نومبر ۲۰۰۵ء

متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی و اخلاقی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام، مسلمان اور مغربی ذرائع ابلاغایم جے اکبر 
قرآنی متن کے حوالے سے مستشرقین کا زاویہ نگاہمحمد فیروز الدین شاہ کھگہ 
فروعی مسائل میں سہولت و رخصت کا فقہی اصولادارہ 
مِتھ کی بحث پر ایک نظرپروفیسر میاں انعام الرحمن 
انسان کا حیاتیاتی ارتقا: نظریہ یا حقیقت؟پروفیسر محمد عمران 
مکاتیبادارہ 
افتخار عارف کی شاعریپروفیسر شیخ عبد الرشید 
اخبار و آثارادارہ 

متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی و اخلاقی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان میں ۸؍اکتوبر کو جو خوف ناک زلزلہ آیا ہے اور جس کے جھٹکوں کا تسلسل ابھی تک جاری ہے، اس کی تباہ کاریوں نے پوری دنیا کو ملول اور افسردہ خاطر کر دیا ہے۔ پاکستانی قوم اور اس کی بہی خواہ اقوام زلزلہ سے متاثر ہونے والوں تک پہنچنے اور باقی بچ جانے والوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔ پاکستانی فوج اور دیگر سرکاری ادارے سرگرم عمل ہیں جبکہ ان کے ساتھ دینی، سیاسی وسماجی تنظیمیں اور عوام کے مختلف گروپ بھی امدادی کاموں میں شریک ہیں مگر ابھی تک نہ تو زلزلہ میں ہونے والے جانی نقصانات کا صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکا ہے اور نہ ہی زلزلہ کی زد میں آنے والی تمام بستیوں اور انسانوں تک رسائی ممکن ہو سکی ہے۔ یہ قدرت کی مخفی قوتوں کے سامنے انسان کی بے بسی اور کمزوری کا ایک ایسا اظہار ہے جس کی کیفیت وکمیت میں سائنسی ترقی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔
قرآن کریم نے گزشتہ اقوام کے حوالے سے زلزلہ، طوفان اورسیلاب جیسی قدرتی آفات کا تذکرہ قوموں کی اجتماعی بد اعمالیوں پر سزا اور عذاب کے طور پر کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے انسانی سوسائٹی میں عام ہونے والی بد اعمالیوں پر تنبیہ اور عذاب کے طور پر ایسی قدرتی آفات کے رونما ہونے کی متعدد احادیث نبویہ میں پیش گوئی فرمائی ہے۔ اس لیے زلزلہ اور اس کے نقصانات کا ظاہری اسباب کے حوالے سے جائزہ لینے اور ایسے اسباب کو روکنے کی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسی آفات کے روحانی اور باطنی اسباب اور عوامل پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ گزشتہ اقوام کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے ان روحانی اسباب وعوامل کو تلاش کرنا اور ان کا تعین کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا ادراک اور احساس عطا فرمائیں۔ آمین
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ ایسے مواقع پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پریشانی کا اظہار فرماتے اور کثرت سے استغفار کرتے تھے، اس لیے ہمارے لیے بھی اسوۂ نبوی یہی ہے کہ توبہ واستغفار کا اہتمام کریں اور اپنے اعمال وکردار پر نگاہ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کو اجتماعی طور پر اپنا معمول بنائیں۔
زلزلہ سے متاثر ہونے والے بھائیوں کی مدد ہماری دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے ہمیں تمام ممکن ذرائع اختیار کرنے چاہییں اور ان کی بحالی وآبادی کے لیے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرنا چاہیے۔ اس زلزلہ کی تباہ کاریوں نے ہماری بہت سی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو بے نقاب کر دیا ہے جن کو دور کرنے کے لیے خصوصی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے، لیکن پاکستانی قوم نے جس یک جہتی، ہم آہنگی اور ایثار وقربانی کے ساتھ اپنے متاثرہ بھائیوں کی امداد وبحالی کی طرف پیش رفت کی ہے، اس نے اطمینان کا یہ پہلو بھی اجاگر کر دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں اور اس ملک کے مسلمانوں میں خیر کا جذبہ بحمد اللہ تعالیٰ ابھی تک موجود ہے جسے صحیح راہنمائی اور قیادت میسر آ جائے تو وہ دنیا بھر کے لیے خیر کی نمائندہ اور علامت بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائیں، بے آباد ہونے والوں کو دوبارہ پہلے سے بہتر آبادی نصیب کریں، پوری قوم کو صبر وحوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں اور قوم میں خیر کا جو اجتماعی جذبہ ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا ہے، اسے ہماری اجتماعی صلاح اور خیر کے دوسرے پہلووں کی طرف پیش رفت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین 
اس سال عید الفطر اس ماحول میں آ رہی ہے کہ ہم ابھی تک شہدا کی لاشوں کی تلاش، زخمیوں کے علاج اور بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی آباد کاری میں مصروف ہیں، اس لیے اس موقع پر سادگی کا اہتمام زیادہ ضروری ہے۔ ہم عید کے موقع پر معمول سے زیادہ جو اخراجات کرتے ہیں، ان کے مستحق ہمارے وہ بھائی بہنیں اور بچے ہم سے زیادہ ہیں جو کھلے آسمان کے نیچے بے بسی کے ساتھ سخت سردی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے غم واندوہ میں کمی کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمارے لیے عید کی ان مصنوعی خوشیوں سے زیادہ اطمینان بخش ہونی چاہیے جن کا ہم ہر سال بھرپور تکلف کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

اسلام، مسلمان اور مغربی ذرائع ابلاغ

ایم جے اکبر

اسلام اور مسلمانوں، خاص طور پر توانائی کی دولت رکھنے والے مسلم ممالک پر ایک زبردست فکری یلغار جاری ہے۔ پراپیگنڈے کی ایک آندھی ہے جس میں الزامات بڑی شاطرانہ مہارت سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات عوامی ذرائع ابلاغ کے واسطے سے بری طرح پھیلائے جا رہے ہیں۔ ان الزامات کا جواب حقائق کی وضاحت اور عقل وحکمت کے ساتھ دیا جانا ضروری ہے۔ اس بحث میں ہم کو اس وقت شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ہم خود سپردگی کی حد تک جھک کر دفاعی انداز اختیار کرنے لگتے ہیں، یا عقل وہوش کھو کر رد عمل اور جوش کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں، لیکن ہمیں جان لینا ہوگا کہ ہمارے لیے ان دونوں کے بیچ کا راستہ ہی اصل راستہ ہے اور اس پر چلنا کوئی بہت مشکل بھی نہیں۔
مسلمانوں اور امریکیوں کے درمیان ایک دوسرے کے عقیدہ ومذہب کے متعلق حساسیت کا پایا جانا فطری ہے، اس لیے کہ موجودہ دنیا میں یہی دو قومیں اپنے عقیدے پر پختہ یقین رکھنے والی قومیں ہیں۔ چرچ کے ادارے کی طرف سے کرائے جانے والا ایک سروے اسی سال کے شروع میں سامنے آیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ساٹھ فی صد امریکی روزانہ عبادت کرتے ہیں۔ ستر فیصد کہتے ہیں کہ امریکی صدر کو مذہب پر پختہ یقین رکھنے والا ہونا چاہیے۔ اکسٹھ فی صد اسقاط حمل پر اس لیے پابندی لگانے کے حق میں ہیں کہ یہ مذہبی اخلاقیات کی رو سے غلط ہے۔ میرے پاس مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کے اعداد وشمار نہیں ہیں۔ یقیناًمسلمانوں میں دین داری کا رجحان اس سے کم نہیں ہے، بلکہ اس سے زیادہ ہے۔ کسی بھی مسلم ملک کا صدر یا وزیر اعظم یہ چاہتا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز میں ضرور نظر آتا رہے۔ امریکہ کے برخلاف یورپ اپنا مذہب عقل پرستی اور اس کے بعد اٹھنے والی مذہب بیزار تحریکوں اور کمیونزم کے سیلاب میں کب کا بہا چکا ہے۔ یورپ میں مارکس اور لینن کی تحریکیں ایسا زور پا گئی تھیں کہ انھوں نے آدھے ایشیا سے بدھ اور کنفیوشس کے مذہب کو اور آدھے یورپ سے عیسیٰ مسیح کے مذہب کو بے دخل کر دیا۔
مذہب انسانی عقل پر مبنی نہیں ہوتا۔ مذہبی ایمان کا تعلق روحانی احساسات، اخلاقی شعور اور عقیدے پر پختگی سے ہوتا ہے۔ اسلام اکیلے خالق، اللہ کے جمال وجمال کے سامنے سرنگوں ہونے کا نام ہے۔ ایک مسلمان کہتا ہے کہ ہم اگرچہ یہ جان سکتے ہیں کہ ہم کیسے پیدا ہوتے ہیں، مگر ہمارے پاس خود یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم کیوں پیدا ہوتے ہیں یعنی ہماری پیدایش، موت اور سارے وجود کی غرض وغایت کیا ہے۔ ایک مسلمان اس پر ایمان رکھتا ہے کہ موت سے پہلے بھی زندگی ہے اور اس کے بعد بھی۔ اسی عقیدے کی مظہر یہ مشہور دعا ہے : انا للہ وانا الیہ راجعون (ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی خاص عبارت کو توڑ مروڑ کر اس کے سیاق وسباق سے کاٹ کر اس مقصد کے تحت پیش کیا جاتا ہے کہ ایک خاص مذہب اور اس کے ماننے والوں کو ایک خوف ناک صورت میں دکھایا جائے۔ مغرب میں خود کش حملوں کو حقارت آمیز مضحکہ کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ سوچا جائے کہ (اکثر اوقات) یہ جبر وظلم سے آخری درجے تک تنگ آ جانے کے بعد ایک بے چین چیخ ہوتی ہے، اس کے بجائے اسلامی عقیدے کا اس طرح مذاق اڑایا جاتا ہے کہ ’’خود کش حملہ کرو اور حوروں سے جا ملو، عیش کے مزے لوٹو۔‘‘ حالانکہ اسلامی ہدایات کا سرسری مطالعہ بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مرنے کے بعد ایسا مادی جسمانی وجود باقی نہیں رہے گا اور یہ دنیا کی زندگی کی ضروریات اور حظ ومسرت کے احساسات آخرت کی زندگی کے احساسات سے مختلف ہیں، لیکن یہاں جان بوجھ کر اسلامی نصوص کی غلط تشریح کی جاتی ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبہ قربانی، خصوصاً جان کی قربانی کے سرچشمے یعنی آخرت پر یقین اور جنت کے شوق کا مذاق اڑایا جائے اور اس کو بے وقوفوں کا خواب قرار دیا جائے۔ میڈیا کے ذریعے اسلام کو بری طرح بدنام کیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے زمانے کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف الزامات کی یہ بارش ۱۱؍۹ کے حملوں سے بہت پہلے سے جاری ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ یہ سب بس رد عمل ہے۔ ہنٹنگٹن نے تہذیبی تصادم سے متعلق اپنی کتاب ۱۱؍۹ سے سات سال پہلے شائع کی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تقریباً سارے ہی مسلم ممالک نے افغانستان اور کویت کی جنگو ں میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ امریکہ کے نو قدامت پسندوں (Neo-cons) کی تحریک کو سارا الزام دے کر خاموش بیٹھ جانا غلط ہے۔ ہم کو جواب دینا ہوگا۔
مغربی میڈیا کی کچھ خبروں پر اعتماد کیجیے تو یہی تاثر پیدا ہوگا کہ خود کش حملے مسلمانوں کی ایجاد ہیں۔ خودکش مہمیں ہمیشہ سے جنگ کا حصہ رہی ہیں اور ان بہادروں کو جو اپنی جان آخری حد تک خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہو جائیں، بڑا احترام کا رتبہ دیا جاتا رہا ہے۔ ابھی حال میں ایک مبصر نے (مشہور برطانوی روزنامہ) گارڈین میں لکھا ہے کہ سامسن (Samson) دنیا کا سب سے مشہور خود کش مشنری تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپانی ایئر فورس نے کامیکاز (Kamikaze) کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت امریکہ کی طرف سے اس پر جو تبصرہ آیا تھا، وہ دلچسپ بھی تھا اور ایسا سچا بھی کہ اس کی سچائی آج بھی باقی نظر آ رہی ہے۔ ایڈمرل ولیم فریڈرک ہالسے (William Fredrick Halsey 1884-1959) جو امریکن تھرڈ فلیٹ کا کمانڈر تھا، اس نے کہا تھا: ’’یہ وہ چیز ہے جس سے ہم بالکل آشنا نہیں۔ امریکن جو جینے کے لیے لڑتے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کچھ لوگ مرنے کے لیے لڑتے ہیں۔‘‘ اس امریکی بہادر پر ایسا ہی ایک حملہ ہوا تھا۔
جاپانی کامیکاز (Kamikaze) کو خود کشی نہیں کہتے تھے۔ وہ اس کو بزدلوں پر اخلاقی فتح کہتے تھے۔ وہ اپنے پائلٹوں سے کہتے تھے: سارے غموں، دکھوں کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ موت نظر آتی ہے مگر حقیقی زندگی تک لے جاتی ہے۔ وائس ایڈمرل تاکیرو دانسی نے رجزیہ انداز میں کہا تھا:
زندگی ایک کلی کی مانند ہے
مسکراتی ہے، پھر اس کی پنکھڑیاں بکھر جاتی ہیں
کیا کوئی خوشبو کو ہمیشہ باقی رہنے والا تصور کر سکتا ہے؟
غیر علانیہ جنگ میں خود کش حملوں کا سب سے موثر استعمال تامل ٹائیگرز نے کیا ہے جو ہندو ہیں۔ ایک ایسے ہی حملے میں ہمارے ایک وزیر اعظم (راجیو گاندھی) کی جان گئی۔ مگر حقائق مسخ کر کے دنیا کی رائے عامہ کو ا س طرح گمراہ کیا گیا ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ’’دہشت گردی‘‘ اسلامی عقائد کی پیداوار ہے۔ یہ بدترین اتہام ہے۔
ہم کو ۱۱؍۹ اور لندن حملوں کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ اور جذباتی رد عمل کی فضا کو سامنے رکھ کر بات کرنا ہوگی۔ میں خود کش حملوں سے متفق نہیں ہوں، مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سارے خود کش حملہ آور ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی، خاص طور پر جب کوئی غیر ملکی دشمن طاقت کسی علاقے پر قبضہ کر لے تو خود کش حملہ ایک نوجوان کی آخری درجہ بے چینی اور مایوسی کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم کو ان مایوسیوں اور بے چینیوں کا علاج فراہم کرنا ہوگا۔ ہم کو ناقابل قبول ’’دہشت گردی‘‘ اور جائز جدوجہد اور مزاحمت میں فرق کرنا ہوگا۔ تاریخ کا کوئی دور مسائل اور نا انصافیوں سے خالی نہیں رہا۔ نا انصافیوں کے علاج کے لیے پرامن گفتگو کسی بھی ہوش مند آدمی کی ترجیح ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی مسلح جدوجہد یا خود کش حملے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
میں کچھ عرصہ قبل اگست کے وسط میں برلن ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گیا۔ عنوان تھا ’’یورپ اور ماڈرن اسلام‘‘۔ میزبان اس پارٹی کے ممبر تھے جو اس ماہ کے آخر میں اقتدار میں آنے کی امید رکھتی ہے۔ یہ لوگ، ایسا محسوس ہوا، اسلام کے بارے میں متعصبانہ ذہن نہیں رکھتے بلکہ موجودہ حالات میں اسلام اور مغرب کے درمیان ناواقفیت کی جو خلیج حائل ہے، اس کو پاٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ کانفرنس میں فطری طور پر حجاب کا تذکرہ آیا، میں نے بحث کی کہ پوری مشرقی دنیا میں، مذہبی تفریق سے قطع نظر، سر پر دوپٹہ رکھنا عورت کی حیا کا لازمی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ میں نے کسی عیسائی کی بنائی ہوئی حضرت مریم کی کوئی تصویر ایسی نہیں دیکھی جس میں وہ ایک طرح کے حجاب میں نہ ہوں۔ساری کیتھولک ننیں سر پر ایک خاص طرح کا کپڑا رکھتی ہیں اور یہ عجیب حیران کن مگر سچی بات ہے کہ (جسم پر) ایک پٹکا (Thong) مہذب سمجھا جا رہا ہے اور اسکارف وحشیانہ!!
میں نے بار بار دہرایا جانے والا یہ طعنہ بھی سنا کہ مسلم معاشروں میں ابھی تک نشاۃ ثانیہ (Renaissance)نہیں آئی ہے۔ مجھے کہنا پڑا کہ نشاۃ ثانیہ کی اس کو ضرورت پڑتی ہے جو قرون مظلمہ (Dark Ages) سے گزرا ہو۔ چائنا، ہندوستان اور عثمانی خلافت کے زیر انتظام علاقوں میں قرون مظلمہ کا وہ تجربہ نہیں ہوا جو یورپ کو ہوا تھا۔ بغداد میں اس وقت سو کتابوں کی دوکانیں تھیں جب آکسفورڈ کے قیام میں ابھی دو سو سال باقی تھے۔ میرے اس طرح کے ریمارکس پر ایک صاحبہ نے کہا کہ ’’ایک مسلمان نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔‘‘ جب میں نے کہا کہ یہ ایک برہمن ہندو کا کام تھا تو ان کی حیرت کی انتہا نہیں تھی۔
اپنے دیگر مسلم بھائیوں کی طرح مجھ پر یہ آوازے کسے گئے کہ تمہارا دین بس ’’جہاد‘‘ ہے ، اور کچھ نہیں۔ میں اپنے دین کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرتا۔ اسلام ایک امن کا دین ہے، مگر وہ یہ جانتا اور مانتا ہے کہ کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جنگ آپ پر تھوپ دی جاتی ہے۔ اسلام جائز اور ناجائز جنگ کے درمیان فرق کرتا ہے۔ جہاد نا انصافی کے خلاف جنگ ہے۔ جہاد کے واضح قوانین ہیں۔ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں، بچوں او ر بے قصوروں کو مت قتل کرو ، یہاں تک کہ پھل دار پیڑ تک کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر جنگ جہاد نہیں ہے۔
برلن کے سیمینار کا عنوان (’’یورپ اور ماڈرن اسلام‘‘) ہی نہایت بے معنی اور غلط تھا۔ اسلام میں کچھ ایسا نہیں کہ اس کو ماڈرن، قرون وسطیٰ کا یا قدیم کہا جا سکے۔ اسلام ایک ہی ہے۔ اسلام، اسلام ہے۔دوسری بات یہ کہ یورپ ایک جغرافیائی خطے کا نام ہے اور اسلام ایک دین ہے۔ دونوں کے درمیان تقابل کیسا؟ مغرب اور وسط ایشیا کا آپ تقابل کر سکتے ہیں۔ مغرب اور جنوبی ایشیا میں آپ تقابل کر سکتے ہیں،مگر یہ کیسا تقابل کیا جا رہا ہے؟ ہاں، اسلام اور عیسائیت میں آپ تقابل کر سکتے ہیں۔ مغرب کا اسلام سے موازنہ کرنے کے پیچھے یہی تعصب آمیز ذہنیت چھپی ہوئی ہے کہ ’مغرب‘ نام ہے روشن خیالی، ترقی اور جدید زمانے کی ہر اچھائی کا، اور اسلام نام ہے ظلمت پسندی، رجعت پسندی اور زوال وانحطاط کا۔ یہ خیال کہ اسلام ایک وحشیانہ مذہب ہے، صلیبی جنگوں کے باقی ماندہ اثرات میں سے ہے جس کی جڑیں مغرب کی فکر میں ابھی تک باقی ہیں۔
مختلف مسلم قوموں کو جب اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی ساری تہذیب وتاریخ کو اسلام کہا جاتا ہے تو یہ مختلف کلچروں اور تاریخوں کو ایک بے معنی وحدت میں خلط ملط کرنے کی بے نتیجہ حماقت ہوتی ہے۔ انڈونیشیا کی حالیہ ترقی اور سیاسی وسماجی ارتقا کا کوئی تعلق مراکش کی ترقی سے نہیں ہے۔ یہ باور کرنا کہ اسلام بعض قوموں کے غریبی اور مطلق العنانی میں پھنسے ہونے کا سبب ہے، حقائق کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
اسی طرح ’’اسلام اور جمہوریت‘‘ بھی ایک بے معنی بات ہے۔ اسلام ۱۴۰۰ سال پرانا دین ہے۔ جمہوریت کی عمر کتنی ہے؟ بس امریکہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جمہوریت دو سو سالہ ہے۔ امریکہ کا دستور انفرادی اور اجتماعی آزادی کا زبردست نمونہ ہے، مگر اس ’’شاندار‘‘ جمہوریت کا حال یہ ہے کہ ایک نسل پہلے تک یہ جمہوریت گورے کے لیے الگ تھی، کالے کے لیے الگ۔ یہ تو ۱۹۶۵ء کے حق رائے دہی کے قانون کے بعد مسی سپی جیسی ریاست میں کالوں کا ووٹنگ لسٹ میں باقاعدہ اندراج ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کا تناسب جو ۱۹۶۴ء میں محض سات فی صد تھا، بڑھ کر ۱۹۶۸ء میں ستر فی صد ہو گیا۔ امریکہ کی آزادی کے تین سال بعد فرانس نے آزادی، مساوات اور اخوت کا اعلان ووعدہ کیا، مگر اس سلسلے میں دستور اور نظام کی سطح پر کچھ بھی ایک صدی کے بعد کیا جا سکا۔ جمہوریت کے سب سے بڑے وکیل برطانیہ میں بیسویں صدی میں ہی سب کو حق رائے دہی مل سکا۔ مشرقی یورپ میں اب آ کر ہر بالغ کو رائے دہی کا حق مل رہا ہے۔ ایک ارب چینیوں نے آج تک جمہوریت نہیں دیکھی۔ کیا کسی علمی ادارے نے کنفیوشس ازم اور جمہوریت پر کوئی سیمینار کیا ہے؟
اگر بہت سے ممالک آج غیر جمہوری ہیں تو اس کے اسباب مذہب میں نہیں بلکہ ان کی تاریخ میں ہیں جس میں استعماری عہد اور جدید زمانے کا استعمار شامل ہے۔ مسلمانوں کی کمیوں کے لیے اسلام کو قصور وار ٹھیرانا غلط ہے۔ یہ عیسائیت کا جرم نہیں کہ لاطینی امریکہ میں ایسے ڈکٹیٹر ہیں جو چرچ جاتے ہیں۔ اسلام مطلق العنانی کی ہمت افزائی نہیں کرتا بلکہ وہ جمہوری خیالات کی آبیاری کرتا ہے، مثلاً اجتماعی انصاف، مساوات اور رحم دلی کو وہ بنیادی اصول واقدار قرار دیتا ہے۔ وسیع النظر مسلم علما نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ اسلام جمہوری عقیدہ ہے۔ ۱۹۴۰ء میں مولانا آزاد نے کانگریس کا صدر منتخب ہونے پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اسلام نے ہندوستان کو جو عظیم تحفے دیے، ان میں جمہوری خیالات بھی ہیں۔‘‘
مغرب میں ایک مشہور کتاب تاریخ کے خاتمے (End of History) سے بحث کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسانی تہذیب وافکار کا ارتقا امریکی تہذیب پر جا کر ختم ہوتا ہے، مگر عالم اسلام کی موجودہ حالت پر غور کرتے ہوئے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ ایک ’’نئی تاریخ کی ابتدا‘‘ ہے۔ اس تاریخ کا آغاز ۱۹۱۸ء سے ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب سارا عالم اسلام غلامی کے شکنجے میں کسا ہوا تھا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے ساٹھ سال بعد ۱۹۱۸ء میں عثمانی سلطنت کا چراغ بھی گل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے مسلمانوں کو مکمل طور پر غلام بنا دیا تھا۔ عرب قوم پرست مغرب کے آزادی کے وعدوں پریقین کیے ہوئے تھے مگر مغرب، جس کی قیادت اس وقت برطانیہ اور فرانس کر رہے تھے، ان کے نزدیک آزادی کا مطلب تھا تیل کی سیاست۔
جمہوریت یقیناًضروری ہے، مگر یہ مکمل خود مختاری اور آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکی نگرانی میں اگر آزادانہ الیکشن ہو بھی جائیں تو بھی کوئی ان کا اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ قبضے اور تسلط کو آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے مصر پر یہی کہہ کر ۱۸۸۲ء میں قبضہ کیا تھا۔ یہ قبضہ ہمیشہ مال دار ملک پر ہی کیا جاتا ہے۔ رابرٹ کلائیو نے ۱۷۵۷ء میں ہندوستان کے شہر مرشد آباد پر قبضے کے بعد اس کو خوشحالی میں لندن جیسا بتایا تھا۔ یہ اس وقت کا حال ہے کہ ہندوستان میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد تقریباً ایک صدی سے انارکی چلی آ رہی تھی۔ اس وقت ہندوستان دنیا کی صنعتی پیداوار کا ۲۳ فی صد پیدا کرتا تھا اور برطانیہ ۲ فی صد سے کم۔ آزادی کے وقت ۱۹۴۷ء میں یہ تناسب اس طرح تھا: برطانیہ ۲۳ فی صد اور ہندوستان ۲ فی صد سے کم۔ آزادی کے علم برداروں کے کارناموں پر اس سے زیادہ روشنی کس چیز سے پڑے گی؟
مگر ہمیں جاننا چاہیے! غصہ علاج نہیں ہے۔ علاج خود احتسابی ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنو)

قرآنی متن کے حوالے سے مستشرقین کا زاویہ نگاہ

محمد فیروز الدین شاہ کھگہ

محمد فیروزالدین شاہ کھگہ (لیکچرر: نیشنل یونیورسٹی FAST، لاہور)
حافظ محمد سمیع اللہ فراز (لیکچرر: ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، لاہور)

جب ہم قرآنی متن کی تحقیق وتوثیق کے حوالے سے مستشرقین کے علمی کام کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت وحی کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں ان کے پہلے سے طے شدہ مقاصد کارفرماہوں یا اسلام کے مصادر کا حقیقی فہم حاصل کرنے کی عدمِ صلاحیت، بہرحال ان کی تحقیقی نگارشات میں دیانت دارانہ رویوں کے برعکس مصادرِ اسلامیہ کو مشکوک قرار دینے کے جذبات کا عکس نظر آتا ہے۔
مستشرقین کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت اور قدرو قعت ہے، اور جب تک یہ کتاب روئے زمین پر رہے گی، فوزوفلا ح کے راستے ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ کسی وقت بھی اس کی راہنمائی میں پوری دنیا کو مغلوب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس مصدر کو اس انداز اور پیرایہ میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے کہ یہ اپنی صحت وحفاظت کے معیار کے لحاظ سے دیگر کتبِ سماویہ ہی کے ہم پلہ نظر آنے لگے۔ 
اس سلسلے میں مستشرقین نے مسلمانوں کے ذہنوں میں قرآن کے بارے میں شکو ک وشبہات پیدا کرنے کی غرض سے دو بنیادی قسم کے اعتراضات کو اپنی تحقیقات کا مرکز ومحوربنایا۔ اول، قرآن کی جمع وتدوین اور دوم، قرآن کی قراء ات کا اختلاف۔ قرآنی متن کی توثیق و عدمِ توثیق کے حوالے سے یہ دونوں اعتراضات بالکل اساسی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ان دونوں کا تعلق قرآنی متن اور الفاظ سے ہے۔ الفاظ ہی معنی اور مفہوم تک رسائی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر الفاظ ہی کی صحت میں تذبذب پیدا ہو جائے تو معنی ومرادکی قطعیت ایک بے معنی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ 
قرآنِ کریم کی حفاظت کے لیے اختیار کردہ تدابیر، زمانۂ نبوت میں تدوینِ قرآن کی راہ میں حائل رکاوٹیں، ترتیب اور مندرجات کے اعتبار سے مصحفِ صدیقی کا دیگر صحابہ کے قرآنی نسخوں سے اختلاف، حضرت عثمانؓ کی طرف سے مصحفِ صدیقی پر اعتماد کے اسباب، بعض حلقوں کی طرف سے مبینہ طور پر مصحفِ عثمانی کا انکار، قرآن کی جمع وتدوین کا کام حضرت زیدؓ کے سپرد کرنے کی وجوہات اور عبد الملک بن مروان کے دور میں نصِ قرآنی میں چند ترامیم اور تبدیلیوں کا تذکرہ، اور ان جیسے بیسیوں اعتراضات ہیں جو مستشرقین نے حفاظت قرآن سے متعلق اٹھائے ہیں۔ اسی طرح ظاہری طور پر قراء ات کا اختلاف بھی خصوصی طور پر ان کی توجہ کا مستحق رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین علی الصغیر کے تجزیے کے مطابق مستشرقین نے جس فہم اور مزاج کو لے کر قرآنی مسائل پر طبع آزمائی کرنے کی کوشش کی ہے، وہ اس فہم وفراست سے بہت بعید ہے جس کے ساتھ مسلمانوں نے ان مسائل کا حل پیش کیا ہے۔ مستشرقین کے ہاں کتابیات کی معلومات اورتاریخی واقعات کی اصلاح وتصحیح زیادہ اہمیت کی حامل اور قابلِ تحقیق ہے۔ وہ وحیِ قرآنی میں شکوک وشبہات اور کتابت وتدوینِ قرآن کو ایک دقیق علمی الجھن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔(۱)
زیر نظر میں ہم قرآن کریم کے متعلق استشراقی فکر کے اساسی تصورات اور دعووں اور ان کے فکری منہج وماخذ کی ایک جھلک پیش کریں گے۔ 

تھیوڈر نولڈیکے (Theodor Noldeke)

جرمن مستشرق نولڈیکے نے ’تاریخ القرآن‘ کے نام سے کتاب لکھی جس میں قرآن کریم کی تاریخی حیثیت کو متعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متعدد مباحث کو موضوع بنایا گیا ہے۔نولڈیکے طبقۂ مستشرقین میں ایک پیش رَو کی حیثیت رکھتا ہے جس سے بعد کے مستشرقین نے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ بلاشیر نے اپنے تحقیقی اسلوب میں اسی سے راہنمائی حاصل کی ہے ۔ نولڈیکے نے اپنی کتاب میں قرآنی متن کے حوالے سے سورتوں کی ترتیب اور نسبتاً عمیق اور منفرد مباحث کو موضوع بنانے کی کوشش کی ہے۔ ابو عبد اللہ زنجانی(م۱۳۶۰ھ) نے تاریخِ قرآن پر مستشرقین کی اہم تالیفا ت میں سے اس کتاب کو مختلف پہلوؤں کی وجہ سے اہم قرار دیا ہے ۔(۲)
نولڈیکے نے تاریخ قرآن کی تحقیق میں اس موضوع سے متعلق پانچویں صدی ہجری کے عالم ابو القاسم عمر بن محمد بن عبد الکافی کی کتاب پر اعتماد کرتے ہوئے نزولِ قرآن کی تاریخ کا استقصا کیا ہے۔ نولڈیکے کے مطابق یہ کتاب God Lygd 674 Warnلائبریری میں موجود ہے۔ اس نے قرآنی متن کو مکی اور مدنی حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ابو عبد اللہ زنجانی نے پروفیسر نولڈیکے کو مذکورہ کتاب پر اعتماد کرنے اور ابراہیم بن عمر بقاعی کی کتاب ’’نظم الدرر وتناسق الآیاتِ والسور‘‘اور ابن ندیم کی ’’الفہرست‘‘ کی مدد سے فہارس تیار کرنے پر دادِ تحسین دی ہے ۔(۳)
قرآنی سورتوں کی ترتیب کا ذکر کرتے ہوئے نولڈیکے نے الفاتحہ کو نہ مکی سورتوں میں شمار کیا ہے اور نہ مدنی سورتوں میں۔ شاید اس نے اس معاملے میں توقف اختیار کیا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔ سورتوں کی ترتیبِ نزولی کا اعتبار کرتے ہوئے اس نے ابتدا سورۃ العلق سے کی ہے ،پھر سورۃ القلم اور پھر تاریخی لحاظ سے باقی سورتوں کی ترتیب قائم کی ہے۔ (۴)
نولڈیکے نے کتابت کو مختلف قراء اتِ قرآنیہ کے وجود میں آنے کا سبب قرار دیا ہے۔ اسی نظریہ کی توثیق بعد میں کارل بروکلمان نے کی اور یہ نظریہ زوروشور سے بیان کیا جانے لگا کہ مختلف قراء ات کا دروازہ دراصل کتابت سے کھلا ہے اور اسی بنیاد پر قراء ،قراء ات کی تصحیح میں منہمک نظر آتے ہیں(۵)۔ اس طرح بظاہر نولڈیکے وہ اولین مستشرق ہے جس نے قرآنِ کریم پر متن کے حوالہ سے اعتراضات کا باقاعدہ اور رسمی طور پر آغاز کیا(۶)۔ 

ریجس بلا شیر (Blachere)

بلا شیر ایک فرانسیسی مستشرق ہے جو ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوا ،رباط (مراکش) میں تعلیم حاصل کی اور ۱۹۳۹ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ سوربون میں پروفیسر متعین ہوا(۷)۔ بعض مآخذ کے مطابق بلاشیر فرانسیسی وزارتِ خارجہ میں بھی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ نجیب عقیقی نے اس کی تالیفات کا ذکر کرتے ہوئے پانچ اہم کتابوں کے نام ذکر کیے ہیں :
۱۔ المتنبی: حیاتہ وآثارہ
۲۔ مقتبسات عن اشہر الجغرافیین العرب فی العصر الوسیط
۳۔ قواعد نشر وترجمۃ النصوص العربیۃ
۴۔ فرانسیسی زبان میں ترجمۂ قرآن جو ۱۹۴۷ء سے۱۹۵۲ء کے دوران میں تین جلدوں میں پیرس سے شائع ہوا۔ 
۵۔ معضلۃ محمد: یہ کتاب ۱۹۵۳ء میں منظرِ عام پر آئی ۔(۸)
تاریخِ قرآنی کے حوالہ سے ،اس کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’القرآن نزولہ تدوینہ‘‘ہے۔ اس کی دوسری جلد میں اس نے علومِ اسلامیہ میں تحقیقی مباحث پر قلم زنی کرتے ہوئے قرآن کے متعلق کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے مغالطات اور شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے(۹)۔ اگرچہ بلا شیر کے متعلق اس کے اساتذہ کا خیال ہے کہ وہ ایک معتدل المزاج اور حقیقت پسند محقق ہے اور مستشرقین کی صف میں اس کا شمار انصاف پسند اور بالغ النظر فکر کے حامل گنے چُنے افراد میں ہوتا ہے (۱۰)، لیکن ڈاکٹر التہامی نقرہ کے بقول بلا شیر نے قرآن کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس نے نصِ قرآنی کی حفاظت کے متعلق دلائل سے قطع نظر یہ دعویٰ اختیار کیا کہ قرآن محمد کے زمانہ میں نہیں لکھا گیا تھا ۔ اس کے نزدیک نزولِ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺپر شدتِ خوف کی حالت طاری ہو جاتی تھی، اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ آپ وحی کو لکھوا لیا کرتے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں اور مدینہ کے یہودیوں کے مابین، جو تحریر وکتابت کے تمام وسائل پر قابض تھے، شدید کشمکش تھی۔ ان مقدمات سے بلا شیر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ دورِ نبوت میں قرآن کی مکمل تدوین نہیں ہو سکی اور محض حافظے کے بل بوتے پر قرآن کو کلی طور پر محفوظ کرنا ممکن نہ تھا۔ وہ اس خدشے کا بھی اظہار کرتا ہے کہ ممکن ہے قرآنی متن کے ساتھ وہ معمولی اضافہ جات بھی خلط ملط ہو گئے ہوں جنہیں بعد کے ادوار میں قرآن ہی کا حصہ سمجھ لیا گیا(۱۱)۔ 
بلاشیر کا یہ خیال کہ نبی ﷺ نے قرآن کو کتابتاً محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا، اور اس کی جو وجوہات اس نے بیان کی ہیں، محض فرضی خیالات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کے پاس اس بات کا نہ تو کوئی نقلی اور تاریخی ثبوت ہے اور نہ عقلی۔ آپ ﷺنے قرآنِ مجید کو مدون کرنے کا جو اہتمام کیا، وہ اس اہتمام سے کسی بھی طرح کم نہ تھا جو آپ ﷺنے یادداشت کے ذریعے سے قران کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو ابتدا میں کتابتِ حدیث سے صرف اس لیے منع فرمایا تھا کہ تنہا قرآن ہی کے لیے وسائلِ کتابت کو استعمال میں لایا جا سکے اور حدیثِ نبوی قرآن کے ساتھ مختلط نہ ہو جائے(۱۲)۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺکا قول منقول ہے :
’’لا تکتبوا عنی غیر القرآن ومن کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ وحدثوا عنی ولا حرج‘‘۔ (۱۳)
’’مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو ، جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ تحریر کیا ہے، وہ اسے مٹا دے ۔ البتہ میری باتیں میری طرف سے زبانی بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‘‘
مسلمانوں کے نزدیک بلا شیر ایک ایسا مستشرق ہے جس نے قرآنی نص کے حوالہ سے ایسے شبہات اور شکوک کو نئے سرے سے زندہ کیا جن میں قطعاً انصاف کی جھلک نظرنہیں آتی۔ جو شخص قرآنی مصدر کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ اس کو محمد نے کلیساؤں اور راہبوں سے اخذ کیا اور یہ کہ اس میں مذکور قصے کہانیاں دراصل جزیرہ عرب کے مشہور افسانے تھے، یہ اور اس کے علاوہ بہت کچھ بغیر دلیل وروایت بیان کرنے والے شخص کو انصاف پسندی اوراعتدال کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہماری رائے میں بلا شیر ایک متعصب مستشرق ہے ۔ وہ قرآنی فہم حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔خود اس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ایک غیر عربی، قرآن کو سمجھنے میں تردد کا شکار ہو جاتا ہے(۱۵)۔

گولڈزیہر (Gold Zhir)

گولڈ زیہر ایک یہودی مستشرق ہے جو حدیث پر اعتراضات کے حوالہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اس کی پیدائش ۱۸۵۰ء اور وفات ۱۹۲۱ء میں ہوئی(۱۶)۔ اس نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’مذاہب التفیسر الاسلامی‘‘(۱۷)کے پہلے باب کے ابتدائیہ میں قراء اتِ قرآنیہ کے ضمن میں سبعۂ احرف کی روایات کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا(۱۸)۔اس کے اہم ترین اعتراضات تین ہیں:
۱۔  قرآنی متن دیگر تمام کتبِ سماویہ کے برعکس زیادہ اضطراب،تحریف اور عدمِ ثبات کا شکار ہوا۔ (۱۹)
۲۔ قراء ات کا اختلاف مصحف عثمانی کے رسم الخط کے نقطوں اور اعراب سے خالی ہونے کے سبب وجود میں آیا اور یہ تمام قراء ات انسانی اختراع ہیں۔ (۲۰)
۳۔ صحابہ کے مصاحف میں باہم کمی بیشی کا فرق موجود تھا، مثلاً حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓکے مصحف میں فاتحہ اور معوذتین نہ تھیں، جبکہ ابی بن کعبؓ کے مصحف میں سورۃ الخلع اور سورۃ الحفد کی اضافی سورتیں شامل تھیں۔ (۲۱)
گولڈزیہر کے خیال میں قرآن محمد ﷺکی دینی معلومات کا ملغوبہ ہے جس کا ماخذ دو عناصر تھے: ایک خارجی، اور دوسرا داخلی۔ اپنی کتاب ’’العقیدۃ والشریعۃ‘‘میں وہ رقم طراز ہے:
’’پیغمبر عربی ﷺکا پیغام ان منتخب معارف ومسائل کا ملغوبہ تھا جو آپ کو یہودی اور عیسائی حلقوں کے ساتھ گہرے تعلقات کے سبب حاصل ہوئے تھے۔ محمد ان نظریات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اورانہوں نے سوچا کہ ان کے ذریعے سے وطن کے فرزندوں کے دل میں سچا مذہبی جذبہ بیدار کیا جاسکتا ہے ،اور یہ تعلیمات جو آپ نے بیرونی عناصر سے حاصل کی تھیں ،آپ ﷺکے خیال میں رضائے الٰہی کے اصول میں زندگی کی کشتی کو ایک نیا رُخ دینے کے لیے نہایت ضروری تھی۔ ان افکار سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ یہ افکار آپ کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوگئے اور مضبوط بیرونی اثرات کے ذریعہ آپ نے ان نظریات کی کنہ اور حقیقت کا اس قدر ادراک کر لیا کہ یہی نظریات عقیدہ بن کر آپ کے دماغ میں جا گزیں ہو گئے اور انہی تعلیمات کو آپ وحیِ الٰہی سے تعبیر کرتے رہے‘‘۔(۲۲)
گولڈزیہر کے بقول دیگر کتبِ سماویہ کی بہ نسبت قرآنی متن میں زیادہ تحریفات واقع ہوئی ہیں اور وہ قرآن کو ان کتب کے مقابلہ میں زیادہ پُرنقص قرار دینے پر مُصر ہے۔ (۲۳) اس نے قراء ات کے وجود میں آنے کا سبب رسم الخط کے نقطوں اور حرکات سے خالی ہونے کو قرار دیا ہے اور اس کی پانچ سات مثالیں بھی ذکر کی ہیں، لیکن وہ ان بیسیوں مثالوں سے صرفِ نظر کرتا ہے جہاں رسم الخط کے محتمل الوجوہ ہونے کے باعث متن کو مختلف صورتوں میں پڑھے جانے کی گنجائش موجود تھیں، لیکن ان کو ایک ہی صورت میں پڑھا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قراء ات کا اختلاف اختراعی نہیں بلکہ نقل وروایت پر مبنی ہے۔ (۲۴) گولڈ زیہر نے موجودہ مصحفِ عثمانی کے ساتھ مصاحف صحابہ کے اختلافات کو کسی سند اور روایت کے بغیر ثابت تسلیم کر لیا ہے اور اس قدر بھی گوارانہیں کیا کہ مستند تاریخی روایات سے اس کا ثبوت فراہم کرے۔

گستاف لیبان (Gustave Lebon)

یہ ایک فرانسیسی مستشرق ہے جس نے گولڈ زیہر سے بھی پہلے ۱۸۸۴ء میں ایک کتاب ’’حضارۃ العرب‘‘ شائع کی(۲۵)۔ اس کتاب کے دوسرے باب کی دوسری فصل کو قرآنِ کریم کی تحقیق کے لیے مخصوص کیا گیا ہے ۔ اس فصل میں قرآن کی جمع وتدوین اور نظمِ قرآن کے متعلق خصوصیت سے تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس نے قرآن کو تورات اور انجیل کے قریب لانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ساتھ ہی وہ قرآنی مضامین کا ہندوستان کی مذہبی کتب سے بھی موازنہ کرتا ہے۔ وہ قرآن کے متعلق مسلمانوں کے تصورات ونظریات کو غلط قرار دینے کے ضمن میں عیسائیوں اور یہودیوں کی مسامحت ،دنیا میں سرعت کے ساتھ پھیلنے والی قرآنی تعلیمات اور امتِ مسلمہ میں قرآن کے ذریعہ اتحاد جیسے حقائق کو بڑی تنگ نظری سے پیش کرتا ہے(۲۶)۔ 

منٹگمری واٹ (W. Montgomary Watt) 

متن قرآنی کو محمد ﷺکی اختراع قرار دینے والوں میں منٹگمری واٹ مستشرقین کے ہاں سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اعتراضات میں بھی دیگر مستشرقین کی طرح اسلام اور قرآن سے تعصب اور عناد کی بو موجود ہے۔ وہ افسانوی طرزِ استدلال کے ذریعے سے ایک مصنوعی ماحول تخلیق کرتا ہے اور اس نے نقلی دلائل وشواہد کے مقابلے میں ’’عقلی‘‘ امکانات سے استدلال کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ قرآن وسنت جیسے عظیم اور محکم مصادر کی تنقیص صرف امکانات کے ذریعے سے کرتا ہے ۔ مثلاً وہ وحی کا انکار کرتے ہوئے اس امکان کا اظہار کرتا ہے :
"What seems to man to come from outside himself, may actually come from his unconscious". (27)
’’شاید جو خیالات انسان کو خارج سے آتے دکھائی دیتے ہیں وہ درحقیقت اس کے اپنے ہی لا شعور کی پیداوار ہوتے ہیں‘‘۔
وہ اس امکان کا بھی اظہار کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ محمد(ﷺ)پر برس ہا برس کے ماحولیاتی عوامل کے اثرات سے ان کے جذبات کی دنیا اس قدر منفعل ہو گئی ہو کہ وہی جذبات ابھر کر ’’وحی‘‘کی صورت میں ظاہر ہوگئے ہوں۔ (۲۸) 
مستشرقین کا مقصد چونکہ تشکیک پیداکرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ ایسے شوشے چھوڑنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے جن کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً منٹگمری واٹ نے بیل(Bell)کے حوالہ سے لکھا ہے:
"From an early point in his Prophetic career, ..Muhammad thought of the separate revelations he was receiving as constituting a single Qur'an. After he had been a year or tow in Medina, however, he thought of them as constituting The Book which it was his task to produce."(29)
’’قرآن اور الکتاب دوعلیحدہ چیزیں ہیں ۔اپنے منصبِ نبوت کے ابتدائی ایام میں محمد (ﷺ)کا خیال یہ تھا کہ آپ پر جو وحی نازل ہو رحی ہے، اس کا مجموعہ ’قرآن‘ کی شکل میں ظاہر ہوگا، لیکن مدینہ میں ایک یا دو سال قیام کے بعد آپ کو ’الکتاب‘ مرتب کرنے کا خیال آیا جس کو اپنی امت کے سامنے پیش کرنا آپ کی ذمہ داری تھی‘‘۔
منٹگمری واٹ اور بیل (Bell)کے یہ تصورات محض قرآن کریم کو محرَّف قرار دینے کے بنیاد فراہم کرتے ہیں الکتاب اور قرآن کے اس فرق میں جو ضرب مخفی ہے اس کے مطابق قرآن کے بغیر کسی تحریف اور تبدیلی کے محفوظ رہنا مشکوک ہو جاتا ہے اور یہی مستشرقین کا مقصد اور منتہائے تحقیق ہے ۔
منٹگمری نے عبد اللہ بن مسعودؓ کے مصحف میں معوذتین نہ ہونے کے مسئلہ کو بہت اچھالا ہے ۔ اس کے نزدیک ابن مسعودؓان سورتوں کو قرآن کا جز نہیں مانتے تھے(۳۰)۔ اسی طرح خلافتِ صدیقی میں جمعِ قرآن کی روایات پر بھی منٹگمری نے متعدد اعتراضات کیے ہیں۔
منٹگمری کی کتب کے مآخذ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے اپنی تحقیقی نگارشات میں زیادہ تر ’اہرمینس‘،رچرڈبیل،بہل(Bull)،کائتانی ، گولڈزیہر، جیفری، کینس، نکلسن، نولڈکے اور ٹوری کے علاوہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام سے استفادہ کیا ہے۔ اس کے مآخذ میں بخاری کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن اس سے مدد فرانسیسی ترجمہ کے ذریعے سے لی گئی ہے۔ اسی طرح قرآنِ مجید کو رچرڈبیل کے ترجمہ سے سمجھا گیا ہے۔ (۳۱)

ڈی۔ایس۔ مارگولیتھ (D.S. Morgoliouth) 

ڈی ۔ایس مارگولیتھ ایک ایسا مستشرق ہے جو نصوصِ قرآنیہ اور ذخیرۂِ احادیث میں سے خصوصیت سے ان نصوص واحادیث کو اپنا مستدل بناتا ہے جن سے بظاہر قرآن مجید کی حفاظت میں تشکیک پیدا کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔مثلاً وہ مسندِ احمد کی ایک روایت ذکر کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ آیات گم ہو گئی تھیں(۳۲)۔
مسندِ احمد میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے:
’’عن عائشۃ زوج النبی ﷺ قالت: لقد انزلت آیت الرجم ورضعات الکبیر عشراً فکانت فی ورقۃ تحت سریر فی بیتی فلما اشتکی رسول اﷲ ﷺ تشاغلنا بامرہ ودخلت دویبۃ لنا فاکلتہا‘‘
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بالغ کے لیے دس رضعات (سے حرمت رضاعت ثابت ہونے) کی آیات نازل ہوئیں تھیں۔ یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ پر لکھی ہوئی پڑھی تھیں۔ جب آنحضرت ﷺکو (مرضِ وفات کی )تکلیف شروع ہوئی تو ہم آپ کی دیکھ بھال میں لگ گئے ۔ہمارا ایک پالتو جانور آیا اور اس نے اس کاغذکو کھالیا‘‘۔ 
اصل حقیقت یہ ہے کہ روایت میں جن آیات کا ذکر ہوا ہے، وہ منسوخ التلاوت ہوچکی تھیں۔ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کے منسوخ التلاوت ہونے کی قائل ہیں کیونکہ کاغذ پر لکھ کر یہ آیات رکھنا محض ایک یادگار کے طور پر تھا، ورنہ اگر یہ آیات جو حضرت عائشہؓ کو یاد تھیں، اگر ان کے نزدیک قرآن کریم کا جز ہوتیں تو وہ انھیں قرآن کریم کے نسخوں میں درج کروانے کی کوشش کرتیں، لیکن انہوں نے ساری عمر ایسی کوشش نہیں کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خود حضرت عائشہؓ کے نزدیک یہ آیات ایک علمی یادگار کی حیثیت رکھتی تھیں اور قرآن کریم کی دوسری آیات کی طرح ان کو مصحف میں درج کروانے کا کوئی اہتمام ان کے پیشِ نظر بھی نہیں تھا۔ اس سے قرآنِ کریم کی حفاظت پر کوئی حرف نہیں آتا (۳۴)۔ 
ڈی ۔ایس مارگولیتھ نے قرآن میں کمی بیشی اور نقائص ثابت کرنے کے لیے جو اعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنحضرتﷺایک مرتبہ کچھ آیات بھول گئے تھے۔ چونکہ قرآن لکھا نہیں ہوا تھا، اس لیے آیات کی تعداد میں کمی بیشی واقع ہونا ممکن تھا۔ ڈی ۔ایس مارگولیتھ نے امام بخاری کی جانب یہ منسوب کیا ہے کہ وہ قرآنی آیت الا المواد فی القربی (۳۵) کے بعد ’’الا ان تصلوا ما بینی و بینکم من القرابۃ‘‘ کو قر بھی آن کا جز مانتے تھے اور اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام بخاری ایک ایسے جملے کو قرآن کریم کا جز مانتے ہیں جو اس وقت قرآن میں موجود نہیں ہے، حالانکہ ہر شخص صحیح بخاری اٹھا کر دیکھ سکتا ہے کہ امام بخاری نے باب کے عنوان میں یہی جملہ نقل کیا ہے جو قرآن کریم میں موجود ہے پھر اس کی تشریح میں حضرت ابن عباسؓ کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں آیت ’’الا المودۃ فی القربیٰ‘‘ کی تفسیر پوچھی گئی جس کے جواب میں آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ’’ان لا ان تصلوا ما بینی وبینکم من القرابۃ‘‘۔ خود جملے کی نوعیت سے صاف واضح ہے کہ یہ قرآنی آیت کی تفسیر وتشریح ہے اور اس کا یہی مطلب مسلم شارحین نے سمجھا ہے (۳۶) لیکن مارگولیتھ امام بخاری کی طرف اس قول کے آیتِ قرآنی ہونے کو منسوب کرنے پر مُصر ہے۔ (۳۸)

جان برٹن (John Burton) 

مشہورِ زمانہ مستشرق جان برٹن بھی نصِ قرآنی کو موضوعِ بحث بنانے والے مستشرقین میں قابلِ ذکر ہے ۔اس نے "The Collection of the Qur`an"کے نام سے کتاب لکھی جس میں قرآن کی جمع وتدوین اور علومِ قرآنیہ میں سے علم الناسخ والمنسوخ پربڑی تفصیلی بحث کی ہے ۔جان برٹن نے یہ کتا ب اپنے رفیق Dr. J. Wansbrough کے تعاون سے لکھی ہے (۳۹)۔
جمع وتدوین پر متفرق اعتراضات کے ضمن میں جان برٹن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن مجید کے تحریری شکل میں موجود ہونے کا انکار کیا ہے اور اس ضمن میں لکھا ہے کہ :
"Its collection was not undertaken until sometimes after the death of the prophet".(40)
’’قرآن کی جمع وتدوین کا کام حضور ﷺکی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہی شروع کیا گیا‘‘۔
اسی ذیل میں وہ چند روایات کا سہارا لیتے ہوئے یہ نظریہ ا ختیارکرتا ہے کہ قرآن کی اسی غیر تکمیلی حالت کی بنا پر اس کاتواتر بھی متاثرہوا ہے۔ (۴۱) چنانچہ حضرت زیدؓ سے مروی روایت میں اُن کے الفاظ ’’فقدت آیۃ‘‘( یعنی میں نے سورۂِ توبہ کی آخری آیت کو نہ پایا) کو بنیاد بنا کر جان برٹن نے قرآن کے نامکمل اور محرّ ف ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ 
حضرت زیدؓ کی روایت رقم کرنے کے بعد لکھتا ہے:
ُ"all these elements predispose one to an expectation that the edition prepared by Zaid might be incomplete"....."The Qur'an texts which come down to us from `Umar's day are unquestionably incomplete".(42)
’’یہ تمام شواہد اسی رجحان کو تقویت دیتے ہیں کہ زید کا تیارہ کردہ متن نامکمل تھا۔ قرآن کے وہ متن جو عمر کے دور سے ہم تک پہنچے ہیں، بلاشبہ نامکمل ہیں۔‘‘
جان برٹن اور دیگر مستشرقین کا یہ نظریہ حضرت زیدبن ثابتؓ کے قول کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ قولِ زیدؓ کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے یہ آیت لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ پائی ۔ اس سے یہ ہر گز مراد نہیں کہ سورۂِ توبہ کی آیات ،حضرت ابو خزیمہؓ اور سورۂِ احزاب کی آیت حضرت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے علاوہ دیگر صحابہؓ کو یاد بھی نہ تھیں۔
جان برٹن نے اپنی کتاب میں مصاحف کے متعلق اچھی خاصی تفاصیل ذکر کی ہیں۔ وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ صحابہ کرام سے منسوب مصاحف ہوں یا بڑے شہروں میں پائے جانے والے دیگرقرآنی نسخے یا پھر انفرادی طورپر بعض حضرات سے منسوب مختلف قراء ات، سب کی سب بعد کے ماہرینِ لسانیات کی ایجاد ہیں۔ (۴۳)
واضح رہے کہ جان برٹن جن روایات کا سہار الے کر قرآن اور اس کی قراء ات کے بارے میں تمہیدات باندھ کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے نزدیک صرف وہی قراء ات وروایات اسلامی ورثہ میں قابلِ اعتماد ہیں جو اس کی مخصوص فکر سے ہم آہنگ ہیں۔ جو اس کے برعکس روایات ہیں، وہ ان کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہی مزاج ہمیں تقریباً تمام مستشرقین کے یہاں ملتا ہے جو حقیقی معنوں میں علم وتحقیق کے میدان میں ان کے جانبدارانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

جارج سیل (George Sale)

جارج سیل ایک مشہور مستشرق ہے۔ اس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے جو اہل مغرب کے لیے ایک علمی وثیقہ کا درجہ رکھتا ہے ۔اس نے قرآن کو حضور ﷺکی تصنیف ثابت کرنے کے لیے عہد نامہ قدیم کے موضوعات سے اس کے مستفاد ہونے کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں درج قصے کہانیاں بائبل کے برخلاف قرآن میں حقائق کی صورت میں بیان کی گئی ہیں۔ (۴۴) اس اعتراف کے باوجود کہ قرآن ہی بائبل کے مندرجات کی ایک شکل ہے، جارج سیل قرآن کو دیگر صحفِ سماویہ کے مقابلہ میں کمتر درجہ دیتا ہے ۔اس نے قرآن کے متعلق یہ نظریہ قائم کیا ہے:
"Muhammad was really the author and chief Contriver of the Koran beyond dispute".(45)
’’یقیناًمحمد ہی قرآن کے مصنف اور مخترع تھے اور یہ بات شک وشبہ سے بالا تر ہے‘‘۔
ڈاکٹر پریڈیاکس (Dr. Prideakux) نے قرآن کے مصادر ومآخذ کو متعین کرنے میں جو تفصیلات اور امکانات ذکر کیے ہیں، ان کا جائزہ لیتے ہوئے جارج سیل نے خود ہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ تفصیلات اور بیانات قابلِ اعتماد نہیں ہیں، اس طرح محمد (ﷺ)کے قرآن کے مصادر ومراجع کو حتمی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا(۴۶)۔ براہِ راست قرآن کی حیثیت پر اعتراضات کے علاوہ جارج سیل نے اس کے متن خصوصاً قراء اتِ قرآنیہ اور مصاحف کے متعلق بھی مختلف نظریات اختیار کیے ہیں ۔ اس نے،بائبل کی طرح، مصاحفِ عثمانیہ اور قراء ات کوبھی قرآن کے مختلف نسخے Versions قرار دیا ہے۔ 

آرتھر جیفری (Arthur Jeoffery) 

آرتھر جیفری آسٹریلوی نژاد امریکی مستشرق ہے جس نے قرآن حکیم کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف قراء ات کو بھی موضوعِ بحث بنایا ہے۔ آرتھر جیفری کے تحقیقی کاموں میں نمایاں ترین کام’’ کتاب المصاحف‘‘کی تحقیق وتخریج اور اس سے ملحق "Materials of the History of The Text of The Qur`an"میں مصاحفِ صحابہ کو مصحفِ عثمانی کے بالمقابل متوازی قرآنی نسخے قرار دینے کی کوشش ہے۔ اس نے قرآن حکیم کی تدوین اور اس کی مختلف قراء ات کے مضامین پر مشتمل دومزید مسودات بعنوان مقدمتان فی علوم القرآن بھی مدون کیے(۴۸)۔
جیفری نے تقریباً چھ ہزار ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کہ مصحفِ عثمانی سے مختلف ہیں۔ اس نے قراء ات کے یہ سارے اختلاف تفسیر،لغت،ادب اور قراء ات کی کتابوں میں سے جمع کیے ۔ اس کام کے لیے ابن ابی داؤد کی مذکورہ کتاب’’المصاحف‘ ‘اس کا بنیادی مآخذ رہی۔ (۴۹)
مصحفِ عثمانی کے مقابلے میں دیگر صحابہ اور تابعین کے مختلف قراء ات پر مبنی نسخوں اور روایتوں کوپیش کرتے ہوئے جیفری نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا ہے کہ مصحفِ عثمانی سے اختلاف کرنے والے مصاحف جن صحابہ سے منسوب ہیں، وہ سب حضرت عثمانؓ کے تشکیل کردہ مصاحف کی تائید وتوثیق کرنے والے تھے اور بعض تو اس کمیٹی کے براہِ راست رکن تھے، مثلاً حضرت ابي بن کعبؓ جمعِ قرآنی میں شریک تھے اور حضرت علیؓ نے اس عظیم کام کی خوب تائید وتوصیف کی۔ (۵۰) 

حواشی

(۱)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۸۵
(۲)نفس المصدر:ص۸۸
(۳)زنجانی،تاریخ القرآن:ص۴۹تا۶۱
(۴)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۹۰
(۵)بروکلمان،تاریخ الادب العربی،۱؍۱۴۰
(۶) 
Noldeke, (Theoder), Geshichte des Qor`ans, p.1 to end, 
(۷)بلاشیر، القرآن نزولہ تدوینہ ترجمتہ وتاثیرہ، (تمہید المترجم ص۹و۱۰)، مترجم: رضا سعادۃ
(۸)نجیب العقیقی، المستشرقون ،۱؍۳۱۶تا۳۱۸
(۹) القرآن نزولہ تدوینہ ترجمتہ وتاثیرہ،۲؍۱۶۷تا۱۷۶
(۱۰)التہامی نقرہ، القرآن والمستشرقون،ص۳۱تا۴۰
(۱۱)مرجعِ سابق
(۱۲)مرجعِ سابق
(۱۳)مسلم بن حجاج القشیری،الجامع الصحیح، 
(۱۴)محمد الغزالی، دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد متاع المستشرقین، ص۱۳
(۱۵)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۹۱
(۱۶)زرکلی،خیر الدین ،الاعلام،۱؍۸۴
(۱۷)گولڈزیہر،مذاہب التفسیر الاسلامی
(۱۸)نفس المصدر:ص
(۱۹)نفس المصدر:ص۴
(۲۰)نفس المصدر:ص۸و۹
(۲۱)نفس المصدر:ص۱۶تا۲۱
(۲۲)گولڈزیہر،العقیدہ والشریعۃ فی الاسلام،ص۱۲
(۲۳) مذاہب التفسیر الاسلامی:ص۵۳
(۲۴)الشلبی،عبد الفتاح،رسم المصحف والاحتجاج بہ فی القراء ات،ص۳۵
(۲۵)یہ کتاب عادل زعیتر کی تعریب کے ساتھ مطبع عیسیٰ البابی الحلبی ،قاہرہ مصر سے 1884ء میں شائع ہوئی۔ 
(۲۶)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۸۶
(۲۷)
Watt Montgomery, Muhammad The Prophet and Statesman, p.17 
(۲۸)نفس المصدر:ص۱۳
(۲۹)
Watt Montgomery, Muhammad at Mecca, p.80 
(۳۰)
Watt Montgomery, Muhammad The Prophet and Statesman, p.41
(۳۱)’’محمد ایٹ مکہ پر ایک نظر‘‘،ترجمہ: سید صباح الدین عبدالرحمن ،بحوالہ معارف اعظم گڑھ،ص۲۰۸
(۳۲)تقی عثمانی ،علوم القرآن،انسائیکلو پیڈیا ریلیجن اینڈ ایتھکس،Vol. 10, p. 543
(۳۳)احمد بن حنبل،مسند احمد،حصہ زوائد،مسنداتِ عائشہ،۶؍۲۶۹
(۳۴)تقی عثمانی ،علوم القران،ص۲۲۰
(۳۵)الشوری:۲۳
(۳۶)تقی عثمانی ،علوم القرآن،انسائیکلو پیڈیا ریلیجن اینڈ ایتھکس،Vol. 10, p. 543
(۳۷)بخاری محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح، کتاب التفسیر،سورۂِ حم عسق،۲؍۷۱۳
(۳۸)تقی عثمانی ،علوم القران،ص۲۲۰
(۳۹)
John Burton, The Collection of the Qur`an, p.VII 
(۴۰)نفس المصدر:p.126 
(۴۱)نفس المصدر:p.127 
(۴۲)نفس المصدر:p.119 
(۴۳)نفس المصدر:
Wans Brough, Quranic Studies, Vol.31, p.44-46,  p.204
(۴۴)
George Sale, The Koran, p.49 
(۴۵)نفس المصدر:p.50 
(۴۶)مرجعِ سابق
(۴۷)
(۴۸)
M.A.Chaudhary, Orientalism on Variant Readings of the Qur`an: The Case of Arthur Jeffery, p.170
(۴۹)نفس المصدر:p.171 
(۵۰) ابن ابی داؤد،کتاب المصاحف،ص۱۲

فروعی مسائل میں سہولت و رخصت کا فقہی اصول

ادارہ

(۱)
(مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کے نام مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے ایک خط سے اقتباس)
تدوین فقہ پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۰۰ صفحات سے زیادہ جامعہ عثمانیہ کے ریسرچ جرنل میں شائع بھی ہو چکا تھا۔ اگرچہ اس کی حیثیت بالکل مقدمہ کتاب کی تھی، تاہم لوگوں نے پسند کیا تھا۔ مولانا مودودی صاحب کے غیر مشہور ایک بڑ ے بھائی ابو الخیر مودودی صاحب سے شاید آپ واقف ہوں۔ انھوں نے اس مقدمہ کو چھاپنے کے لیے لاہور سے طلب کیا تھا۔ فقیر نے روانہ کر دیا، لیکن پھر کچھ پتہ نہ چلا کہ کتاب کیا ہوئی۔ آپ جانتے ہوں یا جان سکتے ہوں تو اپنے کچھ لاہوری یا پنجابی عقیدت مند سے دریافت تو کیجیے۔ یوں تو اس کتاب کے سلسلے میں خدا ہی جانتا ہے کن کن باتوں کے لکھنے کا ارادہ تھا، لیکن ہندی ’’مجددیت‘‘ کی تین خاص باتوں میں سے ارادہ تھا کہ اس خاص مسئلہ کے مالہ وماعلیہ پر اس کتاب میں بحث کی جائے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الف ثانی کے مجدد ہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارقام فرمایا ہے:
در دیار ہندوستان کہ ایں ابتلا بیش تر است، دریں مسئلہ کہ عموم بلویٰ دارد اولیٰ آنست کہ فتویٰ باسہل وایسر امور بدہند۔ اگر موافق مذہب خود نبود بقول ہر مجتہد کہ باشد۔ (مکتوب ۲۲)
’’اس خطہ ہندوستان میں جہاں ابتلا کی یہ صورت زیادہ پیش آئی ہے تو عموم بلویٰ (عام مصیبت) کی حیثیت اس مسئلہ نے اختیار کر لی ہے۔ یعنی بہتر اور زیادہ پسندیدہ بات ہے کہ فتویٰ اس پہلو کے مطابق دیا جائے جو آسان اور زیادہ سہل ہو، خواہ فتویٰ دینے والے مفتی کے مسلک کے مطابق یہ فتویٰ نہ ہو۔ کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق فتویٰ کا ہونا ایسی صورت میں کافی ہے۔‘‘
عام مولویوں کے لیے ظاہر ہے کہ فتوے میں اتنی مطلق العنانی ذرا مشکل ہی سے قابل برداشت خصوصاً اس زمانہ میں ہو سکتی تھی جس زمانے میں مجدد رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے تھے کہ ندوہ اس وقت تک ہندوستان میں قائم نہیں ہوا تھا، اس لیے بجائے فقہ یا آثار واخبار کے اس موقع پر حضرت مجدد نے قرآنی آیات ہی کو استدلال میں پیش کیا ہے۔ لکھا ہے کہ:
قال اللہ تعالیٰ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر وقال تعالیٰ یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا۔
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمہارے ساتھ اللہ آسانی چاہتا ہے اور دشواری پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ دوسری جگہ ہے کہ اللہ تمہارے بار کو ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور ناتواں پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
آگے ہند کے اسی مجدد نے لکھا ہے کہ:
بر خلق تنگ گرفتن ایشاں را رنجانیدن حرام است۔
’’عام مخلوق کو سختی کے ساتھ پکڑنا اور ان کو دلوں کو (اپنی تنگی گرفت سے) دُکھانا حرام ہے۔‘‘
یہ مکتوب گرامی اس قسم کے گراں مایہ تجدیدی زریں دانش آموزیوں سے معمور ہے۔ اس زمانہ میں ہم عام مولوی لوگ معیاری اسلام کو ہاتھ میں لے کر غریب مسلمانوں کی زندگی کا جو جائزہ لیتے رہتے ہیں اور آئے دن ان کے مومن قلوب کو دُکھاتے رہتے ہیں، دل چاہتا تھا کہ حضرت مجدد کے مشوروں کو اس سلسلہ میں ان کے آگے رکھتا۔ نیز معمولی عام کتابوں میں تلفیق کے نام سے مسلمانوں میں خوف ودہشت کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے، یعنی مجتہدین ائمہ ہدیٰ میں سے کسی ایک امام کے اجتہادی نتائج کے ساتھ ہم آہنگی کا فیصلہ تاریخ کے مختلف وجوہ واسباب کے تحت مختلف ممالک کے مسلمانوں کو کرنا پڑا تو سمجھایا جاتا ہے کہ آیندہ اپنے اپنے ما نے ہوئے امام کے خلاف عمل کی اجازت ان کی آیندہ نسلوں کو نہیں دی جائے گی۔ ایسے آدمی کو فعل مذموم اور ’’عمل تلفیق‘‘ کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ واقع کے لحاظ سے مسئلہ کی صحیح صورت حال چونکہ یہ نہیں ہے، ارادہ تھا کہ کافی بسط وتفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی جائے، مگر بحث کے میدان ہی سے جو نکال دیا گیا، وہ کیا کرے۔
(صدق جدید ،۲۲ جولائی ۱۹۵۶ء بحوالہ ماہنامہ بیداری حیدر آباد)
(۲)
حضرت ڈاکٹر مفتی مظہر بقا صاحب بھی اگست کی دوسری دہائی میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی مظہر بقا صاحب کیا تھے اور کن صلاحیتوں کے حامل تھے، جنھیں ان سے تعارف نہیں تھا، انھیں یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ کن اوصاف کے حامل تھے۔ انھوں نے اپنے حالات زندگی پر مشتمل کتاب لکھی ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ موصوف جدید وقدیم علوم کی جامع شخصیت تھے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر غلام مصطفی خان مدظلہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر رہے۔اس کے بعد ان کا مکہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تقرر ہوا۔ ۲۵ سال تک وہاں کام کرتے رہے۔ تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے کراچی تشریف لائے اور تصنیف وتالیف کے ساتھ ساتھ سالکین راہ حق کی تعلیم وتربیت کا فریضہ بھی سرانجا م دیتے رہے۔ ......
مفتی صاحب کا بیشتر علمی کام فنی اور تحقیقی نوعیت کا ہے۔ ان کی پندرہ سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ موصوف کی شخصیت اور کام کے بہت سارے پہلو ایسے ہیں جن پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن یہاں اس کا موقع نہیں۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ہم یہاں جس چیز کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، وہ فقہی مسائل میں ان کا طرز عمل ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں فقہی اختلافات کی وجہ سے مختلف گروہ باہم ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں اور ان کی توانائیاں ایک دوسرے کی تردید وتنقید میں صرف ہو رہی ہیں، اس لیے اس معاملے میں دار العلوم دیوبند کی فاضل اور مفتی کی حیثیت سے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کے ساتھ کام کرنے والی شخصیت کا موقف شاید ہمارے مذہبی حلقوں میں فقہی اختلافات کی شدت کو کم کرنے اور اس معاملے میں کسی حد تک ایک دوسرے سے رواداری پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ اس سلسلے میں مفتی صاحب نے اپنی کتاب ’’حیات بقا‘‘ میں ’فقہی مسائل میں میرا طرز عمل‘ کے عنوان سے گفتگو کی ہے۔ ہم ان کی کتاب کا یہ حصہ یہاں نقل کر رہے ہیں:
’’میں حنفی ہوں اور جب تک ہندو پاک میں رہا، صرف حنفی مذہب پر عمل کرتا رہا۔ سعودی عربیہ آنے کے بعد جب مکہ مکرمہ میں جو مختلف مکاتب فکر کا سنگم ہے، اقامت کی سعادت حاصل ہوئی تو حنفیت میں جو شدت تھی، اس میں رفتہ رفتہ کمی آنی شروع ہوئی اور دوسرے فقہی مذاہب کے ساتھ متعصبانہ طرز فکر تقریباً ختم ہو گیا اور اس کے نتیجے میں متعدد تبدیلیاں عمل میں آئیں۔
۱۔ رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین چونکہ صحیح اور قوی احادیث سے ثابت ہے، اس لیے کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیتا ہوں۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک مرتبہ اپنی نجی مجلس میں حاضرین سے فرمایا تھا: کبھی کبھی رفع یدین بھی کر لیا کرو، کیونکہ اگر قیامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرما لیا کہ تم تک میری یہ سنت بھی تو صحیح طریقہ پر پہنچی تھی، تم نے اس پر کیوں عمل نہ کیا تو کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اگر کوئی حدیث مجھ تک ضعیف طریقے سے بھی پہنچی تو میں نے کم از کم ایک بار ضرور اس پر عمل کیا۔
۲۔ قیام میں کبھی کبھی، شاذ ونادر سینے پر بھی ہاتھ باندھ لیتا ہوں۔ اگرچہ جہاں تک میرا علم ہے، اس سلسلے میں صحاح ستہ میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں اور دوسری کتب حدیث میں اس سلسلے کی جو روایات ہیں، وہ کلام سے مبرا نہیں۔
۳۔ سفر میں صحیح احادیث سے جمع تقدیم بھی ثابت ہے اور جمع تاخیر بھی۔ دوسرے ائمہ کے برخلاف احناف اسے جمع حقیقی کے بجائے جمع صوری پر محمول کرتے ہیں۔ میں نے سفر میں بوقت ضرورت جمع تقدیم بھی کی ہے اور جمع تاخیر بھی، لیکن ایک مرتبہ خیال آیا کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عصر کو اور عشا کے وقت میں مغرب اور عشا کو جمع کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حنفی مذہب کے مطابق ظہر اور مغرب کی نمازیں قضا ہوں گی، لیکن ہو سب کے نزدیک جائیں گی۔ اس کے برخلاف اگر ظہر کے وقت میں اس کے ساتھ عصر کو اور مغرب کے وقت میں اس کے ساتھ عشا کو جمع کیا جائے تو وقت نہ ہونے کی وجہ سے حنفیہ کے نزدیک عصر اور عشا کی نمازیں درست ہی نہ ہوں گی۔ چنانچہ اس کے بعد بوقت ضرورت صرف جمع تاخیر کرنے لگا۔
۴۔ طائف چونکہ میقات سے خارج ہے، اس لیے وہاں سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے احناف کے نزدیک میقات پر احرام باندھنا ضروری ہے۔ تفریح کی غرض سے بکثرت ہمارا طائف جانا ہوتا ہے۔ تقریباً دو سال تک تو میں واپسی پر عمرہ کا احرام باندھتا رہا، لیکن بعد میں حنفیت چھوڑ کر ائمہ ثلاثہ کے مسلک پر عمل کرنے لگا کہ جب تک خاص طور پر عمرہ یا حج کی نیت نہ ہو، میقات سے احرام باندھنا ضروری نہیں۔
۵۔ حج کے اعمال میں حاجیوں سے بکثرت غلطیاں صادر ہوتی ہیں۔ لوگ مجھ سے مسائل دریافت کرتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ عمل سے پہلے اگر کسی نے مسئلہ دریافت کیا تو حنفی مذہب کے مطابق مسئلہ بتاتا ہوں اور اگر کسی نے عمل کے بعد دریافت کیا تو اگر وہ عمل کسی بھی امام کے نزدیک درست نہیں ہوا تو بھی حنفی مذہب کے مطابق بتا دیتا ہوں کہ اب تمھیں یہ کرنا چاہیے اور اگر ائمہ اربعہ میں سے کسی امام کے نزدیک وہ عمل درست ہو گیا ہے تو کہہ دیتا ہوں کہ جو ہو گیا، وہ ہو گیا، آئندہ ایسا نہ کرنا۔ ایسے موقع پر میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ طرز عمل رہتا ہے جو آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اختیار فرمایا تھا کہ صحابہ کی ہر غلطی پر آپ نے ’’افعل ولا حرج‘‘ ہی فرمایا تھا۔
ایک مسئلہ ایسا ہے کہ مشکل ہی سے کوئی سال ایسا گزرتا ہے جب وہ مسئلہ مجھ سے نہ پوچھا جاتا ہو۔ وہ یہ کہ طواف زیارت سے پہلے کسی عورت کو حیض آ جائے اور سیٹ بک ہو، اس حالت میں عورت طواف کر نہیں سکتی اور طواف کے بغیر چلی جائے تو زندگی بھر شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی تاآنکہ دوبارہ یہاں آئے اور طواف زیارت کرے اور تاخیر کا دم بھی دے۔ اپنی یا شوہر کی ملازمت وغیرہ کی مجبوری کی وجہ سے وہ رک نہیں سکتی اور اگر سیٹ منسوخ کرا کے رک بھی جائے تو حج کے ایام میں دوبارہ اپنی مرضی کی سیٹ ملنا آسان نہیں اور یہ بھی ہر ایک کے بس میں نہیں کہ دوبارہ آئے اور طواف زیارت کرے۔ دوسرے ائمہ کے یہاں اس مسئلہ میں زیادہ شدت ہے کہ ان کے نزدیک طہارت کے بغیر طواف کر لیا تو ہوگا ہی نہیں۔ حنفی مذہب میں کچھ نرمی ہے کہ ہو تو جائے گا لیکن بدنہ (گائے یا اونٹ) قربان کرنا واجب ہوگا، لیکن عورت سے یہ نہ کہا جائے کہ وہ اسی حالت میں طواف کر لے اور بدنہ کی قربانی دے دے، بلکہ اسے اس طرح مسئلہ بتایا جائے کہ اس کے لیے اس حالت میں مسجد میں داخل ہونا اور طواف کرنا حرام ہے، لیکن اگر اس نے کر لیا تو بدنہ واجب ہوگا۔ اب عورت کی اپنی مرضی ہے، چاہے تو وہ اس پر عمل کرے، چاہے تو نہ کرے۔ علامہ ابن تیمیہ نے اس پر مفصل گفتگو کے بعد فتویٰ دیا ہے کہ عورت اسی حالت میں طواف کر لے اور اس پر کوئی دم واجب نہیں۔ میں ایسے مواقع پر کہہ دیتا ہوں کہ حنفیہ کے نزدیک تو مسئلہ یہ ہے، لیکن علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ یہ ہے۔ پھر مجھے نہیں معلوم کہ کون کس پر عمل کرتا ہے۔
یہ میں لکھ چکا ہوں کہ میری حنفی عصبیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے، لیکن عدم تقلید کی حدود میں کبھی داخل نہیں ہوا۔‘‘
(بشکریہ ماہنامہ بیداری، حیدر آباد)

مِتھ کی بحث پر ایک نظر

پروفیسر میاں انعام الرحمن

محترمہ شاہدہ قاضی ، جو جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، ان کا روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والا ایک مضمون نہایت دلکش ترجمے کی صورت میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مئی ۲۰۰۵ کے شمارے کی زینت بنا۔ یہ مضمون مجموعی طور پر بہت عمدہ اور مضبوط دلائل پر مشتمل تھا ۔ محترمہ کے پیش کردہ بعض تاریخی حقائق میں ’افسانوی رنگ‘ ڈھونڈنے کی ’جسارت‘ روزنامہ ’جسارت‘ کے کالم نگار جناب شاہ نواز فاروقی نے کی۔ ’الشریعہ‘ نے بحث کے مختلف، متنوع اور متضاد پہلوؤں کو سامنے لانے کی درخشندہ روایت برقرار رکھی اور ’جسارت‘ کی جسارت کو جولائی کے شمارے میں من وعن قارئینِ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب یوسف خان جذاب کی وقیع اور دلکش تحریر شائع ہوئی، جس میں یوسف صاحب نے فاروقی صاحب کی جذباتیت کے خوب لتے لیے۔ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ طنز کی نشتریت کے باوجود، جذاب صاحب کا طرزِ استدلال خاصا متوازن تھا۔اکتوبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب ضیاء الدین لاہوری نے اپنے anti-Sir Syed fame کی لاج رکھی اور یوسف جذاب صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ مذکورہ چاروں افراد نے جس موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہے، ہم اس کے باقی مندرجات میں الجھے بغیر بحث کے ایک نکتے یعنی متھ کی حقیقت پر مختصراًبات کریں گے۔ محترمہ شاہدہ قاضی کے نزدیک ’مِتھ‘ سے مراد ایسی غیر حقیقی اور لایعنی باتیں ہیں جو کسی معاشرے میں اساطیری روپ دھار لیتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ :
’’ نا معلوم زمانے سے انسان اپنی اساسات کی تلاش میں مصروف ہے ۔ وہ اس کوشش میں مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں، کوئی حقیقی اور قابلِ فہم بنیاد تلاش کر لے ‘‘۔
محترمہ شاہدہ قاضی سے اختلاف کرتے ہوئے فاروقی صاحب نے آنند کمار سوامی کی بیان کردہ مِتھ کی تعریف اپنائی ہے جس کی رو سے مِتھ خیالی پلاؤ، ماضی کا افسانہ یا انسانی تخیل کی پرواز نہیں، بلکہ مِتھ سے مراد ایک ایسی حقیقت ہے جس کی حقیقی معنویت گم ہو گئی ہو۔ اس کے جواب میں یوسف جذاب صاحب نے آکسفرڈ ڈکشنری سے مدد لیتے ہوئے محترمہ شاہدہ قاضی کی بیان کردہ تعریف کو درست قرار دیا ہے ۔وہ بہت اصرار سے کہتے ہیں کہ :
’’ یہ علم کی دنیا ہے جس میں جیت ہمیشہ استدلال کی ہوتی ہے ۔ قارئین خود سوچیں کہ ’ مِتھ ‘ جھوٹ کے معنی میں معروف ہے یا کسی ایسی حقیقت کے معنی میں جس کی معنویت پنہاں ہو چکی ہو ؟ ‘‘ 
ہم گزارش کریں گے کہ فاروقی صاحب کی مانند یوسف صاحب نے بھی بعض جذباتی باتیں کی ہیں ۔ وہ سر سید کی خدمات کا تجزیہ کرنے میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے جس کے جواب میں محترم ضیاء ا لدین لاہوری کو بھی افراط و تفریط پر مبنی مضمون لکھنا پڑا۔ سچ تو یہ ہے کہ دونوں صاحبان ہمارے ہاں موجود دو انتہاپسند حلقوں کے نمائندہ محسوس ہوتے ہیں ۔ ایک کے نزدیک سر سید، مہدی زماں ہیں تو دوسرے کے نزدیک ان کا ایمان بھی مشکوک ہے ۔ ہماری تاریخ ایسے ہی انتہاپسندانہ رویوں سے بھری پڑی ہے جس میں کسی بھی چیز کو ہم اس کے صحیح مقام پر دیکھنے کے روادار نہیں۔ بہرحال یہ موضوع سرِ دست ہماری بحث سے خارج ہے۔ یوسف جذاب صاحب ’ مِتھ‘ کی ایک ایسی تعریف میں الجھ گئے جو ان کے نزدیک ’ معروف ‘ ہے، حالانکہ وہ اسی فقرے میں کہتے ہیں کہ یہ علم کی دنیا ہے جس میں جیت ہمیشہ استدلال کی ہوتی ہے ۔ یوں ایک ہی سانس میں جذاب صاحب نے دو متضاد باتیں کہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ علمی دنیا کے معروف اور معاشرتی معروف میں کافی فرق ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ’مِتھ‘ کی عام فہم اور مقبولِ عام تعریف وہی ہے جو یوسف جذاب صاحب نے بیان کی ہے۔ چنانچہ آکسفرڈ ڈکشنری میں بھی واضح طور پرمِتھ کو جھوٹ کے معنی میں لیا گیا ہے ، اس لیے کہ لغات میں عام طور پر کسی لفظ کے اسی مفہوم کو لیا جاتا ہے جسے لوگوں کی اکثریت سندِ قبولیت بخشتی ہو۔ اس کے برعکس دانش ورانہ سطح پر بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے اور قطعیت کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ یہ صرف آنند کمار سوامی ہی نہیں ہیں جو ’ معروف ‘ سے ہٹ کر مِتھ کی بے لغتی تعریف کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ’تفرد ‘ کے مرتکب ہوئے ہیں ، بلکہ ان سے پہلے اور بعد بھی کئی نامور مصنفین نے مِتھ کی نہایت مثبت تعریف کی ہے، بلکہ ہماری رائے میں تو اس کی کچھ نہ کچھ جھلک خود محترمہ شاہدہ قاضی کی تحریر میں بھی موجود ہے۔ فاروقی صاحب جذباتیت کی دھول میں اس جھلک کو نہیں دیکھ سکے۔ البتہ جذاب صاحب نے مِتھ کی مکمل بے لچک اور لغتی تعریف کی ہے۔ فاروقی صاحب کا طرزِ استدلال اگر یوسف جذاب جیسی بیان کردہ تعریف کی مخالفت میں ہوتا تو شاید کسی حد تک معقولیت کے دائرے میں شمار کیا جا سکتا ۔
مِتھ میں مثبت معنی تلاش کرنے کی کوشش فرانسس بیکن (۱۵۶۱۔۱۶۲۶) کے ہاں ملتی ہے ۔ اپنے مضمون سفنکس(The Sphinx) میں بیکن رقمطراز ہے کہ : 
’’ سفنکس ایک ایسا عفریت یا بلا تھی جس میں بہت سی شکلیں جمع ہو گئی تھیں۔ اس کی شکل اور آواز دوشیزاؤں جیسی تھی ، بازو پرندے کے اور پنجے سیمرغ جیسے تھے۔ وہ تھیبس کے قریب ایک پہاڑی کے پتلے سے ابھار پر رہتی تھی اور تمام راستوں پر نگاہ رکھتی تھی۔ وہ گھات لگاتی اور اچانک راہگیروں پر حملہ کرتی اور جب ان پر قابو پا لیتی تو ان سے پریشان کر دینے والی پہیلیاں بوجھنے کو کہتی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ پہیلیاں فنونِ لطیفہ کی دیویوں (Muses) سے حاصل کی تھیں ۔ اگر اس کے چنگل میں پھنسا ہوا قیدی فوری طور پر درست جواب نہ دے پاتا اور الجھا ہوانظر آتا تو وہ نہایت بے رحمی سے اس کے پرخچے اڑا دیتی ۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری تھا ۔ خاصی مدت گزر جانے کے بعد بھی اس آفت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی تو اہلِ تھیبس نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کی پہیلیاں بوجھ لے گا، اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا ۔ چونکہ یہ بہت بڑا انعام تھا اس لیے ایڈی پس ، جو زیرک اوردانا تھا مگر لنگڑا کر چلتا تھا، سفنکس کی شرائط مان کر جان کی بازی لگانے کو تیار ہوگیا ۔ اس نے خود کو بڑے اعتماد اور خوش دلی کے ساتھ سفنکس کے سامنے پیش کیا۔ سفنکس نے اس سے پوچھا ، وہ کون سا جاندار ہے جو پیدائش کے وقت چوپایہ (Four Footed) ہوتا ہے ، پھر دو پایہ ہوتا ہے اس کے بعد سہ پایہ ہوتا ہے اور آخر میں ایک بار پھر چوپایہ ہو جاتا ہے ۔ ایڈی پس نے بغیر کسی تاخیر کے جواب دیا، وہ ( جاندار ) انسان ہے جو اپنی پیدائش کے بعد بچپن میں چاروں ہاتھ پاؤں سے گھسٹتا ہے اور بمشکل رینگنے کی کوشش کرتا ہے ۔ تھوڑی مدت میں دو پیروں پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے پھر بڑھاپے میں چھڑی تھامے ہوئے جھک کر چلتا ہے اور یوں لگتا ہے گویا وہ تین پیروں پر چل رہا ہے ۔ اپنی آخری عمر میں جب وہ بے حد بوڑھا ہو جاتا ہے ، ضعف و ناتوانی اس پر طاری ہو جاتی ہے اور قوت عطا کرنے والے سرچشمے سوکھ جاتے ہیں تو وہ پھر سے چوپایہ بننے کی ذلت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اپنے بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہتا ۔ یہ جواب بالکل صحیح تھا ۔ اس جواب کی وجہ سے اسے فتح حاصل ہوگئی ۔ اس نے سفنکس کو قتل کر دیا اور اس کی لاش گدھے پر لاد کر فاتحانہ انداز میں آگے بڑھا ۔ معاہدے کے مطابق اسے تھیبس کا بادشاہ بنا دیا گیا ‘‘ ۔
اب محترمہ شاہدہ قاضی کے ان الفاظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ’’وہ (انسان ) اس کوشش میں بھی مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی ، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں ، کوئی حقیقی اور قابلِ فہم بنیاد تلاش کر لے‘‘ بیکن کی درج ذیل تشریح پر غور کریں کہ اس نے سفنکس کے مذکورہ بالا قصے کو بلا کے معنی پہنا دیے ہیں اور اسے حقیقی نہ سہی ، کم از کم قابلِ فہم ضرور بنا دیا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے:
’’یہ بہت شاندار حکایت ہے ۔حکمت والی بھی ہے ۔ ظاہر ہے یہ اس لیے ایجاد کی گئی کہ سائنس کا استعارہ بیان ہو سکے۔ اس کا اطلاق خاص طور پر عملی زندگی پر ہوتا ہے ۔ سائنس ، جاہلوں اور بے ہنروں کے لیے عجوبہ ہے ۔ اس کو بے وقوفی سے عفریت نہیں کہا جانا چاہیے ۔ شماریات میں اور دیگر مختلف شعبوں میں اسے بہت سے چہروں والا ظاہر کیا جاتا ہے کیونکہ استعاراتی طور پر اس کا تعلق بے شمار معاملات سے ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا چہرہ اور آواز عورت کی سی ہے ، خوبصورتی اور پیرایہ اظہار میں وہ نسائیت رکھتی ہے ۔ پرندے جیسے بازوؤں کا اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ سائنس اور سائنس کی دریافتیں فوراً ہی پھیل جاتی ہیں ، گویا اڑ جاتی ہیں ۔ علم کی ترسیل اس طرح ہے جیسے ایک موم بتی سے دوسری موم بتی جلائی جاتی ہے اور فوراً ہی جل اٹھتی ہے ۔ تیز اور مڑے ہوئے پنجے جو اس کے ساتھ لگا دیے گئے ہیں ، بہت مرعو ب کرنے والے ہیں ۔ یہ اس لیے کہ سائنس کے کلیے اور استدلال دل میں اتر جانے والے ہیں اور ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ۔ جب ایک بار وہ دل میں اتر جائیں تو پھر ان سے فرار یا مفر ممکن نہیں ہوتا ۔ یہ وہ نکتہ ہے جو مقدس فلسفی کے علم میں بھی خاص طور پر ہوتا ہے ۔ دانش مند کے الفاظ مہمیز کی مانند ہوتے ہیں یا پھر کیل کی طرح ، جو اندر دور تک کھبا ہوا ہوتا ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ علم کے بارے میں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا مقام کسی اونچی پہاڑی پر ہی ہو گا ۔ وہ ( علم )اس بات کا حقدار ہے کہ اس کا احترام پر شکوہ اور جمالیاتی شے کے طور پر کیا جائے ، جو ایک باوقار بلند و بالا مقام سے جہالت پر حقارت کی نگاہ ڈالتا ہے ۔ اس کے چاروں طرف پھلنے پھولنے کی بہت گنجایش ہوتی ہے ، ویسے ہی جیسے پہاڑ کی چوٹیوں سے ہمیں نظر آتی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ علم ، راستوں کی نگہبانی کرتا ہے کیونکہ سفر کے ہر موڑ پر یا انسانی زندگی کے مقدس سفر میں ایسے معاملات اور مواقع کثرت سے آتے ہیں جب اپنے ارد گرد کو دیکھنے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ سفنکس ، انسانوں سے کئی نوعیت کے مشکل سوالات کرتی ہے ، یہ چیستان اس کو فنون کی دیویوں سے موصول ہوتے ہیں۔ یہ سوالات جب تک دیویوں کے پاس رہتے ہیں ، شاید ان میں کسی طرح کی سفاکی موجود نہیں ہوتی۔ جب تک اس کا مقصد محض اس قدر ہو کہ ان پر غور کرنا اور ان کو مطالعے میں لانا محض جاننے کی حد تک ہے تو نہ ہی فہم پر زور پڑتا ہے اور نہ ہی اسے سیدھا اور صاف کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، یہی کافی ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ آوارہ خیالی کر لی جائے یا تھوڑی بہت تشریح ہو جائے۔ اس صورتِ حال میں نتائج حاصل ہونا ضروری نہیں ، البتہ انتخاب کرنے کے لیے مواد بہت ہوتا ہے جس سے خوشی اور انبساط حاصل کیا جا سکتا ہے ، لیکن یہ مواد دیوی سے سفنکس کے پاس آ جاتا ہے تو گویا فکر و عمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فوری عملی انتخاب اور فیصلے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ یہ گویا تکلیف اور بے رحمی کا آغاز ہوتا ہے اور جب تک ان کا حل تلاش کر کے ان سے چھٹکارا نہ پا لیا جائے ، وہ عجیب طریقے سے ذہن کو پریشان رکھتے ہیں ۔ کبھی ایک طرف کھینچتے ہیں کبھی دوسری طرف، اور یوں انسان کے پرخچے اڑا دیتے ہیں ۔ پھر یہ بھی ہے کہ سفنکس کی پہیلیاں اپنے ساتھ دوہری معنویت رکھتی ہیں۔ پریشان خیالی اور دل آزاری اس صورت میں ہے جب آپ انھیں حل نہ کر سکیں، اور اگر آپ کامیاب ہو جائیں تو ایک بھری بھرائی سلطنت مل جاتی ہے جو پوری طرح حاوی ہوتی ہے ۔ ہر کاریگر اپنے کام کا بادشاہ ہے ۔ 
سفنکس کی پہیلیاں مجموعی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک کا تعلق اشیا کی ماہیت کے ساتھ ہے اور دوسر ی کا رشتہ انسانی فطرت کے ساتھ ہے ۔ اس طرح ان پہیلیوں کو حل کرنے کی صورت میں دو طرح کی سلطنتیں انعام میں پیش کی جاتی ہیں ۔ ایک کا تعلق فطرت کے ساتھ ہے اور دوسری کا انسان کے ساتھ ۔ جب قدرتی اشیا پر قابو پا لیا جاتا ہے، جیسے اجسام ، ادویات ، میکانکی قوتیں اور اس قسم کی ان گنت چیزیں ، یہ قدرت فلسفے کا خاص اور حتمی مقصد ہے ۔ مگر وہ فلسفہ جس کا تعلق کلیسا کے مسلک سے ہے ، جو کچھ اسے حاصل ہوتا ہے وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اس بارے میں لمبی چوڑی باتیں شروع کر دیتا ہے ۔ اس عمل میں وہ یہ فراموش کر دیتا ہے کہ اسے حقائق اور اعمال کے بارے میں تحقیق بھی کرنی چاہیے۔ جو پہیلی ایڈی پس سے پوچھی گئی تھی ، جسے بوجھ کر وہ تھیبس کا بادشاہ بنا، اس کا تعلق انسانی فطرت سے ہے ۔ اگر کوئی شخص انسانی فطرت سے پوری آگاہی رکھتا ہو تو پھر وہ اپنی قسمت اپنی مرضی کے مطابق بنا سکتا ہے ۔ وہ گویا پیدایشی طور پر سلطنت کا حق دار ہے ، جیسا کہ رومنوں کے فنون کے متعلق کہا جاتا ہے :
کیا تم وہ فن ہو 
اے روم ، جو ایک نظام کے ذریعے قوم پر حکومت کرتا ہے 
اور جانتا ہے کہ کس کو چھوڑنا ہے اور کس کو گھیرنا ہے 
اور کس طرح دنیا کے اعمال کا فیصلہ کرنا ہے 
شاید اسی وجہ سے سیزر آگسٹس نے جان بوجھ کر یا اتفاق سے سفنکس کو اپنی مہر کے لیے چنا ۔ وہ یقینی طور پر سیاست کے فن کا بہت بڑا ماہر تھا ۔ اس جیسا شاید کوئی اور نہیں تھا اور اس نے اپنی زندگی میں انسانی فطرت کے بارے میں بہت سے معمے کا میابی سے حل کیے تھے ۔ اگر وہ چابک دستی سے فوراً انھیں حل نہ کر پاتا تو کئی بار ناگزیر خطروں میں گھِر کر تباہی سے ہم کنار ہو جاتا ۔ حکایت میں یہ بات بھی بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے کہ جب سفنکس کو مارگرایا گیا تو پھر اس کی لاش گدھے کی پیٹھ پر رکھی گئی۔ یہ بات اس کہانی کی سب سے دقیق اور نازک بات ہے ۔ اسے ایک بار سمجھ لیا جائے اور اسے زمانے میں پھیلا دیا جائے تو یہ بات ان کی سمجھ میں بھی آ جاتی ہے جو بہت کم عقل ہیں ۔ اس کے کچھ اور نکات بھی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سفنکس کو قابو کرنے والا لنگڑا تھا اور اس کا پاؤں پھرا ہوا (Club Foot ) تھا ۔ ہوتا یہ ہے کہ انسان عام طور پر بہت جلدی میں ہوتے ہیں۔ وہ اس قدر تیز رفتار ہوتے ہیں کہ ان کے پاس سفنکس کی پہیلی بوجھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفنکس جیت جاتی ہے۔ کام اور اعمال سے حکمرانی حاصل کرنے کے بجائے انسان صرف اپنے ذہنوں کو پریشان کرتے ہیں اور مباحث میں الجھ جاتے ہیں ‘‘۔ 
بیکن کی اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مِتھ غیر حقیقی ضرور ہو سکتی ہے لیکن یہ ہوتی مبنی بر حقیقت ہے اور اس کی وساطت سے کسی گم گشتہ حقیقت تک رسائی آسان ہو جاتی ہے ۔ 
موجودہ عہد کی معروف مصنفہ کیرن آرم سٹرانگ نے بھی اپنی تصنیف The Battle for God میں (جس کا اردو ترجمہ ’’ فی سبیل اللہ فساد ‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے) مِتھ کو مثبت معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس کتاب کے ’ تعارف ‘ میں کیرن رقمطراز ہیں : 
’’ ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی میں بھی لوگ کم و بیش ہم جیسے ہی ہوتے ہوں گے مگر دراصل ان کی روحانی زندگی ہم سے مختلف تھی۔ انہوں نے سوچنے ، بولنے اور علم حاصل کرنے کے دو طریقے وضع کیے تھے جنہیں سکالر مائتھوس اور لوگوس کہتے ہیں ۔ دونوں ہی انتہائی ضروری تھے کیونکہ خیال کیا جاتا تھا کہ سچ کی تلاش میں دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں مگر دونوں اپنی انفرادی حیثیت میں بھر پور تاثر کے مالک تھے ۔ مِتھ ابتدا تھی مگر اسے دائمی اور وقت کی قید سے آزاد سمجھا جاتا تھا ۔ مِتھ کا تعلق زندگی کے آغاز ، کلچر کی جڑوں اور انسانی ذہن کی گہرائیوں سے ہے ۔ عملی معاملات کے بجائے اس کی تمام تر توجہ زندگی کی معنویت اور گہرائی پر ہوتی ہے ۔ جب تک ہمیں اپنی زندگی میں کوئی معنی نہ ملیں، ہم فانی انسان بڑی آسانی سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے کی مائتھوس لوگوں کو جینے کا شعور دیتی ہے ۔ ایسی آگاہی دیتی ہے جس سے انہیں اپنے ہونے میں ، اپنی روز مرہ زندگی میں معنی نظر آتے ہیں ۔ وہ ان کی توجہ زندگی کے دائمی اور کائناتی پہلوؤں کی طرف موڑ دیتی ہے جب کہ اس کی جڑیں جسے ہم لاشعور کہتے ہیں، اس میں بھی موجود ہوتی ہیں ۔کئی دیو مالائی کہانیاں اس لیے نہیں کہ انہیں لفظی معنوں میں لیا جائے ، نفسیات کی ایک قدیم شکل ہیں۔ جب لوگ عفریتوں کے ساتھ بہادروں کی لڑائیوں کے قصے سنایا کرتے تھے تو ایسا کرتے ہوئے در اصل وہ تحت الشعور کے وہ مخفی گوشے اور پہلو سامنے لاتے تھے جو ریشنلزم ( عقلیت ) کی پہنچ سے باہر ہیں ، مگر جو ہمارے تجربے اور زاویے پر بہت گہرا اثر کرتے ہیں ۔ اپنی ماڈرن سوسائٹی میں مِتھ کے قحط کی وجہ سے ہمیں نفسیاتی تجزیے کی بنیاد رکھنی پڑی تاکہ اپنی باطنی دنیا سے عہدہ برآ ہونے میں مدد مل سکے ۔ مِتھ کو ثابت کرنا ریشنلزم کے بس کی بات نہیں اور نہ اس کے ذریعے مِتھ کی توجیہ ہو سکتی ہے ۔ آرٹ ، موسیقی ، شاعری اور صنم تراشی کی طرح اس کی بصیرتیں وجدانی ہوتی ہیں ۔ مِتھ صرف اس وقت حقیقت بنتی ہے جب وہ مراسم ، مسلک اور تہواروں کا حصہ بن کر ان میں جلوہ گر ہو جو لوگوں پر جمالیاتی لحاظ سے اثر انداز ہوتے ہیں، انہیں ایک گہری معنویت کا شعور دیتے ہوئے اس قابل بناتے ہیں کہ زندگی کی گہرائیوں کا ادراک کر سکیں۔ ........کسی مسلک یا صوفیانہ ریاضت کے بغیر مذہبی مِتھ کے کوئی معنی نہیں ، ان کے بغیر وہ مجرد اور غیر معتبر ہوتی ہے ۔ .......لوگوس کی اہمیت کم نہیں ۔ لوگوس ہی وہ ریشنل اور سائنسی اندازِ فکر ہے جس نے مردوں اور عورتوں کو دنیا میں اچھی طرح رہنے کے قابل بنایا ہے ۔ آج مغرب میں ہمیں شاید مائتھوس کا شعور نہ رہا ہو مگر ہم لوگ لوگوس سے خوب واقف ہیں کہ وہی تو ہماری سوسائٹی کی خشتِ اول ہے ۔......لوگوس کی کچھ مجبوریاں اور اس کی اپنی حدیں ہیں۔ انسانی دکھ درد میں کمی کرنا اس کے بس کی بات نہیں ۔ عقلی دلائل سے ٹریجڈی میں معنی پیدا نہیں ہوتے ۔ لوگوس کے پاس انسانی زندگی کی قدرو قیمت کے متعلق کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ سائنسدان بڑی قابلیت کے ساتھ جسمانی کائنات کا مشاہدہ کر سکتا ہے ، اس کے بارے میں نئی حیرت انگیز باتوں کا انکشاف کر سکتا ہے ، مگر یہ نہیں بتا سکتا کہ زندگی کیا ہے اور زندگی کے معنی کیا ہیں ۔ زندگی کے معنی بتانا مسلک اور مِتھ کا اعزاز ہے ۔ ‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا صوفیانہ ادب ، لوک داستانیں ، مولانا رومی اور شیخ سعدی کی حکایات وغیرہ ’مِتھ‘ کی اسی معنویت کی حامل ہیں جس کی نشاندہی مائتھوس کے بیان میں کیرن نے کی ہے۔
جیلانی کامران اپنے مضامین کے مجموعے ’’ ہمارا ادبی و فکری سفر ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : 
’’بیان کیا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں سیالکوٹ شہر میں ایک ہندو راجہ کی حکومت تھی جس کی بیٹی بے حد خوبصورت تھی۔ انہی دنوں شہر کے باہر ایک مسلمان فقیر کا گزر ہوا اور وہ شہر کے باہر عبادتِ الہٰی کے لیے رک گئے ۔ جوگی یاترا میں لوگ گروہ در گروہ انہیں دیکھنے گئے اور سارے شہر میں ان کا چرچا ہو گیا ۔ محبت کی کہانیوں کے مطابق راج کماری ، مسلمان فقیر پر فریفتہ ہو گئی ۔ اس نے مسلمان فقیر سے خفیہ ملاقات کا تہیہ کیا اور جب تک وہ ان سے مل نہ لیتی ، اسے چین نصیب نہ ہوتا ۔ 
جب یہ خبر راجہ تک پہنچی تو اس نے سب راستوں پر پہرہ بٹھا دیا ۔ ایک دن جب راج کماری تالاب میں نہا رہی تھی اور قریب سے مسلمان فقیر کا گزر ہوا تو پہرہ داروں نے فقیر کا سر قلم کر دیا ۔ لہو کی ایک بوند اڑ کر تا لاب کے پانی میں جا گری اور راج کماری امید سے ہو گئی۔ جب راجہ کو اس دوہرے سانحے کا پتہ چلا ، اس نے راج کماری کو محل سے نکال دیا اور وہ پریشان حال جنگل جنگل ہوتی ہوئی لاہور پہنچی ۔ 
یہاں لاہور میں مقررہ دنوں کے بعد اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مراد ہے ۔ جب وہ لڑکا بڑا ہوا تو اس نے اپنے ننھیال کا پوچھا ۔ ماں نے اسے بہت کچھ کہا مگر وہ بضد رہا کہ وہ صرف ایک بار اپنے ننھیال ضرور جانا چاہتا ہے ۔ ناچار راج کماری اپنے بیٹے کو ہمراہ لے کر اپنے ماں باپ کے دیس روانہ ہوئی ۔ اس دوران میں سیالکوٹ پر مسلمانوں کے حملے شدت اختیار کر چکے تھے اور راجہ مسلمانوں کی متواتر یلغار سے بہت پریشان تھا ۔ قلعے کی دیوار ہر بار تعمیر ہوتی تھی مگر کسی نہ کسی نقص کی وجہ سے ہر بار گر جاتی تھی ۔ راجہ اپنے شہر کو غیر محفوظ پا کر بے حد ہراساں تھا ۔ جوتشیوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ قلعے کی بنیاد میں کسی مسلمان کو دفن کرنا ضروری ہے ، ورنہ دیوار گرتی رہے گی ۔ ان حالات میں جب راج کماری اور مراد راجہ کے دربار میں پہنچے تو راجہ نے مراد کو ہتھکڑی ڈلوا کر اس کا سر قلم کروا دیا اور اس کی لاش کو قلعے کی بنیاد میں چن کر دیوار کھڑی کر دی ۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد مسلمانوں کی یلغار ہوئی اور راجہ مقابلے کی تاب نہ لا کر رن میں مارا گیا اور قلعے کی دیوار مسلمانوں کی گولہ باری سے ٹوٹ پھوٹ گئی ۔ مگر دیوار کا وہ حصہ اسی طرح سلامت رہا جس کی بنیاد میں مراد کی لاش دفن تھی ۔‘‘ ( آمدِ اسلام کے ادبی کاشفے )
اب ملاحظہ کیجیے کہ فرانسس بیکن کی طرح جیلانی کامران مذکورہ مِتھ سے کیسی معنویت اخذ کرتے ہیں :
’’ اس مکاشفے میں آمدِ اسلام کا علامتی رنگ ان مخصوص اشاروں سے پیدا ہوتا ہے جن کا پہلے ( یعنی مضمون ، آمدِ اسلام کے ادبی مکاشفے میں ) ذکر کیا جا چکا ہے ۔ پانی ، مسلمان فقیر اور راج کماری ۔ مگر ان اجزا میں ایک گہرا رشتہ قائم کیا گیا ہے ۔ اس دفعہ راج کماری پانی میں ہے اور مسلمان فقیر پانی کے باہر ہے ۔ پانی کا وہی روایتی مفہوم ہے اور پانی میں نہانا بھی اسی مفہوم کی وضاحت کرتا ہے ۔ اگر ہم کہیں کہ پانی مسلمان فقیر کا دیا ہوا علمِ معرفت ہے ، تو راج کماری کا اس کے ساتھ تعلق واضح ہو جاتا ہے۔ مگر پچھلے مکاشفوں کے بر عکس ، مسلمان فقیر کے لہو کی بوند اڑ کر تالاب کے پانی میں گرتی ہے ۔ یہاں لہو کی بوند مرکزی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ علمِ معرفت لہو کے بغیر پختہ نہیں ہوتا ۔ اس پختگی کو راج کماری کے حاملہ ہونے کی کیفیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ مکاشفے کے پہلے حصے میں لہو کی بوند ایک اشارہ ہے جس کی گواہی مراد کی قربانی کی صورت میں ملتی ہے ۔ اس اعتبار سے مراد نو برس کا لڑکا ہی نہیں بلکہ ایک اعتقاد ہے جو لہو کی سرخی سے پختہ ہو کر اینٹ اور گچ کی دیواروں کو فولاد بنا دیتا ہے یہاں تک کہ ان دیواروں پر وزنی گولہ باری کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ادبی مکاشفوں کی تاریخ میں مراد پیر ، لہو کی علامت استعمال کر کے اس سچائی کی تصدیق کرتا ہے کہ علم و عرفان کا اصل معیار شہادت ہے ۔‘‘ ( آمدِ اسلام کے ادبی مکاشفے ) 
اپنے اسی مضمون کی ابتدائی سطروں میں جیلانی کامران حقیقت اور افسانے کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں :
’’ زمانے نے جس تیزی کے ساتھ اپنا چہرہ بدلا ہے اور جس شدت سے حالات کا نیا ظہور ہوا ہے، ان کی موجودگی میں بہت سی باتیں نہ صرف عجیب و غریب دکھائی دے رہی ہیں بلکہ حقیقت اور افسانے کے درمیان کچھی ہوئی حد بندیاں فرضی محسوس ہونے لگی ہیں۔ حقیقت بڑی تیزی کے ساتھ ایک ایسے منظر میں گم ہو رہی ہے جسے کچھ برس پہلے افسانہ کہا جاتا تھا ۔ حقیقت باقی نہیں رہی ، افسانہ ظاہر ہوا ہے اور بدستور پھیلتا جا رہا ہے ۔ یہ ایک عجیب افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار انسان ہے مگر اس انسان کی آغوش میں زندہ اور مردہ لوگ ظاہر اور غائب ہو تے دکھائی دیتے ہیں ۔ قوموں کے سیاسی آشوب ، انسانوں کی نسلی شکست و ریخت ، نئی قوموں کا جغرافیائی اور تاریخی ظہور ، اور زمین پر خوش نما عمارتوں کے نئے خدو خال ۔ اس بڑے طلسم کے ایک طرف زمین اور چاند کی کہانی ظاہر ہوئی ہے اور چاند تک انسان کا بڑھا ہوا ہاتھ بخوبی نظر آ رہا ہے ۔ انسان کی حاکمیت کا فسانہ سچائی بن کر نمودار ہوا ہے ۔ ......یہ افسانہ اور طلسم ہر زمانے میں ظاہر ہوا ، اور ہر زمانے کے لوگوں نے اس عجیب و غریب کیفیت کو دیکھا ، جس نوع کی عجیب و غریب کیفیت کو ہم آج دیکھ رہے ہیں ۔ افسانہ غیر فانی ہے ‘‘ ۔
کیرن آرم سٹرانگ ’’ فی سبیل اللہ فساد ‘‘ میں ہی متھ کو ان معانی میں استعمال کرتی ہیں : 
’’ مسلم لا پر عمل نے حضرت محمد ﷺ کی تاریخی شخصیت کو مِتھ میں بدل دیا ۔ انہیں اس وقت کی حدوں سے آزاد کر دیا جس میں وہ رہتے تھے ۔ وقت سے اوپر اٹھ کر وہ ہر سچے مسلمان کے دل میں زندہ ہیں ۔ اسی طرح اسوۂ رسول ﷺ پر بار بار عمل کرنے سے صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں آیا ۔ اسوۂ رسول ﷺ کے ذریعے محمد ﷺ کی ذات سے قربت کے احساس نے انہیں سکھا دیا ہے کہ اچھا مسلمان بننا کیسے ممکن ہے ۔ تیرہویں صدی میں منگولوں کے حملوں تک یہ شرعی روحانیت تمام مسلم دنیا میں ( سنی ہو کہ شیعہ) جڑ پکڑ چکی تھی ۔ اس لیے نہیں کہ اسے خلفا اور علما نے لوگوں پر مسلط کیا بلکہ اس لیے کہ اس نے انھیں خدا کے ہونے کا احساس دیا تھا اور ان کی زندگیوں کو معنی دیے تھے ۔ ماضی سے ان کی وابستگی نے ان کے پاؤں میں زنجیریں نہیں ڈال دی تھیں کہ وہ آگے نہ بڑھتے ۔ ابتدائی سولہویں صدی میں عثمانی ریاست دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست تھی ۔ ‘‘ 
کیرن آرمسٹرانگ غالباً یہ کہنا چاہتی ہیں کہ تاریخی شخصیت ، محض تاریخ کا حصہ ہوتی ہے، زمانہ حال اور مستقبل سے اس کا کوئی بامعنی رشتہ قائم و دائم نہیں ہوتا ۔لیکن اگر تاریخی شخصیت، مِتھ میں بدل جائے تو اس شخصیت سے نسبت کے لحاظ سے ماضی ، حال اور مستقبل ، زمانی قیود سے ماورا ہوکر وحدت میں ڈھل جاتے ہیں ۔
مذکورہ بالا تمام اقتباسات سے مترشح ہوتا ہے کہ مِتھ معنوی اعتبار سے اضافیت کی حامل ہے ، اس کے معنی قطعیت کے ساتھ جھوٹ کے ہر گز نہیں ہیں ۔ مِتھ عام طور پر زندگی کی ان حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہے جو موجود یا ممکن ہونے کے باوجود انسانی زندگی کے عملی پہلو سے غائب ہوتی ہیں۔ مِتھ کے توسط سے ان مستور موجودات یا امکانات کی دریافت آسان ہو جاتی ہے ۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم ( مسلمانوں ) نے بعض تاریخی واقعات کے گرد غیر حقیقی ہالہ بُن دیا ہے، اس سے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اپنے زوال کے ایام میں قومیں اپنا مورال بلند رکھنے کے لیے ایسے ’’ ملی نغمے ‘‘ لا زماً الاپتی ہیں ۔ ملی نغمے خود غیر حقیقی ضرور ہو سکتے ہیں لیکن بہر حال یہ کسی حقیقت پر ہی مبنی ہوتے ہیں ۔ ایسے نغمے قوموں کو نفسیاتی اعتبار سے مضمحل نہیں ہونے دیتے اور درخشاں امکانی مستقبل کے خواب دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یوں سمجھیے یہ مائتھوس ہے ۔مائتھوس نے ہمیں نفسیاتی لحاظ سے ’’ بحال‘‘ کر دیا ہے۔اس بحالی کے بعد لوگوس کا در آنا نا گزیر ہو جاتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ذہن نے مائتھوس کے ہمراہ لوگوس کو بھی جگہ دینی شروع کر دی ہے ۔محترمہ شاہدہ قاضی اور یوسف جذاب صاحب کے مضامین اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں۔ 

انسان کا حیاتیاتی ارتقا: نظریہ یا حقیقت؟

پروفیسر محمد عمران

سائنسی اصطلاح میں ارتقا ایک ایسا عمل ہے جس میں موجودہ دور کے پودے اور جانور ماضی کی اقسام سے، مختلف اور بتدریج تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔ ارتقا کے بارے میں مختلف لوگوں نے مختلف نظریات پیش کیے ہیں، لیکن عام طور پر ڈارvن کے نظریہ ارتقا کو زیادہ پزیرائی ملی ہے۔ ارتقا کے تصور کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان نظریات پر بھی ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ یونانی فلسفیوں میں سے جن لوگوں نے شروع میں ارتقا کے نظریات پیش کیے، ان میں انیکسی مینڈر، زینو فینز، ایمیڈوکلس اور ارسطو نمایاں ہیں۔ 
انیکسی مینڈر نے چھٹی صدی قبل مسیح میں یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان ایک مچھلی کی شکل میں پیدا ہوا اور پھر اپنے چھلکوں کو اتار کر پانی سے خشکی پر نمودار ہوا۔
ایمپیڈوکلس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ پودے اور جانور زمین سے پیدا ہوئے۔ اس کے مطابق جانور مکمل طور پر وجود میں آنے کے بجائے الگ الگ حصوں کی صورت میں پیدا ہوئے۔ بعد میں یہ حصے ارتقا کے عمل کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل جسم کی صورت اختیار کر گئے۔
ارسطو (۳۶۴۔۳۲۲ قبل مسیح) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ماضی میں رہنے والے جاندار اور مادہ نامکمل تھے۔ انھوں نے بتدریج پیچیدہ اور مکمل جانداروں کی صورت اختیار کی۔
لیمارک (۱۸۰۹) ایک فرانسیسی ماہر حیاتیات تھا۔ اس کے نظریے کے مطابق ماحول میں تبدیلیوں کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں کا استعمال کم یا زیادہ ہو جاتا ہے۔ جو حصے زیادہ استعمال ہوتے ہیں، وہ زیادہ کارآمد اور مضبوط ہو جاتے ہیں اور جو زیادہ استعمال نہیں ہوتے، آہستہ آہستہ کمزور اور غیر ضروری ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ غائب بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے مطابق نئی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں اور نئی نسل میں منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اس کی وجہ سے ارتقا کا عمل ہوتا ہے۔
ماہرین کی حالیہ تحقیق کے مطابق لیمارک کے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے کہ ماحول کے تمام اکتسابی اثرات (خصوصیات) اولاد میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ جدید سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ وہی تبدیلیاں دوسری نسلوں کو منتقل ہوتی ہیں جو کروموسومز یا جینیاتی مادے میں مستحکم ہوتی ہیں۔
ڈارون (۱۸۵۹) کے نظریے کے اہم نکات یہ ہیں:
۱۔ تمام جاندار اپنی نسل کی افزایش کے لیے تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔
۲۔ بقا کی اس جدوجہد میں جو جاندار ماحول کے مطابق اپنے اندر خصوصیات پیدا کر لیتا ہے، وہ زندہ رہنے کے قابل ہوتا ہے اور اس کی نسل آگے بڑھتی ہے۔
۳۔ اگر یہ تبدیلیاں حالات اور موسم اور ماحول کے ناموافق ہوں تو وہ جاندار ناموزوں رہتا ہے اور نتیجے کے طور پر آہستہ آہستہ ناپید ہو جاتا ہے۔
۴۔ جانداروں میں ضروریات زندگی حاصل کرنے اور اپنی بقا کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں جو تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں، وہ اگر ماحول اور حالات کے موافق ہوں تو جاندار زندہ رہتے ہیں، لیکن جن جانداروں میں یہ تبدیلیاں موافق نہ ہوں، وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل ’’قدرتی انتخاب‘‘ (natural selection) کہلاتا ہے۔
ڈارون اپنے نظریہ ارتقا یا قدرتی انتخاب میں وضاحت کرتا ہے کہ قدرت انواع کے ان خط وخال کو منتخب کر لیتی ہے جو اس کے ماحول سے مطابقت رکھتے ہوں اور ان خصوصیات کو خارج کر دیتی ہے جو ضروری نہیں ہوتے۔ اس کے لیے وہ اپنڈکس کی مثال دیتا ہے کہ شاید ہزاروں سال قبل یہ نظام انہضام میں مدد دیتی ہو، لیکن اب یہ آنتوں کا ایک زائد حصہ تصور کی جاتی ہے۔ ڈارون کے نزدیک انواع میں تبدیلی ہزاروں سال میں رونما ہوتی ہے۔
قدرتی انتخاب کے نظریے پر کئی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ یہاں صرف اہم اعتراضات کا ذکر کریں گے:
۱۔ ڈارون کے بیان کے مطابق ایک نئی جنس (species) کے وجود میں آنے کی وجہ اس میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں ہیں جو ماحول کے تحت پیدا ہوتی ہیں، لیکن اس بات کا کوئی یقینی ثبوت نہیں ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں مل کر بالآخر ایک نئی جنس کو وجود میں لانے کا سبب بنیں۔
۲۔ اس نظریے میں ارتقا کی بنیادی وجہ ماحول کے مطابق پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ تبدیلیاں کیسے وجود میں آتی ہیں۔
۳۔ اس نظریے کے مطابق پیدا ہونے والی تمام تبدیلیاں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہیں، جبکہ جدید سائنسی تحقیقات کی رو سے صرف وہی تبدیلیاں اگلی نسلوں کو منتقل ہو سکتی ہیں جو وراثتی مادے (DNA)کے اندر ہوتی ہیں۔ 
۱۸۵۹ میں جب چارلس ڈارون نے اپنی کتاب ’’اصل انواع‘‘ (Origin of Species) شائع کی جس میں اس نے قدرتی انتخاب کے اصول کے تحت اپنے نظریہ ارتقا کی وضاحت کی تھی تو بحث وتمحیص کا میدان گرم ہو گیا۔ ڈارون نے اپنی اس کتاب میں انسان کو موضوع بحث نہیں بنایا تھا، تاہم یہ بات صاف ظاہر تھی کہ یہ انسان کے بارے میں ہی ہے۔ اس کا نظریہ بہت سی ایسی قدروں کی نفی کرتا تھا جو کہ انجیل میں انسان کی تخلیق سے متعلق بیان کی گئی ہیں۔ بارہ سال بعد ڈارون کی کتاب Descent of Man شائع ہوئی جس میں اس نے قدرتی انتخاب کا فلسفہ بشریات کے حوالے سے پیش کیا۔ بعد میں اس نے اپنی کتاب ’’انسانوں اور جانوروں میں جذبات کا اظہار‘‘ میں نفسیات کے حوالے سے نظریہ ارتقا یا قدرتی انتخاب کے تصور کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ڈارون کے نظریے کے مطابق تمام موجودہ انواع لاکھوں سال پرانے سادہ جانداروں میں بتدریج رونما ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سے وجود میں آئی ہیں، حتیٰ کہ انسان کا وجود ان کی آخری کڑی ہے۔ ڈارون کو یقین تھا کہ اس سارے عمل کے دوران میں جو انواع وجود میں آئی تھیں اور پھر ختم ہو گئیں، ان کا فاسل ریکارڈ بھی مل جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اگر ماضی میں انواع کے اندر تبدیلیاں وجود میں آئی تھیں تو ان کے بارے میں بہت سا ایسا فاسل ریکارڈ ملنا چاہیے تھا جس کے ملنے کی خود ڈارون توقع کرتا تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا ریکارڈ موجود نہیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ انھیں درمیانی کڑیوں سے انسان وجود میں آیا ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ڈارون کی طرف یہ بات عام طور پر منسوب کی جاتی ہے کہ انسان بندر کے ارتقا سے وجود میں آیا، جو کہ بالکل غلط ہے۔ ڈارون کا نظریہ اصل میں یہ ہے کہ انسان انھی آباو اجداد سے وجود میں آیا ہے جن سے بندر اور دوسرے میملز وجود میں آئے ہیں۔ 
بعض سادہ لوح حضرات سائنسی نظریہ ارتقا کو قرآنی آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایک غلط طریقہ ہے۔ سائنس ایک انسانی علم ہے اور اس میں کوئی بات کبھی حرف آخر نہیں ہو سکتی۔ سائنس میں نظریات پیش کیے جاتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد ان کا بطلان ثابت ہو جاتا ہے۔ یہاں پیر محمد کرم شاہ صاحب کا ایک اقتباس برمحل ہوگا:
’’یہاں ایک خاص چیز کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ بعض لوگ کائنات کی تخلیق کی تفصیلات قرآن میں تلاش کرنا چاہتے ہیں اور اپنے زمانہ کے مفکرین وفلاسفہ کے نظریات جو مقبول عام ہوتے ہیں، ان کے رنگ میں قرآن کو بھی رنگنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا یہ اسلوب فکر قرآن کے متعلق قطعاً دانش مندانہ نہیں، کیونکہ ہر زمانہ کے اہل فکر اپنی ذہنی کاوشوں سے اپنے نظریات واضح کرتے ہیں اور لوگ ان کے زور دار دلائل سے مرعوب ہو کر ان کو حق تسلیم کر لیتے ہیں اور اس باب میں ان کو حرف آخر قرار دیتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد انھیں مفکرین کے پیروکار اور شاگرد اپنے پیش رو اساتذہ کے نظریات کو غلط ثابت کر دیتے ہیں اورپہلے دلائل سے بھی زیادہ وزنی دلیلوں پر اپنے نئے نظریات کی پرشکوہ عمارت لا کھڑی کرتے ہیں اور ان نظریات کا حشر بھی دیر یا بزود یہی ہوا کرتا ہے۔ اس لیے آیات قرآنی کو کسی قدیم یا جدید نظریہ کا پابند کرنا قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔ کچھ وقت کے لیے کسی نظریہ سے ہم آہنگ کر کے لوگوں کو بتایا جا سکتا ہے کہ قرآن کے ارشادات بھی وہی ہیں جن کو فلاں فلاسفر یا سائنس دان نے پیش کیا ہے، لیکن آپ خود غور فرمائیے اگر کچھ عرصہ بعد ان نظریات کا بطلان ہو گیا تو اس کی زد آیات قرآنی پر نہیں پڑے گی؟ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ قرآن تخلیق کائنات کی تفصیل بیان کرنے والی کتاب نہیں بلکہ یہ رشد وہدایت کا صحیفہ ہے۔ اس میں جہاں کہیں انفسی اور آفاقی آیات کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا مدعا فقط اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور علم وحکمت کو ظاہر کرنا ہے۔‘‘

مآخذ

۱۔ بیالوجی (۲۰۰۳) ڈاکٹر محمد فرید اختر، کفایت اکیڈمی کراچی؍لاہور صفحہ ۱۵۲ تا ۱۵۹
۲۔ دنیا کے عظیم سائنس دان ۔ رقیہ جعفری ، سرفراز احمد۔ اردو سائنس بورڈ ، صفحہ ۳۴۵
۳۔ Biology: Concepts and Connection، نیل کیمپبل، تیسرا ایڈیشن، ص ۲۶۳
۴۔ The Miracle of Creation of DNA، ہارون یحییٰ، گڈ ورڈ بکس، صفحہ ۷۲
۵۔ تفسیر ضیاء القرآن، پیر محمد کرم شاہ، جلد دوم۔ صفحہ ۹۴۹

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرمی مدیر صاحب الشریعہ، 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج گرامی!
تازہ شمارہ (اکتوبر ۲۰۰۵ء) ایک روز کی تاخیر سے ملا۔ باقی دوستوں کے ہاں دیکھا تو گمان ہوا کہ اس بار ترسیل سے رہ گیا ہے مگر ایک روز بعد ملنے پر میرا گمان غلط ثابت ہوا ۔
شمارہ ملا تو میں بہت ہی مخدوش اور مخبوط صورت حال میں تھا۔ نوید انور نوید کی بے وقت موت، پھر مرحوم کے ساتھ رفاقت کے ماہ و سال اور اس دوران ان کے ساتھ ربط و تعلق کی اونچ نیچ ذہن پر چھا گئی۔ مصروفیات کے تمام بندھن ٹوٹ پھوٹ گئے۔ مرحوم کا طویل کیریر ذہن کی سکرین پر فلم کی طرح رواں ہو گیا۔ مسجد نور کی تحریک خاص طور پر مرحوم کی ایجی ٹیشنل صلاحیت کا ابتدائی شاہکار تھی۔ اس وجہ سے مسجد نور کے ارباب علم نے ان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مولانا سرفراز خان صفدر صاحب اپنے دروس کی ہر جلد مرحوم کو بطور خاص بھجواتے رہے۔ گوجرانوالہ کے اہل علم و دین کے اس اعتراف کے علاوہ شہر و سیاست دوراں میں مرحوم کو کہیں بھی نہ جگہ مل سکی اور نہ قرار ہی آیا۔ ان کی آخری پناہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ تھی۔ یہ عجیب و غریب بات ہے کہ ہماری بار پر کچھ عرصہ سے عمومی سیاست سے دل شکستہ نوجوانوں کا قبضہ ہے۔ ان میں نوید صاحب سر فہرست تھے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ بار کا سترہ بار انتخاب لڑا۔ پانچ بار سیکرٹری، تین بار صدر اور دو بار پنجاب بار کونسل کے رکن ہوئے۔ باقی بار ’’ہار‘‘ کے ہار گلے میں ڈالے۔ جنوری ۲۰۰۵ء کے سالانہ انتخابات میں انہوں نے آخری بار قسمت آزمائی کی۔ ان کی وفات بڑی مختصر علالت کے بعد زید ہسپتال میں ہوئی۔ بیمار تو بہت عرصہ سے تھے مگر بیماری کو کبھی اپنے ذہن پر سوار نہیں ہونے دیا۔ بیماری نے شدت اختیار کر لی تو وزن کافی کم ہو چکا تھا۔ گوشت جسم سے اتر چکا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں زندہ لاشہ کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ آخری مرحلہ میں جب فاضل ہسپتال لائے گئے تو حالت یہ تھی کہ پیٹ سے خون کا بہاؤ بھی جاری تھا اور ساتھ ہی ڈرپ کے ذریعہ خون کی سپلائی کی رسم بھی ادا ہو رہی تھی، مگر خون جسم میں ٹھہرنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ چند گھنٹوں بعد لاہور ریفر کر دیا گیا جہاں جا کر رات بارہ بجے بے ہوش ہوئے۔ اس دم تک، بیماری کی اس حالت میں بھی ذہن پوری طرح توانا تھا اور وہ اپنی کچہری کی ذمہ داریوں سے با خبر رہنے کی کوشش میں رہے۔ پھر چند گھنٹے بعد سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ شعبان کی آخری تاریخ تھی اور نماز جنازہ میں وکلا اور ججوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ وکلا ساتھیوں نے واقعتا ان کو پورے اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔ ہمارے ہاں بہت سینئر وکلا کے جنازے میں بھی اتنے وکلا کی شرکت بہت کم دیکھنے میں آئی ہے، جب کہ ان کا شمار بھی زیادہ سینئرز میں نہیں تھا۔ اس کی وجوہات بہت سی ہیں، مگر نمایاں ترین بات یہ ہے آٹھ سال ڈسٹرکٹ بار کے سیاہ و سفید کا مالک رہنے کے باوجود بار فنڈز میں خیانت اور خرد برد میں خود ملوث ہوئے اور نہ کسی کو ہی اس کا کوئی موقع دیا۔ امانت داری کی روایت ان کے بعد دم توڑ چکی ہے۔ جنازے میں شریک ان کے کٹڑ مخالف بھی ان کی اس خوبی کا بر ملا اظہار کرتے رہے۔ 
بات ہو رہی تھی تازہ شمارے کی۔ درمیان میں نوید صاحب کا ذکر اس لیے آ گیا کہ ارباب ’الشریعہ‘ کے ساتھ مرحوم کا ایک تعلق خاطر رہا ہے۔ بہر حال شمارہ ملا تو طبیعت پڑھنے اور کام سے بیزار تھی مگر ایک دن کے انتظار کے بعد ملنے کی وجہ سے شمارہ دیکھنے کی بے چینی تھی۔ سرسری طور پردیکھا تو اس کی شاندار ترتیب دیکھ کر طبیعت بحال ہو گئی۔ مدیر صاحب کی مہارتِ ترتیب نے حیران کر دیا۔ کہتے ہیں تضادِ بیان حسن بلاغت کی انتہا ہے۔ اجتماع ضدین، جمع بین المشرقین، جدید و قدیم کا امتزاج، پھر اس میں توازن و اعتدال کے ٹچ۔ ذرا دیکھیے تو سہی، بھارت میں فقہائے اسلام کے اجتماع میں ٹی وی اور انٹر نیٹ جیسے ذرائع کے جوازو عدم جواز کی بحث، جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کا سید مناظر احسن گیلانی صاحب کی تمثیل اور مولانا روم کی حکایت کا حوالہ، مسئلہ فلسطین پر میاں انعام الرحمن صاحب کا فاضلانہ اور متوازن تجزیہ، پھر اس میں سے ایک دو جملوں کو سر ورق پر چسپاں کر کے تو آپ نے کمال کر دیا ہے بلکہ کمال ڈھا دیا ہے۔ اس پر مستزاد سرسید کے بارے میں بحث کا تسلسل ہے۔ ادارت کا یہ کمال ہی تو ہے کہ شمارہ پڑھنے کے بعد لکھنے پر بھی مائل ہونا پڑا۔ 
تو جناب عرض یہ ہے کہ آپ نے تو اپنی مشاقیت کی تسکین کر لی مگر پڑھنے والا اگر سوچ میں غرق ہو گیا تو اس پر کیا گزرے گی۔ شاید آپ بھی غرق ہی کرنا چاہتے ہیں۔ صورت حال کی تصویر کشی تو حسب حال ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ واضح سمت میں عملی سفر کے لیے رہنمائی کی جائے۔ اس بارے میں اشارے کنایے سے بات کچھ آگے جانی چاہیے۔ آپ تو نوجوان ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی نو جوان نہ سہی مگر جوان تو ہیں، طویل کیریر میں سیار الارض بھی ہیں۔ پھر ان کو بڑے بڑے اہل علم کی رفاقت بھی میسر رہی ہے، لہٰذا ان کو یہ منصب حاصل ہو گیا ہے کہ وہ بھر پور راہنمائی مہیا فرمائیں۔ 
فقہی مباحث اور فتاویٰ اپنا مقام رکھتے ہیں مگر عملی طور پر یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ انگریز کے دور سے چلے آنے والے تعلیمی اداروں سے نکلنے والوں میں ایسے لوگ بھی تو سامنے آئے ہیں جنہوں نے دنیا کے ہر فورم پر، جدید اسلوب اور زبان میں بات کرتے ہوئے دین کا موثر دفاع کیا ہے۔ در اصل علم، تعلیم اور ذرائع برے ہیں نہ اچھے، ان کا استعمال اچھا یا برا ہے۔ یہ فرد کے اختیار کی بات ہے۔ اس میں بھی اصل چیز یہ ہے کہ ذرائع کی فنی گہرائیوں سے واقفیت ہی نہیں بلکہ مہارت حاصل کر لی جائے تو اس کے منفی اور مثبت استعمال پر یکساں قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس مہارت کو چابک دستی سے کام لے کر اگر مثبت طور پر کام کیا جائے تو مقاصد کی سمت سفر میں پیش رفت کافی تیز ہو سکتی ہے۔ 
اس سلسلہ میں ایک حالیہ مثال بہت سبق آموز ہے۔ افغانستان کی جنگ میں تو گیارہ ستمبر کے ایک خود ساختہ و پرداختہ حادثے کی آڑ میں میڈیا کے زور پر پوری دنیا کے ذہنوں کو مفتوح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر طالبان کی حکومت اپنی پوزیشن کا دفاع نہیں کر سکی، حالانکہ طالبان کی حکومت میں امن و سلامتی کی کیفیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے پر کہیں زیادہ اچھی تھی۔ یہی افغانستان جہاں آج بھی امن و سلامتی ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں، وہاں کیفیت یہ تھی کہ طالبان کی قید میں آنے والی خاتون صحافی ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوئی۔ اس نے اس حسن سلوک کا پوری دنیا میں چرچا کیا۔ دین اسلام کا مطالعہ کیا اور اس کی حقانیت پر ایمان لے آئی۔ آج وہ اسلام کی مبلغہ بنی ہوئی ہے۔ طالبان کے پختہ حسن عمل نے اس کی ذہن کی کایا پلٹ دی اور اس نے میسر جدید ترین ذرائع سے اسلام کے پیغام کو پھیلانا شروع کر دیا۔ آزادی کے ٹھیکے دار اہل مغرب نے اس کی کتابوں کی اشاعت کو ممنوع قرار دے دیا۔ 
یہاں ایک پہلو قابل غور ہے۔ یورپ کا معاشرہ انفرادیت پسند ہے۔ وہاں چھوٹے سے چھوٹابچہ بھی جس بات کو درست سمجھ لے، اس کے اعلان میں ایک لمحے کے لیے بھی توقف نہیں کرتا۔ پھر اسے اپنے حالات میں اس کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینے سے روکا نہیں جا سکتا، جیسے اوپر ذکر کردہ خاتون صحافی کی مثال ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کیفیت بالکل مختلف ہے۔ اہل علم کی مجالس میں مسائل کی ترجیحات کا افادی پہلوؤں سے کوئی تعین نہیں۔پھر ان پر غور کے لیے کھلے دل سے کام نہیں لیا جاتا۔ ہم اختلاف کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ بحث ہو بھی تو دلیل سے بات کرتے ہیں اور نہ دلیل سے دوسرے کی بات سنتے ہیں۔ پھر دلیل کتنی ہی سادہ اور قوی ہو، اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اپنے تعصبات کے اسیر ہیں۔ ایسے میں فکر و ندرت کہاں سے راہ پائے۔ بہر حال اس بارے میں مزید کچھ عرض کرنے سے پہلے سات جولائی ۲۰۰۵ء کو لندن کے زیرِ زمین ریلوے میں دھماکوں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ دھماکوں کے بارے میں جو سٹوری برطانیہ نے وضع کرکے پوری دنیا میں پھیلا دی تھی، اس کے مطابق دھماکوں کا تمام تر ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ایک شخص کی لاش کو لے کر اس کی سفری دستاویزات اکٹھی کی گئیں۔ پھر ان کی بنیاد پر پوری ایک داستان ترتیب دی گئی، حالانکہ وہ شخص زندہ تھا۔ اس نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اے آر وائی کے ٹی وی چینل کے ذریعہ منظر عام پر آ گیا۔ ہفتے دو سے پھیلائی ہوئی داستان پوری دنیا کے اعصاب پر سوار تھی مگر اے آر وائی نے نصف گھنٹے کے اندر اندر پوری دنیا کی فضا کو صاف و شفاف کر دیا۔ اس شرمناک شکست پر برطانوی وزیر اعظم بلیئر صاحب ہاتھ ملتے رہ گئے، جبکہ ہمارے اپنے مبصرین برطانوی تفتیشی ایجنسیوں کی صلاحیتوں کی تعریف کے پل باندھنے میں مصروف تھے۔
اس کارنامے پر اے آر وائی کو خراج تحسین پیش کیا جانا ان کا حق ہے مگر ہمارے ہاں کے ’’دانشوروں ‘‘ کو اس کی عملی افادیت کو بلا تاخیر قلب و ذہن کی گہرائیوں سے تسلیم کرنا چاہیے۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ذرائع اچھے ہیں نہ برے۔ ان کی فنی باریکیوں پر کمانڈ حاصل کر لی جائے تو ان کے اچھے یا برے استعمال پر قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ قدرت اگر بر وقت حاصل کر کے اس کا بر موقع استعمال کیا جائے تو کامیابی آپ کے قدم، بڑھ کر چومے گی۔
حالیہ زلزلہ کے بعد میڈیا کے مثبت کردار کا انکار ایسے ہی ہے جیسے روز روشن کا انکار کیا جائے۔ حالات کے تناظر میں میڈیا نے لمحات میں پوری قوم میں روح و ایمان کی توانا لہر دوڑا دی ہے۔ کمپیئرنگ کرنے والے کوئی مسند ارشاد سے نہیں آئے۔ ان کےِ ’’کردار ‘‘ پر بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی بات دل سے نکلتی ہے اور گہرا اثر پیدا کر رہی ہے۔ زلزلہ کوئی خوشی کی بات نہیں، یقینابڑا اور سخت امتحان ہے۔ ہم کسی طرح امتحان و آزمایش کے لائق نہیں۔ آزمایش کا کوئی طالب نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں میتیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ پچاس ہزار سے زائد خدا کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالی کی طرف سے آزمایش اور امتحان کا بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ ان معصوموں کو کس بات کی سزا ملی ہے؟ میں سوچتا ہوں تو دل میں یہ خیال اٹھتا ہے کہ سالہا سال سے مقبوضہ کشمیر میں لوگ ظلم کا شکار ہو رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں ہماری فوج ان مجاہدین کے خلاف نبرد آزما ہے جن کو پوری دنیا نے روسی جارحیت کے خلاف مجاہد تسلیم کیا۔ ان میں ایسے بھی تھے جو اپنی دولت و راحت کو چھوڑ کر افغانستان کی سنگلاخ وادیوں میں سرخ جارحیت کے خلاف ایک عشرہ تک بر سر جہاد رہے۔ ہماری مسلح افواج اور حکومت نے اس جہاد میں پورا حصہ لیا۔ مرحوم جنرل محمد ضیا ء الحق کو روس کا wrecker in cheif کا لقب عطا فرمایا گیا۔ (ہنری کسنجر) لیکن دنیا کے ضمیر نے یو ٹرن لیا۔ یہ مجاہد دہشت گرد قرار پا گئے۔ سر حد کے موجود حکمرانوں کو اس صورت حال کے خلاف ایک واضح مینڈیٹ ملا، مگر انہوں نے اس سے انحراف کیا اور بے حسی اختیار کر لی۔ ادھر آزاد کشمیر کی ریاست کے قیام کا تصور، آزادی کی جنگ کے بیس کیمپ کا ہے مگر سب کچھ پلٹ گیا۔ آخر قدرت کو کسی نہ کسی صورت میں اپنی تعزیریں نافذ کرنا ہوتی ہیں۔ ایک ہفتہ ہو گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑی دہشت گرد مملکت اور اس کے دہشت گرد صدر بش کی قیادت میں جو کچھ ہوتا رہا، اس کی تائیدی گردان اب ہمیں بھول گئی ہے۔ 
فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
لیکن کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
ہمیں اس مرحلے پر مجموعی طور پر اپنی کوتاہی اور غفلت کا اعتراف کرنا چاہیے۔ یہ ایسا مرحلہ ہے کہ ہم تعمیر نو پر تیار ہیں۔ پوری قوم میں زندگی کی روح بیدار ہو چکی ہے۔ رہنماؤں کو بھی کچھ خیال ہونا چاہیے۔ اس مرحلہ پر نیشنل سکیورٹی کونسل میں وزیر اعلیٰ سرحد کی شرکت پر تحفظات کا اظہار موقع کی مناسبت سے عاری ہے۔ 
افسوس یہ ہے کہ آج تک ہمیں بلندی کردار کا صحیح تصور تک نہیں دیا گیا۔ منبر و محراب سے اعلیٰ کردار کا جو تصور دیا گیا، وہ بہت ناقص ہے۔ میں یہاں ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے شہر گوجرانوالہ کے ایک نامور کمپیئر دلدار پرویز بھٹی تھے۔ وہ میرے ہم جماعت تھے۔ ایف سی کالج کے پروفیسر تھے۔ ان کا عمر بھر کا عمل یہ رہا کہ اپنا گزارا تنخواہ میں کیا۔ تنخواہ کے علاوہ جو کچھ بھی کمایا، وہ تنخواہ سے کہیں زیادہ رہا مگر وہ اسے ہمیشہ ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ کیا یہ ایسا کردار نہیں کہ جس پر فلمیں بنیں، ناول لکھے جائیں اور ڈرامے دکھائے جائیں؟ 
اسی طرح ہمارے ملک کے ایک چیف جسٹس اے آر کارنیلیس تھے۔ ریٹائر ہونے کے بعد لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں مقیم رہے۔ ان کا اپنا کوئی مکان نہیں تھا۔ اس وجہ سے پنشن میں ہوٹل کے ایک آدھ کمرے میں رہتے تھے۔ عمر کے آخری مرحلے میں بیماری شدت اختیار کر گئی تو بار کے حلقوں نے شور مچایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اتنے عظیم شخص کا علاج حکومت کو کرانا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے اس کے لیے پیش کش ہوئی تو جناب کارنیلیس نے حکومتی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وہ پنشن کے اندر رہ کر جتنا علاج کرا سکتے ہیں، کرا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ کے وہ مکلف ہیں اور نہ ضرورت مند۔ صحت اور زندگی اور موت آخر کار آنی ہے۔ مملکت کے وسائل اپنی صحت یابی پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
کردار کے اونچے مینار ہمارے معاشرے میں رہے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ میں کہوں گا کہ کردار کی عظمت کے حقیقی تصور اور اس کی روشن مثالوں کو جو سوسائٹی میں پے درپے موجود ہیں، ان کو میڈیا کے ہر ذریعے، (ریڈیو، فلم، ناول، ڈرامہ، ٹی وی ، انٹر نیٹ) سے پھیلایا جائے۔ ذرائع کے مثبت استعمال کے بارے میں کوئی دوسری رائے ہو ہی نہیں سکتی ۔ہم ان کی جانب رخ کرنے کے بجائے دولت کی دوڑ میں شریک ہو گئے ہیں۔ یہ حدیث تو ٹی وی سکرین پر ہر دوسرے چوتھے دیکھتا ہوں: ’’مال و دولت اور جائیدادیں مت بناؤ، کہ تم دنیا کے ہو کر رہ جاؤ گے‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پوری عمر اقدس میں کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے، کبھی کل کے لیے بچا رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ حضور پاک کا یہ عمر بھر کا اسوہ ہے۔ منبر و محراب سے نصاب زکوٰۃ، نصاب عمرہ اور نصاب حج جمع کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، پھر تعمیر مسجد کی ترغیب دی جاتی ہے۔ غربا کے محلوں میں محل نما مساجد غربت، بیماری اور جہالت کا منہ چڑانے کے لیے کافی ہیں۔ مسجد نبوی حضور اکرم کے آخر دور تک بھی کس تعمیری معیار پر رہی، کوئی نہیں بتاتا۔ منبر و محراب سے جو شریعت بیان کی جاتی ہے، اس میں بنیادی نکتہ یہ ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کی رونق اور جبہ و دستار کی چمک دمک قائم رہے ، مگر حلال ذرائع سے کمانے کے بارے میں کبھی زور نہیں دیا جاتا۔ ہمیں کوئی نہیں بتاتا کہ معاشرے میں رشوت اور بد دیانتی کا چلن عام ہو گیا ہے، اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی دوڑ بیرون ملک کے لیے تیز سے تیز ہو رہی ہے۔ انہیں کوئی نہیں بتاتا کہ یہاں اگر اتنی محنت اور کفایت اختیار کی جائے جتنی ہمارے یہ دوست باہر جا کر کرتے ہیں تو ہمارے ہاں بھی کوئی کمی نہیں۔ حلال کما کر ضروریات پورا کر لینا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں ہر گلی اور نکر پر ضرورت سے زائد اور حجم اور تعداد میں امیر محلوں کے طرز پر مساجد کی تعمیر کے جواز عدم جواز پر کبھی بحث نہیں ہوئی ہو گی۔ در اصل مولانا راشدی صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ:
’’جس طرح اصحاب کہف حالات کے جبر سے بے بس ہو کر اپنا ایمان بچانے کے لیے غار میں گھس گئے تھے اور اس طرح انہوں نے اپنے ایمان کا تحفظ کیا تھا، اسی طرح ہمارے اساتذہ نے حالات کے جبر کو بھانپتے ہوئے ہمیں مدارس کی غاروں میں داخل کر دیا ہے۔ ‘‘
غاروں میں گھسنے والوں کا ایمان تو شاید بچ گیا، مگر جن کو وہ باہر چھوڑ گئے، ان کے ایمان کا کیا حشر ہوا ہو گا۔ بات بڑھتی جا رہی ہے۔ حالات کے جبر کو توڑنے اور ایمان کے لیے ساز گار بنانے کا ایجنڈا کہا ں ہے؟
میں مسائل پر بحث و استدلال کی طرف واپس لوٹتا ہوں۔ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ علمی طریقہ یہ ہے کہ علمی مسائل پر بات اہل علم کے درمیان ہو۔ گلی اور سڑک پر نہ لائیں جائیں۔ جب اہل رائے سے مسائل غیر اہل رائے میں لائے جاتے ہیں تو، فکری انتشار اور عملی رذالت پیدا ہوتی ہے۔ یہ علم کا استحصال ہے۔ پھر مسائل زیر بحث کی عملی ضرورت کے لحاظ سے درست ترجیحات متعین ہوں۔ ان پر بات کرنے والے اس مضمون کے ماہرین ہونے لازم ہیں۔ بات کھل کر کی جائے۔ سنی بھی جائے اور سنائی بھی جائے۔ دلیل سے بات کی جائے اور دلیل کو سنا بھی جائے۔ اس کے ساتھ قوی تر دلیل کو تسلیم کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ اس طرح دلیل ہی کو حکم مانا جائے۔ فیصلہ کے لیے بنیاد اکثریت ہو اور نہ ہی تعصب اور مفاد کو پیش نظر رکھا جائے۔ decisive پوزیشن دلیل ہی کو حاصل ہو۔ اس ضابطہ کار کے تحت معاملات طے کرنے کا کلچر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں میں ایک حوالہ پیش کرنا چاہتا ہوں: 
یہ حوالہ سید امیر علی کا ہے۔ سید امیر علی قیام پاکستان سے پہلے ہائیکورٹ کے جج رہے۔ انہوں نے تین بڑی فاضلانہ کتابیں تحریر کی ہیں جن کے نام، سپرٹ آف اسلام، شارٹ ہسٹری آف سیری سنز اور محمڈن لا ہیں۔ ان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔ شاید اسی تعصب کا نتیجہ تھا کہ ان کی انتہائی فاضلانہ کتابیں ہمارے ہاں مارکیٹ میں جگہ نہیں پا سکیں۔ اس سلسلہ میں ان کی ایک کتاب محمڈن لا، اسلام کے شخصی قانون سے متعلق ہے۔ یہ کتاب ہمارے ہاں لا کالجوں کے نصاب کے لحاظ سے مرتب کی گئی۔ کتاب ہر لحاظ سے معیاری ہے مگر اسے کوئی جانتا ہی نہیں۔ اس کے مقابلے پر ایک پارسی،دنشا فریدون جی ملا (ڈی ایف ملا )نے بھی ’’پرنسلز آف محمڈن لا ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب ہمارے ہاں مارکیٹ میں چھائی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۸۵۲ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب ہمارے ہاں یونیورسٹی میں قانون کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے ایڈیشن ہر سال شائع ہوتے ہیں۔ سید امیر علی کی کتاب ہر لحاظ سے بہتر ہے مگر اسے کوئی جانتا بھی نہیں۔
بہرحال اس بحث سے میرا منشا محمڈن لا کی کتاب کے بارے میں کچھ کہنا نہیں۔ سید امیر علی نے اپنی ایک کتاب میں اپنی ایک آبزرویشن دی ہے، ایک اصول بیان کیا ہے۔ بس اسی کا ذکر کرنا ہے۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں انہوں نے فرمایا:
"He (Muhammed P.B.U.H) upheld the sovereignty of reason".
’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دلیل کی حاکمیت قائم کی‘‘۔
سید امیر علی کا یہ جملہ بظاہر ایک جملہ ہے مگر حقیقت میں یہ جملہ اپنے اندر اک جہانِ معنی رکھتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ پورے نظام استدلال کی بنیاد ہے۔ یہ اسلام کے اجتماعی اور سیاسی نظام کی روح کا بیان ہے۔ جس بلاغت اور جامعیت سے انہوں نے اس بنیادی اصول کو بیان کیا ہے، سیرت کے دیگر ذخائر میں ایسا اشارہ ملنا مشکل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جملہ کی گہرائیوں میں اتر کر اسلام کے حقیقی نظام اقتدار کی حدود دریافت کی جائیں۔ جمہوری اور شورائی نظام کی جن شکلوں کو ہمارے ہاں مختلف وجوہ اور حالات کے تحت قبول کر لیا گیا ہے،اس کا نتیجہ اس بنیادی اصول کی نفی ہے۔ تجربہ نے ثابت کیا ہے کہ جمہوری نظام کا خاصہ میرٹ، دلیل اور اہلیت کی نفی ہے۔ جھوٹ، بد دیانتی اور استحصال کا غلبہ ہے۔ اس میں جماعتی اور گروہی سوچ اور فکر کے تحت، دلیل کی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے کام کیا جاتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ جمہوریت نے جو شاہکار کیریکٹر پیدا کیے ہیں، وہ کس معیار کے لوگ ہیں۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر، بین الاقوامی ’’برادری‘‘ کے سامنے کیے گئے اپنے مواعید سے آج تک نہایت بے شرمی کے ساتھ مکرے جا رہا ہے۔ دنیا نے بھی پنڈت نہرو کی یقین دہانیوں کو بھلا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادیں ’’پرانی‘‘ ہو گئی ہیں۔ واجپائی بہت پڑھا لکھا شخص ہے۔ شاعر بھی ہے۔ چند سال پہلے، اس نے انتخابات میں ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے کس طرح پاکستان اور ہندوستان کی بھاری افواج کو سال ڈیڑھ سال تک آمنے سامنے رکھا۔ دونوں ایٹمی قوتیں ٹکراتے ٹکراتے رہ گئیں۔ آج امریکہ کے بش صاحب افغانستان اور عراق میں جمہوریت اور آزادی تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کس طرح اقوام عالم اور خود اپنے شہریوں کو دھوکہ دیا۔ جھوٹ کو اس ڈھٹائی سے بولا گیا کہ وہ سچ دکھائی دینے لگا۔ آخر کار میکیاویلی ان سب کا استاد ٹھہرا۔
میرا منشا یہ ہے کہ یہ پورا نظام استدلال کی نفی پر مبنی ہے جبکہ اسلامی نظام کا ہر شعبہ دلیل و استدلال کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کا سب سے بڑا اصول بھی دلیل ہے اور ہتھیار بھی۔ قرآن حکیم نے بار بار غور و فکر پر زور دیا ہے۔ ہر حقیقت کو واضح کرنے کے لیے دلیلِ روشن پیش کی ہے اور کفار کو دلیل لانے کا چیلنج دیا ہے۔ میں اس وقت اس بارے میں کسی تفصیلی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا مگر یہ حقیقت ہے کہ دلیل کی حاکمیت کا اصول ایسا زبردست اصول ہے کہ دنیا بھر میں اس کی حقانیت کو پیش کرنے کا بیڑا اٹھانے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔ اگر ہم علوم جدید و قدیم پر کامل دسترس کے ساتھ دلیل کی بالا دستی کے علمبردار بنیں تو دلیل کی قوت کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ اسے محض تعلّی نہ سمجھا جائے، ہم علم ، قلم اور سکرین کے ذرائع سے لیس ہو کر فاتح عالم بن سکتے ہیں۔ کل تک ہم اس پوزیشن میں تھے۔ ہمارے ہی علمی ذخائر سے استفادہ کر کے ہمیں پچھاڑا گیا ہے۔ ہمارے اپنے ہتھیار ہم پر استعمال ہوئے ہیں۔
بلا شبہہ دینی حلقوں میں مذکورہ بالا مسائل پر کھلا بحث و مباحثہ بھی غنیمت کے درجے کی چیز ہے، مگر بات غنیمت سے نہیں بنتی۔ میں نے ا وپر عرض کیا ہے کہ حالات میں عملی پہلوؤں سے ترجیحات کے درست تعین اور مسائل کے بارے میں بر وقت اور درست فیصلے اور ان کے مطابق درست اور دور رس عملی اقدات سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارا تمام تر لائحہ عمل مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے ایک موثر اور کامیاب حکمت عملی کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ انسانی ذہن دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ اس کو بھر پور طور پر استعمال کیا جائے تو کم سے کم وسائل میں بھی بڑے سے بڑے نتائج حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سائنسی تجزیے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ بڑے سے بڑے سائنسدان اور محقق نے بھی اپنے دماغ کا بہت ہی تھوڑا حصہ استعمال کیا ہے۔ اس نعمت خدا داد کے تھوڑے سے استعمال ہی سے اتنی بڑی ایجادیں دریافت ہوئی ہیں اور عظیم علمی حقائق سامنے آئے ہیں۔ ہمیں یکسوئی سے موثر اور نتیجہ خیز لائحہ عمل اختیا رکرنے کے لیے اپنے ذہن کے کسی حصے کو تو کام میں لانا چاہیے۔ 
ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ ہم لائحہ عمل بناتے ہیں تو وہ کسی گہری فکر اور عملی طور پر ایسی موثر حکمت عملی پر مشتمل نہیں ہوتا جو کامیابی کی ضمانت ہو۔ اس طرح جب ہمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم یہ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالی کو ایسا ہی منظور تھا۔ سوچ کا یہ انداز کسی طرح درست نہیں۔ اللہ تعالی نے اسباب کی دنیا بنائی ہے۔ ذرائع اور وسائل پیدا کر دیے ہیں۔ ہم ان کو پیدا نہیں کرتے، صرف ان کی جستجو کرتے ہیں۔ جستجو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ نتائج بھی اسی کی بنیاد پر ہوں گے۔ نتائج کے لیے ذمہ دار اور جوابدہ بھی ہونا ہو گا۔ عام آدمی اپنی صلاحیت کی حد تک ذمہ دار ہو گا۔ ذمہ دار حیثیت والے حضرات کی جواب دہی بھی اسی درجے کی ہوگی۔ ان کے لیے جواب دہی اور ذمہ داری میں رعایت نہیں ہو گی۔ جس درجہ ذمہ داری بڑھے گی، اسی درجہ جواب دہی بھی کڑی ہو جائے گی۔ اہل علم و دین، وراثت انبیا کے دعوے دار ہیں۔ اسی لحاظ سے ان پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اہل ایمان کی راہنمائی ان کا فرض منصبی ہے۔ اس رہنمائی کے لیے ان کا جدید و قدیم علوم سے آگاہ ہونا لازم ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے۔ کردار کے لحاظ سے ان کا معیار عام مسلمان کے معیار سے کہیں اونچا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ بلندی کردار کے ہوتے ہوئے زبان کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کردار کی خوشبو خود بخود دور دور تک پھیلتی ہے۔ لیکن کردار اگر بد بو دار ہو تو اس کی بد بو کو کوئی پھیلنے سے نہیں روک سکتا، خواہ اس اروڑی پر کوئی کتنی ہی مٹی ڈالے یا سپرے کرے۔ یہ سپرے کتنا ہی موثر کیوں نہ ہو، یہ امریکہ سے آیا ہوا ہی کیوں نہ ہو، اس بد بو کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جب یہ بد بو پھیلے گی تو دعوت و تبلیغ کی تمام تر پکاریں صدا بصحرا ہو جائیں گی۔ 
پھر اس میں بھی قرآن کا حکم واضح ہے جس کی رو سے فریضہ دعوت سب پر عائد نہیں ہوتا۔ دعوت و تبلیغ کا فریضہ، اپنے دائرہ کار کے اندر ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: 
وما کان المومنون لینفروا کافۃ فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون (۹:۱۲۲)
’’ یہ تو نہ تھا کہ سب ہی مسلمان نکل کھڑے ہوتے، تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتے جب ان کی طرف لوٹتے تاکہ وہ بھی بچتے۔‘‘
عمومی سطح پر اس فریضے کی ادائیگی کے لیے بڑے ہی عالم، فاضل اور صاحب بصیرت لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس کو ایک فن اور سائنس کے درجہ دیا جانا چاہیے۔ جس طرح طب، قانون اور انجینئرنگ کے شعبوں میں اعلیٰ صلاحیت، تعلیم، تربیت اور تجربہ درکار ہے، اسی طرح دعوت و تبلیغ کے شعبے کے لیے بھی بڑے ہی اعلیٰ درجے کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جو لوگ میدانِ دعوت میں آئیں، وہ میدان میں آنے سے پہلے دین میں بصیرت حاصل کریں۔ یہ پیشگی ضرورت ہے۔ بغیر اس کے آپ میدان میں اتریں گے تو قرآن کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔ 
یہاں تو دعوت کے میدان میں اترنے سے بھی بڑا مرحلہ در پیش ہے۔ زمانے کے چیلنجوں سے نبٹنا، بہت بڑا کام ہے۔ اس کے لیے اور بھی زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے۔ اس میں ایک بات بڑی اہم ہے اور وہ ہے بر وقت فیصلہ۔ میں اپنی بات کی تقویت کے لیے ماؤ زے تنگ کا ایک قول پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں، مگر اس سے پہلے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ عقل ودانش مومن کی گم شدہ میراث ہے۔ جدید دور میں ہمارے گرد و پیش میں تین لیڈر مانے ہوئے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح، ماؤ زے تنگ اور امام خمینی۔ ان میں سے ماؤ زے تنگ جدید طرز انقلاب میں بڑی اہمیت اور امتیازی شان رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 
"This is an age of war of quick decision."
’’یہ جلد فیصلے کی جنگ کا زمانہ ہے‘‘
اقبال نے بھی کہا ہے کہ:
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
مگر ہمارے ہاں عملی صورت یہ ہے کہ آج بھی یہ بحث موجود ہے کہ آیا لاؤڈ سپیکر پر اذان اور نماز ہو سکتی ہے یا نہیں۔ جواز کا قائل ہو جانے کے بعد، اس کے بے محابا استعمال کی بھی ایک تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ عریاں لٹریچر کی مد میں منٹو پر فرد جرم سو فی صد جائز مگر یہ حقیقت ہے کہ جنس ایسا موضوع ہے جس کی جستجو میں جبہ و دستار والے دوسروں سے کسی طرح کم نہیں۔ ٹی وی اور انٹر نیٹ اور سی ڈیز اور دیگر جدید ذرائع کے استعمال کی بحث تو بحث کرنے والوں کے لیے ہے مگر ان کے مثبت اور منفی استعمال کو روکنا کس کے بس میں ہے۔ وہ جواں عزم بھی ہیں جنہوں نے ایک سی ڈی میں کتنے صحاح جمع کر دیے ہیں۔ ٹی وی اور انٹر نیٹ پر مثبت کام بھی ہو رہا ہے۔افسوس یہ ہے کہ چرچا مثبت کا نہیں، منفی کام کا ہے۔ شکست خوردہ ذہنیت کی وجہ سے ہم خود بھی تمام تر چرچا تنقید کے رنگ میں منفی پہلوؤں ہی کا کرتے ہیں۔ 
ایک اور پہلو سے دیکھ لیں۔ معاشرے میں کرپشن کا کتنا چرچا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ معاشرے سے دیانت و امانت ناپید ہو گئی ہے؟ نہیں، اس کی عظیم الشان مثالیں تلاش کرنا پڑتی ہیں،لیکن ان کو کوئی تلاش کرتا ہے اور نہ ان کا چرچا ہوتا ہے۔ کرپشن والے تو معاشرے کے کندھوں پر سوار ہیں۔ ہم مثبت طرز عمل کے بجائے ان پر تنقیدی رویہ اختیار کر کے انہی کے چرچے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ مجموعی طور پر آج بھی ہمارے معاشرے کی بڑی اکثریت (حالات کی مجبوری کے تھوڑے سے الاؤنس کے ساتھ) دیانت و امانت سے کام لیتی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ تمام تر کھیل با اثر طبقات کے درمیان ہے۔ ہم بھی انہی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ مثبت کھیل کے لیے کوئی میدان رہا ہے، نہ کھیل اور نہ کوئی کھیل کا سامان۔ نمایشی کاموں نے ہمیں کسی کام کا نہیں چھوڑا۔ عام سطح پر لوگ آج بھی بہتر کردار کے حامل ہیں، مگر جہاں کسی کو کوئی اختیار، اثر یا حیثیت میسر آئی، وہ ہر حد سے گزرنے پر بے چین نظر آتا ہے۔ بے چینی حل نہیں۔ قرار کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے بہتر پوزیشن والوں کو دوسروں کے کھیل میں، ان کے میدان میں، ان کے رولز آف گیم میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنا الگ میدان لگانا چاہیے۔ سامان کھیل بھی ہمارا اپنا ہو اور رولز بھی اپنے۔ اس کے لیے 
چیتے کا جگر شاہیں کا تجسس چاہیے
چودہ پندرہ صدیوں کی تاریخ میں جد وجہد کے دوران، عزیمت و عظمت کی روشن مثالیں موجود ہیں مگر یہ سب کچھ تاریخ کا سرمایہ ہے۔ یہ سرمایہ بہت ہو چکا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کا رخ پلٹ دیاجائے۔ اس کا دھارا تبدیل ہو۔ یہ درست ہے کہ آج تک 
ہوئی نہ جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب اس کا یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
مگر یہ تو ماضی کا تجزیہ ہے۔ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو؟ ایسے لائحہ عمل پر گفتگو ہو تو اک زمانہ سنے گا۔ سنے گا ہی نہیں کان بھی دھرے گا اور زمانے کا رخ بھی پلٹ کر رہے گا۔
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
عابد کالونی کھوکھر کی، گوجرانوالہ
(۲)
۲۵؍ستمبر ۲۰۰۵
محترم محمد عمار خان ناصر صاحب، السلام علیکم
امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا اعزازی شمار باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ ستمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان کا مضمون ’انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن‘ پڑھا۔ میری رائے میں قرآن ماسوائے انسان کے، کسی دوسری نوع کے متعلق صراحت سے یہ نہیں بتاتا کہ اسے special creation کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس لیے دیگر جانداروں کی تخلیق کے متعلق اگر نظریہ ارتقا کو درست مان لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ تخلیق آدم کے معاملے میں نظریہ ارتقا نصوص قرآنی سے ٹکراتا ہے۔ سورۃ آل عمران میں ہے:
’’اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے۔ اس نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ہو جا اور وہ ہو گیا۔‘‘
گویا حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر والدین کے پیدا کیا گیا۔ یاد رہے کہ نظریہ ارتقا ایک سائنسی اصطلاح ہے اور اس اصطلاح کو اسی معنی میں استعمال کرنا چاہیے جس کے لیے اسے وضع کیا گیا ہے۔ ارتقا ایک نوع کے، نسلاً بعد نسل، کسی نئی نوع میں تبدیل ہونے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔ بعض اہل علم اس اصطلاح کو ان معانی میں استعمال کرنے کے بجائے اپنے اس تصور کی وضاحت کے لیے کرتے ہیں جس کے مطابق حضرت آدم تراب، طین اور طین لازب کے مختلف مراحل سے گزر کر انسانی وجود میں آئے۔ بہتر ہے کہ اس نظریے کو ارتقا کے بجائے کوئی اور نام دیا جائے، اس لیے کہ حیاتیات میں ارتقا اس طرح کے کسی عمل کا نام نہیں ہے۔
والسلام
محمد عزیر بھور
۹۰۔ اے۔۵، پی۔ جی۔ ای۔ سی۔ ایچ۔ ایس،
ٹاؤن شپ لاہور
(۳)
محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
ایڈیٹر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ ا..... وبرکاتہ مزاج گرامی!
آپ کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا مئی ۲۰۰۵ کا شمارہ ان دنوں ہمارے زیر نظر ہے جس کے صفحہ نمبر ۲۱ پر ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون موجود ہے جس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ (جسے بعد میں تحریک جعفریہ سے موسوم کیا گیا) کی تشکیل وکردار کے بارے میں بعینہ وہی موقف دہرایا گیا ہے جو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تشکیل کے بعد خفیہ ایجنسیوں نے اختیار کیا اور پھر ا س کی نشر واشاعت سپاہ صحابہ کے لٹریچر اور اس کے ذمہ داران کے ذریعے کرائی گئی جو سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔
ہمیں تعجب ہے کہ دیوبند مکتب فکر کے دانش ور اور سنجیدہ افراد بھی اس پروپیگنڈا مہم کا شکار ہیں اور ایجنسیوں اور ایک متعصب گروہ کے موقف کے حامی ہیں۔ بغیر دلیل کے اس طرح کا نظریہ قائم کرنا قرآنی احکامات کے قطعاً مطابق نہیں ہے۔ فرقہ واریت کی وجوہ کی تلاش میں موصوف سے جو چوک ہوئی ہے، اس میں ہم ان کی بہتر مدد کر سکتے ہیں۔ خداوند کریم ہمیں سچ بولنے، سچ سننے اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام
سید عبد الجلیل نقوی
مسؤل روابط
قائد ملت جعفریہ پاکستان
۱۰؍ اکتوبر ۲۰۰۵

افتخار عارف کی شاعری

پروفیسر شیخ عبد الرشید

اردو شاعری کی ارتقائی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جدید اردو شاعری کا آغاز مولانا الطاف حسین حالی سے ہوا جسے اقبال اور فیض نے بام عروج تک پہنچایا۔ جہاں تک جدید نظم کے ابتدائی سفر، عہد وسطیٰ اور عہد حاضر کا تعلق ہے تو ان تمام سفری مراحل کی منزلیں ن۔ م۔ راشد کے نام پر آ کر رک جاتی ہیں۔ انھوں نے اس صنف کے ضمن میں ایسے تجربات کیے کہ جدید نظم ان کے نام سے منسوب ہو کر رہ گئی ہے۔ اگرچہ آج کی غزل میں غالب کے مروجہ افکار واسالیب اور ن۔ م۔ راشد کے متنوع اسالیب سے روشنی حاصل کی جا رہی ہے، تاہم تیزی سے بدلتی ہوئی سماجی قدروں نے نظم اور غزل ہر دو کے مقاصد ومطالب میں واضح تبدیلی اور ضرورت پیدا کی ہے جس سے ایک نیا راستہ نئی منزل کی طرف نکلا ہے۔ افتخار عارف اسی راستے کے تازہ دم مسافر ہیں۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’مہر دو نیم‘‘ ۱۹۸۰ کی دہائی میں ادبی حلقوں سے داد وتحسین وصول کر چکا ہے۔ لگ بھگ ایک عشرے کی طویل شعری مسافت کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’حرف باریاب‘‘ مئی ۱۹۹۴ میں شائع ہوا۔ ۱۳۲ صفحات کی اس دلکش کتاب میں ۴۲ غزلیں، کچھ نظمیں اور متفرق اشعار ہیں۔ ’’مہر دو نیم‘‘ کے پس ورق پر فیض نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ افتخار عارف کی شاعری کے مستقبل کا دار ومدار ان کی شعری ریاضت پر ہے، چنانچہ ’’حرف باریاب‘‘ میں افتخار عارف سعادت مندی کے ساتھ فیض کے اس مشورے کو گرہ میں باندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کلام میں نغمگی، نئے استعاروں کی تلاش اور اظہار میں انفرادیت ریاضت کی واضح دلیل ہے۔ مندرجہ بالا اوصاف کی دلیل میں ان کی شاعری سے کئی اشعار تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
تری بلا سے گروہ جنوں پر کیا گزری
تو اپنا دفتر سود وزیاں سنبھال کے رکھ
ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ
یہ کثیر المفہوم اشعار ہیں۔ افتخار عارف اپنی سرزمین سے بے پناہ لگاؤ کا واضح اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کے ریگ زاروں کو گراں مایہ سرمایہ قرار دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ، ہاتھ میں کشکول لیے کسی فیض کے حصول کے لیے قطار میں کھڑا ہونا بھی گوارا نہیں کرتے۔ 
شعری ریاضت کی کچھ اور مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو
مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا
یہ شعر، شاعری میں تلمیح باندھنے کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ یہ شعر دیکھیے:
یہ رات یوں ہی تو دشمن نہیں ہماری کہ ہم
درازئ شب غم کے سبب سے واقف ہیں

کسی پندار شکستہ کا بھرم تو رہ گیا
اب یہ بات اور کہ خود قیمت پندار گری
حرف کی حرمت اور توقیر شاعر کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ افتخار عارف نے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اشعار تخلیق کیے ہوں کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ سے مراعات یافتہ شہروں، لندن اور اسلام آباد میں رہ رہے ہیں، تاہم حرف کی تلاش میں انھوں نے ریگ زاروں کا بھی ایک طویل سفر کیا ہے۔
یہ سارے ادب آداب ہنر یونہی تو نہیں آ جاتے
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لیے
افتخار عارف، فیض سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں فیض کو بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ کہیں مضامین میں اور کہیں فکر وفن کے حوالے سے۔ اپنی ایک غزل ’’نذر فیض‘‘ میں فیض سے اپنی عقیدت کا برملا اظہار بھی انھوں نے کیا ہے۔ اس غزل کا ایک لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ یہ غزل غالب کی زمین میں کہی گئی ہے۔ پھر اسی زمین میں فیض نے ایک غزل ’’نذر غالب‘‘ کہی ہے۔ غالب نے کہا کہ:
زمانہ سخت کم آزار ہے بجان اسد
وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے تھے
فیض نے یوں کہا کہ:
غم جہاں ہو، غم یار ہو یا تیر ستم
جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
افتخار عارف کہتے ہیں:
جو فیض سے شرف استفادہ رکھتے ہیں
کچھ اہل درد سے نسبت زیادہ رکھتے ہیں
افتخار عارف کی اس غزل کا مقطع بجائے خود فیض اور غالب سے ان کی عقیدت کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ فکر وفن پر ان کی دسترس کا بآواز بلند اعلان بھی کرتا ہے۔ غالب کا مصرعہ اولیٰ، فیض کا مصرعہ ثانی اور افتخار عارف کا کمال فن یکجا ہو تبھی ایسا شعر تخلیق ہو سکتا ہے۔شعر دیکھیے:
بنام فیض، بجان اسد فقیر کے پاس
جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
فیض جیسے شاعر کی تقلید ایک ماہر فن شاعر ہی کر سکتا ہے، تاہم افتخار عارف نے اپنی انفرادیت کے لیے ایک الگ راستے کا تعین بھی کر رکھا ہے اور وہ ہے سعادت مندی کا راستہ جو بہت کم شعرا کے حصے میں آیا ہے۔ اکثر شعرا تو خود ستایشی کے مصنوعی خول سے ہی باہر نہیں نکل پاتے۔ شعر دیکھیے:
زندگی نذر گزاری تو ملی چادر خاک
اس سے کم پر تو یہ نعمت نہیں ملنے والی
یہ زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
اس کہانی سے تو عزت نہیں ملنے والی
موصوف کی غزلوں کا مزاج وماحول، ان کی لغت، ان کے حسی تجربے اور ان تجربوں کے اظہار کا پیرایہ دوسروں سے مختلف ہے اور روح عصر کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ بھی۔
افتخار عارف بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، تاہم اپنی نظموں میں بھی انھوں نے جو جدت اپنائی ہے، وہ انھیں اپنے ہم عصر نظم گو شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ نظموں کی بات طوالت کی متقاضی ہے، اس لیے مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق افتخار عارف کی مقبول نظم ’’خوں بہا‘‘ کا یہ آخری بند ملاحظہ کیجیے:
خلق ہم سے کہتی ہے سارا ماجرا لکھیں
کس نے کس طرح پایا اپنا خوں بہا لکھیں
چشم نم سے شرمندہ
ہم قلم سے شرمندہ سوچتے ہیں کیا لکھیں
شاعر کا یہ بند جہاں خلقت کی ان توقعات کی عکاسی کرتا ہے جو وہ تخلیق کار سے جبر وظلم کے خلاف رکھتی ہے، وہیں لوح وقلم کی مجبوری اور خوف سلاسل کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ فکر ایسے سماج کی عکاسی کر رہی ہے جہاں فریضہ تخلیق اور حرمت قلم کو نبھانا مشکل ہے، اس لیے قلم کار، قلم سے شرمندہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس نمونے سے ہی افتخار عارف کی نظموں کے مضامین، مزاج اور لہجے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
حقیقی شاعری احساس کی ریاضت اور وجدان کا وہ بے پایاں خلوص ہے جو فن کا پہلا اور آخری سوال ہے۔ اس ریاضت اور خلوص کی بدولت ہی شاعر محبت کے جان لیوا کرب کو سہہ جاتا ہے۔ افتخار عارف نے غم عشق اور غم زندگی کا صحت مندانہ اور شفا بخش تصور پیش کیا ہے۔ ان کی شاعری کا مجموعی مزاج خالص فکری ہے۔

اخبار و آثار

ادارہ