جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۵۔ اگست کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک سیمینار تھا جو مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی کے ادارے میں ’’ندوۃ الشباب الاسلامی العالمی‘‘ سعودی عرب کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ حافظ عبد الرحمن مدنی اہل حدیث علماے کرام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا روپڑی خاندان سے تعلق ہے اور وہ روایتی مسلکی دائرے پر اکتفا کرنے کے بجائے وسیع تر ملی مفاد کے ماحول میں کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’مجلس التحقیق الاسلامی‘‘ اور ماہوار جریدہ ’’محدث‘‘ نوجوان علما میں آج کے معروضی مسائل پر غور وتحقیق کا ذوق بیدار کرنے اور دینی حلقوں کو ان کی طرف توجہ دلانے کی سعی میں مصروف ہیں، جبکہ ’’ندوۃ الشباب الاسلامی‘‘ ریاض کی طرف سے ڈاکٹر قاری محمد انور اس پروگرام کے لیے تشریف لائے ہوئے ہیں۔
مجھے ان دونوں حضرات نے اس سیمینار میں ’’جہاد‘‘ کے بارے میں گفتگو کی دعوت دی اور جہاد کے حوالے سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات پر کچھ گزارشات پیش کر نے کے لیے کہا جو میرا دل پسند موضوع ہے۔ اس لیے سیمینار میں حاضر ہو گیا اور جب ہال میں پہنچا تو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر مستشرقین کے طریق واردات کو اپنی گفتگو میں بے نقاب کر رہے تھے۔ حافظ محمود اختر میرے بچپن کے ساتھی ہیں۔ ہم دونوں نے قرآن کریم ایک ہی استاد سے حفظ کیا ہے۔ ہمارے استاد محترم حافظ قاری محمد انور ایک عرصہ تک گکھڑ میں پڑھاتے رہے ہیں اور اب کم وبیش بیس سال سے مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کے ایک مدرسے میں قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کبھی کبھار مدینہ منورہ میں حاضری کے موقع پر انہیں مسجد نبوی ﷺ میں شاگردوں سے منزل سنتے دیکھتا ہوں تو رشک وافتخار کی ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ حافظ محمود اختر صاحب کی گفتگو میں مستشرقین کی فکری جدوجہد اور طریق واردات کی باتیں سن کر میرے ذہن میں بھی یہ داعیہ پیدا ہوا کہ جہاد پر کیے جانے والے اعتراضات کا مستشرقین کے حوالے سے ہی جائزہ لے لیا جائے، ورنہ سیمینار کے منتظمین کی طرف سے مجھے کہا گیا تھا کہ میں جہاد کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی اور بعض دیگر شخصیات کے موقف کا جائزہ لوں جو جہاد کو آج کے دور میں منسوخ قرار دے رہے ہیں یا اس کے بارے میں معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اس میں طرح طرح کی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔ مگر میں نے اپنی گفتگو کی تمہید میں عرض کیا کہ جہاں اصل فریق سامنے ہو اور اس سے براہ راست بات کرنا ممکن ہو تو پھر نمائندوں سے گفتگو کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا، اس لیے میں اصل فریق یعنی مستشرقین کو سامنے رکھ کر بات کروں گا۔ میں ابھی گفتگو کے ابتدائی مراحل میں ہی تھا کہ بزرگ اہل حدیث عالم دین مولانا محمد یحییٰ عزیز میر محمدی تشریف لائے اور مجھے بتایا گیا کہ وقت کم ہے اور انھوں نے بھی خطاب کرنا ہے، لہٰذا میں نے بڑے اختصار کے ساتھ کچھ معروضات پیش کیں، جن کا خلاصہ قارئین کی معلومات کے لیے اصلاح شدہ صورت میں چند ضروری اضافوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
جہاد کی فرضیت اسلام کے جاری کردہ احکام میں سے نہیں ہے بلکہ کلمہ حق کی سربلندی اور انسانی سوسائٹی پر آسمانی تعلیمات کی بالادستی کے لیے جہاد اس سے قبل بھی ہوتا رہا ہے اور قرآن کریم نے اس جہاد کے مختلف مراحل کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ جہاد کا تذکرہ بائبل میں بھی موجود ہے، چنانچہ کتاب استثنا ۱۰:۲۰ میں جہاد کا حکم اس طرح بیان کیا گیا ہے:
’’جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا، اگر وہ تجھ کو صلح کا جوا ب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کر تیری خدمت کریں اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تو اس کا محاصرہ کرنا اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا، لیکن عورتوں اور بال بچوں کو اور چوپایوں اور اس شہر کے سب مال کو اپنے لیے رکھ لینا۔‘‘
اس کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم ﷺ کی اس ہدایت کو بھی دیکھ لیا جائے جو انہوں نے اپنے متعدد کمانڈروں کو جہاد کے لیے بھیجتے وقت دی ہے کہ جب تم دشمن کے سامنے جاؤ تو پہلے اسلام قبول کرنے کی دعوت دو، اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو ہمارے بھائی ہیں اور اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو جزیہ دے کر اسلام کی بالادستی قبول کر لیں۔ اس صورت میں انہیں جان ومال اور آبرو کا تحفظ حاصل ہوگا، اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تعلیم دینے اور اپنی عبادت گاہوں کو قائم وآباد رکھنے کا حق حاصل ہوگا اور مسلمان ان کی جان ومال کے تحفظ کے ضامن ہوں گے۔ اور اگر وہ اس کو بھی قبول نہ کریں تو پھر ان سے جنگ کرو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کا مقصد کافروں کو زبردستی اسلام قبول کرانا نہیں بلکہ انہیں اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ بے شک اپنے مذہب پر قائم رہیں، اس پر آزادی کے ساتھ عمل کریں اور اپنے دائرے میں اس کی تعلیم بھی دیں، لیکن انسانی سوسائٹی پر ’’آسمانی تعلیمات‘‘ کی بالادستی اور فروغ میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کے مقابل نہ ہوں، کیونکہ آسمانی تعلیمات کا یہ حق ہے کہ ان کا انسانی آبادی میں کسی روک ٹوک کے بغیر فروغ ہو اور ان کی دعوت وتعلیم کی راہ میں کوئی مزاحم نہ ہو۔ البتہ بائبل کی تعلیمات اور حضور نبی اکرم ﷺ کی ہدایات میں چند فرق ضرور موجود ہیں جن کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
صلح کی صورت میں بائبل کا حکم یہ ہے کہ مقامی آبادی باج گزار بن کر فاتحین کی خدمت کرے جبکہ نبی اکرم ﷺ کے ارشاد کی رو سے انہیں صرف ’’جزیہ‘‘ دینا ہوگا اور انہیں اس کے عوض جان ومال کا تحفظ، مذہبی آزادی اور دیگر تمام شہری حقوق حاصل ہوں گے اور انہیں غلام نہیں بنایا جائے گا۔
فتح کی صورت میں بائبل نے دشمن کے تمام مردوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے مگر اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے۔ اسی طرح شہر کے سارے مال کو غنیمت بنانے کا حکم بائبل میں تو موجود ہے جبکہ اسلام میں غنیمت صرف وہی ہے جو میدان جنگ میں حاصل ہو۔ شہروں کی لوٹ مار کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ان باتوں سے قطع نظر بائبل کا حوالہ دینے سے میری غرض یہ ہے کہ جہا دکا حکم اسلام کا کوئی امتیازی حکم نہیں ہے بلکہ یہ سابقہ آسمانی مذاہب کے احکام کا تسلسل ہے جسے اسلام نے بھی باقی اور اس پر پہلے سے بہتر انداز میں عمل جاری رکھا ہے۔
مذہب کے لیے تلوار اٹھانے اور قوت استعمال کرنے کا یہ حکم مسیحیوں اور مسلمانوں میں موجود رہا ہے۔ مسیحیوں نے اسے لوگوں کو زبردستی اپنے مذہب میں لانے کے لیے صدیوں تک استعمال کیا ہے جیساکہ سپین میں مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنانے اور یورپ کے مختلف ملکوں میں یہودیوں کو ان کے مذہب سے دست بردار کرانے کے لیے لاکھوں افراد کا قتل عام تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے، مگر مسلمانوں نے اسلام قبول کرانے کے لیے کبھی تلوار کا استعمال نہیں کیا اور کسی سے اسلحہ کی نوک پر کلمہ نہیں پڑھایا۔ البتہ اسلام کی دعوت وتبلیغ اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کی راہ میں مزاحمت کرنے والوں سے ضرور جنگ کی ہے اور اسی کا نام جہاد ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔
اس صورت حال میں تبدیلی اس وقت آئی جب یورپ نے اپنے مذہب کے جمود، مذہبی قیادت کی تنگ نظری اور چرچ کی ظالمانہ روش سے بے بس ہو کر مذہب سے بغاوت کر دی اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے مذہب کو بے دخل کر دیا۔ انہوں نے مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا اور سوسائٹی کے ساتھ اس کے تعلق کو منقطع کر دیا تو اس کے باعث ان کے نزدیک مذہب کے لیے ہتھیار اٹھانا ممنوع قرار پایا اور ’’مقدس جنگ‘‘ کا تصور ان کے ہاں ختم ہو گیا، مگر انہوں نے سوسائٹی کی فکری بنیاد کے طور پر جس چیز کو مذہب کے متبادل کا درجہ دیا، ا س کے لیے طاقت اور ہتھیار کے استعمال کا جواز ان کے ہاں نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں روز بروز ترقی اور پیش رفت ہو رہی ہے۔
مغرب نے سوسائٹی کی بنیاد نیشنلزم، سولائزیشن اور تہذیب وثقافت کو قرار دیا جو مذہب کا متبادل ہیں اور قوم و ملک اور سولائزیشن کے لیے طاقت کے استعمال کو نہ صرف مغرب نے جائز قرار دے رکھا ہے بلکہ کئی بار اس کا خوف ناک مظاہرہ بھی کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے قوانین میں نیشنلزم کی بنیاد پر سرحدوں کو جائز قرار دے کر ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکا ہے مگر کسی ایک طرف سے طاقت کے استعمال کی صورت میں دوسرے کو دفاع میں ہتھیار اٹھانے کا حق دیا ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ (۱) امن کو لاحق خطرہ (۲) امن وامان کو توڑنے اور (۳) ظلم وتعدی کے کسی واقعہ کی صورت میں وہ کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے اور اگر ان پابندیوں سے کام نہ چلے تو سلامتی کونسل کو فوج کشی کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ فوج کشی سلامتی کونسل کا حق ہے اور سلامتی کونسل کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نمائندہ کہلاتی ہے لیکن پانچ ملکوں کے ویٹو پاور کے حق نے اسے عملاً صرف پانچ ملکوں کی اجارہ داری کی علامت بنا دیا ہے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی اجازت سے امریکہ نے افغانستان کے خلاف جو فوج کشی کی اور عراق پر امریکی اتحاد کا پہلا حملہ بھی سلامتی کونسل کی اجازت سے ہوا تھا، ان حملوں کے جواز کے بارے میں مغربی لیڈروں نے جو کچھ کہا، وہ تاریخ کے ریکارڈ میں ثبت ہو چکا ہے۔ ان میں سے صرف دو باتوں پر غور کر لیجیے۔ ایک یہ کہ افغانستان اور عراق اقوام متحدہ کے طے کردہ نظام سے بغاوت کر رہے ہیں اور اس کی پابندیوں سے انحراف کے مرتکب ہوئے ہیں اور دوسرا یہ کہ جمہوریت اور سولائزیشن کے تحفظ کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا نظام اور مغرب کی سولائزیشن دنیا بھر سے خود کو منوانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے، یہ ورلڈ سسٹم اور مغربی سولائزیشن دونو ںیک طرفہ اور جانب دارانہ ہیں جن کی تشکیل اور کنٹرول میں مسلمانوں کو کوئی قابل ذکر حیثیت حاصل نہیں ہے، کیا اس نظام اور ثقافت کے فروغ اور تسلط کے لیے طاقت کا استعمال فکر اور عقیدے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں ہے؟ فرق صرف تعبیر کا ہے۔ ہم سے مذہب کے لیے قوت کا استعمال ترک کرنے کا مطالبہ کرنے والا مغرب خود مذہب کے اس متبادل کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے جسے اس نے سوسائٹی کی فکری بنیاد کے طور پر مذہب سے دست برداری کے بعد اختیار کر رکھا ہے مگر ہم سے مغرب کا تقاضا کیا ہے؟ اس کی ایک جھلک یورپین مستشرق اینڈرسن کی اس گفتگو میں دیکھی جا سکتی ہے جس کا ذکر عرب دنیا کے معروف عالم دین اور دانش ور استاذ وہبہ زحیلی نے اپنے ایک مقالے میں کیا ہے اور جس میں اینڈرسن نے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ جہاد کو اسلامی احکام کی فہرست سے نکال دیں اس لیے کہ جہاد آج کے عالمی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے قوانین وضوابط سے ہم آہنگ نہیں ہے اور فکر وعقیدے کو طاقت کے زور سے فروغ دینے کا وسیلہ ہے جو حریت اور عقلی ارتقا کے عالمی ماحول کے منافی ہے۔ لیکن جس عالمی نظام اور عقلی ارتقا کو مغرب نے مذہب کے لیے طاقت کے استعمال سے روکنے کا باعث قرار دیا ہے، وہ دونوں آج پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے افغانستان، عراق اور دوسرے متعدد ممالک پر امریکہ کی فوج کشی کو جواز کی سند دے کر ان کی اخلاقی حیثیت ختم کر دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مغرب اپنے اس عقیدے سے منحرف ہو گیا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف دفاع کے لیے ہو سکتا ہے، فکر وعقیدے کے لیے ہتھیار کا استعمال ناجائز ہے۔ یہ صرف نظری بات ہے اور خوشنما فکری دھوکہ ہے جبکہ امریکہ کے دفاع کے لیے سات سمندر پار پیشگی فوجی حملوں اور سولائزیشن کے تحفظ کے لیے عسکری قوت کے بے محابا استعمال نے اس کو صرف ایک کھوکھلے نعرے کی حیثیت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مغرب نے اسلام کے اس فلسفے کو عملاً تسلیم کر لیا ہے کہ قوت کا استعمال صرف دفاع کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی عقیدے اور تہذیب کی بالادستی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے بھی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جایا کرتا ہے۔ میرے نزدیک یہ آج کے دور میں اسلام کی اخلاقی فتح ہے۔
اب میں آتا ہوں اس بات کی طرف کہ ہمارے بعض حلقوں میں اسلام کے نام پر جہاد کے بارے میں گزشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران جو فکری تبدیلی رونما ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ جب مغرب نے مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہو کر مذہب کے لیے تلوار اٹھانے کو ممنوع قرار دے دیا تو ہمارے بعض دانش وروں کے ذہنوں میں بھی یہ خیال پیدا ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی طرز کے بعض لوگوں نے جہاد کو سرے سے منسوخ قرار دینے میں ہی عافیت سمجھی، لیکن ذہنی طور پر اس مقام پر نہ پہنچنے والے بعض دانش وروں نے جہاد کے احکام اور فرضیت میں ایسی تاویلات کو ضروری قرار دیا جن سے جہاد کے تصور کو مغرب کے جدید فکر کے زیادہ سے زیادہ قریب لایا جا سکے اور مغرب کو مطمئن کیا جا سکے کہ ہم بھی مذہب کے لیے تلوار اٹھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ میں ا س سلسلے میں سب کو ایک درجے میں نہیں سمجھتا، اس لیے کہ بہت سے حضرات مرعوبیت کا شکار ہوئے اور شعوری طور پر ان کی کوشش رہی کہ جہاد کے حکم کو اسلامی تعلیمات کی فہرست سے نکال دیا جائے مگر بعض ایسے حضرات بھی ہیں جو لاشعوری طور پر اس فریب کا شکار ہیں اور بڑے خلوص کے ساتھ اسلام کی تصویر کو آج کے عالمی منظر میں درست اور قابل قبول بنانے کے لیے جہاد کو ایسے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے مغرب کو تعرض نہ ہو، لیکن میراخیال ہے کہ اب اس تکلف کی ضرورت نہیں رہی۔ مغرب نے صرف دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کے نام نہاد فلسفے کا بھانڈا خود ہی بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے، اس لیے ہمیں کسی معذرت خواہی کی ضرورت نہیں ہے اور بحمد اللہ ہم نے کبھی اس معذرت خواہی کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ جس طرح مغرب اپنی سولائزیشن کے فروغ اور اپنے قائم کردہ یک طرفہ ورلڈ سسٹم کے تحفظ کے لیے خود اپنے لیے طاقت کے پیشگی استعمال کا حق مانگتا ہے، اسی طرح اسلام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے سسٹم کو سوسائٹی میں بروئے کار لانے اور اپنے عقیدہ وثقافت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرے۔
باقی رہی ورلڈ سسٹم اور مغربی سولائزیشن کی بات تو ہم کسی جھجھک کے بغیر یہ کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ یک طرفہ، جانب دارانہ، استحصالی، ظالمانہ اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے اور ہمارے لیے کسی سطح پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں اور اسے جائز اور حق تصور کرتے ہیں، وہ اس کا دفاع کریں اور اس کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اسلامی احکام میں تاویلات کا شوق بھی پورا کرتے رہیں، مگر ہم اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے دینی حلقوں اور علمی مراکز سے ہماری ہمیشہ یہ گزارش رہی ہے کہ وہ موجودہ ورلڈ سسٹم، اقوام متحدہ کے نظام اور مغربی سولائزیشن کے بارے میں اپنا موقف اجتماعی طور پر سامنے لائیں اور متفقہ طور پر مغرب پر واضح کر دیں کہ یہ سسٹم اور سولائزیشن دونوں ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں اور ہم ان کی خاطر اسلامی تعلیمات اور احکام وقوانین میں کسی رد وبدل اور تاویل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ضعیف اور موضوع احادیث کا فتنہ
ڈاکٹر یوسف القرضاوی
داعی کے لیے ضروری ہے کہ موضوع ہی نہیں بلکہ ضعیف اور منکر حدیثوں سے بھی اپنے کو دور رکھے۔ علماے امت نے موضوع حدیثوں کی روایت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ جواز کی صرف ایک صورت ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کو ان کے خلاف آگاہی دینا ہو اور وہ ساتھ ہی صاف صاف بتاتا جائے کہ یہ روایت ’موضوع‘ ہے تاکہ اس کو پڑھنے اور سننے والے اپنے کو اس سے بچا کر رکھیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ موضوع حدیث کی روایت حرام ہے اگر آدمی کو اس کا پتہ ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا مضمون کیا ہے۔ وہ احکام سے متعلق ہے یا واقعات اور قصص سے یا ترغیب وترہیب وغیرہ سے۔ اس کے جواز کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ روایت بیان کرنے کے ساتھ ہی وہ اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کر دے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث ہے جس کی روایت امام مسلم نے حضرت سمرۃ بن جندب سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا:
من حدث عنی بحدیث یری انہ کذب فہو احد الکاذبین۔
’’جو شخص میرے حوالہ سے کوئی حدیث بیان کرے جو صاف دکھائی دیتی ہو کہ جھوٹ ہے تو جھوٹوں میں وہ بھی ایک جھوٹا ہے۔‘‘
علماے امت میں بہت سے لوگوں نے خاص انہی احادیث کو اپنا موضوع بنایا۔ انہوں نے ان کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور ان کے باطل اجزا کی ایک ایک کرکے نشان دہی کی اور واضعین حدیث اور حدیث کے چشمہ صافی میں اپنی طرف سے کھوٹ کی آمیزش کرنے والوں کی ناپاک حرکتوں کا انہوں نے بالکل پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ (آپ لوگوں کے بعد) ان موضوع حدیثوں سے کون عہدہ برآ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ’’ان سے نمٹنے کے لیے ان شاء اللہ ہر دور میں کچھ قد آور لوگ زندہ رہیں گے۔‘‘ اسی طرح علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں: ’’گمراہی پھیلانے والوں نے جب یہ دیکھا کہ قرآن کے اندر کسی قسم کی ترمیم وتحریف پر ان کا بس نہیں چلتا ہے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں اپنی طرف سے اضافے کرنے شروع کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کا مقابلہ کرنے کے لیے امت کے اندر ایسے علما پیدا کیے جو حدیث پاک کے دفاع کے لیے سینہ سپر ہو گئے اور انہوں نے صحیح احادیث کو غلط حدیثوں سے بالکل چھانٹ کر الگ کر دیا۔ اور امید ہے کہ ان شاء اللہ کوئی زمانہ ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہے گا۔ یہ ضرور ہے کہ اس زمانے میں یہ جنس گراں بہا بہت کم یاب ہو گئی ہے۔ ہزاروں لاکھوں میں دو چار لوگ بھی اس کام کے بمشکل ہی نکل سکیں گے۔ غالباً حال وہ ہو گیا ہے جس کی طرف شاعر نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے:
وقد کانوا اذا عدوا قلیلا
فقد صاروا اعز من القلیل
’’تعداد تو ان کی پہلے بھی کم ہی تھی لیکن اب تو وہ کہیں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔‘‘
ابن جوزی کا انتقال ۵۹۷ھ میں ہوا ہے۔ بھلا جب چھٹی صدی ہجری کے سلسلے میں ان کا یہ تاثرتھا تو آج اگر وہ ہمارے زمانے کو دیکھتے تو پتہ نہیں ان کے تاثرات کیا ہوتے؟
بہرحال اس میں دو رائیں نہیں کہ ضعیف اور موضوع احادیث نے اسلامی ثقافت کے چشمہ صافی کو بہت کچھ گدلا کیا ہے۔ اسلامی ثقافت کے مختلف اجزا میں انہیں نفوذ حاصل ہوا جس کے اثرات تفسیر وتصوف اور فضائل کی مختلف کتابوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ فقہ واحکام کی کتابیں بھی ان کی آمیزش سے نہ محفوظ رہ سکیں۔ یہی نہیں بلکہ حدیث کے بہت سے متداول مجموعے بھی اپنے آپ کو ان کی زد سے بچانے میں کام یاب نہ ہو سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اور لوگوں کو تو چھوڑیے، بہت سے وہ لوگ جو اپنے کو دین کا داعی کہتے ہیں، ان کے اوپر بھی یہ چیز اثر انداز ہوئے بغیر نہ رہی، خاص طور پر ان میں وہ لوگ جن کے اندر قومیت ووطنیت کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس طرح کی حدیثوں سے استشہاد کرنا ان حضرات کا عام معمول ہے اس لیے کہ ان کے اندر اعجوبہ پن اور مبالغہ آمیزی کے وہ مضامین ہوتے ہیں جن سے عوامی ذوق کو تسکین ملتی ہے اور عجائب پسند طبیعتوں کو ایک طرح کی راحت نصیب ہوتی ہے۔ جمعہ کا خطیب ہو یا مسجد میں درس دینے والا یا وہ عالم دین جس کے ذمہ ریڈیو پر حدیثیں سنانے کی خدمت سپرد ہے، آپ ا ن میں سے کسی کو سن لیں۔ یہ جب کوئی حدیث بیان کریں گے، اس کا تعلق مردود ومنکر احادیث کے ذخیرہ سے ہوگا بلکہ اکثر وبیشتر رسائل اور مجلات کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی ایسی حدیثیں سامنے آتی ہیں جو خلاف عقل ہونے کے علاوہ نقل صحیح سے متصادم اور شریعت کے مسلمہ اصولوں سے ہٹی ہوئی ہوتی ہیں اور رسائل ہی پر کیا موقوف، بہت سے معاصرین کی تصنیفات بھی ان کی زد سے محفوظ نہیں ہیں۔ اگر یہ حدیثیں موضوع نہ ہوں تو ان میں کمزوری کے ایسے بے شمار پہلو ہوتے ہیں جو انہیں پایہ اعتبار سے گرا دیتے ہیں۔
عام طور پر ان حضرات کی بناے استدلال یہ چلتا ہوا خیال ہے کہ ترغیب وترہیب، فضائل اور واقعات وقصص وغیرہ کے باب میں ضعیف اور کمزور سے کمزور حدیثوں کا نقل کرنا جائز ہے۔ یہاں ہم اس رائج خیال کے سلسلے میں چند باتوں کی نشان دہی ضروری سمجھتے ہیں:
۱۔ پہلی چیز تو یہ کہ یہ کوئی ایسی رائے نہیں جس پر پوری امت کا اتفاق ہو۔ بہت سے بلند پایہ علما کسی باب میں ضعیف اور بے اصل حدیثوں سے استدلال کو روا نہیں رکھتے، خواہ بات فضائل کی ہو یا کسی اور سلسلے کی۔ یحییٰ بن معین اور ائمہ حدیث کی ایک بڑی جماعت کی یہی رائے ہے۔ امام بخاریؒ کا مسلک بھی اس کے سوا دوسرا نہیں ہو سکتا جبکہ حدیث کے قبول کرنے کے سلسلے میں انہوں نے انتہائی کڑی شرطیں عائد کی ہیں۔ امام مسلم کو بھی اس کے علاوہ کسی دوسری صف میں نہیں رکھا جا سکتا اس لیے کہ انہوں نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں ضعیف اور منکر حدیثوں کی روایت کرنے والوں پر بڑی سخت تنقید کی ہے کہ یہ بدقسمت صحیح حدیثوں کی روایت کرنے کے بجائے اس نامبارک کام میں کیوں لگ گئے۔ یہی خیال قاضی ابوبکر بن عربی کا بھی ہے جو اپنے زمانے میں مالکیہ کے سرخیل تھے۔ابو شامہ جو اپنے زمانے میں شوافع کے سرخیل تھے، وہ بھی اسی خیال کے حامی ہیں۔ علامہ ابن حزم اور دوسرے بہت سے علماے ظاہر کا بھی یہی مسلک ہے۔
۲۔ دوسری بات یہ کہ جب صحیح اور حسن حدیثوں کا خود اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو لوگوں کی تعلیم وتذکیر کے لیے بالکل کافی ہے تو پھر انہیں چھوڑ کر کمزور اور بے سند حدیثوں کا رخ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب اللہ نے ہمیں اعلیٰ وارفع چیز دے رکھی ہے تو پھر گھٹیا اور بے وزن چیزوں کے لیے طبیعت میں اضطراب کیوں رہے؟ دین واخلاق کا کوئی مسئلہ نہیں نہ فکر ونظر کا کوئی ایسا دائرہ پایا جاتا ہے جس کے لیے صحیح اور حسن احادیث کے ذخیرے میں کافی وافی مواد موجود نہ ہو لیکن ہمتیں ایسی گھٹیں اور مذاق اس قدر بگڑ گیا ہے اور تحقیق وتفتیش کی زحمت اٹھائے بغیر بس جو چیز ہاتھ میں آ جائے، اسے لے لینے کا رجحان ایسا بڑھ گیا ہے کہ لوگ ضعیف اور بے اصل حدیثوں کے نقل کرنے میں کوئی تکلف محسوس نہیں کرتے اور بے تکان ان کے حوالوں پر حوالے دیے چلے جاتے ہیں۔
۳۔ تیسری چیز دھیان دینے کی یہ ہے کہ ضعیف اور کمزور حدیثوں کو جزم کے صیغے سے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔ علامہ سیوطیؒ تدریب شرح تقریب میں فرماتے ہیں:
’’جب تم کسی ضعیف روایت کو بغیر سند کے بیان کرنا چاہو تو یہ نہ کہو کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ کذا۔ اسی طرح جزم کا کوئی اور صیغہ بھی استعمال نہ کرو بلکہ اس طرح کہو: آپ سے یہ مروی ہے۔ روی عنہ کذا۔ یا ہم تک آپ سے یہ بات پہنچی ہے۔ بلغنا عنہ کذا۔ یا یہ کہ آپ سے یہ بات آئی ہے۔ ورد عنہ۔ یا یہ کہ آپ سے یہ بات نقل کی گئی ہے۔ جاء او نقل عنہ۔ یا اسی کے مانند دوسرے اور صیغے جو اپنے اندر بجائے جزم کے، احتمال کا معنی رکھتے ہیں مثلاً یہ کہ بعض لوگ اس طرح روایت کرتے ہیں۔ روی بعضہم۔‘‘
پس یہ جو خطیبوں اور واعظوں نے عادت بنا لی ہے کہ کمزور اور ضعیف سے ضعیف حدیثوں کے سلسلے میں بھی اس سے کم ان کی زبان سے کوئی بات نکلتی ہی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے، قال رسول اللہ ﷺ، یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے بلا تاخیر ترک کیا جانا چاہیے۔
۴۔ چوتھی بات یہ کہ جن علماے امت نے ترغیب وترہیب وغیرہ کے باب میں ضعیف اور کمزور روایتوں پر عمل کی اجازت دی ہے، انہوں نے اس دروازے کو چوپٹ نہیں کھول دیا ہے بلکہ اس کے لیے کچھ شرطیں لگائی ہیں۔ یہ شرطیں تین ہیں:
اول یہ کہ وہ حدیث بہت زیادہ ضعیف نہ ہو۔
دوم یہ کہ وہ کسی اصل شرعی کے ذیل میں آتی ہو جس پر قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں عمل کرنا ثابت ہو۔
سوم یہ کہ اس پر عمل کرتے ہوئے نبی ﷺ سے اس کے ثابت ہونے کا اعتقاد نہ رکھا جائے بلکہ یہ خیال رکھتے ہوئے عمل کیا جائے کہ معاملہ صرف احتیاط کا ہے۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہے کہ علماے امت نے کسی قید اور شرط کے بغیر کمزور اور ضعیف حدیثوں کے دروازے کو چوپٹ نہیں کھول دیا ہے بلکہ اس کے لیے انہوں نے کچھ شرطیں عائد کی ہیں جن میں مذکورہ بالا تین شرطوں کے علاوہ ایک دوسری بنیادی شرط بھی شامل ہے کہ حدیث فضائل اور ترغیب وترہیب وغیرہ کے ذیل سے ہو جس پر کوئی حکم شرعی مرتب نہ ہوتا ہو۔
ہماری رائے میں مذکورہ بالا شرطوں کے ساتھ دو مزید شرطوں کا اضافہ کیا جانا چاہیے:
اول یہ کہ حدیث مبالغہ آمیز اور گھبرا دینے والے مواد پر مشتمل نہ ہو جسے عقل کسی طرح باور کرتی ہے نہ شریعت سے اس کی کسی صورت تائید ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کی زبان کا غرابت سے پاک اور اہل عرب کے معروف انداز بیان سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث نے موضوع حدیث کا پتہ لگانے کے لیے راوی کے علاوہ روایت کے داخلی شواہد کو کافی اہمیت دی ہے۔ روایت کے انہی داخلی شواہد میں سے ایک چیز جو موضوع احادیث کا پتہ لگانے کے سلسلے میں بھی دلیل راہ کا کام دیتی ہے، یہ ہے کہ روایت ایسے مواد پر مشتمل ہو جو سرتاسر عقل کے خلاف ہو اور کسی صورت سے اس کی توجیہ ممکن نہ ہو۔ اسی سے ملتی ہوئی بات یہ ہے کہ اس کا مضمون تجربہ ومشاہدہ سے کھلے طو رپرمتصادم ہو یا پھر یہ کہ وہ قرآن وسنت کے صریح اورقطعی نصوص سے ٹکراتی ہو یا اجماع امت کے خلاف پڑتی ہو۔ واضح رہے کہ ان تمام صورتوں میں یہ بات اسی وقت کہی جا سکے گی جبکہ دو باتوں میں کسی طرح تطبیق ممکن نہ ہو۔ کسی صورت سے تطبیق ہو سکے اور تعارض رفع ہو جائے تو پھر یہ بات نہیں رہ جائے گی۔ علاوہ ازیں وہ حدیث بھی قابل قبول نہیں قرار پائے گی جو متعلق تو ہو کسی مہتم بالشان امر سے جسے عوام کے بڑے مجمع کے سامنے بیان کیا جانا ضروری ہو لیکن اس کو نقل کرنے والا تنہا ایک آدمی ہو۔ موضوع حدیث کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ایک چھوٹے معاملے پر بہت بڑی وعید سنائی گئی ہو یا کسی معمولی کام پر بہت بڑے اجر کی بشارت دی گئی ہو۔ واعظ اور قصہ گو حضرات کے یہاں عام طور پر ہمیں اسی قبیل کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔
افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں حدیث سے اشتغال رکھنے والے بہت سے لوگ بھی ترغیب وترہیب اور اس ذیل کے دیگر موضوعات کے سلسلے میں روایتوں کو نقل کرتے ہوئے ان اصولوں کا خاطر خواہ لحاظ نہیں رکھتے۔ گزشتہ ادوار میں تو یہ بات کسی حد تک چل جاتی تھی لیکن ہمارے زمانے میں ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کا جو رجحان پیدا ہو گیا ہے، اس کے پیش نظر اس طرح کی مبالغہ آمیز چیزیں لوگوں کے لیے قابل قبول قرار نہیں پاتیں اور آسانی کے ساتھ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی ہیں بلکہ یہ بات بھی چنداں تعجب انگیز نہ ہوگی کہ حقائق سے دور اس طرح کی بے اصل حدیثوں کے سننے کے نتیجے میں بہت سے لوگ نفس دین کے سلسلے ہی میں شک وتردد کا شکار ہو جائیں اور اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دیں۔
اہل عرب کے معروف اندا زبیان سے ہٹی ہوئی اور زبان وادب کے پہلو سے استغراب کی حامل روایتوں کی مثال جنہیں ذوق سلیم کسی طرح قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں، وہ حدیثیں پیش کرتی ہیں جو مثلاً دراج ابی السمح جیسے قصہ گویوں سے قرآن کریم کے بعض الفاظ کی تشریح وتفسیر کے سلسلے میں مذکور ہیں جبکہ زبان ولغت کی روشنی میں ان کا مفہوم بالکل واضح ہے لیکن روایتوں کی صورت میں وہ ان کی ایسی تشریحات پیش کرتا ہے جو غرابت کا شکار اور لفظ کے لغوی مفہوم سے ایسی دور ہیں کہ اس سے زیادہ دوری کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر یہی دراج ابو الہیثم سے اور وہ ابو سعید سے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ’’ویل‘‘ (جبکہ قرآن میں یہ لفظ متعدد بار آیا ہے) جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں کافر چالیس برس تک مسلسل گرتا چلا جائے گا تب کہیں جا کر وہ اس کی تہ تک پہنچ پائے گا۔‘‘ یہ روایت احمد اور ترمذی نے نقل کی ہے، البتہ ترمذی میں چالیس کے بجائے ستر سال (سبعین خریفا) کے الفاظ ہیں۔ حالانکہ ہر شخص کو معلوم ہے، لفظ ’’ویل‘‘ ہلاکت اور بربادی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد ہمیشہ سے یہ لفظ اس معنی کے لیے مشہور ومعروف چلا آتا ہے۔
اسی کے مانند وہ روایت بھی ہے جسے طبرانی اور بیہقی حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول: ’فسوف یلقون غیا‘ کے سلسلے میں لفظ ’غی‘ کی تشریح میں نقل کرتے ہیں کہ یہ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے یا یہ کہ جہنم میں ایک دریا اس نام سے موسوم ہے۔ حالانکہ ’غی‘ کے معنی سرکشی کے معروف ہیں اور آیت کریمہ کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ کافر اپنی سرکشی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
اسی طرح بیہقی وغیرہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ’وجعلنا بینہم موبقا‘ کے سلسلے میں حضرت انس کے واسطے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ یہ خون اور پیپ کی ایک وادی کا نام ہے جبکہ ’’موبق‘‘ کے معنی صاف جائے ہلاکت کے ہیں۔ آیت کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ ’’ہم ان کے بیچ ایک جائے ہلاکت لاکھڑی کریں گے‘‘۔
اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب ابن ابی الدنیا کی روایت ہے جسے وہ شفی بن مانع کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ’’اثام ہے‘‘ جو سانپوں اور بچھوؤں سے بھری ہوئی ہے وغیرہ۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ’ومن یفعل ذلک یلق اثاما‘ سے یہی وادی مراد ہے۔ حالانکہ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گناہ کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ ’اثام‘ کے معنی گناہ عربی زبان کا ہر طالب علم جانتا ہے۔
ہمارے محدثین کی طرف سے اس طرح کی روایتوں کو سند قبول عطا کرنے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ حافظ منذری جیسے ناقد حدیث نے بھی ان تمام روایتوں کو اپنی کتاب ’الترغیب والترہیب‘ میں جگہ دے دی ہے۔
۲۔ حدیث کے قابل قبول قرار دیے جانے کے سلسلے میں دوسری شرط جس کا اضافہ ہم ضروری خیال کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کمزور حدیث اپنے سے صحیح تر احادیث سے ٹکراتی نہ ہو۔ اس کی مثال میں ان کمزور حدیثوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جو حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سلسلے میں مروی ہیں کہ ’’وہ دنیا میں اپنی مال داری کے سبب جنت میں گھٹنوں کے بل داخل ہوں گے۔‘‘
اس طرح کی احادیث کے سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کسی اصل شرعی سے ٹکراتی نہیں ہیں بلکہ یہ دین کے اس مسلمہ اصول کے تحت ہیں کہ انسان کو مال کے فتنہ سے ڈر کر رہنا چاہیے اور بڑھی ہوئی مال داری اپنے ساتھ جو سرکشی اور نافرمانی لے کر آتی ہے، اس کے پیش نظر اس سے دامن کش ہی رہنا مناسب ہے۔ لیکن یہاں صورت یہ ہے کہ مذکورہ حدیث ان بے شمار صحیح حدیثوں سے ٹکراتی ہے جن میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کو عشرہ مبشرہ میں شامل قرار دیا گیا ہے۔ دیگر مستند واقعات اور وہ مشہور ومستفیض روایات مزید برآں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آں موصوف کا شمار اسلامی جماعت کے اعلیٰ ترین لوگوں میں سے تھا اور دین داری اور تقویٰ کے لحاظ سے وہ گنے چنے لوگوں میں شامل تھے۔ دراصل آپ کی ذات گرامی غنی شاکر یعنی شکر وسپاس کے پیکر مال دار کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی (دین میں جس کے مقام ومرتبہ سے ہر شخص واقف ہے) حضور پاک ﷺ نے داعی اجل کو لبیک کہا دریں حالیکہ وہ آپ سے پوری طرح راضی اور خوش تھے۔ اسی طرح لسان حق ترجمان حضرت عمر نے اپنے انتقال سے چند دن پہلے اگلے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جن چھ حضرات پر مشتمل شوریٰ کمیٹی تشکیل دی تھی، اس میں آپ کا نام نامی بھی شامل تھا، اس امتیازی حیثیت کے ساتھ کہ اگر جانبین سے رائیں مساوی ہوں تو ترجیحی ووٹ کا حق آں جناب کو حاصل ہوگا۔ اسی لیے حافظ منذری نے الترغیب والترہیب میں کہا ہے کہ اگرچہ مختلف طریقوں سے، جن میں صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی شامل ہے، یہ بات نقل کی گئی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف جنت میں گھٹنوں کے بل داخل ہوں گے اور اس کی وجہ (دنیا میں) ان کی بڑھی ہوئی مال داری ہوگی، لیکن اس کا بہتر سے بہتر کوئی ایک بھی طریق روایت ایسا نہیں جس پر کچھ نہ کچھ کلام نہ ہو اور ان مختلف طریقوں میں ایک بھی نہیں جو تنہا ’حسن‘ کے درجہ تک پہنچتا ہو۔ اگر وہ مال دار تھے تو ان کی یہ مال داری رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مصداق تھی کہ ’نعم المال الصالح للرجل الصالح‘ (یعنی خدا ترس اور نیک طینت انسان کے لیے مال کیا ہی بہترین چیز ہے) پھر سوال یہ ہے کہ اس مال داری کے سبب آں جنا ب کے درجات آخرت میں کم کیوں ہوں؟ نیز یہ کہ امت کے تمام مال دارو ں میں صرف آں موصوف ہی کے ساتھ یہ روش اپنائے جانے کی کیا وجہ ہے جبکہ کسی اور مال دار کے سلسلے میں ہمیں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ البتہ یہ بات صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس امت کے فقرا، اغنیا کے مقابلے میں جنت میں پہلے داخل ہوں گے۔ لیکن یہ بات علی الاطلاق تما م مال داروں کے لیے ہے، کسی ایک شخص کے لیے اسے خاص کر لینا صحیح نہیں ہو سکتا ہے۔ (الترغیب والترہیب ۵/۳۰۸۔ طبع السعادۃ)
داعیان حق کے یہاں ضعیف اور موضوع روایات کس طرح راہ پا لیتی ہیں؟
عام طور پر داعیان حق کے یہاں ضعیف اور غیر معتبر روایات اس لیے راہ پا لیتی ہیں کہ ان کا تمام تر انحصار حدیث کے ان مجموعوں پر ہوتا ہے جن میں حدیثوں کی چھان پھٹک اور ان کی تحقیق وتفتیش کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا ہے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ اکثر وبیشتر ان میں اس کا بھی ذکر نہیں ہوتا کہ حدیث کی تخریج کس امام حدیث نے کی ہے حالانکہ اگر یہ چیز معلوم بھی ہو ، جب بھی صرف اتنی سی بات کسی حدیث پر اعتماد کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اکثر مولفین حدیث نے اپنی کتابوں میں اس کا اہتمام نہیں کیا ہے کہ وہ صرف صحیح اور حسن حدیثیں ہی بیان کریں گے۔
چنانچہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ وعظ وتذکیر، تصوف اور تفسیر وغیرہ کی کتابوں سے بے تکلف حدیثیں نقل کرتے جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی حدیث کی صحت اور اس پر اعتماد کرنے کے لیے حدیث کے نام سے کسی کتاب میں صرف اس کے اندراج کو کافی سمجھتے ہیں حالانکہ کسی حدیث کے قابل اعتماد ہونے کے لیے کم سے کم یہ بات ہے کہ حدیث کے مقبول ہونے کا جو کم تر سے کم تر معیار ہے، وہ اس پر پوری اترتی ہو۔ بہرحال جو لوگ وعظ وتذکیر کے مجموعوں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کو میرا مشورہ ہے کہ وہ صرف ان کے اعتماد پر کبھی کسی حدیث کی روایت نہ کریں اس لیے کہ ان میں رطب ویابس ہر طرح کی روایتیں بھری پڑی ہیں۔ احادیث وآثار کا معاملہ ہو یا قصص وواقعات کا، کسی چیز کے سلسلے میں ان کے اندر ادنیٰ درجے میں بھی تحقیق وتفتیش کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ دلیل صرف یہ ہے کہ ان سے کوئی حکم شرعی تو وابستہ نہیں ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وعظ وتذکیر کے فن کی خاصیت ہی کچھ ایسی ہے۔ چنانچہ حدیث کے عام مولفین کو چھوڑیے، جب ناقدین حدیث بھی اس موضوع کو ہاتھ لگاتے ہیں تو وہ بھی ڈھیل اور سہل انگاری کو راہ دیے بغیر نہیں رہتے اور بسا اوقات تو بات اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اسے سوائے کوتاہی اور عدم توجہ کے کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ علامہ ابن جوزی جیسا ناقد حدیث بھی، جس نے اس موضوع پر ’الموضوعات‘ اور ’العلل المتناہیہ‘ جیسی کتابیں لکھی ہیں، یہی ابن جوزی جب وعظ وتذکیر کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور ’ذم الہویٰ‘ نامی کتاب تصنیف کرتے ہیں تو ان کے ناقدانہ تعقل پر واعظانہ جذبہ غالب آ جاتا ہے اور وہ بڑی حد تک سہل انگاری سے کام لینے لگتے ہیں۔ یہی حال حافظ ذہبی کا ہے کہ وہ اپنی واعظانہ تصنیف ’الکبائر‘ میں حدیثوں کے انتخاب کے سلسلے میں بالکل ڈھیلے نظر آتے ہیں۔
جو لوگ تفسیر کی کتابوں سے کسی حدیث کو نقل یا بیان کرنا چاہیں، ان کو میرا مشورہ ہے کہ ابن کثیر کی طرف رجوع کریں اس لیے کہ یہ مفسر کے ساتھ بلند پایہ حافظ حدیث بھی ہیں اور روایتوں کے سلسلے میں نقد وجرح کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں جو حدیث بھی نقل کرتے ہیں، اس کے سلسلے میں بالعموم یہ رائے دے دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل اعتماد ہے اور اس میں یہ ضعف پایا جاتا ہے۔
اسی طرح تصوف کی نمائندہ غزالی کی ’احیاء العلوم‘ سے جو شخص کوئی روایت نقل یا بیان کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ حافظ عراقی نے اس کی حدیثوں کی جو تخریج کی ہے، اس کی طرف رجوع کرے۔ یہ تخریج ’احیا‘ کے ساتھ ہی چھپی ہوئی ہے۔ جو شخص اصل کتاب کا مطالعہ کرنا چاہے، اس کے لیے بھی اس تخریج کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے چہ جائیکہ وہ شخص جو اس سے کسی حدیث کو نقل یا بیان کرنا چاہے کہ اس کے لیے تو اس کی ضرورت بدرجہ اولیٰ ہے۔ اس کے بغیر کچھ پتہ نہیں چل سکتا کہ غزالی جو حدیث بیان کر رہے ہیں، وہ کس پائے کی ہے۔
جو شخص حافظ منذری کی الترغیب والترہیب کے حوالہ سے کوئی حدیث بیان کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مقدمہ کا ضرور مطالعہ کرے جس میں انہوں نے اپنی کتاب میں بیان کردہ حدیثوں کی نوعیت سے بحث کی ہے اور ان اصطلاحوں کی وضاحت کی ہے جنہیں وہ کسی حدیث کے قوی یا ضعیف ہونے کے سلسلے میں استعمال کرتے ہیں۔ نیز یہ کہ وہ قوی یا ضعیف ہے تو اس کا یہ قوت یا ضعف کس درجے کا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ کمزور حدیثوں کو نقل کرنے سے محفوظ رہے۔ مصنف کی اصطلاح سے واقف نہ ہونے کی صورت میں وہ کسی حدیث کے ساتھ صرف اس پر ’حسن‘ یا ’صحیح‘ لکھا ہوا دیکھ کر اسے بے کھٹکے بھروسے کے قابل تصور کر لے گا حالانکہ مصنف کی منشا اس سے مختلف ہوتی ہے۔
اسی طرح جو شخص سیوطی کی ’الجامع الصغیر‘ سے کوئی حدیث نقل یا بیان کرنا چاہے، اس کے لیے میرا مشورہ ہے کہ اسے اس کے علاوہ مناوی کی مطول شرح ’فیض القدیر‘ یا اس کے اختصار ’التیسیر‘ کی طرف ضرور مراجعت کر لینی چاہیے۔ سیوطی نے حدیثوں پر ’صحیح‘، ’حسن‘ اور ’ضعیف‘ کے لیے ص ، ح اور ض کی جو علامتیں بنا دی ہیں، صرف ان علامات پر اکتفا نہ کرے اس لیے کہ نقل وطباعت کی اغلاط سے ان میں بڑا ہیر پھیر ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’الجامع الصغیر‘ کی ان شرحوں کا اس لیے بھی دیکھنا ضروری ہے کہ شارح نے اصل کتاب پر جو گرفتیں کی ہیں اور ان کی جن خامیوں کی نشان دہی کی ہے، ان سے فائدہ نہ اٹھانا یقیناًمحرومی کی بات ہوگی۔ ہمارے زمانہ کے عظیم محدث علامہ محمد ناصر الدین البانی نے ’الجامع الصغیر‘ اور اس پر مصنف کا بعد کا اضافہ جو ’الفتح الکبیر‘ کے نام سے ہے، ان کی صحیح حدیثوں کو ضعیف حدیثوں سے چھانٹ کر الگ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی یہ عظیم کاوش کئی جلدوں میں مطبوعہ صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ کوئی شک نہیں کہ موصوف نے اس کام کا حق ادا کر کے خدمت حدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جس سے واقعہ یہ ہے کہ حدیث کا کوئی طالب علم بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
اس کے علاوہ حدیث کی ایک دوسرے طرز کی کتابیں ہیں جن سے بھی بہرحال استفادہ کیا جانا چاہیے۔ یہ اپنے فن کی بعض مشہور کتابوں کی احادیث کی تخریج ہیں جن کے مصنفین نے اپنی روایت کردہ حدیثوں کی تخریج کا اہتمام خود نہیں کیا ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر کی مشہور کتاب ’الکشاف‘ کی حدیثوں کی تخرج حافظ ابن حجر کی طرف سے، تصوف کی نمائندہ ’احیاء العلوم‘ کی روایت کردہ احادیث کی تخریج حافظ عراقی کی طرف سے یا کتب فقہ مثلاً ہدایہ کی احادیث کی تخریج حافظ زیلعی کی طرف سے، یا اسی طرح ’الاختیار‘ کی حدیثوں کی تخریج جو علامہ محمد قاسم کی کاوش کا نتیجہ ہے، یا مثلاً ’الرافعی الکبیر‘ کی حدیثوں پر نقد ونظر حافظ ابن حجر کی طرف سے جس کا نام ’تلخیص الحبیر‘ معروف ہے۔
اسی طرح حدیث کی ایک دوسری نوعیت کی کتابیں ہیں جن کا موضوع وہ مشہور اور پھیلی ہوئی احادیث ہیں جو ہر شخص کی زبان زد ہیں۔ ان میں اس بات کی تفصیل ہوتی ہے کہ حدیث کس امام کی تخریج کردہ ہے، نیز یہ کہ وہ صحیح ہے یا حسن یا کہیں اور ضعیف اور موضوع تو نہیں ہے۔ اس نوع کی کتابوں میں حافظ سخاوی کی ’المقاصد الحسنہ‘ سرفہرست ہے۔ یہی موضوع ابن ربیع شیبانی کی ’تمییز الطیب من الخبیث فی ما یدور علی السنۃ الناس من الحدیث‘ اور عجلونی کی ’کشف الخفاء ومزیل الالباس فی ما اشتہر من الحدیث علیٰ السنۃ الناس‘ کا بھی ہے جیسا کہ ان کے ناموں ہی سے ظاہر ہے۔ البتہ موخر الذکر زیادہ جامع اور موضوع پر حاوی ہے۔ اس کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے ہے۔
ان کے علاوہ کتابوں کا ایک اور سلسلہ ہے جس سے حدیث کا کوئی طالب علم بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ ہماری مراد کتب موضوعات سے ہے جن میں بے سروپا اور حضور پاک ﷺ کی طرف منسوب من گھڑت حدیثوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ علامہ ابن جوزی کی ’الموضوعات‘ ا س سلسلے میں سرفہرست ہے۔ اسی طرح علامہ سیوطی کی ’اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ‘ نیز انہی کی ’تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص‘ ، علامہ ابن قیم کی ’المنار المنیف فی الصحیح والضعیف‘، ملا علی قاری کی ’الموضوعات الکبریٰ‘ نیز ان کی ’الموضوعات الصغریٰ‘ جس کا دوسرا نام ’المصنوع فی معرفۃ الموضوع‘ بھی ہے۔ ابن عراق کی ’تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ من الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ‘، شوکانی کی ’الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ‘، علامہ عبد الحئی لکھنوی کی ’الاسرار المرفوعۃ‘ اور محدث عصر محمد ناصر الدین الالبانی کی ’الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ واثرہا فی الامۃ‘ وغیرہ بھی اس موضوع سے متعلق ہیں۔ حدیث کے ہر طالب علم کے لیے ان کا مطالعہ ازبس ضروری ہے۔
سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ
مولانا مشتاق احمد
نام ونسب
مولانا موصو ف چنیوٹ میں راجپوت خاندان کے ایک فرد حاجی احمد بخش ولد قادر بخش کے ہاں۳۱دسمبر ۱۹۳۱ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والدین نے خواب میں دیکھا کہ ان کے سامنے سے روشنی پھوٹ رہی ہے جس سے گرد وپیش کا علاقہ منور ہورہا ہے۔ آپ کے والد محترم نے قریبی مسجد کے اما م صاحب کے سامنے خواب بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا بیٹا عطا فرمائیں گے جو دین اسلام کی خدمت کرے گا اور بکثرت لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔ امام مسجد کی یہ تعبیر جس طرح پوری ہوئی، محتاج بیان نہیں ۔مولانا چنیوٹی کے آبا واجداد میں سے رائے گل محمد نے سب سے پہلے ساتویں صدی ہجر ی میں اسلام قبول کیا ۔
تعلیم وتربیت
چار سال کی عمر میں آپ کو قر یبی مسجد میں حافظ گلزار احمد مرحوم کے پاس ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے داخل کرایا گیا۔ ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد آپ نے اسلامیہ ہائی سکول چنیوٹ میں چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے آپ کو سکول سے ہٹالیا گیا۔ اس کے بعد کچھ مدت تک والد صاحب کے ساتھ کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے ۔
اللہ تعالیٰ نے چونکہ آگے چل کر آپ سے دین اسلام کا کام لینا تھا، اس لیے چنیوٹ کے معروف عالم دین (احقر کے رشتہ کے دادا جا ن ) حضر ت مولانا دوست محمد ساقی فاضل دارالعلو م دیوبند کی توجہ مولانا چنیوٹی کی طرف مبذول کرادی۔ وہ روزانہ آکرآپ کو بھی تر غیب دیتے رہتے اور آپ کے والد صاحب محترم حاجی اللہ بخش صاحب کی توجہ بھی اس طرح مبذول کراتے رہتے۔ نتیجتاً آپ ۱۹۴۰ء میں مدرسہ آفتاب العلوم محلہ گڑھا چنیوٹ میں داخل ہو گئے۔ وہاں آپ نے مولاناحبیب اللہ سیالکوٹی، مولانامحمد اسلم حیات گجراتی، مولاناغلام محمد گوجرانوالہ اور مولانا دوست محمد ساقی جیسے فضلاے دیو بند سے کسب فیض کیا۔ قیا م پاکستان کے وقت ناموافق حالات کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا اور اپنے ماموں محمداکرم صاحب کے ساتھ پنسار کی دکان پربیٹھنے لگے۔ پھر مولانا ساقی کے ہمت دلانے پر دوبارہ تعلیم شروع کی اور ان کے ساتھ چنیوٹ کے قریبی گاؤں چک ساہمبل میں چلے گئے، جہاں مولانا ساقی صاحب وہاں کے باشندوں کی دعوت پر ان دنوں درس نظامی کی تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔یہا ں آپ نے کم و بیش چار پانچ سال تعلیم حاصل کی۔
۱۹۵۱ء میں آپ دورۂ حدیث کے لیے جامعہ خیر المدارس ملتان میں داخل ہوئے مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہا ں سے دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈواللہ یار (سندھ ) چلے گئے۔ وہاں آپ نے حضر ت مولانا عبدالرحما ن کیمبل پوری، حضر ت مولانا بدر عالم میر ٹھی، حضرت مولانا سید یوسف بنوری اور مولانااشفاق الرحمان کاندھلوی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے یکتائے روزگار اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا۔ دورہ حدیث سے فراغت حاصل کرنے کے بعد ایک سال مزید ٹھہر کر حضر ت مولاناعبد الرشید نعمانی سے مقدمہ ابن الصلاح، مولانا بنوری سے انشاء عربی اور مولانا عبد الرحمان کامل پوری سے علم میراث کی تعلیم حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب خیرالمدارس ملتان دورۂ حدیث میں آپ کے ہم جماعت تھے۔ علم تفسیر کے لیے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اورشیخ القر آن حضرت مولاناغلام اللہ خانؒ سے مراجعت کی۔ فن مناظرہ میں کمال حصل کرنے کے لیے دفترتنظیم اہل سنت ملتان میں حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری ؒ اورحضرت علامہ عبدالستارتونسوی سے رد رافضیت کے مو ضوع پر تربیت حاصل کی۔
مولاناچنیوٹی مرحومؒ اپنے اساتذہ کرام کاانتہائی ادب واحترام کرتے تھے۔ مولانا ساقی مرحوم طبیعتاً سخت مزاج تھے اورجوانی کے زمانے میں طلبا کو سخت سزا دیا کرتے تھے۔ (بعد ازاں احقر کے تعلیمی زمانے میں نسبتاً کچھ تحمل پیدا ہو گیاتھا ) مولانا چنیوٹی نے کبھی آج کل کے طلبا کی طرح مدرسہ بدلنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ مولانا چنیوٹی کے بر عکس ان کے دو سا تھی گستاخانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔ ایک تومولانا ساقی صاحب کے سامنے ہی زیر لب بڑبڑاتا رہتاتھا، جبکہ دوسراڈنڈا پکڑ لیتا اور باقاعدہ مزاحمت کرتاتھا ۔ ان دونوں کوعلم نافع نصیب نہ ہوسکا۔ امامت وخطابت سے آگے نہ بڑھ سکے بلکہ امامت بھی باقاعدگی سے نہ کر سکے۔ ’باادب بانصیب‘ کے مقولہ کے مطابق مولاناچنیوٹی صاحب کو استاذ محترم کے سامنے باادب رہنے کا جوصلہ ملا، وہ سب کے سامنے ہے۔
تعلیمی دور سے گزرنے کے بعد بھی جب کہ مولانا پنجاب اسمبلی کے ممبر اور دینی ودنیاوی وجاہت کے مالک تھے، آپ کے بااد ب ہونے کا یہ منظر بارہا دیکھا کہ مولانا ساقی صاحب چنیوٹی صاحب کے دفتر میں تشریف لاتے تو ابھی و ہ دفتر سے باہر ہوتے کہ آپ تمام مصروفیت چھوڑکرفوراً کھڑے ہو جاتے۔ ادب و احترام سے بات سنتے اور ان کے تشریف لے جانے کے بعد بیٹھتے تھے ۔
تعلیمی خدمات
۱۹۵۲ ء میں آپ تعلیم سے فارغ ہوئے تو مدرسہ دارالہدیٰ چوکیرہ میں تدریسی فرائض سرانجام دینے لگے۔ سنن ابی داؤد سمیت اعلیٰ درجات کی کتابیں پڑھاتے رہے۔ چوکیرہ ہی میں مولانا غلا م محمدصاحب آف عنایت پور بھٹیاں (چنیوٹ) نے آپ سے تعلیم حاصل کی اور اپنے علاقے میں میں قادیانیوں کو لوہے کے چنے چبوائے۔ پچاس سے زیادہ قادیانی مولاناغلام محمد کے ہاتھ تائب ہوچکے ہیں ۔
مناظراسلام حضرت مولانا سید احمد شاہ چوکیروی سے آپ کو خصوصی تعلق تھا۔ وہ بھی آپ پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب کے مشورہ سے آپ چوکیرہ چھوڑ کر جامعہ عربیہ چنیوٹ میں بطور صدر مدرس تشریف لائے۔ جامعہ عربیہ ۱۹۵۴ء میں استاذالقرا قاری مشتاق احمد صاحب قدس سر ہ نے چنیو ٹ کی شیخ برادری کے تعاون سے قائم کیا تھا۔ انہیں تن تنہا مدرسہ کا نظم چلانے میں دقت پیش آرہی تھی۔ مولانا چنیوٹی نے قاری صاحب کے اعتما د اور مشورہ سے مدرسہ کا تعلیمی نظام سنبھالا اور شب وروز سخت محنت کرکے اسے اس بلند ی پر لے گئے کہ عوامی وحکومتی سطح پر معتبر بنادیا اور پورے ملک سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ تقریباًتیس پینتیس برس تک یہ معمول رہا کہ شہر میں گھر ہونے کے باوجود پورا ہفتہ مدرسہ میں رہتے تھے اور جمعرات کی شا م کو تشریف لے جاتے تھے اور جمعہ کی شام کو پھر واپس آجاتے تھے اور جانچ پڑتال کرتے کہ جمعرات کو چھٹی لے کر گھر جا نے والے طلبہ میں سے کون واپس آیا ہے اور کون نہیں آیا، فجر کی نماز کس نے پڑھی اور کس نے سستی کی۔ سستی کرنے والوں کو خود سزا دیتے تھے ۔
بہت عرصہ معمول رہا کہ عشا کے بعد صَرف پڑھنے والے طلبہ کو بلالیتے اور ان سے صیغے نکلوایا کرتے تھے۔ اگردو تین دن کے لیے تبلیغی سفر درپیش ہوتا تو جس وقت واپس آتے، خود طلبہ کوبلاتے اور سبق پڑھاتے تھے۔ ان سے بارہا سنا کہ میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جیسے دور دراز شہروں میں تقریریں کرنے جاتا تھا اور تقریر کے فوراًبعد واپس چل پڑتا اور صبح آکر اسباق پڑھاتا تھا۔ جامعہ عربیہ کے ایک استاذمولانا نذر محمدصاحب حیران ہوکر کہا کرتے کہ معلوم نہیں تو انسان ہے یا جن ہے۔
آپ کو صرف ونحو اور علم میراث میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ آپ سے کئی بار سنا کہ لوگ مجھے رد قادیانیت کا ماہر سمجھتے ہیں حالانکہ اس زیادہ مجھے میراث میں دسترس حاصل ہے ۔ جامعہ عربیہ میں باضابطہ مفتی متعین نہ تھا۔ علاقہ کے لوگ مولانا مرحوم سے مسائل پوچھنے کے لیے رجوع کرتے اور آپ زبانی اور تحریری طور پر لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ اس طر ح آپ نے سینکڑوں فتاوی تحریری طور پر جاری کیے ۔
جامع مسجد صدیق اکبر محلہ گڑھا چنیوٹ میں آپ نے بحیثیت خطیب تقریباًچالیس سال فرائض سرانجام دیے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں خالص علمی تقریر کرتے تھے جو کہ روایتی خطیبوں کے حشو و زوائد سے پاک اور دلائل سے مزین ہوتی تھی۔ خطابت کا کبھی آپ نے معاوضہ وصول نہیں کیا۔ علاوہ ازیں دن میں دو بار فجراور عشا کے بعد درس قرآن دینے کا برسوں معمول رہا ۔
قادیانی جامعہ احمدیہ چناب نگر میں فاضل عربی کا کورس کرایا جاتا تھا اور قادیانی لڑکے اور لڑکیاں سرکاری اداروں میں بطور اوٹی ٹیچر تقرری کروا کر مسلمان طلبہ اور طالبات کی گمراہی کا سبب بنتے تھے۔ اس وقت دینی اداروں میں فاضل عربی کرانے کا رواج نہ تھا۔ مولانا چنیوٹی نے قادیانیوں کے توڑ کے لیے جامعہ عربیہ میں فاضل عربی کا اہتمام کیا ۔طلبہ یہاں سے پڑھ کر بطور اوٹی ٹیچر وپروفیسر سکولو ں اور کالجوں میں جانے لگے اور اس طرح قادیانیت کی تبلیغ کا راستہ بند ہوا۔
مدرسہ اشرف المدارس محلہ گڑھا چنیوٹ اور مدرسہ اشرف العلوم محلہ ترکھانہ چنیوٹ مدتوں آپ کے زیر انتظام رہے، بلکہ اشرف المدارس تو اب بھی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کے زیر انتظام ہے۔ علاوہ ازیں تین اور شاخیں بھی ادارہ کے تحت چل رہی ہیں جن سے سینکڑوں طلبہ مستفید ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔
تحفظ ختم نبوت کے میدان میں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے دفتر میں انہی دنوں حضرت امیرشیریعت کی زیر سرپرستی علماء کرام کے لیے دارالمبلغین قائم کیا گیا جس میں فاتح قادیا ن حضر ت مولانا محمد حیا ت ؒ تربیت دے رہے تھے۔ آپ چناب نگر کے پڑوس میں رہنے کی وجہ سے فتنہ قادیانیت کی اہمیت سے کما حقہ واقف تھے اس لیے آپ نے دارالمبلغین کے سہ ماہی کورس میں داخلہ لیا اور علماء کرام کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر مولانا محمد حیات ؒ سے کما حقہ استفادہ کیا اور اصل قادیانی کتب سے آگاہی حاصل کی۔ اس کورس میں معروف مناظر مولانا عبدالرحیم اشعر بھی آپ کے ساتھ شریک تھے ۔
فاتح قادیان نے مولانا چنیوٹی ؒ کے دل ودماغ میں قادیانیت سے نفرت اور تحفظ ختم نبوت سے محبت کے جو شعلے بھر دیے تھے، وہ تازیست اپنی گرمی دکھاتے رہے۔۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شریک ہوئے اور چھ ماہ تک قید رہے ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو فتنہ قادیانیت کی سر کوبی کے لیے وقف کردیا۔ عملی زندگی میں قدم رکھا تو اپنے استاذ محترم مولانا محمدحیا ت ؒ سے قادیانیت کے تعاقب اور ختم نبو ت کے تحفظ کا عہد کیااور اس عہد کو نبھانے میں تن من دھن کی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ان کامنشورتھا :
نہ کرو غم، ضرورت پڑی تو ہم دیں گے
لہوکا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے
انہوں نے اپنے اس منشور کی تکمیل کے لیے تازیست سر دھڑ کی بازی لگائے رکھی۔ جب ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تو دینی خدمت کے کسی اور عنو ان کی کشش انہیں اپنے راستہ سے ہٹا نہ سکی ۔ تحفظ ختم نبو ت کی اہمیت مولانا چنیوٹی مرحوم ایک مثال سے واضح کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ ایک شخص کے چار بیٹے ہیں۔ ایک بہت سی دولت کما کر لے آتا ہے۔ دوسرا باپ کے لیے کھانے پینے کا انتظا م کرتا ہے۔ تیسرا باپ کا بدن دباتا ہے اور اس کی صحت وآرام کا خیا ل رکھتا ہے۔ چوتھا باپ کے دشمن کو قتل کرتا ہے۔ باپ چاروں بیٹو ں سے راضی تو ہے لیکن زیادہ خوش اس بیٹے سے ہوگاجس نے اس کے دشمن کو قتل کیا ہے۔ فرماتے تھے کہ قادیانی نبی کریم ﷺکے دشمن ہیں۔ آپ کی ختم نبوت کی چادر کو اتار کر اسے مرزاقادیانی کو پہنانا چاہتے ہیں۔ دیگر باطل فرقوں کا رد کرنا اپنی جگہ اہم اور ضروری ہے لیکن ان موضوعات کا نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ بلاواسطہ تعلق نہیں۔رد قادیانیت کا کام ایسا کام ہے جو براہ راست نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے تعلق رکھتا ہے۔یہ کا م اگر خلو ص سے کیاجائے تو حضور ﷺکی خوشنودی کا بہترین اور موثر ذریعہ ہے۔ مولانا مرحوم کا ختم نبوت سے عشق ان کو بے چین رکھتا تھا۔ اپنے اس مشن کی خاطر انہوں نے برطانیہ ،امریکہ ،جرمنی، بیلجیم، اسپین، ناروے، جنو بی افریقہ، سعودی عرب، متحد ہ عرب امارات، یمن، مصر، بھارت،بنگلہ دیش وغیر ہ بیسیو ں ممالک کے سفر کیے۔
عملی زند گی کا آغاز مناظروں سے کیا۔ قادیانیو ں کے رئیس المبلغین والمناظرین قاضی نذیر قادیانی سے بیسیوں مناظرے کیے۔ اس پر مولانا کا ایسارعب طاری ہوا کہ وہ مولانا سے مناظرہ کر تے ہوئے گھبراتا تھا اور بسا اوقات مید ان چھوڑ کر بھاگ جاتا تھا۔ قادیانی ۵۰ء کے عشرہ میں پروپیگنڈا کیا کرتے کہ مرزاقادیانی نے علما کو دعوت مباہلہ دی تھی لیکن کوئی مولوی اور پیر مقابلہ میں نہ آیا۔مولانا چنیوٹی ؒ نے ان کے اس پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مرزا محمود کو دعوت مباہلہ دی۔ اس نے کچھ شرائط پیش کیں جو کہ مولانا نے پوری کردیں۔ دریائے چناب کے دو پلو ں کی درمیانی جگہ مقام مباہلہ کے طور پر متعین ہوئی لیکن وہ تاریخ اور مقام متعین کرنے کے باجود میدان میں نہ آیا۔ اس کے مرنے کے بعد مولانا چنیوٹی مرزاناصر، مرزاطاہر اور مرزامسرور کو دعوت مباہلہ دیتے رہے لیکن وہ تاریخی حقیقت پوری ہوکر رہی جو مولانا ظفر علی خان نے بیان کی:
وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلہ کے نام سے
فرار ہوا کفر جیسے بیت الحرام سے
مولانا چنیوٹی مرزامحمود سے مباہلہ کی یاد میں ہر سال فتح مباہلہ کانفرنس منعقد کیا کرتے تھے۔ اس میں قادیانی سربراہوں کو دعوت مباہلہ ہوئے یہ تاریخی الفاظ کہتے تھے: ’’قادیانی سربراہ موکد بعذاب قسم اٹھائیں کہ مرزاقادیانی نے اور خود انھو ں نے کبھی شراب پی ہے، نہ زنا کیا ہے، اور نہ لواطت میں کبھی فاعل اور مفعول بنے۔ ان کے با لمقابل میں موکد بعذاب قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ویسے تو بہت گنہگار ہوں لیکن ان چاروں مذکورہ عیوب سے پاک ہوں۔‘‘ مولانا فرماتے تھے کہ ویمبلے ہال لندن میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس میں تقریرکرتے ہوئے باوضو قرآن مجیدہاتھ میں لے کر جب میں نے قسم اٹھائی تو ہال چیخوں سے گونج اٹھا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، مولانا چنیوٹی کو رد قادیانیت سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ یہ جنون انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیتا تھا۔ عرصہ چالیس سال سے ۱۰ شعبان سے ۲۵ شعبان تک علما، وکلا، پروفیسرحضرات اور عام پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے کورس کرانے کا معمول رہا جس میں وہ اپنا درد دل اور اپنے تجربات ان تک منتقل کر تے رہے۔ علاوہ ازیں جامعہ اشرفیہ لاہور،دفتر تنظیم اہل سنت ملتان، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن سمیت ملک کے اہم اداروں میں بھی تربیتی کورسز کا سلسلہ جاری رہا۔ ۱۹۹۱ء میں ہندوستان میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں پھیلنے لگیں تو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نے ایک تربیتی کیمپ لگایا۔ ملک بھر کے ہزاروں علما کومولانا چنیوٹی صاحب نے تربیت دی ۔ مولانا چنیوٹی سے تربیت پا کر انڈیا کے علما نے قادیانیت کے تعاقب کا حق ادا کر دیا اور آج وہاں قادیانیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مولانا چنیوٹی کویہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ او ردیگر سعودی اداروں میں آپ نے ہزاروں طلبا کو تربیت دی۔ ان طلبا میں ایک روایت کے مطابق یحیےٰ ابوبکر بھی شامل تھے جو کہ بعد میں گیمبیاکے صدر بنے اور انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کی املاک ضبط کر لیں۔
اردو میں کہتے ہیں: ’’ جادو وہ جو سر چڑھ بو لے‘‘۔ بالفاظ دیگر عربی کی ضرب المثل ہے: ’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘۔ پنجابی والے کہتے ہیں، حسن وہ ہوتا ہے جس کا سوکن بھی اعتراف کرے۔ مولانا چنیوٹی ؒ کی رد قادیا نیت کے محاذ پر خدمات کا اعتراف مرزا طاہر کو بھی کرنا پڑا۔ اس نے قادیانی چینل پر تقریر کرتے ہوئے مولانا چنیوٹی کو ’اشد اعداء نا‘ (ہماراسب سے بڑ ا دشمن) کا خطاب دیا ۔
قادیانی مسلمانوں کا روپ دھارکر حصول روزگار کے لیے عرب ممالک خصو صاً سعودی عرب کا رخ کرتے تھے اور وہاں اپنی ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ مولانا چنیوٹی ؒ نے اس قسم کے سینکڑوں قادیانیوں کو سعودی عرب سے نکلوایا۔ مولانا چنیوٹی ؒ کی ان خدمات سے متاثر ہو کر معروف صحافی وادیب،مجاہد ختم نبوت آغا شورش کشمیر ی مرحوم نے آپ کو ’’سفیر ختم نبوت‘‘ کا لقب دیا ۔
آپ کا ایک اہم ترین کارنامہ ربوہ شہرکے نام کی تبدیلی ہے۔ قادیانی ہمیشہ دھوکہ دیتے تھے کہ قرآن مجید میں جس ’’ربوہ‘‘ کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد ربوہ شہر ہے ۔مولانا چنیوٹی ؒ اسمبلی میں کوشش کرتے رہے اور ممبران وسپیکر کو قائل کرتے رہے لیکن اسپیکر نہ مانتا تھا، تو مولاناچنیوٹی نے سابق صدر جناب رفیق تارڑ صاحب سے وقت لیا اور ان سے بات کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا، صدر صاحب! خدا کے لیے آپ تعاون کریں۔ میر ی کوئی نہیں مانتا۔صدر صاحب کی سرزنش پر اسپیکر اسمبلی نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی اور تمام ممبران کے اتفاق سے ربوہ کا نام بدل دیاگیا۔ اس طرح قادیانی مکروفریب کا ایک دروازہ بند ہوا۔ اسی طرح آپ نے صدر ضیاء الحق مرحوم سے ملاقات کی اور ان کو مرزا محمود کی تصنیف ’’تفسیر صغیر‘‘ میں درج تحریفات کے نمونے دکھائے تو مولانا کی تحریک پر صدر ضیاء نے تفسیر صغیر پر پابند ی کے احکامات جاری کیے۔
مولانا چنیوٹیؒ کی قوت حافظہ کمال درجہ کی تھی۔آخری عمر تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا ۔آپ کی آخری دور کی تقاریر سن کر حیرانی ہوتی تھی کہ’’ ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی ‘‘۔
صدر ایوب کے زمانہ میں شیخ محمد شلتوت جو جامعہ ازہر کا شیخ تھا، اس نے فتوی دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور قادیانی اس فتویٰ کی بڑی اشاعت کررہے تھے۔ مولانا چنیوٹیِ ؒ نے محد ث کبیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کے مشورہ پر ائمہ حرمین اورمفتی اعظم سعودیہ شیخ ابن باز سے فتاویٰ حاصل کیے اور اس کے بعد اس پر بلاامتیاز مسلک پاکستان، ہندوستان ،بنگلہ دیش کے ہزاروں علماء کرا م کے تائید ی دستخط کرائے (سوائے مولانا مودود ی کے کہ انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ مولانامودودی کے انکار کے گواہ مولانا عبد المالک آج بھی منصورہ لاہور میں موجود ہیں) اس فتویٰ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے رفع ونزول کوثابت کیا گیا تھا۔ مولانا نے ان فتاویٰ کے حصول کے لیے جو جدوجہد کی، وہ آپ کے سوانح عمری کا ایک مستقل باب ہے۔ اب ان فتاویٰ کا مجموعہ ’’فتاویٰ حیات مسیح ‘‘ کے نام سے ادارہ مرکز یہ دعوت وارشاد سے دستیاب ہے ۔
مرزا محمود کی تحریر کردہ ’’تفسیر صغیر‘‘ انتہائی مختصر ہونے کے باوجود تحریفات کا ایک نادرنمونہ ہے ۔ جگہ جگہ غیر محسوس انداز میں تلبیسات وتحریفات بھر دی گئی ہیں۔ استاذ محترم مولانا چنیوٹی ؒ کے پراصرارحکم پر احقر نے ان تلبیسات وتحریفات کا تنقیدی جائزہ لکھا۔ ترجمہ قرآن مجید میں درج تحریفات کا جائز ہ مکمل ہوچکا ہے۔ استاذ مرحوم نے لفظ بلفظ پڑھا اور اپنی تصدیق سے نوازا۔ ’’تفسیر صغیر‘‘ کے حواشی پر نقد ونظر کا کام ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ بیس پارے مکمل ہوچکے ہیں۔ دس باقی ہیں۔ کاش یہ کا م آپ کی زندگی میں مکمل ہوجاتا اور آپ کی آنکھیں مزیدٹھنڈی ہوتیں ۔بہرحال ’’وہی ہوتا ہے جو منظورخدا ہوتاہے‘‘۔
’’ رد قادیانیت کے زریں اصول‘‘ استاذمرحوم کی زندگی بھر کی تحقیقات کا بے مثال مجموعہ ہے جو کہ بار بار چھپ کر عوام وخواص سے خراج تحسین وصول کررہا ہے ۔ آپکی بعض دیگر تالیفات کا مختصر تعارف درج ذیل ہے :
(۱) ’القادیانی ومعتقداتہ‘ ۔ یہ عربی زبان میں قادیانی عقائد پر مختصر اور جامع ومانع رسالہ ہے جو کہ مسجد نبویﷺمیں لکھا گیا۔
(۲) ’’قادیانی اور اس کے عقائد‘‘۔ یہ ’القادیانی ومعتقداتہ‘ کا اردو ترجمہ ہے جو کہ آپ کے بھائی مولانا محمد ایوب صاحب نے لکھا۔
(۳) Al Qadyani and His Faith ۔ ’القادیانی ومعتقداتہ‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔
(۴) ’’انگریزی نبی‘‘۔اس رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا ۔
(۵) ’’علماء کنونشن سے خطاب‘‘ ۔ یہ صدر ضیاء الحق کے طلب کردہ علما ومشائخ کنونشن سے آپ کے خطا ب کا متن ہے۔
(۶) دورہ افریقہ
(۷) مناظرہ نائیجیر یا
(۸) ’’تصویر کے دو رخ ‘‘ ۔ یہ مرزا کے تضادات پر مشتمل مختصر رسالہ ہے ۔
(۹) The Double Dealer ۔ ’’تصویر کے دو رخ‘‘ کا انگریزی ترجمہ ۔
(۱۰) ’’اور وہ اس کو ما ں نہ بناسکے‘‘ اس رسالے میں محمد ی بیگم والی پیش گوئی پر بحث کی گئی ہے۔
(۱۱) ’’مرزاطاہر کی بوکھلاہٹ‘‘۔مرزاطاہر نے مولانا چنیوٹی سمیت بہت سے علماء کرام کو دعوت مباہلہ دی تھی۔ مولانا ؒ نے دعوت قبول کرلی تو مرزا طاہر آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ اس رسالہ میں یہ تما م روئیداد تحریر کی گئی ہے۔
(۱۲) ’’پندرہ روزہ کورس‘‘ ۔آپ ہمیشہ ۱۰سے ۲۵شعبان تک اپنے ادارہ میں کورس کراتے تھے۔ اس کا اجمالی نصاب اس رسالے میں درج ہے جس کی آپ دوران کورس تشریح کرتے تھے۔
(۱۳) ’’حصول الامانی فی الرد علیٰ تلبیس القادیانی‘‘۔ پندرہ روزہ کورس کے نصاب کا عربی ترجمہ ہے جو کہ مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب بخاری مرحوم کے فرزند مولانا فداء الرحمان بخاری (کینیڈا )، صاحبزادہ مولانا الیاس صاحب، راقم الحروف و بعض دیگر احباب کی مشترکہ کاوش ہے۔
(۱۴) Africa Speaks the Truth۔ ’’دورہ افریقہ‘‘ کاانگریزی ترجمہ ہے۔
(۱۵) ’’برطانیہ میں مراسلت‘‘۔ لند ن میں قادیانیوں سے مباہلہ کے لیے آپ کی خط وکتابت ہوئی کی رودادہے۔
(۱۶) ’’الحقائق الاصلیہ‘‘۔ یہ قادیانیوں کے رسالہ ’’لمحہ فکریہ‘‘ کاجواب ہے ۔
(۱۷)’’فتویٰ حیات مسیح ‘‘۔اس کا مفصل ذکر گزر چکا ہے۔
(۱۸)’’مباہلہ کا چیلنج منظور ہے‘‘
(۱۹) ’’مناظرہ ناروے‘‘
(۲۰) ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘
(۲۱) ’’ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں‘‘
(۲۲) ’’خسوف وکسوف‘‘۔قادیانی اخبار ’الفضلؒ انٹر نیشنل لندن کے خسوف وکسوف نمبر کا جواب۔
(۲۳) ’’ربوہ سے چناب نگر تک‘‘۔ربوہ کے نام کی تبدیلی کے لیے جو کوششیں کی گئیں، اس کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ہے ۔
قاد یانی مبلغین کے توڑ کے لیے اور رد قادیانیت کے کام کو منظم کرنے کے لیے آپ نے ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ میں قائم کیا۔ ادارہ کی طرف سے بلامبالغہ لاکھوں پمفلٹ اب تک مفت تقسیم کیے جاچکے ہیں ۔
آپ نے واشنگٹن امریکہ میں بھی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس میں آپ کے خصوصی شاگرد مولانا حکیم محمد رفیق صاحب کا م کررہے ہیں۔
رد قادیانیت کے کام کو مزید پھیلانے کے لیے ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی قائم کی گئی جس کا سنگ بنیادرابطہ عالم اسلامی کے سیکر ٹر ی جنرل الشیخ عبداللہ عمر نصیف نے رکھا ،تاہم عارضی عمارت میں حفظ وناظرہ کی کلاسیں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ پند رہ روزہ سالانہ تربیتی کورسز کا سلسلہ عرصہ چالیس سال چنیوٹ میں جاری رہا۔ اس کے علاوہ مولانامرحوم مختلف دینی اداروں میں یہی کورس پڑھاتے تھے۔ اس کے باجو د آپ تشنگی محسوس فرماتے تھے۔ اس تشنگی کے ازالہ کے لیے مفکر اسلام علامہ خالد محمود صاحب کی مشاورت سے علماء کرام کے لیے دوسالہ تربیتی کورس کا اہتمام کیا جس میں ان کو تقابلی مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ احقر اس شعبہ میں بھی پانچ چھ سا ل سے مصروف کا ر ہے ۔پندرہ سے زائد فضلاے کرام یہ کورس مکمل کرچکے ہیں۔
احقر راقم الحروف کو مولانا چنیوٹی سے خاص تعلق تھا ۔ وہ احقر کے رشتہ کے داداجان مولانا دوست محمد ساقی مرحوم کے خاص شا گرد تھے اور احقر ان کا خصوصی شاگرد ہے۔ اس دو طرفہ تعلق کی وجہ سے ہمیشہ استاذمحترم سے انتہائی محبت وعقیدت رہی۔محبت و عقیدت کی اس شمع کو حوادثات زمانہ بجھانہ سکے۔ تحدیث نعمت کے طو ر عرض ہے کہ استاذ مکرم مولانا منظور احمد چنیوٹی کو اس عاجز پر ہمیشہ اعتماد رہا ہے ۔ وہ اپنے پاس آنے والے بہت سے خطوط کے جوابات لکھنے کی ذمہ داری اس عاجز پر ڈالا کر تے تھے۔ الحمدللہ ان کے اعتماد پر پورااترتا رہا ۔ احقر کی کئی تصانیف پر استاذمحترم کی تصدیقات درج ہیں۔ احقر کو آپ کے ساتھ ایک اور دس کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کہاں ان کی پر مشقت زندگی اور علمی اور عملی کمالات اور کہاں ایک گوشہ نشیں مسکین طبع شخص۔تاہم آپ نے کئی دفعہ اس امر کا بر ملا اظہار کیاکہ مولوی مشتاق کا مطالعہ مجھ سے زیادہ ہے۔ظاہرہے کہ یہ آپ کی خورد نوازی ہے، ورنہ من آنم کہ من دانم ۔
مرزا طاہر احمد نے ۱۰جون ۱۹۸۸ء کو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ اس دعو ت کو مختلف زبانوں میں شائع کر کے پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا۔ مرزا طاہر کی اس دعوت مباہلہ کو علماء کرام نے مرزاقادیانی کے اس عہد کے منافی قرار دیا جوکہ مرزا قادیانی نے ۲۴فروری ۱۸۹۹ء کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں تحریری طور پر کیا تھا کہ میں اور میر ے پیروکار آئند ہ کے لیے مسلمانوں کو دعوت مباہلہ نہیں دیں گے ۔
مولانا چنیوٹی ؒ نے ۱۹۵۶ء میں مرزا طاہر کے والد مرزا محمود کو دعوت مباہلہ دی تھی لیکن اس نے راہ فرار اختیار کی تھی۔اس کے مرنے کے بعد مرزاناصر اور مرزا طاہر نے بھی دعوت مباہلہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس انکار کے بعد مرزا طاہر کا پوری دنیا کے مسلمانوں کو خصوصاًعلماء کرام کو دعوت مباہلہ دینا ایک فضول حرکت تھی ۔لیکن اتمام حجت کی خاطر دیگر علما کی طرح مولانا چنیوٹی ؒ نے بھی دعوت مباہلہ قبول کرلی اور اپنے شائع کردہ بیان میں چالیس دن کی مہلت دی کہ چالیس دن کے اندر مرزا طاہر مباہلہ کی تاریخ،مقام اور وقت کا اعلان کرے، ورنہ اس کی شکست تصورکی جائے گی ۔مولانا چنیوٹی نے ۲۵ اگست کو مرزا طاہر کے نام یہ پیغام بذریعہ ڈاک ارسال کیا اورروزنامہ جنگ لاہور میں۱۵ستمبر ۱۹۸۸ء کو یہ پیغام شائع ہوا۔
مرزاطاہر نے بو کھلاکر ۲۵نومبر ۸۸ء کوتقریر کی اور کہا کہ اگلے سال ۱۵ ستمبر تک مولانا چنیوٹی مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہو جاہیں گے۔ مولاناچنیوٹی نے ۱۳۔ اگست ۱۹۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن میں تقریر کرتے ہوئے مرزاطاہر کو دوبارہ دعوت مباہلہ دی اور اس کی ہلاکت والی دھمکی کو قبول کیا۔ یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن میں پانچویں سالانہ ختم نبوت میں جب مولانا چنیوٹی تقریر کے لیے اٹھے تو مرزاطاہرکے معتمد خاص اور اسکے لندن ہیڈکوارٹرکے شعبہ عربی کے ڈائریکٹرحسن محمودعودہ صاحب اگلی صف سے اٹھ کر سٹیج پر آگئے اور مولانا چنیوٹی اور مولاناعبد الحفیظ مکی صاحب کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہو کر قادیانیت سے تو بہ کر نے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہا: ’انا اول ثمرۃھذاالمباہلۃ‘۔
مولاناچنیوٹی کے خلاف یہ پیش گوئی مرزا طاہر کو مہنگی پڑی اور اسے ذلت نصیب ہوئی ۔
(۱) ۲۳مارچ۱۹۸۹ء کو قادیانی اپنا صدسالہ جشن نہ منا سکے ۔
(۲) دسمبر ۱۹۸۹ء میں چناب نگر میں جلسہ نہ کر سکے۔
(۳) ربوہ میں کئی قادیانی بہائی ہوگئے۔
(۴) کھاریاں، سرگودھاوغیرہ کئی علاقوں میں قادیانیت کاصفایا ہو گیا۔
(۵) مرزاطاہر کے معتمدخاص حسن محمود عودہ نے اسلام قبول کر لیا ۔
اس کے بر عکس اللہ تعالی نے مولاناچنیوٹی پر کئی انعامات کیے:
(۱)وہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے دوبارہ ممبر منتخب ہوئے۔
(۲)رابطہ عالم اسلامی کی دعوت پر حج کر نے کی سعادت حاصل کی ۔
(۳)مصر میں شیخ جامعہ الازہر سے ملاقات کی اور ان کو قادیانی سازشوں سے آگاہ کیا۔
(۴)لندن میں ۱۳۔ اگست ۱۹۸۹ء کو ایک دفعہ پھرمرزاطاہر کو للکارا لیکن اسے سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔
(۵) ۲۹۔ اگست ۱۹۸۸ کو اللہ تعالیٰ نے مولاناچنیوٹی صاحب کو پہلا پوتا عطا فرمایا جس کا نام انہوں نے ضیاء الحق رکھا۔
مرزا طاہر احمد نے ۱۳۔اگست ۱۹۹۵ ء کو بیان دیا کہ مولاناچنیوٹی مختلف حیلے بہانے کر کے مباہلہ سے فرار حاصل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’’جھوٹے کو اس کے گھرتک پہنچاناچاہیے‘‘ کی مشہورضرب المثل پر عمل کر تے ہوے مو لانا چنیوٹی نے مرزا طاہر احمد کوایک بار پھردعوت دی کہ وہ ۵۔ اگست ۱۹۹۵ء کو مباہلہ کے لیے ہائیڈپارک لندن آجائے۔یہ دعوت ۴۔اگست ۹۵ء کو روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہوئی۔ مولاناعبدالحفیظ مکی،مولاناضیاء القاسمی ،علامہ خالد محمود صاحب،میاں اجمل قادری صاحب اور دیگر علما سمیت مولاناچنیوٹی ۵۔ اگست کو دوپہربارہ بجے سے دو بجے تک انتظارکر تے رہے لیکن مرزا طاہر مقابلے میں نہ آسکا ۔
مولانا چنیوٹی مرحوم کی جواں ہمتی،سخت کوشی اور تحفظ ختم نبوت سے عشق کے بے شمار واقعات ہیں جن میں سے دو واقعات یاد آرہے ہیں جو کہ آپ سے ہی بار بار سنے ہیں۔ انہی کی زبانی ہی ملاحظہ فرمائیں :
(۱) کو ٹلی آزادکشمیر سے بریلوی مکتبہ فکر کے ایک صاحب (احقرکونام یاد نہیں رہا)کا خط آیا کہ قادیانی یہاں گمراہی پھیلارہے ہیں، آپ تشریف لائیں ۔ میں نے کتابوں کا بکس اٹھایا اور چل پڑا۔ میزبان کے ہاں پہنچا اور جلسہ عام کا اعلان ہوگیا ۔ میں نے ۹بجے سے ۲بجے تک تقریر کی تو لوگوں نے رات کو بھی تقریر کا مطالبہ کیا۔ میں نے منظوری دے دی۔ چنانچہ رات عشا کے بعد بھی میں واحد مقرر تھا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک تقریر کی۔ اس وقت دوران تقریر پچاس سے زائد سوالات کی پرچیاں جمع ہوگئیں۔ تقریر ختم کرنے کے بعد پہلی پرچی اٹھائی تو میزبان ہاتھ جوڑکر کھڑا ہوگیا کہ آپ اپنے اوپر بھی رحم کھائیں اور ان لوگو ں پر بھی جو صبح سے اب تک آپ کے ساتھ ہیں۔ اس پر دوسرے دن ۹بجے کا وقت مقرر ہوا۔ ہزاروں لوگ پھر جمع ہوگئے اور اس اجتما ع میں تین چار گھنٹے صرف کرکے ان بیسیوں سوالات کا جواب دیا۔
(۲)بنگلہ دیش کے دور ہ پر گیا۔ وہا ں صبح سے بارہ بجے تک ایک مدرسہ میں اور ظہر سے عصر تک دوسرے مدرسہ میں تربیتی کورس کراتا تھا۔ عصر کے بعد تبلیغی مرکز میں تقریر اور عشا کے بعد دو تین گھنٹے جلسہ عام سے خطاب ۔یہ پند رہ،بیس دن مسلسل معمول رہا۔ جوانی کا زمانہ تھا ،صحت اچھی تھی ،تھکتا نہ تھا۔واضح رہے کہ یہ دونوں واقعات آپ کی عمر کے سن ساٹھ کے عشرہ کے ہیں ۔
ان واقعات کی عملی تصدیق اپنی آنکھوں سے دیکھی کہ پیرانہ سالی اور جسمانی عوارض کے باجود انتقال سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے تک دور دراز اسفار کا معمول برقرار رہا ۔ سفر کرنے سے کبھی نہ تھکتے تھے۔ آپ کے عوارض اور مصروفیا ت کو دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران پریشان ہوتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حیران ہیں کہ مولانا ان عوارض کے ساتھ کیسے زندہ ہیں ؟
مولانا چنیوٹی تحفظ ناموس صحابہؓ کے میدان
مولانا چنیوٹی نے چونکہ حضرت علامہ دوست محمد قریشی اور علامہ عبدالستار صاحب تونسوی مدظلہ سے تربیت حاصل کی تھی اورحضرت مولانا سید احمد شاہ صاحب چوکیروی قدس سرہ سے بھی استفادہ کرتے رہے، اس لیے آپ کوتحفظ ناموس صحابہؓپر مکمل دسترس حاصل تھی۔ تازیست حضرات خلفائے راشدینؓ ،حضرات حسنینؓ ،حضرت امیر معاویہؓ کے فضائل ومناقب اور مخالفین کے ان پر اعتراضات کے جوابات پر مبنی تقریریں کرتے رہے۔ آپ کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ آج سے چالیس سال پہلے خطبہ جمعہ میں خلفائے راشدینؓ اور اہل بیت کے اسماء گرامی کے ساتھ ساتھ حضرت امیر معاویہؓکا نام بھی لیتے تھے۔
یہ وہ دور تھا کہ جہالت کی وجہ سے بہت سے سنی حضرات بھی حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں ذہن صاف نہ رکھتے تھے اور مولانا مرحوم پراعتراض کرتے تھے۔مولانا چنیوٹی سپاہ صحابہؓ سے ہمدردی تورکھتے تھے لیکن ان کے مخصوص نعروں کے عام جلسوں میں لگائے جانے سے متفق نہ تھے۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کی مسجد میں سالانہ ردمرزائیت کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہو ئی۔ شہید ناموس صحابہ مولانااعظم طارق مرحوم مہمان خصوصی تھے۔ مولانااعظم طارق کی تقریر سے پہلے کسی نے ’’کافر کافر شیعہ کافر‘‘ کے نعرے لگائے تو مولانا چنیوٹی نے برملا ڈانٹا کہ تم اچھل اچھل کر نعرے لگانے والے توجلسہ کے بعد اپنے گھر وں کو چلے جا ؤ گے ۔ یہ غریب( مولانااعظم طارق) جیل چلاجا ئے گا۔ ان کوجیل سے باہربھی رہنے دو ۔ کیا انہیں جیل بھیجنا چاہتے ہو ؟مولانا اعظم طارق مرحوم عجیب تاثرات کے ساتھ مولانا چنیوٹی کو دیکھتے رہے لیکن اپنی تقریر میں بھی کو ئی تبصرہ نہ کیا۔
مولوی محمد اسماعیل گوجروی (شیعہ)کے ساتھ آپ نے چار مناظرے کیے ۔ تاج الدین حیدری کے ساتھ گکھڑمنڈی میں مناظرہ کیا۔دوبئی میں آپ نے شیعہ حضرات کے آٹھ سوالات کے جوابات دیتے ہوے تاریخی تقریر کی جس پر شیعہ نے قاتلانہ حملہ کیا۔پاکستان میں بھی دو تین حملے کیے گئے تاہم مولانا چنیوٹی محفوظ رہے ۔
تحفظ ناموس صحابہؓکے موضوع پر آپ کی تقریریں ہمارے فاضل دوست مولانا بلال احمد صاحب اور مولانا محبوب احمدصاحب مرتب کر رہے ہیں جو کہ ظاہر ہے ایک اہم علمی تحفہ ثابت ہو گا۔
مولاناچنیوٹی کی حق گوئی
مولانا چنیوٹی بے باکی اور حق گوئی میں علمائے دیوبندکے صحیح وار ث تھے۔ انہیں بجا طور پر ترجمان علماء دیوبند کہا جاسکتا تھا۔ جمعہ کی تقریر میں آخری دس پندرہ منٹ حالات حاضرہ،مقامی سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے مظالم پر تنقیدی جائزہ لیا کرتے تھے۔ کبھی قادیانیت کو للکار رہے ہیں، کبھی وڈیروں اور جاگیرداروں کے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلندکر رہے، کبھی حکومت وقت ااور بیو رو کریسی پر تنقید فرما رہے ہیں، کبھی پر ویزیت کا پو سٹ مارٹم ہو رہا ہے ، کبھی شرک وبدعت اور رسومات محرم کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔ غر ض ساری عمر ایک چومکھی لڑائی لڑتے رہے ۔ ایک سابق وزیر اعظم کی بیوی کے سابق امریکی صدر فورڈکے ساتھ رقص کرنے کی تصویر اخبار میں شائع ہوئی تو مولانا چنیوٹی نے ایک مقام پر اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوے فر مایا کہ بے غیرتی میں خنزیر سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو بھی غیرت نہیں آئی۔یہ وزیراعظم ہے کہ خنزیر اعظم ہے۔مقدمہ بنا ۔آپ گرفتار ہوئے۔ بہاولپور میں ریاستی جبر کی انتہا کر دی گئی۔ قید تنہائی، ہتھکڑیاں، بیڑی، بازاری لوگوں کے ہاتھوں ایذا رسانی کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ کوئی جج ضمانت لینے کو تیار نہ تھا۔ آخر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے ضمانت لی ۔
واقعہ تو یہ ہے کہ مقامی افسران ،اعلیٰ افسران ،قادیانی ڈیرے دار اور باطل گروہ سب کے سب آپ سے لر زہ بر اندام رہتے تھے۔ حق گوئی کی وجہ سے آپ کو بار بار قید وبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا ۔مولانا چنیوٹی کی قید وبند کا مکمل ریکارڈتو محفوظ نہیں رہ سکا، تاہم جو ریکارڈ دستیاب ہوا، اس کے مطابق آپ کی قید وبند کی تفصیل درج ذیل ہے :
- ۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ۶ ماہ ڈسٹرکٹ جیل جھنگ اور بورسٹل جیل لاہور میں قید رہے۔
- ۹۶۰ء میں تین ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
- ۱۹۷۱ء میں یحییٰ خان کے مارشل لا کے دور میں ایک سال منٹگمری جیل میں قید رہے۔
- ۱۹۷۲ء میں قادیانیوں کو کافر کہنے کے جرم میں شیخوپورہ میں قید رہے۔
- ۹۷۳ء میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کو آشکار کر نے پر ایک ماہ ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
- ۹۷۴ء میں حکمرانوں کے غیر اخلاقی کریکٹر پر تنقید کر کے جرم میں بہاولپور میں قید رہے۔
- مسجدصدیق اکبر چنیوٹ میں سید عطاء المحسن شاہ بخاری کی تقریر کرانے کے جرم میں سنٹر ل جیل فیصل آباد میں ایک ماہ کے لیے نظر بند کر دیے گئے۔
- ۹۷۷ء میں قادیانیت کے خلاف تقریر کر نے پر سیالکوٹ میں گرفتار ہوئے۔
- تحریک نظام مصطفیﷺکے سلسلہ میں ۳ماہ سنٹرل جیل و کیمپ جیل لاہور میں قید رہے۔
- ۹۷۴ء کے تاریخی فیصلہ کی تا ئید پر پرانے مقدمہ میں ایک ماہ کے لیے ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں قید رہے۔
- ۹۸۵ء میں ساہیوال میں قادیانیوں کی دہشت گردی سے شہید ہونے والے مسلمانوں کے جنازہ میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتار کرلیے گئے۔
- ۹۹۷ء میں منڈی بہاؤ الدین میں محرم الحرام کی فضیلت پر بیان کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔
- ۹۹۵ء تک آپ کے خلاف زبان بندی کے ۱۵۰ احکام جاری ہوئے۔
علالت وانتقال
زندگی بھر کی طویل جدو جہد کے بعد مولانا چنیوٹی سن رسیدہ ہونے کی اس منزل کی جانب بڑھ رہے تھے جہاں انسان آرام کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور پر سکون زندگی گزارناچاہتاہے ۔ مولاناچنیوٹی نے ایک ابتدائی قدم تو اٹھایا کہ بیرون ملک ایک رفیق سفر کی ضرورت محسوس کر تے تھے لیکن عمر رسیدگی،بیماری ،اعصابی تھکاوٹ کے باوجود عشق مصطفی ﷺکی حرارت نے انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ کوئی بیماری اور رکاوٹ ان کے قدموں کی زنجیرنہ بن سکی۔پندرہ روزہ تربیتی کورس میں احقر نے بار ہا یہ منظر دیکھا کہ احقر نوجوا ن ا ور مجموعی طور پر صحت مند ہونے کے باوجود ایک نشست میں ڈیڑھ دو گھنٹے سے زائد نہ پڑھا سکتا تھا لیکن آپ نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے تھے کہ ضعف وپیری کے باوجود تین چار گھنٹے پڑھانا آخر دم تک معمول رہا۔ تھکاوٹ اور بیماری کا سامعین کو احساس تک نہ ہوتا تھا ۔قوت حافظہ اور آواز کی گونج آخر تک قائم رہی :
ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند
اپنی وفات سے تین چار ماہ پہلے لالیاں کے قریب کسی گاؤں میں تقریر کرنے گئے، وہاں قادیانی بھی رہتے تھے۔ اس وجہ سے پولیس والے بھی آئے ہوئے تھے ۔احقر کو تخصص کے ایک طالب علم نے بتایا کہ آپ پو لیس کو دیکھ کربڑے غصہ میں کہنے لگے کہ میرے جسم میں اتنا دم خم ہے کہ میں ہتھکڑیاں اب بھی بر داشت کر سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اپنے دونوں بازو فضامیں لہرائے۔ گردوں کی خرابی، دل کی بڑھوتری اور شوگر سمیت پانچ چھ امراض لا حق تھے لیکن وفات سے ایک ماہ پہلے تک تبلیغی اسفارجاری رہے۔
احرار مسجد چناب نگر میں بارہ ربیع الاول ۱۴۲۵ھ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے احراری زعما خصوصاً محترم عبداللطیف چیمہ صاحب کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا، اب میری دو آرزوئیں رہ گئی ہیں۔مجھے اپنی موت قریب محسوس ہو رہی ہے۔میں آپ حضرات کو وصیت کر تا ہوں کہ ان دونوں کا موں کی طرف جماعتی سطح پر توجہ فر مائیں اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں :
(۱)قادیانی اوقاف کا سر کا ری تحویل میں جانا۔
(۲)شناختی کارڈمیں مذہب کے خانے کا اضافہ ۔
آپ نے صرف احراری زعما کو ہی وصیت کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مجلس عمل کے ارکان پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر، فون اور ملاقاتیں کر کے توجہ دلاتے رہے۔ اسی مقصد کے لیے قائد حزب اختلاف مولانافضل الرحمان صاحب سے ملا قات کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی ماہ کی کوشش کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی ۔
شریف خاندان کے قائم کر دہ شریف میڈیکل سٹی میں تین ہفتے زیر علاج رہے ۔لیکن ’’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘‘ اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق آخر وہ وقت آپہنچا جس سے نہ کوئی نبی بچا ہے اور نہ ہی ولی ۔ ۲۷ جون کو ذکر الٰہی کر تے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے اور ’’عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا‘‘۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ جنازہ ۲۷ جون کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہوا جو ان کی وصیت کے مطابق ولی کامل ،حضرت مولانا سید نفیس حسین شاہ صاحب دام مجدہ نے پڑھایا۔ ۵۰ ہزار سے زیادہ کا مجمع تھا۔ جب ۲۷ کی شام کو آپ کی میت چنیوٹ پہنچی تو چنیوٹ سے کئی کلومیٹر دور پانچ چھ ہزار سے زائد افراد سواریوں پر اور پیدل استقبال کے لیے مو جود تھے۔ ۲۸ جون کی صبح چنیوٹ شہر کا ہر شہری گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ کی طرف رواں دواں تھا۔ پورے ملک سے ہزاروں فر زندان تو حید جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچے ۔ اسلامیہ کالج اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ثابت ہوا۔ فیصل آباد روڈ اور لاہور روڈ پر کئی فرلانگ تک صفیں تھیں :
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
جنازہ میں ملک بھر سے علماء کرام ،مشائخ عظام ،حفاظ وقرا اور عوام الناس نے شرکت کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کا اجتماع تھا۔ جنازہ دیکھ کر مخالف مذہب وپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نے کہا کہ ہماری تو اب آنکھیں کھلی ہیں۔ اب پتا چلا ہے کہ مولانا چنیوٹی کیا تھے۔ افسوس کہ چنیوٹ کے عوام نے ان کی قدر نہ کی۔ آپ کا جنازہ حضرت سید علاء الدین شاہ صاحب قدس سرہ کے اجل خلیفہ حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے پڑھایا اور آپ کو جامعہ عربیہ کے پڑوس میں واقع قبرستان پیر حافظ یعقوب میں دفن کیا گیا جہاں آپ کی قبر پر روزانہ بے شمار لوگ فاتحہ پڑھنے آرہے ہیں ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
آپ کے انتقال کے بعد علماء کرام ، عوام الناس، ارباب مدارس اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے افراد اورادارے، سب اپنے آپ کوتہی دامن محسوس کر رہے ہیں۔ ’’اک شجر سایہ دارتھا نہ رہا‘‘۔ بالفاظ دیگر
جب سے اس نے شہر کو چھوڑاہر رستہ ویران ہوا
میرا کیا ہے، سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
مولا نا چنیو ٹی کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں: مولانا محمد الیاس صاحب، مولانا محمد ادریس صاحب، مولانا محمدثناء اللہ صاحب، مولانا محمدبدر عالم صاحب۔چاروں صاحبزادے حافظ قرآن اورعالم دین ہیں۔ مولانا محمد الیاس صاحب بالخصوص اچھا علمی ذوق اورقادیانی تعاقب کا دردرکھتے ہیں۔ اللہم زدفزد۔ آمین
ڈارفر کا قضیہ اور عرب لیگ کا کردار
ادارہ
عرب لیگ سوڈان میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے کوئی مضبوط موقف اختیار کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے اس امر کے بارے میں سنجیدہ شکوک وشبہات پیدا ہو گئے ہیں کہ عرب ممالک اپنے علاقائی مسائل کو ازخود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایجپشن آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے سیکرٹری جنرل حافظ ابو سعدا نے کہا ہے کہ ’’عرب جنجاوید ملیشیا کو جو ڈارفر میں عام شہریوں کو قتل کر رہی ہیں، روکنے کے لیے عرب حکومتوں کو سنجیدہ قدم اٹھانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جو سنجیدہ مداخلت کا تقاضا کرتا ہے اور اگر عربوں میں اسے روکنے کی اہلیت نہیں ہے تو انھیں بیرونی امداد قبول کر لینی چاہیے۔‘‘
اقوام متحدہ نے ڈارفر میں جاری تصادم کو اس وقت دنیا کا سنگین ترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ فروری ۲۰۰۳ء میں جب سے حکومتی حمایت کے تحت جنجاوید ملیشیا نے ڈارفر میں باغی گروپوں کے خلاف حملے کرنے شروع کیے ہیں، اس وقت سے پچاس ہزار آدمی قتل اور بارہ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۱۵۵۶ میں، جو ۳۰ جولائی کو منظور کی گئی، سوڈانی حکومت کو جنجاوید ملیشیا کو غیر مسلح کرنے اور امن وامان کو بحال کرنے کے لیے ۳۰ دن دیے گئے تھے۔ بصورت دیگر اس پر غیر متعین سفارتی اور اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ فوجی مداخلت بھی خارج از امکان نہیں۔
حافظ ابو سعدا نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی مداخلت ضروری تھی کیونکہ ۲۲ رکنی عرب لیگ اپنے ایک رکن ملک سوڈان کے خلاف فوجی یا اقتصادی دباؤ ڈالنے کے معاملے میں ہچکچا رہی تھی۔ انہوں نے انٹر پریس نیوز سروس کو بتایا کہ ’’عرب لیگ عرب حکومتوں کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے نہ کہ عرب عوام کے۔ ہم اس سے پہلے عراق میں بھی یہ دیکھ چکے ہیں اور اب سوڈان میں بھی یہی کچھ دیکھ رہے ہیں‘‘ ۔
اس ماہ قاہرہ میں اکٹھے ہونے والے عرب لیگ کے وزراے خارجہ نے سوڈان کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے سوڈانی حکومت اور باغیوں کے مابین جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مبصرین بھیجنے پر تو اتفاق کیا لیکن ’’علاقے میں جبری فوجی مداخلت کی کسی بھی دھمکی‘‘ کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ابو ظبی کے امارات سنٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر جہاد عودہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ۱۵۵۶ کو مسترد کر کے عرب لیگ نے دوسرے مسائل پر ’’اپنی اخلاقی ساکھ کھو دی ہے۔ عرب ممالک ہمیشہ اس بات پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں کہ اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کیا ہے اور اس کی فوج ان اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے جو زمینوں کے جائز فلسطینی مالکوں سے ان کی زمینیں چھین لینا چاہتے ہیں۔ لیکن اب بعینہ یہی کچھ سوڈان کے معاملے میں ہو رہا ہے۔‘‘
عرب ملیشیا نے گزشتہ ایک سال میں جتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے، ان کی تعداد ستمبر ۲۰۰۰ میں شروع ہونے والے فلسطینی انتفاضہ کے بعد اسرائیلی گولیوں سے مرنے والے فلسطینیوں سے زیادہ ہے۔ سیاہ فام افریقی مسلمانوں کے خلاف جبر وتشدد کے معاملے میں عربوں کی خاموشی کے نتیجے میں نوبت نسل پرستی اور نسل کشی کے الزام تک پہنچ چکی ہے۔
جہاد عودہ کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کی ہچکچاہٹ کے پیچھے نسل پرستی کا عامل بھی کارفرما ہو سکتا ہے لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ تنظیم کے باہمی اختلافات (ڈارفر میں امن کے خواہاں) گنتی کے چند عرب ممالک اور این جی اوز کی کوششوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ لیگ کے ارکان کے باہمی اختلافات نے گزشتہ سالوں میں اس کو مفلوج کیے رکھا ہے اور بہت سے امور پر ایک متفقہ موقف اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ہیں۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسیٰ ۲۰۰۱ء میں اپنامنصب سنبھالنے کے بعد مسلسل اصلاح کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو عرب لیگ ’’مضبوط بن جائے اور یا سرے سے ختم کر دی جائے۔‘‘
جہاد عودہ نے انسٹھ سال پرانی عرب لیگ کو ’’کمزور اور بکھری ہوئی‘‘ قرار دیا اور بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے اس کی صلاحیت پر شک وشبہے کا اظہار کیا۔ ’’عرب ممالک ایسا کردار ادا کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اس قابل نہیں ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ ڈارفر کے مسئلے پر حقیقی پہل کس نے کی ہے؟ مغرب نے۔ عربوں سے اس معاملے میں تاخیر ہو گئی ہے، وہ ہچکچا رہے ہیں بلکہ حقائق کو سمجھنے سے بھی عاری ہیں۔‘‘
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عرب حکومتیں سوڈانی حکومت پر دباؤ ڈالنے سے اس لیے بھی گھبرا رہی ہیں کہ اس کے نتیجے میں خود ان کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔ قاہرہ کے سنٹر فار ڈیولپنگ کنٹری سٹڈیز کے ڈائریکٹر مصطفی کامل السید اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’خود بعض عرب حکومتوں کے ہاں اقلیتوں کے مسائل پائے جاتے ہیں اس لیے وہ بین الاقوامی مداخلت کو پسند نہیں کرتیں‘‘۔ ’’وہ ڈارفر میں بین الاقوامی تعاون کی تو خواہاں ہیں لیکن اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی حل مسلط کیے جانے کے حق میں بالکل نہیں۔‘‘
مصر کے سیاسی تجزیہ نگار حسن ابو طالب کو یقین ہے کہ اندرونی خامیوں کے باوجود عرب لیگ اس معاملے سے نبٹنے کی اہل ہے۔ ’’اگر عرب لیگ اس معاملے میں بالکل کنارہ کش ہو جائے تو اس سے معاملات زیادہ خراب ہو جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی حکومت مغربی امداد کی پیش کش کے بار ے میں تو شک وشبہے کا شکار تھی لیکن ساتھی عرب ممالک کی پیش کش کے بارے میں اس نے زیادہ تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔
سعودی عرب نے ڈارفر میں لڑائی سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کے لیے ۷ء۱۰ ملین ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ شام، کویت اور مصر فضا کے ذریعے سے خوراک پہنچانے اور طبی امداد فراہم کرنے کے سلسلے کا آغاز کر چکے ہیں۔ سوڈانی حکومت نے عرب حکومتوں اور افریقی یونین کی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے کہ وہ حکومت اور باغی گروپوں کے مابین اپریل ۲۰۰۴ء میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی نگرانی کے لیے مبصر بھیجیں گے۔ دونوں بلاکوں نے ان مبصرین کی حفاظت کے لیے فوجی بھی بھیجے ہیں لیکن سوڈان کا اصرار ہے کہ صرف اس کے اپنے فوجی امن وامان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری انجام دیں گے۔
مغربی مبصرین نے عرب حکومتوں پر سوڈان کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن ابو طالب کا کہنا ہے کہ سوڈانی حکومت کے تعاون سے کام کرنا ایک پر امن حل کے حصول کے لیے لازم ہے۔ ’’بحران کے حل کے لیے آپ کو سوڈانی حکومت کے ساتھ ڈیل کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا ہے‘‘۔ ’’ہمیں ان کی مدد کرنی ہے نہ کہ سزا دینی ہے کیونکہ اگر ہم حکومت کو سزا دیتے ہیں تو اس کی زد میں وہاں کے غریب عوام بھی آئیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا پیچیدہ پس منظر کی تہہ میں جائے بغیر ڈارفر کی صورت حال کے بارے میں رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈارفر میں حالیہ لڑائی کی وجہ مبینہ طور پر وہ پرانا جھگڑا ہے جو سوڈانی صدر جنرل عمر البشیر اور جیل میں بند اپوزیشن اسلامی لیڈر حسن الترابی کے مابین چل رہا ہے۔ انہوں نے ترابی کے حامیوں پر الزام عائد کیا کہ عمر البشیر کی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ کو بڑھانے کے لیے انہوں نے ڈارفر میں عرصے سے سلگتی ہوئی کشمکش کو دانستہ بھڑکایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ جنجاوید ملیشیا سے تو ہتھیار واپس لے لیں جبکہ ڈارفر کے باغی ابھی مسلح ہوں۔ اس سے مزید خون خرابہ ہوگا۔‘‘
(بشکریہ روزنامہ ڈان، ۲۲ اگست ۲۰۰۴ء)
آئیے! اپنا کتبہ خود لکھیں
پروفیسر میاں انعام الرحمن
تمدنی زندگی کی گہما گہمی میں ہمارے پاس سوچ بچار کے لیے عموماً وقت نہیں ہوتا ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ویسے بھی غور و فکر کے تقریباً سبھی راستے مسدود کر دیے ہیں ۔ آخر معلومات کے سیلاب میں بہنے والوں کو توقف و ٹھہراؤ کی فرصت کہاں ! جدید عہد کی یہی بربریت ہے۔ ہر شخص کے پاس معلومات کا ڈھیر ہے اور تقریباً ہر شخص بے شعور ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا معلومات ، شعور و آگہی کا بدل ہو سکتی ہیں ؟ مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ امریکی صدر کے لیے کم از کم ۳۵ سال کا ہونا ضروری ہے اور پاکستان میں ۱۹۷۳ کے دستور کے تحت صدر کی کم از کم عمر ۴۵ سال ہے۔ اسے ہم معلومات کے زمرے میں شمار کریں گے ، لیکن جب کوئی شخص یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دونوں ممالک میں یہ عمریں کیوں رکھی گئی ہیں اور ان میں یہ تفاوت کیوں ہے تو آگہی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس آغاز کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ ’’ریکارڈر‘‘ رہنے پر قانع ہو جاتے ہیں۔ جب معلومات کا بہاؤ تسلسل اور تیزی سے جاری ہو تو ایسا ہونا حیرت انگیز نہیں ہے۔ اگر ہم اس بات کے خواہاں ہیں کہ معاشرے میں اور تمدنی زندگی میں شعور وآگہی کو فروغ ملے تو ایک معلومات سے دوسری معلومات تک ’’وقفہ‘‘ دینا ہو گا تاکہ پہلی معلومات کے تمام پہلو ، شیڈز اوراس کی ممکنہ جہتیں سامنے آسکیں اور معلومات رکھنے والا ادراک و آگہی کا حامل ہو سکے ۔ اگر یہ ’’وقفہ‘‘ نہیں ہو گا تو ایک ہیجان جنم لے گا، معلومات کا ہیجان ، جس کا کوئی مقصد نہیں، کوئی محور نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی تالاب میں پتھر مسلسل پھینکتے جائیں تو لہریں مرتعش رہیں گی لیکن مسلسل چھناکے کی آوازوں اور تالاب میں ابتری کے سوا آپ کے ہاتھ آخر کیا آئے گا؟ اگر یہی عمل آپ ذرا وقفے وقفے سے کرتے جائیں تو ایک پتھر پھینکنے سے چھناکے کی جو آواز ابھرے گی، ہوسکتا ہے وہ آپ کے لیے ’’آوازِ دوست‘‘ ثابت ہو (از کجا می آید ایں آوازِ دوست) اسی طرح جو بلبلے سطح آب پر رقصاں ہوں گے اور ایک لہر اٹکھیلیاں کرتی ہوئی جس ناز سے دوسری لہر کو بیدار کرتی محسوس ہوگی، چراغ سے چراغ جلنے کے مثل، تو ہوسکتا ہے زندگی کی معنویت، اس کی وسعت اور اس کے تفہم کے حوالے سے چند پوشیدہ گوشے آپ پر آشکار ہو جائیں ۔ لیکن مسلسل تجربے اور معلومات کا طوفان ہیجان انگیز ہی ہوسکتا ہے جس کی کوئی جزئیات نہیں ، حالانکہ زندگی تو حرف حرف جمع لفظ اور قطرہ قطرہ جمع قلزم کی مانند ہے ۔
آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک مرتبہ حاصل کی ہوئی ’’آگہی‘‘ تمدنی زندگی کے گرداب کا شکار ہو سکتی ہے ۔ میرا خیال ہے، آپ آگہی ’’کھو‘‘ نہیں سکتے اگر آپ کے حواس ٹھیک کام کر رہے ہوں ۔ مثلاً جب آپ موٹر سائیکل چلانا سیکھتے ہیں تو باقاعدہ پورے شعور کے ساتھ ہینڈل پر گرفت کرتے ہیں، بریک اور گےئر کا استعمال کرتے ہیں وغیرہ، لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ یہی عمل ’’خود کار‘‘ انداز میں کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ آپ نے ڈرائیونگ کا تفہم کھو دیا ہے، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ وہ تفہم آپ کی ذات اور ادراک کا حصہ بن چکا ہوتا ہے، لہٰذا ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔یہی بات زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی بابت بھی سچ ہے ۔ آپ ایک بار آگہی کے حامل ہوجائیں، یہ آپ سے کبھی دور نہیں ہوگی، حتیٰ کہ تمدنی زندگی کی تیز رفتاری بھی ’’فصیلِ آگہی‘‘ میں دراڑیں نہیں ڈال سکے گی (شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بااخلاق وہ ہے جو ’’روز مرہ زندگی ‘‘ میں بااخلاق ہو، ایسا نہیں کہ کبھی کبھاراوکھے سوکھے اخلاق کا مظاہرہ کر دیا) لیکن آگہی پانے کے لیے آپ کو وقت دینا ہو گا ، اپنے آپ کو ، پوری یکسوئی کے ساتھ۔
قارئینِ کرام ! تمدنی زندگی کے ہنگاموں سے بچتے بچاتے، اپنے آپ کو وقت دینے کے لیے ، حق و صداقت اور زندگی کی حقیقت پانے کے لیے اگر ہم ’’شہرِ خاموشاں‘‘ میں داخل ہوجائیں تو اپنی بساط کا فوراً احساس ہوجاتا ہے۔ ہر طرف قبریں ہی قبریں، ان انسانوں کی جو کبھی میری اور آپ کی طرح اسیرِ حیات تھے اور آج دنیا کے ہنگاموں سے بے نیاز موت کی قید میں خاموش پڑے ہیں ۔ اول تو یہ منظر ہی آفاقی آگہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ، لیکن اگر آپ اس منظر کے طلسم میں ڈوبتے نہیں تو آپ کی نظریں ’’کتبوں ‘‘ سے دوچار ہوں گی ۔ یہ کتبے اور ان پر کندہ عبارتیں آپ کی زندگی کو نئی راہ بخش سکتی ہیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا ،یہ نئی راہ ان کے نصیب میں بھی ہوتی جن کی قبروں پر یہ کتبے آویزاں ہیں۔ ایسا اسی صورت میں ہوسکتا تھاکہ وہ لوگ بھی جوہانس کیپلر (۱۶ ویں ۱۷ ویں صدی کا ماہرِ فلکیات) کی طرح اپنی زندگی میں ہی اپنا کتبہ خود لکھوا لیتے۔ (یہ مضمون کیپلر کے اس عمل اور کتبے کی عبارت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے اس لیے اسی کی نذر ہے)۔ کیپلر کا کتبہ تھا :
’’میں نے آسمانوں کی پیمائش کی۔ اب میں سایوں کو ناپتا ہوں۔ میرا ذہن آسمان کو چھوتا تھا اور جسم زمین پر محوِ خواب ہے ‘‘
اس کتبے کی معنویت اپنی جگہ ، اصل بات یہ ہے کہ کیپلر کی شخصیت اور اس کے شخصی اثرات اس عبارت سے ہم آہنگ تھے ۔ کیا ہماری بستی کے قریب شہرِ خموشاں میں موجود کتبوں کی عبارتیں ، ان شخصیات اور ان کے اثرات سے ہم آہنگ ہیں ؟ اگر آپ غیر جانبدار ہیں تو جواب ’’نفی ‘‘ میں دیں گے ۔ اگر آپ جانبداری سے کام لیتے ہوئے ’’ہاں ‘‘ میں جواب دینا بھی چاہیں تو ان کے اثرات کی حامل موجودہ معاشرتی ابتری ،آپ کے ہاں کو ’’مشکوک ‘‘ ٹھہرانے کو کافی ہوگی ۔
بہر حال ! مذکورہ صورت کا الزام مرحومین کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ انھوں نے اپنے کتبے خود نہیں لکھوائے تھے بلکہ ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثا نے لکھوائے ہیں ۔ ’لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ‘ سے لے کر ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ تک ، زندگی کی بنیاد، جواز، حقیقت اور آدرش کی حامل عبارتیں آپ کو کتبوں پر ملیں گی۔ یقین جانیے اگر کسی اور عہد کا انسان پھرتا پھراتا اچانک ادھر آ نکلے اور کتبوں کی عبارتوں کو مکمل ادراک سے پڑھ سکے تو وہ ہمارے عہد کی بابت (کائناتی سچ کو گرفت میں لینے کے حوالے سے) انگشت بدنداں رہ جائے ۔ ’انا للہ و انا الیہ راجعون‘ فرد کا نہیں ، آدمیت کا کتبہ ہے۔ نوعِ انسانی کا کتبہ ، تمام زمانوں پر محیط ،تما م مقاموں پر حاوی۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگ بلا ادراک اور بغیر آگہی کے اس آیتِ کریمہ کو کتبے پر تحریر کروا لیتے ہیں۔ اگر مکمل شعور اور آگہی سے یہ عمل کیا جائے تو کیا موجودہ معاشرتی ابتری قائم رہ سکتی ہے ؟ اگر ہم جوہانس کیپلر کی مانند اپنا کتبہ خود لکھیں جو ہماری شخصیت سے ہم آہنگ ہو تو لا محالہ ہم خود کو ،سب سے پہلے اس آیتِ کریمہ کی تفہیم اور ادراک پر آمادہ کریں گے جس کے اثرات ہماری اپنی ذات پراور معاشرے پر بہت مثبت مرتب ہوں گے ۔ لیکن ہم تو ا لفاظ کی حرمت ’’پامال‘‘ کرنے پر تلے ہوئے اور الفاظ کو ’’کھوکھلا‘‘ کرنے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔ جلسے جلوسوں سے لے کر کسی بھی فنکشن میں چلے جائیں ، آپ کومقررین چیختے چلاتے نظر آئیں گے، بھاری بھرکم فصیح و بلیغ الفاظ استعمال کرتے ہوئے۔ اور سامعین اونگھتے دکھائی دیں گے ، کیونکہ نہ تو بولنے والے کو الفاظ کی حرمت کی پاسداری ہے اور نہ سننے والے کو کہ دونوں بے شعور ہیں ۔یہ عجیب امر ہے کہ ہمارے خطیب اور مقررین (خاص طور پر مذہبی ) اپنی شعلہ فشاں تقاریر کا اختتام ’’وما علینا الا البلاغ ‘‘ پر کرتے ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ اس آیتِ مبارکہ پر اپنے ’’تاریخی خطاب ‘‘کے اختتام سے ذرا قبل تک ان کا رویہ اپنے زاویہ نگاہ کو ’’ٹھونسنے ‘‘ والا ہوتا ہے۔ ’وما علینا الا البلاغ‘ تو محض اتمامِ حجت کے لیے یا عادتاً کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ عادت کچھ ایسے ہی ہے جیسے دیہاتی لوگ گھر سے بھینس کو کھولتے ہیں تو وہ عادت کے تحت سیدھی ’’ڈیرے یا مربے ‘‘ جا پہنچتی ہے۔اگرچہ راستے میں موقع پا کر ’’منہ ماری ‘‘ بھی کر جاتی ہے۔
’الا البلاغ‘ کی اصل روح سے یہ دوری اور اس کی انتہائی منفی توجیہ صرف ہمارے ہاں ہی عملی صورت میں نہیں ہے بلکہ اکثر ممالک کے قانون ساز اداروں، فیصلہ سازی کی کمیٹیوں اور اقوامِ متحدہ کے بڑے بڑے اداروں میں یہی منظر ’’سرِ منظر ‘‘ ہوتا ہے، (خیال رہے کہ الاالبلاغ کو کم از کم نظری سطح پر ہر قوم میں پذیرائی حاصل ہے) اس سے بڑھ کربھلا لفظ کی بے توقیری اور بے وقعتی کیا ہو گی؟ خاص طور پر اس تناظر میں کہ انسان ’’حیوانِ ناطق ‘‘ ہے ۔ لیکن ’ از دل خیزد بر دل ریزد، کے مصداق ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو لفظ کی حرمت و تقدس کے پاسبان بنے ہوئے ہیں ۔ ایسے ہی کسی شخص سے کچھ سننے کے بعد میں نے اپنی کیفیت ان الفاظ میں قلم بند کی تھی : ’’زندگی ! لفظ کے لمس سے شناسائی ہے ‘‘۔ میرا دعویٰ ہے اس فقرے کے کیف سے میں اب بھی لطف اٹھاتا ہوں اور ذاتی طور پر ان مقررین اور مصنفین کا تہہِ دل سے ممنون ہوں جو حالاتِ حاضرہ سے لے کر زندگی کے دیگر پہلوؤں کی تفہیم کے ضمن میں پیش قدمی کا موجب بنے۔ شاید ممنونیت اور اظہارِ تشکر بھی ان کے اثرات کا نتیجہ ہے (ورنہ کون ممنون ہوتا ہے)
بہر حال ، ہمیں بولتے اور لکھتے وقت بلکہ ہر معاشرتی عمل سے پہلے ’’با شعور ‘‘ ہونا چاہیے ۔ جٹکے انداز سے کلمہ طیبہ پڑھنے سے یا فصاحت و بلاغت کے دریا بہا نے سے معلومات، آگہی کے زمرے میں نہیں آجاتیں ۔ دھڑا دھڑ پریس کانفرنسیں اور لمبی لمبی تقاریر کرنے کے بجائے اگر ہمارے قائدین اپنی ذات کی انتہائی اکائیوں کے ساتھ لفظ کی حرمت ملحوظ رکھتے ہوئے صرف ’’ایک فقرہ ‘‘ بول دیں یا لکھ دیں تو شاید بہتری کی امید بندھ جائے ۔ بے عملی اور منافقت کے گھناؤنے سرکل کو توڑنے کے لیے ہمیں لفظ کو اس کے معانی لوٹانے ہوں گے ، ہمیں اپنا کتبہ خود لکھنا ہو گا ، شعور و آگہی کو معاشرتی عمل میں ڈھالنا ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم نے اپنا کتبہ خود لکھ رکھا تھا (باقاعدہ نہ سہی بے قاعدہ ہی سہی) وہ کتبہ تھا ، ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انا خاتم النبیین لا نبی بعدی ‘‘۔ ذرا مولانا کی شخصیت اور ان کے اثرات پر کم از کم سرسری نظر ہی دوڑائیے اور بتائیے ،کیا وہ ان کے کتبے سے ہم آہنگ نہیں ہے ؟ میری رائے میں اس وقت تمام مسلمان ’’قائدین ‘‘ کو درج ذیل کتبے کی اشد ضرورت ہے:
’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو ‘‘۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مکرمی محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا قاری ہونے کے ناطے مجھے یہ لکھنے میں عار نہیں کہ یہ ماہنامہ اپنے نوجوان، توانا فکر کے حامل لکھاریوں کی بدولت قارئین کے لیے ہمیشہ Food for thought فراہم کرتا ہے، خاص کر میاں انعام الرحمن کا قلم ’’فکر اسلامی کی تشکیل جدید‘‘ کے حوالے سے نیک نیتی سے کوشاں ہے۔ ان کے افکار ، خیالات، اسلوب تحریر سے اختلاف واتفاق پڑھنے والوں کا حق ہے مگر نوجوانی میں ان کا جذبہ صادق اور سعی مسلسل دعوت فکر ضرور دیتی ہے۔ ماہ جون کے شمارے میں ان کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ اور جولائی کے شمارے میں ان کی فکر کے محاسبے پر مبنی تحریریں ہی ہیں جن پر میں انعام الرحمن کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ فکری جمود کے تالاب میں ان کے افکار تازہ کے پھینکے پتھروں سے اٹھنے والی لہریں ہی ان کی کامیابی کا بڑا ثبوت ہیں۔ شہرت یافتہ مورخ ٹائن بی کے خیال میں رسپانس حقیقی چیلنج ہی کو ملتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کی تاریخ کے باطن میں علمی تقاضا پوشیدہ ہے جسے پورا کیے بغیر اس کے وجود اور اس کی حرکت تاریخ کو سمجھنا مشکل ہے۔ تہذیبوں کی تشکیل اور تعمیر میں ان کی جمالیات کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ فی زمانہ آرٹ کے متعلق ایک مصنوعی آفاقیت کا تصور رواج پا گیا ہے۔ جن معاشروں میں اس تصور خاص سے مطابقت رکھنے والی فنی ہیئتیں موجود ہیں، ان پر جمال کشی کا ٹھپہ فوراً لگا دیا جاتا ہے حالانکہ انسان کی تہذیبی فعلیت کی کلی حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس امر کا ادراک لازم ہے کہ تہذیب تلافی کے نظام پر اپنی بنیاد رکھتی ہے۔ کمال، کامیابی یا برتری اسی تہذیب کا مقدر ہے جو ادنیٰ ترین درجوں کو قربان کرکے، ان پر زور کم کر کے اعلیٰ ترین عناصر میں فائق ہو۔
روح عصر کا تقاضا ہے کہ ایک نیا فکری نظام جنم لے جس کی جڑیں اسلام کی روایتی فکر میں پیوست ہوں اور جو حقیقی روح اسلام سے کسب نمو کرتی ہو۔ ایسا فکری نظام ابھی تشکیلی دور میں ہے۔ میرے دوست میاں انعام الرحمن کے خیالات کسی درجے میں اسی نظام کی تلاش سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تلاش خود اسلامی تاریخ کے باطن اور اسلامی تہذیب کے جہان امکان سے پھوٹی ہے۔ ایسے اصولوں اور فکر کا تنقیدی جائزہ وتحقیقی مکالمہ اور مطالعہ ناگزیر ہے جن کے زیر اثر تجدید ملت کا یہ عمل سامنے آ رہا ہے۔ اس میں تہذیب اسلامی کے کثرت آشنا مناظر بھی شامل ہیں اور ادب وآرٹ کے وہ دبستان بھی جنھوں نے صدیوں کے سفر میں اس امت کی نفسیاتی ساخت کی شہادت بھی دی ہے اور جمال کے مظاہر کے ذریعے حقیقت کو اس کے شعور کا حصہ بنا دیا ہے، اسی نے ’’امت خیر‘‘ سے وابستہ آرزوؤں کو زندہ رکھا ہے، پروان چڑھایا ہے۔ یہ آرزو ہی ہمارے حال کی عظیم قوت اور مستقبل کے لیے بے مثال محرک عمل ہے۔ T.B Irving نے اپنی کتاب "Islam Resurgent" میں شاید اس لیے لکھا تھا کہ ’’اسلام کا ایک بہت عظیم پہلو وہ آفاقی اپیل ہے جو صدیوں کے دائرے میں پوری دنیا کی مختلف النوع اقوام کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ اس مذہب کے باطن میں کوئی ایسا عنصر ہے جس کو ہم وضاحت سے مشخص نہیں کر سکتے لیکن جس نے اسے عرب دنیا سے باہر قابل قبول بنایا ہے۔‘‘
پروفیسر انعام الرحمن بجا طور پر شعور نبوت کی راہبری کے طالب ہیں جو تاریخ اسلام میں عباسی دور کی خطابت محض کے غلبے سے پہلے ہی کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ انعام الرحمن کے خیال میں انسان اگر حسن پسند بن جائے تو وہ لازماً حقیقی حسن کو ظاہری رنگا رنگی کی بجائے اس وحدت میں دیکھے گا جہاں تمام رنگ بغل گیر ہوتے ہیں۔ جی ہاں، شوآن (Schuon) نے کہیں کہا تھا کہ حسن کے عناصر بصری ہوں یا صوتی، سکونی ہوں یا حرکی، سب سے پہلے حقیقی ہوتے ہیں اور ان کی لذت اسی ’’حقیقت‘‘ سے مستعار ہوتی ہے۔
آخر میں یہی لکھنا ہے کہ میاں صاحب اسلوب تحریر میں روایت پسندوں پر ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھیں۔ اصلاح کی کاوش اعتدال پر مبنی ہو تو جلدی کامیاب ہوتی ہے۔ لکھنے کے عمل میں بلندئ فکر آپ کو مبارک ہو، مگر مشہور ادیب محمد حسن عسکری کا ایک قول آپ کی نذر کہ بین السطور آپ سمجھ جائیں گے۔ عسکری کا کہنا ہے ’’جدید مغربی ناول نگار زندگی میں خیر کے عنصر کی موجودگی کا انکار تو نہیں کرتے لیکن مطالعہ صرف بدی کا کرتے ہیں۔‘‘
والسلام
پروفیسر شیخ عبد الرشید
شعبہ سیاسیات۔ گورنمنٹ زمیندار کالج
بھمبر روڈ ۔ گجرات
24/7/2004
(۲)
مخدوم گرامی قدر حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
’الشریعہ‘ میں جس فراخ دلی کے ساتھ قارئین کی خط وکتابت شامل کی جاتی ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ خصوصاً منکرین حدیث کو اہمیت دینا اور ان کے خطوط شائع کرنا، آپ کے خاندانی پس منظر اور علمی وجاہت کو سامنے رکھتے ہوئے ازحد افسوس ناک ہے۔ پرویزی مکتبہ فکر کے یہ لکھاری بعد میں ’الشریعہ‘ میں شائع شدہ خطوط کو اپنی تائید میں استعمال کر سکتے ہیں اور یقیناًکریں گے۔ جو لوگ قرآن وحدیث کو بازیچہ اطفال بنانے سے باز نہیں آتے، ان کے سامنے آپ اور آپ کا جریدہ کیا چیز ہیں؟ ازراہ کرم اس فراخ دلی کی حدود مقرر کیجیے، ورنہ بعض قارئین کی آرا غلط فہمی کی بنیاد پر منفی رخ بھی اختیار کر سکتی ہیں جو کہ کسی بھی لحاظ سے مفید ثابت نہ ہوگا۔
مسجد اقصیٰ کے حوالے سے بحث بھی جدت پسندی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس بحث کا علمی وعملی فائدہ کیاہے؟ کم از کم احقر کی سمجھ میں نہیں آ سکا۔ بجائے اس کے کہ مولانا عمار صاحب اپنے دفاع میں مضمون کی تیسری قسط لکھیں، اس بحث کو بند کردیں تو بہتر ہوگا۔
استاذ مکرم مولانا چنیوٹی قدس سرہ کے حوالے سے تحریر کردہ تفصیلی مضمون کے بعض پیراگراف حذف کرنا بہتر ہے۔ ان کی نشان دہی علیحدہ کاغذ پر کر رہا ہوں۔ وہ محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب کے حوالے کر دیں تاکہ وہ کمپوزنگ کرتے وقت حذف کر سکیں۔
والسلام۔ دعاگو ودعا جو
(مولانا) مشتاق احمد
استاذ جامعہ عربیہ چنیوٹ
۴۔ اگست ۲۰۰۴ء
(۳)
مکرم ومحترم گرامی قدر عالی جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدکم
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ
سلام اللہ ورحمتہ وبرکاتہ علیکم وعلیٰ من لدیکم وعلیٰ جمیع المسلمین الموحدین این ما کانوا ومن کانوا۔
محترم! بندہ عفا اللہ عنہ آن محترم کے علمی خاندان کا قدر دان، عقیدت مند بلکہ نیاز مند ہے۔ آن محترم کے والد محترم گرامی قدر مدظلہ العالی کے علمی دنیا پر عظیم احسانات ہیں۔ آپ بھی ماشاء اللہ ’الولد سر لابیہ‘ کے عین مطابق دینی علوم کی اشاعت میں اخلاص کے ساتھ مساعی جمیلہ میں مصروف زندگی گزار رہے ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔ اللہم زد فزد۔ اللہ تعالیٰ آن محترم کو مزید اخلاص وللہیت کے جذبہ صادق سے صحیح دین اسلام کی اشاعت کی توفیق بخشیں۔ ع ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد۔
محترم! اس اعتراف حقیقت کے ساتھ صمیم قلب سے تھوڑا سا گلہ بھی نوٹ کر لیجیے۔ جناب عالی! نہ جانے کیوں آپ نے سبائیت جیسے عظیم اور قدیم فتنے کی ناجائز آبیاری بلکہ وکالت شروع کر دی ہے جبکہ سبائی بروزن مرزائی، دونوں ہیں حقیقی بھائی بھائی۔ وائے افسوس آپ شیعوں کے کفر وضلالت کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی اپنے قارئین کو گویا ہدایت دے رہے ہیں تو خدا نخواستہ پھر آں محترم کا یہی پیدا کردہ نرم گوشہ ترقی کرتے ہوئے مرزائیت کے لیے سازگار کیفیت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔
محترم! الشریعہ کے مسلسل دو شماروں یعنی جولائی اور اگست میں سبائیت کے لیے فضا سازگار بنائی جا رہی ہے۔ ماہ جولائی ۲۰۰۴ء کے شمارے میں آنجناب نے کلمہ حق یعنی اداریے میں شیعوں سے متعلق جو کچھ رقم فرمایا ہے، اسے ملاحظہ کر کے اہل حق کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ پھر اس کو مزید تقویت دینے کے لیے سرنامہ پر بھی اسے مرقوم کیا ہے۔ اسے کوئی اور صاحب یوں بھی زیادہ روشن خیالی سے لکھ سکتا ہے کہ ’’ہم مرزائیوں کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے ........‘‘ تو پھر آپ اس کے منہ میں کس طرح لگام دے سکتے ہیں جبکہ خود اپنی منطق آپ کے خلاف صغریٰ کبریٰ تیار کر کے یہی حد اوسط نکالے گی جو کہ آپ نے شیعوں کے بارے میں نکالی ہے۔ اللہ اکبر! پھر اگست کے شمارے میں تو اس سے بھی بڑھ کر ترقی کرتے ہوئے ’’شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ‘‘ میں ڈاکٹر یوگندر سکند نے جو کچھ رقم کیا ہے، خدا جانے آپ نے اسے پہلے ملاحظہ بھی فرمایا ہے یا ایسے ہی اشاعت کے لیے دے دیا ہے۔ آپ کے والد محترم مخدوم العلماء مدظلہ العالی اور عم محترم نے بھی اسے ضرور ملاحظہ فرمایا ہوگا۔ اس کے بارے میں ان مقدس علماء حق کی رائے کیا ہے، جبکہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ ان ہر دو حضرات کی زیر سرپرستی شائع ہوتا ہے۔ نہ جانے یہ ڈاکٹر یوگندر سکند کس زمرے کا فرد ہے جس کا نام ہی ہمارے لیے تعجب انگیز ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس صاحب نے شیعوں کے اس مصنوعی دین کا مطالعہ ہی نہیں کیا بلکہ یوگندر صاحب شیعہ مسلک کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ براہ کرم اس خطرناک شیعہ نواز کو محقق اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نور اللہ مرقدہ کی زندگی کی آخری تصنیف لطیف جو آپ نے سبائیوں کی تصنیفات کی روشنی میں لکھی ہے اور شیعہ عقائد کے کفر پر تمام علما کے دستخط لیے تھے، ضرور موصوف کو مطالعہ کی سفارش فرمائیں اور اس کتاب کے مطالعہ کے بعد پھر موصوف کی رائے معلوم کیجیے۔ محترم! خدارا آپ شیعیت کی کافرانہ تقیہ کی دلدل میں ہرگز نہ پھنس جائیے۔ اہل اسلام کے نزدیک شیعہ متفقہ طور پر کافر ہے۔ پھر شیعہ سے شیعہ نواز زیادہ خطرناک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائیں۔
میں مخالف نہیں، آپ کا خادم ہوں۔ براہ کرم اس مکتوب کو مکتوبات میں ضرور شائع فرما کر ممنون فرمائیں۔ شکریہ
حافظ ارشاد احمد دیوبندی
ظاہر پیر۔ ضلع رحیم یار خان
7/8/2004
(۴)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خیریت طرفین نیک مطلوب۔
آپ نے اپنے کالم میں (پاکستان، ۲۷ جولائی) جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کو پڑھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ بلا تاخیر آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گیا۔
دینی طبقات میں رواداری کو فروغ دینا اس وقت بہت بڑی خدمت اور ضرورت ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس کسی کو مذہب سے تھوڑا بہت لگاؤ ہو جاتا ہے، اس کا پہلا کام دوسرے مسلک اور مذہب سے متعلق آدمی سے نفرت کا اظہار کرنا بن جاتا ہے۔ اہل مسجد آپس میں لڑ رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مذہب سے لا تعلق لوگ آپس میں ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ مذہبی اداروں کے طلبہ کے اندر، مذہبی رسائل میں اور دینی مجالس میں اس فکر، رویے اور طرز زندگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ آپ نے اپنے کالم میں کیا ہے۔ دیوبندی ہو کر، جمعیت علماء اسلام سے منسلک ہو کر جماعت اسلامی کے ادارے میں جانا اور ان کا آپ ایسے مخالف فکر کے آدمی کو اپنے ہاں بلانا یقیناًخوش آیند ہے۔
آپ اپنے موقر رسالے (الشریعہ) میں ہمیشہ اس طرز فکر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو مزید بڑھایا جائے۔ ایک دوسرے کی بات کو سننے کا حوصلہ پیدا کیا جانا چاہیے۔ اپنی بات کو دلائل کے زور پر منوانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ دوسرے کی بات پر تنقید کرنے سے قبل اس کے دلائل کا بخوبی جائزہ لینا چاہیے۔
جس رویے کا ذکر آپ نے کیا ہے، کاش یہ رویہ آپ کے مقتدیوں میں بھی پیدا ہو جائے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے ہم منصب علما سے بار بار یہی گزارش کریں کہ وہ خود بھی اور اپنے مقتدیوں کو بھی اسی طرز عمل کے مظاہرے کا پابند بنائیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
(ڈاکٹر) خالد عاربی
حسن پورہ۔ کولیاں روڈ۔ ڈنگہ
(۵)
محترم محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم
آپ اور مدیر اشراق مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ حضرات نے ہیکل سلیمانی اور مسجد اقصیٰ کے متعلق اس دور میں کلمہ حق بلند کیا، جب حق کی آواز بلند کرنے والا ہر شخص ’’یہود کا ایجنٹ‘‘ قرار پاتا ہے، اور پھر ایسا شخص نہ صرف مباح الدم قرار پاتا ہے بلکہ اس کے خلاف جہاد بالسیف سب سے بڑا مذہبی فریضہ قرار پاتا ہے۔ خدا آپ کی سعی کو قبول کرے اور آج کے تمام مدعیان اسلام کو آپ ہی کی طرح حق کو دین اور دلیل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنے اور باطل کو اسی پر پرکھ کر رد کرنے کی توفیق دے۔
آپ کے مضامین سے چند سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کریں گے:
۱۔ ہمارا اور بنی اسرائیل کا دین وہی اللہ کا بھیجا ہوا دین اسلام ہے۔ اگر کچھ فرق ہے تو تقاضائے حکمت کے تحت، شریعت میں کہیں کہیں کچھ اختلاف ہے۔ ان کی شریعت کی بعض سختیاں، بنی اسرائیل کی کج روی اور کج بحثی کی وجہ سے بطور سزا ان پر عاید کی گئیں۔ اللہ کی آخری شریعت میں خدا نے یہ سختیاں منسوخ کر دیں۔ اسی طرح بعض سنن، بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے برقرار رکھے گئے، مثلاً ہفتہ کی بجائے جمعہ کا تقدس۔ سوال یہ ہے کہ ہیکل کی مقدس چٹان اگر بنی اسرائیل کی دینی روایت میں مقدس تھی تو ہماری شریعت میں کیوں ایسا نہیں، جبکہ اس چٹان کی اس مقدس حیثیت کو ہماری شریعت کی کسی نص نے منسوخ نہیں کیا؟ بلکہ اس کے برعکس یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قرآن نے ہیکل اور اس سے منسوب تمام اشیا کو شعائر میں سے قرار دیا ہو۔ چنانچہ شب معراج کے رؤیا کے متعلق قرآن فرماتا ہے۔ (ترجمہ):
’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے دور کی مسجد (یعنی ہیکل سلیمانی) جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ دکھائیں اسے اپنی نشانیاں۔‘‘
اس آیت میں موجود الفاظ ’’اپنی نشانیاں‘‘ سے مراد کیا، دیگر نشانیوں کے علاوہ، ہیکل سلیمانی اور اس کے ملحقہ دیگر شعائر نہیں ہو سکتے؟ اگر ایسا مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ محمدی شریعت، بنی اسرائیلی شریعت کے ان شعائر کو sanctity عطا کر رہی ہے۔
یہاں یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ بنی اسرائیل کی شریعت کے شعائر کو محمدی شریعت کے شعائر قرار دینے سے میرا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان پر اپنا حق تولیت جمائیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے ان بھائیوں سے share کریں جو ہماری ہی طرح خود بھی دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، یعنی یہود اور مسیحی۔
۲۔ صخرہ کے قریب سیدنا عمر یا دیگر صحابہ کے نماز نہ پڑھنے سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شریعت محمدی میں شعیرہ نہیں ہے۔ چٹان کے قریب نماز نہ پڑھنے کی دیگر حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً اس کی حیثیت قبلہ کے تصور کو مٹانا۔ ہیکل اور اس سے ملحق شعائر کی حیثیتِ قبلہ کو نص قرآنی نے منسوخ کر دیا ہے، مگر ان کے شعائر ہونے کی حیثیت کو قرآن نے رؤیائے شب معراج کا تذکرہ کر کے reinforce کیا ہے۔
۳۔ امام ابن تیمیہؒ کی یہ رائے کہ ’’اس (صخرہ) کی تعظیم کا طریقہ یہود کی مشابہت اختیار کرنے کے زمرے میں آتا ہے‘‘ میری ناچیز رائے میں نظر ثانی کے قابل ہے۔ امام صاحب کے علمی مقام اور مرتبہ کو پیش نظر رکھا جائے تو مجھ ناچیز کو ان سے، ظاہر ہے وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ کو سمندر سے ہوتی ہے، مگر ان کی رائے پر تبصرہ نہ کرنا ان کے اپنے اسوہ کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ صخرہ کی تعظیم کیا صرف یہود سے مشابہت ہے؟ کیا یہ بے شمار انبیائے بنی اسرائیل کی، ان کے جاں نثار ساتھیوں اور زمانہ قدیم کے ان گنت سچے مسلمانوں کی مشابہت بھی نہیں؟ پھر یہود کی مشابہت اگر کوئی جرم ہے تو آنحضرت ﷺ دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ کیا ایسا کرتے ہوئے وہ بنی اسرائیل کی شریعت کا اتباع نہیں کرتے تھے؟ امام صاحب فرماتے ہیں ’’ہماری شریعت میں جیسے ہفتے کے دن کے بارے میں کوئی حکم نہیں، اس طرح صخرہ کے حوالے سے بھی کوئی خصوصی حکم باقی نہیں رہا۔‘‘ ہفتہ کا حکم تو بنی اسماعیل کی سنت پر عمل کرنے سے حضور ﷺ نے منسوخ کر دیا، مگر صخرہ کے شعیرہ ہونے کا حکم آخر کس نص سے منسوخ ہوا؟ مزید یہ کہ رؤیائے شب معراج میں جہاں آپ کو ہیکل دکھایا گیا، وہاں ہیکل کا Holy of holies یعنی صخرہ جو ہیکل کا اصل یا دل تھا، کیوں دکھانے سے رہ گیا؟ اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ اس کا حصہ تو تھا ہی۔
۴۔ مسجد عبد الملک (یا مسجد عمر) اس احاطے میں تعمیر کی گئی ہے جس پر اصلاً یہود کا حق ہے، اس لیے اگر وہ اسے گرانا چاہیں تو کیا ہمیں اس پر کشت وخون کرنا چاہیے؟ پھر یہ مسجد ایک عام مسجد ہے۔ جو مسجد مسلمانوں کی تیسری مقدس مسجد ہے اور جس کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے، وہ تو ہیکل سلیمانی ہے۔ اسی کے متعلق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مانگی جانے والی دعا کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے۔ تو پھر کیا ہمیں اس کی تعمیر یہود پر چھوڑ رکھنی چاہیے، یا اس شرف کو خود حاصل کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ کیوں نہ ہم ہیکل خود حضرت سلیمان کے نقشہ پر تعمیر کر دیں؟ اور اگر یہود کے لیے یہ قابل قبول نہ ہو تو آخر ہم قبہ صخرہ کے مقدس حصے میں داخل ہونے کی سعادت سے محروم کیوں رہیں؟ احاطہ ہیکل یہود کے حوالے کرنے کے بعد ہم مسجد عبد الملک تک کیوں محدود رہیں؟ ہم کیوں نہ ان سے درخواست کریں کہ وہ ہیکل میں اپنے طریقہ سے عبادت کریں اور ہمیں اپنے طریقے سے کرنے دیں۔ ہیکل کو اس دنیا میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ دنیا کے تین عظیم مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے پیروکاروں کے لیے انتہائی مقدس ہے۔ یہ عالم انسانیت میں محبت، امن، رواداری، خدا ترسی اور حضرت ابراہیم کے پیروکاروں کے مذاہب کی مشترکہ دعوتی اساس کا مرکز بن سکتا تھا۔ مگر افسوس، دین ابراہیمی کے درست ترین version کے حامل ہونے کے دعویٰ داروں نے اسے نفرت، عدم برداشت اور قتل وغارت کا مرکز بنا دیا۔
والسلام
محمد عزیر بھور
(۶)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مکرمی محمد عزیر بھور صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
آپ کا عنایت نامہ ملا۔ بے حد شکریہ
مسجد اقصیٰ سے متعلق میرے نقطہ نظر کے حوالے سے آپ نے جو استفسارات کیے ہیں، ان کے بارے میں میری گزارشات حسب ذیل ہیں:
۱۔ صخرۂ بیت المقدس کے تقدس اور اس کی حرمت وعظمت کے بارے میں آپ کے ارشاد سے مجھے پوری طرح اتفاق ہے۔ یہ یقیناًایک محترم اور مقدس پتھر ہے اور اس کی حرمت کو اسی طرح ملحوظ رکھا جانا چاہیے جیسا کہ پورے احاطہ ہیکل کی حرمت وتقدس کو۔ ہمارے فقہا جہاں نبی ﷺ کے واضح ارشادات کی بنا پر رفع حاجت کے وقت مسجد حرام کی طرف رخ کر کے بیٹھنے کو ممنوع قرار دیتے ہیں، وہاں صخرہ کے استقبال واستدبار سے گریز کو بھی مستحب مانتے ہیں۔ اسی طرح ’تغلیظ الیمین بالمکان‘ یعنی قسم کو موکد بنانے کے لیے کسی مقدس مقام میں حلف لینے کے مسئلے میں بھی ان کے ہاں بیت اللہ اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ صخرۂ بیت المقدس کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو باتیں ملحوظ رہنی چاہییں۔ ایک تو وہی جس کا آپ نے ذکر کیا ہے، یعنی یہ کہ کسی چیز کی حرمت وتقدس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تولیت کے حقدار بھی لازماً مسلمان ہیں۔ اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے لیے صخرہ کی عظمت وحرمت محض اعتقادی اور اصولی نوعیت کی ہے۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اس کی رسمی (Ritualistic) تعظیم کا کوئی طریقہ (مثلاً صخرہ کا طواف یا عبادت کی نیت سے اس کو چھونا یا اہتمام سے اس کے قریب نماز پڑھنا وغیرہ) صاحب شریعت سے کسی ثبوت کے بغیر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ امام ابن تیمیہ بھی، جہاں تک میں ان کی رائے پر غور کر سکا ہوں، اسی رسمی تعظیم کو یہود کی مشابہت قرار دیتے ہیں۔ ہاں، اگر وہ اس کی اعتقادی اور اصولی حرمت کی بھی، فی الواقع، بالکلیہ نفی کرتے ہوں تو پھر، البتہ، ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
۲۔ آپ کی یہ رائے کہ مسلمان ازخود ہیکل سلیمانی کو تعمیر کرکے پورے احاطہ ہیکل کو مسلمانوں اور یہود کی مشترکہ عبادت گاہ کی حیثیت دے دیں، غالباً مثالیت پسندانہ (Idealistic) ہے۔ اگر ایسا کرنے میں کوئی حقیقی نظری یا عملی رکاوٹ نہ ہوتی تو آپ کی بات قابل غور تھی، لیکن صورت حال یہ ہے کہ جانبین کے متعصبانہ عملی رویے سے قطع نظر، یہودی فقہ کی رو سے کسی غیر یہودی کا ہیکل کی اصل عمارت میں داخلہ ہی سرے سے ممنوع ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کے مذہبی علما اس فقہی شرط سے دست بردار ہو کر آپ کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے رضامند ہوں گے۔ اگر آپ غور کریں تو مسئلے کا عملی حل اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا جس کا میں نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے۔ آپ کا بتایا ہوا طریقہ اگر مطلوب یا افادیت کے ساتھ قابل عمل ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے مسجد کا ایک کونہ مخصوص کر دینے کا طریقہ اختیار نہ فرماتے۔
اگر مزید کوئی بات وضاحت طلب ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔
عمار ناصر
۲۹ جولائی ۲۰۰۴ء
(۷)
محترمی عمار ناصر صاحب
السلام علیکم
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا عنایت نامہ ملا جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔
چونکہ یہودی فقہ میں اس بات کی اجازت نہیں کہ غیر یہودی ہیکل کی عمارت میں داخل ہو سکے، اس لیے ظاہر ہے ہم اصل مسجد اقصیٰ کی عمارت نہ تو تعمیر کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں، نہ اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہی تجویز قابل عمل رہ جاتی ہے جو آپ نے پیش کی ہے۔ صورت حال کی وضاحت کے بعد مجھے آپ کی رائے سے پورا اتفاق ہے۔
خاکسار
محمد عزیر بھور
mubhaur@hotmail.com
یوم آزادی کے موقع پر الشریعہ اکادمی میں تقریب
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۱۴۔ اگست ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ وطن عزیز پاکستان کے ۵۸ ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ پروگرام کے مہمان خصوصی الشیخ حبیب النجار تھے جبکہ نقابت کے فرائض تین سالہ خصوصی کورس کے سال اول کے طالب علم حافظ ابو تراب نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد کاشف قیصر نے تلاوت کلام پاک سے کیا، جبکہ مولانا مطیع الرحمن نے رسول مقبول ﷺ کی خدمت میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد حافظ اسجد محمود نے قومی ترانہ پیش کیا اور تمام شرکا نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھا۔
بعد ازاں طلبا کے دو گروپوں نے سیرت مصطفی ﷺ اور تحریک پاکستان کے بارے میں کوئز پروگراموں میں نہایت دلچسپی سے حصہ لیا۔ ایک گروپ نے سیرت مصطفی کوئز پروگرام میں جبکہ دوسرے گروپ نے تحریک پاکستان کوئز پروگرام میں کامیابی حاصل کی۔ دونوں گروپوں کے طلبا کو انعامات دیے گئے۔
کوئز پروگرام کے بعد طلبا نے یوم آزادی کے حوالے سے مختلف عنوانات پر خوب صورت انداز میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا اور تحریک آزادی کے مجاہدین اور کارکنوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے آخر میں مجموعی کارکردگی پر ایک سالہ خصوصی تربیتی کورس (برائے فضلا) کے ہونہار طالب علم مولانا مطیع الرحمن کو خصوصی انعام دیا گیا۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکا نے وطن عزیز کی سا لمیت اور بقا اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔