اکتوبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس اور عصر حاضرمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاکستان، اسرائیل اور مسئلہ فلسطینپروفیسر میاں انعام الرحمن 
سرسید کے بارے میں تاریخی افسانوں کی حقیقتضیاء الدین لاہوری 
اہل تشیع کی تکفیر کا مسئلہادارہ 
اسلام اور نظریہ ارتقاپروفیسر میاں انعام الرحمن 
مکاتیبادارہ 
ادارہ مباحث فقہیہ بھارت کا آٹھواں فقہی اجتماعادارہ 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 

دینی مدارس اور عصر حاضر

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۷ اگست ۲۰۰۵ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں خصوصی تربیتی کورس کی تکمیل کے موقع مولانا زاہد الراشدی نے حاضرین سے مختصر خطاب کیا جس کا خلاصہ در ج ذیل ہے۔ مدیر)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
حاضرین کرام! یہ میرے ایک بہت پرانے خواب کی تعبیر کا آغاز ہے جو آج آپ موجودہ شکل میں الشریعہ اکادمی میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک مدت سے میں یہ سوچ رہا تھا کہ درس نظامی کے فضلا کے لیے کسی ایسے کورس اور تربیت گاہ کا اہتمام ہونا چاہیے جس میں انھیں دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے آگاہ کیا جائے اور اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اس دور کے لوگوں کی نفسیات اور ذہنی سطح کو سمجھتے ہوئے ان کے سامنے دین کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔ آج مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اس سمت میں سفر کا آغاز ہو گیا ہے۔
حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی نے ایک زمانے میں یہ بات کی تھی کہ جس طرح اصحاب کہف حالات کے جبر سے بے بس ہو کر اپنا ایمان بچانے کے لیے غار میں گھس گئے تھے اور اپنے ایمان کا تحفظ کیا تھا، اسی طرح ہمارے اساتذہ نے بھی حالات کے جبر کو بھانپتے ہوئے ہمیں مدارس کی غاروں میں داخل کر دیا ہے۔ اصحاب کہف جب تین صدیوں کے بعد غار سے نکلے تھے تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ زبان بدل چکی تھی، سکہ تبدیل ہو چکا تھا اور حالات انقلابات کا شکار ہو چکے تھے۔ اسی طرح جب ہم ان مدارس کی غاروں سے نکل کر سوسائٹی میں آتے ہیں تو ہمیں بھی سب کچھ بدلا ہوا ملتا ہے۔ سوسائٹی کی عام زبان ہمارے لیے نامانوس ہوتی ہے اور ہمارا سکہ آج کے دور میں مارکیٹ میں قبول نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہم اپنی ہی سوسائٹی کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں۔
حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی کی بیان کردہ یہ تمثیل ہمارے موجودہ ماحول اور معاشرتی تناظر کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خاصا کام دیتی ہے اور الشریعہ اکادمی کا بنیادی مقصد اسی اجنبیت کو کم کرنا اور دینی مدارس کے فضلا کو معاشرے کے عمومی ماحول سے باخبر اور مانوس کرنا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زبان، نفسیات اور ذہنی سطح کا ادراک کرتے ہوئے ان کے سامنے دینی تعلیمات کو پیش کر سکیں۔ ہمارا دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس آج کے عالمی ماحول سے واقف ہوں، اپنے معاصر مذاہب اور فکری وعلمی تحریکات سے آگاہ ہو ں اور علمی وفکری کام کرنے والوں کے طریق کار اور ہتھیاروں سے باخبر ہوں۔ آج دنیا کے عالمی ماحول سے بے خبر یا لا تعلق رہ کر کوئی دینی، علمی یا فکری تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دین کی بات کرنے والے کی بات اس قدر عام فہم اور باعث کشش ہو کہ اس کی بات ہر جگہ توجہ سے سنی جائے اور اس پر غور کیا جائے کیونکہ کوئی بات کتنی ہی سچی اور حقیقت پر مبنی کیوں نہ ہو، اگر اس میں کشش نہیں ہوگی تو وہ قابل توجہ نہیں سمجھی جائے گی۔ غالباً مولانا روم کی بیان کردہ کہاوتوں میں ذکر ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ سفر پر جا رہا تھا۔ ان میں ایک صاحب کو اذان دینے کا بہت شوق تھا، مگر آواز اس قدر مکروہ تھی کہ سننے والے آواز سنتے ہی کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے تھے۔ ایک جگہ وہ غیر مسلموں کی بستی کے پاس سے گزرے۔ وہاں نماز کے لیے ٹھہرے اور ان صاحب نے بڑے شوق کے ساتھ اذان دی، مگر جب نماز سے فارغ ہوئے تو بستی سے ایک غیر مسلم مٹھائی کا ٹوکرا اٹھائے ہوئے ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ وہ اذان دینے والے بزرگ کون ہیں؟ میں یہ مٹھائی ان کے لیے لایا ہوں۔ لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آخر کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ میری ایک جوان لڑکی ہے جو کچھ دنوں سے اسلام کی طرف مائل نظر آ رہی تھی اور ہم اسے سمجھا بجھا کر اسلام قبول کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہماری کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ آج آپ حضرات کا قافلہ آیا تو میری بیٹی پھر بے تاب ہو نے لگی۔ اتنے میں اس موذن نے اذان دی تو اس کی آواز سن کر میری بیٹی کا ارادہ بدل گیا ہے۔ اس خوشی میں مٹھائی کا یہ ٹوکرا لایا ہوں اور شکرانے کے طور پر موذن صاحب کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہم اس بات کے دعوے دار نہیں ہیں کہ ہم جو کچھ درس نظامی کے فضلا کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، وہ انھیں ایک سال کے اس عرصے میں دے دیتے ہیں اور نہ یہ بات ممکن ہے۔ البتہ ہمیں اس قدر اطمینان ضرور حاصل ہے کہ ہم ان کے دلوں میں ان ضروریات کا احساس اجاگر کر دیتے ہیں اور اس خلا کو پورا کرنے کے راستوں کی طرف نشان دہی کر دیتے ہیں جس سے اس سمت میں ان کا اگلا سفر قدرے آسان ہو جاتا ہے۔
ہم اس مشن کے لیے آپ حضرات سے تعاون کے خواست گار بھی ہیں، راہ نمائی اور تجاویز کے طلب گار بھی ہیں اور خصوصی دعاؤں اور توجہات کے متمنی بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خلوص اور محنت کے ساتھ پیش رفت کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

پاکستان، اسرائیل اور مسئلہ فلسطین

پروفیسر میاں انعام الرحمن

1897 کی بیسل کانفرس میں یہودیوں نے اپنی جدا گانہ آزاد ریاست کے قیام کے لیے منصوبہ بندی کر لی تھی اوراس کے بعد سے وہ اسے عملی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انہی دنوں انگریزوں نے پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے ’انعام کے طور پر عربوں کو آزاد اور خود مختار علاقے دینے کا وعدہ کر رکھا تھا، لیکن سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر نے میں عربوں کے تعاون کے باوجود برطانوی وزیرِ خارجہ بالفور نے ۱۹۱۷ء میں یہودیوں سے فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا وعدہ کر لیا۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ادھر برِ صغیر پاک و ہند میں مسلمان اپنے ہم وطن ہندوؤں کے ہمراہ سلطنتِ عثمانیہ کی حمایت میں انگریزوں کے خلاف انتہائی جوش و جذبے سے تحریکِ خلافت چلا رہے تھے اور اُدھر عرب موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے ہم مذہب مسلمان ترکوں کے خلاف بر سرِ پیکار تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے نام رشید رضا کا خط ملاحظہ کیجئے: 
’’ مسئلہ بیداری عرب کے متعلق آپ کی رائے معلوم ہوئی ۔ آپ کے خیال میں عجلت کی ضرورت نہیں ، تامل درکار ہے۔ یورپ کے بھوت سے خوف لازم ہے۔ یہ خیال کہ اہلِ عرب ترکی کی حالت سے واقف نہیں، اس لیے درست ہے کہ اہلِ ہند عربوں کی حالت سے واقف نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ رہی یہ بات کہ یورپ کے خوف سے اہلِ عرب کو اپنے مطالبات میں جلدی نہیں کرنی چاہیے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم کہیں کہ یورپ کے خوف سے اہلِ عرب کو مطالبہ اصلاح میں جلدی کرنی چاہیے تو یہ زیادہ موزوں ہو گا ۔ ۔۔‘‘
صرف اسی اقتباس سے عالمی سیاست کی سفاکی معلوم ہو جاتی ہے۔ 9 جون 1916 کو فلسطینی عربوں نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ عربوں کی بغاوت جب زور پکڑ گئی تو ترکوں نے 8 اور 9 دسمبر 1917 کی درمیانی شب میں بیت المقدس خالی کر دیا تاکہ اس مقدس شہر میں خون خرابہ نہ ہو۔ 10 دسمبر 1917 کو عربوں کے دوست اور مسیحا برطانیہ نے اس شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت یہودیوں کی تعداد کل آبادی کا پانچ فیصد یعنی 2600 تھی لیکن کچھ ماہ بعد ہی ان کی آبادی 83000 ہوگئی ،جبکہ فلسطینی عربوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی ۔ جنگ کے اختتام پر فلسطین برطانوی کنٹرول میں آیا اور برطانیہ نے حسبِ وعدہ فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کی مہم شروع کر دی۔ یہودی 1922 میں مجموعی آبادی کا 12 فیصد، 1931 میں 17فیصداور 1944 میں 31 فیصد ہوگئے۔ 1937 میں جب برطانیہ کی طرف سے فلسطین کی تقسیم کی تجویز سامنے آئی تو محمد علی جناح ؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اس کی مذمت کی ۔ دوسری عالمی جنگ میں لاکھوں یہودی ہٹلر کے نازی ازم کا شکار ہوئے۔ بچ جانے والوں کو نازی کیمپوں سے نکال کر سر زمین فلسطین میں منتقل کر دیا گیا جس سے اس خطے میں یہودیوں کی عددی قوت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خیال رہے کہ عربوں نے اپنے بہت سے علاقے یہودیوں کو فروخت بھی کیے تھے۔ 1943 میں یہودیوں نے یورپ اور امریکہ میں پراپیگنڈا مہم چلا کر اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ انہی دنوں 1944 میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جناح ؒ نے کہا: 
’’اگر یہودی عناصر کے دباؤ کے تحت ( امریکی) صدر روزویلٹ ، برطانیہ کو فلسطین کے سوال پر عربوں سے نا انصافی کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو یہ فیصلہ مسلم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آگ لگا دے گا۔ اگر یہودیوں کی آباد کاری کا سلسلہ جاری رہا تو پوری اسلامی دنیا اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی۔ ‘‘
برطانیہ نے 1947 میں فلسطین کو اپنے انتداب سے نکال کر اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ پر ڈال دی۔ اس وقت اقوامِ متحدہ کے صرف 56 ارکان تھے۔ مسئلے کے حل کے لیے جنرل اسمبلی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا چےئرمین پاکستان تھا۔ افغانستان اور چھ عرب ریاستوں کو بھی کمیٹی کی رکنیت دی گئی ۔ کمیٹی نے رپورٹ میں سفارش کی کہ فلسطین میں ایسا وحدانی نظام اپنایا جائے جس میں یہودی اقلیت کے حقوق کی ضمانت موجود ہو اور باہر سے آنے والے یہودیوں کو یورپ میں یا پھر ان کے ابتدائی علاقوں میں آباد کیا جائے۔ مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے سپرد کرنے کی بات بھی چلائی گئی۔ بہرحال یہ رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی۔ تقسیم کے سوال پر ووٹنگ ہوئی تو 13 ووٹ مخالفت میں اور 33 حق میں آئے، جبکہ 10 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا ۔ اہم بات یہ ہے کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی ریاستوں کی اکثریت ان علاقوں سے تعلق رکھتی تھی جن کا مشرقِ وسطی سے کسی قسم کا بالواسطہ یا بلاواسطہ رشتہ موجود نہیں تھا۔ اس طرح پاکستان سمیت مسلم دنیا کی شدید مخالفت کے باوجود مئی 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا۔ اس کے بعد بھی پاکستان نے اسرائیل کی حقیقت کو قانونی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھی ۔ 

قیامِ اسرائیل کے بعد مشرقِ وسطی کے حالات

اسرائیل کے قیام کے بعد مشرقِ وسطی کے حالات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ 14 مئی 1948 کو فلسطین سے برطانوی دستبرداری کے صرف 7 گھنٹے بعد یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تھا ۔ یہ بات حیران کن ہے کہ 10 منٹ بعد امریکہ نے اور 15 منٹ بعد سوویت یونین نے اسے تسلیم کر لیا ۔ اس وقت 6 لاکھ سے زائد عرب بے گھر ہو چکے تھے ۔ اس صورتِ حال میں پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی ۔عربوں نے جرات سے مقابلہ کیا اور بیت المقدس کے قدیم حصے پر قبضہ کر کے تل ابیب تک پہنچ گئے۔ بڑی طاقتوں کی مداخلت پر اقوامِ متحدہ نے عارضی صلح کرا دی۔17 ستمبر کو یہودیوں نے اقوامِ متحدہ کے ثالثی نمائندے کاؤنٹ برنا ڈوٹ کو ہلاک کر دیا جس سے دوبارہ جنگ چھڑ گئی ۔ اسرائیلی فتوحات کے بعد جب اسرائیل کو مار پڑنے لگی تو اقوامِ متحدہ نے مصالحت کراتے ہوئے مارچ 1949 میں جنگ بند کرا دی۔ جنگ کے خاتمے پر فلسطین کا 78 فیصد علاقہ اسرائیل کے قبضے میں تھا ۔ جنگ کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے۔ 70 فیصد عربوں کو ان کے قدیم آبائی گھروں سے نکال دیا گیا۔ 1948 کی سنگین صورتِ حال کے بعد حالات ابھی معمول پر نہ آئے تھے کہ 1956 میں جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے ۔ مصر نے نہر سوئز کا نظام چلانے والی کمپنی کو قومی تحویل میں لیا تو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے اس پر حملہ کر دیا ۔ اسرائیلی فوج نہر سوئز کی حدود کے 40 میل اندر تک اتاری گئی۔ اس چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے نہ صرف 6 ہزار مصری فوجیوں کو گرفتار کر لیا بلکہ سینائی کے مصری علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ جنگ میں شدید نقصان کے باوجود جمال ناصر نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا۔ سوویت یونین کے خروشیف کی طرف سے فرانس ، برطانیہ اور اسرائیل کو دی جانے والی دھمکی شاید اس لیے کام کر گئی کہ امریکہ اس جنگ سے لاتعلق بلکہ قدرے ناراض تھا کہ تینوں ممالک نے امریکی عندیے کے بغیر یہ جنگ چھیڑ دی تھی۔ اس طرح جنگ بند ہو گئی ۔ بعد ازاں امریکی دباؤ پر اسرائیل کو مارچ 1957 میں غزہ کا علاقہ خالی کرنا پڑا جس پر اس نے دورانِ جنگ قبضہ کر لیا تھا ۔ اس جنگ میں عالمی طاقتوں کے کردار سے اسرائیل نے بھانپ لیا کہ اب برطانیہ کی عالمی شہنشاہیت قصہ ماضی ہے اور امریکہ اس کا حقیقی جانشین ہے۔ اس کے بعد اسرائیل نے امریکہ میں اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کر دیں ۔ جون 1967 کی جنگ میں عربوں کو یقین تھا کہ وہ بآسانی اسرائیل کو شکست دے لیں گے لیکن اسرائیل نے 5 جون کو حملہ کر کے پوری مصری فضائیہ کو زمین پر ہی تباہ کر ڈالا اور 7 جون کو یروشلم کے تاریخی شہر کو فتح کر لیا ۔ اس جنگ میں اسرائیل نے عربوں کے بہت سے علاقے ہتھیا لیے اور عربوں کو ہر میدان میں شکست فاش دی۔ 1948 میں اسرائیل کا رقبہ آٹھ ہزار مربع میل تھا ۔ 1967 کی جنگ کے بعد یہ چار گنا ہو گیا۔ نومبر 1967 میں اقوامِ متحدہ نے قرارداد 242 کے تحت اسرائیل سے کہا کہ وہ اپنی سرحدیں جنگ سے پہلے والے مقامات پر لے جائے، لیکن اسرائیل نے اس پر عمل نہیں کیا اور ان علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس سے پہلے 19 اگست 1967 کو خرطوم کانفرنس میں عربوں نے اپنے تین مشہور ’’ نہیں ‘‘ کا اعلان کر دیا تھا: (۱) اسرائیل کے ساتھ امن نہیں ہو گا، (۲) اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، (۳) کسی فلسطینی علاقے کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے ۔
1971 میں مصر کے جمال ناصر کے جانشین انور سادات کی آفر سے خطے میں ڈرامائی تبدیلی رونماہوئی ۔ سادات نے کہا کہ اگر اسرائیل جزیرہ نمائے سینائی سے اپنی فوجیں نکال لے تو مصر اسرائیل کے لیے نہر سوئز کھول دے گا ، نہر کے مشرقی کنارے سے مصری فوجیں ہٹا لی جائیں گی اور اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات شروع کر دیے جائیں گے ، لیکن اسرائیل نے انور سادات کی یہ پیشکش ٹھکرا دی ۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں نے اسرائیل سے حساب چکانے کی کوشش کی ۔سادات کی قیادت میں مصر ، نہر سوئز آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا ۔ امریکی مداخلت اور سوویت یونین کی غیر جانبداری کے باوجود اس جنگ سے عربوں کے اعتماد میں بھی قدرے بہتری آئی ۔ اس وقت تک سوویت یونین کی منافقانہ پالیسیوں کے باعث عربوں کے مسائل جوں کے توں قائم تھے ۔ یہ دیکھتے ہوئے انور سادات نے امریکی راہنماؤں سے تعلقات قائم کیے۔ امریکی تعاون سے نہر سوئز کُھل گئی۔ انور سادات نے 9 نومبر 1977 کو مصری پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن کی خاطر زمین کے آخری سرے تک جانے کو تیار ہے ۔ 15 نومبرکو بیجن نے سادات کو یروشلم کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ عرب لیڈروں کی شدید مخالفت کے باوجود سادات عیدالاضحی کے دن یروشلم گیا اور مسجدِ اقصیٰ میں نماز ادا کی۔ سادات نے کنیسٹ ( اسرائیلی پارلیمنٹ) سے بھی خطاب کیا اور مذہبی بقائے باہمی کی بات کی ۔ سادات نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صلیبی جنگوں کی عدم روادار ی کو ترک کر دیا جائے اور حضرت عمرؓ اور صلاح الدین ایوبی کے جذبے کی طرف واپسی اختیار کی جائے جنہوں نے مقدس شہر میں پر امن بقائے باہمی کی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ستمبر 1978 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا جس کی پاداش میں مصر کو عرب لیگ سے نکال دیا گیا اور لیگ کا صدر مقام قاہرہ سے تیونس منتقل کر دیا گیا ۔مصر کو او آئی سی کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ۔ بیجن نے 1979 میں معاہدے پر دستخط کیے ۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے خود کو تسلیم کرا لیا لیکن اسے سینائی چھوڑنا پڑا ۔ اس معاہدے کے بعد بھی بیجن نے توسیع پسندانہ پالیسی جاری رکھتے ہوئے مغربی کنارے میں مزید بستیاں بسانے کا اعلان کیا ۔ بیجن کے اس اقدام کے باوجود معاہدے کے خلاف احتجاج کے طور پر یہودیوں نے ’’ تہیہ ‘‘ پارٹی قائم کی، جس کے تین اہم اصول یہ تھے: 
(۱) اسرائیل کی بقا کے لیے جنگ نا گزیر ہے ۔
(۲) اسرائیل کو کسی بھی مقبوضہ علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
(۳) کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو لازماً مسترد کر دینا چاہیے اور مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں قائم کی جانی چاہئیں ۔
اسرائیل کے خلاف اکتوبر 1973 کی جنگ میں فتح کی خوشی میں منعقدہ پریڈ میں 6 اکتوبر 1981کومصر کے صدر سادات کو قتل کر دیا گیا ۔ دن عید الاضحی کا تھا ۔ سادات نے اسی دن 1977 میں یروشلم کا تاریخی دورہ کرکے اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کیے تھے اور کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے اس نے اس وارنٹ پر باقاعدہ مہر تصدیق ثبت کر دی تھی ۔ سادات پر گولیاں برسانے والا فرسٹ لیفٹیننٹ خالد چیختا رہا: ’’ یہ کتا ، یہ کافر میرے حوالے کر دو‘‘۔
پچاس سیکنڈ کے اس حملے میں سات افراد ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوئے ۔ مصری عوام سادات کے قتل پر نہ تو روئے اور نہ اس کے جنازے کے انتظار میں دو رویہ قطار باندھ کر کھڑے ہوئے ۔ سادات کے قتل کی رات قاہرہ کی سڑکیں بھی بالکل خاموش تھیں ۔ سادات کو دفن کرتے ہی امن خاک آلود ہو گیا ۔

فلسطین کاز ، عرب اور فلسطینی 

مصر نے اسرائیلی ریاست کے قیام کے چار ماہ بعد ہی غزہ کے علاقے میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی اور 20 ستمبر 1948 کو مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کی قیادت میں فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا، مگر اردن کے امیر عبداللہ نے نہ صرف اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ فلسطین کے ان علاقوں کو جن پر ان کی فوج نے 1948 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا ، اردن میں ضم کر لیا ۔ 24 اپریل 1950 کو اردن کی پارلیمنٹ نے بھی دریائے اردن کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو اردن میں باقاعدہ ضم کرنے کی منظوری دے دی ۔ اردن کو عرب لیگ سے خارج کر دیا گیا ۔ اسرائیل سے مذاکرات کا حامی ہونے اور برطانیہ کی طرف بے جا جھکاؤ کے باعث 20 جولائی 1951 کو بیت المقدس کی مسجد عمر فاروقؓ میں دوران نماز ، امیر عبداللہ کو کسی نامعلوم عرب نے گولی مار دی ۔ اس طرح آزاد و خود مختار فلسطین کا مصری منصوبہ عربوں کی باہمی منافرت کی نذر ہو گیا ۔ 1952 میں مصر کے شاہ فاروق کا تختہ جنرل نجیب اور کرنل ناصر نے الٹ دیا۔ 1958 میں عراق میں خونی انقلاب آیا۔ 1961 میں شامی فوج میں بعث پارٹی کے غلبے کے بعد شام ، مصر سے علیحدہ ہو گیا ۔ 1963 میں عراق میں انقلاب در انقلاب آئے ۔ ان واقعات نے مصر ، شام اور عراق میں قوم پرستانہ رجحانات کو فروغ دیا ۔ عالمِ عرب کی قیادت کے لیے تینوں ملکوں کی رقابت نے فلسطین کاز کو بے حد نقصان پہنچایا ۔
1964 میں مصر کے جمال ناصر نے پہلی عرب سر براہ کانفرنس کے دوران معروف فلسطینی راہنما احمد شکیری کی قیادت میں تنظیم آزادی فلسطین (P.L.O) کی بنیاد رکھی، لیکن یاسر عرفات کی فدائی تنظیم ’’ الفتح ‘‘ نے دنیا کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کر لیا۔ 1965 میں اس تنظیم نے اسرائیل کے اندر 35 کامیاب کارروائیاں کیں ۔ 1967 تک اس تنظیم نے پوری عرب دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ جون 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست کے بعد مصر کے جمال ناصر نے P.L.O کی قیادت عبدالرحمان یاسر عرفات کے سپرد کر دی ، جس سے آزادی فلسطین کی سیاسی اور عسکری جدوجہد ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو گئی۔ اگست 1969 میں مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ کو آگ لگا دی گئی ۔ اس واقعہ سے مسلم اتحاد کو مہمیز ملی اور ستمبر 1969 میں (O.I.C) کا قیام عمل میں آگیا ۔1970 میں فلسطینی گوریلوں نے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر اور اس کے اندر غیر معمولی کارر وائیاں کیں ، جس سے تنظیم کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ۔ فلسطینیوں کی جدوجہد کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب اردن کے شاہ حسین نے ان کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ خیال کرتے ہوئے 1971 میں ان کو اردن سے نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوج کشی کی ۔ اردنی فوج اور فلسطینیوں میں دست بدست جنگ ہوئی ۔ فلسطینیوں کے انخلا کے لیے اردن نے بیرون ممالک سے فوجی امداد بھی حاصل کی۔ اردن سے نکالے جانے پر فلسطینیوں نے لبنان کے شہر بیروت کو اپنا مسکن بنایا ۔ 1974 میں اردن کے شاہ حسین سمیت تمام عرب حکمرانوں نے پی ایل او اور اس کے سربراہ یاسر عرفات کو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ تنظیم اور لیڈر تسلیم کر لیا ۔ یاسر عرفات کو اس کے بعد کانفرنسوں میں سر براہ مملکت کا درجہ دیا جانے لگا۔ اسرائیل نے لبنانی عیسائیوں میں فلسطینیوں کے خلاف پراپیگنڈا مہم شروع کر دی ۔ انہیں گوریلا تربیت دی اور بڑے پیمانے پر اسلحہ تقسیم کیا ۔ اسرائیلی پالیسی کے نتیجے میں لبنانی عیسائیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ شامی لیڈر جو یاسر عرفات سے خائف تھے، انھوں نے بھی در پردہ عیسائیوں کی مدد کی ۔ 1976 میں جب عیسائیوں کی نیم فوجی تنظیم ’’عیسائی ملیشیا ‘‘ اور فلسطینی مجاہدین میں لڑائی جاری تھی، شامی فوج عیسائیوں کی مدد کو آگئی ۔ شامی فوج نے زبردست کارروائی کر کے فلسطینی مجاہدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ یوں اردن کے بعد شام نے بھی فلسطینیوں کے خلاف ’’ جہاد ‘‘ کا علم بلند کر کے فلسطین کاز کو شدید نقصان پہنچایا ۔ اس کے بعد تنظیم کے مختلف متحارب گروپوں پر پی ایل او کا کنٹرول کمزور پڑ گیا۔ اب کوئی گروپ شام کے حافظ الاسد کے زیرِ اثر تھا تو کوئی لیبیا کے کرنل قذافی کا احسان مند تھا ۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مصر ، فلسطینی کاز سے لا تعلق ہوچکا تھا ۔ ایسے ماحول میں ایک اسرائیلی سفیر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں جون 1982 میں اسرائیل نے لبنان کے فلسطینی کیمپوں پر شدید حملہ کر دیا ۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کی خوب دھلائی کی لیکن کوئی عرب ریاست فلسطینیوں کی ’’ عملی مدد ‘‘ کو نہیں پہنچی ۔ امریکہ حسبِ روایت ’’ امن کا علم ‘‘ تھامے میدان میں کود پڑا اور اس نے بیروت سے فلسطینی انخلا کو مسئلے کا شاندار حل بتایا۔ جولائی 1982 میں برطانیہ ، امریکہ ، اٹلی اور فرانس کی مشترکہ فوج قیام امن کے لیے بیروت میں آئی ۔ اس فوج کا مقصد لبنان سے فلسطینی گوریلا فوج کا مکمل انخلا تھا ۔ لہٰذا ان طاقتوں نے عربوں کی پسِ پردہ حمایت کے ساتھ فلسطینی ہیڈ کوارٹر بیروت سے تیونس منتقل کر دیا۔ اسرائیلی، فلسطینی تنظیم کے ہیڈ کوارٹر کو اپنے پڑوس میں برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس لیے ان کی کوششوں اور عربوں کی بے وفائی سے پی ایل او کو اپنے مرکزی دفاتر با ر بار مختلف مقامات پر منتقل کرنے پڑے ۔ 
4 جولائی 1988کو مغربی کنارے اور غزہ پر قبضہ کے اکیسویں سال کے موقع پر اسرائیل میں عسکری گروپس نے جلوس نکالا ۔ اس میں دس ہزار اسرائیلی شریک ہوئے ۔ اسی دن تل ابیب میں امن پسندوں نے بھی جلوس نکالا اور قبضہ ختم کرنے، فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے اور فوج کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ۔14 نومبر 1988کو اسرائیل میں الیکشن ہوئے ۔ 15 نومبر کو فلسطین تحریکِ آزادی کے ہیرو یاسر عرفات نے فلسطینی آزادی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ساری دنیا میں عرفات کے اس اقدام کی دھوم مچ گئی ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کے ہاں دہشت گرد قرار پانے والا یاسر عرفات قلابازی کھا کر سادات کے مقام پر کیوں جا کھڑا ہوا ؟ اس کا دو لفظی جواب ہے: ’عربوں کی باہمی مناقشت‘۔ 
دسمبر1987 میں غزہ میں انتفاضہ کے نام سے ایک انقلابی فلسطینی تحریک منظرِ عام پر آئی جو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم تک پھیل گئی ۔ اس تحریک سے عرب دنیا اور بین الاقوامی برادری کافی متاثر ہوئی ۔ انتفاضہ کے آغاز میں ہی ایک نئی تنظیم ’’ حماس ‘‘ بنائی گئی جس نے فلسطینیوں کی جدوجہد کو اسلامی رخ دے دیا ۔ یہ اسرائیلیوں اور فلسطینی قوم پرستوں ، دونوں کے خلاف کمر بستہ تھی ۔ 1992 میں جب اسحاق رابن اسرائیل کا وزیر اعظم بنا تو وہ انہی تنظیموں کو مدِ نظر رکھ کر پی ایل او کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو گیا۔ 1993 میں اسرائیل اور پی ایل او نے معاہدہ اوسلو پر دستخط کیے ۔ 4 نومبر1995 کو تل ابیب میں ایک امن ریلی کے دوران رابن کو امن معاہدے کرنے کے پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ قاتل کے بقول رابن ایک ’’روڈیف ‘‘ یعنی یہودیوں کا دشمن تھا، اس لیے اس کا قتل اس پر فرض تھا ۔اس طرح مصر کے سادات کی طرح ، اسرائیل کے رابن کے قتل نے واضح کر دیا کہ اس خطے میں ایک نہیں، بلکہ دو جنگیں لڑی جا رہی ہیں ۔ ایک وہ جس کا دنیا میں چرچا ہے یعنی عرب اسرائیل جنگ، اور دوسری قدرے ڈھکی چھپی ہے لیکن اب منظرِ عام پر آ چکی ہے ۔ یہ جنگ اسرائیل اور عرب ممالک میں سیکولر اور مذہبی قوتوں کے درمیان زور پکڑ رہی ہے ۔

مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتِ حال

اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم ایریل شیرون ، مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودیوں کی آباد کاری کی پالیسی کے بانی ہیں۔ غزہ کی پٹی سے یہودی نو آبادیوں کے خاتمہ کا اعلان بھی انھی کی طرف سے آیا ہے ۔ ان کی اپنی پارٹی ’ لکوڈ ‘ اس مسئلے پر انتشار کا شکار ہو گئی ہے اور انتہا پسند یہودی عناصر ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔ جب انخلا کی پالیسی منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کی گئی تو وزیر خزانہ اور لکوڈ پارٹی کے اہم راہنما نیتن یاہو نے احتجاجاً استعفا دے دیا ۔ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے یا نہ کیا جائے، لیکن یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت نے انخلا کے ڈرامے کو بڑی خوبصورتی سے سٹیج کیا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا اس وقت شیرون کو ’ امن کا ہیرو‘ بنا کر پیش کر رہا ہے ، حالانکہ غزہ کی پٹی میں بمشکل آٹھ نو ہزار یہودی آباد کار ہیں جو دس لاکھ فلسطینیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ پٹی حماس اور اسلامی جہاد جیسی عسکریت پسند تنظیموں کی آماجگاہ ہے ۔ اسرائیل کو اپنی ان نوآبادیوں کی حفاظت کے لیے جدید اسلحہ سے لیس فوج رکھنی پڑ رہی ہے جس پر کثیر اخراجات آرہے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم غزہ کی پٹی سے نکل کر ایک طرف دنیا کی ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں اور دوسری طرف اوسلو معاہدے کو سبوتاژ کرتے ہوئے ’’ زمین برائے امن ‘‘ کے عمل کو تج کر اپنی شرائط پر امن کے خواہاں ہیں ۔ اقوامِ متحدہ ، امریکہ ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں کی کوششوں سے جو ’’ امن روڈ میپ ‘‘ تشکیل پایا تھا، فلسطینیوں کی طرف سے مثبت ردعمل کے باوجود وہ اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کاغذوں میں بند پڑا ہے۔عالمی برادری کے نزدیک اسرائیلی انخلا امن روڈ میپ کی طرف پیش قدمی ہے ، لیکن شاید عالمی برادری کی نگاہوں سے یہ امر پوشیدہ ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے (West Bank) میں حفاظتی دیوار کے نام پر پورے علاقے کو بھول بھلیاں میں بدل دیا ہے ۔ یہ دیوار جان بوجھ کر اس طرح اٹھائی گئی ہے کہ متصل اور یکجا علاقے کا وجود ہی غائب ہو جائے ۔عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کے دیوار تعمیر کرنے کے عمل کوجولائی 2004 میں خلافِ قانون اور ناجائز قرار دیا ہے لیکن اسرائیل نے عدالت کے فیصلے کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ستمبر 2005 میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے میں سقم پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عالمی عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کو مدِ نظر نہیں رکھا۔ امریکی صدر بش نے بھی جب اس دیوار کا نقشہ دیکھا تو اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا تھا کہ: ’’ پھر فلسطینی ریاست کہاں ہوگی ؟ ‘‘ 
بدیہی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غزہ کی پٹی سے انخلا فلسطینی ریاست کے قیام کو التوا میں ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے والی بات نہیں کہ مغربی کنارے کے چار لاکھ یہودی آباد کاروں سے آنکھیں بند کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کے آٹھ ہزار آباد کاروں کے انخلا کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف جرات مندانہ اہم قدم سمجھا جائے۔ موجودہ صورتِ حال میں Demographic Balance اسرائیل کے حق میں ہے ۔اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق غزہ کی پٹی کے ساتھ سیکورٹی زون قائم کیاجائے گا۔ اس سیکورٹی زون میں یورپی یونین کی فوج کی تعیناتی کی بات چل رہی ہے ۔ یورپی یونین کی ابھرتی ہوئی طاقت دیکھتے ہوئے اب اسرائیل شاید امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا چاہ رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غزہ سے انخلا کے باوجود اس علاقے پر اسرائیل کا تزویراتی کنٹرول باقی رہے گا ۔ ایریل شیرون یہ بات بھی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یروشلم تقسیم نہیں ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر مغربی یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت کیسے بنے گا ؟ شیرون مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں سے بھی پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔کثیر الاشاعت عبرانی اخبار ’’ یدیعوت احرنوت ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق غزہ سے انخلا ہی بہت بڑا زخم ہے اور اسرائیل آئندہ کسی علاقے سے دستبردار نہیں ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا ایک اعلیٰ فوجی افسرجنرل عودید تیرہ اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھتا ہے کہ ’’ غربِ اردن ‘‘ کے بارے میں اسرائیل کا موقف وہی ہے جو 1967 میں اس پر قبضے کے وقت تھا ۔ عودید کے مطابق غربِ اردن کی اسرائیل کے لیے علیحدہ سے دفاعی اہمیت ہے لہٰذا اسرائیل کسی ایسے منصوبے پر غور نہیں کرے گا جس سے اس کے دفاع میں کمزوری آتی ہو ۔ ایریل شیرون اور عودید کے بیانات سے یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں رہتی کہ فلسطینی مزاحمت کی وجہ سے ہی اسرائیل غزہ کی پٹی چھوڑ رہا ہے ۔ اندریں صورت حماس جیسی تنظیموں کا یہ کہنا کہ موجودہ انخلا مکمل آزادی کی طرف پہلا قدم ہے اور ہم مکمل آزادی تک لڑتے رہیں گے ، درست معلوم ہوتا ہے۔ 

پاکستان / اسرائیل روابط کی تاریخ 

جہاں تک پاکستان کے اسرائیل سے روابط کا تعلق ہے، یہ دو چار روز کی بات نہیں بلکہ نصف صدی کا قصہ ہے ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ کواسرائیل کی طرف سے تسلیم کر لینے کی درخواست موصول ہوئی ۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ ظفر اللہ (جو قادیانی تھے) تقسیم ہند سے قبل فلسطین کی تقسیم کو غیر قانونی اور عربوں کے ساتھ نا انصافی خیال کرتے تھے ۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد ظفر اللہ نے بھی پنیترہ بدلا اور عربوں کو عملیت پسند (Pragmatic) ہونے کا مشورہ دیا ۔ ایک وقت میں یہ قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئیں کہ پاکستان ،انڈیا کی مخالفت میں انڈیا پر سبقت لے جاتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والا ہے ۔ان دنوں قاہرہ میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے بیان دیا کہ عربوں کواسرائیل سے اپنے معاملے پر نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ اس کے نتیجے میں اپریل 1952 میں ظفراللہ اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر Abba Eban کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی نشست ہوئی۔ اس کے بعد جنوری 1953 میں ایک اور ملاقات کا اہتمام کیا گیا ۔ 1956 کے نہر سوئز کے بحران میں پاکستان تیسری دنیا کا غالباً سب سے اہم ملک تھا جس نے عوامی خواہشات کے بر عکس مصر کے بجائے مغربی طاقتوں کا ساتھ دیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں جمال ناصر کی حواس باختگی پر پاکستانی سفارت کار نجی محفلوں میں خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ اوٹاوہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر مرزا عثمان علی نے اسرائیلی سفارت کار کوکچھ یوں مبارک باد دی:
''Wonderful show! Your splendid little army put up in beating the Egyptian.'' 
’’زبردست! آپ کی شاندار فوج مصریوں کو شکست دینے میں ثابت قدم رہی۔‘‘
اور پھر عثمان صاحب نے افسوس کا بھی اظہار کیا کہ اگر برطانوی اور فرانسیسی مداخلت نہ ہوتی تو اسرائیلی فوج قاہرہ میں مارچ کر رہی ہوتی۔ جنرل ضیاء الحق، جنہیں اپنے ’’ امیر المومنین ‘‘ ہونے کا بہت زعم تھا ، 1970 میں فلسطینی مجاہدین کے خلاف اردنی حکومت کی شدید فوجی کارروائی میں بطور بریگیڈےئر شریک تھے۔ اس کارروائی کو بعد میں Black September Massacre of 1970 کا نام دیا گیا ۔ ظاہر ہے یہ عمل اردن کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے بھی مفاد میں تھا کیونکہ یہودی لیڈر ہر اس کارrوائی کے حامی تھے جس سے پی ایل او کمزور ہوتی اور فلسطین کاز کوزیادہ سے زیادہ نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ۔ شاہ حسین نے ’’ گراں قدر خدمات ‘‘ کے اعتراف میں ضیاء الحق کو خوب نوازا۔ عربوں سے الگ راہ اپنا کر مصرنے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ اسے عرب لیگ ( جس کا وہ بانی ممبر تھا ) اور او آئی سی سے نکال دیا گیا تھا - 1984 میں او آئی سی کی سربراہی کانفرنس منعقدہ کاسا بلانکا میں جنرل ضیاء الحق نے بڑی مہارت سے مصر کے حق میں راہ ہموار کی۔ اس کے بعد مصر کے لیے اسلامی دنیا کے دروازے کُھل گئے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑی پیش رفت تھی کہ کوئی اسلامی ملک اسرائیل کے ساتھ دیرینہ مراسم رکھتے ہوئے بھی اسلامی بلاک میں رہ سکتا ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کا یہ عمل، بالواسطہ ہی سہی، واضح طور پر پاکستان / اسرائیل رابطے کا غماز ہے اور طرفین کے نرم رویوں کا آئینہ دار بھی۔ 
بیسویں صدی کے آخری عشرے میں سرد جنگ کے خاتمے، بھارت اسرائیل سفارتی تعلقات اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے اسرائیل کے ساتھ روابط کا ایک نیا دور آیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف ، دونوں نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مخصوص حالات میں اپنی اسرائیل پالیسی پر نظر ثانی کر سکتا ہے ۔ بیگم عابدہ حسین نے، جو امریکہ میں پاکستان کی سفیر تھیں، اسرائیل سے مکالمہ کرنے پر زور دیا ۔ ان دنوں اقوامِ متحدہ کے مشن میں پاکستانی نمائندے نے ایک ایسے سفارتی استقبالیہ میں شرکت کی جس کا میزبان نیویارک میں متعین اسرائیلی سفیر تھا ۔پاکستانی وزیرِ خارجہ سردار آصف احمد علی اوران کے اسرائیلی ہم منصب شمعون پیریز کے درمیان بھی خفیہ روابط قائم رہے ۔ محترمہ بے نظیربھٹو نے اسرائیل سے معاملات طے کیے بغیر اگست 1994 میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت غزہ کی پٹی میں جانے کی کوشش کی تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: 
''The lady from Pakistan should be taught some manners.'' 
’’اس پاکستانی خاتون کو کچھ آداب واطوار سکھائے جانے چاہییں۔‘‘
اس کے باوجود چند ہفتوں بعد ہی پاکستان Arava میں اسرائیل/ اردن امن معاہدے کی تقریب میں شریک تھا۔ نومبر1995 میں اسحاق رابن کے قتل پر ایسی تمام دہشت گرد کارروائیوں کی پاکستان نے سرکاری سطح پر مذمت کی ۔ محترمہ بے نظیر نے تو رابن کے قتل اور ضیاء الحق کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں مشابہت تلاش کرنے کی بھی کوشش کی ۔ جنوری 1996 میں ایک ممتاز اسرائیلی روز نامہYediot Ahronot کو انٹر ویو دیتے ہوئے محترمہ نے کہا کہ امن کے عمل میں پیش رفت اور دوسرے عرب ممالک کی رضا مندی سے پاکستان اپنی پالیسی تبدیل کر سکتا ہے ۔ محترمہ نے اسرائیل اور امریکہ میں اس کے دوستوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے F-16 کی سپلائی کی بحالی اور اسلحہ کی پابندی ختم کرانے میں پاکستان کی مدد کی ۔مئی 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اسرائیل نے پاکستان کو ذمہ دار ملک قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ پاکستان اسے کسی Third Country or Entity کو منتقل نہیں کرے گا ۔ غالباً Entity کا لفظ اسرائیل Palestinian Entity کے تناظر میں استعمال کرتا ہے ۔ان دنوں پاکستانی وزرا اسرائیلی ٹیلی ویژن پر خدشات دور کراتے پائے گئے ۔ اسرائیل نے بھی پاکستانی بم کو جنوب ایشیائی حوالے سے دیکھا اور اس کے دفاعی ماہرین نے اسے اسلامی بم کی بجائے چینی بم قرار دیا۔ انہی دنوں اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ پاکستان سے باقاعدہ تعلقات نہ ہونے کے باوجود ، سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے زمانہ عروج میں اسرائیل اسلام آباد میں مستقلاً موجود رہا ۔ جنرل پرویز مشرف نے جون2003 میں پاکستانیوں سے کہا تھا کہ: 
''We should not overreact on this issue. We should give serious consideration. It is a very sensitive issue. We fought three wars with India but still had diplomatic relations.'' 
’’ہمیں اس مسئلے پر ضرورت سے زیادہ رد عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے۔ ہم نے بھارت سے تین جنگیں لڑی ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے مابین سفارتی تعلقات بھی قائم رہے ہیں۔‘‘
جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل سے کبھی کوئی جنگ نہیں ہوئی ۔ اگر انڈیا سے تعلقات قائم رہ سکتے ہیں تو اسرائیل سے تعلقات قائم کیوں نہیں کیے جا سکتے ؟ جرمن ہفت روزہ Der Spiegel سے بات کرتے ہوئے جنرل پرویز نے اسرائیلی وزیرِ اعظم شیرون کے بارے میں کہا تھا: A great soldier and a courageous leader ( ایک عظیم سپاہی اور جرات مند لیڈر) ۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم جناب شوکت عزیز نے بھی اس سال جنوری میں ورلڈ اکنامک فورم ڈیوس میں اسرائیلی ڈپٹی وزیرِ اعظم شمعون پیریز سے ہیلو ہائے کی ۔ حال ہی میں پاکستانی اور اسرائیلی وزراے خارجہ نے انقرہ میں با ضابطہ ملاقات کی ہے۔ جنرل پرویزمشرف نے امریکہ کے حالیہ دورے کے دوران میں اسرائیلی وزیرِ اعظم شیرون سے مصافحہ کرنے کے علاوہ جیوش نیشنل کانگرس سے خطاب بھی کیا۔

جنوبی ایشیامیں پاک بھارت کشمکش اور اسرائیل

جنوبی ایشیا میں پاک بھارت کشمکش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دونوں ممالک میں اب تک تین باقاعدہ جنگیں ہو چکی ہیں ۔1971 کی جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ، بنگلہ دیش بن گیا ۔ ان جنگوں کے علاوہ چھوٹی موٹی جھڑپیں بھی تاریخ کا حصہ ہیں اور حالتِ جنگ(State of War) کی نوبت بھی کئی بار آئی ہے ۔ بھارت نے پاکستان سے معاندانہ تعلقات کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں عربوں کو ناراض کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ 1956 کے نہر سوئز بحران میں بھارت نے امریکی تجاویز کو رد کرتے ہوئے کھلم کھلا مصر کا ساتھ دیا تھا۔ سوئز کو قومیانے سے مصر کا جمال ناصر عرب دنیا کا لیڈر بن کر ابھرا تھا، ایسے میں پاکستان کا معذرت خواہانہ رویہ اور بھات کا دو ٹوک موقف پاکستان کی رسوائی کا سبب بنا ۔ جب پی ایل او قائم کی گئی تو بھارت پہلی غیر عرب ریاست تھی جس نے اسے تسلیم کیا اور پوری طرح سپورٹ کیا ۔ عربوں کی طرف بھارت کے واضح جھکاؤ کے باوجود اسرائیل بھارت کو کیسے دیکھ رہا تھا؟ اس کا اندازہ جون 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد بننے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن گوریان کی Sorbone (پیرس) میں تقریرسے ہوتا ہے ۔ اس کی ایک جھلک 19 اگست 1967 کے برطانوی ہفت روزہ The Jewish Chronicle کے اس اقتباس میں دیکھی جا سکتی ہے:
’’ عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کے خطرہ سے غافل نہیں رہنا چاہیے ۔ اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ نظریاتی ریاست ہمارے وجود کے لیے ایک چیلنج ہے ۔ پاکستان یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتا ہے ۔ عرب ہمارے لیے اتنے خطرناک نہیں ہیں جتنا عربوں کے ساتھ محبت کرنے والا پاکستان خطرناک ہے ۔ اس خطرے کے پیشِ نظر صہیونیت کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری قدم اٹھائے ۔اس کے بر خلاف ہندوستان کے ہندو تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں سے نفرت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف جدوجہد کرنے اور تحریک چلانے کے لیے ہندوستان ہی ہمارے لیے سب سے اہم Base ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اسے استعمال کریں اور بھیس بدل کر یا خفیہ پلان کے ذریعے یہیں سے یہودیوں اور صہیونیت سے نفرت کرنے والے پاکستانیوں پر کاری ضرب لگائیں اور انہیں فنا کر دیں‘‘۔ 
اسرائیلی موقف میں یہ سختی شاید اس لیے آئی کہ اس سے قبل پاکستان کے اسرائیل سے روابط معمول کے تھے اور سفارتی تعلقات قائم ہونے کی بھی توقع تھی ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فلسطین پالیسی واضح ہوتی چلی گئی جس میں اسرائیل کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر فلسطین تحریک کو ، جو در حقیقت قوم پرستی پر مبنی تھی ، اسلامی زاویے سے لیا جا رہا تھا۔ خیال رہے، ماضی میں بھارت اسرائیل تعلقات خیر سگالی پر مبنی نہیں رہے ۔1966 میں جب اسرائیلی صدر Shazar کا جہاز نیپال جاتے ہوئے غیر متوقع طور پر کلکتہ میں ایندھن لینے اترا اور اسرائیلی صدر نے رات کلکتہ میں ٹھہرنے کا عندیہ دیا تو بھارت سرکار نے صاف انکار کر دیا اور کسی افسر کو استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہ بھیجا ۔ اسرائیل سے لاتعلقی کی بھارتی پالیسی اس وقت مزید کھچاؤ کا شکار ہو گئی جب 1975 میں بھارت نے اقوامِ متحدہ کی ایک قراردادکے حق میں ووٹ دیا جس کے مطابق صیہونیت اور نسل پرستی کو مساوی قرار دیا گیا تھا ۔ 
بہر حال، یہ بھار ت کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لال نہرو تھے جنھوں نے اسرائیلی ریاست کی de jure حیثیت تسلیم کر لی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات قائم رہے اور 1953 سے ممبئی میں اسرائیلی کونسلیٹ کام کرتا رہا جبکہ اسرائیل میں بھارت نے اپنا کونسلیٹ نہ کھولا۔ کانگرس پارٹی کے سرد رویے سے خائف ہو کربھی اسرائیل نے بھارت سے دیرینہ مراسم قائم کرنے کی جدوجہد ترک نہ کی۔ 1977 میں جب پہلی غیر کانگرس حکومت ( جنتا پارٹی ) قائم ہوئی تو اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ خارجہ موشے دایان نے اگست1977 میں بھارت کا خفیہ دورہ اس امید کے ساتھ کیا کہ اب اسرائیل کو عربوں کے خلاف بھارت کی سفارتی سپورٹ مل جائے گی، لیکن موشے دایان کو ناکام لوٹنا پڑا ، کیونکہ ابھی سوویت یونین( جو اسرائیل مخالف تھا ) پورے دم خم میں تھا اور بھارت کے اس کے ساتھ تزویراتی مفادات وابستہ تھے۔ اس وقت اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیرِ خارجہ تھے۔ انھوں نے واضح الفاظ میں موشے دایان سے کہہ دیا کہ عربوں کے حقوق کی بازیابی تک بھارت ، اسرائیل کے ساتھ تعاون اور سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔ 80 کے عشرے میں افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت پر پاکستان کو اسلام کے نام پر عربوں کی امداد پاتے دیکھ کر بھی اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی، لیکن عربوں کو خبردار کیا کہ افغانستان میں مقدس جنگ کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس سے بالآخر جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے خطے عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گے ۔ 
جنوری 1992 میں بھارت نے اسرائیل سے’’ سفارتی تعلقات‘‘ قائم کیے تو پاکستان کے مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ۔ بھارت نے یہ دیکھتے ہوئے کہ سوویت یونین کی طاقت پارہ پارہ ہو چکی ہے اور دنیا میں unipolar system رائج ہو چکا ہے ، فوراً اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی اور ایک تو براہ راست امریکہ سے قربت کی پینگیں بڑھائیں اور دوسرا اسے خوش کرنے کے لیے ( اور امریکہ میں یہودی لابی کے بے پناہ اثرات دیکھتے ہوئے ) اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔ غالباً بھارتی پالیسی سازوں نے بھانپ لیا تھا کہ عرب اسرائیل کشمکش مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ بھارت کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد ہی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اوسلو معاہدہ ہو گیا۔بھارت کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں عربوں نے بھی بالواسطہ اہم کردار ادا کیا ۔ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد ایسے عرب مجاہدین جو افغانستان میں تھے ، پاکستان کے کشمیر کازکی حمایت میں کشمیر چلے آئے ۔ اب بھارت کے سامنے واضح راستہ تھا کہ ایک تو سوویت یونین ٹوٹ چکا ہے، دوسرے عرب مجاہدین پاکستان کی حمایت میں باقاعدہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اس لیے آپشن صرف ایک ہی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات استوار کیے جائیں تاکہ جنوبی ایشیا میں عرب فیکٹر کو بیلنس کیا جا سکے۔بین الاقوامی میڈیا نے بھارتی پالیسی کو پاکستان کی سفارتی ناکامی پر محمول کیا ۔1998 میں بی جے پی کے بر سر اقتدار آنے سے بھارت اسرائیل تعلقات میں گرم جوشی آئی ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل نواز بھارتی پالیسی کے باوجود مشرقِ وسطی میں بھارتی مفادات پر کوئی ضرب نہیں لگی ۔ غالباً اس کی وجہ عربوں کی داخلی سیاست میں مسئلہ فلسطین کی مسلسل زوال پذیر اہمیت ہے ۔ 2000 میں فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھانے پر بھارت کی بائیں بازو کی جماعتوں نے اسرائیل نواز بھارتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ، تل ابیب سے سفیر واپس بلانے کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی سفیر کو بھارت سے نکالنے کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اسرائیل مخالف ، کمیونسٹوں کی آواز پر کان نہیں دھرا جا رہا ۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد بھارت نے اپنے تزویراتی مفادات( Strategic Interests ) اسرائیل سے وابستہ کر لیے ہیں ۔ ستمبر 2003 میں شیرون نے بھارت کا متنازعہ دورہ کیا تو عالمی سطح پر ہلچل مچ گئی ۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد اس کی آخری رسومات میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور کانگرس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی عدم موجودگی کو اسرائیل کی طرف بھارت کے واضح جھکاؤ پر محمول کیا گیا۔ یاسر عرفات کی وفات سے صرف اسرائیل عرب تعلقات میں ہی تبدیلی نہیںآئی بلکہ فلسطینیوں اور عربوں کے تعلقات بھی از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں ، جس سے بھارتی حکومت کو اسرائیل سے دوطرفہ تعلقات قائم کرنے میں مزید سہولت مل گئی ہے ۔ 2004 میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان Phalcon spy planes کی فراہمی کا معاہدہ ہوا ، جسے پاکستان نے روکنے کی ناکام کوشش کی۔ یہ معاہدہ اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کو انہی طیاروں کی چین کو فراہمی سے روک دیا تھا ۔ اس تناظر میں مبصرین نے بھارت اسرائیل اور امریکہ کو عالمی سیاست میں ایک نئی ٹرائیکا قرار دیا ۔ بھارت اس وقت اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسرائیل کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ بھی ۔ ان کے مابین اسلحہ ڈیل 2.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے ۔ دونوں ممالک انٹیلی جینس معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں ۔ اسرائیل کے دفاعی ماہرین نے بھارتی سیکورٹی فورسز کی تربیت بھی کی ہے جو پاکستان کے خلاف کشمیر میں نبرد آزما ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل ، کشمیر میں بھارتی پوزیشن کی پوری حمایت کرتا ہے ، جبکہ پاکستان کشمیر کو ہی بھارت کے ساتھ مخاصمت کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے ۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں ؟ ہاں، اگر پاکستان نے اپنی کشمیر پالیسی پر بھی یو ٹرن لے لیا ہے تو پاک اسرائیل تعلقات میں معنویت بآسانی تلاش کی جا سکتی ہے ۔

پاک / اسرائیل تعلقات میں مذہبی سوال

بعض حلقے اسرائیل / پاکستان روابط کو مذہبی تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک اسرائیل سے رابطے قائم کرنا مذہبیات کے خلاف ہے۔ ایسے حلقے قرآن مجید کی کچھ آیات اپنے موقف کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔ مثلاً: 
’’ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو کھلا ثبوت دے دو؟ ‘‘ ( النساء : ۱۴۴) 
’’ اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ۔ وہ ( آپس میں ) ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور جو کوئی تم میں سے ان کو دوست بنائے گا، وہ بلا شبہ انھیں میں سے ہو جائے گا ۔ بلاشبہ اللہ ظالم لوگوں کی راہنمائی نہیں کیا کرتا‘‘ ( المائدہ : ۵۱) 
ہم گزارش کریں گے کہ قرآن مجید کی ایسی تمام آیات میں خدائی منشا بہت واضح ہے ، لیکن ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایک تو ان آیات میں کفاراور یہود و نصاریٰ کو ’’ دوست ‘‘ بنانے سے منع کیا گیا ہے اور دوسرا وہ بھی ایسی دوستی جو مسلمانوں کے خلاف ہو ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل سے رابطے قائم کرنے میں ’’ دوستی ‘‘ کا عنصر شامل نہیں ہے اور یہ رابطے مسلمانوں کے خلاف ہر گز نہیں ہیں کیونکہ مسلم دنیا کے اسرائیل کے ساتھ پہلے سے روابط قائم ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسرائیل کے ساتھ روابط کا تعلق عقیدے یا ایمانیات سے نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں خارجہ پالیسی کی مابعد الطبیعات میں پیوست ہیں۔
اسرائیل کئی برسوں سے پاکستان کے ساتھ روابط کا خواہاں ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے اب تک اس وجہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے کہ اسرائیل نے عربوں کے بہت سے علاقے ہتھیا رکھے ہیں، اور چونکہ یہ صورت حال آج بھی برقرار ہے، اس لیے ایک غاصب کی طرف سے تعلقات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ہم عرض کریں گے کہ بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی اصل بنیاد اس طرح کے اخلاقی اصولوں پر نہیں ہوتی، بلکہ ان کا حوالہ کسی سیاسی پالیسی کو محض اضافی جواز فراہم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ خالصتاً خارجہ پالیسی کا داؤ پیچ تھا تاکہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جاسکے ۔ اب اگر معروضی حالات نئے داؤ پیچ کے متقاضی ہیں تو ہم اس سے محترز نہیں ہو سکتے۔ 
پاکستان / اسرائیل روابط کے سلسلے میں مذہبی سوال اٹھاتے وقت ہمیں یہ تاریخی حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خود عربوں نے، بشمول فلسطینیوں کے، اپنے ’’ قومی حقوق ‘‘ پانے کے لیے ترکوں کی مخالفت میں اسلامی پہلو کا لحاظ نہیں رکھا تھا اور انگریزوں کا ساتھ دیاتھا ۔عربوں کے اسی کردار کی وجہ سے اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور عرب / اسرائیل مسئلہ پیدا ہوا ۔ یہ عرب ہی ہیں جنھوں نے اسلامی دنیا کی وحدت کی علامت ’’ خلافت ‘‘ کے ادارے کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ یہ عجیب تضاد ہے کہ آج عرب اور فلسطینی اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسی ’’ وحدت ‘‘ کو تلاش کر رہے ہیں ۔ آج اگر مسلم دنیا عربوں اور فلسطینیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے سے قاصر ہے تو اس کی وجہ ’’ قومی مسائل ‘‘ ہیں جن سے مسلم ریاستیں بر سر پیکار ہیں ۔

حاصل مطالعہ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ، فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ نہیں ہے ۔ تمام عرب مقبوضات کے پیشِ نظر ، غزہ سے اس کاانخلا اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے ۔ لیکن مسئلہ فلسطین کا اونٹ آخر کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے ۔ آج اسے جس کروٹ بٹھایا جا رہا ہے، وہ بلاشبہ اسرائیل کے مفاد میں ہے لیکن اس کی کچھ نہ کچھ ذمہ داری ہم مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ 1948-49  میں اگر واقعیت پسندی کا مظاہرہ کیا جاتا اور اسرائیل کو تسلیم کر لیا جاتا تو یروشلم ، مغربی کنارے کا علاقہ اور غزہ کی پٹی بدستور فلسطین کے قبضے میں ہوتے ۔ ان علاقوں کو اسرائیلی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے کئی سالوں سے جو جدوجہد ہو رہی ہے، اس کی نوبت ہی نہ آتی ۔ 1948 سے لے کر اب تک اگر اسرائیلی ریاست قائم ہے اور اس کی قوت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اسرائیل کو کارنر کرنے کی ہماری پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ اسرائیل کا قیام عالمی طاقتوں کے ہاتھوں عمل میں آیا ہے اور اس کی بقا اور قوت کے پیچھے بھی وہی طاقتیں کارفرماہیں ۔ ایک محدود آبادی والے چھوٹے سے ملک کو ساری مسلم دنیا مل کر بھی ہڑپ کیوں نہ کر سکی ؟ کیا اس کی وجہ یہی نہیں کہ ہمارا اصل مقابلہ صرف اسرائیل کے ساتھ نہیں بلکہ اس کی پشت پناہی کرنے والی طاقتور ریاستوں سے بھی ہمیں نبرد آزما ہو نا ہے۔ کیا ہم کبھی اس قابل ہوئے ہیں کہ ہتھیاروں کی اپنی سپلائی لائن کے ساتھ ان طاقتوں کو چیلنج کر سکیں؟ ہم اکثر اوقات دیکھتے ہیں کہ کوئی چڑیا دانہ ڈالے جانے پر فوراً ہی اس پر نہیں جھپٹتی۔ وہ شروع میں بہت محتاط انداز میں دانوں کی طرف بڑھتی ہے ۔ دانہ چگنے کے دوران یہ احساس ہو جانے کے باوجود کہ اب سر پر کوئی خطرہ نہیں ، وہ غافل نہیں ہوتی اور ادھر اُدھر نظریں دوڑاتی رہتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا کا دانہ چگنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہم غافل نہ ہوں۔عسکریت کی ایک اپنی کیمسٹری ہوتی ہے اور خارجہ پالیسی کی اپنی ایک ما بعد الطبیعیات ہے اور وہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ۔ ہمیں اسی کی پیروی کرنی چاہیے ۔
1990کی دہائی میں صورتِ حال 1948-49  والی تھی ۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے ساتھ ہی دوقطبی نظام ختم ہوگیا اور یک قطبی نظام ابھر کر سامنے آیا۔ بھارت نے فوراً اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی اور سوویت یونین کی زندگی میں اس کی وفادار ی کا دم بھرتے ہوئے اس سے مفاد اٹھانے والا اس کے خاتمے سے بھی فوائد سمیٹ گیا۔ یہی خارجہ سیاست کا بنیادی اصول ہے ۔ شخصی اخلاقیات، قومی معاملات میں پوری طرح لاگو نہیں کی جاسکتی۔ کوئی شخص نقصان اٹھا کر بھی اپنے دوست کا وفادار رہ سکتا ہے، لیکن ریاست کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوتا ۔ آج پاکستان میں اسرائیل کے حوالے سے جو بحث ہو رہی ہے، ہماری رائے میں اس کا آغاز سوویت یونین کے خاتمے کے فوراً بعد ہو جانا چاہیے تھا ۔ ہمیشہ کی طرح ہم اس بار بھی واقعات کی رفتار سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایران جیسے ملک نے بھی، جس کے بھارت کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور وہ اسرائیل کے شدید خلاف ہے ، بھارت / اسرائیل گٹھ جوڑ پر بھار ت سے احتجاج نہیں کیا۔ عالمی اور علاقائی سیاست میں تبدیلی آنے کے بعد بھارت کے یہ انداز و اطوار ایران کے لیے قابلِ فہم ہو گئے ہیں۔ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ درحقیقت ایران نے بھی اسرائیلی ریاست کے بارے میں پہلے کے سے رومانوی رویے کے بجائے ٹھوس حقائق کی روشنی میں معتدل راہ اپنائی ہے ۔ یقیناً امریکہ ، اسرائیل اور بھارت پر مشتمل ٹرائیکا کے تینوں ممالک سے بگاڑ رکھنا ایران کے مفادمیں نہیں تھا ۔ اندریں صورت بھارت پر ایرانی دباؤ ایران کے مفادات کے خلاف ہوتا۔ ایران کا یہ کہنا کہ روس، چین اور پاکستان مشترکہ کوشش سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ٹریک پر لا سکتے ہیں، کچھ ایسا بھی غلط نہیں تھا، لیکن روس اور چین کے بدلتے ہوئے موقف کے باعث ایران کی توقعات نہیں ہوئیں اور بھارت نے تو ایٹمی تنازع پر واضح طور پر امریکا کی حمایت میں ایران کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اس کے باوجود ایران بھارت مراسم تناؤ کا شکار نہیں ہوئے۔ بھارت کے ائر چیف مارشل ایس پی تائیگی کے مطابق اس سال نومبر میں بھارتی فضائیہ امریکی فضائیہ کے ساتھ ’’ مقبوضہ کشمیر ‘‘ میں مشترکہ فضائی مشقیں کرے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہی برطانوی فضائیہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں نئے سال کے شروع میں ہوں گی ۔ بھارت / امریکہ دفاعی و ایٹمی معاہدہ ہو چکا ہے ۔اگست میں روس / چین جنگی مشقیں ہوئیں ۔ یورپی یونین میں داخلی کشمکش اور Old Europe, New Europe  کی بحث نے امریکہ کے لیے ممکن بنایا ہے کہ وہ یورپی یونین کو علاقائی طاقت کے طور پر ابھرنے سے روک سکے ۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں لیکن اس مختصر سے تعارف سے عالمی سیاست کی نئی صف بندی کے متوقع خط و خال نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یک قطبی نظام (Unipolar System)م یں ضعف کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ۔ امریکی قیادت کی دھول بیٹھنی شروع ہو گئی ہے اور Power Vacuum کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں ۔ ایک طویل المیعاد کثیر قطبی نظام ( Multipolar System ) ظہور پذیر ہے ۔ اس نظام میں یورپی یونین ، رشین فیڈریشن ، امریکی فیڈریشن کی نئی ہیئت، بھارت اور چین طاقت کے مختلف منطقوں کی نشاندہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس سارے عمل میں ہمارے لیے ایک پیغام موجود ہے ۔ 
یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ امن معاہدے امن قائم نہیں کرتے ، اگرچہ وہ اس بات کی علامت ضرور ہوتے ہیں کہ ’’فی الحال ‘‘ امن قائم ہو گیا ہے۔ روسیوں کی ایک پرانی ضرب المثل ہے کہ ’دائمی امن صرف اگلے برس تک ہی قائم رہتا ہے‘۔ ایک اندازے کے مطابق 1500 قبل مسیح اور 1860 کے درمیانی عرصہ میں امن کے 8000 معاہدے ہوئے ۔ ہر معاہدے کو ہمیشہ کے لیے نافذ اور دائمی امن کا ضامن تصور کیا گیا ، لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ معاہدے اوسطاً دو برس سے زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکے۔موجودہ عہد کی معروف مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ اپنی کتاب Holy War میں لکھتی ہیں کہ: 
’’جب صدر جمی کارٹر ، وزیرِ اعظم میناحم بیجن اور صدر انور سادات نے 1979 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے تو ہم میں سے بیشتر لوگوں نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ عرب اسرائیل مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ تاہم اب ہمیں ادراک ہو گیا ہے کہ ہم غلطی پر تھے۔ ۔۔۔۔یہ مسئلہ عام علاقائی معاہدوں سے حل نہیں ہو سکتا ، اس میں بہت گہرے مذہبی جذبات ملوث ہیں جنہوں نے ایک ملک میں مل جل کر رہنے کو نا ممکن بنا دیا ہے ۔۔۔۔‘‘
اگر اوپر کی سطریں قارئین کے ذہن میں تازہ ہیں تو وہ یقیناًنہیں بُھولے ہوں گے کہ عربوں کے تین مشہور ’’ نہیں ‘‘ اوراسرائیلی تہیہ پارٹی کے تین اصول دو انتہاؤں کے غماز ہیں۔ایسی تشویش ناک صورتِ حال میں امن کے عارضی معاہدے بھی آس کی کرن بن کر کسی نہ کسی راستے کی نشاندہی ضرور کرتے رہتے ہیں ۔ ہمیں ایسی کرنوں کی قدر کرنی چاہیے ۔
ایک اندازے کے مطابق 1500 قبل مسیح اور 1860 کے درمیان معلوم دنیا میں جنگ اور امن کے برسوں کی شرح 1:13 رہی ، یعنی جنگ کے تیرہ برسوں کے مقابلے میں امن کا صرف ایک سال ۔ 1820 اور 1970 کے درمیان دنیا کی بڑی اقوام ہر بیس سال میں اوسطاً ایک مرتبہ جنگ میں ملوث ہوئیں ، یعنی فی پشت ایک بار ۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی اعتراف کر لینا چاہیے کہ دنیا میں دائمی امن کبھی قائم نہیں گا ۔ ایسی امید صرف اسی وقت کی جا سکتی ہے جب سائنس موت کو شکست دینے کے قابل ہو جائے۔ موت میں تاخیر ایک الگ بات ہے اور موت کی موت ایک بالکل جداگانہ تصور ہے ۔ اگر سائنس موت کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس نے زندگی کے اسرار و رموز تک رسائی پا لی ہے ۔ پھر ان اسرار و رموز کی شناسائی کے طفیل ہی وہ انسانی نفسیات میں بنیادی تبدیلی لا کر انسانی زندگی میں جنگ کے عنصر کو مکمل طور پر ختم کر سکے گی ۔ ہم یہ کہہ کر ’’ انسان دوست ‘‘ سیکولر حلقوں کو پھبتی کسنے کا موقع نہیں دینا چاہتے کہ ایسا ہونا نا ممکن ہے ۔ ہم تو ان سے درخواست کریں گے کہ وہ ’’انسان دوستی ‘‘ کے نام پر اپنے انسانیت سوز تجربات جاری رکھیں کہ بقول شخصے ہر چیز کی انتہاسے اس کی نفی ہو جاتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موت کی موت کے لیے زندگی پر قابو پانا پہلی شرط ہے ۔ ہمیں اپنی محدود زندگی پر کتناقابو حاصل ہے، یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر لامحدود زندگی پانے کے بعد ہمارا اس پر کتنا کنٹرول ہو گا ، یہ ہمیں ضرور سوچنا چاہیے ۔ لا محدود زندگی کی لاحاصل تگ و دو کرنے کے بجائے اگر ہم اپنی محدود زندگی پر ہی کنٹرول حاصل کرنا سیکھ لیں تو دیر پا امن قائم ہو سکتا ہے، اگرچہ دائمی نہ سہی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امن کی عمر غالب فریق کے اخلاقی رویے پر منحصر ہوتی ہے ۔ اگر دنیا میں امن کی مدت قلیل رہی ہے تو اس کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ غالب فریق اکثر اوقات غیر اخلاقی رویے کا مظاہرہ کرتا رہا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اسرائیلیوں اور دیگر سامراجی قوتوں کے پاس عسکری و اقتصادی طاقت ہونے کے باوجود ایسی اخلاقی قوت کی انتہائی کمی ہے جو دیرپا امن کی ضامن بن سکے ۔وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب اسرائیل خود ہی موجودہ امن روڈ میپ کی دھجیاں بکھیر دے گا ۔ غالب قوتوں کا اخلاقی انحطاط ہمیں بارہا ایسے مواقع فراہم کرے گا کہ ہم ٹیبل کے بجائے میدان کا رخ اختیار کریں ۔ ہمیں ایک بڑی جنگ لڑنی ہے ۔ اگر ہم مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے تو ہمیں غالب آنے کے لوازمات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ، اپنی زندگیوں میں ان اخلاقی معیارات کی بازیابی کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے جو عالمی امن کی پائیداری کے حقیقی ضامن ثابت ہو سکتے ہیں ۔ 
جہاں تک اسلامی حمیت کا تعلق ہے ، یہ تحت الشعوری کیفیت ہے جو ہمیں شعوری سطح پر مضطرب رکھتی ہے ۔ہمیں اس کا علاج کرنا چاہیے ۔ ہم تاریخی ناولوں کی خیالی دنیاؤں میں رہتے ہیں جن میں گھوڑوں کی ٹاپیں ہیں ، شمشیروں کی جھنکاریں ہیں اور اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے ۔ یہ ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو‘‘ والی کیفیت ہے ۔ شاید ہم لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے تصور کرنے سے ہی فتوحات حاصل ہو جائیں گی اور دودھ کی نہریں بہنی شروع ہو جائیں گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم (نعوذ باللہ ) خدا ہیں کہ کہا ہو جا اور ہو گیا؟ کیا ہم ان تصورات کو عملی شکل دینے کے لیے اس تگ و دو کے پابند نہیں ہیں جو رب العزت نے انسانوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ بغیر کسی مادی تیاری کے صرف ایک ذہنی کیفیت کے زیرِ اثر کوئی ہاری ہوئی لڑائی لڑنا اور مسیحی اخلاقیات کے مطابق تھپڑ مارنے والے کو دوسرارخسار پیش کرنا ، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ 
اس وقت موجودہ عالمی سیاق و سباق میں اسرائیل سے رابطے قائم کرنا بحث طلب نہیں ہے ۔ اس سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ روابط قائم کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے اس ایشو پر قومی بحث و مباحثہ کرانے کے بجائے جس طرح آمرانہ انداز میں پیش رفت کی ہے، اس سے تحفظات جنم لیتے ہیں ۔ نماز کی بے وضو ادائیگی کے بعد وضو کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے حساس معاملات ، جن کی بابت قوم حد سے زیادہ جذباتی ہو ، ان سے متعلق عوام سے بالاتر ہو کر آمرانہ فیصلے کرنے سے خارجی حقائق کو صحیح تناظر میں دیکھنے کی قومی نفسیات پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔ 
جنرل پرویز مشرف نے جیوش نیشنل کانگرس سے اپنے خطاب میں دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے جرات اور مصالحت کی طرف رجوع کرنے کی بات کی ہے ۔ ہم جنرل صاحب سے یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ ایک دہشت گردی 12 اکتوبر 1999 کو بھی ہوئی تھی ، انھیں جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بھی سختی سے ختم کر دینا چاہیے ۔ اسی طرح دو مقبول جماعتوں کے قائدین اور سابق وزراے اعظم کو ملک سے باہر رکھ کر ’’ انتہا پسندی ‘‘ سے کام لیا رہا ہے۔ جنرل صاحب کو ’’مصالحت ‘‘ کی لاج رکھتے ہوئے انھیں ملک میں آنے اور آزادانہ الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دینا چاہیے تاکہ پاکستانی قوم اپنے ’’ قومی مسائل ‘‘ حل کرنے کے قابل ہو سکے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے اگر جنرل صاحب اپنے ہی بتائے ہوئے اصولوں ’’ جرات اور مصالحت ‘‘ کو اپنی شخصی سطح پر بھی نافذ کرنے سے قاصر ہیں تو وہ اسرائیلیوں سے ان اصولوں کی پیروی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم سب بے نظیر اور نواز شریف ہیں ، ہم سب جنرل پرویز مشرف ہیں ، ہم سب بھٹو اور ضیا ہیں ۔ ہم سب اپنے اپنے سچ کے دائروں میں قید ہیں ۔ ہم سب دوہرے انسان ہیں ، منتشر ہیں ، بٹے ہوئے ہیں۔ ہاں ! ہم سب اکائی سے محروم ہیں۔ 

سرسید کے بارے میں تاریخی افسانوں کی حقیقت

ضیاء الدین لاہوری

الشریعہ کے گزشتہ تین شماروں میں ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے پروفیسر شاہدہ قاضی، جناب شاہ نواز فاروقی اور مسٹر یوسف خان جذاب کی علمی بحث مطالعے میں آئی۔ اول الذکر اور موخر الذکر نے تاریخی افسانوں کے رد میں بڑے ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ اس رد وقدح میں سرسید کے بارے میں ایسی باتوں کو بھی حقیقت کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو خود تاریخی افسانوں کے ضمن میں آتی ہیں اور جن کی اشاعت ہمارا تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ کئی نسلوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ راقم ایک محدود دائرے میں اس موضوع پر سرسید کی اپنی تحریروں سے حقیقت کی نقاب کشائی کرنے کی جسارت کرتا ہے۔
فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں تحریر کیا تھا کہ 
’’سرسید بلاشبہ انگریزوں کے وفادار تھے بلکہ تاریخی شواہد سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ مجاہدین آزادی کی مخبری کرتے رہے۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، جولائی ۲۰۰۵ء، ص ۲۲)
مسٹر جذاب نے اس پر یہ تبصرہ فرمایا کہ یہ بات 
’’سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔‘‘ (ایضاً، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸)
اس سلسلے میں ہم سرسید ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ وہ اس الزام پر اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں وہ اپنے کردار کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’بڑا شکر خدا کا یہ ہے کہ اس ناگہانی آفت میں، جو ہندوستان میں ہوئی، فدوی بہت نیک نام اور سرکار دولت مدار انگریزی کا طرف دار اور خیر خواہ رہا۔‘‘ (مکتوبات سرسید، مجلس ترقی ادب لاہور، جلد اول ۱۹۸۵ء، ص ۴۰۹)
اس خیر خواہی کے عوض انھیں کیا ملا، ان کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
’’اس کے عوض میں سرکار نے میری بڑی قدر دانی کی، عہدہ صدر الصدور پر ترقی کی اور علاوہ اس کے دو سو روپیہ ماہواری پنشن مجھ کو اور میرے بڑے بیٹے کو عنایت فرمائے اور خلعت پانچ پارچہ اور تین رقم جواہر، ایک شمشیر عمدہ قیمتی ہزار روپیہ کا اور ہزار روپیہ نقد واسطے مدد خرچ کے مرحمت فرمایا۔‘‘  ( لائل محمڈنز آف انڈیا، سرسید احمد خان، مون لائٹ پریس میرٹھ، ۱۸۹۸ء، ص ۱۰۱)
انعام واکرام کی درج بالا رقوم کی مالیت کا تعین موجودہ زمانے کے حساب سے نہیں، بلکہ ڈیڑھ سو برس قبل کے دور کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ انگریزوں کی وفاداری کا یہ جذبہ اس واقعہ کے چالیس سال بعد یعنی ان کی حیات کے آخری سال میں بھی پوری طرح کارفرما تھا۔ لکھتے ہیں:
’’ہمارا مذہبی فرض ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے خیر خواہ اور وفادار رہیں اور کوئی بات قولاً وفعلاً ایسی نہ کریں جو گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور وفاداری کے برخلاف ہو۔‘‘  (آخری مضامین، سرسید احمد خان، رفاہ عام پریس لاہور، ۱۹۰۰، ص ۱۰۱)
ثابت ہو ا کہ سرسید مرتے دم تک انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے رہے۔ ایک موقع پر وہ مسلمانوں کو انگریزوں کی اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے اپنی فرماں برداری کا عرصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری اور پوری وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سایہ عاطفت میں ہم امن وامان کی زندگی بسر کرتے ہیں، خدا کی طرف سے ہمارا فرض ہے۔ میری یہ رائے آج کی نہیں، بلکہ پچاس ساٹھ برس سے میں اسی رائے پر قائم اور مستقل ہوں۔‘‘  (مکمل مجموعہ لکچرز سرسید، مصطفائی پریس لاہور، ۱۹۰۰ء، ص ۲۲۲)
ان کے یہ خیالات ۱۸۷۳ کے ہیں۔ سنہ پیدایش ۱۸۱۷ ہے۔ گویا ان کے وفادارانہ جذبات کی بنیاد ان کے بچپن میں پڑی۔ اس حساب سے وہ اپنی پیدایش سے وفات تک انگریزوں کے وفادار رہے۔ وہ اپنی تمنا کا اظہار یوں کرتے ہیں:
’’ہماری خواہش ہے کہ ہندوستان میں انگلش گورنمنٹ صرف ایک زمانہ دراز تک ہی نہیں بلکہ اٹرنل (Eternal) ہونی چاہیے۔‘‘ (ایڈریس اور اسپیچیں متعلق ایم اے او کالج، مرتبہ نواب محسن الملک، انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ، ۱۸۹۸ء، ص ۷۵)
سرسید کے ایسے خیالات کے اندراج کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے درج بالا اقتباسات پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے کہ یہی ان کی وفاداری کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔
سرسید پر دوسرا الزام مجاہدین آزادی کی مخبری کا ہے۔ اس کی صداقت جاننے کے لیے ہم ان کی تاریخی تصانیف کی ورق گردانی کرتے ہیں۔ ’’لائل محمڈنز آف انڈیا‘‘ میں وہ جنگ آزادی کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب غدر ہوا، میں بجنور میں صدر امین تھا کہ دفعتاً سرکشی میرٹھ کی خبر بجنورمیں پہنچی۔ اول تو ہم نے جھوٹ جانا مگر جب یقین ہوا تو اسی وقت سے میں نے اپنی گورنمنٹ کی خیر خواہی اور سرکار کی وفاداری پر چست کمر باندھی۔‘‘  (لائل محمڈنز آف انڈیا، جلد اول، ص ۱۳)
اپنی تصنیف ’’سرکشی ضلع بجنور‘‘ میں سرسید نے اپنی وفاداری کے کاموں کا ذکر بڑی تفصیل اور فخر سے بیان کیا ہے۔ نواب محمود خان نے جب بجنور پر قبضہ کیا تو انھوں نے اپنی جان کو داؤ پر لگا کر انگریزوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے میں اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا۔ وہ ان کے ساتھ نہیں گئے۔ کیوں؟ انگریزوں کے اخبار ’’مارننگ ایڈورٹائزر‘‘ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۸۸۵ء میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے:
’’سرسید احمد پیچھے بجنور میں نواب (محمود خاں) کی ملازمت کے بہانے ٹھہرے مگر یہ قیام دراصل انگریز آقاؤں کے لیے کام کرنے کی خاطر تھا۔‘‘
اس کام کا آغاز انھوں نے جس طرح کیا، سرسید اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’نواب نے ہم کو کہا کہ تم سب اپنا اپنا کام کرو۔ اس وقت میں نے اور سید تراب علی تحصیل دار اور پنڈت رادھا کرشن ڈپٹی انسپکٹر نے باہم مشورہ کیا اور آپس کی ایک کمیٹی بنائی اور یہ تجویز کی کہ ہم میں سے کوئی شخص کوئی کام نہ کرے جب تک کہ باہم کمیٹی کے اس کی صلاح نہ ہو لے۔ چنانچہ اسی وقت کام کرنے کے باب میں یہ رائے ٹھہری کہ میر سید تراب علی تحصیل دار بجنور کو جو ضروری حکم نواب کا پہنچے، اس کو لاچار تعمیل کریں اور باقی احکام سب ملتوی پڑے رہنے دیں اور باقی مال گزاری، بجز اس قدر روپیہ کے جس سے تنخواہ عملہ تحصیل وتھانہ تقسیم ہو جائے، اور کچھ وصول نہ کریں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بخش رام تحویل دار کی معرفت، کہ وہ بھی خیر خواہ سرکار اور ہمارا ہم راز تھا، جو مال گزار آیا اس کو فہمایش کی کہ روپیہ مت دے۔ ‘‘(سرکشی ضلع بجنور، سرسید احمد خان، مون لائٹ پریس آگرہ، ۱۸۵۸ء، ص ۳۲)
اس دوران منیر خاں جہادی ان کے درپے ہوا۔ اس کا ذکر سرسید کی اپنی زبانی سنیے جس میں انھوں نے انگریزوں سے سازش رکھنے کا برملا اعتراف کیا ہے:
’’منیر خاں جہادی نے بجنور میں بہت غلغلہ مچایا اور مجھ صدر امین اور رحمت خاں ڈپٹی کلکٹر اور میر سید تراب علی تحصیل دار بجنور پر یہ الزام لگایا کہ انھوں نے انگریزوں کی رفاقت کی ہے اور ان کو زندہ بجنور سے جانے دیا ہے اور اب بھی انگریزوں سے سازش اور خط وکتابت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا قتل واجب ہے۔ اور درحقیقت ہماری خفیہ خط وکتابت جناب مسٹر جان کری کرافٹ ولسن صاحب بہادر سے جاری تھی۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۷)
مزے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تصنیف میں ان خطوط کی نقول بھی شامل کی ہیں جو انھوں نے خفیہ طور پر انگریزوں کو لکھے۔ ان میں ’’باغیوں‘‘ کی عسکری کیفیت بیان کر کے بار بار بجنور پر جلد از جلد حملہ آور ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ساری کتاب ان کی انگریزوں سے جاں نثاری کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ پھر جب حالات سے مجبور ہو کر وہ بجنور سے بھاگے اور بعد میں انگریزی فوج نے بجنور پر چڑھائی کی تو وہ اس کے عقب میں رواں دواں تھے۔ ایک محاربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تمام جنگل اور سڑک پر ہتھیار بکھرے ہوئے تھے اور ہر ہر قدم پر لاش پڑی تھی۔ میں، جو لشکر محارب کے پیچھے پیچھے چلا آتا تھا، قصداً لاشوں کو دیکھتا تھا کہ شاید کوئی شناخت میں آئے مگر کوئی نامی آدمی نہیں مارا گیا، البتہ دو لاشیں ملنگان نمک حرام کی نظر پڑیں۔ ......‘‘ (ایضاً، ص ۱۳۳)
پوری کتاب حریت پسندوں کے لیے غلیظ گالیوں سے بھری پڑی ہے۔ مفسد، غنیم، غادر، کم بخت، بد ذات، بد نیتی اور فساد کا پتلا، بدمعاش، قدیمی بدمعاش، پکا بدمعاش اور حرام زادہ جیسے الفاظ بکثرت استعمال کیے گئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام ’’القابات‘‘ مسلمانوں کو دیے گئے ہیں جبکہ ہندووں کا ذکر بڑے احترام کے ساتھ کیا گیا ہے۔
اپنی بحث میں سرسید کی وکالت کرتے ہوئے مسٹر جذاب لکھتے ہیں کہ 
’’ ایک طرف ہندو اور انگریز ان کے مخالف تھے تو دوسری طرف مسلمان ان کو تکفیر کے ہار پہنا رہے تھے۔‘‘ (الشریعہ گوجرانوالہ، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸)
کیا موصوف یہ بتانا گوارا کریں گے کہ کس نسل کے انگریز ان کی مخالفت کر رہے تھے؟ الف سے یا تک سب ان کے دوست تھے۔ ایک انگریز کرنل نے سب سے پہلے ان کی سوانح حیات لکھ کر انھیں بلند مقام عطا کیا۔ ہندوستان سے برطانیہ تک انگریزی اخبارات ان کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے۔ لندن گئے تو ملکہ معظمہ کی خدمت حاضری کا شرف حاصل ہوا اور گھٹنے ٹیک کر ان کے ہاتھ کو بوسا دیا۔ کالج بنا تو انگریزوں کی مدد سے جس کے بیشتر اساتذہ اور پرنسپل انگریز تھے اور کالج کے اغراض ومقاصد میں یہ بات شامل تھی:
’’ہندوستان کے مسلمانوں کو سلطنت انگریزی کی لائق وکارآمد رعایا بنانا۔‘‘ (ایڈریس اور اسپیچیں، ص ۳۲)
کالج کے ٹرسٹیوں کے ایک اعلان کے مطابق:
’’من جملہ کالج کے مقاصد اہم کے یہ مقصد نہایت اہم ہے کہ یہاں کے طلبہ میں حکومت برطانیہ کی برکات کا سچا اعتراف اور انگلش کیرکٹر کا نقش پیدا ہو۔‘‘ (تذکرہ وقار، محمد امین زبیری، عزیزی پریس آگرہ، ۱۹۳۸ء، ص ۲۱۲)
سرسید کے دست راست اور جانشیں محسن الملک فرماتے ہیں:
’’اس کا بیج تو بویا سرسید نے، اب جب کہ یہ پھلے پھولے گا اور اس میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تہذیب، شایستگی، علمی قابلیت اور گورنمنٹ کی وفادار رعایا ہونے کی حیثیت سے آپ اپنی مثال ہوں گے تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی کی برکتوں اور آزادی کی بشارت دیتے پھریں گے۔‘‘  ( مجموعہ لکچرز نواب محسن الملک، نول کشور پرنٹنگ ورکس پریس لاہور، ۱۹۰۴، ص ۴۸۶)
سرسید کے سب سے بڑے مقلد الطاف حسین حالی لکھتے ہیں:
’’وہ اپنی قوم میں وفاداری، اخلاص اور اطاعت کا ہمیشہ کے لیے بیج بو گیا ہے۔ وہ ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک بارآور درخت لگا گیا ہے جس کا پھل انگلش نیشن کی محبت اور انگلش گورنمنٹ کی وفاداری اور فرماں برداری ہے۔‘‘  (کلیات نثر حالی، جلد دوم، مجلس ترقی ادب لاہور، ۱۹۶۸ء، ص ۵۸)
یہ ہے اعلیٰ تعلیم کے لیے سرسید کی کوششوں اور علی گڑھ کے نام پر تاریخی افسانے کا کچا چٹھا جو اس ادارے کے بانی ارکان کی زبانی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ تو پھر ان کی مخالفت کی بنیاد کیا تھی؟ شیخ محمد اکرام ’’موج کوثر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ان کی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت ہوئی جب انھوں نے تہذیب الاخلاق جار ی کیا اور ان مذہبی عقائد کا اظہار کیا جنھیں عام مسلمان تعلیم اسلامی کے خلاف اور ملحدانہ سمجھتے تھے، مثلاً شیطان، اجنہ اور ملائک کے وجود سے انکار، حضرت عیسیٰ کے بن باپ پیدا ہونے یا زندہ آسمان پر جانے سے انکار، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کے معجزات سے انکار وغیرہ وغیرہ۔‘‘ ( موج کوثر، شیخ محمد اکرام، مرکنٹائل پریس لاہور، ۱۹۴۰، ص ۵۳)
اور یہی عقائد ان کی تکفیر کا باعث بنے۔ اس کے متعلق افسانے تراشے جاتے ہیں کہ انگریزی کی تعلیم اور مغربی علوم سے علما کی نفرت کی بنا پر ان کے خلاف کفر کے فتوے عائد کیے گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:
’’اس معما کے حل کرنے کے لیے ان مضامین اور فتاویٰ کا مطالعہ کرنا چاہیے جو سرسید کی مخالفت اور ان کی تکفیر میں شائع ہوئے۔ ..... علی گڑھ کالج کے متعلق سخت سے سخت مضامین اوردرشت سے درشت فتاویٰ میں یہ نہیں لکھا کہ انگریزی پڑھنا کفر ہے بلکہ یہی ہوتا تھا کہ جس شخص کے عقائد سرسید جیسے ہوں، وہ مسلمان نہیں اور جو مدرسہ ایسا شخص قائم کرنا چاہیے، اس کی اعانت جائز نہیں ....... لوگوں کا خیال تھاکہ سرسید اپنے مدرسے میں اپنے عقائد کی تبلیغ کریں گے جن کا اظہار وہ اپنے رسائل وکتب میں کر رہے تھے۔ سرسید نے ایسا نہیں کیا لیکن ان کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے مخالف بلکہ موافق بھی بدظن ہو جاتے تھے۔‘‘ (ایضاً، ص ۵۱)
مسٹر جذاب فرماتے ہیں کہ 
’’سرسید اپنے زمانے کے مہدی تھے ......... مذہبی لحاظ سے وہ آج بھی روشن خیالوں کے امام ہیں۔ جو لوگ ان کی سیاسی پالیسی کے مخالف ہیں، انھیں وطن عزیز پاکستان سے ہجرت کر جانی چاہیے۔‘‘ (الشریعہ گوجرانوالہ، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸) 
یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سرسید کے درج بالا عقائد کون سے اسلام اور کون سے مذہب میں روشن خیالی کے زمرے میں آتے ہیں۔ شیطان، جن اور ملائکہ کا وجود اور انبیاء علیہم السلام کے معجزات پر اہل کتاب حاکم بھی اعتقاد رکھتے تھے جنھیں ان کے دینی عالموں نے آج تک چیلنج نہیں کیا۔ سرسید جس قسم کا روشن خیال اسلام ایجاد کر رہے تھے، اس پر تو ان کے اندھے اور بے مغز عشاق بھی یقین نہیں رکھتے۔ سرسید نے اسلام کی جو تعبیر کی، عامۃ المسلمین نے اسے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہ ملک سرسید کے نظریہ (فرنگی وفاداری) کے برعکس عالم وجود میں آیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزی حکومت کی برکات کے نظریے کو رد کر کے اپنی جدوجہد سے آزادی حاصل کی۔ اس کے قیام میں نہ سرسید کی روشن خیالی کا حصہ ہے اور نہ ان کی سیاسی پالیسی کا۔ بہتر ہے کہ دوسروں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دینے والے سرسید پرست خود اپنے مہدی اور امام کے ’’برکاتی‘‘ آقاؤں کے ملک سدھاریں۔

اہل تشیع کی تکفیر کا مسئلہ

ادارہ

(۱)
ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۰۵ میں محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ نظر نواز ہوا۔ سب سے پہلے تو میں محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خدمت اقدس میں سلام پیش کرنا چاہوں گا کہ فرقہ واریت کے اس لرزہ خیز اور بھیانک دور میں اور بذات خود بھی ایک فرقہ سے متعلق ہو کر ان کے نہاں خانہ دل میں ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ کے تصور کا پیدا ہونا ہی ایک بہت بڑی قلب ماہیت ہے۔ اس کی جس قدر بھی ستایش کی جائے، کم ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں استقامت عطا فرمائیں، ان کی حفاظت فرمائیں۔ میری مسلم امہ سے مایوسی کی تاریک سرنگ میں روشنی کی ایک معمولی سی کرن نظر آئی تو اب فرقہ واریت کی اس تاریک سرنگ کے اس پار محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی شکل میں روشنی کی دوسری کرن بھی نمودار ہوئی ہے۔ گو کہ ان ہلکی سی معمولی دو کرنوں سے فرقہ واریت کے گھپ اندھیروں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، لیکن روشنی بہرحال روشنی ہوتی ہے، خواہ وہ کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں روشنی ہوگی، وہاں اندھیرا نہیں رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر وحی الٰہی قرآن کے نور (النساء ۱۷۵) کے دیے روشن کرتے چلے جائیں تو اندھیرا خود بخود چھٹ جائے گا اور تمام عالم میں ہر سو اجالا ہو کر رہے گا۔
محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے مذکورہ مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے کچھ تجاویز تحریر فرمائی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ 
’’تکفیر مسلمین کے بارے میں سخت شرعی احکام کے پیش نظر احتیاط وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ یہ دیا جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے۔ یہ نہ کہا جائے کہ سارے شیعہ کافر ہیں۔‘‘ 
اس عاجز کم علم قاری کی محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنی اس تجویز کو مزید وسعت دیں، اس لیے کہ اس تجویز سے یہ التباس پیدا ہوتا ہے کہ صرف شیعہ کمیونٹی میں سے کچھ گروپ یا گروہ ایسے ہیں جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں، باقی تمام فرقوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، وہ تمام پکے اور مستند مسلمان ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتوے جاری ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں اور اب ان فتاویٰ کی رو سے کوئی بھی فرقہ مسلمان نہیں رہا اور یہ فتاویٰ کوئی ہما شما قسم کے اشخاص نے نہیں دے رکھے، بلکہ مکہ ومدینہ کے علما کے دستخطوں اور مہروں کے ساتھ منگوائے جاتے رہے ہیں۔ یہ عاجز کم علم ڈاکٹر محمد امین صاحب سے عرض گزار ہے کہ آپ کی پیش کردہ تجاویز کو اس طرح وسعت دی جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے۔ اس میں کسی مخصوص فرقہ کی بات نہ ہو اور وہ فتویٰ تمام مسالک کے علماء کرام کا متفق علیہ ہو اور اس پر تمام مسالک کے علما کے دستخط ہوں اور وہ فتویٰ کسی حکومتی ادارہ یا بینک میں محفوظ کر دیا جائے اور اس کی نقل تمام اخبارات وجرائد میں شائع کی جائے اور تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے اس طرح بار بار نشر ہوتا رہے جس طرح حکومت تمباکو نوشی کے خلاف اشتہار نشر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا جو کوئی بھی شخص کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف فتویٰ جاری کرے، اس کے خلاف انضباطی کارروائی کا کوئی مستقل ادارہ قائم کر دیا جائے۔ بصورت دیگر وہ مقاصد ہرگز حاصل نہ ہو سکیں گے جو مولانا زاہد الراشدی صاحب اور محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب اپنی آرزووں میں رکھتے ہیں۔
ہر شخص پر اپنے اپنے فرقہ اور مذہب کی گرفت اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ اس پر اپنے فرقہ سے الگ ہونے کے تصور سے ہی کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ وہ ایک ان دیکھے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب جیسی صاحب علم اور مدبر شخصیت کو بھی صراحت کرنی پڑ گئی۔ وہ فرماتے ہیں، 
’’التباس سے بچنے کی خاطر ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ذاتی طور پر ہمارا عقیدہ وہی ہے جو جمہور اہل سنت کا .....۔‘‘ 
میں یہاں شاید سوء ادب کا مرتکب گردانا جاؤں کہ اس عاجز، کم علم کے مطابق اللہ جل شانہ نے اپنی ہدایت وتعلیمات کے ذریعے انسانوں کے لیے جو ضابطہ زندگی عملاً اختیار کرنے کو دیا ہے، اسے اسلام کہا ہے: 
’’اور آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ہے۔‘‘ (مائدہ ۳) 
اور جو لوگ اس دین (ضابطہ حیات) کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، انھیں مسلم (مسلمان) کہا ہے۔ (الانبیاء ۱۰۸۔ یونس ۷۲) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تعارف مسلم (مسلمین) کہہ کر کروایا ہے۔ (الانعام ۱۶۴) تو یہ بیچ میں جمہور اہل سنت یا جمہور اہل تشیع کہاں سے آ گئے؟ کیا جمہور یا کسی گروہ یا کسی شخصیت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وحی الٰہی قرآن کے رکھے گئے نام واصلاحات واحکامات کو تبدیل کر دیں یا اپنی نسبت یا اپنا تعارف کسی دوسرے نام سے کرائیں؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنی یا شیعہ تھے؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سنی یا شیعہ تھے یا حضرت علی رضی اللہ عنہ شیعہ تھے؟ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا۔ وہ سنی تھے نہ شیعہ۔ وہ فقط مسلم تھے، مومن تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے: 
’’محمد خدا کے پیغمبر ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔‘‘ (الفتح ۲۹) 
صحابہ کرام کے کردار کے متعلق اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، وہ صحیح ومستند اور لاریب ہے یا صحابہ کرام کے کردار کا وہ رخ جو تاریخ ہمیں دکھاتی ہے، وہ معتبر ہے؟ 
اسی آیہ مبارکہ میں صحابہ کرام کو کھیتی کے بیج سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر تاریخ کے مطابق جو اس نے ہمیں بتایا ہے، بیج ہی ناقص ہو تو زمین سے نہ کونپل پھوٹے گی، نہ نال مضبوط ہوگی، نہ کھیتی والے خوش ہوں گے۔ نہ کافروں کا جی جلتا، نہ اسلام پھلتا پھولتا۔ دراصل یہ سارا قصہ ہماری تاریخ کا ہے جس پر وحی الٰہی سے زیادہ ہمارا ایمان ہے اور تاریخ ہمیشہ ظنی ہوتی ہے۔ 
’’اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ظن، حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہو سکتا۔‘‘ (یونس ۳۶) 
اس کے ثبوت کے لیے ماہنامہ الشریعہ ماہ مئی اور جولائی کے شماروں میں محترمہ پروفیسر شاہدہ قاضی اور محترم شاہ نواز فاروقی کی تحریریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہماری تاریخ انھی محترم حضرات کی چپقلشوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے نہ جانے کتنے افسانوں کو ہمارے سامنے حقیقت کے روپ میں پیش کر کے ہمارے ایمان کا جزو اول بنا رکھا ہے۔ شیعہ سنی تنازع بھی ایک افسانہ تھا جو حقیقت بن کر اللہ اور اس کے رسول کے ماننے والوں میں موجب فساد بن کر ہزاروں لاکھوں کروڑوں بے گناہ انسانوں کی جانیں لے چکا ہے اور اب بھی لے رہا ہے۔ دشمنان دین اسلام کی سازشوں اور کارستانیوں اور ہمارے علماء کرام کی انتہائی سادگی کے سبب اعلیٰ وارفع سچے دین کے پیروکاروں کو فرقہ واریت کی اس آگ میں جھونک دیا گیا ہے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں بچایا تھا۔ 
’’اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تمھیں بچا لیا۔‘‘ (الانفال ۶۵)
محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا یہ تجزیہ صحیح ہے کہ حکومتی انتظامیہ اور جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے دینی عناصر سے متعلق لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اپنا رکھی ہے، لیکن میرے محترم، یہ تو میکیاولی کی سیاست ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں اور یہ حربے اور طور طریقے جمہوریت کا مرکزی نظریہ اور اس کی اساس ہیں۔ سیاست دانوں کی حد تک تو میکیاولی سیاست کا یہ حربہ یا طریقہ شاید قابل قبول ہو، لیکن دینی علما اس میکیاولی سیاست کا حصہ بننے پر کیوں بضد ہیں، جبکہ یہ کبھی بھی ان کا فریضہ نہیں رہا۔ ان کا اصل فریضہ اور غایت الغایات تعمیر سیرت وکردار اور انسان سازی ہے۔ (سورۃ البقرہ ۱۲۹، ۱۵۱) لیکن یہ حضرات تزکیہ نفس یعنی تعمیر سیرت وکردار کو ترک کر کے سیاست دانوں کی تقلید میں مفاد عاجلہ کی خاطر حصول اقتدار کے لیے میکیاولی سیاست کے گند میں کیوں کود پڑے اور اپنے مقام ومرتبہ، اپنے وقار اور احترام کو خاک میں ملا کر بیٹھے؟ انھیں چاہیے تھا کہ سیاست واقتدار کے بجائے امت میں موجود فرقہ واریت کو ختم کرتے، قوم میں فکری ونظریاتی ہم آہنگی پیدا کرتے اور افراد معاشرہ کی اصلاح اور تعمیر سیرت وکردار کے لیے (جو اس وقت ناپید ہے) جدوجہد کرتے۔ اس کے لیے اگر جان کی قربانی بھی دینی پڑتی تو اس سے دریغ نہ کیا جاتا۔ 
اس وقت میرے سامنے جنوری ۱۹۵۱ میں پاکستان کے اکیس علماء کرام کے منظور کردہ بائیس نکات پر مشتمل دستخط شدہ متفقہ قرارداد کی کاپی ہے جس میں حکومت وقت سے ملک میں نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی شق نمبر ۴ میں یہ الفاظ درج ہیں:
’’اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا بندوبست کرے۔‘‘
شق نمبر ۹ کے الفاظ ہیں: 
’’مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی ہوگی۔‘‘
یعنی ملک کے اکتیس جید علماء کرام متفق ہوئے ہیں فرقہ واریت پر جس کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دے رکھا ہے۔
۱۹۵۸ میں (ہندو مسلم نہیں) مرزائیوں اور دوسرے لوگوں کے درمیان فسادات کروائے گئے۔ سیکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پہلا مارشل لا متعارف ہوا جس کا باعث مذہب تھا۔ حکومت نے اس قضیہ کو مٹانے کی خاطر ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جس کے سربراہ جسٹس منیر تھے۔ اس عدالت نے تمام علماء کرام سے استدعا کی تھی کہ وہ عدالت کی راہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ مسلم کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ اس کے جواب میں کسی بھی ایک عالم نے دوٹوک جواب نہیں دیا۔ جن علما حضرات نے جواب داخل کروائے، ان کا جواب کسی بھی دوسرے عالم سے نہیں ملتا تھا۔ نتیجتاً جو فیصلہ دیا گیا، اس کے الفاظ یہ تھے:
’’ان متعدد تعریفوں کو جو علما نے پیش کی ہیں، پیش نظر رکھ کر ہماری طرف سے کسی تبصرہ کی ضرورت ہے، بجز اس کے کہ دین کے دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں؟ اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی Definition کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا جائے گا۔ اگر ہم علما میں سے کسی ایک کی تعریف اختیار کر لیں تو اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے، لیکن دوسرے تمام علما کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔‘‘  (حوالہ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات پنجاب، ص ۲۳۵، ۱۹۵۳)
جنرل ضیاء الحق نے نفاذ اسلام کے شوق میں ۱۹۷۳ کے آئین کی دفعہ ۲۲۷ میں وضاحتی نوٹ کے نام پر ترمیم کر کے فرقہ واریت کو دوام دے کر مختلف فرقوں کے درمیان محاذ آرائی کا دروازہ کھول دیا تھا۔ اب اگر علماء کرام خلوص نیت سے فرقہ واریت کا خاتمہ کر کے اتحاد بین المسلمین اور مملکت خداداد پاکستان میں نفاذ اسلام چاہتے ہیں تو اپنی لیڈر شپ متحدہ مجلس عمل سے مطالبہ کریں کہ وہ صوبہ سرحد میں جہاں ان کو اقتدار حاصل ہے، ضیاء الحق کے دور میں آئین کی دفعہ ۲۲۷ میں وضاحتی نوٹ کے نام پر کی گئی ترمیم کو منسوخ کرانے کے لیے سرحد اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرائیں جس طرح حسبہ بل اسمبلی سے منظور کروایا تھا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اس ترمیم کو منسوخ کرانے کے لیے بل پیش کریں جو فوراً منظور ہو جائے گا۔ یہیں سے ہماری نیتوں کا پتہ چل جائے گا کہ یہ جو نفاذ شریعت، نظام مصطفی کے نعرے گزشتہ ساٹھ سال سے فضا میں گونجتے رہے ہیں، ان میں کتنی صداقت ہے اور کتنی سیاست۔ یہ اس لیے کہ فرقہ واریت کو ختم کیے بغیر اسلامی نظام کا نفاذ ممکن نہیں۔ یہ بات قرآن میں لکھ دی گئی ہے۔ 
’’جو اللہ تعالیٰ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دیں، تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں، فاسق ہیں۔‘‘ (مائدہ ۴۴، ۴۵، ۴۷) 
باقی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
ان تلخ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس عاجز کم علم کی رائے یہ ہے کہ یہ شریعت بل، نفاذ شریعت کونسلیں اور حسبہ بل سب بے کار وبے معنی ہیں، جب تک ملک میں دین کے حوالے سے فکری ونظریاتی ہم آہنگی نہ ہو۔ فرقہ واریت اتحاد ملی کے لیے زہر قاتل ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس نے مسلم امہ میں عموماً اور پاکستانی معاشرہ میں خصوصاً ایک ناسور کی شکل اختیار کر رکھی ہے جس میں سے ہر وقت زہریلا مواد بہتا رہتا ہے۔ اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو ہمارا مذہبی ومعاشرتی جسم اس کی لپیٹ میں آ کر گل سڑ جائے گا اور ہماری موت واقع ہو جائے گی۔ 
کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے فرقہ واریت کی خلیج کو پاٹا جائے۔ میرے ممدوح جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب اور جناب محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب تمام مسالک کے علماء کرام سے رابطہ کریں اور کسی مقام پر مسلمان کی تعریف کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سیمینار منعقد کروائیں اور اس میں تمام مسالک کے علماء کرام کے علاوہ دیگر صاحبان علم وقلم، دانش وروں، سیاست دانوں کو اس موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دیں۔ علماء کرام کو دین سے محبت ہے اور اب وہ بہت سے سرد وگرم حالات سے گزر چکے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ اب انھیں معروضی حالات اور زمینی حقائق کا ادراک حاصل ہو چکا ہوگا اور وہ یقیناًمسلم کی تعریف کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ اس کے بعد شیعہ سنی اور دیگر تمام تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں گے، لیکن اس کے لیے محکم اساس کا ہونا از بس ضروری ہے۔ مجھ کم علم، عاجز کے نزدیک یہ اساس محکم قرآن کریم کے علاوہ کہیں اور سے نہیں مل سکتی اور وہ یہ ہے: 
’’اے رسول! جس نے امت کے اندر فرقہ بنایا، تو ان میں سے نہیں۔‘‘ (انعام ۱۶۰، الروم ۳۱، ۳۲) 
میری حضرت مولانا زاہد الراشدی اور ڈاکٹر محمد امین صاحب کے علاوہ دیگر تمام مسالک کے علماء کرام سے دست بستہ التجا ہے کہ وہ قرآن کریم کی ان آیات پر غور وتدبر فرمائیں اور انھیں اس مسئلہ میں بنیاد بنائیں۔ ہم کب تک باہمی ضد کی وجہ سے منتشر اور بھٹکتے پھرتے رہیں گے اور اسلام دشمن قوتوں کا ایک ایک کر کے نوالہ بنتے چلے جائیں گے؟ اس عاجز کم علم کی تمام مذہبی وسیاسی قیادت، اہل علم وقلم اور ملک کے تمام دانش وروں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اٹھیں اور آگے بڑھ کر جس قدر جلد ممکن ہو، اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں مولانا زاہد الراشدی اور ڈاکٹر محمد امین صاحب کی مساعی جمیلہ میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ گو کہ یہ مسائل صدیوں پر محیط ہیں لیکن خلوص نیت، جذبہ صادق اور اللہ اور اس کے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو تو کوئی مشکل کام نہیں۔ ایک نہ ایک دن ہم اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی آگ پر قابو پانے میں ضرور کام یاب ہو جائیں گے۔ 
(آفتاب عروج 
مکان 11/9-W۔ گوجر روڈ۔
سیٹلائیٹ ٹاؤن۔ چنیوٹ)
(۲)
گزشتہ ایک برس سے ماہنامہ الشریعہ میں مختلف حضرات شیعہ سنی مسئلے پر اپنی اپنی رائے کا اظہار فرما رہے ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک مضمون مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ کے زیر عنوان نظر سے گزرا جس میں فاضل مضمون نگار محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے تکفیر شیعہ سے متعلق شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے موقف پر تنقید کی ہے۔ شیعیت سے معمولی واقفیت رکھنے والا آدمی بھی دیکھ سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے حقائق سے کھلم کھلا انحراف کی راہ اختیار کی ہے۔ حافظ عبد الرشید صاحب نے جولائی کے شمارے میں ڈاکٹر صاحب کے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیے ہیں جنھیں پڑھ کر ایک خالی الذہن آدمی بھی حقیقت حال سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے ایک نکتے پر حافظ عبد الرشید صاحب نے روشنی نہیں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:
’’جہاں تک تکفیر شیعہ کا تعلق ہے، ہمارے علم کے مطابق یہ اہل سنت کا کوئی متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ غالباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہور اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اہل تشیع کا نقطہ نظر غلط ہے۔ چلیے اسے گمراہی کہہ لیجیے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کی یہ وضاحت اہل سنت کے موقف کی ہرگز ترجمانی نہیں کرتی۔ یہاں ہم اسلامی تاریخ کے مقتدر علماء کرام، محدثین عظام اور رؤساے امت کے صرف چند حوالہ جات نقل کریں گے جن سے یہ واضح ہوگا کہ تکفیر شیعہ کا مسئلہ اہل سنت کے ہاں ایک متفق علیہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔
۱۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: 
’’اگر میں اپنے شیعوں کو جانچوں تو یہ زبانی دعویٰ کرنے والے اور باتیں بنانے والے نکلیں گے اور اگر ان کا امتحان لوں تو سب مرتد نکلیں گے۔‘‘ (روضہ کلینی ص ۱۵۷، بحوالہ احسن الفتاویٰ ۱/۸۴)
۲۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جماعت صحابہ کے لیے ترقی اور کامرانی کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے: لیغیظ بہم الکفار (الفتح ۲۹) ’’تاکہ اللہ ان کے ذریعے سے کفار کو غیظ ناک کرے‘‘۔ اس آیت کریمہ کی بنیاد پر امام دار الہجرۃ امام مالکؒ نے رافضیوں کو کافر قرار دیا ہے اور یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام سے بغض رکھے، وہ کافر ہے۔ علماء کی ایک کثیر تعداد نے امام صاحب کی تائید کی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۔ تفسیر روح المعانی) امام شافعی (۲۰۴ھ) نے بھی امام مالک سے اتفاق کرتے ہوئے روافض کو کافر کہا ہے۔ (الصواعق المحرقہ ص ۲۱۰)
۳۔ علامہ عبد اللہ بن ادریس الاردی (۱۹۲ھ) فرماتے ہیں:
’’شفعہ مسلمان کا حق ہے، رافضی کا نہیں کیونکہ رافضی مسلمان نہیں ہے۔ وہ کفار کی مثل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صحابہ کرام سے کفار بغض رکھتے ہیں۔ اور یہی معنی ہے امام احمدؒ کے اس قول کا کہ جو شخص حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عائشہ کو برا بھلا کہتا ہے، میں اسے اسلام پر نہیں سمجھتا۔‘‘ (الصارم المسلول ص ۵۷۰)
۴۔امام ابن حزم اندلسیؒ (۴۵۶ھ) کا فتویٰ یہ ہے:
’’پورا فرقہ امامیہ، ان کے متقدمین اور متاخرین سب اس کے قائل ہیں کہ قرآن بدل ڈالا گیا ہے۔ اس میں وہ کچھ بڑھا دیا گیا ہے اور شامل کر دیا گیا ہے جو اس میں نہیں تھا اور بہت کچھ کم کر دیا گیا ہے۔ بہت تبدیلی اور تحریف کر دی گئی ہے۔‘‘
مسیحیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ رافضیوں کے بقول تمہارے نبی کے صحابہ نے قرآن میں تحریف کر دی، امام ابن حزم لکھتے ہیں: ان الروافض لیسوا من المسلمین (الملل والنحل ۲/۷۸، ۳/۱۸۱) کہ روافض مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔
۵۔ قاضی عیاض مالکیؒ (۵۵۴ھ) فرماتے ہیں:
’’ہم ان غالی شیعوں کو اس قول کی وجہ سے قطعی کافر قرار دیتے ہیں کہ ان کے اماموں کا درجہ نبیوں سے اونچا ہے۔‘‘ (الشفاء ۲/۲۹۰)
۶۔ شیخ عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں:
’’شیعوں کے تمام گروہ اس پر متفق ہیں کہ اماموں کا تعین اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ وہ معصوم ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علیؓ کو امام وخلیفہ نہ ماننے کی وجہ سے چند ایک کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو گئے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ امام کو دنیا اور دین کی تمام چیزوں کا علم ہے۔ یہودیوں نے تورات میں تحریف کی۔ اسی طرح روافض بھی اپنے اس دعویٰ کی وجہ سے کہ قرآن میں تبدیلی کی گئی ہے، قرآن مجید میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘‘ (غنیۃ الطالبین ص ۱۶۴ تا ص ۱۶۲)
۷۔ امام فخر الدین رازی کا فتویٰ:
’’رافضیوں کی طرف سے قرآن میں تحریف کا دعویٰ اسلام کو باطل کر دیتا ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر)
۸۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ:
’’عصر حاضر کے ان مرتدین سے اللہ کی پناہ! یہ لوگ کھلم کھلا اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اس کی کتاب اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔ اسلام سے خارج ہیں ........ یہ حضرت صدیق اکبرؓاور ان کے ساتھیوں سے عداوت رکھنے والے ہیں اور اسی طرح کے مرتد اور کافر ہیں جیسے وہ مرتدین تھے جن سے صدیق نے جنگ کی تھی۔‘‘ (منہاج السنۃ ۲/۱۹۸ تا ۲۰۰)
مزید فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کو جائز سمجھ کر کرے تو وہ کافر ہے۔ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والا سزائے موت کا مستحق ہے۔ جو صدیق اکبر کی شان میں گالی بکے، وہ کافر ہے۔ رافضی کا ذبیحہ حرام ہے، حالانکہ اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے۔ اور روافض کا ذبیحہ کھانا اس لیے جائز نہیں کہ شرعی حکم کے لحاظ سے یہ مرتد ہیں۔‘‘ (الصارم المسلول ص ۵۷۵)
۹۔ شیخ الاسلام ومفتی اعظم سلطنت عثمانیہ شیخ ابو السعود کا فتویٰ:
’’شیعوں سے جنگ جہاد اکبر ہے اور ان سے جنگ میں ہمارا جو آدمی مارا جائے، وہ شہید ہوگا۔ شیعہ اسلامی فرقوں سے خارج ہیں۔ ان کا کفر ایک سطح پر نہیں رہتا بلکہ بتدریج بڑھتا رہتا ہے۔ ہمارے گزشتہ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ ان پر تلوار اٹھانا جائز ہے اور یہ کہ ان کے کافر ہونے میں جس کو شک ہو، وہ خود بھی کفر کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ امام اعظمؒ ، امام سفیان ثوریؒ ، امام اوزاعیؒ کا مسلک یہ ہے کہ اگر یہ لوگ توبہ کر کے اسلام میں آ جائیں تو انھیں قتل نہیں کیا جائے گا اور امید کی جا سکتی ہے کہ دوسرے کافروں کی طرح توبہ کے بعد ان کی بھی بخشش ہو جائے گی، لیکن امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، امام لیث بن سعدؒ اور بہت سے ائمہ کبار کا مسلک یہ ہے کہ نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی اور نہ ان کے اسلام لانے کا اعتبار کیا جائے گا، بلکہ حد جاری کرتے ہوئے ان کو قتل کر دیا جائے گا۔‘‘ (رسائل ابن عابدین، ۱/۳۶۹)
۱۰۔ ملا علی قاری (۱۰۱۴ھ) کا فتویٰ:
’’ہمارے دور کے رافضی تمام اہل سنت والجماعت کی تکفیر کا اعتقاد رکھنے کے علاوہ اکثر صحابہ کرام کی تکفیر کرتے ہیں، لہٰذا بغیر کسی نزاع کے رافضی بالاجماع کافر ہیں۔‘‘ (مرقاۃ ۹/۱۳۷ بحوالہ ارشاد الشیعہ)
۱۱۔ شیخ احمد سرہندی (۱۰۳۴ھ) کا فتویٰ:
’’شیعہ کو کافر ٹھہرانا احادیث صحاح کے مطابق اور طریق سلف کے موافق ہے۔‘‘ (رد رفض ۳۹)
۱۲۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ (۱۱۷۶ھ) کا فتویٰ:
’’شیعوں کی اصطلاح میں امام معصوم ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت فرض ہوتی ہے۔ اللہ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس پر باطنی وحی آتی ہے۔ پس درحقیقت وہ ختم نبوت کے منکر ہیں، اگرچہ زبان سے حضور کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں۔‘‘ (تفہیمات الٰہیہ ص ۲۴۴ بحوالہ بینات ص ۷۸)
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے زمانے میں علماء کرام کی طرف سے شیعہ اثنا عشریہ کی تکفیر کے بارے میں ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا گیا۔ اس فتوے پر مولانا سید حسین احمد مدنی نے بھی دستخط فرمائے تھے۔ مولانا عبد الماجد دریابادی نے اس فتوے کے بارے میں کچھ اشکالات لکھ کر مولانا تھانوی کی خدمت میں بھیجے جس کے جواب میں مولانا نے تفصیل سے تمام اشکالات کا جواب تحریر فرمایا اور فتوے کے ہر ہر جزو کی تصویب وتصدیق فرمائی۔ یہ سوال وجواب امداد الفتاویٰ جلد چہارم کے صفحہ ۵۸۴ تا ۵۸۷ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں ہم ان میں سے ایک سوال اور اس کا جواب نقل کرنے پر اکتفا کریں گے:
’’سوال ۷: حضرت حاجی صاحب کا جو مکتوب سرسید احمد کے نام تھا، مجھے اس قدر پسند آیا تھا کہ میں نے اہتمام کے ساتھ سچ میں شائع کیا تھا۔ پس میری فہم ناقص میں اسی کو معیار بنا لینا چاہیے اور اسی کے مطابق معاملہ تمام گمراہ فرقوں سے رکھنا چاہیے۔ یعنی نہ مداہنت، نہ اتنی مخالفت کہ ان میں اور آریوں عیسائیوں وغیرہ میں کوئی فرق ہی نہ رکھا جائے۔
جواب: لیکن اگر وہ خود ہی اپنے کو کافر بنائیں تو کیا ہم اس وقت بھی ان کو کافر نہ بنائیں؟ دنیا میں اپنے کو آج تک کسی نے کافر نہیں کہا بلکہ کوئی عیسائی کہتا ہے، کوئی یہودی۔ مگر چونکہ ان تمام فرقوں کے عقائد کفریہ دلائل سے ثابت ہیں، اس لیے ان کو کافر ہی کہا جاوے گا۔ تو مدار اس حکم کا عقائد کفریہ پر ٹھہرا۔ گویا اگر ایک شخص اپنے کو فرقہ شیعہ سے کہتا ہے اور کوئی عقیدہ کفریہ اس مذہب کے اجزا یا لوازم سے ہے تو اپنے کو اس فرقہ میں بتلانا بدلالت التزامی اس عقیدہ کو اپنا عقیدہ بتلانا ہے تو عدم تکفیر کی کیا وجہ؟ اور اگر ان کے یہاں یہ عقیدہ مختلف فیہ ہوتا، تب بھی اس کی تکفیر میں تردد ہوتا، لیکن یہ بھی نہیں اور جو اختلاف ہے، وہ غیر معتد بہ ہے جس کی خود ان کے جمہور رد کرتے ہیں۔ اس حالت میں اصل تو کفر ہوگا۔ البتہ کوئی صراحتاً کہے کہ میرا یہ عقیدہ نہیں ہے یا کوئی فرقہ اپنا لقب جدا رکھ لے مثلاً جو علما ان کے تحریف کے نافی ہیں، ان کی طرف اپنے کو منسوب کیا کریں، مثلاً اپنے کو صدوقی یا قمی یا مرتضوی یا طبرسی کہا کرے، مطلق شیعہ نہ کہے تو خاص اس شخص کو یا اس فرقہ کو اس عموم سے مستثنیٰ کہہ دیں گے، لیکن ایسے استثناؤں سے قانونی حکم نہیں بدلتا ہے۔ حرمت نکاح اور حرمت ذبیحہ قانونی احکام ہیں۔ اس پر بھی جاری ہوں گے، جب تک وہ فرقہ متمیز ومشہور نہ ہو جائے۔ خصوصاً جب تقیہ کا بھی شبہہ ہو تو خواہ سوء ظن نہ کریں، مگر احتیاطاً عمل تو سوء ظن ہی ایسا ہوگا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ وہ اس کے عقیدہ کے مطابق ہوگا۔ اگر کوئی ہندو توحید کا بھی قائل ہو اور رسالت کا بھی لیکن اپنے کو ہندو ہی کہتا ہو، گو کچھ تاویل ہی کرتا ہو تو اس کے ساتھ آخر کیا معاملہ ہوگا؟ یہی حالت یہاں کی ہے۔ ضلع فتح پور میں ہندووں کی ایک جماعت ہے جو قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں اور نماز روزہ بھی رکھتے ہیں مگر اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ لباس اور نام سب ہندووں جیسے رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کو ہندو کہیں اور اپنا مشرب ظاہر نہ کریں تو کیا سامع کے ذمہ تفصیل واجب ہوگی کہ اگر ایسے عقیدہ کا ہے تو مسلمان؟‘‘
(حافظ محمد عثمان
متعلم مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ)

اسلام اور نظریہ ارتقا

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان صاحب کا مضمون ’’ انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن ‘‘ نظر سے گزرا۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہلِ قلم کی آرا کی روشنی میں انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو جیسے تیسے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ غیر ارضی مظاہر ( جیسا کہ انسان کی تخلیق ) کو ارضی سیاق و سباق میں کیسے اور کیونکر سمجھا جا سکتا ہے ؟ اس مضمون کے مندرجات صاف چغلی کھا رہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں ڈارون کا نظریہ ارتقا ہی غوطے کھا رہا ہے ، جسے اب علمی حلقوں میں متروک خیال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگر ماہرِ حیاتیات ہوتے تو شاید ان کی یہ کاوش کسی نہ کسی حد تک معاصر مباحث پر محیط ہوتی اور اس میں قدرے تازگی بھی در آتی ۔ موصوف ماہرِ اقبالیات ہونے کے ناطے ، اقبال کی اقبالیت کے اقبال کے لیے ہی کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اقبال جیسا عظیم مفکر نطشے کے ’’ مافوق البشر‘‘ کے تصور کے ساتھ ساتھ ’’ نظریہ ارتقا ‘‘ سے بھی متاثر تھا تو اس سے اس کی عظمت میں کمی نہیں آجاتی۔ اقبال نے جہاں جمو د زدہ مسلم فکر میں حرکت پیدا کر کے مسلم معاشرے کی مردہ رگوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی، وہاں نطشے اور ڈارون کے افکار کی اسلامی تعلیمات سے تطبیق کی کوشش میں مسلم معاشرے کی روایتی فکر کوبری طرح مجروح کیا۔ یہ مافوق البشر کے مسلم ایڈیشن کا نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے کا بہت بڑا طبقہ آج ’’ خودی ‘‘ کے اظہار کے چکر میں غیر انسانی سرگر میوں میں ملوث ہے اور انہیں عین اسلام سمجھنے پر مصر ہے، حالانکہ ہمیں ماضی میں ایسی ’’ خودی ‘‘ کی کوئی مثال نہیں ملتی جسے مخالف فریق دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر سکے ۔ اسلام کے بعض پہلوؤں پر گہری نظر رکھنے کے باوجود اقبال نظریہ ارتقا کو بھی قابلِ فہم انداز میں لیتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے کا ایک طبقہ ’’ ارتقائی مذہب ‘‘ کی تشکیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے اور اسلام کی تعلیمات کی بھی اسی کے مطابق تاویل کر رہا ہے ۔ڈاکٹر آصف صاحب نے زیرِ بحث مضمون میں اقبال کے تصورِ ارتقا کو اگرچہ براہ راست ڈسکس نہیں کیا لیکن ان کی تحریر کے پس منظر کی بافت و بنت اسی تصور سے ہوئی ہے۔ ملاحظہ کیجئے، Survival of the Fittest یعنی بقائے اصلح کو اسلامیانے کی کوشش: 
’’ قرآن پاک کی رو سے عملِ ارتقا میں بقائے انفع (Survival of the most useful) کے اصول کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو حیات اور کائنات خوب سے خوب تر کے سفر پر رواں دواں ہے اور جو وجود اس سفر میں کاروانِ حیات کا ساتھ نہیں دیتے ، وہ معدوم ہو جاتے ہیں ۔ اسے فطرت کا ظلم نہیں ، سزا قرار دیا جا سکتا ہے ‘‘۔ (الشریعہ، ستمبر ۲۰۰۵، ص ۲۹ )
ڈاکٹر صاحب ص ۳۰ پر رقم طراز ہیں کہ ’’کیا انسان کے وجود کے ظہور کے بعد عملِ ارتقا ختم ہو گیا؟ کیا سفرِ ارتقا کی آخری منزل انسان کی موجود ہستی اور شعوری ساخت ہی ہے اور بس؟‘‘ پھر مولانا جعفر شاہ پھلواروی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : 
’’ موجودہ درجے تک کے ارتقا کو تو سائنس نے پا لیا ہے لیکن اب تک یہ نہیں معلوم کہ اس ارتقا کا رخ کدھر ہے اور اس کی منزل کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب صرف قرآن پاک کے پاس ہے ‘‘۔
مولانا جعفر شاہ پھلواروی کا یہ کہنا کہ اب تک کے ارتقا کو سائنس نے پا لیا ہے، ڈاکٹر صاحب کے لیے تو موجبِ حیرت نہیں، لیکن ہماری رائے میں ایسے کسی بھی شخص کے لیے، جو نظریہ ارتقا کو تفصیلاً جانتا ہے ، مولانا کی یہ بات ’’ انکشاف ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ خود ڈارون بھی ارتقا کی تمام کڑیاں پیش کرنے سے قاصر تھا ، بعد میں تو خیر سائنس دانوں نے اس نظریے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ممتاز ماہرینِ بشریات ثبوت کے ساتھ نظریہ ارتقا کا رد کر چکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے انسان نے ارضی تاریخ کے اسٹیج پر قدم رکھا ہے ، اس وقت سے لے کر اب تک وہ ’’ ذرہ برابر ‘‘ بھی ارتقا پذیر نہیں ہوا ۔ ہو سکتا ہے ڈاکٹر صاحب ارشاد فرمائیں کہ انھوں نے قرآنی آیات کی روشنی میں ارتقا کو ’’ غیر ارضی سٹیج ‘‘ پر رونما ہوتے دیکھا ہے تو پھر بھی ہمارا بنیادی سوال قائم رہتا ہے کہ ارضی سیاق و سباق میں غیر ارضی مظاہر کی تعبیرو توجیہ کیسے کی جا سکتی ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے غیر ارضی مظہر کی توجیہ، ارضی حیات کے طور پر کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ بے حد عجیب و غریب ہے ۔ 
اپنے اسی مضمون میں آصف اعوان صاحب نے مولانا شہاب الدین ندوی کی کتاب ’’ اسلام اور جدید سائنس ‘‘ کا بھی حوالہ دیا ہے ۔اگر ڈاکٹر صاحب، ندوی صاحب کی دیگر تصانیف پر بھی نظر ڈال لیتے تو انہیں بخوبی معلوم ہو جاتا کہ ندوی صاحب کا ذہن ارتقا کی بابت بالکل واضح ہے ۔ اپنی کتاب ’’ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ ، قرآن کی نظر میں ‘‘ ندوی صاحب رقم طراز ہیں کہ:
’’دنیا کا پہلا انسان اتفاقی طور پر یا ’’ ارتقا ‘‘ کے نتیجے میں نہیں بلکہ تخلیقِ خصوصی کے طور پر ظہور پذیر ہوا ہے۔ خلق الانسان علمہ البیان( اس نے انسان کو پیدا کر کے بولنا سکھایا) میں اسی صداقتِ عظمی کا اظہار موجود ہے کہ تخلیقِ انسان اور اس کی قوتِ بیانی کی تعلیم کے دوران کسی قسم کا فصل یا انقطاع موجود نہیں ہے ۔ یہ فائدہ یہاں اس لیے حاصل ہو رہا ہے کہ ان دونوں فقروں کے درمیان حرفِ عطف موجود نہیں ہے ۔ ‘‘
مولانا شہاب الدین ندوی اسی تحریر کے حاشیے( ص۴۶ ) میں لکھتے ہیں کہ :
’’ ابھی حال ہی میں آکسفرڈ سے ایک کتاب The Encyclopedia of ignorance کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔ اس میں سائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ مستند ماہرین نے بنظرِ غائر اپنے اپنے علم و فن کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ انسانی معلومات کا دائرہ بہت ہی محدود ہے اور طبیعی و حیاتیاتی علوم کے بہت سے اسرار ہیں جن کو انسان اب تک نہیں جان سکا ہے ۔ اس وقیع اور قابلِ قدر کتاب میں نظریہ ارتقا کی تردید میں بھی چند مضامین بہت اچھے ہیں اور ایک مضمون کا عنوان ہی ’’ نظریہ ارتقا کے مغالطات ‘‘ Fallacies of Evolutionary Theory ہے ۔صاحبِ مضمون TOMLIN اپنے مضمون کے آخر میں تحریر کرتا ہے کہ ’’موجودہ ارتقائی تفکیر میں سخت پیچیدگی، جو بہت سے مغالطات پیدا کرنے کا باعث ہے، یہ ہے کہ حیاتیاتی حقائق کی تشریح و توجیہ ازکار رفتہ طبیعی نظریات کی روشنی میں کی جاتی ہے ‘‘ ۔ (انسائیکلو پیڈیا آف اگنورنس، ص ۲۳۴، آکسفرڈ ۱۹۷۸ )
ذرا غور فرمائیے کہ یہ اقتباس ۱۹۷۸کی کتاب سے لیا گیا ہے ۔ اس وقت سے اب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ نظریہ ارتقاء ۱۹۷۸میں اگر ہچکیاں لے رہا تھا تو اب تو اس کی تدفین کو بھی عرصہ دراز گزر چکا ہو گا ۔ اگر ڈاکٹر آصف اعوان صاحب معاصر مباحث کے مطالعہ سے گریزاں ہیں تو انہیں قرآن کے تصورِ حیات اور تخلیقِ انسان کا فہم، ارتقا جیسے متروک نظریے کی روشنی میں حاصل کرنے کے بجائے کم از کم ذہنی خود کفالت سے حاصل کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح وہ لایعنیت کے سمندر میں غوطے کھانے سے بچ جاتے۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ
سلام مسنون! مزاج بخیر؟
آپ کی عنایت سے باقاعدگی سے الشریعہ کے مطالعے کا موقع ملتا ہے۔ الشریعہ کے موضوعات چونکا دینے والے اور انتہائی سنجیدہ وفکری ہوتے ہیں، اور بالعموم ان موضوعات پر ایک سے زیادہ آرا موجود ہوتی ہیں۔ لہٰذا نقطہ نظر کے اختلافات سے بحث ومباحثہ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے جو بطور مدیر آپ کی کامیابی کی دلیل ہے، تاہم بعض اوقات مذہبی منافرت پر مبنی موضوعات سے تکلیف بھی ہوتی ہے اور اس رائے کا اظہار میں نے برادرم انعام الرحمن کے سامنے بھی کیا تھا کہ شیعہ سنی تضادات کو موضوع بنانے کے بجائے مشترک مواد کو موضوع بنایا جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی پیدا ہو۔
اس بار برادرم انعام الرحمن کے مضمون سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ عورت کی فی ذات کوئی حیثیت واہمیت نہیں ہے اور وہ مرد کی طفیلی ہے اور مرد کے کردار کی تبدیلی سے عورت کا کردار خود بخود تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے میں نے انھیں سمجھنے میں غلطی کی ہو، لیکن اگر ایسا ہے تو اس موضوع پر بھی مباحثہ چل سکتا ہے۔
کلیم احسان بٹ
شعبہ اردو۔ گورنمنٹ زمیندار کالج
بھمبر روڈ۔ گجرات
(۲)
مدیر مکرم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الشریعہ کا اعزازی شمارہ موصول ہوا۔ میں آپ کے اس اعزاز پر شکر گزار ہوں اور ساتھ ہی دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے اور آپ روایتی حلقے کے خدشات وخطرات سے بے نیاز ہو کر ولا یخافون لومۃ لائم کے شان خود داری سے دین متین کی عصری تقاضوں کے مطابق خدمت کا حق ادا کر پائیں۔ احقاق حق اور ابطال باطل میں ذاتی رجحانات، فکری حلقات، جماعتی تعصبات اور شخصی مفادات ہی آڑے آتے ہیں۔ ان کے پروا کیے بغیر وحدت امت کے ماٹو کی خاطر گروہی تعصبات، مذہبی فرقہ جات اور سیاسی سلسلہ جات کو خیر باد کہنا کارے دارد ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو کہ آپ وحدت امت کے داعی بن کر غلبہ اسلام کی علم برداری میں حائل ان گروہ بندیوں او رجکڑبندیوں سے بالاتر اور آزاد ہو کر کچھ کر گزریں جو کہ عند اللہ مقبول اور عند الناس محبوب ہو۔
اخوکم فی اللہ
(ڈاکٹر) خالد ظفر اللہ
صدر شعبہ علوم اسلامیہ۔ گورنمنٹ کالج۔ سمندری
(۳)
بخدمت جناب مدیر اعلیٰ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر وعافیت ہوں گے۔
ماہنامہ الشریعہ ماشاء اللہ اسلامی اخبارات ورسائل میں ایک معیاری اور قابل قدر رسالہ ہے جس میں فکری وتحقیقی مضامین کا بے بہا ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ و سعت فکر کا اہتمام کرنے والے احباب کے لیے یقیناًاس کا مطالعہ نہایت مفید اور ضروری ہے۔ مغربی نظام حیات اور تہذیب وتمدن کی خامیوں اور ان کا مدبرانہ تجزیہ اور ان جیسے دیگر ضروری زندہ موضوعات ماشاء الہ وقتاً فوقتاً رسالہ کی وقعت میں اضافہ کا سبب بنتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ رسالہ کی ہر طرح کی مشکلات کا ازالہ فرماتے ہوئے اس کے ارباب قلم میں مزید جودت فکر اور سلامت طبع پیدا فرمائے اور اتحاد امت کے سلسلے میں ان سے گراں قدر خدمات لے۔
والسلام
محمود خارانی
جامعہ دار العلوم کراچی ۱۴ ، کورنگی ۵
(۴)
محترم ایڈیٹر ماہنامہ الشریعہ 
السلام علیکم
آپ کا ارسال کردہ ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ بار کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے اور اس سے گوجرانوالہ بار کے تمام وکلا صاحبان استفادہ کر رہے ہیں۔ اس امر کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔
آصف ندیم (لائبریری سیکرٹری )
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ

ادارہ مباحث فقہیہ بھارت کا آٹھواں فقہی اجتماع

ادارہ

۲۷ اپریل سے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ مباحث فقہیہ کی طرف سے جمعیۃ علماء کرناٹک کے زیر اہتمام ’’دینی مقاصد کے لیے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کا استعمال‘‘ کے عنوان سے سہ روزہ فقہی اجتماع کا آغاز حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی کی صدارت میں مفتی مولوی سید محمد عفان کی تلاوت اور قاری فراست کی نعت سے ہوا۔ اس اجتماع میں پورے ملک سے ۱۵۰ سے زائد اصحاب افتا اور ارباب علم ودانش اور علماے کرام نے شرکت کی۔ آج کی پہلی نشست میں کرناٹک، تامل ناڈو اور آندھرا پردیش سے بھی ایک ہزار سے زائد منتخب علما، مفتیان اور موقر افراد شریک ہوئے۔ خطبہ استقبالیہ مولانا شعیب اللہ خان کی طرف سے مولانا زین العابدین نے پیش کیا جبکہ افتتاحی وتعارفی کلمات مولانا مفتی سلمان منصوری پوری نے کہے۔ انھوں نے نظامت کے ساتھ موضوع کے تعلق سے تحریر کردہ مقالات کے پیش نظر چار نکات پر روشنی ڈالی اور غور وفکر کر کے حضرات علماے کرام ومفتیان عظام کو مسئلے کے صحیح حل کرنے کی دعوت دی۔
صدر اجلاس حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند دامت برکاتہم نے کہا کہ موجودہ حالات بہت سنگین ہیں۔ امت کو انتشار سے بچانا، ان تک صحیح معلومات پہنچانا اور درپیش مسائل کا حل کرنا اصحاب افتا اور علماے کرام کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ امت کو انتشار اور پریشانی سے نکالنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ بہت برا وقت ہوگا۔ انھوں نے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ جیسے ذرائع کے دینی مقاصد کے لیے استعمال کے سلسلے میں اپنی کوئی رائے ظاہر کیے بغیر پورے ملک سے تشریف لائے ہوئے اہل علم وافتا کو مسئلے کے حل اور اس پر غور وفکر کے لیے متوجہ کیا۔ اس نشست میں اس موقع پر حضرت امیر الہند دامت برکاتہم کے دست مبارک سے مولانا مفتی سلمان منصور پوری کی کتاب ’’لمحات فکریہ‘‘، مولانا اختر امام عادل کی کتاب ’’امام شاہ ولی اللہ کے افکار کی معنویت‘‘ اور مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دار العلوم (وقف) دیوبند کی تقریروں کے مجموعہ ’’خطبات خطیب الاسلام‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔
موضوع پر آغاز بحث سے پہلے جامعہ باقیات الصالحات ویلور کے شیخ الحدیث مولانا محمد اقبال قاسمی نے قدرے تفصیل سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کی اصطلاحات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد دار العلوم دیوبند کے مفتی مولانا محمد ظفیر الدین کا مقالہ مفتی کوکب نے پیش کیا جبکہ مفتی صاحب بذات خود اجتماع میں موجود تھے۔ مقالہ میں جائز ذرائع کے استعمال پر زور دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دعوت وتبلیغ ایک دینی فریضہ ہے لیکن اس کے طریقے منصوص ومتعین نہیں ہیں۔ ریڈیو کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن مجموعہ مفاسد ہے اور تصویر کشی ناجائز ہے۔ دعوت وتبلیغ کے طریقے مباح ہیں، لہٰذا ناجائز اور حرام کا استعمال صحیح نہیں ہوگا۔ سد ذریعہ کے تحت مجموعہ مفاسد ٹیلی ویژن کا دینی مقاصد کے لیے استعمال جائز نہیں ہونا چاہیے۔
جبکہ دوسرے مقالہ نگار مولانا مفتی عبد اللہ معروفی استاذ دار العلوم دیوبند نے کہا کہ ٹیلی ویژن پر جو صورت نظر آتی ہے، وہ تصویر کے حکم میں نہیں بلکہ وہ عکس ہے، لہٰذا اس پر تصویر کشی کی حرمت والی روایتوں سے استدلال صحیح نہیں ہوگا۔ انھوں نے تصویر اور اس کے متعلقہ نئے پہلووں پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انٹر نیٹ کا جائز مقاصد کے لیے استعمال بالکل صحیح ہے۔ رہا ٹیلی ویژن کا معاملہ تو اس کے استعمال کی دو نوعیت ہیں۔ (۱) دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کا استعمال۔ (۲) دینی معلومات فراہم کرنا۔ مثلاً اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ درست کرنا، ان کے سلسلے میں غلط فہمیوں کو دور کرنا اور ضروری اسلامی تعلیمات کے بارے میں بتانا۔ مولانا معروفی نے دوسری صورت (یعنی ضرور ی معلومات فراہم کرنا) کے لیے ٹیلی ویژن کے استعمال کو جائز قرار دیا جبکہ پہلی صورت کے بارے میں بتایا کہ متبادل ذرائع معلومات دست یاب ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس سے زیادہ مفاسد کی ترسیل ہوتی ہے، اس پر شر کا غلبہ ہے۔ 
اس موقع پر مولانا حبیب الرحمن اعظمی استاذ حدیث ومدیر ماہنامہ دار العلوم دیوبند نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ قدیم فقہا نے جو صورت اور تصویر کی تعریف کی ہے، وہ جدید سائنسی ایجادات، کیمرہ وغیرہ سے لی گئی تصویر پر صادق آتی ہے یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت تصویر نہیں، بلکہ عکس ہے تو ابتداء اً بھی عکس ہے یا تصویر، صورت حال کے مکمل جائزے کے بعد نئی تعریف ہونی چاہیے۔ مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری استاذ دار العلوم دیوبند نے مولانا اعظمی کے اٹھائے نکتے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی تمدنی ترقیات اور حالات کے مطابق اشیا کی تعریف کر کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
اس موقع پر کراچی (پاکستان) کے نامور محقق عالم مولانا مفتی تقی عثمانی اور آگرہ کے مفتی اعظم مولانا عبد القدوس رومی کے پیغامی خط مولانا معز الدین احمد ناظم امارت شرعیہ ہند وناظم اجتماع نے اجلاس کے سامنے پڑھ کر سنائے۔ مولانا رومی نے تصویر کشی کی حرمت اور ٹیلی ویژن کو فواحش ومنکرات پھیلانے کا ذریعہ اور مفاسد کا مجموعہ قرار دے کر اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا، جبکہ مولانا عثمانی نے ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت کو تصویر کے بجائے عکس قرار دیتے ہوئے دینی مقاصد کے لیے ٹیلی ویژن کے ان پروگراموں کو جائز قرار دیا جو براہ راست نشر ہوں۔
آج کی دوسری نشست کا آغاز بعد نماز مغرب مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دار العلوم (وقف) دیوبند کی صدارت میں ہوا۔ اس نشست کا پہلا مقالہ مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی کا تھا۔ ان کے مقالے میں بڑی شدت تھی۔ زبان وبیان پربھی حاضرین کو اعتراض تھا۔ محترم خیر آبادی نے تصویر کی تعریف اور اس کے متعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروگرام چاہے براہ راست نشر ہو یا بالواسطہ، دونوں صورتیں تصویر کشی کے ذیل وتعریف میںآتی ہیں لہٰذا ٹیلی ویژن کا استعمال کسی طرح جائز نہیں، وہ ناجائز اور حرام ہے۔ وہ آلہ لہو ولعب ومجسم مفاسد ہے۔ اس کے ذریعہ اسلام اور دینی مقاصد کی اشاعت ان کی اہانت ہے۔ اس پر پروگرام پیش کرنا، دیکھنا سب ناجائز ہے۔ اس پر نظر آنے والی صورت عکس نہیں، بلکہ تصویر ممنوعہ ہے۔ البتہ انھوں نے انٹر نیٹ کے استعمال کو جائز قرار دیا۔ مولانا خیر آبادی کے مقالے پر صدر جمعیۃ مولانا سید اسعد مدنی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنی شدت مناسب نہیں ہے۔ ہر چیز کو قطعی حرام قرار دینے سے کام نہیں چلے گا۔ علما کو امت کو انتشار سے نکالنے کی صورت پر توجہ دینی چاہیے۔ لوگ ٹیلی ویژن پر قادیانیوں، عیسائیوں کی طرف سے نشر ہونے والے پروگراموں کو دیکھ کر مرتد ہو رہے ہیں۔ کیا لوگوں کو ارتداد سے بچانے اور ان تک صحیح معلومات پہنچانے کے لیے ایسی صورت نہیں نکالی جا سکتی ہے جیسی کہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ کے لیے تصویر کے سلسلے میں نکالی گئی ہے؟ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نفلی حج، عمرہ یا اسفار کے لیے تصویر کھینچنے کھنچوانے کی ضرورت کو تسلیم نہیں کر لیا گیا ہے؟ کیا یہ ضرورت، ضرورت اضطراری کے ذیل میں آتی ہے؟
مولانا مدنی مدظلہ کے تبصرہ کے بعد مولانا برہان الدین سنبھلی، مولانا سید طاہر حسین گیاوی، مولانا زبیر احمد سیتا مڑھی، مولانا شبیر احمد قاسمی مدرسہ شاہی مراد آباد، مولانا الطاف الرحمن مدرسہ حیات العلوم مراد آباد، مفتی اشفاق احمد سرائے میر اعظم گڑھ، مفتی ابو الحسن مدراس، مولانا مفتی راشد دار العلوم دیوبند، مولانا ابو سفیان مؤ، مفتی ساجدمبارک پور نے مقالات پیش کیے۔
مولانا سنبھلی نے بالواسطہ، محفوظ کر کے باتصویر پروگرام کو پیش کرنے کو بلا ضرورت شرعی ناجائز قرار دیا، جبکہ براہ راست جائز پروگراموں کو پیش کرنے کو جائز قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ خفی اور چھوٹی تصویر رکھنا ضرورتاً جائز ہے اور تصویر کی حرمت قطعی نہیں، ظنی ہے۔ باطل عقائد کی تردید، اسلام کی اشاعت ممنوعہ اور غلط طریقوں مثلاً عریاں تصویر سے بچتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اپنا چینل بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلی ویژن اور دیگر نشریات کی وضع اصلاً شر کے لیے نہیں، بلکہ فراہمی معلومات کے لیے ہوئی ہے۔ ان کی کلیتاً مخالفت فہم سے بالاتر ہے۔ جو چیز ٹیلی ویژن کے باہر دیکھنا جائز ہے، اس کا دیکھنا اس کے اندر بھی جائز ہے۔ حدود وشرائط کا لحاظ کرتے ہوئے نشریات جائز، دیکھنا جائز ہے۔
صدر اجلاس مولانا محمد سالم قاسمی دامت برکاتہم نے بیماری اور ضعف کے پیش نظر بقیہ دیگر مقالہ نگاروں سے پہلے اپنے صدارتی کلمات میں بدلتے ہوئے حالات میں نئی ایجادات سے شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان کے استعمال کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسلام ایک عالمی مذہب ہے۔ اسے تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن جائز طریقہ وذریعہ اختیار کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلے کا مدار پروگرام پر ہے۔ جس کو دیکھنا سننا جائز ہے، اس کا نشر بھی جائز ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کا حل نکالنا اصحاب علم وافتا کی ذمہ داری ہے۔ مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ ٹیلی ویژن وغیرہ فی نفسہ آلہ اشاعت ومعلومات ہے۔ اس سے شر کی بھی اشاعت ہوتی ہے اور اچھائی کی بھی۔ اسے مطلقاً ناجائز قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ ا س لیے جو باہر جائز ہے، وہ آلہ کے اندر بھی جائز ہوگا۔ الیکٹرانک میڈیا کی شر انگیزی اور وسعت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس پر باطل کی تردید کے ساتھ اسلام کی تعلیمات کو اس قوت سے پیش کریں کہ دشمنان اسلام دفاعی پوزیشن میں آ جائیں۔
مولانا سید طاہر حسین گیاوی او رمولانا مفتی اشفاق احمد نے عکس اور تصویر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت تصویر ہے، لیکن ضرورتاً اس کو عام ضرورت کے مفہوم میں لے کر اس پر پروگرام کے نشر کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ مولانا مفتی زبیر نے ضرورتاً مقاصد شریعت کے تحت جواز کی رائے دی۔ انھوں نے کہا کہ صہیونی میڈیا کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی صورت کو مکروہ بنا کر پیش کر رہا ہے، تو کیا اصل صورت حال کو پیش کرنے کے لیے گنجایش نکالنی چاہیے یا نہیں؟ مقاصد شریعت کے تحت اس کے استعمال کی گنجایش ہونی چاہیے۔ مولانا مفتی شبیر احمد قاسمی نے موضوع پر بڑا تفصیلی مقالہ تحریر کیا۔ انھوں نے مختلف مثالوں اور دلیلوں سے اپنے موقف کو مدلل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اہون البلیتین (دو مصیبتوں میں آسان مصیبت کو اختیار کرنے) اور اخف المفسدین (دو فساد میں ہلکا فساد) کے قاعدہ کو پیش نظر رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ضرورت کے تحت دینی مقاصد کے لیے شروط وقیود کے ساتھ حد میں رہ کر جائز قرار دیا، لیکن ٹیلی ویژن ناجائز اور برائی کی اشاعت کا ذریعہ ہے اور شر کا غلبہ ہے، اس لیے مطلق ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٹیلی ویژن وغیرہ فی نفسہ آلہ معلومات ہے، البتہ اس کے غلط استعمال نے اسے مجموعہ مفاسد بنا دیا ہے۔ ایک بات یہ کہ جائز کا عکس لینا بھی جائز ہے اور دیکھنا بھی۔ مناقشہ میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے ضرورتاً تصویر کی طرح اس کے استعمال کی گنجایش بتائی۔ 
مولانا مجیب اللہ دار العلوم دیوبند نے احتیاط اور ضرورت کے تحت جواز کی رائے دی۔ مولانا ابو الحسن مدراس، مفتی راشد دیوبند، مفتی ابو سفیان مؤ، مفتی ساجد مبارک پور، مفتی جمیل الرحمن پرتاب گڑھ، مفتی خورشید انور گیاوی دیوبند، مفتی احمد الراشد مبارک پور، مفتی سعید الحق، مفتی سید صدیق نلکنڈا، مفتی ذکر اللہ بہرائچ، مفتی ابو الکلام بھوپال، مفتی شاہد سہارنپور، مفتی تبارک حسین بہادر گنج بہار نے ٹیلی ویژن کو مجموعہ شر ومفاسد قرار دے کر دینی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت سے انکار اور دیگر متبادل اپنانے کی رائیں دیں، جبکہ مولانا مفتی نذیر احمد کشمیر، مفتی محی الدین گجرات، مولانا مفتی عتیق احمد راندر گجرات، مولانا مفتی اختر امام عادل منوروا شمستی پور بہار، مولانا مفتی اقبال احمد کانپور، مولانا مفتی حبیب الرحمن مؤ ائمہ، مولانا مفتی خلیل الرحمن ناندیڑ، مولانا مفتی عبد الرشید کانپور، مفتی لقمان مراد آباد، مولانا یعقوب قاسمی برطانیہ، مفتی عثمان گورینی جونپور، مفتی جاوید اقبال کشن گنج بہار، مولانا متین الحق اسامہ کانپور، مولانا مفتی بدر نجیبی پھلواری شریف، مولانا مفتی اشتیاق احمد بہرائچ، مولانا مفتی سلیمان منصور پوری، مولانا مفتی وحید الدین قاسمی فلاح دارین ترکیسر گجرات، مفتی کوکب، مولانا مفتی ابو جندل، مولانا ریاست علی رام پوری ہاپوڑ، مفتی امان اللہ نرابی گوڑا (اے بی)، مولانا مفتی عبد الغفور سنبھلی مدرسہ حسینیہ تاؤلی مظفر نگر، مولانا مفتی مزمل حسین مدرسہ مظاہر علوم سیلم، دانش بن نعیم کوکن، مولانا مفتی مبین پرنامٹ، مولانا نور الحسن غازی آباد وغیرہم نے ضرورت کے تحت ٹیلی ویژن کے استعمال کو، منکرات وفواحش سے بچتے ہوئے جائز قرار دیا،چینل کے قیام کو ایک ضرورت بتایا۔ ان حضرات نے اسے آلہ لہو ولعب قرار دینے کو غلط قرار دیا۔ ان میں سے بعض حضرات نے ضرورتاً تصویر کو تصویر مانتے ہوئے جائز قرار دیا تو کچھ حضرات نے ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی تصویر کو تصویر ہی تسلیم نہیں کیا۔ مفتی عقیل اور مفتی اختر امام عادل تو آلہ لہو ولعب کو بھی مطلقاً حرام قرار دینے کے خلاف ہیں۔ ا س کے غلط استعمال سے وہ غلط ہے۔ چھوٹی تصویروں کے جواز اور مواقع مستثنیات، ضرورت/حاجت کے ذیل میں آتے ہیں۔ بعض مثلاً مولانا نذیر کشمیری، مفتی اقبال، مفتی عبد الرشید جوا زکے ساتھ اس کو وقت کی ایک ضرورت مانتے ہیں۔ 
پاکستان سے آئے خصوصی مہمان مولانا سید نصیب علی شاہ نے مسئلے کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے توقف کو احوط قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان علما اور اہل علم، علماے دیوبند کے فیصلے کی طرف بڑی امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آپ کے پاس جو تحقیقی مواد ہے، وہ ہمیں دیں اور جو ہمارے پاس ہے، وہ ہم آپ کو دیں گے۔ 
اجلاس کے دیگر صدور میں مولانا مفتی منظور احمد مظاہری کانپور اور مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری عدم جواز کی طرف گئے ہیں۔ مولانا مدنی اور مولانا قاسمی کا رجحان ان کے صدارتی اور تبصراتی کلمات سے پتہ چلتا ہے۔ مولانا مفتی ظفیر الدین کی رائے بھی سابق میں آ چکی ہے۔ ان تمام تر اختلافات آرا کے باوجود کمیٹی برائے تجاویز کی تیار کردہ تجاویز سے اتفاق کر کے مسئلے کے متفقہ حل تک پہنچنے اور افہام وتفہیم کی راہ اچھے ماحول میں فراہم کی۔ اس آخری نشست کی صدارت مولانا عبد الحق استاذ دار العلوم دیوبند کو کرنی تھی، لیکن طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے صدارت کا فریضہ مولانا مفتی ظفیر الدین نے ادا کیا۔ ان حضرات پر مشتمل ایک تجاویز کمیٹی بنائی گئی تھی:
(۱) مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (۲) مولانا حبیب الرحمن اعظمی (۳) مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی (۴) مفتی شبیر احمد قاسمی (۵) مولانا سید طاہر حسین گیاوی (۶) مولانا مفتی سلمان منصور پوری (۷) مولانا محمد اقبال قاسمی (۸) مولانا زبیر احمد سیتا مڑھی (۹) مولانا عبد اللہ معروفی۔
ان کے علاوہ بحث وگفتگو میں مولانا معز الدین قاسمی اور عبد الحمید نعمانی بھی شریک رہے۔ کمیٹی کی تیار کردہ تجاویز مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری نے پیش کیں۔ تجویز شکریہ مولانا محمود مدنی نے پیش کی جو تمام تر انتہائی مصروفیات کے باوجود آخری اجلاس میں شریک ہوئے۔ ۲۷؍اپریل سے ۲۹؍اپریل تک کل پانچ نشستیں ہوئیں۔
اس سہ روزہ فقہی اجتماع میں پورے ملک سے بھرپور نمائندگی تھی۔ کرناٹک، آندھرا پردیش، تامل ناڈو کے علاوہ دیگر صوبوں سے بھی بڑی تعداد میں موقر حضرات نے فقہی اجتماع میں شرکت کی ۔ ان میں مولانا ابو سفیان بن محمد سالم قاسمی، مولانا سید محمد عفان دیوبند، مولانا قاری حماد دہلی، مولانا حسیب صدیقی، مفتی شکیل راجستھان، مولانا مفتی ایوب پرنامبٹ، مفتی حبیب اللہ راجستھان، مفتی عبد القیوم، مولانا عبد الہادی پرتاب گڑھ، مولانا مفتی عبد الرزاق بھوپال، مولانا سید مشہود حسن دہلی، مولانا مفتی ضیاء اللہ بھوپال، مولانا محمد قاسم امروہہ قابل ذکر ہیں۔ مولانا مفتی سید معصوم تو اجتماع کے روح رواں نظر آتے تھے۔ صبح سے شام تک سراپا متحرک۔ ان کے علاوہ بہت سے اہم حضرات ہیں جن کا فقہی اجتماع کے انعقاد اور کامیابی میں بڑا دخل ہے۔ مثلاً دار العلوم شاہ ولی اللہ کے مہتمم مولانا زین العابدین، مولانا افتخار صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مولانا مفتی شمس الدین، مولانا شعیب اللہ خان، ڈاکٹر ظفر الاسلام۔ 
راقم (عبد الحمید نعمانی) کا سہ روزہ اجتماع کے تعلق سے تاثر یہ ہے کہ اجتماع میں جو مقالات پڑھے گئے اور جس انداز سے بحث وگفتگوہوئی، اس سے غور وفکر کے مختلف ابواب وا ہوئے ہیں۔ افہام وتفہیم کا جو ماحول بنا ہے، اس نے امیدوں کے ساتھ بحث ومباحثے کو تعمیری ومثبت رخ دیا ہے۔ یہ خوش آئند مستقبل کا اشاریہ بھی ہے۔

تجاویز

ادارۃ المباحث الفقہیۃ جمعیۃ علماے ہند کے آٹھویں فقہی اجتماع منعقدہ ۱۷۔۱۸۔۱۹ ربیع الاول ۱۴۲۶ مطابق ۲۷۔۲۸۔۲۹ ؍اپریل ۲۰۰۵ بمقام مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ہال، عید گاہ جدید، ٹیانری روڈ، بنگلور میں ’’ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کا دینی مقاصد کے لیے استعمال‘‘ پر غور وخوض کے بعد درج ذیل امور طے کیے گئے:
۱۔ آج ٹیلی ویژن پر زیادہ تر فحاشی، عریانیت اور مخرب اخلاق پروگراموں کا غلبہ ہے۔ چوبیس گھنٹے اس کے مختلف چینلوں پر رقص وسرود اور حد درجہ شرمناک مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ پھر ڈش انٹینا اور پرائیویٹ کیبل چینلوں نے تو تمام اخلاقی اور انسانی حدود کو پار کر دیا اور آج ٹی وی زدہ معاشرہ جن شرمناک حرکتوں میں ملوث ہے، وہ ناقابل بیان ہیں اور جس گھر میں ٹیلی ویژن ہو، وہاں کے لوگوں کا اس کے مخرب اخلاق پروگراموں سے بچنا تقریباً محال ہے لہٰذا ٹیلی ویژن گھر میں رکھنا اور اس کے پروگراموں کو دیکھنا شرعاً ناجائز ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
۲۔ اسلام میں بلا ضرورت شرعی تصویر کھنچوانا نائز ہے، لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اعداے اسلام یا شرپسند فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے کوئی ایسی چیز سامنے آئے جس سے اسلامی عقائد اور احکام واقدار پر زد پڑتی ہو اور اس کا مناسب جواب نہ دینے سے اسلام کی شبیہ بگڑنے یا مسلمانوں کے حقوق کے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویژن کے کسی پروگرام پر آنے کی ضرورتاً گنجایش ہے۔
۳۔ اسلامی ٹی وی چینل قائم کرنا مشکل ترین امر ہے اور اگر ایسا چینل وجود میں آ بھی جائے تو اس کے ذریعہ سے فوائد کے مقابلے میں نقصانات کہیں زیادہ ہیں کیونکہ اس طرح کے چینلوں کو بہانہ بنا کر لوگ ٹیلی ویژن کے فحش پروگراموں تک بآسانی رسائی حاصل کر لیں گے اور دیگر باطل فرقوں کے چینلوں سے اس کا امتیاز بھی دشوار ہوگا۔ نیز عام لوگوں کی دل چسپی کی چیزیں شامل کیے بغیر خالص اسلامی چینل کے ناظرین کی تعداد غیرمعمولی حد تک کم ہوگی اور متوقع فوائد حاصل نہ ہو سکیں گے۔ ان وجوہ سے اسلامی چینل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
۴۔ انٹر نیٹ اس دور میں ایسا معلوماتی ذریعہ ہے جس میں ہر طرح کے اچھے اور برے پروگرام پائے جاتے ہیں۔ گو کہ آج زیادہ تر اس ذریعہ کو ناجائز اور حرام چیزوں میں استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کو اگر شرعی حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے تو منکرات وفواحش سے بچتے ہوئے اس سے عظیم تعلیمی، تجارتی اور انتظامی وغیرہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ فقہی اجتماع انٹر نیٹ کے جائز حدود میں استعمال کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے ناجائز استعمال کو ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نوٹ: تمام شرکا نے اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا، البتہ مولانا مفتی اشفاق صاحب (سرائے میر) نے شق نمبر ۲ سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے یہ نوٹ تحریر کیا: ’’ٹیلی ویژن پر آنے کی اجازت ہے‘‘ سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ تجویز نمبر ۳ سے تضاد محسوس ہوتا ہے اور ٹیلی ویژن کے جواز کا دروازہ کھلتا ہے۔
(بشکریہ ہفت روزہ الجمعیۃ، دہلی)

دار العلوم دیوبند اور سیاسی معاملات میں فتویٰ

دار العلوم دیوبند نے ۱۶ اگست ۲۰۰۵ کو ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس کا مدعا یہ تھا کہ مسلم خواتین انتخابات میں حصہ نہ لیں، اور اگر وہ ایسا کرنا ہی چاہتی ہیں تو پردے کی لازماً پابندی کریں۔ اس پر سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوا۔ بھارتی وزیر قانون ایچ آر بھردواج نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی گروہوں کی طرف سے دیے جانے والے فتووں کی آئینی لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں اور ان کو ماننا یا نہ ماننا لوگوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے رد عمل سامنے آنے کے بعد دار العلوم نے سیاسی معاملات میں فتویٰ دینے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دار العلوم کے نائب مہتمم مولانا مفتی مرغوب الرحمن نے بتایا کہ ’’تمام مفتیوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نہ تو کوئی فتویٰ جاری کریں اور نہ میڈیا کے ساتھ رابطہ رکھیں۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ جن مفتیوں نے انتخابات میں خواتین کے حصہ لینے سے متعلق فتویٰ دیا تھا، انھیں سرزنش کی گئی ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ دار العلوم نے کبھی مسلم خواتین کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا اور جدوجہد آزادی میں مسلم خواتین کسی رکاوٹ کے بغیر شریک ہوتی رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے تو اسلامی شریعت میں بیان کردہ صرف ان حدود وقیود کی وضاحت کی ہے جن کی خواتین کو پبلک زندگی میں اپنے لباس اور طور طریقوں کے حوالے سے پابندی کرنی چاہیے۔‘‘ 
مولانا مرغوب الرحمن نے بتایا کہ آئندہ فتویٰ جاری کرنے کے عمل کو محتاط بنانے اور کسی بھی غلط تشریح سے بچنے کے لیے دار العلوم کی طرف سے ایک چھ رکنی کمیٹی مقرر کی گئی ہے جو کسی بھی فتوے کو جاری کرنے سے پہلے اس کے متن پر غور کر کے اسے حتمی شکل دے گی۔
(http:203.199.69.66/news/nation/2005/august/116893.htm)

بدسلوکی کے مرتکب شوہروں کا سماجی مقاطعہ

امریکی ریاست فلا ڈیلفیا کی شریعہ کونسل نے مسلمان خواتین پر ان کے شوہروں کی طرف سے ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی رو سے بیویوں سے بدسلوکی کرنے اور ان کو گھروں میں تنہا چھوڑ دینے والے شوہروں کو سماجی سطح پر رسوا کیا جائے گا اور انھیں مسلم کمیونٹی سے الگ کر دیا جائے گا۔ فیصلے کی رو سے بیویوں سے بدسلوکی کرنے والے شوہروں کے ناموں کی ایک فہرست علاقے کے مسلمانوں کو بھجوا دی جائے گی اور جو علاقے اس فیصلے سے اتفاق کریں گے، ان میں ایسے مردوں کے ساتھ آئندہ شادی کرنا ممنوع ہوگا۔ اسی طرح یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ مسلم کمیونٹی کی طرف سے ایسے لوگوں کی تجارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسلام آن لائن کے مطابق شکاگو ٹربیون نے کونسل کے رکن عبد المتین کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ 
’’اس معاملے پر بھرپور طریقے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان شوہروں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ ہم اس معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھائیں گے۔‘‘ 
(العالم الاسلامی، مکۃ المکرمۃ، ۲۲ اگست ۲۰۰۵)

غزہ میں یہودی عبادت گاہیں نذر آتش

اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ سے انخلا کا اصولی فیصلہ ہوتے ہی اس سوال پر غور وخوض شروع ہو گیا تھا کہ یہاں موجود متعدد یہودی عبادت گاہوں کے حوالے سے کیا رویہ اختیار کیا جائے۔ ایک حلقے کی رائے یہ تھی کہ ان عبادت گاہوں کو خود اسرائیلی فوج مسمار کر دے۔ تاہم ایک بڑے حلقے نے اس کو ترجیح دی کہ ان عبادت گاہوں کے معاملے کو ایک باقاعدہ سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے اور فلسطینیوں کو مذہبی عدم رواداری کے حوالے سے دنیا میں بدنام کیا جائے۔ چنانچہ ۱۱ اگست ۲۰۰۵ کو اسرائیلی کابینہ نے باقاعدہ فیصلہ کیا کہ غزہ میں یہودی عبادت گاہوں کو مسمار نہ کیا جائے۔ اسرائیلی وزیر دفاع شاؤل موفاز نے اس فیصلے کی توجیہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ 
’’فیصلہ ہماری اس خواہش کا آئینہ دار تھا کہ یہ عبادت گاہیں نہ ڈھائی جائیں۔ اس سوال پر حکومتی حلقوں اور مذہبی قیادت کے ہاں وسیع غور وخوض ہوتا رہا۔ ہمیں معلوم تھا کہ فلسطینی اس فیصلے کا جواب دیں گے۔ تاہم ربیوں نے فیصلہ کیا کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے بجائے یہ عبادت گاہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں مسمار ہوں۔‘‘
توقع کے عین مطابق اسرائیلیوں کے انخلا کے فوراً بعد جوشیلے فلسطینیوں نے متعدد یہودی عبادت گاہوں پر حملہ کیا اور انھیں آگ لگا دی۔ اگلے روز منصوبہ بندی کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے ۱۳ اگست کو بیان جاری کیا کہ 
’’عبادت گاہوں کی حفاظت نہ کر کے فلسطینیوں نے اپنی پہلی ہی ذمہ داری میں ناکامی کا ثبوت دے دیا ہے۔‘‘ انھو ں نے کہا کہ ’’عبادت گاہوں کو جلانے کا واقعہ ایسے وحشی لوگوں کا کارنامہ ہے جو مقدس مقامات کا کوئی احترام نہیں کرتے۔‘‘ 
(یروشلم پوسٹ، ۱۲ ستمبر ۲۰۰۵)

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

۲۴؍ اگست ۲۰۰۵ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں خواتین کا ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم مکمل کرنے والی طالبات کو سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ اس موقع پر جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے شعبہ بنات کی صدر معلمہ حافظہ سعیدہ اختر نے، جو شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی دختر اور مولانا قاری خبیب احمد عمر (مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم) کی اہلیہ ہیں اور سالہا سال سے بخاری شریف پڑھا رہی ہیں، خواتین سے خطاب کیا۔ ان کے ساتھ جامعۃ الہدیٰ نوٹنگھم (برطانیہ) کی معلمہ قاریہ عائشہ ظہیر نے بھی خطاب کیا۔ اکادمی کے شعبہ بنات میں تعلیم وتدریس کے فرائض مولانا محمد یوسف (ناظم اکادمی) کی اہلیہ محترمہ انجام دے رہی ہیں۔
۲۷؍ اگست کو درس نظامی کے فضلا کے لیے خصوصی تربیتی کورس کی تکمیل کے موقع پر اکادمی میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی جبکہ جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف مہمان خصوصی تھے اور ان کے ساتھ گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ بھی خصوصی مہمانوں کی نشست پر تشریف فرما تھے۔ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اکادمی کی سرگرمیوں کا مختصر تعارف کرایا۔ اکادمی کے ناظم اور استاد مولانا حافظ محمد یوسف نے شرکا کو اکادمی کی سرگرمیوں اور فضلاے درس نظامی کے ایک سالہ خصوصی کورس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ فضلاے درس نظامی کی ایک سالہ کلاس میں اس سال پندرہ فضلا نے داخلہ لیا جن میں سے گیارہ نے کورس کی تکمیل کی اور مقالات تحریر کیے جبکہ ان میں سے دو حضرات کورس کی تکمیل اور مقالہ تحریر کرنے کے باوجود کسی وجہ سے سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے۔ نو حضرات نے امتحان میں شرکت کی اور کامیابی حاصل کر کے سند کے مستحق ٹھہرے۔ ان حضرات نے کورس کی تکمیل کے ساتھ مختلف عنوانات پر اساتذہ کی نگرانی میں مقالات تحریر کیے جنھیں شہر کے تین بڑے دینی مدارس مدرسہ نصرۃ العلوم، مدرسہ اشرف العلوم اور جامعہ عربیہ کے اساتذہ نے چیک کر کے ان کی توثیق کی۔ کامیاب ہونے والے طلبہ اور ان کے تحریر کردہ مقالات کی تفصیل حسب ذیل ہے:
غلام اللہ: ’’اہل السنۃ والشیعۃ فی ضوء العقائد‘‘
فضل حمید چترالی: ’’اسلامی حدود وتعزیرات کا فلسفہ اور ان پر اعتراضات کا تجزیہ‘‘
محمد شفیع: ’’تذکرہ محدثین احناف‘‘
محمد توقیر معاویہ: ’’سورۃ التوبہ اور سورۃ الانفال کی روشنی میں اسلام کا تصور جہاد‘‘
محمد خالد رمضان: ’’کتاب پیدایش اور قرآن مجید کے بیانات کا تقابلی جائزہ‘‘
محمد قاسم: ’’آداب رسالت سورۃ الحجرات کی روشنی میں‘‘
ابوبکر محمود: ’’حلال وحرام سورۂ مائدہ کی روشنی میں‘‘
عبد القادر: ’’حفاظت حدیث کے ذرائع اور وسائل‘‘
محمد بن ابراہیم: ’’مسیحیت کی بنیادی تعلیمات: ایک مطالعہ‘‘
تقریب میں ان فضلا کو مہمانان خصوصی نے اسناد اور انعامات عطا کیے جبکہ اکادمی کے عملہ میں سے مولانا حافظ محمد یوسف (ناظم)، پروفیسر محمد اکرم ورک (نگران خصوصی تربیتی کورس) اور ڈاکٹر محمود احمد (انچارج فری ڈسپنسری) کو حسن کارکردگی کے خصوصی سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ حاضرین کو بتایا گیا کہ الشریعہ فری ڈسپنسری علاقہ کے غریب عوام کی مسلسل خدمت کر رہی ہے اور روزانہ کم وبیش ۷۰، ۸۰ کے لگ بھگ مریض ڈسپنسری کی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر الشریعہ اکادمی کے دو سابق طلبہ کو بھی خصوصی انعامات دیے گئے جنھوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں قانون کی تعلیم حاصل کی ہے اور ان میں سے ایک اب ڈسٹرکٹ کورٹس گوجرانوالہ میں پریکٹس کر رہے ہیں۔
تقریب میں بتایا گیا کہ اکادمی میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے دوران میں مختصر مدت کے کورس بھی کرائے جاتے ہیں جن کے تحت اس سال ۵؍ شعبان سے ۲۹؍ شعبان تک عربی بول چال اور کمپیوٹر ٹریننگ کے ایک کورس کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ بعض دیگر طلبہ بھی مختلف کورسز کے حوالے سے مولانا حافظ محمد یوسف اور دیگر اساتذہ سے فارغ اوقات میں تیاری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکادمی میں عام مسلمانوں خصوصاً تاجر حضرات کے لیے تین تین ماہ کے دورانیہ کے ’’فہم دین کورسز‘‘ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس میں مجموعی طور پر ایک سو سے زیادہ حضرات نے شرکت کی۔ پروگرام کے مطابق فضلاے درس نظامی کی اگلے سال کی کلاس کے لیے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔
شہر کے معروف علاقے واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کورو ٹانہ کے مقام پر کھیالی کے ایک مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے ایک ایکڑ جگہ ’’الشریعہ اکادمی‘‘ کے لیے وقف کی ہے جہاں تعمیر کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے مطابق عید الاضحیٰ سے قبل یا اس کے فوراً بعد وہاں حفظ قرآن کریم کی کلاس کا آغاز ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کلاس کے تحت پرائمری پاس بچوں کو چار سال میں حفظ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ کے نصاب کے مطابق مڈل کرایا جائے گا۔
تقریب میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی اور مولانا عبد الرؤف فاروقی نے بھی خطاب کیا اور دور حاضر کی ضروریات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے الشریعہ اکادمی کی کارکردگی کو سراہا۔ مولانا راشدی نے الشریعہ اکادمی کے اغراض ومقاصد اور اس حوالے سے اپنی سوچ اور ایجنڈے کا قدرے تفصیل سے ذکر کیا۔