ کی بہت سی آیات کو سمجھنے میں سخت مشکل پیش آرہی تھی۔
قرآن مجید یہود کے کتمانِ حق اور کتمانِ شہادت کاذکر بار بار کرتاہے (سورۃ بقرۃ ۴۲، ۷۵، ۱۴۰، ۱۴۶، ۱۷۶، ۱۵۹۔ المائدہ۱۳۰، ۱۵) اور انھیں ’البینات والھدیٰ‘ (البقرۃ ۱۵۹) کو چھپانے کامجرم ٹھہراتاہے۔ قرآن مجید اس کتمان کی تفصیل بیان نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ ان کے اس کتمان کاتعلق ان کی کتابوں میں موجود واضح حقائق ہی سے ہے۔(البقرۃ ۱۴۰، ۱۵۹) 
ذیل میں، میں سورۃ بقرۃ میںیہود کے کتمانِ حق کے حوالے سے موجود اشارات کا تجزیہ کروں گا۔
البقرۃ آیت ۱۲۴ میں حضرت ابراہیم ؑ کی ابتلاؤں او رآزمائشوں کاذکر ہے۔ ان آزمائشوں میں سے کھلی اور واضح آزمائش (البلاء المبین) بیٹے کی قربانی تھی۔ (الصافات،۱۰۶) اللہ تعالیٰ نے ان آزمائشوں کے اختتام پر حضرت ابراہیمؑ کو ’اماما للناس‘ بنا نے کی خوشخبری دی۔ (البقرۃ، ۱۲۴) حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد میں بھی یہ امامت جاری رکھنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ میرے اس عہد میں ظالمین شامل نہیں ہو سکتے۔ (البقرۃ ۱۲۴) یعنی آپ کی اولاد میں سے ظالم لوگ امام نہیں بن سکتے۔ البقرۃ آیت۱۴۵ میں کتمان شہادت کرنے والوں کو سب سے بڑا ظالم کہاگیاہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کتمان شہادت کے مجرم یہود اور نصاریٰ، دونوں ہیں۔ مزید برآں ’شہادۃ عندہ من اللہ‘ کے الفاظ سے واضح ہوتاہے کہ یہ شہادت اور حق ان کی کتابوں میں موجود ہے۔
البقرۃ کی آیات ۱۲۴ اور ۱۴۰ کو ملانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے کتمان شہادت کرنے والے ظالم ہیں اور امامت ناس کے اہل نہیں۔ اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ تحویل قبلہ کی صورت میں (آیت ۱۴۲ ) اس ظالم اولاد (یہود ونصاریٰ) سے امامت کا منصب واپس لے کر امت وسط یعنی حضور ﷺ کے پیروکاروں (آیت ۱۴۳) کوسونپ رہا ہے۔ 
آیت ۱۲۴ میں ابراہیم ؑ کی قربانی اورآزمائشوں کے ذکر کے بعد آیت ۱۲۵ اوربعد میں آنے والی آیت میں بیت اللہ کے ذکر سے میرے خیال میں یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم ؑ کی قربانیوں اور آزمائشوں کا زیادہ تر تعلق اسی بیت اللہ سے ہے۔ آیت ۱۲۵ میں ابرہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کابیت اللہ کی تطہیر سے تعلق واضح کیا گیاہے، جبکہ آیت ۱۲۷ میں بیت اللہ کی تعمیر سے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ ساتھ حضرت اسماعیل علیہما السلام کا ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کی تعمیر وتطہیر میں حضرت اسماعیل ؑ کے کردار کو واضح کرنا چاہتے ہیں ۔اس سلسلے میں البقرۃ ۱۲۸ اورالصافات ۱۰۳ میں واحد یا جمع کے بجائے تثنیہ کے صیغے ’مسلمین ‘اور ’اسلما‘ بھی قابل غور ہیں۔ 
آیت ۱۲۹ میں رسول اللہ ﷺ کاحضرت ابراہیم ؑ اور اسماعیل علیہما السلام سے تعلق ظاہر کیا گیا ہے۔ آیت ۱۳۰ میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ حضور ﷺ ملت ابراہیم ؑ کے اصلی وارث ہیں اور اس ملتِ ابراہیم ؑ (یعنی رسالتِ محمدی ؑ ) سے اعراض کرنے والے بے وقوف ہی ہو سکتے ہیں۔ (ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم الا من سفہ نفسہ ) آگے آیت ۱۴۲ میں ملتِ ابراہیم ؑ کا مرکز خانہ کعبہ کو قرار دیے جانے اور اس بیت اللہ کے قبلہ مقرر کیے جانے پر اعتراض کرنے والوں کو کھلم کھلا ’السفھاء‘ (بے وقوف ) کہا گیاہے۔ اب اگرآیت۱۴۲ میں ’السفھاء‘ کے لفظ کو آیت ۱۳۰ کے الفاظ ’الا من سفہ نفسہ‘سے ملایا جائے تو یہ حقیقت سا منے آتی ہے کہ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی پر احتجاج کرنے والے ملتِ ابراہیم ؑ سے منہ موڑ رہے ہیں۔ 
آیت ۱۲۸ سے لے کر ۱۳۶ تک سارے تعصبات اور نسل پرستی کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے (اسلام ) پر زور دیاگیاہے اوریہ واضح کیاگیاہے کہ یہی اسلام ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد اسماعیل ؑ واسحاق اور یعقوب علیہم السلام کا دین تھا اور اسی کی وصیت انہوں نے اپنے اولاد کو کی تھی ۔یہ حضرات کبھی نسل پرستی اور تعصب کاشکار نہیں ہوئے۔ آیت ۱۳۶ میں مسلمانوں کواس تعصب اور نسل پرستی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ’لانفرق بین احدِِ من منہم‘ (البقرۃ ۱۳۶) میں یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی لطیف تعریض ہے کہ وہ تفریق بین الرسل میں مبتلا ہیں۔ آیت ۱۳۷ میں بتایاگیاہے کہ اہل کتاب کے حق سے اعراض کی وجہ بے جا ضد ومخالفت (شقاق) ہے۔ ظاہر ہے کہ اس شقاق کی بنیاد نسل پرستی اور گروہی تعصب پر تھی۔ 
آیت ۱۴۰ میں اہل کتاب کو اس بات پر سر زنش کی گئی ہے کہ وہ ابراہیم ؑ اور ان کی ذریت کو یہود ونصاریٰ ثابت کرنے پر اصرار نہ کریں اور ان کی کتابوں میں (عندہ من اللہ) جو شہادت ہے، اس کو نہ چھپائیں۔ اگر آیت ۱۳۷ اور ۱۴۰ کو ماسبق سے جوڑا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس شقاق اورکتمان کاتعلق بیت اللہ اور حضرت محمدﷺ کے ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے ساتھ نسبت سے ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کتمان اور شقاق کی اصل نوعیت قرآن پاک سے نہیں، بلکہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے پاس جو کتاب الٰہی موجود ہے، اسی سے معلوم ہوگی۔ 
البقرۃ آیت ۱۴۲ سے آیت ۱۵۰ تک قبلہ کی تبدیلی اور اس پر یہود کارد عمل زیر بحث ہے ۔واضح رہے کہ قبلہ کی تبدیلی اس بات کاعلامتی اظہار تھا کہ اب امامت ناس، کتمان حق کے مرتکب یہود سے لے کر حضرت ابراہیم ؑ کے اصل وارث حضرت محمدﷺ کے پیروکاروں کو سونپی جانے والی ہے ۔اس لیے آیت ۱۴۲ کے فوراً بعد ’وکذلک جعلناکم امۃ وسطاً‘ کے الفاظ سے مسلمانوں کو مخاطب کیاجارہا ہے اور ان کو بتایا جارہاہے کہ اب شہادت علی الناس کی ذمہ داری تمھارے کندھوں پر ڈالی جاتی ہے۔ آیت ۱۴۲ سے ۱۵۰ تک خانہ کعبہ کاہی اصلی بیت اللہ ہونا مختلف پیرایوں میں جتایا گیاہے۔آیت ۱۴۴ میں بتایاگیاہے کہ مسجد حرام کابیت اللہ ہونا اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم ہے، کیونکہ یہی حق ہے لیکن یہ اس حق کو چھپاتے ہیں۔ آیت ۱۴۵ میں رسول اللہ کو بتایا گیا ہے کہ خواہ آپ کوئی بھی نشانی ،ثبوت یاحجت پیش کر دیں ،اہل کتاب آپ کے قبلے کو حسد اور ضد کی وجہ سے قبول کرنے والے نہیں، حالانکہ خانہ کعبہ کااصلی قبلہ اور بیت اللہ ہونا ان پر اس طرح واضح ہے جس طرح اپنے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ (یعرفونہ کمایعرفون ابنآء ھم) آیت ۱۴۶ کے آخر میں بتایا گیاہے کہ ان میں سے ایک گروہ اس حق (خانہ کعبہ کابیت اللہ ہونا ) کے بارے میں کتمان حق کاجاننے بوجھتے مرتکب ہو رہاہے (وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون) اس کے بعد اگلی آیت ۱۴۷ اور۱۴۹ میں اس حکم کے خدا کی طرف سے حق ہونے کو تاکیداً دوبارہ جتایا گیاہے۔
آیت ۱۵۵ میں مسلمانوں کو ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیار رہنے کااشارہ دیاگیاہے۔ آیت ۱۵۵ کے الفاظ ’لنبلونکم‘ (ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے) کو آیت ۱۲۴ کے الفاظ ’واذ ابتلیٰ ابراہیم ربہ‘ (اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے آزمایا) سے ملایئے۔ وہاں ابراہیم ؑ کو ان کی قربانیوں کے نتیجے کے طور پر امام الناس اور خانہ کعبہ کے لوگوں کے لیے مرجع ومرکز (مثابۃ للناس) بنائے جانے کی نوید سنائی گئی تھی، جبکہ یہاں قبلہ کی بازیابی کے لیے متوقع قربانیوں اور قتال کی طرف اشارہ ہے (آیت ۱۵۴ اور۱۵۵) اور پھراسی سلسلے میں صفا ومروہ (آیت ۱۵۸) کاذکر کیا گیاہے ۔
اللہ جل شانہ نے سب سے شدیدتہدید صفا ومروہ کے بارے میں کتمان حق پر کی ہے اور ایسا کرنے والوں کو اللہ، فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔ (البقرۃ ۱۵۹ تا ۱۶۲) صفا ومروہ کاشعائر اللہ میں سے ہونے کو جتانا( آیت ۱۵۸) اور اس با ت کی تردید کہ ان کا طواف کرنا گناہ ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صفا ومروہ کے بارے میں بہت ہی گھناؤنا کتمان حق ہوا ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ ان کاتعلق شعائر اللہ اور ابراہیم ؑ سے کاٹ دیاجائے ۔ آیت ۱۵۹ میں بتایا گیاہے کہ اس سلسلے میں واضح نشانیاں (البینت و الھدیٰ) الکتاب یعنی توراۃ میں موجود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کربیان کیاہے (بینہ للناس فی الکتب)۔ 
انعام صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہودی نسل پرست ہیں ۔ان کی نسل پرستی کی بنیاد کیاہے؟ دوسرے الفاظ میں ان کی نسل پرستی کا ظہور کس انداز میں ہوا ہے؟ وہ خود کوبنی ابراہیم کہلانا پسند کرتے ہیں یا بنی اسرائیل؟انہوں نے ابراہیم سے ناتا توڑ کر اسحاق سے ناطہ جوڑ لیا اور یہی ’’بنی اسحاق‘‘ ان کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بنا۔ان کا یہی پندار ان کے ’’بنی اسماعیل ‘‘کے ساتھ بغض وحسد کا سبب بنا جس کے حوالے قر آن نے بار بار دیے ہیں۔ اسی پندار، غروراور’’بنی سماعیل‘‘کے خلاف حسد نے ان کوان تحریفات اور التباسات پر اکسایا جن کی قرآن نے مذمت کی ہے اور جن کو فراہی ؒ نے تحقیق کرکے اور ان پر پڑی ہوئی دبیز تہوں کو جھاڑ کردنیا کے سامنے آشکارا کر دیا ہے۔ (مولانا فراہی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ نادر عقیل انصاری صاحب نے کیاہے جوابھی تک شائع نہیں ہو سکا۔ اس موضوع پر سلسلہ تحقیق کو ’المورد‘ کے فیلو جناب عبد الستار غوری نے آگے بڑھایا ہے اور اپنی کتاب ’’The Only Son Sacrificed‘‘ میں یہود کے کتمانِ حق کو مزید مبرہن کردیاہے۔) ان تحریفات والتباسات کاعلم ہونے کے بعد قرآن کامطالعہ کرنے والے پر قرآن کایہ دعویٰ روز روشن کی طرح واضح ہوجاتاہے کہ یہود حق کو حسد اور ضد کی وجہ سے قبول نہیں کررہے تھے ۔ان حقائق کے بعد کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتاہے کہ ذبیح کی بحث کاقرآنی آیات یا منشا کی تفہیم سے کوئی تعلق نہیں؟
(۲) انعام الرحمن صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں بہتر سمجھا، وہاں اسماعیل ؑ کاذکر باقاعدہ نام لے کر کیا۔ مثلاً بیت اللہ کی تعمیر کے ذکر میں ان کانام موجود ہے۔ذرا غور کیجئے کہ اگر قربانی کے واقعہ میں بھی ان کا نام شامل ہوتا تو معترضین کوپھبتی کسنے کاموقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالمگیریت کاکرتاہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے۔ اس طرح اسحاق کانام شامل ہوتا تو یہودیوں کانسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔‘‘ 
انعام الرحمن صاحب کے اس تبصرے پر درج ذیل سوال پیدا ہوتے ہیں:
۱۔بیت اللہ کی تعمیر وتطہیر کے سلسلے میں (البقرۃ آیات ۱۲۵۔۱۲۷ ) میں اسماعیل ؑ کے ذکر میں کیا حکمت ہے؟ کیا وہاں صرف ابراہیم ؑ کاذکر کافی نہیں تھا؟اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کے ذکر پر تو یہود کو پھبتی کسنے سے کوئی چیز مانع تھی لیکن اگر اللہ تعالیٰ قربانی کے واقعے میں اسماعیل ؑ کاذکر کردیتے تو وہ فورا پھبتیاں کسنے لگتے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کعبے کے سلسلے میں اسماعیل ؑ کانام ذکر کرنے پر تووہ اللہ تعالیٰ کو معاف کر دیتے لیکن قربانی کے معاملے میں معاف نہ کرتے؟
۲۔کیا یہود کے قبلے کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کوقبلہ بنانے سے یہود کو پھبتی کسنے کاموقع نہ ملتا؟ اور اگر قرآن نے بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کے مرکز ابراہیمی ہونے کے مسئلے کو پورے زور اور اصرار کے ساتھ چھیڑا ہے تو کیا اس سے اسلام کی عالمگیریت پر حرف نہیں آتا؟ اور جب اس پست ذہنیت کے ساتھ کیے جانے والے کتمان حق پر یہود کوڈانٹ پلائی گئی تو کیا یہ داعی کے منصب جلیل سے اتر کر مدعی کی سطح پر اترنے کے مترادف تھا؟ اگر نہیں تو ایک مرد خدا نے اگر ہمت کرکے ذبیح کے حوالے سے یہود کے کتما ن کے پردوں کو چاک اور ان کی تحریفات والتباسات کو بے نقاب کر دیاہے تو اس پر یہ الزام کیوں دھرا جاتاہے کہ وہ نسلی اور نفسیاتی عوارض کاشکار ہے، اس کی یہ تحقیق قرآنی منشا سے متصادم ہے اور اس سے اسلام کی عالمگیریت پر حرف آتا ہے؟
(۳) میاں صاحب لکھتے ہیں: 
’’قرآن مجید اپنے آپ کو تبیاناً لکل شئی اور تفصیلاً لکل شئ قر ار دیتاہے جس میں ہر ضروری پہلو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔‘‘ 
ہمارا سوال یہ ہے کہ قرآن نے اہل کتاب کے کتمان حق کی طرف صر ف لطیف اشارات کر کے ان کی مکمل نوعیت کیوں بیان نہیں کی؟ کیا یہ قرآن کے تبیانا لکل شئی ہونے کے خلاف نہیں؟انعام صاحب کی بات کواگرہم تھوڑا سا آگے بڑھائیں تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قر آن نے آدم کو سکھائے گئے ناموں کی وضاحت کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالیٰ نے تو ’الاسماء کلھا‘  کی نوعیت نہیں بتائی، لیکن انعام صاحب نے ان کی تشریح قرائن اور سیاق وسباق کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اللہ نے ان ’’الاسماء ‘‘ کومشخص نہیں کیا تو پھر انعام صاحب کیوں ’’الاسماء‘‘ کو معلوم کرنے کی’’لایعنی بحث ‘‘ میں پڑے اور اس طرح قر آنی علمیات سے روگردانی کے مرتکب ہوئے؟ اصل بات یہ ہے کہ قرآن انتہائی بلیغ کتاب ہے اور وہ ہر چیز کو لازماً الفاظ کا جامہ نہیں پہناتی۔ اس میں بہت سی چیزوں کو قرائن، سیاق وسباق او ر قرآن پر ایک مجموعی نظر ڈال کر کھولنا پڑتا ہے۔
(۴) اب ہم سورۃ الصٰفٰت کی متعلقہ آیات کے حوالے سے چند گزارشات پیش کریں گے۔
انعام صاحب لکھتے ہیں :
’’قر ائن یہی بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے کے بجائے باپ کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ بات ایک حد تک درست ہے، لیکن اس سلسلے میں آیت ۱۰۳ میں واحد کے بجائے تثنیہ کا صیغہ ’ اسلما‘ بھی قابل غور ہے ۔’’ یہ کالفظ یہ بتارہاہے کہ قربانی باپ اور بیٹے، دونوں سے مطلوب تھی اور اسی تقاضے کے جواب میں ان دونوں نے سرِتسلیم خم کیا۔ جہاں تک خواب کاتعلق ہے تو وہ چونکہ ابراہیم ؑ ہی نے دیکھا تھا، اس لیے خواب کے سچا کر دکھانے کاتعلق بھی انھی سے ہوسکتا تھا۔
انعام صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’کتنی عجیب بات ہے کہ ایسے ’’مدبرین‘‘ محض ’’ اسرائیلیات ‘‘ کے بل بوتے پر (تاریخ ومعاشرت وکلچر کے بے جااثبات کاشکارہوکر )ایسا عملی وفکری رویہ پروان چڑھا رہے ہیں جس سے قرآنی علمیاتی منہاج اور قرآنی منشا پسِ پشت چلے گئے ہیں۔‘‘ 
حقیقت یہ ہے کہ امام فراہی نے تحقیق کے یہ سارے پاپڑ قرآنی منشا ہی کواجاگر کرنے کے لیے بیلے ہیں اور انھوں نے اس تحقیق کی بنیاد ہرگز ’’اسرائیلیات‘‘ کی بنیاد پر نہیں رکھی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
’’ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگرقرآن مجید میں ایسے روشن دلائل نہ ہوتے جو پوری تصریح کے ساتھ ذبیح کی شخصیت کومتعین کر رہے ہوتے تو یقیناًہم اس باب میں سکوت کامسلک اختیار کرتے اور ایک ایسی بات کو کریدنا پسند نہ کرتے جس کی تصریح سے قرآن نے سکوت اختیار کیا ہے۔‘‘  (ذبیح کون ہے؟شائع کردہ انجمن خدام القرآن۔لاہور ۱۹۷۵ء، صفحہ ۴۰)
’ذبیح کون ہے‘ کی بحث میں مولانا فراہی ؒ نے قر آن مجید سے استدلال کے لیے ایک پورا باب وقف کیاہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے قرآن مجید سے تیرہ دلائل پیش کیے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل حسب ذیل ہے:
سورۃ الصافات کے الفاظ ’فلما بلغ معہ السعی‘ اور ’یبنی‘ کے الفاظ ظاہر کررہے ہیں کہ جو بیٹا قر بان ہوا، وہ قربانی کے وقت کم سن تھا۔ سورۃ ہود کی آیت ۷۱  ’فبشرنھاباسحاق ومن ورآء اسحاق یعقوب‘ سے واضح ہوتاہے کہ ابراہیم کوبیٹے (اسحاق) کی خوشخبری کے ساتھ ساتھ پوتے (یعقوب )ؑ کی خوشخبری بھی دے دی گئی تھی۔ ظاہر بات ہے کہ ابوّت fatherhood)) کی صفت اسحاق کے ذبیح ہونے میں مانع ہے،کیونکہ ایک طرف اسحاق کی بشارت کے ساتھ ہی ان کے باپ بننے کی بشارت (پوتے کی بشارت) دے دینا اور دوسری طرف ابراہیم سے یہ کہنا کہ وہ انھیں قربانی کے لیے پیش کریں، ناقابل فہم بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک ایسے بیٹے کو ذبح کرنے کاحکم یا اشارہ کیسے فرما سکتے تھے جس کی نسل سے وہ ابراہیمؑ کو پوتا (یعقوب) عطا کرنے کا وعدہ فرما چکے تھے؟ علاوہ ازیں قربانی کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی بشارت کا الگ سے ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ’’ غلام حلیم‘‘ سے مراد حضرت اسماعیل ؑ ہیں، ورنہ آخر میں حضرت اسحاق ؑ کاالگ سے ذکر کرنا بلاوجہ قرار پائے گا۔
مولانا فراہی نے اس بات پر بھی مفصل بحث کی ہے کہ قرآن نے ذبیح کومشخص کیوں نہیں کیا۔ اس سلسلے میں ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
’’ تورات میں بکثرت دلائل اس بات کے موجود تھے کہ ذبیح اسماعیلؑ ہی ہوسکتے ہیں۔ وہی اکلوتے بیٹے ہیں۔وہی اس دائمی برکت سے نوازے گئے جس میں سے تمام قومیں حصہ پانے والی تھیں۔ علاوہ ازیں دوسر ے فضائل بھی ان کے بیان ہوئے تھے۔ نیز یہ امر بھی مخفی نہ تھا کہ یہود حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کے دشمن ہیں۔ ان حالات کی موجود گی میں بہتر یہی تھا کہ قرآن صرف انہی دلائل کے بیان پر اکتفا کرے جوان کے دشمنوں کے پاس موجود ہیں اور خود اپنی طرف سے تصریح اس بارے میں نہ کرے۔ 
الفضل ماشہدت بہ الاعداء (اصلی شرف وہی ہے جس کی مخالف گواہی دے )
بالخصوص اس وقت تواس شہادت کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دلائل یہود کی خواہش کے بالکل خلاف اور ان کی تحریف اور کتمانِ حق کی عام کوششوں کے علی الرغم بچ رہے۔‘‘  (ذبیح کون ہے؟ ،صفحہ ۵۶)
ان اقتباسات کی موجودگی میں مولانا فراہی پر ’’اسرائیلیات‘‘ سے خوشہ چینی کا الزام لگانا، ان کے’’مدبر قرآن‘‘ ہونے پر پھبتیاں کسنا یا یہ کہنا کہ’’ محض اسرائیلیات کے بل بوتے پر ‘‘ اسماعیل ؑ کوذبیح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، صریح ناانصافی ہے۔ 
اس بحث سے اس سوال کاجواب بھی مل جاتا ہے کہ کہ آیا ہم مسلمانوں کو ’ذبیح کو ن ہے؟‘ کی بحث میں پڑنا چاہیے یا نہیں۔ اگر ہم اس بحث کو اس زاویے سے چھیڑیں کہ اسحاق ؑ یا اسماعیل میں سے کسی ایک کی برتری دوسرے پر ثابت کی جائے تویہ ہر گزمستحسن نہیں ،لیکن اگر بحث اس زاویے سے ہو کہ یہودیوں کے کتمانِ حق کاپردہ چاک کیاجائے یا اس کتمانِ حق کوصحیح طور پر سمجھا جائے تو پھر یہ بحث بہت اہم ہے۔ اس کے بغیر، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، قرآن کی بہت سی آیات کی تفہیم بہت مشکل ہے۔

قورح، قارون اور کتاب زبور

محمد یاسین عابد

ماہنامہ الشریعہ کے دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ :
’’توراۃ میں بھی قارون کا ذکر ہے لیکن اس میں اس کا ذکر بالکل مختلف انداز سے ہے۔ اس میں اس کی فراوانی دولت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو متنبہ (Challenge) کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اپنے آپ کو اللہ کا برگزیدہ بندہ کہتے ہو اور میں بھی برگزیدہ ہوں کیونکہ مال ودولت میں تم سے زیادہ ہوں۔ (توراۃ، کتاب گنتی، اصحاح ۱۶) .......’’توراۃ کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل میں قارون کے خزانے کی تفصیل میں ہے کہ ’’اس کے خزانے کی کنجیاں چمڑے کی تھیں اور تین سو اونٹوں پر لادی جاتی تھیں۔‘‘
چونکہ مذکورہ بالا عبارات پوری بائبل میں کہیں بھی درج نہیں، ا س لیے راقم نے فروری ۲۰۰۶ کے شمارے میں قارئین کو اس غلطی پر مطلع کرنے کے ساتھ ساتھ شک ظاہر کیا کہ ’’غالباً ڈاکٹر صاحب نے کبھی بائبل کھول کر نہیں دیکھی اور سنی سنائی اور غیرمستند معلومات کی بنیاد پر مذکورہ عبارت تورات کی طر ف منسوب کر دی ہے۔‘‘ 
اگر میری تنقید غلط تھی تو ڈاکٹر صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ بائبل میں مذکورہ عبارات کی نشان دہی کر کے میری اور قارئین کی معلومات میں اضافہ کرتے۔ اور اگر تنقید درست تھی تو ڈاکٹر صاحب کو غلطی کا اعتراف کر کے اپنے بڑے پن کا ثبوت دینا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ میرے اس جملے سے ڈاکٹر صاحب کے پندار کو سخت چوٹ لگی اور انھوں نے مارچ ۲۰۰۶ کے شمارے میں اس غلطی کی نشان دہی پر میرے انداز کو جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہوا قرار دیتے ہوئے نہ صرف مجھے بائبل پر قرآن سے زیادہ اعتماد کرنے کا طعنہ دیا ہے بلکہ لمبی زبان والا، یہودی، جاہل، غافل اور دھوکے باز جیسی گالیوں سے بھی نوازا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں غلط حوالے درج کیے جانے کی جو توجیہ کی ہے، وہ دلچسپ ہے ۔ فرماتے ہیں:
’’میرا زیر بحث مضمون دروس قرآن کے ضمن میں ایک دعوتی واصلاحی نوعیت کی کاوش ہے۔ یہ قارون (قورح) سے متعلق کوئی تحقیقی مقالہ نہیں اور اہل علم میں قارون کے متعلق جو باتیں معروف ہیں (ان میں یہ بھی ہے کہ وہی بائبل کا قورح ہے) میں نے بغیر حوالے کے لکھ دی تھیں، کیونکہ بنیادی طورپر اس لیکچر (درس قرآن) میں آنے والے عام تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ‘‘
’’ میرا جومضمون قارون سے متعلق ’’الشریعہ ‘‘میں شائع ہوا تھا، وہ دروس قرآن کے ضمن میں ٹیپ سے نقل کردہ Transcribed)) ایک لیکچر تھا جو ہمارے دفتر کے ایک سیکرٹری نے ٹیپ سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا تھا۔ ان کے سہو قلم سے تین سو خچروں کے بجائے تین سو اونٹ کتابت ہوگیااور چونکہ توراۃ کا ذکر اوپر چل رہاتھا، اس وجہ سے اسی کانام بجائے جیوش انسائیکلوپیڈیا کے انہوں نے لکھ دیا۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مضمون میں مذکورہ دونوں اقتباس کسی حوالے کے بغیر نہیں، بلکہ باقاعدہ کتاب گنتی کے باب ۱۶ کے حوالے سے درج کیے گئے ہیں۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تو اپنے درس میں کوئی بات کسی حوالے کے بغیر بیان کی ہو اور ان کا سیکرٹری درس کو مرتب کرتے وقت ازخود ایک اقتباس کے ساتھ کتاب گنتی کے ایک باب کا حوالہ دے دے جہاں اس بات کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہ ہو اور دوسرے اقتباس کے ساتھ ’’توراۃ کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دے، حالانکہ وہ بات بائبل کے بجائے ’’جیوش انسائیکلو پیڈیا‘‘ میں لکھی ہو؟ ڈاکٹر صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اس غلطی کو غریب سیکرٹری کے سر تھوپنے کے بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اس کی ذمہ داری قبول کرتے۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کسی تحریر کو سمجھے بغیر اس پر تنقید کرنے اور کتابوں کو پڑھے بغیر ان کا حوالہ دینے کے متعدد نمونے اپنی موجودہ تحریر میں بھی پیش کیے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے:
۱۔ میں نے قورح ، داتن، ابیرام اور ان کے ۲۵۰ ساتھیوں کے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے، ہجرت کرنے اور حکم الٰہی کے تحت جہاد اور نشست وبرخاست کا ذکر کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ یہ سارا معاملہ ان کے بغاوت (گنتی ب ۱۶) کرنے سے قبل ہوا، لیکن بعد میں مذکورہ اشخاص باغی بن کر خدا کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ اس سے واضح ہے کہ بغاوت سے قبل قورح کے ایمانی کارناموں کے ذکر کا مقصد اس کی حمایت یا دفاع نہیں، بلکہ محض بائبل میں بیان ہونے والی متعلقہ تفصیلات کا اجمالی ذکر تھا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ’’جناب ناقد نے یہودی قورح کے دفاع میں جو کچھ لکھا ہے اور جس طرح بائبل کے بیانات سے تجاہل برتا ہے، اس کی امید کسی یہودی سے ہی کی جاسکتی تھی۔‘‘
۲۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’موصوف نے قورح کے شجرہ نسب کے لیے کتاب خروج کے علاوہ ۱۔ تواریخ ۲:۱ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس مقام پر اضہار اور قہات بن لاوی یعنی قورح کے باپ کا بالکل ذکر نہیں۔‘‘
میں نے لکھا تھا: ’’اضہار، عمرام کا چھوٹا بھائی تھا اور دونوں قہات بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ (خروج ۶: ۱۶۔۱۸ و ۱۔ تواریخ ۲:۱)‘‘ چونکہ قورح کا شجرہ نسب حضرت یعقوب تک لکھنا مقصود تھا، اس لیے مذکورہ دونوں حوالے لکھے گئے۔ کیونکہ خروج ۶:۱۶ تا ۱۸ تک قورح سے لاوی تک اور ۱۔ تواریخ ۲:۱ میں لاوی سے حضرت یعقوب علیہ السلام تک شجرے کا ذکر ہے۔ دونوں حوالے درج کرنے ہمارا مقصد یہی تھا جسے غصے کے غلبے کے باعث محترم ڈاکٹر صاحب سمجھ نہ پائے۔ 
۳۔ ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’اس مقام (گنتی ۹:۲۳) پر تو صرف یہ درج ہے کہ ’’وہ (بنی اسرائیل) خداوند کے حکم سے قیام کرتے اور خداوند ہی کے حکم سے کوچ کرتے تھے۔‘‘ بلکہ اس پورے اصحاح یا باب میں مصر سے براہ بحر قلزم ہجرت بنی اسرائیل کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اب لمبی زبان والے جناب ناقد صاحب یہ بتائیں کہ سنی سنائی باتیں کون کر رہاہے اور کیا اب میرا یہ کہنا درست ہوگا کہ موصوف نے کبھی بائبل کھول کر دیکھی ہی نہیںیا دیکھی ہے تو وہ جان بوجھ کرغلط بیانی کررہے ہیں اور قارئین کو دھوکہ دے رہے ہیں؟ ‘‘
میں نے گنتی ۹:۲۳ کا حوالہ اس ضمن میں دیا تھاکہ ’’تمام بنی اسرائیل کی نشست وبرخاست خدا اور اس کے نبی حضرت موسیٰ کے زیر فرمان ہی ہوتی تھی۔‘‘ اس عبارت کے فوراً بعد مذکورہ حوالہ لکھا گیا، لیکن ڈاکٹر صاحب کی محققانہ مہارت کو داد دیں کہ انھوں نے حوالے سے متصل پہلے کی عبارت کو پھلانگ کر اس سے پچھلی عبارتوں کو مذکورہ حوالے سے متعلق سمجھ لیا۔ 
۴۔ ڈاکٹر صاحب نے بائبل کے حوالے سے اپنی زندگی بھر کے مطالعہ کا نچوڑ یوں پیش کیا ہے:
’’زبور ہی بائبل کی وہ کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور بنی اسرائیل کے اظہار بندگی کے ترانے ہیں اور ان کے لیے اپنے گناہوں کا اعتراف بھی ان ترانوں میں ہے جن کو بآسانی حفظ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کے اس دعوے کی روشنی میں کہ یہ وہی زبور ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام کو دی گئی، اب ذرا زبور کے درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
’’کاش کہ اسرائیل کی نجات صیون میں سے ہوتی! جب خداوند اپنے لوگوں کو اسیری سے لوٹا لائے گا تو یعقوب خوش اور اسرائیل شادمان ہوگا۔‘‘ (زبور ۱۴: ۷ و ۵۳: ۶)
’’اے خدا! قومیں تیری میراث میں گھس آئی ہیں۔ انھوں نے تیری مقدس ہیکل کو ناپاک کیا ہے۔ انھوں نے یروشلم کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اے ہمارے نجات دینے والے خدا! اپنے نام کے جلال کی خاطر ہماری مدد کر۔ اپنے نام کی خاطر ہم کو چھڑا اور ہمارے گناہوں کا کفارہ دے۔‘‘ (زبور ۷۹: ۱ )
’’اے خداوند، جنوب کی ندیوں کی طرح ہمارے اسیروں کو واپس لا۔‘‘ (زبور ۱۲۶:۴)
’’ہم بابل کی ندیوں پر بیٹھے اور صیون کو یاد کر کے روئے۔ وہاں بید کے درختوں پر ان کے وسط میں ہم نے اپنی ستاروں کو ٹانگ دیا، کیونکہ وہاں ہم کو اسیر کرنے والوں نے گانے کا حکم دیا، اور تباہ کرنے والوں نے خوشی کرنے کا، او ر کہا صیون کے گیتوں میں سے ہم کو کوئی گیت سناؤ۔ ہم پردیس میں خداوند کا گیت کیسے گائیں؟ اے بابل کی بیٹی جو ہلاک ہونے والی ہے، وہ مبارک ہوگا جو تجھے اس سلوک کا جو تو نے ہم سے کیا، بدلہ دے۔ وہ مبارک ہوگا جو تیرے بچوں کو لے کر چٹان پر پٹک دے۔‘‘ (زبور ۱۳۷: ۱۔۴، ۸ و ۹)
’’اوپر سے ہاتھ بڑھا۔ مجھے رہائی دے اور بڑے سیلاب یعنی پردیسیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔‘‘ (زبور ۱۴۴:۷)
زبور کے مذکورہ مقامات اس بات کے ناقابل تردید داخلی شواہد ہیں کہ یہ وہ زبور نہیں جو حضرت داؤد علیہ السلام کو دی گئی، بلکہ اس کا زمانہ تصنیف حضرت داؤد کے چار سو سال بعد بخت نصر کے دور میں بابل کی اسیری کا دور ہے۔ اب کیا کوئی شخص ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ انھوں نے زبور واقعی کھول کر دیکھی ہے اور زبور کے بارے میں وہ اپنے نتیجہ تحقیق تک اس کے مطالعہ کے بعد ہی پہنچے ہیں؟
۵۔ پڑھے بغیر کتابوں کے حوالے دینے کی ایک اور مثال ملاحظہ کیجیے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک طرف یہ فرمایا ہے کہ زبور ہی وہ واحد کتاب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ہوئی، اور دوسری طرف مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی کتاب ’اظہار الحق‘ کا مطالعہ کروں۔ افسوس کہ اس مشورے پر انھوں نے خود عمل نہیں کیا۔ مولانا کیرانوی نے اپنی اسی کتاب میں زبور کے مختلف مقامات پر تحریف کی مثالیں پیش کی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’زبور ۴۰:۶ میں ہے کہ ’’تو نے میرے کان کھول دیے ہیں۔‘‘ پولس نے عبرانیوں ۱۰:۵ میں زبور کا یہ جملہ نقل کیا ہے، مگر اس میں اس کی جگہ یوں ہے کہ ’’بلکہ میرے لیے ایک بدن تیار کیا۔‘‘ اس لیے یقیناًایک عبارت غلط اور محرف ہے۔ مسیحی علما حیران ہیں۔ ہنری واسکاٹ کی تفسیر کے جامعین کہتے ہیں: ’’یہ فرق کاتب کی غلطی سے ہوا اور ایک ہی مطلب صحیح ہے۔‘‘ غرض ان جامعین نے تحریف کا اعتراف کر لیا، لیکن وہ کسی ایک عبارت کی جانب تحریف کی نسبت کرنے میں توقف کرتے ہیں۔ آدم کلارک اپنی تفسیر کی جلد ۳ میں زبور کی عبارت کے ذیل میں کہتا ہے ’’متن عبرانی جو مروج ہے، وہ محرف ہے۔‘‘ غرض تحریف کی نسبت زبور کی عبارت کی جانب کرتا ہے۔‘‘ (بائبل سے قرآن تک، ۲/۲۴)
ایک دوسری مثال ملاحظہ فرمائیے:
’’زبور ۱۴ کی آیت ۳ کے بعد لاطینی ترجمہ میں اور ایتھوبک ترجمہ میں اور عربی ترجمہ میں اور یونانی ترجمہ کے ویٹی کن والے نسخہ میں یہ عبارت موجود ہے کہ ’’ان کا گلا کھلی ہوئی قبر ہے، انھوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا، ان کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے، ان کا منہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھرا ہے، ان کے قدم خون بہانے کے لیے تیز رو ہیں، ان کی راہوں میں تباہی اور بد حالی ہے، اور وہ سلامتی کی راہ سے واقف نہ ہوئے۔ ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں۔‘‘ یہ عبارت عبرانی نسخہ میں موجود نہیں، بلکہ پولس کے خط رومیوں ۳:۱۳ تا ۱۸ میں پائی جاتی ہے۔ اب یا تو یہودیوں نے یہ عبارت عبرانی نسخہ سے ساقط کر دی ہے، تب تو یہ تحریف بالنقصان ہے، یا عیسائیوں نے اپنے ترجموں میں اپنے مقدس پولس کے کلام کی تصحیح کے لیے بڑھائی ہے، تب یہ تحریف بالزیادۃ کی صورت ہوگی۔ اس لیے کسی نہ نہ کسی ایک نوع کی تحریف ضرور لازم آئے گی۔‘‘ (بائبل سے قرآن تک، ۲/۸۹، ۹۰)
۶۔ اب اس ضمن کا سب سے دلچسپ نمونہ ملاحظہ فرمائیے۔ اپنے مضمون نما درس (الشریعہ، دسمبر ۲۰۰۵) میں ڈاکٹر صاحب نے قرآن کے قارون کو بائبل کا قورح قرار دیتے ہوئے تورات کی کتاب گنتی، باب ۱۶ کا حوالہ دیا تھا جس میں قورح اور اس کے ساتھیوں داتن اور ابی رام وغیرہ کے زمین میں دھنسائے جانے کا ذکر ہے۔ بائبل کے مذکورہ مقام کی رو سے یہ مصر سے ہجرت کرنے کے بعد بنی اسرائیل کے بیابان میں سرگردانی کے دور کا واقعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ تسلیم کر لیا کہ قورح ، داتن اور ابی رام وغیرہ اکٹھے زمین میں دھنسائے گئے تھے اور یہ واقعہ مصر میں نہیں، بلکہ ہجرت مصر کے بعد رونما ہوا۔ 
اس کے بالکل برعکس اپنے جوابی مضمون (الشریعہ، مارچ ۲۰۰۶) میں، جو ظاہر ہے کہ انھوں نے اصل مضمون کے دفاع ہی میں لکھا ہے، وہ اس بات سے صاف انکار کرتے ہیں کہ قورح کو ابی رام اور داتن وغیرہ کے ساتھ زمین میں دھنسایا گیا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’قورح کے خسف فی الارض (زمین میں دھنسائے جانے) کا واقعہ اس سے قبل مصر میں ہو چکا تھا۔ قرآن کریم نے کتاب استثنا اور زبور کی روایت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مصر میں تھے کہ قارون (قورح) اور اس کا محل زمین میں دھنسائے گئے۔ ورنہ سینا میں تو سارے اسرائیلی خیموں میں رہتے تھے۔ وہاں قورح نے کون سا محل اور کہاں تعمیر کیا تھا؟ اسی لیے بائبل کی مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں داتن اور ابیرام کے گھروں کا ذکر نہیں، بلکہ خیموں کا ذکر ہے۔‘‘
اگر یہی بات تھی تو ڈاکٹر صاحب نے اصل مضمون میں کتاب گنتی کے باب ۱۶ کا حوالہ کیوں دیا جو قورح، داتن اور ابی رام وغیرہ کے اکٹھے دھنسائے جانے کا ذکر کرتا ہے؟ گمان غالب یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون کے دفاع کے لیے قلم اٹھایا تو خود اپنے ہی مضمون کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
پھر اگر اب ڈاکٹر صاحب ان دونوں واقعات کو الگ الگ تسلیم کر رہے ہیں تو میری گزارش بھی یہی تھی کہ قارون اور قورح، دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور دونوں کے ساتھ الگ الگ واقعات پیش آئے۔ قارون کا مصر کے اندر ہی اپنے محلات سمیت زمین مین دھنسا دیا جانا اور ماہرین آثار قدیمہ کا اس کی تصدیق کرنا ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بھی مسلم ہے، جبکہ قورح کے صحرائے سینا میں بغاوت کرنے اور خیمہ اجتماع کے سامنے ۲۵۰ ساتھیوں سمیت زمین میں دھنسائے جانے کا واقعہ بائبل میں بیان ہوا ہے۔ یہاں سوال بائبل کی تصدیق کا نہیں، بلکہ بائبل کے بیان کو قرآن کے بیان سے متعلق قرار دینے کا ہے۔ اگر بائبل اس ضمن میں محرف ہے تو پھر ڈاکٹر صاحب بائبل کے مشکوک کردار قورح کو قرآن کے قارون کے ساتھ نتھی کرنے کا تکلف ہی کیوں فرما رہے ہیں؟
سخن نافہمی کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں اعتراض برائے اعتراض کا طریقہ بھی اختیار فرمایا ہے۔ میں نے مشرکین ومرتدین کی ہلاکت بنی لاوی کے ہاتھوں ثابت کرنے کے لیے خروج ۳۲:۲۸ کا حوالہ دیا تھا۔ چونکہ قورح بنی لاوی میں سے تھا، اس لیے مرتدین کے خلاف جہاد میں قورح کی شمولیت یا رضامندی ایک لازمی چیز ہے کیونکہ بائبل نے اس کارخیر میں ’’سب بنی لاوی‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ (خروج ۳۲:۲۶) لیکن ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’کتاب خروج کے مندرجہ بالا باب اور فقرے میں سرے سے قورح وداتن وغیرہ نام ہی نہیں۔‘‘ 
میری گزارش یہ ہے کہ اگر خروج ۳۲:۲۸ میں قورح کا نام درج نہیں تو باقی بنی لاوی کے نام کہاں درج ہیں؟ جب سب بنی لاوی نے جہاد کیا تھا تو قورح ان سے کیونکر باہر رہا؟
ڈاکٹر صاحب مزید رقم طراز ہیں: ’’ مضمون نگار صاحب بائبل کے انداز حوالہ جات سے متاثر ہیں، چنانچہ انھوں نے اس عبارت کے لیے سورۃ القصص کی آیت نمبر ۷۶ کا حوالہ بائبل کے انداز پر دیا ہے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کے حوالے سورتوں کے نام اور آیات کے نمبروں سے ہوتے ہیں۔ یہی وہ اسلوب ہے جو اہل علم میں رائج ہے ۔‘‘
میں نے اپنے مضمون میں قرآن مجید کے بیشتر حوالے ڈاکٹر صاحب ہی کے بیان کردہ طریقے کے مطابق درج کیے ہیں، البتہ مذکورہ مقام پر سورۃ القصص کی آیت ۷۶ کا حوالہ ۲۸:۷۶ کے انداز میں دیا ہے۔ قرآن کے حوالہ جات دینے کے مختلف طریقے اہل علم میں رائج ہیں۔ مثلاً ’نجوم الفرقان فی علوم القرآن‘ میں پارہ نمبر اور رکوع نمبر کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے، جبکہ علامہ محمد فواد عبد الباقی کی ’المعجم المفہرس‘ میں سورتوں کے نام کے ساتھ ساتھ سورتوں اور آیات کے نمبر بھی درج کیے ہیں۔ علامہ محمد شریف اشرف نے ’فکر الفرقان‘ کے عنوان سے قرآن مجید کے اشاریے میں محض متعلقہ سورت اور آیت کا نمبر درج کرنے پر اکتفا کی ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر صاحب کا یہ اعتراض محض برائے اعتراض ہے اور یہی ان کی اصل قابلیت ہے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترمی مولانا زاہد الراشدی دامت الطافکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مارچ کا ’الشریعہ‘ ملے ہفتہ سے اوپر ہو گیا۔ اس میں اپنا خط دیکھ کر خیال ہوا کہ جو کچھ بھی لکھا جائے، یہ سوچ کر لکھا جائے کہ یہ شائع ہوگا، ورنہ تین سطری خط تو ایسا نہیں تھا کہ اس کی اشاعت کا اندیشہ گزرتا۔ اس قدر اجمال اور اختصار تھا کہ بس آپ کے ذاتی ملاحظہ کے لیے موزوں سمجھا جا سکتا تھا۔ خیر، کوئی شکایت نہیں، بلکہ قارئین سے معذرت ہے۔ لیکن اسی (کارٹون پر رد عمل کے) حوالے سے اداریہ میں ۳؍ مارچ کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں آپ کی اپیل اس قدر خلاف توقع لگی کہ اب کس سے شکوہ کرے کوئی؟آپ نے اس کے لیے پاکستان کی سیاسی اور دینی جماعتوں کو ’’خراج تحسین‘‘ پیش کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، البتہ دینی جماعتوں پر اس معاملے میں کچھ کہتے نہیں بنتا۔ مارچ کے ’الفرقان ‘ میں میرے اس سلسلہ کے تاثرات شاید نظر سے گزر چکے ہوں۔ یہ ۲۰؍۲۱ فروری کے احتجاجی پروگراموں سے متعلق تھے جن کا یہ پہلو انتہائی رنج دہ تھا کہ تحفظ ناموس مصطفی کے عنوان کو سو فی صدی مقامی سیاست کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اور ۳؍ مارچ کا پروگرام تو اس کا نقطہ عروج تھا۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے الفاظ میں ایک مقدس عنوان کی اس سے بڑھ کر ’’بد خدمتی‘‘ مذہبی لوگوں کے ہاتھوں اور کیا ہو سکتی تھی؟ 
گستاخی معاف۔ والسلام
نیاز مند
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی
لندن
(۲)
برادر عزیز ومحترم زاہد الراشدی صاحب،
سلام مسنون
آپ کی عنایت سے ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے۔ اپنے علمی اور دینی معیار کے اعتبار سے اور موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے بلاشبہ ’الشریعہ‘ صف اول کا جریدہ ہے۔ افراط وتفریط کے اس دور میں آپ کے اداریوں کا معروضی تجزیہ اور متوازن لہجہ بہت خوش آیند چیز ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اردو (اور انگریزی) صحافت میں ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو قلم کی اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ وہ واحد اردو جریدہ ہے جسے اول تا آخر پڑھتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔
میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ دسمبر اورجنوری میں پاکستان آنے کے باوجود آپ سے رابطے کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ دسمبر کا آخری ہفتہ ذاتی مصروفیات کی نذر ہو گیا اور پھر ۲۸ دسمبر سے ۱۰ جنوری تک بنگلہ دیش میں قیام رہا۔ بنگلہ دیش سے واپسی پر جو چند دن اسلام آباد میں گزرے، وہ بھی مصروفیت میں گزرے۔ میری بڑی خواہش تھی کہ گوجرانوالہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا، خاص کر جبکہ میرا ’’بھتیجا‘‘ یوگی سکند بھی آپ کے ہاں آیا ہوا تھا۔ یوگی بہت ہی عمدہ اسکالر اور اس سے بھی عمدہ انسان ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میرے بیٹے جنید احمد کو معلوم تھا کہ وہ ان دونوں میں پاکستان میں ہے اور جنید نے اس سے فون پر دوچار بار بات بھی کی تھی لیکن مجھے اس بات کی اس نے ہوا نہیں لگنے دی۔ خیر، اب مئی میں ان شاء اللہ پاکستان آنا ہوگا تو آپ سے ملاقات ہوگی۔
میں نے اپنے گزشتہ مراسلے میں مدارس پر اپنے جس مضمون کا ذکر کیا تھا، وہ آپ کے ملاحظے کے لیے حاضر ہے۔ اپنی رائے دیجیے گا۔
دعاؤں کا طالب
(ڈاکٹر) ممتاز احمد
ہیمپٹن یونیورسٹی، ہمپٹن (امریکہ)
(۳)
بخدمت جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں ’’قارون اور قورح بحران‘‘ پر پچھلے تین شماروں سے ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی صاحب اور جناب محمد یاسین عابد صاحب کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ مارچ کے شمارے میں ڈاکٹر صاحب کو یاسین عابد صاحب سے شکوہ ہے کہ ’’ان کا انداز بیاں بڑا جارحانہ اور علمی حیثیت سے گرا ہوا ہے۔‘‘ مانا کہ جناب محمد یاسین عابد کی تنقید جارحانہ تنقید تھی، مگر جناب ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی بھی ’’جارحانہ مزاج‘‘ سے معصومیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اپنے مضمون کی ابتدائی سطور میں ڈاکٹر صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ’’اب میں تو کوئی جارحانہ اسلوب اختیار نہیں کرتا‘‘، لیکن ان کا مضمون پڑھنے کے بعد ہر قاری یہی فیصلہ کرے گا کہ موصوف نے تحریری جارحیت کی ایک نئی روایت قائم کی ہے۔ 
انھوں نے جابجا یاسین عابد صاحب کو ’’بائبل کا حافظ‘‘ کے خطاب سے نوازا ہے۔ یہ نہایت نامعقول انداز بیاں ہے، اور کسی مسلمان کو قرآن سے زیادہ بائبل پر اعتماد کرنے کا طعنہ دینا اس سے بھی زیادہ خطرناک طرز بیاں ہے۔ یہ نہ صرف فرمان نبوی ’’مومن کے ساتھ اچھا گمان رکھو‘‘ کے منافی ہے، بلکہ اس سے خود ڈاکٹر صاحب کی کمزور نفسیات کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مضمون پر تنقید سے اتنے اشتعال میں آ گئے کہ ایک مسلمان کو اس طرح کے طعنے دینے پر اتر آئے۔ علمی متانت کے تمام تقاضوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں ’’لمبی زبان والے جناب ناقد صاحب‘‘۔ اس طرح کے جملوں کا جتنا ڈاکٹر صاحب کے قلم سے صادر ہونا ہمارے لیے باعث حیرت ہے، اس سے کہیں زیادہ ’الشریعہ‘ جیسے سنجیدہ رسالے میں اس کا شائع ہونا ناقابل فہم ہے۔
بہرحال جب دانش وران ملت کی ذہنی کیفیت یہ ہو تو اور کس سے امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ امت مسلمہ کے بہی خواہوں سے ہماری عاجزانہ التماس ہے کہ اپنی علمی وفکری توانائیاں ایسے امور پر صرف کریں جن کے کچھ عملی ثمرات بھی سامنے آئیں اور امت مسلمہ کی زبوں حالی کا کچھ مداوا ہو سکے۔ ’ذبیح کون ہے‘ اور ’قارون اور قورح کون ہیں‘ جیسے مسائل پر خامہ فرسائی سے فکری تشدد کے پروان چڑھنے اور ذہنی عیاشی کے علاوہ اور کیا ہاتھ آ سکتا ہے۔ اللہ کرے ہمارے دانش وروں میں متانت، حوصلہ مندی، تحمل وبرداشت اور انانیت سے دوری جیسے اوصاف پیدا ہوں ۔ 
امید ہے کہ ’الشریعہ‘ امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے سلسلے میں اپنی فکری ذمہ داری کا احساس کرے گا اور اس کے قابل قدر صفحات کو محض تخیلاتی مشقوں کے لیے میدان نہیں بنایا جائے گا۔ 
محمود خارانی
دار العلوم، کراچی ۱۴
(۴)
برادرم محمد عمار ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے ہاں بحث کا معیار بہت پست ہے۔ کیا کیا جائے، مجبوری ہے۔ بہرحال میرا خیال ہے عمدہ تنقیدی بحث کے کچھ مضامین بطور نمونہ شائع کریں تاکہ بحث کرنے والوں میں علو پیدا ہو۔ اس سلسلے میں بطور نمونہ ایک مضمون ارسال ہے۔
فقط والسلام
ملک نواز احمد اعوان
کراچی
(۵)
مکرمی جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہنامہ ’الشریعہ‘ جنوری کے شمارے میں ’’تاریخ ختم نبوت‘‘ نامی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے محترم مبصر صاحب نے نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر ایسے اسلوب میں کیا ہے جس میں اس کی تعظیم کا شائبہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً ’’مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں‘‘، ’’مرزا صاحب نے براہین احمدیہ تحریر کی‘‘، اور ’’اس کتاب میں مرزا صاحب کے فاسد عقائد‘‘ وغیرہ۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ کسی متنازعہ شخصیت کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے جن سے اس کی تعظیم وتکریم کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔
حافظ خرم شہزاد
کامونکی ۔ گوجرانوالہ