بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۴ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی صوبے گجرات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پہلی شرعی عدالت ’’دار القضاء‘‘ کے نام سے قائم کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ بہار، اڑیسہ، آسام اور اتر پردیش میں شرعی عدالتیں پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہی ہیں جس کی کامیابی کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے، جو بھارت میں شریعت کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے، اب گجرات میں بھی شریعت کورٹ قائم کر دی ہے۔ ’’دار القضاء‘‘ میں مسلمانوں کے روز مرہ معاملات کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ مفتی عبید اللہ الاسدی کو دار القضاء کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو ممتاز عالم دین اور جامعہ عربیہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام کا نظام انصاف مسلمانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ انھیں اپنے تنازعات کے لیے شریعت کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے اور خدشات کے بغیر عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھارت میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار نمائندوں کا مشترکہ فورم اور اس لحاظ سے مسلمانوں کا سب سے بڑا نمائندہ ادارہ ہے جس میں تمام مذہبی مکاتب فکر شامل ہیں اور اس کا مقصد پرسنل لا یعنی نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو قائم رکھنا اور اس عالمی اور قومی دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے جو مسلمانوں پر انھیں نکاح وطلاق اور وراثت وغیرہ کے جداگانہ دینی قوانین واحکام سے دست برداری پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ بھارت میں ’’کامن سول کوڈ‘‘ کے نام سے ایک عرصہ سے یہ تحریک جاری ہے کہ جس طرح دوسرے مذاہب کے لوگ باہم شادیاں کر رہے ہیں اور پرسنل لا میں اپنے مذہبی احکام کے بجائے مشترکہ عالمی وملکی قوانین پر عمل پیرا ہیں، اسی طرح مسلمانوں کو بھی مشترکہ برادری کا حصہ بننا چاہیے اور اپنے لیے الگ مذہبی قوانین پر اصرار نہیں کرنا چاہیے، مگر مسلمانوں نے متفقہ طور پر اس کو مسترد کر دیا ہے اور ایک عرصہ سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم پر وہ اپنے جداگانہ تشخص اور خاندانی قوانین وروایات کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اس بورڈ کے سربراہ بالترتیب حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ، مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی ندویؒ اور فقیہ ملت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ رہ چکے ہیں، جبکہ ان کے بعد ندوۃ العلماء لکھنو کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ بورڈ کے سربراہ ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں میں یہ بات بھی شامل رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح وطلاق کے تنازعات اور دیگر باہمی معاملات شرعی عدالتوں کے ذریعے سے حل کرائیں اور اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں تحکیم کی صورت میں دونوں فریق مقدمہ لاتے ہیں اور شرعی عدالتیں ’حکم‘ کی حیثیت سے ان کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کے نام سے یہ پرائیویٹ نظام بہت پہلے سے قائم ہے جس میں حضرت مولانا قاضی سجادؒ ، حضرت مولانا منت اللہؒ اور حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ ایک عرصہ تک امیر شریعت اور قاضی کے طور پرفرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور کم وبیش پون صدی سے یہ نظام وہاں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے جسے مسلم پرسنل لا بورڈ، بھارت کے دوسرے صوبوں تک وسیع کرنے میں مصروف ہے جو ایک خوش آیند امر ہے۔
جن معاملات میں لوگ تحکیم یا ثالثی کی صورت میں باہمی رضامندی کے ساتھ اپنے تنازعات اور مقدمات پرائیویٹ عدالتوں کے پاس لے جا سکتے ہیں، ان میں لوگوں کو شرعی فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنا اور ان کے فیصلوں کے لیے اس طرح کی عدالتوں کا اہتمام ایک انتہائی بہتر اور اچھی جدوجہد ہے جس کا تجربہ کرنے کی ایک بار ہم نے بھی کوشش کی تھی۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا ملک گیر کنونشن جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا تھا جس میں ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام اور دینی کارکنوں نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن میں قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز نے جمعیۃ کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق ملک بھر میں آزاد شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے مرکزی بورڈ میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے علاوہ بیر شریف لاڑکانہ کے حضرت مولانا عبد الکریم قریشی رحمہ اللہ تعالیٰ اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم بھی شامل تھے۔ اس بورڈ نے ملک میں اس نوعیت کی آزاد شرعی عدالتوں کے قیام کے لیے ضروری امور اور طریق کار کا خاکہ طے کیا تھا اور مختلف علاقوں میں قاضیوں کا تقرر بھی کر لیا گیا تھا، لیکن عوامی سطح پر مناسب ذہن سازی نہ ہونے اور جمعیۃ علماء اسلام کی دیگر قومی سیاسی سرگرمیوں میں حد درجہ مصروفیت کی وجہ سے یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔
اب بھارت میں اس تجربہ کی کامیاب پیش رفت کی خبر پڑھ کر اس پروگرام کی یاد ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہو گئی ہے اور یہ کسک سی دل میں ہونے لگی ہے کہ یہ کام اگر انڈیا میں ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ جہاں تک ملکی قوانین کا تعلق ہے، دستور وقانون، دونوں حوالوں سے اس امر کی گنجایش موجود ہے کہ جو معاملات قابل دست اندازی پولیس نہیں ہیں اور جن میں فریقین باہمی رضامندی کے ساتھ کسی کو حکم اور ثالث مان کر اپنا مقدمہ ان کے سپرد کر سکتے ہیں، ان میں اس طرح کی عدالتیں یا ثالثی کونسلیں قائم کی جا سکتی ہیں، بلکہ ان عدالتوں اور ان کے فیصلوں کو قانونی تحفظ بھی مل سکتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے حوالے سے وہاں کے دوستوں نے ہمیں یہ بتایا کہ امریکی دستور کے مطابق نہ صرف پرسنل لا میں بلکہ بعض مالی معاملات میں بھی تحکیم اور ثالثی کی صورت میں پرائیویٹ عدالتوں کی گنجایش موجود ہے جس کو ایک مخصوص پراسس اور شرائط کے ساتھ سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ تک تمام عدالتی فورم ان فیصلوں کااحترام کرتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق امریکہ میں بسنے والے یہودیوں نے اس دستوری گنجایش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جداگانہ عدالتی ادارے قائم کر رکھے ہیں اور وہ اپنے بہت سے معاملات کے فیصلے ان عدالتوں سے کراتے ہیں۔ ہم نے امریکہ میں وہاں کے بہت سے علماء کرام اور دانش وروں سے متعدد بار یہ گزارش کی ہے کہ اگر امریکہ کا دستور بعض معاملات میں اس طرح کی عدالتوں کی گنجایش دیتا ہے تو اس سے فائدہ نہ اٹھانا اور اپنے ہر طرح کے معاملات بالخصوص پرسنل لا کے امور کو غیر مسلم عدالتوں کے پاس لے جانا بہت زیادتی کی بات ہے۔ وہاں بعض حلقوں میں اس کا احساس پایا جاتا ہے، لیکن پیش رفت کے لیے جس سطح کی سوچ، حوصلہ، محنت، ہوم ورک، اور عوامی ذہن سازی کی ضرورت ہے، اس کا فقدان ہے اور کم وبیش یہی صورت حال ہمارے ہاں پاکستان میں بھی ہے جہاں ہم نے شریعت کی ہر بات کے لیے حکومت پر انحصار کر رکھا ہے اور ہر مسئلہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کے جن احکام پر عمل حکومت اور اقتدار پر موقوف نہیں ہے اور اس کے لیے لوگوں کو تیار کرنے اور اس میں پیش رفت کے لیے مناسب نظم پرائیویٹ سطح پر بنایا جا سکتا ہے، اس کے لیے ہم کیوں تیار نہیں ہوتے؟
ہمارے نزدیک سب سے زیادہ ضرورت عوامی سطح پر دینی شعور کو بیدار کرنے اور اجتماعی معاملات میں دینی راہ نمائی کو قبول کرنے کا احساس پیدا کرنے کی ہے اور اس سے بھی زیادہ ضرورت دینی اخلاقیات کو عملی زندگی میں لانے کی ہمہ گیر جدوجہد کی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کواس بات کے لیے تیار کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر معاملہ میں عدالت اور سرکاری دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے جو معاملات وہ کسی سطح پر خود طے کر سکتے ہیں، انھیں عدالت اور سرکار کے دروازے سے باہر ہی نمٹا لیا جائے۔ اس سے جھگڑوں میں بھی کمی آئے گی اور عدالتوں پر کام کا بوجھ بھی کم ہوگا، مگر اس کے لیے محنت کی ضرورت ہے، مناسب منصوبہ بندی درکار ہے، ٹیم ورک اور مسلسل ورک کا حوصلہ چاہیے جس کے لیے ہم میں سے شاید کوئی بھی تیار نہ ہو اور یہی ہماری قومی زندگی کا سب سے بڑا روگ ہے۔ خدا کرے کہ ہم اپنی سوچ اور ترجیحات پر ایسی نظر ثانی کر سکیں جو ہماری معاشرتی زندگی میں کسی مثبت تبدیلی اور انقلاب کی نوید بن جائے۔ آمین یا رب العالمین۔
نائن الیون کمیشن رپورٹ ۔ ایک امریکی مسلم تنظیم کے تاثرات کا جائزہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن
نائن الیون کے افسوس ناک واقعہ کی تفصیلات، محرکات اورمستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے، تشکیل دیے گئے امریکہ کے نیشنل کمیشن کی تیرہ ابواب(۵۸۵ صفحات بشمول پیش لفظ ، ضمیمہ جات، نو ٹس وغیرہ ) پر مشتمل رپورٹ ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ کو منظرِ عام پر آنے کے بعد بحث و تمحیص کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں بے شمار دستاویزات (2.5 ملین صفحات) سے استفادہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کل اکتالیس( ۴۱) سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کا آن لائن ایڈیشن www.9-11commission.gov/report پر دستیاب ہے ۔ امریکی مسلمانوں نے بحیثیت امریکی شہری اس رپورٹ کی بابت اپنے تاثرات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر ایک ایسا ہی ۱۰۰ صفحات(بشمول ضمیمہ جات ) پر مشتمل کتابچہ ہے جسے امریکی مسلم ٹاسک فورس نے 'First Impression:American Muslim Perspectives' کے نام سے جاری کیا ہے تاکہ امریکی مسلمان سطحی اور ردِ عمل پر مبنی موقف اپنانے کی بجائے معروضی واقعیت اور ٹھوس حقائق پر مبنی تاثرات امریکی حکومت و امریکی معاشرے کے سامنے پیش کر سکیں ۔ یہ کتابچہ www.iiit.org اور www.ccmodc.net پر بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کتابچے میں مختلف لوگوں کی مختصر مگر جامع تحریروں کو جگہ دی گئی ہے ۔ ہم جائزے میں طوالت اور تکرار سے بچنے کے لیے کتابچے کو مجموعی حیثیت سے لیں گے ، اس کوشش کے ساتھ کہ کوئی اہم نکتہ نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ کو آرڈی نیٹنگ کونسل آف مسلم آرگنائزیشن (سی سی ایم او)کی ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق امریکن مسلم ٹاسک فورس (اے ایم ٹی ایف ) کا اس کتابچے کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور اسے محض بحث مباحثہ کی غرض سے پیش کیا گیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم نے اپنی سہولت کی خاطر اے ایم ٹی ایف کا باقاعدہ نام لے کر بات کی ہے کیونکہ کتابچے کو مجموعی حیثیت سے جانچنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر تھا، فرداََ فرداََ تمام مضامین کی جانچ پرکھ تکرار اور طوالت کا باعث ہو سکتی تھی ۔ امید ہے زیرِ نظر تحریر اس وضاحت کی روشنی میں پڑھی جائے گی۔
نائن الیون کمیشن رپورٹ میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح (Islamist terrorism) کو کتابچے میں مختلف مقامات پر بطورِ خاص تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق دشمن عمومی نوعیت کی کوئی برائی (generic evil) جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے نہیں ہے ، بلکہ واضح اور قطعی طور پر Islamist terrorism (اسلام پسندی پر مبنی دہشت گردی) ہے ۔ اگرچہ رپورٹ میں اس امر کی صراحت کر دی گئی ہے کہ Islamist سے مراد اسلام کے پیروکار نہیں، بلکہ بن لادن کا نیٹ ورک ، اس سے وابستہ لوگ اور اس کی آئیڈیالوجی ہے جو کم از کم ابنِ تیمیہ سے شروع ہو کروہابیت کے بانیوں اور سید قطب کی الاخوان المسلمون کے ادوار سے گزری ہے۔ یہ آئیڈیالوجی اسلام کے ایک’’ اقلیتی گروہ‘‘ کی روایت مانی جاتی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام ، دشمن نہیں ہے نہ ہی اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ۔ امریکہ اور اس کے دوست اسلام کی بگڑی ہوئی صورت (perversion of Islam) کی مخالفت کرتے ہیں نہ کہ خود اسلام کی۔وغیرہ غیرہ۔ اس اصطلاح پر تنقید کرنے والے ، مذکورہ امریکی صراحتوں سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق اصطلاح میں لفظ اسلام کی شمولیت سے (رپورٹ کی وضاحتوں کے باوجود ) اسلام کی ایک منفی تصویر لوگوں کے اذہان میں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے ، کیونکہ لفظ ’Islamist‘ میڈیا میں اورعام لوگوں کی بات چیت میں حتیٰ کہ دانشورانہ مباحث میں بھی لفظ ’Islamic’ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، مثلاً ترکی کی جسٹس پارٹی کو عموماً اسلامسٹ پارٹی کہا جاتا ہے، جسے اسلامسٹ چلاتے ہیں جن کے پیشِ نظر اسلامی اصولوں اور روایات کی پاسداری ہے۔ اس طرح ایک ایسی مبہم اصطلاح کی اختراع سے ، امن و سلامتی کے داعی اور انسان دوست مذہب کی بابت لاعلمی، بغض اور تعصب کی فضا ہی نشوونما پائے گی، نہ کہ اس مذہب کی ایک اقلیت کے انتہاپسندانہ عقائد و اعمال اور اس مذہب کی غالب اکثریت کے( مبنی بر مذہب) درست اور صحیح عقائد و اعمال کے درمیان امتیاز یا تفریق ممکن ہو سکے گی۔ناقدین کے مطابق ہمسایوں(مسلم /غیر مسلم ) کے درمیان بد اعتمادی اور شکوک و شبہات کا سبب بننی والی ایسی ’’ثقافتی فضا ‘‘ کی اجازت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں دی جاسکتی۔ لہٰذا بہتر ہوتا اگر اسلامسٹ کی بجائے بن لادن نیٹ ورک یا جہادازم کی اصطلاح استعمال کی جاتی جو ایک طرف عسکری گروہوں کے موافق ٹھہرتی، دوسری طرف عام Islamist (اسلام پسندوں) اور rogue Islamist (اسلام کے بدمعاش نام لیواؤں) کے درمیان خطِ امتیاز کھینچ دیتی۔ ایسا نہ ہونے سے وہ تمام Islamists بھی ریڈیکل ہوسکتے ہیں جوپوری دنیا میں ’’ مسلم سیاست ‘‘کی طاقتور علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سی آئی اے کے سابق تجزیہ نگار گراہم فلر کی کتاب "The Future of Political Islam" کو اسلامیت اور طویل المیعاد امریکی مفادات کے حوالے سے مفید گردانتے ہوئے کمیشن سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس کتاب پر سرسری نظر ہی دوڑا لیتا تو رپورٹ اس قسم کی خامیوں سے مبرا ہوتی۔ہماری رائے میں اسلامسٹ کی بجائے جہاد ازم کی اصطلاح نسبتاً بہتر قرار دی جاسکتی ہے۔ اگرچہ جہاد ازم کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے، لیکن اس میں لفظ جہاد در آنے سے ذہن فوری طور پر اسلام کی طرف ہی جاتا ہے لہٰذا وہ احتمال یہاں بھی موجود رہتا ہے کہ جہاد اور جہاد ازم کے درمیان فرق کو میڈیا کے لوگ ملحوظِ خاطر نہیں رکھیں گے، جیسا کہ اسلامسٹ اور اسلامک کے درمیان فرق نہ رکھنا۔ ہمارے خیال میں یہ فرق قائم بھی نہیں رہ سکتا کیونکہ اسلامسٹ، اسلام کے عملی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے اور اسلامک، اسلام کی نظری جہت کی۔ رپورٹ مرتب کرنے والے شاید اسلام کو بطور ’’تھیوری ‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے متشکل ہونے سے الرجک ہیں ۔
Islamist terrorism کی اصطلاح کے حوالے سے ہی ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ اس اصطلاح کے استعمال سے منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامسٹ دہشت گردی اور کسی اور نوعیت کی دہشت گردی کے درمیان ’’خطِ امتیاز ‘‘ کیسے کھینچا جائے گا؟ کیا دہشت گردی ’’اپنی اصل ‘‘میں ہوتی ہی اسلامسٹ ہے ؟ ناقدین کے مطابق ابھی تک دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف متعین نہیں ہو سکی جسے عالمی سطح پر یکساں پذیرائی حاصل ہو۔ اسی لیے صدر بش نے نائن الیون حملوں کے فوری بعد امریکی عوام سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی کی بڑی سادہ تعریف متعین کی۔ صدر بش نے کہا تھا کہ :
"Every nation in every region now has a decision to make. Either you are with us, or you are with the terrorists."
’’دنیا کے ہر ملک کو اب ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔ یا تو آپ ہمارے ساتھی ہیں یا پھر دہشت گردوں کے۔‘‘
امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی تعریف نسبتاً بہتر قرار دی جا سکتی ہے جو یہ ہے :
"Premeditated, politically motivated violence perpetrated against noncombatant targets by sub-national groups or clandestine agents, usually intended to influence an audience."
’’دہشت گردی سے مراد سیاسی محرکات کے تحت تشدد پر مبنی ایسی سوچھی سمجھی کارروائی ہے جو نیم حکومتی گروہ یا خفیہ کارندے کریں اور جس کا نشانہ غیرمقاتل افراد بنیں۔ اس کارروائی کا مقصد بالعموم کسی خاص گروہ پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے۔‘‘
دہشت گردی کی اس تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے محرکات سیاسی ہوتے ہیں اور ان کا نشانہ بھی غیر جنگجو افراد ہوتے ہیں۔ پھر اس کے ساتھ کوئی اضافی دم چھلا لگانے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ نیشنل کمیشن کو ’’اسلامسٹ‘‘ کا سابقہ لگاتے وقت ان امور کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے تھا۔اے ایم ٹی ایف کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ایک غیر جانبدار بین الاقوامی عدالتی نظام وضع کیا جائے جہاں ریاستیں، دہشت گردی کے ملزموں کے خلاف باقاعدہ شواہد جمع کروائیں اور ملزموں کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے۔ ہمارے خیال میں اے ایم ٹی ایف کی تجویز میں ’’سادگی ‘‘ جھلکتی ہے کیونکہ ریکارڈ گواہ ہے کہ جب نکاراگوا امریکی جارحیت کے خلاف اپنا کیس لے کر عالمی عدالت میں گیا اور عدالت نے امریکہ کو قوت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے اور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا تو امریکہ نے عدالتی حکم کے پرخچے اڑاتے ہوئے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر لی۔ نکارا گوا سلامتی کونسل میں گیا جہاں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی قرار داد امریکہ نے ’’ویٹو ‘‘ کر دی۔ نکاراگوا جنرل اسمبلی میں گیا جس نے دو برسوں میں دو مرتبہ قرارداد منظور کی جس کی مخالفت امریکہ ، اسرائیل اور(ایک مرتبہ ) ایل سلواڈور نے کی۔ بڑی طاقتوں کے ایسے طرزِ عمل کی موجودگی میں ’’قانونی ‘‘ یا کوئی بھی جائز حربہ ناکامی سے ہی دوچار ہو سکتا ہے۔ اندریں صورت دہشت گردی کوہی ’’جائز انحراف ‘‘ کے زمرے میں شمار کرنا ناگزیر ہو جائے گا ۔
دہشت گردی کے ساتھ لفظ اسلامسٹ لگنے سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ نیشنل کمیشن (کم از کم ) نفسیاتی اعتبار سے اسامہ بن لادن کے ہاتھوں میں کھیل رہاتھا کیونکہ خود اسامہ بن لادن انتہاپسندانہ کارروائیوں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو ’’عین اسلام ‘‘ قرار دیتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے پیچھے چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس طرح نیشنل کمیشن بالواسطہ طور پر اسی مظہر کو اسلام سے منسلک کر رہا ہے جسے اسامہ بن لادن اسلام گردانتا ہے۔ کمیشن کا یہ طرزِ عمل اسامہ بن لادن کی خدمت کرنے کے مترادف ہے نہ کہ اس کی مخالفت کی غمازی کرتا ہے۔ اسی طرح Islamist terrorism کی اصطلاح سے ایک اور مفروضہ پنپتا ہوا نظر آرہا ہے کہ دنیامیں مسلمانوں کے دو گروہ ہیں: (۱) برے مسلمان یعنی انتہا پسند ، (۲) اچھے مسلمان یعنی اعتدال پسند۔ ناقدین کے مطابق اس صریح تقسیم سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اربوں مسلمانوں کے، اسلام کے متعلق فہم اور اظہار میں موجود ’’تنوع ‘‘ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ ان دو گروہوں کے بین بین بہت سے گروہ موجود ہیں۔ ایسے گروہوں کو زبردستی دو گروہوں کے دائرے میں لانا ان کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اسلامسٹ دہشت گردی کی اصطلاح پر ایک اور اہم اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں خاص قسم کے سیاسی مسائل پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس ملک کے اندر بعض اوقات ’’جائز انحراف ‘‘ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے جو اکثر اوقات ’’مثبت تبدیلی‘‘ کے لیے لازمی اور ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ (خود نیشنل کمیشن کے مطابق اسلامی ممالک میں سیکولر حکومتیں ، تابناک مستقبل کی بجائے جہالت، استبداد اور آمریت کے فروغ کا باعث بنی ہیں اور نوجوانوں کو جائز انحراف کی راہ نہیں مل رہی) اب اسلامسٹ دہشت گردی کی اصطلاح گھڑ کر تبدیلی کی آواز بلند کرنے والوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، کیونکہ ان ممالک کی استبدادی حکومتوں کو ’’اسلامسٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے بھیس میں جبر و تشدد کی راہ اپنانے کے لیے ’’گرین سگنل ‘‘ دے دیا گیا ہے ۔اس کا بہت بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ’’جائز انحراف ‘‘ کا لحاظ نہ رکھنے کے باعث زیادہ ناراضگیاں جنم لیں گی اور تشدد کی آگ کو کثرت سے ایندھن ملے گا ، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو گانہ کہ کمی ۔ پھر علت و معلول کے اس گھناؤنے سرکل کا سارا الزام امریکہ پرہی آئے گا ۔
نقادوں کے مطابق ، اسلام میں انتہا پسندی کی درجہ بندی کرتے وقت بھی نیشنل کمیشن نے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں سے ہائی جیکروں کا فرق کرتے ہوئے اور ہائی جیکروں کا اپنے عقیدے میں انتہاپسندانہ اعمال کی طرف بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ہائی جیکر نے ’’دن میں پانچ وقت کی نماز شروع کی‘‘ (رپورٹ کا صفحہ نمبر ۱۶۲) اسی طرح صفحہ نمبر ۱۶۳ پر درج ہے کہ جراح کے بارے میں نوٹ کیا گیا کہ اس نے ’’ پوری داڑھی رکھ لی اور نماز باقاعدہ ادا کرنا شروع کر دی‘‘۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق نماز اور داڑھی کو انتہاپسندی کی علامات کے طور پر لینے سے امریکہ سمیت دنیا بھر کے پر امن مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ وہ داڑھی اور نماز کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے بنیادی تقاضوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ نیشنل کمیشن کے نزدیک جو مظہر انتہا پسندی کے ذیل میں آتا ہے، وہ بدیہی طور پر ’’مسلم ذہن کی داخلی تفہیم ‘‘سے لگا نہیں کھاتا۔ بہرحال، اے ایم ٹی ایف کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ رپورٹ کی ’’وضاحتیں ‘‘وقت کے ساتھ ساتھ دبتی چلی جائیں گی اور بالآخر اسلام ہی (مخصوص اصطلاح کے باعث) دہشت گرد قرار پائے گا ۔
نائن الیون نیشنل کمیشن رپورٹ میں پرانی اور نئی دہشت گردی میں بھی امتیاز کیا گیا ہے ، تسلی بخش حد تک یہ بتائے بغیر کہ ان میں’’فرق ‘‘ ہے کیا ؟ البتہ اتنا واضح کیا گیا ہے کہ کلنٹن ایڈمنسٹریشن میں دہشت گردی ’’جرم ‘‘ کے زمرے میں آتی تھی جبکہ بش ایڈمنسٹریشن میں اسے ’’جنگ ‘‘ کے طور پر لیا گیا ہے ۔ اے ایم ٹی ایف نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ، رپورٹ کی تجاویز اور تجزیے کو مفید گردانتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی عسکری صلاحیتیں اور اس کا defense doctrine ’’تشکیلِ نو ‘‘ کے دور سے گزر سکتے ہیں ۔
امریکن مسلم ٹاسک فورس نے کمیشن کی رپورٹ میں کی گئی اس نا انصافی پر بھی احتجاج کیا ہے کہ دوسرے مذاہب کے انتہا پسندانہ رجحانات کے لیے رپورٹ میں struggle (جدوجہد) اور zealots (نہایت پرجوش حامی) وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جبکہ اسلام کے لیے terrorism کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ کمیشن کے ممبر تھے (خیال رہے کمیشن کے دس ممبرز میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہیں تھا ) ناقدین کے مطابق کمیشن کے ارکان میں اگر امریکی مسلمانوں کو شامل کیا جاتا تو وہ دہشت گردی کے ساتھ لفظ اسلام کسی صورت بھی منسلک نہ ہونے دیتے۔اس طرح امریکی مسلمانوں کو کمیشن سے باہر رکھ کر ایک تو انھیں دوسرے درجے کا شہری ثابت کیا گیا، دوسرا خود کمیشن اسلام کے تصورات کا جامع احاطہ نہ کر سکا جو وہ امریکی مسلمانوں کی مدد سے کر سکتا تھا۔ اسی سلسلے میں یہ اعتراض بجا معلوم ہوتا ہے کہ اسقاطِ حمل کے کلینکوں پر بم مار کر معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے والوں Timothy Mc Veigh, Eric Rudolph کے اعمال کو ’’ مسیحی دہشت گردی ‘‘ یا کم از کم ’’حکومت مخالف دہشت گردی ‘‘ کا نام کیوں نہیں دیا جاتا؟ اور جے ایل ڈی (Jewish Defense League) کو ’’یہودی دہشت گرد تنظیم ‘‘ کیوں نہیں قرار دیا جاتا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ناقدین کے مطابق نیشنل کمیشن کی رپورٹ سے امریکیوں کے اپنے دشمن کی نوعیت کے متعلق کنفیوژن میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے بہتر مواد تو Patterns of Global Terrorism نامی رپورٹ میں ملتا ہے جس میں دہشت گردی کو تمام مذاہب کے انتہاپسندانہ گروہوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا جائزہ لینے والوں نے بجا طور پر اس خامی کی نشاندہی کی ہے کہ کمیشن کے ارکان سکالرز کی تشریحات ، مسلم دنیا کے سماجی و سیاسی حالات اور عسکریت پسندی کی وجوہات کا تجزیہ کرنے سے مکمل قاصر نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر بن لادن کی شخصیت اور اس کی سیاست کا جو تجزیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، اس سے کہیں بہتر جائزہ John L. Esposito نے اپنی کتاب Unholy War: Terror in the Name of Islam کے ایک باب (بن لادن کے متعلق ) میں لیا ہے۔البتہ رپورٹ کی تیاری میں ، سٹیون ایمرسن کی کتاب American Jihad سے مدد لینے پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کی بابت اس کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ہماری رائے میں بہت سی وقیع کتب کی موجودگی میں کسی متنازعہ شخص کی متنازعہ تصانیف سے خوامخواہ کی مدد لینا کمیشن کی غیر جانبداری کو مشکوک ٹھہرانے کو کافی ہے۔ اگر امریکی پالیسی ساز ، غیر متعصب سکالرز اور مسلم دنیا سے مکمل کٹ کراسی طرح پالیسیاں بناتے رہے تو نہ صرف موجودہ حالات کے درست ادراک بلکہ آنے والے کئی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہیں گے ۔ ناقدین کے مطابق ، مسلم دنیا میں امریکی خارجہ پالیسی کے تاریخی کردار کے حوالے سے یہ رپورٹ حیران کن حد تک خاموش ہے، حالانکہ اس خطے میں امریکی کردار جانے بغیرہم یہ نہیں جان سکتے کہ افغانستان میں ’’مجاہدین ‘‘ کس طرح ’’جہادی ‘‘ بن گئے ؟ اس حوالے سے محمود ممدانی کی کتاب Good Muslim, Bad Muslim: America, the Cold War, and the Roots of Terror کو رپورٹ کے مندرجات سے کافی بہتر گردانا گیا ہے ۔ فلسطین اور عراق میں امریکی پالیسی کے منفی پہلو کسی ذی ہوش شخص سے مخفی نہیں ہیں، لیکن نیشنل کمیشن کی کوتاہ نظری (اس معاملے میں ) رپورٹ کے ان الفاظ سے عیاں ہوتی ہے کہ :
"America's policy choices have consequences. Right or wrong, it is simply a fact that American policy regarding the Isreal-Palestinian conflict and American actions in Iraq are dominant staples of popular commentary across the Arab and Muslim world. That does not mean U.S. choices have been wrong."(9/11 commission report, p376.)
’’امریکہ جو بھی پالیسی اختیار کرتا ہے، اس کے کچھ نتائج نکلتے ہیں۔ صحیح یا غلط، لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ فلسطین اسرائیل تنازعے کے حوالے سے امریکی پالیسی اور عراق میں امریکی اقدامات وہ بنیادی موضوعات ہیں جن پر پوری عرب اور مسلم دنیا میں ہر سطح پر تبصرہ وتنقید جاری ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکی فیصلے غلط تھے۔‘‘
لہٰذا عالمی مسلم رائے عامہ پر امریکی ردِ عمل کچھ اس طرح سے ہے : ’’پنچوں کا کہا سر آنکھوں پر ، لیکن پرنالہ وہیں رہے گا ‘‘۔ زیرِ نظر کتابچے میں پرنالہ وہیں رکھنے کی امریکی روش پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے رپورٹ کے مذکورہ بالا الفاظ کو نیشنل کمیشن پر’’ بش کے دباؤ ‘‘پر محمول کیا جائے کہ کمیشن نے تنقید نہ کر سکنے کے باوجود ، امریکی پالیسیوں کو ’’گول الفاظ ‘‘ میں ہی درست قرار دیا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ، بلکہ کمیشن نے تو بش کے موقف کو رد کرتے ہوئے لگی لپٹی رکھنے کی بجائے ایک انٹیلی جنس افسر کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ :
"The United States is hated across the Islamic world because of specific U.S. government policies and actions. We are at war with an al-Qaeda-led, worldwide Islamist insurgency because of and to defend those policies and not, as President Bush has mistakenly said, to defend freedom and all that is good and just in the world."
’’امریکی حکومت کی مخصوص پالیسیوں اور اقدامات کی بنا پر پوری مسلم دنیا میں امریکہ نفرت کا نشانہ بن گیا ہے۔ ہم القاعدہ کی قیادت میں عالم گیر اسلامی مزاحمت کے ساتھ ان پالیسیوں ہی کے تحفظ کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔ صدر بش کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ یہ لڑائی آزادی اور دنیا کی دیگر منصفانہ اقدار کو بچانے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔‘‘
اسی طرح رپورٹ کے ان الفاظ پر کہ"The United States must do more to communicate its message." (p377) (امریکہ کو اپنے موقف کے ابلاغ کے لیے اس سے زیادہ کوششیں کرنی چاہییں)، اے ایم ٹی ایف کا یہ تبصرہ بھی بر محل ہے کہ:
".Shouting the wrong message more loudly won't make it more acceptable"
(غلط موقف کو زیادہ بلند آواز سے پیش کرنا اس کو قابل قبول نہیں بنا سکتا)
رپورٹ میں سعودی عرب ، پاکستان اور افغانستان کے سیاسی حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق سعودی عرب اور افغانستان کے بارے میں رپورٹ کے تجزیے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان کی بابت اس کی سفارشات غیر تسلی بخش ہیں کیونکہ ان سے پاکستان کی بجائے جنرل مشرف کے متعلق امریکی پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں ایک طرف اصرار کیا گیا ہے کہ امریکہ کو مختصر مدت کے تزویراتی فوائد کے حصول کے لیے (مسلم مما لک میں ) جمہوریت پر سمجھوتہ کرنے سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف جنرل مشرف کو’’ موقع‘‘ دینے کا کہہ کر اپنی ہی سفارش کا رد بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑا عجیب و غریب تضاد ہے ۔ اسی طرح یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ رپورٹ میں ایران ، سوڈان اور شام کو امریکہ مخالف جہادی گروہوں کے خطرناک ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کے طور پر ڈسکس نہیں کیا گیا۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق امریکہ مخالف جہادی گروہوں کے ٹھکانوں کی فہرست میں ’’عراق ‘‘ کی عدم شمولیت بھی سنگین غلطی ہے کیونکہ عدمِ استحکام کا شکار عراق، امریکہ مخالف جہادیوں کے لیے سرگرمیوں کا مرکز (launching pad) ثابت ہو سکتا ہے۔ شاید کمیشن نے عراق کا ذکرکرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کی سفارشات اور بش کی حالیہ پالیسیوں میں تصادم کی صورت میں تضادات سامنے آ سکتے تھے۔
اگرچہ نیشنل کمیشن آزاد ، موثر ، اور باصلاحیت تھا اور اس نے بہت تن دہی و جان فشانی سے کام کیا، بارہ سو (۱۲۰۰ ) لوگوں کے انٹرویو کیے اورایک سو ساٹھ گواہوں (witnesses) پر مشتمل بارہ کھلی سماعتیں (public hearings) ہو ئیں، اس کے باوجود اسے خیال تک نہ آیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عرب /مسلم کمیونٹی کے ممتاز قائدین ، سکالرز اور ماہرین کی شہادتیں بھی حاصل کرے ، کہ نائن الیون کے حادثے میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں میں عرب/مسلم بھی شامل تھے۔اس طرح نہ صرف ان متاثرہ خاندانوں کی تکالیف کو یکسر نظراندازکیا گیا بلکہ انھیں اس حادثے کے ضمن میں ہونے والے قومی مباحثے سے بھی خارج کر دیا گیا، حالانکہ عرب/مسلم ۱۰۰ سال سے زیاد ہ عرصہ سے امریکی زندگی کے ہر پہلو میں مثبت انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ زیرِ بحث کتابچے میں امریکی مسلمانوں سے کیے جانے والے ناروا سلوک (مثلاً محکمہ مردم شماری نے عرب /مسلم اعداد و شمار خفیہ طور پر ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کو فراہم کیے اورامریکہ میں کئی نسلوں سے آباد ، عرب نسل کے افراد کے متعلق معلومات ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو فراہم کیں) کے علاوہ رپورٹ کی ایک اہم خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے بالکل درست نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ9/11 کے حملہ آوروں سے کوئی’’ تعلق‘‘ تلاش کرنے کی غرض سے ، امریکی مسلمانوں پر الزامات کی بھر مار ، تفتیشی کارروائیوں اور حراست میں لیے جانے جیسے اقدامات کے باوجود ایسا کوئی’’ تعلق‘‘ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ پھر رپورٹ میں آخر کیونکر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی کہ دہشت گرد کسی ’’ایک عرب/مسلم ‘‘ کو بھی اپنے گروہ میں شامل کرنے میں کیونکر ناکام رہے ؟ ہماری رائے میں نیشنل کمیشن کو اس سوال کا جواب لازماً دینا چاہیے تھا کیونکہ امریکی میڈیا sleeper Al-Qaeda cells within the U.S (امریکہ کے اندر القاعدہ کے غیر متحرک گروپ) کا راگ برابر الاپے جا رہا ہے اور اس کے اثرات کے تحت امریکی عوام کی خاصی بڑی تعداد (مختلف سروے رپورٹس کے مطابق) عرب/مسلمانوں کی امن پسندی اور وفاداری کے متعلق مشکوک ہو چکی ہے۔ نقادوں کے مطابق یہ صورتِ حال ایک ایسے ملک میں زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے جہاں کسی فرد کا جرم ثابت ہونے تک اسے ’’معصوم ‘‘ خیال کرنے کو ’’قابلِ فخر قدر ‘‘ کا درجہ حاصل ہو۔ بلاشبہ امریکی قوم کو اس قدر کی پائیداری اور استقلال کو یقینی بنانا چاہیے، بالخصوص جب اس کا اطلاق اس کے اندر موجود کسی اقلیت پر ہورہا ہو۔
ہرسال چالیس ہزار امریکی کار کے حادثوں میں ہلاک ہوتے ہیں، سولہ ہزار قتل ہوتے ہیں اور سات لاکھ سے زائد عارضہ قلب ، منشیات ، سگریٹ نوشی ، خوراک سے متعلق وجوہات کے سبب اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ امریکیوں کی اموات کی یہ وجوہات بیان کرکے اے ایم ٹی ایف نے تبصرہ کیا ہے کہ ہم جانتے ہیں ہم ان زندگیوں کو بچا سکتے ہیں اگر ہم بنیادی وجوہات کو ایڈریس کر نے کے ساتھ ساتھ امتناعی اقدامات کر لیں۔ پھردہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکی اقدامات پر یوں نکتہ چینی کی ہے کہ آخر ہم کیسے 9/11 جیسے حملوں کی وجوہات کا ادراک حاصل کرنے کی کوشش کیے بغیرایسے حملے روک سکتے ہیں ؟ اے ایم ٹی ایف کے اس نکتے کی معقولیت سے بھی کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ : کیا یہ 9/11 کے حادثے میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں کی’’ تعداد ‘‘ہے ،یا وہ’’ طریقہ ‘‘جس کے ذریعے انھیں ہلاک کیا گیا ،یا جن لوگوں نے جرم کیا ان کی شناخت ، یا پھر یہ تمام عوامل اکٹھے ہو کر ہمیں فوجی طاقت کے ایسے بے محابا استعمال کا کوئی ’’جواز ‘‘ فراہم کرتے ہیں کہ ہم جس مقام کے بارے میں ’’محسوس ‘‘ کریں کہ اس کا کوئی تعلق 9/11 کے حملوں سے ہے، وہاں حملہ کردیں ،یا مداخلت کریں، جس سے ان گنت معصوم انسان موت کے گھاٹ اتر جائیں اورلوگوں کا بے تحاشا مالی نقصان بھی ہو؟ عراق اور افغانستان کا 9/11 حملوں سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں تھا، پھر وہاں کیوں موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دو عشروں سے دوسرے لوگوں کی لڑائی میں ان ممالک کے عوام کو رگیدا جا رہا ہے۔
اے ایم ٹی ایف نے اگرچہ اصلاحِ احوال کے لیے مدارس کے مقابل نئے تعلیمی نظام کے نظریے کو سراہا ہے جس کے مطابق خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نئے اسالیب اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی، لیکن ساتھ ہی یہ صراحت کر دی ہے کہ اس کوشش کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس عمل کے لیے اقدامات ’’کیسے ‘‘ کیے جاتے ہیں؟ تعلیم، ثقافتی اعتبار سے انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اس کا مقصد ، انتہاپسندانہ آئیڈیالوجی کو فروغ دینے والی فرقہ بندی کی تخلیق سے بچتے ہوئے علم حاصل کرنے والے کی ’’شناخت ‘‘ کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے ۔انتہا پسندانہ ایجوکیشن اور آئیڈیالوجی کے جواب میں رپورٹ کا مجوزہ نظام ایک خاص رخ سے کمی کا شکار ہے ۔ امریکی خارجہ پالیسی کے مضمرات اور اس پالیسی کے القاعدہ نیٹ ورک اور آئیڈیالوجی پر اثرات کے ’’ناکافی مباحث‘‘ سے یہی تاثر ملتا ہے کہ نیشنل کمیشن خطے کی پیچیدگی اور اس کی متنوع سیاسی فکر کا مکمل احاطہ نہیں کر سکا ۔ نقادوں کے مطابق یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ 9/11 کے حملہ آوروں میں سے اکثر نے سیکولر ایجوکیشن حاصل کر رکھی تھی جو سطحی اسلامی علم کے ساتھ امتزاج کے بعد انتہاپسند آئیڈیالوجی کی صورت میں نمودار ہوئی ۔ اس معاملے میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ عدل و انصاف، آزادی، انسان دوستی، رواداری اور مساوات جیسے تصورات اسلامی عقائد کا جزو لاینفک ہیں۔ یہ کوئی’’ ترجیحات کا معاملہ‘‘ نہیں ہے کہ متشددانہ فرقہ واریت اور انسانیت سوز مظالم کی بجائے ان کو اختیار کر لیا جائے۔ لہٰذا اسلام کی صحیح ، گہری اور تمام جہات پر مبنی تعلیم مسلم دنیا میں روشن خیالی کی لہر دوڑانے کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کی سلامتی کی ضامن ہو سکتی ہے ۔
اے ایم ٹی ایف کے مطابق دہشت گردوں کے مالیاتی روابط اور ان کے ذخائر کی تلاش میں احتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں اس تلاش کی آڑ میں وہ ’’جائز عطیات ‘‘ بھی بند نہ ہو جائیں جو انتہائی محتاج لوگوں کی بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔ جائزعطیات کی بندش سے ان امریکہ مخالف جذبات کو بڑھاوا مل سکتا ہے جنھیں اسامہ بن لادن ہوا دینے کی کوشش میں ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کو(بحیثیت امریکی )یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ قوم کی سماجی فلاح سے متعلق معاملات کے بارے میں رضاکارانہ متوجہ ہوں اور دوسری طرف خبردار کیا جاتا ہے کہ حتیٰ کہ عام مسلم تنظیموں (main stream Muslim organizations) کو فنڈ دینے سے آپ لوگوں کو دہشت گردی کی مدد کرنے کے الزام میں دھرا جا سکتا ہے۔ جائز عطیات کی بندش سے امریکہ پر مالی اعتبار سے بھی بوجھ پڑ سکتا ہے کیونکہ بندش کی صورت میں، محتاج لوگوں کی ضروریات کی تکمیل امریکہ کی حکومتی ایجنسیوں کے فرائض میں شامل ہو جائے گی جس کا بالواسطہ بوجھ امریکی عوام پر ہی پڑے گا۔ اس طرح عوام ٹیکس کے دوہرے بوجھ سے ہلکان ہو جائیں گے۔ ایک، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے اضافی ٹیکس، اور دوسرا جائز عطیات کی بندش کے نتیجے میں خوامخواہ کا ٹیکس۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پکڑ دھکڑ کی بجائے ایسا بین الاقوامی عدالتی نظام قائم کیا جائے جو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دے کہ کسی ’’خاص عطیہ ‘‘کے دہشت گردانہ روابط ہیں یا نہیں۔کم از کم اتنا تو لازماً کیا جانا چاہیے کہ کسی عطیہ کے نمائندے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے خلاف اپیل اور جوابی کارروائی کر سکیں تاکہ امریکہ کے مشہورِ زمانہ اصول due process of law (قانونی قواعد وضوابط کی مکمل پابندی) کا کچھ بھرم ہی رہ جائے ۔
ہمیں چند روز پیشتر ایک ویب سائٹ کی طرف سے نیوز لیٹرمیں مذکورہ بحث سے متعلق چند معلومات ملیں کہ : امریکہ میں پچھلے چار برسوں میں بھوک میں ۲۶فیصد اضافہ ہوا، اور تقریباً ۳۶ ملین افراد اس کا شکار ہوئے۔ ستمبر ۲۰۰۴ میں، پچھلے سال سے 2.2 ملین زائد یعنی ۲۵ ملین افراد نے امریکہ کے فوڈ سٹیمپ پروگرام میں شرکت کی۔یہ تعداد اصل (محتاج ) تعداد سے کافی کم ہے کیونکہ فوڈ سٹیمپ درخواست فارم بارہ ( ۱۲) صفحات پر مشتمل ہے، پیچیدگی کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے پر نہیں کر سکے۔ نیوز لیٹر کے مطابق بندوق درخواست فارم کے صرف دو صفحے ہیں، لہٰذا قانون سازوں کو ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کر کے فوڈ سٹیمپ پروگرام میں توسیع لانے کے ساتھ ساتھ اس کے درخواست فارم کو سادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ہماری رائے میں نیوز لیٹر کے پیش کردہ حالات، عطیات کی بندش کی مذکورہ بالا صورتِ حال میں مزید سنگینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکہ کو جائز عطیات کی ترسیل یقینی بنانے کے علاوہ اپنے Militarisation of Space (خلا میں فوجی مراکز قائم کرنے) جیسے پروگراموں پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ امریکی عوام کے ٹیکس سے حاصل کردہ خزانہ ، سماجی خوش حالی کے فروغ پر خرچ ہو نہ کہ چند افراد کے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھ جائے ۔
اے ایم ٹی ایف کے مطابق نیشنل کمیشن کا یہ کہنا ’’بوالہوسی ‘‘ ہے کہ امریکہ کو دنیا میں اخلاقی قیادت کا ایک نمونہ ہونا چاہیے۔رپورٹ کی سفارشات میں ’’باہمی احتساب ‘‘ سے قطع نظر بہت زیادہ مغرورانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے دوست دنیا کے عرب اور مسلم خطوں کو تعلیم، معاشی خوش حالی، رواداری اور سیاسی فیصلوں میں شرکت کی پیش کش کریں گے۔ اسی طرح ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے مطلوب اقدامات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان لائن کھینچنے کے لیے بھی رپورٹ میں سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ ہماری رائے میں امریکہ لائن کھینچنے میں ’’توازن ‘‘ کا مظاہرہ نہیں کر سکا کیونکہ Intelligence Reform and Terrorism Prevention Act پر امریکی صدر نے ۱۷ دسمبر کو دستخط کر دیے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان نے اسے ۷ دسمبر کو ۷۵ کے مقابلے میں ۳۳۶ اور سینٹ نے ۸ دسمبر کو ۲ کے مقابلے میں ۸۹ ووٹوں سے پاس کیا تھا ۔ اس ایکٹ کے مطابق( نیشنل کمیشن کی سفارشات کی پیروی میں ) ایک Privacy and Civil Liberties Board بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ انتظامیہ کے ہاتھوں عوام کی آزادیا ں مجروح نہ ہونے پائیں۔ ہماری رائے میں چونکہ اس بورڈ کے ارکان کے تقرر کے اختیارات صدر کو سونپ دیے گئے ہیں جو انتظامی امور کا مدارالمہام ہے، اس لیے امریکی عوام کی آزادیاں کسی نہ کسی حد تک کم ضرور ہوں گی اور عرب/مسلم دنیا کو ’’آفر‘‘ کرنے کے لیے امریکہ کے پاس بہت کچھ باقی نہیں بچے گا۔
نیشنل کمیشن کے مطابق مسلم ممالک میں کرپشن اور غربت کی سنگین صورتِ حال سے بن لادن کوبہ آسانی رنگروٹ مل رہے ہیں، لیکن کمیشن نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ مسائل(کرپشن ، غربت ) اپنی نوعیت میں کمیشن کی سفارشات کے دائرے سے باہر ہیں، اس معاملے میں تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق دوسری عالمی جنگ اور سرد جنگ کے دوران امریکی برتری کا ایک بڑا نتیجہ غیر معمولی سطح کی خوش حالی اور امن تھا جس کا زیادہ فائدہ جاپان اور مغربی یورپ کو ہوا۔ سرد جنگ کے بعد نئے عالمی نظام میں ’’سابق مشرقی بلاک کے ممالک‘‘ کی سیاست اور سماجی و معاشی پہلو ؤں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے، لیکن مسلم ممالک کواس عالمی تبدیلی کے خوشگوار اثرات سے افسوس ناک حد تک محروم رکھا گیا جس کا ایک مظہر مسلم ممالک کی ان استبدادی حکومتوں کو جو عوام کو سیاسی شرکت ’’ آفر ‘‘ کرتی رہتی ہیں، مغرب کی سپورٹ (محدودمدتی تزویراتی فوائد کی خاطر ) ہے جو عوامی خواہشات پر مبنی پر امن جمہوری تبدیلی کی آواز کو دبا کر اقتدار میں آئی ہیں۔کرپشن اور غربت کا سب سے بڑا سبب یہی ہے ۔اس لیے امریکہ اخلاقی قیادت کا نمونہ بننے اور آفر کرنے کی بجائے ’’ عدم مداخلت ‘‘ کی اخلاقیات اپنا لے تو معاشی خوش حالی سمیت تمام مثبت قدریں خود بخود ان ممالک میں جڑ پکڑ لیں گی۔ اگرچہ نیشنل کمیشن نے یہ تسلیم کیا ہے کہ طویل سرد جنگ کا ایک سبق یہ ہے کہ جابرانہ اور ظالمانہ حکومتوں سے تعاون کاحصول امریکہ کے مفادات اور اقدارکے لیے اکثر اوقات طویل المیعاد نقصان کا سبب بنا ، لیکن کمیشن نے واضح انداز میں امریکی خارجہ پالیسی کی ’’تصحیح ‘‘ پر زور نہیں دیا ۔ اے ایم ٹی ایف کے مطابق امریکہ کو اپنے سیاسی نظریے پر نظر ثانی کرنی چاہیے کہ اس کے اصل دشمن وہ ہیں جو ’’سیاسی تبدیلی اور جمہوری حقوق‘‘ کی مخالفت کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ عوام ہی ہیں جو استحکام ، عالمی سلامتی، معاشی خوش حالی اور اسی لیے دیرپا امن کے حقیقی ضامن ہیں ۔
ندوہ کا ایک دن
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
(ہمارے محترم اور فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے اپنی کتاب ’’ندوہ کا ایک دن‘‘ میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک دن کی سرگزشت قلم بند کی ہے۔ اس کتاب کے چند منتخب حصے ذیل میں شائع کیے جا رہے ہیں جن سے ندوہ کی علمی وتعلیمی فضا کی ایک جھلک بھی قارئین کے سامنے آ سکے گی اور ہمارے ارباب مدارس کو اپنے یہاں کے اساتذہ وطلبہ کی ذہنی اور فکری سطح کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملے گا۔ مدیر)
ابراہیم صاحب کو نحو سے خاص دلچسپی ہے۔ محال ہے کہ ابراہیم صاحب ساتھ ہوں اور گفتگو نحو کے کسی مسئلہ کی طرف نہ مڑ جائے۔ ابراہیم صاحب کو نحو سے جتنی دلچسپی ہے، بابر بھائی کو اس سے اتنی ہی بیر۔ بابر بھائی ہم لوگوں کی صحبت سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن ابراہیم صاحب کی نحویانہ سنجیدگی ان کی برداشت سے باہر ہے۔ بابر بھائی نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ سیبویہ، ابن جنی یا ابن ہشام کا نام درمیان میں آئے اور نحو کے مدارس کوفہ وبصرہ وبغداد کے متعلق گفتگو ہو، کوئی اور موضوع شروع کرنا چاہیے۔ چنانچہ بابر بھائی نے مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے واقعات سنانا شروع کیے۔ وہاں کے اساتذہ اور شیوخ کے انداز تدریس پر گفتگو کی۔ بابر بھائی نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں مولانا سعید احمد خان صاحب کی ذات گرامی ہندوستانیوں کا بڑا سہارا ہے۔ مسجد النور کی مجالس روحانی اور علمی غذا فراہم کرتی ہیں۔ مولانا کے علمی مقام کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگ بھی تبلیغ ودعوت کے کام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ .....
بابر بھائی نے مولانا کے علمی تحقیقات کی متعدد مثالیں دیں۔ مجھے بھی یاد آ گیا کہ ایک بار نظام الدین کے تبلیغی مرکز میں ہم لوگ مولانا کے پاس بیٹھے تھے کہ مولانا نے طلبہ کی مناسبت سے سوال کیا کہ ’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘ کا ترجمہ کیا ہے؟ ایک طالب علم نے اس کا مشہور ترجمہ سنایا ’’نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو گمراہ ہوئے‘‘۔ مولانا نے فرمایا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ ندوہ کے ایک طالب علم نے مولانا کی منشا سمجھ کر عرض کیا کہ ’غیر المغضوب علیہم‘، ’الذین انعمت علیہم‘ کی صفت ہے۔ ترجمہ ہوگا ’’اے اللہ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا ہے، جن پر تیرا غضب نہیں نازل ہوا اور نہ وہ گمراہ ہیں‘‘۔ مولانا نے اس کی تائید فرمائی۔
ابراہیم صاحب موقع کی تاک میں تھے ہی، فوراً بول اٹھے کہ واقعتا نحو کے مسائل سے واقفیت دقائق قرآنی تک رسائی اور اسرار حدیث کی گرہ کشائی کی کلید ہے۔ ابن ہشام ہی کو دیکھے کہ شرح قطر الندیٰ اور شرح شذور الذہب بلکہ اپنی تمام تصانیف میں نحو کے مسائل کی تشریح کرتے ہوئے قرآن وحدیث کی مثالیں بیان کرتے ہیں جن سے مشکل مقامات کے حل میں مدد ملتی ہے۔ مثلاً سورۃ الشعراء کی آیت ’’وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون‘‘ کو لیجیے۔ بابر بتائیں کہ ’’ای منقلب‘‘ کیوں منصوب ہے؟ بابر بھائی نے کہا کہ ابراہیم، یہ کون سی مشکل ترکیب ہے۔ اول ودوم کے طلبہ بھی اسے جانتے ہیں۔ ای، سیعلم کا مفعول ہے۔ ابراہیم صاحب نے کہا کہ جب علما اس طرح کی غلطیاں کرتے ہیں تو نحو کی افادیت پر مزید یقین مستحکم ہو جاتا ہے۔ ای، ینقلبون کا مفعول مطلق ہے۔ اس طرح کی ترکیبوں میں یعلم لفظاً عمل کرتا ہی نہیں ہے، اس لیے اسے اہل نحو تعلیق سے تعبیر کرتے ہیں۔
حشمت اللہ نے تبصرہ کیا کہ ابراہیم صاحب، آپ سے ابن ہشام، شرح قطر الندیٰ، شرح شذور الذہب کے نام سنتے سنتے کان تھک گئے۔ اس میں شک نہیں کہ متاخرین میں ابن ہشام کے پایہ کا کوئی نحوی نہیں اور فلسفہ تاریخ کے امام ابن خلدون نے بجا کہا ہے کہ ’ما زلنا ونحن بالمغرب نسمع انہ ظہر بمصر عالم بالعربیۃ یقال لہ ابن ہشام انحیٰ من سیبویہ‘ اور ندوہ کے نصاب تعلیم کے ذمہ داروں نے ابن ہشام کی تصنیفات نصاب میں داخل کر کے ندوہ کے نصاب تعلیم کو ایک انقلابی رخ عطا کیا ہے، ورنہ ابن حاجب کی کافیہ اور اس کی شرح ملا جامی یہاں کی عربیت کی معراج رہی ہے۔ شرح جامی پر علامہ شبلی کا تبصرہ کتنا معنی خیز ہے، ’فیہ کل شئ الا النحو‘، لیکن ابن ہشام کی پرستش سے ہم وہی غلطی کر رہے ہیں جو اب تک ابن حاجب اور ملا جامی کے نام سے چلی آ رہی ہے۔
مجھے حشمت اللہ صاحب کا تبصرہ کچھ سخت لگا۔ میں نے کہا، نصاب میں سارے نحویوں کی کتابیں داخل کرنا کیوں کر ممکن ہے۔ ندوہ نے شرح قطر الندیٰ اور شرح شذور الذہب داخل کی ہیں، بعض مراحل میں الفیہ ابن مالک پر ابن عقیل کی شرح اور مرحلہ تخصص میں ’المفصل‘ داخل کی ہے۔ آخر اس سے زیادہ کس توسع کی توقع کرتے ہیں۔ نصاب کو نحو سے گراں بار تو کرنا نہیں ہے۔ بابر بھائی کے لیے نحو کا موضوع صبر آزما تھا ہی، موقع ملتے ہی انھوں نے کہا کہ اگر ندوہ کے نصاب کی اصلاح کرنی ہے تو نصاب کو نحو سے آزاد کرنا ہوگا۔ .... حشمت اللہ نے حسب معمول بابر صاحب کی دخل اندازی پر توجہ نہیں دی اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرا مقصد نصاب سے نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ابراہیم صاحب اور نحو کے دیگر اساتذہ کو دیکھتا ہوں کہ ابن ہشام کے بغیر لقمہ نہیں توڑ سکتے۔ آخر جب دوسرے مضامین میں ہم، نصابی کتابوں سے ہٹ کر اپنے دائرہ مطالعہ کو وسیع کر سکتے ہیں اور درسی کتابوں پر قناعت نہیں کرتے تو آخر نحو کے ساتھ یہ زیادتی کیوں ہے؟ عربیت میں مہارت اور علم نحو سے گہری واقفیت پیدا کرنے کے لیے سیبویہ کی الکتاب، مبرد کی الکامل، ابن قتیبہ کی الکاتب، ابن عبد ربہ کی العقد الفرید، جاحظ کی البیان والتبیین اور ابن جنی کی تصنیفات کا مطالعہ کیو ں نہیں کیا جاتا؟ ابن ہشام کی ہم کتنی ہی تعریف کیوں نہ کریں، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ابن ہشام نے بھی دوسرے متاخرین نحویوں کی طرح نحو کے قواعد کو منطق کی حد بندیوں میں مقید کر دیا ہے۔ نحو کی روح وہاں نہیں۔ مختصرات وشروح فن سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ہیں، ان سے کسی فن پر عبور نہیں ہوتا۔ میں نے حشمت اللہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہی غلطی اصول فقہ میں بھی ہے۔ عام طور سے لوگ اصول الشاشی اور حسامی پر قناعت کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھیں فقہ کے اصول کا علم ہے، حالانکہ ان مختصرات کے بعد علم سے اصل مناسبت کی ابتدا ہوتی ہے۔ ان کے بعد اصول السرخسی، اصول البزدوی، امام شافعی کا الرسالہ، آمدی کی الاحکام، شاطبی کی الموافقات اور ابن حزم کی تصنیفات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔(ص ۲۶۔۲۹)
ہمارا درس تین روز سے کتاب الجمعۃ کے باب الاذان کی درج ذیل حدیث کے متعلق ہے: امام بخاری نے اپنی سند سے حضرت سائب بن یزید سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے عہد میں جمعہ کی پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا۔ جب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے اور آبادی میں اضافہ ہو گیا تو آ پ نے زوراء کے مقام پر تیسری اذان کا اضافہ کیا۔ مولانا ضیاء الحسن صاحب اس حدیث کی تشریح محدثین اور فقہا کی اس رائے کے مطابق فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے عہد مبارک میں جمعہ کی نماز کے لیے خطبہ کی اذان کے علاوہ کوئی اذان نہیں تھی اور قرآن کریم میں سعی الی الجمعۃ کا حکم جس اذان کے بعد ہے، وہ یہی خطبہ کی اذان ہے۔ جمعہ کی پہلی اذان کا اضافہ حضرت عثمان کے عہد میں ہوا اور اس وقت سے جمعہ میں دو اذانیں جاری ہیں۔ اس تشریح پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس حدیث میں حضرت عثمان کے عہد کی اذان کو تیسری اذان کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے عہد سے پہلے جمعہ کے لیے دو اذانیں تھیں۔ اس اشکال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اقامت بھی ایک قسم کی اذان ہے، اقامت کو شامل کر کے کل تین اذانیں ہو گئیں۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں حضرت عثمان کی اضافہ کردہ اذان کو دوسری اذان کہا گیا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کی اضافہ کردہ اذان کو پہلی اذان کہنا چاہیے تھا، تیسری اذان کیوں کہا گیا؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ چونکہ اس اذان کا اضافہ بعد میں ہوا تھا، اس لیے اس کو تیسری اذان کہا گیا۔
ہم میں سے بعض طلبہ اس تشریح سے مطمئن نہیں تھے اور کئی روز سے بحث جاری تھی۔ ہم نے اس کی ایک تشریح مولانا شہباز صاحب کی تشریحِ دلائل کے ساتھ بھی سنی تھی۔ ہم لوگوں نے مولانا شہباز صاحب کی تشریح دلائل کے ساتھ دہرائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کے لیے دو اذانیں حضور ﷺ کے دور سے ہی تھیں، سورہ جمعہ میں جس اذان کا تذکرہ ہے، وہ پہلی اذان ہے۔ حضرت عثمان نے ایک وقتی ضرورت کے تحت تیسری اذان کا اضافہ کیا تھا، وہ کوئی مستقل اضافہ نہیں تھا، وہ وقتی ضرورت تھی، جیسا کہ حدیث میں خود صراحت ہے کہ مدینہ کی آبادی کی کثرت تھی، اس لیے یہ اذان مدینہ کے دوسرے علاقہ مقام زوراء میں ہوتی تھی۔ زوراء، مدینہ منورہ میں بازار کے پاس ایک جگہ تھی۔ مولانا اپنی اس رائے پر متعدد دلائل دیتے تھے جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
قرآن کریم میں جمعہ کی اذان کے متعلق ہے: ’اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع‘۔ ترجمہ: ’’جب جمعہ کے دن کے لیے نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کے لیے چل نکلو اور کاروبار کو چھوڑ دو۔‘‘ اللہ کے ذکر سے خطبہ اور نماز دونوں مراد ہیں، بلکہ علما کی ایک بڑی جماعت اس سے صرف خطبہ ہی مراد لیتی ہے۔ اب اگر خطبہ والی اذان کے بعد سعی فرض ہو تو مدینہ کے عوالی میں رہنے والوں کی نماز بھی چھوٹ جائے گی، یا کم سے کم خطبہ کا کچھ حصہ ضرور چھوٹ جائے گا، اس لیے قرآن کی آیت سے وہ اذان مراد لینا ضروری ہے جس کے بعد انسان جمعہ کے لیے سعی کرے اور خطبہ اور نماز دونوں میں شرکت کر سکے اور یہ پہلی اذان مراد لینے کی شکل ہی میں ممکن ہے، اس لیے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن شریف میں جمعہ کی اذان سے مراد پہلی اذان ہے۔
اذان اور اقامت میں فرق ہے۔ اقامت، جماعت سے متصل ہوتی ہے اور اس کا مقصد جماعت کھڑی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ اذان کا مقصد نماز کے وقت کے دخول کی اطلاع ہے تاکہ لوگ گھروں یا اپنے کام سے فارغ ہو کر نماز کے لیے نکلیں۔ شریعت مطہرہ، جس کا ہر حکم مصالح وحکم پر مبنی ہے، اس میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ ساری نمازوں میں تو یہ اطلاع والی اذان ہو اور جمعہ جو ساری نمازوں سے زیادہ اہم ہے، اس کی اطلاع کا کوئی انتظام نہ ہو؟
یہاں ایک نکتہ پر غور کرنا ضروری ہے کہ دخول وقت کی اطلاع کے لیے نماز سے پہلے اذان اور جماعت کے لیے اقامت مشروع ہے۔ آخر خطبہ کی اذان کا کیا مقصد ہے؟ خطبہ کی اذان سے متصل ہی خطبہ کا شروع کیا جانا دلیل ہے کہ یہ اذان وقت کے دخول کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ اس کامقصد کچھ اور ہے۔ یہ لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہے کہ سنن ونوافل جلدی مکمل کر کے اور دوسری مشغولیات چھوڑ کر امام کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو کر بیٹھ جائیں، اب خطبہ شروع ہونے والا ہے۔ خطبہ کی اذان خطبہ کے لیے ایسی ہی ہے جیسے جماعت کے لیے اقامت۔
خطبہ کی اذان امام کے سامنے ہوتی ہے۔ اس کا مقصد، جیسا کہ اوپر گزرا، مسجد میں ہونے والوں کو متنبہ کرنا ہے۔ مدینہ کی آبادی کے بڑھنے یا گھٹنے کا خطبہ کی اذان پر کیا اثر؟ حضرت عثمان کے اضافہ والی حدیث دلیل ہے کہ انھوں نے خطبہ کی اذان کو ناکافی سمجھ کر یہ اضافہ نہیں کیا تھا، بلکہ جمعہ کی پہلی اذان جو اطلاع عام کے لیے ہوتی ہے، آبادی کے اضافہ کی وجہ سے کافی نہیں ہو رہی تھی، اس لیے عارضی طور پر ایک اذان کا اضافہ کر دیا تھا۔ بخاری شریف وغیرہ کی روایت میں حضرت عثمان کی اذان کو تیسری اذان کہنا بھی اسی کا قرینہ ہے کہ جمعہ کی دو اذانیں پہلے سے مشروع تھیں۔ بعض روایتو ں میں حضرت عثمان کی اذان کو دوسری اذان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ میں ایک زائد اذان پہلے سے تھی، یہ دوسری زائد اذان تھی، اس لیے اسے دوسری اذان کہا گیا۔
استاد محترم مولانا ضیاء الحسن صاحب اس تشریح سے مطمئن نہیں تھے، لیکن انھوں نے دونوں طرف کے دلائل کو دیکھتے ہوئے فرمایاکہ اس تشریح کی گنجایش نکلتی ہے۔ ( ص ۵۰۔۵۳)
رضوان صاحب نے مدینہ منورہ یونیورسٹی سے تفسیر اور علوم قرآن کے موضوع پر اختصاص کیا ہے۔ اسی سال فارغ ہو کر آئے ہیں اور ندوہ میں تفسیر کے استاد کی حیثیت سے ان کی تقرری ہوئی ہے۔ وہ کئی روز سے میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ مولانا فراہیؒ کے نظریہ ’’نظام القرآن‘‘ پر تبادلہ خیال کروں۔ بابر صاحب خاموش ہوئے تو رضوان صاحب نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نظام القرآن کا موضوع چھیڑ دیا۔ میں نے عرض کیا کہ وقت تھوڑا ہے، اس وقت اچھی طرح سے گفتگو مشکل ہے۔ اگر ہم مولانا شہباز سے رجوع کریں تو شاید فکر فراہی کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھ سکیں۔ مولانا فراہیؒ ایک متقی، پرہیزگار اور دقیقہ رس عالم تھے۔ قرآن کریم کے مطالعہ پر اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ انھوں نے اپنے اس مطالعہ کا نچوڑ اپنی مکمل اور غیر مکمل تصنیفات ’’اسالیب القرآن‘‘، ’’دلائل النظام‘‘، ’’مقدمہ تفسیر نظام القرآن‘‘ اور ’’مفردات القرآن‘‘ وغیرہ میں پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب ’’جمہرۃ البلاغۃ‘‘ اپنے موضوع پر نادر کتاب ہے۔ اس کتاب میں عربی زبان کی بلاغت کے اصول جس مجتہدانہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں، اس کی نظیر نہیں۔ مولانا شبلی نے اپنے مقالات میں اس پر اچھا تعارف پیش کیا ہے۔ اسی طرح مولانا فراہیؒ کی تصنیفات ’’الرای الصحیح فی من ہو الذبیح‘‘، ’’الامعان فی اقسام القرآن‘‘ وغیرہ محققانہ ومجتہدانہ معلومات پر مشتمل ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے مولانا فراہی کی فکر کی حقیقت واضح ہوگی۔
میں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے منظم اور مرتب کتاب ہونے کا تصور متقدمین کے یہاں موجود ہے اور تقریباً ہر معتبر تفسیر میں ربط آیات کی کوششوں کے نمونے ملیں گے۔ مولانا فراہیؒ نے اس موضوع کی اہمیت کو سمجھا اور اس پر پوری محنت کی، یہاں تک کہ اس زمین کو آسمان بنا دیا۔ مولانا فراہیؒ نے واضح کیا ہے کہ ہر سورہ کا ماقبل ومابعد کی سورتوں سے اور ہر آیت کا ماقبل ومابعد کی آیتوں سے ربط ہے۔ قرآن کا ترتیب نزولی پر نہ ہونا اس نظم کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا فراہیؒ نے جس طرح نظم کی تشریح کی ہے، اس سے ان کے نظریہ پر شرح صدر ہو جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ ہر آیت کا نظام بتانے میں وہ یکساں طور پر کامیاب ہیں، نہ ان کو اس کا دعویٰ ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔ ان سے اختلاف کی گنجایش موجود ہے۔
میری گفتگو جاری ہی تھی کہ ابراہیم صاحب نے کہا کہ اکرم، اس نظم کی کوئی اچھی سی مثال دو جس سے بات ذرا واضح ہو۔ میں نے عرض کیا کہ مولانا شہباز صاحب کے حوالہ سے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ نظم کے ذریعہ قرآن کریم کی معنوی تحریفات اور بہت سی تفسیری غلطیوں کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال مولانا سورۃ الاحزاب کی آیت ’ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ پیش کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے پاس مہر نبوت تھی۔ آپ کے بعد جو بھی نبی آئے گا، آپ کی مہر نبوت کی تصدیق سے آئے گا، کوئی مستقل نبی نہیں آ سکتا۔ قادیانیوں کا یہ استدلال آیت کے سیاق سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ نظم قرآنی کی روشنی میں آیت کی تفسیر یہ ہے کہ عربوں کے رسم ورواج میں متبنیٰ کو حقیقی بیٹے کا مقام حاصل تھا۔ قرآن نے اس رسم کو ختم کرنا چاہا اور حکم دیا کہ لوگوں کو ان کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کیا جائے۔ حضرت زید جو کہ حضور ﷺ کے متبنیٰ تھے، ان کو زید بن محمد کہا کرتے تھے۔ سورۃ الاحزاب کے نزول کے بعد زید بن حارثہ کہنا شروع کیا۔ زید بن حارثہ کی شادی نبی اکرم ﷺ کے مشورہ سے حضرت زینب سے ہوئی، لیکن یہ رشتا نبھا نہیں۔ حضرت زید نے طلا ق دے دی جس سے حضرت زینب کو مزید شکستگی ہوئی۔ آپ ﷺ کے دل میں آیا کہ آپ خود حضرت زینب سے نکاح کر لیں تو ان کے دل کی شکستگی دور ہو جائے گی، لیکن اس میں اندیشہ تھا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے شادی کر لی۔ قرآن کریم نے اس موقع پر یہ رسم ختم کرنا چاہی، اس لیے واضح فرما دیا کہ ’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘ چونکہ محمد ﷺ حضرت زید کے باپ نہیں ہیں، اس لیے زینب سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ اگرچہ آپ زید کے باپ نہیں ہیں، پھر بھی کیا ضروری ہے کہ آپ زینب سے شادی کریں۔ اس لیے فرمایا کہ ’ولکن رسول اللہ‘، چونکہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ذریعہ یہ جاہلانہ رسم توڑ دی جائے۔ آپ کی رسالت کی ذمہ داری ہے کہ آپ جاہلیت کی تمام رسموں کا خاتمہ کریں۔ اس پر یہ بات ذہنوں میں آ سکتی تھی کہ کیا ضروری ہے کہ اتنے بڑے پیغمبر اس کام کو کریں۔ ان کے بعد جو نبی آئیں گے، وہ اس رسم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ ’وخاتم النبیین‘، آ پ نبیوں کی مہر ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ہے، اس لیے اس رسم کو توڑنا آپ ہی کے ذمہ ہے۔ اس مثال سے سبھی لوگ محظوظ ہوئے۔ (ص ۳۴۔۳۶)
رضی الاسلام نے کھانے کے دوران ذکر کیا کہ وہ آج کل سورۃ الفیل پر مولانا فراہیؒ کی تفسیر کی تردید لکھ رہے ہیں اور انہوں نے اس پر اچھا خاصا مواد اکٹھا کر لیا ہے۔ عبد الحی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فراہیؒ علم وفضل کے اتنے عظیم مقام پر فائز تھے اور تقویٰ وپرہیز گاری میں بھی معاصرین سے ممتاز تھے، انھوں نے اس سورہ کی تفسیر میں جمہور کی رائے کی مخالفت کیسے کی۔ اس پر طارق نے کہا کہ مولانا فراہیؒ بھی انسان تھے اور غلطی کس سے نہیں ہوتی۔ آفتاب صاحب نے مولانا فراہی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جس طرح مخالفین نے پیش کی ہے۔ جاہلی شاعری پر مولانا فراہی کی گہری نظر ہے۔ عربوں نے اپنے اشعار میں اس پر فخر کیا ہے کہ انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی، اور یہ کہ پرندے مردہ لاشوں کی وجہ سے اکٹھا ہوئے تھے۔ رضی الاسلام نے اس پر اعتراض کیا کہ ایک طرف تو مولانا فراہی احادیث کی روایت کے بارے میں سخت محتاط ہیں، ان کے یہاں صحیح روایات سے کھلا ہوا اعراض موجود ہے۔ اشعار عرب کی سندیں ضعیف احادیث سے بھی کمزور ہیں اور حماد الراویۃ اور خلف الاحیر وغیرہ پر کثرت سے اشعار وضع کرنے کے الزامات ہیں۔ یہاں ایک اہم نکتہ کی نشان دہی ضروری ہے کہ شعرا کی مفاخرت کا صحیح مفہوم سمجھنا چاہیے۔ شعراے عرب کا یہ کہنا کہ ہم نے ابرہہ کے لشکر کو شکست دی ہے، اس مفہوم میں نہیں ہے کہ انہوں نے مقابلہ کر کے شکست دی ہے، بلکہ انہوں نے ابرہہ پر آنے والے عذاب الٰہی کو اپنے دین وموقف کی حقانیت کی تائید کے لیے استعمال کیا ہے۔ (ص ۶۷)
آج کل صبح کے وقت ابن حزمؒ کی ’’المحلیٰ‘‘ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ یہ سوچ کر کہ ناغہ نہ ہو، کتاب کے ایک حصہ کا مطالعہ کیا۔ میں ابن حزمؒ کے دلائل کی قوت سے اتنا متاثر نہیں ہوں جتنا مجھ پر اس کا اثر ہے کہ جب اسلام کی تہذیب کو غلبہ تھا، لوگ کتنی آزادی سے سوچتے تھے۔ ان کے اجتہادات معاشرے کی صحت مند تعمیر میں حصہ لیتے تھے۔ نہ کہیں کوئی انتشار اور بد مزگی وافتراق۔ یونس صدقی کا قول یاد آتا ہے کہ میں نے امام شافعی سے زیادہ عقل مند کسی کو نہیں دیکھا۔ کسی مسئلہ پر ان سے ایک روز میں نے مناظرہ کیا۔ مناظرہ کے بعد ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔ کچھ دنوں کے بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، ابوموسیٰ، (یونس کی کنیت) کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہمارا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو، تب بھی ہم بھائی بھائی بن کر رہیں؟ میرے ذہن میں آیا کہ ندوہ کے نصاب اور اس کے نظام تعلیم کی یہی دعوت ہے کہ عہد ماضی کا یہ زریں دور دوبارہ آ جائے۔ ندوہ کی فکر کا اہم پہلو یہ ہے کہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے باوجود ہمارے دل اتنے وسیع ہوں کہ فروعی اختلافات ہمیں فرقہ بندی اور گروہ بندی کی دلدل میں نہ پھنسا سکیں۔ (ص ۳۶، ۳۷)
عبد المبین نے بتایا کہ وہ اورنگ آباد کسی کام سے گئے ہوئے تھے، وہاں کسی نے ’تعمیر حیات‘ میں شائع ہونے والے طارق کے فقہی سوال وجواب کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے کہ ان فتووں کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ مسائل تو پہلے ہی سے کتابوں میں موجود ہیں۔ عبد الحی نے کہا کہ طارق، تمہارا طریقہ فتویٰ نویسی ندوہ کے مسلک اور طرز زندگی کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے۔ بار بار ’’صورت مسؤلہ‘‘ وغیرہ جیسی ثقیل ترکیبیں بانیان ندوہ مولانا شبلی، مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی وغیرہ جیسے صاحب طرز ادیبوں کی ارواح کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔ آخر دیکھو، مصر میں مفتی محمد عبدہ، رشید رضا اور آج کل شیخ قرضاوی نے فتویٰ کی زبان کو کتنی ترقی دی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ طارق، ان سے تمہیں صرف فتویٰ کی زبان ہی نہیں، بلکہ منہج بھی اخذ کرنا چاہیے۔ فتویٰ نویسی کا ایک زمانہ میں معیار یہ تھا کہ اس میں الفاظ کم سے کم مستعمل ہوں، لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں۔ فتویٰ نویسی میں قرآن وسنت کے دلائل اور عقلی حکمتوں کا بھی حوالہ ہونا چاہیے۔ اس سے سوال کرنے والوں کو اطمینان حاصل ہوگا اور ان کے علم میں اضافہ بھی ہوگا۔ قرآن کریم کو دیکھو کہ سوالوں کے جواب میں کتنی رعایتیں ملحوظ ہیں اور حدیث شریف تو اس طرح کی مثالوں سے پُر ہے۔ اسی طرح حدیث کے حوالوں میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ایک حدیث میں آیا ہے، بلکہ کتاب اور باب کے حوالہ سے پوری حدیث نقل کرنی چاہیے اور حدیث موطا اور صحیحین میں نہیں ہے تو ائمہ حدیث کے حوالہ سے اس کا درجہ بھی متعین کرنا چاہیے۔ (ص ۶۸)
وزیر کو جدید اردو ادب اور تنقید سے بڑی دلچسپی ہے۔ نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھ پوری، مہدی افادی، کلیم الدین احمد، رشید احمد صدیقی، آل احمد سرور وغیرہ کی تحریریں ساتھیوں نے وزیر ہی کی دیکھا دیکھی پڑھی ہیں۔ آج کل ’نکات مجنوں‘ وزیر کے مطالعہ میں ہے۔ زاہد صاحب اور فٹ بال میچ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے وزیر نے مجنوں کی سخن فہمی اور تنقید نگاری پر تبصرہ کرنا شروع کردیا۔ دوران گفتگو وزیر نے میر حسن کی مثنوی ’سحر البیان‘ کے یہ اشعار پڑھے:
وہ گانے کا عالم وہ حسن بتاں
وہ گلشن کی خوبی وہ دن کا سماں
گھڑی چار دن باقی اس وقت تھا
سہانا ہر اک طرف سایہ ڈھلا
درختوں کی کچھ چھاؤں اور کچھ وہ دھوپ
وہ دھانوں کی سبزی وہ سرسوں کا روپ
وزیر نے آخری شعر کے بارے میں میری رائے معلوم کرنا چاہی۔ میں نے مولانا حالی کا اعتراض دہرایا جسے انھوں نے ’’مقدمہ شعر وشاعری‘‘ میں فن مثنوی سے بحث کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ قصہ کے ضمن میں کوئی ایسی بات بیان نہ کی جائے جو تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو اور مثنوی کے اس آخری شعر کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ آخری مصرع سے صاف یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ایک طرف دھان کھڑے تھے اور ایک طرف سرسوں پھول رہی تھی، مگر یہ بات واقعہ کے خلاف ہے، کیونکہ دھان خریف میں ہوتے ہیں اور سرسوں ربیع میں گیہوں کے ساتھ بوئی جاتی ہے۔
وزیر نے کہا کہ خواجہ الطاف حسین حالی کی پیروی میں تمام تنقید نگاروں نے اس امر پر یہی اعتراض کیا ہے۔ اندھی تقلید نے جس طرح فقہی مسالک کو نقصان پہنچایا ہے، اسی طرح ادب وتنقید بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔ مجنوں پہلا نقاد ہے جس نے اس روش عام کی پیروی نہیں کی۔ اسے تشبیہات واستعارات کی دنیا میں میر حسن کے مقام کی عظمت کا احساس ہے اور اس نے شعر کی ایسی تشریح کی ہے کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔
وزیر نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجنوں نے اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے سیدھے سادھے شعر کو سمجھنے میں ایسا شدید اور متواتر مغالطہ کیوں ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ میر حسن کا مقصد یہ ہے کہ باغ میں واقعی ایک طرف دھان بوئے تھے اور دوسری طرف سرسوں۔ دوسرا مصرع تو استعارہ ہے ۔ ’’دھانوں کی سبزی‘‘ اور ’’سرسوں کے روپ‘‘ سے ’’درختوں کی کچھ چھاؤں‘‘ اور ’’کچھ دھوپ‘‘ کو تشبیہ دی گئی ہے اور اس طرح کہ تشبیہ، تشبیہ نہیں معلوم ہوتی۔ میر حسن کے تشبیہات واستعارات ان کے کمال تخیل کی بین دلیل ہیں۔ مجنوں کی تشریح پر ہم لوگ جھوم اٹھے اور مجنوں کی خوش فہمی اور ذوق کی بلندی کی داد دینی پڑی۔ اور جب مثنوی کے اس شعر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سخت استعجاب ہوتا ہے کہ اس سیدھے سادھے شعر کو سمجھنے میں حالی جیسے سخن فہم اور نقاد کو کیسے مغالطہ ہو گیا۔ (ص ۷۵۔۷۶)
مطیع الرحمن صاحب نے دیکھا کہ ہم لوگ ننگے سر کھانا کھا رہے ہیں تو بڑے حیرت زدہ ہوئے۔ کہنے لگے کہ آپ لوگ سنت کے خلاف کر رہے ہیں۔ عمر لداخی نے کہا کہ میں نے حدیث کی کتابوں میں کھانے کے آداب کے ابواب کی کئی بار مراجعت کی ہے اور اہل علم سے پوچھا بھی ہے کہ کیا کھانے کے وقت سر چھپانے کے متعلق کوئی قولی یا فعلی حدیث ہے یا آثار صحابہ سے اس سلسلے میں کوئی روشنی پڑتی ہے۔ مجھے اس تحقیق اور تلاش وجستجو کے دوران کہیں کوئی دلیل نہیں ملی۔ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل ہو تو بتائیں۔ مطیع الرحمن صاحب نے کہا کہ میں نے ہمیشہ تبلیغی جماعت والوں کو ٹوپی لگا کر کھانا کھاتے دیکھا ہے اور تبلیغ والے ہر کام میں سنت کی پیروی کرتے ہیں۔ اس پرمولانا نے ان کو سمجھایا کہ تبلیغی جماعت یا کسی جماعت یا فرد کا عمل حجت نہیں، بلکہ تبلیغ والوں کو اپنے اس عمل کی دلیل پیش کرنی چاہیے۔ اس پر مجھے عبد الحکم کا واقعہ یاد آ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میری ملاقات عبد الملک بن الماجشون سے ہوئی۔ ان سے میں نے ایک مسئلہ پوچھا جس کا انھوں نے جواب دیا۔ میں نے دلیل پوچھی تو انھوں نے امام مالک کے کسی قول کا حوالہ دیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے دلیل مانگتا ہوں تو آپ کہتے ہیں کہ میرے استاد کا یہ قول ہے، حالانکہ آپ اور آپ کے استاد دونوں دلیل کے محتاج ہیں۔ (ص ۹۲)
حیدر صاحب نے اس پر افسوس کا اظہار کیاکہ بعض حنفی لوگ سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے ہیں جو کسی طرح مناسب نہیں۔ میں نے کہا کہ جمع بین الصلاتین کے مسئلہ پر اتنی سختی صحیح نہیں، خاص طور سے جب اس کے جواز کی حدیثیں موجود ہیں اور علما کی بڑی جماعت اس کی موید ہے۔ کہنے لگے کہ لیکن احناف کی فقہ کی رو سے اس کی کوئی گنجایش نہیں۔ مجھے اس سے اختلاف تھا۔ میں نے اپنا موقف واضح کیا کہ حنفی اصول فقہ کی رو سے بھی سفر وغیرہ میں جمع بین الصلاتین کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ حیدر بھائی نے قرآن کریم کی آیت ’ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ یہ آیت قطعی ہے کہ نمازوں کی ادائیگی وقت پر ہونی چاہیے۔ خبر واحد یا قیاس سے اس کی تخصیص کی گنجایش نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یہ بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ یہ آیت اپنے عموم میں نص قطعی ہے، حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ کیا عرفات اور مزدلفہ میں حاجیوں کے لیے جمع بین الصلاتین پر اجماع نہیں ہے؟ کیا یہ اجماع واضح نہیں کر رہا ہے کہ یہ آیت اپنے عموم پر نہیں اور جب آیت اپنے عموم پر نہیں رہی اور مخصوص منہ البعض ہو گئی تو کیا خود احناف کے قواعد کی رو سے خبر واحد اور قیاس دونوں سے اس کی مزید تخصیص نہیں ہو سکتی ہے؟ اس لیے حالت سفر اور مرض میں جمع بین الصلاتین تو احناف کے یہاں بھی صحیح ہونا چاہیے۔
حیدر بھائی نے اس پر امام ترمذی کی حدیث کا حوالہ دیا کہ حضور ﷺ نے ایک بار سفر، مرض یا بارش کے عذر کے بغیر جمع بین الصلاتین کی تھی، مگر امام ترمذی نے اس حدیث کو اپنی سنن کی ان دو حدیثوں میں شمار کیا ہے جن پر اہل علم میں سے کسی کا عمل نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ امام ترمذی کا قول صحیح ہے اور ائمہ کا عمل اصول فقہ کے قواعد کی روشنی میں بجا ہے، کیونکہ عام مخصوص منہ البعض کی تخصیص خبر واحد یا قیاس سے اس وقت تک صحیح ہے جب تک کہ اس عام کے تحت کم سے کم تین فرد باقی رہیں۔ مذکورہ بالا حدیث پر عمل کرنے کے بعد آیت کا کوئی محمل باقی نہیں رہے گا۔ آفتاب نے کہا کہ لیکن اس موقع پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین کی احادیث کی تاویل کی جائے اور جمع سے مراد جمع صوری لی جائے تو قرآن وحدیث میں تطبیق کی ایک شکل نکل آئے گی۔ میں نے عرض کیا کہ جمع صوری مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جمع کی جو نظیر موجود ہے، وہ جمع حقیقی کی ہے، جمع صوری کی کوئی نظیر نہیں۔ عرفہ ومزدلفہ میں جمع کا ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ جمع سے جمع حقیقی ہی مراد ہوگی۔ فقہا نظیر کو نظیر پر قیاس کرنے کے قائل ہیں۔ دوسری دشواری یہ ہے کہ سفر کے مسائل آسانی پر مبنی ہیں۔ جمع صوری سے وقت اور تنگ ہو جاتا ہے، اس لیے مسافر کو بجاے آسانی کے اور زحمت ہوگی۔ (ص ۹۳۔۹۵)
مفتی اشتیاق صاحب کوئی کتاب دبائے ہوئے دوبارہ آئے۔ میں نے پوچھا کہ یہ آپ کے ہاتھ میں کون سی کتاب ہے؟ کہنے لگے کہ مولانا مودودیؒ کی ’خلافت وملوکیت‘ ہے۔ وزیر سے پڑھنے کے لیے لی تھی۔ اب پڑھ لی ہے، اس لیے واپس کرنے آیا ہوں۔ عمر لداخی نے کہا کہ وزیر کا کام لوگوں کا ذہن خراب کرنا ہے۔ مفتی اشتیاق عالم اور مفتی ہیں، یہاں ادب کی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، ان کو خلافت وملوکیت دے دی۔ وزیر نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میری اور مفتی صاحب کی بات ہو رہی تھی۔ مفتی صاحب مولانا مودودی کی تحریروں، خاص طور سے ’خلافت وملوکیت‘ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ مفتی صاحب، کیا آپ نے ’خلافت وملوکیت‘ پڑھی ہے؟ کہنے لگے کہ اس پر بعض لوگوں کی تنقید پڑھی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مجھ سے کتاب لے کر پڑھیں۔ اس کے بعد جو رائے چاہیں، قائم کریں۔ عبد الحی نے استفسار کیا کہ مفتی صاحب، کیا رائے ہے؟ کہنے لگے کہ مجھے کوئی قابل اعتراض چیز نظر نہیںآئی۔ ابراہیم صاحب نے تبصرہ کیا کہ مولانا مودودی ذہین انسان ہیں، انھوں نے مقدمہ میں اس کتاب کی وجہ تالیف اور کتاب کے مراجع کے بارے میں اتنی معصومیت سے لکھا ہے کہ ایک عام قاری ان کے خلوص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، حالانکہ اگر مولانا مودودی اتنے مخلص تھے تو ان کو چاہیے تھا کہ تاریخ اسلام کے مشکل مسائل میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اہل علم سے مراجعت کرتے، ہو سکتا ہے کہ بعض غلطیوں سے بچ جاتے۔ آفتاب نے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مودودی صاحب نے حدیث کی کتابیں باقاعدہ کسی استاد سے نہیں پڑھی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کو محدثین کی اصطلاحات سے واقفیت نہیں۔
وزیر نے اس تبصرہ سے تنگ آ کر کہا کہ ان جزئیات کو چھوڑیے۔ عصر حاضر میں مولانا مودودیؒ پہلے شخص ہیں جنھوں نے خالص اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی ہے اور اپنی مختلف تحریروں میں اس کو واضح کیا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، یہ خدا کی طرف سے نازل کردہ نظام ہے، اس لیے نہیں آیا تھا کہ مدرسوں میں اس پر بحثیں ہوں، کتابوں میں اس کے متعلق لکھا جائے اور عملاً اس کے نفاذ کی کوشش نہ کی جائے۔ جس خدا کی غلامی کی ہم بات کرتے ہیں، کیا اسی نے نماز اور روزہ کے علاوہ وہ احکام نہیں دیے جن کا نفاذ حکومت الٰہیہ کے قیام کے بغیر ناممکن ہے؟
حشمت اللہ نے اس موضوع پر فیصلہ کن انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی تہذیب پر حملہ کرنے میں مولانا مودودی کی مثال امام غزالی کی ہے۔ امام غزالیؒ نے یونانی فلسفہ کے ہتھیار سے یونانی فلسفہ پر حملہ کیا اور ’تہافت الفلاسفہ‘ لکھ کر ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ مولانا مودودیؒ ، سید قطب شہیدؒ ، مالک بن نبیؒ اور محمد مبارکؒ نے مغربی تہذیب کے مقابلہ میں یہی روش اختیار کی۔ ان حضرات نے مغرب کے اسلحہ سے مغرب پر حملہ کیا۔ یونانی عقلیت پسندی کا ایک جواب وہ تھا جو مولانا رومؒ نے اپنی تحریروں سے فراہم کیا۔ انھوں نے روحانیت کے طاقت ور ہتھیار سے یونان کی عقل پسندی اور مادہ پرستی کا جواب دیا۔ اس میں عطار وغیرہ ان کے شریک رہے ہیں۔ ان کا پیغام تھا:
چند خوانی حکمت یونانیاں
حکمت ایمانیاں را ہم بخواں
عصر حاضر میں مغرب کی عقلیت پسندی کے خلاف لسان العصر اکبر الٰہ آبادیؒ اور شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا اور اس میں ان کو بڑی کامیابی ملی۔ ان حضرات کے کردار کی نمائندگی درج ذیل شعر سے ہوتی ہے:
تاریخ جنوں یہ ہے کہ ہر دور خرد میں
اک سلسلہ دار ورسن ہم نے بنایا
حشمت اللہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ غزالی کا طریقہ ان کے عصر کے لیے مفید تھا، مگر ضرورت تھی ایک ایسے شخص کی جو اپنے ہتھیار سے فلسفہ یونان پر حملہ کرے۔ امام ابن تیمیہ علوم نبوت سے لیس تھے، یونانی علوم فلسفہ سے گہری واقفیت کے باوجود اس کے اثرات سے ہر طرح محفوظ تھے، انھوں نے اس فلسفہ کی چولیں ہلا دیں، اس کی جڑیں اکھیڑ دیں، اسے بے دست وپا کر دیا۔ ان کے اندر مرعوبیت نہیں تھی۔ غزالی کے طریقہ کار کی خامی یہ ہے کہ ’تہافت‘ کا جواب ’تہافت التہافت‘ کی شکل میں دے دیا گیا، مگر امام ابن تیمیہ کی ’الرد علی المنطقیین‘ آج تک لاجواب ہے، بلکہ جدید منطق کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نے ابن تیمیہؒ کے اعتراضات کی روشنی میں اسے مرتب کیا ہے۔ عصر حاضر کو ایک ابن تیمیہ کی ضرورت ہے۔ مولانا شبلی کو ابن تیمیہ کی عظمت کا احساس بہت بعد میں ہوا اور جب ہوا تو انھوں نے مکتوبات میں صراحت کی کہ ابن تیمیہ کی لائف فرض اولین ہے۔ مجھے اس شخص کے سامنے رازی وغزالی سب ہیچ نظر آتے ہیں۔ مولانا آزاد کی ترجمان القرآن اور تاریخ دعوت وعزیمت کے مطالعہ سے لگتا ہے کہ ان پر ابن تیمیہ کا کچھ رنگ ہے، لیکن سیاست میں لگ کر وہ اس کام کو آگے نہ بڑھا سکے، چنانچہ ابھی تک ابن تیمیہ کی جگہ خالی ہے۔
ہم لوگ حشمت اللہ کی اس تشریح سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کسی نے بھی اس سے نااتفاقی ظاہر نہیں کی۔ سب لوگ اس سے مکمل متفق نظر آ رہے تھے۔ صرف آفتاب کا چہرہ کسی تاثر سے خالی تھا۔ ہم لوگوں نے آفتاب صاحب سے کہا کہ آپ کی یہ گم صم ہونے کی عادت اچھی نہیں ہے۔ حشمت اللہ نے اتنا زبردست نکتہ بیان کیا ہے، کیا آپ اس کی داد بھی نہیں دے سکتے؟ آفتاب کہنے لگے کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ ابن تیمیہ کا طریقہ کار فکر اسلامی کی آخری منزل ہے، بلکہ امام غزالی کی طرح امام ابن تیمیہ کا انداز بھی فکر اسلامی کا ایک ناگزیر اور وقتی مرحلہ ہے۔ منزل اس سے بھی آگے ہے۔ عبد الحی کہنے لگے کہ اب اس سے آگے کون سی منزل ہوگی؟ کہیں منزل کی تلاش میں دور نہ نکل جائیں۔ آفتاب نے کہا کہ ملحدانہ فکر وفلسفہ کی تردید سے کمزور لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ امام غزالی نے غیروں کے ہتھیار سے یہ کام کیا ہے، ابن تیمیہ نے اپنے ہی ہتھیار استعمال کیے۔ لیکن پیغمبر اپنوں اور غیروں، سب پر ہمدردی کی نگاہ ڈالتے ہیں۔ پوری انسانیت ان کی امتِ دعوت ہے اور شیطان ان کا دشمن۔ ایک پیغمبر کی کوشش ہوتی ہے کہ تردید میں الجھے بغیر اخلاص وہمدردی کے ساتھ دعوت دے۔ جدل اس کی دعوت میں ہوتا ہے، لیکن نہایت حکمت کے ساتھ اور بہت ناگزیر حالات میں۔ پیغمبر کی دعوت مثبت ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں پیغمبرانہ اسلوب کی جھلکیاں حسن البناء شہید، مولانا الیاس کاندھلوی، اور مولانا ابو الحسن علی الندوی کے یہاں ملتی ہیں۔ اس طریقہ کی اہم اساس افراد اور معاشرہ کی اصلاح اور انسانیت پر ہمدردانہ نگاہ ہے۔
بدلنا ہے تو رندوں سے کہو اپنا چلن بدلیں
فقط ساقی بدل دینے سے میخانہ نہ بدلے گا
(ص ۱۰۸۔۱۱۲)
ثقافتی امتیازات اور مذہبی مزاج
پروفیسر محسن عثمانی ندوی
مسجدیں اسلامی مرکز کے طور پر پورے امریکہ میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ کمیونٹی سنٹر ہیں جن میں لکچر ہال بھی ہے اور لائبریری بھی ہے اور ان میں عارضی اقامت گاہیں بھی ہیں۔ یہ وہ پاور ہاؤس ہے جس سے مسلمان گھروں میں ایمان کی حرارت پھیلتی ہے اور اخلاق وکردار کانور تقسیم ہوتا ہے۔ امریکہ کی یہ مسجدیں ہندوستان کی عام مسجدوں سے کسی قدر مختلف ہیں۔ ان مساجد میں خواتین بھی نماز میں شریک ہوتی ہیں۔ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ ایک بڑی مسجد میں نماز جمعہ کے ختم ہونے کے بعد میں نے نظر ڈالی تو مسجد کی پانچ چھ صفوں میں بمشکل چار پانچ آدمی سر پر ٹوپی پہنے ہوئے نظر آئے۔ ٹوپی پہننے والوں کو سر برہنہ نماز پڑھنے والوں پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ انھیں دین اور ثقافت کا فرق معلوم تھا۔
ان مساجد سے گہری وابستگی رکھنے والے افریقی امریکی مسلمان بھی ہیں اور برصغیر یا مڈل ایسٹ سے آنے والے مسلمان بھی ہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان اس فرق کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اول الذکر مسلمان نسلی امتیاز کو ختم کرنے اور عیسائیت اور اسلام یا یہودیت اور اسلام کے درمیان برصغیر، مشرق وسطیٰ اور بوسنیا کے حالات سے زیادہ گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک گونہ ذوقی فاصلہ پایا جاتا ہے۔ افریقی امریکی بلیک مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کے تارکین وطن مسلمان انھیں ادنیٰ درجہ کامسلمان سمجھتے ہیں، محض اس بنا پر کہ عربی زبان کی ثقافت سے ان کا رشتہ کمزور ہے اور قرآن وحدیث روانی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔پشتینی مسلمانوں کی اس ذہنیت کو سمجھنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ہندوستان کی ایک درسگاہ کے مفتی بزرگ نے سفر میں ایک ایسی مسجد میں میرے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی جو افریقی امریکی بلیک مسلمانوں کے زیر انتظام تھی۔ جمعہ کے دونوں خطبے انگریزی زبان میں ہوئے۔ نو مسلم خطیب کے لیے قرآن کی آیات اور احادیث کے تلفظ میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ وہ بزرگ خطبہ کے دوران اپنی کتاب کا مطالعہ کرتے رہے اور جمعہ کی نماز کے بعد انھوں نے اپنی نماز دہرائی۔ میرے لیے ان کا یہ طرز عمل سوہان روح تھا اور مجھے ان کے طرز عمل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا پڑا۔ بجائے اس کے کہ وہ ایک نو مسلم کے اسلام کی قدر کرتے، انھوں نے افتراق بین المسلمین کا نمونہ پیش کیا۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ میں گروہ بندی اور مسلکی اختلاف کی اصل وجہ نئی قوموں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، کیونکہ ہر قوم اپنی خصوصیات اور ذہنی پس منظر کے ساتھ دین میں داخل ہوتی ہے۔ آئندہ بھی یورپ اور ایشیا کی بعض قومیں دین اسلام میں داخل ہو سکتی ہیں اور ان ہی سے شجر اسلام بار آور ہوگا۔ موجودہ مسلم ممالک میں وہ توانائی اور طاقت نہیں کہ نہضتِ اسلام کا بوجھ ان کے شانوں پر رکھا جا سکے۔ نئی زندہ قوموں کے دین اسلام میں استقبال کے لیے ذہن وفکر کی بے پناہ کشادگی اور قلب کی غیر معمولی وسعت درکار ہے۔ فروعی امور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ہر بات میں کسی فتویٰ کی کتاب کا حوالہ دینا اور کج بحثی میں مبتلا ہونا زوال آمادہ قوموں کی خاص پہچان ہے۔ یہ اسلام کے سیلِ رواں پر بند باندھنے کے مرادف ہے۔ یہ دین کی وہ نام نہاد خدمت ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور مضرت نہیں ہو سکتی اور اسی قماش کے لوگوں کے لیے اقبال کا یہ مصرعہ ہے ’’دین ملا فی سبیل اللہ فساد‘‘۔ مثال کے طور پر امریکہ اور یورپ میں جمعہ کے دن خواتین چھوٹے بچوں کے ساتھ مسجدوں میں آتی ہیں۔ اتوار کے دن مسجدوں کے اسلامی پروگرام میں ساتر لباس میں شریک ہوتی ہیں۔ ان شریک ہونے والیوں میں بہت سی نومسلم خواتین ہوتی ہیں۔ ان ملکوں میں اسلامی تشخص کی حفاظت اور بچوں کی تربیت اور دینی ماحول سازی کے لیے یہ ایک ضروری کام ہے، لیکن کوئی روایتی قسم کا عالم اگر روکنے کی کوشش کرے تو یہ بدبختی اور نادانی کی بات ہوگی اور عقل وحکمت سے تہی دامنی کی پہچان ہوگی، اور یہ طرز عمل نومسلم خواتین کو اسلامی سوسائٹی میں ضم ہونے سے اور غیر مسلم خواتین کو اسلام میں داخلہ سے روک دے گا۔
اسی طرح سے مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کو جتنا زیادہ ظاہر کریں گے، اتنا ہی زیادہ وہ ان غیر مسلموں کو نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا کریں گے جو اسلام سے قریب ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس اندیشہ فردا کاذکر زبان قلم پر اس لیے آیا ہے کہ بہت سے مسلمان جو اسلامی ملکوں سے آکر امریکہ میں بسے ہیں، وہ اختلافات کی آلائشیں اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں اور اختلافات کی آلائشوں کا انبار امریکہ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم کو روک سکتا ہے۔ مستقبل میں اسلامی انقلاب کا رونما ہونا اور مسلمانوں کا پھر سے قوت حاصل کر لینا نئی قوموں کے اسلام میں داخلہ پر منحصر ہے۔ اس کے لیے خردہ گیری سے بچنے کی عادت درکار ہے۔ اس کے لیے ذہن کی آفاقیت، قلب کی وہ بے کراں وسعت مطلوب ہے جو مہمان عزیز کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کرے اور فروعی چیزوں پر مشتعل نہ ہو۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام کا Modernity یعنی جدت سے کوئی اصولی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اس بارے میں سنی علما کو اپنے حلقہ میں اور شیعی عوام میں جن شخصیتوں کومرجع التقلید کی حیثیت حاصل ہے، صحیح رہنمائی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں عورتیں نماز جمعہ میں آتی ہیں اور پردہ کے پیچھے خطبہ سنتی ہیں، لیکن چونکہ وہ خطیب کو دیکھ نہیں سکتی ہیں، اس لیے ان کایہ مطالبہ تھا کہ ان کے لیے محدود دائرہ کا ٹیلی وژن لگا دیا جائے تاکہ عورتیں نہ صرف خطبہ سن سکیں، بلکہ خطیب کو بھی دیکھ سکیں۔ بعض مجتہد علما نے اس سے اختلاف کیا، لیکن مرجع التقلید کا فتویٰ یہ تھا کہ مذہبی مقصد کے لیے محدود سرکٹ ٹیلی وژن کی اجازت ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ مطالبہ حیرت انگیز ہوگا ،لیکن امریکہ میں، جہاں بہت چھوٹے پروگراموں کے لیے محدود سرکٹ کے ٹیلی وژن کا عام رواج ہے اور جہاں جمعہ کی نماز میں عورتیں شریک ہوتی ہیں، یہ مطالبہ بہت فطری نوعیت کا ہے۔ عصر جدید میں ان عصری ایجادات کے استعمال کے لیے ذہن وفکر کو لچک دار بنانا ہوگا۔ یہ کہنا کہ اس سے خطبہ جمعہ کا تعبدی پہلو اور خشوع متاثر ہوتا ہے، صرف روایتی مزاج وعادت کا اظہار ہے۔ لاس اینجلس کی شیعہ برادری کی مسجد اہل بیت میں تو عورتیں مخلوط اجتماعات کو خطاب بھی کرتی ہیں۔ ان معاملات میں جہاں مسلمانوں کی اصلاح کی ضرورت ہو، وہاں حکمت اختیار کرنی ہوگی اور احکام دین اور مروجہ کلچر کے فرق کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا اور یہ بھی سمجھ لینا ہوگا کہ امریکی معاشرہ برصغیر کے مسلم معاشرہ کی نقل بمطابق اصل نہیں ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ ’تعمیر حیات‘ لکھنو)
قربانی کی رسم کا نفسیاتی پہلو
پروفیسر میاں انعام الرحمن
قربانی کا تصور شاید اتنا ہی قدیم ہے جتنی انسان کی معلوم تاریخ ۔ تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کی رسم موجود رہی ہے ۔ یہ رسم اپنے ظاہر میں متنوع ہونے کے باوجود کسی ایسے یکساں جذبے یا داخلی تحریک کی علامت ہے جو تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود ہے۔ تاریخ کے صدیوں پر محیط سفر سے ان گنت مثالیں دینے کے بجائے ہم صرف اسی مثال پر اکتفا کریں گے کہ اہلِ روم دوسری پیونک جنگ تک دیوتاؤں کے حضور انسانوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے۔ قربانی کے اس سفاک مظہر کو معاشرے میں عمومی قبولیت حاصل تھی کیونکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کے ایک فطری داخلی جذبے کی تسکین ہوتی تھی۔ یہاں ہم تحلیلِ نفسی کی اس بنیادی دریافت کا ذکر کرنا مناسب سمجھیں گے جس کے مطابق ، اگر کسی داخلی تحریک یا جذبے کو عمل میں ظاہری اظہار پانے سے روک دیا جائے تو وہ جذبہ عموماً ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر ’’دب ‘‘ جاتا ہے اور پھر بعد میں اظہار کی ایسی راہ تلاش کرتا ہے جو اکثر اوقات اس ظاہری اظہار سے بہت زیادہ قبیح اور نقصان دہ ہوتی ہے جسے نامعقول قرار دے کر (یا کسی بھی وجہ سے ) عمل میں آنے کا موقع نہیں دیا جاتا اور اسے دبانے کی بھی (بظاہر کامیاب ) کوشش کی گئی ہوتی ہے۔
ہماری رائے میں سنتِ ابراہیمی ؑ کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ یہ انسان کی کی بہت بڑی نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اگرچہ زندہ صحت مند جانور کے گلے پر چھری پھیرنا، خون بہانا، کھال اتارنا وغیرہ کسی حد تک سفاک عمل معلوم ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہی داخلی جذبہ جس کی تسکین جانور کو ذبح کرنے سے ہو جاتی ہے، کسی بہت ہی مکروہ اور انسانیت سوز صورت میں سامنے آسکتا ہے، جیسا کہ خود انسان کی قربانی کرنا۔ مسلم معاشرے کی تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں انسانیت سوز قسم کی رسوم کبھی نہیں پنپ سکیں، اس کی ایک بنیادی وجہ اسلام کا تصورِ قربانی ہے۔ اسلام کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کے بنیادی جذبات اور داخلی تحاریک کی نفی نہیں کرتا، بلکہ ان کی تہذیب کرتا ہے جیسا کہ جنگ کے مقابل جہاد کا تصور۔ جہاد، انسان کے ایک فطری جذبے کی متشکل جہت اور جنگ کی تہذیب یافتہ صورت ہے۔ یہ کہنا بہت آسان ہو گا کہ جنگ ہونی ہی نہیں چاہیے اور اسی طرح قربانی بھی نہ ہو تو بہتر ہے کہ اس میں خوامخواہ خون بہایا جاتا ہے۔ ہماری رائے میں یہ کہنا ہی آسان ہے لیکن اس پر عمل عمومی انسانی نفسیات اور رویے کے باعث ناممکن ہے ۔ مثلاً اگر سبزی خور قوموں کی رسوم پر نظر دوڑائی جائے تو ایک طرف جانوروں کی پرستش نظر آئے گی اور دوسری طرف عورت کا خاوند کی لاش کے ساتھ زندہ جل مرنا۔ ان دو مظاہر کے تضاد سے وہ قومیں آگاہ ہی نہیں ہوتیں کیونکہ دونوں مظاہر انسان کے دو داخلی فطری جذبات کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔
ہماری رائے میں ستی اور اسی نوعیت کی دیگر رسوم اس جذباتی خلل کا نتیجہ ہیں جو ایک فطری جذبے (قربانی) کے مناسب اظہار پر پابندی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ اسلام اپنی اپروچ میں ’’خیالی اور مثالی‘‘ تعلیمات نہیں دیتا بلکہ اس کی مثالی تعلیمات کی نوعیت ’’ممکن الحصول مثالی ‘‘ کے دائرے میں آتی ہے، اسی لیے اس نے انسانی روح میں گندھے ہوئے جذبات کے اظہار پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ان کے اظہار کی ایسی راہیں نہ صرف تسلیم کی ہیں بلکہ انھیں اپنانے کی ترغیب بھی دی ہے جو داخلی جذبات کی آسودگی کے ساتھ ساتھ انسان کو بطور انسان متوازن رکھتی ہیں۔ دنیا کی قومیں اگر اپنی تاریخ کے آنے والے دور میں ’’قبیح رسوم ‘‘ سے بچنا چاہتی ہیں تو عید البقر میں مضمر مذکورہ بالا حکمت کے پیشِ نظرانھیں مسلمانوں کی ہمراہی میں سنتِ ابراہیمی ؑ ادا کرنی چاہیے۔
احیائے اسلام کے امکانات اور حکمت عملی
پروفیسر محمد اکرم ورک
۱۹۹۲ میں ایک کمیونسٹ ریاست کی حیثیت سے سوویت یونین کے سقوط کے فوراً بعد مغربی پالیسی سازوں نے اپنی ترجیحات کو تبدیل کر لیا، چنانچہ ۱۹۹۳ میں امریکہ کے مشہور یہودی محقق اور دانش ور سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف Clash of Civilizations لکھ کر تہذیبوں کے تصادم کا نیا تصور پیش کیا اور اسلامی تہذیب کو مغرب کا متوقع دشمن قرار دیا۔ اس خیال اور نظریہ نے بہت جلد اس وقت حقیقت کا روپ دھار لیا جب امریکی صدر بش نے ۱۱/۹ کے پس منظر میں اکتوبر ۲۰۰۱ میں پہلے افغانستان پر اور بعد ازاں اپریل ۲۰۰۳ میں عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان تو پہلے ہی اس جنگ کو تہذیبوں کا تصادم یا صلیبی جنگ تصور کرتے تھے، خود مغربی دانش وروں اور امریکی صدر نے بھی کھل کر اپنے ’خبث باطن‘ کا اظہار کر دیا۔
وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے کئی مسلمان دانش وروں اور ’’جہادیوں‘‘ نے مغرب کے حقیقی عزائم کو بھانپتے ہوئے امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ، لیکن چونکہ ان لوگوں کا حلقہ اثر محدود تھا، اس لیے وہ ذہنی اور عملی جمود کی شکار امت مسلمہ کو اس عظیم سازش کے خلاف تیار نہ کر سکے۔ دوسری طرف عالم اسلام پر مسلط طفیلی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اس بلاے ناگہانی کے سامنے اپنی آنکھیں بند کر لیں، لیکن اب شاید یہ طوفان بہت جلد اس طبقے کو بھی خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جائے، کیونکہ صلیبیوں اور جہادیوں میں سے کوئی بھی ان کو اپنی کشتی میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ اگر صلیبی کامیاب ہو گئے تو وہ یقیناًہر جگہ افغانستان اور عراق جیسی جمہوریت کا ’’کامیاب‘‘ تجربہ کریں گے اور اگر کامیابی نے جہادیوں کے قدم چومے تو وہ ان مارہاے آستین کو کبھی معاف نہیں کریں گے جو میر جعفر اور میر صادق کا کردار پورے خلوص نیت سے ادا کر رہے ہیں۔
اس وقت مجاہدین، افغانستان اور عراق میں امت مسلمہ کی آزادی اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہلال وصلیب کے اس معرکہ میں مجاہدین کی پسپائی کا مطلب مکمل تباہی ہوگا، اس لیے حالات کی نزاکتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجاہدین کی مدد کرنا امت مسلمہ کا اجتماعی فریضہ ہے تاکہ عالمی طاقتوں کو مزید پیش قدمی سے روکا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنگ اور تصادم کے اس محاذ پر ہماری مکمل کامیابی کے لیے حالات سازگار ہیں، جبکہ فریق مخالف نے اس میدان میں دنیا کی تمام طاقتوں سے اپنی برتری کا سکہ منوا لیا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مستقبل بعید میں بھی شاید کوئی ملک ان کو چیلنج نہ کر سکے۔
تہذیبی کشمکش کے اس دور میں بدقسمتی سے مغرب اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعے سے مسلمانوں کو تصادم کے اس میدان میں کھینچ لایا ہے جہاں ان کی کامیابی کے امکانات محدود ہیں جبکہ امت مسلمہ بھی جذبات کی رو میں بہہ کر دشمن کے دام فریب میں پھنستی چلی جا رہی ہے، حالانکہ جدید ٹیکنالوجی سے محرومی کی وجہ سے جنگ کے میدان میں ہماری کمزوری اظہر من الشمس ہے۔ دشمن کے بالمقابل اس میدان میں ہمارے وسائل اور جانوں کے اتلاف کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔ جب حقیقت یہی ہے تو کیا یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ ایک جہاں دیدہ، زیرک اور ذہین کماندار کی طرح مد مقابل کو اس میدان میں جنگ آزمائی پر مجبور کر دیا جائے جہاں اس کو شکست دینا آسان ہے اور جہاں اس کی کمزوریوں سے پورا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ یقیناًمغرب کی کمزوریوں کا میدان عقیدے اور قابل عمل نظریات کامیدان ہے۔ مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور نری مادیت سے اس وقت خود مغربی معاشرہ بھی شدید گھبراہٹ اور بے چینی محسوس کر رہا ہے۔ مناسب یہی ہے کہ جہادی سرگرمیوں کو عالمگیر جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور مدمقابل پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سرخ لائن کو عبور نہ کیا جائے کیونکہ اس محاذ پر دشمن طاقت ور اور ہم کمزور ہیں۔ دشمن ہمیں اسی محاذ پر مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس طریقہ سے مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کر لیا جائے اور ان کی طاقت کو مکمل طور پر کچل دیا جائے۔ ہماری حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ ہم اسے اس میدان میں اترنے پر مجبور کر دیں جس میں ہم مضبوط اور مدمقابل فریق کمزور ہے۔
اسلامی تہذیب کے احیا اور عروج کی امید وہ عقائد ونظریات اور عالم گیر اصول ہیں جو مسلم نفسیات کے اجتماعی لاشعور کا جزو لاینفک ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام نظریات اور آئیڈیالوجی کے میدان میں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوا۔ اس کی واضح مثال ۱۲۵۸ میں بغداد کا سقوط ہے جب تاتاریوں نے مسلم تہذیب وثقافت کا نام ونشان مٹا دیا تھا، لیکن سیاست اور جنگ کے میدا ن میں شکست وہزیمت سے دوچار ہونے کے باوجود نظریات کی جنگ میں اسلام نے مد مقابل کو چاروں شانے چت کر دیا اور فاتح قوم نے مفتوح قوم کا ہی دین اختیار کر لیا۔ بقول اقبال ’پاسباں مل کعبے کو صنم خانے سے‘۔
سلطان محمد فاتح نے ۱۴۵۳ میں قسطنطنیہ کو فتح کر کے اسلامی تہذیب وثقافت کے غلبے کو قائم رکھنے کی ایک بھرپور کوشش کی، لیکن اس کے بعد مغربی اقوام میں جدیدیت کا آغاز ہوا جبکہ اسلامی دنیا جمود کا شکار ہوتی گئی اور بالآخر پہلی جنگ عظیم میں عثمانی ترکوں کی شکست کے بعد اسلامی تہذیب مکمل مغلوبیت کا شکار ہو گئی۔ تاہم تھوڑی ہی مدت کے بعد مفتوح اسلامی ممالک میں علمی، فکری اور جہادی تحریکوں کا آغاز ہو گیا اور احیاے اسلام کے امکانات دوبارہ روشن ہو گئے۔ تہذیبوں کے تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی تہذیب کے زندہ اور قائم رہنے کے لیے دو چیزیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں:
۱۔ دائمی اصولوں کا وجود،
۲۔ اصول وضوابط میں حالات اور زمانہ کی رعایت سے لچک اور حرکت پذیری کی خوبی۔
اس وقت دائمی اصولوں کا عدم وجود یورپی تہذیب کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو بالآخر اس تہذیب کے زوال کا باعث بنے گی۔
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اس کے برعکس، دائمی اصولوں کی موجودگی کے باوجود اسلامی تہذیب کے زوال کی بڑی وجہ جمود اور غیر حرکت پذیری ہے، حالانکہ اسلام کی ساخت میں حرکت کا اصول کارفرما ہے جس کا دوسرا نام ’’اجتہاد‘‘ ہے۔ اسلام ایک ثقافتی تحریک کے طور پر کائنات کے جامد نقطہ نظر کو رد کرتا ہے اور اندھی تقلید کے بجائے اجتہاد کا قائل ہے جس کی روشنی میں حالات وزمانہ کی رعایت کرتے ہوئے پیش آمدہ نئے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس اصول کی اساس خود قرآن کریم میں موجود ہے:
والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (العنکبوت)
’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کریں گے، ہم ان کو اپنے راستوں کی طرف رہنمائی کریں گے۔‘‘
حضرت معاذ بن جبلؓ کی مشہور حدیث سے یہ اصول مزید واضح ہو جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو ان سے پوچھا کہ وہ اپنے سامنے پیش ہونے والے مسائل کا حل کیسے تلاش کریں گے۔ حضرت معاذ نے عرض کیا: میں معاملات کو قرآن کے مطابق طے کروں گا۔ اگر کتاب اللہ میں اس کا حل نہ پاؤں گا تو سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ اور اگر سنت میں بھی اس کی کوئی مثال نہ ہوئی تو پھر میں اپنی رائے اور سمجھ سے فیصلہ کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا۔
اسلامی تہذیب میں اساسی اور دائمی اصولوں کے ساتھ اجتہاد اور حرکت پزیری کے جواز نے اس کو تمام ادوار کے لیے قابل قبول بنا دیا ہے، اس لیے یہ بات محض خوش اعتقادی اور عقیدت کی بنا پر نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کے دوبارہ احیا اور عروج کے واضح دلائل اور قرائن کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔
کمیونزم کی ناکامی کے بعد مغربی دنیا سمجھنے لگی ہے کہ اب دنیا کے لیے مغربی فکر وفلسفہ اور نظام زندگی اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں آج بھی اتنی کشش اور افادیت ہے کہ وہ دنیا کے تمام نظریات اور افکار پر حاوی ہو جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کے اصولوں کو نئے سرے سے دریافت کیا جائے اور حالات اور زمانے کی رعایت سے اس ڈھنگ میں اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے کہ اسلام کے فکر وفلسفہ کی اصل روح ان پر آشکارا ہو جائے۔
اسلام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کی اصل قوت دعوت واصلاح میں ہے۔ سسکتی ہوئی انسانیت کے لیے اسلام آج بھی تریاق کا کام کر سکتا ہے۔ اگر اسلام کو اس کے اصل اور فطری اسلوب میں پیش کیا جائے تو وہ سیدھا دلوں میں اتر جاتا ہے۔ اسلام اپنی ذات میں زبردست تسخیری قوت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے سیاسی ناکامیوں کے تاریک ترین دور میں بھی نظریاتی محاذ پر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘ (اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے سارے ادیان پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں) میں دین کے غلبہ سے مراد سیاسی وعسکری غلبہ نہیں، بلکہ فکری ونظریاتی غلبہ ہے جو اسلام کو ہمیشہ اور ہر جگہ حاصل رہا ہے اور کبھی منقطع نہیں ہوا۔
سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کی حکمت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر عسکری میدان میں پسپائی اختیار فرمائی تاکہ مکمل نظریاتی غلبہ اور فتح یابی کی راہ ہموار ہو سکے، چنانچہ رسول اللہ اپنی حکمت عملی سے مد مقابل کو فکری اور نظریاتی میدان میں لے آئے جہاں مسلمانوں کو مکمل برتری حاصل تھی۔ صلح حدیبیہ میں یہی حکمت عملی آپ کے پیش نظر تھی جس کو قرآن نے ’’فتح مبین‘‘ قرار دیا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی دو سالہ عرصے میں لوگ باہم ملے جلے اور دو ’’تہذیبوں‘‘ کے درمیان مکالمہ ہوا تو بے شمار سلیم الفطرت لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ امام زہریؒ فرماتے ہیں:
’’صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام میں اتنی بڑی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ لوگ جہاں بھی ملتے، جنگ ہو کر رہتی تھی، لیکن جب صلح ہو گئی تو جنگ موقوف ہو گئی اور لوگ ایک دوسرے سے بے خوف ہو گئے۔ باہم ملے جلے، باتیں ہوئیں تو کوئی عقل مند ایسا نہ تھا جس سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی ہو اور اس نے اسلام قبول نہ کر لیا ہو۔ چنانچہ جتنے لوگ ابتدا سے اب تک مسلمان ہوئے تھے، صرف ان دو برسوں میں ان کے برابر بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں مسلمان ہو گئے۔‘‘ (ابن ہشام، ۳/۳۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی عمدہ حکمت عملی سے قریش کو نظریاتی محاذ پر ہزیمت پر مجبور کر دیا۔ عالمی حالات کی صورت حال آج بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ ایک میدان سیاست اور عسکریت کا ہے جہاں مغرب کو عالم اسلام پر مکمل برتری حاصل ہے اور وہ مسلمانوں سے اسی میدان میں لڑنا چاہتا ہے جہاں اس کو لامحدود وسائل کے ساتھ عظیم بالادستی حاصل ہے، جبکہ دوسرا میدان عقائد اور قابل عمل نظریات کا ہے جہاں اسلام کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حکمت عملی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدمقابل کو اس میدان میں پنجہ آزمائی پر مجبور کر دیں جہاں وہ ناموافق پوزیشن میں ہے، اور ہماری تگ وتاز کے سامنے ٹھہرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گھوڑے تیار رکھنے کے ساتھ ساتھ امن عالم کا اسلامی تصور اجاگر کرنا ضروری ہے، تاکہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کے بجائے مکالمے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔ مسلمان اہل علم اور دانش وروں کا فرض ہے کہ وہ مغربی فکر وفلسفہ کا پوری گہرائی سے تنقیدی مطالعہ کریں اور اسلام کو اقوام عالم کے سامنے پوری انسانیت کے دین کے طور پر پیش کریں۔ اگر اسلام کے عالمگیر وژن کو حکمت کے ساتھ مغربی اقوام کے سامنے پیش کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس کی فطری تعلیمات سے متاثر نہ ہوں۔
شیعو اور سنیو! تاریخ سے سبق سیکھو
علامہ سید فخر الحسن کراروی
اللہ کو ایک ماننے والو! اسلام نے تمھیں مومن اور مسلم کہا، تم نے اپنے آپ کو شیعہ اور سنی کہنا شروع کر دیا۔ اسلام نے اقرار توحید اور اقرار رسالت کو مدار اسلام قرار دیا، تم نے قبول اسلام کے لیے شرائط میں اپنی طرف سے نئے نئے اضافے کر لیے۔ اسلام نے تمھیں بنیان مرصوص، سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہا تھا، لیکن تم نے افتراق پسندی کے باعث اس دیوار آہنی کو تار عنکبوت بنا دیا۔ اسلام نے مرد مومن کی تعریف کی تھی، ’اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘ ، آپس میں رحیم، کفار کے مقابلے میں سخت۔ تم نے کافروں سے نرم خوئی اختیار کی اور مسلمانوں سے سختی ودرشتی کا برتاؤ رکھا۔ اسلام نے پوری معنویت کے ساتھ تم میں اخوت کا رشتہ پیدا کیا اور تمھیں بھائی بھائی بنایا، لیکن تم نے ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے کا نجس فعل انجام دینے کا عہد کر لیا۔ اسلام نے تمھیں خیر امت کا خطاب دیا تھا، مگر تم نے اس کی قدر نہ کی اور خیر کے مقابلے میں شر کو اپنا لیا۔ بتاؤ، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
شیعو اور سنیو! تم اتنے قدیم ہو جتنا کہ اسلام۔ تمہاری ابتدا تقریباً اسی روز شروع ہو جاتی ہے جب خلافت راشدہ کا دور ختم ہو رہا تھا اور حکومت وقیصریت اپنی نمود کے لیے پر تول رہی تھیں۔ اسلام کی عمر بھی قریب سوا چودہ سو سال ہے اور تم نے بھی زندگی کی اتنی ہی بہاریں دیکھ لی ہیں۔ اس سوا چودہ سو برس کی طویل مدت میں تم ایک دوسرے کے لیے رحمت نہیں بن سکے بلکہ زحمت ہی رہے۔ تم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا عدو بنے، ایک دوسرے سے نبرد آزما رہے، ایک دوسرے کے لیے پنجہ شکنجہ ثابت ہوتے رہے۔ تم نے تلواریں بھی نکالیں اور تیر بھی پھینکے، سینے بھی چھیدے اور گردنیں بھی کاٹیں اور پھر ’’تحفہ افغان‘‘ کلاشنکوف بھی سینے کے ساتھ قرآن کی جگہ لٹکائے پھرے۔ نہ تو خانہ خدا کا سوچا اور نہ ہی امام بارگاہ کی حفاظت کر سکے، لیکن یہ بتاؤ کہ کیا تم ایک دوسرے کو ختم کر سکے؟
کیا عالم اسلام کا کوئی گوشہ ایسا ہے کہ جہاں تم موجود نہ ہو؟ کیا تم میں سے کوئی اپنا وجود قائم رکھنے اور دوسرے کے وجود کو مٹا دینے میں کامیاب ہوا؟ جو کام تم سوا چودہ سو سال میں نہیں کر سکے، کیا اب وہ کر سکو گے؟ دلی پر مغلوں کی حکومت تھی۔ وہ سنی تھے۔ لکھنو پر نوابان اودھ حکمران تھے۔ وہ شیعہ تھے۔ بے جا پور گولکنڈہ وغیرہ کی حکومتیں شیعہ تھیں۔ حیدر آباد کی راج دھانی پر سنی حاکم تھے۔ یہ ساری حکومتیں شخصی اور مطلق العنان تھیں، مگر کیا ان حکومتوں میں صرف وہی لوگ بستے تھے جو حکمران کے ہم مذہب ہوں؟ کیا مغلوں کے وزیر شیعہ نہیں تھے؟ کیا شیعوں کے دربار میں وزارت اور منصب سنیوں کو تفویض نہیں تھے؟ کتنی عجیب بات ہے، مطلق العنانی کے دور میں تم ایک دوسرے کو ختم نہیں کر سکے اور اب اینٹیں اور پھر سوڈے کی بوتلیں ایک دوسرے کے سر پر پھینک کر یہ توقع کرتے ہو کہ فریق مخالف کا وجود مٹا دو گے!
مسجد اقصیٰ اور مصر پر کئی سو برس تک اور شام، حجاز، عراق اور یمن پر عرصہ دراز تک شیعوں نے حکو مت کی اور بڑے جاہ وجلال سے کی۔ تاریخ کے اوراق ان کے دبدبے کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں، لیکن کیا آج ان مقامات پر سنیوں کی اکثریت نہیں؟ بغداد پر پانچ سو سال سے زیادہ عباسیوں کا پرچم اقبال بلند رہا اور بعض خلفا وقتاً فوقتاً شیعوں سے الجھتے رہے، لیکن کیا وہ حدود مملکت سے شیعوں کو نکال سکے؟ اور پھر انھی عباسیوں کا پرچم اقبال جب گہن میں آیا اور ایک شیعہ خاندان دیامہ ان کا متولی بنا تو کیا اس نے بغداد کو شیعہ کر لیا؟
تاریخ نہ تو افسانہ ہے اور نہ ہی افسانے کا حصہ، لیکن اس کی دلچسپی انتہائی دلچسپ ہوتی ہے اور سبق آموز۔ اس طلسم ہوش ربا کے اوراق نکالو اور دیکھو کہ کیا بد ترین دشمنی کے باوجود تم ایک دوسرے کو ختم کرنے میں کام یاب ہو سکے؟ کیا تمھاری خانہ جنگی اور باہم کشت وخون نے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا؟ تم تب بھی موجود تھے اور اب بھی موجود ہو، پھر بھی موجود رہو گے، لیکن کیا تمھاری اس حرب وپیکارِ باہمی نے کئی حکومتوں کا چراغ گل نہیں کردیا؟ کیا تمہاری قابل رشک تہذیب وتمدن کے نقوش فنا نہیں ہوئے؟ کیا تمھارے غلبہ وسطوت کو داستان ماضی نہیں بنا دیا گیا؟ تم سلامت رہے، مگر تم نے اسلام کو فنا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تمھارے زخم مندمل ہو گئے، لیکن جو زخم جسد مطہر اسلام پر لگے تھے، وہ آج تک رس رہے ہیں۔ تمھاری زندگی کا رشتہ قائم رہا، مگر اسلام کے مقدس حلقوم پر کند چھری چلتی رہی۔ کاش تم مٹ گئے ہوتے مگر اسلام کی شان وتجمل میں کمی نہ آنے پاتی۔ کاش تم اس حقیقت کو سمجھ لیتے۔ تم ہزار بار مرتے، مگر اسلام کو سلامت رکھنے کے لیے۔
شیعو اور سنیو! تم نے یہ نہ سوچا، یہ بھی نہ دیکھا کہ تم ایک جسم کی دو آنکھیں ہو، ایک گاڑی کے دوپہیے ہو، ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہو۔ اسلام نے دنیا کو تہذیب وحضارت کی صورت میں، تمدن کی صورت میں، علم وفن کی صورت میں جو کچھ دیا ہے، اسے اگر آپس میں تقسیم کر لو تو کیا باقی رہ جائے گا؟ ہر چیز ناقص، ناممکن، بے سرمایہ اور بے مایہ۔ تم نے دنیا کو بڑی اچھی عمارتیں دیں، لیکن کیا وہ صرف شیعوں نے تخلیق کی تھیں؟ الحمرا سے لے کر تاج محل تک فقط ایک جائزہ لے کر دیکھو۔ تم نے علم کا چراغ ظلمت کدہ فرنگ میں روشن کیا اور حکمت کی جامع الازہر شیعوں کی ناقابل فراموش یادگار نہیں؟ کیا بغداد کا مدرسہ نظامیہ سنیوں کا کارنامہ نہیں تھا؟ کیا ان علمی کارناموں کو تقسیم کر کے تم فخر سے اپنا سر اونچا کر سکتے ہو؟ کیا یہ کارنامے مسلمانوں کے نہ تھے، شیعوں اور سنیوں کے تھے؟ صرف شیعوں کے یا صرف سنیوں کے؟
تمھیں فخر ہے کہ دنیا کو تاریخ کے فن سے تم نے آشنا کیا ہے اور یہ فخر بھی بے جا نہیں، امر واقع اور عین حقیقت ہے۔ مگر کیا تاریخ کی بہترین کتابیں یعقوبی اور مسعودی وغیرہ شیعوں کی لکھی ہوئی نہیں ہیں؟ تمھارا دعویٰ ہے اور بجا دعویٰ ہے کہ منطق اور فلسفے کا فن تم نے زندہ کیا۔ تم نے یونانی اور ہندی زبانوں کی کتابوں کے ترجمے کیے اور ان میں اتنا اضافہ کیا، اتنی اصلاح کی کہ اسے ایک نیا فن بنا دیا جس کے خالق صرف تم تھے۔ جغرافیہ، حساب، ہیئت، طب، سرجری، تصوف اور روحانیت، ادب اور شاعری، غرض کہ معقول ومنقول میں تمہارے لازوال اور غیر فانی کارنامے مشترک نہیں ہیں؟ کیا ان پر صرف شیعیت اور سنیت کا لیبل لگایا جا سکتا ہے؟
کاش صرف ایک اللہ ہی کے نام پر صرف ایک مرتبہ ہی سوچ سکو کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں تمہاری سیاست ملی، تاریخ کا حصہ ہے۔ حصول مملکت سے قبل تمھاری سیاست ملی کا طوفان بدوش، ہنگامہ خیز اور انتشار انگیز دور کیا بھلایا جا سکتا ہے؟ نہ انگریزوں کی بارگاہ میں تمہاری کوئی حیثیت تھی اور نہ ہی کوئی پہونچ اور نہ ہی پوچھ تھی، نہ ہندو تمہارا وجود برداشت کرتے تھے۔ پھر بھی وہاں تم نے جداگانہ انتخاب کا فن حاصل کیا۔ مجالس آئین ساز میں اپنی نشستیں متعین کیں، پبلک سروس کمیشن سے اپنے حقوق منوائے۔ اس جدوجہد میں کیا محسن الملک کے ساتھ ساتھ سنیوں سے زیادہ شیعہ نہ تھے؟ کیا ان کے یہ تمام احسانات فراموش کیے جا سکتے ہیں؟ مشہد مقدس پر جب بمباری ہوئی تھی، ایران پر جب روس کے دندان تیز ہو رہے تھے اور فرنگی حکومتوں کو صرف اس بات کا خیال تھا کہ اسے کس طرح اپنی نوآبادی بنایا جائے، کیا وہ محمد علی نہیں تھا جو شیعوں کی حمایت میں ڈٹ گیا؟ کیا وہ ابو الکلام نہ تھا جس کے ’’الہلال‘‘ سے اس سلسلہ میں گراں بہا ضمانت طلب ہوئی تھی؟ کیا وہ سلیمان ندوی نہ تھا کہ جس نے مشہد مقدس کے حوالے سے ایک لرزہ خیز مقالہ لکھ کر مسلم ہند میں تہلکہ مچا دیا تھا؟ کیا یہ سب سنی نہ تھے؟ کیا تمھاری سیاست ملی کی تاریخ بھی شیعہ سنی میں منقسم ہو سکتی ہے؟ کیا وہ مشترک اور ناقابل تقسیم اور قابل فخر میراث نہیں؟
پھر ہندوؤں کی چیرہ دستی، تنگ دلی اور ہوس استعمار سے تنگ آ کر جب تم نے اپنا ایک جداگانہ وطن بنانے کا فیصلہ کیا تو کیا قائد اعظم بنانے کے لیے تمہارے اقبال، تمہارے شوکت علی اور تمہارے شبیر احمد عثمانی کی نگاہ محمد علی جناح پر نہیں پڑی جو شیعہ تھے؟ کیا جناح کے سوا کوئی اور بھی حصول پاکستان کی جنگ لڑ کر کامیاب ہو سکتا تھا؟ کیا تمھارے سواد اعظم نے ان کے سر پر قیادت کا تاج نہیں رکھا تھا؟ کیا اسے صرف سنی، قائد اعظم بنا سکتے تھے؟ کیا صرف شیعہ یہ منصب انھیں سونپ سکتے تھے؟ کیا تمھاری عظیم ترین اکثریت نے، جن میں غالب اکثریت سنیوں کی تھی، یہ منصب انھیں نہیں سونپا تھا؟ راجہ صاحب محمود آباد، راجہ غضنفر علی خان، ایم ایچ اصفہانی اور دوسرے شیعہ اکابرین نے بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا تھا؟
کشمیر تمھارے لیے نصف صدی سے زندگی وموت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور دوسرے ممالک کو چھوڑ کر بتاؤ کن اسلامی ممالک نے اس بات پر تمھارا ساتھ دیا، تمہاری حمایت کی؟ کیا مصر نے؟ عراق نے؟ یمن نے؟ سعودی عرب نے؟ افغانستان نے؟ لیبیا نے؟ شام نے؟ انڈونیشیا نے؟ اردن نے؟ مجھے یقین ہے کہ اگر تمھیں ماضی سے ذرا بھی واقفیت ہے تو تمھارا جواب ہوگا کہ نہیں، لیکن تمام سنی ممالک کے مقابلے میں صرف ایران کا نام لیا جا سکتا ہے جو ایک شیعہ ملک ہے۔ کیا تم پھر بھی ان کے سفارت کاروں کو موت کی وادی میں ڈالنے کی رسم کو جاری رکھو گے؟ کیا قیام پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک ایران مسلسل اور غیر منقطع طور پر ہر معاملے میں تمھارا ساتھ نہیں دے رہا؟ جس ’’احسان‘‘ کا جواب تم نے لاہور میں دیا، ملتان میں دیا، کراچی میں دیا اور کس طرح کہ ان کی لاشوں کے تحفے پاکستانی جہاز لے کر تہران میں اترے۔
شیعو اور سنیو! تم ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہو، ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو۔ ہرگز اور کبھی بھی ایک دوسرے کو فنا نہیں کر سکتے ہو، لہٰذا بھائی بن کر رہو، بھائی بن کر لڑو، لیکن بھائی بن کر گلے لگ جاؤ۔ جو زخمی ہوئے، خواہ شیعہ تھے خواہ سنی تھے، مسلمان ضرور تھے۔ ان کے زخم کی کسک تم اپنے دل میں محسوس کرو۔ جو ہلاک ہوئے، خواہ ان کامسلک شیعہ تھا یا سنی، بہرحال وہ مسلمان تھے، لہٰذا ان کی ہلاکت کو اپنے بھائی کی ہلاکت سمجھو اور اس کے داغ کو اپنا داغ سمجھتے ہوئے اپنے آنسوؤں سے دھو ڈالو۔ اللہ پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
محترمی ومکرمی حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی زیدت معالیکم ودام مجدکم
امید ہے آپ مع متعلقین بعافیت ہوں گے۔
کرم فرمائی کا بہت بہت شکریہ۔ مولانا محمد موسیٰ بھٹو کی عنایت تھی کہ انھوں نے میرے تعاون کے لیے آپ کو متوجہ فرمایا۔ میں نے آپ کے عنایت نامہ کی اطلاع خال محترم حضرت مولانا سنبھلی کو دی، انھوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور یہ بھی خیال ظاہر کیا کہ آپ کی رہنمائی اور مشورے میرے لیے بہت مفید رہیں گے۔ اس سلسلے میں دو ایک باتیں دریافت طلب ہیں۔
۱۔ فارغین کے لیے قائم شدہ ادارے کا نظم الاوقات کیا رہتا ہے؟
۲۔ کیا ان سے بھی کچھ علمی کام کروایا جاتا ہے؟
۳۔ معاصر علمی وفکری بحثوں میں سے کیا کیا موضوعات زیر بحث آتے ہیں؟ (یعنی آپ کی نظر میں کیا چیزیں اولیت کی مستحق ہیں؟)
۴۔ میں نے اس مسئلے پر جب غور کیا تو سب سے پریشان کن مسئلہ سامنے آیا کہ مدارس کے اچھے طلبہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر قرآن اور حدیث کے ذخیرے پر ضروری حد تک بھی نہیں ہوتی۔ قرآن کا براہ راست اور موضوعاتی علم بالکل نہیں ہوتا۔ اسی طرح حدیث میں وہ صرف احادیث احکام پر نظر رکھتے ہیں اور اس میں بھی فقہاء متاخرین کا انداز فکر ان میں بڑا رچا بسا ہوتا ہے۔ ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ علمی مسائل کی تحقیق اور مطالعہ کیسے کیا جاتا ہے۔ اب اگر قرآن وسنت پر بھی اچھی نظر نہ ہو تو وہ عالم جدیدیت سے باخبر ہو کر کس کام کا ہوگا؟ اس مسئلے کی وجہ سے مجھے اس ادارے کی مدت دو سال رکھنی پڑ رہی ہے۔ پھر بھی یقین نہیں کہ یہ مدت کس حد تک کافی ہوگی۔ آپ اس سلسلے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
ابھی کل ’الشریعہ‘ کے جنوری تا جون کے شمارے ملے۔ بہت بہت شکریہ۔ امید ہے اب لگاتار آتا رہے گا۔ ہم نے جون کے الفرقان میں اجتہاد پر آپ کا مضمون (پاکستانی پس منظر سے جڑی چیزوں کے حذف کے ساتھ) شائع کیا ہے۔ یہاں احباب نے پسند کیا۔ آئندہ بھی مدارس اور ان کے نصاب ونظام سے متعلق آپ کی تحریریں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ ابھی صرف اساتذہ کے مذاکرے کی رپورٹ دیکھنی شروع کی ہے۔ الشریعہ اکیڈمی کی یہ بڑی مبارک پہل ہے۔
ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تحریریں عموماً بڑی قیمتی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ پھر آپ کی عنایت اور تعاون کا بہت بہت شکریہ۔ حضرت والد ماجد دامت برکاتہم کی خدمت میں دعاؤں کی خصوصی درخواست پیش فرما دیں۔
والسلام۔ نیاز مند
یحییٰ نعمانی
(۲)
محترم جناب مولانا عمار خا ناصر صاحب، مدیر الشریعہ
السلام علیکم
’الشریعہ‘ میں محترم ومکرم مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی اعتدال پسندانہ تحریر سے خوشی ہوئی کیونکہ موجودہ زمانہ میں علماء حق علماء دیوبند کے اعتدال سے ہٹ کر بہت سے لوگوں نے اپنے من پسند نظریات پر علماء دیوبند کا غلاف چڑھانے کی کوشش کی ہے اور اسی کو علماء حق کا صحیح مشن سمجھ کر لوگوں کو بھی اسی راہ پر لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل تشیع سے اختلافات اپنی جگہ، مگر اس تشدد کو کوئی بھی سنجیدہ انسان پسند نہیں کرے گا۔ ہمارے اکابر نے دلائل کے میدان میں ہر باطل کا تعاقب کیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا عبد الشکور لکھنوی نے بھی مدح صحابہ کی تحریکیں چلائیں مگر ان تحریکوں میں اس قسم کا کوئی تشدد نہیں پایا جاتا۔ ہماری نوجوان نسل کو جس راستے پر ڈالا جا رہا ہے، یہ ہرگز علماء دیوبند کا مشن نہیں۔ جو شخص صحابہ کرام کا دفاع نہ کرے، ہمیں اس کے اسلام پر کوئی اعتبار نہیں، مگر صحابہ کرام کا دفاع گولی اور گالی سے نہیں، بلکہ دلائل اور اپنے کردار سے کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے ان تحریروں کو بھی شیعیت نوازی سے تعبیر کیا جائے، مگر اپنے اکابر کے نقش قدم سے ہٹے ہوئے جذباتی نوجوانوں کو اپنے اکابر کے نقش قدم پر لانا ہر درد دل رکھنے والے دیوبندی کے لیے ضروری ہے۔
ہمارے ہاں یہ بیماری بہت زیادہ پھیل چکی ہے کہ اپنے ذوق کے خلاف کسی بات پر دماغ خرچ کرنے کے لیے ہم تیار ہی نہیں ہوتے، اگرچہ وہ بات حق اور سچ اور دلیل کے لحاظ سے بے غبار کیوں نہ ہو۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب اور ان جیسے درد دل رکھنے والے اہل قلم حضرات کو چاہیے کہ اس وادی پر خار میں قدم رکھ کر جذبات کی رو میں بہ جانے والے نوجوانوں کو اکابر علماء دیوبند کا صحیح راستہ دکھائیں اور اس نقصان عظیم سے نوجوان نسل کو بچائیں۔
میں شوکت بہار کا منکر نہیں ہوں دوست
دل کانپتا ہے پھول کا انجام دیکھ کر
والسلام
مومن خان عثمانی
مدرسہ مخزن العلوم۔ کٹھائی۔ تحصیل اوگی۔ ضلع مانسہرہ
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ‘‘
نظریہ حیات کوئی سا بھی کیوں نہ ہو، جب تک اسے اشاعت پذیر کرنے کا شعوری اہتمام نہ کیا جائے، وہ سمٹ کر چند دماغوں تک محدود رہ جائے گا اور امتداد وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا۔اسلام ایک نظریہ حیات کی حیثیت سے ابتدا ہی سے اس امر کا متقاضی رہا ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ کا پیغام ملکوتی واسطوں سے انبیاء ورسل تک پہنچا اور پھر انھوں نے اسے خلق خدا تک پہنچانے میں اپنی بھرپور توانائیاں کھپا دیں۔ یہ سلسلہ ایسا مہتم بالشان رہا کہ اس میں کوئی کڑی گم نہیں ہونے پائی۔ خداے عزوجل نے بات کبھی براہ راست قلب پیغمبر پر الہام کی تو کبھی ملکوتی وسیلے سے القا والہام کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب ان رسولان برحق کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ بحیثیت انبیا کے عالم کو ان آسمانی خبروں سے آگاہ کریں۔ یہ نفوس قدسیہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں یہ فریضہ انجام دے کر رخصت ہوئے۔ مشیت الٰہی سے اس سلسلۃ الذہب کے روشن دل افراد کا دائرہ کار کبھی قومی سطح تک اور کبھی ملکی وجغرافیائی حدود وثغور تک محدود رہا۔ تاہم جب کار نبوت اپنے انتہائی نقطہ عروج تک پہنچ گیا تو خداے قدوس نے اسے عالمگیر اور آفاقی انداز عطا کر دیے اور جس رسول اعظم وآخر پر ختم نبوت کرنا تھی، اسے ’وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا‘ کے حسین لفظوں سے مخاطب فرما کر اس پیغام کو پوری انسانیت کے لیے عام کر دیا۔ اب یہ پیغام تمام زمانی ومکانی حدود وثغور کو پار کرتا ہوا جملہ اکناف عالم تک جا پہنچا۔ جس بالا بلند ہستی کو اس پیغام کے لیے اختصاص عالمگیریت بخشا گیا، اسے اس بات کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی کہ ’یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ‘۔
یوں تبلیغ دین فریضہ پیغمبر ٹھہرا۔ حق یہ ہے کہ پیغمبر نے ہر کڑی آزمایش جھیلی، ہر دکھ بطیب خاطر اٹھایا، ہر کٹھن مرحلہ طے کیا اور پوری دل سوزی اور جانفشانی سے اس خوشگوار فریضے کو انجام دیا۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ خود خالق اکبر نے اپنی شان رحیمی کے جوش میں رحمۃ للعالمین کی دل گدازیوں کی قدر افزائی کرتے ہوئے فرمایا: ’لعلک باخع نفسک علی آثارہم ان لم یؤمنوا بہذا الحدیث اسفا‘۔ تبلیغ ودعوت کو تو فریضہ قرار دیا گیا، مگر اس امر کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی کہ ایک ایک مدعو حلقہ بگوش اسلام ہوگا تو پیغمبر اس دنیا سے رخصت ہوگا، بلکہ اس طمانینت بخش اور دل نواز ارشاد سے نوازا گیا کہ ’انما علیک البلاغ وعلینا الحساب‘۔
سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی سرگرمیوں کی ابتدا آغاز نبوت ہی سے ہو گئی اور پھر تیئیس سال کے عرصے کا ایک ایک لمحہ انھی تبلیغی مساعی میں بیتا۔ آپ کی دعوتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی تبلیغی کوششیں بھی برابر جاری رہیں۔ اس کار دشوار میں اس فریضے کی یاد دہانی کوئی ایک لاکھ فرزندان توحید کے سامنے ان الفاظ کے ساتھ کرا دی گئی کہ ’فلیبلغ الشاہد الغائب‘۔ اور ’بلغوا عنی ولو آیۃ‘ کے الفاظ ہر مسلمان کو اس فریضے کا بقدر استطاعت مکلف کر رہے ہیں۔ صحابہ کرام تو پہلے بھی اس فریضے سے غافل ومتساہل نہ تھے، اب اور بھی زیادہ سرگرم عمل اور حساس ہو گئے۔ ان کا یہی احساس دعوت تھا جس نے آئندہ ادوار میں اس پیغام الٰہی کو دنیا کے ہر کونے تک پھیلا دیا۔
ان کا طریق دعوت کیا تھا؟ کون سے وسائل وذرائع اختیار کر کے فرزندان آدم کے اس پاک باز گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے اس کام کو تسلسل بخشا؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب کتاب اللہ کے مابین الدفتین اور پھر حدیث کے مبارک ذخیرے میں بکھرے موتیوں کی طرح جابجا جھلک جھمک رہا ہے۔ انھی چمکتے دمکتے موتیوں کی آب وتاب کو بعض اہل علم نے اپنی علمی کوششوں سے تدوین وترتیب کا نیا پیراہن دے کر اس میدان میں علمی وعملی دلچسپی رکھنے والے داعیان اسلام کے لیے کام آسان کر دیا ہے۔ (ان کتابوں میں سے کم از کم ۱۲ وقیع شہ پاروں کا زیر نظر کتاب کے صفحہ ۳۳، ۳۴ اور ۳۵ کے حواشی میں تفصیلی ذکر موجود ہے)۔ یہ کتابیں بالعموم صحابہ کرام کے اسلوب دعوت پر خاصی روشنی ڈالتی ہیں۔ متداول طریقوں کو ان میں سے بعض حضرات نے جزوی طور پرموثر قرار دیا ہے، تاہم بعض دوسروں نے ان طریقہ ہائے دعوت سے اختلاف کر کے ان کی کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر ’’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘‘ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے مروجہ طرق دعوت پر گرفت کر کے ان کی غلطیوں پر انگلی رکھی ہے:
’’ہمارے نزدیک مروجہ طریقہ تبلیغ میں علمی اور عملی دونوں قسم کی غلطیاں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ یہ طریقہ تبلیغ اپنے فلسفہ کے اعتبار سے بھی غلط ہے اور اپنے طریقہ کار کے پہلو سے بھی غلط ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ اسلام کے نام سے اب تک جتنی جدوجہد بھی کی گئی ہے، وہ بیشتر نہ صرف یہ کہ اصل مقصد کے لحاظ سے لاحاصل رہی ہے بلکہ الٹا اس سے اسلام کی دعوت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا اسلوب دعوت وتبلیغ ہے جس کو اپنا کر صحابہ کرام اس مشن میں کام یاب ہوئے اور جسے آج بھی حرز جان بنا کر مختلف خطہ ہائے ارض پر مختلف شعوب وقبائل کو قائلِ پیغام اسلام اور مائلِ دین وایمان کیا جا سکتا ہے؟ اسی ایک سوال کا جواب ہمارے سامنے کی یہ کتاب ’’صحابہ کرام کا اسلوب دعوت وتبلیغ‘‘ پیش کر رہی ہے۔ کتاب کے مصنف پروفیسر محمد اکرم ورک اسلامی علوم کے ایک نوجوان ریسرچ اسکالر ہیں۔ کتاب کمپیوٹر پر طبع شدہ ۳۵۲ صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ جمال کرم لاہور نے اسے خوب صورت سرورق کے ساتھ طبع کیا ہے۔ کتاب کے مشمولات پر ایک نظر ڈالنے سے پروفیسر موصوف کی اس نوجوانی کے عالم میں گہری علمی بصیرت اور موضوع زیر نظر کے لیے ان کی عقلی اور سائنٹفک اپروچ کا پتہ چلتا ہے۔ یہ تنقیح مسائل اور احقاق حق میں خاصی شعوری کوشش ہے۔ غیر جذباتی انداز میں تحقیق کاری کے جملہ لوازم کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کتاب کے محتویات کے سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا قلم کار عنوانات کو چابک دستی سے مرتب ومدون کرنا جانتا ہے۔ ’دعوت کی اہمیت‘، ’داعیان اسلام کے لیے رہنما اصول‘، ’صحابہ کرام کی دعوتی سرگرمیاں‘، ’مکی اور مدنی ادوار کا نازک فرق‘، ’نبوی سفرا کی سیرتوں کی شفافیت‘، ’فروغ اسلام کی عمومی وجوہات‘ جیسے عنوانات قائم کر کے بڑی علمی گہرائی اور گیرائی سے کلام کیا ہے۔ قرآن وحدیث سے استناد کر کے بنیاد داعی کے اسلوب دعوت میں علمی سے بڑھ کر عملی جہد مسلسل پر رکھی ہے۔ صحابہ کرام کی انفرادی دعوت ہو یا اجتماعی جہد وپژوہش، ان کے کردار ہی کو اولیت دے کر اس گوشے کو highlight کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ آنحضور کا دعوتی منہاج ہی ان حضرات کے لیے مشعل راہ رہا، اس لیے ان کا آپس میں بعض امور میں اختلاف بھی منشاے رسول کا غماز ہے۔ کتاب میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عمار بن یاسر کے بلند جگہ پر امامت کرانے پر حضرت حذیفہ کا فرمان رسول یاد کرانا اور عمارؓ کا فرط اطاعت رسول سے سرتسلیم خم کر دینا اس کی روشن مثال ہے۔ الم تسمع رسول اللہ یقول اذا ام الرجل القوم فلا یقم فی مکان ارفع من مقامہم قال عمار لذالک اتبعتک حین اخذت علی یدی۔ (ص ۳۰۶)
داعی کے اوصاف جگہ جگہ باضابطہ طریقے سے بالوضاحت بیان کیے گئے ہیں اور مدعو کے میلانات، رجحانات ، ذہنی صلاحیت وصالحیت، پس منظر وپیش منظر، نفسیاتی کیفیات ومعاشرتی حیثیت کے لحاظ سے دعوت دین کے جو وسائل وطرق صحابہ کرام نے استعمال کیے، موصوف نے انھیں نہایت تحقیقی انصرام سے پیش کیا ہے۔ دور نبوی کے مراکز تبلیغ پر بڑے اچھوتے انداز سے قلم اٹھایا ہے اور مستند روایات سے ان کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے ایک سچے اور بے لاگ محقق کی طرح طریقہ تحقیق کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ قرآن نے دعوت کے جو زریں اصول مجملاً بیان کیے ہیں، مولف نے انھیں آیت قرآنی ’ادع الی سبیل ربک‘ (۱۶/۱۲۵) کی روشنی میں مبلغ کی جملہ دعوتی سرگرمیوں کا محور بنایا ہے۔
یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی انسانی کوشش مکمل واکمل نہیں ہوتی۔ ’خلق الانسان ضعیفا‘ کے مصداق ہر انسانی کوشش میں کوتاہیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں کہ اس کی فطرت کا خاصہ ہے۔ یوں بعد میں آنے والے ان کا احساس کر کے ان کے ازالے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہتی ہے۔ کبھی تو ’نقاش نقش ثانی بہتر کشد ز اول‘ اور کبھی کوئی دوسرا محقق ان خلاؤں کو پر کر دیتا ہے جو پہلے کے کام میں رہ گئی ہوں۔
ص ۳۷ پر الفاظ ہیں: ’’دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں۔ ایک داعی اور دوسرا مدعو۔‘‘ یہ بات بالکل سچ ہے، مگر ان کرداروں کا رول اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک مضامین دعوت کا بھی کسی قدر تفصیل سے تذکرہ نہ ہو۔ جس طرح داعی اور مدعو یا مخاطِب اور مخاطَب پر مختلف عنوانات سے تفصیلی بحث آ گئی ہے، دعوت وپیغام کے جاندار اور شاندار ہونے پر بھی کچھ کلام ہو جاتا تو شاید بہتر ہوتا۔ داعی کتنا ہی بلند فکر اور زور دار شخصیت کا مالک کیوں نہ ہو، مخاطبین اثر پذیر نہیں ہو سکتے جب تک کہ مضامین دعوت یا پیغام ہی جاندار نہ ہو۔ میری دانست میں بہتر تھا کہ ان مضامین دعوت کی اثر انگیزی پر بھی اجمالاً ہی سہی، بات ضرور ہوتی۔
کتاب اپنی ہمہ جہت خوبیوں کے باوصف ایک کمی کا شدت سے احساس دلاتی ہے اور وہ یہ کہ مسودہ خوانی کو گلدستہ طاق نسیاں کردیا گیا ہے۔ پوری کتاب پر اس زاویہ نگاہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ خیال ہے کہ نقش ثانی ان معائب سے مبرا ہوگا۔ تاہم ان جزوی اور ثانوی کمیوں کے باوصف کتاب اہمیت وافادیت کے اعتبار سے تحقیق وجستجو کا عمدہ نمونہ ہے:
- روایات میں جھول نہیں، کوئی روایت پایہ استناد سے گرنے نہیں پائی۔
- ہر واقعے کو روایت ودرایت کی کسوٹی پر بآسانی پرکھا جا سکتا ہے۔
- قرآنی آیات سے استدلال برمحل بھی ہے اور مناسب حال بھی۔
- حوالے تفصیلی ہیں جن سے قاری کسی بھی آیت یا حدیث کو بآسانی قرآن مجید یا مجموعہ ہائے حدیث سے تلاش کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ حوالہ اگر کتب متداولہ برصغیر سے ہے تو مطبع کا حوالہ ضروری ہے، ورنہ جدید کتب کا حوالہ رقم حدیث کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔
- کتابیات میں ٹھیک ٹھیک تحقیقی مقالے کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔
- انداز بیاں علمی ہونے کے باوجود سادہ، دل نشیں اور پرکشش ہے۔ چند صفحات کے مطالعے کے بعد مزید تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔
فی الجملہ جو لوگ دعوت وتبلیغ میں اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب بہت بڑی رہنما کتاب کا حکم رکھتی ہے اور اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہی طریق دعوت کارآمد ومفید ثابت ہوگا جس کو اختیار کر کے صحابہ کرام نے اس دھرتی کے کونے کونے تک یہ پیغام پہنچایا، جس کا سب سے بڑا خاصہ للہیت، اخلاص، سیرت کی شفافیت اور کردار کا اجلا پن تھا۔ اسی قوت سے انھوں نے ایک عالم کو اپنا ہم نوا بنایا اور اس منہج پر چل کر آج بھی دنیا کو اپنا ہم مشرب بنایا جا سکتا ہے کہ یہ کام اب جملہ افراد امت کا ہے۔
خدمت ساقی گری با ما گزاشت
داد ما را آخریں جامے کہ داشت
(پروفیسر غلام رسول عدیم)
’’تحریک احمدیت ۔ یہودی وسامراجی گٹھ جوڑ‘‘
قادیانیت پر اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں پر سینکڑوں اہل علم ودانش نے قلم اٹھایا ہے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ قادیانی تحریک کے سیاسی اور معاشرتی رخ پر علامہ اقبالؒ ، چودھری افضل حقؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ جیسے نامور مفکرین اور اصحاب قلم نے بحث کی ہے اور قادیانیوں کے مذہبی عقائد کو حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیریؒ ، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ اور حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ جیسے سربرآوردہ علماء کرام نے بے نقاب کیا ہے جبکہ قادیانیت کے عمومی تعارف پر پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصانیف امتیازی حیثیت کی حامل ہیں۔ ہمارے دور کے معروف فاضل اور محقق جناب بشیر احمد نے بھی قادیانیت کے سیاسی پس منظر اور سامراجی آلہ کار کی حیثیت سے اس گروہ کے کردار کا جائزہ لیا ہے اور اس کے آغاز سے اب تک کے تمام ادوار کا احاطہ کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی امت کی سازشوں اور سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اصل کتاب انگریزی میں ہے جیسے جناب احمد علی ظفر نے اردو کا جامہ پہنایا ہے۔ ایک ہزار کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ معیاری اور ضخیم کتاب ادارۂ اصلاح وتبلیغ وقف بلڈنگ، آسٹریلیا مسجد ریلوے روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۳۰۰ روپے ہے۔
(ابو عمار زاہد راشدی)
’’گلوبلائزیشن اور اسلام ‘‘
’گلوبلائزیشن‘ معاصر سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی موضوعات سے ایک نہایت اہم موضوع ہے اور اس کے گوناگوں پہلوؤں پر مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’گلوبلائزیشن اور اسلام ‘‘ مولانا یاسر ندیم کی تصنیف ہے اور پیش لفظ ، حرفِ آغاز اور مولانا نور عالم خلیل امینی کے مقدمے کے ساتھ ساتھ اشاریہ اور مآخذ و مراجع کی فہرست سمیت یہ کتاب ۴۵۶ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ مصنف نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کر کے پانچ مختلف جہتوں سے گلوبلائزیشن کے اثرات ومظاہر کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابواب کے عنوانات حسب ذیل ہیں: (۱) گلوبلائزیشن کیا ہے؟ (۲) سیاسی عالمگیریت (۳) اقتصادی عالمگیریت (۴) ثقافتی عالمگیریت (۵) معاشرتی و اخلاقی عالمگیریت۔
یہ کاوش اس لحاظ سے سراہے جانے کے قابل ہے کہ یہ فاضل مصنف کی پہلی تصنیفی و تحقیقی کوشش ہے اور انھوں نے قلم اٹھاتے وقت مروج نظری مذہبی مباحث کے بجائے انسانی سوسائٹی کو درپیش زندہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلے کا چناؤ کیا ہے جس سے ان کی سوچ کے رخ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اس موضوع پر اتنی مبسوط کتاب غالباً ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئی۔ کتاب میں گلوبلائزیشن کے ذیلی موضوعات کا تفصیلی تذکرہ حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسلوبِ بیان نہایت شگفتہ، رواں اور ادبی چاشنی کا حامل ہے۔
تاہم گلوبلائزیشن کے ذیلی موضوعات کے احاطے کے باوجود معروضی رویے کا فقدان واضح طور پر محسوس ہوتا ہے اور مسائل کے تجزیہ وتحلیل سے زیادہ مواد کے جمع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گلوبلائزیشن پر تنقید کے ساتھ اس سے نبرد آزما ہونے اور اس رجحان کو صحیح رخ پر ڈالنے کی بات تو ایک طرف رہی ، فاضل مصنف گلوبلائزیشن کو بطور مظہر پیش کرنے کے حوالے سے ’’امریکی و یہودی فوبیے ‘‘ کا شکار ہوکر دیگر نقطہ ہائے نظر سے بھی انصاف نہیں کر پائے۔ چونکہ کتاب کے عنوان میں اسلام کا ذکر ہے، اس لیے ’’گلوبلائزیشن اسلام کی نظر میں ‘‘ کے زیر عنوان صرف بیس (۲۰) صفحات پر مشتمل آخری باب میں مصنف نے گلوبلائزیشن کو اسلامی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اس کے مقابل اسلامی پروگرام پیش کیا ہے۔ اتنی ضخیم کتاب کے مقابل میں صرف بیس صفحات میں اسلامی پروگرام کی تمام جہات کا مدلل اور جامع احاطہ یقیناًناممکن تھا ، اس لیے کتاب کا یہ باب، جسے سب سے زیادہ وقیع ہونا چاہیے تھا، سب سے کمزور صورت میں سامنے آیا ہے۔
ان تمام کمیوں کے باوجود راقم الحروف کی رائے میں ایسے احباب جو گلوبلائزیشن کی بابت کچھ نہیں جانتے یا پھر بہت کم جانتے ہیں، ان کے لیے یہ نہایت مفید کتاب ہے کہ اس میں خاصی معلومات اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ معلومات کے اس ذخیرے سے قارئین کرام حسبِ صلاحیت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان میں اس کتاب کو دارالاشاعت ( اردوبازار ، ایم اے جناح روڈ کراچی) نے شائع کیا ہے اور اس پر قیمت درج نہیں۔
(پروفیسر میاں انعام الرحمن)
مولانا محمد علی جوہر کی یاد میں ایک نشست
ادارہ
مولانا محمد علی جوہر تحریک آزادئ ہند کے عظیم رہنما اور تحریک خلافت کے قافلہ سالار تھے۔ آپ کی پیدایش ۱۰ دسمبر ۱۸۷۸ کو نجیب آباد رام پور انڈیا میں ہوئی جبکہ انتقال ۴ جنوری ۱۹۳۱ کو ہوا۔ آپ کی تدفین بیت المقدس میں ہوئی۔
۱۰ دسمبر کو مولانا محمد علی جوہر کے یوم ولادت کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پروگرام میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب فضل حمید چترالی (فاضل دار العلوم حقانیہ) نے انجام دیے۔ تلاوت کی سعادت جناب محمد صاحب (فاضل دار العلوم کراچی) نے حاصل کی جبکہ جناب ابوبکر محمود (فاضل خیر المدارس ملتان) نے بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ جناب محمد رمضان خالد (فاضل دار العلوم ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ) نے مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی زندگی پر روشنی ڈالی اور برصغیر کے عوام کی بیداری میں اخبار ’’کامریڈ‘‘ اور ’’ہمدرد‘‘ کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ جناب محمد شفیع (فاضل دار العلوم فیصل آباد) نے مولانا جوہر مرحوم کی پوری تحریکی زندگی کا تاریخی حوالوں کے ساتھ خلاصہ پیش کیا۔ انھوں نے مولانا محمد علی جوہر کی پوری زندگی کو سراپا عمل قرار دیا اور کہا کہ وہ ایسے بطل حریت تھے جنھوں نے انگریزی سامراج کو ہر میدان میں للکارا۔ جناب محمد توقیر (فاضل خیر المدارس ملتان) نے مولانا جوہر کو نوجوان نسل کے لیے مثالی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ مولانا نے علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو تحریک خلافت کے پلیٹ فارم پر جمع کر کے عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔
پروفیسر محمد اکرم ورک نے اختتامی کلمات میں طلبا کے خیالات کو سراہا اور اسلاف کے کارناموں کو یاد رکھنے کی تلقین کی۔ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف نے مولانا جوہر اور تحریک آزادی کے دیگر راہ نماؤں کے لیے خصوصی دعا کی اور اس طرح یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
(رپورٹ: منیر احمد، فاضل جامعہ اسلامیہ راول پنڈی، شریک خصوصی تربیتی کورس الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ)