فروری ۲۰۰۵ء

موجودہ صورتحال میں دینی حلقوں کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علامہ اقبالؒ کی شخصیت اور ان کا فکر و فلسفہ ۔ مولانا سندھیؒ کے ناقدانہ خیالات کی روشنی میںپروفیسر محمد سرور 
اسلامی حکومت کا فلاحی تصورپروفیسر میاں انعام الرحمن 
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اور فتنہ انکارِ سنت ۔ تفسیر ضیاء القرآن کی روشنی میںپروفیسر محمد اکرم ورک 
مکاتیبادارہ 
ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہپروفیسر میاں انعام الرحمن 
پشاور فقہی کانفرنس / الشریعہ اکادمی میں فکری نشستپروفیسر حافظ منیر احمد 
تعارف و تبصرہادارہ 

موجودہ صورتحال میں دینی حلقوں کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(لاہور سے شائع ہونے والے ایک دینی جریدہ ماہنامہ ’آب حیات‘ کی طرف سے گزشتہ دنوں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی سے ایک انٹرویو لیا گیا جو مذکورہ جریدہ کے جنوری ۲۰۰۵ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ یہ انٹرویو’آب حیات‘ کے شکریہ کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

سوال:  سب سے پہلے تو ہم آپ کو اپنے رسالہ ماہنامہ ’آب حیات‘ کی انتظامیہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے کچھ بتائیں۔
جواب: ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میں آباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آباو اجداد کسی زمانے میں نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہو گئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرا زخان صفدر صاحب دامت برکاتہم اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی مدظلہ العالی چھوٹے بچے تھے کہ ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آ گئے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مدرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر پنجاب کے مختلف مدارس، بالخصوص مدرسہ انوار العلوم، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں درس نظامی کا بڑا حصہ پڑھا۔ ۱۹۴۱-۱۹۴۲ میں دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔والد محترم ۱۹۴۳ سے گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مقیم ہیں۔ میری ولادت ۱۹۴۸ میں ۲۸؍ اکتوبر کو ہوئی۔ میری والدہ محترمہ کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا اور ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب گوجرانوالہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب تالاب دیوی والا، رام بستی کی ایک مسجد کے امام تھے۔
سوال:  اپنی دینی ودنیاوی تعلیم کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کریں۔
جواب:  میں نے قرآن مجید گکھڑ کے مدرسہ تجوید القرآن میں مختلف اساتذہ کرام سے حفظ کیا جس میں سب سے آخری اور بڑے استاد محترم قاری محمد انور صاحب ہیں جو کہ آج کل مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کے استاد ہیں۔ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ کو میرا حفظ مکمل ہونے پر گکھڑ کی جامع مسجد میں جو تقریب ہوئی، اس میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا قاری فضل کریم اور حضرت مولانا قاری محمد حسن شاہ صاحب نے شرکت فرمائی تھی اور میں نے آخری سبق ان بزرگوں کو سنایا تھا۔ درس نظامی کے بڑے حصہ کی تعلیم میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور میرے اساتذہ میں حضرت والد محترم مدظلہ اور حضرت عم مکرم مدظلہ کے علاوہ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی محمد اسلم صاحب، حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ صاحب اور حضرت مولانا جمال احمد بنوی مظاہری مدظلہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۷۰ میں مدرسہ نصرۃ العلوم سے میں نے فراغت حاصل کی۔
سوال:  عملی زندگی میں کب اور کیسے قدم رکھا؟
جواب:  دوران زمانہ طالب علمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ کی معاونت کے لیے بطور نائب خطیب میرا تقرر ہو چکا تھا، جبکہ اس سے قبل کم وبیش دو سال تک گتہ مل راہ والی کی کالونی کی مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتا رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مدرسہ انوار العلوم میں ۱۹۷۰ سے ۱۹۹۰ تک درس نظامی کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتا رہا ہوں۔
سوال:  اپنے دینی کام اور معاشرتی مصروفیات پر روشنی ڈالیں۔
جواب:  ۱۹۸۲ میں مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مستقل خطیب کی حیثیت سے میں نے ذمہ داری سنبھال لی تھی جو کہ بحمد اللہ تعالیٰ اب تک حسب استطاعت نباہ رہا ہوں۔ مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں تقریباً ۲۰ سال تک تدریسی خدمات انجام دیتا رہا ہوں جبکہ گزشتہ چھ سات سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات میرے سپرد ہیں اور والد محترم مدظلہ کی معذوری کے بعد صدارتِ تدریس اور نظامتِ تعلیمات کا بوجھ بھی میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 
علاوہ ازیں ۱۹۸۹ میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی قائم کی تھی جس کا مقصد دعوت اسلام اور دینی تعلیم کے حوالے سے عصری تقاضوں کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف دینی حلقوں کو توجہ دلانا تھا۔ بعد میں جی ٹی روڈ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین کسی دوست نے وقف کر دی جہاں باقاعدہ عمارت تعمیر کر کے تعلیم وتربیت کا ایک نظام قائم ہے اور مختلف کلاسوں کے علاوہ درس نظامی کے فضلا کی ایک سالہ کلاس اس وقت زیر تعلیم ہے جس میں اس سال تیرہ علماے کرام شریک ہیں جنھیں انگریزی وعربی زبانوں اور کمپیوٹر ٹریننگ کے علاوہ بین الاقوامی قانون، تقابل ادیان، تاریخ اسلام اور حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کی تعلیم کے ساتھ سیاست، معیشت اور نفسیات کے مضامین کا تعارفی مطالعہ کرایا جاتا ہے اور تحقیق ومطالعہ کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔ اکتوبر ۱۹۸۹ سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جسے علمی حلقوں میں بحمد اللہ تعالیٰ توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اس کام میں میرے دو بڑے معاون حافظ محمد عمار خان ناصر اور مولانا حافظ محمد یوسف ہیں۔ عمار خان ناصر میرا بیٹا ہے جو نصرۃ العلوم کا فاضل اور اس میں درس نظامی کا مدرس ہے۔ اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ تحقیق ومطالعہ کے ذوق سے بہرہ ور ہے۔ مولانا حافظ محمد یوسف بھی نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں اور درس نظامی کے علاوہ انگلش کے بھی اچھے استاد ہیں۔
صحافتی زندگی میں طالب علمی کے دوران ۱۹۶۵ میں روزنامہ ’’وفاق‘‘ لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے داخل ہوا۔ اس کے بعد جمعیت علماے اسلام کے آرگن ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کے ساتھ تعلق رہا اور متعدد بار کئی برس تک ایڈیٹر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اسلام آباد اور روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں کئی سال مستقل کالم نگار کے طور پر وابستہ رہا اور ’’نوائے قلم‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتا رہا۔ اب یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور میں لکھ رہا ہوں جبکہ روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں بھی ’’نواے حق‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھتا ہوں۔
بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک میں جانا ہوا جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، ازبکستان، ترکی، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور کینیا شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران شعبان المعظم اور اس کے ساتھ رمضان المبارک کا کچھ حصہ برطانیہ اور امریکہ میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت رہتی ہے اور متعدد دینی اداروں سے مشاورت اور معاونت کا تعلق ہے۔
سوال:  آپ نے کون سی جماعتوں اور تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا؟
جواب:  سیاسی وتحریکی ذوق طالب علمی کے دور سے ہے۔ جمعیۃ طلباے اسلام پاکستان کو منظم کرنے میں حصہ لیا اور جمعیۃ علماے اسلام میں بتدریج شہر، ضلع، صوبہ اور مرکز کی سطح پر سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے کاموقع ملا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میرا انتخاب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی تجویز پر ہوا اور پھر ان کی وفات تک ان کی معاون ٹیم کے ایک متحرک رکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۷۴ اور ۱۹۸۴ کی تحریک ختم نبوت میں عملی حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۷۴ کی تحریک ختم نبوت میں مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کیا۔ ۱۹۷۷ میں پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو اس کی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کی نمائندگی کی۔ پنجاب کا قومی اتحاد کا نائب صدر اور پھر سیکرٹری جنرل رہا۔ ۱۹۸۸ میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا تو اس میں بھی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں میں جمعیۃ علماء اسلام (درخواستی گروپ) کی نمائندگی کی اور صوبائی نائب صدر رہا۔
ملکی سیاسیات کے حوالہ سے اب بھی جمعیۃ علماے اسلام پاکستان سے وابستہ ہوں اور اس کا باقاعدہ رکن ہوں مگر متحرک کردار سے کنارہ کش ہوں، البتہ عملی سیاست سے ہٹ کر فکری اور نظریاتی کام کے حوالے سے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کر رکھا ہے۔
گزشتہ عشرہ کے اوائل میں لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ایک فکری اور علمی فورم ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے قائم کیا جو کہ علمی اور فکری میدان میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت مولانا منصوری اس کے چیئرمین جبکہ میں سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ 
سوال:  پاکستان شریعت کونسل بنانے کی وجہ، اس کے اغراض ومقاصد اور اس کی کارکردگی پر روشنی ڈالیں۔
جواب:  جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، پاکستان شریعت کونسل کے قیام کا مقصد عملی سیاست سے ہٹ کر خالصتاً فکری اور نظریاتی کام کے حوالے سے جدوجہد کرنا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ذریعے اسلامائزیشن اور دیگر ملی ودینی مسائل کے بارے میں دینی حلقوں کو متوجہ کرنے اور رابطہ کا ماحول قائم رکھنے کے لیے ہم سرگرم عمل رہتے ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل میں ہمارے ساتھ مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا سیف الرحمن ارائیں، مولانا عبد العزیز محمدی، مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل، مولانا سخی داد خوستی، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا محمد نواز بلوچ، مولانا صلاح الدین فاروقی، جناب احمد یعقوب چوہدری، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ اور دیگر بہت سے احباب شریک ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھتے ہوئے بھی ہم علمی ونظریاتی کاموں کے لیے باہمی مشاورت سے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور ہمارا دائرۂ کار یہ ہے کہ کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اس کے بارے میں متعلقہ لوگوں کو توجہ دلائی جائے، مسئلہ کی نوعیت کو بریفنگ رپورٹ کی صورت میں واضح کیا جائے اور اس کے حل کے لیے مشترکہ محنت کی راہ ہموار کی جائے۔ اس سے زیادہ کوئی کام ہم اپنے ذمہ نہیں لیتے اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کے متعلقہ لوگوں کو متحرک کر کے اس کے لیے جدوجہد کی راہ نکالی جائے اور ان سے حتی الوسع تعاون کیا جائے۔
سوال:  کیا کبھی قید وبند کی نوبت بھی پیش آئی؟
جواب:  تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفی ﷺ، گوجرانوالہ میں مسجد نور کو محکمہ اوقاف سے واگزار کرانے کی تحریک اور دیگر متعدد تحریکات میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بھٹو دور میں کئی بار جیل یاترا کی۔ مسجد نور کی تحریک میں کم وبیش چار ماہ اور تحریک نظام مصطفی ﷺ میں ایک ماہ جیل کاٹی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے جیل جانے کا موقع ملا۔
سوال:  دینی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے بارے میں آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟
جواب:  دینی مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں ایک عرصہ سے اس رائے کا اظہار کر رہا ہوں کہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا بہرحال تحفظ ہونا چاہیے اور انھیں کسی قسم کی سرکاری سرپرستی اور امداد قبول نہیں کرنی چاہیے۔ نیز دینی مدارس کو اپنے بنیادی اہداف میں بھی کوئی تبدیلی قبول نہیں کرنی چاہیے اور انھیں معاشرے میں دینی تعلیم کے فروغ، اسلامی روایات واقدار کے تحفظ اور دینی خدمت کے لیے رجال کار کی فراہمی کے کام پر ہی بنیادی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ البتہ اپنے اہداف ومقاصد کے حوالے سے انھیں آج کی ضروریات اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے ان کی روشنی میں تعلیمی نصاب ونظام میں مناسب ترامیم اور تبدیلیوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
سوال:  آپ دینی مدارس کے نصاب میں عصری نصاب کی شمولیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ نیز حکومت مدارس کے نصاب میں تبدیلی چاہتی ہے، جبکہ مدارس اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ مدارس یہ مزاحمت کیوں کر رہے ہیں، جبکہ وہ ان مضامین کو داخل نصاب کرتے چلے جا رہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے۔
جواب:  دینی نصاب تعلیم میں انگلش زبان، کمپیوٹر ٹریننگ، بین الاقوامی قانون، تقابل ادیان ، مغربی فلسفہ وتہذیب، تاریخ اسلام اور ان جیسے دیگر ضروری مضامین کا اضافہ ایک ناگزیر ضرورت ہے جس سے صرف نظر کے نقصانات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی فنی اور فکری تربیت کے نظام ونصاب کی بھی ضرورت ہے جس کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
سوال:  پاکستان کے عصری نظام تعلیم اور عصری اداروں پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟
جواب:  عصری نظام تعلیم کا تو سرے سے کوئی رخ ہی متعین نہیں ہے اور نہ ہی اہداف طے ہیں۔ وقت کی حکومت اسے اپنے رجحانات کے مطابق جس طرف کھینچنا چاہتی ہے، کھینچتی رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں اس کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے اور اب تو اسے آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے سے عالمی سیکولر ایجوکیشنل سسٹم کا تابع فرمان بنانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جس پر عمل درآمد کی صورت میں ہمارے قومی تعلیمی نظام ونصاب میں باقی ماندہ اور رہی سہی علامات وروایات بھی ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہماری دینی جماعتوں کے نزدیک اس مسئلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے ان کی تگ ودو اور سرگرمیوں میں عصری تعلیمی نظام پر نظر اور خرابیوں کی نشان دہی واصلاح کا کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔
سوال:  پاکستان کی سیاسی صورت حال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب:  ملک میں قومی سیاست کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ گروہی، طبقاتی اور علاقائی سیاست کی گرم بازاری ہے۔ مختلف طبقات اور گروہ اپنے اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں اور اجتماعی وقومی سیاست کا کوئی ماحول آج تک قائم نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے قومی معاملات پر سیاست دانوں کی گرفت نہیں ہے اور وہ دیگر طاقت ور قوتوں کے آلہ کار سے زیادہ کوئی کردار اپنے لیے حاصل نہیں کر سکے۔ سیاست دانوں کی اپنی نااہلی کے ہاتھوں ہم قومی خود مختاری سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمارے معاملات کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں رہا۔ دینی سیاست کی علم بردار جماعتیں بھی اصولی اور نظریاتی سیاست کے بجائے معروضی سیاست پر آگئی ہیں اور اس کان نمک میں وہ بھی نمک ہی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت قومی خود مختاری کی بحالی اور سیاسی اداروں کا استحکام ہے، مگر کوئی اس کے لیے آواز اٹھانے اور قربانی دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہمارے سیاسی ادارے بلکہ ریاست کے دیگر بنیادی ستون بھی اندھی طاقت کی بھٹی میں پگھل کر رہ گئے ہیں اور قومی خود مختاری، سیاسی مفادات کے دھندلکوں میں غائب ہو گئی ہے۔
سوال:  نائن الیون کے حادثے کے بعد پاکستان نے جو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر یو ٹرن لیا ہے اور پرویز مشرف نے جو دینی ومذہبی جماعتوں اور اداروں کے متعلق سخت رویہ اپنایا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب:  نائن الیون کے حادثہ کے بعد جنرل پرویز مشرف نے خارجہ پالیسی میں جو یو ٹرن لیا ہے اور داخلی طور پر دینی قوتوں کو دبانے اور کرش کرنے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ ایک طویل پروگرام کا حصہ ہے۔ اس میں کمی یا نرمی کا سردست کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، بلکہ اس ایجنڈے کے مختلف نئے تقاضے سر اٹھاتے جا رہے ہیں۔ دینی حلقوں کو اس امتحان سے بہرحال گزرنا ہوگا اور صبر وحوصلہ کے ساتھ آنے والے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہمارے اسلاف اور اکابر نے دین اور ملت کے حوالے سے جو ورثہ ہم تک پہنچایا ہے، ہم اسے کسی نقصان کے بغیر اگلی نسلوں تک منتقل کر دیں اور اسے اس کی اہمیت اور نزاکتوں کا صحیح طور پر احساس دلا دیں۔ اگر ہم ایسا کر پائے تو یہ اس مشن میں ہماری کامیابی اور سرخ روئی متصور ہوگی۔ اس سے زیادہ ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
سوال:  اس وقت دنیا بھر میں دہشت گردی کی وجہ اور محرکات کیا ہیں؟
جواب:  اس وقت جس عمل کو دنیا میں دہشت گردی کہا جا رہا ہے، وہ خود امریکا کا پیدا کردہ ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلحہ کی ٹریننگ دی اور روسی جارحیت کے خلاف افغان عوام کی مزاحمتی جنگ کو جہاد تسلیم کرتے ہوئے اس کی سیاسی وعسکری سرپرستی کی۔ اب وہی لوگ مختلف علاقوں میں امریکی بالادستی کے خلاف برسر پیکار ہیں تو انھیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ ایک امریکی دانش ور نے مجھ سے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس میں جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ بالکل درست بات ہے کہ ہمارے ہاں جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تعلیم ہم نے دی ہے مگر عملی ٹریننگ تم نے دی ہے اور اسے عملی عسکریت کا رخ تم نے دکھایا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں بھی جہاد کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جنھیں دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو اس کی عملی ٹریننگ کا نسب نامہ امریکہ سے جا ملتا ہے۔ اسلحہ اور اس کی ٹریننگ کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے مگر امریکہ اس بات کو قبول کرنے کی اخلاقی جرات سے محروم ہے اور اس کی ذمہ داری دینی مدارس کے کھاتے میں ڈال کر دنیا کے سامنے سرخ رو ہونا چاہتا ہے۔
سوال:  اس وقت امریکہ کی سربراہی میں لڑی جانے والی جنگ دو تہذیبوں کے باہمی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مستقبل قریب میں اس کی کیا صورت حال ہوگی اور عالمی امن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
جواب:  اس وقت دنیا میں جو تہذیبی جنگ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کے نام سے انسانی حقوق کا چارٹر یک طرفہ طور پر منظور کر کے اسے ساری دنیا کے لیے لازمی قرار دے دیا تھا۔ یہ چارٹر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہے اور قرآن وسنت کے بیسیوں احکامات کی نفی کرتا ہے، لیکن اسے آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا واحد معیار قرار دے کر اسلامی دنیا پر اسے قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کے خلاف لابنگ اور پراپیگنڈا کی ہمہ گیر مہم جاری ہے اور اسی کے حوالے سے قرآن وسنت کے احکام اور مسلمانوں کی دینی روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہ یک طرفہ تہذیبی جنگ اور ون وے ثقافتی یلغار ہے جس میں سب کچھ ایک ہی طرف سے ہو رہا ہے۔ دوسری طرف مکمل سناٹا ہے، خاموشی ہے اور خود سپردگی کا مکروہ منظر ہے۔ صرف دینی حلقے اور غریب مسلمان اس حد تک میدان میں کھڑے ہیں کہ وہ اس یلغار کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور مغرب کی تہذیبی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے کیمپ کی طرف سے اور کیا ہو رہا ہے؟ یہ انھی دینی حلقوں اور غریب مسلمانوں کی مزاحمتی مدافعت کی برکت ہے کہ مقابلے کی کچھ فضا بنی ہوئی ہے، ورنہ جہاں تک مسلمان ملکوں کے حکمران گروہوں، بالادست طبقات اور دانش وروں کا تعلق ہے، اگر ان کے بس میں ہوتا وہ دینی روایات، اسلامی اقدار اور ملی ورثہ کا لباس اتار کر کب کے اس حمام میں ننگے ہو چکے ہوتے۔
سوال:  مسلمانوں کے موجودہ زوال کے اسباب کیا ہیں؟
جواب:  مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے میرے نزدیک سب سے نمایاں باتیں تین ہیں:
۱) خلافت راشدہ کے بعد ہم کوئی مستحکم سیاسی نظام قائم نہیں کر سکے۔ خلافتوں کا وجود غنیمت تھا، لیکن ان کی بنیاد طاقت اور خاندانوں پر رہی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے خلافت کے قیام کو عام مسلمانوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا اور رائے عامہ پر اعتماد کیا تھا، مگر ہم اس روایت کو قائم نہ رکھ سکے جبکہ یورپ نے اسے اپنا لیا۔
۲) خلافت راشدہ میں فلاحی اور رفاہی ریاست کا جو تصور اجاگر ہو رہا تھا، ہم اس کا تسلسل قائم نہ رکھ سکے اور یہ روایت بھی ہم سے یورپ نے چھین لی۔
۳) سائنس اور ٹیکنالوجی میں یورپ کو پیش قدمی کا راستہ دکھا کر خود ہم اس راہ سے ہٹ گئے اور میدان یورپ کے حوالے کر دیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے اور اس میدان میں مغرب سے پیچھے رہ جانے کی سزا خدا جانے ہم کب تک بھگتتے رہیں گے۔ اس شعبہ میں ہماری بے بسی کا یہ عالم ہے کہ عسکری قوت تو رہی ایک طرف، ہم اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیا خود تیار کرنے سے قاصر ہیں اور خود اپنے وسائل سے براہ راست استفادہ کی صلاحیت سے بھی بہروہ ور نہیں ہیں۔
سوال:  پاکستان کے پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے پر آپ کے کیا ریمارکس ہیں؟
جواب:  یہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کرنے اور قادیانیوں کے خلاف دستوری فیصلہ کو غیر موثر بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے اور ملک کے دینی حلقوں کو اس پر حکومت سے موثر احتجاج کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی لابیاں اور غیر ملکی این جی اوز ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے دستور میں شامل اسلامی دفعات اور خاص طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے جمہوری فیصلے کو غیر موثر بنا دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کا مطالبہ منظور نہیں کیا جا رہا اور اب پاسپورٹ سے بھی مذہب کا خانہ حذف کر دیا گیا ہے جو کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات سے انحراف ہے۔
سوال:  آج کے ماحول میں ہمیں کون کون سے چیلنج درپیش ہیں اور علماے کرام کو اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
جواب:  آج امت مسلمہ کو آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، چاروں طرف سے دشمنان اسلام کی یلغار کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں بہت کچھ کہنے کی ضرورت اور گنجایش ہے۔ علماے کرام اور دینی کارکنوں سے میری یہی گزارش ہے کہ دینی جدوجہد سے لاتعلق نہ رہیں، کیونکہ اس دور میں، اس ماحول میں دین کی جدوجہد سے کلیتاً لاتعلق رہنے میں مجھے ایمان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ جس شعبہ میں آپ آسانی سے کام کر سکتے ہیں، وہاں کریں، لیکن دینی جدوجہد میں خاموش تماشائی نہ بنیں۔ جو شخص دین کے جس شعبے میں اور دینی جدوجہد کے جس محاذ پر کام کر رہا ہے، اسے کام کرنے دیں۔ اس کی مخالفت نہ کریں، حوصلہ شکنی نہ کریں، آپس میں رابطہ اور مشاورت کا ماحول بنائیں، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اسی سے قوت پیدا ہوگی اور باہمی اعتماد بڑھے گا۔
سوال:  میڈیا کی طرف ہمارے دینی طبقہ کا رجحان کم ہے اور لادین طبقہ پوری طرح میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب:  میڈیا اور ذرائع ابلاغ نے پوری طرح دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف اسلامی عقائد واحکام اور قوانین کے متعلق پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ دوسری طرف دینی قوتوں اور اسلامی تحریکات کی کردار کشی کی مہم جاری ہے اور انھیں دہشت گرد اور بنیاد پرست قرار دے کر ان کے خلاف پوری دنیا میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تیسری طرف بے حیائی، ناچ گانا، عریانی اور سفلی خواہشات کو ابھار کر نئی نسل کو اخلاقی طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ اس یلغار کا سامنا بھی اہل حق ہی نے کرنا ہے اور یہ بھی علماے کرام اور دینی مراکز کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
دینی صحافت سے تعلق رکھنے والے حضرات کے حوالے سے میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے درمیان مشاورت اور تبادلہ خیال کا کوئی ایسا نظم ضرور قائم ہونا چاہیے جس کے تحت دینی جرائد کے مدیران گرامی اور قلم کار حضرات وقتاً فوقتاً مل بیٹھیں، مسائل پر باہمی تبادلہ خیالات کریں، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں، باہمی تقسیم کار کے مختلف شعبوں میں کام کی صف بندی کریں اور ایک دوسرے کو مختلف حوالوں سے سپورٹ کریں۔
سوال:  ’’آب حیات‘‘ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:  ماہنامہ ’’آب حیات‘‘ وقتاً فوقتاً میری نظروں سے گزرتا رہتا ہے اور میں مولانا محمود الرشید حدوٹی کی صلاحیتوں اور جوش عمل کا معترف ہوں۔ وہ جس حوصلہ اور جذبات کے ساتھ دینی حلقوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں، وہ قابل داد ہے اور اس سے نوجوان علماے کرام کو حوصلہ ملتا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا محمود الرشید حدوٹی اور ان کے رفقاے کرام کے حوصلہ اور عزائم میں برکت دیں اور ذوق، سلیقہ، توفیق، قبولیت اور نتائج وثمرات سے بہرہ ور فرماتے رہیں۔ آمین یا رب العالمین۔
سوال:  ’’آب حیات‘‘ پڑھنے والوں کے نام کوئی پیغام؟
جواب:  ماہنامہ ’’آب حیات‘‘ ایک مقدس اور اصلاحی تحریک ہے۔ قارئین اس کوپھیلانے کی حتی الوسع کوشش کریں۔ خود بھی پڑھیں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کے مطالعہ کی ترغیب دیں۔
سوال:  ہم اپنی طرف سے، مدیر اعلیٰ مولانا محمود الرشید حدوٹی صاحب اور ادارہ ’’آب حیات‘‘ کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قیمتی مصروفیات میں سے ہم کو وقت دیا۔

علامہ اقبالؒ کی شخصیت اور ان کا فکر و فلسفہ ۔ مولانا سندھیؒ کے ناقدانہ خیالات کی روشنی میں

پروفیسر محمد سرور

مولانا سندھی نے کہا: قرآن مجید یہود اور نصاریٰ کی بے راہ رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم وما امروا الا لیعبدوا الہا واحدا لا الہ الا ہو سبحانہ عما یشرکون (ٹھہرا لیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی، اور ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی۔ کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا۔ وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے) (سورۃ التوبہ آیت ۳۱)
مولانا فرمانے لگے کہ مسلمانوں میں پہلے شاہ پرستی آئی اور اس شاہ پرستی نے احبار (علما) ورہبان (درویش) پرستی کو جنم دیا۔ تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی (۱۲۵۸) کے بعد امام ابن تیمیہؒ (۱۲۶۳۔۱۳۲۸) نے اس احبار ورہبان پرستی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی اس دعوت کا سلسلہ برابر جاری رہا او ریہ آواز دور دور تک پہنچی۔ اس دعوت کی ایک کڑی شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدیؒ (۱۷۰۳۔۱۷۸۷) تھے۔ یہاں ہندوستان میں اکبر بادشاہ نے علما اور مشائخ کا زور توڑنے کی کوشش کی۔ دین الٰہی سے دراصل اس کا یہی مقصد تھا اور وہ اس طرح اس طبقے کی دینی وسیاسی اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا تھا جس میں وہ ناکام ہوا۔ مولانا نے کہا: میں اقبال کی بڑی عزت کرتا ہوں کہ اس نے شاعری کے ذریعہ، جس کی تاثیر نثر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے، مسلمانوں کو خودی کی تعلیم دے کر اس احبار ورہبان پرستی کے خلاف ابھارا۔ جمود، سکون پسندی، تقدیر پر صابر وشاکر ہونے اور اشخاص پرستی کو مذموم قرار دیا اور ان کے اندر جوش عمل اور جرات کردار پیدا کرنے کی جدوجہد کی۔ میں مانتا ہوں کہ اقبال کی شاعری نے بڑا کام کیا اور نوجوانوں کی ذہنی بیداری میں اس کا بڑا حصہ ہے، لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ احبار اور رہبان اب بھی ہمارے ہاں پج رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ میرے نزدیک اس کا علاج صرف یورپین ازم اور نیابتی حکومت ہے۔ جس دن عوام نے سمجھ لیا کہ اقتدار کے مالک وہ ہیں اور حکومت ان کے ووٹوں سے بنے گی اور ٹوٹے گی، اس دن سے مسلمانوں کے ’’احبار‘‘ اور ’’رہبان‘‘ کی قبر کھدنی شروع ہو جائے گی۔
مولانا کہتے تھے کہ میں اقبال کی شاعرانہ عظمت اور ان کے اس عظیم دعوت وابلاغ کے کارنامے کا دل سے معترف ہوں، لیکن میرے نزدیک سیاسی قیادت اور دینی امامت ایک شاعر کے، خواہ وہ کتنا بھی بڑا شاعر کیوں نہ ہو، سپرد کر دینا قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیلنا ہے۔ اقبال کو میں بڑا شاعر مانتا ہوں، لیکن انھیں قوم کا قائد وامام تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اقبال کو قائد وامام ماننے سے ہی جملہ خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ 
اقبال نے اپنے اشعار میں عجم اور قومیت کی جو مسلسل مخالفت کی ہے، مولانا کو ا س پر اعتراض تھا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا اسلامی تاریخ کے حقائق کا انکار کرنا ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ اسلام کے اموی دور میں مسلمانوں کے جماعتی تصورات وخیالات اور ان کی ثقافت میں شامل عیسائی اور یہودی عناصر موثر تھے۔ عباسی عہد میں ایرانی تہذیب وادب اور یونانی فلسفہ ومنطق برسرکار آئے۔ اسی سے تصوف اور علم کلام واسلامی فلسفہ پروان چڑھے اور ان کے ذریعہ عجمیوں نے اسلام کی ہر لحاظ سے خدمت کی اور ہندوستان میں ہندی فکر نے اسلام کے تصورات وثقافت کو جلا دی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تاریخ اسلام کے عربوں کے دور کو مقدس سمجھ لیا گیا اور ایرانیوں، ترکوں اور ہندوستانیوں کے عہدوں کو زوال کا زمانہ مان لیا گیا، حالانکہ اسلام کے عالمگیر انقلاب کے اعتبار سے یہ سب دور ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس انقلاب کا اپنے مختلف مراحل میں قومی رنگ اختیار کرنا بالکل فطری تھا۔ مولانا کہتے تھے کہ بد قسمتی سے اقبال اسلامی تاریخ کے ارتقا کے ان قدرتی مظاہر کو نہ سمجھا اور وہ ساری عمر عجم وعجمیت کی مذمت اور عرب وعربیت کی تعریف کرتا رہا۔
مولانا نے اقبال کی قومیت ووطنیت دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں مسلمانوں کی الگ الگ قومیتوں کے انکار کے خلاف ہوں، بلکہ میرے نزدیک تو خود اس برعظیم میں بڑی بڑی زبانیں بولنے والی آبادیاں، قومیں ہیں۔ ایک خاص خطے اور ایک خاص ماحول میں رہنے والے زندگی کا ایک خاص رنگ جو سب میں مشترک ہوتا ہے، اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی ایک زبان ہوتی ہے۔ اسلام کی ترقی اور نشر واشاعت کے لیے ان قومیتوں کا اعتراف ضروری ہے اور اس سلسلے میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کی عالمگیر تعلیم کو ان قوموں کی زبان میں پھیلایا جائے۔
ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے اور اس غلطی کو اپنی نہایت دل آویز، انتہائی موثر اور بڑی زور دار شاعری کے ذریعہ نوجوان مسلمانوں کے دلوں اور دماغوں میں بہت گہرا اتارنے میں اقبال کا سب سے بڑا حصہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے الگ الگ قوم ہونے کا انکار کیا اور اپنے آپ کو بس ایک عالمگیر اسلامی برادری کا ایک حصہ سمجھتے رہے۔ اب امر واقعہ یہ ہے کہ مصری، عراقی، ایرانی، ترکی یہاں تک کہ حجازی بھی ۹۰ فی صد قومی ہیں اور ۱۰ فی صد مسلمان اور ان کے مقابلے میں ہم ۱۰۰ فی صد مسلمان ہیں اور ہمیں کسی قوم میں سے ہونے میں عار آتی ہے۔ مولانا کہتے تھے کہ اس فرضی سیاسی اسلامیت کی بدولت، جس کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں تھی، ہم مرزا غلام احمد جیسے نبی مصلح اور اقبال جیسے پیغمبر شاعر پیدا کر سکے لیکن ہم رہے ہوا ہی ہوا میں معلق۔ کسی دوسرے مسلمان ملک میں آپ کو اس زمانے میں اس طرح کے مہدی، مسیح موعود اور نبی بننے والے مذہبی پیشوا اور قومی امنگوں اور وطنی وملکی مطالبوں وآرزوؤں کو قابل توجہ نہ سمجھنے والے ’’پیغمبر‘‘ شاعر نہیں ملیں گے۔ وہاں قومی شخصیتیں پیدا ہوئیں جنھوں نے اپنے پس ماندہ محکوم اور خستہ ونزار عوام کو قومیت کے فطری جذبے کے تحت بیدار کرنے کی کوششیں کیں۔ اقبال نے جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کو تو بے حد سراہا ہے لیکن شیخ محمد عبدہ اور مصطفی کمال کو نظر انداز کیا ہے، حالانکہ جہاں تک شیخ محمد عبدہ کا تعلق ہے، مصر اور ایک حد تک سارے عربی ممالک کا دینی فکر ان سے متاثر ہے۔ اور مصطفی کمال نے تو ترکی کی ساری کایا ہی پلٹ دی ہے۔ ان کے مقابلے میں نہ سید جمال الدین اور نہ حلیم پاشا کا مصر اور ترکی پر کوئی دیرپا اثر مترتب ہوا۔
مولانا سندھی کا کہنا یہ تھا کہ اجنبی غلامی کی سب سے بڑی لعنت یہ ہوتی ہے کہ محکوم اپنے قومی وجود اور اس کی شخصیت کو بھول جاتے ہیں، اس لیے آزادی کی جدوجہد میں سب سے پہلی منزل یہ ہوتی ہے کہ عوام میں اپنے قومی وجود اور اس کی شخصیت کا شعور پیدا کیا جائے۔ ترکوں، ایرانیوں اور عربوں نے اپنی جدوجہد آزادی میں سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں اقبال نے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ملت اسلامیہ کی ایک سیاسی شخصیت رکھی جس کا دنیا میں کہیں وجود نہ تھا۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اگر اقبال کو ہندو مسلم متحدہ قومیت سے انکار تھا تو وہ اس برعظیم کی مسلمان آبادی کے گزشتہ آٹھ سو سال کے ہندی اسلامی فکر پر نظر ڈالتا اور اس کا احصا اور تجزیہ کر کے اس کی اساس پر اس سرزمین میں ہندوستانی مسلم قومیت کی عمارت اٹھاتا لیکن وہ دوسرے مسلمان ملکوں کے شاندار ماضی ہی کے راگ الاپتا رہا اور اسلامی ہند کی تاریخی عظمتوں میں خال خال اسے کوئی پرکشش موضوع سخن ملا۔
علامہ اقبال نے اسلامی کلچر اور اسلامی ثقافت کا جو فرضی ہیولیٰ کھڑا کر رکھا تھا، مولانا سندھی اس کے بھی سخت مخالف تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس قسم کی فرضی بحثوں سے ہندوستانی عوام، مسلمانوں اور ہندووں، ہر دو کی توجہ اصل مسائل سے، جو اجنبی غلامی سے آزادی حاصل کرنے اور معاشی حالت کو بہتر بنانے سے متعلق تھے، ہٹ جاتی تھی اور اس سے بالواسطہ انگریزی حکمرانوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ کلچر قومی ہوتے ہیں، جیسے زبانیں اور ادب قومی ہوتے ہیں۔ اگر ایک قوم مسلمان ہے تو ظاہر ہے اس کا قومی کلچر اسلامی عقائد وروایات وتاریخ سے متاثر ہوگا۔ اب عوام کی سیاسی آزادی اور ان کی معاشی مرفہ الحالی کو پیچھے ڈال کر ایک فرضی اسلامی کلچر کو، جس کے تصورات تک واضح ومتیقن نہ تھے، سر پر چڑھا لینا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ مولانا نے فرمایا، تم دیکھنا، اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ اس سے ذہنی انتشار پیدا ہوگا۔مولانا یہ باتیں کرتے کرتے غصے میں آ گئے اور کہنے لگے: آج جو لوگ بڑھ چڑھ کر اسلامی کلچر کی باتیں کرتے ہیں، ان کی اپنی پوری زندگی، ان کا رہن سہن، ان کی سوچ بچار اور ان کے مجلسی آداب واطوار سب انگریزیت میں رنگے ہوئے ہیں۔
علامہ اقبال کی خود اپنی ذات اور شخصیت کے تضادات اور پھر ان کے فکر وعمل کے تضادات، راقم الحروف ان کی کنہ وحقیقت سمجھنا چاہتا تھا۔ علامہ اقبال کی عظیم شخصیت اور ان کے افکار عالی سے جہاں اور ہزاروں لاکھوں نئے تعلیم یافتہ متاثر ہوئے اور ان کے دلوں اور دماغوں پر علامہ اقبال کی شخصیت کی گہری چھاپ لگی، وہاں ایک میں بھی تھا، اس لیے مجھے ان کے ان تضادات سے بڑی ذہنی الجھن رہتی تھی۔ میں نے مولانا کے سامنے علامہ اقبال کے اس طرح کے کئی ایک تضادات پیش کیے اور پوچھا کہ ایسا کیوں ہے۔ ان کی ایک شخصیت کے اندر یہ دو الگ الگ شخصیتیں کیسے ہیں اور ان میں باہم کش مکش کیوں رہتی ہے؟ مولانا نے فرمایا: اقبال کو تھوڑا بہت جو میں سمجھ سکا ہوں، اس کے مطابق ان کے بارے میں میری رائے یہ ہے:
اقبال جس گھرانے میں پیدا ہوئے اور جس ماحول میں ان کی ابتدائی نشوونما ہوئی، اس میں اسلام سے جذباتی عقیدت بڑی رچی بسی ہوئی تھی۔ پھر خود قدرت نے انھیں یہ نعمت بدرجہ وافر دی تھی، چنانچہ اسلام سے جذباتی عقیدت اور رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات گرامی سے والہانہ عشق ومحبت کے نقوش بچپن میں ان کے دل ودماغ پر ایسے ثبت ہوئے کہ وہ آخر عمر تک اپنی اسی تازگی کے ساتھ قائم رہے۔ ان کے ان جذبات عقیدت ومحبت میں پورا خلوص تھا اور بے حد شدت بھی۔ چنانچہ جب کبھی ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا تو ان کے انھی جذبات کو تحریک ہوتی تو جیسا کہ تم نے بتایا ہے، ان پر رقت طاری ہو جاتی، اپنے اوپر انھیں قابو نہ رہتا اور وہ رونے لگتے۔ اسی طرح جب کبھی اسلام کے ان معتقدات کے خلاف، جن کے سچے اور حق ہونے کے نقش نو عمری میں ان کے دل ودماغ پر ثبت ہو چکے تھے، کسی سے کچھ سنتے تو ان کے دل کو دھکا لگتا اور وہ بے قرار ہو جاتے۔ مولانا سندھی نے کہا: اپنے اس احساس، تاثر اور شدید رد عمل میں وہ بڑے مخلص تھے۔ اور یہ حقیقی اظہار ہوتا تھا ان کی اس شخصیت کا جو خود ان کے اپنے طبعی رجحان، خاندانی ورثے ، ماحول اور نوعمری کی رسمی تعلیم سے تعمیر ہوئی تھی۔
مولانا نے کہا: بعد میں جب وہ کالج میں پہنچے، پھر یورپ گئے اور جرمنی اور انگلستان کی اعلیٰ درس گاہوں میں انھوں نے یورپی فلسفہ پڑھا تو ان کی اپنی جو ایک فلسفی اور حکیم کی شخصیت ہے، اس کی تشکیل ہوئی۔ فلسفہ تشکیک، تنقید، آزادانہ غور وفکر، عدم تقلید اور فکری بغاوت کے رجحانات کو ابھارتا ہے۔ اور یہ کیسے ممکن تھا کہ اقبال جیسا غیر معمولی ذہین عالم وفاضل شخص ان موثرات کے اثر قبول نہ کرتا۔ چنانچہ اس نے یہ اثرات قول کیے اور ان سے اس کی ایک فلسفی وحکیم کی شخصیت بنی۔ اقبال کی یہ دو شخصیتیں باہم ترکیب پا کر اور ایک دوسرے سے پوری ممتزج ہو کر اس طرح ایک نہیں بنیں کہ دونوں کے ائتلاف وترکیب سے اقبال کی ایک سالم، کامل اور ہر لحاظ سے مربوط ومکمل شخصیت وجود میں آتی۔ وہ ہر چیز کو، خواہ وہ ان کا اپنا مذہبی عقیدہ ہو یا کوئی اور مسئلہ، اسے ایک نظر سے دیکھتے۔ وہ نظر خواہ وہ ایک شاعر کی ہوتی جسے جذبات متحرک کرتے ہیں، یا ایک فلسفی وحکیم کی جس کا فکر تنقید وتشکیک سے آگے بڑھتا ہے، یا ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی جو ہر مذہبی روایت کو حجت سمجھتا ہے۔
مولانا سندھی کہنے لگے: کبھی کبھی اقبال کی ان دو یا دو سے زیادہ الگ الگ شخصیتوں میں ارتباط وائتلاف بھی ہوتا ہے۔ اس وقت اقبال اپنے فکر کے اعلیٰ وارفع مقام پر کھڑا ہوتا ہے۔ بے شک اقبال کے کلام میں اس کی کمی نہیں لیکن کبھی کبھی اس کی یہ شخصیتیں باہم ٹکراتی ہیں اور انھی سے وہ تضادات پیدا ہوتے ہیں جن کا تم نے ذکر کیا ہے۔ ان کی شاعری میں یہ تضادات زیادہ ہیں اور وہی زیادہ مقبول بھی ہے۔ اب بحیثیت ایک فلسفی کے اس کی نظر وفکر عالمی ہے۔ مسلمان ہونے کے لحاظ سے وہ اپنے دور کے ہندوستان کا، جس میں چھوٹے چھوٹے ہندو مسلم تنازعات زوروں پر تھے، ایک فرقہ پرست مسلمان بن جاتا ہے اور پنجاب میں قادیانیت کے خلاف جو عام فضا تھی، اس سے متاثر ہوتا ہے تو وہ احمدیوں کو دائرہ اسلام سے باہر کر دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
مولانا نے فرمایا: یہ ہے میرے نزدیک اقبال۔ ایک عظیم شخصیت، لیکن کامل وسالم نہیں بلکہ اپنے آپ میں بٹی ہوئی اور تضادات کا شکار۔ جوانی میں فکری ہوش سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے وطن کا ’’شخص‘‘ یعنی تصوراتی وجود اقبال کے دماغ پر حاوی ہوا۔ آگے چل کر اس کی جگہ مسلمانوں کی جماعت کے تصوراتی وجود نے لے لی اور آخر تک جماعت کا یہ کابوس اس کے دماغ پر برابر سوار رہا۔ کبھی کبھی خود اس کی اپنی ذات کے نفسی تقاضے جماعت کے بندھنوں کے خلاف بغاوت بھی کرتے رہے لیکن یہ بغاوت محض شعر وشاعری تک محدود رہتی۔ اس ضمن میں اقبال کو ایک مستقل عقلی وفکری مثبت رائے، جسے فلسفیانہ رائے کہہ سکتے ہیں، کبھی نصیب نہ ہوئی، چنانچہ اس نے جماعت کے جبر کے خلاف شاعری میں تو بغاوت ضرور کی ہے لیکن نثر میں، جہاں تشبیہات واستعارات میں اصل غرض چھپائی نہیں جا سکتی، اس بارے میں انھوں نے کچھ نہ لکھا۔ مولانا کے نزدیک یہ وجہ تھی اقبال کی زندگی کی بے عملی اور اس کی شخصیت کے تضادات کی۔
غرض مولانا سندھی کے الفاظ میں اقبال نے جماعت کو، جسے وہ ملت اسلامیہ کہتے تھے، ایک بت بنا لیا۔ ان کے طبعی تقاضے، گرد وپیش کے حالات اور خود ان کی اپنی فکری شخصیت کچھ اور مانگتی تھی۔ وہ ان طبعی، سیاسی اور معاشی مطالبوں کے سامنے ہتھیار بھی ڈال دیتے اور جو زمانے کا چلن ہوتا، اس کا ساتھ دیتے، لیکن جماعت کا ’’شخص‘‘ یعنی تصوراتی وجود اور اس سے جو خصائص وامتیازات انھوں نے متعلق کر رکھے تھے اور اس سے جو احکام وہدایات وہ لیتے تھے، یہ سب چیزیں ان کے نیم شعور میں اس طرح رچی ہوئی تھیں کہ جیسے ہی ان کو موقع ملتا، وہ ان کے شعور میں عود کر آتیں اور فلسفی اقبال ایک روایت پرست بلکہ توہم پرست لاہوری مسلمان ہو جاتا۔ اس حالت میں وہ اپنے آپ کو کوستا، اپنی گناہ گاری کا اعتراف کرتا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے، روتا بھی۔ یہاں اس کی عقلیت جواب دے دیتی۔
مولانا نے کہا: سچ پوچھو تو اقبال ایک روایت پرست یہودی کی طرح مسلمانوں کی موہوم جماعت کو پوجتا ہے۔ وہ جماعت کی قیود سے نکلتا تو تھا لیکن اس کی یہ بغاوت منظم فکر کی بغاوت نہ تھی بلکہ یہ فکری آزادہ روی ہوتی جو شعر کا موزوں لباس پہن لیتی۔ اس کا دل اس جبر کی مخالفت کرنے کو چاہتا لیکن نوعمری کی عقیدتوں پر تشکیل شدہ شخصیت اس میں آڑے آتی۔ چنانچہ وہ ساری عمر انھی الجھنوں میں برابر پیچ وتاب کھاتا رہا:
تو شاخ سے کیوں پھوٹا، میں شاخ سے کیوں ٹوٹا
اک جذبہ پیدائی، اک لذت یکتائی
میں مانتا ہوں کہ اقبال دل سے چاہتے تھے کہ قرآن کی حکومت بروے کار آئے اور اسلام پر بالکل ایک نئی دنیا کی تعمیر ہو، لیکن قرآن اور اسلام کی عملی تشریح جو آج کے زمانے میں قابل قبول اور قابل عمل ہو سکے، یہ ان کے بس میں نہ تھی کیونکہ وہ جماعت کے روایتی اثرات اور اس کے قوانین وضوابط سے ذہناً باہر نہیں نکل سکتے تھے اور قرآن واسلام کے نظام کو مجموعی انسانیت کا نظام بنا کر وہ پیش کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے فکراً خواہ وہ کچھ بھی ہوں، اقبال کا اسلام عملاً ایک فرقہ پرست ہندوستانی بلکہ پنجابی مسلمان کا اسلام تھا۔ کردار کے غازی تو تھے ہی نہیں، وہ گفتار کے غازی بھی نہ بن سکے۔
(افادات وملفوظات حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ )

اسلامی حکومت کا فلاحی تصور

پروفیسر میاں انعام الرحمن

(مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم کی کتاب ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ کے بنیادی خیال کی روشنی میں لکھا گیا۔)

سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ بلاک کی فتح کے بعد اشتراکیت کے توسط سے آنے والے فلاحی تصور کی بنیادیں کھوکھلی ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ اب ایک طرف دنیا بھر میں قومی اداروں کی نج کاری سے بے روزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، امریکہ میں سوشل سکیورٹی سسٹم بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف سیکولر ازم اور جمہوریت کی توسیع کے لیے اسی نوعیت کے تشدد اور عدم رواداری کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہی مذہبیت کے بالمقابل سیکولر ازم اور بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کے تصور ات پروان چڑھے تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے! اب سیکولر عدم رواداری اور انتہاپسندی کو لگام دینے کے لیے مذہب طاقت پکڑ رہا ہے اور جمہوری آمریت کی منافقت کے مقابلے میں غیر جمہوری نظریات کو پذیرائی مل رہی ہے۔ شاید سیکولر ازم اور جمہوریت تاریخی اعتبار سے اپنے نقطہ عروج (Point of Saturation) کو پھلانگ چکے ہیں۔ یہی بات سرمایہ دارانہ نظام اور اس سے وابستہ مخصوص فلاحی تصور کی بابت سچ ہے۔ 
کیپٹل ازم، سیکولر ازم اور جمہوریت میں قدرِ مشترک ’’انفرادیت پسندی ‘‘ ہے جس کے مطابق خاندان سے لے کر ریاست تک کسی بھی اجتماعی ہیئت کو فرد کے معاملات میں، خواہ وہ معاشی ہوں یا مذہبی، اخلاقی ہوں یا سیاسی، دخل اندازی سے روکا جاتا ہے اور ان رکاوٹوں کو باقاعدہ ’’قانونی تحفظ ‘‘ بھی دیا جاتا ہے تاکہ فرد کی ’’ذاتی صلاحیت ‘‘ کے فروغ اور اظہار کے لیے انفرادیت پسندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم نے اپنے تین مقالات میں جو ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور ‘‘ کے زیرِ عنوان شائع ہوئے ہیں، مذکورہ نوعیت کی انفرادیت پسندی کے مقابلے میں اسلام کے فلاحی تصور کی بہت مدلل وضاحت کی ہے۔ علوی مرحوم نے ’’ذاتی صلاحیت کے اعتراف اور تحفظ ‘‘کے نام پر سرمایے کے ارتکاز کو ’’تقدیرِ الٰہی اور تقسیم الٰہی ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، یعنی مذہب کو عوام کے لیے افیون نہیں بننے دیا ۔ ان کے مطابق اس ظالمانہ اور سفاکانہ فکر و فلسفہ کا اسلام کے نظامِ عدل سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مرحوم کا کہنا ہے : 
’’ مختلف مذاہب نے بے شک ’’ خیرات ‘‘ کا ذکر ضرور کیا تھا لیکن محض ترغیب کی حد تک، لیکن ظاہر ہے کہ ’’ترغیب ‘‘ کے راستے خیر کی راہ اپنانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ ترغیب کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں لزوم بھی ضروری ہے، ایسا نہ ہو تو سرمایہ دار طبقہ کی طبعی کنجوسی اور بخل اپنا رنگ جما کر رہتی ہے ‘‘۔ (ص۲۶) 
ہماری رائے میں یہی چند سطریں افکارِ علوی کی فکری علویت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تمہیدی فقرات میں ہم نے جن ’’قانونی تحفظات ‘‘ کا ذکر کیا ہے جو انفرادیت پسندی کو یقینی بنانے کے لیے بروئے کار لائے جاتے ہیں، علوی مرحوم نہایت مثبت اندازمیں انھی تحفظات کو معکوس معانی پہنا کر اجتماعی ہیئت کو وہ طاقت دینے کی بات کرتے ہیں جس کے توسط سے نظام عدل ’’انفرادیت پسندی کے لمبے ہاتھوں ‘‘ پر اپنا مضبوط ہاتھ ڈال سکے۔ اپنے موقف کی قرآنی بنیادوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سعید الرحمن کہتے ہیں کہ : 
’’ قارون، اس میں شک نہیں کہ ایک فرد کا نام ہے ، لیکن قرآن عزیز نے جس انداز سے اس کا ذکر کیا، وہ ایک مستقل نظریہ ہے جس کی آج کے دور میں یورپی اور اب اس کے جانشین امریکی سامراج کے مالی تصور و نظام میں ’’کیپٹلزم ‘‘ سے تعبیر کی جا سکتی ہے ‘‘۔ (ص۳۲) 
اسی صفحہ پر قرآن مجید کی ان آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ دیا گیا ہے جن میں قارون کا تذکرہ ہے۔ (القصص ، ۷۶ تا ۸۳ ) ایک قابلِ غور نکتے کی صراحت کی خاطر ، ہم یہاں صرف اس کا حوالہ دیں گے کہ : ’’ کہا (قارون نے ) یہ تو مجھے ایک ہنر سے ملا ہے جو میرے پاس ہے ‘‘ ۔ اب اگر سعید مرحوم کے قرآنی استدلال کو پہلے سے طے شدہ کسی رائے کا شکار ہوئے بغیر خالصتاً معروضی انداز میں سمجھا جائے تو تائید کیے ہی بنتی ہے، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام (کیپٹلزم ) کا محور افراد کے معاملات، بالخصوص معاشی معاملات میں ریاست یا کسی بھی ہیئتِ اجتماعی کی عدمِ مداخلت ہے، یعنی افراد کو زیادہ سے زیادہ آزاد چھوڑ دیا جائے تاکہ خود غرضی کے ’’فطری ‘‘ جذبے کے تحت ذاتی نفع کے حصول کے لیے افراد میں باہمی تگ و دو ہو اور جن میں ’’اعلیٰ ذاتی صلاحیت ‘‘ ہو، وہ دیگر افراد سے زندگی کی دوڑ میں آگے نکل جائیں۔ اسی طرح اقوام بھی ’’ ذاتی صلاحیت اور خود غرضی ‘‘ کے طفیل باقی اقوام پر غالب آ جائیں گی۔ اسے ’’بقائے اصلح‘‘ (Survival of the Fittest) سے تعبیر کرتے ہوئے socio-economic Darwinism کہا جا سکتا ہے۔ ہماری دانست میں قارون کا اپنے ہنر پر اترانا اور سرمایہ دارانہ معیشت میں فرد کی ذاتی صلاحیت کا بے جا اعتراف کرنا ایسی ’’ قدرِ مشترک ‘‘ ہے جس کا انکار محال ہے ۔یہ قدرِ مشترک چند بنیادی سوالات پیدا کرتی ہے: 
(۱) کیا کوئی ایسی چیز در حقیقت موجود ہے جسے ’’ ذاتی صلاحیت یا ذاتی ہنر ‘‘ سے موسوم کیا جائے ؟
(۲) کیا انسان ، معاشرے یعنی دیگر افراد سے کٹ کر ذاتی صلاحیت نامی ہنر کو فروغ دے سکتا ہے؟
(۳) ایک فرد جس ذاتی صلاحیت کا ڈھنڈورا پیٹ کرد یگر افراد سے ممتاز ہوتا ہے، چاہے وہ مثبت ہو ، یعنی دیگر افراد کا تعاون اور ہمدردی وغیرہ یا منفی ، یعنی دیگر افراد کی مقابلہ بازی اور مفعولیت وغیرہ ، کیا ذاتی صلاحیت کی وہ ’’ سطح اور نوعیت ‘‘ معاشرے کی مرہونِ منت نہیں ہوتی ؟ 
(۴) کیا ذاتی صلاحیت کی اس ترقی یافتہ صورت کا، جو فرد کے بقول اس کی خالصتاً ذاتی ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں، معاشرے سے باہر کسی قسم کا استعمال ہوسکتا ہے ؟ یعنی کیا معاشرے سے الگ ہو کر ذاتی صلاحیت کی ترقی یافتہ صورت فرد کے لیے کسی کام یا اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے، اگرچہ اس صلاحیت کا حصول معاشرے کی مرہونِ منت نہ بھی ہو؟
زیرِ بحث نکات کی تنقیح کے لحاظ سے مشہور و معروف جملہ کہ ’’ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ‘‘ اپنے اندر معنویت کا جہان لیے ہوئے ہے۔ مثبت اور منفی ، ہر دو اعتبار سے در حقیقت یہ معاشرہ یا کوئی بھی ہیئتِ اجتماعی ہی ہے جو فرد کی ذاتی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔ جس ذاتی صلاحیت یا ہنر کا شور مچا کر ایک فرد ’’ بقائے اصلح ‘‘ کے نباتاتی اور حیوانی اصول کو انسانی معاشرے میں رائج کرنے کی سعی کرتا ہے، وہ حقیقت میں معاشرے کی عطا ہوتا ہے، لہٰذا معاشرتی ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ ہنر یا ذاتی صلاحیت Self Oriented نہیں بلکہ Other Oriented ہے ۔ یہ کسی بھی اعتبار سے Personal نہیں، البتہ ہر لحاظ سے Social ضرور ہے۔ اس لیے اس نوعیت اور اس سطح کی ذاتی صلاحیت کے بل بوتے پر کمایا گیا مال و نفع بھی معاشرے کی ملکیت ہونا چاہیے۔ یہاں پر ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مساوی ورثے، مساوی مواقع اور یکساں ماحول کی موجودگی میں مختلف افراد مختلف مدارج طے کرتے ہیں، ان کی تحصیل یکساں سطح اور یکساں نوعیت کی نہیں ہوتی، انھیں کہاں رکھا جائے گا؟ ہمارے خیال میں ذاتی صلاحیت کی یہی سطح اور یہی نوعیت حقیقی معنوں میں ’’خالصتاً ذاتی‘‘ سے تعبیر کی جا سکتی ہے ۔ اسی کی بنیاد پر کوئی فرد تفوق و فضیلت سے ہمکنار ہو سکتا ہے اور فرد کو اسی قسم کی صلاحیت کے نام پر زندگی کی دوڑ میں دیگر افراد سے ممتاز اور نمایاں ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔یہی اصول گروہ اور قوم کی سطح پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے۔ 
یہاں یہ نکتہ بیان کرنا مناسب ہو گا کہ فرد خالصتاً ذاتی صلاحیت کی بنا پر نفع کے حصول کا دعویدار نہیں ہوتا، وہ عام طور پر معاشرت سے حاصل کردہ امتیازی حیثیت کو ہی خالصتاً ذاتی خیال کرتے ہوئے اس نفع کے حصول کا خواہاں ہوتا ہے جو اصل میں معاشرتی نفع ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدلل تصریحات کے ذریعے فرد کی اس خام خیالی کو دور کیا جائے اور اسے قائل کیا جائے کہ جسے وہ ذاتی صلاحیت سمجھتا ہے، وہ در حقیقت معاشرتی ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایک فرد کو دوسروں سے ممتاز ہونے کے باوجود عملاً زیادہ کچھ بھی نہیں ملے گا تو پھر معاشرے نے فرد کے لیے کیا کیا؟ اس بابت ہماری یہ رائے ہے کہ ایک فرد کا دوسروں سے ’’ممتاز ‘‘ ہونا ہی معاشرے کی دین ہے۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو سکتی ہے کہ ایک جماعت کے تیس چالیس طالب علم یکساں اقامتی ماحول، نصاب اور اساتذہ سے مستفید ہوتے ہوئے بھی مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں، ان میں سے جو طالب علم اعلیٰ صلاحیت کے سبب دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں، ان کی امتیازی حیثیت ہی ان کے لیے انعام کا درجہ رکھتی ہے کہ ان کی صلاحیت کو نکھر کر سامنے آنے کا موقع مل گیا، اگرچہ یہ صلاحیت ان میں خداداد موجود تھی لیکن ایک ہیئتِ اجتماعی ( یعنی جماعت) ہی اس کے فروغ اور اظہار کا سبب بنی ۔ لہٰذا فرد کو خاندان، گروہ، ریاست یا کسی بھی ہیئتِ اجتماعی کا شکر گزار ہونا چاہیے نہ کہ وہ الٹا حقوق کی لمبی فہرست ہیئتِ اجتماعی کے سامنے رکھ دے اور دوسروں (یعنی ہیئتِ اجتماعی ) کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے۔ مولانا سعید الرحمن علوی مذکورہ نوعیت کی معاشرتی فکر کی معاشی توجیہ کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی شہرہ آفاق کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ کی یہ عبارت نقل کرتے ہیں کہ : 
’’ یہ واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا منشا اگرچہ بالذات عبادت الہٰی سے متعلق ہے، مگر عبادات کے ساتھ ساتھ اس منشا میں رسومِ فاسد کو فنا کر کے اجتماعی زندگی میں بہترین نظام کا قیام بھی شامل ہے۔ اسی طرح پیغمبرِ خدا ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق 
’’میں اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں کہ مکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں ۔‘‘
اور اسی لیے اس مقدس ہستی کی تعلیم میں ’’ رہبانیت ‘‘ کو اخلاقی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ انسانوں کے باہم اختلاط و اجتماع کی زندگی کو ترجیح دی گئی ہے، لیکن اس اجتماعیت کا امتیاز یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس کے معاشی نظام میں نہ دولت و ثروت کو وہ حیثیت حاصل ہو جو عجمی بادشاہوں کے ہاں حاصل تھی اور نہ ایسی کیفیت ہو کہ تمدن سے بیزار دہقان اور وحشی لوگوں کی طرح ان کی معیشت ہو۔ پس اس مقام پر دو متعارض قیاس کام کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ نظامِ معیشت میں دولت و ثروت ایک محبوب و محمود شے ہے اس لیے وہ اگر صحیح اصول پر قائم ہے تو اس کی بدولت انسانوں کا دماغی توازن اعتدال پر رہتا ہے اور اس سے ان کے اخلاقِ کریمانہ صحیح اور درست رہتے ہیں۔ نیز انسان اس قابل بنتا ہے کہ دوسرے حیوانات سے ممتاز ہو۔ اس لیے کہ بیکسانہ اور مجبورانہ افلاس ، سوءِ تدبیر اور مزاج کے اختلال کے باعث ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نظامِ معیشت میں دولت و ثروت ایک بد ترین چیز ہے جبکہ وہ باہمی مناقشات اور بغض و حسد کا سبب بنتی ہے اور خود اہلِ دولت و ثروت کے اطمینانِ قلب کو تعب اور حریصانہ کدو کاوش کے زہر سے مسموم کرتی ہے ، کیونکہ اس صورت میں یہ بد اخلاقی کے مرض میں مبتلا کر دیتی ہے، آخرت اور یادِ الٰہی یعنی روحانی زندگی سے یکسر غافل و بے پروا بنا دیتی ہے اور مظلوموں پر نت نئے مظالم کا دروازہ کھولتی ہے ۔ لہٰذا پسندیدہ راہ یہ ہے کہ دولت و ثروت ’’ نظامِ معیشت ‘‘ میں ایسا درجہ رکھتی ہو جو توسط اور اعتدال پر قائم ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو ‘‘۔ (ص ۸۶ ) 
مشہور امریکی مصنف ول ڈیو رینٹ، جس نے گیارہ جلدوں پر محیط ’The Story of Civilization‘ میں اپنی علمی و تحقیقی کاوش پیش کی ، پھر اس کا خلاصہ اور فکری نچوڑ بہت اختصار سے ’The Lessons of History‘ میں دنیا کے سامنے رکھا اور اپنے نتائجِ فکر کے سبب عالمی پذیرائی حاصل کی، اس نے بھی تاریخ سے اخذ کردہ دانش و حکمت کی بنا پر معروضی اعتبار سے شاہ ولی اللہ ؒ کے بیان کردہ نکات کو درست ثابت کیا ہے ۔ اس کے مطابق: 
We conclude that the concentration of wealth is natural and inevitable, and is periodically alleviated by violent or peaceable partial redistribution. In this view all economic history is the slow heartbeat of the social organism, a vast systole and diastole of concentrating wealth and compulsive recirculation. ( p, 57. The Lessons of History) 
’’ ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دولت کا ارتکاز ، فطری اور ناگزیر ہے، اس میں وقتاً فوقتاً پر تشدد یا پر امن طور پر دولت کی از سرِ نو تقسیم کے باعث کمی ہو جاتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے تمام معاشی تاریخ ، سماجی نظام کی سست رو دھڑکن کی مانند ہے جس میں دولت کا مرتکز ہونا اور لازمی طور پر دوبارہ گردش میں آنا دل کے سکڑنے اور پھر دوبارہ پھیلنے کی طرح ہوتا ہے ۔‘‘ 
بحث کے اس مقام پر ہمیں بے اختیار رسولِ پاک ﷺ کا یہ فرمانِ مبارک یاد آ رہا ہے کہ : ’’ جسمِ انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو گیا تو سارا جسم ٹھیک ہو گیا اور اگر وہ بگڑ گیا تو پورا نظامِ جسمانی بگڑ گیا۔ فرمایا وہ دل ہے ‘‘۔ اسی طرح ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر تقویٰ کی اہمیت بیان فرمائی ہے :
’’اے لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو ، جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرہ: ۲۱)
’’سب سے اچھا زادِ راہ تقویٰ ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۷)
’’اور تقویٰ کا لباس سب سے اچھا ہے۔‘‘ (الاعراف: ۲۶)
’’تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)
’’تقویٰ والے ہی خدا کے دوست ہیں۔‘‘ (الانفال: ۳۴)
سورۃ الذاریات میں متقین کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے مالوں میں سائل اور نادار آدمی کا حق ہے۔ (آیت ۱۹) اسی طرح سورۃ المائدہ کے مطابق تقویٰ سے بہرہ ور ہوکر انسان عدل و انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنے لگتا ہے۔ (آیت ۸) قرآن مجید نے یہ کہہ کر تقویٰ کی مدح و منقبت پر گویا مہر ثبت کر دی کہ : ’’ اور آخرت تیرے پروردگار کے نزدیک تقویٰ والوں کے لیے ہے ‘‘۔ (الزخرف: ۳۵)
تقویٰ کی اہمیت و معنویت سے متعلق قرآن و سنت کے ارشادات یہ واضح کرنے کو کافی ہیں کہ دنیوی و اخروی زندگی کی کامیابی کا مدار تقویٰ پر ہے اور تقویٰ دل میں ہوتا ہے ۔ اگر قرآن مجید کے کلی پیغام کو تقویٰ کے کلی مفہوم سے جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ علم ، دولت ، سرمایہ اور اختیارات کا ارتکاز کوئی غیر فطری چیز نہیں ، کیونکہ اس دنیا میں انسانی جدو جہد کا مرکز درحقیقت، اسی ارتکاز کا انتشار یا پھیلاؤ ہے۔ گویا ارتکاز فطری ہے تو تسخیرِ فطرت انسان کی سرشت میں رکھی گئی ہے ۔ جو انسان یا گروہ ’’ ارتکاز ‘‘ پر جتنی زیادہ فتح پاتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ متقی ہوتا ہے کہ اس عمل سے وہ پورے معاشرتی نظام کی کلیت و استقلال کو یقینی بناتا ہے ۔ متقی معاشرے میں خونی انقلاب نہیں آتا، گویا یہ اس دل سے مشابہ ہوتا ہے جس میں خون جمع بھی ہوتا ہے اور پھیلتا بھی ہے۔ ایسے دل کے لیے ’’بائی پاس ‘‘ نا گزیر نہیں ہوتا۔ اس امر میں بھی کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن و سنت کے میں ’’ رہبانیت ‘‘ یا ترکِ دنیا کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اس لئے تقوی کی مجہولی و مفعولی نوعیت کی معنویت ( جو ہمارے معاشرے میں اس وقت پائی جاتی ہے) خلط مبحث اور دین کے گمراہ کن فہم پر مبنی ہے ۔ متقی شخص خانقاہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کی رٹ نہیں لگاتا بلکہ وہ معاشرے میں زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے عمل کے ذریعے معاشرے کے SYSTOLE (انقباضّ قلب) اور DIASTOLE (انبساط قلب) کو یقینی بناتا ہے ۔ یہی بات گروہ کی بابت سچ ہے ۔ مولانا سعید مرحوم اپنی تحریر کے بین السطور یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ تقویٰ کا تعلق داخلی و باطنی دنیا سے ہے لیکن معاشرت اور معاشرت پر مبنی دیگر نظاموں کی تعمیر اسی پر ہوتی ہے ، اس لئے اگر داخلی اعتبار سے کچھ کمی بھی رہ جائے تو اس کی تلافی ایسے خارجی اقدامات سے کی جانی چاہیے جو معاشرت کا رخ تقویٰ کی جانب رکھ سکیں، کیونکہ قرآن مجید میں اس حوالے سے معروضی احکامات موجود ہیں ۔ علوی مرحوم شیخ الہند ؒ کے اسی سے ملتے جلتے اصولی موقف کو اسلامی نظامِ عدل کے محور کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ ملاحظہ کیجئے شیخ الہند ؒ کا اصولی موقف :
’’ جملہ اشیاء عالم بدلیل فرمان واجب الاذعان ’’خلق لکم ما فی الارض جمیعا‘‘ تمام بنی آدم کی مملوک معلوم ہوتی ہیں یعنی غرض خداوندی تمام اشیاء کی پیدائش سے رفع حوائج جملہ ء ناس (انسان ) ہے اور کوئی شے فی ذاتہ کسی کی مملوک خاص نہیں بلکہ ہر شے اصل خلقت میں جملہ ناس میں مشترک ہے اور من وجہ سب کی مملوک ہے۔ ہاں بوجہ رفع نزاع و حصول انتفاع قبضہ کو علتِ ملک قرار دیا گیا اور جب تک کسی شے پر ایک شخص کا قبضہ تامہ مستقلہ باقی ہے، اس وقت تک کوئی اور اس میں دست درازی نہیں کر سکتا۔ ہاں خود مالک و قابض کو چاہیے کہ اپنی حاجت سے زائد پر قبضہ نہ رکھے بلکہ اس کو اوروں کے حوالے کر دے کیونکہ باعتبار اصل دونوں کے حقوق اس کے متعلق ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مالِ کثیر حاجت سے زائد جمع رکھنا بالکل پسندیدہ نہیں گو زکوٰۃ بھی ادا کر دی جائے اور انبیا و صلحا اس سے بغایت مجتنب رہے۔ چنانچہ احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے بلکہ بعض صحابہ و تابعین وغیرہ نے حاجت سے زائد رکھنے کو حرام ہی فرما دیا۔ بہر کیف غیر مناسب و خلاف اولیٰ ہونے میں تو کسی کو کلام ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ زائد علی الحاجۃ سے تو اس کی کوئی غرض متعلق نہیں اور اوروں کی ملک’’ من وجہ‘‘ اس میں موجود۔ تو گویا شخص مذکور من وجہ مالِ غیر پر قابض و متصرف ہے اور اس کا مال بعینہ مالِ غنیمت کا سا تصور کرنا چاہیے۔ وہاں بھی قبل تقسیم یہی قصہ ہے کہ کل مالِ غنیمت کل مجاہدین کا مملوک سمجھا جا تا ہے مگر بوجہ ضرورت و حصول انتفاع بقدر حاجت ہر کوئی مالِ مذکور سے منتفع ہو سکتا ہے۔ ہاں حاجت سے زائد جو رکھنا چاہے، اس کا حال آپ کو بھی معلوم ہے کہ کیا ہونا چاہیے؟ یعنی خائن شمار ہو گا‘‘ (ص ۵۶، ۵۷ ) 
قرآن و سنت سے براہ راست راہنمائی لینے کے ساتھ ساتھ اپنے استدلال کی تنقیح شاہ ولی اللہ ؒ اور شیخ الہند ؒ کے افکار سے کرتے ہوئے مولانا سعید الرحمن مرحوم کہتے ہیں کہ : 
’’ایک شخص جس نے بے شک قانونی مطالبہ پورا کر دیا ہو اور اس کے پڑوس میں نادار، مسکین، یتیم اور بے کس بستے ہوں، وہ خیر و بھلائی کے اجتماعی اور انفرادی کاموں سے لا تعلق ہو اور اس کے پاس مال کے ڈھیر ہوں تو قانونی تقاضا پورا کرنے کے باوصف وہ مسؤلیت سے بچ نہیں سکتا۔ سورۃ توبہ میں ان منافقین کا ذکر ہے جو مال رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان خیال کرتے ہیں۔ (التوبہ ، آیت ۶۷) قرآن کریم نے ان کی زر پرستی کو نفاق کی دلیل قرار دیا۔ حدیثِ مبارکہ میں بھی منافقت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ذکر کی گئی ہے کہ وہ امانت واپس نہیں کرتے اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔(مشکوۃ) ‘‘ ( ص ۴۱ )
مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان خیال کرنے کی بجائے امانت کی واپسی پر محمول کیا جائے۔اب ذرا غور سے شاہ ولی اللہ ؒ کے تصورِ نظامِ معیشت، ول ڈیو رینٹ کی تصریح اور شیخ الہند ؒ کی نکتہ دانی کی روشنی میں مولانا سعید کی مذکورہ بالا عبارت پر نظر دوڑائیے اور انھیں داد دیجیے کہ انھوں نے کتنی غیر جانبداری، جرات اور بے باکی سے اسلامی معیشت میں پنہاں ’’امانت ‘‘ کا تصور اجاگر کیا ہے جس کے پس منظر میں تقویٰ بدرجہ اتم موجود ہے۔ علوی مرحوم کہنا چاہتے ہیں کہ فرد نے اعلیٰ ذاتی صلاحیت کے بل بوتے پر (خواہ وہ براہ راست معاشرے سے حاصل کردہ ہو اور اسی سبب سے بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی ہی دین ہو کہ معاشرے کے پیچھے الہٰیاتی کار فرمائی لازماً موجود ہوتی ہے، یا پھر وہ اس میں قدرتی طور پر موجود ہو یعنی خداداد ہو) جو کچھ کمایا، اس کی حیثیت ’’امانت‘‘ کی سی ہے۔ ایسا فرد در حقیقت ’’ امین ‘‘ ہوتا ہے۔ اسے معاشرے کے توسط سے، امانت کی واپسی بالواسطہ اللہ تعالیٰ کو کرنی چاہیے ( جیسا کہ اسے بالواسطہ ہی یہ نعمت ملی تھی ) اور براہ راست بھی، کہ رب العالمین نے اسے بلا واسطہ بھی نوازا ہے ۔ ایسا شخص متقی شمار ہوگا ، دنیا میں فضیلت اور آخرت میں عزت اسی کے لیے ہو گی ۔ لیکن اگر اگر کوئی شخص امین نہیں ہے یعنی متقی نہیں بلکہ خائن ہے تو ظاہر ہے، اس کے ساتھ جبر کرنا پڑے گایعنی اس کا ’’بائی پاس‘‘ کرنا ضروری اور نا گزیر ہو گا تاکہ اما نتیں، حقداروں تک پہنچ پائیں اور نظام کی کلیت رواں دواں رہے۔یہی امر گروہ اور قوم کے لیے ہے۔ ول ڈیو رینٹ نے اسی امر کو ’’جبری گردش‘‘ کا نام دیا ہے جومعاشی تاریخ کا ایک مسلمہ اصول ہے۔اپنے موقف کی تائید میں سعید علوی مرحوم ، حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ’’مساوات ‘‘ کے اصول کو پیش کرتے ہیں کہ آپؓ نے تقسیمِ مال میں مدراج قائم نہیں کیے : 
’’سید نا صدیقِ اکبرؓ جیسے مزاج شناس نبوت اور خلیفہ راشد نے تقسیمِ مال میں ’’ علی السویہ ‘‘ مساوات کا اہتمام کیا جس پر بعض لوگوں نے کہا: اے خلیفہ رسول، آپ نے مال برابر تقسیم کر دیا حالانکہ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جن کو دوسروں پر تقدم اور تفوق حاصل ہے۔ اگر آپ ان کے سبقت الی الاسلام اور فضیلت کی رعایت رکھتے تو بہتر ہوتا ۔ آپ نے جواب میں فرمایا : تم نے جن فضائل و سوابق کا ذکر کیا ہے، ان کو مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہے (آپ تو اس معاملہ میں بڑے آگے تھے کہ سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپ نے ساری دولت خرچ کی، تمام غزوات میں شریک رہے، حضور ﷺ کے دست و بازو بنے) لیکن یہ چیزیں وہ ہیں جن کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ یہ بہر حال معاش کا معاملہ ہے، اس میں برابری کا معاملہ کرنا ، ترجیح دینے سے بہتر ہے ‘‘۔ (ص ۱۶۹، ۱۷۰ )
شیخ الہند ؒ کی جو عبارت اوپر نقل کی گئی ہے، اس کے مندرجات اشارہ کرتے ہیں کہ انھوں نے بھی صدیقِ اکبرؓ کے اس عمل اور فرمان سے پوری مدد لی ہے اور صدیقی فکر کے اکبر ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر غور کیا جائے کہ تفوق و فضائل اور تقدم و سوابق کے لیے جن اصحابؓ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، وہ کون تھے اور ان کے تفوق کی نوعیت کیا تھی توہماری بحث کو ایک اور رخ ملتا ہے کہ انسان کے بعض معاملات بہر حال ایسے بھی ہیں جن کا اجر براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہی ملے گا۔ہم یہاں ازواجِ مطہراتؓ کے تقدم و سوابق اور تفوق و فضائل پر بات نہیں کریں گے ۔ زیرِ بحث نکات کی تنقیح کے لحاظ سے ’’تفوق کی نوعیت ‘‘ بہت اہم ہے۔ صدیقِ اکبرؓ نے ’’شخصی تفوق ‘‘ کو کسی بھی اعتبار سے ’’ مالی تفوق ‘‘ کی بنیاد نہیں بننے دیا۔ ان کے مطابق شخصی تفوق و فضیلت کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شخصی تفوق( چاہے وہ معاشرے کی خدمت کی بنا پر ہو یا کوئی اعلیٰ ذاتی صلاحیت جس کے سبب سے کسی کو امتیازی حیثیت حاصل ہو جائے ) کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور تقویٰ یہی ہے کہ فرد اس تفوق کی بنیاد پر معاشرے سے زیادہ سے زیادہ لینے کا مطالبہ ’’نہ ‘‘ کرے کیونکہ یہ تفوق اس قدر ’’ ذاتی ‘‘ ہے کہ معاشرہ اس کا عین بدل نہیں دے سکتا۔ اگر معاشرہ فضیلت کی بنا پر ’بدل‘ دیتا ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ’بدل‘ خود تفوق کی وجہ بن جاتا ہے اور فرد کی اصل فضیلت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدیقِ اکبرؓ نے فرد کی اصل فضیلت کے اثبات و استقلال کے لیے ہی علی السویہ کا اہتمام کیا ۔یوں سمجھیے کہ ان کاموقف یہ تھا کہ بدری صحابہؓ کی فضیلت کا بدل دینے سے ان کی بدریت آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی جائے گی اور تقسیمِ مال میں دوسروں سے زیادہ حصہ خود ایک فضیلت بن جائے گی۔ ایسا ہر گز نہیں کہ انھوں نے تفوق کی ہر نوعیت سے انکار کیا ہے بلکہ انھوں نے تو اس کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استقلال کو بھی یقینی بنایا ہے اور پھر یہ فرما کر گویا تفوق و فضیلت کے اثبات و استقلال پر مہر ثبت کر دی کہ اللہ تعالیٰ ہی اس فضیلت کا اجر دے گا۔ بحث کے اس مقام پر ہمیں یہ اخذ کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ صدیقِ اکبرؓ نے فضیلت کے اثبات کا ایسا اہتمام کر کے فرد کی ’’ انفرادیت ‘‘ کو اجتماعیت کے حصار میں آنے سے بچا لیا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق قائم کر کے انفرادیت کو الہٰیاتی تقدس بھی فراہم کیا تاکہ انفرادیت اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم رہے کہ اس کے خاتمے کا سوچا بھی نہ جا سکے۔ مولانا سعید الرحمن کہتے ہیں کہ : 
’’ سید نا عمر فاروقؓ نے اس پالیسی کو تبدیل تو کیا ، آخر میں فرمایا کہ آئندہ سال زندہ رہا تو صدیقی پالیسی رائج کر دوں گا ۔ حضرت علیؓ بھی صدیقی پالیسی کے قائل تھے ‘‘۔ (ص۱۱۳ )
اسی طرح عراق کی زمین کے قضیے کی بابت علوی مرحوم کہتے ہیں کہ : 
’’سید نا عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں ’’ سوادِ عراق ‘‘ کی زمینوں کا معاملہ ہماری اجتماعی زندگی کا بڑا اہم معاملہ ہے جس میں مجاہدین اور فوجی حضرات کا مطالبہ تھا کہ یہ ہمارے اندر تقسیم کر دی جائیں لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے وسیع پیمانے پر مشاورت کے بعد اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت الامام ابو یوسف حنفی ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کا فیصلہ بہترین فیصلہ ہے کہ اس پر مسلمانوں کی اجتماعی فلاح کا راز تھا۔ زمین کا خراج اکٹھا کر کے اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔ مجاہدین میں زمین تقسیم ہو جاتی تو اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت خطرہ میں پڑ جاتی (کہ مجاہدین کھیتی باڑی میں لگ جاتے) اور اجتماعی وظائف وغیرہ کا اہتمام نہ ہوتا تو مسلم دنیا بے چینی کا شکار ہو کر عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتی‘‘۔ ( ص ۱۰۹ )
ہم خیال کرتے ہیں کہ سید نا عمرؓ نے عراقی زمین کی تقسیم کے معاملے میں صدیقی پالیسی کی روح کو مدِ نظر رکھا۔ وسیع مشاورت پر مبنی اس فیصلے سے ایک بہت اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ کسی بھی فضیلت کے اعتبار سے فرد کو نوازتے وقت (اگر نوازنا ضروری ہی ہو ) یہ دھیان رکھا جائے کہ نوازنا اس کی ذات تک محدود رہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی وفات کے بعد اس کے ورثا اس نوازش کو ہی فضیلت کا مدار بنا لیں۔ اگر کسی فرد کو فضیلت ( اعلیٰ ذاتی صلاحیت پر مبنی فوجی خدمت و غیرہ) کی بنا پر زمین الاٹ کی جاتی ہے تو چونکہ وہ زمین ایک فضیلت کی بنا پر ملی تھی اور فضیلت( یعنی اعلیٰ ذاتی صلاحیت ) ورثا کو منتقل نہیں ہو سکتی، اس لیے اس فضیلت کی بنیاد پر حاصل کی گئی زمین متعلقہ فرد کی وفات کے بعد اجتماعی ملکیت متصور ہو گی، لیکن چونکہ ایسا عمل نا ممکن تھا کہ مجاہدین کے ورثا اس پر کبھی تیار نہ ہوتے اور قبضہ چھوڑنے سے انکاری ہوتے، اس لیے مستقبل میں آنے والے اسی قسم کے مسائل پر نظر رکھتے ہوئے زمینوں کی تقسیم عمل میں نہ لائی گئی جو بلا شبہ بہترین فیصلہ تھا ۔ اگر زمینیں تقسیم کی جاتیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصل فضیلت ( جس کی بنیاد پر زمین ملی تھی) پس منظر میں چلی جاتی اور زمین رکھنے والے ، زمین رکھنے کے سبب سے معاشرے میں فضیلت کے مستحق ٹھہرتے۔ کیا یہ جعلی قسم کی فضیلت نہ ہوتی ؟ اور ایسا معاشرہ جس میں ایسی فضیلت کو قبول کیا جاتا، کیا وہ فضیلت کی اصل قسم کو فروغ دینے کے بجائے اس کے خاتمے کا سبب نہ بنتا ؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جعلی فضیلت کو فروغ دینے والا معاشرہ ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا ، کیونکہ یہ فرد کی اعلیٰ ذاتی صلاحیت یعنی حقیقی فضیلت ہی ہے جو معاشرے کے ترقی پسندانہ ارتقا کو یقینی بناتی ہے۔ سعید مرحوم اسی قسم کے صحت مندانہ معاشرتی ارتقا کے پیشِ نظر جرنیلوں کو مربعے الاٹ کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان زمینوں کی واپسی چاہتے ہیں جو موجودہ جاگیر داروں کے اجداد کو کسی قسم کی ’’فضیلت ‘‘ کے سبب سے انگریزوں نے الاٹ کی تھیں ۔ہم یہ کہہ کر پھبتی نہیں کسیں گے کہ اجداد کی ’’فضیلت ‘‘ معاصر جاگیر داروں کو منتقل ہو گئی ہے کیونکہ فضیلت منتقل نہیں ہوتی، لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ اجداد کی’’ فضیلت‘‘ کی بنا پر قائم جاگیریں اب خود فضیلت بن گئی ہیں۔ ظاہر ہے یہ جعلی قسم کی فضیلت ہے جس سے معاشرتی ارتقا جمود کا شکار ہو گیا ہے اور فرد کی اعلیٰ ذاتی صلاحیت کا اعتراف و اثبات ، جس کا اہتمام صدیقِ اکبرؓ نے کیا تھا، ہمارے معاشرے سے یکسر غائب ہو گیا ہے۔ 
اس پوری بحث سے ہم نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلام میں انفرادیت پسندی کا دائرہ ، مغرب کے تصورِ انفرادیت پسندی سے بہت بڑھا ہوا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کی بنیاد خود غرضی پر نہیں بلکہ تقویٰ پر ہے ۔ اس پوری کتاب کے بین السطور مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے فرد کی انفرادیت کا التزام، مغربی تصورات سے کہیں زیادہ کیا ہے لیکن چونکہ موجودہ معاشرت ، داخلی اعتبار سے متقدمین کے سے اسلوبِ زندگی سے محترز ہے اس لیے اس طرزِ زندگی کی بازیافت کے لیے قرآن و سنت پر مبنی خارجی و معروضی اقدامات کرنے نا گزیر ہیں۔ ان اقدامات سے فرد کی انفرادیت ختم نہیں ہوگی بلکہ نکھر کر سامنے آئے گی اور الہٰیاتی تقدس کے سبب سے اپنی بقا کے لیے خارجی عوامل کی محتاج نہیں ہو گی جیسا کہ مغربی انفرادیت پسندی، قوانین کی محتاج و غلام ہے۔ مولانا سعید کے مطابق کیپٹل ازم میں خاندان کو فرد کی خود غرضی کا منبع خیال کرتے ہوئے کمیونزم میں خاندان کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے اباحیت کا دور دورہ ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود غرضی کے محرک ’’ خاندان ‘‘ کو کیپٹل ازم اب خود تباہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ شاید خود غرضی سکڑتے ہوئے خاندان سے فرد کی ذات تک پہنچ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خود غرضی کی اگلی سٹیج کیا ہو گی؟ علوی مرحوم کمیونزم اور کیپٹل ازم کا رد کرتے ہوئے اس متوازن نظام کا خاکہ پیش کرتے ہیں جس میں فرد کی انفرادیت، خاندان کی عصمت اور معاشرے کی ترقی کے تمام امکانات موجود ہیں۔ ہماری رائے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاصر رجحانات و اصطلاحات کی روشنی میں قرآن وسنت کے معاشی نظام کی تعبیر کے بجائے قرآن و سنت سے آزادانہ راہنمائی لی جائے۔ آج جس طرح ذاتی ملکیت کے تصور پر زور دیا جاتا ہے اور اسے اسلامی معیشت کے محور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہم یہ ہر گز نہیں کہنا چاہتے کہ ذاتی ملکیت نہیں ہونی چاہیے یا یہ کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہماری مراد در حقیقت ترجیحات سے ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ذاتی ملکیت اسلامی معیشت کے مختلف عناصر میں کس مقام پر کھڑی ہے اور اسے ہم نے کیا مقام دیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی ملکیت کے لوازمات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ذاتی ملکیت پر اس لیے زیادہ زور رہا کہ معاصر دنیا میں اسی کا پراپیگنڈا تھا۔ ہمارے بعض ’’شرعی عدالتی‘‘ فیصلے بھی شاید اسی تناظر میں کیے گئے۔ مولانا سعید مرحوم جب یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو ان کا لہجہ تلخ ہو جاتا ہے، لیکن ان کی تلخ نوائی حضرت ابو ذر غفاریؓ کی پیروی میں ہے کہ انھوں نے بھی داغ ، داغ کا نعرہ مستانہ ( کہ داغے جاؤ گے ) بلند کیا تھا۔ 
زیرِ نظر کتاب کا آخری مقالہ ’’ الحجر۔۔۔ حجر کی لغوی شرعی تحقیق ‘‘ آج کے ماحول سے مطابقت رکھتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے شادی بیاہ کے کھانوں اور رسموں پر جو پابندی عائد کی ہے، وہ حجر کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشرتی ابتری اس سے زیادہ اقدام کی متقاضی ہے۔ 
آخر میں ہم گزارش کریں گے کہ اس کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں پروف ریڈنگ کا خاص اہتمام کیا جائے۔ یہ بات اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ کتاب کے آغاز میں ’’ تشکر ‘‘ کے زیرِ عنوان کہا گیا ہے کہ ’’ بڑی عرق ریزی سے پروف ریڈنگ کی ‘‘ ۔ اس کے باوجود پروف کی بے شمار غلطیاں رہ گئی ہیں۔ اس قابلِ مطالعہ وقیع کتاب کی قیمت ۱۲۰ روپے ہے اور اسے مکتبہ جمال ، تھرڈ فلور ، حسن مارکیٹ ، اردو بازار لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اور فتنہ انکارِ سنت ۔ تفسیر ضیاء القرآن کی روشنی میں

پروفیسر محمد اکرم ورک

ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ (۱۹۱۸ - ۱۹۹۸) عالمِ اسلام کے ان نامور مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے متنوع موضوعات پر دادِ تحقیق دی ہے۔ اگرچہ انہوں نے کثیر موضوعات پر گرانقدر علمی مضامین اور مقالات رقم فرمائے ہیں، تاہم تفسیر، حدیث اور سیرت کے موضوعات پر آپ کے نوکِ قلم سے پھوٹنے والے چشمۂ فیض سے ایک زمانہ اپنی علمی پیاس بجھارہاہے ۔ تفسیر’’ ضیاء القرآن‘‘، ’’ ضیاء النبی ‘‘ اور حجیت حدیث پر ’’سنت خیر الانام ‘‘ وہ معرکہ آرا کتابیں ہیں جنہیں بجا طور پر آپ کی فکری زندگی کا نچوڑکہا جا سکتا ہے۔ 
حجیت حدیث کے موضوع پر پیر صاحب کی مستقل تصنیف ’’ سنت خیر الانام ‘‘موجود ہے ، نیز آپ نے ’’ضیاء النبیﷺ‘‘کی جلد ہفتم میں بھی تدوین و تاریخِ حدیث پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، اس لیے جو احباب حجیت و تاریخِ حدیث پر پیر صاحب کے خیالات سے تفصیلی استفادہ کرنا چاہیں، انہیں یقینًا محولہ بالا کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس وقت ہمارے پیش نظر قارئین کو تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ کے ان مقالات کی طرف متوجہ کرنا ہے جہاں پیر صاحب نے مقامِ حدیث اور اہمیتِ حدیث کے بڑے اہم مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔
موضوع پر براہِ راست گفتگو سے قبل ضروری ہے کہ برصغیر میں فتنہ انکارِ سنت کے آغاز وارتقا کا اختصار کے ساتھ جائزہ پیش کردیاجائے تاکہ قارئین اس ماحول سے متعارف ہوجائیں جن میں پیر صاحب نے تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ تصنیف فرمائی۔
برصغیر میں برطانوی غلبہ و اقتدار نے جہاں مسلمانوں کو آزادی جیسی عظیم نعمت سے محروم کردیا، وہاں ان کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو بھی بری طرح پامال کیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں مکمل شکست کے بعد بچے کھچے مسلمان قائدین واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کی اکثریت نے شکست کا واضح طور پر اعتراف کرلیا اور وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ان لوگوں نے ایمان کی سلامتی کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ چنانچہ یہ لوگ سیاست اور حکومتی معاملات سے لاتعلق ہوکر اپنے مدرسوں اور خانقاہوں میں مقید ہوگئے۔ دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت میں اپنی زندگیاں وقف کردیں اور مسلمانانِ ہند کو مغربی تہذیب وتمدن کی زہرناکیوں سے بچائے رکھنے کی جدوجہد میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔سچی بات تو یہ ہے کہ انہی ’’ بنیاد پرست ملاؤں‘‘کی وجہ سے برصغیر میں انگریز اسلام کو مکمل طور پر ختم نہ کرسکا، ورنہ ہمارا حشر بھی آج ترکی سے مختلف نہ ہوتا۔
دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے شکست کے بعد اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ، انگریز کے خلاف کسی نہ کسی انداز میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، ’’اسلام بطور نظامِ زندگی‘‘ کے نعرے کے ساتھ انگریز کے خلاف نبرد آزما رہے اور بالآخر اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کرکے جزوی طور پر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی۔
تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو انگریزی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور ذہنی مغلوبیت کا شکار ہوگئے۔ اس گروہ نے قدیم مذہبی فکر و فلسفہ کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دیااور مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ اقوامِ عالم میں اپنے مقام کی بحالی کے لیے انگریزی تہذیب وثقافت کو اپنائیں اور انگریزی علوم و فنون میں کمال حاصل کرلیں۔ سرسید احمد خاں (م ۱۸۹۸ ء) اس گروہ کے سرخیل ہیں۔نئے حالات میں اسلام کو ’’ قابل قبو ل ‘‘ بنانے کے لیے سرسید نے اسلام کی تشکیل جدید کا بیڑا اٹھایا تاکہ مسلمان ’’ ترقی ‘‘ کی رفتار میں زمانے کا ساتھ دے سکیں۔ اسلام کی من مانی تعبیر و تشریح میں چونکہ حدیثِ رسول سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اس لیے حدیث کو ہدفِ تنقید بنایا جانے لگا۔ علمِ حدیث پر اعتراضات کا رجحان بالآخر ’’ فتنہ انکارِ سنت‘‘ کی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ سرسید نے سب سے پہلے عقل کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی اور معجزات کے علاوہ کئی دیگر اسلامی عقائد کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی۔ 
مولوی چراغ علی (م ۱۸۹۵ ء) ، حافظ محمد اسلم جیراج پوری (م ۱۹۵۵ء ) ، علامہ تمنا عمادی (م ۱۹۷۲) ، ڈاکٹر فضل الرحمن (م ۱۹۸۸ء)، علامہ حبیب الرحمٰن کاندھلوی( م ۱۹۹۱ء )، مولوی عبداللہ چکڑالوی اور خواجہ احمد الدین امرتسری جیسے لوگوں نے حدیثِ رسول کو عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ کی دینی تاریخ کامقام دیتے ہوئے حدیث کی حجیت کا کلی طور پر انکار کردیا، لیکن جس شخص نے فتنہ انکارِ سنت کو بامِ عروج تک پہنچایا، وہ علامہ غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء) ہیں۔ ’’مقامِ حدیث ‘‘ان کی مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
جن دنوں پیر صاحب ’’ ضیاء القرآن ‘‘ کی تصنیف میں مشغول تھے ، فتنہ انکارِ سنت کی حشر سامانیاں پورے عروج پر تھیں۔ چنانچہ پیر صاحب نے حجیتِ حدیث پر اپنی مستقل تصنیف کے باوجود تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ میں بھی جابجا اس فتنہ کے رد میں اپنا قلم اٹھایا۔ منکرینِ سنت نے حدیث کی حجیت پر جو بنیادی اعتراضات کیے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :
۱۔ حدیث وحی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی رائے اور اجتہادات پر مشتمل ہے۔
۲۔ جس حکمت کا قرآن میں جابجا ذکر آیا ہے، وہ قرآن سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
۳۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے مراد امامِ وقت یعنی مرکز ملت کی اطاعت ہے۔
ذیل کی سطور میں منکرینِ حدیث کے انہی اعتراضات کا تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ کی روشنی میں ترتیب وار جائزہ لیا جائے گا۔
جمہور مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حدیث بھی قرآن کی طرح وحی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن ایسی وحی ہے جس کے الفاظ اور مفہوم دونوں اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں، جبکہ حدیث ایسی وحی ہے جس کا مفہوم اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جبکہ الفاظ رسول ﷺ کے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’ سنت کی آئینی حیثیت ‘‘ میں اختصار کے ساتھ اس کے دلائل دیکھے جاسکتے ہیں۔منکرینِ حدیث نے جمہور علماء کے اس نقطہ نظرکو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور وہ وحی کی اس تقسیم کے قائل نہیں ہیں۔ حافظ محمد اسلم جیراج پوری لکھتے ہیں:
’’ بعض لوگوں نے وحی کی دو قسمیں کرڈالی ہیں،متلو اور غیر متلویا جلی اور خفی۔ ایک کو قرآن کہتے ہیں اور ایک کو حدیث، لیکن یہ ان کی محض خیالی اصطلاح ہے جس کو قرآن سے کوئی سرو کار نہیں۔‘‘  (ہمارے دینی علوم، ص ۹۴)
لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر کوئی اصطلاح عہد رسالت کے بعد متعارف ہوئی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جس مفہوم پر وہ اصطلاح دلالت کررہی ہے، وہ بھی بعد کی پیداوار ہے ۔ مثلًا مختلف افعال کے لیے فرض ، واجب ، سنت ،مستحب ، حرام، مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی کی اصطلاحات فقہاء کرام نے عہد رسالت کے بعد متعارف کروائی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ عہد رسالت میں افعال کی یہ درجہ بندی ہی موجود نہ تھی، بالکل غلط ہے بلکہ اس کی سادہ توجیہ یہ ہے کہ یہ درجہ بندی تو موجود تھی لیکن اس کے لیے یہ جامع و مانع اور نپی تلی اصطلاحات بعد میں مدون کی گئیں۔ بالکل یہی معاملہ وحی متلو اور وحی غیر متلو کی اصطلاحات کا بھی ہے۔ تاہم علامہ غلام احمد پرویز کا کہنا یہ ہے:
’’حدیث کے وحی خفی ہونے کا عقیدہ یہودسے مستعارلیا گیا ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (مقامِ حدیث ، ص ۲۷)
پیر صاحب جمہور علماء کے اس نقطہ نظر کے مؤید ہیں کہ حدیث بھی وحی ہی کی ایک صورت ہے، چنانچہ وہ سورۃ النجم کی آیت ’وماینطق عن الھوی ان ھو الاوحی یوحی‘ ( ۵۳ /۳،۴ ) سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ بعض علماء کی رائے ہے کہ ’ھو‘ کا مرجع صرف قرآن کریم نہیں بلکہ قرآن کریم ورجو بات حضور ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلتی ہے، وہ سب وحی ہے ۔ وحی کی دو قسمیں ہیں ۔ جب معانی اور کلمات سب منزل من اللہ ہوں، اسے وحی جلی کہتے ہیں جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اور جب معانی کا نزول تو من جانب اللہ ہو لیکن ان کو الفاظ کا جامہ حضورﷺ نے خود پہنایا ہو، اسے وحی خفی یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے جیسے احادیثِ طیبہ۔‘‘ ( ضیاء القرآن ۵/۱۰، ۱۱) 
پیر صاحب حدیث کے وحی ہونے پر استدلال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’ کتب احادیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا یہ واقعہ منقول ہے، وہ کہتے ہیں میرا دستور تھا کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے جو کچھ سنتا، وہ لکھ لیا کرتا ۔ قریش کے بعض احباب نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے تم حضورﷺ کا ہر قول لکھ لیا کرتے ہو حالانکہ حضورﷺ بھی انسان ہیں۔ کبھی غصے میں بھی کوئی بات فرمادیا کرتے ہیں، چنانچہ میں نے لکھنا بند کردیا۔ بعد میں اس کا ذکر بارگاہِ رسالت میں ہوا اور میں نے سلسلہ کتابت بند کرنے کی وجوہ بیان کیں توحضورﷺنے ارشاد فرمایا ’اکتب والذی نفسی بیدہ ماخرج منی الا الحق‘ ۔ ’ اے عبداللہ، تم میری ہر بات لکھ لیا کرو۔ اس ذا ت کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلتی۔ ‘ ( ضیاء القرآن ، ۵/۱۰۔۱۱)
یہ واقعہ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب صحاح میں بھی مروی ہے اور یہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی صحیح ہے ۔ اس لیے پیر صاحب کا اس حدیث سے استدلال دوہرے فوائد کا حامل ہے۔ ایک تو اس اعتراض کا رد ہوگیا کہ حدیث محض حضورﷺ کا ذاتی اجتہاد ہے اور دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور دوسرا اس اعتراض کا بھی رد ہو گیا کہ اگر حدیث بھی قرآن کی طرح دین ہے تو پھر آپﷺ نے اس کے لکھنے کا حکم کیوں نہ دیا۔ چنانچہ حضورﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرو نے احادیث کو بالالتزام لکھنا شروع کیا۔ احادیث نبوی پر مشتمل ان کی کتاب ’’صحیفہ صادقہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ان کا اپنا قول ہے کہ ’’ صادقہ ایک صحیفہ ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا۔‘‘ (محمدبن سعد، ’ الطبقات ‘، ۲/۴۰۸)
قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے ’’الکتاب‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’ الحکمۃ‘‘ کے نزول کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمت کا یہی وہ خزانہ ہے جو آپﷺ کو عطا فرمایا گیا اور جس کی روشنی میں آپ قرآن مجید کے اصولوں کو کھول کھول کر بیان اور اس کے مشکل مقامات کی توضیح فرماتے ہیں۔ نبوی دانش و حکمت کے مہکتے ہوئے پھول احادیثِ رسول کی صورت میں امت کے پاس محفوظ ہیں، جبکہ علامہ جیراج پوری لکھتے ہیں: 
’’حکمت کا مفہوم جو انہوں نے ( جمہور علماء) نے حدیث کو قرار دیا ہے، صحیح نہیں ۔ حکمت ایک عام لفظ ہے جس کے معنیٰ ہے دانائی کی باتیں ۔ خود قرآن کی صفت بھی حکیم ہے یعنی اس میں حکمت کی باتیں ہیں۔‘‘  ( ہمارے دینی علوم، ص ۹۲)
پیر صاحب سورۃ بقرہ کی آیت ۱۲۹ میں لفظ ’’ حکمت ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 
’’ حکمت سے کیا مراد ہے؟ اس کے سمجھنے سے ایک بہت بڑے فتنے کا اصولی رد ہوجائے گا ۔ حکمت کہتے ہیں ’’وضع الاشیاء علی مواضعھا‘‘ ہر چیز کو اپنے محل اور موقع پر رکھنا ،یہاں ’الحکمۃ‘ کا لفظ مذکور ہے۔ اس سے مراد احکام قرآن کی ایسی تفصیل اور ان کا ایسا بیان ہے جسے جاننے کے بعد انسان ان احکام کی ایسی تعمیل کر سکے جیسے قرآن نازل کرنے والے کا منشا ہے۔ اور نبی کے فرائض میں صرف یہی نہیں کہ قرآن سکھا دے بلکہ اس کا صحیح بیان اور تفصیل بھی سکھائے تاکہ قرآن پر اللہ کی منشا کے مطابق عمل ہو سکے اور اسی حکمت یعنی بیانِ قرآن کو سنتِ نبوی کہا جاتا ہے۔ دوسری متعدد آیات میں اس امر کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ حکمتِ قرآن یعنی اس کا بیان نبی کا ذاتی اجتہاد نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے ۔ مثلًا ارشاد ہے ’’وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ‘‘  اللہ تعالیٰ نے آپ پر اے نبیﷺ کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ جیسے قرآن کی اطاعت فرض ہے، اس طرح صاحبِ قرآن کی سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو گیا جو سنت کو نبی کریمﷺ کی ذاتی رائے خیال کرتے ہیں اوراس پر عمل کرنا ضروری یقین نہیں کرتے ہیں۔‘‘ (ضیاء القرآن ، ۱/۹۵)
اس اقتباس سے درج ذیل حقائق نکھر کر سامنے آتے ہیں : 
۱۔ ’الحکمت‘ سے مراد قرآن کا بیان اور تفسیر ہے ۔
۲۔ قرآن کا بیان یعنی حدیث اور سنتِ رسولﷺ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے۔
۳۔ حکمت یعنی قرآن کا بیان نبی کا ذاتی خیال یا اجتہاد نہیں بلکہ وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
۴۔ حکمتِ قرآن ( حدیثِ نبوی) پر بھی عمل کرنا قرآن ہی کی طرح فرض ہے۔
منکرینِ سنتِ کے نزدیک رسول اللہ کا دینی مقام و مرتبہ بقول حافظ اسلم جیراج پوری صرف یہ ہے:
’’ پیغاماتِ الٰہی کو لوگوں کے پاس بے کم و کاست پہنچا دینا۔ اس حیثیت سے آپﷺ کی تصدیق کرنا اور آپﷺ کے اوپر ایمان لانا فرض کیا گیا ۔یہ پیغمبری آپﷺ کی ذات پر ختم ہوگئی۔‘‘ (ہمارے دینی علوم، ص ۹۴)
لہٰذا قرآن کی تشریح و تعبیر میں آپ ﷺ کے بیانات آپ کی زندگی تک ہی معتبر ہیں۔ اب امت کے لیے احادیثِ رسول کی کوئی تشریعی حیثیت نہیں، یہ محض عہد رسالت اور عہد صحابہ کی دینی تاریخ ہے ۔ حافظ اسلم جیراج پوری دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’الغرض حدیث کا صحیح مقام دینی تاریخ کا ہے، اس سے تاریخی فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن دین میں حجت کے طور پر وہ پیش نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (ہمارے دینی علوم، ص ۱۰۳)
جبکہ امت کے سوادِ اعظم کا ہمیشہ سے یہ مسلمہ عقیدہ رہا ہے کہ حضور ﷺ قرآن مجید کے شارح اور مفسر ہیں اور قرآن کی جو توضیح رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے سنتِ رسول کی شکل میں ہم تک پہنچی، وہ ہر رائے پر مقدم ہے ۔ اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیان و وضاحت کی ذمہ داری آپ ﷺ پر عائد کی ہے ۔ چنانچہ پیر صاحب سورۃ النحل کی آیت ۴۴ : ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون‘‘ کی تفسیر میں آپ ﷺ کے اسی مقام و حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس آیت طیبہ سے واضح ہوا کہ ہمارے لیے نبی اکرمﷺ کی سنت کے اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا صحیح علم اپنے رسول کو عطا فرمایا اور اس کے معانی و مطالب کے بیان ، اس کے اجمال کی تفصیل اور اوامر و نواہی کی وضاحت کا منصب فقط اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو تفویض کیا ۔ قرآ ن کریم کی جو تفسیر و تشریح حضوراکرمﷺ نے فرمائی، وہی قابل اعتماد ہے ۔ کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے فہم و خرد پر بھروسہ کر کے کسی آیت کی ایسی تاویل کرے جو ارشادِ رسالت مآبﷺ کے خلاف ہو۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں: 
فالرسول مبین عن اللہ عزوجل مرادہ مما اجملہ فی کتابہ من احکام الصلوۃ والزکوۃ وغیرہ ذلک مما لم یفصلہ۔‘‘ (ضیاء القرآن، ۲/۵۷۲، ۵۷۳)
قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر اللہ رب العزت نے نہایت واضح انداز میں تاکید کے ساتھ مومنوں کو حکم دیاہے کہ وہ اللہ کے رسولِ برحق کی اتباع ، اطاعت اور فرمانبرداری کو حرزِجاں بنائیں اور اس پیکرِ دلنواز کی اداؤں کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ گویا نبی ﷺکی اطاعت و فرمانبرداری قرآن سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ قرآن ہی کی بے شمار آیا ت کی تعمیل ہے اور آپﷺ کی پیروی سے انکار صرف سنت کا ہی انکار نہیں بلکہ بے شمار آیاتِ قرآنیہ کا بھی انکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ جمہور علماء کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اطاعتِ الہٰی سے مراد آیاتِ قرآنیہ کی اطاعت اور اطاعتِ رسول سے مراد احادیثِ نبویہ اور سنتِ رسولﷺ کی اتباع ہے، لیکن علامہ غلام احمد پرویز کا نقطہ نظر ملاحظہ فرمائیں:
’’ قرآن میں اطاعتِ رسول کے جو احکام ہیں، آپ کی ذات اور زندگی تک محدود نہیں ہیں بلکہ منصبِ امامت کے لیے ہیں ۔ قرآن میں جہاں جہاں اللہ و رسول کی اطاعت کاحکم دیاگیا ہے، اس سے مراد امامِ وقت یعنی مرکزِ ملت کی اطاعت ہے۔‘‘ ( مقامِ حدیث، ص ۸۳)
دوسری جگہ لکھتے ہیں :
’’ اطاعت صرف خدا کی، کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کی اطاعت جائز نہیں ۔‘‘( مقامِ حدیث، ص ۴۰)
اطاعتِ رسول سے ’’ مرکز ملت‘‘ کی اطاعت مراد لینا ایک بالکل نیا نظریہ ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور جس کی بناپر سنتِ رسولﷺ سے انحراف لازم آتاہے، اس لیے پیر صاحب نے اطاعت و اتباعِ رسولﷺ کے مفہوم کو بڑے شرح و بسط سے واضح کیا تاکہ حق کی پہچان میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت ۳۱،۳۲ کی تفسیر میں اطاعت اور اتباع کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’اتباع رسول اور اطاعت رسول کسے کہتے ہیں ؟ یہ بتا دینا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی لفظی ابہام راہِ سنت سے منحرف کرنے کا باعث نہ رہے ۔ امام ابوالحسن آمدی نے ’’ اتباع‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے : ’’الاتباع فی الفعل ھو التأسی بعینہ والتأسی ان تفعل مثل فعلہ علی وجھہ من اجلہ ‘‘ کسی کے فعل کے اتباع کا یہ معنیٰ ہے کہ اس کے اس فعل کو اس طرح کیاجائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اس لیے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے۔ اورامام آمدی اطاعت کے مفہوم کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’ومن اتی بمثل فعل الغیر علی قصد اعظامہ فھو مطیع لہ‘ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی عزت و احترام کے باعث بعینہ اس کے فعل کی طرح کوئی فعل کرے تو وہ اس کا مطیع کہلاتا ہے ۔اتباع و اطاعت رسالت مآبﷺ کے متعلق جو حکم قرآن نے ہم کو دیا ہے، اس کی تعمیل کی صرف یہی صورت ہے کہ ہم حضورﷺ کے افعال کو بالکل اسی طرح ادا کریں جیسے حضورﷺ نے ادا فرمائے اور صرف اس لیے ادا کریں کہ یہ افعال اس ذاتِ اطہر و اقدس سے ظہور پذیر ہوئے ہیں جو جمال وکمال کا وہ پیکر ہے جس سے حسین تر اور جمیل تر چیز کا تصور تک ممکن نہیں۔ کاش ہم قرآن کے الفاظ کو اپنی من گھڑت تاویلات کا اکھاڑہ بنانے سے باز رہیں اور اس آیت کے آخر میں اتباع و اطاعتِ رسول ﷺ سے رو گردانی کرنے والوں کو جن الفاظ سے یاد کیا گیا ہے، اس پرغور کریں ۔ ‘‘( ضیاء القرآن، ۱/۲۲۳)
سورۃ النساء کی آیت ۵۹: ’یا ایھا الذین آمنوا اطیعواللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے پیر صاحب نے جس انداز میں اطاعتِ امیراور اطاعتِ رسول کے درمیان حد فاصل قائم فرمائی ہے، وہ بڑی ایمان افروز ہے اور اگر تعصب،ہٹ دھرمی اور انانیت کے دبیز پردے سدِراہ نہ ہوں تو کسی بھی سلیم الطبع انسان کے لیے آپ کے طرزِ استدلال کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ چنانچہ اطاعتِ رسول سے ’’ مرکز ملت‘‘ اورامامِ وقت کی اطاعت مراد لینے کے گمراہ کن عقیدے کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمﷺ کی اطاعت کے علاوہ مسلمان امرا اور حکام کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ حضور ﷺ نے اس دارِ فانی میں زیادہ دیر اقامت گزیں نہیں ہونا تھا اور حضورﷺ کے بعد امورِ مملکت کی ذمہ داری خلفاء راشدین اور امرا نے سنبھالنا تھی، اس لیے ان کی اطاعت کرنے کے متعلق بھی تاکید فرمائی ۔لیکن اطاعتِ رسول اور اطاعتِ امیر میں ایک بین فرق ہے ۔ نبی معصوم ہوتا ہے جملہ امور میں۔ خصوصًااحکامِ شرعی کی تبلیغ میں اس سے خطا نہیں ہو سکتی اس لیے اس اطاعت کا جہاں حکم دیا، غیر مشروط حکم دیا۔ مثلًا ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا‘‘  جو کچھ تمہیں رسول دے ، لے لو اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔ رسول کا ہر حکم واجب التسلیم اور اٹل ہے، اس میں کسی کو مجال قیل و قال نہیں ۔ خلیفہ کا معصوم ہونا ضروری نہیں، اس سے غلطی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اس کی مشروط اطاعت کاحکم دیا کہ اس کے حکم کو خدا اور رسول کے فرمان کی روشنی میں پرکھو۔ اگر اس کے مطابق ہے تو اس پر عمل کرو، ورنہ وہ قابل عمل نہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ’’لاطاعۃ للمخلوق فی معصیۃ اللہ‘‘  اس لیے حاکمِ وقت کی اطاعت کاحکم فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اگر تمہارے درمیان تنازع رونما ہوجائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور اس کے رسول کی طرف، یعنی اس کے حکم کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لو۔ اگر اس کے مطابق ہے تو اس پر عمل کرو، ورنہ تم پر اس کی اطاعت فرض نہیں۔‘‘ ( ضیاء القرآن ، ۱/۳۵۶ ، ۳۵۷)
سورۃ انفال کی آیت ۲۰کی تفسیر میں پیر صاحب منکرین سنت کو بڑے درد اور دل سوزی کے ساتھ دعوتِ فکر دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اطاعتِ خدا اور اطاعتِ رسول ﷺ عقائدِ اسلامیہ اور شریعتِ بیضا کا سنگِ بنیاد ہے۔ اس کے بغیر نہ اسلامی عقائد کاپتہ چل سکتاہے اور نہ شریعت کا۔ ’’وانتم تسمعون‘‘ کے کلمات کتنے معنیٰ خیز ہیں ۔ یعنی اتنا تغافل کہ قرآنی آیات سننے کے باوجود بھی اطاعتِ خدا اور رسول میں کوتاہی! تعجب ہوتاہے ان لوگوں پر جو تعلیماتِ قرآنیہ کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اطاعتِ رسول کے منکر ہیں بلکہ اتباعِ قرآن کو ترکِ اطاعتِ رسولﷺ کی دلیل بناتے ہیں۔ وہ اپنی روش پر خود ہی نظر ثانی کریں ۔ کیاوہ قرآن سے اس کے نازل کرنے والے کی منشا کے خلاف تو استنباط نہیں کررہے ؟ کیا وہ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ اتباعِ قرآن تب ہی ہوسکتی ہے جب اس کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا جائے اور اطاعتِ رسول کا حکم بھی قرآن کا ہی حکم ہے جو ایک بار نہیں، سینکڑوں بار دیا گیا ہے ۔ کیا وہ قرآن کے اس صریح حکم کی نافرمانی کرکے اپنے آپ کو قرآن کامتبع کہہ سکتے ہیں ؟آپ ہی اپنے ذرا طرزِ عمل کو دیکھیں۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔‘‘ (ضیاء القرآن، ۲/۱۳۸)
سورۃ النساء کی آیت ۸۰: ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللہ‘‘ پر پیر صاحب کا مختصرمگرانتہائی بلیغ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں :
’’ کتنا کھول کر بتا دیا کہ اللہ کا مطیع وہی ہے جو اس کے رسول کامطیع ہو، لاکھ کوئی دعویٰ کرے اطاعتِ الہٰی اور اطاعتِ قرآن کا، وہ جھوٹا ہے جب تک اللہ کے رسولِ کریمﷺ کی سنت کا پابند نہ ہو۔‘‘  (ضیاء القرآن، ۱/۳۷۰)
سطورِ بالا کے مطالعہ سے قارئین پر یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ دینی امور میں رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال ، وحی الٰہی کے تابع تھے، اس لیے اطاعتِ رسول کا مفہوم اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ حدیث و سنت کی نسبت جب رسولِ خدا کی طرف ثابت ہو جائے تو اس پر بھی قرآن کی طرح ہی عمل کرنا ضروری ہے ۔ پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ نے مختلف آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے قارئین کے سامنے جو دلائل پیش کیے ہیں، اس سے ’’ضیاء القرآن ‘‘ کے قارئین پر حدیثِ رسول کی اہمیت و حجیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ 

مکاتیب

ادارہ

(۱)
۰۴/۱۲/۲۳
مکرمی!
السلام علیکم
ماہنامہ الشریعہ کا ماہ دسمبر ۲۰۰۴ کا شمارہ نظر سے گزرا۔ اس میں چھپنے والے مضامین دل کو اچھے لگے۔ ہر مضمون عمدہ اور معیاری تحقیق کا حامل ہے۔ دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری وساری رہے۔
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
والسلام
(ڈاکٹر) محمد سہیل عمر
ناظم
اقبال اکادمی پاکستان

(۲)
۵ جنوری ۲۰۰۵
محترم ومکرم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
سلام مسنون
الشریعہ کا جنوری ۲۰۰۵ کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ میں جب ’’نوائے وقت‘‘ کے ادارہ میں تھا تو برادرم ارشاد احمد عارف کے پرچے سے استفادہ کرتا تھا، لیکن یہ سلسلہ کچھ بے ترتیب سا تھا۔ ضعیفی کے آزار کے باعث میں نے دفتر کی حاضری سے ریٹائرمنٹ لی تو الشریعہ کے مطالعے کا یہ بے ترتیب سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔ آج یہ پرچہ گھر کے پتے پر ملا تو بے پایاں خوشی ہوئی۔ میں اس غائبانہ کرم پر آپ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ تشدد پسندی کے رجحان کے خلاف آپ نے تحمل اور برداشت کے مثبت عمل کی تلقین کا سلسلہ عالیہ جاری کر رکھا ہے۔ اس پرچے میں شیعہ مجتہد اور دانش ور علامہ سید فخر الحسن کراروی کا مضمون اس جہت میں قابل عمل پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ پروفیسر میاں انعام الرحمن نے نائن الیون کمیشن رپورٹ اور اے ایم ٹی ایف کا جائزہ معنویت سے پیش کیا ہے۔ ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد میں یہ شمارہ اب آہستہ آہستہ دل میں اتارنے کے لیے پڑھ رہا ہوں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میرے ایک محترم دوست شبیر احمد خان میواتی آپ کے معاونین میں شامل ہیں۔ ان جیسا ’’کتاب دوست‘‘ اس زمانے میں نظر نہیں آتا یا کم ملتا ہے۔
والسلام
مخلص
(ڈاکٹر) انور سدید
۱۷۲ ۔ ستلج بلاک، اقبال ٹاؤن، لاہور

(۳)
۱۰ جنوری ۲۰۰۵
جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اپنے ایک دوست جناب اسلم خان، مشعل سکول، سرائے نورنگ کے ہاں میں ماہنامہ الشریعہ دیکھا کرتا تھا۔ پڑھ کر جی خوش ہوا کہ ابھی یورپ کی طرح چرچ اور سٹیٹ کے علیحدہ ہونے کا عمل پاکستان میں نہیں دہرایا جائے گا۔ آپ کی روشن خیالی اور برداشت (tolerance) پر اپنے آپ کو مبارک باد دیں۔ عمار ناصر کے مضامین اگرچہ تلخ ہیں، تاہم مبنی بر زمینی حقائق ہیں۔ جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں، میں اسے اپنے ضمیر کی آواز کہتا ہوں۔ پروفیسر انعام الرحمن صاحب اور اکرم ورک صاحب کے مضامین بھی آنکھیں کھولنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تاہم بعض رجعت پسند عناصر کے خطوط دیکھ کر دل کو رنج ہوتا ہے۔
یوسف خان جذاب
نار شکر اللہ، سرائے نورنگ، تحصیل وضلع بنوں

ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’چلو جگنو پکڑتے ہیں‘‘ کلیم احسان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں اس شعری روایت کی ’’ترفیع‘‘ جھلکتی ہے ، جو میرو ناصر کے ادوار سے گزر کر موسمِ گل کی حیرانگی میں رونما ہوئی اور خود اس مجموعے میں جا بجا بکھر گئی :
دل ہمارا اجاڑ بستی میں 
ایک خالی مکان لگتا ہے
مریدِ میر، رفیقِ حزن کہتا جا رہاہے:
مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے
کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے
ہو سکتا ہے بعض اصحاب کو اس سے اتفاق نہ ہو کہ شعروسخن کے دیپ ، خونِ جگر سے جلتے ہیں اور خونِ جگر ’’روحِ غم‘‘ ہے۔ کم از کم راقم کی نظر میں تو پر مسرت لمحوں کی اچھل کود ، ہوا کے اس جھونکے کی مانند ہے ، جو آیا اور گزر گیا، جبکہ روحِ غم کی یہی ’’روح‘‘ ہے کہ شدت اور تیز بہاؤ کے باجود بھی ’’نقش گری‘‘ سے محترز نہیں رہ سکتی ۔اگر یقین نہیں تو بہتے پانی کے اس نقش پر غور کیجئے جو وہ ’’پتھر‘‘ پر بھی ثبت کر دیتا ہے ۔ روحِ غم اور بہتے پانی ، دونوں کی فطرت میں نقش گری لکھی ہے (بہاؤ اور ٹھہراؤ کے باعث)۔
محبت روگ بنتی جا رہی ہے 
مجھے سرطان ہوتا جا رہا ہے
یہاں تک تو اس مجموعے میں دبستانِ میر کا بکھراؤ ہے ،اس سے آگے سبھاؤ شروع ہو جاتا ہے ۔کلیم کے پہلے شعری مجموعے ’’موسمِ گل حیران کھڑا ہے ‘‘ میں بھی ایسی علامات جھلملا رہی تھیں ، جن سے معلوم ہوتا تھا کہ غم کی ترفیع بہت سبھاؤ سے ہو گی ، مثلاً:
مرے باہر خموشی چھا گئی ہے 
مرے اندر کبوتر بولتے ہیں 
راقم نے اس شعر کے ضمن میں لکھا تھا کہ: 
’’ کبوتر معصومیت اور جمال کا آئینہ دار ہے ۔ کبوتر امن کا پرندہ ہے ۔ کبوتر کا استعارہ ، شاعر کے مزاج کی شائستگی اور انسان دوستی کا مظہر ہے ۔ لیکن کبوتر کا صرف اندر بولنا اور باہر خاموشی ، بہت معنی خیز ہے۔برِ صغیر کی شعری روایت میں کبوتر قاصدکی علامت ہے۔ ہر اعتبار سے مترشح ہوتا ہے کہ شاعر امن کا پیغام رکھتا ہے، لیکن اس کا اظہار نہیں کر پارہا ۔ امن کا جذبہ اس کے اندر پھڑ پھڑا رہا ہے، لیکن ہمارا شاعر بے بسی محسوس کرتا ہے۔ معروضی واقعیت کی منفی صورتِ حال نے کلیم کی شعری فعلیت کو شعرِعالیہ کی سطح پر اظہار کے اعتبار سے شدید متاثر کیا ہے ۔صوفیانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو شاعر، معرفت کے بعد لوگوں کی طرف واپسی کا سفر اختیار نہیں کر سکا (ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے)۔ محولہ بالا شعر ، کتاب کے عنوان سے بھی مناسبت رکھتا ہے ۔ حیرانی کی انتہا خاموشی کا سبب بنتی ہے اور موسمِ گل کو کبوتر سے قریبی نسبت ہے۔یوں موسمِ گل اور کبوتر شاعر کی باطنی آواز کو ظاہر کرتے ہیں اور حیرانی و خاموشی، معروضی جبر کو‘‘۔
اب کلیم کے نئے مجموعہ کلام میں ’’جگنو‘‘ ایک ایسا استعارہ ہے، جو مذکورہ بے بسی کی ترفیع بن کر ابھرا ہے۔جگنو صرف روشنی نہیں، بلکہ قابلِ رسائی روشنی ہے ، ایسی روشنی ہے جو مستعار نہیں لی گئی ۔ اقبال نے بھی جگنو کی زبان سے کہلوایا تھا کہ :
اللہ کا سو شکر کہ پروانہ نہیں میں 
دریوزہ گرِآتشِ بیگانہ نہیں میں 
(اقبال کے تصورِ خودی کے سیاق و سباق میں آتشِ بیگانہ سے احتراز سمجھ میں آتاہے اور جگنو سے نسبت بھی)۔ کیونکہ آتشِ بیگانہ ’’شخصی شعلگی‘‘ کو ہوا نہیں دے سکتی ، اسی لئے ہمارے شاعر نے بھی کہہ دیاہے :
وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے ! 
مری مٹھی میں ایک جگنو ہے
مٹھی میں جگنو وہ روشنی ہے جو اپنی ہے، ذاتی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ جگنو ہتھیلی پر نہیں، کیونکہ ہتھیلی ’’لینے‘‘ کی علامت ہے اور مٹھی ’’دینے‘‘ کی۔ اس سے انانیت کا تاثر بھی ابھرتا ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ پیدائش کے بعد بچے کا ہاتھ ’’ مٹھی ‘‘ ہوتا ہے، جس میں جگنو جگمگ جگمگ کر رہا ہوتا ہے ۔ یوں کلیم کی انانیت ، ایک بچے کی انانیت معلوم ہوتی ہے: 
جو خوشبو کے سفر میں ساتھ مجھ کو لے کے نکلی تھی
وہ لڑکی ایک تتلی تھی میں اک چھوٹا سا بچہ تھا
یہاں خوشبو کا سفر ’’ پہلی محبت‘‘ کا استعارہ بھی ہے ، تتلی اور بچے نے اسے اجلا اجلا کر دیا ہے ۔
جگنو کے حوالے سے ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ اس لفظ کے ذکر سے ہی کھیت کھلیان، شجر، پگڈنڈی اور ہریالی وغیرہ کا منظر ذہن کے افق پر پھیلتا چلا جاتا ہے ۔ اس طرح جگنو ایک ایسی ثقافت کی علامت بن جاتا ہے جو خاکی اور دیہی ہے ، جس میں ایک طرف شیشم کی ٹہنیوں سے گونجتی چہچہا ہٹیں اور پیپل تلے بنے ہوئے ’’ چونتے‘‘ ہیں ، تو دوسری طرف البموں میں سنبھال سنبھال کر رکھی ہوئیں اپنے پیاروں کی دل گداز یادیں ، اور ان پر مستزاد ، ماں کی محبت !! راقم کی نظر میں کلیم کی شاعری ، دراصل اسی ثقافت کی تباہی کا وہ ’’ نوحہ‘‘ ہے ، جس میں ماں کی محبت سے سرشار ایک بچہ ریں ریں کرتا ہے، روتا بسورتا ہے لیکن ماں سے یہی محبت ’’جگنو‘‘ بن کر اس بچے کو نہ تو مایوس ہونے دیتی ہے اور نہ ہی ایسے کتھا رسس کا باعث بننے دیتی ہے ، جس سے شخصی شعلگی مدھم پڑ جائے۔ (ماں ! مذکورہ ثقافت کی بھی علامت ہے)۔ کلیم کا یہ شعر راقم کے نقطہ نظر کو مزید تقویت دیتا ہے :
تمہارا کھیل تھا نادان بچو!
مگر چڑیا کو دیکھو مر رہی ہے
ہاں! بے جگنو ثقافت میں چڑیا مر ہی جاتی ہے۔ یہاں اپنی یاداشت پر دستک دے کر اس لوک کہانی کو ذہن میں لائیے جو (ذرا سے اختلاف سے) تقریباً ہر سماج میں پائی جاتی ہے ، جس میں جگنو ، چڑیا کو گھر چھوڑنے جاتاہے۔جگنو درحقیقت کسی سماج کی ’’داخلی روشنی‘‘ کی علامت ہے اور چڑیا ان خارجی اداروں اور رویوں کی علامت ہے جن سے انسان ، انسان بنتا ہے ۔ہمارا شاعر واضح طور پر آگاہ کر رہا ہے کہ ان رویوں کی اصل روح ختم ہوتی جا رہی ہے ، خالی خولی ڈھانچے سے رہ گئے ہیں ، ان کے اندر زندگی کی لہر دوڑانے والی روشنی مفقود ہوگئی ہے ، زندگی پر موت طاری ہو گئی ہے۔جب جگنو نہ رہے تو چڑیا بے سمت ہو کر آخر کیسے گھر پہنچ سکتی ہے؟ علومِ حا ضرہ کی خلعتوں میں ملبوس ’دانشور‘ شاید کلیم کا یہ نکتہ نہیں سمجھ سکتے۔
اسی شعر میں مضمر اہم نکتہ یہ ہے کہ چڑیا مری نہیں، مر ’’ رہی ‘‘ ہے اور گدھ منڈلانے شروع ہو گئے ہیں۔ یعنی ابھی کھیل ختم نہیں ہوا ، ہم لوگ ثقافت کو ’’بے جگنو ‘‘ کرنے کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ چڑیا(گھر کا رستہ بھول کر) مر جائے اور کھیل ختم ہو جائے ۔ یہاں ہمارا شاعر ہمیں دعوت دیتا ہے :
چلو جگنو پکڑتے ہیں
یہ دعوت سماج کو اس کی روح لوٹانے کی دعوت ہے، وہ ثقافت لوٹانے کی دعوت ہے جو ارضی ہے، خاکی ہے، دیہی ہے اور اپنی ہے ۔یوں سمجھیے کہ زندگی پر سے موت کو ہٹانے کی دعوت ہے ۔یہیں پر یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شخصی شعلگی،کلیم کے تصورِ خودی کو ’’ متعین صورت‘‘ میں سامنے لاتی ہے۔ یہ صورت اول و آخر ، مذکورہ ثقافت کی ہی صورت پذیری ہے اور بس۔ (گویا کہ کلیم دبستانِ میر سے انتہائی وابستگی کے باوجود ’’ اقبالی رجائیت‘‘ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا)
اس مجموعے پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی نہ صرف مذکورہ ثقافت کی صورت پذیری کے عناصر جھلملانے لگتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس ثقافت کی تباہی و انحطاط کے مختلف شیڈز اور پہلو بھی، ترفیعی سبھاؤ میں بکھراؤ کا سماں پیدا کر دیتے ہیں، مثلاً اسی غزل کے یہ شعر دیکھیے:
چلو باغوں کو چلتے ہیں 
چلو جگنو پکڑتے ہیں 
ستارے، پھول اور شبنم 
ہمارا دکھ سمجھتے ہیں
یہ دونوں شعر بطور’’قطعہ‘‘ بھی لیے جا سکتے ہیں ۔آخری مصرعے نے معنویت اجاگر کر کے امریکن شاعرہ Maya Angelou کی نظم Woman Work کی یاد تازہ کر دی ہے۔ مایا نے بھی خواتین کی روزمرہ کی بے کیف مصروفیت کا رونا رو کر عناصرِ فطرت کی آغوش میں پناہ لینے کی خواہش کی ہے۔ اس کے ہاں بھی بے کیف مصروفیت سے مراد ، زندگی کی روح سے دوری ہے۔ ہمارا شاعر بھی اسی بے کیف مصروفیت سے شاکی ہے۔ اسے یہ دکھ ہے کہ :
یہاں پر جاگنا ہی جاگناہے 
یہاں پر رات ہوتی ہی نہیں ہے 
اسی قبیل کا یہ شعر بھی ملاحظہ کیجئے، جس میں ’ مِیری لہجے ‘ کی چاشنی بھی موجود ہے :
اک لہو سا ہے آنکھوں میں ٹپکا ہوا 
جیسے صدیوں سے جاگے ہوئے لوگ ہیں
مایا کی نظم میں اس Stanza نے بے کیفی کے مقابل کھلتی ہوئی ، تبدیلی کی کلی کو کملا دیا ہے :
Fall gently, snow flakes
Cover me with white
Cold icy kisses and
Let me rest tonight
(ترجمہ): اے برف کے گالو! دھیرے گرو
اور مجھ کو دبا ڈالو سفید 
ٹھنڈے برفانی بوسوں میں
کرنے دو مجھے آرام ام شب
معلوم ہوتا ہے کہ مایا آج کی رات آرام کرنے کی خاطر ،اپنے آپ کو سفید ٹھنڈے برفانی بوسوں سے ڈھانپنا چاہتی ہے، وہ برف کی چادر اوڑھنا چاہتی ہے، لیکن برف زندگی کی علامت نہیں ہے اس لئے مایاآرام کرنے کی آڑ میں، در حقیقت موت کی آغوش میں جانا چاہتی ہے۔ مسلسل جاگنے کی پاداش میں ، روزمرہ کی بے کیف بے روح زندگی سے اکتا کر۔ لیکن ہمارے شاعر نے بے کیفی کی انتہائی حدوں کو چھونے کے باوجود رجائیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ وہ کہتا ہے کہ ستارے ، پھول اور شبنم ہمارا ’دکھ‘ سمجھتے ہیں ۔کلیم روح سے عاری رویوں میں زندگی کا لہو دوڑانے کے لئے، ان میں رچاؤ پیدا کرنے کے لئے، باغوں میں چلنے کی بات کرتا ہے ، جگنو پکڑنے کی بات کرتا ہے یعنی زندگی کی روح کو Possess کرنے کی بات کرتا ہے ۔ وہ برف کی چادر اوڑھنے کی بجائے روشنیوں میں نہانے کی بات کرتا ہے :
سورج کو میرے سر پہ کھڑا کر دیا گیا 
یعنی مری سزا بھی اجالوں کے ساتھ تھی
اس مجموعے میں شامل ایک غزل لمبی ردیف کے باعث کافی دلچسپ ہو گئی ہے ، اس میں طرفگی اس اعتبار سے آئی ہے کہ غزل کے فطری اپج کے مطابق ہر شعر کا اپنا الگ سے معنی تو موجود ہے ہی ، اس کے ساتھ ساتھ نظم کے مزاج کے مطابق ایک ہی خیا ل یا پھر ایک خیال کے مختلف پہلوؤں کی بافت و بنت بھی اس میں جھلک رہی ہے۔ اسے ’’ نظمیہ غزل ‘‘ کہا جا سکتا ہے ، ملاحظہ کیجئے:
دل کی باتیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں 
کتنی غزلیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں
کتنے ورق ہیں سادہ جن کو با لکل سادہ رکھ چھوڑا ہے
کچھ پر سطریں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں 
جی چاہا ہے آج پرانے کاغذ کھول کے بیٹھ رہوں 
جن میں یادیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑرکھی ہیں 
تم بھی جانو مجھ کو تمہاری دید کی کتنی حسرت ہے 
اپنی آنکھیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں 
جیسے لکھتے لکھتے کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہو !
پاگل سوچیں لکھ کر میں نے غیر مکمل چھوڑ رکھی ہیں 
اس مجموعہ کلام میں پہلے شعری مجموعے کے بہت سے حوالے بھی، یادوں کی گھمبیرتا سے لے کر خوف کی پرچھائیوں تک، تکرار کی حد تک موجود ہیں۔ ہمارے شاعرکا فکری کینوس، اسلوبِ بیان ، تراکیب اور استعارے ، انسانی احوال و ظروف سے پرے نہیں ہٹے ،کہ اس کی فطرت خاکی ہے ۔اسی وجہ سے کہیں سالاربکتا دکھائی دیتا ہے ، کہیں ضرورتوں کے اگے ہوئے جنگل سے پالا پڑتا ہے، خالی جیب کا ذکر ہوتا ہے ، کہیں کاسہ و کشکول توڑنے کے لئے کسی صاحبِ توقیر کی کھوج نظر آتی ہے اور کہیں لفظوں کے زیاں پر ، عامیانہ سخن طرازی پرطنز و تنقید کے تیر برستے دکھائی دیتے ہیں۔ بلاشبہ کلیم کے کلام میں ایسی گیرائی، گہرائی اور تنوع ہے کہ اس کا احاطہ چند صفحات میں کرنا ناممکن ہے۔اس مجموعہ کلام کی مجموعی فضا کے پیشِ نظر یہ کہنا بھی مشکل نہیں کہ ہمارے شاعر کے اظہار کا بنیادی حوالہ ’ثقافتی زوال ‘ کے ارد گرد گھومتا ہے، لیکن اس اظہار میں نا امیدی کا پہلو غالب نہیں آیا، بلکہ اس ثقافت کی بازیافت کا جگنو جگہ جگہ جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔ اب آپ ہی بتائیے ! راقم اسے ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ نہ کہے تو اور کیا کہے؟

پشاور فقہی کانفرنس / الشریعہ اکادمی میں فکری نشست

پروفیسر حافظ منیر احمد

جامعۃ المرکز الاسلامی بنوں کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ فقہی کانفرنس ۱۱، ۱۲ دسمبر ۲۰۰۴ بروز ہفتہ واتوار اوقاف ہال، چار سدہ روڈ، پشاور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی افتتاحی نشست کی صدارت جامعۃالمرکز الاسلامی کے رئیس مولانا سید نصیب علی شاہ ایم این اے نے کی، جبکہ مہمانان خصوصی میں وزیر اعلیٰ سرحد جناب محمد اکرم درانی اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن شامل تھے۔ کارروائی کا آغاز قاری فیاض الرحمن علوی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کے بعد کانفرنس کے داعی مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمی نے خطبہ استقبالیہ میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے انعقاد کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف زمانہ شناس تھے اور انھوں نے اپنے علم وفہم کی روشنی میں اپنے اپنے زمانے کی مشکلات کا حل پیش کیا۔ اسی طرح آج ہمیں بھی دور جدید کے حوالے سے بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن کا عملی حل پیش کرنا دین متین سے وابستہ شخصیات کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں جدید سائنسی انکشافات اور میڈیکل سائنس کے حوالے سے سامنے آنے والے علمی وفکری سوالات کا جائزہ لیا جائے گا اور علما، محققین اور دانش ور ان مسائل پر اظہار خیال کریں گے۔
افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرحد جناب محمد اکرم درانی نے معزز مہمانوں کو پشاور میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس نشست کے انعقاد کے لیے پشاور کا انتخاب کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشرے میں سامنے آنے والے نت نئے مسائل کے حل کے لیے عوام علما ہی سے رجوع کرتے ہیں اور یہ امید کی جانی چاہیے کہ ارباب علم ودانش محققانہ انداز گفتگو اختیار کرتے ہوئے اپنے اپنے موضوع کے حوالے سے فقہ اسلامی کی روشنی میں مسائل کا حل پیش کریں گے۔ جناب اکرم درانی نے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا دین ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے سرحد حکومت کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علما وطلبا کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ حکومت کو جو بھی مشکل پیش آتی ہے، اس کا فوری حل نکالنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی ہمیشہ علما سے راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں فقہی مسائل وموضوعات پر کانفرنسوں کے انعقاد کو وقت کا تقاضا قرار دیا اور کہا کہ اسلام پوری انسانیت کا دین ہے اور اس کی تعلیمات شخصی زندگی کے دائرے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ معاشرہ واجتماع کے ہر مرحلہ اور ہر شعبہ میں انسان کی راہنمائی کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانیت کی راہنمائی کے لیے مبعوث ہوئے ہیں، اسی طرح آپ کی امت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ساری انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت بنے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام انسانیت کو امن کا پیغام دیتا ہے اور اس کے نزدیک تمام انسانوں کی جان، مال اور عزت وآبرو محترم اور مقدس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام انسانی حقوق انھی تین چیزوں کے گرد گھومتے ہیں اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ان تینوں چیزوں کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی عالمی برادری کا تصور دیتا ہے اور جو دین، دنیا کی قوموں کو ایک برادری کا تصور دے کر ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کا پیغام دے، وہ سخت گیر نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام دین اعتدال ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو کھانے پینے، تعلقات قائم کرنے، آمد وخرچ ، حتیٰ کہ عبادات میں بھی اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اور اسی وجہ سے عالم انسانیت کے ایک بڑے حصے نے اس دین کو قبول کیا ہے۔ 
انھوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امن وسلامتی کے پیغمبر تھے، لیکن ان کی پیروی کے دعوے دار افغانستان اور عراق میں اپنا کردار دیکھیں کہ ان کے ہاتھوں انسانیت پر کیا گزر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے انھی لوگوں نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے علم بردار بھی بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں نام نہاد روشن خیالی اور اعتدال کا بڑا چرچا ہے اور اس کی آڑ میں کہیں پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے تو کہیں لوگوں کو لنگڑا اور ٹنڈا بننے کا خوف دلا کر اسلامی احکام سے باغی بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کو انسانی زندگی ختم کرنے سے نہیں، بلکہ اس کی حفاظت سے دلچسپی ہے اور اسی وجہ سے اس نے معاشرتی جرائم کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی سزاؤں کی تاثیر دیکھنی ہو تو اس سوسائٹی کا جن میں اسلامی حدود جاری ہیں، ان معاشروں کے جرائم کی شرح کے ساتھ تقابل کر کے دیکھ لیا جائے جو ان سزاؤں سے خالی ہیں۔ 
ملکی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ معاہدات کو توڑنا یا ان کی پاس داری نہ کرنا ہمارا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔ کسی قوم کے قائدین کی بڑائی کی علامت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان کی لاج رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام اور جمہوریت اس ملک کی اساس ہیں اور آئین پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ، پارلیمانی طرز حکومت اور جمہوریت کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے اور اختلافات کو افہام وتفہیم سے سلجھانے کی روش اپنائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور دلیل سے بات کرنا جانتے ہیں، اور ہم ملکی و عالمی قوتوں سے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ طاقت سے نہیں، بلکہ دلیل سے بات کرو۔
کانفرنس کی مختلف نشستوں میں علما اور اہل دانش نے مجوزہ موضوعات پر مقالے پڑھے جن میں سے کچھ کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
جدید سائنسی انکشافات اور اسلام، جدید سائنسی تحقیقات وایجادات اور اسلام کا نظریہ تحقیق ودلیل، جدید سائنسی تحقیقات پر مرتب شرعی احکام کے لیے فقہی اصول وضوابط، انسانی دماغ کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات اور اس پر مرتب فقہی مسائل، جدید طبی مسائل سے متعلق اہم سوالات کی نشان دہی، قرآن مجید کا نظریہ تسخیر کائنات، محرمات شرعیہ اور جدید سائنس، خلقت جنین کے بارے میں جدید سائنسی تحقیق اور قرآن کریم، انسانی کلوننگ کی شرعی حیثیت، قرآن، سائنس اور سمندر، خلافت وامامت کی اہمیت، رؤیت ہلال میں جدید سائنسی تحقیقات کی شرعی حیثیت، فلکیات جدیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں۔
مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر محمد یٰسین بٹ (انجینئرنگ یونیورسٹی، ٹیکسلا)، مولانا عبد القیوم حقانی (جامعہ ابو ہریرہ، نوشہرہ)، ڈاکٹر محمد اسلم خان، مولانا حفیظ اللہ (دار العلوم، کبیر والا) ، مولانا مفتی عبد النور (جامعہ فریدیہ، اسلام آباد)، پروفیسر صلاح الدین ثانی (قائد ملت کالج، کراچی)، مولانا مفتی محمد زاہد (جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)، مولانا نعمت اللہ حقانی (وزیر ماحولیات، صوبہ سرحد)، پروفیسر شبیر احمد کاکاخیل (پاکستان اٹامک انرجی کمیشن)، پروفیسر نثار احمد (پشاور یونیورسٹی) ، ڈاکٹر محمد داؤد اعوان (وائس چانسلر، ہزارہ یونیورسٹی)، ڈاکٹر حمید الرحمن بن جمیل (ام القریٰ یونیورسٹی، مکہ مکرمہ) اور مصباح الدین یوسفی (دعوہ اکیڈمی، اسلام آباد) شامل تھے۔ 
دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
۱۔ ملک بھر کے معتمد اہل علم وتحقیق کے باہمی اشتراک سے امت مسلمہ کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لیے ایک مجلس قائم کی جائے گی۔
۲۔ جدید فقہی مسائل پر کانفرنسز، سیمینارز، اجتماعات اور مجالس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
۳۔ جامعات، مدارس اور عصری تعلیمی درس گاہوں اور تحقیقی اداروں میں عصری مسائل پر فقہی تحقیق کا سلسلہ جاری کیا جائے گا۔
۴۔ جدید مسائل پر فقہی تحقیقات پر مشتمل مقالات ومضامین سہ ماہی ’’المباحث الاسلامیہ‘‘ اور شش ماہی ’’البحوث الاسلامیہ‘‘ میں شائع کیے جائیں گے اور ان جرائد کی اشاعت کو مزید بڑھایا جائے گا۔
۵۔ عصر حاضر کے مسائل ومشکلات کے حل کے لیے اہل علم اور علمی اداروں کو آگے بڑھنا چاہیے جبکہ اہل خیر کو اس ضمن میں بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ اسی طرح علما اور دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ باہمی ربط وتعاون اور اتحاد کو برقرار رکھیں۔
۶۔ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کے اسلامی اور رفاہی اقدامات قابل تحسین ہیں۔ ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی مزید کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
۷۔ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہر مسلمان حکومت کا فریضہ ہے۔ عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں پر جاری مظالم کو بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

الشریعہ اکادمی میں فکری نشست

تحریک ختم نبوت کے عالمی مبلغ اور ختم نبوت اکیڈمی لندن کے ڈائریکٹر الحاج عبد الرحمن باوا نے کہا ہے کہ مغربی دنیا تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کے لیے علماء کرام کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ ابلاغ کے جدید ذرائع کی مہارت بھی حاصل کرنا ہوگی، ورنہ وہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر سکیں گے۔ الشریعہ اکیڈمی ہاشمی کالونی کنگنی والا گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مغرب میں اسلام کی دعوت وتبلیغ کا وسیع میدان موجود ہے، جبکہ قادیانی گروہ اور اس جیسے دیگر گمراہ ٹولے اسلام کے نام پر گمراہی پھیلانے میں مصروف ہیں، اس لیے دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ علما اور فضلا کی تیاری میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھیں اور نوجوان علماء کرام کو انگریزی زبان اور کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کے استعمال کی ٹریننگ بھی دیں۔ 
مجلس احرار اسلام کے مرکزی راہ نما مولانا سید کفیل شاہ بخاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام اور دینی مراکز پر زور دیا کہ وہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کے ضروری تقاضوں کا ادراک حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنی ترجیحات اور حکمت عملی پر نظر ثانی کریں تاکہ وہ آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش چیلنج کا صحیح طور پر سامنا کر سکیں۔
تقریب کی صدارت الشریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی اور پروفیسر محمد اکرم ورک نے نقابت کے فرائض سرانجام دیے، جبکہ اس موقع پر شرکاء محفل کو بتایا کہ الشریعہ اکیڈمی میں حسب سابق اس سال بھی ایک سالہ کلاس میں درس نظامی کے فضلا کو انگریزی، عربی، کمپیوٹر، بین الاقوامی قانون، سیاست، معیشت، نفسیات، شہریت اور دیگر ضروری مضامین پر مشتمل کورس پڑھایا جائے گا۔

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’ارمغان حج‘‘

مولانا محمد اکرم ندوی ہمارے فاضل دوست ہیں۔ ندوۃ العلماء لکھنو سے علمی و فکری وابستگی رکھتے ہیں، آکسفورڈ میں ایک عرصہ سے مقیم ہیں اور آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے ریسرچ اسکالر کے طور پر وابستہ ہیں۔ علم حدیث ان کا خصوصی موضوع ہے اور علم حدیث کے اساتذہ کی تلاش، ان کی خدمت میں حاضری، ان سے استفادہ اور روایت حدیث کی اجازت حاصل کرنے کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ کئی برسوں سے امت کی محدثات کے حالات جمع کرنے میں مصروف ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار کے قریب محدثات کے حالات قلم بند کر چکے ہیں اور ان کی یہ قابل قدر کتاب کئی ضخیم جلدوں میں ’’الوفاء فی اسماء النساء‘‘ کے نام سے شائع ہو رہی ہے۔
مولانا ندوی موصوف نے اپنے ایک سفر حج کی روداد تحریر کی ہے جس کے بارے میں انہوں نے مجھے کچھ عرصہ قبل بتایا تو خوشی ہوئی کہ ایک باخبر اور باذوق عالم دین ہیں، اس لیے یقیناً ان کی یہ تحریر استفادہ کی چیز ہوگی، لیکن مکمل ہونے کے اس کے مطالعہ سے یہ خوشی دوچند ہو گئی کہ انہوں نے صرف اپنے سفر حج کی روداد اور کیفیات و واردات کو سپرد قلم نہیں کیا، بلکہ اس کے ساتھ مختلف علماء کرام اور محدثین کی خدمت میں حاضری اور استفادہ کی تفصیلات بھی پورے اہتمام کے ساتھ جمع کر دی ہیں اور اس طرح ان کا حرمین شریفین کا یہ مبارک سفر حج بیت اللہ کی سعادت کے ساتھ ساتھ طلب علم اور حدیث نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے ساتھ والہانہ وابستگی کا عنوان بھی بن گیا ہے۔
انہوں نے جس خوش اسلوبی اور محنت کے ساتھ اپنے سفر کی تفصیلات اور اکابر علماء و محدثین کے ساتھ ملاقاتوں کی کیفیات کو قلم بند کیا ہے اور خاص طور پر حدیث نبوی کے طلبہ کے لیے معلومات کا ایک گراں قدر ذخیرہ اس میں سمو دیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو دارین میں قبولیت عطا فرمائیں اور ہم سب کو قرآن کریم اور حدیث نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے علوم کے ساتھ فہم و عمل اور مسلسل خدمت کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
اڑھائی سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب انجمن خدام الاسلام حنفیہ قادریہ لاہور نے شائع کی ہے اور جامعہ حنفیہ قادریہ، ۲۸۵ جی ٹی روڈ، باغ بان پورہ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ 

’’مسائل غیر مقلدین‘‘ اور ’’غیر مقلدین کی ڈائری‘‘

اہل حدیث اور احناف کے مابین بہت سے مسائل پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے چل رہا ہے اور دونوں طرف سے مناظرانہ انداز میں ایک دوسرے کے خلاف کتابوں، پمفلٹوں اور رسائل کا تسلسل قائم ہے۔ یہ مباحث اگر علمی انداز میں ایک دوسرے کے موقف کا احترام کرتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت و ثبوت کے لیے ہوں تو بہت کارآمد اور ضروری ہیں اور متعدد اہل علم کی تصنیفات اس حوالے سے موجود ہیں جو یقیناً افادیت کی حامل ہیں، لیکن بد قسمتی سے ان مسائل میں ایک دوسرے کی تحقیر، طعن و تشنیع اور تضلیل و تفسیق کا عنصر بھی عام طور پر گفتگو اور تحریر میں غلبہ پا جاتا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ بحث وتمحیص کی افادیت اور لطف ختم ہو کر رہ جاتا ہے بلکہ نئی نسل پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 
تیسری صدی ہجری کے معروف حنفی محدث حضرت امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’شرح معانی الآثار‘‘ میں ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں اس بحث میں سخت لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن چونکہ فریق مخالف یہ کہہ کر ظلم کرتا ہے کہ احناف کے پاس اپنے فقہی مسائل کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، اس لیے اس کے جواب میں ہمیں بھی سخت لہجہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال آج بھی ہے اور سوال و جواب اور پھر جواب الجواب میں لہجہ کی شدت اور شکوہ و شکایت کی یہ روایت بدستور موجود ہے جو بہرحال ذوق سلیم کو کھٹکتی ہے اور جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں الجھن کا باعث بنتی ہے۔
اسی پس منظر میں بھارت کے معروف عالم دین مولانا ابوبکر غازی پوری فاضل دیوبند کی دو کتابیں اس وقت ہمارے سامنے ہیں جن میں مناظرانہ انداز میں غیر مقلدین کے مسائل اور معمولات پر بحث کی گئی ہے۔ مختلف حوالوں اور دلائل کے ساتھ ان کے خلاف اپنے موقف کی وضاحت کی گئی ہے اور ان مسائل پر بحث و مباحثہ کا ذوق رکھنے والے علماء اور طلبہ کے لیے معلومات کا ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔ 
’’مسائل غیر مقلدین‘‘ پونے چار سو صفحات کی مجلد کتاب ہے جس کی قیمت ۹۰ روپے ہے جبکہ ’’غیر مقلدین کی ڈائری‘‘ سوا دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، مجلد ہے اور اس کی قیمت ۷۵ روپے ہے۔ یہ دونوں کتابیں ادارہ خدام الاحناف، ۲۸۵ جی ٹی روڈ، باغبان پورہ لاہور سے طلب کی جا سکتی ہیں۔