مئی ۲۰۰۵ء

خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تاریخی افسانے اور ان کی حقیقتپروفیسر شاہدہ قاضی 
پروفیسر عابد صدیق مرحوم کی یاد میںپروفیسر ظفر احمد 
شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حلڈاکٹر محمد امین 
جہاد اور دہشت گردی : عصری تطبیقاتادارہ 
بھارت میں ٹی وی کے جواز و عدم جواز کی بحثادارہ 
مکاتیبادارہ 
تعارف و تبصرہادارہ 

خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کا تاریخ کے ریکارڈ پر اس اہتمام اور اعتماد کے ساتھ محفوظ رہنا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تاریخی امتیاز واختصاص کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں اسلام کے اعجاز اور اس کی حقانیت وابدیت کی دلیل بھی ہے کہ نہ صرف یہ کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال واقوال اور ارشادات وفرمودات پورے اہتمام اور استناد کے ساتھ موجود ومحفوظ ہیں بلکہ ان کے نقل وفہم اور ان سے استدلال واستنباط کے عمل میں کسی بھی درجہ میں شریک ہونے والے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کے حالات وکوائف بھی تاریخ نے اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر رکھے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی فعل، قول اور احوال وظروف سے نسبت رکھنے والے کسی بھی شخص کے حالات اور کردار کے بارے میں ضروری معلومات کسی بھی وقت تاریخ کے ریکارڈ سے طلب کی جا سکتی ہیں جبکہ اس حوالہ سے اسماء الرجال کا علم اسلام اور مسلمانوں کی ایسی خصوصیت ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔
دنیا کے تمام ادیان ومذاہب میں اسلام وہ واحد دین ہے جس کے پاس اس کی تعلیمات کسی ترمیم وتحریف اور تبدیلی کے بغیر اصلی حالت میں موجود ہیں اور پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ ترین درجات تک ہر سطح پر یہ تعلیمات تدریس، تحقیق اور تبلیغ واشاعت کے مراحل سے وسیع پیمانے میں ہر وقت گزرتی ہیں جس کی وجہ سے تحریف اور ترمیم کا کوئی بھی حملہ ان کے دائرے میں در اندازی کی گنجائش نہیں پا رہا اور وہ ایک زندہ، متحرک اور توانا نظام تعلیم واصلاح کی صورت میں آج کے زوال پذیر دور میں بھی مسلم معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
دنیا کے ہر مذہب کی تعلیمات انحراف وترمیم کے مراحل سے گزر چکی ہیں اور اسلام کے سوا کوئی مذہب بھی اس وقت دنیا کے مسلمہ اور معیار کے مطابق اس دعویٰ کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس کے پاس اس کی بنیادی تعلیمات اصلی حالت میں موجود ہیں مگر اسلام پورے اعتماد وحوصلے کے ساتھ آج بھی عالمی فورم پر اس دعوے کے ساتھ کھڑا ہے کہ اس کے پاس نہ صرف قرآن کریم اسی اصلی حالت میں موجود ہے جس طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے اولین شاگردوں صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا بلکہ قرآن کریم کی تعبیر وتشریح میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، احوال اور سیر وسوانح بھی اس مکمل اعتماد اور معیار کے ساتھ موجود ہیں جسے آج کی دنیا بھی تسلیم کرتی ہے اور جسے کسی بھی تاریخی ذخیرہ اور دستاویز کے مستند اور صحیح ہونے کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
قرآن کریم کو اپنے متن اور الفاظ کے لحاظ سے ایک محفوظ اور مستند دستاویز کا درجہ حاصل ہے اور اس کے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے کا سسٹم ایسا فول پروف ہے کہ اس میں کسی قسم کی در اندازی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے، اس لیے فطری طور پر ان عناصر کا رخ اس کی تعبیر وتشریح کے نظام کے مجروح کرنے کی طرف ہی مڑنا تھا جو دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کی تعلیمات کو بھی انسانی خواہشات اور عقل وظن کی سان پر چڑھا دینے کے خواہش مند تھے۔ چنانچہ قرآنی تعلیمات کو نئے معانی پہنانے اور نت نئی تعبیرات وتشریحات سے روشناس کرانے کے لیے گزشتہ دو تین صدیوں کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا اور آج بھی کیا کچھ نہیں ہو رہا لیکن جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسوانح اور سنت وحدیث کا عظیم ذخیرہ اور ان کی چھان پھٹک کا بے مثال نظام اسلامی تعلیمات کے گرد ایسا مضبوط ومستحکم حفاظتی پشتہ ثابت ہو اہے کہ اس نے تحریف والحاد کے ہر طوفان کا رخ موڑ دیا ہے اور اسلامی عقائد واحکام کا پرچم ملی زندگی کے دیگر تمام شعبوں کی زبوں حالی کے باوجود آج بھی پوری آب وتاب کے ساتھ یہ کہتے ہوئے لہرا رہا ہے کہ
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
محدثین ومورخین نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث اور سیرت وسوانح کے سینکڑوں پہلوؤں پر جو عظیم الشان کام کیا ہے اور فقہاء کرام نے اس بحر ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر حکمت ودانش اور استنباط واستدلال کے انمول موتیوں کے جو انبار لگا دیے ہیں، اس پر تاریخ کے اس عملی خراج کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ احادیث کے ذخیرے کو محفوظ رکھنے والے محدثین کرام، اسماء رجال سے تعلق رکھنے والے مورخین وناقدین اور استنباط واستدلال کے شناور فقہاء عظام نے ہر دور میں اس زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث وسنن کی حفاظت وروایت، تدوین وترتیب اور استدلال واستنباط کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ آپ گزشتہ چودہ صدیوں میں سے کسی بھی صدی میں ان حوالوں سے ہونے والے علمی کام کو سامنے رکھ لیں، آپ کو اس میں سابقہ طریق کار سے مختلف اسلوب نظر آئے گا، جدت دکھائی دے گی اور تنوع کے نئے افق آپ کی نگاہوں کے سامنے آئیں گے کیونکہ زمانہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے، انسانی سوسائٹی کی نت نئی ضروریات سامنے آتی رہتی ہیں، سائنسی انکشافات سے علم ومعلومات کا دائرہ وسیع تر ہوتا رہتا ہے اور انسانی ذہن کی پرواز کی سطح بلند تر ہوتی چلی جاتی ہے، لیکن بد قسمتی سے کچھ عرصہ سے ہم نے ایک جگہ رک جانے اور اگلے مراحل سے آنکھیں اور کان بند کر لینے کو بزرگوں کی ’’روایت‘‘ سمجھ رکھا ہے حالانکہ اس کا نام روایت نہیں ہے اور ہمارے اسلاف میں، خواہ وہ محدثین ومفسرین ہوں، مورخین وناقدین ہوں یا فقہاء ومجتہدین ہوں، کسی دور میں بھی اس طرح کے ’’جمود‘‘ کی روایت نہیں رہی۔ ہماری روایت تو تحرک کی ہے، پیش رفت کی ہے اور مسائل ومشکلات کا سامنا کرنے کی ہے بلکہ میں اس سے بھی آگے بڑھ کر عرض کروں گا کہ ہمارے فقہاء عظام نے صرف حال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھانپتے ہوئے ’’فقہ فرضی‘‘ اور ’’فقہ تقدیری‘‘ کا ایسا عظیم الشان ذخیرہ قرون ماضیہ میں امت کے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم آج تک اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔
اس پس منظر میں اگر حال اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تو تقاضوں کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے اور میرے خیال میں اس موضوع پر علمی مذاکروں اور مباحثوں کی صورت میں باہمی مشاورت کے ساتھ وہ فہرست ضرور بننی چاہیے کہ تقاضوں اور ضروریات کی نشان دہی اور ان کے سامنے آنے کے بعد ہی انہیں پورا کرنے کا احساس بیدار ہوتا ہے مگر یہاں ان میں سے مثال کے طور پور دو تین پہلوؤں کا تذکرہ مناسب سمجھوں گا، اس امید پر کہ شاید ہماری علمی شخصیات اور ادارے اس طرف متوجہ ہوں اور اس حوالے سے نہ صرف مستقبل بلکہ حال کا بھی بہت سا قرض جو سنت وحدیث کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ارباب علم ودانش کے ذمہ واجب ہے، اس کی ادائیگی کی کوئی صورت نکل آئے۔
جہاں تک احکام ومسائل کا تعلق ہے، اس حوالے سے مختلف ممالک میں کام ہو رہا ہے اور جدید پیش آمدہ مسائل کا قرآن کریم اور سنت وحدیث کی روشنی میں حل تلاش کرنے کی طرف متعدد ادارے اور علمی حلقے متوجہ ہیں۔ اگرچہ اس میں بھی ابھی تنوع اور توسع کے بہت سے پہلو تشنہ ہیں جن کی طرف توجہ کی ضرورت ہے لیکن اس شعبہ میں کچھ نہ کچھ کام بہرحال ہو رہا ہے اس لیے اسے نظر انداز کرتے ہوئے فکری اور تہذیبی راہ نمائی کے اس خلا کی طرف ارباب علم ودانش کو توجہ دلانا چاہوں گا جو عالمی تہذیبی کشمکش کے موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے اور جس کے منفی اثرات پوری ملت اسلامیہ کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں عرب دنیا میں خاصا کام ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ہوا ہے مگر یہ کام روایتی حلقوں سے ہٹ کر شخصیات کے حوالے سے ہے جس کے اثرات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے لیکن اصل ضرورت روایتی حلقوں کی بیداری کی ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت کا عقیدت واطاعت کا تعلق انہی سے ہے اور امت کو بحیثیت امت کسی طرف متوجہ کرنے کے لیے روایتی حلقے ہی سب سے زیادہ موثر اور بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں خود روایتی حلقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، روایتی حلقوں کی نمائندگی بلکہ دفاع بھی کرتا ہوں لیکن مجھے اس اعتراف میں کوئی باک نہیں ہے کہ اس راہ میں بعض ایسے سخت مقام ضرور آتے ہیں کہ نمائندگی اور دفاع دونوں کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں اور بڑی مشکل سے قدموں کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
اس کے بعد میں مثال کے طور پر ان دو تین پہلوؤں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن کے بارے میں میری طالب علمانہ رائے میں زیادہ اہتمام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وتعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کی راہ نمائی ان شعبوں میں وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
سب سے پہلے امت مسلمہ کی اخلاقی حالت کا مسئلہ ہے جو آج کسی طرح بھی اس قابل نہیں ہے کہ اس کا اچھے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ افراد اور کچھ طبقات ہر دور میں اور ہر قوم میں مستثنیٰ رہے ہیں اور رہتے ہیں لیکن ملت بحیثیت ملت اخلاقی لحاظ سے جس سطح پر پہنچ گئی ہے، اس نے ہمیں اقوام عالم کی برادری میں نیک نام نہیں رہنے دیا۔ اخلاقیا ت کا تعلق سیاست سے ہو یا تجارت سے، معاشرت سے ہو یا مذہب سے، تعلیم سے ہو یا ملازمت سے، صنعت سے ہو یا اجارہ سے، کہیں بھی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ ہمارے داخلی معاشرتی دائروں میں جو صورت حال ہے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے لیکن دوسری اقوام کے معاشرے میں جا کر ہم جو گل کھلا رہے ہیں، اس نے تو لٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ میں ایک مثال سے اپنی بات واضح کرنا چاہوں گا کہ برطانیہ میں ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ وہ کوئی کام کاج تو کرتے نہیں ہیں، گزارا کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے بڑی بے تکلفی سے کہا کہ بس ’’مال زکوٰۃ‘‘ سے گزارا ہو جاتا ہے۔ میں نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے بے روزگاری کا جو وظیفہ ملتا ہے، وہ لیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کا قانوناًاس وظیفے کا استحقاق بنتا ہے؟ تو فرمایا کہ ’’چھڈو جی، کافر نیں۔ اینہاں نوں جناں لٹ سکدے ہو، لٹو‘‘ (چھوڑو جی، یہ کافر ہیں۔ انہیں جتنا لوٹ سکتے ہو، لوٹو)
ظاہر ہے کہ اسی قسم کے طرز عمل کے ساتھ ہم دنیا کے غیر مسلم معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے تعارف کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اب اس بات کو ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ وسیرت اور سنن واحادیث کے حوالے سے دیکھیں تو معاملہ انتہائی سنگین ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے تشریف لائے ہیں اور شخصی، خاندانی، معاشرتی اور بین الاقوامی چاروں حوالوں سے اخلاقی تعلیمات کا جس قدر وسیع اور متنوع ذخیرہ اور اسوہ ونمونہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وسیرت میں ملتا ہے، دنیا کے کسی اور مذہب یا شخصیت کے پاس اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے مگر ہمارے ہاں ان کا تذکرہ محض برکت وثواب کے لیے ہوتا ہے۔ اپنے احوال وظروف پر ارشادات نبوی کا اطلاق اور سنت وحدیث کی روشنی میں اپنے طرز عمل کی اصلاح کا کوئی احساس اجتماعی طور پر ہمارے حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ملی اور بین الاقوامی دونوں حوالوں سے اپنی اخلاقی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کریں، انہیں بے نقاب کریں اور ایک ملی تحریک کے طو پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیمات کو آج کے معروضی حالات وضروریات کے تناظر میں جدید اسلوب اور انداز کے ساتھ امت کے ہر فرد تک پہنچانے اور اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔ اس سے نہ صرف دوسری قوموں کے سامنے ہمارا تعارف بہتر ہوگا بلکہ ہمارے بہت سے داخلی مسائل ومشکلات بھی خود بخود فضا میں تحلیل ہو کر رہ جائیں گے۔
اس ضمن میں اس بات کا تذکرہ بھی شاید نا مناسب نہ ہو کہ سینکڑوں احادیث نبویہ میں معاشرتی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب ونتائج کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے اور بہت سی احادیث میں نتائج وعواقب کا ذکر کر کے معاشرتی خرابیوں سے روکا گیا ہے۔ ایسی احادیث کو زیادہ نمایاں طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً صاحب مشکوٰۃ نے ’’باب تغیر الناس‘‘ کی آخری حدیث موطا امام مالک کے حوالے سے بیان کی ہے جو حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کے قول کی صورت میں ہے لیکن اپنے مفہوم ومعنی کے لحاظ سے محدثین کرام کے اصول کے مطابق مرفوع حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ :
۱۔ جس قوم میں خیانت عام ہو جائے، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ دشمن کا رعب ڈال دیتے ہیں۔
۲۔ جس قوم میں زنا عام ہو جائے، اس میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے۔
۳۔ جو قوم ماپ تول میں کمی کرنے لگ جائے، اس سے رزق منقطع کر لیا جاتا ہے۔
۴۔ جس قوم میں ناحق فیصلے ہونے لگیں، اس میں خانہ جنگی پھیل جاتی ہے۔
۵۔ اور جو قوم عہد توڑ دے، اس پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔
اس نوعیت کی بہت سی روایات ہیں جن میں معاشرتی جرائم کے نتائج وعواقب کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کو اہتمام کے ساتھ اور اجتماعی تحریک کی صورت میں سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
دوسرا پہلو جو ارباب علم ودانش کی ترجیحی توجہ کا مستحق ہے، وہ آج کا عالمی ماحول ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے اور تہذیبوں کے اختلاط کا دور ہے کیونکہ فاصلے اس قدر سمٹ گئے ہیں کہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان صدیوں سے قائم سرحدیں پامال ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں جبکہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان حدود اور فاصلوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، منطقی طور پر یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کہ مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے دور میں اسلام کیا راہ نمائی کرتا ہے؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وارشادات میں اس بارے میں واضح راہ نمائی موجود ہے اور احادیث کے ذخیرے میں بہت سی روایات پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گاجو امام بخاریؒ نے کتاب النکاح، باب عظۃ الرجل بنتہ اور بعض دیگر ابواب میں بیان کی ہے اور اس تفصیلی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے بہت سے خاندان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو مہاجرین اور انصار کی خاندانی روایات میں واضح فرق موجود تھا۔ مہاجرین کے ہاں کسی عورت کا خاوند کو کسی بات پر ٹوکنا یا اس کی کسی بات کو رد کرنا سرے سے متصور نہیں تھا جبکہ انصار کے خاندانوں میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ خاوند کو کسی بات پر ٹوک سکتی ہیں، کسی بات کا جواب دے سکتی ہیں اور کسی بات سے انکار بھی کر سکتی ہیں۔ حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک روز ان کی بیوی نے کسی بات پر ٹوک دیا تو انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹا۔ بیوی نے جواب دیا کہ مجھے ڈانٹنے کی ضرورت نہیں، یہ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی ہوتا ہے کہ ان کی ازواج مطہرات کسی بات پر ٹوک دیتی ہیں اور کسی بات کا جواب بھی دے دیتی ہیں۔ حضرت عمر نے اسے اس بات سے تعبیر کیا کہ انصار کی عورتوں کی عادات ہماری عورتوں پر اثر انداز ہوتی جا رہی ہیں چنانچہ حضرت عمرؓ اسی غصے کی حالت میں سیدھے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے گھر پہنچے جو ان کی بیٹی تھیں اور انہیں سمجھایا بجھایا کہ ایسا مت کیا کرو۔ وہ تو بیٹی تھیں، خاموش رہیں مگر یہی بات جب حضرت عمرؓ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے کہنا چاہی تو انہوں نے آگے سے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ’’آپ نے میاں بیوی کے معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صرف یہ فرمایا کہ ’’آخر ام سلمہ ہے‘‘۔
یہ دو علاقائی ثقافتوں اور معاشرتی روایات کے اختلاط اور ٹکراؤ کا قصہ ہے اور میری طالب علمانہ رائے ہے کہ تہذیبوں کے اختلاط اور مختلف ثقافتوں کے باہمی میل جول کے مسائل میں یہ روایت اصولی اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے جس سے ہمیں راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے اور دور نبوی کے اس طرز کے واقعات اور روایات واحادیث کی روشنی میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں اصول وضوابط وضع کرنے چاہییں کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تال میل میں کہاں ایڈجسٹ منٹ کی گنجائش ہے، کہاں صاف انکار کی ضرورت ہے اور کہاں کوئی درمیان کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ یہاں میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے دین اور ثقافت کے درمیان حد فاصل قائم نہیں رہنے دی اور بہت سے معاملات میں دونوں کو گڈمڈ کر دیا ہے حالانکہ دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ دین کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے جبکہ ثقافت کی بنیاد ایک علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان خود بخود تشکیل پا جانے والی معاشرتی اقدار وروایات پر ہوتی ہے اور اس کا سرچشمہ سوسائٹی اور اس کا ماحول ہوتا ہے مگر ہم نے بعض معاملات میں اپنی علاقائی ثقافتوں پر دین وشریعت کا لیبل لگا کر انہیں ساری دنیا سے ہرحال میں منوانے کی قسم کھا رکھی ہے جس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
سنت وسیرت اور احادیث کے بیش بہا ذخیرے میں ان معاملات میں مکمل راہ نمائی موجود ہے مگر ہماری حالت یہ ہے کہ خود محنت کر کے بزرگوں کی کمائی میں اضافہ کرنے کے بجائے بزرگوں کی محنت اور کمائی سے ہی گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تیسرا پہلو جس کا ذکر احادیث نبویہ کے وسیع ذخیرہ سے آج کے حالات کے تناظر میں استفادہ کے لیے کرنا چاہتا ہوں، وہ فتنوں اور آثار قیامت کے بارے میں جناب نبی اکرم ﷺ کے وہ ارشادات ہیں جو پیش گوئیوں کے طور پر معجزات کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں ہمارے لیے ایمان کی تازگی اور پختگی کے ساتھ ساتھ راہ نمائی کا بھی مکمل سامان موجود ہے۔ اس سلسلے کے سینکڑوں ارشادات نبویہ میں سے مثال کے طور پر مسلم شریف کی کتاب الفتن کی ان بعض روایات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرات کے کنارے سونے کا پہاڑ دریافت ہونے اور اس کے حصول کے لیے مختلف اقوام کے درمیان خونریز جنگوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور انہی میں سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی دو روایات میں مغربی اقوام کی طرف سے عراق کی اقتصادی ناکہ بندی اور اس کے ساتھ شام اور مصر کی اقتصادی ناکہ بندی کی صراحت بھی موجود ہے۔ یہ اور اس قسم کی بیسیوں دیگر روایات ہمارے آج کے حالات کی عکاسی کرتی ہیں اور بہت سے معاملات میں ہمیں راہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔
گلوبلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی ماحول اور مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے اختلاط اور ٹکراؤ کے موجودہ تناظر میں بہت سے پہلوؤں سے سنن واحادیث نبویہ کے ازسرنو وسیع تر مطالعہ اور اس عظیم ترین علمی ودینی ذخیرہ سے راہ نمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں۔

تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت

پروفیسر شاہدہ قاضی

کیا دیو مالا کا تاریخ سے کوئی تعلق ہے؟ کیا دیو مالا اور تاریخ ہم معنی الفاظ ہیں؟ یا کیا تاریخ دیومالا ہی کا نام ہے؟ یہ بات مانی جاتی ہے کہ دونوں کے مابین فرق بہت باریک سا ہے۔ نا معلوم زمانے سے انسان اپنی اساسات کی تلاش میں مصروف ہے۔ وہ اس کوشش میں بھی مصروف رہا ہے کہ قدیم زمانے کی داستانوں کی، جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں، کوئی حقیقی اور قابل فہم بنیاد تلاش کر لے۔ نتیجے کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کنگ آرتھر کے وجود کو ثابت کرنے، ٹرائے شہر کا محل وقوع معلوم کرنے اور اس مقام کو دریافت کرنے کے لیے جہاں متعین طور پر کشتی نوح جا کر رکی تھی، متعدد مہمیں منظم کی گئی ہیں۔ ۶۰ اور ۷۰ کی دہائی میں پوری دنیا میں ایک تحریک چلی تھی جس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ قدیم دیومالا کے دیوتا فی الواقع وجود رکھتے ہیں اور وہ مختلف کہکشاؤں سے آئے اور بنی نوع انسان کی ترقی انھی مافوق الفطرت ہستیوں کی مرہون منت ہے۔ اس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی گئیں۔
تاہم، ہم پاکستانی ایک نرالی مخلوق ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا کی دوسری قوموں کی طرح ہمارے پاس کوئی مناسب دیومالا نہیں ہے، ہم نے اپنی دیومالا خود تخلیق کر لی ہے جو سپر ہیروز (Super heroes) کے ایک جم غفیر سے آباد ہے جن کی کتاب زندگی میں عظیم الشان اور حیرت انگیز کارناموں کا ایک طویل وعریض سلسلہ درج ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ یہ سپر ہیروز، کسی انتہائی قدیم دور یا زمانہ قبل از تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے موجودہ دور ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان ہیروز، ان کی شخصیتوں اور کارناموں کے حوالے سے ایک بظاہر بڑی ہی درست دکھائی دینے والی دیومالا تخلیق کی گئی ہے جسے اس وقت سے بچوں کے ذہن میں اتارنا شروع کر دیا جاتا ہے جب وہ سکول جانے لگتے ہیں۔ یہ ذہن سازی اتنی گہری ہے کہ حقائق سے پردہ اٹھانے یا سچ کی بازیافت کی کسی بھی کوشش کو ’’گستاخی اور توہین‘‘ سے کم تر کوئی نام نہیں دیا جاتا۔
یہاں ہم اس قسم کے چند زبان زد عام افسانوں کا ذکر کریں گے۔
افسانہ نمبر ۱: ’’ہماری تاریخ کا آغاز ۷۱۲ ہجری سے ہوتا ہے جب محمد بن قاسم برصغیر میں آئے اور دیبل کی بندرگاہ کو فتح کیا۔‘‘
معاشرتی علوم یا مطالعہ پاکستان کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیجیے، اس کا آغازمحمد بن قاسم سے ہوگا۔ ان کی آمد سے پہلے یہاں کیا تھا؟ جی ہاں، ظالم اور جابر ہندو راجے مثلاً راجہ داہر اور مظلوم اور اجڈ عوام جو بے چینی سے کسی آزاد کنندہ کے منتظر تھے جو انھیں ان کے ظالم راجوں کے چنگل سے چھڑائے۔ اور جب آزاد کنندہ آیا تو اس کا کھلے بازووں سے استقبال کیا گیا اور ممنون احسان عوام جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔
کیا یہ سب کچھ حقیقت میں بھی ایسے ہی رونما ہوا؟ تاریخ کی یہ تصویر بڑی آسانی سے اس حقیقت کو فراموش کر دیتی ہے کہ یہ علاقہ جہاں ہمارا ملک واقع ہے، چھ ہزار سال کی ایک طویل اور شان دار تاریخ رکھتا ہے۔ موئنجو داڑو کو تو چھوڑ دیجیے کہ اس کے متعلق ہمیں کچھ زیادہ معلومات میسر نہیں ہیں، لیکن باقاعدہ مدون تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محمد بن قاسم کے آنے سے پہلے یہ علاقہ، جو کم وبیش سندھ، پنجاب اور سرحد کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے، دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کم سے کم بارہ مختلف خاندانوں کے زیر اقتدار تھا۔ ان میں فارسی حکمران بھی شامل تھے (Achaemenian دور میں)، یونانی بھی جو بیکٹریا، سائتھیا اور پارتھیا کے لوگوں پر مشتمل تھے، چین کے کوشانہ بھی، اور چین ہی سے آنے والے ہن بھی جو شاہ اٹیلا (Attila) کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ متعدد ہندو خاندان تھے جن میں چندر گپت موریہ اور اشوک جیسے عظیم حکمران بھی شامل ہیں۔
گندھارا تہذیب کے دور میں یہ علاقہ اس حوالے سے ممتاز تھا کہ یہاں ٹیکسلا کے قریب اس وقت دنیا کی سب بڑی اور اہم ترین یونیورسٹیاں قائم تھیں۔ ہم بے حد مہذب، اعلیٰ تعلیم یافتہ، خوش حال، تخلیقی صلاحیت سے بہرہ ور اور اقتصادی لحاظ سے زرخیز لوگ تھے اور بہت سے ممالک ہم سے عقلی وفکری اور معاشی طور پر مستفید ہوتے تھے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے، لیکن کیا ہم یہ حقائق اپنے بچوں کو بتاتے ہیں؟ نہیں، اور اس طرح یہ افسانہ مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا چلا جا رہا ہے۔
افسانہ نمبر ۲: ’’محمد بن قاسم انڈیا میں جبر وتشدد کا شکار خواتین اور یتیم بچیوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔‘‘
تاریخ کے تلخ حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر ہم نہیں جانتے یا جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ یہ دور مسلم سلطنت کی توسیع کا دور تھا۔ عرب، دنیا کے ایک بڑے حصے کو، جس میں مشرق وسطیٰ، ایران ، شمالی افریقہ اور اسپین کے علاقے شامل تھے، فتح کر چکے تھے۔ چنانچہ یہ بات بالکل غیر منطقی تھی کہ وہ انڈیا کو فتح کرنے کی کوشش نہ کرتے جو کہ تصوراتی اور تخیلاتی خزانوں کی سرزمین تھی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ عربوں نے ہندوستان کی طرف اپنی پہلی مہم حضرت عمر فاروق کے دور حکومت میں روانہ کی تھی۔ اس کے بعد حضرت عثمان کے عہد میں ایک دوسری مہم مکران تک آئی، تاہم یہ مہمیں ہندوستان کے علاقے میں داخل ہونے میں ناکام رہیں۔ بعد ازاں راجہ داہر کی طرف سے ان بحری جہازوں کا تاوان ادا کرنے سے انکار پر جنھیں بحری قزاقوں نے چھین لیا تھا (اور جس میں اتفاق سے صرف عورتیں اور لڑکیاں ہی نہیں بلکہ خزانوں سے لدے ہوئے وہ آٹھ بحری جہاز بھی شامل تھے جو سری لنکا سے آ رہے تھے) دو مہمیں پہلے ہی انڈیا روانہ کی جا چکی تھیں لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ محمد بن قاسم کی مہم تیسری مہم تھی جو منصورہ سے لے کر ملتان تک سندھ کے علاقے پر قبضہ کرنے میں کام یاب ہوئی۔ تاہم عربوں کے داخلی اختلاف اور سیاسی مخاصمت کے باعث سندھ کی حیثیت عرب سلطنت کے ایک دور افتادہ کونے کی تھی جس پر زیادہ توجہ صرف نہیں کی جا سکتی تھی، اور جلد ہی یہ مفتوحہ علاقے دوبارہ مقامی راجوں کے زیر تسلط چلے گئے۔
افسانہ نمبر ۳: ’’بت شکن کا افسانہ‘‘۔
محمود غزنوی نے، جو اسلام کا ایک عظیم فرزند اور مثالی بت شکن تھا، یہ عہد کیا کہ وہ سارے ہندوستان کے بتوں کو توڑ کر برصغیر میں اسلام کا بول بالا کر دے گا۔ محمود نے، جو وسطی ایشیا کے علاقے غزنی سے آیا تھا، کم سے کم سترہ بار انڈیا پر حملہ کیا، لیکن پنجاب کے سوا اس نے کسی اور علاقے پر قبضہ کرنے یا باقی بھارت پر اپنی حکومت قائم یا مستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حقیقت میں اس کے لیے واحد باعث کشش چیز انڈیا کے خزانے یعنی سونا اور قیمتی جواہر تھے جن کے حصول کا اس نے پورا اہتمام کیا اور ہر حملے کے موقع پر ان کی ایک بڑی مقدار اپنے ساتھ لے کر گیا۔ اس وقت انڈیا کے مندروں میں، یورپ کے گرجوں کی طرح، خزانوں کی ایک بڑی مقدار جمع ہوتی تھی اور اسی وجہ سے محمود کو مندروں اور بت پرستوں کے ساتھ خاص دلچسپی تھی۔
عام تاثر کے بالکل برخلاف، برصغیر میں اسلام کو پھیلانے کا کام نہ تو بادشاہوں یعنی وسطی ایشیا کے سلطانوں نے کیا جو تین سو سال تک یہاں حکومت کرتے رہے اور نہ مغلوں نے جو اس کے بعد مزید تین سو سال حکمران رہے۔ یہ کام صوفی مشائخ نے انجام دیا جو بنیادی طور پر اپنے وطن کے بنیاد پرستوں کی ایذا رسانی سے بچنے کے لیے بھارت آئے تھے اور جنھوں نے اپنی اعلیٰ ظرفی، انسان دوستی، محبت، رواداری اور سادہ طرز زندگی باعث تمام مذاہب کے لوگوں کے دل جیت لیے۔
افسانہ نمبر ۴: ’’ٹوپیاں بننے والے بادشاہ کا افسانہ۔‘‘
ہماری نصابی کتابوں میں برصغیر پر حکومت کرنے والے تمام بادشاہوں میں سے سب سے زیادہ تعریف کا مستحق عظیم مغل بادشاہ اورنگ زیب کو قرار دیا گیا ہے۔ بابر نے سلطنت قائم کی، ہمایوں نے اسے کھو کر دوبارہ پایا، اکبر نے اسے وسعت اور استحکام بخشا، جہانگیر اپنے جذبہ انصاف کے لیے مشہور ہوا، اور شاہجہاں نے عالی شان عمارتیں بنوانے میں شہرت حاصل کی، لیکن یہ پرہیزگار کا لقب پانے والا اورنگ زیب ہی ہے جو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہے۔ رائج عام افسانہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رقم سرکاری خزانے سے خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے ٹوپیاں بنتا اور قرآن مجید کے نسخوں کی کتابت کیا کرتا تھا۔ کیا اس دعوے پر بحث کرنے کی واقعتاً کوئی ضرورت ہے؟ ہر وہ شخص جو مغلوں کے طرز زندگی سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے، یہ بات جانتا ہے کہ ان کے درجنوں محلات کے اخراجات پورے کرنا زر کثیر کا کس قدر محتاج تھا۔ مغل شہنشاہوں کی کئی کئی بیویاں، بچے، درباری، داشتائیں اور غلام ہوتے تھے جو ہر محل میں موجود ہوتے تھے اور جن کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا تھا۔ کیا یہ تمام اخراجات ٹوپیاں بننے سے پورے ہو سکتے تھے؟ اور فرض کیجیے کہ بادشاہ ٹوپیاں بنتا تھا تو کیا لوگ ان کو عام ٹوپیوں کی قیمت پر خریدتے اور اسی طرح استعمال کرتے ہوں گے؟ کیا وہ ان کے لیے مہنگی ترین قیمتیں ادا کرتے اور انھیں ایک یادگار سمجھ کر انھیں سنبھالتے نہ ہوں گے؟ کیا کسی بادشاہ کو، جس کی پوری توجہ ان عسکری خطرات پر مرکوز تھی جو چاروں اطراف سے اسے گھیرے ہوئے تھے اور جس پر ایک عظیم سلطنت کی حفاظت اور استحکام کی ذمہ داری تھی، اتنا وقت اور اتنی فرصت مل جاتی تھی کہ وہ بیٹھ کر ٹوپیاں بنتا رہتا؟ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس شخص کو ہم ایک پرہیز گار مسلمان قرار دے رہے ہیں، وہ وہی تھا جو اپنے باپ کو اس کے محل کے ایک قید خانے میں قید کرنے کے بعد خود بادشاہ بن گیا اور جس نے اس خطرے کے پیش نظر اپنے تمام بھائیوں کو قتل کر دیا کہ کہیں وہ اس کا تخت نہ چھین لیں۔
افسانہ نمبر ۵: ’’۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے ذمہ دار صرف مسلمان تھے اور انھوں نے ہی جنگ کے بعد تشدد اور ایذا رسانی کا ظلم جھیلا، جبکہ ہندو برطانویوں کے فطری حلیف تھے۔‘‘
یہ درست ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی زیادہ فوجی رجمنٹوں نے ۱۸۵۷ میں برطانویوں کے بغاوت میں حصہ لیا، لیکن ہندوؤں نے بھی اس جنگ میں بڑا کردار ادا کیا۔ (جھانسی کی بہادر رانی ایک نمایاں مثال ہے) اور اگر مسلمان فوجیوں کو اس افواہ پر اشتعال آیا تھا کہ گولیوں پر خنزیر کی چربی لگائی گئی ہے تو ہندوؤں کے لیے باعث اشتعال یہ بات تھی کہ یہ گائے کی چربی تھی۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آخر وقت تک برطانویوں کی وفادار بھی رہی۔ (ان میں مشہور ترین سر سید احمد خان ہیں)۔
علاوہ ازیں، ۱۸۵۷ کے بعد برطانویوں کی حکومت ختم نہیں ہو گئی تھی۔ وہ اس سے پہلے ہی مکاری اور سازش کے ذریعے سے مسلمان اور ہندو حکمرانوں سے وسیع علاقے ہتھیا کر انڈیا کے زیادہ تر خطے پر اپنا تسلط جما چکے تھے۔ اس وقت مغل بادشاہ برائے نام حکمران تھا اور اس کا دائرۂ اختیار دہلی تک محدود تھا۔ ۱۸۵۷ کے بعد ہندو خوش حال ہوتے گئے کیونکہ انھوں نے جدید تعلیم حاصل کر کے، انگریزی زبان سیکھ کر اور تجارت اور کاروبار میں مشغول ہو کر کافی ہوشیاری کا ثبوت دیا، جبکہ مسلمان محض زمینوں کے مالک تھے اور ماضی کی شوکت وعظمت کے خوابوں میں کھوئے ہوئے تھے اور جب ان کی زمینیں بھی چھین لی گئیں تو ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا۔ ان کی مدرسے کی تعلیم اور فارسی میں قابلیت ان کے کسی کام نہ آئی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات میں الٹا ایک رکاوٹ ثابت ہوئی۔
افسانہ نمبر ۶: ’’برطانویوں کے خلاف جدوجہد میں مسلمان پیش پیش تھے اور وہ سرکار برطانیہ کی طرف سے خاص طور پر غیر منصفانہ رویے کا کا نشانہ بنے رہے۔‘‘
ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ درحقیقت مسلمانوں کو برطانویوں کی جانب سے پہلا ’’تحفہ‘‘ ۱۹۰۵ میں تقسیم بنگال کی صورت میں ملا (جسے بعدازاں ۱۹۱۱ میں منسوخ کر دیا گیا)۔ ۱۹۰۶ میں شملہ وفد کو بجا طور پر ’’Command performance‘‘ کہا گیا ہے۔ وائسرے نے مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی مسلمان قائدین اس کا مطالبہ کریں گے، جداگانہ انتخابات اور نمائندگی کا اصول منظور کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مسلم لیگ وجود میں آئی، جسے آغا خان، جسٹس امیر علی اور کچھ دیگر نوابوں اور جاگیرداروں نے، جو سرکار برطانیہ کے زبردست حامی تھے، قائم کیا تھا۔ مسلم لیگ کے منشور میں اس کا پہلا مقصد ہی یہ لکھا گیا: ’’برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری کے جذبے کو فروغ دینا۔‘‘
مسلم لیگ نے کبھی برطانویوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا۔ مسلمانوں کی طرف سے احتجاج کا واحد واقعہ ۲۰ کے عشرے کی ابتدا میں تحریک خلافت کے دوران میں رونما ہوا جس کے قائد علی برادران اور دوسرے انقلابی رہنما تھے۔ قائد اعظم سمیت مسلم لیگ کا کوئی بھی رہنما کبھی جیل نہیں گیا۔ یہ کانگریس ہی تھی جس نے ۳۰ اور ۴۰ کی دہائیوں میں برطانیہ کے خلاف تشدد سے پاک اور عدم تعاون پر مبنی تحریک کو جاری رکھا، جس میں ’’انڈیا چھوڑ دو‘‘ کی مشہور تحریک بھی شامل تھی، جبکہ مسلم لیگ کے رہنما ان تحریکات کی مذمت کرتے رہے اور اپنے کارکنوں کو ان میں حصہ نہ لینے کی تلقین کرتے رہے۔
افسانہ نمبر ۷: ’’مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔‘‘
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مسلم لیگ اپنے آپ کو مسلمانوں کی ایک مقبول عوامی جماعت بنانے میں ۱۹۴۰ کے بعد ہی کامیاب ہوئی۔ اس سے قبل، جیسا کہ ۳۷ کے انتخابات سے واضح ہے، مسلم لیگ، مسلم اکثریتی صوبوں میں سے کسی ایک میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان انتخابات میں کل ۴۸۲ مسلم نشستوں میں سے مسلم لیگ کو صرف ۱۰۳ نشستیں ملیں (جو کہ ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں)۔ دوسری نشستوں پر یا تو کانگرسی مسلمان کام یاب ہوئے یا قوم پرست جماعتیں، مثلاً پنجاب یونینسٹ پارٹی، سندھ یونینسٹ پارٹی اور بنگال کی کرشک پروجا پارٹی۔
افسانہ نمبر ۸: ’’علامہ اقبال وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے ایک جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔‘‘
یہ ان افسانوں میں سے ایک ہے جو ہماری قوم کے ذہنوں میں نہایت گہرے پیوست ہیں اور جس کا پراپیگنڈا تمام حکومتوں نے کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال کہ مسلم اکثریتی صوبوں ایک فطری گروپ قرار پاتے ہیں اور انھیں ایک بلاک سمجھنا چاہیے، برطانویوں نے ۱۸۵۸ میں پیش کیا تھا اور اس پر اخبارات کے مختلف مضامین میں اور سیاسی پلیٹ فارموں پر کھلی بحث ہوتی رہی۔ اس تصور کی مختلف شکلیں اہم برطانوی، مسلم اور بعض ہندو عوامی شخصیات نے پیش کی۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ میں جب اپنا مشہور خطبہ دیا تو اس سے پہلے یہ تجویز کم از کم ۶۴ مرتبہ پیش کی جا چکی تھی۔ چنانچہ اقبال نے محض ایک ایسی بات دہرا دی جو کہ پہلے سے کہی جا رہی تھی اور یہ کوئی اچھوتا خواب نہیں تھا۔ الٰہ آباد میں اپنے خطبے کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد، علامہ اقبال نے ایک برطانوی اخبار میں اس موقف سے اپنارجوع شائع کروایا اور کہا کہ انھوں نے ایک جداگانہ مسلم ریاست کی نہیں بلکہ محض انڈین فیڈریشن کے اندر ایک مسلم بلاک کی بات کی تھی۔
افسانہ نمبر ۹: ’’قرارداد پاکستان میں واحد مسلم ریاست کا تصور پیش کیا گیا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ مسلم بلاک سے متعلق جو بھی تجاویز مختلف افراد یا جماعتوں نے پیش کیں، ان میں سے کسی میں بھی مشرقی بنگال کا ذکر نہیں تھا۔ پورا زور ہمیشہ سے شمال مغربی صوبوں پر مرکوز تھا جن کی سرحدیں مشترک تھیں جبکہ دوسرے مسلم اکثریتی صوبے مثلاً بنگال اور حیدر آباد الگ بلاک تصور کیے جاتے تھے۔ چنانچہ قرارداد پاکستان میں بھی ایسا ہی تھا۔ اس میں لکھا ہے کہ: ’’جن علاقوں میں مسلمان عددی اکثریت رکھتے ہیں، جیسا کہ انڈیا کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے، انھیں ملا کر آزاد ریاستیں قائم کی جائیں جن میں شامل اکائیاں خود مختار اور آزاد ہوں۔‘‘
پوری قرارداد کے کمزور اور مبہم متن سے قطع نظر، ریاستوں سے متعلق حصہ (جس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے) بالکل واضح ہے۔ اصل قراداد میں ترمیم تو ۱۹۴۶ میں دہلی میں مسلم لیگ کے ارکان سمبلی کے ایک اجلاس میں کی گئی جسے مسلم لیگ کے ایک عام اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور ایک واحد ریاست کا حصول مقصود قرار دیا گیا۔
افسانہ نمبر ۱۰: ’’۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کا دن اس لیے یادگار ہے کہ اس دن قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی۔‘‘
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ۲۳ مارچ کو قرارداد مقاصد صرف پیش کی گئی تھی، جبکہ اس کی حتمی منظوری ۲۴ مارچ کو عمل میں آئی (جو کہ اجلاس کا دوسرا اور آخری دن تھا)۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پھر ہم اس قرارداداد کی یاد میں ۲۳ مارچ کا دن کیوں مناتے ہیں تو یہ ایک بالکل مختلف قصہ ہے۔ ۱۹۵۶ سے قبل یہ دن کبھی نہیں منایا گیا۔ اس سال اس دن کو ملک کے پہلے آئین کی منظوری اور پاکستان کے ایک حقیقی آزاد جمہوریہ کے طور پر رونما ہونے کی یاد میں پہلی مرتبہ منایا گیا۔ ہمارے لیے اس دن کی اہمیت وہی تھی جو ۲۶ جنوری کی بھارت کے لیے۔ لیکن جب جنرل ایوب خان نے ۱۹۵۸ میں آئین کو منسوخ کر کے مارشل لا نافذ کر دیا تو انھیں ایک مشکل سے سابقہ پیش آ گیا۔ وہ نہ اس کی اجازت دے سکتے تھے کہ ملک میں ایک ایسے آئین کی یاد میں کوئی دن منایا جائے جسے خود انھوں نے پارہ پارہ کر دیا تھا اور نہ وہ ۲۳ مارچ کا دن منانے کی روایت کو بالکل ختم کر سکتے تھے۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ دن تو حسب سابق منایا جائے لیکن اسے ایک دوسرا عنوان دے دیا جائے، یعنی ’’یوم قرارداد پاکستان ‘‘۔
افسانہ نمبر ۱۱: ’’یہ غلام محمد تھے جنھوں نے وزیر اعظم اور سربراہ ریاست کے مابین اختیارات میں عدم توازن پیدا کیا اور انھوں نے ہی گورنر جنرل کی بالادستی وزیر اعظم اور پارلیمنٹ پر قائم کرنا چاہی۔‘‘
جب پاکستان وجو د میں آیا تو برطانوی حکومت کے منظور کردہ ۱۹۳۵ کے آئین کو عبوری آئین کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اور یہ خود قائد اعظم تھے جنھوں نے اس آئین میں چند مخصوص ترامیم کرائیں تاکہ گورنر جنرل سب سے بالاتر اتھارٹی قرار پائے۔ انھی اختیارات کے تحت قائد اعظم نے اگست ۱۹۴۷ میں صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو اور ۱۹۴۸ میں سندھ میں مسٹر ایوب کھوڑو کی حکومت کو برطرف کیا ۔ گورنر جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم نے مسلم لیگ کی صدارت اور دستور ساز اسمبلی کی سربراہی بھی برقرار رکھی ۔ یہی وہ اختیارات تھے جن کے تحت خواجہ ناظم الدین نے ۱۹۴۹ میں پنجاب میں مسٹر دولتانہ کی حکومت کو برطرف کیا۔ خود خواجہ ناظم الدین کو انہی اختیارات کے تحت گورنر جنرل غلام محمد نے ۱۹۵۳ میں وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا۔ تاہم ۱۹۵۴ میں دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے آئین میں ترمیم کروانے کی کوشش کی تاکہ گورنر جنرل کے حد سے متجاوز اختیارات واپس لیے جا سکیں۔ اس کوشش پر بر افروختہ ہو کر گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو معطل کر دیا اور اس طرح پاکستان کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔
یہ وہ چند افسانے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں بچپن ہی سے بٹھا دیے گئے ہیں اور جو ہمارے شعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس طرح کی بیسیوں باتیں اور بھی ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی پر حاوی ہیں، اور بہت سے ایسے سوالات موجود ہیں جو ہنوز جواب طلب ہیں، مثلاً:
  • نظریہ پاکستان کیا چیز ہے اور یہ اصطلاح سب سے پہلے کب وضع کی گئی؟ (؟؟ سے پہلے یہ کبھی نہیں سنی گئی)
  • گاندھی کو کیوں قتل کر دیا گیا؟ (وہ مفروضہ طور پر پاکستانی مفاد کا تحفظ کر رہے تھے)
  • شیخ مجیب، ولی خان اور جی ایم سید جیسے مبینہ غداروں کے بارے میں حقائق کیا ہیں؟
  • مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کیا تھے؟
  • مسٹر بھٹو کو موت کے گھاٹ کیوں اتار دیا گیا؟
  • کیا ہمارے تمام سیاست دان بد دیانت اور مفاد پرست ہیں؟
  • ہماری تاریخ ہر دس سال کے بعد اپنے آپ کو کیوں دہراتی ہے؟
ان سوالات کا جواب تاریخ کے، نہ کہ تاریخی افسانوں کے، ایک جامع مطالعے کا متقاضی ہے، لیکن بد قسمتی سے تاریخ ہی وہ میدان ہے جسے ہمارے ملک میں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس صورت حال میں تبدیلی رونما ہو جائے۔
(بشکریہ ڈان میگزین۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۵)

پروفیسر عابد صدیق مرحوم کی یاد میں

پروفیسر ظفر احمد

بسا اوقات ہماری من پسند خواہشات کا خارجی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہوپانا ہماری اُس بے بسی اور لاچاری کا کامل مظہر ہے جس کا ذکر اِس کائنات کے خالق و مدبّر نے یوں فرمایا ہے: وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ مَاکَانَ لَھُمُ الْخِیَرَۃِ (۱) ’’اور تیرا رب ہی جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی صاحبِ اختیار ہے، لوگوں کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔‘‘
اپنے احباب و اقارب کا ہم سے بچھڑ جانا ایک ایسی تلخ حقیقت، ایک ایسا ناخوش گوار تجربہ و مشاہدہ ہے کہ اِس دارِفانی میں کسی بھی متنفّس کے لیے اِس سے فرار کے تمام راستے مسدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ تاہم ربِ کریم کا یہ رحم و کرم ہے کہ اُس نے نوعِ انسانی کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے۔ اُس نے ہمیں یہ صلاحیت بھی ارزاں فرمائی ہے کہ ہم اِس دنیا میں رونما ہونے والے بے شمار اہم و غیر اہم واقعات و حوادث کو اپنے ذہن میں نہ صرف ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ موجودات کا حسّی خاکہ اپنی فناپذیری کے باوجود چشمِ تصور سے اوجھل نہیں ہوپاتا۔ یوں ہمیں بظاہر داغِ مفارقت دینے والے ہمارے اعزہ و رفقا درحقیقت تصورات و تعقُّلات کی ہماری اِس دنیا میں ہم سے بچھڑ جانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ عابدصدیق کو بھی یہاں استثنائی حیثیت حاصل نہیں۔ لوگ اُنھیں لاکھ ’’رفتہ و گزشتہ‘‘ کہیں مگر وہ اپنے احباب کے دلوں میں زندہ و تابندہ ہیں اور اِن شاء اللہ العزیز ہمیشہ اِسی طرح رہیں گے۔
عابدصدیق مرحوم سے میرا پہلا تعارف اواخر نومبر ۱۹۶۷ء میں گورنمنٹ کالج علی پور (مظفرگڑھ) میں ہوا۔ وہ جہاں بھی رہے، اُن کی جاذبِ نظر شخصیت کے متنوع پہلو اُن کے حلقۂ احباب میں بتدریج وسعت پیدا کرتے رہے۔ چناں چہ علی پور میں بھی اُن کا حلقۂ احباب خاصا وسیع رہا۔ شعروشاعری اور موسیقی سے اُن کا شغف اُن دنوں عروج پر تھا۔ اِن مشاغل کے باوجود اُن کا خاندانی مذہبی تشخص اِس حد تک بحال رہا کہ گو اسلامی شعائر سے عملی دلچسپی بظاہر زیادہ نمایاں نہ تھی، لیکن بالاٰخر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین سے اُن کی گہری فکری وابستگی اور اہلِ علم سے اُن کی بے لوث محبت و عقیدت کسی سے مخفی نہ رہی، اور اُن میں یہ شوق مزید پیدا ہوتا چلا گیا کہ وہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی نجی زندگی کے اہم معاملات میں علما سے دینی رہنمائی حاصل کریں۔ میری ترغیب پر اُنھوں نے فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانویؒ سے خط و کتابت شروع کردی جس کا اُن کے ظاہر و باطن پر نمایاں اثر ہوا۔ شعر گوئی کا سلسلہ اگرچہ جاری رہا لیکن موسیقی اور آلاتِ موسیقی سے وہ رفتہ رفتہ بے زار ہوتے چلے گئے۔ اِس کی بجائے وہ روحانی اوراد و وظائف کی طرف مزید مائل ہوئے۔ اِس مقصد کے لیے اُن کا اصرار تھا کہ میں (راقم السطور) بھی اُن کا ساتھ دوں۔ حاجی امداداللہ مہاجر مکّیؒ کے سلسلے میں شیخ ابوالحسن شازلیؒ کی مشہور دعا ’حزب البحر‘ کے وِرد کا طریقہ نسبۃً آسان ہے۔ میں نے اِس کے پڑھنے کی اجازت مدرسہ اشرفیہ سکھر کے استاد مولانا عبدالحکیمؒ سے لے رکھی تھی۔ عابدصدیق مرحوم نے بھی بذریعہ خط و کتابت اُن سے اجازت حاصل کرلی اور ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’مناجاتِ مقبول‘ میں اِس کی زکوٰۃ کا جو طریقہ مذکور ہے، اُس کے مطابق اِسے پڑھا جائے۔ چناں چہ علی پور کی ایک مسجد میں ہم دونوں نے صفر کے مہینے میں تین روز کے لیے اعتکاف کیا اور ’حزب البحر‘ کا سہ روزہ عمل پورا کیا۔ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے ’حزب البحر‘ کے وِرد کے متعلق عابدصدیق صاحب کی خط و کتابت مولانا عبدالحکیم صاحبؒ سے ہوتی رہتی تھی۔
پروفیسر عابدصدیق صاحب وقت کے جیّد علمائے دین سے رابطہ رکھتے تھے۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۲ء تک اُنھوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے وائس چانسلر حضرت مولانا ابوبکرغزنویؒ سے تصوف کے سلسلہ نقشبندیہ میں اسباق لِیے اور اُن سے آپ کو اجازت عطا ہوئی۔ ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۳ء تک حضرت الشیخ مولانا محمد قمرالدینؒ سے چشتیہ نظامیہ فخریہ فریدیہ کے سلسلے میں اسباق لِیے اور اُن سے اجازت عطا ہوئی۔ مولانا محمد قمرالدینؒ ، حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے خلیفۂ مجاز تھے۔ پروفیسر عابدصدیق صاحب ہمیں بتایا کرتے تھے کہ مولانا محمد قمرالدین صاحبؒ نے مجھے تاکید فرمائی تھی کہ میرے بعد اگر کسی سے علمی و اصلاحی تعلق قائم کرنا ہو تو اکابرعلمائے دیوبند سے وابستگی اختیار کیجیے۔ اِس سے خواجہ غلام فریدؒ کے صحیح مسلک کا بھی بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ بریلویت و دیوبندیت کے نام پر تفریق بین المومنین کے اصل محرکات پست فکر لوگوں کی ہواپرستی اور شکم پروری ہیں، اکابر علما اور صوفیا کا دامن اِس سے پاک رہا ہے۔
علمِ حدیث میں پروفیسر عابدصدیقؒ نے امام محمدؒ کی ’کتاب الاٰثار‘ کی روایت کی اجازت محدثِ شہیر مولانا عبدالرشید نعمانیؒ سے ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ بمطابق اپریل ۱۹۷۴ء میں حاصل کی اور صحیح بخاری کی روایت کی اجازت مولانا شیخ لطافت الرحمٰن سے ۱۹۸۷ء میں حاصل کی۔
تصوف کے ساتھ علم الکلام اور عقلی مباحث سے بھی پروفیسرعابدصدیق مرحوم کی دلچسپی قابلِ ذکر ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصانیف اکثر اُن کے زیرِمطالعہ رہتی تھیں۔ 
میں نے اپنی سرکاری ملازمت کے آخری سالوں میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ علومِ اسلامیہ میں جزوقتی استاد کی حیثیت سے فلسفہ و علم الکلام پڑھانا شروع کیا۔ میری یہ کوشش رہی کہ کلامیات کی تدریس میں عام روش سے ہٹ کر طلبہ و طالبات کو رجوع اِلی القرآن کی جانب زیادہ سے زیادہ مائل کیا جائے اور عقل و نقل میں ہم آہنگی پیدا کرکے اصولی اختلافی مسائل میں صحیح و غلط میں امتیاز کے آسان طریقوں سے اُنھیں روشناس کرایا جائے۔ اِس سلسلہ میں زیادہ تر عقلی استدلال کے فراموش کردہ شعبے ’’تشقیقِ جدلی‘‘ کو بروئے کار لایا جائے۔ عابدصدیق مرحوم تشقیقِ جدلی کے ذریعہ حقائق تک رسائی حاصل کرنے کو نہایت دلچسپ اور مفید قرار دیتے تھے اور مجھ سے متعلقہ مسائل پر اُن کی بحث و تمحیص اکثر جاری رہتی تھی۔ میری طرح عابدصدیق صاحب بھی ایسے مباحث میں خاص دلچسپی لیتے تھے جن کی مدد سے پیشہ ورانہ اور سوقیانہ مناظرانہ انداز سے سراسر اجتناب کرتے ہوئے طالبانِ حق کی مختصر وقت میں صحیح رہنمائی ہوسکے اور فکری لغزشوں سے اُنھیں محفوظ رکھا جاسکے، یا اگر وہ اِن فکری لغزشوں کا شکار ہوچکے ہیں تو اُنھیں بے جا گروہی تعصب اور وابستگی کا شعور اور احساس دلائے بغیر سیدھی راہ اختیار کرنے پر بخوبی آمادہ کیا جاسکے۔ یہاں جدل سے مراد بحث و مباحثہ ہے۔ اِس طریقے میں کسی بھی زیرِبحث مسئلے کی ممکنہ شقّوں (پہلوؤں) کو فرداً فرداً زیرِبحث لاکر حقیقت تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف دلچسپ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات اِس سے حقیقت تک رسائی مختصر وقت میں ہوجاتی ہے۔ تمام عقلی علوم مثلاً ریاضی میں یہ طریقہ بکثرت مستعمل ہے۔ مثلاً تیرہ کا عدد یا جفت ہے یا طاق ہے۔ چوں کہ یہ عدد دو پر پورا تقسیم نہیں ہوتا، لہٰذا اِس کے جفت ہونے کی شق غلط ثابت ہوئی، اور چوں کہ یہاں تیسری کوئی شق عقلاً ممکن ہی نہیں، لہٰذا اِس کا طاق ہونا ازخود ثابت ہوگیا۔ 
دینی اصول و فروع میں بھی تشقیقِ جدلی کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مثلاً سورہ فاتحہ کی ابتدائی آیات میں یہی طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ کسی کی اطاعت کی جائے یا اتباع کیا جائے، اُس کی اطاعت و اتباع کے صرف اور صرف تین محرکات و عوامل ہی سامنے آئیں گے۔ مُطاع و متبوع یا تو صاحبِ کمال ہو، یا صاحبِ احسان (محسن) ہو، یا صاحبِ اقتدار ہو۔ مثلاً شاگرد اپنے استاد کی اطاعت و اتباع پر اِس لیے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ استاد کو متعلقہ فن میں صاحبِ کمال سمجھتا ہے۔ مریض، طبیب کی اطاعت اِس لیے کرتا ہے کہ وہ طبیب کو فنِ طب میں صاحبِ کمال سمجھتے ہوئے اُس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ بچے والدین کی اطاعت و اتباع اِس لیے کرتے ہیں کہ وہ والدین کو ایسا محسن و شفیق پاتے ہیں کہ اُن کے خیال میں والدین کا یہ احسان اور اُن کی شفقت بے لوث ہوتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ کسی کے کمال کو پہچانتے ہیں اور اگر پہچان بھی لیں تو قدر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ کسی کے احسان کو خاطر میں لاتے ہیں۔ یہ ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘ کا مکمل مصداق ہوتے ہیں۔ جو صاحبِ اقتدار ہوگا، وہی ایسے لوگوں کو سیدھا کرسکتا ہے۔ اب دیکھیے سورہ فاتحہ کی پہلی آیت اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ  میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حقیقی صاحبِ کمال صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسری آیت اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے واضح ہے کہ حقیقی محسن بھی وہی ہے اور تیسری آیت مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حقیقی صاحبِ اقتدار بھی وہی ہے، لہٰذا سب سے زیادہ اطاعت و اتباع بھی اُسی کی ہونی چاہیے۔ لیکن ٹھہریے! دوسرے انسانوں کی مشروط اطاعت و اتباع پر تو ہر انسان مجبور بھی ہے اور مامور بھی۔ مثلاً بچے والدین کی، شاگرد اساتذہ کی، مرید اپنے شیخ کی، رعایا اپنی حکومت کی اطاعت و اتباع کرتی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا اِس سے بڑھ کر کوئی اور حق ایسا ہونا چاہیے جس میں دوسروں کی شرکت کو وہ ہرگز قبول اور گوارا نہ کرے۔ اُس کا یہ حق ’عبادت‘ ہے۔ چناں چہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے (کہ تم اپنی زبان سے خود یہ کہو) اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ  کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے (مافوق الاسباب امور یعنی امورِ غیر عادیہ میں) مدد مانگتے ہیں۔
پروفیسر عابدصدیق صاحب کی بذلہ سنجی اور خوش طبعی کا ذکر بھی یہاں مناسب ہوگا۔ زندگی کے تلخ و شیریں حقائق، تجربات و مشاہدات کو دلچسپ لطائف میں ڈھال کر افسردہ مزاجی کو خوش مزاجی میں تبدیل کرنے میں اُنھیں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ پروفیسر عابدصدیق مرحوم اپنی خوش طبعی کی بنا پر سخت ترین حالات میں بھی بسااوقات ہشاش بشاش رہتے تھے۔ چند سال قبل اُنھیں دل کا شدید عارضہ لاحق ہوا۔ بعد میں یہی عارضہ اُن کے انتقالِ پرملال کا سبب بنا۔ میں عیادت کے لیے گیا تو ہنستے ہوئے کہنے لگے: ’’بھیّا! عجیب بات ہے۔ گھر والے مجھے کہتے ہیں کہ دل چھوٹا نہ کرو اور ہسپتال والے کہتے ہیں کہ تم نے دل بڑھا رکھا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ اُنھیں عظم القلب (Senile Hypertrophy of Heart) کا عارضہ لاحق تھا۔ مرض سے اُنھیں کچھ افاقہ ہوا تو ایک مرتبہ مزاحاً فرمانے لگے: ’’برِصغیر کے (اردو کے) بڑے بڑے شعرا گزرتے جارہے ہیں۔ طبیعت میری بھی کئی دنوں سے ناساز ہے۔‘‘
کالج میں بطورِاستاد تقرری سے پہلے ہی مجھے طبِ تماثلی (ہومیوپیتھی) سے دلچسپی تھی۔ گورنمنٹ کالج علی پور میں ملازمت کے دوران میں نے عابدصدیق صاحب کو بھی اِس سے روشناس کرایا۔ میری دلچسپی تو ہومیوپیتھک کتب کے مطالعے، اور اپنے احباب و اقارب کے علاج معالجے تک ہی محدود رہی لیکن عابدصدیق صاحب نے بعد میں بہاول پور میں قیام کے دوران ہومیوپیتھک کا چار سالہ ڈپلومہ کورس باقاعدہ پورا کیا اور پھر اپنے گھر میں کلینک بھی کھولا۔ مقامی ہومیوپیتھک کالج میں وہ وقتاً فوقتاً لیکچرز بھی دیتے رہے۔ ہومیوپیتھی کے سلسلے میں اُن کا مجھ سے اور میرا اُن سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ ایک دوسرے کے معالجاتی تجربات سے ہم مستفید ہوتے تھے۔ فلسفۂ ہومیوپیتھی سے اُنھیں خاص دلچسپی تھی اور اِس پر قدیم و جدید مصنفین کی کتب اکثر اُن کے زیرِمطالعہ رہتی تھیں۔
پروفیسر عابدصدیق مرحوم کی طبیعت میں خاندانی جلال بھی موجود تھا۔ اپنی دانست میں جس کام کو وہ غلط سمجھتے تھے اُسے ہوتا دیکھ کر کبھی کبھار وہ تحمل و برداشت کی حدود سے کچھ باہر بھی نکل جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ میں اُن کے ہمراہ رات کے وقت تعلیمی بورڈ بہاول پور کے چئرمین صاحب سے ملاقات کے لیے اُن کے گھر گیا کیوں کہ وہ کسی زمانے میں گورنمنٹ کالج علی پور میں ہمارے پرنسپل رہ چکے تھے۔ چئرمین صاحب کے ایک صاحب زادے نہایت بھدے انداز اور آواز میں ہارمونیم وغیرہ پر کوئی گانا گارہے تھے۔ موسیقی پر صاحب زادے کا یہ ظلم عابدصدیق صاحب سے برداشت نہ ہوسکا اور آلۂ موسیقی اُن کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے بطورِاصلاح اُسے خود بجانا شروع کردیا اور خاصی دیر تک یہی شغل جاری رہا حالاں کہ اُن دنوں عابدصدیق صاحب موسیقی اور آلاتِ موسیقی سے بے زار ہوچکے تھے۔ جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو فرید گیٹ پر کسی کی خوشی کی تقریب میں مغنّیوں اور مغنّیات کے بھرپور گانے جاری تھے اور ارد گرد لوگوں کا خاصا مجمع ہونے کی وجہ سے آمدورفت کا راستہ مسدود تھا۔ وہاں سے ہم نے دوسرا راستہ لیا تو کچھ آگے چل کر وہاں بھی اِسی طرح کا منظر دکھائی دیا۔ تیسرا طویل راستہ اختیار کرتے ہوئے گھر پہنچنے کے قابل ہوئے۔ میں نے عابدصدیق صاحب سے مزاحاً کہا کہ چوں کہ آپ نے آلاتِ موسیقی بجانے کے گناہ کو پھر تازہ کیا ہے، اُسی کی ہمیں یہ سزا ملی ہے۔ تو اُنھوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا کہ اِسی لیے تو بزرگ کہا کرتے ہیں کہ اچھا یا برا جو کام بھی کروگے، اُسی کے اسباب تم پر آسان کیے جائیں گے۔
جب گورنمنٹ ایس ای کالج بہاول پور سے عابدصدیق صاحب ریٹائر ہوئے تو کالج کی روایت کے مطابق اُن کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام ہوا۔ اِس تقریب میں اُنھوں نے الوداعی خطبات کے جواب میں دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ اپنے طبعی جلال اور تیزمزاجی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے رفقائے کار سے کہا کہ اگر کسی بھی وقت میرے کسی بھی قول و فعل سے کسی نے کسی طرح کی بھی کوئی رنجش یا تکلیف محسوس کی ہو تو میں اُس پر صدقِ دل سے سب سے معافی کا خواستگار ہوں، چوں کہ میں نے نفاق سے کام لیتے ہوئے کبھی کسی کے خلاف کینہ پروری نہیں کی اِس لیے اپنے مافی الضمیر کو برملا ظاہر کرتا رہاہوں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُنھیں جنت کے اعلیٰ درجات پر فائز فرمائے۔ آمین۔

شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل

ڈاکٹر محمد امین

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے دسمبر ۲۰۰۴ کے شمارے میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے ادارتی شذرہ بعنوان ’سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات‘ میں تکفیر شیعہ کے بارے میں مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے فتوے کی تصویب کرتے ہوئے کالعدم سپاہ صحابہ کے رویے کی شدت پر بھی گرفت کی ہے۔ مولانا اور ’الشریعہ‘ کا موقف ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے فروغ، مسلکی اختلافات میں وسعت سے کام لینے اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین پر مشتمل ہوتا ہے جس کی ہر متوازن اور غیر جانبدار شخص تعریف وتائید کرتا ہے اور خود ہم اس کے مداحوں میں سے ہیں۔ تاہم تکفیر شیعہ کے بارے میں مولانا زاہد الراشدی نے جو کچھ لکھا ہے، ہماری طالب علمانہ رائے میں وہ بھی ایک لحاظ سے سخت موقف ہے۔ اس لیے ہم اس ضمن میں نیز اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے بعض تجاویز مولانا اور دوسرے اہل فکر ونظر کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

مسئلہ تکفیر

جہاں تک تکفیر شیعہ کا تعلق ہے، ہمارے علم کی حد تک یہ اہل سنت کا کوئی متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ غالباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہور علماء اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اہل تشیع کا نقطہ نظر غلط ہے۔ چلیے اسے گمراہی کہہ لیجیے، لیکن سوائے خلافیات اور مناظرہ کا ذوق رکھنے والے کچھ سخت موقف رکھنے والے علما کے، اکثریت نے کبھی انہیں کافر نہیں کہا اور نہ سمجھا۔ اسی طرح امت کے اہل علم کی اکثریت نے ان کے مزعومہ کفر کی بنا پر کبھی انہیں واجب القتل نہیں کہا اور نہ مسلم معاشرے میں بالعموم اہل سنت واہل تشیع میں قتل وغارت گری کا وہ ماحول رہا ہے جو اس وقت پاکستان میں ہے، بلکہ ان دونوں مسالک کے پیروکار مسلم معاشروں میں صدیوں سے امن وسکون سے رہتے آئے ہیں اور اب بھی رہ رہے ہیں۔
محترم مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے فتوے میں دو باتیں محل نظر ہیں: ایک تو یہ کہ انہوں نے ’شیعہ‘ کا عمومی لفظ استعمال کر کے اور ان کے چند اہم قابل اعتراض عقائد کا ذکر کر کے انہیں کافر قرار دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اہل تشیع کے کسی وضاحتی موقف کو ماننے سے اس لیے انکار کر دیا ہے کہ وہ تقیہ پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ہم ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ یہ دونوں باتیں عدل وانصاف کے مسلمہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ پہلے جزیے کی تو خود مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بھی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا اطلاق سارے شیعہ گروہوں پر نہیں ہو سکتا۔ ہم کہتے ہیں کہ سارے اثنا عشری شیعوں پر بھی اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا، کیونکہ سارے اثنا عشری شیعہ مذکورہ تینوں عقائد پر یقین نہیں رکھتے۔ لہٰذا انہیں ایک گروپ کے طور پر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تکفیر مسلمین کے بارے میں سخت شرعی احکام کے پیش نظر احتیاط وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ یہ دیا جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے اور یہ نہ کہا جائے کہ سارے شیعہ کافر ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں اختلاف وانصاف کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ فریق مخالف اگر کسی الزام کے جواب میں کوئی وضاحت پیش کرے تو اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ایک اثنا عشری عالم یہ کہے کہ وہ ان تینوں مذکورہ عقائد کا حامل نہیں تو ہمیں اس کی اس وضاحت کو قبول کرنا چاہیے اور یہ کہہ کر اسے رد نہیں کرنا چاہیے کہ تم تقیہ کر رہے ہو۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس طرح کے علمی مسائل کا فیصلہ عوام الناس کی رائے پر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح خلافیات وجدلیات کا ذوق رکھنے والے شدت پسند انفرادی آرا کے حامل کسی ایک شخص یا بعض اشخاص کی رائے پر بھی کسی سارے گروہ کو مطعون نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً اگر کوئی مولانا عبید اللہ سندھی صاحب کی آرا بیان کر کے کہے کہ یہ سب اہل دیوبند کی رائے ہے یا مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی آرا بیان کر کے کوئی کہے کہ اہل ہند کے سب علماء احناف کی یہ آرا ہیں تو کیا اس بنیاد پر کوئی فیصلہ دینا صحیح ہوگا؟ اسی طرح اثنا عشری اہل تشیع میں سے کسی شدت پسند عالم دین نے اگر کبھی کوئی غلط بات لکھ دی ہے تو اس کی بنیاد پر سارے اثنا عشری گروہ یا سارے اثنا عشری افراد کو کافر کہنا صحیح نہ ہوگا۔
یہاں ایک اور بات بھی اہم ہے اور وہ یہ کہ فرض کیجیے کہ اہل سنت کا ایک عالم یا ایک عام شخص اگر کسی اثنا عشری عالم یا فرد کے بارے میں تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کے عقائد کافرانہ ہیں اور وہ اس کی نظر میں کافر ہے تو کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بندوق پکڑے اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دے؟ یہ تو قرآن وسنت میں کہیں بھی نہیں لکھا۔ اہل سنت کے کسی امام نے بھی اس کا فتویٰ نہیں دیا۔ پھر اسے جائز کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے اور موجودہ قتل وغارت گری کی شرعی اساس کیا ہے؟
خلاصہ یہ کہ سارے شیعوں کی تکفیر کا بلا استثنا فتویٰ نہیں دینا چاہیے بلکہ صرف اس شخص کے کفر کا فتویٰ دینا چاہیے جو تسلیم کر ے کہ اس کے یہ عقائد ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص وضاحت طلبی پر ان عقائد سے براء ت کا اظہار کرے، اس کا موقف قبول کیا جانا چاہیے اور یہ کہہ کر اسے رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ تقیہ کر رہا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اگر اہل سنت کے کسی شخص کی رائے میں اہل تشیع کا کوئی شخص کفریہ عقائد رکھتا ہو اور اس کی رائے میں وہ صریحاً کافر ہو تو بھی اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے اور اسے خود قتل کر دے۔ کسی فرد یا گروہ کے ارتداد یا قتل کا فیصلہ کرنا مسلم ریاست کا کام ہے نہ کہ کسی فرد کا، جیسا کہ قادیانیوں کی تکفیر کے بارے میں ہمارے سامنے ایک فیصلہ ہو بھی چکا ہے۔
کسی التباس سے بچنے کی خاطر ہم یہاں یہ وضاحت کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ذاتی طور پر ہمارا عقیدہ وہی ہے جو جمہور اہل سنت کا ہے یعنی جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ موجودہ قرآن اصلی نہیں، جو صحابہ پر سب وشتم روا رکھتا ہو اور انہیں کافر سمجھتا ہو، اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی رہنما کو ان ہی کی طرح معصوم عن الخطا اور صاحب دعوت (گویا نبی) سمجھتا ہو، ہمارے نزدیک بھی وہ کافر ہے۔

سنی شیعہ تنازع کا حل

تکفیر شیعہ کے بارے میں ہماری گزارشات تمام ہوئیں۔ لیکن اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں اس وقت جو شیعہ سنی کشیدگی پائی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اہل سنت کے سارے علماء اور عامۃ الناس اہل تشیع کو کافر سمجھتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ اہل تشیع ہمارے معاشرے میں صدیوں سے رہ رہے ہیں لیکن اکا دکا واقعات کے سوا جن میں کسی ایک طرف سے کسی شدت پسند شخص کی زیادتی ہوتی ہے، کبھی اس طرح کی قتل وغارت گری والی صورت پیدا نہیں ہوئی جو اس وقت پاکستان میں پیدا ہو چکی ہے۔ لہٰذا موجودہ تنازع کی اصل وجہ اہل تشیع کے عقائد نہیں ہے، بلکہ اگر تعیین کے ساتھ تصریح کی جائے تو یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دراصل عموم اہل سنت اور عموم اہل تشیع میں اس وقت بھی کوئی کشیدگی نہیں پائی جاتی۔ کشیدگی دراصل اہل سنت میں سے دیوبندی حضرات کے ایک گروپ اور اہل تشیع کے ایک بڑے گروپ میں ہے، ورنہ ان دونوں گروہوں کے علاوہ شیعہ سنی عامۃ الناس میں باہم کوئی نفرت ہے اور نہ اہل سنت واہل تشیع کی ساری دینی قیادت اس میں شامل ہے۔ تو اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں گروپوں میں جھگڑے کی وجہ کیا ہے اور اس کی ابتدا کس نے کی ہے؟ کچھ کہنے سے پہلے یہ ہم یہاں یہ صراحت کر دیں کہ ہم کسی گروہ کے حامی ہیں نہ مخالف، ہم تو دونوں کے خیر خواہ ہیں اور ہماری رائے محض غیر جانبداری اور معروضیت پر مبنی ہے۔
ایرانی انقلاب کی کامیابی پچھلی دہائیوں کا ایک اہم واقعہ ہے۔ وہاں انقلابیوں کو کامیابی ملی تو انہوں نے اس انقلاب کو برآمد کرنا چاہا۔ اب عملاً صورت حال یہ ہے کہ اس پوری پٹی میں اہل تشیع موجود ہیں۔ عراق، شام، بحرین میں معتد بہ تعداد میں اور سعودی عرب، امارات، پاکستان، افغانستان میں معمولی مقدار میں۔ چنانچہ ان ممالک کی شیعہ اقلیتوں میں اضطراب اور ہیجان کی کیفیت پید اہو گئی۔ بعض لوگوں کے نزدیک ایرانی انقلابیوں کی اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کی خواہش فطری تھی، لیکن ہمارا کہنا یہ ہے کہ اس میں معروضیت کو پیش نظر رکھنا ضروری تھا کہ ہوش جوش پر غالب نہ آئے ، ورنہ گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔
پھر عقل ومنطق، حق وانصاف اور دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کے بین الاقوامی اصول ومعاییر سے ایک لحظہ کے لیے صرف نظر کرتے ہوئے، ایران کے اپنے قائم کیے ہوئے معیار کو دیکھا جائے تو بھی اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ پاکستان میں ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھی جائے۔ ایران نے یہ اصول اپنے دستور میں لکھا ہے اور وہ اس پر عمل پیرا بھی ہے (اور ہمارے نزدیک بھی یہ اصول صحیح ہے) کہ ملک کا دستور اور عام قانون وہ ہوگا جو ملک کی اکثریت کا عقیدہ ہے، حکومت بھی انہی کی ہوگی لیکن اقلیتی نقطہ نظر کے حقوق بھی پامال نہیں کیے جائیں گے۔ چنانچہ ایرانی دستور اور قوانین اثنا عشری عقائد کے مطابق ہیں اور اسی عقیدے کے حامل لوگ اقتدار میں ہیں۔ اسی اصول کا اطلاق پاکستان میں بھی ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں اہل تشیع کی تعداد پانچ سات فی صد سے زیادہ نہیں (چونکہ مصدقہ اعداد وشمار موجود نہیں لہٰذا اہل تشیع اگر کچھ زیادہ تعداد کا دعویٰ کریں تو بھی صورت حال پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا) اس لیے یہاں ملک کا قانون تو وہی بنے گا جو اکثریت (اہل سنت) کا ہے، لہٰذا یہاں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ قائم کرنا اور اس کے لیے عملاً جدوجہد کرنا اور دھرنے دینا غیر منطقی بھی ہے اور نا انصافی بھی۔ یہ خود ایران کے اپنے بنائے ہوئے اصول کے بھی خلاف ہے لہٰذا یہاں فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنا یا الگ تعلیمی نصاب کا مطالبہ کرنا بلاجواز تھا اور ہے۔ اس پر جب ایرانی پشت پناہی سے دھن اور دھونس سے عمل کروانے کی کوشش کی گئی اور عاقبت نااندیش پاکستانی حکومتیں بھی بروقت صحیح فیصلہ نہ کر سکیں تو ا س کا رد عمل ہوا اور اہل سنت میں سے ایک گروہ اس کی مزاحمت پر تل گیا۔ اگر یہ عمل اور رد عمل پرامن اور علمی رہتا تو شاید قابل برداشت ہوتا، لیکن ایک دفعہ جب قانو ن ہاتھ میں لے لیا گیا تو بظاہر ظالم ومظلوم برابر ہو گئے۔ اب دونوں گروہ ایک دوسرے کے آدمی مار رہے ہیں اور مسابقت اور مقابلہ اس میں ہے کہ کس نے کس کے زیادہ آدمی مارے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نہ کسی کو دین وشریعت کی پروا ہے اور نہ حق وانصاف کی۔ یہ قوم کی بدقسمتی ہے۔ یہ ایک مصیبت ہے بلکہ مصیبت کبریٰ ہے اور ہم جیسے عام مسلمان یہ دیکھ کر کڑھتے ہیں اور یہ سوچ کر پریشان ہوتے ہیں کہ اس مصیبت سے امت کو کیسے نکالا جائے؟
اس صورت حال کی اصلاح کے حوالے سے دو باتیں اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت پاکستان (بلکہ اسٹیبلشمنٹ کہنا چاہیے کیونکہ حکومتیں تو بدلتی رہتی ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ یعنی سول اور ملٹری بیورو کریسی اور جاگیردار وسرمایہ دار سیاست دانوں کی مستقل ہیئت مقتدرہ ہمیشہ قائم رہتی ہے) نے اس سلسلے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا اور نہ آئندہ اس سے اس کی توقع ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کی پالیسی ہی یہ ہے کہ دینی عناصر کو آپس میں لڑاؤ تاکہ یہ متحد ہو کر مضبوط نہ ہو جائیں اور ان کے لیے کوئی سنجیدہ چیلنج نہ بن جائیں۔ یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ ہر مسلک کی اپنی سیاسی جماعت ہے بلکہ ہر مسلک میں جتنے لیڈر ہیں، اتنی ہی دینی وسیاسی جماعتیں ہیں اور انتخابات میں ان کو ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جاتا ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ اور کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ حکومت ہر مسلک کی مسجد اور مدرسے کو رجسٹرڈ کر کے باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے اور اس نے ہر مسلک کی دینی تعلیم کا ایک وفاق منظور کیا ہوا ہے جس کی اسناد کو وہ تسلیم کرتی ہے۔ نہیں جناب! یہ سب کچھ اتفاقیہ اور الل ٹپ نہیں ہو رہا، اس کے پیچھے اسٹیلبشمنٹ کی باقاعدہ سوچ اور منصوبہ بندی ہے اور ان اقدامات کے ذریعے سے اس نے کامیابی سے دینی عناصر کے اندر افتراق کے بیج بوئے ہیں اور انہیں پروان چڑھایا ہے۔ ہمارے علما اگر ’بھولے بادشاہ‘ نہ بنیں اور بصیرت وتدبر سے کام لیں تو ان کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہیے کہ حکومت اگر چاہے تو مسلک پر مبنی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ نہ کرے یا دینی تعلیم کے بہت سارے وفاقوں کی جگہ ایک وفاق بنا دے اور مسجدیں ومدرسے مسلکی بنیادوں پر رجسٹر نہ کرے ، لیکن وہ تو اس مسلک پرستی کو فروغ دینا چاہتی ہے، علما کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے لہٰذا اسے ان اقدامات کی کیا ضرورت ہے؟ 
تو خلاصہ یہ کہ ہماری کسی حکومت نے شیعہ سنی اختلافات کو پاٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی اور نہ ہمیں موجودہ یا آئندہ کسی حکومت سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ موجودہ شیعہ سنی تنازع کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کردار ادا کرے گی۔ لہٰذا ا س کا ایک ہی حل ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ شیعہ سنی متحارب گروپوں کے علاوہ جتنے بھی دردمند دینی اور ملی عناصر ہیں، وہ اکٹھے ہو کر ایک کمیشن، کمیٹی یا عدالت بنا لیں جو اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرے اور اس کے اسباب دور کرے۔ اوپر اوپر سے لیپا پوتی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں (جس طرح حکومت کرتی ہے کہ جب محرم آئے یا مسلسل قتل وغارت گری کی وارداتیں ہوں تو علماکو صدر اور وزیر اعظم یا گورنر صاحب سے ملوایا جاتا ہے، اتحاد کے حق میں بیان دلوائے جاتے ہیں، حکومت دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے اعلان کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جب محرم گزر جاتا ہے یا وارداتیں کچھ ٹھنڈی پڑ جاتی ہیں تو پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ پھر اگلے سال جب محرم آتا ہے یا وارداتیں تیز ہوتی ہیں تو پھر وہی بیانات اور اٹھک بیٹھک دہرائی جاتی ہے اور عملاً کوئی دیرپا اقدام مسئلہ سلجھانے کے لیے نہیں کیا جاتا) اس طرح کی ایک ’’ملی یک جہتی کونسل‘‘ پہلے بنی بھی تھی، لیکن اس نے بھی ٹھوس منصوبہ بندی سے اس تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اس غرض سے ضروری ہے کہ دردمند، جہاں دیدہ اور غیر جانبدار لوگوں پر مشتمل ایک کمیشن یا کمیٹی یا عدالت سارے دینی وملی عناصر کی طرف سے بنائی جائے جو اہل تشیع کو قائل کرے کہ وہ ایران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نفاذ فقہ جعفریہ کی تحریک اور جدوجہد ختم کریں۔ (ہاں! اگر وہ چاہیں تو اپنے حقوق کے پرامن انداز میں تحفظ کے لیے کوئی انجمن، ادارہ یا سیاسی جماعت بنا سکتے ہیں) اس کے بعد سپاہ صحابہ کے بزرگوں سے بھی درخواست کی جائے کہ ہ اپنی تنظیم رضاکارانہ طور پر ختم کر دیں اور دینی وسیاسی مقاصد کے لیے دوسرے پلیٹ فارم استعمال کریں۔ یہ کام ایک آدھ دن یا ایک آدھ نشست کا نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑے گی لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر اخلاص، غیر جانب داری اور درد مندی کے ساتھ یہ کوشش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائیں گے اور اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ ان شاء اللہ۔ ہم مولانا زاہد الراشدی صاحب سے درخواست کریں گے کہ وہی اس نیک کام کی ابتدا کریں اور مختلف مسالک کے سرکردہ اور معتدل علماء کرام (ترجیحاً غیر سیاسی) پر مشتمل ایک بڑا کمیشن یا عدالت بنوائیں جو اس مسئلے کو جڑ بنیاد سے ختم کرنے کی کوشش کرے اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرے۔
امت مسلمہ کو اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ سقوط بغداد اول کے وقت شیعہ سنی اور دوسرے فرقے آپس میں لڑ رہے تھے، یہاں تک کہ ہلاکو خان نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آج پھر ایک ہلاکو خاں کے ہاتھوں بغداد کا دوبارہ سقوط ہو چکا ہے، افغانستان روندا جا چکا ہے، ایران کی باری آیا چاہتی ہے اور ہمارا نمبر شاید اگلا ہو، لیکن ہم شیعہ سنی ہونے کی بنا پر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں، متحد ہونے کو تیار نہیں، حالانکہ ہلاکو کی فوج نے جب حملہ کیا تو شیعہ سنی میں تمیز نہیں کی تھی، سب کو مسلمان سمجھ کر مارا تھا۔ بش بھی آج مسلمانوں کو مار رہا ہے، وہ شیعہ سنی میں تفریق نہیں کرتا۔ جو بھی مسلمان ہو، وہ اس کے نزدیک گردن زدنی ہے، لیکن ہم شیعہ سنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں، خود کو کمزور کر رہے ہیں، دوسروں کو اپنے اوپرہنسنے کا اور دشمنوں کو اپنے اندر گھسنے کا موقع دے رہے ہیں، لیکن عبرت پکڑنے کو تیار نہیں، سبق سیکھنے کو تیار نہیں، متحد ہونے کو تیار نہیں! کیا ہم نے خود کشی کا ارادہ کر لیا ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

جہاد اور دہشت گردی : عصری تطبیقات

ادارہ

(مجلس فکر ونظر لاہور ایک غیر حکومتی، غیر سیاسی، غیر مسلکی اور آزاد علمی وتحقیقی مجلس ہے جس کے پیش نظر مسلم امہ کو درپیش جدید مسائل میں اسلامی رہنمائی مہیا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لانا ہے۔ مجلس اس سے قبل سود کے متبادل معاشی نظام، دینی وعصری نظام تعلیم کی اصلاح کی حکمت عملی اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات جیسے اہم موضوعات پر مذاکروں اورسیمینارز کے انعقاد کے علاوہ تحقیقی وتجزیاتی رپورٹس بھی پیش کر چکی ہے۔ نومبر ۲۰۰۴ میں مجلس کی طرف سے عصری تناظر میں جہاد اور دہشت گردی سے متعلق سوالات پر غور وفکر کے لیے مختلف مکتبہ ہائے فکر کے ممتاز علما پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے مشورے سے ایک سوال نامہ مرتب کر کے ملک بھر کے جید علماء اور اسکالرز کو بھجوایا گیا۔ بعد ازاں مجلس نے ۲۲ مارچ ۲۰۰۵ کو لاہور میں اس موضوع پر ایک روزہ سمپوزیم منعقد کیا جس میں مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مولانا عبد المالک، مولانا مفتی محمد طیب، مولانا مفتی محمد خاں قادری، مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈاکٹر محمد امین اور دیگر اہل علم نے شرکت کی اور اس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ مجلس کے مرتب کردہ سوال نامہ اور سمپوزیم کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کا متن قارئین کی دل چسپی کے لیے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

سوال نامہ

۱۔ جہاد کی تعریف

اقسام جہاد

۲۔ جہاد بالدعوۃ:  کیا مسلم یا غیر مسلم معاشرے میں زبان وقلم اور دیگر پر امن ذرائع سے دین کی دعوت وتبلیغ اور اعلاء کلمۃ اللہ کی کوشش بھی جہاد ہے؟
۳۔ جہاد بالنفس: کیا دینی احکام پر عمل کے لیے اپنی ذات کی اصلاح اور اس کے لیے کوشش وجدوجہد بھی جہاد شمار ہوگی؟

اقدامی جہاد

یعنی وہ مسلح جدوجہد جس میں کسی ایسی کافر حکومت کی طاقت توڑنا اور اسے جھکانا مقصود ہو جو اپنے عوام کے فہم اسلام میں رکاوٹ ہو۔

اس جہاد کی شرائط

۴۔ شرط امام:  کیا یہ جہاد صرف کسی مسلم ریاست (یا ریاستوں) کی طرف سے ہی ہو سکتا ہے یا یہ مسلم افراد اور ان کی پرائیویٹ تنظیموں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے؟
۵۔ شرط مقدرت:  کیا یہ جہاد ہر حالت میں فرض ہوتا ہے یا صرف اس وقت جب مسلم حکومت (یا حکومتیں) اتنی طاقتور ہوں کہ طافر حکومت کی شکست کا احتمال غالب ہو؟ کیا سورۂ انفال کی دو گنا اور دس گنا والی شرط کا اطلاق یہاں ہوتا ہے؟
۶۔ اس جہاد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی یہ فرض ہے یا مستحب؟

دفاعی جہاد

جب کوئی غیر مسلم طاقت کسی مسلمان ریاست پر حملہ کر دے/ قبضہ کر لے تو اس وقت:
۷۔ اگر مسلم حکومت شکست کھا جائے تو کیا اس ملک کے مسلم عوام پر جہا دیا مسلح مزاحمت فرض ہو جاتی ہے؟
۸۔ اس مزاحمت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی یہ فرض کفایہ ہوتی ہے یا فرض عین یا محض مستحب؟
۹۔ کیا اس حالت میں شرط امام اور شرط مقدرت ساقط ہو جاتی ہیں؟
۱۰۔ اگر محض استخلاص وطن مقصود ہو اور اس کے بعد اسلامی حکومت قائم کرنے کا عزم واعلان موجود نہ ہو تو کیا پھر بھی یہ مسلح مزاحمت جہاد شمار ہوگی؟
۱۱۔ اگر کفار ایسے مفتوحہ ملک میں اپنی گماشتہ مسلم حکومت قائم کر دیں تو کیا اس حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت جائز ہوگی اور وہ شرعی جہاد سمجھی جائے گی؟
۱۲۔ کیا اس طرح کے دفاعی جہاد میں دشمن ملک (اور اس کے حلیف ممالک) کے اندر جاکر حملہ کرنا جائز ہوگا؟
۱۳۔ کیا اس ملک کی شہری آبادی اور شہری مقامات پر حملہ کرنا جائز ہوگا؟
۱۴۔ کیا اس ملک کے سفارت خانوں پر حملہ جائز ہوگا؟
۱۵۔ کیا اس ملک کے معاشی مفادات پر حملہ کرنا جائز ہوگا؟
اگر ایک مسلمان ملک پر کفار کا حملہ/ قبضہ ہو جائے توکیا
۱۶۔ ساری مسلم حکومتوں پر جہاد فرض ہو جائے گا؟
۱۷۔ یا صرف مجاور مسلم حکومت/ حکومتوں پر جہاد فرض ہوگا؟
۱۸۔ یا ساری مسلم حکومتوں پر محض اس کی اعانت فرض ہوگی؟
۱۹۔ یا صرف مجاور مسلم حکومت/ حکومتوں پر اعانت فرض ہوگی؟
۲۰۔ اس اعانت کی حدود کیا ہوں گی؟ کیا محض سیاسی اعانت سے بھی حق ادا ہو جائے گا؟
۲۱۔ اس اعانت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ یعنی فرض ہوگی یا مستحب؟
۲۲۔ اگر مسلمان ریاستیں اس متاثرہ مسلم ریاست کی مدد نہ کریں تو کیا اس صورت میں ساری امت کے مسلمانوں پر (یعنی ہر فرد مسلم پر) جہاد فرض ہو جائے گا؟
۲۳۔ یا صرف مجاور مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوگا؟
۲۴۔ مسلم افراد (یا ان کی بنائی ہوئی پرائیویٹ تنظیموں) پر یہ جہاد فرض کفایہ ہوگا یا فرض عین یا مستحب؟
۲۵۔ دفاعی جہاد میں کیا خود کش حملے جائز ہیں؟
۲۶۔ دفاعی جہاد میں اگر ان بین الاقوامی معاہدوں کے ضوابط کی خلاف ورزی ہو جن پر مسلمان حکومتوں نے دستخط کر رکھے ہیں تو اس صورت میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
۲۷۔ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟

مسلمان ریاست کے داخلی معاملات

۲۸۔ اگر مسلمان حکمران بالجبر مسلمان رعایا پر حکومت کریں، ان کی پالیسیاں بھی غیر اسلامی ہوں اور وہ کفار کے گماشتے بھی ہوں تو کیا ان کے خلاف مسلح جدوجہد جائز ہوگی اور یہ جہاد شمار ہوگی؟
۲۹۔ یہ مسلح جدوجہد فرض کفایہ ہے، فرض عین ہے یا مستحب؟
۳۰۔ ایسے مسلمان حکمران کے خلاف پرامن اصلاحی جدوجہد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ فرض کفایہ ہے، فرض عین ہے، مستحب ہے یا غیر ضرور ی ہے؟
۳۱۔ کیا مسلمان افراد اور تنظیموں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ باہمی دینی اختلافات (جیسے مثلاً شیعہ سنی میں، اہل سنت اور منکرین حدیث میں یا دیوبندی بریلوی وغیرہ میں ہیں) کی بنا پر ایک دوسرے کو کافر کہیں؟
اگر ایک مسلمان حکومت میں ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان فرد یا گروہ کے بارے میں یہ رائے رکھے کہ وہ کافر ہے تو:
۳۲۔ اسے کیا کرنا چاہیے یعنی کیا اقدامات کرنے چاہییں؟
۳۳۔ کیا وہ خود سے انہیں قتل کرنے کا مجاز ہے؟

مشترکہ اعلامیہ

جہاد اور دہشت گردی کی عصری تطبیقات کے موضوع پر مجلس فکر ونظر کی طرف سے طلب کردہ پاکستان کے مختلف مکتبہ ہائے فکر اور اداروں کے علما، محققین اور اسکالرز کا یہ اجلاس، منعقدہ لاہور ۲۲ مارچ ۲۰۰۵، مندرجہ ذیل مشترکہ اعلامیے کا اعلان کرتا ہے:

جہاد

یہ کہ
۱۔ اسلامی احکام پر عمل ا ور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کی جانے والی ہر وہ کوشش جو فی سبیل اللہ ہو، اسلامی اور شرعی جہاد ہے۔
۲۔ جہاد اسلام کا انتہائی اہم حکم ہے اور وہ قیامت تک کے لیے ہے۔
۳۔ اگر کسی مسلمان ملک پر کفار ناحق حملہ کر دیں تو وہاں کے مسلم حکمران اور عوام کا فرض ہے کہ اس کی ہر طرح سے مزاحمت کریں، یہاں تک کہ جارح کو ملک سے باہر نکال دیں اور مسلمانوں کا اقتدار بحال ہو جائے تاکہ وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
۴۔ مذکورہ صورت میں مجاور اور دیگر مسلمان ممالک کا فرض ہے کہ وہ حتی المقدور اس مسلم ممالک کی حمایت کریں کیونکہ سارے مسلمان ایک امت ہیں۔
۵۔ صحیح اسلامی اور شرعی جہاد (بمعنی قتال) میں بوقت ضرورت ایسی لڑائی میں شرکت اعلیٰ درجے کی عزیمت ہے جس کا نتیجہ پہلے سے واضح طور پر شہادت نظر آ رہا ہو۔

دہشت گردی

۶۔ جہاد (بمعنی قتال) کے علاوہ کسی مسلم حکومت، تنظیم یا فرد کا قانون ہاتھ میں لینا اور مسلح کارروائی کرنا دہشت گردی ہے، الا یہ کہ مسلم حکومت باغیوں اور قانون شکنوں سے نمٹے یا حکمرانوں کے کفر بواح کے نتیجے میں مسلمان عوام متحد ہو کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
۷۔ کسی کافر حکومت کا ناحق کسی مسلمان حکومت پر چڑھائی کرنا، اس کا اقتدار ختم کرنا اور مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا بھی دہشت گردی ہے۔

مسلمانوں کے داخلی معاملات

۸۔ کسی مسلم ملک کا دوسرے مسلم ملک پر حملہ کرنا ناجائز ہے اور یہ جہاد نہیں۔
۹۔ اختلاف عقیدہ اور فکر ونظر کی بنیاد پر کسی مسلمان کا کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار دے کر اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا ناجائز ہے، جہاد نہیں۔ نیز کسی فرد یا مسلم گروہ کو غیر مسلم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کرنا ریاست کا کام ہے نہ کہ کسی فرد یا پرائیویٹ تنظیم کا۔
۱۰۔ اگر کوئی مسلم حکومت اسلامی احکام پر پوری طرح عمل نہ کرے اور نہ کرائے تو اس کی اصلاح اور اسے بدلنے کی کوشش پرامن طریقے سے ہوگی، الا یہ کہ اس کے کفر بواح کے نتیجے میں مسلمان متحد ہو کر اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
جہاد کے باب میں مندرجہ بالا موقف طے کرنے کے ساتھ ہی ہم اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کر سکتے کہ امت مسلمہ اس وقت کمزور اور منتشر ہے اور اس کی بقا خطرے میں ہے۔ لہٰذا اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے دو لازمی تقاضے ہیں:
ایک، یہ جانتے ہوئے کہ مسلمانوں کی عزت وقوت کا منبع دین حنیف سے ان کے تمسک میں ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، ہر قسم کے اختلاف وانتشار سے بچتے ہوئے بنیان مرصوص بن جائیں، ہر قیمت پر جسد ملت کی حفاظت کریں اور اسلام کی عظمت وشوکت کی بحالی کے لیے ہر طرح کی کوششیں بروئے کار لائیں۔
دوسرے، اپنے موقف سے دست بردار ہوئے بغیر ہم اسے حکمت، فراست اور قوت کے ساتھ غیرمسلموں کے سامنے رکھیں اور اس کی حکمتیں اور اس کا معقول اور مناسب ومعتدل ہونا ان پر واضح کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین)

بھارت میں ٹی وی کے جواز و عدم جواز کی بحث

ادارہ

چند ماہ قبل بھارت کے سب بڑے دینی ادارے دار العلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں اسلامی چینلز سمیت ٹیلی ویژن دیکھنے کو مطلقاً ناجائز قرار دیا گیا۔ حسب توقع اس فتوے نے اچھی خاصی بحث کھڑی کر دی۔ فتوے سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں نے اس کو بے معنی قرار دیا جبکہ حامیوں نے ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے سے پھیلائی جانے والی بد اخلاقی کی مذمت کی اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ مذکورہ فتوے میں دی گئی ہدایت کی سختی سے پابندی کریں۔
مذکورہ فتویٰ مفتی محمود الحسن بلند شہر ی نے جاری کیا تھا جو مدرسہ دیوبند کے ایک سینئر عالم ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ٹیلی ویژن دیکھنا ممنوع ہے کیونکہ یہ بذات خود سطحی تفریح کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے مذہبی مقاصد مثلاً اسلامی پروگرام نشر کرنے کے لیے اس کا استعمال غلط ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ اسلام نے اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے واضح طریقے بتائے ہیں اور ٹیلی ویژن ان میں شامل نہیں ہے۔ فتوے میں قرار دیا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیلی ویژن پر اسلامی پروگرام دیکھتے ہیں، ان کا مقصد محض تفریح ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ اس سے گریز کرنا چاہیے۔
فتوے کے ناقدین میں سے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اس فتوے کا محرک کیو ٹی وی کے نام سے کھلنے والا ایک نیا اور روز افزوں مقبولیت حاصل کرنے والا چینل ہے جس کو اب بھارت اور پاکستان میں لاکھوں ناظرین میسر ہیں۔ کیو ٹی وی روایتی بریلوی تصوف پر مبنی دین کی تصویر پیش کرتا ہے جو کہ بیشتر دیوبندی علما کے نزدیک قابل اعتراض ہے ۔ نیز اس میں علما کے روایتی حلقے کے بجائے عوامی مقررین مثلاً پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد اور بمبئی کے ذاکر نائک کی تقریریں نشر کی جاتی ہیں، جو کہ باقاعدہ تربیت یافتہ میڈیکل اسپیشلسٹ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ دونوں مقرر غیر عالم ہیں، اس لیے دیوبندی علما انھیں اپنی اتھارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں۔ بنگلور کے مقبول احمد سراج نے (اسلامک وائس، جنوری ۲۰۰۵) لکھا ہے کہ دور جدید کے اسلامی مبلغین نے، جو وسیع حلقے تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ٹیلی ویژن استعمال کرتے ہیں، روایتی مذہبی علما کے حلقے میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سراج کا اصرار ہے کہ ’’اس وجہ سے اس فتوے کو حقارت اور نفرت کے ساتھ مسترد کر دینا چاہیے جس کا یہ فی الواقع مستحق ہے۔‘‘
فتوے کے پس پردہ اصل محرکات جو بھی ہیں، اس نے ٹیلی ویژن کے اسلامی جواز وعدم جواز نیز خود علما کی اتھارٹی کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا آغاز کر دیا ہے اور اردو پریس میں اس حوالے سے مخالف نقطہ ہائے نظر پر زور دار بحث جاری ہے۔ چند ماہ قبل ’اردو راشٹریا سہارا‘ کے نئی دہلی کے ایڈیشن (۲۲ اگست ۲۰۰۴) میں اس فتوے کے بارے میں موافق ومخالف، دونوں قسم کے مضامین شائع ہوئے ۔ ان مضامین میں فتوے کے حامیوں اور مخالفوں نے اسلامی اصطلاحات کے حوالے سے بحث کی۔ کچھ نے اس فتوے کو اسلامی لحاظ سے درست، جبکہ کچھ نے اسے اسلام کی ایک نہایت غلط تعبیر قرار دیا۔
فتوے کے ایک زبردست حامی دیوبند کے فارغ التحصیل مفتی اعجاز الرشید قاسمی ہیں۔ اپنے پرجوش مضمون میں انہوں نے اسلامی پروگراموں سمیت ٹیلی ویژن کو دیکھنا مسلمانوں کے لیے بالکل ممنوع قرار دیا۔ انھوں نے استدلال کیا کہ کوئی بھی فلم (بشمول ٹیلی ویژن کے اسلامی پروگراموں کے) عورتوں کی تصویریں شامل کیے یا اسے محض تفریحی سطح تک محدود کیے بغیر پرکشش نہیں بنائی جا سکتی، جبکہ یہ دونوں باتیں غیر اسلامی ہیں۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ بہت سے دیوبندی علما نے کہا ہے کہ چونکہ ٹیلی ویژن شیطانی کاموں کا مظہر بن چکا ہے، اس لیے مسلمانوں کو حتی الامکان اس سے دور رہنا چاہیے، ورنہ انھیں اخلاقی پستی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ 
ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن کا استعمال اسلامی تبلیغی مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ دعوت وتبلیغ کا فریضہ تمام مسلمانوں پر لازم ہے، لیکن یہ کام صرف اور صرف جائز ذرائع سے کیا جانا چاہیے۔ چونکہ ٹیلی ویژن ان کے بقول بالعموم غیر اخلاقی پروگرام نشر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بنیادی طور پر ایک ذریعہ تفریح کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہ اسلامی دعوت وتبلیغ کا کوئی جائز ذریعہ قرار نہیں پا سکتا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہر قسم کے، اسلامی یا غیر اسلامی، پروگرام دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ چونکہ وہ ٹیلی ویژن کو بذات خود بد اخلاقی کا منبع سمجھتے ہیں، اس لیے انھوں نے قرار دیا ہے کہ ٹیلی ویژن کے اسلامی پروگرام لازماً اسلام کی توہین کا ذریعہ بن رہے ہیں اور آخر کار یہ مسلم تشخص کو برباد کر کے رکھ دیں گے۔ اپنے مضمون کے اختتام پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’تمام دنیا کے مسلمان دیوبند کے فتاویٰ کا احترام کرتے ہیں‘‘، اور یہ توقع ظاہر کی ہے کہ تمام مسلمان صدق دل سے ٹیلی ویژن کے خلاف اس فتویٰ کی تائید کریں گے۔
متنازعہ فتویٰ کی مزید تائید دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی نے کی ہے۔ انھوں نے مفتی اعجاز صاحب کے پیش کردہ دلائل کے علاوہ ٹیلی ویژن کے ناجائز ہونے کی ایک مزید وجہ یہ بیان کی ہے کہ اسلام میں تصویر سازی ممنوع ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیلی ویژن کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے انٹر نیٹ کو جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انٹر نیٹ ’’عام طور پر تصویروں سے پاک ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ جائز مقاصد کے لیے انٹر نیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تصویریں استعمال نہ کی جائیں۔ چنانچہ خود دار العلوم دیوبند کی بھی اپنی ویب سائٹ قائم ہے اور بہت سے دوسرے دیوبندی گروپ بھی آن لائن فتاویٰ جاری کرتے ہیں۔
اگرچہ دیوبندی علما کی اکثریت اس متنازعہ فتویٰ کی حامی ہے، تاہم متعدد نوجوان دیوبندی فضلا اس کے شدید ناقد ہیں۔ایک عمدہ مثال انجمن فضلائے دار العلوم کے ترجمان ’’ترجمان دار العلوم‘‘ کے مدیر وارث مظہری کا لکھا ہوا طویل مضمون ہے ۔ مظہری نے اس فتویٰ کی، جو ان کے نزدیک ناقص دلائل پر مبنی ہے، کھلم کھلا مخالفت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ فتویٰ کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ٹیلی ویژن بنیادی طور پر سطحی یا غیر اخلاقی تفریح کا ایک ذریعہ ہے اور اس لیے اسلامی طور پر ناجائز ہے۔ اگرچہ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ ٹیلی ویژن کے بہت سے پروگرام اسی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن ٹیلی ویژن جائز مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، مثلاً خبروں اور معلومات کو نشر کرنا، خلاف اسلام پراپیگنڈا کی تردید کرنا، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے اسلام کی وضاحت کرنا، چنانچہ ٹیلی ویژن سے مکمل گریز اختیار کرنے کے بجائے، مسلمانوں کو نا مناسب چینلز سے دور رہنا چاہیے اور ان کے علاوہ دیگر مفید چینلز سے بے جھجھک فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگرچہ مظہری خود مدرسہ دیوبند کے ایک تربیت یافتہ عالم ہیں، لیکن وہ ٹیلی ویژن کے خلاف فتویٰ دینے والے مفتی صاحب سمیت قدامت پسند علما پر سخت تنقید کرتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی اور ترقی کے مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں ٹی وی کے خلاف فتویٰ دراصل علما کی جانب سے نئی ایجادات کی مخالفت کی ایک طویل روایت کا تسلسل ہے۔ وہ اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کرتے ہیں، مثلاً انیسویں صدی کے سعودی علما نے وال کلاک کو ’’شیطانی آلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اسی طرح ٹیلی فون اور وائرلیس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ شیطانی ایجادات ہیں اور ان سے آنے والی آوازیں غیر مرئی شیطانی طاقتوں سے استعانت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔
ایک دوسرے دیوبندی فاضل مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی نے فتویٰ کے خلاف وارث مظہری کے دلائل کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو یہودونصاریٰ کی سازشوں کا سامنا ہے اور خلاف اسلام پراپیگنڈا کی تردید اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے انہیں ٹیلی ویژن سمیت ابلاغ عام کے ذرائع کو لازماً استعمال میں لانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیلی ویژن تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، تاہم مسلمانوں کو غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن کو مکمل طور پر برائی قرار دے کر اس فتویٰ نے مسلمانوں کو ساری دنیا کی نظر میں احمق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹیلی ویژن کو محض اس وجہ سے مکمل طور پر مسترد کر دینا کہ بہت سے ٹی وی پروگرام غیر اخلاقی ہوتے ہیں، ایک مضحکہ خیز بات ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کالج اور یونیورسٹیاں بھی بند کر دی جائیں کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے بعض اداروں میں مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ہوتا ہے۔ انہوں نے تلخ لہجے میں مزید یہ تبصرہ کیا ہے کہ اگر فتویٰ نویس کی منطق مان لی جائے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اسی قسم کا ایک فتویٰ فلموں پر پابندی کے لیے بھی نہیں جاری کیا گیا جو کہ بد اخلاقی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں؟
فتویٰ کے خلاف رائے دینے والے ایک اور دیوبندی فاضل مولانا اسرار الحق قاسمی ہیں، جو ایک وسیع حلقے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اپنے مضمون میں انہوں نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ فتویٰ حقیقی دنیا سے ناواقفیت پر مبنی ہے اور گزارش کی ہے کہ اس پرنظر ثانی کی جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر ایک ڈاکٹر ماہر فن نہیں ہے تو وہ مناسب دوا نہیں دے سکتا، بلکہ درحقیقت مریض کو اور زیادہ بیمار کر دے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بعینہ یہی منطق اس صورت میں بھی لاگو ہوتی ہے جب علما فتوے صادر کرتے ہیں۔ ٹی وی کے خلاف فتویٰ دینے والے عالم کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کوئی عالم شریعت کی روح اور اس کے مقاصد میں رسوخ نہیں رکھتا تو اسے فتویٰ دینے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس کے جاری کردہ فتوے غلط اثرات مرتب کریں گے۔‘‘ فتویٰ نویس کا نام لیے بغیر لیکن ان کی اور ان کی طرح کے دیگر علما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق قرب قیامت میں ایک عظیم فتنہ برپا ہوگا اور علما ایسے فتوے جاری کریں گے جو کہ قرآن اور سنت کے خلاف ہوں گے۔ وہ حد سے متجاوز فخر کی بنیاد پر ایسے امور پر گفتگو کریں گے جن کا حقیقی دین سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ وہ اقتدار یا دولت کے لالچ میں غلط فتوے دیں گے جو لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کریں گے۔ یہ سب کچھ اسلامی اصولوں کے خلاف ہوگا اور کشمکش اور خون ریزی پر منتج ہوگا جس کے لیے جاہل اور ناپختہ مفتی ذمہ دار ہوں گے۔ ایسے مسائل جن میں مسلمان تقسیم ہو جائیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگیں ، مفتی کو فتویٰ جاری کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
مولانا انظر شاہ کشمیری نے، جو دار العلوم (وقف) دیوبند سے وابستہ ایک ممتاز عالم دین ہیں، اس فتویٰ پر تنقید کی ہے کیونکہ یہ اسلام کو ایک غیر روادار، تنگ نظر اور ترقی وتغیر کے مخالف مذہب کے طور پر پیش کر کے اس کی بدنامی کا سبب بنا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن کو جائز مقاصد مثلاً تعلیم، غیر اسلای پراپیگنڈا کی تردید اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ محض اس وجہ سے اس پر پابندی لگا دینا کہ یہ غیر اخلاقی پروگراموں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، ایسے ہی مضحکہ خیز ہے جیسے یہ مطالبہ کرنا کہ ٹیلی فون پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ وہ بھی اسی طرح غلط استعمال ہوتا ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ یہ فتویٰ دور متوسط کے علما کے متروک اور ناقابل عمل خیالات پر مبنی ہے جو کہ فقہ کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسلمان علما سے گزارش کی ہے کہ وہ آج کے دور کے تناظر میں اپنے فہم اسلام کو بہتر بنائیں اور اس میں ارتقا پیدا کریں۔
ایک اور دیوبندی فاضل مفتی احمد نادر قاسمی نے کہا ہے کہ جائز مقاصد کے لیے ٹی وی کا استعمال درست ہے۔ چونکہ قرآن اور حدیث ٹیلی ویژن کے جواز یا عدم جواز کے مسئلے پر خاموش ہیں، اس لیے یہ مباح ہے بشرطیکہ اسے تعلیمی یا اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بہت سے دیوبندی علما کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی پروگراموں میں تصویر کا استعمال بھی جائز ہے۔ تاہم مفتی احمد نادر قاسمی اور ٹیلی ویژن کے جواز کے حامی کچھ دیگر علما ٹی وی دیکھنے کے لیے نہایت سخت اور بعض حالات میں ناممکن شرائط عائد کرتے ہیں۔ مثلاً مظاہر العلوم (وقف) سہارنپور کے مفتی محمد امین لکھتے ہیں کہ مسلمان ٹیلی ویژن دیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ صرف ایسے اسلامی پروگرام دیکھیں جن میں تصویریں بالکل نہ ہوں۔ اگر سکرین پر کوئی تصویر آتی ہے تو ناظرین کو اپنی آنکھیں جھکا لینی چاہییں، کیونکہ کسی تصویر کو دیکھنا اسلام میں ممنوع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے ٹی وی پروگرام جن میں عورتیں ہوں، چاہے وہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، شریعت کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کے لیے ممنوع ہیں۔ مزید برآں ٹی وی پر عورتوں کی آوازیں نہیں سننی چاہییں کیونکہ ان کے بقول عورت کے جسم کی طرح اس کی آواز بھی پردے میں ہونی چاہیے۔ اسی طرح کی مشروط اجازت شاہی مسجد فتح پوری دہلی کے امام مفتی مکرم احمد نے بھی دی ہے جنھوں نے مذکورہ فتوے سے تو اختلاف کیا ہے، تاہم یہ کہا ہے کہ ٹی وی کے اسلامی پروگرام جائز ہیں بشرطیکہ وہ شریعت کے مطابق ہوں اور ان میں عورتوں کی تصویریں اور آوازیں نشر نہ کی جائیں۔ ہاں اگر ایسے پروگرام مردوں کی تصویریں دکھائے بغیر پیش نہ کیے جا سکیں تو ضرورت کے تحت وہ اسے جائز تسلیم کرتے ہیں۔
دہلی کے مولانا وحید الدین خان، جو اپنے نسبتاً لبرل خیالات کی وجہ سے قدامت پسند علما میں سخت ناپسند کیے جاتے ہیں، غضب ناک حد تک اس فتوے کے خلاف ہیں اور انہوں نے اپنے مضمون میں فتویٰ نویس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ مسلمانوں کو غیر اخلاقی پروگرام دیکھنے سے باز رہنا چاہیے، تاہم وہ تعلیمی مقاصد، خلاف اسلام پراپیگنڈا کے مقابلہ اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ٹی وی کو استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک ذریعہ ابلاغ کے طور پر ٹی وی، اخلاقی لحاظ سے غیر جانبدار ہے۔ یہ اچھے مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور برے مقاصد کے لیے بھی، اور علما سمیت مسلم قائدین کو اس کے منفی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے مناسب اسلامی پروگرام بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس ضمن میں پیغمبرانہ مثالیں پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کعبہ کو دعوت اسلام کے لیے استعمال کیا جبکہ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر نے بتوں کو نظر انداز کر دیا اور اپنے دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ اسی طرح مسلمانوں کو غیر اخلاقی ٹی وی چینلز اور پروگراموں کو نظر انداز کر کے اسے اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی دشمنان اسلام کی کوئی خفیہ سازش نہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو مغلوب کرنا اور غیر اسلامی پراپیگنڈا پھیلانا ہے، جیسا کہ بہت سے علما دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ خدا کی ایک نعمت، اس کی قدرت کا ایک اظہار اور خدائی قوانین کا ایک استعمال ہے۔ مولانا وحید الدین کہتے ہیں کہ ٹی وی کا امکان خدا کی تخلیق میں پوشیدہ تھا یہاں تک انسانوں نے اسے دریافت کر لیا۔ اس لیے اسے مکمل طور پر حتیٰ کہ اسلامی مقاصد کے لیے بھی ناجائز قرار دینا، جیسا کہ فتویٰ نویس نے کہا ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔
مولانا وحید الدین کے موقف کی تائید نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر اختر الواسع نے بھی کی ہے۔ انہوں نے ٹی وی کو مکمل طور پر غیر اسلامی قرار دینے والے فتوے سے اختلاف کرتے ہوئے اصرار کیا کہ اسلامی لحاظ سے درست پروگراموں پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی نزدیک ٹی وی کا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال ہونا اس کو بطور ایک آلے کے غیر اسلامی نہیں بنا دیتا۔ وہ تلخ لہجے میں کہتے ہیں کہ اگر اس منطق کا اطلاق ہر جگہ پر کیا جائے تو کاغذ اور قلم کو بھی ناجائز قرار دینا پڑے گا کیونکہ یہ بھی ہر قسم کے غیر اسلامی خیالات کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان کی رائے میں ٹی وی کے غیر اخلاقی پروگراموں کے مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ٹی وی پر ہی مکمل پابندی لگا دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی جگہ پر بہتر پروگرام پیش کیے جائیں۔ مزید برآں وہ لکھتے ہیں کہ ٹی وی کے اسلامی پروگراموں پر پابندی لگانا اسلامی نقطہ نگاہ سے الٹا منفی نتائج کا باعث بنے گا، کیونکہ ان پروگراموں کے ذریعے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل کر رہی ہے۔ اگر ان کو بھی ممنوع قرار دیا جائے جیسا کہ فتویٰ کا مقصد ہے تو واحد نتیجہ یہ نکلے گا کہ لوگ ان پروگراموں کی جگہ غیر اخلاقی پروگراموں کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیں گے۔
اسلامی بنیادوں پر فتویٰ کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ اس بحث کے کچھ شرکا نے یہ دلچسپ سوال بھی اٹھایا ہے کہ فتویٰ نویس اور ان کے حامیوں کے ہاں دوہرا معیار پایا جاتا ہے۔ مثلاً انجمن فضلاے دار العلوم کے قائم مقام صدر مولانا عمید الزمان قاسمی کیرانوی نے بڑی جرات سے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ فتویٰ کی رو سے ٹی وی کو ناجائز قرار دیے جانے کے باوجود متعدد دیوبندی علما باقاعدہ ٹی وی پر آتے ہیں اور ٹی وی پر اپنے جلوسوں کی منظر کشی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی طرح اترانچل کی ملی کونسل کے کنوینر مولانا ریاض الحسن ندوی ٹی وی کو مکمل طور پر ناجائز قرار دینے جبکہ انٹر نیٹ کے استعمال کی اجازت دینے کے موقف میں شدید تضاد محسوس کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ غیر اخلاقی مواد نہ صرف انٹر نیٹ پر زیادہ کثرت سے میسر ہے بلکہ ٹی وی کے برعکس، وہ کسی قسم کی سنسر شپ کے دائرے میں بھی نہیں آتا۔
فتویٰ کے حامیوں اور مخالفوں کی گرما گرم بحث کے باوجود لگتا یہ ہے کہ عام مسلمانوں نے اسے سنجیدہ توجہ کا مستحق نہیں جانا، چنانچہ لوگوں کی طرف سے منظم طور پر ٹی وی سیٹ توڑ دینے کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، جیسا کہ چند برس پہلے پاکستان کے صوبہ سرحد میں دیوبندی کارکنوں نے کیا تھا۔ خود بہت سے مسلمان اہل علم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس قسم کے فتوے ایک وقتی بے چینی تو پھیلاتے ہیں لیکن ان سے کوئی مثبت مقصد ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔ غطریف شہباز ندوی لکھتے ہیں (افکار ملی، نومبر ۲۰۰۴) کہ اس کے نتیجے میں صرف یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ مدارس کے مولوی حضرات عام طور پر جو فتوے جاری کرتے رہتے ہیں، ان کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ انھیں جدید دنیا کی پیچیدگیوں کا سرے سے کوئی اندازہ ہی نہیں۔
(http://www.islaminterfaith.org/april2005)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
عزیز محترم حافظ محمد عمار ناصر زیدت مکارمکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تازہ شمارہ میں محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی کا الشریعہ اکادمی کے حریم بادہ نوشاں ۔فکری نشست۔ سے خطاب بالاستیعاب پڑھ سکا۔ موصوف نے بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ یہ سچ ہے، مگر ہمارے فکری انتشار کے بعض اہم پہلوؤں پر وہ توجہ نہیں فرمائی جو اس کا حق تھا۔ عصری علوم سے ہماری دوری یقیناًایک اہم معاملہ ہے، بے شک، لیکن ہمارے قعر مذلت میں جا گرنے کا ایک اہم سبب ہمارے اصل منصب ’کنتم شہداء علی الناس‘ سے رو گردانی ہے۔ بقول اقبال ؂ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔ ہماری خاص ہیئت ترکیبی سے ہمارا اغماض، شرک زدہ قوموں کی عقلی میراث کا اتباع ہی تو ہے۔ غزالی کا المنقذ من الضلال اس پر گواہ ہے۔
گر بہ استدلال کار دیں بود
فخر رازی راز دار دیں بود
بقول مولانا عیسیٰ منصوری ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات میں اضافہ فرماتا رہے۔ آمین۔ آج فخر الدین رازی کی نہیں، ابن عربی کی ضرورت ہے۔ ہم تو صدیوں سے اصل کو چھوڑ کر یونانیوں اور ایرانیوں کی طرح قال قالا قالوا قلن قلتن  کی خرافات میں ٹھہر گئے ہیں۔ اس دلدل سے کب کوئی قوم عہدہ برآ ہو سکی۔ اب تو ہمارا ہر کام بغیاً بینہم، ایک دوسرے کو عقلی ومنطقی ’’شہ مات‘‘ دینے کی کوششوں سے عبارت ہو کر رہ گیا ہے۔ 
ملل سابقہ میں مصری تہذیب اور سیدنا سلیمان کے زمانے کی تہذیب جن مادی بلندیوں پر گئی، اس سے آپ سب واقف ہیں۔ اور بقول اقبال ’تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی‘ کے مصداق یہ ساری عمارتیں محض شرکی وجہ سے ڈھے گئیں۔ آپ قوم سبا کے ذکر ہی کو لیجیے۔ یا تو وہ عالم تھا کہ ’بلدۃ طیبۃ ورب غفور‘ یا پھر وہ حالت کہ سارا ملک جھاڑ جھنکار ہو گیا۔
اس پورے خطاب میں اخلاقی وروحانی ہتھیار کا وہ ذکر نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ’واعدوا لہم مااستطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل‘  کی ضرورت سے غافل تھے؟ اور کیا ان کی محیر العقول کامیابیوں کا سبب محض علوم ظاہری میں برتری تھی؟ بلکہ ’’خلق عظیم‘‘ کا بحد توفیق جاں نثارانہ اتباع جو ’ان کنتم مومنین‘ کے بغیر ممکن نہیں، شرک کو اس کے ہر رنگ میں پہچاننے کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ مجھے معاف کرے، موصوف خود علوم جدیدہ سے اتنے مرعوب ہیں کہ جو حل انھوں نے تجویز فرمائے ہیں، اسے پڑھ کر تو زبان سے یا للعجب نکلتا ہے۔ ’تا تریاق از عراق آوردہ شود، مار گزیدہ مردہ شود‘ ہی نکلتا ہے۔
(ایک محترم اور بزرگ قاری)
(۲)
محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وبعد!
گزشتہ دنوں محترم جناب پروفیسر حافظ محمد منیر صاحب کی وساطت سے آپ کے موقر ماہنامہ جریدے ’الشریعہ‘ سے تعارف ہوا جس کی فکر انگیز تحریروں نے بلاشبہ سوچ پر نقش چھوڑے ہیں۔ میں چونکہ خود نوائے وقت کے سیاسی ہفت روزہ ’ندائے ملت‘ سے وابستہ ہوں جہاں پر اسلامی دنیا، اسلامی تحریکیں اور مغرب کے ساتھ اسلام کی فکری اور سیاسی پنجہ آزمائی میرا شعبہ ہے، اس تناظر میں آپ سے یہی گزارش کروں گا کہ آپ کے اس موقر جریدے میں جدید فکری کشمکش کے حوالے سے ابھی بہت گنجایش ہے اور اس کو آپ جیسے دردمند افراد ہی پورا کر سکتے ہیں۔ مغرب عالمی صہیونیت کے ایما پر آج ہمیں فکر وعلم اور عمل کے ہر میدان میں للکار رہا ہے اور ایسی حالت میں مقابلے کی دعوت دے رہا ہے کہ تمام دنیاوی وسائل اس کے قبضے میں ہیں جبکہ ’’امت وسطی‘‘ جس کے کاندھوں پر انبیا کی دعوت کی ذمہ داری ڈالی گئی، بدقسمتی سے اس سلسلے میں بے وسیلہ سی نظر آ رہی ہے۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے میں آپ کے موقر جریدے کے ذریعہ یہی کہہ سکوں گا کہ ماضی کے شان وشوکت کے قصے یاد کرنے اور مستقبل کی امیدوں پر آس لگانے کی بجائے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے جدید علوم کی جانب راغب ہوں، ایسے ادارے قائم کرنے کی کوشش کریں جہاں مغربی ممالک کی لغات اور ان کے فکری محاسن ومراجع کی تعلیم دی جائے اور پھر ان کو ان کی ہی زبانوں میں اسلامی حقانیت اور مغرب کا فکری کھوکھلا پن ظاہر کیا جائے۔ میں آپ کو اور اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی طاقتور دعوت کا جواب تمام مادی وسائل ہونے کے باوجود نہیں دیا جا سکتا۔ میں خود اس سلسلے میں مغرب کی جامعات میں دوران تعلیم ان حقائق کا مشاہدہ کر چکا ہوں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ آپ کو اس دعوتی ذمہ داری میں سرخرو کرے۔ آمین
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیر اندیش
محمد انیس الرحمن
انچارج بین الاقوامی امور
ہفت روزہ ندائے ملت (نوائے وقت) لاہور
(۳)
مکرم جناب زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔
’الشریعہ‘ میں مغربی فکر وفلسفے کے حوالے سے مضامین کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مغرب اسلام سے بخوبی آگاہ ہے، لیکن ہم مغربی فلسفے سے قطعاً آگاہ نہیں۔ اس کمی کے باعث مغرب کی بے جا مخالفت یا خواہ مخواہ حمایت کا رویہ عام ہو گیا ہے۔ افراط وتفریط کی اس روش سے بچنے کے لیے آپ جیسے علماء کا وجود غنیمت ہے۔ آپ کے رسالے میں مہاتیر محمد، وزیر اعظم ملیشیا اور ڈاکٹر غازی صاحب کی تین تقاریر شائع ہوئی ہیں۔ تینوں کا منہاج یکساں ہے۔ براہ کرام اس موضوع سے متعلق دوسرے نقطہ ہائے نظر بھی شائع فرمائیے تاکہ قارئین آپ کے علم سے استفادہ کر سکیں۔
عمر حمید ہاشمی
(نائب ناظم)
شعبہ تصنیف وتالیف وترجمہ
جامعہ کراچی۔ یونیورسٹی روڈ۔ کراچی

(۴)
مخدوم گرامی قدر حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
’الشریعہ‘ مارچ ۲۰۰۵ کے شمارے میں محترم المقام ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ آپ کی دعوت کے باوجود ڈاکٹر صاحب کا مقالہ بالمشافہہ سننے کی جو محرومی وتشنگی تھی، الحمد للہ دور ہو گئی۔ استاذ مکرم مولانا چنیوٹی صاحب مرحوم سے ڈاکٹر صاحب کی تعریف بارہا سنی تھی، لیکن وہ صرف عربی وانگلش پر مہارت کے حوالے سے تھی۔ یہ مقالہ پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کی وسعت نظر کا اندازہ ہوا اور یہ امر ان کے ساتھ غائبانہ عقیدت ومحبت میں اضافہ کا باعث بنا کہ وہ کاندھلہ کے علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت باکرامت رکھے۔ آمین۔
ڈاکٹر صاحب محترم اپنے علمی ذوق اور وقت کی ضرورت کے پیش نظر ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر اکرام الحق صاحب مدظلہ سے تفسیر قرطبی کا اردو ترجمہ کرا رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ بھی ایک اہم کام ہے۔ میں ان سطور میں آپ کی وساطت سے چند مزید امور کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ 
۱۔ قرآن مجید کی وہ آیات جن میں فلکیات، موسمیات، جغرافیہ وغیرہ علوم کی طرف اشارات ہیں، اگر ان علوم کی اصطلاحات سے واقفیت ہو جائے تو متعلقہ آیات کی بہت عمدہ تفسیر ہو سکتی ہے۔ یہ ایک کمی اور خلا محسوس ہوتا ہے۔ محض اس بنا پر کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں، سائنس کو مسترد کر دینا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ بعض حضرات قرآن مجید کی ہر ہر آیت سے سائنسی نظریات کی تائید کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔ افراط وتفریط نہیں ہونی چاہیے۔ طب نبوی اور جدید سائنس کے موضوع پر ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب نے لکھنے کی ابتدا کی۔ اچھی محنت کی۔ اس کے بعد تو اس موضوع پر مستند وغیر مستند کتابوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض حضرات اس موضوع کو ایک فیشن کا درجہ دے کر اس پر خامہ فرسائی کر رہے ہیں۔ احقر سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب محترم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسرز واسکالرز سے اپنی زیر نگرانی بہتر انداز میں یہ کام کروا سکتے ہیں۔
۲۔ علم نفسیات کہنے کو تو جدید علم ہے، مگر اس کے اصول وضوابط کی بنیادیں اسلامی تعلیمات میں مل جاتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات، انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں۔ حضور علیہ السلام سب سے بڑے ماہر نفسیات بھی تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ نفسیات کے بعض پروفیسر اس موضوع پر کام کرتے رہے ہیں۔ احقر کی معلومات کے مطابق وہ ناتمام ہے۔ چند برس پہلے سعدیہ غزنوی صاحبہ نے ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور ماہر نفسیات‘‘ نامی کتاب لکھی۔ اس پران کو صدارتی ایوارڈ بھی ملا، لیکن بہرحال وہ ابتدائی کوشش ہے، حرف آخر نہیں۔ مصنفہ مزید لکھ سکتی تھیں، لیکن کسی وجہ سے نہیں لکھ سکیں۔ اس موضوع پر مزید کام درکار ہے۔
۳۔ فلسفہ کو دین اسلام اور سائنس، دونوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ فلسفہ کے بعض نظریات، خلاف اسلام ہیں اور بعض جدید سائنسی علوم کے خلاف ہیں۔ دونوں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت اقدس تھانویؒ نے ’التلخیصات العشر‘ میں اس موضوع پر کچھ محنت کی ہے، لیکن وہ ابتدائی کام ہے۔ اس کام کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کچھ بھی لکھا جائے، آسان اور عام فہم ہو۔ ’’فہم فلکیات‘‘ کی طرح چیستان نہ ہو۔ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ان موضوعات پر بھی توجہ فرمائیں تو اپنے اثر ورسوخ کی بدولت بہت کچھ لکھوا سکتے ہیں۔ امید واثق ہے کہ وہ ضرور توجہ دیں گے۔ وما علینا الا البلاغ۔
والسلام
(مولانا) مشتاق احمد
استاذ جامعہ عربیہ، چنیوٹ
(۵)
جناب پروفیسر وقار افضل صاحب 
السلام علیکم!
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے 
بہت خوشی ہوئی کہ خاکسار کی ٹوٹی پھوٹی تحریریں آپ جیسے ذی وقار معلم کے ہاں افضل ٹھہرتی ہیں ۔ حوصلہ افزا کلمات کے لیے تہہِ دل سے مشکور ہوں ۔ 
جہاں تک کلیم احسان کے شعر کی تشریح میں فکری ابہام کا تعلق ہے کہ مٹھی میں جگنو سے انانیت کا سراغ نہیں ملتا بلکہ خوف یا خدشے کا اظہار ہوتا ہے، بظاہر درست معلوم ہوتا ہے۔لیکن ناچیز کی ناقص رائے اب بھی یہی ہے کہ مٹھی میں جگنو انانیت کا آئینہ دارہے کیونکہ اگر آپ کی رائے پر بھی غور کیا جائے تو مطلب یہی نکلتا ہے ۔ آپ نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ’’وہ اس طرح کہ ہتھیلی سے جگنوکے اڑنے کا اندیشہ ہے ۔ ‘‘ کیا اس بات کے یہی معانی نہیں کہ ہمارا شاعر جگنو کو possess کرتا ہے ؟ possession کی یہی نفسیات ایک طرف (واقعاتی حوالے سے ) ہتھیلی کے بجائے مٹھی کو ترجیح دیتی ہے تو دوسری طرف (فکری اعتبار سے ) انانیت کی علامت بنتی ہے ۔ البتہ یہ الگ بحث ہے کہ اس انانیت کے پیچھے خوف چھپا ہوا ہے یا کوئی اور معاملہ ہے ۔ وقار صاحب ! آپ سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ اس انانیت اور possession کے پیچھے درحقیقت خوف ہی گھات لگائے بیٹھا ہے ۔پھر خوف ، خدشے یا ڈر کی نوعیت ، انانیت کے مثبت یا منفی ہونے کا اشارہ کرتی ہے ۔ ناچیز کی رائے میں ، اس شعر میں جگنو کا استعارہ اور راستہ دکھائے جانے کا پورا یقین ، انانیت کے مثبت ہونے پر دال ہے کیونکہ یہ انانیت ظلمت کی بھول بھلیوں کے مقابل روشن راہ کی حامل ہے ۔ تاریکی کے متوقع دوراہے اور ظلمت کی امکانی بھول بھلیا ں کلیم کے اندیشوں کا سبب ہیں ۔
وقار صاحب ! جہاں تک میر و ناصر کی شعری روایت کی ترفیع کے حوالے سے ، کلیم کے اشعار کے انتخاب میں فروگزاشت کا تعلق ہے، اس کی بابت یہ کہنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا کہ آپ خاکسار کی بات سمجھ نہیں سکے۔ البتہ یہ تسلیم کیے بنتی ہے کہ ناچیز اپنی بات صحیح طور کہہ نہیں پایا ۔ مضمون کی ابتدائی دو سطریں یہ تھیں :
’’چلو جگنو پکڑتے ہیں ‘‘ کلیم احسان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے ۔ اس مجموعے میں اس شعری روایت کی ’’ترفیع ‘‘ جھلکتی ہے ، جو میر و ناصر کے ادوار سے گزر کر موسمِ گل کی حیرانگی میں رونما ہوئی اور خود اس مجموعے میں جا بجا بکھر گئی ۔‘‘
اس کے بعد جو اشعار پیش کئے گئے ہیں ، بلاشبہ وہ میر و ناصر کی باز گشت معلوم ہوتے ہیں ، کیونکہ مذکورہ سطروں میں اس شعری روایت کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے۔ جہاں تک ترفیع کا معاملہ ہے اس کا ذکر پورے مجموعے کے تناظر میں کیا گیا ہے ، اسی لیے ان سطروں میں لفظ ’’مجموعہ ‘‘ استعمال کیا گیا ہے ۔ امید ہے اب اس وضاحت کے بعد ، مضمون کی ابتدا میں اشعار کے انتخاب کو بطور بازگشت لیا جائے گا نہ کہ بطور ترفیع۔ 
ابہام کی طرف توجہ دلانے اور گہری دلچسپی ظاہر کرنے پر آپ کا ایک بار پھر مشکور ہوں ۔ 
والسلام
پروفیسر میاں انعام الرحمن 
(۶)
برادرم مولانا عمار ناصر صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج اچھے ہوں گے۔ ’الشریعہ‘ ہر ماہ نظر سے گزرتا ہے اور اس کی تحریریں پڑھ کر قلب وذہن منور ہوتے ہیں۔ مارچ ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں مولانا سید سلمان الحسینی الندوی کے مضمون ’’اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت‘‘ میں جو نکتہ اٹھایا گیا ہے، وہ بے حد اہم اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہے۔ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کا موضوع ہمارے ہاں عام طور پر احناف اور اہل حدیث کے مابین ایک اختلافی نکتے کے طور پر زیر بحث آتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے اس وقت ایک سنگین معاشرتی مسئلے کے طور پر دیکھنے اور اس کا معقول حل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ 
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام ایک خاندان کے وجود میں آنے کے بعد انتہائی ناگزیر ضرورت کے بغیر اس کے ٹوٹنے کو پسند نہیں کرتا۔ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کو، کوئی رعایت دیے بغیر، ہر حالت میں واقع ماننا شریعت کے اس منشا کے خلاف ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں ایسی صورت عام طور پر شرعی طریقے سے ناواقفیت اور محض وقتی جذباتی کیفیت کے نتیجے میں رونما ہوتی ہے اور ایک لمحے میں پورا خاندان نادانی اور جذباتیت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اسلام چھوٹے سے چھوٹا معاہدہ توڑنے کے لیے بھی سوچ بچار کا موقع دیتا ہے، جبکہ نکاح کو تو قرآن مجید میں ’میثاقا غلیظا‘ کہا گیا ہے۔ کیا اتنے بڑے معاہدے کو ایک لمحے میں ختم کر دینا اور غلطی کرنے والے کے لیے تلافی کا کوئی موقع باقی نہ رہنے دینا اسلام کے اصول عدل کے مطابق ہے؟
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت اسلام کا خاندانی نظام خاص طور پر مغرب کی تہذیبی یلغار کا ہدف بنا ہوا ہے اور اس کے حملوں میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں اس قدر بے لچک موقف اختیار کر کے کہیں ہم بھی نادانستہ اس تہذیبی کشمکش میں مخالف قوتوں کے لیے مددگار تو ثابت نہیں ہو رہے؟
جہاں تک اس مسئلے کے شرعی پہلو کا تعلق ہے تو روایات سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مجلس کے اندر تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ اسی طرح خلیفہ اول سیدنا ابوبکر کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر کے عہد کے ابتدائی دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی تصور کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد حضرت عمر نے مخصوص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بحیثیت مجتہد اور خلیفہ کے یہ طے کیا کہ تین طلاقوں کو تین ہی تصور کیا جائے گا۔ سیدنا عمر فاروق کا یہ فیصلہ مخصوص معاشرتی صورت حال میں ایک اجتہادی فیصلہ تھا اور ایسی صورت میں بعض دفعہ اصل شرعی حکم کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ زمانہ قحط میں انہوں نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کو عارضی طور پر معطل فرما دیا اور جب قحط دور ہو گیا تو قطع ید کا حکم بھی اپنی اصل صورت میں بحال ہو گیا۔ گویا سیدنا عمر فاروق نے سوسائٹی کے اندر ایک خرابی کو دور کرنے کے لیے وقتی طور پر ایک فیصلے کو معطل کر کے دوسرا فیصلہ جاری کیا، لیکن یہ عبوری مدت کے لیے تھا نہ کہ مستقل اور ابدی طور پر۔
میں خود حنفی ہوں اور میں نے حنفی اساتذہ سے دینی تعلیم پائی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ نکات کی روشنی میں اس مسئلے میں حنفی نقطہ نظر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور میں متعدد ایسے حنفی علما کو جانتا ہوں جو اس ضرورت کا احساس بھی رکھتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو ’الشریعہ‘ میں باقاعدہ بحث کا موضوع بنائیں اور اہل علم کو دعوت دیں کہ وہ شریعت کے مزاج اور سلف صالحین کی آرا کوسامنے رکھتے ہوئے امت کے لیے گنجایش نکالیں۔
فقط۔ والسلام
احمد الرحمن
خطیب جامع مسجد پاک سیکرٹریٹ
اسلام آباد
(۷)
محترم و مکرم مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ‘
اللہ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے۔ 
اپریل ۲۰۰۵ء کا ’’الشریعہ‘‘ پڑھا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ہر کتاب کے جنگل میں ایک شیر اور ایک گیدڑ ضرور چھپا ہوا ہوتا ہے، یعنی کہیں کوئی نہایت اعلیٰ چیز اور کہیں نہ کہیں کوئی کمزور چیز ضرور موجود ہوتی ہے، ’’الشریعہ‘‘ کے مطالعے کے بعد جنگل میں شیر کی موجودگی کی حد تک یہ بات رسالوں کے بارے میں بھی درست معلوم ہوتی ہے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کا مضمون ’’قانونِ اسلامی کا اِرتقا اور امام ولی اللہ دہلویؒ ‘‘ پڑھا تو وہ شیر نظر پڑگیا۔ فرماتے ہیں: ’’ایک زمانہ تھا جب سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر زبان، تمدن، معاشرت اور رہن سہن کے طور طریق بدل جاتے تھے، مگر اب تیزی سے پوری دنیا کا کلچر، معاشرت، لباس اور طرزِزندگی ایک سا ہوتا جارہا ہے، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں کافرانہ (مغربی) ہوتا جارہا ہے۔ درحقیقت یہ تمہید ہے اِس بات کی کہ جلد ہی دنیا کا مذہب بھی ایک یعنی اسلام ہوگا، کیوں کہ قبولِ حق میں ایک رکاوٹ کلچر، تمدن اور طرزِزندگی کا اختلاف بھی رہا ہے۔۔۔ اِس لیے علماے کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دور اور اِس کے تقاضوں کو سمجھیں اور فروعی اختلافات کی شدت ختم کرکے اسلام کو ایک متفقہ شاہراہ کے طور پر پیش کریں۔۔۔‘‘
ایک ایسے دور میں جب کہ لوگ اُتنا اللہ سے نہیں ڈرتے جتنا پدرِفرنگ سے ڈرتے ہیں اور اچھے بھلے مسلمان بھی اپنا ’’اسلام‘‘ چھپائے رکھنے کو دین اور وقت کا تقاضا سمجھنے لگے ہیں، یہ ایک توانا آواز ہے جو نہ اسلام کے مستقبل سے مایوس ہے نہ مسلمانوں کی زبوں حالی اور زوال کی تصویر اُسے کم حوصلہ کیے ہوئے ہے۔ اِس بات کو پورے استحضار کے ساتھ کہنا کہ ’’درحقیقت یہ تمہید ہے اِس بات کی کہ جلد ہی دنیا کا مذہب بھی ایک یعنی اسلام ہوگا‘‘ ایک مجذوب کی بڑ نہیں بلکہ کھلی آنکھوں اور عمیق فہم والے ایک مدبر کے دل کی آواز ہے جو پوری بصیرت کے ساتھ اور اللہ کی قدرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر مکمل یقین ہونے کی کیفیت ہی میں کہی جاسکتی ہے۔ میں نے حضرت مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کو زندگی میں صرف ایک ہی بار دیکھا ہے، جب وہ بھائی سید ذوالکفل کی شادی کے موقع پر تھوڑی دیر کے لیے دارِبنی ہاشم ملتان میں تشریف لائے تھے۔ اُن کا یہ جملہ پڑھنے کے بعد میں سوچتا ہوں کہ ایک دھان پان سا آدمی کیسا توانا دل لیے ہوئے ہے۔ اللہ اُن کی زندگی میں بہت برکت دے۔ آمین۔ 
والسلام، حافظ صفوان محمد چوہان
سینئر لیکچرر (کمپیوٹر اینڈ ڈیٹا سروسز)
ٹیلی کمیونیکیشن سٹاف کالج، ہری پور
(۸)
محترم ومکرم حضرت العلامہ زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر وعافیت ہوں گے۔
آپ کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں جولائی ۲۰۰۴ سے مارچ ۲۰۰۵ تک شیعہ سنی تعلقات کے حوالے سے دلچسپ اور سنسنی خیز مضامین شائع ہوئے ہیں جس میں مختلف حضرات کی آرا وافکار، تلخ نوائیاں اور شکوہ وشکایات سامنے آئی ہیں۔ مجھے اس بات سے قطعاً کوئی اختلاف نہیں کہ آپ نے شیعہ حضرات کے مضامین کیوں شائع کیے ہیں، بلکہ اس بات پر خوشی ہے کہ فرقہ واریت اور شیعہ سنی فسادات کے اس ماحول میں آپ نے فریقین کی توجہ باہمی رواداری کی طرف مبذول کروائی ہے جس کی موجودہ دور میں بے حد ضرورت بھی ہے، کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک تیسرا گروہ (جس میں اسرائیل، امریکہ اور بھارت کے ایجنٹ شامل ہیں) ہمیں آپس میں لڑا رہا ہے اور ہم اس لڑائی کو سمجھ نہیں پا رہے۔ ہمارا سب سے بڑا جو نقصان ہوا ہے، وہ ہمارے قیمتی سرمایہ یعنی علماء کرام کا بے دریغ قتل ہے جن میں مولانا حق نواز، مولانا ضیاء الرحمن، مولانا ایثار قاسمی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا محمد عبد اللہ، مفتی نظام الدین شامزئی اور مولانا اعظم طارق رحمہم اللہ جیسے قیمتی اور جید علما شامل ہیں۔ اسی طرح شیعہ برادری کے بھی بہت سے علما اور بے گناہ عوام قتل ہوئے ہیں، لیکن اس شیعہ سنی فساد اور بے دریغ قتل وغارت سے فریقین میں سے کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں! امریکا، اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹوں اور آلہ کاروں نے ان فسادات سے ضرور فائدہ اٹھایا ہے۔
ہمارے علماء اہل سنت والجماعت شروع دن سے شیعہ سنی مسئلے کو درست تناظر میں دیکھتے رہے ہیں اور ہر نازک وقت میں انہوں نے شیعہ حضرات سے اتحاد اور اتفاق کی فضا کو قائم رکھا۔ تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کا شیعہ حضرات کو ساتھ ملانا اور موجودہ ملکی وبین الاقوامی صورت حال کے پیش نظر متحدہ مجلس عمل میں شیعہ حضرات کی شمولیت ہمارے سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ شیعہ سنی عقائد میں فرق ہے تو اس کے متعلق اکابر اہل سنت والجماعت یہ بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کا قائل ہو، صحابہ کرام کو برا بھلا کہتا ہو، حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرتا ہو، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس حوالے سے شیعہ حضرات کو بھی غور کرنا چاہیے اور اپنے لٹریچر سے ایسے مواد کو نکال دینا چاہیے جس میں صحابہ کرام کی (نعوذ باللہ) تکفیر اور حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی ہو۔ اس کے متعلق شیعہ اور اہل سنت کے سنجیدہ اور معاملہ فہم حضرات کی ایک کمیٹی بننی چاہیے جس میں اس لٹریچر پر غور کیا جائے جو موجب فساد بنتا ہو اور پھر اس کو ہمیشہ کے لیے نکال دینا چاہیے اور جب بھی کوئی قومی یا بین الاقوامی معاملہ پیش آئے، آپس میں رواداری اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
اس ضمن میں، میں آپ کو اس بات کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا چاہوں گا کہ شیعہ سنی تعلقات کے حوالے سے آپ کی کچھ باتیں بعض حضرات کی سمجھ میں نہیں آئیں اور اس پر وہ آپ سے نالاں ہیں۔ مثلاً کالعدم سپاہ صحابہ کے ترجمان ماہنامہ ’خلافت راشدہ‘ کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۴ کے ص ۱۰ پر ہے کہ:
’’محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب سے دردمندانہ درخواست ہے کہ خدارا خود کو غیر جانب دار اور مذہبی سکالر ثابت کرنے کے لیے شیعہ کی سازشوں کا شکار ہو کر سپاہ صحابہ کے قائدین اور ہزاروں کارکنان کی قربانیوں اور اپنے اسلاف کے فتاویٰ جات کو خاک میں ملانے کی کوشش نہ کریں۔‘‘
اسی طرح مارچ ۲۰۰۵ کے شمارے کے ص ۱۵ پر حافظ ارشاد احمد دیوبندی فرماتے ہیں: 
’’اپنے آپ کو بہت بڑا سکالر شپ اور اتحاد امت کا داعی کہلانے کے لیے وہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ والد محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ سے بغاوت کر کے یہ سب کچھ لکھا جا رہا ہے۔ حضرت شیخ کا عندیہ تو کیا، ایما بھی نہیں ہے۔ ان کے اس طرح کے طرز عمل سے صحابہ دشمنوں کی اعانت ہو رہی ہے۔‘‘
میری آپ کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ ان حضرات کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور ایسا ماحول اور فضا پیدا ہونے سے ہمیں بچائیں جس کی وجہ سے ہم آپس میں ہی الجھ کر رہ جائیں۔ 
والسلام، حافظ خرم شہزاد
شریک دورۂ حدیث
مدرسہ انوار العلوم شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ ‘‘

جناب فیض انبالوی اور شفیق صدیقی صاحب نے تحریک پاکستان کے نامور راہ نما شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں کو اس کتاب میں مرتب کیا ہے جس میں جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء اسلام کے باہمی اختلافات کو نمایاں کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی گئی ہے اور اس پس منظر میں بہت سی تاریخی معلومات اور دستاویزات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اڑھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب ادارہ پاکستان شناسی، ۳۵ رائل پارک لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے۔

’’بزرگان دار العلوم دیوبند‘‘

محترم ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری صاحب نے ۱۸۵۷ کے جہاد آزادی میں شاملی کے محاذ کے پس منظر میں دار العلوم دیوبند کے چند سرکردہ بزرگوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی سیاسی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ نیز جنگ آزادی میں اکابر علماء دیوبند کے کردار کے بارے میں دیگر نامور مؤرخین کی نگارشات کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔
تین سو کے لگ بھگ صفحات کی یہ مجلد کتاب جمعیۃ پبلیکیشنز، متصل مسجد پائلٹ ہائی سکول، وحدت روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۵۰ روپے ہے۔

’’پرویزیت کے الہیاتی تصورات‘‘

جناب ظفر اقبال خان نے مذکورہ بالا عنوان کے تحت چودھری غلام احمد پرویز صاحب کے الہیات کے بارے میں تصورات کا جائزہ لیا ہے اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے حوالے سے پرویز صاحب کے خیالات و تصورات اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے اور قرآن کریم کے متعدد ارشادات میں تحریف کے مترادف ہیں۔ اس جائزہ کے بعض پہلوؤں پر بھی گفتگو کی گنجایش موجود ہے مگر مجموعی طور پر انہوں نے فکر پرویز کی کجی اور اس کے اسباب کی کامیابی کے ساتھ نشان دہی کی ہے۔
سوا سات سو سے زائد صفحات کی یہ کتاب دو جلدوں میں پیش کی گئی ہے اور اسے ادارہ اسلامیہ، حویلی بہادر شاہ، جھنگ نے شائع کیا ہے۔

’’مقام عورت قرآن و حدیث کی روشنی میں‘‘

جناب عبد الرشید ارشد آف جوہر آباد نے عورت کی آزادی اور حقوق کے حوالے سے موجودہ دور کے تصورات اور ’’آزادی نسواں کی تحریک‘‘ کے عوامل و نتائج کے پس منظر میں قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کے مقام کی وضاحت کی ہے اور مغربی فلسفہ و تمدن کے نتیجے میں رونما ہونے والی معاشرتی خرابیوں کا جائزہ لیا ہے۔

’’فتنہ حقوق و آزادی نسواں/تورات وانجیل کی صحت وحقانیت‘‘

اس کتابچہ میں جناب عبد الرشید ارشد نے آزادی نسواں کی مغربی تحریک کے مضر اثرات کا ذکر کیا ہے اور ایک باب میں بائبل کی صحت و حقانیت کا تجزیہ کرتے ہوئے اس میں ہونے والی تحریفات کی نشان دہی کی ہے۔
دونوں کتابچے النور ٹرسٹ، جوہر پریس بلڈنگ، جوہر آباد نے شائع کیے ہیں اور اول الذکر کی قیمت پچاس روپے ہے۔

’’چمن خیال‘‘

شیخ حبیب الرحمن بٹالوی احرار کے معروف دانش ور اور مصنف ہیں۔ اردو اور پنجابی میں ان کے منظوم کلام کا مجموعہ مذکورہ بالا عنوان کے ساتھ بخاری اکیڈمی، دار بنی ہاشم، مہربان کالونی ملتان نے شائع کیا ہے اور سوا سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس مجلد کتابچہ کی قیمت ایک سو روپے ہے۔