اکتوبر ۲۰۰۴ء

موجودہ صورتحال میں اہل علم ودانش کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تحریکِ استشراق اور اس کے اہداف و مقاصدحافظ محمد سمیع اللہ فراز 
امت مسلمہ کو درپیش چند فکری مسائلحافظ سید عزیز الرحمن 
متشددانہ فتویٰ نویسی : اصلاح احوال کی ضرورتادارہ 
حجیت حدیث اور اسلامی حدود کے حوالے سے ایک بحثچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
مکاتیبادارہ 
بین المذاہب کانفرنس برائے عالمی امن و عدل اجتماعیپروفیسر حافظ منیر احمد 
بین المذاہب کانفرنس : چند تاثراتپروفیسر میاں انعام الرحمن 

موجودہ صورتحال میں اہل علم ودانش کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رابطہ عالم اسلامی کی سالانہ کانفرنس ۱۸ سے ۲۰ ستمبر تک مکہ مکرمہ میں منعقدہوئی۔ پہلے سے علم ہوتا تو اس میں بطور مبصر یا اخبار نویس تھوڑی دیر کے لیے حاضری کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرتا اس لیے کہ ۱۸ ستمبر کو میں جدہ میں تھا، لیکن ۱۹ ستمبر کو جب میں سعودی عرب میں ایک ہفتہ گزار کر لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اخبارات میں اس کانفرنس کے آغاز کی خبر پڑھی۔ یہ کانفرنس ہر سال ہوتی ہے اور اس میں دنیا بھر سے رابطہ کے ارکان اور مدعوین شرکت کرتے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، اس حوالہ سے کہ اس کی سرگرمیاں پورے عالم اسلام تک پھیلی ہوئی ہیں اور بالخصوص غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور رفاہی سرگرمیوں میں تعاون اور راہ نمائی کرتی ہے۔ ہیڈ کوارٹر مکہ مکرمہ میں ہے اور سعودی حکومت کی سرپرستی میں اس کی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں، اگرچہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کی اس طرح کی کوئی عالمی تنظیم ایسی ہو جو حکومتی اثرات سے آزاد رہ کر اہل علم ودانش کی آزادانہ راہ نمائی میں دینی، علمی وفکری راہ نمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ عرب دنیا کے معروف دانش ور اور عالم دین الشیخ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اس کے لیے کوشش بھی کی تھی اور لندن میں ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد کی تھی مگر بوجوہ یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ چند سال قبل ورلڈ اسلامک فورم نے بھی اس سمت توجہ دی تھی اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور راقم الحروف نے مختلف ممالک کے علماء کرام اور دانش وروں سے رابطے کر کے لندن میں دس بارہ ملکوں کے ارباب علم ودانش کے مشاورتی اجتماع کا اہتمام کیا تھا لیکن اس کے لیے وقت، ٹیم اور وسائل کی جو فراوانی ضروری ہے، اس کا حصول ہمارے بس کی بات نہیں تھی اس لیے ہم نے بھی یہ بھاری پتھر چوم کر چھوڑ دیا۔
ایسے میں رابطہ عالم اسلامی اور موتمر عالم اسلامی جیسی تنظیموں یا اداروں کا وجود غنیمت نظر آتا ہے کہ کچھ ارباب فکر ودانش کو سال میں ایک دو بار بیٹھنے اور باہمی تبادلہ خیالات کا موقع مل جاتا ہے اور سعودی حکومت کی ترجیحات کے مطابق ہی سہی، عالم اسلام بالخصوص غیر مسلم اکثریت کے ممالک میں مسلمان اداروں کو اپنی تعلیمی، رفاہی اور دینی سرگرمیوں کے لیے تعاون اور سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کی اس سالانہ کانفرنس کا آغاز حسب معمول سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فہد کے پیغام سے ہوا جو گورنر مکہ مکرمہ شاہزادہ عبد المجید نے پڑھ کر سنایا اور جس میں انھوں نے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کی تلقین کرتے ہوئے مسلم ممالک کے بیشتر حکمرانوں کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں پوری طرح شریک ہیں۔ روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ کی رپورٹ کے مطابق شاہ فہد نے اس پیغام میں کہا ہے کہ:
’’اسلام کے متعلق غلط تصور ہی کے باعث بعض نوجوان امت مسلمہ کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں اور تشدد کے راستے پر چل رہے ہیں۔ سعودی عرب نے تشدد اور اس کے پیروکاروں کے خلاف شاندار موقف اختیار کیا ہے اور مملکت کی قیادت نے اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور والیان ریاست کی سرتابی کرنے والوں کے خلاف کتاب وسنت کے مطابق موقف اپنایا ہے اور واضح کیا ہے کہ تشدد کے راستے پر چلنے والے شیطان کے فریب میں آکر امت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ موقف صرف شاہ فہد کا نہیں بلکہ موجودہ مسلم حکمرانوں کی اکثریت کا ہے جو امریکہ، اسرائیل، روس اور بھارت کی جارحیت اور ریاستی جبر کے خلاف نبرد آزما مجاہدین کی جدوجہد کو اپنے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی کردار کشی اور انھیں کچلنے میں مصروف ہیں، حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ عالم اسلام کی جہادی تحریکوں کا اصل ہدف امریکہ وغیرہ کی استعماری پالیسیاں ہیں۔ جہادی تحریکوں کے طرز عمل اور ہتھیار بکف ہونے کی روش سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا ہدف اصلاً مسلم حکومتیں نہیں ہیں۔ وہ عالم اسلام میں امریکی استعمار کی مداخلت اور روز افزوں جبر وظلم کے خلاف رد عمل میں ہتھیار بکف ہوئے ہیں اور اپنا پورا وزن ان کے مخالف کیمپ میں ڈال دینے والی مسلم حکومتیں بھی فطری طور پر ان کی سرگرمیوں کا ہدف بن رہی ہیں۔
ہمارے خیال میں اگر مسلم حکومتیں ان جہادی تحریکات کے بارے میں امریکی بولی بولنے اور انھیں ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے بجائے صرف یہ اعتماد دلا دیں کہ عالم اسلام کی آزادی، مسلم ممالک کی خود مختاری اور اسلامی اقدار کی سربلندی کے بارے میں وہ ان کے موقف کو اصولی طور پر درست سمجھتے ہوئے ان کے ہتھیار بکف ہونے کے طریق کار کو غلط قرار دیتی ہیں اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو وہ ان کے اصولی موقف کی حمایت اور ترجمانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو بہت سی جہادی تحریکوں کو ہتھیار ڈالنے اور اپنی جدوجہد کو پرامن طریقہ سے آگے بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے لیکن مسلم حکومتیں ملت اسلامیہ کے جذبات کی ترجمانی کے لیے تیار نہ ہوں اور عالم اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی استعماری یلغار کو روکنے کے لیے کسی ٹھوس منصوبہ بندی پر بھی آمادہ نہ ہوں بلکہ صرف ہتھیار اٹھانے والوں کو کوس کر اور انھیں ریاستی جبر کا نشانہ بنا کر یہ سمجھ لیں وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو رہی ہیں تو یہ نہ صرف مسلم امہ کے ساتھ ظلم ونا انصافی ہے اور خود کو فریب میں رکھنا ہے بلکہ مسلم امہ اور ممالک کے مستقبل کے حوالہ سے بھی انتہائی خطرناک بات ہے کیونکہ آزادی، خود مختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے بارے میں امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی اور نمائندگی کا اہتمام نہیں ہوگا تو رد عمل، تشدد اور اشتعال میں مزید اضافہ ہوگا اور ہتھیار اٹھانے والوں کی تعداد میں کمی کے بجائے ان کی تعداد اور سرگرمیاں بڑھتی چلی جائیں گی جو موجودہ مسلم حکومتوں کے لیے بھی خطرات میں اضافہ کا باعث بنیں گی۔
ہم ہتھیار اٹھانے کی پالیسی کی حمایت نہیں کر رہے۔ خود ہمارا موقف بھی یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہتھیار بکف ہونے کے بجائے حالات میں تبدیلی اور اصلاح کے لیے پرامن جدوجہد کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر باہمی اتحاد، ربط ومشاورت، علم وحکمت اور فہم ودانش کی بنیاد پر عالم اسلام کی آزادی، مسلم ممالک کی خود مختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مربوط اور منظم جدوجہد کی جائے تو استعماری قوتوں کو مسلم ممالک میں مداخلت سے باز رکھا جا سکتا ہے اور ان کی یلغار کا رخ موڑا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم ہتھیار اٹھانے والوں کی مجبوری کو بھی سمجھتے ہیں اور ان کے اضطرار کے اسباب پر نظر رکھتے ہیں اس لیے ہم ان کے طریق کار کی مبینہ غلطی کو اسلام اور ملت اسلامیہ سے سرتابی اور انحراف قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہمیں اس وقت تعجب ہوتا ہے اور ہماری حیرت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جب بہت سے مسلم حکمرا ن اپنی حکومتوں اور پالیسیوں کے دفاع میں اسلام کا حوالہ دیتے ہیں اور قرآن وسنت کا نام لیتے ہیں، کیونکہ یہ احکام تو انھیں یاد رہتے ہیں کہ کسی مسلمان حکومت کے خلاف بغاوت او ر خروج کی شرائط کیا ہیں اور مسلم حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی شرعی پوزیشن کیا ہے، لیکن خود ا ن حکمرانوں کے لیے قرآن وسنت میں جو احکام وقوانین موجود ہیں اور جن پر عمل داری کا اہتمام مسلم حکمران کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری ہے، ان میں سے کوئی بھی ان کے حافظہ اور یادداشت میں محفوظ نہیں ہے حالانکہ اگر بات کتاب وسنت کی ہو اور ہمارے مسلم حکمران اپنی حکومتی اور ریاستی پالیسیوں میں قرآن وسنت کی ہدایات کا لحاظ کرنے لگیں تو سرے سے یہ مسائل ہی پیدا نہ ہوں اور کسی کے لیے اسلام کے نام پر ہتھیار اٹھانے کی کوئی گنجایش ہی باقی نہ رہے۔
ہتھیار اٹھانے والے غلط ہیں یا صحیح، مگر ان کے پاس اپنے اس عمل کے جواز کی ایک ہی دلیل ہے کہ مسلم ممالک میں قرآن وسنت کے احکام کی عمل داری کا اہتمام نہیں ہے، مغرب کا فلسفہ ونظام اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم معاشروں میں در اندازی کر رہا ہے اور مسلم حکومتوں اور ممالک کے داخلی معاملات میں استعماری قوتوں کی مسلسل اور ہمہ گیر مداخلت نے مسلم ممالک کی آزادی اور خود مختاری کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ اگر مسلم حکمران اپنے اپنے ملکوں میں قرآن وسنت کی عمل داری کا اہتمام کر کے اور اپنی آزادی اور خود مختاری کو بیرونی مداخلت سے محفوظ کر کے ان مبینہ دہشت گردوں سے جواز کا یہ ہتھیار چھین لیں تو دوسرے ہتھیار خود بخود ان کے ہاتھوں سے گر جائیں گے اور ان میں وہ ہتھیار اٹھانے کی سکت ہی باقی نہیں رہے گی۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ المحسن الترکی نے بھی مذکورہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عنوان پر گفتگو کی ہے مگر ان کا تجزیہ قدرے مختلف ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:
’’اسلام کا بین الاقوامی ثقافتی حل پیش نہ کرنے اور اس سلسلہ میں اصحاب علم وفکر کے پس وپیش والے مسلک نے منحرف فہم، برخود غلط فکر رکھنے والوں، خود ساختہ دینی داعیوں اور کوتاہ اندیشوں کو اپنے افکار وخیالات پھیلانے اور انتشار واضطراب پیدا کرنے کا موقع مہیا کر دیا اور اسی رویے نے دیگر افراد کو خوارج کا طریقہ کار اپنا کر تشدد کے راستے پر چلنے کی راہ ہموار کی۔‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر عبد اللہ محسن ترکی کا یہ تجزیہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ اس میں صرف الزام عائد کرنے کے بجائے اسباب پر بحث کی گئی ہے اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مسلم معاشرہ میں اسلام کے حوالے سے ملت اسلامیہ کے اجتماعی موقف سے ہٹ کر انفرادی طور پر پیش کیے جانے والے خیالات اور تشدد کی تحریکات کا ذکر کرتے ہوئے ان دونوں کا بڑا سبب مسلم علماء کرام اور دانش وروں کی بے حسی اور بے توجہی کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور تہذیبی چیلنجز کو مسلم علما اور دانش وروں کی طرف سے نظر انداز کیے جانے اور روایتی دینی حلقوں کے اپنی اپنی کھال میں مست رہنے کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اس فکری انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں۔
ہمیں اس بات سے اتفاق ہے اور ان صفحات میں کئی بار ہم عرض کر چکے ہیں کہ مسلم دنیا کے علمی مراکز اور دینی اداروں نے اپنے اپنے ماحول پر قناعت کر کے عالمی حالات اور جدید علمی وفکری چیلنجز سے آنکھیں بند کرنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے، وہ نہ صرف نقصان دہ بلکہ تباہ کن ہے اور اس کے جو تلخ ثمرات ونتائج سامنے آ رہے ہیں، ان کی تلافی وقت گزر جانے پر ممکن نہیں رہے گی۔ خدا کرے کہ علماء کرام، دینی ادارے او رعلمی مراکز اپنی اس ذمہ داری کا صحیح طور پر بروقت احساس کر سکیں کیونکہ ملت اسلامیہ کی صحیح فکری راہ نمائی کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ آمین یا رب العالمین۔

تحریکِ استشراق اور اس کے اہداف و مقاصد

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

حافظ محمد سمیع اللہ فراز (ا یم فل علومِ اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور؛ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، ریسرچ آفیسر سیرت سٹڈی سنٹر سیالکوٹ)
محمد فیروز الدین شاہ کھگہ (ا یم فل علومِ اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، نسٹرکٹر فار اسلامک سٹڈیز اِن نیشنل یونیورسٹی (Fast) لاہور کیمپس)

استشراق (Orientalism) کی اصطلاح قدیم عربی لغات میں مفقود ہے اور موجودہ مفہوم میں بھی عربوں میں کبھی اس کا استعمال نہیں رہا، بلکہ یہ لفظ غیرمسلم مفکرین کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں ’استشراق ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ "Orient" بمعنی مشرق اور "Orientalism" کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم وفنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق (استشرق کے فعل سے اسمِ فاعل) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بتکلف مشرقی بنتا ہو (۱)۔ مستشرق ایک ایسے غیر مشرقی عالم کو کہتے ہیں جو مشرقی علوم، ادب اور معاشرت وغیرہ میں دلچسپی رکھتا ہو، تاہم’ زلفو مدینہ‘ کے دیے گئے معانی اور لفظ کے عام استعمال کی روشنی میں مستشرق کے مفہوم کی مزید تحدید بھی ہو سکتی ہے جس کے پیشِ نظرمستشرق مغرب کے ایک ایسے عالم کوکہا جاتا ہے جو اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی معاشرت اور اسلامی زبانوں میں دلچسپی رکھتا ہو(۲)۔
ایڈورڈ سعید (Edward Said) نے استشراق کو یورپین تہذیب وثقافت کا جزوِ لا ینفک قرار دیا ہے جو اس کے افراد کے تخیلات ،نظریات اور دیگر تمام پہلوؤں پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کے نزدیک استشراق کی تعریف میں زیادہ وسعت پائی جاتی ہے ۔ وہ اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتا ہے :
"Anyone who teaches, writes about, or researches the orient--and this applies weather the person is an anthropologist, sociologist, historian or philologist--either in its specific or its general aspects, is an orientalist, and what he or she says or does is orientalism."(3)
یعنی مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کے کسی بھی شعبہ سے متعلق تحقیق کرنے والے کو مستشرق کہا جائے گا۔ ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب ’’رؤیۃ اسلامیۃ للاستشراق‘‘میں استشراق کی متعدد تعریفات ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کے استعماری فکر کے حامل سکالرز،اپنی نسلی برتری کے نظریہ کی بنیاد پر مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اس کی تاریخ ،تہذیب،ادیان،زبانوں،سیاسی اور اجتماعی نظاموں ،ذخائرِ دولت اور امکانات کاجو تحقیقی مطالعہ غیرجانبدارانہ تحقیق کے عنوان سے کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔(۴)
استشراق کی ذکر کردہ تعریفات کا حاصل یہ ہے کہ مغربی اہلِ کتاب ،مسیحی مغرب کی ’اسلامی مشرق‘ پر نسلی اورثقافتی برتری کے زعم کی بنیادپر مسلمانوں پر اہلِ مغرب کا تسلط قائم کرنے اور مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شک میں مبتلا کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے مسلمانوں کے عقیدہ، ثقافت، شریعت، تاریخ،نظام اور وسائل وامکانات کا جو مطالعہ غیرجانبدارانہ تحقیق کے دعوی کے ساتھ کرتے ہیں، اسے استشراق کہا جاتا ہے۔(۵)
’استشراقیت‘ کی جس قدر بھی تعریفات ذکر کی گئی ہیں، ان سب میں مشرقی علوم کا درک حاصل کرنے کی قید لگائی گئی ہے لیکن ہمارے خیال میں تحریکِ استشراق اور مستشرقین کی تحدید جغرافیائی اعتبار سے نہیں ہو سکتی کیونکہ مستشرقین کا اصل ہدف اسلام اور اس کی تعلیمات ہیں، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ اسی مفہوم کو دورِ جدید کے اکثر محققین علما نے اختیار کیا ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر ابراہیم الفیومی لکھتے ہیں کہ’’ مشرق سے مراد جغرافیائی مفہوم نہیں بلکہ اس سے مراد زمین کے وہ خطے ہیں جن پر اسلام کو فروغ حاصل ہوا، خواہ وہ بلادِ مشرق سے خارج ہوں‘‘(۶) البتہ دیگر تعریفات اس لحاظ سے درست قرار دی جا سکتی ہیں کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کا اصل مرکز مشرق ہی ہے اور یہیں سے اسلامی تہذیب وثقافت نے جنم لیا۔ 
تحریکِ استشراق کے آغاز کی تاریخ ،درحقیقت دینِ اسلام کے وجود کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہو گئی تھی تاہم "Orientalism"کی اصطلاح یورپین زبانوں میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں رائج ہوئی۔تحریک استشراق کے آغاز کے متعلق ہمیں متعدد آرا ملتی ہیں۔ بعض محققین کی رائے میں اس کا آغاز نویں صدی عیسوی میں ہواجب ’اہلِ مالقہ‘ نے اسلامی ثقافت کو داغ دار کرنے کے لیے کلام ،ادب اوراحکامی کتب کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور اس سلسلہ میں اچھا خاصا زرِ نقد صرف کیا(۷)۔ دوسری رائے کے مطابق اس تحریک کی ابتدا دسویں صدی میں اس وقت ہوئی جب ایک فرانسیسی ’جریردی ‘اور’الیاک ‘(1003-940)’اشبیلیہ‘ اور’ قرطبہ‘ کی جامعات میں علومِ اسلامیہ پر دسترس حاصل کرنے کے بعد 999ء سے 1003ء تک پاپائے روم کے عہدہ پر متعین رہا(۸)۔ بعض محققین کے نزدیک تحریکِ استشراق کا باقاعدہ آغاز تیرہویں صدی عیسوی میں ہوا جب الفونس دہم نے 1269ء میں’ مریسلیا ‘ میں تقابلِ ادیان کے حوالے سے ایک ادارہ ابوبکر رقوطی کے زیرِ نگرانی قائم کیا۔ اسی ادارے میں قرآن کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیاگیا،اسی عہد میں فریڈرک دوم(شاہِ سسلی)نے بھی اسلامی موضوعات پر مشتمل کتب کے تراجم کرائے اور ان کو یورپ کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں بھیجا(۹)۔
آنحضورﷺکے معاصر یہودونصاریٰ کی مخالفت کے بعد سب سے پہلے جس نے اسلام کے خلاف اس تحریک کا آغاز کیا، وہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک پادری جان(John)تھا جس نے آنحضورﷺکے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں گھڑیں اور لوگوں میں مشہور کر دیں تاکہ آپ ﷺکی سیرت وشخصیت ایک دیومالائی کردار سے زیادہ دکھائی نہ دے۔’ جان آف دمشق‘ کی یہی خرافات مستقبل کے استشراقی علما کا ماخذومصدربن گئیں۔ اس نے حضرت زینب بنت جحشؓ اور زید بن حارثہؓکے واقعہ کو ایک افسانہ بنا دیا،یہی افسانے یورپ میں کلاسیکل موضوعات بن گئے اور آج تک مستشرقین کے محبوب موضوعات ہیں۔ جان آف دمشق کے بعد عیسائی دنیا کے بیسیوں عیسائی اور یہودی علما نے قرآنِ کریم اور آنحضورﷺکی ذاتِ گرامی کو کئی سو سال تک موضوع بنائے رکھا اورایسے ایسے حیرت انگیز افسانے تراشے جن کا حقیقت کے ساتھ دور کابھی واسطہ نہ تھا۔ ان ادوار میں زیادہ زور اس بات پر صرف کیاگیا کہ آپﷺاُمّی نہیں بلکہ بہت پڑھے لکھے شخص تھے، تورات اور انجیل سے اکتساب کر کے آپﷺنے قرآنی عبارتیں تیار کیں۔بہت بڑے جادوگر ہونے کے ساتھ ساتھ آپﷺ (العیاذباللہ)حددرجہ ظالم، سفاک اور جنسی طور پر پراگندہ شخصیت کے حامل تھے۔ فرانسیسی مستشرق کاراڈی فوکس(Carra de Vaux)نے آنحضورﷺکی ذاتِ گرامی کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’محمد ایک لمبے عرصے کے لیے بلادِ مغرب میں نہایت بری شہرت کے حامل رہے اورشاید ہی کوئی اخلاقی برائی اور خرافات ایسی ہو جو آپ کی جانب منسوب نہ کی گئی ہو‘‘۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلام کی آمد سے کم و بیش سات آٹھ سوسال بعد تک مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف نفرت ناکافی اور ادھوری معلومات کی بنیاد پر ہی پنپتی رہی۔ مثال کے طور پرگیارہویں صدی عیسوی کے آواخر میں Song of Rolandجو پہلی صلیبی جنگوں کے دوران ہی وضع کیاگیا اور بہت مشہور ہوا،اسی طرح کی بیہودہ باتوں پر مشتمل تھا(۱۰)۔ 
مستشرقین کے علمی مصادر ،اس تحریک کے آغاز اور اہداف ومقاصد کے متعلق قطعاً خاموش ہیں ۔غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنے کی حکمتِ عملی پر کاربند ہیں اسی طرح وہ اپنے نام کی بھی تشہیر نہیں چاہتے ۔ یہ تحریک صدیوں مصروفِ عمل رہی لیکن اس تحریک کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ آربری کہتا ہے کہ ’’Orientalistکا لفظ پہلی مرتبہ 1630ء میں مشرقی یایونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیے استعمال ہوا‘‘۔روڈنسن کہتا ہے کہ’’ Orientalismیعنی استشراق کا لفظ انگریزی زبان میں1779ء میں داخل ہوااورفرانس کے کلاسیکی لغت میں اس کا اندارج 1838ء میں ہواحالانکہ عملی طور پر تحریکِ استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آچکی تھی اور پورے زوروشور سے مصروفِ عمل تھی‘‘(۱۱)۔
تحریکِ استشراق کے معرضِ وجود میں آنے کا سب سے بنیادی محرک دینی تھالیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی محرکات بھی کسی نہ کسی طریقہ سے شامل رہے ہیں۔مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اس کے چار محرکات کا تذکرہ کیا ہے :
۱۔ استشراق کا سب سے بڑا مقصد مذہبِ عیسوی کی اشاعت وتبلیغ اور اسلام کی ایسی تصویر پیش کرنا ہے کہ مسیحیت کی برتری اور ترجیح خود بخود ثابت ہو اور نئی نسل کیلئے مسیحیت میں کشش پید اہو۔
۲۔دینی محرک کے علاوہ سیاسی عنصر بھی قابلِ غور ہے جس کا مرکزی نقطہ مشرق میں مغربی حکومتوں اوراقتدارکے ہراول دستہ (Pioneer) کی موجودگی اورمغربی حکومتوں کو علمی کمک اوررسد پہنچانا ہے۔نیزان مشرقی اقوام وممالک کے رسم ورواج ،طبیعت ومزاج، طریقِ ماندوبود اورزبان وادب بلکہ جذبات ونفسیات کے متعلق صحیح اورتفصیلی معلومات باہم پہنچاناہے(۱۲)۔
۳۔ استشراق کا اہم محرک اقتصادی طور پرمضبوط ہونا ہے۔متعدد مغربی لوگ اس فکر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرکے مشرقیات اوراسلامیات کی کتابیں تحریر کرتے ہیں جن کی یورپ اور ایشیا میں بہت بڑی منڈی ہے۔ اس ذریعہ سے وہ ناشرین سے ایک پیشہ وَر مستشرق کی حیثیت سے بہت سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں(۱۳)۔
۴۔ ان مقاصد کے علاوہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض فضلا مشرقیات واسلامیات کو اپنے علمی ذوق وشغف کے ماتحت بھی اختیار کرتے ہیں اور اس کے لیے دیدہ ریزی،دماغ سوزی اور جفاکشی سے کام لیتے ہیں جس کی داد نہ دینا ایک اخلاقی کوتاہی اورعلمی ناانصافی ہے۔ ان کی مساعی سے بہت سے مشرقی واسلامی علمی جواہرات ونوادر پردۂِ خفا سے نکل کر منصہ شہود پر آئے۔متعدد اعلیٰ اسلامی مآخذ اور تاریخی وثائق ان کی محنت وہمت سے پہلی مرتبہ شائع ہوئے۔اس علمی اعتراف کے باوجود مستشرقین عمومی طور پر اہلِ علم کا وہ بدقسمت اوربے توفیق گروہ ہے جس نے قرآن وحدیث ، سیرتِ نبوی،فقہِ اسلامی اور اخلاق وتصوف کے سمند ر میں بار بار غوطے لگائے اوربالکل خشک دامن اورتہی دست واپس آیا بلکہ اس کا عناد ،اسلام سے دوری اورحق کے انکار کا جذبہ اوربڑھ گیا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک نتائج ہمیشہ مقاصد کے تابع ہوتے ہیں(۱۴)۔
مستشرقین اسلامی علوم میں تحقیق کے دوران اپنے اساسی مقاصد کو قطعاً نظرانداز نہیں کرتے ،وہ اسلامی ثقافت وتاریخ کو اس کے مقامِ رفیع سے گرانے ،عیب دار کرنے اور اس کی اصل صورت اورحقیقت کو دھندلا کرنے میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہیں تاکہ یورپ میں عیسائی معاشرہ اسلامی تعلیمات سے متاثر نہ ہونے پائے۔ مستشرقین کے پیش نظر جہاں یورپ میں دخولِ اسلام کی شرح میں اضافہ اورمسیحی معاشرے کے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس کوقبول کرنے کے متعلق خوف وہراس اورخدشات کے بادل سایہ فگن ہیں، وہاں چند اہم اورمرکزی اہداف بھی ہیں جن کو سمجھنے کے بعد ہم یہ رائے قائم کرنے میں بالکل حق بجانب ہوں گے کہ مستشرقین اس نام نہاد تحقیق کے پردہ میں اسلام اور اہلِ اسلام میں فتنہ وفساد اورفکری وذہنی انتشار پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ ساتھ ہی ہم پر اہلِ استشراق کے قرآن اوراس کی قراء ات کے متعلق کیے گئے اعتراضات کی حقیقت بھی واضح ہوگی جن کا علمی زاویوں سے دور کا بھی تعلق نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مستشرقین اسلام میں طعن اورعیوب تلاش کرنے اوراس کے حقائق کی تحریف کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں تاکہ وہ مسیحی دنیا کو یقین دلا سکیں کہ اسلام ایک منتشر، متنازعہ اورجامد دین ہے ۔ اس میں لچک(Flexibility)نہیں اور نہ ہی یہ تہذیبِ حاضر اورتقاضوں کا ساتھ دے سکتا ہے ۔ انہی عنوانات سے وہ مسلمانوں کے قلوب وعقائد پر بھی دستک دیتے ہیں اورمتعدد شکوک وشبہات پیدا کر کے ان کے دلوں میں مغربی تہذیب کی فوقیت اوردیگر پہلوؤں سے اپنے مذہبی، مشنری اورسیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے فضا کو سازگار کرتے ہیں۔ غرض مستشرقین اسلام کی تعلیمات اورنبی پاک ﷺکی ذات میں دشمنی کی روح پیدا کر کے تجربات کرتے ہیں اور اسلام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک ایسا جامد دین ہے جو زمانہ کے ارتقائی مدارج کا ساتھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا(۱۵)۔
اسلام کے متعلق اوہام اورتشکیک پیدا کرنا مستشرقین کے اہم مقاصد میں سے ہے اور وہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے مختلف اقدامات کرتے ہیں ۔متعدد مستشرقین کی ابحاث اسی نظریہ کانتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔اس حوالہ سے ان کے چند نکات عام طور پر مروج ومشہور ہیں۔مثلاً اسلامی تعلیمات میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاح اورجد ت کی ضرورت ہے اور روایت پسندی،رجعت پسندی اوردقیانوسیت پرمبنی تعلیمات کو ترک کرنا پڑے گا۔اس سلسلہ میں وہ مغرب کے علمی اورسائنٹیفک انداز کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔مستشرقین اسلام میں ایک ایسے اجتہاد کا تصور دیتے ہیں جو کتاب وسنت اوراجماعِ امت سے بالکل بے نیاز ہے ۔حدیث اورسنت کو عقلی دلائل کے ذریعہ غیر ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اس صورتِ حال میں ظاہر ہے کہ دین کا جو نقشہ سنت کو خارج کر کے معرضِ وجود میں آئے گا، اس میں قرآن کو ذاتی اغراض کی خاطر من مانے معانی پہنائے جا سکیں گے(۱۶)۔
مولانا شمس الحق افغانی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
’’اب مستشرقین نے اسی نصب العین (تشکیک)کی تکمیل کے لیے حربی اورسیاسی میدانوں کو ناکافی سمجھ کر علمی میدان میں قدم رکھااوراستشراق کے اسلحہ سے مسلح ہوکر مسلمانوں کے یقین کو کمزور کرنے اور تشکیک کا زہر پھیلانے کے لیے اسلامی تحقیق کے نام سے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے تصانیف لکھنی شروع کیں تاکہ اپنے مقصد میں اس راہ سے کامیاب ہو سکیں‘‘۔(۱۷)
اسلامی شریعت کے قوانین کو بھی مستشرقین نے بڑی غیر واقعی نظر سے دیکھا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ائمہ مجتہدین پر نقد کی غرض سے جدید دور کے مغرب پرست اورمغرب سے مرعوب افراد کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کو دین اسلام کے قوانین میں سختی اور غیر معقول زاویوں کی نشان دہی کرواتے ہیں اوراس پس منظر میں وہ یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ اسلام کے ان وضعی قوانین کو تبدیل کیا جائے جن میں دراصل امت کے لیے خیر اوربھلائی پوشیدہ ہے(۱۸)۔
سنتِ نبویہ کی صورت کودھندلا کرنے کی کوشش میں بھی کئی وسائل استعمال کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں گولڈزیہر اور’ شاخت‘ اس قبیلہ کے زعما میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سنت کے حوالے سے شبہات اٹھائے اوران کے بعد متعدد مستشرقین نے اس کو اپنا موضوعِ بحث بنایالیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سب انہی کے خوشہ چین تھے۔ احادیث پر شبہات کے ضمن میں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ گولڈ زیہر اورشاخت نے مصادرِ اسلامیہ کو سامنے رکھنے کی بجائے ’کتاب الاغانی‘،کتاب الحیوان اورقصے کہانیوں کی کتب کو احادیث کا مصدر مقرر کیا ہے اورشاید یہود ونصاریٰ اس سے بڑھ کر کچھ کر بھی نہ سکتے تھے۔ یہ مقام اِن شبہات کے بیان کرنے کا نہیں البتہ یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں ان کا ہدف صرف مسلمانوں کے ذہنوں میں جھوٹے اقوال وخیالات سے انتشار پیدا کرنا ہے، وگرنہ یہ اعتراضات حقائق ودلائل اوربراہین سے بالکلیہ عاری ہیں ۔
نبی کریمﷺکی شخصیت بھی ہمیشہ سے ہی کفار اوراعداءِ اسلام کی تنقید کا ہدف رہی ہے۔ ان کے بقول اللہ کے رسول ﷺبحیرہ راہب سے جب ملے توکچھ عرصہ ان سے دینی تعلیمات سیکھتے رہے۔دوسرا بنیادی اعتراض آپ کی شخصیت کے حوالے سے تعدد ازدواج کا ہے ۔ اس قضیہ کو بھی وہ آپ کی شخصیت میں طعن کا ذریعہ بناتے ہیں اوردین میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں(۱۹)۔
اسلامی تاریخ کی تحریف میں بھی مستشرقین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اورجس سطح تک اس کی ثقافت اوربنیادوں کو حقیقی انداز سے بدل کر پیش کر سکتے تھے، اس میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخِ اسلامی کی مبادیات اور ا س کے متعلق غلط معلومات کو پھیلا کر وہ دراصل یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انسانی تہذیب کی تاریخ میں اسلام کا کوئی کردار نہیں(۲۰)۔
حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین کافی عرصہ سے اس مقصد کے حصول کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں اوراسلام کے روشن زاویوں کودھندلا کرنے کے درپے ہیں تاکہ وہ بنیاد جو جمہورمسلمان علما نے قائم کی ہے، اس کو گرا دیا جائے اور اسلامی تاریخ کی ایک نئی بے معنی شکل پیدا کی جائے(۲۱)۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ عموماً اور علماءِ دین خصوصاً، مستشرقین اورملحدین ومتجددین کے ساتھ اس علمی محاربہ میں اپنے زاویۂ نگاہ کو وسعت دیتے ہوئے خالص علمی وتحقیقی رسوخ حاصل کریں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں سب سے بنیادی ذمہ داری مدارسِ عربیہ کی ہے کہ وہ مدارس میں بنیادی اسلامی مصادر کے تعارف کے ساتھ ساتھ’’ تحریکِ استشراق‘‘ کا تفصیلی مطالعہ اور جدید اصولِ تحقیق وتصنیف بھی شاملِ نصاب کریں کیونکہ مدارس کے طلبہ ، علومِ دینیہ کی قربت کی وجہ سے، تحریکِ استشراق کا مضبوط سدِ باب کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کے اعتراف میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ مدارسِ دینیہ سے فارغ التحصیل طلبہ،تمام تر صلاحیتوں کے باوجود، مغرب سے اٹھنے والی کسی قسم کی شورش وتحریک کا جواب دینا تو کجا ،اس کے تعارف سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں،اولاًمدارسِ عربیہ کا نصاب تشکیل دینے والے ذی قدر علما اورثانیاً مدارس کے اکابر اساتذہ کو اس اہم حقیقت پر فوراً عمل درآمد کرتے ہوئے کم از کم آخری تین درجات (عالیہ،موقوف اوردورۂِ حدیث) کے طلبہ کے لیے ’’الاستشراق‘‘ کو لازمی قرار دینا چاہئے تاکہ ہم اسلامی اقدار کے حقیقی محافظ ثابت ہوسکیں۔ 

حواشی

(۱) شرف الدین اصلاحی، مستشرقین ،استشراق اوراسلام،ص۴۸تا۵۰،معارف دارالمصنفین اعظم گڑھ،۱۹۸۶ء
(۲) محمد یوسف رامپوری، تحریک استشراق،ص۳۴و۳۵،مجلہ دارالعلوم دیوبند،مارچ ۱۹۸۸ء___استشراق کے لغوی واصطلاحی مفہوم کی تفصیل کے لیے ڈاکٹر اکرم چوہدری کا مقالہ ’’استشراق ‘‘(۵۶۵و۵۶۶)ملاحظہ ہو۔
(۳) Edward Said, Orientalism: a Brief Definition, p.1, New York, Vintage, 1979
(۴) ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب، رویۃ اسلامیۃ للاستشراق،ص۷و۸، دارالاصالۃ للثقافۃ والنشر والاعلام الریاض،۱۹۸۸ء
(۵) نفس المصدر:ص۹
(۶) ڈاکٹر محمد ابراہیم الفیومی،الاستشراق رسالۃ الاستعمار،ص۱۴۴،دارالفکر العربی قاہرہ مصر، ۱۹۹۳ء
(۷) ڈاکٹر محمد احمد دیاب، اضواء علی الاستشراق والمستشرقین،ص۱۳،دارالمنار قاہرۃ مصر، ۱۹۹۹ء
(۸) مرجعِ سابق
(۹) نفس المصدر:ص۱۴
(۱۰) ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری،استشراق،ص۵۶۷،اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ،لاہور
(۱۱) پیر کرم شاہ الازہری،ضیاء النبی ؑ ،۶؍۱۲۰،مکتبہ ضیاء الاسلام، لاہور
(۱۲) مولاناسلمان شمسی ندوی،اسلام اور مستشرقین(ضمیمہ :ص۱۲ملخصاً)،الندوی ابوالحسن سید، الاسلامیات بین کتابات المستشرقین والباحثین المسلمین، ترجمہ اردو: فیروزالدین شاہ و حافظ سمیع اللہ فراز، تحت اشراف: ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری،جامعہ پنجاب لاہور،۲۰۰۳ء
(۱۳) نفس المصدر:ص۱۳
(۱۴) نفس المصدر:ص۱۴
(۱۵) علی حسنی الخربوطلی، المستشرقون،ص۸۳۔۔۔و۔۔۔عمرفروخ، التبشیر والاستعمارفی البلاد العربیۃ، ص۲۴و۲۵، مکتبۃ العصریۃ صیداء، بیروت،ط۴، ۱۳۹۰ھ
(۱۶) مولانا سلمان شمسی ندوی،اسلام اور مستشرقین(ضمیمہ :ص۲۲ملخصاً)
(۱۷) مولانا شمس الحق افغانی،علوم القرآن، ص۱۲۰،مکتبہ اشرفیہ لاہور
(۱۸) حسین محمدمحمد، الاتجاہات الوطنیۃ فی الادب المعاصر، ۱؍۵۹،موسسۃ الرسالۃ بیروت، س۔ن۔
(۱۹) حکیم محمد طاہر، السنۃ فی مواجہۃ الاباطیل، ۳۸؍۳۹۰، منشورات دعوۃ الحق، رابطۃ العالم الاسلامی مکہ، ۱۴۰۲ھ
(۲۰) انور الجندی، المستشرقون والسیرۃ النبویۃ، ص۹۷، مجلۃ البحث الاسلامی ، العدد الخاص عن الاستشراق، رمضان ۱۴۰۲ھ۔۔۔
مزید ملاحظہ ہو:ڈاکٹر عبد الستار فتح اللہ ، الغزوالفکری والتیارات المعادیۃللاسلام، ص۲۶، مکتبۃ المعارف الریاض،ط۲، ۱۳۹۹ھ
(۲۱) محمد غزالی، دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد مطاعن المستشرقین،ص۱۳و۱۴، دارالکتب الحدیثۃ مصر، ط۳، ۱۳۸۴ھ

امت مسلمہ کو درپیش چند فکری مسائل

حافظ سید عزیز الرحمن

امت مسلمہ آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان سے کون ذی شعور شخص ناواقف ہوگا؟ اس حوالے سے جذبات، تاثرات، تحریریں اور پھر مذاکرات اور کانفرنسوں کے ذریعے تجاویز اور آرا وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن یہ صورت حال جس قدر گھمبیر، پیچ در پیچ الجھاؤ سے دوچار اور ہمہ جہت قسم کی ہے، اس اعتبار سے شاید غور وفکر کا حق ابھی تک ادا نہیں ہو سکا جس کا قرض اس امت کے ذمہ باقی ہے اور معاملے کی نوعیت کے پیش نظر ان امور کے بارے میں مزید غور وفکر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور فوری ضرورت ہے۔
یہ امور اپنی اہمیت کے پیش نظر اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں باہم مل کر مشترکہ موقف دنیا کے سامنے پیش کریں۔ راقم کی دانست میں ان امور پر اہل دانش کے درمیان صحیح اور خالص اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکالمہ فوری ضرورت ہے اور اس کے لیے رسمی کانفرنسیں اور سیمینار قطعاً ناکافی ہوں گے کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے اجتماعات میں سنجیدہ موضوعات پر طویل بحثیں تو ہو جاتی ہیں مگر انھیں نکات کی شکل دینا اور حتمی نتائج مرتب کرنا ’کارے دارد‘ کا مصداق ہوتا ہے۔ اس لیے سنجیدہ اور چنیدہ اہل علم اور دانش وروں کا، خواہ ابتدائی سطح پر اور محدود پیمانے پر ہی ہو، مل بیٹھ کر ان امور پر غور کرنا اور پھر مشترکہ رائے کا اظہار ضروری ہے جس کے لیے کوئی بھی قابل عمل صورت متعین کی جا سکتی ہے۔
راقم سردست ان امور کی ایک اجمالی فہرست پیش کر رہا ہے جو ہم سے فوری غور وفکر کے متقاضی ہیں۔ یہ سطور ارتجالاً لکھی جا رہی ہیں۔ پھر راقم کی حیثیت ایک مبتدی کی ہے۔ اس بنا پر ان عنوانات وتفاصیل میں ہر طرح کا حک واضافہ عین ممکن ہے۔ ان سطور کی حیثیت محض ایک پتھر کی ہے جو خاموش جھیل میں ارتعاش پیدا کرنے کے لیے پھینکا جاتا ہے۔
۱۔ دہشت گردی کی متفقہ تعریف:  آج امت مسلمہ کا سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی ہے۔ وہ دو جانبوں سے اس مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ ایک جانب تو وہ ریاستی دہشت گردی ہے جس سے مسلم علاقوں کے مکین دوچار ہیں۔ دوسری جانب مغرب کے تصورات کے تحت خود ان کے اندر دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔ اس باب میں ہماری جانب سے بارہا یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ یہ سوال بجائے خود درست ہے لیکن اس سوال کے مخاطب صرف اقوام مغرب نہیں، خود ہم بھی ہیں۔ اس محاذ کے ایک فریق کی حیثیت سے ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کی متفقہ تعریف متعین کریں جو اس کے تمام لوازم اور جزئیات ومتعلقات کا احاطہ کرے اور اس کی حدود وقیود کو واضح کرے تاکہ ہمیں اس سے متعلق تمام سوالات کے جواب حاصل ہو سکیں۔ مثلاً فلسطین، کشمیر، چیچنیا وغیرہ میں مسلم گروہوں کی جانب سے کی جانے والی مسلح جدوجہد کی اسلامی حیثیت کیا ہے؟ کیا ریاستی چھتری کے بغیر جہاد کا تصور اسلامی شریعت میں موجود ہے؟ گوریلا جنگ کی حدود کیا ہیں؟ ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسے واقعات دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ وغیرہ۔
۲۔ جہاد کی ضرورت واہمیت اور متفقہ تعریف:  یہ اصلاً پہلے نکتے ہی کا ایک حصہ ہے اور اس کی ضرورت، حدود وقیود اور شرائط وآداب پر مشترکہ رائے کا اظہار آج ہمارے لیے ناگزیر ہے۔
۳۔ خود کش حملے: اس بارے میں امت مسلمہ میں تین طرح کی آرا پائی جاتی ہیں اور عقلاً بھی تین ہی طرح کی آرا ممکن ہیں: ۱۔ مطلق جواز، ۲۔ مطلق انکار اور ۳۔ مشروط جواز۔ صحیح صورت حال کیا ہے؟ یہ سوال ہماری توجہ کا طالب ہے۔
۴۔ غیر مسلموں سے تعلقات:  یہ سوال ہر دور میں مسلم علما کے سامنے رہا ہے لیکن عصر حاضر کی سیاسی ومعاشرتی صورت حال میں ہمیں اس کی حدود اور معنویت پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ اس باب میں کچھ کام ہوا ہے لیکن تفصیلی غور وفکر ابھی باقی ہے۔
۵۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے کہ مکالمہ بین المذاہب جس کا آج کل کافی چرچا ہے اور نجی وحکومتی سطح پر کئی اطراف سے کوششیں بھی جاری ہیں، کس بنیاد پر ہونا چاہیے؟ وہ کون سے نکات ہیں جن پر ہم دوسرے مذاہب سے تعاون بھی کر سکتے ہیں اور اپنے اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے ان سے رابطہ بھی استوار کر سکتے ہیں۔
۶۔ مسلم ممالک میں آج کل عجیب صورت حال ہے۔ اکثر ممالک میں عوام کی بڑی تعداد اپنی حکومتوں کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتی۔ سو انھیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ اپنی رائے پر قائم رہیں؟ اپنی رائے سے حکومت کو مطلع کرنے کے لیے انھیں کون سے طریقے اختیار کرنے کی اجازت ہے؟
۷۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے جس پر امت عرصے سے غور وفکر کرتی چلی آ رہی ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کا کون کون سا راستہ شریعت میں بتایا گیا ہے؟ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ عوام کی ایک معتد بہ تعداد اس عمل کو ضروری سمجھتی ہو؟
۸۔ نیز یہ کہ ان حالات میں حکومتوں سے عوام الناس کن حدود کے اندر تعاون کر سکتے ہیں اور کن کن امور پر ان کے لیے حکومتی پالیسی سے اتفاق ضروری ہے؟
۹۔ آج یہ بات بھی زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ اس وقت جو صورت حال ہے، وہ تہذیبی یلغار کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ لیکن ثقافت اور تہذیب، یہ دونوں الفاظ خود مغرب کے ہاں پیچیدہ اصطلاحات کے گورکھ دھندے میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کی متفقہ تعریف جس میں ان میں سے ہر ایک کی حدود وقیود کو واضح کیا گیا ہو، ان کے ہاں بھی موجود نہیں۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم تہذیبی کشمکش سے دوچار ہیں تو ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ تہذیب وتمدن اور ثقافت اور کلچر کی تعریف اور حدود وقیود کو واضح کریں۔اور جب ہم اسلامی ثقافت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو ہمارے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اس کی حدود کی نشان دہی کریں اور واضح کریں کہ کون کون سی اشیا اس میں شامل ہیں، کون کون سی اس کے معارض ہیں اور کون کون سی چیزیں اس دائرے سے خارج ہیں۔
یہ تمام امور امت مسلمہ میں فکری انتشار اور ذہنی خلجان کا باعث بن رہے ہیں۔ نتیجتاً من چاہی تعبیروں اور جذبات کی سیاہی سے لکھے جانے والی تحریروں کی بہتات ہے مگر صحیح اسلامی فکر کی روشنی میں کی جانے والی مدلل گفتگو کا فقدان ہے۔پوری دل سوزی کے ساتھ راقم اہل علم سے درخواست کرتا ہے کہ ان امور پر امت مسلمہ کی راہ نمائی فرمائی جائے اور اپنے غور وفکر کے نتائج سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری صحیح راہنمائی فرمائے، آمین۔

متشددانہ فتویٰ نویسی : اصلاح احوال کی ضرورت

ادارہ

(۱)

از دار الافتاء دار العلوم اسلامیہ چار سدہ:

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ قمیص میں کالر لگواتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ کالر نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔ کیا یہ واقعی ممنوع ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

بے شک کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ (امداد الاحکام ج ۴ ص ۲۳۵)
(ماہنامہ ’النصیحۃ‘ ۔ دار العلوم اسلامیہ چارسدہ، اگست ۲۰۰۴، ص ۳۴)

(۲)
محترم ڈین کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ، پشاور یونیورسٹی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
پروفیسر عبد اللہ سے آپ کی دانش گاہ کے افتاء سیل کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ درج ذیل مسئلے کے بارے میں آپ کے سیل کی رائے حاصل کروں۔ دار العلوم اسلامیہ، چارسدہ (صوبہ سرحد) کے ماہنامہ ’النصیحۃ‘ کے شمارہ اگست ۲۰۰۴ء/رجب ۱۴۲۵ میں صفحہ ۳۴ پر شائع شدہ ایک فتویٰ کی عکسی نقل منسلک کر رہا ہوں۔ حضرت مولانا احمد مجتبیٰ صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ قمیص میں کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ اس فتویٰ کے لیے انہوں نے کسی آیت قرآنی، حدیث نبوی ﷺ یا فقہی اصول کا ذکر نہیں کیا اور محض ایک کتاب ’امداد الاحکام‘ کا سہارا لیا ہے، جس کے بارے میں یہ تک نہیں بتایا کہ یہ کس کی تصنیف ہے، کب شائع ہوئی ہے، کہاں سے شائع ہوئی ہے۔
میں نے کئی علما سے اس فتویٰ کے بارے میں بات کی، لیکن وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے یا دینا نہیں چاہتے تھے۔ اسی قسم کے غیر محتاط فتووں کی وجہ سے لوگ علما سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی قسم کے فتووں نے عیسائی عوام اور ان کے دینی طبقے کے درمیان بعد پیدا کیا اور یہ صورت حال عیسائی دنیا میں سیکولر ازم (مذہب اور اجتماعیات کی علیحدگی) کا باعث بنی۔ فتویٰ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ مفتی صاحبان کے لیے اسلامی احکام کی ارتقائی تشکیل اور زمانے کے حالات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ مولانا احمد مجبتیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ لباس کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرتے اور اس کے بعد اس مسئلے میں فتویٰ دیتے۔ مجھے مندرجہ ذیل نکات پر آپ کی رہنمائی مطلوب ہے:
۱۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلموں کی طرف سے تحفتاً آیا ہوا لباس زیب تن نہیں فرمایا؟
۲۔ تشبہ بالنصاریٰ/ بالکفار کی حدود کیا ہیں؟
۳۔ کن امور میں تشبہ حرام ہے اور کن میں جائز؟
۴۔ کیا عادی امور میں بھی تشبہ ممنوع ہے یا اس کا تعلق ان معاملات اور امور سے ہے جو عبادت یا دین کے کسی اور پہلو سے متعلق ہوں؟
۵۔ کیا اسلام نے خالص اسی لباس کو لازمی قرار دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ زیب تن فرمایا کرتے تھے، یا اس میں اسلام نے محض کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں (مثلاً ستر، حیا کا تحفظ، موسم سے بچاؤ) اور اس کا طرز مختلف علاقوں کے رواج اور روایات پر چھوڑ دیا ہے؟
۶۔ قمیص شلوار تو خالص پشتونوں کا لباس ہے جس کی مختلف صورتیں ہزارہا سال سے ان کے ہاں مروج ہیں۔ (مثلاً بلوچستان کے پشتونوں کا طرز الگ ہے جبکہ خیبر والوں کا الگ) ان کے لباس کا یہ طرز کسی تشبہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اختراعی اور طبع زاد ہے۔ کیا اس پر تشبہ بالکفار کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟
۷۔ اگر اس قسم کے فتووں کا سلسلہ جاری رہا تو کیا کل یہ فتویٰ نہیں دیا جا سکتا کہ ٹیلی فون پر بات کرنا، جہاز میں سفر، جوتوں کے بجائے بوٹ پہننا، چٹائی کے بجائے میز کرسی پربیٹھ کر کام کرنا، الغرض یہ تمام کام تشبہ بالکفار ہیں؟
خدارا ان علما سے بات کریں اور ان کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ وہ اسلام کی حقیقی روح کا فہم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے ہاں جزوی مسئلوں پر زیادہ زور ہے، مثلاً قراء ۃ خلف الامام، نماز میں ٹخنوں کا ظاہر کرنا، رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے حیاتی ومماتی تصورات، قراء ۃ بالسر والجہر کی بحث، دعاء بعد السنن اور قضاء عمری جیسے مسائل۔ اسلام اور مسلمانوں کے آج کے مسائل بالکل مختلف ہیں۔ قوم ان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے مسائل کا ادراک کریں اور مسلمانوں کی وسیع تر رہنمائی کے لیے آگے بڑھیں۔ انہیں سیرت رسول اللہ ﷺ کا فہم حاصل کرنا چاہیے اور امام ابو حنیفہؒ کی وسعت فکر سے استفادہ کرنا چاہیے۔
دینی مدارس کے علما کو چاہیے کہ وہ فتویٰ دینے کے لیے کچھ اصولوں اور ضوابط کا تعین کریں اور ہر عالم کو فتویٰ دینے کا حق نہ دیں۔ شیعہ مکتب فکر میں ہر عالم فتویٰ دینے کا اہل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں اس قسم کی شوریدہ فکری کے مظاہرے کم ملتے ہیں۔ ہمارے علما آج کے جدید ذہن کے فکری مسائل سے اپنے آپ کو آگاہ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایک خاص قسم کا بعد پیدا ہو رہا ہے۔ اس بعد کو ختم کرنے کے لیے علما کو پہل کرنی چاہیے اور اس پہل کے لیے ان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ماضی کے خول سے نکالیں۔ یہی آج کے عصر کا تقاضا ہے۔ کاش! آج کوئی شاہ ولی اللہ، کوئی مولانا عبید اللہ سندھی، کوئی مولانا محمود الحسن، کوئی مولانا مفتی محمود بن کر نئے حالات سے آگاہی حاصل کر لے۔
اخوکم فی الاسلام
(مولوی) عبد العالی، ایم اے
ماشو گگر، پشاور

(۳)
06-9-2004
واجب الاحترام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پشاور یونیورسٹی کے کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ کے افتاء سیل کے مرابط کی حیثیت سے حضرت مولانا عبد العالی کا خط منسلک کر رہا ہوں۔ اس خط میں انہوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف ہماری توجہ مبذول فرمائی ہے۔ اپنے افتاء سیل کے سامنے صورت مسئلہ رکھنے کے بجائے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی وقیع رائے حاصل کر لوں۔
اگر آپ کا جواب ۲۰ ستمبر ۲۰۰۴ تک موصول ہو جائے تو میں بے حد شکر گزار ہوں گا، کیونکہ انہی دنوں ہم اپنے افتاء سیل کا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بے حد احترامات کے ساتھ
ڈاکٹر قبلہ ایاز
(پروفیسر مطالعات سیرت/ڈین کلیہ علوم اسلامیہ وشرقیہ
شیخ زاید اسلامک سنٹر کیمپس، پشاور یونیورسٹی)

(۴)
باسمہ سبحانہ
محترمی ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
نوازش نامہ موصول ہوا۔ مجھے مولانا عبد العالی صاحب کی رائے سے اصولی طور پر اتفاق ہے مگر میرے نزدیک فتویٰ کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے لیے فتویٰ ہی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ فکری اور علمی مباحثہ کی باتیں ہیں اور انہیں اسی دائرہ میں رہنا چاہیے۔ میرے خیال میں کالر اور ٹائی کا تعلق مذہب یا اس کی علامات سے نہیں بلکہ موسمی ضروریات سے ہے۔ سرد علاقوں کے لوگ گلے کو بند رکھنے کے لیے ٹائی کا استعمال کرتے ہیں اور کالر اس کی ضروریات میں سے ہے۔ لباس کے بارے میں قرآن کریم نے ۱۔ زینت، ۲۔ ستر، اور ۳۔ موسمی ضروریات کو اس کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور فقہاء کرام نے کفار کی مذہبی علامات وشعائر کے ساتھ مشابہت کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ ان حدود کے اندر کوئی سا لباس ہو، اسے ممنوع قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور اس حوالہ سے کوئی فیصلہ کرتے وقت علاقائی اور موسمی تقاضوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
احباب سے سلام مسنون۔شکریہ! 
والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
۱۲ /۹/ ۲۰۰۴

(۵)
باسمہ سبحانہ وتعالیٰ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ میں نے لاہور کی مختلف مساجد میں ایسی صفیں دیکھی ہیں جن میں قدموں کی جگہ اسم محمد ﷺ دیکھنے میں آتا ہے۔ ان صفوں پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز علم ہونے کی بنا پر ان صفوں کا بنانا اور ان کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم الملک الوہاب:

ایک مخصوص لادین، بد مذہب گروپ اس سلسلے میں آج کل بہت سرگرم عمل ہے۔ کبھی جوتوں کے تلوے اور کبھی کپڑوں پر پرنٹ اور اب صفوں پر قدموں کی جگہ پر آیات، اسماء حسنیٰ، اسماء النبی وغیرہ پرنٹ کرنے کی مکروہ جرات کرتا رہتا ہے۔ عوام اور بالخصوص علماء کرام پر لازم ہے کہ ان کو روکا جائے۔ سوال میں دیا گیا نقشہ جامعہ اشرفیہ کے علماء کرام ومفتیان عظام نے بغور دیکھا ہے تو سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ یہ واضح طور پر اسم ’’محمد‘‘ ﷺ پڑھا جا رہا ہے، لہٰذا یہ صفیں بنانے والے، ڈیزائن کرنے والے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایسی صفوں پر نماز پڑھنا اور ان کی خرید وفروخت سب ناجائز اور حرام ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان صفوں سے مکمل طور پر احتراز کریں۔ البتہ جو حضرات لاعلمی میں ایسی صفوں پر نماز پڑھ چکے ہیں یا ان کی خرید وفروخت کر چکے ہیں، وہ گنہگار نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر پڑھی ہوئی نمازوں کا اعادہ لازم ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
(مفتی) عبد الخالق عفی عنہ
دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور

(۶)
باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

الجواب ہو المصوب:

پلاسٹک کی صفوں کو ہم نے بغور دیکھا ہے۔ ان صفوں میں کوئی بھی ایسا ڈیزائن نہیں ہے جو کہ لفظ ’’محمد‘‘ بنتا ہو۔ لہٰذا ایسی صفوں پر نماز ادا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ نیز ایسی صفوں کی خرید وفروخت بھی جائز ہے۔ وہم نہ کیا جائے۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
(مفتی) محمود الحسن طیب عفا اللہ عنہ
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

(۷)
یہ جدت پسندی اور بہتر سے بہتر کی تلاش کا دور ہے اور اس میں روز مرہ کے اعتبار سے اتنا تنوع پیدا ہو رہا ہے کہ ایک چیز دنیا کے ایک کونے سے نکلتی ہے تو دوسرے کونے میں اس کا چرچا شروع ہو جاتا ہے۔ اوپر سے مقابلہ اور کمپٹیشن نے ہر ایک کو دوسرے پر سبقت اور پیش قدمی کی دعوت دی ہوئی ہے، اس لیے بعض اوقات زیب وزینت اور فیشن کے لیے تنوع در تنوع اور بہتر سے بہتر کی تلاش کے نتیجے میں کچھ کا کچھ بن جاتا ہے اور پھر لوگ اپنی دینی نفسیات کے مطابق رسی کو سانپ اور بھیڑ کو بھیڑیا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
چند سال پہلے ایک صاحب اپنے گھر سے زنانہ سوٹ لے کر حاضر ہوئے اور کپڑا میرے سامنے رکھ کر فرمایا، اس کو چیک فرما لیں۔ میں نے دیکھنے کے بعد کہا، مجھے تو اس میں بظاہر کوئی خرابی اور عیب نظر نہیں آ رہا۔ آپ فرمائیے، آپ کا مطلب کیا ہے؟ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ اچھی طرح غور سے دیکھ کر چیک کریں۔ میں نے دوبارہ کپڑے کو کھول کر دیکھا تو وہ کسی خاتون کا سلا ہوا سوٹ تھا۔ میں نے کہا کہ یہ کسی خاتون کا سلا ہوا سوٹ معلوم ہو رہا ہے اور بس۔ اس سے زیادہ مجھے اس کے بارے میں مزید معلومات نہیں۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ دراصل میری بات پوری طرح نہیں سمجھ سکے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کپڑے پر پڑھ کر دیکھیں کہ کیا لکھا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ اردو، عربی جس قابل مجھے آتی ہے، اس زبان میں تو مجھے لکھا ہوا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ البتہ اگر آپ ان دونوں زبانوں کو مجھ سے زیادہ جانتے ہوں یا کسی اور زبان میں کچھ لکھا ہوا ہو تو آپ ہی بتلا دیجیے۔ مجھے تو اس میں مختلف قسم کے پھول، بوٹے اور ڈیزائن نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کپڑا اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ یہ دیکھیے، اس پر دراصل ’’محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ اس طرح کر کے ’’میم‘‘ ہے، اور یہاں سے اس طرح کو ’’ح‘‘ ہے اور یہ یہاں ’’میم‘‘ ہے اور یہ اس طرح سے ’’دال‘‘ ہے۔ اور اس طرح پورا لفظ ’’محمد‘‘ ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ کی طرف سے زبردستی کا بنایا ہوا لفظ ’’محمد‘‘ ہے۔ حقیقت میں تو اس طرح نہیں ہے کیونکہ اگر یہ حقیقت میں محمد لکھا ہوا ہوتا تو مجھے ضرور سمجھ اور نظر آجاتا کیونکہ اس لفظ سے ہمیں آپ سے زیادہ واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ بچپن اور طالب علمی کے زمانے سے ہم کتابوں میں یہ لفظ پڑھتے اور دیکھتے آئے ہیں اور کاپیوں وغیرہ میں بھی لکھتے رہے ہیں۔ اگر یہ حقیقت میں محمد لکھا ہوا ہوتا تو پہلی نظر میں سمجھ آ جاتا۔ میں نے ان صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے خود یہ لفظ اس میں پڑھا ہے یا کسی نے آپ کو اس طرح پڑھایا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے خود تو نہیں پڑھا بلکہ مجھے اس طرف میری اہلیہ صاحبہ نے متوجہ کیا اور ان کی توجہ بھی اس طرف اس لیے ہوئی کہ آج کل اخبارات میں کپڑے میں ’’اللہ، محمد‘‘ وغیرہ چھپنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس سے پہلے انہیں بھی اس طرف توجہ نہیں تھی اور مدت سے یہ کپڑا استعمال ہو رہا تھا۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ یہ سب نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ممکن ہے کہ کسی خاص کپڑے میں ایسی کوئی چیز چھاپی گئی ہو لیکن بہرحال آپ کے اس کپڑے میں یہ چیز نہیں ہے اور اگر واقعہ میں اس کپڑے میں ایسی کوئی چیز لکھی ہوئی ہوتی تو آپ کو یا آپ کی اہلیہ کو خود ہی یہ بات معلوم ہو جاتی جبکہ آپ کے گھر میں یہ کپڑا مدت دراز سے استعمال ہو رہا ہے اور آپ ماشاء اللہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔
ایک زمانے میں لاہور کی کسی جوتا ساز فیکٹری کے جوتے کی خاص قسم اور ورائٹی کے بارے میں اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ جوتے کے تلوے میں لفظ ’’اللہ‘‘ چھاپ کر اللہ تعالیٰ کی توہین کی گئی ہے۔ اس وقت ہزاروں، لاکھوں افراد نے اپنے اپنے ذہن سے اپنے جوتوں کے تلووں میں لفظ ’’اللہ‘‘ کا تصور قائم کر کے قیمتی قیمتی جوتوں کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ اسی زمانے میں میرا ایک صاحب کے گھر جانا ہوا۔ وہاں جانے کے بعد صاحب خانہ کے ایک برخوردار نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ایک چیز دکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ برخوردار اپنے کمرے کی الماری کے اوپر سے بڑے احترام اور حفاظت سے رکھے ہوئے جوتوں کے تلوے اٹھا کر لائے جن کو اوپر سے کاٹ کر استعمال سے ناکارہ بنا دیا گیا تھا اور یہ تلوے بڑے قیمتی اور تقریباً نئے محسوس ہو رہے تھے اور جس الماری کے اوپر انہوں نے حفاظت سے یہ جوتے کے تلوے رکھے ہوئے تھے، اس الماری کے اندر دینی کتب اور قرآن مجید کے نسخے بھی تھے اور یہ تلوے ان کے بھی اوپر والے حصے پر بے ادبی اور بے احترامی سے بچانے کے لیے رکھے گئے تھے۔ میں نے جب ان جوتوں کے تلووں کو غور سے دیکھا تو ان میں اللہ کا لفظ واضح طور پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ البتہ ایک پھول کا ڈیزائن کچھ لفظ ’’اللہ‘‘ کے مشابہ ضرور معلوم ہو رہا تھا اور وہ بھی اسی وقت محسوس ہوتا تھا جبکہ لفظ ’’اللہ‘‘ کے تصور کو ذہن میں قائم کر کے اسی پر اس کومنطبق کرنے کی کوشش کی جائے۔ مجھے یہ ماجرا دیکھ کر تعجب ہوا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ لفظ ’’اللہ‘‘ تو لکھا اور چھپا ہوا نہیں ہے بلکہ ایک پھول بوٹا ہے جس کے بارے میں آپ نے لفظ اللہ کا تصور قائم کر لیا ہے اور شرعاً آپ کا ان جوتوں کو پہننا اور استعمال کرنا تو گناہ نہیں تھا لیکن ان کو ناکارہ بنا کر مال کو ضائع کرنا گناہ تھا اور پھر ان جوتے کے تلووں کو دینی کتب اور قرآن مجید کے اوپر رکھ کر آپ نے جو پورے قرآن مجید کی بے ادبی کی ہے، جس میں ہزاروں مرتبہ لفظ اللہ استعمال ہوا ہے، آپ کو اس کا ذرا بھی خیال نہیں۔ یہ گفتگو سن کر ان برخوردار کی آنکھیں کھلیں اور اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
چند دن پہلے کسی مسجد کی انتظامیہ کے چند حضرات تشریف لائے اور اپنی مسجد کے قالینوں کی یہ داستان سنائی کہ ہم نے بہت مشکل اور محنت سے چندہ کر کے بڑے قیمتی قالین مسجد میں بچھانے اور نماز پڑھنے کے لیے خریدے تھے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں کتے اور بلی کی شکل کی کوئی تصویر بنی ہوئی ہے جبکہ کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ پھول بوٹے ہیں، کسی جاندار چیز کی تصویر نہیں ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے مسجد سے لایا ہوا قالین کا ٹکڑا دکھایا جس میں کسی بھی جاندار چیز کی تصویر نہیں تھی۔ بس ایک واہمہ تھا جو کسی نے اپنے ذہن سے قائم کر کے اور گھڑ کر دوسروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ جو لوگ کمزور نفسیات کے مالک تھے، انہوں نے ہاں میں ہاں ملا لی تھی اور جو لوگ مضبوط نفسیات اور خود اعتمادی کے مالک تھے، وہ ان کی اس بات سے اختلاف کرتے تھے۔
ایک مسجد میں بڑی قیمتی ٹائلیں لگوا کر مسجد کو مزین کیا گیا تھا لیکن بعض لوگوں نے یہ شور ڈال دیا تھا کہ ٹائلوں کے ڈیزائن میں کتے کی شبیہ بنی ہوئی ہے لہٰذا فی الفور تمام ٹائلوں کو اکھاڑ کر مسجد کو تصویروں کی لعنت سے پاک اور نماز کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ جب میں نے ساتھ میں لائی ہوئی ٹائل کے نمونے کا معاینہ کیا تو اس میں کچھ بھی نہ تھا، سوائے ایک سایہ کے اور وہ بھی خوب صورتی پیدا کرنے کے لیے ایک ڈیزائن تیار کیا گیاتھا۔ ان لوگوں کو بڑی مشکل سے مطمئن کر کے لاکھوں روپیہ ضائع ہونے سے بچایا گیا لیکن بعض انتظامیہ کے لوگ اس پرمصر تھے کہ اگر وہ شک وشبہ اور لوگوں کو تشویش سے بچانے کے لیے ان کو اکھاڑ کر دوسری ٹائلیں لگا دیں اور ان کو ضائع کر دیں تو یہ زیادہ بہتر اور تقوے کا تقاضا ہوگا لیکن جب ان کو یہ بتایا گیا کہ اس طرح کرنے کے نتیجے میں انہیں چندہ دینے والوں کو تاوان اور ہرجانہ دینے کا اپنی جیب سے انتظام کرنا پڑے گا، تب ان کی تسلی ہوئی اور طبیعت صاف ہوئی۔
ایک مولوی صاحب جو ایک دینی تنظیم کے ذمہ دار تھے، جمعہ کے دن مسجد میں غالباً عصر کی نماز کے وقت تشریف لائے اور نماز کے بعد مجھے ایک طرف لے جا کر کہنے لگے کہ آج آپ کی ایک اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانی ہے تاکہ آپ لوگوں کو آگاہ کریں اور اس مسئلہ کی لوگوں میں تبلیغ کریں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی جیب سے سگریٹ کا ایک پیکٹ نکالا جس میں مختلف کمپنیوں کی سگریٹ جمع کر رکھی تھی اور ایک ایک کر کے سگریٹ کے پیچھے والے حصہ یعنی فلٹر کے پیلے رنگ کے کاغذ کو مجھے دکھانا شروع کیا جس میں کچھ سفید سفید نشانات تھے، کہ ان کو غور سے دیکھیں، ہر سگریٹ کے پیچھے چھوٹا سا ’’محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔ میں نے ہر چند غور سے دیکھا مگر مجھے ان میں سے کسی ایک سگریٹ میں بھی کچھ نظر نہ آیا، سوائے سفید سفید نشانوں کے۔ جب میں نے ان کی بات سے اختلاف کیا تو انہوں نے بتلایا کہ اس بات پر تو آج جمعہ کی نماز کے بعد فلاں جگہ احتجاج کیا گیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی سگریٹ کو فوراً ضبط کیا جائے اور آیندہ کے لیے یہ بے حرمتی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ میں نے ان کو بتلایا کہ یہ سب فضول اور خواہ مخواہ کی باتیں ہیں۔ اولاً تو سگریٹ نوشی جتنا گناہ ہے، اس شبیہ میں اتنی بھی خرابی نہیں اور آپ کے احتجاج اور شور مچانے سے لوگ سگریٹ نوشی چھوڑیں گے نہیں اور آپ کے اس چرچا کرنے سے پھر وہ سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی اس میں مبتلا رہیں گے اور پھر گناہگار نہ ہوتے ہوئے بھی گنہگار ہوں گے۔ دوسرے کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ایسی حرکت کر کے اپنی مصنوعات کی طرف سے مسلمانوں کو متنفر کرے؟
بعض لوگ خواہ مخواہ کسی لکھائی کے بارے میں کہا کرتے ہیں کہ اس کو اگر الٹا کر کے پڑھا جائے، مثلاً کوکا کولا کو الٹا پڑھیں تو فلاں لفظ بن جاتا ہے۔ حالانکہ اس طرح الٹا پڑھنے سے تو بے شمار الفاظ جن کا مفہوم صحیح ہے، وہ بھی غلط بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ تحریر کے کچھ اصول وقواعد ہوا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہی الفاظ اور تحریر کو کوئی حکم دیا جا سکتا ہے۔ ہر قسم کے نقش ونگار پر اپنے ذہن سے کسی لفظ کے بارے میں کوئی تصور قائم کر لینا صحیح نہیں۔ البتہ اگر کسی چیز میں واقعی کوئی مبارک کلمہ کی تحریر موجود ہو تو اس کا حکم علیحدہ ہوگا، لیکن بلاوجہ اور خواہ مخواہ کا شور ڈال کر لوگوں کو تشویش میں مبتلا کرنا اور صریح اور حرام چیزوں سے لوگوں کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے ان مہمل چیزوں پر اپنی صلاحیتوں کو خرچ کرنا کسی طرح بھی عقل مندی نہیں۔
(تحریر: مولانا مفتی محمد رضوان۔ بشکریہ ماہنامہ ’’التبلیغ‘‘ راول پنڈی، ستمبر ۲۰۰۴)

حجیت حدیث اور اسلامی حدود کے حوالے سے ایک بحث

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ
سلام مسنون!
آپ کی جانب سے قاری ہونے کا اعزاز بحال فرمانے پر شکر گزار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ اعزاز آپ کے کرم ہی سے باقی رہ سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے قضیے کے بارے میں سلسلہ مضامین میری دلچسپی سے باہر ہے۔ اس کے باوجود میں نے اسے پوری دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اس پر آنے والے تبصرے اور جوابات بھی شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ سب کچھ کافی ذہن کشا ہے۔ خوشی کا باعث یہ بات ہے کہ عزیزم محمد عمار خان صاحب کے اسلوب بیان میں علمی سطح، شائستگی، شستگی، دقت نظر، جدید وقدیم کا امتزاج ایسی خوبیاں ہیں کہ اگر مبالغے کی تہمت کا خطرہ نہ ہو تو آج کے دور میں معجزہ کہوں گا۔ بہرحال میں اپنی خوشی کا برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔
کسی شمارے میں یہ ذکر ہوا ہے کہ ۱۹۷۰ء کے زمانے میں ملکیت کے مسئلہ پر ایک مضمون تحریر فرمایا تھا جس پر بعض حلقوں نے کافی کچھ لکھا تھا۔ براہ کرم اگر ممکن ہو تو میرے استفادہ کے لیے اس مضمون کی تلاش اور فراہمی کی زحمت فرمائی جائے۔
دینی جماعتوں میں اپنے اپنے مسلک پر شدت کے باوجود میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ اس میں گہرائی اور گیرائی مجروح ہو رہی ہے۔ میرا تعلق جماعت اسلامی سے رہا ہے۔ آج جماعت والے جانیں یا نہ جانیں، آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حدیث وسنت کی حیثیت کے بارے میں مولانا مودودی مرحومؒ نے جس شدت سے مناظرہ فرمایا، وہ ان کی اپنی حیات کا واحد مناظرہ تھا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ جب سے جماعت میں کچرا داخل ہونا شروع ہوا ہے، یوں لگتا ہے کہ انکار حدیث کے نقطہ نظر کو لے کر آنے والے بھی جماعت کی صفوں میں گھس گئے ہیں اور قیادت ایسے گمراہ لوگوں کو اپنی طاقت بنانے کا پورا موقع دینے لگی ہے۔
اس سلسلہ میں، میں اپنے دو محترم ساتھیوں ، جو کہ جماعت کے وکلا فورم پر مقتدر اور موثر ہیں، کے طرز عمل کے بارے میں فورم کی قرارداد کا متن ارسال کر رہا ہوں۔ یہ قرارداد مورخہ ۲۹ جولائی ۲۰۰۴ء کو اسلامک لائرز موومنٹ کے باقاعدہ اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہے۔ میرے نزدیک یہ قرارداد قارئین کے لیے قابل توجہ ہے۔ اس کا پہلا حصہ حدیث وسنت کی صحت اور اسلامی حدود کے بارے میں ہمارے اپنے دوستوں کی انتہائی دل خراش سطح پر مہم سے متعلق ہے اور جماعت کے بالائی نظم کے لیے خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ آپ کے ادارے کو اس سلسلہ میں واسطہ اس لیے بنا رہا ہوں کہ بات محدود سطح تک رہے اور اہل جماعت توجہ فرمائیں اور گمراہی کے فروغ پر فائز ارکان جماعت کی تفہیم کا فوری انتظام ہو سکے۔
آخر میں تازہ شمارے پر کچھ کہے بغیر بات پوری نہیں ہو سکے گی۔ پورا شمارہ بہت شاندار ہے، خاص طور پر سیرت پر مضمون بہت پسند آیا۔ اس میں فکری ندرت اور تخلیقی رجحان بہت قابل قدر ہیں، اسے بطور سلسلہ اختیار کیا جائے تو واقعتا بڑی خدمت ہوگی۔ والسلام
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
گوجرانوالہ

باجلاس اسلامک لائرز موومنٹ گوجرانوالہ

چوہدری محمد یوسف (سائل) بنام چوہدری محمد سلیم چہل وغیرہ (مسؤل علیہم)
درخواست مورخہ ۰۴-۱-۲۴ نسبت مہم وتبلیغ بر خلاف قوانین حدود وحجیت حدیث رسول
مجوزہ قرارداد بطور فیصلہ درخواست
جناب صدر! بطور فیصلہ درج ذیل قرارداد تجویز کی جاتی ہے:
۱) مورخہ ۲۴ جنوری ۰۴ء کی درخواست میں شکایت کی گئی کہ اسلامک لائرز موومنٹ گوجرانوالہ کے سابق صدر جناب سلیم محمود چہل اور موجودہ صدر جناب محمد سلیم کھوکھر نے مختلف عدالتوں میں حدود کے قوانین کے نصاب حرز، تزکیۃ الشہود اور رجم کی دفعات کو تحریک کا نام استعمال کرتے ہوئے چیلنج کیا اور اس کے لیے جس نقطہ نظر کو بنیاد بنایا، وہ مسلمان کے بنیادی عقیدے کے منافی ہے۔ مزید برآں درخواستوں میں جو پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے، وہ فنی اور اخلاقی لحاظ سے غیر معیاری ہے۔ شکایت سے پہلے سائل نے ایک خط کے ذریعے تحریک کے صدر (جناب محمد سلیم کھوکھر) کو صورت حال کی جانب متوجہ کیا۔ خط کا جواب نہ پا کر موجودہ شکایت پیش کی گئی۔ استدعا میں کہا گیا کہ:
’’موجودہ صدر جناب محمد سلیم کھوکھر اور محترم چہل صاحب کا طرز عمل جماعت اور تحریک کے دستور میں رکن کے لیے درج عقیدے کے خلاف کھلم کھلا تبلیغ کے مترادف ہے۔‘‘
مورخہ ۰۴-۳-۴ کو شکایت اجلاس میں پیش ہوئی۔ شکایت پر کارروائی کے دوران مسؤل علیہم اور بعض ساتھیوں کا طرز عمل خصوصی توجہ کا محتاج ہے۔ اس کے لیے الگ سے بحث کی جائے گی۔ البتہ یہاں اتنا ذکر کافی ہے کہ موجودہ صدر جناب محمد سلیم کھوکھر صاحب نے مورخہ ۰۴-۶-۱۰ کو اجلاس میں رجوع کرتے ہوئے چہل صاحب کی تحریروں کو لغو، لاحاصل اور بیہودہ قرار دے کر ان سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس بنا پر محترم کھوکھر صاحب کے خلاف کارروائی اپنے انجام کو پہنچی۔ جبکہ جناب سلیم محمود چہل صاحب نے کارروائی میں ایک عرصہ شرکت کے بعد احتجاجاً استعفا دیا اور کارروائی میں شرکت سے گریز اختیار کیا۔ اجلاس نے ایک کمیٹی کے ذریعے محترم چہل صاحب کو اجلاس میں واپس لانے کی کوششوں کے بعد ان کو تحریری نوٹس کے ذریعے کارروائی میں حصہ لینے کی درخواست کی۔ نوٹس کے بعد بھی چہل صاحب تشریف نہ لائے جس پر ان کے خلاف ان کی غیر حاضری میں کارروائی کی تکمیل کا فیصلہ مورخہ ۰۴-۷-۱ کے اجلاس میں کیا گیا۔
۲) شکایت کے ساتھ شامل دستاویزات میں مسؤل علیہم کی دو تحریریں اہم ہیں:
درخواست مورخہ ۰۳-۸-۳ روبرو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانولہ نسبت قانون سرقہ
درخواست روبرو عدالت عالیہ لاہور نسبت قانون رجم
شکایت زیر بحث کے مطابق مندرجہ بالا ہر دو درخواستوں پر مسؤل علیہم نے دستخط کیے اور ان کی عدالتوں میں پیروی کی۔ فنی عذرات کے تحت عدالتوں میں پذیرائی میں ناکامی کے بعد مسؤل علیہم نے درخواستوں کی وکلا اور عام لوگوں میں تقسیم جاری رکھی۔
۳) مسؤل علیہم کی تحریروں سے جو نقطہ نظر سامنے آتا ہے، وہ اس طرح ہے:
سرقہ کے قانون کے بارے میں درخواست میں لکھا گیا:
’’قرآن کا دعویٰ بابت اکمل وکامل سورۂ مائدہ کی آیات پر بھی برابر کا لاگو ہے اور کسی بندے کو یہ جسارت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سورۂ مائدہ کے روشن وواضح احکام میں کوئی اضافہ، استثنا، ترمیم، تخفیف کی مجال کرے۔....... لوگو! ...... تمہارے درمیان ایک چیز .... چھوڑے جاتا ہوں...... وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ (صفحہ نمبر ۳ کا آخری پیرا گراف، رجم سے متعلق درخواست صفحہ نمبر ۹، ساتویں سطر)
رجم سے متعلق درخواست کے صفحہ نمبر ۱۱ پر لکھا گیا:
’’رحمت للعالمین پر یہ اتہام لگانا کہ انہوں نے منافی قرآن سزا (رجم) صادر فرمائی، ایک غیر محتاط بیان ہے، خواہ کتنی ہی متواتر المعنی حدیثوں میں کیوں نہ ہو۔ کسی مسلمان کو زیب نہیں کہ وہ خلق عظیم پر فائز بزرگ ترین ہستی پر سنی سنائی روایت کے ذریعے منسوب کرے۔‘‘
اسی طرح کتاب اللہ کو کافی قرار دیتے ہوئے رجم سے متعلق احادیث کی حجیت سے انکار کو بنیاد بنایا گیا اور سرقہ سے متعلق نصاب اور حرز کی دفعات کو بھی قرآن میں نہ پا کر چیلنج کیا گیا۔ حرز اور نصاب کی نسبت احادیث کا عربی متن اور اردو ترجمہ سائل نے اپنی شکایت میں حوالوں کے ساتھ درج کیا۔ شکایت کی نقول مسؤل علیہم اور تمام ممبران کو مہیا کی گئیں۔ شکایت کا متعلقہ حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
عن عائشۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقطع ید السارق فی ربع دینار فصاعدا (سنن ابو داؤد، کتاب الحدود، باب فی ما یقطع السارق، ۴۲)
’’حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار یا زیادہ مالیت کی چوری پر کاٹا جائے۔‘‘
لا قطع فی ثمر معلق ولا فی حریسۃ جبل فاذا اواہ المراح او الجرین فالقطع فی ما یبلغ ثمن المجن (الموطا، ۱۵۷۳)
’’میوہ درخت پر لٹکتا ہو یا بکری پہاڑ پر چرتی ہو اور کوئی اسے چرا لے جائے تو اس میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ ہاں اگر وہ کھلیان میں آ جائے یا وہ باڑے میں پہنچ جائے تو ہاتھ کاٹا جائے، بشرطیکہ اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔‘‘
۴) کارروائی کے دوران محترم چہل صاحب نے اپنے نقطہ نظر کے دفاع میں یہ کہا کہ وہ احادیث پر ایمان رکھتے ہیں اور انہوں نے کئی مواقع پر احادیث کے حوالے پیش کیے ہیں، لیکن انہوں نے متنازعہ تحریروں کے بارے میں رجوع کیا اور نہ ہی ان کی کوئی وضاحت پیش کی۔ محترم چہل صاحب کی دونوں تحریروں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بات بہت واضح ہے کہ وہ قرآن سے باہر، ہر چیز کو قرآن میں اضافہ وترمیم خیال کرتے ہوئے قابل لحاظ نہیں سمجھتے۔ اسی لیے وہ رجم، نصاب اور حرز کی دفعات کو منافی قرآن قرار دیتے ہیں۔ سرقہ سے متعلق درخواست کا صفحہ نمبر ۳ اور رجم سے متعلق درخواست کا صفحہ نمبر ۷ قابل ملاحظہ ہے۔ متعلقہ حصہ درج ذیل ہے:
’’اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں۔‘‘
’’تمہارے رب کی کتاب سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو بدلنے والا نہیں۔‘‘
’’اے محمد کہہ دو میں اس کتاب کو اپنی طرف سے بدلنے کا حق نہیں رکھتا۔ میں تو صرف اس وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف اتاری جاتی ہے۔‘‘
اس طرح جناب چہل صاحب کا نقطہ نظر سخت ذہنی مغالطے کا نتیجہ ہے۔ جماعت اسلامی اور اسلامک لائرز موومنٹ کے دستور میں رکن کے لیے درج عقیدے کے منافی ہے۔ انہوں نے اس کا تواتر کے ساتھ ابلاغ کیا ہے۔ بحث کے دوران انہوں نے اس پر اصرار کیا ہے اور بعد ازاں احتجاج کی آڑ میں جواب دہی سے گریز کیا، جس کے پیش نظر ان کے خلاف یک طرفہ فیصلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ چھوڑا۔
۵) یہاں یہ بھی عرض کر دینا ضروری ہے کہ حرز اور نصاب کے بارے میں چہل صاحب کے ارشادات حیرانی کا باعث ہیں۔ چوری کی بنیادی تعریف میں یہ دونوں چیزیں شامل ہیں۔ ہاتھ کاٹنے کی سزا سے قطع نظر تعزیر کے لیے بھی دونوں چیزوں کا اثبات لازم ہوگا۔ ایسی چیز جو مالیاتی قدر سے کم ہو، اس میں تو تعزیر بھی عائد نہیں کی جا سکتی۔ چہل صاحب کا نقطہ نظر اس پہلو سے تو قانون کی مبادیات سے انحراف کے مترادف ہے۔
اسلامک لائرز موومنٹ کا یہ موقف واضح ہے کہ حرز، نصاب، تزکیۃ الشہود اور رجم کی دفعات سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ہیں اور ان کو قرآن کے منافی قرار دینا کسی طرح درست نہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سرقہ کی تعریف قرآن حکیم میں موجود نہیں۔ اس کی تعریف احادیث کی روشنی میں علماے قانون کا کام ہے۔ یہی کچھ کر کے ان قوانین کے مسودے مرتب کیے گئے۔ اس کے لیے سعودی حکومت کے اس وقت کے مشیر اور اخوان المسلمون کے سابق رہنما اور سابق وزیر اعظم شام ڈاکٹر معروف دوالیبی کی خدمات کا ہمیں اعتراف ہے۔ جناب چہل صاحب نے ان مسودات قانون پر جو کچھ بھی کہا ہے اور جس انداز سے کہا ہے، وہ ان کی ذاتی سوچ تو ہو سکتی ہے مگر اس کی کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ ہمارے ممبر کے طور پر اور ہمارے نام کے تحت ان کا اس بارے میں ابلاغ عام موومنٹ کی حیثیت کو مجروح کرنے کا باعث ہوا ہے۔ دینی مباحث پر کوئی پابندی نہیں مگر بحث کی حدود اور اصول متعین ہیں۔ ان سے تجاوز کی کوئی گنجایش نہیں۔ احادیث ،سند، تعبیر واطلاق کے لیے اصول حدیث کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔ اسی طرح قرآن کے آسان اور مبین ہوتے ہوئے اس کی تفہیم وتشریح کے لیے لغت، تفسیر اور حدیث لازم ہیں۔ اب اگر چہل صاحب کا یہ خیال ہو جیسا کہ انہوں نے برسراجلاس یہ کہا کہ انہوں نے ایک آیت کو سمجھنے کے لیے باون انگریزی ڈرامے پڑھے ہیں، پھر اسی اجلاس میں انہوں نے تفہیم القرآن سنائے جانے کے خلاف احتجاج کیا اور سننے سے انکار کر دیا، اس طرح یہ واضح ہے کہ ان کے مطالعے کا شوق بے کراں ہونے کے باوجود ٹھوس علمی بنیاد سے خالی ہے۔ ہماری یہ حسرت ہے کہ ان کا شوق ٹھوس علمی بنیاد حاصل کر لیتا۔ کاش اس مکالمے کو شخصی کے بجائے علمی سطح پر چلنے دیا جاتا تو شاید اس سلسلہ میں فورم کوئی اچھی صورت پیدا کرنے میں اپنا حصہ ڈالتا۔
۶) سائل نے یہ شکایت بھی کی کہ چہل صاحب نے اپنا نقطہ نظر جس پیرایہ بیان میں پیش کیا ہے، و ہ فنی لحاظ سے ناقص اور اخلاقی طور پر فروتر ہے۔ اس پہلو سے جب دونوں تحریروں کو دیکھا جائے تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک پڑھا لکھا شخص، قرآن اور اقبال کے حوالوں سے بات کرنے والا، اپنا نقطہ نظر پیش کرنے میں ایسا غیر علمی انداز تحریر اختیار کرے۔ حوالہ کی خاطر ان کے چند جملوں کا ذکر کافی ہے۔ حرز، نصاب اور تزکیۃ الشہود کو چور نواز زنجیریں، دین وشریعت کے مطالعے میں عمریں کھپا دینے والوں پر بو لہبی کے مارے ہوئے فقہا، مادر زاد اندھے، قرآن کے نور سے نابلد، گدھے کی پیٹھ پر کتابوں کی کہاوت کا مصداق قرار دیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے معاون خصوصی ملک غلام علی، مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادہ مولانا تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ کو جانے پہچانے روایتی اسلام کے ایک فرقے کے ترجمان قرار دیں۔ ان جملوں پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ہمارے منشا کو واضح کرنے کے لیے ان کا ذکر ہی کافی ہے۔
................

۸) اوپر درج تفصیلی جائزے کے بعد تجویز دی جاتی ہے کہ یہ قرار دیا جائے کہ محترم چہل صاحب نے واقعتا مسلمان کے بنیادی عقیدے کے خلاف تحریری وزبانی تبلیغ کر کے نہ صرف اپنے حلف رکنیت کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ حدود کے قوانین کے بارے میں بے بنیاد غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں کی ہیں۔ کارروائی کے دوران جناب چہل صاحب اور جناب محمد سلیم کھوکھر صاحب نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، وہ نظم کی شدید خلاف ورزی ہے۔ ان حالات میں چہل صاحب کی رکنیت فوری طور پر معطل کر کے ان کے اخراج کی سفارش کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح چمن رشید صاحب کے استعفے کے بعد اور پہلے کے طرز عمل کے پیش نظر ان کے استعفے کی منظوری کی سفارش کر دینا ہی مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ محمد سلیم کھوکھر صاحب کے طرز عمل کی تفصیلات اوپر درج کر دی گئی ہیں۔ ان کے رجوع کے پیش نظر، ان کے طرز عمل پر کوئی رائے دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ مزید برآں محترم جناب چوہدری سلیم محمود چہل صاحب کو قرارداد ہذا کی نقل فراہم کی جائے، ان کے لیے ایک ماہ کا موقع ہوگا کہ وہ ہماری قرارداد پر غور کر کے اپنے نقطہ نظر کو قرارداد کی روشنی میں تبدیل کر لیں، بصورت دیگر موجودہ قرارداد اخراج کی سفارش کی حد تک موثر ہو جائے گی۔
۹) جناب سلیم محمود چہل صاحب جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال سے نظم جماعت کو متوجہ کریں۔
۱۰) اس ساری صورت حال میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ہمارے ہاں دوستوں کی ذہنی اور علمی سطح کو کافی زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے لیے لازم ہے کہ اس کا اہتمام کرے۔ خاص طور پر حدیث رسول کی صحت، جمع وتدوین، حدود کے قوانین اور دین کے بنیادی اصولوں کے لحاظ سے ممبران کے لیے استفادے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
۱۱) اسلامی حدود پہلے ہی بعض سرکاری حلقوں کی جانب سے نشانہ پر ہیں۔ ہمارے اپنے ساتھیوں کی جانب سے ان پر چاند ماری سے ہماری تنظیم کی حیثیت مجروح ہوئی ہے۔ اس کی تلافی کے لیے مناسب اقدامات کرنے لازم ہیں۔
(مرتبہ وپیش کردہ: چوہدری محمد یوسف)

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم
ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا اگست ۲۰۰۴ء کا شمارہ وصول ہوا۔ بے حد شکریہ
آپ کا اداریہ ’’کلمہ حق‘‘ بے حد پسند آیا۔ دینی مدارس کے علمی وتحقیقی کام کو اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں دور حاضر کے مسلمان معاشروں کے لیے ان مدارس نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے، وہ بھی تجزیاتی مطالعے کا متقاضی ہے۔ مدارس نے بعض خدشات کے تحت ’’حفاظت دین‘‘ کی جو پالیسی اختیار کی تھی، اب بہت سے مدارس اس دور سے باہر نکل رہے ہیں۔ ضرورت ہے ان کی اس جدوجہد سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ بے حد خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے مقالے میں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ ممکن ہو تو اس مقالے کو روزنامہ اخبارات میں بھی اشاعت کے لیے بھجوائیں۔
کبھی گوجرانوالہ آنا ہوا تو آپ سے شرف ملاقات کی کوشش بھی کروں گا۔
والسلام۔نیاز مند
محمد خالد مسعود
(چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)

(۲)
مکرمی ومحترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اپنے گزشتہ خط میں جس تلخ نوائی کا اظہار کیا تھا، اس کا بنیادی مقصود آپ کو اپنے ان جذبات کے متعلق ذاتی طور پر آگاہ کرنا تھا جو میں حافظ عمار ناصر کے مذکورہ مقالہ کے متعلق محسوس کرتا ہوں، اسی لیے عام قارئین کی طرح خط کے آخر میں، میں نے اس کی اشاعت کی درخواست ہرگز نہیں کی تھی اور میں بجا طور پر یہ خیال کرتا تھا کہ کسی حد تک سخت تنقید پر مبنی اس خط کو قابل اشاعت نہیں سمجھا جائے گا۔ مگر اگست ۲۰۰۴ء کے ’الشریعہ‘ میں اس خط کو مدیر صاحب کی قینچی کے معمولی زخم کے بغیر من وعن شائع شدہ دیکھ کر مجھے جس قدر خوشگوار حیرت ہوئی، اس کا اظہار نہ کرنا بھی بخل کے مترادف سمجھتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں اسے آپ کی صحافیانہ وسعت ظرفی کے علاوہ آخر اور کیا نام دوں؟
مولانا محترم! مجھے آپ کی علمی رفاقت کا دعویٰ تو ہرگز نہیں ہے، البتہ اگر میں یہ کہوں کہ کچھ عرصہ تک مجھے آپ سے ’ہم کاری‘ کا شرف ضرور حاصل رہا تو شاید یہ بات حقیقت سے بعید نہ ہوگی۔ اسلامک ہیومن رائٹس فورم کے پلیٹ فارم پر مغرب کے انسانی ونسوانی حقوق کے ملحدانہ تصور سے لے کر قانون توہین رسالت کے تحفظ اور رد قادیانیت جیسے بہت سے موضوعات ہیں جن پر اس پلیٹ فارم پر ہونے والی مشترکہ جدوجہد میں راقم بھی آپ جیسے اہل علم حضرات کے ساتھ شریک کار رہا ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھ کر جب سوچتا ہوں تو اسے محض اپنی بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے ’مسجد اقصیٰ‘ کے متعلق ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے مضامین پر اس شدت سے تنقید کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کاش کہ ہم فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی تولیت اور حق ملکیت کے متعلق بھی وہ فکری اشتراک قائم رکھ سکتے جس کا اظہار دیگر متعدد موضوعات میں شامل حال رہا ہے۔
مولانا صاحب، مجھے یہ جان کر افسوس ہوا ہے کہ عزیزی حافظ عمار ناصر نے اپنے طویل مقالہ کو کتابی شکل میں شائع بھی کرا دیا ہے۔ کاش کہ وہ ایسا نہ کر پاتے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے ان کے علمی سفر کو کس قدر مہمیز ملے گی، مگر میں ایک بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے اس مشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا جس کے لیے آپ نے زندگی بھر کاوش فرمائی ہے۔ مسجد اقصیٰ اور مسئلہ فلسطین جیسے امت مسلمہ کے حساس معاملات کے متعلق اس طرح کے متنازع فیہ اور قابل اعتراض مواد کی آپ جیسے علمی خانوادے کی طرف سے ایسی بے باکانہ اشاعت ہر اعتبار سے قابل افسوس ہے۔
مولانا محترم! ’الشریعہ‘ آپ کی ادارت میں شائع ہونے والا ایک علمی مجلہ ہے۔ اس میں شائع کیے جانے والے مضامین کے انتخاب کا آپ کو پورا حق ہے۔ مجھ جیسا کوئی بھی مضمون نگار ’الشریعہ‘ میں اپنے مضمون کی اشاعت کو اپنا حق قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے باوجود بھی میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ماہنامہ ’محدث‘ میں حافظ عمار ناصر کے مقالہ پر میری جو مفصل تنقید شائع ہوئی تھی، اسے آپ اگر ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرما دیتے تو ’الشریعہ‘ کے قارئین کو شاید تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا۔ اگرچہ حافظ عمار ناصر نے اپنی جانب سے میری چند معروضات کے متعلق نام لیے بغیر اپنی طرف سے وضاحتیں پیش کر دی تھیں، مگر یہ ’وضاحتیں‘ قاری کے ذہن میں اس تاثر کے ابلاغ کے لیے قطعی طور پر ناکافی ہیں جو ہم پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس موضوع پر کتاب شائع کرنے سے قبل اگر یہ مضمون ’الشریعہ‘ میں شائع کر دیا جاتا تو اس موضوع کے متعلق قارئین کو دونوں پہلو دیکھنے کا موقع میسر آجاتا اور شاید اس سے کسی حد تک توازن بھی قائم رہتا۔ اسی طرح ’میک موہن/حسین خط وکتابت‘ اور کنگ کرین کمیشن کی سفارشات جن کا تذکرہ الشریعہ کے اگست کے شمارے میں ڈاکٹر رضی الدین سید نے کیا ہے، کے متعلق تفصیلات کی اشاعت بھی ضروری تھی۔
مکرمی! ’دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال‘ کے عنوان سے ’الشریعہ‘ کا اداریہ بے حد فکر انگیز ہے۔ مجھے آپ کے تجزیہ سے مکمل اتفاق ہے۔ البتہ اس معاملے کے ایک پہلو پر آپ روشنی ڈالتے تو مناسب تھا۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس کو جس طرح کا مواد (Stuff) مل رہا ہے، اس سے کسی بلند پایہ تحقیق کی توقع رکھنا عبث ہے۔ دیوبند کے ابتدائی مدرسہ کو اگر اس طرح کا ہی مواد ملتا تو اس سے شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ جیسے نابغہ روزگار کا نکلنا شاید ممکن نہ ہوتا۔
میرا جی چاہتا ہے کہ میں ’الشریعہ‘ کے مضامین کے متعلق تفصیل سے اظہار خیال کروں، مگر اس کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ آج صرف شیعہ عالم جناب کلب صادق کے خیالات پر مبنی مضمون پر مختصر تبصرہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ موصوف نے ’علما‘ اور ’ملا‘ کی جو خود ساختہ تعریف فرمائی ہے، وہ قابل عمل نہیں ہے۔ شیعہ سنی اتحاد کے متعلق ان کے نظریات قابل تعریف ہیں، مگر انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جب تک اثنا عشری شیعہ حضرات ملا باقر صدر جیسے متعصب شیعہ علما کے خیالات سے براء ت کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک شیعہ سنی اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ اگر اہل تشیع خلفاے راشدین کے متعلق محض ’تفضیل‘ تک محدود رہتے اور ’تسبیب‘ سے باز رہتے تو شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان اختلاف کی وہ صورتیں کبھی رونما نہ ہوتیں جو آج ہم دیکھتے ہیں۔ اس رائے کے باوجود شیعہ سنی فسادات کے خاتمہ کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کو قابل تعریف سمجھتا ہوں۔
حافظ عمار ناصر ابھی اہل شباب میں سے ہیں، مگر ان کی رائے سے شدید اختلاف کرنے کے باوجود ان کے اسلوب نگارش اور قلمی جمال کی تعریف بادل نخواستہ بھی کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خدا کرے ان کا قلم امت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے ان کی مرہم کاری کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے اب تک اپنی خداداد تصنیفی استعداد کا جن موضوعات کے لیے استعمال کیا ہے، اسے نعمت خداداد کا کوئی اچھا مصرف کہنا ذرا مشکل ہے۔
آخر میں، میں آپ کی خدمت میں چار سدہ سے شائع ہونے والے ایک مجلہ کے مدیر صاحب کا خط ارسال کر رہا ہوں جو اس نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں میرا خط پڑھ کر مجھے تحریر کیا ہے۔ میری ان صاحب سے ذاتی شناسائی ہے اور نہ میں نے ان کے میگزین کے اس شمارے کے علاوہ کچھ دیکھا ہے جو انہوں نے مجھے ارسال کیا ہے۔ نجانے کتنے ایسے صاحبان علم ہیں جن کے خیالات آپ تک نہیں پہنچ پاتے۔
والسلام
دعاؤں کاطالب
محمد عطاء اللہ صدیقی
۹۹۔جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور

(۳)
محترم جناب محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب
السلام علیکم
امید ہے بخیریت وعافیت ہوں گے۔
’الشریعہ‘ کے گزشتہ ایک شمارہ میں مولانا عمار ناصر کا بے سروپا دلائل پر مبنی مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا مقابلہ پڑھا جس میں مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کی جھولی میں پھینکنے کے لیے عمار خان ناصر کے قلم نے خوب زور لگایا تھا جس پر کچھ لکھنے کا خیال تھا مگر دار العلوم کے شش ماہی امتحانات اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہوتی جا رہی تھی کہ گزشتہ شمارہ الشریعہ میں حقیقت پر مبنی آپ کا مدلل تنقیدی جواب پڑھا۔ دل خوشی سے لبریز ہوا کہ حق لکھنے والوں کی کمی نہیں، ورنہ عمار خان کی داد کے لیے بہت سے خطوط الشریعہ کے صفحات پر نظروں سے گزرے۔ آپ کی بے باک لکھائی اور حق وصداقت پر مبنی تحریر سے سخت متاثر ہوا، اس لیے آپ سے رابطہ کر کے اپنے دار العلوم کا رسالہ جاری کیا۔ امید ہے قبول فرمائیں گے۔
’مصباح الاسلام‘ آپ کا اپنا پرچہ ہے۔ آپ اس کے لیے مضامین ارسال کرتے رہیں تو یہ ہمارے لیے بڑا اعزاز ہوگا۔ علاوہ ازیں رسالہ پڑھنے کے بعد مفید آرا اور تاثرات پر مبنی تحریر روانہ کریں تاکہ اہل ادارت کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔واجرکم علی اللہ
دعاؤں میں یاد رکھیں۔
والسلام
سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی
مدیر اعلیٰ مصباح الاسلام چارسدہ

(۴)
18-08-2004
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بگرامی خدمت محترم علامہ زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
جس درد مندی کے ساتھ آپ اسلامی تعلیمات، عقائد واقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، وہ لائق صد احترام ہے۔ آپ کے مضامین شمارہ جون، جولائی ۲۰۰۴ء پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری‘‘ میں آپ نے انتہائی جامع اور خوب صورت انداز میں دینی مدارس کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ’’جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کے کردار‘‘ میں بھی آپ نے مذہبی تنظیموں کے انتہا پسندانہ، فرقہ وارانہ اور شدت پسندانہ رجحانات کی مذمت کر کے اعلیٰ خدمت انجام دی ہے۔
شمارہ جون ۲۰۰۴ء میں محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے دونوں مضامین بھی اعلیٰ تحقیقی کاوش کا خوب صورت نمونہ ہیں۔ اپنے مضمون ’’SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہ‘‘ میں محترم پروفیسر صاحب نے مکمل غیر جانب داری برتتے ہوئے نہایت مدلل اور خوب صورت انداز میں مذکورہ رپورٹ کے مثبت اور منفی پہلو اجاگر کیے ہیں۔ ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ لکھ کر پروفیسر صاحب نے فکر وعمل اور شعور وآگہی کے ایسے در وا کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ہمارا ’’مذہبی طبقہ‘‘ ناآشنا ہے۔ جس طرح جھوٹ کو بنیادی قباحت قرار دے کر انہوں نے اس کے سماجی، معاشرتی اثرات کو واضح کیا ہے، کیا ہمارا مذہبی طبقہ اس کا ادراک رکھتا ہے؟امت کو تقسیم کر کے ٹولیوں میں بانٹنے اور کافر کافر کی مہم میں ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کی اپروچ (Approach) کو جس طرح ہمارے مذہبی طبقے نے رائج کر رکھا ہے، اس سوچ وانداز فکر کو واضح کرنے کے لیے کیا پروفیسر صاحب ’’ابلیسیت زدہ‘‘ دینی ادراک کا لفظ استعمال کر کے کچھ غلط کہہ گئے ہیں؟ اسلام کے ’اجتماعیت‘ کے تصور کی نفی کرنے والے کیا اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ کے بلاشرکت غیرے مستحق نہیں ہیں؟ ہمارے مذہبی سکالرز کب تک اپنی بد صورتی کا الزام آئینے کو دیتے رہیں گے؟ 
تحریر اور تقریر میں ہمیں وہ انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو عامۃ الناس کے شعور تک رسائی حاصل کرے، نہ کہ محض جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے مخصوص مفادات مقصود ہوں۔ مگر ہمارا مذہبی طبقہ مکمل سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ معاشرے کو باہمی اتحاد اور اخوت ومساوات کا درس دینے سے ان کے انتہائی ذاتی مفادات پر ضرب آتی ہے۔ اس لیے کون سی امت اور کیسا اتحاد؟ کیا ہمارا مذہبی طبقہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس نے دین اسلام کے ذریعے امت کو جوڑنے کا کتنا کام کیا ہے؟ کیا وہ اجتماعیت کے تصور کی نشوونما کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہے؟
محترم پروفیسر صاحب خود بھی ایک اعلیٰ علمی وادبی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ علماے حق کی ان کوششوں اور خدمات کے بھی معترف ہیں جو وہ برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی اشاعت اور فروغ کے لیے انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔ پروفیسر صاحب اور دوسرے بہت سے اہل شعور کا مخاطب وہ مخصوص گروہ ہیں جو اسلام کے نام پر ذاتی خواہشات اور مفادات کا مکروہ دھندا کر رہے ہیں، جن کا وجود فرقہ پرستی، تعصب، باہمی نفرت اور عدم مساوات سے قائم ہے۔
مولانا محمد یوسف اور جناب محمد احسن ندیم اپنے تنقیدی مضامین میں پروفیسر صاحب کے انتہائی جامع اور مدلل مقالے کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر رہے۔ البتہ ’فقیہ اور عالم‘ کی وضاحت مفصل ہے۔ وہ ’فقیہ اور عالم‘ کی رائج اور عام فہم تشریح کے بجائے ان الفاظ کے لغوی اور لفظی معنوں میں الجھ کر باقی ماندہ مضمون کی افادیت کو نظر انداز کر گئے۔ مولانا محمد یوسف نے گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر اس کو سبھی علمی اداروں کے اخلاقی زوال کا نام دینے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ اس میں وہ کالج اور مدرسہ کا باہم تقابل کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ پروفیسر صاحب کے مضمون میں اشارۃً بھی ایسا رویہ نظر نہیں آتا۔
اسی مضمون میں ایک جگہ پر مولانا محمد یوسف نے نہایت بے باکی سے مذہبی طبقہ کی کمزوریوں کو تسلیم بھی کیا ہے۔ مولانا صاحب ’’اجتہاد‘‘ کے حوالے سے فرماتے ہیں:
’’اس بات کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ا س حوالے سے مذہبی طبقوں کی کارکردگی ادھوری اور ناقص ہے۔ آج بالفرض حکومت وریاست اور معاشرے کے تمام امور کی باگ ڈور مذہبی طبقے کو سونپ دی جائے تو ان کا علمی وفکری ہوم ورک اس درجے کا نہیں کہ دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں صورت حال کو بدل ڈالیں۔‘‘
مولانا صاحب کا یہ اعتراف حقیقت دراصل پروفیسر صاحب کے مضمون کا خلاصہ ہے۔ پروفیسر انعام الرحمن صاحب نے اسلام کی ترویج کے لیے آرٹ کے حوالے سے جن نکات کی نشان دہی کی ہے، اہل فکر کو ان نکات پر سنجیدہ بحث کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ تحقیق ورہنمائی کے چند مزید غنچے کھل سکیں۔
والسلام۔ مخلص
خالد منظور راجہ
گجرات

(۵)
محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مزاج گرامی؟
فضلاے درس نظامی کے لیے ایک سالہ کورس کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے آپ کا ارسال کردہ دعوت نامہ موصول ہوا۔ یاد آوری کا شکریہ، لیکن میں بعض وجوہ سے تقریب میں شامل نہ ہو سکا جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ان شاء اللہ کسی دوسرے موقع پر آپ حضرات سے ملاقات کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔
ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے موصول ہوتا ہے۔ تازہ شمارے میں جہاد کے حوالے سے استاذ گرامی کا اور ’’آئیے اپنا کتبہ خود لکھیں‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون بہت پسند آیا۔ میاں صاحب نے معاشرتی اور تمدنی زندگی میں شعور وآگہی کے فروغ اور ضرورت پر جو رائے اور تاثرات بیان کیے ہیں، وہ نہایت قابل قدر اور لائق احترام ہیں اور موثر انداز میں قارئین کو شعور وآگہی کی وادی میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مضمون میں مغربی دنیا اور اس کے ہم نواؤں کی طرف سے جہاد پر کیے جانے والے اعتراضات کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور انہی کے اپنے فکر وفلسفہ کی روشنی میں جواب دیا ہے کہ جب آپ اپنی فکر اور تہذیب وثقافت کے فروغ کے لیے طاقت کے استعمال کو جائز مانتے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کر رہے ہیں تو اسلامی فکر وتہذیب کی بالادستی کے لیے جہاد پر آپ کا اعتراض بے جا ہے۔ 
میری طرف سے تمام حضرات کی خدمت میں سلام اور دعا کی درخواست ہے۔
(مولانا) عبد الحمید 
چار سدہ
14/09/04

(۶)
محترم جناب مدیر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
محترم! آپ کے موقر رسالہ کے جون ۲۰۰۴ کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ شائع ہوا ہے۔ ’الشریعہ‘ جیسے دینی اور علمی وفکری جریدے میں اس مضمون کا شائع ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ افسوس در افسوس کہ مضمون نگار کے نزدیک مسلمان علما اور خاص طور پر فقہا ابلیسیت زدہ ہو چکے ہیں۔ ان کا دینی ادراک کو اس خطاب سے مرصع کرنا، مساجد کی اساس کو بھی اسی زمرہ میں شمار کرنا اور تصور خاتمیت کو عجیب انداز سے فقہ کے متصادم ٹھہرانا یہ سب کچھ اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر فن کا ماہر سمجھتے ہیں، حالانکہ ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ مسلمان ہو کر اور علما سے وابستہ ہو کر اور خاص کر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت فیوضہم اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب دامت برکاتہم جیسے بزرگوں کی سرپرستی میں شائع ہونے والے رسالے میں اس طرح کا مضمون لکھنا جس میں ۱۴ سو سالہ تاریخ اور مذہبی روایت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی گئی ہو، بہت ہی شنیع فعل ہے۔ ایسے رسالہ میں اس طرح کے مضمون کا شائع ہونا ہی نہایت تعجب خیز ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور اکابر سے صحیح سمت پر تعلق استوار رکھنے کی توفیق اور اہل علم وفقہ کی قدر دانی نصیب فرمائے۔ آمین
دعا جو۔ بندہ محمد رفیق غفرلہ
مدرس مدینۃ العلوم ،مقام حیات ،سرگودھا

بین المذاہب کانفرنس برائے عالمی امن و عدل اجتماعی

پروفیسر حافظ منیر احمد

جون ۲۰۰۴ میں اوسلو (ناروے) میں پہلی بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی جس میں گورنمنٹ آف ناروے اور نارویجن چرچ کی دعوت پر مولانا محمد حنیف جالندھری (جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان) کی قیادت میں پاکستان کے مقتدر مسیحی ومسلم مذہبی راہنماؤں کے ایک وفد نے شرکت کی۔ وفد کے دیگر ارکان میں مولانا مفتی منیب الرحمن (چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی)، مولانا فضل الرحیم (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور)، مولانا ریاض حسین نجفی (نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان)، بشپ سموئیل عزرایاہ، مولانا عبد المالک (ایم این اے)، مولانا عبید اللہ خالد، محمد سعید اختر اور ڈاکٹر مانو رمل شاہ شامل تھے۔
اس کانفرنس کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی کی فضا کا فروغ تھا اور اس حوالے سے یہ کانفرنس امید کی ایک کرن ثابت ہوئی۔ کانفرنس کے ایجنڈے میں دنیا میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کا فروغ، تشدد کا خاتمہ، جنگ اور دہشت گردی سے نجات، تحمل وبردباری اور انسانیت کا احیا جیسے موضوعات شامل تھے۔ کانفرنس میں موضوع سے متعلق مختلف مسائل پر بحث مباحثہ ہوا اور ایسے اقدامات پر غور وفکر کیا گیا جن سے دنیا میں امن اور ترقی کا دور دوبارہ شروع ہو سکے۔ ناروے کی حکومت، چرچ آف ناروے اور ناروے کی مقامی مسلم کمیونٹی نے مذہبی گروہوں کے درمیان اتحاد ویگانگت کی فضا پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کانفرنس میں مقررین نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے قائدین سے گزارش کی کہ وہ انسانی معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کوشش کریں اور اس ضمن میں نمایاں کردار ادا کریں۔ کانفرنس کے شرکا کی طرف سے مشترکہ طور پر جاری کردہ اعلامیہ میں پوری دنیا کی اقوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ایک دوسرے کی مذہبی آزادیوں میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کریں۔ نیز اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مختلف مذاہب کے لوگ دنیا کو امن اور انسانی عظمت کا گہوارہ بنائیں گے اور مختلف ثقافتوں کے تصادم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ علاوہ ازیں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس معاملے میں بنیادی کردار مذہب کا ہونا چاہیے کیونکہ ہر مذہب امن کا داعی ہے۔
’’اعلان اوسلو‘‘ کے تحت پاکستان میں بھی ورلڈ کونسل آف ریلیجنز برائے عالمی امن وعدل اجتماعی کے زیر اہتمام ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری ہال اسلام آباد میں پہلی بین المذاہب کانفرنس کے انعقاد عمل میں لایا گیا۔
کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب جنرل پرویز مشرف نے کی۔ کانفرنس کے داعی مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی راہنماؤں کے علاوہ بہت سے غیر ملکی مندوبین بھی اس فورم پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کانفرنس اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ مذہب فساد کی وجہ نہیں بلکہ امن کا ضامن ہے۔ انھوں نے کانفرنس کے انعقاد کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے امن ومحبت کے فروغ کے لیے اپنی اور اپنے رفقا کی جانب سے کوششوں کو تیز تر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد معاشرے کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دین اور مذہب کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں اور ہم سب مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کریں گے۔ انہوں نے اعلان اوسلو میں کیے جانے والے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پوری دنیا کو امن وسکون کا گہوارہ بنانے اور انتقام اور نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کریں گے۔
بشپ آف رائے ونڈ جناب سیموئیل عزرایاہ نے مختلف مذاہب بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ نہ بستے ہوں کیونکہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام الہامی مذاہب پیار اور محبت کا درس دیتے ہیں اور اس حوالے سے آج معاشرے میں امن اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے اہل مذہب کا کردار نہایت اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کے لیے مولانا محمد حنیف جالندھری اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کی تعریف کی۔
وفاق المدارس الشیعہ کے راہنما الحاج جناب ریاض حسین نجفی نے کہا کہ دوسرے مذاہب کے بارے میں قرآن کی پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں مسیحیوں کو مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب اور ان کا ہمدرد بتایا گیا ہے اور اس کی وجہ کے طور پر ان کے تین اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عالم ہیں، دوسرے یہ کہ وہ عبادت گزار ہیں، اور تیسرے یہ کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب مکالمے کے بانی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنھوں نے چودہ سو سال پہلے اس روایت کی بنیاد ڈالی۔
بشپ آف پشاور جناب ڈاکٹر مانو رمل شاہ نے کہا کہ مساوات اور یکسانیت کا پیغام اسلام اور مسیحیت کا مشترکہ پیغام ہے اور اسی وجہ سے ان دونوں مذاہب کو جنوبی ایشیا کے ماحول میں قدم جمانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو بچانے کے لیے اسے خدا کی قربت کا پیغام دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد انسانیت کے خلاف جبکہ دوسروں کے لیے جینا ہی اصل انسانیت ہے۔
جسٹس (ریٹائرڈ) مولانا محمد تقی عثمانی نے Islamic Vision of Peace (اسلام کا تصور امن) کے زیر عنوان اپنے تحریری مقالے کا خلاصہ حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کے حوالے سے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے وقت ’السلام علیکم‘ اور ’وعلیکم السلام‘ کے الفاظ سے ایک دوسرے کو سلامتی اور امن کی دعا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر ذمہ دار حلقوں کی جانب سے جہالت یا تعصب کی بنا پر مسلمانوں کی غلط تصویر کشی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبر وتشدد کے خلاف اور قیام امن کے لیے کیے جانے والے تاریخی معاہدے ’’حلف الفضول‘‘ میں شریک ہوئے تھے اور آپ نے اس کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر اس جیسے اور معاہدے ہوں تو ان میں بھی شرکت کروں گا۔ اسلام تو مکالمہ اور امن معاہدوں کا داعی ہے اور اپنے ماننے والوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں کیونکہ اس کے بارے میں ان سے باز پرس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب کے ساتھ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے تعاون کرنا اسلامی تعلیمات کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن مجید نے ’وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘ (نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے سے تعاون کرو لیکن گناہ اور زیادتی کے کاموں پر تعاون نہ کرو) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام برداشت اور رواداری کا درس دیتا ہے اور آج ’’حلف الفضول‘‘ کی طرح کے معاہدوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد اسلام کا ایک لازمی فریضہ ہے لیکن اسلام کا تصور جہاد یورپ کے جنگی نقطہ نظر سے یکسر مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام نے جنگی طریقوں اور قوانین میں بہت سی اصلاحات متعارف کروائیں۔ مثلاً اسلام سے پہلے لاشوں کو مسخ کرنے، عبادت گاہوں کو مسمار کرنے، مذہبی راہنماؤں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے اور فصلوں اور کھیتوں کو اجاڑنے کا طریقہ رائج تھا، لیکن اسلام نے سختی سے ان باتوں سے ممانعت کر دی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر اسامہ کو روانہ کرتے وقت انھیں ان باتوں کی سختی سے تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور انسانیت کو امن کا پیغام دینے کے لیے ہمیں جہالت اور غربت کو دور کرنا ہوگا، لوگوں کو ان کے حقوق دینا ہوں گے اور جبر وتشدد کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے بڑی اقوام پس ماندہ اقوام کا استحصال بند کر دیں۔ اس کے بغیر دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج دنیا میں انسانیت کو اپنے حقیر مقاصد کے لیے نشانہ بنانے والے لوگ ہر جگہ موجود ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کو کسی خاص مذہب سے منسوب کرنا درست نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح اوکلا ہاما بم دھماکوں اور آئر لینڈ اور سری لنکا کے خود کش حملوں کا ذمہ داری مسیحی یا ہندو مذہب کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اسی طرح گیارہ ستمبر کے واقعات کے ذمہ داروں کو بھی اسلام کے ساتھ نتھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمام لوگ انسانیت کے یکساں دشمن ہیں۔ مذہب تو بھٹکی ہوئی اور تباہی کے راستے پر گامزن انسانیت کو فلاح وکامرانی کی منزل سے آشنا کرتا ہے اور آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے، عدالت ظالم کا قانونی ہتھیار بننے کے بجائے مظلوم کی جائے پناہ ثابت ہوں اور انسان دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کے بجائے ان سے پیار کریں تو ہمیں مذہب کی طرف واپس آنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آج تمام الہامی مذاہب کے ماننے والوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر انسانیت کو ظلم، کرب، بے انصافی، محرومی، بے بسی اور بے توقیری کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔
حکومت ناروے کے نمائندے جناب تورے بیان بورے نے وزیر اعظم ناروے کا پیغام کانفرنس میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ آج تمام مذاہب کو برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی مذہب کی تعلیمات کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغام میں چرچ آف ناروے اور پاکستان کے مذہبی راہ نماؤں کی کوششوں کو سراہا گیا اور یہ توقع ظاہر کی گئی کہ اعلان اوسلو کی طرح اعلان اسلام آباد بھی انسانیت کے لیے امن اور اخوت کا پیغام پھیلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے صدارتی خطاب میں اس کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ مختلف مذاہب کے مابین مکالمے کے لیے ایک ایسے فورم کی تشکیل بے حد مثبت قدم ہے جہاں سب لوگ اپنے تنازعات اور مسائل پر اظہار خیال کرسکیں۔ انھوں نے چرچ آف ناروے، حکومت ناروے اور عالمی کونسل برائے مذاہب کے منتظمین کی مساعی کو اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ جنرل مشرف نے دنیا میں پائے جانے والے اضطراب اور بے چینی کی اصل وجوہات کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا کو تہذیب، امن اور قوموں کے باہمی تنازعات کے حوالے سے مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں دو غلط فہمیاں فروغ پا رہی ہیں۔ مغرب یہ سمجھ رہا ہے کہ اسلام عسکریت پسندی، دہشت گردی اور تشدد کا مذہب ہے حالانکہ یہ مفروضہ بالکل غلط ہے۔ اسی طرح عالم اسلام میں یہ سوچ موجود ہے کہ مغرب کی طرف سے اسلام کو بطور ایک مذہب کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں تصورات غلط فہمی پر مبنی ہیں اور بے چینی اور اضطراب کی اصل وجہ اسلام نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی محرومی ہے۔ چونکہ بیشتر سیاسی تنازعات میں دوسرا فریق مسلمان ہیں جن میں سے کچھ لوگ تشدد کے غلط راستے پر چل پڑے ہیں، اس لیے مسلمانوں کے بارے میں عمومی طور پر ایک منفی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام امن، انصاف، برابری، تحمل، برداشت اور دوسروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والا مذہب ہے اور دہشت گردی، خود کش حملے اور انتہا پسندی قطعی طور پر غیر اسلامی افعال ہیں۔ صدر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں ایک طرف بنیاد پرستی اور قدامت پسندی اور دوسری طرف ضرورت سے زیادہ جدت پسندی کی دو انتہائیں موجود ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت مذہبی ہے لیکن اس کے ساتھ وہ اعتدال پسند اور ترقی پسند ہے۔ صدر نے کہا کہ بعض انتہا پسند مذہبی گروہوں نے سپاہ اور لشکر اور جیش کے ناموں سے تنظیمیں بنا رکھی تھیں اور وہ اپنے خیالات زبردستی لوگوں پر ٹھونسنا چاہتے تھے جو کہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک ہی سپاہ، ایک ہی جیش اور ایک ہی لشکر ہے جو کہ پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کسی دوسری سپاہ یا جیش کا وجود برداشت نہیں کریں گے۔
صدر نے او آئی سی کی تنظیم نو کے عمل کو تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مسلم ممالک کو اقتصادی اور سماجی طور پر ترقی کرنا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس وقت مسلمانوں کے سیاسی تنازعات کو حل کرانے کی طاقت اور صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے جو دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور جب ہم عدل اور انصاف کی بات کرتے ہیں تو ہمیں افغانستان اور عراق وغیرہ میں امریکہ کے منفی کردار پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ امریکہ نے ہی بوسنیا اور کوسوو کے مسلمانوں کو مسیحی سربوں کے ظلم وستم سے بچایا تھا۔ دینی مدارس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پہلے میں بھی ان مدارس کے بار ے میں بہت سے خدشات کا شکار تھا مگر مدارس کے لوگوں سے ملنے کے بعد میرے ذہن میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دینی مدارس ہمارے ملک کی سب سے بڑی این جی او ہیں جو لاکھوں طلبہ کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اپنے آپ کو صرف مذہبی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے جدید تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دینی مدارس کو مین سٹریم میں لانے کے لیے ان کے باصلاحیت طلبہ کو سکالر شپس دی جائیں گی تا کہ وہ مختلف شعبوں میں آگے بڑھیں اور ملک وقوم کی خدمت انجام دیں۔ اسی طرح مختلف سطحوں پر کھیلوں کے مقابلوں میں بھی مدارس کے طلبہ کو شریک کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ 
صدر نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کے مذاہب اور ثقافتوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور عالمی کونسل برائے مذاہب کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرۂ کار کو وسیع تر کرے اورانسانی معاشرے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے اپنا کردار مزید سرگرمی سے ادا کرے۔
کانفرنس کی دوسری اور اختتامی نشست کی صدارت گورنر پنجاب لیفٹننٹ (ر) جنرل خالد مقبول نے کی جبکہ مہمان خصوصی وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق تھے۔ اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر جناب مصطفی صادق نے مولانا محمد حنیف جالندھری اور مولانا فضل الرحیم کی صلاحیتوں اور کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ان سے وابستہ نیک توقعات کا اظہار کیا۔
دار العلوم کراچی کے مہتمم مولانا مفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ مذاہب عالم کے مابین نقطہ اتحاد اللہ پر ایمان ہے اور مذہب کا راستہ انسان کو کائنات کے خالق ومالک سے ملاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام مذاہب کو مل کر انسانیت کو اس ظلم اور نا انصافی سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے آج ہم دوچار ہیں۔
شیعہ راہنما علامہ سید رضی جعفری نے کہا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین اسلام کے ابتدائی زمانے سے ہی اچھے تعلقات کی مثالیں موجود ہیں اور مسلمانوں نے مکہ کے کفار کے ظلم وستم سے بچنے کے لیے پہلی ہجرت حبشہ ہی کی طرف کی تھی جہاں کے نیک دل مسیحی بادشاہ نے انھیں پناہ اور تحفظ فراہم کیا۔
گورنر پنجاب جناب خالد مقبول نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام اور قرآن تمام آسمانی مذاہب کے تسلسل کی تائید وتصدیق کرتا ہے ۔ اسلام انسانی عظمت پر یقین رکھتا ہے اور جو انسان عظمت آدمیت پر یقین نہیں رکھتا، اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی روشن خیالی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں مسیحیوں کی نئی عبادت گاہیں تعمیر ہوئیں اور عباسیوں کے عہد میں چار سو نئے چرچ بنے۔ انھوں نے کہا کہ کسی زمانے میں مسلمان فلکیات، طب، کیمیا اور طبیعیات کے میدانوں میں دنیا کی قیادت کرتے تھے جبکہ آج ہمارے پاس اسلاف کی روایات کی پامالی کے علاوہ کچھ نہیں اور اسی وجہ سے ہم دنیا کی قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سائنسی علوم میں پس ماندگی ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ایک اچھی پیش رفت ہے جس کے لیے دینی مدارس کی قیادت مبارک باد کی مستحق ہے۔ 
کانفرنس کی اختتامی نشست میں پشاور یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی کی سربراہ ڈاکٹر سائرہ صفدر اور مولانا غلام دستگیر افغانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے آخر میں وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے عالمی کونسل برائے مذاہب کو اس بات کی یقین دہائی کرائی کہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے ان کی ہر کوشش کا خیر مقدم کیا جائے گا اور دینی مدارس کے بارے میں کوئی ایسی پالیسی نہیں بنائی جائے گی جس سے تمام مکاتب فکر کے وفاق مطمئن نہ ہوں۔ 
عالمی کونسل برائے مذاہب کی طرف سے اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
  • ہم عالمی کونسل برائے مذاہب کے فورم سے ہر مذہب، ہر عقیدے، ہر قوم اور ہر معاشرے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ امن اور انصاف کے فروغ کے لیے کام کریں اور اس سلسلے میں اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔
  • ہم معصوم لوگوں، خصوصاً بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔
  • انسانوں پر ظلم وستم بند ہونا چاہیے اور پوری دنیا میں قیدیوں کے ساتھ جو غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک ہو رہا ہے، اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
  • ہم حکومتوں اور ہر قسم کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کو حملوں کا نشانہ نہ بنائیں۔
  • ہمیں انسانی فلاح وبہبود کی خاطر منشیات، جہالت اور غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
  • ہمیں تمام اقلیتوں کا احترام کرنا ہوگا اور ان کو مساوی حقوق دینے ہوں گے۔

بین المذاہب کانفرنس : چند تاثرات

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت کی دنیا میں بدامنی اور نا انصافی کا چال چلن ہے اور مختلف مفاداتی گروہ اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد ، جبر اور ظلم و ستم کی راہ اپناتے ہوئے ان مقا صد کے گرد الہیاتی تقدس کا لبادہ لپیٹ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب کے نام پر تشدد اور ظلم وستم کے بڑھتے ہوئے اسی رجحان کو بھانپتے ہوئے مذہبی حلقوں نے مذہب کی اصل ا سپرٹ کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری اور بشپ آف رائے ونڈ کی کاوشوں سے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں بین المذاہب کانفرنس برائے امن و عدل اجتماعی منعقد ہوئی ، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ۳۰۰ کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے پہلے سیشن کی صدارت جناب جنرل پرویز مشرف اور دوسرے سیشن کی صدارت جناب خالد مقبول گورنر پنجاب نے کی ۔ مختلف ممالک کے سفرا اور وفاقی کابینہ کے ممبران سمیت چےئرمین سینٹ اور ایم این اے حضرات کی کثیر تعداد بھی اس کانفرنس میں موجود تھی ۔ 
مختلف مذاہب کے نمائندہ مقررین نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے بین المذاہب تعاون کی گنجائش اور ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ جنرل پرویز مشرف نے صدارتی خطبے میں بحیثیت مسلمان اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ان کا یہ کہنا بجا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے عملی صورت میں اسلام کی ترجمانی کافی منفی ہے ، جس سے غیر مسلموں کو انگلی اٹھانے کا موقع مل رہا ہے ۔ جنرل صاحب کا یہ فرمانا کہ پاکستان میں فقط ایک سپاہ ، ایک جیش اورایک لشکر ہے اور اس کا نام مسلح افواج ہے اگرچہ اپنی جگہ درست ہے ، لیکن ایک تو ایسی بات کرنے کا یہ مناسب موقع نہیں تھا۔ دوسرا جنرل صاحب کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو، کبھی حکومتِ پاکستان بھی مذکورہ تنظیموں سے ’’آشنا ‘‘ تھی۔ عالمی سیاست کے موجودہ دباؤ اور مستقبلِ دیدہ کے تقاضوں کے پیشِ نظر بلاشبہ اسلامی ابلاغ کی عسکری جہت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری رائے میں ایسی نظر ثانی مکالمے کی فضا میں ہونی چاہیے اور عسکری نوعیت کے حامل مختلف گروہوں کو مناسب اور محفوظ راستہ بھی ملنا چاہیے ۔ 
گورنر پنجاب جناب خالد مقبول کا صدارتی خطبہ منفرد اور اچھا خاصا علمی تھا۔ انھوں نے اسلامی تاریخ سے مثالیں دے کر حاضرین پر واضح کیا کہ اسلام نے ہمیشہ دیگر مذاہب کی تکریم کی ہے اور انھیں ہر ممکن حد تک اپنے ماحول میں جگہ دی ہے۔
اس کانفرنس میں اگرچہ متعین نتائج کے حصول پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تاہم اسےِ آغاز کار کی حیثیت سے لیتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے توسط سے ان شاء اللہ بین المذاہب تعاون کے در وا ہوں گے ۔ ہم اس کانفرنس کے حوالے سے چند باتیں گوش گزار کرنا چاہیں گے ۔ 
پہلی بات تو یہ ہے کہ پوری کانفرنس کے دوران میں کسی بھی مقرر نے بد امنی اور نا انصافی کی ’’اصل وجوہات‘‘ پر روشنی نہیں ڈالی ۔ ایک طرح سے یہ تسلیم کرلیا گیا کہ مذہب بدامنی، انتشار اور نا انصافی کا سبب ہے ، لہٰذا مذہبی حلقوں کو اصلاحِ احوال کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ناانصافی اور بدامنی ایک خاص نظام کی اقدار ہیں ، اور وہ نظام سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ ان منفی اقدار کو بلا خوفِ تردید سرمایہ دارانہ ذہنیت کی اقدار کہا جا سکتا ہے۔ سوویت یونین کے انہدام سے قبل ، شمالی امریکہ اور مغربی یورپ نے سوشلزم کے خطرے کے باعث طوعاً وکرہاً فلاحی ریاست کے تصور کے تحت بعض ایسے اقدامات کیے جس سے مارکیٹ اکانومی کی منفیت پوری طرح کھل کر سامنے نہ آ سکی ۔ بیسویں صدی کے نوے کے عشرے سے مارکیٹ اکانومی پر ’’سوشلسٹ چیک ‘‘ ختم ہو گیا اور نتیجے کے طور پر اس نظامِ معیشت نے اپنی فلاسفی کے عین مطابق خود غرضی اور انفرادیت پسندانہ طور اطوار کو بڑھاوا دے کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر دولت کا ارتکاز پیدا کر دیا۔ دولت کے حصول اور پیداواری قوتوں پر کنٹرول کے لیے اس خود غرضانہ رویے نے ہی ناانصافی اور بد امنی جیسی انتہائی منفی اقدار کو جنم دیا ، جن کے سامنے آج کی دنیا کی گھگھی بندھی ہوئی ہے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے مقتدر حلقے مذہب پر یقین نہیں رکھتے ، لیکن عوام میں مذہب کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مذہب کے عمومی فروغ کو بھانپتے ہوئے یہ حلقے مذہب کو بطور ’’ آلہ اور ہتھیار ‘‘ استعمال کر رہے ہیں، اس لیے جہاں کہیں مذہب کے نام پر گڑ بڑ ہوتی ہے، وہاں یہ دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ کہیں اس کے پیچھے کوئی ’’مفاداتی گروہ ‘‘ تو کام نہیں کر رہا؟اس وقت مذہب کے نام پر اپنی خواہشات کی نمود ونمایش ہو رہی ہے ورنہ مذہبی اقدار تو بہت اعلیٰ و ارفع ہیں۔ ہماری رائے میں میڈیا اورِ پراپیگنڈا کے دوسرے ذرائع جس طرح سرمایہ داروں کو راہ دکھانے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اسی طرح مذہب بھی اپنا خود مختارانہ کردار ادا کرنے کی بجائے مارکیٹ اکانومی کے دیوتا کی خدمت میں مگن ہے ۔ لہٰذا یہ مخصوص مقتدر سرمایہ دار حلقے ہیں جو دنیا میں بدامنی اور ناانصافی کا باعث ہیں، نہ کہ مذہب یا اس سے وابستہ اقدار۔ اندریں صورت واضح ہو جاتا ہے کہ امن اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے مذہب کو سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل سے نکلنا ہو گا۔ ہماری رائے میں اکیسویں صدی میں تہذیبی تصادم کی بجائے اصل تصادم سرمایہ دارانہ نظام کے علم برداروں اور مذہبی اقدار کی سر بلندی کے لیے کوشاں افراد اور گروہوں کے مابین ہو گا کہ دنیا کے ہر مذہب کی اقدار خود غرضی ، لالچ اورذاتی نفع کے لیے اجتماعی نفع کو قربان کرنے جیسی اقدار کے مقابل کھڑی ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ بعض مذہبی عناصر بھی دانستہ اور نادانستہ ، تشدد اور نا انصافی کا باعث بن رہے ہیں لیکن اس سلسلے میں مذہب کو الزام نہیں دیا جا سکتا کہ یہ فقط چند افراد ہیں جو لاعلمی میں مذہب کی ایسی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں جس کا نفسِ مذہب اور مذہبیت کی اصل سپرٹ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ۔ مذہب پر اتھارٹی کی حیثیت رکھنے والے اہل علم ایسے افراد کا کما حقہ محاسبہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 
چوتھی بات یہ ہے کہ دنیا میں رائج الحادی تصورات کو بھی جانچنے کی ضرورت ہے ۔ مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کو مذہبی تصورات کے صحیح ادراک کے ذریعے روکا جا سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسے تشدد اور ظلم وستم کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے جس نے الحادی تصورات سے جنم لیا ہو ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ خدا کے نہ ماننے والوں کو لادینی اخلاقیات کا ’’ واسطہ ‘‘ دیا جائے، لیکن لا دینی اخلاقیات ’’ تصورِ آخرت ‘‘ کی حامل نہ ہونے کے سبب کسی فرد یا گروہ کو کوئی مضبوط اور پائیدار ’’اخلاقی محرک ‘‘ دینے سے یکسر قاصر ہے ۔ اس طرح معلوم ہوا کہ غیر مذہبی تشدد اپنی نوعیت اور پھیلاؤ کے اعتبار سے مذہبی تشدد کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ امن اور انصاف کے قیام کے لیے مذہب کے عمومی فروغ کو ممکن بنایا جائے ۔ 
اس امید کے ساتھ ہم بات ختم کرتے ہیں کہ مذہبی قوتیں اپنے اصل کردار کا ادراک جلد از جلد حاصل کر لیں گی اور سوشل ازم کے خلا کو پر کرتے ہوئے سرمایہ دارا نہ نظامِ معیشت کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیں گی کہ ان کے اسی کردار سے دنیا میں امن اور انصاف کا بول بولا ہو سکتا ہے۔