وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کامیاب کنونشن
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۵؍ مئی ۲۰۰۵ کو اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ملک گیر ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں کی تعداد میں دینی مدارس کے مہتممین، اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھی شرکت کی۔ کنونشن کا عنوان گذشتہ دو سالوں کے دوران میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات میں اول، دوم اور سوم پوزیشن پر آنے والے طلبہ اور طالبات میں انعامات کی تقسیم تھا جو صدر وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کے ہاتھوں تقسیم ہوئے، مگر اپنے شرکا اور خطابات کے حوالے سے یہ کنونشن ملک کے دینی مدارس کے موقف، پالیسی اور کردار کے حوالے سے ایک بھرپور اجتماع تھا جس میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار حضرات کی شرکت نے اسے قومی کنونشن کی حیثیت دے دی۔
حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور وفاقی وزیر مذہبی امور جناب محمد اعجاز الحق نے کنونشن سے خطاب کیا اور دینی مدارس کی تعلیمی جدوجہد کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے بعض اہم اعلانات بھی کیے جن میں جناب محمد اعجاز الحق کا یہ اعلان بطور خاص اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت نے سرکاری خرچ سے ماڈل دینی مدارس قائم کرنے کی جو اسکیم شروع کی تھی، وہ ناکام ہو گئی ہے اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صرف تین مدارس کو کامیابی کے ساتھ چلانے کا ہدف بھی پورا نہیں ہوا جس کی وجہ سے یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت دینی مدارس کے نصاب ونظام میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور صرف عصری تقاضوں کے ساتھ ان کے نصاب ونظام کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ان سے تعاون کرنا چاہتی ہے، اس لیے مدارس کو مطمئن رہنا چاہیے کہ ان کے معاملات میں کوئی سرکاری مداخلت نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ کے قائد چودھری شجاعت حسین صاحب نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا ۔
قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد مولانا فضل الرحمن اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ جناب قاضی حسین احمد نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی دینی مدارس اور ان کے نظام کے حوالے سے پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اعلان کیا کہ دینی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی بہانے ان کے نظام میں سرکاری مداخلت یا اثر ورسوخ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان راہ نماؤں نے معاشرے میں دینی مدارس کی دینی وتعلیمی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اس وقت مسلم معاشرے میں عام مسلمانوں کا اسلام کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ دینی مدارس ہیں جس کی وجہ سے عالمی استعمار ان کے آزادانہ نظام کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے، لیکن پاکستان کی دینی قوتیں ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔
ممتاز دانش ور جنرل (ر) حمید گل نے اپنے خطاب میں دینی مدارس کی اہمیت کا ذکر کیا اور عالمی استعمار کی ان سازشوں پر روشنی ڈالی جو دینی مدارس کو ان کے اس کردار سے محروم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سے کہا کہ وہ حوصلہ اور استقامت کے ساتھ اس دباؤ کا مقابلہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ بالآخر کامیابی انھی کے مقدر میں ہوگی۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے وفاق المدارس کی خدمات اور تاریخ کے مختلف پہلووں سے حاضرین کو آگاہ کیا اور دینی مدارس کے آزادانہ کردار اور دینی وتعلیمی جدوجہد کے تحفظ کے لیے وفاق کی جدوجہد اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بیان کیں۔ انھوں نے بتایا کہ وفاق نے دوسرے مکاتب فکر کے دینی مدارس کی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ملک گیر ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ قائم کیا اور سب وفاقوں کے اتحاد کے ساتھ دینی مدارس کے نصاب ونظام میں سرکاری مداخلت اور کنٹرول کے پروگرام کو ناکام بنایا۔
انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت ایک طرف دینی مدارس کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا بار بار اعلان کرتی ہے اور دوسری طرف حال ہی میں سرکاری سطح پر دینی مدارس کے لیے ایک بورڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جو حکومت کے اعلانات اور یقین دہانیوں کے منافی ہے۔ انھوں نے وفاق کی قیادت کی طرف سے اس امر کا دوٹوک اعلان کیا کہ دینی مدارس کے نظام ونصاب کے حوالے سے کسی بھی سرکاری بورڈ کو قبول نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی سطح پر سرکاری مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا خطاب ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے دینی مدارس کے مقصد قیام کی وضاحت کی اور بتایا کہ ان دینی مدارس کا قیام معاشرے میں دینی راہ نمائی فراہم کرنے اور مسجد ومدرسہ کا نظام باقی رکھنے کے لیے رجال کار کی فراہمی کی غرض سے عمل میں آیا تھا اور دینی مدارس اپنا یہ کام خیر وخوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دینی مدارس سے کوئی اور تقاضا کرنا، نا انصافی کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ دینی مدارس سے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور وکیل کیوں پیدا نہیں ہو رہے، بالکل اسی طرح کا سوال ہے کہ میڈیکل کالج سے انجینئر کیوں نہیں نکل رہے، لا کالج سے ڈاکٹر کیوں پیدا نہیں ہو رہے، انجینئرنگ کالج سے وکیل کیوں نہیں نکل رہے اور سائنس کالج میں دینی علوم کے ماہرین کیوں تیار نہیں ہو رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کوتاہیوں سے پاک نہیں ہیں، اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور اپنے نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لیے ہر مفید تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن دینی مدارس کو ان کے مقصد قیام سے ہٹانے اور ان کے کردار کا رخ تبدیل کرنے کی کوئی بات ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
راقم الحروف سے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور میں نے بطور خاص یہ گزارش کی کہ دینی مدارس کی مخالفت میں مغرب سب سے پیش پیش ہے، مگر مغرب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ مدرسہ خود اس کی بھی ضرورت ہے۔ دینی مدرسہ ہم مسلمانوں کی بنیادی ضرورت تو ہے ہی، مغرب کی بھی ضرورت ہے اور اگر مغرب تعصب اور عناد کی عینک اتار کر مدرسہ کے کردار کا جائزہ لے تو اسے مدرسہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، اس لیے کہ مغرب نے دو صدیاں قبل آسمانی تعلیمات سے انحراف اور وحی الٰہی کی راہ نمائی سے دست برداری کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کے منفی نتائج انسانی سوسائٹی میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور عقل ودانش کے اعلیٰ حلقوں میں یہ بات محسوس کی جانے لگی ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی راہ نمائی کی طرف پھر سے واپس جانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ چھ ارب افراد پر مشتمل انسانی سوسائٹی امن وخوش حالی کے لیے کسی نئے نظام کی تلاش میں ہے اور نئے نظام کے آپشنوں میں آسمانی تعلیمات کا آپشن بھی پھر سے دھیرے دھیرے ایجنڈے میں شامل ہو رہا ہے۔ گلوبل انسانی سوسائٹی کے مستقبل کے نظام کے لیے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی ہم مسلمانوں کے لیے تو واحد آپشن کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر باقی دنیا کے لیے بھی اسے ایک آپشن کی حیثیت ضرورت حاصل ہے۔ اب اگر انسانی سوسائٹی کسی وقت آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو آسمانی تعلیمات کا محفوظ اور مستند ذخیرہ صرف مسلمانوں کے پاس ملے گا۔ دنیا کی کسی اور قوم کے پاس وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کا کوئی محفوظ ذخیرہ موجود نہیں ہے اور اگر دنیا نے آسمانی تعلیمات کی طرف واپس جانے کا فیصلہ کیا اور تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا یقین ہے کہ دنیا کو بالآخر اسی فیصلے پر آنا ہوگا، اس وقت صرف یہ دینی مدارس ہوں گے جہاں سے دنیا کو آسمانی تعلیمات کا ذخیرہ محفوظ اور مکمل حالت میں موجود ملے گا، کیونکہ یہ دینی مدارس اس وقت آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے اسی ذخیرے کی حفاظت وترویج کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں، اس لیے اس کنونشن کے حوالے سے میں مغرب کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دینی مدرسہ کے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور جس چیز کی خود مغرب کو مستقبل میں ضرورت پیش آ سکتی ہے، اس کی حفاظت کرنے والے دینی مدرسہ کو ختم کرنے کی کوششوں کے بجائے اسے آزادی کے ساتھ اپنا کام کرنے دے۔
بہرحال ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ اپنے مقاصد اور اہداف کے حوالے سے بہت کامیاب رہا جس پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت مبارک باد کی مستحق ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وفاق کی قیادت اپنے کردار اور موقف کے بار ے میں اسی طرح قوم کے تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر مزید حوصلہ اور عزم کے ساتھ معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور اسلاف کی دینی جدوجہد کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سرگرم عمل رہے گی۔
’الفرقان الحق‘: اکیسویں صدی کا امریکی قرآن
محمد فیروز الدین شاہ کھگہ
محمد فیروز الدین شاہ کھگہ (لیکچرار علوم اسلامیہ: نیشنل یونیورسٹی (FAST) لاہور)
حافظ محمد سمیع اللہ فراز (لیکچرار علومِ اسلامیہ: ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان)
قرآنِ کریم اسلامی تشریع کا اولین سرچشمہ ہے اور ہر قسم کی تحریف وآمیز ش سے پاک ہے۔ اس کے برعکس توراۃ وانجیل اپنی اصلی حیثیت کو برقرار نہ رکھتے ہوئے بے شمار تحریفات کا شکار ہوئی ہیں۔غالباً اسی وجہ سے مستشرقین نے قرآنی متن کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اس کو محرَّف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔دراصل استشراقی فکر کا محور یہ ہے کہ جس طرح تورات وانجیل اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہیں اور ان کے کئی Version منظرِ عام پر آچکے ہیں، مسلمانوں کے قرآن کو بھی اسی مقام پر لا کھڑاکیاجائے۔ چنانچہ آرتھر جیفری لکھتا ہے:
"It is sometimes said that Christianity could exist without the New Testament, but Islam certainly could not exist without the Quran". (1)
یعنی عہد نامہ جدید کے بغیر عیسائیت تو اپنا وجود باقی رکھ سکتی ہے، لیکن قرآن کے بغیر اسلام باقی نہیں رہ سکتا(۲)۔
قرآن مجید کے ساتھ مسلمانوں کی عدیم المثال وابستگی اور دنیا پر اس کے حیرت انگیز اثرات کے مستشرقین بھی معترف ہیں۔ مارگولیتھ کے الفاظ ہیں:
"The Koran admittedly occupies an important position among the great religious books of the world..... it yields to hardly any in the wonderful effect which it has produced on large masses of men".(3)
اہلِ مغرب اس سے حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب تک مسلمان کا تعلق قرآن مجید کے ساتھ پختہ ہے، تب تک اسلامی اقدار کو منہدم کرنا مشکل ہے، چنانچہ راستے کے اس بھاری پتھر کو ہٹانے کے لیے قرآنِ مجید پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ سینئر برطانوی وزیر گولڈسٹون نے پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں قرآن مجید ہاتھ میں بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ تین چیزوں کی موجودگی میں ہم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے: نمازِ جمعہ، حج اور یہ کتاب‘‘۔(۴)
کچھ عرصہ قبل امریکہ سے ’الفرقان الحق‘ نامی ایک کتاب شائع ہوئی جس کو’ اکیسویں صدی کا قرآن‘ قرار دیاگیا اور اس کی نشرواشاعت پوری تن دہی کے ساتھ تاحال جاری ہے۔ ان سطور کا مقصد دنیا کو مغرب اور مستشرقین کا وہ متعصبانہ رویہ دکھانا ہے جو وہ مسلم امہ اور مسلمانوں کے بنیادی ورثہ کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ عہدِ طالبان میں پتھر کے دو مجسموں کے ٹوٹنے پر دنیا کا حیرتناک اور شدید ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن مسلمانوں کے دستورِ زندگی اور تعلیمات وعقائد کے مرکز قرآن مجید کا جب مذاق اڑایا جائے تو عالمی حقوق کی کسی تنظیم کی طرف سے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں ہوتا۔
مغرب سے متاثر وہ افراد جو اسلام کے متعلق تعلیمات کے حصول کے لیے مستشرقین کے بظاہرسائنٹفک مگربباطن غیر حقیقی مواد پر مشتمل مقالات کامطالعہ کرتے ہیں، بہت جلد شکوک وشبہات کی گھاٹیوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ نوجوان نسل، جو پہلے ہی مادی ترغیبات کے سبب سے دائرۂ مذہب سے فرار کی خواہاں ہے،اس کے لیے ایک چھوٹی سی آواز بھی راہِ راست سے بھٹکانے کے لیے کافی ہے۔ ایسے حالات میں اس ضرورت کا شدید احساس ہوتا ہے کہ ہم کسی منظم شکل میں مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے مستشرقین اور اہل مغرب کے متعصب افراد کی آوازوں کا قوی اور مسکت جواب دیں۔ قارئین کرام کے لیے حالیہ امریکی قرآن کی اصلیت اوراس کے پس پردہ چشم کشا صہیونی مقاصد کا تعارف پیشِ خدمت ہے:
’الفرقان الحق‘ نامی امریکی قرآن کا مصنف ڈاکٹر انیس شوروش (Anis Shorrosh)ہے جو خود کو ’الصفی‘،’المہدی‘ اور ’مہدی منتظر‘ جیسے القاب سے ملقب کرتا ہے۔ انیس شوروش کا اصل نام پہلی مرتبہ Amazonنامی انٹر نیٹ سائٹ پر دیکھا گیا(۵)۔ انیس شوروش فلسطین میں پیدا ہوا، یعنی یہ اصلاً فلسطینی عربی ہے ۔ اُردن کے میسیسپی کالج (MISSISSIPPI COLLEGE) میں تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے سے قبل ORLEANS BAPTIST NEW THEOLOGICAL SEMINARY کے ادارہ میں پڑھاتا رہا اور دومرتبہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری بالترتیب INSTITUTE OF SEMINORY MINISTORY DAYTON TENNESSEEاور INTERNATIONAL LUTHER RICEکی یونیورسٹیوں سے حاصل کی۔ یہودیوں کے ساتھ مقبوضہ ارضِ مقدس میں کام کرتا رہا۔ مزید براں 1959ء تا1966ء یروشلم کے کنیسا میں بھی خدمات انجام دیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے مابین 40سال تک Clergymanیعنی پادری سفارتکار کے طور پر جبکہ افریقہ، کینیا، کیپ ٹاؤن، ڈربن، جوہانسبرگ وغیرہ میں بطور عیسائی مبلّغ کام کیا۔ 1955ء میں نیوزی لینڈ سے انگلینڈ منتقل ہوااوربعدازاں پرتگال میں رہائش پذیر رہا(۶)۔
مشہور اسلامی مفکر اور سکالر احمددیداتؒ نے اس کے ساتھ دومناظرے بھی کیے۔ پہلی مرتبہ 1980ء کو لندن میں ’’کیا عیسیٰ خدا ہے؟‘‘ کے موضوع پر پانچ ہزار افراد کی موجودگی میں، جبکہ دوسری مرتبہ برمنگھم میں ’’قرآن وانجیل___کلام اللہ کیا ہے؟‘‘ کے عنوان پر بارہ ہزار افراد کے اجتماع میں مناظرہ ہوا۔
انیس شوروش نے مذکورہ بالا مناظروں کے بعد ایک کتاب An Islamic Revealed, Christian Arabic Veiws of Islamتالیف کی اور اس کتاب کے متعلق کہا کہ یہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام غلط عقائد پر مشتمل دہشت گردی کا دین ہے جو لوگوں کو جھگڑے، قتال اور خون بہانے کی طرف مدعو کرتا ہے کیونکہ اس کا اولین مصدر یہی قرآن ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قرآن کو ’الفرقان الحق‘ سے بدل لیں (۷)۔ شوروش کے الفاظ ہیں کہ ’’قرآنی أجود، کتبتُہ بالعربیۃ الجیدۃ وترجم الی اللغۃ الإنجلیزیۃ الجیدۃ ‘‘۔(۸)
انیس شوروش کی اسلام اور مسلم دشمنی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب اس نے نائن الیون کے دودن بعد امریکی ریاست ہیوسٹن کی یونیورسٹی میں بغض وعناد سے بھر پور ایک لیکچر دیا جس میں اس نے مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے پر زور دیا۔ شوروش کے الفاظ میں چونکہ دینِ اسلام دہشت گردی اور خون بہانے کا دین ہے اور اس وقت دہشت گردی کا اولین مصدر قرآن ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس قرآن کو ختم کر دیا جائے تاکہ دہشت گردی ختم ہو سکے۔ مزید براں امریکی حکومت پر زورد یا کہ وہ مسلمانوں کو امریکہ سے نکال دے اور تمام مسلمانوں کو مشرقِ وسطیٰ کے علاقہ میں جمع کرنے کے بعد ان کو ہائیڈروجن بم سے اڑا دے۔ بعدازاں اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کے لیے خصوصی سروس کا اہتمام کیا۔ شوروش کا یہ لیکچر بدکلامی اور اسلام کے خلاف گالی گلوچ سے اس قدر پُر تھا کہ یونیورسٹی کے صدر کو اگلے روز اس سلسلے میں معذرت کرنا پڑی (۹)۔
شوروش نے میڈیا کو اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کا بنیادی ذریعہ بنایا حتیٰ کہ انڈونیشیا کے مشہور ٹی وی چینلز کو خریدنے کے بعد ان کی نگرانی انڈونیشیائی عیسائیوں کے سپرد کردی(۱۰)۔
شوروش اپنی کتاب ’الفرقان الحق‘ میں قارئین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے خود کو ایک مظلوم خاندان کا فرد ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہاس کے والد اور چچازاد کی اسرائیل میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاکت نے اس کو 1976ء میں اردن کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ (۱۱) وہ مسلمانوں کو ’’I sincerely love all the Muslims‘‘ کے الفاظ کے ساتھ جھانسہ دینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ ’الفرقان الحق‘ کا سببِ تالیف بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت اوران کے فائدے کی خاطر اس کتاب کو اپنی سابقہ کتاب ’’کشف حقیقۃ الاسلام‘‘کے تتمہ کے طور پر شائع کر رہا ہوں۔اسرائیلی تھنک ٹینک نے شوروش کا مقالہ ’’الاسلام یستھدف امریکا فی مخطط یمتد عشرین عاما‘‘ بھی شائع کیا ہے۔ اس مقالہ میں اپنی کتاب ’الفرقان الحق‘ کی اہمیت اس طرح بیان کی ہے کہ
’’۔۔۔ تاکہ مسلمانوں کے قرآن کو ہر لحاظ سے چیلنج کیا جا سکے۔ اس کے جوہر،اسلوب، لغت اور مشتملات ومحتویات ، غرض یہ کہ ہر لحاظ سے اسلامی قرآن کے مقابل یہی کتاب ہے‘‘(۱۲)۔
اس کے خیال میں مسلمانوں نے 2020ء تک امریکہ کی فتح کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رکھی ہے چنانچہ اسی وجہ سے ایک وقت وہ بھی آیا جب مسلمانوں کا یہ منصوبہ 11ستمبر کو اچانک، جب امریکی سکون کی نیند سو رہے تھے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز پر حملہ کی صورت میں رونما ہوا۔
شوروش اپنے تعارف میں مزید لکھتا ہے کہ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی سٹڈی کونسل کا ممبر بھی رہا اور 76سے زائد ممالک کے دورے بھی کیے۔ وہ غیر مسلم حلقوں میں حقیقتِ اسلام کو منکشف کرنے کا متخصص (Specialist) قلم کار مانا جاتا ہے۔ شوروش کے خیال میں قرآن انسانیت کو 1400سو برس سے چیلنج کر رہا ہے کہ کوئی انسان اس جیسی کتاب تالیف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتاجو زمانہ کے مناسبِ حال اورتورات وانجیل کے مابین جمع وتطبیق کرتی ہواورادیانِ ثلاثہ یعنی عیسائیت، یہودیت اور اسلام کی تعلیمات کی جامع تفسیر ہو، لیکن ’الفرقان الحق‘نے قرآن اورمسلمانوں کے اس مقولے اور چیلنج کو باطل کر دیا ہے۔ اس کے مطابق مسلمانوں کے نبی محمد(ﷺ) پر قرآن تیئیس(23)سال اترتا رہا لیکن میں نئے قرآن کی ترتیب وتدوین میں سات سال سے زیادہ مصروف نہیں رہا۔ یہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں مرقوم ہے جس پر 1999ء سے عمل شروع ہے۔وہ مسلمانوں کے قرآن سے ’الفرقان الحق‘ کا موازنہ کرتے ہوئے اسلامی قرآن میں قواعدِ نحو ولغت کی 100سے زائد غلطیوں کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کو چند مبہم اور غیر واضح نکات پر مشتمل ایک دستاویز سے زیادہ سمجھنے کو تیار نظر نہیں آتا ۔ اس کے برعکس اپنے خود ساختہ کلام کے واضح اور تفصیلی جزئیات کے ساتھ مالا مال ہونے کا دعویدار ہے۔ (۱۳)
’الفرقان الحق‘ 20 x 15 سم کے 366 صفحات پر مشتمل ہے۔ مقدمہ، بسملہ اور خاتمہ کے علاوہ اس کی 77سورتیں ہیں۔ اس متعفن تصنیف کی ہر سورت کی آیات کی تعدادہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے برابر ہے جبکہ ہر سورت کو بتکلف ٹھونس ٹھانس کر بھر دیا گیا ہے ۔
’الفرقان الحق‘ کا جزء اول اسی سال American Center of Divine Loveکی وساطت سے امریکہ میں اومیگا۲۰۰۱ (OMEGA 2001) اور پریس وائن (PRESS WINE) سے شائع ہوا ہے ۔ (۱۵) جمعیت احیاء التراث الاسلامی کویت کے ہفت روزہ مجلہ ’’الفرقان‘‘ میں نسخہ کی قیمت 3امریکی ڈالر مذکور ہے جبکہ مذکورہ کتاب امریکہ، اسرائیل، لندن اور دیگر یورپی ممالک میں بڑی تیزی سے فروخت کی جار ہی ہے۔ ’الفرقان الحق‘ کے انٹرنیٹ ایڈیشن کی قیمت49.19امریکی ڈالر مذکور ہے(۱۶)۔
’الفرقان الحق‘ کے ناشرین و متعلقین کی یہ کوشش ہے کہ اس کتاب کو ہر مسلمان کے گھر بلکہ اس کے دل ودماغ تک پہنچا یا جائے۔ اگرچہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ مخلص مسلم سکالرز اور دانشوروں کی موجودگی میں یہ کام ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، تاہم انہوں نے اس کتاب کی تقسیم کا آغاز امریکہ کے بڑے بڑے کتب خانوں سے کیا ہے۔ ۲۰ویں صدی کے مسیلمہ سلیمان رشدی کی خصوصی توجہ سے لندن میں بھی یہ کتاب بڑے پیمانے پر دستیاب ہے۔ کویتی مجلہ ’الفرقان‘ کے مطابق اس کتاب کو خصوصاً کویت کے عجمی اداروں میں مفت تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ مشنری مقاصد کی تکمیل ہو سکے اور آنے والی نسلوں میں اسلامی تشخص کی ایک مسخ شدہ شکل پیش کی جا سکے تاکہ وہ دینِ حنیف سے روگرداں ہو ں۔ اس کتاب کا براہِ راست ہدف نوجوان طبقہ ہے جو امتِ مسلمہ کا قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے قائدین ہیں۔ بہت افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض نوجوان اور اسکالرز اجماعِ امت کے خلاف جب باتیں کرتے ہیں تو وہ نہ صرف اجتماعی ساکھ کو نقصان پہنچارہے ہوتے ہیں بلکہ اس سے امت کی وحدت کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
اس کتاب کی تقسیم کا دوسرا بڑا مقام ارضِ فلسطین ہے جہاں اسرائیل کے راستے کئی نسخے پہنچائے گئے ہیں جن کو فلسطینی تعلیمی اداروں میں رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فلسطین کو اس کے لیے کیوں منتخب کیاگیا؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنا اس وقت آسان تر ہو جاتا ہے جب بنظر غائر یہ دیکھا جائے کہ اس امریکی مسخرہ میں اسرائیلی اہداف کو کس طرح تقویت دی گئی ہے(۱۷)۔
امریکی فرقان کے ایک نمائندے کی تقریر میں اس کی طرف اشارہ کیاگیا کہ 17/04/2004تک پیرس، لندن، واشنگٹن اور دیگر کئی بڑے شہروں میں اسلامی وعربی سفارت کاروں کو اس کی تقسیم مکمل کی جا چکی ہے۔20اپریل 2004ء کو BBCنے اس کا نسخہ وصول کیا۔ اسی طرح فلسطین سے شائع ہونے والے عربی، انگریزی اور عبرانی زبان کے مجلات کے دفاتر میں 15مئی 2004ء کواس کے نسخے پہنچادیے گئے۔ 17مئی 2004ء کو لندن سے شائع ہونے والے عربی مجلات کے دفاتر کی طرف اس کو ارسال کیاگیا۔ (۱۸)مزید براں مذکورہ کتاب www.amazon.comکے علاوہ کئی دوسرے انٹرنیٹ لنکس پر دستیاب ہے۔ ہمارے لیے مقامِ افسوس بایں طور ہے کہ مسلم مفکرین واسکالرز کو اس بات کی خبر تک نہیں کہ اس فحش کتاب کو کس تیزی کے ساتھ نہ صرف غیرمسلم بلکہ مسلم علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
امریکہ سے شائع ہونے والے مشہور ومعروف جریدہ ’’صوت العربیۃ‘‘ کے چیف ایڈیٹر ولید رباح اپنے ساتھ پیش آنے والے حالیہ واقعہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’۔۔۔کچھ روز قبل ایک امریکی شخص نے ٹیلی فون پر مجھ سے رابطہ کیا جو کہ اہل ٹیکساس کے لہجہ میں عربی زبان بو ل رہا تھا۔ کہنے لگا کہ میرا نام قسیس الیاہو ہے اور میں آپ سے جتنی جلدی ممکن ہو، ملنے کا خواہشمند ہوں۔ اس نے مزید کہا کہ میرے پاس آپ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کب اور کہاں ملاقات ممکن ہے؟ اس نے کہا کہ میں ’’صوت العربیۃ‘‘ کے دفتر میں پہنچ جاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس ہمارے دفتر کا ایڈریس ہے؟ تو اس نے زور دے کر کہا کہ جناب، اس کا ایڈریس تو میرے دل ودماغ پر کندہ ہے۔ میں نے کہا کہ پلیز ضرور تشریف لائیے۔ میں فوراً دفتر پہنچا تو چند ہی منٹوں بعد طویل قدوقامت اور گہرے رنگ کے بالوں والا ایک آدمی جس کے ہاتھ میں Samsoniteقسم کا ایک بیگ تھا، آن پہنچا۔ اس نے پرتکلف انداز میں زبان کو بل دیتے ہوئے کہا ’’شلام العلیکم‘‘ میں نے وعلیکم السلام کہنے کے بعد اس کو بیٹھنے کے لیے کہا۔اس نے کہا کہ میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا اور اپنا بیگ کھولتے ہوئے ایک چمکدار لفافے میں لپٹی ہوئی کوئی چیز نکالی اور کہا کہ سر! یہ میری طرف سے آپ کو ہدیہ ہے۔ میں نے طنزیہ اندا ز میں کہا کہ اس میں کہیں انتھراکس تو نہیں کیونکہ آپ لوگوں سے کچھ بعید نہیں۔ اس نے کہا نہیں جناب بلکہ اس میں ایک نئی زندگی ہے جو میں آپ کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے یہ کتاب میرے حوالے کی جس پر عربی میں ’الفرقان الحق‘ لکھا ہواتھا۔ میں نے اس کو ایک طرف رکھا اور اس کے ساتھ معاشیات، سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر تقریباً آدھ گھنٹہ گفتگو ہوتی رہی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ اس کی تشہیر کے لیے ہمیں کیا دیں گے؟ اس کے دوبارہ استفسار پر میں نے کہا کہ اس کی تشہیر کے لیے آپ ہمیں کیا دیں گے ؟ اس نے کہا کہ ایک تو کم ہوگا، دو ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا کہ اِس ایک اور دو سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اس نے کہا، ایک یا دو ملین ڈالرلیکن شرط یہ ہے کہ ’’صوت العربیۃ‘‘ کے ہر قاری کے گھر میں یہ کتاب پہنچنی چاہیے اور یہ بھی کہ یہ کم از کم دس بار شائع ہو‘‘۔ (۱۹)
’’صوت العربیۃ‘‘ کے مدیر اعلیٰ مزید کہتے ہیں کہ:
’’ وہ آدمی چلا گیا۔ میں نے اس کتاب کو کھولا تو عربی اور انگریزی میں ایک ساتھ لکھی ہوئی اس کتاب کا مقدمہ پڑھنا شروع کیا جس میں لکھا ہوا تھا:
الی الامۃ العربیۃ خاصۃ والی العالم الاسلامی عامۃ سلام علیکم ورحمۃ من اﷲ القادر علی کل شئی۔۔۔ یوجد فی اعماق النفس البشریۃ اشواق للایمان الخالص والسلام الداخلی والحریۃ الروحیۃ والحیاۃ الابدیۃ۔۔۔ واننا نثق بالالہ الواحد الاوحد بان القراء والمستمعین سیجدون الطریق لتلک الاشواق من خلال الفرقان الحق۔
یعنی امت عربیہ کے لیے خصوصاً اور عالمِ اسلام کے لیے عموماً۔ اللہ قادر مطلق کی طرف سے تم پر سلامتی اور رحمت ہو۔ نفسِ انسانی کی گہرائیوں میں ایمانِ خالص اور سلامتی ، روحانی آزادی اور ابدی زندگی موجود ہوتی ہے۔ ہم کو یقین ہے کہ الٰہ الواحد الاَوحد کے فضل سے قارئین وسامعین ایمان وسلامتی کے یہ راستے الفرقان الحق کے ذریعے پائیں گے۔۔۔ خالقِ انسانیت نے یہ روشن ستارے اس صفی ومہدی (شوروش) کی طرف وحی کیے ہیں‘‘۔
پھر ولید رباح نے جب پہلا صفحہ پلٹا تو اس پر سورۂ بسملہ تھی :
’’باسم الاب الکلمۃ الروح الالہ الواحد الأوحد۔ مثلث التوحید موحد التثلیث ما تعدد۔ فہو اب لم یلد۔ کلمۃ لم یولد۔ روح لم یفرد۔ خلاق لم یخلق۔ فسبحان مالک الملک والقوۃ والمجد۔ من ازل الازل الی ابد الابد‘‘۔
ولید بن رباح کہتے ہیں کہ میں نے امریکی قرآن کی سورۂ فاتحہ دیکھی اور کتاب بند کرتے ہوئے دل میں سوچا کہ یہ کون سا مہدی ہے جس کو عربی زبان کے اصول وابجد کا ہی علم نہیں تو میں اس کے لطیفہ پر کیوں نہیں ہنس سکتا۔ میں نے فوراً قرآنِ مجید فرقانِ حمید کھولا اور سورۂ فاتحہ کو پوری دلجمعی سے پڑھا تو زندہ ومردہ کا فرق واضح ہوگیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرا خیال اچانک مسیلمہ کذاب کی طرف چلا گیا کہ وہ کذاب ہونے کے باوجود اس فرقان امریکی سے بدرجہا بہتر عربی زبان سے واقف تھا، لیکن پھربھی اس قابل نہ تھا کہ قرآن کا مقابل تیار کر سکے۔
اس امریکی اقدام کے پس پردہ عزائم کا اندازہ حسبِ ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:
"The purpose of The True Furqan is a tool of evangelism, because so far we have not found a breakthrough way to reach the Muslim world for Christ," Al-Mahdy said. "We have tried medicine, schools, books, movies and many other methods.(20)
’’المہدی نے کہا کہ الفرقا ن الحق کا مقصد انجیل کی تبلیغ واشاعت کے لیے اسے بطور ذریعہ اختیار کرنا ہے، کیونکہ اب تک ہمیں مسیح کی خاطر مسلم دنیا تک رسائی حاصل کرنے میں کوئی بڑی کام یابی حاصل نہیں ہوئی۔ ہم دواؤں، سکولوں، کتابوں اور فلموں سمیت کئی دوسرے طریقے بھی اختیار کر کے دیکھ چکے ہیں۔‘‘
مولفِ ’الفرقان الحق‘ کی کم علمی و کم عقلی کے ثبوت
موصوف نے اپنے انگریزی مقدمہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ’الفرقان الحق‘ وہ پہلی کتاب ہے جس نے اسلامی قرآن کے چیلنج کا مسکت جواب دیا ہے اور اس سے پہلے تاریخ کے کسی دور میں اسلامی قرآن کے مقابل کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ لکھتا ہے:
"1400 years ago the Quran challenged the world to produce a book like itself. Now for the first time in history, The True Furqan presents the gospel message in a unique style".(21)
شوروش مزید کہتا ہے کہ
"The True Furqan will be a breakthrough to Muslims not only because it answers the Qur'an's challenge, but because it also questions many of the Qur'an's teachings, as well as presenting the Gospel message, all in the language Muslims revere -- powerful, perfect, classical Arabic".(22)
شوروش کے مذکورہ بالا دعویٰ کے مطابق یہ وہ پہلی کتاب ہے جو قرآنی اسلوب کے مقابل تالیف کی گئی ہے اور یہی وہ فرقان ہے جس نے چودہ سو سال کے بعد پہلی مرتبہ قرآنی چیلنج کو قبول کیا ہے۔ درحقیقت اس کا یہ گمان مطلق جہالت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ معاندینِ اسلام نے سینکڑوں بار شوروش سے بڑھ کر اسلامی قرآن کے مدمقابل کتابیں اور آیات افترا کرنے کی کوشش کی ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسیلمہ،حمام وغیرہ جیسے کذابین ومدعیانِ نبوت نے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔۔۔ الخ) کے وزن پر آیات گھڑی تھیں۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ’’اسد الغابۃ‘‘ میں بھی ایسی عبارات ذکر کی ہیں جو قرآن کے مقابلہ میں بنائی گئیں اور اس پر تنقیدی کلام بھی کیا ہے(۲۳)۔
مزید براں امریکی قرآن میں جہاں فاتحہ،القدر،المومنین،التوبۃ،النساء، الطلاق، المائدۃ، المنافقین، الکافرین اورالانبیاء جیسی سورتوں کے نام چوری کیے گئے ہیں، وہیں بعینہ ایک دو حرف کی تحریف کے ساتھ قرآنی آیات کو بھی نقل کیا گیا ہے جو اس بات پر دال ہے کہ شاید ’الفرقان الحق‘، قرآنی کلمات،عبارات، تراکیب، ہیئت، فواصل اورآیات کے توازن وہم آہنگی سے مدد لیے بغیر کبھی معرضِ وجود میں نہ آ سکتا۔ اس ضمن میں چند مثالیں حسب ذیل ہیں:
۱۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِ ن اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَایَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلَی شَیْءٍ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیْد(۲۴)
اس کے مقابلہ میں شوروش کی افترا کردہ آیت حسبِ ذیل ہے:
مثل الذین کفروا وکذبوا بالانجیل الحق اعمالہم کرماد ن اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف لا یقدرون مما کسبوا علی شئی ذلک ہو الضلال الاکید(۲۵)
۲۔ قرآن مجید میں ہے:
ھَا اَنْتُمْ اُولَاءِ تُحِبُّوْنَہُمْ وَلَا یُحِبُّونَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتَابِ کُلِّہ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوا آمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اﷲَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرO اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّءَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِھَا وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْءًا اِنَّ اﷲَ بِمَا یَعَمَلُوْنَ مُحِیْطO ۔(۲۶)
اس کے مقابلہ میں شوروش رقمطراز ہے:
’’یا ایہا الذین آمنوا من عبادنا ہا انتم اولاءِ تحبون الذین یعادونکم، وہم لا یحبونکم، واذا لقوکم قالوا: آمنا بما آمنتم واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ، وان تمسسکم حسنۃ تسوء ہم وان تصبکم سیئۃ یفرحوا بہا، وان تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدہم شیئا، ولا یضرون الا انفسہم وما یشعرون‘‘۔(۲۷)
انیس شوروش کے دیگر مقاصد کے ساتھ ساتھ یہ مقصد بھی پوشیدہ نہیں کہ ’الفرقان الحق‘ دراصل اسلام اور عیسائیت کے مابین بُعد پیدا کرنے کی کوشش ہے کیونکہ یہودی ہونے کے باوجود اس نے اس کتاب میں عیسائی تعلیمات کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے ساتھ نفرت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن منصف مزاج عیسائی دانشوروں نے شوروش کی اس کوشش کو کسی قسم کی قبولیت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سید عبدہ عبدالرزاق لکھتے ہیں:
’’۔۔۔علی شبکۃ الانترنت یقف علی الکثیر من اقوال النصاری المنصفین الذی یعلمون ان ہذا الکتاب لا یمت للسماء بصلۃ تقول اہداہن ( انا برائی ان الشئی او الکتاب المسمی الفرقان الحق ما ہو الا کذب وتحریف وہجوم علی الاسلام مع اننی مسیحیۃ۔۔۔ واظن ان الاسلام قد حفظ کتابہ القرآن وسیحفظہ۔۔۔‘‘۔ (۲۸)
شوروش کی اس کتاب میں تناقضات بھی جا بجا ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافاً کَثِیْراً (۲۹)
۱۔ یہودیوں کے نزدیک بنی اسرائیل کے بعد کسی نبی یا رسول کا آنا ممکن نہیں جیسا کہ شوروش ’الفرقان الحق‘ کی سورۂ انبیاء میں کہتا ہے:
’’ ما بشرنا بنی اسرائیل برسول یاتی من بعد کلمتنا وما عساہ ان یقول بعد ان قلنا کلمۃ الحق وانزلنا سنۃ الکمال۔۔۔‘‘ (۳۰)
اس دعویٰ کے پیش نظر وہ دراصل عیسائیت کی بھی تنکیر کررہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ اپنی کتاب میں ’یشوع‘، ’الاناشید لسیلمان‘،’انجیل متی‘، ’انجیل مرقس‘،’ رؤیا القدیس یوحنا‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کرتا ہے۔
۲۔ شوروش کا بنایا ہوا قرآن عربی زبان میں ہے اور یہ اصول ہے کہ ’’ما من نبی اُرسل الا بلسان قومہ‘‘۔ تو یہ ’الفرقان الحق‘ کس طرح عربی زبان میں نازل ہوگیا؟ کیونکہ یہودی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ حضرت ہاجرہ سلام اﷲ علیہا کو(نعوذباللہ) غلام اور باندی کہتے ہیں، بایں وجہ اس نسل سے نبوت نہیں چل سکتی(۳۱)۔ کیونکہ بنی اسرائیل حضرت یعقوب جبکہ اہلِ عرب حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اولاد ہیں تو ’الفرقان الحق‘ کس طرح اہلِ عرب کے لیے نازل ہو سکتا ہے؟
۳۔ امریکی قرآن کی سورۂ الکبائر کی آیت 9کے الفاظ ہیں: ’’مومنین منافقین‘‘۔ ایک انسان مومن ہونے کے ساتھ کسی طرح منافق ہو سکتا ہے؟
۴ ۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ شوروش نے بہت سی قرآنی آیات کا سرقہ کیا ہے ، تو جب اس کے بقول مسلمانوں کا قرآن (نعوذ باللہ) باطل ہے تو اس نے کیوں اس ’ باطل قرآن‘ کی آیات کا سرقہ کیا؟ جیسا کہ وہ کہتا ہے ’’ومن یبتغ غیر الانجیل والفرقان کتابا فلن یقبل منہ ‘‘۔
اس کے علاوہ بھی سینکڑوں تضادات ’الفرقان الحق‘ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
عالمِ اسلام کا موقف
تمام اسلامی ممالک میں بالعموم اور مصر و سعودی عرب میں بالخصوص اس کریہہ اقدام پر سخت موقف کا اظہار کیا گیا ہے، ماسوائے وطنِ عزیز پاکستان کے کہ جہاں تادمِ تحریر کسی پلیٹ فارم سے کسی قسم کا کوئی ٹھوس موقف یا مذمت سننے یا دیکھنے میں نہیں آئی۔ ذیل میں بطورِ نمونہ مصر، سعودی عرب اور فلسطین کے علما کی طرف سے اس کی مذمتی بیانات ذکر کیے جاتے ہیں:
جغرافیائی حدود کے اعتبار سے مصر اسلامی دنیا کے علمی میدان میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے مختلف جرائد ورسائل میں اس بات کا اظہار کیاگیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی تعاون کے ساتھ مصر سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب کی نشرواشاعت کا انتظام کرے(۳۲)۔ اس کے رد عمل میں جامعہ ازہر کے رئیس ڈاکٹر سید طنطاوی نے شرعی طور پر اس جھوٹے نسخے کی اشاعت کو حرام اور کفر قرار دیا۔ ان کے الفاظ ہیں:
’’یجب الرد علی ذلک والتنبیہ علی ان ہذا المولف لا اساس لہ من الصحۃ وتجب مصادرتہ۔۔۔ ان حکم من یوزع قرآنا مزورا خاصۃ اذا کان یعلم حقیقتہ ویتعمد توزیعہ ویقصد رد الناس عن الحق واستدراجہم الی الباطل، فعملہ ہذا عندئذٍ والعیاذ باﷲ ہو خروج عن الاسلام بل ہو الکفر بعینہ، ومن یفعل بذلک یکون محارباً للاسلام‘‘۔(۳۳)
مجمع البحوث الاسلامی کی ایک قرارداد کے مطابق انیس شوروش کا انتقامی فعل قرار دیا گیا جو اس نے احمد دیدات مرحوم سے مناظرہ میں شکست کے نتیجہ میں انجام دیا ہے اور یہ کہ شوروش اسلام کی تحقیر کرنے پر مستوجب سزا قرار دیا (۳۴)۔
سعودی عرب میں رابطہ عالمِ اسلامی مکۃ المکرمۃ کی مجلسِ تاسیس نے دینِ حنیف اور قرآنِ کریم کے متعلق اس فعلِ شنیع کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ امریکہ قرآن درحقیقت مسلمانوں کی اسلامی ثقافت اور قرآن کے ساتھ گہری وابستگی کی وجہ سے ان کو برانگیختہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے ذریعے رسالتِ محمدیہؐ اور آپﷺ کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے جیسے خطرناک عزائم مقصود ہیں۔ چنانچہ مسلم حکومتیں اس کی اشاعت رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
رابطہ عالمِ اسلامی نے دیگر اسلامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مشترکہ طورپر قرآن کے دفاع میں اپنی کوششیں صرف کریں اور اسلام دشمن مقاصد کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام اور قرآن کا دفاع کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کریں(۳۵)۔
فلسطین کے مشہور عالم الشیخ عکرمہ نے ’الفرقان الحق‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : ’’لو کنا نحن المسلمین قد انتقدنا ای دین سماوی لقامت الدنیا ولم تقعد‘‘ ۔ یعنی اگر ہم مسلمان یہودیت یا عیسائیت پر تنقید کرتے تو ساری دنیا کھڑی ہوجاتی اور چین سے نہ بیٹھتی، باوجودیکہ مسلمانوں کا یہ موقف ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی نبی کا تمسخر اڑائے یا اس پر تنقید کرے اور مسلمان حضرت داؤد وسلیمان علیہما السلام کو نبی مانتے ہوئے ان کو لائق صد احترام سمجھتے ہیں حالانکہ وہ یہودیوں کے بادشاہ ہیں (۳۶)۔
فلسطینی تنظیم ’حرکتِ اسلامی‘ کے نائب رئیس کمال خطیب نے اس کوشش کو اسلام پر ایک حملہ اور دینی شعار کے خلاف سازش قرار دیا(۳۷)۔
مسلم سکالر شیخ ابو اسحق الحوینی نے اس مضحکہ خیز کتاب(الفرقان الحق) کے متعلق شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قاہر ہ کی جامع مسجد میں اس پر تنبیہ و تردید کو واجب قرار دیا :
واخطر ما فی ہذہ الحرف ان جماہیر المسلمین غافلۃ عن ہذا المخطط۔۔۔ وہذا یقضی ان یکون عندنا جیش جرار من المحققین وعلماء الحدیث الذین یعرفون المصادر الاصلیۃ، فان لم نفعل ذلک فہذا ہو الضیاع بعینہ۔۔۔‘‘(۳۸)۔
یعنی ہمارے پاس ہر وقت ایسے محققین کا لشکر موجود رہنا چاہئے جو ان جیسے شبہات کا فوری طور پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
سید عبدہ عبدالرزاق نے اس کتاب پر اسلامی حلقوں کی طرف سے جس کثرت سے Feed Back آنے کی ضرورت تھی، اس کے نہ آنے پر دکھ کا اظہار کیا:
’’ان رد الفعل الاسلامی علی ہذا الفرقان اقل بکثیر مما یجب، وہناک الکثیر من الدول الاسلامیۃ یوضع حولہا علامات استفہام کبیرۃ، فالکتاب یوزع فی اراضیہا، ولنا ان نسال ہؤلاء: ہل سیخیکم الصمت علیکم وکتاب الکفر یوزع باراضیکم؟‘‘(۳۹)۔
غیر مسلم ممالک میں بھی مختلف اسلامی آرگنائزیشنز نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ برطانیہ میں مسلم تنظیموں نے برطانوی حکومت کو کثیر تعداد میں خطوط ارسال کیے ہیں جن میں ایسی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے (۴۰)۔
امریکی کی مسلم تنظیموں نے بھی شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اس کو دین اسلام کے خلاف متعصبانہ اقدام قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی ہے۔ امریکی حکومت کو ایک وضاحتی بیان میں کہاگیا ہے کہ جب طالبان گورنمنٹ نے ایک مجسمے کو گرایا تھا تو ساری دنیا سے اس کی مذمت شروع ہوگئی لیکن جب امریکہ میں بیٹھا کوئی شخص مسلمانوں کے تشریعی مصدر اور انسانیت کے دستور قرآن مجید کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دانشوروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی (۴۱)۔
شاید کچھ اہل علم یہ موقف بھی رکھتے ہوں کہ قرآن اور اسلام کے خلاف شائع ہونے والے مغربی لٹریچر کو قابلِ غور سمجھنا یا اسے کچھ وقعت دینا بھی اس کے شیوع کا سبب ہے، لیکن اس موقف کو کس اعتبار سے قریب از حکمت سمجھ لیا جائے کہ قرآن دشمن مغربی لٹریچر اور اس کے اثراتِ فاسدہ پر ہم خاموشی اختیار کیے رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امید رہے کہ بہت جلد ہم سرزمینِ یورپ پر اسلام کے جھنڈے گاڑنے والے ہیں؟
قرآن کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے ہمارا موقف ہے ، اور یقیناًہم اس میں حق بجانب ہیں، کہ اسلام اور قرآن کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بازگشت بننے سے قبل ہی دبادینا مسلمانوں کی عموماً اور اہلِ علم کی خصوصاً ذمہ داری ہے، کیونکہ ایسا لٹریچر یقیناًپختہ مسلمان پر تو شاید اثرانداز نہ ہوسکے لیکن نو مسلم اور مستقبل قریب میں اسلام قبول کرنے والے وہ لوگ جو دینِ اسلام کے مطالعہ میں مصروف ہیں، اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے جو کسی طور پر بھی اسلام اور مسلمانوں کے حق میں نہیں۔
امریکہ سے شائع ہونے والے ’الفرقان الحق‘ کی اصلیت اور اس کے پس پردہ مکروہ عزائم کا پردہ چاک کرنے کے لیے یہ تحریر پیش کی گئی۔ اہل علم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس سے باخبر ہونے کے بعدمغرب کے اس متعصبانہ اقدام پر شدید اظہارِ مذمت کے ساتھ ساتھ اس کے چہرہ سے نقاب کشائی میں اپنا علمی فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔
حواشی
۱۔ دیکھئے: Arthur Jeffery, The Quran as Scripture, Russel & Moore Company, N,Y,1952.
۲۔ دیکھئے: (G.Margoliouth, INTRODUCTION TO J.M.RODWELL'S THE KORAN, New
Yark, Everyman's Library, 1977, p. vii)
۳۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، قرآن مجید ایک مسلسل معجزہ، ص۷، اورینٹل کالج میگزین ،جلد۷۶،۲۰۰۱ء
۴۔ دیکھئے: http://www.alminbar.net/alkhutab/khutbaa.asp?media
۵۔ دیکھئے: http://saaid.net/Doat/ahdat/54.htm
۶۔ السید عبدہ عبدالرزاق ابو عبدالرحمن، القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۵۵، رقم الایداع بدارالکتب 2004/21547 مصر
۷۔ دیکھئے: http://www.messiahsgifts4u.com/truefurqan.html
۸۔ دیکھئے: Monthly GATRA, No. 1125, May 2002
۹۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص ۵۶ و۵۷
۱۰۔ دیکھئے: http://www.saaid.net/Doat/ahdal/54.htm
۱۱۔ ۱۲ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۵۷
۱۳۔نفس المصدر، ص۵۸
۱۴۔ نفس المصدر، ص۵۹
۱۵۔ دیکھئے: http://www.alarabonline.org/index.asp?fname
۱۶۔ دیکھئے:
http://www.amazon.com/exec/obidos/tg/detail/-/1579211755/qid=1096805827/sr=1-1/ref=sr_1_1/002-446804-6629664?v=glance&s=books
۱۷۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۶۴
۱۸۔ دیکھئے:
http://www.muslimuzbekistan.com/eng/ennews/2005/05/ennews01052005a1.html
۱۹۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۶۶ تا ۶۸
۲۰۔ ۲۲ دیکھئے:
http://www.muslimuzbekistan.com/eng/ennews/2005/05/ennews01052005a1.html
۲۳۔ ڈاکٹر غازی عنایۃ کا مضمون ’’امثلۃ علی بعض المتقولین علی القرآن‘‘ بحوالہ:
www.balagh.com/mosoa/quran/7zOtb5pi.htm
۲۴۔ القرآن الحکیم:ابراہیم:۱۸
۲۵۔ امریکی قرآن(الفرقان الحق):سورۃ الثالوث/۱۸
۲۶۔ القرآن الحکیم:آلِ عمران:۱۱۹،۱۲۰
۲۷۔ امریکی قرآن(الفرقان الحق):سورۃ الخاتم:۱
۲۸۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص ۷۳
مزید دیکھئے:http://writeres.alriyadh.com.sa)
۲۹۔ القرآن الحکیم:النساء: ۸۲
۳۰۔ امریکی قرآن(الفرقان الحق): سورۂ انبیاء
۳۱۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۷۶
۳۲۔ ۳۳ جریدۃ الاسبوع الاثنین:06/12/2004، عدد403، مصر
۳۴۔ عقیدتی الثلثاء، ۲۹ ذوالحجۃ/ ۸ فروری ۲۰۰۵ء، عدد ۶۲۷
۳۵۔ ۳۷ الحیاۃ الوسط:26/04/2004
۳۸۔ دیکھئے: http://www.alheweny.com/iftra2_5.HTM
۳۹۔ القرآن الامریکی: اضحوکۃ القرن الحادی والعشرین، ص۱۷۳
۴۰۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: جریدۃ الوفد: الاثنین: ۳۱ جنوری ۲۰۰۵ء۔۔۔
مزید دیکھئے: http://www.alwafd.org/front/index.php
۴۱۔ دیکھئے: http://www.alheweny.com/index21
’’سر اقبال‘‘ بنام ’’حسین احمد‘‘ ۔ ماضی کی ایک کہانی کا معما ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب کی روشنی میں
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
کتابیں لکھے اور چھاپے جانے کی موجودہ گرم بازاری میں اگر کوئی واقعی ’’کتاب‘‘ ہاتھ آ جائے تو کچھ زیاہ ہی اچھی معلوم ہونا قدرتی بات ہے۔ علامہ اقبال کے سوانح حیات میں علامہ کے فرزند ارجمند جسٹس (ریٹائرڈ) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے قلم سے نکلی ہوئی ’’زندہ رود‘‘ ایک ایسی ہی کتاب کہی جانے کی مستحق ہے۔ کتاب گو تازہ بتازہ نہیں، مگر راقم سطور کے ہاتھ میں وہ گزشتہ دنوں ہی آئی۔ تین جلدوں میں ہونے کے باوجود دلچسپی کو آخر تک قائم رکھنے والی۔
برصغیر کے پڑھے لکھے لوگوں میں کم ہی ہوں گے جنھیں علامہ کی شاعری سے دلچسپی نہ رہی ہو۔ تھوڑی بہت راقم سطور کے حصہ میں بھی آئی، اور ظاہر ہے کہ یہ کچھ سمجھ لینے کی ہی بنا پر ہو سکتا تھا۔ مگر ’’زندہ رود‘‘ پڑھ لینے کے بعد جب کسی ضرورت سے ’کلیات اقبال‘ کھولی تو اندازہ ہوا کہ اب بہت سے اشعار کی وہ تہیں کھل کر سامنے آئیں گی جو شاعر کی زندگی اور شخصیت سے واقفیت ہی کے نتیجے میں کھل سکتی ہیں۔ خاص کر ان کی شاعری کا جو ایک اہم موضوع ان کی اپنی ذات ہے، اس سلسلہ کے اشعار کے بارے میں تو یہ کتاب بہت صاف صاف بتائے دیتی ہے کہ اپنی کسی کمزوری کی طرف علامہ نے اشارہ کیا ہے تو اس میں کس حد تک حقیقت ہے اور کس حد تک شاعری۔ اور کہیں جو کوئی خوبی جتائی ہے تو اس کی واقعی حقیقت کیا ہے۔ اسی طرح اگر علامہ کے کلام میں کہیں ایسے اشعار کسی کو نظر آتے ہیں جو ان کی شاعری کے عمومی مزاج سے جوڑ نہ کھاتے ہوں، ایسے اشعار کا مسئلہ حل کرنے میں بھی یہ کتاب مددگار ہونی چاہیے۔ ایسے اشعار کی ایک بہت نمایاں مثال ’’حسین احمد‘‘ کے عنوان سے کلیات کی تقریباً آخری نظم ہے جو علامہ کی وفات سے کوئی دو ماہ قبل (فروری ۱۹۳۸ میں) کہی گئی اور اس کی تلخی سے ملی فضا کچھ ایسی مکدر ہوئی کہ آج تک صاف نہ ہو پائی۔ ان اشعار کا کوئی جوڑ علامہ کی شاعری کے عمومی مزاج اور ایک صاحب علم وفضل کی حیثیت سے ان کے مسلمہ مقام ومرتبہ کے ساتھ کبھی سمجھ میں نہ آ سکا تھا۔ اس کتاب کے ذریعہ پہلی بار ہوا ہے کہ یہ ’’عقدۂ مشکل‘‘ حل ہوتا نظر آیا۔ اس تحریر کا اصل مقصد اسی یافت کا اظہار وبیان ہے۔
علامہ کے یہ اشعار ہمارے مخدوم ومحترم استاذ حدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ (م ۱۹۵۷ء) کے اس نظریہ کی تردید میں سپرد قلم ہوئے تھے کہ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وطنی رشتہ اتحاد کی بنا پر سیاسی نوعیت کی متحدہ قومیت کا رشتہ نہ صرف قائم ہو سکتا ہے بلکہ ملک میں تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یہ رشتہ قائم ہو۔ وہ موقع جس پر یہ اشعار سر ہوئے، اس نظریے کے سلسلہ میں حضرت مولانا کے کسی تفصیلی اظہار وبیان کا نہ تھا۔ بس ایک تقریر کی اخباری رپورٹ تھی جو علامہ کے لیے اس طرح کے سخت ترین الفاظ میں رد عمل کو کافی ہو گئی کہ
عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بو العجبیست
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر زمقام محمد عربیست
بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بو لہبیست
تین شعرو ں کے الفاظ میں جتنی سخت باتیں سما سکتی تھیں، اس کے لحاظ سے کوئی کسر یہاں نہیں رہ گئی ہے۔ تقریر اگرچہ دہلی کے ایک سیاسی جلسہ میں تھی، مگر اسے ’’بر سر منبر‘‘ ٹھیرایا گیا ہے اور وعظ یا تقریر نہیں، ’’سرود‘‘ (بہ معنی راگ) کا نام اسے دیا گیا ہے۔ پھر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ تعلق دیوبند جیسے دینی مرکز سے مسند نشینی کا ہے، مگر مرکز دین حضرت محمد عربی ﷺ کے مقام سے واقفیت کی گویا ہوا بھی نہیں لگی۔ اور پھر آخر میں نصیحت ہے کہ دین تو تمام تر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کا نام ہے، تم اگر ان کی ذات گرامی تک نہیں پہنچ پاتے تو پھر تمھارے حصے میں جو چیز رہ جاتی ہے، وہ ’’بو لہبیت‘‘ (یعنی معاذ اللہ، مصطفی دشمنی) ہے۔
علامہ کے کلام میں یہ حقیقت یقیناًبے نقاب ہے کہ وہ یورپ کے پیدا کردہ وطنی قومیت کے سیاسی تخیل کو انسانیت کے لیے ایک لعنت اور خاص دین ومذہب کے حق میں تو ’’کفن‘‘ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ’’زندہ رود‘‘ میں آپ کے اس فکر کی پوری تفصیلات سامنے آ جاتی ہیں، ا س لیے یہ تو سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ علامہ جس چیز کو مذہب کا کفن جان رہے ہیں، اس کی دعوت کسی قابل لحاظ اسلامی شخصیت کی طرف سے آئے تو وہ اس کی تردید میں ’’ضبط سخن‘‘ نہ کر سکیں، لیکن یہ فرض کرتے ہوئے بھی کہ حضرت مولانا مدنی کا جو کہنا تھا، وہ وہی تھا جس کی حضرت علامہ کے فکر اور فہم اسلام میں گنجایش نہ تھی، تب بھی اس آخری درجہ کے جارحانہ انداز تردید کی توقع، جس سے ان کے اظہار مدعا سے زیادہ فریق ثانی کی معلوم ومعروف حیثیت عرفی کو خاطر میں نہ لانے کا اظہار ہوتا ہے، ان کے جیسے مرتبہ کی شخصیت سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ اشعار میں ’’دیوبند‘‘ کا حوالہ دلیل ہے کہ علامہ پر ’’حسین احمد‘‘ کی نہایت قابل لحاظ حیثیت عرفی مخفی نہ تھی، بلکہ یہی چیز گویا باعث ہوئی کہ وہ ان کی مبینہ تقریر پر نکتہ چیں ہوں۔ پھر آخر کیونکر یہ ممکن ہوا کہ اس تقریر کا حوالہ ’’سرود بر سر منبر‘‘ کے توہین آمیز الفاظ میں آئے؟ اور اس سے بھی بڑھ کر ’’چہ بے خبر ز مقام محمد عربیست‘‘ فرماتے ہوئے علامہ یہ بھی نہ سوچیں کہ یہ وہ کس کے بارے میں فرما رہے ہیں؟ اور پھر کسے ’’بہ مصطفی برساں خویش‘‘ کا سبق دے رہے ہیں؟ وہ کہ جس نے مدتیں در مصطفی پہ فقیرانہ گزاری ہیں اور جس کا دیوبند میں شغل ہی درس حدیث مصطفی ہے؟
کیا یہ کہا جائے کہ عشق مصطفی (ﷺ) کی جو دولت علامہ کو نصیب سے مل گئی تھی، اس کے حوالے سے وہ خود بھی معاذ اللہ اسی خامی کا شکار ہوئے جس کا گلہ واعظ زاہد کے بارے میں کرتے ہوئے فرما گئے ہیں کہ
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے
یہ علامہ کی شدت بے پناہ کے مقابلے میں محض ایک ہلکے سے شکوے کا پیرایہ ہوگا، مگر ایسا کہنا وہی پسند کرے گا جسے اندازہ نہیں یا وہ بھول گیا ہے کہ علامہ کے عشق مصطفی سے قدرت نے کیا کام ان کی شاعری کے حق میں لیا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر خود حضرت مولانا علیہ الرحمۃ نے علامہ کی اس سراپا آتش تنقید کے جواب میں جس پاس ولحاظ سے کام لیا ہے، اس کے ہوتے ہوئے آپ کے ایک کفش بردار کو کہاں زیبا کہ وہ کوئی الگ راہ چلے؟ علامہ کی اٹھائی ہوئی اس بحث کے سلسلہ میں ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ کے عنوان سے جو ایک مقالہ حضرت والا نے اس موقع پر تحریر فرمایا، وہ مکمل ہونے نہ پایا تھا کہ علامہ نے وفات پائی۔ اس ناگہانی خبر کے حوالے سے اس مقالہ کی تمہید میں رقم طراز ہوئے ہیں:
’’جب کہ میں قومیت کی لفظی بحث کے اختتام پر پہنچ کر مقصد اصلی سے نقاب اٹھانا چاہتا تھا، ناگاہ جناب ڈاکٹر صاحب مرحوم ومغفور کے وصال کی خبر شائع ہوئی۔ اس ناسزا ودل گداز خبر نے خیالات وعزائم وافکار پر صاعقہ کا کام کیا۔ طبیعت بالکل بجھ گئی اور عزائم فسخ ہو گئے۔‘‘
پھر آئندہ صفحہ پر یہ کہنے کے لیے کہ ڈاکٹر اقبال صاحب اگرچہ مجھ سے اس درجہ فائق وبرتر تھے کہ میں گویا ان کے سامنے طفل ابجد خواں، مگر ہندوستانی سیاست کے مسئلہ میں ساحران فرنگ کے سحر کا شکار ہو گئے تھے، اور ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بڑے غلطی کر جاتے جبکہ چھوٹے محفوظ رہتے ہیں، فرمایا کہ:
’’یہ امر یقینی اور غیر قابل انکار ہے کہ جناب ڈاکٹر صاحب کی ہستی کوئی معمولی ہستی نہ تھی اور ان کے کمالات بھی غیر معمولی تھے۔ وہ آسمان حکمت وفلسفہ، شعر وسخن، تحریر وتقریر، دل ودماغ اور دیگر کمالات علمیہ اور عملیہ کے درخشندہ آفتاب تھے۔ مگر باوجود کمالات گونا گوں ساحرین برطانیہ کے سحر میں مبتلا ہو جانا یا بعض غلطیوں میں پڑ جانا اور کسی ابجد خواں طالب علم کا اس سے محفوظ رہنا کوئی تعجب خیز بات نہیں:
گاہ باشد کہ کودک ناداں
بر ہدف بر زند تیرے
(کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نادان بچہ کا تیر نشانہ پر بیٹھ جائے)‘‘۔
اے کاش علامہ اپنے ہدف کے اس رد عمل کو دیکھنے کے لیے زندہ رہے ہوتے! یہ راقم نہیں سمجھتا کہ مرحوم علامہ نے یہ تحریر پڑھی ہوتی تو اس بے نفسی اور خاک ساری کے لیے اپنی زندگی کا کوئی ایسا دوسرا تجربہ وہ یاد کر پاتے۔ اور یقین کیا جا سکتا ہے کہ علامہ کے ساتھ ’’سر‘‘ کا برطانوی خطاب اگر نہ لگا ہوتا تو متحدہ قومیت کی بابت آپ کی رائے میں برطانوی سحر کا دخل سمجھنے کی بات بھی ہمیں حضرت والا کی اس عبارت میں نہ ملتی۔
الغرض، اگر حضرت مولانا قومیت کا وہ نظریہ پیش کر رہے ہوتے جو حضرت علامہ کے فہم اسلام سے سیدھا ٹکراتا تھا، تب بھی اس پر رد عمل کا یہ پیرایہ اظہار کہ مسند نشین دیوبند کو بیک جنبش قلم ’’بو لہبی‘‘ تک پہنچا دیا جائے، یہ علامہ سے کسی قدر کم درجہ کی فہمیدہ وسنجیدہ شخصیت سے بھی بآسانی سمجھ میں آنے والی بات نہ تھی، لیکن مولانا کی تقریر کو تو فی الواقع دور کا تعلق بھی اس بات سے نہ تھا جو حضرت علامہ کو اس قدر ناگوار گزری۔ علامہ جس وطنی قومیت کو ’’مذہب کا کفن‘‘ سمجھتے تھے، مولانا بھی اسے ایسا سمجھنے میں علامہ سے اگر آگے نہیں تو پیچھے بہرحال نہیں تھے۔ مگر لگتا ہے کہ معاملے کے ایک خاص پس منظر کی بنا پر علامہ کو اپنا ہی بیان کردہ یہ نکتہ فراموش ہو گیا تھا کہ:
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
وہ تحریک خلافت جس سے ’’زندہ رود‘‘ کے بیان کے مطابق علامہ دور اور نفور رہے اور جس میں حسین احمد کا مولانا محمد علی جوہر وغیرہ کے ساتھ وہ جانبازانہ حصہ تھا جس کی تفصیل کے لیے ان لوگوں پر چلائے گئے مقدمہ کراچی (۱۹۲۱) کی روداد پڑھنی چاہیے، یہ اس اسلامی خلافت کو بچانے کے لیے ہی اٹھائی گئی تحریک تو تھی جس کا ازروئے وطن ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ہاں وہ اسلامی رشتہ ان کا اس کے ساتھ تھا جو جغرافیائی حدود وقیود سے بالاتر ہے، اور یہ خلافتی جدوجہد اسی متحدہ قومیت کے ساتھ تھی جس کا حوالہ مولانا مدنی کی زیر بحث تقریر میں آیا۔ کون نہیں جانتا کہ اس تحریک نے مہاتما گاندھی کو اپنی سربراہی کے لیے قبول کر لیا تھا اور ایسا ہونے میں ’’حسین احمد‘‘ سے کہیں زیادہ حصہ مولانا محمد علی جوہر کا تھا جن سے برتر اسلامیت کا دعویٰ شاید علامہ اقبال کو کبھی نہ ہوا ہو۔ یہی وہ ’’متحدہ قومیت‘‘ تھی جس کا حوالہ مولانا اپنی تقریر میں دے رہے تھے، نہ کہ وہ جو علامہ کے تصور میں تھی جس میں مسلمان، مسلمان نہیں رہ سکتا۔
حضرت حسین احمد کے جاننے والے جانتے ہیں کہ آپ کی سیاسی زندگی ۱۹۱۷ء سے شروع ہوتی ہے جبکہ خلافت عثمانیہ کے باغی شریف حسین نے مکہ میں ان کو ان کے محترم استاد شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ساتھ گرفتار کر کے انگریزوں کے حوالے کیا اور پھر انگریزوں نے ان کو اپنی حکومت کے خلاف باغیانہ عزائم کے حوالے سے جزیرۂ مالٹا میں چار سال قید رکھا۔ چار سال بعد ۱۹۲۰ کے شروع میں ان حضرات کی رہائی عمل میں آئی۔ شیخ الہند کی یہ گرفتاری بے وجہ نہ تھی۔ یہ جنگ عظیم اول کا زمانہ تھا کہ آپ برطانوی حکومت کے خلاف ایک مکمل باغیانہ اسکیم لے کر ہندوستان کے باہر نکلے تھے۔ حجاز مقدس کو اولین منزل بنایا، اس لیے کہ وہاں حج کے زمانے میں ان میں سے بیشتر لوگوں سے رابطہ آسان ہو سکتا تھا جن سے اپنی اسکیم کے سلسلے میں رابطہ مطلوب تھا اور اس فہرست میں سب سے پہلے ترکی حکام تھے جن سے رابطہ ہوا بھی، مگر قسمت سے اسی زمانہ میں شریف مکہ حسین پر انگریزوں کے ڈورے کام کر گئے اور حجاز مقدس عثمانی خلافت کے اقتدار سے نکل گیا۔
مارچ ۲۰ء میں شیخ الہند رہا ہوئے تو بڑھاپے اور قید کے شدائد نے زار ونزار کر دیا تھا۔ نومبر ہی میں آپ کی شمع حیات گل ہو گئی اور پھر برطانوی حکومت کے خلاف آپ کے مشن کی علم برداری ’’حسین احمد‘‘ کے حصہ میں آئی۔ اسیران مالٹا نے جب رہائی پائی تو اس سے پہلے خلافت تحریک شروع ہو چکی تھی اور یہ صرف مسلمانوں کی نہیں، تمام ہندوستانیوں کی تحریک بن گئی تھی جس میں ہندو اکثریت کے سب سے بڑے نمائندہ مہاتما گاندھی پیش پیش تھے۔ شیخ الہند جن کا تحریک خلافت کی پوری مسلم قیادت نے مع گاندھی جی کے بمبئی پہنچ کر نہایت پرجوش استقبال کیا تھا، اس تحریک کے لیے سب سے بڑی اسلامی اتھارٹی کے حامل مانے گئے اور آپ نے اس متحدہ تحریک اور اس کے پروگرام عدم موالات (نان کو اپریشن) پر مہر تصویب ثبت فرمائی۔ اسی پر عمل درآمد کے نتیجے میں حسین احمد پر مولانا محمد علی وغیرہ کے ساتھ بغاوت کا مشہور مقدمہ کراچی چلا اور دو دو سال کی جیل ہوئی۔
یہ ہے حسین احمد کے اس نظریہ متحدہ قومیت کا پس منظر جس کا آپ کی ۳۸ء کی اس تقریر میں حوالہ ایک طوفان اٹھا گیا۔ یعنی یہ وہی متحدہ قومیت تھی جس کے جھنڈے کے نیچے تحریک خلافت کے دور میں علامہ اقبال اور مسٹر محمد علی جناح جیسے خال خال افراد کو چھوڑ کر مسلم ہندوستان کی وہ تمام ہستیاں سرگرم رہی تھیں جن کی طرف ملی مسائل کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھتی تھیں۔ علامہ اقبال، حسین احمد سے کچھ زیادہ واقف ہوں یا نہ ہوں، متحدہ قومیت والی بات کے اس پس منظر سے ناواقف نہیں ہو سکتے تھے۔ تحریک خلافت سے ان کے بے تعلق رہنے کی تو ایک اہم وجہ یہی تھی، مگر یہ دینی حوالے سے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تھی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں:
’’قیام انگلستان کے دوران جب وہ (ذہنی) انقلاب سے گزرے اور انھی ایام میں برصغیر میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا اصول تسلیم کر لیا گیا تو اقبال، سرسید احمد خان کے سیاسی مکتبہ فکر کو درست خیال کرتے ہوئے ذہنی وقلبی طور پر اس سے وابستہ ہو گئے۔ سرسید کے سیاسی مکتبہ فکر کی منطق یہ تھی کہ ....... جمہوریت کے ذریعہ قومیت متحدہ کی بنیاد تبھی رکھی جا سکتی تھی جب ہندو اور مسلمان مرکزی حکومت میں برابر کے حصہ دار ہوں، لیکن فرقہ وارانہ منافرت کے سبب ہندو ایسی صورت کو قبول کرنے کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہو سکتے تھے۔ پس برصغیر میں قومیت متحدہ کا تخیل خیال خام تھا۔‘‘ (زندہ رود، جلد سوم، صفحہ ۲۹۱، ۹۲)
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انھیں اصولاً متحدہ قومیت سے انکار نہ تھا۔ نمائندگی میں برابری کی شرط کے ساتھ وہ منظور تھی۔ پس علامہ کے اس سیاسی فکر وعقیدہ کا بے شک یہ حق تھا کہ کوئی آواز اس شرط کے بغیر متحدہ قومیت کے حق میں بلند کی جا رہی ہو تو اسے چیلنج کریں، مگر اس کے لیے سیاسی زبان کے بجائے یہ دینیات کی زبان کا سوال کیونکر پیدا ہو گیا؟ اور وہ بھی ایک اعلیٰ درجہ کے مستند ومسلم عالم دین کے مقابلے میں! جبکہ علامہ اسلامی دینیات پر کتنا بھی عبور اپنے مطالعہ کی بنیاد پر رکھتے ہوں، مگر ان جیسے ذی فہم کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس عبور کو باضابطہ تحصیل کا ہم سر سمجھتے ہوں گے، اور اگر سمجھتے بھی ہوں، تب بھی جو زعم وپندار آمیز لہجہ انھوں نے اس چیلنج میں اختیار فرمایا، وہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ضرور اس کے پس منظر میں کچھ خاص حالات ومعاملات ہونے چاہییں، ورنہ یہ علامہ کے مقام سے فروتر بات تھی اور قطعاً غیر متوقع بات تھی۔ ’’زندہ رود‘‘ نے انھیں خاص حالات سے پردہ اٹھانے کا کام انجام دیا ہے۔
کم سے کم راقم سطور کے علم میں اس سے پہلے نہ تھا کہ حضرت علامہ نے برصغیر کی سیاست میں کوئی سرگرم عملی حصہ بھی لیا۔ کل ہند مسلم لیگ کی سیاست سے ان کا عملی تعلق صرف ۱۹۳۰ء کے خطبہ صدارت الٰہ آباد کی حد تک معلوم تھا۔ اس کتاب سے معلوم ہوا کہ ۱۹۲۶ء میں جب علامہ نے لاہور سے پنجاب صوبائی کونسل کا انتخاب لڑا، تب سے مسلم لیگ سے ان کی وابستگی جو پہلے بس فکری درجہ کی تھی، سرگرم عملی وابستگی میں تبدیل ہو گئی تھی اور اس رشتہ کی یہ سرگرمی ٹھیٹھ سرسید مکتب فکر والی لائن پر تھی۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء میں جب برطانوی حکومت نے سائمن کمیشن کے تقرر کا اعلان کیا جس کو ہندوستان کے لیے آئندہ دستوری اصلاحات کے بارے میں سفارشات پیش کرنا تھیں اور اس کمیشن میں تمام کے تمام انگریز تھے، ایک بھی ہندوستانی کونہیں لیا گیا تھا، تو اس پر کانگریس نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ مسلم قائدین میں خود مسٹر جناح صدر مسلم لیگ کا یہی فیصلہ تھا، مگر اقبال اس کے برعکس اپنے صوبائی صدر سر محمد شفیع کے ساتھ اس کمیشن کے تعاون کے لیے اس حد تک گئے کہ مسلم لیگ، جناح لیگ اور شفیع لیگ کے دو ٹکڑوں میں بٹ گئی اور یہ دونوں لیگیں پبلک سطح پر ایک دوسرے سے متصادم ہوئیں۔ چنانچہ جب مسٹر جناح نے دوسرے مسلم لیڈروں کے ساتھ مل کر ایک بیان کمیشن کے مقاطعہ کے لیے شائع کیا تو ا س کے رد عمل میں علامہ اقبال نے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ ایک بیان دیا جس کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ:
’’ہم نہایت جرات اور زور سے کہتے ہیں کہ ہم کرایہ کے ٹٹو بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسٹر جناح اور دیگر حضرات نے یہ فقرہ اڑا لیا ہے کہ ہماری خود داری ہمیں رائل کمیشن کی تائید کی اجازت نہیں دیتی۔ ہم اس کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ جنگ اور خود داری یکجا قائم نہیں رکھی جا سکتیں......‘‘ (صفحہ ۳۳، ۳۴)
پنجاب مسلم لیگ، جس کے علامہ صاحب سیکرٹری تھے اور سر محمد شفیع صدر، اس کی اس روش پر مولانا محمد علی نے اپنے اخبار ہمدرد میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’سر محمد شفیع سے بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کسی وائسرائے کی رائے سے ہم رائے نہ ہوں۔ انھوں نے اپنی وفاداری کا راگ گانا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب کی بد قسمتی ہے کہ سر محمد اقبال جیسے لیڈرسر محمد شفیع جیسے وفادار کو اپنی آزاد خیالی کی سطح تک ابھار کر نہ لا سکے بلکہ برخلاف اس کے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی سر محمد شفیع کی وفاداری کی پست سطح پر اتر آئے ہیں۔ چنانچہ کمیشن کے متعلق پنجاب مسلم لیگ کے سیکرٹری کا بیان اس کے صدر کے بیان سے کہیں زیادہ چاپلوسی کا ہے۔‘‘ (ص ۳۳)
علامہ صاحب اس درجہ کامل ’’سرسیدی‘‘ تو ڈاکٹر جاوید اقبال کے صریح بیان کے مطابق تھے ہی، اس پرمزید یہ کتاب یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ برصغیر کے معاملات کو ایک حد تک پنجابی صوبائیت (یا کہیے علاقائیت) کی سطح سے دیکھنے والوں میں بھی شامل ہو گئے تھے۔ سائمن کمیشن کے بارے میں ان کے جس بیان کے آخری فقرے اوپر نقل کیے گئے ہیں، اسی بیان میں ہے کہ:
’’جن مسلمانوں نے مسٹر جناح کے اعلان پر دستخط کیے ہیں، ان میں سے بعض تو ایسے صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں مسلمان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ ان کی روش پنجاب اور بنگال ایسے صوبوں کے مسلمانوں کی حکمت عملی کو تبدیل یا وضع نہیں کر سکتی۔‘‘ (ص ۳۴)
اسی طرز فکر کا اظہار ان کے مسٹر محمد علی جناح کے نام ایک خط سے بھی ہوتا ہے جو ۲۱ جون ۱۹۳۷ء کو لکھا بتایا گیا ہے۔ اس خط میں تحریر فرماتے ہیں:
’’.... میرے خیال میں نیا آئین ہندوستان کو ایک ہی وفاق میں مربوط کر لینے کی تجویز کی بنا پر حد درجہ یاس انگیز ہے۔ ہندوستان میں قیام امن اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبہ وتسلط سے بچانے کی واحد ترکیب وہی ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا۔ یعنی مسلم صوبوں پر مشتمل ایک جداگانہ وفاق کا قیام ...... میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ شمال مغربی ہند اور بنگال کے مسلمانوں کو فی الحال مسلم اقلیت کے صوبوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔‘‘ (ص ۳۲۸) (نوٹ: آخری جملہ کو انڈر لائن کیا جانا، یہ راقم کی طرف سے ہے)
کیا یہ طرز کلام انھیں علامہ اقبال کا ہو سکتا ہے جنھیں ہم ’’عشق کے دردمند‘‘ کے طور پر جانتے آئے تھے؟ اور جن کی آفاقیت نے کہا تھا:
درویش خدا مست، نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
نیز ارشاد ہوا تھا:
تو ابھی رہ گزر میں ہے، قید مقام سے گزر
مصر وحجاز سے گزر، پارس وشام سے گزر
نہیں، یہ دراصل ان کے اندر ۱۹۲۷ء سے پروان چڑھنے والی ایک نئی شخصیت کا ظہور تھا جو ۳۷ء کے اس معرکہ انگیز سال میں اپنے کمال کو پہنچ گئی نظر آتی ہے جس میں انڈیا ایکٹ ۳۵ء کے ماتحت ہونے والے الیکشن کے بعد یوپی کی وزارت سازی کے مسئلہ پر لیگ اور کانگریس کے درمیان کبھی نہ پٹنے والی خلیج پیدا ہوئی اور محمد علی جناح بھی سرسید والے دو قومی نظریے کو اپنانے کی طرف چل پڑے۔ اور یہ ۳۷ء وہ سال تھا کہ علامہ کی ۳۴ء سے شروع ہونے والی علالت اپنی آخری حدیں چھونے لگی تھی اور بالآخر اپریل ۳۸ء میں شمع حیات ہی گل کر گئی۔ زندگی کے اس مرحلے میں علامہ کے لیے یہ صورت حال کس قدر تسکین بخش رہی ہوگی کہ وہ اپنے جیتے جی مسٹر محمد علی جناح کو فکری طور پر وہیں پہنچتا ہوا دیکھ رہے ہیں جہاں ان کو پہنچانے کے لیے وہ ۱۹۲۷ء سے کوشاں ہوئے تھے۔ ایسے میں ناگاہ ان کے کان میں آواز آتی ہے کہ مسند آرائے دیوبند مولانا حسین احمد مدنی اس دو قومی نظریہ کی راہ میں حائل ہونا چاہتے ہیں۔ تب ---- اس پورے پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ---- ان کا اس پر یہ بھڑک اٹھنے والا انداز کچھ غیر متوقع نہیں رہتا۔ آخر کو انسان تھے۔
صحت کے اعتبار سے علامہ کے ضعف کا یہ عالم بھی یہاں ملحوظ رہے کہ فروری میں کہے گئے ان اشعار کے سلسلہ میں چھڑ جانے والی بحث پر جب علامہ نے اپنی بات مدلل کرنے کے لیے ایک مفصل بیان کی ضرورت سمجھی تو خود اس قابل نہ تھے کہ اس کو لکھ سکیں، بلکہ ڈاکٹر جاوید اقبال کے بیان کے مطابق یہ کام ان کے خاص معاونین، چودھری محمد حسین وغیرہ نے انجام دیا۔ (ص ۳۶۸) اور خود اشعار بھی اپنے معنوی پہلو سے اس گواہی کے لیے کم نہیں کہ علالت کے اثرات ایسے ہی غیر معمولی درجہ پر پہنچ چکے تھے، ورنہ اگر کسی نے ’’ملت از وطن است‘‘ کا سرود ’’بر سر منبر‘‘ الاپنے کا ارتکاب کیا بھی تھا تو ’’مقام محمد‘‘ کی معرفت تو بہت آگے کی چیز، یہ تو اس شخص کے دین محمد کی الف با تا سے بھی بے خبری کی دلیل ہے۔ پھر یہاں کیا محل کہ مقام محمد سے بے خبری کی طعن کی جائے؟ اور وہ کہ جو دین مصطفی کی الف با تا سے بھی بے خبر پایا جا رہا ہو، اسے کیا سمجھ آئے گی کہ ’’بہ مصطفی برساں خویش را‘‘ میں علامہ نے کیا فرمایا؟ مگر چونکہ علامہ کے یہاں اصل دین اور دینداری حضرت محمد مصطفی ﷺ سے جذباتی تعلق ہے، جیسا کہ ان کی شاعری سے عیاں ہے اور اسی کو جناب رشید احمد صدیقی مرحوم نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ ’’اقبال پر دنیا کے بڑے مذہب کی گرفت اتنی نہیں جتنی ایک بڑی شخصیت کی ہے‘‘ (اور اسی سے ان کی ان عملی دینی کمزوریوں کا عقدہ حل ہو جاتا ہے جو کچھ ایسی راز بھی نہ تھیں اور ڈاکٹر جاوید نے تو ان کو اس درجہ کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اچھا تھا اگر وہ یہ نہ کرتے) پس ان اشعار کے معنوی پہلو کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انحطاط قویٰ کے اس عالم میں جب علامہ نے ’’ملت از وطن است‘‘ کے ’’سرود‘‘ پر گرفت کے ارادہ سے قلم اٹھایا تو وہ موقع ومحل کی رعایت کرنے کے بجائے بے ساختہ اسی راہ پر رواں ہوا جس کا وہ عادی تھا۔
الغرض علامہ ان اشعار کی تسوید کے وقت جن خاص حالات کے ماحول میں اور صحت کی جس منزل میں تھے، اس کے پیش نظر ان کا یہ غیر متوقع کلام کچھ ایسا ناقابل فہم نہیں رہتا۔ صد شکر کہ علامہ کو انتقال سے پہلے اس کا موقع میسر آ گیا کہ اس قضیہ نامرضیہ کی وراثت چھوڑ کر نہ جائیں۔ حضرت مولانا کی طرف سے کی گئی ایک وضاحت آپ تک پہنچی، جس کے حوالے سے یہ اعلان اخبارات میں چھپوایا کہ اس کے بعد مولانا پر اعتراض کا کوئی حق انھیں نہیں رہتا، مگر افسوس آپ کے لوگوں نے آپ کے بعد آپ کا جو مجموعہ کلام ’’ارمغان حجاز‘‘ چھپوایا تو اس میں ان اشعار کو شامل کیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ’زندہ رود‘ میں اس سوال کا جواب بھی آیا ہے اور اس سے ان ’’خاص حالات‘‘ کے غیر معمولی اثرات کی مزید توثیق ہوتی ہے جن کے حوالہ سے علامہ کے بالکل غیر متوقع طرز کلام کی توجیہ ممکن ہوئی۔ علامہ کے رجوع کے بعد ان اشعار کو ان کے نامہ اعمال میں برقرار رکھنے کا جواز بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مولانا نے بعد میں ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ کے نام سے جو رسالہ چھاپا، وہ وضاحت کے برعکس تھا۔ پھر اس میں علامہ کی توہین کرتے ہوئے انھیں ساحران برطانیہ کے سحر میں مبتلا قرار دیا گیا اور ’’کودک ناداں‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔ (ص ۳۷۰) اس بیان جواز میں صرف یہی نہیں ہے کہ ساحرین برطانیہ کے سحر میں آ جانے کی جو بات حضرت مولانا نے محض ایک بشری کمزوری کے طور پر کہی تھی جو کسی بھی شخص کو لاحق ہو سکتی ہے، اسے طنز وملامت پر محمول کر لیا گیا، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ’’کودک ناداں‘‘ والا شعر جو صاف طور پر حضرت مولانا نے ازراہِ عجز وانکسار اپنے حق میں لکھا ہے، اسے علامہ کے حق میں پڑھ لیا گیا۔ حالانکہ ’’زندہ رود‘‘ کو پڑھ کر کسی ایسے شبہ کی ادنیٰ گنجایش نہیں رہتی کہ ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کی اردو فارسی اتنی کمزور ہو۔ تو پھر اس برعکس فہم کی ذمہ داری کے لیے نظر سوائے مسلم لیگ اور کانگریس کی ہوش ربا کشمکش والے ان حالات کے اور کس طرف جائے جو مسٹر جناح سے مولانا آزاد کو ’’شو بوائے‘‘ کہلوا دیں اور علامہ کی زبان پر شیخ دیوبند کے لیے ’’بو لہبی‘‘ کی وعید جاری کرا دیں؟
اس تحریر کا اصل مدعا تو پورا ہو گیا۔ یوں اور کافی باتیں اس میں ایسی ہیں کہ نقل کر دینے کی گنجایش ہو تو سب کام کی، تاہم ان میں ایک دو جو موجودہ مادیت اور زر پرستی کے دور میں ’’قندیل رہبانی‘‘ کا سا منظر پیش کرتی ہیں، ان کی گنجایش تو نکالنی ہی چاہیے۔ شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کے دل ان میں پوشیدہ نصیحت سے جاگ پڑیں کہ بہت اندھیری چھائی ہے، اور یہ نصیحت علامہ کی شاعری کے خاص موضوعات میں سے بھی ہے۔
علامہ کے سفر افغانستان کے حوالہ سے وہاں کی معروف شخصیت ملا شور بازار کے یہاں حاضری کا جو ذکر آیا ہے تو بے تاج بادشاہی کا درجہ رکھنے والی اس شخصیت کے مکان کی کیفیت بھی قابل ذکر پائی گئی۔ لکھا ہے کہ
’’وہ ایک تنگ گلی کے اندر تھا اور ہر قسم کے تزک واحتشام اور ظاہری آراستگی سے خالی۔ باقاعدہ نشست گاہ بھی نہ تھی۔ زنانہ مکان تھا جہاں پردہ کرا کر ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت ملی۔ انھیں ایک لمبے کمرہ میں لے جایا گیا جس میں ایک طرف ایک پلنگ بچھا تھا اور باقی زمین پر سادہ فرش بچھا تھا۔‘‘ (ص ۲۳۶)
علامہ کو ان کی زندگی کے آخری سالوں میں علالت کے ساتھ ساتھ معاشی پریشانی نے بھی گھیر لیا تھا۔ آپ کے دوست اور قدر داں سر راس مسعود (وزیر تعلیم ریاست بھوپال) کی کوشش سے ریاست سے آپ کے لیے پانسو روپے ماہوار تا حیات کا وظیفہ منظور ہوا۔ سر راس مسعود نے اس کی اطلاع کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ وہ کوشاں ہیں کہ بھوپال کے علاوہ حیدر آباد، بہاول پور وغیرہ بھی ان کے لیے وظیفے جاری کریں۔ اس کے جواب میں علامہ کا خط نقل کیا گیا ہے:
’’آپ کو معلوم ہے کہ اعلیٰ حضرت نواب صاحب بھوپال نے جو رقم میرے لیے مقرر فرمائی ہے، وہ میرے لیے کافی ہے۔ اور اگر کافی نہ بھی ہو تو میں کوئی امیرانہ زندگی کا عادی نہیں۔ بہترین مسلمانوں نے سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا روپیہ کا لالچ ہے جو کسی طرح بھی مسلمان کے شایان شان نہیں ہے۔ آپ کو میرے اس خط سے یقیناًکوئی تعجب نہ ہوگا کیونکہ جن بزرگوں کی آپ اولاد ہیں اور جو ہم سب کے لیے زندگی کا نمونہ ہیں، ان کا شیوہ ہمیشہ سادگی اور قناعت رہا ہے۔‘‘ (ص ۳۶۸)
تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام کا مسئلہ
لوئی ایم صافی
امریکی تنظیم پروگریسو مسلم یونین (PMU) کی طرف اسلام کا رخ ترقی پسند اقدار کی طرف موڑنے کے لیے جو مہم شروع کی گئی تھی، اس نے ایک ایسی نزاع پیدا کر دی ہے جو اب امریکی سرحدوں سے باہر بھی زیر بحث ہے۔ بحث اصل میں تو اس محدود نکتے کے حوالے سے چھڑی تھی کہ کیا کسی خاتون کو ایک مخلوط اجتماع کی امامت کرانے کا حق ہے یا نہیں، تاہم مباحثے سے بعض زیادہ گہرے اور عمیق مسائل اور مشکلات نمایاں ہوئے ہیں۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ تو وہی پرانا سوال ہے کہ منشاے خداوندی کو کیسے سمجھا جائے اور الہام شدہ الفاظ کو سماجی تناظر اور ثقافتی اعمال کے ساتھ کیسے مربوط کیا جائے۔ کوئی شخص معاصر دنیا میں اسلامی مآخذ کی کیا تعبیر کرتا ہے؟ اسلامی تعلیمات کے ابدی عناصر کو ایسے ثقافتی اعمال سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے جو مخصوص زمان ومکان ہی کے لیے موزوں تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ اسلام امریکی ثقافت اور روایات پر کیسے اثر انداز ہوتا اور خود ان سے کس طرح متاثر ہوتا ہے؟
’عقل عام‘ سے استدلال
کیا اسلام عورتوں کو نماز میں مردوں کی امامت کی اجازت دیتا ہے؟ ترقی پسند مسلمانوں کے نزدیک اس سوال کا تعلق صنفی مساوات، عورتوں کے لیے حصول طاقت اور جدیدیت کے جذبہ مساوات پسندی جیسے تصورات سے ہے، جبکہ قدامت پسند مسلمان اس سوال کو اسلامی روایات کے تحفظ اور جدیدیت کے مخرب اثرات سے گریز کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
عورتوں کے لیے مخلوط اجتماعات کی امامت کے حق کے حامی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قرآن مجید مردوں اور عورتوں کی اخلاقی مساوات کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ وہ مسلمانوں کے تعامل کے تصور کو مسترد کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ یہ ایسی ثقافتی روایات سے استدلال کرنا ہے جو تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے محدود اور لازمی طور پر پدر سرانہ معاشرے سے تعلق رکھتی تھیں۔ حنا اعظم کی طرف سے جب عورت کی امامت کے حامیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ استنباط کے درست طریقوں اور تعامل کی پابندی کریں تو پروگریسو مسلم یونین کے نائب صدر حسین ابیش نے اپنے موقف کو یہ کہہ کر بہت عمدہ طور پر واضح کر دیا کہ یہ پدر سرانہ روایات کی اندھی تقلید ہے۔ ابیش نے حنا اعظم کے استدلال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’روایت کی پاس داری میں اور مردوں کی اس مذہبی قیادت کو برقرار رکھنے کی خاطر جسے وہ خدا کا الہامی حکم قرار دیتی ہیں، انھوں نے اپنی قوت فیصلہ بلکہ درحقیقت بات کے قابل فہم ہونے کے اصول کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے۔‘‘ ابیش کی رائے میں حنا اعظم نے ماہرین قانون کے زمرے میں شامل ہونے کے لیے جدیدیت کی روح کو ترک کر دینے کا ارتکاب کیا ہے۔ ’’( حنا اعظم کو) اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ میں یا آپ کیا چاہتے ہیں، یا کون سی بات معقول ہے، یا کسی بات کا دفاع، قانونی علم کی روایات کا حوالہ دیے بغیر، جو انتہائی پدر سرانہ اور تفہیمی اعتبار سے ناقابل بحث ہیں، کسی اور طریقے سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔‘‘
’روایت‘ سے استدلال
حنا اعظم ترقی پسندوں کی طرف سے اختیار کردہ ’’عقل عام‘‘ پر مبنی موقف کو مسترد کرتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ خدا کی منشا کے سامنے سر جھکا دینا ہی اسلام کی اصل حقیقت ہے اور یہ عمل ایک منظم اور مربوط طریقے سے ہونا چاہیے۔ ’’میری رائے میں ہم خدا کی منشا کو دریافت کرنے کے پابند ہیں، نہ کہ اپنے نازک احساسات کی پاس داری کے۔‘‘ چونکہ خدا کی منشا قرآن مجید کے ذریعے سے بتائی گئی اور اس کا عملی نمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور اقوال میں یعنی سنت میں پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کو دریافت کرنے کا صحیح طریقہ ٹھیک ٹھیک مطالعہ اور درست طریق استدلال ہے یعنی ’’قانونی استدلال کا ایک منضبط نظام جو کہ قرآن مجید اور سنت صحیحہ سے مطابقت رکھتا ہو اور جو تقویٰ اور خشوع کی سپرٹ سے پھوٹتا ہو۔‘‘
ترقی پسند مسلمان، منظم اور داخلی طور پر مربوط طریقہ استدلال سے، جس کی بنیاد اسلامی روایات پر ہو، سرے سے چڑ جاتے ہیں اور ایک ایسے آزاد طریقہ استدلال میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں جو کہ بآسانی پوسٹ ماڈرن امریکی معاشرے کی عقل عام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔ یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ترقی پسند ایک ایسے مجموعہ اقدار کو فروغ دے رہے ہیں جنہیں عالمی ترقی پسند تحریک نے اختیار کر رکھا ہے۔ حسین ابیش کو حنا اعظم پر کوئی منطقی یا استدلالی اعتراض نہیں ہے، بلکہ ان کا اعتراض اس قانونی روایت پر ہے جسے وہ بطور حوالہ پیش کرتی ہے اور جو مطلق صنفی مساوات کے اس روایت شکن تصور کو مجروح کرتی ہے جسے ترقی پسند دل وجان سے اپنائے ہوئے ہیں۔
مسلم تشخص اور متضاد سماجی روایات
عورت کی امامت کے اس سارے قضیے میں دراصل جو کشمکش نمایاں ہو رہی ہے، وہ ان مقابل روایات سے پھوٹی ہے جن پر دو مخالف ثقافتوں اور نظریات واعتقادات کا اثر ہے۔ ایک انتہا پر حد سے زیادہ قدامت پسند روایت کھڑی ہے جو ایک ایسی سماجی حالت کے ساتھ چپکی ہوئی ہے جس میں مرد معاشرے میں حکمران مطلق ہیں۔ عورتیں تعلیم تو حاصل کر سکتی ہیں، لیکن سماجی خدمات میں حصہ لینے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہونے سے یا تو انھیں روک دیا جاتا ہے یا ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ روایتی مسلمان معاشروں نے کئی صدیوں سے عورتوں کو نجی دائرے میں محصور اور مکمل طور پر گھریلو خدمات اور مسائل تک محدود کر دیا ہے۔
دوسری انتہا پر مغربی تحریک نسواں کھڑی ہے جسے بغیر کسی تنقید کے ترقی پسند مسلمانوں نے اپنا لیا ہے اور جوکسی بھی قسم کے صنفی امتیازات کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ نسوانیت کی جانب سے صنفی امتیازات کی بالکلیہ نفی پر خود مسلم معاشروں کے اندر اصلاح پسندوں نے سخت احتجاج کیا ہے اور اسے تمام نسوانی تجربات کی نفی اور مرد کی پوجا کے رجحانات کی علامت قرار دیا ہے۔ یاسمین موگاہد لکھتی ہیں کہ ’’چونکہ مغربی نسوانیت نے خدا کو منظر سے ہٹا دیا ہے، اس لیے ان کے پاس مرد کے سوا کوئی معیار ہی باقی نہیں رہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ مغربی نسوانیت اپنے مقام ومرتبے کو مرد کے حوالے سے تلاش کرنے پر مجبور ہے اور اس طرح اس نے ایک غلط مفروضے کو قبول کر لیا ہے۔ اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ مرد ہی اصل معیار ہے اور یوں کوئی عورت اس وقت تک مکمل انسان قرار نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اس معیار یعنی مرد کے بالکل مماثل نہیں ہو جاتی۔‘‘
یامین زکریا کو یاسمین کی اس بات سے اتفاق ہے کہ مرد کو انسانی رویے کے لیے معیار قرار دینے کا تعلق دنیا کے سیکولر زاویہ نگاہ سے خدا کے تدریجی طو رپر غائب ہو جانے کے ساتھ ہے۔ ان کے نزدیک اس سے اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ ترقی پسند، اسلام کو جدیدیت کی اقدار کے تابع بنا رہے ہیں۔ یاسمین کو اعتراض ہے کہ ’’یہ ایک یک طرفہ عمل ہی کیوں ہے جس میں خدا کی دی ہوئی مذہبی اقدار کو انسان کی بنائی ہوئی سیکولر اقدار کے مطابق بنانے کے لیے ان کی ازسرنو تعبیر کی جائے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ترقی پسند مذہبی تحریکیں سیکولر اقدار کو حتمی معیار کی حیثیت دے رہی ہیں۔ یقیناًیہ دھوکہ باز مذہبی تحریکیں ہیں۔ ان کا طرز عمل الٰہی تعلیمات کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے جس سے ان کی ضرر رسانی کھلے اور جارح مرتدوں اور کافروں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔‘‘
اسلام اور ثقافتی روایات
اسلام کا مقصد یہ ہے کہ ثقافتی رویوں اور سماجی اعمال کو ان کائناتی اقدار اور اصولوں کے دائرے میں لے آیا جائے جو تمام مخصوص ثقافتوں اور سماجی تنظیم کے طریقوں سے بالاتر ہیں۔ ابتدائی دور کے مسلمان اس اہم فرق سے اچھی طرح آگاہ تھے جو اصل مذہبی احکام اور ان کے اس ظاہری ڈھانچے کے مابین پایا جاتا ہے جو وہ مخصوص ثقافتی روایات میں اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس فرق سے آگاہی کی بنا پر لوگ اس قابل ہوئے ا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو اپنی اپنی ثقافتوں کے ساتھ ہم آہنگ کر سکیں۔ اس سے اسلامی اقدار کی ظاہری شکلوں کا ایک متنوع مجموعہ وجود میں آیا اور مختلف ثقافتوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو قبول کرتے ہوئے بھی اپنی مقامی روایات کو برقرار رکھ سکیں۔
اسلامی اقدار اور مقامی روایات کے مابین تعامل کا مشاہدہ اس تنوع میں کیا جا سکتا ہے جو فیشن، طرز تعمیر، شادی کی تقریبات، تہواروں کے منانے اور ججوں کے انتخاب وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور جو مختلف مسلم ثقافتوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف واضح کیا تھا کہ آپ کا مشن سابقہ روایات کو مسترد کرنا نہیں، بلکہ انھیں ایسی روایات اور اعمال پر جو مضبوط اخلاقی اصولوں پر مبنی ہیں، تعمیر کرنا اور پست روایات اور رواجوں کی اصلاح کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا:’’مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ نے اپنے معاشرے میں رائج قبل از اسلام کی ان ثقافتی روایات کو قبول کر لیا جو امداد باہمی اور محبت کو فروغ دیتی تھیں، مثلاً مہمانوں کا اکرام، اور قبیلے کی طرف سے تمام افراد قبیلہ کے لیے بہبود کا نظام۔ بالکل اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رواجوں کا خاتمہ کر دیا جو جارحیت اور نا انصافی کا سبب بنتی تھیں، مثلاً آپ نے ایک قبیلے کے افراد کے مابین وابستگی اور حمایت ونصرت کے اس تصور کو مسترد کر دیا جو یہ تقاضا کرتا تھا کہ ہر حال میں اپنے قبیلے کا ساتھ دیا جائے، چاہے وہ قصور وار ہی کیوں نہ ہو۔
خود قرآن مجید نے مقامی روایات کو سماجی قوانین کا ایک مستند ماخذ مانا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی ہے کہ اگر مقامی روایات طے شدہ اسلامی اصولوں کے خلاف نہ ہوں تو ان کا احترام کیا جائے۔ ’’آپ معاف کرنے کے طریقے پر کاربند رہیے اور اچھی روایات پر عمل کا حکم دیجیے، لیکن جاہلوں سے منہ موڑ لیں۔‘‘ (۷: ۱۹۹) تاہم قرآن نے ایسی روایات پر سخت تنقید کی جو عدل وانصاف کے اصولوں کے خلاف ہوں۔ اس نے مسلمہ روایات کی بنیاد پر غیر منصفانہ رواجوں کو جواز فراہم کرنے کے طریقے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ فرمایا: ’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں، نہیں، ہم تو اپنے آباو اجداد کے طریقوں کی پیروی کریں گے۔ کیا اگرچہ ان کے آباو اوجداد عقل اور ہدایت سے محروم تھے، تب بھی؟‘‘ (۲: ۱۷۰)
ثقافتی رجحانات کو اسلامی احکام پر فوقیت دینا
انسانی ترقی کے لیے سماجی روایات ناگزیر ہیں، کیونکہ ان کا وجود انفرادی افعال کو مربوط بنانے اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ روایات جامد نہیں ہوتیں بلکہ ہر معاشرے کے تجربے میں آنے والی ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہتی ہیں۔ روایات کا ارتقا اور تغیر الل ٹپ نہیں ہوتا بلکہ بنیادی رویے اور اقدار ان کی راہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم مسلم معاشرے میں مقابل روایات اور نظریات کا جائزہ لیں تو یہ ضروری ہے کہ کسی بھی مخصوص روایت کے منبع وماخذ کو، جہاں سے وہ پھوٹی ہے، متعین کیا جائے۔
اس سوال پر غور کرنا بالکل بجا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے معاشروں سے امریکہ میں آکر بسنے والوں پر قبائلی روایات اور صنفی تفوق سے بھرپور غیرت کے تصور کے اثرات کس حد تک ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ایک جائز سوال ہوگا کہ مغربی معاشروں میں ثقافتی تربیت پانے والے مسلمانوں پر پوسٹ ماڈرن مغرب میں پھیلی ہوئی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ کس حد تک اثر انداز ہے۔ (ان دونوں پہلووں پر غور اس لیے ضروری ہے کہ) جب مضبوط قبائلی ورثے کے حامل معاشروں میں غیرت کے نام پر قتل کو گوارا کیا جاتا ہے اور مذہبی راہنما اس کی کماحقہ مذمت نہیں کرتے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، تو یہ سوال ناگزیر طور پر سامنے آتا ہے کہ اسلامی اصولوں کو قبائلی روایات کے تابع بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جب مسلم کمیونٹی عورتوں کو مسجد میں مناسب مقام دینے کے معاملے کو نظر انداز کرتی ہیں اور مسجد کا مرد امام عورتوں کو اسلامی تعلیم کی مجلسوں کے دوران میں مسجد کے مرکزی ہال میں داخل ہونے سے منع کرتا ہے، تو بھی اسلام کو پدر سرانہ ثقافت کے تابع بنانے کا سوال لازماً سامنے آتا ہے۔
دوسری طرف جب ترقی پسند، جنسی بے راوہ روی کو، چاہے وہ شادی کے بغیر جنسی تعلقات کی صورت میں ہو یا ہم جنسی پرستی کی صورت میں، ایک معمولی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ لباس کے مختصر ہونے اور اداؤں میں بے باکی کا تعلق ثقافتی ذوق سے ہے نہ کہ اسلامی اصولوں سے، تو بھی اسلامی اصولوں کو ترقی پسند عقل عام کے تابع بنا نے کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ترقی پسند حجاب کو کھلم کھلا مسترد کرتے ہیں، ہم جنس پرستی کو ایک نارمل طرز عمل قرار دیتے ہیں، اور عوامی سطح پر مسائل کو چھیڑنے کے لیے جنسی الزامات کو بطور حکمت عملی اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے۔ انھوں نے شہوت پسند اور لذت پسند پوسٹ ماڈرن کلچر کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اقدار پر فوقیت دے دی ہے۔
حقیقی اخلاقی دعووں کا معیار
کسی شخص کے ایک مجموعہ اقدار کے ساتھ وابستگی کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ ان اقدار کو ایک اخلاقی کمیونٹی میں ارتقا پاتے ہوئے دیکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقی اصولوں کی اصل قدر وقیمت علمی اظہارات اور اعلانات سے نہیں بلکہ اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ ایک زندہ کمیونٹی کو تبدیل کرنے اور اس کے اندر زندگی میں بہتری پیدا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ترقی پسند مسلم ایجنڈا کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے اس سوال کا جائزہ لینا بے حد اہم ہے کہ مخلوط اجتماع میں عورت کی امامت کا مسئلہ اٹھانے کا مقصد کیا ہے؟ یہ واقعہ کمیونٹی کی مثبت تعمیر سے زیادہ میڈیا میں نمایاں ہونے کے شوقین لوگوں کے لیے ایک مذہبی ہتھکنڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے واقعات گینز بک میں ایک عالمی ریکارڈ تو درج کروا سکتے ہیں لیکن کسی نئے طرز زندگی کو نشو ونما نہیں دے سکتے۔ اگر ترقی پسند مسلمان نماز اور مسجد کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوتے تو وہ اس بات کا انتظار کرتے کہ ایک زندہ کمیونٹی وجود میں آئے اور ایک ایسی مسجد قائم ہو جہاں کے نمازی ان کی اخلاقی تعبیر اسلام پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس طرح کی کوئی کمیونٹی ہی تجربے کی سطح پر اور عملی مثال کی صورت میں اس سوال کا جواب فراہم کرتی کہ مجوزہ عمل مسلمانوں کی روح کو بلند کرتا ہے یا انھیں ایک لذت پسند گروہ میں تبدیل کر کے پستیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
تاریخی مسلم معاشرہ، خواہ ہم اس میں کتنی ہی غلطیاں تلاش کر لیں، ایک نمایاں وصف رکھتا ہے، یعنی مذہبی تشخص پر پورے اصرار کے ساتھ ساتھ مذہبی، اعتقادی اور اخلاقی تنوع کے لیے بے مثال رواداری کا وصف۔ اس معاشرے میں اخلاقیت اور انصاف کو ایک مجرد تصور کے طور پر بیان نہیں کیا جاتا تھا جس پر علمی حلقوں میں بحث ہوتی رہے،، بلکہ وہ مشترکہ اقدار کا ایک مجموعہ تھا جس کے مطابق ایک زندہ کمیونٹی میں زندگی گزاری جائے اور اسے نشوونما دی جائے۔ اخلاقی زندگی کے معیارات وہی سمجھے جاتے تھے جنھیں کسی کمیونٹی کے افراد اپنے لیے معیار قرار دیں۔ مختلف فقہی مکاتب فکر محض علمی حلقے نہیں تھے، بلکہ انہوں نے (اپنے تصورات کی بنیاد پر باقاعدہ) اخلاقی کمیونٹیاں تشکیل دی تھیں۔ ہر شخص کو نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور پر بھی انھی معیارات کے مطابق جانچا جاتا تھا جن کو وہ معیار تسلیم کرتا تھا۔ حنفی فقہ کے پیروکار کا فیصلہ حنفی قاضی کرتا تھا، یعنی اسی اخلاقی کمیونٹی کا ایک فرد جس سے ان دونوں کا تعلق ہوتا تھا، نہ کہ کوئی دوسرا جج جس کا تعلق کسی دوسری اخلاقی کمیونٹی سے ہو۔ (اسی طرح فیصلہ بھی اسی فقہ کے مطابق کیا جاتا تھا جس کا وہ فرد پیروکار ہوتا) نہ کہ کسی ایسے قانونی ضابطے کے تحت جو مرکزی اتھارٹی نے نافذ کر رکھا ہو۔
لوگوں کی اخلاقی خود مختاری کے حوالے سے حساسیت کی یہ شاندار مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب کس طرح ایک مثالی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف مذہبی، اعتقادی، الہیاتی، نسلی اور ثقافتی روایات کو کم وبیش چودہ سو برس تک اپنے اندر سمونے کے قابل رہی۔ امریکی مسلمانوں کے لیے، جو ایک نمایاں طور پر متنوع معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اپنی کمیونٹی کو وجود میں لانا اور اپنی اسلامی اقدار کا اظہار نو کرنا چاہتے ہیں، یہ بے حد ضروری ہے کہ وہ تاریخی مسلم معاشرے کی بے مثال لچک اور آزادی کو یاد رکھیں اور تعبیرات وتجربات کے تنوع کے لیے کافی گنجایش فراہم کریں۔
انتقام کا جذبہ
ترقی پسند مسلمانوں کا ایجنڈا، جو اسلامی اقدار کو ترقی پسندی کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے، حدود سے متجاوز ہے کیونکہ درحقیقت یہ محض امریکہ کے اسلامی مراکز کے اختیار کردہ رویے کا رد عمل ہے جو سماجی طور پر متحرک خواتین اور امریکہ میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اپنی ثقافتی روایات پر امریکہ میں عمل کرنے پر اصرار کر کے اور امریکی ثقافت کے مثبت اور غیر جانبدار عناصر کو نظر انداز کر کے مسلم آباد کاروں نے دانستہ یا نادانستہ، امریکہ میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو، جن میں کافی تعداد خود ان کی اپنی اولاد کی ہے، اپنے سے دور کر دیا ہے۔ ان میں افریقی امریکی، سفید فام امریکی، نوجوان مسلم پروفیشنلز اور مسلم خواتین شامل ہیں۔
ترقی پسندوں کے لیے اشتعال کا باعث سب سے پہلے تو بہت سے اسلامی سنٹرز کے راہ نماؤں کی نا اہلی بنتی ہے جو امریکی معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے مقابلے میں اپنی ثقافتی عادات اور رواجات کو برقرار رکھنے کو مسلسل ترجیح دیتے چلے آ رہے ہیں۔ پروگریسو مسلم یونین کے دو ممتاز راہنماؤں نے میرے سامنے اپنے علاقے کی مساجد کے ذمہ داروں کے رویے پر ناگواری کا اظہار کیا جو انھوں نے کمیونٹی کی خاتون ارکان کے حوالے سے اپنا رکھا ہے۔ ایک خاتون نے میرے سامنے اس افسوس کا اظہار کیا کہ اسے اسلام کے متعلق سیکھنے کا کوئی موقع میسر نہیں آیا کیونکہ اس کی کمیونٹی نوجوان لڑکیوں کے لیے اسلامی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں کر سکی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ ’’اس کی فیملی اسلامی تعلیم کو ایک مسلمان لڑکی کے لیے اہم نہیں سمجھتی تھی۔‘‘ مسجد میں آنے جانے کا موقع صرف اس کے بھائیوں کو حاصل تھا۔ ایک اور نہایت باصلاحیت نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ اس نے حالیہ سالوں میں اپنے علاقے کے اسلامی سنٹر میں جانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اسے یہ طریقہ بالکل پسند نہیں تھا کہ اسے مسجد کے مرکزی ہال سے دور، جہاں تعلیم وتدریس اور بحث ومباحثہ کی ساری سرگرمیاں ہوتی تھیں، ایک الگ تھلک کمرے میں محدود کر دیا جائے۔
کئی سال تک یہ دیکھتے ہوئے کہ مسلم مہاجرین، جو زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور برصغیر سے آئے ہیں، یہاں بھی اپنی ثقافتی عادات اور روایات ہی کو اپنانے پر مصر ہیں، ترقی پسند مسلمانوں نے جواباً امریکی کلچر کے نہایت لبرل عناصر کی روایات اور عادات پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ ترقی پسند مسلمان، جیسا کہ ان کا پہلا اجتماعی عمل بتاتا ہے، واضح طور پر انتقام لے رہے ہیں۔ ان کا مقصد کسی نئی کمیونٹی کو تشکیل دینا نہیں بلکہ صرف اس کمیونٹی کو اشتعال دلانا ہے جس نے انہیں نظر انداز کیے رکھا۔ وہ اس کلچر کے کسی تنقیدی جائزے میں دلچسپی نہیں رکھتے جس میں وہ پروان چڑھے ہیں، بلکہ اس کلچر کو چیلنج کرنے کے خواہش مند ہیں جس نے ان کے ساتھ بے گانگی کا رویہ اپنایا۔
اسلام کے غیر متبدل اخلاقی و روحانی مآخذ
جب مسلمان رواجات اور عادات کو اقدار اور اصولوں پر ترجیح دیتے ہیں تو اسلام کے شاندار اخلاقی اور روحانی اصولوں پر زد پڑتی ہے۔ پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلم معاشرے اسلام کی اخلاقی اور روحانی طاقت کو استعمال میں لائے اور اسے غیر اخلاقی اعمال کی اصلاح اور صحت مند اور زندگی سے بھرپور روایات کے فروغ کے لیے استعمال کیا تو انھیں ترقی نصیب ہوئی ۔ اسلامی احیا کا مرکز ہمیشہ ایسے علاقے بنے جہاں لوگ سمجھ داری کے ساتھ اور آزادانہ اسلامی اقدار اور اصولوں کو اپناتے اور انھیں ایک زندہ اسلامی روایت تشکیل دینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ آج امریکی مسلمانوں کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اسلامی اداروں اور اعمال کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ایک قوت محرکہ کا کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے امریکی مسلمانوں کو اپنی ثقافتی محدودیتوں سے، چاہے وہ مقامی ہوں یا برآمد شدہ، اوپر اٹھنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سماجی تنظیم اور تبدیلی کے لیے بنیاد کی حیثیت ان کی اپنی عادات اور رواجات کو نہیں، بلکہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کو حاصل ہے۔
مسئلہ طلاق ثلاثہ ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں
پروفیسر محمد اکرم ورک
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مارچ ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا سید سلمان الحسینی الندوی کا مضمون ’’اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع کی صورت میں مرتب ہونے والے معاشرتی مسائل کی طرف علماء کرام کو توجہ دلائی ہے اور علماء دین اور مفتیان کرام سے تقاضا کیا ہے کہ وہ آج کے معروضی حالات کے تناظر میں اس مسئلہ پر دوبارہ غور فرمائیں۔ مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں مولانا احمد الرحمن نے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرچہ طلاق ثلاثہ کے موضوع پر احناف اور اہل حدیث مکتبہ فکر کی طرف سے مناظرانہ انداز میں اپنے اپنے موقف پر دلائل پیش کیے گئے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام اس موضوع کو ایک سنگین انسانی اور معاشرتی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ طلاق ثلاثہ کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں کہ جس کا اقرار یا انکار کفر کو مستلزم ہو یا جس پر غور وفکر کا دروازہ بند ہو چکا ہو۔ یہ ایک فرعی مسئلہ ہے۔ اجتہادی اور فروعی مسائل میں اصول کے دائرے کو قائم رکھتے ہوئے مختلف آرا رکھنا اسلامی علمی روایت کا ایک حصہ ہے۔ اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے پر غور وفکر کی دعوت یقیناًدرست ہے اور اصحاب فکر کی ایک بڑی تعداد اس ضرورت کا احساس رکھتی ہے۔
طلاق ثلاثہ کے بارے میں دو فقہی مسلک ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ فقہی مکتب ہے جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کو مغلظہ قرار دیتا ہے، اور دوسرا وہ جو اس صورت میں صرف ایک طلاق کے وقوع کا قائل ہے۔ بعض صحابہ کرامؓ کے علاوہ امام ابن حزم، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اس دوسرے موقف کے قائل ہیں، جبکہ مالکی فقیہ قاضی ابن رشد کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ ہمارے دور کے اہل حدیث حضرات بھی اسی نقطہ نظر کے قائل ہیں۔ ان سطور میں ہمار ے پیش نظر اس مسئلے پر کسی حتمی رائے کا پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ علماء کرام کو اس موضوع پر اظہار رائے کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ ایک اہم معاشرتی مسئلے پر پوری علمی سنجیدگی کے ساتھ قلم اٹھائیں۔
اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان ایک اہم ترین ادارہ ہے۔ میاں بیوی کے مضبوط تعلقات خاندانی استحکام کی بنیادیں ہیں اور خاندانی نظام کی بقا ہی معاشرتی استحکام کی خشت اول ہے۔ اس لیے نکاح وطلاق جیسے بنیادی اور اہم معاشرتی مسائل کے بارے میں اسلامی تعلیمات بڑی متوازن اور فطری ہیں۔
نکاح وطلاق کے باب میں اسلامی احکام کی اصل اسپرٹ یہی ہے کہ نکاح کو باقی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اسلام نے انسانی رویوں میں پائے جانے والے فطری اختلاف اور فرق کے پیش نظر باہمی تنازع کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے اختلاف کی صورت میں میاں بیوی کو مصالحت کا انداز اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ (النساء ۴/۱۲۸) شریعت نے اگرچہ انتہائی مجبوری کے عالم میں طلاق کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن ’ابغض الحلال الی اللہ الطلاق‘ کہہ کر اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ گویا اسلام کی نظر میں طلاق ایک ایسی دوا ہے جو ازدواجی زندگی کے ایک مستقل روگ کے علاج کے طور پر جائز قرار دی گئی ہے۔
اسلام نے طلاق دینے کا ایک نہایت حکیمانہ اور مبنی بر مصلحت طریقہ مشروع کیا ہے۔ چنانچہ بتایا گیا ہے کہ حالت طہر میں بیوی کو ایک مرتبہ صرف ایک طلاق دی جائے، تاکہ فیصلے پر نظر ثانی اور طلاق سے رجوع کرنے کا حق باقی رہے۔ عہد رسالت اور عہد صدیقی میں طلاق کا اسی فطری طریقے پر عمل ہوتا رہا، لیکن عہد فاروقی میں جب ایک مجلس میں تین طلاقیں یکجا دینے کے واقعات بڑھنے لگے تو خلیفہ ثانی نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو واقع کر کے میاں بیوی میں تفریق کروا دی اور اس کے ساتھ شوہر کو کوڑوں کی سزا بھی دی۔ خلیفہ ثانی کا یہ حکم کوئی منصوص حکم نہ تھا بلکہ ایک اجتہادی اور انتظامی حکم تھا جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایک مجلس میں تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ چنانچہ لوگوں نے دائمی جدائی اور کوڑوں کے خوف سے ایک مجلس میں تین طلاقوں کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اگرچہ تمام صحابہ کرام حضرت عمر فاروق کے اس حکم سے مطمئن نہ تھے، تاہم صحابہ کرام کی اکثریت نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا اور بعد کے دور میں سوسائٹی کے مجموعی مفاد کے پیش نظر فقہاء کرام نے بھی اسی حکم کو واجب العمل قرار دیا۔
ابتدائی صدیوں کے مخصوص معاشرتی ماحول میں یقیناًاس مسئلہ کا یہی ایک بہترین حل تھا، لیکن چونکہ یہ حکم نص قطعی سے ثابت نہیں ہے، اس لیے ہر دور میں ایک ہی مجلس کی تین طلاقوں کے بارے میں علماء کرام میں اختلاف رہا ہے۔ خود حضرت عمرؓ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی احکام میں اس قدر لچک موجود ہے کہ اسلامی سوسائٹی کے خاص حالات میں اصلاح کی غرض سے کسی آیت کے حکم میں ظاہری تقیید یا تخصیص کا عمل کیا جا سکتا ہے اور اگر بعد کے زمانے میں مصلحت عامہ کا تقاضا یہ ہو کہ قرآن کے اصل اور منصوص حکم کی طرف رجوع کیا جائے تو یہ رجوع الی الاصل بدرجہ اولیٰ درست ہونا چاہیے، جیسا کہ حضرت عمرؓ نے کتابیہ عورت سے نکاح کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے منصوص اجازت کے باوجود کتابیہ عورت سے نکاح کی ممانعت کر دی۔
قدیم عرب معاشرے میں مرد اور عورت کے لیے طلاق کے بعد نکاح ثانی کبھی کوئی معاشرتی مسئلہ نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے واقع ہونے کے تعزیری حکم کی وجہ سے کوئی سنگین مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ جبکہ اقوام عالم میں تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار، مسلم معاشروں بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کا مخصوص طرز معاشرت اور معروضی حالات اس مسئلہ پر ازسر نو غور وفکر کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ لوگ ضروریات دین سے واقف نہیں ہیں۔ جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے بیک وقت تین طلاقیں دے بیٹھتے ہیں اور بعد میں پچھتانے لگتے ہیں اور مرد کی معمولی نادانی کی وجہ سے پورے خاندان کے لیے شدید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف دین بیزار لوگ اسلام کے معاشرتی نظام اور عائلی قوانین کو ہدف تنقید بنا کر لوگوں کو اسلام سے متنفر اور بدظن کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں مصالح امت کا تقاضا یہ ہے کہ جامد تقلید اور فقہی مسلکوں کے خول میں بند رہنے کے بجائے وسعت نظری سے کام لیتے ہوئے اس خالصتاً اجتہادی مسئلہ پر ازسر نو غور وفکر کیاجائے اور اگر امت کے لیے آسانی اور سہولت کی کوئی صورت ممکن ہو تو سوسائٹی کو اس سے محروم نہ کیا جائے۔ کسی سچائی کو فقط اس لیے قبول نہ کرنا کہ اس سے کسی خاص مسلک کی تائید یا تردید ہوتی ہے، غیر علمی رویہ ہے۔
حالات اور زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے کئی اصحاب علم نے اس سے قبل بھی ارباب دانش کو اس موضوع پر غور وفکر کی دعوت دی ہے جن میں ایک نمایاں نام عصر حاضر کے معروف محقق اور دانش ور پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کا ہے۔ پیر صاحب نے فریقین کے تفصیلی دلائل کا جو تجزیہ فرمایا ہے، یہاں اس کا اعادہ مقصود نہیں، تاہم ایک قانون دان کی حیثیت سے پیر صاحب نے آج کے معروضی حالات کے پس منظر میں حضرت عمرؓ کے ایک ہی مجلس میں طلاق ثلاثہ کی تنفیذ کے حکم کا جو تجزیہ کیا ہے، قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے ہم پیش کیے دیتے ہیں:
’’حضرت عمر نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ لوگ طلاق ثلاثہ کی حرمت کو جانتے ہوئے اب اس کے عادی ہوتے چلے جا رہے ہیں تو آپ کی سیاست حکیمانہ نے ان کو امر حرام سے باز رکھنے کے لیے بطور سزا حرمت کا حکم صادر فرمایا اور خلیفہ وقت کو اجازت ہے کہ جس وقت وہ دیکھے کہ لوگ اللہ کی دی ہوئی سہولتوں اور رخصتوں کی قدر نہیں کر رہے اور ان سے استفادہ کرنے سے رک گئے ہیں اور اپنے لیے عسر وشدت پسند کر رہے ہیں تو بطور تعزیر انھیں ان رخصتوں اور سہولتوں سے محروم کرنے کے بعد وہ اس سے باز آ جائیں۔
حضرت امیر المومنینؓ نے یہ حکم نافذ کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوں ارشاد گرامی ہے، بلکہ کہا ’فلو انا امضیناہ علیہم‘ (کاش ہم اس کو ان پر جاری کر دیں) ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آپ کی رائے تھی اور امت کو اس فعل حرام سے باز رکھنے کے لیے یہ تعزیری قدم اٹھایا گیا تھا۔ اس تعزیری حکم کو صحابہ کرام نے پسند فرمایا اور اسی کے مطابق فتوے دیے۔ لیکن حدود کے علاوہ تعزیرات اور سزائیں زمانہ کے بدلنے سے بدل جایا کرتی ہیں۔ اگر کسی وقت کسی مقررہ تعزیر سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان ہو اور مصلحت کی جگہ فساد رو پذیر ہونے لگے تو اس وقت اس تعزیر کا بدلنا ازحد ضروری ہو جاتا ہے۔
غیر شادی شدہ زانی کی حد کا ذکر تو قرآن حکیم میں موجود ہے کہ اسے سو درے لگائے جائیں، لیکن حدیث میں ہے ’مائۃ جلدۃ وتغریب عام‘، یعنی سو درے لگائے جائیں اور ایک سال جلا وطن کر دیا جائے۔ جب چند آدمیوں کو جلا وطن کیا گیا تو وہ کفار کی صحبت سے متاثر ہو کر مرتد ہو گئے اور علماء احناف نے یہ کہہ کر جلا وطنی کی سزا کو ساقط کر دیا کہ یہ تعزیر ہے اور اب اس سے بجائے اصلاح کے ارتداد کا دروازہ کھل گیا ہے، ا س لیے اب یہ تعزیر ساقط کرنی ضروری ہے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی اس تعزیر کو آج باقی رکھنے سے جو مفاسد اسلامی معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں، کون سی آنکھ ہے جو اشک بار نہیں اورکون سا دل ہے جو دردمند نہیں۔
لوگوں میں شرعی احکام کے علم کا فقدان ہے۔ انھیں یہ پتہ ہی نہیں کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا کتنا بڑا جرم ہے اور یہ تلعب بکتاب اللہ کے مرادف ہے۔ وہ غیظ وغضب کی حالت میں منہ سے بک جاتے ہیں۔ انھیں تب ہوش آتا ہے جب انھیں بتایاجاتا ہے کہ انھوں نے ایک جنبش لب سے اپنے گھر کو برباد کر دیا۔ اس کی رفیقہ حیات اور اس کے ننھے بچوں کی ماں اس پر قطعی حرام ہو گئی۔ اس کی نظروں میں دنیا تاریک ہو جاتی ہے۔ یہ ناگہانی مصیبت اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ پھر وہ علماء صاحبان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں جو باستثنا چند حضرات بڑی معصومیت سے انھیں حلالہ کا دروازہ دکھاتے ہیں۔ اس وقت انھیں اپنے غیور رسول کی وہ حدیث فراموش ہو جاتی ہے، لعن اللہ المحلل والمحلل لہ۔ ’’حلالہ کرنے والے پر بھی اللہ کی لعنت اور جس (بے غیرت) کے لیے حلالہ کیا جائے، اس پر بھی اللہ کی لعنت۔‘‘
اس سلسلے میں ایک اور حدیث بھی سن لیں:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم الا اخبرکم بالتیس المستعار قالوا بلی یا رسول اللہ قال ہو المحلل لعن اللہ المحلل والمحلل لہ (رواہ ابن ماجہ)
’’کیا میں تمھیں کرائے کے سانڈ کی خبر نہ دوں؟ ہم نے کہا ضرور اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا، وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ اللہ کی لعنت ہو حلالہ کرنے والے پر بھی اور اس پر بھی جس کے لیے حلالہ کیا جائے۔‘‘
ان علماء ذی شان کے بتائے ہوئے حل کو اگر کوئی بد نصیب قبول کر لیتا ہوگا تو اسلام اپنے کرم فرماؤں کی ستم ظریفی پر چیخ اٹھتا ہوگا اور دین سبز گنبد کے مکیں کی دہائی دیتا ہوگا۔
اب حالات دن بدن بد تر ہو رہے ہیں۔ جب بعض طبیعتیں اس غیر اسلامی اور غیر انسانی حل کو قبول نہیں کرتیں اور اپنے گوشہ عافیت کی ویرانی بھی ان سے دیکھی نہیں جاتی تو وہ پریشان اور سراسیمہ ہو کر ہر دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ اس وقت باطل اور گمراہ فرقے اپنا آہنی پنجہ ان کی طر ف بڑھاتے ہیں اور انھیں اپنے دام تزویر میں بھی پھنسا لیتے ہیں۔ اس کی بیوی تو اسے مل جاتی ہے لیکن دولت ایمان لوٹ لی جاتی ہے۔ میرے یہ چشم دید واقعات ہیں کہ کنبے کے کنبے مرزائی اور رافضی ہو گئے۔ جب حالات کی سنگینی کا یہ عالم ہو، جب یہ تعزیر بے غیرتی کی محرک ہو بلکہ اس کی موجودگی سے ارتداد کا دروازہ کھل گیا ہو، ان حالات میں علماء اسلام کا یہ فرض نہیں کہ امت مصطفی علیہ التحیۃ والثناء پر در رحمت کشادہ کریں؟‘‘
پیر صاحب نے حالات کا معروضی مطالعہ کرنے کے بعد اہل علم کو جس دل سوزی کے ساتھ اس موضوع پر غور وفکر کی دعوت دی ہے، وہ سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ علماء کرام غور وفکر کے بعد اس مسئلہ پر کوئی ایسا متفقہ موقف اختیار کریں جس میں امت کے لیے آسانی اور سہولت کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔ بعض حنفی علما نے تو، جن میں خاص طور پر معروف دیوبندی عالم مولانا سعید احمد اکبر آبادی قابل ذکر ہیں، اپنے نتائج تحقیق کا برملا اظہار کیا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے حوالے سے بہتر یہی ہے کہ عہد رسالت اور عہد صدیقی کے طرز عمل سے ہی استشہاد کیا جائے۔ برصغیر کے معروف عالم اور دانش ور مولانا وحید الدین خان نے طلاق ثلاثہ کے حوالے سے ایک بڑی مفید تجویز پیش کی ہے جو ارباب دانش کے ساتھ ساتھ ارباب حل وعقد کے لیے بھی خاص طور پر توجہ کی مستحق ہے۔ فرماتے ہیں:
’’راقم الحروف کے نزدیک موجودہ حالت میں اس معاملہ میں ہمارے لیے دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب ہے۔ ایک یہ کہ جب ایک شخص فوری جذبہ کے تحت طلاق طلاق طلاق کہہ دے تو اس کو شوہر کی طرف سے غصہ پر محمول کیا جائے، یعنی یہ سمجھا جائے کہ شوہر نے شدت اظہار کے طور پر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے دی، حالانکہ اس کا مقصد تکمیلی طلاق دینا نہ تھا بلکہ صرف طلاق دینے کے ارادے کا شدید انداز میں اظہار کرنا تھا۔ یہ تہدید وتشدید کا معاملہ تھا نہ کہ حقیقتاً تطلیق ثلاثہ کا معاملہ۔ اس صورت میں یہ کیا جائے گا کہ شوہر سے یہ کہا جائے گا کہ تمہاری تین طلاق عملاً پہلے مہینے کی ایک طلاق قرار دی جاتی ہے۔ اب تم کو یہ اختیار ہے کہ چاہے تو رجوع کر لو اور اگر تم تفریق کے ارادہ پر قائم ہو تو قرآنی طریقہ کے مطابق اگلے مہینے تم دوسرا طلاق دو، اور اگر اس کے بعد بھی تفریق کا ارادہ باقی رہے تو تیسرے مہینے تم طلاق کے عمل کی تکمیل کر کے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہو۔
اس معاملہ میں دوسرا ممکن طریقہ ہمارے لیے یہ ہے کہ ہم سنت فاروقی کو اپنے زمانہ کے لحاظ سے اختیار کریں، یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر عورت اور مرد کے درمیان تفریق کرا دیں مگر اس صورت میں لازمی طور پر ہمیں سنت فاروقی کے مطابق یہ کرنا ہوگا کہ اس مزاج کی حوصلہ شکنی کے لیے شوہر کو سخت سزا دیں۔ موجودہ قانونی نظام کے تحت غالباً یہ ممکن نہیں کہ ایسے شوہر کو کوڑا مارنے کی سزا دی جائے، مگر اس کا ایک بدل یقینی طور پر ممکن ہے اور وہ یہ کہ علمائے ہند نے جس طرح شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں حکومت ہند سے مطالبہ کر کے پارلیمنٹ سے ایک قانون بنوایا تھا، اسی طرح اس معاملہ میں بھی حکومت سے مطالبہ کر کے ہندستانی پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کرایا جائے۔ اس قانون میں یہ طے کیا جائے کہ جو مسلمان ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے گا تو اس کی طلاق تو واقع کر دی جائے گی، مگر اسی کے ساتھ شوہر کو اپنے اس غیر شرعی فعل کی سخت سزا بھی بھگتنی ہوگی۔
راقم الحروف کے نزدیک وہ سزا یہ ہونی چاہیے کہ جس شوہر نے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا غیر شرعی فعل کیا ہے، اس سے جرمانہ کے طور پر بھاری رقم وصول کی جائے اور یہ پوری رقم مطلقہ عورت کو دے دی جائے۔ بالفرض اگر یہ شوہر نقد رقم دینے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کو طویل مدت کے لیے قید با مشقت (rigorous imprisonment)کی سزا دی جائے۔ اس معاملے میں مانع جرم سزا (deterrent punishment)ضروری ہے۔ اس سے کم کوئی سزا اس معاملہ میں مفید نہیں ہو سکتی۔‘‘
بہرحال اس موضوع کی فنی اور دقیقی علمی بحثوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر زمانے کی ضرورتوں، حالات کے تقاضوں اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں تیزی سے بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار اور مسائل کی روشنی میں دیکھا جائے تو اصل قابل غور نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ اس مسئلے کے عملی حل کیا پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ مروجہ عائلی قوانین میں کوئی ایسی ترمیم لانے میں کام یاب ہو جائیں جس سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی ہو؟ اور کیا ہمارے لیے یہ زیادہ آسان اور بہتر نہیں کہ ہم شریعت اسلامیہ کے اصل حکم کی طرف رجوع کریں؟
مکاتیب
ادارہ
(۱)
بسم اللہ
بخدمت گرامی منزلت مولانا راشدی صاحب زید مجدہ
محترم مولانا، السلام علیکم
فروری مارچ میں انڈیا رہا۔ واپس آیا تو کچھ وقت گزرنے پر مولانا عیسیٰ صاحب سے پورے نصف درجن الشریعہ کے شمارے ملے۔ ایک پوسٹل رکھ رہا ہوں۔ ڈاک خرچ بہت آتا ہے۔ براہ کرم ڈاک سے بھجوا دیا کریں۔ ہر ماہ ملتا رہے۔ آپ نے ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ باعث دلچسپی ہے۔ خدا کرے رفتہ رفتہ یہ تجربہ ایسے نہج میں ڈھل جائے کہ سوچ کی مثبت اور مفید تبدیلی کو راہ ملے۔ آپ کو ما شاء اللہ رفقائے قلم اچھے میسر آ گئے ہیں۔ شاید نئی نہج ہی کی برکت ہے۔ میاں انعام الرحمن صاحب خاص طور سے آپ کا بڑا ساتھ دے رہے ہیں۔ ذرا آپ کے خاص حلقے کی رعایت ان کے یہاں ہو جائے تو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔
ایک شمارے میں یوگندر سکند صاحب کا مضمون ہے۔ میرے خیال میں ایسے موضوعات پر تو غیر مسلم حضرات کے لیے وسعت قابل نظر ثانی ہے۔ کم از کم ان کے قلم سے تو ملا کو گالی الشریعہ میں نہ چھپے۔ اپنے ہی اس کام کے لیے کیا کم ہیں! اور یہ جو دربار یزید کے اس چیف جسٹس ملا کا ذکر انھوں نے فرمایا ہے جس نے قتل حسینؓ کا فتویٰ دیا تھا، یہ کون بزرگ تھے؟ یہ پتہ نہیں سکند صاحب کی اپنی تحقیق ہے یا مولانا کلب صادق کی؟ کچھ اس پر روشنی پڑ سکے تو اچھا ہے۔
والسلام
نیاز مند
(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی
لندن
(۲)
۲ مارچ ۲۰۰۵
محترم مدیر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم
آپ کا شمارہ ۲ برائے ماہ فروری ۲۰۰۵ ایک لائبریری میں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں مضمون ’’فتنہ انکار سنت‘‘ صفحہ ۲۸ میری توجہ کا مرکز بنا۔ چونکہ ہم سب پر ذمہ داری ہے کہ اسلام کو اس کے صحیح خط وخال میں پیش کریں، اس لیے یہ چند سطریں آپ کی توجہ کے لیے گوش گزار کر رہا ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان پر اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت فرض ہے۔ اس کا قرآن میں متعدد جگہ ذکر ہے۔ اللہ کے احکام تو ہم کو قرآن سے ملتے ہیں اور ان کی تشریح اور تفسیر اور رسول اللہ ﷺ کا قول اور فعل احادیث سے ملتا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان احادیث کی کتابوں میں بے حد تحریف ہوئی ہے اور یہ اصل حالت میں باقی نہیں ہیں۔ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کی اصل کتابیں جلا دی گئیں اور معدوم ہیں۔ چنانچہ آج کسی حدیث کی کتاب پر یہ تصدیق نہیں ملتی کہ یہ مطابق اصل کے ہیں۔
صحیح بخاری کی بعض مثالوں سے یہ بات واضح ہوگی:
۱۔ عمر حضرت عائشہؓ کے متعلق بخاری میں درج شدہ حدیث غلط ثابت ہو چکی ہے۔ نہ عہد خلفا میں اور نہ اس کے بعد کسی نے اس سنت پر عمل کرتے ہوئے ۶ سال کی عمر میں کسی لڑکی سے شادی کی۔
۲۔ حدیث قرطاس جس میں حضرت عمرؓ پر بہتان ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو لکھنے نہیں دیا، یہ کسی طرح درست نہیں۔
۳۔ مختصر صحیح بخاری مع ترجمہ انگریزی جو مکتبہ دار السلام ریاض سے شائع ہوئی ہے، جس میں دو ہزار دو سو تیس منتخب احادیث ہیں، اس میں درج ذیل احادیث ملاحظہ کریں:
حدیث نمبر ۱۴۸۲۔ راوی حضرت انسؓ۔ آنحضرت ﷺ دس سال مکہ میں اور دس سال مدینہ میں قیام پذیر رہے۔
حدیث ۱۵۸۰۔ راوی عبد اللہ بن عباس۔ (اسی کتاب میں) آنحضرت صلعم مکہ میں تیرہ سال رہے اور مدینہ میں دس سال۔
لکھنے والوں نے دوبارہ پڑھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔
۴۔ وقت واحد میں تین طلاقوں کا بائن ہونا بھی حضرت عمرؓپر تہمت ہے۔ حضرت عمر قرآن کے واضح احکام کے خلاف نہیں جا سکتے تھے۔ اگر سزا کے طور پر حکم کرتے تھے تو وہ علیحدہ بات ہے۔ یہ ہمیشہ کے لیے شریعت کا قانون نہیں بن سکتا۔
دراصل شیعہ حکمرانوں کا جب حکومت پر قبضہ ہوا تو انھوں نے ساری شکل ہی بگاڑ دی اور ہمارے علما آنکھ بند کر کے آج تک اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث اور صحیح حکم سر آنکھوں پر، اس کی اطاعت ضروری ہے، لہٰذا اب علما کاکام ہے کہ صحیح احادیث کو الگ کریں اور اپنے دستخط سے اس کو جاری کریں۔ موجودہ حالت میں یہ نہ قابل تقلید ہے اور نہ قابل قبول۔ اس کو اصح الکتب بعد از قرآن کا درجہ دے کر اپنی من مانی احادیث شامل کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی آپ دیکھیں کہ آنحضرت نے آخری حج کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کے سامنے جو خطبات دیے، ان کا ان دو ہزار دو سو تیس احادیث میں کہیں ذکر نہیں ۔ کیا وہ اس قابل نہیں؟
امید ہے کہ جواب سے سرفراز فرمایا جائے گا۔
والسلام
احقر سید مصلح الدین احمد
417/3 بہادر آباد
کراچی 74800
(۳)
محترمی جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر وعافیت ہوں گے۔
’’الشریعہ‘‘ میں آپ کے مضامین پڑھ کر نہایت خوشی محسوس ہوتی ہے۔ سب کے دلوں کی ترجمانی آپ کے قلم کی زبانی بخوبی ہو جاتی ہے۔ اس پر فتن دور میں آپ قلم کے ذریعے جو خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ بہت اہم ہے اور ہمارے علماء کی توجہ بھی اس طرف بہت کم ہے۔
الشریعہ اکادمی کے حالات اس کے ترجمان کے ذریعے سے معلوم ہو جاتے ہیں۔ مارچ کے شمارے میں ڈاکٹر محمود غازی صاحب کا الشریعہ اکادمی میں دیا گیا لیکچر پڑھا، جو کہ بہت ہی معلومات افزا ہے۔ ایسی چیزیں وقتاً فوقتاً طبع ہونی چاہییں۔
والسلام
محمد عمر انور
استاذ جامعہ علوم اسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’ہزار سال پہلے‘‘
تاریخ نے اپنے سینے میں کئی ایسے اہل علم کے نام محفوظ کیے ہیں جنھوں نے تحریر وتصنیف اور تقریر وتدریس میں کمال حاصل کر کے اپنی مہارت کا سکہ منوایا۔ اس فہرست کو اگر بہت مختصر کیا جائے تو بھی ’’ازہر الہند‘‘ دار العلوم دیوبند کے فیض یافتہ مولانا سید مناظر احسن گیلانی کا نام سر فہرست ہوگا۔
مولانا نے اپنی تحقیقی وتصنیفی زندگی کا آغاز دار العلوم دیوبند کے زمانہ قیام ہی میں کر لیا تھا، لیکن اس پر بہار حیدر آباد دکن میں آئی جہاں آپ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ تعلیمات سے وابستہ ہوئے۔ آپ کے قلم سے سینکڑوں مضامین اور مقالات نکلے جن پر صدق، برہان، ترجمان القرآن، القاسم اور معارف کے صفحات گواہ ہیں۔ مولانا کی مشہور تصانیف میں ’النبی الخاتم‘، ’تدوین قرآن‘، ’تدوین فقہ‘، ’تدوین حدیث‘، ’مسئلہ سود‘، ’نظام تعلیم وتربیت‘ اور ’احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن‘ قابل ذکر ہیں۔ آپ کی کتب کی خاصیت یہ ہے کہ کتاب شروع کرنے کے بعد قاری اس کے سحر میں ایسا گرفتار ہوتا ہے کہ کتاب ختم کیے بغیر اسے چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔
اس وقت ہمارے سامنے مولانا کی کتاب ’’ہزار سال پہلے‘‘ ہے جو عالمی تہذیب وتمدن کے دل چسپ اور انوکھے پہلوؤں پر مولانا کے رشحات قلم سے مزین ہے۔ مولانا نے مختلف سیاحوں کی کتابوں کی سیاحت کے دوران میں جن عجیب وغریب اور متنوع معلومات کو سبق آموز محسوس کیا، انھیں اپنے تاثرات کے اضافے کے ساتھ قارئین کی نذر کر دیا ہے۔ کتاب کے صفحات میں برصغیر پاک وہند، چین، طرابلس اور دیگر اسلامی ممالک کی تہذیب وتمدن اور ثقافت ومعاشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ مسلمان سیاحوں کی بے تعصبی اور معروضیت بھی نمایاں ہے۔ کتاب کی اصل قدر وقیمت تو مطالعے ہی سے معلوم کی جا سکتی ہے، تاہم کتاب کے چند عنوانات کا ذکر دل چسپی سے خالی نہیں ہوگا:
کتے کے برابر چیونٹیاں، بدھ مت کا قبول اسلام، فصل خصومات کا حیرت انگیز طریقہ، (ہندووں کے) گوشت سے احتراز کا سبب، قرآن میں آم کا ذکر، جوئے کا رواج اور حیرت انگیز واقعات، بنی آدم کے لباس کا سفر پتے سے سونے چاندی تک، راجہ کا خط اور مسلمانوں کی تباہی کے اسباب۔
کتاب پہلی مرتبہ نصف صدی قبل شائع ہوئی تھی اور اس کا مواد ترتیب وتنسیق اور عنوان بندی سے عاری تھا۔ عربی وفارسی عبارات واقتباسات اور طویل حواشی اس پر مستزاد تھے۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل مفتی محمد عمر انور نے عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ کر کے، حواشی کو متن میں سمو کر اور مختلف عنوانات قائم کر کے کتاب سے استفادہ کو آسان بنا دیا ہے۔ اس طرح کتاب کا یہ ایڈیشن ظاہری وباطنی خوبیوں سے آراستہ ہے۔
یہ کتاب بیت العلم، اے ۱۲۰، بلاک نمبر ۱۹، گلشن اقبال کراچی سے طلب کی جا سکتی ہے۔ قیمت درج نہیں۔
(محمد خالد بلوچی۔ شریک ’خصوصی تربیتی کورس‘ الشریعہ اکادمی)
’’کاروان حیات‘‘
سرزمین پاک وہند ذہین وباکمال افراد کے اعتبار سے بڑی زرخیز ثابت ہوئی ہے۔ یہاں کے بہت سے نامور اہل علم نے اپنی ذاتی محنت اور لگن سے بلند مقام ومرتبہ حاصل کیا اور ان کی شہرت ملک سے نکل کر بلاد عرب وافریقہ تک جا پہنچی۔ ان باصلاحیت لوگوں میں ایک نام قاضی محمد اطہر مبارک پوری کا ہے۔ قاضی صاحب نے تصنیفی اور تحقیقی میدان میں جو کام کیا ہے، بلاشبہ اسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ہمارے سامنے اس وقت قاضی صاحب کی خود نوشت سوانح حیات ’’کاروان حیات‘‘ ہے جس میں ان کے سن پیدایش ۱۹۱۶ء سے لے کر ۱۹۸۸ء کے حالات درج ہیں۔ ان میں موعظت ونصیحت بھی ہے اور سیاسی حالات بھی، علمی تذکرے بھی ہیں اور شخصیات کا تعارف بھی۔
مصنف نے ابتدا میں تصنیف کتاب کا محرک بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں نے اپنی طالب علمی کی یہ کہانی خود ستائی اور خود نمائی کے لیے نہیں لکھی۔ عزیز طلبہ اس تحریر کو اس نقطہ نظر سے نہ پڑھیں، بلکہ اس کو پڑھ کر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔‘‘
دیگر محاسن اور خوبیوں سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب ایک بہترین استاد اور مصلح بھی ہے۔ جابجا ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے عبرت بھی حاصل ہوتی ہے اور اصلاح بھی ہوتی ہے۔ صفحہ ۱۷۰ پر جدہ میں سعودی سفارت خانہ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: ’’استقبالیہ میں کھانے کا انتظام مغربی طور پر کھڑے کھڑے تھا۔ میں نے جرات کر کے کہا کہ میں اسلام کے وطن میں نصاریٰ کے طریقہ پر نہیں چلوں گا۔ یہ کہہ کر اپنے حصے کا کھانا لے کر دوسری طرف میز کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ دیکھ کر سب حضرات نے واللہ صحیح واللہ صحیح کہتے ہوئے میز کرسی پر کھانا کھایا۔‘‘ مرد حق کی یہی شان ہوتی ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ کتاب کے مطالعہ سے حیات مستعار کے لمحات کو قیمتی بنانے کی فکر بڑھ جاتی ہے، تحقیق اور جستجو کا ذوق بیدار ہوتا ہے، اور جہد مسلسل کے عز م میں پختگی آتی ہے۔ علمی ترقی کے خواہاں طلبہ اور علما کے لیے یہ کتاب ایک بہترین تحفہ ہے۔
خوب صورت سر ورق نے کتاب کو مزید پرکشش بنا دیا ہے، تاہم آئندہ طباعت میں اگر پروف کی اغلاط کو زیادہ توجہ کے ساتھ درست کر لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ دو سو صفحات کی اس کتاب کو بیت العلم، گلشن اقبال کراچی نے شائع کیا ہے اور اس پر قیمت درج نہیں۔
(محمد شفیع خان عقیل۔ شریک ’خصوصی تربیتی کورس‘ الشریعہ اکادمی)
’’ارمغان حج‘‘
زیر نظر کتاب ندوۃ العلماء کے فاضل اور آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے سفر حج کی روداد ہے۔ مصنف نے دوران حج میں علم حدیث کے بہت سے اساتذہ اور مشائخ سے شرف ملاقات حاصل کیا اور ان سے سند حدیث حاصل کی۔ اس سے قاری علم حدیث کے ساتھ ان کے غیر معمولی شغف کا اندازہ کر سکتا ہے۔ مصنف نے ان اہل علم کے مختصر تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی علمی خدمات کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامات مقدسہ کی زیارت کے حوالے سے ان کا مختصر تاریخی پس منظر بھی بیان کیا گیاہے۔ یوں یہ سفر نامہ ایک طرف حدیث کے طلبہ کے لیے بڑی افادیت اور دلچسپی کا حامل ہے اور دوسری طرف حرمین شریفین کی پوری تاریخ اس طرح قاری کے سامنے آ جاتی ہے کہ وہ مقامات مقدسہ میں خود کو مصنف کے ساتھ ساتھ محسوس کرتا ہے۔
کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب، کاغذ عمدہ اور کتابت عموماً اغلاط سے پاک ہے اور اسے انجمن خدام الاسلام ، جامعہ حنفیہ قادریہ، باغ بان پورہ، لاہور نے شائع کیا ہے۔
(فضل حمید چترالی۔ شریک ’خصوصی تربیتی کورس‘ الشریعہ اکادمی)
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں
ادارہ
- ۳۰ / اپریل تا ۲ مئی ۲۰۰۵ جامعہ اسلامیہ کامونکی میں دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کے تعاون سے تین روزہ مطالعہ مذاہب کورس کا اہتمام کیا گیا۔ الشریعہ اکادمی میں خصوصی تربیتی کورس کے شرکا اس کورس میں اول تا آخر شریک ہوئے اور اس سے استفادہ کیا۔
- ۸ مئی کو فیصل آباد سے جناب مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب تشریف لائے اور بعد از نماز ظہر طلبہ سے خطاب کیا۔
- ۱۶ مئی کو بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) جناب مستنصر باللہ اکادمی میں تشریف لائے اور طلبہ کو اپنے خیالات سے مستفید کیا۔
- ۱۸ مئی کو اکادمی کے زیر اہتمام گوجرانوالہ کی سطح پر ایک انعامی تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف دینی مدارس کے طلبہ نے شرکت کی۔
- ۱۹ مئی کو خصوصی تربیتی کورس کے شرکا نے مولانا عمار ناصر اور پروفیسر محمد اکرم ورک کی قیادت میں جامعہ جعفریہ گوجرانوالہ کا مطالعاتی دورہ کیا اور جامعہ کے منتظمین اور اساتذہ کے ساتھ ایک نشست میں شیعہ سنی مسئلے کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا۔
- ۲۱ مئی کو اکادمی میں ’’سیرت نبوی ﷺ اورمستشرقین‘‘ کے عنوان پر ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں معروف محقق جناب ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے پر مغز علمی خطاب کیا۔ اس موقع پر اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تقریری اور تحریری مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات بھی دیے گئے۔