جولائی ۲۰۰۵ء

سارک کی سطح پر علماء کرام اور دانش وروں کی رابطہ کی تجویزمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاکستان کا سیاسی کلچر ۔ ایک جائزہپروفیسر شیخ عبد الرشید 
میڈم شاہدہ قاضی کے افسانے اور حقیقتشاہ نواز فاروقی 
تغیر پذیر دنیا اور مسلم ثقافت کی داخلی نفسیاتپروفیسر میاں انعام الرحمن 
تکفیر شیعہ سے متعلق چند ضروری وضاحتیںڈاکٹر حافظ محمد رشید 
مکاتیبادارہ 
ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کا اجلاسادارہ 
تعارف و تبصرہمحمد عمار خان ناصر 
مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ واپس پہنچ گئےادارہ 

سارک کی سطح پر علماء کرام اور دانش وروں کی رابطہ کی تجویز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنوبی ایشیا کی سطح پر سارک ممالک اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات کے درمیان رابطہ ومفاہمت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ جدید عالمگیریت کے ماحول میں ایک اہم علاقائی ضرورت ہے اور اس پس منظر میں مسلم علماء کرام اور دانش وروں کے درمیان رابطہ وتعاون کی ضرورت بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں ۸ ؍جون ۲۰۰۵ کو لندن میں ورلڈ اسلا مک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی رہایش پر مولانا موصوف، مولانا سید سلمان حسینی ندوی (آف لکھنو، انڈیا)، مولانا سلمان ندوی (ڈھاکہ) اور راقم الحروف نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ سارک کی سطح پر مسلم دانش وروں کا ایک فورم تشکیل دیا جائے جو نسل انسانی کی بہتری اور فلاح کے لیے اسلامی تعلیمات کی اشاعت وتعلیم، جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مسائل پر باہمی مشاورت اور تبادلہ خیالات کے اہتمام، دینی مدارس کو جدید عالمی ماحول کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، علمی مراکز اور حلقوں کے درمیان رابطہ ومفاہمت کے فروغ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مساعی کے حوالے سے کام کرے گا اور اس سلسلے میں جدوجہد کی ضرورت کا احساس بیدار کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس مقصد کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی سربراہی میں ایک رابطہ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں راقم الحروف اور مدرسہ دار الرشاد میر پور ڈھاکہ کے پرنسپل مولانا محمد سلمان ندوی شامل ہیں۔ باہمی مشورہ سے دیگر ارکان کو بھی رابطہ گروپ میں شامل کیا جا سکے گا، جبکہ اسی سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دوران میں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فورم کی تشکیل کو آخری شکل دی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

پاکستان کا سیاسی کلچر ۔ ایک جائزہ

پروفیسر شیخ عبد الرشید

سیاسی کلچر کا مطالعہ کسی خاص قوم کے عمومی مزاج اور سیاسی رویوں کا مطالعہ ہے۔ سیاسی کلچر ان قواعد، تصورات، عقائد اور اجتماعی رویوں سے عبارت ہوتا ہے جن کا تعلق سیاسی طرز عمل سے ہو۔ اس میں ایسے تمام ادارے، طور طریقے، طرز عمل، رسوم ورواجات، عقائد واقدار اور اجتماعی تاثرات شامل ہیں جو کسی مخصوص معاشرے کی شناخت ہوں۔ ممتاز ماہرین سیاست گبریل آلمنڈ (Gabriel A. Almond) اور سڈنی وربا (Sidney Verba) سیاسی ثقافت کی تین جہتوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اول، مسلمہ ثقافت جو سیاسی نظام سے متعلق علم اور احساسات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ دوم، موثر ثقافت جو سیاسی نظام، مقاصد اور عقائد کے بارے میں احساسات، تعلق داریوں، الجھاؤ یا نا منظوری سے متعلق ہے۔ سوم، فیصلہ کن یا تشخیصی طاقت جو سیاسی نظام سے متعلق عوامی آرا اور سیاسی بصیرت کی عکاس ہے۔ مذکورہ تینوں قسم کے رویے مل کر سیاسی ثقافت کی تشکیل کرتے ہیں۔ آلمنڈ اسی بنیاد پر مثالی کلچر کی بات کرتا ہے جسے اس نے Parochial اور Participant سیاسی کلچر کا نام دیا ہے۔ تاہم یہ سب مثالی اقسام ہیں۔ عمومی سیاسی کلچر اس طرح کے نہیں ہوتے۔
جہاں تک پاکستان کے سیاسی کلچر کا تعلق ہے، مذکورہ جہتیں ا س کی وضاحت اور تجزیے میں بھی مفید دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر سیاسیات کے روایتی دانش وروں کی بیان کردہ اقسام میں سے کسی پر بھی پورانہیں اترتا۔ سیاست، معاشرت ہی کی مرہون منت ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ Political culture reflects the ways people think and feel about politics. اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی کلچر حصول پاکستان کے سنہری عہد کے تخیل پر مبنی خواہشات اور ظہور پاکستان کے بعد کی تلخ حقیقتوں کی متصادم نوعیت، اور جمہوری تصورات اور استبدادی حقیقتوں کے درمیان الجھن کی خصوصیت سے عبارت ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر کا ایک پہلو یہاں معاشرے میں جمہوری تصورات پر یقین، برداشت، بھائی چارے، رواداری، اور پارلیمانی ادارو ں کے استحکام وغلبہ کی خواہش پر مبنی ہے جبکہ دوسرا پہلو تحکمانہ اور مستبد وقاہر حقیقتوں کا مظہر، مرکزیت، آمریت، اتحاد بذریعہ اسلام، عدم برداشت، انتہا پسندی، اختیارات پر ملٹری بیورو کریسی کے کنٹرول وقبضہ جیسے حقائق پر مبنی ہے۔
سادہ الفاظ میں پاکستان کا سیاسی کلچر جمہوری خواہشات اور استبدادی حقیقتوں کے درمیان جھولتا ہوا منافقانہ رویے کی کھونٹی کے سہارے کھڑا نظر آتا ہے۔ جمہوریت بابائے قوم کے کردار اور تحریک پاکستان کے راہنما اصولوں میں سے تھی، اس لیے آج بھی یہ مختلف سماجی وسیاسی گروہوں میں موجود ہے۔ جدوجہد پاکستان کے زمانے کے ادب پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے لکھاری، نقاد، ادیب اور شاعر اپنی تحریروں میں خبردار کرتے ہیں کہ اگر جمہوریت پسند اشرافیہ اور سماجی گروہ ناکام ہو گئے تو آمرانہ قوتیں غالب آ جائیں گی، مگر آزادی کے بعد جمہوری تصور نے استحکام اور تسلسل حاصل نہ کیا۔ استبدادی حقیقتوں اور آمرانہ حکومتوں نے پاکستان معاشرے میں جمہوری روح کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں جس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی کلچر میں تضادات کے ظہور کی صورت میں نکلا۔ نہ فوج عوام کی توقعات پرپورا اتری اور نہ ہی سول حکمران۔ ہر دور حکومت میں لوگوں میں بے اطمینانی، پست ہمتی، اندیشے اور خدشے پرورش پاتے رہے۔ اس سے وطن، حکومت اور سیاسی نظام سے متعلق عوام میں بے پروائی وسرد مہری کے عوامل ظاہر اور نمایاں ہوئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان ایک تغیر پذیر معاشرے کا حامل ہے اور ایسے معاشروں میں سیاسی کلچر عام طور پر غیر مستقل مزاج ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود جو چیز حوصلہ افزا ہے، وہ یہ کہ جمہوری روایات واقدار کی کمزوری کے باوجود جمہوری تصورات وخواہشات یہاں کے سیاسی کلچر میں قابل ذکر حد تک موجود ہیں۔ مشہور مصنف C. Clapham نے اپنی کتاب Third World Politics: An Introduction میں ترقی پذیر معاشروں اور ممالک کے سیاسی کلچر میں تضادات کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ تیسری دنیا کے سیاسی کلچر امرا اور عوام میں موجود سیاسی خلیج کی غمازی کرتے ہیں جو عموماً تضاد پر منتج ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ریاست اور معاشرے کے بہت کمزور سیاسی تعلق کے بھی عکاس ہوتے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی اطمینان اور اعتماد مختلف حکومتوں کی کارکردگی کے ساتھ مختلف رہا۔ آئن ٹالبوٹ (Ian Talbot) کا کہنا ہے کہ اپنی تاریخ کے بیشتر حصہ میں پاکستان ایک قومی شناخت کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ یہاں علاقائی، پاکستانی (قومی) اور مذہبی تشخص اس طرح سے گندھے ہوئے ہیں کہ شناخت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ سوال جواب طلب ہے کہ آیا پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک خطہ زمین ہے یا یہ مسلمان قوم کے لیے ایک اسلامی ریاست کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ زبان اور مذہب کثیر قومی معاشرے میں یک جہتی ویگانگت کا جواز فراہم کرنے کے بجائے شناختوں کے تضاد کو تیز تر کر دینے کا باعث بن گئے۔ مرکزیت کی طرف مائل ریاستی ڈھانچوں نے بھی اس احساس کو اجاگر کیا کہ اوپر سے زبردستی نافذ کر دیے جانے والے پاکستانی نیشنلزم کا اصل مقصد ریاست کو پنجابی قالب میں ڈھالنا ہے۔ وہ پیچیدہ وجوہات جن کی بنا پر پاکستانی ریاست ثقافتی تنوع کو بظاہر اپنانے اور جگہ دینے میں ناکام رہی ہے، اس سلسلہ میں تین نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اختلاف کو سیاسی مسئلے کے بجائے امن وامان کا مسئلہ تصور کر لینے کا رجحان، مطلق العنان حکومتوں کے تسلسل کے نتیجے میں عوامی قوتوں کی بیخ کنی کی پالیسی، اور قومی امور کو نمٹانے میں پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں کے کرداروں میں عدم توازن اور عدم یکسانی۔
پاکستانی سیاست کافی متلون رہی ہے جس میں نئی وفاداریاں اور اتحاد تسلسل کے ساتھ وجود میں آتے رہتے ہیں اور مخصوص حالات کے پیش نظر سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نظریات یا جماعتی اداروں کے بجائے شخصیتیں ہمارے سیاسی کلچر میں کلیدی حیثیت کی حامل ہیں۔ بلاشبہ ملک کی سیاست شخصیات ہی کے گرد گھومتی ہے۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاست اور خاص طور پر انتخابی سیاست پر چند با اثر خاندانوں کا قبضہ ہے جو انتخابی سیاست پر خرچ ہونے والے زر کثیر کو سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ اگست ۱۹۴۷ء سے ہی جمہوری تصورات اور آمرانہ قوتوں کے درمیان کشمکش شروع ہو گئی تھی۔ ایک طبقہ تو فوجی حکومتوں کو خوش آمدید کہنے کی سیاست کرتا ہے۔ فوج اور بیورو کریٹ کے حامیوں نے انتشار اور کسی بھی اخلاقیات سے مبرا صورت حال میں بارہا مداخلت کر کے حالات کو مزید ابتر کر دیا۔ وطن عزیز میں نصف سے زیادہ عرصہ فوجی حکومتیں رہیں۔ باقی عرصہ میں بھی فوجی عہدے داران ہی پس پردہ رہتے ہوئے نام نہاد جمہوری حکومتوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح کنٹرول کرتے رہے اور آہستہ آہستہ طویل فوجی حکمرانی کے زیر سایہ جمہوریت پسندی، سیاسی اقدار، معیار اور رویے پس پشت چلے گئے۔ شاید اسی وجہ سے فروری ۱۹۹۷ء میں انتخابات سے کچھ پہلے کونسل آف ڈیفنس اینڈ نیشنل سکیورٹی (CDNS) کا قیام عمل میں لا کر اقتدار کے ڈھانچے میں فوج کے کردار کو رسمی شکل دینے کی کوشش کی گئی اور اب تو مستقل نیشنل سکیورٹی کونسل بنا دی گئی ہے۔ آئن ٹالبوٹ کے خیال میں یہ جمہوریت میں پنہاں تصور آزادی کو پابند سلاسل کرنے کی سعی تھی۔ ملک میں فوج کے متحرک سیاسی کردار کی وجہ سے ہی کچھ سیاسی دانش ور پاکستان کے لیے پریٹورین اسٹیٹ (Praetorian State) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ عائشہ جلال جیسے لکھاری تو اس ملک کی پولیٹیکل اکانومی کو بھی پولیٹیکل اکانومی آف ڈیفنس کا نام دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس ہندوستانی پولیٹیکل اکانومی کو پولیٹیکل اکانومی آف ڈیویلپمنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک اور منفی خصوصیت پاکستان میں غیر نمائندہ اداروں کا بہت زیادہ طاقت اور اہمیت اختیار کر جانا ہے۔ اس کے باعث ملک میں جائزیت (Legitimacy) کا بحران بھی نظر آتا ہے۔ سیاست میں نسلی گروہوں کی موجودگی بھی نمایاں ہو گئی ہے جن کے راہنما بغیر ہچکچاہٹ اور تامل کے پاکستانیوں کو پنجابیوں کا قیدی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں شناخت کی سیاست کو بھی استقلال حاصل ہے۔
اگرچہ پاکستان کا ظہور ایک نئی شناخت کے ساتھ ہوا، مگر بعد ازاں اس کے سیاسی کلچر پر نو آبادیاتی دور کی سیاست کے اثرات بھی نمایاں رہے ہیں۔ آئن ٹالبوٹ پانچ نمایاں اثرات کا ذکر کرتا ہے۔ پہلا اثر علاقائی تشخص اور مسلم نیشنلزم کا متصادم رشتہ ہے جو تحریک پاکستان کے دوران میں بھی خصوصاً بنگال اور سندھ میں کچھ زیادہ ڈھکا چھپا نہ تھا۔ دوسرا اثر اسلام اور مسلم نیشنلزم میں نہایت ہی گنجلک اور الجھاؤ پر مبنی رشتہ ہے۔ تیسرا نمایاں اثر سیاسی عدم رواداری اور تعصب سے عبارت وہ کلچر تھا جیسے یونس صمد اپنے ایک تحقیقی مقالے "Reflections on Partition: Pakistan's Perspective" میں عدم برداشت کے سیاسی کلچر سے زیادہ سنگین صورت حال قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے ادوار میں غلبہ پانے کا رجحان برقرار رہا۔ مسلم لیگ نے کانگرس اور پنجاب میں اپنے مضبوط حریف یونینسٹ پارٹی کے خلاف جدوجہد کے دوران اپنا شعار بنا لیا تھا۔ نو آبادیاتی دور کی چوتھی وراثت جسے یہاں کی مقتدر ہستیوں نے اپنے پلو سے باندھ رکھا، بالواسطہ حکمرانی کا اصول یعنی زمینداروں، قبائلی سرداروں، راجہ مہاراجوں کے ذریعے حکومت وانتظامی امر کو چلانا جو کہ نوآبادیاتی دور کا خاصہ تھا۔ انگریز حکمرانوں نے ان سرداروں اور صوفی پیروں کو سرپرستی کے ایک وسیع جال میں جکڑ رکھا تھا، البتہ انہوں نے یہ امر یقینی بنائے رکھا کہ ان کے حلیفوں کو زرعی کمرشلائزیشن اور نمائندہ اداروں کی ترقی ونمو سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ او رپانچواں اثر ان متنوع تاریخی روایات سے متعلق ہے جو پاکستان کے ورثے میں آئیں۔ مثال کے طور پر سندھ میں ۱۹۳۰ کے عشرے میں ہی بیرونی یا غیر سندھی آباد کاروں سے متعلق رویہ یا قومی شعور تھا۔ بلوچستان کا مسئلہ، سرحد میں علاقائیت، پنجاب کے اندر علاقائیت ولسانیت وغیرہ۔ لہٰذا پاکستان میں ریاست کا متنازعہ قومی تشخص، غیر متوازن ترقی، نوکر شاہی کے آمرانہ اطوار اور ناتواں سول سوسائٹی اور طاقت ور فوج میں موجود عدم توازن، یہ سب نوآبادیاتی دور کے اثرات بھی رکھتے ہیں۔ ان اثرات کے حامل سیاسی کلچر میں آہستہ آہستہ استبدادیت، سیاسی مرکزیت، سماجی انتشار، تحمل مزاجی، عمرانی ومعاشرتی تضادات نمایاں ہوتے ہو گئے۔ مشہو رمصنف M. Kamrava اپنی کتاب "Politics and Society in Third World" میں تجزیے کے بعد رقم طراز ہیں کہ مذکورہ خصوصیات کے حامل سیاسی کلچر کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے ممالک میں لوگوں کی سیاسی سوچ پر یا تو مایوسی کا غلبہ ہو جاتا ہے یا پھر انتہا پسندی کا۔ پاکستان کے متضاد سیاسی کلچر میں بھی آمرانہ وتحکمانہ رجحانات، تشدد، دہشت گردی، انتہا پسندی، عدم برداشت جیسی مشکلات نے فروغ پایا۔ دوسرے، مقتدر حلقوں اور عوامی طبقوں کے مابین سماجی اور سیاسی عدم اعتماد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ باہمی اعتماد پاکستانی معاشرے کے اجتماعی رویوں اور انفرادی اطوار سے بھی غائب ہو گیا۔ یہی بد اعتمادی وسیاسی بے یقینی سیاسی زعما، مفاداتی گروہوں، فوج اور بیورو کریسی کے باہمی تعلق سے بھی نمایاں ہوتی ہے۔ اسی لیے ماہرین عمرانیات وسیاسیات نے پاکستان کی ریاست وسیاست پر مختلف لیبل لگائے ہیں۔ اسے کوئی کچھ قرار دیتا ہے تو کوئی کچھ اور۔ مثلاً جمال نقوی "Inside Pakistan" میں پاکستان کو Over Developed State کہتا ہے۔ S.H. Hashmi اسے Bureaucratic Polity یعنی نوکر شاہی سے مغلوب اکائی کہتا ہے۔
K. L. Kamal نے کتاب کا نام ہی Pakistan the Garrison State رکھا ہے یعنی فوجی غلبہ کی حامل ریاست۔ کمال اظفر بھی پاکستان کو فوجی ریاست ہی کا نام دیتا ہے۔ کئی ماہرین یہاں تحکمانیت (Authoritarianism) کے حوالے سے نشان دہی کرتے ہیں۔ مشہور ماہر عمرانیات حمزہ علوی ریاست اور معاشرے کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے اور فرق کو بونا پارٹزم (Bonapartism) کے پیمانے سے جانچتا ہے۔ بعض مفکرین کے نزدیک یہاں کے سیاسی کلچر میں جواز کی کمی اور امرا کو درپیش یہ خوف کہ نسلی، لسانی اور زیریں (Subaltarn) قوتیں ریاست کی تشکیل کو درہم برہم کر دیں گی۔ یہی یہاں کا بنیاد ی مسئلہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قومیتی وگروہی تحریکوں سے نپٹنے کے لیے پاکستان کے سیاسی مقتدر طبقے نے جبر واستبداد پر مبنی پالیسیاں اپنائی ہیں اور افہام وتفہیم سے ہمیشہ گریز کیا ہے، چنانچہ ماہرین سیاسیات کا خیال ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں تصادم بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۸۰ اور ۹۰ کی دہائی میں ذرا بہتری رہی اور ہمارے ہاں بھی اتھارٹی کی جائزیت کا تصور ابھرا۔ سیاسی مفکر Ronald Inglehart نے امریکن پولیٹکل سائنس ریویو کے دسمبر ۱۹۸۹ کے شمارے میں اپنے ایک آرٹیکل "The Renaissance of Political Culture" میں لکھا کہ 
"Interpersonal trust and commitment to democratic order are a pre-requisite for the development of Pluralistic Culture."
یعنی سیاسی حکم سے پیدا ہونے والا باہمی اعتماد ومعاہدہ سیاسی کلچر کی ترقی کے لیے لازمی شرط ہے۔ ایک ایسا سیاسی کلچر جس میں اختلاف رائے احترام کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ سیاسی شرکت وباہمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، وہی جمہوریت کے لیے پائیدار راہ ہموار کرتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں باہمی اعتماد اور جمہوری اداروں سے کمٹمنٹ ہمیشہ کمزور رہی۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر سجاد نصیر نے ۶ جولائی ۱۹۸۵ کو روزنامہ ڈان میں اپنے ایک مضمون Politics of Dissent میں لکھا کہ
A political culture in which dissent is tolerated and respected, political participation and associational activity are encouraged, is likely to pave the way for the democratic order. Unfortunately, in Pakistan political culture, interpersonal trust and commitment to democratic institutions have both remained rather weak. This is primarily because dissent has been treated as a non functional category in our political vocabulary.
بلاشبہ جب تک اختلاف کو ایک پسندیدہ عمل سمجھ کر قبول اور برداشت نہیں کیا جاتا، جمہوری رویے، روایات اور اقدار فروغ نہیں پا سکتے۔ لوگوں کا جمہوری ڈھانچے پر اعتماد صرف اختلاف کی سیاست سے ابھرتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے سیاسی کلچر کی تشکیل کرنے والے بڑے عوامل کا مختصر جائزہ بھی ضروری ہے۔ اسے تین جہتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

روایتی سماجی وسیاسی ڈھانچہ

پاکستان کے سیاسی وسماجی ڈھانچے پر جاگیرداروں کا غلبہ ہے۔ ہر انتخابی نتیجے میں واضح ہوا کہ شہری حلقوں سے تو شاید پروفیشنل کاروباری حضرات میدان سیاست میں آتے رہے، مگر دیہی اور قبائلی علاقوں پر زمین داروں اور سرداروں کا ہی کنٹرول رہا۔ دیہی علاقوں میں وڈیروں نے تبدیلی اور جدیدیت کو متعارف کروانے کے بجائے اختیارات وطاقت سے لطف اندوز ہونا ہی پسند کیا۔ یہ زمیندار بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کے بجائے لگان داری پر انحصار کرتے ہیں جو ان کے لیے ووٹ بینک کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان مزارعوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی بندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظام میں انفرادیت کی کوئی حیثیت نہیں۔ شناخت محض ایک درمیانے ایجنٹ کی ہوتی ہے جسے حقارت انگیز اصطلاح میں ’’چمچہ‘‘ کہا جاتا ہے، جو خود طاقت ور نہیں ہوتا لیکن طاقت پر کنٹرول رکھنے والوں تک رسائی رکھتا ہے۔ یہ ڈھانچہ جاتی تعلق دو طرح کے اختیاراتی طریقوں کو رواج دیتا ہے۔ پہلا طریقہ گروہ بندی ہے۔ زمیندار زعما ایک ہی طرح کی سماجی بنیادوں کی بجائے گروہ بندی میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ تضاد عمومی اور پر پیچ ہوتا ہے۔ سیاسی خاندان شعوری طور پر گروہ بندی کو ابھارتے ہیں۔ جیسے سندھ میں مخدوم، پیر، سید اپنے اپنے گروہوں کے راہنما ہیں۔ پنجاب میں لغاری، قریشی اور ٹوانے نہ صرف جاگیردار خاندانوں سے ہیں بلکہ گروہی لیڈروں کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ اس طرح بلوچستان اور سرحد میں معاشرے کے قبائلی طرز کے باوجود قبائلی لیڈر سیاسی راہنما ہی ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں گروہ بندی، ٹریڈ یونینز ودیگر تنظیموں میں منتقل ہوئی ہے۔ یہ گروہی تضادات انتشار کو جنم دیتے ہیں، لیکن یہ اختیار یا طاقت کو تقسیم نہیں کرتے۔ یہ دل چسپ تضاد نہ ختم ہونے والا ہے۔ دو سرا طریقہ اختیاراتی مرکزیت واستبدادیت کا ہے۔ وڈیرے صرف دولت کو ہی کنٹرول نہیں کرتے بلکہ اختیارات پر بھی قابض ہیں۔ دیہی نظام میں روایتی اختیار پر جاگیرداروں، پیروں، وڈیروں کی نگرانی ہوتی ہے۔ یہ اپنے مزارعوں اور مریدوں کی سرپرستی کرتے ہوئے معاون کا رشتہ قائم رکھتے ہیں، یہاں تک کہ شہری گروہ اس اصول کو اپنا لیتے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کا انداز زمینداروں سے مختلف نہیں ہوتا۔ یہ اختیاراتی طریقہ ہے جو مغلیہ عہد سے شروع ہوا۔ غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی آقاؤں نے اسے مضبوط کیا اور اب تک قائم ہے۔

نو آبادیاتی رویے

زمیندار زعما مکمل طور پر خود مختار نہیں ہوتے۔ ان کی سرپرستی نوکر شاہی کی اشرافیہ کرتی ہے۔ اس سرپرستی نے دیہی سطح پر زمینداروں کے مقام کو بلند کیا ہے۔ بیورو کریٹ اشرافیہ اس سرپرستی سے دوہرا عمل انجام دیتی ہے۔ ایک طرف یہ حکومتی افسران کے اختیار کو مستحکم کرتے ہیں تو دوسری طرف ان لوگوں کے مقام کو بڑھاتے ہیں جو حکومتی سرپرستی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح استبدادیت پاکستان ذہن وافکار میں پختہ ہو گئی ہے۔ استبدادی تحکم نے سرایت کرنے والے عنصر کے طور پر ترقی کی ہے۔ عام خیال ہے کہ حکومتی اختیار نے زمیندار زعما کے اختیار کو بڑھایا ہے جبکہ غریب انصاف سے محروم ہوتا چلا گیا ہے۔ تاہم بیورو کریسی کا غلبہ یکساں نہیں رہا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں بیورو کریسی نے زمینداروں پر وسیع اثر قائم کیا مگر ستر کے عشرے میں زمینداروں نے سیاسی اثر پھر حاصل کر لیا۔ ۸۰ کی دہائی کے وسط میں ہی جمہوری پالیسی سے زمیندار دوبارہ اپنی برتری کا دعویٰ کرنے لگے۔ اس کشمکش کے باوجود یہ نظر آتا ہے کہ جاگیردار مسلسل جدوجہد کرتے ہیں،جمہوریت کی وکالت کرتے ہیں اور جمہوری عمل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ۸۰ کی دہائی میں ایم آر ڈی اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہ بھی دل چسپ پہلو ہے کہ آزادی سے پہلے بیورو کریٹ اور زمین دار زعما کے درمیان تعلق زیادہ تھا مگر بعد میں فوجی زعما نے ان کے درمیان پیچیدگی پید اکی ہے۔ فوج کے سیاسی کردار اور آمرانہ مزاج نے پاکستان کے سیاسی کلچر میں استبدادیت کو رواج دیا ہے۔

اسلام کا کردار

ہمارے سیاسی عقائد پر اسلام کا اثر بہت گہرا ہے۔ اسلام نے پاکستانی اقدار کے ڈھانچے کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ Stanley Kochanek اس حوالے سے کہتا ہے:
Two most important influences on the political culture of Pakistan are Islam and the folk milieu of the Traditional order.
یہ درست ہے۔ اسلام خاص طور پر سنی اسلام میں چرچ یا Priesthood کا کوئی تصور نہیں۔ تاہم تنظیمی اعتبار سے یہ اہم ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ علما کی نصیحت پر سنت اور اسلامی قوانین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ یہ بات سماجی رویے اور مذہبی اقدار کو باقاعدہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسلامی ممالک میں حکمران طبقہ خود کو خدا کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنی خواہش کی مکمل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی دنیا کا مشاہدہ کرنے والا P. J. Vatikiotis اپنی کتاب "Islam and the State' میں گیارہویں صدی سے اسلام کی واحد تھیوری کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ:
"The only Political theory of Islam has been that of Passive obedience to any de facto authority, government by consent remains an unknown concept, autocracy has been the real and in the main only experience."
یہ بات پاکستان کے سیاسی کلچر میں تحکمانہ حکمرانی کی اطاعت وفرماں برداری میں بھی نظر آتی ہے۔ سنی مسلمان کا مزاج استبدادیت کی اطاعت کا مزاج رہا ہے۔ یہاں بھی سنی مسلمانوں کی اکثریت کے ملک میں مرضی ومنشا کی حکومت محض فریب نظر ہے۔ ڈاکٹر سعید شفقت کے خیال میں
Centralisation and the authoritarian tenets of Islam have been used as political instrument to promote authoritarianism and regimentation rather than encourage egalitarian, participatory and democratic tendencies.
اسلام کے ایسے استعمال کے ذریعے ہی حکمران طبقہ نے استبدادی رجحانات وعقائد کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا۔ ۸۰ کی دہائی میں استبدادی قوتوں اور جمہوری خواہشات کے درمیان کشمکش شرو ع ہوئی جو ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ کو ایک بار پھر فوجی حکمرانی پر منتج ہوئی۔ اس کے بعد سے دوبارہ یہ کشمکش جاری ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کے مطالعے سے بآسانی ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہاں حاکم استبدادیت پسند ہیں، جبکہ عوام ناخواندہ، غیر منظم، شعور مدنیت سے ناآشنا اور غیر جمہوری رویوں کے حامل ہیں، اس لیے یہاں سیاسی کلچر میں شراکتی جمہوریت وسیاست کا فروغ ممکن نہ ہو سکا۔
یہ کھلی حقیقت ہے کہ طویل فوجی آمریتوں نے پاکستان کے سیاسی کلچر کی نس سے جمہوری خواہشات نچوڑ لی ہیں ۔ سیاسی عمرانیا ت کی اصطلاحوں اور اقدار کی روشنی میں فوجی حکومتیں استبدادیت کو بڑھانے اور اختیارات کے استعمال میں خود غرضی کو فروغ دینے کا سبب بنی ہیں تو ساتھ ہی ساتھ جمہوری قدروں، روایات، رویوں اور معیارات کو کمزور کرنے کا سبب ہوتی ہیں، مگر ہمارے یہاں تو جمہوری اقدار کی ترقی کے حوالے سے سول حکمرانوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے کہ اکثر سول حکمران جائز راستوں سے آنے کے بجائے جی ایچ کیو کے سیاسی پولٹری فارم سے آنے والے رہنما تھے جن کی اپنی ٹانگیں کمزور تھیں۔ یہ شیور سیاست دان سول سوسائٹی کو مستحکم کرنے کی قوت واہلیت نہیں رکھتے تھے۔

زبان اور علاقائیت

زبان صرف تبادلہ خیال اور تاثرات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک شناخت بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور اس کی تمام علاقائی زبانیں ترقی کا یکساں معیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی تمام لسانی گروہ علاقائی زبانوں کے معیار اور نسلی شناخت کو یکساں سمجھتے ہیں۔ یہ لسانی انسیت اور لسانی قومیت پنجاب میں کم ظاہر ہوئی تاہم سندھ میں مضبوط ہے۔ یہی حال سرحد اور بلوچستان کا ہے۔ ان لسانی شناختوں نے پاکستانی سیاسی کلچر کو منتشر بنا دیا ہے۔ ان لسانی تضادات کے جواب کے لیے کئی حکومتیں بنیں اور وقتاً فوقتاً متحد کرنے والی قوت اور سرکاری شناخت کے طور پر اسلام کو بھی بارہا استعمال کیا گیا۔ پاکستانی، سیاسی کلچر میں اسلام کے کردار کے حوالے سے دو گروہ ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ اگر اسلام کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا جائے تو یہ اس ملک کے تضادات اور نسلی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے متحد کرنے والی ایک قوت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی تمام سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی بیماریوں کا علاج ہے۔ اسلام پر زور تمام حکومتیں دیتی رہی ہیں کہ یہ سرکاری نظریہ کے طور پر مرکزیت پر یقین رکھنے والی قوتوں کو تحفظ دیتا ہے۔ دوسرا گروہ پاکستان کو ایک ریاست تو مانتا ہے مگر یہ کہتا ہے کہ یہاں ایک سے زیادہ زبانیں اور کلچر ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو ان کی تاریخ، روایات اور معیارات کے مطابق ترقی کے مواقع ملنے چاہییں۔ نیز لامرکزیت اور زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری سے پاکستانی کلچر میں یک جائی وہم آہنگی بڑھے گی۔ اسی تضاد کے پیش نظر فیض نے کہا تھا کہ پاکستانی سیاسی کلچر کو عیاں کر کے قومی شناخت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طے شدہ مرکز میں سب سے اندرونی دائرہ اسلام ہے۔ دوسرا دائرہ ہماری علاقائی ثقافت کا ہے۔ سب سے باہر والا دائرہ پاکستانی علاقہ، تاریخ اور عام ورثہ ہے۔ اگر ہم سیاسی کلچر اور قومی شناخت کو ان دائروں میں دیکھیں تو یہ ایک دوسرے کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس صورت میں سماجی اقدار، نسلی شناخت اور مذہبی خواہشات سے سیاسی رجحانات میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ اس سے جمہوری رویے اور سوجھ بوجھ کی نشو ونما ہوتی ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ نو آبادیاتی روایتی طرز فکر، اسلام کے مقلدانہ کردار اور نسلی ولسانی عناصر نے پاکستان کے سیاسی کلچر پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہمارے ہاں ان مخلوط اثرات نے ایک طرف استبدادیت، مرکزیت، عدم برداشت اور کبھی نہ ختم ہونے والے جھگڑوں کو فروغ دیا تو دوسری طرف جمہوریت کے حوالے سے تصورات وخواہشات پیدا کیں، تاہم ہمارے سیاسی زعما اور عوام تقابلی سیاست اور جمہوری اداروں کے استحکام کی ضرورت سے آشنا ہیں۔ ہمارے سیاسی کلچر کا دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہماری نصف صدی سے زاید کی تاریخ میں عوام مستبد حکمرانوں کی پیروی میں وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور فوجی حکمرانوں کو تسلیم کر لیتے ہیں اور نئی قوت ونئی مضبوطی سے دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ جنرل مشرف کے آنے کے بعد بھی دیکھا گیا۔
ہر جمہوری کوشش سماجی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر جوش پیدا کرتی ہے لیکن جب لوگوں کی توقعات ختم ہو جائیں تو سیاسی اشرافیہ اور سماجی گروہ طاقت حاصل کرتے ہیں۔ کیا جمہوری قوتیں آمرانہ قوتوں پر برتری حاصل کر سکتی ہیں؟ آج پاکستان کا سیاسی کلچر ابتدائی سطح پر ہے۔ یہ مختلف زعما، سیاسی راہنماؤں اور سماجی گروہوں کے درمیان سیاسی ناپختگی کا عکاس ہے۔ یہ اس ابتدائی سطح پر ہے جہاں پر استبدادی جواز، نسلی شعور، اور معاشی خلیج نے سیاست کے تضاد کو شدید کیا ہے۔ یہ پاکستانی راہ نماؤں کے مفاد میں ہے کہ افہام وتفہیم کے راستے تلاش کریں۔ سیاسی ماحول کی تشکیل کے لیے تدبر وفراست کی حوصلہ افزائی کر کے مخالفین کے درمیان نظریاتی اور مفاداتی تضادات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جمہوری فہم وادراک ہی پاکستان معاشرے اور ریاست کو مضبوط کرے گا۔ پاکستان کے مستقبل اور کامیابی کا انحصار پاکستانی زعما یا اعیان پر ہے نہ کہ عوام پر۔ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔

میڈم شاہدہ قاضی کے افسانے اور حقیقت

شاہ نواز فاروقی

(’الشریعہ‘ کے مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں پروفیسر شاہدہ قاضی کی تحریر ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ شائع ہوئی تھی۔ روزنامہ جسارت کراچی کے کالم نگار شاہ نواز فاروقی صاحب نے اس کے بعض مندرجات پر تنقید کی ہے جسے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر بحث ومباحثہ کی وسیع گنجایش موجود ہے اور اگر کوئی صاحب علم زیادہ پختگی اور معروضیت کے ساتھ زیر بحث نکات پر اظہار خیال کرنا چاہیں تو ’الشریعہ‘ کے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں۔ مدیر)

ان دنوں پاکستان میں اسلام، اسلامی تاریخ اور تاریخ پاکستان کے ’’مزے‘‘ آئے ہوئے ہیں۔ کوئی اسلام کو مشرف بہ اعتدال کرنے پر لگا ہوا ہے، کسی نے اسلامی تاریخ کو مشرف بہ حقیقت کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور کوئی تاریخ پاکستان کی چولیں درست بٹھانے کے لیے کوشاں ہے۔ نتیجہ یہ کہ ریڈیو اسٹیشنز ہوں یا ٹیلی ویژن چینلز، اخبارات ہوں یا رسائل وجرائد، ہر طرف علم، تحقیق اور فکر کے دریا بہہ رہے ہیں اور ہم جیسوں کا حال Alice in wonder land کی ایلس جیسا ہے۔ کبھی حیران ہو رہے ہیں اور کبھی پریشان۔
جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی پروفیسر شاہدہ قاضی نے ڈان کراچی کی ۲۷ ؍مارچ کی اشاعت میں علم وتحقیق کا ایک ایسا ہی دریا بہایا ہے۔ یہاں ہماری مشکل یہ ہے کہ پروفیسر شاہدہ قاضی صاحبہ ہماری استاد رہی ہیں اور ہم انھیں آج بھی میڈم کہتے ہیں اور وہ بھی ایک استاد کی طرح شفقت فرماتی ہیں۔ اس صورت میں گفتگو کی دشواری عیاں ہے، لیکن یہاں تین باتوں سے ہماری حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ایک بات تو یہ کہ ہم دور طالب علمی میں بھی میڈم کو پریشان کرتے رہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ میڈم نے مسائل دلچسپ چھیڑے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ ہمیں کون سا میڈم کی طرح علم وتحقیق کی گنگا بہانی ہے؟ یہ کام ہم جیسے بنیاد پرستوں کو کبھی آیا ہی نہیں۔
میڈم کے مضمون کا عنوان ہے "The myth of History"، یعنی تاریخ کا اسطور یا تاریخ کا افسانہ۔ میڈم کے مضمون کے ابتدائی حصے کا لب لباب یہ ہے کہ تاریخ اور Myth کے درمیان باریک فرق ہے اور انسان ہمیشہ سے ان Legends کے لیے ٹھوس جواز تلاش کرتا رہا ہے جو ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ایک تحریک چلی جس میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قدیم اساطیر کے دیوتا حقیقت میں وجود رکھتے ہیں، لیکن پاکستانیوں کی بات ہی اور ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں کوئی مناسب Mythology نہیں ہے، چنانچہ ہم نے سپر ہیروز کی اچھی خاصی کہکشاں تخلیق کر ڈالی ہے اور نہ صرف یہ، بلکہ ہم نے ان ہیروز کے گرد اساطیری تانا بانا بھی بن ڈالا ہے۔ یہ تمام چیزیں ہم ابتدا میں ہی اپنے بچوں کے ذہنوں میں انڈیلتے رہتے ہیں، چنانچہ پھر ان کے لیے حقیقت کا اظہار بھی گناہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد میڈم نے دس Myths پیش کیے ہیں اور ایک ایک کا الگ الگ تجزیہ کیا ہے، لیکن ان کا ذکر بعد میں ہوگا۔ پہلے ہم ان امور کاجائزہ لے لیں جن کی نشان دہی مذکورہ بالا سطورمیں کی گئی ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ لفظ Myth کے معنی کیا ہیں؟ یہاں ہم کسی مسلمان دانش ور کا حوالہ دیں گے تو میڈم کہیں گی کہ مسلمان کا حوالہ تو جانب داری ہے، چنانچہ ہم آنند کمار سوامی کے پاس چلتے ہیں۔ کون آنند کمار سوامی؟ آنند کمار سوامی ۲۰ ویں صدی میں ہندو ازم پر سب سے بڑی اتھارٹی سمجھے گئے ہیں۔ قدیم اور روایتی آرٹ اور مختلف تہذیبوں میں Mythology کی روایت ان کا خاص موضوع تھا اور وہ کم وبیش پچاس سال تک انھی موضوعات پر لکھتے رہے۔ وہ سنسکرت، یونانی، لاطینی، اطالوی، فرانسیسی، عربی، فارسی، عبرانی، سریانی اور انگریزی سے واقف ہی نہیں، ان کے ’’ماہر‘‘ تھے۔ ان کی تحریروں میں ان زبانوں سے براہ راست استفادے کی ہزاروں شہادتیں موجود ہیں۔ ان آنند کمار سوامی کا کہنا ہے کہ Myth کے جو معنی جدید لغات میں بیان کیے گئے ہیں، وہ سرسری، سطحی، محدود، چنانچہ غلط ہیں۔ Myth خیالی پلاؤ، ماضی کا افسانہ یا انسانی تخیل کی پرواز نہیں۔ ان کے نزدیک Myth کی تعریف یہ ہے:
’’ایک ایسی حقیقت جس کی حقیقی معنویت گم ہو گئی ہو۔‘‘ (Figure of Speech or Figure of Thought, p. 212)
چنانچہ آنند کمار سوامی کا خیال ہے کہ Myth کی حقیقی معنویت کی بحالی کے ذریعے اسے زندہ حقیقت میں تبدیلی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ میڈم کے لیے آنند کمار سوامی کا پہلا مشورہ یہ ہے کہ وہ Myth کی غلط تعریف پر نظر ثانی کریں۔ وہ ایسا کر لیں گی تو ان کے مضمون میں موجود کئی تبصروں، مشاہدوں اور آرا کی معنویت ہی بدل کر رہ جائے گی، بلکہ انھیں پھر اپنے مضمون کا عنوان ہی بدلنا پڑ جائے گا۔ ہمیں لفظوں، اصطلاحوں اور تصورات کو ان کے حقیقی معنی میں استعمال کرنا چاہیے۔ دانش وری، علم اور تحقیق ہی کا نہیں، ایمان داری کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اب دیکھیے نا میڈم نے Myth کے لفظ کو غلط معنوں میں استعمال کر کے بجائے خود ایک اسطور یا ایک افسانہ اور ایک فینٹیسی تخلیق کر ڈالی، حالانکہ انھوں نے اپنے مضمون میں اسی شے کے خلاف جہاد کیا ہے، لیکن یہ تو محض میڈم کا تخلیق کردہ پہلا Myth ہے۔ 
میڈم شاہد ہ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چونکہ ہمارے پاس Proper Mythology نہیں ہے، اس لیے ہم نے گویا اس کی ’’کمی‘‘ سپر ہیروز تخلیق کر کے پوری کی ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو میڈم نے ایک جملے میں ایک نہیں، دو Myth تخلیق کر ڈالے ہیں۔ پہلا Myth تو یہ ہے کہ ہمارے پاس ’’مناسب‘‘ اساطیری سرمایہ نہیں ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس غیر مناسب اساطیری سرمایہ بھی نہیں ہے، بلکہ ہماری تاریخ میں Myth لفظ کا سایہ تلاش کرنا بھی محال ہے، یعنی ہماری تاریخ میں Myth لفظ نہ غلط معنوں میں موجود ہے نہ صحیح معنوں میں، چنانچہ جو چیز موجود نہیں اور کبھی اہم نہیں سمجھی گئی، اس کی ’’کمی‘‘ کا مسئلہ لاحق ہونا بعید از قیاس ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستانی قوم کا نہیں ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کا بحیثیت مجموعی یہی معاملہ ہے، لیکن ہمارے یہاں Myth کیوں نہیں ہے؟
اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک تو اسلام ہزاروں سالہ تاریخ کے تناظر میں کل کی بات ہے اور Mythology معروف معنوں میں ماقبل تاریخ کی چیز ہے، چنانچہ ہمارے پاس Mythology آتی تو کہاں سے آتی؟ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ اتنی شاندار، اتنی جاندار، اتنی پراسرار، اتنی معجزانہ، اتنی دلکش اور اتنی معنی خیز ہے کہ مسلمانوں کو کسی Mythology کی ضرورت ہی نہیں۔ ایک ایسا دین جس نے اپنے ظہور سے حضرت عمر فاروق کے زمانے تک اپنے لاکھوں پیروکار پیدا کر لیے ہوں، جس نے صرف تین دہائیوں میں اپنے وقت کی دو سپر پاورز کو شکست دے دی ہو، جس نے ۳۰، ۳۵ سال میں دو کروڑ مربع کلو میٹر رقبہ فتح کر لیا ہو، اس کے ماننے والوں کو نہ کسی اسطور کی حاجت ہو سکتی ہے اور نہ انھیں سپر ہیروز کی تخلیق کی نفسیاتی ضرورت کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔
خود جنوبی ایشیا میں بھی مسلمانوں کے کارنامے کم نہیں۔ انھوں نے یہاں ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ انھوں نے یہاں ایک نئی زبان اردو تخلیق کی۔ میر خسرو، میر، غالب، اقبال جیسے شاعر پیدا کیے۔ اٹھارہویں، انیسویں، اور بیسویں صدی میں ایسے علما پیدا کیے جن کی مثال پورے عالم اسلام میں کہیں موجود نہیں۔ مسلمانوں نے تاج محل، دہلی کی جامع مسجد اور لاہور کی شاہی مسجد تعمیر کی۔ شیر شاہ سوری نے زرعی اراضی کی پیمایش اور سڑکوں کی تعمیر کے شعبے میں انقلاب آفریں مثالیں قائم کیں۔ ہندو معاشرت کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہوگا جس پر مسلمانوں نے اثرات نہ مرتب کیے ہوں۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے ڈاکٹر تارا چند کی مشہور زمانہ تصنیف "Influence of Islam on Indian Culture"۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی ملت کے پاس حقیقی ہیروز کی کیا کمی ہو سکتی ہے؟ گویا یہ میڈم کا تخلیق کردہ دوسرا Myth تھا۔
چلیے تھوڑی دیر کے لیے مانے لیتے ہیں کہ ہم نے ہیروز گھوڑے ہوں گے، لیکن کیا اس مرض میں صرف ہم ہی مبتلا ہیں؟ یہ دنیا کی تمام اقوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اگر یہ مرض صرف ہمیں لاحق ہے تو پھر ہم یقیناًسزا اور اس سلوک کے مستحق ہیں کہ ہمیں اقوام عالم کی برادری سے نکال کر الگ کھڑا کر دیا جائے، لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناًایسا نہیں ہے تو پھر مذکورہ تبصرہ بجائے خود ایک Myth ہے۔
میڈم نے لکھا ہے کہ ہم اپنے سپر ہیروز کی شخصیت اور کارناموں کو اوائل عمر ہی سے اپنے بچوں کے ذہنوں میں انڈیلنے لگتے ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ میڈم کا ایک اور خود ساختہ Myth ہے۔ میڈم کے دانش میں ڈوبے ہوئے تبصرے سے لگ رہا ہے جیسے مذکورہ کام صرف ہم ہی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس دنیا کی باقی اقوام کا وتیرہ یہ ہے کہ جب ان کے بچے پچیس تیس سال کے ہو جاتے ہیں تب وہ اپنے ہیروز اور ان کے کارناموں سے انھیں آگاہ کرتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ باقی اقوام کی تاریخ ہماری تاریخ کی طرح افسانہ اور ان کے ہیروز ہمارے ہیروز کی طرح متنازعہ نہیں ہوتے۔ کیا میڈم کا دعویٰ یہ ہے؟ تو سوچیے پونے دو سو اقوام کی عالمی برادری میں سے کس قوم اور کس ملک کی تاریخ اور ہیروز ملاحظہ کریں۔ غالباً اس سلسلے میں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بھارت کو اس کا آئین دینے والے ڈاکٹر امبیدکر نے اپنی خود نوشت میں بھارت کے یوم آزادی یعنی ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ کی تعبیر یہ کی ہے:
’’آج ہم برطانوی سامراج سے آزاد ہو کر دوسرے (یعنی برہمن) سامراج کی غلامی میں چلے گئے۔‘‘
تو کیا بھارت کے اسکولوں میں یہ ’’تعبیر‘‘ بھی پڑھائی جاتی ہے؟ کیا گاندھی جی کو مہاتما نہیں کہا جاتا؟ اب کہاں سامراج اور کہاں مہاتما؟
چلیے امریکا چلتے ہیں۔ امریکا کے بانیان کے بارے میں وہاں کے بچوں کے ذہنوں میں کیا انڈیلا جاتا ہے؟ کیا یہ کہ وہ عظیم لوگ تھے؟ یا یہ کہ امریکا کے بانیوں نے ریڈ انڈینز کے آبائی ملک پر قبضہ کیا اور دو سو سال میں دو کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کر کے عظیم امریکا کی بنیاد رکھی؟ لیجیے معلوم ہوا میڈم نے ایک اور متھ کو گرانے کی کوشش میں خود ایک اور متھ تخلیق کر دیا۔ یہاں تک آتے آتے ہم سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ میڈم نے متھ توڑنے کے لیے مضمون لکھا ہے یا نئے متھ تخلیق کرنے کے لیے؟
میڈم شاہدہ قاضی کے دس Myths کی سیریز کا پہلا Myth کیا ہے؟ انھی کے الفاظ میں سنیے: ’’ہماری تاریخ ۷۱۲ عیسوی میں اس وقت شروع ہوئی جب محمد بن قاسم نے برصغیر میں قدم رکھا اور دیبل کا ایک حصہ فتح کر لیا۔‘‘
میڈم سوال اٹھاتی ہیں: مگر اس سے قبل کیا تھا؟ بقول ان کے ہمارے درسی کتب کے مطابق اس سے پہلے راجہ داہر جیسے ظالم حکمرانوں کی حکمرانی تھی جن کے ظلم سے ان کی پرجا عاجز آئی ہوئی تھی۔ محمد بن قاسم آئے اور انھوں نے مظلوموں کو ظلم سے نجات دلائی۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بڑے پیمانے پر مشرف بہ اسلام ہونے لگے۔ میڈم کے مطابق ایسا نہیں تھا۔ یہ علاقہ چھ ہزار سال پرانی اور شان دار تہذیبوں کا مرکز تھا۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیاں یہاں تھیں۔ لوگ انتہائی مہذب اور تعلیم یافتہ تھے، لیکن میڈم کے بقول ہم اپنے بچوں کو یہ سب نہیں بتاتے۔
متھ نمبر ۱ کا جواب: جنوبی ایشیا میں ہماری تاریخ یقیناً۷۱۲ء سے شروع ہوئی۔ یہاں ’’ہماری‘‘ سے مراد ’’مسلمانوں‘‘ کی تاریخ ہے۔ بلاشبہ اس علاقے کی منضبط تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے، لیکن تاریخ دو طرح کی ہوتی ہے، مردہ تاریخ اور زندہ تاریخ۔ مردہ تاریخ مردہ ہو کر میوزیم میں پہنچ جاتی ہے، جیسے موئن جودوڑو اور ٹیکسلا کی تاریخ۔ اس تاریخ سے ہمارا تعلق تجسس کا ہو سکتا ہے، لیکن اس سے ہمارا تعلق تخلیقی، متحرک اور زندہ نہیں ہو سکتا۔ بندروں کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ ان کا بچہ مر جاتا ہے تو بندریا کئی کئی دنوں تک مردہ بچے کی لاش کو سینے سے لگائے گھومتی رہتی ہے، مگر کچھ دنوں بعد اسے یاد بھی نہیں رہتا اور نئے بچے کی پیدایش کے بعد تو اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ مردہ تہذیب کو بھی سینے سے لگا کر گھوما جا سکتا ہے، مگر اس کا کوئی حاصل نہیں۔ وہ اب ہماری رگوں میں خون بن کر نہیں دوڑ رہی۔ چنانچہ محمد بن قاسم کی آمد کے بعد جو لوگ مسلمان ہوئے، ان کے لیے چھ ہزار سال کی تاریخ میں کوئی معنی نہیں رہ گئے۔ کیا تبدیلی مذہب معمولی بات ہے؟ اور کیا مذہب کی تبدیلی سے کچھ بھی نہیں بدلتا؟ ایسا نہیں ہے۔ مذہب بدل گیا تو سب کچھ بدل گیا۔ مثلاً پہلے اس علاقے کے لوگ مشرک تھے، اسلام لا کر وہ توحید پرست ہو گئے۔ ہزاروں جھوٹے خداؤں کے بجائے ایک خدا کو ماننے لگے۔ پہلے وہ یقین رکھتے تھے کہ ہزاروں جنم ممکن ہیں، اب وہ اس بات پر ایمان لے آئے کہ دنیا میں انسان صرف ایک بار آتا ہے۔ پہلے وہ کرشن اور رام کو دیوتا سمجھتے تھے، اب وہ محمد عربی ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں۔ ان کی عبادات تبدیل ہو گئیں۔ ان کے ہیروز بدل گئے۔ کتابیں تبدیل ہو گئیں۔ تہوار کچھ سے کچھ ہو گئے۔ شادی بیاہ کے طریقے اور سماجی رسوم بدل گئیں۔ سنسکرت یا پالی کی جگہ عربی اور فارسی نے لے لی۔ سندھی کا رسم الخط تبدیل ہو گیا۔ اس کی لغت کے زمین آسمان بدل گئے۔ تو پھر باقی ہی کیا رہا؟ اور جب کچھ باقی ہی نہیں رہا تو اسے اپنی تاریخ کیسے کہا جائے؟ میڈم اس تاریخ کا اتنا ذکر کرتی ہے مگر ان کی شخصیت اور رہن سہن پر موئن جودڑو اور ٹیکسلا کی تہذیب کا کیا، اسلامی تہذیب کا بھی کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، بلکہ وہ تو جدید مذہب سے زیادہ متاثر ہیں۔ البتہ ان کے گھر میں ہم نے موئن جودڑو اور ٹیکسلا سے برآمد ہونے والی مورتیوں اور اشیا کے نمونے ’’شو پیس‘‘ کے طو رپر رکھے ہوئے ضرور دیکھے ہیں۔ کاش وہ انگریزی کے بجائے سنسکرت اور پالی سیکھتیں۔ اس طرح وہ اس تہذیب کے ایک جزو کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتیں جس کو وہ بہت یاد کرتی ہیں اور جس پر کسی جواز اور معنویت کے بغیر انھیں بہت فخر ہے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیا خود اس بات سے بھی یہی ثابت نہیں ہوتا کہ موئن جودڑو ہو یا ہڑپہ اور ٹیکسلا، یہ مردہ تہذیبیں ہیں اور اب انھیں یا تو میوزیم میں رکھا جا سکتا ہے یا ان کے نمونوں کو ’’شو پیس‘‘ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیجیے میڈم نے ایک اور متھ کو رد کرتے کرتے ایک اور متھ تخلیق کر دیا۔
بلاشبہ مسلمان جس جنوبی ایشیا میں آئے، وہ تہذیبی اعتبار سے ’’بنجر سرزمین‘‘ نہیں تھی، لیکن میڈم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ بات بھی اسلام کے حق میں جاتی ہے۔ اسلام کی قوت اور کشش ہی ایسی ہے کہ وہ جس خطے میں گیا ہے، اس نے معجزے دکھائے ہیں۔ محمد بن قاسم ۷۱۲ء میں آئے۔ اس وقت علاقہ میں چند ہزار مسلمان تھے۔ آج سن ۲۰۰۵ ہے اور علاقے میں مسلمانوں کی آبادی ۵۰ کروڑ سے زائد ہے۔ کیا یہ معجزہ نہیں ہے؟ لیکن میڈم کو یہ سامنے کا معجزہ اہم نہیں لگتا، البتہ انھیں چھ ہزار سال پہلے کی کہانیاں رہ رہ کر یاد آتی ہیں اور ان کے دل پر اثر کرتی ہیں۔ اس طرح کہ ان کے دل سے آہ نکلتی ہے۔ ہائے موئن جودڑو، ہائے ہڑپہ، ہائے ٹیکسلا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ نصاب میں ’’واہ محمد بن قاسم‘‘ پڑھتی ہیں تو انھیں یہ ’’واہ‘‘ اور خود محمد بن قاسم ایک Myth نظر آتا ہے۔
میڈم کو یہ تسلیم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے کہ راجہ داہر بھی ظالم ہو سکتا تھا، کیونکہ بقول ان کے اس زمانے کے لوگ تو بڑے مہذب اور تعلیم یافتہ تھے، لیکن ہندووں کی تاریخ میں رام کا زمانہ تو گولڈن پیریڈ تھا، لیکن رام اور اس کی بیوی سیتا کو رام کی سوتیلی ماں کیکئی نے سازش کر کے چودہ سا ل کا بن باس دلا دیا۔ مہا بھارت کا دور بھی ایسا ہی ہے، لیکن پانچ پانڈوں اور سو کوروں کے درمیان، جو ایک ہی باپ کی اولاد تھے، مہا بھارت یعنی جنگ عظیم برپا ہوئی جس میں مہا بھارت کے اپنے بیان کے مطابق لاکھوں لوگ مارے گئے اور کوروں کے بادشاہ در پداہن کے اشارے پر پانڈوں کی بیوی درویدی کو بھرے دربار میں بے لباس کیا گیا۔ تو بے چارہ راجہ داہر کس کھیت کی مولی ہے؟ مگر چونکہ راجہ داہر کے مقابلے پر مسلم سپہ سالار محمد بن قاسم ہے، اس لیے میڈم کو یہ تسلیم کرنے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ راجہ داہر ظالم تھا۔ حالانکہ اس کا عیاش طبع ہونا تاریخی شہادتوں سے ثابت ہے اور عیاش طبع لوگوں کا ظلم پر مائل ہونا قابل قیاس ہے۔
بلاشبہ ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا چاہیے کہ ہندو تہذیب گئی گزری نہیں تھی۔ اس کے پاس بہت کچھ بلکہ سبھی کچھ تھا۔ لیکن اسلام کا حسن اور جاذبیت ایسی تھی کہ ہر تہذیبی سانچے کو نگل جانے والی ہندو تہذیب خود اسلام سے متاثر ہو گئی۔ ایسا نہ ہوتا تو آج جنوبی ایشیا میں دنیا کے کسی بھی علاقے سے زیادہ مسلمان نہ ہوتے۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ ہمارا نصاب مرتب کرنے والے اکثر لوگ احمق ہوتے ہیں اور انھیں خود اسلام کے بے پناہ حسن وجمال اور قوت کا اندازہ نہیں ہوتا۔
میڈم شاہدہ قاضی کی نظرمیں دوسرا Myth یہ ہے: ’’محمد بن قاسم مظلوم بیواؤں اور ییتم لڑکوں کی مدد کے لیے انڈیا آئے تھے۔‘‘
میڈم کے بقول ہم یہ Myth پیش کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ اسلامی سلطنت کی توسیع کا زمانہ تھا۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں مسلمانوں نے بھارت کے سلسلے میں ’’مہم جوئی‘‘ کی مگر کام یاب نہ ہوئے، البتہ محمد بن قاسم کو کام یابی ملی، لیکن عربوں کی باہمی چپقلشوں کی وجہ سے مرکز سندھ پر زیادہ توجہ نہ دے سکا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ بعد سندھ مقامی راجاؤں کی گود میں چلا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو میڈم تسلیم کرتی ہیں کہ یہ ’’مسلم ایمپائر‘‘ کی توسیع کا زمانہ تھا۔ پورا مشرق وسطی، ایران، شمالی افریقہ اور اسپین کا بڑا حصہ مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا تھا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان اس دور کی واحد عالمی طاقت تھے، لیکن دوسری جانب میڈم کو یہ تسلیم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے کہ وقت کی عالمی طاقت اپنی ہم عقیدہ مظلوم عورتوں اور بچیوں کی مدد کے لیے نہیں آ سکتی تھی۔ کیا میڈم کو نہیں معلوم کہ ہمارے دور کی بڑی طاقتیں اپنے شہریوں یا ہم عقیدہ افراد کے تحفظ کے لیے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ تو کیا اسلامی سلطنت اپنے مظلوم ہم عقیدہ انسانوں کے لیے راجہ داہر جیسے معمولی شخص کے خلاف بھی کارروائی نہیں کر سکتی تھی؟ میڈم تھوڑا سا دل بڑا کریں۔ وہ مسلمانوں کو ’’اخلاقی‘‘ Advantage نہیں دینا چاہتیں تو نہ دیں، واحد عالمی طاقت ہونے کا Advantage تو دیں۔ انھیں کم از کم اتنا تو سمجھنا ہی چاہیے کہ عالمی طاقت، عالمی طاقت ہوتی ہے۔ ویسے میڈم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں ثابت کیا ہے کہ وہ محض اخلاقی محرکات کے زیر اثر بھی بڑے بڑے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اور یہ بھی مسلمانوں کی ’’ذاتی خوبی‘‘ نہیں، انھیں قرآن مجید کا حکم ہے کہ مسلمان جہاں کہیں بھی مظلوم ہوں، ان کی مدد کرو۔
دیکھا جائے تو میڈم نے ملفوف انداز میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ مظلوم عورتوں اور بچیوں کا قصہ تو محض بہانہ تھا۔ عرب سندھ پر حملہ کی منصوبہ بندی کیے ہوئے تھے۔ ہم پھر میڈم کو یاد دلائیں گے کہ مسلمان واحد عالمی طاقت تھے اور ایک عالمی طاقت کو راجہ داہر جیسے معمولی اور حقیر شخص کے خلاف کارروائی کے لیے بہانہ تراشنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مسلمانوں نے اس وقت کی دو عالمی طاقتوں قیصر وکسریٰ پر حملہ کے لیے بہانہ نہیں بنایا۔ انھوں نے صاف کہا، اسلام لاؤ، جزیہ دو یا جنگ کے لیے تیار رہو۔ میڈم کے نزدیک یہ روش بھی قابل اعتراض ہوگی، مگر وہ کم از کم یہ تو تسلیم کریں کہ مسلمانوں کو گھٹیا بہانہ بازی کی ضرورت نہ تھی۔ راجہ داہر ایک حقیر شخص تھا۔ اس نے مسلمان خواتین اور بچیوں پر واقعتا ظلم کیا تھا اور محمد بن قاسم کی کارروائی کی اصل وجہ یہی تھی۔
کیا میڈم کو نہیں معلوم کہ تاریخ میں بسا اوقات بہت چھوٹے چھوٹے واقعات بڑے بڑے واقعات کا سبب بنے ہیں۔ انگریز جنوبی ایشیا میں تاجر بن کر آئے، جہانگیر کی بیٹی بیمار پڑی اور ایک انگریز طبیب کے علاج سے صحت یاب ہو گئی۔ بادشاہ خوش ہوا اور انگریزوں نے کاروباری ٹھکانوں کے لیے تھوڑی سی زمین انعام کے طور پر مانگ لی اور یوں انگریزوں کے قدم جم گئے۔ مطلب یہ کہ اگر راجہ داہر مسلمان عورتوں اور بچیوں کو اغوا نہ کرتا تو ہو سکتا ہے مسلمان کچھ عرصہ اور سندھ کا رخ نہ کرتے۔
میڈم کے بقول تیسرا Myth یہ ہے کہ محمود غزنوی بت شکن تھا۔ میڈم نے لکھا ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ محمود نے بھارت پر ۱۷ حملے کیے، لیکن اس نے پنجاب کو فتح کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کی دل چسپی صرف مندروں سے تھی جہاں سونے اور قیمتی پتھروں کا خزانہ موجود تھا۔ میڈم کے بقول یہ مسلم بادشاہ اور سلطان نہیں تھے جنھوں نے جنوبی ایشیا میں اسلام پھیلایا، بلکہ یہ کام ان صوفیا نے کیا جو مسلم دنیا کے مختلف ملکوں میں ’’بنیاد پرستوں‘‘ کے ظلم سے تنگ آ کر بھارت آ گئے تھے۔ انھی صوفیا نے اپنی بلند خیالی، محبت، رواداری، درگزر اور سادہ طرز زندگی سے مقامی لوگوں کے دل جیت لیے۔
محمود غزنوی کی شخصیت کے بارے میں ہمارے اپنے ’’تحفظات‘‘ ہیں، لیکن ان تحفظات کا تعلق اسلام کے بعض تصورات اور اعلیٰ ترین اقدار سے ہے اور ان کی روشنی میں محمود غزنوی کا دفاع قدرے دشوار ہے، مگر بھارت کی تاریخ کے مقابلے پر محمود کا دفاع سہل ترین کام ہے۔ میڈم نے محمود غزنوی کو Invader قرار دیا ہے، لیکن محمود نے جس ہندوستان پر حملہ کیا، وہ آریوں کا ہندوستان تھا اور آریہ خود Invader تھے۔ چنانچہ ان میں اور محمود میں فرق یہ ہے کہ محمود ایک نیا Invader تھا اور آریہ قدیم Invader، بلکہ لسانیات کے دائرے میں ہونے والی حالیہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ آریوں سے پہلے ہندوستان میں جو دراوڑ موجود تھے، وہ بھی Invader تھے اور ان سے قبل ہندوستان میں قبائل آباد تھے۔ تفصیلات کے لیے میڈم کو دیکھنا چاہیے جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف وتالیف کے ترجمان ’’جریدہ‘‘ کا وہ شمارہ جس میں اس حوالے سے خالد حسن کا تحقیقی مقالہ شائع ہوا ہے۔ چنانچہ میڈم محمود غزنوی کو ڈی گریڈ کرنا چاہتی ہیں تو انھیں آریوں اور دراوڑیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنا ہوگا جو شاید ان کے لیے تکلیف دہ عمل ہو۔ مگر یہ سوال کہ محمود نے پنجاب کو کیوں فتح نہیں کیا؟ میڈم، فوجی حکمت عملی کا پہلا اصول ہے کہ جہاں مزاحمت نہ ہو، وہاں اپنی توانائی ضائع نہ کرو۔ پنجاب میں مزاحمت تھی ہی نہیں تو بے چارہ محمود کس کے خلاف تلوار اٹھاتا؟ یہاں اتفاق سے بت شکنی کے مواقع بھی دست یاب نہ تھے۔
میڈم تاریخی ریکارڈ درست کریں۔ محمود غزنوی نے بھارت پر نہیں، سومناتھ پر ۱۷ حملے کیے۔ کیوں کیے؟ میڈم کا خیال ہے کہ اس کا اصل مسئلہ مال تھا۔ ایسا نہیں ہے۔ سومناتھ علاقہ کا مرکز تھا۔ مزاحمت سومناتھ اور اس کے آس پاس ہی تھی اور سومناتھ کے مندر میں کیا تھا؟ ایک شعبدہ۔ ایک بہت بڑا بت مندر میں اس طرح معلق تھا جیسے اس کا معلق ہونا کوئی معجزہ ہو، لیکن یہ شعبدہ اور مال کمانے کا ایک طریقہ تھا۔ محمود نے بت گرا دیا اور شعبدہ کا شعبدہ ہونا ثابت ہو گیا۔ یہاں مال غنیمت بھی ہے مگر بت شکنی سے بھی صر ف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ محمود بلاشبہ بت شکن بھی تھا۔
میڈم کی ذرہ نوازی ہے کہ انھوں نے اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلتا نہیں دیکھا، بلکہ اسے صوفیا سے منسوب کر دیا۔ میڈم کا شکریہ، مگر یہاں انھوں نے ایک اور Myth تخلیق کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو صوفیا مختلف علاقوں سے بھارت آئے، وہ اپنے وقت کے بنیاد پرستوں کے ظلم سے عاجز آئے ہوئے تھے اور اس لیے وہ یہاں آ گئے۔ بھارت میں آنے والے صوفیا کی تعداد سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہے، میڈم ذرا تین ایسے صوفیوں کے نام بتائیں جو بنیاد پرستوں کے خوف سے یہاں آئے ہوں۔ Fantasy اچھی چیز ہے، مگر ایسی بھی کیا ٰFantasy؟
میڈم نے درست کہا ہے کہ اسلام مغل بادشاہوں اور سلطانوں نے نہیں پھیلایا، بلکہ یہ کام صوفیا نے کیا ہے۔ میڈم کو لفظ علما شاید پسند نہیں، ورنہ وہ کہتیں کہ اسلام صوفیا اور علما نے پھیلایا۔ ہم خود صوفیاے کرام کے بہت قائل ہیں، مگر یہاں ایک ایسا نکتہ ہے جس پر لبرل دانش وروں کی کیا، مذہب پرستوں کی بھی نظر نہیں جاتی۔ وہ نکتہ کیا ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ اسلام صوفیا اور (میڈم سے معذرت کے ساتھ) علما نے پھیلایا، مگر صوفیا اور علما بادشاہوں اور سلطانوں کے بغیر اتنا اسلام نہیں پھیلا سکتے تھے جتنا انھوں نے پھیلایا۔ اس کی دلیل؟ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ بدھ ازم، ہندو ازم ہی کا شاخسانہ تھا، لیکن برہمنوں اور دوسری اعلیٰ ذات کے ہندووں نے گوتم بدھ اور ان کے نظریے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ انھوں نے گوتم کو ’’اوتار‘‘ تو مانا مگر ملیچھ اوتار یعنی ’’ناپاک اوتار‘‘ ۔ اور اشوک کے بعد انھوں نے بدھ ازم کے پیروکاروں کو مار مار کر بھگا دیا، چنانچہ بدھ ازم کے اثرات بھارت سے باہر تو پھیلے مگر Heart Land میں نہیں، چنانچہ اگر بادشاہ اور سلطان نہ ہوتے تو ہندو ازم کے ترجمان محبت اور رواداری میں ڈوبے ہوئے صوفیا کا وہ حشر کرتے کہ دنیا دیکھتی۔ چنانچہ بادشاہت اسلام تو نہ پھیلا سکی، لیکن وہ صوفیاے کرام اور علما کو غیر محسوس انداز میں تحفظ فراہم کرتی رہی۔ میڈم کو یاد رکھنا چاہیے کہ گوتم بدھ کے زمانے اور اس سے متصل ادوار کے بدھسٹ بھی محبت، امن، رواداری، اور درگز ر کا مرقع تھے، مگر یہ تمام صفات ان کے زیادہ کام نہ آ سکیں۔
میڈم کی نوازش کہ انھوں نے مان لیا کہ اسلام صوفیا کی محبت آمیز روش، رواداری اور درگزر جیسی صفات سے پھیلا۔ اس سے پہلے مضمون کی ابتدا میں وہ فرما چکی ہیں کہ سندھ کی سرزمین قدیم تہذیبوں کا مرکز تھی۔ یہاں کے لوگ انتہائی مہذب، تعلیم یافتہ، خوش حال اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ ایسا تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ اسلام کیونکر تیزی کے ساتھ پھیل گیا؟ کیا صرف محبت کے زور سے؟ ظاہر ہے کہ مجرد محبت کچھ نہیں ہوتی، اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے تصورات اور اسلامی تہذیب بھی مقامی مذہب کے تصورات اور مقامی تہذیب سے بدرجہا بہتر تھی اور یہ علاقہ اتنا تہذیب یافتہ نہیں تھا جتنا کہ میڈم نے باور کرایا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کروڑوں شودر اور اچھوت اعلیٰ ذات کے ہندووں کے چنگل میں پھنسے صدیوں سے حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہندو معاشرے میں عورت کا مقام انتہائی پست تھا۔ شرک کے مقابلے پر توحید کے تصور میں بڑی کشش اور نیا پن تھا۔ آواگون کے تصور کے مقابلے پر دنیا میں انسان کی ایک بار آمد کا تصور سہل اور زیادہ قابل فہم تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو اسلام کی پیش قدمی شاید سست ہوتی۔
میڈم کو اس بات سے بھی بڑی تکلیف ہے کہ لوگ یہ کیوں کہتے اور سمجھتے ہیں کہ اورنگ زیب بڑا متقی اور پرہیز گار تھا اور وہ ٹوپیاں سی کر اور قرآن مجید کے قلمی نسخے فروخت کر کے گزر اوقات کرتا تھا۔ میڈم نے اپنے مضمون میں اسے Myth نمبر ۴ قرار دیا ہے۔ میڈم نے کہا ہے کہ اورنگ زیب بادشاہ تھا، وہ ٹوپیاں سیتا ہوگا تو اس کی ٹوپیاں عام قیمت پر تھوڑی فروخت ہوتی ہوں گی۔ بقول میڈم کے اورنگ زیب تو یوں بھی خطرات میں گھرا ہوا تھا، اس کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہوگا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر ٹوپیاں سیے۔ میڈم کے مطابق اورنگ زیب کو ’’متقی‘‘ کہا جاتا ہے، مگر یہ وہی ’’متقی‘‘ ہے جس نے اپنے باپ کو جیل میں ڈالا اور اپنے بھائیوں کو قتل کرا دیا۔
میڈم کو اورنگ زیب اور اس سے وابستہ حقائق کے حوالے سے جو ’’تکلیف‘‘ ہے، اس پر ہم اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے معذرت خواہ ہیں، مگر یہاں پہنچتے پہنچتے میڈم کے دلائل کی حالت قابل رحم حد تک کمزور ہو چکی ہے۔ پہلے انھوں نے فرمایا کہ اورنگ زیب کو ٹوپیوں کی معمولی قیمت تھوڑی ملتی ہوگی بلکہ لوگ انھیں بھاری داموں خریدتے ہوں گے۔ پھر انھوں نے فرمایا کہ ویسے اورنگ زیب کے پاس ٹوپیاں سینے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہوگا۔ اب یہاں میڈم پہلے طے کر لیں کہ اورنگ زیب عالمگیر ٹوپیاں سیتے تھے یا نہیں؟ دوسری بات یہ کہ تاریخ میں ’’کیا ہوگا، ہوا ہوگا‘‘ جیسے الفاظ کے کوئی معنی نہیں ہوتے اور جب کوئی تاریخ کے سلسلے میں اس طرح کی زبان استعمال کرتا ہے تو وہ لاعلم ہی نہیں، بد دیانت بھی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے میڈم نے اورنگ زیب عالمگیر کے سلسلے میں یہی اسلوب اختیار کیا ہے۔ انھیں اورنگ زیب سے متعلق Myth توڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ تخیل کے گھوڑے اور تذبذب کے تانگے دوڑانے کے بجائے ’’یقینی معلومات‘‘ پیش کریں اور کہیں کہ جی نہیں، اس ریکارڈ سے ثابت ہے کہ اورنگ زیب ٹوپیاں نہیں سیتا تھا، یا سیتا تھا تو اس شہادت سے ثابت ہے کہ وہ بہت مہنگی فروخت ہوتی تھیں۔ ٹوپیوں کے سلسلے میں "Would they not pay exorbitant price"، اورنگ زیب کے سلسلے میں "Would a king have the time" جیسے فقرے اور الفاظ Myth توڑتے نہیں، نئے اور شرم ناک Myth تخلیق کرتے ہیں۔
میڈم نے اپنے طور پر یہ کہہ کر اورنگ زیب عالمگیر کی شخصیت پر کلہاڑا چلا دیا ہے کہ وہ ایسے متقی تھے کہ انھوں نے اپنے باپ کو جیل میں ڈالا اور بھائیوں کو قتل کرا دیا۔ میڈم کو ایسا کرنے سے پہلے کسی لغت میں تقوے کے معانی دیکھ لینے تھے۔ انھوں نے یہ زحمت کر لی ہوتی تو انھیں اورنگ زیب عالمگیرؒ کے تقوے اور عمل میں تضاد نظر نہ آتا۔
میڈم کو قدیم ہندو تہذیب پر بڑا فخر ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس تہذیب کے مردہ حصوں کو بھی یاد کرتی ہیں اور اپنی تاریخ قرار دیتی ہیں، لیکن اسی شاندار تاریخ میں مہا بھارت ہے۔ مہا بھارت میں پانڈو اور کورو ہیں۔ پانڈو ۵ ہیں اور کورو ۱۰۰، لیکن یہ تمام آپس میں بھائی ہیں، ایک باپ اور دو ماؤں کی اولاد۔ پھر ان دونوں کے درمیان کروا کشیتر میں ’’جنگ عظیم‘‘ ہوتی ہے اور پانڈو اپنے ۱۰۰ بھائیوں کو نہیں، سینکڑوں عزیزوں کو بھی تہ تیغ کر دیتے ہیں۔ ان عزیزوں میں ماموں، چاچا، بھانجے، بھتیجے اور استاد بھی شامل ہیں، یہاں تک کہ بھیم ایک کورو کے خون سے اپنی بیوی دروپدی کے بال دھوتا ہے۔ اور میڈم کو معلوم ہے کہ اس سب کا جواز کیا دیا گیا ہے؟ یہ کہ پانڈو خیر ہیں اور کورو شر۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے اقدامات کا جواز بھی یہی ہے۔ یہ اقتدار کا مسئلہ تھا ہی نہیں۔ اورنگ زیبؒ کے سامنے صرف اسلام اور اس کے تقاضے تھے، لیکن میڈم اورنگ زیب پر طنز کرتی ہیں اور مہا بھارت کی تہذیب پر انھیں فخر ہے۔
میڈم نے پانچویں Myth کے ذیل میں ۱۸۷۵ کی جنگ آزادی پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے مطابق جنگ آزادی مسلمانوں نے شروع کی اور اس کے اختتام پر اس کا خمیازہ بھی صرف مسلمانوں کو بھگتنا پڑا جبکہ ہندو انگریزوں کے فطری اتحادی تھے۔ میڈم کے مطابق ایسا نہیں تھا۔بے شک ا نگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والی اکثر رجمنٹس مسلمانوں کی تھیں، مگر ہندو بھی جنگ آزادی میں شریک تھے۔ جھانسی کی رانی کی جدوجہد اس کا ثبوت ہے۔ مزید برآں مسلمانوں کی اکثریت آخر وقت تک انگریزوں کی وفادار رہی، سرسید اس کا ثبوت ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مسلم ایمپائر ۱۸۵۷ میں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلی۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریز بہت پہلے ہندوستان کے بیشتر علاقے پر قابض ہو چکے تھے اور بہادر شاہ ظفر کی حکومت دلی تک محدود تھی۔ ۱۷۸۵ کے بعد ہندو اس لیے کامیاب اور خوش حال ہوئے کیونکہ انھوں نے جدید تعلیم حاصل کی، انگریزی سیکھی، تجارت شروع کی، جبکہ مسلمان ماضی کی عظمت میں کھوئے رہے۔ وہ دینی مدارس کی تعلیم اور فارسی سے آگے نہ بڑھے اور یہ دونوں چیزیں اس ’’انقلاب آفریں‘‘ وقت میں ان کے راستے کا پتھر بن گئیں۔
میڈم کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تاریخی حقائق کا ذکر ضرور کرتی ہیں مگر ذاتی پسند وناپسند میں الجھ کر رہ جانے کا ثبوت بھی فوراً فراہم کر دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ان کے بیانات بجائے خود ایک Myth بن جاتے ہیں۔ اب مثلاً ایک جانب انھوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ہندو بھی برابر کے شریک تھے اور دوسری جانب انھوں نے کہا ہے کہ ہندووں کی ترقی اور خوش حالی کا راز یہ تھا کہ انھوں نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد جدید تعلیم حاصل کی، انگریزی سیکھی اور کاروبار پر توجہ مرکوز کی، مگر وہ اس سوال پر غور نہیں کرتیں کہ جو قوم ایک جنگ آزادی لڑ رہی تھی، وہ پلک جھپکتے ہی دشمن کی لائی ہوئی تعلیم اور اس کی زبان سیکھنے پر کیسے اور کیونکر چل پڑی اور اسے کاروبار کے لیے وہ حالات کیسے فراہم ہو گئے جن کے بغیر بڑے پیمانے پر کاروباری تجربہ خلق نہیں ہو سکتا؟ اس الجھن، پیچیدگی اور تضاد کاجواب واضح ہے۔ ہندووں کی عظیم اکثریت جنگ آزادی سے بے نیاز رہی۔ بلاشبہ جھانسی کی رانی نے انگریزوں کے خلاف بے مثال جدوجہد کی اور مسلمانوں نے ہمیشہ اس کا اعتراف کیا۔ علامہ اقبال تک نے اس کی تعریف کی ہے اور جھانسی کی رانی کیا، نانا صاحب بھی جدوجہد میں شریک تھے، مگر جنگ آزادی کی مجموعی فضا پر مسلمانوں ہی کی چھاپ تھی اور اس کی نفسیاتی، جذباتی، تاریخی اور سیاسی وجہ ظاہر تھی۔ گزشتہ ایک ہزار سال سے بھارت ہندووں کا بھارت نہیں تھا، مسلمانوں کا ہندوستان تھا۔ اس کے ہونے کے بیشتر فوائد اور اس کے نہ ہونے کے بیشتر نقصانات مسلمانوں ہی کے حصے میں آنا تھے، چنانچہ بغاوت کی جو تڑپ مسلمانوں میں ہو سکتی تھی، وہ ہندووں میں ممکن ہی نہیں تھی۔
بے شک جنگ آزادی سپاہیوں کی بغاوت سے شروع ہوئی، لیکن جلد ہی اس نے عوامی رنگ اختیار کر لیا۔ چنانچہ اس بات کے کوئی معنی ہی نہیں کہ برٹش فوج میں موجود کتنے مسلم فوجیوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اور کتنے مسلمان آخری وقت تک انگریزوں کے وفادار رہے۔ میڈم کا خیال ہے کہ جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے زیادہ نقصان کی بات بھی افسانہ ہے۔ سرسید بلاشبہ انگریزوں کے وفادار تھے بلکہ تاریخی شواہد سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ مجاہدین آزادی کی مخبری کرتے رہے۔ مگر سرسید نے بھی اسباب بغاوت ہند میں تسلیم کیا کہ بغاوت کا بہت زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔
میڈم اس سلسلے میں یہ تک دیکھنے کی روادار نہیں ہوئیں کہ بے چارے ہندووں کی بڑی تعداد کیونکر جنگ آزادی میں شریک ہو سکتی تھی۔ ہندو صدیوں سے لڑنے کی اسپرٹ سے محروم تھے، ا ن میں فوجی تنظیم اور فوجی تربیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ انھیں لڑنے کا تجربہ بھی تھا تو صرف مسلمانوں یا انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر لڑنے کا تجربہ تھا۔ کیا یہ ایک تاریخی حقیقت نہیں ہے؟ میڈم نے سرسید کو انگریزوں کا وفادار کہا ہے اور بالکل ٹھیک کہا ہے، حالانکہ انگریزوں کا یہ وفادار بھی مسلمانوں سے کہہ رہا تھا کہ جدید تعلیم حاصل کرو، انگریزی سیکھو، لیکن راجہ موہن رائے کے مشوروں پر، جو دراصل ہندووں کے سرسید تھے، ہندووں نے جدید تعلیم حاصل کی اور انگریزی سیکھی تو میڈم نے اسے ہندووں کی وفاداری کے بجائے اسے ہندووں کی ’’ذہانت‘‘ قرار دیا۔ اس کے لیے انھوں نے "They were clever enough" کا فقرہ استعمال کیا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ ایمان داری ہے؟
میڈم کا یہ خیال درست ہے کہ ہندوستان ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی سے قبل ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر کی حکومت دلی تک محدود تھی، لیکن اس سلسلے میں بے چارے مسلمانو ں نے کون سا Myth تخلیق کر ڈالا۔ پوری انسانی تاریخ میں سیاسی مرکز کی علامتی اہمیت بنیادی رہی ہے۔ سقوط بغداد تو بہت بعد میں ہوا۔ امریکا اور برطانیہ کے فوجی عراق کے دیگر علاقوں پر پہلے ہی قابض ہو چکے تھے، لیکن سقوط بغداد کے ساتھ ہی تسلیم کر لیا گیا کہ اب پورے عراق پر جارح فوجوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ بھارتی فوج سقوط ڈھاکہ کے وقت پورے مشرق پاکستان پر قابض نہیں تھی، لیکن ڈھاکہ کے سقوط کے ساتھ ہی پورا مشرقی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ ۱۸۵۷ کی جنگ آزای میں بھی یہی ہوا۔ جب تک دار الحکومت پر بہادر شاہ ظفر کی حکومت تھی، بادشاہ کی علامتی اہمیت برقرار تھی۔ بخت خان نے قلعے میں بادشاہ کے ساتھ جو ملاقاتیں کیں، ان میں اس نے بادشاہ کے ذہن میں یہ با ت بٹھانے کی کوشش کی کہ آپ قلعے سے نکلیں، ہندوستان کے عوام آج بھی آپ کو حاکم تسلیم کرتے ہیں۔ آپ قلعے سے باہر نکلیں گے تو جدوجہد آزادی کا دائرہ وسیع ہو جائے گا، مگر جو بات ساری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے، ہماری میڈم نے اسے بھی Myth بنا کر مسلمانوں کے منہ پر دے مارا ہے۔ آدمی اپنی تاریخ اور تہذیب سے متعلق نہ ہو تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
میڈم نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد کی صورت حال کو Changing time قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہندووں نے بدلتے ہوئے حالات سے خود کو ہم آہنگ کیا، لیکن مسلمان دینی مدارس کی تعلیم اور فارسی سے چمٹ کر رہ گئے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوئی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میڈم نے جس چیز کو بدلتے ہوئے حالات قرار دیا ہے، وہ سامراج کا قبضہ اور اس کا پھیلاؤ تھا اور اس کے خلاف مسلمانوں کا طرز عمل فطری، برجستہ اور انسانی تھا۔ اور ہندو جو کچھ کر رہے تھے، وہ ذہانت یا Cleverness نہیں، کھلی موقع پرستی تھی۔ اور اگر نہیں تھی تو ویت نام کے لوگوں کی ذہانت یہ ہوتی کہ وہ امریکی فوجیوں کے قبضے کو محض بدلتے ہوئے حالات سمجھتے، انگریزی سیکھتے، امریکی فوج سے تعاون کرتے، جمہوریت کی پریکٹس کرتے، اور آج عراق کے لوگوں کو بھی دراصل مزاحمت کے بجائے امریکا اور اس کے ایجنٹوں کی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے امریکا کا لایا ہوا نصاب قبول کر لینا چاہیے۔ انگریزی سیکھنی چاہیے اور خود کو بدلتے ہوئے حالات سے پوری طرح ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
میڈم کے بقول چھٹی Myth یہ ہے کہ مسلمان انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے صف اول میں تھے اور انگریزوں نے بعد ازاں ان کے ساتھ برا سلوک کر کے انھیں نشان زد کر دیا۔ میڈم کے مطابق ایسا نہیں تھا، بلکہ اس کے برعکس انگریزوں نے مسلمانوں کو ۱۹۰۵ میں پہلا تحفہ تقسیم بنگال کی صورت میں دیا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے جداگانہ حق انتخاب کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں انگریزوں کے حامیوں نے مسلم لیگ قائم کی۔ مسلم لیگ نے کبھی انگریزوں کی مزاحمت نہیں کی۔ مسلمانوں نے صرف خلافت تحریک میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔ قائد اعظم کبھی جیل نہیں گئے، البتہ کانگریس ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کی دہائیوں میں انگریزوں کے خلاف پرامن جدوجہد کرتی رہی۔ اس نے ہندوستان چھوڑو تحریک شروع کی، مگر مسلم لیگ کے رہنمااس کی مخالفت کرتے رہے۔
خدا کی پناہ ایسے ہی مواقع پر باآواز بلند طلب کی جاتی ہے۔ میڈم جھانسی کی رانی کو تو کھود کر نکال لائیں مگر انھیں مسلمانوں کی طویل وعریض مزاحمت کہیں نظر نہیں آئی۔ آخری اطلاعات کے مطابق حیدر علی مسلمان ہی تھا۔ اس کا فرزند ارجمند سلطان ٹیپو شہید بھی مسلمان تھا۔ سراج الدولہ کے بارے میں بھی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ بھی اتفاق سے مسلمان تھا۔ تیتو میر ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کا مرکزی کردار جنرل بخت خان ۔ اور کتنے نام گنوائے جائیں؟ خلافت تحریک اس کے علاوہ ہے۔ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک بھی مسلح مزاحمت پر مائل تھی۔ تقسیم بنگال یقیناًمسلمانوں کے لیے رعایت تھی، لیکن خود میڈم نے تسلیم کیا ہے کہ یہ رعایت فوراً واپس لے لی گئی۔ پھر یہ کہ تقسیم بنگال انتظامی اعتبار سے انگریزوں کی ضرورت تھی اور اسے تحفہ قرار دینا کسی بھی اعتبار سے قرین انصاف نہیں ہے۔ بالفرض یہ تحفہ بھی تھا تو یہ کیسا تحفہ تھا جو دے کر تقریباً فوراً ہی واپس لے لیا گیا۔ اس سلسلے میں محرک کے طور پر انگریزوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بلاشبہ مسلم لیگ انگریزوں سے قربت رکھنے والوں نے قائم کی، لیکن کانگریس تو خود ایک انگریز نے قائم کی، مگر میڈم کانگریس کو مزاحمتی جماعت کہتی ہیں اور مسلم لیگ کو مفاہمتی پارٹی۔ یہ کیسا تاریخی شعور ہے؟ بلاشبہ مسلم لیگ نوابوں کی جماعت تھی، لیکن ۱۹۴۰ میں مسلم لیگ ایک عوامی جماعت بن چکی تھی اور اس کی تحریک کی پشت پر بڑے بڑے مذہبی، تاریخی اور نفسیاتی محرکات کارفرما ہو چکے تھے اور جب تاریخ میں کسی سیاسی گروہ کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے ظاہری سانچے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو اسے صرف مسلمان ہی نہیں ہندووں کی جدید تاریخ کے کئی اہم کردار بھی مشتبہ سمجھتے تھے۔ بھگت سنگھ اس کی ایک علاقائی مثال تھا اور سبھاش چندر بوس ملک گیر مثال، اور یہ دونوں ہندووں میں کم مقبول نہیں تھے۔ سبھاش چندر بوس مسلح جدوجہد کے قائل تھے اور انھیں اپنی اس فکر کے باعث بالآخر ہندوستان چھوڑنا پڑا اور عجیب بات یہ ہے کہ انھیں بھارت سے افغانستان پہنچانے والا کوئی ہندو نہیں، ایک پٹھان تھا۔
بلاشبہ قائد اعظم کبھی جیل نہیں گئے، لیکن کیا کسی لیڈر کا جیل نہ جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ رہنما ہی نہیں یا اس کی عظمت مشتبہ ہے؟ لیکن قائد اعظم کبھی جیل کیوں نہیں گئے؟ اس سوال کا جواب قائد اعظم کی شخصیت اور نفسیات کا مرکزی نکتہ ہے اور مرکزی نکتہ یہ ہے کہ قائد اعظم اول وآخر ایک وکیل تھے اور آئینی وقانونی جدوجہد ان کا انتخاب نہیں، ان کا ’’مزاج‘‘ تھی۔ انھوں نے پاکستان کا مقدمہ اساسی طور پر ایک ’’رہنما‘‘ کی طرح نہیں، بلکہ ایک ’’وکیل‘‘ کی طرح لڑا۔ اس کی دو اور سمجھ میں آنے والی ثانوی وجوہ بھی ہیں۔ قائد اعظم کو احساس تھا کہ مسلمان انگریزوں اور ہندووں کے درمیان ہیں۔ انھیں بیک وقت دو حریفوں کا سامنا ہے۔ ایک حریف طاقت ور حاکم ہے اور دوسرا فریق عددی اکثریت کا حامل ہے، چنانچہ مسلمانوں نے طاقت کا طریقہ استعمال کیا تو انھیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پھر قائد اعظم کو معلوم تھا کہ انھیں گاندھی کی طرح کوئی نہرو، پٹیل اور ابو الکلام فراہم نہیں۔ وہ جیل میں ہوں گے تو اقلیتی گروہ کی جدوجہد کسی بھی سمت میں جا سکتی ہے۔ چنانچہ جیل قائد اعظم کے لیے ایک ایسی تعیش تھی جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔
جہاں تک مسلمانوں کے ہندوستان چھوڑو تحریک میں حصہ نہ لینے کا تعلق ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کانگریس اور مسلم لیگ دو الگ الگ سیاسی پلیٹ فارم تھے۔ ان کی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی تھی اور وہ اپنے تناظر کے مطابق کچھ بھی کرنے میں آزاد تھے۔ ویسے بھی گاندھی جی نے اس تحریک کی ابتدا اچانک کی تھی اور اس سلسلے میں انھوں نے مسلم لیگ سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔ گاندھی کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ وہ کانگریس کو بھارت کی واحد نمائندہ جماعت ثابت کرنے کے لیے کوشاں رہتے تھے، جبکہ مسلم لیگ کے لیے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی جداگانہ شناخت اور مفادات کا سوال اہم تھا۔ 
میڈم شاہدہ قاضی نے ساتواں Myth یہ پیش کیا ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی۔ میڈم کے بقول مسلم لیگ ۱۹۴۰ سے قبل کبھی مقبول عوامی جماعت نہ تھی اور اس سے پہلے ہونے والے انتخابات میں اسے ۴۸۲ میں سے صرف ۱۰۳ نشستیں ملی تھیں۔ باقی نشستیں کانگریس کے مسلم نمائندوں، قوم پرستوں یا یونینسٹوں نے حاصل کی تھیں۔
انتخابی نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو میڈم کی رائے سو فیصد درست ہے، لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ کے واحد نمائندہ جماعت ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ قوم پرست اور یونینسٹ کانگریس اور انگریزوں کے پٹھو تھے۔ یہ بالکل وہی صورت حال ہے جو اس وقت عراقی عوام کو درپیش ہے۔ عراق کی واحد نمائندہ قوت امریکہ کی مزاحمت کرنے والے عناصر ہیں۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے امریکہ کے زیر اہتمام فراڈ انتخابات میں حصہ لیا ہے تو انھیں حقیقی معنوں میں عراق کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ انھوں نے عراق پر امریکہ کے قبضے کو اصولی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ یہی پوزیشن کبھی مسلم لیگ اور دیگر مسلم تنظیموں اور شخصیات کی تھی۔ پھر تاریخ میں اصل چیز یہ نہیں ہوتی کہ ’’کیا تھا‘‘ بلکہ اصل چیز یہ ہوتی ہے کہ بالآخر ’’کیا ہوا؟‘‘ اور بالآخر یہ ہوا کہ ۱۹۴۶ کے انتخابات میں مسلم لیگ نے ہر علاقے میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ سرحد کے غفار خان اور پنجاب کے یونینسٹ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کا قیام ممکن ہی نہ ہوتا۔
میڈم شاہدہ کے مطابق آٹھواں Myth یہ ہے کہ علامہ اقبال نے سب سے پہلے مسلمانوں کی جداگانہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ میڈم کے بقول اقبال انڈین یونین کے دائرے میں مسلمانوں کے سیاسی بندوبست کے قائل تھے۔ اس کے سوا ان کا کوئی مطالبہ نہیں تھا اور یہ ایک ایسی بات تھی جو اقبال سے پہلے کم از کم ۶۴ بار مختلف حوالوں سے سامنے آ چکی تھی۔ خود انگریز بھی اس کے حامی تھے۔ چنانچہ اقبال نے کوئی نئی بات نہیں کہی، بلکہ جب ان کے خطبہ الٰہ آباد سے یہ ’’غلط فہمی‘‘ پیدا ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست طلب کر رہے ہیں تو انھوں نے ایک بیان کے ذریعے وضاحت کی کہ ایسا نہیں ہے۔
اس سلسلے میں اقبال کی مرکزی اہمیت سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے۔ البتہ کسی کی تکلیف لسانی ہے اور کسی کی نسلی۔ اقبال کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کچھ Claim ہی نہیں کرتے۔ وہ عظیم شاعر تھے مگر انھیں عظیم شاعر کیا، شاعر ہونے کا دعویٰ بھی نہیں ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ شاعر تو میں نہیں ہوں، البتہ میرے پاس کچھ خیالات ضرور ہیں۔ چونکہ میری قوم کو شاعری سے گہرا شغف ہے، اس لیے میں نے شاعری کو میڈیم کے طور پر استعمال کیا ہے اور بس۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھوں نے جداگانہ ریاست کا تصور پیش نہیں کیا۔ یہ حقیقت اتنی عیاں ہے کہ اس پر بحث ہی فضول ہے۔ البتہ یہ ٹھیک ہے کہ اقبال یہ تصور پیش کرنے والے پہلے آدمی نہیں تھے، مگر یہاں بھی اقبال کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
ایک تصور تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش کیا جاتا رہتا ہے، لیکن وہ ایک خاص وقت سے قبل لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کر پاتا۔ مثال کے طور پر یورپی مشترکہ منڈی اور مشترکہ کرنسی کا تصور ۷۵ سال پرانا ہے، لیکن اسے اب جا کر قبول عام حاصل ہوا ہے۔ مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی ریاست کا تصور کئی سو سال سے یہودیو ں کی تاریخ میں سفر کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کا قیام ۱۹۴۸ میں ممکن ہوا۔ اقبال کی اہمیت یہ ہے کہ ان کی بات پر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی توجہ مرکوز ہو کر رہ گئی اور اصل بات یہی ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی بندوبست کا تعلق ہے تو اس کا قائل کون نہیں تھا؟ قائد اعظم آخری وقت تک اس کے لیے کوشاں رہے، لیکن کانگریس نے کابینہ مشن پلان کو بھی مسترد کر دیا اور بالآخر ۱۹۴۰ تک یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ اب مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل پاکستان ہے۔
میڈم شاہدہ قاضی نے مزید تین Myth پیش کیے ہیں، مگر وہ اتنے معمولی ہیں کہ ان کا ذکر صرف الطاف حسین جیسے لوگوں کی زبان پر اچھا لگتا ہے۔ مثلاً یہ کہ پاکستان واحد ریاست نہیں تھا بلکہ مسلم لیگ کی قرارداد میں State کے بجائے ’’ریاستوں‘‘ کا لفظ استعمال ہوا تھا۔ اب بھلا ایسی باتوں کا کوئی کیا جواب دے!
البتہ اس پورے سلسلے کے بارے میں اتنی بات کہنے کی شدید ضرورت ہے کہ قوموں کی تہذیب وتاریخ کو سمجھنے کے لیے صرف معلومات کافی نہیں ہوتیں، اس قوم اور اس قوم کی تاریخ سے تھوڑا بہت تعلق ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، ورنہ معلومات بھی بھول بھلیاں بن جاتی ہیں۔ کاش میڈم شاہدہ قاضی کو اسلام اور مسلمانوں اور پاکستان کے تصور سے تھوڑی بہت محبت ہوتی۔

تغیر پذیر دنیا اور مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں جناب لوئ ایم صافی کا نہایت فکر انگیز مضمون نظر سے گزرا۔ فاضل مضمون نگار نے معروضیت کے تقاضے نبھاتے ہوئے مسلم ثقافت کی داخلی نفسیات کی مختلف پرتوں کو بہت تدبر، بصیرت اور گہرائی سے کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ پوسٹ ماڈرن کلچر سے مسلم ثقافت کی اثر پذیری کے حوالے سے دو متضاد رویوں کے حامل گروہوں یعنی روایت پسندوں اور ترقی پسندوں کے نقطہ ہائے نظر اور پھر ان کی تحلیل بھی لوئ ایم صافی نے کمال غیر جانب داری سے کی ہے۔ ہماری رائے میں عالمگیریت کی موجودہ فضا میں ان دو متضاد رویوں کا تجزیہ وتنقیح ایک اور زاویے سے بھی ہو سکتی ہے۔ 
کسی بھی معاشرت کی تشکیل میں فرد اور گروہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ فرد اور گروہ کے انفرادی رویے، ان کا باہم اختلاط اور اتفاق واختلاف معاشرت کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اس کے صحت مند ارتقا کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ فرد اور گروہ کے باہمی تعلق سے فرد اور گروہ کے مختلف النوع رویے ظاہر ہوتے ہیں اور یہی متنوع رویے فرد اور گروہ کی شناخت کے حوالے سے ان کی حساسیت سمیت دیگر کئی مظاہر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک فرد جس رویے کا اظہار بطور فرد کر رہا ہوتا ہے اور جو معاشرے میں اس کی مخصوص شناخت کا سبب ہوتا ہے، کسی گروہ میں شامل ہونے کے بعد وہ بعینہ اس رویے کا اظہار نہیں کرتا۔ چنانچہ بہت سے شرمیلی طبیعت کے افراد گروہ میں شامل ہو کر بہت بے باک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بے باک مزاج کے افراد گروہ میں شامل ہونے کے بعد شرمیلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے افراد کا رویہ یہ ظاہر کر رہا ہوتا ہے کہ وہ گروہ کی نفسیات کے سحر کا شکار ہو گئے ہیں اور اس کے ہاتھوں اپنی بعض انفرادی خصوصیات کھو بیٹھے ہیں۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
دوسری طرف بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کہیں بھی چلے جائیں اور کسی بھی گروہ میں شامل ہو جائیں، ان کے ان رویوں میں جن کا اظہار وہ بطور فرد کر رہے ہوتے ہیں، ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔ ایسے افراد کی بابت ایک بات تو بآسانی کہی جا سکتی ہے کہ وہ گروہی نفسیات کا شکار نہیں ہوتے کہ ان کی انفرادی شخصیت ہی اتنی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے، لیکن ان کی بابت ایک دوسری بات بھی اتنی ہی آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسے افراد طبعاً ضدی اور اڑیل ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں مطابقت پزیری اور وسعت پزیری کے عناصر مفقود ہوتے ہیں۔
اب ہم اصل نکتے کی طرف آتے ہیں۔ اگر دنیا میں موجود مسلم کمیونٹی کو بطور فرد لیا جائے اور خارجی مظاہر کے اثرات (گلوبلائزیشن، انفرمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ) کو بطور گروہ تو مترشح ہوگا کہ مذکورہ بالا تصویر کے دو رخوں میں سے پہلا رخ ترقی پسند افراد کی نشان دہی کرتا ہے اور دوسرا رخ روایت پسند افراد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب اگر روایت پسندوں کو ترقی پسندوں کی حد سے بڑھی ہوئی مطابقت پزیری چبھتی ہے یا ترقی پسندوں کو روایت پسندوں کے استقلال میں بوسیدگی کی بو آتی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ دونوں گروہوں کی افتاد طبع ہی ایک دوسرے یکسر مختلف ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں گروہوں کے ہاں یہ رویے کیونکر ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟ پہلے نکتے پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ترقی پسندوں کی بے جا مطابقت پزیری درحقیقت ان کے تربیتی نظام کی ناپختگی کی علامت ہے۔ روایت پسندوں کے اڑیل پن کے رد عمل میں اختیار کی گئی بے جا مطابقت پزیری اور نام نہاد وسعت پزیری کسی بھی اعتبار سے صاحبان فہم کے ہاں قابل قبول نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گروہ اپنی امتیازی خصوصیات سے دست بردار ہو کر پوسٹ ماڈرن کلچر کے خارجی مظاہر کو بطور معیار تسلیم کر رہا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر کوئی فرد کسی گروہ میں شامل ہو کر اپنی بعض خصوصیات سے دست بردار ہو کر اپنی بنیادی انفرادیت سے محروم نہیں ہوتا تو اس کے طرز عمل کو عموماً صحت مندانہ قرار دیا جاتا ہے کہ اس فرد نے توازن کا مظاہرہ کیا ہے۔ البتہ اس کے برعکس رویہ قابل مذمت ٹھہرتا ہے۔ ہماری رائے میں مسلم کمیونٹی کا ترقی پسند گروہ بھی اگر تغیر پذیر دنیا کے خارجی اثرات کو معیار تسلیم کرنے کے بجائے اپنی منفرد بنیاد تلاش کر کے پوسٹ ماڈرن کلچر کے خارجی اثرات سے مطابقت پزیری اختیار کرے تو اس کا طرز عمل لائق تحسین اور صحت مند قرار پائے گا۔
اب روایت پسندوں کے اس استحکام اور استقلال کو دیکھیے جو حد سے بڑھ کر ہٹ دھرمی اور اڑیل پن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اگر کوئی فرد کسی گروہ میں شامل ہو کر اس کے کسی بھی نوعیت کے اثرات کو قبول کرنے سے انکاری ہوتا ہے تو ایسا فرد لازماً ابنارمل سمجھا جاتا ہے۔ اپنی منفرد خصوصیات پر اصرار جو امتیازی اور بنیادی نوعیت کی ہوں، اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ثانوی نوعیت کے کرداری مظاہر کو تج دینا بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے۔ روایت پسندوں کے ہاں ایسا استقلال جو ہر شخص کے کرداری اور قدری مظہر پر چھا کر ہٹ دھرمی کو جنم دیتا ہے، درحقیقت کسی ایسے تربیتی نظام کی نام نہاد پختگی سے پھوٹتا ہے جس میں معاصر تقاضوں سے بے رغبتی کو ایمان واخلاق کی نیو سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ ایسے افراد کا علاج ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور ہوتا ہے، کیونکہ ایسے افراد یا گروہ دنیا بھر کے ہر معاملے کو ’’طے شدہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ طے شدگی کی یہ نفسیات لچک اور مطابقت پزیری کے ہر لمحے میں ہر پل حائل ہو جاتی ہے۔
یہاں اس نکتے کا بیان شاید موزوں اور برمحل ہوگا کہ اگر روایت پسند افراد یا گروہ اپنی افتاد طبع کو ہٹ دھرمی کے دائرے سے نکال کر ’’استقلال‘‘ کے دائر ے میں لے آئیں تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنی استقلالی نفسیات کے بل بوتے پر بطور فرد، گروہ کی نفسیات پر اور بطور گروہ، پوسٹ ماڈرن کلچر کی حامل تغیر پزیر دنیا کے خارجی اثرات پر گہرے اور ان مٹ نقوش ثبت کر دیں۔ اگر فرد کے لیے مطابقت پذیری اہم ہے تو گروہ کے لیے بھی کسی مضبوط فرد کے منفرد اثرات سے بچنا محال اور غیر ضروری ہے۔ چنانچہ روایت پسندوں کے اثرات اگر ہٹ دھرمی پر مبنی ہونے کے بجائے استقلالی نوعیت کے ہوں تو ان سے بچنا تغیر پذیر دنیا کے پوسٹ ماڈرن کلچر کے لیے ناممکن ہوگا۔

تکفیر شیعہ سے متعلق چند ضروری وضاحتیں

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

گزشتہ ایک برس سے ماہنامہ الشریعہ میں سنی شیعہ کشیدگی اور اس کے خاتمے کے متعلق مختلف اصحاب فکر ودانش اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اپریل ۲۰۰۵ کی اشاعت میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں دو مسئلوں پر گفتگو فرمائی ہے۔ ایک شیعہ کی تکفیر کا مسئلہ، اور دوسرا سنی شیعہ تنازع کا حل۔ پہلے نکتے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے الشریعہ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کے موقف کو ایک سخت موقف قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ایک فتوے میں مذکور دو باتوں کو محل نظر قرار دے کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ذیل کی سطور میں ہم تکفیر شیعہ سے متعلق مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے موقف اور اس پر ڈاکٹر صاحب کے تبصرہ کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔
مولانا سرفراز خان صفدر نے اپنی مختلف تصانیف میں اہل تشیع کی بنیادی مذہبی کتب سے ان کے عقائد ونظریات باحوالہ نقل کیے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی تصنیف ’الکلام الحاوی فی تحقیق عبارۃ الطحاوی‘ میں ’’تشیع کا اجمالی نقشہ‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے شیعہ کی معتبر کتب سے ان کے بعض نظریات وعقائد نقل کیے ہیں۔ بخاری شریف پر اپنے افادات کے مجموعہ ’’احسان الباری لفہم البخاری‘‘ کے آخر میں حدیث قرطاس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے صحابہ کرام خصوصاً خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے متعلق اہل تشیع اور بالخصوص امام خمینی کے نظریات نقل کیے ہیں۔ اس موضوع پر مولانا موصوف نے ۱۹۸۷ میں ایک مستقل کتاب بھی ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے تحریر فرمائی ہے۔ 
اہل تشیع کے عقائد ونظریات کے متعلق مولانا سرفراز صفدر کی تمام تحریرات کا مطالعہ کرنے سے قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مولانا کے نزدیک اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین فروعی آرا کا نہیں، بلکہ عقیدے اور نظریے کا اختلاف ہے۔ چنانچہ مولانا نے ’ارشاد الشیعہ‘ میں درج ذیل تین عقائد کی بنیاد پر شیعہ حضرات کو خارج از اسلام قرار دیا ہے:
۱۔ تحریف قرآن کا عقیدہ،
۲۔ خلفاء راشدین اور دیگر صحابہؓ کی تکفیر ،
۳۔ عقیدہ امامت۔
جہاں تک تحریف قرآن کا تعلق ہے تو مولانا نے شیعہ اثنا عشریہ کا یہ عقیدہ ان کی مرکزی وبنیادی کتاب ’’اصول کافی‘‘ سے نقل کیا ہے جس میں امام ابو عبد اللہ جعفر صادق کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے:
ان القرآن الذی جاء بہ جبریل علیہ السلام الی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سبعۃ عشر الف آیۃ (اصول کافی ص ۶۷۱)
’’بلاشبہ وہ قرآن کریم جس کو حضرت جبریل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، اس کی سترہ ہزار آیات تھیں۔‘‘
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں: ’’غور فرمائیں کہ بقول شیعہ شنیعہ کے سترہ ہزار آیات پرمشتمل قرآن گھٹتے گھٹتے تقریباً سوا چھ ہزار آیات رہ گیا۔‘‘
شیعہ کے محقق ومجتہد اور خمینی صاحب کے معتمد علیہ ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:
ودر قرآن در آیات بسیار نام علی بود کہ عثمان بیروں کردہ۔ (تذکرۃ الائمہ ص ۴۸)
’’قرآن کی بہت سی آیات میں حضرت علیؓ کا نام تھا، مگر عثمانؓ نے ان کا نام قرآن سے خارج کر دیا۔‘‘
ان حوالہ جات سے نہ صرف شیعہ کا عقیدہ تحریف قرآن واضح ہو کر سامنے آتا ہے، بلکہ ان میں حضرت عثمان اور جماعت صحابہ پر تحریف قرآن کا صریح بہتان اور بے بنیاد افترا بھی باندھا گیا ہے۔
تکفیر شیعہ کی دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا موصوف رقم طراز ہیں:
’’شیعہ حضرات خلفاے راشدین اور دیگر حضرات صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں اور اس سے نصوص قطعیہ اور احادیث صحیحہ متواترہ کا رد اور انکار لازم آتا ہے جو کفر ہے۔‘‘
اس عقیدہ کی وضاحت میں ’’الجامع الکافی‘‘ کی کتاب الروضہ سے شیعہ کے پانچویں امام، امام محمد باقر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:
ان الشیخین فارقا الدنیا ولم یتوبا ولم یتناکرا ما صنعا بامیر المومنین علیہ السلام فعلیہما لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین (کتاب الروضہ، ص ۱۱۵ طبع لکھنو)
’’ابوبکروعمر دنیا سے رخصت ہوئے۔ نہ تو انھوں نے توبہ کی اور نہ اس کارروائی پر ندامت محسوس کی جو انھوں نے امیر المومنین حضرت علی سے کی۔ سو ان دونوں پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔‘‘
مولانا سرفراز خان صفدر صاحب نے تکفیر شیعہ کی تیسری اصولی وجہ اہل تشیع کے عقیدہ امامت کو قرار دیا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق شیعہ امامیہ کے نزدیک حضرات ائمہ کرام کا درجہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ ہے۔ شیعہ کے عمدۃ المحدثین ملا محمد باقر مجلسی لکھتے ہیں:
مرتبہ امامت بالاتر از مرتبہ پیغمبری است (حیات القلوب ج ۳ ص ۳)
’’امامت کا مرتبہ نبوت وپیغمبری سے بالاتر ہے۔ ‘‘
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ملا محمد باقر مجلسی اہل تشیع کے وہ عالم ہیں جن کی کتابوں کے مطالعہ کا حکم دور حاضر میں شیعہ کے رہبر اعلیٰ خمینی صاحب نے بطور خاص دیا ہے۔ 
اب آئیے مولانا صفدر صاحب کے فتوے کے ان نکات کی طرف جنھیں ڈاکٹر صاحب نے محل نظر قرار دیا ہے: 
’’محترم مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے فتوے میں دو باتیں محل نظر ہیں۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے شیعہ کا عمومی لفظ استعمال کر کے اور چند اہم قابل اعتراض عقائد کا ذکر کر کے انھیں کافر قرار دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ انھوں نے اہل تشیع کے کسی وضاحتی موقف کو ماننے سے اس لیے انکار کر دیا ہے کہ وہ تقیہ پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ہم ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ یہ دونوں باتیں عدل وانصاف کے مسلمہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔‘‘
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مولانا نے اپنے فتوے میں شیعہ کا عمومی لفظ استعمال کر کے ان کو کافر قرار دیا ہے تو ہم عرض کریں گے کہ فتویٰ میں جہاں شیعہ کا عمومی لفظ ذکر کیا گیا ہے، وہیں چند مخصوص عقائد بھی ذکر کیے گئے ہیں جن کی بنیاد پر شیعہ کی تکفیر کی گئی ہے۔ گویا شیعہ کے عام لفظ کو ان مخصوص عقائد کا ذکر کر کے خاص کر دیا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس فتویٰ کا اطلاق صرف ان حضرات پر ہوتا ہے جو درج بالا عقائد ونظریات کے حامل ہوں۔ جو لوگ ان عقائد سے صدق دل کے ساتھ براء ت کا اعلان کریں، ان پر اس فتویٰ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اسی بات کی مزید وضاحت درج ذیل تحریر سے ہوتی ہے جو مولانا موصوف نے امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ’’تہذیب التہذیب‘‘ کے حوالے سے اپنی کتاب ’‘ارشاد الشیعہ‘‘ میں نقل کی ہے:
فالتشیع فی عرف المتقدمین ہو اعتقاد تفضیل علی علی عثمان وان علیا کان مصیبا فی حروبہ وان مخالفہ مخطئ مع تقدیم الشیخین وتفضیلہما
’’متقدمین کے عرف واصطلاح میں تشیع کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ پر فضیلت دی جائے اور یہ کہ حضرت علی اپنی جنگوں میں حق بجانب تھے اور ان کے مخالف خطا پر تھے اور وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تقدیم وتفضیل کے قائل تھے۔‘‘
مولانا نے حافظ ابن حجر کا یہ قول اپنی کتاب میں نقل فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی شیعہ آج بھی اسی فکر کا امین وداعی ہے اور تحریف قرآن، عقیدہ امامت اور شیخین کی تکفیر کے قائلین کو خارج از اسلام سمجھتا ہے تو اس فتویٰ کا اطلاق اس پر نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج اس فکر کا حامل کوئی شیعہ موجود ہے؟ ہم نہیں سمجھ سکے کہ ڈاکٹر صاحب کے اس فرمان کی کیا بنیاد ہے کہ ’’تمام شیعہ اثنا عشری تحریف قرآن، تکفیر شیخین، عصمت ائمہ کے قائل نہیں اور عصر حاضر میں سارے اثنا عشری شیعہ مذکورہ عقائد پر یقین نہیں رکھتے‘‘۔ اگر ڈاکٹر صاحب با حوالہ اور مدلل اس کی نشان دہی فرما سکیں تو ہمارے علم میں اضافے کا باعث ہوگا۔
جہاں تک مولانا سرفراز صفدر کے اس موقف کا تعلق ہے کہ انھوں نے اہل تشیع کے وضاحتی موقف کو تقیہ پر مبنی قرار دے کر تسلیم نہیں کیا تو مولانا نے یہ بات اہل تشیع کی مذہبی اصطلاح ’’تقیہ‘‘ کے پس منظر میں کہی ہے۔ تقیہ کا مطلب ہے اپنے قول یا عمل سے واقعہ یا حقیقت کے خلاف یا اپنے عقیدہ وضمیر ومذہب کے خلاف ظاہر کرنا۔ شیعہ حضرات کی بنیادی کتاب ’’اصول کافی‘‘ میں تقیہ کے متعلق ایک مستقل باب ہے جس میں ائمہ کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں۔ اس باب کی ایک روایت درج ذیل ہے:
عن ابی عمیر الاعجمی قال قال لی ابو عبد اللہ علیہ السلام یا ابا عمیر تسعۃ اعشار الدین فی التقیۃ ولا دین لمن لا تقیۃ لہ
’’ابو عمیر اعجمی راوی ہیں کہ امام جعفر صادق نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابو عمیر! دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا، وہ بے دین ہے۔‘‘
اصول کافی کے ’’باب الکتمان‘‘ میں امام جعفر صادق کے خاص مرید اور راوی سلیمان بن خالد کی روایت ہے :
قال ابو عبد اللہ علیہ السلام انکم علی دین من کتمہ اعزہ اللہ ومن اذاعہ اذلہ اللہ (اصول کافی، ص ۴۸۵، طبع لکھنو)
’’امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اے سلمان، تم ایسے دین پر ہو کہ جو شخص اس کو چھپائے گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت عطا ہوگی اور جو اس کو ظاہر اور شائع کرے گا، اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل ورسوا کرے گا۔‘‘
کسی شخص کے وضاحتی موقف کو قبول کرنے کا یہ ایک مسلمہ معیار ہے کہ اس شخص کا کوئی دوسرا قول یا عمل یا کوئی اور قرینہ اس موقف کی تردید نہ کر رہا ہو جس کو بطور وضاحت پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے تو اس شخص کے موقف کو قبول کرنے کے لیے کوئی بھی منصف مزاج آدمی تیار نہیں ہوگا۔ تقیہ کے مذکورہ بالا نظریہ کے پیش نظر جس شخص کا اپنے دین کے متعلق اصول وقاعدہ ہی یہ ہو کہ ’’دین چھپاؤ، عزت پاؤ‘‘ اور اس طرز عمل کو باعث اجر وثواب سمجھا جائے تو اس شخص کے کسی وضاحتی موقف کو بے چون وچرا کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟ اس شخص سے کم از کم یہ وضاحت تو طلب کرنی چاہیے کہ تم جس عقیدہ ونظریہ سے براء ت کا اعلان کر رہے ہو، اس عقیدے کے حاملین ومبلغین کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے؟ اگر عقیدہ باطلہ سے انکار کے باوجود اس کے حاملین ومبلغین کو حجۃ اللہ اور آیت اللہ قرار دیا جاتا ہو تو ایسے شخص کے اعلان براء ت کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ مولانا صفدر صاحب نے شیعہ کی وضاحت کو رد کرنے کے لیے جس چیز کو بنیاد بنایا ہے، وہ خود اہل تشیع کے عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ مولانا نے اپنی طرف سے کوئی اصول وضع نہیں کیا۔ اس لیے اہل تشیع کے وضاحتی موقف کو عقیدہ تقیہ کی موجودگی میں قبول کرنے کے لیے درج بالا معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔ 
ڈاکٹر صاحب تکفیر مسلمین سے متعلق ایک محتاط اور مبنی بر انصاف اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تکفیر مسلمین کے بار ے میں سخت شرعی احکام کے پیش نظر احتیاط اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ یہ دیا جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے اور یہ نہ کہا جائے کہ سارے شیعہ کافر ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کے اس ارشاد پر ہم دو معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں:
پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ شخص جس کے یہ اور یہ عقائد ہوں، اس کا نام ذکر کرنے میں کیا قباحت ہے؟ اگر تاریخ کے آئینے اور موجودہ حالات کے تناظر میں کوئی مستقل فرد، جماعت یا گروہ ان عقائد ونظریات کا نہ صرف حامل ہو بلکہ پوری شد ومد کے ساتھ ان کی تبلیغ وترویج میں بھی مصروف ہو تو اس گروہ یا جماعت کو نامزد کرنے میں کیا حرج ہے؟ ہماری بحث ان عقائد ونظریات سے ہے جن کے داعی پوری امت مسلمہ میں صرف شیعہ حضرات ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ ہے کہ ’’جس شخص‘‘ کے عام الفاظ کے بجائے فتوے کو دائرے کو مزید متعین اور محدود کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ ’’جس شیعہ کے یہ اور یہ عقائد ہیں، وہ کافر ہے۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کے قائم کردہ اصول کو تسلیم کر کے ہر جگہ ا س کا من وعن اطلاق کیا جائے تو پھر ایسے فتاویٰ کو بھی واپس لینا پڑے گا جو امت مسلمہ کی جانب سے متفقہ طور پر اسلامی عقائد کے منافی نظریات کے حامل بعض گروہوں اور جماعتوں کے بارے میں دیے گئے ہیں۔ مثلاً قادیانیوں کے متعلق بھی فتویٰ یوں دینا چاہیے کہ ’’جو لوگ ختم نبوت کے منکر ہیں، وہ کافر ہیں‘‘۔ حالانکہ قادیانیوں اور ان کی ذیلی جماعتوں کو نہ صرف علماے امت نے نامزد کر کے کافر قرار دیا ہے، بلکہ حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے قومی شناختی کارڈ کے فارم پر درج حلف نامہ میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/ کہتی ہوں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب مزید فرماتے ہیں:
’’اثنا عشری اہل تشیع میں سے کسی شدت پسند عالم دین نے اگر کبھی کوئی غلط بات لکھ دی ہے تو اس کی بنیاد پر سارے اثنا عشری گروہ یا سارے اثنا عشری افراد کو کافر کہنا صحیح نہ ہوگا۔‘‘
ہم اس ضمن میں یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ کبھی بھی کسی متشدد اور انتہا پسند فرد کی رائے کو کسی بھی مسلک میں مذہب کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ مذہب کا درجہ وہی نظریات رکھتے ہیں جو کسی گروہ کی مستند ومعتمد ترین کتب میں مذکور ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جن عقائد ونظریات کی بنیاد اثنا عشری اہل تشیع کو خارج از اسلام قرار دیا جاتا ہے، آیا وہ کسی شدت پسند فرد واحد کی آرا ہیں یا شیعہ مسلک کی معتمد ومستند کتب کی تعلیمات ہیں۔ ہم پورے وثوق سے عرض کرتے ہیں کہ یہ عقائد ونظریات اہل تشیع کی مستند ترین کتب میں موجود ہیں اور آج بھی شیعہ فکر کی عمارت انھی عقائد ونظریات پر قائم ہے، اس لیے اگر چند اثنا عشری افراد یا علما زبانی طور پر ان عقائد ونظریات سے براء ت کا اعلان کر بھی دیں تو یہ ان کا انفرادی طرز عمل ہوگا، اس سے شیعہ مذہب میں ہر گز کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو جاتی۔ 
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے:
’’اہل سنت کا ایک عالم یا ایک عام شخص اگر کسی اثنا عشری عالم یا فرد کے بارے میں تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کے عقائد کافرانہ ہیں اور وہ اس کی نظر میں کافر ہے تو کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بندوق پکڑے اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دے؟‘‘
ہم اس معاملے میں ڈاکٹر صاحب سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو اس بات کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے کافر ثابت ہو جانے پر اس کے قتل کے درپے ہو۔ کوئی بھی ذی فہم وذی شعور آدمی اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ تاہم ایسے مبنی بر تشدد رویے کی سخت مذمت کے ساتھ ساتھ انتشار وافتراق کے خاتمہ کے لیے بلا تفریق ایسے مذہبی لٹریچر پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہیے جو دیگر جماعتوں اور گروہوں کی مذہبی حمیت وغیرت کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ حالات کے گہرے تجزیے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تشدد اور قتل وغارت کی موجودہ صورت حال کا باعث اسی طرح کے نظریات اور ان کی بر سر عام ترویج واشاعت ہے۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
۲۶ مئی ۲۰۰۵
محترم جناب حافظ عمار خان ناصر
ایڈیٹر ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
ماہ مارچ ۲۰۰۵ کے تیسرے ہفتے میں دو سرکاری اداروں ، ادارہ تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’اجتہاد‘‘ کے موضوع پر اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ اس کی مختصر سی خبریں تو ملک کے متعدد اخبارات میں چھپیں، لیکن تفصیلی کارروائیاں زیب قرطاس نہ ہوئیں۔ مولانا زاہد الراشدی بھی اس سیمینار کے اہم شرکا میں سے تھے۔ انھی کے لطف وکرم سے لاہو رکے دو روزناموں، پاکستان اور اسلام میں مولانا موصوف کی تقریر کا مطبوعہ متن میسر آیا۔ روزنامہ اسلام لاہور نے اپنی اسی مارچ ۲۰۰۵ کی اشاعت میں مولانا محترم کا مقالہ بعنوان ’’پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر‘‘ سپرد قلم کیا۔ مذکورہ مقالے میں اس سیمینار کی کارروائیوں کے حوالے سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر جسٹس (ر) خلیل الرحمان خان کی ایک تجویز کا ذکر یوں آتا ہے:
’’مجھے جسٹس خلیل الرحمان خان کی اس تجویز اور تجزیہ میں موجودہ معروضی صورت حال کی روشنی میں اہمیت وضرورت کا پہلو زیادہ نمایاں نظر آیا کہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان اور عدلیہ کو قرآن وسنت کے احکام سے باخبر کرنے کے لیے ان اداروں کے ساتھ مستقل تحقیقی شعبے قائم کیے جائیں اور ایک بڑی لائبریری موجود ہونی چاہیے کہ اگر کوئی مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہو تو ارکان اس سلسلے میں دینی رہنمائی کے لیے اس سے رجوع کر سکیں اور انھیں اس بارے میں بریف کیا جا سکے۔ ..... اسی طرح عدلیہ میں بھی اس قسم کے شعبوں کا قیام ضروری ہے۔ ..... جسٹس (ر) خلیل الرحمان نے بتایا کہ بعض مسائل میں جج صاحبان اس لیے بھی صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس دینی طور پر اس مسئلہ میں ضروری معلومات نہیں ہوتیں۔ انھیں اگر صحیح طور پر بریف کر دیا جائے تو وہ بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ ...... جسٹس (ر) خلیل الرحمان خان کی یہ تجویز مجھے بہت اچھی لگی اور اس نشست کے صدر جناب وسیم سجاد نے بھی اس میں دل چسپی لی۔ میرا خیال ہے کہ اگر وسیم سجاد صاحب اس کی اہمیت کو محسوس کر لیں تو وہ اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ اس پر عمل درآمد کا اہتمام کر سکتے ہیں۔‘‘
’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘ والی اس صورت حال کو دیکھ کر جان وتن وجد میں آ گئے۔ جسٹس خلیل الرحمان مدظلہم کی یہ تجویز ایک ایسی نشست میں سامنے آئی جس کی صدارت محترم وسیم سجاد کر رہے تھے۔ محترم وسیم سجاد ملک کی ایک مایہ ناز شخصیت جسٹس سجاد احمد خان کے صاحب زادے ہیں۔ قانون ان کی گھٹی میں پڑا ہے۔ دشت سیاست کے خارزار کے آبلہ پا ہونے کے باوجود ضمیر کی دولت ان سے وابستہ ہے۔ سینٹ کے چیئرمین رہے اور اس ناتے کئی بار ملک کے قائم مقام صدر بھی۔ حکمران طبقات کی باہمی آویزش میں توازن واعتدال قائم رکھنے میں ابلہ رہے۔ ان تمام اونچی سیجوں پر رہ کر محترم وسیم سجاد نے ملت کی پستیوں کی ہر سطح بھی دیکھی، پرکھی اور بھگتی ہے۔ یقین ہے وہ اس تجویز سے نہ صرف اتفاق کریں گے بلکہ تن ومن سے (دھن سے نہ سہی) اسے آگے بڑھانے میں لگ جائیں گے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ اس تجویز سے وابستہ تمام حضرات کی فکر ونظر میں ’وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس‘ کی وسعتیں سمو دے۔ آمین
اس غیر معمولی تجویز کی اہمیت وافادیت سے صرف وہی انکاری ہوگا جس کے بارے میں ’الا من سفہ نفسہ‘ کہا جا سکے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ابھی ہوش مندوں کا وجود ہے۔ راقم الحروف کو نہ صرف وقتاً فوقتاً اراکین مقننہ سے واسطہ رہا، بلکہ معزز اراکین عدالت نیز معروف وکلا صاحبان سے بھی ربط ضبط رہا کیا۔ فہم دین کے معاملے میں ہو کہ دنیا دانی کی بات ہو، ان معاملات سے وابستہ حضرات کو تہی دامنی کا الزام دینا غلط ہے، یوں کہ خود مروجہ عصری نظام تعلیم ہی ملی سوچ، حکمت ودانائی کے معاملے میں کور چشم ہے، بلکہ صرف ’عمی‘ ہی نہیں، ’صم وبکم‘ بھی ہے۔ (ہاں وہ حضرات مستثنیٰ ملتے ہیں کہ جن کے گھرانے مذہبی تعلیم سے بھی آراستہ چلے آئے ہوں، مگر اب یہ صف خاصی الٹ چکی ) ظاہر ہے کہ یہ تمام حضرات مروجہ نظام تعلیم کے پروردہ ہوتے ہیں اور ان میں سے جو حضرات خم خانہ مغرب کے جرعہ تعلیم سے بھی فیض یاب ہوئے ہوں، ان کی جدید رندی، خوب صورتی پر رسولی کی کیفیت سے عبارت ہوتی ہے۔ 
پھر یہ کہ عصری نظام تعلیم تو انگریز بہادر کے دم قدم سے آیا تھا، ہمارے مدارس کی کیفیت تو گزشتہ کئی صدیوں سے ایسی رہی کہ اب تو رونے کے لیے بھی آنسو کسی سے قرض ہی لینے پڑیں گے۔ فکری جمود اور کم نگہی کی جس منزل پر ہم آج نظر آتے ہیں، وہ آج کی بات نہیں۔ یہ بے ڈول قدم آج سے نصف صدی سے بھی پہلے دیکھے جاتے تھے۔ آخر ’’نہ خود بیں، نے خدا بیں، نے جہاں بیں‘‘ کی فغاں اور ’’زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ‘‘ کا نالہ ایک دردمند نے اسی برصغیر میں یہ دیکھ کر ہی تو بھرا تھا کہ ہم من حیث الملت خود داری، خود اعتمادی اور خودی سب کچھ کھوتے جا رہے ہیں۔
آنکھوں نے اس پیاری سرزمین میں وہ منظر بھی دکھلائے جب مقننہ اور عدلیہ کے مقتدر اراکین میں بعض حضرات حیات بعد الموت کو خرافات اور جواب دہی وجزائے اعمال کو دل بہلاوا علی الاعلان گردانتے رہے۔ ایسے ’’معززین‘‘ بھی ملے (اب بھی ملتے ہیں) جنھیں قرآن کریم کی ناظرہ تلاوت بھی نہیں آتی۔ ایک ایسے ملک میں جسے اسلام کے نام پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر حاصل کیا گیا ہو، اگر عصائے قانون سازی اور میزان عدل ان افراد کے ہاتھوں نظر آئے جو 
دیر وحرم سے ان کا برابر ہے فاصلہ
جتنے یہاں سے دور ہیں، اتنے وہاں سے دور
کی تصویر ہوں تو پھر حاصل جاں سرکوبی اور سینہ کوبی ہی رہ جاتا ہے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ آدمی کا ایک ہی سر، ایک ہی سینہ ہوتا ہے۔ وہ اسے کتنی بار پیٹے اور کس کس بات پر؟ اب تو وہ منزل آن لگی کہ بنی اسرائیل کو دی گئی اجتماعی سزا (فاقتلوا انفسکم) کے امتثال میں اجتماعی طور پر ’توبوا الی بارئکم‘ کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک نسل تک ایک دوسرے کا سر پیٹنے پر مکلف ہونا پڑے گا کہ ہم سب ہی اس صورت حال کے ذمہ دار وقصور وار ہیں۔
’’چلو موجیں کرو اب سر سے اونچا ہو گیا پانی‘‘ کی صورت حال ہے۔ گو یقیناًبہت دیر ہو چکی، بریں ہم یہ تجویز فوری روبہ عمل لائے جانے کی حق دار ہے۔ نہ صرف مقننہ وعدلیہ کے حوالے سے، بلکہ ایسے تحقیقی مراکز اور لائبریریاں دینی مدارس کے مختلف وفاقوں کے تحت بوہلہ اول ملک کے بڑے تعلیمی مراکز میں بھی ضرور قائم ہونے چاہییں جہاں مغربی فلسفہ وتہذیب کی پر فریب دیدہ زیبی پر تحقیق ہو سکے اور علاج درد ڈھونڈا جاتا رہے۔ اگر عصر حاضر کے اس شور محشر کی گونج اب بھی ہمارے وارثین منبر ومحراب سننے کے روادار نہیں تو پھر وہ اس دکھیاری کی طرح جس کی دو دفعہ طلاق ہو چکی ہو اور پھر دو دفعہ بیوگی کے داغ بھی اٹھائے ’’ہم تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہہ محراب‘‘ کے مصداق ’اللہم غرق دیارہم‘ کے کوسنے ہی تا قیام قیامت دیتے رہ سکیں گے۔
آپ نے وہ مشہور سرائیکی کہاوت تو ضروری سنی ہوگی، ’’جے عقل نئیں تے موجاں ای موجاں‘‘۔ ہم کرائے کے سپاہیوں کی طرح دوسروں سے کلاشن کوف لے کر ادھر ادھر فی سبیل اللہ فساد کا جہاد ہی کریں گے۔ مغرب کی فکری یلغار زندگی کے ہر میدان میں جتنی مہیب ہے، ہمارا فکری اندھا پن جس قدر روز افزوں ہے، اس حوالے سے مجھے پنجابی کی یہ مشہور کہاوت یاد آتی ہے ’’اتے کتے ہرناں دا پچھا کرنا‘‘۔ شاید ہم ثمود کی طرح ’انہم کانوا قوما عمین‘ کی منزل پر ہیں۔
وہ عصری تعلیم کے مراکز ہوں یا ایرانی روایات (بلکہ خرافات) گزیدہ دینی مدارس، ہماری ملت وہیں سے یک چشم دانش ور گود لیتی رہی ہے۔ ہم سب اسی جمود رسیدہ، جہل خورسند، داماں دریدہ مگر خود فریب ملت کا حصہ ہیں۔ سچ بولنا ہم نے صدیوں سے چھوڑ دیا تو نتیجے میں سچ سننے کی صلاحیت ہی نہ رہی، جبکہ سچ بولنا اور سچ سننا یک جان دو قالب حقیقتیں ہیں۔ زندگی کے ہر میدان میں ہماری ملت کی فکری قیادت اب انھی مہربانوں کے ہاتھوں میں ہے جنھوں نے یک چشمی کو کامل بینائی ودانائی سمجھ رکھا ہے اور انھی کی نوازشوں سے ہماری ملت کا فکری جہل مستند تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے۔ اس حد تک بھی کہ اب ہمارا ہر طبقہ اپنے سوا ہر دوسرے طبقے کو یا تو مغضوب علیہم سمجھتا ہے یا ضالین گردانتا ہے۔
جسٹس (ر) خلیل الرحمان کی تجویز اپنی جگہ جہاں امید افزا ہے، وہاں ہوش فرسا بھی ہے۔ آپ سوچیے تو یہ مایوس کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کے رو بہ عمل آنے میں کئی ایسے مرحلے آئیں گے کہ مردان کار اپنے اپنے گریبانوں کی دھجیاں اپنے ہاتھوں میں لیے بیٹھے ہوں گے۔ وہ ہمارے گریجویٹ اسمبلیوں کے اراکین ہوں کہ وارثان منبر ومحراب مفتیان کرام، ان کی معتد بہ تعداد رائج الوقت کسی بھی علمی زبان سے وہ علاقہ بھول کر بھی نہیں رکھتی جو سب سے اہم پہلو ہے۔ بے زبانی یا بد زبانی ہی ان کی زبان دانی سے عبارت ہے۔ پبلک سروس کمیشن کی رپورٹوں ہی کو دیکھ لیجیے، یہ زار وزبوں صورت حال پوری طرح ہویدا ہو جاتی ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ احساس زیاں ہی کاملاً جاتا رہا ہو۔ وہ دینی مواد ہو کہ قانونی وفنی، ہمارے ملک کے معروضی حقائق کے تناظر میں ہمیں یا تو عربی میں درکار ہوگا یا انگریزی میں یا پھر پارٹیشن کے بعد سے ملک بدر اردو مرحوم میں، جبکہ صورت حال یہ ہے کہ عصری تعلیم یافتہ ہمارے یک چشم دانش ور عربی سے اتنے ہی آشنا ہوتے ہیں جتنے کہ آسٹریلیا کے قدیم باشندے لباس سے۔ اردو سے ایسے گریز پا ومتنفر جیسے ’کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ‘ ہوں۔ انگریزی پولیو زدہ اور لکنت ماری اور اسی پر نازاں۔ ؂
عقل کی موت ، علم کی پستی
الاماں لعنت سیر مستی
کی تصویر! آپ ذرا ان حضرات کو ملی سطح پر کسی بھی میدان عمل میں دیکھ تو لیں۔ ادھر ہمارے وارثان منبر ومحراب!! 
رات بھر واعظ نے کی ہجو بتاں
لیکن ایک انداز تحسینی کے ساتھ
انگریزی سن کر ہی جن کی اکثریت کو غسل شرعی واجب ہو جاتا ہے۔ عربی اتنی ہی سیکھتے ہیں جو شاید جنت کی حوریں بولتی ہوں تو ہوں، کیونکہ منتہائے نظر وہی مقام ہے اور اسی غرض سے ہے۔ اور رہی اردو، ذرا کسی دار العلوم میں باوضو ہی سہی، جانے کی ہمت تو کر لیجیے۔ اردو کا جنازہ آپ کو دار الافتا کے باہر ہی رکھا ہوا بے کفن ملے گا۔ آئیے تو، ذرا با جماعت یہ شعر الاپیں ؂
آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں 
دوسرا مصرعہ ہم سب انفراداً پڑھ لیں گے۔ مگر آپ یقین کیجیے، اس تن ہمہ داغ داغ صورت حال کے باوجود محترم جسٹس خلیل الرحمان کی یہ نوائے درا، یہ نغمہ جرس، عصر کی اذان کے خاصی دیر بعد دی جانے والی صدائے ’الصلوۃ خیر من النوم‘ ہماری لگ بھگ ساٹھ سالہ حیات ملی کے دھند، دھول اور دھویں سے آلودہ افق پر آس کی ایک کرن ہے اور کام اگر خلوص نیت سے آج بھی شروع کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ رب غفور، عزیز ورحیم ہمیں کچھ اور مہلت دے دیں گے، ورنہ ہم تو بطور ملت خزی فی الدنیا والآخرۃ کی منزل کے عین نواح پر آن پہونچے ہیں۔
بات نکلے تو بہت دور تک جائے گی۔ اسی گفتگو کے تناظر میں یہ بات میرے لیے بعید از فہم رہتی ہے کہ ادارہ تحقیقات اسلامی کو، اسلامی نظریاتی کونسل کو، اور خود بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو باہم فوری طور پر اس منفرد اور عظیم ذمہ داری سے مکلف کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کسی نئی تحقیقاتی لائبریری کا قیام اتنا آسان تو نہیں! کسی بالک کا خواب تو نہیں!! آخر ملک وقوم کے خطیر خرچ سے قائم یہ ادارے کس مرض کی دوا ہیں اور کس دن کے لیے ہیں؟ ان اداروں کو وجود ملے ربع صدی سے زاید گزر چکی، قوم کے سامنے آج تک ان کی کوئی انقلابی اجتہادی مساعی نہیں آئیں، سوائے چند ترجمہ شدہ کتابوں یا ادھر ادھر کی گانٹھ جوڑ سے کی گئی تالیفات کے، جن پر ایک ادارہ بزعم خود یہ چھاپ کر کے کہ Not for sale outside Pakistan اپنی کارستانی پر نازاں رہتا ہے، ہٹ دھرم رہتا ہے۔ یہ تمام ادارے عین دار الحکومت اسلام آباد میں براجمان ہیں، قائم ہیں مگر عملاً نائم ہیں۔ ان سب کی اپنی اپنی وقیع لائبریریاں ہیں، تحقیقی شعبے ہیں اور کئی اسکالرز نہ صرف سیاسی اساس پر بلکہ علمی اساس پر بھی وہاں مامور ہیں۔
پاکستان ایک نظریے کا نتیجہ ہے۔ دنیا کی ہر نظریاتی مملکت اپنے فلسفہ حیات کو، اپنے نظریہ حکمرانی وجہاں بانی کو اپنی مطبوعات کی تقسیم کے ذریعے دنیا بھر کو ایکسپورٹ کرتی ہے، جبکہ مملکت خداداد پاکستان کا ایک اسلامی تحقیقاتی ادارہ اپنی گنی چنی مطبوعات کو قیمتاً بھی ملک سے باہر جانے دینے کا روادار نہیں۔ شاید وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے سوا اسلام کا وجود اور کہیں نہیں۔ اگر یہ کتابیں وہاں جائیں تو بے حرمتی ہوگی۔ یا پھر کام اتنے نکمے ہیں کہ سبکی ہوگی۔ نہیں، بلکہ صرف یہ تاجرانہ سوچ اس سرکاری ادارے میں بھی کار فرما ہے کہ یہ کتابیں صرف ڈالر کی اونچی سطح پر ہی دان کی جا سکتی ہیں۔ بریں عقل ودانش بباید گریست۔
نیز یہ بات بھی وجہ حیرت رہی کہ اپنے مقالہ میں مولانا زاہد الراشدی نے دینی مدارس کے وفاقوں کے تحت تحقیقاتی لائبریریوں کے قیام کی ضرورت کا، ضمناً ہی سہی، ذکر کیوں نہ کیا؟ اسے جسٹس خلیل الرحما ن مدظلہم کی زیر تبصرہ تجویز کے ساتھ نتھی کیوں نہ کر دیا؟ حالانکہ مولانائے محترم نے یہی بات بڑے درد آشام لہجے میں ایک سرکاری فورم (انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد) کے تحت منعقدہ ایک سیمینار میں اپنے مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کے طریق تحقیق وتالیف کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ (جولائی ۲۰۰۴) میں کہہ دی تھی۔ واقعہ کل کا ہے، بات اتنی پرانی تو نہیں! اچھی اور ضروری بات تو سورہ رحمن کے تکراری لحن میں بار بار کہی جاتی ہے۔
یہ بات نہیں کہ حاشا وکلا زاہد الراشدی مدظلہم نے اس سے اغماض کیا ہو۔ ان سے تو اغماز بھی نہیں ہوتا! بلکہ یہ ایک ایسے سہو کا رونا ہے جو کم از کم اسلام آباد کے بے دیوار وبے دروازہ صحرا میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کان پر جوں وہاں رینگتی ہے جہاں کان ہونے کا کم از کم شائبہ تو ہو! اسلام آباد کے خود مست قلندروں کو تو سنائی صرف اس وقت دیتا ہے جب وہ نفخہ ثانیہ کے صوری لہجہ میں ہو۔ بھائی عمار ناصر، وہ دن گئے جب صرف فجر میں ’الصلوۃ خیر من النوم‘ کہنے سے لوگ آ جاتے تھے، چاہے فجر کی دو فرض میں درود ابراہیمی کی نوبت پر سہی۔ اب تو ہم نیند کے اتنے ماتے ہیں کہ ہر اذان میں اس نعرہ کی ضرورت ہے۔ ہم کسی اور کو جاگنے بھی تو نہیں دیتے۔ اب ہمارے نزدیک نیند انسان کا بنیادی حق ہے اور ہم ٹھہرے ’’بنیاد پرست‘‘۔ آخر ہمارے قریہ بہ قریہ، کو بہ کو قائم خود ساختہ مسلکی دار الافتا یہ اجتہادی فتویٰ تو دے سکتے ہیں نا کہ طویل نیند اصحاب کہف کی سنت ہے۔ 
حافظ عمار، سلمکم اللہ، کاش کوئی ایسی صورت ہو جاتی کہ آپ جولائی ۲۰۰۴ کے اس مذکورہ مقالے کو ایک بار چھاپ سکتے کہ ملک کی کئی آنکھیں اس نالہ پر سوز کو تحریراً دیکھ لیتیں۔ جو اسے سن نہ پائے، پڑھ ہی لیتے اور عقل کو دعوت دینے کی، ’افلا تعقلون، افلا تذکرون‘ کی تعمیل کو کچھ تو صورت بنتی۔ آخر ’لو کنا نسمع او نعقل‘ کی صورت ابھی تو نہیں آگئی۔ کیا آپ ’انک لا تسمع الموتی‘ کی نوبت کو کاملاً مستولی سمجھ بیٹھے؟
اللہ سائیں سبحانہ زاہد الراشدی صاحب کو اپنی حفاظت میں رکھیں۔ آمین۔ ان کا خیال آتا ہے تو اس عاجز کا حرف دعا اس شعر میں بھی ڈھل جاتا ہے۔ نہ معلوم کس دل جلے کا ہے۔ ؂
حشر کے میدان میں کچھ اور وسعت چاہیے
ایک دنیا آ رہی ہے تیرے دیوانے کے ساتھ
میری زباں پر تو یہ دعا جاری ہی رہتی ہے۔ مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں ہوگا اگر آپ اپنے قارئین کو بھی اس دعا میں شریک ہونے کی دعوت دیں، انھیں یاد دلائیں کہ الم یان للذین آمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ؟
اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین
العبد العاجز
الراجی رحمۃ ربہ العزیز الوہاب
سید عماد الدین قادری۔ کراچی
(۲)
مکرم ومحترم حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا شمارہ مئی ۲۰۰۵ موصول ہوا۔ ایک ہی نشست میں تمام کا مطالعہ کیا۔ اداریہ بہترین تھا۔ محترمہ شاہدہ قاضی کا مضمون ایک وسیع وعریض موضوع کا حامل ہے اور اس میں ابھی بہت زیادہ گنجایش ہے۔ اگر تاریخ کے کسی پروفیسر صاحب سے نسیم حجازی کے تاریخی ناولوں کی انھی اغلاط کو ’الشریعہ‘ کے ذریعے سامنے لایا جائے تو یقیناًیہ بہت اہم کام ہوگا، کیونکہ نسیم حجازی صاحب نے جن شخصیات پر یہ تاریخی ناول لکھے ہیں، ہماری تاریخ میں ان کا کردار نہایت روشن اور واضح ہے، لیکن ان سے منسوب بہت سے من گھڑت قصے عجیب وغریب دلائل کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک دلیل نسیم حجازی صاحب کے ناول بھی ہیں۔ مذہب وتاریخ سے دور طبقہ انھی پر ایمان رکھتا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ (میں نے تاریخ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ ہماری اکثریت اپنی تاریخ سے ناواقف ہے۔ وہ محض سنی سنائی باتوں کو ہی تاریخ سمجھتی ہے) امید ہے ’الشریعہ‘ کے ذمہ داران اس جانب توجہ فرمائیں گے۔
’’آرا وافکار‘‘ میں محترم ڈاکٹر امین صاحب نے ایک اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ فی زمانہ جاری حالات وواقعات کے پیش نظر یہ نہایت ضروری اور لازم ہے کہ امت مسلمہ اپنے داخلی جھگڑوں اور رنجشوں کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مقاصد کے لیے جدوجہد کرے اور مشترکہ دشمن (یہود ونصاریٰ، امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، بھارت وغیرہ) کے خلاف لڑنے کے لیے تمام تر تدابیر بروئے کار لائے۔ یہ موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امت مسلمہ بالخصوص سنی اور اہل تشیع حضرات بھلا کیسے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے اپنے طویل مضمون میں جہاں بہت سی تجاویز دی ہیں، وہاں انتہائی اہم نکات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ممکن ہے علماء اہل سنت اور اہل تشیع میں باہمی عناد کی وجہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کے لیے چلائی جانے والی تحریک ہو، لیکن علماء اہل سنت کی طرف سے آج تک اس کے خلاف واضح اور موثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔ ان کی آواز ، ان کی تحریک اس سے کہیں زیادہ بلند، پیچیدہ اور نہایت خطرناک مسئلے کی جانب مبذول رہی ہے اور وہ ہے اہل تشیع کا صحابہ کرام وامہات المومنین کے خلاف نہایت ہی نازیبا زبان کا استعمال۔ انھوں نے اپنی سینکڑوں کتابوں میں اس خباثت کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ وہ اسے اچھا، بہترین اور حق پر سمجھتے ہیں۔ یہ صرف علماء اہل تشیع تک محدود نہیں، اہل تشیع کا ہر وہ فرد جو اپنے مسلک کو سمجھتا ہے، وہ اس بد زبانی کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ شاید ڈاکٹر موصوف نے اہل تشیع حضرات کے شائع کردہ لٹریچر کا کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ ان کی کتابوں میں صحابہ کرام وامہات المومنین کے خلاف ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ جنھیں پڑھ کر ایک عام مسلمان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے۔ علماء اہل سنت کی ان کے خلاف تحریک اسی کا نتیجہ ہے، وگرنہ مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا اعظم طارق، علامہ شعیب ندیم وغیرہ کو اس بات کا یقین تھا کہ انھیں جلد یا بدیر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا، لیکن وہ اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔
ان دونوں گروہوں میں بھلا اتحاد واتفاق کیسے ہو سکتا ہے جب حکومت اس میں مخلص ہی نہیں؟ اگر حکومت چاہے تو شیعہ حضرات کی صحابہ کرام کے خلاف لکھی گئی تمام کتابوں، تقریروں وغیرہ پر مکمل پابندی عائد کر کے اس سنگین مسئلے کو ختم کر سکتی ہے، لیکن ایسا ممکن نہیں۔ ایران بھلا ایسا کب ہونے دیتا ہے؟ اگر اہل تشیع پر یہ پابندی عائد ہو تو پھر ان کے خلاف کسی قسم کی تحریک اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ علماء دیوبند میں باہمی رنجش بجا ، لیکن یہ اعزاز بھی انھی کو حاصل ہے کہ انھوں نے کبھی کسی فتنے، کسی جھگڑے کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا، خواہ بدلے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ اگر آپ غیر جانبدارانہ تحقیق کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ علماء دیوبند انتہائی نامساعد حالات، اپنوں کی چیرہ دستیوں اور عددی قلت کے باوجود کفر کے خلاف ہر میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ اس کے بدلے میں انھیں نقصان پہنچے گا۔ آپ کوئی بھی میدان ان کی موجودگی سے خالی نہیں پائیں گے، خواہ وہ جنگی میدان ہے یا مناظرہ کا میدان یا کوئی اور میدان۔ لہٰذا یہ کہنا کسی بھی طرح درست نہیں کہ فلاں گروہ نے علماء حق کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نقصان طالبان نے پہنچایا ہے ۔ تو کیا طالبان حق پر نہیں تھے؟
بھارت میں ٹی وی کے جواز وعدم جواز کی بحث پر مبنی مضمون محض انتشار پھیلانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ علماء کے مابین یقیناًایسے مسائل جنم لیتے رہتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہیں کہ اس سے مزید بہت سی نئی راہیں کھلتی ہیں، لیکن یہ کسی صورت بھی مناسب نہیں کہ انھیں صفحہ قرطاس پر رقم کر کے عوام الناس کے سامنے پیش کیا جائے اور خاص طور پر اس صورت میں کہ یہ معاملہ علماء دیوبند کے مابین ہو۔ ہاں، اگر کوئی اور مسلک اس قسم کی حرکت کرتا تو یہ ان کے نزدیک اچھی کوشش ہوتی، لیکن ’الشریعہ‘ کی یہ کوشش باہمی انتشار کو فروغ دینے کی ایک مذموم حرکت ہے۔ ہمارے جیسے مذہب سے دور لوگ اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر علماء کرام کے خلاف غلط قسم کے خیالات سے اپنے ذہنوں کو بھر لیتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مولوی تو ہمیشہ آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں۔ آپ براہ کرم اس قسم کی اختلافی تحریروں کو شائع کر کے یہ ثبوت نہ دیں کہ آپ بھی روشن خیالی اور اعتدال کی جانب گام زن ہیں۔ یہ کم از کم آپ جیسی شخصیت کو زیب نہیں دیتا، کیونکہ اس قسم کی تحریروں کو پڑ ھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب علما ومذہب بیزار طبقہ ہی کی کوشش ہے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔
باہمی اختلافات پر مبنی تحریروں کے بجائے ایسی تحریروں کو جگہ دیجیے جن سے مذہب سے دور طبقہ علماء کرام اور مذہب سے قریب ہو۔ وہ یہود وہنود کی چالوں کو سمجھ سکے۔ نیز اسے یہ بھی معلوم ہو سکے کہ اس وقت علما ان چالوں کے خلاف کیا کیا تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ یہ صرف ’ضرب مومن‘ یا ’اسلام‘ کا کام نہیں، ’الشریعہ‘ جیسے رسائل وجرائد کو بھی پوری طرح مسلح ہو کر اس میدان میں اترنا چاہیے، وگرنہ وہ لوگ جو کسی ایک راہ پر چلنے کے بجائے بہت سی راہوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ درحقیقت ایک نئے راستے کو جنم دیتے ہیں۔ یہاں راستے کا مفہوم آپ بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اللہ پاک آپ کا حامی ومددگار ہو اور آپ کو اپنے نیک مقاصد میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔ آمین
خیر اندیش
انعام الحسن کاشمیری
فیچر رائٹر اردو ڈائجسٹ
۲۱۔ ایکڑ اسکیم سمن آباد لاہور

ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کا اجلاس

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم نے اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالم اسلام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اب تک کے طرز عمل اور کارکردگی کے بارے میں ایک ’’جائزہ رپورٹ‘‘ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اقوام متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے، مجموعی کارکردگی، عالم اسلام کے بارے میں طرز عمل اور اصلاحات کے مجوزہ خاکے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں ورلڈ اسلامک فورم کا موقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ ۲۰ جون ۲۰۰۵ کو ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ دیگر شرکا میں پاکستان سے فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی اور ڈھاکہ سے فورم کے نائب صدر مولانا محمد سلمان ندوی کے علاوہ مولانا مفتی برکت اللہ، الحاج عبد الرحمن باوا، مولانا عبد السبحان، مولانا عادل فاروقی، رانا محمد الطاف، حاجی غلام قادر، مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری، مولانا حسن علی، مفتی عبد المنتقم سلہٹی، مولانا مشفق الدین، مولانا بلال احمد، کامران رعد، ریاض الحق، شفیق احمد، مولانا نور العالم حمیدی، مولانا اشرف زمان، مولانا ابراہیم کاپودروی، شمیم بخاری، نجم العالم اور قاضی محمد لطف الرحمن بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کہا کہ اب جبکہ اقوام متحدہ نئی اصلاحات کے ساتھ ایک عالمی حکومت کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے، عالم اسلام کو اقوام متحدہ کے مجموعی کردار اور طرز عمل کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ جائزہ لے کر اپنے آئندہ طرز عمل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تھی، اس وقت ایک دو مسلم ممالک کے علاوہ اکثر مسلم ممالک غلام تھے، اس لیے مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کا منشور اور تنظیمی ڈھانچہ یک طرفہ طور پر اپنے فکر وفلسفہ کی بنیاد پر طے کر دیا اور اس میں عالم اسلام کے عقائد اور ثقافت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح اپنے عملی کردار کے حوالے سے اقوام متحدہ بالادست اور حکمران ممالک کے مفادات کی محافظ ثابت ہوئی ہے اور ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ملکوں کے سوا کسی کو اقوام متحدہ کے فیصلوں میں اختیار کے درجے کی شرکت حاصل نہیں ہے جبکہ مزید اصلاحات میں بھی دوسرے ممالک کو شریک کرنے کی بات محض نمایشی ہے اور دراصل بالادست قوتیں اور امیر ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا پر اپنا کنٹرول مزید مستحکم کرنے اور اپنا فلسفہ وثقافت مسلط کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس لیے اس صورت حال سے عالمی رائے عامہ اور دنیا بھر کے مسلم عوام کو آگاہ اور بیدار کرنا ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے ’’جائزہ رپورٹ‘‘ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی ذمہ داری فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی کو سونپ دی گئی ہے جو مختلف دانش وروں اور ماہرین کے تعاون سے یہ رپورٹ مرتب کریں گے اور اگست کے آخر میں لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ جنرل اجلاس میں یہ رپورٹ منظوری کے لیے پیش کی جائے گی اور اس کے بعد یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے لندن آفس کے علاوہ مسلم ممالک کے سفارت خانوں اور ذرائع ابلاغ کے لیے پیش کر دی جائے گی۔
ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں دینی حلقوں کو بیدار رکھنے کی ضرورت ہے اور علماء کرام کو اس سلسلے میں روایتی بے پروائی کو چھوڑ کر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آنے والے گلوبل دور میں اپنے ممکنہ کردار کا دنیا کے تمام طبقات سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں، مگر دینی حلقوں میں اس طر ف پیش رفت کے آثار بہت کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ورلڈ اسلامک فورم دینی حلقوں کو اسی خلا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہودیت اپنے سیاسی اور معاشی ایجنڈے کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ مسیحیت کے دو حلقے متحرک ہیں۔ ایک حلقہ سیکولرازم کے فروغ کے عنوان سے مسلم امہ کو دین سے بے گانہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ دوسرا حصہ مسیحی مشنریوں کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے تگ ودو کر رہا ہے۔ عالم اسلام کے دینی حلقوں کو ان سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیے اور اس ماحول میں اپنے کردار کے تعین اور ادائیگی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ گلوبلائزیشن کے نام پر دنیا کے معاشی وسائل پر قبضے اور سیاسی وعسکری بالادستی کے لیے امیر ممالک جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، اس کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کی فضا عالم اسلام کے بجائے تیسری دنیا کے غیر مسلم ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ تو ہم خود اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ہی اس میدان میں کام کرنے والوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، بلکہ ہمارے بیشتر دینی حلقوں کو سرے سے اس کا ادراک ہی نہیں ہے کہ گلوبلائزیشن کے نام سے کون کون سے حلقے کس کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور ان کی پیش رفت کی صورت حال کیا ہے؟
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فکری بیداری کا جو کام یہاں لندن میں ہو رہا ہے، اس کا دائرہ دنیا کے دوسرے ممالک تک وسیع کیا جائے اور مختلف علاقوں میں اس قسم کے حلقے قائم کیے جائیں جو دینی حوالے سے مسلم علماء اور عوام میں فکری بیداری کے لیے کام کریں۔ انھوں نے کہا کہ فکر وعقیدہ کی اصلاح کی طرف اسلام نے سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے اور اس کے ساتھ خلوص اور خیر خواہی کے جذبہ کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اسلاف اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔
اجلاس میں برطانیہ میں مذہبی منافرت کی روک تھام کے حوالے سے پیش کیے جانے والے قانون کا جائزہ لیا گیا اورمختلف شرکا نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے قانون کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے برطانیہ کی تمام مسلم جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ باہمی مشورہ کے ساتھ اس قانون کا جائزہ لیں اور مل بیٹھ کر اس کی ضرورت وافادیت اور تحفظات پر غور کرتے ہوئے مشترکہ موقف اختیار کریں۔
اجلاس میں گوانتانامو بے کے امریکی قید خانے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے افسوس ناک واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ قراداد میں او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں متحرک کردار ادا کرے اور قرآن کریم کی حرمت وتقدس کے تحفظ کے لیے اسلامیان عالم کے جذبات واحساسات کی نمائندگی کرے۔
اجلا س میں ایک قرارداد کے ذریعے او آئی سی کے اس مطالبہ کی حمایت کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلم ممالک کے لیے ایک نشست مخصوص کی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ عالم اسلام کا حق ہے جس سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے مگر او آئی سی کو صرف سلامتی کونسل کی ایک نشست کے مطالبے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کے پورے تنظیمی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ بنیادی تنظیمی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظر ثانی اور بنیادی تبدیلیوں کے بغیر اقوام متحدہ کے نظام میں غیر مشروط شمولیت عالم اسلام کے مفاد میں نہیں ہے اور اسلامی تعلیمات سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔
ورلڈ اسلامک فورم نے ایک اور قرارداد میں دنیا بھر کے دینی اداروں اور حلقوں اور خاص طور پر برطانیہ کے دینی مراکز سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ عالمی صورت حال اور بڑھتی ہوئی مشکلات ومسائل سے مسلمانوں کو باخبر کرنے کا اہتمام کریں، کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کی ایک بڑی وجہ ’’بے خبری‘‘ ہے، ا س لیے یہ ضروری ہے کہ دینی حلقے حالات سے باخبر رہتے ہوئے زمینی حقائق کی روشنی میں صحیح کردار ادا کریں۔

تعارف و تبصرہ

محمد عمار خان ناصر

بیت العلم کراچی کی مطبوعات

برصغیر کے دینی مدارس میں رائج نصاب اور طریقہ تعلیم کی اصلاح کے مختلف پہلو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے اہل علم کے ہاں بحث ومناقشہ کا عنوان ہیں۔ اس سلسلے میں جہاں علوم عالیہ کی تدریس کا معیار بہتر بنانے اور نصاب میں نئے مضامین کی شمولیت کے مسائل زیر بحث ہیں، وہاں یہ نکتہ بھی بجا طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ تعلیم وتدریس کو ایک زندہ، موثر اور مفید عمل بنانے کے لیے نہ صرف جدید تعلیمی نظریات وتجربات پر مبنی طریقہ تدریس کو رائج کرنا ضروری ہے، بلکہ تعلیمی مواد کو آسان اور قابل فہم زبان میں مرتب کرنا اور نصابی کتابوں کو تعلیمی نفسیات اور جدید طباعتی معیار کے مطابق خوب صورت اور دل کش پیرایے میں پیش کرنا بھی اصلاح کے عمل کا ناگزیر تقاضا ہے۔ 
یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اصلاح کی ضرورت کا احساس رکھنے والے اصحاب فکر کی کاوشوں اور ان کے تعاون سے مختلف اشاعتی اداروں کی جانب سے نصابی کتابوں کو جدید تدریسی وطباعتی معیار پر پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں ایک نمایاں نام بیت العلم کراچی کا ہے جس کی مطبوعات میں سے اس وقت درج ذیل کتب ہمارے سامنے ہیں:
  • ’المنطق المنہجی للمبتدئین‘ (سید شریف کے رسائل صغریٰ، اوسط اور کبریٰ کا سلیس عربی میں ترجمہ)
  • ’تسہیل المنطق‘ (مفید تمرینات اور جداول پر مشتمل علم منطق کا ایک مفید رسالہ)
  • ’مرآۃ النحو‘ (نحو کے مشہور رسالے ’’الضریری‘‘ کی تسہیل باضافہ تمرینات )
  • ’تفہیم مصطلح الحدیث‘ (علم حدیث کی انواع اور اصطلاحات کا تعارف اور توضیحی مثالیں )
  • ’اصول الحدیث للامام السرخسی‘ (’اصول السرخسی‘ سے حدیث سے متعلق اصولی مباحث کا انتخاب) 
  • ’تیسیر علوم الحدیث للمبتدئین‘ (مبتدی طلبہ کے لیے علوم حدیث کا تعارف اور اطلاقی مثالیں)
  • ’تیسیر اصول الفقہ‘ ( آسان پیرایے میں اصول فقہ کے مباحث اور بعض جگہ منہج احناف و متکلمین کا تقابل )
  • ’اصول الفقہ للمبتدئین‘ (مبتدیوں کے لیے آسان اسلوب میں حنفی اصول فقہ کے مباحث )
  • ’تسہیل اصول الشاشی‘ (درسی کتاب ’اصول الشاشی‘ کے مباحث کی تسہیل باضافہ تمرینات)
  • ’طریق الوصول الی علوم البلاغۃ‘ (شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے رسالہ ’’میزان البلاغۃ‘‘ کی آسان عربی زبان میں شرح، اور مثالوں کے ذریعے سے اسالیب بلاغت کی تشریح وتوضیح )
  • ’البلاغۃ الصافیۃ‘ (درسی کتاب ’’مختصر المعانی‘‘ کی تسہیل وتہذیب اور مفید تمرینات کا اضافہ)
  • ’توضیح الفرائض السراجیۃ‘ (درسی کتاب ’’سراجی‘‘ کی تسہیل، اور جداول وتدریبات کے ذریعے سے مسائل وراثت کی وضاحت)
  • ’تلخیص شرح العقیدۃ الطحاویۃ‘ (صدر الدین علی بن علی بن محمد کی شرح العقیدۃ الطحاویۃ کی تلخیص اور جگہ جگہ موضوع کی مناسبت سے اہم مباحث کا اضافہ )
مذکورہ کتب میں سے بیشتر کے مولف ومرتب مولانا محمد انور بدخشانی ہیں جو دینی علوم وفنون کے ایک ماہر اور کہنہ مشق استاذ ہیں اور جامعہ بنوریہ کراچی میں سالہا سال سے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ پرانی درسی کتب کو تسہیل وتیسیر کے قالب میں ڈھالا ہے، اس سے نہ صرف متعلقہ علوم وفنون پر ان کی دسترس کا ثبوت ملتا ہے، بلکہ ترتیب وتدوین کے فن سے واقفیت کے ساتھ ساتھ خوش ذوقی اور سلیقہ مندی کے اوصاف بھی ان کتابوں سے نمایاں ہیں۔ عبارتوں کی پیرا گرافنگ، رموز اوقاف کے استعمال، مباحث کی تفہیم کے لیے مرکزی اور ذیلی سرخیوں کے اضافہ، آیات واحادیث، اشعار اور اقتباسات کے عام متن سے امتیاز، پرانے طریقے کے مطابق متن کے اوپر نیچے حواشی گھسیڑنے کے بجائے صفحے کے نیچے اندراج، کتاب کے مباحث اور مسائل کی ترقیم اور ترتیب وتدوین کے دیگر اصولوں کے استعمال نے ان کتب کو بلاشبہ ایک نیا رنگ دے دیا ہے اور درس وتدیس میں ان سے استفادہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ اگر آئندہ ایڈیشنوں میں مشکل الفاظ کی تشریح اور آیات واحادیث کی تخریج کا بھی اہتمام کیا جا سکے تو ان کتب کی افادیت یقیناًدوچند ہو جائے گی۔ 
مولانا موصوف اس خدمت پر مدارس کے پورے طبقے کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں اور توقع ہے کہ اپنی خداداد صلاحیت اور ذوق کو بروے کار لاتے ہوئے وہ اس میدان میں مزید کاوشیں کرتے رہیں گے۔ ہماری رائے میں اصل ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اس نوعیت کی جدید نصابی کتب کی تیاری کا اہتمام مجموعی تعلیمی وتدریسی ضروریات کے پیش نظر خود وفاق المدارس کے مرکزی نظام کے تحت ہو، تاہم اس کی غیر موجودگی میں مولانا بدخشانی اور ان جیسے دوسرے اہل علم اپنی انفرادی حیثیت میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور مدارس میں ان کی محنت سے استفادہ کا اداراتی سطح پر اہتمام ہونا چاہیے۔
مذکورہ کتب بیت العلم، اے ۱۲۰، بلاک نمبر ۱۹، گلشن اقبال کراچی سے طلب کی جا سکتی ہیں۔

’’اشاریہ معارف القرآن‘‘

مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ دور حاضر کی متداول اور مقبول تفسیروں میں سے ایک ہے جس میں جمہور کے تفسیری مسلک کے دائر ے میں رہتے ہوئے عام فہم انداز میں قرآنی معارف کی تشریح اور متعلقہ فقہی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے۔ ایک عرصہ سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ ’’معارف القرآن‘‘ میں پھیلے ہوئے ان علمی وفقہی اور تفسیری نکات کا ایک جامع اشاریہ مرتب کر دیا جائے تاکہ اہل ذوق کو مطلوبہ عنوانات پر کتاب سے مراجعت کرنے میں آسانی ہو۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کے استاذ مولانا مشتاق احمد صاحب نے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی راہنمائی میں بڑی محنت اور کاوش کے ساتھ اس ضرورت کو پورا کر دیا ہے جس پر وہ تمام مستفیدین کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ 
دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ اشاریہ صاف ستھری کمپیوٹر کمپوزنگ کے ساتھ ادارۃ المعارف کراچی نے شائع کیا ہے ۔

مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر اور ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی برطانیہ کا ۱۶ دن کا دورہ مکمل کر کے ۲۳ جون کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے اس دوران میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر، نوٹنگھم، لیسٹر، بلیک برن، برنلی، ہڈرز فیلڈ، چالی، گرینتھم، کنزلین اور دوسرے مقامات پر مختلف اجتماعات سے خطاب کے علاوہ ورلڈ اسلامک فورم، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ اور ابراہیم کمیونٹی کالج لندن کے مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کی اور کیمبرج کی مسجد ابوبکر صدیق مین بھی ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ 

انھوں نے ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں ۲۰ جون کو علماء کرام کی ایک بھرپور فکری نشست میں ’’سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا جس کا خلاصہ ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ (ادارہ)