برطانیہ اور امریکہ کے حالیہ سفر کے چند تاثرات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ اٹھارہ بیس برس سے میرا یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ ہر سال چند ماہ کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہوں۔ احباب سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، مختلف دینی اجتماعات میں شرکت ہوتی ہے، ورلڈ اسلامک فورم کے حوالے سے کچھ سرگرمیاں ہوتی ہیں، بعض تعلیمی اداروں کے معاملات میں مشاورت ہوتی ہے اور ’’سیروا فی الارض‘‘ کے حکم خداوندی پر تھوڑا بہت عمل ہو جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک جب مدرسہ نصرۃ العلوم کی تدریسی خدمات میرے ذمہ نہیں تھیں اور مدرسہ انوار العلوم میں اپنی مرضی کے چند اسباق پڑھایا کرتا تھا جن کا دورانیہ اور اوقات طے کرے میں مجھے اختیار ہوتا تھا، بیرون ملک سفر کا شیڈول میرے ہاتھ میں ہوتا تھا اور عام طور پر گرمیوں کے تین چار ماہ برطانیہ یا امریکہ میں گزرتے تھے، مگر حضرت والدمحترم مدظلہ کی معذوری کے بعد مدرسہ نصرۃ العلوم میں باقاعدہ تدریسی ذمہ داریوں کے باعث اب میرے پاس اس کام کے لیے شعبان المعظم اور اس کے ساتھ رمضان المبارک کے آٹھ دس دن کا وقت ہی فارغ ہوتا ہے یا شش ماہی امتحان کے موقع پر کھینچ تان کر دو ہفتے نکل آتے ہیں، اس لیے اپنی بیرونی سرگرمیوں کو انھی اوقات میں سمیٹنا پڑتا ہے اور اسی کا معمول ہو گیا ہے۔
اس سال مدرسہ نصرۃ العلوم کے سالانہ امتحان اور جلسہ تقسیم اسناد کے بعد ۳۰؍اگست کو سفر کے آغاز کا پروگرام طے ہوا۔ میں نے ڈیڑھ ماہ قبل ہی ٹریول ایجنٹ سے کہہ دیا کہ مجھے ۳۰؍ اگست کو لندن کے لیے اور اس کے ایک ہفتہ بعد وہاں سے امریکہ کے لیے سفر کرنا ہے اس لیے اس کے مطابق سیٹوں کی ترتیب طے کر لی جائے۔ اس نے اپنے طور پر سیٹ پی آئی اے سے بک کرا لی جو کنفرم نہیں تھی اور ٹریول ایجنٹ کا خیال تھا کہ درمیان میں خاصا وقت ہے، اس وقت تک کنفرم ہو جائے گی۔ میں نے بھی لندن میں احباب کو مطلع کر دیا اور انھوں نے لندن، مانچسٹر، لیسٹر اور گلاسگو میں تین چار پروگرام رکھ لیے، مگر جب لاہور کے ایئر پورٹ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ سیٹ کنفرم نہیں ہے، جہاز فل ہے اور آئندہ بھی دس بارہ روز تک کوئی سیٹ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یورپ کے ممالک میں گرمیوں کی تعطیلات ختم ہو رہی ہیں اور جو افراد اور خاندان چھٹیاں گزارنے پاکستان آئے تھے ، وہ واپس جا رہے ہیں اس لیے بظاہر سیٹ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
کم وبیش ایک ہفتہ سیٹ کے حصول کے لیے تگ ودو میں گزر گیا اور بالآخر ۶؍ ستمبر کو الامارات کے ذریعے دوبئی اور ۷؍ ستمبر کو وہاں سے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران میں لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، لیسٹر کے مولانا محمد فاروق ملا، مانچسٹر کے مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی اور گلاسگو کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا حبیب الرحمن فون پر مسلسل رابطے میں رہے کہ کسی طرح ان کے کسی پروگرام میں شرکت ہو جائے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ۷؍ ستمبر کو صبح لندن کے گیٹ وک ایئر پورٹ پر اترا تو کراؤلی سے مولانا قاری عبد الرشید رحمانی نے مجھے وہاں سے وصول کیا۔ قاری صاحب کا تعلق اچھڑیاں ہزارہ سے ہے۔ استاذ العلما ء حضرت مولانا رسول خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے پوتے ہیں، میرے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کراؤلی کی جامع مسجد قوت الاسلام میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
میری خواہش ۱۱؍ ستمبر سے قبل نیو یارک پہنچنے کی تھی اور میں نائن الیون کے حوالے سے اس روز کی سرگرمیاں دیکھنا چاہتا تھا، اس لیے لندن زیادہ دن نہ رک سکا۔ جمعہ کراؤلی میں پڑھایا، ایک دن ساؤتھ آل میں گزارا اور ایک دن مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہاں قیام رہا۔ اسی سال جون میں دو ہفتے کے لیے لندن آیا تو اس موقع پر ورلڈ اسلامک فورم کے ایک اجلاس میں ہم نے طے کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس جو ستمبر میں ہو رہا ہے، اس میں اس سال اقوام متحدہ کے نظام میں کچھ اصلاحات کی تجاویز بھی زیر بحث آنے والی ہیں، اس لیے اس موقع پر ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے اقوام متحدہ اور عالم اسلام کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کر کے شائع کی جائے جس میں عالم اسلام کے ساتھ اقوام متحدہ کے جانب دارانہ طرز عمل اور مسلم ممالک کی مشکلات ومسائل کے بارے میں اس عالمی ادارے کی سرد مہری کا جائزہ لیتے ہوئے اصلاح احوال کے لیے تجاویز سامنے لائی جائیں۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ لندن میں مسلم ملکوں کے سفارت خانوں کو باضابطہ طور پر بھجوائی جائے اور عالمی پریس میں بھی اس کی اشاعت کی کوشش کی جائے۔ اس رپورٹ کی تیاری میرے ذمے تھی، مگر جب اس رپورٹ کی تیاری کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی تہی دامنی کا احساس ہوا کہ سوائے جذبات، احساسات اور تخیلات کے، دامن میں کچھ بھی نہ تھا اور اس رپورٹ کے لیے جو معلومات او رحوالہ جات درکار تھے، ان تک اتنے عرصے میں رسائی ممکن ہی نہ تھی، اس لیے رپورٹ سے نیچے اتر کر ’’میمورنڈم‘‘ پر اکتفا کرنے میں عافیت سمجھی اور ۸؍ستمبر کو جب ہم اس سلسلے میں لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے اجلاس میں بیٹھے تو اس میمورنڈم کا ہلکا سا خاکہ طے کرنے کے سوا کچھ نہ کر پائے۔
اس میمورنڈم میں ہم نے عالم اسلام کے بارے میں اقوام متحدہ کے جانب دارانہ طرز عمل اور دوہرے معیار کا شکوہ کرتے ہوئے اصولی طور پر تین گزارشات پیش کی ہیں:
- انسانی حقوق کے چارٹر کی بعض دفعات قرآن وسنت اور اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں جبکہ مسلم دنیا پر اس چارٹر کو من وعن تسلیم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو غیر منصفانہ بات ہے، اس لیے اس چارٹر پر نظر ثانی کی جائے۔
- ایٹمی توانائی اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی پر چند ممالک کی اجارہ داری اور باقی دنیا بالخصوص مسلم ممالک کو اس سے محروم رکھنے کے قوانین غیر منصفانہ ہیں، ان پر نظر ثانی کی جائے اور انھیں متوازن بنایا جائے۔
- سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور ویٹو پاور میں مسلم دنیا کی نمائندگی بالکل نہیں ہے جو عالم اسلام کی حق تلفی ہے، اس لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں ویٹو پاور کے ساتھ مسلم دنیا کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے۔
ان اصولی گزارشات کی بنیاد پر میمورنڈم کی تیاری اور اسے متعلقہ اداروں تک بھجوانے کی ذمہ داری ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے سپرد کی گئی اور میں ۱۰؍ ستمبر کو لندن سے نیو یارک کے لیے پرواز کر گیا۔ مجھے ۱۰؍ ستمبر کو رات آٹھ بجے کے لگ بھگ نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر اترنا تھا اور اس کے تقریبا چار گھنٹے کے بعد نائن الیون شروع ہونے والا تھا، اس لیے مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ ایئر پورٹ پر چیکنگ اور پوچھ گچھ کا نظام پہلے سے خاصا سخت ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب میں امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچا تو ایک سیاہ فام افسر سے سامنا ہوا جس نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور ایک آدھ سوال کے بعد مجھے امیگریشن آفس میں پہنچا دیاجہاں مجھ سے پاس پورٹ لے کر ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ وہاں ایک خاتون اور دو مرد آفیسر تھے جو باری باری مجھ سے سوالات کرتے رہے، سامان کا بیگ تفصیل سے چیک کیا اور ٹیلی فون پر ان تفصیلات کی کسی اور جگہ رپورٹ بھی دیتے رہے۔ اس دوران میں اور بھی افراد باری باری وہاں لائے گئے مگر تھوڑی بہت انکوائری کے بعد انھیں چھوڑ دیا گیا، مگر میں مسلسل دو گھنٹے تک اسی ماحول میں رہا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے کہیں اور سے میرے بارے میں ’کلیئرنس‘ لی جا رہی ہے۔ بالآخر دو گھنٹے کی مسلسل پوچھ گچھ اور تلاشی کے بعد گیارہ بجے کے لگ بھگ مجھے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
میرے پاس امریکہ کا پانچ سالہ ملٹی پل ویزا تھا جو میں نے نائن الیون سے پہلے حاصل کیا تھا اور اسی پر تین سال سے سفر کر رہا تھا۔ اس کی میعاد اٹھارہ ستمبر کو ختم ہو رہی تھی اس لیے اس ویزے پر میرا یہ آخری سفر تھا اور میرے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ اس کے بعد امریکہ کا سفر نیا ویزا ملنے کی صورت میں ہی ہو سکے گا۔ بہرحال جب ان مراحل سے گزر کر میں ایئر پورٹ سے باہر نکلا تو مولانا محمد یامین اور بھائی برکت اللہ میرے انتظار میں پریشان کھڑے تھے۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے، ڈھاکہ کے المرکز الاسلامی کے سربراہ مولانا محمد شہید الاسلام کے متعلقین میں سے ہیں جو وہاں کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور بہت بڑا رفاہی ادارہ چلا رہے ہیں۔ میں ڈھاکہ میں ان کے مرکز میں حاضر ہو چکا ہوں اور ان کی رفاہی سرگرمیوں سے آگاہ ہوں۔ مولانا محمد یامین اور بھائی برکت اللہ جے ایف کینیڈی ایئر پورٹ کے قریب کوئنز کے علاقے میں دار العلوم نیو یارک کے نام سے دینی ادارہ چلا رہے ہیں۔ میں پہلے بھی متعدد بار وہاں حاضر ہوا ہوں۔ میں نے نیو یارک حاضری کی اطلاع کسی اور دوست کو دی تھی، مگر ان دوستوں کو پتہ چلا تو اس دوست کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ہم خود ایئر پورٹ سے وصول کر لیں گے اور دار العلو م لے آئیں گے۔ تقریباً ایک ہفتہ دار العلوم میں قیام رہا۔ ہمارے گوجرانوالہ کے ایک دوست مولانا حافظ محمد اعجاز صاحب بھی اسی دار العلوم سے منسلک ہیں۔ حافظ صاحب موصوف جامعہ اشرفیہ کے فاضل ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ تفسیر کیا ہے، حافظ آباد روڈ گوجرانوالہ کی مسجد فضل میں ایک عرصہ تک امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب چند سالوں سے نیو یارک میں مقیم ہیں۔
۱۱؍ ستمبر کو میں نے ان دوستوں سے عرض کیا کہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے علاقے میں جانا چاہتا ہوں اور وہاں کے مناظر کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے تاثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو وہاں یادگاری تقریب ہوگی، ا س موقع پر یا اس سے قبل وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔ رات نو بجے کے بعد وہاں چلیں گے اور جو دیکھنا ہوگا، دیکھ لیں گے۔ چنانچہ رات کو نو بجے کے بعد وہاں پہنچے تو ہزاروں افراد مختلف ٹولیوں کی صورت میں اس علاقے میں گھوم رہے تھے۔ وہ جگہ خالی میدان کی صورت میں ہے اور وہیں تھوڑی دیر قبل یادگاری تقریب ہوئی تھی جس میں نیو یارک کے لارڈ میئر کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے بھی شرکت کی تھی۔ تھوڑی دیر ہم وہاں گھومے پھرے، ایک مرحلہ پر ارادہ ہوا کہ گاڑی سے نیچے اتر کر ان ٹولیوں سے بات چیت کریں مگر پھر خیال آیا کہ چار پانچ باریش افراد کا اس طرح گاڑی سے اترنا سارے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا جس سے کوئی مسئلہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے، اس لیے گاڑی میں گھومتے پھرتے ہی ہم وہاں کے مختلف مناظر کا مشاہدہ کرتے رہے۔
۱۷؍ ستمبر کو دار العلوم نیو یارک کا سالانہ جلسہ تھا جس کے لیے وہاں رکنا پڑا۔ اس دوران میں جمعہ، مکی مسجد بروک لین میں پڑھایا جو نیو یارک میں پاکستانیوں کا ایک بڑا دینی مرکز ہے اور مولانا حافظ محمد صابر صاحب کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔ لانگ آئی لینڈ میں مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں حاضری ہوئی۔ ان کا تعلق ہزارہ سے ہے، میرے بعد جمعیۃ علماے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے ہیں اور اب لانگ آئی لینڈ کے اسلامک سنٹر میں خطابت وامامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
ہل سائیڈ کے ایک ہوٹل میں ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اگلے روز نیو یارک آنا تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنا تھا۔ ان کے سیاسی مخالفین وہاں جمع تھے اور جنرل پرویز مشرف کے دورے کو خراب کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ میں اتفاق سے وہاں موجود تھا۔ تقریب کے بعض شرکا نے مجھے پہچان لیا اور گفتگو میں شرکت کے لیے کہا۔ میرا اقتدار اور اپوزیشن کی سیاست سے ایک عرصہ سے کوئی عملی تعلق نہیں ہے، اس لیے اس حوالے سے ان کی گفتگو میں خاموش تماشائی بنا رہا، البتہ جب مجھے اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو میں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں ورلڈ اسلامک فورم کے میمورنڈم کی طرف شرکاے محفل کو توجہ دلائی اور یہ گزارش کی کہ آپ حضرات ان مسائل کی طرف توجہ دیں اور نیو یارک میں بیٹھ کر عالم اسلام کے اجتماعی مسائل اور اقوام متحدہ کے طرز عمل کے بارے میں آواز اٹھائیں۔
ہل سائیڈ ایونیو کے قریب ہی ’’شریعہ بورڈ‘‘ کا دفتر ہے جو میری دلچسپی کا مرکز تھا اس لیے کہ میں۸۷ء اور ۸۸ء سے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو توجہ دلا رہا تھا کہ امریکی دستور میں انھیں اپنے پرسنل لاز اور بزنس لاز میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے اور اس کے لیے نیم عدالتی نظام قائم کرنے کا جو حق حاصل ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں اور دستور کے مطابق عدالتی یا مصالحتی ادارے قائم کر کے مسلمانوں کو کم از کم پرسنل لا میں دینی راہ نمائی کی سہولت ضرور فراہم کریں۔ اس سال مجھے معلوم ہوا کہ شکاگو میں ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے نام سے اس نوعیت کا ایک ادارہ کئی برسوں سے کام کر رہا ہے اور اب نیو یارک میں بھی ’’شریعہ بورڈ‘‘ قائم کر دیا گیا ہے جو رجسٹریشن اور منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس بورڈ میں ڈھاکہ سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی روح الامین، حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمد نعمان اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے مولانا حافظ محمد اعجاز خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ باہمی شکر رنجی اور تنازعات کاشکار ہونے والے مسلمان جوڑے ان سے رجوع کرتے ہیں، وہ ان میں شرعی گنجایش کے مطابق مصالحت کراتے ہیں اور تنازعات کا تصفیہ کراتے ہیں۔ یہ کام دیکھ کر دلی خوشی ہوئی اور طریق کار کے بارے میں تفصیلات معلوم کر کے بعض معاملات میں مشورے بھی دیے۔
ایک ہفتہ نیو یارک میں گزار کر ۱۸؍ ستمبر کو واشنگٹن پہنچا اور ۱۰؍ اکتوبر تک وہاں قیام رہا۔ اس دفعہ میرا قیام چھوٹے بیٹے عامر خان کے ہاں تھا جو کرایے کے ایک کمرے میں سپرنگ فیلڈ میں رہایش پذیر تھا۔ دار الہدیٰ وہاں سے قریب ہے، اس لیے نمازوں میں حاضری اور دار الہدیٰ کے پرنسپل مولانا عبد الحمید اصغر کی فرمایش پر مختلف نمازوں کے بعد درس حدیث کا سلسلہ قائم رہا۔ اس دوران کے تین جمعے وہیں پڑھائے اور بخاری شریف کی ثلاثیا ت کا سلسلہ وار درس بھی کم وبیش تین ہفتے تک چلتا رہا، البتہ ۳۰؍ ستمبر کو امریکی ریاست الاباما کے شہر برمنگھم جانا ہوا جہاں سے ۳؍ اکتوبر کو واپسی ہوئی۔ یہ برمنگھم امریکی وزیر خارجہ مس کونڈو لیزا رائس کا شہر ہے اور امریکہ میں کالوں اور گوروں کی کشمکش کے حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ برمنگھم کے قریب ’’ہوور‘‘ نامی بستی میں میرے بچپن کے دوست افتخار رانا قیام پذیر ہیں جن کا تعلق گکھڑ سے ہے اور مسلکاً خاندانی اہل حدیث ہونے کے باوجود حضرت والد محترم مدظلہ کے ساتھ گہری محبت وعقیدت رکھتے ہیں۔ ہمارا آپس میں بھائیوں جیسا معاملہ ہے، اس لیے امریکہ آنے پر مجھے ان کے ہاں ایک دو روز کے لیے لازماً جانا ہوتا ہے۔ اس دفعہ انھوں نے اپنی ایک بچی کا نکاح بھی میری حاضری کی مناسبت سے طے کر رکھا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ نکاح میں پڑھاؤں چنانچہ دو تین روز ان کے ہاں رہا، نکاح کی تقریب میں شرکت کی اور وہاں کے حضرات چونکہ سعودی عر ب کے ساتھ روزہ اور عید کا اہتمام کرتے ہیں، اس لیے منگل کا پہلا روزہ افتخار رانا کے گھر میں ہی رکھا۔
افتخار رانا زندہ دل آدمی ہیں اور میرے ذوق سے واقف ہیں، اس لیے انھوں نے مجھے تاریخی اہمیت کے دو تین مقامات دکھانے کا پروگرام بنا لیااور ہمارے دو تین روز خاصے مصروف گزرے۔ برمنگھم کسی زمانے میں ’’آئرن سٹی‘‘ کہلاتا تھا کہ وہاں سٹیل کی آٹھ نو ملیں رہی ہیں۔ زیر زمین لوہے اور کوئلے کے خاصے ذخائر ہیں۔ جس زمانے میں وہاں سٹیل ملیں کام کر رہی تھیں، اسے ’’میجک سٹی‘‘ اور ’’آئرن سٹی‘‘ کے نام سے یاد کیا جا تا تھا اور ملوں کے دھویں کی وجہ سے دن کو بھی سورج کی روشنی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اب ان ملوں کی یادگار ایک مجسمے کی شکل میں محفوظ کر دی گئی ہے۔ وولکن کے نام سے ۵۶ فٹ کا بلند وبالا مجسمہ ۱۲۴؍ فٹ کے پیڈسٹل پر کھڑا شہر کے چاروں طرف سے دکھائی دیتا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کے اوزار ہیں اور وہ اس دور کی یاد دلاتا ہے جب ان اوزاروں سے مشینری بنانے کا کام لیا جاتا تھا۔ اس مجسمے کے نیچے ایک میوزیم میں اس دور کی متعدد یادگاریں محفوظ کی گئی ہیں اور مووی کے ذریعے سے اس زمانے کی بھٹیوں میں لوہے کو پگھلانے کا عمل دکھایا جاتا ہے جسے دیکھ کر مجھے گوجرانوالہ کی وہ بھٹیاں یاد آ گئیں جہاں آج بھی اسی طریقے سے لوہے اور تانبے کو پگھلایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس شہر کا آغاز سٹیل ملوں ہی کے حوالے سے ۱۸۷۰ء میں ہوا تھا لیکن ۱۹۲۷ء تک آبادی خاصی بڑھ گئی تو ماحولیاتی مشکلات کے باعث لوگوں کے مطالبہ پر سٹیل ملیں وہاں سے ہٹا لی گئیں۔
اس شہر کی ایک اہمیت سیاہ فام اور سفید فام آبادی میں کشمکش کے حوالے سے بھی ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ نے ۱۹۶۳ء میں سیاہ فام آبادی کے لیے برابر کے شہری حقوق کے حصول کی جدوجہد کا آغاز یہیں سے کیا تھا اور پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں وہ سیاہ فاموں کے لیے ووٹ کے حق کے ساتھ ساتھ برابر کے شہریوں کا استحقاق منوانے میں کامیاب ہو گیا تھا، ورنہ اس سے پہلے سیاہ فاموں کو امریکہ میں ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا اور کالوں کو گوروں کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ کالوں کی بستیاں گوروں سے الگ تھیں، ان کے ہسپتال، اسکول، ہوٹل، دکانیں اور پارک گوروں سے الگ تھے۔ بسوں میں ان کے لیے الگ سیٹیں ہوتی تھیں اور وہ گوروں کے ساتھ کسی سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ ہوٹلوں، پٹرول پمپوں اور دیگر بہت سے مراکز پر باقاعدہ بورڈ آویزاں ہوتے تھے کہ سیاہ فام افراد کو یہاں سروس مہیا نہیں کی جاتی۔
سفید فام مذہبی گروپوں کے نقاب پوش جتھے سیاہ فاموں کے چرچوں پرحملے کرتے تھے، انھیں بسوں سے اتار کر قتل کر دیتے تھے اور اتوار کو کسی بھی سیاہ فام کو راستے میں پکڑ کر درخت پر سولی سے لٹکا دیتے تھے اور ارد گرد کھڑے تماشا دیکھا کرتے تھے۔ الاباما کے دار الحکومت منٹگمری میں ایک اٹھارہ سالہ سیاہ فام لڑکی روزا پارک بس میں بیٹھی تھی کہ ایک سفید فام شخص بس میں داخل ہوا۔ قانون کے مطابق اس لڑکی کو وہ سیٹ اس سفید فام کے لیے خالی کرنا تھی، مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس پر اسے وہیں سیٹ سے گرفتار کر کے پولیس نے جیل پہنچا دیا۔ اس واقعہ نے منٹگمری کے سیاہ فاموں میں تحریک پیدا کی اور وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑ ے ہوئے۔
برمنگھم میں سیاہ فاموں کے ایک بپٹسٹ چرچ میں دوران عبادت سفید فاموں کے نقاب پوش جتھے نے بم پھینک دیا جس سے چار جوان بچیاں ہلاک ہو گئیں۔ اس سے سیاہ فام آبادی میں اشتعال پھیل گیا۔ مارٹن لوتھر کنگ کا تعلق ریاست جارجیا کے دار الحکومت اٹلانٹا سے تھا۔ وہ وہاں کا مذہبی راہ نما تھا اور سیاہ فاموں کے شہری حقوق کے لیے آواز بلند کیا کرتا تھا۔ برمنگھم کے اس واقعہ کے بعد وہ وہاں پہنچا اور اس چرچ کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے سیاہ فاموں کے لیے برابر کے شہری حقوق کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اسے وہیں سے گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا گیا۔ اس مقام پر اب اس کے نام سے پارک ہے اور جس مقام پر کھڑے ہو کر اس نے جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، وہاں اس کا مجسمہ نصب ہے۔ اس کی گرفتاری کے بعد سیاہ فام لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ اس پارک میں مجسموں کے ذریعے سے ان مناظر کو محفوظ کیا گیا ہے کہ کس طرح سیاہ فام نہتے مظاہرین پر خونخوار کتے چھوڑے جاتے تھے اور کس طرح فائرنگ کر کے انھیں منتشر اور ہلاک کیا جاتا تھا۔ ریاستی جبر اور پولیس کے وحشیانہ تشدد کے باوجود مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تحریک کو پرامن رکھنے اور مزاحمت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے انڈیا جا کر مہاتما گاندھی کی عدم تشدد تحریک کا مطالعہ کیا اور اسی کی روشنی میں پرامن جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے، چنانچہ اٹلانٹا میں مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں قائم کیے جانے والے میوزیم کے سامنے پارک میں اس حقیقت کے اعتراف کے طور پر مہاتما گاندھی کا مجسمہ نصب ہے۔
مارٹن لوتھر کنگ نے پر امن رہنے، مزاحمت نہ کرنے اور تشدد کو برداشت کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں پورے امریکہ میں سیاہ فام منظم ہونے لگے، ان کی گرفتاریا ں ہونے لگیں، جیلیں بھری جانے لگیں اور بالآخر واشنگٹن میں سیاہ فاموں کی ایک بہت بڑی ریلی کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے مارٹن لوتھر کنگ کو مذاکرات کے لیے وائٹ ہاؤس بلایا اور اس سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا۔
مارٹن لوتھر کنگ کی اس پرامن سیاسی جدوجہد کے ساتھ اسے ایک قابل وکیل سٹال ورتھ کی رفاقت میسر آ گئی جس نے یہی جنگ عدالتوں میں لڑی اور مسلسل عدالتی اور قانونی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا کہ سیاہ فام بھی امریکہ کے باشندے ہیں اور سفید فاموں کی طرح برابر کے شہری حقوق کے حق دار ہیں۔
سیاہ فاموں کو ووٹ اور برابر کے شہری حقوق ۱۹۶۸ میں باضابطہ طور پر حاصل ہوئے۔ اس جدوجہد کے مختلف مراحل اور مناظر بلکہ اس سے قبل سیاہ فاموں اور سفید فاموں کی الگ الگ زندگی کے مناظر اور ان کے درمیان مراعات اور سہولتوں کے تفاوت کو برمنگھم اور اٹلانٹا، دونوں جگہ مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں قائم کیے جانے والے اداروں میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور میں نے اس سفر میں افتخار رانا کے ساتھ یہ دونوں میوزیم دیکھے ہیں۔
امریکہ کی موجودہ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ برمنگھم سے چالیس میل دور ٹسگہ لوسا نامی ایک بستی میں پیدا ہوئیں۔ ٹسگہ لوسا ریڈ انڈینز کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کے حوالے سے اس علاقے کا نام ٹسگہ لوسا ہے۔ جب یورپین آباد کاروں نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو ریڈ انڈینز کو اسلحے کے زور پر وہاں سے بھگا کر اپنے سیاہ فام غلاموں کو وہاں آباد کیا تاکہ وہ ان کے لیے زمینیں آباد کر سکیں۔ مس کونڈو لیزا رائس انھی سیاہ فاموں میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے والد کو بھی ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لیے لمبی عدالتی جنگ لڑنا پڑی تھی اور وہ بڑی مشکل سے ۷۰ کی دہائی میں عدالت کے ذریعے سے ووٹ کا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
میں افتخار رانا کے ساتھ اٹلانٹا بھی گیا جہاں مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں قائم میوزیم دیکھا اور اس کے علاوہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے قائم کردہ انسٹی ٹیوٹ او ر ریسرچ سنٹر بھی گیا۔ اگرچہ دفتری اوقات ختم ہو گئے تھے مگر سنٹر کے ریسیپشن کے عملے نے ہمیں ضروری معلومات فراہم کیں اور سنٹر کے طریق کار کے بارے میں آگاہ کیا۔
افتخار رانا نے مجھے برمنگھم میں سیاہ فاموں اور سفید فاموں کے الگ الگ چرچ دکھائے جہاں آج بھی یہ فرق موجود ہے کہ سیاہ فاموں کے چرچ میں کوئی سفید فام نہیں آتا اور سفید فاموں کے چرچ میں کوئی سیاہ فام داخل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے سیاہ فاموں کے ایک بپٹسٹ چرچ میں اتوار کی ہفتہ وار دعا میں شرکت کی اور چرچ کے ذمہ دار حضرات سے مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ جیمز نامی ایک مسیحی راہ نما سے ہم نے شراب کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ شراب ہمارے نزدیک حرام ہے، مگر ہم جنس پرستی کے بارے میں سوال کا جواب دینے میں اس نے ہچکچاہٹ سے کام لیا۔ پہلے امریکی دستور کا حوالہ دیا، پھر انسانی حقوق کے فلسفے کاذکر کرنے لگا، لیکن جب ہم نے کہا کہ ہم صرف چرچ کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو بڑے تردد کے ساتھ اس نے بالآخر یہ کہا کہ چرچ اسے حرام سمجھتا ہے اور اسے condemn کرتا ہے۔
امریکہ کے اس سفر کے تاثرات کے بہت سے پہلو ابھی تشنہ ہیں، مگر اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اگلے سال اگر امریکہ کے سفارت خانے نے ویزا دے دیا اور صحت وتوفیق شامل حال رہی تو ا س سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
اسلام کا نظریہ مال و دولت قصہ قارون کی روشنی میں
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی
قرآن مجید میں قارون اور اس کی بے انتہا دولت، اس کے تکبر اور تباہی کا عبرت انگیز بیان صرف ایک جگہ (سورہ القصص آیت ۷۶ تا ۸۴) آیا ہے۔ یہ گویا دولت ومنصب رکھنے والوں کا ایک ایسا عبرت ناک قصہ ہے جو ہمیشہ پیش آ سکتا ہے اور اس پر قرآن کا یہ تبصرہ انتہائی سبق آموز ہے۔
قرآن میں قارون کا قصہ اس طرح شروع ہوتا ہے:
اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْہِمْ وَآتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہُ لَتَنُوْءُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ اِذْ قَالَ لَہُ قَوْمُہُ لاَ تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْفَرِ حِیْنَ O(آیت ۷۶)
’’کوئی شک نہیں کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ پھر اس نے ان کے خلاف سرکشی کی۔ اور ہم نے جو خزانے اس کو دیے تھے، وہ اتنے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت بھی مشکل سے ہی اٹھا سکتی تھی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ (اپنی بے انتہا دولت پر) اتراؤ نہیں، کیونکہ یقیناًاللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘
اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ قارون تھا تو موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل سے، لیکن اس نے اپنی قوم کو چھوڑ کر مال وزر اور جاہ ومنصب کے لالچ میں فرعون وقت کا ساتھ دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا، ا س کا نام جدید ترین تحقیقات کے مطابق رعمسیس دوم تھا۔ اس فرعون نے قارون کو بنی اسرائیل (مصر میں مقیم یہودی) پر حاکم بنا دیا تھا اور بنی اسرائیل کو اپنا غلام یا فرماں بردار رکھنے کے لیے اس کو بہت مال ودولت سے نوازا تھا۔ اس وقت فرعون کا وزیر ایک شخص ہامان تھا۔ اسی وجہ سے قرآن میں ایک اور جگہ اس کا ذکر فرعون وہامان کے ساتھ آیا ہے۔ (سورۃ المومن آیت ۲۳) اس بے انتہا دولت نے اس کو اتنا سرکش وخود غرض بنا دیا تھا کہ وہ اپنی قوم کے خلاف ہو گیا۔
توراۃ میں بھی قارون کا ذکر ہے لیکن اس میں اس کا ذکر بالکل مختلف انداز سے ہے۔ اس میں اس کی فراوانی دولت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو متنبہ (Challenge) کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اپنے آپ کو اللہ کا برگزیدہ بندہ کہتے ہو اور میں بھی برگزیدہ ہوں کیونکہ مال ودولت میں تم سے زیادہ ہوں۔ (توراۃ، کتاب گنتی، اصحاح ۱۶)
بائبل کے عہد عتیق (Old Testament) کے اس بیان کے برخلاف قرآن میں قارون کے مال ودولت کی حرص اور تکبر اور گھمنڈ کا ذکر تو ہے لیکن اس Challenge کا ذکر نہیں اور جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ بائبل کی یہ بات یہودی مادہ پرستوں کی اس فکر سے زیادہ تعلق رکھتی ہے جس کے بموجب اہل ثروت وجاہ کو برگزیدہ وبرتر انسان سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں۔
توراۃ کی مذکورہ کتاب اور اسی فصل میں قارون کے خزانے کی تفصیل میں ہے کہ ’’اس کے خزانے کی کنجیاں چمڑے کی تھیں اور تین سو اونٹوں پر لادی جاتی تھیں۔‘‘
بعض عرب مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ کنجیاں ساٹھ خچروں پر لادی جاتی تھیں۔ ’’عصبۃ‘‘ عربی زبان میں دس سے چالیس آدمیوں کو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قارون کے خزانے کی کنجیاں ہی اتنی زیادہ تھیں کہ ان کو دس بیس آدمی اٹھاتے تھے۔ یہاں توراۃ کا بیان غلط معلوم ہوتا ہے کہ چمڑے کی کنجیوں میں اتنا وزن نہیں ہوتا۔
بعض مفسرین نے توراۃ کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے کہ قارون، موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا اس لیے ا س کو یہ بھی غرور تھا کہ میں انبیا کی اولاد میں سے ہوں اور دوسرے یہ کہ مال ودولت بھی بہت رکھتا ہوں، اس لیے میں بھی موسیٰ علیہ السلام کی طرح برگزیدہ ہوں۔
سورۂ قصص، جس میں قارون کا ذکر ہے، مکہ مکرمہ میں اتری۔ اس قصے کی شان نزول یہ معلوم ہوتی ہے کہ سرداران قریش حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ ہمیں اللہ نے مال ودولت دی ہے، اگر تم اللہ کے محبوب بندے ہوتے تو تمھار ے پاس بھی کثیر مال ودولت ہوتی۔ اس طرح کی باتیں کر کے کفار مکہ یہ سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں، ان کے مقابلے میں اپنی ناداری کی وجہ سے کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے اور وہ خود اپنی دولت کی وجہ سے ہمیشہ سرخ رو اور کامیاب رہیں گے۔
اس قصے کے ذیل میں قرآن کا نظریہ مال ودولت بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ جہاں تک مال ودولت کا تعلق ہے تو قرآن میں مختلف مقامات پر ذکر ہے کہ مال کس طرح سے کمایا جائے اور کس طرح خرچ کیا جائے، لیکن قارون کے سیاق (Context) میں یہ ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ مال انسان کو تکبر میں مبتلا کر دے اوروہ یہ سمجھنے لگے کہ یہ محض اس کی اپنی دانش وحکمت کے سبب حاصل ہوا ہے تو ایسے آدمی سے یہ دولت چھین لی جاتی ہے۔
اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْہِمْ وَآتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہُ لَتَنُوْءُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ اِذْ قَالَ لَہُ قَوْمُہُ لاَ تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْفَرِ حِیْنَ (۷۶) وَابْتَغِ فِیْ مَآ آتَاکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْآخِرَۃَ وَلاَ تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ (۷۷) قَالَ اِنَّمَا اُوْتِیْتُہُ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَہْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا وَّلاَ یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ (۷۸) فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ اِنَّہُ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (۷۹) وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّلاَ یُلَقّٰہَا اِلاَّ الصّٰبِرُوْنَ (۸۰) فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِنْ فِئَۃٍ یَّنْصُرُوْنَہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ (۸۱) وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہُ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَیْکَاَنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکَافِرُوْنَ (۸۲) تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَادًا وَّالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (۸۳) مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ خَیْرٌ مِّنْہَا وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّآتِ اِلاَّ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۸۴)
اس قصے کے آغاز میں قارون کے بے انتہا مال ودولت کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
آیت ۷۷: ’’اللہ نے تجھے جو مال ودولت دیا ہے، اس کے ذریعے تو اپنی آخرت کو بنا‘‘ ۔
یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کر کے اپنی آخرت کو سنوار۔ اس سے پتہ چلا کہ مال خود بری چیز نہیں لیکن اگر مال سے صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہی بنائی جائے تو وہ بے کار چیز ہے، لیکن مال سے آدمی اپنی آخرت کی زندگی بھی بنا سکتا ہے۔ قرابت داروں، یتیموں اور مساکین کے ساتھ سلوک کر کے یا فلاح وبہبود یعنی ہسپتال، مساجد، اسکول، مدارس وغیرہ قائم کر کے اپنی آخرت کا بہترین سامان کر سکتا ہے، اس صورت میں مال برا نہیں۔ ’وَابْتَغِ فِیْ مَآ آتَاکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْآخِرَۃَ‘ کے جملے سے اس کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ فلاحی کام کیے جا سکیں جن سے آخرت بنتی ہے۔
’’اور دنیا میں جو تمھارا حصہ ہے، اس کو بھی نہ بھولو‘‘۔
دنیا کی ضروریات مثلاً گھر، سامان، سواری، ان چیزوں کو بھی حاصل کر سکتے ہو۔ اس حقیقت کو مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
چیست دنیا از خدا غافل بدن
نے قماش ونقرہ وفرزند وزن
یعنی دنیا داری خدا سے غافل رہنے کا نام ہے، کپڑے لتے، چاندی (مال) اور اولاد وبیوی کا نام نہیں۔
’’اور اللہ نے جس طرح تمھارے ساتھ اچھائی کی ہے، تم بھی ایسے ہی لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو اور زمین میں فساد پھیلانے کی آرزو نہ کرو۔‘‘
دیکھیے اسلام نے کیسا اچھا اصول معاشرے میں بھلائی پھیلانے کے لیے پیش کیا ہے۔ اللہ نے تمھارے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے تمھیں مال ودولت میسر کیا تو تم بھی لوگوں کے ساتھ بھلائی کے کام کرو۔ افسوس ہے کہ اگرچہ ہمیں قرآن نے فلاحی کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے لیکن مسلمان ممالک کے کروڑ پتی، ارب پتی اس درجے کے فلاحی کام نہیں کرتے جیسے فورڈ فاؤنڈیشن (Ford Foundation) یا راک فیلر فاؤنڈیشن (Rockfeller Foundation) وغیرہ کرتے ہیں۔
فساد عربی زبان کا ایک عام لفظ ہے۔ ہر خرابی، خواہ وہ فکری ہو یا مادی، ا س میں شامل ہے۔ ’فسد اللبن‘ کے معنی ہیں: دودھ پھٹ گیا۔ فساد کے مقابل میں صلاح کا لفظ ہے۔ جو آدمی اصلاح نہیں کر رہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فساد کر رہا ہے۔ جو لوگ اپنے مال کو فتنہ وفساد پھیلانے یا برائیوں کو عام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ بڑا گناہ کرتے ہیں اور قرآن کی رو سے فسادی ہیں۔
آیت ۷۸: ’’اس (قارون) نے کہا کہ یہ مال ودولت تو میں نے اپنے علم سے حاصل کی ہے (یعنی اپنی مہارت اور اپنی دانش سے حاصل کی ہے) کیا اس (قارون) کو معلوم نہیں کہ اس سے پہلے جو زیادہ طاقتور اور زیادہ لاؤ لشکر رکھنے والے تھے، ان کو اللہ نے ہلاک کر دیا اور مجرموں سے اللہ ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھتا نہیں ہے، (بلکہ ان کے جرائم اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو بغیر کسی پوچھ گچھ کے ہلاک کر دیا جاتا ہے)‘‘
آج خلیج کے علاقے میں جو لوگ ہیں، ان میں سے ایک ایک کے پاس سو سو قارونوں کے برابر دولت ہے مگر یہ اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے اور نہ مسلمانوں پر جو مصائب آتے ہیں، مثلاً بوسنیا میں، چیچنیا میں، ان پر صرف کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عالمی سیاست میں بے مقام اور خوار کر رکھا ہے۔ وہ اپنے مال کے مختار نہیں ہیں۔ وہ امریکہ کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کے ساتھ ان کے گناہوں اور جرائم کی صورت میں وہ ہو سکتا ہے جو قارون کے ساتھ کیا گیا۔
آیت ۷۹: ’’ایک دن وہ (قارون) پوری شان وشوکت کے ساتھ باہر نکلا۔‘‘
’یوم الزینۃ‘ ان کے ہاں جشن کا دن تھا۔ اس کی تفصیل قرآن میں نہیں لیکن Jewish Encyclopaedia میں ہے کہ اس کے ساتھ پانچ ہزار زرق برق باندیاں تھیں اور بہت سے گھڑ سوار تھے اور حشم وخدام وغیرہ تھے۔ یہ سب شان وشوکت دیکھ کر :
’’جو لوگ دنیا کی زندگی کے خواہش مند تھے، وہ کہنے لگے، کاش جیسا مال ودولت قارون کو دیا گیا، ہمارے پاس بھی وہ سب کچھ ہوتا۔ وہ تو بڑا نصیب والا ہے۔‘‘
کسی بڑے سرمایہ دار کو دیکھ کر ہم میں سے بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ کاش ہم بھی اس طرح سرمایہ دار بن جائیں۔ اس قصے سے معلوم ہوا کہ ایسی آرزو کرنا بڑی غلط بات ہے۔
آیت ۸۰: ’’جن لوگوں کو (حق کا) علم دیا گیا تھا، انھوں نے کہا، کیا بات کرتے ہو، خدا کی تم پر پھٹکار ہو۔ اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔ اور اس بات کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو ایمان پر جمے ہوئے ہیں۔‘‘
اس سے یہ سبق نکلتا ہے کہ صاحب ایمان نیک لوگوں کو کسی کافر ومغرور دولت مند کو دیکھ کر یہ خواہش نہیں کرنی چاہیے کہ ان کو بھی اس کے جیسی دولت مل جائے، بلکہ ان کو اللہ کے ثواب کا طلب گار رہنا چاہیے۔
آیت ۸۱: ’’پھر اس غرور کی وجہ سے ہم نے اسے (قارون کو) زمین میں دھنسا دیا اور اس کا گھر بھی۔ اس کا کوئی ایسا جتھا نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ کسی سے انتقام لے سکتا تھا۔‘‘
اب اس کے بعد دوسرے گروہ کا ذکر آتا ہے:
آیت ۸۲: ’’سو صبح ہوئی تو وہ لوگ جو کل اس جیسا مقام حاصل کرنے کی تمنا کر رہے تھے، کہنے لگے، ارے معلوم تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے رزق میں چاہے، کشایش پیدا کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے، رزق تنگ کر دیتا ہے۔‘‘
یعنی جس کو بہت رزق دیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اللہ کا محبوب بندہ ہے۔ غریب آدمی اللہ کا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ یہ نیک لوگ قارون کا یہ حشر دیکھ کر کہنے لگے:
آیت ۸۳: ’’اگر اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان نہ ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ (ہماری اس آرزو کی وجہ سے کہ ہمیں بھی قارون کی طرح دولت مل جائے) معلوم تو ایسا ہوتا ہے کہ کافر کامیاب نہیں ہوتے۔‘‘
یعنی ناشکرے کامیاب نہیں ہوتے۔
اس پورے قصے کاخلاصہ اب آگے آنے والی آیت میں بتایا گیا ہے:
آیت ۸۳: ’’یہ آخرت کا گھر ہم نے بنایا ہے ان لوگوں کے لیے جو نہ تو دنیا میں سربلندی کے متمنی ہوتے ہیں اور نہ فساد کرتے ہیں اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد ایک عام اصول بیان کیا گیا ہے:
آیت ۸۴: ’’جو آدمی اچھائی کرے گا، ا س کو اللہ تعالیٰ اس سے بہتر عطا فرمائے گا، لیکن جو برائی کرے گا، اس کو وہی بدلہ ملے گا۔‘‘
یعنی ایک نیکی کے مقابلے میں دس نیکیاں ملیں گی بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ سات سو گنا تک اللہ بڑھا دیں گے۔ اس کے بالمقابل ایک برائی کے بدلے میں ایک ہی سزا ملے گی۔
یہ اس قصے کا خلاصہ ہے کہ وہ قارون جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا مال ودولت دیا تھا، اس کو یہ توفیق نہیں تھی کہ نیکیاں کرے او اس کے بدلے میں سینکڑوں گنا ثواب حاصل کرے، بلکہ اس نے تکبر کیا جس کے نتیجے میں اسے نہ تو دنیا میں فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی آخرت میں ہوگا۔ اس سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر وہ تکبر نہ کریں اور اللہ کے دیے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں فلاحی کاموں میں خرچ کریں تو ان کی دنیا بھی آباد ہوگی اور آخرت بھی۔ غریب کو مال ودولت والے آدمی کو دیکھ کر یہ تمنا نہیں کرنی چاہیے کہ مال ودولت مل جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کے ثواب کی تمنا اور امید رکھنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات
حافظ عبد الواجد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور تمام انسانوں تک حق کا پیغام پہنچانے کا سلسلہ شروع کرنا آپ کی ذمہ داری تھی، ورنہ حق رسالت ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ عرب کے گرد ونواح میں اس وقت کے تمام بادشاہوں کے نام خط لکھا۔ علامہ احمد بن علی القلقشندی کی تصنیف ’صبح الاعشیٰ فی صناعۃ الانشاء‘ کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات کی مختلف نوعیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ان خطوط کو دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
ایک، مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات،
دوسرے، غیر مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن غیرمسلم بادشاہوں اور امراے قبائل کو خطوط ارسال فرمائے، ان میں سے نمایاں حسب ذیل ہیں:
شاہ حبشہ اصحمہ نجاشی، شاہ روم قیصر ہرقل، شاہ فارس کسریٰ خسرو پرویز، شاہ اسکندریہ ومصر مقوقس، شاہ بحرین منذر بن ساویٰ، شاہ یمامہ ہوذہ بن علی، شاہ دمشق حارث غسانی، شاہ عمان جیفر وعبد، اہل نجران، مسیلمہ کذاب، بنو جذامہ، بنو بکر بن وائل، ذی الکلاع وغیرہ۔
چند غیر مسلم امرا کے علاوہ اکثر امرا وقبائل نے اسلام قبول کر لیا اور کفر وشرک کے اندھیروں سے نکل کر ایمان واسلام کی روشنی میں آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمسلموں کے علاوہ مسلم امراے قبائل کے نام بھی فرامین جاری فرمائے۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
خالد بن ولید، منذر بن ساویٰ، فروہ بن عمرو جذامی، اکیدر، وائل بن حجر، مالک بن نمط، بنی نہد، اہل حضرموت، اقیال عباہلہ۔
مطالعہ سیرت میں یہ خطوط متنوع پہلووں سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند پہلووں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
دعوت وانذار کے پہلو سے خطوط کی اہمیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب کے علاوہ عیسائی، یہودی اور مجوسی امرا اور سرداروں کے نام دعوتی پیغامات اور مراسلات کا سلسلہ جاری رکھا جن میں انھیں وعظ ونصیحت کی گئی اور ایمان وعمل کی دعوت دی گئی۔
مشرکین عرب کے نام دعوتی پیغامات میں آپ نے انھیں شرک وبت پرستی سے اجتناب اور تنہا اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دی اور اپنی آخرت کو سنوارنے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کرحساب دینے پر یقین کی دعوت دی۔ علاوہ ازیں رسالت محمدی تسلیم کرنے کو کہا اور دینی ودنیاوی معاملات میں اتباع نبوت کا حکم دیا۔
عیسائیوں کے نام دعوتی مراسلات میں انھیں مشترک امر یعنی توحید اور عیسیٰ بن مریم کے اللہ کا بندہ ورسول اور کلمۃ اللہ ہونے کے ناتے سے اسلام اور اپنی نبوت کی تصدیق واتباع کی دعوت دی ہے جیسا کہ قیصر، مقوقس اور اہل نجران کے نام خطوط سے عیاں ہے۔
مجوسیوں کے نام پیغام میں آپ نے انھیں اہرمن اور یزداں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ عز وجل کی طرف بلایا اور تمام کائنات کے لیے اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا، اور انھیں توحید ورسالت پر ایمان کی دعوت دی، جیسا کہ خسرو پرویز کسریٰ کے نام خط سے ظاہر ہے۔ کسریٰ سے اسلام قبول کرنے کی صورت میں امن وسلامتی کا وعدہ فرمایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کی صورت میں اسے تمام اہل فارس کی گمراہی اور تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا، لیکن اس بدبخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کو پھاڑ ڈالا۔ رسول اللہ نے اس کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی فرمائی جو کہ سچ اور درست ثابت ہوئی۔
مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات دعوتی نوعیت کے نہیں، بلکہ وعظ ونصیحت پر مبنی ہیں اور بعض نماز، روزہ کے مسائل اور خصوصاً زکوٰۃ کی تفصیلات پر مشتمل ہیں، مثلاً زکوٰۃ کی مقدار نصاب، مقدار واجب زکوٰۃ، زکوٰۃ میں دیے جانے والے مال کی اہمیت، نوعیت او رحالت وغیرہ۔ مسلم امرا کے نام بعض مراسلات انتظامی نوعیت کی ہدایت پر مشتمل ہیں، مثلاً امرا کو اراضی دینے اور ان کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے احکام۔ اہل دومۃ الجندل کو ملکیت باغات اور اراضی کی نوعیت کا خط لکھ کر ایک قسم کا معاہدہ فرمایا۔ اسی طرح وائل بن حجر کے نام خط میں ان کی تمام جائیداد ان کی ملکیت میں برقرار رکھا گیا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے اس زمین سے ہر قسم کے تعرض کوممنوع قرار دیا گیا ہے۔ معاہدات کے ضمن میں مختلف قبائل کو عہد وپیماں پر کاربند رہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ مسلم امرا وقبائل کو ایمان وعمل پر ثابت قدم رہنے کی صورت میں اجر وثواب، انعام واکرام اور جنت کی خوش خبری سنائی گئی ہے جبکہ غیر مسلم امرا کو اسلام قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے پر امن، سلامتی اور مغفرت وبخشش کی نوید دی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت بشیر ونذیر پیغمبرانہ صداقت کی وجہ سے کفار کو ڈنکے کی چوٹ ایمان سے انکار کی حالت میں جزیہ اور جزیہ سے انکار پر جنگ کی دھمکی دی اور جہنم کے عذاب سے ڈرایا دھمکایا اور ان کو اس سے آگاہ کر دیا کہ حکمران وسردار قبیلہ کے اسلام قبول نہ کرنے پر اس کی تمام رعایا اور اہل قبیلہ کا گناہ اس کی گردن پر ہوگا، جب کہ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عدم عمل کی صورت میں ان کی املاک کی واپسی اور امرا واقیال کی معزولی کی دھمکی دی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے ڈرایا ہے۔
مراسلات کی سیاسی اہمیت
ساتویں صدی عیسوی میں دنیا میں دو بڑی بنیادی سلطنتیں قائم تھیں، یعنی سلطنت روم اور سلطنت فارس، جبکہ جزیرہ نمائے عرب میں قبائلی طرز زندگی رائج تھا۔ سلطنت روم میں عیسائی مذہب ترقی کر رہا تھا کیونکہ قیصر مذہباً نصرانی تھا اور مسیحی مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ یہی حیثیت فارس میں مجوسی مذہب کو حاصل تھی اور وہاں کی آبادی اہرمن اور یزداں کو اپنا خالق تصور کرتی تھی۔ جزیرہ عرب میں گردش ایام نے ملت ابراہیمی کی جگہ بت پرستی کو جنم دیا۔ لوگوں نے ملت ابراہیمی سے روگردانی کی اور اللہ کے علاوہ کئی معبودان باطلہ بنا لیے تھے۔ یوں رومیوں مسیحی گمراہیوں کا شکار ہو چکے تھے، فارسی عوام توہم پرستی میں مبتلا تھے اور عرب قبائل ملت ابراہیمی سے انحراف کے علاوہ فخر ومباہات اور شدید باہمی نفرت اور تعصب کی فضا میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ پوری دنیا کفر وشرک کی لپیٹ میں تھی اور کفر وشرک کی ظلمت چاروں طرف چھائی ہوئی تھی۔ انسانیت گمراہیوں کی دلدل میں بری طرح دھنسی ہوئی تھی اور ظلم وستم کی چکی میں بری طرح پس رہی تھی۔ اب وقت آ گیا تھا کہ دنیا سے ظلم وستم کا راج ختم کر دیا جائے، ذات پات کی اونچ نیچ اور امیر وغریب اور آقا وغلام کا فرق مٹا دیا جائے اور کفر وشرک کی بیخ کنی کر دی جائے۔ دنیا میں ہمہ گیر اور عالم گیر امن کی ضرورت تھی، لہٰذا دنیاے ضلالت کے عین وسط میں آفتاب نبوت ومہتاب رشد وہدایت طلوع ہوا ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آفاقی امن وفلاح کا پیغام لے کر وادئ فاران میں نمودار ہوئے اور لوگوں کے سامنے اپنا پیغام پیش کیا۔ چند ارواح مقدسہ نے اس پیغام کو دل وجاں سے قبول کر لیا اور بارگاہ رسالت میں حاضری کا شرف حاصل کرتے ہوئے فیض یاب ہونے لگے تھے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ جزیرہ عرب کو رشد وہدایت کی آغوش میں لینے کے بعد رحمت للعالمین ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ چنانچہ جاں نثاروں کو جمع کر کے اعلان کیا گیا کہ مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور رسول بنا کر بھیجا گیا، لہٰذا پیغام امن وانقلاب لے کر قریب وبعید قبائل اور ارباب اقتدار کے پاس جاؤ اور انھیں اسلام کی آغوش میں لے آؤ، بصورت دیگر وہ ذلیل ورسوا ہو کر جزیہ دینے کے لیے آمادہ ہو جائیں، ورنہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار رہیں، کیونکہ یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ مذکورہ تینوں صورتوں میں سے ایک کے انتخاب میں ہر شخص کو ضمیر ورائے کی مکمل آزادی دی گئی، چنانچہ کئی ایک حضرات نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور کئی ایک نے خاموشی اختیار کر لی۔ صرف کسریٰ نے اپنی بدبختی کو دعوت دی اور نامہ مبارک کو چاک کر کے قعر مذلت کے کنویں میں جا گر اور ہمیشہ کے لیے ناکام ونامراد ہو گیا۔
جہاں دیگر عرب قبائل اور روم وفارس اور حبشہ کے حکمرانوں کو دعوتی مراسلات ارسال کیے گئے، وہاں یمن کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ یمن اپنی زرخیزی، شادابی، خوش حالی اور منظم ومستحکم نظام حکمرانی کی وجہ سے عرب کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں نمایاں وامتیازی حیثیت رکھتا تھا، لہٰذا عالمی دعوتی پروگرام میں یمن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اکثر خطوط اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائل کی طرف لکھے گئے ۔ مراسلات کے ذریعے دی جانے والی دعوت کو قبول کرتے ہوئے مندرجہ ذیل قبائل وفود کی صورت میں دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور اسلام سے بہرہ ور ہو کر رشد وہدایت کے ستارے بن کر دنیا کو جگمگائے:
وفد عبد القیس، وفد اشعریین، وفد کندہ، وفد ازد، وفد ہمدان، وفد غامد، وفد نخع، وفد بنی الحارث، وفد دوس، وفد تجیب، وفد بہرا، وفد بلی، اور وفد نجران وحضرموت۔
یہ وفود اپنے سرداروں اور ممتاز افراد کی قیادت میں حاضر ہوئے اور ذہنی وفکری انقلاب کے بعد دینی مسائل سیکھتے، سیاسی نکات حاصل کرتے اور نصائح سے فیض یاب ہو کر اصول جہاں بانی وحکمرانی معلوم کر کے اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہوگئے۔
مراسلات کے ادبی خصائص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات میں مکتوب نگاری کی تمام عمدہ واعلیٰ خوبیاں نمایاں ہیں۔ کلام اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے یکتا ہونے کے ساتھ عروج وکمال کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ آپ کے مراسلات کو عمیق نظر سے دیکھا جائے تو فصاحت وبلاغت کی بھی کئی خصوصیات روز روشن کی طرح نمایاں ہیں۔ مثلاً آپ کے مراسلات طوالت بیان سے پاک اور مسجع ومقفیٰ عبارت آرائی کے تکلف وتصنع سے کوسوں دور ہیں۔ الفاظ کے گورکھ دھندوں اور لفظ وبیان کی نمایش کے بجائے اسلوب کی سادگی نمایاں ہے۔ مراسلات ایجاز واختصار کا عظیم شاہکار ہیں۔ مراسلات کے علاوہ یہ خصوصیت آپ کی عام گفتگو میں بھی پائی جاتی ہے۔ مراسلات کا ہر جملہ پیغمبرانہ صداقت وامانت کا آئینہ دار ہے۔ یہ پختہ یقین، بلند حوصلہ اور عزم مصمم کے ساتھ دعوت حق سے معمور ہیں جن میں بڑے واضح اور نمایاں انداز میں اصول دین یعنی توحید ورسالت کی تبلیغ کی گئی ہے۔ ان کا لہجہ تند خوئی کے بجائے نرم خوئی ودل جوئی کا عمدہ نمونہ ہے۔ چند ایک امرا کے علاوہ اکثر بادشاہ آپ کے مراسلات سے متاثر ہوئے اور آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔ مختلف قبائل سے آنے والے وفود کی اکثریت آپ کی نرم خوئی اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئی۔ آپ کے مراسلات پر نزاکت ولطافت کی گہری چھاپ ہے۔
مراسلات کا انداز تحریر واسلوب بیان بڑا سہل، نمایاں اور واضح ہے۔ تمام مراسلات کو پیش نظر رکھ کر ان کے اسلوب کو جانچا جائے تو ان کا اسلوب انشاء خطوط کا رہنما بن جاتا ہے۔
مراسلات کی ابتدا میں بحیثیت مرسل اسم گرامی لکھا گیا ہے۔ اسم گرامی کے ہمراہ مشہور صفت، رسول اللہ تحریر کی گئی ہے۔ بعض مراسلات میں اسم گرامی کے ساتھ لفظ عبد اللہ کا اضافہ کیا گیا تاکہ نصاریٰ کے عقیدہ فاسدہ، الوہیت مسیح کا لطیف پیرایے میں رد ہو جائے۔ مکتوب الیہ کا نام، مشہور لقب یا عرف ذکر کیا گیا ہے۔ ہرقل کے ساتھ ’عظیم الروم‘ کے لفظ سے اشارہ ہے کہ مکاتیب ومراسلات میں مناسب القاب سے مکتوب الیہ کو خطاب کیا جائے جیسے ’ہرقل عظیم الروم‘، ’کسری ابرویز ملک الفرس‘ اور ’النجاشی ملک الحبشۃ‘۔ امن وسلامتی کا جملہ مکتوب الیہ کے حسب حال مختلف ہو جاتا ہے۔ ان سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے مسلم مکتوب الیہ کے لیے ’سلام علیک‘ اور ’سلام علی من آمن باللہ ورسولہ‘ جبکہ کافر مکتوب الیہ کے لیے ’سلام علی من اتبع الہدی‘ لکھا جائے۔ جامع الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جائے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جائے۔
مراسلات میں جامع انداز میں وعظ ونصیحت اور پند وارشاد کا اہتمام ہے۔ قاصدوں کی فرماں برداری کواپنی اطاعت واتباع قرار دیا گیا ہے۔ خطا کاروں سے درگزر کا برملا اعلان کیا گیا ہے۔ دعوت اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں نفاذ جزیہ کا حکم ہے۔ بغرض تصدیق مراسلات کے آخر میں مہر رسالت کی چھاپ ہے۔ مہر میں سب سے اوپر لفظ اللہ، درمیان میں لفظ رسول اور نیچے لفظ محمد نقش کیا گیا۔
مندرجہ بالا اسلوب تحریر اکثر مراسلات میں عیاں ہے، البتہ کچھ مراسلات میں اسلوب تحریر اور انداز ابتدا ذرا مختلف ہے۔ چنانچہ مالک بن نمط اور رفاعہ بن زید کے نام خط کا عنوان ’ہذا کتاب‘ ہے جبکہ منذر بن ساویٰ کے نام خط کا عنوان ’سلم انت‘ ہے۔
ایٹمی پھیلاؤ کا ’’بڑا مجرم‘‘!
جمی کارٹر
حکومت ڈیموکریٹس کی ہو یا ری پبلکن پارٹی کی، بعض اساسی اصول ایسے ہیں جن پر دونوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، لیکن حالیہ چند برسوں کے دوران بش انتظامیہ نے چند ایسی پالیسیاں اپنائیں جنھیں ان اساسی اصولوں کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ میں ان پالیسیوں پر حد درجہ فکر مند ہوں۔ ان میں وہ پالیسیاں بھی شامل ہیں جن پر ہم عالمی امن، عالمی اقتصادی ترقی، عالمی سطح پر سماجی انصاف، شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کے حصول اور آب وہوا میں آلودگی کی مقدار کو ممکنہ حد تک کم کرنے کے لیے عمل پیرا ہیں۔
ہمارے تاریخی اوصاف ہیں کہ ہم اپنے شہریوں کو درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ہم اختلاف رائے اور اختلافی عقائد کو عزت واحترام کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ ہم نے ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو (جائز حد تک) خود مختاری دے رکھی ہے اور مالیاتی ذمہ داریاں بھی وفاق ہی کے کندھوں پر ہوتی ہیں، لیکن اندریں حالات یہ تاریخی اوصاف خطرے سے دوچار ہیں۔
(یہ امر افسوس ناک ہے کہ) ہمارے سیاسی رہنماؤں نے یک طرفہ طور پر بین الاقوامی تنظیموں اور دیرینہ عالمی معاہدوں کی پابندیوں سے آزادی کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں وہ تمام معاہدے شامل ہیں جو ایٹمی اسلحے اور جراثیمی وحیاتیاتی ہتھیاروں کے ضمن میں طے ہوئے یا جو عالمی نظام انصاف کے بارے میں تھے۔
جب تک ہماری ملکی سلامتی کو (براہ راست) کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، امن ہماری قومی ترجیحات میں سرفہرست ہے لیکن ہم اپنی اس روایت کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ ہم نے ’’قبل از وقت‘‘ حملے کی پالیسی اپنا لی ہے۔ کسی ناپسندیدہ حکومت کو بدلنا مقصود ہو یاکوئی اور مقصد پیش نظر ہو، یک طرفہ اقدام کو ہم نے اپنا استحقاق سمجھ لیا ہے۔ جب کسی ملک کے ساتھ ہمارے اختلافات کی نوعیت سنگین ہو جاتی ہے تو ہم اسے ’’عالمی اچھوت‘‘ قرار دے کر اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیتے ہیں۔
ہمارے چوٹی کے رہنماؤں کی شدید کوشش ہے کہ ساری دنیا پر امریکی سامراجیت مسلط کر دی جائے۔انھیں کوئی پروا نہیں کہ اس خواہش یا کوشش کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہ انقلابی پالیسیاں ان لوگوں کی تشکیل کردہ ہیں جن کی خواہش ہے کہ ہماری بے پناہ قوت اور ہمارے اثر ونفوذ کی راہ میں عالمی سطح پر کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ ایک طرف ہماری فوج مصروف جنگ ہے اور دوسری طرف ہمیں مزید دہشت گرد حملوں کے خطرات لاحق ہیں۔ پھر بھی ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ’’یا تو ہمارا ساتھ دو یا ہم تمھیں اپنا مخالف سمجھیں گے۔‘‘ ہم نے کسی کے لیے کوئی تیسرا راستہ رہنے ہی نہیں دیا۔ وہ دن گئے جب بین الممالک اتحاد کی بنیاد باہمی افہام وتفہیم کو یا مشترکہ مفاد کو پیش نظر رکھا جاتا تھا اور یا پھر دہشت گردی کے خطرے کو دو یا دو سے زیادہ ممالک مشترکہ خطرہ خیال کرتے تھے۔
ایک اور امر بھی خاصا پریشان کن ہے۔ قومی بحران کے اس دور میں ہمارا انحصار انھی گنے چنے مرد وزن پر ہے جنھیں لڑنے کے لیے عراقی دلدل میں بار بار دھکیلا جا رہا ہے۔ ہماری باقی ماندہ قوم سے کسی ایثار کا مطالبہ یا درخواست نہیں کی جا رہی، بلکہ ممکنہ حد تک ان سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکی عوام کو مرنے والے امریکی فوجیوں کی اصل تعداد کا علم نہ ہو سکے۔
بجائے اس امر کے کہ ہم بنیادی انسانی حقوق کے علم بردار اور چیمپین کا کردار ادا کرتے، ’’قانون حب الوطنی‘‘ (Patrio Act) کی بعض انتہا پسندانہ شقوں نے ہماری شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے ’’جنیوا سمجھوتوں‘‘ کو پس پشت ڈال کر عراق، افغانستان اور گوانتانامو بے میں تشدد کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مختلف ملکوں کی جو حکومتیں امریکہ کی حامی ہیں، ان سے بھی ان کے عوام پر تشدد کرایا جا رہا ہے۔ صدر اور نائب صدر مصر ہیں کہ سی آئی اے کو فری ہینڈ دے دیا جائے۔ اسے اجازت بخش دی جائے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ انتہائی متشدد، شرمناک، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کر سکے جو امریکی حراست میں ہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ ایٹمی اسلحے پر ہم اپنا انحصار (بتدریج) کم کر دیتے۔ ایٹمی پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ بنتے، لیکن ہم تو ایٹمی اسلحے کے وسیع تر ذخائر کو برقرار رکھنے کا حق مانگ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کو بھی یہ حق حاصل رہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران تخفیف اسلحہ کے ضمن میں جتنے عالمی معاہدے طے پائے، ہم چاہتے ہیں کہ انھیں بیک جنبش قلم منسوخ کر دیا جائے یا ان کی صریحاً خلاف ورزی کی جائے۔ ہم اب عالمی سطح پر ایٹمی پھیلاؤ کے ’’بڑے مجرم‘‘ بن چکے ہیں۔ غیر ایٹمی ممالک پر ایٹمی حملے میں پہل پر جو پابندی عائد تھی، امریکہ اس کو بھی ترک کر چکا ہے۔ ماضی میں خلا میں اسلحے کی تنصیب کو ناپسندیدہ قرار دے دیا گیا تھا، تاہم امریکہ اس پریکٹس کی تجدید کا ارادہ رکھتا ہے۔
حکومت امریکہ تیل کے صنعت کاروں اور دیگر طاقتور لابیوں کے سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔ ہماری آب وہوا اور فضا کو آلودگیوں کے خلاف جوتحفظ میسر تھا، وہ تنزل پذیر ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے ہمارا آلودگی کا تناسب جانچنے کا معیار مسلسل گر رہا ہے اور آب وہوا کے حوالے سے ہماری عالمی پالیسیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
ہماری حکومت اپنی مالیاتی ذمہ داریوں کو نبھانے سے بھی قاصر رہی ہے۔ امرا کو بے پناہ مراعات دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی ورکنگ کلاس کو کاملاً نظر انداز کر دیا گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکی کانگریس کے ارکان نے اپنی تنخواہوں میں ۳۰ ہزار ڈالر فی کس سالانہ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
عبادت گاہوں کے اندر اور حکومت میں مذہبی بنیاد پرستی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مذہب اور ریاست بڑی تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ ماضی میں یہ صورت حال ناقابل تصور تھی۔
دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے ناتے امریکہ کو چاہیے تھا کہ وہ امن، آزادی اور انسانی حقوق کا انتہائی ثابت قدم علم بردار نظر آتا۔ عالمی امن کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام عالم ہمارے گرد جمع ہو جاتیں۔ ہم ان کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔ دوسرے ممالک ہماری عمومی آب وہوا کو معیار مان کر ہماری تقلید کرتے اور ہم ضرورت مند انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہوتے۔
ہمارے ملک میں پائی جانے والی گہری اور تشویش ناک سیاسی تقسیم کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے یہ وقت انتہائی مناسب اور موزوں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ان تاریخی، سیاسی اور اخلاقی اقدار کی تجدید اور نشاۃ ثانیہ کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں جن کی ہم گزشتہ ۲۳۰ برس مسلسل آب یاری کرتے رہے۔
(بشکریہ روزنامہ پاکستان لاہور)
بالاکوٹ کا سفر: چند تاثرات
مولانا محمد یوسف
(رمضان المبارک کے دوران میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا ایک گروپ، جس میں مولانا حافظ محمد یوسف اور ڈاکٹر محمود احمد بھی شامل تھے، بالاکوٹ گیا اور زلزلہ سے متاثر ہونے والے افراد اور خاندانوں کو میڈیکل ایڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے کچھ امدادی رقوم تقسیم کیں۔ اس سلسلے میں لندن کے محترم میاں محمد اختر صاحب اور الشریعہ اکادمی کے بزرگ اور مہربان معاون ڈاکٹر انعام اللہ صاحب آف اٹک نے خصوصی تعاون فرمایا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر سے نوازیں۔ آمین۔ مولانا حافظ محمد یوسف نے اس سفر کے حوالے سے درج ذیل مختصر تاثرات واحساسات قلم بند کیے ہیں ۔ مدیر)
سفر کے محرک اٹک سے ہمارے ایک مخلص اور محترم دوست ڈاکٹر انعام اللہ صاحب (چائلڈ اسپیشلسٹ) تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے فون پر ہمیں زلزلہ زدہ علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کے لیے جاری سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی جسے ہم نے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریک پر میں نے چند مزید احباب کو بھی ا س سفر میں شریک ہونے کی دعوت دی، چنانچہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے چھ افراد پر مشتمل ایک ٹیم تیار ہو گئی جس میں راقم الحروف کے علاوہ الشریعہ فری ڈسپنسری کے انچارج ڈاکٹر محمود احمد صاحب اور اکادمی کے رفقا وطلبہ میں سے محمد اکرام، فخر عالم، عبد الرشید اور محمد عارف شامل تھے۔ اس مختصر سی جماعت کی قیادت رسماً تو میرے ذمے تھی لیکن عملاً ڈاکٹر محمود احمد صاحب ہمارے رہنما تھے۔
بالاکوٹ میں ہم نے انفرادی، تنظیمی اور حکومتی سطح پر جاری امدادی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا۔ حکومتی سطح پر فوج کی امدادی ٹیمیں تو اپنی ذمہ داریاں انجام دے ہی رہی تھیں، دینی رفاہی تنظیموں نے بھی اس حادثے میں ایسا بھرپور کردار ادا کیا ہے کہ صدر پاکستان کے علاوہ عالمی میڈیا بھی بادل نخواستہ ان کا اعتراف کر چکا ہے۔ الرشید ٹرسٹ، جماعت اسلامی، الرحمت ٹرسٹ، جماعۃ الدعوۃ، تبلیغی جماعت اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے زیر اہتمام قائم ریلیف کیمپوں کی امدادی سرگرمیاں نمایاں طور پر دکھائی دے رہی تھیں۔ بالخصوص الرحمت ٹرسٹ کی ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں سبقت حاصل کی۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کوئی حصہ امدادی سرگرمیوں میں دکھائی نہیں دیا۔ بین الاقوامی سطح پر کوریا، چین، ترکی اور امریکہ کی ٹیمیں بالاکوٹ شہر میں بھرپور اور موثر کردار ادا کرتی ہوئی نظر آئیں۔
ہم بالاکوٹ پہنچے تو شہر کی سطح پر تو امدادی سرگرمیاں پوری تن دہی کے ساتھ جاری تھیں، لیکن گرد ونواح کے کئی علاقوں تک ابھی تک کسی قسم کی کوئی امداد نہیں پہنچی تھی۔ چنانچہ ہم نے ملک کی معروف دینی درسگاہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے کیمپ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں کے لیے ایسے ہی علاقوں کا انتخاب کیا۔
بالاکوٹ کے ایک بلند وبالا پہاڑ پر واقع ایک جھونپڑی میں ہم نے نویں کلاس کی ایک طالبہ کی زخمی ٹانگ پر مرہم پٹی کی۔ اس نے بتایا کہ زلزلے کے وقت ۸۰۰ دیگر طالبات کے ساتھ وہ اپنے اسکول میں تھی اور زلزلے میں اسکول کی پرنسپل اور کئی طالبات ومعلمات جاں بحق ہو گئی ہیں۔
پہاڑ سے ہم نے شہر پر نگاہ ڈالی تو یوں لگا جیسے شہر خموشاں سامنے ہو۔ حد نگاہ تک منہدم عمارات کا ملبہ، ٹوٹی ہوئی کرسیاں، چارپائیاں، بیڈ، الماریاں، صوفے، روشن دان، کھڑکیاں، دروازے اور بکھرا ہوا گھریلو سامان کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ڈاکٹر محمود صاحب نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ آج ہم بالاکوٹ کو نہیں، پست کوٹ کو دیکھ رہے ہیں۔
ہمارا گزر ایک ایسی گری ہوئی عمارت کے پاس سے ہوا جہاں جابجا بستے، بوٹ، ٹوٹی ہوئی پنسلیں اور قلم بکھرے ہوئے تھے۔ یہ ملبہ ایک اسکول کی عمارت کا تھا جہاں ۸۰۰ نونہال زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے۔ ان میں سے ۶۰۰ اس حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
راہ چلتے منہدم عمارات کے ملبے پر جابجا بلدیاتی امیدواروں کے پوسٹر نظر آئے۔ ایک شکستہ دیوار پر شاہ عالم خان امیدار برائے ناظم یونین کونسل بالاکوٹ کااشتہار نظر آیا۔ ایک شخص نے بتایا کہ یہ صاحب بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن زلزلے میں اپنے خاندان سمیت عالم بقا کو روانہ ہو گئے۔
اپنے گھروں کے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہونے والوں میں سے تو اکثر کو نکال کر دفنایا جا چکا ہے، لیکن بازاروں اور گلی کوچوں میں دبی ہوئی اکثر لاشوں کو ابھی تک نہیں نکالا جا سکا ۔ زندہ رہنے والوں کو کچھ پتہ نہیں کہ ان کے پیارے کس بازار یا کس گلی کوچے میں زندگی کی بازی ہار کر ملبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان عمارتوں کے ملبے سے اس قدر ناگوار بدبو اٹھ رہی تھی کہ ان کے قریب سے گزرنا محال ہو رہا تھا۔ ملبے کے نیچے بے شمار انسان اور جانور مدفون ہیں جن کی لاشوں سے یہ بدبو اٹھ رہی ہے۔
بالاکوٹ کے بلیانی باغ میں ہم نے ایک ہی خاندان کی چالیس قبریں دیکھیں۔ سانولے رنگ کا ایک ادھیڑ عمر شخص برستی بارش اور یخ بستہ ہوا میں خیمے سے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سلام کیا۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر اسے کوئی تکلیف ہے تو میں اس کو دوا دوں؟ اس نے کہا، تمھارے پاس میرے غم کی کوئی دوا ہے تو دے دو۔ اس نے بتایا کہ نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اس کے محلے کا بھی کوئی فرد بشر زندہ نہیں بچا۔ وہ رو پڑا اور بار بار یہ کہتا رہا کہ میرا کیا بنے گا؟ میں اس کو تسلی کے دو لفظ بھی نہ کہہ سکا۔ شہر میں ہر شخص اسی طرح غم والم کی تصویر ہے۔ ہر بازار، گلی کوچے، ہر گھر بلکہ ہر جھونپڑی میں غم کی ایسی ہی داستانیں بکھری ہوئی ہیں اور خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہر شخص کو جھنجوڑ رہی ہیں کہ ’فاعتبروا یا اولی الابصار‘۔ کئی خاندانوں کو ہم نے دیکھا جو کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے۔ کئی باپردہ خواتین گلیوں میں کپڑے چنتی نظر آئیں۔
ہمارے سروے کے مطابق بالاکوٹ اور گرد ونواح کے علاقوں کی ۷۰ فی صد آبادی اس سانحہ میں جاں بحق ہو گئی ہے۔ اگر شرح اموات کو مجموعی آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر ہر گھر سے اوسطاً چار پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اکثر سرکاری ونجی عمارات منہدم ہو چکی ہیں۔ جو عمارتیں کھڑی ہیں، دراڑیں پڑ جانے کی وجہ سے وہ رہایش کے قابل نہیں ہیں اور ان کے مکین ان کے اندر جانے سے ڈرتے ہیں۔ پورے بالاکوٹ شہر میں صرف ایک مارکیٹ اور مشرقی جانب میں پہاڑ پر واقع صرف ایک بستی ہمیں ایسی نظر آئی جو زلزلے کے آثار سے بالکل محفوظ ہے۔
زندہ رہنے والوں میں سے گنتی کے چند افراد ایسے ہیں جنھیں کوئی گزند نہیں پہنچی، ورنہ اکثر لوگ زخمی ہیں۔ بہت سے مردوں، خواتین اور بچوں کی ہڈیوں کا فریکچر ہو گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ خیموں میں مرہم پٹی کے دوران میں ہم نے کئی بچے شدید زخمی حالت میں کراہتے ہوئے اور کئی نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنی ماؤں کی گود میں بے سدھ پڑے ہوئے دیکھے۔ ایک ایسے بچے کو مرہم پٹی کے لیے لایا گیا جس کے سر میں اتنا گہرا زخم تھا کہ سر کا اندرونی حصہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میں نے اس کو ٹافی کی پیش کش کی تو اپنی حالت سے بے نیاز بچے نے معصومیت کے ساتھ ٹافی لینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ اس کو ٹافی دیتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
یہ زخمی بچے امت مسلمہ کے نونہال ہیں جس کے رہبر ورہنما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب، وطن، قوم اور زبان سے قطع نظر ہر بچے کے ساتھ شفقت ومحبت اور حسن سلوک کا درس دیا اور یتیم بچوں کو بہلانے کے لیے اپنے کندھوں پر سوار کرایا۔ کیا ہم ان بچوں، بوڑھوں، جوانوں، زخمی عورتوں اور بے سہارا اور بے یار ومددگار لوگوں کو ان حالات میں تنہا چھوڑ دیں گے؟ ہرگزنہیں۔ ہمیں تو روز اول سے سبق ہی یہ پڑھایا گیا ہے کہ
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
آخر میں ہم خداے رحیم کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں کہ یا اللہ! اس امت پر رحم فرما۔ جو لوگ اس سانحے میں جاں بحق ہو گئے ہیں، ان کی مغفرت فرما۔ زخمیوں کو شفاے کامل وعاجل عطا فرما۔ بے آباد لوگوں کو پہلے سے بہتر آبادی اور پہلے سے اچھا روزگار عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین
اسلام اور تجدد پسندی
ڈاکٹر محمد امین
مغربی تہذیب کے غلبے کے نتیجے میں جب اہل مغرب نے مسلمان ممالک پر قبضہ کر لیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اس وقت تک جو صورت حال ہے کہ مغربی استعمار بظاہر مسلم ممالک سے نکل گیا ہے لیکن اپنا تہذیبی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی تسلط بہرحال اس نے مسلم دنیا پر قائم کر رکھا ہے، مغرب کے اس عمل کے نتیجے میں مسلم معاشرے سے جو رد عمل ابھرا، اسے ہم تین دائروں یا حلقوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک روایتی دینی حلقہ جس نے اس ہمہ جہت تہذیبی حملے کی بھرپور مزاحمت کی اور شکست کے بعد عافیت اس میں جانی کہ اپنے نظریات پر سختی سے قائم رہے اور مغرب سے استفادہ کرے نہ مفاہمت۔ دوسرے وہ حلقہ جو فکری مرعوبیت کا شکار ہو گیا اور اس نے مغربی تہذیب اور اس کے اصولوں کی ’’بڑائی‘‘ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور وہ اس چیز کا علم بردار بن گیا کہ اپنے نظام فکر وعمل کو بدل کر اسے اس نئی اور غالب تہذیب سے ہم آہنگ کر دے۔ اور تیسرے وہ معتدل مزاج حلقہ جس نے مغرب کے اس فکری چیلنج کی اہمیت کو محسوس کیا اور اپنی اساس سے جڑے رہ کر اپنے نظام فکر وعمل کی کمزوریوں کو دور کرنے اور مغرب کی ان اچھی باتوں کو قبول کرنے میں حجاب محسوس نہ کیا جو اس کے اپنے فکری دائرے کے خانہ مباحات میں قابل قبول ہو سکتی تھیں۔ مسلم معاشرے میں مغربی تہذیب کے غلبے کے خلاف رد عمل میں یہ تین فکری دائرے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کی صورت حال کوئی ہوا بند کمروں جیسی نہیں تھی کہ یہ مکمل طور پر الگ تھلک ہوتے بلکہ ہر دائرے میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دوسرے دائرے کے قریب تھے۔ تاہم سہولت بیان کی خاطر کہا جا سکتا ہے کہ بڑے فکری دائرے یہی تین تھے۔ اس وقت ان میں سے دوسرے فکری دائرے پر کچھ گفتگو مقصود ہے، گو اس ضمن میں دیگر فکری دائروں پر بھی کچھ تبصرہ ہو جائے گا۔
برصغیر میں اس نقطہ نظر کے علم بردار سرسید احمد خان تھے اور امیر علی، عبد اللہ چکڑالوی، علامہ مشرقی، اسلم جیراج پوری، چراغ علی اور احمد دین امرتسری وغیرہ سے ہوتی ہوئی یہ روایت قیام پاکستان کے بعد غلام احمد پرویز، غلام جیلانی برق اور نیاز فتح پوری وغیرہ تک پہنچی۔ آج کل لاہور میں اس کے علم بردار جناب جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر جاوید اقبال ہیں۔ ڈاکٹر رشید جالندھری، قاضی جاوید، حنیف رامے، محمود مرزا اور پروفیسر رفیق وغیرہ بھی اسی حلقے میں شامل ہیں۔ غامدی صاحب کا تعلق فراہی مکتب فکر سے ہے۔ شروع میں لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کا حدیث کے بارے میں رویہ محض ان کے تفردات میں سے ہے جس سے صرف نظر کرنا چاہیے کہ ہر بڑے عالم کے کچھ تفردات ہوتے ہیں جن کی حیثیت اس کی مجموعی فکر کے استثناء ات کی سی ہوتی ہے (اگرچہ کچھ حساس لوگ ابتدا ہی میں کھٹک گئے تھے اور انھوں نے مولانا حمید الدین فراہی کی تکفیر کی تھی)۔ مولانا اصلاحی صاحب نے اس لے کو مزید آگے بڑھایا، لیکن جناب غامدی صاحب کے اجتہادات نے تو اس حسن ظن کا خاتمہ ہی کر دیا اور دوسرے متجددین کی طرح اب ان کا رویہ بھی یہی لگتا ہے کہ مغربی تہذیب کے فکری چولے کو اسلام پر فٹ کرنے کی کوشش کی جائے۔ خصوصاً حدیث وسنت کے بارے میں ان لوگوں کے موقف کے حوالے سے یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تجدد کا پائے چوبیں جب بھی حرکت میں آتا ہے، خواہ وہ قدیم تجدید ی تحریکیں ہوں (جیسے خوارج اور معتزلہ) یا عصر حاضر کی تجدیدی تحریکیں ہوں، ان کا پہلا نشانہ حدیث وسنت بنتی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ حدیث وسنت قرآنی فکر کو تفصیلی عملی ڈھانچہ مہیا کرتی ہے اور دین کو ’’جدید تقاضوں‘‘ کے مطابق ڈھالنے میں رکاوٹ بنتی ہے، لہٰذا قرآن اور دین کی من چاہی تفسیر وتاویل اور اسے ’’جدید افکار‘‘ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان اسکالرز کو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ درمیان میں سے حدیث وسنت کا کانٹا نکال دیا جائے۔ قدیم تجدیدی تحریکوں سے جدید تجدیدی تحریکوں کا قارورہ اس لیے بھی ملتا ہے کہ پہلی تحریکیں جس یونانی فکر سے مرعوبیت کا نتیجہ تھیں، وہ عقل پرستی اور الحاد پر مبنی تھی اور جاہلیت جدیدہ یعنی مغربی تہذیب جس فکری اساس پر مبنی ہے، وہ بھی عقل پرستی اور الحاد پر مبنی ہے، بلکہ حقیقی صورت یہ ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب اسی یونانی تہذیب کا تسلسل اور اس کی نشاۃ نو ہے۔
تو بات ہو رہی تھی لاہور کے اہل تجدد کی۔ یہ لوگ اگرچہ پہلے سے موجود تھے اور کام کر رہے تھے اور اپنے افکار پھیلا رہے تھے، لیکن مغربی تہذیب کی حالیہ ’’کامیابیوں‘‘ (افغانستان اور عراق کی فتح) اور عالم اسلام اور مسلم معاشرے کے مختلف طبقات کو ترغیب وترہیب سے (مغربی محاورے کے مطابق چھڑی اور گاجر کی پالیسی سے) اپنے ڈھب پر لانے کا عمل جب سے امریکہ نے نئی آب وتاب اور نئے جوش وجذبے سے شروع کیا ہے، اور ہمارے مولانا مفتی سید پرویز مشرف صاحب نے جب سے اعتدال پسند اور روشن خیال اسلام کا ڈول ڈالا ہے، ان تجدد پسندوں کو بھی مہمیز ملی ہے اور سرکاری میڈیا اور حکمرانوں کی آنکھ کا اشارہ سمجھنے والے پرائیویٹ میڈیا نے ان حضرات کو ابھارنا شروع کیا ہوا ہے اور افسوس تو یہ ہے کہ روایتی ذہن سے قربت رکھنے والے مجید نظامی صاحب (اور ان کے ادارے) اور مجیب الرحمن شامی صاحب (اور ان کے اخبارات وجرائد) بھی اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مزید حیرانی بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان حضرات کو چیک کرنے اور انھیں ان کے غلط نظریات سے ٹوکنے اور ان کے نظریات پر پھیلنے والے فساد کا تدارک کرنے والے لوگ غافل پڑے ہیں۔ روایتی علما حسب عادت اپنے مدارس ومساجد میں لمبی تان کر سو رہے ہیں۔ مشائخ اپنے مراقبوں میں مشغول ہیں اور اسکالرز اپنی علمی غیر جانبداری اور رواداری کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ لے دے کر دم غنیمت ہے جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کا جو ان سے مجادلہ حسنہ کرتے رہتے ہیں، یا پھر ماہنامہ ’’محدث‘‘ کے حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب ہیں جو جارحانہ انداز میں ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ مسائل اور مباحث تو بہت ہیں لیکن اس نشست میں ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے تجدد پسندی کے مرکزی موضوع اور اساسی فکر پر کچھ گفتگو کریں گے۔
مسئلہ تجدد کی اساس کیاہے؟ اس کی فکری اساس یہ ہے کہ شارع حکیم نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ نبوت محمدی کے بعد لوگوں کی رہنمائی کے لیے اب نبوت کے تسلسل کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اعلان کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ (الاحزاب ۳۳:۴۰) اس کے مابعد زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے اس نے یہ انتظام فرمایا کہ ایک تو یہ اعلان کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والی ساری نسلوں اور سارے علاقوں کے لیے نبی ہیں۔ (سبا ۳۴: ۲۸) دوسرے اس نے کتاب (قرآن حکیم) کی حفاظت کا ذمہ خود لیا کہ یہ محفوظ رہے گی۔ (الحجر ۱۵:۹) تیسرے اس نے امت محمدیہ کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ ہدایت لوگوں تک پہنچانا اب اس کی ذمہ داری ہے۔ (البقرۃ ۲:۱۴۳) چوتھا یہ کہ ہدایت کی بنیادی باتیں تفصیل سے بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان امور کی بھی نشان دہی فرما دی جو انسانوں کے لیے اس زمین میں صالح معاشرت کی بنیاد ہیں۔ (جیسے حدود، نکاح وطلاق اور وراثت کے مسائل) اور اس کے اجتماعی معاملات میں (جیسے معیشت، معاشرت اور سیاست وغیرہ) جہاں تفصیلات کا پہلے سے تعین لوگوں کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا تھا (اور ویسے بھی خالق کائنات یہ جانتا تھا کہ قرآن وسنت کی محدود نصوص قیامت تک پیدا ہونے والے لا محدود مسائل کے لیے کافی نہیں ہو سکتی تھیں) چنانچہ اس نے اپنی رحمت سے ان معاملات میں صرف پالیسی اور بنیادی اصول دینے کا اہتمام کیا اور تفصیلات کا تعین امت کے اہل علم اور مجتہدین پرچھوڑ دیا کہ وہ اپنے زمانے، علاقے اور حالات کی رعایت سے ان کا تعین کر لیں۔ یہ انتظامات دین اسلام اور شریعت محمدی کے دوام کے لیے کافی تھے اور ہیں۔
پہلے تین امور تو واضح ہیں، چوتھے کے لیے اہل علم اور ہمارے اسلاف نے ابتدائی تجربات کے بعد اس کے بھی تفصیلی قواعد وضوابط وضع کر لیے اور یوں اجتہاد کا ادار ہ بھی منظم ہو گیا۔ یہ قواعد وضوابط اگرچہ انسانوں ہی کے وضع کردہ ہیں لیکن قرآن وسنت سے ماخوذ ہونے کے ساتھ وہ اتنے جامع اور وسیع انسانی تجربات کی کسوٹی پر اتنے آزمائے جا چکے ہیں کہ ان میں شاید ہی کسی کمی بیشی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ چنانچہ الشاطبی جیسا عبقری اور عالی فکر فقیہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اصول فقہ قطعی الدلالۃ ہیں۔ (الشاطبی، الموافقات فی اصول الشریعہ، ج ۱ ص ۴۵ ومابعد (اردو ترجمہ) مرکز تحقیق، دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور، ۱۹۹۳) پس اصولی لحاظ سے دیکھا جائے تو کوئی مسئلہ باقی نہیں رہتا اور ہر مسئلے کے حل کا میکانزم فکر اسلامی میں موجود ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی اجتہادی مسئلے میں اہل علم کا آپس میں اختلاف ہو جائے۔ تو ہوتا رہے، یہ کون سی بڑی بات ہے۔ سوچنے سمجھنے والے لوگوں کا آپس میں اختلاف تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ ویسے امت نے صدیوں کے تجربات سے اس کا بھی حل نکال لیا اور امت کی ایک بہت بڑی اکثریت منتخب اجتہادی مکتب ہائے فکر سے منسلک ہو گئی (ائمہ اربعہ، غیر مقلدین اور شیعہ) اور آج بھی منسلک ہے۔ تو یوں کسی ممکنہ بڑے فکری انتشار سے بچنے کا بھی ایک مستحکم حل مل گیا۔ تو اب اصولی طور پر کوئی مسئلہ باقی نہیں، مسئلہ ہے تو صرف ہمارے رویوں کا کہ اعتدال کا راستہ چھوڑ کر کچھ لوگ تجمد کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں تو کچھ تجدد کا۔ تجمد کا رویہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے اختیار کردہ اجتہادی مسلک کو عین دین سمجھنے لگتے ہیں اور اس کی حقانیت ثابت کرنے اور اس کی مدافعت میں اپنی زندگیاں لگا دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حرف آخر اور حتمی ہے، ناقابل تغیر ہے اور اس میں کسی کمی بیشی کی کوئی گنجایش نہیں۔ یہ رویہ لاریب غلط اور نقصان د ہ ہے۔ اس سے مقاصد شریعت فوت ہوتے ہیں۔ دین اسلام ظاہر ہے کہ محض پوجا پاٹ کی مناجات اور اخلاقی ہدایات کا مجموعہ نہیں، یہ تو زندگی گزارنے کا لائحہ عمل ہے۔ تو جب ہم اس تجمد کا شکار ہوتے ہیں تو ہم اس دین کو زندگی کے رواں دواں دھارے سے کاٹ دیتے ہیں اور اس سے پچھڑنا قبول کر لیتے ہیں۔ یہ گویا زندگی کے متحرک ریلے کے ساتھ عدم مطابقت اور اس کا ساتھ نہ دینا ہے جس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ زندگی کا متحرک ریلا آگے نکل جائے گا اور آپ کا دین پیچھے رہ جائے گا۔ یوں تجمد کا رویہ اختیار کرنے والے لوگوں سے دین اور امت کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس کے مقابلے میں تجدد کا رویہ یہ ہے کہ کچھ لوگ دوسری قوموں اور تہذیبوں کے افکار واعمال سے متاثر ہو جاتے ہیں، انھیں اپنے فکر وعمل سے اچھا اور اعلیٰ وبرتر سمجھنے لگتے ہیں اور یہ کوشش کرنے لگتے ہیں کہ انھیں اسلامی لباس پہنا کر اختیار کر لیا جائے۔ یوں وہ اجتہا د کے نام پر غیر اسلامی افکار واعمال کو گلے لگا لیتے ہیں اور اپنا اور اپنے دین کا نقصان کرتے ہیں۔ آج اسلام اور مسلمانوں کی صورت حال بڑی گھمبیر ہے اور بڑے حوصلے، تدبر اور ژرف نگاہی کا تقاضا کرتی ہے۔ مسلمان جو اپنے دین سے تمسک کی وجہ سے اور اسے دنیا میں پھیلانے اور غالب کرنے کی دھن میں ایک ہزار سال تک دنیا پر چھائے رہے، پچھلی تین صدیوں میں کمزور اور مغلوب ہو گئے ہیں۔ اس دوران میں مغربی قومیں اپنے نظریہ حیات (سیکولرزم، ہیومنزم، لبرلزم، میٹریلزم وغیرہ جن کا مطلب ہے اجتماعی زندگی میں اللہ کی اتھارٹی کا انکار اور اپنی عقل اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنا، دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھنا، آخرت سے صرف نظر کرنا اور اللہ کی ہدایت کو جاننے کے لیے اس کے فرستادہ شخص کی غیر مشروط اطاعت نہ کرنا، گویا توحید، رسالت، آخرت اور آسمانی دین کا صریح انکار) سے مستحکم وابستگی کے نتیجے میں دنیا میں ترقی کر گئیں۔ چونکہ وہ مسلمانوں سے مغلوب ہوئی تھیں، لہٰذا انھوں نے انتقاماً مسلمانوں کے علاقوں کو فتح کیا، انھیں کچلا، غلام بنایا، ان پر ظلم ڈھائے اور آج بھی وہ اسی مسلم دشمنی کی روش پر گام زن ہیں۔ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی قوت وشوکت کی بحالی ان کے دین سے تمسک میں پوشیدہ ہے، اس لیے مجبوراً مسلم ممالک کو آزادی دینے کے باوجود وہ ہر ایسا ہتھکنڈا اختیار کر رہی ہیں جن سے مسلمان اپنے دین سے حقیقی وابستگی اختیار نہ کر سکیں۔ ظاہر ہے انھیں نماز روزے وغیرہ سے پرخاش نہیں، لیکن وہ اسلام کو بحیثیت ایک نظریہ حیات اور نظام حیات اور بطور ایک منفرد ومستقل تہذیب کے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں مسلم امہ کے اہل علم وفکر کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ فکری استقلال کی روش اختیار کریں، اپنے اصولوں پر سختی سے جمے رہیں اور یہ جدوجہد کریں کہ امت دوبارہ اپنے دین سے جڑ جائے اور اس کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنے لگے۔ یہ ہے کرنے کا اصل کام اور نجات کا راستہ۔ اس کے برعکس دین کے وہ داعی اور علم بردار جو منفعل اور مرعوب ذہن کے مالک ہیں، وہ اپنی کوتاہ فکری سے یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب کی بالادستی کی وجہ اس کی خوبیاں اور اچھائیاں ہیں، لہٰذا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قوم میں بھی یہ اچھائیاں پیدا ہو جائیں اور وہ دنیا میں ترقی کرنے لگے۔ ا س کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار کر تے ہیں کہ قرآن وسنت کی نصوص کی ایسی تاویل وتشریح اور تعبیر کرتے ہیں کہ مغربی فکر وعمل مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہو جائے اور اجتماعی معاملات کی تفصیلات کے تعین کے لیے شریعت نے اجتہاد کا جو دروازہ کھلا رکھا ہے، اسے اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ مغربی فکر وعمل اور اس کے اداروں کو اسلام میں امپورٹ کر لیا جائے۔ ظاہر ہے تجدید اسلام کا یہ منہج اگر نیک نیتی سے اپنایا جائے تو یہ گمراہی ہے اور اگر ذاتی مفاد کے لیے اپنایا جائے تو یہ اسلام اور مسلمانوں سے غداری ہے۔ اس کی بدترین مثال غلام احمد قادیانی کی ہے جس نے استعمار کی نفیِ جہاد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جعلی نبوت کا ڈھونگ رچایا۔ باقی متجددین بھی اسی راہ کے راہی ہیں، لیکن مرزا غلام احمد جیسی اونچی اڑان، ظاہر ہے، ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
کج فکری کی اساس
متجددین عصر حاضر کی کج نظری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ کیا ہے اور وہ کس طرح زوال کے اس گرداب سے نکل سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکے کہ مغرب کے عروج کی اصل وجہ کیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب کے عروج کی وجہ اس کی سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی ہے، اس کا انفع اور اصلح ہونا ہے اور اس میں بعض انسانی خوبیوں (اتحاد، محنت، تنظیم، پلاننگ، استقرائی منہج اور ریسرچ وغیرہ) کا ہونا ہے، لہٰذا مسلمان بھی اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اس کی واحد صورت یہی ہے کہ وہ مغربی تہذیب کے ان خصائص کی پیروی کریں۔ یوں وہ اپنے ضمیر اور شعور کو مطمئن کرتے ہیں کہ وہ اسلام کی تعبیر نو اور اجتہاد کے ذریعے اگر مغربی تہذیب اور اس کے اصولوں کو مسلمانوں کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کوئی غلط کام نہیں کرتے بلکہ مفید اور اچھا کام کرتے ہیں، حالانکہ یہ سارا تصور ہی سراب پر مبنی ہے اور غلط فہمیوں کا پلندہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کے فلسفے کو سمجھ ہی نہیں سکے۔
دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کا صحیح اور اسلامی فلسفہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ دنیا دار الاسباب بنائی ہے اور جو فرد اور قوم بھی اسباب دنیا فراہم کرنے پر زیادہ بہتر طور پر اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے ، وہ ایسا نہ کرنے والوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ اس کا کسی کے دینی موقف کے صحیح یا غلط ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ دیکھیے، اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے جو اسے مانتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو بھی رزق دیتا ہے جو اس کا انکار کرتے اور اسے گالیاں دیتے ہیں۔ ایک تہجد گزار مسلمان اگر اپنی دکان وقت پرنہیں کھولتا، اس کے پاس سامان تجارت کم ہے اور گاہکوں سے درشتی سے پیش آتا ہے تو اس کی دکان فیل ہو جائے گی۔ اور اس کے برعکس ایک بت پرست ہندو اگر اپنی دکان وقت پر کھولتا ہے، اس کے پاس سامان وافر ہے اور وہ گاہکوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے تو اس کی دکان خوب چلے گی، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگا کہ اس مسلمان کو ہندو بن جانا چاہیے یا ہندووں کی اور ہندو مت کی پیروی شروع کر دینی چاہیے، کیونکہ خود اس مسلمان کا اپنا دین اس سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ خوش اخلاق ہو، وہ وقت کی پابندی کرے اور جو کام بھی کرے، بہترین انداز میں کرے۔ لہٰذا ایسے مسلمان کو یہ کہنا چاہیے کہ اگر تم کامیاب دکاندار بننا چاہتے ہو تو اپنے دینی اصولوں کی پیروی کرو نہ کہ یہ کہنا چاہیے کہ تم ہندووں کی، ان کے اصولوں کی اور ان کی تہذیب کی پیروی کرو۔ اسی مثال کو آپ مغرب اور مغربی تہذیب پر منطبق کر لیں تو آپ سمجھ لیں گے کہ مسلمانوں کو دنیوی ترقی کے لیے مغرب کی اور اس کی بعض خوبیوں کی طرف دعوت دینا کس طرح غلط ہے۔
جو بات سمجھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی قوم کی دنیوی ترقی کا تعلق اس کے اختیار کردہ نظریہ حیات؍دین کے سچا یا جھوٹا ہونے سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ قوم جس نظریہ حیات پر ایمان لائی ہے (یا اس کا دعویٰ کرتی ہے) وہ کتنی شدت اور اخلاص سے اس سے عملاً وابستہ ہے۔ اگر وہ ہو تو اس کے اندر وہ معروضی انسانی خوبیاں پید اہو جائیں گی جو دنیوی ترقی کا سبب بنتی ہیں ( جیسے محنت، تنظیم، پابندی قانون، اتحاد، ایثار، تحقیق وغیرہ) اور اگر وہ نہ ہوں تو اس میں وہ خوبیاں پیدا نہ ہوں گی۔ مسلمان جب تک اخلاص اور شدت سے اپنے دین سے وابستہ رہے، ان میں وہ خوبیاں پیدا ہو گئیں جو دنیوی ترقی کے لیے ضروری ہیں اور جب ان کی یہ وابستگی کمزور ہو گئی تو ان میں وہ خوبیاں بھی ناپید ہو گئیں اور وہ کمزور ومضمحل ہو کر مغربی قوموں کے غلام بن گئے جو اپنے نظریہ حیات (سیکولرزم، ہیومنزم وغیرہ) پر اخلاص اور شدت سے عمل پیرا تھے اور وہ میں وہ معروضی خوبیاں پید اہو گئیں جو دنیوی ترقی کے لیے مطلوب ہیں۔
سطور بالا میں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان اہل مغرب اور مغربی تہذیب کی پیروی کر کے ترقی نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کا نظریہ حیات اہل مغرب کے نظریہ حیات کے بالکل الٹ ہے (مسلمان توحید، رسالت اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ اہل مغرب سیکولرزم، ہیومنزم، لبرلزم وغیرہ پر جو کہ اسلامی اصولوں کے بالکل متضاد ہیں) لہٰذا اگر وہ اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر مغرب کے نظریہ حیات پر چلیں گے تو ان میں ہرگز وہ معروضی انسانی اوصاف پیدا نہیں ہوں گے جو دنیوی ترقی کے لیے ضروری ہیں بلکہ اس اجتماع ضدین کا لازمی نتیجہ فکری انتشار اور ذہنی پراگندگی کی صورت میں نکلے گا جس سے ان کی شخصیت مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر جائے گی اور وہ قعر ذلت سے نکلنے کے بجائے مزید اس میں دھنستے چلے جائیں گے۔ اور اگر ایک لمحے کے لیے اس ناممکن بات کو صحیح فرض بھی کر لیا جائے کہ مسلمان مغربی تہذیب کی پیروی کر کے دنیوی ترقی کر سکتے ہیں تو یہ دیکھیے کہ مغرب کے پیش نظر صرف دنیا ہے (ظاہر ہے کہ سیکولرزم ، لبرلزم، میٹریلزم وغیرہ آخرت کے تصور پر مبنی نہیں) اور آخرت تو ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں، تو کیا مسلمانوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیوی ترقی کے ایک ایسے ماڈل کی پیروی کریں جس کے نتیجے میں ان کی آخرت برباد ہو جائے؟ ظاہر بات ہے کہ کمزور سے کمزور ایمان کا حامل مسلمان بھی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا، لہٰذا عقل ومنطق کے ہر تقاضے کی رو سے مسلمانوں کو مغرب اور مغربی تہذیب کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (اس مبحث کے تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیے ہماری کتاب ’’مسلم نشاۃ ثانیہ۔ اساس اور لائحہ عمل‘‘ مطبوعہ کتاب سرائے، اردو بازار لاہور)
لہٰذا وہ علما اور اسکالرز صریح غلطی پر ہیں جو مسلمانوں کو مغربی تہذیب کے اچھے اصولوں کی پیروی کا مشورہ دیتے ہیں یا اسلام کی ایسی تاویل وتعبیر کرتے ہیں جس سے وہ مغربی اصولوں کے مطابق ہو جائے یا اجتہاد کے نام پر مغربی تصورات اور اداروں کو مسلمانوں میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ فاتح اور غالب مغربی تہذیب کا جادو ہے جو ان کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اور وہ اپنی فکری مرعوبیت کو دانش کے ملمع میں چھپا کر مسلمانوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہ اسکالرز بھول جاتے ہیں کہ اسلام کی دانش ابدی اور سرمدی ہے اور غیر حقیقی دانشیں وقتی طور پر اپنی چھب دکھا کر تاریخ کے سفر میں گم ہو جاتی ہیں۔ اعتزال کا غلغلہ کس زور سے اٹھا تھا لیکن وہ کتنی دیر چل سکا؟ مین اسٹریم اسلام یا جمہور اہل سنت کا اسلام معتزلہ سے پہلے بھی موجود تھا، ان کے بعد بھی موجود رہا، الحمد للہ آج بھی موجود ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی موجود رہے گا لیکن معتزلہ آج کہاں ہیں؟ ابھی کل تک ہمارے دیکھتے اشتراکیت کا طوطی بولتا تھا اور کتنے بڑے بڑے علما اور اسکالرز تھے جو اسلام کی تعبیر وتشریح اشتراکی اصولوں کے مطابق کرتے تھے اور سوشلزم کو عین اسلام ثابت کرتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں اور ان کی دانش کہاں ہے؟ یہی حال مغربی تہذیب کا ہے۔ وہ اسکالرز جو آج مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر اسلام کی تعبیر وتاویل کر رہے ہیں، ان کی سطحی سوچ کا مہتاب جلد غروب ہو جائے گا کیونکہ مغربی تہذیب کی جھوٹی ملمع کاری زیادہ دیر چلنے کی نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ دس، بیس، پچاس، چلیے سو برس اور چل جائے گی۔ خود مغربی دانش ور کہہ رہے ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ سو سال اور نکالے گی۔ (Samuel P. Huntington: Clash of Civilization & Remaking of World Order, Simon & Scuster, New York, 1997) جبکہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ یہ ربع صدی بھی نہیں نکالے گی اور اس کا تارو پود بکھر جائے گا جیسے کہ کمیونزم کا بکھرا۔ اس وقت یہ دانش ور کیاکریں گے اور کیا کہیں گے؟ ان کی حالت تو یہ ہے کہ ڈارونزم اور ارتقا کو خود مغربی اہل علم اور سائنس دان رد کر چکے ہیں، لیکن یہ بزرجمہر آج بھی نظریہ ارتقا کو صحیح ثابت کرنے کے لیے قرآن وسنت سے دلائل پیش کرتے ہیں۔ یہ ’’عبقری‘‘ نہیں سوچتے کہ مغربی دانش کا سورج غروب ہو جائے گا لیکن اسلام کی دانش مندی کا سورج ہمیشہ چمکتا رہے گاکیونکہ وہ وحی پر مبنی ہے نہ کہ محدود انسانی عقل اور اس کے مخدوش تجربات پر۔
ہم تجمد کی مذمت کرتے ہیں، ہم حریت فکر کی حمایت کرتے ہیں، ہم اجتہا دکے حامی ہیں، ہم روشن خیالی کے قائل ہیں، ہم جدت کو سراہتے ہیں، ہم ترقی کے خواہاں ہیں، دوسری قوموں سے محتاط استفادے میں بھی کوئی حرج نہیں، یہ سب ہونا چاہیے لیکن اسلام کے فکری دائرے کے اندر رہتے ہوئے، فکری استقلال کے ساتھ، مین اسٹریم اسلام پر چلتے ہوئے، کسی غیر اسلامی فکر اور تہذیب سے مرعوب ہوئے بغیر اور تجدد سے بچتے ہوئے۔ یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ تجمد اور تجدد کا راستہ غلط ہے اور تباہی کا راستہ ہے۔
تجدد پسندوں کا طریق کار
اس بحث کو سمیٹنے سے پہلے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ تجدد پسندوں کی حکمت عملی اور ان کے طریق کار پر کچھ روشنی ڈا ل دی جائے تاکہ ان کو پہچاننے میں آسانی رہے۔ ان کی حکمت عملی کے اہم نکات یہ ہیں:
۱۔ قرآن حکیم پر زور دیا جائے لیکن اس طرح کہ جس ہستی پر قرآن نازل ہوا تھا اور جس کے ذمے اس کی تبیین تھی، دین میں اس کے کردار اور اس کی تبیین (حدیث وسنت) دونوں کو اہمیت نہ دی جائے (گویا یہ بے عقل لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ یہ امت آج اگر زندہ اور متحد ہے تو صرف محبت رسول کے صدقے۔ فداہ ابی وامی صلی اللہ علیہ وسلم)
۲۔ حدیث وسنت کو بے اعتبار ٹھہرایا جائے۔ اس کے لیے جو ’دلائل‘ دیے جاتے ہیں، وہ کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:
احادیث اکثر وضعی ہیں اور عجمی سازش۔ یہ بہت تاخیر سے مدون ہوئیں لہٰذا قابل اعتماد نہیں۔ بہت سی احادیث قرآن حکیم کے خلاف ہیں۔ متواتر احادیث گنتی کی ہیں اور اکثر حدیثیں آحاد ہیں اور آحاد حدیثیں ظنی الدلالۃ ہوتی ہیں۔ احادیث اس زمانے کے حالات کے مطابق تھیں۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ حدیث وسنت میں فرق ہے۔ حدیثیں آحاد ہیں اور ناقابل اعتماد، صرف وہ چند سنتیں قابل اعتماد ہیں جو تعامل امت سے ثابت ہوتی ہیں ، وغیرہ۔
۳۔ مغرب اس لیے غالب ہے کہ انفع اور اصلح ہے، لہٰذا وہ خلافت ارضی کا حق دار ہے۔
۴۔ مغرب نے اسلامی اصول اپنا لیے ہیں، اس لیے وہ غالب اور بالادست ہے۔
۵۔ اہل مغرب سے ہمیں مفاہمت اختیار کرنی چاہیے کیونکہ وہ اہل کتاب ہیں، آخر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ ہمارے بھی تو پیغمبر ہیں۔
۶۔ مغرب نے جن اصولوں پر عمل کر کے دنیا میں ترقی کی ہے، ان کی پیروی کر کے ہمیں بھی ترقی کرنی چاہیے۔
۷۔ ملا کی تحقیر اور اس کو گالی دینا، کیونکہ ان کے نزدیک وہ مسلمانوں میں ساری خرابیوں کی جڑ ہے اور مسلم معاشرے سے اس کا خاتمہ اور اس کو غیر موثر کرنا ضروری ہے۔
۸۔ مسلمان اگر اپنے علاقے کا دفاع کریں تو بھی اسے جہاد نہ سمجھنا اور دہشت گردی قرار دینا۔
۹۔ مغرب کی ریاستی دہشت گردی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلائل دینا اور جواز تراشنا۔
۱۰۔ اسلاف کی بے ادبی۔
۱۱۔ اجماع کا انکار۔
۱۲۔ تقلید کی مذمت۔
۱۳۔ مغرب سے متاثر جو تنظیمیں مسلم معاشرے میں آزادی نسواں کی تحریک چلا رہی ہیں، ان کی حمایت کرنا۔
۱۴۔ مغربی لائف اسٹائل کا دفاع کرنا مثلاً دوپٹے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، کوٹ پتلون اور نکٹائی وغیرہ پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
۱۵۔ مغربی تصورات اور اداروں کی حمایت کرنا، جیسے جمہوریت، آزادی، رواداری، عدل، بنیادی حقوق اور حریت فکر وغیرہ، حالانکہ ان امور کے مغربی تصور اور اسلامی تصور میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
۱۷۔ بے دین مسلم حکمرانوں کی حمایت کرنا۔
۱۸۔ قوم پرست اور سیکولر سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کی حمایت کرنا۔
۱۹۔ ملک میں قائم دینی اداروں کی تنقیص اور ان پر تنقید، جیسے شرعی عدالت، حدود قوانین اور نظریاتی کونسل وغیرہ۔
۲۰۔ تصوف کے غیر اسلامی رسوم ورواج اور افکار واعمال کی حمایت کرنا۔
۲۱۔ دعوت دین کے ایک ایسے تصور کی حمایت جو مفاہمت، مسکینی اور گوسفندی پر مبنی ہو اور جس میں عزیمت، نہی عن المنکر، جہاد، نفاذ دین اور غلبہ اسلام کا ذکر نہ ہو۔
۲۲۔ مسلمانوں کے زوال کی وجہ ان کا مادی انحطاط ہے۔
۲۳۔ شریعت پر عمل کیا جائے اور فقہ کو چھوڑ دیا جائے۔
۲۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت۔
۲۵۔ قربانی دینے کے بجائے اس کے پیسے غریبوں کو دے دیے جائیں۔
۲۶۔ عورتوں کی آزادی، مساوات، بے پردگی اور مردوں کے ساتھ کام کرنے کی حمایت۔
۲۷۔ عقلیت پسندی بلکہ عقل پرستی۔
۲۸۔ لغت اور بائبل کو سنت پر ترجیح دینا۔
۲۹۔ موسیقی اور گانے بجانے کی حمایت بلکہ اس پر عمل۔
خلاصہ یہ کہ ہمیں تجمد اور تجدد کا راستہ چھوڑ کر اعتدال کا راستہ اپنانا چاہیے۔ ہمیں اسلام کو جدید بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ’’الی الاسلام من جدید‘‘ کی ضرورت ہے۔
ڈارون کا تصور ارتقا اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان
چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔۱۸۰۹) کو مغرب کی مادہ پرست فکر اور تحریک الحاد کا نمائندہ مفکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈارون نے اگرچہ ابتدائی عمر میں طب اور دینیات کی تعلیم حاصل کی تاہم اسے حیوانات اور نباتات کے مشاہدہ اور ان کی شکل وساخت کے تغیرات معلوم کرنے اور ان کی توجیہات پر غور کرنے کا بہت لپکا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے پانچ نہایت قیمتی سال بحری سفر میں صرف کیے۔ یہ سفر دراصل ڈارون کے لیے حیوانات اور مظاہر فطرت کا ایک مطالعاتی سفر تھا۔ اس سفر کے مشاہدات نے ڈارون کے فلسفہ ارتقا کے لیے خشت اول کا کردار ادا کیا۔ مظاہر فطرت کے اندر تغیرات اور مماثلتوں کے مشاہدہ نے اس کے ذہن میں کئی ایک سوالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں اس کے دماغ میں مختلف انواع کے درمیان ایک منطقی ربط اور تسلسل کا خیال پیدا ہوا۔ یہ گویا ڈارون کے تصور ارتقا کا ابتدائی مبہم خاکہ تھا۔
ڈارون کا فلسفہ ارتقا پہلی مرتبہ جامع صورت میں اس کی کتاب ’’مبدا حیات بوسیلہ قدرتی انتخاب‘‘ (On the Origin of Species by Means of Natural Selection) میں منظر عام پر آیا۔ یہ کتاب ۱۸۵۹ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب نے فکری دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ڈارون نے کہا کہ ہر جاندار کے جسم اور شکل وساخت میں مسلسل خفیف تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اور ایک طویل مدت کے بعد ان تبدیلیوں کے جمع ہونے سے ایک نیا جاندار وجود میں آ جاتا ہے۔ اگر اس جاندار کی نسل جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے جہد للبقا (Struggle for existence) کے دوران میں اپنے ماحول کی مشکلات کے ساتھ کامیاب مقابلہ کر سکے تو وہ زندہ رہتی ہے ورنہ مٹ جاتی ہے۔ زندگی اپنے ظہور کے بعد مسلسل ارتقا پذیر ہے اور اسی وجہ سے مختلف انواع کے وجود بنتے اور مٹتے رہتے ہیں۔ روئے زمین پر نوع بشر کا ظہور بھی ارتقا کے اسی قاعدے کا نتیجہ ہے۔
"As Natural selection acts solely by the preservation of profitable modifications, each new form will tend in a fully-stocked country to take the place of, and finally to exterminate, its own less improved parent form and other less favoured forms with which it comes into competition. Thus extinction and natural selection go hand in hand." 1
ڈارون کے تصور ارتقا میں انتخاب طبعی (Natural Selection) اور تنازع للبقا (Struggle for existence) دو اہم پہلو ہیں۔ ڈارون کے خیال میں وقت اور ماحول کے مطابق اپنے آپ کو جلد از جلد ڈھال لینے کا عمل انواع کی نہ صرف بقا بلکہ دیگر انواع پر حکمرانی اور تغلب کا باعث بھی بنتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی میں درج ہے:
"Some variations provide the organisms with an advantage over the rest of the population in the struggle for existence." 2
ایسی انواع جو تنازع للبقا کے دوران میں بہتر حکمت عملی کی بدولت اپنے نظام اور ساخت حیات میں ایسے تیز رفتار تغیرات کے عمل سے گزرتی ہیں جو انھیں دیگر انواع سے یکسر مختلف (Distinct) کر دے، وہ انتخاب طبعی کے عمل میں بھی سرخرو رہتی ہیں۔ انتخاب طبعی کا عمل کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈارون کہتا ہے کہ انواع کے اندر غیر محدود طور پر بڑھنے، ترقی کرنے اور اپنی نسل میں اضافہ کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے آبادی میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن وسائل حیات نہیں بڑھتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قدرتی آفات مثلاً بیماری، وبا، جنگ، قحط، زلزلہ اور موت کی دیگر صورتوں سے انواع اور وسائل حیات میں توازن قائم ہوتا ہے۔ ڈارون کا خیال ہے کہ اس طریقے سے قدرت صرف ان انواع کا انتخاب کرتی ہے اور صرف انھیں زندہ رہنے کا حق دیتی ہے جو کسی لحاظ سے دیگر انواع سے بہتر ہوں اور جنھوں نے تنازع للبقا کے عمل میں ماحول کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے اپنے آپ کو تغیرات کے عمل سے گزار کر ارتقا کے اگلے مراحل میں قدم رکھ لیا ہو۔ (۳) ڈارون لکھتا ہے:
Every being, which during its natural lifetime produces several eggs or seeds, must suffer destruction during some period of its life, and during some season or occasional year, otherwise, on the principle of geometrical increase, its number would quickly become so inordinately great that no country could support the product. Hence, as more individuals are produced than can possibly survive, there must in every case be a struggle for existence, either one individual with another of the same species, or with the individuals of distinct species or with the physical conditions of life." 4
آگے چل کر ڈارون زیادہ واضح انداز میں رقم طراز ہے:
"There is no exception to the rule that every organic being naturally increases at so high a rate that, if not destroyed, the earth would soon be covered by the progeny of a single pair." 5
چارلس ڈارون چونکہ میکانکی اور مادی نقطہ نظر کا حامل تھا، اس لیے ابتداے حیات کے سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں اور وہ اسے ایک ناقابل حل معما اور انسان کے حیطہ عقل سے ماورا مسئلہ قرار دیتا ہے۔ اسے اس بات کا پختہ یقین تھا کہ انواع کے حیاتیاتی ارتقا میں کسی مافوق الفطرت ہستی یا قوت کا عمل دخل نہیں۔ ہیرلڈ ہونڈنگ لکھتا ہے:
’’اگر مادیت سے محض یہ مراد لی جائے کہ یہ فوق الفطرت مداخلت کو برطرف کر کے مظاہر کو فطری طور پر معین فطری قوانین میں تحویل کرنے کا نام ہے تو ڈارون یقیناًمادیتی تھا۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ جانداروں کی صورتیں مکمل طور پر خدا کے تصور میں نہیں تھیں۔ یہ شکلیں نہایت ادنیٰ شروعات سے اور ماحول کے مسلسل اثرات سے طویل عمل ارتقا کے بعد بنی ہیں۔‘‘ (۶)
مختصر یہ کہ ڈارون کے نزدیک کائنات کی حیثیت ایک مشین کی سی ہے جس میں مظاہر اور انواع، مشین کے پرزوں کی صورت میں میکانکی انداز میں کام کرتے ہوئے اور مقررہ قوانین کے تحت چلتے ہیں۔ زندگی اپنے ادنیٰ ترین مراحل سے انسانی سطح کے اعلیٰ ترین مرحلے تک انھی معین قوانین اور میکانکی عمل کے نتیجے میں پہنچی ہے۔
اقبال کی فکرکا بنیادی نکتہ اس کا فلسفہ خودی تصور کیا جاتا ہے، تاہم اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی فکر پر اول تا آخر فلسفہ ارتقا کی چھاپ ہے، یہاں تک کہ تصور خودی بھی اسی بنیادی اور بڑے فلسفے کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ (۷)
اقبال اور ڈارون کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک تمام مادہ کی حقیقت روحانی ہے۔ ’’کائنات میں جذبہ الوہیت جاری وساری ہے۔‘‘ (۸) مادہ کو اس کی روحانی حقیقت سے الگ رکھ کر دیکھا اور پرکھا نہیں جا سکتا جبکہ ڈارون کی کمزوری یہ ہے کہ اس کی نظر کائنات کے صرف مادی پہلو پر ہے جیسے کہ ڈارون کے متعلق پروفیسر سی۔ ای۔ ایم جوڈ رقم طراز ہیں کہ ’’ڈارون کاپیش کردہ عمل ارتقا ارتقاے حیات کا ایسا عمل ہے جسے خالصتاً فطری قوتوں کی کارفرمائی کا ماحصل سمجھنا چاہیے۔‘‘ (۹) چنانچہ مغربی فلسفہ ارتقا میں ڈارون مادیت پرست اور میکانکی طرز فکر کا سب سے بڑا نمائندہ مفکر بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کا یہ خیال ہے کہ تمام مظاہر فطرت میکانکی نوعیت کے حامل قوانین قدرت کے پابند اور اسیر ہیں۔ خدا کے وجود کو فرض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں تک کہ حیات اور اس کے تمام ارتقائی مراحل بھی طبعی اور کیمیائی طاقتوں کے اندھا دھند عمل سے انجام پاتے ہیں۔ گویا اقبال کے الفاظ میں:
"The concept of mechanism, a purely physical concept, claimed to be the all embracing explanation of nature." 10
لیکن اقبال کے خیال میں مظاہر فطرت کی توضیح کے لیے محض میکانکی نقطہ نظر کافی اور تسلی بخش نہیں کیونکہ میکانکی انداز فکر نہ صرف یہ کہ نامکمل معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ مظاہر کے باہمی ربط وتعلق کی نوعیت پر روشنی نہیں ڈالتا۔ اقبال رقم طراز ہیں:
"Natural science is by nature sectional; it can not, if it is true to its own nature and function, set up its theory as a complete view of Reality." 11
ڈارون کی مادیت پرست سوچ نہ صرف مظاہر فطرت کو میکانکی قوانین کا اسیر دیکھتی ہے بلکہ حیاتیاتی مظاہر کو بھی میکانکی قوانین کی قلم رو میں شامل کر کے تمام حیاتیاتی ارتقائی مراحل کو فطرت کے اندھا دھند عمل کا حاصل قرار دیتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ڈارون کے تصور ارتقا میں حیات ارتقائی مراحل طے کرنے کے باوجود ان ماقبل ارتقائی مراحل کی قوتوں کے رحم وکرم پر ہے جنھیں وہ تنازع للبقا کے عمل میں پیچھے چھوڑ آئی ہے۔ اس طرح ڈارون حیات کی آزادہ روی اور تخلیقی رو کا گلہ دبا کر رکھ دیتا ہے کیونکہ اقبال کے بقول:
"In fact all creative activity is free activity. Creation is opposed to repetition which is a characteristic of mechanical action." 12
اقبال کی نظر میں مادہ درحقیقت حیات کی ادنیٰ درجے کی خودیوں کی بستی کا نام ہے۔ ان خودیوں کے مسلسل ارتباط، اتصال، عمل اور رد عمل سے باہمی یگانگت کا ایک ایسا مقام آ جاتا ہے کہ جہاں سے ایک ایسی اعلیٰ درجے کی خودی کا صدور ہو کہ جو احساس وادراک کی حامل ہو۔ اقبال لکھتے ہیں:
"Suffice it to indicate that even if the body takes the initiative, the mind does enter as a consenting factor at a definite stage in the development of motion." 13
چونکہ ابتدا میں اشیا میں خودی کا احساس پست درجے کا ہوتا ہے، اس لیے جسم پر میکانکی قوانین کی عمل داری زیادہ نظر آتی ہے۔ تاہم خودی کے احساس وادراک کا رجحان مسلسل ترقی پذیر رہتا ہے، یہاں تک کہ خودی مراحل ارتقا طے کرتے کرتے ارتفاع کے اس درجے پر فائز ہو جاتی ہے جہاں وہ بدن اور مادے کی غلامی سے مکمل طور پر آزادی حاصل کر لیتی ہے۔ اقبال رقم طراز ہیں:
"The evolution of life shows that though in the beginning the mental is dominated by the physical, the mental -- as it grows in power -- tends to dominate the physical and may eventually rise to a position of complete independence." 14
دراصل ڈارون اس حقیقت کو نہ سمجھ سکا کہ حیات، ارتقا کے سفر میں تدریجی مراحل سے گزرتی ہوئی ہر مرحلے کی صفات وخصوصیات کو اپنے اندر سمو کر ایک نئی اور بے چگوں کلیت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اقبال کے بقول:
"The movement of life as an organic growth involves a progressive synthesis of its various stages." 15
اقبال کے خیال میں زندگی میکانگی نقطہ نظر سے توضیح کرنے والے ماہرین حیاتیات کا مطالعہ ومشاہدہ حیات کی صرف ایسی ادنیٰ صور واشکال تک محدود ہے جن کے طرز عمل میں کسی حد تک میکانکیت سے مشابہت ہے، لیکن اگر وہ خود اپنی ذات اور اس کے اندر مچلتے ہوئے احساسات، تحریکات، جذبات اور ماضی وحال سے مستقبل کی طرف ابھار اور حرکت کے رجحان پر غور کریں تو انھیں یقیناًحیات کے میکانکی تصور سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ گویا حیات کے اندر آئندہ مراحل میں جو تبدیلیاں بھی واقع ہوتی ہیں، وہ اس کی اپنی آغوش سے جنم لیتی ہیں اور اس پر کوئی خارجی میکانکی جبریت عمل پیرا نہیں ہوتی۔ فکر کا یہی وہ مقام ہے کہ جہاں اقبال حیات کے اندر ارتقا کی لگن کو مقصد کے ساتھ وابستہ کر کے اسے میکانکیت کی حدود سے باہر لے آتا ہے اور لکھتا ہے:
"The action of living organisms, initiated and planned in view of an end, is totally different to causal action." 16
اقبال ڈارون کے اس خیال سے تو متفق ہیں کہ انواع کے اندر غیر محدود طور پر بڑھنے اور اپنی نسل میں اضافہ کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انواع کا تحرک اور کثرت آفات قدرت کو دعوت دینے کاباعث بنتا ہے۔ اقبال
غنچہ ہے اگر گل ہو، گل ہے تو گلستاں ہے (۱۷)
اور
یمے تعمیر کن از شبنم خویش (۱۸)
کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کائنات کا ذرہ ذرہ سوئے منزل دوست گامزن ہے اور ارتقا کی منازل طے کر رہا ہے۔ اقبال کے ہاں ارتقا ادنیٰ درجات حقیقت سے اعلیٰ درجات حقیقت کی طرف سفر کا نام ہے اور یہ سفر خارجی عوامل کے سفاکانہ عمل سے نہیں، بلکہ انواع کی اندرونی لگن اور تسلسل عمل سے انجام پاتا ہے، چنانچہ اقبال ڈارون کے اس خیال کو درست نہیں سمجھتے کہ آفات قدرت ارتقا کے رخ کو متعین کرنے میں کوئی کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ اگر اس نقطہ نظر کو قبول کر لیا جائے تو مراحل ارتقا میں حرکت وعمل اور جدوجہد کے تصور کی نفی ہو جاتی ہے اور ارتقا کا عمل محض آفات قدرت کا محتاج نظر آنے لگتا ہے۔ علاوہ ازیں ارتقا ایک ایسا اتفاقی اور حادثاتی عمل بن کر رہ جاتا ہے جس میں نہ عضویہ کی مرضی اور خواہش کو دخل حاصل ہے اور نہ کسی لگن، مقصد اور آرزو کو۔ یوں عضویہ کے جسم میں تمام تبدیلیاں خارجی عوامل کی مرہون منت ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ڈارون کے نظری ارتقائی دھارے کے مطابق کسی عضویہ کے لیے ارتقا کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے بڑے سکون اور صبر سے کسی ناگہانی آفت یا بلا کا انتظار اس کا مقدر ہے۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین اپنے ایک انگریزی مضمون میں لکھتے ہیں:
"Darwin is a terrible shock to man's justified conviction of his own dignity over the rest of creation, which he thinks he enjoys by virtue of the nobility of his mind and spirit and the sanctity of his reason and free will. For the implications of his theory are that the whole of his wonderful world of life is nothing but the blind and fortuitous play of the reckless forces of nature-----this position is, of course, completely antagonistic to that of Iqbal." 19
ڈارون کے نزدیک چونکہ ماحول ایک تغیر پذیر عامل ہے، اس لیے حالات اور ماحول کے مطابق انواع کی مطابقت کی خواہش، تحول اور جدوجہد ارتقا کا باعث ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ نئے حالات اور جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا، زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنا اور آئین نو کا ساتھ دینا افراد اور اقوام کی زندگی میں بہت اہم ہے اور وہی افراد اور اقوام ترقی، کامیابی اور ارتقا حاصل کرتی ہیں جو جمود اور سکوت کا شکار رہنے کے بجائے وقت اور حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیتی ہیں، تاہم اقبال کے نزدیک افراد اور اقوام کی کامیابی اور ارتقا وقت اور حالات کی اندھا دھند تقلید سے ہی مشروط نہیں، بلکہ ان کے ہاں بقول اکبر الٰہ آبادی:
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں (۲۰)
کے فلسفے کی زیادہ اہمیت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبال انسان کو مظاہر فطرت کے سامنے جھکانا نہیں چاہتا، بلکہ وہ مظاہر فطرت پر انسان کے دست تسخیر کو قائم اور مستحکم دیکھنے کا متمنی ہے۔ انسان کے لیے قوانین فطرت کا اسیر ہونا شایان شان نہیں، بلکہ قوانین فطرت، وقت اور حالات کو اپنے دست تصرف میں لانا، انھیں اپنی آرزووں اور گہری تمناؤں کے مطابق ڈھالنا، اپنی دنیا آپ پیدا کرنا، نئی بستیاں بسانا اور راہوار وقت کی لگام کو ہاتھ میں لے کر اپنے آدرش کے مطابق موڑنا اور پھیرنا اصل کامیابی اور ارتقا کی علامت ہے۔ اقبال رقم طراز ہیں:
"It is the lot of man to share in the deeper aspirations of the universe around him and to shape his own destiny as well as that of the universe now by adjusting himself to its forces, now by putting the whole of his energy to mould its forces to his own ends and purposes." 21
گفتند جہان ما آیا بتو می سازد؟
گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن ۲۲
ڈارون کے برعکس اقبال کے نزدیک عالم رنگ وبو میں اپنے آپ کو کھو دینے، گم کر دینے یا محض موافقت پیدا کرنے میں ہی کمال حیات یا ارتقا مضمر نہیں بلکہ باطنی امکانات کی زیادہ سے زیادہ تسخیر سے اپنے اندر ایسی قابلیت اور صلاحیت کو نشوو نما دینا وہ کارنامہ ہے جس سے انسان اس ’’بت خانہ شش جہات‘‘ پر نہ صرف تغلب اور تسلط حاصل کر پاتا ہے` بلکہ اس کی اپنی مرضی کے مطابق تراش کرتے ہوئے ارتقا حاصل کرتا ہے۔
مہر ومہ وانجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر ۲۳
اقبال کے تصور ارتقا کے اس پہلو کی بہترین تفسیر ڈاکٹر اے۔ ریہل (Dr. A. Riehl) کے درج ذیل اقتباس سے ہوتی ہے:
"The animal can adopt its actions to the changed conditions of its environments and from this power of adaptation, we first have reason to conclude that it possesses intelligence. Man on the other hand, can change the conditions about him and adopt them to his mind. He knows how to call forth independently new conditions which correspond to his purpose. He creates tools for himself, and changes the external world by his work. He fills and changes the surface of his plannet with the products of his industry and skill; and his practical understanding shows its superiority to mere adaptation by its power of initative, his theoretical understanding shows its superiority by its power to arrange the perceptions it receives according to the concepts of his thought." 24
اس میں شک نہیں کہ اقبال نے مذہب، فلسفہ، سیاست اور سائنس، ہر میدان میں حکمائے مغرب کی فکر ونظر کا گہرا مطالعہ کیا اور جہاں جو خوبی نظر آئی، اسے قبول کیا، تاہم انھوں نے یکسرمادی اور الحادی نظریات پر بھرپور تنقید بھی کی اور انھیں انسانیت کے لیے گمراہ کن قرار دیا۔ اقبال اور ڈارون کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اقبال کے فکر کی اساس دینی وروحانی ہے جبکہ ڈارون کی مادی وعنصری فکری روش اس روحانی سہارے سے محروم ہے۔ اقبال کا تصور ارتقا مغربی طرز فکر کی غلامانہ پیروی کا ماحصل نہیں۔ وہ ارتقا کے ضرور قائل ہیں اور اس لحاظ سے وہ ڈارون کے ہم نوا بھی نظر آتے ہیں، تاہم انھیں ارتقا کا وہی تصور دل پذیر ہے جس کی تعلیم قرآن پاک دیتا ہے۔
------------------
’الشریعہ‘ کے اکتوبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں میرے ایک فاضل دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن نے راقم کے ایک مضمون بعنوان ’’انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن‘‘ (الشریعہ ستمبر ۲۰۰۵) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ڈاکٹر آصف صاحب نے زیر بحث مضمون میں اقبال کے تصور ارتقا کو اگرچہ براہ راست ڈسکس نہیں کیا، لیکن ان کی تحریر کے پس منظر کی بافت وبنت اس تصور سے ہی ہوئی ہے۔‘‘ (ص ۳۴)
پھر میاں صاحب اقبال کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اقبال نے جہاں جمود زدہ مسلم فکر میں حرکت پیدا کر کے مسلم معاشرے کی مردہ رگوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی، وہاں نطشے اور ڈارون کے افکار کی اسلامی تعلیمات سے تطبیق کی کوشش میں مسلم معاشرے کی روایتی فکر کو بری طرح مجروح کیا۔‘‘ (ص ۳۴)
قارئین محترم نے درج بالا سطور میں ڈارون اور اقبال کے تصور ارتقا کا تقابل ملاحظہ فرمایا ہے۔ چنانچہ اب قارئین بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اقبال نے ڈارون کے تصور ارتقا کو کس حد تک سراہا ہے اور آیا اقبال نے ڈارون کے تصور کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ تطبیق دینے کی کوشش کی ہے یا اس کے بہت سے اجزا کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی نطشے اور اقبال کے حوالے سے بھی ایک مضمون پیش کروں گا جس سے یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ اقبال مغربی مفکر نطشے یا اس کے خیالی کردار ’’مافوق البشر‘‘ کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔
------------------
حوالہ جات
۱۔
Darwin, Charles, "The Origin of Species, by Means of Natural Selection", William Benton Publishers, Chicago:1987, p.80
۲۔
Edwards, Pual, (Ed) et.el., "The Encyclopedia of Philosophy", vol.3 & 4, Collier Macmillan Publishers, London: 1972, p.297
۳۔ ڈارون نے انتخاب طبعی کا یہ تصور مالتھس (Robert Malthus) کے نظریہ آبادی سے لیا اور اسے حیوانات کی دنیا پر چسپاں کر دیا۔
۴۔
Darwin, Charles, "The Origin of Species, by Means of Natural Selection", p.33
۵۔ As above
۶۔ ہیرلڈ ہونڈنگ، ڈاکٹر، ’’تاریخ فلسفہ جدید‘‘ (جلد دوم)، ترجمہ: خلیفہ عبد الحکیم، نفیس اکیڈمی کراچی:۱۹۸۷، ص ۵۳۱
۷۔ اقبال نے ’’اسرار خودی‘‘ میں ارتقاے خودی کے تین مراحل بیان کیے۔ مرحلہ اول اطاعت، مرحلہ دوم ضبط نفس اور مرحلہ سوم نیابت الٰہی۔
۸۔ محمد اقبال، ’’اقبال نامہ‘‘ (حصہ اول)، شیخ محمد اشرف لاہور، سن ندارد، ص ۴۵۹
۹۔ جوڈ، سی ای، ایم۔ ’’افکار حاضرہ‘‘، ترجمہ: محمد بن علی باوہاب، مجلس ترقی ادب لاہور: ۱۹۶۶، ص ۳۵
۱۰۔
Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", Sh. Muhammad Ashraf, Lahore: 1965, p. 41
۱۱۔ Ibid, 42
۱۲۔ Ibid
۱۳۔
Muhammad Iqbal, "The Secrets of the Self", translated by Reynold A. Nicholson, Sh. Muhammad Ashraf, Lahore: 1975, p.XIX
۱۴۔
Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p. 106
۱۵۔ Ibid, p.56
۱۶۔ Ibid, p.42
۱۷۔ بانگ درا، ص ۲۸۰
۱۸۔ پیام مشرق، ص ۶۶
۱۹۔
Muhammad Rafiuddin, Dr., "Iqbal's Concept of Evolution", essay included in "Iqbal Review", Ed. Dr. Rafiuddin, vol. 1, April 1960, No. 1, Karachi, p. 39
۲۰۔ اکبر الٰہ آبادی، ’’کلیات اکبر‘‘، پنجاب پبلشرز، کراچی: سن ندارد، ص ۳۸
۲۱۔
Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p.12
۲۲۔ زبور عجم، ص ۷۵
۲۳۔ ضرب کلیم ص ۴۱
۲۴۔
Riehl, Dr. A., "Introduction to the theory of Science and Metaphysics", Regan Paul, Trench & Trubner & Com., L.T.D, London,: 1894, p.75,76
علماء کی زیر نگرانی ٹی وی چینل کا قیام / مولانا قاسمی اور مولانا مدنی کے مابین مصالحت
ادارہ
پردہ، دہشت گردی، عمرانہ کیس اور اس طرح کے دیگر موضوعات کے حوالے سے ٹیلی ویژن پر اسلام کی معاندانہ اور تعصب پر مبنی تصویر کشی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کی مسلم کمیونٹی نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے دو نئے اسلامی چینل قائم کیے گئے ہیں جو پوری مسلم دنیا کو درپیش مسائل سے متعلق صحیح اسلامی نقطہ نظر پیش کریں گے۔ ایک چینل ’کتاب‘ کے نام سے ہے جبکہ دوسرا چینل جس کے لیے ’پیس ٹی وی‘ کا نام زیر غور ہے، کیو ٹی وی کے معروف مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک شروع کریں گے۔
’کتاب‘ چینل کے بانی اور چیف پروموٹر اختر شیخ نے کہا ہے کہ یہ چینل نہ صرف میڈیا میں مسلم مخالف پراپیگنڈا کا مقابلہ کرے گا بلکہ مسلم سوسائٹی کی تربیت کی ذمہ داری بھی انجام دے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان بڑے عرصے سے ایک ایسے چینل کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں جو ان کے خیالات واحساسات کی ترجمانی کرتا ہو۔
چینل کی پروگرامنگ کی ذمہ داری مدارس کے تعلیم یافتہ قدامت پسند دیوبندی علما کے ایک گروپ کو سونپی گئی ہے۔ بمبئی کے مرکز المعارف نے اس چینل کے اغراض ومقاصد متعین کیے ہیں جن میں اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ، مولانا آزاد، علی برادران اور ان جیسے جنگ آزادی میں خدمات انجام دینے مسلمانوں کی قربانیوں کو نمایاں کرنا، نکاح، طلاق، نفقہ او ر پردہ جیسے پرسنل لا کے مسائل پر بحث ومباحثہ شامل ہیں۔
بھارت میں ٹی وی کے جواز وعدم جواز کے حوالے سے علما دو گرہوں میں تقسیم ہیں۔ گزشتہ سال دار العلوم دیوبند کے مفتی محمود الحسن نے ٹی وی کے عدم جواز کا فتویٰ دیا تھا۔ مفتی مذکور نے یہ کہہ کر اردو پریس میں ایک بحث کا آغاز کر دیا تھا کہ ’’ٹیلی ویژن سطحی تفریح کا ذریعہ ہے۔‘‘تاہم مولانا برہان الدین قاسمی نے، جو ’کتاب‘ کی پروگرامنگ میں شریک ہیں، کہا ہے کہ علما بصری ذرائع ابلاغ کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ’’عمرانہ کیس ہی کو لے لیجیے۔ اس پر باقی تمام مسئلوں کو نظر انداز کر کے ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھیڑ دی گئی، گویا مسلمانوں کو اس کے علاوہ کوئی مسئلہ ہی درپیش نہیں۔‘‘
پروگرامنگ پینل میں شریک دوسرے ارکان میں جمعیۃ علماے ہند کے مولانا محمود مدنی اور ندوۃ العلماء لکھنو کے سید سلمان ندوی بھی شامل ہیں۔
(ٹائمز آف انڈیا۔ ۲۸ ستمبر ۲۰۰۵)
مولانا قاسمی اور مولانا مدنی کے مابین مصالحت
دار العلوم دیوبند اور دار العلوم وقف کے مابین اختلافات کے تصفیے کے حوالے سے کچھ پیش رفت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ دار العلوم وقف کے مہتمم مولانا سالم قاسمی نے مولانا اسعد مدنی کی طرف سے مجلس شوریٰ کے ارکان اور اپنے اعزہ اور قریبی دوستوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔ اسی طرح جب مولانا سالم قاسمی نے اپنی رہایش گاہ پر مجلس شوریٰ کے ارکان کو ایک پرتکلف دعوت پر مدعو کیا تو مولانا اسعد مدنی نے اپنے بیٹے اور قریبی دوستوں کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ مولانا سالم قاسمی نے ان کا پرجوش استقبال کیا اور مولانا مدنی اور دیگر رفقا سے معانقہ کیا۔ دونوں مواقع پر ماحول بے حد دوستانہ تھا۔
یہ بتانا مشکل ہے کہ فریقین کے مابین مصالحت کامعاملہ کس حد تک آگے بڑھا ہے، تاہم دار العلوم کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن نے بتایا ہے کہ فریقین کے مابین بعض عدالتی مقدمات واپس لینے کا معاہدہ طے پا چکا ہے، اگرچہ اس کی عدالتی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا ہے، لیکن تنازع پر بحث اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی اور متنازعہ امور پر فریقین کے مابین کوئی سنجیدہ بحث مباحثہ نہیں ہوا۔ مولانا مرغوب الرحمن اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ تنازع مولانا مدنی کا ذاتی معاملہ ہے نہ کہ دار العلوم کا۔ یہی رویہ مولانا سالم قاسمی کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تنازع دراصل اداروں کے مابین نہیں بلکہ زیادہ تر دونوں بزرگوں کی انا کا مسئلہ ہے۔ دار العلوم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ملی گزٹ کو بتایا کہ زیادہ تر مقدمات اپنے آخری مراحل کو پہنچ چکے ہیں۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ دونوں اداروں کا انضمام نہ کسی بھی صورت میں ممکن ہے اور نہ اس پر کوئی گفت وشنید ہی ہو رہی ہے۔
(ملی گزٹ، دہلی، ۱۶۔۳۰ نومبر ۲۰۰۵)