ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات
ادارہ
(ڈاکٹر مہاتیر محمد عصر حاضر میں عالم اسلام کے وہ منفرد سیاسی راہ نما اور مفکر ہیں جو مغربی فلسفہ وثقافت اور عالم اسلام کے بارے میں مغرب کی پالیسیوں اور طرز عمل پر کھلم کھلا تنقید کرتے ہیں اور ملت اسلامیہ کے حقوق ومفادات کے حق میں دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ وہ تقریباً ربع صدی تک ملائشیا کے حکمران رہے ہیں اور مسلم ممالک میں رائج نظاموں کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے ملائشیا کو معاشی لحاظ سے مغرب کے چنگل سے نجات دلانے میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ آج کے دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے لائق تقلید ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے ایک کانووکیشن میں ڈاکٹر مہاتیر محمد، جنوبی افریقہ کے قومی لیڈر نیلسن منڈیلا اور اردن کے شہزادہ حسن بن طلال کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے قانون کی حکمرانی اور آج کے عالمی ماحول کے تناظر میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے، وہ عالم اسلام کے دینی وفکری حلقوں کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ انھوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ میں حائل عملی مشکلات کاذکر کیا ہے جسے یقیناًمغرب اور اس کے نظام سے مرعوبیت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے اسلامی تعلیمات پر یقین اور ایمان کی کمزوری سے تعبیر کرنا انصاف کی بات ہوگی۔ ہمیں ڈاکٹر صاحب موصوف کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں ہے، لیکن ہمارے خیال میں جن باتوں کی انھوں نے نشان دہی کی ہے، انھیں عملی مشکلات اور رکاوٹوں کے پس منظر میں دیکھنا ہی قرین قیاس ہوگا جن کا قابل عمل حل پیش کرنا بہرحال دینی وعلمی حلقوں کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس خطاب کا اردو ترجمہ جناب عبد الباری رانا نے کیا ہے اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۵ کو اسے شائع کیا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا خطاب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ رئیس التحریر)
سب سے پہلے میں انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس نے مجھے یہ اعزازی ڈگری دی ہے۔ اگرچہ میں ایک قانون دان نہیں ہوں، لیکن میں نے قانون کا مطالعہ ضرور کیا ہے۔ میں آپ کی اجازت سے قانون کے بارے میں، خاص طور پر قانون کی حکمرانی کے موجودہ حالات کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔
ابتدائی تہذیبوں کے دور میں قانون سازوں کو سب سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ بادشاہتوں کی عظمت بھی اسی وجہ سے تھی کہ انھوں نے قوانین عطا کیے تھے جن کی وجہ سے لوگوں میں نظم ونسق قائم کیا جاتا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حمو رابی کے کوڈ پہلے تحریری قانون کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں جو شاہ حمو رابی نے بنائے تھے۔ دنیا کے بڑے مذاہب نے بھی قوانین بنائے تھے جن کا مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا تھا۔ بہت سی صورتوں میں قوانین خدا کے عطا کردہ تھے۔ اس سے قبل انسانی معاشروں نے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے خود اپنے قوانین تیار کیے۔ یورپ میں برٹش کامن لا اینڈ کوڈ نپولین اس کی مثال ہیں، لیکن یہ بھی ناکام ثابت ہوئے۔ ہم انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے باوجود معاشرے میں انصاف کے قریب نہیں پہنچ سکے۔
ابھی تک نا انصافیوں کے خلاف ضمانت کے طور پر قوانین پر بھرپور اعتماد کیا جاتا ہے اور اس لیے آج بھی ہر ملک میں قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہے۔ اگر کوئی ملک قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، اس سے محض نفرت یا مذمت ہی نہیں کی جاتی، بلکہ بعض اوقات حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ اور بغاوت بھی ہو جاتی ہے اور قانون کی حکمرانی نافذ کی جاتی ہے کہ قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے جنگ اور تشدد کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انسان کے بنائے ہوئے قوانین اکثر غیر منصفانہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب برٹش کامن لا کے تحت کسی شخص کو ایک بھیڑ چرانے پر سولی پر چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہ سزا قانون کے لحاظ سے درست تھی، لیکن غیر منصفانہ تھی۔ سپین میں تحقیقات کے دوران تشدد کو قانونی تصور کیا جاتا تھا اور جن لوگوں کو گرفتار کیا جاتا تھا، ان سے تشدد کے ذریعے اقبال جرم کرانے کے بعد زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ یہ بھی قانون کے مطابق درست تھا لیکن غیر منصفانہ تھا۔ برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے دور میں مقدمہ چلائے بغیر گرفتار کرنا قانونی تھا اور اس کے لیے قوانین موجود تھے۔ پھر برطانیہ نے آزاد ہونے والی نو آبادیوں پر، جن میں ملائشیا جیسے ملک شامل ہیں، بغیر مقدمہ چلائے گرفتاری کی اجازت کی مذمت شروع کر دی اور اس کا یہ موقف ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی غیر منصفانہ ہے۔ لیکن جب دہشت گردی کے حملے شروع ہوئے تو انھوں نے مشتبہ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید کر دیا اور اس وقت قانون کی حکمرانی کے لیے ان کا شور وغوغا بلا تخفیف جاری رہا۔
اخلاقیات کے بارے میں نسلی امتیاز کے یورپی نظریات، ماسوائے ہم جنسی کے بہت سے یورپی ممالک کے مطابق خوش مزاجی کے حقوق اور جنسی شادیوں کے بارے میں قوانین موجود ہیں، حتیٰ کہ پادری بھی مردوں کو شریک زندگی رکھ سکتے ہیں۔ یہ عمل بھی قانون کی حکمرانی کے مطابق ہے، لیکن کیا یہ اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ قانون کی حکمرانی ایک منصفانہ یا اخلاقی لحاظ سے بلند معاشرے کی ضامن نہیں۔ بلاشبہ ہمیں قوانین کی ضرورت ہے، بشرطیکہ ہمیں بادشاہوں، سلطانوں اور آمروں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ لیکن عوام کو نا انصافی سے بچانے کے لیے صرف قوانین ہی کافی نہیں، حتیٰ کہ آزاد جج بھی انصاف کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ جج بھی انسان ہوتے ہیں۔ عام انسانوں کی طرح جج بھی احساسات اور جذبات کے تابع ہوتے ہیں اور ان سے بھی فیصلوں میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ جج بھی متعصب ہو سکتے ہیں، سیاسی وابستگیوں اور سیاسی عقائد سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملائشیا میں جج سیاسی اثر ورسوخ کے حامل افراد کو رہا کر دیتے ہیں ، اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے جرم کا ارتکاب نہیں کیا، بلکہ پراسیکیوٹرز غلط طریقے سے کیس پیش کرتے ہیں۔
عدلیہ کی آزادی ناگزیر طور پر اہم ہے۔ عدلیہ پر تنقید کے نتیجے میں کسی شخص کو توہین عدالت کے لیے عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے، اس لیے جج غیر جانبدار رہ کر سخت سے سخت سزا دیتے ہیں، کوئی خوف محسوس نہیں کرتے، لیکن اگر جج جان بوجھ کر اور کھل کر تعصب کا اظہار کریں تو وہ ناجائز اور غیر منصفانہ ہے۔ تنقید سے بالاتر ہونے کے نتیجے میں نا انصافیاں کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے عدالتوں کے تین درجے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اپیلیں کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ حتمی طور پر رحم کی اپیلوں کی بھی گنجایش رکھی جاتی ہے۔ اس طرح نا انصافی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، لیکن ان اپیلوں پر بھاری رقوم خرچ ہوتی ہیں۔ صاف طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غریبوں کے مقابلے میں امیروں کو زیادہ انصاف حاصل ہوتا ہے۔ بعض اوقات جج عدالتی نظر ثانی کے نظریے کے تحت خود اضافی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ کسی شخص کی طرف سے عدالتوں سے رجوع کیے بغیر بھی کوئی سنیئر جج کوئی کیس نظر ثانی کے لیے طلب کر لیتا ہے۔ اس سے بھی یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ انصاف کو یقینی بنا دیا گیا ہے، لیکن اس سے بھی عوام کی اکثریت سے منتخب ہونے والی حکومت کو، جو معاشرے کے مسائل سے موثر طور پر نمٹ رہی ہو، مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقدمے بازی سے افراد اور گروپوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا ازالہ ہو جاتا ہے، لیکن ججوں کا امتیاز اس قدر وسیع ہے کہ غیر معقول فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلے زیادہ اور مزید معقول ہوتے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مصائب کو کور کرنے کے لیے انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور انشورنس کی لاگت میں اضافے سے کسی قوم کے معیار زندگی اور مقابلے کی پوزیشن کی لاگت بڑھ جاتی ہے، لیکن ججوں کا اپنے فیصلے کے مجموعی اثرات سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک وہ محسوس کرتے ہیں کہ انصاف کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہر چیز غیر ضروری ہے۔ امتیاز اور خود مختاری معاشرت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اسلامی قانون، شریعت کیا ہے؟ اس کے نفاذ کے سلسلے میں نا انصافی ہو سکتی ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے، اس لیے یہ مکمل ہے۔ اسلام ایک مذہب ہے، لیکن ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار اس کی تکمیل سے بہت دور ہیں۔ ہم مسلمانوں میں جرائم، مسلمانوں کے درمیان جنگیں اور مسلمانوں میں انتہا سے زیادہ دولت اور انتہا سے زیادہ غربت دیکھتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو سرعام گناہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ مسلمانوں کا غیر اسلامی رویہ عام ہے۔ کیا یہ اسلام کی وجہ سے ہے جو کچھ مسلمان آج کر رہے ہیں؟ یقیناًنہیں۔ یہ مسلمانوں کی انسانی کمزوریاں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس مثالی زندگی پر کاربند نہیں ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح اسلامی قوانین مکمل ہیں، اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ مسلمانوں کے رویے کی وجہ سے اسلامی قوانین غیر منصفانہ نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ جرم کا شکار ہونے والے کو سزا دینا غیر منصفانہ ہے جب تک کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔ ایک ایسی لڑکی کی مثال ہی لے لیں جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو۔ وہ زیادتی کرنے والے کو شناخت کرتی ہے اور مجرم کے خلاف اس کی رپورٹ بھی درج کراتی ہے، لیکن وہ مجرم کے خلاف چار گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے تو بعض مسلمان قانون دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا ہے اور اس طرح حقائق کو سزا دی جا رہی ہے اور ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا تی۔ دوسری طرف اگر وہ زیادتی کا مقدمہ درج کراتی اور اس کے نتیجے میں کسی بچے کو جنم دیتی ہے تو اسے زنا کا ملزم ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی سزا سنگ ساری قرار دی جاتی ہے۔ کیا ہم اسے اسلامی انصاف قرار دے سکتے ہیں؟ آج کے دور میں جب کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے بچے کی ولدیت کی تصدیق کی جا سکتی ہے، کیا ہم ڈی این اے کے ذریعے فراہم کیے جانے والے ثبوت کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ کیا اس طرح اسلامی قانون اس قدر غیر منصفانہ ہے؟ کیا اسلامی قانون فرسودہ ہے؟
قرآن میں جرائم کے ضابطوں اور سزاؤں کو بیان کر دیاگیا ہے، لیکن قرآن میں کئی جگہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’جب تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ اگر جرم کا شکار ہونے والے کو سزا دی جاتی ہے اور مجرم کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ کسی معیار، کسی بھی مذہب کی رو سے غیر منصفانہ ہے اور ایسے فیصلے کو اسلامی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اسلامی قانون نہیں جو غلط ہے۔ ہم قرآنی آیات کا غلط مطلب اور غلط توضیح کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔
ملائشیا میں مختلف نسلوں اور مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ ملائشیا میں قانون کے نفاذ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اسلامی تعلیمات پر کاربند ہیں، لیکن ہمیں اسلام کے تقدس اور مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلق کو ختم کیے بغیر کام کرنا پڑتا ہے۔ ہم یہ سب کچھ یہ تاثر پیدا کیے بغیر کرتے ہیں کہ مسلمان ممالک کا نظام اچھا نہیں، منصفانہ اور شفاف یا مستحکم اور ترقی یافتہ نہیں۔ ہم یہ سب کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اسلام دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی برداشت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور اسلام میں جبر کی کوئی گنجایش نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ مسلمان حکومت سب کے لیے منصفانہ ہے۔ اس لیے ملائشیا میں انصاف پر زور دیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین تک ہی انصاف کے تقاضوں کو بالاتر رکھ کر سزائیں نہیں دی جاتیں۔ اگر انصاف کیا جاتا ہے تو یہ اسلامی ہے۔ اگر انصاف نہیں کیا جاتا تو یہ غیر اسلامی ہے۔
چونکہ اسلام بد نظمی سے نفرت کرتا ہے اور جس کام سے بھی بد نظمی پیدا ہو، وہ اسلام کے مطابق نہیں ہو سکتا، اس طرح اگر ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم مل کر کوئی ایسا جرم کرتے ہیں شریعت میں جس کی سزا عضو کاٹنا ہے تو اس صورت میں انصاف کے تقاضے اور ملک میں امن وامان کی صورت حال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان اور غیر مسلم، دونوں کے ہاتھ کاٹنے سے بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کی طرف سے احتجاج کیا جا سکتا ہے جس سے ملک میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا ممکن نہیں۔ دوسری طرف مسلمان کے ہاتھ کاٹ دینا اور غیر مسلم کو معمولی سزاے قید دینا بھی نا انصافی ہوگی اور نا انصافی غیر اسلامی ہوگی۔ اس مسئلے کا اسلامی حل یہی ہے کہ دونوں ملزموں کو یکساں سزا دی جائے، یعنی ہلکی سزائے قید۔ بہت سے مسلمان علما اس معاملے میں بلاشبہ اختلاف کریں گے۔ اسلامی سزا منصفانہ ہو یا غیر منصفانہ، ہر قیمت پر اس پر عمل کیا جائے، ورنہ یہ اسلامی نہیں ہوگی۔ لیکن ہمیں اس نقطہ سے اختلاف ہے۔ اسلامی قانون پر عمل درآمد کے نتیجے میں انصاف ہونا چاہیے اور اس سے ملک میں بد نظمی نہیں پیدا ہونی چاہیے۔
بہت سی ایسی باتیں ہیں جن پر آج ہم عمل کر رہے ہیں، لیکن جو بظاہر اسلامی تعلیمات کے خلاف نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام انسانوں اور دوسرے جانداروں کی تصاویر بنانے سے منع کرتا ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق تصاویر لازماً جیو میٹرک ڈیزائن تک محدود ہونی چاہییں، لیکن آج بیشتر مذہبی علما اپنی تصاویر کی نمائش کرتے ہیں اور ایکشن اور باتیں کرتے ہوئے مووی تیار کراتے ہیں۔ کیا ہم ایسا کرکے اسلامی تعلیمات اور قوانین سے انحراف کر رہے ہیں؟ ہم ایسا نہیں کر رہے۔ تصاویر کے خلاف تعلیمات اس وجہ سے تھیں کہ حضور کے دور میں اہل عرب مورتیوں کی پرستش کرتے تھے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ محض تصاویر ہیں اور ہم ان کی پرستش نہیں کرتے، اس لیے اگر ہم تصاویر بنا رہے ہیں اور ان کی پرستش نہیں کرتے تو ہم قرآنی تعلیمات سے انحراف کر کے کوئی گناہ نہیں کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں تصاویر بنانے اور ان کی نمایش کرنے سے ہم کسی طرح بھی گریز نہیں کر سکتے۔ ماضی کے دور میں جب تصاویر پینٹ کی جاتی تھیں تو اس وقت ان تصاویر پر پابندی لگانا ممکن تھا۔ فوٹو گرافی پر پابندی لگانا نہیں، اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ تصاویر کی پرستش نہ کی جائے۔ یقیناًایسی تصاویر کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے جنھیں خدا یا حضور سے مشابہت دی گئی ہو۔
ہم اکیسویں صدی عیسوی میں رہ رہے ہیں۔ ساتویں صدی میں جو چیزیں تھیں، وہ قطعی طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج روز مرہ کا معمول ہیں، لیکن چودہ سو سال پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم میں سے بعض لوگ اسلام کی پہلی صدی کے حالات کو پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اسی ماحول میں سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون اور تعلیمات صرف چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کی مناسبت سے تھے اور وہ موجودہ دور کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اسلام تمام زمانوں کے لیے ہے۔ اگر آج ہم اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور انھیں پوری طرح سمجھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ اسلامی تعلیمات پر کاربند رہنا ممکن ہے اور اس پر موجودہ دور کے حالات زندگی کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ ہم اسلامی قانون کی حکمرانی پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم اس کی توضیح ضابطوں اور سزاؤں تک ہی نہ کریں، بلکہ اس کے بجائے اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ انصاف کے حصول کا ضامن ہو۔ اگر ضروری ہو تو ہم اس کی ہیئت کو نظر انداز کر کے اس کی روح پر عمل کریں اور اسلامی قانون کی روح انصاف ہے۔ ضابطے اور سزائیں اس کی اقسام ہیں اور اسے لازماً تمام قوانین پر لاگو ہونا چاہیے جو بیان کردہ ہوں یا انسان کے بنائے ہوئے ہوں۔ انصاف کی حکمرانی ہی اہم ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ
پروفیسر شیخ عبد الرشید
بلوچستان کا مسئلہ اس وقت وفاق پاکستان کو درپیش ایک نہایت حساس اور نازک معاملہ ہے۔ اس مسئلے کے حقیقی اور ممکنہ محرکات کوئی پوشیدہ راز نہیں، بلکہ بہت حد تک ظاہر، قابل فہم اور لائق توجہ ہیں۔ بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے پس ماندہ صوبہ ہے جو معدنی وسائل سے مالامال مگر بڑی حد تک مراعات سے محروم وفاقی اکائی کی شناخت رکھتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اہم محل وقوع کا حامل اور تہذیب وثقافت کا مرکز یہ علاقہ گزشتہ دو صدیوں سے بد قسمتی کا شکارہے۔ سامراجی آقاؤں، مستبد وقاہر حکمرانوں اور مفاد پرست سرداروں کی کشمکش کی چکی میں پستے پستے آج بلوچی عوام بے حالی کے مقام پر آ گئے ہیں۔ ظہور پاکستان کے وقت سے ہی خارجی قوتوں کے کردار، اسلام آباد کی مرکزیت پسند حکمرانی اور اختیار واقتدار کے لیے قبائلی سرداروں کی سودے بازی کی فضا میں بلوچی عوام اپنی محرومی اور پس ماندگی کے جنگل میں گم کردہ راہ مسافر کی طرح ہیں اور نہ معلوم کب تک ایسے ہی رہیں گے۔
بلوچستان کی شکایات ومطالبات نئے نہیں، لیکن انھیں سازگار فضا موجودہ عالمی حالات نے فراہم کی ہے۔ دیکھتی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ اگر طالبان کے خلاف عالمی جنگ میں صوبہ سرحد کی ایک خاص اہمیت تھی تو اب نئے منظر میں ایران کے خلاف کھولے جانے والے محاذ پر بلوچستان کا حساس جغرافیہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مرکز سے ارتکاز اختیارات کی شکایات بھی پرانی ہیں، مگر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی کے واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ پاکستان کے دامن پر بنگالی خواتین کی عزتوں کی پامالی کے داغ ابھی دھلے نہیں تھے کہ ڈاکٹر شازیہ کی بے حرمتی کا شرم ناک واقعہ رونما ہو گیا۔ بلوچستان کی تاریخ وتہذیب سے آشنا جانتے ہیں کہ بنات حوا کی حرمت بلوچی روایات کا نازک معاملہ ہے جسے جدیدیت کے حامل لبرل روشن خیال شاید اس طرح نہیں سمجھتے۔ اس پہلو کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہ واقعہ اتفاقی نہیں دکھائی دیتا۔ کوئی نادیدہ قوت ہے جس نے تقدس کے لبادے میں محرومیوں کے بارود میں جلتی تیلی پھینک دی ہے۔ یہ سب کچھ جیسے ہوا، وہ اپنی جگہ، مگر مقدس ادارے سے وابستہ ملزم کو اب تک جس طرح تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اس سے وفاق کے دوسرے صوبوں کے عوام بھی حیران رہ گئے ہیں۔
بے شک بلوچستان میں قومی وسائل پر حملے ناقابل برداشت ہیں، مگر کہیں یہ کسی کی برداشت کا امتحان لینے کا نتیجہ تو نہیں؟ اب تک دونوں اطراف سے جو کچھ ہوا، اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ وہ آنکھیں صحیح صورت حال سے بے خبر ہیں جو ملک کے معاملات کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اعتدال پسند وروشن خیال صدر مملکت نے بلوچستان کے معاملہ پر تند وتیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بلوچ قوم پرستوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ ۷۰ کی دہائی نہیں ہے۔ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ انھیں کیا چیز آ کر لگی ہے۔‘‘ یہ لب ولہجہ وفاقیت کے تقاضوں کے برعکس تھا۔ مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن وفاق کی روح کو گھائل کر چکا تھا، اس لیے عوامی حلقوں نے تنقید کی تو جناب صدر نے ’’حکیمانہ سکوت‘‘ اختیار کر لیا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ بندوق کی گولی یا تحکمانہ سکوت، دونوں ہی الجھی ہوئی گتھیوں کو نہیں سلجھا سکتے۔
پاکستان آرمی پہلے بھی کئی دفعہ بلوچستان میں کارروائیاں کر چکی ہے۔ سب سے پہلے مارچ ۱۹۴۸ میں جب ریاست قلات کا الحاق پاکستان سے ہوا تو پرنس عبد الکریم نے اس کی مخالفت کی جس کو کچلنے کے لیے فوج یہاں آئی۔ پھر اکتوبر ۱۹۵۸ میں زہری قبائل کی کشاکش ختم کرنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا۔ ایوب دور میں قبائلیوں سے جھڑپیں جاری رہیں۔ اس کے خاتمے پر بگتی قبیلے سے متعدد تصادم ہوئے۔ ایوبی دور میں کوشش کی گئی کہ بلوچستان کے دانش وروں کو حکومت کا حامی بنایا جائے۔ اس کے لیے ثقافتی وادبی تنظیموں کی سرکاری سرپرستی کی گئی۔ ۱۹۶۱ میں بلوچی اکیڈمی قائم کی گئی مگر ’’دی بلوچی براہوی زبان تحریک پاکستان میں‘‘ ٹی رحمان کے بیان کے مطابق مذکورہ کوششیں ناکام ہو گئیں کیونکہ نوزائیدہ پیشہ ور طبقہ پرنس عبد الکریم کی استامان گال (پیپلز پارٹی) کا حامی تھا۔ یہ پارٹی انجام کار نیپ میں مدغم ہو گئی۔ بلوچستان کا نسلی اور لسانی اختلاط ۱۹۷۱ میں ون یونٹ کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔
ذو الفقار علی بھٹو نے ۱۹۷۱ کے بعد کی داخلی سیاست میں بھی فوج پر انحصار جاری رکھا۔ بنگلہ دیش کے سانحہ کے بعد فوج پھر جدید اسلحہ سے لیس ہو کر بحال ہو چکی تھی۔ R.G. Wirsing اپنی کتاب "The Balochis and Pathans" میں لکھتے ہیں کہ بھٹو نے یونیفارم میں ملبوس افراد کو پھر سیاست میں واپس آنے کی ترغیب دی۔ ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۶ تک پچاس لاکھ سے بھی کم اور بکھری ہوئی آبادی والے صوبے میں ۸۰ ہزار فوجی جوانوں کو قبائلی اور صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے باغیوں سے نمٹنے کے لیے رکھا گیا۔ قوت کا یہ استعمال جائز مطالبات کو وحشیانہ طریقے سے دبانے کا عمل تھا جس نے علاقائی مخالفت کو جنم دیا اور قومی یک جہتی کو نقصان پہنچایا۔
بلوچستان میں پنجابیوں اور پختونوں کی آمد نے مقامی لوگوں کے احساس تشخص کو مجروح کیا۔ بلوچی دانش ور پاکستانی ریاست میں بلوچوں کی کم تر نمائندگی پر انگشت نمائی کرتے تھے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ ان کے قدرتی وسائل مثلاً گیس وغیرہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان کو استحصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر مقامی آبادی کو سہولت پہنچانے اور بلوچوں کے مفادات کے تحفظ کے بجائے فوجی نقطہ نظر سے کی جاتی ہے۔ ۱۰ فروری ۱۹۷۳ کے بعد بلوچستان میں قبائلی بغاوت ایک بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ میں ۶۰ ہزار کے قریب عسکریت پسند شامل ہو گئے۔ محاذ آرائی کے عروج کے دور میں پاکستان ایئر فورس کی مدد شاہ ایران نے کی جو خود بھی اپنے بلوچ مسئلے پر پریشان تھے۔ بلوچ قبائل ایران کی آبادی کا ۲ فی صد ہیں، لیکن چار باہر کے بحری اور فضائی اڈوں کی تعمیر کے علاوہ ہرمز کے علاقے سے خلیج عمان کو تیل کی ترسیل نے بلوچ قبائل کو اہم بنا رکھا ہے۔ امریکی تجزیہ نگار Slaig Harrison نے اپنے مضمون "Baloch Nationalism and Super Power Rivalry" میں اس وقت ۷۰ کے عشرے میں سوویت خطرے کو غیر ضروری طور پر محسوس کیا تھا۔ فوج اور باغیوں کی لڑائی میں نو ہزار افراد مارے گئے۔ اس دہائی میں فوج کے متحرک کردار کے حوالے سے بھٹو نے موت کی کوٹھڑی میں اپنی آخری تحریر "If I Am Assasinated" میں دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے واپسی کے ان منصوبوں کو فوج نے نظر انداز کر دیا کیونکہ جرنیل پورے بلوچستان میں اپنا جال بچھانا چاہتے تھے۔ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کی حیات نو بھی فوج کے جن کو بوتل میں قید نہ کر سکی۔ بھٹو نے اپنے بعد آنے والوں کو بتا دیا تھا کہ شورش زدہ علاقوں میں امن وامان بحال رکھنے کا درست طریقہ ترقیاتی کام ہیں۔ ۸۰ کے بعد کے عشروں میں صوبے کے زخم بھرنے کے لیے مرہم رکھے گئے اور حالات معمول پر آ گئے۔
آج ایک مرتبہ پھر بلوچستان کی صورت حال افواہوں کی زد میں ہے۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ افواہیں بے یقینی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، مگر جب کوئی قوم یا ملک ان کی زد میں آ جائے تو سمجھ لیجیے کہ معاشرے میں جگہ جگہ ٹائم بم نصب ہو گئے ہیں جن کے پھٹنے سے سب کچھ تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔ اسی نازک دوراہے پر اعتدال پسندی کا اصل امتحان ہے۔ افواہ زدہ قوموں کو تعمیراتی منصوبوں یا میگا پراجیکٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ تو سنسنی خیز افواہوں کی منتظر ہو کر رہ جاتی ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو جس طرح حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ حکمرانوں کی توجہ، ریاضت، اعتدال پسندی، رواداری، تدبر وفراست اور عوام کی اقتدار میں حقیقی معنوں میں شراکت ناگزیر ہے۔ مرکزیت اور اختیارات کا شخصی ارتکاز قومی یک جہتی کا شعور بیدار نہیں کر سکتا۔
وقت کے مسیحاؤں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قوم وملت کے معمار دھیمے، محکم اور پختہ فکر ہوتے ہیں۔ ہمیں خوش فہمیوں کے گھروندوں سے باہر نکل کر سچ سننا اور سچ کہنا ہوگا۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ قومی یکجہتی اور اتحاد کی ضامن قوتیں پورے ساز وسامان اور بے حد وحساب وسائل کے باوجود مختلف محاذوں پر بٹی ہوئی ہیں۔ وانا سمیت ہم اپنے ہی وطن میں کتنے محاذ کھول کر لڑ سکیں گے؟ گولی مسائل کا حل کبھی نہیں بنی، بلکہ ہمیشہ مسائل کو ضرب دینے کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے۔ طوفان پھولوں کو تو تباہ کر سکتا ہے، لیکن کیا اس سے بیج بھی برباد کیے جا سکتے ہیں؟ لازم ہے کہ وفاق کی اکائیوں کو فوجی کارروائیاں نہ ہونے کی ضمانت دی جائے، اس لیے کہ سیاسی مسائل کبھی فوجی طریقے سے حل نہیں ہو سکتے۔
بلوچستان کے مسئلے کی سنجیدگی اور ماوراے آئین تشدد آمیز ہتھکنڈوں کے نتیجے میں اصلاحاتی پیکجوں کی زکوٰۃ مستقل، پائیدار اور مناسب حل نہیں۔ اس سے ہم وفاق کی دیگر اکائیوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا یہ کہ بنیادی حقوق، سہولتوں اور مراعات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کو بھی یہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا؟ قلیل المدت حوالے سے مسائل کے اونٹ کے منہ میں اصلاحاتی پیکجوں کا زیرہ اپنی جگہ، مگر جب تک ملک میں شراکتی جمہوریت کا سچا، کھرا اور دیانت دارانہ نفاذ نہیں ہو جاتا، معاملات ایسے ہی رہیں گے اور صوبوں میں تحفظ کا احساس پیدا نہیں ہو گا۔
یہ حقیقت تسلیم کر لینے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ وفاق پاکستان کو درپیش مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار ہے۔ فوج اور انتظامی شعبوں میں پنجاب کی بالادستی کے خلاف علاقائیت کا رد عمل نصف صدی سے موجود ہے۔ اس غلبہ کے متعلق سنجیدہ مگر کھلا مباحثہ وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کا خمیازہ پنجاب کو دوسری اکائیوں کی ناراضی کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے، حالانکہ پنجابیوں کی کثیر تعداد اس ’’پنجاب‘‘ سے آشنا نہیں جس سے سارا ملک ناراض ہے۔ اب وفاق میں اس ’’پنجاب ‘‘ کے کردار پر تدبر وتفکر ضروری ہو گیا ہے جس میں خود پنجابیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نہیں رہ رہی۔ مگر یہ ساری سوچ بچار بامقصد، منظم اور باشعور عوامی سیاسی قوتوں کے ذریعے سے ہو، تب ہی خوش گوار تبدیلی ممکن ہوگی۔ حقیقت پسندی کے بغیر اعتدال پسندی خام خیال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ سیاسیات کے ماہرین کا یہ کہنا غلط نہیں کہ وفاقیت اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ شراکتی جمہوریت وفاق کی لازمی شرائط میں سے ہے۔ اقتدار واختیار کا ایک شخص، ایک ادارے یا ایک طبقے یا ٹولے تک محدود ہو کر رہ جانا وفاق کے لیے زہر قاتل ہے۔ حد سے زیادہ مرکزیت کی روک تھام نہ کی جائے تو یہ نظام یا تو وحدانی صورت اختیار کر لیتا ہے جیسا کہ سوویت یونین میں ہوا تھا، یا اگر صوبے اور اکائیاں ماورائے آئین مزاحمت پر اتر آئیں جیسا کہ ۱۹۷۱ میں جنرل یحییٰ کے دور میں ہوا تو وفاقی نظام خود ہی اپنے ہاتھوں تباہ ہو جاتا ہے، یا پھر علاقائیت نمو پا کر اس صورت میں ظاہر ہوتی ہے جس طرح یوگو سلاویہ کی تقسیم کی صورت میں ہوئی۔ ۶۰ کے عشرے میں نائیجریا میں بیافران کا بحران (Biafran Crisis) بھی ایسے ہی حالات ومسائل کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان میں وفاقیت کو درپیش مسائل کا حقیقت پسندانہ مطالعہ ضروری ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو طویل المدت منصوبے کے طور پر دھڑا دھڑ سکالر شپس دینے کے ساتھ ساتھ مختلف جامعات میں پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے سنجیدہ تحقیق کروانے کا بھی بندوبست کرنا چاہیے تاکہ تعلیمی وظائف قومی مفاد میں استعمال ہو سکیں۔ بالخصوص وفاقیت کے حوالے سے چاروں صوبوں میں اکیڈمک ریسرچ اشد ضروری ہے۔
وفاقیت کے تقاضے حقیقی معنوں میں ذہنی، فکری اور عملی اتحاد ویگانگت ہیں۔ ہمیں ذاتی مفادات، نجی تحفظات، صوبائی تعصبات اور قوم پرستانہ شبہات کو پس پشت ڈال کر ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے نعرے کو عملی شکل دینا ہوگی اور اس کے لیے اجتماعی دانش کو بروئے کار لانا ہوگا۔ آج ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں ہر فریق اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے۔ سیاست دان سیاست کریں اور فوج، فوج بن کر رہے۔ ہر کسی کو آئینی حقوق ملیں، مرکز وفاق کا محافظ ہو اور صوبے وفاقیت کے علم بردار بن جائیں۔ ورنہ امریکی تھنک ٹینک آنے والے عشرے میں وفاق پاکستان کے حوالے سے درست اشارے نہیں دے رہے۔ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر کوئی اس نیک کام کے لیے تیار ہے۔ بس ان کی آمادگی کی ضرورت ہے جنھوں نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔
حضرت عمرؓ کی دینی فہم و فراست کے چند نمونے
پروفیسر محمد یونس میو
حضرت عمرؓ کے دور میں بکثرت فتوحات ہوئیں جن کے نتیجے میں مسلمانوں پر مال ودولت کے خزانے کھل گئے اور مسلمانوں کا ایسی تہذیبوں اور تمدنوں سے پالا پڑا جن سے وہ پہلے واقف نہ تھے۔ لہٰذا ناگزیر ہوا کہ خلیفہ دوم ان نئے تہذیبی اور ارتقائی حالات کا مقابلہ ایسے متبادل اصولوں سے کرتے جو اسلامی شریعت اور اس کے عمومی اصولوں ہی سے ماخوذ ہوں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے زندگی کے تمام پہلوؤں میں، خواہ وہ سیاسی ہوں یا اقتصادی، معاشرتی ہوں یا قانونی، ایسی تبدیلیاں روشناس کر ائیں جو ایک طرف امت مسلمہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں کو پورا کریں اور دوسری طرف معاشرے کو اسلام کے بنیادی تقاضوں سے بھی دور نہ ہونے دیں۔
خلفائے راشدین میں سے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ خاص طور پر مسائل شریعت کی نسبت سے ہمیشہ مصالح اور اسباب وعلل پر غور کرتے تھے اور اگر کسی بات کی حکمت ان کی گرفت میں نہ آتی تو حضور سے دریافت کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے احکام شریعت کے مصالح اور حکمتوں کے اس خاص علم کو ’’علم اسرار دین‘‘ کا نام دیا ہے اور ان کی معروف کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا موضوع یہی علم ہے۔ مولانا شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے علم اسرار دین کی بنیاد ڈالی۔ یہاں ایک حدیث کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے حضرت عمر کو جنت کے ایک محل میں اس حالت میں دیکھا کہ وہ لمبی چوڑی قمیض پہنے ہوئے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنا پس خوردہ دودھ بھی عطا کیا اور ان دونوں واقعات کی تعبیر دین اور علم کے ساتھ فرمائی۔
خلیفہ اول حضرت ابوبکر حضور سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ ’’عمرؓ سے بہتر شخص پر کبھی سورج طلوع نہیں ہوا۔‘‘ ابوبکرؓ وعمرؓ انبیاء مرسلین کو چھوڑ کر بوڑھے اہل جنت کے سردار ہیں۔ حضرت علی کی موقوف روایات میں ہے کہ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے پروردگار کی تین مقامات پر موافقت کی: مقام ابراہیم، حجاب اور اساریٰ بدر۔ یہ تینوں موافقات عمر میں شامل ہیں۔ مولانا سید احمد رضا بجنوری نے ’’انوار الباری‘‘ میں اٹھائیس موافقات عمر کا ذکر کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ میں ایک سو بارہ آیات کی شرح فرمائی ہے جس میں شیخین کے فضائل ومناقب بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت سی آیات کا تعلق موافقات عمر سے ہے۔ مثال کے طور پر نماز باجماعت کے لیے اذان کا طریقہ اور منافقوں کی نماز جنازہ سے ممانعت اس سلسلے کی دو اہم مثالیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عمر کسی معاملہ میں یہ کہتے کہ ’’میرا اس کی نسبت یہ خیال ہے‘‘ تو ہمیشہ وہی پیش آتا تھا جو ان کا گمان ہوتا تھا۔ اس سے زیادہ اصابت رائے کی دلیل اور کیا ہوگی۔
یہاں ہم شریعت اسلامی کی تعبیر میں حضرت عمرکے اسلوب اور ان کے طریقہ اجتہاد کی چند مثالیں ذکر کریں گے:
۱۔ جزیہ وہ سالانہ ٹیکس ہے جو اسلامی ریاست میں بسنے والے غیر مسلموں پر عائد کیا جاتا ہے جس کے عوض میں ریاست ان کی جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ذمہ دار قرار پاتی ہے۔ جزیہ کے بارے میں بنی تغلب کے نصاریٰ کی ایک مخصوص حیثیت رہی ہے۔ بنی تغلب زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انھیں دعوت اسلام دی جسے انھوں نے قبول نہیں کیا۔ پھر انہیں جزیہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا تو اس سے بھی انکار کر دیا اور اس کو انھوں نے اپنی ذلت خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم عرب ہیں، ہم سے وہی لو جو زکوٰۃ کے نام پر تم آپس میں ایک دوسرے سے لیتے ہو۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں کسی مشرک سے زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے بعض افراد رومیوں سے جا ملے۔ اس پر نعمان بن زرعہ نے کہا، اے امیر المومنین! یہ طاقتور اور بہادر لوگ ہیں اور عرب ہیں، اس لیے جزیہ دینے میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں، لہٰذا ان سے ایسا سلوک نہ کریں جس سے یہ دشمنوں کے مددگار بن جائیں۔ آپ ان سے زکوٰۃ کے نام پر جزیہ لے لیں۔ چنانچہ حضرت عمر نے ان کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا اور ان پر زکوٰۃ دوگنی کر کے عائد کر دی۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ اسی طرح جاری رہا اور صحابہ میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا۔ اب یہ واضح ہے کہ غیر مسلموں سے زکوٰۃ نہیں، بلکہ بعض مراعات کے بدلے میں جزیہ لیا جاتا ہے، لیکن حضرت عمر نے ایک قومی ضرورت کے پیش نظر جزیہ کا عنوان بدل کر ’زکوٰۃ‘ رکھ دیا۔
۲۔ سیدنا عمر دینی احکام ورسوم کی حفاظت کے سلسلے میں بھی ازحد محتاط اور حساس تھے۔ آپ ’’حجر اسود‘‘ کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ’’میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تیرے اختیار میں زندگی ہے نہ موت، لیکن تیری تعظیم ہم اس لیے کرتے ہیں کہ حضور نے تجھے بوسہ دیا تھا۔‘‘ آپ نے اس درخت کو کٹوا دیا جس کے نیچے ’’بیعت رضوان‘‘ کی گئی تھی تاکہ لوگ عقیدت کے طور پر اس سے رجوع نہ کریں۔ مسجد نبوی میں منبر تعمیر ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک درخت سے ٹیک لگا کر آپ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اس درخت سے لوگوں کی جذباتی وابستگی کے پیش نظر آپ نے اس کو کٹوا دیا۔ درختوں کو کاٹنا بظاہر غیر مناسب اور غیر ضروری نظر آتا ہے، لیکن حضرت عمر کی بصیرت کا تقاضا یہی تھا کہ آئندہ یہ شریعت اسلامی کے محکمات میں رختہ کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے ان راستوں کو ہی بند کر دیا جن سے برائی اور گمراہی کا صدور ہو سکتا تھا۔
۳۔ حج ہر صاحب استطاعت مرد وزن پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، البتہ عورت پر فرضیت حج کی ایک مزید شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم رشتہ دار موجود ہو۔ حضرت عمر نے ازواج مطہرات کو حج کی اجازت دی اور ان کے ساتھ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بھیجا۔ معلوم ہوا کہ اگر محرم موجود نہ ہو لیکن ایسے قابل اعتماد رفقا میسر ہوں تو عورت ان کے ساتھ حج کے لیے جا سکتی ہے۔ آج بھی ایسی صورت حال میں اس واقعے کو مثال بنا کر بہت سی ایسی خواتین جنھیں کسی محرم کی رفاقت میسر نہ ہو، حج کی سعادت حاصل کر سکتی ہیں۔
۴۔ ابو عبیدہ بن الجراح نے حضرت عمر کو لکھا کہ ایک شخص نے زنا کا اعتراف کیا ہے۔ حضرت عمر نے ان کو جواباً تحریر کیا کہ اس شخص سے دریافت کیا جائے کہ کیا اسے زنا کی حرمت کا پتہ ہے۔ اگر وہ اقرار کرے تو حد جاری کر دی جائے، ورنہ اسے بتایا جائے کہ یہ ایک حرام فعل ہے۔ اگر اس کے بعد وہ پھر ارتکاب کرے تو اس پر حد جاری کی جائے۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک عورت حضرت عمر کے پاس لائی گئی جو صحرا میں پیاسی تھی۔ اس نے ایک چرواہے سے پانی مانگا۔ چرواہے نے پانی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ پانی اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ تم مجھے اپنے ساتھ بدکاری کی اجازت دے دو۔ اس نے اللہ کا واسطہ دیا لیکن چرواہے نے انکار کر دیا۔ جب عورت کے لیے پیاس ناقابل برداشت ہو گئی تو اس نے چرواہے کو اپنے اوپر قدرت دے دی۔ حضرت عمر نے یہ صورت حال معلوم ہونے پر اس عورت سے حد ساقط کر دی۔
۵۔ عہد فاروقی کا مشہور واقعہ ہے کہ قحط سالی کے زمانے میں آپ نے حد سرقہ ساقط کر دی تھی اور فرمایا تھا کہ قحط کے سال میں قطع ید نہیں کیا جائے گا کیونکہ بھوک نے لوگوں کو سرقہ پر مجبور کر دیا ہے۔
حاطب ابن ابی بلتعہ کے غلاموں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی اونٹنی چرا لی۔ ان غلاموں کو جب حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو انھوں نے چوری کا اقرار کر لیا جس پر حضرت عمر نے کثیر بن ابی الصلت کو حکم دیا کہ ان غلاموں کے ہاتھ کاٹ دو۔ لیکن کثیر جب حکم کی تعمیل کرنے لگے تو آپ نے غلاموں کو واپس بلا لیا اور فرمایا: ’’یاد رکھو! بخدا، اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ تم لوگ غلاموں سے خوب کام لیتے ہو اور ان کو بھوکا رکھتے ہو، یہاں تک کہ اگر کوئی مجبور ہو کر حرام چیز کھالے تو وہ بھی حلال ہو جائے تو میں یقیناًان کے ہاتھ کاٹ ڈالتا۔‘‘ اس کے بعد مزنی سے پوچھا کہ اونٹنی کی قیمت کیا ہوگی؟ اس نے جواب دیا کہ چار سو درہم۔ آپ نے غلاموں کے آقا حاطب کو حکم دیا کہ وہ اونٹنی کے مالک کو چار سو درہم ادا کریں۔
امام احمد بن حنبل سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ اگر لوگ بھوک سے دوچار ہوں اور کوئی شخص مجبور ہو کر چوری کر لے تو کیا اس وقت بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ امام احمد نے غالباً حضرت عمرؓ ہی کے فیصلے کے پیش نظر فرمایا کہ جب اس کو حالت مجبور کرے اور لوگ بھوک اور سختی کے دور سے گزر رہے ہوں تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
یہ تمام واقعات سرسری نظر سے گزر جانے کے نہیں ہیں، بلکہ غور وفکر کر کے ان کی روح تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ قرآن وحدیث سے اور بھی بہت سے دلائل دیے جا سکتے ہیں جن سے حالات زمانہ اور لوگوں کے مصالح کی رعایت کا ثبوت ملتا ہے۔ مولانا تقی امینی نے اپنی کتاب میں اس بارے میں بڑی مفصل اور مدلل بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں نزول قرآن کے اسلوب سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم کا نزول دفعۃً نہیں ہوا بلکہ ۲۳ سال کے عرصے میں حسب ضرورت ومصلحت بتدریج نازل ہوا ہے، یعنی جیسی جیسی ضرورتیں پیش آئیں اور جس طرح کے مصالح کی رعایت ناگزیر ہوئی، ان کی مناسبت سے احکام کا نزول ہوتا رہا۔ اس طریق نزول سے ایک طرف حالات وزمانہ کی رعایت کا ثبوت ملتا ہے تو دوسری طرف انسانی زندگی اور قانون کے باہمی ربط کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔
حضرت عمر نے حالات وزمانہ کی رعایت، موقع ومحل کی تعیین، تقدیم وتاخیر، تخصیص وتعمیم اور اطلاق وتقیید کی بہت سی مثالیں قائم کیں جن کی مدد سے بعد میں فقہ کی تدوین کے عظیم الشان کام کا انجام پانا ممکن ہوا۔ آپ نے مشکل مسائل کے استنباط، نئے مسائل کے حل اور معارض روایات میں تطبیق پیدا کر کے شریعت کو زندہ وجاوید رکھنے کا راستہ متعین کر دیا۔ شاہ ولی اللہ نے حضرت عمر کے اسی فہم دین پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے ملکی اور تمدنی مسائل کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی جن کی وجہ سے وہ بجا طور پر ’’مجتہد مستقل‘‘ کے خطاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی نے ’’الفاروق‘‘ میں لکھا ہے کہ فقہ کے جس قدر مسائل حضرت عمرؓ سے بروایت صحیحہ منقول ہیں، ان کی تعداد کئی ہزار تک پہنچتی ہے۔ ان میں تقریباً ہزار مسائل ایسے ہیں جو فقہ کے مقدم اور اہم مسائل ہیں اور ان تمام مسائل میں ائمہ اربعہ نے ان کی تقلید کی ہے۔ کتب فقہ میں اولیات عمر کی بحث انہی مسائل سے متعلق ہے۔ مولانا شبلی نے بجا فرمایا ہے کہ فقہ کے تمام سلسلوں کے مرجع حضرت عمر ہیں۔ حضرت عمر کے اجتہادات، فتاویٰ ، تفحص احادیث، روایات کی جانچ پڑتال، اصول فقہ، اصول حدیث اور علم اسرار الدین کے حوالے سے یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ ’’فقہ اسلام‘‘ کی بنیاد اور وجود فقہ عمر سے ہی قائم ودائم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت عمر کے نقوش اجتہاد کی روشنی میں عصر حاضر کے جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید پر توجہ مرکوز کی جائے اور حالات وواقعات کی رعایت رکھتے ہوئے خلق خدا کے حق میں اسلامی احکام ومسائل کی تعبیر کا وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو خود شارع اسلام اور آپ کے بعد حضرت عمر اور حضرت علی نے اختیار کیا۔
’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ ۔ ’’فکر و نظر‘‘ کے تبصرے کا جائزہ
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
فکر ونظر کے شمارہ اکتوبر۔دسمبر ۲۰۰۴ میں راقم کی کتاب ’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ پر ادارۂ تحقیقات اسلامی کے نامور محقق جناب ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کا انتہائی وقیع تبصرہ شائع ہوا جس میں جہاں انھوں نے راقم کی حقیر کاوش کو دل آویز انداز میں سراہتے ہوئے اس کا تفصیلی تعارف پیش کیا، وہاں بعض مباحث پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ علوم اسلامیہ سے وابستہ دیگر افراد کی طرح راقم بھی طویل عرصے تک یہی سمجھتا رہا کہ حدود آرڈیننس کتاب وسنت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوگا اور کبھی اس کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان قوانین کی مخالفت کے بارے میں خیال یہ تھا کہ ایسی کوئی بھی کوشش مسلم معاشرے کو مغربی اور سیکولر معاشرے میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگی، لیکن بعض احباب کے توجہ دلانے پر جب حدود آرڈیننس کا مطالعہ کیا تو جو کچھ محسوس ہوا، اسے کتاب کی شکل میں پیش کر دیا گیا۔
یہ کتاب درحقیقت حدود آرڈیننس پر بحث ومذاکرے کا آغاز ہے۔ مجھے اپنی کسی رائے کے قطعی طور پر درست ہونے پر اصرار نہیں ہے اور میں ہر لمحہ کتاب وسنت کی ہدایات کے سامنے اپنے دل ودماغ کی پوری آمادگی کے ساتھ سر تسلیم خم کرنا اپنے لیے لازوال سعادت کا باعث سمجھتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس موضوع پر مزید تبصرے، تحقیقات اور آرا آئیں گی جن کی روشنی میں قانون ساز اداروں کا کام نسبتاً آسان ہو جائے گا اور اجتماعی کوشش کے نتیجے میں ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا تک رسائی حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔
ذیل میں ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کے ان تحفظات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا راقم کی مذکورہ بالا کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے اظہار کیا۔
’حدود‘ کا مفہوم
حدود کا مفہوم متعین کرتے ہوئے کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ’حدود‘ دراصل آخری درجے کے جرائم پر آخری درجے کی یا زیادہ سے زیادہ سزائیں ہیں۔ اسلام نے ان سزاؤں میں جو تخفیف رکھی ہے، اسے برقرار رکھتے ہوئے عدلیہ کو مجرم کی حالت کے پیش نظر سزا کی کمیت اور کیفیت میں تخفیف کا اختیار ہے۔ (ص ۱۲) اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ :
’’فقہا کی تصریح کے مطابق حد ایک معین سزا ہے جس میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ اس کی مقدار کا تعین شارع نے خود کر دیا ہے۔ اگر مصنف کا موقف اختیار کیا جائے تو جرم زنا میں عدلیہ سو کوڑوں کی بجائے بطور حد دس کوڑوں کی سزا دے سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ حد زنا میں دس کوڑے کیا شارع کی منشا اور شریعت کے تقاضے کو پورا کرتے ہیں؟‘‘ (ص ۱۵۰)
اس تبصرے میں مصنف کی طرف ایک ایسی بات منسوب کر دی گئی ہے جو اس نے نہیں کہی۔ درحقیقت مصنف نے کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’حد‘ کسی جرم میں آخری یا زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کسی جرم میں زیادہ سے زیادہ مقررہ سزا سے کم سزا دی جائے گی تو وہ بھی حد کہلائے گی۔ اسے حد قرار دینا اور اس کی بنا پر یہ کہنا درست نہیں کہ اگر جرم زنا میں عدلیہ سو کوڑوں کے بجائے دس کوڑوں کی سزا دے تو وہ بھی مصنف کے موقف کے مطابق ’حد‘ ہوگی۔ مصنف کے خیال میں اگر عدلیہ نے قرآن کی مقرر کردہ سزا دی تو یہ حد کا نفاذ ہوگا۔ البتہ اگر اس نے زنا کے جرم میں دس کوڑوں کی سزا دی تو یہ حد کا نفاذ نہیں ہے بلکہ تعزیری سزا ہے۔ رہی یہ بات کہ کیا عدلیہ یا مقننہ کو زنا میں حد سے کم سزا دینے یا مقرر کرنے کا اختیار ہے تو اس ضمن میں مصنف کا موقف یہ ہے کہ کتاب وسنت کے کسی بھی حکم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور سنت میں ایک موضوع مسئلہ سے متعلق جتنی آیات واحادیث ہیں، سب کو یک جا کر کے دیکھا جائے تو ان سے اس مسئلہ کے مختلف جوانب واطراف کے بارے میں احکام وہدایات کی تفصیل سامنے آئے گی۔ (۱) قرآن حکیم میں اسی اصول یعنی تصریف آیات کو روبعمل لانے کی وجہ سے ہمارے دور میں نسخ فی القرآن یعنی قرآن کے کسی حکم کی مکمل منسوخی (Total abrogation) کا نظریہ دم توڑتا دکھائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم زنا کی سزا کے بارے میں قرآن حکیم کی آیات کا تتبع کرتے ہیں تو ہمیں سورۃ النساء کی آیات ۱۵۔۱۶ میں یہ حکم ملتا ہے:
وَاللَّاتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِ کُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً O وَالَّلذَانِ یَاْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا O ۔(۲)
’’تمہاری بیویوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں، ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے جو دو فرد بد کاری کا ارتکاب کریں، ان دونوں کو تکلیف پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
مذکورہ بالا آیات میں دو مختلف صورتوں میں دو الگ الگ ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی شخص کی بیوی نے اس طرح بد کاری کا ارتکاب کیا ہے کہ اس کے جرم کے چار گواہ موجود ہیں تو ایسی عورت کو گھر میں مقید رکھنا چاہیے تا آنکہ وہ مر جائے یا اس کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی اور حکم آ جائے۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے اس حکم کو ایسی عورت کے ساتھ مختص کیا ہے جو خود مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کا شریک جرم مرد اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ (۳) جب کہ مولانا محمود حسن دیوبندی نے اسے بیویوں کے ساتھ مختص کرتے ہوئے گھریلو تادیب پر محمول کیا ہے۔ (۴) مولانا دیوبندی کی رائے قرآن کے الفاظ ’نِّسَآءِ کُمْ‘ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے کیونکہ قرآن حکیم نے بالعموم نساء کم کے الفاظ مسلمانوں کی بیویوں کے لیے استعمال کرتے ہوئے ان کے شوہروں کو ان کے بارے میں احکام دینے کے ضمن میں استعمال کیے ہیں۔ (۵)
دوسری صورت یہ ہے کہ بدکاری کے دونوں مجرم عدالتی انصاف کے لیے قاضی یاجج کے سامنے ہیں تو قرآن نے ان کو ایذا دہی یعنی تعزیری سزا دینے کا حکم دیا ہے،یعنی حاکم اور قاضی کی صواب دید کے مطابق جس قدر سزا مناسب ہو، اتنی دے دی جائے۔ (۶)
ان دونوں آیات میں سے پہلی آیت کا حکم بظاہر محدود مدت کے لیے دیا گیا، کیونکہ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً کے الفاظ سے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ حکم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان خواتین کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی نیا حکم نہیں آ جاتا، جبکہ دوسری آیت کے حکم کے عارضی ہونے کی کوئی شہادت آیت میں موجود نہیں ہے۔ تاہم بیشتر مفسرین نے ان دونوں آیات کو منسوخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سورۃ النور کی آیت نمبر ۲ کے نزول کے بعد یہ دونوں آیات منسوخ ہو گئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فیصلہ کرنا درست ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیات منسوخ ہو گئیں اور اب ان کی عملی افادیت باقی نہیں رہی؟ اس کے جواب کے لیے نسخ فی القرآن کے نظریے پر ایک اجمالی نظر ڈالنا ضروری ہے۔
نسخ فی القرآن
نسخ کے مفہوم میں متقدمین اور متاخرین میں اختلاف ہے۔ قرآن حکیم کے کسی عام حکم کی تخصیص، مطلق کی تقیید یا کسی حکم میں استثنا آجاتا تو متقدمین اس کے لیے نسخ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ کے بقول صحابہ کرام اور تابعین کے کلام کے استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات نسخ کا لفظ اس کے لغوی معنی میں استعمال کرتے تھے نہ کہ علماء اصول کی اصطلاح کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ کسی آیت کے بعض اوصاف کی تبدیلی ان کے نزدیک نسخ کہلاتی تھی، خواہ یہ تبدیلی مدت عملی کی تعیین سے متعلق ہو، یا متبادر معنی سے غیر متبادر معنی کی طرف انتقال، یا عام کی تخصیص، یا کسی قید کے بارے میں یہ بتانا کہ وہ محض اتفاقی تھی، یا منصوص اور مقیس علیہ میں امر فارق کا بیان، یا کسی جاہلی رسم یا سابقہ شریعت کے حکم کا ازالہ، یہ تمام امور ان کے نزدیک نسخ کہلاتے تھے۔ متقدمین کے نزدیک نسخ کا مفہوم بہت عام تھا، اسی لیے قدیم اسلامی ادبیات میں منسوخ آیات کی تعداد سینکڑوں تک بتائی گئی ہے، حتیٰ کہ یہ کہا گیا ہے کہ قرآن حکیم میں پانچ سو کے قریب آیات منسوخ ہیں۔ (۷) نیز یہ کہ سورۃ التوبہ کی آیت سیف (۹:۵) نے قرآن حکیم کی ایک سو تیرہ آیات منسوخ کر دیں۔ (۸)
بعد کے ادوار میں علم اصول فقہ کی تدوین اور ہر موقع اور محل کے لیے الگ الگ اصطلاحات مقرر ہونے کے بعد متاخرین نے نسخ کو اس کے متعین معنی میں استعمال کرنا شروع کیا جسے مختصر الفاظ میں ’’کلیتاً رفع حکم‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور اس کی تعریف یوں کی گئی:
’’کسی متاخر شرعی دلیل کی بنا پر کسی شرعی حکم کا بالکل اٹھ جانا اور ختم ہو جانا نسخ کہلاتا ہے۔‘‘ (۹)
قرآن حکیم کے حوالے سے نسخ پر دو پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ کیا قرآن حکیم میں نسخ ممکن ہے یا نہیں اور دوسرے یہ کہ اگر قرآن میں نسخ ممکن ہے تو کیا ہمارے پاس موجودہ مصحف میں کوئی آیت منسوخ ہے یا نہیں؟ قرآن حکیم میں امکان نسخ کے بارے میں اہل علم کے دو گروہ ہیں۔ علما کی اکثریت امکان نسخ کی قائل ہے جبکہ ابو مسلم اصفہانی (م ۳۲۲ھ) اور ان کے پیروکار سرے سے قرآن حکیم میں نسخ کے امکان کے ہی قائل نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن میں نسخ تسلیم کر لیا جائے تو اس سے یہ بات ماننا پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک حکم نازل کرنے کے بعد کوئی بات سوجھی تو اس نے پہلے حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم نازل کر دیا، لیکن یہ دلیل چنداں وقیع نہیں ہے کیونکہ احکام الٰہی جس قوم اور جن افراد کے لیے نازل ہوتے ہیں، ا ن کے حالات تغیر پذیر ہوتے ہیں، اس لیے حالات کے بدلنے سے احکام میں تبدیلی آتی ہے اور ان کی تربیت کی جاتی ہے، نیز سابقہ شریعتوں کے نسخ سے بھی وجود نسخ پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (۱۰) لیکن اس سے زیادہ سے زیادہ قرآن حکیم میں نسخ کا امکان ثابت ہوتا ہے۔ یہ امر کہ ہمارے پا س موجود مصحف میں کوئی آیت منسوخ ہے، صرف روایت سے ثابت ہو سکتا ہے، درایت سے نہیں، اس لیے ا س کے ثبوت کی تین صورتیں ممکن ہیں:
۱۔ قرآن حکیم میں اس مضمون کی کوئی آیت موجود ہو کہ فلاں حکم جو پہلے تھا، اب منسوخ کر دیا گیا ہے، جیساکہ حدیث میں آتا ہے: ’میں نے تمھیں قبروں پر جانے سے روک دیا تھا، اب تم جا سکتے ہو۔‘ (۱۱) قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے۔ بعض آیات جن میں نسخ کا شبہ ہوتا ہے، ان میں قرآن حکیم نے نسخ کے بجائے تخفیف کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (۱۲) گویا ان صورتوں میں قرآن حکیم نے حالات کی رعایت کی ہے، مطلقاً حکم منسوخ نہیں کیا بلکہ کسی قدر نرمی پیدا کر دی ہے۔
۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واضح حکم موجود ہو کہ فلاں آیت اب منسوخ کر دی جاتی ہے۔ ایسا بھی کوئی حکم موجود نہیں ہے۔
۳۔ بعض آیات کے احکام بظاہر باہم متعارض نظر آتے ہوں اور ان میں توافق ممکن نہ ہو۔ نسخ فی القرآن کی بحث اسی تیسری صورت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ قرآنی آیات کا تعار ض رفع کرنے کے لیے علامہ جلال الدین سیوطی نے محی الدین ابن عربی کے حوالے سے اکیس آیات کو منسوخ بتایا ہے یعنی پورے قران میں اکیس آیات ایسی ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو دوسری آیات سے تعارض پیدا ہوتا ہے، اس لیے انھیں منسوخ قرار دیا گیا۔ درحقیقت اس بنا پر کسی آیت کو منسوخ قرار دینے کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ ہم اپنے عجز کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں ان دو آیات میں واقع ہونے والے اختلاف اور تعارض کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا، لہٰذا قرآن میں تضاد تسلیم کرنے کے بجائے نسخ کے ذریعے سے آیات کی تاویل کی جائے، لیکن خود قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس میں تضاد نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ وہ ایسی صداقتوں کی تعلیم دیتا ہے جو ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں اور قرآن کی صحیح اور سچی تشریح وتفسیر وہی ہو سکتی ہے جو اختلاف اور تضاد سے خالی ہو:
اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًاO ۔(۱۳)
’’کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ بعد کے مفسرین اور محققین نے حالات کے تغیر، علم کی ترقی اور قرآن کے گہرے مطالعے کے نتیجے میں ان میں سے کئی آیات کے مفہوم اور محمل متعین کر دیے۔ شاہ ولی اللہ نے ان میں سے سولہ آیات کے محمل متعین کر کے ایک ایسی شاہراہ کھول دی (۱۴) جس پر چل کر بعد کے علما نے باقی چھ آیات کے محمل بھی متعین کر دیے، چنانچہ ماضی قریب میں مولانا انور شاہ کشمیری، مفتی محمد عبدہ، مولانا عبید اللہ سندھی اور دیگر کئی علما نے قرآن میں موجود کسی بھی آیت کے منسوخ ہونے سے انکار کر دیا۔ انور شاہ کاشمیری کہتے ہیں:
’’محققین کے مسلک کو دیکھتے ہوئے میں نے کلیتاً نسخ کا انکار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن حکیم میں سرے سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے، یعنی ایسی کوئی آیت نہیں کہ جس کا حکم کلیتاً منسوخ ہو گیا ہو اور وہ کسی جزئی واقعہ میں بھی معمول بہا نہ ہو۔ میرے نزدیک ایسا نہیں اور کوئی بھی آیت جسے منسوخ بتایا گیا ہے، ایسی نہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے معمول بہا نہ ہو۔‘‘ (۱۵)
آیات میں تعارض کی صورت میں ہمیشہ نسخ ہی کا قول نہیں کیا جاتا بلکہ تعارض رفع کرنے کے اور حل بھی ہیں۔ مثلاً جہاں قرآن کی کسی آیت سے دوسری آیت کا حکم جزوی طور پر متاثر ہوا ہو، اسے تنسیخ (Abrogation) کے بجائے تخصیص (Particularization)، تقیید (Specification) یا استثنا (Exception) کہتے ہیں۔ نسخ فی القرآن کے مسئلے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی منسوخ آیات کی تعداد میں کمی کا نظریہ آگے بڑھتا رہا تا آنکہ دور حاضر کے بیشتر علما کی رائے یہ ہے کہ قرآن حکیم میں امکان نسخ کے باوجود ایسا کوئی تعارض موجود نہیں جس میں تطبیق (Adjustment)، توفیق (Reconciliation) یا توجیہ (Accommodation) ممکن نہ ہو۔ نتیجتاً قرآن حکیم کی آیات میں اختلاف یا تعارض کا نظریہ ختم ہو گیا۔
اگر نسخ فی القرآن کے مسئلہ کو درایت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ نظریہ بہت عجیب معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکم موجود ہو اور ا س کے بارے میں آیت اٹھا لی گئی ہو یا آیت موجود ہو اور اس کا کوئی عملی فائدہ نہ ہو اور اس کے حکم پر کسی حالت میں عمل کرنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ (۱۶) یہی وجہ ہے کہ دور حاضر کے مفسرین نسخ کو تشریع کے تدریجی اور ارتقائی عمل کے مراحل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس اصولی بحث کے بعد اب ہم مذکورہ بالا دونوں آیات پر نسخ کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔
بالعموم مفسرین نے ان دونوں آیات (النساء ۴:۱۵، ۱۶) کو منسوخ قرار دیا ہے اور اس کے لیے انھوں نے دو طرح کی شہادتیں پیش کی ہیں، داخلی اور خارجی۔ ان آیات کے منسوخ ہونے کی داخلی شہادت انھوں نے یہ دی ہے کہ قرآن حکیم نے خود یہ الفاظ کہے ہیں: اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر قید کی سزا کا حکم دائمی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بعد میں کوئی اور حکم دے دے گا، جو اس حکم کو منسوخ کر دے گا۔ مفسرین کی یہ رائے درست ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے راہ نکالنے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے یہ حکم دائمی نہیں ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان دو آیات میں دو الگ الگ صورتوں کے الگ الگ حکم بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن حکیم نے راہ نکالنے کا وعدہ پہلی صورت یعنی بد کار بیوی کو عمر قید کی سزا کے سلسلے میں دیا ہے نہ کہ دوسری صورت میں۔ دوسری آیت میں بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو ایذا پہنچانے کا حکم ہے، جسے تبدیل کرنے کا وعدہ نہیں ہے۔ اگر تبدیلی کے وعدے میں یہ حکم بھی شامل ہوتا تو راہ نکالنے کے وعدے کے الفاظ دوسری آیت کے آخر میں ہوتے نہ کہ پہلی آیت کے آخر میں۔ قرآنی الفاظ کی ترتیب صاف بتا رہی ہے کہ پہلی صورت میں سزا کی تبدیلی کا حکم آنے کا امکان ہے جبکہ دوسری صورت میں حکم قطعی، دائمی اور ابدی ہے، لہٰذا دونوں آیات کے بارے میں یہ کہنا غلط ہے کہ ان میں دیا گیا حکم دائمی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ نے جن آیات کے نسخ کی روایت نقل کر کے ان کے محمل بتائے ہیں، ان میں صرف پہلی آیت کے سورۃ النور سے منسوخ ہونے کا قول نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ حکم اپنی نہایت کو پہنچ گیا تو اس میں کیا گیا وعدہ پورا کر دیا گیا۔ (۱۷) شاہ صاحب کے نزدیک بھی دوسری آیت جو زنا کی تعزیری سزا کے بارے میں ہے، منسوخ نہیں ہے۔
جہاں تک ان آیات کے منسوخ ہونے کی خارجی شہادت ہے تو اس کا تعلق بھی اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً سے ہے اور مفسرین اس امر پرمتفق ہیں کہ اللہ نے جو راہ نکالنے کا وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر دیا، البتہ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ جن اہل علم کے نزدیک قرآن کا کوئی حکم حدیث سے منسوخ ہو سکتا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا قرآنی حکم حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے منسوخ ہو گیا ہے جو یہ ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا نزل علیہ الوحی اثر علیہ کرب لذلک وتربد وجہہ علیہ الصلاۃ والسلام فانزل اللہ تبارک وتعالیٰ ذات یوم فلما سری عنہ قال خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا الثیب بالثیب والبکر بالبکر جلد ماءۃ والرجم بالحجارۃ والبکر جلد ماءۃ ثم نفی سنۃ (۱۸)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ کو کرب ہوتا اور آپ کے چہرۂ انور کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ ایک دن اللہ نے آپ پر وحی نازل کی۔ جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے لے لو۔ اللہ نے عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے۔ شادی شدہ، شادی شدہ سے بد کاری کرے اور کنوارے آپس میں بد کاری کریں تو سو کوڑے اور پتھروں سے رجم اور کنواروں کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا دی جائے۔‘‘
اس حدیث کے بارے میں متعدد اشکال تھے جن کی بنا پر بیشتر علما نے اس حدیث کو ناسخ قرار نہیں دیا:
۱۔ یہ خبر واحد ہے اور خبر واحد سے قرآنی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا، بلکہ امام شافعی کے نزدیک قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ (۱۹)
۲۔ اس حدیث کے پہلے حصے سے جس میں وحی کی کیفیت بتائی گئی ہے، یہ ایہام ہوتا ہے کہ شاید بعد کے الفاظ قرآنی وحی ہیں، جبکہ یہ قرآن وحی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصحاب سنن نے اس روایت کے ابتدائی جملے حذف کر دیے اور انھوں نے ’خذوا عنی‘ سے روایت نقل کی۔ (۲۰)
۳۔ اس روایت میں کنوارے جوڑے کے لیے بد کاری پر سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا بتائی گئی ہے جبکہ حنفیہ کے نزدیک جلا وطنی کی سزا حد میں شامل نہیں اور مالکیہ کے نزدیک عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ (۲۱) شادی شدہ جوڑے کے لیے اس روایت میں سو کوڑوں اور رجم کی سزا بتائی گئی ہے جبکہ جمہور فقہا اس پر متفق ہیں کہ جسے رجم کی سزا دی جائے، اسے کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی۔ (۲۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی یہ راویت کسی فقہی مکتب فکر کا مستدل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بالعموم مفسرین نے یہ رائے اختیار کی کہ مذکورہ بالا حکم (عمر قید) سورۃ النور کی آیت نمبر ۲ : ’الزانیۃ والزانی‘ سے منسوخ ہے۔ (۲۳) اس رائے پر یہ اعتراض تو نہیں کیا جا سکتا کہ قرآنی حکم کسی غیر قرآنی حکم سے منسوخ ہو گیا، البتہ اس میں یہ امر قابل غور ہے کہ سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیت نمبر ۱۵ کے آخری الفاظ ہیں اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے) اس جملے میں ’لہن‘ کا تقاضا یہ ہے کہ بعد میں آنے والے حکم میں ان خواتین کے لیے تخفیف ہو، کیونکہ ’لہن‘ کا لام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی خواتین کو جنھیں بد کاری پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے، بعد میں ریلیف دینا چاہتا ہے جبکہ سو کوڑوں کی سزا یا رجم کی سزا ریلیف نہیں ہے بلکہ عمر قید کی بہ نسبت شدید تر سزا ہے، اس لیے اگر ’الزانیۃ والزانی‘ کے تحت کوڑوں کی سزا یا سنت ثابتہ کے تحت رجم کی سزا کو ناسخ قرار دیا جائے تو ’لہن‘ کے تقاضے پورے نہیں ہوتے جبکہ قرآن کے مفہوم کے تعین میں سب سے پہلی اور اہم چیز جس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، وہ عربی زبان کی دلالت لفظی ہے۔ (۲۴)
اگر ’لہن‘ کے پیش نظر اس امر سے اتفاق کیا جائے کہ اللہ کی منشا یہ ہے کہ بعد میں کوئی تخفیف کر دی جائے تو اس کے لیے ہمیں قرآن حکیم کی تفسیر کے اصول ’’تصریف آیات‘‘ کے حوالے سے دیکھنا ہوگا کہ بیوی کی بدکاری کی صورت میں قرآن نے کہاں کہاں کیا کیا احکام دیے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں دو جگہ ایسے احکام ملتے ہیں جو واقعتاً ریلیف ہیں۔ ان احکام کا تعلق ا س ا مر سے بھی ہے کہ اگر کوئی شخص بیوی کی بد کاری کا قضیہ عدالت میں لے جانے کے بجائے اسے خانگی سطح پر نبٹانا چاہتا ہے تو اس کے لیے فوری اقدام یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بیوی کو گھر میں پابند کر دے تاکہ وہ اس ماحول سے الگ ہو جائے جو گناہ میں مبتلا ہونے کا باعث ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اسے مستقل طور پر علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو پہلا حکم سورۃ النساء کی آیت ۱۹ کی روشنی میں یہ ہے کہ اسے خلع کے ذریعے سے الگ کر دے، جو عمر قید کی سزا کاٹنے والی خاتون کے لیے بجا طور پر ریلیف ہے، جو یہ ہے:
یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْہًا وَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَآ آتَیْتُمُوْہُنَّ اِلاَّ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (۲۵)
’’اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ جو کچھ تم نے انھیں دیا ہے، اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے انھیں تنگ کرو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی بد کاری کی مرتکب ہوئی ہوں۔‘‘
ابن مسعود اور ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اگر بیوی زنا کا ارتکاب کرے تو اسے پریشان کر کے مہر کی واپسی پر آمادہ کرنا جائز ہے۔ (۲۶) یعنی اس آیت کی روشنی میں بیوی کو ناجائز تنگ کرنا تاکہ وہ جان چھڑانے کے لیے شوہر سے لیا ہوا مہر واپس کر کے خلع کر لے، جائز نہیں، البتہ اگر بیوی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوتی ہے تو اس سے مہر واپس لے کر خلع کرنا جائز ہے جو اس کے لیے عمر قید سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اگلی آیت میں ا س حکم کی مزید تاکید کرتے ہوئے کہا: ’اَتَاْخُذُوْنَہُ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا‘ (۲۷) (کیا تم بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے دیا ہوا مال واپس لو گے؟)
امر واقعہ یہ ہے کہ جو بیوی اپنے گناہ کی پاداش میں جس پر چار گواہ موجود ہیں، گھر میں نظر بند ہے اور عمر قید کاٹ رہی ہے، ساتھ ہی شوہر اور خاندان کی طرف سے ناخوش گوار تعلقات کا سامنا کر رہی ہے، ا س کے لیے خلع یعنی مال کے بدلے طلاق خریدنا بہت بڑا ریلیف ہے اور غالباً سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں اسی ریلیف کا وعدہ تھا۔ اگر ایسی صورت درپیش ہو کہ خلع کے معاملات نہیں طے ہوتے اور مرد ایسی بیوی کو رکھنے کے لیے تیار نہ ہو تو سورۃ الطلاق میں ایک دوسرا حل دیا گیا ہے جو یہ ہے:
یَآ اَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلاَّ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (۲۸)
’’اے نبی، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (عدت کے دوران) نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خودنکلیں، الا یہ کہ وہ صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں۔‘‘
اس آیت میں کہا گیا ہے کہ طلاق کی صورت میں عدت کے دوران مطلقہ بیوی کو گھر سے بے دخل نہ کرو، البتہ اگر اس نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو تو اسے طلاق دے کر گھر سے نکال سکتے ہو۔ گویا یہ دوسرا ریلیف ہے جو اس بیوی کو دیا گیا ہے جس کو سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۵ میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
مذکورہ بالا احکام اس صورت میں تھے جب شوہر اس معاملے کوخانگی سطح پر طے کرنا چاہتا ہو۔ اور اگر وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانا چاہتا ہو تو جس ریلیف کا وعدہ مذکورہ بالا آیت میں کیا گیا ہے، وہ ریلیف اگلی آیت میں دے دیا گیا جو یہ ہے:
وَالَّلذَانِ یَاْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا O ۔(۲۹)
’’جو دو فرد (مرد اور عورت) بد کاری کا ارتکاب کریں، انھیں ایذا پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘
یعنی جو جوڑا بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے اور ان کے خلاف چار گواہ موجود ہیں تو انھیں تعزیری سزا دو۔ ظاہر ہے تعزیری سزا دینا عدالت کا کام ہے، اس لیے اس آیت کا تعلق عدالتی کارروائی کے تحت تعزیری سزا سے ہے۔
قرآن حکیم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے جہاں جہاں اپنے سابقہ حکم میں کوئی تخفیف یا جزوی تبدیلی کی ہے، بالعموم اس امر کا التزام کیا ہے کہ پہلا اور دوسرا حکم ساتھ ساتھ بیان کیا جائے تاکہ مسلمان کسی قانونی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً سورۃ الانفال کی آیت نمبر ۶۵ کے حکم میں اس سے اگلی آیت میں تخفیف کر دی گئی۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵۰، ۵۱ کی اجازت کو اس سے اگلی آیت میں ختم کر دیا گیا۔ سورۃ المزمل کے آغاز میں دیے گئے قیام اللیل کے حکم میں اسی سورت کی آخری آیت میں تخفیف کر دی گئی۔ قرآن کے اس اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں دیے گئے حکم میں اگلی آیت میں تخفیف کر دی گئی۔
الغرض جرم زنا پر سو کوڑوں سے کم سزا دینا حد نہیں ہے اور نہ ہی کتاب کے مصنف نے اسے حد قرار دیا ہے، البتہ اگر عدالت ا س پر سو کوڑوں سے کم کوئی سزا دے گی تو وہ سورۃ النساء کی آیت ۱۶ کے تحت تعزیری سزا ہوگی اور کوئی بھی سزا ’حد‘ اسی وقت قرار پائے گی جب کہ قرآن کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔
عادی اور اتفاقی مجرم میں فرق
فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں:
’’مصنف کا یہ بھی خیال ہے کہ حدود عادی مجرموں کے لیے ہیں، اتفاقی مجرموں کے لیے نہیں۔ (ص ۲۳) اس سے یہ مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک یا دو دفعہ بد کاری کا ارتکاب کیا تو اس پر حد زنا جاری نہیں ہوگی۔ کیا اس طرح کا طرز عمل زنا، قذف، چوری اور دیگر جرائم حدود کی حوصلہ افزائی کا باعث نہیں بنے گا؟ عادی اور اتفاقی مجرم کے درمیان فرق کیسے کیا جا سکے گا؟ کسی جرم کے کتنی دفعہ ارتکاب سے ایک شخص اتفاقی سے عادی مجرم میں تبدیل ہوگا؟ ہمارے خیال میں مذکورہ موقف بہت سی قانونی پیچیدگیوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘ (ص ۱۵۰)
اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مصنف نے صرف زنا اور چوری کی سزاؤں کے حوالے سے عادی اور اتفاقی مجرم میں فرق کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں جرائم کی حدود بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم نے اسم فاعل کے صیغے (’السارق والسارقۃ‘ اور ’الزانیۃ والزانی‘) استعمال کیے ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان الفاظ کے بعد بیان کیا گیا حکم عادی مجرموں کے لیے ہے۔ جہاں تک قذف، ڈاکے یا دیگر جرائم کا تعلق ہے، ان کے بارے میں یہ فرق نہیں ہے کیونکہ قرآن حکیم نے ان جرائم کی سزائیں بیان کرتے ہوئے مختلف اسلوب بیان اختیار کیا ہے جس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ جن صورتوں میں عادی مجرموں پر حد جاری کرنے کا حکم ہے، ان جرائم میں اتفاقی مجرموں کے لیے کتاب وسنت میں تعزیری سزاؤں کا حکم موجود ہے۔ مثلاً سورۃ النساء کی آیت ۱۶ میں بد کاری پر تعزیری سزا کا حکم ہے، جس کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے اور چوری کے جرائم میں قطع ید کے بجائے چوری کے مال سے دوگنا جرمانہ عائد کرنے کی مثالیں ہماری کتاب میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوگی یا قانونی پیچیدگیاں جنم لیں گی۔ صرف اس قدر فرق ہوگا کہ پہلی بار ارتکاب جرم پر تعزیری سزا ہوگی اور دوسری بار کے ارتکاب جرم پر حد جاری ہو جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان جرائم سے تعزیری سزائیں ختم کرنے کی وجہ سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس قدر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ گزشتہ ربع صدی سے حدود آرڈیننس کے نفاذ کے باوجود کسی شخص پر حد جاری نہیں ہوئی جبکہ معاشرہ جرائم کی آماج گاہ بن چکا ہے۔
رہی یہ بات کہ اتفاقی اور عادی مجرم میں کیا فرق ہے؟ اگر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو جو شخص کسی جرم میں دوسری بار ماخوذ ہوتا ہے، اسے عادی مجرم کہنا چاہیے۔ نیز دنیا بھر میں قانونی دانش دو ایسے افراد کو یکساں قرار نہیں دیتی جن میں سے ایک کسی جرم میں پہلی بار ماخوذ ہو اور دوسرا اس جرم میں ایک بار سزا یاب ہو چکا ہو اور دوسری بار ماخوذ ہوا ہو۔ کتاب وسنت نے گناہ کے ارتکاب اور گناہ پر اصرار میں جو فرق کیا ہے، اس کی تفصیل زیر بحث کتاب میں موجود ہے، تاہم ہم نے یہ بحث نہیں کی کب کوئی مجرم اتفاقی سے عادی میں تبدیل ہو جائے گا جس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف ایسے امور بلکہ حدود آرڈیننس کی تمام متبادل دفعات کا تعلق قانون سازی سے ہے۔ ہمارا موضوع صر ف حدود آرڈیننس کی خامیوں کا تعین کر کے اس موضوع پر بحث ومذاکرہ کا آغاز کرنا تھا۔ متبادل قانون کیا ہو؟ یہ علما، فقہا، مفکرین، ماہرین قانون، اسلامی نظریاتی کونسل اور مقننہ کا کام ہے کہ وہ ہماری ناچیز کاوش اور حدود آرڈیننس کے نفاذ کے پچھلے پچیس سالہ تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ کریں۔
مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱۔ اگر کسی شخص کی بیوی بدکاری کا ارتکاب کرے اور اس پر چار گواہ موجود ہوں تو عورت کو گھر میں پابند کر دیا جائے اور اگر میاں بیوی اکٹھے نہ رہنا چاہتے ہوں لیکن معاملہ خاندانی سطح پر طے کرنا چاہتے ہوں تو خلع یا طلاق کے ذریعے علیحدہ ہو جائیں۔
۲۔ اگر شوہر اس معاملے کو عدالت میں لے جائے اور بدکاری میں ملوث جوڑے نے پہلی بار بدکاری کا ارتکاب کیا ہے تو سورۃ النساء کی آیت ۱۶ کے تحت انھیں تعزیری سزا دی جائے اور پھر انھیں اپنی روش تبدیل کر کے (توبہ کر کے) پاک صاف زندگی بسر کرنے کا موقع دیا جائے۔
۳۔ اگر وہ عادی مجرم ہو جاتے ہیں تو سورۃ النور کی آیت ۲ کے تحت انھیں سو سو کوڑوں کی سزا دی جائے اور اگر ان کا جرم حرابہ کے درجے کو پہنچ جاتا ہے تو سورۃ الاحزاب کی آیات ۶۰، ۶۱ کے تحت سزائے موت (رجم) دی جائے۔
۳۔ اگر شوہر کے پاس اپنی بیوی کی بد کاری ثابت کرنے کے لیے چار گواہ نہیں ہیں تو وہ دونوں سورۃ النور کی آیت ۶۔۹ کے تحت لعان کے ذریعے علیحدہ ہو جائیں۔
اسقاط حد میں توبہ کا کردار
فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں:
’’مصنف کا حدود آرڈیننس پر ایک اعتراض یہ ہے کہ اس میں توبہ کی گنجایش نہیں رکھی گئی۔ ان کی رائے میں اگر کوئی شخص زنا یا چوری کے بعد عدالت میں توبہ کر لیتا ہے اور اپنے چال چلن کی درستی کا یقین دلاتا ہے تو ایسے شخص سے حد ساقط ہو جانی چاہیے۔ ہمارے خیال میں اس طرح تو حدود کبھی بھی نافذ نہیں ہو سکیں گی اور حدود کے اجرا کا پور انظام معطل ہو کر رہ جائے گا۔ اگر عدالت کو یہ قانونی حق دلایا جائے کہ وہ توبہ قبول کر کے حد کو ساقط کر دے تو عدالتیں اور خود مجرم اس کا کتنا غلط استعمال کریں گے۔ کیا کوئی شخص تصور کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو عدالت سو کوڑے لگانے یا سنگ سار کرنے کی سزا سنائے اور وہ توبہ نہ کرے۔‘‘ (ص ۱۵۱)
فاضل تبصرہ نگار نے جس اندیشے کا ذکر کیا ہے، مصنف نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ’’جو گرفت میں آنے سے پہلے گناہ سے تائب ہو جائے، اس سے اسی طرح اللہ کے حقوق ساقط ہو جاتے ہیں جس طرح محارب سے ساقط ہو جاتے ہیں اور یہی رائے زیادہ صحیح ہے۔‘‘ (ص ۴۹)
درحقیقت ہمارے ہاں توبہ اور استغفار میں فرق نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے خلط مبحث پیدا ہو جاتا ہے۔ توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ پر نادم ہو کر اپنی روش تبدیل کر لے اور گناہ آلود زندگی ترک کر کے ایسی زندگی اختیار کر لے جو اس گناہ سے پاک ہو جس سے اس نے توبہ کی ہے، جبکہ استغفار کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے یہ درخواست کرے کہ اسے اس گناہ کی سزا نہ دی جائے۔ استغفار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس شخص نے توبہ بھی کی ہو اور اپنی زندگی کی روش بدل لی ہو۔ ہماری بحث کا تعلق توبہ سے ہے جبکہ فاضل تبصرہ نگار نے جو اعتراض کیا ہے، اس کا تعلق توبہ سے نہیں بلکہ استغفار سے ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے جرم کی سزا پانے کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہے تو اب اس کے لیے روش تبدیل کرنے کا کون سا وقت ہے؟ اب جو کچھ وہ کر سکتا ہے، وہ صرف استغفار ہے یعنی یہ درخواست کہ اسے اس جرم پر سزا نہ دی جائے اور کسی عدالت کو حدود کے معاملات میں استغفار کی قبولیت کا اختیار نہیں ہے۔ ہم نے اپنی تالیف میں ان سوالات کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں علما کی آرا کا تجزیہ پیش کیا ہے، تاہم توبہ کے بارے میں دو امور پیش نظر رکھنا ضروری ہیں:
۱۔ توبہ کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، حقوق العباد سے نہیں، یعنی اگر ارتکاب جرم میں کسی فرد کو جانی، مالی، عزت وآبرو کا یا کسی اور طرح کا نقصان پہنچایا گیا تو توبہ کے باوجود اس کی تلافی کے بغیر جرم معاف نہیں ہوتا۔ جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا، ہر شخص اپنی روش تبدیل کر کے ازسرنو اللہ سے وفاداری کا عہد وپیمان کر سکتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہوگی۔
۲۔ توبہ کو جرائم کی سزاؤں میں موثر قرار دینے کے پس منظر میں ’’تقادم (Time bar)کے اثرات‘‘ کے نظریے کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ فقہا کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قرض تقادم سے معاف نہیں ہوتا، لیکن شراب نوشی کی سزا تقادم سے ساقط ہو جاتی ہے۔ حدود میں تقادم سے مراد یہ ہے کہ جرائم حدود میں سے کسی جرم کے ارتکاب پر اتنا وقت گزر جائے کہ اس عرصے میں گواہ اپنی گواہی پیش کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے بلا عذر شرعی عدالت کی طرف رجوع نہیں کیا تو حنفیہ کے نزدیک بلا عذر تاخیر کے سبب سے ان کا دعویٰ قابل سماعت رہے گا نہ ان کی شہادت قابل قبول، البتہ اس حکم کا تعلق ان حدود سے ہے جو خالصتاً حقوق اللہ سے متعلق ہیں، یعنی حد زنا، حد خمر اور حد سرقہ۔ حد قذف اس میں شامل نہیں کیونکہ وہ بندے کا حق ہے۔ (۳۰)
تقادم کے باعث دعوے کے ناقابل سماعت ہونے میں جہاں اس امر کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے میں بد نیتی اور دشمنی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، وہاں یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ وقت گزر نے کے باوجود اگر اس شخص نے دوبارہ وہ جرم نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی روش تبدیل کر لی اور یہی توبہ ہے۔
توبہ کے علاوہ دیگر مباحث میں بھی فقہا کے اختلافات اور دلائل کا مقدور بھر غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے، لیکن صدیوں سے چلے آنے والے فقہی اختلافات کو کسی تجزیے سے ختم کیا جا سکتا ہے نہ ان میں کوئی قول فیصل دینا ممکن ہے۔ ان کی تفصیل اور تجزیے کی افادیت صرف یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی با اختیار ادارہ ان مسائل میں قانون سازی کرے تو فقہی اختلافات کے تجزیے کو بھی پیش نظر رکھے۔
حدود آرڈیننس کی اصل خرابی
حدود آرڈیننس کی سب سے بڑی خرابی جس کا ہم نے کتاب میں تفصیل سے ذکر کیا ، لیکن فاضل تبصرہ نگار نے اسے نظر انداز کر دیا، یہ ہے کہ اس میں انسانی قوانین کو الہامی قوانین کے نام پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ حدود آرڈیننس چار قوانین پر مشتمل ہے جن میں ایک سو ایک دفعات ہیں۔ ان میں سے صرف اٹھارہ دفعات کا تعلق حدود سے ہے اور باقی ۸۳ دفعات تعریفات، طریق کار اور تعزیری سزاؤں سے متعلق ہیں۔ لیکن ستم یہ ہے کہ ان تمام دفعات کے بارے میں ہر قانون کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس قرآن وسنت میں متعین کردہ اسلامی قانون کے مطابق ہے جبکہ تعزیرات کو کتاب وسنت میں مذکور سزائیں قرار دینا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا ہے۔ قرآن حکیم کی چودہ آیات میں اللہ کی طرف غلط بات منسوب کرنے اور اللہ پر افترا پردازی کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا۔ نیز قیامت کے روز اس جرم کی شدید ترین باز پرس کی وعید سنائی گئی۔ قرآن حکیم میں ہے:
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (۳۱)
’’ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَّواْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ (۳۲)
’’جس نے دانستہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔‘‘
ہمارے علم میں حدود آرڈیننس کی تشکیل ونفاذ سے پہلے اسلامی تاریخ کی پوری چودہ صدیوں میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ امت کے کسی فرد یا طبقے نے اپنی آرا، افکار یا اپنی قانون سازی کو الہامی قوانین قرار دینے کی جسارت کی ہو۔ اسلامی تاریخ کا یہ پہلا اور منفرد واقعہ ہے جہاں اس قدر شدید بے احتیاطی کا ارتکاب کیا گیا۔ مثال کے طور پر حدود آرڈیننس (حد زنا) کی دفعہ ۱۵ اور ۱۶ کے تحت جائز نکاح کا یقین دلا کر کسی عورت سے دھوکے سے مباشرت کرنے کی سزا پچیس سال قید با مشقت اور تیس تک کوڑوں کی سزا ہے اور مجرمانہ نیت سے کسی عورت کو ورغلانے پر سات سال تک قید اور تیس کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ مذکورہ جرائم سنگین نوعیت کے جرائم ہیں اور ان پر دی جانے والی سزا کسی طور نا مناسب نہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سزا قرآن میں ہے نہ سنت میں جبکہ ان کو قرآن وسنت کی متعین کردہ سزاؤں کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہ سزائیں حکومت کے اس اختیار کے نتیجے میں مقرر کی گئی ہیں جو اسے تعزیری قوانین کی تشکیل اور نفاذ کے سلسلے میں حاصل ہے۔ ان سزاؤں کو کتاب وسنت کی سزائیں قرار دینا افتراء علی اللہ ہے اور ارشاد ربانی ہے:
لاَ تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ وَّقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی O (۳۳)
’’اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ، ورنہ وہ سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کر دے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا، نامراد ہوا۔‘‘
بہرحال اللہ کی آخری عدالت میں جواب دہی کے احساس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی قوانین کی تشکیل اور نفاذ میں انتہائی احتیاط، تدبر اور دانش کا مظاہرہ کیا جائے۔ مبادا ہمارا کوئی غیر محتاط اقدام اسلام اور اسلامی قوانین کی بدنامی کا باعث بن جائے۔
شراب نوشی کی سزا
شراب نوشی کی سزا کے بارے میں ہم نے لکھا ہے کہ یہ قرآن حکیم میں مذکور نہیں اور سنت نے قطعی سزا مقرر نہیں کی۔ اس سزا کو باقی رکھنا تو سنت ہے لیکن اس کی مقدار کا تعلق تعزیر سے ہے، حد سے نہیں۔ (ص ۲۵۰۔۲۵۶) اس بات کو بعض جرائد نے اس عنوان سے شائع کیا ہے کہ شراب نوشی پر کوئی سزا نہیں ہے، جس سے بہت بڑی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی پر سزا دینے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
من شرب الخمر فاجلدوہ (۳۴)
’’جو شراب پیے، اسے کوڑے لگاؤ۔‘‘
لیکن آپ نے کوڑوں کی تعداد مقرر نہیں کی، اس لیے اسے حد قرار دینا درست نہیں۔ اس رائے پر یہ اعتراض کیا جا سکتاہے کہ اسلامی ادبیات کی کتب حدیث اور فقہ میں شراب نوشی کی سزا کے لیے ’حد‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا حد ہے، اسے تعزیری سزا دینا تفرد ہے، لیکن اگر ہم اسلامی قوانین کی ساخت، عدالتوں کے طریق کار اور قاضیوں کے اختیارات کو مدنظر رکھیں تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ شراب نوشی کی سزا کو کتب حدیث اور فقہ میں ’حد‘ کیوں قرار دیا گیا، جبکہ انھیں کتب میں یہ تفصیل مذکور ہے کہ جب شراب نوشی کی کثرت ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے مشورے سے ۸۰ کوڑے سزا مقرر کی۔ حد، حقوق اللہ کی پامالی پر دی جانے والی مقرر سزا کو کہتے ہیں۔ اسلامی قانون تعزیرات کی چونکہ دفعہ بندی (Codification) نہیں ہوئی تھی، اس لیے قضاۃ اپنی صواب دید کے مطابق تعزیری سزائیں دیتے تھے، لہٰذا کسی جرم کی تعزیری سزا کی مقدار مقرر نہیں تھی، البتہ شراب نوشی کی تعزیری سزا عہد صحابہ میں مقرر کر دی گئی تھی، اس لیے اسے حقوق اللہ کی پامالی پر مقرر سزا ہونے کے حوالے سے حد کا نام دیا گیا۔ پس حد سے مراد اگر ایسی مقررہ سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی ہو تو شراب نوشی پر سزا حد قرار نہیں پائے گی، لیکن اگر حکومت کی مقرر کردہ سزائیں بھی ’حدود‘ قرار دی جائیں تو نہ صرف شراب نوشی کی سزا بلکہ قانون تعزیرات کی دفعہ بندی کے بعد ہر جرم کی مقررہ سزا کو حد کہنا چاہیے، جبکہ حدود آرڈیننس میں حد کی تعریف یہ کی گئی ہے:
’’حد سے مراد وہ سزا ہے جس کا قرآن کریم یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حکم دیا گیا ہو۔‘‘
حوالہ جات
۱۔ احسان اللہ فہد اصلاحی، ’علامہ ابن تیمیہ کے نزدیک فہم قرآن کے اصول‘، ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور، ستمبر ۱۹۹۴، ۲۲
۲۔القرآن، النساء ۴:۱۵۔۱۶
۳۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، تاج کمپنی دہلی، ۱۹۹۹، ۲:۲۶۵
۴۔ ملاحظہ ہو تفسیر عثمانی، فوائد بذیل آیت ۱۵، سورۃ النساء۔ یاد رہے کہ تفسیر عثمانی کا ترجمہ اور سورۃ البقرۃ اور النساء کے فوائد مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریر ہیں۔
۵۔ مثلاً احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم (۲:۱۸۷) ، نساء کم حرث لکم (۲:۲۲۳)، امہات نساء کم (۴:۲۳)، ربائبکم اللاتی فی حجورکم من نساء کم (۴:۲۳)، للذین یولون من نساء ہم (۲:۲۲۵)، والذین یظاہرون منکم من نساء ہم (۵۸:۲) وغیرہ متعدد آیات میں نسائکم اور نساء ہم سے بیویاں مراد لی گئی ہیں نہ کہ عام عورتیں۔
۶۔ تفسیر عثمانی، حوالہ بالا
۷۔ شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، ادارۂ اسلامیا ت لاہور، ۱۹۸۲، ۳۲
۸۔ وہبہ الزحیلی، اصول الفقہ الاسلامی، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۲:۹۳۶ بحوالہ الناسخ والمنسوخ لابن خزیمہ وکتاب الناسخ والمنسوخ فی القرآن الکریم لابی جعفر النحاس، ۲۶۴
۹۔ عبد الکریم زیدان، الوجیز فی اصول الفقہ، نشر احسان للنشر والتوزیع، طہران، ۱۳۸۰، ۳۸۸
۱۰۔ تفصیل کے لیے دیکھیے، تدبر قرآن، ۱:۳۰۸۔۳۱۷
۱۱۔ مسلم بن حجاج القشیری، صحیح مسلم، دار السلام ریاض، ۱۹۹۸، حدیث نمبر ۲۲۶۰
۱۲۔ مثلاً سورۃ الانفال کی آیات ۶۵۔۶۶، المزمل ۷۳ کی آیات ۲۔۴، ۲۰، المجادلہ ۵۸ کی آیات ۱۲۔۱۳
۱۳۔ القرآن، النساء ۴:۸۲
۱۵۔ انور شاہ کاشمیری، فیض الباری علیٰ صحیح البخاری، دار المعرفۃ بیروت، ۳:۱۴۷
۱۶۔ محمد خضری بک، اصول الفقہ، مطبعۃ الاستقامۃ ، القاہرۃ، ۲۵۷
۱۷۔ شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر، ۳۵
۱۸۔ احمد بن حنبل، مسند، ۵:۳۱۸، ۳۲۱، ۳۲۷، حدیث نمبر ۲۲۲۰۸، ۲۲۲۲۸، ۲۲۲۷۴
۱۹۔ الشافعی، محمد بن ادریس، الرسالہ، مطبع الحلبی، ۱۱۰
۲۰۔ دیکھیے مسلم، حدیث نمبر ۱۴۴۴، ترمذی ۱۴۳۴، ابو داود ۴۴۱۵، ابن ماجہ ۲۵۵۰
۲۱۔ عبد القادر عودہ، التشریع الجنائی الاسلامی، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۹۹۴، ۱: ۶۳۹
۲۲۔ شوکانی، محمد بن علی، نیل الاوطار، دار ابن حزم، بیروت، حدیث نمبر ۳۱۳۰، ص ۱۴۶۳
۲۳۔ ابن کثیر، اسماعیل بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، دار القرآن الکریم بیروت، ۱:۳۶۶
۲۴۔ قرآن فہمی کے لیے عربی زبان کی دلالات کی اہمیت کے لیے دیکھیے: الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم، الموافقات فی اصول الاحکام، دار الفکر، ۲:۴۲۔۴۶
۲۵۔ القرآن، النساء ۴:۱۹
۲۶۔ تفسیر ابن کثیر، ۱:۳۶۸
۲۷۔ القرآن، النساء، ۴:۲۰
۲۸۔ ایضاً، الطلاق ۶۵:۱
۲۹۔ ایضاً، النساء ۴:۱۶
۳۰۔ الکاسانی، علاء الدین ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع، دار الکتب العربیہ بیروت، ۷:۵۱۔ ابن عابدین، رد المحتار، بولاق، ۲:۱۵۸۔ ابن الہمام، شرح فتح القدیر، بولاق، ۴:۱۶۲۔
۳۱۔ القرآن، البقرہ ۲:۷۹
۳۲۔ یہ حدیث متواتر ہے اور بالعموم ہر مجموعہ حدیث میں موجود ہے۔
۳۳۔ القرآن، طہ ۲۰: ۶۱
۳۴۔ شوکانی، نیل الاوطار، حدیث نمبر ۳۲۱۱، ص ۱۵۰۰
قانون اسلامی کا ارتقا اور امام ولی اللہ دہلویؒ
مولانا محمد عیسٰی منصوری
حضرت مولانا سید سلمان الحسینی، استاذ حدیث ندوۃ العلماء لکھنو کی یہ کتاب درحقیقت امام ولی اللہ دہلوی کی معرکہ آرا کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے ایک اہم باب ’’اسباب اختلاف ائمہ‘‘ کے متعلق ایک نہایت بصیرت افروز اور محققانہ تبصرہ ومحاکمہ ہے۔ یہ اس دور کا اہم تقاضا بھی ہے کہ فروعی اختلافات میں شدت کو ختم کر کے دین کو ایک متفقہ لائحہ عمل کے طور پر سامنے لایا جائے۔
اسلام خالق کائنات کی طرف سے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے آیا ہے۔ کائنات اور زمانہ ترقی پذیر ہے، ا س کے تقاضے اور ضروریات ہر آن بدلتے رہتے ہیں۔ نئے نئے تقاضے اور پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس لیے قرآن وسنت میں اتنی گہرائی، وسعت اور ہمہ گیری قدرت نے پنہاں کر دی کہ قیامت تک ہر ہر زمانہ ومکان کی انسانی ضروریات کے لیے کافی ہوں، مگر قرآن وسنت کی گہرائی میں غواصی کر کے وقت کے تقاضوں میں رہبری حاصل کرنا ہر فرد بشر کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر صدی میں ایسے اشخاص رونما ہوتے رہے ہیں جو دین کو ہر طرح کی آمیزش، تحریف اور غلط تاویل سے نکھار کر اسے اپنی اصل شکل وصورت میں لے آتے ہیں جیسے کسی بیش قیمت ہیرے پر سے گرد وغبار کو صاف کر دیا جائے تو وہ اصل حالت میں چمکنے دمکنے لگتا ہے اور مرور زمانہ کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
بعض شخصیات ایسی جامعیت وعبقریت لیے ہوتی ہیں کہ ان کی فکر اور دماغی قوت وبصیرت اپنے دور سے بہت بعد تک کا احاطہ کر لیتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ وقت آ جاتا ہے تو ان کے علوم وافکار اور نتائج اجتہاد نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ مثلاً شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے علوم وافکار سے اگرچہ محدود طور پر ہر زمانے میں اہل علم واقف تھے، مگر ان کی وفات کے تقریباً ۶۰۰ سال بعد سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت قائم ہوئی جس نے حنبلی فقہ ومسلک کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ امام ابن تیمیہ کے تمام اجتہادات وتفردات کا وکیل اور ترجمان بن کر اپنے وسیع وسائل سے امام موصوف کی تمام کتب آب وتاب سے شائع کر کے دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ اسی طرح امام ولی اللہ دہلویؒ (۲۱ فروری ۱۷۰۳-۲۰ اگست ۱۷۶۲ھ) کے افکار ونظریات، ایک طویل زمانے تک زاویہ خمول میں رہے ہیں۔ ان سے خاص خاص اہل علم ہی واقف تھے۔ آپ کی پہلی کتاب آپ کی وفات سے تقریباً ۱۲۰ سال بعد ۱۸۸۰ء میں محدودتعداد میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ۱۹۱۱ء میں مصر کے مشہور مطبع بولاق نے حجۃ اللہ البالغہ شائع کی جس سے امام ولی اللہ دہلوی کا چرچا برصغیر سے نکل کر عرب دنیا میں شروع ہوا۔ بیسویں صدی کے آخر تک آپ کی بیشتر کتب برصغیر کے مختلف اداروں سے شائع ہو کر گھر گھر پہنچ چکی تھیں۔ جگہ جگہ آپ کے نام پر ادارے، اکیڈیمیاں اور ریسرچ سنٹر قائم ہوئے۔ آپ کے نام پر ایوارڈ کا سلسلہ شروع ہوا۔ برصغیر اور دنیا بھر کی یونیورسٹیوں نے آپ کے نام پر چیئرز اور تحقیقی شعبے قائم کیے۔ آپ کی فکر اور علوم پر وسیع کام شروع ہوا، حتیٰ کہ امریکہ کی ایک نومسلم اسکالر ڈاکٹر مارسیا کے ہرمنسن (Marcia K. Hermansen) نے بھی آپ پر پی ایچ ڈی کی۔
شاید اللہ تعالیٰ نے اکیسویں صدی کے لیے آپ کے علوم وافکار کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی میں وہ وقت آ گیا ہے جب آپ کے علوم وافکار کی عام ترویج ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں آپ کی تصانیف اور فکر میں اس قدر کام ہو چکا ہے کہ اب ہر مکتب فکر اور گروہ اپنی نسبت آپ کی طرف کرنا اپنے لیے باعث عز وشرف سمجھ رہا ہے، حتیٰ کہ وہ گروہ جن کے تصور اسلام میں تصوف واحسان کے لیے کوئی گنجایش نہیں اور جن کے نزدیک نفس تصوف واحسان زیغ وضلال ہے اور جن کی شدت وانتہا پسندی کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان انھیں مشرک اور بدعتی نظر آتے ہیں، وہ بھی اپنی نسبت اس امام ولی اللہ دہلوی کی طرف کر رہے ہیں جو زندگی بھر تصوف واحسان پر عامل رہا اور اس موضوع پر اس کی آدھ درجن سے زیادہ مستقل تصانیف ہیں، جیسے لمعات، وحدۃ الوجود والشہود، القول الجمیل، التفہیمات الالٰہیہ، الطاف القدس، الخیر الکثیر، انفاس العارفین وغیرہ۔ جس کا اصل سلسلہ، نقشبندیہ مجددیہ تھا، مگر اس نے اپنی جامعیت سے چاروں سلسلوں کو جمع کیا۔ اس وقت برصغیر میں چاروں سلسلوں میں بیعت کا جو رواج ہے، وہ آپ ہی کا فیض ہے۔ برصغیر کے تصوف کے بیشتر سلسلے آپ کے جلیل القدر صاحبزادے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ تک منتہی ہوتے ہیں۔
امام ولی اللہ دہلوی کی سب سے نمایاں خصوصیت جامعیت وتطبیق ہے۔ شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی جامعیت ہے، یعنی وہ اختلافی مسائل میں ایسا راستہ ڈھونڈتے ہیں اور اپنی علمی وسعت اور ذہانت کی مدد سے اکثر ایسا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس پر فریقین متفق ہو سکیں۔‘‘ (موج کوثر، ص ۵۳۶)
معلوم ہوتا ہے یہ آپ کی خاندانی خصوصیت ہے۔ چنانچہ مولانا عبید اللہ سندھی، شاہ ولی اللہ کے والد اور چچا کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
’’ہر دو بھائیوں کے خاص نظریات کا ماحصل ایک ایسی شاہراہ بنانے کی سعی ہے جس پر مسلمان فلاسفرین (صوفیہ ومتکلمین) اور فقہا ساتھ ساتھ چل سکیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۵۳۶)
خود شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں آپ کا فقہی مسلک فقہی مذاہب میں تطبیق کی صورت نکالنا ہے: ’’بقدر امکان جمع می کنم در مذاہب مشہورہ‘‘ ۔ آپ کے والد اور چچا حنفی تھے، لیکن محبوب استاد شیخ ابو طاہر مدنی شافعی تھے۔ اگر آپ کا بس چلتا تو چاروں فقہی مذاہب یا کم از کم دو مشہور فقہی مذاہب (حنفی وشافعی) کو ملا کر ایک کر دیتے، کیونکہ یہی دو مذاہب امت میں زیادہ مشہور وشائع ہیں۔ چنانچہ آپ ’’تفہیمات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اس وقت جو امر حق ملا اعلیٰ کے علوم سے مطابقت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں کو ایک مذہب کی طرح کر دیا جائے۔ دونوں کے مسائل کو حدیث نبوی کے مجموعوں سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ جو کچھ ان کے موافق ہو، اس کو رکھا جائے اور جس کی کچھ اصل نہ ہو، اس کو ساقط کر دیا جائے۔ پھر جو چیزیں تنقید کے بعد ثابت نکلیں، اگر وہ دونوں میں متفق علیہ ہوں تو مسئلہ میں دونوں قول تسلیم کیے جائیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۵۸۲)
اگر احادیث کی تدریس میں امام ولی اللہ دہلویؒ کا طریقہ جو آپ نے اپنی مشہور کتب موطا امام مالک کی عربی وفارسی شروح ’المسویٰ‘ اور ’المصفیٰ‘ میں اختیار فرمایا تھا، جاری رہتا تو بڑی حد تک فقہی اختلافات کی شدت اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی ہی میں ختم ہو جاتی اور ملت اسلامیہ کے عوام الناس کے لیے دین پر چلنے کی ایک متفقہ شاہراہ سامنے ہوتی۔ مگر بدقسمتی سے حضرت شاہ ولی اللہؒ کے فوراً بعد ہندوستان کا علمی مرکز ثقل دہلی سے لکھنو منتقل ہو گیا جہاں غالی اہل تشیع کی حکومت نے قرآن وحدیث کے درس کو ختم کرنے اور معقولات کی ترویج کی ہر امکانی کوشش کی۔ خود دہلی میں ابو المنصور صفدر جنگ نے مغلیہ سلطنت پر غاصبانہ قبضہ کر کے یہی کچھ کیا۔
حضرت امام ولی اللہ دہلوی کے فلسفہ وفکر کے عظیم شارح مولانا عبید اللہ سندھی تھے، مگر ان کے بعض شاگردوں نے ان کی فکر کو پوری طرح ہضم کیے بغیر ان کی طرف بعض کمزور باتیں منسوب کر کے مولانا کی شخصیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ان کے بعد دار العلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب صاحب کا ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا درس مشہور تھا۔ زمانہ قریب میں مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور مولانا منظور نعمانی فکر ولی اللہی کے علم بردار تھے۔ اس کی جھلک ’ارکان اربعہ‘ اور ’معارف الحدیث‘ میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اب چند سالوں سے ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث مولانا سلمان الحسینی کے حجۃ اللہ البالغہ پر درس مشہور ہو رہے ہیں۔ مولانا سلمان صاحب مدظلہ نے گزشتہ چند سالوں سے لندن میں علماء کرام کو خصوصی طور پر حجۃ اللہ کا درس دیا۔ ۲۰۰۳ء میں لندن کے معروف تعلیمی ادارے ابراہیم کمیونٹی کالج میں اور ۲۰۰۴ میں انگلینڈ کے شہر لیسٹر میں یہ درس بہت کام یاب رہا جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ مولانا نے وقت کے تقاضے اور احوال کی مناسبت سے درس میں حجۃ اللہ البالغہ کے اس حصے پر خصوصی توجہ مبذول کی جو باب دوم کے تتمہ میں ’اسباب اختلاف الائمہ‘ کے عنوان سے ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس وقت فقہی اختلافات کی شدت کو کم کرنے کی جتنی ضرورت ہے، اتنی شاید کبھی نہیں تھی، کیونکہ موجودہ دور ہوائے نفس اور اعجاب بالرائے کا دور ہے۔ اختلافات میں انسان کے لیے نفسیات واغراض پر دین کا لبادہ ڈالنا آسان ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو فی زماننا دین کے نام سے ہمارے نوے فی صد اختلافات فی الحقیقت تعصبات اور نفسانیت کے اختلافات ہیں۔ اختلافات کی شدت کم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ زمین کی طنابیں کھینچ دی گئی ہیں، اور پوری دنیا ایک بستی (گلوبل ولیج) بن چکی ہے اور پوری دنیا پر اہل شر وفساد اور معاندین اسلام کا پوری طرح تسلط قائم ہو چکا ہے۔ ان احوال میں فروعی اختلافات اور مسلک وذوق کے اختلافات میں فکر ولی اللہی کے مطابق اعتدال وتوازن اور وسعت ظرفی کے ساتھ تطبیق کی اشد ضرورت ہے۔
ایک زمانہ تھا جب سو ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر زبان، تمدن، معاشرت اور رہن سہن کے طور طریقے بدل جاتے تھے، مگر اب تیزی سے پوری دنیا کا کلچر، معاشرت، لباس اور طرز زندگی ایک سا ہوتا جا رہا ہے، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں کافرانہ (مغربی) ہوتا جا رہا ہے۔ درحقیقت یہ تمہید ہے اس بات کی کہ جلد ہی دنیا کا مذہب بھی ایک یعنی اسلام ہوگا، کیونکہ قبول حق میں ایک رکاوٹ کلچر، تمدن اور طرز زندگی کا اختلاف بھی رہا ہے۔ احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ قرب قیامت میں پوری دنیا ایک ہی مذہب (اسلام) کی طرف گامزن ہو جائے گی، اس لیے علماء کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دور اور اس کے تقاضوں کو سمجھیں اور فروعی اختلافات کی شدت ختم کر کے اسلام کو ایک متفقہ شاہراہ کے طور پر پیش کریں۔ اگرچہ آل سعود کے سیاسی جرائم بے شمار ہیں، مگر ان کے گنتی کی چند حسنات میں ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے حرم میں ایک امام پر امت کو مجتمع کر دیا۔ اگر آج وہاں ماضی کی طرح چار مصلے ہوتے تو کس قدر بد نمائی اور جگ ہنسائی کا موقع ہوتا اور اسلام کے آفاقی نظام وفکرکو پیش کرنا مزید دشوار ہو جاتا۔
امام ولی اللہ دہلوی کے متعلق مولانا شبلی نعمانی ’’تاریخ علم کلام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ابن تیمیہ اور ابن رشد کے بعد بلکہ خود انھیں کے زمانے میں مسلمانوں میں جو عقلی تنزل پیدا ہوا تھا، اس کے لحاظ سے یہ امید نہ رہی تھی کہ پھر کوئی صاحب دل ودماغ پیدا ہوگا، لیکن قدرت کو اپنی نے رنگیوں کا تماشا دکھانا تھا کہ اخیر زمانے میں جبکہ اسلام کا نفس باز بین تھا، شاہ ولی اللہ جیسا شخص پیدا ہوا جس کی نکتہ سنجیوں کے آگے غزالی، رازی اور ابن رشد کے کارنامے ماند پڑ گئے۔‘‘
نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں:
’’اگر آپ صدر اول اور پہلے زمانے میں ہوتے تو امام الائمہ اور تاج المجتہدین سمجھے جاتے۔‘‘
(ایضاً، ص ۵۵)
آپ کی شاہکار تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے متعلق علامہ شبلی لکھتے ہیں:
’’مذہب دو چیزوں کا مرکب ہے، عقائد واحکام۔ شاہ صاحب کے زمانے تک جس قدر تصانیف لکھی جا چکی تھیں، صرف پہلے حصے کے متعلق تھیں۔ دوسرے حصے کو کسی نے مس نہیں کیا تھا۔ شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس موضوع پر کتاب لکھی۔‘‘
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
’’حجۃ اللہ جیسی کوئی تصنیف پہلے بارہ سو سال میں کسی نے نہیں لکھی، نہ کسی عربی نے نہ عجمی نے۔‘‘ (ترجمہ از رود کوثر)
حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی قدرت کلام اور اعجاز اظہار کا یہ عالم ہے کہ آپ نے بیک وقت عربی وفارسی میں مہتم بالشان مسائل وموضوعات اور سنگین ونازک مسائل پر مجتہدانہ شان سے اظہار خیال فرمایا۔ آپ کی تصانیف کو درجہ کمال تک پہنچانے میں آپ کے اسلوب تحریر، دقت نظر اور سلامت فہم کے ساتھ ساتھ خود انشا وتحریر کے معجزانہ طرز کا بھی خاص حصہ ہے۔ یہ اسی کا اعجاز ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ جیسی تصنیف وجود میں آئی جو بقول مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے اس مرتبہ کی حامل ہے کہ کسی مذہب کی تائید اور اس کی حکیمانہ توجیہ اور کسی نظام کی فلسفیانہ تشریح میں کسی زمانے میں ایسی کتاب نہیں لکھی گئی اور اگر لکھی گئی تو وہ دنیا کے سامنے نہیں ہے۔
بدیہی حقیقت ہے کہ اسلام کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے۔ برصغیر میں قرآن کا فارسی ترجمہ فتح الرحمن کے نام سے حضرت شاہ ولی اللہ نے کیا۔ اس کے بعد آپ کے جلیل القدر فرزندان حضرت شاہ عبد القادر اور شاہ رفیع الدین نے اردو تراجم کیے۔ یہی تراجم اب تک برصغیر کے تمام تراجم کی اصل واساس ہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ فارسی میں شیخ سعدیؒ اور قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے ترجمہ کیا تھا، مگر وہ کبھی بھی متداول نہیں ہو سکے۔ اسی طرح شاہ ولی اللہ سے پہلے برصغیر کا نصاب تعلیم مشارق الانوار (شرح مشکوۃ) جیسی ایک آدھ کتاب کے علاوہ کتب احادیث سے بالکل خالی تھا۔ یہ امام ولی اللہ دہلوی کی برکت ہے کہ صحاح ستہ نصاب تعلیم کا حصہ بنیں۔ اگرچہ آپ سے پہلے شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ نے کتب احادیث کی ترویج کی کوشش کی، مگر بوجوہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اسی طرح مغلیہ دور سے پہلے گجرات میں شیخ علی متقی اور علامہ طاہر پٹنی وغیرہ نے کتب حدیث کے درس وتدریس کا سلسلہ جاری فرمایا تھا مگر گجرات پر مغلوں کے قبضہ کے بعد وہ ختم ہو گیا۔ حضرت امام ولی اللہ دہلوی نے احادیث پر مجتہدانہ بصیرت سے کلام فرمایا اور تدریس میں صحاح ستہ بلکہ بخاری شریف پر بھی موطا امام مالک کو ترجیح دی۔ آپ نے ’المصفیٰ‘ کے نام سے فارسی میں اور ’المسویٰ‘ کے نام سے عربی میں موطا کی شرحیں لکھیں۔ غرض گزشتہ صدیوں میں برصغیر میں قرآن اور احادیث پر جو بھی کام ہوا ہے یا ہو رہا ہے، ان سب کا سہرا امام ولی اللہ کے سر ہے۔ یہ سب آپ کا صدقہ وطفیل ہے۔ نیز آپ کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے آنے والے دور کے لیے حجۃ اللہ البالغہ میں ایک جدید علم کلام کی بنیاد رکھ دی۔ چنانچہ آپ حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’مصطفوی شریعت کے لیے وقت آ گیا ہے کہ برہان ودلیل کے پیراہنوں میں ملبوس کر کے اسے میدان میں لانا چاہیے۔‘‘
یہ ایک نئے علم کلام کا پیغام تھا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ ہر دور کی ضرورت کے مطابق حقائق ومعارف اپنے خاص بندوں کے دلوں پر القا فرماتے ہیں اور انھیں اپنے زمانے کی ضرورتوں کے مطابق اسلام کی خدمت کے لیے متوجہ فرماتے ہیں۔ امام ولی اللہ دہلوی نے فلسفہ یونانی کی جگہ ایک نئے فلسفہ اور علم کلام کی بنیاد رکھی جسے بجا طور پر فلسفہ ایمانی کہا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے دور میں انگریز کے قدم جنوب مشرقی ہندوستان (مدراس وبنگال وغیرہ) میں جم چکے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ پر اللہ تعالیٰ نے علم اسرار دین منکشف فرمایا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے جو مغرب کے لائے ہوئے الحاد وتشکیک کے زہر کا تریاق بن سکتا ہے۔ بعد کے دور میں مغرب کی فکری یلغار کے نتیجے میں فکری انارکی والحاد کا جو سیلاب آیا ہے اور اس نے اسلام کے پیش کردہ نظام حیات پر مسلسل اعتراضات اور حملے کیے، اس نے جدید طبقے کا اعتماد اسلام پر سے متزلزل کر دیا۔ یہی اس دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس کا علاج شاہ ولی اللہ کے ایمانی فلسفے میں موجود ہے۔ کاش کہ آپ کے بعد علماء کرام اس فلسفہ سے لیس ہوتے تو انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کے نظریاتی وفکری حملوں کی کامیاب مدافعت کر سکتے بلکہ اس کا رخ موڑ دیا جاتا۔ اب بھی یہ کام باقی ہے کہ علماء کرام ایمانی فلسفہ سے لیس ہو کر مغرب کے فلسفوں، افکار ونظریات اور علم کلام کا پوسٹ مارٹم کر کے انھی کی زبان واسلوب اور لب ولہجہ میں جواب دیں۔ محدث شہیر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی وصیت کے مطابق علماء کرام کو اپنی توجہ فروعی اختلافات سے ہٹا کر ملت کے حقیقی مسائل کی طرف مبذول کرنی ہوگی۔ یہی وقت کی پکار ہے اور مولانا سلمان الحسینی صاحب کی اس کتاب کا خلاصہ وسبق بھی یہی ہے۔ خدا کرے کہ مولانا سلمان الحسینی کی یہ کاوش کام یابی سے ہم کنار ہو اور وہ جدید علماء کرام میں اس طرز فکر کو عام کرنے میں کام یاب ہوں۔ آمین یا رب العالمین
شیعہ سنی مکالمہ :الشیخ یوسف القرضاوی کے خیالات
ڈاکٹر یوگندر سکند
قطر کے الشیخ یوسف القرضاوی کا شمار دنیا کے ممتاز ترین مسلم علما میں ہوتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی شہرت ایک ایسے عالم کی ہے جو کھلے ذہن کے حامل اور زندہ معاصر مسائل کو حقیقی مکالمے کے جذبے کے ساتھ زیر بحث لانے کے خواہش مند ہیں۔ جن موضوعات پر الشیخ قرضاوی نے بہت وسعت کے ساتھ لکھا ہے، ان میں سے ایک مسئلہ مختلف اسلامی گروہوں، فرقوں اور تحریکوں کے مابین تعلقات کا بھی ہے۔ وہ عقیدے کی ایسی انتہا پسندانہ تشریحات کی مذمت کرتے ہیں جو دوسرے تمام مسلمانوں کو صاف صاف کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیں۔ اس کے بجائے وہ اعتدال اور مسلمانوں کے مابین مکالمہ کے داعی ہیں اور اسے قرآن وسنت سے ثابت شدہ طریقہ سمجھتے ہیں۔
اسلامی تاریخ کے بیشتر ادوار میں شیعہ اور سنیوں کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ بہت سے شیعہ اور سنی ایک دوسرے کو مرتد حتیٰ کہ اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ بعض ممالک میں، جیسا کہ مثلاً آج پاکستان کے بعض حصوں میں، شیعہ سنی تصادم نے نہایت پر تشدد صورت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر مقامات پر بے حد اہم سیاسی اور معاشی عوامل بھی اس تصادم کو ہوا دیتے ہیں، تاہم فرقہ وارانہ پہلو بھی شیعہ سنی اختلافات کو مزید خراب کرنے میں ایک نہایت قوی عامل کا کردار ادا کرتا ہے۔ شیعہ سنی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے نیم دلانہ کوششیں ماضی میں بھی کی گئی ہیں اور آج بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیشتر قدامت پسند اور روایتی علما حقیقی شیعہ سنی مکالمے کی کسی بھی تجویز کے اگر کھلم کھلا مخالف نہیں تو اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ضرور رہے ہیں۔ مخالف فرقے کو اسلام کا دیرینہ دشمن قرار دینے والا لٹریچر، جو اگرچہ سب کا سب نہیں لیکن زیادہ تر قدامت پسند علما کے قلم سے نکلا ہے، آج بھی لکھا اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایسا لٹریچر کئی صدیوں سے موجود ہے، تاہم لگتا ہے کہ حالیہ سالوں میں چند مخصوص ممالک نے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور سرپرستی کر کے اس قسم کے لٹریچر کو وسیع پیمانے پر پھیلا دیا ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تیار کیے جانے والے شیعہ مخالف لٹریچر کی صورت حال یہی ہے جس کا مقصد ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد نمودار ہونے والی شہنشاہیت مخالف اور خاندانی حکومت کے منافی اسلامی تعبیرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
شیعہ کے بارے میں بیشتر سنی علما کے سخت مخالفانہ موقف کے تناظر میں شیخ یوسف القرضاوی کا رویہ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ شیخ نے حال ہی میں شیعہ کے بارے میں دو فتوے جاری کیے ہیں، جو ویب سائٹ www.islam-online.net پر پڑھے جا سکتے ہیں۔ یہ فتوے ان کی اس شدید خواہش کے آئینہ دار ہیں کہ شیعہ کے ساتھ حقیقی مکالمہ کیا جائے اور وسیع تر حدود میں مسلمانوں کے مابین اختلافات کو گوارا کیا جائے۔ ان میں سے پہلے فتوے میں شیعہ اور سنیوں کی باہمی شادی کا مسئلہ زیر بحث آیا ہے۔ شیخ نے اس سوال کے جواب میں ایک مثالی شادی کی خصوصیات بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ازدواجی زندگی کی بنیاد فریقین کی ذہنی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔ گرما گرم بحثیں اور مسلسل مباحثے ازدواجی زندگی کو برباد کر دے سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ زوجین کی باہمی لڑائی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔‘‘ شیخ نے لکھا ہے کہ میاں بیوی کے مابین شدید تصادم کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک فریق (شیخ نے یہاں فریق کو متعین نہیں کیا) سنی ہونے کے ناتے حضرت ابوبکر کا حامی ہو جبکہ دوسرا فریق (اغلباً شیعہ) حضرت علی کا دفاع کرے۔ شیخ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ اس شادی کو حرام نہیں قرار دیتے، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ’’میں اس کو ترجیح نہیں دیتا۔‘‘ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا نتیجہ تصادم اور آخر کار شادی کی ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ایک مسلمان کو کسی مسیحی خاتون سے شادی کرنے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ کسی شیعہ لڑکی سے بھی شادی کر سکتا ہے۔ تاہم اگرچہ وہ ایک سنی مرد کی ایک شیعہ خاتون کے ساتھ شادی کو قانونی طور پر جائز تصور کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ کوئی مثالی شادی نہیں ہے۔ البتہ وہ اس پر ایک مزید شرط عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر شیعہ خاتون ایک معتدل شیعہ ہے، سنیوں کے ساتھ ان کی مسجد میں نماز پڑھتی ہے اور ان کے ساتھ تصادم کی حمایت نہیں کرتی، تو ایک سنی مرد اس سے شادی کر سکتا ہے اگر وہ ’’سچ مچ ایسا کرنا چاہتا ہے۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ فتوے کے آخر میں شیخ نے مزید یہ کہا ہے کہ ’’یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ مذکورہ فتویٰ کا اطلاق اس صورت میں بھی ہوتا ہے جبکہ مرد شیعہ اور خاتون سنی ہو۔‘‘
شیخ قرضاوی کے دوسرے فتوے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ شیعہ سنی تعلقات پر اور بالخصوص دونوں گروہوں کے مابین مکالمہ کے موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ شیخ نے یہ فتویٰ مارچ ۲۰۰۴ میں عراق کے کسی حسین نامی شخص کے سوال کے جواب میں جاری کیا تھا اور اس کا عنوان خاصا چونکا دینے والا ہے: ’’شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اختلافات کو نظر انداز کرنا‘‘۔ شیخ نے جواب کا آغاز مسلمانوں کے مابین اخوت کے تصور سے کیا ہے جس پر اسلام نے بے حد زور دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سے شیعہ اور سنی کے مابین فی الفور مکالمے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے چند عمومی ضابطے ذکر کیے ہیں جن کی پابندی سنیوں کو شیعہ کے ساتھ مکالمے میں ملحوظ رکھنی چاہیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سب سے اہم ضابطہ یہ ہے کہ اتفاقی نکات پر توجہ مرکوز کی جائے، نہ کہ اختلافی امور پر۔ اتفاقی امور میں سب سے نمایاں وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق ’’دین کی اساسات‘‘ سے ہے۔ دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے مابین اختلاف کے بیشتر نکتے ’’معمولی‘‘ باتوں سے متعلق ہیں، اس لیے انھیں مکالمے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
اس کے بعد شیخ نے شیعہ اور سنیوں کے مابین عمومی اتفاق کے دائروں پر تفصیل سے بحث کی ہے جن کو ان کی رائے میں دونوں گروہوں کے مابین بامعنی مکالمہ اور قیام وحدت کی کوششوں کی بنیاد قرار پانا چاہیے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ شیعہ اور سنی، دونوں بہت سے بنیادی عقائد پر متفق ہیں، جیسا کہ خدا پر ایمان، رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان، تمام آسمانی صحیفوں اور رسولوں پر ایمان، اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان۔ شیعہ اور سنی دونوں اسلام کے پانچ بنیادی ارکان پر بھی متفق ہیں، یعنی اللہ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی، فرض نمازیں، زکاۃ، حج اور رمضان کے روزے۔ شیخ نے اعتراف کیا ہے کہ ان ارکان سے متعلق بعض احکام میں شیعہ اور سنی باہم مختلف ہیں، تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس نوعیت کا اختلاف رائے ’’ایک بالکل فطری چیز ہے۔‘‘ متعدد دوسرے سنی علما کے برعکس، وہ شیعہ اور سنیوں کے مابین تخیلاتی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے بجائے یہاں تک کہتے ہیں کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان کو سمجھنے میں شیعہ اور سنی کا اختلاف ایسے ہی ہے جیسے خود سنی فقہا، مثلاً حنبلی، حنفی اور مالکی مکاتب فکر کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
شیعہ اور سنیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششوں میں شیخ نے معروف سنی عالم امام الشوکانی کا مثبت انداز میں حوالہ دیا ہے جنھوں نے ’’ممتاز سنی اور شیعہ فقہا کی آرا کا بالکل یکساں درجے میں حوالہ دیا ہے۔‘‘ شیخ نے رائے دی ہے کہ فقہی مسائل میں ، خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے، شیعہ اور سنیوں کے مابین غالباً کوئی ’’بنیادی اختلاف‘‘ نہیں ہے۔ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ شیعہ، اہل سنت کی کتب حدیث کو مستند تسلیم نہیں کرتے، تاہم انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کتابوں میں مذکور بیشتر احادیث کو شیعہ بھی مستند مانتے ہیں، خواہ وہ ایسے ذرائع سے منقول ہوں جو خود ان کے نزدیک مستند ہیں یا ان کے ائمہ کی آرا کی صورت میں جنھیں وہ معصوم عن الخطا قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ مجموعی طور پر شیعہ اور سنی فقہ میں ’’اچھا خاصا اتفاق‘‘ موجود ہے اور یہ ان کے نزدیک وہ ’’سب سے اہم نکتہ‘‘ ہے جسے شیعہ سنی مکالمہ اور اتحاد کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا ہے کہ فقہ کے دونوں ذخیرے ایک ہی ماخذ، یعنی قرآن اور سنت پر مبنی ہیں اور دونوں کا مشترک مقصد لوگوں کے مابین اللہ کے انصاف اور عدل کو قائم کرنا ہے۔
شیخ چند مخصوص امور میں شیعہ اور سنیوں کے مابین اختلاف سے ناواقف نہیں ہیں، تاہم وہ انھیں مشترکہ اور متفقہ نکات کے مقابلے میں نسبتاً کم اہم قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروہوں کے مابین مشترکات کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بعض سنی حلقوں میں عمومی طور پر پائے جانے والے اس تصور کی بھی تردید کرتے ہیں کہ تمام شیعہ بعض ایسے عقائد کے حامل ہیں جنھیں سنی درست تسلیم نہیں کرتے۔ یوں بعض ایسے شیعہ خیالات جو ہمیں بڑے عجیب دکھائی ہیں، ان کو بعض سنی علما نے بھی اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر وہ بتاتے ہیں کہ بیشتر شیعہ وقتی نکاح (متعہ) کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ سنی علما بالعموم اسے ممنوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابن عباس نکاح کی اس صورت کو جائز سمجھتے تھے اور اگرچہ بعد میں انھوں نے اس ضمن میں اپنی رائے تبدیل کر لی، لیکن مکہ اور یمن میں ان کے بعض پیروکار مثلاً سعید بن جبیر اور طاووس اس نکاح کو جائز ہی قرار دیتے رہے۔
مجموعی طور پر شیعہ سنی تعلقات کے پریشان کن مسئلے کے حوالے سے شیخ قرضاوی کی نسبتاً کھلے ذہن والی اپروچ بہت سے قدامت پسند سنی علما کی رائے کے برعکس ہے، خاص طور پر وہابی علما جو اس پر اصرار کرتے ہیں کہ شیعہ مبتدع اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ شیخ قرضاوی نے اس موقف سے شدید اختلاف کیا ہے اور اس کے بجائے بیشتر شیعہ کو صاف لفظوں میں اپنا مسلمان ساتھی تسلیم کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ’’یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ تمام وہ شیعہ مسلمان ہیں جو خدا کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ شیعہ کی اصطلاح ’’ایسے گروہ کے لیے بولی جاتی ہے جو امام علی کے پیروکار ہیں۔‘‘ وہ اہل بیت کے بھی مکمل وفادار ہیں۔ یہ کوئی غلط یا غیر اسلامی ایجاد نہیں ہے اور نہ شیعہ کہلانے والے اس میں منفرد ہیں۔ شیخ نے کہا ہے کہ حقیقت میں ’’اس طرح کی وفاداری ہر مسلمان سے مطلوب ہے‘‘ اور اس کے بعد انھوں نے اس کے حق میں قرآن سے دلائل دیے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ شیعہ کے کچھ اپنے مخصوص عقیدے ہیں جنھیں سنی بدعت قرار دے کر مسترد کرتے ہیں، تاہم ’’ان سے وہ غیر مسلم قرار نہیں پاتے۔‘‘ البتہ انھوں نے ان شیعہ گروہوں میں جنھیں بالکل جائز طور پر مسلمان کہا جا سکتا ہے، اور ان شیعہ میں جن کے عقائد اور اعمال واضح طور پر خود شیعہ اکثریت کے عقائد سے منحرف ہیں، واضح فرق قائم کیا ہے۔ موخر الذکر میں وہ گروہ شامل ہیں جو حضرت علی کو خدا مانتے ہیں یا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل میں آخری پیغمبر حضرت علی تھے نہ کہ حضرت محمد ﷺ۔
شیخ کی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں، خاص طور پر شیعہ اور سنیوں کی باہمی کشمکش صرف اور صرف ان قوتوں کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہے جو تمام مسلمانوں کی دشمن ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’تمام مسلمانوں کو ان اسکیموں اور منصوبوں کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے جو دشمنان اسلام نے تیار کی ہیں۔ وہ ہمیں عقیدے کے نام پر آپس میں لڑانا بھڑا نا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے شیعہ اور سنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمنوں کو اس بات کا موقع فراہم نہ کریں۔
فتوے کی نوعیت کا لحاظ کرتے ہوئے شیخ نے شیعہ اور سنیوں کے مابین سادہ فقہی اختلافات کے مقابلے میں اعتقادی اختلافات پر زیادہ تفصیل سے بحث نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے پوچھے جانے والے متعین سوالات کا محض سادہ انداز میں جواب دے دیا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے مابین بامعنی مکالمہ میں عقیدہ اور تاریخ کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم شیخ کے فتوے اس بات کو واضح کر دیتے ہیں کہ مکالمہ صرف اس صورت میں شروع ہو سکتا ہے جب فریقین اپنے مابین مشترک امور کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں، اور جیسا کہ شیخ نے واضح کیا ہے، شیعہ اور سنیوں کے مابین بہت سے امور مشترک ہیں اور انھی کو ایک حقیقی اسلامی افہام وتفہیم اور برداشت کی بنیاد بننا چاہیے۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
۵؍مارچ ۲۰۰۵
محترم ومکرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے تو آپ کو اور تمام مسلمانوں کو نیا ہجری سال ۱۴۲۶ھ مبارک ہو۔ اللہ پاک مسلمانوں پر رحم فرمائے اور تمام عالم میں دین کے زندہ ہونے کی شکلوں کو وجود عطا فرمائے۔ آمین۔
’الشریعہ‘ کا ملنا بہت ہی حیرت کا سبب ہوا۔ یہ محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ دینی رسالوں کے ایک جم غفیر میں مجھے یہ ہی رسالہ ایسا لگا کہ جسے میں اپنے پڑھے لکھے دوستوں میں پیش کر سکتا ہوں کہ اس میں بھولے سے بھی کوئی ایسی بات نہ ہوگی جس سے تنگ نظری اور دین کا مسخاکہ سامنے آتا ہو۔ پہلی بار میں نے رسالہ دیکھا تو اس میں رافضیت پر آپ کے ابا جان مدظلہ کا انتہائی متوازن مضمون دیکھا۔ اگلا شمارہ ملا تو قادیانیت پر شائع کردہ ایک کتابچے پر تنقیدی تبصرہ پڑھا۔ واللہ پہلی بار معلوم ہوا کہ علما بھی علما کے کیے ہوئے کام پر جان دار تبصرہ فرما سکتے ہیں اور قادیانیت جیسے touchy موضوع پر لکھے مواد کی فنی چھان پھٹک کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے رسالے کا انتظار رہنے لگا۔ پھر آپ کے قبلہ ابا جان مدظلہ کی ایک تحریر پڑھی جس میں سوز دل کے ساتھ سپاہ صحابہ کے طریق کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ آج رسالہ ملا ہے تو سب کام چھوڑ کر پہلے اسے مکمل کیا۔ میں پچھلے ماہ سے ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے خطاب ’’مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ کی اشاعت کے انتظار میں تھا۔ یہ پیاس آج بجھی ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ پیاس اب لگی ہے۔ میں کیا اور میری رائے کیا، لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ مدارس اور ان کے نظام تعلیم کے بارے میں ایک عرصہ پہلے پڑھی ہوئی مولانا عیسیٰ منصوری صاحب کی کتاب کے بعد اس موضوع پر سب سے متوازن تحریر یہی ہے کہ جس میں نہ بڑبولا پن ہے اور نہ معذرت والی مدلل مداحی۔ کاش ایسا ہو جائے کہ یہ مضمون چند مدارس میں باقاعدہ مطالعے اور مذاکرے کے لیے بھیجا جا سکے۔ کاش کہ علما ڈاکٹر غازی صاحب کی اس بات کو ایک عالم کی بات کے طور پر لیں نہ کہ ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے خیالات کے تناظر میں، کہ اپنے خطاب میں انھوں نے اپنی اس حیثیت کو تحدیث بالنعمۃ کے طور سے جتایا بھی ہے۔ اور یہ بھی کیا ہی خوش کن اتفاق ہے کہ مولانا منصوری صاحب مدظلہ کی مذکورہ کتاب بھی آپ ہی کی عنایت کردہ تھی۔
انگریزی میں ایک محاورہ ہے: Food for thought، جس کا اردو مترادف مجھے معلوم نہیں۔ آپ کا رسالہ دراصل یہی ’ذہنی غذا‘ فراہم کر رہا ہے، اور واللہ یہ آج کی بہت ہی نایاب جنس ہے۔ آپ کے معاونین کی فہرست دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس جاں گسل محنت کے بعد ایسے صاحب الرائے لوگ ایک مقصد کے لیے جمع کیے گئے ہوں گے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز۔
نیاز مند
حافظ صفوان محمد چوہان
سینئر لیکچرر/ ڈویژنل انجینئر (کمپیوٹر اینڈ ڈیٹا سروسز)
ٹیلی کمیونیکیشن سٹاف کالج، ہری پور
(۲)
ماہنامہ ’الشریعہ‘ جنوری ۲۰۰۵ کے شمارہ صفحہ ۳۰ پر محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’قربانی کی رسم کا نفسیاتی پہلو‘ پڑھنے کے بعد یہ طالب علم سوچ میں پڑ گیا کہ محترم پروفیسر صاحب نے اپنے مضمون کا جو سر عنوان دیا ہے، اس میں قربانی کو ایک رسم اور نفسیاتی عمل کہا گیا ہے، جبکہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قربانی کو فرض، واجب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ میری ناقص عقل کے مطابق جس چیز یا عمل کو شریعت نے فرض یا واجب قرار دے دیا ہو، اسے رسم ورواج کے زمرہ میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اس پر عمل پیرا ہونا لازمی امر بن جاتا ہے۔ جبکہ رسم کوئی بھی ہو، اس پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے سے فرد کے عقیدے اور اس کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس طالب علم کی رائے کے مطابق پروفیسر صاحب کو سب سے پہلے قربانی کی تعریف (Definition) کرنی چاہیے تھی کہ قربانی ہے کیا؟ قربانی کیوں کی جاتی ہے؟ قربانی صرف جانور کی ہی ہو سکتی ہے یا کسی اور چیز کی بھی قربانی ہو سکتی ہے؟ نیز یہ کہ قربانی کرنے یا نہ کرنے سے فرد کی ذات اور اس کے کردار پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اور اس سے سوسائٹی یا معاشرہ میں کیا تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟ تاکہ مضمون پڑھتے وقت قاری کا ذہن تذبذب یا التباس میں نہ پڑ جائے۔
بے شک انسانی تاریخ میں قربانی کا تصور موجود رہا ہے، گوکہ اس کی نوعیت مختلف ادوار میں مختلف رہی ہے اور دیوی، دیوتاؤں کے حضور انسانوں اور جانوروں کی قربانیاں دی جاتی رہی ہیں بلکہ وحشت کے دور میں تو ایک انسان دوسرے انسان کی خوراک بھی بن جایا کرتا تھا، لیکن یہ جانی قربانی کسی بھی دور میں انسان کے کسی بھی فطری جذبہ کی تسکین کی خاطر نہیں کی جاتی تھی، جیسا کہ پروفیسر صاحب نے تحریر فرمایا ہے، بلکہ یہ قربانی خارج میں فطرت کی قوتوں کے ڈر اور خوف کے جبر کا نتیجہ تھی اور اس ڈر اور خوف کی مجبوری کا اثر انسان کے خیالات اور جذبات پر بھی پڑتا تھا۔ اس وقت اس کے خیال کے مطابق انسانی یا حیوانی قربانی دینے سے وہ محفوظ ومامون رہ سکتا تھا اور اس ڈر اور خوف سے اسے نجات مل جائے گی۔ وہ جاہلیت کا دور تھا۔ جوں جوں انسانی شعور کا ارتقا اور اس کی نشوو نما ہوتی چلی گئی، انسان نے فطرت کی قوتوں کو ایک ایک کر کے مسخر کرنا شروع کر دیا تو جانی قربانی کا تصور کمزور ہوتا چلا گیا۔ اب تمام دنیا میں (ماسوائے مسلم معاشرہ کے) ہر قسم کی جانی قربانی کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ایک ماہر نفسیات بتا رہے تھے کہ جب سے انسان وجود میں آیا ہے، ہنوز یہ اپنی شعوری صلاحیتوں کا صرف دس فی صد حصہ اپنے تصرف میں لا سکا ہے اور ابھی نوے فیصد شعوری صلاحیتیں اسٹور میں پڑی ہیں۔ جیسے جیسے انسانی شعور بلند ہوتا چلا جائے گا، فرسودہ تصورات وروایات ازخود ختم ہوتے چلے جائیں گے۔
فطرت (Nature)، فطری جذبہ سے مراد کسی شے کی وہ خصوصیت ہے جو اٹل ہو۔ کوئی بھی شے اپنی فطرت کو بدل نہیں سکتی۔ شیر کی فطرت درندگی، بکری کی فطرت چرندگی، یہ فطری تقاضے ہیں۔ ان کے اظہار پر سب جاندار بشمول انسان مجبور ہیں۔ کیا جانی قربانی کا عمل بھی انھی معنوں میں لیا جا سکتا ہے؟
اب رہی داخلی جذبات کی بات تو عرض ہے کہ علم النفس کی رو سے جذبات مجموعہ ہوتے ہیں ان خارجی ابتدائی نقوش کا جو وراثت، ماحول اور ابتدائی تعلیم سے بچے کے ذہن پر مرتسم ہوتے رہتے ہیں یا یہ حاصل ہوتے ہیں ان تصورات، معتقدات، رسوم ورواج کا جو تمام انسانوں کو نسلی طور پر وراثتاً ملتے ہیں، لہٰذا جانی قربانی کو کسی یکساں جذبے یا داخلی تحریک کی علامت کے طور پر تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ جذبات ہر انسان کے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں، یکساں ہو ہی نہیں سکتے۔
اب رہیں نفسیاتی اور تحلیل نفسی کے حوالے سے میری معروضات۔ ہر فرد کی نفسیاتی کیفیت الگ الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور قبائل کی نفسیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ نفسیاتی تبدیلی کیسے رونما ہوتی ہے، میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ دو ایک مزید مثالیں لیجیے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ انگریزی خواتین اپنے جسم، ہاتھ اور منہ کا ننگا رکھنا معیوب اور گناہ سمجھتی تھیں۔ یہ ان کی اس وقت کی نفسیات تھی۔ آج اسی انگریزی معاشرہ کی خواتین لباس کے تکلف سے بھی آزاد ہو چکی ہیں۔ یہ اس وقت کی نفسیات ہے۔ ہندو کو گوشت کے نام سے ہی گھن آتی ہے، جبکہ مسلمان کی خوراک میں گوشت لازمی جزو کے طور پر شامل ہے۔ مسلمان کو سور کے نام سے گھن آتی ہے تو عیسائی اسے شوق سے کھاتے ہیں۔
ہندو قوم میں ستی کی رسم کو آپ نے داخلی جذبات کی گھٹن کا نتیجہ قرار دیا۔ اس عاجز نے جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے، وہ یہ کہ ستی کی رسم غیرت کے نام پر قتل قسم کی چیز تھی۔ شوہر کے مرجانے یا قتل ہو نے کے بعد بیوہ عورت کسی دوسرے مرد کی بیوی بننا گوارا نہیں کرتی تھی اور شوہر کے ساتھ جل مر نے کو ترجیح دیتی تھی۔ بعد میں اس عمل کو مذہبی تقدس بھی حاصل ہو گیا تھا۔ یہ سلسلہ انگریزوں نے آکر بند کیا۔ تو عرض ہے کہ اس رسم کو تحلیل نفسی یا داخلی جذبات کی گھٹن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فطری جذبات پر بند باندھنا اور ان گھٹے ہوئے جذبات کے اظہار کا غلط راستہ اختیار کرنا فرد کے اندر کا معاملہ ہے جبکہ تحلیل نفسی خارجی عمل ہوتا ہے۔ جانی قربانی میرے داخلی جذبات کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ خارجی تصورات، معتقدات، وراثت، ماحول کا نتیجہ ہے۔ یہ جو خود کش دہشت گرد پائے جاتے ہیں یا ایک خاص عقیدہ رکھنے والا شخص دوسرا عقیدہ رکھنے والے کو قتل کر دیتا ہے، یہ تحلیل نفسی کا نتیجہ ہوتا ہے، لہٰذا نفسیات یا تحلیل نفسی مستقل بالذات یکساں فطری جذبہ یا تحریک کی علامت نہیں جو تمام انسانوں میں مشترکہ طور پر پایا جاتا ہو اور ہر انسان اپنے آپ کو جانی قربانی کرنے پر مجبور پاتا ہو۔ یہ صرف اعتقاد اور عقیدہ کا مسئلہ ہے۔
آفتاب عروج
مکان نمبر 11/9-W۔ گوجر روڈ
گوجر چوک۔ سیٹلائیٹ ٹاؤن۔ چنیوٹ
(۳)
۲۶ فروری ۲۰۰۵
برادر محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے کہ صحت اچھی ہوگی۔ معلوم نہیں کہ مولانا سرفراز خان صاحب اور مولانا عبد القیوم صاحب کی صحت کیسی ہے۔ یہ خط آپ کو اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کا تبصرہ المرکز الاسلامی بنوں کی فقہی کانفرنس پر پڑھا۔ میں نے اس سے قبل اپنے پرچے میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ ایم ایم اے کی جماعتیں کم از کم جمعیت علماء اسلام (دیوبندیت) اور جماعت اسلامی اپنے سے روٹھے ہوئے لوگوں کو اپنے دائرے میں لے آئیں تو اس سے ایم ایم اے کو وسعت ملے گی۔
آپ نے اسلام کے حوالے سے جن جدید مسائل کا ذکر کیا ہے اور جس طرح مسلکی دائروں سے نکل کر تحقیقات کرنے کی جرات مندانہ رائے کا اظہار کیا ہے، اس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی، لیکن اس سلسلے میں شریعہ اکیڈمی ہی اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے کوئی راہ نکلے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلک، تفرد اور تحزب نے اسلامی عناصر کو بہت ہی کسا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ باندھا شخص جولانی نہیں دکھا سکتا اور محدود فکر اسلام کے لا محدود تصور اور مقاصد کو گرفت میں نہیں لے سکتی۔ میں نے پہلے بھی ایک خط میں یہ عرض کی تھی کہ آپ خود آغاز کریں۔ مثلاً ایک موضوع ذہن میں ہے کہ ’’اسلام اور جمہوریت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کی ضرورت ہے۔ بعض دوست جمہوریت کو کفر کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمہوریت کا موجد ہی اسلام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلکی فقہی دائرے سے یہ ذرا اونچا موضوع ہے، جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظریاتی دوائر میں کام کیا جائے۔
نیاز مند
سید معروف شاہ شیرازی ایڈووکیٹ
چیئرمین ظلال القرآن فاؤنڈیشن
مین سہام روڈ۔ پشاور روڈ۔ راول پنڈی
(۴)
محترم جناب مدیر الشریعہ
سلام مسنون
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
’الشریعہ‘ کا شمارہ فروری ۲۰۰۵ نظر نواز ہوا جس میں محترم دوست میاں انعام الرحمن کا مضمون ’’ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ‘‘ پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ایک تو میاں صاحب کے قلم کی جولانی اور پھر زیر تبصرہ شاعری جب خود میری شاعری تھی تو صاف بات ہے، خوشی کیوں نہ ہوتی۔ تاہم مضمون سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ کتاب اشاعت پذیر ہو چکی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ میری زیر اشاعت کتاب کے حوالے سے لکھا گیا مضمون ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھی کہ دوستوں کو شکایت کا موقع نہ ملے کہ کتاب چھپنے کے بعد ان تک کیوں نہیں پہنچی۔ میاں صاحب اور دیگر احباب کی خدمت میں سلام۔
نیاز مند
کلیم احسان بٹ
گورنمنٹ زمیندار کالج
بھمبر روڈ۔ گجرات
(۵)
محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
ماہنامہ ’الشریعہ‘ بڑی باقاعدگی سے ہر ماہ ملتا ہے۔ بہت شکریہ۔ خوشی اس بات کی ہے کہ آپ اور آپ کے معاونین نے اپنے اس علمی وادبی جریدے کو کسی مخصوص نقطہ نظر کے فروغ کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ مذہب، سیاست اور ادب پر لکھے جانے والے متنوع موضوعات کے حامل مضامین کو ’الشریعہ‘ میں مناسب جگہ دی جاتی ہے۔ بلاشبہ ہر اچھے اور معیاری پرچے کا یہی بنیادی اصول ہونا چاہیے تاکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے قاری کو اس کی طبع کے مطابق متوازن فکری انداز کے حامل مضامین پڑھنے کو ملتے رہیں۔
’الشریعہ‘ کی وساطت سے پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کی مختلف موضوعات پر تحریریں نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ موصوف کس طرح تنقیدی اور تحقیقی زاویوں سے ہر نوع کے موضوعات پر بڑی کامیابی کے ساتھ خامہ فرسائی کر لیتے ہیں۔ یقیناًمسلسل او رمتنوع مطالعہ سے جنم لینے والی تحریری قوت ہی انھیں اس قدر مختلف موضوعات کے فکری اظہار پر اکساتی ہے۔
فروری ۲۰۰۵ کے شمارے میں انعام الرحمن صاحب کے دو مضامین نظر سے گزرے: ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ اور کلیم احسان بٹ کے شعری مجموعے ’’چلو جگنو پکڑتے ہیں‘‘ پر ان کا تنقیدی مضمون ’’ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ‘‘۔ اگرچہ دونوں مضامین ان کی تحریری قوت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں، لیکن کلیم احسان کی کتاب پر لکھا گیا مضمون بعض مقامات پر اشعار کی تشریح کے حوالے سے فکری ابہام کا باعث بنتا ہے۔ خصوصاً یہ شعر:
وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے
مری مٹھی میں ایک جگنو ہے
اس شعر کی تشریح کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ’’ہتھیلی‘‘ کے بجائے ’’مٹھی‘‘ میں جگنو ہونے سے کسی طور شاعر کی انانیت کا سراغ نہیں ملتا، بلکہ اس سے ایک خدشے یا ڈر کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ہتھیلی سے جگنو کے اڑنے کا اندیشہ ہے۔ مضمون کی ابتدا میں ’’میر اور ناصر کی شعری روایت کی ترفیع‘‘ کے حوالے سے کلیم احسان کے جو اشعار بطور مثال پیش کیے گئے ہیں، میرے نزدیک وہ ’’شعری روایت کی ترفیع‘‘ نہیں بلکہ بازگشت ہیں۔ میرا خیال ہے یہ غلطی اشعار کے انتخاب کے دوران میں ہوئی۔ بہرحال یہ وہ معمولی فرو گزاشتیں ہیں جنھیں بڑی آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے۔
میری دعا ہے کہ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب اسی جذبے اور جوش وخروش کے ساتھ ہمیشہ اپنی فکری اور تحریری توانائی سے ساکت اذہان کو متحرک کرتے رہیں۔ آمین
والسلام
سید وقار افضل
لیکچرر، گورنمنٹ زمیندار کالج، گجرات
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’تذکار بگویہ‘‘
بھیرہ ضلع سرگودھا میں علماء کرام کے قدیمی خاندان ’’علماء بگویہ‘‘ کی دینی و ملی خدمات کا سلسلہ تین صدیوں سے زیادہ عرصے کو محیط ہے اور ان میں حضرت مولانا قاضی احمد الدین بگوی رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے نامور بزرگ بھی شامل ہیں جنھوں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی درس گاہ سے کم و بیش چودہ برس تک استفادہ کیا اور حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ سے حدیث نبوی کی سند حاصل کی اور پھر اپنے گاؤں بگہ ضلع جہلم اور پنجاب کے مرکز لاہور میں بیٹھ کر ہزاروں تشنگانِ علوم کو سیراب کیا جس سے پنجاب کا تعلق دہلی کی درس گاہ ولی اللٰہی کے ساتھ قائم ہوا۔
اسی خانوادہ کے ایک فاضل دوست ڈاکٹر صاحبزادہ انوار احمد بگوی نے اس عظیم خاندان کی علمی و دینی تاریخ کو ۱۶۵۰ء سے ۱۹۴۵ء تک ایک جلد میں بیان کیا ہے جو بہت سی نادر اور تاریخی معلومات کا ذخیرہ ہے۔
نو سو سے زائد صفحات کی یہ مجلد کتاب شعبہ نشر و اشاعت مجلس حزب الانصار، بھیرہ ضلع سرگودھا نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ساڑھے پانچ سو روپے ہے۔
’’خانقاہ احمدیہ سعیدیہ موسیٰ زئی شریف‘‘
موسیٰ زئی شریف ڈیرہ اسماعیل خان کی عظیم خانقاہ کی بنیاد حضرت شاہ احمد سعید دہلویؒ نے ۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت کے بعد مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے قبل رکھی تھی اور حضرت خواجہ دوست محمد قندھارویؒ نے اسے آباد کیا تھا۔ حضرت شاہ احمد سعید دہلویؒ حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے بھائی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کے شاگرد اور حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ کی روحانیت کے امین تھے۔ جناب محمد نذیر رانجھا نے اس عظیم خانقاہ کی تاریخ اور اس سے فیض یاب ہونے والے بہت سے علماء کرام اور مشائخ عظام کے حالات کو دل چسپ انداز میں مرتب کیا ہے اور بہت سی معلومات کا ذخیرہ اس میں سمو دیا ہے۔
سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب جمعیۃ پبلیکیشنز، مسجد پائیلٹ سکول، وحدت روڈ لاہور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت تین سو روپے ہے۔
ماہنامہ ’’سوئے حرم‘‘
یہ ماہنامہ جناب محمد صدیق شاہ بخاری کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہوتا ہے جس میں مختلف دینی و ملی موضوعات پر معلوماتی مضامین شامل اشاعت ہوتے ہیں اور ایک شمارے کے ٹائیٹل پر درج عبارت ’’تمام مسالک کے احترام پر مبنی فرقہ واریت سے بالاتر دلوں کی آواز‘‘ کے مطابق قارئین کو فکری و دینی مواد مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کا سالانہ زر خریداری پاکستان میں اڑھائی سو روپے اور فی شمارہ قیمت پچیس روپے ہے۔ ملنے کا پتہ: ماہنامہ سوئے حرم، ۵۳ وسیم بلاک، حسن ٹاؤن، ملتان روڈ، لاہور۔
’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار
ادارہ
۱۹ تا ۲۱ مارچ ۲۰۰۵ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارۂ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں ممتاز عرب فقیہ اور دانش ور الدکتور وہبہ الزحیلی، سینٹ آف پاکستان میں قائد ایوان جناب وسیم سجاد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان، یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمود احمد غازی، ممتاز دانش ور جناب جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر محمد طاہر منصوری، ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، مولانا محمد صدیق ہزاروی، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی اور دیگر اہل دانش کے علاوہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا جبکہ بھارت سے مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سعود عالم قاسمی اور مولانا ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے سیمینار میں شرکت کی اور مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
مولانا زاہد الراشدی نے سیمینار کی چوتھی نشست (۲۰ مارچ اتوار بعد نماز ظہر) کی صدارت کی اور ’’مغربی فلسفہ وتہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل‘‘ کے موضوع پر مقالہ پڑھا، جبکہ اسی روز مغرب کے بعد کی نشست میں مولانا راشدی نے ’’پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر‘‘ کے عنوان پر تفصیلی اظہار خیال کیا اور پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر مختلف حوالوں سے اب تک ہونے والی اجتہادی کاوشوں کا جائزہ پیش کیا۔