عالم اسلام اور مغرب: متوازن رویے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ہمارے ہاں یہ خوف عام طور پر پایا جاتا ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے کہ مغرب نے عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے، اس کی سیاست کو کنٹرول میں لینے اور اس کی معیشت کو اپنے مفادات میں جکڑنے کے بعد اب اس کی تہذیب وثقافت کو فتح کرنے کے لیے یلغار کر دی ہے۔ یہ یلغار سب کو دکھائی دے رہی ہے اور اس کے وجود اور شدت سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کر سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس یلغار کا راستہ روکنے یا اس کی زد سے اپنی تہذیب وثقافت کو بچانے کے لیے عالم اسلام میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے دینی وعلمی حلقوں میں اس یلغار کا جو رد عمل سامنے آ رہا ہے، اس کا وہ رخ تویقیناًخطرناک ہے جس میں مغرب کے سامنے سپر اندازی اور ا س کے فلسفہ ونظام کو مکمل طور پر قبول کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے، لیکن وہ دوسرا رخ بھی اس سے کم خطرناک نہیں ہے جس میں مغرب کی ہر بات کو رد کر دینے پر زور دیا جا رہا ہے اور جس طرح مغرب نے بادشاہت، جاگیرداری اور مذہبی پیشوائیت کے مظالم اور جبر کے رد عمل میں ان کی ہر بات کو مسترد کر دینے کی حماقت کی تھی، اسی طرح ہم بھی مغرب کی دھاندلی، استحصال، جبر اور فریب کاری پر غضب ناک ہو کر رد عمل میں اس کی تمام باتوں کو مسترد کر دینا چاہتے ہیں۔ ان میں وہ باتیں بھی ہیں جو مغرب نے غلط طور پر اختیار کی ہیں اور وہ باتیں بھی شامل ہیں جو مغرب نے ہم سے لی ہیں، مگر ہم انھیں اپنی گم شدہ میراث سمجھنے کے بجائے مغرب کے کھاتے میں ڈال دینے میں ہی عافیت محسوس کر رہے ہیں۔
مغرب کی لادینی جمہوریت ہو، مطلق جمہوریت ہو یا اس کی مجموعی تہذیب وترقی ہو، اس پر مسلم امہ کا رد عمل حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور حالات کے معروضی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمارا رد عمل دو انتہاؤں کے درمیان پنڈولم (pendulum) بنا ہوا ہے۔ ایک طرف اسے مکمل طور پر قبول کر لینے کی بات ہے اور دوسری طرف اسے مکمل طور پر مسترد کر دینے کا جذبہ ہے۔ ہمارے رد عمل کے اس پنڈولم کو درمیان میں قرار کی کوئی جگہ نہیں مل رہی اور یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔ ہم ان ارباب دانش کی مساعی کی نفی نہیں کرنا چاہتے جنھوں نے درمیان کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور مغربی تہذیب وثقافت کو اپنے افکار وخیالات کی چھلنی میں چھاننے کے لیے بے پناہ صلاحیتیں صرف کی ہیں۔ ان کی مساعی یقیناًقابل قدر ہیں، لیکن یہ کوششیں انفرادی سطح پر ہوئی ہیں اور ہر دانش ور نے مغربی تہذیب وثقافت کو چھاننے کے لیے اپنی چھلنی الگ بنائی ہے جس کا نتیجہ فکری انتشار میں اضافہ کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوا۔ ہمارے بیشتر دانش وروں نے مغربی تہذیب وثقافت کا جائزہ لینے سے قبل یہ ضروری سمجھا ہے کہ اسلام کی تعبیر وتشریح کے روایتی ڈھانچے کو توڑ کر نیا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے یا کم از کم روایتی دینی ڈھانچے سے لاتعلقی کا ضرور اعلان کیا جائے۔
آج مغرب اور عالم اسلام میں مکالمہ کی جو ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور جس ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کی ہے۔ مغرب ہمیں سمجھنے میں مغالطوں کا شکار ہوا ہے اور ہم نے مغرب کو سمجھنے میں فریب کھائے ہیں۔ اگر یہ مکالمہ اور ڈائیلاگ ان غلطیوں کی نشان دہی اور فریب کے دائروں سے نکلنے کے لیے ہوں تو اس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل جب مختلف مذاہب کے راہ نماؤں کے درمیان مکالمہ کی بات چلی اور اسلام آباد میں اس سلسلے میں ایک کانفرنس بھی ہوئی تو اس مرحلے پر مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا اور میری رائے دریافت کی گئی۔ میں نے گزارش کی کہ میں بھی اس مکالمہ اور ڈائیلاگ کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور اس کی افادیت واہمیت سے مجھے انکار نہیں ہے، لیکن میرے نزدیک یہ افادیت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ یہ مذاکرات حکومتی سطح پر یا حکومتوں کے ذریعے نہ ہوں۔ یہ مکالمہ اہل علم کا کام ہے اور اس موضوع سے دلچسپی اور مناسبت رکھنے والے ارباب فہم ودانش کا مسئلہ ہے۔ حکومتوں کی مداخلت یا دلچسپی ایسے معاملات کو بگاڑ دیا کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایجنڈا یک طرفہ نہ ہو بلکہ باہمی مشورہ سے ایجنڈا طے کیا جائے۔ مثلاً اس وقت بین المذاہب مکالمہ کے لیے سب سے بڑا ایجنڈا ’’دہشت گردی کے لیے مذہب کا استعمال اور اس کی روک تھام‘‘ بیان کیا جاتا ہے۔ مجھے اس کی ضرورت سے انکار نہیں، لیکن یہ یک طرفہ ایجنڈا ہے اور اگر مغرب اور عالم اسلام کے درمیان مکالمہ کے لیے ایجنڈا طے کرنے میں مجھ سے رائے طلب کی جائے تو میں اس کے لیے تین نکاتی ایجنڈا تجویز کروں گا:
- انسانی سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے مذہب کی بے دخلی کے اثرات کا جائزہ۔
- دہشت گردی، انتہا پسندی اور مذہبی جبر کی تعریف اور حدود کا تعین۔
- دہشت گردی کے لیے مذہب کا استعمال اور اس کی روک تھام۔
مجھے یقین ہے کہ اسلام اور مسیحیت کے سنجیدہ ارباب علم ودانش اگر مل بیٹھ کر اس ایجنڈے پر گفتگو کریں اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لیں تو وہ نہ صرف بہت سی باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں بلکہ عالم اسلام اور مغرب کے درمیان دن بدن بڑھتے چلے جانے والی کشیدگی میں کمی کے راستے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
امریکی تعلیمی اداروں میں آزادی فکر کی صورتحال
بشارہ دومانی
آپ کو کوئی کتاب خریدنی یا لائبریری سے جاری کروانی ہے تو ذرا سوچ سمجھ کر کروائیے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی، آرویلین نیمڈ پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت آپ کی نگرانی کر سکتا ہے۔ اس قانون کی ایک اور شق کے مطابق اس بات کا بھی خطرہ موجود ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو خبردار کرے کہ حکومت آپ کے کتابوں کے انتخاب کی نگرانی کر رہی ہے تو اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
کلاس روم میں مطالعے کے لیے مواد تجویز کرتے وقت بھی احتیاط کیجیے۔ چیپل ہل کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا پر امریکن فیملی اسوسی ایشن سنٹر فار لا اینڈ پالیسی نے اس بنیاد پر مقدمہ دائر کر دیا تھا کہ اس میں نئے آنے والے طلبہ کے سامنے اسلام کا مختصر تعارف کرانے کی اسائنمنٹ دی گئی تھی۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی اپنے موقف پر سختی سے قائم رہی اور کورٹ آف اپیلز نے مقامی سیاست دانوں اور یونیورسٹی کے بعض ٹرسٹیز کے زائد حملوں کے باوجود مقدمہ خارج کر دیا۔
اس ضمن میں بھی محتاط رہیے کہ آپ اشاعت کے لیے کون سے مضامین قبول کر رہے ہیں۔ یو ایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول نے فروری ۲۰۰۴ میں فیصلہ کیا کہ امریکی اشاعتی ادارے ان ممالک میں تصنیف کیے جانے والے کاموں کو ایڈٹ نہیں کر سکتے جن پر تجارتی پابندیاں عائد ہیں، جن میں ایران، عراق، سوڈان، لیبیا اور کیوبا شامل ہیں۔ خلاف ورزی کے نتیجے میں ایک ملین ڈالر تک جرمانہ اور دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
جو کچھ آپ پڑھا رہے ہیں، اس میں بھی احتیاط برتیے۔ خزاں ۲۰۰۳ میں امریکی ایوان نمائندگان نے متفقہ طور پر قرارداد نمبر ۳۰۷۷ منظور کر کے ایک ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیا جو دنیا کے مختلف خطوں کے مطالعہ کے لیے قائم مراکز کی نگرانی کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ مراکز ’’قومی مفاد‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اگرچہ قانون کا اطلاق تمام ان مراکز پر ہوگا جن کو وفاقی ٹائٹل وئی آئی پروگرام کے تحت امداد ملتی ہے، لیکن اس کا ہدف واضح طور پر ملک کے وہ سترہ مراکز ہیں جو مشرق وسطیٰ کے مطالعے کے لیے مخصوص ہیں۔ دی اسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹی پروفیسرز، دی امریکن سول لبرٹیز یونین، دی مڈل ایسٹ سٹڈیز اسوسی ایشن اور بیشتر پیشہ ور تنظیموں نے حکومت کی جانب سے کلاس روم میں اس طرح کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کی کوئی مثا ل ماضی میں نہیں ملتی۔ ان کے خدشات میں بورڈ کے لا محدود تفتیشی اختیارات، جواب دہی کا فقدان اور بورڈ کی ہیئت تشکیلی ہے، کیونکہ اس کے کچھ ارکان ملک کی حفاظت کی ذمہ دار دو ایجنسیوں سے لیے جائیں گے۔ اگر قرارداد نمبر ۳۰۷۷ کو امریکی سینٹ بھی پاس کر دیتی ہے تو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایک تفتیشی باڈی کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ کلاس روم کی نگرانی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرے کہ مثال کے طور پر کون سا لیکچر متنوع اور متوازن ہے اور کون سا نہیں۔ اس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ تعلیمی معیار کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی جگہ سیاسی معیار لے لے گا۔
اس کی بھی احتیاط کیجیے کہ آپ کلاس میں یا کیمپس کے باہر کیا کہہ رہے ہیں۔ امریکن کونسل آف ٹرسٹیز اینڈ ایلمنی نے، جس کی بانی نائب صدر ڈک چینی کی اہلیہ لن چینی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینٹر اور سابق نائب صدارتی امیدوار جوزف لائبرمین ہیں، ’’تہذیب کا تحفظ: یونیورسٹیاں کیسے امریکہ کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور اس سلسلے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟‘‘کے عنوان کے تحت ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں یونیورسٹیوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمزور کردار ادا کر رہی ہیں اور یہ کہ وہ دشمن کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ تنظیم کی ویب سائٹ پر ۱۱۷؍ امریکہ مخالف پروفیسروں اور ان کے ایسے ناگوار ریمارکس کی فہرست شائع کی گئی ہے جو انھوں نے مبینہ طور پر دیے۔
اگر آپ فورڈ یا راک فیلر فاؤنڈیشن سے امداد کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں تو بھی احتیاط کیجیے۔ آپ سے نئے انداز سے بنائی گئی امدادی درخواستوں پر دستخط کے لیے کہا جائے گا جو آپ کو اور آپ کی تنظیم کو اس بات کا پابند کریں گی کہ، اگر آپ فورڈ فاؤنڈیشن سے امداد لینا چاہتے تو آپ ’’تشدد، دہشت گردی، تنگ نظری، یا کسی ملک کی تباہی‘‘ میں ملوث نہ ہوں۔ جو لوگ فلسطین اسرائیل تنازع کے حوالے سے ۱۱ ستمبر سے بہت پہلے سے جاری عمومی مباحثے سے واقف ہیں، وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ اس نئی اصطلاح کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ ان کے لیے یہ بات ہرگز حیرانی کا باعث نہیں ہوگی کہ درخواستوں میں یہ تبدیلیاں اسرائیل کی حامی کئی یہودی تنظیموں کی تنقید کے باعث اور پھر ان کے مشورے سے کی گئی ہیں جو اس بات پر ناراض تھیں کہ انسانی حقوق کے کچھ گروپ جنھوں نے جنوبی افریقہ میں ڈربن کانفرنس کے موقع پر اسرائیل پر سخت تنقید کی تھی، انھیں فورڈ اور راک فیلر کی طرف سے امداد ملی ہے۔ اس اصطلاح کی ایک مشکل یہ ہے کہ اس کی شرائط واضح اور متعین نہیں ہیں۔ کیا اگر کسی لیکچر میں کسی اسلام پسند تنظیم مثلاً حزب اللہ کے لبنان کے سیاسی نظام میں حصہ لینے کے حق کی حمایت کی جائے تو اس کو دہشت گردی کا فروغ قرار دیا جائے گا؟ کیا اگر کسی ریسرچ میں اسرائیل اور فلسطین پر مبنی ایک دو قومی ریاست قائم کرنے کے حق میں دلائل دیے گئے ہوں تو اس پر اسرائیل کی تباہی کا پیغام پھیلانے کا الزام لگا دیا جائے گا؟ باوقار یونیورسٹیوں مثلاً ہارورڈ، ییل، پرنسٹن، مارنل، کولمبیا، سٹین فورڈ، دی یونیورسٹی آف پنسلوینیا، میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اور دی یونیورسٹی آف شکاگو نے اس زبان پر اعتراض کیا ہے جس پر بعض معمولی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ تاہم یہ اتنی معمولی ہیں کہ ACLU نے، جو امریکہ میں شہری حقوق کی ایک بڑی تنظیم ہے، حال ہی میں فورڈ کی طرف سے ایک ملین ڈالر کی اور راک فیلر کی طرف سے ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی امداد مسترد کر دی ہے۔ ACLU کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ ’’ایک افسوس ناک دن ہے کہ اس ملک کے دو نہایت محبوب اور قابل احترام ادارے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ خوف اور ہراس کی ایک ایسی فضا میں کام کر رہے ہیں جس میں وہ اپنے ہزاروں وصول کنندگان سے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ امداد حاصل کرنے کے لیے مبہم شرائط کو قبول کریں جس سے شہری آزادیوں پر سخت مضر اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘
اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے بھی محتاط رہیے۔ نجی طور پر مالی امداد سے چلنے والی تنظیموں کی طرف سے ’’ٹیک بیک دی کیمپس‘‘ مہموں میں ان طلبہ اور اساتذہ کو ہدف بنایا جا رہا ہے جن کا تعلیمی یا ثقافتی طور پر مسلمانوں یا مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلق ہے۔ ان میں سے کچھ تنظیمیں کھلے بندوں طلبہ کو اپنے اساتذہ اور ساتھی طلبہ کی مخبری کا کام سونپتی ہیں جن کو پھر سامی مخالف ہونے کے الزام میں نکال دیا جاتا ہے۔ یہ جنگ محض لفظوں تک محدود نہیں ہے، بہت سے پروفیسروں کو، جن پرجھوٹے الزامات عائد کیے گئے، خود ان کی اپنی یونیورسٹیوں اور میڈیا کی طرف سے تذلیل اور کردار کش تفتیشوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بڑے بڑے چندہ دہندگان کو متحرک کر کے یونیورسٹی کے منتظمین، مثال کے طور پر ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر ،پر دباؤ ڈلوایا گیا ہے کہ وہ ایسے بیانات جاری کریں جن میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو موثر طور پر سامیت دشمنی کے مترادف قرار دیا گیا ہو۔
اگر آپ امریکی شہری نہیں ہیں اور تدریس یا تعلیم کے لیے امریکہ جا رہے ہیں تو بھی احتیاط کیجیے۔ اگر آپ امریکی پالیسیوں کے بارے میں ناقدانہ خیالات رکھتے ہیں تو آپ کا ویزا کینسل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ پروفیسر طارق رمضان کے کیس میں ہو چکا ہے۔ سیاسی پروفائلنگ (کسی شخص کے قومی، نسلی یا مذہبی پس منظر کی بنیاد پر بوقت ضرورت نئی پالیسیوں کے نفاذ) کی بنا پر غیر امریکیوں کے امریکہ میں پہلی مرتبہ یا دوبارہ داخلے میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے تعلیمی پروگراموں میں خلل واقع ہوا ہے اور امریکہ میں غیر ملکی گریجویٹ طلبہ کی تعداد میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔ جن طلبہ کو ویزا مل جاتا ہے، ان کے تعلیمی اداروں سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ ان طلبہ کی نگرانی کریں اور سرکاری ایجنسیوں کو ریگولر رپورٹیں جمع کروائیں۔ ان تمام پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ کے تعلیمی ماحول کا پورا بین الاقوامی عنصر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
(ISIM Review, Spring 2005)
مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں
ڈاکٹر محمود احمد غازی
(۲ جنوری ۲۰۰۵ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس میں عمرانی علوم کی تدریس کی ضرورت واہمیت ‘‘ کے زیر عنوان منعقد ہونے والی فکری نشست سے خطاب۔)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
قابل احترام جناب مولانا زاہد الراشدی، علماء کرام، برادران محترم، عزیز طلباء کرام!
سب سے پہلے میں آپ سب حضرات کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے عزت بخشی، یہاں حاضری کا موقع عطا فرمایا اور اپنے بعض ناچیز خیالات پیش کرنے کی ا جازت دی۔
برادران محترم! اس وقت دنیاے اسلام جس دور سے گزر رہی ہے، یہ دور اسلام کی تاریخ کا انتہائی مشکل دور ہے۔ امت مسلمہ کو جو مشکلات آج درپیش ہیں، شاید ماضی میں اتنی مشکلات کبھی درپیش نہیں ہوئیں۔ ایک اعتبار سے امت مسلمہ کی پوری تاریخ بحرانوں کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور نبوت کے آغاز سے لے کر، جب آپ دار ارقم میں قیام فرما تھے، آج تک کوئی صدی، اور صدی کا کوئی حصہ یا کوئی عشرہ ایسا نہیں گزرا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس میں مسلمانوں کو کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ لیکن ان ساری مشکلات میں اور آج کی مشکل میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ ماضی کی جتنی مشکلات اور پریشانیاں تھیں، وہ عموماً زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود ہوتی تھیں۔ مسلمانوں کو عسکری اعتبار سے کسی دشمن کامقابلہ کرنا پڑا، پیچھے ہٹنا پڑا، پسپائی اختیار کرنا پڑی، یہ ایک عسکری شکست یا عسکری ہزیمت کا معاملہ تھا۔ یا مسلمانوں کی کوئی حکومت کمزور ہوئی، غیر ملکی قوتیں مضبوط ہو گئیں اور مسلمان سیاسی طور پر پس ماندگی کا شکار ہوئے، یہ سیاسی میدان میں کمزوری تھی۔ اس طرح کی کمزوریاں جو عموماً سیاسی، مالی، عسکری یا مادی ہوتی تھیں، تقریباً ہر دور میں پیش آتی رہیں، لیکن ان سارے ادوار میں مسلمانوں کا خاندان، مسلمانوں کی تعلیم، مسلمانوں کا نظام تربیت اور مسلمانوں کی جو اندرونی ساخت اور تشکیل (Internal fabric) تھی، وہ اکثر وبیشتر بیرونی خطرات اور حملوں سے محفوظ رہی۔ تاتاریوں کے حملے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیاے اسلام پر اس سے برا وقت کوئی نہیں آیا، اور یقیناًوہ بہت برا وقت تھا کہ افغانستان کے مشرقی علاقوں سے لے کر مصر کے حدود تک اور ترکی کے جنوبی علاقوں سے لے کر جزیرۃالعرب کے وسط تک، یہ سارا علاقہ تاتاریوں کی تاخت وتاراج کی آماجگاہ تھا۔ انھوں نے ہزاروں علماے کرام کو شہید کیا اور بڑے بڑے جید ترین اکابر اسلام ان کی تلوار کا نشانہ بنے۔ خواجہ فرید الدین عطار، جن کے بارے میں مولانا رومؒ نے فرمایا:
عطار او بود وسینائی دو چشم او
ما از پئے سینائی وعطار آمدیم
اس درجے کے انسان کہ جن کی پیروی پر مولانا روم جیسے آدمی نے فخر کا اظہار کیا ہے، ایسے اونچے اونچے لوگ تاتاریوں کی تلوار کا شکار ہوئے۔ کتب خانے انھوں نے جلا دیے، شہر برباد کر دیے، یہاں تک کہ ابن کثیرؒ نے اپنی مشہور کتاب ’البدایہ والنہایہ‘ میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی شکست خوردگی اور پست ہمتی کا یہ عالم تھا کہ ’اذا قیل لک ان التتار انھزموا فلا تصدق‘، یعنی اگر تمھیں یہ خبر دی جائے کہ تاتاریوں کو شکست ہو گئی ہے تو اس پر یقین نہ کرو۔ گویا تاتاریوں کی شکست ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی اور یہ بات ضرب المثل بن گئی تھی۔ لیکن اس ساری تباہی اور بربادی کے باوجود تاتاریوں کی شکست وریخت کا دار ومدار سارا کا سارا مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی کمزوری پر تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کو سیاسی نقصان پہنچایا، عسکری نقصان پہنچایا، لیکن ان کے پاس کوئی دین نہیں تھا، کوئی پیغام نہیں تھا، کوئی تہذیب نہیں تھی، کوئی مذہب نہیں تھا، کوئی فکری ایجنڈا نہیں تھا، اس لیے مسلمانوں کی تہذیب وتمدن، تربیت اور خاندانی نظام ان کے حملوں سے محفوظ رہا اور ان میں سے کوئی چیز متاثر نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی اندرونی قوت نے ان کا ساتھ دیا اور بہت جلد وہ تاتاریوں کی شکست کے نتائج اور ثمرات بد سے نکلنے میں کام یاب ہو گئے۔ یہی کیفیت بقیہ بہت سے معاملات کی بھی رہی۔
آج جو صورت حال درپیش ہے، اور آج سے نہیں، پچھلے ڈیڑھ سو سال سے درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ ہر آنے والا دن، ہر نکلنے والا سورج خطرے کی یا پریشانی کی ایک نئی جہت لے کر آتا ہے۔ آج اسلامی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو خطرات سے دوچار نہ ہو۔ فرد کے ذاتی کردار اور تربیت کا معاملہ ہو، گھر کے اندر ماں اور بچوں کے درمیان کامعاملہ ہو، میاں بیوی کے تعلقات کا معاملہ ہو، گھر کی خواتین کے رویے کا معاملہ ہو، تعلیم وتربیت کا معاملہ ہو، یا مساجد کے جاری اندر سرگرمیوں اور معمولات کا معاملہ ہو، ان میں سے ہر چیز آج براہ راست مغربی حملے کی زد میں ہے۔ تاتاریوں نے شاید کبھی یہ نہیں پوچھا ہوگا کہ جامعہ ازہر میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، مسلمانوں کی نصاب کی کتابوں میں کیا لکھا جا رہا ہے یا فقہ کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ انھوں نے کبھی یہ چیز زیر بحث لانے کی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح انگریز جب شروع میں یہاں آئے تو انھوں نے بھی ان معاملات پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریز کے ڈیڑھ دو سو سال یہاں رہنے کے باوجود مسلمانوں کی اندرونی ساخت بڑی حد تک (by and large) مغربی اثرات سے محفوظ رہی اور ایسے لوگ ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کروڑوں تھے جن کی زندگی کا ایک لمحہ یا ایک گوشہ بھی انگریزی اثرات سے متاثر نہیں ہوا۔
میرے خاندان کے ایک بزرگ تھے، حافظ محمد اسماعیل جو بڑے عالم اور محدث تھے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے والد تھے اور رشتے میں میرے والد کے چچا تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں کسی انگریز کی شکل نہیں دیکھی، انگریزی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا اور اپنے گھر میں کسی کو انگریزی کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہندوستان میں پہلے شاید ٹماٹر نہیں ہوتا تھا، بعد میں جب یہاں ٹماٹر آیا تو یہ لفظ شاید انگریزی کے tomato کی اردو شکل تھی۔ حافظ اسماعیل صاحب ٹماٹر کا لفظ استعمال نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی یہ لفظ بولتا تھا تو اس پر ناخوشی کا اظہار کرتے تھے۔ انھوں نے اس کا نام لال بینگن رکھا ہوا تھا۔ میرے والد صاحب بتاتے تھے کہ ایک دن گھر میں انھوں نے پوچھا کہ سالن میں کیا ڈالا ہے؟ ان سے کہا گیا کہ ٹماٹر ڈالا ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے کہ نصرانیت میرے گھر میں گھس آئی؟ اس کو لال بینگن کیوں نہیں کہتے؟
بظاہر یہ بات آج ہمیں لطیفہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر مسلمانوں میں کچھ لوگ اتنی شدت کے ساتھ مغربی اثرات میں رکاوٹ پیدا نہ کرتے تو مغربی اثرات آج سے سو سال پہلے اسی طرح لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے جیسا کہ آج گھستے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں ایک دو نہیں، ہزاروں ہیں اور سیکڑوں، لاکھوں، بلکہ کروڑوں انسان ایسے ہیں جنھوں نے مغربی اثرات کے خلاف مزاحمت کی اور مسلمانوں کو ان سے محفوظ رکھنے کی سعی کی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ انھوں نے مغرب کی مثبت چیزوں کو بھی روکا۔ یقیناًبعض باتیں مغرب میں مثبت بھی تھیں جن کے ثمرات سے مسلمان محروم رہے، لیکن آج یہ بات کہنا اور تبصرہ کرنا تو بڑا آسان ہے کہ فلاں بزرگ نے پابندی لگا دی تھی اور مغربی اثرات کے ثمرات سے مسلمانوں کو محروم رکھا، لیکن آج سے سو سال پہلے کے ماحول میں جو انسان طوفان کے سامنے کھڑا ہے، وہ اس کو نظر آ رہا ہے اور اس کے اثرات وثمرات اس کے سامنے ہیں، وہ ایک فیصلہ کر لے اور اس فیصلے کے نتیجے میں بعض منفی اور بیشتر مثبت سامنے چیزیں آئیں، تو آج ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ فیصلہ کرنے والے کو کیا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ ویسے بھی ’لغو‘ سے حضور نے منع فرمایا ہے۔ ماضی میں جس نے کوئی فیصلہ کیا، اس نے اس کی ذمہ داری بھی لی۔ بعض لوگوں نے ایک فیصلہ کیا تو بعض نے دوسرا۔ دونوں کے ثمرات ونتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ ہم نتائج پر تو بات کر سکتے ہیں، لیکن ماضی کو مستقبل کی طرف سے مشورہ دینا کہ ان کو کیا کرنا چاہیے تھا، یہ ایک غیر ضروری مشورہ ہے جس کا کوئی نتیجہ مستقبل میں نکلنے والا نہیں۔
آج کی صورت حال یہ ہے کہ جن حضرات نے سو سال پہلے امت مسلمہ کو مغرب کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی، وہ جذبہ اور رویہ کمزور پڑ گیا ہے اور مغرب کے اثرات کے لیے مسلمانوں کے ہر گھر کے دروازے اور ہر کمرے کی کھڑکیاں اس طرح کھلی ہیں کہ اس میں مغرب کے کسی اچھے یا برے اثر کو آنے سے آپ نہیں روک سکتے۔ ہمارے ہاں بہت سے حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب کے مثبت پہلوؤں کو ہمیں اپنے اندر آنے کا موقع دینا چاہیے اور اس کے منفی اثرات کا راستہ روکنا چاہیے۔ یقیناًیہ درست رویہ ہے اور ہر مسلمان اس سے اتفاق کرے گا۔ یہ ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ کا اصول ہے جس سے مسلمانوں نے ہمیشہ اتفاق کیا اور جو مسلمانوں کی فکری اور علمی تاریخ کا ہمیشہ طرۂ امتیاز رہا ہے، لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ یہ اندازہ نہیں کر پاتے کہ کیا مغرب کا ایجنڈا بھی یہی ہے کہ ہم ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ پر عمل کریں۔ جو چیز ہمارے لیے قابل قبول ہو، وہ ہمارے سامنے پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیں اور جو چیز ہمارے لیے قابل قبول نہ ہو، اس کو واپس اپنی الماری میں رکھ دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنا پورا ایجنڈا یہاں لانا چاہتا ہے اور انھوں نے ہم سے زیادہ اس پر غور کیا ہے کہ ان کی تہذیب کا جو پورا پیکج ہے، اس کی کون سی چیزیں ہماری تہذیب کے لیے مفید ہیں اور کیا چیزیں اس پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اس پر باقاعدہ کتابیں لکھی گئی ہیں اور صرف عام سطح پر نہیں بلکہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر اس پر غور وخوض ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ نے سابق امریکی صدر نکسن کی کتاب ’Seize the Moment‘ پڑھی ہو تو اس میں اس نے پوری تفصیل سے یہ بات بیان کی ہے کہ دنیاے اسلام میں مغربی اثرات کا نفوذ کس حد تک ہے اور کس طرح ہونا چاہیے۔ یہ بات نہ صرف نکسن نے لکھی ہے، بلکہ ا ن کے صف اول کے تمام دانش ور، مفکرین اور مدبرین یہ بات لکھ رہے ہیں۔
آج سے چند سال پہلے مجھے جرمنی میں ایک اجتماع میں جانے کا موقع ملا جس میں مختلف ممالک کے دانش ور اور مفکرین مدعو کیے گئے تھے جن میں واحد مسلمان شریک میں تھا۔ میرے علاوہ باقی لوگ مغربی یورپ اور خاص طور پر وسطی یورپ سے بلائے گئے تھے۔ اس اجتماع کا عنوان تھا: Is Islam a threat to West and Europe? (کیا اسلام مغرب اور یورپ کے لیے ایک خطرہ ہے؟) اس میں انھوں نے مجھے بلایا تھا کہ اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ یہ کوئی ایک ہفتہ کی نشست تھی جس میں انھوں نے چودہ آدمیوں کو دعوت دی تھی۔ ایک د ن میں دو آدمیوں کی گفتگو ہوتی تھی جس میں ہر شخص تفصیل سے اپنے خیالات حاضرین کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اس میں ایک دن مجھے بھی گفتگو کرنے کا موقع ملا جس میں یہ سوال سامنے آیا کہ دنیاے اسلام میں مغربی اثرات کے حوالے سے کیا رویہ رہا ہے؟ اس کے جواب میں، میں نے کہا کہ عالم اسلام میں جب سے مغربی اثرات آئے ہیں، جس کو کم وبیش دو سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے، اس کے بارے میں دنیاے اسلام نے تین رویے اختیار کیے ہیں۔ ان میں سے دو رویے تو بتدریج کمزور ہو رہے ہیں یا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ کمزور ہو رہے ہیں، اور تیسرا رویہ بڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اس میں پچھلے پچاس سو سالوں میں قوت پیدا ہوئی ہے۔
ایک رویہ جو سمٹ رہا ہے اور سمٹتے سمٹتے یقیناًختم ہونے کے قریب ہے، وہ ہے جس کی مثال میں نے لال بینگن اور ٹماٹر کے حوالے سے دی۔ اب شاید دنیاے اسلام میں اس طرح کی مزاحمت کرنے والے لوگ موجود نہیں بلکہ اس طرح کی مزاحمت کی افادیت کے قائل بھی میں سمجھتا ہوں کہ نہیں رہے۔ اگر ہیں تو بہت تھوڑے لوگ ہیں جن کا کوئی قابل ذکر اثر معاشرے میں نہیں ہے۔ یہ وہ رویہ تھا جو ابتدا میں بہت مضبوط تھا لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا گیا۔
دوسرا رویہ جو شروع میں بہت قوت سے سامنے آتا محسوس ہوتا تھا، مسلمانوں کی اکثریت نے اس سے بھی زیادہ اتفاق نہیں کیا اور یہ رویہ بھی کمزور ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو مکمل طور پر مغرب کے رنگ میں رنگ جانے کا رویہ ہے جس نے یہ سمجھا کہ مسلمان اگر مغرب کے ساتھ سو فیصد ہم آہنگی کر لیں تو شاید ان کے تمام مسائل حل اور تمام مشکلات دور ہو جائیں گی۔ اس رویے کے ترجمان ۱۹ ویں صدی کے اواخر اور ۲۰ ویں صدی کے آغاز میں دانشوروں میں بھی، سیاسی لیڈروں میں بھی اور عام سطح پر بھی کثرت سے پائے جاتے تھے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ رویہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔
تیسرا رویہ جو آغاز میں بہت کمزور اور تقریباً برائے نام تھا، اب دنیاے اسلام میں اس نے اپنی جگہ بنا لی ہے اور مسلمان مفکرین اور دانش وروں کی ایک بڑی تعداد اس کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ وہی ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘ کا رویہ ہے کہ مغربی تہذیب کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہیے، ان کی سائنس، ان کی ٹیکنالوجی، ان کی سہولتیں، یہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہونے چاہییں اور ان کو اپنانا چاہیے، جبکہ ان کے جو منفی پہلو ہیں، مثلاً اخلاقی اقدار کے متعلق ان کے خیالات ونظریات، یا سیکولرازم اور لا مذہبیت، یا مرد وزن کی آزادی کا تصور جو ان کے ہاں ہے، یہ چیزیں دنیاے اسلام کو قبول نہیں کرنی چاہییں۔ یہ رویہ پہلے بہت محدود تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور آج دنیا ے اسلام کی ایک بڑی تعداد اس رویے پر قائم محسوس ہوتی ہے۔
۱۹۹۲ء، ۱۹۹۳ء میں مذکورہ اجتماع میں جب میں نے ایک سوال کے جواب میں مذکورہ تجزیہ تفصیل سے بیان کیا تو اس کے جواب میں اجتماع کے شرکا نے، جن میں فرانسیسی نمائندے بھی شامل تھے، جرمن بھی شامل تھے اور آسٹریلیا کے لوگ بھی تھے، تقریباً بالاتفاق مجھے controvert کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اس رویے کو درست سمجھتے ہوں گے لیکن مغرب ان شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی تہذیب وتمدن سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت پہلی مرتبہ یہ پہلو میرے سامنے آیا۔ اس سے پہلے میرا ذہن اس طرف متوجہ نہیں تھا کہ آیا مغرب بھی اس بات پر تیار ہے یا نہیں کہ آپ کی شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور تہذیب سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دے۔ کم از کم اس اجتماع کے شرکا کا جواب بالاتفاق یہی تھا کہ مغرب آپ کو اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ ایک پورا پیکج ہے جس کو آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے گا اور اس میں وہ آپ کو اخذ وانتخاب (pick and choose) کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس وقت میں نے یہ سمجھا کہ یہ دانش ور اور مفکرین شاید اپنی main stream کی ترجمانی نہیں کر رہے، اور مغربی تہذیب میں جو فیصلہ کن قوتیں ہیں، ان کی زبان نہیں بول رہے۔ جیسے ہر شخص اپنی تہذیب کے بارے میں ایک عصبیت کا رویہ رکھتا ہے، یہ بھی اپنی تہذیب کے بارے میں ایک عصبیت اور حمیت رکھتے ہیں اور اس عصبیت کی وجہ سے یہ بات ان کو پسند نہیں آئی کہ ہم ان کی تہذیب کے بعض پہلوؤں کو منفی قرار دے کر مسترد کرنا چاہتے ہیں۔ ایک کمزور اور غریب فقیر آدمی کسی دولت مند آدمی سے یہ کہے کہ آپ کی کوٹھی یا محل میں فلاں فلاں چیزیں مجھے غلط معلوم ہوتی ہیں اور میں انھیں مسترد کرتا ہوں تو ظاہر ہے کہ اسے اچھا نہیں لگے گا اور وہ اس کو بے وقوف سمجھے گا۔ میرا تاثر یہ تھا کہ شاید وہ اس نفسیاتی کیفیت میں میری بات کی تردید کر رہے ہیں، لیکن پچھلے بارہ پندرہ سالوں میں مغرب کے بہت سے لوگوں سے ملنے، ان کی باتیں سننے اور ان کی تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہوا، اور اب مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ان کی طے شدہ پالیسی ہے جو انھوں نے سوچ سمجھ کر اختیار کی ہے کہ دنیاے اسلام اپنے آپ کو مکمل طور پر مغرب کے رنگ میں رنگے اور مکمل طور پر مغربی ایجنڈے کو اختیار کرے، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہو تو مغربی تہذیب کے فوائد یا مثبت اثرات سے مسلمانوں کو متمتع ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ بات جو ۱۹۹۳ء سے پہلے میرے علم میں نہیں تھی، اب وقت کے ساتھ ساتھ روز روشن کی طرح یوں واضح ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ پوری دنیاے مغرب کا ایک طے شدہ فیصلہ ہے کہ پوری دنیاے اسلام پر مغرب کے ایجنڈے کو سو فی صد مسلط کر دیا جائے۔
مغرب کے ایجنڈا ایک ہمہ گیر ایجنڈا ہے اور اس میں ہر چیز شامل ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں جو بہت سے کام ہو رہے ہیں، وہ محض اتفاق سے یا مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ یقیناًمسلمانوں میں کمزوریاں بھی ہیں اور ان کی دینی حمیت میں کمی بھی آئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ بالادست قوتیں بھی ہیں جو طے شدہ پروگرام کے تحت آگے بڑھ رہی ہیں اور دنیاے اسلام کو ایک خاص رخ پر چلانا چاہتی ہیں۔ اب مسلمان کس حد تک اس میں ساتھ جانے کو تیار ہیں، مسلمان دانش ور جو سمجھتے ہیں کہ مغرب کی مثبت چیزوں سے اتفاق کریں اور منفی چیزوں کو مسترد کر دیں، وہ کس حد تک اس میں کام یاب ہوں گے، اور مستقبل کیا خبر لائے گا، یہ اللہ ہی کو بہتر معلوم ہے، لیکن اس رویے کی کامیابی کا سارا دار ومدار مسلمانوں کے فہم صحیح پر، مسلمانوں کی بصیرت اور ان کے عزم وارادے پر ہے، اور اس کے لیے جو چیز سب سے پہلے درکار ہے، وہ خود دنیاے اسلام میں اسلامی تہذیب، اسلامی علوم وفنون اور معارف اسلامی سے گہری اور ماہرانہ واقفیت ہے۔ جب تک شریعت اور شریعت کے پیغام اور تعلیم میں یہ گہری بصیرت اور ماہرانہ واقفیت پیدا نہیں ہوگی، اس وقت تک کوئی ایسی بنیاد فراہم نہیں ہو سکتی جس پر آگے چل کر عمارت کھڑی کی جا سکے۔
ایک زمانہ تھاکہ دنیاے اسلام میں علوم وفنون کی اساس قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید وہ جڑ فراہم کرتا تھا جس سے علوم وفنون کا گلشن پیدا ہوا۔ یہی وہ درخت تھا جس کے برگ وبار اور ثمرات مسلمانوں کے بقیہ علوم وفنون کی صورت میں سامنے آئے۔ آج سے کم وبیش ایک ہزار سال پہلے قاضی ابوبکر بن العربی نے، جو ایک مشہور مفسر اور مالکی فقیہ ہیں، کہیں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے جملہ علوم وفنون کی تعداد سات سو ہے۔ ان سات سو علوم وفنون کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ سنت سے اور یہ سب کے سب سنت کی شرح ہیں، اور سنت رسول قرآن مجید کی تشریح وتفسیر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کی حیثیت اس بنیاد اور جڑ کی ہے جس پر مسلمانوں کی ساری تعلیمی، فکری اور تہذیبی سرگرمی کا دارومدار ہے۔ یہ کیفیت کم وبیش گیارہ، بارہ سو سال رہی اور ایک ایسے نظام تعلیم نے جس کی اساس قرآن مجید، سنت رسول اور ان دونوں سے پیدا ہونے والے علوم وفنون پر تھی، امت مسلمہ کی تمام ضروریات کو پورا کیا۔ امت مسلمہ میں بڑی بڑی ریاستیں بھی قائم ہوئیں، بڑی بڑی تہذیبیں سامنے آئیں، اور یورپ کے کم وبیش آدھے حصے پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ مسلمانوں کی فوجیں آسٹریلیا کے حدود تک پہنچیں اور مشرقی اور جنوبی یورپ میں مسلمانوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح اسپین میں آج بھی مسلمانوں کی سات سو سالہ حکومت کے آثار موجود ہیں۔ جہاں بانی کے اس پورے سلسلے میں اسلامی علوم وفنون اور وحدت پر مبنی نظام تعلیم نے مسلمانوں کے خالص دینی تقاضے بھی پورے کیے اور خالص دنیوی تقاضے بھی۔ یہ تاثر کہ دینی اور دنیوی علوم جدا جدا ہیں، اسلامی تاثر نہیں، بلکہ یہ مغرب کا تحفہ اور مغربی سیکولر ازم کے باقیات واثرات میں سے ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں اور میں بغیر کسی تردد کے یہ بات عرض کرتا ہوں کہ جب تک یہ دو نظام الگ الگ رہیں گے، دنیاے اسلام میں سیکولر ازم کو فروغ ملتا رہے گا۔ سیکولر ازم کیا ہے؟ سیکولر ازم یہ ہے کہ جو چیز مذہبی ہے، وہ مذہبی دائرے میں رہے اور جو غیر مذہبی ہے، وہ غیر مذہبی دائرے میں رہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق پیدا نہ ہو۔ یہ دونوں ایک نہر یا ایک دریا کے دو کنارے ہیں جو کبھی آپس میں نہیں ملتے اور ایک دوسرے کے متوازی چلتے رہتے ہیں۔ زندگی کو دو متوازی نظاموں اوردو متوازی حصوں میں تقسیم کرنا، اسی کو سیکولر ازم کہتے ہیں۔ یہی لا مذہبیت اور لادینیت ہے۔ لا دینیت کسی اور چیز کا نام نہیں ہے۔
انگریز کے زمانے میں جب main stream کی قیادت مسلمانوں سے چھن گئی تو اس وقت مسلمانوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں تھا کہ وہ اسلامی علوم وفنون کے تحفظ کے لیے ایک خالص دینی نظام تعلیم کے قیام پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ یہ ایک دفاعی حکمت عملی تھی اور امت مسلمہ میں مذہب کی باقیات کو بچانے کا واحد طریقہ تھا کہ مذہبی تعلیم کے نام پر جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ کیا جائے اور جس حد تک مسلمانوں کی مذہبی زندگی کوبرقرار رکھا جا سکتا ہے، رکھا جائے۔ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں تھا کہ دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم کے دو الگ الگ نظام موجود رہے ہوں۔ چنانچہ مغلیہ دور میں جس درس گاہ نے، جس نظام تعلیم اور نصاب تعلیم نے مجدد الف ثانی جیسا شخص پیدا کیا، جس کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم کا یہ جملہ ہمیشہ دہرایا کرتا ہوں کہ The greatest religious genious produced by Muslim India، (مسلم ہندوستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، وہ شیخ احمد سرہندی تھے)، اسی نظام میں نواب سعد اللہ خان بھی تیار ہوا تھا جو مجدد صاحب کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنت مغلیہ کا وزیر اعظم بنا۔ وہ سلطنت مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکم، برما، ان سب ریاستوں پر مشتمل تھی۔ اس کے نظام کو اس نے شاہ جہان کے زمانے میں کامیابی سے چلایا تھا۔ پھر استاد احمد معمار جس نے تاج محل بنایا، یہ بھی مجدد صاحب کا کلا س فیلوتھا۔ یہ تینوں ایک ہی استاد کے شاگرد تھے اور ایک ہی درس گاہ کے پڑھے ہوئے تھے۔اب دیکھیے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیا کی متمدن ترین سلطنت کو اس کے کامیاب ترین ادوار میں قیادت فراہم کی اور اس کا نظام چلا کر دکھایا، دوسرا وہ شخص جو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مذہبی عبقری ہے، جس کی عظمت کو بیان کرنا دشوار ہے اور جس نے برصغیر کی دینی تحریکات پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ بعد کی کوئی دینی تحریک اور کوئی دینی سرگرمی اس کے اثر اور شخصیت کے احترام سے خالی نہیں ہے، اور تیسرا وہ شخص جس نے دنیا کے سات عجائب میں سے ایک عجوبہ بنایا، یہ تینوں افراد یہ ایک ہی نصاب کے پڑھے ہوئے اور ایک ہی تعلیمی نظام کی پیداوار تھے۔ یہی اسلام کا آئیڈیل اور یہی اسلام کا معیار ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ہم اس پر ازسرنو غور کرتے، لیکن یہ کام نہ حکومتوں نے کیا اور نہ اہل علم نے اس پر ابھی تک کوئی توجہ دی ہے، لیکن اس پر جتنی جلدی غور ہو جائے، اچھا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام پوری امت مسلمہ کی تاریخ کے ایک مرحلہ کی تشکیل نو کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے اور میں اس کو اس سے کہیں زیاد ہ اہم سمجھتا ہوں جتنی اہمیت دار العلوم دیوبند کے قیام کی تھی۔ میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا اور اسے غیر اہم نہیں سمجھتا۔ برصغیر اور پورے جنوبی ایشیا میں پچھلے دو سو سال کی پوری مذہبی تاریخ دار العلوم دیوبند اور اس کے موسسین کی مرہون منت ہے، لیکن یہ کام جس کا آغاز مولانا زاہد الراشدی اور ان کے ہم خیال اہل علم نے کیا ہے یا کر رہے ہیں، اگر یہ نتیجہ خیز ثابت ہو تو اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ دیرپا اور دور رس ہوں گے، اس لیے کہ یہ اس روایت کا احیا کرنے کے مترادف ہے جو اصل اسلامی روایت ہے۔ دار العلوم دیوبند کی کاوش یا مہم ایک بدلی ہوئی صورت حال میں دفاعی اور وقتی کوشش تھی۔ وہ آئیڈیل صورت نہیں تھی اور نہ ہی وہ آئیڈیل حالات تھے۔ نہ وسائل دست یاب تھے، نہ حکومتی سرپرستی دست یاب تھی، اور نہ وہاں کے فارغ شدہ حضرات کے لیے قیادت کے مناصب موجود تھے۔ معاشرہ ان کی قیادت کو ماننے اور ان سے رہنمائی لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ان کی رہنمائی مسجد اور مدرسے کے خاص دائرے تک محدود تھی۔ اس کے لیے انھوں نے جو کچھ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو جزاے خیر دے گا اور جتنا دین موجود ہے، انھی کی کاوش سے موجود ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو دین موجود ہے، اس کو زندگی کے روز مرہ معاملات سے Relate کیا جائے اور اس کو معاشرے میں فعال قائدانہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ اہل دین کے پاس دینی علوم کا تخصص بھی موجود ہو اورجس دنیا اور جس معاشرے میں انھیں قیادت فراہم کرنی ہے، اس کے بارے میں بھی قائدانہ اور ناقدانہ واقفیت انھیں حاصل ہو۔
جب میں یہ بات عرض کرتا ہوں تو بعض علماء کرام یہ سمجھتے ہیں اور مجھ سے انھوں نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں اس بات کا داعی ہوں کہ دینی مدارس کو میڈیکل کالجز میں Convert کر دیا جائے یا انھیں انجینئرنگ کے ادارے بنا دیا جائے۔ ایک بڑے محترم اور بزرگ عالم نے مجھ سے غصے سے پوچھا کہ کیا انجینئرنگ کالج میں مولوی تیار ہوتے ہیں؟ نہیں تو پھر دینی مدارس میں انجینئر کیوں تیار ہوں؟ لیکن یہ اعتراض درست نہیں ہے، اس لیے کہ نہ انجینئر تیار کرنا مقصد ہے اور نہ میڈیکل ڈاکٹر تیار کرنا بلکہ علماء کرام ہی تیار کرنا مقصد ہے، لیکن نواب سعد اللہ کی طرح کے علما۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر دور کا ایک محاورہ اور ایک زبان ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور سنت تو ایسی چیز ہیں جو ہمیشہ کے لیے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ان کا محاورہ ہر دور کے لیے ہے اور ہر دور کے لیے رہے گا۔ ان کے محاورے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ وہی رہے گا، اور ان کو ہمیشہ انھی کے محاورے اور انھی کی اصطلاح میں سمجھا جائے گا، لیکن فقہاء کرام، شارحین حدیث اور مفسرین نے شریعت کے نصوص کو اپنے اپنے زمانے سے Relate کیا اور اپنے زمانے کے محاورے میں اس کی تعلیم کو مرتب کیا ہے۔ یہ محاورہ حالات کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔ ماضی میں بھی بدلتا رہا ہے اور آئندہ بھی بدلتا رہے گا۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میں آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ وہ علماء کرام جن کے پاس ٹھوس دینی علوم موجود ہیں، جن کے پاس پاور ہاؤس اور اس میں قوت کا ذخیرہ موجود ہے، چونکہ ان کا محاورہ آج کے محاورے سے مختلف ہے، اس لیے دور جدید کا آدمی ان کے علم سے استفادہ نہیں کرتا۔ آج سے کم وبیش ۲۵ سال پہلے وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی۔ جسٹس صلاح الدین مرحوم اس کے پہلے چیف جسٹس تھے۔ بہت نفیس انسان تھے۔ میرے مشورے سے انھوں نے بعض علماء کرام کو وفاقی شرعی عدالت کا مشیر مقرر کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ جن حضرات کو آپ نے مشیر مقرر کیا ہے،جن کی تعداد ۳۰، ۳۵ کے قریب تھی، ان سب کو آپ کھانے کی دعوت دیں۔ چنانچہ انھوں نے پورے پاکستان سے ان جید علماء کرام کو کھانے کی دعوت دی۔ ایک بزرگ جو بہت ٹھوس عالم تھے، انتہائی گہرا علم رکھتے تھے، وہ ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئے۔ چیف جسٹس صاحب نے ان سے پوچھا کہ حضرت! Islamic Stateکی Minimum requirement کیا ہے؟ بالکل یہی الفاظ تھے، یعنی کسی ریاست کے اسلامی ریاست ہونے کے کم سے کم تقاضے کیا ہیں؟ اس کا وہ کوئی جواب نہیں دے پائے۔ شاید سمجھے نہ ہوں۔ جسٹس صاحب نے دوبارہ اردو میں پوچھا تو وہ پھر بھی اس کا کوئی صحیح جواب نہیں دے پائے۔ میں تھوڑے فاصلے پر تھا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ صف اول کے عالم ہیں، اگر ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکے تو ہو سکتا ہے کہ علما کے بارے میں ایک منفی تاثر جسٹس صاحب کے دل میں بیٹھ جائے۔ میں نے درمیان میں مداخلت کی گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ شاید چیف جسٹس صاحب یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ’دار الاسلام‘ کی تعریف کیا ہے؟ اب انھوں نے فوراً جواب دیا اور بڑے مدلل انداز میں جواب دے کر چیف جسٹس کو بڑی حد تک مطمئن کر دیا۔ اس وقت یہ بات مجھ پر واضح ہوئی کہ علماء کرام کے پاس علم تو ہے، لیکن محاورہ نہیں۔
محاورہ ہر زمانے کا مختلف ہوتا ہے اور ہر زمانے کے علوم سے متاثر ہوتا ہے۔ جس زمانے میں منطق نہیں آئی تھی، آپ اس زمانے کی اصول فقہ کی کتابیں دیکھیں کہ ان کا انداز کیا تھا؟ امام شافعی کی کتاب ’الرسالہ‘ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ خود شافعی فقیہ امام غزالی کی ’المستصفیٰ‘ پڑھیں۔ دونوں کے محاورے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے اسرار حدیث پر کتاب لکھی ہے۔ اسرار حدیث پر ’معالم السنۃ‘ میں امام خطابیؒ نے بھی لکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ آپ ان دونوں کتابوں کو پڑھیں تو دونوں کے محاورے میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہوگا۔ شاہ ولی اللہ کا محاورہ سارے کا سارا یونانی فلسفے پر مبنی ہے اور یونانی فلسفہ جیسا کہ برصغیر میں پڑھایا جاتا تھا، میبذی اور شرح ہدایۃ الحکمۃ اور فلسفہ کے بارے میں جو جو کتابیں اس وقت رائج تھیں، ان سب کے اثرات اور مصطلحات شاہ صاحب کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘ میں موجود ہیں۔ اب خالص علم حدیث ہے اور شاہ صاحب علم اسرار حدیث پر بات فرما رہے ہیں، لیکن منطق اور فلسفے کے محاورے میں۔ جو بات خطابی نے کی ہے، وہی بات شاہ صاحب کہہ رہے ہیں اور اسی کو آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن اگر خطابی ہوتے تو شاید ایک لفظ نہ سمجھتے کہ شاہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں، جیسا کہ چیف جسٹس صاحب کی بات وہ بزرگ عالم نہیں سمجھ پائے۔
اگر آپ کے پاس ریڈیو سیٹ تو ہو، لیکن ریڈیو اسٹیشن سے جس فریکونسی پر پیغام نشر ہو رہا ہے، آپ کا ریڈیو سیٹ اس فریکونسی پر کام نہ کرتا ہو تو آپ کے لیے وہ بے کار ہے۔ جب تک آپ اپنے ریڈیو سیٹ کو مطلوبہ فریکونسی پر نہیں لائیں گے، آپ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ ضروری ہے کہ علماء کرام کے پاس جو علم دین کا پاور ہاؤس ہے، اور ایک عام آدمی جو دین کی راہنمائی چاہتا ہے اور جس کو آپ راہنمائی دینا چاہتے ہیں، ان دونوں کی فریکونسی ایک ہو۔ اس فریکونسی کو موافق بنانے کے لیے ایک تو تخصص ضروری ہے جس پر میں ابھی مزید بات کروں گا، اور دوسرا دور جدید کا محاورہ درکار ہے۔ یہ خلط مبحث اور غلط فہمی ہے کہ علما کو انجینئر یا ڈاکٹر بنانا مقصود ہے۔ نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ علوم وفنون جنھوں نے آج کل کی تہذیب کی تشکیل کر رکھی ہے اور جن کی بنیاد پر آج ساری دنیا کا نظام چل رہا ہے، حتیٰ کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران میں بھی چل رہا ہے، ان سے علما بھی مناسب طور پر واقف اور مانوس ہوں۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں علوم وفنون کی ایک الگ تقسیم کی تھی۔ کچھ علوم مقاصد یا علوم حقیقی ہیں اور کچھ علوم وسائل یا علوم آلیہ ہیں۔ اسی طرح کچھ علوم ہیں، کچھ صنائع ہیں اور کچھ فنون ہیں۔ یہ مسلمانوں کی تقسیم تھی۔ آج عملاً یہ تقسیم موجود نہیں ہے۔ آج تعلیم کا نظام عملاً اس تقسیم پر نہیں چل رہا۔ آج دنیا میں ایک نئے انداز سے علوم کی مختلف تقسیمیں کی جاتی ہیں۔ ان میں ایک اہم تقسیم علوم عمرانی (Social sciences) اور علوم انسانی (Humanities) کی ہے۔ سوشل سائنسز میں وہ ان علوم وفنون کو شامل کرتے ہیں جو انسانی معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی زندگی سے بحث کرتے ہیں۔ ان میں تاریخ، سیاسیات، معاشیات، عمرانیات اور کسی حد تک قانون شامل ہیں۔ یہ عمرانی علوم ہیں جن سے اجتماعی رویوں کی تشکیل ہو رہی ہے۔ Humanities وہ علوم ہیں جو انسان کے مطالعے پر مبنی ہیں، یعنی فرد کے خیالات، فرد کے افکار، فرد کی نفسیات، فرد کے احساسات وجذبات، یہ سب کے سب ہیومینٹیز کہلاتے ہیں۔ اس میں فلسفہ، نفسیات اور بشریات شامل ہیں۔ یہ دو میدان وہ ہیں جن سے دور جدید میں تہذیب کی تشکیل ہوئی ہے۔ آج ہمارا ایک پڑھا لکھا انسان، چاہے وہ پاکستان کا ہو یا سعودی عرب کا یا مصر کا یا کسی بھی اسلامی ملک کا، جب وہ بات کرتا ہے تو اسلامی علوم اور تصورات کے تناظر (perspective) میں بات نہیں کرتا۔ وہ اسلامی اصطلاحات یا فقہی سیاق وسباق یا فقہی محاورے میں بات نہیں کرتا، بلکہ وہ مغربی سوشل سائنسز کے محاورے میں بات کرتا ہے۔ عمرانی علوم اور انسانی علوم کے کے علاوہ مختلف قسم کے طبیعی علوم بھی ہیں جن کی حیثیت Tools اور آلات کی ہے جن سے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا مقصود ہے۔ ان کا دینی علوم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بالواسطہ جس چیز کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ یہ ہے کہ علماء کرام بقدر ضرورت سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز سے واقفیت رکھتے ہوں۔ اسی طرح کی واقفیت رکھتے ہوں جیسے آج سے ایک ہزار سال پہلے منطق سے واقفیت کی ضرورت پیش آئی تھی۔
اگر آپ اس دور یعنی تیسری صدی کے مباحث پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جب یونانی منطق اور فلسفہ کی کتابیں ترجمہ ہونا شروع ہوئیں، تو مسلمانوں میں اسی طرح کے تین رویے تھے جو آج مغربی تہذیب کے بارے میں ہیں۔ علماء کرام، محدثین اور مفسرین کا ایک بہت بڑا طبقہ وہ تھا جو ان سب چیزوں کو ناپاک اور گردن زدنی سمجھتا تھا، جو یونانی منطق اور فلسفہ سے اعتنا رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج یا اس کی حدود پر سمجھتا تھا، ان کو مسلمانوں کا نمائندہ نہیں سمجھتا تھا۔ یہ بحثیں موجود تھیں کہ منطق کی کتابوں سے استنجا جائز ہے یا نہیں۔ یہ جزئیات آپ کو فقہ کی کتابوں میں مل جائیں گی، یعنی یہاں تک ناپسندیدگی اور نفرت کی کیفیت تھی۔ یہ شعر آپ نے اکثر پڑھا ہوگا کہ
وا عجبا لمنطق الیونان
کم فیہ من افک ومن بہتان
مخبط لجید الاذہان
ایک لمبی نظم ہے، پتہ نہیں کس بزرگ کی ہے۔ تو منطق کے بارے میں یہ کیفیت تھی ۔ اس کے بعد یہ رویہ محدود ہوتا گیا، جیسا وہ ٹماٹر والا رویہ محدود ہو گیا۔ پھر یہ کیفیت آئی کہ خالص اسلامی علوم میں منطق وفلسفہ آ گیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘ علم اسرار حدیث پر بہترین کتاب ہے۔ میری دانست اور رائے میں اس سے بہتر اسلامی علوم کی نمائندہ کتاب برصغیر میں نہیں لکھی گئی اور میں شاہ صاحب کو برصغیر میں مسلمانوں کا امیر المومنین فی الحدیث سمجھتا ہوں۔ لیکن جب تک آپ منطق اور فلسفہ کی اصطلاحات سے واقف نہ ہوں، انھی یونانیوں کی منطق جو بت پرست اور مشرک تھے، بدکار تھے، اخلاقی اعتبار سے بھی کچھ اونچے لوگ نہ تھے، تو ان کی کتابوں کو سمجھے اور ان کے افکار کو جانے بغیر آپ علم اسرار حدیث پر اسلامی لٹریچر کی بہترین کتاب نہیں سمجھ سکتے۔ شاہ ولی اللہ تو بعد کے ہیں۔ امام غزالی جیسے حجۃ الاسلام کی کتاب ’المستصفیٰ‘، جو اصول فقہ جیسے خالص اسلامی علم پر ہے، اگر آپ منطق میں اچھی بصیرت نہیں رکھتے تو اس کو نہیں سمجھ سکتے اور اس میں منطق اتنی گھسی ہوئی ہے کہ اگر ’المستصفیٰ‘ کو سمجھ کر پڑھ لیں تو منطق بھی آپ کو آ جائے گی۔ انھوں نے منطق کو اس کتاب میں اتنا سمو دیا ہے۔ امام شاطبی کی کتاب ’الموافقات‘ آپ نے پڑھی ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اصول فقہ پر انسانی تاریخ کی بہترین کتاب ہے۔ انسانی تاریخ میں اصول قانون پر اس سے بہتر کتاب موجود نہیں ہے۔ لیکن جب تک آپ منطق وفلسفہ نہ جانتے ہوں، اس کتاب کے مضامین کو بھی نہیں سمجھ سکتے حالانکہ وہ ایسے علاقے، شمالی افریقہ اور اسپین وغیرہ میں لکھی گئی جہاں منطق وفلسفہ کا رواج کم تھا۔ لیکن اس کے باوجود ساری کتاب کی اٹھان، اس کا استدلال، اس کی ترتیب، اس کا اسلوب اس دور کے عقلیات کے معیارات کے مطابق خالص عقلی ہے۔
یہ ایک ایسی تہذیب یا ایک ایسے علاقے کی نمائندہ تہذیب کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ تھا جس سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا، نہ سیاسی طور پر ان کی مسلمانوں کے ساتھ کوئی کشمکش تھی، نہ عسکری طور پر وہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا سکتے تھے، نہ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر مسلمان ان کے نقطہ نظر کا مطالعہ نہ کریں تو وہ اسے زبردستی مسلط کر دیں۔ یہ تو مسلمانوں نے خود ہی ان کے علوم وفنون کا ترجمہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب اگر یونانیوں کے علوم وفنون جو نہ مسلمانوں پر حاکم تھے، نہ بالادست تھے، نہ ان کے پاس اقتدار تھا، نہ وہ مسلمانوں کے لیے خطرہ تھے، مسلمانوں نے محض علمی دلچسپی کی خاطر انھیں اختیار کیا اور ان سے استفادہ کیا تو وہ علوم وفنون جو ایک بالادست طاقت نے آپ پر مسلط کر دیے ہیں اور جن کے تصورات اور اسلوب استدلال کے مضر اثرات مسلمانوں میں داخل ہو رہے ہیں، انھیں سیکھنا اور ان سے واقفیت پیدا کرنا کیونکر مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟ آج اس کی ضرورت اس سے کئی ہزار گنا بلکہ کئی لاکھ گنا زیادہ ہے جتنی ضرورت یونانی علوم وفنون کے مطالعے کی تھی۔
یہ ٹھیک ہے کہ یونانی منطق اور فلسفہ سے اشتغال رکھنے والے بہت سے لوگوں نے ایسے خیالات کا اظہار بھی کیا جو اسلام کی ترجمانی نہیں کرتے تھے۔ آپ فارابی کی کوئی کتاب پڑھیں، مثلاً اس کی کتاب ہے ’آراء اہل المدینۃ الفاضلۃ‘ جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسلم سیاسی فکر کی پہلی کتاب ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اسلامی تعلیم وعقائد سے ہم آہنگ نہیں ہیں، لیکن ایک اعتبار سے وہ بڑی غیر معمولی کتاب ہے کہ اس نے یونانی علوم وفنون پڑھے اور ارسطو کی Politica یعنی ’سیاسیات‘ کا ترجمہ اس نے پڑھا، شاید افلاطون کی Republic کا بھی ترجمہ دیکھا ہو، لیکن بظاہر اس کے شواہد کم ہیں۔ سیاسیات پر وہ ارسطو کے نقطہ نظر سے متاثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے ایک کتاب لکھی اور کوشش کی کہ ان خیالات کو اسلام سے ہم آہنگ کر کے بیان کرے۔ میرے خیال میں یہIslamization of Knowledge کی پہلی کوشش تھی۔ یہ داعیہ اس کے دل میں کیوں پیدا ہوا کہ وہ یونانیوں کے خیالات کو اسلام کے مطابق بنائے؟ اس کے دل میں کوئی اسلامی حمیت تھی اور کوئی اسلامی جذبہ تھا تو پیدا ہوا۔ اس اسلامی جذبے نے اس کو ارسطو کے خیالات کو جوں کا توں مسلمانوں میں پیش کرنے سے باز رکھا اور اس حد تک اس کا اسلامی فہم قابل ستایش ہے۔ اس کے مطابق اس نے ایک ایسی چیز کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر لوگوں کی رہنما بنی۔ اس نے اسلام کی سیاسی فکر اور اس کے دستوری تصورات کو اس طرح مرتب کیا کہ وہ نقل کے معیار کے ساتھ ساتھ عقل کے معیار پر بھی پورا اترے۔ اسی وجہ سے میں ابن سینا اور فارابی کا بڑا احترام کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بڑی قدر ہے، اس کے باوجود کہ ان کے بہت سے خیالات اسلامی عقائد سے متعارض ہیں۔
آج بھی اسی بات کی ضرورت ہے کہ وہ حضرات جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں یا ارادہ اور خواہش رکھتے ہوں کہ آگے چل امت مسلمہ کی فکری قیادت کی ذمہ داری انجام دیں، ان کو بقدر ضرورت مغربی علوم سے ناقدانہ اور قائدانہ واقفیت ہونی چاہیے۔ ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مثلاً وہ اصول قانون کے اس طرح عالم ہوں جس طرح کوئی ماہر مغرب میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہونا چاہتا ہے تو ضرور ہو جائے، لیکن اتنی مہارت کی ضرورت نہیں۔ اصول قانون جیسا کہ مغرب میں ہے، اس کے بنیادی تصورت، اس کے بنیادی عقائد، اس کے بنیادی concerns and issues جس سے وہ بحث کرتا ہے، وہ کیا ہیں، کیوں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے جو basic issuesہیں، وہ گرفت میں آ جائیں۔ اس کے بعد ان پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر ایک صاحب علم فقیہ یہ دیکھے کہ اس میں کیا چیز ہے جو کمزور ہے، کیا چیز ہے جو مضبوط عقلی بنیادوں پر قائم ہے، اور کیا چیز یا کیا اسلوب استدلال ہے جس سے کام لے کر اصول فقہ کے اس تصور یا نظریہ کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناقدانہ انداز ہے۔
آپ دیکھیں کہ اصول فقہ کو جس طرح امام شافعی نے مرتب فرمایا تھا اور جس طرح امام سرخسیؒ نے اس پر ’اصول السرخسی‘ لکھی تھی جو فقہ حنفی میں پہلی کتاب ہے، اس انداز کی کتابیں بعد میں نہیں لکھی گئیں۔ امام رازی اور امام غزالی کی کتابیں اس انداز کی نہیں ہے۔ ان میں منطق اور فلسفہ آ گیا ہے جو جائز تھا۔ امام غزالی نے اصول فقہ کے ہر مسئلہ کو منطق کے دلائل سے اس طرح ثابت کر کے دکھایا کہ یونانی فلسفہ ومنطق کا کوئی بڑے سے بڑا ماہر امام غزالی کے استدلال سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ اس طرح انھوں نے اصول فقہ کو یونانی منطق کے ماہرین کے فہم کے قریب کیا۔ منطق سے متاثر لوگ اصول فقہ سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اصول فقہ کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ فن عقل ونقل دونوں کی میزان پر پورا اترتا ہے۔ یہی کام آج ہمیں کرنا پڑے گا۔ جب تک نہیں کریں گے تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔
اسی طرح آج جو سارا طبقہ ہمارا اور آپ کا نظام چلا رہا ہے، یہ اصول فقہ سے واقف نہیں۔ یہ انگریزی اصول قانون سے واقف ہیں۔ اینگلو سیکسن لا، اس کے تصورات و استدلالات اور عقائد، سب ان کے رگ وپے اور گھٹی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب یا تو آپ انھیں مجبور کریں کہ وہ اپنا سب کام چھوڑ کر اصول فقہ پڑھیں تو یہ عملاً ہوگا نہیں۔ اگر آپ سے کوئی کہے کہ آپ اپنی ملازمت، تدریس، نوکری چھوڑ کر پانچ سال یا دس سال اصول قانون پڑھنے پر لگائیں تو آپ تیار نہیں ہوں گے۔ آپ کے پاس وقت نہیں ہے، آپ کے وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ کے مشاغل اس کے متحمل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ان لوگوں کے مشاغل بھی اس کے متحمل نہیں ہوتے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر قدیم محاورے میں لکھے ہوئے اسلامی علوم وفنون میں مہارت حاصل کریں۔ ایک وکیل اپنی وکالت کیوں چھوڑے؟ اگر چھوڑ دے تو کھائے کہاں سے اور وہ کیوں پانچ سال اصول فقہ یا فقہ پڑھنے پر لگائے؟ پانچ سال میں بھی اتنی واقفیت پیدا نہیں ہوگی جتنی ہونی چاہیے۔ اس لیے مطالبے کرنے سے، جلوس نکالنے سے، بینر لگانے سے کوئی جج یا وکیل خود بخود فقہ کاماہر نہیں ہو جائے گا۔ وہ تو تب بنے گا جب وہ پڑھے گا اور تب پڑھے گا جب آپ اسے پڑھانا چاہیں گے اور جب پڑھانا چاہیں گے تو اس کے لیے اس کے ذہنی پس منظر اور اس کے مزاج کے مطابق آپ کو تیاری کرنی پڑے گی۔ اس میں شارٹ کٹ کوئی نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوگا کہ آج کوئی اسلامی تحریک یا دینی جماعت دھرنا دے دے اور کل اس کے نتیجے میں جتنے جج صاحبان اور وکلا ہیں، جن کی تعداد بالترتیب پانچ ہزار اور بارہ ہزار کے قریب ہے، سب کے سب فقہا ہو جائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی صورت حال یہی رہے گی جو آج ہے۔ اس کے لیے بہت long term جانا پڑے گا۔ جب دو سو سال میں یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے تو کم از کم دو سو نہیں تو پچاس سال تو کام کرنا پڑے گا۔ پچاس سال کم از کم تبدیلی کے لیے درکار ہیں، اس وقت سے جب تبدیلی کے لیے کام شروع ہوگا۔ اگر پچاس سال پہلے شروع ہو چکا ہوتا تو آج تبدیلی آ چکی ہوتی۔ اس لیے اصول فقہ کو اس انداز سے مرتب کرنا پڑے گا کہ دور جدید کا انسان جو قانو ن تو جانتا ہے اور مغربی اصول قانون سے مانوس ہے، وہ اس تصور کو سمجھ سکے اور اس تصور کو اپنے فہم کے قریب لا سکے۔ مسلمانوں کو ان علوم میں اتنی واقفیت پیدا کرنی ہوگی کہ ان کے اسلوب استدلال کے ذریعے سے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیم کو پیش کر سکیں، جس طرح امام غزالی نے منطق سے کام لے کر اصول فقہ کے اصولوں کو پیش کیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگ موجود ہوں۔
اس کی دو شکلیں ہیں۔ ایک شکل تو یہ ہے کہ جو لوگ اصول قانون کے ماہر ہوں، انھیں اصول فقہ کا ماہر بھی بنا دیا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ جو اصول فقہ کا ماہر ہو، اسے بقدر ضرورت اصول قانون کاماہر بنا دیا جائے۔ دوسری صورت زیادہ آسان معلوم ہوتی ہے۔ میں نے یہ ایک مثال صرف اصول قانون کی دی ہے۔ یہ مثال علم سیاسیات، سوشیالوجی اور دیگر علوم پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ ان علوم وفنون سے ایک ناقدانہ واقفیت درکار ہے، لیکن اس ناقدانہ واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی علوم کا تخصص گہرا ہو، ورنہ مغربی علوم وفنون کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ یہ درست ہے اور یہ غلط ہے، یہ عقیدہ ٹھیک ہے، اسلام کے مطابق ہے اور یہ عقیدہ اسلام کے خلاف ہے، ا س کا پتہ نہیں چلے گا۔ ایک کچا آدمی ان کی گمراہیوں سے بھی متاثر ہوجائے گا جیسا کہ آج تک ہوتا رہا ہے۔ علماء کرام جو متامل ہیں، شاید اسی وجہ سے ہیں کہ ایسی مثالیں سامنے آئیں کہ کچا علم رکھنے والوں نے مغربی علوم وفنون اپنائے اور اسلام کی وہ تعبیریں کیں جو اسلام کی روایت کے مطابق نہیں تھیں اور ان میں انھوں نے اسلام کی علمی روایت کے تسلسل کو محفوظ نہیں رکھا تھا۔ اس لیے جب تک علم میں پختگی نہ ہو، اس وقت تک ناقدانہ تصور نہیں پیدا ہو سکتا۔ پختگی پیدا کرنے کے لیے بھی ابھی تک ہمارے ہاں کوئی انتظام نہیں ہے۔
آج جو دینی تعلیم ہم دے رہے ہیں، اس کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ ہمارے سامنے ہونے چاہییں۔ میں ذرا بے تکلف بات کروں گا۔ آپ برا نہ مانیے گا۔ میرا تعلق آپ ہی کے طبقہ سے ہے۔ وہ ایک شعر ہے کہ
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی
تو گفتگو میں تھوڑی سی تلخ نوائی کا عنصر آنے کی اجازت دیجیے۔ جب دار العلوم دیوبند قائم ہوا، اس وقت مسلمانوں کو مسئلہ کیا درپیش تھا؟ اس وقت مسلمانوں کومسئلہ یہ درپیش تھا کہ انگریز نے پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا تھا، مسلمانوں کے اوقاف سب ختم کر دیے گئے تھے، ایک ایک کر کے ضبط کر لیے گئے تھے، تعلیمی ادارے سب بند کر دیے گئے تھے۔ علماء کرام جو سارے نظام کو چلا رہے تھے، ان کو ملازمتوں سے الگ کر دیا گیا۔ عدالتوں کا نظام جو شریعت کے مطابق تھا، اس کو ختم کر کے انگریزی عدالتیں قائم کر دی گئیں، انگریزی قانون شریعت کی جگہ نافذ کر دیا گیا۔ فارسی جو نظام حکومت کی زبان تھی، اس کو ختم کر کے انگریزی جاری کر دی گئی۔ جہاں جہاں مسلمان مقرر تھے، ان کی جگہ ہندووں کو مقرر کر دیا گیا۔ بڑے مناصب پر انگریز آ گئے اور مسلمان ہٹ گئے۔ جو چیزیں مسلمانوں کی عزت کا ذریعہ تھیں، وہ مسلمانوں کی ذلت کا ذریعہ بنا دی گئیں۔ مسلمانوں کا لباس، مسلمانوں کے عہدے، مسلمانوں کے مناصب، مسلمانوں کے القاب، ہر چیز جواونچے درجے کی تھی، اس کو نیچے درجے میں انھوں نے متعارف کروا دیا۔ یہ وہ حالات تھے جن میں انھوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ نصاب یا وہ نظام جو آسانی سے اس وقت اپنایا جا سکتا ہے، اس کو اپنا لیا جائے۔
اس وقت درس نظامی برصغیر میں رائج تھا۔ درس نظامی کیا ہے؟ یہ بھی میں عرض کر دوں۔ درس نظامی نہ کوئی آسمانی چیز ہے، نہ قرآن میں آیا ہے نہ حدیث میں، نہ اس کا اسلام کے مستقبل یا ماضی سے کوئی تعلق ہے۔ یہ ایک اچھی مفید چیز ہے، اس کی افادیت سے انکار نہیں۔ اصل میں انگریز کی حکومت جب برصغیر میں قائم ہوئی تو اس وقت ہندوستان میں چار پانچ قسم کے درس رائج تھے۔ ایک درس مشرقی ہندوستان، جون پور وغیرہ میں رائج تھا جو شیراز ہند کہلاتا تھا۔ شیراز ہند اس لیے کہلاتا تھا کہ جون پور اور مشرقی علاقوں میں عقلیات اور فلسفے پر زور زیادہ تھا اور وہاں کے فارغ التحصیل حضرات منطق اور فلسفے کے ماہر ہوتے تھے۔ مسلمانوں میں عقلیات پر جتنی کتابیں برصغیر میں لکھی گئیں، وہ خیر آبادی سکول کی طرف سے لکھی گئیں۔ فضل حق خیر آبادی اور فضل امام خیر آبادی اس اسکول کے معروف نام ہیں اور ان کی لکھی ہوئی کتابیں ’ہدیہ سعیدیہ‘ اور ’شمس بازغہ‘ وغیرہ سے آپ واقف ہیں۔
ایک دوسرا درس تھا جو افغانستان کے اثرات سے آیا تھا اور موجودہ صوبہ سرحد، افغانستان اور موجودہ پنجاب وغیرہ میں رائج تھا۔ اس میں صرف ونحو اور نحوی بحثوں پر زور دیا جاتا تھا۔ کافیہ اور اس کی شرح پڑھنے پر لوگ دس دس سال لگا تے تھے۔ کافیہ میں کیا لکھا ہے، اس سے بحث نہیں ہوتی تھی، لیکن مفردا مرفوع ہے یا منصوب یا مجرور، اس پرتین تین دن بحث ہو تی رہتی تھی۔ پھر کافیہ کی شرح، شرح جامی پڑھائی جا تی تھی۔ پھر شرح جامی کی شرح، پھر اس کے حواشی سوال باسولی، سوال کابلی، تحریر سنبٹ وغیرہ، اور دس دس سال اس میں لگ جاتے تھے۔ بہرحال، یہ تخصص کا ایک میدان تھا۔ ان کی دلچسپی تھی جس پر ہمیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔
تیسرا نصاب وہ تھا جو مغربی ہندوستان اور سندھ میں رائج تھا جس میں علم حدیث پر نسبتاً زیادہ زور تھا۔ شیخ علی المتقی، کنز العمال کے مصنف عبد الوہاب المتقی، ہمارے سندھ کے علماء کرام شیخ محمد حیات سندھی، شیخ محمد عابد سندھی اور شیخ ابو الحسن سندھی وغیرہ حضرات اس نظام سے وابستہ تھے۔ ان حضرات کا اعتنا علوم حدیث سے زیادہ تھا۔
یہ تین مختلف نظام ہندوستان میں رائج تھے اور کچھ تھوڑی تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ ان سے مختلف بھی تھے، لیکن بڑے اندا ز یہی تین تھے۔ اس کی تفصیل اگر آپ دیکھنا چاہیں تو مولانا مناظر احسن گیلانی کی ضخیم کتاب ’’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت‘‘ میں دیکھ لیجیے۔ جب انگریز ہندوستان میں آئے، ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تو اس نے سب سے پہلے بعض سرحدی علاقوں بمبئی، مدراس اور کلکتہ وغیرہ پر قبضہ کیا۔ کلکتہ پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے تجارتی کوٹھیاں بنائیں۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی پولیس اور فوج رکھنا شروع کی جس کی ایک لمبی داستان ہے۔ آج کل اس کے parallels اور اس کی مشابہتیں بڑی نمایاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ملک میں بد امنی ہے، آپ کے ہاں راستوں میں ڈکیتیاں بہت ہوتی ہے، اس لیے ہم اپنی جان ومال اور راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی فوج الگ رکھیں گے۔ ان کو فوج رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور انھوں نے راستوں پر سپاہی رکھنے شروع کر دیے۔ ہوتے ہوتے انھوں نے پورے بنگال پر قبضہ کر لیا اور بالآخر نواب سراج الدولہ کے خلاف فوج کشی کر کے اس کو demote کر دیا گیا۔ بنگال پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے بہار اور اڑیسہ پر قبضہ کر لیا اور الٰہ آباد پہنچ گئے جو مشرقی یوپی کا سب سے بڑا شہر تھا۔ جب تین صوبوں بنگال، بہار اور اڑیسہ پر ان کا قبضہ ہو چکا تو ہندوستان میں مسلمانوں کے کان پر جوں رینگی اور یہاں کا جو حکمران تھا، غالباً شاہ عالم ثانی، وہ ان کے مقابلے کے لیے اپنی فوج لے کر نکلا۔ اس کو ناکامی ہوئی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں الٰہ آباد میں ایک معاہدہ ہوا جو معاہدۂ دیوانی کہلاتا ہے۔ یہ معاہدہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے انتقال کے کوئی تین سال بعد ہوا۔ اس معاہدہ میں شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ان تینوں صوبوں کا انتظام سپرد کر دیا یعنی اس کو قانونی طور پر ایک جائز قبضہ تسلیم کر لیا اور کہا کہ میری طرف سے آپ ان تینوں صوبوں کا نظام چلائیں گے، لیکن اس کے یہ شرائط ہوں گے۔ (انگریز ہمیشہ شروع میں شرائط مان لیتے ہیں جو ان کو سوٹ کرتے ہیں۔ پیروی اور پابندی وہ کتنی کرتے ہیں، یہ ہم سب کے سامنے ہے)
ان شرائط میں ایک بات یہ تھی کہ مسلمانوں کے سارے معاملات شریعت حقہ محمدیہ کے مطابق ہوں گے۔ یہ معاملات مسلمان قاضی اور مفتی طے کریں گے کہ شریعت کیا ہے اور اس کو کیسے نافذ کیا جائے۔ یہ ان شرائط میں ایک چیز تھی۔ جب انگریزوں نے یہ شرائط مان لیں تو انگریزوں میں یہ خوبی ضرور ہے، ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ ہر کام بڑے methodical طریقے سے کرتے ہیں۔ ہر کام کا ایک نظام اور ایک سسٹم ہوتا ہے۔ پہلے قانون بنتا ہے، اس کے مطابق نظام چلتا ہے۔ تو انگریزوں نے یہ معلوم کیا کہ مسلمانوں میں کسی کو جج مقرر کرنے کے لیے اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ وہ عالم یا فقیہ ہے؟ انھوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تین چار قسم کے نصاب رائج ہیں اور ہر ایک کے فارغ التحصیل کو عالم کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ایسا نصاب ہونا چاہیے جو ان تینوں خصائص کا جامع ہو۔ اب ان تینوں خصائص کا جامع نظام وہ تھا جو فرنگی محل میں رائج تھا۔
فرنگی محل ایک بہت بڑے مکان کا نام تھا جو جہانگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دیا تھا۔ جہانگیر اس زمانے میں بیمار ہوا، کئی لوگوں نے اس کا علاج کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے علاج کر دیا تو اس نے خوش ہو کر پوچھا کہ کیا چاہیے؟ انگریز ہمیشہ اپنی قوم کا وفادار ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ میری قوم کے کچھ لوگ یہاں لکھنو میں تجارت کے لیے آئے ہیں، ان کو مشکل پیش آتی ہے تو آپ ان کو تجارت کی اجازت دے دیں اور ان کو کوئی charter یا کوئی guarantees ایشو کر دیں۔ جہانگیر نے فرمان جاری کر دیا اور لکھنو میں ایک بہت بڑا محل یا کوٹھی ان کو دے دی۔ انگریزوں کی وجہ سے وہ کوٹھی ’فرنگی محل‘ کہلاتی تھی۔ اورنگ زیب کے زمانے میں کسی حوالے سے اس کو خبر ملی کہ انگریزوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جو جہانگیر نے طے کی تھیں اور بعض ایسے کام کیے ہیں جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھے۔ اورنگ زیب نے وہ کوٹھی ان سے ضبط کر لی اور ان کو نکال کر وہ کوٹھی ملا نظام الدین سہالوی کو دے دی جنھوں نے فتاویٰ عالم گیری مرتب کرایا تھا اور کہا کہ آپ یہاں درس گاہ قائم کر دیں۔ چنانچہ اس درس گاہ کے علما فرنگی محلی کہلانے لگے۔ مولانا جمال میاں فرنگی محلی، عبد الوہاب فرنگی محلی، عبد الباری فرنگی محلی، یہ نام آپ نے سنے ہوں گے۔ فرنگی محل میں ملا نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ جو نصاب تعلیم تھا، اس میں انھوں نے منطق، فلسفہ، نحو اور حدیث کے ساتھ ساتھ اصول فقہ اور فقہ کی بنیادی کتابیں بھی شامل کر دیں، اس لیے کہ وہ خود فقہ کے متخصص تھے، مفتی اور محتسب رہے تھے اور فتاویٰ عالم گیری کی ترتیب میں بھی شریک رہے تھے۔
جب انگریزوں کو پتہ چلا کہ فرنگی محل کا جو نصاب تعلیم ہے، اس میں فقہ کی اچھی بنیاد موجود ہے اور وہاں کے فارغ التحصیل حضرات فقہ کے ماہر ہوتے ہیں تو انھوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسی درس نظامی کے فارغ التحصیل حضرات کو قاضی ومفتی مقرر کیا جائے گا۔ چنانچہ بڑے پیمانے پر چونکہ قاضی ومفتی مقرر ہونے لگے اور درس نظامی کے فارغ التحصیل حضرات کو ایک اچھا دنیاوی موقع ملا، ان کی تنخواہیں اچھی تھیں، ان کے وسائل اچھے تھے، معیارات اچھے تھے تو بڑے پیمانے پر مدارس نے اسی نصاب کو اپنانا شروع کر دیا اور بڑی تعداد میں انگریزوں نے اس نصاب کے فارغ التحصیل علماء کرام کو مفتی ومحتسب مقرر کر دیا۔ آپ ۱۸۵۷ء سے پہلے کی تاریخ میں بیسیوں علماء کرام کے نام سنیں گے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کے طور پر کام کرتے تھے۔ مفتی صدر الدین آزردہ کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ وہ اسی درس نظامی کے پڑھے ہوئے تھے اور انگریزوں کے نظام میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ’صدر الصدور‘ تھے یعنی دہلی اور اس کے قرب وجوار کے مذہبی امور کے جتنے قاضی تھے، ان کی سربراہی ان کے پاس تھی۔ آپ انھیں اس علاقے کا چیف جسٹس کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔
یہ نصاب تھا جس سے لوگ مانوس تھے اور گزشتہ کم وبیش سو برس یا ۸۰ برس سے لوگ اس نصاب کو پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے تھے۔ جب مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے دار العلوم کے قیام کا فیصلہ کیا تو انھوں نے بھی اسی نصاب کو اپنا لیا۔ اور لوگوں کے ساتھ وہ بھی اس نصاب کے پڑھے ہوئے تھے۔ ان کے والد، ان کے ساتھی دوسرے علماء کرام، مثلاً مولانا محمد یعقوب نانوتوی جو دار العلوم کے پہلے صدر مدرس بھی منتخب ہوئے، ان کے والد مولانا مملوک علی، سب اسی نظام کے پڑھے ہوئے تھے اور وہ دہلی کالج میں، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی چلاتی تھی، عربی کے پروفیسر تھے۔ اس نصاب کو اپنانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ دینی تعلیم بقدر ضرورت اس میں شامل تھی۔ اس میں عربی زبان بھی تھی، فقہ بھی تھی، اصول فقہ بھی تھی، حدیث بھی تھی، تفسیر کی ایک دو کتابیں بھی انھوں نے شامل کر دیں۔ حدیث کی مزید کتابیں شامل کر دیں۔ اس سے پہلے تک حدیث کی صرف ایک کتاب مشکوٰۃ اور ایک آدھ کتاب ہوتی تھی۔ ان حضرات نے مزید کتابیں شامل کر دیں اور ایک نیا نصاب انھوں نے بنا دیا جس نے ہندوستان کے دینی تقاضوں کو اس وقت پورا کیا۔
کیا پاکستان بننے کے بعد بھی دینی مدارس کے تقاضے یہی تھے؟ میرے خیال میں یہ نہیں تھے۔ پاکستان بننے کے بعد اب دینی مدارس سے تین قسم کے تقاضے ہیں اور ان تینوں تقاضوں کی ضروریات الگ الگ ہیں۔ ایک تقاضا تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو مساجد ہیں، ان میں ہمیں تربیت یافتہ امام درکار ہیں۔ یہ سب سے پہلا تقاضا ہے جو مسلمانوں کی دینی زندگی کا سب سے لازمی مطالبہ ہے جسے پورا ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ایک امام مسجد کو درس نظامی پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر وہ ’ہدیہ سعیدیہ‘ اور ’سوال کابلی‘ اور ’سوال باسولی‘ اور ’تحریر سنبٹ‘ وغیرہ نہیں پڑھے گا تو بھی وہ ایک اچھا امام ہو سکتا ہے۔ اور اگر پڑھ لے گا تو اس کے اچھا امام بننے میں ان کتابوں سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اچھا امام بننے یا نہ بننے میں ان علوم وفنون کا سرے کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لیے یہ تحصیل حاصل ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہے اور وسائل کا بھی۔ آپ نے ہزاروں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا اور آگے چل کر کروڑوں ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جنھوں نے آٹھ دس سال لگا کر یہ ساری چیزیں یاد کیں، پھر پچاس سال امامت کی اور پچاس سالہ امامت میں کسی نے ان سے ’ہدایۃ الحکمۃ‘ کا کوئی سوال نہیں پوچھا۔ ان کو کبھی ’تحریر سنبٹ‘ کا کوئی مسئلہ وہاں بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ جو مسائل لوگ پوچھتے ہیں اور جوروزانہ دین کی راہنمائی میں درکار ہوتے ہیں، وہ تو ان کو پڑھائے نہیں جاتے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ شیئرز مارکیٹ میں پیسہ لگانا جائز ہے یا نہیں، اور ان میں سے اکثر کو یہی پتہ نہیں ہوتا کہ شیئر کہتے کس کو ہیں۔ ا س کے معنی یہ ہیں کہ یہ نظام اچھا امام تیار نہیں کر سکتا۔ اب ایک اچھے امام کی حقیقی ضروریات کیا ہیں، اس پر غور وفکر ہونا چاہیے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ایک کم از کم تعلیمی معیار کے بعد، جو میٹرک ہو سکتا ہے، آپ دینی مدارس میں طلبہ کو داخلہ دیں۔ میٹرک کے بعد حفظ قرآن لازمی ہونا چاہیے۔ میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ دینی مدارس میں حافظ کے علاوہ کسی کو داخلہ نہیں دینا چاہیے۔ اس وقت جامعہ ازہر کے تحت جو ادارے کام کر رہے ہیں، ان میں طلبہ کی تعداد کم وبیش پندرہ لاکھ ہے جو پاکستان کے دینی مدارس کے طلبہ کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان کی آبادی ہم سے آدھی بلکہ اس سے بھی کم ہے، لیکن وہاں حفظ قرآن لازمی ہے۔ گویا پندرہ لاکھ حافظ طلبہ اس وقت جامعہ ازہر کے زیر انتظام اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟
اس کے بعد تین سال کا ایک نظام اور نصاب ایسا ہو جس میں بقدر ضرورت عربی زبان پڑھائی جائے۔ اتنی کہ طالب علم تفسیر اور حدیث کی کتابیں اور فقہ کی عام کتابیں پڑھ سکے۔ عربی زبان کے علاوہ حدیث اور علوم حدیث پر کوئی ایک آدھ جامع کتاب مثلاً مشکوۃٰ کا انتخاب یا معارف الحدیث یا کوئی اور اچھی کتاب پڑھا دی جائے۔ اسی طرح اردو کی کوئی تفسیر، مثلاً تفسیر عثمانی اور کوئی ایک عربی کی مختصر تفسیر پڑھائی جائے۔ ایک دو فقہ کی کتابیں ہوں اور کوئی ایک آدھ کتاب جدید معاشیات پر۔ اس طرح کا ایک تین سالہ کا نصاب ہو جس میں تقریر کی مشق بھی ہو اور تجوید بھی اس میں شامل ہو۔ جو یہ نصاب مکمل کر لے، وہ امام بننے کا اہل ہو اور اس کو پھر امام بننے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وہ اپنا اور ادارے کا مزید وقت اور وسائل ضائع نہ کرے، اس لیے کہ اس کو اس سطح سے آگے کام نہیں کرنا۔
اب یہ ایک تقاضا ہے جس کے لیے آپ جب تک کوئی نظام نہیں بنائیں گے، وہی کچھ ہوتا رہے گا جو آج ہو رہا ہے۔ آپ ایک اور تلخی کی بات سنیے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے اور جب تک آپ حقائق کاسامنا نہیں کریں گے، مستقبل کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ آج ہمارا امام جب سوسائٹی میں جا کر یہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو کچھ پڑھا ہے، وہ تو irrelevant ہے اور یہاں لوگ جو سوال کر رہے ہیں، اس کا میرے پاس جواب نہیں ہے تو وہ اپنی پڑھی ہوئی چیزوں کو relevant بنانے کے لیے وہاں وہ مسائل پیدا کرتا ہے جو اس کے اپنے مسائل ہیں تاکہ وہ لوگوں کے بھی مسائل بن جائیں اور جب وہ ان کے مسائل بن جائیں گے اور وہ پوچھیں گے تو میں ان کا جواب دوں گا۔ وہ مسائل کیا ہوتے ہیں؟ وہ فرقہ وارانہ ہوتے ہیں۔ اب جن بیچاروں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا اور نہ کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہوتا ہے کہ حضور نور تھے یا بشر تھے، ان کے لیے امام یہ مسئلہ پیدا کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم واجب التعمیل ہے، یہ کوئی نہیں بتاتا، لیکن ایک اس پر زور دینا شروع کرتا ہے کہ آپ بشر تھے اور دوسرا اس پر کہ آپ نور تھے۔ وہ نور کا ایک محدود مفہوم بیان کرتا ہے، یہ بشر کا ایک محدود مفہوم بیان کرتا ہے۔ اور جب علم کی کمی کی وجہ سے لوگوں کا ایک گروہ اس کام کے لیے تیار ہو جائے گا تو اب امام صاحب کی نوکری پکی ہو جائے گی اور انھیں کوئی وہاں سے نہیں ہٹائے گا۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔ اس کو محض تنقید کے مفہوم میں نہ لیں۔ جب تک مرض کی آپ تشخیص نہیں کریں گے، اس وقت تک اس کا علاج نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے امام کو اس کام کے لیے تیار کریں جو سوسائٹی کے relevant مسائل ہیں۔ جب اسے یہ مسائل معلوم ہوں گے تو وہ غیر متعلق مسائل پیدا نہیں کرے گا۔
اس کے بعد تعلیم کا دوسرا درجہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دینی علوم کے مدرس یا معلم بننا چاہتے ہیں۔ آج پاکستان کے ہر اسکول اور کالج میں ایف اے تک اسلامیات لازمی ہے۔ بہت سے لوگ بی اے میں بھی پڑھتے ہیں۔ ہر کالج اور ہر اسکول میں اسلامیات کے ٹیچر ہوتے ہیں۔ یہ دو طرح کے لوگ ہیں۔ کچھ تو وہ ہیں جو سرکاری اداروں سے ایم اے کر کے آئے ہیں جن کا علم بڑا ناپختہ ہوتا ہے۔ وہ اردو میں پڑھ کر امتحان پاس کر لیتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ قرآن پاک بھی ناظرہ نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے اسلامیات کے ایسے اساتذہ دیکھے ہیں کہ جن سے نماز پڑھانے کے لیے کہا جائے تو نماز نہیں پڑھا سکتے۔ قرآن پاک کی شاید چار سورتیں بھی ان کوحفظ نہ ہوں، اس لیے کہ انھوں نے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ اردو میں پڑھ کر پاس کر لیتے ہیں اور اسلامیات کی ڈگری ان کو مل جاتی ہے اور وہ اسلام کے مجتہد اور مفتی بھی بن جاتے ہیں۔ یہ ایک دوسری خطرناک بات ہے جو ہو رہی ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو مدرسوں کی لائن سے آئے ہیں۔ مدرسوں میں میبذی، شرح عقائد اور خیالی قسم کی جو اسلامیات پڑھائی جاتی ہے، وہ یہاں کام نہیں کرتی۔ یہاں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے ہم نے ان لوگوں کو تیار نہیں کیا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ابتدائی تین چار سال کے بعد مزید تین سال کا ایک نصاب ہونا چاہیے جس کا مقصد یہی ہو کہ آپ کو اسکولوں اور کالجوں کے لیے اسلامیات کے معلم تیار کرنے ہیں۔
اس کے بعد تیسری ضرورت یہ ہے کہ ہمیں ایسے لوگ درکار ہیں جو خود ان دینی مدارس میں اعلیٰ درجے کے متخصص ہوں، جو کتابیں پڑھا سکیں اور اعلیٰ درجے کے علوم وفنون کی تدریس کر سکیں۔ ہمیں فقہا درکار ہیں، محدثین درکار ہیں، مفسرین درکار ہیں، مفتی درکار ہیں جو ان سب علوم کے متخصص ہوں۔ اس کے لیے الگ سے چار پانچ سال کی تیاری چاہیے۔ جب تک وہ تیاری نہیں ہوگی، مطلوبہ افراد تیار نہیں ہوں گے۔ اس وقت درس نظامی میں کیا ہوتا ہے؟ درس نظامی میں سب سےeglected n چیز قرآن پاک ہے، جس پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ اب بعض مدارس میں ترجمہ قرآن شروع ہوگیا ہے۔ اول سے آخر تک ترجمہ پڑھا دیتے ہیں جس کی نوعیت اس عام درس سے مختلف نہیں ہوتی جو عام مسجدوں میں ہوتا ہے جس میں بیٹھ کر لوگ سن لیتے ہیں۔ ایک عالم صاحب نے درس دے دیا، لوگوں نے عقیدت سے سن لیا۔ کچھ یا درہا، کچھ یاد نہیں رہا۔ اسی طرح سے مدرسوں میں جو درس ہوتا ہے، وہ اکثر لوگوں کو یاد نہیں رہتا۔ جو تفسیر پڑھاتے ہیں، وہ بیضاوی کی سورہ بقرہ ہے۔ میرے خیال میں بیضاوی کوئی اچھی تفسیر نہیں ہے۔ میں امام بیضاوی کے پورے احترام کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں۔ نہ وہ تفسیر کا اچھا نمونہ ہے، نہ کسی اور چیز کا۔ تفسیر بیضاوی انھوں نے کیوں لکھی؟ وہ اصل میں متکلم تھے اور اصول فقہ کے آدمی تھے۔ انھوں نے بطور متکلم یہ دیکھا کہ زمخشری کی تفسیر بڑی مقبول ہو رہی ہے اور اس کے ہاں معتزلی عقائد ہیں تو انھوں نے کہا کہ زمخشری کی تفسیر سے اس کے جو بلاغت کے نکتے ہیں، وہ لے لیے جائیں اور معتزلی عقائد کو نکال کر اشعری عقائد اس میں ڈال دیے جائیں اور اس طرح سے تفسیر بیان کر دی جائے۔ اب جن جن باتوں میں انھوں نے زمخشری کی تردید کی ضرورت سمجھی، وہ ساری سورہ بقرہ میں آ گئیں، اس لیے وہ تو بڑی لمبی ہو گئی اور باقی تفسیر میں بس مختصر حواشی ہیں جنھیں کوئی پڑھتا نہیں۔ چنانچہ عملاً تفسیر قرآن تو طلبہ کو پڑھائی نہیں جاتی۔ میں نے جید علما میں سے بھی بہت سوں کو دیکھا کہ علم تفسیر سے واقف ہیں، نہ علوم قرآن میں جو مسلمانوں کے کارنامے ہیں، ان سے آشنا ہیں۔ اکثر لوگوں کو بڑی تفسیروں کے نام بھی پتہ نہیں ہوتے۔ آپ چاہیں تو بیضاوی کے کسی استاد سے پوچھ لیں کہ دس بہترین تفسیروں کے نام بتا دیں تو شاید طبری اور ایک آدھ کے علاوہ وہ چھٹا ساتواں نام نہ بتا سکیں۔ یہ اکثر صورتوں میں واقفیت کا عالم ہوتا ہے۔ بعض صورتیں مستثنیٰ ہیں۔
اب اگر قرآن پاک ہمارے علوم وفنون کی اساس ہے تو پھر اس کو فی الواقع تعلیم کی بھی اساس ہونا چاہیے۔ یہ بات کہ آپ نے پہلے طالب علم کو ساری چیزیں پڑھا کر اس کے ذہن کا ایک سانچہ بنایا، اس کے بعد اس سانچے کے مطابق آپ اسے قرآن پڑھا رہے ہیں، یہ میرے خیال میں قرآن کی توہین ہے۔ قرآن اصل سانچہ ہے۔ قرآن کے سانچے سے باقی علوم کو جانچنا چاہیے ۔ باقی علوم کے سانچے سے قرآن کو نہیں جانچنا چاہیے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، میں اس کو غلط سمجھتا ہوں۔قرآن معیار ہے، قرآن اصل کسوٹی ہے، قرآن کے معیار اور کسوٹی پر فقہ اور اصول فقہ اور عقائد اور ہر چیز کو جانچنا چاہیے۔ ہم پہلے متاخرین کے عقائد اور فتاویٰ پڑھا کر طالب علم کا ایک ذہن بناتے ہیں، پھر اس ذہن سے کہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کو توڑو مروڑو اور توڑ مروڑ اس کے مطابق ایڈجسٹ کرو۔ یہ میرے خیال میں قرآن کا صحیح استعمال نہیں ہے۔ اس لیے میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ علوم قرآن کی تعلیم کا ایک نیا نظام ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ اس پر کبھی بات ہوگی تو اس پر میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ علوم قرآن میں تخصص موجودہ درس نظامی سے حاصل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی ذاتی دلچسپی یا ذوق سے پیدا کر لیں تو کر لیں، نظام میں اس کا بندوبست نہیں ہے۔ کوئی inherent mechanism نظام میں نہیں ہے کہ قرآن کے متخصصین پیدا ہوں۔
یہی حال علم حدیث کا ہے۔ علم حدیث کا متخصص ازخود کوئی پیدا ہو جائے، اللہ تعالیٰ انور شاہ کشمیری کی طرح کے کسی آدمی کو پیدا کر دے تو کر دے، لیکن اس نصاب کو پڑھ کر جو لوگ تیار ہوتے ہیں، ان میں کوئی علم حدیث کا متخصص نہیں ہوتا۔ ان کو محض چند فقہی موضوعات سے متعلق وہ حدیثیں یاد ہوتی ہیں جن میں فقہاے احناف کا کوئی کلام یا فقہاے شوافع کا کوئی مستدل ہے۔ مدارس میں تین تین ماہ تک اس پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ یہاں لوگوں کے ایمان ضائع ہو رہے ہیں۔ لوگ ایمان ہی کو نہیں مان رہے کہ ایمان بھی کوئی چیز ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر آپ تین مہینے اس پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے کسی کو بحث نہیں۔ آپ نے ایمان کے بارے میں کیا فرمایا، وہ کسی کا concern نہیں۔ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے کسی مقتدا یا پیشوا کے نقطہ نظر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت کر دیں۔ اس کے بعد اگلے چھ مہینے ان احادیث پر خرچ ہو جاتے ہیں جن میں فاتحہ خلف الامام اور رفع یدین کی طرح کے اختلافی موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد جو طالب علم سب سے تیز پڑھنے والا ہوتا ہے، اس کو کہتے ہیں کہ تم پڑھو اور روزانہ چالیس صفحے پڑھو۔ نہ استاد کو اس سے کوئی بحث ہوتی ہے اور نہ شاگردوں کو ہی کچھ پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی، جو ساری شریعتوں کاناسخ اور ہر چیز کا معیار ہے اور جس کے بعد ہر بات کالعدم ہے، اس میں کیا بات کہی گئی ہے۔ کتب حدیث کی شروح کو دیکھ لیجیے۔ جو شروع کی بحثیں ہیں، ان میں ایک باب تین جلدوں میں آیا ہے تو دوسرا باب چار جلدوں میں، جبکہ آخر میں تین تین چار چار سطروں کے حاشیے ہیں کہ کذا قال فلان یا انظر فلانا ۔ یہ شرحوں کی کیفیت ہے۔ تو حدیث میں بھی کوئی تخصص مدارس میں پیدا نہیں ہوتا۔ فقہ میں تخصص کی صورت حال بھی یہی ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان دو مرحلوں کے لیے متخصصین کے لیے ایک نیا نصاب ہو جس میں درس نظامی کی ساری کتابیں شامل ہوں۔ درس نظامی کی کسی کتاب کو میں متخصصین کے لیے غیر ضروری نہیں سمجھتا، لیکن اس کے ساتھ مزید بہت کچھ شامل کرنا ضروری ہے تاکہ واقعی ایسے متخصص پیدا ہوں جو اس فن یا علم کو آگے چل کر پڑھا سکیں۔
یہ تین درجے تو عام ہیں جن کی ہر وقت ضرورت ہے۔ ان کے بعد ایک درجہ اور ہے جس کے لیے مزید محنت درکار ہے۔ یہ درجہ وہ ہے کہ جو مغربی علوم وفنون کی تنقیح کا فریضہ انجام دے اور ناقدانہ جائزہ لے کر یہ بتائے کہ ان میں کیا چیز کمزور ہے اور کیا چیز مضبوط ہے، کون سی بات اسلام کے مطابق ہے اور کون سی اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ ان میں جو فقہ کا متخصص ہو، وہ مغربی قانون کا تنقیدی جائزہ لے۔ جو فقہ المعاملات کا متخصص ہو، وہ ان کی معاشیات کا جائزہ لے۔ جو اصول فقہ کا متخصص ہو، وہ ان کے اصول قانون کاجائزہ لے۔ اس میں کتنا وقت لگے گا، کتنے لوگ تیار ہوں گے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن جب تک یہ سارے کام نہیں ہوں گے، اس وقت تک امت مسلمہ کا مستقبل اس طرح بن نہیں سکتا جس طرح ہم بنانا چاہتے ہیں۔ آج صورت یہ ہے کہ نظام ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اسلام سے واقف نہیں ہیں۔ اسلام کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی تو ہے اور ان میں بہت سے اچھے مسلمان بھی ہیں، لیکن جذباتی وابستگی کی بنیاد پر عمارت بنانے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ ریت پر بیس منزلہ عمارت بنانا چاہیں۔ جیسے وہ قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح یہ عمارت بھی لازماً گر جائے گی۔ چنانچہ جب تھوڑی سی ایسی بات آتی ہے جو اس طبقے کے خیالات سے مختلف ہو تو وہ فوراً اس پر تاویلیں کرتے ہیں، کیونکہ intellectual framework نہیں ہے، اس کا انفرا سٹرکچر نہیں ہے۔ اس کے لیے وقت درکار ہے۔ وہ ایک دو دن میں نہیں ہوگا۔ کسی وعظ یا مطالبے یا بینر یا دھرنے سے نہیں بنے گا۔ اس کے لیے لگ کر کام کرنا پڑے گا۔
حاضرین محترم! یہ وہ چند باتیں تھیں جو میں اسلامی علوم وفنون کے طلبہ سے کرنا چاہتا تھا۔ چونکہ آپ اس میدان کے شہسوار ہیں اور اس ضرورت کی تکمیل کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے، اس لیے میری گفتگو میں تھوڑی سی تلخی آگئی جومیں نے جان بوجھ کر شامل کی تاکہ اس تلخی کا احساس آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ہم جو بات کر رہے ہیں، اس کا تعلق کسی ذہنی عیاشی یا محض فکری سرگرمی سے نہیں ہے، بلکہ وہ واقعی بڑی اہم بات اور مسلمانوں کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ میں ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں۔ فارسی کا شعر ہے:
نواے من ازاں پرسوز وبے باک وغم انگیز است
کہ خاشاکم در شعلہ افتاد وباد صبح دم تیز است
یعنی میں اس لیے تلخ باتیں کر رہا ہوں کہ میرے آشیانے کو آگ لگ گئی ہے، اور ہوا تیز ہے اور مجھے جلدی بچانے کی ضرورت ہے۔ امر واقعہ یہی ہے کہ آشیانے کو آگ لگ چکی ہے اور باد صبح دم تیز ہے۔ آشیانہ جل جانے کا خطرہ ہے اور بہت جلد اس کو بچانے کی ضرورت ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ندوۃ العلماء کا مسلک اعتدال
ڈاکٹر ہارون رشید صدیقی
شعور کی آنکھیں کھلیں تو دیکھا کہ والد صاحب میلاد خواں اور فاتحہ خواں ہیں، تعزیہ دار ہیں، شب براء ت، محرم، گیارہویں، بارہویں کا اہتمام کرنے والے ہیں۔ کسی کی موت پر تیجا یا چہارم، چالیسواں اور برسی کرتے ہیں۔ بس یہی دین ہے۔ دہریت تو خواب میں نہ تھی، مگر مذہبیت یہی تھی۔ برٹش دور تھا، سرکاری اسکول کی تعلیم ہوئی جہاں اردو ثقافت کا غلبہ تھا۔ جب میلاد کی کتابیں پڑھ لینے لگا اور والد صاحب کو محسوس ہوا کہ میں ان سے زیادہ علم رکھتا ہوں تو مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ ابھی تک میری ملاقات کسی عالم دین سے نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ مذہب کا کام عقلی طور پر جو باتیں بری ہیں، ان سے دور رکھنا اور جو اچھی ہیں، ان پر عمل کرانا ہے۔ ابھی تک شرک وتوحید کی بات میرے ذہن میں نہ آئی تھی۔ میں ہندوؤں کے بھجن میں لطف لیتا، قوالی بالمزامیر میں لذت پاتا، جمعہ جمعہ نماز پڑھ لیتا، نفل روزوں کا اہتمام کرتا اور بڑا دیندار سمجھا جاتا، اپنے رشتہ داروں میں بڑی عزت پاتا۔
میری اردو بہت اچھی ہو گئی، کچھ فارسی بھی آ گئی۔ بعض عزیزوں نے مجھے جناب مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیف ’’رسالہ دینیات‘‘ اور ’’خطبات‘‘ پڑھنے کا مشورہ دیا۔ سچ یہ ہے کہ یہیں سے میری زندگی میں انقلاب شروع ہوا۔ اب میں نے دین کو سمجھنے کی کوشش شروع کی تو اختلافات کی دنیا میں الجھ کر رہ گیا۔ اب جی چاہا کہ کسی عالم سے ملوں، لیکن طے کیا کہ ملنے کے بجائے پہلے اس کی تقریر سنوں، اس لیے کہ ملنے پر وہ اپنے علم سے مجھے دبا لے گا اور تقریر سن کر میں کوئی رائے قائم کرنے میں آزاد رہوں گا۔ میرے آباو اجداد کے گاؤں گرونڈہ ضلع بارہ بنکی میں مولانا حشمت علی صاحب کی تقریر ہوا کرتی تھی۔ میں نے پہلی بار جو کسی عالم کی تقریر سنی تو وہ مولانا حشمت علی صاحب کی تقریر تھی۔ میں نے ان کی تین تقریریں سنیں تو مجھے جیسے کسی عالم کی تقریر سننے سے تنفر پیدا ہو گیا اور دل میں شک وشبہات آنے لگے۔ خیال ہوا جو سمجھ میں آئے، اس پر عمل کرو اور مولویوں کے چکر میں مت پڑو کہ فلاں کو کافر کہو، فلاں کو کافر کہو۔ سوچا کہ جن کے نام میں نے مولانا حشمت علی صاحب کی زبان سے پہلی بار سنے، ان سے بالکل ناواقف ہوں تو ان کو ان کے کہنے سے کافر کیوں کہوں؟
کافی دنوں تک اسی کشمکش میں رہا کہ اب ایک اور عالم کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ تھے حضرت مولانا محمد عبد الشکور فاروقی۔ یہ واقعہ ۱۹۵۳ء کا ہے۔ اب تو میری دنیا یکسر بدل گئی۔ ساری بدعتیں ترک ہوئیں، پنج وقتہ نماز کا اہتمام ہوا، حتی الامکان سنتوں پر عمل ہوا۔ مدرسہ ابو حمدیہ علی آباد میں مدرسی اختیار کر لی۔ وہیں کے ایک جلسہ میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی تقریریں سنیں اور ان سے تعلقات ہو گئے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق ہوا، تب تبلیغ میں نکلنا ہونے لگا۔ پھر ان دونوں مذکورہ بزرگوں سے تعلق کے سبب ندوہ آ گیا۔ مکتب میں تدریس کی خدمت سپرد ہوئی۔ یہاں یونیورسٹی کی لائن میں علمی ترقی بھی کرتا رہا اور منصبی بھی۔ میں نے یہاں دیکھا کہ حنفی بھی پڑھتے ہیں اور شافعی بھی۔ خانقاہی بھی پڑھتے ہیں اور اہل حدیث بھی۔ اساتذہ میں بھی ان چاروں مسلک کے لوگ ہیں اور شوریٰ میں بھی۔ کسی کی تقریر میں، کسی کی تحریر میں یہاں اختلافات کا ذکر آتا ہی نہیں ہے۔ یہاں رفع یدین بھی ہوتا ہے اور اس کا ترک بھی، آمین بالجہر بھی ہے اور بالسر بھی، امام کے پیچھے الفاتحہ کی قراء ت بھی ہے اور امام کی قراء ت پر اکتفا بھی، بیس رکعات تراویح پڑھنے والے بھی ہیں اور آٹھ رکعت پڑھ کر چلے جانے والے بھی۔ نہ کوئی کسی پر نکیر کرتا ہے نہ تنقیص، بلکہ باہم ایک دوسرے کا احترام ہے۔ مجھے یہ فضا بہت ہی اچھی لگی۔ یہاں کا اعتدال مجھے بھا گیا۔
اب تک میرا علم دین ترجموں سے تھا۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں عربی سیکھوں اور دین کو براہ راست پڑھوں۔ اپنے طور پر حفظ تو کر لیا تھا۔ عربی بھی شروع کی مگر گاڑی چل نہ سکی۔ دعاؤں کا اہتمام کیا، سمع اللہ لمن حمدہ، میرے رب نے کس طرح سنی اور کس طرح اس کی شکلیں پید اہوئیں، یہ میرے اور میرے رب کے بیچ ایک راز ہے۔ اللہ کا شکر واحسان ہے کہ ریاض یونیورسٹی سے وظیفہ ملا، وہیں عربی سیکھی، وہیں کنڈس کورس کر کے تفسیر وحدیث میں تخصص کے ساتھ کلیۃ التربیۃ سے ماجستیر کیا۔ سات سال ریاض میں رہا، دوران تعلیم امامت بھی کی اور قرآن مجید کی تدریس کا کام بھی۔ اب میرے دماغ پر حضرت مولانا علی میاں صاحب، حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب، حضرت مولانا عبد الشکور صاحب کے ساتھ علامہ ابن تیمیہ کا بھی تسلط ہوا۔ قیام ریاض کے دوران چوٹی کے وہابیوں کی جماعت میں اس حیثیت سے شامل رہا کہ میں عامل بالقرآن والحدیث ہوں۔ بہت سے مسائل میں امام ابو حنیفہ کا مقلد ہوں اور تقلید کو صحیح سمجھتا ہوں۔ میں اس جماعت میں رہا جس کی رپورٹ پر اچھے اچھے منصب والوں کے پاسپورٹ پر خروج لگ جایا کرتا تھا۔
۱۹۸۵ میں، میں ایم اے کر کے واپس آیا اور پھر ندوۃ العلماء سے منسلک ہو گیا۔ اب مجھے یہاں بڑا سکون ملا۔ ذاتی طور پر اتحاد بین المسلمین کو مشن بنایا۔ تحریر وتقریر سے میدان عمل میں آیا، کسی حد تک کامیاب ہوا۔ محنت جاری ہے۔ رد قادیانیت میں عملی میدان میں ہوں اور اہل بدعت کو حکمت سے سنت پر لانے میں بھی کوشاں ہوں۔ یہ سارے کام اپنے فاضل اوقات میں کچھ معاونین کے ساتھ کرتا ہوں۔ یہاں کی انتظامیہ کا تعاون بھی حاصل ہے یعنی اجازت وترغیب۔ ساتھ ہی ندوۃ العلماء کے عطا کردہ فرائض منصبی کی ادائیگی کی بھی بھرپور توفیق ملتی ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذلک۔
ادھر کئی سالوں سے عازمین حج کی روانگی دار العلوم ندوۃ العلماء سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں حج میلہ لگ جاتا ہے۔ اس سال اس حج میلہ میں ایک مکتبہ پر ایک کتاب نظر آئی جس میں لکھا ہوا تھا کہ تقلید شرک ہے اور مقلد مشرک ہے۔ یہ پڑھ کر سخت دھچکا لگا۔ ظاہر ہے لکھنے والے صاحب سلفی العقیدہ ہیں، لیکن ہمارے دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم اور اساتذہ، ندوۃ العلماء کے ناظم اور یہاں کے ۹۸ فیصد طلبہ سب مقلد ہیں۔ یہ بات ہم لوگوں کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔
الحمد للہ یہاں تقلید کے یہ معنی نہیں لیے جاتے کہ مقلِّد، مقلَّد کے ایجاد کردہ مذہب کا مقلد ہے بلکہ وہ کتاب وسنت کی تفہیم میں اس کا مقلد ہے یعنی اسے استاد سمجھتا ہے۔ آج سلفیوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اہل حدیث حضرات ان میں سے جسے ترجیح دیتے ہیں، اس کی رائے پر یعنی اس کی تفہیم پر عمل کرتے ہیں۔ شیخ ناصر الدین البانی سلفی حضرات کے چوٹی کے عالم ہیں۔ انھوں نے عورت کے لیے انگوٹھی کے علاوہ سونے کے زیور کے استعمال پر نکیر کی ہے، چہرہ کے پردہ کی مخالفت کی ہے اور جہری نماز میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔ کوئی سلفی ان کی رائے سے اتفاق کر کے اس پر عمل کرتا ہے تو کوئی دوسرے سلفی عالم کے مسلک کو اپناتا ہے۔ اسی طرح یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ کتاب وسنت کی تفہیم میں کوئی احناف کے مسلک پر ہے تو کوئی مالکیہ کے مسلک پر، کوئی شافعی ہے تو کوئی حنبلی اور کوئی اہل حدیث کے مسلک پر ہے۔ الحمد للہ ہم سب منشرح ہیں کہ ہم سب حق پر ہیں، ناحق افتراق واختلاف کی بات ہم سب کو ناپسند ہے۔
تو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
(بشکریہ پندرہ روزہ ’تعمیر حیات‘، لکھنو)
اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت
مولانا سید سلمان الحسینی الندوی
شادی خانہ آبادی کے لیے کی جاتی ہے، خانہ خرابی یا محض عیاشی اور لذت کوشی کے لیے نہیں، اس لیے بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا فعل حرام ہے۔ طلاق صرف اس وقت دینا چاہیے جب ساتھ رہنا دوبھر ہو جائے اور طلاق نہ دینے میں خطرات اور فتنہ کا اندیشہ ہو۔ اس صورت حال کے لیے طلاق جیسی ناپسندیدہ چیز کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پاکی کی حالت میں صرف ایک طلاق دے دینا چاہیے اور پھر عدت گزر جانے دینا چاہیے۔ طلاق غصہ میں، اشتعال میں اور جذبات میں نہیں دینا چاہیے، غصہ پر قابو پانا چاہیے اور ہر حال میں تعلقات کو خوش گوار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
تین طلاقیں ایک وقت میں ہرگز نہ دینا چاہیے۔ تین طلاقیں اگر ایک مجلس میں دے دی گئیں تو وہ ایک شمار ہوتی ہے یا تین ہی، ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض احادیث اور حضرت عمرؓ کے فیصلہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو چاروں ائمہ نے تین طلاق ہی قرار دیا ہے، جن کے بعد حق رجوع نہیں رہتا۔ لیکن اصلاً بہت سے مردوں کی طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں غیر محتاط روش کی بنیاد پر تین طلاقوں کو نافذ کر کے ان کو سزا دینا مقصود تھا۔ اس معاشرہ میں بیوہ کی شادی کوئی دشوار مسئلہ نہ تھی، نہ لڑکی والوں کو کچھ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے اس فیصلہ کے نفاذ میں جو حضور ﷺ نے بھی بحیثیت امیر اور حضرت عمرؓ نے بھی بحیثیت خلیفۃ المسلمین فرمایا تھا، مرد کے لیے ایک طرح کی تعزیر (قانونی سزا) تھی۔ دوسری طرف آج مرد کے طلاق ثلاثہ کے گناہ کا زیادہ تر بھگتان عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عورت جہیز لاتی ہے، گھر بسانے کا ذریعہ بنتی ہے، تقریب نکاح کے موقع پر اس کے یہاں ولیمہ کی طرح دعوت ہوتی ہے، مرد سب کچھ حاصل کرتا ہے، مہر بھی معاف کرا لیتا ہے، ایک ولیمہ پر لذت کوشی کرتا ہے، پھر غصہ اور اشتعال میں تین طلاق دے کر الگ ہو جاتا ہے، دوسری شادی رچا لیتا ہے۔ عورت بیوہ ہو جاتی ہے۔ شادی کی نہ خود ہمت کرتی ہے نہ معاشرہ اس کی شادی کا فوری انتظام کرتا ہے اور اگر اس کے بچے ہیں تو شادی کا مسئلہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دین کے بارے میں جزئی حل پیش کرنے والے مفتی فتویٰ دے کر الگ ہو جاتے ہیں۔ مطلقہ عورت عمر بھر کڑھتی اور اپنے جائز تقاضوں کو دبا کر زندگی گزارتی ہے۔ دین وعفت کی مضبوط حصار ہے تو سینہ میں غم اور کسک لے کر جیتی ہے، ورنہ دین وعفت سے معافی مانگ لیتی ہے۔
ایسی شکل میں علما اور اہل افتا وقضا کو سوچنا چاہیے کہ عرف، عموم بلویٰ، ضرورت، اضطرار، حاجت، رفع حرج، تیسیر، رخصت کی ترازو میں تول کر اس کا مسئلہ حل کریں اور ایک نزاعی مسئلہ جس میں صحابہ کرام اور تابعین عظام کے درمیان اور بعد کے علماے امت کے درمیان اختلاف رہا ہے اور جو کفر وایمان کا مسئلہ نہیں ہے، ایک پہلو ہی پر شدت کامظاہرہ نہ کریں۔
دوسری طرف بعض احادیث اور صحابہ کرام، تابعین عظام اور علماے امت کے اقوال ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق مانتے ہیں۔ یہ بھی ایک رائے ہے۔ اہل حدیث حضرات آج اس کے پرزور نمائندہ بنے ہوئے ہیں۔ اس میں حرج نہیں کہ علمی اختلاف رکھنے والے اپنے اختلاف کو علمی حدود میں علم کی میز پر بیان کریں، لیکن کسی اختلافی مسئلہ کو امت میں تفریق اور گروہ بندی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
حضرت عمرؓ نے بحیثیت خلیفۃ المسلمین ایک فیصلہ فرمایا تو مسلمانوں نے ان سے اتفاق کیا۔ جس کو اختلاف بھی ہوا، اس نے اپنے اختلاف کو اپنے تک محدود رکھا۔ آج ہندوستان میں مسلم پرسنل لا بورڈ کو ایک وقعت، وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا ایک مظہر اور ان کی اعتباری قوت حاکمہ کا نمائندہ ہے۔ اگر ایک اختلافی مسئلہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر، ارکان، علما کی اکثریت کی آرا کی بنیاد پر ایک فیصلہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی بقا اور ان کی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اس رائے کا ساتھ دینا ہے۔ ہاں انفرادی طور پر اور خاص واقعات میں ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عوام کے لیے اور خاص طور پر عورتوں کے طبقہ کے لیے شریعت کی دی ہوئی رخصتوں کو ملحوظ رکھا جائے اور ایسے معاملات میں اگر کوئی مفتی خود فیصلہ نہیں کر پاتا تو اہل حدیث علما سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی جائے۔
کیا شیعہ سنی اتحاد ممکن ہے؟
سید منظر تمنائی
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع حضرات کا تنازع ازل سے ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔ چونکہ یہ فرقے بنیادی طور پر اختلاف رکھتے ہیں، اس لیے ان کا مذہبی اعتبار سے یکجا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ ملکی اور ملی اعتبار سے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ایک مرکز پر آجائیں اور مطلب برآری کے لیے یکجا ہو کر حصول مقصد کو اولین حیثیت دیں اور شیر وشکر ہو کر اپنے اپنے مقاصد پورے کرتے رہیں، لیکن مذہبی اعتبار سے ان کا ایک ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ اگر دونوں فریق باہم یہ طے کر لیں کہ ہمیں بہرصورت اتفاق رائے سے ایک ہو جانا ہے تو کوئی نظریہ، کوئی خیال اور کوئی عقیدہ مانع نہیں رہتا کہ درمیان میں کسی قسم کی رسہ کشی کی گنجایش باقی رہے، مگر بنیاد سے ہٹ کر ایک مرکز پر آنا نہ صرف دشوار ترین مرحلہ ہے بلکہ بادی النظر میں ناممکن نظر آتا ہے۔ بنظر غائر مطالعہ کے بعد یہ بات انتہائی واضح نظر آتی ہے کہ بنیاد سے ہٹ کر معاملہ فہمی ممکن نہیں ہے، کیونکہ بنیاد ہی میں جب فرق ہوگا تو دونوں فریق اپنی بنیادی حیثیت کو کبھی ختم کرنے پر تیار نہ ہوں گے۔ بنیادی طور پر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سی شے ہے جو ہمیں اسلام میں داخل کر کے مسلمان بناتی ہے۔ یہ چیز ’’کلمہ طیبہ‘‘ ہے۔ اس پہلے کلمہ میں ہی فرق ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
سنی کلمہ یہ ہے : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء ورسل کا کلمہ دو باتوں یعنی توحید ورسالت پر مشتمل تھا۔ صحابہ کرام واہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پوری امت مسلمہ کا بھی یہی کلمہ ہے۔ الحمد للہ آج بھی مسلمانوں کی مساجد، کتابوں اور زبانوں پر اسی مبارک کلمہ کی گونج ہے اور پاکستان بھی اسی کلمے کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا۔ شیعہ حضرات نے کلمہ طیبہ میں توحید ورسالت کے ساتھ تیسرا جزو، ولایت شامل کر کے اپنے لیے الگ کلمہ بنا لیا ہے۔ اس طرح انھوں نے خود کو امت مسلمہ سے جدا بھی کر لیا ہے، کیونکہ وحدت ملت کا سب سے بڑا ذریعہ یہی مبارک کلمہ ہے۔ شیعہ حضرات نے بھٹو دور میں لڑ جھگڑ کر اپنے لیے علیحدہ نصاب دینیات منظور کرایا تھا جس کے لیے مستقل کتاب طبع کروائی گئی۔ اس میں جو کلمہ درج ہے، وہ مندرجہ ذیل ہے:
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلا فصل (رہنمائے اساتذہ، اسلامیات برائے نہم ودہم، اسلام آباد، ۱۹۷۵ء)
ایرانی انقلاب نے شہنشاہ ایران سے عنان حکومت لے کر حضرت خمینی کے دست مبارک میں دی تو کلمہ اس طرح بنایا گیا:
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ خمینی حجۃ اللہ
بات صرف یہاں تک نہیں رہی ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر کلمہ شہادت میں بھی اضافہ کر لیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیے:
اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ وعلی ولی اللہ واشہد ان خمینی روح اللہ حجۃ اللہ علی خلقہ (ماہنامہ وحدت اسلامی، جون ۱۹۸۴ء)
ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہ اہل سنت اور اہل تشیع حضرات ایک ہو جائیں گے، بظاہر ناممکن نظر آتی ہے۔ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں گروہ با اختیار ہو کر ایک جگہ بیٹھیں اور خلوص دل اور خلوص نیت کے ساتھ کھلے دل سے طے کر لیں کہ کیا غلط ہے اور کیا درست۔ پھر دونوں حضرات غلط بات کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ بیک وقت ترک کر دیں اور باہم ایک ہو جائیں۔ پھر یہ ممکن ہے، کہ کسی کو کسی پر اعتراض کرنے کا موقع میسر آئے گا اور نہ کوئی اعتراض کی جرات کرے گا۔
ڈاکٹر سید منظر تمنائی
15-A/I، بفر زون، نارتھ کراچی
’’شیعو اور سنیو!‘‘ کے بارے میں گزارشات
حافظ محمد قاسم
’الشریعہ‘ کے جنوری ۲۰۰۵ کے شمارے میں علامہ سید فخر الحسن کراروی کے مضمون بعنوان ’’شیعو اور سنیو! تاریخ سے سبق سیکھو!‘‘ کے حوالے سے ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:
کراروی صاحب! آپ نے مضمون کے آغاز میں شیعوں اور سنیوں کو ایک اللہ کو ماننے والے اور مومن ومسلم کہا ہے۔ جہاں تک اہل سنت کا تعلق ہے تو وہ ہمیشہ سے نہ صرف عقیدۂ توحید پر قائم ہیں بلکہ ختم نبوت بھی ان کے ایمان کا لازمی جزو ہے، لیکن آپ حضرات نے کلمہ توحید میں تبرا اور جھوٹ کو شامل کر لیا ہے اور اس کے ساتھ نظریہ امامت کو بھی اپنا رکھا ہے جو ختم نبوت کے منافی ہے۔ آپ تو اپنی عبادت گاہ کو بھی مسجد کہہ کر پکارنا نہیں چاہتے، بلکہ اسے ’امام بارگاہ‘ کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ’اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘ کہہ کر صحابہ کرام کی مدح وتوصیف کی گئی ہے، لیکن آپ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور ساتھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، بلکہ ان اصحاب قدسی پر تبرا کرتے ہیں۔
آپ حضرات نے ہمیشہ اہل سنت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور خلافت راشدہ کے زمانے سے طالبان کی امارت اسلامیہ تک ہمیشہ ان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے چلے آئے ہیں۔ خلفاے راشدینؓ کے زمانے میں مشہور یہودی عبد اللہ بن سبا نے شیعیت کو پروان چڑھایا اور حضرت علیؓ کے زمانے میں مسلمانوں میں بغض وعناد پیدا کر کے انھیں آپس میں لڑایا۔ سانحہ کربلا میں کوفہ کے شیعوں نے حضرت حسین کو بلا کر شہید کروا دیا جس پر آپ آج تک ماتم کرتے ہیں۔ مصر میں جب فاطمیوں کی حکومت قائم ہوئی تو صحابہ کرامؓ پر سرعام تبرا کیا گیا۔ عراق میں بنو عباس کی خلافت اسلامیہ کو ختم کرنے میں اہل تشیع کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ بنو عباس کے آخری خلیفہ کے وزیر ابن علقمی شیعہ نے جس طرح ہلاکو خان کے ہاتھوں خلافت کا خاتمہ اور خلیفۃ المسلمین کو شہید کروایا، تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے۔ سلطان ٹیپوؒ کے دور میں سلطنت خداداد کے شیعہ وزیروں میر جعفر اور میر غلام علی نے انگریز کے ساتھ ساز باز کر کے سلطان کو شہیدا کروا دیا اور خود بڑی بڑی جاگیریں حاصل کر لیں۔
حالیہ تاریخ میں افغانستان میں ایران نے امارت اسلامیہ کے خلاف جنگ کی ابتدا کرنا چاہی، لیکن منہ کی کھانی پڑی۔ بامیان کے پہاڑ ایرانی اسلحہ کے گواہ ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہاں ایران کی طرف سے اسلام مخالف تدریسی نصاب تقسیم کیا گیا۔ اب عراق میں مقتدیٰ الصدر کہاں غائب ہو گیا ہے؟ لوگوں کو مروا کر اس نے خود ہتھیار کیوں ڈال دیے ہیں؟ اب بھی عراق کے سنی علاقوں میں مزاحمت جاری ہے، جبکہ آیت اللہ سیستانی امریکی فوجوں اور امریکی بندوقوں کے سائے تلے انتخابات کے حق میں دھڑا دھڑ شرعی فتوے جاری کرتے رہے۔
آپ نے کشمیر کے معاملے میں ایران کی حمایت کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ بھول گئے کہ شام، عراق اور اردن پر بھی شیعہ ہی حکمران ہیں اور لیبیا کا کرنل قذافی بھی نصیری شیعہ ہے۔ ان سب ملکوں نے کبھی پاکستان کی کشمیر پالیسی کی حمایت نہیں کی۔ ایران کی حمایت بھی جھوٹی اور منہ دکھاوے کی ہے، ورنہ ساتھ ہی ساتھ بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں کیوں بڑھائی جاتی رہیں؟
اگر لاشوں کے تحفے ایران پہنچے ہیں تو آپ کو کیوں دکھ ہے؟ کیا آپ ایرانی ہیں یا ایران کی مدد سے پھل پھول رہے ہیں؟ یہ لاشیں ان کی اپنی کرتوتوں اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے ایران گئی ہیں۔ پاکستان میں جہاں بھی خانہ فرہنگ ایران ہے، وہ دہشت گردی کی پناہ گاہ ہے اور وہاں سے تبرا پر مبنی کتب چھاپی جاتی ہیں۔ شیعوں اور خصوصاً ایرانی حکومت کے مسلح غنڈوں نے ۸۴ء اور ۸۶ء میں کوئٹہ میں مسلمانوں کا جو قتل عام کیا اور پاک باز خواتین کی آبرو ریزی کی، اسی طرح کراچی میں جو ظلم ہوئے، وہ آپ کو نظر نہیں آئے؟
شیعوں خصوصاً ایرانی حکومت کی ذہنیت کا اندازہ پاکستان کے سابق کمانڈر انچیف مرزا اسلم بیگ کے ایک بیان سے کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ہفت روزہ ’زندگی‘ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
’’اپنا انقلاب (یعنی تشیعی حکومت) دوسرے ممالک میں برآمد کرنے کے ایرانی جذبے نے متعدد مسلم ممالک میں ایران کے متعلق ایک طرح کے مزاحمتی رویے کو جنم دیا ہے۔ میرے خیال میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کے ایرانیوں میں بھی قبل از مسیح کی ایرانی سلطنت (پرشین ایمپائر) کا تصور موجود ہے۔ میرے دور میں ایران کے کمانڈر انچیف محسن رجائی پاکستان آئے تو ان کے پاس اس پرشین ایمپائر کے نقشے موجود تھے۔ وہ مجھے بتاتے رہے کہ ماضی میں پاکستان، کشمیر، افغانستان اور وسط ایشیا کے کون کون سے علاقے ایرانی سلطنت کا حصہ رہے ہیں۔ ایرانیوں کی یہ سوچ علاقائی تعاون کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ ایرانی دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن عمل کا وقت آتا ہے تو وہ آگے نہیں بڑھتے۔ ہم نے دفاعی میدان میں پیش قدمی کی کوشش کی، لیکن خاص حد پر جا کر وہ رک گئے۔‘‘ (ہفت روزہ زندگی، ۲۳ تا ۲۹ مئی ۱۹۹۲)
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران کے شیعہ حکمرانوں نے ابھی تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور ان کی طرف سے اس کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مرزا اسلم بیگ صاحب کی یہ بات ۱۰ سال کے بعد بالکل سچ ثابت ہو گئی جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کے دباؤ پر پاکستان سے لی گئی ایٹمی امداد کے بارے میں تمام راز اگل دیے او ر محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبد القدیر زیر عتاب آ گئے۔
حافظ محمد قاسم
دار العلوم ختم نبوت۔ بلاک ۱۲۔ چیچہ وطنی
مکاتیب
ادارہ
(۱)
(فروری ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں ’’پیر محمد کرم شاہ الازہری اور فتنہ انکار سنت‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر محمد اکرم ورک کے مضمون میں علامہ تمنا عمادی مرحوم کا شمار منکرین حدیث کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ اس پر کراچی سے جناب سید عماد الدین قادری نے بھارت سے شائع ہونے والے جریدہ ’’اردو بک ریویو‘‘ کے نومبر ؍دسمبر ۲۰۰۴ کے شمارے میں مطبوعہ ایک خط کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں تمنا مرحوم کے ایک قریبی رفیق یوسف ریاض صاحب نے اس امر کی تردید کی ہے۔ یہ خط قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
برادرم محمود عالم کی بدولت اردو بک ریویو دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ کساد بازاری کے اس دور میں جس لگن اور محنت سے آپ اردو کی خدمت کر رہے ہیں، کسی داد سے مستغنی ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
ستمبر ؍اکتوبر ۲۰۰۴ء کے شمارے میں یوں تومضامین رنگا رنگ ہیں اور سب ہی دعوت غور وفکر دے رہے ہیں، مگر یہاں ہماری نظر ’ادراک زوال امت‘ پر ہے۔ تبصرہ بڑا بھرپور لگتا ہے، شاید مصنف ادھر توجہ مبذول کر سکیں۔ فی الوقت ہم صرف ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے۔ فاضل تبصرہ نگار نے حسان الہند علامہ تمنا عمادیؒ کو منکرین حدیث میں شمار کیا ہے اور عام تاثر بھی یہی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کے مضامین اتفاق سے منکرین حدیث ہی کے رسالوں میں چھپتے رہے ہیں۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ وہ ایک دن کے لیے بھی اس گروہ میں شامل نہ تھے۔ یہ صحیح ہے کہ حدیث کے باب میں ان کا مسلک بہت، بلکہ کہنا چاہیے کہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی محتاط بلکہ سخت تھا۔ فن اسماء الرجال پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ ہر روایت کو خوب اچھی طرح کھنگالنے کے قائل وعادی تھے۔ ان کا بڑا واضح بیان تھا اور بھری محفلوں (محفل نہیں، ان گنت محفلوں) میں خود ہماری موجودگی میں انھوں نے بیان کیا کہ حدیث کا منکر کافر ہے۔ حدیث رسول کا انکار اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ہاں حدیث کی چھان پھٹک بہت ضروری ہے، کیونکہ ان کے نزدیک خاص طور سے روافض کا ایک بہت متحرک طبقہ حدیثیں گھڑنے، اس میں سابقہ اور لاحقہ ملانے میں ید طولیٰ رکھتا تھا اور ایک سوچی سمجھی اسکیم کے ساتھ یہ کام کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے خیال کے مطابق بخاری تک میں تلبیس کی ہر ممکن کوشش کی۔ اپنے مسلک سے متعلق انھوں نے ایک مضمون ’تجلی‘ کو بھی بھیجا تھا۔ ایک انٹرویو خود ہم نے بھی تجلی کو بھیجا تھا مگر عامر عثمانیؒ نے اسے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ علامہ نے خود ہم سے بیان کیا کہ ’طلوع اسلام‘ اور اس طرح کے رسالے ہی ہمارا مضمون اور وہ بھی جسے وہ مفید مطلب سمجھتے ہیں، چھاپ دیتے ہیں اور اس کی کم سے کم کاپیاں ہمیں بھیجتے ہیں۔ بات آہی گئی ہے تو یہ بات بھی ریکارڈ میں لانا چاہیں گے کہ وہ جناب غلام احمد پرویز کو ایک جاہل مصنف سمجھتے تھے۔ ہم ’طلوع اسلام‘ کے مطبوعات انھی سے حاصل کیا کرتے تھے۔ ہماری تنقیدوں سے بہت خوش ہوتے تھے۔ ’مفہوم القرآن‘ کے چند ابتدائی حصے پر ہم نے بڑی سخت گرفت کی تھی۔ ہم سے پوری طرح متفق تھے۔ ایک مرتبہ تو شاباشی کے روایتی انداز میں ہماری پیٹھ ٹھونکی اور کہا، ایک جاہل سے تم اور کیا توقع کرتے ہو۔ انھوں نے ہماری ہر تنقید کا ساتھ دیا۔
ایک بات اور۔ قادیانی عالموں کا ایک ٹولہ ان کے پاس آیا۔ بہت سی باتیں ہوئیں، مگر دلچسپ ترین بات یہ تھی: کہنے لگے ’مرزا صاحب جب اپنی طرف سے عربی لکھتے ہیں تو لا باس بہ، مگر جب وحی اور الہام کی حیثیت سے لکھتے ہیں تو غلطیوں کا پلندہ ہوتی ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جو ہستی مرزا صاحب پر وحی کرتی ہے، وہ مرزا صاحب سے زیادہ جاہل ہے۔ اس نشست میں انھوں نے چند کی نشان دہی کی۔ پھر وہ طائفہ بغیر کسی حیل حجت کے اٹھ کر چلا گیا۔
برادرم محمود حسن نے خلیفہ عبد الحکیم اور غلام جیلانی برق کو بھی منکرین حدیث میں شامل ہونے کا تاثر دیا ہے۔ خلیفہ عبد الحکیم پر فلسفہ کا غلبہ ضرور تھا، مگر منکر حدیث ہرگز نہ تھے۔ جناب برق کے سر پر تجدد اور سائنس کا سودا تھا، مگر آخر میں اس سے بھی تائب ہو گئے تھے۔ اللہ سے دعا ہے ان کی مغفرت فرمائے۔ آخر میں ایک بار پھر آپ کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔
یوسف ریاض
الدار العالمیۃ للکتاب الاسلامی، ص ب ۵۵۱۹۵
الریاض ۱۱۵۳۴، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ
(۲)
مکرمی ومحترمی جناب محمد عمار خان ناصر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامی؟
’الشریعہ‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے جس میں اہل علم کے تجدیدی مضامین پڑھ کر اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہوں۔ جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے حکم پر ’’اقوام متحدہ کے منشور کا تحقیقی جائزہ‘‘ لکھا تھا جو ’المنبر‘ فیصل آباد کے شوال کے شمارہ میں شائع ہوا، جبکہ ’الشریعہ‘ میں ہیکل سلیمانی کی تولیت پر بحث ومباحثہ پڑھتا رہا جس پر اپنا نقطہ نظر ’الاعتصام‘ کو ارسال کیا۔ وہ بھی شعبان کے شماروں میں شائع ہوا۔ اس بحث کو بند کرنے کے بعد جو آپ نے اسلامی مکاتب فکر میں تحمل وبردباری کا درس دینے کی مہم شروع کی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ بقول ندوی فکر ’’اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے باوجود ہمارے دل اتنے وسیع ہوں کہ فروعی اختلافات ہمیں فرقہ بندی اور گروہ بندی کی دلدل میں نہ پھنسا سکیں۔‘‘
اللہ کرے آپ کی محنت بار آور ثابت ہو اور اسلامی مکاتب فکر آپس میں بھائی بھائی بن کر ملت کفر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
عطا محمد جنجوعہ
کوٹ بھائی خان
براستہ جھاوریاں۔ ضلع سرگودھا
(۳)
۰۵/۲/۲۱
مولانا ابو عمار زاہد الراشدی
رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
’الشریعہ‘ کے فروری ۲۰۰۵ء کے شمارے میں شائع ہونے والے پروفیسر محمد سرور کے مضمون ’’علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کا فکر وفلسفہ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ:’’اقبال دل سے چاہتے تھے کہ قرآن کی حکومت بروئے کار آئے اور اسلام پر بالکل ایک نئی دنیا کی تعمیر ہو، لیکن قرآن اور اسلام کی عملی تشریح جو آج کے زمانے میں قابل قبول اور قابل عمل ہو سکے، یہ ان کے بس میں نہ تھی، کیونکہ وہ جماعت کے روایتی اثرات اور اس کے قوانین وضوابط سے ذہناً باہر نہیں نکل سکے تھے اور وہ قرآن واسلام کے نظام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر پیش کر نے کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
میرا کہنا بس یہ ہے کہ اگر مذکورہ فکر کے حامل خود روایتی اثرات اور قوانین وضوابط کے خول سے باہر نکل آئے ہیں اور قرآن واسلام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو بسم اللہ کریں، قدم بڑھائیں اور امت کی رہنمائی کریں۔ اگر یہ نظام آپ کے بس میں ہے تو پیش کریں اور امت کا بھلا کریں۔
اسی مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’’فکراً خواہ وہ کچھ بھی ہوں، اقبال کا اسلام عملاً ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام تھا۔‘‘ یہ محض ایک تہمت ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ اقبال نے کبھی فرقہ واریت اور پنجابیت کو فروغ دینا تو کجا، ان کا نام تک نہیں لیا۔ وہ تو آفاقیت کے مبلغ تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی دار العلوم دیوبند میں تکمیل علم کے بعد ۱۹۱۵ میں افغانستان چلے گئے اور کابل میں کانگرس کمیٹی کی بنیاد رکھی جس کا الحاق ہندوستان کی کانگرس سے کیا گیا۔ کانگرس کے نظریے کے مطابق ہندوستانی مسلمان اور ہندو ایک ہی قوم تھے اور ہیں۔ کانگرس دو قومی نظریہ کو فرقہ پرستی قرار دیتی تھی، اس لیے مولانا نے اقبال کو فرقہ پرست قرار دیا ہے۔
آخر میں آپ سے یہ سوال ہے کہ ایسے مضامین آپ کے رسالے میں کیوں شائع ہوتے ہیں؟ کانگرس کا ایک قومی نظریہ لوگوں کو اقبال سے تو شاید دور کر سکتا ہے، لیکن اس کے بعد عدم رہنمائی کے باعث لوگوں کو جنگل میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اب تو بے شمار حقائق وشواہد، خصوصاً بھارتی صوبہ گجرات میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام نے ثابت کر دیا ہے کہ کانگرس کا ایک قومی نظریہ بالکل باطل تھا اور حق یہی ہے کہ مسلمان، ہندوؤں سے الگ ایک قوم ہیں۔وما علینا الا البلاغ۔
محمد خورشید
پلاٹ ۱۴ /سی۔ بلاک بی، پیپلز کالونی۔ اٹک شہر
قربِ گریزاں کی ایک غزل
پروفیسر میاں انعام الرحمن
چناب کی سر زمین گجرات سے تعلق رکھنے والا منیر الحق کعبی بہل پوری بطور کہنہ مشق شاعر و ادیب اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے ۔ حمدیہ کلام میں تغزل کی آمیزش سے
گنگ حرفوں کو زباں دی تو نے
مجھ کو توفیقِ بیاں دی تو نے
کہنے والا شاعر قومی کینوس پر شاید اس لئے نہیں آسکا کیونکہ اس کا تعلق نہ تو لاہور ، کراچی جیسے بڑے شہروں سے ہے اور نہ ہی اسے ’’ پی آر ‘‘ کے لوازمات کے’’ سلسلوں ‘‘پر قدرت حاصل ہے :
عذاب ٹھہرا ہر اک سے یہ سلسلہ رکھنا
خدا کے ساتھ بتوں سے معاملہ رکھنا
کعبی کا یہ شعرمومن کے اس شعر کی یاد دلا تا ہے جس کے عوض مرزا غالب اپنا پورا دیوان دینے کو تیار تھے:
ان کی یادیں ہجوم کرتی ہیں
وہ مرے پاس جب نہیں ہوتے
اور دیکھئیے ذرا ،اسی غزل میں کعبی نے کتنی آسانی سے کتنی بڑی بات کہہ دی :
کربلا کی حدیث کہتی ہے
پارسا منتخب نہیں ہوتے!
’’رگِ خواب ‘‘ اور ’’ قربِ گریزاں ‘‘ ( مطبوعہ) ’’ دشتِ وصال ‘‘ اور ’’حریمِ حمد ‘‘ ( غیر مطبوعہ )کے عنوان سے مجموعہ ہائے کلام کا مصنف ، زندگی کی بے برگ راہوں کا سامنا کرنے کی کس قدر جرات رکھتا ہے ملاحظہ کیجئے:
مری آنکھو ! ابھی تا دیر جاگو
شکستِ شب کا منظر دیکھنا ہے
شکستِ شب کا یہی یقین اور شکستِ شب کی دید کی یہی آرزو کعبی کی شاعری کا بنیادی خاصہ ہے ۔ ہمارا شاعر زیست کے رنج و الم اور ہر دم کروٹ لیتے حالات کی بے ثباتی سے ڈگمگانے کے باوجود ، اپنے ہونے کو یعنی اپنی زندگی کو شکستِ شب سے سے مشروط کر تاہے ۔ شکستِ شب کے متجسس آرزومند کے تجسس کا دائرہ ( نا تمام معنوی ابعاد کے جلو میں ) اجالوں کی صباحتوں سے لے کر گلاب کی خوشبوؤں تک پھیلا ہوا ہے :
خوشبو کی جستجو میں ، کعبی
شاخِ گلاب کو ہلاؤں
اس مختصر تعارف کے بعد ، آئیے قربِ گریزاں کی ایک غزل کے چند اشعار کا جائزہ لیتے ہیں۔
اردو شاعری میں جس چیز کو تغزل کہتے ہیں وہ اس کی رمزی اور ایمائی کیفیت ہے ۔ یہ تبھی پیدا ہوتی ہے جب غزل گو الفاط کے صحیح معانی ، ان کے شیڈز اور دلالت ہائے امتزاجی سے پوری واقفیت رکھتا ہو ۔ تقریباَ َ ہر بڑے شاعر کے کلام میں کوئی نہ کوئی ایسی علامت یا استعارہ ضرور ملے گا جو نہ صرف جانِ کلام ہوتا ہے بلکہ شاعر کی نفسی کیفیت کا آئینہ دار بھی ۔ اگر قاری ذوقِ سلیم سے عاری نہ ہو تو فوراَ َ محسوس کرتا ہے کہ شاعر نے تخلیق کے دوران کن کیفیتوں کو مَس کیا ہے اور تخلیق کے پس منظر میں کیا مِس کیا ہے ۔ کعبی کے کلام میں ( بالخصوص زیرِ نظر غزل میں ) گلاب ایسی ہی علامت کے طور پر ابھرا ہے جو نہ صرف مجاز اور حقیقت کے درمیان پل کا کام دیتا ہے بلکہ اس پل کو لپیٹ بھی دیتا ہے ، یوں ایک Paradox ’’ قربِ گریزاں ‘‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
ہمارے مشاہدے میں جو چیزبھی آتی ہے ( چاہے مشاہدہ باطنی ہو ) اس کا ایک خاص رخ ہی ہم دیکھ پاتے ہیں مثلاََ حسن کے ضمن میں غمزہ ، عشوہ ، ناز ، ادا وغیر ہ مختلف رخ ہیں ۔ کعبی اس پہلو سے واقفیت کا اظہار تہہ داری سے یوں کرتے ہیں کہ :
مری صبائے تصور نے لی ہے انگڑائی
بدستِ ناز ابھی، آنکھ مَل رہے ہیں گلاب
حسن کے تنوع اور رنگا رنگی کو نہایت شدت سے اس طرح پیش کیا ہے :
نہ ایک برگہ ء گُل میں نظر مقید ہے
مری نظر میں ہزاروں اچھل رہے ہیں گلاب
حسن مطلق کی جستجو میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب ہمارا شاعر اپنے آپ کو وسعت دیتا ہے اور پھر الہام کے لب کچھ یوں وا ہوتے ہیں :
اسی مجاز میں پنہاں رہِ حقیقت بھی
ازل سے جلوۂ حسنِ ازل رہے ہیں گلاب
اردو شاعری میں لفظ ’’ جلوہ ‘‘ حسن کی مجموعی حالت اور کلیت کا آئینہ دار ہے ۔ یعنی کائنات میں پھیلا ہوا حسن ، چند لمحوں کے لئے ، وحدت کی صورت میں شاعر کے مشاہدے میں آتا ہے ۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’ رہے ہیں گلاب ‘‘ جمع کا صیغہ ہے اور اس کے ساتھ لفظ ’’ جلوہ ‘‘ حسن کی وحدت کی علامت۔ یوں کثرت ، وحدت بن جاتی ہے ۔ مجاز اور حقیقت ایک ہو جاتے ہیں ۔ ہماری دانست میں ’’ جلوہ ء حسنِ ازل ‘‘ کی ترکیب کچھ یہی بیان کرتی ہے ۔ غالب نے اپنے مخصوص انداز میں اسی سے ملتا جلتا مضمون یوں باندھا ہے :
یاں نفس کرتا تھا روشن شمعِ بزمِ بے خودی
جلوۂ گُل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
غالب ، شاید الہام کے مدارج کا قائل ہے جبکہ کعبی کے ہاں قطعیت جھلکتی ہے ۔
اس غزل کے حوالے سے ایک بات کھٹکتی ہے کہ غزل کی ردیف میں ’’ گلاب ‘‘ ہو اور پھر اشعار کی تعداد بھی چودہ (۱۴ ) ہو ، لیکن بلبل کا ذکر تک نہ ہو۔کیوں ، ہے ناعجیب بات ؟ ہماری رائے میں اس کی ایک وجہ جناب کعبی کا ’’مزاج ‘‘بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے محبوب کو ( حقیقی ہو یا مجازی ) گلاب کے روپ میں پیش کیا ہے لیکن محب کو بلبل کے استعارے میں چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ خاصے بے باک ہیں ۔
اس کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ بلبل کا استعارہ عشقِ ناتمام کو ظاہر کرتا ہے جس میں قرب و وصل کا کوئی امکان نہیں، اس لئے کعبی نے جان بوجھ کر احتراز برتا ہے ۔
اس کا تیسرا سبب جو کافی معقول دکھائی دیتا ہے ، فارسی روایت سے انحراف کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔ اردو شاعری میں بلبل کا استعارہ ، اصلاََ فارسی غزل سے مستعار لیا گیا ہے کیونکہ بلبل ہمارے علاقے میں موجود نہیں ۔ مغلوں کے عہد میں فارسی زبان کے ساتھ بلبل خود تو نہیں ، البتہ بطور استعارہ آ موجود ہوا ۔ اپنے ماخذ کے اعتبار سے اردو غزل اگرچہ فارسی کی مرہونِ منت ہے لیکن اب چونکہ اردو زبان آہستہ آہستہ باوعتماد ہوتی جا رہی ہے اس لئے اس کا اپنا الگ علامتی نظام بھی تشکیل پا رہا ہے ۔ بلبل کا اس مجموعے ( قربِ گریزاں ) میں اور با لخصوص اس غزل میں نہ ہونا مذکورہ نئے تشکیل پاتے علامتی نظام کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے پیچھے زبان کا فطری ارتقاء کار فرما ہے اور یہ ارتقاء بقول ٹی ایس ایلیٹ ، مقامیت سے شدید متاثر ہوتا ہے ۔ہماری رائے میں کعبی کے کلام میں ارتقاء اور مقامیت کا آہستہ آہستہ در آنا واضح طور پر موجود ہے۔ شنید ہے ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’ رگِ خواب ‘‘ فارسیت کا حامل تھا ، ہو سکتا ہے اس میں بلبل کا ذکر موجود ہو ، لیکن کم از کم ’’قربِ گریزاں ‘‘ جہاں فارسی سے انحراف کی طرف پیش قدمی ہے وہاں مقامیت کا آغازبھی ہے ، بقول داغ :
کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا
زیرِ نظر غزل کی ردیف ’’ رہے ہیں گلاب ‘‘ تین الفاظ پر مشتمل ہے ، اس کے طول سے غنائیت پیدا ہوئی ہے ۔ ثقہ ناقدین کے مطابق لمبی ردیف کی غزل ’’ سامعین ‘‘ کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے ۔ لیکن اس فردوسِ گوش خاصیت میں ایک خامی کا احتمال رہتا ہے کہ کہیں موسیقیت کے بوجھ تلے ، تخیل و خیال آفرینی دب نہ جائے ۔ لہذا فن پارے کی قدرو قیمت کا اندازہ بھی اسی بات سے ہوتا ہے کہ کیا بھر پور نغمگی کے ہمراہ تخیل کی رم جھم بھی موجود ہے کہ نہیں ؟ ہماری دانست میں کعبی کی اس غزل کی ردیف جہاں موسیقیت کے باعث قاری کو بہانے کی کوشش کرتی ہے وہاں تخیل کی زور آوری ٹھہراؤ کا باعث بھی بنتی ہے اور قاری خود کو ہر شعر ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے پر مجبور پاتا ہے ۔ یوں ذہن میں ، شاعر کے دورانِ تخلیق موڈ کے مطابق ایک تصویر سی بنتی چلی جاتی ہے۔ یہی شاعری ہے۔
مولانا حافظ محمد طاہر لدھیانوی کا انتقال
ادارہ
علماے لدھیانہ کے معروف خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک نہایت محترم بزرگ مولانا حافظ محمد طاہر لدھیانوی جمعرات ۷ محرم ۱۴۲۶ کو ضلع جھنگ کے نواحی گاؤں چک ۱۵۱ ماہوں میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مولانا ابو احمد محمد عبد اللہ لدھیانوی ؒ کے فرزند اور علامہ محمد احمد لدھیانوی کے بڑے بھائی تھے۔
ان کی پیدایش قصبہ دیوبند میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گرامی مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی، جو قبل ازاں علامہ انور شاہ صاحب کشمیری سے دورۂ حدیث میں تلمذ حاصل کر چکے تھے، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے مالٹا سے رہا ہونے کے بعد ان سے دورۂ حدیث کے اسباق دوبارہ پڑھنے کے لیے دار العلوم دیوبند گئے اور وہاں اقامت کے دوران میں دار العلوم میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد وہ واپس اپنے آبائی وطن لدھیانہ تشریف لے گئے جہاں ان کے بڑے فرزند حافظ محمد طاہر صاحب ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن کریم مکمل کیا۔ اس کے بعد ان کے والد گرامی نے انھیں درس نظامی کی تعلیم کے لیے گوجرانوالہ میں مولانا محمد چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا جو ان کے ہم سبق اور مولانا سید انور شاہ صاحب کشمیری کے شاگرد تھے اور اس وقت بیرون کھیالی گیٹ میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ چلا رہے تھے۔ دورۂ حدیث کے لیے وہ مولانا خیر محمد صاحب جالندھری کی خدمت میں خیر المدارس جالندھر چلے گئے ۔
تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اپنے والد گرامی کی رہنمائی میں لدھیانہ کے نواح میں رد مرزائیت اور رد بدعات کے لیے مصروف عمل رہے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے گوجرانوالہ آ گیا اور ۱۹۴۸ء میں مولانا محمد عبد اللہ نے حافظ محمد طاہر صاحبؒ کو چک ۱۵۱ ماہوں ضلع جھنگ بھیج دیا جہاں لدھیانہ کے بعض خاندان ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ یہاں حافظ محمد طاہر صاحبؒ نے علاقے کے علما مولانا محمد ذاکر ، مولانا محمد نافع، مولانا رحمت اللہ اور مولانامنظور احمد چنیوٹی کے ساتھ مل کر رد رافضیت، رد بدعات اور رد مرزائیت کے سلسلے بھرپور تبلیغی ودعوتی خدمات انجام دیں اور شرک وبدعت کے رنگ میں رنگے ہوئے مقامی ماحول میں توحید وسنت اور حب صحابہ کی دینی فضا قائم کی۔ انھوں نے اور ان کی اہلیہ محترمہ مرحومہ نے یہاں کی مقامی ناخواندہ آبادی پر محنت کر کے ان میں سے حفاظ، قرا اور علما تیار کیے جنھوں نے ان کی سرپرستی میں ارد گرد کے دیہات تک دعوتی کام کو پھیلایا۔ ان کی کوشش سے علاقے میں تین مساجد قائم ہوئیں اور اب یہاں تبلیغی جماعت کا ایک باقاعدہ مرکز قائم ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم اور ان کے خاندان کے تمام بزرگوں اور دینی کارکنوں کی دینی خدمات کو شرف قبولیت بخشے ، ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
الشریعہ اکادمی میں یوم کشمیر کے موقع پر تقریب
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۵ فروری ۲۰۰۵ بروز ہفتہ یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز جناب غلام اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ابوبکر محمود نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب رمضان خالد آف وہاڑی نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ راجہ گلاب سنگھ نے ۱۵۵ روپے فی مربع میل کے حساب سے پچھتر لاکھ روپے میں انگریزوں سے پورے کشمیر کا سودا کر لیا تھا جس سے کشمیری مسلمانوں کی اصل غلامی شروع ہوئی۔ جناب توقیر معاویہ آف ساہیوال نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل یہی ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اختتامی کلمات میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے دو پہلو ہیں، ایک مذہبی اور دوسرا سیاسی۔ سیاسی لحاظ سے بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق انڈیا سے کشمیریوں کے جائز اور برحق مطالبہ آزادی کو تسلیم کروانا اقوام عالم کی ذمہ داری ہے، جبکہ مذہبی لحاظ سے کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد ضروری ہے، کیونکہ اس کے لیے علما نے فتویٰ جاری کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے کشمیر کا کچھ حصہ تو آزاد کرا لیا تھا جبکہ باقی حصے کو آزاد کرانا ابھی ہمارے ذمے ہے۔
تقریب کے آخر میں دنیا کے تمام خطوں میں مسلمانوں کی آزادی اور شہداے اسلام بالخصوص کشمیری شہدا کے لیے دعا کی گئی۔
(ابوبکر محمود۔ شریک خصوصی تربیتی کورس، الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)
’’سماجی بہبود تعلیمات نبوی کی روشنی میں‘‘
پروفیسر محمد فاروق حیدر
سماجی بہبود عصر حاضر کا ایک اہم موضوع ہے جس پر تصنیف وتالیف کے علاوہ عملی طور پر کی جانے والی کوششیں نمایاں ہیں۔ خاص طور پر مغرب اور اس کے زیر سایہ تنظیمیں (NGOs) جو ظاہری طور پر انسانیت کی فوز وفلاح، ترقی اور خدمت میں مصروف عمل دکھائی دیتی ہیں، گزشتہ چند سالوں سے ان کے انسانیت سوز مظالم سے ان کا چھپا ہوا گھناؤنا روپ اب کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا، کیونکہ سماجی بہبود کا جو جذبہ ان میں کارفرما ہے، اس کی بنیاد نام ونمود اور دوسروں کے وسائل کو اپنے قبضے میں لے کر اپنے ملکی وقومی مفادات جیسے عزائم ہیں۔ لیکن خدمت انسانیت، سماجی بہبود، رفاہ عامہ اور فلاح انسانیت کے ہم معنی موضوعات اہل اسلام کے لیے نئے نہیں ہیں، بلکہ اس کی علمی اور عملی بنیادیں سرور عالم، غریبوں کے والی، آقاے دو جہاں محمد مصطفی کی سیرت سے ملتی ہیں جن کو عملی شکل دے کر مسلمانوں نے ایک تاب ناک تاریخ رقم کی ہے۔ فاضل مولف ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس جو جی سی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، کی زیر نظر کتاب ’’سماجی بہبود تعلیمات نبوی کی روشنی میں‘‘ خدمت انسانیت کے لیے ٹھوس فکری وعملی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ سیرت نبوی کے ایک خاص پہلو یعنی سماجی بہبود کو اس میں موثر انداز سے اجاگر کیا گیا ہے۔ کتاب کے عنوانات کی فہرست حسب ذیل ہے:
باب اول میں رفاہ عامہ اور سماجی بہبود کے معنی ومفہوم اور اس سے متعلق بنیادی امور پر بحث کی گئی ہے۔ باب دوم میں رفاہ عامہ کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے عملی اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں دیگر مباحث کے علاوہ معجزات نبوی سے سماجی بہبود کا استخراج ایک دل چسپ پہلو ہے جو مصنف کی تخلیقی سوچ کا آئینہ دار ہے۔ باب سوم میں رفاہ عامہ کی اہمیت قرآن کریم کی روشنی میں بیان کی گئی ہے اور ’کان خلقہ القرآن‘ کو بنیاد بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی ہے۔ باب چہارم میں احادیث کی روشنی میں رفاہ عامہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے اور کتب حدیث کے مختلف ابواب کو سماجی بہبود کی بنیاد بتایا گیا ہے، مثلاً باب الاصلاح بین الناس، باب التحذیر من ایذاء الصالحین والضعفۃ والمساکین، باب الاحسان الی الیتیم والارملۃ والمساکین وغیرہ۔ پانچویں اور آخری باب میں سماجی بہبود کے دیگر مختلف پہلوؤں کو تعلیمات نبوی کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں سماجی بہبود میں صوفیا کے کردار کا ضمیمہ لگا کر کتاب کی اہمیت کو دوچند کر دیا گیا ہے۔
مذکورہ عنوانات کتاب کے موضوع سے گہرے طور پر متعلق ہیں اور مصنف نے ان کو علمی انداز میں موضوع بحث بنایا ہے۔ اس طرح سیرت نبوی کے مطالعہ اور ایک اہم سماجی مسئلے کے حوالے سے فکری تربیت کا یہ حسین امتزاج یہ نہ صرف عام قارئین بلکہ علمی وتحقیقی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے بھی دل چسپی کا باعث ہوگا۔ کتاب کے پیغام کو مزید بہتر بنانے کے لیے مناسب ہوگا کہ آئندہ ایڈیشن میں سماجی بہبود کے حوالے سے صحابہ اور علماے سلف کی خدمات کا باب بھی شامل کر لیا جائے۔ اسی طرح عصری تنظیموں کے اہداف ومقاصد اور ان کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے اسلامی تعلیمات سے ان کا موازنہ کیا جائے اور سماجی بہبود کے حوالے سے صوفیا کی خدمات کو مزید مثالوں سے واضح کیا جائے۔