ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ہم جنس پرستی کا سیلاب اور ہماری ذمہ داریاںمولانا محمد یوسف 
تاریخی افسانے اور ان کی حقیقتیوسف خان جذاب 
انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآنڈاکٹر محمد آصف اعوان 
غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاشپروفیسر میاں انعام الرحمن 
مکاتیبادارہ 
’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ : ایک مطالعہحافظ صفوان محمد چوہان 
تعارف و تبصرہمحمد عمار خان ناصر 

دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ مطالعہ پاکستان، انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کا میٹرک کے درجے میں امتحان نہیں دیا، اس لیے اس سند کو میٹرک کے مساوی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اس سند کے حاملین بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ اگرچہ اس فیصلے کا فوری اطلاق ان حضرات پر ہوا ہے جو اس رٹ میں فریق تھے، لیکن اٹارنی جنرل کا یہ کہنا اہمیت رکھتا ہے کہ جن لوگوں نے دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا ہے، وہ کامیاب ہونے کے باوجود اس فیصلے کی رو سے نااہل ہو جائیں گے، بلکہ یہ فیصلہ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ان ارکان پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جنھوں نے دینی مدارس کی اسناد کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا ہے اور منتخب ہوئے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کم وبیش دو سو ارکان اس فیصلے کی زد میں آ سکتے ہیں، چنانچہ ایک معروف قانون دان جناب محمد اسلم خاکی صاحب نے اپنی ایک سابقہ رٹ کو جلد از جلد زیر بحث لانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دے دی ہے۔ ان کی رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دینی مدارس کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے چونکہ صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے برابر تسلیم کیا ہے، اس لیے تعلیمی مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ان اسناد کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ انتخابات میں شہادۃ العالمیۃ کی سند کو ایم اے کے برابر تسلیم کرتے ہوئے اس کے حاملین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی جو اجازت دی تھی، وہ درست نہیں تھی اس لیے عدالت عظمیٰ اس اجازت نامے کو منسوخ کرتے ہوئے دینی اسناد پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے۔ یہ رٹ ابھی موجود ہے اور اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، اسی لیے رٹ کے محرک نے دوبارہ درخواست دائر کر دی ہے کہ اس رٹ کو جلد زیر بحث لایا جائے اور اس پر فیصلہ صادر کیا جائے۔
دوسری طرف بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں گومگو اور تذبذب کی فضا قائم رکھنا موجودہ حکومت کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے تاکہ متحدہ مجلس عمل کو دباؤ میں رکھا جائے اور اسے حکومت کے خلاف کسی عملی تحریک کا حصہ بننے سے روکا جائے۔ ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ متحدہ مجلس عمل نے اے آر ڈی کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس قائم کرنے اور احتجاجی تحریک منظم کرنے کا حال ہی میں فیصلہ کر لیا ہے، اس لیے دینی مدارس کی اسناد کی قانونی حیثیت کا مسئلہ دوبارہ سامنے آ گیا ہے تاکہ متحدہ مجلس عمل حکومت کے خلاف کسی عملی تحریک کا حصہ نہ بنے اور اگر وہ حکومت کے خلاف تحریک کے فیصلے میں سنجیدہ ہے تو اسمبلیوں میں اپنے کم وبیش دو سو ارکان کو نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس طرح دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ فنی اور تعلیمی دائرے سے نکل کر سیاسی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو بہرحال ایک توجہ طلب بات ہے اور اس پر دینی مدارس کے وفاقوں کی اعلیٰ قیادت اور اس کے ساتھ ہی متحدہ مجلس عمل کی ہائی کمان کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
جہاں تک فنی مسئلے کی بات ہے، ہمارے خیال میں جب دینی مدارس کے وفاقوں نے میٹرک کی سطح پر مطالعہ پاکستان، اردو اور انگلش کے مضامین کو اپنے نصاب میں شامل کر کے اس پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے تو اس تبدیلی کو سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں بالکل نظر انداز کیے جانے کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ہمارے خیال میں یہ بات سپریم کورٹ کے علم میں سرے سے لائی ہی نہیں گئی اور دینی مدارس کی اسناد کا دفاع کرنے والے وکلا اس سلسلے میں پورے حقائق عدالت عظمیٰ کے سامنے نہیں رکھ سکے، ورنہ شاید فیصلے کی حتمی صورت یہ نہ ہوتی۔ اب بھی وفاقوں کی قیادت سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی خود پیروی کریں اور مذکورہ فیصلے پرنظر ثانی کی اپیل کے لیے ملک کے نامور وکلا سے صلاح مشورہ کر کے دینی مدارس کی اسناد کے دفاع کے لیے پیش رفت کریں۔ 
جہاں تک رجسٹریشن کا تعلق ہے، ہمارے خیال میں یہ بات اطمینان بخش ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سابقہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو خود دینی مدارس کا مطالبہ تھا اور وہ اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لیے نہ صرف تیار تھے بلکہ ہزاروں مدارس نے اس سے قبل سوسائٹی ایکٹ کے تحت اپنی رجسٹریشن کرا رکھی ہے، البتہ اس سلسلے میں ۱۸۶۰ کے سوسائٹی ایکٹ میں ایک نئی شق کا اضافہ قابل غور ہے جس کے تحت دینی مدارس کے لیے رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور سالانہ کارکردگی اور آڈٹ شدہ حسابات کی رپورٹ کی کاپی رجسٹریشن آفس میں جمع کرانے کا انھیں پابند کیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں ان تینوں امور میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں ہے اور یہ باتیں نتائج کے حوالے سے دینی مدارس کے لیے فائدہ کا باعث ہی ہوں گی، البتہ فرقہ وارانہ تعلیم کی دینی مدارس میں ممانعت کی شق مبہم ہے، اس لیے کہ فرقہ وارانہ تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ ملک میں مختلف مذہبی فرقے آباد ہیں اور ان کے دینی مدارس کام کر رہے ہیں، اس لیے ان فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے، امن عامہ کے لیے مسائل کھڑے کرنے اور قومی وحدت کو مجروح کرنے کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ایسی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کی روک تھام کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو علمی وتحقیقی مباحث سے تعلق رکھتا ہے جس میں اپنے مسلک کی علمی وضاحت اور دلائل کی بنیاد پر اس کی ترجیح کی طرز اختیار کی جاتی ہے۔ نہ صرف پاکستان کے دینی مدرسوں میں ایسا ہوتا ہے، بلکہ دنیا بھر میں تمام مذاہب کی مذہبی درس گاہوں میں اس کا صدیوں سے اہتمام چلا آ رہا ہے اور نئے آرڈیننس میں ان دونوں پہلووں کے درمیان فرق کی وضاحت ضروری ہے ورنہ یہ مسئلہ بھی وہی صورت اختیار کر سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں اس وقت دنیا کو درپیش ہے کہ دہشت گردی کی کسی سطح پر کوئی تعریف طے نہیں ہے اور اسے مکمل طور پر ابہام میں رکھا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے اس ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جس مخالف کو چاہتے ہیں، دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کا محاذ کھول دیتے ہیں۔ اسی طرح فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حدود اگر واضح طور پر طے نہ کی گئیں تو نہ صرف یہ کہ علم وتحقیق کے راستے مسدود ہو جائیں گے بلکہ یہ بات مکمل طور پر حکومت اور متعلقہ افسران کی صواب دید پر ہوگی کہ وہ جس مدرسہ کو چاہیں، فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دے کر اسے بند کرنے کا حکم جاری کر دیں۔
ہمارے خیال میں وفاق المدارس العربیۃ پاکستان اور دینی مدارس کے دیگر وفاقوں کی قیادتوں کو اس مسئلہ کے حوالے سے صورت حال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے اس کا فوری طور پر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ یہ بیورو کریسی کے ہاتھ میں دینی مدارس کے خلاف ایک ایسا ہتھیار ثابت ہوگا جس سے ملک کی تمام دینی درس گاہیں مکمل طور پر متعلقہ محکموں اور افسروں کے رحم وکرم پر ہوں گی اور دینی مدارس کی جس آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کی ایک عرصہ سے جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ فرقہ وارانہ تعلیم پر پابندی کی اس مبہم شق کے باعث بیورو کریسی کے ہاتھوں میں گروی ہو کر رہ جائے گی۔

ہم جنس پرستی کا سیلاب اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا محمد یوسف

معاشرے کی وہ حس تیزی سے کند ہوتی جا رہی ہے جو کسی نازیبا حرکت پر آتش زیرپا ہوجایا کر تی تھی اور اس حرکت کے مر تکب کے خلاف احتجاج کی ایک تند و تیز لہر بن کر ا بھرتی تھی۔ یہی و جہ ہے کہ دور حاضر میں لادینی قوتیں اپنے تمام ترمذموم ہتھکنڈوں کے ساتھ ہمارے گھر کی دہلیز پر ڈیرا جما ٰئے بیٹھی ہیں اور ہماری سوچ کے دھاروں کو اپنی تعفن زدہ فکر سے آلودہ کرنے کے لیے مصروف کار ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہماری بے حسی کے باعث لادینیت کی ا ن بپھری ہوئی موجوں نے ہمارے گھروں کا مو رچہ بھی سر کر لیا تو پھر آنے والی نسلوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ ہمارا حال تویہ ہے کہ جب مغرب کے ا س تہذیبی سیلاب کی کوئی تندوتیز لہر ہمارے دل و دما غ سے ٹکراتی ہے تو بس انفرادی سطح پر کوئی اکا دکا صداے احتجاج بلند ہوتی ہے اور وہ بھی وقت کے ساتھ خامو ش ہو جاتی ہے اور کاروبار زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر رواں دواں ہو جا تا ہے۔
مو رخہ ۱۲ ؍اگست ۲۰۰۵ کو روزنامہ پاکستان میں ’’گندے نالے پر ایک اورگھر ‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے ایک کالم کی وساطت سے معلوم ہوا کہ مغربی تہذیب کے زیر اثر .ہم جنس پرستی کی لہر باقاعدہ اور منظم طور پر ہمارے ملک میں داخل ہو چکی ہے اور اس کار بد کو پاکستان میں فروغ دینے کے لیے چار سنٹرز قا ئم ہو چکے ہیں۔ کالم کے مطابق پاکستان کے چاربڑے شہر کراچی، ملتان، لاہور اوراسلام آباد بچوں کی سیکس مارکیٹ بن چکے ہیں۔یہ"Gay sex centers" کہلاتے ہیں اور ان کی سرگرمیاں اور ان کے بارے میں معلومات کا طریقہ اتنا اوپن ہے کہMIRC چینل پرآپ net chat کر سکتے ہیں۔ "Gay Pakistani" سا ئٹ بالکل ویسے ہی آپریٹ کر تی ہے ، جیسے Gay America اور Gay India۔ اس سائٹ کو سرکاری یا غیر سرکاری طو ر پر کبھی Lock نہیں کیا گیا۔ راقم نے اس سا ئٹ کو خود چیک کیا ہے۔ جب آپ اس سا ئٹ پر جاتے ہیں تو آپ سے ASL یعنی Age, sex & Location پوچھا جائے گا۔ پھر Status یعنی Body, Weight & Color۔ یہ تفصیلات یوں دی اور لی جاتی ہیں جیسے منڈی سے کسی چوپائے کو خریدتے اور بیچتے ہوئے درکار ہوتی ہیں۔ پھر آئی ڈی کا تبادلہ کیا جا تا ہے، Contact لیا اور دیا جاتا ہے۔ ریٹ کبھی وہاں اور کبھی بعد میں موقع پر طے کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ عیاشی کو ہی زندگی کا مقصد اور حاصل سمجھتے ہیں۔ ان کی روشن خیالی یہیں سے شروع ہو تی ہے اور یہیں پر ختم ہو جا تی ہے ۔
یہ چھوٹی عمر کے غریب بروس [پیشہ ور] ملتان میں بسوں کے اڈے ، شاہ رکن عالم کالونی ، کھاد فیکٹری سے بہاول پور مظفر گڑ ھ بائی پاس ، پوری ایل شیپ پٹی ہے جہاں ٹین ایجرز دستیاب ہو تے ہیں۔ پولیس، ٹرک ڈرائیورز، دوسرے شہروں سے آنے والے تاجر اور عیاش زمین دار ان سے براہ راست رابطہ کر تے ہیں، جب کہ پڑھے لکھے اور امیر تاجر نیٹ پر رابطہ کرتے ہیں اور ہوٹلوں میں ملاقاتیں کرتے ہیں ۔
قارئین ! یہ ہے وہ طوفان جو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس ملک میں پھیلایا جا رہا ہے جب کہ اس کی روک تھام کے لیے نہ حکومتی سطح پر کو ئی باقاعدہ پلاننگ کی گئی ہے اور نہ عوامی سطح پر۔اس قبیح عمل کے پھیلاؤ کا ذمہ دار وہ نام نہاد مہذب معاشرہ ہے جس کو نہ صرف اپنی ہم جنس پرستانہ تہذیب پر فخر ہے بلکہ وہ اس شنیع فعل کو قانونی شکل دینے کے لیے بیتاب ہے۔ اس ضمن میں روزنامہ پاکستان میں ۳۱ ؍ مئی ۲۰۰۵ کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں :
برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں ہم جنس پرستوں کا ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس میں بعض اندازوں کے مطابق تقریباً بیس لاکھ افراد نے حصہ لیا ۔اگر یہ تعداد صحیح ثابت ہوئی تو یہ دنیا میں ہم جنس پرستوں کا سب سے بڑا جلوس ہو گا۔ ہم جنس پرستوں کا مطالبہ تھا کہ انھیں آپس میں شادی کا قانونی حق دیا جائے۔
ایک دوسری خبر کے مطابق ہم جنس پرستوں کے مطالبے کو تسلیم کر تے ہوئے ایک امریکی عدالت نے ان کو شادی کا قانونی حق دے دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
امریکی عدالت نے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دے دی ۔ نیو یارک کی اسٹیٹ کورٹ کے جج ڈورس لنگ کوہن نے اپنے فیصلے میں ہم جنس پرستوں کو شادی کا لائسنس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے فیصلے میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم جنس پرست بھی برابر کے بنیادی حقوق کے حامل امریکی باشندے ہیں اور ان کو مخالف جنس کے شادی شدہ جوڑوں کی طرح تمام قانونی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں جب کہ ہم جنس پرستی کے مخالفین ایسی شادیوں کو روکنے کے لیے آئینی ترامیم کے حق میں ہیں ۔پانچ ہم جنس پرست جوڑوں نے جن کے بچے بھی ہیں، ریاستی عدالت میں اپیل کی تھی۔ ( نوائے وقت لاہور، ۶ فروری ۲۰۰۵)
تیسری خبر میں کینیڈا کی اسمبلی کا ایک فیصلہ مذکور ہے جو پارلیمنٹ نے تقریباً ۸۰ فی صد اراکین کی متفقہ رائے سے منظور کیا:
کینیڈاکی پارلیمنٹ نے مذہبی گروپوں اور اعتدال پسند سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود ملک بھر میں ہم جنس شادیوں کی اجازت کے قانون کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی۔کینیڈا، بلجیم اور نیدر لینڈ کے بعد دنیا کا تیسرا ملک ہے جس کی ۱۵۸ رکنی پارلیمنٹ میں سے ۱۳۳ ارکان پارلیمنٹ نے ہم جنس شادیوں کی اجازت کے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ کینیڈا کے زیادہ تر صوبے پہلے ہی ہم جنس شادیوں کی اجازت دے چکے ہیں اور کینیڈا میں Gay اور لیزبئین جوڑوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں عام خیال پایاجاتا ہے جہاں پر ان کی یونین پر پابندی ہے۔اقلیتی لبرل حکومت نے کہاکہ اس نے ملک کے دس صوبوں میں سے آٹھ میں عدالت کی طرف سے ہم جنس شادیوں پر پابندی کوکینیڈاکے حقوق اور آزاد ی کے چارٹر کے منافی قرار دینے اور مستردکرنے کے بعد قانون تیار کیا ہے جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا اور پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے اس قانون کو پاس کیا ہے۔ کینیڈا Gayشادیوں اور دوسرے سماجی امور کے بارے میں لچک دار موقف رکھتا ہے جب کہ امریکہ میں صدر بش نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ ہم جنس شادیوں پر پابندی سے متعلق آئینی ترامیم کی حمایت کرے۔ (روزنامہ پاکستان لاہور، ۳۰ جون ۲۰۰۵)
نام نہاد مہذب دنیاکے قانون ساز اداروں اور عدلیہ کے ان ’’مبنی بر انصاف‘‘ قوانین اور فیصلوں کے متعلق اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
آئیے اس ناپاک اور خبیث عمل کے متعلق آسمانی تعلیمات کا جائزہ لے کر قانون الٰہی کے آئینے میں انسانیت کا مستقبل دیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ قانون الٰہی ہر قسم کے تغیروتبدل سے ماورا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
فلن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولن تجد لسنۃ اللہ تحویلا (فاطر : ۴۳)
’’اور تم اللہ کے قانون میں ہرگز نہ کوئی تبدیلی پاؤ گے اور نہ اس کا فیصلہ ٹل سکتا ہے۔‘‘
قرآن کریم میں مختلف قسم کی بد اعمالیوں اور برائیوں میں ملوث افراد اور ان برائیوں کو دیکھتے ہوئے ان کے بارے میں جانتے بوجھتے خاموش رہنے والوں کو بڑے عجیب انداز میں وعیدسنائی گئی ہے :
افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون O او امن اھل القری ان یاتیہم باسنا ضحی وھم یلعبون O افامنوا مکراللہ فلا یامن مکراللہ الا القوم الخسرون O (اعراف: ۹۷۔۹۹)
’’کیا پھر بھی ان بستیوں کے باسی اس بات سے بے فکر ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اس حال میں کہ وہ سو رہے ہوں ؟اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہو گئے ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں؟ کیا پھر وہ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہو گئے ہیں؟ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو، اور کوئی بے فکر نہیں ہوتے۔‘‘
دین اسلام زندگی میں جنس کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے لیکن اس کی تسکین کے لیے اسلام نے نکاح کا پاکیزہ نظام عطا کیا ہے۔ رشتہ ازدواج سے باہر مرد وعورت سے ہر قسم کے جنسی تعلق کو اسلام سخت ترین جرم قرار دیتا ہے جو موجب تعزیر ہے۔ جنس کے منحرف رویوں میں سب سے بدترین جرم، مرد کا مرد سے غیر فطری جنسی تعلق یعنی ہم جنس پرستی homosexuality ہے ،لیکن افسوس کہ ’’مہذب‘‘ دنیاکی مختلف پارلیمنٹوں نے اس جرم کے لیے باقا عدہ سند جواز عطا کر دی ہے۔ وہاں سماج کے ہر طبقے میں اس پرعمل کرنے والے موجود ہیں۔ اسلام اس غیر فطری فعل کو سخت ترین جرم اور گناہ قرار دیتا ہے ۔یہاں تک کہ اس کے دستور اساسی قرآن کریم میں ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کا اہم ترین نکتہ اس حرام کام کی اصلاح بیان کیا دیا گیا ہے۔
قرآن کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنس پرستی کا آغاز حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا ۔ان سے پہلے دنیا کی قوموں میں اس عمل کا عمومی معاشرتی سطح پر کوئی رواج نہ تھا ۔یہی بدبخت قوم ہے جس نے اس ناپاک عمل کو ایجاد کیا۔ اس سے زیادہ شرارت ،خباثت اور بے حیائی یہ تھی کہ وہ اپنی اس بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے بلکہ علی الاعلان فخر کے ساتھ اس کو سر انجام دیتے تھے۔اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیاہے:
ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشتہ ما سبقکم بھا من احد من العالمین O انکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النساء بل انتم قوم مسرفون O (الاعراف: ۱۸۰، ۸۱)
’’(اور یاد کرو) لوط کا واقعہ جس وقت اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم اس کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہوجسے تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ تم اپنی شہوانی خواہش کی تکمیل کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس آتے ہو۔ یقیناًتم حد سے گزرنے والے ہو ۔‘‘
قوم نے پیغمبر وقت حضرت لوط علیہ السلام کی نصیحت کو سن کر ان کا مذاق اڑایا اور شہر سے نکال دینے کی دھمکی دی اور ستم بالائے ستم یہ کہ عذاب الٰہی کا مطالبہ خود اپنی زبانوں سے کر دیا ۔قوم کے جواب کو قرآن کریم نے اس انداز میں نقل فرمایا ہے :
فما کان جواب قومہ الا ان قالو ا ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصادقین O (العنکبوت: ۲۹)
’’پس لوط کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے، تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے ۔‘‘
چنانچہ اس عمل بد کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا ۔قرآن میں مذکور ہے :
فلما جاء امرنا جعلنا عا لیھا سافلھا وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منضود O مسومۃ عند ربک وما ھی من الظا لمین ببعید (ہود: ۸۲، ۸۳)
’’پھر جب ہماراحکم آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو زیروزبر کر دیا اور ان پر کنکریلے پتھربرسائے جو تہ بہ تہ تھے، تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور یہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے ۔‘‘
درج بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل قبیح کا ارتکاب کرنے والے اور اس پرخاموش تماشائی بننے والوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ جیسے ہمارے عذاب کا کوڑا قوم لوط پر برسا، ایسے ہی تم لوگوں پر بھی برس سکتا ہے ۔اعاذنااللہ منہ 
قوم لوط کی یہ بستیاں (سدوم وعمورہ) اردن میں اس جگہ واقع تھیں جہاں آج بحر میت یا بحر لوط واقع ہے۔ یہاں پہلے سمندر نہیں تھا۔ جب قوم لوط پر عذاب آیا اور زمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور سخت زلزلے اور بھونچال آئے، تب یہ زمین تقریباً چار سو میٹر سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی ابھر آیا۔اسی لیے اس کا نام بحر میت یا بحر لوط ہے۔(قصص القرآن از مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی)
پیکر شرم وحیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں اس فعل بد پر شدیدترین وعید سنائی ہے اور اسے سخت ترین جرم قرار دیا ہے۔ ایک موقع پر فرمایا:
ملعون من عمل قوم لوط (رواہ الترمذی)
’’اس شخص پر لعنت ہے جو قوم لوط کا عمل کرے۔‘‘
لعن اللہ من عمل قوم لوط (مسند احمد)
’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پرلعنت کرتاہے جو قوم لوط کا عمل کرے۔‘‘
ان اخوف ما اخاف علی امتی عمل قوم لوط (رواہ الترمذی وابن ماجہ)
’’سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت پر خطرہ (اندیشہ) ہے، وہ قوم لوط کا عمل ہے۔‘‘
مختلف احادیث میں اس عمل کی مختلف سزائیں بیانکی گئی ہیں ۔حضرت عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من وجدتموہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلو الفاعل والمفعول بہ (رواہ ابو داود)
’’جس کسی کو تم قوم لوط کاعمل کرتے ہوئے پاؤ تو اس حرکت کے کرنے والے اور جس کے ساتھ یہ حرکت کی جارہی ہو، دونوں کی گردن اڑادو۔ ‘‘
اس مضمون پر اور بیسیوں روایات موجود ہیں لیکن اہم ترین حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کی بیان کردہ روایت ہے ۔فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ہمیں ایک روز خطبہ دیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مدینہ میں آخری خطبہ تھا ۔اس کے بعد آپ اپنے پروردگارکے پاس چلے گئے۔ آپ نے مبارک وعظ میں فرمایا:
من نکح امراۃ فی دبرھا او رجلا او صبیا حشر یوم القیامۃ وریحہ انتن من الجیفۃ یتاذی بہ الناس حتی یدخل النار واحبط اللہ اجرہ ولا یقبل منہ صرفا ولا عدلا ویدخل فی تابوت من النار۔
’’جس کسی نے اپنی بیوی یا کسی مرد یا کسی لڑکے کے ساتھ پچھلی طرف سے بد فعلی کی ، قیامت کے روز اس کے جسم کی بدبو مردار کی بدبو سے زیادہ ہو گی جس کی وجہ سے لوگ سخت اذیت محسوس کریں گے، یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اللہ تعالی اس کے اجر کو ضائع کر دیں گے اور اس کی فرض عبادت یا نفلی عبادت قبول نہ ہو گی۔ جہنم میں اسے آگ سے بنے ہوئے صندوق میں رکھا جائے گا۔‘‘
حضر ات صحابہ کرام سے ایسے مجرم کے سلسلے میں مختلف سزائیں منقول ہیں، مثلاً آگ میں جلادیا جائے، نیچے کھڑاکرکے اس کے اوپر دیوار گرا دی جائے، کسی بلند مقام سے اسے اوندھے منہ گرا دیا جائے ،اور اس کے ساتھ ہی اس کے اوپر پتھروں کی بارش کر دی جائے ،وغیرہ۔ 
قرآن وحدیث کے علاوہ دیگر آسمانی کتب نے بھی اس عمل قبیح کی شدید مذمت کی ہے ۔ تورات میں اس کی مذمت ان الفاظ میں آئی ہے:
’’اور اگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو ان دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے۔ سو وہ دونوں ضرور جان سے مارے جائیں۔ ان کا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔‘‘ (احبار، ۲۰ : ۱۳)
قارئین کرام! آپ نے درج بالا دلائل وبراہین کی روشنی میں ہم جنس پرستی کے قبیح ہونے کے متعلق آسمانی تعلیمات کامطالعہ کیااور اس فعل بد کاارتکاب کرنے والوں کے انجام سے با خبر ہوئے۔ اب انصاف کاتقاضا یہ ہے کہ آسمانی تعلیمات کا ہر حقیقی پیروکار، خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی اس عمل قبیح کی روک تھام کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔ تاہم جو لوگ خود کو آزاد خیال تصور کرتے ہیں، ان پر بھی لازم ہے کہ وہ انسانی معاشرے کی فلاح وبہبود کے لیے اس معاشرتی برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کریں کیونکہ صرف اس صورت میں ایک فلاحی انسانی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔
ہم جنس پرستی جس طرح انسان کی روحانی زندگی کے لیے سم قاتل ہے، ایسے ہی انسان کی جسمانی زندگی کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق Aids ایک ایسی بیماری ہے جو اس بد چلنی کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔یہ ہمارے جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس بیماری نے حال ہی میں ان تمام ممالک میں تہلکہ مچادیا ہے جن میں ہم جنس پرستی اور فحاشی کو برا نہیں جاناجاتا ہے۔یہ چھوت کی بیماری ہے ،جو ایک سے دوسرے کو لگتی ہے اور اس بیماری کے وائرس کو (LAY) Human lyphadenopathy virus کہاجاتاہے۔ اس بیماری کواس وقت تک کنٹرول نہیں کیا جا سکتاجب تک اس فعل بد اور فحاشی کو ختم نہ کیا جائے، لیکن افسوس صد افسوس اس برے عمل کو ختم کرنے کی بجائے مختلف NGOs کی طرف سے safe sexکے نام پر اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے مختلف پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں اور مختلف ادویات متعارف کروائی جاتی ہیں تاکہ یہ عمل زیادہ ’’اچھے‘‘ اور ’’مطمئن‘‘ انداز میں فروغ پاسکے۔
شاید دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ مختلف قسم کی ادویات کے ذریعے سے ہم جنس پرستی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو کنٹرول کرکے اس فعل قبیح کی قباحت وشناعت کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ safe sex  کی اس مہم کے ذریعے سے نہ ہم جنس پرستی کی شناعت کم ہو گی ،اور نہ ا س کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میں کوئی کمی ہی آئے گی۔ایسا تو ممکن ہے کہ ادویات کے ذریعے کسی ایک بیماری کو کنٹرول کر لیا جائے لیکن جلد ہی اس سے بھی مہلک کوئی اور بیماری ظاہر ہو کر میڈیکل سائنس کے لیے چیلنج بن جائے گی کیونکہ جب تک بیماریوں کی جڑ یعنی ہم جنس پرستی اور فحاشی اور عریانی کو معاشرے سے نہیں اکھاڑ پھینکا جائے گا، اس وقت تک بیماریاں ظاہر ہوتی رہیں گی ۔اس ضمن میں مخبر صادق جناب نبی کریمﷺ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں:
لم یظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بھا الا مشی فیھم الطاعون والاوجاع التی لم تکن مضت فی اسلافھم الذین مضوا ( رواہ ابن ماجہ)
’’جب کسی قوم میں فحاشی اور عریانی ظاہر ہو جائے اور وہ اس کو علانیہ کرنے لگے تو ان میں طاعون کی بیماری پھیل جائے گی اور ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہونگی جو ان کے آباؤ اجداد میں نہ تھیں۔ ‘‘
درج بالا حدیث میں نت نئی بیماریوں کا بنیادی سبب فحاشی اور عریانی کو قرار دیا گیا ہے۔کاش! ہمارے ارباب اقتدارکو بھی یہ بات سمجھ میںآجائے کہ نت نئی بیماریوں کو صرف ہسپتالوں، جدید میڈیکل انسٹی ٹیوٹس یا میڈیکل ٹریننگ سنٹرز کے قیام کے ذریعے سے ختم نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ بنیادی سبب ،عریانی وفحاشی کے خاتمہ کی کو ئی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے۔
ہم جنس پرستی کی لعنت نے جدید نام نہاد مہذب دنیا میں کیا تہلکہ مچایاہے، اس کا اندازہ ایک امریکی اداکار راک ہڈسن کے درج ذیل واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
راک ہڈسن ایک امریکی اداکار تھا۔ وہ بڑا خوبصورت اور جوان تھا۔ بہت بڑا ایکٹر تھا اور کروڑوں میں کھیلتا تھا۔ اس کی بنیادی دلچسپی ہم جنسیت سے تھی اور وہ غیر فطری افعال کا مرتکب ہو تارہتاتھا۔ اس نے رواج کے مطابق شادی بھی کی۔ چونکہ جنس مخالف سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی، اس لیے وہ شادی جلد ہی ختم ہو گئی۔ اس نے غیر فطری افعال کے لیے اپنے ہی جیسے متعدد افراد سے جنسی تعلقات رکھے ہوئے تھے جن میں سے کسی سے اسے ایڈز کی بیماری لاحق ہو گئی۔ بیماری کی تشخیص کے بعد وہ تقریباً تین سال زندہ رہا مگر یہ تین سال ایک عام زندگی کے نہ تھے۔ وہ اکثر بیمار رہتا تھا۔ اس کے وزن میں چالیس پونڈ کمی ٓا گئی۔ بات چیت کے دوران بھی اسے سانس چڑھ جاتا تھا۔ اسے روزانہ نت نئی تکالیف گھیرتی رہتیں۔ جب وہ سیر کے لے پیرس گیا تو اس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی۔ وہاں اسے ایک ایسے ہسپتال میں داخل کیا گیا جو صرف ایڈز کا علاج کرتا تھا، لیکن وہاں پر صرف فرانسیسی مریض داخل کیے جاتے تھے۔ امریکا کے صدرکی اہلیہ (نینسی ریگن) نے فرانس کے صدر سے ذاتی التماس کی اور راک ہڈسن اس خصوصی شفاخانہ میں داخل ہوا۔ کافی عرصہ زیرعلاج رہنے کے بعد وہ جان کنی کی کیفیت میں امریکالایاگیا جہاں اس کی موت واقع ہوئی۔ اس کی رفیقہ کارالزبتھ ٹیلرنے اس کی موت پر ایڈز کے خلاف تحقیقاتی کام کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے فنڈمیں چالیس لاکھ ڈالر جمع کرکے دیے ۔اس کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد ایک نوجوان نے امریکی عدالت میں دعویٰ کیاکہ راک ہڈسن کے اس کے ساتھ غیر فطری تعلقات رہے ہیں۔ چونکہ راک ہڈسن ایڈز سے مرا ہے،اس لیے اندیشہ موجود ہے کہ مدعی کو بھی غالباً ایڈز ہو جائے گی۔ اس لیے عدالت اسے راک ہڈسن کی جائیداد میں سے ہرجانہ دلوائے۔عدالت نے مدعی کی ذہنی اذیت اور دہشت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو چار لاکھ ڈالر بطور ہرجانہ اور معاوضہ دلوائے۔ (امراض جلداور علاج نبویﷺ،ڈاکٹرخالد محمود غزنوی )
یہ تو صرف ایک واقعہ ہے۔نہ جانے ہم جنس پرستی کی اس لعنت نے کتنے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ ان تکلیف دہ حالات میں ہر مسلمان کی خصوصی اور درد دل رکھنے والے اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے متمنی افراد کی یہ عمومی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے دائرہ کار میں انفرادی واجتماعی سطح پر ہم جنس پرستی کے نقصانات کو اجاگر کرکے اس کے خلاف بھر پور کردار ادا کریں۔اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں :
۱۔ قومی اخبارات، رسائل وجرائد،خصوصاً مذہبی رسائل ہم جنس پرستی کے متعلق آسمانی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قلم کی قوت عطافرمائی ہے، وہ اس نعمت کا شکریہ اداکرتے ہوئے اس کے ذریعے سے ہم جنس پرستی کے خلاف بھر پورآواز بلند کریں۔
۲۔ وارثان منبر ومحراب اپنے دروس، جمعۃالمبار ک کے خطبات اور نجی محافل میں عامۃالناس کو ہم جنس پرستی کے تصور،اس کے آغاز ،اس کے نقصانات اور اس کے نتیجے میں قوم لوط کی تباہی وبربادی کے متعلق آگاہ کریں اور انہیں اخلاقی طور پر آمادہ کریں کہ وہ اپنے نونہالوں کو جو کہ ان کا بھی اور پاکستان کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا بھی مستقبل ہیں، بلیرڈگیمز کی دوکانوں ، ویڈیو گیمز کے مراکز، سنوکر کلبوں ، تھیٹرز ، منی سینماز اور دیگر ایسے مقامات میں جانے سے روکیں جہاں ہر طبقے ،ہر عمر اور ہر مزاج و فطرت کے لوگ جمع ہوکر مختلف قسم کی گیمز کھیلتے ہیں۔
۳۔ تعلیمی درس گاہیں، خواہ وہ دینی ہوں یا عصری ، اس ضمن میں طلبہ کی فکری تربیت کرتے ہوئے انھیں ہم جنس پرستی کی حقیقت اور اس کے دینی و دنیاوی نقصانات سے روشناس کرائیں ۔ یہ بات یقینی ہے کہ مختلف NGOs کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے مقابلے میں تعلیمی اداروں کی تھوڑی سی کاوش بھی بہترین نتائج کا باعث بنے گی۔
۴۔ جدوجہد کا ایک دائرہ کار یہ بھی ہے کہ حضرت لوط کی قوم کی تباہی کا مکمل قرآنی واقعہ،اس برائی کی مذمت میں مذکور احادیث نبویہ،اس برائی کے روحانی اور طبی نقصانات کو کتابچے کی صورت میں شائع کرواکر عامۃالناس میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔
امت مسلمہ ہی نہیں، بلکہ ہر وہ شخص جو آسمانی تعلیمات کی حقانیت و صداقت پر یقین رکھتا ہے اور ہر وہ شخص جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا حامی ہے، اسے اس برائی کے خلاف اپنا پورا کردار ادا کرنا چاہیے۔
قارئین !آخر میں ہمیں کچھ وقت کے لیے پوری قوت فکر کو مجتمع کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کہیں بحرلوط کی کوئی طوفانی لہرپھر انسانیت کا پیچھا تو نہیں کر رہی؟یہ سوچتے ہوئے یہ فرمان الہٰی بھی پیش نظر رہے: وما ھی من الظالمین ببعید (سورہ ہود) ’’اور قوم لوط کی یہ (تباہ وبرباد ہونے والی )بستی ان ظالموں سے دور تو نہیں ۔‘‘

تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت

یوسف خان جذاب

جولائی ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں شاہ نواز فاروقی صاحب کی تحریر، جو انھوں نے پروفیسر شاہدہ قاضی کے مضمون ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ کے جواب میں لکھی ہے، نظر سے گزری۔ پروفیسر شاہدہ قاضی صاحبہ نے اپنے مذکورہ مضمون میں جو کچھ لکھا، اس سے کلی اتفاق تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن انگریزی کے اس فقرے کے مصداق کہ: Allegations are not facts, but they are based on facts، (الزامات حقائق تو نہیں ہوتے، لیکن حقائق پر مبنی ضرور ہوتے ہیں) ان کے مضمون کے سمندر میں حقائق کے موتی تہہ نشیں تھے جس سے ان کی حب الوطنی، اسلام سے ان کے لگاؤ اور حقیقت پسندی پر ان کے غیر متزلزل ایمان کا اندازہ ہوا۔ شاہ نواز صاحب نے اس کے جواب میں جو کچھ لکھا ہے، میرے خیال میں کوئی سنجیدہ قاری اس کی داد نہیں دے گا۔ ان کا مضمون استدلالی کم اور جذباتی زیادہ ہے اور اس کے بعد دعویٰ، جواب دعویٰ سے زیادہ مضبوط دکھائی دینے لگا ہے۔ تاہم اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ جب امت مرحومہ کی مجموعی حالت تحت الثریٰ کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچی ہوئی ہو، اس وقت ان جیسے مضامین کا ملی نغمے ثابت ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ایسے وقت میں حقائق کی نقاب کشائی اپنے آپ کو قعر مذلت میں پھینکنا ہے۔ پروفیسر صاحبہ شاید یہ سب کچھ قصداً کر رہی ہیں، اسی لیے میں نے ان کے نام کے ساتھ چند صفتی نام لگا دیے ہیں، ورنہ فاروقی صاحب نے تو انھیں انگریز پرست، تاریخ سے ناآشنا اور مسلم واسلام دشمن جیسے القابات سے نوازا ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، فاروقی صاحب کا جوابی مضمون جذباتی زیادہ اور مدلل کم تھا۔ اس کی پہلی مثال لیجیے۔ لفظ Myth کے بارے میں پروفیسر صاحبہ نے لکھا تھا کہ یہ خیالی پلاؤ، افسانہ ماضی، یا بلند پرواز ی تخیل انسان کا دوسرا نام ہے۔ یہی اس لفظ کی مشہور ومعروف تعریف ہے۔ Oxford Adnvanced Learner's Dictionary میں متھ کی تعریف یوں کی گئی ہے:
(1) A story from ancient times. (2) Something that many people believe but that does not exist or is false. 
متھالوجی کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے:
Ideas or facts that many people think are true but that do not exist or are false. 
ہر جگہ متھ کی اس معروف تعریف کو مد نظر رکھا جاتا ہے، لیکن فاروقی صاحب نے اس کو آنند کمار سوامی کی اس تعریف کی بنیاد پر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’ایک ایسی حقیقت جس کی حقیقی معنویت وتعریف گم ہو گئی ہو۔‘‘ یہ علم کی دنیا ہے جس میں جیت ہمیشہ استدلال کی ہوتی ہے۔ قارئین خود سوچیں کہ ’’متھ‘‘ جھوٹ کے معنی میں معروف ہے یا کسی ایسی حقیقت کے معنی میں جس کی معنویت پنہاں ہو چکی ہو؟ خود فاروقی صاحب نے پروفیسر شاہدہ صاحبہ کی جن باتوں کو غلط ٹھہرایا ہے، انھیں متھ قرار دیا ہے۔ اس طرح انھوں نے لاشعوری طور پر آنند کمار سوامی کے بجائے پروفیسر صاحب کی پیش کردہ تعریف کو درست مان لیا ہے۔
فاروقی صاحب نے آنند کمار سوامی کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ متھ کی حقیقی معنویت کی بحالی کے ذریعے اسے زندہ حقیقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ میں بڑے احترام سے درخواست کروں گا کہ فاروقی صاحب ہندو متھالوجی یا یونانی متھالوجی کے کسی کردار کو حقیقی معنویت کی بحالی کے ذریعے زندہ حقیقت میں تبدیل کر کے اپنے اصول کی کوئی ایک مثال پیش فرما دیں۔
شاہ نواز صاحب نے پروفیسر صاحبہ کی اس بات کے جواب میں کہ ہمارے پاس Proper Myth نہیں ہے، لکھا ہے : ’’پہلا متھ تو یہ ہے کہ ہمارے پاس مناسب اساطیری سرمایہ نہیں ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس غیر مناسب اساطیری سرمایہ بھی نہیں ہے، بلکہ ہماری تاریخ میں Myth لفظ کا سایہ تلاش کرنا بھی محال ہے۔ یعنی ہماری تاریخ میں متھ لفظ نہ غلط معنوں میں موجود ہے نہ صحیح معنوں میں۔‘‘
متھ کے لفظ کی عدم موجودگی اس حقیقت کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہمارے ہاں Myth کا تصور بھی پہلے سے موجود نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں لفظ Myth انگریزی زبان سے آیا ہے، تاہم متھ کا جو تصور ہے، وہ ہم پہلے سے اپنے مذہبی، ملی، قومی اور صوفیانہ کرداروں کے گرد بمثل ’’ہالہ‘‘ موجود پاتے ہیں۔ ہمارا صوفیانہ ادب ہماری بہترین متھالوجی ہے۔ صوفیاء کرام سے متعلق قصے کہانیاں Myths نہیں تو اور کیا ہیں؟ آخر اس بات کا کون یقین کرے گا کہ ایک صوفی صاحب کی کرامت نے چالیس سال بعد سمندر میں غرق ہونے والی ایک کشتی کے سواروں کی جانیں انھیں لوٹا دیں، یا ایک صوفی کے لیے گوشت نہ بھوننے پر اہل ملتان پر عذاب الٰہی کے نتیجے میں سورج کو نیچے آنا پڑا، یا سمندر کو اس کی سرکشی کی بنا پر کچکول میں بند کر دیا گیا؟ 
اس سے فاروقی صاحب کی یہ بات بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ متھالوجی معروف معنوں میں ماقبل تاریخ کی کوئی چیز ہے۔ اگر مسلمان زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ نہیں ہوتے تو بائیسویں صدی عیسوی میں بھی ان کے ہاں بہترین متھالوجی ملے گی۔ مسلم تاریخ واقعی شاندار شخصیتوں اور ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہے، لیکن یہ بھی ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم تنزل وانحطاط کے راستے پر گام زن ہو جاتی ہے تو وہ ماضی میں جینے کی کوشش کرتی ہے اور بات بات پر عظمت رفتہ کا حوالہ دیتی ہے، کیونکہ ان کی اپنی زندگیاں عمل سے تہی دامن ہوتی ہیں۔ اسلام ایک پرکشش مذہب ہے اور اس نے مختلف تہذیبوں پر اپنے اثرات ثبت کیے ہیں، لیکن یہاں Give and take کا اصول کارفرما ہے۔ اگر ہندو معاشرت پر اسلام نے اثرات مرتب کیے ہیں تو کیا برصغیر کی مسلم معاشرت میں ہندو روایات کی آمیزش فاروقی صاحب کو دکھائی نہیں دیتی؟ کیا طریقت، اسلام کے ساتھ ویدانت اور نوفلاطونیت کی پیوند کاری نہیں ہے؟ مسلمانوں میں ذات پات کے نظام کے بیج کس نے بوئے ہیں اور ان میں توہمات کی شب تاریک کس نے بسائی ہے؟
پروفیسر صاحبہ نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ہم اپنے سپر ہیروز کی شخصیت اور کارناموں کو اوائل عمر ہی سے اپنے بچوں کے ذہنوں میں انڈیلنے لگتے ہیں۔ اس کے جواب میں فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ بھارت اور امریکہ میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس پر میرا سوال بس یہ ہے کہ کیا اغیار کا کوئی ناجائز کام ہمیں سند جواز عطا کر سکتا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو فاروقی صاحب ذرا ’’امت وسط‘‘ کی تشریح فرما دیں۔
پروفیسر شاہدہ صاحبہ کا ذکر کردہ پہلا افسانہ یہ تھا کہ ’’ہماری تاریخ ۷۱۲ء سے اس وقت شروع ہوئی جب محمد بن قاسم نے برصغیر میں قدم رکھا اور دیبل کا ایک حصہ فتح کر لیا۔‘‘ انھوں نے لکھا تھا کہ یہ محض ایک افسانہ ہے اور یہ علاقہ مذکورہ حملے سے پہلے شاندار تہذیبوں کا مرکز تھا۔ اس کے جواب میں فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ موئنجو داڑو اور ٹیکسلا کی تاریخ مردہ ہے اور ہماری تاریخ زندہ۔ تاریخ کی یہ تقسیم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس تقسیم کی رو سے ہماری سلطنت اور اندلس کی اسلامی سلطنت بھی ’’مردہ تاریخ‘‘ کے کھاتے میں چلی جاتی ہیں۔ فاروقی صاحب نے مذکورہ علاقوں کی چھ ہزار سالہ تاریخ کو اس وجہ سے بے معنی ٹھہرایا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اسلام کی جاذبیت نے وہاں کے لوگوں کو متاثر کیا، لیکن فقط تبدیلی مذہب کی بنیاد پر کسی تہذیب کو بے معنی نہیں قرار دیا جا سکتا، ورنہ تاریخ شاہد ہے کہ عیسائیوں نے جب اندلس کو فتح کیا تو وہاں بھی تبدیلی مذہب کا عمل بہت پڑے پیمانے پر ہوا۔ کیا فاروقی صاحب کی خود ساختہ تقسیم کے مطابق اب وہاں کی مسلم تاریخ مردہ قرار پائے گی؟
فاروقی صاحب نے اسی افسانے کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’محمد بن قاسم ۷۱۲ء میں آئے۔ اس وقت اس علاقے میں چند ہزار مسلمان تھے۔ آج ۲۰۰۵ء ہے اور علاقے میں مسلمانوں کی آبادی پچاس کروڑ سے زائد ہے۔ کیا یہ معجزہ نہیں ہے؟‘‘ اس دعوے کے جواب میں فقط اتنا کہنا کافی ہوگا کہ فاروقی صاحب اس عرصے میں اس علاقے کی ہندو، سکھ اور عیسائی آبادی میں ہونے والے اضافے کو بھی پیش نظر رکھیں۔
فاروقی صاحب نے لکھا ہے: ’’میڈم کو یہ تسلیم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے کہ راجہ داہر بھی ظالم ہو سکتا ہے۔‘‘ یہاں فاروقی صاحب نے پروفیسر صاحبہ کے فقروں سے غلط نتیجہ اخذ کیا ہے۔ پروفیسر صاحبہ نے فقط اتنا لکھا تھا کہ ’’معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اس کا آغاز محمد بن قاسم سے ہوگا۔ ان کی آمد سے پہلے یہاں کیا تھا؟ جی ہاں، ظالم اور جابر ہندو راجے مثلاً راجہ داہر اور مظلوم اور اجڈ عوام جو بے چینی سے کسی آزاد کنندہ کے منتظر تھے۔‘‘
ان فقروں سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ راجہ داہر کے ظالم قرار پانے سے میڈم کو تکلیف ہوتی ہے؟ انھوں نے ایک عمومی بات لکھی ہے اور پھر ایک مثال راجہ داہر کی پیش کر دی ہے۔ فاروقی صاحب بھی تو ان لوگوں کے مہذب اور تعلیم یافتہ ہونے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور ہندووں کی تاریخ سے رام کا زمانہ بطور عبرت پیش کرتے ہیں کہ یہ ظلم اور بربریت کا دور تھا۔ 
پروفیسر شاہدہ صاحبہ نے اس مشہور ومعروف تصور کو ایک افسانہ قرار دیا تھا کہ ’’محمد بن قاسم مظلوم بیواؤں اور یتیم لڑکیوں کی مدد کے لیے انڈیا آئے تھے۔‘‘ جواب میں فاروقی صاحب نے میڈم کے اس تبصرے کو تسلیم کیا ہے کہ یہ زمانہ اسلامی سلطنت کی توسیع کا زمانہ تھا اور پھر لکھا ہے کہ ’’مسلمان اس دور کی واحد عالمی طاقت تھے۔ دوسری جانب میڈم کو یہ تسلیم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے کہ وقت کی عالمی طاقت اپنی ہم عقیدہ مظلوم عورتوں اور بچیوں کی مدد کے لیے نہیں آ سکتی تھی۔‘‘ جب ہم کسی سلطنت کے لیے ’’توسیع‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سلطنت کے حکمران اپنی سلطنت کے پھیلاؤ کے لیے ہر جائز وناجائز طریقہ استعمال کریں گے۔ یہ لفظ Negative sense میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں حکومت توسیع پسندانہ عزائم رکھتی ہے تو یہ ایک منفی اور ناقدانہ تبصرہ ہوتا ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ اس وقت مسلمان واحد عالمی طاقت تھے، لیکن کیا عالمی طاقت اور اخلاقیات کا چولی دامن کا ساتھ ہے؟ مسلمانوں کے عالمی طاقت ہونے سے یہ بات کیسے لازم آتی ہے کہ وہ کسی ملک پر فقط اس صورت میں چڑھائی کریں گے جب وہاں ان کے ہم عقیدہ لوگوں سے زیادتی ہی ہو رہی ہو؟ مسلمانوں کا توسیعی عزائم کے تحت ہندوستان پر حملہ آور ہونا کوئی استثنائی واقعہ نہیں ہے۔ انسانی جبلت کے تحت دنیا کی دوسری قوموں کی طرح مسلمانوں نے اقتدار کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا ہے؟
فاروقی صاحب نے اسی تناظر میں آگے لکھا ہے کہ ’’انھیں (مسلمانوں کو) قرآن مجید کا حکم ہے کہ مسلمان جہاں کہیں بھی مظلوم ہوں، ان کی مدد کرو۔‘‘ فاروقی صاحب کو اسلام اور مسلمانوں میں فرق کرنا چاہیے۔ زندگی کا کون سا شعبہ ہے جس میں مسلمانوں نے اطاعت شیطان کا شیوہ نہیں اپنایا ہے؟ میں جب بھی سورۃ البقرۃ پڑھتا ہوں تو جو خامیاں اس وقت کے بنی اسرائیل میں موجود تھیں، وہی مجھے عصر حاضر کے مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ اگر مسلمانوں نے ہر دور میں قرآنی تعلیمات ہی کو مشعل راہ بنایا ہے تو سلطنت خوارزم کا شیرازہ بکھرنے پر التمش کی مضبوط حکومت ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے کیوں نہ اٹھ کھڑی ہوئی؟
فاروقی صاحب غیر ضروری طور پر ان مبہم واقعات کو اسلام اور اخلاقیات کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول صحابہ کرام نے اپنے وقت کی دو عالمی طاقتوں قیصر وکسریٰ پر حملے کے لیے بہانہ نہیں تراشا۔ یہاں پھر فاروقی صاحب نے ٹھوکر کھائی ہے۔ جہاں تک صحابہ کرام کی جماعت کا تعلق ہے تو وہ توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے بجائے اتمام حجت کی بنیاد پر ان طاقتوں پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس طرح عالمی سطح پر دینونت خداوندی کا ایک نمونہ پیش کیا تھا ۔ بعد کے مسلم حکمران اس کے مکلف نہیں تھے۔ ان کی جنگی مہمات کے حقیقی محرکات فاروقی صاحب کے اس جملے سے سمجھے جا سکتے ہیں: ’’اگر راجہ داہر مسلمان عورتوں اور بچیوں کو اغوا نہ کرتا تو ہو سکتا ہے مسلمان کچھ عرصہ اور سندھ کا رخ نہ کرتے۔‘‘ اس جملے میں ’’کچھ عرصہ‘‘ کے کوزے میں ایک سمندر مقید ہے۔
تیسرے افسانے میں فاروقی صاحب کو پروفیسر صاحبہ کی یہ بات ناگوار گزری ہے کہ محمود غزنوی نے سومنات پر دولت کی خاطر حملے کیے تھے۔ جہاں پروفیسر صاحبہ کے پاس اپنے دعوے کو موکد کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں، وہاں فاروقی صاحب کے پاس بھی اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں کہ محمود غزنوی نے اسلام کی اشاعت کو مدنظر رکھ کر سومنات پر حملے کیے۔ محمود بلاشبہ بت شکن تھا جس پر فاروقی صاحب کو ناز ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا یہ عمل قرآن وسنت کی رو سے کیا حیثیت رکھتا ہے؟
فاروقی صاحب نے آریاؤں کے Invader ہونے کو محمود کے حملوں کے لیے وجہ جواز بنایا ہے۔ میں اپنا یہ سوال پھر دہراؤں گا کہ کیا آریاؤں کا غلط طرز عمل محمود غزنوی کے لیے جواز کی بنیاد بن سکتا ہے؟ شاہ نواز صاحب ہمیں ایک عجیب وغریب کلیے سے نواز رہے ہیں۔ اگر ’’جواز برائے جواز‘‘ کا یہ کلیہ درست ہے تو آخر انگریزوں کو استعماری قوتیں کہہ کر ان پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟
پروفیسر صاحبہ اور فاروقی صاحب کے مابین اس بات پر اختلاف ہے کہ اسلام، صوفیا کی محبت اور رواداری کی وجہ سے پھیلا یا صوفیا وعلما کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ تلوار کے سایے میں پروان چڑھا۔ گو کہ مختلف علاقوں میں اسلام صوفیا، علما اور حکمرانوں کی مجموعی کوششوں سے پھیلا، تاہم متوازن رائے یہ ہے کہ اسلام کو ہمیشہ محبت، رواداری اور درگزر جیسی صفات کی وجہ سے قبول عام حاصل ہوا۔ اس کی مثال موجودہ دور میں امریکہ میں اسلام کی اشاعت ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ایک لاکھ لوگ مشرف باسلام ہوتے ہیں۔ کیا وہاں تبدیلی مذہب کا یہ عمل کسی سیاسی قوت کا مرہون منت ہے؟
متھ نمبر ۴ میں اورنگ زیب کے متقی ہونے، ٹوپیاں سینے اور قرآن مجید کے قلمی نسخے فروخت کرنے کی بات ہوئی ہے۔ پروفیسر صاحبہ نے اورنگ زیب کے متقی ہونے کو ان اعمال کی بنیاد پر چیلنج کیا ہے کہ اس نے اپنے باپ کو جیل میں ڈالا اور اپنے بھائیوں کو قتل کرا دیا۔ فاروقی صاحب نے ان حقائق پر اورنگ زیب عالمگیر کی جانب سے معذرت کی ہے۔ کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ ان ذاتی اعمال کے سلسلے میں اورنگ زیب کی طرف سے ایک دوسرا شخص کیسے معذرت کر سکتا ہے؟ تلک امۃ قد خلت۔ 
متقی کا مفہوم سمجھاتے ہوئے انھوں نے پروفیسر صاحبہ کو مشورہ دیا ہے کہ ’’میڈم کو ایسا کرنے سے پہلے کسی لغت میں تقویٰ کے معنی دیکھ لینے تھے۔ انھوں نے یہ زحمت کر لی ہوتی تو انھیں اورنگ زیب عالمگیر کے تقویٰ اور عمل میں تضاد نظر نہ آتا۔‘‘ میرے خیال میں اس مشورے کے مستحق خود فاروقی صاحب زیادہ ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو جیل میں ڈالنے اور اپنے بھائیوں کو قتل کرانے کے بعد بھی متقی رہ سکتا ہے تو تقویٰ کا یہ مفہوم کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
باقی رہی ٹوپیوں اور خطاطی کے بارے میں پروفیسر صاحبہ کے Would سے شروع ہونے والے فقروں کی بات تو یہ اعتراضات Common Sense کی بنیاد پر اٹھائے گئے ہیں، اس لیے ان کو ایسے ہی الفاظ سے شروع ہونا چاہیے۔ اورنگ زیب کا سارا وقت جنگ وجدل میں گزرا۔ اسے ان کاموں کی فرصت کب ملی؟ کیا وہ حکمران بننے سے پہلے یہ کام کر چکا تھا یا تخت نشینی کے بعد اس کا مزاج بدل گیا تھا؟ پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمان بابا، جن پر سماجی حالات سے چشم پوشی کا الزام ہے اور جن کے کلام میں اورنگ زیب کے سوا کسی کی مذمت نہیں ہے، کہتے ہیں: ’’اورنگ زیب فقیر منش آدمی تھا جو عاجزی کی وجہ سے ٹوپی پہنا کرتا تھا، لیکن جب تاج سر پر سجایا تو ٹوپی کو بالائے طاق رکھ دیا۔‘‘
اورنگ زیب کی تخت نشینی کے سلسلے میں پانڈو اور کورو کے واقعات کو وجہ جواز بنانا اور انھیں اسلامی رنگ میں رنگنا فاروقی صاحب ہی کی ذہانت کا کمال ہے۔
پانچویں متھ میں ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے سلسلے میں پروفیسر شاہدہ قاضی صاحبہ اور فاروقی صاحب ، دونوں نے سرسید کے حوالے سے ایک ایسی بات کہی ہے جسے بہرصورت غیر ذمہ دارانہ اور غیر علمی قرار دیا جائے گا۔ سرسید اپنے زمانے کے مہدی تھے۔ انھوں نے حالات کے تقاضوں کو سمجھا اور جو کچھ بھی کیا، مسلمانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔ ان کے کٹڑ مخالفوں نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ تھے۔ سرسید کی علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی خدمات سے چشم پوشی کرنا اپنی نادانی پر مہر ثبت کرنا ہے۔ ان کی علمی وادبی خدمات پر تو سب متفق ہیں۔ مذہبی لحاظ سے وہ آج بھی روشن خیالوں کے امام ہیں۔ جو لوگ ان کی سیاسی پالیسی کے مخالف ہیں، انھیں وطن عزیز پاکستان سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ انھوں نے صحیح معنوں میں پاکستان کی بنیاد رکھی ہے۔ وہ ایک دور اندیش مفکر تھے جنھوں نے حالات کا غیر متعصبانہ جائزہ لیا اور مسلمانوں کے لیے درست سمت کی نشان دہی کی۔ ان کا موقف تھا کہ انگریزوں کا مقابلہ ان ہی کے متعارف کردہ ہتھیار یعنی جدید تعلیم سے کیا جا سکتا ہے۔ سرسید سے پہلے تعلیم کے حوالے سے برصغیر کے لوگ دو دھڑوں میں تقسیم تھے۔ جدید لوگ اپنے مذہب وثقافت سے بے گانہ اور قدامت پسند، عصری محاورے اور علوم سے ناآشنا تھے۔ سرسید نے حقیقی معنوں میں دار العمل کو دار العمل بنایا۔ انھوں نے چرچ اور اسٹیٹ کے جدا ہونے کے عمل کو یہاں دہرانے نہ دیا۔ اس لیے فاروقی صاحب کی یہ بات کہ ’’سرسید بلاشبہ انگریزوں کے وفادار تھے بلکہ تاریخی شواہد سے ثابت ہو چکا ہے کہ مجاہدین آزادی کی مخبری کرتے رہے‘‘ سراسر ظلم اور نا انصافی پر مبنی ہے۔
آگے چل کر مضمون نگار نے قائد اعظم کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ اس لیے جیل نہیں گئے کہ وہ ایک وکیل تھے اور آئینی وقانونی جدوجہد ان کے مزاج کا حصہ تھی اور انھوں نے پاکستان کا مقدمہ ایک وکیل کی طرح لڑا۔ نیز یہ کہ انھوں نے اپنے دو حریفوں یعنی ہندووں اور انگریزوں کو سمجھا اور طاقت کے طریقے کو Avoid کیا۔ انھیں احساس تھا کہ اگر وہ جیل چلے گئے تو اقلیتی گروہ کی جدوجہد کسی بھی سمت میں جا سکتی ہے۔ یہ سب باتیں درست ہیں، لیکن فاروقی صاحب کو قائد اعظم اور سرسید میں یہ عظیم مشابہت کیوں نہ دکھائی دی؟ کیا سرسید نے بھی طاقت کے استعمال کو Avoid نہیں کیا؟ کیا انھوں نے بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کا دفاع ایک وکیل کی طرح نہیں کیا؟ کیا سرسید کو قائد اعظم سے زیادہ سخت حالات کا سامنا نہیں تھا، جبکہ ایک طرف ہندو اور انگریز ان کے مخالف تھے تو دوسری طرف مسلمان ان کو تکفیر کے ہار پہنا رہے تھے؟ لیکن اس مشابہت کے باوجود کمال کی بات یہ ہے کہ فاروقی صاحب کی نظر میں ایک ہیرو اور دوسرا زیرو ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص تعصب کی عینک اتار کر تاریخ کا معروضی مطالعہ کرے تو اس پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگی کہ سرسید نے ایک کڑے وقت میں مسلمانوں کی خاطر جو کچھ کیا، اسی کی وجہ سے ان کا شمار ہمیشہ مسلمانان ہند کے اکابر میں کیا جاتا رہے گا۔ 
فاروقی صاحب کے مضمون سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مسلح کارروائی کے حق میں ہیں اور حالات کے تقاضوں کو سمجھنے کے بجائے طاقت سے ٹکرا جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے اکثر دانش ور اب بھی مسلح مزاحمت کو ہر مسئلے کا واحد حل سمجھتے ہیں، جبکہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ گزشتہ دو سو سال میں مسلمانوں کو ہر جنگی میدان میں پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ ۱۸۵۷ء، کشمیر، فلسطین، چیچنیا، عراق اور افغانستان، ہر جگہ ہمیں شکست ہوئی ہے، لیکن یہ دانش ور اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کر سکے۔ فاروقی صاحب کا شمار بھی انھی دانش وروں میں ہوتا ہے، اس لیے وہ اگر سرسید احمد خان کی غیر مسلح جدوجہد کی مذمت کرتے ہیں تو یہ ان کا فکری حق ہے، لیکن باعث تعجب بات یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ قائد اعظم کی غیر مسلح حکمت عملی کی تائید کرتے ہیں اور ان کا طرز جدوجہد انھیں بدلتے ہوئے حالات کے عین مطابق دکھائی دیتا ہے۔
فاروقی صاحب نے عراقیوں کو مسلح جدوجہد کا مشورہ دیا ہے، لیکن میں انھیں یہ مشورہ دوں گا کہ وہ حالات کو سمجھیں، مسلح کارروائی کو ترک کر کے صبر کا طریقہ اختیار کریں جو مکی دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا اور یہ امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے ضرور کوئی راہ نکالے گا۔ وہ بے فائدہ طور پر اپنی توانائیاں جہادی سرگرمیوں میں ضائع نہ کریں، خصوصاً ایسی حالت میں کہ ساری مسلم دنیا مل کر بھی امریکہ سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہ جذبات کی باتیں نہیں ہیں۔ خدا کی نصرت کچھ شرائط کے پورا ہونے کے بعد ہی آتی ہے۔ جب تک ہم ان شرائط کو پورا نہیں کرتے، خدا کی مدد کبھی شامل حال نہیں ہو سکتی۔ اس وقت مسلمانوں پر جو بھی گزر رہی ہے، وہ سنت الٰہی کے عین مطابق ہے اور اس پر اللہ کو اپنا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔
فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں پہلے سرسید کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ وہ لوگوں کو انگریزی تعلیم کے حصول پر ابھارتے رہے، پھر پروفیسر شاہدہ صاحبہ کو انگریز پرست قرار دیا ہے کیونکہ انھیں انگریزی آتی ہے۔ انگریزوں سے نفرت کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن انگریزی سے بطور ایک زبان کے نفرت ناقابل فہم ہے۔ زبانیں تو وسیلہ اظہار ہوتی ہیں۔ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان بن چکی ہے۔ دنیا کے سارے علوم وفنون اس زبان میں ہیں۔ اب اگر کوئی رہبانی طرز عمل کا داعی نہیں ہے، مسلمانوں کے لیے کاروبار حیات میں بھرپور شرکت کا خواہاں ہے اور مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسلحہ سے لیس دیکھنا چاہتا ہے تو وہ مسلمانوں کو کبھی بھی انگریزی سے نفرت کا مشورہ نہیں دے گا۔ اب تو مدارس والے بھی اس زبان کی اہمیت وافادیت سے واقف ہو چکے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست نے ہمارے دوسرے قومی شعبوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ ہمارا اسلام بھی Politicize ہو چکا ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں نے ہر مسئلے کو باقاعدہ ایشو بنا دیا ہے۔ انگریزی سے نفرت سکھانا بھی ان لوگوں کا تحفہ ہے۔ ہمارے مذہبی رہنما امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نہیں تھکتے، لیکن موقع ملتے ہی اپنے اعزہ واقربا کو وہاں بسا دیتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے تعلیم کا بندوبست بھی وہیں کرتے ہیں۔ شاہ نواز صاحب ایک طرف انگریزی سے نفرت ظاہر کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے مضمون میں اس بات کے اظہار کی خواہش بھی جابجا جھلک رہی ہے کہ انھیں انگریزی آتی ہے۔
مملکت پاکستان کے حوالے سے پروفیسر صاحبہ کا موقف یہ ہے کہ اقبال مسلمانوں کے لیے سیاسی بندوبست انڈین یونین کے زیر سایہ کرنا چاہتے تھے، جبکہ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔ پروفیسر صاحبہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ خطبہ الٰہ آباد کے بعد اقبال نے الگ ریاست کی غلط فہمی کی تردید کی تھی۔ اس کے جواب میں فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ اقبال کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کچھ Claim ہی نہیں کرتے۔ وہ عظیم شاعر تھے، مگر انھیں عظیم شاعر کیا، شاعر ہونے کا دعویٰ بھی نہیں ہے۔ فاروقی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ مملکت کے جداگانہ تصور اور اقبال کے شاعر ہونے کو مماثل نہیں قرار دیا جا سکتا۔ مملکت کے جداگانہ تصور کی وہ صریح الفاظ میں مخالفت کر چکے ہیں اور انھوں نے اخبار کو بتا دیا تھا کہ انھوں نے جداگانہ مسلم ریاست کی نہیں، بلکہ محض انڈین فیڈریشن کی بات کی تھی۔ اس طرح انھوں نے ایک غلط فہمی کا ازالہ اور ایک غلط بیان کی تصحیح کی۔ ویسے بھی اقبال ایک وسیع النظر انسان تھے۔ یہ بعد کے لوگوں کاکارنامہ ہے جنھوں نے ان کا ناتا ملت اسلامیہ سے کاٹ کر الگ وطن سے جوڑ دیا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ اپنے آپ کو شاعر نہیں کہتے تھے تو یہاں وہ کسی غلط بیان کی تصحیح نہیں کرنا چاہتے، بلکہ نفسیاتی لحاظ سے موثر انداز میں اپنی شاعری کا اثبات چاہتے ہیں۔ دیکھیے، میر تقی میر اسی طریقے سے اپنی شاعری کا اثبات کر رہے ہیں:
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن

ڈاکٹر محمد آصف اعوان

قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ارتقا سنتِ الٰہی ہے اور کارخانہ قدرت میں ہر سو اسی کی کارفرمائی ہے ۔اللہ اپنی ربوبیت سے مختلف انواع کو پیدا کرتا ،انہیں تاریخی مراحل سے گزارتا اور اکملیت کی جانب گامزن رکھتا ہے ۔اللہ اگر چاہے تو کسی بھی چیز کو فوراً مکمل حالت میں نیست سے ہست میں لے آئے لیکن ایسا کرنا اس کی شانِ ربوبیت کے خلاف ہے ۔خلیفہ نصیرالدین صدیقی اپنی کتاب "The Quran And the World Today" میں لفظ ’’ِرب‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : 
"The quality of being "Rabb" implies a process of nourishment, providing from moment to moment and from age to age all that creation needs to attain the fullest possible development. The analogy of a mother , rearing her child , however , imperfect , illustrates the solicitous characteristic of Allah's attribute of Rabubiyya" 1 
فلسفیوں اور حکیموں کے لیے یہ سوال نہایت اہمیت کے رہے ہیں کہ آخر حیات کیا ہے ؟ انسان کیا ہے؟ اور یہ کہ انسان کیسے وجود میں آیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ حیات کی ابتدا اور ارتقا کے متعلق فلسفی ،حکیم اور سائنسدان کوئی حتمی اور قطعی بات کر ہی نہیں سکتے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر صرف مادی دنیا پر ہے ۔مادی دنیا کے خالق اور اس میں تدریجی تبدیلیاں لانے والے اُس رب ذوالجلال پر نہیں جو مادے کو حیات میں اور حیات کو مختلف انواع میں بدلتا اور پھیلاتا ہے ۔اس لحاظ سے حکیم اور فلسفی ایک ایسی اندھی گلی میں ہیں جس میں وہ دیواروں سے سر تو ٹکرا سکتے ہیں لیکن راستہ نہیں پاسکتے ۔
قرآنِ پاک خدا کی طرف سے انسان کے نام ایک کھلا خط ہے جس میں خدا نے انسان کو مخاطب کرکے براہِ راست مکالمہ کیا ہے۔اپنا تعارف کرایا ہے ،حیات و کائنات کے رموز سے آگاہ کیا ہے اور انسان کو اُس کی ابتدا و ارتقا سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں ۔قرآنِ پاک میں اصولِ ارتقا کو قانونِ اِلٰہی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ ارشادِ ربُّ العزت ہے :
’’یُدَبّرُ الامرَ مِنَ السَماءِ اِلَی الاَرضِ ثُمَّ یَعرُجُ اِلیہِ فِی یَومٍ کَانَ مِقدارُہٓ اَلفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ذٰلِکَ عٰلِمُ الغَیبِ والشَّھادَۃِ العَزِیزُ الرَّحِیم (۲)
سید قطب شہید نے اپنی تفسیر ’’فی ظلال القرآن ‘‘ میں درج بالا آیات کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’ وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمھارے شمار سے ایک ہزار سال ہے ۔وہی ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، زبردست اور حکیم‘‘ (۳)
پھر ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے سید قطب شہید لکھتے ہیں :
’’اللہ نے ہر چیز کو موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ،ادوار سے گزار کر‘‘ (۴)
مولانا جعفر شاہ پھلواروی اپنی کتاب ’’ اسلام اور فطرت‘‘ میں سورۃ السجدہ کی انہی دو آیات(۳۲:۵،۶) کے حوالے سے رقم طراز ہیں :
’’ اِن آیات کا مطلب دوسرے لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتاہے کہ اس کائنات کی ہر شے خواہ وہ کثیف ہو یا لطیف وجود میں آنے کے بعد منازلِ ارتقا کی طرف رجوع و صعود کرتی رہی اور ایک منزل سے دوسری منزل میں آنے تک اُسے ہزاروں سال لگے ۔یہ ہزاروں سال کی میعاد ہمارے پیمانہء وقت کے مطابق ہے ورنہ اللہ جو زمان و مکاں کے انسانی پیمانوں سے بالا تر ہے ،کے نزدیک ایک یوم ہے‘‘ ۔ (۵)
ارتقا ایک ایسا قانونِ قدرت اور اصولی نظام ہے جس کا اطلاق ہر چیز پر ہوتا ہے ۔کوئی شے ارتقائی مراحل کے بڑے بڑے وقفوں سے گزرے بغیر حیات کے اگلے مراحل میں داخل نہیں ہوتی ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ارتقا شعبدہ بازی نہیں بلکہ تدریجی ترقی کا نام ہے۔
زندگی کے اس ارتقائی تصور پر نظر رکھتے ہوئے حیات کی نچلی سطحوں (Lower orders of life) کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہر نچلی سطح سے نچلی سطح پر زندگی تنوع ،بوقلمونی اور رنگارنگی سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتداءً حیاتیاتی ارتقا کا مقصدِ اوّل حیات کا تحفظ اور بقا تھا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ حیات کی اس سطح پر دوئی (Reproduction) کا فقدان تھا۔دوئی تو موجود تھی اور حیات کی بقا دوئی کے وجود سے ہی ممکن تھی لیکن اس دوئی میں وہ نیا پن ،جدت اور تازگی نہ تھی جو زندگی میں نکھار ،ترقی اور نوعیتی تبدیلی (Variety) پیدا کرسکتی ۔دراصل حیات کا تخلیقی عمل ارتقا کے کئی مراحل سے گزر کر موجودہ حالت تک پہنچا اور ہر سطح پر ارتقا کا دھارا اور شعوری شدت اختیار کرتا گیا ،تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ حیات کی ابتدا کیسے ہوئی؟ کہاں سے ہوئی ؟ اور کن کن مراحل سے گزر کر ہوئی ؟ یہ بے چین کردینے والے سوالات ہیں جن کا تسلی بخش جواب تلاش کرنا ایک متجسّس ذہن کی تحقیقی جستجو کے لئے چیلنج ہے ۔ڈاکٹر رفیع الدین لکھتے ہیں :
"There could have been no organic life without matter and its laws. It is on account of the operation of the physical law that the sun shines, the winds blow, the clouds rain , the rivers flow, the seasons change, and the days and nights alternate. The laws of matter seem to have been designed consciously or unconsciously in order to make possible the appearance and the evolution of life on earth." 6
مادہ کی طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد کائنات میں اس پہلے جانور نے جنم لیا جسے امیبا کہتے ہیں ۔ (۷)
"The universe evolved itself into what it did in order to prepare the way for the appearance of this thin cell." 8 
کیا مادے کی اس تخلیقی کارکردگی کے حیاتیاتی اظہار سے حیات و کائنات کے متعلق بنیادی استفسارات کا غیر مشتبہ اور یقینی جواب مِل جاتا ہے ؟یقیناًنہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جواب تبھی قابلِ قبول ہوسکتا ہے جب اس کا سرچشمہ ایک ایسی اتھارٹی ہو جس پر کوئی ایک فرد یا گروہ نہیں بلکہ اجتماع یقین اور اعتماد رکھتا ہو۔گویا کسی بات کا محض درست ہونا ہی کافی نہیں ،درست اور صحیح نظریہ کے قبولِ عام کیلئے اس کا پُراعتماد اور غیر متشکک ہونا بھی ضروری ہے ،چنانچہ نمودِ حیات اور ارتقا کے متعلق حقیقی اور حتمی معلومات کیلئے کتابِ الٰہی کے علاوہ اور کوئی وسیلہ اتنا موثر اور با اعتماد نہیں ہوسکتا ۔ ارشادِ ربّ العزت ہے:
’’ وَ نَزّلنَا عَلیکَ الکِتٰبَ تِبیَاناً لِّکُلِّ شَیءٍ ‘‘ (۹) 
ترجمہ:’’ اور ہم نے تم پر وہ کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کی خوب وضاحت کرنے والی ہے‘‘ ۔
چنانچہ حیات کی ابتدا اور ارتقا کے مباحث بھی قرآنِ پاک میں بالتفصیل موجود ہیں۔ارشاد ہوتا ہے :
’’وَجَعَلنَا مِنَ المآءِ کُلَّ شَیٍ حَیّیٍ اَفَلَا یُؤ مِنُونَ‘‘ (۱۰)
ترجمہ: ’’ ہم نے ہر جاندار شے کو پانی سے بنایا تو کیا (پھر بھی) وہ ایمان نہیں لاتے‘‘۔
مولانا شہاب الدین اس حوالے سے لکھتے ہیں : 
’’یہاں پر قابلِ غور بات یہ ہے کہ زمین کے ساتھ ساتھ اجرامِ سماوی کی تخلیق کا تذکرہ بھی موجود ہے جس کے معاً بعد صاف صاف تصریح کردی کہ ’’ زندگی‘‘ یا ’’ زندہ شے‘‘ (ہر قسم کا پروٹوپلازم خواہ وہ حیوانات کا ہو یا نباتات کا جس کا اکثر حصہ پانی پر ہی مشتمل ہوتا ہے )محض پانی ہی کی بدولت ظہورپذیر ہوتی ہے ۔اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ ہماری زمین کی طرح دیگر اجرامِ فلکی کے تمام جانداروں کی افرینش میں پانی ایک بنیادی عنصر اور لازمی جزو کی حیثیت رکھتا ہے ‘‘ ۔ (اا)
سورۃ نور میں ارشاد ہوتا ہے:
’’ وَاللہُ خَلَقَ کُلَّ دِآبَّۃٍ مّن مَّاءٍ‘‘ (۱۲) 
ترجمہ:’’ اور اللہ نے ہر جاندار پانی سے پیدا کیا‘‘۔
اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا محمد شہاب الدین رقمطراز ہیں :
’’ اس آیت کریمہ میں اصولی حیثیت سے ’’ دابَّہ‘‘ کی فلسفیانہ تقسیم کی گئی ہے یعنی ’’ دابَّہ ‘‘ کا اطلاق انسانوں کے علاوہ چرندوں ،پرندوں،درندوں اور ہر قسم کے حشرات پر ہوتا ہے ۔یہ ایک کلیہ ہوا اور دوسرا کلیہ یہ بیان کیاگیا کہ ان تمام ’’ انواعِ حیات‘‘ کی تخلیق پانی سے ہوئی ہے یعنی آغازِ حیات کی رو سے بھی ، نطفہ کے وجود میں آنے کے لحاظ سے بھی ،نخرمایہ(Protoplasm) کا بنیادی جزو ہونے کی حیثیت سے بھی اور خود پوری زندگی کا دارومدار پانی پر ہونے کی رعایت سے بھی ۔غرض جس حیثیت سے بھی نظر ڈالی جائے یہ ایک سائینٹیفک اور صداقت سے بھرپور کلمہ نظر آتا ہے ۔اس لحاظ سے پانی ’’ دابّہ‘‘ کی زندگی اور اس کے وجود کیلئے جزوِ لاینفک کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ (۱۳)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
’’ وَکاَنَ عَرشُہُ عَلَی المَآءِ ‘‘ (۱۴)
ترجمہ:’’ اور اس کا عرش پانی پر تھا‘‘ ۔
پانی زندگی کا سرچشمہ ہے ۔اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو زندگی کے اس سرچشمہ پر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے۔قرآنِ پاک کی آیتِ مبارکہ ایک جامع بیان ہے تاہم قرآنِ مجید میں اُن ارتقائی مراحل کا ذکر بھی ملتا ہے جن سے گزر کر مادہ ارتقا کی اُس منزل پر آ پہنچا جہاں سے حیات کا آغاز ہوا ۔ارشاد ہوتا ہے : 
’’ وَ بَدَاَ خَلقَ الاِ نسانِ مِن طِینٍ‘‘ (۱۵)
ترجمہ: اور انسان کی پیدائش کی ابتدا مٹی سے ہوئی‘‘۔
اس مفہوم کو قرآنِ پاک میں دو اور مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے:۔
’’ ھُوَ الّذِی خَلَقَکُم مِّنْ طِینٍ‘‘ (۱۶)
ترجمہ:’’وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے ‘‘ 
’’ اِذ قَالَ رَبُّکَ لِلمَلٰئِکَۃِ اِنِّی خَالِق بَشَرًا مِّنْ طِینٍ‘‘ (۱۷)
ترجمہ:’’ جس وقت تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تحقیق میں پیدا کرنے والا ہوں انسان کو مٹی سے‘‘۔
قرآنِ پاک میں تخلیقِ آدم کے حوالے سے ’’ طین‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’ تراب‘‘ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے مثلاً:
’’ خَلَقَکَ مِن تُرابٍ‘‘ (۱۸)
ترجمہ:’’پیدا کیا ہے تجھ کو مٹی سے‘‘۔
’’ خَلَقَکُم مِن تُرابٍ‘‘ (۱۹)
ترجمہ: ’’ پیدا کیا تم کو مٹی سے ‘‘ ۔
تخلیقِ انسان کے اگلے مرحلے کیلئے ’’ طینِ لاذب‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔’’طینِ لاذب ‘‘ سے مراد ایسا گارا (Mud) ہے جس میں دیر تک پڑے رہنے سے لیس پیدا ہوجائے ۔ارشاد ہوتا ہے :
’’ اِنَّا خَلَقنٰہُم مِّن طِینٍ لّاَزِب‘‘ (۲۰) 
ترجمہ: ’’ بیشک ہم نے انہیں چپکتی ہوئی مٹی (گارے) سے پیدا کیا‘‘۔
ابھی تک تخلیقِ آدم کے حوالے سے تین ارتقائی مراحل، طین،تراب اور طینِ لاذب کا ذکر ہوا ہے۔یہ ارتقائی مراحل کتنے بڑے بڑے وقفوں پر مشتمل تھے اس کا صحیح علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ۔ڈاکٹر عبدالمجید نے قرآنِ پاک کے انگریزی ترجمے میں تراب،طین اور طینِ لاذب کیلئے تین مختلف الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً: 
تراب Dust ۔ (۲۱)
طین Clay ۔  (۲۲)
طینِ لاذب Cohesive Black Clay  ۔(۲۳)
تراب سے مراد ایسی مٹی ہے جو خاک کی صورت ہوتی ہے۔اِدھر اُدھر اُڑتی پھرتی ہے اور جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا ۔طین سے مراد گیلی مٹی اور طینِ لاذب سے مراد گوندھی ہوئی کالی گندی مٹی ہے ۔اس کے بعد قرآنِ پاک میں حیات کے اگلے ارتقائی مرحلے کا ذکر ہوتا ہے ۔ سورۃ الحجر میں بتایا جاتا ہے کہ :
’’وَلَقَد خَلَقنَا الانسانَ مِن صلصالٍ مِّن حَمَاٍ مَّسنُونٍ‘‘ (۲۴)
ترجمہ:’’اور تحقیق ہم نے انسانوں کو پیدا کیا ایک کھنکھناتے ہوئے،سیاہ سڑے ہوئے گارے سے‘‘۔
ڈاکٹر عبدالمجید نے ’’ صلصال ‘‘ اور’’ حماٍ مَسنُون ‘‘کا ترجمہ بالترتیب "Dried Ringing Clay" (۲۵) اور "Black Smelling Mud" (۲۶) سے کیا ہے۔گویا صلصال سے مراد سڑا ہوا اور سوکھا ہوا گارا اور حماٍمسنون سے مراد وہ گارا جس سے سڑنے اور سوکھنے کے بعد بُو پیدا ہوجائے ۔یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ یہ سڑی ہوئی اور سوکھی ہوئی مٹی ایک طرف تو بدبودار تھی اور پھر ارتقا کے اگلے مرحلے پر اس میں خمیر پیدا ہوگیا ۔ارشاد ہوتا ہے:
’’ خَلَقَ الاِنسَانَ مِن صَلصَالٍ کَالفَخَّارِ ‘‘ (۲۷)
ترجمہ: ’’(اُس نے) انسان کو ٹھیکری کی مانند بجنے والی مٹی سے پیدا کیا‘‘۔
اس کے بعد قرآنِ پاک میں مادی ارتقا کے اس آخری مرحلے کا ذکر ہے جس کے طے پانے پر مادہ کے اندر حیات کی ایک نئی شکل نے جنم لیا۔ ارشاد ہوتا ہے:
’’ وَلَقَد خَلَقنَا الانسانَ مِن سُلٰلَۃٍ مِّن طِین‘‘ (۲۸)
ترجمہ:’’اور تحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا ‘‘ 
اس آیت کے حوالے سے غلام احمد پرویز رقمطراز ہیں :
ٍٍ’’ مٹی کے خلاصہ کے الفاظ بڑے غور طلب ہیں ۔ہم جب کوئی بیج زمین میں بوتے ہیں تو وہ اُن اجزا کو جن پر اِس کی نشونما کا مدار ہوتا ہے کھینچ کر اپنے اندر جذب کرلیتا ہے ۔انہی اجزا (نمکیات ،معدنیات) وغیرہ کو سُلٰلۃٍ مِّن طِین 23/12یعنی مٹی کا خلاصہ کہا جائے گا۔اس قسم کے مٹی کے خلاصہ سے حیات کا پہلا خلیہ (Cell) وجود میں آیا‘‘ (۲۹)
اِس یک خلیائی جاندار (One Celled Creature) کے متعلق قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
’’ وَھُوَ الَّذِیٓ اَنشَا کُم مِّن نَّفسٍ وَّاحِدَۃٍ‘‘ (۳۰)
ترجمہ:’’ اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو جان ایک سے‘‘
اس آیت کے حوالے سے علامہ عنایت اللہ مشرقی فرماتے ہیں کہ:
’’ نفس کا لفظ نہایت معنی خیز ہے جس کے معنی مطلق جان کے ہیں قرآن حکیم میں انسان کی پیدائش کے متعلق نفسِ وّاحدَۃٍ کا ذکر ہے، بشرِ واحد کا کہیں ذکر نہیں ‘‘ (۳۱)
مادہ سے حیات (نفس واحدہ) کا ظہور ایک بہت اہم واقعہ تھا جس نے کائنات کی مادی زندگی میں بہت بڑا انقلاب برپا کردیا ۔زندگی لاکھوں برس مادہ (Matter) کی شکل میں کائنات میں سر پٹختی رہی ۔مادی دنیا کے اندر کئی تبدیلیاں آئیں لیکن یہ تبدیلیاں مادے کی حیاتیاتی نوعیت میں تبدیلی کا باعث نہ بن سکیں ، تاہم مادے میں زندگی کا ارتقا جاری رہا اور حیات کا مادّہ کی سطح پر شعورِ ارتقا مسلسل آگے قدم بڑھاتا رہا۔ اس ارتقا سے دمبدم یک رنگ مادے کی تخلیق ایک طویل دور ہے ۔آخر کار امیبا کی پیدائش مادے کی حیاتیاتی نوعیت سے مختلف ایک نئی نوعِ حیات کی تخلیق تھی۔دراصل امیبا مادی قوانین کی قید میں گرفتار مادی زندگی کی حامل کائنات میں زندگی کی ایک نئی اور بلند تر سطح کا آغاز تھا جِسے مادے کے اٹل قوانین (Fixed Laws) نے جنم تو ضرور دیا تاہم اب یہ حیاتیاتی وجود مادی قوانین سے آزاد ایک خود آشنا ہستی تھا۔ یہ حیات کا ایک نیا رخ تھا ۔پہلے سے بالکل مختلف اور جدا ۔حیات کی اس سطح کی تخلیق میں کائنات کی ہزاروں بلکہ لاکھوں برس کی مسلسل جدوجہد صرف ہوئی ،تب کہیں جاکر کائنات نے حیاتیاتی ارتقا کے اس مرحلے میں قدم رکھا کہ اس کی کوکھ سے ایک نئی ،مختلف ،پہلے سے بلند تر اور اعلیٰ تر نوعِ حیات نے جنم لیا ۔ارتقائی مراحل کے نتیجے میں زندگی کی ایک سطح سے دوسری بلند تر سطح پر جست فجائی ارتقا (Emergent Evolution) کہلاتی ہے ۔قرآنِ پاک کی سورۃ المومنین میں اس کی ایک مثال اس طرح ملتی ہے کہ اس سورت کی آیت نمبر۱۱۴،میں اللہ فرماتا ہے کہ رحمِ مادر میں نطفہ ٹھہرنے کے بعد ،ارتقا کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتا ہے اورپھر اس پر گوشت کی تہہ چڑھ جاتی ہے ۔آیت مذکورہ کے آخری الفاظ نہایت اہم ہیں:
’’ ثُمَّ اَنشَانٰہُ خَلْقاً اٰخَرَ فَتَبٰرَکَ اللّٰہ اَحْسَنُ الخٰلِقِینَ‘‘ (۳۲) 
ترجمہ: پھر ہم نے انسان کو ایک بالکل نئی اور دوسری قسم کی مخلوق کی شکل میں نمودار کردیا ۔پس اللہ بڑا ہی بابرکت ہے۔ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر‘‘۔ 
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ:
’’ فتبارک اللہ کا فقرہ محض ایک تعریفی فقرہ ہی نہیں بلکہ یہ دلیل کے بعد نتیجہء دلیل بھی ہے ۔اس میں گویا یہ کہا جارہا ہے کہ جو خدا مٹی کے ست کو ترقی دے کر ایک پورے انسان کے مرتبے تک پہنچا دیتا ہے وہ اس سے بدرجہا زیادہ منزہ ہے کہ خدائی میں کوئی اس کا شریک ہو سکے ‘‘ (۳۳)
سوال یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو دوسری قسم کی مخلوق بنانے کا دعوےٰ کس بنا پر کیا ہے ؟اس کی وجہ یہ ہے کہ رحمِ مادر میں جنین پر جو ارتقائی مراحل گزرتے ہیں ان کی یکسانیت کی بنا پر تو انسان اور حیوان برابر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت اور شعور کے اعتبار سے انسان کو ایک منفرد ماہئیت اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اور اسی بنا پر وہ حیوانات سے ممیز اور ممتاز ہے بلکہ اللہ اس کے لئے احسن الخالقین کے الفاظ استعمال کرتا ہے :
’’ لَقَد خَلَقنَا الانسانَ فِی اَحسَنِ تَقوِیم‘‘ (۳۴)
ارتقائی مراحل کی بہت سی مماثلتوں کے باوجود نتیجہء تخلیق کے لحاظ سے انسان اور حیوان میں شکل و صورت اور عقل و شعور کے اعتبار سے واضح فرق اور انسان کا خدا کی جانب سے ’’ احسن تقویم‘‘ کے مرتبے پر فائز ہونا ،حیات کی ادنیٰ سے اعلیٰ مرتبے پر جست اور فجائی ارتقا ہے ۔انسان کے حیاتیاتی ارتقا کے حوالے سے ارشادِ ربّ العزّت ہے :
’’ وَاللّٰہ انْبَتَکُم مِّنَ الَارضِ نَبَاتاً‘‘ (۳۵)
ترجمہ:’’ اور اللہ نے تم کو (انسانوں کو) زمین سے درخت کی طرح اُگایا‘‘۔
علامہ عنایت اللہ مشرقی اس آیت کے حوالے سے ’’ تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ گویا جب انسان کے زمین سے درخت کی مانند اگنے کی ظاہری صورت کوئی نہیں تو اِن الفاظِ وحی کے لامحالہ کوئی اور عظیم الشان معانی ہیں جن کی تعلیم دینے کے لئے ربِّ بے مثال نے ایک مستقل آیت بھیجنے کی تکلیف گوارا کی‘‘۔ (۳۶)
ان معانی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رفیع الدین رقمطراز ہیں :
’’خدا کے نزدیک انسان کی پیدائش ایک تدریجی حیاتیاتی عمل ہے جو ایک درخت کی نشوونما سے مشابہت رکھتا ہے۔ امیبا سے جو شجرِ زندگی پھوٹا ،اُس کی مختلف شاخیں ہوگئیں ۔ ہر شاخ اپنی ترقی کے ایک خاص نکتہ پر جاکر رُک گئی لیکن صرف ایک شاخ برابر ترقی کرتی رہی۔اس شاخ کی انتہا پر جسمِ انسانی نمودار ہوا ۔اس شاخ پر جسمِ انسانی سے پہلے حیوانات کی جس قدر انواع وجود میں آئیں اُن کے اجسام جسمِ انسانی کی سابقہ صورتیں تھیں جو پے در پے بہتر سے بہتر ہوتی رہیں اور جسمِ انسانی کی آخری ساخت اور شکل کے قریب آتی رہیں ۔یہاں تک کہ اس کی آخری شکل یعنی مکمل جسمِ انسانی وجود میں آگیا ‘‘ ۔ (۳۷) 
ارشادِ رب العزت ہے:
’’وَ قَد خَلَقَکُم اطواراً‘‘ (۳۸) 
ترجمہ:’’ اور تحقیق پیدا کیا ہے تم کو طرح طرح سے ‘‘ ۔
قرآنِ پاک کے فرمودات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حیات کا آغاز تو یک خلیائی جاندار سے ہوا ، پھر اس سے کائنات کے اندر حیات کی حامل مختلف شاخیں نمودار ہوئیں ۔جمادات،نباتات بھی،چرند پرند بھی اور حیوانات بھی ۔گویا زندگی کا بنیادی سرچشمہ ایک ہی تھا جیسے درخت کا بیج اور تنا ایک ہی ہوتا ہے اور پھر اس پر مختلف شاخیں نمودار ہوتی ہیں۔ حیات کی انہی مختلف شاخوں میں سے ایک سب سے زیادہ ترقی والی اور ارتقائی مراحل سے گزرنے والی شاخ کے آخری سرے پر انسان پیدا ہوا جو ہئیتی اور شعوری لحاظ سے تمام سابقہ مراحلِ حیات کے حامل جانداروں سے ممتاز اور افضل ہے۔ انسان حیات کی اعلیٰ ترین صورت کا نمائندہ ہے ۔
جس طرح مادہ اپنے ابتدائی ارتقائی مراحل سے گزرنے کے بعد آخر اس مرحلے میں پہنچ گیا کہ جہاں مادہ سے ایک بالکل مختلف نوع پیدا ہوئی جو فجائی ارتقا کا نتیجہ تھی،اس طرح پھر حیات نے مختلف قسموں ،شکلوں اور صورتوں میں اپنے ارتقائی سفر کو جاری رکھا اور مختلف مراحلِ ارتقا پر فجائی ارتقا (Emergent Evolution) اپنا کام دکھاتا رہا۔حیوانی سطح سے انسانی سطح کا ظہور بھی فجائی ارتقا کا ثمر ہے ۔فجائی ارتقا ایک طرح سے ایک نئی نوع حیات کی براہِ راست تخلیق کا نام ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ ’’ کن فیکون‘‘ کا مفہوم بھی اس میں مضمر ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی طالب علم کو یونیورسٹی ایم،۔اے کی ڈگری جاری کرنے کا حکم صادرکرے اور فوراًاُسے وہ ڈگری عطا بھی کردی جائے ،لیکن کیا یہ سب آناً فاناً ہوگیا ۔دراصل اس سے پہلے کہ طالب علم کو یونیورسٹی اس مرتبے کا مستحق ٹھہراتی اور وہ مرتبہ اُسے عطا کیا جاتا ،طالب علم نے اس منزل تک پہنچنے کیلئے بہت سے ارتقائی مراحل طے کئے تھے اور اس میں اسکا بہت سا وقت صرف ہوا تھا ۔مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب رقمطراز ہیں:
’’ حیات کا پہلا جرثومہ براہِ راست تخلیق سے وجود میں آیا تھا تو پھر آخر یہی ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ہر نوعِ حیوانی کا پہلا فرد خالق کے تخلیقی عمل سے پیدا ہوا ہے ‘‘۔ (۳۹)
ارتقا اور تخلیقی عمل زندگی کی علامت ہے ۔زندگی ارتقا سے قائم رہتی ہے اور ارتقا ثباتِ زندگی سے آگے قدم بڑھاتا ہے ۔گویا ارتقا کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں حیات اپنے وجود کا تحفط کرتی ہے اور پھر اس کے اندر کسی نوعی تبدیل کیلئے جستجو کرتی ہے ۔وجود کو برقرار رکھنے کیلئے ایک سے زیادہ حیاتیاتی اجسام کی تخلیق ضروری ہے،لیکن محض تخلیق ارتقا نہیں۔ تخلیق میں جدت اور نیا پن ارتقا کہلاتا ہے ۔وزیر آغا لکھتے ہیں :
’’ حیاتیاتی سطح پر زندگی ابتداً محض بقائے نسل کے مقصد کے تابع تھی ،لیکن جیسے جیسے وہ ارتقا پذیر ہوئی تو انفرادیت کے اظہار کا عمل زیادہ فعال ہوتا چلا گیا‘‘۔ (۴۰)
مادے سے امیبا کی تخلیق میں جتنی مدت صرف ہوئی ،امیبا نے اس سے کم مدت کی ارتقائی جدوجہد سے حیات کی نئی منزلوں میں قدم رکھنا شروع کیا تاہم یہ حقیقت ہے کہ زندگی کی مسلسل ارتقائی جدوجہد کے بعد حیات کی اگلی اور بہتر سطح جنم لیتی ہے ۔اس بہتر حیاتیاتی سطح کے حصول کیلئے زندگی کو کس قدر خراج ادا کرنا پڑتا ہے اور کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ،اس ضمن میں ڈاکٹر رفیع الدین لکھتے ہیں :
"Much waste for the sake of a precious gain seems to be a characteristic of the process of evolution" 41. 
تاہم : 
" The very slow pace of the process, the waste and the suffering need not blind us to what has been achieved. The contrast between primitive protoplasm and man, beggars description" 42.
دراصل عملِ ارتقا کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ جو انواع ماحول کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں اور وقت اور حالات کے سیلِ رواں کے مقابل کمزور پڑ جاتی ہین ، جن کا وجود عصرِ رواں کے لئے مفید اور نفع بخش نہیں رہتا ،ایسی انواع وقت کے بہتے ہوئے دریا کے طوفانوں کی نذر ہوجاتی ہیں اور ان کی جگہ وہ انواع لے لیتی ہیں جو بہتر ہوں اور جن کا وجود زمانے کے لئے مفید اور نفع بخش ہو۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں :
’’ دنیا یہ سمجھتی ہے کہ بقائے اصلح کا راز سب سے پہلے ڈارون پر منکشف ہوا تھا ،یہ ایک عالمگیر غلط فہمی ہے ۔قرآنِ پاک نے چودہ سو سال پہلے اعلان فرمایا تھا :
’’ صرف وہی چیز دنیا میں باقی رہتی ہے جو لوگوں کیلئے مفید ہو ‘‘ ۔ (۴۳)
قرآنِ پاک میں ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اَنزَلَ مِنَ السَّمآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَودِیۃ بِقَدَرِھا فَاحتَمَالَ السَّبِیلُ زَبَداً رَّابِیاً ط وَمِمَّا یُوقِدونَ عَلیہِ فیِ النَّارِ ابْتِغَآ ءَ حِلْیَۃٍ اَو مَتَاع زَبَد مِّثلَہُ ط کَذٰلِکَ یَضرِبُ اللہُ الحَقَّ وَالباطِلَ ط فَامَّا الزَّ بَدُ فَیَذھَبُ جُفآءً ج وَامَّا ما یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمکُت فِی الارضِ ط کَذٰلِکَ یَضرِبُ اللہُ الامْثَال‘‘ (۴۴)
ترجمہ:’’اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے تو نالے اپنے انداز کے مطابق بہنے لگتے ہیں پھر سیلاب اوپر کی جھاگ اور خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے اور جن دھاتوں کو لوگ آگ میں ڈال کر تپا تے ہیں زیور یا دیگر سامان تیار کرنے کے لیے ،ان میں بھی اسی طرح کا جھاگ اور میل کچیل ہوتا ہے ۔اللہ حق اور باطل کی مثال یوں ہی دیتا ہے ۔ غرض میل کچیل یا خس و خاشاک تو یوں ہی رائیگاں جاتا ہے لیکن جو چیز انسانوں کے لیے نفع بخش ہوتی ہے اس کو زمین میں بقا حاصل ہوتی ہے ۔اللہ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے ‘‘۔
یہ آیت اس کائناتی اصول کو بیان کرتی ہے کہ بقا و قیام کا حق صرف اُسے ہے جو زمانے کا مقابلہ کرتے ہوئے اور اپنے وجود کی افادیت برقرار رکھتے ہوئے زندہ رہتا ہے ۔بے فائدہ اور عبث چیزوں کا دنیا میں کوئی مقام نہیں ۔قدرت صرف انہی چیزوں کو قائم رکھتی ہے جو مفید اور نفع بخش ہوتی ہیں اور جب کسی شے میں نافعیت نہیں رہتی تو وہ اپنا وجود کھودیتی ہے۔آسمانی ستاروں سے لیکر زمینی مخلوق تک ساری کائنات میں یہی قانونِ فطرت کار فرماہے ۔قرآنِ پاک کی رو سے عملِ ارتقا میں بقائے انفع (Survival of the most useful) کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے ۔اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو حیات اور کائنات خوب سے خوبتر کے سفر پر رواں دواں ہے اور جو وجود اس سفرمیں کاروانِ حیات کا ساتھ نہیں دیتے ، وہ معدوم ہوجاتے ہیں ۔اسے فطرت کا ظلم نہیں سزا قرار دیا جاسکتا ہے ۔
انواعِ حیات میں انسان سب سے ارفع مقام پر متعین ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کے وجود کے ظہور کے بعد عملِ ارتقا ختم ہوگیا ؟کیا سفرِ ارتقا کی آخری منزل انسان کی موجودہ ہستی اور شعوری ساخت ہی ہے اور بس ۔مولانا جعفر شاہ پھلواری لکھتے ہیں کہ:
’’موجودہ درجے تک کے ارتقا کو تو سائنس نے پالیا ہے لیکن اب تک یہ نہیں معلوم کہ اس ارتقا کا رخ کدھر ہے اور اس کی منزل کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب صرف قرآنِ پاک کے پاس ہے‘‘۔ (۴۵) 
خلیفہ نصیرالدین لکھتے ہیں :
"And further , if man has been evolving , attaining more and more perfection , why should we not believe that the present form of human life , both in its physical and mental characteristics, will disappear only to assume still higher forms" 46. 
قرآنِ پاک کی درج ذیل آیت میں انسان کے حیاتیاتی ارتقا کی اگلی منزلوں کی طرف واضح اشارات ملتے ہیں :
’’ ثُمَّ اِنَّکُم بَعدَ ذٰلِکَ لَمیتُونَ ط ثُمَّ اِنَّکُم یَومَ القِیٰمَۃِ تُبعَثُوْنَ‘‘۔ (۴۷)
ترجمہ: ’’ پھر بیشک اس کے بعد تم ضرور مرنے والے ہو ۔پھر بلاشبہ تم روزِ قیامت اُٹھائے جاؤ گے‘‘۔
’’وَاِلَی اللہِ تُرجِعُ الاُمُورَ‘‘۔ (۴۸)
ترجمہ:اور تمام کام اللہ کی طرف لوٹیں گے‘‘۔
’’ وَکَذٰلِکَ تُخرَجُونَ‘‘۔ (۴۹)
ترجمہ: ’’ اور اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے‘‘ ۔
’’ وَاِلیہِ تُرجَعُونَ‘‘۔ (۵۰)
ترجمہ: ’’ اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘۔ 
مندرجہ بالا مباحث سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام عملِ ارتقا کو ایک ایسی کائناتی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں کہیں ٹھہراؤ نہیں ہے ۔قانونِ ارتقا ہر لحظہ حیات کی نئی اور تازہ صورتیں پیدا کر رہا ہے ۔انسان کی موجودہ شکل و ہئیت اور شعوری سطح بھی اس سے مبرا نہیں بلکہ اسے بھی ایک نئی ماہیت (Form) اختیار کرنے اور نئے شعوری نظام میں ڈھلنے کے لئے ارتقا کے عمل سے گزرتے ہوئے ایک ایسے ماحول میں داخل ہونا ہوگا جس میں داخل ہونے کیلئے اُسے مادی دنیا ہی نہیں بلکہ اپنے مادّی جسم کو بھی چھوڑنا پڑے گا تب ہی حیات کی ایک نئی ارتقائی منزل اُس کا استقبال کرے گی۔ 

حواشی و حوالہ جات

۱۔ 
Nasir-ud-Din Siddiqi, "The Quran and the world today"  Izhar Sons,Lahore :1971,P.49 
۲۔ القرآن ۳۲:۵،۶
۳۔ قطب شہید،سید، ’’ فی ظلال القرآن‘‘،ترجمہ:سید معروف شاہ ،ادارہ منشوراتِ اسلامی ،لاہور :۱۹۹۷،ص۔۲۹۳،۲۹۴۔
۴۔ ایضاً،ص۔۲۹۴۔
۵۔ جعفر شاہ پھلواری ،’’ اسلام اور فطرت‘‘،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ ،لاہور :۱۹۴۹،ص:۶۷
۶۔ 
Muhammad Rafi-ud-Din ,"Ideology of The Future " ,Mangotra Printing Press,Jammu:1946,P.23. 
۷۔ 
Microscopic One Celled Creature.
۸۔ 
Muhammad Rafi-ud-Din ,"Ideology of The Future" P.24.
۹۔ القرآن ، ۱۶:۸۹۔
۱۰۔ القرآن،۲۱:۳۰۔
۱۱۔ محمد شہاب الدین ،مولانا ندوی ،’’ اسلام اور جدید سائنس‘‘ مکتبہ تعمیرِ انسانیت ،لاہور:۱۹۸۸،ص:۱۰۷۔
۱۲۔ القرآن ، ۲۴:۴۵۔
۱۳۔ محمد شہاب الدین ،مولانا ندوی ،’’ اسلام اور جدید سائنس‘‘ ص:۱۰۵۔
۱۴۔ القرآن ، (۱۱:۷)
۱۵۔ القرآن ، (۳۲:۷)
۱۶۔ القرآن ، (۶:۲)
۱۷۔ القرآن ، (۳۸:۷۱)
۱۸۔ القرآن ، (۱۸:۳۸)
۱۹۔ القرآن ، (۳۰:۲۰)
۲۰۔ القرآن ، (۳۷:۳۱)
۲۱۔ 
The Holy Qruan , Translated by Dr.,Abdul Majeed. Awais Company:year not mentioned,P.31
۲۲۔ 
Ibid, P.601.
۲۳۔
Ibid, P.645.
۲۴۔ القرآن ، (۱۵:۲۶)
۲۵۔
The Holy Quran Translated by Dr.Abdul Majeed ,P.776.
۲۶۔ 
Ibid, P.382.
۲۷۔ القرآن ، (۵۵:۱۴)
۲۸۔ القرآن ، (۲۳:۱۲)
۲۹۔ غلام احمد پرویز،’’مطالب الفرقان(جلد دوم)‘‘،ص:۷
۳۰۔ القرآن ، (۶:۹۸)
۳۱۔ محمد عنایت اللہ خان ،المشرقی،علامہ،’’ تذکرہ(جلد دوم)‘‘ التذکرہ پبلی کیشنز،لاہور:۱۹۹۷،ص:۱۶۔
۳۲۔ القرآن ، (۳۲:۱۴)
۳۳۔ مودودی،مولانا سید ابولاعلیٰ ،’’تفہیم القرآن(جلد سوم)‘‘م ص:۲۷۰۔
۳۴۔ القرآن ، (۹۵:۴)
۳۵۔ القرآن ، (۷۱:۱۷)
۳۶۔ محمد عنایت اللہ خان ،المشرقی،علامہ،’’ تذکرہ(جلد دوم)‘‘ ،ص:۱۷۔
۳۷۔ محمد رفیع الدین ،ڈاکٹر،’’ قرآن اور علمِ جدید‘‘،ص،۱۵۵:۱۵۶ ۔
۳۸۔ القرآن،(۷۱:۱۴)
۳۹۔ مودودی،مولانا سید ابولاعلیٰ ،’’تفہیم القرآن(جلد پنجم)‘‘ص:
۴۰۔ وزیر آغا،’’تخلیقی عمل‘‘ ،مکتبہ اردو زبان ،سرگودھا :۱۹۷۰،ص:۷۰۔
۴۱۔
Muhammad Rafi-ud-Din ,"Ideology of the Future ", P.35.
۴۲۔
Shah Nawaz , Riaz A. ,"Avolution And Human Behaviour," Feroz Sons, L.T.D.,lahore :1963, P.33.
۴۳۔ غلام جیلانی برق،ڈاکٹر،’’رمزِ ایمان‘‘،شیخ غلام علی اینڈ سنز ،کراچی :۱۹۴۹ء ص:۱۱۸۔
۴۴۔ القرآن،(۱۳:۱۷)
۴۵۔ جعفر شاہ پھلواری،’’اسلام اور فطرت‘‘،ص:۶۸۔
۴۶۔ 
Nasir-ud-Din, Khalifa,"The Quran And The world Today," P.62.
۴۷۔ القرآن،(۲۳:۱۵،۱۶)
۴۸۔ القرآن،(۲:۲۱۰)
۴۹۔ القرآن،(۳۰:۱۹)
۵۰۔ القرآن،(۲:۲۴۵)

غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاش

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جب سے یہ کائنات بنی ہے اور جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے ، تب سے اس ارضِ رنگ و بو میں خیر و شر کا معرکہ برپا ہے ۔ اب تک کی معلوم تاریخ کی یہی مختصر داستان ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے مخصوص احوال و ظروف پر عمیق نظر رکھتے ہوئے اس کی معنوی شناسائی کے درپے ہوں تو معلوم تاریخ، انسانیت کی جستجو سے عبارت دکھائی دے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوعِ انسانی کئی صدیوں سے اپنی ضروریات کے جبر اور تخیلات کی پرواز کے ذریعے مادی کلچر کو منصہ شہود پر لا رہی ہے۔ تلوار، ٹینک، بندوق، ہل، ٹریکٹر، جہاز اور میزائل سے لے کر تفریحی کھیلوں اور آرٹ کے متجسم نمونوں تک انسانی ترقی کے تمام شواہد و ظواہر اس مادی کلچر کی زندہ مثال ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بہت واضح ہے کہ اس مادی کلچر کی افادیت اور معنویت ، غیر مادی کلچر (ضروریات کے جبر اور فراغت کی لطافت سے جنم لینے والے خیالات وغیرہ )کی مرہونِ منت ہے ۔ مثلاً اگر فٹ بال کے کھیل کا فہم اور اس کے اصول و قواعد انسان کے لیے بے معنی ہو جائیں تو فٹ بال ( جو مادی کلچر کے تفریحی پہلو کی علامت ہے) کی افادیت و ضرورت بالکل ختم ہو جائے گی۔ ہماری رائے میں ایسے خاتمے کی زندہ علامت مغرب کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے وہ چرچ بھی ہیں جو کبھی مغربیوں کی زندگی کے عکاس تھے لیکن جہاں اب خود زندگی بھیک مانگتے دکھائی دیتی ہے۔ 
اب ہم تصویر کے دوسرے رخ پر نظر ڈالتے ہیں ۔ معلوم تاریخ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ خود انسانی وجود ، بطور مادی کلچر ہر عہد میں موجود رہا ہے۔ یہ مادی کلچر ( یعنی انسانی وجود ) انسانی خیالات کا تراشیدہ نہیں ہے، اگرچہ انسان نے مختلف ادوار میں کئی صنم کدے ضرور تعمیر کیے ہیں ۔مادی کلچر کی یہ جہت ( یعنی انسانی وجود ) بھی اس وقت تک ہی اہم اور زندہ رہ سکتا ہے جب تک اس سے متعلق فہم اور اصول و قواعد موجود رہیں، ورنہ اس کا انجام بھی اس مادی کلچر کی طرح ہو سکتا ہے جو صرف میوزیم کی چار دیواری میں ہی کروٹیں لیتا ہے لیکن زندگی کے لمحہ گزراں میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، جیسا کہ مغربی کرے میں واقع فلک بوس چرچ۔ یوں زندگی کی ندی حقیقت میں دو متوازی کناروں کے درمیان ہچکولے کھا تی محسوس ہوتی ہے۔ ایک کنارہ انسانی تخیلات سے متشکل ہو رہا ہے اور دوسرا کنارہ متشکل ہونے کے ناطے اپنے جواز کی صورت پذیری کر رہا ہے۔یہ کنارے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور زندگی کی ندی ان کے درمیان رواں دواں ہے ۔
اس مختصر بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ زندگی، انسانیت کی جستجو کا نام ہے اور انسان ، انسانیت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ بلاشبہ انسان ( مادی کلچر ) اپنے آپ کو بامعنی بنانے کے لیے انسانیت ( غیر مادی کلچر ) کا متلاشی ہے اور پیغمبروں نے خداکے حکم سے نوعِ انسانی کو اسی تلاش میں متحرک وانگیخت کرنے کے ساتھ ساتھ مدد دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ اس تلاش میں کامیابی کے بعد ہی انسان اپنے مخصوص احوال وظروف میں ایک ایسے بہتر مادی کلچر تخلیق کر سکتا ہے جس کے محرک خیالات ، انسانیت کے خمیر میں گندھے ہوئے ہوں ۔ 
تاریخ کے قدیم دور سے لے کر ہمارے اپنے عہد تک صنفِ نازک ( یعنی عورت جو انسان بھی ہے )کے اس سماجی مقام کی نوعیت ہمیشہ زیرِ بحث رہی ہے جسے انسانیت کے دائرے میں شمار کیا جا سکے تا کہ انسان اپنی معنوی شناسائی کی اس بعُد کوبھی چھو سکے ۔ اس ضمن میں معلوم تاریخ کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ صنفِ نازک ہر دور میں مرد کے زیرِ نگین رہی ہے، اگرچہ عورت کی برتری کی چند استثنائی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ جہاں تک پیغمبروں کا تعلق ہے، انھوں نے بھی خدائی حکم کی پیروی میں صنفِ نازک کے ایسے سماجی مقام کو انسانیت کی حدود میں تسلیم کیا ہے جو شاید پہلی نظر میں اور بظاہر مرد کے مقابلے میں کمتر دکھائی دے۔ ہم اس سلسلے میں قدیم آسمانی صحیفوں اور نبیوں کی طرف مراجعت کرنے کے بجائے ناسخِ کتب الٰہیہ قرآن مجیدکے احکامات اور خاتم النبیین محمد ﷺ رسول اللہ کی عملی تفسیر کا حوالہ دینا پسند کریں گے ۔ نزولِ قرآن مجید اور بعثتِ نبوی ﷺ کے وقت عرب اور کرۂ ارض کے دیگرخطوں کے باسیوں کی حالتِ زار کے متعلق یہ کہنا کفایت کرے گا کہ ان کے ہاں عورت ’’انسان‘‘ نہیں سمجھی جاتی تھی۔ عورت کے سماجی مقام کی اس سطح (حالانکہ یہ کوئی سطح نہیں ہے ) سے ہی نہ صرف متعلقہ کلچروں کی انسانیت فہمی کی انتہائی کمتر اور پست سطح ظاہر ہو رہی تھی بلکہ اس کی کوکھ سے شواہد و ظواہر میں ابتذالی مادی کلچر بھی جنم لے رہا تھا۔ اس مخصوص انسانی احوال و ظروف میں ربِ کائنات کی بخشی ہوئی ہدایت کی روشنی میں خاتم النبیین ﷺ نے انسان کی انسانیت فہمی کی درستی کے لیے عورت کے سماجی مقام کو وہ سطح عطا کی جس کے بعد یہ ممکن ہو سکا کہ انسان ، انسانیت نواز مادی کلچر کی تشکیل کر سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے انسانی تاریخ کے روایتی دھارے سے ہٹ کر عورت کے سماجی مقام کوromanticise کرنے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی۔ آپ نے حقوقِ نسواں کی کوئی تحریک شروع نہیں کی۔ حکم الٰہی کی پیروی اور انسانی تاریخ کے اسباق کی مطابقت میں ( خیال رہے کہ تشریعی احکامات اور تکوینی مظاہر متضاد نہیں ہو سکتے) آپ ﷺ نے مردکی برتری کے پیشِ نظر مرد کے اس رویے کی اصلاح کی جو عورت سے متعلق تھا ۔ عورت کی حالتِ زار اور مظلومیت کا اس کے علاوہ اور کوئی مطلب نہیں تھا کہ مرد اپنے اصل مقام سے ہٹ گیا ہے، کیونکہ مرد کی بظاہر برتری کے مظہر کے باوجود ، اگر مرد اپنے مردانہ سماجی مقام سے انحراف نہ کرے تو عورت کبھی بھی ایسے سماجی مقام کی مستحق نہیں ٹھہر سکتی جو اسے مظلومیت کی علامت بنا ڈالے ۔ آپ ﷺ نے عورت کے سماجی مقام کی کمتری کو romanticise کرنے اور عارضی ، جعلی و مصنوعی مساوات کا نعرہ لگانے کے بجائے ، مرد کو مردانگی کی تلاش میں مدد دے کر عورت کو استحقاقی سماجی مقام عطا کیا ۔ 
ہمارے اپنے عہد میں اگر حقوقِ نسواں کی تحریکوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عورت اپنے روایتی تاریخی مقام سے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے تو اس کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسانیت اپنی مردانگی کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ بہت عجیب بات ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو عورت کی بے جا آزادی اور بے لگامی بہت چبھتی ہے، لیکن ہم میں سے اکثر لوگ اس کی وجہ پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ آخر ایسا کیونکر ہو رہا ہے، اگرچہ ’’کیونکر‘‘ کے بعض نام نہاد متلاشی ، شواہد و ظواہر کے مادی کلچر (صنعتی انقلاب ، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ) کو الزام دے کر اس غیر مادی کلچر ( انسانیت فہمی کی نا درستی ) سے صرفِ نظر کیے ہوئے ہیں جو مسئلے کا اصل سبب ہے ۔یہ بات کچھ ایسے ہی ہے جیسے کسی کمرے میں موجود رائٹنگ ٹیبل کی جگہ تبدیل کر دی جائے۔ پھر لامحالہ کرسی کو بھی نئی جگہ پر ٹیبل کے قریب رکھ دیا جائے اور ٹیبل کو نظر انداز کرتے ہوئے کرسی پر الزام دھرا جائے کہ اس نے خوامخواہ اپنی جگہ تبدیل کر لی ہے۔ کوئی بھی معروضیت پسند ایسا الزام لگانے کی غلطی نہیں کرے گا ۔ وہ یہ بات بہت اچھی طرح جانتا ہو گاکہ ٹیبل کے اپنے مقام سے ہٹنے کے بعد کرسی کا اپنے مقام سے ہٹ کر نئے مقام پر منتقل ہونا نا گزیر ہے۔ اگر کرسی کو سابقہ مقام پر منتقل کرنا مقصود ہو تو ٹیبل کاسابقہ مقام پر انتقال ، بنیادی تقاضا بن جا تا ہے ۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے وجود کو با معنی بنانے کے لیے غیر مادی کلچر کی درستی کرے کہ اپنے وجود کی معنوی شناسائی کے طفیل ہی وہ اپنی کھوئی ہوئی مردانگی پا سکتا ہے ، جس کے بعد اس کی افراط و تفریط کی شکار بعُد ( حالانکہ حقیقت میں افراط و تفریط مرد کے ہاں ہے) جسے ہم صنفِ نازک کہتے ہیں، خود بخود متوازن راہ چن لے گی۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرمی ومحترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!
انتہائی سپاس گزار ہوں کہ ایک عرصہ سے آپ کا موقر ماہنامہ ’الشریعہ‘ موصول ہو رہا ہے، مگر یہ ناکارہ اس کی کوئی رسید بھی نہ بھیج سکا۔اس کوتاہی کے باوجود ’الشریعہ‘ مسلسل مل رہا ہے۔ یہ بس آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ اس محبت وشفقت پر مکرر شکر گزار ہوں۔ ادارہ میں آنے والے جرائد ورسائل میں ایک ’الشریعہ‘ بھی ہے جسے بالاستیعاب پڑھتا ہوں اور اس کے مضامین سے استفادہ کرتا ہوں۔
’الشریعہ‘ کے ذریعے بلاشبہ سب کے دلوں کی ترجمانی ہوتی رہتی ہے اور یہ آپ کی وسعت ظرفی کا نتیجہ ہے، مگر میری ناقص رائے میں یہ ’الشریعہ‘ کی قطعاً ترجمانی نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ آپ کی پالیسی ہو کہ اس میں ہر صاحب قلم جو چاہے قلم کاری کرے اور ’’ما تخفی صدورہم اکبر‘‘ کے کچھ مصداق بھی ’الشریعہ‘ کو اپنے لیے وسیلہ ظفر بنانا چاہیں تو بنا لیں، مگر معاف کیجیے یہ ’الشریعہ‘ کے نام پر دین کی کوئی خدمت نہیں۔ اگر دین اسلام کے بارے میں تشکیک پیدا کرنا جرم ہے تو ایسے مضامین کو طبع کرنا مستحسن کیونکر ہو سکتا ہے؟
’’مکاتیب‘‘ میں الشریعہ کے معزز قارئین نے کئی بار اس قضیہ نامرضیہ کے بارے میں آپ کو توجہ دلائی، مگر وہ تاحال صدا بصحرا ہی ثابت ہوئی۔ اسی تناظر میں سمجھتا ہوں کہ اس ناکارہ کی یہ جسارت بھی رائیگاں جائے گی۔ تاہم ’الشریعہ‘ سے تعلق ، جو آپ نے محض اپنی شفقت سے پیدا کیا ہے، کا تقاضا ہے کہ اپنی بات کہہ ہی دی جائے۔
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
والسلام۔ دعا جو
ارشاد الحق اثری
ادارۃ العلوم الاثریہ
منٹگمری بازار فیصل آباد
(۲)
مکرم ومحترم مولانا ارشاد الحق اثری صاحب زیدت فیوضکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟
آپ کا عنایت نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ! مکتوب کے مخاطب تو والد گرامی ہیں، تاہم چونکہ وہ ان دنوں بیرونی سفر پر ہیں، نیز ’الشریعہ‘ کے مندرجات کی ترتیب کی ذمہ داری زیادہ تر مجھ پر عائد ہوتی ہے، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں خود آپ سے مکاتبت کی سعادت حاصل کروں۔
آپ نے جس نکتے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، میرا خیال ہے کہ زاویہ نگاہ کے ایک معمولی سے فرق کے باعث اس میں ہمارا موقف سمجھنے میں بالعموم قارئین کو دشواری پیش آتی ہے۔ اس وقت امت میں رائج بے شمار نقطہ ہائے نظر ہیں جن سے ہم اتفاق نہیں کرتے، تاہم چونکہ ہماری نظر میں وہ کسی نہ کسی فکری یا عملی الجھن سے پھوٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ایک سنجیدہ مباحثہ کے بغیر ان کی غلطی کسی طرح سے واضح نہیں کی جا سکتی، اس لیے ہم انھیں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں موضوع بحث بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپریل ۲۰۰۵ کے شمار ے میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کے خطاب پر ادارتی نوٹ کو دوبارہ ملاحظہ فرما لیں۔
یہ بات ہمارے لیے بے حد حوصلہ افزائی کا باعث ہے کہ ’الشریعہ‘ آپ جیسے اہل علم کی نظر سے بالاستیعاب گزرتا ہے۔ امید ہے کہ آپ کی توجہ اور عنایت ہمیں آئندہ بھی حاصل رہے گی۔
والسلام
عمار ناصر
۰۵/۰۶/۲۲
(۳)
باسمہ تعالیٰ
محترم المقام سلام مسنون!
مزاج گرامی؟
اعزازی طور پر فرستادہ جریدہ ’الشریعہ‘ نظر نواز ہوا۔ یہ آپ کا کرم ہے کہ ایک دور افتادہ، اجنبی گوشہ نشین کو آپ نے سرفراز فرمایا۔ اس یاد فرمائی پر میں خلوص دل سے آپ کا شکر گزار ہوں۔ میں اظہار تشکر کے طور پر نہیں، بلکہ امر واقعی کے طور پر بغیر کسی مبالغہ آرائی کے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے اسے دیگر مذہبی رسالوں سے بہت مختلف پایا ہے۔ آپ نے اس میں فروعی مسائل کے بجائے ٹھوس، جامع اور اہم بنیادی مسائل پر مبنی مضامین شامل کر کے اسے منفرد اور پروقار بنا دیا ہے۔
گزشتہ شمارے میں آپ نے بیک وقت طلاق ثلاثہ پر مختلف الرائے علما کو جو دعوت فکر دی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ فروعی مسائل پر فتاواے کفر جاری کرنے والے ، قرآن مجید کے واضح حکم پر ایک وقتی، انتظامی اور تہدیدی حکم کو کیونکر فوقیت دیے ہوئے ہیں اور اسے حکم خداوندی کی ہی توضیح کا نام دے رہے ہیں، یہ ناقابل فہم ہے۔
دین اسلام نوع انسانی کی سہولت کے لیے ہے، انھیں مصائب میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں۔ بلاد عرب میں طلاق ودوبارہ شادی تہذیبی وسماجی معمولات میں شامل ہے، لیکن یہاں باپ اپنی بیٹی کو رخصتی کے وقت نصیحت کرتا ہے کہ بیٹی! اب سسرال سے تمہارا جنازہ ہی نکلے، لیکن بلاد عرب میں ایسا نہیں۔ حضرت اسماء بنت عمیس، حضرت عقیل بن ابو طالب کی زوجہ تھیں۔ پھر وہ حضرت ابوبکر صدیق کے عقد میں آئیں اور حضرت محمد بن ابوبکر کی والدہ بنیں۔ پھر یہی خاتون حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زوجہ بنیں اور حضرت محمد بن ابوبکر کی پرورش اہل بیت میں ہوئی، لیکن یہاں پر دوسری شادی کو بہت سے خاندانوں میں غیر شریفانہ اور غیر خاندانی تصور کیا جاتا ہے۔
ہمارے اہل فکر ودانش کو شاید یہ احساس نہیں کہ اگر عتاب واشتعال کا وہی ایک لمحہ جس میں مغلوب الغضب شوہر اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دیتا ہے، اگر وہی ایک لمحہ بغیر طلاق مغلظہ کے گزر جائے تو ۸۰ فی صد گھر برباد ہونے سے بچ جائیں۔ میرے علم میں ہے کہ ایک بھوکے مزدور نے اپنی بیوی کو اس لیے طلاق دے دی کہ جب وہ گھر آیا تو اسے کھانا تیار نہ ملا۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں لیکن 
ایں رشتہ بانگشت نہ پیچی کہ دراز است
آخر میں (دورۂ حدیث کے دوران) مجھے ایک حدیث ابھی تک اس عمر میں یاد ہے کہ ایک جید صحابیؓ نے (نام مجھے یاد نہیں رہا) اسی طرح اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اور مغموم صورت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے مسکرا کر فرمایا: ’’تمھیں تو طلاق دینی بھی نہ آئی۔ جاؤ طلاق (مغلظ) واقع نہیں ہوئی۔‘‘
اس مسئلہ پر اور موجودہ دور کے دیگر نئے اجتہاد طلب مسئلوں پر مسلسل دعوت فکر دیتے رہیں، کیونکہ یہ اجتہاد بھی ہے، جہاد بھی ہے اور امت مسلمہ کی اہم ضرورت بھی ہے۔
میری زیر طبع کتاب ’’فرمودات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید دور کے تقاضے‘‘ عنقریب الفیصل لاہور سے شائع ہونے والی ہے۔ پیش کروں گا۔
والسلام
مخلص
(خواجہ) طاہر محمود کوریجہ
۱۵۔ سی ، ماڈل ٹاؤن اے، بہاول پور
(۴)
برادر محترم جناب عمار ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! مزاج گرامی؟
میں ایک عرصے سے ’الشریعہ‘ کا قاری ہوں۔ جونہی ’الشریعہ‘ بذریعہ ڈاک مجھ تک پہنچتا ہے، تمام مصروفیات کے باوجود میری کوشش ہوتی ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالوں۔ 
الشریعہ کے صفحہ اول پر اس کا پیغام ’’وحدت امت کا داعی اور غلبہ اسلام کا علم بردار‘‘ کے الفاظ میں مرقوم ہے۔ الشریعہ پڑھتے ہوئے کبھی کبھی یہ پیغام بھی ذہن میں آتا ہے، لیکن مضامین کی اکثریت اس پیغام سے عاری ہوتی ہے۔ کئی بار خیال ہوا کہ الشریعہ کے چند شمارے سامنے رکھوں اور اپنے تاثرات لکھ ڈالوں، لیکن پھر سوچا کہ الشریعہ کے صفحات کے لیے میری بے ڈھنگی تحریر موزوں بھی ہوگی یا نہیں، کیونکہ الشریعہ میں ایسے مضامین آب وتاب سے صفحات کی زینت بنائے جاتے ہیں جن میں انوکھی بات کو چھیڑا جائے اور اپنوں کو نہ چھوڑا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ جب الشریعہ میں ایسے مضامین چھپ سکتے ہیں جو پوری طرح اس کے پیغام کی نمائندگی نہ کرتے ہوں تو شاید میرے بے ترتیب خیالات بھی اس میں جگہ پا کر قارئین تک پہنچ سکیں۔ 
’’کلمہ حق‘‘ میں استاذی مولانا زاہد الراشدی صاحب کی حقیقت پسندانہ تحریریں واقعی قاری کو تصویر کا صحیح رخ دکھاتی ہیں، مگر ہم مولوی لوگ شاید حقیقت پسندی سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ حالات کا صحیح ادراک کر کے اپنی خامی کا اقرار کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں مزید غلطیاں کر ڈالتے ہیں۔ ایک شمارے میں استاذی نے حقیقت کا ایک رخ دکھلایا اور ’’کافر کافر‘‘ کے نعرے پر تنقید کی تو ایک طوفان برپا ہو گیا۔ بعض دوسرے جرائد میں بھی اس موضوع پر لکھا گیا، لیکن خود ’الشریعہ‘ نے مختلف نقطہ ہائے نظر کو اپنے صفحات پر جگہ دے کر دینی صحافت میں ایک مثبت قدم اٹھایا۔ ایک طرف شیعہ سنی اتحاد کے داعی ہیں اور دوسری طرف وہ جو اس بات پر بضد ہیں کہ شیعہ حضرات کا وجود یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر ہے۔ غالباً دونوں گروہوں نے چودہ سو سال کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا۔ شیعہ سنی اختلاف ہر دور میں معرکہ کامیدان رہا ہے۔ شیعہ حضرات نہ صرف اپنے عقائد پر کاربند ہیں بلکہ اپنی تحریر وتقریر سے سنیوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ کیا اتحاد کے داعیوں کو ان حضرات کے بنیادی عقائد میں کوئی کجی نظر نہیں آتی؟ کیا ان کو خلافت راشدہ کے عہد سے لے کر آج تک ان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نظر نہیں آتا؟ کیا وہ ہلاکو خان کے ہاتھوں سقوط بغداد سے لے کر بش کے ہاتھوں سقوط بغداد تک کی تاریخ سے غافل ہیں؟ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ چودہ سو سال کی شدید نفرتیں شیعہ اقلیت کو مٹا نہیں سکیں نہ سنیوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر سکیں۔ یہاں ایک متوازن حقیقت پسندانہ رویے کی ضرورت ہے کہ دونوں گروہ اپنے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے دائرۂ امتیاز میں رہ کر اپنے عقائد پر کاربند رہیں اور چھیڑ چھاڑ سے اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر کے یہود ونصاریٰ کے آلہ کار نہ بنیں۔
ڈاکٹر محمود احمد صاحب غازی کا خطاب الشریعہ (فروری ۲۰۰۵) میں پڑھنے سے قبل میں براہ راست سن بھی چکا تھا۔ آج کے دور میں ہر چیز تیزی سے ارتقا کا سفر طے کر رہی ہے، مگر دینی سامراج مختلف حیلوں بہانوں سے ارتقا کی راہ میں جمود کے روڑے اٹکانے کے لیے کوشاں ہے۔ مدارس کے نصاب میں کیا تبدیلیاں ہونی چاہییں، ڈاکٹر صاحب کی باتیں دل کو تو لگتی ہیں لیکن اکابر پرستی اس کی بھلا کیسے اجازت دے سکتی ہے۔ مدارس کے نصاب کو اگر طلبہ کی متفاوت صلاحیتوں اور دستیاب ذرائع ووسائل کے پیش نظر ترتیب دیا جائے تو دینی نصاب کو مختلف درجات میں تقسیم کر کے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر درجہ اعدادیہ سے دورۂ حدیث تک کے طلبہ کی تعداد کو سامنے رکھیں تو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ شاید ۱۰ فی صد طلبہ ہی تکمیل کر پاتے ہیں۔ درمیان میں کسی وجہ سے تعلیم چھوڑ جانے والے طلبہ کو نہ ہم مولوی شمار کرتے ہیں اور نہ مذہبی ٹھیکے داری میں شریک۔ ہماری دوسری کوتاہ نظری یہ ہے کہ کہ اگر کوئی طالب علم تعلیم حاصل کر کے تجارت یا کوئی دوسری دنیوی پیشہ اختیار کرتا ہے تو ہم اس کے اس عمل کو اساتذہ کی بد دعاؤں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ اگر ایک عالم شرعی طریقے کے مطابق تجارت کرے تو یہ مدارس کی کامیابی ہے کہ انھوں نے معاشرے کو ایک امانت دار اور سچا تاجر فراہم کیا۔ انگریز کے قابض ہونے سے پہلے برصغیر پاک وہند میں ایک ہی نظام تعلیم تھا جو مفتی، قاضی، عالم اور معاشرے کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے رجال کار مہیا کرتا تھا اور اس کے فضلا ہر میدان میں اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔ آج بھی مدارس کے نصاب کو مختلف صلاحیتوں کے پیش نظر ترتیب دینا چاہیے اور ایک متوازن نصاب کے ذریعے سے متنوع صلاحیتوں کے طلبہ پیدا کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ فارغ التحصیل ہونے والے تمام علما نہ تو تدریس کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ اہل مدارس سب کے لیے ایسے مواقع پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ اس میدان میں دین کی خدمت کریں۔ چنانچہ گنتی کے چند باصلاحیت افراد کو نکال کر باقی فضلاے مدارس کو دوسرے میدانوں میں معاشرے کی راہنمائی کرنی چاہیے، نہ یہ کہ وہ معاشرتی سرگرمیوں اور مسائل سے لاتعلق اور احساس کمتری کا شکار ہو کر مدرسے کی چار دیواری تک محدود ہو جائیں۔ 
ہمارے قابل احترام دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے قلم سے عموماً ایسی تحریریں برآمد ہوتی ہیں جن سے خاموش سمندر میں تلاطم پیدا ہو جائے۔ پروفیسر صاحب الفاظ کے داؤ پیچ، ہیر پھیر اور اونچ نیچ کو برمحل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسی صلاحیت کو اپنے حق میں دلائل بنا کر الشریعہ کے صفحات کو زینت بخشتے ہیں۔
جون کے شمارے میں تاریخی افسانوں اور ان کی حقیقت سے متعلق پروفیسر شاہدہ قاضی صاحب کا مضمون قابل توجہ تھا، تاہم یہ بات دیکھنے کی ہے کہ خود ان کے دعویٰ کی بھی کوئی حقیقت ہے یا وہ بھی افسانے پر افسانے کا درجہ رکھتا ہے۔
الشریعہ کا سب سے جرات مندانہ قدم اس میں شائع ہونے والے ’’مکاتیب‘‘ ہیں جنھیں من وعن قارئین تک پہنچا دیا جاتا ہے، ورنہ روش عام یہی ہے کہ اگر کسی کی کوئی رائے آپ پر تنقید کا دروازہ کھولتی ہے تو اسے امانت داری کے ساتھ ردی کی ٹوکری کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ الشریعہ کے رئیس التحریر یا مدیر پر تنقیدی خطوط یا دیگر مندرجات پر ناقدانہ تبصروں کو الشریعہ میں جگہ دینا مجلس ادارت کی مثبت سوچ، رواداری اور تحمل کا واضح ثبوت ہے۔
الغرض الشریعہ اگرچہ اپنے پیغام کے معیار پر سو فیصد پورا نہیں اترتا، لیکن ایک نئی سوچ، مثبت رویوں،اچھوتی تحریروں اور بے لاگ تبصروں کا امین ضرور ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ الشریعہ اپنے مضبوط قلم کاروں کے سہارے اہل علم کے لیے غور وفکر کا سامان میسر کرتا رہے۔ آمین
حماد انذر قاسمی
استاذ جامعہ فاروقیہ 
چوک امام صاحب ۔ سیالکوٹ
(۵)
محترم ومکرم جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا فکری منہج اور اسلوب صاحب فکر قارئین کے لیے بے حد دلچسپی کا باعث ہے، جس پر اللہ رب العزت کے حضور اظہار تشکر ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ استاذی مولانا زاہد الراشدی صاحب کی صالح اور متوازن سوچ ہی ہے جس کا عکس الشریعہ کے جملہ کالم نگاروں کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے اور الشریعہ کی ٹیم اس پر بجا طور مبارکباد کی مستحق ہے۔ 
ماہِ اگست کے شمارہ میں میاں انعام الرحمن صاحب نے سرزمینِ مغرب میں وجود پذیر حقائق کی جس انداز میں تصویر کشی کی ہے، وہ واقعۃً قابل تعریف ہے۔ احقر ہمیشہ سے میاں صاحب کے اندازِ فکر وتحریر کا معترف ہے۔ اللہ رب العزت میاں صاحب اورجملہ قلمکاروں کے علم وعمل میں برکت عطافرمائے۔ آمین۔
مزید براں راقم اپنی اور برادرم فیروز الدین شاہ کھگہ صاحب کی طرف سے ان تمام قارئین کرام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اندرون وبیرون ملک سے ’’الفرقان الحق‘‘ کے حوالے سے ہمارے تنقیدی مضمون پر اپنی آرا اور تجزیوں کا اظہار فرمایا اور اس طرح ہمارے اس عزم کو مزید تقویت پہنچائی کہ ہم استشراقی طرز فکر، منہج استدلال اور اس کے پس پردہ کارفرما عزائم کی حقیقت کو مسلمانوں پر آشکارا کریں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری کوششیں اس کی بارگاہ میں قبولیت سے سرفراز ہوں اور مسلم امہ کی نشاۃ ثانیہ کے حصول میں کسی بھی درجے میں مفید اور مددگار ثابت ہو سکیں۔ آمین
والسلام
حافظ محمد سمیع اللہ فراز
ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، لاہور
(۶)
جناب محمد عمار خان ناصر صاحب، مدیر ماہ نامہ الشریعہ
السلام علیکم!
خداوند تعالیٰ ہمیشہ آپ کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ ماہنامہ الشریعہ ہمیں باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے جس کی وجہ سے میں اپنی لائبریری کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
ماہنامہ الشریعہ ایک معیاری رسالہ ہے جس میں عصر حاضر کے اہم موضوعات، حالات وواقعات پر خوبصورت مواد پڑھنے کو ملتا ہے جو کہ ہمارے طلبا وطالبات، ریسرچرز اور اساتذہ کرام کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ایک دفعہ پھر شکریہ اس امید کے ساتھ کہ آپ آئندہ بھی ہماری لائبریری کو یاد رکھیں گے۔
خداوند تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
رفعت رفیق
(لائبریرین)
شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ پنجاب
قائد اعظم کیمپس، لاہور

’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ : ایک مطالعہ

حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کا سفرنامۂ اندلس ’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ پڑھا۔ جو چند باتیں فوری طور پر ذہن میں جگہ پاگئی ہیں، اُنھیں ایک امانت خیال کرتے ہوے معرضِ تحریر میں لانے کی کوشش کررہاہوں۔ 
سب سے پہلی اور نمایاں بات تو یہ ہے کہ پونے تین سو صفحات کے اِس سفرنامے میں، جو کہ سرزمینِ یورپ کے دو ممالک کے سفر کی روداد ہے، ایک جگہ پر بھی کوئی خاتون در نہیں آئی-- نہ اِشارتاً نہ صورتاً۔ یہ بات نمایاں اِس لیے ہے کہ اردو میں سفرنامہ لکھنا جب سے ’’صنعت‘‘ کی شکل اختیار کرگیا ہے، Marketing کا یہ اُصول کہ ہر چیز کی تشہیر عورت کے ذریعے سے ہو، ہر سفرنامے کا بنیادی جزو بن گیا ہے۔ ہر سفرنامے کے بالعموم ہر دوسرے صفحے پر کسی اصلی یا خیالی نامحرم خاتون کا چٹخارے دار ذکر ہوتا ہے۔ کچھ ایسے شیردل سفرنامہ نگار بھی موجود ہیں جو اِس صفت سے متصف اپنے سفرناموں کا انتساب بھی اپنی بیگمات کے نام کرتے ہیں۔ خیر، یہ تو جملۂ معترضہ تھا۔ میں اپنے نہایت محدود مطالعے کی روشنی میں دورِ حاضر میں لکھے گئے صرف ایک سفرنامے، ’جہانِ دیدہ‘ کو اِس علت سے پاک پاتا ہوں جس میں سفرنامے کے تمام ادبی لوازم بھی موجود ہیں اور معلومات کا تنوع اور رنگارنگی بھی، جب کہ مذکورۂ بالا ’’تشہیری عنصر‘‘ سے اِس کا دامن آلودہ نہیں ہے۔ میرے مطالعے میں آنے والا دوسرا سفرنامہ اِس باب میں یہی ہے۔ 
ہاں! سفرنامۂ حج و عمرہ کا مسئلہ بالکل مختلف ہے۔ جو قلم کار حج یا عمرہ کا سفر کرتے ہیں اُنھیں عموماً اِس مخلوق سے پالا نہیں پڑتا۔ لیکن یہ صرف اِس سفر کا اعجاز ہوتا ہے، وگرنہ اِنھی میں سے کسی کے کسی دوسرے سفر کی روداد پڑھ لیجیے، یہ مخلوق ہر ہر قدم پر دامن گیر ملے گی، الاماشاء اللہ۔ حدیثِ پاک میں جن کم تر نیت کو لے کر عازمِ سرزمینِ حجاز ہونے والے لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے، اُن میں نام و نمود کی طلب والے لوگ بھی شامل ہیں۔ فی زمانہ شاید اِن لوگوں سے ’’سفرنامۂ حج و عمرہ نویس‘‘ ہی مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ 
دوسری بات جو اِس سفرنامۂ اندلس میں ہر ہر سطر سے عیاں ہے، شاعرِمشرق علامہ محمد اقبالؒ کی محبت کی بکھری ہوئی خوشبو ہے۔ ایک اقبال شناس جب اقبال کے خوابوں کی سرزمین، اندلس میں اقبال ہی کے حوالے سے جمع ہونے والے عالم بھر کے اقبال شناسوں میں ایک مقالہ پڑھنے کے لیے مدعو ہوگا تو ہر حوالہ اقبال ہی کو مشیر ہوناچاہیے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ پوری کتاب میں ایسی جگہ شاذ کے حکم میں ہے جہاں اقبال کے کسی شعر یا فلسفیانہ خیال کا استعمال آورد معلوم ہوتا ہو۔ کئی مصرعے تو ایسے برجستہ استعمال ہوئے ہیں کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ 
سفرناموں میں طویل نویسی کی ایک ٹیکنیک یہ بھی ہوتی ہے کہ معلومات کا تذکرہ کرنے کے بجاے قاری کو معلومات کے بوجھ سے لادنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں ایک سفرنامۂ حج کا ذکر مثال کے طور پر کروں گا۔ جن لوگوں کو اللہ نے حج کی سعادت نصیب فرمائی ہے وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ جنت البقیع کا سارا علاقہ آقاے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کی طرف ہے۔ اِس میں ایک مختصر لمبائی کا احاطہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ میں سے نو اَزواجِ مطہراتؓ کی قبریں ہیں جو آپس میں اِس قدر قریب ہیں کہ ایک دوسری میں تقریباً پیوست ہیں۔ اِس باب میں علم معدوم ہے کہ یہ قبریں کس ترتیب سے ہیں۔ ہمارے ایک قلم کار کے سفرنامۂ حج کا تقریباً بیس فی صد حصہ اَزواجِ مطہراتؓ کی قبور پر فاتحہ خوانی کی روداد پر مشتمل ہے۔ اور بہت سی باتوں کے علاوہ ہر اُم المومنینؓ کی حضورِپاک صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تفصیل اور اُن کے اور اُن کے خاندان کے فضائل اور بعض تاریخی واقعات بھی فاتحہ خوانی کے اِس موقع پر بیان کیے گئے ہیں۔ پیرایۂ اظہار اِس تخصیص اور صراحت کے ساتھ یوں ہے کہ ’’میں [فلاں] ام المومنینؓ سے اجازت لے کر [فلاں] ام المومنینؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔‘‘ Pedantry کا عالم یہ ہے کہ موصوف نے سفرنامے کے ہر باب کا عنوان کسی مصرعے سے باندھنے کا التزام کیا ہے، گو وہ مصرع کتنا ہی غیرمعروف اور غریب ہو۔ آمدم برسرِمطلب۔ ’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ کے مطالعے کے دوران میں مجھے طویل نویسی اور قاری کو معلومات کے بوجھ سے لادنے کی ایسی کوئی کوشش کسی ایک جگہ پر بھی نہیں ملی۔ رواں دواں انداز میں بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے، اور ہر بات ایک منطقی ترتیب میں ہے۔ جو بات کہنے کی ہے، صرف وہی کہی گئی ہے۔ لیکن ایک بات ضرور عرض کروں گا کہ کچھ چیزیں بلاضرورت محسوس ہوتی ہیں، جیسے ایک جگہ پر دفتری سیاست کا اور ایک اور جگہ پر ملکی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا اقبالیات کے حوالے سے مختصر مختصر تذکرہ، گو یہ زیادہ بوجھل بھی نہیں ہے۔ 
رہا Pedantryکا سوال-- یہ بات واضح ہے کہ جب ایک شخص ایک ایسے سفر کی روداد بیان کرے گا جو اُس کے خوابوں کی سرزمین میں ہوا، تو اُسے اِس بات کا کہاں ہوش ہوگا کہ اندازِبیاں، جملوں کی بُنت اور الفاظ کے چناؤ پر توجہ دے۔ وہ تو بلاتمنّاے ستایش و کلمۂ تحسین اپنی کہے چلا جاے گا۔ اِس فحواے کلام کو دل کی آواز کہتے ہیں۔ ’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ میں ہر جگہ یہی انداز ہے۔ مجھے یہاں ہٹلر کی خودنوشت سوانح Mein Kampf [میری جدوجہد] سے ایک بات یاد آرہی ہے۔ اُس نے ایک جگہ پر لکھا ہے کہ اگر دشمن کا کوئی جاسوس پکڑا جاے تو راز اُگلوانے کے لیے اُسے زمین پر ننگے پاؤں کھڑا کرکے دونوں میں سے کسی ایک پاؤں کی سب سے چھوٹی انگلی پر بوٹ کی ایڑی رکھ کر پوری قوت سے گھوم جاؤ۔ ایک چیخ کے ساتھ اُس کی ایک انگلی نکل جاے گی۔ یہ بے اختیار چیخ اُس کی مادری زبان میں ہوگی۔ یہ مثال یہاں پر شاید نادرست اور بے موقع ہے لیکن میرا اِس سے مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ یہ پورا سفرنامہ ہی، کم و بیش، ایک ایسا ہی بے اختیار اور تصنع سے پاک اظہارِ واقعہ ہے۔ 
سفرنامے پر اپنے ابتدائیے ’’حرفِ اوّل‘‘ میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے ایک بڑی کمال کی بات کہی ہے جو اگر مکمل بیان نہ کی جاے تو میرا بیان ناقص رہے گا۔ فرماتے ہیں: 
’’میں ہسپانیہ میں مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں کسی رومانوی خوش فہمی کا شکار نہیں ہوں۔ ’’اندلس میں چند روز‘‘ کے مصنف جسٹس محمد تقی عثمانی کی ایک بات دل کو لگی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اختتامِ سفر پر ایک ساتھی نے سوال کیا:’’کیا کبھی مسلمان اِس خطے کو دوبارہ ایمان سے منور کرسکیں گے؟‘‘ عثمانی صاحب کا جواب بہت حقیقت پسندانہ تھا:’’اِس وقت تو مسلمان اپنے موجودہ خِطوں کو ٹھیک سے سنبھال لیں تو بہت ہے کہ وہاں اندلس کی تا ریخ نہ دُہرائی جاے۔‘‘ 
بہت سی چشم کشا باتیں بھی معلومات میں اضافے کا سبب بنیں۔ جہاں ایک طرف ابنِ رشد اور ابنِ حزم وغیرہ مفکرین کے ایسے خیالات جو امتِ مسلمہ کے سوادِ اعظم کے عقائد سے بالکل مختلف بلکہ اہلِ کفر کے خیالات کے مماثل ہیں اور اُن کے بارے میں ایسی باتیں علم میں آئیں جن سے ہم لوگ بُعدِمکانی کی وجہ سے لاعلم ہیں، اور اِن کے معلوم ہوجانے پر دل میں خفگی پیدا ہوئی، وہیں دوسری طرف مرحوم ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب کے حقیقت بینی پر مشتمل خیالات اور فرانس کی لائبریری میں سیکڑوں طلبہ و طالبات کے یکسوئی سے مطالعے میں محو ہونے کے بیان نے بے حد متاثر کیا۔ یونیورسٹی میں تعلیم کا آغاز علی الصبح ہونا اور طلبہ و طالبات کا شوق و لگن کے ساتھ وقت پر پہنچنے کی فکر میں ہونا جہاں مصنف کو حیران کن اور کیف آور لگا وہاں مجھے بھی ایک ایسا پرلطف منظر لگا کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ 
یہ بات قابلِ لحاظ ہے اور قابلِ رشک بھی، اور قابلِ صد افتخار بھی کہ یہ سفرنامہ جناب رشید حسن خاں کے مجوزہ اِملا کے مطابق لکھا گیا ہے جو بہت ہی احسن بات ہے۔ اردو املا کی یکسانی کے لیے جناب رشید حسن خاں کی خدمات اور محنت کسی پیمانے سے ناپی تولی نہیں جاسکتیں، کہ ہر پیمایش کی کوئی حد ضرور ہوتی ہے۔ میں اِس بات سے بہت خوش ہوا کہ مجھے پاکستان میں شائع ہونے والی ایک ایسی کتاب پڑھنے کو ملی جس میں خاں صاحب کے تجویز کردہ اصولِ املا و رموزِاوقاف کی ہر ممکن حد تک پابندی کی گئی ہے۔ 
مرحوم مشفق خواجہ صاحب نے اِس کتاب کے ابتدائیے ’’تقدیم‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ اب سفرنامہ کوئی الگ صنفِ ادب نہیں رہی، اِسے افسانہ نگاری کا بدل بلکہ نعم البدل سمجھاجاسکتا ہے۔ یہ اِس لیے کہ وہ واقعات بھی سفرنامے میں شامل ہوجاتے ہیں جو سفر کا حصہ نہیں ہوتے۔ عرض ہے کہ خواجہ صاحب ادب کے پارکھ ہونے کی وجہ سے ادب کی ایک صنف کا دوسری صنف سے موازنہ کررہے ہیں جب کہ میں ٹیکنالوجی کی دنیا کا باشندہ ہونے کی بناپر ادب کی اِس صنف یعنی سفرنامہ نگاری کا موازنہ ٹیکنالوجی سے کرتے ہوے اِسے ایک باقاعدہ ’’صنعت‘‘ کہہ رہا ہوں۔ بات ایک ہی ہے۔ کہنے والوں نے اپنے اپنے شعبوں کی زبان استعمال کی ہے۔ 
مختصر یہ کہ ’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ کے مطالعے کے دوران میں قاری اکیلا نہیں ہے بلکہ ہر لحظہ اُس مختصر قافلے کے ساتھ ہے جس میں امیرِ سفر جناب سہیل عمر جیسے دین دار آدمی ہیں، مرزا محمد منور مرحوم جیسے مرنجاں مرنج اقبالیات کے عالمِ بے بدل ہیں، اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی جیسے ’’فنافی الاقبال‘‘ استادِ ادب۔ دنیا بھر کے بڑے اور اہم اقبال شناسوں کے علاوہ مرحوم ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب سے ملاقات بھی اِس سفرنامے کے قاری کو نصیب ہوتی ہے، جو میرے خیال میں اگر جناب رفیع الدین ہاشمی صاحب کے لیے ’’حاصلِ سفر‘‘ ہے تو قاری کے لیے ’’حاصلِ مطالعہ‘‘۔ زہے نصیب! 

تعارف و تبصرہ

محمد عمار خان ناصر

’’بائبل کا تحقیقی جائزہ‘‘

جناب بشیر احمد ایک تجربہ کار اور وسیع المطالعہ مصنف ہیں اور قادیانی ویہودی تعلقات کے حوالے سے ’’تحریک احمدیت‘‘ کے زیر عنوان ایک ضخیم دستاویزی کتاب مرتب کرنے کے علاوہ بہائی مذہب اور یہودی تنظیم فری میسنری پر بھی معلوماتی کتابیں پیش کر چکے ہیں۔ زیر نظر تصنیف میں انھوں نے بائبل کے متن کے تاریخی وتحقیقی جائزے کا اپنا موضوع بنایا ہے اور انسائیکلو پیڈیاز اور دیگر مستند علمی مآخذ کے ایک قابل قدر ذخیرے سے استفادہ کرنے کے بعد بائبل کے متن کی ترتیب وتدوین، اس کے تاریخی ارتقا، مقدس صحائف کے مختلف نسخوں، تاریخی اہمیت رکھنے والے تراجم اور دور جدید میں بائبل پر ہونے والی علمی وفنی تنقید کے مختلف پہلووں پر بنیادی اور اہم معلومات جمع کر دی ہیں۔ 
کتاب یقیناًایک اہم علمی موضوع پر ہے اور اس میں، عام مذہبی روایت کے برعکس، مناظرانہ انداز سے بھی بالعموم اجتناب کیا گیا ہے، تاہم ترتیب وپیش کش کے پہلو سے کتاب میں بہتری پیدا کرنے کی کافی گنجایش موجود ہے۔ اندازہ یہ ہوتا ہے کہ نوٹس کی صورت میں کتاب کا مواد جمع کرنے کے بعد موضوع کی تسہیل اور مواد کی مناسب پیش کش کے لیے درکار ترتیب وتہذیب کا خاص اہتمام نہیں کیا گیا۔ جا بجا ایسے پیرا گرافس ملتے ہیں جن میں جملوں کے مابین کوئی منطقی ربط تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر تاریخی نظریات وواقعات کا حوالہ اس طرح اجمال واختصار سے آیا ہے کہ مسئلے کی پوری تصویر قاری کے سامنے نہیں آتی۔ اسی طرح بعض ایسے ابواب شامل کتاب کر لیے گئے ہیں جو فنی طور پر کتاب کے عنوان کے دائرے میں نہیں آتے، مثلاً باب چہارم ابتدائی دور کے مسیحی فرقوں کی فہرست پر مشتمل ہے، باب نہم میں اسلام اور عیسائیت کے عقائد کا تقابل کیا گیا ہے جبکہ باب دہم میں مسلم ممالک میں عیسائی مشنریوں کے تبلیغی حربوں کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں ترتیب کتاب میں عہد نامہ جدید کو ناقابل فہم طور پر عہد نامہ قدیم سے مقدم کر دیا گیا ہے۔ پروف خوانی کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں۔ 
ان فنی نقائص سے قطع نظر یہ کتاب، ایک ایسے قاری کے لیے جو انگریزی مآخذ تک براہ راست رسائی نہیں رکھتا، موضوع سے واقفیت کا ایک اچھا اور قابل استفادہ ماخذ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر باب کے آخر میں مزید مطالعہ کے لیے کتب تجویز کی گئی ہیں جو خصوصی طور پر ایک مفید چیز ہے۔ 
۱۸۸ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۱۵۰ روپے درج ہے اور اسے اسلامک اسٹڈی فورم (پوسٹ بکس ۶۳۹ اسلام آباد) نے شائع کیا ہے۔ 

سہ ماہی ’’التفسیر‘‘ کراچی

برصغیر کے مذہبی مکاتب فکر میں سے بریلوی مکتب فکر عام طور پر علمی وتحقیقی مسائل سے عدم دلچسپی اور عامیانہ تصوف کی نمائندگی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ حیات اجتماعی کی مشکلات اور اعلیٰ سطحی فکر وتدبر سے گریز کی ایک عمومی کیفیت اگرچہ اب بھی پائی جاتی ہے، تاہم مولانا غلام رسول سعیدی اور پیر کرم شاہ صاحب الازہری جیسے اصحاب علم کی کاوشوں کے نتیجے میں پچھلے کچھ عرصے میں صورت حال میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ مذکورہ دونوں بزرگوں کی ایک اور امتیازی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے فقہ حنفی کی علمی روایت کے ساتھ وابستہ ہونے کے باوجود بہت سے مسائل میں علمی دلائل اور اجتماعی مصالح کی روشنی میں دوسری فقہی آرا سے اخذ واستفادہ کے باب میں وسیع المشربی کا طریقہ اپنایا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے منتسبین میں بھی اس رجحان کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ 
زیر نظر جریدہ مولانا غلام رسول صاحب سعیدی کے حلقہ فکر کے ایک صاحب علم اور جامعہ کراچی میں فقہ وتفسیر کے استاد ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج صاحب کی زیر ادارت شائع ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کا تیسرا شمارہ (جولائی تا ستمبر ۲۰۰۵) ہے جو مختلف علمی وفقہی مضامین پر مشتمل ہے اور ان میں سے بعض مضامین علمی مسائل میں آزادانہ غور وفکر کا نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد شکیل اوج شرعی اصولوں اور فقہی جزئیات پر غور کرنے کے بعد مروجہ فقہی فتوے کے برعکس، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خواتین کے لیے ناخن پالش لگانا اور اس کو اتارے بغیر وضو اور غسل کرنا شرعی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ ایک دوسرے مضمون میں محمد عارف خان ساقی صاحب کے نتائج تحقیق یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹخنوں کو ننگا رکھنے کا حکم عرب کی مخصوص معاشرتی روایت کے تناظر میں تکبر اور نخوت کی علت کی بنا پر دیا تھا جس کا دنیا کے مختلف معاشروں میں رائج لباس کی تمام شکلوں پر اطلاق نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ ’’حالت نماز میں پائنچے سے ٹخنے ڈھکے رہنے کی صورت میں نماز کی صحت اور درستگی پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نماز کے ’’واجب الاعادہ‘‘ ہونے کا قول محض بے اعتدالی ہے۔ کسی ذاتی ضرورت یا مصلحت کے تحت شلوار کو آدھی پنڈلی پر یا ٹخنے سے اوپر رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ شریعت لوگوں کے روزہ مرہ میں نہیں الجھتی۔‘‘
توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ جریدہ تحقیقی رجحانات اور مثبت علمی رویوں کے فروغ میں ایک مفید کردار ادا کرے گا۔
اس جریدے کی اشاعت کا اہتمام مجلس التفسیر کراچی کی جانب سے کیا جاتا ہے اور اس سے متعلق معلومات کے لیے پوسٹ بکس ۸۴۱۳، جامعہ کراچی، کراچی ۷۵۲۷۰ کے پتے پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہنامہ ’’حق چاریار ‘‘ (اشاعت خاص)

ماہنامہ حق چاریار کا زیر نظر خصوصی شمارہ تحریک خدام اہل سنت کے بانی اور قائد مولانا قاضی مظہر حسین علیہ الرحمۃ کی یاد میں شائع کیا گیا ہے اور اس میں مولانا مرحوم کے حالات زندگی اور علمی وتصنیفی خدمات کے تذکرہ کے علاوہ ان کے ساتھ استفادہ وعقیدت کا تعلق رکھنے والے بیسیوں اہل قلم کے تاثرات، مختلف عنوانات پر مولانا کی تحریریں ، ان کے نام اکابر کے خطوط اور تحریروں کے عکسی نمونے جمع کر دیے گئے ہیں۔ 
خالصتاً عقیدت کی نگاہ سے مطالعہ کرنے والے قارئین کا معاملہ الگ ہے، لیکن سوانحی لٹریچر سے دلچسپی رکھنے والا ایک عام باذوق قاری مولانا مرحوم جیسی شخصیت پر تیرہ سو سے زائد صفحات کے اس خصوصی نمبر کی تیاری میں جس درجے کی محنت اور فنی مہارت کی توقع کر سکتا ہے، وہ نمایاں طور پر مفقود ہے۔ مشمولہ تحریرات کا بیشتر حصہ مولانا کی وفات پر اخبارات وجرائد میں شائع ہونے والے یا منتسبین سے خصوصی طور پر لکھوائے گئے متفرق اور جزوی نوعیت کے تاثرات پر مشتمل ہے جو کسی طرح بھی مولانا کی شخصیت، سوانح اور خدمات کے اہم پہلوؤں پر مستقل اور مفصل مضامین کا بدل نہیں ہو سکتے۔ مواد کے ’انتخاب‘ اور ترتیب وپیشکش کے پہلوؤں سے بھی یہ خصوصی اشاعت زیادہ قابل اطمینان نہیں ہے۔
اس ضخیم اشاعت کی رعایتی قیمت ۳۰۰ روپے مقرر کی گئی ہے اور اسے دفتر ماہنامہ حق چاریار، متصل جامع مسجد میاں برکت علی، ذیل دار روڈ، اچھرہ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’بھینس کی قربانی‘‘

قرآن مجید میں قربانی کا حکم دیتے ہوئے ’’بہیمۃ الانعام‘‘ یعنی چوپایوں میں سے بہیمہ قسم کے جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں اونٹ، گائے اور بکری شامل ہیں۔ فقہی روایت میں بھینس کو بھی گائے ہی کی ایک نوع شمار کر کے اس کی قربانی کو جائز تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اہل حدیث مکتبہ فکر کے بعض اہل علم اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مولانا حافظ نعیم الحق ملتانی نے، جو خود ایک اہل حدیث عالم ہیں، جمہور فقہا کی رائے کی تائید اور مخالفین کے نقطہ نظر کی تردید میں علمی مباحث کا ایک اچھا ذخیرہ زیر نظر کتاب میں جمع کر دیا ہے جو موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے قابل مطالعہ ہے۔
۲۴۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مکتبہ دار الحسنیٰ، سمبڑیال روڈ ڈسکہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔