سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۲۰ جون ۲۰۰۵ کو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ نشست میں لندن کے مختلف علاقوں کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی نے سوشل گلوبلائزیشن کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ ان کے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
بعد الحمد والصلوۃ!
مجھے آج کی اس نشست میں گلوبلائزیشن کے ایجنڈے اور علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی گزارش یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کیا ہے؟ گلوبلائزیشن، عولمہ، بین الاقوامیت، عالمگیریت اور انٹرنیشنل ازم کی اصطلاحات کم وبیش ایک ہی معنی میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ وہ یہ کہ سائنسی ترقی اور مواصلات کے جدید ترین ذرائع نے انسانی آبادی کو طویل جغرافیائی فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے کے اس قدر قریب کر دیا ہے کہ پوری انسانی آبادی ایک مشترکہ سوسائٹی کا نقشہ پیش کر رہی ہے اور اسے ’’گلوبل ویلج‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے ایک کونے میں واقعہ ہوتا ہے تو دوسرے کونے تک چند منٹوں میں اس کی نہ صرف خبر پہنچ جاتی ہے بلکہ اس کے مناظر بھی نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رونما ہونے والا واقعہ اور اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ واقعہ کی نوعیت کے لحاظ سے دوسری دنیا بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ سوسائٹیاں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، ثقافتیں ایک دوسرے میں مدغم ہو رہی ہیں اور تہذیبیں باہمی کش مکش کے باوجود ایک دوسرے کا اثر قبول کرتے ہوئے گڈمڈ ہوتی جا رہی ہیں۔ اس طرح دنیا ایک مشترکہ عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے اور عالمگیریت کا ماحول دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
یہ گلوبلائزیشن انسانی معاشرے کے ارتقا کا نام ہے جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے عروج تک پہنچا دیا ہے اور نسل انسانی کے معاشرتی ارتقا اور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کے امتزاج نے پوری انسانی آبادی کو ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کر دیا ہے بلکہ ذہنوں اور دلوں کے فاصلے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس گلوبلائزیشن کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ صرف ارتقا کا ایک عمل ہے جو اپنی انتہا کی طرف فطری رفتار سے بڑھ رہا ہے، البتہ گلوبلائزیشن کے حوالے سے دنیا میں مختلف ایجنڈوں پر کام ہو رہا ہے اور ان ایجنڈوں کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ مستقبل کے گلوبل ویلج میں جو کم وبیش پوری نسل انسانی کو محیط ہوگا، فکری اور تہذیبی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی اور اس کا نظام کن اصولوں پر استوار ہوگا۔ اس پر مختلف ایجنڈوں میں کش مکش جاری ہے اور اس میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ کش مکش دنیا کے وسائل پر کنٹرول کے حوالے سے بھی ہے، تہذیب وثقافت کی بالادستی کے نام سے بھی ہے، فکر وعقیدہ کی برتری کے عنوان سے بھی ہے، عسکری کنٹرول اور اجارہ داری کے میدان میں بھی ہے اور مذہب کے شعبے میں بھی ہے۔ دنیا میں مختلف گروہ اور قوتیں ان میدانوں میں سرگرم عمل ہیں اور اس وقت مغرب کو بہرحال اس حوالے سے بالادستی کی پوزیشن حاصل ہے کہ دنیا بھر کے معاشی وسائل اس کے کنٹرول میں ہیں، اسے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بالادستی بلکہ اجارہ داری حاصل ہے، بین الاقوامی سیاسی نظام میں اسے فیصلہ کن برتری حاصل ہے اور عسکری میدان میں اسے چیلنج کرنے والی کوئی قوت سردست میدان میں موجود نہیں ہے، اس لیے گلوبلائزیشن کے حوالے سے وہی اس وقت سب سے زیادہ سرگرم عمل ہے۔ امیر ترین ممالک مشترکہ گروپ قائم کر کے دنیا کے معاشی وسائل اور معدنی ذخائر پر اپنی اجارہ داری کو مضبوط کرنے، دنیا بھر کی تجارت وصنعت پر بالادستی قائم رکھنے، اسلحہ اور عسکریت کے میدان میں باقی ساری دنیا کو اپنی سطح تک آنے سے روکنے اور دنیا بھر میں اپنی ثقافت وتہذیب کو فروغ دینے کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں، جبکہ ان کی تگ وتاز کا سب سے بڑا میدان عالم اسلام ہے۔
ہمارے حوالے سے مغرب کی یلغار دو جانب سے دنیا میں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف مغرب کی سیکولر حکومتیں اور سیکولر لابیاں مسلم معاشرہ میں سیکولر ازم اور لادینیت کو فروغ دے کر اور اس کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں پوری طرح جھونک کر ہماری نئی نسل کی دینی اساس اور فکر وعقیدہ کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ عالم اسلام کے بارے میں ان کے تمام تر ایجنڈے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی معاشرتی زندگی میں مذہب کے کردار سے دست بردار ہو جائیں اور مذہب کے فکر وفلسفہ کو من وعن قبول کرتے ہوئے اپنی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کو اس کے سانچے میں ڈھال لیں۔ دوسری طرف مسیحی مشنری سرگرمیاں دنیا کے مختلف مسلم ممالک میں سادہ لوح مسلمانوں کو مسیحیت کے دائرے میں شامل کرنے کی تگ ودو کر رہی ہیں۔ افریقہ کے کم وبیش سب ممالک، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور افغانستان سمیت وسطی ایشیا میں مسیحی مشنریوں اور مسیحی رفاہی این جی اوز کی تبلیغی سرگرمیاں دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو عیسائیت کا حلقہ بگوش کرنے کے لیے کس تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ مغرب کی سیکولر حکومتوں اور مسیحی مشنری اداروں کو ایک دوسرے کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں باقاعدہ منصوبے اور انڈر سٹینڈنگ کے ساتھ عالم اسلام کو مغلوب اور فتح کرنے کی مہم میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
دوسری طرف عالم اسلام کی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے بیشتر حلقوں اور افراد کو سرے سے اس صورت حال کا ادراک ہی نہیں ہے۔ مغرب کی اس مذہبی اور تہذیبی یلغار کا مقابلہ صرف دینی شعبہ سے تعلق رکھنے والے بعض حلقے کر رہے ہیں اور انھیں نہ صرف یہ کہ مسلم حکومتوں کا تعاون حاصل نہیں ہے بلکہ اکثر ممالک میں مسلم حکومتوں کا وزن دینی بیداری کے لیے کام کرنے والے دانش وروں اور حلقوں کے بجائے ان کے مخالف پلڑے میں ہے۔ اس طرح مسلم معاشرہ میں دینی بیداری، مذہبی وابستگی اور اسلامی تہذیب وثقافت کے تحفظ وبقا کی جدوجہد کرنے والوں کو مغرب کی حکومتوں اور این جی اوز کے ساتھ ساتھ اپنی حکومتوں اور مقتدر طبقات کی مخالفت اور دباؤ کا بھی سامنا ہے اور انھیں دو طرفہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔
ان حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں اور کردار کے حوالے سے سب سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہمارا سب سے پہلا اور اہم فریضہ معروضی صورت حال سے آگاہی حاصل کرنا ہے، کیونکہ ہماری غالب اکثریت اس صورت حال سے آگاہ نہیں ہے اور اسے حالات کی سنگینی کا سرے سے کوئی ادراک نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب حالات پر ہماری نظر نہیں ہوگی اور ہم معروضی صورت حال سے باخبر نہیں ہوں گے تو اس کشمکش میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ یہ درست ہے کہ ہم سیاسی، معاشی، عسکری، سائنسی اور صنعتی وتجارتی میدانوں میں مغرب کا مقابلہ کرنے اور اس کا راستہ روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، لیکن فکر وفلسفہ، تہذیب وثقافت، تعلیم وتربیت اور دعوت وتبلیغ کے میدان ہمارے لیے اجنبی نہیں ہیں اور ان محاذوں پر اگر ہم نئی نسل کی ذہن سازی اور صف بندی کے کام کو صحیح کر لیں تو نہ صرف یہ کہ عالم اسلام کو فتح کرنے کی مغربی مہم کا کم از کم ان میدانوں میں کامیابی کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں کے باشعور افراد کو بھی ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ جو کام ہم کر سکتے ہیں، اس کی منصوبہ بندی کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی فضا قائم کریں۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں اور مل جل کر نئی نسل کو دین کے ساتھ وابستہ رکھنے، اسے موجودہ صورت حال سے آگاہ کرنے اور بحیثیت مسلمان اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اگر فکری بیداری کے ماحول کو قائم رکھ سکیں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے رہیں تو حالات میں بہت حد تک سدھار آ سکتا ہے۔
میں گفتگو کے خلاصہ کے طور پر علماء کرام سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ وہ دنیا کے حالات سے بے خبر نہ رہیں۔ یہ بے خبریت جس میں ہم عافیت محسوس کر رہے ہیں، دینی فرائض کے حوالے سے ہمارے لیے زہر قاتل ہے۔ حالات سے آگاہی حاصل کریں اور ان کے مطابق اپنی صلاحیتوں، توانائیوں اور مواقع کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے کردار کا تعین کریں۔ آج کے حالات میں یہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور اسی صورت میں ہم عالم اسلام کی بہتری اور مسلم امہ کے مفاد کے لیے کوئی مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دینی مدارس پر دہشت گردی کا الزام
ادارہ
(لندن میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کے بعد برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے پاکستان کے دینی مدارس کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا جس سے قومی اور عالمی صحافت میں ان مدارس کا کردار ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس تناظر میں وفاق المدارس العربیۃ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ تحریری موقف کا متن یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
لندن میں خود کش دھماکوں کے ذریعے جو جانیں ضائع ہوئی ہیں او رخوف وہراس کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس سے دنیا کا ہر با شعور شخص پریشان ہے اور دنیا بھر کے امن پسند لوگ اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس کا شکار ہونے والے افراد اور خاندانوں کے ساتھ ہم دردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس کا سب سے بڑا فورم وفاق المدارس العربیۃ پاکستان بھی اس تشویش واضطراب میں دنیا کے امن پسند افراد اور حلقوں کے ساتھ شریک ہے اور پرامن شہریوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ افراد، خاندانوں اور پوری برطانوی قوم کے ساتھ ہم دردی اور یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں بھی بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور جنگ سے لاتعلق افراد کو قتل کرنے سے منع کیا ہے، چہ جائیکہ حالت امن میں بے گناہ شہریوں کا اس طرح خون بہایا جائے اور خوف ودہشت کی کیفیت پیدا کی جائے، اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لندن میں گزشتہ دنوں کیے جانے والے بم دھماکے، جن کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، نہ صرف امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم حرکت کے مترادف ہیں، بلکہ اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا باعث بھی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی وفاق المدارس العربیۃ پاکستان کے صدر حضرت مولانا محمد سلیم اللہ خان، سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور دیگر راہ نما دو اہم امور کی طرف عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی حلقوں کو متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک یہ کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ عالمی جنگ کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی کوئی تعریف طے کیے بغیر کسی بھی گروہ کو یک طرفہ طور پر دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف کی جانے والی کارروائی انصاف کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اور اس سے شکوک وشبہات کم ہونے کے بجائے ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان اسباب وعوامل کو نظر انداز کر دینا بھی اس مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کے بجائے اس کے مزید فروغ کا باعث بن رہا ہے جن اسباب وعوامل کے نتیجے میں اس مبینہ دہشت گردی نے جنم لیا ہے اور جن کی طرف عالمی طاقتوں کے سنجیدگی کے ساتھ متوجہ نہ ہونے کی وجہ سے تشدد کی کارروائیوں کی حمایت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی محل نظر ہے کہ لندن کے مذکورہ بم دھماکوں کی ذمہ داری کے حوالے سے پاکستان کے دینی مدارس کو عالمی میڈیا کے ذریعے بلاوجہ طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ یہ بات ایک سے زائد بار دلائل وشواہد کے ساتھ واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس میں کسی طرح کی کوئی فوجی تربیت نہیں دی جاتی، حتیٰ کہ چند ماہ قبل اسلام آباد میں دینی مدارس کے ایک بھرپور کنونشن میں پاکستان کے سابق وزیر داخلہ چودھری شجاعت حسین نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ انھوں نے اپنے دور میں پورے ملک کے مدارس کی چھان بین کرائی ہے، مگر کوئی مدرسہ بھی دہشت گردی کی تربیت میں ملوث نہیں پایا گیا۔ نیز گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک کے درجنوں دینی مدارس پر چھاپے مارے گئے ہیں اور اچانک آپریشن کیا گیا ہے ، لیکن کہیں بھی کوئی ہتھیار یا ٹریننگ کے آلات موجود نہیں پائے گئے، حتیٰ کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور کھلے اعلانات کے ذریعے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ ملک کے کسی بھی دینی مدرسے کے بارے میں یہ شکایت پائی جائے کہ اس میں اسلحہ کے استعمال کی ٹریننگ دی جا رہی ہے تو اس کی نشان دہی کی جائے۔ اگر اس کا ثبوت فراہم ہو گیا تو اس مدرسہ کے خلاف کارروائی میں خود وفاق بھی حکومت کے ساتھ شریک ہوگا۔ مگر اس کے باوجود دینی مدارس کو مسلسل ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ اس لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی ہائی کمان اس امر کا ایک بار پھر اعلان ضروری سمجھتی ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس میں صرف اور صرف تعلیم دی جاتی ہے اور قرآن وسنت کے علوم سے نئی نسل کو آراستہ کیا جاتا ہے۔ تعلیم اور دینی تربیت کے سوا ان مدارس کی سرگرمیوں میں اور کوئی بات شامل نہیں ہے اور قرآن وسنت اور ان کے متعلقہ علوم کی تعلیم اور ان کے مطابق نئی نسل کی دینی تربیت کے مشن سے وفاق المدارس سرمو انحراف کے لیے تیار نہیں ہے اور اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، البتہ عسکری ٹریننگ اور دوسرے مذاہب کے خلاف عسکری محاذ آرائی کی فکری تربیت نہ ان مدارس میں دی جاتی ہے اور نہ ہی کسی مرحلے میں اس کا پروگرام مدارس کے اہداف میں شامل ہے اور اس حوالے سے وفاق المدارس کی ہائی کمان پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی حلقوں کو ہر قسم کی ضمانت دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لندن کے خود کش دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے بعض دینی مدارس میں تعلیم پائی ہے، اس لیے دینی مدارس اس مبینہ دہشت گردی میں ملوث ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قطعی طور پر غیر منطقی اور غیر حقیقی بات ہے، اس لیے کہ اگر بالفرض یہ بات ثابت بھی ہو جائے کہ ان افراد نے کسی وقت پاکستان کے کسی دینی مدرسہ میں تعلیم پائی ہے تو اسے ان کی کارروائی میں مدارس کی شمولیت کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ہے، اس لیے کہ دنیا بھر میں مختلف حوالوں سے دہشت گردی، قتل وغارت، ڈکیتی اور سنگین جرائم میں ملوث افراد نے کہیں نہ کہیں ضرور تعلیم حاصل کی ہے اور ان میں ہاورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج یونی ورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد مل جائے گی لیکن کسی ڈاکو اور قاتل نے اگر آکسفورڈ میں تعلیم پائی ہے تو اس کے لیے یہ نہیں کہا جاتا اور نہ کہا جا سکتا ہے کہ آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ڈاکے کی تعلیم دی جاتی ہے اور اگر کسی فوج سے بھاگے ہوئے افراد مجرموں کا گروہ بنا لیں تو ان کے لیے بھی اس فوج کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاتا، اس لیے چند افراد کی کارروائی کو دینی مدارس کے کھاتے میں ڈال کر دینی مدارس کے پورے نظام کو بدنام کرنے کی مہم حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ یہ بات طے ہے کہ دینی مدارس میں کسی قسم کی دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جاتی اور ایسی کارروائی کرنے والوں نے یہ تربیت کہیں اور سے حاصل کی ہے اور دہشت گردی کی تربیت کے اصل سرچشموں کا بہرحال سراغ لگانے کی ضرورت ہے۔
اس لیے ہم دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں اور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دینی مدارس کے خلاف عالمی حلقوں اور میڈیا کے اس یک طرفہ پراپیگنڈا کا نوٹس لیں اور پرامن ماحول میں اسلامی تعلیمات سے نئی نسل کو روشناس کرانے والے اداروں کو اس جارحانہ اور معاندانہ پراپیگنڈے سے بچانے کے لیے کردار ادا کریں۔
مغرب کی ابھرتی ہوئی مذہبی شناخت اور اس کی تشکیل میں مسلمانوں کا کردار
پروفیسر میاں انعام الرحمن
شمالی امریکہ میں نائن الیون کے اندوہ ناک حادثے کے بعد مغربی یورپ میں سیون سیون کے بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اگرچہ مغربی میڈیا نے حسبِ روایت چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ حیرت زدگی اقوامِ عالم کو اس شدت کے ساتھ ماتم پر مجبور نہیں کر سکی جس کی توقع اہلِ مغرب کے یک رخی سوچ کے حامل افراد کر رہے تھے۔ اس قسم کے حادثات جہاں آنے والے وقت کی سختی اور پیچیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں، وہاں مغربی استعماریت کے داخلی ڈھانچے کے دیمک زدہ ہونے کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہماری رائے میں مغرب نے اپنے تہذیبی گھروندے میں ایسا کوئی دریچہ نہیں رکھا جس سے تازہ ہوا کے جھونکے داخل ہو کر اسے تعفن کی گھٹن اور دقیانوسیت کی وبا سے محفوظ رکھ سکیں۔ کمیونزم کے زوال کے بعد اسلام کو کمیونزم کے مقام پر رکھ کر اس کے گھیراؤ کی حالیہ کوششیں، جو کہ حکومتوں کی سطح پر ہو رہی ہیں، اور عوامی سطح پر قوم پرستی پر بے جا اصرار، جس کا مظہر فرانسیسی عوام کا یورپی یونین کی بابت موقف ہے، کیا ہماری رائے کو تقویت دینے کو کافی نہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ مغربی پالیسی ساز اور مغربی معاشرہ ابھی تک نیشنل ازم کے فساد اور سرد جنگ کے خوف کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ بہر حال، نائن الیون اور سیون سیون کے واقعات کو جیسے تیسے مذہبی مظہر کی منفیت کے طور پر پینٹ paint) (کیا جا رہا ہے اور مغرب میں مذہب پر گرما گرم بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں ہم آنے والی سطور میں مختلف عنوانات کے تحت موجودہ حالات کی روشنی میں مغرب کی مذہبی شناخت پر بات کریں گے ۔
اہلِ مشرق اور مسلمانوں کے ہاں عام طور پر مغرب کو ایک ’’وحدت‘‘ کی صورت میں دیکھا جاتا ہے، لیکن مماثلتوں کا گراف خاصا بلند ہونے کے باوجوداہلِ مغرب کو ہر لحاظ سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مغرب کی داخلی تقسیم کی جہتیں اتنی مختصر نہیں کہ اس وقت ان پر کم از کم سرسری نظر ہی ڈالی جا سکے۔ موضوع کی مناسبت سے ہم یہاں صرف مذہبی پہلو پر بات کریں گے اور وہ بھی میکرو لیول (macro level) پر۔
یورپ - امریکہ مذہبی خلیج
معاشرتی رویوں کو کریدنے والے European Values Study کے ایک حالیہ مطالعہ نے بتیس یورپی ممالک کے سروے سے ظاہر کیا ہے کہ صرف 21% یورپی یہ کہتے ہیں کہ مذہب ان کے لیے بہت اہم ہے۔ امریکہ میں صورتِ حال نسبتاً بہتر ہے۔ پیو فورم آن ریلیجن اینڈ پبلک لائف (Pew Forum on Religion and Public Life) کے سروے کے مطابق 59% امریکیوں کے نزدیک ان کا عقیدہ بہت اہم ہے ۔ مغرب کے مذہبی رویے کے دو بڑے مظاہر ، شمالی امریکہ اور یورپ مذکورہ اعدادو شمار کے مطابق وسیع خلیج کے حامل ہیں ۔ اس وقت امریکہ، یورپ سے سبقت لے جا کر اپنی آزاد روی اور تکنیکی ترقی کے بل بوتے پر جس طرح اقوامِ عالم کا تھانیدار بنا ہوا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ مذہب مادی ترقی اور فکری آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا ۔ سیکولرفکر کو ترقی کا ناگزیر تقاضا سمجھنے والوں کے لیے مذہب پسند امریکہ ایک معکوس زندہ مثال ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شمار مماثلتوں کے ہوتے ہوئے یورپ اور امریکہ کے مذہبی رویے میں یہ خلیج کیونکر ہے ؟ برطانیہ کیExeter University میں مذہبیات کے ماہر Grace Davie کے مطابق یورپ میں روشن خیالی (Enlightenment) کا مطلب مذہب سے آزادی (Freedom from religion) یعنی عقیدے سے نجات لیا گیا، جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کا مطلب ہے ''Freedom to believe'' ، یعنی عقیدہ رکھنے کی آزادی ۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق مسٹر ویل (Weil) کہتے ہیں کہ امریکہ میں، جو ایسا ملک ہے جس کی تشکیل میں استبدادی حکومتوں کے چنگل سے فرار ہونے والے مذہبی منحرف بھی شامل تھے، مذہبی گروہوں نے ریاستی مداخلت کے خلاف افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس یورپ میں تحریک تنویر کے بعد ریاست کو، مذہبی گروہوں کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ گاہ کی حیثیت حاصل ہوئی۔ امریکہ میں جمہوریت اور مذہب باہم پیوست رہے ہیں کیونکہ وہاں چرچوں نے غلامی کے خلاف جنگ اور شہری حقوق کے حق میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے ۔ یورپ میں ایسا کبھی نہیں ہوا ، بلکہ وہاں اسپین اور فرانس جیسے ممالک کے منظم چرچوں نے سیاسی اصلاح کی ہمیشہ دل و جان سے مخالفت کی۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے سٹاف رائٹر پیٹر فورڈ (Peter Ford) نے اسی امریکی -یورپی اختلاف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یورپی کمیشن کے سابق صدر ژاک ڈیلور(Jacques Delors) کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :
''The clash between those who believe and those who do't believe will be a dominant aspect of relations between the US and Europe in the coming years.''
’’جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں اور جو یقین نہیں رکھتے، ان کے درمیان تصادم ، آنے والے برسوں میں امریکہ - یورپ تعلقات کا غالب پہلو ہو گا ‘‘۔
پیٹر فورڈ ، یورپی کمیشن کے سابق صدر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید نقل کرتے ہیں کہ :
''This question of values gap is being posed more sharply now than at any time in the history of European--US relations since 1945.''
’’ اقدار کی خلیج کا سوال جس تندی کے ساتھ اس وقت ابھر رہا ہے، 1945 سے امریکہ -- یورپی تعلقات کی تاریخ میں کبھی نہیں ابھرا ۔‘‘
مذہب پر یورپ کی بد اعتمادی میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب اسے یعنی مذہب کو مبالغانہ حد تک کے جذبہ حب الوطنی سے ملا دیا جاتا ہے، جیسا کہ امریکی صدر بش نے کیا ۔ ایک طرف صدر بش نے US under attack کی مہم چلائی اور دوسری طرف Crusade کا نعرہ لگایا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر بش نے نائن الیون کے واقعے کے بعد جو بیان جاری کیا، اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ دنیا کی اقوام اب یا ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے، یعنی کوئی تیسرا آپشن نہیں چھوڑا۔ صدر بش کا یہ انداز شاید متی کی انجیل 12 : 30 کی باز گشت تھا کہ:
’’جو میرا حامی نہیں، وہ میرا مخالف ہے ‘‘ ۔
ڈاکٹر انتھونی سٹیونز ، اپنی کتاب ''The Roots of War and Terror'' میں رقمطراز ہیں:
’’ بش کی 'axis of evil' والی تقریر کے لیے ذمہ دار آدمی صدارتی تقریر نویس ڈیوڈ فرم تھے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ انھوں نے اصل میں ' axis of hatred' کا جملہ لکھا تھا، لیکن انھیں مجبور کیا گیا کہ اس کی جگہ 'axis of evil' لکھا جائے جو زیادہ ’’بائبلی ‘‘ انداز رکھتا ہے۔ ‘‘
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ صدر بش نے Evil یعنی بدی کی کوئی ایسی باقاعدہ تعریف پیش نہیں کی جو امریکی قوم کے مشترکہ ضمیر کی آئینہ دار ہو، کیونکہ عیسائیت کی مخصوص اخلاقی روایت اور امریکی معاشرے کے سیکولر رجحانات کے سبب ، ہر امریکی کی اپنی ایک تعریف ہے، اس لیے صدر بش کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ امریکی شہریوں کی خالصتاً موضوعی Evil کو اپنے جنگی جنون کی خاطر بطور ہتھیار استعمال کریں۔ اگر (غیر محرف) بائبل امریکیوں کی معاشرتی زندگی میں رچی بسی ہوتی توصدر بش امریکی قوم کے اجتماعی مذہبی ضمیر کو نیشنل ازم کی خواب آور گولیوں سے کبھی نہ سلا سکتے۔ لہٰذا واضح ہو جاتا ہے کہ یورپ کے مقابلے میں امریکہ کی نام نہاد مذہب پسندی درحقیقت مذہب کے اس فہم کے گرد گھومتی ہے جسے پیش کرنے کا اختیار صرف اور صرف امریکی قدامت پسندوں اور پالیسی سازوں کو ہے ۔ اگر عملی اعتبار سے امریکہ کی مذہب پسندی سے فساد پیدا ہو رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اوراس کے مقابلے میں یورپ کی سیکولر فکر، مذہبی انتہاپسندی سے تحفظ دے رہی ہے تو بھی مذہب کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، اس لیے کہ یہ فہمِ مذہب یا مذہب کی ایک خاص تعبیر ہے جو دنیا میں فساد و شر کا باعث ہے، نہ کہ خود مذہب ۔
فرانس کا ایک موقر سیاسی تجزیہ نگار Dominique Moisi امریکی مذہبی -- قومی انتہاپسندی کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :
''the combination of religion and nationalism in America is frightening..........We feel betrayed by God and by nationalism which is why we are building the European Union as a barrier to religious warfare.''
’’امریکا میں مذہب اور قوم پرستی کا امتزاج اندیشہ انگیز ہے۔ ہمیں خدا اور قوم پرستی پر اعتماد نہیں رہا، اور یہی وجہ ہے کہ ہم مذہبی جنگوں کو روکنے کے لیے یورپین یونین کو تشکیل دے رہے ہیں۔‘‘
معلوم ہوتا ہے کہ یورپ، مذہبی انتہاپسندی اور قوم پرستی کے نام پر جنگوں کے حوالے سے اپنی تاریخ کے مخصوص تناظر کے باعث مذہب اور حب الوطنی کے ملاپ سے خائف ہے ۔ جنرل فرانسیسکوفرانکو کی آمریت میں کئی سال جیل میں گزارنے والا سپین کا Nicolas Sartorius اپنے تجربات کی روشنی میں خبردار کرتاہے کہ :
''God and patriotism are an explosive mixture.''
’’خدا اور حب وطن، دونوں کا امتزاج دھماکہ خیز ہوتا ہے۔‘‘
Nicolas مزید تنبیہ کرتا ہے کہ آمرجنرل فرانکو کے راہنما نظریے کا نام تھا ’’ کیتھولک نیشنل ازم ‘‘۔ جرمنی کے چانسلر Gerhard Schroder کے ایڈوائزر برائے تعلقات واشنگٹن Karsten Voigt کے مطابق بھی مذہب کے نام پر صدیوں جاری رہنے والی پر تشدد جنگوں کی تاریخ کے بعد، جن میں لاکھوں لوگ بے موت مارے گئے، یورپی لوگ ایسے مبالغانہ جذبہ حب الوطنی کو انتہائی شک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جس کے ساتھ مذہبی معنویت نتھی کر دی جائے۔ مسٹر Voigt نے اپنے موقف کی تائید میں پہلی جنگِ عظیم کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ :
''Remember, German soldiers in World War I wore belt buckles reading 'Gott Mitt Uns' [God With Us]''
’’یاد رکھیے، پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں نے جو بیلٹ بکلز پہن رکھی تھیں، ان پر لکھا تھا: خدا ہمارے ساتھ ہے۔‘‘
ہمارے خیال میں مسٹر Voigt اور ان جیسا نقطہ نظر رکھنے والے دیگر اہل فکر غالباً ایسے واقعاتی حوالوں سے سبق سیکھنے کی کوشش میں ہیں جن میں حکمرانوں نے آفاقی انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ، ریاست کے دفاع اور ریاستی طاقت میں اضافے کی خاطر مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ جس معاشرے میں مذہب کے ایسے استعمال کی گنجایش زیادہ سے زیادہ ہو، بلاشبہ اس معاشرے کا مذہبی کے بجائے سیکولر ہونا خود اس کے لیے بھی اور دنیا کے حق میں بھی زیادہ مفید ہے کیونکہ ایسے معاشرے میں سیکولر رویہ ہی مذہبی مقاصد کی ترجمانی کرے گا۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق:
''More generally, secularism refers to an approach to life grounded not in religious morality but in human reason and universal ethics.''
’’سیکولر ازم کا مطلب زندگی کے متعلق ایسا زاویہ نگاہ ہے جس کی بنیاد مذہبی اخلاقیات پر نہیں بلکہ انسانی عقل اور کائناتی اخلاقی اصولوں پر ہے۔‘‘
سیکولر فکر کی اسی نہج کی نشاندہیMartin Ortega نے بھی کی ہے جو یورپی یونین کے انسٹیٹیوٹ فار سکیورٹی سٹڈیز میں تجزیہ نگارہے۔ دنیا کے معاملات میں امریکی صدر بش کی تنہا پرواز کے پیشِ نظر مارٹن کہتا ہے کہ :
''Europe's history has led Europeans to a more cosmopolitan worldview, which tries to understand 'the other'.''
’’یورپ کی تاریخ نے اہل یورپ کے ہاں دنیا کا ایک نسبتاً وسیع کائناتی تصور پیدا کر دیا ہے جو دوسری قوموں کے موقف کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘
مارٹن کے خیال میں اس یورپی اپروچ کے مضمرات میں سے ایک یہ ہے کہ سنگین ترین حالات کے استثنا کے ساتھ طاقت کے استعمال پر پابندی لگ چکی ہے۔ اب یہ پابندی ایک یورپی قدر بن چکی ہے جس سے امریکہ محروم ہے۔ یورپ ، عالمی فوجی عدالت کی تائید کرتا ہے جبکہ امریکہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں کمی کی خاطر کیے گئے کیو ٹو معاہدے کو امریکہ مسترد کر چکا ہے جبکہ یورپ نے اسے پذیرائی بخشی ہے۔ مارٹن کے مطابق امریکی - یورپی اختلاف ''is a matter of principle, a matter of values'' (اصول اور اقدار کا اختلاف ہے)۔
جرمن چانسلر کے ایڈوائزر مسٹر Voigt تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
''in some segments of conservative US opinion, anti-European feeling is on the rise.........They see us as soft on terrorism or as simply immoral.''
’’امریکہ کے قدامت پسند اہل الرائے کے بعض حلقوں میں یورپ مخالف احساسات پروان چڑھ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا موقف نرم یا سیدھا سیدھا غیر اخلاقی ہے۔‘‘
حقیقت یہی ہے کہ اکثر یورپی حکومتیں، اپنی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اخلاقی اقدار کو مناسب مقام دینے کی خواہش مند ہیں جبکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ''the war on terror'' کے نعرہ کے گرد گھومتی ہے۔ یورپی اخلاقی اقدار کا منبع سیکولر ازم ہے اور امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سرچشمہ''axis of evil'' کا نام نہاد مذہبی نعرہ ہے۔
یورپ کا مذہبی احیا
یورپ میں مذہب کی واپسی، اگرچہ فی الحال ان معنوں میں ہی سہی کہ مذہب ، یورپی زندگی کی تیز رفتاری میں گفتگو کا موضوع بن گیا ہے ، کافی اہمیت کی حامل ہے ۔ سپین (میڈرڈ) کے بم دھماکوں ، ہالینڈ (ایمسٹرڈیم ) میں ڈچ فلم ساز Theo van Gogh کی ہلاکت اور حالیہ لندن بم دھماکوں سے یورپی ذہن میں زلزلہ آگیا ہے ۔ اس زلزلے کے منفی پہلو کسی بھی ہوش مند فرد سے مخفی نہیں ہیں، لیکن جس طرح بعض اوقات کسی فرد کی یاد داشت کسی حادثے سے واپس آ جاتی ہے ( ڈاکٹر خود بھی شاکس تجویز کرتے ہیں )، اسی طرح نائن الیون کے بعد یورپ میں ہونے والے حادثات نے یورپی ذہن کی تلچھٹ کو سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ غلط اور گمراہ کن مذہبی تعبیر کے ردِ عمل میں برپا ہونے والے انقلاب ( جسے یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کہا جاتا ہے) نے یورپی ذہن کو انتہائی گہرائی میں مذہب سے بد ظن کر رکھا تھا۔ مذہب سے اتنی گہری بد ظنی کے بعد اس سے دوبارہ میل ملاقات ، شاید ایسے ہی حادثات کی متقاضی تھی ، اگرچہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یورپ کا مذہب کے ساتھ یہ نیا تعارف کسی اچھے ماحول میں نہیں ہوا، بلکہ یہ ماحول تو اسی سابق ماحول کی باز گشت ہے جس کے ردِ عمل میں یورپ ، مذہب بیزار بنتا چلا گیا۔
Sorbonne پیرس میں مذہب کا ماہرِ عمرانیات Patrick Weil بھی یہ پیشین گوئی کرتا ہے کہ
Those incidents "will reinforce secularism."
’’ان واقعات سے سیکولر ازم کو مزید تقویت ملے گی۔‘‘
Patrick Weil کے تحت الشعور میں یورپی تاریخ کی وحشت ناک انسان دشمن مذہبی روایت کس حد تک رچی بسی ہے، ملاحظہ کیجئے :
''We are not going to sacrifice womens's equality, democracy and individual freedom on the altar of a new religion.''
’’ہم خواتین کی مساوات، جمہوریت اور انفرادی آزادی کو کسی نئے مذہب کی بھینٹ چڑھانے کے لیے تیار نہیں‘‘
جزوی صداقت کے اعتراف کے ساتھ، ہم گزارش کریں گے کہ یورپ کے قدیم مذہبی ماحول اور حالیہ تشدد پسند مذہبی لہر میں’’یکسانی ‘‘ محض ظاہری اور سطحی سی ہے ۔ دونوں ادوار کے ماحول میں ’’ نوعیت ‘‘ کا ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ یورپ کی مذہبی روایت، جس کے ردِ عمل میں مذہب بیزار روایت ’’ سیکولر ازم ‘‘ نے جنم لیا ، بنیادی طور پر مذہبی آقاؤں کے بے لچک اور علم دشمن رویے سے پھوٹی تھی۔ اس کے برعکس حالیہ تشدد آمیزمذہبی لہر کا سر چشمہ بیسویں صدی کے وہ تاریخی و واقعاتی عوامل ہیں جن کی تشکیل میں کلیدی کردار مذہبی آقاؤں کی بجائے مغربی پالیسی سازوں کا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں موجودہ مذہبی انتہاپسندی کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں نہ کہ کسی قسم کی الہٰیاتی تعبیر جس کا یورپ کو ماضی میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لیے Patrick Weil جیسے اہل دانش کا یہ خوف بے معنی ہے کہ موجودہ مذہبی لہر عورتوں کے حقوق، جمہوریت اور انفرادی آزادیوں کی قاتل ثابت ہو گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی بلند شرح خواندگی کے باعث یورپی عوام اپنی مذہبی روایت اور موجودہ مذہبی لہر کے درمیان مذکورہ ’’فرق ‘‘ کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔ اگر یورپی عوام ایسے شعور سے بہرہ ور نہ ہوتے تویورپ میں مذہبی کتب کی مانگ میں اضافہ نہ ہوتا۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ کتب فروخت کرنے والے ادارے Waterstone کی ترجمان خاتون Lucy Avery کے مطابق انھیں مذہبی و روحانی کتب کی شیلفیں بڑھانی پڑی ہیں کیونکہ ایسی کتب کی فروخت میں 4% اضافہ ہوا ہے۔ فرانس میں مذہبی کتب کے سب سے بڑے ناشر Cerf کی ترجمان خاتون Laurence Vandamme کہتی ہیں کہ :
''I have noticed that a lot of general-interest publishers are turning to religious books now for commercial reasons, because that is what the public wants.''
’’میں نے یہ بات محسوس کی ہے کہ عوامی دل چسپی کے موضوعات پر کتابیں چھاپنے والوں کی ایک بڑی تعداد اب تجارتی وجوہ کی بنا پر مذہبی کتابوں کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، اس لیے کہ اب لوگ ایسی کتابوں کے طالب ہیں۔‘‘
ہمارے موقف کی مزید تائید ڈاکٹر مرے ولیمز کی بات سے ہو جاتی ہے کہ :
''The discourse has changed. Ten or 15 years ago, any mention of spiritual experiences would have drawn blank looks. Today people are hungry to talk about them.''
’’اب بحث کا رخ بدل گیا ہے۔ دس یا پندرہ سال پہلے روحانی تجربات کا ذکر ہونے پر لوگ کسی دل چسپی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اب لوگ ان کے متعلق گفتگو کے لیے بے چین ہیں۔‘‘
''The Republic and Religion'' نامی انٹرویوز پر مشتمل ایک کتاب میں ، فرانس کی بر سرِ اقتدار پارٹی کے صدر Nicolas Sarkozy نے، جن کے فرانسیسی صدر بننے کی توقع ہے، یہ کہہ کر سیکولر حلقے کو ششدر کر دیا ہے :
''That the religious phenomenon is more important than people think, that it can contribute to peace, to balance, to integration, to unity and dialogue.''
’’مذہب کا مظہر اس سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ امن، توازن، یک جہتی، اتحاد اور مکالمے کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
Nicolas ایک قدم بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں :
''The Republic should debate this, and reflect on it''.
’’جمہوریہ فرانس کو اس پر غور وخوض اور بحث کرنی چاہیے۔‘‘
اپنے ملک کی ایک صدی قدیم سیکولر روایت سے انحراف کرتے ہوئے متوقع فرانسیسی صدر تجویز پیش کرتے ہیں کہ ریاست کو چرچوں اور مساجد کو subsidize کرنا چاہیے۔ مسٹر نکولس اصرار کرتے ہیں کہ وہ مذاہب اور public authorities کے درمیان نئے تعلقات کے لیے کوشاں رہیں گے۔ مسٹر Moisi ، نکولس کی اس اپروچ پر یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ :
''Sarkozy's novel approach is based on a sense that while for some, religion is the problem, it can also be part of the solution. He is bringing a kind of oxygen to the debate.''
’’سارکوزی کی اچھوتی اپروچ کی بنیاد ا س احساس پر ہے کہ مذہب اگر کچھ لوگوں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے کا باعث ہے تو یہ اس کا حل نکالنے میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نے اس بحث میں ایک نئی زندگی پیدا کر دی ہے۔‘‘
اور تو اور ،فرانس کے نمایاں فلسفی Regis Debray نے، جو بولیویا کی پہاڑیوں میںChe Guevara کی فوج میں کامریڈ رہے، اپنی دو حالیہ کتب کا انتساب ، خدا اور مذہب کے نام کیا ہے ۔ وارسا میں Stefan Batory Foundation کے صدر اور Sorbonne پیرس کے استاد ، ایک ممتاز یورپی مفکر Aleksander Smolar ، مذہب بیزاری کی رومانویت کی پسپائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں :
'' God is back among intellectuals. You can feel there is a problem of soul in Europe; people are conscious of a void and there is a certain crisis of secularism.''
’’دانش وروں کے ہاں خدا واپس آ چکا ہے۔ تم محسوس کر سکتے ہو کہ یورپ میں ایک روحانی مشکل موجود ہے۔ لوگ ایک خلا کو محسوس کر رہے ہیں اور سیکولر ازم کو ایک خاص مفہوم میں بحران کا سامنا ہے۔‘‘
اس سلسلے میں یورپی کمیشن کے ایک سابق صدر Jacques Delors کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیے :
''I fear that the construction of Europe is sinking into absolute materialism. Things are not going well for society, so society is little by little going to start asking itself what life is for, what death is, and what happens afterwards.''
’’مجھے خدشہ ہے کہ یورپ کی تعمیر مادیت کے اتھاہ سمندر میں ڈوب رہی ہے۔ معاملات سوسائٹی کے حق میں بہتر نہیں رہے، اس لیے معاشرہ رفتہ رفتہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنا شروع کر رہا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے، موت کیا ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔‘‘
یورپ میں کثیر مذہبی روایت کی کاشت
تاریخی و تہذیبی عوامل سے قطع نظر ، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی واقعاتی قوت ہے جس نے یورپ کے سیکولر سمندر میں روحانی لہریں برپا کی ہیں؟ جواب میں آنکھیں فوراً مسلمانوں کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ بلا شبہ یورپ میں مذہب پر موجودہ گرما گرم بحث کے ذمہ دار مسلمان ہی ہیں۔ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں :
(۱) سرد جنگ میں سوشل ازم کی شکست میں ’’بنیادی کردار‘‘ مسلمانوں کی مذہبی وابستگی کا رہا ہے ۔ مسلمانوں کے اس کردار سے یورپی لوگ چونک گئے ہیں اور یہ جان گئے ہیں کہ مذہب بہت بڑی قوت ہے ۔
(۲) مسلمان جتنے بھی بے عمل ہوں، وہ کم از کم یورپی لوگوں کے مقابلے میں مذہبی ضرور قراردیے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہاں مسجد میں جانے والوں کی شرح ، چرچ جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ پچھلے تیس سالوں میں یورپ کی مسلم آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ آبادی مذہبی رویے میں عمومی پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے ۔برطانوی مسلمان اگرچہ برطانیہ کی آبادی کا صرف 3% ہیں، لیکن ایک سروے کے مطابق جمعہ کی نماز میں مسجد جانے والوں کی تعداد ، اتوار کے روز چرچ جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔
(۳) یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے قضیے نے مذہبی سوال کو شدت سے ابھارا ہے ۔ آئندہ دس برسوں میں 83 ملین مسلمانوں کی یورپ میں متوقع شمولیت سے نہ صرف مذہب پسندی کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ یورپ کی شناخت بھی از سرِ نو تشکیل پا سکتی ہے۔ کیتھولک چرچ اسی بنیاد پر یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت سے خائف ہے اور وٹیکن کی طرف سے یورپ کی مسیحی شناخت پر زور دیتے ہوئے متعدد بار ترکی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت کی کوششیں ترک کر دے۔
(۴) یورپ کی نئی شناخت کی تشکیل میں موثر مسلم آبادی کی موثر شرکت کے باعث یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا یورپی سیکولر ازم مسلمانوں کی مذہب پسندی سے ہم آہنگ ہو سکے گا، کیونکہ مسلمانوں کی مذہبی روایت میں علم کشی اور انسان دشمنی کے وہ جراثیم نہیں پائے جاتے جو یورپی مذہبی روایت کا خاصا ہے ، اس لیے مسلمان اپنے مذہب کو معاشرتی زندگی سے نکالنے پر رضامند نہیں ہوں گے ۔
اس صورت حال میں یورپی مدبرین کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یورپ اور اسلام کا ادغام نہیں ہوتا تو کیا یورپی کلچر اتنی لچک کا مظاہرہ کر سکے گا کہ اس کے شہری دو دھاروں میں منقسم ہوجائیں؟ نئے مذہبی سوال اور سیکولر فکر کی امکانی قوت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہی فرانس کا ماہر عمرانیات Patrick Weil ایک چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے :
''This is the first time for a long time ......that we have had to show that we can adapt and accept religious diversity........that is a challenge.''
’’طویل مدت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ہمیں اپنی اس صلاحیت کو ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم مذہبی تنوع کو قبول کر کے اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتے ہیں۔ یہ واقعتا ایک چیلنج ہے۔‘‘
Patrick Weil نے جس چیلنج کی بات کی ہے ، اس کی واقعاتی حیثیت سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو ۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم چیلنج ہے جس سے یورپ کو مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ابھرتی ہوئی نئی مذہبی لہر وں کے سامنے سیکولر ازم کی کشتی ڈوبتی محسوس ہو رہی ہے۔ اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ یورپ اپنی سیکولر روایت سے انحراف کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر ’’ امتیازی سلوک‘‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ اس وقت یورپ کو ایک ’’نئے سیکولر رویے‘‘ کی اشد ضرورت ہے جس میں ہر مذہب کے شہریوں کے انسانی حقوق کی ضمانت موجود ہو ۔ خیال رہے کہ یورپی سیکولر ازم کی موجودہ روایت ، کثیر مذہبی پس منظر نہیں رکھتی ۔ یہ در حقیقت عیسائیت کی داخلی تقسیم کے انتہاپسندانہ رویے کے ردِ عمل میں قائم ہوئی تھی ۔
ایک گیلپ پول کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 44% امریکی اور 15% یورپی ہفتے میں ایک بار عبادت گاہ جاتے ہیں۔ (یورپی شرح بحیثیت مجموعی ہے، ورنہ برِ اعظم یورپ کے ہر ملک میں یہ شرح مختلف ہے۔) European Values Study کے سروے کے مطابق 74% یورپی کہتے ہیں کہ وہ خدا اور روح پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی یورپی یقین کو دیکھتے ہوئے مذہبی لوگ پر امید ہیں کہ وہ یورپ کو ’’خدا آشنا ‘‘کرنے کا کام آسانی سے کر سکیں گے۔ ملاحظہ فرمائیے پوپ کے ایک قریبی رفیق Rocco Buttiglione کے خیالات، جنھیں سماجی مسائل پر سخت کیتھولک موقف کے باعث یورپی کمیشن میں شمولیت کی اجازت نہ ملی :
''For a long time, they told us that science and maths would give us the identity we need.......Both failed. Now when Europeans ask themselves 'Who are we?' they do't have an answer. I suggest we are christians.''
’’طویل عرصے تک وہ ہمیں یہ بتاتے رہے کہ سائنس اور ریاضی ہمیں وہ شناخت عطا کر سکتے ہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے، لیکن یہ دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ اب جب اہل یورپ خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مسیحی ہیں۔‘‘
لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ یورپی لوگ روحانیت کے متلاشی تو ضرور ہیں، لیکن ایسے مذہب کے نام سے اب بھی بدکتے ہیں جس کی منشا انسانوں کی سماجی سدھار ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ مذہبی لہر کے ہمراہ آنے والے تشدد نے یورپی لوگوں کو اپنے ماضی کی یاد دلا کر تحفظات کا شکار کر دیا ہے ۔ اس لیے یورپی لوگ ، مذہب اور روحانیت کو دو علیحدہ علیحدہ مظاہر کے طور پر لے رہے ہیں ۔ Murray Williams کے مطابق:
''Many people are seeing spirituality as something positive, while religion is seen as a system that can be divisive.'' r
’’بہت سے لوگ روحانیت کو تو ایک مثبت چیز سمجھ رہے ہیں جبکہ مذہب ان کے خیال میں ایک ایسی قوت ہے جو تقسیم اور افتراق پیدا کر سکتی ہے۔‘‘
نیو میگزین کے ایڈیٹر Frederic Lenoir نے بھی لکھا ہے :
''The need for meaning affects secularized and de-ideologized West most of all.......Ultramodern individuals mistrust religious institutions.......and they no longer believe in the radiant tomorrow promised by science and politics; they are still confronted, though, by the big questions about origins, suffering, and death.''
’’معنویت کی ضرورت سیکولر اور نظریہ واعتقاد سے محروم مغرب کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ حد سے زیادہ جدیدیت پسند افراد مذہبی اداروں پر اعتماد نہیں کرتے اور انھیں سائنس اور سیاست کی طرف سے روشن مستقبل کے وعدے پر بھی اب زیادہ بھروسہ نہیں رہا۔ وہ اب بھی حیات وکائنات کی ابتدا، زندگی کے مصائب اور موت سے متعلق غیر معمولی سوالات سے دوچار ہیں۔‘‘
شاید اسی لیے بدھ مت یورپی لوگوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ ایک روسی نژاد برطانوی تعلیم یافتہ منک Suvannavira کہتا ہے کہ :
''I have noticed a steady increase in interest.....Our order has doubled in size since 1990.''
’’میں نے لوگوں کی دل چسپی میں ایک مسلسل اضافہ محسوس کیا ہے۔ ۱۹۹۰ کے بعد سے ہمارے مذہبی حلقے میں دوگنا اضافہ ہو چکا ہے۔‘‘
ہماری رائے میں عیسائیت اب انسان کی انفرادی (ذاتی) زندگی سے بھی بے دخل ہوچکی ہے۔ یورپی لوگ خواہش مند ہیں کہ انھیں کوئی ایسا روحانی سرچشمہ مل جائے جو سیکولر فکر میں عیسائیت کاجانشین بن سکے ۔بدھ مت کی حالیہ پذیرائی کے باوجود آنے والے چند عشرے ہی یہ ثابت کر سکیں گے کہ بدھ مت ، یورپی ضرورت کو پورا کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یورپ میں مختلف مذاہب کے قائدین کے درمیان ’’ ورکنگ ریلیشن شپ ‘‘ دیکھنے میں آ رہا ہے جس سے دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ ایسے مفاہمتی رجحانات جہاں مذاہب کے مابین تشدد کی نفی کے غماز ہیں، وہاں اس بات کی نوید بھی ہیں کہ نئے سیکولر رویے میں ( مذاہب کی باہمی برداشت اور رواداری کے باعث) مذہب کو کارنر کرنے کی بجائے اسے اہم مقام دینا زیادہ سودمند ثابت ہوگا ۔ مذاہب کے درمیان مفاہمت کی دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
(۱) پیرس کا آرک بشپ Jean-Marie Lustiger سکولوں میں مسلم طالبات پر سکارف کی حکومتی پابندی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے مطابق یہ حکومتی اقدام ، مذہبی آزادی پر حملہ ہے ۔
(۲) اسی طرح کیتھولک اور پروٹسٹنٹ پادریوں نے بھی برمنگھم میں سکھوں کے بلوے کی حمایت کی، کیونکہ ایک ایسا تھیٹر ڈرامہ پیش کیا گیا تھا جس میں گوردوارے میں مارپیٹ ، آبرو ریزی اور قتل و غارت کے مناظر پیش کیے گئے تھے۔برمنگھم کے کیتھولک آرک بشپ Vincent Nichols نے ایک بیان جاری کیا کہ :
''Such a deliberate, even if fictional, violation of the sacred place of the sikh religion demeans the sacred place of every religion.''
’’سکھ مذہب کی مقدس عبادت گاہ کی اس طرح سوچی سمجھی بے حرمتی سے، چاہے وہ افسانوی رنگ ہی میں کیوں نہ ہو، تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی توہین ہوتی ہے۔‘‘
( ایک دوسرے کی مساجد پر زبردستی قبضہ کر کے مساجد کی بے حرمتی کرنے والے ’’ پاکستانی فرقہ بازوں ‘‘ کو کیتھولک پادری کے اس بیان سے کم از کم شرمسار ضرور ہونا چاہیے)۔
اگر ایک طرف مذاہب کے درمیان مذکورہ مفاہمتی رویہ جنم لے رہا ہے تو دوسری طرف مذہبی اتحادی اور سیکولر محوری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کے بجائے اصل تصادم خدا کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ہو گا۔شاید اسی لیے اسپینی حکومت کے عہدیدار Luis Lopez کو اس بات پر حیرانی ہے کہ جس ملک کی نصف سے زیادہ آبادی شاید ہی کبھی چرچ گئی ہو، اس ملک میں یہ مطالبہ کرنا کہ دستور کے ساتھ بائبل کو بھی ڈیسک میں جگہ دی جائے ، خاصا عجیب و غریب ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہم جنس پرستی ، اسقاطِ حمل اور طلاق کے قوانین کو مزید liberalize کرنے کا مطلب ، کسی الحادی نوعیت کے ریاستی مذہب کو مسلط کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے شہری حقوق میں اضافہ ہوتا ہے اور قوانین بھی کیتھولک عقیدے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں ۔وہ مزید کہتا ہے کہ :
''The government has a responsibility to represent the majority of the people. Our policy has to depend on the people's will, not on the preferences of the Catholic church.''
’’حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کی اکثریت کی نمائندگی کرے۔ ہماری پالیسی کی بنیاد لوگوں کی مرضی پر ہونی چاہیے نہ کہ کیتھولک کلیسا کی ترجیحات پر۔‘‘
اگر پالیسی کا انحصار لوگوں کی منشا اور ارادہ ہی ہے تو ہم نے اوپر کی بحث میں نشاندہی کردی ہے کہ مذہب، یورپ کی معاشرت میں دبے پاؤں دوبارہ داخل ہورہا ہے۔ مسٹر Delors بھی اس سے ملتی جلتی بات کرتے ہیں :
''I do't expect a wholesale social mutation. But I can see little white stones marking out a path.''
’’مجھے سماجی سطح پر اس رجحان کے عمومی فروغ کی توقع تو نہیں ہے، لیکن چھوٹے چھوٹے سفید کنکر مجھے ایک راستہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
مخمصے کا شکار یورپی مسلمان
موجودہ اسلام / مغرب کشمش میں ، مغربی کرے میں رہنے والا مسلمان دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان میں مسلم علاقوں سے ہجرت کر کے مغرب میں بسنے والے لوگوں کے علاوہ نومسلم بھی شامل ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دو مغربی مسلم گروہوں کے مابین بھی فکری آویزش موجود ہے ۔ اگر مہاجر مسلم گروہ اپنے آبائی خطوں کی علاقائی روایات و رسومات کو اسلام کا لبادہ اوڑھا کر مغربی کلچر سے تحفظ کا خواہاں ہے تو نومسلم گروہ اپنے مغربی کلچر اور اسلامی تعلیمات میں موافقت کا خواہش مند ہے۔ (خیال رہے یہ عمومی صورتِ حال ہے) بی بی سی نے دو تصاویر کے ذریعے سے یورپی مسلمانوں کے پہلے گروہ کے دو رویوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک تصویر میں مسلمان لڑکیاں اسکارف پہنے ہوئے ، فرانسیسی جھنڈے میں ملبوس ہیں۔ یہ تصویر بجا طور پر مذہبی شناخت پر اصرار اور فرانسیسی معاشرے کے بنیادی دھارے میں شمولیت کی آرزو کی نمائندہ ہے۔ دوسری تصویر میں برطانوی مسلمانوں کا ایک گروہ لندن کی ایک مسجد کے باہر یونین جیک ( برطانوی جھنڈا) نذرِ آتش کر رہا ہے اور اسامہ بن لادن کے حق میں نعرے بازی کر رہا ہے۔ یہ تصویر reactionary رویے کی مظہر ہے۔ اس میں یورپی معاشرے سے اغماض کا پہلو جھلکتا ہے۔ در حقیقت یہ تصاویر دو ایسے’’ یورپی مسلم رویوں ‘‘کی علامت ہیں جو متحرک اور فعال ہیں۔ تیل اور تیل کی دھار کو دیکھنے والی خاموش اکثریت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپناوزن کس پلڑے میں ڈالتی ہے۔ہوسکتا ہے وہ کوئی تیسرا راستہ تلاش کرے۔ اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ یورپ کی مسلم آبادی ، مجموعی طور پربے روز گاری ، غربت اور marginalisation کا شکار ہے ۔ جہاں تک marginalisation کا تعلق ہے، یہ کثیر الجہات مسئلہ ہے لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ ’’مذہب ‘‘ ہی کے گرد گھومتا ہے ۔ مہاجر مسلمانوں کی دوسری، تیسری نسل دو انتہاؤں کے درمیان معلق ہے ۔ خارجی دنیا اور معاشرتی ماحول انھیں سیکولر اقدار کا پابند بنا نا چاہتا ہے جبکہ گھر کا ماحول ( اور کسی حد تک ان کی داخلی دنیا ، یعنی باطن بھی) انھیں طرزِ معاشرت میں مذہبی اقدار کی اطاعت پر ابھارتا ہے۔ خارج اور داخل کی ان دو انتہاؤں کے درمیان جب تک ’’ تطبیق ‘‘ نہیں ہوجاتی ، یورپی (مہاجر)مسلمان marginalisation کا شکار رہے گا۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر کے مطابق برطانوی اخبار گارجین کی ایک حالیہ رائے شماری نے ظاہر کیا ہے کہ 1.8 ملین برطانوی مسلمانوں میں سے 33% مسلمان بنیادی برطانوی ثقافتی دھارے سے زیادہ سے زیادہ ’’موافقت‘‘ چاہتے ہیں، اگرچہ 26% مسلمان موجودہ موافقت کو ہی بے جا اور حد سے بڑھا ہوا خیال کرتے ہیں۔نسلی مساوات کے کمیشن میں مسلم مسائل کے ترجمان خورشید احمد نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے33% کی نمائندگی کی ہے ۔ ان کے مطابق :
''The Muslim community has to stand up and be counted as a British Muslim community.''
’’مسلم کمیونٹی کو آگے بڑھ کر ’برطانوی مسلم کمیونٹی‘ کا مقام حاصل کرنا ہوگا۔‘‘
برطانوی و یورپی بزر جمہروں کے لیے یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ’’برٹش مسلم ، فرنچ مسلم اور جرمن مسلم ‘‘ وغیرہ سے حقیقت میں کیا مرادہے ؟ کیونکہ اپنے تئیں وہ مذہب کوصدیوں پہلے دفن کر چکے ہیں۔ ان کے لائف سٹائل میں ’’قبر رسیدہ مذہبی پس منظر ‘‘ جس شدت سے موجود ہے، اس کے ہوتے ہوئے ان کے کسی ذہنی خانے میں ’’مذہبی شناخت پر اصرار‘‘ کی مسلم روش اپنی جگہ نہیں بنا پاتی۔یہ تضاد بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ’’ برٹش مسلم ، جرمن مسلم‘‘ وغیرہ جیسی تراکیب میں ’’برٹش ، جرمن‘‘ کے الفاظ اکثر مہاجر مسلمانوں کو خاصے چبھتے ہیں۔ ان کی سائیکی، یورپی نیشنل ازم کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے۔ اس طرح یہ دو انتہائیں سامنے آ جاتی ہیں ۔ ہماری رائے میں ان انتہاؤں میں راہ و و رسم بڑھانے میں یورپی نومسلم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
بہرحال ، دوسرا یورپی مسلم گروہ یعنی نومسلم بھی تا حال marginalisation سے دوچار ہے۔ اس گروہ کی عمومی نفسیات، نیشنل ازم کے یورپی تصور اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دینے والی سیکولر روایت میں گندھی ہوئی ہے۔ روحانیت کی تلاش میں سرگرداں اس گروہ نے، مختلف آپشنز کی موجودگی میں اسلام کا انتخاب کیا ہے ۔ اب ایک طرف امہ کا مسلم تصور ہے اور دوسری طرف قوم پرستی کی یورپی روایت ، جو یورپی ثقافت کا جزو لاینفک ہے ۔ اسی طرح ایک طرف اسلام کی، دین ودنیا کو ’’ وحدت ‘‘ میں دیکھنے کی خصوصیت ہے اور دوسری طرف یورپی ثقافت میں رائج دین و دنیا کی تقسیم ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر قومیت کے عامل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ، تصورِ امہ پر بے جا زور دیا جائے اور فرد کی ذاتی زندگی میں مذہب کے کردار سے صرفِ نظر کر کے ، مذہب کے سماجی منہاج کو ہی عین مذہب قرار دیا جائے تو ذرا سوچیے کہ یورپ کا نومسلم، نفسیاتی اعتبار سے کہاں کھڑا ہو گا ۔
جہاں تک انسانی حقوق اور عورت کے سماجی مقام جیسے مسائل کا تعلق ہے ، یورپی نو مسلم اس حوالے سے بھی دوراہے پر کھڑا ہے۔ مسلم ممالک کی مقامی روایات اور علاقائی ثقافت کو جس طرح عین اسلامی تعلیمات قرار دیا جارہا ہے، اس سے یورپی نو مسلم کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسلام اگر مشرقِ وسطیٰ ، افریقہ اور ایشیا کی مختلف علاقائی روایات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے تو یورپی اقدار میں آخر کون سی ایسی خامی ہے کہ اس کی کوئی قدر بھی اسلامی تعلیمات سے موافق نہیں ہو سکتی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی کثیر مذہبی روایت کی کاشت میں اسلام کا کردار اسی وقت نمایاں ہو سکتا ہے جب یورپی ثقافت اور اسلامی تعلیمات میں اسی طرح ربط و تعلق قائم ہو جس طرح دیگر خطوں کی روایات اور اسلامی تصورات میں قائم و دائم ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اسلام صرف پیدایشی مسلمانوں کی میراث ہے ۔اسلام ان کے لیے ہے جو اس کی جستجو کرتے ہیں۔ یورپی نو مسلم کی جستجو پر پیدائشی مسلمانوں کو خوامخواہ کے تحفظات ظاہر کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ پلین فیلڈ انڈیانا امریکہ میں ILDC کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب لوئی ایم صافی کے مطابق :
’’اسلامی اقدار اور مقامی روایات کے مابین تعامل کا مشاہدہ اس تنوع میں کیا جا سکتا ہے جو فیشن ، طرزِ تعمیر ، شادی کی تقریبات ، تہواروں کے منانے اور ججوں کے انتخاب وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور جو مختلف مسلم ثقافتوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے۔ پیغمبر ﷺ نے صاف واضح کیا تھا کہ آپﷺ کا مشن سابقہ روایات کو مسترد کرنا نہیں ، بلکہ انھیں ایسی روایات اور اعمال پر جو مضبوط اخلاقی اصولوں پر مبنی ہوں ، تعمیر کرنا اور پست روایات اور رواجوں کی اصلاح کرنا ہے .... جب مضبوط قبائلی ورثے کے حامل معاشروں میں غیرت کے نام پر قتل کو گوارا کیا جاتا ہے اور مذہبی راہنما اس کی کماحقہ مذمت نہیں کرتے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، تو یہ سوال نا گزیر طور پر سامنے آتا ہے کہ اسلامی اصولوں کو قبائلی روایات کے تابع بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جب مسلم کمیونٹی عورتوں کو مسجد میں مناسب مقام دینے کے معاملے کو نظر انداز کرتی ہے اور مسجد کا مرد امام ، عورتوں کو اسلامی تعلیم کی مجلسوں کے درمیان مسجد کے مرکزی ہال میں داخل ہونے سے منع کرتا ہے تو بھی اسلام کو پدر سرانہ ثقافت کے تابع بنانے کا سوال لازماً سامنے آتا ہے۔ ...... تاریخی مسلم معاشرہ، خواہ ہم اس میں کتنی ہی غلطیاں تلاش کر لیں ، ایک نمایا ں وصف رکھتا ہے ، یعنی مذہبی تشخص پر پورے اصرار کے ساتھ ساتھ مذہبی ، اعتقادی اور اخلاقی تنوع کے لیے بے مثال رواداری کا وصف۔ مختلف فقہی مکاتب محض علمی حلقے نہیں تھے بلکہ انھوں نے ( اپنے تصورات کی بنیاد پر باقاعدہ ) اخلاقی کمیونٹیاں تشکیل دی تھیں ۔ ہر شخص کو نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور بھی انھی معیارات کے مطابق جانچا جاتا تھا ، جن کو وہ معیار تسلیم کرتا تھا ۔ لوگوں کی اخلاقی خود مختاری کے حوالے سے حساسیت کی یہ شاندار مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی تہذیب کس طرح ایک مثالی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف مذہبی، اعتقادی، الہٰیاتی، نسلی اور ثقافتی روایات کو کم و بیش چودہ سو برس تک اپنے اندر سمونے کے قابل رہی ‘‘۔(یہ پورا بصیرت افروز مضمون ’’ الشریعہ‘‘ کے جون 2005 کے شمارے میں دیکھیے )
ہو سکتا ہے بعض احباب اخلاقی معیار کی مذکورہ انفرادی نوعیت پر تبصرہ فرمائیں کہ یہ تو وہی صورتِ حال ہے جس پر ہم نے بش کے axis of evil والے بیان کے ضمن میں تنقید کی تھی اور اب حمایت میں اسی نوعیت کے نکات کا حوالہ دے دیا ہے ۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ لوئی ایم صافی نے اخلاقی معیار کوانفرادی نہیں بلکہ در حقیقت ’’انفرادی گروہی معیار‘‘ کے طور پر ڈسکس کیا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے جناب صافی کے اپنے الفاط:
’’ اس ( اسلامی) معاشرے میں اخلاقیت اور انصاف کو ایک مجرد تصور کے طور پر بیان نہیں کیا جاتا تھا ، جس پر علمی حلقوں میں بحث ہوتی رہے ، بلکہ وہ مشترکہ اقدار کا مجموعہ تھا جس کے مطابق ایک زندہ کمیونٹی میں زندگی گزاری جائے اور اسے نشوو نما دی جائے ‘‘۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یورپ کی کثیر مذہبی روایت کی کاشت میں یورپی نومسلم اسی انداز میں اپنا متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں جس کی طرف جناب لوئی ایم صافی نے اشارہ کیا ہے۔
حرفِ آخر
اب تک کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں مذہب پسندی کی موجودہ لہر مغرب کی مذہبی شناخت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ امریکہ کی نیم مذہبی اپروچ (کہ مذہب کی انفرادی حیثیت کو اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے) سے امیدیں وابستہ کرنے کے بجائے تحفظات ہی جنم لیتے ہیں ۔ اس کے برعکس یورپ کی سیکولر اپروچ ( کہ مذہب کی انفرادی حیثیت کو اجتماعی معاملات میں دخل کا موقع نہ دیا جائے) ایک نئے سیکولر رویے کی آبیاری کا سبب بن سکتی ہے ، ایک تواس لیے کہ موجودہ مذہبی تشدد ، الہٰیاتی تعبیرات کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت ’’ سیاسی ‘‘ ہے، اور دوسرا اس لیے کہ عیسائیت کی متشددانہ داخلی تقسیم کے بر عکس اب یورپی معاشرہ کثیر مذہبی معاشرہ ہے۔ لہٰذا یو رپ کی پرانی سیکولر روایت پر نظر ثانی نا گزیر ہو جاتی ہے۔ ہماری رائے میں اس وقت یورپی ثقافت اور اسلامی تعلیمات میں مناقشت کا بنیادی سبب انسانی حقوق کے نام پر عورت و مرد کی مساوات، موت کی سزا، اسلامی حدود اور جہادوغیرہ ہیں۔ جیساکہ ذکر ہو چکا ، یورپ کو امریکہ کے مقابلے میں (خارجہ پالیسی جیسے معاملات میں) اپنی اخلاقی برتری پر بہت ناز ہے۔ اسی طرح وہ موت کی سزا کوبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم گزارش کریں گے کہ یورپ کی ثقافت جن اخلاقی اصولوں پر قائم کی گئی ہے، وہ حقیقت میں سوچے سمجھے فکری اصول کم اور ردِ عمل کا مظہر زیادہ ہیں۔ اگر یورپ جنگ کا مخالف ہے تو اس کے پیچھے جنگوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اپنی جنگی تاریخ کے ردِ عمل میں جہاد کا مخالف ہو کر یورپی ثقافت کے علمبردار یہ بھول گئے کہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوسکتی ۔ انسانی تاریخ میں ابھی تک کوئی ایسی تہذیب نہیں گزری جس نے کبھی جنگ نہ کی ہو ۔ لہٰذا جنگ کی مخالفت میں انتہاپسندانہ رویہ اپنانے کے بجائے واقعیت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کی اخلاقی تطہیر کی جائے۔ ''The Roots of War and Terror'' کے مصنف ڈاکٹر انتھونی سٹیونزکا نقل کردہ یہ حوالہ بھی دعوتِ فکر دینے کو کافی ہے :
’’ آخر جنگ ایک ہمہ گیر کج روی ہی تو ہے۔ ہم سب اس سے داغ دار ہیں ۔ اگر ہم اس کج روی کا براہِ راست تجربہ نہ کر سکیں تو جنگ کی کہانیاں پڑھنے میں وقت گزارتے ہیں ، جنگ کی پورنو گرافی یا فلمیں دیکھتے ہیں، جنگ کی بلیو فلمیں؛ یا عظیم کارناموں کا تصور کر کے اپنی حسیات کو تسکین دیتے ہیں، یعنی جنگ کی مشت زنی ‘‘ ( جان رے، کسٹرڈ بوائز)
اگر یورپ جہاد کے اسلامی تصور پر غیر جانبداری سے غور و فکر کرے تو اس کے خدشات ختم ہو سکتے ہیں اور ایک زیادہ پائیدار اخلاقی نظام جنم لے سکتا ہے جس میں جنگ کی گنجایش محدود معنوں میں موجود رہے گی ۔اعلیٰ اخلاقی اقدار کے نام پر یورپی ثقافت میں اسلام کے ادغام کی خاطر تصورِ جہاد کے خاتمے کے لیے جس طرح مختلف گروپس کوشاں ہیں، اس پر ہمیں ڈاکٹر انتھونی کا یہ اقتباس بھی پیش کرنا پڑ رہا ہے :
’’ جب امن پسند لوگوں نے کبھی کبھار لڑنے سے انکار کیا تو انھیں نہایت اندوہ ناک نتائج کا سامنا کرنا پڑا ۔ بالعموم وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے،یا تہِ تیغ ہوئے ، یا غلام بنائے گئے یا دور افتادہ خطوں میں دھکیل دیے گئے ۔ مثلاًافریقہ میں Manansas امن پسند زراعتی تھے جو سخت جان ، مویشی پال اور جنگ پسند Matabele کا نشانہ بنے۔ Matabele جب آئے تو Manansas نے ان کا استقبال امن پسندوں والے کلاسیکی انداز میں کیا ۔ انھوں نے اپنے برچھے زمین پر پھینکتے ہوئے کہا ، ’’ ہم لڑنا نہیں چاہتے ، ہمارے مکانات میں آ جاؤ‘‘۔ Matabele اس غیر معمولی طرزِ عمل پر حیران رہ گئے اور اسے ایک چال سمجھ کرManansas کے بادشاہ کو پکڑا اور اس کا سینہ چیر کر دل باہر نکال لیا۔ بادشاہ کے دل کو اس کے منہ سے لگاتے ہوئے وہ بولے ، ’ تمہارے دو دل ہیں۔‘‘
ثقافتی تغیرات کی حامل موجودہ دنیا میں ’’کچھ لو، کچھ دو ‘‘ کی پالیسی سے ہمیں انکار نہیں ۔ بلاشبہ مسلمان ، معتدل اور روشن خیال ہو سکتا ہے لیکن کوئی ایسا مسلمان، چاہے وہ نو مسلم ہو، بمشکل ہی مل سکے گا جس کے دو دل ہوں۔اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم عرض کریں گے کہ یورپ میں موت کی سزا کا خاتمہ بھی درحقیقت ، کیتھولک چرچ کے انسانیت سوز مظالم کا ردِ عمل ہے۔ ورنہ یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی فرد کسی کو قتل کر دے، یا پھر معاشرے میں فساد کا باعث بنے اور اسے انسانی حقوق کے نام پر، موت کی سزا نہ دی جا سکے۔ یورپی ذہن Manansas قبیلے جیسے اخلاقی معیارات کو معاشرے میں رائج کرنے کا خواہش مند معلوم ہوتا ہے ، حالانکہ ایسے معیار، فرد کی حد تک تو لاگو ہوسکتے ہیں ، لیکن اجتماع کی سطح پر نہیں۔ اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف فرد کی سطح پر ایسے معیار تسلیم کیے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے، جیسا کہ عدل کے مقابلے میں احسان کا تصور ہے۔ اگر یورپ نے فرد اور اجتماع میں فرق روا نہ رکھا تو ہمیں احتمال ہے کہ آنے والے وقت میں، وہ معکوس ردِ عمل میں مذہب کے ایسے ایڈیشن کی طرف رجوع کرے گا جس میں انفرادی سطح پر بھی احسان جیسے تصورات کی گنجایش مفقود ہوگی ۔بہر حال ! یہ نو مسلم ہی ہیں جو یورپ کو یہ بات سمجھا سکتے ہیں اور یورپ کی ابھرتی ہوئی کثیر مذہبی روایت میں متوازن اسلامی تصورات شامل کر کے پورے مغرب کو ایک بار پھر مذہبی شناخت سے بہرہ ور کر سکتے ہیں۔
اشتعال انگیز واقعات پر مسلم امہ کا رد عمل
مولانا نظام الدین
(پندرہ روزہ ’تعمیر حیات‘ لکھنو (۱۰ جون ۲۰۰۵) میں شائع شدہ ایک انٹرویو سے اقتباس۔)
سوال: آپ کے علم میں ہے کہ فاشسٹ عناصر نے تاج محل کے تاجیشوری مندر ہونے کا شوشہ چھوڑ کر باسی کڑھی کو ایک بار پھر ابال دینے کی کوشش کی ہے۔ پیش بندی کے طور پر شاہجہاں وممتاز محل کی قبروں کو بنیاد بنا کر تاج محل کو سنی سنٹرل وقف بورڈ میں قبرستان کے طور پر مندرج کرنے کی بات ملت کے دردمند افراد نے کہی ہے۔ کیا یہ اقدام فاشسٹ عناصر اور شر پسندانہ عناصر کو روکنے کے لیے کافی ثابت ہوگا؟ آپ کے نزدیک اس کا پائیدار حل کیا ہے؟
جواب: تاج محل کو آج کل ہی تاجیشوری کا مندر نہیں کہا جا رہا ہے، یہ پراپیگنڈا آج کا نہیں ہے۔ ایک انگریز مورخ برس ہا برس قبل اس قسم کی زہر افشانی کر چکا ہے اور تاج محل ہی نہیں، قطب مینار اور جامع مسجد کے متعلق بھی ایسا پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے۔ تاج محل کو تاجیشوری کا مندر سب سے پہلے اسی انگریز مورخ نے کہا۔ اب جو یہ بات آپ نے کہی کہ سنی سنٹرل وقف بورڈ میں ملت کے ذمہ دار عناصر تاج محل کا رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں تاکہ پیش بندی ہو شاہ جہاں اور ممتاز محل کی قبروں کی بنیاد پر، تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صرف اتنا ہی اقدام اس پراپیگنڈا کے پیش نظر کافی نہیں ہے۔ اصل کام تو حکومت کا ہے۔ اس کے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے۔ وہ اپنے ریکارڈ کو بنیاد بنا کر اس قسم کے مذموم پراپیگنڈا کا استیصال کر سکتی ہے۔ اس کی پوری قوت کے ساتھ تردید کر سکتی ہے۔ محض سنی سنٹرل بورڈ کا قبروں کی بنیاد پر رجسٹریشن کافی نہیں۔ اس کے بعد بھی یہ پراپیگنڈا جاری رہے گا۔ تاج محل کا وقف بورڈ میں اندراج کرا لیں گے، لیکن تب بھی پراپیگنڈا تو جاری رہے گا۔
مثلاً جو دہلی کی جامع مسجد ہے، وہ آج بھی وقف بورڈ میں مندرج ہے لیکن یہ پراپیگنڈا کہ یہ مندر پر بنائی گئی، اب بھی کیا جاتا ہے تو ایسا پراپیگنڈا تو اس لیے کیا جاتا ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار دہراتے رہو کہ وہ سچ معلوم ہونے لگے اور اس کی بنیاد پر تخریبی کارروائی اور مذہبی جذبات کوبھڑکانے کا کبھی موقع ملے۔ اس لیے مسلمانو ں کے جو شعائر ہیں جن سے ان کی تاریخ وابستہ ہے، جن سے ان کی شناخت بنتی ہے اور قائم ہے، اس کو تبدیل کرنے کے لیے یا مسخ کرنے کے لیے بلکہ ان کو ختم کرنے کے لیے منصوبہ بند کوششیں بہت دنوں سے جاری ہیں۔ یہ اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔
تو جو لوگ رجسٹریشن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ٹھیک ہے، ہم ان کی مخالفت نہیں کرتے، لیکن یہ کافی نہیں۔ اصل ذمہ داری حکومت کی ہے۔ حکومت کو اپنی سطح سے تاج محل کے مندر ہونے جیسے پراپیگنڈا کی مذمت ومخالفت اور ان کے تدارک کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ اگر حکومت اس کی تردید کر دے تو بات ختم ہو جاتی ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے ایک بات پھیلتی رہتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آتا۔
س: کیا آ پ محسوس کرتے ہیں کہ ایسے جذباتی ایشوز مخصوص شر پسندانہ مقاصد کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ مسلمان مشتعل ہو کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھیں؟ اس موقع پر مسلمانوں کو آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
ج: یہ جذباتیت کا مسئلہ ہی نہیں ہے، مسلمانوں کو اس پر مشتعل ہی نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے مدارس کے بارے میں بھی یہی کہا تھا کہ جو لوگ مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ کہہ رہے ہیں، ان کے جواب میں ہمیں مشتعل ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ مدارس کے دروازے سب پر کھول دیے جانے چاہییں کہ آؤ دیکھو، ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں مدارس کا معیار تعلیم اور ان کے نظام تربیت کو بہتر سے بہتر بنانا چاہیے، بلکہ موقع ہو تو آپ برادران وطن کے لیے بھی تعلیم کے دروازے کھول دیں۔
تو تاج محل کے متعلق جو کچھ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ کھلا جھوٹ ہے۔ اگر ہم مشتعل ہوئے تو شرپسند عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ مسلمانوں کے مشتعل ہونے سے ہمیشہ فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچا۔ جھوٹ جھوٹ ہے۔ اس پر اشتعال کیسا؟ کوئی رات کو دن کہہ دے اور کوئی دن کو رات کہہ دے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا، سوائے اس کے کہ اس کو آپ جھوٹا سمجھیں۔ اس پر مشتعل ہونا حماقت کی بات ہوگی۔ اس سے زیادہ سنگین مسئلے ملت کے سامنے آئے، جیسا کہ ابھی آپ نے بابری مسجد کا ذکر کیا۔ اس سلسلے میں بڑے سنگین مرحلے آئے، آئینی حقوق وقانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ہم اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھیں تو اس کے مفید نتائج برآمد ہوں گے، اس لیے کہ سچ کو سچ کہنے میں کسی ملاوٹ کی ضرورت نہیں ہے اور کسی سچ کو جھوٹ بنانے کے لیے کافی ملاوٹ کرنی پڑتی ہے۔
س: گوانتا نامو بے قید خانے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کو منظر عام پر لانے کے پس پشت امریکہ کے کیا عزائم ہو سکتے ہیں؟ نیز عالم اسلام کو امریکہ کی اس نفسیات کا جواب کس انداز سے دینا چاہیے؟
ج: دیکھیے اگر آپ بغور مسائل کا جائزہ لیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ عالم اسلام میں حالیہ چند برسوں میں اس سے زیادہ سنگین واقعات رونما ہوئے۔ مثلاً ایک مثال سقوط کابل کی ہے۔ افغانستان پر حملہ کیا کم سنگین واقعہ ہے؟ آخر طالبان کا قصور کیا تھا؟ یہی نا کہ وہ ایک مثالی اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے کوشاں تھے اور اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ بغیر کسی تصادم وٹکراؤ کے وہ دنیا کے سامنے اسلام کی پرامن شبیہ پیش کر رہے تھے، لیکن طالبان کو ملیا میٹ اور نیست ونابود کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ انسانوں کا قتل ناحق کیا گیا۔ اسی طرح عراق کے معاملہ کو لیجیے۔ صدام حسین کی شخصیت پر بحث ایک جداگانہ بحث ہے، لیکن صدام حسین پر بھی مہلک ہتھیاروں کے رکھنے کا الزام ثابت نہیں ہوا اور آج تک عراق میں حالات پرامن نہیں ہیں۔ نیز معصوم عوام نشانے پر ہیں۔ تو یہ واقعات تو قرآن کی بے حرمتی سے بھی زیادہ بڑھ کر ہیں۔
قرآن کی بے حرمتی تو ہمیں مشتعل کرنے کے لیے ہے، اس لیے کہ جنھوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی، انھوں نے ہی اس واقعہ کو میڈیا میں پیش کیا اور اس کی تشہیر کی ہے۔ اس تشہیر کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جیل کی چار دیواری کے واقعہ کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ساری دنیا میں عام کرنے کے پس پشت مقصد یہی ہے کہ مسلمان سہل انگاری سے کام لیں، اس کے خلاف احتجاج کریں، دفاع میں اپنی توانائی خرچ کریں اور تعمیری کاموں کی طرف سے ان کی توجہ منعطف ہو جائے۔
قرآن پاک کی بے حرمتی پر مسلمانوں کے احتجاج کو بے جا تو نہیں کہا جا سکتا، یہ غیرت وحمیت کا تقاضا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو اقدام طاقت کے نشہ میں اٹھایا جاتا ہے، وہ طاقت ہی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ اگر عالم اسلام میں طاقت ہے تو وہ امریکہ کی اس مذموم حرکت کو طاقت سے روک دے۔ پھر وہ کبھی جرات وجسارت نہیں کرے گا قرآن پاک کی بے حرمتی جیسی ناپاک حرکت کی۔
جو لوگ قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، مذمتی قراردادیں پاس کر رہے ہیں تو اس سے امریکہ پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ اصل مسئلہ طاقت کا ہے۔ شعائر اسلام کو مٹانے، مدارس کو دہشت گرد قرار دینے، اسلامی نظام حکومت کو نیست ونابود کرنے، مسلم ممالک پر نظر بد رکھنے اور اس زمرہ کے جتنے اقدامات ہیں، انھیں روکنے کے لیے احتجاج کافی نہیں، طاقت کی ضرورت ہے۔ دنیا ’Might is right‘ کے اصول کو جانتی ہے۔
عالم اسلام جب تک مضبوط ومتحد نہیں ہوگا، اپنی طاقت وتوانائیوں کو مجتمع نہیں کرے گا، انتشار کو باہمی اتحاد سے نہیں بدلے گا اور جب تک امریکہ اور اس کی حلیف قوتوں کے سامنے خطرہ اور چیلنج بن کر نہیں آئے گا، عالم اسلام امریکہ کی مذموم حرکتوں اور اس کے ناپاک ارادوں کو روک نہیں سکتا۔ اصل مسئلہ ہے عالم اسلام کی غیرت ایمانی کا، ان کے اتحاد فکر وعمل کا۔ کیا وہ بدلہ لینے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں؟ تب ہی جا کر مسئلہ کا حل سامنے آئے گا۔
یہ مسئلہ ہے سارے عالم اسلام کا۔ ایک ایسی طاقت جو نشہ میں سرشار ہو کر ہماری قوتوں کو ضائع کرنے پر تلی ہوئی ہے، اس پر عالم اسلام غیر ت ایمانی کا ثبوت نہ دے۔ رہا احتجاج کا مسئلہ تو ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ایسے مسائل کھڑے ہی اس نیت سے کیے جاتے ہیں کہ مسلمان سڑک پر آ جائیں، احتجاجی مظاہرے کریں اور پھر انھیں بہانہ تراشنے میں آسانی ہو، نقض امن کے نام پر مسلمانوں پر زیادتی کریں، گولیاں برسائیں، عورتوں کی عصمت وناموس سے کھلواڑ کریں۔
امریکہ ایک طرف تو عالم اسلام کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً شوشے بھی چھوڑتا رہتا ہے۔ اس طرح ان کا استہزا وتضحیک بھی کرتا ہے۔
احیائی تحریکیں اور غلبہ اسلام
ڈاکٹر محمد امین
(لاہور میں ۶ جون ۲۰۰۵ کو منعقد ہونے والے، احیائی تحریکوں کے ایک اجتماع سے خطاب۔)
میں اس مجلس کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہاں مجھے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ کنوینر صاحب نے واضح کیا ہے کہ اس مجلس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں قیام نظام خلافت اور نفاذ اسلام کے لیے جو بہت سی جماعتیں کام کر رہی ہیں، ان کے اتحاد کے بارے میں غور کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں اتحاد کے موانع کیا ہیں اور ان موانع کا سدباب کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز ان میں اتحاد کے لیے موثر لائحہ عمل تجویز کیا جائے۔
اس مجلس میں مجھ سے پہلے مختلف احیائی تحریکوں کے مندوبین نے، جو بلاشبہ بہت سمجھ دار، پڑھے لکھے اور جہاں دیدہ افراد ہیں، اس وقت تک جو گفتگو کی ہے، وہ ایک خاص فکری دائرے کے اندر رہی ہے۔ میں چاہوں گا کہ آپ ذرا اس سے ہٹ کر بھی سوچیں۔ یوں میری باتیں آپ میں سے اکثر اصحاب کے لیے نامانوس اور اجنبی ہو سکتی ہیں اور آپ میں سے بعض اسے اختلافی بلکہ مخالفانہ بھی سمجھ سکتے ہیں ----- اور اس غیر متوقع صورت حال کے لیے میں آپ سے معذرت خواہ بھی ہوں ----- لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جب یہ غور وفکر کی مجلس ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس میں سب روٹین کی اور آپ کی من پسند باتیں ہوں، بلکہ اس میں ہر طرح کی تجاویز اور آرا سامنے آنی چاہییں اور طلب حق میں آپ کے اخلاص کا تقاضا ہے کہ آپ انھیں توجہ سے سنیں اور وزن دیں، جیسا کہ امام شافعی نے فرمایا ہے اور سچ فرمایا ہے کہ میں اپنی رائے کو صحیح سمجھتا ہوں اور مخالف کی رائے کو غلط سمجھتا ہوں، لیکن اپنی رائے میں غلطی کا اور مخالف کی رائے میں صحت کا امکان تسلیم کرتا ہوں (کیونکہ مجھ پر وحی نہیں اترتی اور نہ میں پیغمبر ہوں)۔
تو میری درخواست یہ ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے اپنے فکری دائرے سے باہر نکل کر اپنے بنیادی تھیسس اور طریقہ کار پر ذرا ازسرنو غور کریں۔ آپ لوگوں کے نزدیک دین کا نصب العین، مقصد اور کرنے کا بنیادی کام یہ ہے کہ معاشرے میں نظام خلافت قائم کیا جائے، دین نافذ کیا جائے اور اسی غرض سے آپ نے جماعتیں بنائی ہیں۔ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ دین ہم پر آج نازل نہیں ہوا کہ اس کے مفہوم اور نصب العین پر ہم ازسرنو غور کرنے بیٹھیں۔ یہ آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا تھا اور الحمد للہ کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے بلا انقطاع قائم ہے۔ ایک آدھ استثنا چھوڑ کر (جیسے ہم نے اندلس کو کھویا اور سسلی کو کھویا) الحمد للہ کہ مسلم معاشرہ پچھلے چودہ سو سال سے بلا انقطاع قائم ہے اور (ثم الحمد للہ) کہ بعض کمزوریوں کے باوجود بڑی حد تک اسلام پر ہی قائم رہا ہے۔ تو کیا ہمارے اسلاف نے، ہمارے علما وصلحا نے وہ کام کیا ہے جو آپ کرنے اٹھے ہیں؟ سعید بن مسیبؒ ، امام زہریؒ ، ابو حنیفہؒ ، شافعیؒ ، مالکؒ اور ابن حنبلؒ نے نفاذ اسلام کے لیے کون سی سیاسی جماعت قائم کی تھی؟ ابن حزمؒ ، ابن تیمیہؒ ، ابن کثیرؒ اور امام بخاریؒ ومسلمؒ نے کب قیام خلافت کے لیے جلسے کیے اور ریلیاں نکالی تھیں؟ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت حسین بن علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے تجربے کے بعد جمہور امت نے یہی طے کیا کہ مسلم معاشرے میں جمے ہوئے سیاسی نظام کی اکھاڑ پچھاڑ کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہے، لہٰذا اس نظام کے اندر رہتے ہوئے پر امن انداز سے اور انفرادی طور پر اس کی اصلاح کی کوششیں جاری رکھی جائیں اور ساتھ ساتھ باقی سارے شعبوں میں دینی کام جاری رکھے جائیں۔ یہ اجماع امت ہے، یہ جمہور علما کا مسلک ہے، یہ ساڑھے تیرہ سو سالہ قدیم اور مستحکم مسلم روایت ہے، اس سے صرف نظر روا نہیں۔ اور اس مسلک کی اساس کیا ہے؟ اس مسلک کی اساس یہ ہے کہ سیاسی اصلاح کا کام بلاشبہ اہم ہے، یہ دینی کام ہے لیکن یہ بہرحال بہت سے دینی کاموں میں سے ایک کام ہے۔ دیکھیے! دین کے چار بڑے شعبے ہیں: عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات، اور معاملات کی بھی بہت سی شاخیں ہیں جیسے مالی اور تجارتی امور، نکاح، طلاق اور وراثت، قانون فوج داری اور مدنی، عدالتی نظام، تعلیم وتدریس اور سیاسی امور وغیرہ۔ تو سیاسی نظام کی اصلاح نہ تو پورا دین ہے اور نہ دین کا بنیادی ترین کام ہے، بلکہ یہ دین کے چوتھے جزو کا ایک جزو ہے۔ بلاشبہ یہ بھی ایک دینی کام ہے اور اہم کام ہے، لیکن ہم اسے دسویں نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر نہیں لا سکتے، کیونکہ اس سے دین کا سارا نظام ترجیحات تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔
ہمارے اسلاف نے دین اور اس کی ترجیحات کو یوں سمجھا تھا کہ اصل چیز آخرت اور آخرت کی کامیابی اور اللہ کی خوشنودی اور رضا طلبی ہے اور دنیا، آخرت کے مقابلے میں حقیر تر ہے۔ پیغمبردنیا میں اس لیے تشریف لاتے ہیں کہ وہ تعلیم وتربیت سے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کریں۔ (۱) تاکہ لوگ دنیا کی زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں اور آخرت میں کامیاب رہیں۔ تو گویا دین کا آخری نصب العین اور غایت آخرت اور اس کی کامیابی ہے نہ کہ دنیا اور اس کی کامیابی اور اس میں قوت واقتدار کا حصول۔ اس دنیا میں اگر چند اشخاص کماحقہ مسلمان ہوں اور ساری دنیا ان کی مخالف ہو اور وہ دنیا کی ساری آسائشوں سے محروم، دکھوں اور تکلیفوں میں زندگی گزاریں، جہاں نہ نظام خلافت ہو اور نہ اس کے قیام کی کوئی صورت ہو، تو پھر بھی وہ کامیاب ہیں کیونکہ انھیں ان شاء اللہ آخرت میں کامیابی ملے گی۔ لیکن اگر کسی معاشرے کی اکثریت (۲) ایمان لاتی ہے اور مسلم ہونے کا اقرار کرتی ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنا نظم اجتماعی قائم کرے اور ایک منظم معاشرہ تشکیل دے، یعنی آج کی اصطلاح میں اپنی ریاست قائم کرے اور اس کی قوت حاکمہ ونافذہ کے ذریعے دین کے ان احکام پرعمل کرے جن کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے۔ اس چیز کو کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں ’خلافت‘ واجب ہے اور یہی وہ ’الجماعت‘ ہے جس سے وابستگی لازم ہے اور جس سے خروج نقیض ایمان ہے اور جس سے دوری، بجز کسی شدید اجتماعی دینی ضرورت کے، جائز نہیں کیونکہ اس کے بغیر فرد کے لیے اپنے دین کی حفاظت اور اس پر عمل خطرے میں پڑ جاتا ہے (لیکن اس حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ غلط فہمی سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ نفاذ دین کے لیے جماعت بنانی ضروری ہے تاکہ جب تک ’الجماعت‘ وجود میں نہ آئے، ان کی جماعت ’الجماعت‘ کی قائم مقام ہو یا اسے وجود میں لانے کا ذریعہ بنے۔ حالانکہ ’الجماعت‘ سے مراد مسلم معاشرہ اور ریاست ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ )
اسی طرح بعض لوگ خلافت کے مفہوم کو سمجھنے میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ کہا ہے۔ (۳) ان معنوں میں کہ وہ زمین میں اللہ کی طرف سے صاحب اختیار بنایا گیا ہے کہ حق وباطل میں سے جو راستہ چاہے، اختیار کرے اور اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے زمین میں جیسے چاہے، تصرف کرے، لیکن بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ’مسلمان‘ اللہ کے خلیفہ ہیں، حالانکہ قرآن نے مسلمانوں کو نہیں بلکہ انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا ہے (خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو)۔ ’خلافت‘ تو دراصل مسلمانوں کے سیاسی نظام کا نام ہے، یعنی مسلمان حاکم اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتا ہے۔ اب تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مسلم عہد کی ابتدا میں (خلفاء راشدین کے عہد میں) یہ سیاسی نظام صحیح خطوط پر کام کر رہا تھا جبکہ بعد کے ادوار میں یہ آمریت اور وراثتی نظام میں بدل گیا اور اس میں بہت سی خرابیوں نے راہ پا لی۔ اب اگر ہم آج عصر حاضر میں اسلام کے صحیح سیاسی نظام (یا نظام خلافت) کی بحالی چاہتے ہیں تو اس کے لیے ماضی کے نظام خلافت کی صوری ہیئت (Form) کا احیا اور پیروی ضروری نہیں بلکہ اس کی سیرت اور روح کو سامنے رکھنا ہوگا۔
ہمارے نزدیک نظام خلافت یا مسلمانوں کے سیاسی نظام کے چار بڑے اجزا ہیں: ۱۔ شریعت کا نفاذ، ۲۔ امت کا اتحاد، ۳۔ حکومت کا مسلمانوں کی رائے سے بننا اور ٹوٹنا، ۴۔ مسلمان معاشرے میں حریت، عدل، مساوات، شوریٰ وغیرہ جیسے اسلامی تصورات پر عمل اور ہر قسم کے ظلم وجور اور استبداد کا خاتمہ۔ تو ان بنیادی خصائص کا حامل جو سیاسی نظام بھی آپ کھڑا کریں گے، وہ اسلامی ہوگا خواہ اسے آپ ’خلافت‘ کہیں یا ’اسلامی نظام‘ یا ’نظام مصطفی’ یا کچھ اور۔
اس وقت سب مسلم ممالک کے حکمران مسلمان ہیں، لیکن انھوں نے اسلام کا صحیح سیاسی نظام قائم نہیں کیا، لہٰذا مسلمانوں کو پرامن طریقے سے ایسی جدوجہد کرنی چاہیے کہ ان حکمرانوں کے بجائے ایسے لوگ برسر اقتدار آئیں جو اسلام کا صحیح سیاسی نظم قائم کریں۔ سیاسی اصلاح کا یہ کام مسلمانوں کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ انھیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے۔ (۴) اگر وہ اس کے لیے کوشش کرتے ہیں تو گویا انھوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، خواہ موجودہ غلط سیاسی نظام بدلے یا نہ بدلے۔
خلافت کا جو ناقص اور برا بھلا نظام مسلمانوں میں چل رہا تھا، وہ خود ترکوں نے، مغربی تہذیب کے زیر اثر ۱۹۲۴ء میں ختم کر دیا۔ استعمار سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک میں اکثر ایسے مسلمان حکمران برسر اقتدار آئے جنھیں اسلام کے سیاسی نظام کی خبر تھی اور نہ وہ اس پر عمل کرنے کے خواہاں نظر آتے تھے۔ ان حالات میں دینی رہنماؤں نے اپنی جماعتیں بنا لیں اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ اس جدوجہد کے تین پہلو ایسے تھے جو اپنی نوعیت میں منفرد تھے اور ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی:
۱۔ یہ دینی رہنما خود اقتدار کے طالب اور حکمرانوں کے حریف بن کر سامنے آئے۔ (ماضی میں اصلاح کے طالب علما وزعما اصلاح کی کوشش کرتے تھے، لیکن خود اقتدار کے طالب نہ ہوتے تھے)۔
۲۔ ان دینی رہنماؤں نے اپنے اس کام کو محض سیاسی کام نہیں سمجھا، بلکہ اسے پورا دین قرار دیا اور دین کی ایسی تشریح وتعبیر کی جس سے یہ سیاسی کام اصل اور پورا دین ثابت ہو۔ (ماضی میں وہ درس وتدریس، فقہ وافتا، تزکیہ وتربیت، قضا وتجارت اور صنعت وحرفت کے کام کرتے تھے اور مسلم حکمرانوں کی اصلاح کو دوسرے دینی کاموں کے ساتھ ایک جزوی دینی کام سمجھتے تھے) یہی نہیں، بلکہ ان میں سے ہر جماعت نے دین کی اپنی تشریح وتعبیر کو دین کی واحد صحیح تعبیر قرار دیا۔ انھوں نے روایتی علما سے بھی مخاصمت کی راہ اپنائی۔ یوں مسلم معاشرے میں وہ مزید تقسیم کا سبب بن گئے اور اپنے مقاصد بھی حاصل نہ کر سکے۔
۳۔ دین کے سیاسی پہلو کے لیے جدوجہد کو پورا دین اور دین کا جامع تصور قرار دے کر ان دینی زعما نے جو موقف اپنایا، اس سے دین کے نصب العین اور اس کی ترجیحات کا نظام تلپٹ ہو گیا۔ مسلم معاشرے میں اور صحابہ واسلاف کے ہاں دین اسلام کی مرکزی روح ’آخرت‘ تھی اور تقویٰ، للہیت، اللہ کی محبت وخشیت، قناعت، بے غرضی اور زہد ان کا طریقہ کار تھا۔ وہ دنیا کو مزرعۃ الآخرۃ سمجھتے تھے اور اس سے محبت کو سارے معاصی کی جڑ سمجھتے تھے۔ اب جب دین کا ہدف اور نصب العین دنیا میں حصول اقتدار قرار پایا اور یہی ساری دینی جدوجہد کا حاصل ٹھہرا اور اس کے لیے دن رات غور وفکر اور جدوجہد کرنا مقصد زندگی بنا تو آخرت کی ترجیح اور اس کے مقتضیات غیر نمایاں اور ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔ یہ سب کچھ مغربی فکر وتہذیب سے غیر شعوری تاثر اور رد عمل کا نتیجہ تھا۔
مغربی فکر وفلسفے کا خلاصہ اور منتہا یہ ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی یہ زندگی ہے۔ جو کچھ کرنا ہے، یہیں کے لیے کرنا ہے۔ گویا ’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘۔ چنانچہ اہل مغرب نے دنیا کو سہولتوں اور آسائشوں کا گھر بنانے کے لیے دولت کی کثرت (نظام سرمایہ داری) مال ومتاع کی کثرت (ہر طرح کی صنعتیں اور ٹیکنالوجی) اور لذات کی کثرت (عورت ومرد کی بے لگام آزادی) کا اہتمام کیا۔ ا س فکر وفلسفے کے ساتھ مغرب چونکہ اپنے سیاسی، دفاعی اور مالی استحکام کی وجہ سے غالب وبرتر تھا، لہٰذا اس کے مقابلے میں مسلمانوں کو ابھارنے اور انھیں دنیا میں غلبے کی راہ دکھانے کے لیے ہمارے ان علما ومفکرین نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہمارا دین بھی ایک مکمل نظام زندگی ہے، یہ بھی ایک تحریک ہے، یہ بھی دنیا میں غلبے کی راہ دکھاتا ہے اور چونکہ مسلمان حکمران مغربی فکر ونظر سے مرعوب اور اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل نہ تھے، لہٰذا ان دینی زعما نے یہ موقف اختیار کیا کہ صرف ہم ہی یہ کام کر سکتے ہیں کہ اسلامی نظام زندگی غالب کر دکھائیں، لہٰذا اقتدار ہمیں اور ہماری جماعت کو ملنا چاہیے۔ پھر چونکہ یہ علما تھے، لہٰذا انھوں نے اپنے اس نقطہ نظر کے حق میں دین وشریعت سے دلائل تلاش کر لیے اور یوں دین کی ایک نئی تشریح، ایک نئی تعبیر اور ایک نیا نصب العین ہمارے سامنے آیا اور آخرت کو ترجیح اول بنانے والا، سیاست کو دین کے بے شمار اہم کاموں میں سے محض ایک کام سمجھنے والا اور اللہ کی ہمہ جہت بندگی کے لیے نفوس کی تعلیم وتزکیے کو اہمیت دینے والا، روایتی اور صحیح نقطہ نظر دبتا اور پسپا ہوتا چلا گیا۔ پھر جتنی جماعتیں اور جتنے لیڈر تھے، انھوں نے اس کام کے لیے جو لائحہ عمل بنایا، اسے کتاب وسنت سے دلائل فراہم کیے۔ یوں ہر جماعت کا تصور دین ایک منفرد دینی تعبیر بنتا گیا اور ہر فریق صرف اپنی دینی تعبیر ہی کو صحیح سمجھنے لگ گیا۔
میں نے یہ تفصیلی تجزیہ اس لیے کیا ہے کہ اس تجزیے سے آپ حضرات اپنے کام کی نوعیت اور حقیقت کو بھی سمجھ لیں اور آپ پر یہ بھی واضح ہو جائے کہ احیائی تحریکوں میں اتحاد کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے ہر تحریک یہ سمجھتی ہے کہ اس کی تعبیر دین ہی دین کی واحد صحیح تعبیر ہے۔ اس کا مطلب خود بخود یہ ہے (گو ان میں سے بعض مصلحتاً اس کا اعلان نہ کریں) کہ ان سے ہٹ کر سوچنے والے کافر، فاسق اور منافق یا کم از کم گمراہ اور غلط سوچ کے حامل اور غلط راہ پر چلنے والے ہیں۔ ان حالات میں ان میں اتحاد کیسے ہو سکتا ہے؟
ہماری طالب علمانہ رائے میں ان کے اتحاد کی فکری بنیاد صرف یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی دینی رائے کو دین کی واحد صحیح تعبیر سمجھنا چھوڑ دیں، بلکہ اسے دین کے بے شمار کاموں میں سے ایک کام اور محض سیاسی نظام کی اصلاح کا کام سمجھیں۔ اس سے ان کے دل میں دوسروں کے لیے وسعت اور گنجایش پیدا ہوگی اور وہ اسے ایک پراجیکٹ سمجھتے ہوئے مل جل کر کامیاب کرانے کا سوچ سکیں گے۔ جب وہ اس کام کو سیاسی کام سمجھنے لگیں گے تو پھر ان کو یہ سمجھنے میں بھی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ سیاسی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ نیز یہ کہ اس کے لیے دینی تصورات میں مکمل اتفاق کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے مسلم لیگ نے ایک سیاسی تحریک چلائی اور پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئی، کیونکہ اس میں دیوبندی بھی تھے، بریلوی بھی، اہل حدیث بھی تھے، اہل قرآن بھی، اہل سنت بھی تھے، اہل تشیع بھی (بلکہ اس میں قادیانی بھی تھے اور کمیونسٹ بھی) نتیجتاً ایک سیاسی ہدف پر سارے مسلمان مجتمع ہو گئے، لیکن اگر ایک سیاسی جماعت فرض کیجیے کہ دیوبندیوں پر مشتمل ہو اور وہ چاہے کہ وہ سارے ملک سے نشستیں جیت کر حکمران بن جائے تو یہ ممکن نہیں، کیونکہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے پاکستان کے سارے مسلمان دیوبندی ہو جائیں جو عقلاً محال ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے قیام خلافت یا نفاذ اسلام کے ہیرو بننا چاہتے ہیں، ان کا تدبر مشکوک ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک اخلاص بھی۔ (بلکہ ہمارے ایک رفیق کار تو طنزاً کہا کرتے ہیں کہ ان کی عقل یا تو ٹخنوں میں ہے یا پیٹ میں)۔
جہاں تک ان اہل دین کے مشترکہ سیاسی ایجنڈے کا تعلق ہے تو ہماری طالب علمانہ رائے میں اس میں کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہیں اور ان کے درمیان اتفاقی نکات ومفاہیم اتنے زیادہ ہیں کہ ان پر جمع ہونا ان کے لیے بہت آسان ہے، جبکہ ڈاکٹر سید عبد اللہ مرحوم (حامئ اردو واستاذ جامعہ پنجاب) کہا کرتے تھے کہ اگر میرا کسی کے ساتھ ایک فیصد اتفاق اور ۹۹ فیصد اختلاف ہو تو میں اس ایک فیصد میں اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہوں، لیکن اکثر دینی لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ باہم مل کر کام کرنے کے لیے گویا سو فیصد اتفاق ضروری ہے۔ تو ہم یہ عرض کر رہے تھے کہ مختلف دینی جماعتیں بڑی آسانی سے ایک مشترکہ سیاسی ایجنڈے پر مل کر کام کر سکتی ہیں، جس کے اہم نکات بطور مثال مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:
سیاست: اللہ کی حاکمیت، نفاذ شریعت، پاکستان کا استحکام، شورائیت۔
قانون: قرآن وسنت ماخذ قانون ہیں، عدالتی نظام سادہ، تیز رفتار اور مبنی بر اسلامی قانون ہونا چاہیے۔
معیشت: مہنگائی کا خاتمہ، سادگی، جاگیرداری وسرمایہ داری کا خاتمہ۔
معاشرت: امن وامان کا قیام، بے حیائی اور عریانی کے کلچر کا خاتمہ۔
تعلیم: ہر طرح کی دینی ودنیاوی تعلیم دینا، فرقہ واریت اور مغرب پرستی کا خاتمہ۔
خارجہ امور: مسلم ممالک سے قریبی تعلقات، امن عالم کا قیام، دشمنوں سے حذر، اتحاد امت وغیرہ۔
غرض زندگی کے جتنے بھی اہم شعبے ہیں اور ان میں جو امہات مسائل ہیں، ان کے حل پر ساری دینی جماعتوں کا اتفاق ہے اور اگر یہ ساری دینی جماعتیں اس طرح کے ایک سیاسی ایجنڈے پر متحد ہو جائیں تو وہ یقیناًکامیاب ہو کر برسر اقتدار آ سکتی ہیں اور معاشرے میں دین نافذ کر سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے جو اخلاص اور فراست درکار ہے، وہ بازار سے خریدی نہیں جا سکتی بلکہ دینی قیادت کو خود اپنے اندر پیدا کرنی ہوگی۔
اس وقت تک جو ہمارا مشاہدہ ہے، وہ یہ کہ ایک تو یہ اہل دین داخلی لحاظ سے مذکورہ بالا عوامل کی بنا پر متحد نہیں۔ دوسرے خارجی لحاظ سے مغربی طاقتیں ، ان کے ایجنٹ مقامی حکمران اور ان کی قائم کردہ خفیہ ایجنسیاں انھیں متحد نہیں ہونے دیتیں۔ وہ انھیں آپس میں لڑاتی رہتی ہیں تاکہ یہ سرمایہ دار، جاگیردار، فوجی اور سول افسران، جو ان عالمی طاقتوں کے گماشتے ہیں، آرام سے حکومت کرتے رہیں اور مولانا صاحبان یا تو مدرسے چلاتے رہیں یا ان میں سے ہر ایک اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد (الگ دینی سیاسی جماعت) بنا کر اپنی لیڈری کا سکہ جماتا رہے اور اسلامی خلافت اور اسلامی انقلاب کے خواب (اگر مخلص وسادہ لوح ہے) تو دیکھتا اور دکھاتا رہے اور (اگر ہشیار وعیار ہے تو) بیچتا رہے (کہ یہ ایک عمدہ کاروبار ہے جس میں جاہ ومنصب بھی ہے، عزت ووقار بھی ہے اور دولت کی ریل پیل بھی ہے) فاعتبروا یا اولی الابصار۔
دینی حوالے سے سیاسی کام کرنے والوں کو ایک اور نقطہ پر بھی غور کرنا چاہیے اور یہ وہی بات ہے جس کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے کہ امت پچھلے ساڑھے ۱۳ سو سال سے اس کی عادی نہیں رہی کہ اہل دین، اہل سیاست کے حریف بن کر ان کے مد مقابل آ جائیں اور عوام کی طاقت سے فتح یاب ہونا چاہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہل دین کا احترام تو کرتی ہے لیکن انھیں ووٹ نہیں دیتی، ان کی سیاسی حمایت نہیں کرتی۔ اس کا ایک عارضی حل یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے مرحلے میں اہل دین خود براہ راست انتخاب میں حصہ نہ لیں، بلکہ ایک مضبوط پریشر گروپ بنا کر کسی ہم خیال سیاسی جماعت کی حمایت کریں اور اسے کامیاب کرا کر جہاں تک ہو سکے، زیادہ سے زیادہ دینی مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جہاں تک ان احیائی تحریکوں کا بزور قوت حکومت پر قبضے کا تعلق ہے تو ہمارے زمانے میں ریاست کو فوج، پولیس اور جدید ترین اسلحے کی وجہ سے جو قوت قاہرہ حاصل ہے اور مسلم حکمرانوں کو دینی تحریکوں کے مقابلے کے لیے مغرب کی جو سرپرستی حاصل ہے، اس کے پیش نظر ان دینی قوتوں کے بزور قوت غلبے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے جمے ہوئے سیاسی نظام کو بزور بازو اکھاڑنے کی غیر موثر کوششوں سے جان ومال کی خواہ مخواہ کی قربانی اور سیاسی عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا، لہٰذا جمہور امت کی رائے اور مستحکم مسلم روایت پر ہی عمل کرنا چاہیے اور سیاسی تبدیلی کے لیے تشدد سے باز رہنا چاہیے۔ یہ کام آج اگر ہو سکتا ہے تو عوام کی قوت وطاقت ہی سے ہو سکتا ہے۔ مسلمان عوام کی حمایت اگر میسر آ جائے تو ضروری نہیں کہ اس کے لیے الیکشن ہی کا طریقہ اختیار کیا جائے، بلکہ دوسرے طریقوں پر بھی غور اور عمل کیا جا سکتا ہے۔
حاضرین گرامی قدر! آپ نے جو موضوع تجویز کیا تھا، اس کا تجزیہ وتحلیل اور آپ کے ممکنہ اتحاد کے اصول اور لائحہ عمل کے بارے میں اپنی گزارشات میں نے پیش کر دی ہیں اور آپ سے توقع ہے کہ آپ ان پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔ تاہم گفتگو کو سمیٹنے سے پہلے ایک ضروری بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر آپ اس بات کے قائل ہو جائیں کہ انقلاب امامت اور قیام خلافت کا کام کل دین نہیں بلکہ بے شمار دینی کاموں میں سے ایک کام یا محض سیاسی کام ہے (اگرچہ یہ ایک اہم کام ہے اور ضرور کیا جانا چاہیے) اور اس کے باہر بھی دین کے بڑے بڑے کام پڑ ے ہیں جو کیے جانے کے مستحق ہیں، تو ہم یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ ہمارے نزدیک دیگر دینی کاموں میں سے پہلی ترجیح مسلمان عوام کی تعلیم وتزکیے کے کام کو حاصل ہے۔ یہ وہ کام ہے جس سے شخصیت بنتی ہے، یہ تطہیر فکر اور تعمیر سیرت کا کام ہے، یہ انسان سازی کا کام ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے موجودہ ناقص تعلیمی منہاج کو بدلیں۔ میری طالب علمانہ رائے میں ہمارا دینی نظام تعلیم بھی ایک بڑے اصلاحی پیکج کا متقاضی ہے اور دنیوی نظام تعلیم بھی، بلکہ ان دونوں نظاموں کا الگ الگ ہونا خود ایک بنیادی مرض اور مصیبت ہے جس کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔
ان دونوں نظام ہائے تعلیم میں کن اصلاحات کی ضرورت ہے؟ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر اس محدود وقت میں تفصیلی گفتگو ممکن نہیں، تاہم میں اس بات کی طرف اشارہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ’تعلیم وتزکیے‘ کے قرآنی حکم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمارا نظام تعلیم صرف علم اور معلومات کی منتقلی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اقدار کی منتقلی کا ذریعہ بھی بننا چاہیے، یعنی صرف تطہیر فکر نہیں، بلکہ تعمیر سیرت وکردار کو بھی تعلیم کا جزو لاینفک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایسی شخصیت وجود میں آ سکے جو اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی پر راغب وقادر ہو۔ لہٰذا ہمارے تعلیم وتزکیے کے منہاج کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ یہی ایسے افراد تیار کر سکتی ہے جو باصلاحیت، باکردار اور دین دار ہوں۔ ایسے افراد تیار ہوں گے تو صحیح مسلم معاشرہ وجود میں آئے گا۔ دنیا میں بھی عزت ووقار اور کامیابی ہمارا مقدر ٹھہرے گی (ان شاء اللہ) اور آخرت میں بھی، اور اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ ہمارا دینی طبقہ صحیح تعلیم وتزکیے کا یہ کام اگر مستقل مزاجی، دل جمعی اور پوری قوت ولگن سے کرتا رہے تو اس کے مثبت وخوش گوار اثرات لازماً دینی سیاسی جدوجہد پر بھی پڑیں گے اور اسے کام یاب کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے نظام تعلیم وتربیت کے منہاج میں مذکورہ تبدیلی لانے کا کام پرائیویٹ سیکٹر میں خوش اسلوبی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے اگر حکومت تیار نہ ہو یا ساتھ نہ دے تو بھی اس ملک میں ہزاروں دینی مدارس، لاکھوں اسکول اور بیسیوں کالج اور یونیورسٹیاں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہی ہیں جو یہ تبدیلی لا سکتی ہیں، بشرطیکہ اہل دین اس کام کی اہمیت وضرورت کو سمجھیں اور اس پر اپنی توانائیاں، وقت اور صلاحیتیں صرف کرنے کو تیار ہوں۔
آخر میں ایک بار پھر آپ حضرات سے معذرت کہ آپ کو اپنی روٹین، مزاج اور مانوس نظریات سے ہٹ کر یہ باتیں سننا پڑیں، لیکن توقع ہے کہ آپ ان گزارشات پر کھلے اور ٹھنڈے دماغ سے غور کریں گے اور ممکن ہے یہ باتیں جو آج آپ کو اجنبی اور نامانوس لگ رہی ہیں، کل کو معقول اور مانوس لگنے لگیں۔ اس سلسلے میں اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال یا استفسار ہو تو مجھے اس کا جواب دے کر خوشی ہوگی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
عوامی مفاد کے لیے قبرستان اور مسجد کی جگہ کا استعمال
قاضی محمد رویس خان ایوبی
میر پور میں بطور ضلع مفتی فرائض کی انجام دہی کے چودہ سالہ عرصہ میں بہت سے مسائل سامنے آئے جن پر راقم نے وقتاً فوقتاً شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوابات دے کر اور شرعی فتاویٰ جاری کر کے فقہاء اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ ان مسائل میں ٹیلی فون پر نکاح وطلاق کی شرعی حیثیت، سرکاری زمینوں پر بغیر اجازت مسجد کی تعمیر، کفار کی عدالتوں کے فیصلہ ہائے تنسیخ نکاح کی شرعی حیثیت، مقدمات زنا میں شرعی ثبوت دست یاب نہ ہونے پر ملزمان کے خلاف کارروائی، حدود آرڈیننس کی خامیاں اور خوبیاں اور دیگر بے شمار انفرادی واجتماعی مسائل زیر بحث آئے۔ ان سطور میں جس موضوع پر ہم گفتگو کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ کیا قبرستان یا مسجد کو عوامی مفاد کی خاطر کسی مصرف میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسانوں اور شہروں کے احوال مختلف اوقات اور ادوار میں بدلتے رہتے ہیں۔ کہیں آبادی بڑھتی ہے اور کہیں جزیروں کے جزیرے آفات سماویہ اور جنگوں سے برباد ہو جاتے ہیں۔ سابقہ ادوار اور آج کے حالات میں جو فرق ہے، اس کے مختلف مظاہر میں کثرت آبادی، جدید ضروریات، شہروں کی تعمیر وتزئین، سڑکوں کی تعمیر، تجارتی مراکز، ہوائے اڈے اور ریلوے اسٹیشن وغیرہ شامل ہیں۔ ماضی میں لوگوں کی مالی حالت نہایت کمزور تھی۔ زمینداری پر گزارا کرنے والے لوگ، محنت کش لوہار، مستری، ترکھان اور حجام چند روپے کماتے اور اپنے ضروری اخراجات پورے کرتے تھے۔ دیہات میں لوگوں کی اپنی زمینیں ہوتی تھیں۔ اگر کوئی شخص فوت ہو جاتا تو اسے اسی کی موروثی زمین میں قبر کھود کر دفن کر دیا جاتا۔ چند سال پیشتر بلکہ اب بھی بہت سے ایسے دیہات اور قصبے موجود ہیں جہاں لوگ اپنے گھروں کے قریب اپنی زمینوں میں قبریں بنایا کرتے تھے۔ ایک ایک گاؤں میں مختلف برادریوں کے مختلف قبرستان بنتے چلے گئے۔ شہروں کی وسعت پذیری، نئی کالونیوں، چھاؤنیوں، ایئر پورٹس اور خشک گودیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی وجہ سے بہت سے قبرستان بھی ان نقشوں کی زد میں آ گئے جہاں درج بالا تعمیرات کی جانی تھیں۔
اسی طرح ہر گاؤں میں اپنی اپنی مسجد تعمیر کر لی جاتی تھی۔ چھوٹے سے گاؤں میں ہر برادری کا اپنا اپنا قبرستان ہوتا تھا اور اپنی اپنی مسجد۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی اور سڑکیں تعمیر ہوتی گئیں، قبرستان بغیر کسی فاصلے کے عین محلے کے درمیان میں آ گئے۔ کئی گاؤں اجڑ گئے تو مسجدیں ویران ہو گئیں۔ لوگوں کی نقل مکانی کی وجہ سے اب ان میں نماز پڑھنے والا کوئی نہ رہا۔ پاکستان سے لوگوں نے مشرق وسطیٰ اور یورپ منتقل ہونا شروع کیا تو بہتر حالات کار اور اچھی آمدنی کی وجہ سے شہری سہولیات، مین سیوریج، ریلوے لائن، ہوائی اڈوں اور نئے شہروں کی تعمیرات نے زمانے کو انقلاب سے روشناس کرا دیا۔
آج نئے نئے شہر آباد ہو رہے ہیں۔ ان شہروں میں ہوائی اڈے، سڑکیں، شاپنگ سنٹرز، سکولز، کالجز، یونیورسٹیاں اور دانش گاہیں بن رہی ہیں۔ ان تیز رفتار ترقیاتی پروگراموں کی تکمیل کے لیے بعض اوقات مساجد اور قبرستان بھی زد میں آ جاتے ہیں۔ تو کیا ان ترقیاتی پروگراموں کو رو بہ عمل لانے کے لیے اشد ضرورت کے تحت جہاں کوئی متبادل حل ممکن نہ ہو، مساجد کو شہید کیا جا سکتا ہے؟ کیا قبرستان کو ہائی وے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی مجھ سے بہت سے اجتماعات میں کیا گیا۔ اسی سوال کا جواب ہم زیر نظر سطور میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں تلاش کریں گے۔
مسجدیں روئے زمین پر وہ مقدس مقامات ہیں جن کا احترام اور ادب کرنا ہر مسلمان کے لیے واجبات دینیہ میں سے ہے، کیونکہ یہ اللہ کے گھر ’کعبۃ اللہ‘ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں خالق کائنات کا نام بلند کیا جاتا ہے، جہاں سے وہ صدائے دل نواز گونجتی ہے جو خداوند عالم کی کبریائی اور عظمت کا گیت بن کر فضا میں وحدانیت کی مہک پھیلاتی ہے، جہاں پانچ وقت اللہ کے نیک بندے اپنی جبینوں سے رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر سجدے بجا لاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’روئے زمین پر سب سے مقدس مقام مسجدیں ہیں اور بدترین مقامات بازار۔‘‘ لہٰذا مساجد کی حفاظت اور ان کا احترام وادب ہر حال میں واجب ہے، لیکن اگر شہروں کی جدید خطوط پر منصوبہ بندی کے نتیجے میں سڑکوں کی توسیع یا ایئر پورٹس کی تعمیر کے نقشوں میں تعمیر شدہ مسجد حائل ہو جائے اور کوئی متبادل راستہ نہ ہو تو ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا پبلک مفاد کی خاطر مسجد کو منہدم کر کے دوسری جگہ متبادل مسجد بنائی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں خیر القرون سے استفادہ کرنا ہوگا کہ وہی دور ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والے ہر ذی شعور اور صاحب بصیرت عالم دین کو معلوم ہے کہ مصالح عامہ کی خاطر یتیموں اور بیواؤں کی جائیداد اور اوقاف کی جائیدادوں کو پبلک کے مفاد میں معاوضہ طے کر کے اور اس کی ادائیگی کر کے انھیں یا تو منہدم کر دیا گیا یا اسی معاوضہ کے تحت کسی دوسری جگہ ان کی متبادل حکومت وقت نے تعمیر کرا دیں، کیونکہ بڑی مصلحت کے لیے چھوٹے اور محدود مفاد کو ترک کرنا یا تبدیل کرنا جائز ہے۔ اصل مقصد تو پبلک کو سہولت فراہم کرنا ہے، خواہ وہ مکان عبادت کے حوالے سے ہو یا دیگر تعمیرات کے حوالے سے۔ کیونکہ مساجد اور مقابر بھی پبلک کے عمومی مفاد کے لیے ہیں اور سڑکوں کی تعمیر بھی مفاد عامہ کے لیے ہے۔ خلفائے راشدین کے دور کا، جو ہمارے لیے احکام شرعیہ کا مثالی دور ہے، جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ہدایت کے ستاروں نے مفاد عامہ کے لیے جو فیصلے کیے، وہ دور حاضر کے مسائل کے لیے مشعل راہ ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص نے امیر المومنین عمر بن خطاب کو خط لکھا کہ کوفہ میں سرکاری خزانے میں چوروں نے نقب زنی کر کے بھاری رقم چرا لی ہے اور سرکاری خزانہ بازار میں واقع ہے جہاں ہمیشہ چوری کا خطرہ رہتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد کو حکم دیا کہ بازار کا کچھ حصہ گرا کر وہاں مسجد تعمیر کر دی جائے اور جہاں اس وقت مسجد قائم ہے، اس کو گرا کر سرکاری خزانہ کے لیے عمارت تعمیر کر دی جائے۔ (طبری) اس طرح مفاد سرکار کے لیے مسجد کو شہید کر کے وہاں خزانہ قائم کر دیا گیا اور بازار کا کچھ حصہ گرا کر وہاں مسجد تعمیر کر دی گئی۔ اس دور میں بے شمار صحابہ کرام موجود تھے، مگر کسی نے حضرت عمر کے اس اقدام کی مخالفت نہیں کی۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسائل ماردینیہ میں فرمایا ہے کہ حضرت عمر نے کوفہ کی قدیم مسجد کو بازار میں تبدیل کر دیا اور بازار کی جگہ نئی اور بڑی مسجد تعمیر فرما دی، لہٰذا اگر مفاد عامہ کا تقاضا ہو کہ سڑکیں کشادہ کی جائیں، نئے دار الحکومت تعمیر کیے جائیں اور قدیم مسجدیں گرا کر ان کی جگہ متبادل نئی مسجدیں جدید نقشوں کے مطابق بنائی جائیں تو ایسا کرنا نہ صرف درست ہے، بلکہ مقاصد شریعت کی منشا کے مطابق ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
ان ابدال المسجد لمصلحۃ راجحۃ مثل ان یبدل بخیر منہ او یبنی بدلہ مسجد آخر اصلح منہ لاہل البلد (فتاویٰ ابن تیمیہ)
عوامی مفاد کی خاطر مسجد کو گرا کر اس کے بدلے میں دوسری جگہ پہلی مسجد سے زیادہ وسیع اور گھروں کے قریب تر مسجد بنانا، جہاں عوام کو زیادہ فائدہ ہو، جائز ہے۔
اسلام آباد کی تعمیر کے وقت جی ٹی روڈ کی توسیع کے دوران میں گوجر خان کی ایک بڑی جامع مسجد سڑک میں آ گئی جسے شہید کر دیا گیا اور اس کی جگہ حکومت نے معاوضہ دے کر نئی جگہ مسجد تعمیر کرا دی۔ سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کی تعمیر کے وقت بھی بہت سی مساجد سڑکوں کی زد میں آ گئیں۔ حکومت سعودیہ نے پرانی مسجدوں کی جگہ جدید ڈیزائن کے مطابق لاکھوں ریال صرف کر کے نئی مسجدیں تعمیر کروائیں۔ مسجد نبوی کی توسیع میں کئی مساجد زد میں آئیں اور انھیں شہید کر کے مسجد نبوی میں توسیع کر کے وضو خانے اور وسیع وعریض فرش بچھائے گئے تاکہ زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جگہ کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح بحرین، قطر، منامہ، کویت، ڈھاکہ اور دیگر کئی اسلامی ملکوں میں کیا گیا، مگر کسی جید عالم دین نے اس عمل کو خلاف شریعت نہیں کہا۔ راول پنڈی میں نئی جیل تعمیر کی گئی۔ راقم الحروف خود پرانی جیل میں قیدی رہا ہے۔ وہاں بھی جیل کے اندر ایک خوب صورت مسجد تھی۔ اب نہ وہ جیل ہے اور نہ مسجد، کیونکہ جیل اڈیالہ منتقل ہو گئی ہے اور پرانی جیل کو دیگر اغراض کے لیے مختص کر کے اسے مسمار کیا جا رہا ہے۔ منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، راول ڈیم اور وارسک ڈیم کی تعمیر کے وقت سیکڑوں مسجدیں ڈیم کے نقشے میں آئیں۔ تعمیر مکمل ہونے پر جب پانی ذخیرہ کیا جانے لگا تو تمام مساجد اور قبرستان پانی میں آ گئے اور اب ان کا نشان تک باقی نہیں، اس لیے کہ ذخیرہ آب بڑی قومی ضرورت تھی۔ جو لوگ ان ڈیموں کی وجہ سے بے گھر ہوئے، انھیں جہاں آباد کیا گیا، وہاں گورنمنٹ نے سرکاری خرچ پر مسجدیں تعمیر کر کے دیں اور قبرستان کے لیے مفت زمین الاٹ کی گئی۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کیا گیا تو سینکڑوں مساجد اور مقابر اس کی زد میں آئیں گی، لیکن چونکہ پانی کی ضرورت پاکستان کے اجتماعی مفاد سے وابستہ ہے لہٰذا نسبتاً چھوٹے مفادات کو اس عظیم مفاد کی خاطر قربان کرنا عین تقاضائے شریعت ہے۔
اب دوسرے نکتے کی طرف آئیے کہ کیا قبرستان بھی مصلحت عامہ کے تحت مسمار کر کے سڑکوں یا دیگر پبلک مفاد کی تعمیرات کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں اس موضوع پر کیا راہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم نے جب مکہ سے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی تو مدینہ منورہ میں ایک مقام پر پہنچ کر آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اس جگہ کو اللہ تعالیٰ نے مسجد کے لیے منتخب فرما لیا ہے۔ یہ جگہ سہل اور سہیل نامی دو بچوں کی ملکیت تھی اور یہاں مشرکین کی کچھ قبریں اور کچھ کھجوروں کے درخت تھے۔ حضور ﷺ نے سہل اور سہیل کو معاوضے کی پیش کش کی جس کے جواب میں انھوں نے یہ ارادہ کیا کہ کوئی معاوضہ لیے بغیر یہ جگہ مسجد کے لیے ہبہ کر دیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کا معاوضہ ادا کر کے یہ جگہ ان سے خرید لی۔ حضور ﷺ نے درخت کٹوا دیے، قبریں مسمار کروا دیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائی جسے اب مسجد نبوی کہا جاتا ہے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان کو مسمار کیے بغیر مسجد کی تعمیر ممکن نہ ہو یا مسجد کو وسعت نہ دی جا سکتی ہو تو قبرستان کو مسمار کیا جا سکتا ہے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ یہ مشرکین کی قبریں تھیں، اس لیے مسمار کی گئیں، تو میرے خیال میں یہ بات درست نہیں اس لیے کہ اگر مشرکین کی قبریں ان کے شرک کی وجہ سے مسمار کی گئیں تو مکہ میں مقبرۃ المعلی میں ہزاروں مشرکین دفن تھے، حضور ﷺ فتح مکہ کے بعد اس قبرستان کو بھی مسمار فرما دیتے۔ بلا ضرورت عامہ غیر مسلموں کے قبرستانوں، عبادت خانوں کو اسلام نے منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی کفار کی قبروں کو تباہ کرنا ثواب کا کام ہے۔ البتہ مصلحت عامہ کے تحت نہ صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمانوں کے قبرستان کو بھی مفاد عامہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اہل مدینہ کی آبی ضروریات کے لیے ایک حوض بنایا گیا۔ اس جگہ شہدائے احد دفن تھے، مگر جب حوض کا منصوبہ بنایا گیا تو شہدا کی قبروں سے لاشیں نکال کر دوسری جگہ دفن کی گئیں۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ شہدا کے جسموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ پبلک مفاد کے منصوبے کی خاطر قبرستان کو استعمال کرنا جائز ہے۔ اہل سنت کے ائمہ اربعہ اس امر پر متفق ہیں کہ اگر میت کا کفن درست کرنا مقصود ہو یا قبر میں پانی داخل ہو رہا ہو یا کسی جگہ سے دیوار سرک گئی ہو اور مردہ نظر آ رہا ہو یا کسی اور بہتر مقام پر تدفین مقصود ہو تو ان حالات میں ضرورت کے تحت قبر سے لاش کو نکالنا اور اس گڑھے کو پر کر کے اس پر تعمیرات کرنا جائز ہے، چاہے وہ سڑک کی صورت میں ہو یا مسجد یا رفاہ عامہ کی کوئی اور تعمیر۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد شہداء احد میں پہلے شہید ہیں، انھیں شہادت کے بعد ایک اور شخص کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کر دیا گیا تھا۔ بعد ازں میں نے اپنے والد کو وہاں سے نکال کر علیحدہ قبر میں دفن کیا۔ میں نے چھ ماہ کے بعد اپنے والد کی لاش قبر سے نکالی۔ وہ بالکل تر وتازہ تھے، صرف ان کا کان علیحدہ ہو گیا تھا۔ اس واقعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے تحت لاش کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے۔ تاہم اس طرح کے واقعات قبر سے لاش نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے سے متعلق ہیں، لیکن اگر کہیں کسی قومی منصوبے کے تحت ایسا قبرستان زد میں آ جائے جس کوقائم ہوئے اتنی مدت گزر چکی ہو کہ ہڈیاں مٹی میں مل کر مٹی ہو گئی ہوں، تو ایسے قبرستان کو دوبارہ انسانی آبادی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہاں مکانات، دوکانیں، سکول، کالج اور مساجد بنائی جا سکتی ہیں۔ اس طرح کے قبرستان کے لیے مدت قدامت تقریباً سو سال مقرر کی گئی ہے، لیکن یہ حد بھی کوئی حتمی اور یقینی نہیں کیونکہ ہر علاقے میں ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے اور گلنے سڑنے کا عمل وہاں کے موسمی حالات پر منحصر ہے۔ یورپ، امریکہ کی بعض ریاستوں، کشمیر، روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں میں شدید سردی پڑتی ہے اور برفانی موسم کی وجہ سے کئی کئی سال تک لاشیں موجود اور محفوظ رہتی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ، امریکہ کی بعض ریاستوں، پاکستان میں پنجاب اور بلوچستان میں سبی، تھرپارکر کا علاقہ شدید ترین گرم علاقہ ہے۔ اسی طرح افریقہ میں بعض علاقے شدید گرم ہیں جہاں گلنے سڑنے کا عمل تیزی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔
اسلام نے دوبارہ آبادی کے نقطہ نظر سے ہی قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کیا ہے، لہٰذا اصل میں یہ دیکھا جائے گا کہ جس منصوبے کی تکمیل کی خاطر قبرستان کو منہدم کیا جا رہا ہے، اس کی اہمیت اور ضرورت کس حد تک ہے اور وہ منصوبہ کہاں تک ملکی اور قومی مفاد میں ہے۔ یہاں ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ قبرستان تو وقف ہے اور میت سے اجازت لینا ناممکن ہے اور بلا اجازت اس زمین میں تصرف کس طرح جائز ہوگا؟ اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ ریاست کی انتظامیہ شرعاً ہر اس کام کا اختیار رکھتی ہے جو عوامی مفاد میں ہو اور ہر اس شخص کے مال میں تصرف کا اختیار حکومت وقت کو حاصل ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اوقاف کا کنٹرول حکومت کا حق ہے۔ قبرستان بھی چونکہ اراضی موقوفہ پر بنائے جاتے ہیں، اس لیے اس امر پر بھی حکومت کو ہی تصرف کاحق حاصل ہے۔ جیسے انفرادی ملکیت کو بوقت ضرورت مفاد سرکار میں حکومت ، مالک کی رضامندی کے بغیر ادائیگی معاوضہ کے بعد حاصل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، اسی طرح حکومت وقت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مفاد عامہ کی خاطر قبرستان کو سڑک کے منصوبے میں شامل کر دے یا ایئر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن کے نقشے میں آنے والے قبرستان کو اس وقت مسمار کر دے جبکہ اس کا کوئی متبادل حل نہ ہو کیونکہ سڑکوں کی توسیع نہیں ہوگی تو ٹریفک میں خلل پڑے گا، حادثات کاخطرہ بڑھے گا جو کہ عوام کے لیے ضرر کا باعث ہوگا لہٰذا بڑے ضرر کو دور کرنے کے لیے چھوٹا نقصان جائز ہے۔
فقہا ے اسلام نے اس ضمن میں ایک نہایت اہم قانونی مسئلہ پر اظہار خیال فرمایا ہے جسے ’تترس بالمسلمین‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار دوران جنگ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو ڈھال بنا کر مسلم افواج پر حملے کریں یا مسجدوں کو مورچے کے طور پر استعمال کریں تو ان حالات میں کیا مسلمان افواج ان مسلمان مردوں اور عورتوں کو جنھیں کفار نے ڈھال بنا رکھا ہے، بمباری، گولہ باری یا کسی اور ذریعے سے ہلاک کر سکتی ہے جس سے دشمن کی یہ دیوار گر جائے ور اس پر براہ راست حملہ کیا جا سکے؟ یا کیا ایسی مسجد، مندر، سینی گاگ یا چرچ کو منہدم کیا جا سکتا ہے جسے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو؟ تمام فقہاے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ حملہ کرنے سے پہلے ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ ان مظلوم مسلمانوں کو یا دیگر مذاہب کے عبادت گزاروں کو بغیر نقصان پہنچائے سامنے سے ہٹا دیا جائے یا عبادت خانے دشمن سے کسی طریقے سے خالی کروا لیے جائیں، لیکن اگر سوائے بمباری، فائرنگ، گولہ باری یا آگ لگانے کے اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہ گیا ہو تو حالت اضطرار میں اس ڈھال کو ختم کرنے کے لیے کفار پر حملہ کی نیت سے بمباری کی جائے، یا فائرنگ اور آتش باری کی جائے اور اس طرح اگر اس دوران میں وہ مظلوم مسلمان مرد وزن مارے جائیں تو مسلمان افواج گناہ گار نہ ہوں گی اور نشانہ بننے والے مسلمان شہید ہوں گے، کیونکہ مصلحت عامہ اور ملک ووطن کو بچانے کی خاطر چند سو افراد کا شہید ہو جانا اس نقصان سے بہرحال کم ہے جو وطن پر قبضے اور اسلامی ریاست کی شکست کی صورت میں ہو سکتا ہے۔
اسی قبیل سے یہ مسئلہ بھی متفق علیہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم دشمن ریاست کی جاسوسی کر رہا ہو اور اسے قتل کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسے مسلمان کو موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے، تاہم جاسوسی کرنے والا شہید نہ ہوگا۔ ماضی قریب میںیکم محرم ۱۴۰۱ھ کو خانہ کعبہ پر جیہمانی گروپ کے قبضہ کے بعد علما نے ان کے قبضے سے حرم شریف کو واگزار کرانے کے لیے قابضین پر حملہ کرنے کی اجازت کا فتویٰ جاری کیا جس کے نتیجے میں حرم شریف کے میناروں پر گولہ باری کی گئی۔ حرم مکی کے تہہ خانے میں مسلسل ۱۶ دن تک باغیوں اور سعودی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا اور بالآخر ۱۶ دن کے بعد حرم شریف کو واگزار کرالیا گیا۔ اسی طرح سکھوں کے عظیم معبد گولڈن ٹمپل پر گولہ باری کی گئی کیونکہ حکومت ہند کے بقول سکھوں کے گولڈن ٹمپل کو ریاست کے خلاف جنگی مقاصدکا اڈہ بنا لیا گیا تھا۔
قومی مفاد میں قبرستان کو مسمار کرنے کی شرعی نوعیت واضح کرنے کے بعد اس ضمن میں بعض متعلقہ سوالات پر روشنی ڈالنا بھی یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ مردوں کے اجسام کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا قبرستان کو بلڈوز کر کے میدان بنا دیا جائے یا ہڈیوں اور لاشوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے؟ شریعت اسلامیہ کا قاعدہ ہے کہ اہون البلیتین ، دو نقصانوں میں سے جو کم نقصان والا عمل ہو، اسے اختیار کیا جائے تاکہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ مثلاً حالت اضطرار میں اگر ایک طرف سور کا گوشت ہوا ور دوسری طرف بھیڑیے یا ریچھ کا گوشت ہو تو سور کو چھوڑ دیا جائے اور بھیڑیے کا گوشت استعمال کر لیا جائے۔ یہ بات ہر ذی شعور انسان کو معلوم ہے کہ قبروں سے مردوں کو نکالنا، ہڈیاں اکٹھی کرنا یا گلی سڑی لاشوں کو نکالنا فطرت سلیمہ اور نفیس الطبع افراد کے لیے کافی مشکل ہے، لیکن قبروں کو برابر کر دینا اور ان کی بالائی سطح کو کام میں لانا نہ صرف میت کی پردہ پوشی کا سبب ہے بلکہ اس کی حرمت اور توقیر کے منافی بھی نہیں اور نسبتاً محفوظ راستہ ہے۔ اس لیے اگر قبروں سے ہڈیاں ادھر ادھر منتقل کرنے کے بجائے انھیں ہموار کر دیا جائے اور پھر ان پر منصوبے کے مطابق روڈز یا ایئر پورٹس یا ریلوے لائن یا ڈیم تعمیر کر دیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ اس طرح قبروں کی بے حرمتی بھی نہیں ہوگی اور میت اور زندہ آبادی کے مقاصد بھی پورے ہو جائیں گے۔ البتہ قبروں کی موجودگی میں ان پر بیٹھنا، تکیہ لگانا اور ان پر چلنا منع ہے۔ اس طرح قبور کی توہین ہوتی ہے اور اس سے حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ لیکن جب قبریں مٹ جائیں یا مفاد عامہ کے کسی منصوبے میں آ جائیں تو ان پر کی جانے والی تعمیرات توہین کے زمرے میں نہیں آتیں کیونکہ نشانات مٹ جانے سے احکام بدل جاتے ہیں، جیسے قرآن کریم کے اوراق دریا میں یا سمندر میں بہا دیے جائیں، تو اوراق کے گل جانے کے بعد ان کا وہ تقدس باقی نہیں رہتا اور کبھی کسی شخص نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جلے ہوئے یا گلے ہوئے اوراق کو بلا وضو چھونا جائز نہیں، اس لیے کہ اب حروف کی شکل باقی نہیں رہی۔ اسی طرح آڈیو ٹیپ کو جس میں قرآن کریم کی تلاوت ریکارڈ کی گئی ہو، بغیر وضو کے ہاتھ لگانا جائز ہے، حائضہ عورت بھی ان کیسٹوں کو اٹھا سکتی ہے کیونکہ نہ ٹیپ ریکارڈر کے بغیر آڈیو کیسٹ سے آواز سنی جا سکتی ہے اور نہ ہی وی سی آر کے حروف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح قبروں کے مٹ جانے کے بعد ان کے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ قبر کا نشان تو صرف زندوں کے لیے ایک نفسیاتی تسلی کی علامت ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ قبروں کو مٹانے سے مردوں پر بعد الموت جو احوال وارد ہوتے ہیں، ان میں تو کوئی خلل واقع نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک عالم برزخ میں پیش آنے والے احوال کا تعلق ہے تو ان کا ا س جہان سے کوئی واسطہ نہیں۔ اگر انسانی حیات بعد الموت بھی دنیوی حیات ہوتی تو بند قبر میں آکسیجن، مردے کا اٹھ کر بیٹھنا، سوال وجواب، کھانا پینا اور دیگر ضروریات زندگی کیسے اور کہاں سے پوری ہوتیں؟ معلوم ہوا کہ حیات برزخیہ کا وجود تو ہے مگر ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ حیات کافر ومسلم سب کو حاصل ہے کیونکہ اگر کافر کے لیے اس حیات کا انکار کر دیا جائے تو پھر عذاب کفار کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ فراعنہ مصر کی لاشیں مصر کے عجائب گھر میں پڑی ہیں اور سیاح ان کی تصویریں لیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میوزیم میں رکھنے سے فرعون عذاب سے بچ گئے۔ عذاب ہو رہا ہے، لیکن کیسے ہو رہا ہے، یہ کیفیت صرف اللہ کے علم میں ہے یا بطور معجزہ انبیاء علیہم السلام یا بطور کرامت اولیاء اللہ پر منکشف ہوتی ہے۔ جیسے حضور ﷺ دو قبروں کے قریب سے گزرے تو چیخ پکار کی آواز سنی۔ آپ کا خچر بدک گیا تو آپ نے سواری سے اتر کر دو تر وتازہ ٹہنیاں قبروں پر گاڑ دیں اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے۔ ایک چغل خور تھا اور دوسرا پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا۔ اس طرح کے دیگر واقعات بے شمار اولیاء اللہ سے منقول ہیں۔ اس موضوع پر امام جلال الدین سیوطی کی کتاب نور الصدور اور مولانا سرفراز خان صفدر کی کتاب تسکین الصدور میں متعدد واقعات درج ہیں۔ اگرچہ بعض واقعات سنداً نہایت ضعیف ہیں، لیکن اس سے نفس موضوع یعنی عذاب وثواب قبر کے عقیدے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
بے شمار لوگ جنگوں میں ہلاک ہوتے ہیں، زلزلوں میں مارے جاتے ہیں، سب کی راکھ، خون اور ہڈیاں مکس ہو جاتی ہیں، مگر قانون الٰہی کے مطابق ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا اور سوال وجواب کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ عذاب وثواب کا تعلق عالم برزخ سے ہے جس کی ہمیں کوئی خبر نہیں کہ کس کو کتنا عذاب ہو رہا ہے یا کون جنت الفردوس کے مزے لوٹ رہا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ومن وراء ہم برزخ الی یوم یبعثون۔ روز قیامت تک، مرنے والوں اور زندوں کے درمیان عالم برزخ ہے۔ قبر کا وہ گڑھا جو ہمیں نظر آتا ہے، اگر یہی گڑھا عذاب وثواب کا مرکز ہو تو پھر ذرا غور کیجیے کہ جن لوگوں کو درندے کھا جاتے ہیں، جو بحری جہازوں میں غرق ہو کر مچھلیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا ہوائی حادثوں میں جہازوں میں آگ لگ جانے سے راکھ کے ڈھیر میں بدل جاتے ہیں، ان کو عذاب قبر کیسے ہوگا یا سوال وجواب کی صورت کیا ہوگی اور نم کنومۃ العروس کب، کیسے اور کہاں کہا جائے گا؟ لہٰذا میرا قطعی اور یقینی دلائل کی بنا پر یہ عقیدہ ہے کہ عذاب قبر حق ہے لیکن قبر سے کیا مراد ہے؟ یہ امر تفصیل طلب ہے۔ میرے علم ویقین کی حد تک قبر ہر وہ جگہ ہے جہاں مرنے والے کے ذرات موجود ہیں، خواہ وہ مچھلیوں کے پیٹ میں ہیں یا جنگلی درندوں کے پیٹ میں یا بکھر کر فضاؤں میں تیر رہے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ دفن ہیں، ان کے عذاب وثواب کا تعلق بھی برزخ سے ہے او رجو درندوں کے پیٹ میں ہیں، ان کا تعلق بھی برزخ سے ہے۔ سوال وجواب، منکر نکیر کی آمد، عذاب وثواب برحق ہیں مگر ایسے عالم میں ہیں جن کا ہمارے اس عالم دنیوی سے اسباب ظاہری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ اس کی کیفیات ہماری سمجھ میں آ سکتی ہیں۔ یہ خالصتاً یومنون بالغیب سے متعلق ہے جس پر ہمارا ایمان ہے۔ کیفیات پر ہم اس حد تک گفتگو کر سکتے ہیں جس حد تک احادیث صحیحہ میں ہمیں بتایا گیا ہے۔ اس سے زیادہ اپنی عقل وخرد کو لڑانے والے راہ راست سے بھٹک سکتے ہیں، اس لیے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ عالم برزخ کو ایک حقیقت سمجھ کر اس کی تفصیلات میں جائے بغیر ایمان لائے اور جوکچھ رسالت مآب ﷺ سے بسند صحیح منقول ہے، اسے اپنے ایمان کا جزو بنائے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج ڈاک سے غیر متوقع طو رپر کئی برسوں کے بعد اچانک ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا جون کا شمارہ ملا۔ مسرت اور تعجب کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کی ورق گردانی کی۔ مسرت آپ کی عنایت اور مجلے کے نئے ’’رنگ‘‘ پر اور تعجب اس پر کہ اچانک اس خاکسار کی یا د کس طرح تازہ ہو گئی اور آپ کو میرا نیا پتہ کس طرح معلوم ہو گیا۔ ۹، ۱۰ سال قبل آپ کا مجلہ میرے پاس آتا تھا اور یہ عام دینی مدارس کے مجلات کی طرح تھا، لیکن اس شمارے سے معلوم ہوا کہ آپ نے نیا فکری منہج اختیار کیا ہے۔ مجلہ کے مضامین اور خاص طور پر ’’طلاق ثلاثہ کا مسئلہ‘‘ اور لوئی ایم صافی کے انگریزی مضمون کا ترجمہ: ’’تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام کا مسئلہ‘‘ اس کے گواہ ہیں۔ کاش کہ لفظ مسئلہ کی تکرار دونوں جگہ نہ ہوتی اور مترجم کا نام درج ہوتا۔ امریکہ میں مسلمان خواتین کے حوالے سے اسنا (ISNA) امریکہ کے اس نو مسلم بھائی کا تجزیہ بڑا حقیقت مندانہ اور درد مندانہ ہے اور اس میں اپنے وطن کے دینی مدارس کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ عاصمہ جہانگیر جیسی خواتین کے ظہور کا سبب خواتین کی مناسب دینی تعلیم وتربیت میں علما کی تقصیر ہے۔
طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں اب غور وفکر کی دعوت سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کو باطل قرار دے کر قرآنی اور مسنون طلاق پر عمل ضروری ہے اور ہمارے شریعت کورٹ کو اس بارے میں دو ٹوک فیصلہ کر دینا چاہیے۔ مولوی سلمان الحسینی صاحب اور مرحوم مولانا پیر کرم علی شاہ الازہری دونوں نے طلاق ثلاثہ بیک مجلس کے خلاف آواز اس لیے اٹھائی کہ ان دونوں صاحبان نے عرب ممالک میں پڑھا ہے۔ جس زمانے میں، میں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ کے کلیۃ العلوم الاجتماعیۃ میں فل پروفیسر تھا، اس وقت (انیسویں صدی کے آٹھویں عشرے میں) سلمان صاحب جامعہ کے کلیۃ الدعوۃ میں ماجستیر (M.A) کے طالب علم تھے جہاں بیشتر مصری اساتذہ پڑھاتے تھے۔ اور مرحوم پیر کرم شاہ تو الازہر ہی کے فاضل تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے ان مرحوم عالم کی (جن سے صرف ایک بار اسلام آباد میں ۱۹۸۸ میں میری ملاقات ہوئی تھی) طلاق ثلاثہ کے خلاف مدلل رائے پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ اب تو عرب ممالک سے میرا رشتہ منقطع ہے، لیکن یاد پڑتا ہے کہ مصر وشام میں عرصہ ہوا کہ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کو غیر نافذ قرار دیا جا چکا ہے۔ میرے اساتذہ بھی کلیۃ الشریعۃ، جامعہ دمشق میں شامی ومصری تھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ وہاں اب یہ مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔
ہمارے یہاں کے علماء نے تو حالات سے آنکھیں بند کر لینے اور تحجر کی قسم کھا رکھی ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب مرحوم نے طلاق ثلاثہ کے سبب قادیانی اور عیسائی بن جانے کے جن واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان میں سب علماے دین کے لیے بڑا سامان عبرت ہے۔ یہ علما قرآن وحدیث کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، ان کی دہائی بھی دیتے ہیں، لیکن اس مسئلے میں وہ قرآن وحدیث کو بھول جاتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت عمرؓ نے طلاق ثلاثہ کو بطور تعزیر نافذ کر دیا تھا۔ اب کون سی چیز ہے جو ہم کو ’الطلاق مرتان‘ کے قرآنی حکم سے روک رہی ہے؟
جعلی قرآن ’’الفرقان الحق‘‘ پر بھی آپ کے مجلہ میں ناقدانہ مضمون بہت چشم کشا ہے۔ مضمون نگار صاحبان نے اچھا کیا کہ مختلف ویب سائٹس کے پتے دے دیے۔
کاش کہ آپ مولانا عتیق الرحمن صاحب سنبھلی کا مضمون علامہ اقبالؒ کے خلاف شایع نہ کرتے۔ مرحوم نے جو تنقید مولانا حسین مدنیؒ کی وطنی قومیت (کانگریس سے اتحاد) پر کی تھی، وہ اب پرانی بات ہو گئی۔ اس کو اچھالنے سے اب کیا فائدہ؟ ویسے میں عتیق الرحمن صاحب سنبھلی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ لکھنو میں صرف مولوی عتیق الرحمن کہلاتے تھے۔ آپ کی شاید ان سے ملاقات لندن میں ہوئی، جو موصوف کو اتنا پسند آیا کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ اور علامہ اقبال کی زندگی پر انھوں نے وہ طنز کیے ہیں جو تکلیف دہ ہیں۔ کسی بھی برصغیر کے عالم نے انگریزی تہذیب پر وہ بھرپور اور گہری تنقید نہیں کی ہے جو علامہ مرحوم نے کی تھی۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال دوسری دنیا کے انسان ہیں۔ میرا ان کے ساتھ عمان ایک کانفرنس میں ایک ہفتہ کا ساتھ ۱۹۹۲ میں ہوا تھا۔ اس وقت اس کا صحیح اندازہ ہوا۔ انھوں نے تو اپنے والد مرحوم کی درویشانہ سادہ زندگی پر بھی بہت گھٹیا تنقید کی ہے۔ ویسے آپ کو بتاؤں کہ نصف صدی قبل استاذی ومربی مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے جو خود اہل اللہ میں سے تھے، ایک دوسرے اہل اللہ مولانا الیاس رحمہ اللہ کا قول اس نظم کے بارے میں مجھے سنایا تھا کہ اقبال کو یہ کہنے کا حق تھا۔
امید ہے کہ آیندہ آپ کا مجلہ آتا رہے گا۔
والسلام۔ خاکسار
(ڈاکٹر) رضوان علی ندوی
مکان نمبر ۵، پی اسٹریٹ، خیابان سحر
فیز VII، ڈی ایچ اے، کراچی
(۲)
محترم ومکرم جناب مدیر الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔
بلاشک وشبہہ ’الشریعہ‘ ایک علمی، فکری اور ادبی رسالہ ہے جسے پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے اور آپ کی وسعت ظرفی بھی یقیناًقابل آفریں ہے، لیکن شکوہ آپ سے یہ ہے کہ بعض دفعہ آپ اتنی وسعت ظرفی سے کام لیتے ہیں کہ آپ کے رسالے میں اغیار کے افکار ونظریات بلا کسی تردید وتنقید کے نظر آتے ہیں۔ اسی قبیل کا ایک مضمون جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں طلاق ثلاثہ سے متعلق پروفیسر محمد اکرم ورک صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ اس میں موصوف نے بہت سی ایسی باتیں ذکر کی ہیں جن کے مطالعے سے یقیناًقارئین کے اذہان میں طلاق ثلاثہ کے متعلق تشکیک وخلجان پیدا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ترقی، مسلمات میں تشکیک پیدا کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ ترقی تو بالکل اس کے معکوس ہے۔ موصوف کی اس کاوش میں سوائے ایک دو باتوں کے، باقی سب توہمات اور مغالطات ہیں جن کو ذکر کر کے قارئین کے نظریات کو بری طرح جھنجھوڑا گیا ہے۔ اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔
۱۔ پہلی عرض تو یہ ہے کہ موصوف نے طلاق ثلاثہ کے متعلق اہل سنت والجماعت کے مسلک کو بعض صحابہ کرامؓ کا مسلک بتایا جو کہ سراسر خیانت ہے، کیونکہ حضرت عمرؓ کے فیصلے کے بعد کسی صحابی نے بھی آپ کے فیصلے سے عدول نہیں کیا یا اس کے خلاف فتویٰ نہیں دیا۔ بقول موصوف اگر کسی صحابی کا اس فیصلے سے اختلاف تھا یا اس کے برعکس فتویٰ دیا تو ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین۔ اس کے برعکس امام المفسرین حضرت عبد اللہ ابن عباس (جو کہ فریق مخالف کی دلیل کے راوی بھی ہیں) کے فتاویٰ سنن ابی داؤد میں اپنی روایت کے خلاف موجود ہیں۔ معلوم ہوا، ان کا بھی مسلک اپنی روایت کے موافق نہیں، چہ جائیکہ ہم دیگر صحابہ کرامؓ سے یہ توقع رکھیں۔
۲۔ موصوف نے حضرت عمرؓ کے اس فیصلے کو خالصتاً اجتہادی اور سیاسی فیصلے پر محمول کیا جو کہ وقتی مصلحت کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ گویا حضرت عمرؓ نے ایک منصوص حکم کو اپنی عقل سے وقتی مصلحت کے پیش نظر تبدیل کر دیا اور پھر صحابہ کرامؓ نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف حضرت عمرؓ کے سیاسی حکم پر عمل کیا۔ (العیاذ باللہ) اور پھر ائمہ اربعہ، تمام محدثین بشمول امام بخاریؒ اور تمام فقہاء کرام (سوائے علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے تلامذہ) نے بھی بارہ سو سال تک اس اصل حکم پرعمل نہیں کیا، بلکہ حضرت عمرؓ کے سیاسی فیصلے پر عمل کرتے اور کراتے رہے۔ گویا جو علت حضرت عمر کے دور میں تھی، وہ بارہ سو سال تک رہی۔ پھر مسلمانوں میں اہل حدیث کے نام سے ایک فرقے نے جنم لیا اور انھوں نے اس مسئلے کو سمجھا جس کو جملہ محدثین وفقہاء کرام نہ سمجھ سکے۔ فیا للعجب! جب یہ بات نہیں تو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ فیصلہ محض معاشرتی وسیاسی نہیں تھا، بلکہ اصل حکم ہی یہ تھا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہوں۔ باقی قرن اول کو خصوصیت صحابہ کرامؓ پر محمول کریں گے اور وہ اس لائق بھی تھے۔
۳۔ موصوف نے زیر بحث مسئلے کو ہر دور میں مختلف فیہ مسئلہ قرار دیا جو کہ تسلیم نہیں، کیونکہ علامہ ابن تیمیہؒ کا تفرد اس مسئلے کی اجماعیت کے لیے مضر یا مانع نہیں اور میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ائمہ اربعہ کا اس مسئلے میں اتفاق ہے اور آج تک پوری دنیا میں مسلمانوں کے یہی چار فقہی مسلک ہیں۔ تو گویا ائمہ اربعہ سے لے کر آج تک اس مسئلے میں اجماع ہی نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ باقی رہا اہل حدیث حضرات کا اختلاف تو ان کی تو اپنی عمر ڈیڑھ پونے دو سو سال سے زیادہ نہیں۔ ان کے اختلاف کو ہر دور کا اختلاف کیسے تسلیم کر لیا جائے؟
۴۔ موصوف نے تقلید جامد اور فقہی مسلکوں کے خول میں بند رہنے کے بجائے وسعت نظر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ مشورے کا شکریہ تو مخاطب پر لازم ہے۔ میں تو صرف مخاطب کی تعیین کا فیصلہ موصوف سے کرانا چاہتا ہوں۔ جناب عالی! آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ایک شخص جملہ صحابہ کرام وجملہ محدثین وجملہ فقہاء کرام کے مسلک کو اپناتا ہے اور دوسرا پوری امت کو خیر باد کہہ کر علامہ ابن تیمیہؒ کی عملی تقلید کرتا ہے تو مقلد جامد کون ہوا؟
۵۔ موصوف نے اس مسئلے پر ازسرنو غور کرنے کی بھی دعوت دی ہے۔ موصوف کی اس سے کیا مراد ہے؟ اگر تو مراد یہ ہے کہ فقہاء کرام مصالح امت کو نظر انداز کر کے محض تقلید جامد کی بنا پر اس مسئلے پر مصر رہے تو اس کا بطلان واضح ہے۔ اور اگر موصوف کی مراد یہ ہے کہ ان تمام اکابر کے مسلک کوسیاست پر محمول کر کے اپنے اجتہاد سے یہ رائے قائم کی جائے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی، چاہے طلاق دینے والا اس بات پر مصر بھی ہو کہ میں نے تین کی نیت کی تھی (کیونکہ اس امر کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں)، گویا مدعی سست گواہ چست کا عملی نمونہ پیش کر کے اسے اقرب الی الحق گردانیں اور امت مسلمہ کے لیے مفید تر سمجھیں تو شاید ہی کسی مسلم کا ضمیر اس کی اجازت دے۔
ہمیں تو ڈر ہے کہ موصوف کے اس مشورے پرعمل کرنے سے اصلاح امت کے بجائے عدم اعتماد علی السلف کی وجہ سے کہیں مزید فساد نہ پیدا ہو جائے اور پھر مجتہد مطلق نہ پیدا ہونے شروع ہو جائیں اور پھر ہم پر شاعر کا یہ شعر نہ صادق آئے
تزئین کائنات کا تو ہی نقیب تھا
تو نے ہی اپنے ہاتھ سے گلشن جلا دیے
والسلام
محمد یوسف بھکروی
متخصص جامعہ مدنیہ، کریم پارک۔ لاہور
(۳)
۲۰ جون ۲۰۰۵
محترم ومکرم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے اور دعوتی، تعلیمی اور دینی سرگرمیوں میں کوشاں ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے فکر ونظر کی تازگی کے لیے موصول ہو رہا ہے۔ بظاہر مجلہ پچاس کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ان صفحات میں جو مواد ہوتا ہے، وہ نہایت قیمتی اور فکر انگیز ہوتا ہے۔ مجلہ کو جب تک اول تا آخر پڑھ نہ لیا جائے، چین نہیں آتا۔
ماہ جون ۲۰۰۵ کے شمارے میں ’الفرقان الحق‘ (The True Furqan) پر تحقیقی مضمون بلاشبہ امت مسلمہ کے لیے چشم کشا مضمون ہے۔ فاضل مقالہ نگاروں کی قابل قدر کاوش ہے۔ مضمون کے مندرجات سے احساس ہوتا ہے کہ نام نہاد استعمار عسکری میدان کے بعد مسلمانوں کی متاع عزیز قرآن حکیم کو بھی مشق ستم بنائے ہوئے ہے۔ قرآن حکیم کی اس انداز میں بے حرمتی کے بعد مسلمانوں کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس پر کھلے عام احتجاج نہ کریں ، بالخصوص ہمارے اہل قلم اس طرف توجہ نہ دیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کی قیادت کب بیدار ہوگی اور اہل قلم کب اس طرف توجہ دیں گے؟
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے اپنے مضمون ’’سر اقبال بنام حسین احمد‘‘ میں نہایت نازک مگر اہم مسئلہ پر قلم اٹھایا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مولانا حسین احمد مدنی کے بار ے میں اپنے کلام میں جو کچھ کہہ دیا، وہ ہم نے من وعن قبول کر لیا اور اس نقطہ نظر سے ہٹ کر ہم سوچنے کے لیے سرے سے تیار ہی نہیں۔ مولانا سنبھلی نے اس دور کا پس منظر دکھا کر جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، اس پر بھی غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور سوال یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے موقف سے جو رجوع کیا تھا، اس کو قبول عام کیوں حاصل نہ ہوا؟
محترم لوئ ایم صافی نے مغرب کی تغیر پذیر ثقافتوں میں خواتین کے سماجی مقام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ مضمون پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب میں مسلمان کن مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے حل کے لیے مسلمانوں کے پاس کوئی متفقہ لائحہ عمل بھی ہے یا نہیں۔ امت مسلمہ کو بحیثیت مجموعی اہل مغرب مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر محمد اکرم ورک نے بھی علما وفقہا کی توجہ ایک ابھرتے ہوئے مسئلہ ’طلاق ثلاثہ‘ کی طرف دلائی ہے۔ ان کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض علما کو اس بار ے میں تشویش ہے۔ اس بارے میں بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل طے ہو جائے تو پاکستانی سوسائٹی خاندانی انتشار سے بچ سکتی ہے۔
الغرض ’الشریعہ‘ کے تمام سلسلے اور تمام قلم کار خوب ہیں۔ ایسے مضامین کے بہترین انتخاب پر آپ کو اور آپ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی علمی وفکری جدوجہد کو قبول فرمائے۔
برادرم محمد عمار خان ناصر اور دیگر احباب کو سلام۔
والسلام۔ نیا زمند
ڈاکٹر محمد عبد اللہ
شعبہ علوم اسلامیہ۔ پنجاب یونیورسٹی۔ لاہور
(۴)
گرامی قدر جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج عالی بخیریت ہوں گے۔
آپ کا رسالہ ماشاء اللہ دیگر مذہبی رسائل کے مقابلے میں بالکل جدا اسلوب کا حامل اور دل چسپ موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختصر ہونے کے باوجود بعض اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
جون کے شمارے میں امریکی قرآن ’’الفرقان الحق‘‘ پر بہت عمدہ مضمون شائع ہوا ہے۔ میں اسے اپنے رسالے میں آپ کے رسالے کے حوالے سے اگست ۲۰۰۵ کے شمارے میں شائع کر رہا ہوں۔ لوئ ایم صافی کا مضمون فکری انتشار اور گنجلک خیالات پر مشتمل ہے۔ ایسے مضامین نہ عوام کے لیے مفید ہیں، نہ اہل علم کے لیے۔ ص ۴۴ کا بے ہودہ سوال اگر شائع کرنا تھا تو جوا ب دینے کا بھی اہتمام کیا جاتا۔
(ڈاکٹر) صلاح الدین ثانی
162 سیکٹر 8/L اورنگی ٹاؤن کراچی
۰۵؍۰۶؍۱۱
(۵)
باسمہ تعالیٰ
مکرمی ومحترمی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
الشریعہ (جون ۲۰۰۵) میں ’الفرقان الحق .....‘ نظر سے گزرا۔ عمدہ گرفت ہے۔ مصنف کے عربی کے معیار کا تو اندازہ مضمون سے ہو گیا، مگر قرآن نے انسانی زندگی کے مسائل کے حل کے لیے جو پائیدار اصول دیے ہیں، جو حقیقتاً قرآن کا چیلنج ہے، ’الفرقان الحق‘ اس حوالے سے کیسے پایا گیا؟ اس پہلو کی تشنگی محسوس ہوئی۔ اگر یہ پہلو بھی سامنے آ جائے تو بہت اچھا ہو۔
شکریہ! والسلام
امجد عباسی
عباسی منزل، نور پارک
حیدر روڈ، اسلام پورہ، لاہور
۵۰/۷۰/۲۰
(۶)
محترم ومکرم جناب علامہ زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ کچھ عرصہ سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ پڑھنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔ الحمد للہ کافی معلوماتی مواد پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو مزید مستحکم فرمائے۔
جولائی ۲۰۰۵ کے شمارے میں حافظ عبد الرشید صاحب نے شیعہ حضرات کی مستند کتب سے ان کے مخالف اسلام عقائد نقل کر کے ان کے دعواے ایمان کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ میں اس مکتوب کے ذریعے سے دور حاضر میں شیعہ کے امام اور ایرانی انقلاب کے بانی جناب خمینی کی چند مزید عبارتیں قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں تاکہ شیعہ حضرات کے عقائد وخیالات کی حقیقت اور نکھر کر سامنے آ جائے۔
جون ۲۰۰۵ میں جناب خمینی کی برسی کے موقع پر پاکستان کے اکثر اخبارات میں ایسے مضامین شائع ہوئے جن میں خمینی صاحب کو اسلام کا ہیرو، اسلامی انقلاب کا علم بردار اور بہت سے ایسے القابات سے نوازا گیا جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ خمینی صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ انھوں نے خلفاے راشدین پر کفر کے فتوے لگائے ہیں اور اسلامی بنیادوں پر کلہاڑا چلا کر انھیں منہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔خمینی صاحب کی اہم ترین کتاب ’الحکومۃ الاسلامیۃ‘ہے جو ایرانی انقلاب کی فکری بنیاد کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے صفحہ ۴۹ پر خمینی صاحب رقم طراز ہیں: ’’جب کوئی عالم وعادل فقیہ حکومت کی تشکیل کے لیے اٹھ کھڑا ہو تو وہ معاشرے اور اجتماعی معاملات میں ان تمام امور واختیارات کا مالک ہوگا جو نبی کے زیر اختیارات تھے اور تمام لوگوں پر اس کی سمع وطاعت واجب ہوگی اور یہ صاحب اقتدار فقیہ نظام حکومت، سماجی مسائل اور امت کی سیاست کے جملہ معاملات کا اسی طرح مالک ومختار ہوگا جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور امیر المومنین حضرت علیؓ مالک ومختار تھے۔ ‘‘
یہ ’ولایت فقیہ‘ کا نظریہ ہے جس میں خمینی صاحب نے حاکم کے اختیارات کو نبی کے اختیارات سے ملا دیا ہے ۔ اس نظریے کے ڈانڈے اہل تشیع کے عقیدۂ امامت سے جا ملتے ہیں جس کی رو سے اماموں کا رتبہ انبیا سے بھی برتر ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ ۵۲ پر خمینی صاحب لکھتے ہیں: ’’امام کو وہ اعلیٰ مقام، بلند درجہ اور تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے حکم واقتدار کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ہمارے مذہب کے ضروری اور بنیادی عقائد میں یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہمارے امام ، مقام ومرتبہ کی جس بلندی پر فائز ہیں، وہاں تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘
خمینی صاحب کے انقلاب کو اسلامی انقلاب قرار دینے والے دانش وروں سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسلامی عقائد ہیں؟ کیا اسلام میں حاکم کی اطاعت اسی طرح واجب ہوتی ہے جیسے نبی کی؟ اور کیا ائمہ واقعی مقام ومرتبہ میں انبیا سے بھی بڑھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ختم نبوت کا انکار نہیں ہے؟ کیا ختم نبوت کا منکر مسلمان ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو پھر خمینی صاحب کے انقلاب کو کس بنیاد پر اسلامی انقلاب شمار کیا جا رہا ہے؟
اب خمینی صاحب کی ایک اور کتاب ’کشف الاسرار‘ کے چند اقتباس ملاحظہ فرمائیے جن سے اندازہ ہوگا کہ خمینی صاحب نے کس طرح خلفاء راشدین کے ایمان وکردار پر حملہ کیا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۱۹ پر حدیث قرطاس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ’’یہ بے ہودہ کلام کفر وزندقہ کی بنا پر ظاہر ہوا ہے۔‘‘ مزید لکھا ہے، ’’کتب تاریخ وحدیث کی طر ف مراجعت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفر آمیز گفتگو کرنے والا عمر تھا۔‘‘ (نعوذ باللہ)
اسی طرح حضرت عثمانؓ اور حضرت معاویہؓ پر کیچڑ اچھالتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ہم ایسے خدا کو جانتے اور اس کی پرستش کرتے ہیں جس کے سارے کام عقل کی بنیاد پر قائم ہیں اور عقل کے خلاف وہ کوئی کام نہیں کرتا ہے، نہ کہ ایسے خدا کی جو خدا پرستی، عدالت اور دین داری کی بلند عمارت تیار کر کے خود اس کی ویرانی کے درپے ہو جائے اور یزید، معاویہ اور عثمان جیسے بدقماشوں کو امارت وحکومت سپرد کر دے۔‘‘ (صفحہ ۱۰۷)
خمینی صاحب کے ان نظریات سے ہر ذی شعور شخص پریہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ خمینی ازم اور اسلام دو علیحدہ علیحدہ نظریے ہیں۔ ان کی حقیقتیں اور بنیادیں جدا جدا ہیں۔ لہٰذا ہم جدید دور کے دانش وروں سے دست بستہ عرض کریں گے کہ خدارا اس انقلاب کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مصلحت کے بت کو پاش پاش کر کے حقیقت حال کا واشگاف اظہار فرمائیں۔
والسلام
حافظ محمد عثمان
متعلم مدرسہ اشرف العلوم۔ گوجرانوالہ
تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر
’’شرح اسلامی قانون شفعہ‘‘
برطانوی دور حکومت میں ۱۹۱۳ء میں پنجاب میں قانون شفعہ نافذ کیا گیا جس نے ۱۹۸۶ء اور ۱۹۹۱ء میں ہونے والی بعض ترامیم کے ساتھ موجودہ قانون شفعہ کی شکل اختیار کی ہے۔ زیر نظر کتاب میں معروف قانون دان سلیم محمود چاہل صاحب نے اس قانون کی شق وار شرح کی ہے اور اس ضمن میں بعض دفعات اور عدالتی فیصلوں کو قرآن وسنت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔
مصنف کی تنقید کے بعض نکات قابل غور ہیں، چنانچہ لینڈ ریفارمز ریگولیشن ۱۹۷۲ میں مزارع کو شفعہ کا اولین حق دار قرار دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے مصنف نے بجا طور پر بتایا ہے کہ یہ نہ صرف فقہی مسلمات کے منافی ہے، بلکہ خود قرآن مجید نے حسن سلوک کے حوالے سے والدین، قریبی اعزہ، قرابت دار پڑوسی اور غیر قرابت دار پڑوسی کے مابین جو ترتیب قائم کی ہے، اس کی روح کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح طلب مواثبت اور طلب اشہاد کی فقہی تفصیلات پر، جو کہ سراسر استنباطی ہیں، اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے کیا جانے والا اصرار فی الواقع قابل نظر ثانی ہے۔ طلب مواثبت کے شرط ہونے کے حق میں قاضی شریح کے ایک اثر (انما الشفعۃ لمن واثبہا) سے استدلال کیا جاتا ہے جسے سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں میں حدیث کے طور پردرج کر دیا گیا۔ ان پہلووں پر مصنف کی تنقید واقعتا قابل توجہ ہے۔ تاہم مصنف کا اصل زور بیان قانون کی متنازعہ جزئیات کی علمی غلطی واضح کرنے کے بجائے تیز وتند عمومی تنقیدوں میں صرف ہوا ہے۔ کتب احادیث اور فقہا و اہل علم کی آرا پر تبصرے کا انداز حدیث وفقہ کے ذخیروں کو’’عجمی سازش‘‘ قرار دینے والے ایک مخصوص مکتب فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کتاب کا اسلوب بیان آسانی سے گرفت میں آنے والا نہیں۔ علامہ اقبال کی نظمیں، قانون شفعہ کی شقوں پر فنی ونیم فنی تبصرے، غیر متعلقہ قرآنی آیات، فوجی وسیاسی حکمرانوں پر تنقید اور لاطائل بحثیں، یہ سب عناصر کسی مناسبت یا ربط کے بغیر کتاب کے صفحات پر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کتاب کا آخری تہائی حصہ ہی ایسا ہے جس میں کسی بڑے انحراف کے بغیر قانون کی تشریح وتعبیر پر توجہ مرکوز رکھی جا سکی ہے۔ فقہی اصطلاحات سے براہ راست واقفیت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ ’’شفیع‘‘ ( حق شفعہ رکھنے والے) کو ’’شافعی‘‘ لکھا گیا ہے۔ پروف خوانی کی زحمت غالباً گوارا نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں قرآنی آیات کا متن بھی بعض جگہ ناقص اور محرف ہو گیا ہے۔
۲۴۰ صفحات کی یہ کتاب ’’سلیم محمود چاہل، میاں ضیاء الحق روڈ، سول لائن گوجرانوالہ‘‘ سے طلب کی جا سکتی ہے۔ کتاب پر قیمت درج نہیں۔